اللہ پاک کی قدرت
دیکھئے… ’’القلم‘‘ بھی میدان میں اتر آیا ہے کتنا بھلا نام ہے… کتنا خوبصورت، کتنا
حسین… کتنا باجمال و پروقار… ’’القلم‘‘… سبحان اللہ! لکھتے ہوئے بھی مزا آتا ہے
اور پڑھتے اور سنتے ہوئے بھی… ویسے اس وقت ضرورت بھی ’’القلم‘‘ کی تھی… حق کو
تاریخ کے سینے پر محفوظ کرنے والا… پرنور، پرکیف، گرجدار اور چمکدار… ’’القلم‘‘
میرے عظیم رب نے ایسے ہی ’’القلم‘‘ کی قسم تو نہیں کھائی… قلم کی عظمت اور قلم کا
کردار مسلّم ہے… تلوار کی عظمت سر آنکھوں پر… مگر تلوار کی ترجمانی بھی تو قلم ہی
کرتا ہے… دیکھیں ایک شاعر کا دماغ کہاں تک جا پہنچا ؎
اذا اقسم الابطال
یوما بسیفہم
وَعدُّوْ مما
ُیکْسَبُ المجْدُوالکرم
کفیٰ قلم
الکُتَّابِ عزّا ورِ فعَۃً
مدی الدھران اللہ اقسم بالقلم
یہ عربی زبان کی
ایک رباعی ہے… رباعی کا معنیٰ لغت میں کچھ یوں لکھا ہے۔ وہ چار مصرعے جو اوزان
مخصوص پر ہوں۔ اس میں پہلے اور چوتھے مصرعے کا ہم قافیہ ہونا ضروری ہے… رباعی کے
چوبیس اوزان ہیں… مصرعہ آدھے شعر کو کہتے ہیں… اور ہر شعر میں دو مصرعے ہوتے ہیں…
یہ بات اس لئے لکھ دی تاکہ… عربی اور شعر و شاعری کا کچھ ذوق پیدا ہوجائے… ورنہ
ہمارا ملک ان دنوں جتنی تیزی سے… معاشی خوشحالی… روشن خیالی… امن اور ترقی کی طرف
دوڑ رہا ہے… بلکہ دوڑ دوڑ کر ہانپ رہا ہے… اس میں عربی زبان بہت پیچھے رہ گئی ہے…
اور اب ہمیں یہ فخر مارے جا رہا ہے کہ ہم… انگریزوں کی طرح انگریزی بول لیتے ہیں…
تحریک آزادی اور تحریک پاکستان کے شہداء کی قبروں سے آواز آتی ہے کہ… پھر انگریزوں
کو یہاں سے نکالنے کی کیا ضرورت تھی… آواز آتی ہے تو آتی رہے… پرانے لوگوں کی… اور
مُردوں کی باتیں ہم نہیں سنتے… ہمیں تو کولن پاول کے فون آتے ہیں… کولن پاول کے!…
ان چار عربی مصرعوں کا ترجمہ کیا ہے؟… یقین کیجئے میں نہیں لکھوں گا… ممکن ہے آپ
عربی سیکھنے کا عزم کرلیں… یا کسی عالم کی خدمت میں حاضری دیں… اس لئے ترجمہ نہیں
لکھا جارہا… ان شاء اللہ کچھ ہی عرصہ بعد… جی ہاں اگر اللہ تعالیٰ نے نصرت فرمائی
اور ’’القلم‘‘ چلتارہا… نکلتا رہا… اور خونخوار دانتوں نے اسے چبا نہ لیا تو ان
شاء اللہ تعالیٰ… عربی سکھانے کا آسان نصاب… اور سلسلہ شروع کیا جائے گا… بات ادھر
ادھر کھسک گئی، آئیے واپس ’’القلم‘‘ کی طرف آتے ہیں… بات کا آغاز رب تعالیٰ کے
معطر و منور فرمان سے کرتے ہیں… قرآن پاک کے انتیسویں پارے کی دوسری سورۃ کا نام …
سورۃ ’’القلم‘‘ ہے… ویسے قرآن پاک کی کل سورتیں ایک سو چودہ ہیں اور ان میں سے
سورۃ القلم اڑسٹھویں نمبر پر ہے… القلم کا لفظ قرآن پاک میں دو مقامات پر آیا ہے۔
ایک تو یہی… یعنی سورۃ القلم آیت(۱) اور دوسرا سورۃ العلق آیت(۴)۔ قلم کی جمع
’’اقلام‘‘ آتی ہے اور یہ جمع بھی قرآن پاک میں دو جگہ استعمال ہوئی ہے۔ سورۃ لقمان
آیت (۲۷) اور
سورۃ آل عمران آیت (۴۴)
’’قلم‘‘ کو
یہ اعزاز حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے سب سے پہلے… اسے پیدا
فرمایا… اس پر مدلل بات چیت آگے چل کر کریں گے… پہلے قرآن پاک اورالقلم…
اللہ تبارک و
تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں…
نٓ o والقلم وما یسطرون o ماانت بنعمۃ ربک بمجنون(القلم
آیت:۱،۲)
مشرکین مکہ آپ صلی
اللہ علیہ وسلم کو… نعوذ باللہ… العیاذ باللہ دیوانہ،شاعر،جادوگر اور نعوذ باللہ …
کیا کیا بکتے تھے… حکومت، مال اور سرداری کے نشے میں ان کی بیہودہ بکواس آئے
دن…پوری خود اعتمادی سے بڑھتی جارہی تھی…وہ خود کو حکمت پسند، وقت شناس… اور حالات
دان سمجھتے تھے… قرآن پاک اس موقع پر للکارا… عرش پر سے آواز آئی کہ قلم کی قسم،
محمد صلی اللہ علیہ وسلم دیوانے نہیں ہیں… اس موقع پر قلم کی قسم کھانے کی کیا
حکمت ہے؟ مفسرین نے دل کھول کرلکھا… مگر حضرت شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی
رحمہ اللہ تعالیٰ وہاں تک پہنچے جہاں تک رب علیم و قدیر کے خصوصی فضل سے ہی پہنچا
جا سکتا ہے… اس آیت کی تفسیر میں حضرت کا کلام پڑھئیے… اور پھر چودہ صدیوں کا ایک
سرسری جائزہ لیتے ہوئے اپنے زمانے تک کا سفر کیجئے۔ زندہ باتیں ہر زمانے میں زندہ
رہتی ہیں… کل بھی اور آج بھی… لیجئے پڑھئیے اور سر دھنیئے…
مشرکین مکہ حضور
صلی اللہ علیہ وسلم کو (العیاذ باللہ) دیوانہ کہتے تھے… کوئی کہتا کہ شیطان کا اثر
ہے جو … تمام قوم سے الگ ہو کر ایسی باتیں کرنے لگے ہیں، جن کو کوئی نہیں مان
سکتا، حق تعالیٰ نے اس خیال باطل کی تردید اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی فرما
دی۔ یعنی جس پر اللہ تعالیٰ کے ایسے ایسے فضل و انعام ہوں جن کو ہر آنکھ والا
مشاہدہ کررہا ہے۔ مثلاً اعلیٰ درجہ کی فصاحت اور حکمت و دانائی کی باتیں… مخالف و
موافق کے دل میں اس قدر قوی تاثیر اور اتنے بلند اور پاکیزہ اخلاق، کیا اسے دیوانہ
کہنا خود اپنی دیوانگی کی دلیل نہیں؟ دنیا میں بہت دیوانے ہوئے ہیں اور کتنے عظیم
الشان مصلحین گزرے ہیں جن کو ابتداء ً
قوم نے دیوانہ کہہ کر پکارا ہے مگر ’’قلم‘‘ نے تاریخی معلومات کا جو ذخیرہ
بطون اوراق (یعنی کاغذوں) میں جمع کیا ہے، وہ ببانگ دہل شہادت دیتا ہے کہ واقعی
دیوانوں… اور ان دیوانہ کہلانے والوں کے حالات میں کس قدر زمین وآسمان کا تفاوت
ہے۔ آج آپ کو (العیاذ باللہ) مجنون کے لقب سے یاد کرنا بالکل وہی رنگ رکھتا ہے جس
رنگ میں دنیا کے تمام جلیل القدر اور اولوالعزم مصلحین کو ہر زمانہ کے شریروں اور
بے عقلوں نے یاد کیا ہے، لیکن جس طرح تاریخ نے ان مصلحین کے اعلیٰ کارناموں پر
بقاء و دوام کی مہر ثبت کی اور ان مجنون کہنے والوں کا نام ونشان باقی نہ چھوڑا،
قریب ہے کہ قلم اور اس کے ذریعہ سے لکھی ہوئی تحریریں آپ کے ذکر خیر اور آپ کے بے
مثال کارناموں اور علوم و معارف کوہمیشہ کیلئے روشن رکھیں گی اور آپ کو دیوانہ
بتلانے والوں کا وجود صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹ کر رہے گا۔ ایک وقت آئے گا
جب ساری دنیا آپ کی حکمت و دانائی کی داد دے گی اور آپ کے کامل ترین انسان ہونے کو
بطور ایک اجماعی عقیدہ کے تسلیم کرے گی۔ بھلا خداوند قدوس جس کی فضیلت و برتری کو
ازل الآزال میں اپنے قلم نور سے لوح محفوظ کی تختی پر نقش کر چکا ، کس کی طاقت ہے
کہ محض مجنون و مفتون کی پھبتیاں کس کر اس کے ایک شوشہ کو مٹا سکے؟ جو ایسا خیال
رکھتا ہو پر لے درجے کا مجنون یا جاہل ہے۔
(تفسیر عثمانی)
آج پھر وقت کے
فرعون… زمانے کے نمرود… عصر حاضر کے ابوجہل و ابولہب اور دور حاضر کے عبداللہ بن
ابی منافق… حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر… آپ کے پاکیزہ نظریات پر… آپ
کی اعلیٰ تعلیمات پر… ناسمجھی، بنیاد پرستی، رجعت پسندی… اور بے حکمتی کی پھبتیاں
کس رہے ہیں… مگر ان کی باتوں سے کچھ نہیں ہوگا… یہ خود بھی مر جائیں گے اور ان کے
نظریات بھی… ان کے عہدے بھی عارضی ہیں… اور ان عہدوں کے زور پر دیئے جانے والے
بیانات بھی… ان شاء اللہ ’’القلم‘‘ اپنا فیصلہ سنائے گا… اور عہد حاضر کے فرعونوں
کو گمنامی کی لکیر میں دفن کردے گا… جبکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین… اور اس
دین کی ایک ایک بات کل بھی زندہ تھی… آج بھی زندہ ہے اور ’’القلم‘‘ ان کے نقوش کو
انمٹ بناتا رہے گا… یہ تو ہوا پہلی آیت کا مختصر تذکرہ، اب آئیے دوسری آیت کی طرف!
اللہ ربّ العزت
ارشاد فرماتے ہیں:
اقرأ وربک الاکرم o الذی علم بالقلم (سورۃ العلق:۳،۴)
(ترجمہ) پڑھو اور
تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا… یعنی اللہ ربّ العزت نے
انسان کو قلم سے لکھنا سکھایا اور اسے علوم کے محفوظ اور جاری ہونے کا ذریعہ بنا
دیا…
علامہ قرطبی رحمہ
اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں…
اللہ ربّ العالمین
نے چار چیزوں کو اپنے ہاتھ سے بنایا…
(۱)قلم
(۲)عرش
(۳)جنّتِ
عدن
(۴) حضرت
آدم علیہ السلام (قرطبی ص ۱۱۲، ج۲۰)
حدیث صحیح میں
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے
ان اول ماخلق اللہ القلم فقال لہ اکتب (ترمذی وقال حسن صحیح غریب)
(ترجمہ) سب سے
پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا فرمایا اور اسے حکم دیا کہ لکھو…
قلم کے ذریعہ اللہ
پاک نے علم سکھایا، یہ بات تو قطعی ہے مگر کسے سکھایا؟ اس بارے میں مفسرین کے چند
اقوال ملاحظہ فرمائیے:
(۱)حضرت آدم علیہ
السلام کو سکھایا، وہی سب سے پہلے لکھنے والے ہیں۔ یہ کعب الاحبار رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔
(۲) حضرت
ادریس علیہ السلام کو سکھایا۔ یہ ضحاک رحمہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے اور تفسیر
جلالین میں اسی کو اختیار کیا گیا ہے۔ ’’واول من خط بہٖ‘‘ادریس علیہ السلام
(جلالین ص۶۵۷)
(۳) قلم
سے لکھنے والا ہر شخص مراد ہے، کیونکہ جس کو بھی لکھنا آتا ہے اللہ تعالیٰ نے ہی
اسے سکھایا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے جو اسے درست استعمال کرتا ہے،
خوب مزے میں رہتاہے…
اہل علم کا ارشاد
ہے:
اصل میں قلم تین
ہیں!
(۱) پہلا
قلم جسے اللہ پاک نے اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا اور اسے لکھنے کا حکم دیا (یہ قلم
عرش پر موجود ہے)
(۲) دوسرا
قلم فرشتوں کے وہ قلم جن سے وہ تقدیر، تکوین اور اعمال لکھتے ہیں۔
(۳) تیسرا
قلم لوگوں کے وہ قلم جو اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں میں دئیے ہیں، ان سے وہ اپنا
کلام لکھتے ہیں اور اپنے مقاصد حاصل کرتے ہیں۔ (القرطبی ص۱۱۲، ج۲۰)
قلم کے فضائل… اور
اس کی باتیں بہت زیادہ ہیں… ہم انہیں سمیٹنے کیلئے حضرت سعید بن قتادہ رضی اللہ عنہ کا یہ جامع قول نقل کرتے ہیں…
’’القلم…
اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے… اگر قلم نہ ہوتا تو اقامت دین نہ ہوتی… اور نہ دنیا
کے معاملات درست ہوتے… قلم کے کمالات کو سمجھنے کیلئے اتنا کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ
نے اپنے بندوں کو اس کے ذریعہ سے وہ سب کچھ سکھایا… جو وہ نہیں جانتے تھے… اور اسی
قلم کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو… جہالت کے اندھیروں سے علم کے نور کی
طرف منتقل فرمایا… اور علم الکتابۃ (لکھنے کے علم) کی فضیلت سے آگاہ فرمایا،کیونکہ
اس میں ایسے عظیم فوائد ہیں… جنہیں مکمل طور پر صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے… قلم
ہی کے ذریعے علوم کو مدون کیا گیا… حکمت کو محفوظ کیا گیا… پرانے لوگوں کے احوال و
اقوال کو یاد رکھا گیا… اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتابوں کو لکھا گیا… اگر قلم
نہ ہوتا تو دین و دنیا کے معاملات کو نہ سنوارا جا سکتا… (قرطبی صفحہ ۱۱۱،ج۲۰)
قصہ مختصر کہ…
ہمارے ان بھائیوں نے… اپنے ہفت روزہ شمارے
کا نام ’’القلم‘‘ کیوں رکھا ہے؟…اور کتنی برکتیں اپنے دامن میں سمیٹ لی ہیں؟ دل
چاہتا ہے کہ … ان کو … یہ مبارک نام تجویز کرنے پر خوب داد دی جائے… مگر… ان کی
نیت اور حالات بتا رہے ہیں کہ… انہیں داد کی نہیں دعا کی ضرورت ہے… پھر کیا دیر
ہے… آئیے سب بھائی اور بہنیں… اپنے زخمی دلوں… ٹھنڈے ہاتھوں… اور گرم آنسوئوں کے
ساتھ … اپنا دامن پھیلاتے ہیں… اور القلم کے رب سے… القلم کے لئے… قبولیت،
مقبولیت، حفاظت… اور خدمت دین کی مسلسل توفیق مانگ لیتے ہیں…
یا اللہ… کرم
فرما… فضل فرما… نصرت فرما… راکھ بہت ہے… مگر چنگاریاں بجھی نہیں… دیواریں اونچی
ہیں… مگر نالے تھمے نہیں… سلاخیں موٹی ہیں… مگر پیچھے کوئی ہے… منزل گم ہے… مگر
دور نہیں… رات مستی میں ہے… مگر دن مرا نہیں… رسّے تنے ہوئے ہیں… مگر ہیں تو مکڑی
کے جالے… طوفان منہ زور ہیں… مگر ساحل پکار رہا ہے… اے میرے رب یہ سب کچھ بتانے کے
لئے… یہ سب کچھ سجھانے کے لئے… تیری آیتیں رو رو کر سنانے کے لئے… القلم… صرف تیرے
سہارے… صرف تیرے سہارے… میدان میں اتر آیا ہے…
یا رب المدد
المدد… یا ربّا المدد!…
بس تیری محبت…
تیرا سہارا… اے میرے پیارے رب…
بسم اللہ مجرٖھا و مرسٰھا ان ربی لغفور رحیم فاللہ خیر
حافظا وھو ارحم
الراحمین
آمین یا ربّ
العالمین… یا ارحم الراحمین
اللہم صلّ علیٰ
سیدنا محمد خاتم النبیین وعلیٰ الہٖ وصحبہ اجمعین۔
۱۳؍
ذوالقعدہ ۱۴۲۵ھ۔
۲۶؍ دسمبر ۲۰۰۴ء
٭٭٭
ہمارے ملک کی فلم انڈسٹری پر سالانہ کتنی رقم خرچ کی جاتی ہے؟ یہ کوئی برا کام تو نہیں ہے کہ ہمارے دانشور ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑیں، حکومتی ا یجنسیاں ان کی نگرانی کریں اور این جی اوز سر پیٹیں… امریکہ والوں نے اپنی فلمی صنعت کا نام ’’ہالی وڈ‘‘ رکھا، انڈیا والوں نے ان کی نقل اتاری اور بمبئی میں ’’بالی وڈ‘‘ قائم کرلیا تب ہم کیوں پیچھے رہتے ہم نے لاہور کو ’’لالی وڈ‘‘ سے رونق بخشی… اگرچہ ہماری قوم کے اربوں روپے اس ’’ضروری کام‘‘ پر خرچ ہو رہے ہیں مگر پھر بھی قوم کے خیر خواہوں کا یہ نوحہ دل کو لگتا ہے کہ ہم اس میدان میں بھارت سے پیچھے رہ گئے ہیں… ویسے پریشانی کی بات نہیں اب بھارت کے ساتھ ’’آنیاں جانیاں‘‘ شروع ہوگئی ہیں… کچھ دن بعد ’’بسنت‘‘ کی صور ت میں بھارت کے ساتھ یکجہتی کا دن بھی منایا جانے والا ہے… ہمارے کئی فنکار اب بھارتی فلموں میں کام کرنے لگے ہیں ممکن ہے کہ قوم کے ماتھے سے شکست کا داغ دھل جائے اور ہم اس دوڑ میں بھارت کی دم تک جا پہنچیں…ویسے پتا ہے ایک فلم بنانے پر کتنا خرچہ اٹھتا ہے؟ … کئی کروڑ؟… اس سے بھی زیادہ؟… بہت زیادہ… چلیں چھوڑیں اس بات کو ہم رنگ میں بھنگ کیوں ڈالیں… آئیں ذرا آسٹریلیا کا چکر لگا آتے ہیں وہاں ہماری کرکٹ ٹیم نے ’’فتح و سربلندی‘‘ کے ایسے جھنڈے گاڑ دیئے ہیں کہ اب ان جھنڈوں کو اکھاڑنا مشکل ہو رہا ہے… مسئلہ چونکہ اہم ترین قومی مفاد کا ہے اس لئے رات کو بی بی سی والوں نے بتایا کہ صدر پاکستان نے کرکٹ کنٹرول بورڈ کے کان کھینچے ہیں کہ ہماری ٹیم تین صفر سے کیوں ہاری ہے؟ ٹیم کے لئے ایک غیر ملکی کوچ منگوایا گیا ہے جس کی ماہانہ تنخواہ ایک ملین روپے سے زائد ہے… پاکستان کے دفاع اور سلامتی کیلئے چونکہ کرکٹ کا فروغ از حد ضروری ہے اس لئے حکومت اور دوسرے ادارے ہر سال اربوں روپے اس کھیل پر خرچ کرتے ہیں، ہماری ٹیم کے کھلاڑی دو تین میچ کھیلنے کے بعد ایک اور دنیا میں پہنچ جاتے ہیں… اس دنیا کا تذکرہ پھر کبھی… آئیے تھوڑا سا فضاء میں گھورتے ہیں… خشکی اور تری میں تو ’’فساد‘‘ تھا اب ہمارے گناہوں نے فضاء کو بھی مسخر کرلیا ہے… اور تو اور ہماری حکومت نے بھی دل کھول کر ٹی وی چینلز کی اجازت دے دی ہے… حکومت نے دل کھولا تو ٹی وی والوں نے سب کچھ کھول دیا… سنا ہے کہ خوب خوب چینل آگئے ہیں… سآب کچھ دکھایا جاتا ہے… اگر میں لکھتا کہ سب کچھ دکھایا جاتا ہے تو بات نہیں بن رہی تھی اس لئے مجبوراً ’’سب‘‘ پر مد کھینچنی پڑی… کچھ دن پہلے شیخ رشید احمد صاحب بی بی سی پر انٹرویو دیتے ہوئے فخر کر رہے تھے کہ ہم نے فضاء میں چوبیس چینل چھوڑ رکھے ہیں… واقعی بہت بڑا نیک کام کیا ہے، فرشتے اب اوپر اوپر ہی لکھ لیتے ہوں گے… زندہ باد… مسئلہ آسان ہوگیا… معلوم ہے! ایک ٹی وی چینل کھولنے پر کتنا خرچہ آتا ہے؟… ایک ایک ملازم کی تنخواہ کتنی ہوتی ہے؟ … ماڈلنگ کرنے والی لڑکیاں صابن لگانے اور اس کی جھاگ اڑانے کا کتنا پیسہ لیتی ہیں؟…
بات کروڑوں میں
نہیں رُکتی اربوں تک جا پہنچتی ہے مگر تنگ دلی کس بات کی؟ اگر یہ ٹی وی چینل نہ
ہوں تو قوم زندہ کیسے رہے گی؟ ملک محفوظ کیسے ہوگا؟ چلیں ٹی وی کی جان چھوڑتے ہیں
کہ آپ لوگ کہیں گے کہ سعدی کے پاس نہیں ہوگا اس لئے ہم سے جلتا ہے… بات سچی ہے،
ابھی تک ٹی وی میرے پاس نہیں آیا اللہ پاک اسے دور ہی رکھے… آئیے! کچھ دیر کیلئے
سوئٹزرلینڈ ہو آتے ہیں… ویسے اس ملک کو آپ اجنبی نہ سمجھیں یہاں اپنے اکثر خیر
خواہوں کے بینک اکائونٹ ہیں… جی بالکل… قوم کا درد رکھنے والوں نے سوچا کہ قوم کا
خون پسینہ ضائع نہ ہو جائے… تب انہوں نے قوم کے خون پسینے کو… اپنے ضمیر کی ٹھنڈک
سے نوٹ بنایا…پھر ان نوٹوں کو اپنی وفاداری کی حرارت سے ڈالر میں بدلا… اور پھر
انہیں سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں جا کر محفوظ کردیا… ویسے آپ حیران ہو جائیں گے کہ
ہمارے یہ ہمدرد لیڈر وہاں کے بینکوں میں رقم رکھ کر اس کا سود تک وصول نہیں کرتے…
دیکھا آپ نے ان کا تقویٰ… مولوی لوگ خواہ مخواہ ان پر انگلیاں اٹھاتے ہیں… ہاں بس
اتنا ضرور ہے کہ وہ اس رقم کو وہاں چپکے سے چھپا کر رکھنے کے عوض ان بینکوں کو
ماہانہ سود دیتے ہیں… آپ خوش ہوجائیں بلکہ خوشیاں منائیں کہ ان بینکوں میں صرف
مسلمانوں کا اتنا پیسہ موجود ہے کہ اگر اسے نکالا جائے تو… غربت روٹھ جائے… اور
غریب روٹیاں کھا کھا کر پریشان ہوجائیں… بہترہے کہ غریب اور غربت کے مفاد میں یہ
پیسہ وہیں رکھا رہے… ہم نے زرداری صاحب کو مزید مشورے کیلئے بھیج دیا ہے… جب تک وہ
واپس تشریف لائیں۔ آئیے! ہم تھوڑا لاہور کا چکر لگا آئیں، وہاں ملک و قوم کی خدمت
اور سلامتی کیلئے زبردست تیاریاں چل رہی ہیں… کئی افراد جنگی پیمانے پر پتنگیں اور
ڈوریں تیار کررہے ہیں… ادھر بڑے ہوٹلوں کو سجایا جارہا ہے، بھوننے اور نچانے کیلئے
بکریاں بُک کرائی جارہی ہیں… کئی اور ناقابل بیان ادارے سرگرم ہیں،اب تک کروڑوں
روپے خرچ ہوچکے ہیں مزید اربوں ہوں گے… ابھی فیصلہ نہیں ہو سکا کہ مشرقی پنجاب کے
وزیراعلیٰ جب تشریف لائیں گے تو انہیں کہاں کا رنگین پانی پلایا جائے گا… کئی پانی
ٹیسٹ ہو رہے ہیں… بھائی معمولی لوگ تو نہیں آرہے ہمارے بھارتی محسن آرہے ہیں۔
انہوںنے ۱۹۴۷ء
میں ہماری بہنوں اور بیٹیوں کو جو تحفے دئیے تھے… آخر ان کا بدلہ تو دینا ہے…
بیچاروں نے کتنی محنت کرکے مشرقی پنجاب کی زمین کو ہمارے خون سے سیراب کیا تھا… ان
کی ہمت کو داد کہ جب ہندوستان سے گاڑیاں یہاں آتی تھیں تو وہ لوگوں کو کاٹ کاٹ کر
بھیجتے تھے تاکہ وہ ہر فکر سے آزاد ہو کر پاک وطن آئیں… بڑے احسانات ہیں ان کے، اس
لئے تو اب ہمیں پرائے شعلوں کا ڈر ہی نہیں رہا، بس تھوڑا سا اپنے لوگوں سے ڈر لگتا
ہے۔ ویسے ہم انہیں ختم کردیں گے جبکہ ان کو ہم کندھوں پر بٹھا کر لائیں گے جنہوں
نے ۱۹۷۱ء
میں ہمارے نوے ہزار فوجیوں کو کئی سال تک مفت کھانا دیا… بس چھوڑیں ان کے کیا کیا
احسانات گنائیں؟ وہ اس بسنت کے موقع پر… تشریف لائیں گے… جی آیا نوں… پخیر راغلے…
بھلی کری آیا… خوش آمدید…
ویسے اربوں روپے
پتنگوں… اور قوم کے لئے ضروری عیاشیوں پر صرف ہو جائیں گے … کب؟ … بھائی ابھی ۶ فروری کو… اچھا ۶ فروری میں تو کچھ
دن باقی ہیں، ہم ذرا ہوٹلوں کا چکر لگا آتے ہیں… ہوٹل کئی قسم کے… سیون اسٹار…
فائیو اسٹار، تھری اسٹار… اور لاجز ،ریسٹ ہائوس اور کیا کچھ…
ان میں سے ہر ہوٹل
میں روزانہ اتنا خرچ ہوتاہے کہ ایک پوری بستی مہینہ بھر دونوں ہاتھوں سے لپیں بھر
بھر کھائے تب بھی زیادہ پڑ جائے… مگر مال والوں کی اپنی دنیا ہے… یہ لوگ اگر ہر دن
سوٹ نہ بدلیں… طرح طرح کے فیشن نہ اپنائیں… کھا کھا کر نہ گرائیں تو پھر غریب خودکو
غریب سمجھنا چھوڑ دیں… اس لئے مالداروں کو روزانہ بے شمار پیسے اپنی نمائش پر خرچ
کرنے پڑتے ہیں تاکہ غریب… اپنی اوقات میں رہ کر… الٹی سیدھی چھلانگوں اور خودکشیوں
کے منصوبے بناتے رہیں… ہوٹلوں کے اندر کی دنیا پر اگر دل کھول کر لکھا جائے تو آپ
خوشی سے تھو تھو کر نے لگیں… خیر ہمیں کیا ہوٹلوں سے؟ آئیے ذرا میک اپ کا سامان
چیک کرتے ہیں… یاللعجب! کیا زبردست سامان آگیا ہے، نقلی بال، نقلی بھنویں… آنکھوں
کے رنگ بدلنے کا سامان… ہونٹوں کی سرخیاں، پیلیاں، نیلیاں… ناک کا سامان… رخساروں
کے اتنے غازے کہ عقل دنگ… طرح طرح کے لوشن… قیمت پوچھیں تو… لگ جائیں موشن… ناخنوں
کو رنگنے کی چیزیں الغرض سر سے لے کر پائوں تک ہر چیز کا سامان اور اتنا کہ گنا نہ
جا سکے اور ہرہفتے مارکیٹ میں نیا آئٹم حاضر… کسی اچھی خاصی بڑھیا کو بیوٹی پارلر
میں بھیجیں تو دو اڑھائی لاکھ میں اپنی پوتی کی ہم شکل بن کر نکلے… بشرطیکہ پسینہ
نہ آجائے… اور چھوت چھات سے پرہیز رہے… اور اگر دو گھنٹے کے اندر مرجائے تو دیکھنے
والوں کو یوں لگے کہ دلہن مری پڑی ہے… مگر مسلمان ہونے کے ناطے غسل دینا پڑتا ہے
اور بات بگڑ جاتی ہے… معلوم ہے آپ کو میک اپ اور بیوٹی پارلر کے اخراجات پر کتنی
رقم اٹھ جاتی ہے؟… ہر مہینے کروڑوں نہیں اربوں روپے… امید ہے کہ ان دوچار مثالوں
کو پڑھ کر آپ کا دل بھر گیا ہوگا… افسوس کہ رب تعالیٰ کو ناراض کرنے والے کاموں پر
اتنا خرچ … اتنے بڑے اخراجات… اسی کو عربی زبان میں تبذیر کہتے ہیں… اور تبذیر
کرنے والوں کو مُبَذِّرْ کہا جاتا ہے…اور
قرآن پاک کا اعلان ہے کہ مبذّرین… شیطان کے بھائی ہیں… اور شیطان اپنے رب کا
ناشکرا ہے… ویسے آج میرا ارادہ بہت کچھ گنوانے کا تھا… مگر اللہ پاک رحم فرمائے ان
چند شعبوں کی حالت اور اخراجات لکھ کرمتلی آنے لگی اور دل خوف سے بھر گیا… یا اللہ
ہمیںمعاف فرما… اور اپنے غضب اور عذاب سے بچا… اب آئیے اصل بات کی جانب کہ… ایک
طرف تو پوری دنیا… اور اس میں موجود اکثر مسلمان بھی… بخل اور نمائش کی گاڑھی
غلاظت میںلتھڑے پڑے ہیں… سر سے پیر تک اسراف اور تبذیر… مال کے بڑے بڑے انبار… مال
پر بیٹھے ہوئے موٹے موٹے سانپ… ذخیرہ اندوزی کے سیلاب… بینک بیلنس کے زلزلے…
نمائشی اخراجات کے طوفان… ایسے میں اچانک کچھ مغرب زدہ… علم سے عاری مسلمان دانشور
کھڑے ہو کر کہتے ہیں… مسلمانو! قربانی نہ کرو… ایک دن میں اتنے زیادہ جانور کاٹنے
سے… دنیا غریب ہو جاتی ہے… یہی پیسہ غریبوں کو دے دو… ہسپتال میں دے دو… غریبوں کا
بھلا ہوگا… کیا فلموں کا پیسہ… اخبارات اور ان کے اشتہارات کا پیسہ… غریبوں کو
نہیں دیا جا سکتا؟ سوئٹزرلینڈ کے بینکوں کا پیسہ غریبوں کو نہیں لگتا؟ … ٹی وی
چینلز کی رقم سے غریبوں کو نہیں نوازا جا سکتا؟ … کیا کیا لکھوں… ذرا ہسپتال
ہسپتال کا شور مچانے والے وہاں اندر جھانک کر دیکھیں تو انہیں اندازہ ہو کہ… طب کے
مقدس پیشے نے کیسی بھیانک سوداگری کا روپ دھار لیا ہے… وہاں غریبوں کے اعضاء نکال
کر امیروں میںفٹ کئے جارہے ہیں… اور غریبوں کا خون چوسا جارہا ہے…
قرـبانی میرے
پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے… قربانی اسلامی شریعت کا واجب حکم ہے …
قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خلیلی سنت ہے… قربانی مسلمانوں کی روحانی خوشی
ہے… قربانی اللہ پاک کی دعوت ہے… قربانی رب کی محبت ہے… قربانی ایک فدائی نبی کی
یادگار ہے… قربانی اسلامی معیشت کا ایک سنہرا قانون ہے… قربانی فطرت کی ترجمان ہے…
دانش کے نام پر… اسلام میں کاٹ چھانٹ کرنے والو!… اپنے اوزار کہیں اور لے جائو …
میرے جیسے سادہ مسلمان کے لئے وہ منظر کافی ہے کہ… سیدناابراہیم خلیل اللہ علیہ
السلام… ہاتھ میں چھری لئے… دل میں جذبہ تھامے… آنکھوں پر پٹی باندھے… اس اسماعیل
علیہ السلام کی گردن پر … چھری چلا رہے ہیں… جو ان کو بہت پیارا تھا… بہت پیارا…
تب آسمانوں سے آواز آئی… سچ اسے کہتے ہیں… او دانش کے نام پر اسلام کی گردن پر وار
کرنے والو!… مجھ جیسے دیوانے مسلمان کیلئے وہ منظر کافی ہے کہ… مدینہ طیبہ کی پاک
سرزمین ہے… خیر القرون کا سورج نصف النہار پر ہے… آسمان جھانک کر مسرت سے دیکھ
رہاہے… ساری مخلوق ادب کے ساتھ متوجہ ہے… اور میرے پیارے آقا … ہاں بہت پیارے… بے
حد پیارے… میرے محبوب رہبر… حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم … اپنے عظیم رب
کی تکبیر پڑھ کر… اپنے پیارے ہاتھوں سے دنبہ ذبح کررہے ہیں…
او ظالمو! تمہاری
تمنا ہے کہ… ہم… اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ادا کو بھلا دیں… جبکہ ہماری
تمنا … ہاں یہ تمنا ہے کہ … ہم اس دنبے کی جگہ ہوتے جس پر آقا صلی اللہ علیہ وسلم
نے اپنے مبارک ہاتھ سے چھری چلا کر… اسے اپنے رب کی قربانی بناد یا…
٭٭٭
کیا تمہیں ہارنے
کا خطرہ ہے؟بے ایمان کہیں کے! کیا تمہیں بش پر یقین نہیں ہے؟
(انگوٹھے چومتے
ہوئے) بش پر تو سر سے پائوں تک یقین ہے اور اپنی جیت مجھے صاف نظر آرہی ہے، مگر
بندوق کے زور پر ’’جمہوری صدر‘‘ بننے کا مزہ ہی کچھ اور ہے… کیوں بھائی محمود
عباس؟
ہاں یار ٹھیک ہے
انتظار کر لیتے ہیں ویسے مجھے امریکہ سے ملاقات کی دعوت آئی ہے۔ دعوت کیا حکم سمجھ
لو۔ بس کیا پوچھتے ہو خوشی سے رات کو نیند تک نہیں آتی۔ سوچتا ہوں یہ کہوں گا وہ
کہوں گا … واہ کیا منظر ہوگا، جب مجھے بش کا قرب ملے گا، میرے تو لگتا ہے سارے
اعمال قبول ہوچکے ہیں۔ دل ہے کہ بس دھڑکے ہی جاتا ہے۔ بدبخت کی پرانی تمنا جو پوری
ہورہی ہے روزانہ منہ دھوتا ہوں۔ شیو بناتا ہوں کہ میرے منہ کے کسی بال سے ان کو
تکلیف نہ پہنچے۔ راتوں کو چھپ چھپ کر حماس اور اسلامی جہاد والے شرارتیوں کی منتیں
ترلے کرتا ہوں کہ چند دن خود کو روک لو، کوئی دھماکہ وغیرہ نہ کرو۔ کوئی مارتا ہے
تو مرجائو مجھے بلاوا آیا ہے بلاوا۔ دیکھیں یہ شرارتی ٹولہ رُکتا ہے یا نہیں؟ ادھر
احمد قریع مجھ سے بری طرح حسد کررہا ہے۔ حنّان عشراوی کہتی ہے کہ ہم گلے میں صلیب
لٹکا کر وہاں تک نہ پہنچ سکے، جہاں تک تم نے وفائوں کا یقین دلا کر پرواز کر لی
ہے۔ اگر یہ حماس والے نہ رکے تو انہیں ادھیڑ کر رکھ دوں گا۔ یہ یہودی تھوڑے ہیں کہ
ان کو مارنے پر مجھے دکھ ہوگا یا باہر سے کوئی دبائو پڑے گا اگر سو دو سو مارنے سے
’’وہ‘‘ خوش ہوتے ہیں، تو ان کی خوشی کیلئے ہزار بھی قربان۔ بس میں تو اب ایک ایک
گھڑی گن گن کر گزار رہا ہوں اس لئے میری واپسی کے بعد ہی تنظیم کا اعلان کیا جائے
تو اچھا ہے۔ اس وقت تک ’’ایادبھیا‘‘ بھی عراق کے قانونی صدر تسلیم کروا لئے جائیں
گے…
ہاں حامد میاں تم
نے پارٹی کا نام سوچا؟ …
نام تو کافی سارے
میرے ذہن میں ہیں۔سر پر بال نہ ہوں تو ذہن خوب کھلا رہتا ہے۔ میرے خیال میں ہمیں
اپنے اسلاف کو یاد رکھتے ہوئے اپنی پارٹی کا نام ’’انجمن میر جعفران اسلام‘‘ رکھ
لینا چائے۔
یار نام تو اچھا
ہے میر جعفر صاحب بڑے آدمی تھے، مگر میرے آئیڈیل تو ٹیپو سلطان سے مسلمانوں کی جان
چھڑا کر ان کے سروں پر انگریز کا سایہ کروانے والے میر صادق صاحب ہیں اس لئے ہماری
جماعت کا نام ’’ضمیر فروشان میر صادق‘‘ ہونا چاہئے۔ کیا خیال ہے؟
واہ بھائی واہ خوب
نام سوچا ہے۔ سرفروشی تو آسان ہے کہ بس تلوار چلی اور گردن اڑی اصل اور مشکل کام
تو ’’ضمیر فروشی‘‘ ہے کہ اپنا ضمیر اپنا ایمان سب کچھ مسلمانوں کے فائدے میں بیچ
دیا جائے… مگر مجھے ایک اور نام زیادہ پسند ہے دراصل کسی بھی قوم کیلئے اپنے بانی
کو فراموش کردینا تباہی کے مترادف ہے۔ میرے نزدیک ہمارا نام ’’أبنائِ عبداللہ بن
اُبی‘‘… ہونا چاہئے
تم نے تو بات ہی
ختم کردی بڑے آدمی تھے عبداللہ بن ابی، بہت روشن خیال، اعتدال پسند، ہر معدہ عزیز۔
یکجہتی کا چلتا پھرتا نمونہ… آج مسجد نبوی میں مسلمانوں کو خوش کرنے کیلئے نماز
پڑھ رہے ہیں، تو کل کعب بن اشرف کے دستر خوان پر یہودیوں کو اپنی محبت کا یقین دلا
رہے ہیں۔ ادھر اوس و خزرج کے درمیان گھوم رہے ہیں، تو اُدھر مکہ کے قریشی سرداروں
سے راز و نیاز کرر ہے ہیں۔ مگر افسوس کسی نے بھی ان کی قدر نہ کی۔ اگر ان کی مانی
جاتی تو اگرچہ اسلام مدینہ کے چند محلوں تک ہی محدود رہتا، مگر اتنے لوگوں کو جان
سے تو ہاتھ نہ دھونے پڑتے آنجہانی جہاد کے بڑے سخت مخالف تھے۔ تالیاں… بس یوں
سمجھو’’مخالفت جہاد‘‘ کے اصل بانی مبانی تھے اور ہماری ذمہ داری نمبر(۱) بھی آقابش نے یہی
لگائی ہے…
بس تو پھر یہ نام
پکا؟ …
ہونا تو یہی چاہئے
مگر یہ عربی نام سے کہیں گورے لوگ ہمیں ’’القاعدہ کا نہ سمجھ لیں‘‘ ایک زمانہ تھا
عربوں کی بڑی قدر ہوتی تھی گوروں کے ہاں۔ تمہیں یاد ہے؟
کیوں یاد نہیں
ائیرپورٹ سے ہی آئو بھگت شروع ہوجاتی تھی۔ مارکیٹ جائو تو سارے دکاندار اور
دکاندارنیاں لپک لپک کر کھینچتے تھے۔ بار میں جائو تو ہر ویٹرس لڑکی ہماری میز کی
طرف بڑھتی تھی اور ہر جام نئے ہاتھ سے ملتا تھا اور کیا بتائوں یار… نائٹ کلبوں
میں رقاصائوں اور طوائفوں میں جھگڑا ہو جاتا تھا ہر کوئی چاہتا کہ عربی اس کے ہاتھ
لگے… مگر ان دہشت گردوں نے تجارتی عمارتوں اور فوجی مرکز پر حملہ کردیا یہ کونسی
اسلام کی خدمت ہے؟ اب بار میں گھسو تو ویٹرس کو دیکھ کر ترستے رہو کوئی عربی کے
قریب آنا گوارہ نہیں کرتا… کیبر ے میں ڈانس کیلئے جائو تو حسینہ قریب نہ پھٹکے
ائیر پورٹ پر جائو تو ہر کوئی شک کی نظر سے دیکھے۔ سچی بات یہ ہے کہ اسلام کو جتنا
نقصان ان دہشت گردوں نے پہنچایا ہے، کسی نے نہیں پہنچایا۔میرا بس چلے تو ان کو کچا
چباجائوںکچا…
یار چبا تو رہے
ہو… فلوجہ کو تم نے فالودہ بنا دیا ہے…
(دائیں بائیں
دیکھتے ہوئے)… نہیں یار انہوں نے وہاں ہمارا اور آقا کی فوجوں کا بھرکس نکال دیا
ہے…
مگر
اخبارات میں تو؟…
چھوڑو اخبارات کو
اخبارات کا تو تمہیں بھی پتہ ہے بیچار ے کیا لکھتے ہیں… آف دی ریکارڈ بتا رہا ہوں
کہ فلوجہ میں زیادہ نقصان اپنا ہی ہو رہا ہے…
یار تمہارے پڑوس
میں تو جنوبی وزیرستان نہیں ہے، تو پھر یہ دہشت گرد کہاں سے آجاتے ہیں؟…
یہ پوچھو کہاں سے
نہیں آتے؟ (آنکھوں میں آنسو لے کر)… سعودی عرب،شام، ایران ہر طرف سے آرہے ہیں اور
خود عراقی عورتوں نے مجاہد جننا شروع کردئیے ہیں… اب تو مجھے کرُدوں پر بھی شک
ہورہا ہے سچی بات ہے کہ میں تو پھنس گیا ہوں… رات کو نیند ہی نہیں آتی… کتنی
گولیاں کھا کر بمشکل چند گھنٹے غنودگی میں رہتا ہوں… آقا کی خوشنودی کا خیال نہ
ہوتا تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر گوروں کے ملک جا بیٹھتا… پہلے بھی تو وہیں رہتا تھا
انہوں نے صدام کو گرانے کا کام سپرد کر رکھا تھا دور بیٹھ کر سال بھر میں ایک دو
دھماکے کروا دیتا تھا اور بس۔ ہر دن کرسمس تھا اور ہر رات نیو ائیر نائٹ۔ اب تو ہر
وقت موت کا دھڑکا لگا رہتا ہے…
اچھا تمہاری بھی
یہی حالت ہے؟
تم نے نہیں چھپایا
تو میں کیا پردہ رکھوں… اتنے سارے ووٹ لے کر بھی ذلت میں وقت گزر رہا ہے… زلمی
خلیل زاد ہر وقت سر پر بیٹھا ہے آقا کی تیل کمپنی میں ملازم تھا تو مزے سے دیس دیس
کے چکر لگاتا تھا… اب تو ہر کام پوچھ کر کرنا پڑتا ہے اور ہر رات ڈانٹ الگ… فلاں
سے کیوں ملے؟ فلاں سے کیوں نہیں ملے؟ یہ بات کیوں کی؟ فلاں سے کیا تعلق ہے؟… سچی
بات ہے کہ طالبان والے رات کو پہاڑوں پر آرام سے سوتے ہیں، جبکہ میں سونے کے پلنگ
پر کروٹیں بدلتا رہتا ہوں… کبھی دل چاہتا ہے کہ آقا کو لکھ دوں کہ بھاڑ میں جائے
یہ صدارت مجھے پھر اپنی تیل کمپنی میں رکھ لیجئے… مگر سوچتا ہوں ان کا نازک دل
دکھی نہ ہوجائے… ابھی تک تو ملا عمر اور اسامہ بن لادن کی پریشانی بھی ان کو لگی
ہوئی ہے… شمالی اتحاد والے بھی ان کے ساتھ صحیح وفاداری نہیں کررہے… ادھر روس پر
بھی ان کو اعتبار نہیں ہے اب اگر میں نے بھی بیوفائی کی تو وہ کہیں گے سارے مسلمان
ایسے ہی ہوتے ہیں تب تو اسلام اور مسلمان اور بدنام ہوجائیںگے…
اچھا تم دونوں کی
یہ حالت ہے؟ میں تو تمہیں مزے میں سمجھ رہا تھا ویسے مجھے پتہ ہے یاسر عرفات کے
ساتھ بھی انہوں نے بہت برا کیا، لیکن سچی بات یہ ہے کہ زندگی کے آخری سالوں میں وہ
ان کا مخلص وفادار نہیں رہا تھا… جتنے دن رملہ میں محصور رہا باقاعدگی سے نماز پڑھ
رہا تھا… اب یہ بھی کوئی اسلام ہے کہ نماز پڑھتے رہو… میں نے اسے سمجھایا کہ
تمہاری داڑھی بھی ’’ان کو‘‘ پسند نہیں ہے، مگر وہ نہ مانا پھر ہر وقت پستول لٹکائے
پھرتا تھا اسلام میں یہ کہاں ہے کہ اسلحہ رکھو… شیخ احمد یٰسین سے ملا تو اسے یاد
ہی نہیں رہا کہ وہ کیمروں کے سامنے ہے… بے اختیار ان کی پیشانی چوم بیٹھا… آقا کو
چومنے پر اعتراض نہیں، جو کچھ مرضی چومو مگر انتہا پسندوں کے چہرے چومنا تو گوارہ
نہیں کیا جا سکتا… بس پھر کیا تھا… نیلی آنکھوں نے اس سے رخ پھیر لیا تین سال تک
بے چارا اپنے دفتر میں محصور رہا… ممکن ہے خدا راضی ہوگیا ہو یہ بھی سچ ہے کہ قوم
نے اس کو آنکھوں پہ بٹھایا، مگر آقا تو ناراض ہوا ایسے انجام سے شیطان کی پناہ…
اور تو اور اس کے جنازے میں بھی امریکی وفد شریک نہ ہوا اور صرف مسلمانوں نے جنازہ
پڑھ لیا… یہ ہے تنگ نظری کا انجام… میں نے ان تمام چیزوں سے بچ کر دل دینے کا
فیصلہ کرلیا ہے… اور ایریل شیرون کے فون نے تو مجھے سب کی آنکھوں کا تارا بنا دیا
ہے تارا… بس تم دونوں کی حالت سے ڈر رہا ہوں کہ میرے ساتھ بھی کوئی حادثہ نہ ہو
جائے ویسے حماس والے اور اسلامی جہاد والے ہیں تو بہت شرارتی مجھے بھی بس انہیں
اپنوں سے ڈر ہے…ورنہ پرائے شعلے تو مجھے دیکھتے ہی خود ٹھنڈے ہوجاتے ہیں… وہ مجھے
اپنا پکا وفادار سمجھتے ہیں… ویسے یار ایک بات سمجھ نہیں آرہی کہ ہم مسلمانوں کو
یہ جہاد، یہ لڑائی بھڑائی کا ذہن کون دے رہا ہے؟… مزے سے رہیں، شراب پئیں، سور
کھائیں، عورتیں نچائیں، ڈانس کریں، میوزک سنیں ، اور مسلمان بھی رہیں، عام نہیں
بلکہ اچھے اور بہترین مسلمان… آخر بچپن میں ختنہ کس لئے کروایا؟ کیا مسلمان ہونے
کیلئے اتنا کافی نہیں ہے… چلو ٹھیک ہے بہت مذہبی بنتے ہیں تو کبھی کبھار نماز بھی
پڑھ لیا کریں اور مزاروں پر چلے جایا کریں… اس سے زیادہ اسلام کہاں لکھا ہوا ہے ہم
نے کہیں نہیں پڑھا…
یار باتیں تو
تمہاری ٹھیک ہیں؟ مگر پرانی باتوں نے ان کا دماغ خراب کررکھا ہے وہ کہتے ہیں حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود جہاد کیا اور جنگوں میں شریک رہے پھر ان کی عورتیں
بچوں کو گود میں لے کر کبھی خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کبھی مثنیٰ بن حارث رضی
اللہ عنہ کبھی ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ کے قصے سنا کر لوریاں دیتی ہیں… عقل نہیں
ہے ان کو کہ دنیا چاند تک جا پہنچی ہے… پھر یہ لوگ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی
اللہ عنہم نے پورے دین کیلئے ماریں کھائیں… زخم اٹھائے… ختنے والا اسلام ہوتا تو
پھر مکہ سے مدینہ ہجرت ہی نہ کرنی پڑتی… پھر انہوں نے طارق بن زیاد، محمود غزنوی
اور پتہ نہیں کن کن کو اپنا ہیرو سمجھ رکھا ہے… ادھر یہ لوگ میر جعفر صاحب اور
عبداللہ بن ابی وغیرہ کے روشن خیال حالات کو ہاتھ ہی نہیں لگاتے دراصل اسلامی
تاریخ جب تک موجود رہے گی دہشت گرد پیدا ہوتے رہیں گے…
تو کیا خیال ہے ہم
تاریخ بدل دیتے ہیں؟
تاریخ بدلنے کا
کچھ کام تو شروع ہے مگر نبی کی سیرت پڑھ کر پھر یہ ہمارے باس کے طریقے سے ہٹنا
شروع ہو جاتے ہیں کوئی ان کی طرح ڈاڑھی رکھ رہا ہے تو کوئی عورت کو پردہ کرا رہا
ہے کوئی جہاد کا عاشق بن رہا ہے تو کوئی پگڑی مسواک وغیرہ لے کر اسلام کو بدنام
کررہا ہے ۔
تو پھر سیرت کی
کتابوں کو اپنے ممالک میں ضبط کرا لیتے ہیں…
یار… امن سے رہنا
ہے تو کرنا ہی پڑے گا مگر فقہ کا کیا ہوگا؟
اس
میں کیا ہے؟
اس میں تو سب کچھ
ہے اور یہ غلط ذہن دیا جاتا ہے کہ اسلام کوئی پرائیویٹ چیز نہیں بلکہ پورا اور
مکمل نظام ہے۔ اور اسلام کے پاس اپنا الگ سیاسی،ثقافتی، معاشی اور عدالتی نظام ہے
اور اسلام میں ختنے کے علاوہ اور بھی احکامات ہیں اور ظلم یہ کہ فقہ میں بھی جہاد
پر اکسایا جاتا ہے…
یار یہ تو بہت
خطرناک چیز ہے اس پر بھی پابندی لگا دیتے ہیں اور لوگوں کو بتا تے ہیں کہ اسلام بس
اسی چیز کا نام ہے جس سے آقا بش خوش ہوں اور بس…
بالکل ٹھیک ہے مگر
فقہ کی کتابوں میں سب کچھ حدیث شریف کی کتابوں سے لیا اور سمجھا گیا ہے…
یہ حدیث کیا چیز
ہے؟…
میں نے پڑھی تو
نہیں سنا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور احوال کا مستند
ذخیرہ ہے…
بہت خطرناک… ویری
ڈینجرس… اس میں تو غزوات کا بھی ذکر ہوگا؟… غزوات کا کیا؟ جہاد کے ایک ایک پہلو کا
ذکر ہے اور یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ مسلمان کا کھانا، پینا، اٹھنا، بیٹھنا، پہننا
وغیرہ الغرض سب کچھ کیسے ہونا چاہئے؟ گویا کہ ہم ساری دنیا سے کٹ کر الگ شناخت بنائیں
اور یوں عالمی برادری سے الگ تھلگ نظر آئیں…
سنا ہے حدیث و فقہ
کو پڑھ کر ہی ماضی میں لوگ عالمی برادری کو کافر کہہ کر اس پر حملے کرتے رہے اور
ملکوں کے ملک قبضے میں لے کر اس پر مولویوں والا اسلام نافذ کرتے گئے… اب اگر یہ
چیزیں اس زمانے میں پڑھی گئیں تو ہمارے بچے امریکہ جا کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے
اور گوریوں کے ساتھ ناچنے کی بجائے بم باندھ کر فدائی بن جائیں گے… وہ رہیں گے اس
دنیا میں اور باتیں قبر و آخرت کی کریں گے… کیا تمہیں یہ بات گوارہ ہے؟
نہیں بالکل نہیں
ہم ان تمام کتابوں پر پابندی لگا دیں گے لوگوں کو کہیں گے یہ سب کچھ پڑھ کر تم
زیادہ سے زیادہ مسجد کے امام بن سکو گے اس لئے سائنس پڑھو تاکہ پاکستان کے ڈاکٹر
عبدالقدیر خان بن سکو…
یار یہ تم نے کس
کا نام لے لیا…
اوہ غلطی
ہوگئی…(دائیں بائیں دیکھ کر)… کسی نے سنا تو نہیں؟
اچھا یہ سب کتابیں
بند…
مگر قرآن کا کیا
ہوگا؟ …
قرآن لوگ پڑھتے
رہیں؟
چھوٹے آقا ٹونی
بلیئر نے بھی کہا ہے کہ میں نے قرآن پڑھ رکھا ہے… قرآن پڑھنے سے کچھ نہیں ہوگا…
کیوں کچھ نہیں
ہوگا میں نے سنا ہے کہ اس میں بھی جہاد کی سینکڑوں آیات ہیں…
نہیں
ہو سکتیں؟
بھائی
اتنا نہ چلائو میرے اور تمہارے کہنے سے یہ حقیقت تو نہیں بدلے گی قرآن میںبھی جہاد
کی آیات ہیں… اور بہت زیادہ ہیں اور اس میں تو سنا ہے یہ بھی لکھا ہے کہ یہود و
نصاریٰ کو دوست نہ بنائو جو ان کو دوست بنائے گا انہیں میں سے شمار کیا جائے گا…
لو یہ کیا ہوا؟
ہمارے ختنے، اسلامی نام، اور مسلمانوں کے خاندان میں پیدا ہونے کا بھی لحاظ نہیں
ہو گا؟…
قرآن میں تو یہی
لکھا ہے…
پھر سوچو کیا
کریں؟…
یار اکھٹے چل کر
آقا سے مشورہ کرتے ہیں کہ قرآن کا کیا حل نکالیں… یہی دراصل لوگوں کو ’’انتہا
پسند‘‘ بنا رہا ہے…
نہیں یار یہ گھر
کی بات آقا کو نہیں بتاتے… اسلام بدنام ہوجائے گا…
٭٭٭
شہداء بابری مسجد
کو والہانہ خراج عقیدت پیش کرنے والا یہ مضمون
جہاد کشمیر کے خلاف پھیلائے گئے اکثر وساوس، اعتراضات اور شبہات کا مدلل
جواب دیتا ہے۔
پہلا خاکہ۔ اس
اعتراض کا جواب کہ جہاد کشمیر ایجنسیوں کا جہاد ہے
دوسرا خاکہ۔
مجاہدین کو لاشوں کا سوداگر کہنے والوں کی حقیقت
تیسرا خاکہ۔
مجاہدین پر پھبتیاں کسنے والوں کا حال
چوتھا خاکہ۔ انڈین
فوجیوں کے حالات ( اس میں کافی سارے الفاظ ہندی کے ہیں)
پانچواں خاکہ۔
جہاد کشمیر کی حقانیت پر ایمان افروز تقریر
(۲۴ ذی الحجہ ۱۴۲۵ھ بمطابق۹فروری ۲۰۰۵ء)
ہائے جہاد کشمیر
بے چارہ … اب ’’القلم‘‘ والوں کو بھی جہاد کشمیر کے ساتھ یکجہتی کی سوجھی ہے… بڑے
لوگ معلوم نہیں کیا کچھ لکھیں گے؟ سعدی اس موقع پر بھی آپ کو چند خاکے … چند
مکالمے سناتا ہے… امید ہے کہ … ان شاء اللہ … کافی ساری باتیں سمجھ آ جائیں گی…
نیکی نہ بھی کر سکے تو ممکن ہے بعض بھیانک گناہوں سے بچ جائیں… اللہ تعالیٰ ہم سب
کی مدد فرمائے … رہنمائی کرے…
پہلا خاکہ
جہاد کشمیر بالکل
غیر شرعی ہے … پکا غیر شرعی … بلکہ مجھے تو اسے جہاد کشمیر کہنے پر بھی اعتراض ہے۔
یہ جہاد کہاں ہے؟ یہ تو ایجنسیوں کا کھیل ہے … جی کونسی ایجنسی کا؟… خیبر ایجنسی…
مالاکنڈ ایجنسی … کرم ایجنسی؟ … نہیں بھائی نہیں … حکومت کے خفیہ ادارے کو ایجنسی
کہتے ہیں میں اس کی بات کر رہا ہوں… اچھا تو معلوم ہوا کہ کشمیر میں حکومت کے خفیہ
اداروں کے لوگ لڑ رہے ہیں… مگر ہمارے محلے میں چند دن پہلے ایک نوجوان کی شہادت کی
خبر آئی… میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں… بہت صالح نوجوان تھا… بہت ذہین تھا… بہت
پاکباز … بس کیا بتائوں … فرشتہ صفت انسان تھا… مگر وہ تو کسی ایجنسی کا ملازم
نہیں تھا… لگتا ہے تمہاری عقل ڈیرہ بگٹی گئی ہوئی ہے… یہ میں نے کب کہا کہ وہاں
خفیہ اداروں کے لوگ لڑ رہے ہیں… یہ لڑ نہیں رہے لڑا رہے ہیں… مر تو بیچارے عام لوگ
رہے ہیں… مگر یہ ان کو پیسہ دیتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں… بس اس لئے یہ
ایجنسیوں کا جہاد ہے… اور بالکل غیر شرعی ہے … لیکن جناب مجاہدین بیچارے تو … گلی
گلی چندے کرتے پھرتے ہیں … کبھی قربانی کی کھالیں جمع کرتے ہیں تو کبھی مساجد کے
باہر جھولیاں پھیلاتے ہیں… بے چارے ایک طرف اپنے شہداء کے زخم اٹھائے پھرتے ہیں تو
دوسری طرف انہیں اپنوں کی جیلوں کا سامنا ہے… ایک طرف دشمن انہیں گولیاں مارتے ہیں
تو دوسری طرف اپنے انہیں گالیاں دیتے ہیں… اگر یہ حکومتی لوگ ہوتے تو خوب مزے میں
رہتے … یار تم نہیں سمجھتے یہ خالصتاً ایجنسیوں کے لوگ ہیں… ان کی گاڑیاں دیکھو …
میرا تو دل … جل کر کوئلہ ہو جاتا ہے۔ حکومت اوپر اوپر سے ان پر پابندیاں لگاتی
ہے… اندر سے ان کے ساتھ ملی ہوئی ہے… ان کی حکومت کے لوگوں سے باقاعدہ ملاقاتیں
ہوتی ہیں… اور بھی بہت سی باتیں میرے دل میں ہیں جو نہیں بتا سکتا… ہاں یہ بات
ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہوں کہ … یہ جہاد غیر شرعی ہے… چلیں جناب جیسے آپ کا فرمان…
مگر دنیا میں کسی جگہ تو شرعی جہاد ہو گا؟ … آپ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر … عمل کرتے ہوئے … اس
جہاد میں تھوڑی سی شرکت کر لیں … تاکہ … جسم پر جہاد کی تھوڑی سی مٹی تو لگ
جائے…کوئی ایک آدھ خراش… ایمان کی گواہی دینے کے لئے بدن پر لگ جائے… اور نفاق کی
وعید سے جان بچ جائے… اس لئے کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ… جس نے جہاد میں حصہ نہ
لیا… اور نہ جہاد میں لڑنے کا شوق اس کے دل میں ابھرا… وہ نفاق کے ایک حصے پر مرے
گا…
ہم کیوں حصہ لیں؟
اسلام میں انفرادی ٗ جماعتی جہاد کہاں ہے… جہاد تو حکومت کا کام ہے… حکومت جس جہاد
کا اعلان کرے وہ جہاد شرعی ہوتا ہے… جناب پھر تو ’’جہاد کشمیر‘‘ شرعی ہو گیا اس
لئے کہ آپ کے بقول وہ حکومت کا جہاد ہے… آپ اسی وجہ سے اسے غیر شرعی فرما رہے
تھے… اور اب آپ فرما رہے ہیں کہ … حکومت کی اجازت کے بغیر جہاد ہوتا ہی نہیں…
کوئی واضح بات فرمائیں… جی؟ … چونکہ … چنانچہ … کیونکہ …
دوسرا خاکہ
واہ بھائی واہ …
کیا مضمون لکھ مارا ہے… دراصل اندر کا آدمی ہے اس لئے … بالکل اندر کی باتیں لایا
ہے… اب پتہ چلا کہ مجاہدین کے پاس گاڑیاں کہاں سے آتی ہیں… بڑے پارسا بنتے تھے یہ
لوگ… اب سارا راز کھل گیا… دیکھو کیسی زبردست بات لکھی ہے کہ … حکومت ان کا تعاون
کرتی ہے… لاحول ولاقوۃ الا باللہ … دیکھا یہ ہے … لاشوں کی سوداگری… لوگوں کو مروا
رہے ہیں… اندر سے حکومت کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے… چلو اس موضوع پرپھر کبھی … گوشت
کھائیں گے۔
ہاں بھائی سنائو…
ادارے کی رجسٹریشن کے مسئلے پر … حکومت کچھ نرم پڑی یا نہیں… جناب کچھ نرمی تو
آئی ہے… مسلم لیگ والے کافی تعاون کررہے ہیں… ویسے لگتا ہے کہ اب حکومت کو اس
مسئلے پر تعاون کرنا ہی پڑے گا… کرنا بھی چاہئے جب خود کو مسلمان کہلاتے ہیں تو
پھر اس معاملے پر تعاون بھی کریں… یہ کاغذ کیا ہے؟ جی ہم نے صدر سے ملاقات میں
مطالبہ رکھا ہے کہ … مساجد کے معاملے میں حکومت کی سرد مہری بہت بڑھ گئی ہے حکومت
تعاون کرے… اور مساجد کے بجلی کے بل یا تو کم کر دے … یا بالکل نہ بھجوائے… یہ
مطالبہ تیار ہے بس آپ کے دستخط با قی ہیں… لائو بھئی نیک کام میں کیا دیر
۔۔۔۔۔۔یہ لو ہم نے دستخط کر دئیے ویسے اس مطالبے کی میڈیا میں بھی تشہیر ہونی
چاہئے کہ… حکومت کو ویسے تو مدارس اور مساجد پر قبضے کا بہت شوق ہے… مگر ہم تو صرف
اتنی سی رعایت مانگ رہے ہیں… یار یہ فون قریب کرنا… ایس ایچ او سے بات کرنی ہے…
کچھ لوگ زیادہ ہی گڑ بڑ کر رہے ہیں… ذرا ان کے کان کھنچواتا ہوں… بڑے پھنے خان
بنتے ہیں… پچھلے دنوں ایس ایچ او آیا تھا کہہ رہا تھا کہ کوئی کام ہو تو بلا تکلف
فون کر لیا کریں… ارے بھول نہیں جانا شام کو… تکّے منگوالینا… میجر صاحب آ رہے
ہیں… ان کا کہنا ہے کہ میں بھی سیاسی و سماجی اثر و رسوخ رکھتا ہوں… امن کمیٹی میں
شامل ہو جائوں… ذرا اخلاق سے پیش آنا… اور خوب اچھے کھانے کا بندوبست کرنا… بعد
میں کافی کام نکلتے رہتے ہیں… جناب وہ لاشوں کے سوداگر ہاں بالکل … وہ لوگ تو
حکومت کے ایجنٹ ہیں۔
جناب حکومت کا اگر
یہ فرض بنتا ہے کہ … ختم نبوت کے مسئلے پر تعاون کرے… مدارس کی خود مختاری کے
معاملے پر تعاون کرے… مساجد کے تحفظ کے معاملے پر تعاون کرے… دینی سیاسی جماعتوں
کو الیکشن میں حصہ لینے کے مسئلے پر تعاون کرے… دینی اجتماعات کی اجازت دینے کے
مسئلے پر تعاون کرے… اور حکومت کے تعاون سے ان میں سے کوئی کام بھی غیر شرعی نہیں
بنتا… تو کیا حکومت کا فرض نہیں ہے کہ … جہاد کے مسئلے پر بھی تعاون کرے… اول تو
حکومت کا حال سب کو معلوم ہے کہ … وہ تعاون نہیں کرتی… اگر بالفرض … یا جزوی طور
پر کرے تو پھر … جہاد کیوں غیر شرعی؟ … اور مجاہدین کیوں ایجنٹ؟ … اللہ پاک اس ملک
میں ختم نبوت کو عزت بخشے … مدارس اور مساجد کی حفاظت فرمائے… اور جہاد کا علم بھی
بلند رکھے… یہ سب دین کے کام… اور شعبے ہیں… انہیں ایک دوسرے کا معاون ہونا چاہئے
نہ کہ مقابل…
تیسرا خاکہ
دنبے نے زور دار
قہقہہ لگا کر کہا… وہ بھاگ گیا نہ … اب چھپا چھپا پھرتا ہے… یہ ہے ان کا جہاد… اور
یہ ہیں ان کے دعوے … بکری نے سنا تو مسکرا کر ہنہنائی اور کہنے لگی میں نے تو …
شعر بھی کہا ہے… مرغ نے کہا ضرور سنائو… تاکہ میں اور گردن فراز کر کے چل سکوں…
بکری نے کہا…
مسیحائی سے ڈر
لگنے لگا ہے… اور … مسیحا منہ چھپاتے پھر رہے ہیں… دیکھا نہ ڈر گئے… پکڑے جانے سے…
اور گرفتار ہونے سے… اب وہ جنگل میں مارا مارا پھرتا ہو گا… بلبل نے پھول کو چوم
کر کہاکس کی بات چل رہی ہے؟…سب نے بیک زبان کہا… شیر کی… ببر شیر کی… بہت دھاڑتا
تھا… اب جنگل میں چھپا چھپا پھر رہا ہے… بلبل مسکرائی… اور بولی … ہاں جن کے پاس
قوت ہوتی ہے… جن سے دنیا ڈرتی ہے… وہ جنگلوں میں ہی رہا کرتے ہیں… وہ جب دھاڑتا
تھا تو معلوم ہے کس کس کا دل دہل جاتا تھا؟ … دنبے نے کہا … میں بھی …زورداربیان
دیتا ہوں… اور حکومت کو ایسی گالیوں سے نوازتا ہوں کہ … کسی نے آج تک نہ دی ہوں
گی… بکری نے کہا … لو بھائی میں بھی تو کچھ کم نہیں کرتی… مگر ہم لوگ تو نہیں
چھپتے… سینہ تان کر پھرتے ہیں… بلبل نے ہنستے ہوئے… دنبے اور بکری کی گردن میں
جھولتی ہوئی رسی کی طرف دیکھا… پھر ایک نظر قصاب کی دکان پر ڈالی… اور پھر فضائوں
کا سینہ چیرتے… شہباز… اور جنگلوں کے خوف سے… بے خوف لڑتے… ببر شیر کی تعریف میں
قصیدہ پڑھنے لگی… خشک پہاڑ کی ایک غار سے … ملا محمد عمر مجاہد کی تلاوت کی آواز…
آ رہی ہے… گھنے جنگل کی زمین اسامہ بن لادن کے سجدوں کو چوم رہی ہے… سری نگر کے
مزار شہداء کے پتھر … غازی بابا کے ٹکڑوں کو چوم رہے ہیں… اور … اور … جموں کے
قبرستان میں حوروں کے بوسے … سجاد شہیدؒ پر … پھولوں کی طرح برس رہے ہیں…
چو تھا خاکہ
جے ہند سر… نمسکار
… بولو کیا سماچار ہیں؟ … شر… سیما پر باڑ کا کام پورا ہو گیا ہے… اب کیا آدیش
ہیں؟ … گھس پیٹھ رکی یا نہیں؟ شر وہ بھی کافی کم ہو گئی ہے… ویسے شیز فائر کا بہت
لابھ ملا ہے ہمیں… بس اب کشمیر سے آتنک واد سماپت ہو جائے گا شالے کسمیری بہت آ
جادی مانگتے تھے… ویشے پاکستان کا سینک شاسن تو نواز شریف شاسن سے بھی زیادہ ہوپ
فل نکلا ہے… جی شر… راشٹر پتی کے وشیش دودجی تو بار بار دلی آ جا رہے ہیں ویسے
بڑے ادھار وادی نیتا ہیں… ہاں جیش اور لشکر کے سنگٹھن بینڈ کرانے میں ان کا بہت
سیہوگ رہا ہے… ویشے مجھے ان کی ایک اور بات بہت بھائی ہے… ہم بھارتیوں کے منہ پر
پراجے(شکست) کی جو کالک 31 دسمبر 1999ء کو لگی تھی… جب ہمارا طیارہ اپھارن ہو گیا
تھا… انہوں نے وہ کالک کافی دھودی ہے… اب سنا ہے کہ … ہمیں پراجے کرنے والے خود
بھاگے بھاگے پھرتے ہیں… ویشے ہماری سرکار کو پاکستان میں سے جش جش سے ڈر لگتا تھا
… ان شب کا کھیل انہوں نے ٹھپ کر دیا… کوئی گھر میں بند بیٹھا ہے تو کوئی چھپا پھر
رہا ہے… کسی پر بھاشن دینے کی روک ہے تو کوئی جیل کی ہوا کھا رہا ہے… بھارت ماتا
کی کالی دیوی کی… چوکھٹ پر جتنا بلیدان ان لوگوں نے دیا… اتنا تو ہم ستاون سال میں
نہ دے سکے… وہ دیکھو اب ان کی ناریاں ادھر کی فلموں میں کام کر رہی ہیں … اور ہم
نے کیشی فلم بنائی… تم نے دیکھی؟ جی شر… وہ شین دیکھ کرتو خوشی سے ٹانگیں… دھوتی
سے باہر آ گئیں جب ہیرو نے … پاکشتان کو کہا… تم دودھ مانگو گے… ہم کھیر دیں گے…
تم کشمیر مانگو گے ہم چیر دیں گے… ارے یہ کس کا فون آگیا؟ … اٹھائو سنو! … کون
کیا بکتا ہے؟ … شر! شر! سری نگر میں اٹیک ہو گیا… گھش پٹھیئے گھش گئے… بھاڑ میں
جائیں… یہ دیکھو دوسرے فون پر کون ہے… شر ! شر ! بڈگام میں حملہ ہو گیا… بہت سارے
سینک کام آ گئے… پریس سیکرٹری کو بتاؤ کہ خبر نہ لگنے پائے… اگر لگ جائے تو بس
ایک سینک کی ہتیا ہونے کی لگے… شر … یہ فون سن لوں؟ … ہاں۔ شر کپواڑہ میں کانوائے
پر مائن اٹیک ہو گیا… کافی ساری گاڑیاں … سینک اور کتے مارے گئے… ہیلی کاپٹر
بھیجنے پڑیں گے…
ارے بھاڑ میں گئی
باڑ … سیز فائر … اور دوستی سمبندھ… سالے ہمارے نیتا خود دلی میں… دارو پی کر مست
پڑے ہیں اور ہم یہاں مر رہے ہیں… سب بکواس ہے ٗ اگر ہم پچاس سال بھی فوجی کارروائی
کرتے رہیں تب بھی… یہ جہاد … یہ آتنک واد بند نہیں ہو گا… یہ سالے ہم سے 71ء کا بدلہ
لے کر ہی رہیں گے… سالے وردی پہن کر آتے تو کچھ مزہ بھی آتا … مگر یہ تو … اتنے
بڑے بال… اور داڑھیاں رکھ کر آتے ہیں کہ… انہیں دیکھ کر … ہمارے سینک ڈر جاتے ہیں…
پانچواں خاکہ
حضرت! دعا
فرمائیں… تحریک کشمیر کے خلاف بہت سازش ہو رہی ہے… حضرت! بہت خطرہ ہے… آپ حضرات
اولیاء … اور علماء کرام کی دعائوں کی اشد ضرورت ہے… حضرت کیا بتائوں؟ … کیا…
واہ مجاہد واہ …
اتنے گھبرائے ہوئے کیوں ہو… جوان بنو … حوصلے رکھو… حضرت آپ سمجھیں ! بہت پریشانی
ہے… حکومت کشمیر کا سودا کر رہی ہے… ارے بھائی کیا فضول بات کر رہے ہو؟ کیا جہاد
کا بھی سودا ہو سکتا ہے؟… تم مجاہد لوگ بھی سیاسی لوگوں کی طرح سوچنے لگ گئے ہو…
کیا جہاد کشمیر صرف حکومت کے بل بوتے پر چل رہا ہے ؟ … نہیں حضرت مگر؟ … مگر وگر
کیا… حکومت منہ پھیرے یا پیٹھ ٗ اسلامی جہاد کو نقصان نہیں پہنچ سکتا… جہاد صرف
اللہ تعالیٰ کے سہارے پر ہوتا ہے… کیا حکومت اپنے مفادات کے لئے طالبان کا تعاون
نہیں کر رہی تھی؟… جی حضرت کر رہی تھی… اب کر رہی ہے؟ … نہیں حضرت بالکل نہیں… تو
کیا پھر طالبان ختم ہو گئے؟… بھولے کہیں کے … اللہ پاک … جہاد کی کرامت دکھانے کے
لئے … کافروں ٗ منافقوں … فاسقوں اور حکومتوں کو… بعض دفعہ مجاہدین کی خدمت پر لگا
دیتا ہے… اللہ کی شان دیکھو … امریکہ مدارس کا کتنا مخالف ہے… مگر تمہیں پتہ ہے
خود امریکہ میں کتنے دینی مدارس چل رہے ہیں… بالکل خالص دینی تعلیم دی جا تی ہے ان
میں… بابا اللہ پاک کے تکوینی نظام کو کوئی نہیں سمجھ سکتا… آج نادان لوگ…
افغانستان کے مجاہدین کو … سی آئی اے کا ایجنٹ کہہ دیتے ہیں … نہ بھائی نہ… یہ
بہت ظالمانہ بات ہے… سوویت یونین کے خلاف لڑنے والے مجاہدین کو… شاید تم نے نہیں
دیکھا… بھائی وہ تو قرون اولیٰ کے بھٹکے مسافر لگتے تھے… شہید ہوتے تھے تو ان کے
جسموں سے مشک کی خوشبو پھوٹتی تھی… لڑتے تھے تو فرشتے ان کے ساتھ ہو جاتے تھے…
بابا یہ ان کی کرامت تھی کہ … امریکہ انہیں اپنا اسلحہ فروخت کر رہا تھا… اور عرب
ممالک اس جہاد کا خرچہ اور … اسلحہ کی قیمت برداشت کر رہے تھے… اس بات سے مجاہدین
امریکہ کے ایجنٹ تو نہیں بن گئے… بابا ایجنٹ چھپتے نہیں ہیں… اگر یہ لوگ ایجنٹ
ہوتے تو… دوسرے مسلم حکمرانوں کی طرح ٹھاٹھ کرتے… مگر انہوں نے امریکہ کو ٹھوکر پر
رکھا… ساری دنیا کی مخالفت کے باوجود… بامیان کے بت گرا دیئے… بابا ایجنٹ ایسے
ہوتے ہیں؟ … ادھر دیکھو چیچنیا کے مجاہدین کی ترکی جیسا … سیکولر ملک مدد کرتا
رہا… یہ ہے ان کی کرامت… لیکن یاد رکھو… اللہ پاک نے کسی بھی جہاد یا تحریک کو …
کسی ملک اور حکومت کا ایسا محتا ج نہیں بنایا کہ … وہ ہٹ جائے تو جہاد ختم ہو
جائے… دیکھو طالبان کی پوری قوت باقی ہے… دیکھو عرب مجاہدین کا جہاد… عراق میں جا
کر کس قدر طاقتور ہو گیا ہے… بابا یہ دنیاوی سہارے ہٹتے ہیں تو جڑیں اور زیادہ
مضبوط ہو جاتی ہیں… حضرت آپ کی بات بجا ہے … مگر اندر اندر سے سودا ہونے کی خبر
آ رہی ہے… ارے بھائی چھوڑ کیا سودا اور کس کا سودا؟ رب نے شہیدوں کے خون کے بدلے
اپنی رضا… اور جنت تول دی ہے… وہ لوگ جو خود اپنی سانس کے مالک نہیں ہیں… وہ کیا
سودا کریں گے… حضرت تنظیموں پر پابندی؟ … جو تنظیم اللہ تعالیٰ کے لئے بنتی ہے اس
پر کوئی پابندی نہیں لگ سکتی۔ اب تم لوگ کیا چاہتے ہو کہ… جہاد بھی کرو اور جلسے
بھی… نہ بابا نہ… جو جہاد کرے گا اور وہ مخلص ہو گا اسے ضرور آزمایا جائے گا… ہاں
مگر وعدہ ہے کہ ان شاء اللہ کام چلتا رہے گا… اور جہادی تنظیموں کا کام جہاد کرنا
ہے… جلسے ٗ جلوس ٗ مظاہرے … اور بیان بازی نہیں… جائو جہاد کرو… رب ساتھ ہو گا…
حضرت یہ سب ٹھیک ہے… مگر لوگوں کوجب جلسے اوربیان نظر نہیں آتے تو وہ کہتے ہیں کہ
بھاگ گئے… چھپ گئے اور یوں جہاد بدنام ہوتا ہے… واہ بھائی واہ… ہم تو تمہیں عقل
مند سمجھتے تھے… لوگوں سے تم نے کیا لینا ہے؟ کیا تمہاری جنت لوگوں کے ہاتھ میں
ہے؟ کیا تمہاری روزی لوگوں کے ہاتھ میں ہے؟ کیا تمہاری کامیابی لوگوں کے ہاتھ میں
ہے؟ … کوئی بدنام کرتا ہے تو کرتا پھرے… تم نام سے بے نیاز ہو کر کام کرو… نام
بنانے والے بہت ہیں… کام کرنے والے تھوڑے ہیں… پگلے مت بنو… لوگوں میںسے جو خود
اللہ تعالیٰ کے لئے جانیں دینے والے ہوں گے وہ کبھی … تمہاری مخالفت نہیں کریں گے…
اور جو جان بچائو طبقہ ہو گا… اس کی مخالفت سے تمہارا کیا نقصان؟ … جو ابدہی اللہ
کے سامنے ہے صحافیوں کے سامنے نہیں… آخر ان لوگوں کی آنکھیں بھی ہیں اور گریبان
بھی… خود اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھ لیں کہ انہوں نے کیا کیا؟… صرف اتنا کہنے
سے تو جان نہیں چھوٹے گی کہ ہم تو دعوے نہیں کیا کرتے تھے؟ فرض فرض ہے… اور ہر کسی
پر ہے… کوئی دعویٰ کرے یا نہ کرے… اگر وہ کہتے ہیں کہ ہم تو چھپا چھپا کر کرتے
ہیں… تو پھر انہیں دوسروں پر اعتراض کا کیا حق ہے؟
بس بھائی زندگی کے
سانس غنیمت جانو… دوسروں کا نامہ اعمال ناپنے کی بجائے اپنے نامہ اعمال کی فکر
کرو… موت قریب اور قیامت سر پر ہے… حضرت آپ نے دل مطمئن کر دیا… ورنہ دانشوروں کے
مضامین نے تو ہمیں مایوسی کی دلدل میں پھنیک دیا تھا… کیا حضرت واقعی آفاق شہید
کے جسم کے ٹکڑے … اور بلال شہید کی جوانی ضائع نہیں جائے گی؟ کیا واقعی کشمیر کی تحریک کامیاب ہو
گی؟ … کیا واقعی ایک لاکھ شہداء کرام کا خون رنگ لائے گا… کیا واقعی کشمیر کی
بوڑھی مائیں آزادی کا سویرا دیکھیں گی… کیا واقعی حضرت؟ کیا واقعی؟ … ارے بھائی…
تو ہی ناداں چند
کلیوں پر قناعت کر گیا
ورنہ گلشن میں
علاج تنگی داماں بھی ہے
کشمیر
تو الحمد للہ … اب بھی آزاد ہے… سیاست و صحافت سے ذرا اوپر جہاد کی بلندی سے
جھانک کر دیکھو … کپواڑہ سے لے کر ہندواڑہ تک … ہر پہاڑ … ہر گلی … اور ٹیلہ
مجاہدین کے قبضے اور ان کی دسترس میں ہے… اور دیکھو … ہاں ہاں دیکھو… رام جنم
بھومی کی راکھ پر … بابری مسجد سینہ تان کر… کھڑی ہے… اور اس کے میناروں سے آواز
آ رہی ہے… اللہ اکبر … اللہ اکبر… ہاں ہاں… حذیفہ کی آواز… طلحہ کی آواز پاملا
کی آواز… او میرے یارو کیا کہہ رہے ہو… اللہ اکبر اللہ اکبر … ہاں ہم بھی تمھارے
ساتھ کہہ رہے ہیں… اللہ اکبر اللہ اکبر…
ارے بھائیو! بہت دن ہو گئے… گلے تو لگا لو… دل پھٹا جا رہا ہے… گلے لگیں گے… مگر …
پہلے اذان… اللہ اکبر … اللہ اکبر… لاالہ الا اللہ… اللہ کے سوا … کوئی معبود نہیں…
٭٭٭
اچانک علامہ
دمیریؒ سے ملاقات ہو گئی … اور یہ مختصر ملاقات تقریباً ایک سال بعد ہوئی…ہوا یہ
کہ ایک بزرگ نے ایک خواب دیکھا… مجھے یاد آیا کہ علامہ دمیری ؒ نے اس کی مفصل
تعبیر لکھی ہے… بس پھر کیا تھا فوراً علامہؒ کی کتاب… ’’حیوۃٰ الحیوان‘‘ اٹھا لی
اور یوں علامہ دمیریؒ سے مختصر ملاقات ہو گئی… کتاب میں اپنے مطلوبہ مقام تک
پہنچنے سے پہلے کئی جگہ رکنا پڑا۔ جن حضرات نے اس کتاب کو پڑھا ہے وہ اس بات سے ا
تفاق کریں گے کہ اس کتاب کا تقریباً ہر صفحہ … پڑھنے والے کا دامن پکڑ کر اسے اپنی
آغوش میں لے لیتا ہے یا یوں کہیں کہ بس چمٹ ہی جاتا ہے…کتاب میں انسان سمیت
سینکڑوں جانوروں کا تذکرہ ہے … یہ کیا بات ہوئی؟ … آپ سوچیں گے کہ انسان کو بھی
جانوروں میں شامل کر دیا… جی ہاں جس میں بھی جان ہو اسے جانور کہتے ہیں … عربی
زبان میں ’’حیوان‘‘ ہر اس جاندار کو کہتے ہیں جو اپنے ارادے سے حرکت کرتا ہے… اس
کتاب کا نام اسی لئے …’’حیٰوۃ الحیوان‘‘ جانداروں کی زندگی رکھا گیا ہے… کتاب کے
مصنف کا نام محمد بن موسیٰ بن عیسیٰ بن علی ہے … کہتے ہیں پہلے ان کا نام ’’کمال‘‘
تھا… ویسے آدمی بھی با کمال ہیں … پھر انہوں نے نام بدل لیا اور محمد رکھ لیا… ۷۴۲ھ … قاہرہ میں
پیدا ہوئے… پہلے درزی بنے اور پھر عالم… دینی علوم گھوم پھر کر وقت کے بڑے لوگوں
سے حاصل کئے… مکہ مکرمہ بھی پڑھنے کے لئے گئے وہاں حدیث اور ادب کی کتابیں پڑھتے
رہے… اس زمانے میں …’’عالمی برادری‘‘ نامی دو سینگوں والا جانور پیدا نہیں ہوا تھا
ورنہ علامہ دمیریؒ کی بھی رجسٹریشن ہو جاتی… کیونکہ وہ مدرسوں میں پڑھتے رہے…
زندگی کا کافی حصہ پڑھنے ، پڑھانے … درس دینے … حج کرنے اور تصنیف و تالیف کے کام
میں کاٹا… اور پھر ۸۰۸ھ
میں اپنا سفر پورا کر کے قاہرہ کے ’’مقابرالصوفیہ‘‘ میں اجرت پانے جا لیٹے… اپنی
کتاب ’’حیٰوۃ الحیوان‘‘ کو انہوں نے ایک عجیب و غریب ’’شہر‘‘ کی طرح بسایا ہے۔ اس
شہر میں ایک بہت بڑا چڑیا گھر ہے… ہر طرح کے جانور ، درندے ، چرندے ، پرندے … ان
کے نام … ان کی نسلیں … ان کے خواص… اور پتہ نہیں کیا کیا … اسی طرح اس شہر میں
’’عجائب گھر‘‘ بھی سجایا ہے۔ ایسی عجیب باتیں اور معلومات کہ انسان پڑھتے ہوئے
پہلو بدلنا … اور اپنے سامنے پڑی چائے کی پیالی اٹھانا بھول جاتا ہے… اس شہر میں
’’مساجد‘‘ بھی ہیں جہاں دین کی تلقین و نصیحت ہوتی ہے… اور خانقاہیں بھی جہاں
احسان و سلوک کے رموز سکھائے جاتے ہیں… اس طرح یہ شہر میدان ادب بھی رکھتا ہے جہاں
شعر و سخن کے نادر ذخیرے جمع ہیں اور اس شہر میں عامل بھی ہیں … عملیات سکھانے
والے ، تعویذ دینے والے اور ٹوٹکے بتانے والے… جب یہ کتاب پورا شہر ہے تو طب و
حکمت کی دکانوں سے کیوں خالی ہو گا… چنانچہ طب و حکمت کے حیران کن نسخے اس میں
موجود ہیں … شہر میں اچھے برے… تر اور خشک… میٹھے اورکڑوے ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں
اس کتاب میں بھی ایسا ہی ہے چنانچہ اس کی ہر بات کو درست مان لینا اور اس کے ہر
واقعہ کو سند تسلیم کر لینا بھی درست نہیں ہے… بہت کچھ ا یسا ہے جو’’سمجھ و سند‘‘
روایت و درایت‘‘ کے معیار پر پورا نہیں اترتا… اس کتاب کو پڑھ کر آدمی روتا بھی
ہے اور ہنستا بھی… چونکتا بھی ہے اور کانپتا بھی… چہکتا بھی ہے اور چلاتا بھی…
سعدی کے پاس کتاب کا جو نسخہ ہے وہ دوجلدوں پر مشتمل بیروت کا چھپا ہوا ہے۔ پہلی
جلد ’’۵۲۰‘‘ اور
دوسری جلد ’’۵۸۱‘‘ صفحات
پر مشتمل ہے… کتاب کاپہلا حیوان … ’’اسد‘‘(شیر) اور آخری ’’یعسوب‘‘ ہے۔یعسوب شہد
کی مکھی کی ملکہ کو کہتے ہیں… ان دونوں کے درمیان … تقریباً ہر ’’معلوم‘‘ جانور
اور پرندے کا تفصیلی احوال ملتا ہے… میں نے کئی بار کوشش کی کہ اس کتاب کو ترتیب
سے پڑھ ڈالوں… مگر کبھی ایسا نہ ہو سکا… بس جیسے ہی کتاب کھولی کسی صفحے نے اپنی
جکڑ میں لے لیا… اور کافی دورجا کر چھوڑا… سعدی کو جب پتہ چلا کہ اس کتاب کا اردو
ترجمہ بھی ہو چکا ہے تو بہت خوشی ہوئی… مگر اسے دیکھ کر سارا مزہ کرکرا ہو گیا اور
مجبوراً … واپس عربی کی طرف لوٹنا پڑا… ویسے جنت والوں کی زبان بھی عربی ہو گی…
خدارا یہ بات آپ کسی ’’روشن خیال‘‘ کو نہ بتا دیجئے گا وہ اس فکر میں گھلنے لگے
گا کہ جنت والے ترقی کیسے کریں گے؟ … اور ’’عالمی برادری‘‘ کو کیا منہ دکھائیں
گے؟… چلیں اصل بات کی طرف واپس لوٹتے ہیں… ہمارے ایک محترم بزرگ نے خواب دیکھا کہ
وہ سینگوں والا دنبہ ذبح کر رہے ہیں… مجھے یاد پڑا کہ علامہ دمیریؒ نے دنبے اور
مینڈھے پر بہت کچھ لکھا ہے… کتاب کی دوسری جلد کے صفحہ ۳۶۴ سے شروع ہوئے ہیں
اور پورے چھ صفحے لکھ کر دم لیا ہے… آخر میں ’’حسب عادت‘‘ اس کے طبی فوائد اور
نسخے لکھ کر خواب میں اسے دیکھنے کی تعبیر لکھتے ہیں… میں نے تعبیر دیکھ لی… ماشاء
اللہ بہت اچھی تھی… ویسے صرف کتاب دیکھ کر تعبیر تک پہنچ جانا … بہت مشکل ہے… خواب
دیکھنے والا کون ہے؟ کیسا ہے؟ … کہاں ہے؟… کس مقام و عمر کا ہے؟ … پھر خواب کب
دیکھا؟ کیسے دیکھا؟ کس وقت دیکھا؟ … کس حالت میں دیکھا؟ … کس موسم میں دیکھا؟ …
پورا دیکھا؟ … ادھورا دیکھا؟ … کسی کو بتایا؟ وغیرھا بہت مشکل علم ہے۔ بس اللہ پاک
اپنے نور سے جسے چاہے سکھا دے، سمجھا دے ۔ سعدی جیسے لوگوں کی کہاں پہنچ؟ … ہمیں
تو بس اتنا فائدہ ہواکہ تعبیر دیکھنے کے بہانے کافی عرصہ بعد علامہ دمیریؒ سے
ملاقات ہو گئی… وہ بڑے ’’نافع‘‘ آدمی ہیں…
بہترین آدمی وہ ہوتا ہے جو کسی کو نفع پہنچائے… انہوں نے جلدی جلدی چند
باتیں سنا دیں۔ ان میں سے چند آپ اس کالم میں پڑھ لیں… صفحہ ۲۰۹ پر لکھتے ہیں…
رسالہ قیشری میں مرقوم ہے… حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو
بہت گڑ گڑا کر دعا مانگ رہا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا اے میرے
پروردگار اگر اس کی حاجت میرے بس میں ہوتی تو (میں اس کی یہ حالت دیکھ کر) اسے
ضرور پورا کر دیتا۔ اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی اے موسیٰ میں آپ سے زیادہ اس کے
لئے رحمت والا ہوں لیکن یہ دعا تومجھ سے مانگ رہا ہے جبکہ اس کا دل اپنی بکریوں کے
ریوڑ میں اٹکا ہوا ہے… جس کا دل میرے غیر کے پاس ہو اس کی دعا کیا قبول ہو… حضرت
موسیٰ علیہ السلام نے اس آدمی کو سمجھایا اس نے فوراً دل کو سب سے کاٹ کر اللہ سے
جوڑا تو اس کی حاجت فوراً پوری ہو گئی…
بڑی حکمت والا
واقعہ ہے… بات صرف توجہ کی نہیں بلکہ امید اور خوف کی بھی ہے… جب امیدیں غیروں سے
… اور ڈر بھی غیروں کا … اور توجہ بھی غیروں کی طرف … پھر کیا دعا؟ … کیا وظیفہ
اور کیا قبولیت؟ … کوئی مالک کو سب کچھ سمجھ کر تو دیکھے … اللہ پاک ہمیں اپنی
معرفت نصیب فرمائے…
آگے صفحہ ۴۲۸ پر لکھتے ہیں…
حجاج بن یوسف کی
موت کا وقت آیا تو عجیب حالت تھی… بار بار بے ہوش ہوتا…پھر ہوش میں آ جاتا جب
بھی ہوش میں آتا تو کہتا… ہائے میرا اور سعید بن جبیر کا معاملہ؟ … لوگ کہتے کہ
مرض الموت کے دوران وہ جب بھی سوتا تو حضرت سعید بن جبیر کو خواب میں دیکھتا کہ وہ
اس کے دامن کو پکڑ کر پوچھ رہے ہیں کہ اے اللہ کے دشمن مجھے کس بات پر تو نے قتل
کیا؟ … بس وہ ہڑ بڑا کر جاگ جاتا… کہتے ہیں کہ امیر المومنین حضرت عمر بن
عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے حجاج کوا س کے مرنے کے بعد خواب میں دیکھا… گلا سڑا
… بدبودار … اور مردار … حضرت نے پوچھا … اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ کیا معاملہ
کیا؟ …کہنے لگا مجھے ہر اس شخص کے بدلے ایک بار قتل کیا گیا جسے میں نے قتل کیا
تھا جبکہ سعید بن جبیر کے بدلے مجھے ستر بار اللہ تعالیٰ نے قتل کیا۔ (حیٰوۃ الحیوان ۔ ص ۴۲۸ ج ۲)
دیکھا آپ نے ظالم
کا انجام … قتل تو ویسے ہی بھیانک جرم ہے… اور پھر مسلمان کا قتل اس سے بھی بھیانک
… اور پھر علماء اور مجاہدین کا قتل … اتنا خوفناک اتنا بھیانک اور اتنا خطرناک ہے
کہ بیان سے باہر … بعض روایات میں تو اسے کفر لکھا ہے… ہاں جو اسے جائز سمجھے اس
کا ایمان کہاں باقی رہ جاتا ہے… بہت کچھ سوچنے… اور بہت کچھ سمجھنے کی ضرورت ہے…
خون کسی کا بھی ہو بہت بڑی حرمت رکھتا ہے… صرف اللہ کے حکم اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے بغیر… کسی کو مارنا جائز
نہیں ہے… حدیث صحیح میں آیا ہے کہ سب بخشے جائیں گے مگر اپنے گناہ پر فخر کرنے
والے نہیں … آج تو فخر کیا جاتا ہے… مسلمانوں کو مار کر… مجاہدین کو مار کر…
اپنوں کو مار کر … دوسروں کو رواداری کا درس ہے اور خود اپنی بندوق ہر وقت شعلے
اگل رہی ہے… شیخ سعدی گلستان میں لکھتے ہیں کہ ایک حکمران نے… ایک بے گناہ شخص کے
قتل کا فرمان جاری کیا… اس نے کہا کہ جنابِ حاکم ! مجھ پر تو قتل کی سزا ایک سانس
میں گزر جائے گی… مگر اس کا گناہ… آپ کو ہمیشہ کاٹے گا… کھائے گا… جلائے گا… تڑپائے
گا… قرآن پاک میں ہے کہ جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے گا ہمیشہ جہنم میں
جلے گا… وہ حکمران جو … موت ، قبر … اورآخرت کو مانتا تھا… اللہ سے ڈر گیا
اوراسنے سزا کا حکم واپس لے لیا… بے شک سچی بات یہی ہے کہ … ظلم ایک انگارہ ہے… جو
ظالم کے ہاتھوں سے نکل کرمظلوم کو جلاتا ہے۔ مگر پھر آگ کا الائو بن کر واپس ظالم
کی طرف لوٹ آتا ہے… اور اسے ہمیشہ بھونتا رہتا ہے… ہائے علامہ دمیری ؒ نے سعیدبن
جبیرؓ کا نام لیا تو مجھے … اس زمانے میں علم و عرفان کے امام وہ تین مظلوم یاد آ
گئے… جنہیں بے دردی کے ساتھ شہید کیا گیا… خون کے چھینٹے ہر جاگتی آنکھ… اور
تڑپتے دل کو سرخ کر گئے مگر… قاتلوں کے ہاتھ صاف رہے… بالکل شفاف… کیونکہ ایسے
لوگوں کو قتل کرنا … دنیا میں امن ومحبت کے پھول کھلانے کے لئے ضروری ہے… کراچی کی
ایک جامع مسجد … جس کا نام … مسجد خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم ہے… اس کے پہلو میں چار قبریں… بھوری
بھوری … مٹیالی مٹیالی… ان شاء اللہ جنت تک وسیع و عریض … خوب مہکتی ہوئی… یہ دنیا
کے ان قبرستانوں میں سے ایک ہے… جہاں سب کے کفن سرخ اور نصیب بلند ہیں… اللہ اکبر…
شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ … بیسیوں کتابوں کے مصنف … علم و
عرفان کے بادشاہ … قلم کے شہسوار … اور ختم نبوت اور جہاد کے مجنوں … ان کے ساتھ
ان کا وفادار … خوش نصیب … اور خدمت گار ڈرائیور … جناب عبدالرحمن شہیدؒ … پھر
عالم اسلام کے دلوں پر سورج کی طرح راج کرنے والی … بلند و بالا ہستی امام المجاہدین
حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہید ؒ … ہزاروں طلبہ کے استاد … میدان جہاد …
اور کلمہ حق کے فدائی غازی … اور ان سب کے آخر میں … امام المخلصین … ظاہری و
باطنی حسن و جمال کے پیکر … فقید المثال شخصیت … حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان
صاحب شہیدؒ …
کوئی ہے پوچھنے
والا کہ ان کو کس لئے قتل کیا گیا؟ … کوئی ہے گریبان میں جھانکنے والا کہ ایسے
تباہ کن طوفانی گناہ … کس کی خاطر ہوئے؟ … کوئی ہے ان فہرستوں پر نظر ڈالنے والا …
جو ایسے مزید گناہوں کی دعوت دے رہی ہیں… کراچی کے اس کُنج شہیداں میں معلوم نہیں
مزید قبروں کی جگہ باقی ہے یا نہیں … البتہ مجھے یہ اچھی طرح معلوم ہے … مزید
بندوقوں میں مزید گولیاں … ایسے ہی دلگداز اور ایمانی سینوں کیلئے … بھری جا چکی
ہیں… حجاج بن یوسف کے بدبخت پیروکار … ایسے اندھے مشنوں کیلئے تیار ہیں … مگر یاد
رکھنا… اسلام کی گود بانجھ نہیں ہوئی… حجاج جیسے بہت آئے اور مر گئے … مگرسعید بن
جبیرؓ … کل بھی زندہ تھا… اور آج بھی زندگی کے مزے لوٹ رہا ہے… گولیاں کم پڑ
جائیں گی… کیونکہ وہ انسانی کارخانے سے بنتی ہیں… مگر وہ سینے کم نہیں پڑیں گے جو
الٰہی کارخانے سے … قرآن … اور جہادی نور لے کر بنتے ہیں… تاتاری اور ان کے ان
گنت تیر ختم ہو گئے… جبکہ مسلمان بھی باقی ہیں… اوران کے منور سینے بھی۔
ایک خوفناک دہشت
گرد شہر میں گھس آیا… اس نے رات کو ایک طوفان برپا کیا… الامان… ایک ہی رات میں
بیس پچیس آدمیوں کو کاٹ کر پھینک دیا… جی ہاں ان کو بے دردی کے ساتھ قتل کر دیا…
اور وہ فریاد بھی نہ کر سکے… اور تین سو سے زائد افراد کو بے دردی سے زخمی کر
پھینکا… بس صرف اتنا ہی نہیں وہ لوگوں کی جیبوں اور تجوریوں سے مال بھی لے اڑا…
لاکھ دو لاکھ نہیں… بلکہ …دو ارب سے زائد کا مال… اور اس نے بہت سارے لوگوں کو
بیمار کر دیا … اور بہت ساروں کو داغدار…اس دہشت گرد کے… ہمارے سابقہ دشمن… اور
حالیہ دوست انڈیا سے بھی تعلقات تھے… وہ وہاں سے نشہ آور شراب لایا… جوبہت سے
لوگوں کوپلا گیا… اور آف دی ریکارڈ وہ وہاں سے … کچھ اور … بھی لایا… آپ بتایئے…
اس ظالم کو کیا سزا دی جائے؟… اس درندے کا کیا حشر کیا جائے؟… کیا یہ دہشت گرد
نہیں ہے؟… دہشت گرد بھی تو قتل و غارت اور لوٹ مار کی وجہ سے … دہشت گرد کہلاتے
ہیں… کیا یہ انتہاء پسند نہیں ہے؟… انتہاء پسندوں سے بھی تو اس لئے نفرت کی جا رہی
ہے کہ وہ کسی کی نہیں سنتے … اس ظالم نے بھی تو کسی کی ایک نہ سنی… بائیس افراد کے
جنازے اپنے خون کا حساب مانگ رہے ہیں… بائیس میتوں کے وارث اپنی آہوں اور سسکیوں کے
درد میں غوطے کھا رہے ہیں… دین حیران ہے… اور غیرت پریشان۔۔۔۔ زخمی ہسپتالوں میں
کراہ رہے ہیں… جبکہ شراب کے بیوپاری نوٹ گن رہے ہیں۔۔ آخر یہ سب کچھ اس اندھیر
نگری میں کس کی اجازت… اور کس کی سرپرستی میں ہوا؟… ہے کوئی پوچھنے والا؟… اگر
کوئی تنظیم ایک رات میں اس سے چوتھائی افراد کو قتل کر دیتی تو معلوم ہے… کتنے
اجلاس بلائے جاتے؟… کتنے گھروں پر چھاپے پڑ جاتے؟… اخبارات میں کیسے کیسے بیانات
آتے؟ مگر وہ دہشت گرد… جس کے منہ سے خون ٹپک رہا تھا… قہقہے لگاتا ہوا… لاشوں کو
روندتا ہوا چلا گیا… وہ اپنے خونخوار دانت دکھا کر یہ بھی کہہ گیا… میں اگلے سال
پھر آئوں گا… اسی دہشت کے ساتھ… اسی طوفان کے ساتھ… اور انکی گاڑی میں بیٹھ کر
آئوں گا… جن کی گاڑی کوئی نہیں روکتا… کوئی نہیں ٹٹولتا… میں نے دوسروں کی طرح اس
دہشت گرد کے بارے میں اخبار کی چند خبریں پڑھیں۔ مگر دل بیٹھنے لگا… جگر پر آہیں
برسنے لگیں تو مزید نہ پڑھ سکا… مجھے بہت سارے دعوے اور بہت ساری باتیں مشکوک لگنے
لگیں… دنیا میں امن و امان… اور ملک میں تہذیب و ترقی کا رونا رونے والے… مجھے
جھوٹے لگنے لگے… اگر ان کے دل میں انسانی جان کا اتنا درد ہے تو پھر … بسنت نام کے
اس دہشت گرد پر پابندی کی خبریں اگلے دن کے اخبارات میں کیوں نہیں لگیں… کشمیر کی
جن جہادی تنظیموں پر … پابندی، ظلم اور خوفناک بیانات کے بم برسائے گئے تھے انہوں
نے تو … اس ملک میں کسی ایک فرد کو بھی قتل نہیں کیاتھا… اگر ان پر پابندی ضروری
تھی تو … کیا بسنت ان سے کم خطرناک ہے؟… بسنت نے انڈیا کو مضبوط کیا… جو ہمارا
بیری دشمن ہے… بسنت نے قوم کو ایسا ننگا کیا کہ … اہل دل کے سرشرم سے جھک گئے… مگر
بسنت میں تو وہ سب شریک تھے جنہوں نے اس ملک میں دینداروں کا جینا دوبھر کر رکھا
ہے… وہ کون سا جرم ہے جو بسنت کے دوران سرکاری سرپرستی… اور حفاظت میں نہیں ہوا…بے
حیائی، شراب نوشی … اسراف… جوا بازی… سٹہ بازی… اسلحے کی نمائش اور اس کا استعمال…
دین کا کھلم کھلا مذاق… معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جو
مہم جاری ہے… اس کا مقصد… امن کا قیام… یا انسانی جانوں کی حفاظت نہیں کچھ اور ہے…
ان تمام باتوں کا بس ایک ہی جواب ملتا ہے کہ … لوگ اگر خوشی کرنا چاہتے ہیں تو ہم
انہیں کیوں روکیں؟… تو جناب کچھ لوگ اگر جہاد کرنا چاہتے ہیں تو ان کو کیوں روکا
جاتا ہے؟… کہتے ہیں کہ بسنت لاہور کی ثقافت کا حصہ ہے… تو کیا جہاد، ڈاڑھی ،پردہ
اور دینی علوم کے مراکز اسلامی ثقافت کا حصہ نہیں ہیں؟ پھر ان پر آئے دن کیوں حملے
کئے جاتے ہیں ؟ آخر ہمارے نظریاتی اور اسلامی ملک میں بسنت کو اس طرح سے منانے کا
اس کے علاوہ اور کیا مقصد ہے کہ … قوم کو دین سے جتنا ممکن ہو دور کیا جائے…بسنت
سے غربت کا خاتمہ ہوتا ہے؟… کیا بسنت سے تعلیم عام ہوتی ہے؟… کیا بسنت سے ملک کے
زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوتا ہے…؟ کیا بسنت کا تعلق قوم کی صحت سے ہے؟…
حکومت نے بسنت
کیلئے ایک رات کھلی چھٹی دے دی… کیا وہ ایک رات جی ہاں صرف ایک رات ان لوگوں کو
کھلی چھٹی دی جا سکتی ہے جن بے چاروں کو … آقا مدنی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
طریقہ کو زندہ رکھنے کے جرم میں دن رات کو سا جاتا ہے… رات دن ستایا جاتا ہے… بات
گلے سے نہیں اتر رہی کہ … جو قرآن کی آیات پر اصرار کریں وہ انتہاء پسند… اور جو
ہندوانہ تہوار بسنت پر اصرار کریں وہ ماڈریٹ… جو پردے پر اصرار کریں وہ بنیاد
پرست… جو ناچ گانے اور بے پردگی پر اڑ جائیں وہ روشن خیال … جو اللہ کیلئے لڑنے کو
جائز سمجھیں وہ دہشت گرد اور جو امریکہ کے تحفظ کیلئے بندوق اٹھائیں وہ مہذب… جو
مظلوم مسلمانوں کا رونا روئیں… وہ پاگل اور جنونی اور جو کفر کی ہر ادا کو عام
کرنے کیلئے زور لگائیں وہ ترقی یافتہ… جو کشمیرکی عصمت دریدہ بہن کیلئے چیخیں اور
پکاریں وہ ملکی امن کیلئے خطرہ … اور جو بمبئی کی طوائفوں کو یہاں بلا لائیںوہ ملک
کے وفادار…
کشمیر کی طرف تو
باڑ لگ گئی… جبکہ واہگہ کی طرف باڑ ھ کھل گئی… اخبار اٹھاتے ہی یہی نظر آتا ہے کہ
… کوئی جا رہا ہے… اور کوئی آ رہا ہے… اور ظلم عظیم یہ ہے کہ اب ہمیں یہ سمجھایا
جا رہا ہے کہ … ہم پنجابی ہیں… ہم سرائیکی ہیں… ہم سندھی ہیں… ہم پختون ہیں … اور
اُدھر بھی… ہمارے ہندو پنجابی … سرائیکی اور سندھی بھائی موجود ہیں… عالمی پنجابی
کانگریس کے خود فراموش… ادھر سے ادھر پھرتیاں کرتے پھر رہے ہیں … شاعروں اور
ادیبوں کے ٹھٹھ لگے ہوئے ہیں… اگر یہ سب کچھ کرنا تھا تو پھر … لاکھوں افراد کو
کیوں کٹوایا گیا؟… آج کے اخبار میں تصویر جمی ہے کہ … ہریانہ کے وزیراعلیٰ اوم پر
کاش چوٹالہ کا تپاک سے استقبال کیا جا رہا ہے… یقینا کل کے اخبارات میں … ان کے
پاکستان کے ساتھ محبت کے بیانات شائع ہونگے… یہ سب ٹھیک مگر کیا چوٹالہ صاحب سے یہ
پوچھا جا سکتا ہے کہ اگر…پاکستان کے ساتھ آپ کو اتنی محبت ہے تو پھر … کشمیر میں
پاکستان کا نام لینے والوں پر … گولیاں… اور ڈنڈے کیوں برسائے جا رہے ہیں؟
بسنت میں ڈھول
تاشے بج رہے ہیں… رقص کی محفل عروج پر ہے مسلمان… دھمال ڈال کر بھارتی شراب پی رہے
ہیں… پاکستان کے غیور نوجوان، بھارتی اداکارائوں کی خدمت… اور آئو بھگت میں لگے
ہوئے ہیں۔
شور شرابا…
خوشیاں، قہقہے…مزے اور چھیڑخوانیاں… پتنگیں اور تھرکتی جوانیاں… لاہور والو!تمہیں
مبارک…معاف کرنا… سعدی مسکین تمہاری اس خوشی میں شریک نہیں ہو سکا… کیونکہ… وہ
کہیں اور پہنچ گیا… ہاں ہاں اس کا دل… اور دماغ کہیں اور پہنچ گیا… جموں کے ایک
عقوبت خانے میں… ایک جیل کے کمرے میں… جہاں ایک ہندو پنڈت… چہرے پر تھپڑ برسا رہا
ہے… بہت زور دار… زناٹے دار… پتہ ہے وہ ڈاڑھی والے چہرے پر… تھپڑ برسا برسا کر …
کیا مطالبہ کر رہا ہے…لاہور والو… سنو… وہ کہہ رہا ہے کہو!… پاکستان مردہ باد…
پاکستان کی ماں کو گالی دو… پاکستان کی بہن کو گالی دو… چہرہ مار کھا کھا کر … سرخ
ہو رہا ہے… بلکہ سوج گیا ہے …نرم و نازک ڈاڑھی اکھاڑ کر قدموں میں ڈال دی گئی ہے…
ایک اورنے… ڈاڑھی کو ہاتھ میں لے کر زور سے کھینچا اور کہا ہم تمہیں ہندو بنا کر
دم لیں گے… نصر اللہ منصور کے پائوں کے انگوٹھے کو پتھر سے توڑ دیا گیا… جعفر کی
کمر پر پٹرول ڈال کر… آگ لگا دی گئی… بس ایک ہی مطالبہ کہ پاکستان کی ماں کو گالی
دو… اور سجاد شہیدؒ کے جسم پر ایک کپڑا بھی نہیں تھا… حوریں بھی روپڑی ہونگی … آٹھ
آدمی اس کی ٹانگیں چیر رہے تھے… اور کہہ رہے تھے… پاکستان کی ماں کو گالی دو…
لاہور والو! میں تمہاری بسنت میں نہیں آ سکا…
٭٭٭
جموں کے علاقہ میں
کئی جیلیں ہیں… اللہ تعالیٰ سب کو بچائے… اور بہت سارے عقوبت خانے … ایک بار ایسا
ہوا کہ … کچھ حریت پسند قیدیوں نے … غالباً وہ سکھ تھے … یا کشمیری … جیل سے رہا
ہونے کے لئے ایک عدد سرنگ کھودی … آپ جانتے ہیں کہ یہ کتنا مشکل اور جوکھم کا کام ہے
…بہرحال وہ محنت کرتے رہے … اور اپنا خون پسینہ لگا کر … سرنگ کو جیل کی بیرونی
دیوار تک لے گئے … بس ایک دو روز کا کام باقی تھا… اور خلاصی چند قدموں پر تھی …
مگر پھر معلوم ہے کیا ہوا؟… جیل والوں نے … جیل کی اندرونی … اور بیرونی دیوار کے
درمیان واقع سڑک پر … کسی کام سے بس گذاری … بس بہت بھاری بھر کم تھی … اور سڑک کے
نیچے سرنگ کھدی ہوئی تھی … بس جب وہاں سے گزری تو نیچے دھنس گئی … یوں سرنگ کا راز
کھل گیا … اور قیدیوں کی قید … اور زیادہ سخت ٗ مشکل … اور طویل ہوگئی … گائے کے
پجاریوں کو بس نے کام دیا… اور قیدیوں کو بس نے بے بس کردیا… وہ دن … اور آج کا دن
وہاں کی تمام جیلوں کے اندرونی … اور بیرونی راستوں پر بسیں اور ٹرک دندناتے پھرتے
ہیں… آزادی کی سرنگوں کو ڈھونڈنے … مٹانے … اور گرانے کیلئے … اب لالہ جی گائے کے
پوتر موت (پیشاب) کا گھونٹ بھر کر کہتے ہیں … بس سروس کی جے … اور فضاء میں پیشاب
کی بوپھیل جاتی ہے…
بس سروس کی جے…
کمانڈر سجاد شہیدؒ نے مقبوضہ کشمیر میں … چار سال جہاد کیا… مقبوضہ کشمیر جموں اور پونچھ کے لوگ انہیں اچھی طرح جانتے ہیں… سرینگر کی کئی مقدس مائیں آج بھی …عیدالاضحیٰ کے موقع پر … اللہ تعالیٰ کے حضور… سجادؒ شہید کے لئے قربانی ذبح کرتی ہیں … ویسے سجادؒ نے بھی وفاداری کی حد کردی … اپنی قبر بھی ان کے ہاں بنوالی… ۱۹۹۰ء سے لے کر ۱۹۹۴ء تک سجادؒ کا نام … انڈین آرمی کیلئے دہشت کی نشانی بنا ہوا تھا۔ وہاں کے مسلمان اور خود انڈین آرمی … انہیں سجادؒ افغانی کے نام سے جانتی تھی … سچی بات یہ ہے کہ وہ دیکھنے میں افغانی بھی لگتے تھے… اور کشمیری بھی … ان کی مادری زبان تو ’’پہاڑی‘‘ تھی… راولاکوٹ اور پونچھ والوں کی زبان … پشتو کافی حد تک سمجھتے تھے … اردو بہت خوبصورت بولتے اور لکھتے تھے … اور مقبوضہ کشمیر والوں کی زبان … ’’کشمیری‘‘ فرفر بولتے تھے … اور جیل میں رہ کر عربی کے ساتھ بھی کافی مناسبت پیدا کرچکے تھے… انڈین فوج انہیں ڈھونڈتی پھرتی تھی … اور ماہر کتے انہیں سونگھتے پھر رہے تھے … مگر وہ کہاں ہاتھ آتے تھے… سیکورٹی فورسز انہیں سرینگر میں ڈھونڈتی تو وہ اسلام آباد (اننت ناگ) کے پہاڑی جنگلوں میں … مجاہدین کے کیمـپ چلا رہے ہوتے تھے… اور جب آپریشن کا رخ ان پہاڑوں کی طرف ہوتا تو وہ … قالینوں کے تاجر بنے سرینگر میں اطمینان سے کار ڈرائیو کر رہے ہوتے تھے… حکومت کشمیر میں ان کا کھوج لگاتی تو وہ اننت ناگ کے اوپر سے … پہاڑوں کو روندتے ڈوڈہ جابیٹھتے … اور جب جموں میں ان کی تلاش شروع ہوتی تو وہ دہلی کا چکر لگا آتے … سجاد شہیدؒ … جہاد کشمیر کے نباض… اور انڈین فورسز کے طریقہ واردات کے … واقف کار تھے … انہیں لڑنا بھی آتا تھا… اور چھپنا بھی … مگر معلوم ہے پھر کیا ہوا؟… ۱۹۹۴ء کا ایک ٹھنڈا دن … گیارہ فروری … شہید مقبول بٹ ؒ کی برسی۔۔۔۔ پورے کشمیر میں عام ہڑتال ۔۔۔۔۔سجاد شہید ؒ کی مخبری ہوگئی … ان کا طریقہ کار یہ تھا کہ … اپنے آگے پیچھے ایک کلومیٹر تک سیکورٹی رکھتے تھے … بس ادھر آرمی آتی اور ادھر سجاد شہیدؒ کا وائرلیس بول پڑتا… سادہ کپڑوں والے جانثار بتا دیتے کہ آگے آرمی ہے… مگر اس دن آرمی والوں نے عوامی بس … اور سول ٹرک پکڑ لئے … اب ’’بس‘‘ جیسی بے ضرر چیز بھلا کسی کو کیوں کھٹکے؟… با لآ خر آرمی … بس اور سول ٹرک کی آڑ لے کر ان تک جا پہنچی… چار سالہ عزیمت و جہاد کی تاریخ کا ایک سنہرا باب ’’بس‘‘ کے ٹائروں کے نیچے دب گیا… اسلام کا یہ شیر پکڑا گیا … ۱۹۹۴ء فروری سے لے کر ۱۹۹۹ء جون تک … عقوبت خانوں اور جیل کی آزمائش گاہوں میں صبرو استقامت کی تاریخ رقم کرتا رہا… پھر ایک اندھیری رات … اس کے جسم پر اتنے ڈنڈے ٹوٹے اور … اتنی لاٹھیاں برسیں کہ … اس نے کلمہ طیبہ پڑھ کر … پرواز کرلی… اور جموں کے ایک قبرستان میں جاسویا … اب اگر پنڈت جی گائے کا موت پی کر کہہ رہے ہیں… بس سروس کی جے … تو یہ ان کا حق ہے کہ وہ گائے کے ساتھ ’’بس‘‘ کو بھی ماتھاٹیکیں … ’’بس‘‘ اس قدر جو کام آئی …’’بس سروس کی جے‘‘
آپ نے ماضی قریب میں کئی نام سنے ہوں گے … ’’بھارتیہ جنتا پارٹی‘‘ جسے پیار سے بی جے پی کہا جاتا ہے … ’’اٹل بہاری واجپائی‘‘ … چھیاسی سالہ کنوارہ لیڈر… جو لیڈری کے علاوہ شاعری بھی کرتا ہے… ’’لال کرشن ایڈوانی‘‘… سندھ سے بھاگ کر بھارت کی وزارت داخلہ تک پہنچنے والا ایک کٹر ہندو … جو بھارت کو دوسرا سپین بنانے کے خواب دیکھتا تھا ’’اوما بھارتی‘‘… ایک گنجی عورت جس نے بابری مسجد کو گرانے کی تحریک میں نمایاں کردارادا کیا اور یہ قسم کھائے رکھی کہ جب تک مسجد نہیں گرے گی وہ اپنے سر پر بال نہیں رکھے گی… اور جب مسجد شہید ہوگئی تو وہ مجمع عام میں … اچھل کر ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کے کندھوں پر چڑھ گئی … ’’سشما سوراج‘‘ ٹھگنے قد والی… لومڑی کی طرح تیز طرار عورت… جس نے بی جے پی کی جیت پر ایڈوانی کے منہ میں مٹھائی ٹھونسی… اور دہلی کی وزیراعلیٰ اور بھارت کی وزیراطلاعات رہی … القلم کے پیارے قارئین … آپ کو یہ سب کچھ یاد ہے نا؟… ۶دسمبر۱۹۹۲ء جب ہزاروں ہندوئوں کے ریلے نے بابری مسجد شہید کردی … ۲۰۰۲ء جب بھارت کے صوبے گجرات میں … بی جے پی کے وزیراعلیٰ نریندر مودی کی قیادت میں … ہزاروں گجراتی مسلمان زندہ جلا دیئے گئے … سینکڑوں پاکیزہ بیٹیاں… سربازار رسوا کردی گئیں… جی ہاں … اور جب دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ پر چھاپہ پڑا… اور مفکر اسلام مولانا ابو الحسن ندوی ؒ … اپنے آنسو سمیٹتے رہ گئے … آخر بھارت کی کرسی پر … بی جے پی جیسی کٹر ہندو پارٹی کو اقتدار کیسے ملا؟… اس چھوٹے سے سوال کا جواب پانے کیلئے ۷۵ سال کی تاریخ کو کھنگالنا پڑتا ہے … پاکستان اسلام کے نام پر بنا مگر یہاں کی پاکیزہ کرسی پر … کوئی راسخ العقیدہ مسلمان … ایک دن بھی نہ بیٹھ سکا… جبکہ بھارت کا آئین اس کو ایک سیکولر ملک بتاتا ہے … مگر وہاں کی کرسی پر وہ جاپہنچے جن کیلئے ’’انتہاء پسندی‘‘ کا لفظ بہت چھوٹا معلوم ہوتا ہے… مختصر یہ کہ ہندوستان میں ایک کٹر نظریاتی پارٹی ہے… جس کا نام … آر ایس ایس … راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ ہے … راشٹریہ کا معنیٰ ’’قومی‘‘ سوئم معنیٰ ’’خود‘‘ سیوک معنیٰ کام یا خدمت اور سنگھ کا معنیٰ پارٹی یا جماعت … سنگھ کے سین پراگر زیرلگادی جائے یعنی سِنگھ تو اس کا معنی ہے شیر … آج کل ایک بڈھا سِنگھ … نٹورسِنگھ پاکستان آیا ہوا ہے… دیکھیں وہ کیا کچھ چیرپھاڑ کرتا ہے…
خیر… آر ایس ایس
کا معنیٰ ہوا… قومی رضا کار پارٹی ۔۔۔۔ اس متعصب ہندو جماعت نے اپنی مختلف شاخیں
بنا رکھی ہیں… فکری نظریاتی کام کیلئے وی ایچ پی … وشوا ہندو پریشد ہے… لڑائی
جھگڑے … اور غنڈہ گردی کیلئے … بجرنگ دل … اور شیوسینا ہیں… اور سیاست کی دکان
چمکانے کیلئے بھاجپا … یعنی بی جے پی ہے … آپ حیران ہوں گے کہ آر ایس ایس میں سب
سے اہم عہدہ ’’پرچارک‘‘ کا ہوتا ہے… یعنی مشن کا پرچار کرنے والا… اور اس کی دعوت
دینے والا … آر ایس ایس کا پرچارک شادی نہیں کرتا … اور پوری زندگی اپنے شرکیہ
پیغام کو پھیلاتا ہے … اٹل بہاری واجپائی … ماضی میں آر ایس ایس کے ’’پرچارک‘‘ رہے
ہیں… اس لئے انہوں نے شادی نہیں کی … چنانچہ آثار قدیمہ کے محققین کا یہ دعویٰ کہ
وہ ہیجڑے ہیں زیادہ درست معلوم نہیں ہوتا … آر ایس ایس تعلیمی ادارے بناتی ہے …
پھر اپنے پڑھے پڑھائے لوگوں کو … فوج اور سول سروس میں اعلیٰ عہدوں تک پہنچاتی ہے…
دنیا بھر کے ہندوئوں کو اپنے رابطے میں رکھتی ہے… اکھاڑے بناکر عسکری تربیت کا
انتظام کرتی ہے … اور سیاست اور میڈیا سے لے کر فلم انڈسٹری تک اپنی پکڑ مضبوط
بنانے کیلئے منظم کام کرتی ہے… آر ایس ایس کا مذہبی یا قومی نشان … خاکی کچھا … یعنی خاکی رنگ کی نیکرہے … اکھنڈ بھارت …
یعنی متحدہ بھارت ان کی منزل مقصود ہے… اور اکھنڈ بھارت کے نقشے میں پورا پاکستان
سماجاتا ہے … پچھتر سال کی دیمک صفت محنت کے بعد … آر ایس ایس کو بالآخر بھارت کا
اقتدار ملا … مگر منزل بہت دور تھی … کیونکہ … لوک سبھا یعنی قومی اسمبلی میں اسے
واضح اکثریت نہ مل سکی … اور اسے کئی ایسی پارٹیوں کو ساتھ ملانا پڑا جو … اس کی
بہرحال ہم مشن نہیں تھیں… آیئے اب بات کو مختصر کرتے ہیں … آر ایس ایس کا اہم ترین
مشن … پورے بھارت کو دوبارہ ہندو بنانا … اور پھر اس ہندو بھارت کو متحد کرکے …
اکھنڈ بھارت قائم کرنا ہے … ماضی میں بھارت کے عیسائیوں اور مسلمانوں کو … شدھی
(پاک) کرنے کی تحریک ہمارے سامنے ہے …اب آر ایس ایس اقتدار میں پہنچ گئی … مگر
حکومت پر مکمل قابو نہیں ہے… بھارتیہ جنتا پارٹی کے وہ لیڈر جن کے نام آپ نے ابھی
پڑھے ہیں …اپنے مشن کی تکمیل کیلئے بے چین ہیں مگر ایک طرف کشمیر کی تحریک آزادی …
دوسری طرف افغانستان کے طا لبان … اور تیسری طرف خود ہندوستان کے بکھرے ہوئے سہی …
مگر طاقتور مسلمان … بی جے پی نے طا لبان کیخلاف شمالی اتحاد … اور ایران سے ہاتھ
ملایا … اور دہلی لاجپت نگر کا علاقہ شمالی اتحاد کے لیڈروں کی آماجگاہ بن گیا …
ہندوستان کے مسلمانوں کو نکیل ڈالنے کا ایک بڑا منصوبہ شروع ہوا جس کی ادنیٰ جھلک
نصاب تعلیم میں تبدیلی اور گجرات کے مسلم کش فسادات تھے … مگر کشمیر کی تحریک کا
کیا کیا جائے؟… بہت غورخوض … اور فکر مندی کے بعد یہ طے ہوا کہ … پاکستان کو تجارت
… اور ثقافت کی یلغار میں غرق کیا جائے … اسی زمانے میں اندرون خانہ ڈپلومیسی کا
منحوس دروازہ کھلا … اور با لآخر پاکستان تجارت اور ثقافت کے جال میں پھنستا نظر
آیا … بلی کی گردن میں گھنٹی باندھنے کے لئے کسی بڑے ڈرامے کی ضرورت تھی… تب پنڈت
جی کے دماغ میں پھر ’’بس‘‘ آگئی … بھارتی وزیراعظم … جسے وہاں پر دھان منتری کہا
جاتا ہے… ایک بس پر لاہور کی طرف روانہ ہوئے … یہ بس لاہور کو فتح کرنے کیلئے …
کسی ٹینک کی طرح آگے بڑھی … اور واہگہ بارڈر کراس کرگئی … اس دن لاہور کے غیور
مسلمان … پولیس کے ڈنڈے کھاتے رہے … اور پاکستان میں موجود انڈین ایجنٹ خوشی سے
جھومتے رہے … یہ بس … آر ایس ایس کے خوفناک مشن کو … مینار پاکستان پر قابض کردیتی
… مگر … کچھ لوگ جاگ رہے تھے … لاہور کے مظاہرے … کرگل کے دھماکے … اور مجاہدین
کشمیر کے زبردست حملے … اس بس کو پنکچر کر گئے … تب … مجھے اچھی طرح یاد ہے … میں
نے خود بوڑھے واجپائی کی کھنکھناتی آواز … ریڈیو پر سنی … وہ کہہ رہے تھے … ہم نے
بس چلائی مگر پاکستان نے ہماری پیٹھ میں کرگل کا چھرا گھونپ دیا… مگر ’’بنیا‘‘
آرام سے نہیں بیٹھتا … اس نے وہ ہاتھ ڈھونڈ نکالا جس نے کرگل کا چھرا گھونپا تھا …
اب بنیے نے اسی ہاتھ کو ’’رام‘‘ کرنے کیلئے ’’دام‘‘ بچھایا… اور اب وہی ہاتھ … خود
ایک ’’بس‘‘ کی چابی سرجھکا کر انڈیا کے حضور پیش کررہا ہے … تب بنیا شراب کا گھونٹ
پی کر کیوں نہ کہے … ’’بس سروس کی جے‘‘
کشمیری مسلمان بھی عجیب لوگ ہیں… ٹوٹ کر محبت کرنے والے… اور ہر لمحہ حالات کے ستم سہنے والے … ظلم اور مجبوری نے گویا کشمیر کو اپنا وطن بنا لیا ہے … خوبصورت جگہ جو ہوئی … ہر کسی کی خواہش ہے کہ کشمیر اسے ملے … پہلے سکھ سردار چڑھ دوڑے … پھر انگریز آدھمکے … پھر ڈوگروں نے انسانیت کو شرمندہ کیا … اور اب بھارت ہے کہ سوتے جاگتے اٹوٹ انگ … اٹوٹ انگ کی مالا جپتا رہا ہے … کشمیریوں پر جو مظالم ڈھائے گئے ہیں … انہیں سن کر … پڑھ کر … اور دیکھ کر انسان غمزدہ تو ہوتا ہی ہے … سخت حیران بھی ہوتا ہے کہ … یااللہ یہ سخت جان قوم کس مٹی سے بنی ہے … ماضی کی بات چھوڑیئے… حالیہ تحریک جہاد ہی کو لے لیجئے… یقین کیجئے اب تک کوئی اور قوم ہوتی تو کبھی کی ہتھیار ڈال کر … غلامی کو اپنا مقدر سمجھ بیٹھتی … اور انڈیا کی گود میں جا گرتی زبان سے کہنا آسان ہے مگر… حقیقت بہت مشکل ہے کہ… کشمیر میں روزانہ اوسطاً 30 جنازے اٹھتے ہیں … سنا ہے کہ ایک بوڑھے باپ کے پانچ بیٹے تھے … پانچوں شہید ہوچکے ہیں … پاکستان نے اس بوڑھے باپ کو بھلا دیا ہے مگر اس استقامت کے پہاڑنے … اسلام کو بھلایا ہے نہ جہاد اور پاکستان کو … سنا ہے اب بھی یہی پیغام بھیجتا رہتا ہے کہ … فتح ان شاء اللہ اسلام کی ہو گی … اور کشمیر پاکستان بن کر رہے گا … اور یہ کہ میں اور شہیدوں کی ماں بھی … قربانی دینے کیلئے تیار ہیں … انڈیا نے پہلے پولیس اور سی آر پی ایف کو آزمایا… چند ماہ میں ان دونوں نے ہتھیار ڈال دیئے اور سی آر پی ایف نے تو سپریم کورٹ میں حکومت کیخلاف مقدمہ درج کرا دیا کہ ہمیں بے بسی سے مروایا جارہا ہے … پھر بی ایس ایف کو لایا گیا مگر چند ماہ بعد اس نے بھی ہاتھ کھڑے کر دیئے … اس کے بعد ریگولر آرمی اور راشٹریہ رائفلز کے دستے میدان میں اترے … مگر ساڑھے سات لاکھ انڈین آرمی جہاد کا اور تحریک کا کچھ نہیں بگاڑ سکی… جہاد کشمیر پر انگلیاں اٹھانے والے کبھی کشمیر کے کسی ایک معرکے کی کارگذاری سن لیں … اگر دل میں روشنی اور آنکھوں میں نور ہوگا تو بے ساختہ چلا اٹھیں گے کہ … یہ سب کچھ محض اللہ تعالیٰ کی نصرت سے ہی ممکن ہے … اس کے بعد انڈیا نے اسرائیل کو اپنی مدد کے لئے پکارا … مشرکین اور یہودیوں کا یہ اتحاد بھی … تحریک کشمیر کو ایک قدم پیچھے نہ ہٹا سکا… یقین کیجئے … جب تک پاکستان نے مجاہدین کے خلاف انڈیا کا تعاون شروع نہیں کیا … انڈیا کشمیر میں بے بس نظر آرہا تھا… پاکستان کا انڈیا سے تعاون … چونکہ مسلمانوں کا مسلمانوں کے خلاف تعاون ہے … اس لئے اس کی نحوست ظاہر ہوئی … اور برہمنی سامراج نے پہلی بار … اطمینان کا سانس لیا … پاکستان نے جہادی تنظیموں پر پابندی لگائی … پاکستان نے سیزفائر کا ظالمانہ فیصلہ کیا … پاکستان نے انڈیا کو امن کے ساتھ آہنی باڑ لگانے دی … پاکستان نے مجاہدین کو ستایا … پاکستان نے خیر سگالی کے غیر ضروری اقدامات کر کے … مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی … پاکستان نے کشمیر کے بارے میں اپنے دیرینہ موقف پر ایسی لچک دکھائی کہ … پوری قوم کا حوصلہ پچک کر رہ گیا … خیر یہ تو لمبی داستان ہے … آیئے ایک مختصر سا نقشہ دیکھتے ہیں…
ایک
ظالم نے کچھ لوگوں کو قید کرلیا … پھر ان پر طرح طرح کے ستم ڈھانے لگا … اس نے ان
کی خوبصورت زمین کو ہی جیل خانہ بنادیا … مظلوم لوگوں نے بہت ہاتھ پائوں مارے …
بہت دہائیاں دیں … بہت مظاہرے کئے … مگر ظالم نے ایک نہ سنی … مظلوموں نے باہر کے
لوگوں کو مدد کے لئے بلایا … مگر سب کے ظالم کے ساتھ اچھے تعلقات تھے … تب اللہ
پاک نے نصرت فرمائی … مظلوموں نے آزادی کی سرنگ کھودنا شروع کردی … انہیں ایک وکیل
بھی مل گیا بہت ہمدرد … بہت خیر خواہ … اس وکیل نے ان کی حوصلہ افزائی کی … مظلوم
اپنے خون اور آبرو سے سرنگ کھودنے لگے … انہوں نے ایک لاکھ افراد کٹوا دیئے …
انہوں نے اپنے خوبصورت مکانات سے ہاتھ دھویا … ہزاروں افراد معذور اور سینکڑوں
بیٹیاں رسوا ہوئیں … مگر ایک ایمان … ایک جوش … اور ایک ولولہ … سرنگ بنتی چلی گئی
… اور اب منزل چند قدم کے فاصلے پر ہے … تب اچانک ان کا وکیل … گبھرا گیا … اس نے
ظالم سے یاری گاٹنھ لی … ادھر ادھر کے کچھ لوگوں نے اس سرنگ کا خاتمہ چاہا … باہم
مشورے ہوئے … اور تب ایک ’’بس‘‘ چلانے کا فیصلہ ہوا … مظلوم قوم حیران ہے … اسّی
ہزارشہداء کی قبروں پر لگے کتبے … رو رہے ہیں … مائیں آنچل پھیلا کر سجدے میں گری
پڑی ہیں … وہ بہنیں جن کی چادرِ عصمت تارتار ہوئی خالی آنکھوں سے آسمان کی طرف
دیکھ رہی ہیں … یا رباّ … یہ کیا ہوگیا … ہمارا وکیل خود بس میں تیل بھر رہا ہے …
ہائے کاش … ہم بھی شہداء کے قریب زمین کے اندر جگہ پا چکے ہوتے … سید علی گیلانی
کا بڑھاپا ششد رہے … آزادی کے متوالے سر پکڑے بیٹھے ہیں … بنیا زوردار قہقہ لگاتا
ہے … بس سٹارٹ ہو چکی ہے … وہ سرنگ کے اوپر سے گزرنا چاہتی ہے … جموں کی جیل والی
سرنگ کی طرح … یہ سرنگ بھی بیٹھ گئی تو؟ … بنیا کہہ رہا ہے … بس چلائو … بس چلائو
… شہداء کے وارث بلک بلک کر … پاکستان سے کہہ رہے ہیں … بزدلی اور خیر سگالی کے یہ
بھونڈے اقدامات … بس … بس … بس ۔۔۔۔۔اللہ کیلئے… بس
مگر یہ چھوٹا سا
بچہ کیا کہہ رہا ہے؟… ارے اس کے جسم سے تو خون ٹپک رہا ہے … خون کیا ؟… وہ تو ٹوٹے
ہوئے گلاب کی طرح … بکھرا پڑا ہے … کیا نام ہے بیٹا؟… آفاق ؒ … اسلام کا آفاق ؒ …
سری نگر کا رہنے والا … کہو بیٹا کہو؟… ہم تو بہت پریشان ہیں … کہیں یہ ’’بس‘‘ … آزادی
کی سرنگ کو گرانہ دے … آفاق مسکرایا … واہ سعدی چچا … اپنے آنسو سنبھال رکھو … یہ
سرنگ بہت گہری ہے … بہت مضبوط … ’’بس‘‘ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی … ہاں اگر ’’بس‘‘
نے اسے گراہی لیا تو معلوم ہے … کیا ہوگا؟… کیا ہوگا ؟… بس چلانے والے دونوں فریق…
بس سمیت اس سرنگ میں آگریں گے … چچا!… شہداء کا خون رب کو بہت پیارا ہے … تب کوئی
نہیں بچے گا … کوئی نہیں…
٭٭٭
کیا آپ قندھار،
ہلمند، اور زگان کا سفر کرنا چاہتے ہیں ؟… کیا آپ خوست ، پکتیا، پکتیکا اور غزنی
جانا چاہتے ہیں؟ … کیا آپ کو میدان ، وردک اور گردیز جانے کا شوق ہے ؟ اور ہاں آپ
تورا بورا کے پڑوس میں واقع ننگر ھار… جلال آباد کی سیر کریں گے؟ جی ہاں دل تو
چاہتا ہو گا … مگر؟ وہاں تو امریکہ کا قبضہ ہے … شمالی اتحاد کا راج ہے… را کی
حکومت ہے … موساد کی اٹھک بیٹھک ہے … یعنی بہت خطرہ ہے … سنا ہے طالبان حملے کرتے
ہیں … القاعدہ والے بھی خشک پتھروں کے نیچے چھپے ہوئے ہیں … اور چور ، ڈاکو
دندناتے پھرتے ہیں … وہ ٹھیک مگر تفریح بھی تو بہت ہے … بالکل خالص … ملاوٹ سے پاک
… ریفرنڈم سے زیادہ شفاف … بنیادی جمہوریت سے زیادہ مست… اصلی چرس ملتی ہے … ویڈیو
کی دکانیں… اور ناچ گانے کے اڈے سبھی کچھ کھل گیا ہے… مگر ہم تو نیک لوگ ہیں …
اچھا یہ بتائیں کہ… افغانستان جانا ہے یا نہیں ؟… بھائی کیوں لے جانا چاہتے ہو؟
ایک عجیب تماشا دکھانا ہے …عجیب و غریب تماشا … جی ہاں ساری دنیا کو تماشا بنانے
والے کا … عبرتناک تماشا… ٹکٹ … پاسپورٹ کا کیا بنے گا ؟ چھوڑیں ٹکٹ پاسپورٹ کو …
آئیے… سعدی کا ہاتھ پکڑئیے… آنکھیں بند کیجئے… فرضی پاسپورٹ تھامئے… ’’ ہوائی‘‘ جہاز
پر بیٹھئے … اور پہنچ گئے جنوبی افغانستان … یہ ایک گورنر ہاؤس ہے … گورنر صاحب …
پرانے زمانے میں مجاہد کمانڈر تھے… اب کرزئی کے دل کا سکون … اور امریکہ کی آنکھ
کے تارے ہیں … ان کا یہ ہفتہ بہت مصروف ہے آپ آنکھیں بند کر کے… گورنر صاحب کی چند
دن کی مصروفیات دیکھتے جائیں …
گورنر ہاؤس …
اتوار کادن
وہ خربچہ کدھر گیا
؟… آ گیا صاحب …ووئے ابھی تک کمرا میں ٹی وی می وی نہیں لگایا … جی ابھی حاضر کرتا
ہے …ایک ٹی وی نہیں چار پانچ لگاؤ… ایک پر انڈیا والا پلم … دوسرا پر امریکہ والا
… اور باقی پر رنگین رنگین … شا شا … پلمو نہ لگاؤ… خا جی … ووئے تم کیا دیکھتا ہے
شراب مراب کا اچّا اچّا بوتل لا کر خوب ڈیزائن سے لگاؤ… ووئے خانہ خراب ہمارا پینٹ
اور شرٹ تیار ہے ؟… جی صاحب کب پہنیں گے؟… ابھی تھوڑی دیر میںپہنتا ہوں گیارہ بجے
وہ کاپر کے بچے آ رہے ہیں… میرے کو تو پینٹ پہننا بھی نہیں آتا ہے … مگر کیا کریں
… مجبوری ہے … جتنی دیر پہنتا ہوں … ایسا لگتا ہے ٹانگیں جہنم میں پھنسی ہوئی ہیں
… گلباز خان کو بلاؤ … ووئے ترجمہ ٹیک کرنا… اور چرس والے سگریٹ ؟… جی تمام
مہمانوں کے سامنے میز پر حاضر ہونگے… آپ فکر نہ کریں … بس آپ لباس بدلیں… پگڑی
اتاریں… پینٹ چڑھائیں … ٹائی لٹکائیں … ووئے کمرہ تو دیکھو ٹھیک ہے ؟ … جی صاحب
بہت زبردست امریکی بہت خوش ہونگے … مگر دیوار پر عورتوں کی تصویریں … اور لائٹ
میوزک ہوتا تو اچھا تھا… ووئے خو چہ جلدی جلدی پوٹو لگاؤ … اور میوزک بجاؤ… ہم
ابھی آیا … امریکی وفد پہنچ گیا۔
امریکی وفد
گورنر
صاحب نے خوب ہاتھ دبا دبا کر … مردوں اور عورتوں سے مصافحہ کیا… شراب کی بوتلیں
جھاگ انڈیلنے لگیں… چرس کے سگریٹ سلگنے لگے… مہمانوں کے بیٹھتے ہی … گورنر صاحب نے
تالی بجائی… کچھ عورتیں … اور مرد … اندر آ کر ناچنے لگے … گرم پلیٹوں میں … دنبے
کے کباب دھواں اڑا رہے تھے … امریکی مست ہو رہے تھے … طوفان تھما تو بات چیت شروع
ہوئی … گورنر صاحب ! ہم یہاں آ کر بہت خوش ہیں … آپ تو بہت روشن خیال اور ہم سے
محبت کرنے والے ہیں … جی تابعدار… ہم کو آپ اپنا غلام سمجھو آپ اس پورے صوبے کی
پِکر نہ کریں… ہم نے پانچ سو القاعدہ والے مار دیئے… گلباز خان نے آنکھ مار کر
گورنر صاحب کو بتایا پچاس کہیں… گورنر نے آنکھیں نکال کر گلباز کو گھورا… خانہ
خراب جو بتاتا ہوں وہی ترجمہ کرو…… اور ہم نے پانچ ہزار طالبان مار کر دفنا دیئے
ہیں… ہمارا لائق جو خدمت ہو… ہم بالکل بالکل حاضر ہے …
امریکی وفد نے
خوشی سے تالیاں بجائیں … پھر پوچھا… آپ ڈرگز کیلئے کیا کر رہے ہیں … گورنر صاحب نے
کہا ہم ڈرگز کیلئے بہت کام کر رہا ہے … آپ لوگوں کو بھی ابھی خالص پلایا ہے… ہم نے
اعلان کیا ہے کہ … جو ملاوٹ والا مال بیچے گا ہم اس کو الٹا لٹکائے گا … اور جو
چور کا بچہ مہنگا بیچے گا … ہم اسکی کھال … اتارے گا … گلباز نے اپنا سر ہاتھوں
میں پکڑ لیا … امریکی وفد کے ایک ممبر نے کہا…پلیز ٹرانسلیٹ مسٹر گلباز… گلباز نے
کہا… گورنر صاحب نے کہا ہے مجھے دو منٹ کیلئے باہر جانا ہے…اگر آپ مائنڈ نہ کریں …
وفد والوں نے کہا بالکل نہیں … … گورنر صاحب جا سکتے ہیں… گلباز نے مخصوص اشارہ کر
کے … گورنر کو باہر نکالا وہاں جا کر سمجھایا … پھر دونوں واپس آ گئے…گورنر نے گلا
صاف کر کے کہا … ہم ڈرگز کو بالکل ختم کرتا ہے … ہمارا صوبہ میں ایک بوٹی بھی پیدا
نہیں ہوگا… بس ہمارا کسان لوگ …خر …لوگ ہے … اگر کچھ ڈالر مالر دے گا تو یہ لوگ
ڈرگز کو ختم کرے گا…… ترجمہ سن کر امریکی وفد نے اپنے کاغذوں پر کچھ لکھا … پھر
پوچھا… طالبان اور القاعدہ کو ختم کرنے میں آپ کا رول کیا ہو گا؟… ہم ان کا نسل
بھی مٹا دے گا بس کچھ گاڑیاں ماڑیاں کم ہیں … جنگ میں جو ہمارا مجاہد زخمی ہوتا ہے
اس کے علاج کا مسئلہ ہے … بس اگر دس بیس ملین ڈالر ملے تو اس علاقہ میں یہ دہشت
گرد لوگ بالکل ختم ہونا مانگتا ہے…… امریکی وفد خوشیاں سمیٹتا چلا گیا… گورنر صاحب
بھاگ کر دوسرے کمرے میں گئے… پینٹ کو خوب زور سے کھینچا… آٹھ گز کی ڈھیلی شلوار
پہنی … جانے والے مہمانوں کو ایک موٹی سی گالی دی… اور اپنی گورنری میں مصروف ہو
گئے …
گورنر ہاوس … جمعہ
کی رات
ہمارا پگڑی کدھر
ہے ؟… جلدی لاؤ … ووئے ظالم کا بچہ یہ ٹی وی کمرہ سے نکالو … خانہ خراب تم یہ
دیوار سے پوٹو موٹوہٹاؤ … خانہ کعبہ کی تصویر لگاؤ… ہمارا تسبیح کدھرہے ؟… یہ ہے
صاحب … دو تین تسبیح میز پر بھی رکھو … ابھی کچھ مہمان آتا ہے … پورا گورنر ہاؤس
سے گانے مانے کا آواز نہ آئے … آیا تو پھر ہم سے برا کوئی نہیں ہو گا … ہمارا ملّا
کہاں ہے … اس کو لا کر بٹھاؤ… قہوہ مہوہ جوڑ کرو…زمزم گلاس میں بھر کر رکھو …
مدینہ والی کھجور پلیٹوں میں ڈالو … اور سنو … مہمانوں کو پچھلے خفیہ دروازہ سے
لاؤ … اردگرد نظر رکھو… مہمانوں کو آتے جاتے کوئی نہ دیکھے … باہر کا بتیاں بجھاؤ …
طالبان مہمان
گورنر
صاحب نے ان کو گلے سے لگایا… ہر ایک کی ڈاڑھی چومی … ہر ایک سے اس کے گھر کے ہر
فرد اور تحریک کے ہر رکن کا حال احوال پوچھا… اور پھر گپ شپ شروع ہو گئی… ملّاصاحب
کا کیا حال ہے ؟ مشر ملاّ کا؟ الحمدللہ خیریت سے ہیں … میرا بہت بہت سلامونہ ان کو
دو اور بتاؤ…ہم اب بھی ان کا تابعدار ہے …جتنا گولی اسلحہ آپ کے مجاہدین مانگتا ہے
ہم پورا کرتا ہے … یہ کاپر کا بچہ امریکی جلدی یہاں سے جاتا ہے پھر ہم آپ کی حکومت
میں … شریعت ناپذ کرتا ہے … ہم لوگ کسی کرزئی مرزئی کو نہیں مانتا … بس قوم کا
مجبوری ہے۔ اگر ہم گورنر نہیں بنتا تو کوئی دوسرا خنزیر بچہ بن جائے گا… اور اسلام
کو نقصان پہنچائے گا … آپ کے سپاہی ہمیں تنگ کر رہے ہیں؟… کون خربچہ تنگ کرتا ہے…
ہم آپ کو خصوصی خط لکھ دیتا ہے بس پھاٹک پر دکھاؤ … اور گزر جاؤ … اور کوئی خدمت …
بس مہربانی … ملّا صاحب نے بولا کہ … ہمارے لوگوں پرحملے نہیں ہونا چاہیے… تابعدار
تابعدار ہم تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتا…کبھی غلط فہمی میں کچھ ہو جائے… تو ملاّ
صاحب مجھے معاف کریں … میں نے روس کے خلاف جہاد کیا…میرا بڑا بھائی شہید ہوا … میں
اب بھی مجاہد ہے… پکا مجاہد …
گورنر ہاؤس … منگل
کا دن
صاحب آج تو رکاپر
(کالے کافر) آتا ہے … انڈیا والا ؟ … جی صاحب … کمرہ کیسے سیٹ کرنا ہے؟… بس اتوار
جیسا بناؤ … اور وہ لمبا والا خر بچہ کیا نام ہے اسکا ؟… امیتابھ بچن … ہاں اسکا
پوٹو لگاؤ … اور وہ موٹی موٹی آنکھوں والی چوکری کا بھی … جی صاحب …
انڈین وفد
شراب
کباب اور رقص و موسیقی کے بعد … ہم آپ کے آنے سے بہت خوش ہو گیا … انڈیا ہمارا پکا
دوست ہے… آپ لوگوں نے ہمیں بسیں دیا… جہاز دیا … ہسپتال دیا ہم آپ کے لوگوں کا پلم
روزانہ دیکھتا ہے … ہم آپ کا خادم … ہم نے آپ کے علاقے میں اپنا دفتر کھولنا ہے …
بالکل تابعدار تابعدار … دراصل ہمیں سیکورٹی کا پرابلم ہے… آپ لوگ فکر نہ کریں …
ادھر پاکستان کا کوئی آدمی نہیں آ سکتا ؟ … آپ بے فکر ہو کر دفتر کھولیں اور ہمارے
لئے بھی کوئی ؟… آپ کیلئے ہم کافی تحفے لائے ہیں … شکریہ شکریہ … مگر ہمیں رپورٹ
ملی ہے کہ … آپ کا ایک گھر کوئٹہ میں … ایک بنگلہ اسلام آباد میں… اور کافی سارے
رشتہ دار پشاور میں ہیں … آپ لوگ ان باتوں کی فکر نہ کریں… میں زبان کا پکا ہے آپ
ہاتھ کھلا رکھو ہم پاکستان کا پکا مخالف… اور انڈیا کا دوست ہے … پھر ہمیں ڈیل کون
کرے گا … گلباز خان… یہ بریف کیس آپ کا ہے اور دوسرے کمرے میں … شکریہ شکریہ … آپ
خواہ مخواہ تکلیف کیا ہم تو ویسے ہی تابعدار ہے …
گورنر ہاؤس … پیر
کا دن
آج پاکستان کا وفد
آ رہا ہے… کیا حکم ہے ؟… کمرا میں بابا قائد اعظم کا پوٹو لگاؤ… کھانا مانا اچھا
بناؤ… نور جہاں کا کیسٹ بجاؤ…
پاکستانی وفد
ہم
آپ سے مل کر بہت خوش ہوتا ہے… پاکستان افغانستان دونوں ایک ہے … ہمارا دوسرا گھر
پاکستان ہے … ابھی بھی ادھر چکر مکر لگانے کا دل کرتا ہے … وہاں سب لوگوں کو بہت
بہت سلام… جی ہم بھی بہت خوش ہوئے … وہاں آپ کے گھر اور رشتہ دار بہت محفوظ ہیں …
مگر … ہم نے سنا ہے کہ را والے … یہاں اپنا دفتر کھول رہے ہیں …
را والا کون ؟ …
انڈیا والے … وہ کاپر کے بچے یہاں دفتر کھولیں تو انکی ٹانگیں کاٹ کر واپس بھجوا
دونگا… پاکستان کا دفاع ہم پر فرض ہے … آپ نے ہمارے ساتھ ہمدردی کیا… ہمیں پناہ دی
… ہم زبان کا پکا مسلمان ہے … غداری نہیں کر سکتا … اور کوئی خدمت ؟… ہم پاکستان
کا تابعدار … بہت بہت شکریہ … ہمارے لائق کوئی کام ؟ … بس کچھ گندم مندم اور تیل
میل اگر آ جائے تو غریب لوگوں کو پاکستان سے محبت ہو جائے گا … ہم اپنی حکومت سے
بات کریں گے …ٹھیک ہے جی … ہم پاکستان کا تابعدار …
گورنر ہاؤس کے چار
دن آپ نے دیکھ لئے … آنکھیں کھولیں اور واپس چلیں … وہاں جو کچھ ہو رہا ہے … اس
فرضی تمثیل سے دو قدم آگے ہیں … اس لیے کافروں کو خوش … اور مسلمانوں کو پریشان
ہونے کی ضرورت بالکل نہیں … افغانستان کی پراسرار بھول بھلیوں میں … سویت یونین …
اپنا وجود … کھو بیٹھا… اب امریکہ وہاں سر مار رہا ہے … اور اپنی آبرو گنوا رہا
ہے… اور سوئی چکر کاٹ کر … واپس اپنی پرانی جگہ… آنے کو ہے … بامیان کے بتوں کا
ملبہ… باقی بتوں کو … یہی بات سمجھارہاہے…
٭٭٭
آج مجھے بہت سارے…
حسین لوگ یاد آرہے ہیں… بہت خوبصورت، بہت البیلے، بہت مست… ہاں میں کیا کروں؟… حسن
والوں کی محبت میرے خون میں دوڑتی ہے… اس وقت بھی جبکہ آسمان سے بارش برس رہی ہے…
ادھر سبزہ پانی میں… بھیگ رہا ہے… اور ادھر مجھے ایک ایسا حسین شخص یاد آرہا ہے…
جو ظاہری آنکھوں سے نابینا تھا… مگر اس کے دل میں… نور کا چراغ دمک رہا تھا… اس
شخص کی قسمت دیکھیں کہ جب وہ کسی راستے سے گزرتا تو حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ جیسا شخص… اس کے گن گانے لگتا… ہاں لوگو!…
مجھے حضرت عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ یاد آرہے ہیں… کاش میرے ہونٹ ان کے قدموں کا
بوسہ لے سکتے… مگر کہاں ہم اور کہاں وہ؟… اور مجھے سات سو شہداء نظر آرہے ہیں…
جنہیں دیکھ کر آسمان بھی جھوم اٹھا ہوگا… وہ سب بنوحنیفہ کے ایک باغ کے اردگرد اور
اس کے اندر کٹے پڑے ہیں… اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے آنسو انہیں خراج تحسین پیش کر رہے ہیں…
کون کون تھا ان میں؟… نام گنواؤں تو دل پھٹنے لگے… اور مجھے… اپنی اماں ام حبیبہ
رضی اللہ عنہا کی یاد آرہی ہے… میری پیاری ماں… امت مسلمہ
کی پیاری ماں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا… اور میری آنکھوں کے سامنے عزت وعظمت …
غیرت وحمیت کا ایک اونچا مینار ہے… حضرت خبیب رضی اللہ عنہ… یہ سب لوگ بہت حسین تھے… بہت خوبصورت … اور
بے انتہا خوش قسمت… یا اللہ ! ہمارا حشر
بھی ان کے قدموں میں کرنا… ان سب کو یہ بلند رتبہ اور حسن کا اعجاز… اس لیے ملا کہ
… یہ سارے لوگ… عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں ڈوبے ہوئے تھے… محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا عشق… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت… اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ان کی غیرت… مسیلمہ کذاب
کوئی معمولی آدمی نہیں تھا… بنو حنیفہ کے چالیس ہزار خوفناک جنگجو اس کے گرد
پروانوں کی طرح منڈلاتے تھے… اس نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی… دستار ختم نبوت کی طرف ہاتھ
بڑھایا تو … مسلمانوں میں غیرت وحمیت کا سونامی پھٹ پڑا… حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کس طرح ایک لمحہ کیلئے آرام کرتے… حضرت خالد
بن ولید رضی اللہ عنہ کی تلوار کو کیسے چین آتا… مصلحت اور روشن
خیالی کے مردار پر بیٹھے ہوئے گدھ کیا جانیں کہ… عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے کیا تقاضے ہیں؟… میرا یقین ہے کہ
جب بھی ختم نبوت کی اعلیٰ دستار کی طرف… کوئی ناپاک ہاتھ اٹھتا ہے تو… آسمان وزمین
میں لرزہ طاری ہوجاتا ہے… اسی لیے تو آج تک کوئی جعلی نبی نہیں چل سکا… بلکہ
منکرین ختم نبوۃ کے خلاف… آسمان وزمین کے عشاق جان ہتھیلی پر رکھ کر نکل کھڑے ہوتے
ہیں… قرآن مجید کے سات سو حافظ صحابی کٹ گئے…مدینہ منورہ خالی ہوگیا… مگر سبز گنبد
کی حرمت پر آنچ نہ آئی… بنی حنیفہ کا غرور اور ان کا جھوٹا نبی خاک وخون میں
ملادیا گیا… آج اگر میری اداس آنکھیں ان شہیدوں کی عظمت پر آنسو بہارہی ہیں تو اس
میں تعجب کی کیا بات ہے… ادھر ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو دیکھیں… ان کے والد ابو سفیان… جب
مسلمان نہیں ہوئے تھے… مدینہ منورہ آگئے… ام حبیبہ رضی اللہ عنہا… ان کی بیٹی تھیں… سوچا ان کے پاس کام بن
جائے گا… آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حجرے میں پہنچے جو اماں جی
کیلئے وقف تھا… زمین پر ایک ٹاٹ کا بستر تھا… یہ تھا میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک کے انوار لوٹنے والا
بوریہ… ابوسفیان اس پر بیٹھنے لگے… بیٹی نے بستر الٹ دیا… ابوسفیان نے کہا… بیٹی
میں عرب کا سردار ہوں… تمہیں یہ معمولی بستر میرے شایان شان نظر نہیں آیا ہوگا… اس
لیے تم نے اسے ہٹادیا… اماں جی نے پتہ ہے کیا فرمایا؟ … سنو عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے غفلت کرنے والو… سنو! قادیانیوں کو
اپنی آنکھوں پر بٹھانے والو… سنو… مرتدین کیلئے حرمین کا راستہ کھولنے والو… سنو…
میری اماں کی بات سنو… فرماتی ہیں… یہ بستر میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے… میری غیرت گوارہ نہیں کرتی کہ
… اس پر کسی ناپاک مشرک کا جسم لگے… آج اگر کوئی قادیانی … پاسپورٹ میں مذہب کا
خانہ خالی ہونے کی وجہ سے … مدینہ منورہ جا پہنچا اور آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو تکلیف پہنچی تو… مجرم کون
ہوگا؟… او پاسپورٹ جاری کرنے والو… اللہ تعالیٰ سے ڈرو… دیکھو سبز گنبد اداس اداس نظر
آرہا ہے… کہاں گئے عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویدار؟… یاد رکھو… قادیانی
ٹولہ… حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن ہے… اور جو میرے آقا کا دشمن
ہو … وہ کبھی ہمارا دوست نہیں بن سکتا… قادیانی ذلت اور عذاب کا نشان ہیں… جس نے
بھی ان سے ہاتھ ملایا وہ … دنیا آخرت میں تباہ وبرباد ہوگیا… یہ سازشی ٹولہ… اپنی
بے حیائی… اور کفریہ طاقتوں کے سہارے… ہمیشہ مسند اقتدار تک راستہ ڈھونڈ لیتا ہے…
اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والے انہیں گلے سے لگا
کر… آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچاتے ہیں… ایوب خان کے
ارد گرد… یہی لوگ جال بُنتے رہے… شہاب نامہ پڑھ کر دیکھ لیجئے… اور تو اور نواز
شریف صاحب کا جب تختہ الٹا جارہا تھا تو … اس وقت وہ مجیب الرحمن قادیانی کے ساتھ
بیٹھے ہوئے تھے… قادیانیوں سے برطانیہ اور امریکہ کیوں محبت کرتے ہیں … اسی لیے کہ
اسلام کے خلاف ان سے زیادہ خوفناک اور کوئی ہتھیار ان کے ترکش میں نہیں ہے… آج پھر
… قادیانی ٹولہ… ایوان اقتدار میں اپنا اثر رسوخ جما چکا ہے… مگر یاد رکھنا… محمد
عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے وفادار عاشق… اب بھی کم نہیں ہیں…
ہم بے عمل ضرور ہوگئے ہیں… مگر رب کعبہ کی قسم بے غیرت نہیں ہوئے… اگر قادیانیوں
نے اپنی ماں کا دودھ پیا ہوتا تو وہ کھل کر سامنے آتے… تم سے تو مسیلمہ کذاب کے
پیروکار اچھے تھے… انہوں نے مسیلمہ کو نبی مانا… پھر مکر اور سازش کرنے کی بجائے…
تلواریں لیکر… اس کی تائید میں نکل آئے… مگر تم تو دنیا کے بدترین… بزدل، مکار اور
کمینے ہو… تم اس دنیا میں جب مرزا قادیانی سے اپنے تعلق کا کھلم کھلا اعلان نہیں
کرسکتے… تو بتاؤ… آخرت میں تمہارا کیا بنے گا؟… تمہیں یہودیوں کی طرح ہمیشہ کافروں
کے سہارے کی کیوں ضرورت پڑتی ہے؟… او ظالمو! باز آجاؤ… مذہبی منافرت نہ پھیلاؤ اور
امت مسلمہ کے جذبات سے نہ کھیلو… آج اگر یہ زمین تم پر کچھ کھلی ہے تو یاد رکھو…
رات کے بعد دن ضرور نکلتا ہے…اور تم نے جس آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو چیلنج کیا ہے… ان کے ماننے والوں
کی بہادری، غیرت… اور جذبہ شہادت مسلَّم ہے…
میں قادیانیت کو …
عصماء یہودیہ کے روپ میں دیکھتا ہوں… مدینہ کے پڑوس میں رہنے والی… ایک بے حیاء
بدزبان… اور بدچلن عورت جس نے اسلام کو گالیاں دیں… اور نعوذب اللہ آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کا جرم کیا…
بدکار ہمیشہ با اثر ہوتے ہیں… اونچے ایوانوں تک جلدی پہنچتے ہیں… اوباش لوگوں میں
مقبول ہوتے ہیں… جیسے آج قادیانیت… اور کل عصماء یہودیہ… عصماء کی وجہ سے … بہت
سارے لوگ اسلام سے دور تھے… اور اس کی بدزبانی کے اسیر تھے… وہ حیض ونفاس والے
ناپاک کپڑے… مسجد نبوی شریف میں ڈال کر… اپنے دل کی بھڑاس نکالتی تھی… جب اس کی
گستاخی حد سے بڑھ گئی… تب… ایک نابینا صحابی… حضرت عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ نے… اس کا خاتمہ کردیا… تب اس کے قبیلے کے
لوگ جوق در جوق مسلمان ہونے لگے… آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ضریر (نابینا) نہ کہو… یہ تو
بصیر (دیکھنے والے) ہیں۔
اگر تم ایسے شخص
کو دیکھنا چاہو جس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی تو عمیر رضی اللہ عنہ کو دیکھ لو…
عصماء کے بیٹے اور
رشتہ دار… اسے دفن کر رہے تھے… حضرت عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں سے گزرے تو انہوں نے…
دھمکی کے انداز میں کہا… عمیر تم نے اسے قتل کیا ہے؟… حضرت عمیررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سینہ تان کر فرمایا… ہاں!
فکیدونی جمیعاً ثم
لاتنظرون
’’تم سب میرے
خلاف سازش کرو اور مجھے مہلت نہ دو…‘‘
پھر ارشاد فرمایا:
’’قسم ہے اس
ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر تم سب مل کر وہی باتیں کہو جو یہ عورت بکا
کرتی تھی تو میں تم سب کو بھی اپنی اس تلوار سے جہنم رسید کرنا شروع کردوں گا۔
یہاں تک کہ یا تو میں مرجاؤں گا اور یا تم سب کا صفایا کردوں گا‘‘… (سیرۃ حلبیہ)
فتنہ قادیانیت… آج
کی عصماء یہودیہ ہے… آج پاکستان میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو کچھ ہورہا ہے…
اس کے پیچھے قادیانیت کا ناپاک ذہن… کارفرما ہے… آج جو کچھ مجاہدین پر بیت رہی ہے…
اس کے پیچھے قادیانیت کا ہاتھ ہے… اور اب اسی فرقے کی فرمائش پر… پاسپورٹ سے مذہب
کا خانہ گُم… آخر کیوں؟… ابھی الحمدﷲ مسلمان زندہ ہیں… ختم نبوت ہمارا ایمان ہے…
عشق مصطفی ہماری جان ہے… قادیانیوں کے خلیفہ نے پاکستان کے ختم کرنے کی پیشین گوئی
کی ہوئی ہے… یہ سب کوششیں اور محنتیں … اس پیشین گوئی کو پورا کرنے کیلئے ہیں… مگر
یاد رکھنا… قادیانیوں کیلئے… اور قادیانیوں کا ساتھ دینے والوں کیلئے… ناکامی اور
جہنم کے سوا کچھ بھی نہیں ہے… میرا ایمان ہے کہ… ان شاء اللہ … مذہب کا خانہ بحال ہوگا… اور ہم گنبد
خضراء کے سامنے… سرخرو ہوں گے… حکومت میں شامل… مسلمان… اگر اس سلسلے میں کوشش
نہیں کریں گے تو کس منہ سے … روضہ اقدس پر جائیں گے… یہ مسئلہ ان شاء اللہ ضرور حل ہوگا… لیکن اگر وقت نے اس خالی خانے کو
بھرنے کیلئے … سرخ روشنائی مانگی… تو… رب کعبہ کی قسم … مسلمان اس سے دریغ نہیں
کریں گے… ہمارا خون اس کیلئے حاضر ہے… شاید… اسی کی برکت سے… حضرت عمیر رضی اللہ عنہ… اور سات سو شہداء ختم نبوت کے قدموں میں…
جگہ مل جائے اور ہمارا خون بھی… خوش نصیب ہوجائے… ہاں القلم کے پڑھنے والے…
بھائیو… اور بہنو… مجھے آج… حسن والے … بہت یاد آرہے ہیں… بہت محبت سے… بہت شدت سے… …
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ان کی
حفاظت فرمائے … وہ کس قدر غم اور درد کے ساتھ بول رہے تھے … میری طرح ممکن ہے آپ
نے بھی ریڈیو پر ان کی آواز سنی ہو۔ میں اکثر رات کو آٹھ بجے بی بی سی کی خبریں
سنتا ہوں … حالات سے باخبر رہنے کیلئے یہ ایک ایسی مجبوری بن چکی ہے … جسے نبھاتے
ہوئے بی بی سی کی بہت سی ناگوار باتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں … بعض خبریں ٗ تجزیئے
اور پروگرام ایسے بھی ہوتے ہیں جنکو نہ سننے کے لئے ریڈیو وقتی طور پر بند کرنا
پڑتا ہے … اس رات جب ان کا ’’معافی نامہ‘‘ نشر کیا گیا تو میں اچھی طرح جاگ رہا
تھا… بی بی سی پر بس اسی خبر کا چرچہ تھا کہ پاکستان کے سابقہ ہیرو … ایٹمی
سائنسدان … پاکستان کے ایٹم بم کے بانی …ڈاکٹر عبدالقدیر خان آج قوم سے … اپنے
گناہوں کی معافی مانگیں گے … آپ یقین کیجئے… یہ خبر سنتے ہی میرا دل صدمے سے
دھڑکنے لگا… تھوڑی دیر بعد …انگریزی میں ان کی آواز بلند ہوئی … خواتین و حضرات!
…؟ … وہ معافی مانگ رہے تھے اور میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے … شاید ہی کسی
عزت مند ملک اور غیرت مند قوم نے اپنے محسن کے ساتھ یہ سلوک کیا ہو جو ہم نے
…ڈاکٹر خان صاحب کے ساتھ کیا … ان کی آواز میں ایک بجھی ہوئی آگ تھی … معلوم نہیں
کیوں یہ آواز دِل کے تاروں کو چھیڑ رہی تھی … اور سب سے عجیب بات یہ کہ مجرم جرم
کا اقرار و اعتراف کررہا تھااوراِدھر ہمارے دل میں ان کی محبت ٗ عقیدت اور عظمت
بڑھ رہی تھی … میں اکیلا تھا …کس کے ساتھ درد بانٹتا … تکیے کا شکریہ کہ اس نے
آنسو بڑی صفائی سے چوس لئے … اور میں نے خود کو مخاطب کرکے کہا … کتنا عظیم انسان
ہے یہ شخص … کل تک اس نے مسلمانوں کو ایٹم بم دینے کیلئے ٗامت مسلمہ کو تحفظ فراہم
کرنے کیلئے … اور پاکستان کو محفوظ بنانے کیلئے … اپنی جوانی ٗ عیش اور امن کی
قربانی دی… اور آج یہ شخص اس ایٹم بم کو بچانے کیلئے … اپنی عزت قربان کررہا ہے …
ہاں نظریاتی لوگ … اور تاریخ کو روشن کرنے والے لوگ ہمیشہ ایسا ہی کیا کرتے ہیں …
نیند میری آنکھوں سے دور بھاگ گئی… اور مجھے ڈاکٹر عبدالقدیر کے حسب حال ایک واقعہ
یاد آگیا … صحیح بخاری کی ایک روایت کا مفہوم ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے
سامنے ایک مقدمہ لایا گیا… دو عورتیں ایک بچے پر دعویٰ کررہی تھیں … ہر ایک کا
اصرار تھا کہ بچہ اس کا ہے … مختلف طریقوں سے سچ اور جھوٹ کو الگ کرنے کی کوشش کی
گئی مگر … کامیابی نہ ملی … حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا … ایک تیز دھار
چھری لے آئو …چھری آگئی … آپ نے فرمایا بچہ کاٹ کر … آدھا آدھا دونوں عورتوں میں
تقسیم کردیا جائے … چھری کا رخ بچے کی طرف ہوا تو ایک عورت تڑپ کر اٹھی … کہنے لگی
حضرت! میں نے جھوٹ بولا تھا یہ بچہ میرا نہیں ہے … آپ اسے دوسری عورت کے حوالے
کردیجئے … یہ سنتے ہی دوسری عورت کے چہرے پر خوشی کی قوس قزح پھیل گئی … حضرت نے
فیصلہ سنایا کہ بچہ اسی عورت کا ہے جو خود کو جھوٹا کہہ رہی ہے … اس بچے میں اسی
عورت کا خون دوڑ رہا ہے اسی لئے وہ اسے کٹتا ہوا نہیں دیکھ سکتی … جبکہ دوسری عورت
جو مطمئن کھڑی رہی … اس نے نہ تو بچے کے لئے کوئی قربانی دی … اور نہ اسے بچہ کٹنے
کا کوئی درد ہوا … ہمارے وہ حکمران جو باہر سے تشریف لائے ہیں وہ پھر باہر چلے
جائیں گے … مگر ایٹم بم کا درد تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہے … جنہوں نے ساری دنیا
کو اپنا دشمن … صرف اسلام اور ملک کی خاطر بنایا… اور اب جب ملک کے ایٹمی پروگرام
پر آنچ آنے لگی تو انہوں نے اسے بچانے کیلئے … خود کو مجرم کہا … اور قوم سے معافی
مانگی … حالانکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا … صرف ایک جرم ہے کہ … ان کا تعلق ایک
بزدل قوم سے ہے … انڈیا والوں نے … ڈاکٹر عبدالکلام کو ملک کا صدر بنادیا … اور ہم
نے ڈاکٹر عبدالقدیر کو … ایک مجرم … آخر ہے کوئی پوچھنے والا؟… کل ہی جناب عزت مآب
شیخ رشید صاحب کا بی بی سی پر انٹرویو … سننے کے لائق تھا … وہ ڈاکٹر صاحب کا
تذکرہ یوں کررہے تھے جس طرح کسی چور یا ڈکیٹ کا کیا جاتا ہے… اور بار بار فرما رہے
تھے ہم نے ’’اُس‘‘ کو معافی دی … اُس نے یہ کیا … اُس نے وہ کیا … اس کی جگہ اگر
لفظ ’’اُن‘‘ استعمال کرلیا جاتا تو روشن خیالی کا کونسا غبارہ پھٹ جاتا … کم از کم
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی اس ملک کے لئے خدمات آج کے وزیروں سے تو کچھ زیادہ ہی رہی
ہونگی … مگر جب ملک کے حکمران … اپنی عزت و ناموس کے خود سوداگر بن جائیں تو ایسا
ہی ہوتا ہے … مجھے معلوم ہے کہ … ڈاکٹر عبدالقدیر اگر چاہتے تو ماضی میں اپنی کوئی
طاقتور تنظیم بناسکتے تھے … ان کے پاس وسائل اور مقبولیت کی کمی نہیں تھی … وہ
چاہتے تو اہم ترین ملکی عہدے حاصل کرسکتے تھے … ماضی کے حکمران ان کی قدر پہنچانتے
اور ان کی قوت کو مانتے تھے … وہ چاہتے تو بیرون ملک ہی رہتے … اور دنیا بھر کے
عیش و آرام کے مزے لوٹتے مگر انہوں نے … پورے ملک کو اپنا وطن اور پوری قوم کو
اپنی جماعت سمجھا … ڈاکٹرصاحب ہم سب کے ہیرو بن کر رہے۔ اس لئے آج ہمیں یہ حق حاصل
ہے کہ … ہم ڈنڈا بردار حضرات سے پوچھیں کہ آخر ڈاکٹر صاحب کا کیا جرم ہے؟ … اگر
عالمی قوانین کی بات کی جاتی ہے تو پھر … ہمارا ملک ہی کیا … دنیا کے تمام ممالک
مجرموں سے بھرے ہوئے نظر آئیں گے … اور یاد رکھیں … ہر ملک کی شان وہی مجرم ہوتے
ہیں جو دنیا سے ٹکرا کر اُس ملک کی حفاظت کرتے ہیں … کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ
پاکستان کس نے بنایا؟ … ایک ہی جواب ملے گا کہ انگریزی حکومت کے مجرموں اور باغیوں
نے یہ ملک بنایا … اگر اس وقت بھی انٹرنیشنل قوانین کا احترام کیا جاتا تو یہ ملک
کسطرح بنتا … انگریز پونے دو سو سال سے برصغیر کا قانونی حکمران تھا … ہمارے آج کے
حکمران طبقے کے آبائو اجداد … اس زمانے میں انگریز کی نوکری کرتے تھے … ہمارے بہت
سارے مسلمان انگریز کی فوج میں بھرتی تھے اور انگریز کی طرف سے لڑتے تھے … تب کچھ
لوگوں نے جرم اور بغاوت کا راستہ اختیار کیا تو یہ برصغیر آزاد ہوا … اس زمانے میں
ان لوگوں کو مجرم اور باغی کہا جاتا تھا … پھر کیا یہ بات کسی نے سوچی کہ اگر
انٹرنیشنل قوانین کا احترام کیا جاتا تو خود ہمارا ایٹم بم کس طرح سے بن سکتا تھا
… بہت کچھ باہر سے لایا گیا … بہت کچھ مختلف طریقوں سے چرایاگیا … تب ہم ایک ایٹمی
ملک بنے … ہمارے آج کے روشن خیال ٗ امن پسند حکمرانوں کو چاہئیے کہ قبریں کھود کر
پرانے مجرموں کی ہڈیاں بھی امریکہ کے حوالے کریں … اور اگر کوئی بیساکھی یا وہیل
چیئر پر چل کر پھانسی کے پھندے تک پہنچ سکتا ہوتو … اہم ترین ملکی مفاد میں اسے
بھی ضرور لٹکایا جائے …
تاکہ … پاکستان
محفوظ ہوجائے … اور عالمی برادری کی آنکھوں کا تارا بن جائے مگر ایک بات ضرور سوچ
لی جائے کہ … آج اگر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا یہ جرم بتایا جارہا ہے کہ … انہوں نے
ایٹمی ٹیکنالوجی اور آلات ایران ٗ شمالی کوریا … اور لیبیا کو فراہم کئے … تو کل
اور بہت ساری فائلیں بھی کھل سکتی ہیں … ماضی میں ہم نے سوویت یونین کے خلاف اپنی
زمین استعمال کرنے دی … تب … سوویت یونین کے کئی نامی گرامی مجرم اور باغی ہمارے
ملک میں … عزت و شان کے ساتھ پھرتے تھے … اور یہیں سے اپنی بندوقیں بھر کر … سوویت
یونین کے خلاف لڑتے تھے … ریکارڈ کے چند کاغذ جلانے سے کام نہیں چلے گا … کسی دن
کرگل کی فائلیں بھی کھلیں گی … مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ پانچ سال پہلے کئی بڑے
چھوٹے لوگ اپنے سینے پر ہاتھ مار کر خود کو کرگل کا ہیرو کہتے تھے … مگر آج؟ … پھر
اگر اسی طرح کفر کے سامنے رکوع سجدے کرنے کا سلسلہ جاری رہا تو مشرقی پنجاب میں
سکھوں کی تحریک … اور مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کی تحریک کے سارے اوراق… جرم بناکر
کھولے جائیں گے … شیخ رشید صاحب! تب شاید آپکو بھی قوم سے معافی مانگنی پڑے …
1965ء اور 1971ء کے ہیرو … ابھی سارے دفن تو نہیں ہوئے … کچھ بیچارے برے حالات
دیکھنے کے لئے زندہ ہیں یہ سب بھی تو مجرموں کی فہرست میں آتے ہیں … کس کس کا
تذکرہ کروں … آج کے حکمرانوں نے تو اپنے ملک کی ہر سیدھی گردن کو جھکانے اور اپنی
عزت کے ہر نشان کو مٹانے کا عزم کر رکھا ہے …آج وہ لوگ ذلیل و رسوا ہیں جنہوں نے …
اس ملک کو ایٹمی دفاع کا تحفہ دیا … آج وہ لوگ دربدر اور رسوا ہیں جنہوں نے انڈیا
جیسے ظالموں کی گردن جھکائی اور جہادِ کشمیر کو حیاتِ نو بخشی … آج وہ لوگ پریشان
حال اور معتوب ہیں جنہوں نے سوویت یونین کے سامنے اپنے جسموں کا بند باندھ کر
پاکستان کی حفاظت کی … کاش ہمارے حکمران صرف اتنا سوچ لیتے کہ … دنیا کا ہر ملک …
اپنے ان شہریوں کی قدر کرتا ہے … جو ملک کی حفاظت کی خاطر … بیرونی دنیا میں مجرم
کہلاتے ہیں … دراصل یہی لوگ ملک کی شان … اور اس کی حفاظت ہوتے ہیں … امریکہ کے وہ
ایجنٹ جنہوں نے … دنیا کے تیس سے زائد ممالک میں امریکہ کے لئے … تخریبی
کارروائیاں کیں … امریکہ کے معزز ترین … اور محفوظ ترین لوگ ہیں … حالانکہ … یہ
لوگ دوسرے ملکوں کے مجرم اور مطلوب ہیں … خود انڈیا نے پاکستان کے خلاف کیا کچھ
نہیں کیا … بنگال کی تحریک کس نے چلائی؟ … پاکستان میں لسانی تعصب کی آگ لگائی …
سارک کے تقریباً تمام ممالک میں اس نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے من مانی کارروائیاں
کیں … انڈیا کی یہ تمام تخریبی خدمات سرانجام دینے والے ایجنٹ … آج وہاں محفوظ و
معزز ہیں … بلکہ دنیا کے تمام ممالک … اپنے ان مجرموں کو صاف ستھرا کرنے کیلئے حکومت میں شامل کرتے ہیں
… اور تاحیات ان کے ممنون رہتے ہیں … مگر ہمارے ہاں کا … دستور یہ ہے کہ’’ مِیرا‘‘
تو ملک کی وفادار اور خدمت گزار … اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور مجاہدین … اس ملک
کے دشمن … ایسا تبھی ہوتا ہے جب ملک میں غیروں کا عمل دخل حد سے بڑھ گیا ہو … اور
بزدلی کی چربی میں ملّی اور ملکی غیرت دفن ہوچکی ہو … ماضی میں ڈاکٹر عبدالقدیر
خان … ملک اور حکومت کا حصہ تھے … انہوں نے ان دنوں جو کچھ کیا … اس وقت وہی ملکی
اور حکومتی پالیسی تھی … ایٹمی راز بہت عرصہ ہوا کہ … کسی ناکتخدا دوشیزہ کی آبرو
نہیں رہے یہ تو وہ طوائف ہے … جو سربازار سالہا سال سے بِک رہی ہے … آج ڈاکٹر
عبدالقدیر خان کی جان کے پیچھے پڑنے والے اُسوقت خاموش کیوںرہے جب روس کے ایٹمی
سائنسدان ٹماٹر اور پیاز کے بھائو … فروخت ہورہے تھے … سوویت یونین کے گم شدہ
ایٹمی مواد کا کیا بنا؟ … اسرائیل کوایٹم بم اور اس کی مکمل ٹیکنالوجی کس نے فراہم
کی؟ … بھارت نے یہ سب کچھ کہاں سے حاصل کیا؟ … ایران … اور …لیبیا کے اعتراف جرم
کے بعد … شمالی کوریا نے بھی ایٹم بم رکھنے کا اعلان کردیا ہے … یہ درست … مگر
جنوبی کوریا کو یہ ٹیکنالوجی کس نے دی؟ … بہت سارے سوالات ہیں جنہیں اُٹھایا
جاسکتا ہے … اور بہت سارے حقائق ہیں جنہیں سینہ تان کر قبول کرکے ملک اور اس کی
آبرو کوبچایا جاسکتا ہے … مگر جھکنے کا سلسلہ رُکے تو اِن باتوں پر غور کیا جائے
کہ… آج ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر الزام ہے کہ اُنہوں نے ملک کے ایٹمی راز بیچے … کل
اگر یہ الزام اٹھایا گیا کہ … کچھ لوگوں نے اس پاک ملک کے تریسٹھ فضائی اڈے امریکہ
کو … چند ڈالروں کے عوض بیچ ڈالے تھے تاکہ وہ … افغانستان کے مسلمانوں پر بمباری
کرے … تو … اس الزام کا کیا جواب ہوگا؟ امریکہ کے سابق فوجی سربراہ جنرل ٹومی
فرینکس … اپنی خود نوشت سوانح عمری میں … یہ بات برملا لکھ چکے ہیں … ایران اور
شمالی کوریا کو … کاغذ کے چند ٹکڑے … اور دوچار الیکٹرونک سوئچ دینا … ملکی جرم …
اور امریکہ کو ملک کے تریسٹھ فوجی اڈے دینا … ملکی خدمت … یہ بات ہماری ناقص سمجھ
میں تو نہیں آسکی … انڈیا کے میزائل پروگرام کے بانی … ڈاکٹر عبدالکلام … کرسی ٔ
صدارت پر … اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی … ڈاکٹر عبدالقدیر خان بے بسی کے
ساتھ نظر بند … میں کیا کروں … یہ دیکھ کر میرے دِل میں درد اُٹھتا ہے … اور میری
آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں … اگر یہی ملکی مفاد … اور قومی خدمت ہے تو … آگے دیکھیں
کیا ہوتا ہے؟ … یا اللہ … تو ہی … مسلمانوں پر رحم فرما … اور مسلمانوں کو توفیق
عطاء فرما کہ … وہ … اُن اللہ کے بندوں کی قدر کریں … جو … اسلام اور مسلمانوں کی
خاطر مجرم بن چکے ہیں … مطلوب … مجرم … یا اللہ تیرے نہیں … تیرے دشمنوں کے مجرم …
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے طرح طرح کے خطباء پیدا فرمائے ہیں…
ماضی اور حال کی تاریخ ان خطیبوں کے واقعات سے بھری پڑی ہے… یہ بات تو طے ہے کہ …
تقریر کرنا… ایک آسمانی نعمت ہے… کچھ لوگ اس نعمت کا صحیح استعمال کرتے ہیں… جبکہ
بعض بھٹکتے اور بھٹکاتے ہیں… ماضی میں ایسے خطباء بھی گزرے ہیں… جو ہر دن نئی
تقریر لاتے تھے… اور ہر مجمع کے مطابق نیا خطاب سناتے تھے… اور ایسے بھی گزرے ہیں
جنہوں نے چند تقریریں یاد کرلیں … اور پھر مرتے دم تک انہیں کا گھوٹا لگاتے رہے…
ایسے خطباء بھی گزرے ہیں جو بہت بولتے تھے… اور ایسے بھی تھے جو مختصر بات سے کام
چلا لیتے تھے… ایک صاحب کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے خوب محنت کرکے… شہادت
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ … کا موضوع یاد کرلیا… بس پھر کیا تھا خوشی
ہو یا غمی… گرمی ہو یا سردی… نکاح ہو یا جنازہ… افتتاح ہو یا اختتام… وہ موقع کی
مناسبت سے چند نئے الفاظ جوڑ کر پھر اپنے اصل موضوع کی طرف گھوم جاتے… اور اپنا
رٹا ہوا مواد عوام کے کانوں میں انڈیل دیتے… سنا ہے کہ ایک بار ان کے خلاف سازش
ہوئی… حاسدین نے ان کی جہالت کا پردہ چاک کرنے کیلئے جلسہ کا موضوع متعین کردیا…
اور یہ بات لازم ٹھہری کہ صرف سورۂ فاتحہ… کے معارف پر بات ہوگی… خطیب صاحب نے
تقریر شروع کی… حاسدین کو معلوم تھا کہ وہ آج کے موضوع کا حق ادا نہیں کرسکیں گے…
چنانچہ وہ دل ہی دل میں خوش تھے… خطیب صاحب نے فرمایا… میرا آج کا موضوع آپ سب کو
معلوم ہے سورۂ فاتحہ… سورۂ فاتحہ کیا ہے؟… یہ قرآن کی سورت ہے… قرآن پاک کیا
ہے؟… یہ وہ آسمانی کتاب ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی… اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں؟… حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نانا… ہائے سیدنا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ… یہاں پہنچ کر خطیب صاحب کی
تقریر اپنی اصل اور مخصوص پٹڑی پر چڑھ گئی… آج کل ہم سارے مسلمان… کچھ اسی طرح کی
تقریروں کا نشانہ ہیں… میرے دوست ’’بھائی خیال جی‘‘ نے موجودہ حالات کو مدّ نظر
رکھتے ہوئے ایک دلچسپ… کہانی گھڑی ہے… لیجئے آپ بھی یہ عبرت آموز… من گھڑت کہانی
پڑھئے… اور اس زمانے کے مسلمانوں کی قسمت پر ناز کیجئے…
خیال جی کی کہانی
میں کالج میں
پڑھتا ہوں… میرے اساتذہ اور دوستوں کاخیال ہے کہ میں… بہت باتونی ہوں… حالانکہ…
ایسا نہیں ہے بس میرے دل میں جو کچھ آتا ہے… میں اسے عقل کے سنسر بورڈ سے گزارے
بغیر… زبان پر لے آتا ہوں… اب کون ہر بات کو عقل پر پرَکھے؟… اگر ایسا کریں تو
خاموش رہ رہ کر گلا خشک ہوجائے… بہر حال میرے زیادہ بولنے سے … اور ہر بات بول
جانے سے سبھی پریشان تھے… بلکہ سچ بتاؤں تو مجھ سے اچھی خاصی نفرت کرتے تھے… اچانک
شہر میں کچھ ایسے واقعات ہوئے کہ ہمارے پرنسپل صاحب نے … دہشت گردی اور انتہاپسندی
کو ختم کرنے … اور روشن خیالی اور اعتدال پسندی کو نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا…
انہوں نے اپنے شاگردوں سے تعاون کیلئے کہا تو میں نے خوب بڑھ چڑھ کر… اپنی خدمات
پیش کردیں… پرنسپل صاحب پہلی بارمجھ سے خوش ہوئے… انہوں نے مجھے گلے سے لگایا… اور
آنکھوں میں آنسو بھر کر… مجھے حکم دیا کہ … بس اب تم ہاتھ دھو کر … دہشت گردی… اور
انتہاپسندی کے پیچھے پڑ جاؤ… نہ رات دیکھو نہ دن… نہ گرمی کی فکر کرو نہ سردی کی…
بس ہر حال میں اور ہر جگہ تم ان دونوں کے خلاف شہر کے لوگوں کا ذہن بناؤ… تم زیادہ
بولتے تھے اور ہمیں اچھے نہیں لگتے تھے… مگر اب تمہارے بولنے کی صلاحیت کا امتحان
ہے… مجھے معلوم ہے کہ … ہر جگہ ایک ہی موضوع پر بولنا بہت مشکل کام ہے… مگر مجھے
امید ہے کہ تم ہر جگہ کے مناسب اپنے موضوع کے لئے بات بنالو گے… میں جانتا ہوں کہ
ایک ہی بات کو ہر مقام پر کہنا کافی شرمندگی کی بات ہے مگر تم ہماری خاطر… یہ
شرمندگی سہہ لینا… مجھے علم ہے کہ … لوگ اُکتا جائیں گے … مگر تم اُنھیں اُکتانے
نہ دینا… پرنسپل صاحب کی یہ ساری نصیحتیں پوٹلی میں باندھ کر … میں میدانِ عمل میں
اتر چکا ہوں… اب ہر مجلس میں میرا یہی موضوع ہے… اکثر جن مقامات پر میں تقریر کرنے
جاتا ہوں وہاں اپنے ’’مخصوص موضوع‘‘ سے متعلق بات کرنا میرے لیے آسان ہوتا ہے…
البتہ بعض مقامات پر کچھ مشکل بھی ہوتی ہے… مگر پرنسپل صاحب کی دعاؤں کی برکت سے
میں وہاں بھی بات بناہی لیتا ہوں… کچھ دن پہلے ہمارے شہر میں… ایک نیا ’’ پی سی
او‘‘ کُھلا… لوگوں نے سمجھا ٹیلی فون کا افتتاح ہے میں شاید اپنا موضوع بھول جاؤں…
مگر ایسا نہیں ہوا… میں نے جاکر کہا… ٹیلی فون کے ذریعے دہشت گردی اور انتہاپسندی
کا خاتمہ ہوگا… کیونکہ… فون کی وجہ سے معاشی استحکام آئے گا… اور غربت ختم ہوجائے
گی… جب غربت ختم ہوگی تو انتہاپسندی اور دہشت گردی ختم ہوجائے گی… لوگ میری بات کو
سمجھے یا نہیں مگر انہوں نے خوب داد دی… اور خوب تالیاں بجائیں… ایک مخالف نے
تقریر کے دوران پرچی بھجوائی کہ… دنیا کا مشہور دہشت گرد اور انتہاپسند… اسامہ بن
لادن … اربوں پتی شخص کا بیٹا ہے… میں نے مسکرا کر پرچی جیب میں ڈال لی کہ … فضول
باتوں کا جواب کون دے؟… ابھی کچھ دن ہوئے… ہمارے محلے میں ایک بیوٹی پارلر کھلا…
مجھے افتتاح کے موقع پر بلایا گیا… یہاں تو میں نے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے
بخیے ادھیڑ کر رکھ دئیے… میں نے کہا عورتیں جس قدر زیادہ بھڑکیلا میک اپ کرکے
نکلیں گی… اسی قدر دہشت گردی اور انتہاپسندی ختم کرنے میں مدد ملے گی… یہاں پر میں
نے وہ دلائل دئیے کہ لوگ دنگ رہ گئے… اور روشن خیال عورتیں تو تالیاں بجا بجا کر
بے حال ہوگئیں… میں نے صاف لفظوں میں ان انتہا پسندوں کو خبردار کیا… جو اپنی
بیویوں کو غیر مردوں سے ہاتھ نہیں ملانے دیتے… میں نے کہا… یہی لوگ ہمارے شہر کی
ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں… اور میں نے لوگوں کو ان دہشت گردوں کے بارے میں بھی
بتایا جو … اپنی بیویوں کو پردہ کراتے ہیں… میں نے جذبات میں آکر کہا… اتنا مہنگا
میک اپ کرکے عورت گھر میں بیٹھ جائے… منہ ڈھانپ لے… یا صرف اپنے خاوند کو اپنا میک
اپ دکھاتی رہے… یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے؟… خیر تقریر خوب جمی اور دہشت گردوں…
اور انتہا پسندوں کے گھروں میں … خوف اور دہشت پھیل گئی… کیونکہ میں نے یہ بھی کہہ
دیا تھا کہ ہم … تم لوگوں کو بالکل ختم کردیں گے… میں جلسے سے واپس آیا تو … اچانک
پھجے نہاری والے کا فون آگیا… کہنے لگا نہاری کی نئی دکان کا افتتاح کرنا ہے… کافی
مجمع ہوگا… آپ نے تقریر کرنی ہے… میں نے وعدہ کرلیا… اور ساری رات سوچتا رہا کہ …
نہاری… اور دہشت گردی… سری پائے … اور انتہاپسندی… آخر کس طرح سے بات بنائی جائے…
خیر جلسہ گاہ پہنچنے تک میں نے دل ہی دل میں تقریر تیار کرلی… محترم حاضرین… نہاری
کی یہ دکان… دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کرے گی… آپ
پوچھیں گے کس طرح؟ … تو سنیے کہ لذیذ نہاری… ہمارے اندر پیٹ اور ذائقے کی فکر پیدا
کرے گی… پیٹ کی فکر ہوگی تو … مولوی ہمیں قبر اور آخرت سے ڈرا کر انتہا پسند… دہشت
گرد نہیں بناسکیں گے… ہمارا بھائی پھجا نہاری میں مرچیں بہت ڈالتا ہے… انتہا پسند
جب یہ نہاری کھائیں گے تو پیٹ کے درد کی وجہ سے دہشت گردی نہیں کرسکیں گے… پھر اہم
بات یہ ہے کہ ہماری قوم اس وقت ترقی کرسکتی ہے جب وہ نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر…
والا انتہاپسندی کا سبق بھول جائے… اور صبح سے شام تک … کچن ٹو باتھ روم کے چکر
لگائے… اور پھجے کی مرغن نہاری سے قوم جلد اس مقصد تک پہنچ جائے گی… میری یہ تقریر
سن کر لوگوں نے خوب تالیاں بجائیں… اور حاسدین بغلیں جھانکتے رہ گئے… تقریر کے بعد
… پھجے نے مجھے بھی ایک پلیٹ کھلائی… میں نہاری کھا کر … واپس اپنے محلے میں پہنچا
تھا کہ … ’’ماسی بھولی‘‘… سے ملاقات ہوگئی… ماسی بھولی ہمارے محلے کی ایک بوڑھی
عورت ہے… سارا دن برقع سر پر رکھ کر … اِدھر اُدھرگھومتی رہتی ہے… بڑے بوڑھے بتاتے
ہیں کہ … جوانی کے زمانے سے ہی ’’مجذوب‘‘ ہے… اکثر الٹی سیدھی باتیں کرتی رہتی ہے…
البتہ کبھی کبھار کوئی کام کی بات بھی کرلیتی ہے… آج مجھے دیکھتے ہی رک گئی اور
کہنے لگی… آج کل بہت تقریریں کرتا پھرتا ہے… سنا ہے کالج اور شہر میں تیری بڑی عزت
ہے… مگر ایک بات بتا… میں نے کہا ماسی کیا پوچھتی ہے؟… کہنے لگی تو ہر جگہ کہتا
پھرتا ہے کہ دہشت گردی… اور انتہاپسندی کو ختم کردے گا … کیا تو نے کبھی یہ بھی
سوچا کہ … اگر یہ لوگ واقعی ختم ہوگئے تو خود تیرا کیا بنے گا؟… تیری ساری عزت تو
انہیں لوگوں کے صدقے ہے… تجھے جو کچھ ملا انہیں کی وجہ سے ملا… تجھے تو اپنے گھر والے
بھی نہیں جانتے تھے… اور محلے والے بھی نہیں مانتے تھے… اب سارے شہر میں تیری واہ
واہ… انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کی وجہ سے ہے … پُتّر ان کا شکریہ ادا کر… اور
ان کو زیادہ نہ ستا… ماسی بھولی نے برقع سر پر ڈالا … اور تیزی سے ایک طرف چل پڑی…
میں نے کہا… ماسی کا دماغ تو پہلے ہی خراب تھا اب لگتا ہے کہ … یہ بھی انتہا پسند
بن چکی ہے… خیر میری تقریریں اسی طرح چلتی رہیں… اخبارات والے تو اتنے ماہر ہوگئے
ہیں کہ ہر صحافی… میرے جلسے میں آنے سے پہلے… اپنے نیوز ایڈیٹر کو میری تقریر کا
ابتدائی حصہ لکھ کر دے آتا… اور کہہ آتا کہ … اس کی کتابت کروا کر رکھ لیں… البتہ
جو نئے دلائل سامنے آئیں گے وہ ’’بقیہ‘‘ میں لگادیں گے… زندگی کے دن اسی طرح مزے
میں گزر رہے تھے… پرنسپل صاحب بھی خوش تھے کہ ایک دن اچانک ایک امتحان آپڑا… ہمارے
شہر کے مضافات میں ایک چھوٹی سی نہر بہتی تھی… کافی عرصہ ہوا کہ بند ہوگئی… اب
حکومت نے اسے دوبارہ جاری کرنے کا پروگرام بنایا… بھل صفائی کی مہم چلی اور نہر کے
دوبارہ افتتاح کا اعلان ہوگیا… پرنسپل صاحب نے مجھے فون کرکے بتایا کہ تم نے اس
موقع پر تقریر کرنی ہے… اور اپنے خاص موضوع کو خوب اجاگر کرنا ہے… اور سنو لوگ نثر
میں تقریر سن سن کر تنگ آچکے ہیں… اس لیے کچھ شعر وغیرہ بھی بنا لاؤ تاکہ … ہمارے
موضوع میں جان پڑے… پرنسپل صاحب نے تو حکم دے کر فون بند کردیا… مگر میں اس مشکل
میں پھنس گیا کہ شعر کس طرح کہوں؟… میرے بڑوں نے بھی کبھی شاعری نہیں کی… پھر
دوسری بات یہ کہ … ایک چھوٹی سی نہر کے افتتاح میں… دہشت گردی … اور انتہاپسندی کے
بھاری موضوع کو … کس طرح جگہ دوں… رات کو سب سو رہے تھے اور میں اسی پریشانی میں
کروٹیں بدل رہا تھا… کبھی سوچتا کہ یہ کہوں گا کہ … نہر بنانے سے غربت ختم ہوگی…
اور جب غربت مٹے گی تو … دہشت گردی اور انتہاپسندی بھی ختم ہوجائے گی… مگر دل سے
آواز آئی کہ یہ بات تو میں اتنی بار کہہ چکا ہوں کہ اب خود مجھے شرم آنے لگی ہے…
لوگ پوچھتے ہیں کہ غربت تو مٹ نہیں رہی… پھر خیال آیا کہ یہ کہوں گا کہ نہر سے
کھیتوں کو پانی ملے گا … اس پانی کی وجہ سے کھیتوں میں کیچڑ ہوجائے گا… جب بھی
کوئی انتہا پسند دہشت گرد بھاگنے لگے گا تو اس کیچڑ میں پھسل کر گر جائے گا… اور
پولیس اس کو پکڑ لے گی… یوں نہر کے ذریعے دہشت گردی اور انتہاپسندی کا خاتمہ
ہوجائے گا… مگر یہ تقریر بھی دل کو نہ لگی… لوگ پوچھ سکتے ہیں کہ … دہشت گرد تو
کافی تربیت یافتہ ہوتے ہیں… جبکہ پولیس والے کم تربیت یافتہ… اگر پولیس والے پھسل
گئے تو پھر کیا ہوگا؟… خیر رات کو سوچتے سوچتے سوگیا… دوپہر کو اٹھ کر… جلسہ گاہ
کی طرف روانہ ہوا تو … راستے میں تقریر بھی تیار ہوگئی… اور شعر بھی… ( اگرچہ بے
وزن)… میں نے کہا… میرے پیارے حاضرین… خواتین وحضرات… ہمارے شہر کی خوش قسمتی ہے
کہ… یہاں یہ نہر جاری ہورہی ہے… اس نہر کے ذریعے دہشت گردی… اور انتہاپسندی کا
خاتمہ ہوگا… اور … روشن خیالی… اور اعتدال پسندی کو فروغ ملے گا… لوگوں نے میری
بات سن کر خوب تالیاں بجائیں… اور پوچھا … ایسا کس طرح ہوگا؟… میں نے مخصو ص انداز
میں ہاتھ ہلا کر کہا… یہاں لڑکے اور لڑکیاں … عورتیں اور مرد اکٹھے نہانے آئیں گے…
اس سے اعتدال پسندی کو فروغ ملے گا… اور جو جتنے کم سے کم لباس میں برسرعام نہائے
گا… اسی قدر روشن خیالی پھیلائے گا… انتہاپسندی اور دہشت گردی… گرمی اور غصے سے
پیدا ہوتی ہے… جب انتہا پسند… اور دہشت گرد… بار بار اس نہر میں نہائیں گے… اور
مخلوط ماحول کو چھپ چھپ کر دیکھیں گے تو وہ بھی… ماڈریٹ ہوجائیں گے… لوگوں نے یہ
دلائل سنے تو خوب تالیاں بجائیں… اور پھر چیخ چیخ کر کہنے لگے… آج کی تقریر میں
شعر سنانے کا وعدہ تھا… وہ پورا کریں… میں نے فاتحانہ انداز میں گردن اٹھائی… پورے
مجمع پر نظر ڈالی… اپنی کانپتی ٹانگوں کو سنبھالا… اور اپنی زندگی کا پہلا شعر …
سنا ڈالا…
نہر چلے گی جیسی تیسی
انتہا پسندی کی ایسی تیسی
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کی
توفیق سے ایک بار افریقہ جارہا تھا … ان دنوں دینی کام کے سلسلے میں اس طرح کے
اسفار … الحمدللہ … آسان تھے… سفر بہت لمبا تھا اور جہاز نے مسلسل سات گھنٹے اڑنا
تھا… اکثر سیٹوں پر لوگ موجود تھے… جبکہ بعض سیٹیں خالی بھی تھیں… مجھے اس بوئنگ
طیارے کی …درمیانی قطار میں نشست ملی تھی… ابھی سفر کو ایک آدھ گھنٹہ ہی گذرا تھا
کہ مجھے اپنی دائیں طرف والی قطار سے ایک آواز مسلسل سنائی دینے لگی… یوں لگتا تھا
کہ کوئی آدمی اردومیں تقریر کررہا ہے… پہلے تو میں نے خاص توجہ نہ دی اور مطالعے
میں مگن رہا… مگر پھر اس آواز نے مجھے اپنی طرف متوجہ کرلیا… اب میں نے غور سے
سننا شروع کیا… ایک چھوٹی سی خشخشی ڈاڑھی والا شخص … چند نوجوانوں کو کچھ سمجھا
رہا تھا… میں نے سمجھا دین کی دعوت چل رہی ہے… مگر چند جملے سننے کے بعد مجھے
حقیقت ِحال معلوم ہوگئی کہ یہ شخص قادیانی مبلغ ہے… اور ان نوجوانوں کو دینِ اسلام
سے ورغلا رہا ہے… اس نے انہیں اپنا تعارف کراتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ … مجھے
افریقہ میں جماعت کا نیا سربراہ بناکر بھیجا جارہا ہے… چند ہی منٹ میں میرے لئے یہ
سب کچھ ناقابل برداشت ہوگیا … اب اس کی منحوس آواز میرے کانوں میں آگ کے انگاروں
کی طرح اتر رہی تھی … اور میرے جسم پر غصے اور افسوس کی وجہ سے ایک طرح کا لرزہ
طاری تھا… میں نے دیکھا کہ اس کے ساتھ بیٹھے ہوئے تین نوجوان … اور اس سے پچھلی
سیٹ پر بیٹھے ہوئے چار نوجوان بہت غور سے اس کی باتیں سن رہے ہیں … اور وہ
’’ملعون‘‘ اپنی سیٹ پر ترچھا ہوکر بیٹھا تھا تاکہ پیچھے والوں تک بھی اپنا زہر
سپلائی کرسکے… چند منٹ کے تردّد کے بعد میں بے ساختہ اٹھ کھڑا ہوا اور بالکل اس کے
سر پر جاکر … نوجوانوں سے مخاطب ہوکر کہنے لگا… میرے بھائیو! یہ شخص آپ کو گمراہ
کررہا ہے… آپ روزی روٹی کی خاطر اپنے گھر اور رشتہ داروں سے تو جدا ہو ہی رہے ہیں…
مگر اپنے ایمان کی تو حفاظت کرو… وہ شخص اور تمام نوجوان مجھے غصے سے دیکھنے لگے…
مگر میں نے ان کے غصے اور نفرت کی پرواہ کئے بغیر اپنی بات جاری رکھی… اور کہا
ہمارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم … اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں…
قادیانی ہمیں … ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے توڑنا چاہتے ہیں… اللہ کے لئے نبی
پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں میں سے نہ بنو… میں شدتِ
جذبات سے بولتا چلا گیا… اور وہ نوجوان میری بات کا اثر لینے لگے… قادیانی مربی نے
جب کھیل بگڑتے دیکھا تو مجھے بحث میں الجھانے لگا… میں نے الحمدللہ اس کے دلائل کا
جواب دیا… مگر بات کا رخ ان نوجوانوں کی طرف رکھا … میں نے کہا میں آپ کا بھائی …
آپ کو خیر خواہی والا مشورہ دے رہا ہوں کہ … آپ اس کی باتیں نہ سنیں… اس کا عقیدہ
ہے کہ پنجاب کا مرزا قادیانی نعوذباللہ … نبی ہے …یہ سنتے ہی وہ نوجوان کانوں کو
ہاتھ لگا کر توبہ توبہ کرنے لگے… اور آپس میں کہنے لگے … چلو یار دفع کرو اس کو
پیچھے چل کر بیٹھتے ہیں… وہ نوجوان جانے لگے تو قادیانی مربی نے … اپنے ترکش کا
آخری اور سب سے کارگر تیر نکالا … وہ کہنے لگا … میں نے آپ لوگوں کو شروع ہی میں
بتا دیا تھا کہ ’’مولوی‘‘ نفرت پھیلاتے ہیں… انہوں نے مسلمانوں کو توڑ رکھا ہے …
میری اس بات کا زندہ ثبوت آپ نے ابھی دیکھ لیا… ہم آٹھ مسلمان کتنی محبت سے بیٹھے
تھے… یہ ایک مولوی آیا … اور آپ کو مجھ سے کاٹ دیا… اور اب آپ لوگ جارہے ہیں… میں
نے کہا … بھائیو بے شک میں نے آپ کو اس ’’قادیانی‘‘ سے کاٹ دیا ہے… مگر سرکار
مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تو جوڑ دیا ہے … جبکہ یہ ظالم تو
آپ کو سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام امت مسلمہ سے توڑ رہا تھا …
اللہ پاک کا شکر ہے وہ تمام نوجوان اپنی ان سیٹوں سے اٹھ کر … اِدھر اُدھر خالی
نشستوں پر چلے گئے … اور افریقہ میں کفر کے جھنڈے گاڑنے کیلئے جانے والے … کفری
پہلوان کو … راستے ہی میں … ذلت ٗ رسوائی … اور پسپائی کا سامنا کرنا پڑا… نیروبی
پہنچ کر اس نے اپنے استقبال کیلئے آنے والے چیلوں کے ذریعے … مجھے نقصان پہنچانے
کی کوشش کی … مگر اللہ تعالیٰ کی نصرت کہ میں … ختم نبوت کے پاکیزہ نشے میں مست
اکیلا ان کے درمیان سے بحفاظت گذر گیا…
آپ یقین کریں اس
دن مجھے … اس قدر خوشی ہوئی کہ اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا… اللہ رب
العالمین نے … حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سات امتیوں کو … کفر و نجاست کے
خوفناک گڑھے میں گرنے سے بچالیا … اور میں نے اپنے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک دشمن کو … ناکامی اور ذلت کی
خاک چاٹتے دیکھ لیا… کفر اور نفرت کا وہ سوداگر جب اپنی زبان منہ میں دبائے خاموش
بیٹھا تھا تو مجھے ایک طرح کا روحانی سرور محسوس ہورہا تھا… کل رات خبروں میں سنا
کہ الحمدللہ … حکومت نے پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال کردیا ہے تو پھر ایک بار…
بے انتہا خوشی ہوئی… یقیناً یہ گنبد خضراء کی جیت ہے … یقینا یہ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا اعجاز ہے … یقینا یہ
اسلام کی فتح ہے … بعض لوگ اس بات کو ’’معمولی‘‘ سمجھ رہے ہیں … ایسا ہرگز نہیں
بلکہ … یہ ایک خوفناک مہم کا نقطۂ آغاز تھا … بلکہ میں یوں کہتا ہوں کہ … یہ ایک
خوفناک عذاب تھا جو ہمارے سروں پر آکر الحمدللہ ٹل گیا … جس طرح حضرت یونس علیہ
الصلوٰۃ و السلام کی قوم کے سروں تک عذاب پہنچ گیا تھا … مگر انہوں نے ایسی زبردست
آہ وزاری کی… اور ایسی مخلصانہ توبہ کی کہ وہ عذاب … اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے
ٹال دیا … یقیناً اہل پاکستان کے سروں پر یہ ایک عذاب تھا … مگر … الحمدللہ خوب آہ
وزاری ہوئی… اور قوم بروقت بیدار ہوگئی … چند دن پہلے اسی موضوع پر جب میں ’’رنگ و
نور‘‘ لکھ رہا تھا تو … میں اس غم اور پریشانی میں زار و قطار رو رہا تھا کہ … اگر
اس حالت میں موت آگئی تو قیامت کے دن … آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا منہ دکھائوں گا؟… اس وقت دنیا
بھر کے کفر نے … اسلام کو مٹانے کے لئے … ختم نبوت اور جہاد پر نقب لگانے کا فیصلہ
کیا ہے… کچھ عرصہ پہلے … امریکہ کی موجودہ وزیرخارجہ … جو اس وقت بش کی سیکورٹی
ایڈوائزر تھی … کا بیان آیا تھا کہ … ہم نے مسلمانوں میں سے بعض فرقوں کو … طاقتور
بنانے کا فیصلہ کیا ہے … کیونکہ یہ فرقے ہمارے مقاصد کی تکمیل کرسکتے ہیں … اور
پوری مسلم قوم کو ہمارے کام کا بناسکتے ہیں… ہم زیادہ سے زیادہ اموال خرچ کرکے ان
کو قوت اور اقتدار دیں گے اور یوں … مسلمانوں کے اندر سے … امریکہ دشمنی کے اثرات
ختم ہوجائیں گے… صحافیوں نے پوچھا کہ ایسا کونسا مسلمان فرقہ ہے … جو یہ کام کرے
گا … اس نے کہا … احمدی … یعنی قادیانی … امریکہ کے اسی خوفناک منصوبے کا آغاز …
اس طرح کیا گیا کہ … پہلے قادیانیوں کو … عام قومی دھارے میں لایا جائے … اور
پاکستانی قوم کا عمومی حصہ بنایا جائے… چونکہ … 1973ء کے آئین کی روشنی میں …
قادیانی ایک غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جا چکے ہیں… اس لئے پہلے اس رکاوٹ کو ختم
کرنا ضروری تھا … پھر جب قادیانی … عمومی دھارے کا حصہ بن جائیں گے تو انہیں …
پالیسی ساز حکومتی عہدوں تک پہنچایا جائے گا … اور جب یہ منحوس مرحلہ بھی طے
ہوجائے گا تو … پھر یہ قادیانی ٹولہ … پاکستان کو انڈیا میں ضم کردے گا … جو ان کا
پرانا خواب … اور دیرینہ مشن ہے… قادیانیوں کا خلیفہ بشیر الدین محمود یہ اعلان
پہلے ہی کرچکا ہے کہ …
’’ہم
ہندوستان کی تقسیم پر رضامند ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش
کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح پھر متحد ہوجائیں‘‘ (روزنامہ الفضل قادیان 17 مئی 1947ء
ثبوت حاضر ہیں ص 848)
چناب نگر (ضلع
جھنگ) میں جہاں قادیانیوں کا مرکز ہے… اور انہوں نے اس کا نام ربوہ رکھا ہوا تھا …
قادیانیوں کے قبرستان میں … مرزا قادیانی کی بیوی نصرت جہاں بیگم … اور مرزا بشیر
الدین محمود کی بیوی … کی قبروں پر … درج ذیل بکواسات پر مبنی بورڈ نصب ہے:
’’ارشاد حضرت
خلیفہ المسیح ثانی‘‘
جماعت کو نصیحت ہے
کہ جب بھی ان کو توفیق ملے ٗ حضرت ام المومنین (نعوذباللہ) اور دوسرے اہل بیت کی
نعشوں کو مقبرہ بہشتی قادیان میں لے جاکر دفن کریں ٗ چونکہ مقبرہ بہشتی کا قیام
اللہ تعالیٰ کے الہام سے ہوا ہے۔ اس میں حضرت ام المومنین (نعوذباللہ) اور خاندان
حضرت مسیح موعود کے دفن کرنے کی پیشگوئی ہے۔ اس لئے یہ بات فرض کے طور پر ہے …
جماعت کو اسے کبھی نہیں بھولنا چاہئے…
آج کل انڈیا کے
ساتھ … خیر سگالی اور دوستی کے جو اقدامات کئے جارہے ہیں … ان کا حکم بھی … امریکہ
اور عالمی برادری نے صادر فرمایا ہے تاکہ آئندہ کے لئے میدان ہموار کیا جاسکے…
پاکستان کے عوام میں ویسے ہی … حکمرانوں کی نالائقی کی وجہ سے … ملک کے ساتھ
نظریاتی محبت … اور وابستگی کا فقدان ہے … سندھ میں علیحدگی کا ذہن ہے … اور وہاں
اردو بولنے والا جو طبقہ پاکستان کا شیدائی تھا … اس کو بھی … لسانی تعصب اور
سیاست نے انڈیا کا ہمنوا بنادیا ہے… اور وہ اپنے بزرگوں کی لاشیں اور ہندوئوں کی
درندگی بھول کر … الطاف حسین کے دلّی دورے پر بغلیں بجا رہے ہیں… بلوچستان میں
شروع سے علیحدگی کا رجحان ہے … پنجاب میں بسنے والی دو بڑی قوموں … پنجابی اور
سرائیکی … کو بھی لسانی بنیادوں پر … انڈیا کے قریب کیا جارہا ہے … صوبہ سرحد کی
قوم پرست پارٹیاں پہلے سے بھارت کی دوست ہیں … اور تو اور … پاکستانی آزاد کشمیر
میں نوے فیصد لوگ علیحدگی اور خود مختاری کے حق میں ہیں… حالانکہ مقبوضہ کشمیر کے
پچاسی فیصد لوگ پاکستان سے الحاق چاہتے تھے … ڈنڈے اور گولی کی سیاست نے پاکستان
کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا کردیا ہے … اور وہ طبقہ اب مٹھی بھر رہ گیا ہے … جو پاکستان
کو متحد اور سلامت دیکھنا چاہتا ہے… ہر ملک کے خفیہ ادارے اس ملک کو مضبوط کرتے
ہیں … جبکہ ہمارے خفیہ ادارے … ظلم ٗ تشدد اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی وجہ
سے اپنی عوام کو ملک کا دشمن بناتے ہیں … آدھا ملک ٹوٹ گیا … جبکہ باقی بھی لرز
رہا ہے … ان حالات میں قادیانیوں کو … اور آغاخانیوں کو … اس ملک میں قوت ٗ ترقی …
اور بڑھاوا دینے کے آخر اور کون سے معنی ہیں؟… امریکہ اور انڈیا کی مشترکہ خواہش
ہے کہ … پاکستان نہ رہے … سندھ اور پنجاب انڈیا کو دے دیئے جائیں … سرحد کو
افغانستان کے حوالے کردیا جائے… اور بلوچستان کو الگ ملک کا درجہ دے کر …سیکولر
بلوچوں کے ہاتھ میں اس کا اقتدار دے دیا جائے … سازشوں کی دیگ میں ابال تو پوری
طرح آہی چکا ہے… بس اب دم دینے کا انتظار ہے… ہمیں معلوم نہیں کہ آگے کیا ہوگا؟…کافروں کی سازشیں کامیاب ہونگی …
یاکوئی آسمانی معجزہ اس پاک وطن کو بچالے گا… فی الحال تو ہمیں خوشی ہے کہ … سازش
کی گاڑی کا ایک ٹائر… پنکچر ہی نہیں ہوابلکہ پھٹ گیا ہے… مسلمان بوڑھے، بچے…جوان…
عورتیں … اور مرد… سب خوش ہیں کہ … انہوں نے اپنی زندگی میں قادیانیوں کو … اپنے
محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو … عبرتناک شکست کھاتے دیکھ لیا ہے… کتنامزہ
آیا ہوگا جب یہ خبر… میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں نے سنی ہوگی… اور ان کے
چہرے لٹک گئے ہونگے… انہوں نے ایک دوسرے کو دل کھول کر گالیاں دی ہونگی… انہوں نے
اس مسئلہ پر جومال خرچ کیا تھا… اس پر حسرت کی ہوگی… اور ان لوگوں پرلعنت بھیجی
ہوگی… جنہوں نے پیسہ کھالیا اور کام پورا نہ کرسکے… بس… میرے محبوب صلی اللہ علیہ
وسلم کے دشمنوں کا شکست کھانا… ذلیل ہونا… غمگین ہونا… اہلِ اسلام کو مبارک ہو…
امریکہ کے دور حکومت میں… ختم نبوت کی یہ عظیم الشان کامیابی مبارک ہو… خواجہ
خواجگان حضرت مولانا خان محمد دامت برکاتہم العالیہ کی قیادت کو سلام…عالمی مجلس
تحفظ ختم نبوت کے قائدین… اور پروانوں کو سلام… چنیوٹ کی خاک میں جنت کے مزے لوٹنے
والے… میرے استاذ فاتح قادیانیت، فدائے ختم نبوت… حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی …
نوراللہ مرقدہٗ کو …سلام … شاہِ قلم… محققِ ختم نبوت … حضرت مولانا محمدیوسف
لدھیانوی شہیدؒ کوسلام… ان … بوڑھوں کوسلام جو بڑھاپے کی پرواہ کئے بغیر… سڑکوں پر
نکلے … ان بہنوں اور مائوں کو سلام… جنہوں نے اس مسئلہ پر آنسوبہائے اور دعائیں
نچھاور کیں… ان نوجوانوں کو سلام جنہوں نے … وقت کے تیور … اپنے گرم خون کے جوش سے
بدل دیئے… اور ہر اس منبر و محراب کو سلام… جہاں سے ختم نبوت اور جہاد کے زمزمے
بلند ہوئے… سازشیں چلتی رہتی ہیں… زمین اپنے رنگ اور نقشے بدلتی رہتی ہے… جو لوگ
صرف سازشوں کو… دیکھ کر … دل پکڑ بیٹھتے ہیں… وہ تاریخ کی دھول بھی نہیں بنتے… ہاں
جو للکار کر کہتے ہیں… تم سازش کرو… ہم بھی زندہ ہیں… وہی زندہ رہتے ہیں… اور
تاریخ کو معطر کر دیتے ہیں… جہاد کے خلاف کتنی سازش ہوئی؟… مگر آپ نے دیکھا … کچھ
بھی نہیں بگڑا… ہاں… اللہ پاک کی قسم کچھ بھی نہیں بگڑا… جہاد اور زیادہ پھیل گیا…
اور زیادہ طاقت ور … اورتوانا ہوگیا… اب ختم نبوت کے خلاف سازش ہوئی… مگر آپ نے
دیکھا… کس بری طرح سے دم توڑگئی … آج سعدی کے ہونٹ… پھر بے قرار ہیں… کاش خاکِ
مدینہ کا بوسہ نصیب ہوتا… مگر کہاں؟ … ہاں… میں بہت خوش ہوں… اللہ پاک کی قسم بہت
خوش… اور ڈرتے ڈرتے … شرماتے شرماتے … لرزتے لرزتے … عرض کررہا ہوں… آقا صلی اللہ
علیہ وسلم کے پروانے… جیت گئے …اس لئے … گنبد خضراء … تجھے میرا… محبت بھرا…
آنسوئوں بھرا… سلام …سلام… سلام…!
اللہ تعالیٰ اُسے آباد رکھے… کراچی میں ایک بڑا دینی
ادارہ ہے… جامعۃ العلو م الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن… بلند پایہ مشہور محدّث… حضرت
مولانا محمد یوسف بنوری نور اللہ مرقدہ نے اس دینی ادارے کی بنیاد رکھی… میں نے
خود امام کعبہ شیخ عبد اللہ السبیل کو
حضرت بنوریؒ کے بارے میں کہتے سنا… ہذا الرجل کان جبلاً فی الحدیث… یہ شخص علو مِ
حدیث کے پہاڑ تھے… حضرت بنوریؒ اپنے اس نورانی، علمی… اور اخلاقی مرکز کے لئے جو
چاند ستارے ڈھونڈ کر لائے… ان میں سے ایک … مفتی اعظم پاکستان… حضرت مولانا مفتی
ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ تھے… میں نے اپنی زندگی میں اتنا مستغنی
شخص اور کوئی نہیں دیکھا…وہ خود کو چھپا تے تھے مگر ہر ادا سے نکھرتے تھے… علم کا
یہ حال تھا کہ …حضرت بنوری ؒ کی زندگی میں بخاری اور ترمذی پڑھا تے رہے …اور ہدایہ
ثالث کے تو گویا امام مشہور تھے… جبکہ تفقہ کا یہ عالم تھا کہ … حضرت مفتی محمد
شفیعؒ …حضرت مفتی محمود ؒ…اور حضرت مفتی رشیداحمدؒ کے ساتھ مجالس علمیہ میں بٹھائے
جاتے تھے… پہلے تقریر کرنے سے گھبراتے تھے…بس سبق پڑھانا …فتویٰ کی پاکیزہ مسند کو
رونق بخشنا…اور اپنی بوڑھی والدہ کی مثالی خدمت کرنا…یہی ان کے مشاغل تھے …ایک بار
جنوبی افریقہ کی ایک مسجد میں …حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریانوراللہ مرقدہ کے
ساتھ اعتکاف بیٹھے تھے…انہوںنے جمعہ کے دن بیان کرنے کو فرمایا …حضرت مفتی صاحب نے
عرض کیا میں تو گونگا ہوں … حضرت شیخ الحدیثؒ نے فرمایا آپ ہی نے بیان کرنا ہے…
بس پھر کیا تھا اللہ تعالیٰ کا نام لے کر بیٹھ گئے … اس دن سے ایسا بیان شروع ہوا
کہ …سننے والے دنگ رہ جاتے…اور ایک بار تو وفاقی شرعی عدالت کے روبرو ایسا بیان
دیا کہ اسلام آباد کے ایوان لرز کر رہ گئے…اور بالآخر حکومت کو مقدمہ واپس لینا
پڑا …سادگی کا یہ عالم تھا کہ پیدل گھر سے تشریف لاتے …راستے میں ایک دیندار پٹھان
کا ہوٹل تھا… وہاں بیٹھ کر اخبار کا مطالعہ کرتے ہوئے چائے نوش فرماتے…جب تک والدہ
محترمہ زندہ رہیں مہینے کا مکمل مشاہرہ انکی خدمت میں پیش کردیتے…اور ان سے بچوں
کی طرح روزانہ کا خرچہ لے آتے …اسی سادگی کو دیکھتے ہوئے بڑے بڑے شکاریوں نے اپنے
جال ڈالے …مگر جال پھینکنے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ کس آسمان پر تھوکنے کی کوشش
کر بیٹھے ہیں…ایک بہت چابکدست ،چالاک اور مشہور عیسائی پادری نے آکر بحث میں
الجھانے کی کوشش کی… حضرت نے چند منٹ میں ہی نمٹادیا… وہ اسطرح کہ وہ بحث کو طول
دینے لگا تو…حضرت نے اپنے مخصوص اور سادہ الفاظ میں فرمایا…میں چھوٹا سا آدمی ہوں
آپ مختصر بتائیے کہ کیا چاہتے ہیں؟ …اس نے کہا مختصر یہ کہ آپ عیسائی ہوجائیں
…نجات پاجائیں گے…آپ نے فرمایا …حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپ کے عقیدہ کے مطابق
سولی پر چڑھائے گئے …ان کا سولی چڑھنا کفارہ ہوگیا…یہ کفارہ تمام انسانیت کے لئے
ہے یا عیسائیوں کے لئے؟ …پادری نے وسعت ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا…تمام انسانیت
کے لئے …حضرت نے مسکراکر فرمایا دیکھیں میں بھی انسان ہوں…اور میرے گناہوں کا
کفارہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دے چکے ہیں تو مجھے عیسائی ہونے کی کیا ضرورت ہے؟…
وہ پادری فوراً کھسک گیا…جنرل ضیاء الحق علماء اور مشائخ سے محبت کا اظہار کرتے
رہتے تھے…ایک بار حضرت مفتی صاحب سے ملاقات میں کامیاب بھی ہو گئے …مگر اس کے بعد
… ان کی ہر کوشش ناکام رہی… انہوں نے حکومت کے کئی عہدے پیش کئے … مگر بقول حضرت
مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر …حضرت مفتی صاحب نے امام ابو حنیفہؒ کے استغناء کو
زندہ کردیا… پرکشش عہدوں کو ٹھکرانے کی ایک طویل … اور ایمان افزاء داستان ہے… مگر
حیرت اس پر نہیں کہ عہدے ٹھکرا دئیے… اس بات پر ہے کہ … کبھی اپنی اس صفت پر فخر
نہیں فرمایا …اور نہ کبھی زہد فروشوں کی طرح …اس استغناء کو اپنے ماتھے کا جھومر
قرار دیا…ہم نے اس بارے میں ادھر اُدھر سے بہت کچھ سنا …اور خود اپنی آنکھوں سے
…اعلیٰ سرکاری اہلکاروں کو ان کے گرد منڈلاتے بھی دیکھا …مگر کبھی خود ان کی زبان
سے اس بارے میں کوئی لفظ بھی نہیں سنا…ہاں بے شک جو لوگ اللہ کے ہوتے ہیں …وہ ایسے
ہی ہوتے ہیں …اللہ تعالیٰ کے لئے کرتے ہیں اور پھر اسی کے لئے سنبھال رکھتے
ہیں…ہمیشہ سفید لباس اور سفید ٹوپی …مگر ہاتھ میں کبھی گھڑی نہیں ہوتی تھی…پہلے
پہل خیال گذراکہ …جیب میں رکھتے ہونگے مگر پھر معلوم ہوا کہ وہاں بھی ندارد…اتنا
مشغول …اتنا محبوب اور اتنا مطلوب انسان اور ہاتھ میں گھڑی بھی نہیں…آپ جامعۃ
العلوم الاسلامیہ کے شیخ الحدیث تھے …بخاری کی دونوں جلدیں …اور ترمذی شریف مکمل
آپ کے زیر تدریس تھی …تخصص فی الفقہ الاسلامی کے آپ مشرف یعنی نگران تھے …یہ
دوسالہ کورس صرف فارغ التحصیل علماء کرام کے لئے ہوتاہے…اس میں وہ کسی فقہی موضوع
پر مقالہ لکھتے ہیں…یا دو سو مدلل فتوے لکھنے کا کام کرتے ہیں… کافی مشکل اور محنت
طلب کورس ہوتا ہے… اس کے علاوہ اکثر ہدایہ ثالث کا سبق بھی پڑھاتے تھے… چھوٹے مفتی
حضرات کے فتاویٰ کی نگرانی وتصدیق بھی کرتے تھے… جلسوں اور اجتماعات میں بھی شرکت
رہتی تھی… طبیعت میں نرمی اور مروت کا عنصر غالب تھا اس لیے لوگوں کو انکار نہیں
کرسکتے تھے… ملک کی نامور فقہی مجلسِ تحقیق کے رکن بھی تھے… اور وقتاً فوقتاً اہم
موضوعات پر مضمون بھی تحریر فرماتے تھے… الغرض ان کے بہت کام تھے اور ہر کام اتنا
بھاری کہ سوچتے ہوئے بھی پسینہ آتا ہے… یقینا ایسی شخصیت کے پاس تو وقت کو ناپ تول
کر گزارے بغیر کوئی چارہ نہیں ہوتا… مگر آپ کے پاس گھڑی نہیں ہوتی تھی… وجہ سنیں
تو حیران رہ جائیں… ایک بار طالب علمی کے زمانے میں حضرت شیخ الاسلام مدنیؒ کے سبق
میں بیٹھے تھے… سبق کے دوران ہاتھ میں بندھی گھڑی پر ٹائم دیکھ لیا… حضرت مدنیؒ نے
فرمایا… ولی حسن! سبق میں گھڑی دیکھتے ہیں؟… بس اتنا ہی کافی ہوگیا… سبق کے بعد
گھڑی توڑ دی اور پھر زندگی بھر اپنے پاس نہ رکھی… فراست اور ذہانت … اور مسلسل
گھڑی کے بغیر گزارہ کرنے کیوجہ سے … ٹائم پہچاننے کی فطری صلاحیت مضبوط ہوگئی تھی…
سر جھکائے فرماتے اتنے بجے ہوں گے… جب گھڑی دیکھی جاتی تو اکثر… اتنے ہی بجے ہوتے
تھے… حرم شریف … اور روضۂ اقدس کا بڑا عشق تھا… مگر یہ عشق یکطرفہ نہیں… مکمل طور
پر دو طرفہ تھا… اس لیے سال میں دوبار تو ضرور بلاوا آہی جاتا تھا… اور آپ عشق
ومحبت کے نشے میں گم وہاں پہنچ جاتے… جہاں جانے کی تمنا ہر دل ِمسلم رکھتا ہے… حرم
پاک میں ان کو قریب سے دیکھنے پر معلوم ہوتا تھا کہ … اس پاک شخص کا خمیر ادب اور
تواضع میں گوندھا گیا ہے… ادب بہت بڑی چیز ہے… سچی بات ہے کسی کسی کو نصیب ہوتا
ہے… ہم تو اس کی جھلک کو ہی ترستے رہتے ہیں… جی ہاں جن کو اپنی عقل پر ناز ہو … جن
کو اپنے باہوش ہونے کا فخر ہو… اور جو اپنی ذات اور قومیت کے خول میں بند ہوں…
انہیں کیا معلوم کہ ’’ادب‘‘ کیا ہوتا ہے… کسی فارسی شاعر نے بات کو یوں سمجھا نے
کی کوشش کی ہے…
ادب گا ہیست زیر
آسماں از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می
آیند جنید وبایزیداینجا
یعنی ادب عرش سے
بھی نازک تر مقام ہے… ایسا مقام کہ یہاں جنید… اور بایزید جیسے… اہل معرفت کے سانس
بھی گم ہوجاتے ہیں… وہ ادب ہی کیا… جس میں آدمی خود کو بھی یاد رکھے… ہمارے حضرت…
معلوم نہیں کچھ اور تھے یا نہیں… مگر ادب کے اس مقام پر فائز تھے… جو آدمی کو… مدہوش،
بے حال اور تو، میں، سے بے فکر کردیتا ہے… اور آدمی کو یہ پتہ بھی نہیں چلتا کہ وہ
خود کس مقام پر فائز ہے؟… مجھے یاد ہے کہ ایک بار … اپنے زمانے کے مشہور مفسّر اور
اللہ والے بزرگ … حضرت مولانا محمد ادریس صاحب میرٹھی
نور اللہ مرقدہ فرما رہے تھے… بھائی نماز پڑھنا ہمارے
مفتی صاحب سے سیکھو… نماز میں یوں کھڑے ہوتے ہیں جیسے اس جہان میں ہی نہیں ہیں…
ادب کے ساتھ تواضع کا جو ہر خود بخود مل جاتا ہے… حرم شریف میں… حضرت مفتی صاحب
پر… عشق ومحبت کے آثار… اور ادب اور تواضع کا رنگ صاف نظر آتا تھا… آپ یوں کھوئے
کھوئے سے رہتے تھے… جیسے بس ہوش ہی نہیں ہے… اولیاء… علماء اور سالکین کا آپ کے
گرد ہجوم بنتا… مگر آپ تنہائیوں کو جالیتے… رمضان المبارک میں… اہل مدینہ میں سے
جو ہاتھ پکڑ کر افطار کی دعوت دیتا… آپ اسے فوراً قبول کرنا مدینہ منورہ کے ادب کا
حصہ سمجھتے تھے… مدینہ منورہ میں رمضان المبارک کے مزے لوٹنے والے جانتے ہیں… وہاں
کے مہمان نواز لوگ… عصر کے بعد ہی سے دسترخوان لگا کر… مسجد نبوی شریف میں داخل
ہونے والوں کو ’’دعوت افطار‘‘ دینے لگ جاتے ہیں… باہر سے آنے والے اکثر زائرین کی
خواہش ہوتی ہے کہ انہیں مسجد شریف میں آگے جگہ ملے… چنانچہ دعوت افطار کے جواب میں
شکراً شکراً کہتے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں … مگر حضرت مفتی صاحب جیسے ہی مسجد میں
داخل ہوتے… کوئی آگے بڑھ کر دعوت دیتا تو اس کے ساتھ وہیں بیٹھ جاتے… آپ کے شاگرد
… اور خدام آگے جانا چاہتے … مگر علم وروحانیت کا بادشاہ دروازوں اور جوتوں کے
قریب … بیٹھ کر سبق دیتا کہ … جو مزہ ’’ہاں‘‘ کہہ کے جوتوں میں بیٹھنے کا ہے… وہ
مزہ … ’’نہ‘‘ کہہ کر آگے بڑھنے میں نہیں ہے… پھر آپ کاعجیب معمول تھا… مسجد نبوی
شریف میں جہاں بھی داخل ہوتے… روضہ اقدس کی طرف رخ پھیر کر… ادب وتوجہ کے ساتھ
درود وسلام میں گم ہوجاتے … اور جب واپسی کا ارادہ ہوتا تھا باہر نکلنے سے پہلے…
دروازے کے پاس پھر اپنا رخ روضہ اقدس کی طرف کرکے… درود وسلام پڑھتے… اور پھر باہر
نکلتے… عشق ومحبت کی یہ کیفیت… آپ نے کہیں دیکھی؟ … سچے عاشق ایسے ہی ہوتے ہیں…
جدائی کے وقت بار بار مڑتے ہیں… اور اسی طرح بے قرار ہوتے ہیں… حضرت مفتی صاحب!…
سچے عاشق تھے مگر بہت خوبصورتی کے ساتھ اپنے عشق… اور مقام کو چھپاتے تھے… اسی لیے
پیری مریدی نہیں کرتے تھے… حضرت شیخ الحدیثؒ نے خلافت سے نوازا… ارد گرد سے کافی
اصرار ہوا… مگر … صرف چند افراد ہی کو ان کے سخت اصرار پر بیعت فرمایا… اور انہیں
بھی دوٹوک لفظوں میں بتادیا کہ… میں کچھ بھی نہیں ہوں… میں بہت چھوٹا آدمی ہوں… آپ
کی تواضع … سادگی، بذلہ سنجی… اور لطائف کے پردے ہٹا کر آپ تک کوئی پہنچ جاتا تو
وہ اپنے سامنے… ایک گہرے سمندر کو پاتا… کمالات میں باکمال… اور سکون وگہرائی کا
عجیب مرقّع… اور تأثیر میں عجیب تر… مکہ مکرمہ کے ایک صاحب نے… گذارش کی کہ
اٹھارہ سال ہوگئے اولاد نہیں ہوئی… حضرت نے انڈے دم کرکے دئیے… اور اگلے سال وہ
صاحب بچے سمیت خدمت میں حاضر ہوئے… ایسے واقعات بہت سارے ہیں… مگر نہ انہوں نے
کبھی ان کا ذکر کیا… اور نہ کسی اور کی زبان پر اس کے تذکرے گوارا فرمائے… وہ
تعریف کرنے والوں کو روکنے کی پوری ہمت رکھتے تھے… اور ایسے کسی عمل کی حوصلہ
افزائی نہیں کرتے تھے… یہی وجہ ہے کہ … ہزاروں افراد کو ’’عالم‘‘ اور سینکڑوں
علماء کو ’’مفتی‘‘ بنانے والا شیخ… دارالعلوم کورنگی کے جدید قبرستان میں گمنامی
کے مزے لوٹ رہا ہے… ایک بار حرم شریف حاضر ہوکر جو بار بار یہاں آنے کی خواہش
رکھے… اسے حضرت مفتی صاحب ایک ایساعجیب عمل بتاتے تھے کہ… اگلی بار پھر حاضری نصیب
ہوجاتی تھی… مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ انہوں نے… کس کس کو یہ عمل بتایا… ہاں مجھے
یہ پتہ ہے کہ … حضرت کے ساتھ جانے والے اکثر افراد… غربت اور وسائل سے تہی دامنی
کے باوجود … بار بار حرم شریف جاتے رہے… گویا کہ ان کے لئے… حرمین شریفین کے
دروازے کھل گئے… خود حضرت کا یہ حال تھا کہ… آپ کے علم میں لائے بغیر… صرف اجازت اور
تاریخ پوچھ کر … باقی تمام انتظامات … حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ
کردیتے تھے… روانگی کے دن حضرت احرام باندھتے… اور روانہ ہوجاتے… اور بعض اوقات آپ
اور آپ کے رفقاء کے پاس… ایک دن کا خرچہ بھی نہیں ہوتا تھا… گویا کہ … مہمان ہی
نہیں… لاڈلے مہمان بن کر بلائے جاتے تھے… اور پھر آپ کی خوب مہمان نوازی کی جاتی
تھی… دیکھا گیا کہ لوگ کئی کئی دن پہلے کھانے کی گذارش لے کر آتے… اور انہیں بتایا
جاتا کہ کھانا تو قبول ہے… مگر رہائش گاہ پر لانا ہوگا… اس وقت جب کہ میں یہ الفاظ
لکھ رہا ہوں… کئی خوبصورت مناظر میرے دماغ میں ایک دوسرے سے سبقت لے کر … نوک قلم
پر آنے کیلئے بے قرار ہیں… وجہ بالکل واضح ہے… میری گناہگار آنکھیں کسی زمانے میں
بہت خوش نصیب ہوا کرتی تھیں… مجھے ’’یار‘‘ کی صحبت نصیب تھی… اور میں نے وہ کچھ
دیکھا جواب خواب نظر آتا ہے… کئی بار ارادہ ہوا کہ … ان حسین یادوں کو… مسلمانوں
کے لئے محفوظ کرلوں… مگر جب بھی قلم اٹھایا… یقین کریں کچھ بھی نہ لکھ سکا… اور تو
اور … مجھے جب اپنے حضرت سے بہت دور… ان کے انتقال کی خبر ملی اس وقت بھی کچھ نہ
لکھ سکا… حالانکہ… جن کے ساتھ دور کا تعلق … اور ادنیٰ مناسبت تھی… ان کے بارے میں
بہت کچھ لکھ چکا ہوں… اور یہاں یہ حال تھا کہ … میں اس زمانے میں … حافظ کا یہ شعر
زبان حال سے پڑھتاپھرتا تھا…
شراب خوشگوارم ہست
ویار مہرباں ساقی
ندارد ہیچکس یارے
چنیں یارے کہ من دارم
مرا درخانہ سروے
ہست کاندر سایۂ قدّش
فراغ از سر و
بستانی وشمشاد چمن دارم
چودرگلزار اقبالش
خراما نم بحمد ﷲ
نہ میل لالہ
ونسرین نہ برگ یاسمن دارم
ویسے بہت سارے
احباب کا بھی یہی خیال تھا کہ … میں ان پر بہت کچھ لکھوں گا… بار بار لکھوں گا…
اور ان کے تذکرے امت تک پہنچاؤں گا… مگر لکھنا میرے بس کی بات تو نہیں ہے… میں نے
کئی بار قلم اٹھایا مگر ہر بار …ناکام ہوا… آج یہ چند الفاظ ایک صدمے نے باہر نکال
دیئے… اگر یہ صدمہ دل پر کچو کے نہ لگاتا تو شاید یہ چند سطریں بھی نہ لکھی جاتیں…
مجھے معلوم نہیں کہ اُن کے بارے میں کافی کچھ جاننے کے باوجود… اب تک کچھ کیوں
نہیں لکھ سکا؟… ممکن ہے خود ان کی دعاء رہی ہو… وہ گمنامی کو بہت زیادہ پسند
فرمایا کرتے تھے… لیکن اصل وجہ شاید کچھ اور ہے… اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے… آج یہ الفاظ کیوں
لکھے؟… بات دراصل یہ ہے کہ انہوں نے خلاف عادت ایک عجیب پیش گوئی فرمائی تھی… وہ
چند دن ہوئے پوری ہوگئی… بس وہ پھر پوری شدت اور رعنائی سے یاد آگئے… جس کا دل صاف
ہوتا ہے… اسے بہت کچھ سمجھ آجاتا ہے… ہمارے حضرت تو ویسے ہی معصوم بچوں جیسے لگتے
تھے… صاف دل… پاکیزہ روح اور دنیا سے بے غرض… ایک بار مدینہ منورہ کی مسجد میں ظہر
کی نماز ادا فرمائی… نماز کے بعد کافی دیر … وہاں بیٹھے رہے… اچانک اپنے خادم کو
فرمایا وہ جو صاحب بیٹھے ہیں… انہیں بلا لاؤ… وہ بلا لایا… سلام ومصافحہ کے بعد
فرمایا… آپ مولانا بدر عالم میرٹھیؒ کے کیا لگتے ہیں؟… وہ چونک پڑے اور فرمایا ان
کا بھانجا ہوں… حضرت نے فرمایا بس میرے دل میں آرہا تھا کہ آپ ان کے کچھ لگتے ہیں…
فراست اور قیافہ شناسی کے ایسے واقعات کئی بار پیش آئے… یہ سب کچھ اپنی جگہ… اصل
بات یہ ہے کہ… حضرت اپنے بلند علمی وروحانی مقام کے باوجود بہت ہنس مکھ تھے… خود
بھی مسکراتے رہتے تھے… اور اپنے لطائف کے ذریعے دوسروں کو بھی ہنساتے تھے… آپ نے
مختلف لوگوں کے لئے مختلف نام تجویز فرما رکھے تھے… جس آدمی کی حماقت بتانا مقصود
ہوتی… ارشاد فرماتے … یہ جمعیت کا آدمی ہے… یا جمعیت کا سیکٹری جنرل ہے… کبھی
کبھار اس کی تشریح یوں فرماتے کہ… ایک تنظیم ہے… جمعیت حُمقَائِ اسلام… یہ اس کا
آدمی ہے… اور بطور تواضع فرماتے … اس جماعت کا صدر میں خود ہوں… غریبوں سے بے
انتہا محبت رکھتے تھے… دورہ حدیث کے غریب طلبہ کو قریب بٹھا کر… انہیں عزت بخشتے …
اور اپنی ذاتی اشیاء انہیں ہدیہ فرماتے… مالداروں سے دوری تو نہیں… البتہ کچھ
فاصلہ ضرور رکھتے تھے… یعنی آج کل کے عمومی طرز عمل کے بالکل برعکس… کسی چھوٹے بچے
کو… عالمانہ لباس میں دیکھتے تو فرماتے… شیخ الاسلام آرہا ہے… الغرض … خوشی اور
مسرت کے جھرنے ہر وقت آپ کے ہاں پھوٹتے رہتے تھے… مگر اچانک یہ حالت بدل گئی… آپ
کے تمام لطیفے کہیں گم ہوگئے… اور خوشیاں اور مسکراہٹیں ماضی کا حصہ بن گئیں…
بیٹھے بیٹھے اچانک رونا شروع کردیتے… اور ایسا گریہ طاری ہوتا کہ …سانس رکتا محسوس
ہوتا… سبق پڑھانے آتے تو کچھ زیادہ نہ فرماسکتے… البتہ حدیث شریف کی عبارت سن کر
رونے لگ جاتے… اور ایسا بار بار ہوتا… ان دنوں جس نے بھی آپ کو دیکھا… یہی سمجھا
کہ … کوہ ہمالہ پگھلنا شروع ہوگیا ہے… علم وعرفان کے اس پہاڑ کو اندر ہی اندر کوئی
چیز کھائے جارہی ہے… امراض کا حملہ بھی بار بار ہوتا تھا… اور قوت حافظہ بھی پہلے
جیسی نہ رہی تھی… آپ پر غم اور پریشانی کا یہ خوفناک حملہ… اس وقت ہوا جب بے نظیر
بھٹو کا ملک میں والہانہ استقبال ہوا… اور صاف نظر آنے لگا کہ … اب وہ اس ملک کی
حکمران بن کر رہے گی… حضرت مفتی صاحب… دینی غیرت میں گندھے ہوئے تھے… اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو چہرے کے علاوہ دل میں بھی
آنکھیں نصیب فرمائی تھیں… ہم جیسے باطن کے اندھے کیا جانیں کہ زمینی حالات پر
آسمانی تیور کیسے ہوتے ہیں؟… مگر ’’اوپر‘‘ تعلق رکھنے والے جانتے ہیں کہ … رحمت
کیا ہے اور عذاب کیا ؟… اوپر والے کی خوشی کیا ہے؟… اور غضب کیا؟… امت مسلمہ کیلئے
شہد کیا ہے اور زہر کیا؟… آپ نے اپنے دل کی آنکھوں سے … بے نظیر کو ایک عذاب اور
آفت محسوس کیا… اور بسمل کی طرح تڑپنے لگے… لوگ مزے سے کھا پی رہے تھے… کسی نے ایک
منٹ کے عیش کو قربان نہ کیا… جبکہ میرے حضرت… شمع کی طرح پگھلنے… اور پروانے کی
طرح تڑپنے لگے… فرماتے تھے… اس عذاب کو روکنے کا کوئی راستہ ہے؟… ایک بار فرمایا
انگلینڈ خط لکھو… میرے شاگرد مجھے وہاں بلالیں… میں اللہ تعالیٰ کو کیا منہ دکھاؤں گا کہ … میری زندگی
میں ایک مغربی عورت مسلمانوں کی حکمران بن گئی… خدام نے عرض کیا… حضرت انگلینڈ میں
بھی مارگریٹ تھیچر… ایک عورت وزیر اعظم ہے… حضرت نے فرمایا… وہ کافروں کا ملک ہے
ان پر کوئی عورت ہے تو کیا ہوا… مگر مسلمان اور ان پر عورت حکمران؟… یہ فرما کر
رونے لگے اور سخت گریہ طاری ہوگیا… ان دنوں رائے ونڈ مدرسہ کے طلبہ کا امتحان لینے
کیلئے تشریف لے گئے… لاہور سے رائے ونڈ جاتے ہوئے اور اسی طرح واپسی پر… جہاں
پیپلز پارٹی کا جھنڈا نظر آتا… وہاں آپ پر گریہ طاری ہوجاتا… ایک دن فرمایا… ڈاک
کے لفافے لے کر آؤ… پھر ان سیاستدانوں کو خطوط لکھوائے… جو بے نظیر کا راستہ روک
سکتے تھے… اور انہیں نصیحت فرمائی کہ خوب ہمت سے اس عذاب کو روکیں… مگر حضرت کس
طرح قوم کو سمجھاتے کہ یہ ایک عذاب ہے… آپ کو اللہ تعالیٰ نے جو کچھ دکھایا… وہ اور لوگ کہاں دیکھ
سکتے تھے؟… ہم لوگوں کو تو بالکل واضح عذاب نظر نہیں آتے… یہ تو بہرحال… ایک مستور
عذاب تھا… الغرض… اللہ تعالیٰ کا وہ مخلص بندہ… امت مسلمہ کے درد… اور
اسلام کی غیرت میں… جلتا رہا… کڑھتا رہا… پگھلتا رہا… اور پاکستان کی کرسی پر بے
نظیر کا بُت رکھ دیا گیا… مجھے یاد ہے… حضرت دورہ حدیث کی جماعت میں سبق پڑھانے
تشریف لائے… عجیب حالت اور کیفیت طاری تھی… سبق کے دوران روتے رہے… اور پھر جلال
میں آکر فرمایا… میرے گناہوں کی سزا… مجھے یہ خوفناک منظر دکھایا گیا کہ … ایک
مغرب زدہ عورت ہم مسلمانوں کی حکمران ہے… مگر یاد رکھو… تم لوگوں کو … اس سے بھی
زیادہ سخت آزمائش کا سامنا ہوگا… تم لوگوں سے یہ مسئلہ پوچھا جائے گا کہ… عورت نماز
میں مردوں کی امامت کرسکتی ہے یا نہیں؟… ہاں تم لوگ اس خوفناک آزمائش کو دیکھو گے…
میرے پیارے … اور
محبوب حضرت… عورت کی حکمرانی کا غم لے کر اس فانی دنیا کو چھوڑ گئے… اور اب ہمیں…
عورت کی امامت کا سامنا ہے… آمنہ ودود… اور اسراء نعمانی کے پتیّ یہودیوں نے بہت
سوچ سمجھ کر کھیلے ہیں…حضرت نے جب یہ بات فرمائی تھی … وہ سمجھ رہے تھے کہ… ہم ان
کے شاگردوں کا اسلام سے تعلق… ویسا مضبوط ہے… جیسا حضرت کا تھا… اس لیے جب کوئی
منحوس عورت اسلام کی بنیادوں پر وار کرتی ہوئی… امامت کے مصلّے کو روندے گی… تو
ہم… بہت تڑپیں گے… بہت روئیں گے… اور غم میں گھل گھل کر … اپنے عیش وآرام بھول
جائیں گے… مگر میرے پیارے حضرت!… بہت معذرت … آپ اور ہم میں بہت فرق ہے… آپ بے شک
مسلمان تھے… اسلام کے شیدائی… سچے مسلمان … جبکہ… ہم… جی حضرت ہم؟… کیا بتاؤں؟… بس
دعاء ہے کہ … اللہ تعالیٰ ہمیں بھی… مسلمان بنادے… سچامسلمان…
اسلام کا شیدائی مسلمان… غیرتمند مسلمان…
یا اللہ … آپ کے لئے کیا مشکل ہے… معاف فرمادیں…
مسلمان بنادیں… توبہ قبول فرمالیں… اور امت مسلمہ پر رحم فرمادیں…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے
جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ … فلاں بستی کو بستی والوں سمیت الٹ دو۔ انہوں
نے عرض کیا… اے میرے رب ان لوگوں میں آپ کا ایک ایسا بندہ بھی ہے جس نے کبھی پلک
جھپکنے کے برابر بھی آپ کی نافرمانی نہیں کی… اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اس بستی
کو … اس (نیک) بندے اور باقی تمام لوگوں پرالٹ دو… کیونکہ میری خاطر کبھی ایک گھڑی
بھی اس بندے کا چہرہ متغیر نہیں ہوا… یعنی میری نافرمانی کے مناظر دیکھ کر کبھی
بھی غصہ سے اس کا چہرہ غضب ناک نہیں ہوا… یہ کوئی فرضی قصہ نہیں… حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے…
جو
مشہور صحابی حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے … آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ وہ آدمی … بہت نیک
اور عبادت گزار تھا … ایک لمحہ برابر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتا تھا… پھر
وہ کیوں ہلاک کیا گیا… جواب واضح ہے۔ اس میں دینی غیرت نہیں تھی… دنیا بھر کے
اسلام دشمن عناصر … مسلمانوں کے دیندار ہونے سے نہیں ڈرتے… انہیں اصل ڈر …
مسلمانوں کی اس ’’دینی غیرت‘‘ سے ہے … جو اصل اسلام ہے… حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پڑھ لیجئے … صحابہ کرام رضوان
اللہ علیہم اجمعین کے حالات زندگی دیکھ لیجئے… امت
مسلمہ کے کامیاب افراد کی تاریخ کھنگال لیجئے… یہ سب لوگ ’’دینی غیرت‘‘ کے جذبے سے
سرشار تھے… جہاد بھی اسی غیرت کا اظہار ہے … حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ کا
یہ اعلان کہ میں زندہ رہوں اور دین میں کچھ کمی کی جائے… یہ ناممکن ہے … حضرت
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی پوری زندگی … اور آپ کا اس شخص کو قتل
کرنا … جو … حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے بعد آپ سے فیصلہ کرانے
آیا تھا… یہ سب کچھ کیا تھا؟ … کیا یہ ’’دینی غیرت‘‘ کے علاوہ کوئی چیز تھی؟ …
حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے مکہ مکرمہ کیوں
چھوڑا … کافروں اور مشرکوں کے ساتھ مل کر رہتے … دوستی کرتے … خیرسگالی کے اقدامات
ہوتے … ایک دوسرے کو برداشت کیا جاتا … مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا … معلوم ہوا کہ
یہ ساری باتیں … ظاہری طور پر جتنی خوبصورت نظر آئیں … حقیقت میں … بے حد بدبودار
ہیں … اسی لئے … آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے پیارے مکہ کو چھوڑ دیا … صحابہ
کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنا گھر بار قربان کیا… اور
پھر دین کی خاطر … اپنے رشتہ داروں کے خلاف تلواریں تک نکالیں … ہم الحمدللہ
مسلمان ہیں اس لئے ہمیں تو وہی کچھ اچھا لگے گا… جو … آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم … اور آپ کے جانثار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کیا … دینی غیرت تو اتنی اونچی
چیز ہے کہ … اس پر عرش بھی مسکراتا ہے … اور آسمان والے … زمین والوں کو رشک کی
نگاہ سے دیکھتے ہیں…
حضرت زبیر رضی
اللہ عنہ چھوٹے بچے تھے… انہوں نے مکہ مکرمہ میں خبر سنی کہ … آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم (نعوذ باللہ) گرفتار یا شہید ہوگئے
ہیں… فوراً تلوار لیکر مشرکین کی طرف دوڑے … راستہ میں آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوگئی… پوچھا زبیر کہاں ؟ …
انہوں نے بتایا کہ آپ کے بارے میں خبر سنی تھی … ارشاد فرمایا اگر یہ خبر سچی ہوتی
تو ؟ … کہنے لگے میں مکہ کی وادی … مشرکین کے خون سے بھردیتا… اسی وقت جبرائیل
امین آسمان سے اترے … اور فرمایا … اللہ تعالیٰ زبیر کو سلام فرماتے ہیں… اور یہ
کہ … قیامت تک جو بھی دین کے لئے تلوار اٹھائے گا… اس کے اجر میں زبیر رضی اللہ
عنہ کا بھی حصہ ہوگا… کس کس واقعے کا ذکر کروں… پچھلے کالم میں حضرت شیخ مفتی ولی
حسن صاحب ؒ کے کچھ حالات عرض کئے تھے … اس بار بھی ان کی ’’دینی غیرت‘‘ دِل و دماغ
پر خوشبو بکھیر رہی ہے… اور اس وقت جو حالات پیدا کئے جا رہے ہیں … ان میں … اللہ
تعالیٰ کا وہ … منور اور غیور ولی … اور ان کی فکر اور کڑھن بہت یاد آتی ہے … اور
اس بات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ … ان کا … اور ان کی فکر کا تذکرہ کیا جائے تاکہ
قوم کی بیمار رگوں میں … غیرت کا خون دوڑے … اور ہم سب کو ’’بے غیرتی‘‘ کے مرض سے
نجات ملے … ویسے بھی ’’بے نظیر بھٹو‘‘ کی واپسی کا شور ہے … وہ امریکہ اور برطانیہ
کو باربار سمجھا رہی ہیں کہ آپ مجھے واپس بھجوائیں … پھر دیکھیں … دین اور
دینداروں کا کیا حشر کرتی ہوں … پاکستان کے سیکولر حکمران بھی … اسی نتیجے پر
پہنچے ہیں کہ ان کی پسندیدہ روشن خیالی … نافذ کرنے کیلئے ’’بے نظیر‘‘ سے زیادہ
بہتر اور کوئی نہیں ہے … اس لئے کل تک … جو لوگ اسے ملک کیلئے ’’سیکورٹی رسک‘‘
قرار دے رہے تھے … وہی آج … اس کی ’’اعتدال پسندی‘‘ کے گن گا رہے ہیں … انڈیا کی
بھی غالباً یہی خواہش ہے … کیونکہ … جنرل یحیٰ خان … اور بھٹو کے اتحاد نے ملک
توڑا تھا … اور اب پاکستان کی دوبارہ تباہی کیلئے … بھٹو کی جانشین بے نظیر کی کمی
ہے جبکہ … دوسرا فریق تو وجود پا چکا ہے… ادھر عورت کی امامت کا فتنہ آگے بڑھنے کا
سامان کر رہا ہے … روزنامہ خبریں میں کچھ عرصہ پہلے … یہودیوں کے ترجمان … خالد
احمد کا امریکہ سے مضمون چھپا تھا کہ … ہر مسجد میں ایک اسریٰ نعمانی کی ضرورت ہے
… ان دنوں اسریٰ نعمانی ایک مسجد میں گھس کر جمعہ کے دن مردوں کے درمیان بیٹھ جاتی
تھی … خالد احمد نے اس کے اس عمل کی بہت تعریف کی … اور روزنامہ خبریں والوں نے یہ
مضمون بہت نمایاں کرکے … ادارتی صفحہ پر شائع کیا … حالانکہ یہ ’’محتاط اخبار‘‘ ہر
دینی مضمون پر ’’نقطہ نظر‘‘ کا لفظ لکھنا نہیں بھولتا … مگر ’’خالد احمد‘‘ جو جنرل
ضیاء الحق کے دور میں … پاکستان سے فرار ہو گیا تھا … ہر الٹی سیدھی بکواس لکھ
بھیجتا ہے… اور اخبار اسے نہایت اہتمام سے شائع کرتا ہے … کچھ عرصہ قبل ایک یہودی
عورت کو پاکستان میں وکیلوں کی خدمات درکار تھیں … اس کی اپیل بھی ’’ خالد احمد‘‘
نے اپنے کالم میں شائع کی … جب ملک کے قومی اخبارات کا یہ عالم ہے تو صورتحال کا
اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں … حکومت نے قسم کھا رکھی ہے کہ … وہ ملک کے دشمنوں کو
خوش … اور دین کے حامیوں کو ضرور ستائے گی … مجھے یقین ہے کہ … غیروں کے ہاں
’’نام‘‘ پانے کے شوقین … ان شاء اللہ … نہ گھر کے رہیں گے نہ گھاٹ کے … بہرحال اس
وقت مسلمانوں پر ’’امتحان‘‘ کا دور ہے … اور اس امتحان میں وہی کامیاب ہوگا … جو
اپنی ’’دینی غیرت‘‘ کو محفوظ رکھے گا … اور نہایت استقامت کے ساتھ اپنے ’’ایمانی
نظریات ‘‘ پر قائم رہے گا … حضرت مفتی ولی حسن صاحب نور اللہ مرقدہ کی صحبت آج اگر
مسلمانوں کو نصیب ہوتی تو وہ اپنے دل میں سکون ٗ ہمت اور ٹھنڈک محسوس کرتے … حضرت
جب موجود تھے …تو چند لمحے آپ کی صحبت میں گزارنے سے … دل کی پریشانی اور میل دور
ہوجاتی تھی … کئی ایسے لوگ جو گناہوں میں بری طرح پھنس چکے تھے … تھوڑی دیر آپ کے
ساتھ بیٹھتے ہی … آزاد ہوگئے اور انہیں توبہ ٗ استغفار اور انابت الی اللہ کا
راستہ نصیب ہوگیا… آیئے آج کچھ دیر حضرت اقدس ؒ کی میٹھی باتیں سنتے ہیں … اور کچھ
لمحات آپ کے ساتھ گزارتے ہیں … آپ پچھلے کالم میں پڑھ چکے ہیں کہ … حضرت مولانا
مفتی ولی حسن صاحب نور اللہ مرقدہ … حضرت شیخ الحدیث مولانامحمد زکریا نور اللہ
مرقدہ کے خلیفۂ مجاز تھے … کافی عرصہ پہلے … برطانیہ میں مقیم حضرت شیخ کے خلیفہ
مجاز … حضرت مولانا محمد یوسف متالا دامت برکاتہم نے ارادہ کیا کہ … حضرت شیخ کے
خلفاء کرام کے حالات زندگی جمع کریں … انہوں نے ایک سوالنامہ لکھ کر تمام حضرات کو
بھجوایا … اور جواب لکھنے کی درخواست کی … ہمارے شیخ حضرت مفتی ولی حسنؒ صاحب کو
بھی یہ سوالنامہ بھیجا گیا … آپ نے اس کا مختصر جواب … نہایت سادگی کے ساتھ تحریر
فرمایا… اور یوں ہمارے لئے … اللہ تعالیٰ کے ایک غیور اور پرنور ولی کے حالات
زندگی کسی قدر منکشف ہوگئے … ہم آج کے کالم میں … حضرت کی وہ تحریر پیش کررہے ہیں
… تاکہ … ہم سب چند لمحات حضرت کی صحبت میں گزارنے کی سعادت حاصل کرسکیں… یہ مضمون
خود حضرت والا نے تحریر فرمایا ہے البتہ اس کے عنوانات … اور سرخیاں مرتبین حضرات
نے اپنے سوالات کی روشنی میں تحریر کی ہیں … اور مضمون میں جہاں بھی … ’’حضرت
شیخ‘‘کا لفظ ہے تو اس سے مراد … حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ ہیں…!
حالات ِ زندگی
حضرت مولنا مفتی
ولی حسن خان صاحب ٹونکی نور اللہ مرقدہ
اسم گرامی: ولی
حسن ٹونکی
پیدائش اور تعلیم
و تربیت: ۱۹۲۴ء
ہجری یاد نہیں راقم کا خاندان علماء کا خاندان تھا۔ مولانا محمود حسن خان ٗ
مولانا حیدر حسن خان میرے والد مفتی انوارالحسن خان کے چچا تھے۔ اول الذکر معجم
المصنفین کے مصنف اور ثانی الذکر دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مہتمم اور شیخ الحدیث
تھے۔ ندوۃ کے بہت سے قابل الذکر حضرات مولانا حیدر حسن خان کے شاگرد تھے حضرت
مولانا ابو الحسن علی ندوی نے ’’پرانے چراغ‘‘ میں ان کا طویل تذکرہ کیا ہے میرے
والد مفتی انوارالحسن اور ان کے والد (مفتی ولی حسنؒ کے دادا) مفتی محمد حسن خان
عدالتِ شرعیہ ٹونک میں مفتی تھے بلکہ (مفتی ولی حسنؒ کے دادا) مفتی محمد حسن خان ٗ
مولانا محمود حسن اور مولانا حیدر حسن خان کے استاد تھے ۔ راقم نے ابتدائی کتب
فارسی وغیرہ اسی طرح چھوٹی کتب عربی اپنے والد سے پڑھی تھیں‘ میرے والد کا انتقال
اس وقت ہوا جب میری عمر گیارہ سال تھی۔ ان کے انتقال کے بعد مولانا حیدر حسن خان
رمضان المبارک کی تعطیلات میں ٹونک آئے اور تعزیت کے لئے میرے گھر آئے اور میری
دادی صاحبہ سے (جو مولانا دوست محمد کابلی کی بیٹی تھیں مولانا دوست محمد بڑے عالم
اور فاضل تھے۔ نزہتہ الخواطر میں ان کا تذکرہ کیا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ شاہ
عالم علی صاحب سے انہوں نے حدیث پڑھی تھی) تعزیت کی اور مجھے دارالعلوم ندوۃ میں
لے جانے کی خواہش ظاہر کی میری دادی نے بخوشی اجازت دے دی چنانچہ دارالعلوم ندوۃ
لکھنؤ چلاگیا اور چار سال رہ کر ندوۃ کا چار درجہ تک نصاب پڑھا اس درمیان میں
مولانا حیدر حسن خان سے خارج میں الفیہ ابن مالک کا کچھ حصہ اور منطق کے ایک دور
سالے پڑھے جب مولانا حیدر حسن خان نماز ظہر سے پہلے تفصیلی وضو فرماتے تھے پھر
مولانا حیدر حسن خان ٹونک تشریف لے آئے ندوۃ کے بعض اساتذہ نے میرے وہیں رہنے کی
سفارش کی لیکن مولانا نے یہ کہہ کر کہ اسے پرانے طرز کا عالم بنانا ہے سفارش قبول
نہ کی چنانچہ میں بھی ٹونک آگیا اور مولانا سے بے ترتیب کتابیں پڑھتا رہا ٗ حماسہ
بھی مولانا سے پڑھا ٗ ملا حسن فلسفہ کا ایک آدھ رسالہ پڑھا یہاں تک کہ مولانا کا
ٹونک بمرض فالج انتقال ہوگیا۔ پھر عدالت شرعیہ ٹونک میں کئی سال تک ملازمت کرلی اس
عرصہ میں مولوی الہ آباد مولوی عالم پنجاب اور مولوی فاضل پنجاب کے امتحانات دیئے
دورہ حدیث اور کتابیں پڑھنے کا شوق تھا آخر کار ملازمت چھوڑ کر رخت سفر باندھا اور
مولانا حیدر حسن خان ’’مظاہر علوم‘‘ کی تعریف کرتے تھے اس لئے مظاہر علوم چلا گیا
ٗحضرت شیخ الحدیث قدس سرۂ العزیز اس زمانہ میں جوان تھے ان کی زیارت ہوئی حضرت
شیخ کو بخاری شریف کا پارہ لئے ہوئے اور تلاوت قرآن کرتے ہوئے راستہ میں چلتے ہوئے
کئی بار دیکھا۔ دارالعلوم دیوبند چلا گیا ٗ موقوف علیہ اور دورہ حدیث دارالعلوم
دیوبند میں کیا حضرت مدنی قدس سرۂ العزیز سے صحیح بخاری اور جامع ترمذی پڑھی ٗ
ٹونک آگیا ٹونک کے ایک ضلع ’’چہبڑہ گو گور‘‘ میں مفتی اور قاضی ہوگیا ٗ عدالت
شرعیہ کو ۱۶
قسم کے مقدمات کو فیصل کرنے کا حق تھا تا آنکہ ملک تقسیم ہوگیا۔ ہندو راج قائم
ہوگیا ٗ میرے خلاف ایک مقدمہ درج کر لیا گیا بڑی طویل داستان ہے ترک کرنا ناگزیر
ہے۔
تدریس و افتاء :
پاکستان آنے کے
بعد دارالعلوم الاسلامیہ جس کا سابق نام مدرسہ عربیہ اسلامیہ تھا آگیا ٗ یہاں
مختلف کتابیں پڑھائیں اب صحیح بخاری جامع ترمذی باوجود نالائقی کے پڑھا رہا ہوں
اور افتاء کا بھی کچھ کام لیتا ہوں التخصص فی الفقہ الاسلامی کا بھی مشرف ہوں۔
فتنہ انکارِ حدیث:
فتنہ انکار حدیث
کو سب سے بڑا فتنہ سمجھتا ہوں اور کچھ رسالے بھی اس سلسلہ میں تصنیف کئے جو چھپ
چکے ہیں عائلی قوانین کے خلاف بڑا مبسوط تبصرہ لکھا جو ’’عائلی قوانین شریعت کی
روشنی میں‘‘ ان شاء اللہ شائع ہونے والا ہے۔
بیعت :
حضرت مولانا حماد
اللہ ہالیجویؒ سے پہلے بیعت ہوا کئی مرتبہ حضرت کی خدمت میں حاضر بھی ہوا ٗیہاں تک
کہ حضرت کا انتقال ہوگیا ٗ حضرت شیخ الحدیث قدس اللہ سرہ العزیز سے بیعت کا اشتیاق
تھا کیونکہ میں حضرت کو دارالعلوم دیوبند اور ’’مظاہر علوم‘‘ کے اکابر کی نسبتوں
کا مجموعہ سمجھتا تھا اس لئے مکی مسجد (کراچی) میں جبکہ حضرت شیخ الحدیث تشریف
لائے تھے بیعت کی درخواست کی بیعت تو کرلیا لیکن ڈانٹ بھی پڑی کہ علیحدہ کیوں بیعت
ہو رہے ہو پورے مجمع کے ساتھ بیعت کیوں نہیں ہوئے ٗ تسبیحات پڑھنے کو بتائیں پھر
ڈھڈیاں (سرگودھا) میں ذکر تلقین فرمایا اور فرمایا کہ مجھے بھی حضرت مولانا خلیل
احمد نے تعلیم و تدریس میں مشغولیت کی بناء پر یہی ذکر تلقین فرمایا تھا اور پھر
حضرت جب افریقہ تشریف لے گئے اور اسٹینگر میں اعتکاف فرمایا تو بندہ بھی حاضر ہوا
ٗ پہلے تو حضرت نے اعتکاف کی حالت میں غالباً ایک صاحب کو مقرر فرمایا کہ میرے
متعلق معلومات رکھیں ٗ یعنی میں زیادہ باتیں تو نہیں کرتا وغیرہ وغیرہ ایک روز
غالباً عشرہ اخیر میں حضرت نے یاد فرمایا اور اس سے پہلے فرما چکے تھے کہ تم
بلاکھٹکے میرے پاس آسکتے ہو لیکن میں ڈر کی وجہ سے جرأت نہ کرسکا اور گمنام ہی
رہا۔
اِجازت و خلافت:
عشرہ اخیر میں
حضرت نے یاد فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ میں تم کو اجازت دیتا ہوں جیسے مجھے بڑوں
نے اجازت دی ہے۔ راقم نے عرض کیا کہ میں تو بالکل نااہل ہوں ٗ فرمایا ایسے ہی
نااہل اہل ہوتے ہیں اوکما قال لیکن میں نے اس سے خود کو اہل نہیں سمجھا بلکہ نااہل
سمجھنے لگا اور حضرت کے لوگوں میں سب سے زیادہ گندہ ٗ نجس نااہل سمجھتا ہوں اللہ
تعالیٰ قبر ٗ آخرت میں لاج رکھ لے اور شرمندگی نہ ہو۔
خط و کتابت:
بیعت اور اجازت سے
پہلے حضرت سے کچھ خط و کتابت ہوئی تھی اور معمولی طالب علمانہ اشکالات بھی کئے تھے
اب وہ یاد بھی نہیں آرہے البتہ حضرت صوفی محمد اقبال زید مجدھم (مدینہ منورہ) نے
ایک بارفرمایا کہ حضرت نے تمہارے خط مجھے دے دیئے تھے ٗ ایک والا نامہ میں حضرت نے
ڈانٹ بھی دی تھی میں نے جب اپنی والدہ ماجدہ کے انتقال کی اطلاع دی اور تحریر میں
ہجری تاریخ کی بجائے انگریزی تاریخ تحریر کی تو حضرت نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔
حضرت قدس سرہٗ کا
آخری ذوق و خواہش:
حضرت رحمۃ اللہ
علیہ رحمتہ واسعۃً کا آخری حال جس کی کچھ جھلکیاں راقم نے افریقہ کے سفر میں
دیکھیں تو یہ محسوس کیا کہ حضرت کو ذکر سے بہت شغف تھا جس طرح حضرت گنگو ہی تدریس
ٗ طبابت تصنیف و تالیف سب مراحل طے کرنے کے بعد ذکر پر بہت زور دینے لگے تھے ٗ اسی
طرح ہمارے حضرت کا آخری حال ذکر تھا حضرت چاہتے تھے کہ ذکر کی نئی خانقاہیں آباد
ہوجائیں کیونکہ پچھلی خانقاہیں ختم ہوچکی ہیں اور اس کی وجہ میری ناقص اور جاہلانہ
رائے میں یہ ہے کہ آج کل قیامت کا دور ہے ٗ دجال کا دور ہے اب صرف ذکر جو روح عالم
ہے کی وجہ سے نجات ہوسکتی ہے اور اب صرف دل والا اسلام ہی چلے گا ٗ دماغ والا
اسلام نہیں چلے گا۔
تربیت کے چند
واقعات:
تربیت کے سلسلہ
میں حضرت کے کئی فرمودات یاد تھے اب کچھ یاد نہیں ہے ایک بات یاد آرہی ہے ایک بار
میں نے عرض کیا کہ ذکر چھوٹ گیا ہے اور درمیان میں کافی عرصہ گزر گیا حضرت نے
تحریر فرمایا جب اس طرح ذکر چھوٹ جایا کرے تو غسل کرکے عطر وغیرہ لگا کر دو رکعت
توبہ کی نیت سے پڑھ کر پھر ذکر شروع کرو وساوس کی شکایت تحریر کی تو فرمایا اس کا
علاج بھی کثرت ذکر ہے اور وساوس کا علاج اس کی طرف توجہ نہ کرنا ہے۔
خلافت و اجازت کے
موقعہ پر مختلف مطالع کے رمضان اور عید کے متعلق مسئلہ دریافت فرمایا تھا اور پھر
اس کی توثیق فرما دی تھی۔ حضرت کی اجازت سے پہلے بندہ تقریباً گونگا تھا تقریر
وغیرہ نہیں کرتا تھا اسٹینگر میں قیام کے موقع پر ایک جمعہ کو دریافت فرمایا کہ
تقریر کرسکتے ہو ا حقر نے انکار کیا لیکن
حضرت کے فیض سے ٹوٹی ہوئی زبان چلنے لگی اور تقریر کرنے لگا۔
تبلیغ کے کام کی
اہمیت:
تبلیغ کے سلسلہ
میں حضرت کی ہدایت یاد ہے اور اسی پر کار بند ہوں کہ اگرموقع ہوتو تبلیغ میں حصہ
لو اگر موقع نہ ہوتو نصرت کرو یہ بھی نہیں کرسکتے ہوتو تبلیغ کے متعلق اچھا خیال
رکھو اور مخالفت قطعاً نہ کرو۔
متفرقات :
حضرت ؒ سے تعلق کے
بعد یہ خیال راسخ ہوگیا کہ پرانا درس نظامی کا نصاب (کیونکہ اس کی کتابیں مخدوم
ہیں) ہی کامیابی کا ضامن ہے جدید نصاب سے ذہن بالکل یکسو ہوگیا ہے۔
مجھے یاد پڑتا ہے
کہ انکار حدیث کے فتنے کے خلاف کام کرنے کا ایک بار حکم فرمایا تھا وہ بھی قلب میں
راسخ ہوگیا ہے۔ حضرت ؒ کا حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے اشتغال اور اس پر عمل اور چھوٹی
چھوٹی سنت پر عمل پیرا ہونا یہ یاد رہ گیا اوربس۔
یہاں تک ہم نے
حضرت ہی کے مبارک قلم سے لکھے ہوئے ان کے حالات زندگی پڑھ لئے…مجھے یقین ہے کہ
حضرت والا کا یہ مضمون پڑھنے والوں کو… جرأت ‘ ہمت‘اورایمانی حلاوت نصیب ہوئی
ہوگی… اور اب آخر میں حضرت کا ایک اور مضمون جو آپ نے اپنے کتاب نما مفصل فتویٰ کے
شروع میں بطور پیش لفظ تحریر فرمایا تھا… آپ کا یہ مایہ ناز علمی فتویٰ…’’فتنہ
انکارِ حدیث‘‘ … کے نام سے شائع ہوا تھا… اخبارات میں جہاد اور دیگر دینی شعائر کا
مذاق اڑانے واے اکثر کالم نگار … اور حکومت کو سیکولرازم کے گڑھے میں دھکیلنے والے
اکثر دانشور …بنیادی طور پر …منکرِ حدیث یا خفیہ قادیانی ہیں…جنرل ایوب خان کے
زمانے میں بھی یہ لوگ سرگرم رہے …حضرت والا کی یہ تحریر …بہت سارے حقائق سے پردہ
اٹھاتی ہے …لیجئے …پڑھنا شروع کیجئے…!
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ایوب خان کے دور
حکومت میں سیاسی طور پر پاکستان میں کیا تبدیلیاں ہوئیں اور ان کا کیا انجام ہوا ٗ
اس کی طویل داستان ہے اہل قلم نے اس پر لکھا اور لکھتے رہیں گے ٗ دینی اعتبار سے
کچھ تبدیلیاں کی گئیں مثلاً :
۱۔ اوقاف کو حکومت کی تحویل میں لیا
گیا ٗ مساجد اور مزارات کی آمدنی واقفین کی شرائط کے علی الرغم حکومت کی صوابدید
کے مطابق خرچ کی جانے کا اختیار لیا گیا اور اس طرح لاکھوں روپوئوں کی آمدنی
سرکاری آفیسران کے گران بہا مشاہرات پر خرچ کی گئی ’’شرط الواقف کنص الشارع‘‘ کے
حکم شرعی کو پسِ پشت ڈالا گیا ٗ پھر اس آرڈیننس کو مارشل لاء کا تحفظ دیا گیا ٗ
غالباً کسی جج صاحب نے اوقاف کو حکومت کی تحویل میں لینے کے قانون کو توڑ دیا اور
اپنے فیصلہ میں لکھا کہ فقہاء کرام کے متفقہ فیصلہ کو تبدیل کرنے کا حق نہیں ٗ اس
قانون کے نفاذ سے کچھ فائدہ بھی ہوا ٗ بعض مزارات پر جو شیطانی حرکتیں ہوتی ہیں ان
میں کمی تو آئی البتہ اسلامی فقہ کے قوانین اور قواعد کی خلاف ورزی کا جرم معاف
نہیں کیا جاسکتا۔
۲۔ عائلی قوانین کا اجراء بھی اسی
دور نامسعود میں ہوا انگریزی دور میں باوجود خرابی بسیار اسلامی عائلی قوانین کسی
حد تک محفوظ تھے منکرین حدیث اور بے پردہ اور دین سے برگشتہ خواتین کے اصرار اور
کوشش سے عائلی قوانین جاری کئے گئے۔ علمائے حق نے ان کے خلاف تفصیلی مقالات اور
مضامین لکھے اور ان کی غلطیوں کی نشاندہی کرکے ثابت کیا کہ ان قوانین کا دین سے
دور کا بھی تعلق نہیں ٗ سرکاری مولویوں نے اگرچہ ان کو اسلامی قوانین ثابت کرنے
کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن ثابت نہیں ہوسکا۔ اس زمانہ میں احقر نے ان
کیخلاف سلسلہ وار مضامین و مقالات شروع کئے۔ جو ان شاء اللہ زیور طبع سے آراستہ
ہورہے ہیں اسی زمانہ میں راقم نے ایک طویل مقالہ میں یہ ثابت کیا کہ اسلام سے ان
کا دور کا بھی تعلق نہیں ٗ منکرین حدیث اور غلام احمد پرویز کی تحریرات ان کے مآخذ
ہیں مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد شفیع قدس سرہ العزیز اس سے بڑے خوش ہوئے کہ
آپ نے سچی بات لکھ دی ہفت روزہ شہاب لاہور میں یہ مضمون چھپا تھا۔
۳۔ خاندانی منصوبہ بندی کو زور شور
سے شروع کیا گیا۔ سرکاری ذرائع ابلاغ اس کیلئے بے دریغ وقف کئے گئے اس طرح دین
دشمن ملکی وغیر ملکی عناصر کو خوش کرنے کی کوشش کی گئی۔
حضرت مولانا محمد
یوسف بنوری رحمتہ اللہ علیہ واسعۃً و قدس اللہ سرہ العزیز دین کے
معاملہ میں بہت ہی حساس دردمند دِل رکھتے تھے ٗ دین پر اگر کوئی شخص حملہ کرے یا
دینی حکم کو تبدیل کرنے کی کوشش کرے۔ حضرت مولانا اس کے مقابلہ کیلئے سینہ سپر
ہوجاتے تھے اور امکانی حد تک کوشش فرماتے ٗ اسی دور میں مولانا کو باوثوق ذرائع سے
یہ خبر پہنچی کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی صدارت کیلئے غلام احمد پرویز علیہ ماعلیہ
پر حکومت کی نگاہ انتخاب پڑی ہے مولانا کو اس خبر سے فکر مند ہونا ناگزیر تھا ٗ
مولانا جانتے تھے کہ یہ شخص منکر حدیث ہی نہیں بلکہ منکر قرآن ہے یورپ اور روس کی فکر
مستعار اس کا نظریہ حیات ہے جس کو وہ افسانوی زبان کے ذریعہ لوگوں تک پہنچا رہا
ہے۔ راقم کو مولانا نے مقرر فرمایا کہ پرویز کی اس وقت تک لکھی ہوئی کتابوں کو
دیکھ کر میں تنقیحات قائم کروں اور پھر ہر تنقیح پر قرآن کریم اور اسلامی ادلہ کی
روشنی میں بحث کرکے ایک متفقہ فتویٰ تحریر کیا جائے۔ فتویٰ تیار ہوگیا ملک کے طول
و عرض میں پھیلے ہوئے علماء کرام سے تائیدی و توثیقی دستخط لئے گئے اور فتویٰ
پرویز کے نام سے اس کو طبع کرایا گیا ٗ تعداد دس ہزار تھی جو چند سالوں میں ختم
ہوگیا۔ طبع ثانی پر لوگوں کا اصرار تھا کیونکہ انکارِ حدیث کا فتنہ بددینی ٗ بے
حیائی ٗ مادر پدر آزادی کے سایہ میں پروان چڑھ رہا ہے کچھ دوسرے منکرینِ حدیث بھی
میدان میں آگئے ہیں یہ ایک فتنہ عظیم ہے جس کی جڑیں بڑی گہری ہیں ٗ مقامی کمیونزم
اور ناصبیت بھی اسی کی شاخیں ہیں ٗوکلاء اور جج صاحبان کی ایک بڑی تعداد کی آبیاری
بھی اسی فتنہ سے ہورہی ہے وہ یہ چاہتے ہیں کہ ہم بھی پرویز صاحب کی طرح عربی زبان
سے ناواقفیت بلکہ جہالت کے باوجود ’’اجتہاد‘‘ کے منصب جلیل پر فائز ہوں اور یہ
کہیں کہ اجتہاد کے لئے عربی زبان جاننے کی قطعاً ضرورت نہیں ٗ دوسرے منکرین حدیث
کا تانا بانا بھی پرویز ہی کی کتابیں ہیں اس لئے اس فتویٰ کو بہ لباس جدید شائع
کیا جارہا ہے۔
ممکن ہے کہ محمد
عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و منصب جلیل کے مخالف یا اس
کے دامِ تزویر میں پھسنے والے دوستوں کو اس سے فائدہ پہنچ جائے اور راقم مذنب و
خطا کار کو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب ہوجائے جن صاحب خیر نے
اس کی طباعت ثانیہ کا انتظام فرمایا ہے اللہ تعالیٰ ان کو دین و دنیا کی دولت سے
مالا مال فرمائے اور اجر عظیم عطا فرمائے۔
)وماذالک
علی اللہ بعزیز(
کتبہ:مفتی
ولی حسن خان ٹونکی
دارالافتاء
جامعۃ العلوم الاسلامیہ
علامہ
بنوری ٹائون ‘کراچی
)۵ربیع
الاول ۱۴۰۵ھ(
٭٭٭
اللہ تعالیٰ… ہم سب کو پاک فرمائے… ہمیں غسل کرنے اور
نہانے کی ضرورت ہے… مگر ایسا پانی کہاں سے لائیں جو ہمیں پاک کر دے… ہمارے دل کی
غلاظت کو دھو ڈالے… کوئی چھوٹی موٹی گندگی اور غلاظت ہوتی تو ایک دو بالٹی پانی سے
کام چل جاتا مگر یہاں تو صبح شام ناپاکی اور غلاظت ہے۔ آئیے تھوڑی سی ہمت کرکے نور
کے سمندر کی طرف جاتے ہیں اور اس میں چھلانگ لگا دیتے ہیں خود کو دھونے کی کوشش
کرتے ہیں اور کچھ دیر سکون حاصل کرتے ہیں آئیے بسم اللہ پہلا غوطہ…
۱… ایک
صاحب رو رہے ہیں … موت ان کے بالکل سامنے کھڑی مسکرا رہی ہے ان کے دوست پوچھتے ہیں
بھائی جان! آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ اللہ کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس دنیا سے پردہ فرمایا تو وہ
آپ سے خوش اور راضی تھے آپ حوض کوثر پر جائیں گے اپنے پیارے ساتھیوں سے ملیں گے جو
صاحب بیمار تھے انہوں نے فرمایا مجھے نہ موت کا ڈر رلا رہا ہے… اور نہ دنیا میں
رہنے کی تمنا … لیکن مسئلہ اور ہے… رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ایک عہد لیا تھا کہ دنیا میں
تمہارا سامان بس اتنا ہو… جتنا ایک سوار مسافر کا سامان ہوتا ہے… میں اس پر رو رہا
ہوں کہ … یہ عہد اچھی طرح پورا نہ کرسکا… تم دیکھ رہے ہو… میرے گرد دنیا کا کتنا
سامان جمع ہے … حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو … کپڑے دھونے کا ایک برتن …پانی
پینے کا ایک پیالہ … اور ایک لوٹا موجود تھا… اور عظیم صحابی … حضرت سلمان رضی اللہ عنہ …جن کو آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل بیت میں شمار فرما لیا
تھا… ہچکیاں بھر بھر کر رو رہے تھے… اور اپنی ’’دنیا داری‘‘ پر آہیں بھر رہے تھے…
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ انتقال فرما گئے… رفقاء نے کل اثاثے شمار
کئے … صرف چودہ درہم مالیت کے تھے … (الترغیب و الترہیب ص ۷۹ ج ۴)
ہاں اتنی مالیت کے
… جتنی مالیت کا بعض اوقات ہم ایک ٹائم کا کھانا کھا جاتے ہیں… آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم … صرف …حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے محبوب اور نبی نہیں تھے… ہمارے بھی آقا …
اور نبی ہیں … ہمیں بھی حوض کوثر پر جانے کی ضرورت ہے… آئیے ذرا ہم بھی اپنا
’’سامان ‘‘ شمار کریں… اپنے کپڑے‘ جوتے اور ہر طرف بکھری دنیا … ناپاک غلیظ … اور
ملعون دنیا … پھر دل میں جھانکیں کہ مزید کتنی چیزوں کی ضرورت ہے؟… ہائے رباّ! ہم
تو سر سے پائوں تک اس دنیا میں پھنس گئے … اور مزید پھنستے ہی جا رہے ہیں … حضرت
سلمان رضی اللہ عنہ تین برتنوں پر رو رہے تھے… کیا کبھی ہم نے
بھی … اپنی ’’دنیا داری ‘‘ پرایک آنسو بہایا؟… صرف ایک آنسو… کیا ہمیں بھی کبھی …
دنیا کے سامان سے ڈر … اور خوف محسوس ہوا ۔۔۔۔ نہیں ہمارے دل پر دنیا کی غلاظت کا
میل بہت سخت ہے۔۔۔۔۔ آئیے نور کے سمند رمیں ایک اور غوطہ لگاتے ہیں … کیونکہ ہمیں
اس کی اشد ضرورت ہے… آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا … ہر امت کا ایک فتنہ ہے
اور میری امت کا فتنہ مال ہے (رواہ الترمذی… الترغیب و الترہیب ص ۸۶ج ۴)
۲… جو
دنیا میں پیارا ہوتا ہے… دل چاہتا ہے کہ جنت میں بھی ساتھ رہے… دنیا میں جب سے
محبت اور وفا پیدا ہوئی ہے … اس نے… حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم جیسا… محبت اور وفا نبھانے والا نہیں
دیکھا… اور پھر آپ نے … حضرت امی عائشہ رضی اللہ عنہا کو جو محبت دی… اس کی مثال کوئی نہیں
لاسکتا… یہ محبت عرش کے اوپر سے لاکر … آپ کے دل مبارک میں ڈالی گئی تھی… اماں
عائشہ رضی اللہ عنہا… کا مقام ہی ایسا تھا… اسی لئے تو آپ کی…
شان اور پاکی میں قرآن کے رکوع نازل ہوئے… ہر شخص اپنی ’’بیوی‘‘ کے لئے دنیا کا
سامان بنا تا ہے… اور بیوی جتنی اچھی ہو … اسی قدر اسے سونے چاندی میں تولتا ہے …
مگر یہ دیکھیں … اماں عائشہ … صدیقۂ کائنات رضی اللہ عنہا کیا فرما رہی ہیں…
’’مجھ سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا… اگر آخرت میں مجھ سے ملنا
چاہتی ہو تو بس دنیا میں اتنے سامان کو کافی سمجھو … جتنا … ایک سوار کے پاس توشہ
ہوتا ہے… اور مالداروں کے پا س بیٹھنے سے بچو… اور کسی لباس کو استعمال کرنا… اس
وقت تک نہ چھوڑو جب تک اسے پیوند نہ لگا لو‘‘…
(الترغیب و الترہیب ص ۷۸)
اے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لئے تڑپنے والو! … یہ ہے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کا نسخہ … اے اپنی بیویوں
کیلئے مال کے ڈھیر جمع کرنے والو! … یہ ہے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا … جیسی بیوی کا سامان زندگی… مجالس
میں بن ٹھن کر غریبوں کا دل دکھانے والی عورتو!… یہ ہے کائنات کی کامیاب ترین
خاتون کا سٹینڈرڈ … اور معیارزندگی… اماں عائشہ رضی اللہ عنہا … کے بھانجے عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ … اماں عائشہ رضی
اللہ عنہا نے اس نصیحت کو پلے باندھا … انہیں تو رب
کی رضا … اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کا جنون تھا… وہ اس وقت تک
نئے کپڑے نہیں لیتی تھیں… جب تک استعمال والے کپڑوں پر پیوند نہ لگ جاتے… مال ان
کے پاس آتا تھا … مگر … وہ آخرت کے لئے ذخیرہ کرتی تھیں… ایک بار حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسی ہزار درہم بھجوائے … شام تک اماں نے
سب بانٹ دیئے… ان کی باندی نے کہا… اور غالباً خود انہیں اور باندی کو روزہ تھا کہ
… ایک درہم کا گوشت ہی خرید لیا جاتا… فرمانے لگیں … یاد دلا دیتی تو لے لیتی…
ہائے رباّ یہ ہے دین اور یہ ہے ایمان کہ … آخرت یاد ہے… اور دنیا بھول گئی … پتہ
نہیں ہمارا کیا بنے گا جنہیں صرف دنیا ہی یاد رہتی ہے… اور اپنے آج کی نہیں اگلے
سالوں کی بھی فکر رہتی ہے … پھر صرف اپنی نہیں اپنی آئندہ نسلوں کی فکر بھی ہم سے
ہر الٹا سیدھا کام کراتی ہے… یا اللہ ہم بہت پیچھے رہ گئے… کچھ تو کرم فرما… اورہماری
عورتوں کو بھی فکرِعائشہ رضی اللہ تعالیٰ
عنہا عطافرما۔۔۔۔۔آج مالداروں کے ہاں آنا… جانا… زندگی کی کامیابی … اور تہذیب کا
معیار سمجھا جاتا ہے… آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حبیبہ بیوی سے فرمایا… خبردار
مالداروں کے ساتھ نہ بیٹھنا … آپ صلی اللہ
علیہ وسلم نے کیوں منع فرمایا… آئیے آقا
صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی جواب پوچھتے ہیں…
۱… آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا… جو کسی مالدار کے
سامنے عاجزی (اور چاپلوسی ) کرے گا تاکہ اس سے مال حاصل کر ے تو وہ اللہ تعالیٰ کو ناراض کرے گا۔
)الترغیب
والترہیب ص ۸۶(
۲… دوسری
روایت میں ہے کہ جو شخص کسی مالدار کے سامنے بیٹھا اور اس نے دنیا کا مال حاصل
کرنے کیلئے مالدار کے سامنے عاجزی … (اور چاپلوسی) کی تو اس کے دین کا دوتہائی حصہ
ضائع ہوگیا… اور وہ جہنم میں جائے گا… (الترغیب و الترہیب ۸۷ص ج۴)
۳… حضور
پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا…
مالداروںکے پاس کم
جایا کرو… تب زیادہ ممکن ہو گا کہ تم اللہ
تعالیٰ کی نعمتوںکو حقیر نہ سمجھو… (رواہ الحاکم وقال صحیح الاسناد الترغیب ص ۹۱ج ۴)
۴… حضور
پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا…
میں نے جنت میں
جھانکا تو دیکھا کہ اس میں اکثریت فقراء کی تھی اور میں نے جہنم میں جھانکا تو
دیکھا کہ اس میں اکثریت… مالداروں اور عورتوں کی تھی… (رواہ احمد باسناد جید
الترغیب والترہیب ص ۸۸)
اکثر مالدار… اللہ تعالیٰ کے حقوق سے غافل ہو جاتے ہیں … پاخانے
اورغلاظت جیسے مال پر اکٹرتے ہیں …اور غریبوں کا دل دکھاتے ہیں… زندگی کا معیار
اتنا ’’تکلف ‘‘ والا بنا دیتے ہیں کہ … غریبوں کے دل میں رسوائی پیدا ہوتی ہے…
اکثر مالدار… مال جمع کرتے ہیں … اور ہمیشہ اسے بڑھانے کی فکر میں لگے رہتے ہیں …
وہ مال میں سے اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا نہیں کرتے… وہ بزدل اور عیش
پرست ہونے کی وجہ سے … دین کیلئے قربانی نہیں دیتے … اور اپنے مال کو ناجائز کاموں
میں خرچ کرتے ہیں … اسی لئے جہنم… ان سے بھر گئی… یا اللہ ہم
سب کی حفاظت فرما… ہاںجومالدار … ایسا نہ ہو… وہ تو اپنے مال کے بل بوتے پر … رب
کو پاتا ہے… اور اونچے درجات حاصل کرتا ہے… یاد رکھیں… مالدار ہونا یا غریب ہونا
ہر آدمی کے اپنے بس میںنہیں ہے… اگر مالدار ہو تو … شکر گزار بنے … سخاوت اور
سادگی اختیار کرے اسراف ذخیرہ اندوزی اور نام ونمائش سے بچے… اور مال کو اس کے
حقداروں تک پہنچائے… اور اسے اپنی زندگی کا مقصد نہ بنائے… غریب ہوتو خوشی اور صبر
سے کام لے… حرص‘ لالچ اور اسراف سے بچے… مالداروں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائے… اور اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے کو بہت اور کافی سمجھے…بس
اسی کا حکم ہے…
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حبیبہ … اور لاڈلی بیوی کو
تیسری نصیحت یہ فرمائی کہ … دنیا کا سامان اتنا رکھو… جتنا … ایک گھڑسوار مسافر کا
توشہ ہوتا ہے… اماںنے اس پر عمل کیا … ساری زندگی ایک کمرے میں خوشی خوشی گزارہ
فرمایا… اور دنیا کے سامان کو اپنے گرد ڈھیر نہیں ہونے دیا… اے نور کے سمندر میں
غوطہ لگانے والو!… آئو ہم اپنے سامان پر نظر ڈالیں …ہمیںبھی تو آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب اوررفاقت کی ضرورت ہے …اور کچھ
نہیں تو اپنی ضروت سے زائد سامان اٹھا کر غریبوں کے گھروں تک پہنچا آئیں… شاید…
ہاں بہت ممکن ہے… بلکہ بھائیو… اور بہنو بہت ضروری ہے کہ … ہمیں آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار اور قرب نصیب ہو جائے… اور ہم
گھٹیا دے کر قیمتی پانے والے … عقلمند بن جائیں… یہ معیشت معیشت کا شور مچانے
والے… ہمیں … آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سے دور کر رہے ہیں… یہ سود کے ذریعے …
ہم سب کو ناپاک کر رہے ہیں… یہ ترقی کے نام پر ہمیں دھوکہ دے رہے ہیں … یہ ہمیں
دنیا کا ایسا خارشی کتا بنانا چاہتے ہیں … جس کی خواہش اور خارش ہر لمحہ بڑھتی
رہتی ہے… اگر مال میں سکون ہوتا … اور مال کی محبت کامیابی کی ضمانت ہوتی تو … بڑے
بڑے فنکار‘ اداکار‘ … خود کشیاں کیوں کرتے … مالدار ممالک میں جرائم کیوں ہوتے…
معیشت معیشت کا شور ہمیں کافروں کا غلام بنانے کیلئے ہے… تاکہ ہم دنیا کے اتنے
حریص ہو جائیں کہ پھر ہمیں … ا س کی خاطر… غلام بننے میں عار نہ آئے… ہائے ان ظالموں!
نے مالداروں کو حریص… اور غریبوں کو لالچی بنانے کے علاوہ اور ہمیں کیا دیا ہے؟…
مالدار ابھی ایک ماڈل پر فخر کرر ہے ہوتے ہیں کہ دوسرا ماڈل مارکیٹ میں آجاتا ہے…
اور اعلان ہوتا ہے کہ … اسے استعمال کرنا ترقی… اور فیشن ہے… خود سوچئے کہ کیا یہ
انسانیت ہے؟… کہ نام نمود … کی خاطر انسانوں کا مال یوں برباد ہوتا رہے… اور پھر
مالداروں کے ان نخروں نے غریبوں کی زندگی مشکل بنا دی… لوگو! … اگر ہمارا بیڈروم
امریکی اسٹائل کا نہ ہوتو … اس میں کون سی پریشانی ہے… مگر امریکی اسٹائل کے
بیڈروم کا اتنا چرچہ کیا جائے گا کہ … غریب کو اپنا بستر برا لگنے لگے گا… اور وہ
بھول جائے گا کہ … آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر مبارک کیسا تھا… اس لئے میں
کہہ رہا ہوں کہ ہم بہت گندے ہو گئے ہیں… بہت میلے اور ناپاک آئیے نور کے سمندر میں
ایک اور سکون بھرا … آنسوئوں سے لبریز غوطہ لگاتے ہیں…
۳… ایک
انصاری خاتون اس حجرے میں تشریف لائیں جو زمین پر … رشک ِآسمان بنا ہوا تھا … جی
ہاں … حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم … اور اماں عائشہ رضی ا ﷲ عنہا کا اس
میں قیام تھا… اس نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سخت اور کھردرا بستر دیکھا تو دل
تھام کر رہ گئیں … فوراً اپنے گھر جاکر … ایک ایسا بستر بھجوا دیا جس میں اون بھری
ہوئی تھی… آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے… پوچھا … عائشہ ! یہ کیا
ہے؟… انہوں نے پورا واقعہ سنایا… بارگاہ نبوت سے اعلان ہوا… عائشہ ! یہ واپس بھجوا
دو… اللہ کی قسم اگر میں چاہوں تو اللہ تعالیٰ میرے ساتھ … سونے چاندی کے پہاڑ چلا دے…
(الترغیب و الترہیب ص۱۰۰)
یعنی یہ فقر اور
سادگی… میںنے خود پسند کی ہے… کاش ہمارے مالداروں کا دماغ بھی ایسا ہو جائے… کہ وہ
بھی مال ہونے کے باوجود… فقراور سادگی اختیار کریں تو پھر… غریبوں کی گرم آہوں سے
تو محفوظ رہیں… مالداروں نے شادیاں مہنگی کر دیں… صرف اپنے ’’ناجائز نخروں ‘‘ کی وجہ
سے… انہوں نے ’’رہائش‘‘ مہنگی کردی… صرف خود کو اونچا دکھانے کیلئے… انہوں نے
’’لباس ‘‘ مشکل بنا دیا صرف اپنی ناک رکھنے کیلئے… انہوں نے ’’کھانا‘‘ مہنگا کر وا
دیا صرف اپنی بیوقوفی … کم عقلی … اور غلاظت زیادہ بنانے کے شوق میں…
آپ احادیث مبارکہ
پڑھ کر دیکھ لیجئے … آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم جب کئی کئی دن بھوک میں ہوتے تھے …
اور آپ کے پیٹ پر پتھر … یا کپڑا… بندھا ہوتا تھا تو آسمان لرز ا ٹھتے تھے … فرشتے زمین پر آکر کہتے کہ آقا
حکم فرمائیں… اللہ تعالیٰ نے ہمیں اجازت دے دی ہے… اگر آپ چاہیں تو
ہم پہاڑوں کو سونا … اور جواہر بنا دیں… مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ انکار فرمادیا … اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تاریخی جملہ ارشاد فرمایا …
ایسا جملہ کہ جس نے مسلمانوں کو دنیا کی غلاظت سے آزاد کرکے پوری دنیا کا حکمران
بنا دیا تھا… مگر مسلمانوں نے اس جملے کو بھلا دیا… اور صرف اپنی نقلی بناوٹ… معدے
میں چٹ پٹے کھانے بھرنے… اور کافروں کے ہاں … بندروں کی طرح مقام پانے کیلئے…
غلامی کے راستے کو چن لیا…
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا…
من کانت ھمتہ
الدنیا حرّم اللہ علیہ جواری فانی بعثت بخراب الدنیا ولم ابعث
لعمار تھا۔ (رواہ الطبرانی الترغیب والترھیب ص ۸۶ج ۴)
ترجمہ: جو دنیا ہی
کی فکر کو اپنالے گا تو اللہ پاک نے اس کیلئے میرے قرب کو حرام کر دیا ہے
کیونکہ میں دنیا کی تعمیر کے لیے نہیں دنیا سے بے رغبتی … اور اس کی ویرانی کے
ساتھ بھیجا گیا ہوں…
یقین کریں عجیب
حکیمانہ نسخہ ہے… میں دنیا کی ویرانی کے ساتھ آیا ہوں… بس یہی راز تھا … دنیا پر
حکومت کرنے اور دنیا کو اپنے قدموں تلے روندنے کا … یہ دنیا ملتی ہی صرف اسی کو ہے
جو اسے چھوڑنے … اور پھینکنے کی ہمت رکھتا ہے… آج یہ حدیث… معیشت کے غم میں گھلنے
والے لوگوںکو سنائی جائے تو ممکن ہے… نعوذ ب اللہ …مذاق اڑانے لگیں … مگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے اسے سنا … اور سینے سے لگا لیا…
پھر اپنی دنیا کو ویران کرکے نکل پڑے… تب … دنیا کو تعمیر کرنے والے روم و فارس ان
کے غلام بنا دیئے گئے… یہ آسمانی راز ہے… جو آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کو ربّ تعالیٰ نے سکھایا… اور پھر آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ماننے والوں کے دلوں میں
اتار دیا… اوریوں… مدینہ منورہ کی ایک کچی مسجدسے اٹھنے والا نور… ان لوگوں کے
ہاتھ لگا … جو اپنے معدے کی فکر… اور ’’لوگ کیا کہیں گے؟‘‘ کی منحوس سوچ سے آزاد
تھے… اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ نور … پورے عالم میں پھیل گیا… اور آج جبکہ ہمیں
آگے بڑھنے کا شوق کھائے جا رہا ہے… اور ہم فیشن اور معدے کے ہاتھوں رسوا ہیں… دنیا
ہمیں ذلیل کر رہی ہے… اور ہم اپنی صفائیاں دے دے کر مقام پانے کیلئے … اچھل کود کر
رہے ہیں میرے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر جنتی تھا … کاش ہمارا بستر
بھی سادہ ہو جائے… دیکھئے یہ روایت … حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ … آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے… انہوں نے آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو مبارک پر چارپائی کے نشانات
دیکھے… دونوں جانثاروں نے عرض کیا… یا رسول اللہ …
آپ کی چارپائی او ر بستر کا کھردرا پن آپ
کو تکلیف دیتا ہے… اور ادھر روم و فارس کے بادشاہ … ریشم و دیباج کے بستروں پر مزے
کرتے ہیں … آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا … ایسا مت کہو…
کیونکہ روم و فارس کے بادشاہوں کے بستر جہنم میں لے جانے والے ہیں … اور میرے اس
بستر کا انجام ’’جنت ‘‘ ہے… (رواہ ابن حبان فی صحیحہ الترغیب و الترہیب ص۹۹)
اے مسلمانو… اے
کافروں کی ترقی کو مزے لے لے کر … بیان کرنے والو!… ہوسکے تو اس روایت کو باربار
پڑھو… اور اپنے دل کو پاک کرو… ہم … ترقی کے مخالف نہیں … مگر آج جو کچھ کیا جا
رہا ہے وہ ترقی نہیں ہلاکت اور جہنم ہے… ترقی یہ تھی کہ حکمران خود ’’فقر‘‘ اختیار
کرتے… ترقی یہ تھی کہ مال کا شوق دلوں سے نکالا جاتا… ترقی یہ تھی کہ … انسان کی
زندگی سادہ اور بے تکلف بنائی جاتی … ترقی یہ تھی کہ … مال کی ذخیرہ اندوزی نہ
ہوتی… حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین … آج کے مالداروں سے … زیادہ …
مالدار تھے مگر انہوں نے مال کو … ناک کا بال نہیں بنایا … او ردنیا کی حقیقت اور
غلاظت کو سمجھا… انہوں نے انسانوںکو … کپڑوں اور جوتوں کے برابر نہیں تولا… انہوں
نے قوم کی بیٹیوں کو … سرخی پائوڈر کے بھائو نیلام نہیں کیا… انہوں نے انسان کو …
عزت اور قدر دی … اور صرف مالدار ہونے کو معاشرے میں عزت کا تمغہ نہیں بنایا… ان
کے زمانے میں انسان اوپر تھا … اور مال حقیر گدھے کی طرح اس کے نیچے… جبکہ … آج کے
زمانے میں مال اوپر ہے… اور انسان حقیر گدھے کی طرح نیچے ہے… آقامدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی محبت کو … تمام برائیوں کی
جڑ قرار دیا … آج … چوری ‘ ڈاکے‘ ملاوٹ ‘ ذخیرہ اندوزی… کساد بازاری … اسمگلنگ …
بے حیائی … اور فحاشی کی اصل وجہ … دنیا سے محبت ہے… انسان کو بتایا گیا ہے کہ …
اگر تمہارے پاس بہت سا مال نہیںہو گا تو تم انسان نہیں رہو گے… بس پھر کیا تھا…
انسان نے سب کچھ بیچ ڈالا… ہر راستہ اختیار کرلیا… اور ہر جرم کر ڈالا… تاکہ… اسے
بہت سارا مال ملے… اگر اسی کا نام ترقی ہے … تو لعنت ہو اس پر … اگر سود بازی کا
نام معیشت ہے تو کروڑ لعنت ہو … اس پر … آئو… مسلمانو … تھوڑی دیر کیلئے اس بیمار
دنیا سے نظریں ہٹا کر … مدینہ منورہ کے پاک ماحول کو دیکھتے ہیں… اور دعا کرتے
ہیں۔
یا اللہ ہم دنیا کی محبت کے شر سے آپ کی پناہ میں آتے
ہیں …اور اس دعا کے بعد سکون … اور مزید پاکی کیلئے ایک اور غوطہ لگا تے ہیں… اور
خود کو… نور کی لہروں میں چھپالیتے ہیں…
۴… حضرت
کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں… میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا… میں نے دیکھا کہ آپ
کے چہرہ مبارک کا رنگ بدلا ہوا ہے… میں نے عرض کیا… میرے والدین آپ پر فدا ہوں آپ
کے چہرے پر تبدیلی کے اثرات ہیں؟… ارشاد فرمایا… تین دن سے پیٹ میں ایسی چیز نہیں
گئی… جسے کوئی جاندار کھاتا ہے… (حضرت کعب تڑپ اٹھے) فرماتے ہیں کہ مزدوری کی تلاش
میں نکلا ایک یہودی کو دیکھا کہ اپنے اونٹ کو پانی پلا رہا ہے… میں نے اس کی نوکری
کرلی… ایک ڈول پانی پلانے کے بدلے ایک کھجور … کچھ کھجوریں جمع ہوگئیں توآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے کعب کیا تم مجھ سے محبت
کرتے ہو… میں نے کہا میرے والدین آپ پر فدا جی یا رسو ل اللہ … فرمایا… مجھ سے محبت کرنے والوں پر
’’فقر‘‘… سیلاب سے زیادہ تیزی کے ساتھ حملہ آور ہوتا ہے۔ (الترغیب و الترہیب ص ۹۴ ج ۴)
اللہ اکبر … یہ دین ہم تک آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسے پہنچایا … آپ دل پہ ہاتھ رکھ
کر بتائیں کہ … تین تین دن تک … بھوک برداشت فرمانے والے… آقا صلی اللہ علیہ وسلم
کامیاب تھے یا نعوذ ب اللہ ناکام
؟… اگر کامیاب تھے تو یہ آج کیا شور ہے؟… مجاہدین کی وجہ سے ہم پیچھے رہ گئے… ہم
غریب رہ گئے … ورنہ دنیا کے کافر تو ہمیں سود کی غلاظت میںپوری طرح غرق کردیتے
…میں دنیا کو باربارغلاظت لکھتا ہوں… کیونکہ ایسا آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے… اور مجھے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نقل کرنے میں … کسی سے کوئی ڈر
نہیں لگتا… نہ گولی کا نہ طعنے کا … اور ساری زندگی سود کھانے اور لکھنے والے کیا
جانیں کہ یہ باتیں… کتنی پاک ہیں… کا ش پاکستان کی معیشت کی بنیاد بھی انہیں باتوں
پر ہوتی … چھوڑئیے سیاسی باتوں کو …ا گر ہمارے مجاہدین … اور دیندار طبقے کے دلوں
میں دنیا کی محبت کم ہوجائے تو اللہ پاک کی قسم… حالات فوراً بدل جائیں… مگر کیا
کریں … جب مصیبت آتی ہے تو ساتھ اپنے اسباب بھی لاتی ہے… کیا مجاہدین اور کیا دین
دار سب کے دل پر خبیث دنیا کا جادو چل گیا ہے… اسی لئے تو لوگ ان پر غالب آگئے…
دنیا کی محبت اور ذلت مسلمان پر ایک ساتھ حملہ کرتی ہیں … یا اللہ ہمیں دنیا کی محبت سے بھی بچا… اور ذلت سے بھی
بچا… اور ہم سب کو ملعون دنیا کی حقیقت سمجھا… ہمیں اس میں غافل ہونے سے بھی بچا…
اور اس میں کسی کا محتاج ہونے سے بھی بچا… اور ہمارے دل میں سے دنیا کی خواہشات کو
ختم فرما… تاکہ … ہم آزاد ہوجائیں … ہلکے ہو جائیں… طاقتور ہو جائیں… اور اسلا م
کی خاطر طوفان کی طرح تیز ہوجائیں … آج القلم والے … سیرت کے موضوع پر خاص شمارہ
اسی لئے نکال رہے ہیںکہ … ممکن ہے… معیشت معیشت کے گندے شور کے دوران … آقا مدنی
صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اعلان ہمارے کانوں تک پہنچ جائے
کہ… ’’تم سے پہلے والوں کو دینار اور درہم نے ہلاک کیا اور یہی دونوں تمہیں ہلاک
کر دیں گے‘‘۔(الترغیب و الترہیب ص۸۸)
پس ہلاکت ‘ ذلت‘
ناکامی‘ … اور رسوائی سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ … درہم و دینار کی محبت دل میں نہ
آئے… اور ان دونوںکا حصول ہمارا مقصد زندگی نہ بننے پائے… ہاں میرے بھائیو!… اور
بہنو… دنیا کی محبت سے بچنا بہت مشکل ہے… جو بچنا چاہتا ہے اس کے اردگرد والے نہیں
بچنے دیتے… جو جان چھڑاتا ہے اس کو رسوا قرار دیا جاتا ہے… مگر بچنا ضروری ہے…
فقراء پہلے جنت میںجائیں گے… اورعزت یہ نہیں کہ لوگ واہ واہ کریں… عزت یہ ہے کہ رب
راضی ہو جائے… نور کے سمندر کی حسین لہریں تو بہت ہیں … بات مختصر کرنے کیلئے… ایک
اور غوطہ لگاتے ہیں… اور پھر اسی سمندر میں … جگہ پانے کی دعا … کرتے ہیں…
۵… آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر… سب سے پیاری اور لاڈلی
بیٹی … جنت کی عورتوں کی سردار… حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا … روٹی کا ایک ٹکڑا ہاتھ میں لئے
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائیں … حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کیا چیز ہے؟… عرض کیا کہ
… میں نے ایک روٹی پکائی تھی اور دل نہ چاہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر کھائوں … آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا… تین دن کے بعد یہ پہلا
لقمہ ہوگا جو تمہارے باپ کے منہ میں جائے گا… (نسخۂ کیمیا ترجمہ کیمیائے سعادت ص ۵۸۹)
ہائے اللہ …ہائے رباّ آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی بھوک برداشت کی… میں آپ کی
بھوک پر قربان … میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کی خاک پر قربان… آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کروڑوں اربوں … دردو سلام… آسمان
وزمین کے برابر … تمام مخلوق کے برابر … آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی بھوک پر آسمان و زمین… اور تمام
مخلوقات جتنا روئیں… ان کے آنسوئوں کے برابر… مجھے کوئی اور اچھا نہیں لگتا… میری
نظروں میں آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی نہیں جچتا … مجھے آقا کی
صورت سے پیار ہے…… مجھے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے پیار ہے… او ناپاک گوشت سے
پیٹ بھر کے اکڑنے والو!… تمہاری خاطر… آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں …اور ادائوں کو چھوڑ دیں؟…
یہ کیسے ممکن ہے؟ … اللہ پاک کی قسم تم سونے کے نوالے کھائو… اور دنیا
بھر کی غلاظت کے مالک بن جائو… تب بھی… تمہیں ترقی یافتہ اور مہذب سمجھنا ہمارے بس
میں نہیں ہے… اے … مسلمانو… میرے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم تین دن سے بھوکے … اللہ اکبر… اور میدان احد میں زخمی … کیا ہم انہیں
بھول جائیں؟… کیا ہم انہیں چھوڑ دیں؟ … کیا ہم ان کے دشمنوں جیسی شکل بنالیں؟…
نہیں… ہر گز نہیں… یا اللہ ہمیں … اپنے
محبوب کی محبت پر تھام لے… اور ہمیں دین پر استقامت عطا فرمادے… اور اے میرے پیارے
رباّ … میرے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم … تیری رضا کی خاطر … بھوک برداشت
کرتے رہے … اور اس امت تک دین پہنچانے کیلئے… زخم کھاتے رہے… اے پیارے رباّ! وہ آپ
کے پیارے تھے… بس آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی بھوک… اور زخم کو دیکھتے ہوئے… ان
کی امت پر رحم فرمائیے … آپ ہی جانتے ہیں کہ … آج آپ کے محبوب کی امت کا کیا حال
ہے۔
اللھم ارحم امتہ
محمدٍ صلی اللہ علیہ وسلم
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے رات بھی بنائی… اور دن کو بھی پیدا
فرمایا… دن آتا ہے تو رات کو کھاجاتا ہے… اور رات آتی ہے تو دن کو نگل جاتی ہے…
مگر دن نے کبھی یہ دعویٰ نہیںکیا کہ میں آگیا ہوں… اب رات ختم ہوگئی ہے… وہ کبھی
نہیں آئے گی… اور نہ کبھی رات نے یہ اعلان کیا کہ اب دن کے ’’دن‘‘ گنے جاچکے ہیں
وہ اب کبھی نہیں آسکے گا… اللہ تعالیٰ نے اندھیرے بھی بنائے … اور روشنی بھی…
اس نے ’’ظلمت‘‘ کو بھی پیدا کیا اور ’’نور‘‘ کو بھی… اس نے زندگی بھی بنائی… اور
موت بھی… ا س نے میٹھا پانی بھی پیدا کیا … اور کڑوا بھی… اس نے خوبصورت اور مفید
جانور بھی بنائے… اور سانپ بچھو اور ریچھ بھی… اس نے شیر کو بہادری بخشی… جبکہ …
گیدڑ کو بزدلی میں مشہور کرادیا… مگر جنگل میں کبھی شیر غالب… اور کبھی گیدڑوں کا
راج… افغانستان میں ظاہر شاہ کی ’’شاہی‘‘ حکومت تھی… گھر کے چراغ نے گھر کو آگ
دکھائی… خاندان میں جھگڑا ہوا… اور ’’شاہی دور‘‘ ختم ہوگیا… صدر داؤد کے بعد… سوویت
یونین کے مہرے… ایک ایک کرکے آتے گئے… اور اپنے برے انجام سے دوچار ہوتے گئے… نور
محمد ترکئی … حفیظ اللہ امین… ببرک کارمل… اب کوئی زندہ نہیں… اس زمانے
میں سوویت یونین اور روس کا نام چلتا تھا… ہمارے ’’بیرنگ‘‘ لفافے جو آ ج اپنے
پیچھے امریکی ٹکٹیں لگائے پھرتے ہیں… ان دنوں … اپنے چہرے ’’سرخ‘‘ بناتے تھے… اور
ہمارے … خربوزوں سے زیادہ پھیکے دانشور… مولویوں پر گرم تھے کہ سوویت یونین کو
’’خدا‘‘ تسلیم کرو… ورنہ کچھ بھی نہیں بچے گا… نقلی ’’انقلابیوں‘‘ کا ہر طرف زور
تھا… شام کا ’’حافظ الاسد‘‘ لیبیا کا کرنل قذافی… عراق کا صدام حسین… اور فلسطین
کا یاسرعرفات یہ سب … امریکہ کے خلاف یوں گرجتے تھے جس طرح بجلی بھرا بادل گرجتا ہے…
یہ سب … سوویت یونین کے مرید خاص تھے… اور تو اور … پاکستان کے ’’سرخے‘‘ درانتی
اور ہتھوڑے دکھا دکھا کر ڈراتے تھے کہ اب ’’روس‘‘ آیا… سوویت یونین ’’چھایا‘‘…
مجھے اچھی طرح یاد ہے… اس زمانے میں روشن خیال… اور دانشور وہی ہوتا تھا جو
کیمونزم کا قصیدہ پڑھتا… امریکہ اور سرمایہ داری کو گالی دیتا… اور لینن، اسٹالن
کے نام پر عقیدت کے انگوٹھے چومتا تھا… جب سیلاب آتا ہے تو … گدھوں، کتوں کے ساتھ
کچھ ’’حلال جانور‘‘ بھی بہہ جاتے ہیں… اس زمانے میں سوویت یونین کی طاقت کے سامنے
سجدے کرنے کا ایسا سیلاب آیا کہ … کچھ ’’مولوی‘‘ بھی بہہ گئے… میں نے ایسے ’’مولوی
حضرات‘‘ کو دیکھا اور سنا اور اللہ پاک کی قدرت پر حیران ہوا کہ … اس کی مخلوق کے
کیسے کیسے رنگ ہیں… سنا ہے کہ ایک مولوی صاحب یہاں تک کہتے پھرتے تھے… اسلام اور
کیمونزم میں ’’تیرہ‘‘ باتیں مشترک ہیں… بس … ایک چھوٹی سی بات میں اختلاف ہے… اور
وہ یہ کہ … وہ اللہ کو نہیں مانتے… جبکہ ہم اللہ کو
مانتے ہیں… یہ لوگ ’’سوویت یونین‘‘ کی طاقت سے اس قدر مرعوب تھے کہ انہیں باقی لوگ
پاگل، ناشائستہ اور غیر مصلحت پسند نظر آتے تھے… ساری دنیا جانتی ہے کہ … سردیوں
کے موسم میں سائبیریا کے پرندے… پاکستان کا رخ کرتے ہیں… ان دنوں سائبیریا میں
’’برف‘‘ کی حکومت ہوتی ہے… پہلے عرض کرچکا ہوں کہ اللہ پاک ہی ہر چیز کا خالق ومالک ہے… سائبیریا میں
کچھ دن اس قدر سردی پڑتی ہے… جس طرح آج کل پاکستان میں روشن خیالی… اور بے حیائی…
پڑ رہی ہے… مگر کچھ دن بعد وہ برف پگھل جاتی ہے… حالانکہ سردیوں میں کوئی دیکھے تو
اعلان کردے کہ اب یہاں کبھی سورج نہیں چمکے گا… کبھی دھوپ نہیں آئے گی… ہم نے
مستقل بنیادوں پر… گرمی کا راستہ روک لیا ہے… معاف کیجئے گا برف کا تذکرہ آیا تو
بات پھسل گئی… میں عرض کرر ہا تھا کہ … سوویت یونین کی ’’قوت‘‘ کے زمانے میں جب
سائبیریا کے پرندے… حسب عادت سردیوں میں پاکستان آتے تو … کیمونزم کے حامی بغلیں
بجا بجا کر کہتے کہ دیکھو … پرندوں کا بھی یہی فیصلہ ہے کہ … سرخ انقلاب ’’اُدھر‘‘
سے اِدھر‘‘ آئے گا… اور دیکھو کیمونزم کی برکات کہ ہمیں پرندوں کا گوشت… بھی وہاں
سے آتا ہے … پس وہ ہمارا رازق ہے… نعوذب اللہ … اس زمانے کی عجیب داستانیں ہیں… آج
تو ’’ماشاء اللہ ‘‘ کوئی خوفناک… اور
بدبودار جانور بھی خود کو ’’کیمونسٹ‘‘ نہیں کہتا … جبکہ … اس زمانے میں اچھے اچھے
لوگ فخر سے خود کو کیمونسٹ کہتے تھے… ایک صاحب اب مرگئے ہیں… اس لیے ان کا نام
نہیں لکھتا… وہ حج پر تشریف لے گئے تو واپسی پر اپنا سفر نامہ لکھا… اور اس کا نام
رکھا… کیمونسٹ کا سفر نامۂ حج… دیکھئے کس قدر فخر اور اطمینان تھا ان کو… مگر ان
کی زندگی ہی میں… کارخانہ قدرت نے کروٹ بدلی… دنیا کے بت کدے میں جس اونچی جگہ پر…
سوویت یونین کا بت رکھا تھا… وہاں… امریکاکا بت رکھ دیا گیا … تب… ہمارے ان
نظریاتی دانشوروں نے ایک منٹ کی دیر نہیں لگائی… اور عقیدت کے ساتھ اپنے پیٹ پر
ہاتھ پھیرتے ہوئے… امریکہ کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے… آج میں ایک بار پھر… اخبارات
کے ادارتی صفحات پر… اپنے دانشوروں کے ایسے مضامین ڈھونڈتا ہوں… جن میں… لینن،
مارکس… اور اسٹالن کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہو… اور ان کے نظریات ماننے کو
’’روشن خیالی‘‘ قرار دیا گیا ہو… مگر مجھے … سخت مایوسی ہوتی ہے… سوویت یونین کا
مدح سرا… کوئی بھی نظر نہیں آتا… یہ عجیب دانشوری ہے کہ … ہر … پندرہ سال بعد…
دسترخوان… آقا… اور خدا بدلتی ہے… پھر مجھے ’’مولوی‘‘ کیوں نہ اچھا لگے کہ … ساڑھے
چودہ سو سال سے ایک ہی اذان دے رہا ہے… ایک ہی کلمہ پڑھ رہا ہے… ایک ہی گھر کو
’’قبلہ‘‘ بنائے بیٹھا ہے… خیر چھوڑیں… واپس اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں… افغانستان
میں سوویت یونین کے مہرے آتے رہے… جاتے رہے… ہر کسی نے اپنی بات منوانے کیلئے… ظلم
کیا… گولی چلائی… اور ہر کسی نے ’’اعلان‘‘ کیا کہ … افغانستان کے لئے سب سے اہم
چیز … ’’میرا وجود‘‘ … ہے مگر زمین نے ان کے کھوکھلے دعوے… خود… ان کے جسموں سمیت
نگل لئے… افغانستان آج بھی جیسا تیسا کھڑا ہے… مگر خود کو … افغانستان کے لئے
لازمی … اور ناگزیر قرار دینے والے… مٹی کے انبار میں… خود اس کا ایک حقیر حصہ بن
گئے ہیں… اور ان کے ’’اعمال‘‘… نہ سوویت یونین کے دربار میں پیش ہوئے… اور نہ کسی
اور ملک کے… بلکہ یہ اعمال ان کی تقدیر بن کر… ان کے ساتھ چلے گئے… پھر ایک موٹا
تازہ… ہٹّا کٹّا… ذہین وفِتّین… شخص آیا… فوجی تجربہ بھی رکھتا تھا اور جاسوسی کا
بھی… نام نجیب اللہ … مگر ’’نجابت‘‘ قریب
نہ پھٹکی تھی… اس نے کہا … میں میں ہوں… ہم نے اس کے دعوئے سنے… وہ اس قدر جرأت
اور یقین سے بولتا تھا کہ … مخالفین کے حوصلے… ٹوٹنے لگتے تھے… اور ان کے عزائم
پر… بجلیاں گرتی تھیں… پھر میں نے اخبار میں تصویر دیکھی… وہ کابل کے ایک چوک پر لٹکا
ہوا تھا … لوگ اس کے مردہ جسم سے کھیل رہے تھے… کوئی منہ میں سگریٹ ٹھونس رہا تھا…
اور کوئی نوٹ … اللہ پاک برے انجام سے بچائے… پھر… ایک نیا دور آیا…
اپنوں… اور غیروں کے پسندیدہ ’’پیرمغاں‘‘ …صبغت اللہ مجدّدی… دو ماہ کے لئے تشریف لائے… پھر …
برہان الدین ربانی… پھر خانہ جنگی… اور پھر طالبان… طالبان نے سات سال تک شریعت
نافذ کی… عوام کی خوب خدمت کی… اسلام کو عزت بخشی… اور پھر پہاڑوں میں روپوش
ہوگئے… اور افغانستان پھر موسیقی … اور بے حیائی میں ڈوب گیا… ایسے ایسے ’’لبرل‘‘
لوگ اپنے ’’بلوں‘‘ سے باہر آگئے کہ … جن کی روشن خیالی دیکھ کر… جانور بھی شرما
جاتے ہیں… خود سوچئے کہ … کوئی بھی ختم نہیں ہوا… ظاہر شاہ سے لیکر نجیب تک کا …
لبرل دور … مگر نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت ملا عمر صاحب جیسا قرون اولیٰ کا مسلمان پیدا
ہوا… اور چھا گیا… پھر ملا محمد عمر صاحب کا ایمانی دور… مگر اسی دور میں… کرزئی…
اٹھا… اور امریکی کندھوں پر ’’تخت کابل‘‘ کا مالک بن گیا… یہ ہے… اللہ تعالیٰ کا نظام… اور اس کی شان … مگر مجھے سخت
حیرانی… پاکستان کے موجودہ ’’روشن خیال‘‘ طبقے پر ہورہی ہے… جو … امریکا کے بھروسے
پر اس قدر آگے نکل رہا ہے کہ … کپڑے تو کپڑے اب اپنی کھال سے بھی باہر نکلنے کو
ہے… ان لوگوں کے دعوئے… خود فریبی کے جنگل میں آگ لگا رہے ہیں… اور ان کا انداز اب
… جارحانہ ہوتا جارہا ہے… اور تعجب کی بات یہ ہے کہ … ایسا … میلہ مویشیاں لگا ہے
کہ … ہر انسان … خود کو… زیادہ سے زیادہ… لبرل… اور کفر پرست بتا کر آگے بڑھنے کی
کوشش میں ہے… کچھ عرصہ پہلے… میں نے اخبار میں ایک صاحب کا مضمون پڑھا … اس
’’غیرتمند‘‘ دانشور نے جو کچھ لکھا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ … ملک کے حکمران میری
خدمات سے فائدہ اٹھائیں… صدر صاحب! میں نے انتہا پسندی کے خلاف کتاب لکھی ہے… میری
بیٹی میوزک اور رقص کی ماہر ہے بلکہ … دوسروں کو بھی سکھاتی ہے… میری بیوی بھی
ماڈریٹ سوسائٹی کی خاص رکن اور خواتین کی آزادی کے لئے دن رات کوشاں ہے… میں یہ
مضمون دیکھ کر حیران ہوا کہ … حالت یہاں تک جا پہنچی ہے… ابھی دو روز قبل… جناب
زرداری صاحب فرما رہے تھے کہ… حکومت کی خواہش ہے کہ … لبرل لوگ آگے آئیں تو ہم
’’لبرل فورس‘‘ موجود ہیں… ہمیں آگے لایا جائے… لبرل کے معنیٰ… آزاد… اور یہ آزادی
صرف اسلام سے ہے… اور ’’چشم بددور‘‘ اس پر فخر کیا جارہا ہے … کیا ہی اچھا ہوتا کہ
… زرداری صاحب اپنے ’’لبرل‘‘ ہونے کے کچھ واقعات بھی سنادیتے تاکہ … حکمرانوں کو
مزید تسلی ہوجاتی… ویسے ان کے واقعات اور لوگ سناتے رہتے ہیں… ادھر چند دن پہلے …
لاہور کے صحافی… نجم سیٹھی صاحب کا انٹرویو سننے کا اتفاق ہوا… وہ کشمیر کے جہاد
کو کھلم کھلا ’’دہشت گردی ‘‘ قرار دے رہے تھے… اور یوں اعتماد … اور عقلمندی سے
بول رہے تھے جیسے وہ پاکستان کے مالک وحاکم ہیں… پاکستان والوں کو یاد ہے کہ … نجم
سیٹھی صاحب… چند سال پہلے … انڈیا کے لئے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار ہوئے
تھے… اخبارات اور میڈیا میں خوب شور ہوا تھا … سیٹھی صاحب نے تھوڑی سے ’’خدمت‘‘ کے
بعد ٹی وی پر آکر اپنے جرم کا اقرار کر لیا تھا… مگر پھر… ورلڈ بینک کے صدر کے حکم
پر… نواز شریف صاحب نے انہیں فوراً رہا کردیا… آج نجم سیٹھی صاحب ان محب وطن
صحافیوں میں شامل ہیں… جو … صدر صاحب کے ساتھ کرکٹ اور سیاست کا میچ دیکھنے… دہلی
گئے تھے… آہ … زمین کیسے کیسے رنگ بدلتی ہے… آج اسلام اور ملک کی خاطر… اپنے لخت
جگر ذبح کروانے والے ملک کے لئے … سیکورٹی رسک… اور خطرناک… جبکہ … مِیرا، بے
نظیر، نجم سیٹھی… اور زرداری وفادار… اور … محب وطن… مجھے ان حالات سے کوئی شکوہ
نہیںہے… میرے مالک کی مرضی… دن لائے یا رات… اندھیرے کو غالب کرے… یا اُجالے… کو…
ہم کون ہیں تقدیر میں مداخلت کرنے والے؟… اور ہمیں کیا حق ہے… کہ … ہم شکوہ کریں…
بلکہ میرا نظریہ تو عجیب سا ہے… میں سمجھتا ہوں کہ ماضی قریب میں اللہ تعالیٰ نے… مجاہدین اور دینداروں کو … جو اتنی
عزت بخشی… وہ ان کے اعمال… کردار… اور استحقاق سے بہت زیادہ… محض اللہ تعالیٰ کے فضل… اور عفو ودرگزر کی بدولت تھی…
اور اس وقت مجاہدین کو… جس پریشانی… اور ذلت کا سامنا ہے کہ… بے حیاء طبقے…
غدّاران وطن… اور طوائفیں تک ان کو دھمکیاں دے رہی ہیں… یہ ہمارے گناہوں کے مقابلے
میں… بہت کم… اورہلکی سزا ہے… مگر آج کے کالم میں جو بات عرض کرنی ہے وہ اور ہے…
اور اسی بات کو سمجھانے کیلئے… افغانستان اور سوویت یونین کا کچھ تذکرہ کیا ہے… وہ
بات یہ ہے کہ… ہمارے… روشن خیال حضرات نے معلوم نہیں… کس نشے میں آکر یہ سمجھ لیا
ہے کہ… امریکا… ناقابل تسخیر ہے اور وہ کبھی کمزور نہیں ہوگا… اور یہ کہ … ہمارے
سروں پر امریکہ کا ہاتھ ’’ہمیشہ‘‘ رہے گا… اور ہمارا ’’لبرل‘‘ اقتدار ہمیشہ
’’قائم‘‘ رہے گا… اور اسلام کا نام لینے والے… اور مجاہدین … اس طرح پگھل جائیں
گے… جس طرح … پانی میں نمک پگھل جاتا ہے… اور کچھ عرصہ بعد … زمین ’’روشن خیالی‘‘
سے اس طرح بھر جائے گی کہ … کفر اسلام … اور حیاء بے حیائی کا فرق مٹ جائے گا…
روشن خیال حضرات وخواتین… اپنے اس خیال کی وجہ سے … اب اکڑتے ہی جارہے ہیں… اور ان
کی زبانیں… جہاد… اور مجاہدین کے خلاف آگ اگل رہی ہیں… اور نوبت… یہاں تک جا پہنچی
ہے کہ… دوروز قبل… بی بی سی پر… ایک روشن خیال دانشور فرما رہے تھے… پہلے ہماری
فوج… اور اسٹیبلشمنٹ کو اپنا وجود برقرار رکھنے کیلئے … انڈیا کو دشمن بنا کر پیش
کرنا ضروری تھا… مگر اب انہوں نے اپنی بقاء کے لئے… ایک قریبی دشمن اپنے ملک میں
ڈھونڈ لیا ہے… اور وہ ہیں… مذہبی انتہا پسند… یعنی… اب فوج … اور عسکری ایجنسیوں
کو بھڑکایا جارہا ہے کہ… بیرونی دشمنوں کو تو… مِیرا اور ثقافتی طائفوں نے سنبھال
لیا ہے… آپ لوگ اب بھارت کی بجائے… مجاہدین اور مولویوں کا گلا دبائیں… میں یہ عرض
کرنا چاہتا ہوں… کاش میری بات کو… دھمکی نہ سمجھا جائے کہ… یہ سب کچھ روشن خیالوں
کی… خام خیالی ہے… اور انہیں چاہئے کہ … ظلم اور ایذاء رسانی میں اتنا آگے نہ
بڑھیں کہ جب رات کے بعد دن شروع ہو تو… انہیں… اپنے کیے پر پچھتا نا پڑے… آپ لوگ
شوق سے نیکر پہنیں… اپنی لڑکیوں کو بھی پہنائیں… اور جو روشن خیالی کرنی ہے ڈٹ کر
کریں… اور پہلے بھی آپ لوگ کونسا … باز آتے تھے… یا کون سی کسر چھوڑتے تھے؟ لیکن
ایسے خواب نہ دیکھیں… جن کی تعبیر خود آپ لوگوں کے لئے بھیانک ہو… آپ لوگ ناچنا
ضرور جانتے ہیں مگر لڑنا نہیں… آپ لوگ کافروں کے ہاتھوں بکنا ضرور جانتے ہیں… مگر
کسی موقف پر ڈٹنا آپ کے بس کی بات نہیںہے… آپ لوگ دنیا کا عیش چاہتے ہیں تو پھر…
بس… اسی کی طرف توجہ رکھیں… اور دینی امورمیں مداخلت کا جرم نہ کریں… سلمان رشدی…
تسلیمہ نسرین… آمنہ ودود… اور اسریٰ نعمانی… کافروں کی گود میں بیٹھ کر اسلام اور
مسلمانوں کو گالیاں بک کر… پھر ان کی گود میں دبک جاتی ہیں… آپ لوگ بھی… بہت بہادر
ہوئے تو بس اتنا ہی کرلیں گے مگر یاد رکھیں… آپ لوگوں کو استعمال کرنے والے اسلام
دشمن… اتنے سخی اور فراخ دل نہیں ہیں کہ… ہر گالیاں دینے والے… اور ہر بدکاری کرنے
والے کو پناہ دیتے رہیں… ٹھیک ہے آج آپ لوگوں کا الّو بول رہا ہے مگر… اسلام سے
محبت کرنے والے مر نہیں گئے… حیرت کی بات ہے کہ… علماء اور مجاہدین نے کبھی آپ
لوگوں پر سختی نہیں کی… مگر آپ لوگوں کو جب بھی موقع ملتا ہے تو … کسی کو بھی معاف
نہیں کرتے… آپ جس ’’روشن خیالی‘‘ کو اس پاک وطن میں لانا چاہتے ہیں… وہ تو … قرب
قیامت سے پہلے نہیں آسکتی… ہاں قیامت کے قریب وہ ’’روشن خیالی‘‘ عام ہوجائے گی…
اور تب اللہ پاک قیامت لے آئے گا… مگر … اس سے پہلے اسلام نے
ایک بار پھر غالب آنا ہے… معلوم ہوا کہ … اسلام پسندوں کا دور قریب اور آپ کا
زمانہ دور ہے… ہر کسی کو چاہئے کہ… صبر اور تحمل کے ساتھ اپنی اپنی باری کا انتظار
کرے… اور پھر اللہ پاک حق وباطل میں فیصلہ فرمادے گا… امریکہ کی
طاقت عارضی ہے… موجودہ حکومت کے وزیروں کا شور شرابا عارضی ہے… اس ملک کی فوج
مسلمان ہے یہاں کے ادارے مسلمان ہیں… بظاہر ایسا امکان نہیں ہے کہ… اسے
’’الجزائر‘‘ بنایا جاسکے گا… اور اگر ’’خدانخواستہ‘‘ بنایا بھی گیا تو کیا ہوگا؟…
ہر کسی کی موت کا وقت مقرر ہے… اور ابھی دنیا سے اسلام… مسلمان… اور جہاد کے خاتمے
کا وقت نہیں آیا… اور جنہیں آپ ’’انتہا پسند‘‘ قرار دے کر مارنا چاہتے ہیں… وہ
بکرے دنبے نہیں کہ بس گردن ہی آگے رکھیں گے… اور نہ مچھر اور مکھی ہیں کہ… اسپرے
کرنے سے مرجائیں گے… وہ ایسے لوگ ہیں… جن کو مارنے والے… بہت مشکل میں پڑ جاتے
ہیں… اور ہمیشہ اپنے مشن میں ناکام رہتے ہیں… یورپ اور امریکہ کی خواہش ہے کہ…
مسلمانوں کے دو طبقے بنا کر… انہیں آپس میں لڑا دیا جائے… روشن خیال… اور انتہا
پسند… ایک دوسرے کو کاٹتے رہیں… اور ان کے بچے یتیم… اور … عورتیں … بیوہ ہوتی
رہیں… روشن خیالوں کے دماغ میں چونکہ… امریکہ کی روشنی گھس گئی ہے اس لیے وہ اپنے
ہی مسلمان بھائیوں کے خلاف لڑنے پر… اتر آئے ہیں… جبکہ… انتہا پسند کہلوانے والوں
کو یاد ہے کہ … مسلمان کے خون کی اللہ پاک کے ہاں کیا حرمت ہے… بس … انہیں کا صبر ہے
کہ… بڑی جنگ نہیں بھڑک رہی… کاش… روشن خیال بھی اپنی کھال میں واپس آجائیں…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ امت مسلمہ پر رحم فرمائے… اور سب
مسلمانوں کو باعزت اور حلال روزی نصیب فرمائے… یہ دیکھیں میرے سامنے پرسوں کا
روزنامہ نوائے وقت رکھا ہے… یہ اخبار کئی لحاظ سے ’’پسندیدہ‘‘ اور ’’غنیمت‘‘ ہے…
صفحہ اول پر اشتہارات اور خبروں کا تناسب … زمین پر خشکی اور پانی جیسا ہے… یعنی
تین حصے اشتہارات کا پانی بہہ رہا ہے جبکہ … چوتھائی حصے پر چند خشک خبریں ہیں…
ویسے آج کل اخبارات میں… اشتہارات کی بھرمار ہے… اس لیے خبریں کم اور اشتہار زیادہ
ہوتے ہیں… اور اخبارات کے مالکان… خواہ جس عقیدے اور نظرئیے سے تعلق رکھتے ہوں…
اشتہارات لینے اور چھاپنے کے معاملہ میں… ہر عقیدے اور نظرئیے سے آزاد رہتے ہیں…
اس لیے انہیں خوب ’’ٹناٹن‘‘ اشتہارات ملتے ہیں… اور ان کے محفوظ… بینک بیلنس میں
مزید اضافہ ہوجاتا ہے… آج کل تو ویسے ہی ہر آدمی کی خواہش ہوتی ہے کہ… وہ بہت سارے
مال پر… کنڈلی جما کر بیٹھا رہے… اور یہ مال نہ اس کے کام آئے … اور نہ کسی اور
انسان یا جانور کے… اشتہارات کی ’’مد‘‘ میں بڑے اخبارات تو ماہانہ ’’کروڑوں‘‘ کما
لیتے ہیں… جبکہ… چھوٹے بھی لاکھوں کا ہاتھ مار ہی لیتے ہیں… سب سے زیادہ موج…
انگریزی اخبارات کرتے ہیں… وہ چھپتے کم اور بکتے زیادہ ہیں… ان کی اپنی ایک الگ
دنیا ہے… آج ہم نے اس کا تذکرہ نہیں کرنا… اشتہارات اور آمدنی کے اعتبار سے بے
چارے ’’صوفی اخبارات‘‘ بہت گھاٹے میں رہتے ہیں… حکومت انہیں سرکاری اشتہار نہیں
دیتی کہ… کہیں… اسلام کی خدمت کا خطرناک الزام نہ لگ جائے… اور امریکی سفارت خانے
کو کوئی لبرل صحافی… خط لکھ کر شکایت نہ لگادے… باقی رہے عوامی اشتہارات… تو ان
میں بڑا حصہ… باتصویر اشتہارات کا ہوتا ہے… ’’صوفی اخبارات‘‘ تصویر نہیں چھاپتے…
حالانکہ… اب تو کئی ٹی وی چینلز پر دُلدُل کی طرح سجے سجائے… مفکرینِ اسلام… دین
کی خدمت کر رہے ہیں… وہ قرآن کے الفاظ اگرچہ درست نہیں پڑھ سکتے… مگر… اپنے ڈیسک
کے نیچے چھپے لیپ ٹاپ کی مدد سے… انگریزی ترجمہ… فر فر کرلیتے ہیں… ’’صوفی
اخبارات‘‘ ملٹی نیشنل کمپنیوں اور سودی بینکوں کے اشتہارات بھی نہیں چھاپتے… پھر
ان کے ہاں… جعلی عاملوں اور امت کی خاص کمزوریاں دور کرنے والے ’’عطائیوں‘‘ کے
اشتہارات بھی شائع نہیں ہوسکتے… سگریٹ سے لیکر شراب تک کے یہ لوگ مخالف ہیں…
چنانچہ … انہیں کوئی اشتہار نہیں ملتا… ہاں کبھی کبھار… چھابڑے پر فروٹ بیچنے والا
کوئی ’’حلال خور‘‘ انہیں… ہزار پانچ سو کا اشتہار بھیج کر… ثواب کما لیتا ہے… سچی
بات یہ ہے کہ… ’’صوفی اخبارات‘‘ والے بس… جنت کی لالچ میں اخبار نکالتے رہتے ہیں…
ورنہ کمائی شمائی کچھ نہیں ہوتی… لالچی لوگ ہیں… اس لیے پیچھے نہیں ہٹتے… اللہ پاک کو راضی کرنے کی لالچ … اَن دیکھی آخرت کو
بنانے کی لالچ… قبر کی روشنی کی لالچ… لوگ انہیں بہت سمجھاتے ہیں کہ بھائی… زمانے
کے ساتھ چلو… وہ کہتے ہیں… اگر سب سیلاب کے ساتھ بہنے لگے تو سیلاب کا رخ کون موڑے
گا؟… مسلمان زمانے کے ساتھ چلنے کیلئے نہیں آیا… اس کا کام زمانہ بنانا… اور زمانہ
بدلنا ہے… حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لائے تو اس وقت ’’حالات‘‘
کون سے موافق تھے… صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین کو زمانے کے لوگ… پاگل اور دیوانہ کہتے تھے… مگر انہوں نے… اپنا زمانہ
بنالیا… اور اس سچی آخرت کو بھی سنوار لیا… جو … اس ’’فانی دنیا‘‘ سے بڑی
’’حقیقت‘‘ ہے… بات چل رہی تھی پرسوں کے نوائے وقت کے صفحۂ اوّل کی… یہاں… جہازی
سائز کے تین اشتہارات ہیں… ایک تو ڈالڈا گھی کا ہے… انہوں نے… انعامی اسکیم کے نام
پر بچوں کو لاکھوں روپے کا مالک بننے پر اکسایا ہے… دوسرا اشتہار پی آئی اے کا ہے…
انہوں نے اپنے ’’مسافروں‘‘ کیلئے کچھ اعلانات کیے ہیں… جبکہ تیسرا اور بڑا اشتہار…
ایک بینک کا ہے… اس بینک نے اعلان کیا ہے کہ … آپ ہمارے پاس ’’پیسہ‘‘ جمع کرائیں…
ہم … آپ کو سالانہ 9.25% منافع دیں گے… یہ اعلان پڑھ کر… کافی سارے لوگ… سود کی
خونی نہر میں غوطہ لگائیں گے… سرمایہ دار لوگوں کے پاس اتنا پیسہ جمع ہوچکا ہے کہ
رکھنے کی جگہ نہیں ہے… اس لیے ایسا اشتہار پڑھ کر وہ فوراً دوڑتے ہیں… اور اپنا
کچھ ’’پیٹ‘‘ … ہلکا کر آتے ہیں… اصل سرمائے پر… متعین اور مقررہ منافع کا اس طرح
اعلان… بلاشبہ… سود خوری کی دعوت ہے… اور سود خوری… زنا سے بھی بڑا اور سخت گناہ
ہے… بلکہ … قرآن پاک کے الفاظ میں… یہ … اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھلا ’’اعلانِ جنگ‘‘ ہے… سبز
رنگ کے اس ’’خونی اشتہار‘‘ سے کون متاثر ہوا ہوگا… یہ تو معلوم نہیں … مگر… وہ
مسلمان جن کے دلوں میں ایمان کا کچھ حصہ محفوظ ہے… وہ ایسی ’’دعوتِ گناہ‘‘ پر لعنت
بھیجتے ہیں… اور اپنے اللہ تعالیٰ کو ’’رزّاق‘‘ مانتے ہوئے اسی سے ’’رزق
حلال‘‘ کا سوال کرتے ہیں… اس اشتہار… اور اسی طرح کے روز آنے والے سودی اشتہارات
پر عمل سے پہلے… ہر مسلمان پر لازمی ہے کہ… وہ … سود کے بارے میں قرآن وسنت کے
’’احکام‘‘ معلوم کرلے… تب… اس کے لئے سود کھانے سے زیادہ آسان یہ ہوگا کہ وہ اپنے
ہاتھ میں آگ کا جلتا ہوا انگارہ تھام لے… سود کے متعلق وعیدیں تو بہت زیادہ ہیں…
کیونکہ… یہ ایک معاشرتی کینسر ہے جو انسانوں کو… درندوں سے بدتر بنادیتا ہے… یہاں
پر ہم صرف …چند احادیث مبارکہ کا خلاصہ پیش کر رہے ہیں… ممکن ہے … کسی کو توبہ کی
توفیق نصیب ہوجائے… اور ایمان والے… اپنے ’’نظریات‘‘ پر مزید پختہ ہوجائیں… باقی…
اگر اس بارے میں تفصیلات دیکھنے کا شوق ہو تو … کچھ انتظار کیجئے… ان شاء اللہ … ’’القلم‘‘ کا ’’اسلامی معیشت‘‘ نمبر عام
قارئین کی اس ضرورت کو پورا کرے گا… لیجئے سود کے بارے میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض فرامین کا خلاصہ ملاحظہ
فرمائیے…!
)۱(سود
خوروں کے پیٹ… بڑے بڑے کمروں جتنے… جن میں سانپ بھرے ہوئے… باہر سے نظر آرہے تھے…
ایسا حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کی رات دکھایا گیا… (مسند احمد)
)۲( سود
میں گناہ کے ’’تہتر(۷۳)‘‘ دروازے
ہیں جن میں سے سب سے کم ایسا ہے جیسے کوئی شخص اپنی ماں سے بدکاری کرے … (رواہ
الحاکم وقال: صحیح علی شرط البخاری ومسلم)
(۳(سات
گناہوں سے بچو جو ہلاک کرنے والے ہیں… ان میں سود خوری، شرک اور قتل شامل ہیں…
(بخاری ۔ مسلم)
)۴( سود
خور خون کی نہر میں ہوں گے… جب نکلنا چاہیں گے پتھر مار کر واپس پھینک دئیے جائیں
گے… ایسا حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو خود دکھایا گیا… (بخاری)
)۵( رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی سود کھانے اور سود
کھلانے والے پر (مسلم۔ نسائی)
)۶( رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے… سود کھلانے والے…
سود لکھنے والے… اور سودی معاملہ پر گواہ بننے والے کو برابر قرار دیا… اور ان سب
پر لعنت بھیجی… (مسلم)
)۷(آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے سات گناہوں کو ’’کبیرہ‘‘ قرار دیا
ان میں سے ایک ’’سود خوری‘‘ ہے… (البزاز)
)۸( چار
افراد کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر لازم فرما لیا ہے کہ انہیں
جنت میں داخل نہیں فرمائے گا اور نہ انہیں جنت کی نعمتیں چکھائے گا، ان چار میں سے
ایک سود خورہے… (مستدرک حاکم)
)ممکن ہے اس
سے مراد دخولِ اوّلی ہو… یا … یہ وہ لوگ ہوں جو سود کو حلال قرار دے کر قرآن پاک
کا انکار کرتے رہے ہوں۔ و اللہ اعلم(
)۹( جان
بوجھ کر سود کا ایک ’’درہم‘‘ کھانا چھتیس بار زنا کرنے سے زیادہ سخت گناہ ہے…
(مسند احمد)
)۱۰( سود
میں گناہ کے سترّ سے زائد دروازے ہیں۔ (البزاز)
… اس موضوع
پر احادیث بہت زیادہ ہیں… ہم نے ان دس پر اکتفا کیا ہے جو ایک مسلمان کے لئے کافی
ہیں… اور اس وقت ان احادیث کے باہمی مذاکرے کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ… حضور پاک صلی
اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق وہ منحوس دور
آپہنچا ہے جب ہر شخص سود کے دھوئیں سے متاثر ہو رہا ہے… دیکھئے ابو داؤد کی یہ
روایت…
’’حضرت ابو
ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا… لوگوں پر ایسا زمانہ
ضرور آئے گا جب کوئی بھی سود کھانے سے نہیں بچے گا اور جو نہیں کھائے گا اس تک بھی
سود کا غبار پہنچ جائے گا…‘‘
آج چونکہ … عالمی
معیشت کا اژدہا سود کا دھواں چھوڑ رہا ہے… اس لیے غبار سے تو شائد ہی کوئی بچ سکے…
لیکن…ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہم پر یہ تو لازم ہے کہ… ہم … صریح اور واضح سود سے
بچیں… حضرت شیخ الاسلام … مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہٗ العالی کی کاوشوں سے…
یہ امید بندھ چلی تھی کہ… ہمارے ’’پاک‘‘ ملک کی معیشت کسی قدر سود کی لعنت سے
’’پاک‘‘ ہوجائے گی… مگر… حکومت نے شب خون مار کر ’’وفاقی شرعی عدالت‘‘ کے فیصلے
کو… بابرکت جہادی تنظیموں کی طرح ’’کالعدم‘‘ قرار دے دیا… اور حضرت مولانا مفتی
محمد تقی عثمانی… کو جسٹس کے عہدے سے الگ کردیا… حکومتی سطح پر اب کسی اچھے اقدام
کی توقع عبث ہے… اس لیے… ہر شخص کو صریح اور واضح سود سے بچنے کی خود کوشش کرنا
ہوگی… اور اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ… جب کسی بینک، ادارے یا کمپنی کی طرف سے کوئی
’’اعلان‘‘ آئے تو… اس میں چھلانگ لگانے سے پہلے… مستند علماء کرام سے فتویٰ لے لیا
جائے… اسی طرح بیمہ… اور انشورنس کمپنیوں کے سودی جال سے بھی خود کو بچایا جائے…
اور اپنے ذمے … اللہ تعالیٰ کے کاموں کو لینے کی بیوقوفی نہ کی جائے…
اپنے بندوں کو روزی دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے… ہاں اس نے ہمارے ذمہ لگایا ہے
کہ ہم … اپنے زیر کفالت افراد تک رزق حلال پہنچانے کا ذریعہ بنیں… یہ ذمہ داری
اپنی زندگی میں ہے… مرنے کے بعد… ان کی روزی کا کیا ہوگا؟… اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے… اور جو اس پر بھروسہ کرتے
ہیں… وہ انہیں کبھی رسوا نہیں کرتا… مگر ہم نے اپنے سرپہ فکر سوار کرلی ہے کہ… ہم
بیمہ کروائیں… تاکہ … اپنے بچوں کو اپنے بعد سود کا زہر پلاسکیں… پاکستان کے جن
دینی اداروں کا فتویٰ اس بارے میں مستند ہے ان کی ایک لمبی فہرست ہے… ہم… چند
اداروں کا نام لکھ رہے ہیں… اپنے کاروباری معاملات … اور مالی لین دین کو شریعت کے
مطابق بنانے کیلئے… ان اداروں میں خط لکھ کر رہنمائی حاصل کریں…
(۱) جامعہ
دارالعلوم کورنگی کراچی ، (۲) جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری
ٹاؤن کراچی، (۳) دارالعلوم
حقانیہ اکوڑہ خٹک پشاور، (۴) جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی
کراچی، (۵) جامعہ
خیر المدارس ملتان … وغیرہم…
اب آئیے ایک
’’اعتراض‘‘ … اور اس کے ’’جواب‘‘ کی طرف…
بعض لوگ ’’سود‘‘
کو حلال کرنے کیلئے ایک … ’’انسانی جذباتی‘‘ مسئلہ اٹھاتے ہیں… ان کا کہنا ہے کہ
پہلے زمانے میں سود غریبوں پر ظلم کا ایک ذریعہ تھا… سرمایہ دار مہاجن غریبوں کو
ان کی مجبوری کے وقت قرضہ دیتے تھے اور پھر اس پر سود لیتے تھے … اور وقت پر قرضہ
نہ لوٹانے کی صورت میں سود بڑھتے بڑھتے اصل سرمائے سے بڑھ جاتا تھا (وغیرہ) … اس
لیے اسلام نے اسے ’’حرام‘‘ قرار دے دیا… مگر اب تو … سود ’’غریبوں‘‘ کو فائدہ
پہنچاتا ہے اور وہ اس طرح کہ … ایک شخص اپنی بوڑھی ’’ماں‘‘ اور چھوٹے بچے چھوڑ کر
… مرگیا… حکومت نے دو لاکھ روپے اس کے پسماندگان کو دے دیئے… اب اگر وہ یہ رقم
کھاجائیں تو چند دن میں بھوکے مریں… چنانچہ انہوں نے وہ رقم بینک میں جمع کرادی…
اور بینک ان کو ماہانہ سود دے رہا ہے… اس طرح اصل رقم بھی محفوظ … اور ماہانہ خرچہ
بھی پکاّ… اس ترتیب سے غریبوں کا بھلا ہی ہوا… کوئی نقصان نہیں… اس لیے یہ سود
نعوذب اللہ … ’’حلال‘‘ ہے… انسانی جذبات پر مبنی یہ دلیل… بہت سے انسانوں کے دل کو
لگتی ہے اور وہ بھی نعوذب اللہ … سود کو ’’حلال‘‘ سمجھنے لگتے ہیں… چنانچہ مختصر
طور پر اس دلیل یا اعتراض کے چند جوابات عرض خدمت ہیں…
جواب (۱) انسانی
مجبوری کا یہ راگ اگر سود کو حلال کر سکتا ہے تو پھر باقی ’’جرائم‘‘ کے بارے میں
کیا خیال ہے؟ ایک چور کسی کے گھر گھسے… مال اٹھاتے ہوئے پکڑا جائے اور پھر بتائے
کہ … بچی کی شادی کرنی تھی، فریج اور ٹی وی کا انتظام نہیں تھا، بس مجبور ہو کر آپ
کے گھر چوری کرنے آگیا… کیا خیال ہے… گھر والا یا عدالت اسے چھوڑ دے گی؟ … ایک
ڈاکو… گاڑی لوٹ لے… پھر پکڑا جائے تو بتائے کہ والدہ سخت بیمار تھی… والد ہسپتال
میں تھے… بیوی کو تکلیف تھی مجبوراً ڈاکہ ڈالا… کون سی عدالت اس ’’منطق‘‘ کو مانے
گی؟
کبھی آپ کسی
ہیروئنچی… اور افیونی سے ملاقات کریں… وہ … ایسی مجبوریاں بتائے گا کہ دل لرز اٹھے
گا… تو کیا پھر نشہ حلال؟… پکڑی جانے والی طوائفوں کے اخبارات میں جو بیانات آتے
ہیں… وہ بھی یہی بتاتی ہیں کہ… مجبوریوں نے… بے بس کردیا تھا تو… کیا پھر جسم
فروشی… نعوذب اللہ … حلال؟…
دراصل شیطان اور
نفس کے پھندے بہت خطرناک ہیں… شیطان ہر شخص کو اس کے گناہ پر مطمئن کرتا ہے تاکہ
وہ توبہ نہ کرے… اور ایمان کی وجہ سے اس کے دل میں جو خلش ہے وہ ختم ہوجائے… یہ
انسانی مجبوری کا رونا بھی… شیطانی چال ہے… ہاں مجبوریوں میں بہت کچھ جائز ہوتا ہے
مگر… جس آدمی کے پاس دو لاکھ موجود ہوں… اور اسے یہ پتہ تک نہیں کہ… اس کی زندگی
کے کتنے دن باقی ہیں… اگر اسے بھی… روٹی کے لئے ’’مجبور‘‘ قرار دیا جائے تو بات
واضح ہوجاتی ہے کہ … مجبوری بناوٹی ہے… اور صرف مال کی لالچ، حرص… اور اللہ تعالیٰ سے بغاوت کا شوق ہے… کوئی چور… سخت
مجبوری میں چوری کرے گا تو صرف ایک ہی بار کرے گا… پھر کما کر… چوری کی وہ رقم
واپس کرے گا… اور ساتھ ساتھ توبہ استغفار بھی کرتا رہے گا… مگر جو ہر روز چوری
کرے… بار بار لوگوں کے مال پر ہاتھ ڈالے تو یہ مجبوری نہیں… کچھ اور ہے… یہی حال
مجبوریاں بتا کر… دوسرے گناہ کرنے والوں کا ہے… اللہ پاک ہم سب کی حالت پر رحم فرمائے…
جواب (۲) آپ کہتے ہیں کہ…
بینکوں کے اس سودی نظام سے غریبوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے… حالانکہ… اصل غریب تو وہ
ہے جس کے پاس بنیادی ضروریات تک مہیا نہیں ہوتیں… اور اس کے پاس کسی طرح کا کوئی
سرمایہ نہیں ہوتا… ان غریبوں کو… اس سودی نظام نے کیا دیا ہے؟… اگر قرضہ دیتا بھی
ہے تو… اس پر مہاجنوں کی طرح ’’سود‘‘ لیتا ہے… اور پھر افسوس یہ ہے کہ … دنیا میں
آج کے اکثر غریبوں کی غربت کا سبب … یہی سودی نظام ہے… جس نے دنیا بھر کا سرمایہ…
اور روزی ان چند افراد تک محدود کردی ہے… جو… اس سرمائے پر کالے سانپ کی طرح پھن
پھیلائے بیٹھے ہیں… اور اب بھی بینکوں کے موجودہ نظام سے… اصل فائدہ بڑی مچھلیاں …
اور خونخوار مگرمچھ اٹھاتے ہیں… ہمارے مسلمان ملکوں کے حکمرانوں کے اربوں کھربوں
ڈالر… ان بینکوں میں… آرام کر رہے ہیں… اور جرمنی کے یہودیوں کی طرح… کسی ہٹلر کے
منتظر ہیں… یہ رقم جو اسلامی زمینوں نے اگلی ہے… اسلامی سمندروں سے نکلی ہے… یا
پھر مسلمانوں کے خون پسینے کی کمائی ہے… آج … کسی مسلمان کے کسی کام نہیں آرہی…
خود ہوس پرست حکمرانوں کو بھی اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچتا… بس … ان کے لئے اتنا
فائدہ ضرور ہے کہ ان کو معلوم ہے… ہم اتنے ’’مال‘‘ کے مالک ہیں اور بس… یہ بڑا
کہلانے والے لوگ اکثر معدے کے مریض ہوتے ہیں… اور … ایک غریب مزدور سے بھی کم
کھاتے ہیں… پھر وہ جتنا کھالیں… جتنی عیاشی کرلیں… جمع شدہ رقم میں… ایک روپے کی
کمی نہیں آتی… ہاں… ان لوگوں کو اس رقم کا غم دنیا میں کھاتا ہے… اور آخرت میں
انہیں اس کا حساب دینا ہوگا…
ہمارے زمانے کے
سودی بینک انہی… سرمایہ داروں کے فائدے کے لئے ہیں… اور یہ ان بڑے سانپوں کے وہ
غار ہیں… جن میں وہ … انسانوں کی روزی چھپا کر … اور دفنا کر رکھتے ہیں… غریبوں کی
خدمت کا تو بس ایک نعرہ ہے… اور ڈھکوسلا… بلکہ یہ بینک اور ملٹی نیشنل کمپنیاں…
غریبوں کا لہو چوس کر … مالداروں کے چہرے کا غازہ بناتی ہیں… اس کی ایک بہت معمولی
سی مثال لے لیجئے… صابن … ہر آدمی کی ضرورت ہے … ہمارے ملک میں چونکہ اکثریت
غریبوں کی ہے… اس لیے … ہم کہہ سکتے ہیں کہ… غریب صابن زیادہ خریدتے ہیں… اب
حکومتِ وقت کا فرض تھا کہ وہ عوام کو اچھا سا … سستا سا معیاری صابن فراہم کرے…
موجودہ حالات میں اچھے صابن پر… زیادہ سے زیادہ لاگت… ۷۵پیسے آتی ہے… اس
پر پچاس پیسے نفع لے کر… حکومت… سوا روپے میں عوام کو صابن دے سکتی ہے… مگر حکومت
کو اس سے کیا غرض؟ … اسے تو نخروں، نمائشوں … اور دینداروں کو ستانے سے فرصت نہیں
ہے… اس نے … عوام کو… ملٹی نیشنل کمپنیوں اور ان کے بغل بچہ سودی بینکوں کے رحم
وکرم پر چھوڑ دیا ہے … اب دیکھیں… یہ کمپنیاں غریبوں سے صابن کے بدلے کتنا کچھ لوٹ
کر… مال کالے سانپوں تک پہنچاتی ہیں… کمپنی نے ۷۵ پیسے لاگت کا
صابن بنایا … اور پھر اپنے ٹریڈ مارک… اور نام کے … مزید دو روپے اس میں ڈال دیئے…
عوام کو نہانے کیلئے… ٹریڈ مارک کی کیا ضرورت تھی؟… پھر اس صابن کی فاخرانہ پیکنگ
ہوئی… اور ایک روپیہ مزید بڑھ گیا… حالانکہ فاخرانہ پیکنگ کا نہانے، دھونے کی
ضرورت سے کیا تعلق؟… یہ کاغذ… نہانے سے پہلے صابن سے اتار کر کوڑے میں ڈال دیئے
جاتے ہیں… مگر… پیکنگ… کمپنیوں کے مالدار مالکوں کیلئے… غریب کی جیب کاٹنا ضروری
تھی… پھر کسی سفید چمڑے والی… ماڈل لڑکی سے معاہدہ ہوا کہ تمہارا مسکراتا ہوا
فوٹو… ہمارے صابن کے پیک پر ہوگا… بات کروڑوں میں طے ہوئی… غریب کو نہانے کے بدلے…
ایک مالدار ’’ماڈل‘‘ کی جیب میں اپنی کمائی ڈالنا پڑی… پھر اسی پر بس نہیں… کسی
مشہور فلمسٹار عورت سے طے کیا گیا کہ وہ ایک بار اپنے منہ پر یہ صابن لگا کر فلم
بنوائے… یا کسی بڑے کھلاڑی سے یہی بات طے ہوئی… اس نے بھی بھاری رقم لی… کیونکہ…
یہ گندے لوگ منہ دھونے کے بھی کروڑوں روپے لیتے ہیں… اس دن بی بی سی والے بتا رہے
تھے کہ … بھارت کی ایک فلمسٹار ایک اشتہار کے ڈیڑھ کروڑ لیتی ہے… اب یہ رقم بھی
صابن کی قیمت میں شامل ہوگئی… اور غریب بیچارے کو بغیر ٹکٹ… ایک فلمسٹار عورت کو…
اپنے خون پسینے کی کمائی میں سے رشوت دینا پڑی… پھر… کمپنی نے ٹی وی چینلز سے بات
کی کہ… ہمارا … اشتہار چلایا جائے… ٹی وی چینلز کے ریٹ بھی آسمانوں سے بات کرر ہے
ہیں… انہوں نے بھی کروڑوں روپے لے لیے… اور یہ رقم بھی صابن کی قیمت میں شامل
ہوگئی… پھر یہ صابن… مین اسٹاکسٹ کے پاس آیا… اس نے اپنا نفع لیا … اور ہول سیلر
کو دے دیا… ہول سیلر نے نفع وصول کرکے… دکان والے کو پہنچایا… اور اب اس دکان والے
نے… اپنا نفع لے کر… غریب بیچارے کو بیس روپے میں صابن دے دیا کہ جاؤ… نہاؤ… اور
مزے کرو… تمہاری خوش نصیبی کہ تم فلاں کمپنی کے نام والے اس صابن سے نہا رہے ہو… جس
سے ہالی وڈ کی فلاں ’’طوائف‘‘ نہاتی ہے… اور فلاں ٹی وی چینل پر اس صابن کا اشتہار
چلتا ہے… جاؤ… اور شکر ادا کرو… دیکھا آپ نے … یہ ہے ایک چھوٹی سی مثال… ملٹی
نیشنل کمپنی نے کس طرح غریب کی جیب سے… اٹھارہ روپے نکال کر… اس طبقے میں بانٹ
دئیے جو صرف دولت بنا رہا ہے… نہ خود خرچ کرتا ہے… اور نہ کسی اور کے کام لاتا ہے…
حالانکہ صرف سوا روپے میں اس سے زیادہ بہترین صابن… غریب کا سر دھو سکتا تھا…
مضمون کافی طویل ہوچکا ہے جبکہ… اصل بات ابھی باقی ہے… اس لیے آج یہیں بس کرتے
ہیں… باقی باتیں… اگلی ملاقات میں… اگر… زندگی رہی… اور رب نے چاہا…ان شاء اللہ !
٭٭٭
)دوسری اور
آخری قسط(
اللہ کرے آپ کو یاد ہو کہ پچھلا کالم کہاں چُھوٹا تھا
… بات چل رہی تھی ایک ’’اعتراض‘‘ اور اس کے جوابات کی… اعتراض یہ تھا کہ موجودہ
سودی نظام سے غریبوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے… دو جوابات عرض کردئیے تھے… تیسرا جواب
پیش خدمت کرنے سے پہلے ایک ’’واقعہ‘‘ یاد آگیا… ایک بار دو سال کیلئے ایک ’’جیل‘‘
میں سعدی کو بند کردیا گیا… ایسا کیوں ہوا؟ یہ میں نہیں بتاتا… وہاں ہمارے ساتھ
ایک بڑے ’’بدمعاش‘‘ صاحب بھی تھے… جیل میں ان کے نخروں کا یہ عالم تھا کہ پانچ
لاکھ کی گھڑی باندھتے تھے… گلے میں اتنی ہی قیمت کا طلائی لاکٹ لٹکاتے تھے… جیل
میں سگریٹ کی ممانعت تھی … وہ … ہزار دو ہزار کی ایک ڈبی روزانہ منگوا کر اس کا
دھواں اپنے اندر منتقل کرلیتے تھے… موبائل فون ان کے پاس خفیہ طور پر موجود تھا…
اس پر… باہر اپنے گینگ کے ممبران سے رابطہ رکھتے تھے… اور کاروائیوں کی نگرانی
کرتے تھے… وارڈ کے تمام قیدی ان کے سامنے غلاموں کی طرح ہاتھ باندھے کھڑے رہتے… ہم
فقیر لوگ ان کے نخروں اور غلاظتوں سے متاثر نہیں ہوئے تھے… اور نہ ہمیں ان کی گھڑی
… اور کپڑوں پر ذرہ برابر ’’رشک‘‘ آتا تھا … اس لیے وہ ہم پر حیران بھی تھے… اور
صبح سویرے دونوں ہاتھ جوڑ کر سلام بھی کرتے تھے… انہوں نے ہمارا دل لبھانے کیلئے
اپنی نیکیوں کے کارنامے بھی سنائے کہ ہم روزانہ پانچ ہزار روپے… کسی نہ کسی مندر
یا مسجد کے باہر غریبوں میں تقسیم کرواتے ہیں… ان کی اس سخاوت سے ہمیں سودی بینکوں
کا طرز عمل سمجھنے میں آسانی ہوئی… سودی بینک بھی… ’’بدمعاش جی‘‘ کی طرح چند
غریبوں کو نواز کر مطمئن ہیں… بدمعاش جی… روزانہ چوری، ڈکیتی … اغواء برائے تاوان،
سٹہ بازی… جوا… اور ہر برائی اور گناہ کی ہر صورت پر عمل کرتے تھے… بہت سارے لوگوں
کا ناجائز خون بھی ان کے کاندھوں پر تھا… فحاشی اور بے حیائی کو بالکل برا نہیں
سمجھتے تھے… ہاں… اپنے کروڑوں کے کالے دھن میں سے چند ہزار روپے غریبوں میں بانٹ
کر مطمئن تھے… بینکوں کا سودی نظام بھی… بالکل اسی طرز کا ہے…
)۳( تیسرا
جواب… چلیں مان لیا کہ … بینکوں کے سودی نظام سے چند غریبوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے…
تو کیا… صرف اسی ایک وجہ سے … قرآن وسنت میں بیان کردہ اس کی حرمت ختم ہوجائے گی؟…
چند دن پہلے ریڈیو پر یہ خبر سنی تھی کہ … بمبئی شہر کے شراب خانوں میں ساٹھ ہزار
غریب لڑکیاں… شراب پیش کرنے… اور پھر ناچنے کا پیشہ کرتی ہیں… اب ہمارے مفکر… ان
شراب خانوں کو بھی جائز قرار دیں گے؟… دراصل ہمارے روشن خیال… مفکرین اسلام نے
موجودہ ’’زمینی حالات‘‘ کو ناقابل تبدیل حقیقت سمجھ لیا ہے… اور ان کا خیال ہے کہ
اب یہ حالات بس اسی رخ پر آگے بڑھتے چلے جائیں گے… چنانچہ… احساس کمتری میں مبتلا
یہ مفکرین… عصر حاضر کی مجبوریوں کے بلوں میں گھسنے کے لئے بے تاب ہیں… ہمیں اس پر
زیادہ دکھ نہیں ہے… ہر آدمی کی اپنی قسمت ہے اور اپنا نصیب… بس… افسوس اس بات کا
ہے کہ یہ مفکرین … اپنے ساتھ… اسلام کو بھی ان تاریک بلوں میں… گھسانے کی کوشش
کرتے ہیں… اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہی ارشاد فرمادیا کہ … امت کے
بہت سارے لوگ یہود ونصاریٰ کی اندھی پیروی کریں گے… یہاں تک کہ… اگر وہ کسی گوہ
(ایک جنگلی جانور ہے جسے عربی میں ضَب کہتے ہیں) کی بل میں گھسیں گے تو یہ لوگ
بھی… ان کے پیچھے … اس بل میں جا گھسیں گے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشین گوئی… حرف بحرف… پوری ہو
رہی ہے… اور ہمارے روشن خیال مفکرین کے نزدیک… عقلمندی اور دانش کا بس یہی ایک
مطلب رہ گیا ہے کہ … ہم … یہود ونصاریٰ کی پیروی کریں… اور ہر معاملے میں ان کے
طرز عمل کو اختیار کریں… ان مفکرین کی خدمت عالیہ میں بس اتنی سی گزارش ہے کہ… وہ…
ان سوراخوں میں داخل ہونا چاہتے ہیں تو ان کی مرضی … بس … اسلام کا نام استعمال نہ
کریں… ورنہ … ان کی گردن کا بوجھ بہت بڑھ جائے گا… اور پوری زمین فساد کی لپیٹ میں
آجائے گی… اسی ’’سود‘‘ کو لے لیجئے… کسی مسلمان کو… قرآن کے یہ الفاظ پڑھ کر اوّل
تو ہمت ہی نہیں ہوتی کہ … سود لے یا دے کہ… سودی کام کرنے والے اگر باز نہیں آتے…
تو پھر… فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللہ وَرَسُوْلِہٖ (البقرہ۲۷۶)… اللہ اور اس کے رسول کا اعلان جنگ سن لو… لیکن پھر
بھی کوئی بدنصیب… قسمت کا مارا انسان… سودی کاروبار… سودی لین دین… یا سودی ملازمت
کرتا ہے تو وہ … سود کو حرام سمجھ کر … ایسا کرے… اور اپنے اس گناہ پر توبہ، ندامت
اور استغفار کرتا رہے… کیا بعید ہے کہ… اللہ غفور الرحیم اسے معاف فرمادے… اسے سود سے بچالے
… اسے متبادل حلال روزی عطا فرمادے… یا … بخشش کا کوئی بھی معاملہ کرے… لیکن اگر…
نام نہاد مفکرین نے… اس سود کو ’’حلال‘‘ قرار دے دیا تو اس میں ’’کفر‘‘ کا خطرہ
ہوگا… اور کبھی توبہ کا خیال بھی نہیں آئے گا… پھر ایک بات بہت واضح ہے کہ جب… بعض
عناصر نے… پرانے اسلام کو بدلنے کا امریکی عزم کر ہی لیا ہے تو پھر… اسلام کا نام
بھی تو پرانا ہے… کیوں نہیں اس پرانے نام کو چھوڑ کر… کوئی نیا نام … پسند کرلیتے
… اب یہ تو غلط بات ہے کہ… پرانے اعمال چھوڑ دیئے جائیں اور پرانا نام برقرار رکھا
جائے… کل یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ اگر پرانے اعمال کو اختیار کرنا… قدامت پسندی ہے
تو پھر پرانا نام استعمال کرنا بھی… قدامت پسندی ہے… اور یہ روشن خیالی کے بالکل
خلاف ہے… اس بات کو ابھی حا ل ہی میں پیش آنے والے ایک واقعہ کے تناظر میں سمجھنے
کی کوشش کرتے ہیں… امریکا میں دو عورتوں نے… جمعہ کی نماز کی امامت کرا ڈالی… اور
ساتھ یہ اعلان کیا کہ ہم… چودہ سو سال سے جاری رہنے والی غلطیوں کو دور کر رہی
ہیں… چلیں ٹھیک ہے… آپ نے ایک غلطی تو دور فرمادی… مگر… اسی چودہ سو سال والے
(نعوذب اللہ ) غلط اسلام کی بہت ساری غلطیوں کو جاری رکھا…
مثلاً (۱) مسلمان چودہ سو
سال سے اپنا ہفتہ واری اجتماع ’’جمعہ‘‘ کو کرتے ہیں… حالانکہ … اب عالمی برادری کے
کندھے سے کندھا … وغیرہ… ملانے کیلئے ضروری ہے کہ … یہ دن بدلا جائے… تو پھر… ان
’’خواتینِ انقلاب‘‘ نے ’’اتوارنماز‘‘ کی امامت کیوں نہ کرائی؟… جمعہ نماز کی عبادت
تو … قدامت پسندی ہے…
(۲) چودہ
سو سال سے مسلمان… نماز سے پہلے اذان دیتے ہیں… عالمی برادری کو اذان کی آواز پسند
نہیں ہے… جیسا کہ کئی واقعات سے ثابت ہوچکا ہے… تو پھر آپ نے اذان کیوں دلوائی؟ …
کیا آپ مسلمانوں کو ترقی نہیں کرنے دیں گی؟…
(۳) چودہ
سو سال سے مسلمان… کپڑے پہن کر نماز ادا کرتے ہیں… عالمی برداری کو یہ بات زیادہ
پسند نہیںہے… مگر آپ نے تو سر بھی ڈھانپ رکھا تھا… ہاں اسریٰ صاحبہ نے سر کھول کر
’’نیو اسلام‘‘ کی کچھ لاج رکھ لی…
(۴) چودہ
سو سال سے مسلمان اپنے دین کا نام… اسلام بتا رہے ہیں… عالمی برادری میں یہ نام
’’غیر مقبول‘‘ ہوچکا ہے… پھر کیوں نہ اپنی قوم کو … عالمی برادری کی آنکھوں میں
اونچا مقام دلانے کیلئے… کوئی اور نام دے دیا جائے… آمنہ ودود… اور اسریٰ نعمانی
جیسے لوگوں کو… جنہیں… چودہ سو سال پرانا اسلام پسند نہیں ہے… کوئی ایسا نام … جو
… عالمی برادری کو بہت پسند ہو… دے دیا جائے… مثلاً؟؟؟… چلیں چھوڑیں… بہت سارے
مزیدار نام ذہن میں آرہے ہیں… آپ کی ہنسی چھوٹ جائے گی… ان ناموں کو لکھنے کی
بجائے… ہم یہ دعا کرتے ہیں کہ… یا اللہ …
ہم سب مسلمانوں کو اسلام کی سمجھ اور محبت عطاء فرما… اور سب کو ایسا ’’مسلمان‘‘
بنا جیسا تجھے پسند ہو… اور کسی بھی مسلمان کو … اسلام سے محروم نہ فرما… یہ دعاء
اپنے لیے بھی ہے… اور روشن خیالوں کے لئے بھی… اس لیے کہ ہم سب اسلام، ایمان…
استقامت… اور حسن خاتمہ کے محتاج ہیں…
دراصل زمانہ
جاہلیت میں جو سود مروّج تھا… اس کا ظاہری مقصد… اور نعرہ بھی… غریبوں کو فائدہ
پہنچانا تھا… اور یہ حقیقت ہے کہ ابتدائی فائدہ اسی غریب کو ملتا تھا… جو … سخت
ضرورت کے وقت قرضہ کی صورت میں اپنی ضرورت کا مال حاصل کرلیتا تھا… اس لیے یہ کہنا
کہ … اس زمانے کا سود… غریبوں پر ظلم کی وجہ سے حرام ہوا… درست نہیں ہے… اللہ پاک نے… سود کو حرام فرمایا ہے تو ہمیں… اس بات
کو قبول کرنا چاہئے… کوئی دلیل یا حکمت سمجھ آئے یا نہ آئے… جبکہ یہاں تو … سود کے
خلاف عقلی دلائل کا انبار موجود ہے… اور موجودہ عالمی نظام کو دیکھ کر یہ بات سمجھ
میں آچکی ہے کہ… سودی نظام… خالص شیطانی نظام ہے… جس کا مقصد انسانیت کو مفلوج
کرنا… اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانا ہے… اور اس نظام نے دنیا کو … غربت، بے چینی،
جرائم، ظلم … اور پریشانیوں سے بھر دیا ہے… ہم اگر واقعی ’’مسلمان ‘‘ ہیں تو اس
نظام کے سامنے بے بس ہو کر ہتھیار ڈالنے کی بجائے… ڈٹ کر اس کا مقابلہ کریں…
انسانوں کے بنائے ہوئے نظام… بتوں کی طرح کمزور ہوتے ہیں… اگرچہ… وہ مکڑی کے جالے
کی طرح ہر طرف پھیل چکے ہوں… ہم اگر ’’غربت ختم‘‘ کرنا چاہتے ہیں… تو ہمیں… اسلامی
نظام… اور اسلامی اخلاق کے سائے میں پناہ لینا ہوگی… سب سے پہلے… حکمران طبقہ …
خود کو ٹھیک کرے… اپنے معیار زندگی کو اونچا بنائے… اونچا معیار زندگی وہ ہوتا ہے
جو سنت کے مطابق… اور سادہ ہو… یہ طبقہ… اپنے اندر سے ’’مال کی حرص‘‘ نکالے تاکہ
اس میں انسانیت اور وفا کی خوشبو پیدا ہوسکے… یہ طبقہ… مال کی ناجائز اور فضول
ذخیرہ اندوزی سے بچے… تاکہ… مال… صرف مالداروں کے درمیان نہ گھومتا رہے… اور
انسانوں کی روزی کو… بینکوں کی دیمک نہ کھاتی رہے… سچی بات یہ ہے کہ… حکمران طبقہ…
ایک دن میں جتنی فضول خرچی کرتا ہے… جتنی رشوت لیتا ہے… اور جتنا حرام کماتا ہے …
وہ اگر… جمع کرلیا جائے تو ملک کے غریبوں کے ایک سال کی خوراک نکل سکتی ہے… بڑی
دعوتیں… فائیو اسٹار کلچر… رقص وسرور کی محفلیں… تصنع اور بناوٹ والے استقبال …
ہیجڑوں جیسا زرق برق لباس… فضول ظہرانے اور عشائیے… غیر ملکوں میں علاج… تفریحی
دورے… اور معلوم نہیں کیا کیا؟… میں نے ایک بار اخبار میں … ممبران قومی اسمبلی
اور ان کی عورتوں کے … غیر ملک میں علاج کے مصارف پڑھے تو میرا سر پھٹنے لگا… اس
رقم کا مجموعہ… اربوں روپے بنتا تھا… اوپر سے لیکر نیچے تک … بناوٹ… اور اسراف کا
یہ ننگا ناچ قوم کو اندر ہی اندر سے کھا رہا ہے… ایک بار میں نے… بعض سرکاری
آفیسروں کی تنخواہیں معلوم کیں… دو سال پہلے کی بات ہے… پولیس کے ڈی ایس پی کی
تنخواہ… آٹھ سے دس ہزار بتائی گئی… حالانکہ ہم نے دیکھا کہ … اتنی رقم تو ان
آفیسروں کے کتیّ کھا جاتے ہیں… جبکہ… خود ان کے ایک وقت کا کھانا… بعض اوقات اس
رقم سے زیادہ ہوتا ہے… پھر باقی مال کہاں سے آتا ہے؟… ہمارے بڑے آفیسر خصوصاً
سیکرٹری حضرات کی… خلائی زندگیاں دیکھیں… وہ بلا مبالغہ… روزانہ… لاکھوں روپے
اڑاتے ہیں … اور ان کی ’’بیگمات‘‘ کا جیولری… اور لباس میں ایک غیر محسوس مقابلہ…
ہر وقت… غریبوں کا خون چوستا رہتا ہے… کیا یہ سب کچھ تنخواہ سے ہوتا ہے؟… میرے
خیال میں تو ان کے ایک سوٹ… اور بوٹ کی قیمت ان کی تنخواہ سے زیادہ ہوتی ہے… کچھ
عرصہ قبل … ایک ایماندار… ڈی آئی جی کا پتہ چلا… وہ اب بھی سائیکل پر سفر فرماتے
ہیں… اور چیلنج کرکے کہتے ہیں کہ… ہمیں جو تنخواہ ملتی ہے… اس میں گھر کا کھانا،
خرچہ نکال کر… کبھی اتنی بچ ہی نہیں سکتی کہ ہم حلال کا موٹر سائیکل خرید لیں… مگر
ان کے باقی ہم منصب… خواب میں بھی … سائیکل چلانا گوارہ نہیں کرتے… سر سے لیکر
پاؤں تک… ظلم اور رشوت میں لتھڑے ہوئے اس طبقے کو… بس … مجاہدین… علماء… اور
دیندار افراد ہی اس ملک کے دشمن… اور غربت کا سبب نظر آتے ہیں… غربت ختم کرنی ہے
تو … حکمران طبقہ… اپنا ’’قبلہ دُرست‘‘ کرے… سرکاری اخراجات میں کٹوتی کرے… ملک سے
باہر پڑے اپنے سرمائے کو ملک میں لائے… روزانہ چھ چھ جوڑے بدلنے والے مضحکہ خیز
اقدامات سے اجتناب کرے… مرد… کپڑوں سے نہیں… غیرت اور مردانگی سے عزت پاتے ہیں…
اخبارات میں آرہا ہے کہ … ہمارے ملک کے وفد نے … ہندوستان کے حالیہ دورے کے دوران…
اتنے لباس بدلے کہ… ہندو حیران رہ گئے… اس پر مجھے… حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ یاد آگئے… جو … بیت المقدس کے فاتح بن کر…
فلسطین میں داخل ہوئے تو ان کے لباس پر… سترہ پیوند تھے… جبکہ… ملک شام کے سابق
حکمران… زرق برق لباس… اور طلائی زیورات کے ساتھ… ان کے قدموں کی دھول بنے ہوئے
تھے… ایک تُرک فاتح کا قصہ مشہور ہے کہ… اس نے ایک شہر فتح کیا… شہر کے سابق
حکمرانوں نے … ہتھیار ڈال دیئے… اور اس کے اعزاز میں دعوت دی… اور طرح طرح کے
کھانوں سے دسترخوان بھردیا… وہ فاتح جب دسترخوان پر بیٹھا تو… اس نے اپنے خادم سے
کہا… ہمارا کھانا لاؤ… اس نے چمڑے کا تھیلا پیش کردیا… فاتح نے اسے الٹا تو سوکھی
روٹیاں نکلیں… وہ … مزے لے لے کر … انہیں کھانے لگا… شہر والوں نے کہا… جناب یہ
کھانے آپ کیلئے بنائے ہیں… اس نے مسکرا کر کہا… ان کھانوں نے تمہیں ایسا بنادیا کہ
… تم ہتھیار اٹھا کر لڑ نہ سکے… اور غلامی اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے… اور میرے
اس کھانے نے مجھے… اس حال تک پہنچایا کہ … تم لوگ… میرے سامنے تھوڑی دیر بھی نہ
ٹھہر سکے… آج ہمارے حکمران بھی… مِیرا کے ٹھمکوں… میراتھن کی ہاؤ ہو… اور لباس کی
چمک دمک سے… ملک کو ترقی اور تحفظ دینا چاہتے ہیں… اور انہوں نے اس ملک کے شیروں
کو… پنجروں اور جنگلوں میں محبوس کرنے کی ٹھانی ہے… اور عالم کفر کے تھانیدار…
انہیں ان کاموں پر تھپکیاں دے رہے ہیں… آج کل… خبریں پڑھ کر … دل پھٹتا ہے کہ… بس
سود کھاؤ… اور غربت مٹاؤ… اللہ پاک کی قسم… مسلمانوں کی غربت کبھی سود سے نہیں
مٹ سکتی… میری… تمام مسلمانوں سے التجاء ہے کہ… وہ خود بھی سود سے بچیں … اور اپنے
اہل خانہ … اور اولاد کوبھی اس لعنت سے بچائیں… میرے بھائیو… اور بہنو… دنیا کسی
نہ کسی طرح کٹ ہی جائے گی… لیکن اگر … پیارے محبوب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی لعنت پڑ گئی تو ہم کہاں کے رہ
جائیں گے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے… سود خوروں پر واضح لعنت فرمائی
ہے… دنیا کی ہر تکلیف اور تنگی جسے ہم… صبر سے برداشت کرلیں گے… آخرت میں کام آئے
گی… اور دنیا فانی… اور آخرت دائمی ہے… اور مال کا تھوڑا ہونا… پسماندگی نہیں…
ترقی ہے… کیونکہ کئی احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ … فقراء… مالداروں سے پہلے جنت
میں داخل ہوں گے… (صحیح ابن حبان… مسند احمد)
اور اللہ تعالیٰ اپنے بعض محبوب بندوں کو… دنیا سے … اس
طرح بچاتا ہے … جس طرح… لوگ اپنے مریض کو… بعض (مضر) کھانے پینے کی اشیاء سے بچاتے
ہیں… (مستدرک حاکم)
اور حضور اکرم صلی
اللہ علیہ وسلم نے … اپنے لیے… مسکین رہنے کی دعاء
فرما کر… غریبوں کے ’’ترقی یافتہ‘‘ ہونے پر مہر ثبت فرمادی ہے… اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح حکم دیا ہے کہ…
أَحِبُّوْا
الْفُقَرَآئَ وَجَالِسُوْ ہُم (الحاکم
وقال صحیح الاسناد)
غریبوں سے محبت
کرو… اور ان کے ساتھ بیٹھو…
حقیقت یہ ہے کہ …
غربت میں مبتلاء افراد… اگر… صبر وقناعت اختیار کرکے… ایک نظر… آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے حجروں پر ڈالیں… پھر … دوسری نظر
سے… ان حجروں کے اندر کی زندگی دیکھیں… اور پھر وہ احادیث پڑھیں… جن میں… کم مال
رکھنے کی فضیلت ہے تو … شکر میں ایسے ڈوب جائیں کہ… ان کی غربت… بادشاہی… اور
مالداری میں بدل جائے… دیکھیں یہ عجیب ومبارک حدیث…
’’حضرت ابو
ذر … رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا… مسجد میں سب سے
اونچا (مالدار اور بڑا) شخص دیکھو… میں نے دیکھا تو ایک شخص کو پایا… جس نے بہت
قیمتی حلّہ (لباس) پہن رکھا تھا… میں نے عرض کیا… یہ ہے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب دیکھو سب سے ادنیٰ شخص
کونسا ہے… میں نے دیکھا تو ایک شخص بہت بوسیدہ لباس میں تھا… میں نے عرض کیا… یہ
ہے (سب سے ادنیٰ) … اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا… یہ (ادنیٰ شخص)
قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں اس (اعلیٰ شخص) جیسے زمین بھرکے
لوگوں سے افضل ہوگا‘‘… (مسند احمد… صحیح
ابن حبان)
یعنی یہ ایک غریب
شخص… دنیا بھر کے مالداروں سے زیادہ افضل اور بہتر ہوگا… اللہ تعالیٰ کے ہاں…
اور یہ دیکھیں…
حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے ہاں… غریب کون ہے؟…
اور مالدار کون؟…
ایک شخص نے حضرت
عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے پوچھا… کیا میں فقراء مہاجرین میں سے
نہیں ہوں؟… حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا… کیا تمہاری بیوی ہے جس کے پاس تم
ٹھکانا پکڑتے ہو؟… انہوں نے کہا جی ہاں… پوچھا … کیا رہنے کا گھر ہے؟ انہوں نے عرض
کیا جی ہاں… فرمایا پھر تو آپ اغنیاء میں سے ہیں… انہوں نے عرض کیا… میرے پاس تو
(بیوی اور مکان کے علاوہ) ایک خادم بھی ہے… فرمایا… پھر تو آپ ’’بادشاہوں‘‘ میں سے
ہیں… (رواہ مسلم۔ موقوفاً)
یہ موضوع بہت طویل
ہے… اور میں نہیں چاہتا کہ… تیسری قسط تک پھیل جائے… اس لیے آئیے چند ضروری باتوں
کا مذاکرہ کرکے… اسے مختصر کرتے ہیں…
)۱( سود
سے پکی توبہ کرلی جائے… دوسروں کو بھی کرائی جائے اور اس بارے میں اپنا… عقیدہ اور
نظریہ صاف رکھا جائے…
)۲( حکومت
کو اللہ پاک ہدایت دے کہ… وہ سودی نظام کو مضبوط کرنے کی
بجائے… ’’اسلامی مضاربت‘‘ کو رواج دے… ملک میں چھوٹی صنعتوں کا جال بچھائے… ملکی
سرمایہ باہر جانے سے روکے… اور ملٹی نیشنل کمپنیوں اور کلچر کی حوصلہ شکنی کرے…
)۳)حکومت کے اہلکار… بنیاد پرستی اور انتہا پسندی کے فرضی دشمن کا پیچھا چھوڑ کر… اپنی اصلاح کریں… اور اپنے اندر اور عوام میں حرص، طمع، نمائش… اور فیشن کے جراثیم پھیلانے سے بچیں… نظام حکومت ایسا مضبوط بنائیں کہ… غربت کے تمام اسباب مثلاً… سود، چوری، ڈاکہ، ملاوٹ، بدعنوانی، ناجائز ذخیرہ اندوزی… رشوت اور اسراف ختم ہوجائے… تب… چھ ماہ کے اندر ملک سے غربت کا خاتمہ ہوجائے گا… ہم نے جواسباب ِ غربت لکھے ہیں ان میں سے ایک ایک پر غور کریں تو بات آسانی سے سمجھ آجائے گی… اگر حکومت ایسا نہیں کرتی تو وہ خود… غربت پھیلانے کی مجرم ہوگی… غیر ملکی سرمایہ کاروں کو… جتنا خطرہ ملک کے راشی آفیسروں… اور دھوکے باز تاجروں سے ہے… اتنا خطرہ… کسی جہادی جماعت سے نہیں ہے…
)۴( عوام
میں… غیر ملکی چمک دمک کی تشہیر کرنے کی بجائے… اسلامی اقدار واخلاق کی دعوت عام
کی جائے… جب… قناعت اور ایثار جیسی دو صفات پیدا ہوں گی تب ہی جاکر ملک کا معاشی
قبلہ درست ہوگا…
)۵( وفاقی
شرعی عدالت کا وہ سابقہ فیصلہ جو حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہٗ نے لکھا
تھا… اسے نافذ کردیا جائے تو ملک میں… معاشی ترقی کی ان شاء اللہ نئی بہاریں آجائیںگی…
آخر میں تین تحفے
تحفہ(۱) تمام
مسلمان بہن بھائی… دعاء قناعت کو اپنا معمول بنائیں… ہمارے دل میں… قناعت آگئی اور
لالچ نکل گئی تو ہم بادشاہوں سے زیادہ غنی ہوجائیں گے… اور کسی غریب کی آنکھیں …
کسی مالدار کے سامنے رسوا نہیں ہوں گی… ہر نماز کے بعد… دل کی گہرائی اور توجہ سے…
یا صبح وشام… تین بار … یہ مسنون دعاء پڑھ لیا کریں…
اَللّٰہُمَّ
قَنِّعْنِی بِمَا رَزَقْتَنِی وَبَارِکْ لِی فِیْمَا اَعْطَیْتَنِی
ترجمہ:… اے میرے
پروردگار آپ نے جو روزی مجھے دی ہے اس پر مجھے قناعت (یعنی صبر، اطمینان، خوشی اور
کفایت) عطاء فرمادیجئے اور آپ نے جو کچھ مجھے دیا ہے… اس میں… میرے لئے برکت عطاء
فرمادیجئے… یہ بہت مبارک، موثر… اور عجیب دعاء ہے… اگر یہ قبول ہوگئی تو… دنیا میں
ہی مزہ شروع ہوجائے گا… اور اپنا کچا مکان… وائٹ ہاؤس سے زیادہ … افضل اور مزیدار
لگنے لگے گا … اور دل سکون کی جنت سے بھر جائے گا… ان شاء اللہ … اور ہمیں کبھی اپنے دل یا آنکھوں کو کسی
مالدار کے سامنے نہیں جھکانا پڑے گا… یہ دیکھیں … حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب یہ اشعار…
لا تخضعن لمخلوق
علی طمع
فانّ ذلک وہنٌ منک
فی الدین
واسترزق اللہ مما فی خزائنہ
فانما الامر بین
الکاف والنون
ان الذی انت ترجوہ
وتأملہ
من البریّۃ مسکین
ابن مسکین
ترجمہ: … لالچ اور
طمع کی وجہ سے کسی مخلوق کے آگے عاجزی نہ کرو… اس لیے کہ ایسا کرنا دین میں تمہاری
ایک قسم کی کمزوری ہے… اللہ تعالیٰ سے… اس کے خزانوں میں سے روزی مانگو… اس
لیے کہ معاملہ کاف ونون (کُنْ) کے درمیان ہے… مخلوق میں سے جس سے تم (روزی کی)
امید رکھتے ہو… وہ تو خود مسکین (محتاج) … اور مسکین (محتاج) کا بیٹا ہے…
ماشاء اللہ … کیا خوب حکیمانہ کلام ہے… اللہ کرے… میرے اور آپ کے دل کا ’’حال‘‘ بن جائے… اور
اگر ہم نے کبھی اپنی زندگی میں… کسی ’’مالدار‘‘ سے طمع یا لالچ رکھی ہو تو … اللہ تعالیٰ … اپنے عفو وفضل سے معاف فرمائے…
تحفہ (۲) فقر
وفاقہ … ہر انسان برداشت نہیں کرسکتا… اور بعض اوقات یہ فقر وفاقہ اسے کفر تک
گھسیٹ لے جاتا ہے… اس لیے … صبح وشام… اس مسنون دعاء کو بھی… ورد میں رکھنا چاہئے…
جس میں … فقر وکفر سے پناہ مانگی گئی ہے… لیجئے یہ دعاء… ترجمے اور درست الفاظ کے
ساتھ … یاد… کرلیجئے…
اَللّٰہُمَّ
إنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْکُفْرِ وَالْفَقْرِ
ترجمہ :… اے میرے
پروردگار میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں کفر سے… اور فقرسے
تحفہ(۳) روزی کی تنگی دور
کرنے … اور غربت ختم کرنے کا ایک خاص عمل… حضرت امام غزالی ؒ نے… حدیث شریف کے حوالے سے لکھاہے… بے انتہا
طاقتور… اور موثر ترین عمل ہے… جو بھی… یقین اور توجہ کے ساتھ اپنائے گا… ان شاء اللہ … بہت فائدہ پائے گا…
امام غزالی ؒ لکھتے ہیں…
ایک شخص آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کہ مجھ سے دنیا نے پشت
پھیرلی ہے اور میں تنگ دست ہوگیا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو فرشتوں کی نماز اور
مخلوق کی تسبیح کیوں نہیں پڑھتا۔ اس سے تو لوگوں کو روزی ملتی ہے… اس نے عرض کیا
کہ وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صبح صادق کے طلوع سے فجر
کی نماز پڑھنے تک کے اندر سو بار
سُبْحَانَ اللہ وَبِحَمْدِہ سُبْحَانَ اللہ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہ اَسْتَغْفِرُ اللہ
پڑھ لیا کرو۔ دنیا
تیرے پاس ذلیل وخوار ہو کر آئے گی… (احیاء العلوم… کیمیائے سعادت)
یعنی جب فجر کی
نماز کا وقت داخل ہوجائے… صبح صادق نکل آئے تو… اس وقت سے لیکر… فرض نماز ادا کرنے
تک … یہ تسبیح واستغفار ایک سو بار پڑھ لی جائے… بہتر یہ معلوم ہوتا ہے کہ … فجر
کی سنتیں پڑھ کر… یہ عمل کیا جائے… اور پھر فجر کے فرض ادا کرلیے جائیں… اس عمل
میں لفظ … سبحا ن اللہ … ویسے ہی روزی کی
تأثیر رکھتا ہے… حمد میں شکر ہے… اور شکر سے نعمتیں بڑھتی ہیں… اور آخر میں…
استغفار … اور استغفار تو آسمان کے دروازے بھی کھلوادیتا ہے…
لیجئے… القلم کے
پیارے قارئین… امام غزالیؒ کا تحفہ… اور غربت ختم… روشن خیال مفکر… قہقہے لگائے گا
کہ… دیکھو… ملاّ کی نا سمجھی… دنیا چاند تک پہنچ گئی… اور معیشت کا فن آسمان کو
چھونے لگا… ملاّ کو معیشت کی کیا سمجھ… اس لیے… سودی بینک کے خلاف لکھتے لکھتے…
سعدی کی تان… سبحان اللہ وبحمدہ پر آکر ٹوٹی… ہاں روشن خیال کو ہنسنے
دیجئے… ملاّ کو واقعی … اللہ پاک …کی حمد وثنا… اور وفاداری کے سوا … کچھ
نہیں آتا… اللہ کرے… کچھ اور آئے بھی نہ… پھر بھی الحمدﷲ سوا
چودہ سو سال سے… رب تعالیٰ اسے … کافروں کے بوٹ پالش کیے بغیر… خوب روزی دے رہا
ہے… خوب روزی… ہاں مسلمانو!… اللہ پاک کے وفادار بنو… سود چھوڑو… حلال کی جستجو
کرو… اور پڑھو…
سبحان اللہ وبحمدہ… سبحان اللہ العظیم وبحمدہ… استغفر اللہ …
اور… غربت ختم…
روشن خیال بھائی فرماتے ہیں کہ … مولوی کو فنِّ معیشت نہیں آتا… اور اس کی تان…
’’سبحان اللہ ‘‘ پر ٹوٹتی ہے… ارے آپ تان
کی بات کرتے ہو… ہماری تو قلبی تمنا ہے کہ… تان تو تان ہمارا سانس بھی… سبحان اللہ … الحمدﷲ… اور … لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر
ٹوٹے… اللہ کرے ایسا ہو… اور اگر… اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا… اور ایسا ہی ہوا تو… دنیا
کے ساتھ ساتھ … آخرت اور قبر کی بھی… غربت ختم… ان شاء اللہ …
٭٭٭
اللہ پاک کا کرنا
دیکھیں … ہمارے دو ہفتے ایک ہی مضمون میں گزر گئے… ’’غربت ختم‘‘ کے موضوع پر بات
لمبی ہوگئی اور ادھر دنیا میں … بہت بڑے بڑے عجیب واقعات پیش آگئے… مثلاً …
واشنگٹن ٹائمز کا وہ کارٹون … جو پاکستانی قوم کے گلے میں جوتوں کا ہار بنا ہوا ہے
… گوانتاناموبے میں (نعوذ باللہ) قرآن پاک کی بے حرمتی … جس نے مسلمانوں کے سینے
چھلنی کردیئے ہیں… پاکستان اور جہاد کشمیر کے زبردست حامی سید علی گیلانی … اور
بھارتی اداکارہ ’’رانی مکھر جی‘‘ … یہ بڑا دلچسپ موضوع ہے … اور ادھر ہمارے نمونہ
عبرت پیر مغاں … جناب صبغت اللہ مجددی کی سخاوت کہ طالبان اور حکمت یار ہتھیار ڈال
کر … معافی پاسکتے ہیں … میرا ہم سفر دوست ’’بھائی خیال جی‘‘ مجھے اکسا رہا ہے کہ
… پچھلے ہفتے کی تلافی کرو… اور ان چاروں موضوعات پر کالم لکھ ڈالو … اور اس کی
خواہش ہے کہ … اس کے کچھ ’’فرضی ڈھکوسلے‘‘ بھی مضمون میں شامل کئے جائیں… چلیں
اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے … بات کا آغاز کچھ واقعات و حکایات سے کرتے ہیں …
آپ ان واقعات اور حکایات کو اوپر والی چار خبروں کے ساتھ جوڑتے جائیں…
ولید بن یزید بن
عبدالملک کا انجام
یہ بہت عجیب شخص
تھا … نام کا مسلمان مگر پکا شرابی … رقص ٗ موسیقی اور عورتوں کا رسیا… اور دین کا
مذاق اڑانے والا … اس کا چچا … ہشام بن عبدالملک … خلیفہ تھا … خوبصورت اور خوب
سیرت … اسے اپنے بھتیجے ولید کی حالت پر رنج بھی تھا اور غصہ بھی … اور بالآخر اس
نے ’’ولید‘‘ کو مارنے کا ارادہ کیا مگر ولید بھاگ نکلا … اللہ کی شان … ولید اپنے
چچا سے چھپتا پھرتا تھا ایک بار جنگل میں اپنے دوستوں کے ساتھ جارہا تھا کہ … دور
سے غبار اٹھتا دیکھا … وہ ڈر گیا کہ … بس چچا کا لشکر آیا اور اب میری خیر نہیں …
گھڑ سواروں کا دستہ قریب پہنچا تو … انہوں نے اتر کر ولید کو نہایت ادب سے سلام
کیا … اور بتایا کہ ہم شاہی ڈاک کے قاصد ہیں … آپ کے چچا کا انتقال ہوچکا ہے … اور
آپ کو مسلمانوں کا خلیفہ بنادیا گیا ہے … بس پھر کیا تھا ولید موت کے منہ سے حکومت
کے تخت پر آبیٹھا … اور اپنی خرمستیوں میں مگن ہوگیا کہ اب کوئی روک ٹوک کرنے والا
بھی نہیں تھا … وہ بہترین شاعر تھا اور گھڑ سوار بھی مگر … شراب بغیر گزارہ نہیں …
ایک بار اتنا مست ہوا کہ تالاب بنانے کا حکم دیا … اور کہا کہ اسے شراب سے بھردو …
بس پھر … اسی میں غوطے لگاتا رہتا اور جی بھر کر پیتا … باقی وقت … آلات موسیقی
بجانے … ڈانس کرنے اور … شہوت پوری کرنے میں گزارتا … دینی معاملات پر بے حد گستاخ
اور بد زبان تھا … ایک بار اپنی ایک باندی کے ساتھ تھا … موذن نے بتایا کہ نماز کا
وقت ہوگیا ہے … کہنے لگا اس باندی کو لے جائو یہ ناپاکی کی حالت میں لوگوں کی امامت
کروائے … اس کے ’’روشن خیال‘‘ کارنامے … ہر آئے دن بڑھ رہے تھے … اور اس کی جرأت
اور گستاخی میں ہر گھڑی اضافہ ہو رہا تھا … مگر آسمان خاموش تھا … اور مسلمان صبر
کر رہے تھے … اچانک ایک دن اس ظالم سے … ایسی غلطی ہوئی کہ … آسمان نے تیور بدل
لئے … اور ڈھیل کی مدت ختم ہوگئی … ہوا یہ کہ اس ظالم نے خوش فالی کی نیت سے قرآن
پاک کھولا تو … یہ آیت مبارکہ نکلی …
وَاسْتَفْتَحُوْا
وَخَابَ کُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ (سورۃ ابراہیم آیت ۱۵)
ترجمہ: اور
پیغمبروں نے (اللہ تعالیٰ سے اپنی) فتح چاہی تو ہر سرکش ضدی ناکام ہوگیا
جبار کہتے ہیں ظلم
و جبر کرنے والے سرکش اور متکبر کو … اور عنید کہتے ہیں ضد اور عناد کرنے والے کو
… ولید نے ان الفاظ سے اپنی طرف اشارہ سمجھا اور بدمستی اور غصے میں آکر … اس ملعون نے… (العیاذ باللہ) قرآن پاک کے اوراق پھاڑ
دیئے … اور عربی اشعار پڑھ کر کہنے لگا کہ تو مجھے جبار و عنید … کہتا ہے … ہاں
میں جبار اور عنید ہوں … اور بے شک حشر کے دن جب اللہ تجھ سے پوچھے تو کہہ دینا کہ
مجھے ولید نے پھاڑا تھا…
حشر کا دن تو بہت
دور تھا … قرآن پاک کی آہ نے اثر دکھایا … اور چند دن بعد اسے معزول کردیا گیا …
بھاگ کر کہیں پناہ لی … مگر لوگوں نے پکڑلیا… اور پھر سرکش کا کٹا سر پورے شہر میں
گھمایا جارہا تھا … اور آخر میں اس سر کو خود اس کے محل پر لٹکا دیا گیا … (ماخوذ از
حیوٰۃ الحیوان ص ۱۰۸
ج۔۱)
قرآن بہت اونچی ٗ
زندہ … اور عالی شان کتاب ہے … خود مجھے … افغانستان کے جہاد میں کھینچ کر لے جانے
والے … قرآن پاک کے وہ مقدس اوراق تھے … جنہیں سوویت یونین کے بدبخت فوجیوں نے …
العیاذ باللہ استنجا کیلئے استعمال کیا تھا … ان اوراق کی مقدس ’’آہ‘‘ کراچی پہنچی
… اور مجھ جیسے ہزاروں افراد کو … آگ کا شعلہ بناکر … افغانستان لے گئی … سوویت
یونین کا حشر بھی … ولید سے کم نہیں ہوا … اس کا نام و نشان تک مٹ گیا … اور اب
دنیا میں کسی کتے کا نام بھی … سوویت یونین نہیں ہے … امریکہ کے فوجیوں نے … قرآن
پاک کے ساتھ جو سلوک کیا … اس نے ہمیں تو تڑپایا … مگر امریکہ نے خود … اپنے
’’ولیدی انجام‘‘ کا اشارہ دے دیا ہے … قرآن دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہے … اور یہ
ازلی ابدی کتاب … اپنا ’’انتقام‘‘ لینا خوب جانتی ہے …
دو چرسیوں کا قصہ
سنا ہے کہ دو چرسی
جب سوٹے لگا لگا کر … بالکل اسٹارٹ ہوگئے تو ایک نے ترنگ میں آکر کہا … یار میں
سوچ رہا ہوں … یورپ پورا خرید لوں … دوسرے نے سنجیدگی سے کہا… یار تمہاری مرضی مگر
میں تو جاپان خرید رہا ہوں … ایک تیسرا چرسی جو ذرا فاصلے پر بیٹھا تھا… اور مکمل چارج
ہوچکا تھا … اس نے کہا … تم دونوں تب خریدو گے جب میں بیچوںگا… حالانکہ میں نے تو
ابھی … یورپ اور جاپان کو فروخت کرنے کا ارادہ نہیں کیا … لندن ٗ جرمنی … امریکہ ٗ
برطانیہ … پشاور ٗ کوئٹہ … اور دوسرے علاقوں سے چھپ چھپ کر افغانستان آنے والے …
غیر ملکی فوجوں کے کڑے پہرے میں اپنا اجلاس کرنے والے … سینکڑوں باڈی گارڈوں کے
جھرمٹ میں پیشاب اور تقاضے کے لئے جانے والے جرگے نے … نہایت سخاوت اور فراخدلی سے
… طالبان کو پیشکش کی ہے کہ … آکر … ہم سے معافی لے جائو … واہ کیا خوب پرواز ہے …
طالبان تو اب بھی افغانستان کے بہت سارے علاقوں میں … دندناتے پھر رہے ہیں … کیا
معافی دینے والے … کابل کی گلیوں میں بھی اکیلے گھوم سکتے ہیں … اونچے آدمی کے
کندھے پر بیٹھے ہوئے چھوٹے بچے … بعض اوقات غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں … یہ
حضرات بھی … آج کل امریکی کندھے پر بیٹھے ہیں … بابا … معافی دینے کی بجائے …
معافی لینے پر غور کرو … بشرطیکہ … آپ نے بھی سوٹا نہ لگایا ہوا ہو …
گیلانی … اور رانی
قدرت اللہ شہاب …
بہت عجیب آدمی گزرے ہیں… جموں کے رہنے والے تھے … انڈین سول سروس کے آفیسر بنے …
پاکستان کی تحریک میں خفیہ حصہ لیا … ملک بنا تو ادھر آگئے … ضلع جھنگ کے ڈپٹی
کمشنر رہے … ہالینڈ میں پاکستان کے سفیر رہے … اور غلام محمد سے ایوب خان تک … صدر
مملکت کے سیکرٹری خاص بھی رہے … دیندار … شریف … اور ادیب آدمی تھے… انہوں نے شہاب
نامہ کے نام سے …اپنی زندگی کے کچھ حالات لکھے ہیں … یہ اچھی خاصی بھاری بھرکم
کتاب ہے … میں نے پڑھنا شروع کی تو پھر ختم کئے بغیر نہ رکھ سکا … گاڑی کی اگلی
سیٹ پر بیٹھ کر … پنجاب سے شروع کرتا … اور اسلام آباد تک پڑھتا رہتا … چنانچہ چند
ہی دنوں میں … اپنی بہت سی یادیں دل میں چھوڑ کر … ختم ہوگئی … انہوں نے ہمارے پاک
ملک کے سربراہان مملکت کے عجیب واقعات لکھے ہیں … جنرل یحییٰ خان کے بارے میں لکھا
ہے کہ انہوں نے اپنی ایک پسندیدہ عورت … ’’رانی‘‘ کو جنرل کا رینک دے کر … جنرل
رانی بنادیا تھا … ابھی چند دن پہلے … ہمارے موجودہ صدر صاحب نے … انڈیا کی
اداکارہ … رانی مکھر جی کو پاکستان آنے کی دعوت دی ہے … وہ بھی … رانی تھی … اور
یہ بھی ’’رانی‘‘ اللہ خیر کرے … اُس رانی کے زمانے میں … بنگال … ہم سے جدا ہوا …
اور یہ ’’رانی‘‘ خود بنگالی ہے… بس قوم مزید چند دن صبر کرے… رانی آنے والی ہے …
ادھر ہمارے پاکستان کے دیوانے … سیدعلی گیلانی … غم زدہ … پریشان … اور کسی قدر
ناراض بھی ہیں … انہوں نے پاکستان کی خاطر اتنی قربانیاں دی ہیں کہ … ہمارا … یہاں
کا حکمران طبقہ اس کا خواب میں بھی تصور نہیں کرسکتا … مگر اب سید علی گیلانی کو
بری طرح نظر انداز کیا جارہا ہے … اور تو اور …ان کے خاتمے کی باتیں … زبانوں پر
ہیں … دراصل … گیلانی صاحب کو شکوہ نہیں کرنا چاہئے … ہم اب رانی کو سنبھالیں یا
گیلانی کو؟… رانی ادھر نہ آئی تو ہم ’’بین الاقوامی‘‘ برادری کو کیا منہ دکھائیں
گے؟ … ہاں کشمیر نہ ملا تو کیا ہوا؟ … وہاں تو صرف ایک لاکھ افراد ہی شہید ہوئے
ہیں … جو … ہمارے لئے معمولی سی بات ہے …
خیال جی کے
ڈھکوسلے
خیال جی سے پوچھا
… بھائی واشنگٹن ٹائمز بڑا اخبار ہے … اس نے پاکستان کو ’’کتا‘‘ قرار دے دیا بتائو
… اب تو تمہارے روشن خیالوں کو کچھ عبرت ہوئی؟… خیال جی نے کہا … عبرت! … ارے وہ
تو خوشیاں منا رہے ہیں … اور ایک مخلوط پارٹی کا اہتمام کرنے کا سوچ رہے ہیں … وہ کہتے
ہیں کہ … ہمارے لئے اس سے بڑی اور کیا سعادت ہوسکتی ہے کہ … امریکہ جی نے ہم
خاکساروں کو اپنا کتا قرار دے دیا … بالآخر ہماری قربانیاں رنگ لے آئی ہیں … اور
ہمیں ہماری منزل مل چکی ہے … پھر کچھ … روشن خیال مردوں … اور عورتوں میں … کتے کی
تصویر پر جھگڑا ہوگیا … مرد کہتے تھے کہ … یہ کتا ہے اور امریکہ نے ہمیں اعزاز
بخشا ہے … کیونکہ قربانیاں ہم نے دی ہیں … دہشت پسندوں کو ہم نے پکڑا … ان کے کلمہ
اور قرآن پڑھنے کے باوجود ہم نے انہیں قتل کیا … انتہا پسندی کا خاتمہ ہم کررہے
ہیں … وزیرستان کی صفائی ستھرائی ہم نے کی ہے … اور بہت کچھ … مگر عورتوں کا کہنا
تھا کہ … دیکھو … تصویر سے یہ کتیا لگتی ہے … دراصل امریکہ نے ہمیں یہ سعادت بخشی
ہے … اس لئے کہ … روشن خیالی کے لئے جو قربانی ہم دے رہی ہیں … وہ تو بیان سے بھی
باہر ہے … مردوں نے جواب دیا … تمہاری قربانیاں اپنی جگہ … مگر … ہمارے پیارے
امریکی فوجی کے الفاظ تو پڑھو … وہ کہہ رہا ہے … گڈ بوائے … اچھے لڑکے … اگر یہ
کتیا ہوتی تو … ’’گڈ گرل‘‘ کہتا … عورتوں نے کہا … امریکی باذوق لوگ ہیں … لڑکیوں
کو لڑکا … اور لڑکوں کو لڑکیاں بنانا ان کا مشغلہ ہے …یہ جھگڑا جاری تھا کہ … ایک
عقلمند روشن خیال نے کہا کہ … چھوڑو اس بحث کو … امریکہ نے ہم سب کو کتا ہونے کا
جو شرف دیا ہے بس اس پر خوشی منائو … ہائے میں قربان … مجھے زندگی میں اتنا اونچا
مقام ملے گا … یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں تھا … ہائے مجھے تو خوشی کے مارے ساری
رات نیند نہیں آئی … دل چاہتا تھا کہ … ابھی ٹکٹ کٹوائوں … اور بھونکتا ہوا ان کے
قدموں میں لوٹ پوٹ جائوں … عقلمند کی بات سن کر … سب خوشی سے چیخنے چلانے لگے …
اور بکرے کی چانپوں پر سے گوشت بھنبھوڑنے … اور انڈیا سے آئی ہوئی شراب پینے لگ
گئے … پھر پتہ ہے کیا ہوا؟ … خیال جی نے پوچھا … جی کیا ہوا؟… ایک صاحب نے اٹھ کر
… قرارداد پیش کی کہ … ہمارے پیارے ہندو بھائی … ہنومان جی سے محبت کرتے ہیں …
ہنومان لنگور کو کہتے ہیں … آپ لوگوں نے ٹی وی پر دیکھا ہوگا کہ … بہت سارے ہندو …
رام لِلّا کے موقع پر … ہنومان کی طرح … پلاسٹک کی لمبی سی دم لگاتے ہیں … اور
چہرے پر لنگور کا ماسک پہنتے ہیں … اور جو مذہبی ہندو ہیں وہ تو منت مانتے ہیں کہ
ہمارا فلاں کام ہوگیا تو … ہم اتنے دن تک ’’ہنومان بھیس‘‘ میں رہیں گے … دم لگائیں
گے اور چہرہ بندر جیسا بنائیں گے … کیا آپ لوگوں کو یہ معلوم ہے؟… سب نے کہا …
بالکل ہم نے کئی بار ٹی وی پر دیکھا ہے … اس پر وہ صاحب کہنے لگے … بس لیڈیز اینڈ
جنٹل مین … میری تجویز ہے کہ … ہم بھی … کتے کی طرح دم لگائیں … اور چہرے پر ماسک
پہنیں … تاکہ … ہمارے پیارے امریکہ کو یاد رہے کہ ہم اس کے کیا لگتے ہیں؟… اس
تجویز پر سب نے خوب داد دی … اور تالیاں بجائیں … ایک خاتون نے فرمایا …لوگوں کو
کیا پتہ … امریکہ … اور یورپ میں کتے کی کیا شان ہے … ہمارے ہاں تو جہالت کی وجہ
سے لوگ اسے حقیر سمجھتے ہیں … حالانکہ … اگر انہیں پتہ ہو کہ وہاں کتا کتنا پیارا
ہوتا ہے تو لوگ آج … ہمیں دیکھنے کیلئے جمع ہوں … مگر ہائے ہماری پاگل قوم اور اس
کی قسمت … ہمارے صدر صاحب نے اپنے ابتدائی زمانے میں دو کتے اٹھا کر … اسی لئے
فوٹو کھنچوایا تھا تاکہ لوگوں کو … کتے کی اہمیت سمجھائی جاسکے … مگر ہماری جاہل
قوم نہ سمجھی … مگر … ہم لوگوں نے ہمت نہیں ہاری … اور آج پوری قوم کو … کتا بنوا
کر دم لیا … میری تجویز ہے کہ … اسمبلی میں … دو تہائی اکثریت کے ذریعہ کتے کی
اہمیت پر بل پاس کروایا جائے … تالیاں … خیال جی نے جب یہ کہانی سنادی تو میں نے
ان سے کہا … یار … روشن خیالوں کو چھوڑو … پاکستان پاک وطن ہے … اس کی جڑوں میں
شہداء کا مقدس خون ہے … پاکستان ہمیں آسانی سے نہیں ملا … کٹی ہوئی لاشوں کے انبار
… اور خون کے دریا عبور کرنے پڑے … آج … پاکستان کو کتا کہا گیا ہے تو پوری قوم رو
رہی ہے … تم کسی طرح … امریکی سفیر سے ملاقات کا وقت لو … اور اسے سمجھائو کہ …
ہماری بہت توہین ہوئی ہے … مگر خیال جی! تمہیں امریکی سفیر سے ملاقات کا وقت مل
جائے گا؟… خیال جی نے چٹکی بجا کر کہا … منٹوں میں مل جائے گا … میں فون کرکے
بتائوں گا کہ … اسلامی دہشت گردوں کے بارے میں کچھ بتانا ہے … بس پھر کیا … گاڑی
میرے دروازے پر ہوگی… ہمارے ملک کے کئی دانشور … اور صحافی اسی حربے سے تو امریکہ
کو لوٹ رہے ہیں … اور خوب پیسہ بنا رہے ہیں … مگر؟… مگر کیا خیال جی؟… وقت تو مل
جائے گا مگر میں … اسے کس طرح سمجھائوں گا کہ ہمیں کتا نہ کہے … تم کہہ دینا کہ
دیکھو! ہم تو اچھے خاصے انسان ہیں … مگر وہ نہیں مانے گا … وہ کہے گا … تمہیں کتوں
والے کام کرتے ہوئے تو شرم نہ آئی … اب صرف کتا کہلوانے پر کیوں چیخ رہے ہو؟… کتا
کیا کرتا ہے ؟… ہڈی کی خاطر … ہر کام … اچھایا برا … کتے کا اپنا کوئی نظریہ نہیں
ہوتا … اسے بس اپنے پیٹ کی فکر ہوتی ہے … کتے کا کوئی قومی تشخص نہیں ہوتا … تم
لوگوں کو ہم نے ڈالر دکھائے … تم نے … اپنی دھرتی ہمارے لئے کھول دی … ہم نے تمہیں
معاشی پیکج دیئے … تم نے … ملا عبدالسلام ضعیف کو باندھ کر ہمارے حوالے کردیا … ہم
نے تمہیں تھوڑا سا ڈرایا … تم نے اپنے چھ سو مسلمانوں کو پکڑ کر ذبح کردیا … ہم نے
تمہیں جو کام دیا … تم نے اسی کو اہم سمجھا … اور کہیں بھی تمہارا نظریہ … ڈالر کے
مقابلے میں کھڑا نہ رہ سکا … اب بتائو … کیا تمہیں کوئی اور نام دیں … خیال جی! کی
آنکھوں میں آنسو بہہ رہے تھے … انہوں نے سراٹھا کر کہا … ٹھیک ہے میں امریکی سفیر
سے مل آتا ہوں … جب وہ اپنے دلائل دے کر پوچھے گا کہ تمہیں کتا نہیں تو کیا کہوں؟…
تو میں کہوں گا … سفیر صاحب … ہمیں کتا نہ کہو … وہ پوچھے گا … پھر کیا کہوں؟… تو
میں کہہ دوں گا … کتے سے بدتر … کیونکہ … کتا اپنے مالک اور آقا کا وفادار ہوتا ہے
… جبکہ … ہم تو … اپنے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے وفادار بھی نہیں ہیں… انہوں نے
ہمیں … مسلمانوں پر ظلم سے روکا … مگر ہم نے تمہاری خاطر اپنے مسلمانوں کو مارا …
اور کاٹا … انہوں نے ہمیں فرمایا کہ مسلمانوں کو کافروں کے حوالے نہ کرو … مگر ہم
نے اپنے مسلمانوں کو … تمہارے حوالے کیا … وہ اللہ اور اس کے رسول کا واسطہ دیتے
رہے … ان کی بیٹیاں برباد کردی گئیں … ان کی عورتیں بازاروں میں بیچ دی گئیں … اور
انکے شیرخوار بچے تڑپ تڑپ کر مر گئے … مگر ہمیں ذرہ برابر ترس نہ آیا … میرے خیال
میں کوئی کتا بھی … اپنی قوم کیلئے … اتنا سنگدل نہیں ہوسکتا … اس لئے سفیر صاحب …
ہمیں کتا نہ کہو… اوردوسری بات یہ کہ جو لقب دینا ہو ہمارے ان حکمرانوں کو دیا
کرو… جو آپ کے محبوب ہیں… عوام کو نہیں … کیونکہ عوام نہ آپ کی حامی ہے نہ محبوب…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ امت مسلمہ پر رحم فرمائے… آپ نے یہ خبر
پڑھ لی ہوگی کہ… جون کے پہلے ہفتے میں… بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر… لال
کرشن ایڈوانی… پاکستان آرہے ہیں… پہلے انہوں نے سردیوں میں آنا تھا مگر ہماری خوش
نصیبی کہ وہ نہ آئے… اور اب ہماری بدبختی کہ انہوں نے رخت سفر باندھ لیا ہے۔ پہلے
ان کو پاکستان کے دورے کی دعوت… ہمارے نامور… اور مشہور زمانہ سابق وزیر داخلہ
فیصل صالح حیات نے دی تھی… وزارت داخلہ کی کرسی پر صالح حیات صاحب کا بیٹھنا ایک
قومی المیہ تھا… انہوں نے… مجاہدین اور دینی طبقے کو خوب ستایا… اپنی ’’مخصوص
ذہنیت‘‘کے تحت ملک کے نامور دینی افراد کو ظلم کا نشانہ بنایا… کئی جماعتوں پر
پابندی لگا کر… انتشار پیدا کیا… اور لال کرشن ایڈوانی جیسے ’’اسلام دشمن مشرک‘‘
کو پاک زمین… ناپاک کرنے کی دعوت دی… موصوف کے دل میں بھارت کیلئے بہت کھلی جگہ …
بلکہ … پورا اسٹیڈیم تھا… اخبارات میں یہ خبر بھی نظر سے گزری تھی کہ وہ ایک
بھارتی اداکارہ کی یاد میں آہیں بھرتے ہیں… اور فرماتے ہیں کہ میں نے اس سے شادی
کرنی تھی مگر… وہ … شادی نہ مانی… انہوں نے جب ایڈوانی کو دورے کی دعوت دی تو ملک
کے وفادار طبقے میں کھلبلی مچی تھی… تب … کہا گیا کہ مغربی دنیا کو مطمئن کرنے
کیلئے محض رسمی دعوت ہے… ویسے اس وقت ہر وزیر… اور وزیرہ نے اپنی وزارت کو… ’’ملکی
صدارت‘‘ کی طرح پختہ بنانے کیلئے… ایسے اقدامات شروع کردیئے تھے جن سے ’’عالمی
برادری‘‘ خوش ہو… اور ان کی ’’روشن خیالی‘‘ کی داد دے… آپ اس زمانے میں… محترمہ
زبیدہ جلال کے بیانات دیکھ لیجئے… فرمایا کرتی تھیں کہ مجھے ہٹانا آسان نہیں ہے…
میرا تقرر کہیں اور سے ہوا ہے… ’’ایڈوانی‘‘ کو دعوت ہمارے سابق وزیر داخلہ نے دی…
اُس وقت ایڈوانی بھی بھارت کے وزیر داخلہ تھے… مگر کچھ عرصہ بعد… دونوں کے نیچے سے
کرسی کھسک گئی… ایڈوانی اپوزیشن کے بینچوں پر جا بیٹھے… اور فیصل صالح حیات صاحب…
نے کشمیر اور ملک کے شمالی علاقہ جات میں آشیانہ بنالیا… چشم بد دور… انہوں نے
وہاں بھی ’’فوجی آپریشن‘‘ کی سفارش فرمادی ہے… اے ’’نیب‘‘! تیرا شکریہ! تو نے ملک
کو کیسے کیسے تحفے عطاء فرمائے… اب جبکہ… ایڈوانی کا قصہ ختم ہوچکا تھا… اور اس کے
خواب اس کی آنکھوں کا کانٹا بن چکے تھے… ہمیں بھی اسے بھلا دینا چاہئے تھا… مگر…
ایک سو ساٹھ ڈگری کے یو ٹرن نے ہمیں کہیں کا نہیں رکھا… اب کی بار… ملک کے صدر اور
وزیر اعظم نے ایڈوانی کو… دورہ پاکستان کی دعوت دے کر… ملک کی نظریاتی سرحدوں کو
ہلا کر رکھ دیا … ایڈوانی کی عمر اٹھترّ سال کے لگ بھگ ہے… وہ بی جے پی کا دماغ
سمجھے جاتے ہیں… اور ان کی لابی… اٹل بہاری واجپائی کی لابی سے زیادہ مضبوط ہے…
مگر مجھے یہ لکھتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ… ایڈوانی کے تمام خواب اس کی زندگی ہی
میں بکھر گئے ہیں… اور جب ان کی آنکھیں بند ہوں گی تو ان شاء اللہ … وہ دنیا کے ان چند ’’بڑے بدنصیب‘‘ لوگوں
میں سے ہوں گے … جو … اپنے دل میں شرک کے علاوہ… ’’خوفناک حسرت‘‘ کے سانپ بھی لے
کر… آگ کے حوالے کیے جائیں گے… بشرطیکہ انہوں نے مرتے دم تک کلمہ طیبہ کا اقرار نہ
کیا… یہ کیسے؟…
اس بات کو سمجھنے
کیلئے ہمیں… ’’اصل ایڈوانی‘‘ دیکھنا ہوگا… وہ ایڈوانی جس نے … بھارت کو دوسرا
اسپین بنانے کا پلان بنایا تھا … جی ہاں… آر ایس ایس کی سترّ پچھتّر سالہ زیر
زمین… نظریاتی تحریک کا نچوڑ … ’’ایڈوانی‘‘… ہے… ان لوگوں نے ہر میدان میں کوشش
کی… اور… تعلیم وتربیت کے ذریعے… اپنے نظریاتی افراد تیار کیے… یہ خوفناک تحریک
ایک کالی آندھی کی طرح بھارت کے ہر طبقے پر چھا گئی… اور… فوج سے لے کر سول اداروں
تک ان کے افراد پہنچ گئے… ایڈوانی کی ذمہ داری تھی کہ وہ… فائنل راؤنڈ کھیلے…
ایڈوانی نے اسپین کا دورہ کیا… اسپین میں بھی ایک طویل زمانے تک… مسلمانوں کی
خلافت قائم تھی… اس زمانے میں اسے ہسپانیہ کہا جاتا تھا… مگر… پھر ایسا خوفناک
صلیبی انقلاب آیا کہ… وہاں سے… اسلام کا نام تقریباً مٹادیا گیا… مسلمانوں کی
عبادت گاہیں… چرچ اور سیاحتی مرکز بن گئے… لاکھوں افراد کاٹ دیئے گئے… لاکھوں کو
زبردستی مرتد بنایا گیا… اسلام کا نام جرم… اور اسلامی اصطلاحات کا استعمال…
بغاوت… اور سزا صرف ایک … یعنی موت… ایسا کس طرح ممکن ہوا؟… ایڈوانی یہی سمجھنے …
اور سیکھنے اسپین گئے… خوب مطالعہ … خوب مشورے… اور بھرپور پلاننگ… ادھر… اسرائیل
کے ساتھ بھی… زبردست قسم کا گٹھ جوڑ… اور مشاورت… انڈیا میں میدان تیار تھا… فوجی
ہیڈکوارٹرز سے لے کر… بالی وڈ کے فنکاروں تک… ہر جگہ… آر ایس ایس کے خیر مقدم کی
تیاریاں تھیں… اور نرسمہا راؤ جیسا ’’نظریاتی ہندو‘‘ خود کانگریس کو پیچھے دھکیل
رہا تھا… ایڈوانی کے دو مقاصد تھے… پہلے… ہندوستان کو مسلمانوں سے خالی کرانا… قتل
وغارت، زبردستی مرتد بنانے… اور بے حیائی کے ذریعے… پھر … پورے جنوبی ایشیاء کو …
مہابھارت… یا … اکھنڈ بھارت بنانا… کام کے آغاز کے لئے… بابری مسجد کا انتخاب کیا
گیا… پھر اس کے بعد… کاشی اور متھرا کی مساجد کا نمبر تھا… اور پھر ’’ان تین ہزار
مساجد ‘‘ کا … جن کی فہرست ’’ایڈوانی‘‘ نے جاری کی… اور میں نے خود اپنی آنکھوں سے
دیکھی… اسپین کے قاتل عیسائیوں … اور مسجد اقصیٰ کی حرمت پامال کرنے والے یہودیوں
نے یہی سبق ایڈوانی کو پڑھایا تھا… مساجد گریں گی تو مسلمانوں میں ہلچل ہوگی… اس
ہلچل کے نتیجے میں مکھن… اور لسّی الگ الگ ہوجائے گی… مکھن یعنی ’’اصلی مسلمان‘‘
ابھر کر باہر نکلیں گے… ان کو… قتل کردیا جائے… باقی رہ جائے گی لسّی تو… اس میں …
گنگا جمنا کا اتنا پانی ملادیا جائے کہ… لسّی پانی بن جائے… اور … مسلمان ہندو…
پھر جب… مساجد نہیں ہوں گی… تو… نہ اذان گونجے گی… نہ نماز کی صفیں ہوں گی… اور نہ
کسی کو اسلام یاد رہے گا… ادھر شراب وشباب کی بارش… اور روٹی روزی کی فکر ویسے ہی
دین بھلادے گی… سترّ سالہ محنت کے نتیجے میں ہندوؤں نے… اکھاڑوں کی آڑ میں… جنگی
تربیت حاصل کرلی تھی… بجرنگ دل… اور شیوسینا کے دہشت گرد… قتل وغارت کیلئے ہر لمحہ
تیار تھے… خیر… قصہ لمبا ہے… ایڈوانی نے بابری مسجد پر پہلا وار کرنا تھا… پھر …
کاشی اور متھرا کی آباد مساجد کو ڈھانا تھا… پھر… انتخابات میں فتح یاب ہو کر…
انڈیا کی حکومت پر قبضہ کرنا تھا… ہندوستانی مسلمانوں کو دفن کرکے… برصغیر پر قبضے
کا آغاز… کشمیر سے کرنا تھا… ایک لمبا خواب… اور اس کی بھرپور تیاری… پہلا وار…
بابری مسجد پر ہوا… اور ایڈوانی کو … احساس ہوا کہ… کاغذی پلاننگ… اور زمینی حقائق
میں… کافی فرق ہوتا ہے…
اس سلسلے میں
’’ایڈوانی‘‘ … اور اس کی پارٹی کو… جو … سب سے بھیانک … اور ناقابل یقین تجربہ
ہوا… وہ یہ تھا کہ… بابری مسجد کا درد… ہندوستان کے باہر کے مسلمانوں نے بھی…
محسوس کرلیا… اور اسے اپنا درد بنالیا… حالانکہ… اسلام دشمن بڑی طاقتوں نے یقین
دہانی کرائی تھی کہ… مسلمانوں کے… حکمران اپنی عوام کے لئے کافی ہیں… ان میں سے ہر
ایک نے اپنی قوم کو ظلم کے پنجرے میں بند کر رکھا ہے… اور ان ملکوں کے عوام پر…
دوسرے ملک کے مسلمانوں کے بارے میں سوچنا حرام قرار دے دیا ہے… اوریہ حقیقت ہے …
مسلمانوں پر جتنا ظلم… ان … نام کے مسلمان حکمرانوں نے کیا ہے… کسی کافر کو اتنے
ظلم کی ہمت نہیں ہوئی… شام کے سابق صدر… حافظ الاسد کے مظالم سنیں اور پڑھیں… دل
سے چیخیں نکلتی ہیں… اس ظالم بدبخت دجّال نے… ایسی عورتیں مقرر کر رکھی تھیں جو …
اسلحہ اٹھا کر پھرتی رہتیں… اور جیسے ہی… کسی عورت کو اسلامی پردہ میں دیکھتیں
فوراً اس کے سر میں گولی مار دیتیں… حافظ الاسد کے ظلم نے … ملک شام کی سرزمین کو
ناپاک کردیا… اس نے ایک ہی دن میں… تین ہزار فلسطینیوں کو شہید کیا… مگر جب اس
ظالم، جابر… اور بہادر شخص کا اسرائیل سے سامنا ہوا تو جولان کی پہاڑیاں… خالی کرکے…
چوہے کی طرح بھاگ گیا… آج بھی… فلسطین کے بچے یہ جملہ بولتے ہیں:
أسَدٌ فِی
لَبْنَان وَفَارٌ فِی جَوْلاَن…
یعنی لبنان میں
تو… شیر بنا رہا اور جولان میں چوہا بن گیا… یہی حال … تقریباً ہمارے تمام
حکمرانوں کا ہے… ان کے نامہ اعمال میں… اپنے مسلمانوں کا خون تو بے شمار وبے حساب
لکھا ہوا ہے… مگر… ان میں سے کسی کے چہرے پر کفر کے خلاف فتح کا ایک تمغہ بھی جگہ
نہ پاسکا… ہر جگہ… کافروں سے شکست… اور اپنوں پر فتح… ان کا کارنامہ رہی ہے…
امریکہ شام پر حملہ کیوں نہیں کر رہا؟… وہ … جانتا ہے کہ اسد کا بیٹا… باپ کی طرح
… مسلمانوں کا بدترین دشمن… اور ایک بدعقیدہ … اور بدمست شخص ہے… ہاں امریکہ کو اس
سے بہتر کوئی مل گیا تو ممکن ہے حملہ کردے… جن دنوں… شام پر ابھی حملہ…… ابھی حملہ
کا شور تھا… میں نے عرض کیا تھا کہ… ابھی کچھ بھی نہیں ہوگا… امریکہ خود مسلمانوں
پر اس طرح ظلم نہیں کرسکتا… جس طرح… اس کے یہ ایجنٹ کرتے ہیں… یقینا… وہ زمین بھی
افسوس کرتی ہوگی… جہاں یہ… غیرت سے عاری طبقہ پیدا ہوا تھا… ابھی… ازبکستان کے
اسلام کریموف کو دیکھ لیں… کس طرح… جنگلی درندوں کی طرح … اپنے مسلمان طبقے کو کاٹ
رہا ہے… اتنا ظلم کرنے کے باوجود… نہ وہ انتہا پسند ہے اور نہ دہشت گرد… اور نہ
ہمارے… درد دل رکھنے والے حکمرانوں نے اس کی کوئی مذمت کی ہے… حالانکہ … ہمارا
دفتر خارجہ… پوری دنیا میں… مجاہدین کی مذمت کیلئے ہمہ وقت تیار رہتا ہے… امام
بخاری… اور امام ابو منصور ماتریدی کا وطن… ایک بار پھر خاک وخون میں تڑپ رہا ہے…
عزتیں… اور بیٹے گنوانے والی ماؤں کے روتے چہرے دیکھ کر دل پھٹتا ہے… ہر کسی
کیلئے… مذاکرات اور استقبال کی بے غیرت میزیں سجانے والے… ان حکمرانوں کو… اپنے
مسلمانوں سے مذاکرات کرتے موت آتی ہے… ان کی بندوقیں اور ہیلی کاپٹر… کافروں کو
سلامی دینے کیلئے… اور اپنے مسلمانوں پر… آگ برسانے کیلئے … ہر وقت تیار رہتے ہیں…
کس کس ملک کی بات کی جائے… پوری دنیا میں … یہودیوں کا ایک ملک ہے… بالکل چھوٹا سا
اور حقیر سا… مگر… دنیا کے کسی خطے میں کسی یہودی کو کانٹا چبھے تو… یہ ملک… اپنی
تلوار نکال لیتا ہے… اور خوب شور مچاتا ہے… پچھلے دنوں آپ نے سنا ہوگا کہ… فرانس
کے یہودیوں کے بارے میں… ایریل شیرون خوب چلاّیا کہ… ان کے تحفظ میں کوتاہی کی
جارہی ہے… ادھر ہمارے پچپن ملک ہیں مگر… یہاں مسلمانوں کے حقوق کی بات جرم ہے…
بلکہ… اب تو… ہرجگہ کافروں کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف معاہدے کیے جارہے ہیں… ہائے
رباّ… دل کے یہ زخم تیرے سوا… اور کون… دور کرسکتا ہے… تو ہی جانتا ہے کہ… ہم پر
کیسی بلائیں مسلط ہیں… ہاں میرے رباّ… تجھے چھوڑ کر… ہم کہیں کے نہیں رہے… ہمیں
اپنا بنالے… اور امت مسلمہ کو … ملا محمد عمر جیسے حکمران نصیب فرمادے… بات کچھ
دور نکل گئی… ہندوستان کو اسپین بنانے کے پلان میں… یہ بات موجود تھی کہ… ہندوستان
کے باہر کے مسلمان… زبانی جمع خرچ سے زیادہ کچھ نہیں کریں گے… مگر… ایسا نہ ہوا…
ایک آگ اٹھی… اور مسلمان بابری مسجد کے بکھرے ملبے کی طرف… اے ماں… اے ماں کہہ کر…
پکارنے لگے… تب … کاشی اور متھرا کی طرف بڑھنے والے ناپاک ہاتھ… رک گئے… تین ہزار
مساجد کی فہرست دھول چاٹنے لگی… ایڈوانی اینڈ پارٹی کو… حکومتی اختیارات کا انتظار
تھا… حکومت ملی… مگر… واضح اکثریت نہ مل سکی… پانچ سال تک اقتدار میں رہنے کے
باوجود… ایڈوانی… بابری مسجد کی جگہ… باقاعدہ ’’رام مندر‘‘ کا سنگ بنیاد نہ رکھ
سکا… حالانکہ… اس مندر کے لئے… تمام سامان تیار ہے… اور ملک میں قائم کئی کارخانوں
نے… سنگ مرمر کی اینٹیں… مورتیاں… ستون… دیواریں… چھتیں… سونے کے فانوس … طلائی
اصنام… اور الغرض… سب کچھ تیار کر رکھا ہے… اگر… حکومت کی طرف سے ڈھیل ملے تو… ایک
دو ماہ میں… مندر قائم ہوسکتا ہے… بیرون ممالک میں قائم … آر ایس ایس… اور وی ایچ
پی کی تنظیموں نے… کروڑوں ڈالر کے عطیات جمع کرکے بھجوائے ہیں… افریقہ کے ہندوؤں
نے سونے کی اینٹیں تک تیار کرکے بھیج دی تھیں… مگر … بدنصیب ایڈوانی… تڑپتا رہا…
بلکتا رہا… اور پرم راج ہنس تو یہی حسرت لیکر مرگیا… جب اس کی چتا کو آگ دکھائی
جارہی تھی تو… اس کی لاش پر کھڑے ہو کر… اٹل بہاری واجپائی نے پھر مندر بنانے کا
اعلان کیا… مگر… پرم راج ہنس کو آگ نے نگل لیا… اور واجپائی کی چِتا بھی قریب
میںتیارہے…
واہ امت مسلمہ
واہ… بے شمار کمزوریوں اور خامیوں کے باوجود… روح محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے اندر ابھرتی ہے تو دنیا کی
سپرپاورز لرز کر رہ جاتی ہیں… ایڈوانی کا خواب تھا کہ… بابری مسجد کی جگہ مندر بن
جائے… یہ خواب اس کی آنکھوں کا تا حال کانٹا ہے… اللہ پاک اس کانٹے کو قائم رکھے… ایڈوانی کا خواب تھا
کہ… کاشی اور متھرا کی مساجد شہید کرکے… کرشن کے مندر بنادئیے جائیں… الحمدﷲ… وہاں
روزانہ پانچ بار… آواز گونجتی ہے… اللہ اکبر… اللہ اکبر… اور اعلان ہوتا ہے کہ… لا الہ الا اللہ … اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں… اللہ کرے… وہاں یہ اذان گونجتی رہے… اور شیطان کی طرح
ایڈوانی پارٹی بھی… اس کی آواز سے حواس باختہ… بھاگتی رہے… ایڈوانی کا خواب تھا
کہ… مقبوضہ کشمیر میں نافذ خصوصی دفعہ ختم کردی جائے… مگر دفعہ برقرار ہے… اور
ایڈوانی… دفع ہوگیا… ایڈوانی کاخواب تھا کہ… ہندوستان کے مدارس ختم ہوجائیں… مگر
یہ مدارس آج بھی… الحمدﷲ … قائم ہیں… ایڈوانی کا خواب تھا کہ… شُدّھی کی تحریک چلے
اور مسلمانوں کو ہندو بنایا جائے… مگر… الحمدﷲ اب بھی زیادہ تعداد میں ہندو ہی
مسلمان ہو رہے ہیں… ایڈوانی کا خواب تھا کہ … آزاد کشمیر سمیت پورے کشمیر کو انڈیا
کا اٹوٹ انگ بنادیا جائے… مگر آج بھی کشمیر میں… شہیدوں اور غازیوں کا راج ہے… اور
جہاد کا نغمہ مدہم نہیں پڑا… ایڈوانی کے اور بھی بہت سے خواب تھے… مگر… فی الحال
تو سارے چکنا چور ہوگئے… دشمن آج تو ہارا ہے… وہ صرف ہمارا نہیں اسلام کا دشمن ہے…
اس لیے… شکر کرتے ہیں… اللہ اللہ کی ضربیں لگاتے ہیں… اور آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی طاقت دیکھ کر… خوشی سے
جھومتے ہیں… بس… صرف یہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ… ایڈوانی جیسے ’’نامراد‘‘ شخص کو…
پاکستان بلانے کی کیا ضرورت تھی؟… سندھ حکومت کی فائلوں میں لکھا ہے کہ اس نے بانی
پاکستان کو قتل کرنے کی سازش کی تھی… پھر پاکستان کے خلاف… اس کے تمام خوفناک اور
بھونڈے بیانات… اور دھمکیاں ریکارڈ پر ہیں… حکمران قوم کی نہیں تو اپنی عزت کی لاج
رکھ لیتے… ایڈوانی نے ہر موقع پر صدر مشرف کو آڑے ہاتھوں لیا… اور … آگرہ مذاکرات
کے موقع پر… صدر مشرف کے پورے پروٹوکول کی دھجیاں بکھیر کر …بیس افراد کو حوالے
کرنے کی فہرست تھمادی… تب… ہمارے صدر صاحب کافی غضبناک ہوئے تھے… دراصل… اس وقت
حکومت کی ریڑھ کی ہڈی لچک کا شکار نہیں ہوئی تھی… اور ہمارا سینہ انڈیا کی طرف
تھا… اور اب یوٹرن کی بدولت… حکومت… اپنی پشت اُدھر کئے ہوئے ہے… کیونکہ … اپنے
ملک میں انتہا پسندوں کی نگرانی زیادہ اہم ہے… خیر قوم انتظار کرے… ایڈوانی جی
پدہار رہے ہیں… قوم کے بچے گلدستے لیکر سڑکوں پر کھڑے ہوں گے… ٹریفک روکا جائے گا…
ہمارے وزراء بڑھ چڑھ کر… اور زیادہ سے زیادہ مسکراکر استقبال کریں گے… ملک کے
محافظ… ملک کے خطرناک ترین دشمن… کی حفاظت کریں گے… ایک اللہ کی
عبادت کرنے والے… ایک متعصب ترین مشرک کو سیلوٹ دیں گے… آسمان دیکھتا رہ جائے گا…
زمین ہمارے کرتوتوں پر ہنسے گی… مگر آپ پوچھیں گے… سعدی اس موقع پر کیا کرے گا… تو
سنئیے… دل میں غصہ اورغم تو بہت ہے… دل چاہتا ہے کہ… کراچی کے سمندر کی… مچھلیوں
کو ساتھ لے کر… ایک ایسا مظاہرہ کیا جائے کہ… دھرتی کانپ جائے… مگر… پھر سوچتا
ہوں… ایک ناکام ترین مشرک… اور… ایک نامراد ترین دشمن کو… اتنی اہمیت دینا… مناسب
معلوم نہیں ہوتا… ہارا ہوا جواری پھر خود کو کچھ سمجھنا نہ شروع کردے… ہاں اس موقع
پر… ایک زبردست علمی نکتہ بتا دیتا ہوں… ہمارے روشن خیال لوگ… انتہا پسند مشرک کو
’’مرحبا‘‘ کہنے کی تیاری کر رہے ہیں… ہم قارئین کو ’’مرحبا‘‘ کا ایک ’’دیسی
ترجمہ‘‘ بتادیتے ہیں… یہ ترجمہ بس اسی موقع کیلئے خاص سمجھیں… کہتے ہیں کہ… ایک
صاحب کو … عربی بالکل نہیں آتی تھی مگر وہ… اپنے ان پڑھ رفقاء پر رعب ڈالتے تھے کہ
میں عربی کا ’’علامہ‘‘ ہوں… ایک بار … ایساہوا کہ ایک عربی صاحب آگئے… انہوں نے…
سب کو… مرحبا مرحبا کہا … رفقاء نے عربی دان سے پوچھا… یہ کیا کہتا ہے؟… عربی دان
نے کچھ سوچا… اور پھر سنجیدگی سے کہا… کتنا آسان سا لفظ ہے… اور آپ لوگوں کو سمجھ
نہیں آرہا… وہ کہہ رہا ہے… مربے حیا!… مر بے حیا!…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے… انہیں پہلے
’’مکہ مکرمہ‘‘ میں دیکھا… حالانکہ نام پہلے سے سن رکھا تھا مگر ’’زیارت‘‘ نہیں
ہوئی تھی… مجھے وہ کمرہ … اور نشست اچھی طرح یاد ہے… ان کے ساتھ حضرت مولانا مفتی
محمد جمیل خان شہیدؒ بھی تشریف فرما تھے… پھر… ملاقاتوں کا ایک سلسلہ… کچھ عرصہ
بعد ہی چل نکلا… اور بہت دور تک چلتا رہا… پھر … ایک اور منزل طے ہوئی اور ان کے
ساتھ ’’اسفار‘‘ کی سعادت ملی… کراچی سے نیروبی… نیروبی سے خرطوم… پاکستان سے
افغانستان… اور میرانشاہ سے بنوں… لمبے لمبے خوبصورت اور یادگار سفر… ایک دو نہیں…
بہت سارے… اور کراچی میں تو بارہا… ان کا ’’قرب‘‘ ملا… جامعہ میں… جلسوں میں…
دعوتوں میں… اور اس گاڑی میں بھی جو چلتے چلتے رک جاتی تھی… اور دھکا مانگتی تھی…
علم وجہاد کے اس شاہسوار کیلئے… تواضع کا کوئی عمل مشکل نہیں ہوتا تھا… ان کے ساتھ
رفاقت اور قربت کی داستان… ایک پوری کتاب کا موضوع ہے… ان کی ’’زندگی‘‘ بہت دلربا…
قابل رشک… اور حسین تھی… ہر چھوٹا اور بڑا یہی سمجھتا تھا کہ میں ہی ان کا سب سے
مقرب شخص ہوں… یقین کیجئے… ان کے ساتھ تعلق رکھنے والا ہر کوئی… اس ’’خوش فہمی‘‘
کے مزے ضرور لوٹتا تھا… اور اپنی قسمت پر ناز کرتا تھا… ان کے پاس سب کچھ تھا…
علم، عمل، اخلاص، نسبت، شجاعت، مردانگی، حق گوئی، فقاہت، فکاہت، ذوق، دلبری، وسعت
قلبی، خطابت، نجابت، … اور ہمت… مگر سب سے اہم بات یہ تھی کہ … وہ ایسے باتوفیق
اور وسیع المشرب تھے کہ… ہر کسی کی ضرورت بن گئے تھے… جامعۃ العلوم الاسلامیہ
علامہ بنوری ٹاؤن سے لیکر… تحریک طالبان تک وہ سب کی ضرورت تھی… طلبہ کو ان کی
تدریس کی ضرورت تھی… اور… دنیا بھر کے مسلمانوں کو ان کی قیادت اور رہنمائی کی…
جہاد والے بھی ان کے در کے چکر کاٹتے تھے… اور سیاست والے بھی… بس… ایک ’’ہجوم
عاشقاں‘‘ تھا… جو ان کے گرد منڈلاتا رہتا تھا… اور … ہر کوئی اپنی اجتماعی… اور
انفرادی ضرورت کیلئے ان کی راہ دیکھتا تھا… اور تو اور… دین سے بیزار اور علماء سے
دور رہنے والی حکومت بھی ان کی محتاج تھی… ایسے میں اچانک… وہ … سرخ دستار سر پر
سجائے سب کو چھوڑ چھاڑ کر چلے گئے… جی ہاں… پچھلے سال یہی دن تھے جب انہیں
’’گولیوں‘‘ سے نوازہ گیا… گولیاں ان کو لگیں جب کہ زخم… پوری امت مسلمہ پر لگا…
خون ان کا نکلا … مگر… دین سے محبت رکھنے والا ہر شخص… درد میں تڑپ کر رہ گیا… ۳۰ مئی ۲۰۰۴ء… اتوار کا دن…
صبح پونے آٹھ بجے… ہاں، ان کے لئے خوشیوں کی بارات کا لمحہ تھا جبکہ… مجاہدین اور
اہل علم کے لئے ایک آندھی تھی… بہت سرخ بہت غم والی آندھی… کل پھر ان کا تذکرہ کسی
نے چھیڑا تو ان کی یاد کا غم… دل کو ہچکولے دینے لگا… اور بے شمار حسین مناظر… آنکھوں
کے سامنے گھوم گئے… جگر مراد آبادیؒ بھی عجیب شاعر گزرے ہیں… مجھے ان کے ان اشعار
میں… امام المجاہدین حضرت مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ… صاف نظر آرہے ہیں…
وہ کب کے آئے بھی اور گئے بھی‘
نظر میں اب تک سما رہے ہیں
یہ چل رہے ہیں، وہ پھر رہے
ہیں، یہ آرہے ہیں، وہ جارہے ہیں
وہی قیامت ہے قد بالا، وہی ہے
صورت، وہی سراپا
لبوں کو جنبش، نگہ کو لرزش،
کھڑے ہیں اور مسکرا رہے ہیں
وہی لطافت، وہی نزاکت، وہی
تبسم، وہی ترنم
میں نقش حرماں بنا ہوا تھا، وہ
نقش حیرت بنا رہے ہیں
خرام رنگیں، نظام رنگیں، کلام
رنگیں، پیام رنگیں
قدم قدم پر روش روش پر نئے نئے
گل کھلا رہے ہیں
شباب رنگیں، جمال رنگیں، وہ سر
سے پا تک تمام رنگیں
تمام رنگیں بنے ہوئے ہیں تمام
رنگیں بنا رہے ہیں
تمام رعنائیوں کے مظہر، تمام
رنگینیوں کے منظر
سنبھل سنبھل کر، سمٹ سمٹ کر،
سب ایک مرکز پہ آرہے ہیں
شراب آنکھوں سے ڈھل رہی ہے نظر
سے مستی ابل رہی ہے
چھلک رہی ہے، اچھل رہی ہے،
پیئے ہوئے ہیں، پلا رہے ہیں
یہ موج دریا، یہ ریگ صحرا، یہ
غنچہ وگل، یہ ماہ وانجم
ذرا جو وہ مسکرادیئے ہیں، یہ
سب کے سب مسکرا رہے ہیں
اب آگے جو کچھ بھی ہو مقدر رہے
گا لیکن یہ نقش دل پر
ہم ان کا دامن پکڑ رہے ہیں، وہ
اپنا دامن چھڑا رہے ہیں
یہ اشک جو بہہ رہے ہیں پیہم
اگرچہ سب ہیں یہ حاصل غم
مگر یہ معلوم ہورہا ہے کہ یہ
بھی کچھ مسکرا رہے ہیں
خوشی سے لبریز شش جہت ہے، زبان
پر شور تہنیت ہے
یہ وقت وہ ہے جگر ؔ کے دل کو
وہ اپنے دل سے ملا رہے ہیں
(کلیات جگر
ص۵۳۳)
ہاں وہ تو اب چلے گئے… اب تو
ان کی یادیں اور باتیں ہی دل سے ہم کنار ہو کر… کبھی غم دیتی ہیں… اور کبھی حوصلہ
… ان کی شہادت کے موقع پر… دل چاہتا ہے کہ القلم کے لاکھوں قارئین کیلئے ان کا
مختصر سوانحی خاکہ پیش کردیا جائے… لیجئے ملاحظہ فرمائیے…
نام گرامی…… نظام الدین
تخلص…… طارق
لاحقہ…… شامزئی
والد محترم کا نام…… حبیب
الرحمن
تاریخ پیدائش… ۱۳۷۳ھ بمطابق جولائی۱۹۵۲ء
آبائی وطن
گاؤں فاضل بیگ گڑہی سخرہ مٹہ
علاقہ شامزئی ضلع سوات
ابتدائی تعلیم
(۱) مدرسہ
مظہر العلوم مینگورہ سوات
(۲) جامعہ
عربیہ دارالخیر بکرا پیڑی کراچی
(۳) مظہر
العلوم کھڈا کالونی کراچی
اعلیٰ تعلیم
جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی
کراچی
درس نظام سے فراغت… ۷۳۔۱۹۷۴ء
تدریس
جامعہ فاروقیہ کراچی میں بیس
سال
جامعہ امینہ للبنات کراچی اور
جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں تادم شہادت
منصب تدریس
شیخ الحدیث ومشرف تخصص فی
الفقہ الاسلامی جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
ڈاکٹریٹ
۱۹۹۲ء
سندھ یونیورسٹی اعلیٰ امتیاز کے ساتھ
بیعت
(۱) حضرت
شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب مہاجر مدنی ؒ
(۲) حضرت
مولانا فقیر محمد صاحب پشاوریؒ
(۳) حضرت
مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ
(۴) حضرت
الشیخ سید نفیس الحسینی شاہ صاحب مدظلہ العالی
اجازت وخلافت
مذکورہ بالا چار حضرات میں سے
آخری دو نے خلافت سے نوازا
عملی جہاد
افغانستان کے جہاد میں بارہا
شرکت فرمائی سوویت یونین کے خلاف بھی… اور پھر تحریک طالبان کے ساتھ بھی…
صدارت
مجلس تعاون اسلامی عالمی… مفتی
محمود اکیڈمی…
سرپرستی
جیش محمد صلی اللہ علیہ وسلم… خدام الاسلام… (دونوں کالعدم)
خصوصی تعلق
تحریک طالبان افغانستان…
خصوصی اساتذہ
حضرت
مولانا سلیم اللہ خان صاحب زیدمجدہم
فضیلۃ الشیخ عبدالفتاح ابوغدہ
نور اللہ مرقدہ
حضرت مولانا قاری محمد طیب
صاحب نور اللہ مرقدہ (مہتمم دارالعلوم دیوبند)
حضرت مولانا عبدالرحمن برتھانے
بابا صاحبؒ
زیر تدریس خصوصی کتب
صحیح البخاری… صحیح مسلم… جامع
ترمذی… اور فقہ وفنون کی کتب
تصانیف
)۱( شیوخ
بخاری (پی ایچ ڈی کا مقالہ)
)۲(مسلمانوں
کے حقوق
)۳(پڑوسیوں
کے حقوق
)۴( مقدمہ
مسلم شریف
)۵(عقیدہ
ظہور مہدی
)۶( سونے
چاندی کی تجارت کے مسائل
)۷( توبۃ
النصوح
)۸( فضائل
مدینہ منورہ
)۹(الاتمام
والاکمال فی رویۃ الہلال
)۱۰( میرا
مسلک ومشرب
افادات وافاضات
آپ کی تقاریر کا ایک مجموعہ
خطبات شامزئیؒ کے نام سے شائع ہوچکا ہے جبکہ… آپ کا درس ترمذی (ارشاد الشامزئی)
…اوردرس بخاری بھی شائع ہوچکا ہے۔
تحفظ ناموس رسالت
آپ نے ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم
نبوت میں بھرپور حصہ لیا۔ گرین ٹاؤن کراچی میں کئی قادیانی آپ کے ہاتھ پر تائب
ہوئے اور آپ تادم شہادت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے باقاعدہ رکن
رہے۔
صحافت
روزنامہ جنگ کراچی
صفحہ اقراء… اور دیگر جہادی اور دینی رسائل میں وقیع مضامین قلمبند فرمائے۔
شہادت
۳۰ مئی ۲۰۰۴ء بروز اتوار…
کراچی
تدفین
کُنج شہداء متصل
جامع مسجد خلفاء راشدین کراچی حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کے پہلو میں
اعزاز
حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے ایک بار حالت جذب میں
عجیب دعا مانگی… الفاظ ملاحظہ فرمائیں:
اللہم اتنی افضل
ماتؤتی عبادک الصالحین۔ (المستدرک صحیح الاسناد)
یعنی… اے میرے
پروردگار مجھے وہ افضل ترین نعمت عطاء فرمائیے جو آپ اپنے پسندیدہ بندوں کو عطا
فرماتے ہیں۔
حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ دعاء سنی تو فرمایا… تب تو…
تمہارے گھوڑے کی ٹانگیں کاٹی جائیں گی… اور تمہیں اللہ کے
راستے میں قتل کیا جائے گا… یعنی… ایک مؤمن کیلئے دنیا میں افضل ترین نعمت یہ ہے
کہ… وہ شہید کیا جائے اور اس کی سواری بھی کام آجائے… حضرت مفتی نظام الدین شامزئی
شہیدؒ… باوضو… عطر لگا کر… حدیث پاک کی معروف کتاب… ترمذی شریف کا درس دینے تشریف
لے جارہے تھے… گاڑی میں ان کے ساتھ آپ کے چھوٹے صاحبزادے… مولانا سلیم الدین حفظہ اللہ … اور بھتیجے… مولانا رفیع الدین حفظہ اللہ سوار تھے… آپ کا ڈرائیور محمد طیب گاڑی چلا رہا
تھا… کفر کے ایجنٹوں نے حملہ کیا… گاڑی کو بھی نقصان پہنچا… بیٹا اور ڈرائیور زخمی
ہوئے… اور آپ نے… جام شہادت نوش فرمایا…
صاحبزادوں کے نام
مولانا امین الدین
مولانا تقی الدین
مولانا سلیم الدین
تینوں ماشاء اللہ … عالم ومجاہد ہیں… اللہ پاک انہیں اپنے والد گرامی کا صحیح جانشین بنائے…
٭…٭…٭
حضرت مفتی نظام الدین شامزئی
شہیدؒ… کا… سوانحی خاکہ آپ نے پڑھ لیا… اللہ تعالیٰ نے آپ کو عجیب ’’محبوبیت‘‘ عطاء فرمائی
تھی… حضرت امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد ملاقات کے وقت آپ کے ہاتھ چوم لیا
کرتے تھے… پاکستان کے قومی ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وہ تحریر میں نے خود دیکھی
جس میں انہوں نے حضرت مفتی صاحب کے لئے اپنی عقیدت ومحبت کا اعتراف کیا… شیخ اسامہ
بن لادن نے اپنے بیٹے کی شادی کے موقع پر اپنی خصوصی کلاکوف رائفل آپ کی خدمت میں
پیش کی… اور آخری زمانے میں تو… علماء اور مجاہدین … ہر کوئی انہیں ’’بابا‘‘ کے
پیارے اور احترامی نام سے یاد کرکے ان کے دامن میں جگہ ڈھونڈ تا تھا… اب آپ خود
سوچ لیجئے کہ… اتنے بڑے علامہ، فقیہ، مجاہد، ولی… اور مفکر اسلام کو شہید کرنے
والوں نے… اپنے لیے… کتنی خوفناک حسرت اور آگ کا سامان کیا ہے… اور امت مسلمہ کو
کتنا نقصان پہنچایاہے…
قاتلہم اللہ انی یوفکون… اللہ تعالیٰ ان ظالموں… اور ان کے سرپرستوں کو
عبرتناک انجام سے دوچار کرے… اور ان کو ایسا تڑپائے کہ امت مسلمہ کے زخموں کو کچھ
سکون مل جائے… ہاں… اب بھی وہ قاتل اور ان کے سرپرست تڑپ ہی رہے ہوں گے… اس لیے
کہ… انہوں نے جس پیغام اور آواز کو دبانے کیلئے… یہ ظلم ڈھایا… وہ پیغام اب بھی
گونج رہا ہے… سنو دنیا والو! سنو… حضرت امام شامزئیؒ فرما رہے ہیں:
’’ہم علی
الاعلان بغیر کسی خفت اور بغیر کسی جھجک کے یہ بات کرتے ہیں کہ دنیا کے اندر جہاں
بھی ہمارا مسلمان بھائی مظلوم ہوگا یا جہاد میں مصروف ہوگا، ہم اس ملک کے اندر ان
شاء اللہ اس کے تعاون کیلئے آواز اٹھائیں گے، ہم سے ہوسکا
تو ہم جاکر ان کے شانہ بشانہ لڑیں گے بھی، اور ہم سے جو بھی مالی واخلاقی تعاون
ہوسکے گا وہ ہم کرکے رہیں گے، اس لیے کہ ہم امت مسلمہ کے افراد ہیں، وہ امت مسلمہ
جس کے لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ : ’’مسلمان
جسد واحد کی طرح ہے، ایک جسم کی طرح ہے، اگر جسم کے ایک حصے کو تکلیف ہو تو جسم کے
سارے حصے اس کو محسوس کرتے ہیں اس بناء پر ہم اس چیز کو بھی برداشت نہیں کرسکتے کہ
کسی مسلمان کو تکلیف پہنچے۔‘‘ (خطبات
شامزئی)
آج کی دنیا… قول وفعل کے تضاد
کا شکار ہے… مگر حضرت مفتی صاحب شہیدؒ نے جو کچھ کہا… اس پر… عمل کرکے دکھایا… آپ
نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا:
’’یاد رکھو!
کہ اسلامی نظام، یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی نعمت ہے، اور اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی نعمت مفت میں کسی کو نہیں
دیتے، جب تک انسان اس نعمت کیلئے قربانی دے کر اللہ تبارک وتعالیٰ کے سامنے اپنے آپ کو اس انعام کا
مستحق قرار نہ دے… اللہ کا یہ نظام دنیا میں اس وقت تک نافذ نہیں
ہوسکتا، جب تک وہاں کے مسلمان اس کے لئے جہاد نہ کریں اور قربانیاں نہ دیں
۔‘‘ (خطبات شامزئی)
آپ نے امت کو جہاد کیلئے
بلایا…ساتھ خود بھی میدانوں میں نکلے… اور اپنے بیٹوں کو بھی اگلے مورچوں تک
بھیجا… آپ نے امت کو قربانی کی دعوت دی… اور ساتھ اپنی قربانی پیش کرکے… اپنا نام
’’صادقین‘‘ میں لکھوالیا… بس اس طرح ان لوگوں کا منہ کالا ہوا… جو کہتے ہیں کہ… مولویوں
نے جہاد کو ’’کاروبار‘‘ بنالیا ہے… دوسروں کو مرواتے ہیں… اور خود… اونچے عہدوں کے
متلاشی رہتے ہیں… حضرت مفتی صاحب شہیدؒ… کو تو بہت اونچے عہدوں کی طرف بلایا گیا
مگر آپ نے … ہر پیشکش کو … مسکرا کر ٹھکرادیا… رؤیت ہلال کمیٹی… اسلامی نظریاتی
کونسل… سینیٹ کی رکنیت… اور بہت کچھ… تب … اللہ پاک نے بھی آپ پر نوازشات کی بارش فرمادی… اور
آپ کو… وہ سب کچھ عطا فرمادیا… جو … کسی کسی کو ہی نصیب ہوتا ہے… ؎
مقام کرگس وشاہین ہے اپنے ظرف
کی بازی
جو ٹھکرادے صراحی کو اسے مے
خانہ ملتا ہے
آپ نے شہادت سے چند ہی روز
پہلے… خدام الاسلام کراچی کے زیر اہتمام ایک جلسہ سے خطاب فرمایا… جہاد کے خلاف
یورش کے اس دور میں… یہ جلسہ منعقد ہوا… اور حضرت مفتی صاحبؒ کی آمد پر شرکاء
جلسہ… پورے پانچ منٹ تک… الجہاد الجہاد کے نعرے لگاتے رہے…
حضرتؒ یہ منظر دیکھ کر بہت
مسرور ہوئے… آپ نے… اپنے خطاب میں یہودیوں کو للکارا… اور … اس بات پر زور دیا کہ…
مسلمانوں میں ’’دینی غیرت‘‘ بیدار کرنے کی ضرورت ہے… آپ نے فرمایا کہ… دیندار تو
بہت لوگ بن جاتے ہیں مگر… ان میں دینی غیرت نہیں ہوتی… اور آج کا ’’کفر‘‘ اسی غیرت
کو ختم کرنے کے درپے ہے…
پاکستان میں ان دنوں جو موسم
مسلط ہے اس میں اس طرح کے ’’بیانات‘‘ کی کہاں گنجائش ہے… ایسے سر پھروں کو تو سر
میں گولی ماری جاتی ہے… سو وہ مار دی گئی… مگر مارنے والے بھول گئے کہ … انہوں نے
جو سزا دی ہے… وہ … سزا پانے والے کیلئے کتنی بڑی سعادت ہے… حضرت مفتی صاحبؒ کو
پورا اندازہ تھا کہ… موسم کیسا ہے؟… اور اس وقت جان بچانے کیلئے… امن واعتدال کی
رٹ لگانا ضروری ہے… مگر وہ تو کسی اور جہان کے بندے تھے… اور آپ کا نظریہ یہ تھا
کہ ؎
یہ صحن وروش، یہ لالہ وگل،
ہونے دو جو ویراں ہوتے ہیں
تخریب جنون کے پردے میں تعمیر
کے ساماں ہوتے ہیں
منڈلائے ہوئے جب ہر جانب طوفاں
ہی طوفاں ہوتے ہیں
دیوانے کچھ آگے بڑھتے ہیں اور
دست وگریباں ہوتے ہیں
بیدار عزائم ہوتے ہیں، اسرار
نمایاں ہوتے ہیں
جتنے وہ ستم فرماتے ہیں، سب
عشق پہ احساں ہوتے ہیں
رندوں نے جو چھیڑا زاہد کو،
ساقی نے کہا کس طنز سے آج
اوروں کی وہ عظمت کیا جانیں،
کم ظرف جو انساں ہوتے ہیں
تو خوش ہے کہ تجھ کو حاصل ہیں،
میں خوش کہ مرے حصے میں نہیں
وہ کام جو آساں ہوتے ہیں، وہ
جلوئے جو ارزاں ہوتے ہیں
یہ خون جو ہے مظلوموں کا، ضائع
تو نہ جائے گا لیکن
کتنے وہ مبارک قطرے ہیں جو
صَرف بہاراں ہوتے ہیں
جو حق کی خاطر جیتے ہیں، مرنے
سے کہیں ڈرتے ہیں جگر ؔ
جب وقت شہادت آتا ہے، دل سینوں
میں رقصاں ہوتے ہیں
)جگر مراد
آبادیؒ(
٭…٭…٭
حضرت مفتی صاحب
شہیدؒ کی یادیں اور باتیں تو بہت ہیں… ابھی تو میں نے… ان کے ساتھ گزرے لمحات …
اور اپنے چشم دید واقعات کا تذکرہ شروع نہیں کیا… یہ موضوع بہت طویل اور دلگداز…
جبکہ… اس کالم کا دامن تنگ ہے… بس ایک آخری گزارش کے ساتھ بات ختم کرتا ہوں… آج
ہمارے حکمران آئے دن… اس بات کا طعنہ دیتے رہتے ہیں کہ… تم لوگوں نے ساری دنیا کے
مسلمانوں کا ٹھیکہ لے رکھا ہے… اسی طرح جہاد کے بارے میں بھی… ان کے تلخ نظریات…
دھمکیوں کی صورت اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں… مگر … ان سب کے باوجود… الحمدﷲ…
نہ اسلامی اخوت (جسے ٹھیکیداری کہا جارہا ہے) میں کچھ کمی آئی ہے نہ … جہاد کی گود
مجاہدین سے خالی ہوئی ہے… حالانکہ … خوفناک بم برس رہے ہیں اور … عقوبت خانے … اور
قبرستان بھر چکے ہیں… حضرت لدھیانوی شہیدؒ کے پیچھے… حضرت شامزئی شہیدؒ چلتے رہے…
وہ شہید ہوئے تو جھنڈا… مفتی محمد جمیل شہیدؒ نے تھام لیا… وہ بھی شہید ہوگئے… مگر
اسلامی اخوت… اور جہاد کا جھنڈا سرنگوں نہیں ہوا… دنیا بھر کے ظلم… اور پروپیگنڈے
کے باوجود… کسی بھی محاذ پر … مجاہدین کی کمی نہیں ہوئی… ایک شہید ہو کر گرتا ہے
تو دوسرا اس کی جگہ سنبھال لیتا ہے… بلکہ … اب تو … مجاہدین … محاذوں کو ڈھونڈتے
پھر رہے ہیں… اے ہمارے حکمرانو!… اور اے روشن خیال بھائیو!… روز روز مجاہدین کو
ڈانٹنے، مارنے اور طعنے دینے کی بجائے… کسی دن… چند لمحات کیلئے… اسلامی اخوت …
اور جہاد کا ایک قطرہ چکھ لو… ممکن ہے کہ … تمہارا مستقبل بھی شہداء کے مستقبل کی
طرح… روشن ہوجائے… اور تمہیں… یہ راز بھی سمجھ آجائے کہ… کس چیز نے حضرت شامزئی
شہیدؒ… جیسے علامہ سے لیکر … آفاق جیسے نوخیز بچے کو … اسلام اور جہاد کا دیوانہ
بنادیا ہے… اللہ کے لئے … تھوڑی دیر … بس چند لمحات… خود کو
امریکاکے خوف اور رعب سے نکال کر… مسلمانوں کی مدد کرنے … اور جہاد میں چلنے کا…
سرور… چکھ کر دیکھ لو… تب تم درست فیصلہ کرسکو گے… ایسا فیصلہ… جو زمین کا رنگ اور
نقشہ تک بدل دے گا… ؎
کس لیے جان دیتے
ہیں رند شرابِ ناب پر
پوچھ نہ روز،
محتسب! تھوڑی سی آج پی کے دیکھ
یا اللہ ! ہم نے… تیری دعوت… تیرے بندوں تک
پہنچادی… ہم پر کرم فرما… ہمیں بھی… ایمان … ایمانی غیرت، شجاعت، … اسلامی اخوت
اور شہادت کا جام پلا… اور حضرت امام شامزئیؒ کے درجات کو بلند فرما… آمین یا رب
المستضعفین…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کی
مرضی …آجکل پاکستان پر ’’مہمانوں،، کی یلغار ہے… عجیب’’رنگ برنگے‘‘مہمان…ایک جارہا
ہے تو دوسرا آرہا ہے… بالکل اسی طرح… جیسے ’’نیا پلاٹ‘‘ خریدنے کے بعد خاندان کے
لوگ اسے دیکھنے باری باری آتے ہیں… اور بار بار آتے ہیں… اب دنیا کے نقشے پر بھی
ایک نیا پاکستان ابھر رہا ہے… روشن خیال، اعتدال پسند پاکستان… ایڈوانی کا
پسندیدہ… اور ایریل شیرون کا مدح سرا پاکستان… ابھی کچھ دن پہلے ہالی وڈ کی
اداکارہ… انجلینا جولی… اقوام متحدہ کا چولا پہن کر آئی… ابھی پاکستان نے اپنے بال
بھی خشک نہیں کئے تھے کہ… ملکہ محترمہ ’’کرسٹینا روکا‘‘ تشریف لے آئیں… وہ نیو
ورلڈ آرڈر کے مطابق … ہمارے لئے ’’وائسرائے‘‘ جیسی ہیں… انہوں نے یہاں آکر
سیاستدانوں سے ملاقاتیں شروع کیں تو ہمارے اخبارات اور تجزیہ نگار دھوکہ کھا گئے۔
ہر ایک نے تقریباً یہی لکھا کہ وہ ’’بحالی جمہوریت‘‘ کا جائزہ لینے آئی ہیں…
حالانکہ… سیاستدانوں سے ملاقات محض تماشا تھا… اصل کام… ’’ابو الفرج اللیبی‘‘ کی
بارات لے جانا تھا… سب اخبارات اس بات کو بھول گئے۔
ہمارے ملک کے
غیور، بہادر… اور دلیر حکمرانوں کو شکوہ تھا کہ… ہم نے… امریکہ کے لئے اتنا بڑا
شکار پکڑا… مگر … ہمیں صرف ایک ’’کارٹون‘‘ پر ٹرخایا جارہا ہے… ویسے تو شاباش دینے
کیلئے صدر بش کو آنا چاہئے تھا لیکن وہ تو… (خاکم بدہن) ملا محمد عمر اور اسامہ بن
لادن کے انتظار میں ہیں… چلیں وہ نہیں آسکتے تھے تو… کونڈا لیزا رائس ہی آکر
’’شاباش‘‘ دے جاتیں … مگر وہ کافی مصروف تھیں… لے دے کر رچرڈ آرمٹیج رہ گئے تھے…
امریکہ تیار تھا کہ… وہ آ کر… حکومت پاکستان کی کمر تھپکائیں اور شاباش دیں… مگر
ہمارے حکمران… ان کے بھاری بھرکم ہاتھوں سے ڈرتے ہیں کہ وہ جب بھی کمر پر تھپکی دے
جاتے ہیں تو… تین مہینے تک کمر ہلانا مشکل ہو جاتا ہے… حالانکہ… انڈیا وغیرہ کو
’’لچک‘‘ دکھانے کیلئے کمر کا سلامت ہونا ضروری ہے… بالآخر …امریکہ کی طرف سے جنوبی
ایشیاء کی حکمران… کرسٹینا روکا نے آنا قبول کیا… مگر اس نے منہ دکھائی کے بدلے…
ابوالفرج اللیبی کو ساتھ لے جانا مانگ لیا… ہمارے حکمرانوں کو بھلا کیا اعتراض؟…
مگر… مشکل یہ تھی کہ وہ بہت موٹے موٹے بیانات داغ چکے تھے کہ ہم خود… مقدمہ چلائیں
گے … اور اپنے مبارک ہاتھوں سے پھانسی پر لٹکائیں گے … اس لئے ’’روکا صاحبہ‘‘ کے
دورے کے مقاصد کو… خفیہ رکھا گیا … تاکہ… جگ ہنسائی نہ ہو… اور اپوزیشن بھی قابو
میں رہے… وہ شاباش دے کر… بارات کی ترتیب بنا کر چلی گئیں… ادھر فوراً ’’ایڈوانی
جی‘‘ آگئے… خوب استقبال ہوا… دلوں اور مندروں کے دروازے کھل گئے… انہوں نے بھی
’’چانکیہ سیاست‘‘ کا مظاہرہ کیا… اور خود کو… امن پسند بتاتے رہے… افسوس کہ…
حکمرانوں سے لے کر دینی جماعتوں تک کسی نے اس ظالم سے ’’بابری مسجد‘‘ اور گجرات کے
شہیدوں کا حساب نہ مانگا… ایڈوانی… ایک نیا پاکستان دیکھ کر جارہے ہیں جہاں ہندو
محفوظ ہیں… اور مجاہدین ’’زیر عتاب ہیں‘‘ جہاں کے حکمران… غیروں کے سامنے … اپنوں
سے جان چھڑانے کی بات کرتے ہیں… ایڈوانی ابھی گئے نہیں تھے کہ… کشمیری لیڈر حضرات
کے دورے نے دھوم مچا دی… دعا کریں ہمارا ملک… اتنے ’’دورے‘‘ برداشت کر سکے… جیسے
ہی اخبار پر نظر پڑتی ہے… کوئی نہ کوئی آیا ہوتا ہے… اور ہم اسے بتا رہے ہوتے ہیں
کہ ہم نے اتنے ’’مسلمان‘‘ پکڑے… ہم نے اتنے مارے… اور مزید ہم ان کو ختم کرکے دم
لیں گے… غیر ملکی فوجی اتاشی تو ہر روز تشریف لا کر رپورٹ مانگتے ہیں کہ… جنوبی
وزیرستان میں کتنے مارے؟… شمالی وزیرستان میں کتنے پکڑے؟ باجوڑ ایجنسی کا کیا بنا؟
… اسامہ کا کوئی پتہ چلا؟… یقین جانیں ان کے سوالات… اور اپنوں کی ’’صفائیاں‘‘ پڑھ
پڑھ کر گھن آنے لگی ہے… اور دنیا نے ہمیں ایک ایسا پالتو جانور سمجھ لیا ہے جو
روٹی اور تھوڑے سے پروٹوکول پر… اپنی عزت سمیت ہر چیز قربان کر دیتا ہے… مگر…
ہمارے حکمران… اپنی اس عجیب الخلقت ’’روشن خیالی‘‘ میں آگے ہی بڑھتے جارہے ہیں اور
پاکستان کی تاریخ میں وہ سیاہ دن بھی جگہ پا گیا ہے… جب… ہمارے ’’صدر‘‘ نے مسجد
اقصیٰ کے دشمن… اور مسلمانوں کے جنونی قاتل ایریل شیرون تک کو ’’خراج تحسین‘‘ پیش
کردیا ہے… دراصل ’’صدر صاحب‘‘ پوری دنیا سے جہاد کے خاتمے کا مشن… اپنی زندگی
کامقصد بنا چکے ہیں… اس لئے جو بھی ’’مجاہدین اسلام‘‘ کو مارتا اور کاٹتا ہے وہ
صدر صاحب کو اچھا لگتا ہے… ایریل شیرون… حماس کے مجاہدین کو کاٹ رہا ہے اس لئے وہ
بھی ’’محبوب‘‘ ٹھہرا… ایڈوانی… کشمیری مجاہدین کے خون کا پیاسا ہے اس لئے وہ بھی
’’پسندیدہ شخص‘‘ قرار پایا… فلپائن کی صدر گلوریا… فلپائن کے مجاہدین پر ہاتھ صاف
کررہی ہے اس لئے وہ بھی بہت اچھی لگی… اور اس سے مجاہدین کے خلاف تعاون کا وعدہ
بھی کیا گیا… ماوراء النہر کا درندہ اسلام کریموف… ملحد اور کیمونسٹ سہی مگر وہ
وادی فرغانہ کو… اسلام اور مجاہدین سے صاف کررہا ہے اس لئے وہ بھی… دل کو بھایا
اور اس کے ساتھ بھی… جہاد اور مجاہدین کے خلاف معاہدہ طے پاگیا… الغرض …صدر صاحب
کی محبت اور قرب حاصل کرنے کا بس ایک ہی طریقہ ہے کہ… جہاد اور مجاہدین کے خاتمے
کی بات یا کوشش کی جائے کیونکہ وہ اس کی خاطر… ایک وسیع تر ’’عالمی اتحاد‘‘ بنانے
کی سوچ رکھتے ہیں… اس اتحاد میں… شیرون، ایڈوانی، اسلام کریموف… اور کونڈالیزارائس
جیسے ’’امن پسند‘‘ لوگ ہوں گے اور اس اتحاد کا مقصد… افغانستان سے لے کر عراق تک…
کشمیر سے لے کر فلسطین تک… بوسنیا سے لے کرفلپائن تک… اور چیچنیا سے لے کر تھائی
لینڈ تک مجاہدین کا خاتمہ ہوگا… صدر صاحب کشمیر کے بارے میں جو آئے دن نئے نئے
فارمولے پیش کرتے رہے ہیں… ان سب کا مقصد بھی ’’جہاد کشمیر‘‘ کا جلد از جلد خاتمہ
ہے…اور اسی بات پر… ان کا اور بھارتی حکومت کا ’’اتفاق رائے‘‘ ہو چکا ہے… صدر
صاحب… کے سامنے بیٹھا ہوا شخص … یہودی ہو یا ہندو … ملکی ہو یا غیر ملکی… آپ اس کے
سامنے ’’مجاہدین‘‘ کے خلاف بولنا… اور پھر دل سے بولنا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں…
یوں… سامنے والا شخص حیران بھی ہوتا ہے اور خوش بھی… متاثر بھی ہوتا ہے اور مطمئن
بھی… کیونکہ … عام قانون یہی ہے کہ… کسی بھی ملک کا حکمران… اپنی عوام کے خلاف…
غیروں کے سامنے کچھ نہیں بولتا… خواہ… اس کی عوام خود اس کی دشمن ہی کیوں نہ ہو…
ہر ’’حکمران‘‘ اپنے ملک کی عزت اور عوام کی ناموس کا خیال رکھتا ہے … مگر ہمارے
صدر صاحب تو تاریخ بدلنے کیلئے آئے ہیں اس لئے وہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے لے کر…
اپنے مجاہدین تک… ہر کسی کے خلاف … گوروں اور مشرکوں کے سامنے… فرینکلی بولتے ہیں…
تب… ایریل شیرون سے ایڈوانی تک … ہر کوئی… پکار اٹھتا ہے کہ یہ شخص… اعتبار کے
قابل ہے… اسی طرح… صدر صاحب روشن خیال اسلام کا جو تصور پیش کرتے ہیں… وہ اس پر نہ
تو قرآن کا حوالہ دیتے ہیں کہ… فلاں آیت میں یہ بات ہے… نہ کسی حدیث… یا فقہ کا
حوالہ دیتے ہیں…بس ان کے اپنے دماغ میں جو کچھ آجاتا ہے اسی کو کہہ جاتے ہیں …
چنانچہ… ان کے اسلام کو’’جیک اسٹرا‘‘ اور ’’کونڈالیزا رائس‘‘ جیسے ’’علماء‘‘ ہی
پسند کرتے ہیں… جبکہ… قرآن و حدیث کا علم رکھنے والے… نادان مولویوں کو ان کا خود
ساختہ اسلام سمجھ نہیں آتا… بات… پاکستان پر دوروں کی یلغار کی چل رہی تھی… آج کل
حریت پسند لیڈر… تشریف لائے ہوئے ہیں… یاد رہے کہ… کچھ عرصہ پہلے ’’حریت کانفرنس‘‘
کے اس دھڑے کو حکومت پاکستان نے مسترد کردیا تھا… اور… سید علی گیلانی صاحب کی
قیادت والی حریت کانفرنس کو اپنا ’’ہم موقف‘‘ قرار دیا تھا… مگر پھر یکایک موسم
بدل گیا… اور ہماری … حریت کانفرنس بھی بدل گئی… علی گیلانی سری نگر میں آنسو… ٹپ
ٹپ برسا رہے ہیں… جبکہ عباس انصاری… آزاد کشمیر میں استقبال کے مزے لوٹ رہے ہیں…
اور جہادی… بیس کیمـپ میںجہاد کے خلاف بیانات داغ رہے ہیں… مولوی عمر فاروق…سرینگر
کے نامور ’’میر واعظ خاندان‘‘ کے سپوت… جب… ان کے والد مولوی محمد فاروق کو شہید
کیا گیا تو وہ ابھی بے ریش بچے تھے… کشمیری عقیدت پسندوں نے انہیں چودہ سال کی عمر
میں ’’میر واعظ‘‘ بنا دیا… اور پھر… چند ہی دن میں وہ منبر و محراب پر گرجنے لگے…
ان کی داڑھی آئی مگر… چند سال انہوں نے … اس کا راستہ روکے رکھا… پھر حج پر گئے
تو… باریش واپس آئے… سرینگر کی ’’جامع مسجد‘‘ اس خاندان کے ’’علم و سیاست‘‘ کا
مرکز تھی اور ہے… ان کی پارٹی … بکرا پارٹی کہلاتی ہے… یہ لوگ بڑے فخر سے خود کو…
’’بکرا‘‘ کہلاتے ہیں…کشمیر میں یہ لفظ فخر، بہادری… اور آزادی کی علامت سمجھا جاتا
ہے… میں نے خود سنا ایک انتہائی محترم کمانڈر صاحب فرما رہے تھے … میرا باپ بکرا
تھا بکرا… دراصل… شیخ عبداللہ کی پارٹی کا نشان ’’شیر‘‘ تھا… اور ’’میر واعظ‘‘
خاندان کی پارٹی کا نشان’’بکرا‘‘تھا… کچھ عرصہ بعد… شیخ عبداللہ کے بھارت نواز
لوگ… یعنی نیشنل کانفرنس والے’’شیر‘‘ کہلانے لگے…اور ان کے مدمقابل… آزادی اور
پاکستان کے حامی …بکرے… جب آزادی کی تحریک شروع ہوئی تو… شیر گالی بن گیا… اور
بکرا… تمغہ افتخار… شیر چھپتے پھرتے تھے جبکہ… بکرے دندنا کر چلتے تھے… کسی بھی
آدمی کو برا کہنے کیلئے اتنا کہہ دینا کافی تھا کہ وہ ’’شیر‘‘ ہے…اور کسی کی تعریف
کیلئے بکرے کا لفظ… ٹیپو سلطان کے ہم معنی قرار پاتا تھا… بکروں کی جہادی تنظیم کا
نام ’’العمر مجاہدین‘‘ تھا… جناب مشتاق احمد زرگر کی جرأت مندانہ قیادت میں یہ
تنظیم…کسی زمانے میں … کفر کے خلاف ’’طوفان‘‘ تھی… مگر اب وہ صورتحال نہیں رہی…
بکرے کمزور ہورہے ہیں … جہادی تنظیم کو پروٹوکول کے بھوکے انسانوں نے… ویرانی کے
غار میں پھینک دیا ہے… عمر فاروق … اور مشتاق زرگر کا باہمی پیار بھی… حالات کے
ہچکولوں پر ہے… مولوی عمر فاروق… آج مظفر آـباد میں ہیں… اور وہ… حریت کانفرنس کے
اس دھڑے کے سربراہ ہیں جو …بھارتی حکومت سے اکیلے مذاکرات کا حامی ہے… ان کے ساتھ…
ایک پڑھے لکھے بزرگ پروفیسر عبدالغنی بٹ صاحب ہیں… جناب… دو بار متحدہ حریت
کانفرنس کے صدر رہ چکے ہیں… اپنی ’’حیثیت‘‘ اور مقام کی بے حد فکر رکھتے ہیں…
مجاہدین سے کسی قدر شاکی رہتے ہیں… اس وفد میں ایک اور صاحب… مولانا عباس انصاری
ہیں… ایرانی مکتبہ خیال کے لیڈر ہیں… جہادی تحریک کو… انڈین حکمرانوں کی طرح…
بیرونی مداخلت سمجھتے ہیں… ان کو… یہ قابل فخر اعزاز حاصل ہے کہ… ان کے ’’زمانہ
صدارت‘‘ میں سالہا سال سے متحد ’’حریت کانفرنس‘‘ دودھڑوں میں تقسیم ہوگئی… جناب آج
کل پاکستان کے مہمان ہیں… حریت کے وفد میں … اپنے بھائی سجاد لون کی بہ نسبت کچھ
’’کم گرم‘‘ بلال لون بھی ہیں… یہ عبدالغنی لون صاحب مرحوم کے صاحبزادے ہیں جنہیں
ایک سال قبل… سرینگر میں قتل کردیا گیاتھا… یہ پورا خاندان… ماڈریٹ اور روشن خیال
ہے… دبئی میں وسیع کاروبار اور کشمیر کے بارڈروں پر بکر وال قبائل میں وسیع حمایت
رکھتا ہے… خودمختاری کی حامی… جے کے ایل ایف کے ساتھ ان کی گاڑھی چھنتی ہے… ان کی
ایک بیٹی… شبنم لون … سپریم کورٹ آف انڈیا کی وکیل… اور بہادر و بیمار رہنما…
یٰسین ملک کی منگیتر تھیں…لون صاحب نے ’’البرق مجاہدین‘‘ کے نام سے جہادی تنظیم
بھی چلائی… پھر یہ تنظیم ختم ہوگئی… اور لون صاحب… جہاد سے کافی حد تک شاکی ہو گئے…
کچھ عرصہ پہلے… انہوں نے … بھارت کے زیر اہتمام انتخابات میں حصہ لینے کیلئے… پر
تولنا شروع کر دئیے تھے… ان کے صاحبزادے… بلال لون… آج کل ہمارے مہمان ہیں… حریت
کانفرنس کے علاوہ جے کے ایل ایف کے یٰسین ملک بھی ہمارے مہمان ہیں… جناب… کشمیر کی
خود مختاری کے زبردست حامی ہیں… پہلے ’’مجاہد‘‘ تھے پھر انہوں نے یکطرفہ جنگ بندی
کا اعلان کردیا… ان کی جماعت… کئی دھڑوں میں بٹ چکی ہے… امان اللہ خان کا دھڑا… جو
پہلے مرکز تھا… اب… معمولی سی اکائی بن کر رہ گیا ہے… بندہ نے… کئی بار… جے کے ایل
ایف والوں کے موقف کوسمجھنے کی کوشش کی… مگر… ہر بار ناکامی رہی… حضور پاک صلی
اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے رہنے والے تھے… آپ نے مدینہ منورہ میں پہلی اسلامی
ریاست قائم فرمائی… آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ’’سربراہ‘‘ تھے… پھر… خلفاء
راشدین بھی باہر کے لوگ تھے… اگر مکہ والے مدینہ پر حکومت کر سکتے ہیں تو قوم
پرستوں کے سارے دلائل زمین بوس ہو جاتے ہیں… جو اسے ’’استحصال‘‘ کا جذباتی نام
دیتے ہیں… حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے لئے… قوم پرستی سے زیادہ خطرناک اور کوئی چیز
شائد نہ ہو… جب ہم … اپنے ’’پنجابی‘‘ پختون … اور کشمیری ہونے کو… اسلام سے زیادہ
’’پرانا‘‘ قرار دے کر فخر کریں گے تو… اس سے بڑھ کر… اسلام کی اور کیا توہین ہو
گی… ابوجہل بھی تو کہہ سکتا تھا کہ میں… چار ہزار سالہ ’’عرب‘‘ ہوں اور تم کل کے
مسلمان … نعوذ باللہ… بہرحال… جے کے ایل ایف کی کشمیر میں بہت قربانیاں ہیں… ان
…قربانیوں کو نظر انداز کرنا ظلم اور زیادتی ہے… ہم اشفاق مجید وانی شہید سے لے
کر… ان کے آخری شہید تک… سب کو سلام پیش کرتے ہیں… ابھی کچھ عرصہ پہلے… یٰسین ملک
صاحب کے دیرینہ ساتھی… اور ان کے نائب… جاوید میر بھی ان سے الگ ہوچکے ہیں… یٰسین
صاحب بھی… ان دنوں پاکستان کے مہمان ہیں… ان مہمانوں میں… غیر مقلد عالم مولانا
عبداللہ تاری بھی ہیں… یہ جیل میں… شبیر احمد شاہ کے ساتھ تھے… دونوں میں خوب یاری
رہی… شبیر احمد شاہ صاحب نے… بھارتی زندانوں میں اکیس سال کاٹ دئیے…کشمیر میں
انہیں… سیکنڈ نیلسن منڈیلا کہا جاتا ہے… یعنی منڈیلا ثانی… میرا خیال تھا کہ… شاہ
صاحب … اس لقب سے گھن کھاتے ہوں گے مگر پھر حیرانی ہوئی کہ … وہ تو… اس ’’نسبت‘‘
پر بہت خوش ہوتے ہیں… اور اپنی جوانی کے اکیس سالوں پر… ایمنسٹی انٹرنیشنل کے
اعزاز کو سجاتے ہیں… پتہ نہیں قارئین کو یاد ہوگا کہ نہیں کہ… ایمنسٹی انٹرنیشنل
نے ’’شبیر شاہ صاحب‘‘ کو ’’ضمیر کا قیدی‘‘ قرار دیا تھا… دس بارہ سال پہلے… میں
بھی… کشمیر کا چکر لگانے گیاتھا… تب شاہ صاحب جیل میں تھے… اور کشمیر میں ہر طرف
ان کی بہادری اور عزیمت کے چرچے تھے… الجہاد نامی طاقتور ترین جہادی تنظیم ان کو
اپنا ’’قائد ‘‘ مانتی تھی… اور شبیر شاہ جیل میں اس بات پر اڑے بیٹھے تھے کہ…
بھارتی آئین کو مان کر… بھارتی عدالت سے… ضمانت لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا…
حکومت نے بار بار انہیں رہائی کی پیش کش کی … مگر… انہوںنے… ضمانت لینے کو انڈین
قبضہ تسلیم کرنے کے برابر قرار دیا… اور… اپنی خوبصورت ’’جوانی‘‘ جیل میں پگھلاتے
رہے… مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ… اس زمانے میں… لوگ …سید علی گیلانی کو… شبیر شاہ
صاحب سے مضبوطی… اور موقف کی سختی میں… کم شمار کرتے تھے… ادھر جیلوں کے اندر…
شبیر احمد شاہ کی ’’خدمت خلق‘‘ کا چرچا تھا… غریب ہندو قیدی تو انہیں ’’بھگوان‘‘
کہتے تھے… قیدیوں کی اعانت، خدمت اور دیکھ بھال میں انہوں نے… قابل تقلید مثالیں
قائم کیں…
پھر…یکایک ہوا کا
رخ بدلا… شبیر احمد شاہ نے معلوم نہیں کس وجہ سے… پاکستان پاکستان کی رٹ
چھوڑی…انڈیا نے انہیں آزاد کردیا… انہوں نے …کئی پارٹیاں بنائیں… کئی توڑیں… حریت
کانفرنس میںشامل ہوئے… پھر… فارغ کردئیے گئے… مگر ان کی ذاتی مقبولیت… اور تحریک
کشمیر میں ان کی اہمیت مسلمہ ہے… انہوںنے بھی پاکستان آنا تھا… حکومت انڈیا نے
کہا… پاسپورٹ لینا ہو گا… میں نے جب یہ خبر سنی تو میرا دل پکار اٹھا کہ …شبیری
غیرت ضرور جاگے گی… مگر اطلاع آئی کہ… انہوں نے… درخواست دے دی ہے… پھر معلوم ہوا
کہ… شبیر ی غیرت کچھ دیر سے سہی مگر جاگ اٹھی اور انہوں نے… پاسپورٹ کے فارم میں
خو د کو… انڈین شہری لکھنے سے انکار کردیا… تب… ان کا پاسپورٹ اور سفر روک لیا
گیا… اور ان کی جگہ… ان کی پارٹی کے ناظم عبداللہ تاری آگئے ہیں… ان کے بار ے میں
کافی … ’’رطب ویابس‘‘ سن رکھا ہے… مگر… نہ ملاقات ہے نہ تحقیق … اس لئے… کچھ نہیں
لکھتا…
اپنے گجرات والے
چوہدری شجاعت حسین… اور آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت… ان رہنمائوں کا استقبال کررہی
ہے… ابھی… ان کا اسلام آـباد آنا باقی ہے… ان میں سے کئی… ہمارے حکمرانوں سے یہ…
انڈین گزارش کریں گے کہ … پاکستان… کشمیر میں… بندوق کو خاموش کرائے…ہمارے حکمران…
تو پہلے سے بے چین ہیں کہ کب جہاد ختم ہو… استقبال… ملاقاتیں… اور خفیہ تدبیریں …
ادھر سید علی شاہ گیلانی… شاید … سرینگر کے مزار شہداء کا چکر لگا آئیں گے… وہ
ویسے بھی وہاں اپنے لئے جگہ ڈھونڈ رہے ہیں… ہر آدمی کا عمل لکھا جار ہا ہے… اور ہر
شخص … اپنی موت آخرت اور حساب کی طرف بڑھ رہا ہے… زندگی کے کچھ لمحات… ’’فیصلہ
کن‘‘ ہوتے ہیں… غالباً … ایسا ہی لمحہ اب آیا چاہتا ہے… استقبال اور پروٹوکول کی
چکا چوند… دیکھ کر… کچھ مجاہدین بھی لالچ میں آسکتے ہیں… اور انہیں یہ فکر… دامن
گیر ہو سکتی ہے کہ… ’’منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے‘‘… مگر الحمدللہ سعدی کو…
ان باتوں کی پرواہ نہیں ہے… کیمرے فلش… چمک دمک… ڈھول تاشے اور مردہ استقبال… سب…
دنیا کے دھوکے… اور ناپاک تماشے ہیں… یااللہ… مجھے… اور میرے ساتھیوں کو … ان
شہداء کے مشن پر قائم رکھ… جنہوں نے ظاہری چمک دمک کی بجائے… خاک اور خون کی چادر
اوڑھی … اور تیرے بن گئے… سجاد شہیدؒ سے لے کر غازی باباشہید ؒ تک… اور آفاق ؒ سے لے کر بلال ؒتک… یااللہ… ثابت قدم رکھنا … یا اللہ ثابت
قدم رکھنا… اور اے مالک… شہداء کے مشن کی لاج کا سوال ہے… ہمیں یقین ہے کہ… تجھ پر
بھروسہ کرنے والے ناکام نہیں ہوتے… بس… رحم فرما… اور ہمیں … بس اپنی ذات پر…
توکل… اور بھروسہ عطا فرما۔ آمین یا رب
الشہداء والمجاہدین
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے
آسانی فرمائی اور ہم ’’کابل‘‘ پہنچ گئے۔ طور خم ٗ جلال آباد ٗ سروبی … اور پل چرخی
… ہر جگہ خوب اکرام اور عمدہ مہمان نوازی ہوئی۔ صدر نجیب کا تختہ الٹا جاچکا تھا…
صبغت اللہ مجددی صدرِ عارضی تھے… ہم نے ایک ہفتہ ’’کابل‘‘ میں قیام کیا… اس دوران
کئی جہادی رہنمائوں سے ملاقات ہوئی… افغان جہاد کے بزرگ ٗ معمرّ ٗ صاحب علم رہنما
حضرت مولوی محمد نبی محمدی ؒکی زیارت کا اشتیاق تھا… اور یہ خوشخبری بھی سنی جارہی
تھی کہ ان کی جماعت … حرکت انقلاب اسلامی افغانستان … دوبارہ متحد ہوچکی ہے… سوویت
یونین کے خلاف جہاد کے دوران یہ بہت طاقتور ٗ مقبول … اور مضبوط جماعت تھی … پھر
اس جماعت کے ساتھ بھی وہ ’’المیہ‘‘ ہوا جو بڑی جماعتوں کے ساتھ ہوتا ہے … مولانا
نصراللہ منصور ؒ نے اپنا دھڑا الگ کرلیا … خود ان کی شخصیت تو بھاری تھی مگر دھڑا
’’بھاری‘‘ نہ ہوسکا… ادھر مولانا ارسلان رحمانی … اور مولوی پیر محمد جیسے مضبوط
کمانڈر … استاد سیاف کی ’’اتحاد اسلامی‘‘ میں پھنس گئے … مگر … مولوی محمد نبی
محمدی … اور ان کی مبارک جماعت ان تمام ’’صدمات‘‘ کو سینہ تان کر سہہ گئی … چنانچہ
… مولوی محمد نبی محمدی اور ان کی جماعت کی اہمیت کسی لمحہ بھی کم نہ ہوئی … اور
بالآخر اسی جماعت کے بابرکت نظام سے ’’تحریک طالبان‘‘ نے وجود پکڑا… قابل رشک
اورحیرتناک بات یہ ہے کہ … مولوی محمد نبی محمدی ؒ نے اپنی جماعت کے ایک چھوٹے سے
کمانڈر … ملا محمد عمر مجاہد … حفظہ اللہ تعالیٰ ورعاہ … کی تحریک کو نہ صرف قبول
کرلیا … بلکہ … انہیں اپنا امیر تسلیم کیا اور تادم آخر ان کی حمایت و تائید
فرماتے رہے … جو لوگ افغانستان میں مولوی محمد نبی محمدی ؒکے مقام کو جانتے ہیں ان
کو ’’علم‘‘ ہے کہ اس دور میں یہ ان کا کتنا بڑا کارنامہ ہے … ورنہ … آج کل تو ہر
شخص خود کو ’’امیر جہاد‘‘ کا امیر سمجھتا ہے اور اس سے بیعت علی الجہاد بھی اس لئے
کرتا ہے تاکہ اس پر اپنی مرضی مسلط کرسکے… مگر ’’بیعت علی الجہاد‘‘ بھی عجیب چیز
ہے جو اس کو رسوا کرتا ہے … خود بھی … رسوائی سے نہیں بچ سکتا… ہاں تو بات چل رہی
تھی ’’سفر کابل‘‘ کی … چند دوستوں نے کوشش
کی اور ملاقات کا وقت طے کرلیا… ہم رات کے وقت ان کی قیام گاہ پر پہنچے … ماشاء
اللہ … اجڑے ہوئے کابل میں یہ محفوظ اور
شاندار عمارت تھی … بتایا گیا کہ … یہ … افغانستان کی خفیہ ایجنسی ’’خاد‘‘ کا ہیڈ
آفس تھا … کابل پر قبضے کے بعد یہ عمارت ہمارے حصے میں آئی ہے … مولوی محمد نبی
محمدی ؒ … بہت مسرور بیٹھے تھے … خوب گفتگو فرمائی … پشتو اور فارسی کے اشعار بھی
پڑھتے رہے … گفتگو کے دوران ایک ڈبی میں سے سونگھنے والی نسوار نکال کر … اسے ناک
کے نتھنے پر رکھتے اور زور سے سانس اندر کھینچ کر دماغ کو آسودہ کرتے … یقینا وہ
زمانے کے بڑے آدمی تھے… اور اپنے اونچے مقام کے ’’حقدار‘‘ تھے… ہمیں اس ملاقات میں
بہت مزا آیا … اور … یہ دیکھ کر حیرت بھی ہوئی کہ … ان کے تمام بچھڑے ہوئے
’’ساتھی‘‘ ان کے اردگرد اس طرح مؤدب بیٹھے تھے جس طرح مدارس کے طلبہ اپنے استاذ
کے سامنے بیٹھتے ہیں … مولانا نصراللہ منصور … مولانا ارسلان رحمانی … اور بہت
سارے قدآور حضرات … مجال ہے مولوی نبی محمدیؒ کی موجودگی میں کوئی بولا ہو … ہاں …
ان کے اٹھنے کے بعد سب ’’بولنے‘‘ لگے… آج کے کالم میں اس ملاقات کی تفصیل بتانا
مقصود نہیں ہے … بلکہ … ایک ’’راز‘‘ کی بات عرض کرنی ہے … مولانا محمد نبی محمدی ؒ
سے مجلس کے بعد ہم نے اس عمارت کا چکر لگایا … عمارت کے منتظم صاحب ہمیں ایک
’’خصوصی‘‘ کمرے میں لے گئے … اس کمرے میں ’’خاد‘‘ کا ریکارڈ رکھا ہوا تھا … انہوں
نے ہمیں چند موٹی موٹی کاپیاں دے کر فرمایا … ان میں ان لوگوں کے نام ہیں جو
مجاہدین … اور عام مسلمانوں میں گھس کر … کمیونسٹوں کیلئے ’’جاسوسی‘‘کرتے تھے … یا
… کمیونسٹوں کیلئے سازگار ماحول بناتے تھے … یا … مجاہدین کو بدنام کرتے تھے … اور
اس کام کے عوض انہیں ماہانہ ’’تنخواہ‘‘ دی جاتی تھی … ہم نے کاپیاں کھولیں تو اس
میں مختلف افراد کے نام ٗ ان کے پتے … اور ان کی تنخواہوں کی تفصیل ٹائپ شدہ موجود
تھی … اکثر لوگ … قبائلی علاقوں کے سردار تھے … جبکہ بعض کے نام کے ساتھ ’’مولوی‘‘
بھی لکھا ہوا تھا … اور ایک پوری ’’کاپی‘‘ پاکستان میں ’’خاد‘‘ کے خدمت گزاروں کے
ناموں کی تھی … یہ منظر دیکھ کر … ہمارے کئی ساتھی بہت جذباتی ہوکر … جہاد کے
مخالفین کو موٹی موٹی سنانے لگے کہ اب پتہ چلا کہ وہ کہاں سے بولتے تھے وغیرہ…
یہ واقعہ ختم … اب
دوسرا واقعہ سنئے … بندہ کو کچھ عرصہ … کشمیر کی ایک ’’جیل‘‘ میں قیام کا شرف حاصل رہا … وہاں موجود مجاہدین نے
ایک دوسرے کی ’’اخلاقی تربیت‘‘ کا نظام بنایا … تفصیل تو بہت لمبی ہے اس لئے بس اصل بات پر اکتفا کرتا ہوں … ایک دن
… اجلاس میں اکثر ساتھیوں نے یہ ’’بل‘‘ پیش کردیا کہ اپنے وارڈ میں سگریٹ پر
پابندی لگا دی جائے … بل پیش کرنے والوں کے دلائل وزنی تھے … اور تعداد زیادہ … ان
کا کہنا تھا کہ سارا دن حفظ ٗ ناظرہ اور درس قرآن کی کلاسیں چلتی ہیں … تسبیحات و
ذکر کا اہتمام ہوتا ہے … کئی ساتھی ’’سگریٹ‘‘ سے تائب ہوچکے ہیں … اب … جو دوچار
افراد پیتے ہیں ان کی وجہ سے تعلیم میں حرج … اور تائبین کو اشتیاق پیدا ہوتا ہے …
وغیرہ … خیر سگریٹ کی بندش کا فیصلہ ہوگیا … ’’دھواں کش‘‘ ساتھی کافی پریشان ہوئے
… ان میں سے ایک نے نہایت جذبات سے کہا … او! جو فیصلے کرنے ہوں کرتے رہو! اللہ
پاک کسی کی روزی اور نشہ بند نہیں کرتا (نعوذ باللہ) سب سگریٹی احباب پریشان تھے
مگر وہ بالکل مطمئن تھا … اللہ کا کرنا دیکھئے کہ اگلے ہی دن … جیل حکام نے آکر
بتایا کہ اس کو دوسری جیل شفٹ کرنے کا حکم نامہ آگیا ہے … میں اس سے ’’الوداعی‘‘ ملاقات کے لئے گیا تو اس نے
… شکریہ اور اظہار محبت کے بعد اپنا ’’قول‘‘ یاد دلایا… وہ جس جیل میں جارہا تھا
وہاں ایسی کسی پابندی یا بندش کا امکان نہیں تھا … اب جاتے جاتے میں اسے کیا
سمجھاتا کہ … دنیا میں بے شک بہت ساری خواہشیں پوری ہوجاتی ہیں … مگر … ہمیں … قرآن
و سنت میں سکھلا دیا گیا ہے کہ … کیا مانگنا ہے اور کیا نہیں؟ … اور کونسی لذت
نعمت ہے … اور کونسی زحمت؟ … اللہ پاک ہم سب کو معاف فرمائے … یہ واقعہ بھی ختم …
اب تیسرا اور آخری واقعہ پڑھ لیجئے … اس واقعہ کے بعد بتائوں گا کہ یہ تین واقعات
کیوں عرض کئے ہیں؟…
آپ نے سنا ہوگا کہ
’’غزوۂ تبوک‘‘ جو ۹ہجری میں پیش آیا تھا … اسلام کا بہت اہم مگر مشکل
’’غزوہ‘‘ تھا … قرآن پاک میں اس غزوے کے کئی ’’مراحل‘‘ کا تذکرہ ملتا ہے … آپ نے
یہ بھی سن رکھا ہوگا کہ قرآن پاک نے اس ’’جنگی مہم‘‘ میں نہ جانے والے افراد کو
سخت وعیدیں سنائی ہیں … ان آیات کو پڑھ کر انسان لرز کر رہ جاتا ہے … معلوم نہیں
جہاد میں تاویلیں کرنے والے حضرات ان آیات کو کس طرح ’’ہضم‘‘ کرتے ہونگے … آپ نے
یہ بھی سن رکھا ہوگا کہ تین مخلص مسلمان بھی بغیر کسی معقول عذر کے اس ’’غزوہ‘‘
میں نہ جاسکے تھے … انہوں نے … حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کوئی عذر پیش نہیں کیا …
بلکہ … انتہائی ندامت ٗ شرمندگی … اور غم کے ساتھ اپنی غلطی کا اقرار کرلیا … اور
معافی اور توبہ کی درخواست کی … آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حکم
پر مؤخر فرما دیا … اور فیصلہ آنے تک مسلمانوں کو ان تین حضرات سے ہر طرح کے تعلق
کو قطع کرنے کا حکم فرمادیا … یہاں تک کہ … اہل خانہ کو بھی الگ ہونے کا حکم دیا
گیا … حکم پر سوفیصد عمل ہوا … یہ تینوں حضرات … آنسوئوں کی لڑیاں … ندامت کے غم
میں پرو رہے تھے … سب کا ’’قطع تعلق‘‘ برداشت تھا مگر جب آقا صلی اللہ علیہ وسلم بھی چہرہ مبارک پھیر لیتے تو دل پر
ایسی بجلیاں گرتیں جن کا تصور بھی محال ہے… ان کا عشق ’’معمولی عشق‘‘ نہیں تھا …
زمین جب سے آباد ہے … صحابہ کرام جیسا ’’عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم
‘‘ اس نے نہیں دیکھا … اور دیکھ بھی نہیں سکے گی … کوئی مثال ہو تو دیکھے …
ان تین حضرات میں سے ایک حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے … خوبصورت ٗ جوان ٗ
بہادر … اور زبردست خطیب و شاعر … سیرت کی مشہور کتاب … سیرت حلبیہ میں سے … ان کے
اس واقعے کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمایئے…
’’حضرت کعب
رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ جب لوگوں
کی اس جفا اور مجھ سے بے تعلقی کو بہت عرصہ ہوگیا تو ایک روز میں ابوقتادہ کے باغ
کی دیوار پر چڑھ کر اندر گیا۔ ابو قتادہ میرے چچا زاد بھائی ہیں اور مجھے ان سے بے
حد محبت ہے… میں نے اندر پہنچ کر ابو قتادہ کو سلام کیا تو اللہ کی قسم انہوں نے
میرے سلام کا جواب نہیں دیا … آخر میں نے ان سے کہا ابوقتادہ! میں تمہیں اللہ کی
قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم میرے بارے میں جانتے ہو کہ میں اللہ اور اس کے رسول
سے کس قدر محبت کرتا ہوں … ابو قتادہ خاموش رہے تو میں نے پھر اپنا سوال دہرایا
اور پھر ان کو قسم دے کر پوچھا مگر پھر بھی انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا … تیسری
مرتبہ میں نے پھر اپنا سوال دہرایا اور قسم دی تو انہوں نے صرف اتنا کہا … اللہ
اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں … یہ سن کر میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے میں
وہاں سے واپس مڑا یہاں تک کہ دیوار پھلانگ کر باہر آگیا … جب میں مدینہ کے بازار
میں جارہا تھا کہ ملک شام کے نبطیوں میں سے ایک نبطی کو دیکھا جو اپنے ساتھ کھانے
پینے کا سامان لایا تھا اور اسے یہاں مدینہ میں فروخت کررہا تھا اچانک میں نے سنا
کہ وہ کہہ رہا تھا ’’کوئی شخص مجھے کعب بن مالک کا پتہ بتاسکتا ہے … یہ سن کر لوگ
اس کو میرا پتہ بتانے لگے … یہاں تک کہ جب وہ میرے پاس آیا تو اس نے مجھے غسّان کے
بادشاہ کا ایک خط دیا … غسّان کا بادشاہ حارث ابن شمریا جبلہ بن ایہم (عیسائی) تھا … غرض وہ خط ایک ریشمی کپڑے میں لپٹا ہوا تھا …
میں نے اسے کھول کر پڑھنا شروع کیا… اس کا مضمون یہ تھا …
میں نے سنا ہے کہ
تمہارے نبی نے تمہیں چھوڑ دیا ہے … مگر یاد رکھو خدا نے تمہیں ذلیل ہونے یا دوسروں
کے واسطے فنا ہونے کے لئے نہیں بنایا ہے … اس لئے تم ہمارے پاس چلے آئو ہم تمہارے
غم خوار و غمگسار ثابت ہونگے!
میں
نے خط پڑھ کر کہا یہ ’’دوسری مصیبت‘‘ ہے اس کے بعد سیدھا چولہے کی طرف گیا اور وہ
خط اس میں جھونک دیا …
یہ واقعہ بھی ختم
… ان تینوں واقعات کا تعلق اس ’’بل‘‘ سے ہے جو امریکی کانگریس میں بحث کے لئے پیش
کردیا گیا ہے … اس بل کا خلاصہ یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں تعاون
کے لئے ’’جاسوس‘‘ بھرتی کرنے کی ضرورت ہے … چنانچہ اکتالیس ارب ڈالر کی رقم منظور
کی جائے تاکہ امریکہ کی خاطر … اپنی قوم کے خلاف ’’جاسوسی‘‘ کرنے والے افراد بھرتی کئے جاسکیں … اس بل کی
وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ اب تک ’’جاسوسی‘‘ کا زیادہ انحصار ’’آلات‘‘ پر تھا ٗ
سیارچے ٗ جہاز … اور دیگر آلات ترصُدّ وغیرہ … مگر … ان تمام آلات سے بھی … مطلوبہ
مقاصد … پوری طرح حاصل نہیں ہو رہے … اس لئے ایسے ’’باقاعدہ جاسوسوں‘‘ کی ضرورت ہے
جو امریکہ کی خاطر امریکہ کے دشمنوں میں گھس جائیں … پھر وہاں سے خبریں لائیں …
اور خاص کارروائیاں کریں … بی بی سی والے بتا رہے تھے کہ … جاسوسوں کی یہ بھرتی …
کئی ممالک میں کی جائے گی جن میں سب سے اہم ملک … ’’پاکستان‘‘ ہے …
اب آپ پچھلے تین
واقعات کو سمجھ گئے ہونگے … سوویت یونین نے ہمارے ملک سے ’’جاسوس‘‘ بھرتی کئے … اب
… امریکہ آرہا ہے … اپنے مسلمان بھائیوں کو بیچنے والے ’’مسلمان‘‘ خوش ہونگے کہ
اللہ پاک نے ان کی روزی اور نشے کا پھر بندوبست کردیا ہے … مگر … کچھ غیرتمند
مائوں کے بچے … حضرت کعب بن مالک رضی اللہ
تعالیٰ عنہ … کی طرح … ان ناپاک ڈالروں کو تنور میں جلا کر اپنی دنیا اور آخرت
روشن کریں گے … آج کالم مختصر لکھنے کا ارادہ ہے ورنہ اس ’’بل‘‘ کے تناظر میں کئی
باتیں مچل رہی ہیں … بس صرف ان کی طرف ہلکاسااشارہ…
۱۔ یورپ اور امریکہ کے پجاری ہمیں ہر
وقت طعنہ دیتے رہتے ہیں کہ وہ ترقی میں کہاں تک پہنچ گئے ہیں؟ اب ہم ان سے کہاں لڑ
سکتے ہیں؟ ان کے طیارے ایسے ان کے سیارچے ایسے … وغیرہ وغیرہ … لیجئے اس ’’بل‘‘ نے
بتادیا کہ آپ کے محبوب پھر سیارچوں سے ’’انسانوں‘‘ کی طرف واپس آ رہے ہیں … اور ان
کے وہ آلات جن کو دیکھ کر آپ کانپتے ہیں … اب … مجاہدین کے سامنے ناکارہ ثابت ہوکر
… خود کانپ رہے ہیں …
۲۔ مجاہدین کو شاباش کہ … کمزور ٗ
نہتے اور بکھرے ہوئے … ہونے کے باوجود … ماشاء اللہ … ان کی یہ شان ہے کہ … پھر …
امریکہ کے خزانے سے اکتالیس ارب ڈالر اور نکلوا لئے…
۳۔ مسلمانوں کو تنبیہ کہ … اس عارضی
اور فانی دنیا کی خاطر … کافروں کیلئے جاسوسی نہ کریں … ورنہ … انہیں کے ساتھ
قیامت کے دن حشر کا خطرہ ہوگا … اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کافروں کے لئے جاسوسی
کرنے سے صاف منع فرمایا ہے … اور اللہ تعالیٰ ایسے افراد کو ہدایت سے محروم ظالم
قرار دیتا ہے جو یہود و نصاریٰ سے یاریاں کرتے ہیں … ان شاء اللہ موقع ملا تو
دلائل اور حوالہ جات کے ساتھ اس موضوع پر پھر کبھی لکھا جائے گا…
۴۔ امریکہ کو مشورہ کہ … کیوں اتنے
سارے پیسے ایک فضول کام پر خرچ کر رہے ہو؟… ان پیسوں سے اپنے لوگوں کے لئے
’’شلواریں‘‘ خرید لو… بے چارے نیکر پہن کر پھر رہے ہیں … مسلمان نہ تو ایٹم بم سے
ختم ہوں گے نہ … چند بے غیرت جاسوسوں کی مخبری سے … آپ لوگ اکتالیس ارب ڈالر خرچ
کرکے بھی ایسے ’’نظریاتی افراد‘‘ نہیں بنا سکو گے جیسے یہ مجاہدین اکتالیس روپے
خرچ کئے بغیر بنالیتے ہیں … پھر یہ بھی خطرہ ہے کہ … بے غیرت لوگ تم سے پیسے بھی
کھا جائیں اور تمہارا کام بھی نہ کریں … اس لئے کہ … جو اپنی قوم کے نہیں بنے وہ
تمہارے کیا وفادار بنیں گے … اس لئے سعدی کی مانو تو یہ اکتالیس ارب ڈالر بچالو …
اس سے برگر کھائو … چاکلیٹ چاٹو … اور افغانستان سے تازہ چرس منگوا کر … اپنے دماغ
… اور خیال روشن کرو… !
ان چار باتوں کے
بعد… خیال جی سے پوچھا کہ اگر امریکہ نے وسیع پیمانے پر … ہمارے ملکوں میں جاسوس
بھرتی کرلئے تو جہاد اور مجاہدین کا کیا بنے گا؟… بہت فکر کی بات ہے… خیال جی نے
بے فکری سے کہا مجھے تو مجاہدین کی کوئی فکر نہیں… ان شاء اللہ ان
کا کچھ بھی… نہیں بگڑے گا… ہاں مجھے ان تین طبقوں کی فکر ہے… جن کا اس بل سے اصل
نقصان ہوگا …
(۱)
ایک ہمارے اسلامی ملکوں کے حکمران…
جو بیچارے اس طرح روئیں گے جس طرح لاڈلی بیوی… سوکن آنے پر روتی ہے اور سِسک سِسک
کر خاوند سے پوچھتی ہے سرتاج! میرے اندر کیا کمی تھی؟ …ہمارے حکمران بھی ان
جاسوسوں کو دیکھ کر … امریکہ سے یہی پوچھیںگے…
(۲)
امریکی عوام … جن کے سرمائے کو ان
کی حکومت یہودیوں کے اشارے پر… ضائع کر رہی ہے… اور ان کے بچوں کے منہ کے نوالے…
دوسری قوموں کے غداروں اور ضمیر فروشوں کو کھلا رہی ہے…
(۳) تیسرے
… امریکہ کو خدا ماننے والے ہمارے دانشور… یہ حضرات اگرچہ کافی بے شرم واقع ہوئے
ہیں لیکن اگر … آئے دن امریکہ کی ایجنسیاں اسی طرح اپنی ناکامی کا اعتراف کرتی
رہیں تو مجھے خطرہ ہے کہ… یہ حضرات وخواتین… کسی دن ضرور… اپنے نظریات پر…
شرماجائیں گے…!
٭٭٭
دعوت دینے والوں کیلئے چند
گذارشات
اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ’’اقامت صلوٰۃ مہم‘‘ بس شروع
ہونے ہی والی ہے… صرف تیرہ دن باقی رہ گئے ہیں… اب تک جو ’’حالات‘‘ سامنے آرہے ہیں
وہ… الحمدﷲ… حوصلہ افزاء ہیں… پنجاب، سرحد، سندھ، بلوچستان… اور آزاد کشمیر میں
جماعتیں بن رہی ہیں … علماء کرام اور حفاظ پر مشتمل ’’مرکزی جماعت‘‘ نے اپنا دورہ
شروع کردیا ہے… مرکزی، صوبائی… اور ضلعی ذمہ دار اپنی نمازوں کو ’’جاندار‘‘ بنانے
میں لگے ہوئے ہیں… انہوں نے… حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ کی کتاب ’’نماز کی
حقیقت‘‘… حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کا کتابچہ ’’نمازیں سنت کے مطابق
پڑھئے‘‘ بغور پڑھ لیا ہے… ان دونوں کتابوں کو پڑھنے کے بعد ان ’’رفقاء کرام‘‘ نے
اپنے جو ’’تاثرات‘‘ لکھے ہیں وہ بہت عجیب، دلچسپ اور ایمان افروز ہیں… ادھر ہفت
روزہ ’’القلم‘‘ جولائی کے پہلے ہفتے میں ’’اقامت صلوٰۃ‘‘ پر اپنا خصوصی شمارہ
(نمبر) نکال رہا ہے… سیرت نمبر کی طرح… اقامت صلوٰۃ نمبربھی چار اضافی صفحات پر
مشتمل ہوگا… ان شاء اللہ … اس خصوصی شمارے
میں ملک کے نامور اہل قلم حضرات نماز کے تقریباہر پہلو پر موتی چنیں گے… معلوم ہوا
ہے کہ… یہ خصوصی شمارہ… ان شاء اللہ …
عمومی تعداد سے پچاس ہزار زائد شائع کیا جائے گا…
امید ہے کہ…
قارئین القلم کو … انشا ء اللہ … اس نمبر
میں درج ذیل عنوانات پر مدلل اور مفید مضامین پڑھنے کو ملیں گے…
)۱(نماز
کے موضوع پر چالیس احادیث شریف کا مستند اور خوبصورت مجموعہ جو پورے ایک صفحہ پر
مشتمل ہوگا
)۲( نماز
اور جہاد
)۳( انسانی
زندگی پر نماز کے اثرات
)۴( مسنون
نماز
)۵( عاشقوں
کی نماز
)۶( نماز
میں خشوع کرنے والے کہاں ہیں؟
)۷( جماعت
کے فضائل واحکام
)۸( ترک
نماز پر وعیدیں
)۹( نماز
کے فرائض، واجبات، سنن ومستحبات
)۱۰( قرآن
اور نماز
اور بہت سے مضامین اور افادات…
یہ ’’خصوصی
شمارہ‘‘ ابھی تیاری کے مراحل میں ہے… ہم سب کو چاہئے کہ ہم اس کی کامیابی کیلئے
’’خصوصی دعاء‘‘ کا اہتمام کریں… تب… ان شاء اللہ اس
کارخیر میں ہمارا حصہ اور اجر بھی شامل ہوجائے گا…
نماز کی اہمیت کے
پیش نظر اس کی دعوت کو کسی ایک مہینے یا ہفتے تک محدود نہیں کیا جاسکتا… یہ دعوت
تو ہمیشہ جاری رہنی چاہئے… مگر اسے منظم کرنے کیلئے یہ ساری ترتیب بنائی جارہی ہے…
ہمارے جو بھائی اور بہنیں اس مبارک ومقدس مہم میں شرکت کرنا چاہتے ہیں… یا … شرکت کیلئے
اپنے نام پیش کرچکے ہیں… آج کے کالم میں… انہی کیلئے چند گذارشات پیش کی جارہی ہیں…
پہلی گذارش
نماز کی اہمیت،
حقیقت اور مقام کو سمجھنے کیلئے درج ذیل اردو کتابیں بے حد مفید ہیں…
)۱( حضرت شیخ
الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب نور اللہ مرقدہ کا رسالہ ’’فضائل نماز‘‘ یہ رسالہ الگ بھی
چھپا ہوا ہے اور فضائل اعمال میں بھی شامل ہے… ہر مسلمان مرد اور عورت کو چاہئے کہ
زندگی میں ایک بار … ضرور بضرور… اسے پڑھ لے… اور اگر خود پڑھ نہیں سکتے تو کسی سے
سن لیں… تاکیدی گذارش ہے کہ… اس کا ضرور بضرور فوری اہتمام کیاجائے…
)۲( بندہ
کے ناقص مطالعہ کے مطابق نماز کے موضوع پر… اردو کی سب سے بہترین، نافع، جامع، اور
ایمان افروز کتاب حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی نور اللہ مرقدہ کی ’’ارکان اربعہ‘‘ ہے… اگر کوئی مسلمان
نماز کی اصل حقیقت سمجھنا چاہتا ہے… اور نماز کے بارے میں اپنے عقیدے اور عمل کی
اصلاح کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ فوری طور پر اس کتاب کو پڑھے اور سمجھے… کتاب
کا پورا نام اس طرح ہے:
’’ارکان
اربعہ… اسلامی عبادات کتاب وسنت کی روشنی میں تقابلی مطالعہ کے ساتھ‘‘
یہ کتاب مجلس
نشریات اسلام ناظم آباد کراچی نے شائع کی ہے… کتاب میں نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج
کا بیان ہے… پہلا حصہ نماز کے متعلق ہے… حقیقت یہ ہے کہ … اس کتاب کی خوبی بیان
کرنے کیلئے میرے پاس مناسب الفاظ نہیں ہیں… علماء اور طلبہ بھائیوں کو تو لازماً
اس کتاب کو پڑھ لینا چاہئے… ایک دو راتوں کا کام ہے… اور باقی مسلمان بھی اس کتاب
سے محروم نہ رہیں… میرا تو دل چاہتا ہے کہ… بار بار اس کتاب کو پڑھوں… اگر… دینی
ذمہ داریاں نہ ہوتیں تو یقینا ایسا ضرور کرتا… بے شک… یہ کتاب آخرت کا گھر سنوارنے
والا ایک عظیم الشان تحفہ ہے… اللہ تعالیٰ حضرت مصنفؒ کو خوب خوب اس کا بدلہ عطا
فرمائے…
)۳( اپنی
نماز کو … جاندار بنانے کیلئے ایک اور تحفہ… حضرت مولانا منظور احمد نعمانی صاحب
کی مختصر کتاب ’’نماز کی حقیقت‘‘ ہے… گذشتہ دنوں اپنی جماعت کے تقریباً دو سو ذمہ
داروں کو یہ کتاب مطالعہ کیلئے بھجوائی گئی… اور جماعت کے مرکز کی طرف سے تاکید کی
گئی کہ ہر ساتھی کم از کم دوبار اس کا مطالعہ کرے اور پھر دس سطروں پر مشتمل اپنے
تاثرات لکھ کر بھیجے… ذمہ دار ساتھیوں کے ’’تاثرات‘‘ بندہ کے سامنے ہیں… اور اگر
صرف انہی تاثرات کو شائع کردیا جائے تو ان شاء اللہ نماز کے بارے میں پھیلی ہوئی بے شمار کوتاہیوں
کا خاتمہ ہوجائے گا… خلاصہ یہ ہے کہ… الحمدﷲ… ہر ساتھی کو اس کتاب سے ’’بے پناہ‘‘
فائدہ ہوا… اور ہر ایک نے خوشی اور تشکر کا اظہار کیا… اور اس بات کا برملا اعتراف
کیا کہ اب وہ اپنی نمازوں میں کافی فرق محسوس کر رہے ہیں… یہ مختصر سی کتاب چھوٹی
تقطیع کے ۱۲۸
صفحات پر مشتمل ہے… یہ کتاب بھی مجلس نشریات اسلام ناظم آباد کراچی نے شائع کی ہے…
)۴( نماز
کو سنت کے مطابق بنانے کیلئے اردو کے کتب خانہ میں اہل حق علماء کرام کی کئی کتب
موجود ہیں… حالیہ مہم کے دوران ہمارے تجربہ کے مطابق حضرت مولانا مفتی محمد تقی
عثمانی مدظلہ کا کتابچہ ’’نمازیں سنت کے مطابق پڑھئے‘‘ کافی مفید ثابت ہوا ہے…
جیبی سائز کا یہ کتابچہ محض ۳۲ صفحات پر مشتمل ہے اور اسے مکتبہ
خلیل اردو بازار لاہور اور ادارۃ المعارف کراچی نے شائع کیا ہے…
)۵(فرقہ
واریت کو ہوا دینے والے بعض… کم علم لوگ… احناف کی نماز پر انگلی اٹھاتے ہیں… اور…
عام مسلمانوں کو باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ… نعوذب اللہ … احناف کی نماز سنت
کے مطابق نہیں ہے… حضرا ت علماء کرام نے اس … ’’وسوسے‘‘ کو ختم کرنے کیلئے… ایسی
مدلل کتب تحریر فرمادی ہیں جن میں احناف کی نماز کو… سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت کیا گیا ہے… اس سلسلے میں
زیادہ مفید یہ تین کتابیںہیں…
نماز مدلل… تألیف
شیخ الحدیث حضرت مولانا فیض احمد صاحب ملتانی مدظلہ…
نماز مسنون…
تصنیف… شیخ الحدیث حضرت مولانا صوفی عبدالحمید صاحب سواتی مدظلہ
نماز پیمبر ا …
تصنیف… حضرت مولانا محمد الیاس فیصل صاحب مدینہ منورہ…
)۶(نماز
کے مسائل معلوم کرنے کیلئے درج ذیل کتب عوام وخواص کے لئے مفید ہیں
بہشتی زیور… حضرت
حکیم الامۃ مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
علم الفقہ… حضرت
مولانا عبدالشکور صاحب فاروقی لکھنویؒ
اپنی نمازیں درست
کیجئے… افادات حضرت تھانویؒ … ترتیب مولانا اشفاق احمدقاسمی
مکمل ومدلل مسائل
نماز قرآن وحدیث کی روشنی میں تالیف مولانا محمد رفعت قاسمی مدرس دارالعلوم دیو
بند… یہ کتاب … اگرچہ ’’منقول‘‘ ہے مگر کافی جامع اور ضرورت پوری کرنے والی ہے…
نماز کے سو مسائل…
حضرت مولانا مفتی محمد ابراہیم صاحب صادق آبادی مدظلہ…
)۷( نماز
سیکھنے کیلئے… اور ان پڑھ لوگوں اور بچوں کو سکھانے کیلئے بہترین کتاب… حضرت
مولانا خیر محمد جالندھری نور اللہ مرقدہ
کی نماز حنفی ہے… اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو بے حد نافع اور مقبول
بنایا ہے… کوشش کریں کہ ہر مسلمان کے پاس جیبی سائز کی یہ چھوٹی سی کتاب موجود ہو…
اسی طرح حضرت مولانا محمد عاشق الٰہی صاحب بلند شہریؒ کی کتاب ’’آسان نماز‘‘ بھی
بہت مفید اور نافع ہے… اس کتابچے کے آخر میں چالیس مسنون دعائیں بھی مرقوم ہیں…
نماز چونکہ … دین
اسلام کا اہم ترین فریضہ… اور ستون ہے اس لیے ہر زمانے میں اہل علم… اور اہل دل نے
اس موضوع پر خوب لکھا ہے… اردو کے کتب خانے میں بھی… اس موضوع پر … بہت سی … مفید
کتب موجود ہیں… خود ہم نے … اقامت صلوٰۃ مہم کی تیاری کے سلسلے میں … کتب خانوں پر نماز کی کتب تلاش
کیں تو درجنوں کتابیں مل گئیں… ان میں سے بعض کتابیں ’’قلم‘‘ سے اور بعض قینچی سے
تیار کی گئی ہیں… ویسے کچھ عرصہ سے ’’قینچی بردار‘‘ مصنفین نے خوب دھوم مچار رکھی
ہے… وہ … کتابوں پر کتابیں تیار کرکے چھاپ دیتے ہیں اور ان کے قلم کی سیاہی کا ایک
قطرہ بھی خرچ نہیں ہوتا… یہ حضرات مختلف کتابوں… اور مضامین سے اپنے کام کی چیزیں
’’کاٹ‘‘ لیتے ہیں… پھر … ان تمام کو جوڑ کر کتاب تیار کرلیتے ہیں… ان میں سے جو
امانتدار ہیں وہ ان کتابوں کا حوالہ دے دیتے ہیں جن سے انہوں نے مضامین لیے ہوتے
ہیں… جبکہ… دوسرے بعض تو اس کا بھی تکلف نہیں کرتے… دیکھیں یہ سلسلہ کہاں تک جاتا
ہے؟… اس بارے میں ہمارے قارئین کا نظریہ یہ ہونا چاہئے کہ صرف اسی کتاب کو خریدیں…
اور پڑھیں جس کی تصدیق مستند علماء کرام فرمادیں… ہر لکھی ہوئی بات پڑھنے کے لائق
نہیں ہوتی… اور بعض کتابوں کا مطالعہ انسان کے عقائد، اعمال… اور فکر کے لئے نقصان
دہ ہوتا ہے… ہم نے اقامت صلوٰۃ مہم میں شریک بھائیوں… اور بہنوں کیلئے چند کتابوں
کا تعین کردیا ہے… ان شاء اللہ … نماز…
اور دعوت نماز کے بارے میں یہ چند کتب آپ کیلئے کافی ہوں گی… ہوسکے تو یہی چند
کتابیں خرید کر اپنے گھر میں رکھ لیں… خود بھی پڑھتے رہیں… اور گھر والوں کو بھی
پڑھاتے رہیں…
دوسری گذارش
کسی بھی دعوت کے
مؤثر ہونے کیلئے اہم ترین شرط یہ ہے کہ… دعوت دینے والا… خود ’’عمل‘‘ کا پکا ہو…
اس لیے سب سے پہلے اپنے عقیدے اور عمل کو اس بارے میں… مضبوط بنا لیجئے جس کا نصاب
درج ذیل ہے:
)۱( قرآن
وسنت کے فرامین پر غور کرکے اپنے دل میں نماز کو وہ مقام دیں… جو … شریعت نے بیان
کیا ہے… تب … آپ اپنی نماز پر تو پختہ ہو ہی جائیں گے… ساتھ یہ کہ آپ جب کسی
مسلمان کو بے نمازی دیکھیں گے تو آپ کے دل میں بہت درد … ہوگا اور بہت فکر اور تڑپ
پیدا ہوگی…
)۲( قرآن
مجید نے واضح اعلان کیا ہے کہ… مسلمانوں کے بھائی اور دوست وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو
نمازوں کو بھی قائم رکھتے ہیں (چند اور شرطیں بھی ہیں) اس لیے قرآن پاک کے اس
فیصلے پر عمل کرتے ہوئے صرف انہی افراد سے برادری اور دوستی رکھیں جو نماز کو قائم
کرنے والے ہوں… اسی طرح رشتہ لینے اور دینے کے معاملہ میں بھی اس کا سختی سے لحاظ
کریں…
)۳( اپنی
نماز کے ظاہر اور باطن کو درست کرلیں… ظاہر درست کرنے کیلئے ضروری ہے کہ آپ کی
’’تجوید‘‘ بھی ٹھیک ہو… اس کیلئے کسی استاذ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کریں، بہت شرم
کی بات ہے کہ … مسلمان کو درست تلفظ کے ساتھ قرآن… اور نماز نہ آئے… تجوید کے بعد…
اپنی نماز سنت کے مطابق بنائیں اس کیلئے کتابوں کا نام پہلے عرض کردیا ہے، مزید
علماء کرام سے تعاون لیں… اور پھر اپنی نماز میں جان پیدا کرنے کیلئے ’’خشوع‘‘ کا
اہتمام کریں … خشوع حاصل کرنے کیلئے درج ذیل آسان طریقے ہیں:
٭ ہر نماز کے بعد
اس دعاء کا اہتمام کریں کہ یا اللہ مجھے نماز میں خشوع عطا فرما اور میری نماز کو
اپنی پسندیدہ نماز بنا۔
٭ وضو، طہارت
وغیرہ پورے آداب کے ساتھ کریں اس سے بھی نماز میں خشوع پیداہوتاہے۔
٭ پوری نماز کا
ترجمہ یاد کریں اس سے بھی توجہ اور خشوع میں مدد ملے گی۔
٭ نماز میں ایک
رکن سے دوسرے رکن جاتے وقت نیت کریں کہ میں اب اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے فلاں رکن میں جا رہا ہوں…
مثلاً میں اللہ تعالیٰ کیلئے رکوع میں جا رہا ہوں… میں اللہ تعالیٰ کے لئے سجد ے میں جا رہا ہوں وغیرہ… مگر
تاکید ہے کہ یہ نیت دل سے ہو اگر زبان سے ادا کی تو نماز ٹوٹ جائے گی… خشوع کا یہ
طریقہ ہمارے شیخ حضرت مفتی ولی حسن صاحب نور اللہ مرقدہ کا ارشاد فرمودہ ہے…
٭ پوری نماز میں
عموماً اور سجدہ میں خصوصاً یہ بات یاد رہے کہ میں ایک حقیر اور عاجز بندہ اپنے
عظیم رب اور مالک کے سامنے ہوں…
٭ قرأۃ، تسبیحات،
اور دعاؤں کو ترجمہ کے استحضار کے ساتھ پڑھیں…
٭ اپنا لباس، مقام
اور جسم خوب پاک صاف اور معطر رکھیں…
٭ان چند طریقوں کے
علاوہ اگر آپ اپنی نماز کو مزید جاندار بنانا چاہتے ہیں تو امام غزالیؒ کی کتاب
کیمیائے سعادت کا اردو ترجمہ لے لیں اور اس میں نماز کو جاندار بنانے کا باب خوب
توجہ سے پڑھ لیں… ویسے ہم کوشش کریں گے کہ ان شاء اللہ … امام غزالیؒ… اور شاہ ولی اللہ ؒ
کے بعض ضروری ملفوضات کو … اس مضمون کی کسی قسط میں شامل کردیا جائے…
٭اگر آپ کے ذمہ
کچھ نمازیں باقی ہیں… تو ان قضاء نمازوں کو ادا کرنا شروع کردیں… بالغ ہونے کے بعد
نماز فرض ہوجاتی ہے… پانچ فرض نمازیں اور تین رکعت وتر روزانہ … اگر خدانخواستہ
عمر کے کسی حصے میں چند دن غفلت ہوگئی ہو… اور ان دنوں کی نمازیں رہ گئی ہیں تو
روزانہ پانچ فرض نمازیں… اور تین رکعت وتر… ادا کرنا شروع کردیں… اور اس کا سب سے
آسان طریقہ یہ ہے کہ روزانہ ہر نماز کے ساتھ ایک نماز ادا کرلیا کریں… اور اگر ہمت
ہو تو زیادہ نمازیں بھی ادا کرسکتے ہیں… اگر آپ نے یہ کام شروع کردیا تو یہ حضرت
علی رضی اللہ عنہ کے بقول توبہ کے قبول ہونے کی علامت ہوگی…
اور ساتھ ساتھ آپ کی دعوت میں بھی جان پڑ جائے گی… ایک بات ذہن میں رکھیں کہ آپ کا
جو وقت بھی نماز میں گزرے گا وہ ہر گز ضائع نہیں جائے گا… بلکہ… یہ وقت قیمتی بن
جائے گا… اور مرنے کے بعد کے مراحل میں… ہمیں اس وقت کی قدر ومنزلت کا احساس ہوگا…
ان شاء اللہ …
تیسری گذارش
نماز کی دعوت کا
آغاز… اپنے… گھر یعنی اپنے اہل خانہ سے کریں… حضرات انبیاء علیہم السلام اپنے اہل
وعیال کو نماز کی دعوت دیتے تھے۔ جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے…
واذکر فی الکتب
اسمعیل انہ کان صادق الوعد وکان رسولاً نبیا۔ وکان یأمر اہلہ بالصلوۃ والزکوٰۃ
وکان عند ربہ مرضیا (مریم ۵۴۔۵۵)
ترجمہ: اور کتاب
میں اسماعیل (علیہ السلام) کا بھی ذکر کیجئے وہ وعدے کے سچے اور (ہمارے) بھیجے
ہوئے نبی تھے… اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم کرتے تھے اور اپنے
پروردگار کے ہاں پسندیدہ تھے…
اس آیت میں اہل سے
مراد گھر والے (بیوی بچے اور اہل خاندان)… ہیں… جبکہ بعض مفسرین کے نزدیک پوری قوم
مراد ہے… یہاں آیت میں الفاظ ہیں ’’کان یأمر‘‘ … کہ آپ اپنے اہل خانہ کو نماز اور
زکوٰۃ کا ’’حکم‘‘ دیتے تھے… امر یعنی حکم سے مراد یہ ہے کہ پوری قوت، مضبوطی اور
سختی کے ساتھ اپنے گھر میں نماز اور زکوٰۃ کو جاری فرماتے تھے…
قرآن مجید میں
دوسری جگہ اس سے بھی زیادہ وضاحت کے ساتھ اپنے گھر والوں پر نماز نافذ کرنے کی
تاکید ہے… جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وأمر أہلک
بالصلوٰۃ واصطبر علیہا لا نسئلک رزقاً نحن نرزقک والعاقبۃ للتقویٰ…(طٰہٰ ۱۳۲)
ترجمہ: اور آپ اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کیجئے
اور خود بھی اس کی پابندی کیجئے ہم آپ سے رزق نہیں چاہتے ہم آپ کو رزق دیں گے اور
بہتر انجام پرہیز گاری کا ہے…
اس آیت کریمہ میں
بالکل واضح طور پر فرمایا گیا ہے کہ … خود بھی نماز کی پابندی کیجئے اور اپنے
گھروالوں کو بھی کرائیے… چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ طریقہ تھا کہ رات کو بمشیت الٰہی نماز
پڑھتے رہتے تھے جب رات کا آخری حصہ رہ جاتا تھا تو اپنے گھر والوں کو جگاتے تھے
اور فرماتے تھے کہ نماز پڑھو ، نماز پڑھو ، اور ساتھ ہی یہ آیت (وأمر اہلک
بالصلوٰۃ) تلاوت کرتے تھے۔ (رواہ مالک فی الموطا فی صلوٰۃ اللیل) حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اپنے گھر میں کوئی سختی یا تنگی
پیش آتی تھی تو انہیں نماز کا حکم دیتے تھے اور آیت کریمہ وأمر اہلک بالصلوٰۃ
تلاوت فرماتے تھے۔ ( روح المعانی)
چنانچہ حدیث شریف
میں آیا ہے کہ اپنے بچوں کو نماز پڑھاؤ جب وہ سات سال کے ہوجائیں اور مار کر پڑھاؤ
جب دس سال کے ہوجائیں… حضرت عمر رضیﷲ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں اپنے گورنروں کو
یہ سرکاری فرمان لکھ کر بھیجا تھا:
’’بلاشبہ
میرے نزدیک تمہارے کاموں میں سب سے بڑھ کر نماز ہے جس نے نماز کی حفاظت کی اور اس
کی پابندی کی وہ اپنے باقی دین کی حفاظت کرے گا۔ اور جس نے نماز کو ضائع کیا وہ اس
کے سوا باقی دین کو اس سے زیادہ ضائع کرے گا۔ ( رواہ مالک فی الموطا) (تفسیر انوار
البیان ص ۱۱۱
ج۶)
خلاصہ یہ ہوا کہ…
نماز پر سب سے پہلے خود کو لانا ہے… اور… پھر اپنے گھر والوں کو… گھر والوں میں
زیادہ تاکید بیوی کیلئے ہے کہ… اسے نماز کا پورا پابند بنایا جائے… ورنہ… تمام
اعتماد… اور معاملات بگڑ جائیں گے… اس کے بعد اولاد… بہن بھائی… دیگر رشتہ دار آتے
ہیں… اور اگر والدین بھی نماز میں کمی یا سستی کرتے ہوں تو ان کی بھی فکر کی جائے…
یقینا وہ شخص بڑا ظالم ہے جو اپنی بیوی سے نفع تو اٹھاتا ہے مگر اسے جہنم کے
خوفناک انگاروں سے بچانے کیلئے فکر اور محنت نہیں کرتا… اس موضوع پر اور بھی بہت
سی قرآنی آیات اور احادیث ہیں ہم نے بطور اشارہ ان دو آیات کو بیان کیا ہے کہ تاکہ
’’دعوت نماز‘‘ اپنی اصل ترتیب پر آجائے…
چوتھی گذارش
ہائے افسوس! کہ
امت مسلمہ نماز سے بہت دور ہو کر… تباہی‘
بربادی… اور جہنم کے کنارے پر پہنچ چکی ہے… مسلمانوں کی غالب اکثریت تو
نماز ادا ہی نہیں کرتی… خصوصاً… عورتوں میں تو نماز کی چوری حد سے زیادہ بڑھ گئی
ہے… چنانچہ … پھر بے حیائی… منکرات اور پریشانیوں کے دروازے بھی پوری طرح کھل چکے
ہیں… غالب اکثریت کو چھوڑ کر جو دس پندرہ فیصد مسلمان نماز ادا کرتے ہیں… ان میں
سے اکثر کی نماز درست اور جاندار نہیں ہے… کوئی تلاوت غلط کرتا ہے… کوئی طہارت کے
مسائل نہیں جانتا اور ناپاک حالت میں آکھڑا ہوتا ہے… کسی کا لباس پاک نہیں ہوتا…
اور کوئی بے توجہی سے نماز کو ٹرخا تا ہے… پنجاب کے دیہاتی لوگ حقے کی بدبو… اور
سرحد کے کئی لوگ نسوار کی بدبو کے ساتھ مسجد میں آتے ہیں… عورتیں ناخن پالش لگاتی
ہیں… پھر نہ وضو ہوتا ہے اور نہ غسل… نماز بھی ناپاکی میں پڑھتی ہیں… اور اس حالت
میں مرجاتی ہیں تو جنازہ بھی نہیں ہوتا… الغرض… ایک طرف بے نمازی مسلمانوں کا ہجوم
ہے تو دوسری طرف… نمازیوں کی غفلتیں اور کوتاہیاں ہیں… ایسے حالات میں… نماز کی
دعوت دینے والوں کو بہت ’’حکمت‘‘ سے کام لینا پڑے گا… اگر آپ نے شروع ہی سے اونچی
باتیں شروع کردیں… اور امام غزالی ؒ کے فرمودات سنانا شروع کردیئے کہ… بغیر خشوع
خضوع والی نماز… منہ پر ماری جائے گی اور اس سے کچھ فائدہ نہیں ملے گا وغیرہ… تو
اس سے کئی نمازی بھی نماز چھوڑکر بھاگ جائیں گے… اسی طرح اگر آپ نے فوری فتوے بازی
شروع کردی کہ… جو لوگ… عین اور حاء کو اپنے مخرج سے ادا نہیں کرتے ان کی نماز ہی
نہیں ہوتی تو… آپ کی یہ دعوت ’’مساجد‘‘ کو خالی کردے گی… اس لیے بہت ترتیب، فکر…
اور حکمت سے دعوت دیجئے… پہلے تو مسلمان کے دل ودماغ میں یہ بات بٹھائیے کہ نماز
کتنا بڑا فرض ہے… اور نماز کے بغیر مسلمان ہونے کا دعویٰ پوری طرح سے سچا نہیں ہے…
اور بے نمازی کا حشر کس طرح فرعون، قارون اور ہامان کے ساتھ ہوگا… جب مسلمان کے
خون میں یہ نظریہ دوڑنے لگے کہ… نماز چھوڑنا کافرانہ کام ہے اور کوئی مسلمان ایک
نماز چھوڑنے کا بھی تصور نہیں کرسکتا تو پھر … اگلے مرحلے پر… اس کی نماز کا ظاہر
ٹھیک کرائیے… اور پھر اس کے بعد نماز کو جاندار بنانے کی فکر ڈالیں… اور اپنی دعوت
میں اس بات کا بھرپور خیال رکھیں کہ… نمازی جیسا بھی ہو… بے نمازی سے بہت بہتر ہے…
اس لیے… ایسی کوئی بات زبان سے نہ نکلے کہ کوئی ’’نمازی‘‘ نماز چھوڑ جائے… اسی طرح
… اپنی دعوت میں ایسے سخت الفاظ بھی استعمال نہ کیجئے جن سے مسلمانوں کی عزت نفس
کو ٹھیس پہنچے… یاد رکھئے… جو آدمی جتنا گناہگار ہوتا ہے… شیطان… اسی قدر اس کو
اپنی عزت اور ناک کی فکر میں مبتلا کردیتا ہے… بلکہ… جو آدمی جتنا ذلیل اور شرمناک
گناہ کرتا ہے… اسی قدر… اسے اپنی ناک اور عزت کا جھوٹا خیال … پیدا ہوجاتا ہے…
نماز کا چھوڑنا… اور نماز میں سستی کرنا ایک کافرانہ گناہ ہے… کوئی مسلمان تو اس
طرح کے گناہ کا تصور بھی نہیں کرسکتا… لیکن… جو مسلمان نماز چھوڑتے ہیں… یا … اس
میں سستی کرتے ہیں… وہ… اپنے آپ کو بہت ناک والا… عزت والا سمجھتے ہیں… اس لیے انہیں
نرمی، محبت، اکرام، فکر… اور درد کے ساتھ دعوت دینے کی ضرورت ہے… اگر آپ نے… ان پر
سختی کی تو وہ بھڑک جائیں گے… اور کہیں گے… فلاں مولوی یوں کرتا ہے… فلاں عالم
ایسا کرتا ہے… تب وہ نماز… اور نمازیوں کو بھی گالیاں دے کر… ایمان سے ہاتھ دھو
بیٹھیں گے… بس اے میرے عزیز بھائیو!… اور عزیز بہنو!… نرمی… محبت… اور درد کے ساتھ
دعوت دو… ایک شخص نے خواب دیکھا کہ… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک آنکھیں دُکھ رہی ہیں… کسی
عالم نے تعبیر بتائی کہ… نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے… امت مسلمہ نے
نماز چھوڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آنکھوں میں (نعوذب اللہ ) تکلیف
پہنچی… آج… امت مسلمہ نے … نماز جیسا الٰہی تحفہ… آسمانی تحفہ ضائع کردیا ہے…
حکمران بے نمازی … قوم کے لیڈر بے نمازی… دانشور بے نمازی… قانون نافذ کرنے والے
بے نمازی… اور حد یہ کہ… اپنے اس شرمناک جرم پر ندامت کا نام تک نہیں… بلکہ بڑے
فخر سے کہا جاتا ہے کہ… وقت مل جائے تو پڑھ لیتے ہیں… مگر کیا کریں وقت ہی نہیں
ملتا… یہ بے نمازی لوگ کبھی اسلام اور مسلمانوں کے خیرخواہ نہیں ہوسکتے… یہ اپنے
ماتحتوں کو اپنے اشاروں پر نچاتے ہیں…مگر… جب … اللہ پاک انہیں نماز کیلئے بلاتا ہے تو یہ… اس کی
نافرمانی کرتے ہیں… انہوں نے قوم کو… سولی پر لٹکادیا ہے… ادھر قوم بھی بے نمازی…
اور نمازیوں کی نمازیں… بے جان… تب … آسمان سے کس کیلئے نصرت اترے؟… بس … اے
مجاہدینِ اسلام! اپنی نمازیں… پوری کرو… درست کرو… جاندار بناؤ… پھر اپنے گھروں
میں رور و کر … بلک بلک کر … تڑپ تڑپ کر… نماز کی دعوت دو… اور پھر … گلی گلی کوچہ
کوچہ … پھیل جاؤ… اے مسلمانو! نماز ادا کرو… اے مسلمانو! نماز ادا کرو…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ’’اقامتِ صلوٰۃ مہم‘‘ کو مزید کامیابی
اور قبولیت عطاء فرمائے… الحمدﷲ اب یہ مہم ’’یکم جولائی‘‘ سے اپنے دوسرے مرحلے میں
داخل ہورہی ہے… ماشاء اللہ خوب جوش اور رغبت کے مناظر دکھائی دے رہے ہیں… اللہ تعالیٰ ان تمام خواتین وحضرات کو خوب خوب …
بہترین بدلہ عطاء فرمائے جو اس ’’مقدس مہم‘‘ میں حصہ لے رہے ہیں… میرا ارادہ ہے کہ
ان شاء اللہ … مسلسل دو تین کالم اس موضوع
پر لکھے جائیں… تاکہ اس مہم میں باقاعدہ شرکت رہے… یہ ارادہ اپنی جگہ… مگر… ہمارے
گرد وپیش ایسے حالات تیزی سے کروٹیں لے رہے ہیں… جن پر … لکھنے کی ضرورت محسوس
ہورہی ہے… ہمارا نیا پڑوسی افغانستان… امریکی بٹن دبانے کی وجہ سے چیخ رہا ہے کہ…
افغانستان میں بد امنی کے ذمہ دار پاکستانی مجاہدین اور ان کی تنظیمیں ہیں… سنا ہے
کہ… کابل کی مضبوط، عوامی اور شاندار حکومت نے… حکومت پاکستان کو… ان افراد کی
فہرست دی ہے جو اس کے بقول افغانستان میں ’’کاروائیاں‘‘ کروا رہے ہیں… اور صدر
کرزئی نے حکم بھیجا ہے کہ …ان افراد کے خلاف فوری کارروائی کی جائے… بات بہت
معمولی سی تھی… مگر… کرزئی نام کے ٹیپ ریکارڈر سے جو آواز آتی ہے وہ ’’امریکی
کیسٹ‘‘ کی ہوتی ہے… اس لیے اسلام آباد پر لرزہ طاری ہے… وہ کرزئی جس کی کابل میں
کوئی نہیں سنتا… اسلام آباد کو ’’دھمکا‘‘ رہا ہے… یا اللہ یہ
دن بھی پاکستان نے دیکھنے تھے… دل چاہتا ہے کہ… گذشتہ پندرہ سال کی تاریخ کاغذ پر
انڈیل دوں کہ… کتنے افغانی پاکستان تشریف لائے؟… کتنوں نے یہاں قیام فرمایا؟… کس
کس تنظیم (جہادی تنظیموں کے علاوہ) کے یہاں دفاتر تھے؟… کتنے قتل اور بم دھماکے
ہوئے؟… خود کرزئی کے خاندان کو سر چھپانے کی جگہ کہاں ملی؟… طالبان کی مقدس تحریک
کو ختم کرنے کیلئے… کرزئی نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں چھپ چھپ کر … کیا ڈرامے
کئے؟… ہاں وہ سب کچھ جائز تھا… مگر… اب اس بات پر اعتراض ہے کہ… چند طالبان پاکستان
میں کیوں موجود ہیں؟… اگر طالبان سارے پاکستان میں ہیں تو پھر… صدر کرزئی
افغانستان میں مستحکم حکومت قائم کیوں نہیں کرلیتے؟… اگر طالبان پاکستان سے جاکر
کاروائیاں کرتے ہیں تو… امریکی، اتحادی … اورافغان فوجی بارڈر پر کیا جھک مار رہے
ہیں؟… امریکہ کے جاسوس طیارے کیوں اندھے ہوجاتے ہیں؟… امریکی گائیڈڈ میزائل کیوں
اتنے بے بس ہوگئے ہیں؟… دراصل امریکہ اور اس کے حواری پاکستان میں وسیع ترین خانہ
جنگی کی جو آگ بھڑکانا چاہتے ہیں… اس میں انہیں… پوری طرح کامیابی نہیں ملی…
وزیرستان کے شعلے بجھ گئے… بلوچستان کی آگ قدرے ٹھنڈی ہوگئی… اب پھر… حکومت پر
دباؤ ہے کہ… مجاہدین کے خلاف کارروائی کرے… نوجوانوں کو بے گھر کرے… عقوبت خانوں
اور جیلوں کو آباد کرے تاکہ… وہاں… نئی تنظیمیں جنم لے سکیں… اور بالآخر… تنگ آیا
ہوا دینی طبقہ… اٹھ کھڑا ہو… حکومت میں تو خانہ جنگی کی خواہش رکھنے والے کئی
افراد پہلے سے موجود ہیں… بس اللہ تعالیٰ ہی خیر فرمائے… موسم ’’صاف‘‘ نظر نہیں
آرہا… مسلمان کہلانے والے… اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے خلاف کریک ڈاؤن… اور آپریشن
کی تیاری کر رہے ہیں… اللہ تعالیٰ کو ’’وحدہ لاشریک لہ‘‘ ماننے والوں کو
ڈرنے، گھبرانے… اور پریشان ہونے کی ضروت نہیںہے… گرمی سردی … رات دن آتے جاتے رہتے
ہیں… دنیا کی خوشیوں کی طرح… یہاں کے دکھ بھی عارضی ہیں… ایمان ہی اصل نعمت ہے…
اور مرنے کے بعد… پھر ’’زندگی‘‘ ہے… ہاں وہ لوگ ضرور ڈریں… گھبرائیں… اور پچھتائیں
جو کافروں کو خوش کرنے کیلئے… اللہ تعالیٰ کو ناراض کرتے ہیں … اور غیروں کی خاطر…
اپنے مسلمان بھائیوں کو ستانے کا جرم کرتے ہیں… انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ … یوم
حساب زیادہ دور نہیں ہے… اور انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اسلام، قرآن، جہاد… اور
مجاہدین کسی حال میں بھی ختم نہیں ہوسکتے… ان پر اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے… اور اللہ تعالیٰ کا مقابلہ… نہ امریکہ کرسکتا ہے اور نہ
اس کے ایجنٹ … بہرحال یہ طویل موضوع ہے… آج … اس پر تفصیل سے لکھنا ممکن نہیں ہے…
ادھر ہمارے وزیر اطلاعات شیخ رشید صاحب سری نگر جانے کیلئے… ’’بِن بُلائے‘‘بے تاب
ہیں… مگر… یسین ملک صاحب نے ’’خچ‘‘ ماردی… اب شیخ صاحب … اپنے ماضی کے گناہوں پر
شرمندہ ہیں… مگر… ہندو مشرک ان کی توبہ قبول ہی نہیں کر رہے… شیخ صاحب نے اپنی
’’پاکی‘‘ بیان کرنے کیلئے دلائل کے انبار لگادئیے ہیں… ابھی کل ہی فرمایا ہے کہ …
ہم مکتی باہنی (مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی تنظیم) کو بھول جاتے ہیں آپ ’’ہمارے
کیمپ‘‘ بھلادیں… یہ بیان بہت عجیب … اور ’’ستمگر‘‘ ہے… گویا کہ ایک دورے کی خاطر…
’’مکتی باہنی‘‘ کی ظالم تحریک، ہزاروں شہداء… ملک کا بٹوارہ… اور آدھا پاکستان… ہم
سب کچھ بھلا دیں گے… انا ﷲ و اناالیہ راجعون… شیخ صاحب کا کیمپ تھا یا نہیں؟… اس
بارے میں … مجھ جیسا چشم دید دوست بہت کچھ لکھ سکتا ہے… مگر… اس کی ضرورت نہیں ہے…
جب شیخ صاحب فرمارہے ہیں کہ… کیمپ نہیں تھا تو بس بات ختم… کیمپ بالکل نہیں ہوگا…
ہاں… بس دل میں ایک کانٹا بار بار چبھتا ہے… شیخ صاحب کی تو بہ … اگر… بھارتی
مشرکوں نے قبول کرلی… شیخ صاحب… بھارتی بس پر بیٹھ کر… سری نگر جا پہنچے… لال چوک
پر… ان کا استقبال ہوا… پھر شیخ صاحب… لمبے جلوس کے ساتھ مزار شہداء کے قریب سے
گزرے… اچانک… کسی قبر سے زور دار آواز آئی… شیخ صاحب! السلام علیکم… میں بھی فریڈم
ہاؤس؟؟؟ … چلیں چھوڑیں اس بات کو… آئیے دعاء کرتے ہیں کہ … اللہ پاک ہم سب کو دنیا کی رسوائی… اور آخرت کے عذاب
سے بچائے… اور شہداء کے پاکیزہ خون کی آہ… ہمیں نہ لگے… آمین… یا رب العالمین…
میرا ارادہ اس موضوع پر پورا کالم لکھنے کا تھا… مگر… ایسا نہ ہوسکا…
پاکستان میں مغرب
زدہ ’’این جی اوز‘‘ کے پھنکارتے عفریت پر بھی لکھنے کی ضرورت ہے… یہ لوگ… یورپ اور
امریکا کی ہوا سے … غباروں کی طرح پھول رہے ہیں… پہلے مخلوط میرا تھن… اور اب
بیچاری مختاراں مائی… این جی اوز کس طرح سے… باپردہ بیٹیوں کو… شمع محفل بناتی
ہیں… اور کس طرح سے مسلمانوں کی رسوائی کا سامان کیا جاتا ہے… یہ بہت دردناک
داستان ہے… یقینا… ان حالات کو دیکھ کر دل روتا ہے… ہاں ایک بات… ہنسی والی بھی
ہے… ہماری این جی اوز… مختاراں مائی کو… امریکہ کے ایسے پاکیزہ… اور مقدس ماحول
میں… لے جارہی تھیں… جہاں… کوئی آدمی کسی غیر محرم پر غلط نظر تک نہیں اٹھاتا…
جہاں… ہر مرد اور ہر عورت… نو سال کی عمر سے… پاکدامن بننا شروع کردیتے ہیں… جہاں
نہ کوئی کلنٹن ہوتا ہے نہ مونیکا لیونسکی… پھر جب… کسی سیمینار میں مختاراں مائی
بتاتی کہ … میرے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو پورا مجمع حیران رہ جاتا … اور مجمع میں
بیٹھی ہوئی ’’پاکدامن‘‘ گوریاں اپنے بوائے فرینڈز کے گلے لگ کر… رونا شروع
کردیتیں… اللہ تعالیٰ… مسلمانوں کی … ان مغرب زدہ این جی اوز
سے حفاظت فرمائے…
ادھر کل ہی کراچی
میں… معروف عالم دین… صاحب تحریر وتقریر… شیخ الحدیث مولانا مفتی عتیق الرحمن
صاحبؒ کو… شہید کردیا گیا ہے… آج عصر کی نماز کے بعد ان کی نماز جنازہ ہے… اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے… اور ان کے
پسماندگان کے زخمی قلوب پر صبر وسکینۃ نازل فرمائے… حضرت مفتی صاحبؒ کی شہادت… ایک
… ملی سانحہ ہے… ان اللہ و انا الیہ
راجعون… ہم … خود غمزدہ ہیں… اور جامعہ بنوریہ سائٹ کراچی… کے عمائدین، طلبہ کرام…
اور مفتی صاحبؒ کے لواحقین کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں… اللہ تعالیٰ مفتی صاحب کے قاتلوں کو تباہ وبرباد
فرمائے… ادھر چند دن پہلے… ہمارے محبوب دوست، متقی عالم دین، نوجوانوں کیلئے تقویٰ
وطہارت کی مثال… مولانا محمد عامر صاحبؒ ایک سڑک حادثہ میں شہید ہوگئے… مولانا
مرحوم… فقیہ العصر حضرت اقدس مولانا مفتی رشید احمد صاحب نور اللہ مرقدہ… کے خاص فیض یافتہ شاگرد… اور مرید تھے…
ان کا بچپن حضرت فقیہ العصرؒ کی پاکیزہ… اور کیمیا اثر صحبت میں جوان ہوا… اور ان
پر … دین، علم اور جہاد کا ایسا رنگ چڑھا کہ چھوٹی سی عمر میں… بلند پایہ عالم
دین، مجاہد… اور مدرس بن گئے… دیکھنے والے جانتے ہیں کہ… ان کے چہرے پر… ایک ایسا
نور تھاجس پر آنکھیں نہیں ٹکتی تھیں… اور ایک ایسا بھولپن تھا جس سے معصومیت
چھلکتی تھی… کراچی کے ایک ’’مالدار گھرانے‘‘ سے تعلق رکھتے تھے مگر مال کی آلائشوں
سے… ماشاء اللہ … پاک رہے… مجھے اچھی طرح
یاد ہے کہ… چند سال پہلے… کراچی میں ان کے والد صاحب نے… ان کی موجودگی میں
فرمایا… اسے دنیا کی بالکل سمجھ نہیں ہے… مجھے یہ سن کر بے حد خوشی ہوئی … میں نے
عرض کیا… مبارک ہو! یہ تو بہت اعلیٰ اور انمول صفت ہے… وہ فرمانے لگے… نہیں کچھ نہ
کچھ تو دنیا کی خبر ہونی چاہئے… آخر اس میں رہنا ہے، آپ اس کے لئے دعا کریں… میں
دعا کیا کرتا رشک میں مبتلا ہوگیا… اس امت کا فتنہ ہی ’’مال‘‘ ہے… اور جسے اللہ پاک اس ’’فتنے‘‘ کی آلائشوں سے دور رکھے… اس کے
… کامیاب ہونے میں کیا شبہ ہے… مولانا عامر صاحب نور اللہ مرقدہ… جوانی ہی میں… اس دنیا کو چھوڑ گئے… جس
کی ان کو سمجھ نہیں تھی… اور اس آخرت کی طرف روانہ ہوگئے… جسے وہ خوب سمجھتے تھے…
خوب مانتے تھے… اور اسی کی فکر اور تیاری نے انہیں دنیا سے غافل کر رکھا تھا … ان
کی جدائی کا درد… سیدھا دل پر جگہ پکڑ تا ہے… مگر… صبر بہترین ’’متبادل‘‘ ہے… اللہ پاک ان کے ’’جملہ‘‘ پسماندگان … تلامذہ… اساتذہ…
اور احباب کو صبر جمیل عطاء فرمائے…
آئیے اب اپنے اصل
موضوع یعنی ’’اقامت صلوٰۃ‘‘ کی طرف آتے ہیں…
قرآن پاک نے نماز
کی اہمیت خوب تفصیل سے بیان کی ہے… اور ایسی زبردست راز کی باتیں بتائی ہیں… جن پر
عمل کرنے سے… دنیا وآخرت کے بے شمار مسائل حل ہوجاتے ہیں… قرآن پاک نے کتنی آیات
میں ’’نماز‘‘ کو بیان کیا ہے؟… یہ ایک تحقیق طلب اور مشکل سوال ہے… حضرت مولانا محمد
منظور احمد نعمانی صاحب لکھتے ہیں…
’’خود میری
نظر سے تو نہیں گذرا لیکن اپنے بعض بزرگوں سے سنا ہے کہ شاہ رفیع الدین دہلویؒ نے
اپنے کسی رسالہ میں لکھا ہے کہ نماز کی اہمیت اور فضیلت قرآن مجید میں مختلف
عنوانات سے کہیں اشارۃً اور کہیں صراحۃً قریباً سات سو جگہ ذکر کی گئی ہے اور
ننانوے آیتیں تو نماز کی ترغیب وتاکید اور اس کی فضیلت واہمیت کے متعلق مولانا
عبدالشکور صاحب لکھنوی مدظلہ نے بھی اپنے رسالہ کتاب الصلوٰۃ میں جمع کردی ہیں‘‘…
(نماز کی حقیقت ص۲۰)
حضرت مولانا کی یہ
عبارت پڑھ کر… بندہ نے کوشش کی کہ وہ کتابیں مل جائیں جن کا اس عبارت میں تذکرہ
ہے… تاکہ… نماز کے بارے میں ’’قرآنی ہدایات‘‘ کا یکجا گلدستہ دیکھنے، پڑھنے،
سمجھنے… اور برتنے کی توفیق ملے… مگر دونوں کتابیں نہ مل سکیں… تب … اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر خود آیات صلوٰۃ … یعنی نماز
کے متعلق آیات کی گنتی شروع کی… ابتداء میں اللہ تعالیٰ کی ایسی نصرت رہی کہ… قرآن پاک کھلتا چلا
گیا… اور امید ہوگئی کہ… ان شاء اللہ …
نمازکی آیات جلد جمع ہوجائیں گی… اور اقامت صلوٰۃ مہم شروع ہونے سے پہلے… ان کا
مجموعہ … ان شاء اللہ … رفقاء کرام کے
ہاتھ میں ہوگا… مگر… اللہ تعالیٰ کی تقدیر غالب ہے… اور بندہ بے حد کمزور
… کام نے جب رفتار پکڑی تو اچانک صحت نے جواب دے دیا… اب دیکھیں… یہ کام میری قسمت
میں ہے یا نہیں؟… قارئین کرام دعاء فرمادیں تو بہت ممکن ہے کہ… اللہ تعالیٰ کی رحمت متوجہ ہوجائے… ویسے… اس کام کا
’’نقش اول‘‘ تیار ہے… یہ بات میں نے اس لیے لکھ دی کہ … ممکن ہے اسے پڑھ کر… کوئی
جید عالم دین اس کام کے لئے کمر باندھے… اور امت مسلمہ پر احسان ہوجائے… آیات
صلوٰۃ پر کام کرتے وقت… مجھے بار بار چونکنا پڑا کہ… ہمارے کتنے اہم مسائل کا حل …
بالکل وضاحت سے بتادیا گیا ہے … مگر ہم اس سے غافل ہیں… اور اب حالت یہاں تک جا
پہنچی ہے کہ … ہماری مسجدیں نمازیوں سے … اور ہماری نمازیں ’’خشوع‘‘ سے خالی ہوتی
جارہی ہیں… آپ حیران ہوں گے کہ … ہم نے … نماز کے ساتھ بھی ’’جہاد‘‘ کی طرح کافی
زیادتی کی ہے… بہت سارے دین کے خادموں… اور اسکالروں تک کو سورۃ فاتحہ… اور
التحیات درست پڑھنا نہیں آتی… اور افسوس اس پر ہے کہ … ان بنیادی امور کو … ثانوی
حیثیت دے دی گئی ہے… اور دین صرف … قیل وقال… اور تحریکی اٹھک بیٹھک بن کر رہ گیا
ہے… دینی سیاسی جماعتیں… جہاد کی طرح … نماز سے بھی ہاتھ دھو رہی ہیں… اہم عہدوں
پر متمکن کارکن… نماز کے ساتھ ’’سوتیلا سلوک‘‘ کرتے ہیں… اور مجمع میں اذان… اور
جماعت قائم کرنے سے شرماتے ہیں… دوسری طرف… قرآن کا اعلان ہے کہ … خلافت اسی جماعت
کے ذریعہ قائم ہوگی… جو نماز کو پوری طرح قائم کرنے والی ہو… اس کے علاوہ چند اور
شرائط بھی ہیں… جن کا تذکرہ … وقتاً فوقتاً ہوتا رہتا ہے… آج … قرآن پاک سے نماز
کی دعوت سمجھ کر … اسے امت مسلمہ تک پہنچانے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ … حالات
کی خرابی نے … مجاہدین کو … میدان سے… مصلے کی طرف موڑ دیا ہے… الحمدﷲ… ماضی میں
بھی… جہاد کے ساتھ ساتھ اقامت صلوٰۃ… اور پورے دین کی دعوت چلتی رہی …اور ’’دورہ
اساسیہ‘‘ کے ذریعے… علم دین کے ساتھ رشتہ بھی… استوار رہا… دورہ تربیہ کے ذریعہ…
تزکیہ، اور احسان کا نور سمیٹنے کی کوشش… بحمد اللہ جاری رہی… اور … ماشاء اللہ …
جاری ہے…
دین کے کسی بھی
شعبہ کے بارے میں… افراط اورتفریط… الحاد کا دروازہ ہے… دین پورا… نازل ہوا ہے…
اور پورا … محفوظ ہے… اور کامیابی… پورے دین میں ہے… الحمدﷲ … یہ اصول … ہمیشہ …
دل کا عقیدہ رہا ہے… ہاں… ہم لوگوں نے … جہاد کی دعوت پر زیادہ توجہ دی … اور اس
کی وجہ بالکل واضح ہے کہ … اسلام دشمنوں نے اس دعوت کو مٹانے کیلئے… ایڑی چوٹی کا
زور لگا رکھا تھا… اور… عقیدہ جہاد پر… تحریفات اور تاویلات کی خوفناک بوچھاڑ تھی…
اور تو اور … ایک اہم اسلامی فرض … کو … گلی محلے کا ایک عام لفظ بنادیا گیا تھا…
اور رشوت خور پولیس والے بھی بے دھڑک کہہ دیا کرتے تھے کہ… اجی ہم بھی ڈیوٹی دیکر
جہاد کر رہے ہیں… مرزا قادیانی کی مکروہ تحریک … کے پیچھے سارا عالم کفر کھڑا تھا…
اور خالص جہاد کی بات … عنقاء ہوتی جارہی تھی… تب… ضرورت تھی کہ … جہاد کو… قرآن
پاک کا سہارا دیا جائے… اور جہاد کے مخالفوں کو … معترض کے اسٹیج سے اتار کر… ملزم
کے کٹہرے میں لایا جائے… اللہ پاک ہی بہتر جانتا ہے کہ … یہ کوشش کامیاب ہوئی
یا نہیں؟… بہرحال … جہاد کے داعیوں نے ہمت نہیں ہاری… اور الحمدﷲ امت مسلمہ کے ایک
بڑے طبقے تک… فریضہ ’’جہاد فی سبیل اللہ ‘‘
کی ملاوٹ سے پاک دعوت پہنچ گئی… اور یہ دعوت… الحمدﷲ … آج بھی جاری ہے… اور ان شاء
اللہ تاقیامت جاری رہے گی… آج میں … جب مختلف زبانوں
میں… جہاد کا خالص لٹریچر… اور جہاد کی قرآنی آیات کا ترجمہ دیکھتا ہوں تو دل سے…
شکر ادا ہوتا ہے… اللہ پاک ’’دعوت جہاد‘‘ کو مزید قوت، قبولیت اورترقی
عطاء فرمائے… عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ … اقامت صلوٰۃ کی موجودہ مہم خود… وقت کا
تقاضا … اور زمانے کی پکار ہے… جس کی طرف … اللہ تعالیٰ نے اپنے کمزور بندوں کو متوجہ فرما کر…
ایک احسان عظیم فرمایا ہے… اس مہم کا مقصد… نہ تو… جہاد کی دعوت سے گریز ہے… اور
نہ خود کو قابل قبول بنانے … کا کوئی حیلہ… ہم … اسلام کے دشمنوں کیلئے… قابل قبول
بننا ہی نہیں چاہتے… الحمدﷲ … ہمارے سینے… ان کے سینوں کے نہیں… گولیوں کے مشتاق
رہتے ہیں… ہاں… قرآن پاک نے ہمیں… نماز… اور دعوت نماز کیلئے پکارا تو… لبیک…
لبیک… قرآن پاک نے ہمیں سمجھایا ہے کہ… بغیر نماز کے ہدایت نہیں مل سکتی… تو ہمیں
… اس بات پر پختہ یقین ہے… بے شک… نماز کو پوری طرح قائم کیے بغیر… ہدایت نہیں ملتی…
اور بے نمازی… قرآن پاک کی ہدایت کا نور نہیں پاسکتے… قرآن پاک نے ہمیں سمجھایا ہے
کہ… نماز قائم کیے بغیر فلاح اور کامیابی نہیں مل سکتی… قرآن پاک نے ہمیں بتایا ہے
کہ … نماز قائم کیے بغیر … اللہ پاک کی نصرت نہیں آتی… قرآن پاک نے ہمیں بتایا
ہے کہ… منافق جہاد کی طرح نماز میں بھی سستی کرتا ہے… ہاں… میرے بھائیو!… اور
بہنو… قرآن پاک نماز کی طرف… بلا رہا ہے… بار بار… بلا رہا ہے… وہ دیکھو… مظلوم
قرآن … ظلم سہہ کر بھی ہمیں… عظمت کی راہیں دکھا رہا ہے… وہ دیکھو… دنیا کے نہ
چاہنے کے باوجود… کچی مسجد کے میناروں سے … آواز آرہی ہے… حیّ علی الصلوٰۃ… آؤ
نماز کی طرف… حیّ علی الفلاح…آؤ… فلاح… اور کامیابی کی طرف… جی ہاں رب تعالیٰ بلا
رہے ہیں… موذن ہمارے رب کا منادی ہے… ہاں… اللہ کی
قسم ہاں… ہمارا رب ہمیں بلا رہا ہے… خوبصورت قیام… حسین رکوع… اور دلکش سجدے کی
طرف… ہاں ہاں… بلا رہا ہے… عظیم رب… اپنے حقیر بندوں کو… جی ہاں… بلا رہا ہے…
باتیں سننے کیلئے … باتیں کرنے کیلئے… جھولیاں بھرنے کیلئے… اور محبت اور قرب کا
شربت پلانے کیلئے… اے غمزدہ… مسلمانو! اور کیا چاہئے… آؤ… دوڑیں… اپنے عظیم رب کی
طرف … اور دوسرے مسلمانوں کو بھی ساتھ لے جائیں… لبیک… لبیک …ہم حاضر ہیں یا اللہ … ہم آگئے… ہم تیرے بن گئے… صرف تیرے… اب
تو بھی … ہمارا بن جا…
٭٭٭
رَبِّ اجْعَلْنِیْ
مُقِیْمَ الصَّلٰوۃِ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ
رَبَّنَا
وَتَقَبَّلْ دُعَآءo
رَبَّنَا
اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُوْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ۔
)سورہ
ابراہیم ۴۰۔۴۱(
ترجمہ: ’’اے میرے
پروردگار مجھے نماز قائم کرنے والا رکھیے اور میری اولاد میں سے (نماز قائم کرنے
والے بنائیے) اور میری دعاء قبول فرمائیے… اے ہمارے رب میری مغفرت فرمائیے اور
میرے والدین کی اور مومنین کی، جس دن حساب قائم ہوگا‘‘…
اللہ پاک اس دعاء کو قبول فرمالے… اور ہمیں اور ہماری
اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنادے… حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام بہت
اونچے… نبی اور رسول تھے… وہ ’’خلیل اللہ ‘‘
تھے… وہ ’’ابوالانبیاء‘‘ تھے… ان کی اس ’’دعاء‘‘ سے ’’اقامت الصلوٰۃ‘‘ کی اہمیت
معلوم ہوگئی… جب … ان جیسے نبی اور خلیل اللہ کو
… نماز کی ضرورت تھی… تو پھر… اور کون ہے جو بغیر نماز کے… کچھ پاسکے؟… دین کے کام
جتنے بڑے، کٹھن… اور عظیم الشان کیوں نہ ہوں… لیکن … اگر ان کے ساتھ… نماز کا پورا
اہتمام نہ ہوتو … سب کچھ… ضائع جانے کا پورا خدشہ ہے… اس لیے… نہ نبی کو نماز معاف
ہے… نہ صدیق کو … نہ مجاہد کو… اور نہ داعی کو… ایک نماز تو درکنار… نماز کا ایک
سجدہ بھی معاف نہیں… کیونکہ… نماز ہے تو پورا دین ہے… ورنہ … صرف نام ہے… کام کچھ
نہیں… ہم نے… آج کی مجلس کا آغاز اس مبارک دعا سے کیا… امید ہے کہ… آپ نے بھی دل
اور زبان سے یہ دعاء مانگ لی ہوگی… اللہ کرے… یہ دعاء میرا اور آپ کا ’’حال‘‘ بن جائے…
اور نماز… ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بن جائے … اب آئیے ان ’’وجوہات‘‘… اور اسباب کی
طرف… جن کو مدنظر رکھ کر ہم یہ دعاء تڑپ تڑپ کر مانگتے ہیں…
(۱) بے
نمازی بے ہدایت
ہدایت… یعنی ایمان
اور اسلام کا رستہ نصیب ہوجانا… یہ سب سے بڑی نعمت ہے… اگر کسی انسان کو دنیا بھر
کی بادشاہت مل جائے مگر ہدایت نہ ملے تو… ایسے بدنصیب انسان سے… خنزیر اور کتے
افضل ہیں… اور اگر کسی کو ’’ہدایت‘‘ نصیب ہوجائے اور ا س کی ساری زندگی دکھ اور
تکلیف میں گزرے تو … ایسا انسان بے حد خوش نصیب ہے… ہدایت اتنی اہم چیز ہے کہ ہم
اپنی سب سے ’’بڑی دعاء‘‘ یعنی سورۂ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ سے ہدایت ہی مانگتے ہیں… اہدنا الصراط
المستقیم… ’’ہدایت‘‘ کتنی اہم اور ضروری نعمت ہے… اس پر… ہزاروں صفحات لکھے جاسکتے
ہیں… مگر… ان سب کا خلاصہ سمجھنے کے لئے… حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث مبارک کافی ہے…
’’حضرت
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ
السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ اے میرے رب
(کیا وجہ ہے کہ) آپ اپنے مومن بندے پر رزق کے دروازے بند کردیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ
کھولا اور فرمایا کہ یہ وہ اجر وثواب ہے جو میں نے (رزق کی تنگی اور دنیوی تکالیف
کے بدلے میں) اپنے بندے کے لئے تیار کر رکھا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا کہ
اے اللہ ! آپ کی عزت اور آپ کے جلال وعظمت
کی قسم، اگر مومن بندے کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کٹے ہوئے ہوں اور اسے پیدائش
کے دن سے لیکر قیامت کے دن تک مسلسل منہ کے بل گھسیٹا جائے اور آخر میں اس کا
ٹھکانہ جنت ہو تو وہ اس راحت وسکون اور اس خوشی کی وجہ سے یوں محسوس کرے گا کہ
گویا اس نے کبھی کوئی تکلیف دیکھی ہی نہ تھی… موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا اے
میرے رب! آپ کافر کو دنیا کی نعمتیں عطاء فرماتے ہیں؟ تو اللہ تعالیٰ نے جواباً جہنم کے دروازوں میں سے ایک
دروازہ کھولا اور فرمایا کہ میں نے کافر کے لئے یہ سزا تیار کر رکھی ہے۔ موسیٰ
علیہ السلام نے عرض کیا اے رب! آپ کی عزت کی قسم، اگر آپ کافر کو دنیا اور دنیا کی
ساری نعمتیں بھی عطا ء کردیں اور وہ کافر پیدائش سے لیکر روز قیامت تک ان نعمتوں
سے لطف اندوز ہوتا رہے، پھر آخرکار اس کا ٹھکانہ یہ جگہ ہو تو وہ یوں محسوس کرے گا
گویا اس نے کبھی کوئی نعمت اور کوئی بھلائی دیکھی ہی نہ تھی‘‘ (کنزالعمال)
ثابت ہوا کہ…
ایمان کی ہدایت سب سے اہم اور بڑی نعمت ہے… اور ہدایت کے لئے… اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کو نازل فرمایا ہے جیسا کہ
بہت سی آیات سے ثابت ہے… اور قرآن پاک کی ’’ہدایت‘‘ جن لوگوں کو نصیب ہوتی ہے… ان
کے لئے… ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ نماز قائم کرنے والے ہوں… جیسا کہ ارشاد باری
تعالیٰ ہے…
ذٰلِکَ الْکِتَابُ
لاَرَیْبَ فِیْہٖ ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَo اَلَّذِیْنَ
یُوْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ
یُنْفِقُوْنَo
)بقرہ۲۔۳(
ترجمہ: ’’یہ کتاب
(قرآن مجید) ایسی ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے اس میں ہدایت ہے متقیوں کے لئے جو
ایمان لاتے ہیں غیب پر اور قائم کرتے ہیں نماز کو اور ہمارے دئیے ہوئے میں سے خرچ
کرتے ہیں‘‘…
اس پورے مضمون کو
بیان کرنے کے بعد … قرآن پاک نے… پھر اعلان فرمایا:
اُوْلٰئِکَ عَلٰی
ہُدًی مِّنْ رَّبِّہِمْ وَاُوْلٰئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَo
)بقرہ۵(
ترجمہ: ’’یہی لوگ
اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ نجات پانے والے ہیں‘‘…
ان آیات میں بالکل
صراحت کے ساتھ سمجھادیا گیا کہ … قرآن پاک کی پوری ہدایت متقی لوگوں کو ملتی ہے…
اور متقی وہ ہیں جو ایمان میں بھی کامل ہوں… اور نماز وزکوٰۃ کے بھی پکے ہوں …
یہاں ’’اقامت
صلوٰۃ‘‘ نماز قائم کرنے کا ذکر ہے… یعنی پوری نماز ادا کرتے ہوں… اور نماز کو مکمل
اہتمام سے ادا کرتے ہوں… ایک دو نمازیں پڑھنے والے… کبھی پڑھنے اور کبھی نہ پڑھنے
والے… یُقیمون الصلٰوۃ … کا مصداق نہیں بنتے… اسی طرح…نماز کو ٹرخانے والے بھی…
نماز قائم کرنے والے نہیں ہوتے… معلوم ہوا کہ… نماز کے بغیر مکمل ہدایت نصیب نہیں
ہوتی… اور نہ ایمان کامل ہوتا ہے… اور نہ قرآن پاک اپنی اعلیٰ ہدایت کے دروازے
کھولتا ہے… ایمان کے مکمل طور پر معتبر ہونے کے لئے… نماز قائم کرنا ضروری ہے… یہ
بات … ان آیات کے علاوہ بھی… قرآن پاک کی کئی اور آیات سے معلوم ہوتی ہے… مثلاً … اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے…
فَاِذَا انْسَلَخَ
الْاَشْہُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوْا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْہُم
وَخُذُوْہُمْ وَاحْصُرُوْہُمْ وَاقْعُدُوْا لَہُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ فَاِنْ تَابُوا
وَاَقَامُوْا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوْا الزَّکٰوۃَ فَخَلُوْا سَبِیْلَہُمْ اِنَّ اللہ غَفُوْرٌ رَّحَیْمٌo
)التوبہ۵(
ترجمہ: ’’جب حرمت
والے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کردو اور پکڑلو اور گھیر لو اور
ہر گھات کی جگہ پر ان کی تاک میں بیٹھے رہو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم
کریں اور زکوٰۃ دینے لگیں تو ان کی راہ چھوڑ دو… بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے‘‘…
اس آیت مبارکہ
میں… مشرکین مکہ کے لئے معافی کی صورت یہ بتائی گئی کہ… شرک سے توبہ کرلیں… یعنی…
ایمان لے آئیں… اور ایمان کی سب سے بڑ ی علامات کا اظہار کریں… اور وہ علامات یہ
ہیں کہ… ٹھیک ٹھاک نماز قائم کریں… اور زکوٰۃادا کریں… تب … ان کا راستہ چھوڑ دیا
جائے گا یعنی … انہیں معاف کردیا جائے گا… حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں…
’’اس آیت سے
معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کلمہ اسلام پڑھ کر نماز ادا نہ کرے یا زکوٰۃ نہ دے تو
مسلمان اس کا راستہ روک سکتے ہیں۔ امام احمدؒ، امام شافعیؒ، امام مالکؒ کے نزدیک
اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ تارک صلوٰۃ اگر توبہ نہ کرے تو اسے قتل کردے (امام
احمدؒ کے نزدیک مرتد ہونے کی وجہ سے اور امام مالکؒ اور امام شافعیؒ کے نزدیک بطور
حد اور تعزیر)۔ امام ابوحنیفہ ؒ فرماتے ہیں کہ اسے خوب زدوکوب کرے اور قید میں
رکھے حتیٰ یموت او یتوب (حتی کہ مرجائے یا توبہ کرے) بہرحال تخلیہ سبیل کسی کے
نزدیک نہیں۔ ‘‘ (تفسیر عثمانی ص۲۴۹)
حضرت امام قرطبیؒ
اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں…
ولا خلاف بین
المسلمین ان من ترک الصلٰوۃ وسائر الفرائض مستحلاّ کفر(ج۸ ص۷۱)
ترجمہ: ’’اس بات میں اہل اسلام کے درمیان کوئی اختلاف
نہیں ہے کہ جو شخص نماز اور دوسرے فرائض کو چھوڑ دے اور اس چھوڑنے کو حلال اور
جائز سمجھے تو وہ کافر ہے‘‘
آگے لکھتے ہیں…
قال مالک: من آمن ب اللہ وصدق المرسلین وابی ان یصلی قُتِل وبہ قال ابو
ثور وجمیع اصحاب الشافعی وہو قول حماد بن زید ومکحول ووکیع وقال ابو حنیفۃ: یسجن
ویضرب ولا یقتل، وہو قول ابن شہاب وبہ یقول داؤد بن علی۔ (ج۸ ص۷۱)
امام قرطبیؒ کچھ
دلائل بیان کرنے کے بعد یہ الفاظ لکھتے ہیں، انہیں غور سے پڑھنے کی ضرورت ہے…
وذہبت جماعۃ من
الصحابۃ والتابعین الی أن من ترک صلوٰۃ واحدۃ متعمدا حتی یخرج وقتہا لغیر عذر،
وابی من ادائہا وقضائہا وقال لا أصلی فانہ کافر، ودمہ ومالہ حلالان، ولا یرثہ
ورثتہ من المسلمین، ویستتاب فان تاب والا قتل، وحکم مالہ کحکم مال المرتد۔ (ج۸ص۷۱)
آج کے ناپاک ماحول
میں یہ باتیں سخت معلوم ہوتی ہیں… حالانکہ … سختی کچھ نہیں… اسلام ایک مضبوط دین
ہے… اور اس کے کچھ محکم… اور قطعی فرائض ہیں… اسلامی عقیدہ رکھنے سے ایک انسان
’’مسلمان‘‘ تو ضرور ہوجاتا ہے… مگر اس پر کچھ لازمی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں…
انہی لازمی ذمہ داریوں کو … اسلامی فرائض کہا جاتا ہے… اور ان فرائض میں سب سے
پہلے ’’نماز‘‘ ہے… پس جو شخص نماز کو ضائع کرتا ہے… وہ … پکا… مضبوط اور اصلی مومن
نہیں رہ سکتا… اسی لیے… شرعی احکامات نافذ کرنے کے لئے… نماز اور زکوٰۃ کو ایمان
کی علامت اور شرط کے طور پر بیان کیا گیا ہے… جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ
ہے…
اِشْتَرَوْا
بِآیٰتِ اللہ ثَمَنًا قَلِیْلاً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِہٖ
اِنَّہُمْ سَآئَ مَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَo لاَیَرْقَبُوْنَ
فِیْ مُؤمِنٍ اِلاًّ وَّلاَ ذِمَّۃَ وَاُوْلٰئِکَ ہُمُ الْمُعْتَدُوْنَo
فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوْا الصَّلٰوۃَ
وَاٰتُوْ الزَّکٰوۃَ فَاِخْوَانُکُمْ فِیْ الدِّیْنِ وَنُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَo
)التوبہ۹۔۱۰۔۱۱(
ترجمہ: ’’(یہ مشرک) اللہ کی
آیتوں کے عوض تھوڑا سا فائدہ حاصل کرتے اور لوگوں کو اللہ کے
رستے سے روکتے ہیں، بلاشبہ وہ جو کام کرتے ہیں برے کام ہیں، وہ کسی مومن کے بارے
میں کسی رشتہ داری اور عہد کا پاس نہیں رکھتے ۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جو زیادتی کرنے
والے ہیں۔ پس اگر یہ لوگ توبہ کریں (یعنی ایمان لے آئیں) اور نماز قائم کریں اور
زکوٰۃ دیں تو یہ تمہارے دینی بھائی ہوں گے اور سمجھنے والے لوگوں کے لئے ہم اپنی
آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں‘‘۔
آیت مبارکہ کے
الفاظ پر غور کریں فاخوانکم فی الدینکہ وہ دین وشریعت کے حکم میں… تمہارے بھائی
ہوں گے… معلوم ہوا کہ… احکام شریعت کے جاری ہونے میں… ایمان کے بعد سب سے اہم چیز
نماز ہے… اور زکوٰۃ… آئیے! اب اسی نظریہ کا جائزہ … حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک احادیث وآثار سے لیتے ہیں…
اگرچہ… اس موضوع پر مزید بھی کئی قرآنی آیات کو پیش کیا جاسکتا ہے… مگر … سمجھنے
کے لئے یہی آیات کافی ہیں… اور ان سے یہ باتیں بالکل واضح … ہو کر سامنے آجاتی
ہیںکہ… بے نمازی کا اسلامی معاشرہ میں کیا مقام ہے؟… اور بے نمازی کا اسلامی شریعت
میں کیا حکم ہے؟… اور بے نمازی کا دعوائے ایمان کس قدر کمزور، مشکوک اور کھوکھلا
ہے؟… اور بے نمازی … کس قدر بے ہدایت ہے؟… قرآن پاک کو سمجھنے کے لئے… حدیث پاک کا
سہارا لازمی ہے… اس لیے… ان آیات کی تفسیر وتشریح سمجھنے کے لئے ہم چند احادیث
مبارکہ بیان کرتے ہیں…
)۱( قال
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بین العبد وبین الکفر ترک الصلوٰۃ
)صحیح مسلم(
ترجمہ: ’’رسول اللہ ا
نے ارشاد فرمایا بندہ کے اور کفر کے درمیان نماز چھوڑدینے ہی کا فاصلہ ہے‘‘…
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے اس حدیث شریف کو بنیاد بنا کر…
واضح اعلان فرمایا ہے کہ… بے نمازی شخص کا یہ دعویٰ کرنا کہ میں مسلمان ہوں… بہت
کھوکھلا اور انتہائی غیر معتبر دعویٰ ہے… کیونکہ… اسلام کا اصل مفہوم … اور ثبوت…
نمازہی کے ذریعہ … ادا اور پیش ہوتا ہے… حجۃ اللہ البالغہ میں شاہ صاحبؒ کی جو اصل عبارت ہے … وہ
… ہم نے القلم کے اس خصوصی شمارے میں… دوسری جگہ… ترجمہ کے ساتھ پیش کردی ہے…
)۲(قال
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم العہد الذی بیننا وبینہم ترک الصلوٰۃ
فمن ترکہا فقد کفر
)احمد۔
ترمذی(
ترجمہ: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا… ہمارے اور ان (اسلام
قبول کرنے والوں ) کے درمیان نماز کا معاہدہ ہے پس جس نے نماز کو ترک کیا… اس نے
کفر کیا… یعنی کافروں والا کام کیا‘‘…
)۳(عن
عبادۃ بن الصامت رضی اللہ عنہ قال: اوصانی خلیلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بسبع خصال فقال … ولا تترکوا الصلوٰۃ
متعمدین فمن ترکہا متعمدا فقد خرج من الملۃ
۔
)الطبرانی۔
الترغیب(
ترجمہ: ’’حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میرے خلیل حضرت محمد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سات باتوں کی وصیت فرمائی…
(ان باتوں میں سے ایک) یہ ارشاد فرمائی … اور جان بوجھ کر نماز نہ چھوڑو… پس جس نے
جان بوجھ کر نماز چھوڑ دی وہ ملت (اسلام) سے نکل گیا‘‘…
)۴(عن
عبد اللہ بن شقیق العقیلی رضی اللہ عنہ قال: کان اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم لایرون شیئا من الاعمال ترکہ کفر غیر
الصلوٰۃ ۔ (الترمذی۔الترغیب)
’’حضرت عبد
اللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ… حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اعمال میں سے کسی عمل کے
چھوڑنے کو کفر نہیں سمجھتے تھے سوائے نماز کے کہ اس کا چھوڑنا ان کے نزدیک کفر
شمار ہوتا تھا‘‘۔
)۵( عن
ثوبان رضی اللہ عنہ قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: بین العبد وبین الکفر والایمان
الصلوٰۃ فاذا ترکہا فقد اشرک(الطبری باسناد صحیح۔ الترغیب)
’’حضرت ثوبان
رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ … میں نے… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آدمی … اور اس کے
کفر وایمان کے درمیان نماز (کا فاصلہ) ہے پس جب وہ نماز چھوڑ دیتا ہے تو وہ شرک
کرتا ہے‘‘۔
)۶(قال
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:لا سہم فی الاسلام لمن لا صلوٰۃ لہ
ولا صلوٰۃ لمن لا طہور لہ۔ (البزاز۔ الترغیب)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے نمازی کا اسلام
میں کچھ حصہ نہیں… اور بے وضو کی نماز (درست) نہیں‘‘…
)۷( قال
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولا دین لمن لا صلوٰۃ لہ انما موضع
الصلوٰۃ من الدین کموضع الرأس من الجسد (الطبرانی۔ الترغیب)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اور جس کی نماز نہیں
اس کا دین نہیں بلا شبہ دین میں نماز کا وہی مقام ہے جو جسم میں سرکا‘‘…
اس موضوع پر
احادیث بہت زیادہ ہیں… چنانچہ … صرف ’’بے نمازی‘‘ کی ’’حیثیت‘‘ متعین کرنے کے لئے…
نہایت آرام سے… چہل حدیث کا مجموعہ مرتب کیا جاسکتا ہے… ہم ان احادیث مبارکہ کا
اختتام … صحیح ابن حبان کی اس صریح حدیث شریف پر کرتے ہیں…
)۸(عن
بریدۃ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: بکروا بالصلوٰۃ فی یوم الغیم
فانہ من ترک الصلوٰۃ فقد کفر
)رواہ ابن
حبان فی صحیحہ، الترغیب(
ترجمہ: ’’حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا… بادلوں والے دن نماز
میں جلدی کیا کرو کیونکہ بلاشبہ جس نے نماز چھوڑ دی… ا س نے کفر کیا‘‘…
ان تمام احادیث
میں… ہمارے علماء کرام یہی ترجمہ کرتے ہیں کہ … اس نے کافروں والا کام کیا… یہ
ترجمہ کرنے کا مقصد خوارج اور معتزلہ کے عقیدہ سے بچنا ہوتا ہے… ان کی یہ احتیاط
بالکل بجا… مگر… اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ… بے نمازی مسلمان … کافروں کے جتنے
کام آتے ہیں…اتنے خود ان کے ہم مذہب لوگ نہیں آتے… اللہ تعالیٰ… ترکِ نماز کے وبال سے پوری امت مسلمہ کی
حفاظت فرمائے… آج بہت عجیب منظر ہوتا ہے… معلوم ہے کیا؟… جی ہاں … اعلان ہورہا
ہوتا ہے کہ ’’او آئی سی‘‘ کا سربراہی اجلاس ہورہا ہے… اس اجلاس میں امت مسلمہ کے
حکمران… سر جوڑ کر بیٹھیں گے… اور مسلمانوں کی فلاح وبہبود کے لئے… اور امت مسلمہ
کی حفاظت کے لئے… فیصلے کریں گے… پھر کیا ہوتا ہے؟… اندر اجلاس چلتا رہتا ہے… باہر
مساجد سے … موذّن بار بار اللہ تعالیٰ کا حکم سناتا ہے… کہ خود کو مسلمان کہنے
والو… آؤ… اپنے مسلمان ہونے کا ثبوت دو… مگر… بے وضو مجمع ٹس سے مس نہیں ہوتا… بش
بلاتا تو بھاگے جاتے… مگر… اللہ تعالیٰ کی پکار پر… دل میں حرکت تک نہیں ہوتی…
اور دعویٰ یہ کہ … ہم سے اچھا کوئی مسلمان نہیں… اور ہم مسلمانوں کے سب سے بڑے خیر
خواہ ہیں… کئی فرض نمازیں… ہڑپ کرکے… اجلاس اٹھ جاتا ہے… اور اس کی اہم ترین
قرارداد… جہاد اور مجاہدین کے خلاف ہوتی ہے… یا اللہ ہم
پر رحم فرما… ہاں ہم نے خود… نمازوں کو ضائع کیا… تب ہم پر … بے نمازی اور… جہاد
کے دشمن حکمران… مسلط کردیئے گئے… جواب ملتا ہے کہ… نہیں… ہم تو پانچ وقت کے نمازی
ہیں… پھر ہم پر یہ عذاب کیوں؟… ہاں پانچ وقت کی نماز … ضرور ہے… اس پر… الحمدﷲ …
مگر ہم نے … نماز کو قائم نہیں کیا… ہم نے نماز کے لئے… اس کی شایان شان انتظام
نہیں کیا… نہ تلاوت درست… نہ رکوع اور سجدے… نہ نماز میں توجہ… اور نہ خشوع اور
خضوع… ساری دنیا کے لئے… میک اپ… اور تیاری… مگر نماز بوسیدہ… اور بدبودار کپڑوں
میں… ہم کب… بن ٹھن کر … روتے کانپتے مسجدوں کی طرف دوڑے؟ … ہم نے کب اذان کی آواز
کو… اپنے دل کے آنسوؤں کا استقبال دیا … ہم نے … اپنے گھر والوں کو کب نماز کا
پابند بنایا… بیوی نماز چھوڑ دے تو کوئی بات نہیں… بہن بھائی… بے نمازی تو برداشت…
ارے اپنی نافرمانی… برداشت نہیں کرتے… اپنے دشمن کو سینے سے نہیں لگاتے… مگر… بے
نمازی اللہ کا نافرمان… ہمیں برداشت ہے… پھر … بیٹی اور بہن
کا رشتہ… ڈالروں، نوٹوں… اور ریالوں، درہموں سے… بے نمازی کے ساتھ… بیٹی رخصت
کرنا… اس بے چاری کو … خنزیر کے پلے باندھنا ہے… مگر آج … رشتہ لیتے… اور دیتے
وقت… نماز نہیں… نوٹ دیکھے جاتے ہیں… پھر بھی فخر ہے کہ ہم خود تو نمازی ہیں… اور
تو اور … دینی جماعتوں … اور تنظیموں میں… دین کے کاموں کی مصروفیت کا بہانہ… اور
نماز اور اس کا اہتمام ذبح… ایک صاحب نے خود بتایا کہ… ہماری ایک اہم دینی معاملے
پر… سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے میٹنگ تھی… عصر کی نماز کا وقت آگیا… اور
پھر سورج… دینداروں کی بے حسی دیکھ کر غروب ہوگیا… مگر… ایک آدمی کے سوا… کوئی
نماز کے لئے نہ اٹھا… دراصل… انہیں حرکتوں نے دینی جماعتوں … اور تنظیموں کو برباد
کردیا… اللہ پاک ان کی اصلاح … اور حفاظت فرمائے…
میرے بھائیو! اور
بہنو… الحمدﷲ اقامت صلوٰۃ مہم شروع ہوچکی ہے… ہم نے کالم کے آغاز میں ایک دعاء
مانگی تھی… اے میرے رب مجھے اور میری اولاد کو … نماز قائم کرنے والا بنادے… یہ
دعاء ہم نے کیوں مانگی… اس کی دس وجوہات عرض کرنی ہیں… آج … صرف ایک ’’وجہ‘‘ کا
تذکرہ ہوا… کہ … ہم نمازی اس لیے بننا چاہتے ہیں… اور اپنی اولاد کو اس لیے نمازی
بنانا چاہتے ہیں… کیونکہ… بے نمازی ’’بے ہدایت‘‘ ہوتاہے… یا اللہ …
بے ہدایت یعنی گمراہ ہونے سے ہمیں… اور ہمارے ماں باپ بیوی بچوں… بہن بھائیوں… اور
سب رشتہ داروں اور دوستوں کو بچالے… گمراہی تو… بہت بڑا عذاب ہے… اور گمراہ انسان
کا انجام بہت خطرناک ہے… اب … اس مبارک ابراہیمی دعاء کو ہم اپنا… معمول بنالیں…
اور … رات کے آخری پہر … جب آسمان سے ہمارا … پیارا رب پکار کر پوچھے… ہے کوئی
مانگنے والا جس کی جھولی بھردوں… تو ہم … تڑپ کر… پہلے… ایمان اور نماز مانگ لیں…
جب ہمیں … اصلی، سچی اور پکی نماز مل جائے گی تو پھر… ہمارے مزے ہوجائیں گے… جو
کام بھی ہوگا… ادھر ہم نماز شروع کریں گے… اور ادھر اس کام کا فیصلہ زمین پر اتر
آئے گا… ہمارے پاس جاندار نماز ہوگی… تو ہم ہر خیر حاصل کرلیں گے… ہر دشمن … اور
شر سے پناہ مانگ لیں گے… نماز تو ماں کی گود کی طرح ہے… جب بھی کوئی حاجت یا
پریشانی آئی … ہم لپک کر نماز میں پہنچے… تڑپ کر سجدے میں گرے… اور ادھر اللہ تعالیٰ کی رحمت زمین پر اتر آئی… ہماری نماز…
حضوری والی ہوگی تو ہمارا جہاد… طاقتور ہوجائے گا… اتنا طاقتور جس کے سامنے کوئی
نہیں ٹھہر سکے گا… بس آج رات انتظار کیجئے … ڈھائی، تین بجے کا یوں انتظار کیجئے…
جس طرح … نئی نویلی… وفادار دلہن اپنے پیا کا انتظار کرتی ہے… جب رات کا آخری پہر
شروع ہوجائے… اٹھ کر … ہم سب … مسواک کریں… وضو کریں… خوشبو لگائیں… اور شوق کے
ساتھ نماز میں… مصروف ہوجائیں… اور پھر نماز کے بعد … دل، ہاتھ… اور جھولی پھیلا
کر… مانگ لیں…
رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ
الصَّلٰوۃِ
وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ رَبَّنَا
وَتَقَبَّلْ دُعَاء
آواز لرز اٹھی…
آنسو بہنے لگے… فرشتے جھوم اٹھے… اور اگر قبولیت نے ایک بوسہ لے لیا… اور میں
اورآپ … واقعی … نماز قائم کرنے والے بن گئے… تو پھر… قرآن ہمارے لیے… اپنا سینہ
کھول دے گا… اور فلاح ونجات… کا تاج ہمارے سر پر رکھ دیا جائے گا… یا اللہ مجھے توفیق عطاء فرما… اور سب پڑھنے والوں کو
توفیق عطاء فرما… آمین… آج بس اتنا ہی… ان شاء اللہ … زندگی رہی اور توفیق ملی تو باقی نو
وجوہات کا بیان آئندہ… ان شاء اللہ …
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہماری اولاد کو… نماز قائم کرنے
والا بنائے… پچھلے کالم میں ہم نے پڑھ لیا کہ بے نمازی بے ہدایت ہوتا ہے… آج …
باقی نو (۹) وجوہات
کا مختصر بیان…
)۲(نماز
میں سستی منافق کا شیوہ:
نماز میں سستی اور
غفلت کرنا… نماز چھوڑ دینا… کبھی پڑھنا کبھی نہ پڑھنا… وقت پر ادا نہ کرنا… بلاعذر
جماعت کے بغیر ٹرخانا… یہ سب کچھ ایمان کی نہیں… نفاق کی علامتیں ہیں… منافق ہمیشہ
نماز کے بارے میں بے فکر اور لاپرواہ ہوتا ہے جبکہ مؤمن ہمیشہ نماز کی فکر میں رہتا
ہے… ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرتا ہے یہاں تک کہ جب مرجاتا ہے تو قبر
میں بھی نماز کی فکر میں رہتا ہے کہ میری نماز قضا نہ ہوجائے… چنانچہ روایات سے
ثابت ہے کہ … مومن کو جب قبر میں سوال جواب کے لئے اٹھایا جاتا ہے تو اسے ایسا
محسوس ہوتا ہے کہ … سورج غروب ہونے کو ہے وہ فرشتوں سے کہتا ہے… مجھے چھوڑو میں نے
نماز ادا کرنی ہے… جبکہ منافق کا نماز کے بارے میں رویہ اس کے برعکس ہے… آئیے قرآن
وسنت کی روشنی میں منافق کے طرز عمل کا مختصر جائزہ لیتے ہیں… اور پھر اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں… اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے…
ترجمہ: ’’بے شک منافق اللہ تعالیٰ کو (اپنے نزدیک) دھوکا دیتے ہیں اور وہ
ان کو دھوکے میں ڈالنے والا ہے اور جب یہ نماز میں کھڑے ہوتے ہیں تو سست اور کاہل
ہو کر (صرف) لوگوں کے دکھانے کو اور اللہ کو یاد ہی نہیں کرتے مگر بہت کم… (النساء ۱۴۲)
دوسری جگہ ارشاد
باری تعالیٰ ہے…
ترجمہ: آپ فرمادیجئے ( ان منافقین سے) کہ تم خوشی سے
خرچ کرو یا ناخوشی سے ہرگز تم سے قبول نہ کیا جائے گا، بلاشبہ تم نافرمان لوگ ہو
اور ان کے صدقات قبول کیے جانے سے کوئی چیز اس کے سوا مانع نہیں ہے کہ انہوں نے اللہ کے
ساتھ اور رسول کے ساتھ کفر کیا، اور یہ لوگ نماز نہیں پڑھتے مگر سستی کے ساتھ اور
خرچ نہیں کرتے مگر ناگواری کے ساتھ۔(التوبہ ۵۳۔۵۴)
ان دونوں آیات سے
معلوم ہوا کہ اگر انسان کے دل میں ایمان ہو… تو وہ نماز میں سستی نہیں کرتا … مگر
جب … ایمان پر نفاق کا ڈاکہ پڑ جائے تو اس کا ایک اثر… یہ ہوتا ہے کہ … انسان نماز
سے غفلت شروع کردیتا ہے… اب اس بارے میں چند احادیث پڑھتے ہیں:
حدیث (۱) یہ
منافق کی نماز ہے کہ بیٹھ کر سورج کا انتظار کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب سورج زرد
پڑ جاتا ہے اور شیطان کے دو سینگوں کے درمیان ہوتا ہے ( یعنی غروب کے قریب) تو اٹھ
کر چار ٹھونگیں مارلیتا ہے اور اللہ کا ذکر نہیں کرتا مگر بہت کم ۔ (صحیح مسلم)
اس صحیح حدیث سے
معلوم ہوا کہ منافق نماز کے اوقات کا اہتمام نہیں کرتا۔ حالانکہ مومن اپنی زندگیوں
کو اوقات نماز کی رعایت سے ترتیب دیتا ہے جبکہ نفاق زدہ انسان اپنے دوسرے کاموں کو
بروقت نماز پڑھنے پر ترجیح دیتا ہے۔
حدیث (۲) ہمارے
درمیان اور منافقین کے درمیان (فرق کرنے والی) نشانی عشاء اور صبح کی نماز میں
حاضری ہے کہ وہ (منافقین) اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ (کنز العمال ص۹۷ ج۱۔ مرسلاً)
حدیث (۳) منافقین
کی کچھ علامات ہیں جن سے وہ پہچانے جاتے ہیں… (ان علامات میں سے یہ بھی ہے کہ) وہ
مسجدوں میں نہیں آتے مگر کبھی کبھار (یعنی کئی دن کے وقفے سے ) اور نماز میں حاضر
نہیں ہوتے مگر آخر میں… تکبر کی وجہ سے… (کنز العمال ص۹۹ ج۱)
حدیث (۴) منافقوں
پر فجر اور عشاء کی نماز سے زیادہ بھاری اور کوئی نماز نہیں ہے اگر وہ جان لیں کہ
ان نمازوں میں کتنا اجر ہے تو ضرور حاضر ہوں اگرچہ انہیں گھسٹ گھسٹ کر آنا پڑے۔
(بخاری ۔ مسلم)
روایت (۵) حضرت
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے خود کو (یعنی مسلمانوں
کو) اس حال میں دیکھا ہے کہ نماز باجماعت میں شریک نہ ہونے والا یا تو بس کوئی
ایسا منافق ہوتا تھا جس کا نفاق سب کو معلوم ہوتا تھا یا کوئی مریض۔(صحیح مسلم)
اس زمانے میں
اسلام اور مسلمانوں کو قوت حاصل تھی… اس لیے… منافقین کو بھی مسجد میں حاضر ہونا
پڑتا تھا… مگر اس زمانے میں بہت سارے لوگ… اتنا تکلف بھی نہیں کرتے… اور بڑے فخر
سے کہتے ہیں کہ ہم بہت اونچے مسلمان ہیں… جب ہمیں… ٹائم مل جائے نماز پڑھ لیتے
ہیں… اللہ پاک ہم سب کی نفاق سے حفاظت فرمائے… اس بارے میں
ہم سب کو چاہئے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیاری دعاء کو اپنا معمول
بنائیں…
اَللّٰہُمَّ
اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الشِّقَاقِ وَالنِّفَاقِ وَسُوْئِ الاَْخْلاَقِ
ترجمہ: ’’اے میرے پروردگار میں آپ کی پناہ میں آتا
ہوں… ضدّ اضدی سے… نفاق سے… اور برے اخلاق سے… (کنز العمال ص۸۳ ۔ ج۲)
)۳( نماز
میں سستی، ہلاکت ہے:
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے…
ترجمہ: ’’پس ایسے نمازیوں کیلئے ہلاکت (بڑی خرابی) ہے
جو نماز کی طرف سے غافل رہتے ہیں جو ریاکاری کرتے ہیں اور برتنے کی چیزیں عاریۃً
نہیں دیتے۔ (الماعون ۵۔۶۔۷)
صاحب انوارالبیان
لکھتے ہیں…
یہ لفظ ان لوگوں
کو بھی شامل ہے جو نماز کو بالکل ہی نہیں پڑھتے اور ان لوگوں کو بھی شامل ہے جو
وقت سے ناوقت کرکے پڑھتے ہیں اور ان لوگوں کو بھی شامل ہے جو اس کے ارکان اور شروط
کے مطابق ادا نہیں کرتے اور ان لوگوں کو بھی شامل ہے جو خشوع کی طرف دھیان نہیں
دیتے اور اس کے معانی میں غور نہیں کرتے۔ مفسر ابن کثیرؒ فرماتے ہیں کہ الفاظ کا
عموم ان سب کو شامل ہے اور یہ بھی لکھتے ہیں کہ جو شخص ان صفات میں سے کسی بھی ایک
صفت سے متصف ہوگا اسی درجہ میں آیت کا مضمون اس کو شامل ہوگیا۔ پھر لکھا ہے کہ جس
میں یہ سب صفات موجود ہوں وہ پوری طرح آیت کی وعید کا مستحق ہوگا، اور اس میں پوری
طرح نفاق عملی پایا جائے گا۔ (انوارالبیان
ص۴۶۱۔ج۔۹)
حضرت سعد بن ابی
وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ’’الذین ہم عن صلاتہم ساہون‘‘
(الماعون۵) کے
بارے میں پوچھا (کہ وہ کون لوگ ہیں جن کے لئے نماز میں غفلت کی وجہ سے ہلاکت ہے)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو نماز کو
اس کے وقت سے مؤخر کردیتے ہیں۔ (تفسیر ابن کثیرؒ ص۵۲۳۔ ج۔۴)
بہت اہم میٹنگ
تھی… صاحب نے بلایا تھا… مہمان آئے ہوئے تھے… شادی کی تقریب چل رہی تھی… دین کے
کام میں مشغول تھے… چنانچہ… نماز کا وقت نکل گیا… انا ﷲ وانا الیہ راجعون… یہ سب
کچھ ہلاکت ہے… اللہ پاک حفاظت فرمائے کاش ہم نماز کو اتنی اہمیت ہی
دے دیتے… جتنی ایک سپاہی اپنی ڈیوٹی… اور صاحب کے سامنے حاضری کو دیتا ہے… ہائے
کاش ہائے کاش…
)۴( بے
نمازی غضب کا مستحق:
اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:
ترجمہ: ’’پھر ان کے بعد ایسے ناخلف آگئے جنہوں نے نماز
کو ضائع کردیا اور خواہشوں کے پیچھے لگ گئے پس عنقریب ان کو گمراہی (کی سزا) ملے
گی۔ ‘‘(مریم۵۹)
اس سے پچھلی آیت
میں ان انبیاء علیہم السلام کا تذکرہ ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے خوب خوب انعامات فرمائے۔ پھر ارشاد
فرمایا کہ ان انبیاء کے بعد ان کے بعض ایسے ناخلف آگئے جنہوں نے نمازوں کو ضائع
کرنے کا جرم عظیم کیا… اور خواہشات میں پڑگئے… پس یہ لوگ ’’غیّی‘‘ میں گریں گے…
غیّی کا معنیٰ بعض مفسرین نے گمراہی کیا ہے جب کہ بعض کے نزدیک اس کا معنیٰ جہنم
کے نیچے بہنے والی وہ نہر ہے جس میں جہنمیوں کی پیپ بہتی ہے… العیاذ ب اللہ … اور
بعض مفسرین کے نزدیک غیّی کا معنیٰ خسارہ ہے۔ (دیکھئے تفسیر ابن کثیرؒ ص۱۲۲ج۳)
خلاصہ یہ ہے کہ…
وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ کے انعامات نازل ہوتے ہیں… ان کی بے
نمازی اور نفس پرست اولاد … اللہ تعالیٰ کے غضب کی مستحق ہوجاتی ہے… بے نمازی …
اور نماز کو اس کے وقت پر نہ پڑھنے والے اللہ تعالیٰ کے غضب کے مستحق ہیں… خواہ وہ … اونچے
اور بزرگ لوگوں کی اولاد ہی کیوں نہ ہوں… اور اللہ تعالیٰ کے غضب کی مختلف صورتیں ان نماز ضائع
کرنے والوں پر مسلط ہوجاتی ہیں… یا اللہ ہمیں اور ہماری اولادوں کو نماز قائم کرنے والا
بنا…
)۵( اقامت
صلوٰۃ، نصرت الٰہی کا ذریعہ:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے…
ترجمہ: ’’اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی مدد کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ضرور مدد کرتا ہے بے شک اللہ قوی اور غالب ہے۔ یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر ہم ان
کو زمین میں اقتدار دیں تو نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور بھلائی کا حکم
کریں اور برائی سے روکیں اور سب کاموں کا انجام اللہ ہی
کے اختیار میں ہے۔(الحج ۴۰۔۴۱)
ان آیات میں اصل
فضیلت تو جہاد کی ہے کہ… جو … لوگ اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت کیلئے جہاد میں نکلتے
ہیں… اللہ تعالیٰ ان کی ضرور نصرت فرماتا ہے… مگر… ساتھ یہ
بھی سمجھایا گیا کہ … نماز کا قائم کرنا… زکوٰۃ کا ادا کرنا… نیکیوں کا حکم کرنا…
اور برائیوں سے روکنا… یہ وہ صفات ہیں جن کا جذبہ ہر مجاہد میں ہونا چاہئے… اور جب
اللہ تعالیٰ اسے قوت دے تو وہ انہی چار کاموں کو اپنی
حکومت کی بنیاد بنائے… اس میں اشارۃً یہ بھی معلوم ہوگیا کہ … اللہ پاک کی نصرت… انہی مجاہدین کو نصیب ہوتی ہے جو
خود بھی نماز کا اہتمام کرتے ہیں اور معاشرے میں بھی نماز کو قائم کرنے کی فکر
کرتے ہیں…
)۶( اقامت
صلوٰۃ، اسلامی معاشرے کی لازمی شرط:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے…
ترجمہ : ’’تمہارے دوست تو اللہ اور اس کے پیغمبر اور مؤمن لوگ ہی ہیں جو نماز
قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور ( اللہ کے آگے) جھکتے ہیں۔ (المائدہ۵۵)
نماز کے بارے میں
یہ بہت اہم آیت ہے، اس آیت سے پہلی والی آیات میں مسلمانوں کو سختی کے ساتھ… یہود
ونصاریٰ کے ساتھ دوستی سے منع کیا گیا… اور فرمایا گیا کہ جو ان سے دوستی کرے گا
وہ انہی میں سے ہوگا… اس کے بعد منافقین کا طرز عمل بتایا گیا کہ وہ اپنے بچاؤ
کیلئے بھاگ بھاگ کر یہود ونصاریٰ سے یاریاں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو زمانے
کی گردش سے ڈرتے ہیں… جیسا کہ آجکل کہا جاتا ہے کہ یہود ونصاریٰ طاقتور ہیں اگر ہم
ان سے یاری اور تعاون نہ کریں تو وہ ہمارا آملیٹ بنادیں گے… پھر مسلمانوں کو تنبیہ
کی گئی کہ … کفر کی ظاہری طاقت دیکھ کر … اگر کوئی مسلمان… اسلام چھوڑ کر مرتد
ہوجائے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کا کوئی نقصان نہیں کرے گا… اللہ تعالیٰ اُس کی جگہ مخلص ومجاہد مسلمانوں کو لے
آئے گا… ان تین باتوں کے بعد… اسلامی معاشرے کی تشکیل کا اعلان کیا گیا ہے کہ… پھر
آخر مسلمانوں کے دوست کون ہوں گے؟ جواب ملا کہ مسلمانوں کے دوست صرف اللہ تعالیٰ اس کے پیغمبر… اور وہ پکے مسلمان ہیں جو
نماز قائم کرتے ہیں… اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں… اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کرتے ہیں…
خلاصہ یہ ہوا کہ …
جب یہود ونصاریٰ کی طاقت کا دور ہو… مسلمانوں میں گھسے ہوئے منافق… یہود ونصاریٰ
کے ساتھ یاریاں اور وفاداریاں کررہے ہوں… اور کچھ لوگ (نعوذب اللہ ) کفر کے سامنے
سجدے کرکے مرتد ہو رہے ہوں تو اس وقت … مخلص مسلمانوں کو… اللہ تعالیٰ کے ساتھ… اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھرپور وفاداری کرنی چاہئے…
اور آپس میں مضبوط ’’جماعت‘‘ اور ’’معاشرہ‘‘ تشکیل دینا چاہئے… یہ ’’جماعت‘‘ اور
’’معاشرہ‘‘ اقامت صلوٰۃ… اور اداء زکوٰۃ کی لازمی شرط پر تشکیل پائے… پھر یہ لوگ
کافروں اور منافقوں کے مقابلے میں نکلیں گے تو فتح یاب ہوں گے… جیسا کہ اگلی آیت
میں ارشاد باری تعالیٰ ہے…
ترجمہ: ’’اور جو شخص اللہ اور اس کے پیغمبر اور مومنوں سے دوستی کرے گا تو
وہ ( اللہ کی جماعت میں داخل ہوگا اور)
حزب اللہ (یعنی اللہ کی
جماعت) ہی غلبہ پانے والی ہے۔ (المائدہ
۵۶)
بہت مفید معلوم
ہوتا ہے کہ اس موقع پر … حضرت شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کے یہ وجد
آفرین الفاظ نقل کیے جائیں… آپ تحریر فرماتے ہیں…
’’کفار کی
کثرت اور مسلمانوں کی قلت عدد کو دیکھتے ہوئے ممکن تھا کہ کوئی ضعیف القلب اور
ظاہر بین مسلمان اس تردد میں پڑ جاتا کہ تمام دنیا سے موالات منقطع کرنے اور چند
مسلمانوں کی رفاقت پر اکتفا کرلینے کے بعد غالب ہونا تو درکنار کفار کے حملوں سے
اپنی زندگی اور بقاء کی حفاظت بھی دشوار ہے۔ ایسے لوگوں کی تسلی کیلئے فرمادیا کہ
مسلمانوں کی قلت اور ظاہری بے سروسامانی پر نظر مت کرو۔ جس طرف خدا اور اس کا رسول
اور سچے وفادار مسلمان ہوں گے وہ ہی پلہ بھاری رہے گا۔ (تفسیر عثمانی ص۱۵۵)
اس مبارک آیت سے
یہ بھی معلوم ہوا کہ … کسی کے ساتھ دوستی، رشتہ… اور تعلق قائم کرنے سے پہلے… اس
بات کا اطمینان کرلینا ضروری ہے کہ … وہ … نماز کو قائم کرنے والا… زکوٰۃ کو دینے
والا… اور اللہ کے حضور عاجزی کرنے والا ہو… بے نمازی… زکوٰۃ
خور… اور اکڑ والے لوگ نہ دوستی کے قابل ہیں نہ رشتہ داری کے… اور نہ ایسے لوگوں
پر اعتماد کیا جاسکتا ہے… بے شک… جو رب کے وفادار نہیں وہ ہمارے کیا وفادار ہوںگے…
)۷ ( اقامت صلوٰۃ،
مخبتین کی شان:
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے…
ترجمہ: ’’ اور ان ’’مخبتین‘‘ کو خوشخبری سنادیجئے جن
کا یہ حال ہے کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور
وہ مصیبتوں پر صبر کرنے والے ہیں اور نمازیں قائم کرنے والے ہیں اور ہم نے جو کچھ
انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ (الحج ۳۴۔۳۵)
مخبتین کا ترجمہ
عام مفسرین کے نزدیک عاجزی کرنے والے… آپ جانتے ہیں کہ … اللہ پاک کی خاطر عاجزی اختیارکرنا کتنی بڑی نعمت ہے
اور حدیث پاک میں وضاحت ہے کہ… جو … اللہ تعالیٰ کے لئے عاجزی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے رَفْعت اور بلندی… اور اونچی شان
عطاء فرماتا ہے… اور یہ عاجزی جن چار چیزوں سے خاص طور پر نصیب ہوتی ہے ان میں سے
ایک لازمی چیز ’’اقامت صلوٰۃ‘‘ بھی ہے… پس جو لوگ نماز قائم نہیں کرتے وہ زبان سے
جتنی عاجزی دکھلالیں وہ ان ’’مخبتین‘‘ میں سے نہیں ہوسکتے جن کے لئے ’’خاص بشارت‘‘
ہے…
حضرت علامہ
عثمانیؒ نے مخبتین کا ترجمہ ان الفاظ میں فرمایا ہے:
جو صرف ایک خدا کا
حکم مانتے ہیں اسی کے سامنے جھکتے ہیں اسی پر ان کا دل جمتا ہے اور اسی کے جلال
وجبروت سے ڈرتے رہتے ہیں۔ (تفسیر عثمانی ص۴۴۷)
اللہ پاک توحید کی یہ شان ہمیں بھی نصیب فرمائے کہ
ہمارا دل صرف اللہ پر جمے… اور صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرے… بے شک یہ بہت اونچا… اور مشکل
مقام ہے… ہاں نماز کو اس کے حقوق وآداب … اور خشوع وخضوع کے ساتھ ادا کرنے سے یہ
مقام ملنا آسان ہوجاتا ہے… اللہ پاک ہم سب کے لئے آسان فرمائے…
تفسیر جلالین میں…
’’مخبتین‘‘ کا ترجمہ ’’المطیعین المتواضعین‘‘ سے کیا گیا ہے یعنی اطاعت کرنے والے
اور تواضع اختیار کرنے والے… علامہ ابن کثیرؒ نے اور بھی چند اقوال لکھے ہیں…
خلاصہ یہ ہے کہ… اقامت صلوٰۃ… حب جاہ… تکبر اور سرکشی کا بہترین علاج ہے… جیسا کہ
دیگر کئی آیات اور احادیث مبارکہ سے بھی معلوم ہوتا ہے…
)۸( اقامت
صلوٰۃ، فحاشی اور منکرات کا علاج:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے…
ترجمہ: ’’ جو کتاب آپ پر وحی کی گئی ہے آپ اس کی تلاوت
فرمائیے اور نماز قائم کیجئے بلاشبہ نماز بے حیائی سے اور برے کاموں سے روکتی ہے
اور یقینا اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے اور جو کام تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔‘‘(العنکبوت ۴۵)
آج ہر طرف بے
حیائی… اور منکرات کا شور ہے… قرآن پاک نے صدیوں پہلے نسخہ بتادیا اب ہمارا کام یہ
ہے کہ ہم عمل کریں… نماز کس طرح بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے اس کی کئی
صورتیں ہیں…
)۱( نماز
… اگر اہتمام، خشوع اور حضوری کے ساتھ ہو تو وہ انسان میں گناہوں سے بچنے کی قوت
اور طاقت پیدا کردیتی ہے… بلاشبہ ایسا ہی ہوتا ہے… روایت میں آیا ہے کہ ایک شخص کی
شکایت کی گئی کہ وہ نماز تو پڑھتا ہے مگر برائیوں سے نہیں رکتا تو فرمایا گیا کہ
اس کی نماز اسے (بالآخر) برائیوں سے روک ہی دے گی۔
)۲( نماز…
کی ہر ادا کا تقاضا ہے کہ اے انسان! تجھے زیب نہیں دیتا کہ تو جانوروں کی طرح بے
حیا اور شیطانوں کی طرح گناہگار بن جائے۔ جو انسان نماز توجہ سے پڑھتے ہیں وہ نماز
کی اس ’’صدا‘‘ اور دعوت کو سنتے ہیں… اور بالآخر بار بار کی یہ دعوت ان پر اثر
کرتی ہے۔
)۳( نماز…
ادا کرنے والا انسان نماز اور نماز کی تیاری کے اوقات میں تو بے حیائی اور بڑے
گناہوں سے خود ہی رکا رہتا ہے… نماز کے یہ لمحات روزانہ کئی گھنٹوں پر محیط ہوتے
ہیں… پھر ایک نماز کے بعد اگلی نماز کے لئے جسم، لباس… اور روح کی پاکی کا اہتمام
کرنا ہوتا ہے… بالآخر اس کے چوبیس گھنٹے… اللہ تعالیٰ کے لئے ہوجاتے ہیں۔
)۴(گناہ…
غفلت کی وجہ سے ہوتے ہیں جبکہ … نماز… ذکر… یعنی اللہ تعالیٰ کی یاد ہے… بلکہ نماز تو ہے ہی اللہ تعالیٰ کی یاد کے لئے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:
واقم الصلوٰۃ
لذکری … اور میری یاد کے لئے نماز قائم کرو… غفلت کا علاج ذکر ہے… شہوت کی نار کو اللہ کی
یاد کا نور ہی توڑ سکتا ہے… جب… انسان کو کیفیت ذکر نصیب ہوجاتی ہے تو وہ غفلت سے
بچ جاتا ہے… جب غفلت سے بچتا ہے تو گناہوں کے قریب نہیں جاتا…
)۵(نماز…
انسان کو گناہوں پر پختہ نہیں ہونے دیتی… گناہگار آدمی جب… نماز میں آتا ہے تو
ندامت سے توبہ کرتا ہے… اور گناہ چھوڑنے کا عزم کرتا ہے… بار بار کی یہ توبہ
بالآخر اسے گناہوں سے دور کردیتی ہے…
اور بھی کئی
صورتیں ہوسکتی ہیں… جب ہمارے رب نے فرمادیا ہے… تو بس بات پکی ہوگئی… ہاں شرط وہی
ہے کہ … صرف نماز نہیں… کہ… آٹومیٹک… اٹھک بیٹھک ہو… بلکہ اللہ کا
ذکر … اس کی یاد اس کی عظمت اور حاضر ی والی … پکی… مضبوط … بروقت نماز… اللہ پاک… ہم سب کو نصیب فرمائے… اسی کو اقامت صلوٰۃ
کہتے ہیں…
)۹( اقامت
صلوٰۃ ، سب سے پہلے:
جب کوئی اچھی
’’جماعت‘‘ بنتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی تائید حمایت… اور نصرت اس کے ساتھ
ہوتی ہے… تب اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے پہلے اس کی نماز دیکھی جاتی
ہے… اگر نماز قائم ہو تو نصرت قائم رہتی ہے… اور بالآخر قیامت کی کامیابی کا اصل
مقصد پورا ہوجاتا ہے… اور اگر نماز نہیں تو… وہ … جماعت رسوا ہوجاتی ہے… ہاں نماز
قائم کرنے کے علاوہ کچھ اور شرطیں بھی ہیں… اس بات کو سمجھنے کیلئے… ملاحظہ
فرمائیے… قرآن پاک کا یہ ارشاد:
ترجمہ: ’’اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا۔ اور ان میں
ہم نے بارہ نگران (امراء) مقرر کیے۔ پھر اللہ نے
فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں اگر تم نماز قائم کروگے اور زکوٰۃ دیتے رہو گے اور
میرے پیغمبروں پر ایمان لاؤ گے اور ان کی مدد کرو گے اور اللہ کو
قرض حسنہ دو گے تو میں تم سے تمہارے گناہ دور کردوں گا اور تم کو جنتوں میں داخل
کروں گا۔ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ پھر جس نے اس کے بعد تم میں سے کفر کیا وہ
سیدھے رستے سے بھٹک گیا۔ (المائدہ ۱۲)
آیت پر خوب غور
کیجئے… ہماری اجتماعی زندگی کی کامیابی کے نسخے ارشاد فرمائے گئے ہیں… جماعت کا
قیام… نگران یا امیر کا تقرر… پھر اعلان ہوا کہ … میں تمہارے ساتھ ہوں… مدد کرنے
کے لئے … اور تمہارے اعمال کو دیکھنے کے لئے… اب جو کچھ دیکھا گیا… اس میں سب سے
پہلے نماز ہے کہ… اگر تم نے نماز کو قائم کیا… اور وہ باقی کام کیے جن کا بیان آیت
مبارکہ میں ہے تو پھر تمہاری… کامیابی یقینی ہے…
کوئی تنظیم ہو یا
دینی مدرسہ… کوئی ادارہ ہو یا حکومت… سب سے پہلا کام جو اللہ تعالیٰ کے ہاں دیکھا جائے گا وہ ہے… اقامت صلوٰۃ
… یہ تو ہوا دنیا میں… اور پھر آخرت میں بھی سب سے پہلے نماز کا حساب ہوگا… جیسا
کہ … حدیث شریف میں نہایت صراحت کے ساتھ فرمایا گیا ہے…
’’قیامت میں
آدمی کے اعمال میں سب سے پہلے فرض نماز کا حساب کیا جائے گا۔‘‘ (ترمذی)
بس ہر جماعت، ہر
ادارہ… ہر مدرسہ… اور ہر خاندان کو چاہئے کہ اپنے ہاں… اقامت صلوٰۃ کا نظام قائم
کرے… تاکہ… اونچے مقاصد حاصل کرنے کے سفر کا… مبارک آغاز… اللہ تعالیٰ کی نصرت اور خصوصی معیت کے ساتھ ہوسکے…
خصوصاً فریضہ جہاد کے خادموں کو نماز کا خاص اہتمام کرنا چاہئے…
)۱۰( اقامت
صلوٰۃ‘ شرک سے حفاظت کا ذریعہ:
اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے…
ترجمہ: ’’(اے ایمان والو) اسی ( اللہ ) کی طرف رجوع
کیے رہو اور اس سے ڈرتے رہواور نماز ادا کرو اور مشرکوں میں سے نہ بنو۔‘‘ (الروم ۳۱)
نماز… توحید کا
قلبی، لسانی، اور عملی اعلان ہے… ا س لیے نماز کے قیام کا حکم دے کر … فرمادیا کہ…
مشرکوں میں سے نہ بنو… اخلاص اور نماز کا کتنا گہرا جوڑ ہے وہ اس آیت سے سمجھ آتا
ہے… اخلاص والی درست نماز ادا کرنے والے… شرک سے بچ جاتے ہیں… کیونکہ … نماز اول
تا آخر… توحید کا اعلان ہے… اور جو لوگ نماز ضائع کرتے ہیں… ان کا شرک میں مبتلا
ہوجانا آسان ہے… وہ ہر آستانے پر سر جھکاتے ہیں… اور ہر طاغوت کی پوجا کرتے ہیں…
یہاں تک دس وجوہات
مکمل ہوگئیں… آئیے … پھر اپنا ابتدائی سبق دہرالیتے ہیں… ہم نے… اللہ تعالیٰ سے ایک دعاء مانگی ہے… یہ دعاء قرآن پاک
میں اللہ تعالیٰ نے خود ہمیں سکھائی ہے… ’’اے میرے رب
مجھے نماز قائم کرنے والا بنا… اور میری اولاد میں سے بھی… اے ہمارے رب ہماری دعاء
قبول فرما۔‘‘
پھر ہم نے … قرآن
پاک ہی میں سے … دس ایسے موتی چُنے… جنہوں نے نماز کا مقام ہمیں اچھی طرح سے
سمجھایا… ویسے تو ہمارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ … نماز قائم کرنا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے… نماز اسلام کا قطعی فریضہ ہے…
نماز حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے… لیکن اللہ پاک نے ہمیں… قرآن پاک میں غور کرنے کی توفیق
بخشی تو ہم نے اقامت صلوٰۃ کی ضرورت کو سمجھانے والی… سینکڑوں وجوہات میں سے … دس
وجوہات کا باہمی مذاکرہ کرلیا… اور یوں… اللہ پاک نے ہمیں… نماز کے اور قریب فرمادیا… یاد
رکھیے… ہم نماز کے جتنا قریب ہوتے جائیں گے… اسی قدر ہم اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتے جائیں گے… اب ہماری ذمہ داری ہے کہ … ہم خود …
نماز قائم کرنے والے بن جائیں… اور پھر… اپنے خاندان… اور پوری امت مسلمہ کو نماز
قائم کرنے کی دعوت دیں…
بس یہ مضمون مکمل
… آخر میں قارئین کے ساتھ ایک سودا… بندہ آپ سب مضمون پڑھنے والوں کے لیے دل کی
گہرائی سے … دعاء کرتا ہے کہ … اللہ پاک آپ سب کو … آپ کے والدین کو… آپ کے اہل
واولاد کو … آپ کے بہن بھائیوں… اور رشتہ داروں کو… نماز قائم کرنے والا بنائے…
اور ماضی میں جو غلطیاں… اور کوتاہیاں ہو گئی ہیں انہیں معاف فرمائے… اور ان کی
تلافی کی توفیق عطاء فرمائے… اور اللہ تعالیٰ آپ سب کو جہاد فی سبیل اللہ کی
توفیق عطاء فرمائے… میں نے تو دعاء کردی اب میری گزارش یہ ہے کہ … مضمون پڑھنے کے
بعد… آپ بھی… میرے لیے… یہی دعاء… اللہ تعالیٰ سے مانگ لیں… اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطاء فرمائے… آئیے… مجلس
کا اختتام … اسی قرآنی، خلیلی… پیاری دعاء پر کرتے ہیں…
رَبِّ اجْعَلْنِیْ
مُقِیْمَ الصَّلٰوۃِ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاء
رَبَّنَا
اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُوْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَاب
)آمین یا
ارحم الراحمین(
اللہ تعالیٰ… رحم فرمائے … فرعون کے جانشین ہر زمانے
میں موجود رہتے ہیں… بالکل اسی کی طرح ظالم… ڈرپوک، عیاش اور مفاد پرست… بس اپنی
ذات، اقتدار اور نام پر ذرا سی آنچ کا خطرہ آیا… تو مذبح خانے، عقوبت خانے… خون
اور ظلم سے بھر دئیے… آپ یقین جانیں فرعون کے یہ جانشین… دنیا کی خاطر… اپنی آخرت
کو برباد کرتے رہتے ہیں… قرآن پاک اٹھا کر دیکھیں… ہر فرعون کا مزاج بھی سمجھ
آجائے گا… اور ہر فرعون کا خوفناک اور بھیانک انجام بھی… کاش فرعون کا ساتھ دینے
والے… اس آگ کا تذکرہ پڑھ لیں… جو قرآن پاک نے بیان کی ہے کہ … فرعون اور اس کے ساتھی
رات دن کس طرح اس میںجلائے جاتے ہیں… اور کس طرح سے بھونے جاتے ہیں… آج فرعونوں کی
بزدلی ہمارا موضوع نہیں ہے جو… ایک نجومی کی بات پر خوف سے تھر تھر کانپنے لگتے
ہیں… اور نہ ہی فرعونوں کا ظلم ہمارا موضوع ہے کہ… کس طرح سے انسانوں کو ذبح کرتے
ہیں… آج ہمارا موضوع کچھ اور ہے… لیجئے پہلی روایت
حضرت علی المرتضیٰ
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ… یہ دعا وہ حفاظتی قلعہ ہے
جس کے ذریعے انبیاء علیہم السلام فرعونوں سے حفاظت کا سامان کرتے تھے…
آگے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی وہ عجیب، مضبوط اور طاقتور دعاء ہے
جسے ’’حرز‘‘ قرار دیا گیا ہے… ’’حرز‘‘ کا معنی ہے محفوظ مقام، حفاظت گاہ، قلعہ،
ذریعہ حفاظت
)القاموس
الوحید ص۳۲۶(
یقینا آپ کو دعاء
کا انتظار ہوگا… بس اس دعاء سے پہلے مشہور اللہ والے بزرگ… حضرت امام محمد بن محمد جزریؒ کے صرف
دو اشعار پڑھ لیں… بات اچھی طرح سمجھ آجائے گی… یہ دو اشعار حضرت امام جزریؒ نے
اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’حصن حصین‘‘ کے مقدمہ میں لکھے ہیں… خوب غور سے پڑھیں…
اَلاَ قُوْلاَ
لِشَخْصٍ قَدْ تَقَوّٰی
عَلٰی ضُعْفِیْ
وَلَمْ یَخْشَ رَقِیْبَہ
خَبَأْتُ لَہٗ
سِہَامًا فِی اللَّیَالِی
وَاَرْجُوْا اَنْ
تَکُوْنَ لَہٗ مُصِیْبَہ
ترجمہ: خبردار اس
ظالم شخص سے کہہ دو جو دلیر بنا ہوا ہے۔ مجھے کمزور سمجھ کر اپنے حقیقی نگہبان سے
نہیں ڈرتا… میں نے راتوں کو بیٹھ کر یہ (دعاؤںکے) تیر خفیہ طور پر اس (کے مقابلہ)
کے لئے تیار کیے ہیں اور مجھے ( اللہ تعالیٰ سے) امید ہے کہ یہ تیر اس کو ضرور نشانہ
بنائیںگے…
لیجئے اب وہ
’’حرز‘‘ پڑھتے ہیں… ہاں… یاد رہے کہ درست تلفظ اور اعراب (زیر زبر) کے ساتھ… پورے
یقین اور توجہ سے پڑھیں ۔
دعاء حرز
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ قَالَ اخْسَئُوْا
فِیْہَا وَلَا تُکَلِّمُوْنَ۔ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْکَ اِنْ کُنْتَ
تَقِیًّا o اَخَذْتُ
بِسَمْعِ اللہ وَبَصَرِہٖ وَقُوَّتِہٖ عَلٰی اَسْمَاعِکُمْ
وَاَبْصَارِکُمْ وَقُوَّتِکُمْ۔ یَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالاِْنْسِ
وَالشَّیَاطِیْنِ وَالاَْعْرَابِ وَالسِّبَاعِ وَالْہَوَامِّ وَاللُّصُوْصِ،
مِمَّا یَخَافُ وَیَحْذَرُ فُلاَنُ بِنْ فُلاَنُ سَتَرْتُ بَیْنَہٗ وَبَیْنَکُمْ
بِسَتْرَۃِ النُّبُوَّۃِ الَّتِیْ اِسْتَتَرُوْا بِہَا مِنْ سُطُوَاتِ
الْفَرَاعِنَۃِ۔ جِبْرِیْلُ عَنْ أیْمَانِکُمْ وَمِیْکَائِیْلُ عَنْ شَمَائِلِکُمْ
وَمُحَمَّدٌ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَمَامَکُمْ وَ اللہ تَعَالٰی مِنْ فَوْقِکُمْ یَمْنَعُکُمْ مِنْ
فُلاَنٍ بْنِ فُلاَنٍ فِیْ نَفْسِہٖ وَوَلَدِہٖ وَاَہْلِہٖ وَشَعْرِہٖ وَبَشَرِہٖ
وَمَالِہٖ وَمَاعَلَیْہِ وَمَامَعَہٗ وَمَاتَحْتَہُ وَمَا فَوْقَہُ۔ وَإِذَا
قَرَأْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَکَ وَبَیْنَ الَّذِیْنَ لَایُوْمِنُوْنَ
بِالآْخِرَۃِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًاo وَجَعَلْنَا
عَلٰی قُلُوْبِہِمْ اَکِنَّۃً اَنْ یَّفْقَہُوْہُ وَفِیْ اٰذَانِہِمْ وَقْرًا۔
وَاِذَا ذَکَرْتَ رَبَّکَ فِی الْقُرْآنِ وَحْدَہٗ وَلَّوْا عَلٰی اَدْبَارِہِمْ
نُفُوْرًاo
دعاء حرزکی کچھ
تفصیلات
یہ دعا حدیث شریف
کی معروف کتاب کنز العمال صفحہ ۲۸۲ جلد ۲ (کتاب الاذکارقسم
الافعال) پر موجود ہے، دعاء میں دو جگہ فلان بن فلان ہے یہاں فلان بن فلان نہ
پڑھیں بلکہ اپنا اور اپنے والد کا نام لیں مثلا محمد بن احمد… اور اگر کسی اور کی
حفاظت کے لئے پڑھ رہے ہوں تو اس کا اور اس کے والد کا نام لیں… اور اگر کوئی خاتون
پڑھ رہی ہوں تو بن کی جگہ بنت کہے۔ مثلاً فاطمہ بنت زینب…
دعاء کے آخر میں
دو قرآنی آیات ہیں…
یہ سورہ بنی
اسرائیل کی آیات (۴۵) اور
(۴۶) ہیں…
حضرت موسیٰ علیہ
السلام کی دعاء
لیجئے فرعونوں سے
حفاظت کے لئے ایک بہترین قلعہ مل گیا… ویسے… قرآن پاک میں جس فرعون کا کثرت سے ذکر
ہے… حضرت موسیٰ علیہ السلام اس فرعون کے شر سے ان الفاظ کے ذریعہ پناہ مانگا کرتے
تھے… جو … قرآن پاک نے خود بیان فرمائے ہیں…
وَقَالَ مُوْسٰی
اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَرَبِّکُمْ مِنْ کُلِّ مُتَکَبِّرٍ لاَّ یُوْمِنُ
بِیَوْمِ الْحِسَابِo )المومن
۲۷(
ترجمہ: موسیٰ علیہ
السلام نے کہا میں ہر اس متکبر سے جو قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتا اپنے اور
تمہارے پروردگار کی پناہ لے چکا ہوں… اب اس آیات سے دعاء بنائیے…
اَللّٰہُمَّ یَا
رَبِّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ کُلِّ مُتَکَبِّرٍ لاَّ یُوْمِنُ بِیَوْمِ
الْحِسَابِ۔
اے میرے پروردگار
میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں ہر اس متکبر سے جو حساب کے دن پر ایمان نہیں رکھتا۔
دیکھا آپ نے کتنی
مزیدار، سکون بخش… اور طاقتور دعاء ہے… اکڑنے والے… ظالم اس دعاء کے مقابلے میں
کہاں ٹھہر سکتے ہیں؟…
حضرت انس رضی اللہ عنہ کا تحفہ
حجاج بن یوسف بڑا
ظالم تھا… ہزاروں مسلمانوں کو اس نے باندھ کر شہید کردیا… یہ بات تو آپ نے سن رکھی
ہوگی… مگر… آج ایک اور بات بھی سن لیں کہ… حجاج بہت بزدل بھی تھا… عجیب بات ہے کہ
اپنوں پر ظلم کرنے والے… اکثر ظالم… بزدل ہوتے ہیں… حجاج کی بزدلی پر تو عربی ادب
میں اشعار تک موجود ہیں… مگر یہی بزدل جو میدان جنگ سے ڈرتا تھا… جب اپنی فوج اور
پولیس کے جھرمٹ میں ہوتا تو اس کے نخرے اور شیخیاں سننے کے لائق ہوتیں… تب وہ ان
حضرات کو بھی ذبح کروا ڈالتا… جن کے علم، تقویٰ اور بہادری پر زمانہ رشک کرتا تھا…
آپ حیران ہوں گے کہ وہ ایسا بدزبان… اور بے حیاء شخص تھا کہ… صحابی رسول حضرت انس
بن مالک رضی اللہ عنہ پر بھی بھونک پڑا… حالانکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا نام آتے ہی آنکھیں آج بھی ادب، احترام،
محبت اور عقیدت سے جھک جاتی ہیں… انہوں نے دس برس تک ان کی خدمت کی جن سے ملنے
کیلئے حضرت جبرئیل علیہ السلام بے تاب رہتے تھے… جی ہاں… حضرت انس رضی اللہ عنہ آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم تھے… مگر… اقتدار اور آمریت
کا نشہ بہت خبیث شے ہے کہ چوہے پر بھی… یہ نشہ چڑھ جائے تو دم اٹھائے پھرتا ہے…
خیر حجاج نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے سامنے بہت نازیبا الفاظ بکے تو انہوں نے…
بلاخوف جھاڑدیا… حجاج غصے میں تڑپ اٹھا… اور کہنے لگا کہ اگر آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت نہ کی ہوتی… اور خلیفہ نے
مجھے آپ کے ساتھ حسن سلوک کا حکم نہ دیا ہوتا تو میں آپ کو دیکھ لیتا… حضرت انس
رضی اللہ عنہ نے فرمایا… بالکل نہیں… تم ہمارا کچھ نہیں
بگاڑ سکتے… میں نے تمہارے شر سے ایسے الفاظ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حفاظت لے لی ہے کہ… ان الفاظ کو پڑھنے
کے بعد مجھے کسی بادشاہ کے جبر… اور کسی شیطان کی سرکشی کا خوف نہیں رہتا… یہ سن
کر حجاج کے طوطے اڑ گئے… کہنے لگا وہ ’’کلمات‘‘ مجھے بھی سکھا دیجئے… آپ نے فرمایا
تم اس کے اہل نہیں ہو… پھر جب حضرت انس رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب ہوا تو آپ نے یہ دعاء
اپنے خادم حضرت ابانؒ کو سکھادی… آپ نے انہیں فرمایا کہ تم نے میری دس سال خدمت کی
ہے… اور میں تم سے راضی جا رہا ہوں… بس صبح شام یہ دعاء پڑھ لیا کرو…
بِسْمِ اللہ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِ اللہ بِسْمِ اللہ عَلٰی دِیْنِیْ وَنَفْسِیْ بِسْمِ اللہ عَلٰی اَہْلِیْ وَمَالِیْ بِسْمِ اللہ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ اَعْطَانِیْہِ رَبِّیْ
بِسْمِ اللہ خَیْرِ الاَْسْمَآئِ بِسْمِ اللہ رَبِّ الاَْرْضِ وَالسَّمَآئِ بِسْمِ اللہ الَّذِیْ لاَ یَضُرُّ مَعَ اِسْمِہٖ دَائٌ
بِسْمِ اللہ اِفْتَتَحْتُ وَعَلٰی اللہ تَوَکَّلْتُ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِ اللہ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِ اللہ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِ اللہ وَ اللہ اَکْبَرُ اللہ اَکْبَرُ
اللہ اَکْبَرُ
اللہ اَکْبَرُ
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ اَلْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ لاَ اِلٰہَ اِلَّا اللہ اَلْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ تَبَارَکَ اللہ رَبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ
الْعَظِیْمِ وَرَبُّ الاَْرْضِیْنَ وَمَا بَیْنَہُمَا وَالْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ
الْعَالَمِیْنَ عَزَّ جَارُکَ وَجَلَّ ثَنَاؤُکَ وَلاَ اِلٰہَ غَیْرُکَ
اِجْعَلْنِیْ فِیْ جَوَارِکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ ذِیْ شَرٍّ وَمِنْ شَرِّ
الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ اِنَّ وَلِیِّيَ اللہ الَّذِیْ نَزَّلَ الْکِتَابَ وَہُوَ یَتَوَلّٰی
اَلصَّالِحِیْنَo فَاِنْ
تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللہ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ ہُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ
وَہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِo (کنزالعمال
ص۲۸۳
۔ج۲(
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا تحفہ
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں… اگر تم میں سے کسی کو اپنے
حکمران سے بددماغی اور ظلم کا خطرہ ہو تو یہ دعاء پڑھ لے… یقینا تمہیں اس کی طرف
سے کوئی برائی نہیں پہنچ سکے گی…
اَللّٰہُمَّ رَبَّ
السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ کُنْ لِّیْ جَارًا مِّنْ
فُلاَنٍ وَاَحْزَابِہٖ وَاَشْیَاعِہٖ مِنَ الْجِنِّ وَالاِْنْسِ اَنْ یَفْرُطُوْا
عَلَیَّ وَاَنْ یَّطْغَوْا عَزَّ جَارُکَ وَجَلَّ ثَنَاؤُکَ وَلاَ اِلٰہَ
غَیْرُکَ۔
دیکھا کتنی
زبردست، مؤثر… نافع اور آسان دعاء ہے… اس دعاء میں جہاں فلان کا لفظ لکھا ہے …
وہاں … اپنے حکمران کا نام لے لیں… اور پھر پورے یقین کے ساتھ پڑھیں… معلوم نہیں
آج کے کالم میں یہ دعائیں کیوں شروع ہوگئیں… حالانکہ… اور بہت سارے مسائل ایسے
ہیں… جن پر لکھنے کی ضرورت ہے… ویسے بعض دعائیں کافی سخت بھی ہیں… ان کو اگر مظلوم
پڑھیں تو… ظالموں کو دن میں تارے نظر آنے لگتے ہیں… بے شک… دعاء میں بہت طاقت ہے…
ان سخت دعاؤں کو کیسے لکھیں؟… ہم لوگوں کے اپنے اعمال ہی ہمارے حکمران ہیں… کاش ہم
سدھر جائیں … توبہ کرلیں… اور جو اچھی باتیں کہتے ہیں ان پر عمل بھی شروع کردیں تو
بہت امید ہے کہ … ہمیں اچھے حکمران نصیب ہوجائیں… ان شاء اللہ ان
دعاؤں سے کافی فائدہ ہوگا… بشرطیکہ ہم نے پانچ وقت نماز کی پابندی کی… گناہوں سے
توبہ کی… یقین کے ساتھ پڑھا… اور الفاظ بھی درست ادا کیے… ویسے ڈرنے، گھبرانے اور
پریشان ہونے اور دین کا کام چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے… باربار پابندیاں… اور ہر روز
نئے تماشے صرف ’’غیروں‘‘ کو خوش کرنے کیلئے ہیں… جب ہم نے اپنا رشتہ مکہ مکرمہ…
اور مدینہ منورہ کی سوا چودہ سو سالہ پرانی زندگی کے ساتھ جوڑ لیا ہے تو پھر…
ہمارے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے کہ ہم شکوے کریں… اور حالات کا رونا روئیں… آپ نے
وہ شعر سنا ہوگا لیجئے پھر تازہ کرلیں…
جو لگتا ہے کوئی
کنکر بدن پر دین کی خاطر
تو دل کو وادی
طائف کے پتھر یاد آتے ہیں
آجکل ہمارے ہاں
جولائی کا مہینہ خوب آگ برسا رہا ہے… مگر… مکہ مکرمہ کی گرمی الگ شان رکھتی ہے…
کچا گوشت دوپہر کو ریت پر رکھ دیا جائے تو … کھانے کے قابل ہوجاتا ہے… وہاں سیدنا
بلال رضی اللہ عنہ لٹائے اور تڑپائے جاتے تھے… پتھر، گالیاں،
بائیکاٹ، طعنے، قہقہے، پابندیاں، ظلم اور گردنوں میں رسے… مکہ مکرمہ میں اس کے
علاوہ… ان عظیم ہستیوں کو اور کیا ملا؟… جن کے ساتھ … میں اور آپ جنت میں… بلکہ…
میدان حشر ہی میں جمع ہونا چاہتے ہیں… تن آسانی… اور نزاکت پسندی کے ساتھ اسلام
اور جہاد کے دعوے مذاق معلوم ہوتے ہیں…
اس لیے جس کو ڈر
لگ رہا ہو… وہ … دوبارہ کلمہ پڑھ کر ایمان کو تازہ کرے… بزدلی سے ہم سب پناہ
مانگیں… جیلیں بھرتی ہیں تو بھرتی رہیں… انہی جیلوں میں … بڑے بڑے گناہگاروں کو
خواب میں… محبت کے ایسے بوسے ملے کہ… صبح اٹھے تو اونچے درجے کے ولی تھے… عقوبت
خانوں میں صرف گوشت پر داغ نہیں پڑتے… نامہ اعمال کے داغ بھی دھل جاتے ہیں… آپ نے
کبھی سوچا کہ جہاد میں غبار اور مٹی کے اتنے فضائل کس لیے بیان ہوئے؟… میرے بھائی
سمجھایا گیا کہ اگر ہر حال میں کپڑے صاف رکھنے ہی کی فکر ہو تو پھر جہاد کا اونچا
رستہ نصیب نہیں ہوتا… اچھا آپ ایک بات خوب سوچ لیں… پھر خود ہی جواب دیں… ہمیں بہت
آرام دہ زندگی مل جائے… گاڑیاں، نوکر، بنگلے، ائیرکنڈیشنر، طرح طرح کے کھانے،
عورتیں… اور یہاں کی تمام نعمتیں… پھر ہم مرجائیں… اور نعوذب اللہ جہنم میں ڈالے جائیں… قبر میں سترگز کا موٹا سا
سانپ لپٹ جائے… یہ بہتر ہے … یا … یہ کہ دنیا میں جیلیں، تکلیفیں، بھاگ دوڑ… خوف،
دھول اور خون… پھر موت آتے ہی ٹھاٹھ شروع ہوجائیں… اللہ پاک ہمیں سمجھ نصیب فرمائے… ویسے آپ کے دل میں
آرہا ہوگا کہ… کاش آج کے کالم میں سخت دعاء بھی لکھ دی جاتی… روز روز ستانے والوں…
اور ہر آن اکڑنے والوں کو کچھ تو سبق ملتا… مگر… میرے عزیز بھائیو!… بددعاء سے
دعاء بہت بہتر ہے… سبق سکھانا مطلوب ہوتا تو بہت کچھ ہوچکا ہوتا… مگر … اپنوں کے
لئے آخری مرحلے تک صبر… ایمان اور وقت کا تقاضا ہے… آپ یہ نہ سمجھیں کہ… ظلم کرنے
والے مزے میں ہیں… ان بے چاروں کی حالت… ہم سے زیادہ بری اور تکلیف دہ ہے… اور
افسوس یہ کہ… ان کی پریشانی … تکلیف اور مصیبت … اللہ تعالیٰ کیلئے بھی نہیں ہے کہ… آگے چل کر اجر کی
امید ہو… باقی رہے کافر تو یہ اپنا کلیجہ نکال کر بھی… ان کے سامنے رکھ دیں… وہ ان
سے راضی نہیں ہوں گے… اللہ تعالیٰ کا واضح فرمان ہے…
ولن ترضیٰ عنک
الیہود ولا النصاریٰ حتی تتبع ملتہم۔ (البقرہ ۱۲۰)
ترجمہ: اور تم سے
نہ تو یہودی کبھی خوش ہونگے اور نہ عیسائی یہاں تک کہ تم ان کے مذہب کی پیروی
اختیار کرلو…
یہ قرآن پاک کا
فیصلہ ہے… جو پتھر پر لکیر سے بڑھ کر… مضبوط، محکم اور یقینی ہے… ویسے ہم خود سختی
کے ساتھ اس بات کے قائل ہیں کہ… جنگ اسلامی اصولوں کے مطابق ہونی چاہئے… نہتے، غیر
مسلح شہریوں کو نشانہ بنانے کی قطعاً اجازت نہیں ہے… کسی کو اچھا لگے یا برا… ہمارا
یہی پختہ موقف ہے… کیونکہ یہ واضح اسلامی اصول ہے… مگر… ایک اور بات بھی بالکل صاف
ہے کہ … امریکا اور اسکے اتحادیوں نے عراق اور افغانستان کے نہتے شہریوں کو شہید
کیا… تب… کسی نے نہیں کہا کہ عیسائیت بدنام ہوگئی… تو پھر… دو چار دھماکوں سے
اسلام کی بدنامی کا کیا تعلق ہے؟… ویسے کچھ لوگوں کو اتنا تنگ، مجبور، پریشان… اور
بے حال کردیا گیا ہے کہ وہ لوگ… حالت اضطرار میں ہیں… آپ جانتے ہیں کہ… حالت
اضطرار کے احکامات مختلف ہوتے ہیں… اب علاج تو یہ تھا کہ… انصاف کو عام کیا جاتا…
مگر… ایسا نہیں ہورہا بلکہ… ظلم کو بڑھایا جارہا ہے… خود سوچیں جب ظلم کا بیج بویا
جائے گا تو پھر… ظلم ہی کے درخت اور پودے اگیں گے… کیونکہ یہ زمین ہے زمین… اللہ کی
زمین… اس کا اپنا ایک مزاج ہے… زمین کا مزاج سمجھنا ہے تو… اللہ پاک کی کتاب قرآن مجید پڑھیں… قرآن پاک ہی…
مسائل کا حل… زمین کا مزاج… اور کامیابی کا معنیٰ… اور راز بتا سکتا ہے…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے… اس وقت سچے
دل سے استغفار کی بے حد ضرورت ہے… گناہ … ایمان والوں کو اس دنیا ہی میں نقصان اور
تکلیف پہنچاسکتے ہیں… حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ایک پرکیف دعاء سے معلوم ہوتا ہے کہ
گناہوں کے فوری طور پر درج ذیل نقصانات بھی ہوسکتے ہیں:
)۱(کچھ
گناہ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے غصے اور انتقام کو لے آتے ہیں… یا اللہ ہمارے ایسے گناہ معاف فرما۔
)۲( کچھ
گناہ ایسے ہیں جو انسان سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو چھین لیتے ہیں… یا اللہ ہمارے ایسے گناہ بھی معاف فرما۔
)۳(کچھ
گناہ ایسے ہیں جو انسان کو حسرت اور پچھتاوے میں ڈال دیتے ہیں… یا اللہ ہمارے ایسے گناہ بھی معاف فرما۔
)۴( کچھ
گناہ ایسے ہیں جو آسمان سے اترنے والی خیر، بھلائی اور روزی کو انسان سے روک دیتے
ہیں… یا اللہ ہمارے ایسے گناہ بھی معاف فرما۔
)۵( کچھ
گناہ ایسے ہیں جو بلاؤں اور مصیبتوں کے نازل ہونے کا ذریعہ بنتے ہیں… یا اللہ ہمارے ایسے گناہ بھی معاف فرما۔
)۶( کچھ
گناہ ایسے ہیں جو انسان میں موجود گناہوں سے بچنے کی صلاحیت کو ختم کردیتے ہیں…
اور اس کے حفاظتی نظام کو توڑ دیتے ہیں… یا اللہ ہمارے ایسے گناہ بھی معاف فرما۔
)۷( کچھ
گناہ ایسے ہیں جو تباہی کو جلد لے آتے ہیں… یا اللہ ہمارے ایسے گناہ بھی معاف فرما۔
)۸( کچھ
گناہ ایسے ہیں جو انسان کے دشمنوں کو بڑھا دیتے ہیں… یا اللہ ہمارے ایسے گناہ بھی معاف فرما۔
)۹(کچھ
گناہ ایسے ہیں جو انسان کو امید سے کاٹ کر ناامیدی کے خوفناک گڑھے میں دھکیل دیتے
ہیں… یا اللہ ہمارے ایسے گناہ بھی معاف فرما۔
)۱۰( کچھ
گناہ ایسے ہیں جو دعاؤں کی قبولیت کوروک دیتے ہیں… یا اللہ ہمارے ایسے گناہ بھی معاف فرما۔
)۱۱( کچھ
گناہ ایسے ہیں جو بارش کو روک دیتے ہیں… یا اللہ ہمارے ایسے گناہ بھی معاف فرما۔
)۱۲(کچھ
گناہ ایسے ہیں جو ہوا کو گھٹا دیتے ہیں… یا اللہ ہمارے ایسے گناہ بھی معاف فرما۔
)۱۳( کچھ
گناہ ایسے ہیں جو انسان کو بے پردہ کردیتے ہیں… یعنی اس پر پڑے ہوئے رحمت، حفاظت
اور عزت کے پردوں کو ہٹادیتے ہیں… یا اللہ
ہمارے ایسے گناہ بھی معاف فرما… گویا کہ…
گناہوں کی تیرہ قسمیں بیان فرمائی ہیں… اللہ تعالیٰ ہماری حالت پررحم فرمائے… ایسا لگتا ہے
کہ … ہم اجتماعی طور پر ان تمام قسم کے گناہوں میں مبتلا ہوچکے ہیں اس لیے ان
گناہوں کے کڑوے پھل بھی چکھ رہے ہیں… ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم باریک بینی کے ساتھ
اپنا محاسبہ کریں… اور سچے دل کے ساتھ تمام گناہوں سے استغفار کریں… اور ان گناہوں
کو چھوڑ دیں… اب آپ پوچھیں گے کہ … حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی وہ کونسی دعاء ہے کہ جس میں ان تمام
گناہوں سے استغفار کا طریقہ موجود ہے… تو لیجئے یہ روایت …
O حضرت
علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کو جب کسی معاملہ میں پریشانی ہوتی تھی… یا
کوئی مشکل، دشواری، اور تکلیف پیش آتی تو آپ تنہائی میں جا بیٹھتے اور پہلے تین
بار ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ کو پکارتے:
یَا کٓہٰیٰعٓصٓ۔
یَا نُوْرُ۔ یَاقُدُّوْسُ۔ یَا اَوَّلُ الاَْوَّلِیْنَ۔ یَا آخِرَ الْآخِرِیْن۔
یَا حَیُّ۔ یَا اللہ یَارَحْمٰنُ۔ یَا رَحِیْمُ۔
پھر ان تیرہ طرح
کے گناہوں سے … استغفار فرماتے… جن گناہوں کا تذکرہ اوپر ہوچکا ہے… آپ فرماتے:
یَا حَیُّ یَا اللہ یَا رَحْمٰنُ یَا رَحِیْمُ
)۱(إِغْفِرْلِی
الذُّنُوْبَ الَّتِیْ تُحِلُّ النِّقَمَ
)۲( وَاغْفِرْلِی
الذُّنُوْبَ الَّتِیْ تُغَیِّرُ النِّعَمْ
)۳( وَاغْفِرْلِی
الذُّنُوْبَ الَّتِیْ تُوْرِثُ النَّدامْ
)۴( وَاغْفِرْلِی
الذُّنُوْبَ الَّتِیْ تَحْبِسُ الْقِسَمْ
)۵( وَاغْفِرْلِی
الذُّنُوْبَ الَّتِیْ تُنْزِلُ الْبَلاَئَ
)۶( وَاغْفِرْلِی
الذُّنُوْبَ الَّتِیْ تَہْتِکُ الْعِصَمْ
)۷( وَاغْفِرْلِی
الذُّنُوْبَ الَّتِیْ تُعْجِلُ الْفَنَائَ
)۸( وَاغْفِرْلِی
الذُّنُوْبَ الَّتِیْ تَزِیْدُ الاَْعْدَائَ
)۹( وَاغْفِرْلِی
الذُّنُوْبَ الَّتِیْ تَقْطَعُ الرَّجَائَ
)۱۰( وَاغْفِرْلِی
الذُّنُوْبَ الَّتِیْ تَرُدُّ الدُّعَائَ
)۱۱( وَاغْفِرْلِی
الذُّنُوْبَ الَّتِیْ تُمْسِکُ غَیْثَ السَّمَائِ
)۱۲( وَاغْفِرْلِی
الذُّنُوْبَ الَّتِیْ تَظْلِمُ الْہَوَائَ
)۱۳( وَاغْفِرْلِی
الذُّنُوْبَ الَّتِیْ تَکْشِفُ الْغِطَائَ
)کنز العمال
ج۔۱۔ص۲۷۸(
امید ہے کہ ان شاء
اللہ پوری دعاء… اس کی ترتیب اور اس کا ترجمہ سمجھ
آگیا ہوگا… عربی والے جملوں کا ترجمہ… پہلے تیرہ نمبروں میں ترتیب سے آگیا ہے…
آجکل پریشانی اور مصیبت کے لمحات ہیں… ایسے حالات میں شیطان… بے راہ روی، بزدلی
اور مایوسی کی طرف دھکیلتا ہے… کان میں آکر کہتا ہے… کیوں اپنی زندگی ضائع کر رہے
ہو؟ کیوں ان مصیبتوں میں مبتلا ہو؟… تھوڑا سا جھک جاؤ… کچھ آرام کرو… کچھ اپنی
زندگی بہتر بناؤ… وہ مردود ہمیں مرنے سے پہلے مارنا چاہتا ہے… کیونکہ … ایمانی
نظریات… اور دینی کام کے بغیر زندگی… موت سے بدتر ہے… یہ تو ہوا شیطان… جبکہ…
دوسرا دشمن ہمارا اپنا نفس… ہمیں ایک دوسرے کے عیبوں میں لگادیتا ہے کہ… فلاں کی
اس غلطی سے یہ ہوا… فلاں کی اس غلطی سے وہ ہوا… گویا کہ ہم مصیبت کے وقت تین
دشمنوں میں پھنس جاتے ہیں… ایک تو خود وہ مصیبت… دوسرا شیطان… اور تیسرا نفس… ان
حالات میں انتہائی پیارے اور محبوب خلیفہ راشد… داماد رسول صلی اللہ علیہ وسلم… علم وشجاعت کے پیکر… سیدنا علی رضی اللہ عنہ… ہمیں سکھا رہے ہیں کہ… کچھ وقت خلوت میں
بیٹھ جاؤ… خلوت میں جاکر اپنے اندر جھانکنا آسان ہوتا ہے… پھر اللہ تعالیٰ کے پیارے پیارے ناموں سے اسے پکارو… جب
لائن جڑ گئی تو پھر… اپنے گناہوں کو چن چن کر اس طرح مارو… جس طرح… موذی سانپوں
اور دشمنوں کو مارا جاتا ہے… یہ بہت بڑا علاج ہے …اور یہی مسئلے کا حل ہے… پھر اس
دعاء میں یہ بھی سمجھایا گیا کہ… اپنے گناہوں پرغور کرو کہ… کون کون سے گناہوں میں
مبتلا ہو، تاکہ… ان کو چھوڑنا آسان ہوجائے… اور سب سے بڑی بات جو اس دعاء میں ہے…
وہ سمجھنے کے لائق ہے… اور وہ یہ کہ … جب دین کا کام کرنے والوں پر … ظالموں، اور
منافقوں کی طرف سے مصیبت آتی ہے تو … دل میں یہ وسوسہ ابھرتا ہے کہ… ہم تو اتنا
اچھا کام کر رہے تھے… مگر… اللہ تعالیٰ نے نعوذب اللہ ہماری مدد ہی نہیں کی… ہم اس کے ہیں… مگر وہ
ڈھیل کافروں اور منافقوں کو دیتا ہے… یہ وسوسہ بہت خطرناک … اور بے حد جھوٹا اور
فضول ہے… اللہ تعالیٰ نے دنیا کو… دارالجزاء نہیں بنایا… یہ
تو… امتحان گاہ اور عارضی ٹھکانا ہے… بیعت عقبہ کے موقع پر… جب… مدینہ منورہ کے
حضرات نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی… اور آپ سے
وعدہ کیا کہ آپ مدینہ تشریف لے آئیں… ہم آپ کی پوری حفاظت وحمایت کریں گے … وغیرہ
… تو اس بیعت کے بعد ان حضرات میں سے ایک نے پوچھا… ہمیں… یہ سب کچھ کرکے کیا ملے
گا؟… آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا… جنت… دیکھا آپ نے… دنیا
میں ترقی، معیشت اور لڈو کھلانے کا وعدہ نہیں کیا… اور نہ دنیا کی نعمتیں ایمان،
اورجہاد کا بدلہ بن سکتی ہیں… الغرض … مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ سے شکوہ پیدا نہ ہو… بلکہ … یہ یقین دل
میں مستحکم ہو کہ… اس کا فضل تو بے حد ہے … میں خود ہی گناہگار، قصور وار … اور
مجرم ہوں… یہی وہ عجیب کیفیت ہے جو مچھلی کے پیٹ سے بھی آدمی کو زندہ باہر لے آتی
ہے… حضرت یونس علیہ السلام کی دعاء پڑھ کر دیکھ لیجئے…
لا الہ الا انت
سبحانک… یا اللہ آپ تو پاک ہیں… آپ سے کوئی شکوہ نہیں… انی کنت
من الظالمین … میں خود ہی ظالم اور قصور وار ہوں… جب یہ الفاظ دل کا حال بن جائیں…
یعنی دل مان لے کہ… قصور اپنا ہے… اور اللہ تعالیٰ سے کوئی شکوہ نہیں… تو پھر … نصرت کے
ایسے دروازے کھلتے ہیں کہ… عقل دنگ رہ جاتی ہے… مگر … افسوس ہم اس کیفیت سے محروم
رہتے ہیں… اور کتنی عجیب بات ہے کہ … حضرت یونس علیہ السلام جیسے نبی کو… جو
گناہوں سے معصوم تھے… یہ کیفیت نصیب ہوئی… حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ… جن کوجنت کی باقاعدہ اور پکی بشارت تھی… اس
کیفیت میں ڈوب کر … خود کو قصوروار سمجھ کر… رو رہے ہیں… جبکہ ہم… جو سر سے پاؤں
تک گناہوں میں لتھڑے ہوئے ہیں… اس کیفیت سے محروم رہتے ہیں… حالانکہ … ہمارے لیے
تو خود کو قصوروار سمجھنا… زیادہ آسان ہونا چاہئے تھا… روئے زمین کا کونسا گناہ ہے
جو ہم … دین کے دعویداروں میں نہیں ہے؟… عہدے بازی، جھگڑے بازی، پروٹوکول کا حرص…
حبّ دنیا … تکبر… شہرت پسندی، تصویر بازی… اور نعوذب اللہ بے حیائی… کس کس گناہ کا تذکرہ کیا جائے… حسد
اور بغض نے ہمیں اندر سے کھوکھلا کردیا ہے… اور اجتماعی اموال میں بے احتیاطی نے
ہمیں مکڑی کا جالا بنادیا ہے… حقیقت میں ہم توبہ، استغفار کے بے حد محتاج ہیں… اللہ پاک ہمیں توفیق دے کہ… ہم اپنے گناہوں کی شدت کو
سمجھیں… قرآن پاک ہی کولے لیجئے… ہم اس کو نافذ کرنے کی باتیں کرتے ہیں… مگر…
ہمارے رات اور دن اس کی تلاوت سے خالی گزرتے ہیں… ہم اس کے حقوق سے غافل ہیں… کتنے
حافظ دین کے کام کے دھوکے میں… حفظ کی نعمت سے محروم ہوگئے ہیں… اگر یہی ہمارا دین
ہے کہ … قرآن پاک بھی بھول جائیں تو پھر… اللہ پاک ہی ہمیں ہدایت عطاء فرمائے… الغرض … ہم بہت
گناہگار ہیں… مگر اس کے باوجود … اللہ تعالیٰ کا فضل دیکھیں کہ اس نے ہمیں… ایمان کی
دولت بخشی… ہمیں دین اورجہاد کا مضبوط نظریہ عطاء فرمایا… ہمیں اس دور میں اپنا
نام لینے کی توفیق عطاء فرمائی… ہم سے دین کا کام لیا… اور ہمیں اپنے کاموں میں
لگایا… ان نعمتوں کی فہرست بہت لمبی ہے… ہم … ان کو شمار بھی نہیں کرسکتے… بس
ضرورت اس بات کی ہے کہ … ہم میں سے ہر شخص صرف اپنے عیب دیکھ کر … ان پر آنسو
بہائے… اپنے گناہ ڈھونڈ کر… ان سے پکی توبہ کرے… اور دین کے کام کو اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت … اور اس کاعظیم احسان
سمجھ کر … اس کی قدر کرے… حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دعاء تو الحمدﷲ… ہم نے سمجھ لی… آئیے آخر
میں… ایک اور عظیم الشان تحفہ حاصل کرکے… آج کی مجلس کا اختتام کرتے ہیں:
ایک عجیب واقعہ
حضرت ہشام بن
عروہؒ فرماتے ہیں کہ … حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ خلیفہ بننے سے پہلے ایک بار … میرے
والد حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے… اور فرمانے لگے… رات میں
نے ایک عجیب چیز دیکھی… میں اپنے گھر کی چھت پر … بستر پر لیٹا ہوا تھا کہ میں نے
نیچے راستے میں کچھ شور وغوغا سنا… میں نے جھانک کر دیکھا تو پہلے گمان کیا کہ رات
کو شکار ڈھونڈنے والے بھیڑیوں کا غول ہے… مگر وہ شیاطین کے مختلف گشتی دستے تھے…
پھر یہ تمام دستے میرے گھر کے پیچھے ویرانے میں جمع ہوگئے… پھر (ان کا سردار)
ابلیس بھی آپہنچا… یہ سارے جب ابلیس کے پاس جمع ہوگئے تو اس نے بلند آواز سے پکار
کر کہا… تم میں سے کون… میری طرف سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کیلئے کافی ہوگا…
(یعنی کون ان کو جاکر بہکائے گا اور نقصان پہنچائے گا) شیاطین کے ایک گروہ نے کہا…
’’ہم‘‘ … پھر یہ گروہ چلا گیا… اور کچھ دیر بعد لوٹ آیا… اور کہنے لگا… ہم ان پر
بالکل قابو نہیں پاسکے… شیطان ابلیس یہ سن کر پہلے سے زیادہ زور سے چیخا اور کہنے
لگا… تم میں سے کون… میری طرف سے … عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کیلئے کافی ہوگا؟
شیاطین کی ایک اور جماعت نے کہا… ’’ہم‘‘ … یہ لوگ گئے اور کافی دیر کے بعد واپس
آئے اور کہنے لگے… ہم تو ان پر کچھ بھی قابو نہیں پاسکے… ابلیس یہ سن کر اس قدر
زور سے چیخا کہ مجھے لگا زمین پھٹ جائے گی… اس نے پھر اپنا وہی اعلان دہرایا… اس
بار بھی شیاطین کی ایک جماعت گئی… اور بہت دیر بعد واپس آئی… اور کہنے لگی… ہم ان
کا کچھ نہیں بگاڑ سکے… یہ سن کر ابلیس غصے کی حالت میں وہاں سے چلا گیا… اور تمام
شیاطین بھی اس کے پیچھے رخصت ہوگئے…
حضرت عروہ بن زبیر
رضی اللہ عنہ نے یہ قصہ سن کر فرمایا… میرے والد حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص دن یا رات کے
آغاز میں یہ دعاء پڑھ لے اللہ پاک اسے ابلیس اور اس کے لشکر سے محفوظ فرما
دیتے ہیں …
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ذِی الشَّانِ، عَظِیْمِ
الْبُرْہَانِ، شَدِیْدِ السُّلْطَانِ مَاشَائَ اللہ کَانَ، اَعُوْذُ بِ اللہ مِنَ الشَّیْطٰنِ۔ (کنز العمال ج۔۱ص۲۸۱)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے نام سے جو رحمن ہے رحیم ہے شان والا
ہے۔ بڑی دلیل والا ہے۔ مضبوط سلطنت والا ہے۔ جو کچھ اللہ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے… میں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں شیطان سے…
اللہ تعالیٰ … میری اور آپ سب کی… تمام گناہوں،
شیطانوں، ظالموں… اور نفس امّارہ کے شر سے حفاظت فرمائے…
آمین یا رب
المستضعفین
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہم سب
کو علم نافع عطاء فرمائے… میرا دوست ’’خیال جی‘‘ علم کے بارے صدر صاحب کی تقریر سن
کر خوشی سے پھول گیا ہے… اس نے ماضی کی طرح اس بار بھی صدر صاحب کا چشم کشا خطاب
خوب کان لگا کر سنا ہے… لیجئے اسی کی زبانی اس خطاب کے اہم نکات… اور ان کی خیالی
تشریح ملاحظہ فرمائیے…
۱۔ مسلمان پوری دنیا میں خلفشار کے
ذمہ دار
اس خطاب میں نہایت
افسوس کے ساتھ بتا یا گیا کہ پوری دنیا میں شورش اور خلفشار کے ذمہ دار… مسلمان
ہیں… ہم لاکھ صفائیاں دیں… مگر… مسلمانوں کے کرتوت ان صفائیوں پر پانی پھیر دیتے
ہیں…
بالکل بجا فرمایا…
مسلمان عجیب پاگل لوگ ہیں… چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑنے مرنے لگ جاتے ہیں… غلامی اور
ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں… حالانکہ غلامی کو آئسکریم سمجھ کر … اور ظلم
کو بسکٹ سمجھ کر قبول کرلینا چاہئے…
یہودیوں نے مسجد اقصیٰ پر قبضہ کرلیا تو کیا ہوا؟ … فلسطین چھین لیا تو کیا
ہوا؟…بس اتنی معمولی سی بات پر یہودیوں سے لڑائی شروع کردی … امریکہ نے عراق تباہ
کردیا… ایک لاکھ سویلین افراد مار دئیے… بالکل چھوٹی سی بات ہے … مگر وہاں کے
پاگلوں نے لڑائی شروع کردی… افغانستان پر امریکہ نے قبضہ کیا تو مسلمانوں کو خوشی
منانی چاہئے تھی کہ… ان کی سرپرستی ہورہی ہے مگر وہاں کے پاگل لڑائی پر اتر آئے…
ادھر چیچن پاگلوں کو دیکھیں کہ اپنی سرزمین آزاد کرانے کیلئے لڑ رہے ہیں حالانکہ
روس کو اپنا ملک دے دیں تو کیا ہوجائے گا… معمولی سی بات ہے۔
ادھر بوسنیا والوں
کے صرف ایک رات میں… آٹھ ہزار افراد قتل ہوئے… معمولی سی بات ہے… مگر بہت سارے
پاگلوں نے اسے دل سے لگا لیا ہے… کشمیر میں صرف نوے ہزار افراد مارے گئے ہیں تو سب
جہاد جہاد کا شور کررہے ہیں… حالانکہ… کشمیر ہندوئوں کے حوالے کردیا جائے تو کیا
ہوجائے گا؟… معمولی سی بات ہے… اب خود سوچیں کہ… ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑنا…
اور الجھنا کہاں جائز ہے؟… پتہ ہے ان تمام باتوں کا کتنا بڑا نقصان ہوا؟… ٹونی
بلیئر نے ہمیں غصے سے فون کیا… اور کافی ناراض ہوئے… دیکھا یہ کتنی… بڑی… اور غیر
معمولی بات ہے… اس بات پر… اگر… پاکستان کے تمام انتہا پسندوں کو گولیوں سے بھون
دیا جائے تو بھی کم ہے…
۲۔ حقوق العباد
اس خطاب میں مولوی
حضرات کو للکارا گیا کہ… تم لوگ حقوق العباد کی بات نہیں کرتے ہو… اور نہ ان کا
خیال رکھتے ہو…
بے شک یہ بات
بالکل درست ہے… دینی طبقوں نے لوگوں کے حقوق پامال کر رکھے ہیں… ورنہ… حکومت نے تو
حقوق العباد… اس طرح سے ادا کئے ہیں کہ… لوگ چیخ چیخ کر… بس بس کررہے ہیں… مثلاً
oملک
میں جمہوری حکومت قائم تھی… ہم نے … فوج کے زور پر اس کے جملہ حقوق ایسے ادا کئے
کہ وہ لوگ… حرم پاک میں جا بیٹھے…
o آٹا،
دال، گھی… پٹرول اور ڈیزل ہم نے اتنا مہنگا کردیا کہ … غریب عوام کے جملہ حقوق ادا
ہوگئے… اور اب آدھی روٹی کھانے والا بھی فخر کے ڈکار لیتا پھر تاہے کہ میں کوئی
معمولی آدمی نہیں ہوں… میرے پیٹ میں چار روپے کی روٹی موجود ہے… یوں عوام کا معیار
زندگی بلند ہوا ہے اور انہیں… قیمتی چیزیں کھانا نصیب ہورہی ہیں…
o ہم
نے چھ سو سے زائد مجاہدین کو پکڑ کر مار دیا … اور ان کا آخری حق تک ادا کردیا کہ
وہ دنیا سے نجات پا کر جنت کے مکین ہوگئے…
o ہم
نے دینی طبقے کو دربدر کرکے اس کے جملہ حقوق ادا کئے کہ اب مزے سے پھرو اور دیس
بدیس کا پانی پیو…
o ہم
نے پولیس والوں کو کھلی چھٹی دے کر… ان کے بچوں کی اولاد تک کے حقوق ادا کردئیے…
کہ… لوگوں کو… دہشت گرد بنا کر پکڑتے جائیں… اور فقیر بنا کر چھوڑتے جائیں…
o ہم
نے نیب زدہ سیاستدانوں کے حقوق ادا کردئیے کہ انہیں چند دن کے اکرام کے بعد… اونچی
وزارتوں پر بٹھا دیا…
پھر چونکہ لوگوں
کے حقوق ادا کرنے کیلئے… گولی اور ڈنڈے کی ضرورت پڑتی رہتی ہے اس لئے… ہم نے …وردی
اتارنے سے… وعدہ کرنے کے باوجود انکار کردیا ہے…
۳۔علم کی فضیلت
خطاب میں علم کی
فضیلت پر بہت زور دیا گیا ہے… خصوصاً ’’علم سائنس‘‘ تاکہ ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب کے
انجام سے… دوچار ہونا آسان رہے… ویسے موجودہ حکومت قائم بھی علم کے زور پر ہے… اسی
لئے توہم وردی نہیں اتار رہے تاکہ… قوم کے ’’علم‘‘ میں رہے کہ ہم کونسا ’’علم‘‘ رکھتے
ہیں… اور کہیں ایسا نہ ہو کہ قوم خود کو آزاد سمجھ کر اپنی مرضی کے لوگ ملک پر
مسلط کرتی رہے… خبردار!
۴۔ روشن خیالوں سے شکوہ
اس خطاب میں ملک
کو تین طبقوں میں تقسیم کردیا گیا… پھر روشن خیال طبقے سے یہ درد بھرا شکوہ کیا
گیا کہ… اس نے… دین کی تشریح و تعبیر کا کام جاہل علماء کے سپرد کردیا ہے… اور یوں
قوم کے کم پڑھے لکھے لوگ ’’خراب‘‘ ہو رہے ہیں… بالکل ٹھیک ہے… روشن خیال لوگوں سے
یہ غلطی ہوئی ہے کہ… انہوں نے دین کا میدان مولویوں کے لئے خالی چھوڑ دیا… اب فلم
سٹار میرا کو ہی دیکھیں وہ لوگوں کو دین سمجھانے کی بجائے… مہیش بھٹ کے ساتھ بمبئی
میں پھر رہی ہے… اور وہ بھی غلط کام نہیں ہے… مگر اسے کچھ وقت اپنے لوگوں کو دین
بھی سکھانا چاہئے… تاکہ… روشن خیال اسلام لوگوں کو سمجھ میں آئے… اس طرح باقی روشن
خیال خواتین و حضرات کو بھی چاہئے کہ ساری رات ناچنے گانے… شراب پینے اور سارا دن
سونے اور دنیا کمانے میں نہ گزارا کریں… بلکہ کچھ وقت لوگوں کو… روشن خیال اسلام
بھی سکھایا کریں…اور دینی جلسوںکے اشتہارات پر دقیانوس مولویوں کی جگہ… حنا
جیلانی، عاصمہ جہانگیر… مِیرا… اقبا ل حیدر وغیرہ کے نام ہوں… کاش ہماری پاگل قوم
ان باکردار لوگوں سے روشنی لے… ویسے قوم تو تیار ہے مگر افسوس کہ یہ لوگ خود ٹائم
نہیں دیتے… اسی لئے تو لوگ پرانے اسلام سے چمٹے ہوئے ہیں…
۵۔ ابن الوقت بنیں
خطاب میں اس بات
پر زور دیا گیا کہ… وقت کے ساتھ چلیں… اور زمانے کے مطابق خود کو ڈھالیں… یہ بات
سمجھاتے ہوئے مولویوں کی تمام غلطیاں بھی بتائی گئیں کہ وہ ہمیشہ وقت سے پیچھے
رہتے ہیں… اس نصیحت کے مطابق اب ہر شخص کو چاہئے کہ وہ انتہا درجے کا ’’ابن
الوقت‘‘ بنے… ماضی کے پاگل لوگ اس لفظ کو گالی سمجھا کرتے تھے… اسی لئے تو کبھی
انگریزوں سے لڑتے رہے اور کبھی دوسرے لوگوں سے … وہ کہا کرتے تھے کہ وقت جیسا بھی
آجائے… اپنے نظریات… اور اپنی اقدار کی حفاظت کرنی چاہئے… اسی لئے تو وہ سارے پاگل
لوگ مرگئے… اور ہم چونکہ وقت کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں… اور گھوم رہے ہیں اس لئے ہم
ہمیشہ رہیں گے… ماضی میں یہاں انگریز کی حکومت تھی… ہم نے وقت کے مطابق اس کا ساتھ
دیا… اور اسکی نوکری کرتے رہے… پھر پاکستان بنا تو ہم اس کے پاسباں بن گئے… الغرض…
ہر طاقتور کے سامنے فوراً جھک جانا کہ وہ نقصان نہ پہنچائے… سب سے بڑی عقلمندی اور
سمجھداری ہے… البتہ کمزوروں کو خوب رگڑناچاہئے…
۶۔ ہم خودمختار ہیں
قوم سے خطاب کے
دوران ہی… جناب ٹونی بلیئر کی خدمت میں بھی کچھ باتیں عرض کی گئیں… اس سے ثابت ہوا
کہ ہم اپنے تمام فیصلے خود کرتے ہیں… اور ہم پر غیر ملکی دبائو کا کوئی اثر نہیں
ہوتا اور موجودہ ملک گیر آپریشن کا لندن بم دھماکوں سے کوئی تعلق نہیں ہے…
۷۔ اسلام کی بدنامی
خطاب میں نہایت
درد کے ساتھ اسلام کی بدنامی کا ذکر چھیڑا گیا کہ… ان دو چار حملوں سے اسلام بدنام
ہوگیا ہے ورنہ پہلے تو یہ حالت تھی کہ… امریکہ اور یورپ کے لوگوں کی لائنیں اسلام
قبول کرنے کیلئے… ہمارے دروازوں کے باہر لگی رہتی تھیں… روزانہ لاکھوں ہزاروں لوگ
مشرف بہ اسلام ہورہے تھے… اور امریکہ کے صدر سے لے کر برطانیہ کے شاہی خاندان تک
کے افراد… اسلام کے نام پر مرمٹتے تھے… اور انگریزوں کی اسلام سے محبت کا تویہ
عالم تھا کہ… ترکی سے لے کر ہندوستان تک… ہزاروں مسلمانوں کو جلتے تنوروں میں ڈالا
جاتا تھا… نائن الیون… اور سیون سیون سے بہت پہلے… مسلمانوں کے ساتھ ان کی محبت کی
داستانیں عام تھیں… کالا پانی کا قید خانہ… ان کی اسلام کے ساتھ محبت کا منہ بولتا
ثبوت تھا… بس کیا کیا بتایا جائے؟… بوسنیا سے لے کر افغانستان تک … ان کی محبت
دیکھنے کیلئے کتنی قبروں کو کھودا جائے؟… خلاصہ یہ ہے کہ وہ لوگ اسلام اور
مسلمانوں کی محبت میں مرے جارہے تھے کہ یہ دھماکے ہوگئے … اور ان کی آنکھوں میں
اسلام بدنام ہوگیا…
۸۔ نیا اسلام
خطاب میں سمجھایا
گیا کہ انتہا پسندوں کے پاس قدیم اور پرانا اسلام ہے… جبکہ… مسلمانوں کو جدید اور
نئے اسلام کی ضرورت ہے… یہ بہت اہم نکتہ ہے… کیونکہ… اس میں ہر قدیم سے رشتہ توڑنے
کی دعوت دی گئی ہے… اس لئے اب بالکل نیا اسلام بنانا پڑے گا… پرانے اسلام میں اللہ
تعالیٰ کو مانا جاتا ہے… جبکہ… اللہ تعالیٰ کا ایک نام ’’القدیم‘‘ ہے… اسلام میں
قرآن پاک کو مانا جاتا ہے… اس کتاب کی صفت بھی یہ ہے کہ… یہ …قدیم کتاب ہے… اسلام
کا قبلہ کعبۃ اللہ ہے… اور اسی کعبہ کو ’’البیت العتیق‘‘ کا لقب دیا گیا ہے… جس کا
ایک واضح ترجمہ ہے… پرانا اور قدیم گھر… اب اگر… ہر قدیم کو چھوڑ دیا تو پھر… خود
ہی ’’نئے اسلام‘‘ کا معنی سمجھ لیں…
۹۔نیا آپریشن
خطاب میں بتایا
گیا کہ… ملک کے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ حکم ’’پاس‘‘ کرد یا گیا ہے
کہ… وہ… انتہا پسندوں کو کچلنے کیلئے آپریشن شروع کردیں… اس سلسلے میں… نہ
پارلیمنٹ سے کچھ پوچھا گیا… اور نہ کابینہ سے… ہاں… وزیراعظم کو طلب کرکے… ان کو
اطلاع کردی گئی ہے… جب کام اتنا اہم ہو تو پھر… جمہوریت شمہوریت نہیں دیکھی جاتی…
ادھر سے غیر ملکی رہنمائوں کے فون آتے رہیں… اور ہم یہاں… پارلیمنٹ اور کابینہ کے
چکروں میں پھنسے رہیں یہ نہ کبھی ہوا ہے… اور نہ کبھی ہو سکتا ہے … جب آپریشن اپنی
قوم کے خلاف ہے تو پھر پوچھنے کی کیاضرورت ہے؟…
۱۰۔ محبت پھیل گئی
یہ خطاب… نفرت
پھیلانے والوں کے خلاف تھا … چنانچہ … اس کے ذریعے خوب خوب محبت پھیلائی گئی مثلاً
o قوم
کو تین حصوں میں بانٹ دیا گیا۔
o دلائل
کے ساتھ دینی طبقوں کے خلاف محبت پھیلائی گئی۔
o انتہا
پسندوں کو آپریشن کا محبت بھرا تحفہ دیا گیا اب … یہ خطاب ختم ہوگیا ہے… ملک کے
روشن خیال لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ… انتہا پسندوں کے خلاف جہاد کریں… یوں جب…
روشن خیال اور انتہا پسند ایک دوسرے کے خلاف جہاد کریں گے تو ہر طرف محبت ہی محبت
پھیل جائے گی… ویسے اس وقت کراچی سے خیبر تک پھیلی ہوئی محبت صاف نظر آرہی ہے…
شہداء کرام کی مائیں… اور مجاہدین کی بہنیں دامن پھیلا کر رو رہی ہیں… پولیس والے
پوری محبت کے ساتھ چھاپے مار رہے ہیں… گرفتار شدگان کے ورثاء پوری محبت کے ساتھ
انہیں تھانوں… اور عقوبت خانوں میں ڈھونڈ رہے ہیں… پولیس کے ہاتھوں زخمی ہونے والی
بہنیں… محبت بھرے سلوک پر ہسپتال میں پڑی رو رہی ہیں… دینی طبقے کے افراد… پولیس
والوں کی محبت کے ڈر سے… چھپتے پھر رہے ہیں… بس کیا بتائیں… محبت کا ایک سیلاب ہے
جو… قوم کو بہا کر لے جارہا ہے… کاش اس محبت کو ذخیرہ کرنے کیلئے بھی… کوئی ڈیم
ہوتا…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ اس ظالمانہ ’’آپریشن‘‘ کو الٹا لوٹا دے…
بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے… ہمارے محبوب حضرت قاری عرفان صاحب نور اللہ مرقدہ … ایسے مواقع پر بہت جوش سے فرمایا کرتے
تھے… اللہ ایک ہے… بے شک اللہ ایک ہے… اور اس کا کوئی شریک نہیں… اسلام آباد
بھی عجیب جگہ ہے… فرقہ پرستوں کا ایک مخصوص ٹولہ ہر حکمران کو اپنی گرفت میں لے
لیتا ہے… اور پھر ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق… ملک کے دینی طبقے کو تنگ کرتا
ہے… مگر اللہ تعالیٰ کا سچا دین اور اس کے ماننے والے بہت سخت
جان ہیں… ان کو ختم کرنے کا خواب دیکھنے والے… اپنی آنکھوں میں حسرت کے کانٹے لیے
مرگئے… حضرت قاری عرفان صاحبؒ فرمایا کرتے تھے… ایوب خان کہا کرتا تھا میں ملک کے
علماء کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دوں گا… یحییٰ خان تو علماء اور دینی طبقے سے
سخت بے زار تھا… کس کس کی بات کی جائے… مکہ مکرمہ میں جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت کا آغاز کیا تو
معلوم ہے… مکہ کے مشرک سرداروں نے کیا کہا؟… وہ کہتے تھے یہ شخص نفرت پھیلا رہا
ہے… ملک وقوم کا دشمن ہے… مجنون اور پاگل ہے کہ حالات نہیں سمجھتا… ابوجہل اور
ابولہب کے یہ جملے… آج تک … حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وارثین پر… تیروں اور پتھروں کی
طرح برسائے جارہے ہیں… کونسی نفرت… اور کیسی نفرت؟… کیا ان بتوں کی پوجا کو برا
بھلا کہنا غلط ہے جن کو لوگ… اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں؟ … ہاں بتوں کے
پجاری یہی سوچتے تھے کہ… نفرت پھیل رہی ہے… حالانکہ توحید کا نور پھیل رہا تھا… آج
کے بڑے بتوں کے پجاری بھی … علماء اور مجاہدین کے بارے میں یہی کہتے ہیں کہ… یہ …
نفرت پھیلا رہے ہیں… جی ہاں آپ لوگ جو ہر مجلس میں دینداروں کو گالیاں دیتے ہیں…
وہ نفرت پھیلانا نہیں ہے… اور نہ وہ فرقہ واریت ہے… کیونکہ … آپ کے منہ میں… محبت
کی شوگر بھری ہوئی ہے… کل کوئی بتا رہا تھا کہ … کراچی کے بڑے پولیس افسر نے…
اردوبازار کراچی کے تاجران کتب کو جمع کرکے کہا… جہاد کی کوئی کتاب فروخت نہیں
ہونی چاہئے… قادیانیوں کے خلاف کوئی کتاب برداشت نہیں ہوگی… یہاں تک کہ یہود
ونصاریٰ کے خلاف بھی کوئی لٹریچر آپ لوگوں کے ہاں نہیں بکنا چاہئے… ایک بزرگ تاجر
نے کہا آپ صاف کہہ دیں کہ… قرآن پاک کی اشاعت ہی بند کردی جائے اس لیے کہ … جن
باتوں سے آپ روک رہے ہیں و ہ تو ساری کی ساری قرآن پاک میں موجود ہیں… یہ سن کر …
وہ پولیس افسر صاحب طیش میں آگئے… اور گالیاں اور دھمکیاں دے کر چلے گئے… ہماری
حکومت ملک میں جو محبت پھیلانا چاہتی ہے اس کے آخر میں یہی گالیاں اور دھمکیاں ہی
ہوتی ہیں… ہماری حکومت جس تحمل اور رواداری کو … قوم میں عام کرنا چاہتی ہے… اس کا
انجام بھی گولی، ڈنڈے اور ہتھکڑی پر ہوتا ہے… شاید کچھ حکمرانوں کو یہ وہم ہوگیا
ہے کہ … انہوں نے اس ملک کو خرید لیا ہے… اب وہ یہاں کے مالک… اور باقی سب غلام
ہیں… جس طرح ڈوگروں نے کشمیر کو پچھتّر لاکھ نانک شاہی سکوں کے عوض… انگریزوں سے
خرید لیا تھا… اللہ پاک کی کتاب قرآن مجید میں خصوصیت کے ساتھ جن
پانچ موضوعات کو بیان کیا گیا ہے… ان میں سے ایک موضوع … ’’علم المناظرہ‘‘ ہے…
قرآن پاک نے یہودیوں، عیسائیوں، مشرکوں، منافقوں اور بددینوں کے خلاف… خوب کھل کر…
دلائل دئیے ہیں… اور ان کے غلط عقائد کا رد کیا ہے… کسی کو یقین نہ آئے تو ابتدائی
پانچ پارے پڑھ کر دیکھ لے… سورہ فاتحہ کے آخر میں… بتادیا گیا کہ… اس زمین پر کچھ
لوگ… ایسے بھی ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے… اور کچھ ایسے بھی ہیں جو
گمراہ ہیں… پھر اگلی سورۃ کا نام ’’البقرہ‘‘ ہے اس میں یہودیوں پر شدید ردّ ہے…
کیونکہ یہودیویت کی پوری تاریخ ’’گائے‘‘ کے گرد گھومتی ہے… چنانچہ اس سورۃ کا نام
’’البقرۃ‘‘ ہے اور عربی میں بقرہ گائے کو کہتے ہیں… اس سورت میں ان لوگوں کا خاص
طور سے بیان ہوا جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے… اس کے بعد والی سورۃ ’’آل
عمران‘‘ ہے جس میں گمراہ لوگوں… یعنی عیسائیوں سے مکالمہ اور مناظرہ ہے… میں ڈنکے
کی چوٹ کہتا ہوں کہ … قرآن پاک نفرت نہیں پھیلاتا… جو ایسا کہے یا سوچے تو اس کا
منہ کالا… قرآن پاک کی ایک سورۃ کا نام ’’المنافقون‘‘ ہے… اس میں ابن الوقت
منافقین پر شدید ردّ ہے… اسی طرح مشرکین اور بددینوں پر بھی بہت ساری آیات میں
تردید موجود ہے… کیا کسی نام نہاد روشن خیال میں یہ اخلاقی جرأت ہے کہ … وہ قرآن
پاک سے فیصلہ کرائے کہ… کون محبت پھیلا رہا ہے اور کون نفرت؟… مگر کہاں؟ … اگر
اخلاقی جرأت ہوتی تو غیروں کی خاطر اپنوں کے گلے کیوں کاٹتے؟اور دل کی جگہ صرف
معدے ہی کی فکر میں کیوں مرتے؟… آپ حیران ہوں گے کہ… آج ہر روشن خیال … ایک ہی بات
بار بار دہرا رہا ہے کہ… (نعوذب اللہ ) اسلام مسخ
ہوچکا ہے… اور اصلی اسلام لوگوں کے سامنے لانے کی ضرورت ہے؟…
میں پوچھتا ہوں
کہ… یہ اصلی اسلام کیا ہے؟… اور کہاں ہیں؟… اگر کسی میں اخلاقی جرأت ہے تو وہ صرف
اسی سوال کا جواب دے دے… اور پوری قوم کو سمجھادے کہ… اصلی اسلام کہاں لکھا ہوا
ہے؟… یہ ایک جاہلانہ اور احمقانہ جملہ ہے جس پر … ان لوگوں کو… کسی نہ کسی دن ضرور
پچھتانا پڑے گا… اسلام تو وحی کے ذریعہ نازل ہوا ہے… یہ دین عقل سے نہیں بنایا گیا
بلکہ… اللہ تعالیٰ نے پورا کا پورا دین خود نازل فرمایا ہے…
انسان کی عقل تو بہت ناقص ہے… لینن اور اسٹالن جیسے ذہین لوگ… جن کی ایک دنیا نے
پوجاکی… بیوی اور بہن کے درمیان فرق کرنے کو غلط سمجھتے تھے… بے شک انسان کی عقل
ناقص ہے… اس لیے… دین کی بنیاد عقل پر نہیں… وحی پر رکھی گئی ہے… روشن خیال حضرات
وخواتین… اگر … اپنے نظریات اور اعمال کے لئے… وحی الٰہی سے کوئی دلیل لاتے ہیں تو
سر آنکھوں پر… لیکن اگر وہ حالات کے مطابق چلنے کو دین سمجھتے ہیں تو یہ سراسر غلط
ہے… مکہ مکرمہ میں… جب دین کی دعوت کا آغاز ہوا تو حالات بالکل موافق نہیں تھے…
اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم
اجمعین نے… اپنی دنیا اور اپنی ترقی کو قربان کرکے… دین کو اپنایا… اور اسلام کو
پھیلایا… اس لیے صرف اتنا کہہ کر امریکہ کو سجدہ نہیں کیا جاسکتا کہ… ہم پیچھے رہ
جائیں گے… ہم ترقی نہیں کرسکیں گے… ٹھیک ہے جن کو آپ انتہا پسند کہتے ہیں وہ… جہاد
کو مانتے ہیں… مگر ان کے پاس وحی متلو… یعنی قرآن پاک کی سینکڑوں آیات ہیں… جن میں
… جہاد بمعنی قتال فی سبیل اللہ کا حکم اور تذکرہ موجود ہے… اور ان کے پاس وحی
غیر متلو… یعنی حدیث پاک کی بے شمار دلیلیں ہیں… اور ان کے پاس حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہے کہ… آپ خود جہاد میں نکلے…
بار بار نکلے… اور زخمی ہوئے… اب روشن خیال حضرات یہ بتائیں کہ… ان کے پاس جہاد کی
مخالفت کرنے کیلئے… کون سی دلیل ہے… صرف اتنی کہ … ہم کمزور ہیں… دشمن ہمارا آملیٹ
بنادے گا… یہ تو کوئی دلیل نہیں… مسلمان ہر زمانے میں کمزور تھے… مگر… ان میں سے
جو ڈٹے رہے انہی کی برکت سے دین ہم تک پہنچا ہے… آجکل اخبارات میں… نیکر پہننے …
ڈاڑھی نہ رکھنے… اور برقع نہ پہننے پر زور ہے… کیا دلیل ہے آپ کے پاس؟… ستر
چھپانے، ڈاڑھی رکھنے… اور پردہ کرنے پر تو دلائل موجود ہیں… آپ کے پاس بس یہی دلیل
ہے کہ… آپ کے ہاتھ میں… ڈنڈا ہے… اور ملک کا دینی طبقہ انتشار کا شکار ہے… اور اس
میں ایک دوسرے کے لئے بے حسی پیدا ہوچکی ہے…
ہاں بس یہی ستم
ہے… ورنہ … دین کے خلاف بے دلیل… اور بے دھڑک بولنا اتنا آسان تو نہیں تھا… اللہ تعالیٰ ملک کے دینی طبقے کو… سیاست سے ہٹا کر
غیرت پر آنے کی توفیق دے تو پھر دیکھیں… کون کتنے پانی میں کھڑا ہے…
اصل اسلام کیا
ہے؟… کوئی تو اسے دلائل کے ساتھ پیش کرے… اللہ کی
قسم اگر ہم غلط ہوئے تو توبہ کرنے میں ایک منٹ کی دیر نہیں لگائیں گے… لیکن اگر…
اصل اسلام یہی بنایا جارہا ہے کہ … ہم عالمی استعمار کے سامنے سجدہ کریں… اور وقت
کے مطابق اپنا عقیدہ، عمل… اور نظریہ بدلتے رہیں تو پھر… رب کعبہ کی قسم… جیل اور
تھانے تو کیا… جسم کے ٹکڑے کردئیے جائیں تو … ان شاء اللہ … قرآن پاک… اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے … قطعاً دستبردار نہیں ہوں گے…
ڈنڈے اور گولی کے زور پر کسی ہندو اور یہودی کو ضرور بدلا جاسکتا ہے… مسلمان کو ہر
گز نہیں… بلکہ… مسلمان تو سختی کے موسم میں ہی … سچا مسلمان بنتا ہے… اور ساری
دنیا دیکھ رہی ہے کہ… ظلم وستم کے اس دجالی دور میں بھی… اچانک… اسلامی غیرت کا
کوئی چراغ جلتا ہے… اور پھر… زمین تھر تھر کانپنے لگتی ہے… اس وقت بس ایک بات کی
کمی ہے… کاش وہ کمی… کلی طور پر نہ سہی… جزوی طور پر ہی دور ہوجائے کہ… دینی طبقہ
… انتشار کی آگ سے باہر نکل آئے… آج عجیب موسم ہے… کچھ لوگ زنجیروں میں جکڑے جارہے
ہیں… اور کچھ خوشیاں منا رہے ہیں… اور خود کو عقلمند سمجھ رہے ہیں… یہ ذہنیت مدنی
تربیت سے میل نہیں کھاتی… کاش دینی طبقے کو… اپنی ذات کے خول میں گرفتار لیڈروں کی
بجائے… درد دل رکھنے والی قیادت نصیب ہو… تب … ہمیں جانوروں کی طرح شکار نہیں کیا
جاسکے گا… اور نہ اسلامی احکامات کو تضحیک کے بوٹوں تلے روندا جاسکے گا… سب دینی
جماعتیں ایک ہو جائیں … سردست ایسا ممکن نہیں ہے… لیکن… مسلمان ہونے کے ناطے سورہ
حجرات کے ضابطہ اخلاق پر عمل تو ممکن ہے… دینی طبقے تمام کے تمام مظلوم ہیں… کوئی
بھی حکومت یا ایجنسیوں کا ایجنٹ نہیں ہے…سب کا نمبر… آنے والا ہے… علیحدہ علیحدہ
اس لیے ذبح کیا جارہا ہے تاکہ… یہ لوگ متحد نہ ہوجائیں… پہلے مجاہدین ذبح ہوئے تو…
مدارس اور سیاسی جماعتوں نے… دامن سمیٹ لیا کہ ہم پر ان کے خون کے چھینٹے نہ پڑ
جائیں… اب کچھ مدارس پر ہاتھ پڑا… تو … باقی مدارس نے صفائیاں دینا شروع کردیں…
کہ… ہم پاک ہیں ہم صاف ہیں… اللہ کے بندو… ان کی دشمنی قرآن پاک کی تعلیم سے ہے…
پھر ان کو صفائیاں دینے کی کیا ضرورت ہے؟… ہاں سینہ تان کر… حضرت شیخ الہندؒ کے
کردار کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے… ظلم کا ہاتھ آہستہ آہستہ … ان دینی سیاسی جماعتوں
کی طرف بھی بڑھ رہاہے… جو ڈیڑھ صوبے کی حکومت کی خاطر… بہت کچھ برداشت کر رہی ہیں…
قوم کا گرم خون… اگر پہلے ہی نکال لیا گیا … تو پھر… جب ان بڑی جماعتوں پر برا وقت
آئے گا تو… نہ زمین روئے گی… اور نہ آسمان…
اللہ کرے ایسا وقت نہ آئے… دین محفوظ ہے … اللہ کرے دیندار بھی محفوظ رہیں… کاش دینی طبقے کے …
زعماء… اور افراد… اب وقت کی پکار کو سمجھ لیں… اور ایک دوسرے کی بربادی پر خوش
ہونے کی بجائے… اس حقیقت کا ادراک کریں کہ… جو کچھ کٹ رہا ہے وہ بھی ان کا اپنا
ہے… یہ وقت خوف کا نہیں جرأت کا ہے… تاریخ پھر کسی بیعت رضوان کی منتظر ہے… اس
وقت جو … امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بچانے کی خاطر… فضاء کو… عمومی
دینی اتحاد سے معطر کرے گا… وہی اس زمانے کا مجدّد الف ثانی ہوگا…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے خود قرآن مجید کی حفاظت کا وعدہ
فرمایا ہے… اس لیے قرآن والوں کو ڈرنے، گھبرانے اور پریشان ہونے کی خاص ضرورت نہیں
ہے… کچھ عرصہ پہلے پاکستان کے ایک منحوس شاعر نے آسمانی کتابوں کو نعوذب اللہ نفرتوں کے صحیفے بکا… خیر اچھے شعراء کی بھی کمی
نہیں ہے … چند مہینے پہلے ارادہ ہوا کہ کوئی ایسا ہلکا پھلکا تصنیفی کام کیا جائے…
جس میں زیادہ تحقیق اور دماغ سوزی نہ ہو… اچانک خیال آیا کہ … علامہ اقبال مرحوم
کے کلام سے جہادی اشعار… اور نظموں کو چھانٹ کر… ان کی مختصر تشریح لکھ دی جائے…
ابتداء میں یہ کام آسان لگا… مگر جب کلیات اقبال میں سے … مطلوبہ جہادی اشعار کا
انتخاب شروع کیا تو کام بڑھتا ہی گیا… اور محسوس ہوا کہ اگر بہت بخل کے ساتھ بھی
لکھا جائے تو کم از کم ڈھائی سو صفحات کی کتاب تیار ہو جائے گی… یہ تو اچھا ہوا کہ
ابھی تک یہ کتاب مکمل نہیں ہوسکی… ورنہ حالیہ مہم کے دوران علامہ اقبال کا نام
بھی… نفرت پھیلانے والوں میں لکھ دیا جاتا… اور ممکن ہے وہ کتاب بھی… ممنوعہ
لٹریچر میں شمار کی جاتی… اور ’’کالعدم‘‘ ہوجاتی… ویسے راز کی بات بتاؤں کہ …
کلیات اقبال میں جہاد کے موضوع پر سینکڑوں اشعار موجود ہیں… اور جہاد کا معنیٰ ان
اشعار میں ’’قتال فی سبیل اللہ ‘‘ بالکل
واضح ہے… اور تو اور علامہ اقبالؒ نے منکرین جہاد کا بھی خوب سبق لیا ہے… اور
انہیں بہت کھری کھری سنائی ہیں… قرطبہ اور اندلس کا رونا بھی رویا ہے… شہادت کے
فضائل بھی بیان کیے ہیں… اور جہاد کی حکمتوں پر بھی خوب روشنی بکھیری ہے… دعاء
کریں ’’کلیات اقبال‘‘ پر پابندی نہ لگ جائے یا حکومت … علامہ اقبال مرحوم کے
اکلوتے فرزند جاوید اقبال صاحب کو تنگ نہ کرے… ویسے وہ اپنے والد محترم سے کافی
مختلف ہیں… شراب نوشی کا اقرار … اور علماء پر تنقید کے ذریعے… وقتاً فوقتاً محبت
… اور روشن خیالی کا اظہار کرتے رہتے ہیں… علامہ اقبالؒ کا تذکرہ ہو ا تو ایک اور
بات یا دآگئی… دراصل ہمارا ملک پاکستان بنا ہی … نفرت پھیلانے والوں کی محنت سے
ہے… ۱۹۴۷ء
سے پہلے تو ہندوستان متحد تھا… یہاں انگریز کی حکومت تھی… کانگریس والے چاہتے تھے
کہ انگریز نکل جائے… اور ملک متحد رہے… کانگریس کے جلسوں میں محبت کا سبق پڑھایا
جاتا تھا کہ… ہندو مسلم بھائی بھائی … ہندو اور مسلمان لیڈر جلسوں کے دوران ایک
دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر یکجہتی کا اظہار کرتے تھے… اور اسٹیج پر لاکھوں
لوگوں کے سامنے ایک پیالے سے… ایک دوسرے کا جھوٹا پانی پیتے تھے… اس وقت مسلم لیگ
والے… اس بات پر سخت برہم ہوتے تھے… اور ہندوؤں کے خلاف خوب تقریریں کرتے تھے… اور
مسلم لیگ کے نوجوان… ان مسلمان لیڈروں کی توہین بھی کرتے تھے جو ہندو مسلم کے
اتحاد کے حامی تھے… یہ بہت لمبی داستان ہے مگر اب ہندو کے خلاف بولنا بھی جرم ہے…
ملتان کی ایک عدالت میں ایک عالم دین پر… ہندوستان کے خلاف تقریر کرنے کے جرم میں
مقدمہ چلایا جا چکا ہے… اللہ بھلا کرے سیشن جج صاحب کا جنہوں نے فاروق لغاری
کے بیٹے جمال لغاری کی طرف سے قائم کردہ اس مقدمے کو خارج کردیا… آج کے اخبار میں
پھر خبر لگی ہے کہ … انتہا پسندی اور فرقہ واریت پر مبنی لٹریچر پر پابندی لگادی
گئی ہے… مگر … اب تک کسی کو یہ پتہ نہیں ہے کہ انتہا پسندی کا کیا معنیٰ ہے؟… اور
فرقہ واریت کسے کہتے ہیں؟… فرقہ واریت پر مبنی لٹریچر بند کرانے کیلئے تو دینی
طبقے… سالہا سال سے مطالبہ کر رہے ہیں… مگر … اب جو یہ اندھی مہم چلی ہے… اس میں
نہ نیت صاف ہے… اور نہ رستہ واضح … اگر جہاد یعنی اللہ تعالیٰ کے راستہ میں لڑنا… جنگ کرنا… اور قربانی
دینا… یہ انتہا پسندی ہے تو پھر … اسلامی کتب خانے کا کچھ بھی نہیں بچے گا… ہلاکو
خان کے دور میں اسلامی کتب خانے کو اتنا نقصان نہیں پہنچا جتنا… اس ظالمانہ… اور
جاہلانہ نعرے سے پہنچ سکتا ہے… قرآن پاک کی تو ایک سورۃ کا ایک نام … القتال ہے…
جس کا معنیٰ ہے ’’جنگ‘‘… ایک اور سورۃ کا نام … ’’الانفال‘‘ ہے… جس کا معنیٰ ہے…
جنگ کے دوران دشمن سے چھینا ہوا مال… پورے قرآن پاک میں جنگ وقتال کے موضوع پر…
پانچ سو کے لگ بھگ بالکل صریح اور واضح آیات موجود ہیں… ہمیں اسلام کو بدنامی سے
بچانے کیلئے… اس بات کا حق نہیں پہنچتا کہ ہم… قرآن پاک کو بدلیں یا چھپائیں…
ہمارے پیارے نبی
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم… اپنے زمانے کے کافروں کو اچھے نہیں
لگتے تھے… مشرکین مکہ ان کے دشمن تھے… مدینہ منورہ کے یہودی ان کے دشمن تھے… مدینہ
منورہ کے منافق ان کے دشمن تھے… ہوازن وثقیف کے بت پرست قبائل ان کے دشمن تھے… عرب
عیسائی دشمن تھے… فارس کے آتش پرست ان کے دشمن تھے… روم کی اشرافیہ ان کی دشمن
تھی… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ پڑھ کر دیکھ لیجئے…
مشرکوں، یہودیوں، منافقوں… اور متعصب عیسائیوں نے آپ کو شہید کرنے کی سازشیں اور
کوششیں کیں… معلوم ہوا کہ … اسلا م تو ان سب کی نظر میں اس وقت بھی برا تھا… اسی
لیے تو غزوہ بدر سے لیکر موتہ اور تبوک تک کے معرکے اور ان کی تیاریاں ہوئیں… اگر
اسی کا نام ’’بدنامی‘‘ ہے تو… یہ بہت پرانی ہے… اس وقت اس بدنامی کو دھونے کیلئے
کیا کیا گیا؟… بات بالکل واضح اور سب کو سمجھ میں آنے والی ہے کہ… جس غیرمسلم کو
اسلام اچھا لگتا ہے تو وہ… فوراً مسلمان ہوجاتا ہے… اور جسے اچھانہیں لگتا… اس کی
نظر میں… ناقابل قبول یا برا ہوتا ہے… یہ بات ایک بچے کو بھی سمجھ آسکتی ہے… مگر…
آج ہر طرف … اسلام بدنام … اسلام بدنام کا شور ہے… دراصل ہم نے ان اسلام دشمنوں کو
اپنی نظروں میں اتنا اونچا بنالیا ہے کہ … اب … ہمارے نزدیک نعوذب اللہ … اسلام کو
بھی ان کی تعریف کی ضرورت ہے… نہ بابا نہ!… اسلام بہت اونچا اور سچا دین ہے… اسے
کسی ابوجہل، ابولہب، بش، بلیئر کی تعریف وتحسین کی ضرورت نہیںہے…
ہاں آج کل ایک اور
مسئلہ بہت سنگین ہے… ہمارے مسلم ممالک کے حکمرانوں کی نااہلی… ظلم اور بے انصافی
کی وجہ سے… ہمارے بہت سے مسلمان بھائی… غیر مسلموں کے ممالک میں مقیم ہیں … دنیا
میں پیش آنے والے کئی واقعات کی وجہ سے… ان ملکوں کے غیر مسلم باشندے ان مسلمانوں
کو تنگ کرتے ہیں… تب … یہ نعرہ پھر گونجتا ہے کہ… اسلام بدنام ہوگیا… یہاں بعض
حقائق پر سرسری سی نظر ڈالنا ضروری ہے…
)۱(اس
بات پر غور کیا جائے کہ مسلمانوں کو روزی کمانے کیلئے غیر مسلموں کے ملکوں میں
کیوں جانا پڑتاہے؟
آپ بہت باریکی سے
غور کرلیجئے… اس صورتحال کے ذمہ دار نہ مجاہدین ہیں ، نہ علماء… اور نہ دینی مدارس
اور جماعتیں… پھر کون ذمہ دارہے؟… ذرا بازار جاکر … اشیاء خوردونوش کے ریٹ معلوم
کرلیجئے… ذرا تھانے جاکر… انصاف کی فراہمی کا جائزہ لے لیجئے… ذرا وڈیروں کے ہاں جاکر…
سماجی برابری کے ہولناک مناظر دیکھ لیجئے… ذرا حکمرانوں اور آفیسروں کی جائیدادوں
اور عیاشیوں کی ایک جھلک دیکھ لیجئے… ذرا سیکورٹی اداروں کے اندھے اختیارات … اور
جابرانہ طرز عمل کا مشاہدہ کرلیجئے… بہت کچھ سمجھ آجائے گا… بہت کچھ…
)۲( ہمارے
مسلمان بھائی… کس مقصد سے غیر مسلم ممالک میں تشریف لے گئے ہیں… دین پھیلانے؟…
اسلام کا نام سربلند کرنے؟… اسلام کو بدنامی سے بچانے؟… اسلام کی تبلیغ کرنے؟… یا
پھر… بے پناہ مال بنانے؟… عیاشیاں کرنے؟… خود کو غیر مسلموں جیسا بنانے؟… ان
سوالات پر غور کرنے سے … ضرور اس شور کا مقصد سمجھ آجائے گا کہ اسلام بدنام ہورہا
ہے…
کاش حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ان فرامین کو بھی یاد رکھا جاتا …
جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے… غیر مسلموں کے علاقوں میں رہنے سے
منع فرمایا ہے… مگر… اس فانی دنیا کے نخروں نے ہمیں کافروں کے بوٹ صاف کرنے پر
لگادیا… اور اب جبکہ… وہ اپنی اصلیت پر اتر رہے ہیں تو ہمیں… اسلام اور مسلمانوں
کے عیب نظر آنا شروع ہوگئے ہیں…
)۳( ہمیں
اعتراف ہے کہ بہت سارے مسلمان… بعض حقیقی مجبوریوں کی وجہ سے اپنے آبائی علاقے
چھوڑ کر کافروں کے ممالک میں آباد ہیں… اور ہم ان مسلمانوں کو بھی خراج تحسین پیش
کرتے ہیں جنہوں نے… دیار کفر کے ناپاک ماحول میں بھی… اپنے ایمان، اعمال… اور
اسلامی کردار کی حفاظت کی ہے… مگر یہ بات بھی حقیقت ہے کہ … مجبوری کو… مجبوری ہی
سمجھا جائے تو بہتر ہے لیکن اگر اسے ’’فخر‘‘ بنالیا جائے تو وہ گلے کا سانپ بن
جاتی ہے… کیا کافروں کے ملکوں میں رہنے والے مسلمان خود کو… مجبور اور بے وطن
سمجھتے ہیں؟… کیا وہ اسلامی ممالک میں واپس آنے کیلئے راتوں کو چھپ چھپ کر روتے
اور دعائیں مانگتے ہیں؟… کیا وہ اس بات کا ہمیشہ اندازہ لگاتے رہتے ہیں کہ ان کی
مجبوری ختم ہوئی ہے یا برقرار؟… ممکن ہے کچھ لوگ ایسا کرتے ہوں کہ… اللہ تعالیٰ کی زمین صدیقین اور صالحین سے خالی نہیں
ہوتی… مگر… اکثریت کی سوچ اس کے بالکل برعکس ہے… وہ تو خوشی اور فخر سے پھٹے جارہے
ہیں… اور ہر آئے دن ان کے نخروں میں اضافہ ہورہا ہے… وہ خود کو… پاکستان وغیرہ میں
بسنے والے انسانوں سے… بہت بلند اور بالا مخلوق سمجھتے ہیں… اور ہر بات کے ساتھ یہ
بتانا لازمی سمجھتے ہیں کہ … ہم یوکے یا یو ایس اے سے آئے ہیں… اور وہاں رہتے ہیں…
ان لوگوں کی نظر میں پاکستان… اور اسلام (نعوذب اللہ ) حقیر ہوتے چلے جاتے ہیں…
اوریہ حضرات جب اپنے ملک میں کبھی کبھار آتے ہیں تو اپنے لیے بہت اونچے پروٹوکول
کی خواہش کرتے ہیں…
یہ ساری صورتحال
حقیقی اسلامی نقطہ نگاہ کے اعتبار سے… حوصلہ افزاء نہیں ہے… اور اس میں ان دینی
رہنماؤں کا قصور بھی شامل ہے جو … اپنی دنیا کو رنگین اور پرتعیش بنانے کیلئے…
کافروں کے ممالک کا سفر کرتے ہیں… اور اپنے فقر غیور کو داؤ پر لگاتے ہیں… علامہ
اقبال مرحوم فرماتے ہیں…
اے مرے فقر غیور
فیصلہ تیرا ہے کیا!
خلعتِ انگریز یا
پیرہن چاک چاک
)کلیات ۵۱۷(
کاش ہمیں فاروقی
فقر غیور کی ایک تابناک جھلک ہی نصیب ہوجائے… کہ لباس پر سترہ پیوند تھے… اور …
مسجد اقصیٰ کی چابیاں ان کے قدموں میں ڈالی جارہی تھیں… آج… کھوکھلی ترقی کے نعرے
ہیں… اور … خوبصورت انگریزی سوٹوں کے اندر… بھوسہ بھرا ہوا ہے… بڑے بڑے نام ہیں…
مگر بالکل پھیکے پکوان ہیں… غیروں کے غلام… اور اپنوں پر پہلوان ہیں … اور ان کے
دل میں اپنے ملک کی اتنی قدر ہے کہ… اپنی اولاد کو بھی بیرون ملک نوکریاں دلواتے
ہیں… اور خود بھی… سرے محل خرید کر… برے وقت کی تیاری رکھتے ہیں… ہر ملک میں…
مواطن یعنی اپنے ہم وطن شہری کا لفظ عزت کا سمبل ہے… جبکہ ہمارے ہاں سب سے مقدس
لفظ ’’فارنر‘‘ ہے… کاش ہمارے ممالک کے حکمران… غریب مگر غیرتمند ہوتے تو پھر…
لاکھوں مسلمانوں کو امریکہ اور یورپ کے سفارتخانوں کے باہر ذلیل ورسوانہ ہونا پڑتا…
میرا خیال ہے کہ
بات کچھ دور نکل گئی… کاش کافروں کے ممالک میں بسنے والے مسلمان اب واپس اپنے
ملکوں میں آکر… باعزت زندگی گزاریں … ورنہ کسی دن … کسی بھی بات کو بہانا بناکر…
ان مسلمانوں کا قتل عام کیا جائے گا… عیسائی اوریہودی جب ظلم پر اترتے ہیں تو پھر…
کوئی قانون، ضابطہ یا اخلاق ان کی درندگی کو کم نہیں کرسکتا… ہسپانیہ سے اسپین
کیسے بنا؟ تاریخ پڑھ لیجئے… دل نفرت اور گِھن سے بھر جاتا ہے… اگر پرانی باتیں
بھول بھی جائیں تو بوسنیا کی داستان بالکل تازہ ہے… ایسی خوفناک اور بھیانک
داستانیں رقم کرنے والے درندے… جب … اسلام کی بدنامی کی بات کرتے ہیں تو ہنسی آتی
ہے… مگر… احساس کمتری کا شکار ہمارے لیڈر… اپنی صفائیاں دیتے نہیں تھکتے… بات
علامہ اقبالؒ کے کلام کی چل رہی تھی… کہ انہوں نے … کس طرح سے جہاد کو اجاگر
فرمایا… حالانکہ … اقبال کا پورا دور… انگریز غلامی کا دور تھا… اور اب ماشاء اللہ … ہم آزاد ہیں… غلامی کے دور میں… جہاد کی
بات پر اتنی پابندی نہیں لگ سکی… جتنی… اس آزادی کے دور میں لگ رہی ہے… علامہ
اقبالؒ نے اس ظالمانہ دور میں… جہاد کے تقریباً ہر پہلو پر… بہت علمی، ادیبانہ…
اور وقیع طبع آزمائی فرمائی… کم عمر نوجوانوں کے دل میں شوق شہادت پیدا کرنے
کیلئے… انکی یہ چھوٹی سی نظم… بطور مثال پیش کی جاسکتی ہے…
صف بستہ تھے عرب
کے جوانانِ تیغ بند
تھی منتظر حنا کی
عروسِ زمینِ شام
اک نوجوان صورت
سیماب مضطرب
آکر ہوا امیر
عساکر سے ہمکلام
اے بُوعبیدہ رخصت
پیکار دے مجھے
لبریز ہوگیا مرے
صبر وسکوں کا جام
بیتاب ہورہا ہوں
فراقِ رسول ا میں
اک دم کی زندگی
بھی محبت میں ہے حرام
جاتا ہوں میں حضور
رسالت پناہ میں
لے جاؤں گا خوشی
سے اگر ہو کوئی پیام
یہ ذوق شوق دیکھ
کے پرنم ہوئی وہ آنکھ
جس کی نگاہ تھی
صفتِ تیغ بے نیام
بولا امیر فوج کہ
وہ نوجواں ہے تو
پیروں پہ تیرے عشق
کا واجب ہے احترام
پوری کرے خدائے
محمد ا تیری مراد
کتنا بلند تیری
محبت کا ہے مقام
پہنچے جو بارگاہ
رسول امیں میں تو
کرنا یہ عرض میری
طرف سے پس از سلام
ہم پہ کرم کیا ہے
خدائے غیور نے
پورے ہوئے جو وعدے
کیے تھے حضور نے
)کلیات ۱۹۳(
کیا فرماتے ہیں…
روشن خیال خواتین وحضرات اس انتہا پسند نظم کے بارے میں… جسے پڑھتے ہی … یہ دنیا
اور اس کی زندگی بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے… اور سعدی جیسے ٹھنڈے خون والے کا دل
بھی… کہیں اور جانے کیلئے مچلنے لگ جاتا ہے… سبحان اللہ … اک دم کی زندگی بھی محبت میں ہے حرام…
پھر علامہ مرحوم کا کمال دیکھیں کہ… منکرین جہاد پر کس طرح غضبناک ہوتے ہیں… اور
مرزا قادیانی کی تحریک ’’انکار جہاد‘‘ پر کتنا بلیغ رد فرماتے ہیں… ملاحظہ فرمائیے
یہ نظم…
)۱(فتویٰ
ہے شیخ کا یہ زمانہ قلم کا ہے
دنیا میں اب رہی نہیں تلوار
کارگر
)۲( لیکن
جناب شیخ کو معلوم کیا نہیں
مسجد میں اب یہ وعظ ہے بے سود
بے اثر
)۳( تیغ
وتفنگ دستِ مسلماں میں ہے کہاں
ہو بھی تو دل ہیں موت کی لذت
سے بے خبر
)۴(کافر
کی موت سے بھی لرزتا ہو جس کا دل
کہتا ہے کون اسے کہ مسلماں کی
موت مر!
)۵( تعلیم
اس کو چاہئے ترکِ جہاد کی!
دنیا کو جس کے نتیجے خونین سے
ہو خطر
)۶( باطل
کے فال وفر کی حفاظت کے واسطے
یورپ زرہ میں ڈوب گیا دوش تا
کمر
)۷( ہم
پوچھتے ہیں شیخ کلیسا نواز سے
مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب
میں بھی ہے شر
)۸( حق
سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ بات
اسلام کا محاسبہ، یورپ سے
درگزر
)کلیات
اقبال ۴۰۷(
میری گزارش ہے کہ…
اس خوبصورت اور آساں نظم کو ایک بار سمجھ کر دوبارہ پڑھ لیں… دیکھیں اس کے شعر
نمبر (۱) اور
(۷) میں
مرزا غلام احمد قادیانی پر براہ راست… تنقید کی گئی ہے… اور اسے ’’کلیسا نواز
شیخ‘‘ قرار دیا گیا ہے… کلام اقبال کے تمام شارحین کا اتفاق ہے کہ علامہ صاحب…
مرزا قادیانی ملعون پر تنقید کر رہے ہیں… نوٹ فرمالیا آپ نے… یہ تو ہوا نفرت
پھیلانا… اور فرقہ واریت کو ہوا دینا… شعر نمبر (۳) اور (۵) میں مسلمانوں کو
لڑنے مرنے پر ابھارا گیا ہے… اور موت یعنی شہادت کو لذت والی چیز قرار دیا گیا ہے…
نوٹ فرمالیا آپ نے یہ ہوا… انتہا پسندی کا سبق… شعر نمبر (۶) میں عالمی برادری
کو برا بھلا کہا گیا ہے… برطانیہ اور یورپ کے نظریات کو ’’باطل‘‘ قرار دیا گیا ہے…
اور ان کی خونخواری اور جنگی تیاری پر تنقید کی گئی ہے … نوٹ فرمایا آپ نے؟… یہ
کتنا خطرناک جرم ہے کہ یورپ کو برا بھلا کہا جائے… شعر نمبر(۴) میں… اسلام قبول
نہ کرنے والوں کو ’’کافر‘‘ کہا گیا ہے… اور مسلمانوں کو سمجھا یا گیا ہے… کہ…
اسلام دشمن کافر کے مرنے پر اگر تیرا دل لرزتا ہے تو تو… فطرت سے کتنا دور اور بے
خبر ہے… نوٹ فرمالیا آپ نے… اس شعر میں شدت پسندی کی دعوت ہے… اور شعر نمبر (۸) یعنی آخری شعر
میں… ان لوگوں پر تنقید ہے جو اسلام کے خلاف تو خوب بکتے ہیں… جبکہ… یورپ کا
محاسبہ نہیں کرتے… مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ… علامہ اقبال نے انگریز کے دور حکومت
میں یہ نظم کیسے کہی؟… پھر ان کے گھر پر چھاپہ کیوں نہیں پڑا؟… ان کی کتاب ضبط
کیوں نہیں ہوئی؟… ہمارے صدر صاحب نے بالکل بجا فرمایا کہ… انگریز خود مسلمانوں کو
ڈھیل دے رہے ہیں… اور ان پر ہماری طرح سختی نہیں کر رہے… جہاد کی تائید… عالمی
برادری کی تردید… اور شوق شہادت پر علامہ کے اشعار بہت زیادہ ہیں… اللہ کرے … ’’جہاد اور اقبال‘‘… نامی وہ کتاب جلد
تیار ہوجائے جس میں کلام اقبال سے… ان اشعار کے انتخاب کا ارادہ ہے… جن کا تعلق …
جہاد فی سبیل اللہ کے ساتھ ہے… تب… بہت ساری آنکھیں کھل سکتی ہے…
اور ممکن ہے… بعض آنکھیں پھٹ بھی جائیں… بس مجھے اس بات کا دھڑکا لگا ہوا ہے کہ…
ملک کی ترقی کیلئے گھلنے والے… ہماری حکومت کے خیر خواہ مشیر… کہیں… اقبالؒ کے اس
ملک میں… کلیات اقبال کو بھی… کالعدم قرار نہ دے دیں… کیونکہ… اللہ کی
قسم… اقبال کے اس مجموعہ کلام ’’کلیات اقبال‘‘ میں وہ تمام باتیں موجود ہیں… جن
کی… وجہ سے… ملک کی دینی جہادی جماعتوں پر … پتھر برسائے جارہے ہیں… اور … مدارس
اور مساجد پر ناپاک چھاپے مارے جارہے ہیں…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے پیارے بندے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق
رضی اللہ عنہ کے پاس… بڑے پروں والا ایک کوّا لایا گیا…
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا… جو شکار بھی پکڑا
جاتا ہے … جو درخت بھی کاٹا جاتا ہے… اس کی وجہ ’’تسبیح‘‘ کا چھوڑنا ہے… یعنی جو
پرندہ تسبیح چھوڑ دیتا ہے پکڑا جاتا ہے… اور جو درخت ’’تسبیح‘‘ چھوڑ دیتا ہے وہ
کاٹ دیا جاتا ہے…
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دو شخصوں کو کسی جرم کی بناء پر … سزا
دینے کا حکم دیا… جب ان کی پٹائی شروع ہوئی تو ان میں سے ایک نے کہا ’’سبحا ن اللہ ‘‘… حضرت نے جلاّد کو حکم دیا کہ اس کے
ساتھ نرمی کرو… اس لیے کہ ’’تسبیح‘‘ مومن کے دل ہی میں جگہ پکڑتی ہے… تسبیح کہتے
ہیں… اللہ پاک کی پاکی بیان کرنے کو… جس کا خوبصورت طریقہ…
’’سبحان اللہ ‘‘ پڑھنا ہے… اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے…
تسبّح لہ السمٰوٰت
والارض ومن فیہنّ وان من شیئٍ اِلاّ یُسبح بحمدہ ولکن لا تفقہون تسبیحہ (الاسراء۴۴)
ترجمہ: ساتوں آسمانوں اور زمین اور جو لوگ ان میں ہیں
سب اسی کی ’’تسبیح‘‘ کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے…
تعریف کے ساتھ
تسبیح کا بہترین جملہ
’’سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم‘‘ ہے…
امام بخاریؒ نے
اسی جملے پر اپنی مستند اور بابرکت کتاب ’’بخاری شریف‘‘ ختم فرمائی ہے… حدیث پاک
کے مطابق یہ دو جملے جو زبان پر آسان ہیں… اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہیں… اور قیامت کے دن نامۂ
اعمال میں بہت بھاری ہیں… حضرت ابراہیم علیہ السلام نے… حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو اس امت کے لئے پیغام دیا کہ… جنت
کی زمین پر درخت اور پودے اگانے کے لئے سبحان اللہ والحمدﷲو لا الہ الا اللہ و
اللہ اکبر کا ورد کریں… سبحان اللہ … کس قدر طاقتور جملے ہیں کہ … پڑھیں یہاں…
اور اثر اتنی اونچی جنت تک جا پہنچے… آسمانوں سے بھی بہت اونچی جنت تک… حضرت نوح
علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو نصیحت فرمائی کہ سبحان اللہ وبحمدہ کو نہ چھوڑے کہ اس کلمے کی برکت سے تمام
مخلوق کو روزی ملتی ہے… سبحان اللہ … تھوڑا سا یقینی تصور کریں کہ… آسمان سے لیکر
زمین تک… آسمان کے اوپر اور زمین کے نیچے… ہر کوئی… اور ہر چیز پڑھ رہی ہے…
سبحان اللہ وبحمدہ… سبحا ن اللہ وبحمدہ… سبحان اللہ … سبحان اللہ …
ہر کسی کی زبان
اپنی… پڑھنے کا انداز اپنا… اور پڑھنے کا طریقہ کار اپنا… مگر معنیٰ اور مقصد سب
کا ایک… اور وہ ہے… سبحان اللہ سبحان اللہ … اللہ تعالیٰ پاک ہے… اللہ تعالیٰ پاک ہے… اردو میں کہاں ہمت اور جسارت کہ
’’سبحان‘‘ کا ترجمہ کرسکے… بس لفظ ’’پاک‘‘ میں ہلکا سا اشارہ ہے… ورنہ… ’’سبحان‘‘
کے سمندر میں کوئی غوطہ تو لگائے… پاکی، عظمت، قدرت، محبت… اور شکر سب کچھ اس میں
ہے… اس لیے تو حضرت یونس علیہ السلام نے مچھلی کے پیٹ میں… اسی لفظ کا سہارا لیکر…
رابطہ کیا…
لا الہ الا انت
سبحانک انی کنت من الظالمین…
تمام مخلوق ’’تسبیح‘‘ کرتی ہے…
تمام انبیاء علیہم السلام ’’تسبیح‘‘ فرماتے تھے… ’’سبحان اللہ ‘‘ اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت محبوب ہے… اور بہترین صدقہ
ہے… وہ لوگ جونفل عبادات میں زیادہ وقت نہیں دے سکتے ان کے لئے سبحان اللہ بہترین کفارہ ہے… آئیے آج اللہ تعالیٰ کے مقربین کی ’’تسبیح‘‘ کو دیکھتے ہیں کہ
وہ کن الفاظ سے… اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتے تھے… پھر ہم بھی ان کی
نقل اتاریں… کیا بعید ہے… کہ… پاک رب… عظمت والا رب ہمارے گناہ بخش دے… ہماری
تسبیح قبول فرمالے اور ہم پر بھی توبہ اور پیار کی نظر فرمادے… بعض مفسرین کے
نزدیک…
حملۃ العرش کی تسبیح
سُبْحَان اللہ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ وَ
اللہ اَکْبَر
ترجمہ: اللہ تعالیٰ پاک ہے… اور تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں… اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں… اور اللہ سب
سے بڑا ہے…
حضرت میکائیل علیہ السلام اور
کَرُّوبیّون کی تسبیح
سُبْحَانَ الْمَعْبُوْدِ
بِکُلِّ مَکَان۔ سُبْحَانَ الْمَذْکُوْرِ بِکُلِّ لِسَان
ترجمہ: پاک ہے وہ جو ہر جگہ معبود ہے… پاک ہے وہ جس کا
ذکر ہر زبان پر ہے…
حضرت جبرئیل علیہ السلام اور
روحانیّون کی تسبیح
سُبْحَانَ الْمَلِکِ
الْقُدُّوْس۔ سُبُّوْحٌ قُدُّوْس۔ رَبُّ الْمَلٰئِکَۃِ وَالرُّوْح
ترجمہ: پاک ہے وہ بے عیب بادشاہ، وہ ہر شرک اور عیب سے
پاک ہے، رب ہے فرشتوں کا اور روح القدوس کا…
رضوان (جنت کے نگران) فرشتے کی
تسبیح
سُبْحَانَ اللہ مَنْ فِی السَّمَائِ عَرْشُہ۔ سُبْحَانَ مَنْ
فِی الْاَرْضِ سُلْطَانُہ۔ سُبْحَانَ مَنْ فِی الْجَنَّۃِ فَضْلُہ
ترجمہ: پاک ہے وہ جس کا عرش آسمان پر ہے، پاک ہے وہ جس
کی زمین پر سلطنت ہے، پاک ہے وہ جس کا فضل جنت میں ہے…
مالک (جہنم کے
داروغہ) فرشتے کی تسبیح
سُبْحَانَ مَنْ
فِی الْبَرِّ بَدَائِعُہْ۔ سُبْحَانَ مَنْ فِی الْبَحْرِ عَجَائِبُہْ سُبْحَانَ
مَنْ فِی النَّارِ عَذَابُہْ
ترجمہ: پاک ہے وہ … خشکی پر جس کی مخلوقات ہیں… پاک ہے
وہ سمندر میں جس کے عجائبات ہیں… پاک ہے وہ آگ میں جس کا عذاب ہے…
حضرت عزرائیل علیہ
السلام اور ان کے معاونین کی تسبیح
سُبْحَانَ مَنْ
تَعَزَّزَ بِالْقُدْرَۃِ۔ وَقَہَرَ الْعِبَادَ بِالْمَوْتِ
ترجمہ: پاک ہے وہ کہ قدرت کے ذریعہ جس کا غلبہ ہے اور
اس نے بندوں کو قابو کر رکھا ہے موت کے ذریعے
حضرت آدم علیہ
السلام کی تسبیح
سُبْحَانَ ذِی
الْمُلْکِ وَالْمَلَکُوْتِ۔ سُبْحَانَ ذِی الْقُدْرَۃِ وَالْجَبَرُوْتِ۔ سُبْحَانَ
الْحَیِّ الَّذِیْنَ لاَیَمُوْتُ
ترجمہ: پاک ہے بادشاہت اور ملکوت والا… پاک ہے قدرت
اور جبروت والا پاک ہے وہ زندہ جس کے لئے موت نہیں…
حضرت نوح علیہ
السلام کی تسبیح
سُبْحَانَ اللہ ذِی الْمَجْدِ وَالنِّعَمْ۔ سُبْحَانَ ذِی
الْقُدْرَۃِ وَالْکَرَمِ سُبْحَانَ ذِی الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ۔
ترجمہ: پاک ہے بزرگی اور نعمتوں والا… پاک ہے قدرت اور
کرم والا… پاک ہے جلال اور اکرام والا
حضرت ابراہیم علیہ
السلام کی تسبیح
سُبْحَانَ
الْاَوَّلِ الْمُبْدِیٔ۔ سُبْحَانَ الْبَاقِی الْمُغْنِیْ سُبْحَانَ الْمُسَمّٰی
قَبْلَ اَنْ یُسَمّٰی۔ سُبْحَانَ الْعَلِیِّ الْاَعْلیٰ سُبْحَانَ اللہ وَتَعَالیٰ
ترجمہ: پاک ہے وہ جو اوّل ہے اور آغاز کرنے والا ہے…
پاک ہے وہ باقی اور غنی کرنے والا… پاک ہے وہ جو نام رکھنے سے پہلے نام والا ہے…
پاک ہے وہ بلند واعلیٰ… پاک ہے اللہ اور بلند ہے…
حضرت یوسف علیہ
السلام کی تسبیح
سُبْحَانَ
الَّذِیْ تَعَطَّفَ بِالْعِزِّ وَقَالَ بِہ۔ سُبْحَانَ الَّذِیَْ لَبِسَ الْمَجْدَ
وَتَکَرَّمَ بِہٖ ۔ سُبْحَانَ مَنْ لاَّ یَنْبَغِیْ التَّسْبِیْحُ اِلاَّ لَہٗ
ترجمہ: پاک ہے وہ جس نے مہربانی فرمائی قدرت کے ساتھ
اور اسے پسند فرمایا… پاک ہے وہ جو بلند مرتبے والا ہے اور اس کے ذریعے احسان
فرماتا ہے … پاک ہے وہ کہ تسبیح صرف اسی کے لائق ہے…
حضرت موسیٰ علیہ
السلام کی تسبیح
سُبْحَانَ ذِی
الْعِزِّ الشَّامِخِ الْمُنِیْفِ۔ سُبْحَانَ ذِی الْجَلاَلِ البَاذِخِ الْعَظِیْم۔
سُبْحَانَ ذِی الْمَلِکِ الْقَاہِرِ الْقَدِیْم۔ سُبْحَانَ مَنْ فِی عُلُوِّہِ
دَانٍ وَفِی دُنُوُّہِ عَالٍ۔ وَفِی اِشْرَاقِہٖ مُنِیْرٌ وَفِی سُلْطَانِہِ
قَوِیُّ۔ وَفِیْ مُلْکِہِ عَزِیْزٌ۔ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمْ
ترجمہ: پاک ہے وہ جو بہت بلند اور اونچی عزت والا ہے…
پاک ہے وہ جو بہت زبردست اور عظیم جلال والا ہے… پاک ہے وہ جو قدیم وقاہر بادشاہت
والا ہے… پاک ہے وہ جو اپنی بلندی میں قریب ہے… اور اپنے قرب میں بلند ہے… اور
اپنے ظہور میں نور والا ہے اور اپنی سلطنت میں قوت والا ہے… اور اپنی بادشاہت میں
غلبے والا ہے… پاک ہے میرا رب عظمت والا…
حضرت عیسیٰ علیہ
السلام کی تسبیح
سُبْحَانَ
الْوَاحِد الاَحَدْ۔ سُبْحَانَ الْبَاقِی عَلی الاَبَد۔ سُبْحَانَ الَّذِیْ لَمْ
یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ۔ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدْ
ترجمہ: پاک ہے وہ ایک ، یکتا… پاک ہے وہ ہمیشہ ہمیشہ
باقی رہنے والا… پاک ہے وہ جس نے کسی کو نہیں جنا اور نہ خود کسی سے جنا گیا… اور
کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے…
مؤمنین کی تسبیح
نماز کے شروع میں
سُبْحَانَکَ
اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ
ترجمہ: اے اللہ تو
پاک ہے اور تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں۔
رکوع میں
سُبْحَانَ رَبِّیَ
الْعَظِیْم
ترجمہ: اے میرے
عظمت والے رب تو پاک ہے۔
سجدہ میں
سُبْحَانَ رَبِّیَ
الْاَعْلیٰ
ترجمہ: اے میرے رب
تو پاک ہے، سب سے بہتر
سب سے افضل سید
الانبیاء والمرسلین
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تسبیح
سُبْحَانَ اللہ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللہ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ اَسْتَغْفِرُ اللہ وَاَتُوْبُ اِلَیْہ
مفسرؒ کہتے ہیں…
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو روزانہ سترّ بار
اسے پڑھے گا… اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے اگرچہ سمندر کی جھاگ جیسے (کثیر)
ہوں… (بصائر ذوی التمییز ص۱۷۲ج۳)
مزا آگیا نہ؟ …
ہمیں پکا یقین ہے کہ… تسبیح یعنی سبحان اللہ … اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب اور پسندیدہ ہے… پکا یقین
اس لیے ہے کہ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے… اب جب بھی ہم… سبحان اللہ وبحمدہ … سبحان اللہ العظیم… وغیرہ پڑھتے ہیں تو… یقینا اللہ تعالیٰ کی توفیق سے پڑھتے ہیں… اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ اور محبوب کام کی توفیق کسے
دیتا ہے؟… تھوڑا سا سوچیں دل خوشی سے جھوم اٹھتا ہے… سبحان اللہ وبحمدہ… اچھا ایک کام کریں… اوپر جتنی تسبیحات
لکھی ہیں… ان کو خوب توجہ سے ایک بار پڑھ لیں… اور پھر روزانہ… سو بار کم از کم…
سبحان وبحمدہ سبحان اللہ العظیم پڑھ لیا کریں… ہر نماز کے بعد… ۳۳ بار سبحان اللہ … ۳۳بار الحمدﷲ… ۳۴ بار اللہ اکبر… تو آپ پڑھتے ہی ہوں گے… نہیں تو شروع
کردیں… مگر… ٹناٹن… اٹاپ شٹاپ نہیں… خوب اچھی طرح توجہ سے…
اور رات کو سوتے
وقت بستر پر… بیٹھ کر… یہی عمل خوب توجہ اور اہتمام سے کرلیا کریں… میں نے بعض
کتابوں میں دیکھا ہے کہ … حضرت علی رضی اللہ عنہ جنگ کے دوران بھی یہ عمل ناغہ نہیں فرماتے
تھے… کیونکہ… ان کو … اور جنت کی خواتین کی سردار حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما… کو یہ عمل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے… خود گھر میں تشریف لاکر… بہت محبت
کے ساتھ تلقین فرمایا تھا… خود سوچ لیں… کتنا اونچا اور کتنا اعلیٰ عمل ہوگا…
بشرطیکہ… اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لیے کیا جائے…
یہ تو ہوا بالکل
عام نصاب… باقی جو خواتین وحضرات… ترقی کرنا چاہیں تو ’’سبحان اللہ ‘‘ کا دروازہ کھلا ہے… پہلے حدیث شریف کی
کتابوں میں اس کے فضائل پڑھیں… پھر قرآن پاک کے آئینے میں… اس کے وسیع وشاندار
مطلب کو سمجھیں… اور پھر … دمادم… پڑھتے چلے جائیں… پڑھتے چلے جائیں…
ایک عجیب قصہ
علامہ دمیریؒ
لکھتے ہیں:
’’المجالسۃ
للدینوری‘‘ میں ’’معاذ بن رفاعہ ؒ ‘‘ سے
مروی ہے کہ : حضرت یحییٰ بن زکریا علیہم السلام… حضرت دانیال علیہ السلام کی قبر
پر سے گزرے… انہوں نے قبر سے آواز سنی کوئی کہہ رہا ہے…
سبحان من تعزز
بالقدرۃ
وقہر العباد
بالموت
پاک ہے وہ جو غالب
ہے قدرت سے
اور اس نے بندوں
کو قابو کیا موت سے
حضرت یحییٰ علیہ
السلام آگے بڑھے تو آسمان سے آواز آئی …
انا الذی تعززت
بالقدرۃ وقہرت العباد بالموت، من قالہن استغفرت لہ السمٰوٰت السبع، والارضون
السبع، ومن فیہنّ
’’میں ہوں وہ
جو قدرت کے ذریعے غالب ہے اور میں نے بندوں کو قابو کیا ہے موت کے ذریعے‘‘
جو یہ الفاظ کہتا
ہے اس کیلئے ساتوں آسمان ،ساتوں زمینیں اور ان کے باشندے استغفار کرتے ہیں ۔ (حیوٰۃ الحیوان ص۱۷۔ج۱)
قارئین کو یاد ہو
گا کہ…اوپرحضرت عزرائیل علیہ السلام کی تسبیح میں یہی الفاظ گزر چکے ہیں… آئیے ہم
بھی توجہ سے پڑھیں … اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے … تاکہ وہ راضی ہو جائے …
اور ہمارے گناہ بخش دے …
سبحان من تعزز
بالقدرۃ
وقہر العباد
بالموت
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہماری
رہنمائی فرمائے ۔۔۔۔بہت سارے لوگ ’’جہاد‘‘
سے اپنا دامن جھاڑ کر سمجھ رہے ہیں کہ ۔۔۔۔ہم بچ جائیں گے ۔۔۔۔نہیں رب کعبہ کی قسم
۔۔۔۔کوئی نہیں بچے گا۔۔۔۔ کل نفس ذائقۃالموت۔۔۔۔ہر کوئی ضرور مرے گا ۔۔۔۔اور اس
فانی دنیا کو چھوڑ جائے گا ۔۔۔۔ معلوم ہے ترقی یافتہ ممالک سے لاشیں کیسے لائی
جاتی ہیں؟ ۔۔۔ڈاکٹر پیٹ چیر کر سب کچھ نکال لیتے ہیں پھر دوبارہ سی دیتے ہیں۔۔۔۔
جراثیم کش دوائیوں کا اندر باہر چھڑکائو کیا جاتا ہے۔۔۔۔ اور پھر قبر ۔۔۔۔جی ہاں
سب مر جائیں گے۔۔۔۔جہاد سے لاکھ دامن جھاڑیں ۔۔۔۔کوئی نہیں بچے گا۔۔۔۔مگر یہ سب
کچھ کیا ہے؟ ۔۔۔۔بہت سارے لوگ اعلان کر رہے ہیں کہ۔۔۔۔ ہمارا جہاد اور مجاہدین سے
بالکل کوئی تعلق نہیں ہے۔۔۔۔ ماضی میں بھی ہمارا کوئی تعلق نہیں تھا ۔۔۔۔ماشاء
اللہ ۔۔۔۔جہاد سے کوئی تعلق نہیں پھر بھی مسلمان ہیں؟ ۔۔۔۔فلسطینی مجاہدین اگر
اسرائیل کے خلاف ۔۔۔۔یہودیوں کے مقابل لڑیں تو دہشت گرد۔۔۔۔ٹھیک ہے آپ کا ان سے
کوئی تعلق نہیں ۔۔۔۔مان لیا آپ بالکل پاک صاف ہیں۔۔۔۔مگر ۔۔۔۔جناب رسول کریم صلی
اللہ علیہ وسلم نے بھی یہودیوں پر حملے فرمائے تھے۔۔۔۔حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کے ساتھ تھے۔۔۔۔بنو نضیر،بنو قینقاع،بنوقریظہ، یہ سب یہودی تھے۔۔۔۔آخری
قبیلہ تو مسلمانوں کے ہاتھوں تقریبا ختم ہوگیا تھا۔۔۔۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم
اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ
علیہم اجمعین نے خیبر پر حملہ کیا۔۔۔۔ یہ
سب کچھ جہاد تھا۔۔۔۔اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ ’’مجاہدین‘‘
تھے۔۔۔۔ ٹھیک ہے میڈیا پر آپ خوب زور سے اعلان کریں کہ ہمارا جہاد ۔۔۔۔اور
مجاہدین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔۔۔اور نہ کبھی تھا۔۔۔
ویسے یاد دہانی
کیلئے عرض ہے کہ۔۔۔۔ان تمام غزوات کا ذکر قرآن پاک میں موجود ہے۔۔۔۔ کشمیری
مجاہدین۔۔۔۔بھارت کے خلاف لڑ رہے ہیں ۔۔۔۔جہاں ان کا مقابلہ مشرکین کے اقتدار
اعلیٰ سے ہے۔۔۔ یہ لوگ بھی دہشت گرد ۔۔۔۔ٹھیک ہے آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔۔
مان لیا کہ آپ بالکل پا ک صاف ہیں۔۔۔۔مگر۔۔۔۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ۔۔۔۔غزوہ بدر،غزوہ احد،غزوہ خندق،غزوہ حنین۔۔۔۔یہ سب مشرکین کے خلاف لڑے
تھے۔۔۔۔ بہت خون ریز جنگیںہوئیں۔۔۔۔ قرآن پاک نے ان تمام غزوات کو بار بار یاد
کیا ۔۔۔۔یہ سب کچھ ’’جہاد‘‘ تھا حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ
رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین مجاہدین
تھے۔۔۔۔ذرا زور سے اعلان کریں کہ ۔۔۔۔ ہم پاک ہیں ،ہم پر امن ہیں ،ہمارا جہاد
اورمجاہدین سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔۔ افغانی اور عراقی مجاہدین ۔۔۔۔اپنے او پرمسلط کی
گئی ’’ صلیبی جنگ ‘‘ میں اپنے جسموں کے ٹکڑے کروا رہے ہیں۔۔۔۔انکی معصوم سی خواہش
ہے کہ ۔۔۔۔بیرونی فوجیں ان کے ممالک کو چھوڑ دیں ۔۔۔۔وہ۔۔۔۔اپنے علاقوں میں قرآن
پاک کو نافذ کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔یقینا یہ لوگ ’’دہشت گرد ‘‘ ہیں۔۔۔۔ آپ نے ان کی
حمایت کی تو نہ آپ کو امریکہ ویزہ دے گا
اور نہ یورپ۔۔۔۔اس لئے یقینا آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔۔۔مان لیا کہ آپ
پاک اور صاف ہیں۔۔۔۔مگر ۔۔۔۔حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام
رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے
۔۔۔غزوہ تبوک اور غزوہ موتہ میں ۔۔۔۔صلیبی طوفان کا رخ موڑا تھا۔۔۔۔غزوہ تبوک کو
تو قرآن پاک مزے لے لے کر سناتا ہے۔۔۔۔اور اسے ’’جہاد ‘‘ قرار دیتاہے ۔۔۔اور اس
میں جانے والوں کو ’’مجاہدین‘‘ ۔۔۔۔بالکل آپ کا جہاد اور مجاہدین سے کوئی تعلق
نہیں۔۔۔۔آپ با لکل پاک صاف ہیں۔۔۔۔بھارت میں ایک متعصب ہندو رہنما۔۔۔۔بال ٹھاکرے
بمبئی میں رہتا ہے ۔۔۔۔آپ نے اس کا نام سنا ہوگا۔۔۔۔اسکی پارٹی کا نام ’’شیوسینا
ُ‘‘ ہے۔۔۔۔ ’’سینا‘‘ ہندی زبان میں ۔۔۔۔فوج کو کہتے ہیں ۔۔۔۔جبکہ ’’شیو ‘‘ مخفف ہے
۔۔۔شیواجی مہاراج کا۔۔۔۔۔وہ مشہور مراٹھا جنگجو جس نے مسلمانوں کا مقابلہ کیا تھا
۔۔۔۔ ویسے اطلاعاً عرض ہے کہ ۔۔۔۔بھارت نے ابھی تک اس پارٹی کو ’’کالعدم‘‘ قرار
نہیں دیا۔۔۔۔اور نہ وہاں کے صدر اور وزیر اعظم اپنی تقریر میں ان ’’انتہاء
پسندوں‘‘ کو ختم کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔۔۔۔
بال ٹھاکرے کی
بیوی ۔۔۔۔گنیش نامی ایک بت کی پوجا کرتی تھی۔۔۔۔اور اسے اپنا بھگوان مانتی
تھی۔۔۔۔۔’’گنیش‘‘ کی مورتی انسان کے بچے اور ہاتھی کے سر سے مرکب ہے۔۔۔۔۔یہ عورت
دل کی مریضہ تھی۔۔۔۔اور اپنے ’’پرس‘‘ میں دل کے دورے سے بچنے والی ادویات رکھتی
تھی ۔۔۔۔ایک بار وہ کسی تقریب میں گئی ۔۔۔۔وہاں اس پر دل کا دورہ پڑا۔۔۔۔اس نے پرس
ٹٹولاتو معلوم ہوا کہ ۔۔۔۔دوائیں تو گھر بھول آئی ہے۔۔۔۔اسے ہسپتال لے جایا گیا
مگر وہ مر گئی۔۔۔۔ بال ٹھاکرے نے اپنی پیاری بیوی کی موت پر پتا ہے کیا کام
کیا؟۔۔۔اس نے فورا اپنی بیوی کے بھگوان گنیش کا بت اٹھایا اور اسے ما ر مار کر
توڑدیا۔۔۔۔۔اور گھر سے باھر پھینک دیا۔۔۔۔ ہندوئوں نے کچھ برا منایا تو اس نے کہا
۔۔۔۔میری بیوی نے اسکی اتنی پوجا کی ۔۔۔۔مگر اس نے اسے دوائیں تک ساتھ لے جانا یاد
نہ دلایا۔۔۔۔
مجھے وہ لوگ یاد
آرہے ہیں جو طالبان سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔۔۔۔ان کو اپنے ہاںبلاتے
تھے۔۔۔۔انکی دعوتیں کرتے تھے۔۔۔۔ان کو اونچے اونچے مشورے دیتے تھے ۔۔۔۔ان سے
ملاقات کے بعد فخر کی محفلیں سجاتے تھے کہ ۔۔۔۔ آج فلاں طالبان وزیر ہمارے ہاں
آیا تھا۔۔۔آج ۔۔۔فلاں عہدیدار آیا تھا۔۔۔اپنے ملک کے مجاہدین کو بھی آنکھوں پر
بٹھایا جاتا تھا۔۔۔۔ مگر آج صرف ایک ہی اعلان ہے کہ ۔۔۔۔۔اللہ توبہ ۔۔۔۔اللہ توبہ
ہمارا کبھی جہاد اور مجاہدین سے تعلق تھا۔۔۔۔اور نہ ہے۔۔۔۔
ٹھیک ہے آج اپنے
بچائو کے لئے ۔۔۔۔جہاد اور مجاہدین کا لٹریچر جلا دیں۔۔۔۔اور کافروں کے ہاں سرخرو
ہو جائیں مگر۔۔۔۔۔جس محبوب کے گلے میں آپ نے ہاتھ ڈال دیا ہے۔۔۔۔یہ آپ کو نچوڑ
کر رکھ دے گا۔۔۔۔کل فقہ کی کتابوں سے باب الجہاد ۔۔۔۔ابواب السیرنکالنے کا حکم ملا
تو کیا کریں گے؟ ۔۔۔قدوری،کنز،ہدایہ اور وقایہ کو بھی نعوذباللہ۔۔۔۔ اپنے سفید
دامن کو بچانے کے لئے آگ دکھا دیں گے۔۔۔۔کل اگر محبوب کی نظر کتب احادیث پر پڑی
تو شامت آجائے گی بخاری، مسلم، ترمذی، ابودائود، نسائی،ابن ماجہ۔۔۔۔۔ سب جہاد
ومغازی سے اٹی پڑی ہیں۔۔۔۔کیا ان کو نصاب سے نکال دیں گے یا ان کتابوں کے
نئے۔۔۔۔پاک صاف ایڈیشن چھاپیں گے۔۔۔۔سیرت کی کتابوں میں جہاد کا مفصل تذکرہ ہے
۔۔۔۔حضرت مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلویـؒ نے کمال کیا کہ ۔۔۔۔پوری سیرت کو تین
جلدوں میں ایسا سمیٹا کہ قلم بھی جھوم اٹھا ہوگا۔۔۔۔ان تین جلدوں میں سے ایک پوری
جلد۔۔۔۔صرف جہاد اور قتال کے قصے سناتی ہے۔۔۔۔سیرۃ حلبیہ کے مصنف نے تو ہزار کے لگ
بھگ صفحات پر جہاد کے بے تحریف موتی بکھیر دیے۔۔۔۔پھر قرطبی جیسی تفسیر کا کیا بنے
گا؟۔۔۔اور تفسیر عثمانی کا کیا مستقبل ہوگا؟۔۔۔یہ حضرات تو جہاد پر شروع ہو تے ہیں
تو سانس لینا بھول جاتے ہیں۔۔۔۔چلیں ان کتابوں کا کچھ کرلیں گے مگر کہیں آپ کو
۔۔۔۔ اپنے اکابر کی ’’غلطیوں‘‘ کی سزا نہ بھگتنا پڑجائے۔۔۔۔یہ سیداحمد شہیدؒ،شاہ
اسماعیل شہیدؒ۔۔۔۔۔یہ حافظ ضامن شہیدؒ۔۔۔۔ یہ حضرت حاجی امداداللہ مہاجرمکیؒ۔۔۔۔یہ
حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ۔۔۔۔یہ حضرت مولانا رشیداحمدگنگوہیؒ۔۔۔۔سارے جنگجو مجاہد
تھے۔۔۔۔سب مطلوب ،ناپسندیدہ اور کالعدم تھے۔۔۔۔حضرت مولانا سید حسین احمد
مدنیؒ۔۔۔۔اس محبوب کے باغی تھے،جس سے ویزہ درکار ہے۔۔۔۔اور حضرت شیخ الہندؒ اسی
محبوب کے معتوب قیدی تھے۔۔۔۔کیا ہمارا ان سب سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔۔۔۔۔اچھا
ایک قانون بنا لیتے ہیں ۔۔۔۔ جس جہاد سے ہمیں کسی تکلیف کا خطرہ نہ ہو وہ ۔۔۔۔اچھا
۔۔۔۔اور جس سے ہم پر کچھ پریشانی آسکتی ہو وہ برا۔۔۔۔یہ قانون تو بہترین ہے مگر
تب ۔۔۔۔جہاد ۔۔۔۔جہاد نہیں رہے گا ’’سلاد ‘‘ بن جائے گا۔۔۔۔ حضرت صدیق اکبررضی
اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ ۔۔۔۔یہ نہیں ہو سکتا کہ میں زندہ رہوں اور دین میں کسی
طرح کی کمی کی جائے ۔۔۔۔مگر آج کہا جا رہا ہے ۔۔۔۔بس ہم زندہ رہیں خواہ دین کے
ایک عظیم رکن کا انکار ہی کرنا پڑے۔۔۔۔ ایسی زندگی قابل رشک تو نہیں ہے۔۔۔۔۔قرآن
اپنی آیات جہاد سناتا رہے گا۔۔۔۔سیرت الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مناظر
۔۔۔۔جہاد کو زندہ رکھیں گے۔۔۔۔تب۔۔۔۔ہم اپنے دل کو کیا تسلی دیں گے کہ وہ بڑے لوگ
تھے۔۔۔۔ہم چھوٹے لوگ ہیں۔۔۔۔ اس لئے ہم جہاد کا نام ہی مٹا رہے ہیں۔۔۔۔یا بدل رہے
ہیں۔۔۔۔تب کوئی پوچھے گا۔۔۔۔بڑے لوگوں پر پانچ نمازیں فرض تھیں۔۔۔۔ہمــ۔۔۔۔ چھوٹوں پر کتنی ہیں؟تب ایک بہترین حیلہ آندھی
کی طرح اٹھے گاکہ مجاہدین گندے، بدمعاش، لٹیرے، ۔۔۔۔۔ ایسے، ویسے، تیسے ۔۔۔۔اس لئے
ہم جہاد کے مخالف ۔۔۔۔یہ حیلہ چل نہیں سکتا۔۔۔۔۔جب تک جہاد کی حمایت میں عزت تھی
امن تھا۔۔۔۔تو یہ سب کچھ نظر نہ آیا۔۔۔۔اب ۔۔۔۔محبوب نے آنکھیں دکھائیں تو سب
مجاہد گندے ہو گئے۔۔۔۔بالکل ٹھیک فرمایا آپ نے ۔۔۔۔مجاہدین سب گندے ۔۔۔۔مگر
۔۔۔۔وہ جماعت کہاں ہے؟ ۔۔۔۔۔جس کے بارے میں حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح
احادیث میں بشارت ہے کہ ـــ۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔ہر زمانے میں قتال کرتی رہے گی ۔۔۔۔ حدیث
پاک میں شک نہیں ہو سکتا۔۔۔۔ٹھیک ہے۔۔۔۔آپ اچھے اور متقی لوگ جہاد کو تھام لیں
۔۔۔۔برے لوگوں سے خود جان چھوٹ جائے گی۔۔۔ویسے پرانے کاغذ، رسیدیں ۔۔۔ اور
اشتہارات کہیں چھپاکر رکھ لیں۔۔۔۔ممکن ہے اگر سال دو سال بعد جہاد اور مجاہدین کو
پھر عزت مل گئی ۔۔۔۔۔طالبان دوبارہ اقتدار میں آگئے تو یہ سب کچھ ۔۔۔۔۔بہت کام
آئے گا۔۔۔۔
کاش اس موقع
پر۔۔۔۔۔ہر لمحہ ڈٹ جانے کا درس پڑھنے پڑھانے والے۔۔۔۔سیسہ پلائی دیوار کی طرح ڈٹ
جاتے ۔۔۔۔کاش اپنی ’’چٹائی ‘‘ کی عظمت جاننے والے ۔۔۔۔غیر ملکی ویزوں پر تھوک
دیتے۔۔۔۔کاش قرآن پاک کے اٹھائیس پاروں میں حضرت موسیٰ علیہ السلام۔۔۔۔۔ کا قصہ
پڑھنے والے ۔۔۔۔۔الٹے قدم بھاگنے سے پہلے۔۔۔۔۔کچھ۔۔۔۔ ہمت کر لیتے۔۔۔۔کاش ماضی کے
چراغوں کو سلام کرنے والے ۔۔۔۔۔اپنے زمانے کے چراغوں سے لا تعلقی کا اعلان ۔۔۔۔
کچھ سوچ سمجھ کر کرتے۔۔۔۔
اچھا چھوڑیں ان
تمام دل جلی باتوں کو۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ بے نیاز ۔۔۔۔۔۔اور غنی ہے۔۔۔وہ کسی کا محتاج
نہیں۔۔۔۔اس نے ۔۔۔۔۔۔قرآن پاک میں جہاد کے بیان کے ساتھ واضح اعلان فرمادیا ہے کہ
۔۔۔۔اگر تم منہ موڑوگے تو وہ تمہیں ہٹا دے گا۔۔۔۔۔ اور ان لوگوں کو لے آئے گا۔۔۔۔۔
جو تمہاری طرح۔۔۔۔نہیں ہوں گے۔۔۔۔یعنی خوب پکے ہوں گے۔۔۔۔خوب لڑنے والے۔۔۔۔۔۔کسی
ملامت کی پروا نہ کرنے والے۔۔۔۔۔۔اس لئے۔۔۔۔۔ہمیں اس بات کی کوئی فکر نہیں ہے
کہ۔۔۔۔۔جہاد کا کیا بنے گا؟۔۔۔۔جہاد جاری رہے گا۔۔۔۔۔حوروں کے دولھے انہیں بڑھ بڑھ
کر ۔۔۔۔۔محبت سے دبوچتے رہیں گے۔۔۔۔۔شہادت کے شیریں ہونٹ چوسنے والے ۔۔۔۔۔ چھوٹے
بچوں کی طرح اسکی طرف لپکتے رہیں گے۔۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔۔ ۔اس بات کی فکر کی ضرورت ہے کہ
۔۔۔۔۔ہم ا س فانی زندگی کے دھوکے میں آکر۔۔۔۔۔خدانخواستہ خدانخواستہ۔۔۔۔۔ راستہ
نہ بدل لیں۔۔۔۔۔۔۔۔یا اللہ اپنے کرم اور فضل سے استقامت عطاء فرما۔۔۔۔۔آخرمیں دل
کو سیدھا رکھنے والی ایک حدیث پاک ۔۔۔۔پڑھ لیتے ہیں۔۔۔۔۔حضورپاک صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا ۔۔۔۔۔۔
’’اسلام کا
آغازہوا تو وہ اجنبی تھا۔۔۔۔کچھ عرصہ بعد ۔۔۔۔۔یہ اپنے آغاز کی طرح پھر اجنبی ہو
جائے گا۔۔۔۔۔پس خوشخبری ہے غرباء کے لئے۔۔۔۔۔عرض کیا گیا کہ یارسول اللہ ۔۔۔۔۔۔یہ
’’غرباء ‘‘ کون ہیں؟ ۔۔۔۔۔فرمایا۔۔۔۔۔۔یہ وہ لوگ ہیں جو اس وقت ٹھیک رہیں گے جب
(اکثر) لوگ فساد میں مبتلا ہو جائیں گے۔۔۔۔۔۔دوسری روایت میں فرمایا۔۔۔۔۔۔۔یہ ’’غرباء‘‘ وہ لوگ ہیں ۔۔۔
الذین یزیدون اذانقص الناس
جواس وقت زیادہ
کریں گے جب لوگ کمی کرنے لگ جا ئیں گے(الحدیث رواہ احمد)
ترقی ترقی۔۔۔۔۔۔کے
شور میں ’’مجاہدین‘‘ ہی اجنبی لگ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔پس ان کے لئے خوشخبری اور بشارت
ہے۔۔۔۔۔۔لوگ دین میں کمی کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔فرائض کا انکار ۔۔۔۔۔۔کر رہے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔ایسے وقت میں ۔۔۔۔۔۔۔خوش نصیب وہ ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔جو اپنی محنت ،کوشش اور ہمت
کو بڑھا دے گا۔۔۔۔۔۔۔۔جب لشکر کے پائوں اکھڑ چکے ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ بزدلی کی ہوا نے
اوسان خطا کردئیے ہوں۔۔۔۔۔۔لوگ میدان چھوڑکر ۔۔۔۔۔۔۔۔سرپٹ دوڑ رہے ہوں۔۔۔۔۔۔۔ایسے
وقت میں ۔۔۔۔۔۔۔ڈٹ جا نے والے ہی۔۔۔۔۔۔۔صدیق۔۔۔۔۔۔۔۔ شہید۔۔۔۔۔اور سچے اور اصلی
مسلمان کہلاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔زمین ان پر ناز کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔آسمان انہیں جھک کر
دیکھتاہے ۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔زمین و اسلام کا رب ان پر فخر فرماتا ہے۔۔۔۔۔۔
اللھم یا رب اغفرلنا واجعلنامنھم
حضرت ابوہریرہ رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سات ہلاک
کرنے والے کاموں سے بچو، پوچھا گیا اے اللہ کے رسول وہ سات کام کیا ہیں آپ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ـ:
(۱) اللہ
کے ساتھ شرک کرنا (۲) اس
جان کو ناحق قتل کرنا جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ہو (۳) یتیم کا مال کھانا
(۴) سود
کھانا (۵) میدان
جہاد سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا (۶)بھولی بھالی پاکدامن مومن عورتوں پر
تہمت لگانا (۷) جادو
کرنا۔۔۔۔۔ (بخاری)
اللہ پاک ہمیں ان
گناہوں سے۔۔۔۔۔۔اور دیگر تمام گناہوں سے بچائے۔۔۔۔۔۔اور ہمیں اس بات کی سمجھ نصیب
فرمائے کہ ’’جہاد ‘‘ ۔۔۔۔۔ بہت ہی افضل ہے۔۔۔۔۔۔’’سلاد ‘‘ سے۔۔۔۔۔
)آمین یا
ارحم الراحمین(
٭٭٭
اللہ تعالیٰ غفلت سے بچائے… ہم سب کے لئے بعض بنیادی
باتوں کی یاد دہانی ازحد ضروری ہے… دراصل وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زنگ لگ جاتا ہے…
میل چڑھ جاتی ہے… اور پرزے کچھ ڈھیلے پڑجاتے ہیں… آئیے کچھ سبق دہرا لیتے ہیں…
بالکل آسان مگر ضروری سبق…
پہلا سبق
ہر زمانے میں
عموماً… اور اس فساد زدہ دور میں خصوصاً دین کا کام… دین کی خدمت… اور جہاد کی
خدمت… اللہ تعالیٰ کی بہت ہی بڑی نعمت ہے… بہت ہی بڑی نعمت…
پھر کیا خیال ہے … ہم … دن میں کتنی بار اس نعمت کا شکر ادا کرتے ہیں؟… شکر کریں
گے تو نعمت برقرار رہے گی… ورنہ… خوفناک زنگ چڑھ جائے گا…
دوسرا سبق
دین کا کام صرف
اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کی توفیق سے ممکن ہے… انسان کا اپنا
کچھ کمال نہیں… مقبولیت، صلاحیت، علم، بہادری، ذہانت… اور ہمت اللہ تعالیٰ ہی عطاء فرماتے ہے… اگر بندہ یہی یقین دل
میں رکھے تو پھر دین کا کام جاری رہتا ہے… اور اگر نظر اپنی ذات پر چلی گئی … اور
اپنے کمالات یاد آنے لگے تو … پھر بربادی شروع… شیطان ابلیس کا قصہ تو ہم سب کو
یاد ہے… پھر … یہ میں میں کا شور … کسی دین کے خادم … اور مجاہد کو زیب نہیں دیتا…
تیسرا سبق
دین کے کام کا
پہلا… اور آخری مقصد … صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہے… جو کام ذاتی حقوق حاصل کرنے
کے لئے کیا جائے وہ دین کا کام نہیں رہتا… جو شخص دین کا جتنا کام کرے گا اتنا وہ
اپنے حقوق کی قربانی دے گا… یہی دین کی ترقی ہے… دیکھیں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ… ترقی کرتے کرتے کہاں تک پہنچے؟… یہاں تک کہ
انتقال کے وقت کفن کا کپڑا بھی میسر نہیں تھا… بس یہی ہے اصل ترقی … دین والی
ترقی… اس لیے… جو جتنا پرانا ہوتا جائے اسی قدر دنیا سے دور… اور آخرت کی فکر کے
قریب ہوتا جائے… اگر یہ کیفیت نصیب رہی تو بہت مزے… اور عظیم سعادت… اور اگر
خدانخواستہ… یہ خیال دل میں جڑ پکڑگیا کہ… میں پرانا ہوں… میں بڑا ہوں… میرا یہ
حق… میرا وہ حق… تو پھر … قیمتی دین… حقیر دنیا کے بدلے فروخت ہونے لگتا ہے… اور
یہ بہت گھاٹے کا سودا ہے…
چوتھا سبق
اللہ تعالیٰ غنی ہے… اور ہم محتاج … اللہ تعالیٰ کا دین … اور اس دین کے تمام شعبے
’’غنی‘‘ ہیں… اور ہم محتاج … ہم دین کا کام نہیں کریں گے تو دین کا کچھ بھی نہیں
بگڑے گا… ہاں… ہم اپنا نقصان کریں گے… کیونکہ… وہ زندگی جس میں دین کی خدمت نہ ہو…
جانوروں سے بدتر زندگی ہے… بس ہمیشہ … یہی یقین دل میں جاگزین … اور پختہ رہے کہ
ہم محتاج ہیں… اور ہم نے ضرور کرنا ہے… اور اگر ہم نے نہ کیا تو ہم مرجائیں گے…
برباد ہوجائیں گے… اور ذلیل ہوجائیں گے… جس کو یہ یقین نصیب ہوگیا اسے دین کی خدمت
کا … ان شاء اللہ … پکا ویزہ مل گیا… اور
اگر یہ خیال آیا کہ … دین ہمارا محتاج ہے… جہاد ہمارا محتاج ہے… جماعت ہماری محتاج
ہے… تو پھر… میں میں کا یہ شور ہمیں… انسان سے ’’بکری‘‘ بنا کر چھوڑے گا۔
پانچواں سبق
استقامت سب سے بڑی
کرامت ہے… اور جنت کا راستہ تکالیف اور آزمائشوں سے بھرا پڑا ہے… اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگنی چاہئے کہ … اسے عافیت
مانگنے والے پسند ہیں… مگر… آزمائش کے وقت ’’استقامت‘‘ اختیار کرنی چاہئے… اور جب
دین کے کام کے راستے میں تکلیفیں آنا شروع ہوجائیں تو … کام پر ڈٹ جانا چاہئے…
حالات جان سے لیکر مال تک جس چیز کی قربانی مانگیں… اللہ تعالیٰ کی توفیق سے … پیش کردینی چاہئے… بس یہی
سلامتی… اور امن کا راستہ ہے… اور اسی میں نجات ہے…
چھٹا سبق
اوپر جن پانچ
اسباق کو ہم نے دہرایا… کیا یہ آسان ہیں؟… ہر گز نہیں… بالکل نہیں… ہاں اللہ تعالیٰ توفیق دے تو … میٹھا دودھ پینے سے بھی
زیادہ آسان … بس پھر آسان طریقہ یہ ہے کہ … ہم اللہ تعالیٰ سے مانگنا شروع کردیں… دعاء سیکھیں… دعاء
مانگیں… اور پھر مانگتے رہیں… اور مانگتے چلے جائیں… یا اللہ آپ
کا شکر … بے حد شکر… کہ آپ نے ہمیںدین کے کام کی توفیق بخشی… یہ سب… اے میرے مالک
… آپ کا فضل اور احسان ہے… میرا اس میں کچھ کمال نہیں… میں تو آپ کاعاجز بندہ ہوں…
مجھے دین کے کام پر استقامت عطاء فرما دیجئے… اس کام کو اپنی رضا کے لئے قبول
فرمالیجئے… اس میں جو غلطیاں، کوتاہیاں… اور خامیاں… مجھ سے سرزد ہوئیں… وہ اپنے
فضل سے معاف فرمادیجئے… مجھے عافیت اور امن کے ساتھ زیادہ سے زیادہ… کام کرنے کی
توفیق عطاء فرمادیجئے… یا اللہ یہ سب کام آپ کی رضا کے لئے ہے… مجھے شرک، ریا…
اور خود غرضی سے بچالیجئے… اور میری ذاتی ضرورتوں کے لئے… اپنے خزانۂ غیب سے
کفایت فرمادیجئے… یا اللہ … میرے گناہوں
کی وجہ سے … مجھے اس کام سے محروم نہ فرمائیے…
یا اللہ … دین کے کام کے سلسلے میں… میری مدد اور
رہنمائی فرمائیے… اور مجھے اپنے نفس کے شر اور شیطان کے مکر سے بچالیجئے… یا اللہ آپ
غنی… میں محتاج… مجھے اپنا بنالیجئے… اور مجھے ایمان … اور دین کے کام پر استقامت
عطاء فرمادیجئے… اور … مجھے اپنی محبت کے ساتھ … اپنی ملاقات کا شوق عطاء
فرمادیجئے… اور مجھے… شہادت والا حسن خاتمہ عطاء فرمادیجئے… آمین… یارب العالمین…
یا ارحم الراحمین…
اللہ تعالیٰ ’’القلم‘‘ والوں کو دنیا و آخرت میں
جزائے خیر عطاء فرمائے… انہوں نے بن پوچھے ’’علالت‘‘ کا اعلان چھاپ کر قارئین کرام
سے دعاء کی درخواست کردی… میں نے بھی یہ اعلان ’’القلم‘‘ میں پڑھا… آج کل دنیا میں
خبریں تو بہت گرم ہیں مگر ہمارے لیے سننے اور پڑھنے کا موقع کم ہے… میرے ایک حبیب
وعزیز نے پیغام بھیجا کہ کالم لکھ کر بھیجوں… میں نے عرض کیا… آج کل بی بی سی سن
نہیں رہا… اخبار پڑھنے کا موقع ملتا نہیں… دینی کتب دسترس سے باہر ہیں… یاروں کی
مجلس میں ویرانی کا دھواں اٹھ رہا ہے… دنیاوی کتابیں اور ناول پڑھنے کا شوق نہیں
ہے… ٹی وی خریدا نہیں… ڈش ہے مگر چاول کھانے والی… کیبل ہے مگر کپڑے دھو کر سکھانے
والی… انٹرنیٹ چلانا نہیں آتا… چل پڑے تو بجھانا نہیں آتا… پھر کس طرح سے حالات
حاضرہ پر کالم لکھوں؟… میرے عزیز نے فوراً خبروں کی بھرمار کردی… فرمانے لگے…
قصوری صاحب اسرائیل کے وزیر خارجہ سے مل آئے ہیں… صدر مشرف اسرائیل کو تسلیم کرنے
کیلئے پر تول رہے ہیں… دینی مدارس کی رجسٹریشن کے مسئلہ پر مدارس اور حکومت میں
اختلاف ہونے ہی والا ہے… اپوزیشن کی ہڑتال ناکام ہوگئی… امریکہ میں سیلاب نے
ہزاروں امریکی غرق کردیئے ہیں… افغانستان میں بہت سے امریکی مارے گئے ہیں… عراق
میں روزانہ حملے ہوتے ہیں… صدر حامد کرزئی نے امریکی سیلاب زدگان کیلئے پورے ایک
لاکھ ڈالر کی امداد کا اعلان کردیا ہے… ضلعی انتخابات کے آخری مرحلے کا جوڑ توڑ
زور وشور سے جاری ہے… فرانس نے حضرت علامہ طاہر قادری کو ویزہ دینے سے انکار کردیا
ہے… بھارت نے پاکستان سے تیس مطلوب افراد مانگ لیے ہیں… اور اس طرح کی بہت سی
خبریں… میں نے سوچا کہ اس میں تو کوئی خبر بھی کالم کے لائق نہیں… صدر پاکستان اور
وزیر خارجہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ انہیں کرنا چاہئے… کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ جو یہود اور نصاریٰ دونوں
سے دوستی کرے گا وہ انہیں میں سے ہوگا… اب اگر صرف عیسائیوں سے یاری رکھی جائے اور
یہودیوں سے نہیں تو پھر… مکمل یکجہتی اورہم آہنگی تو نہ ہوئی… چھٹے پارے میں خود
آیت پڑھ کر دیکھ لیجئے… اس میں صرف عیسائیوں کا نہیں یہودیوں کا بھی ذکر ہے کہ… اے
ایمان والو! یہود ونصاریٰ سے دوستی نہ کرو… ان میں سے بعض بعض کے دوست ہیں… اور جو
تم میں سے ان سے یاری کرے گا وہ انہیں میں سے ہوگا… (المائدہ۵۱)
اس سے مولویوں کا
یہ الزام بھی غلط ثابت ہوا کہ ہمارے حکمرانوں کو قرآن پاک نہیں آتا… وہ چونکہ
عالمی برادری کا باوقار حصہ دار بننا چاہتے ہیں… اس لیے انہوں نے یہودیوں سے ہاتھ
ملایا ہے… پاکستان میں آج کل جو کچھ ہو رہا ہے… اس کے ہوتے ہوئے… اسرائیل کو تسلیم
کرنے سے اور کونسی قیامت آجائے گی؟… پہلے بھی میڈیا اور این جی اوز کے روپ میں
یہودی دندناتے پھر رہے ہیں… اورباقاعدہ طور سے ملکی پالیسی پر اثر انداز رہتے ہیں…
اس لیے معذرت! ہم تو اس موضوع پر کالم لکھنے سے رہے… ہاں جب اسرائیل کا سفارت خانہ
کھلے گا… تب ممکن ہے اسے دیکھنے جائیں کہ کیسا ہے؟… کیسا لگتا ہے؟…
جہاں تک دینی
مدارس کی رجسٹریشن کا تعلق ہے تو یہ مدارس زمین کی مخلوق تو ہیں نہیں کہ… کسی کی
ایک گرج سے دب جائیں گے… ان مدارس میں وہ قرآن پاک پڑھایا جاتا ہے جس کے سامنے
روئے زمین کے پہاڑ نہیں ٹھہر سکتے… ایٹم بم بن گیا… ہائیڈروجن بم کے تجربے ہوگئے…
انسانوں نے جانور جنم دینے شروع کردیئے… گورے کالے ہوگئے… کالے گورے ہوگئے… کوئی
خود کو سپر کہنے لگا اور کوئی خود کو سپریم سمجھنے لگا… مگر قرآن پاک اٹل ہے اٹل…
کوئی حرف نہیں بدلا… کوئی زیر زبر نہیں الٹی… کوئی شوشہ نہیں چھوٹا… شراب کا پیشاب
پی کر ناچنے والے… بھول رہے ہیں…مدرسہ اوپر سے اترا ہے… اور ان شاء اللہ اوپر رہے
گا… اللہ… کرے مہتمم حضرات تکڑے رہیں…تہذیب نو کے سامنے سرخم نہ کریں… مسئلہ جہاد
پر لچک نہ دکھائیں… لوگوں کو ایوب خان سے لیکر یحییٰ خان کی قبروں کا پتہ ہے …مگر
آج تک کسی مدرسہ کی قبر نہیں بنی … چرچ اور مندر فروخت ہو رہے ہیں … جبکہ… مدرسہ
… ہر سال پچیس سے پچاس فیصد کی ترقی کر رہا ہے … اللہ کرے مدارس کے رہبر شیخ
الہندؒ جیسے صاحب فراست حضرت مدنیؒ جیسے صاحب جرأت اور حضرت ضامن شہیدؒ جیسے صاحب
شہادت رہیں…
ہاں اگر حبّ دنیا
کی دیمک نے کسی پر دست درازی کی تو پھر… اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی حفاظت کا
وعدہ کیا ہے… دین فروشوں کا نہیں… اس لیے بھی الحمدللہ کامل اطمینان ہے کہ کالے دل
والے… اپنی کالی حسرتیں لے کر کالی قبروں میں چلے جائیں گے اور مدرسہ کے مینار سے
آواز آتی رہے گی اللہ اکبر اللہ اکبر… اللہ اکبراللہ اکبر اس لئے اس موضوع پر
بھی کالم نہیں لکھتے…باقی رہا امریکہ کا سیلاب… اور عراق اور افغانستان میں
امریکیوں کی ہلاکت…تو اس پر کیا لکھا جائے؟ سیلاب کو حدیث پاک میں غالباً اندھا
حملہ آور کہاگیا ہے…
اسے تمیز بھی نہیں
کہ وہ کس مہذب اور ترقی یافتہ ملک پر چڑھ دوڑا ہے ؟ پھر امریکہ کے حامی ہمارے
حکمران اس سیلاب کو گالیاں بھی نہیں دے رہے اور نہ اس کے خلاف فرنٹ لائن پر جاکر
سینہ تان کر کھڑے ہیں… امریکہ کا سیلاب امریکہ کونگلتا جارہا ہے… سنا ہے ہزاروں
لوگ لقمہ اجل بن گئے ہیں… گاڑیاں روئی کے گالوں کی طرح بہتی پھررہی ہیں… بڑی بڑی
عمارتیں کاغذ کی کشتیاں نظر آرہی ہیں…لاشیں پھول پھول کر پھٹ رہی ہیں… ادھر
بیچارے امریکی فوجی عراق میں مر رہے ہیں… ادھر افغانستان سے روزانہ انکی لاشیں رنگ
برنگے جھنڈے پہن کر آرہی ہیں… امریکی بیچارے کہاں جائیں ؟ اوپر نیچے سے گھر گئے
ہیں… فضاؤں کی طرف ناسا کا خلائی جہازبھیجا تو پائلٹ کی سیٹ کے نیچے گیس بنانے
والا گولا پھٹ گیا… اربوں ڈالر لگا کر اسامہ کو تلاش کرنا چاہا تو چار سال میں شیخ
اسامہ تو کیا بنی اسرائیل کا بچھڑا بھی نہیں ملا… اربوں ڈالر لگا کر… ملا محمد عمر
مجاہد کو ڈھونڈا… مگر… وہ بت شکن نظر آکر بھی نکل گیا… ہائے میں امریکہ کے کس کس
درد کا ذکر کروں… وہ کونسی ناکامی ہے جو اس کے حصے میں نہیں آئی؟ اور وہ کونسا غم
ہے جس نے اس کو کچو کے نہیں لگائے؟… اب رہی سہی کسر سیلاب نے پوری کردی ہے … کچھ
دن پہلے کی بات ہے… صدر بش صاحب نے گرجدار آواز میں اعلان کیاتھا کہ شام چند دن
میں اپنی فوجیں اور خفیہ ادارے لبنان سے بلالے ورنہ … یہ فرما کر انہوں نے فاتحانہ
انداز میں دائیں بائیں دیکھا… اور زور سے ہنسے… ان کے اس انداز دلبرانہ و جابرانہ
پر ہزاروں امریکی کئی منٹ تک تالیاں پیٹتے رہے اور ناچتے رہے … وہ بہت عجیب منظر
تھا… جس نے دیکھا دجالی ہیبت محسوس کی… کیا آج صدر بش… سیلاب کو یہی حکم نہیں دے
سکتے کہ واپس چلا جائے ورنہ ؟ بے شک اللہ ایک ہے … اللہ سب سے بڑا ہے… ویسے ان
مشکل حالات میں دل چاہتا ہے کہ … کہیں سے ٹکٹ کا بندوبست کرکے امریکہ چلا
جائے…تاکہ …سیلاب میں ہلاک ہونے وا لے مظلوم لوگوں سے تعزیت کی جاسکے…مگر … مگر؟
جب طاہرالقادری
صاحب جیسے روشن روشن روشن ترین خیال آدمی کو فرانس کا ویزہ نہیں ملا… تو مجھے
امریکہ کا ویزہ کیسے ملے گا؟…اس لئے اس موضوع پر بھی کالم نہیں لکھتے…
باقی انڈیا نے
پاکستان سے تیس آدمی مانگے ہیں …تو… یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے …آپ تیس کہتے ہیں …
اگر ضرورت محسوس فرمائیں تو… ان شاء اللہ … تیس ہزار تیار ہیں…مگر لالہ جی! سوچ لو
… پھر ہوگا کیا؟…ویسے بعض روایات میں بتایاجاتا ہے کہ مسلمان مجاہدین … افغانستان
سے براستہ پاکستان… ہندوستان فتح کرکے …امام مہدی کے لشکر کی طرف روانہ ہوجائیں
گے… کیا آپ کو زیادہ جلدی ہے؟…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ہم سب کو… حضور پاک حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب فرمائے… مجھے وہ منظر
کبھی نہیں بھولتا جب میں ایک دن مسجد نبوی شریف کی دیواروں اور ستونوں پر لکھی
ہوئی… نورانی عبارات پڑھتا پھر رہا تھا… اچانک ایک پاک ستون پر نظر پڑی… اور میں،
رحمت، حیرت اور کیفیات کی لہروں میں ڈوب گیا… آدمی مدینہ پاک میں ہو… یہ بھی بڑی
خوش بختی ہے… پھر مسجد نبوی شریف… اور پھر ریاض الجنۃ… ایسے حالات میں تو… عشق
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی بارش میں انسان ویسے ہی
ڈوبا ہوا ہوتا ہے… پتا نہیں کیا کیا یاد آتا ہے… اور کس کس طرح سے یاد آتا ہے… بڑے
بڑے لوگ ادب سے سہمے… لرزتے کانپتے نظر آتے ہیں… ادب، ادب اور ادب … وہ بہت عجیب
جگہ ہے… جب امریکا برطانیہ کے بعض متعصب موذی وہاں حملے کے مشورے دیتے ہیں تو … دل
اور جسم میں آگ لگ جاتی ہے… ان ناپاک پاگل چوہوں کی ہمت کہ… ادھر نظر بھی اٹھا کر
دیکھں… یاد رکھنا سارے مسلمان روشن خیال دانشور نہیں ہیں… بہت سے مسلمان… ابھی تک
مسلمان ہیں… ہاں مدینہ کی پاکیزہ مٹی کی خوشبو پر مرنے والے… پکے سچے اور غیرت مند
مسلمان… ابھی بہت ہیں… رب کعبہ کی قسم بہت ہیں… تم اسلام، مسلمانوں، مکہ مکرمہ …
اور مدینہ پاک کا کچھ نہیں بگاڑ سکو گے… ہاں رب نے قیامت لانی ہو تو اور بات ہے…
آج کل انتہا پسندی ختم، انتہا پسندی ختم کا اتنا شور ہے کہ … اگر کوئی آدمی چند دن
… بازار گلی میں نہ گھومے… گھر میں بیٹھ کر صرف سرکاری اخبارات پڑھے … تو … وہ
سمجھے گا کہ… بس پاکستان میں اسلام ختم… صدر سے لیکر عوام تک سب ناچ رہے ہیں، گا
رہے ہیں… راتوں کو میوزیکل نائٹ کے پروگرام ہوتے ہیں… اور خواتین… نیم لباسی میں
گھومتی ہیں… پورے ملک میں کوئی مدرسہ نہیں… جہاد کا تذکرہ جرم ہے… ڈاڑھی والے
عجائب گھروں میں بطور نمونہ رکھ دئیے گئے ہیں… اور باپردہ خواتین … آثار قدیمہ کا
ورثہ قرار دی جاچکی ہیں… حالانکہ… الحمدﷲ … ثم الحمدﷲ… ایسا کچھ بھی نہیں ہے…
ہمارے ر وشن خیال حضرات تو اب باقاعدہ … الجھن، پریشانی اور بے بسی کا شکار نظر
آتے ہیں… اسلام پھل رہا ہے اور… خوب پھیل رہا ہے… کچھ دن پہلے ایک دعوتی مرکز میں
جانا ہوا تو سخت حیرت ہوئی… کئی ہزار ڈاڑھی والے… بے فکری سے بیان سن رہے تھے اور
گڑ گڑا کر دعائیں مانگ رہے تھے… مجمع اتنا بڑا تھا کہ … ایکڑوں پر پھیلی مسجد چھلک
رہی تھی… اور کسی کو اس بات کی پروا نہیں تھی کہ … اخبارات اور ٹی وی میں… ان کے
خاتمے کا مسلسل اعلان ہورہا ہے… میں روزانہ… مساجد سے اذان کی آواز سن رہا ہوں… یہ
آواز دل کے تار ہلا دیتی ہے… اور بتاتی ہے کہ … اسلام زندہ ہے… تابندہ ہے… جمعۃالمبارک کے دن… اب بھی مسجدوں سے باہر
سڑکوں تک صفیں بنتی ہیں… باقی رہا ’’جہاد‘‘ تو اس کا کون کیا بگاڑ سکتا ہے؟…
انگریزی اسکولوں اور کالجوں سے … فدائی مجاہد پیدا ہورہے ہیں… اور اس وقت نشریاتی
طور پر … انٹرنیٹ ’’جہادیوں‘‘ کے قبضے میں ہے… بات مسجد نبوی شریف کی چل رہی تھی…
اور نکل گئی کہیں اور… دراصل حالات اچھے ہیں یا برے… یہ تو … اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے… مگر… گہماگہمی اور کشمکش
عروج پر ہے… اس لیے مجھ سمیت کسی کا بھی دماغ پوری طرح ٹھکانے پر نہیں ہے… اور اسی
کیفیت میں دنیا کے خاتمے کاراز مضمر ہے… کوئی بھی کسی بات کا پکا فیصلہ کرنے کی
’’پوزیشن‘‘ میں نہیں ہے… کیا کریں؟… کیا نہ کریں؟… کی حالت ہے… اور یہی حالت دنیا
کو ایک ہولناک جنگ کی طرف لے جارہی ہے… حضرت ملا محمد عمر سے لے کر صدر بش تک کسی
کی یہ حالت نہیں ہے کہ وہ کوئی… ناقابل واپسی ٹھوس فیصلہ کرسکے… ہر ایک کی دماغی
حالت… تغیرات اور آندھیوں کا شکار ہے… صبح ایک فیصلہ … دوپہر دوسرا… اور رات کو
پہلے دونوں فیصلے منسوخ… ہاں حضرت ملا محمد عمر جیسے حضرات خیر کے بارے میں سوچتے
ہیں… جبکہ … دوسرا طبقہ شر کے بارے میں فکر مند رہتا ہے…مگر… حتمی فیصلہ اس وقت
کسی کے بس میں نہیں ہے… یہ بھی قرب قیامت کی نشانی ہے کہ اسی کشمکش، گومگو اور شش
وپنج میں… اچانک… حالات ایک ایسی کروٹ لیں گے… جو اس وقت کسی کے وہم وگمان میں بھی
نہیں ہے… کیا خیال ہے… یہودیوں کے خلاف مسلمانوں اور عیسائیوں کا جنگی اتحاد …
مسلمانوں او ر عیسائیوں کے مشترکہ لشکر… خراسان کے کالے جھنڈے… ہندوستان کے
بادشاہوں کا زنجیروں میں جکڑا جانا… دجّال… دابۃ الارض… آسمان کا دروازہ کھلنا…
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تشریف لانا… دریائے فرات کا سونا… طالقان کے خزانے… اور
یاجوج ماجوج… ظاہری حالات کے تحت… ان میں سے ایک بات بھی اس وقت ممکن نظر آتی ہے؟…
بظاہر بالکل نہیں… مگر یہ سب کچھ حق ہے سچ ہے… اور اس وقت ساری دنیا کے طاقتور
انسانوں کا ذہنی انتشار … ان حالات کو تیزی سے ممکن بنا رہا ہے… ہم نے حضرت امیر
المومنین ملا محمد عمر مجاہد کو دیکھا کہ … ماشاء اللہ … بہت سنجیدہ اور گہری شخصیت کے مالک ہیں…
بات سننے اور اسے سمجھنے کے بعد حتمی فیصلہ فرمادیتے ہیں… ایسا میں نے خود دیکھا…
جب میں ان کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا… اور وہ اپنے مخصوص دھیمے، نرم اور مستانہ لہجے
میں… وائر لیس پر احکامات دے رہے تھے… بعض فیصلے کافی سخت تھے مگر نہ ان کا لہجہ
بدلا… اور نہ ان کے چہرے کے تاثرات … کسی کو کچھ دینے کا حکم تو وہی لہجہ… اور کسی
کو سزا کا حکم تو وہی انداز… یقینا یہ ایک متاثر کرنے والی صفت تھی… اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں… ایسے پیارے تحفے پیدا
فرماتا ہے… اب ایک طرف ان کی یہ صفت … مگر جب گیارہ ستمبر کی آندھی آنے کو تھی… اللہ والے… صاحب بصیرت افراد صاف دیکھ رہے تھے کہ…
دنیا کے نقشے اور انداز میں … تبدیلی کا کوئی بڑا تکوینی فیصلہ ہوا چاہتا ہے… اب
علم غیب تو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے پاس نہیں ہے… کسی کو بھی
یہ پتا نہیں تھاکہ … کیا ہونے والا ہے… مگر تمام صاحب نظر… دل والے ’’کچھ ہونے‘‘
کو ضرور محسوس کررہے تھے… ان دنوں پھر مجھے… امیر المؤمنین مدظلہ کے پاس بیٹھنے کا
موقع ملا… آج وہ بالکل پہلے جیسے نہیںتھے… نہ وہ اطمینان، نہ وہ دھیما پن… اور نہ
وہ پرسکون لہجہ… وہ بہت بڑے عارف ب اللہ ، صاحب نسبت، مجدّد، اللہ والے تھے… ایک موضوع پر بہت غصے اور جذبات میں
بولتے رہے… اور خلاف عادت کافی دیر تک بولتے رہے… حالانکہ… ان کی کم گوئی ضرب
المثل تھی… میں نے عرض کیا… آپ کی بات درست … مگر اب کیا کرنا چاہئے… ایک دو منٹ
میں بامیان کے دو ہزار سالہ بتوں کو گرانے کا فیصلہ کرنے والا… باہمت انسان خاموش
رہا… کوئی جواب نہیں… کوئی تبصرہ نہیں… میں نے دوبارہ کہا… بات بالکل ٹھیک ہے مگر
کرنا کیا چاہئے؟… انہوں نے اپنے ہاتھ سے اپنی پیشانی کو پکڑا … اور بار بار زور سے
دباتے رہے… اور فرماتے رہے کہ مجھے کچھ پتا نہیں… کیا ہونے والا ہے؟… کیا ہوگا؟…
اور کیا بنے گا؟… دو چار منٹ بعد پھر انہوں نے اپنی پیشانی کو اسی طرح دبا کر
فرمایا… کچھ پتا نہیں کیا ہوگا؟…
پھر چند دن بعد …
گیارہ ستمبر ایک نئی دنیا لے کر طلوع ہوا… امریکا نے سو فیصلے کیے… اور سو بدلے…
بالآخر پاکستان کی امداد سے … افغانستان میں حکومت کی تبدیلی کا فیصلہ کیا… خود
طالبان نے سو فیصلے کیے… اور سو بدلے… اور بالآخر… گوریلا جنگ اور دشمن کو تھکا کر
نکالنے کا طے ہوا… پاکستان نے سو فیصلے کیے… اور سو بدلے… بالآخر … ایک فون پر
جھکنے والوں کے دلائل سب نے تسلیم کرکے… خون مسلم میں شرکت کا پہلے جزوی… اور پھر
کلی فیصلہ کیا… پاکستان میں موجود… مجاہدین نے سو فیصلے کیے… اور سو بدلے… اور
بالآخر… جو اینٹیں جماعت کی عمارت میں جڑی رہیں… اللہ پاک نے ان سے کام لیا… اور جو روڑے، پتھر
پروازوں کے دھوکے میں آئے وہ تاریخ کا بھولا ہوا سیاہ باب بن گئے… اب ان حالات میں
جب … ساری دنیا میں… حتمی فیصلے کا رواج ہی اٹھ گیا تھا… کچھ لوگوں پر طعن کرنا
کہ… انہوں نے یہ نہیں کیا، انہوں نے وہ نہیں کیا… کہاں کا انصاف ہے؟…اصل بات صرف
یہی ہے کہ … جو خوش نصیب اپنے عقیدے، نظرئیے، اہداف… اور جماعت سے جڑے رہے… ان پر اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل رہا… اور جو لوگ بوکھلا گئے،
سٹپٹا گئے، حالات سے گھبرا گئے… انہوں نے… اسلامی اور جہادی کاز کو کافی نقصان
پہنچایا… نہ خود کچھ کرسکے… اور نہ عالمی درجہ بندی میں … انتہا پسند کہلانے والے
مسلمانوں کا حصہ بن سکے…
اللہ تعالیٰ سب کو معاف فرمائے… اور ہم سب کی رہنمائی
فرمائے… چلیں واپس… مسجد نبوی شریف کے خوبصورت، بابرکت، اور پرنور تذکرے کی طرف
لوٹتے ہیں… میں عرض کر رہا تھا کہ … مسجد نبوی شریف کے اندرونی حصے کی دیواروں اور
ستونوں پر احادیث مبارکہ وغیرہ لکھی ہوئی تھیں… اور اس دن میں پورے ذوق وشوق کے
ساتھ ان کو مزے لے لے کر پڑھتا پھر رہا تھا… اچانک… ایک حدیث پاک نے میری آنکھوں
کو بھگودیا… اے القلم پڑھنے والے بھائیو!… اور بہنو… خوب غور سے اس حدیث پاک کو
پڑھو… اور آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، اور عشق میں ڈوب جاؤ… اور
اندازہ لگانے کی کوشش کرو کہ… آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم سے کتنا پیار ہے… اور پھر سوچو
کہ کیا ہمیں بھی ان سے اتنا پیار ہے؟… مجھے بہت عرصہ ہوگیا… جی ہاں تقریباً بارہ
سال کہ میں مسجد نبوی شریف … پھر نہیں جاسکا… میرا اللہ پاک ہی جانتا ہے کہ اس کی کیا وجہ ہوگی… اللہ کرے پھر راستہ کھل جائے… پھر وہی باب عمر بن
خطاب رضی اللہ عنہ … وہی ریاض الجنۃ وہی … مجلس… ہائے وہی
مجلس… وہی اشک… وہی ندامتیں… وہی بدر واحد کا معطر لہو… اور وہی جنت البقیع… عرض
کرنے کا مقصد یہ ہے کہ … یہ حدیث پاک بارہ تیرہ سال پہلے ریاض الجنہ کے پاس ایک
ستون پر سنہری الفاظ میں پڑھی تھی… وہاں تعمیر وتبدیل کا کام چلتا رہتا ہے … اس
لیے … وضاحت کے دو جملے لکھنے پڑے… آئیے اپنے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پاک پڑھتے ہیں…
حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
شَفَاعَتِیْ
لِاَہْلِ الْکَبَائِرِ مِنْ اُمَّتِیْ
’’قیامت کے
دن میری شفاعت میری امت کے ان لوگوں کے لئے ہوگی جن سے کبیرہ گناہ سرزد ہوئے…‘‘
ہائے میں اس رحمت
پر قربان … کبیرہ گناہ بڑی نافرمانی کو کہتے ہیں… بہت بڑی نافرمانی… ایسے بڑے
نافرمانوں کی بھی بھلا کوئی سفارش کرتا ہے؟… کسی ادارے، مدرسے اور جماعت میں جاکر
دیکھ لیں… اپنے بڑے مجرموں کو کون گلے سے لگاتا ہے… ملکوں کے قوانین دیکھ لیں… مگر
یہاں تو رحمۃ اللعالمین… صلی اللہ علیہ وسلم ہیں… میری شفاعت میری امت کے اہل
کبائر کے لئے ہوگی… یہاں ہم لوگ گناہوں کی مستیوں میں غرق… اور ادھر آقا صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے ہولناک، خوفناک دن … امّتی
امّتی… یا رب امّتی پکار رہے ہوں گے … کیا اب بھی اے مسلمانو! گناہ کرنے پر دل
کرتا ہے؟… اتنی رحمت اور شفقت دیکھ کر تو کتا بھی انسان بن جاتا ہے… مگر معلوم
نہیں … ہمارا نفس امّارہ … کتے سے کب انسان بنے گا… آقا صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں… میں تمہاری شفاعت کروں
گا… تمہیں جنت میں لے جانے تک … کھڑا رہوں گا… سجدے میں گروں گا… امتی امتی پکاروں
گا… ادھرہم ہیں کہ… آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے وفاداری کا ذرا بھی پاس نہیں… نہ
نماز، نہ روزہ… نہ جہاد … نہ حیا … نہ پردہ… نہ ڈاڑھی… حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہو تو … ڈاڑھی رکھنے میں بھلا
کیا رکاوٹ ہے؟… تمام سنتیںپوری کرنے میں … کیا باک ہے؟… اے امت کے کبیرہ گناہ کرنے
والو!… خوشخبری، خوشخبری، خوشخبری… پیارے آقا… میٹھے آقا… سوہنے آقا… سجن آقا…
محبوب آقا صلی اللہ علیہ وسلم ہماری شفاعت کا وعدہ فرما رہے ہیں…
آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات سچی… آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات پکی… یہ وعدہ ضرور پورا
ہوگا… سور ج مشرق کی جگہ مغرب سے طلوع ہوسکتا ہے… مگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا وعدہ نہیں ٹل سکتا… واہ میرے اللہ واہ… کبیرہ گناہوں والے بھی جنت میں… تیری رضا
ورضوان میں… آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں… حوروں کی حسین اور
خوشبودار بانہوں میں… حضرات صحابہ کرام کے جھرمٹ میں … واہ میرے مالک واہ مزہ آگیا
مزہ… تیرا شکر کہ ہمیں کیسا عظیم نبی دیا… کیسا رؤف ورحیم نبی دیا… کیسا امت کا
درد کھانے والا نبی دیا… یا اللہ تیرا شکر… بار بار شکر… بے انتہا شکر … اوہ مجھے
اپنے مسکراتے ہوئے شہید ساتھی یاد آرہے ہیں… یہاں لوگ ان کی شناختیں ڈھونڈنے… ان
کی تصویریں اٹھائے پھرتے ہیں … مگر وہ بہت اوپر، بہت اوپر… پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت مبارکہ کے سائے میں … دنیا
کے کافروں پر ہنس رہے ہوں گے… ان شاء اللہ
کس کس کا نام لوں…
کس کس کا تذکرہ کروں… وہ چھوٹے کہلاتے تھے… مگر بڑے نکلے… اور جو بڑے کہلاتے ہیں… اللہ پاک ان کو چھوٹا ہونے سے بچائے… آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
شَفَاعَتِیْ
لِاَہْلِ الْکَبَائِرِ مِنْ اُمَّتِیْ
آپ میں سے کوئی
بھی مدینہ پاک جائے… اللہ تعالیٰ سب کو ایمان، غیرت اور ادب کے ساتھ لے
جائے… اللہ معاف فرمائے وہاں جانا کافی نہیں ہے… دو آدمی
آئے تھے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ مبارک تک پھیر لیا تھا… ظالم
ڈاڑھیاں کاٹتے تھے… آپ کو یہ شیطانی عمل بہت ناگوار گزرا… ہاں بھائیو اور بہنو!
صرف وہاں جانا کافی نہیں ہے… ایمان، غیرت، محبت… اور ادب ضروری ہے… وہاں بلالی رنگ
کے کچھ حضرات ہیں… جی ہاں کالے رنگ کے… وہ روضہ اقدس کے اندر جانے کا شرف رکھتے
ہیں… یہ پاکیزہ نسل کے حضرات ہیں بلالی رنگ، سفید لباس اور کمرمیں سبز پٹکا… اللہ اکبر… ایسے خوش بخت کہ اندر جھاڑو تک دے آتے
ہیں… اور وہاں کے… سارے کام نمٹاتے ہیں… مجھے حضرت مفتی محمد جمیل خان صاحب شہیدؒ
کے والد… حضرت الحاج عبدالسمیع صاحبؒ نے بتایا کہ… جامعہ اشرفیہ لاہور کے بانی
حضرت مفتی محمد حسن صاحب نور اللہ مرقدہ نے فرمایا… میں نے… روضہ اقدس کے ان
پاکیزہ خدام کے بزرگ کو زیارت کے لیے ڈھونڈ لیا… ان سے مصافحہ کیا… اور پوچھا کب
سے یہ خدمت سرانجام دے رہے ہیں؟… انہوں نے فرمایا… ساٹھ سال سے روضہ اقدس کے اندر
جھاڑو دے رہا ہوں… مفتی محمد حسن صاحبؒ نے فرمایامیں تیزی سے پیچھے ہٹ کر ان سے
الگ ہوگیا… وہ مجھے اتنے پاکیزہ، مقدس اور مطہر لگے کہ … میں خود کو … گندگی کا
ڈھیر سمجھ کر ان سے دور ہوگیا… ارے وہاں کی خاک کا تو ایک ذرہ… آفتاب وماہتاب کے
ترازو جھکادے اور اس خوش نصیب بزرگ کو ساٹھ سال سے وہ خاک نصیب ہو رہی ہے… یہ قصہ
سن کر مجھے بھی شوق اٹھا کہ … اس خاندان کے کسی فرد کی زیارت کروں… حضرت مفتی محمد
حسن صاحب نور اللہ مرقدہ… بڑے عالم، بزرگ اور صاحب معرفت تھے…
جبکہ… میں تو مدرسہ کا طالب علم تھا… اور مدرسہ کے طالب علم عجیب دیوانے ہوتے ہیں…
پوچھتے پوچھتے کسی نے بتادیا کہ فلاں وقت صفہ کے چبوترے پر بیٹھ کر تلاوت فرماتے
ہیں… میں تاک میں لگ گیا… اور الحمدﷲ ڈھونڈ کر مصافحہ کر آیا… جن ہاتھوں سے روضہ
اقدس میں جھاڑو دیا جاتا تھا… ان ہاتھوں کی لمس مجھے آج تک محسوس ہوتی ہے… یا اللہ اس
کی لاج رکھ کے مجھے آخرت کی شرمندگی سے بچالے… آمین
میں عرض کر رہا
تھا کہ اللہ پاک تمام مسلمانوں کو عموماً… اور القلم پڑھنے
والوں کو خصوصاً… مدینہ پاک لے جائے… ان شاء اللہ آپ
حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس آرامگاہ سے چند گز کے فاصلے
پر خود یہ اعلان پڑھ لیں گے کہ …
شَفَاعَتِیْ
لِاَہْلِ الْکَبَائِرِ مِنْ اُمَّتِیْ
’’میری شفاعت
میری امت کے اہل کبائر کے لیے ہے…‘‘
تو کیا خیال ہے؟…
آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اعلان کے بعد ہم گناہوں سے پکی
سچی توبہ نہ کرلیں؟…
جب ادھر سے اتنا
کرم ہے تو ادھر سے اتنی جفا اچھی تو نہیں لگتی… جب ابر رحمت برس رہا ہے تو ضد اور
ناپاکی کی چھتری اوڑھے رکھنے سے فائدہ؟… آئیے… آج تمام کبیرہ گناہوں سے سچی توبہ
کرلیں… بالکل پکی توبہ… روح کے گناہوں سے توبہ… جسم کے گناہوں سے توبہ… فکر وعقیدے
کے گناہوں سے توبہ… بری صحبت سے توبہ… گھر سے ٹی وی نکال دیں… انٹرنیٹ کا غلط
استعمال چھوڑ دیں… شادی، نکاح کے معاملات درست کرلیں… بیویاں اپنے خاوند کی غیر
مشروط وفادار خادمائیں بن جائیں… خاوند بیویوں کے حقوق ادا کریں… مرد چہرے پر
ڈاڑھی سجالیں… بہنیں آنکھوں میں حیا کا سرمہ ڈال لیں… مدینہ پاک بہت قریب ہے… اس
میں روضہ اقدس سے متصل ریاض الجنۃ کا ’’جنتی قطعہ‘‘ ہے اور اس کے ستون پر آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلان لکھا ہوا ہے…
شَفَاعَتِیْ
لِاَہْلِ الْکَبَائِرِ مِنْ اُمَّتِیْ
پھر دیر کیسی…
آئیے مدینہ پاک کے عشق میں انتہا پسند بن جائیں… پرسوں مجھے ایک منظر … خیالات کی
دنیا میں اٹھا کر لے گیا… حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سورج بن کر آئے، صحابہ کرام ان کے گرد
ستارے… امت کے شہداء اور غازی اس بزم ومجلس کے دولہے… واہ کیسا منظر ہوگا، کیسا
منظر؟… شہیدوں کے خون سے نور کی لائٹیں برس رہی ہوں گی… تب خدانخواستہ میں اور آپ
اپنے گناہوں کے پسینے میں غوطے نہ کھا رہے ہوں… پھر خود سوچیں شہادت کے سوا اور
کون سی راہ ہے… جس میں… اس قدر سلامتی اور عزت ہے؟… مجھے پتا نہیں کون کس ملک میں
گیا ہے؟… کس نے کس سے اتفاقی مصافحہ کیا ہے؟… ہمارے گلے کاٹنے کیلئے کیا مکر ہوئے
ہیں؟… اسلام اور یہودیت کے کون سے رشتے تلاش کر لیے گئے ہیں؟… مجھے کچھ پتا نہیں…
ایسے بدبودار ماحول میں… میرا رب مجھے اور القلم پڑھنے والوں کو … خیالات ہی میں
سہی مدینہ پاک کی خوشبودار فضا میں لے گیا… اور ریاض الجنہ کی سیر کرادی اور آقا
صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خوشبو دار حدیث پاک سنادی… پھر
کیوں نہ ہم… اپنے رب کی توحید وعظمت اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں انتہا پسند بنیں… اسلام
زندہ باد…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے آخری نبی … حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسا زبردست بیج بو گئے… جس کے
سامنے آج سارے عالم کفر… کی قوت، طاقت اور ٹیکنالوجی فیل اور ناکام ہوچکی ہے… نائن
الیون کو پورے چار سال بیت گئے… ۷ اکتوبر بھی آنے والا ہے… کہاں گئے
امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد؟… کہاں ہیں شیخ اسامہ بن لادن؟… کیا کسی نے کبھی
سوچا کہ یہ سب کچھ کیا ہے؟… اتنی بڑی طاقت اور اتنی جدید ٹیکنالوجی… چار سال سے
کیوں خاک چاٹ رہی ہے… رب کعبہ کی قسم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو عبرتناک شکست دی ہے…
ہاں میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی ترتیب نے ان کو کھوکھلا کر دیا ہے…
ورنہ… ڈھائی کروڑ ڈالر کا انعام کچھ معمولی انعام نہیں ہے… کیلکولیٹر پر اسے ساٹھ
سے ضرب دیں… کتنے سارے روپے بنتے ہیں… آج لوگ پچاس ہزار کا گردہ بیچ دیتے ہیں… چند
ہزار میں عصمتیں فروخت ہورہی ہیں… پھر… ملا عمر کو پناہ دینے والے… ڈھائی کروڑ
ڈالر… کئی ارب روپے لیکر ان کو کیوں نہیں بیچ دیتے؟… کیا اس غریب مولوی نے… اپنے
’’انصار‘‘ کو اس سے زیادہ رقم دے رکھی ہے… نہیں رب کعبہ کی قسم نہیں… اس نے انہیں
دعاء کے سوا کچھ زیادہ نہیں دیا ہوگا… پھر کیوں وہ … اپنے بیٹے اور بیٹیاں اپنے
گھر اور کنبے خطرے میں ڈال کر … اس کے گرد اپنے جسموں اور عزتوں کو ڈھال بنائے
بیٹھے ہیں… شیخ اسامہ غریب نے… اپنے میزبانوں اور انصار کو کیا دیا ہوگا؟… کیا بچا
تھا اس مہاجر کے پاس کسی کو کچھ دینے کے لئے؟… ہاں رات کے آخری حصے کے دو ٹپ ٹپ
برستے آنسو… وہ … انہیں ضرور دیتا ہوگا… کیوں نہ دے… چار سال سے ان گمنام
’’انصار‘‘ نے اس پر … دنیا کی سپر پاور کا سایہ تک نہیں پڑنے دیا… امریکا ہر دن
انعام کی رقم بڑھاتا جارہا ہے… مگر… حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے… نصرت کرنے والوں … اور پناہ دینے
والوں کیلئے… چودہ سو سال پہلے جس ’’انعام‘‘ کا اعلان کردیا ہے … اس نے… ڈالروں کی
کشش کو پیشاب سے زیادہ ناپاک بنادیا ہے… ڈھائی کروڑ ڈالر کیا… ڈھائی ٹریلین ڈالر
کا اعلان بھی کردیا جائے… جنہوں نے… مدینہ پاک کے … معاہدہ مؤاخات کی خوشبو سونگھی
ہے… وہ … ان ڈالروں پر تھوکنا بھی اپنی توہین سمجھتے ہیں… اس موقع پر مجھے… عجیب
عجیب منظر یاد آرہے ہیں… ہائے میں قربان عقبہ کی اس گھاٹی پر… جس میں… ہجرت ونصرت
کا پہلا معاہدہ ہوا تھا… اللہ تعالیٰ موقع دے تو سیرت اور تاریخ کی کتابوں
میں… اس تاریخی دن کو ڈھونڈیں… اور پھر پڑھیں اور سمجھیں… تب معلوم ہوگا کہ مسلمان
قوم اتنی بہادر اور مست کیوں ہے؟… عقبہ کے اس واقعہ کو چودہ سو سال سے زائد بیت
گئے مگر اس کی خوشبو اور تاثیر ابھی تک جوں کی توں ہے… ہمارے ایک کمانڈر دوست
مقبوضہ کشمیر کے ایک گھر میں پناہ لیے بیٹھے تھے… یہ واقعہ … چار سو سال پرانا
نہیں بلکہ … ابھی اسی زمانے کا ہے… جی ہاں یہ اسی عزت فروش، غیرت سوز… غافل دور کا
واقعہ ہے… ہالی وڈ، بالی وڈ… اور ڈش اور کیبل کے زمانے کا واقعہ ہے… گھر کی بزرگ
خاتون… مہمان مجاہد کیلئے کھانا لگا رہی تھی… وہ بہت خوش تھی، اس کے گھرمیں آج…
ہجرت وجہاد کا دیپ روشن تھا… اور وہ خود نصرت کی خوشبو مہکائے جارہی تھی… مہمان کے
ہاتھ دھلائے گئے… کھانا پیش کیا گیا… مگر اسی دوران انڈین آرمی آ پہنچی… پورا
علاقہ کریک ڈاؤن کی زد میں آگیا… مخبری بہت پکی تھی… خاتون نے مہمان مجاہد کو گھر
میں بنائے گئے خفیہ مقام میں چھپادیا… آرمی والے سیدھے اسی گھر میں آئے… خوب
تلاشی… بھرپور تشدد… مگر کچھ ہاتھ نہ آیا… خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا مگر
وہ ڈٹی رہی… آرمی کی ’’اطلاع‘‘ پکی تھی… چند سکّوں پر بکنے والوں کی بھی کمی نہیں
ہے… یہ لوگ مسلمانوں کے گھروں میں پیدا تو ہوگئے… مگر ہوتے یہ لکشمی کے پجاری ہیں…
مال مال … اور صرف مال… آرمی والوں نے خاتون کے بیٹے کو سامنے کھڑا کرکے کہا…
مجاہد کا پتا دو ورنہ… اسے گولی ماردیں گے… خاتون نے کہا… یہاں کوئی مجاہد نہیں…
پھر ایک بندوق نے آگ اگلی… خاتون کا بیٹا خاک وخون میں تڑپنے لگا… وہ بیٹا… جسے نو
ماہ پیٹ میں اٹھایا… دوسال دودھ پلایا… ہزاروں لاڈ… اور لاکھوں نازوں سے جوان کیا…
وہ تڑپ رہا تھا… گولیاں برستی رہیں… وہ ٹھنڈا ہوگیا… کوئی ماں… ذرا دیر کیلئے اس
منظر کا تصور تو کرکے دیکھے… یہ افسانہ نہیں حقیقت ہے … بچہ شہید ہوگیا… آرمی چلی
گئی… کریک ڈاؤن ختم ہوگیا… خاتون نے خفیہ مقام سے ’’مہمان مجاہد‘‘ کو نکالا… اور
کہا بیٹا! آرمی چلی گئی ہے کھانا کھالو… مجاہد نے اس کے بیٹے کی لاش دیکھی… واقعہ
پوچھا… عرض کیا ماں! میرا بتادیتی اور اسے بچالیتی… خاتون نے کہا… بیٹا!… اگر میرے
پانچ بیٹے ہوتے اور ایک کے بعد دوسرا گرایا جاتا تب بھی نہ بتاتی… یہ سب کچھ کیا
ہے؟… کوڑھ مغز دانشور سمجھتے ہیں کہ… لوگ مال کی خاطر… پناہ دیتے ہیں… اور نصرت
کرتے ہیں… حالانکہ … اگر ایسا ہوتا تو امریکا جیت چکا ہوتا… اس کے پاس بہت مال ہے…
انڈیا کشمیر کو مجاہدین سے خالی کرا چکا ہوتا… وہ مجاہدین سے بہت زیادہ مالدار ہے…
ارے یہ ’’ہجرت ونصرت‘‘ کا وہ بیج ہے جو میرے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے بویا ہے… اسی نے مسلمانوں کو فاتح
بنایا ہے… اور اسی نے انہیں دیوانہ اور مستانہ کردیا ہے… پرسوں کوئی بتا رہا تھا
کہ قندھار کی ایک خاتون کا ایک بیٹا… حال ہی میں شہید ہوا ہے… اس نے یہ بیٹا
مجاہدین کی خدمت کیلئے وقف کر رکھا تھا… اس کی شہادت کے بعد معلوم ہوا کہ … اس
خاتون کے تین سگے بھائی… اور تین حقیقی بیٹے شہید ہوچکے ہیں… بم برس رہے ہیں…
لاشوں پر لاشیں گر رہی ہیں … کچے مکانات پر بلڈوزر دندنا رہے ہیں… وردی اور اسٹارز
کے بھوکے بھیڑئیے… آگ اور بارود کی بارش کر رہے ہیں… مگر… ہجرت اور نصرت کی شمع جل
رہی ہے… مسکرا رہی ہے… اور خوب مہک رہی ہے… کیا کیا سناؤں؟… کیا کیا بتاؤں؟… ایسا
دلسوز موضوع ہے کہ کلیجہ سے بھی آنسو ٹپکنے لگتے ہیں کہ… مسلمانوں نے اپنے نبی صلی
اللہ علیہ وسلم کے وعدے کی کیسی لاج رکھی… اور کیسی
کیسی قربانیاں دے کر ’’ہجرت اور نصرت‘‘ کے عمل کو زندہ رکھا… کیا چند ہزار
مجاہدین… سات لاکھ انڈین آرمی کے دانت کھٹے کر سکتے تھے؟… اگر ہجرت اور نصرت نہ
ہوتی… کیا امریکا کی دجالی ٹیکنالوجی … اور طاقت کے سامنے چند ہزار طالبان چار سال
تک سیسہ پلائی دیوار بن سکتے تھے؟… اسی لیے تو آج سارا زور … ہجرت اور نصرت کے
دروازے بند کرنے پر ہے… مگر بند ہونا تو دور کی بات … یہ عمل پھیلتا ہی جارہا ہے…
عراق پر چاروں طرف سے مجاہدین کی یلغار ہے… اردگرد کا کوئی ملک ایسا نہیں… جہاں سے
… دیوانے نہ آرہے ہوں… ان آنے والے مجاہدین ومہاجرین کو راستہ بھر… اور پھر عراق
پہنچ کر… نصرت کی طاقت اپنی آغوش میں لے لیتی ہے… ہجرت… ہمت کا کام ہے… اور نصرت…
جرأت کا کام ہے… مسلمانوں میں جب بھی یہ دونوں ترقی پاتے ہیں تو اسلام کا پھریرا
ہر سو لہرانے لگتا ہے… افغانستان پر بھی چاروں طرف سے مجاہدین کی یلغار ہے… اور
شمال کے کچھ علاقوں کو چھوڑ کر … ہر طرف نصرت کے دروازے کھلے ہیں… دراندازی کا
الزام صرف پاکستان پر اس لیے لگتا ہے کہ… یہاں کی حکومت… اس وقت ’’بے وقار‘‘ لوگوں
کے ہاتھ میں ہے… ورنہ … جہاد کی تحریک… اور ہجرت ونصرت کی خوشبو … اس وقت پورے
عالم میں پھیل چکی ہے… آج ہمارے ذمے لازم ہے کہ ہم … ان ایام کو یاد کریں… جب حضور
پاک صلی اللہ علیہ وسلم … کئی سال تک … اپنے لیے ’’انصار‘‘
ڈھونڈتے پھرتے تھے… حج کے موسم میں آپ ایک ایک قبیلے کے پاس جاتے… بڑے بڑے بازاروں
کا رخ کرتے… اور اعلان فرماتے اے لوگو! ہے کوئی ایسا آدمی جو مجھے اپنی قوم میں لے
جائے؟ کیونکہ قریش نے مجھے اپنے رب کا کلام پہنچانے سے روک دیا ہے… لیکن کوئی بھی
آپ کی بات نہ مانتا تھا… ہر طرف … ان کی نہ سنو… ان کی نہ مانو کا شور تھا… گالیاں
اور پتھر تھے… اور منفی پروپیگنڈہ… اور وہ بھی عرب گیر… چنانچہ یمن اور مصر تک سے
جب کوئی حج کے لئے مکہ کا رخ کرتا تو قوم کے دانشور اسے سمجھادیتے کہ… وہاں نعوذ ب
اللہ … ایک دیوانہ پھرتا ہے… اس کی نہ سننا… اس کی نہ ماننا… دس سال تک میرے آقا…
منیٰ کی گھاٹیوں میں… عکاظ اور مجنہ کے بازاروں میں… ان خوش نصیبوں کو ڈھونڈتے
رہے… جن کی قسمت میں… ’’انصار‘‘ بننا لکھا تھا… آپ ان سے فرماتے کون مجھے ٹھکانا
دے گا؟… اور کون میری مدد کرے گا؟… تاکہ … میں اپنے رب کا پیغام پہنچا سکوں… اور
جو ایسا کرے گا… اسے اس کے بدلہ میں جنت ملے گی… ہاں بس جنت کا وعدہ تھا… اور کسی
چیز کا نہیں… مگر… ’’جنت‘‘ کا وعدہ کوئی معمولی بات ہے؟… ارے یہی تو ہے اصل وعدہ …
ایسا وعدہ … جس کی خوشبو کے سامنے … آج کے دیوانوں کو … ڈالر سڑے ہوئے کتے سے
زیادہ بدبودار محسوس ہوتے ہیں… دس سال تک کوئی نہ ملا… قبیلہ ہمدان کے ایک آدمی نے
وعدہ کیا… اور بتایا کہ ہمارے ہاں حفاظت کا انتظام ہے… وہاں تشریف لے چلیں… مگر
پھر… قوم سے مشورہ کرنے گیا… اور واپس نہ آیا… ادھر… مدینہ منورہ کے لئے… عرش کے
اوپر فیصلہ ہوا… انصار مدینہ نے ہاتھوں میں ہاتھ دے دئیے… ساتھ لے جانے کے لئے…
راضی ہوگئے… حفاظت کے لیے دل وجان سے قسمیں کھانے لگے… یہ لوگ پہلے تھوڑے تھوڑے
کرکے مسلمان ہوئے… جب … مدینہ منورہ میں ان کی جماعت تیار ہوگئی تو انہوں نے مل کر
مشورہ کیا کہ… کب تک ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی چھوڑے رکھیں کہ آپ یونہی
لوگوں میں پھرتے رہیں… اور مکہ کے پہاڑوں میں آپ کو دھتکارا جاتا رہے… اور آپ کو
ڈرایا جاتا رہے… چنانچہ ستر۷۰ خوش نصیب افراد کا وفد… آپ کو لے
جانے کیلئے … عقبہ کی گھاٹی میں حاضر ہوا… اور پھر اگلے سال تشریف لے جانا طے ہوا…
مدینہ منورہ والے اپنے لیے… پورے عرب کو دشمن بنارہے تھے… خود کو جنگوں… اور حملوں
کا ہدف بنا رہے تھے… مگر اس سب کے بدلے… انہیں کیا ملے گا… جواب دیا گیا… جنت…
انہیں یہ وعدہ ایسا بھایا… اور ایسا سمجھ میں آیاکہ اس پر اتنے پکے ہوگئے کہ کبھی
نہیں بھلاتے تھے… چنانچہ ایک بار… قربانیوں کی تابندہ تاریخ رقم کرنے والے ان
انصار نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا… آپ نے ہمارے ذمہ اپنے کئی
کام لگائے تھے… اور ہماری یہ بات آپ نے اپنے ذمہ لی تھی کہ ہمیں (اس کے بدلہ میں)
جنت ملے گی… تو جو کام آپ نے ہمارے ذمہ
لگائے تھے وہ ہم نے سارے کردئیے… اب ہم چاہتے ہیں کہ ہماری چیز ہمیں مل جائے… حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جنت تمہیں ضرور ملے گی…
انصار راضی ہوئے
تو ہجرت کا دروازہ کھلا… اور اسلام کے دنیا بھرمیں پھیلنے کا انتظام ہوگیا… ہجرت
کرنے والوں نے قربانی کی حد کردی… مگر… نصرت کرنے والوں نے بھی وہ کیا… جو کوئی
نہیں کرسکتا تھا… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے … ایک مہاجر… اور ایک انصاری کو
بھائی بھائی بنادیا… وہ مؤاخات… اور بھائی چارہ… آج … ملا محمد عمر کی حفاظت پر
مامور ہے… اور وہی… مواخات اور بھائی چارہ… ساری دنیا کے کفر سے لڑ رہا ہے… آقا
صلی اللہ علیہ وسلم نے … ہجرت فرمائی … اور ہجرت جیسے
کڑوے، مشکل… اور مصیبت والے کام کو ایسا میٹھا بنادیا کہ… پورے ملک کی حکومت
چھوڑنا بھی آسان… اور ہر طرح… کی راحت قربان کرنا بھی آسان… امریکا نے خدائی کا
دعویٰ کرکے… افغانستان پر حملہ کیا… طالبان نے ڈٹ کر مقابلہ کیا… پھر ہجرت کا
اشارہ ملا… وہ … ہجرت میں گم ہوکر… نصرت کی گود میں جا بیٹھے… اور جہاد کے شعلے
دشمن کو جلانے لگے… ہجرت بھی رحمت… اور نصرت بھی رحمت… انصار مدینہ نے … مہاجرین
کو سر آنکھوں پر بٹھایا… انہیں وہ عزت دی جو اپنے ہم وطنوں کو نہیں دیتے تھے…
علاقہ پرستی… اور قوم پرستی کا زہر مسلمانوں میں اسی لیے تو پھیلایا جاتا ہے تاکہ…
ہجرت ونصرت کے دروازے بند ہوجائیں… مہاجر کا لفظ گالی بن جائے… اور ہر کوئی کفر کی
غلامی پر مجبور ہوجائے… اور مسلمانوں کو ایک دوسرے سے کاٹ کر… گاجر مولی کی طرح
کاٹا جائے… حضرات انصار مدینہ نے… علاقہ پرستی اور قوم پرستی کی جڑ کو کاٹ دیا…
اور ’’اسلام‘‘ ہی کو اصل رشتہ اور تعلق قرار دیا… حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ جب مدینہ آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں اور حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ میں بھائی چارہ کرادیا… حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے کہا اے میرے بھائی! میں مدینہ میں سب سے
زیادہ مال والا ہوں… تم دیکھ کر میرا آدھا مال لے لو… اور میری دو بیویاں ہیں تم
دیکھ لو ان میں سے جو تمہیں پسندہو میں اسے (تمہارے لیے) طلاق دے دوں گا… تو حضرت
عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا تمہارے گھروالوں میں اور تمہارے مال
میں اللہ برکت عطا فرمائے… مجھے تو بازار کا راستہ بتادو…
مدینہ منورہ کے باغات کے بارے میں بھی انصار نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا انہیں ہمارے اور ہمارے
مہاجر بھائیوں میں… آدھا آدھا بانٹ دیجئے… مگر… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ… چونکہ…
مہاجرین حضرات کھیتی باڑی نہیں جانتے… اس لیے باغات کے مالک تو انصار ہیں… اور وہی
محنت کریں… البتہ جب پھل اترے تو آدھا آدھا تقسیم کیا جائے… یہ تقسیم فتح خیبر تک
اس طرح جاری رہی کہ … حضرات انصار خاص طریقے سے زیادہ کھجوریں اپنے مہاجر بھائیوں
کو دیتے… اور خود کم حصہ لیتے… جب بحرین فتح ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا… تاکہ بحرین کی
زمین ان میں بانٹ دیں… تو انصار نے عرض کیا… ہم بحرین کی زمین تب لیں گے جب آپ
اتنی ہی زمین ہمارے مہاجر بھائیوں کو بھی دیں… اس طرح کے واقعات سے تاریخ بھری پڑی
ہے… پھر انصار پر مشکل دور آیا… جب … ان کے بعض رشتہ دار منافق بن کر ابھرے… علاقہ
پرستی کے نعرے لگانے لگے… اور یہودیوں کے ساتھ مل کر… مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں
لگ گئے… انصار نے اس مشکل کو بھی… پاؤں کے نیچے رکھا… اور تلوار نکال کر … اعلان
کردیا کہ… اصل رشتہ اسلام کا ہے… پھر… سب سے مشکل دور آیا کہ… جہاد کا اعلان ہوگیا…
ہجرت اور نصرت کے معاہدے میں… باہر نکل کر لڑنے کا ذکر نہیں تھا… مگر اب تو … خون
بھی ایک ہوچکا تھا… غزوہ بدر کے موقع پر… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے پوچھا تو انہوں نے… ایسی
جانبازی کا اعلان کیا… اور ایسی تاریخی تقریریں فرمائیں کہ… زمین وآسمان بھی جھوم
اٹھے… کس کس منظر کو یاد کیا جائے… ہجرت اور نصرت کی خوشبو کے کس پہلو کو اجاگر
کیا جائے… آج میں جو کچھ لکھ رہا ہوں… یہ تو محض … اشارہ ہے… ہجرت اور نصرت کے اصل
فضائل تو قرآن وسنت میں ہیں… کبھی… اللہ تعالیٰ نے تفسیر وحدیث کی کتابوں کے درمیان بیٹھ
کر لکھنے کا موقع دیا تو پھر … عرض کروں گا کہ… ہجرت کیا ہے؟… اورنصرت کیا ہے؟… آج
عالم کفر ونفاق… مسلمانوں سے ہجرت اور نصرت کی ڈھال چھیننا چاہتا ہے… مگر اسے
الحمدﷲ ناکامی ہو رہی ہے… ہجرت بہت مشکل سہی… دل لرزتا ہے… گھر بار چھوڑنا… وطن
چھوڑنا… والدین … اور بال بچوں کو چھوڑنا… مگر… کس کی خاطر… اللہ پاک کی خاطر… جب اللہ پاک کی خاطر ہے تو پھر… آسان ہوجاتا ہے… ایک
نہیں لاکھ جانیں قربان کرنا… مشکل نہیں رہتا… نصرت مشکل ہے… غیروں کو اپنا بنانا…
اپنے گھر بار اور عزت وآبرو کو خطرے میں ڈالنا… مگر کس کی خاطر… اللہ پاک کی خاطر… تب تو یہ بھی آسان ہوجاتا ہے… ایک
بوڑھی اماں مصلے پر بیٹھ کر… رو رہی ہے… یا اللہ تیرا ایک مجاہد… میرے گھر میں ہے… یا اللہ وہ
تیرا بندہ … اور میرا بیٹا ہے… یا اللہ تیری خاطر دربدر کے دھکے کھاتا پھرتا ہے… یا اللہ تیری خاطر… ماں باپ بیوی بچوں کو چھوڑ آیا ہے…
یا اللہ تیرے دشمن اسے مارنا چاہتے ہیں… اسے پکڑنا چاہتے
ہیں… یا اللہ میں دامن پھیلا رہی ہوں… اپنا پھٹا ہوا دوپٹہ
تیرے حضور پھیلائے بیٹھی ہوں… یا اللہ اس کی حفاظت فرما… اس کو… اس کے اعلیٰ اور
پاکیزہ مشن میں کامیاب فرما… یا اللہ تجھے قربانی چاہئے تو میرا حقیقی بیٹا حاضر ہے…
وہ لے لے … مگر میرے مہمان بیٹے کو تو بخار بھی نہ ہو… گرتے آنسو صاف کرکے… آگ
جلاتی ہے… روٹی پکاتی ہے چائے ابالتی ہے… بسم اللہ پڑھ کر … مہمان کو بھجواتی ہے… اور پھر قرآن پاک
لیکر تلاوت اور دعاء میں لگ جاتی ہے… ہاں یہ مسلمان ماں ہے… یہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا… اور اماں فاطمہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی ہے… یہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری امتی ہے… مگر… دوسری طرف …
کچھ لوگ چند نوٹوں کی خاطر… تھوڑے سے عہدوں کی خاطر… یا ظالموں کے ڈر سے… مسلمانوں
کو پکڑ کر… کافروں کے حوالے کر رہے ہیں… اور کچھ لوگ پناہ دینے والوں کے مکانات
گرانے جارہے ہیں… یہ کون ہیں؟… میں انہیں نہیں پہچانتا… ہاں ہاں… میں نہیں پہچان
سکتا کہ یہ کون لوگ ہیں؟؟؟……
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے … تجھے کتنا مبارک … کتنا پیارا، کتنا
عظیم … اور کتنا مقدس بنایا ہے… اے رمضان… ساری دنیا کے مسلمان دو مہینے سے… تیرے
آنے کی تیاری… اور دعاء کر رہے ہیں… کتنے مجاہد اور کتنے اللہ والے … تیرے استقبال کیلئے بے چین ہیں… اورتیرے
انتظار کی ایک ایک گھڑی… گن گن کر گزار رہے ہیں… ابھی ایک دوسرے ملک سے… ایک دوست
نے پیغام بھیجا ہے کہ… ہمارے ہاں منگل کے دن پہلے روزے کا امکان ہے… آپ رمضان
المبارک کے خصوصی معمولات مجھے بتادیجئے… اے رمضان دیکھ… مسلمان کتنی بے چینی سے
تیرا انتظار کر رہے ہیں… ہمارے ہاں پاکستان میں آج ۲۷ شعبان کی تاریخ
ہے… کچھ لوگ زندہ رہ کر تجھ سے گلے ملیں گے… اور کچھ ان اگلے دو تین دنوں میں…
تیرے انتظار کی مٹھاس اپنے کفن میں لپیٹے قبروں میں جا سوئیں گے… اے رمضان! تو بہت
عجیب ہے… ہمارے آقا مدنی ان پر میں اور میرا سب کچھ قربان… صلی اللہ علیہ وسلم… رجب کا چاند دیکھتے ہی تجھے یاد کرنا
شروع کردیتے تھے… اے اللہ ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما… اور
ہمیں رمضان تک پہنچا… اے رمضان! رب تعالیٰ نے تیری جھولی کو … سعادتوں سے بھردیا… اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک جیسی عظیم الشان کتاب… تیری
ایک رات میں… لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر اتار دی… واہ رمضان واہ… قرآن پاک جیسا
تحفہ تیری پاکیزہ رات میں… اس امت مرحومہ کو ملا… اے رمضان! … تیرا تو نام بھی
قرآن پاک میں مذکور ہے… اس لیے تو بھی مبارک اور تیرا نام بھی مبارک… اے رمضان!
تیری جھولی بھری ہوئی ہے… تو رحمت، مغفرت، جہنم سے نجات کا مہینہ ہے… تو سخاوت اور
غمخواری کا مہینہ ہے… اے رمضان! تیرے دن… پاک اور تیری راتیں منور اور معطر ہیں…
اے رمضان! تو پھر آرہا ہے… پوری شان کے ساتھ … پوری آن کے ساتھ… معلوم نہیں اس بار
تو کتنے گناہگاروں کی پاکی کا ذریعہ بنے گا…
ہاں رمضان ہاں… ہمیں پتہ ہے… تیری راتوں کے نور نے بڑے بڑے شرابی، پاپی،
زانی، ڈاکو… اور چور… پاک کرکے جنتی بنادئیے… ہاں رمضان ہمیں علم ہے… تو بہت سخی
ہے… تجھے رب نے بہت طاقت دی ہے… حضرت جبرئیل علیہ السلام… جو انبیاء علیہم السلام
پر اترا کرتے تھے … اے رمضان … وہ تیری ایک رات میں… امت کے ان لوگوں کے پاس آتے
ہیں… جو … بلک رہے ہوتے ہیں… رو رو کر رب کو منا رہے ہوتے ہیں… جھوم جھوم کر تلاوت
کر رہے ہوتے ہیں… اور تلواریں اٹھائے… دشمنوںکا مقابلہ کر رہے ہوتے ہیں… اے رمضان…
ہاں یہ حقیقت ہے تیری… شب قدر میں… روح القدس فرشتوں کو لیکر … زمین پر آجاتے ہیں
… اور خوش نصیب لوگوں کے لئے سلامتی کی دعاء مانگتے ہیں… اے رمضان ہمیں معلوم ہے
تیرے آتے ہی جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں… یا اللہ ہمیں بھی جنت عطاء فرما… اور تیرے آتے ہی جہنم
کے دروازے بند ہوجاتے ہیں… یا اللہ ہمیں جہنم سے بچا… آج ہر طرف تیرا انتظار ہے…
ایک ایک گھڑی انتظار ہے… تو آئے گا… اور ضرور آئے گا… ہمیں پتہ نہیں کہ ہم ہوں گے
یا نہیں … اگر ہم ہوئے تو تجھے دل کھول کر اپنے غم اور دکھڑے سنائیںگے… کیونکہ اس
بار … ہمارے ہاں موسم بہت عجیب ہے… اے رمضان جب ۷ اکتوبر کی رات
آئے گی… ہم تجھے گلے لگا کر امارت اسلامیہ افغانستان… کا رونا روئیں گے… اور تجھے
بتائیں گے کہ چار سال پہلے… اسی تاریخ کو… کتنا بڑا ظلم ڈھایا گیا… اور وہ پیاری
امارت اسلامیہ بموں کی زد میں آگئی… اور وہ پیارا امیر المؤمنین کہیں گم ہوگیا… آج
آنکھیں اسے دیکھنے کو ترستی ہیں… اور اس کی ایک ایک ادا کو یاد کرتی ہیں…
اے رمضان! ہم تجھے
سب کچھ بتادیں گے کہ… اپنوں نے کیا کیا؟… اور غیروں نے کیا کیا؟ اور پھر ہم تیری
مبارک گھڑیوں کا فائدہ اٹھا کر… رب سے ۷ اکتوبر کی نحوست ختم ہونے کی دعاء
کریں گے… اسلام کے سچے فدائی امیر المؤمنین کی سلامتی اور حفاظت کیلئے گڑ گڑا ئیں
گے… اور اللہ تعالیٰ سے پھر پوری دنیا کیلئے خلافت اسلامیہ
مانگیں گے…
ہمیں یقین ہے اے
رمضان! تو ہمارا دکھڑا ضرور سنے گا… اور یہ آہیں اور نالے ضرور عرش تک پہنچیں گے…
اور ان شاء اللہ … تیری برکت سے حالات
تبدیلی کی کروٹ لیں گے… اے رمضان! امیر المومنین تک… افطاری پہنچ جائے… تیرے راستے
میں دربدر کی ٹھوکریں کھانے والوں کو تراویح پڑھنے کیلئے پر امن جگہ مل جائے… اور اللہ کے
مجاہدین تک سحری اور افطاری پہنچ جائے… ہم ابھی سے اس کی دعاء کر رہے ہیں… شہداء
کرام کے گھروں کا چولہا ٹھنڈا نہ ہو… اسیران اسلام کی سلاخیں ان پر تنگ نہ ہوں… اے
رمضان ابھی سے ہم یہ سب کچھ مانگ رہے ہیں… کیا کریں… مانگ ہی تو سکتے ہیں… ہاں ہاں
فلوجہ کے خون کا حساب مل جائے… مانگ ہی تو سکتے ہیں… ہاں قندوز کے ہلاکت خیز قتل
عام کا حساب مل جائے… ہم مانگ ہی تو سکتے ہیں… ہاں غازی بابا کی روح کو… سری نگر
کی فتح سے چین ملے… ہاں سجاد شہید کے جسم پر پڑنے والے نیلے نشانات کا بدلہ ملے…
ہم مانگ ہی تو سکتے ہیں… اے رمضان! ہمیں معلوم ہے تو برکت بن کر آرہا ہے… تو ہمارے
دردوں کی دوا بن کر آرہاہے… جلدی آجا… اے برکت والے مہینے… سب تیرا انتظار کر رہے
ہیں… کچھ دیوانے تو یوم بدر کی سنت کو زندہ کرنے کیلئے بے قرار ہیں… اور کچھ تیرے
سر اور پاؤں چومنے کیلئے تڑپ رہے ہیں…
اے رمضان! جب بارہ
اکتوبر کی رات آئے گی ہم تجھ کو موجودہ حکمرانوں کا شکوہ سنائیں گے… ہاں… ان
ظالموں کا جن کو نہ دین اچھا لگتا ہے نہ جہاد… ہاں… ان کا… جن سے … اللہ کی
قسم ہم نے صرف اسلام کی خاطر… اپنے ہاتھ روکے رکھے … مگر انہوں نے تو حد کردی…
انہوں نے… ہمیں بے گھر… اور بے در کردیا… انہوں نے علماء کرام کے خون کو سستا پانی
بنادیا… انہوں نے … مجاہدین کے گھروں اور چادر اور چار دیواری کی حرمت کو پامال
کیا… انہوں نے ملک کو بے حیائی سے بھردیا… ہاں بارہ اکتوبر کی ایک رات یہ آئے تھے
تو قوم نے خوشیاں منائی تھیں… مگر کون جانتا تھا کہ… یہ ظلم وزیادتی … میں … تمام
حدود پھلانگ جائیں گے۔
اے رمضان! فیصلہ
تو رب نے کرنا ہے ہم تو تیری راتوں میں… سارا دکھڑا سنادیں گے… کتنے گھر لٹ گئے؟…
کتنے سر کٹ گئے؟… کیا کچھ چھن گیا؟… مگر ابھی تک ان کا دل نہیں بھرا … یہ دین کا …
اور ہمارا نام ونشان تک مٹانا چاہتے ہیں… اور ظلم وگناہ میں بڑھتے ہی جارہے ہیں… اور
اب تو بہت خوش ہیں کہ… ہماری طاقت… ناقابل تسخیر ہے… اے رمضان تو تو… غزوہ بدر کا
عینی گواہ ہے… تونے ہلاکو اور چنگیز کا دور بھی دیکھا ہے… تجھے بہت کچھ یاد ہے…
اونچے برج کیسے گرتے ہیں… اور متکبر لوگوں کا غرور کیسے خاک میں ملتا ہے… ہاں ہم
تجھ سے ان شاء اللہ … ساری باتیں کریں گے…
اے رمضان! امیر المؤمنین تک ہمارا سلام پہنچادینا… اے رمضان!… ہمارے بوڑھے والدین
تک… ہمارا سلام پہنچادینا… جنہیں دیکھے ہوئے عرصہ بیت گیا… آنکھیں ان کی زیارت
کیلئے بے تاب … اور ہاتھ ان کی خدمت کیلئے بے چین ہیں… اے رمضان!… دنیا بھر کے غازیوں
تک ہمارا سلام پہنچادینا… اور انہیں بتا دینا کہ… وہ اکیلے نہیں ہیں… اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے… اور ہم مسلمانوں نے اپنے
ایمانی … اور قرآنی نظریات پر سمجھوتہ نہیں کیا… اے رمضان… جودھ پور (انڈیا) کی
گندی جیل سے لیکر … گوانٹا نامو بے (طالبان کے لئے امریکہ کی خصوصی جیل) تک کے …
اسیروں کو ہمارا سلام پہنچادینا… اور انہیں بتادینا کہ… اسلام اور مسلمانوں کو ان
پر فخر ہے… اے رمضان… میں تجھے ضرور سناؤں گا کہ… جودھ پور کی گندی جیل میں… اللہ کے
ولی… مولانا ابوجندل اور ان کے رفقاء پر کیا بیت رہی ہے؟… ہاں میں پرسوں ہی تو ان
کا خط پڑھ رہا تھا… وہ کون سا ظلم ہے… جو ان پر نہیں ڈھایا جارہا… اور اِدھر…
ہندوستان کے جاسوس تک کو معافی دی جارہی ہے… اے رمضان! تجھے پتہ ہے یہ اللہ کے
راستے کے قیدی تجھ سے کتنا پیار کرتے ہیں… اور کتنا قرآن پڑھتے ہیں… میں نے خود
انہیں روزانہ ایک ایک ختم کرتے دیکھا ہے… اے رمضان! اس بار تو کچھ ایسا ہو کہ…
سلاخیں ٹوٹ جائیں… اور شہیدوں کے خون کے قرضے اتر جائیں… میرے اللہ پاک سے کیا بعید ہے… اے رمضان! ہمیں معلوم ہے یہ
سارے حالات ہمارے اعمال کا نتیجہ ہیں… مگر تو تو بخشش اور رحمت کا مہینہ ہے… ہاں…
رمضان تو آرہا ہے… تیرے پیارے قدموں کی آہٹ سنائی دے رہی ہے… مسجدوں میں تیرا
تذکرہ چل پڑا ہے… عمرے کرنے والوں نے احرام اٹھالیے ہیں جہاد کے مزے لوٹنے والوں
نے گھر والوں کو الوداع کہہ دیا ہے… فدائیوں کی آنکھوں میں… حور عین کی چمک اتر
آئی ہے… اور قرآن پڑھنے والے… منٹ منٹ گن رہے ہیں… مرحبا! … خوش آمدید!… اے
رمضان!… بہت سارے خوش نصیب … تیرے مقدس ایام میں روزانہ ایک قرآن پاک ختم کریں گے…
اور کمزور لوگ تین دن میں ایک ختم… معلوم نہیں ہماری قسمت میں کیا لکھا ہے؟… یا اللہ ہمارے لیے بھی… قرآن مجید پڑھنا… اور سننا آسان
فرما… اور پھرقبول بھی فرما… بہت سارے لوگ … اے رمضان!… اپنی جیبیں اور تجوریاں
کھول دیں گے… روزے داروں کو روزہ افطار کرائیں گے… شہداء کرام کے گھروں تک خرچہ
اور کھانا پہنچائیں گے… اور غازیان اسلام کی جہادی ضرورتوں کو پورا کریں گے… معلوم
نہیں ہماری قسمت میں کیا لکھا ہے؟… یا اللہ ہمارے لیے بھی یہ اعمال آسان فرما… بہت سارے
لوگ… اس مہینے میں بخشے جائیں گے… عرش سے اعلان ہوگا… کہ ان کا نام جہنم کی فہرست
سے نکال کر جنت کی فہرست میں لکھ دو… یا اللہ ہم
بھی اسی فضل کے سوالی ہیں… بہت سارے لوگ اے رمضان! تیرے آتے ہی گناہوں کو یوں چھوڑ
دیں گے جس طرح خنزیر کے گوشت کو پرے پھینکا جاتا ہے۔ یا اللہ ہمیں بھی انہیں میں سے بنا…
اے افغانستان میں
ظلم کا شکار بننے والے مسلمانو!… مبارک ہو رمضان آرہا ہے… اٹھو اور ہمت کرکے… سب
کچھ واپس لے لو… سب کچھ کمالو… اے کشمیر کے مظلوم مسلمانو! مبارک ہو… رمضان
آرہاہے… بس اسی مہینے میں خون اور آنسوؤں… کے ذریعے … اپنے حق میں فیصلہ کرالو…
اے عراق کے … غیور
مسلمانو!… مبارک ہو رمضان آرہا ہے… اٹھو… اور داستان حرم اہل کلیسا کو سنادو…
ہاں رمضان! دیکھ
ہم اعلان کر رہے ہیں تو آرہا ہے… مظلوموں کی خاطر… پسے ہوئے انسانوں کی خاطر… حق
کی خاطر… اور گناہگاروں کی بخشش کی خاطر… اے رمضان!… تیری خوشبو آرہی ہے… دل کو
مہکا رہی ہے… ہائے کاش… ہم بھی … اس رمضان میں کامیابی پالیں… بس اس وقت تو یہی
دھڑکن ہے… اور بس یہی دعاء…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کو پیدا فرمایا ہے…
اور وہی ان کا مالک ہے … انسان نام کی مخلوق بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی … اور پھر اسے یہ اعزاز
بخشا کہ اس کو زمین پر اپنا خلیفہ بنادیا… اب انسان کی ذمہ داری ہے کہ… وہ زمین پر
اللہ تعالیٰ کے احکامات کو جاری اور نافذ کرے… اور
ظلم اور فساد سے بچے… زمین پر جب ظلم اور فساد عام ہوجاتا ہے تو … وہ روتی ہے
پیٹتی ہے… اور لرزتی ہے… سب سے بڑا ظلم شرک ہے … اور پھر … ظلم کی بہت سی چھوٹی
بڑی قسمیں ہیں… اللہ تعالیٰ کی نافرمانی … یعنی گناہ بھی ’’ظلم‘‘ ہے…
جی ہاں… ہر گناہ ظلم ہے… اور ہر گناہگار ظالم… اسی طرح ’’فساد‘‘ کی بھی بہت سی
قسمیں ہیں… اور سب سے بڑا فساد ’’فتنہ‘‘ ہے اور سب سے بڑا فتنہ… اسلام کے دشمنوں
کا طاقتور ہوجانا ہے… اتنا طاقتور کہ وہ مسلمانوں پر ظلم ڈھا سکیں… اور اپنی طاقت
کے زور پر… کمزور مسلمانوں کو گمراہ کرسکیں…
اب آپ چاروں طرف
نظر اٹھا کر دیکھیں تو … ظلم ہی ظلم … اور فساد ہی فساد نظر آرہا ہے… اب زمین بے
چاری کب تک اس بوجھ کو برداشت کرے… ظلم بڑھتا جارہا ہے اور فساد پھیلتا جارہا ہے…
چنانچہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے… اور قیامت تیزی سے قریب
آرہی ہے… زلزلوں، سیلابوں اور طوفانوں کی ایک یلغار ہے جس نے… پوری دنیا کو ہلا کر
رکھ دیا ہے… امریکا سیلاب میں ڈوب رہا ہے… اور پاکستان زلزلے سے لرز رہا ہے… کیسا
سخت اور خوفناک زلزلہ تھا… اللہ اکبر کبیرا… ایک ہی آن میں ہزاروں افراد کو نگل
گیا… اور ابھی تک اس کے جھٹکے جاری ہیں… آج بی بی سی کی خبریں سننا بہت مشکل تھا…
بس چیخیں تھیں… آنسو اور بے بسی … بالا کوٹ کا پورا شہر نیست ونابود ہوگیا… مائیں
بچوں کے جنازے گن گن کر تڑپ رہی تھیں… اور لوگ فوج کے خلاف نعرے لگا رہے تھے… غم،
جذبات، بے بسی نفرت… اور غصے کا ایک لاوا تھا جو ہر دل اور زبان سے پھٹ رہا تھا…
خبروں میں بتایا جارہا تھا کہ دو دن سے…سینکڑوں بچے ملبے کے نیچے دفن ہیں… ان کی
معصوم آہ وپکار ابھی تک سنائی دے رہی ہے… بعض ملبے کے نیچے سے اپنے ماں باپ سے
باتیں بھی کر رہے ہیں… اور ان کے بے بس ماں باپ … ملبے کے اوپر… موت سے بدتر غم کا
شکار ہیں… حسین وجمیل کشمیر… ٹوٹ پھوٹ گیا ہے… دلکش وادیاں… لاشوں کے انبار سے بھر
گئیں ہیں… اور حسین نظارے خون اور ہڈیاں اگلنے لگے ہیں… ہاں بے شک یہ دنیا فانی
ہے… اس زمین نے ختم ہونا ہے… اور ہر شخص نے موت کا مزہ چکھنا ہے… کاش ہمیں موت یاد
رہے… کاش ہمیں مٹی اور قبر نہ بھولے… آپ خود سوچیں… انسان کے نزدیک ’’مکان‘‘ کی
کتنی قدر ہے… اپنا مکان… خوبصورت مکان… کھلا مکان… ہر انسان کی خواہش ہے … مکان کی
خاطر … بعض اوقات بھائی بھائی کاخون کردیتا ہے… مگر آج ہر کوئی اپنے مکان سے بھاگ
کر میدانوں میں پناہ لے رہاہے… بس زمین نے ایک جھٹکا دیا … اور مکان کو دشمن
بنادیا… پھر بھی انسان کی غفلت ختم نہیں ہوتی… اور گناہوں کا کاروبار ٹھنڈا نہیں
پڑتا… ہمارے صدر صاحب کہہ رہے تھے کہ… یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ ہے…
بے شک موجودہ حکومت نے تو … ہر میدان میں … تاریخ بدلنے… اور نئی تاریخ قائم کرنے
کا عزم کر رکھا ہے… تو پھر … تاریخی تباہی بھی اسی دور میں ہی آسکتی تھی… چنانچہ
وہ آگئی… معلوم نہیں آگے مزید کیا کچھ ہوگا؟… چند دن پہلے مجھے خیال آیا کہ ان اللہ والے عظیم الشان… علماء کرام کی فہرست بناؤں جو
موجودہ دور حکومت میں شہید ہوئے… یا جن کا انتقال ہوا… یقین جانئیے… ستائیس بڑے
علماء کرام کا نام لکھنے کے بعد میرا دل بیٹھنے لگا … اور میں نے … کاغذ ایک طرف
رکھ دیا… ان چھ سالوں میں… کیسے عظیم الشان لوگ زمین کی پیٹھ سے اتر کر… اس کے پیٹ
میں چھپ گئے… یہ حضرات زمانے کی برکت … اور مسلمانوں کیلئے نعمت تھے… ان میں سے ہر
ایک اونچا مقام رکھتا تھا … اور ہر ایک کی … مخصوص شان تھی… اب تو یہ تعداد ستائیس
سے بہت اوپر جاچکی ہے… کراچی تقریباً خالی ہوگیا… چنیوٹ ویران ہوگیا… فیصل آباد
حیرت زدہ ہے… جھنگ اور کبیر والہ… رو رہے ہیں… کس کس کو یاد کروں… کس کس کی جدائی
کا غم سناؤں… ہر طرف سے خط آتا ہے کہ تعزیتی مضمون لکھ دو… کس سے تعزیت کریں؟…
علم، جہاد، تصوف، مناظرہ… ختم نبوۃ… دفاع ناموس صحابہ… اور تدریس کے ائمہ ایک ایک
کرکے… یوں تیزی سے جارہے ہیں… جیسے کسی تسبیح کا دھاگہ ٹوٹ گیا ہو… اور دانے یکے
بعد دیگرے گر رہے ہوں… بڑے حضرات میں سے تو بس چند ایک ہی رہ گئے ہیں… اللہ پاک ان کی حفاظت فرمائے… اور ان کی زندگیوں میں
برکت عطا فرمائے… کبھی موقع ملا… تو اس اداس موضوع پر … کچھ عرض کیا جائے گا … فی
الحال تو اتنا عرض ہے کہ… ملت پاکستان کو ان چھ سالوں میں… تاریخی خسارے اٹھانے
پڑے ہیں… ہمارے پڑوس میں… امارت اسلامی افغانستان قائم تھی… یہ حکومت خود پاکستان
کیلئے ایک ڈھال تھی… مگر چار سال پہلے… انہیں تاریخوں میں… ہم نے اپنے کندھے
امریکا کو کرائے پر دے دئیے… اور اس نے انہیں کندھوں پر بیٹھ کر… امارت اسلامی کو
لہو لہان کردیا… پھر ہم نے … چھ سو سے زائد افراد پکڑ کر اس کے حوالے کیے… یقینا
یہ بھی تاریخی کام ہے… گوانٹا نامو بے… کا قصاب خانہ ہمارے دم سے قائم اور آباد
ہوا… اور یہی نہیں… ہم نے… چھ سو سے زائد… تہجد گزار… قرآن پڑھنے والوں کو پکڑ کر…
بے دردی سے شہید کیا… اور ان کی لاشیں دریاؤں اور صحراؤں میں درندوں کے سامنے ڈال
دیں… زمین اب ہم سے حساب مانگتی ہے تو … ہم کہاں جائیں حساب تو دینا پڑے گا… آج
بھی… اور کل قیامت کے دن بھی… آج بی بی سی نے بتایا کہ … کوئی ملک ہمیں… آفت کی اس
گھڑی میں پانچ لاکھ ڈالر سے زائد کی امداد دینے کو تیار نہیں ہے… ہاں … ایسا ہی
ہوتا ہے… ماضی میں بھی ایسا ہی ہوتا رہا ہے … حادثات زلزلے… اور طوفانوں میں مرنے
والے سبھی گناہگار نہیں ہوتے … ۸؍اکتوبر والے زلزلے میں بھی… بہت سے
لوگ زندگی کا آخری دن … روزے کی سعادت میں گزار کر… دنیا سے کوچ کر گئے… ان شاء اللہ …
ان کی افطاری … جنت کی مٹھاس سے ہوئی ہوگی… کئی حضرات صحابہ کرام … حادثات میں
شہید ہوئے… اور بعض کو مختلف وبائی امراض نے… اللہ تعالیٰ سے ملایا… اس لیے… گناہوں کی شامت،
گناہوں کی شامت… کا جملہ، ہر جگہ استعمال کرنے سے ڈرنا چاہئے… بعض لوگ… اس بارے
میں حد سے تجاوز کرنے لگتے ہیں… اور متاثرہ علاقے کے لوگوں کے زخموں پر… مرہم کی
بجائے… نمک چھڑکتے ہیں… حالانکہ … دوسروں کی موت کو گناہوں کا نتیجہ کہنے والے…
خود کتنے پاک ہیں… کبھی تنہائی میں سوچیں تو شرم کے مارے اپنے ہاتھ چبا جائیں… یہ
وقت تو … زخمیوں کی دیکھ بھال… اور متاثرین کی خدمت کا ہے… جو اس سلسلے میں… جتنا
کچھ کرے گا… اپنی آخرت کو بہتر بنائے گا… چار سال پہلے… ۸؍اکتوبر کو
افغانستان کی مائیں رو رہی تھیں… ہمارے فوجی اڈوں سے… اڑنے والے طیارے… ان کے بچوں
کا قیمہ بنا رہے تھے… اور آج چار سال بعد ۸؍اکتوبر کو پاکستان کی مائیں رو رہی
ہیں… اور اپنی فوج سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ… کبھی اپنوں کے کام بھی آجاؤ… اور ملبے
کے نیچے سے ہمارے بچوں کو نکال دو… حکومت کا دعویٰ ہے کہ … فوج خوب مدد کر رہی ہے…
جبکہ … عوام کا شکوہ ہے کہ … ابھی تک ہماری مدد کو کوئی نہیں پہنچا… ایک صاحب نے
کہا… یہ کیا ہوا؟ رمضان تو رحمت کا مہینہ ہے… یہ تباہی اور بربادی کیسی؟… میں نے
کہا رحمت کے بھی… الگ الگ رنگ ہیں… کیا پتہ اس زحمت کے اندر کوئی رحمت چھپی ہو…
زلزلے کے وقت… لوگ گڑگڑا کر توبہ کر رہے تھے… معلوم نہیں کتنے گناہگار بخشے گئے
ہوں گے… کتنے غافل بیدار ہوگئے ہوں گے… کتنے لوگوں نے… گھر سے ٹی وی اور ڈش کی
نحوست کو اکھاڑ پھینکا ہوگا… کتنے بدکاروں نے… خود کو… آنسوؤں سے دھو ڈالا ہوگا… اور
کتنے ظالم ظلم سے رک گئے ہوں گے… ہاں انسان کی ہدایت میں دیر نہیں لگتی… بس دل کے
تار ہِلے… ایک بار سچے دل سے اللہ پاک کو پکارا… حرام کاری اور حرام خوری سے نفرت
ہوئی… اور منٹ میں … ظالم سے … ولی بن گئے… اسی طرح انسان کے گمراہ ہونے میں بھی
دیر نہیں لگتی … بس دل پر… انا پرستی اور ’’میں‘‘ کا اندھیرا چھایا… اپنی نیکیوں
پر فخر ہوا… اللہ تعالیٰ کے احکامات سے بغاوت کا جذبہ ابھرا… اور
دیکھتے ہی دیکھتے ولی… ظالم بن گئے… اس لیے تو روایات میں آیا ہے کہ … اصل اعتبار
خاتمے کا ہے… اللہ پاک ہم سب کو ’’حسن خاتمہ‘‘ نصیب فرمائے… بعض اللہ والے بزرگوں کو دیکھاکہ … ہر کسی سے بس یہی دعا
کروا رہے ہیں کہ … اللہ پاک اچھا خاتمہ عطاء فرمائے… ہاں بے شک اس دعاء
کی سخت ضرورت ہے… مجاہدین کو شیطان اس دھوکے میں ڈال دیتا ہے کہ … شہادت سے سارے
گناہ دُھل جاتے ہیں… اس لیے جی بھر کر گناہ کرو… آخر میں فدائی کارروائی کرکے پاک
ہوجانا… ارے شہادت کوئی آسان اور سستی چیز تھوڑی ہے کہ … جان بوجھ کر گناہ کرنے
والوں کے انتظار میں بیٹھی رہے گی… گناہ ہوجانا الگ بات ہے … اور گناہ کرنا الگ
بات ہے… گناہ ہوجائے تو توبہ کیے بغیر ایک پل چین نہیں آتا… اور انسان رو رو کر …
تڑپتا ہے… اس گناہ سے بچنے کا پکا عزم کرتا ہے … اور اپنی نیکیوں میں اضافہ کرتا
ہے… ایسے لوگوں کیلئے ان شاء اللہ … آسانی
ہے… توبہ بھی قبول ہوجاتی ہے … اور شہادت کی لیلیٰ بھی نہیں روٹھتی… مگر خود جان
بوجھ کر… گناہ کرنا … کہ اللہ پاک غفور ہے… رحیم ہے… بخش دے گا… شہید ہوجائیں
گے تو بخشے جائیں گے… یہ خطرناک ہے… بہت خطرناک … ایسے لوگ نہ نادم ہوتے ہیں… اور
نہ توبہ کے آنسو بہاتے ہیں… اور نہ ان کے دو گناہوں کے درمیان … سچی توبہ کا فاصلہ
ہوتا ہے… تب دل سخت ہوجاتے ہیں… اور شہادت کی لیلیٰ بھی روٹھ سکتی ہے… خون میں
نہانے والا ہر شخص شہید تو نہیں ہوتا… اللہ پاک ہمیں مقبول شہادت کا سچا شوق … اور صحیح
راستہ عطا فرمائے… زلزلے کی تباہ کاری… ابھی تک جاری ہے… اس بات کی سخت ضرورت ہے
کہ … ہم … اللہ تعالیٰ کی طرف کامل طور پر متوجہ ہوجائیں… اور
اس بات کی کوشش کریں کہ… ہم سچے مسلمان … اور پکے مجاہد بن جائیں… تنہائی میں بیٹھ
کر اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے… کیونکہ … قبر کی تنہائی بالکل قریب ہے… اللہ پاک قبر کی وحشت سے بچائے… قیامت قریب ہے… کہیں
ہم بھی اس کی بری علامات میں مبتلا تو نہیں ہیں؟… اس کے لئے ضروری ہے کہ … علامات
قیامت کو پڑھا جائے… پھر اپنے سامنے آئینہ رکھ کر دیکھا جائے کہ… ہم ان علامات کا
شکار تو نہیں ہیں… اگر خدانخواستہ ہوں تو سچی توبہ کرلیں… اور اگر نہ ہوں تو شکر
کریں… اور اللہ پاک سے استقامت کی بھیک … اور دعاء مانگیں… آپ
یقین کریں … ہم دیندار کہلانے والے لوگوں کو … اس بات کی اس وقت سخت ضرورت ہے…
کیونکہ … شیطان اسی طبقے پر زیادہ حملے کر رہا ہے… ہم کوشش کریں گے کہ… ان شاء اللہ …
القلم میں ان ’’علامات قیامت ‘‘ کو شائع کیا جائے جو صحیح حدیث سے ثابت ہیں… تاکہ
… میں اور آپ… ان کی روشنی میں اپنا جائزہ لے سکیں… اور خود کو… زمین کے خاتمے کا
ذریعہ بننے سے بچانے کی دعاء اور کوشش کرسکیں… ہم سب کمزور ہیں… اور اصلاح کے
محتاج ہیں… رمضان المبارک کی پاکیزہ… اور معطر گھڑیاں تیزی سے گزر رہی ہیں… ہم سب
غفلت سے بیدار ہوجائیں … ہاں بھائیو!… اور بہنو ہم سب اب جاگ جائیں… اور سچے دل سے
اللہ پاک کو پکاریں… خوب اچھا روزہ رکھیں… خوب تلاوت
کریں… خوب اللہ کے راستے میں خرچ کریں… اور خوب خوب گناہوں سے
بچیں… اصل چیز… قربانی ہے ہم اللہ پاک کے دین کی خاطر… کسی بھی قربانی سے دریغ نہ
کریں… تو تو… میں میں چھوڑ کر … اللہ اللہ کریں… اور اسلام کی عظمت کیلئے… اپنا سب کچھ پیش
کردیں… دو دن پہلے جو زلزلہ آیا تھا… ہم بھی اس میں مرسکتے تھے… مگر… ہم بچ گئے…
ہمیں مزید کچھ سانس مل گئے… یا اللہ … ہمارے ان سانسوں کو … اور زندگی کے باقی اوقات
کو… اپنی رضاء کے مطابق بنادے… تیرے پاکیزہ مہینے کی… اس معطر رات میں… آج یہی
دعاء ہے… قبول فرما… قبول فرما… قبول فرما… اے بادشاہوں کے بادشاہ … اے رحمت والے…
اے مہربان … یا رحیم یا رحمن… یا رؤف یا حنان… یا ارحم الراحمین…
وصل علیٰ سیدنا محمد خاتم
النبیین… وعلیٰ آلہ وصحبہ اجمعین…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ میری اور آپ کی ’’مغفرت‘‘ فرمائے … رمضان
المبارک کا دوسرا عشرہ… مغفرت، بخشش اور معافی والا عشرہ شروع ہے… کچھ کام ایسے
ہیں کہ ان کو کرنے سے … معافی اور بخشش جلد مل جاتی ہے… اللہ پاک ہمیں ان کاموں کی توفیق عطا فرمائے… اور کچھ
کام ایسے ہیں… جو … بخشش کو روک دیتے ہیں… اللہ پاک ہمیں ان سے بچائے… بہت فکر اور محنت کی
ضرورت ہے… جس نے رمضان پایا اور اپنی بخشش نہ کرائی… وہ ہلاک ہوگیا… یہ حضرت
جبرئیل علیہ السلام کی دعاء ہے… اور آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ’’آمین‘‘… فرمائی ہے… آئیے
موجودہ حالات کے تناظر میں چند ضروری باتیں کرلیتے ہیں… اللہ کرے ہمارا ایمان سلامت اور فکر روشن رہے…
قلبی تعزیت
ہم دل کی گہرائیوں
سے… تعزیت پیش کرتے ہیں… ان تمام حضرات وخواتین کو … جنہیں اس زلزلے نے … کسی بھی
طرح کا جانی، مالی، جسمانی اور مکانی نقصان پہنچایا ہے… اللہ تعالیٰ کے لئے صبر کیجئے… ان شاء اللہ …
بہت کچھ ملے گا… قیامت کے دن بچھڑے ہوئے… دوبارہ مل جائیں گے… اور اگر صبر سچا ہوا
تو دنیاوی نقصانات کا بھی… ان شاء اللہ …
خوب خوب ازالہ ہوجائے گا… ہمیں آپ کے غم، دکھ اور پریشانی کا احساس ہے… ہمیں آپ کے
آنسوؤں اور آہوں کا درد معلوم ہے… آپ کے پیارے بچھڑ گئے… آپ کے مکانات منہدم
ہوگئے… آپ کی پاکیزہ … اور باپردہ بہنوں اور بیٹیوں کو … کھلے آسمان تلے بیٹھنا
پڑا… اللہ پاک آپ کو اس مصیبت پر اجر عطاء فرمائے… اور جلد
اس سے نجات عطاء فرمائے… اے مصیبت زدہ مسلمانو! بس اس وقت ایک ہی بات کی ضرورت ہے
کہ… کسی بھی طرح… آپ کی اس مصیبت اور آزمائش کا اجر ضائع نہ ہو… آپ نے جو ’’درد‘‘
اٹھایا ہے… وہ… گناہوں کو معاف کرانے والا … جنت کو واجب کرانے والا… اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قریب لانے والا ہے… آپ آج اس
جگہ کھڑے ہیں… جہاں اللہ پاک کے مقرب بندے… اور پیارے نبی… حضرت ایوب
علیہ السلام کھڑے تھے… بس … شیطان کے وسوسے کو اپنے قریب نہ آنے دیں… اور دل میں… اللہ تعالیٰ کے لئے شکوہ پیدا نہ کریں… وہ ہمارا رب
اور مالک ہے… ہم اس کے بندے اور غلام ہیں… اس نے ہم پر بے شمار نعمتیں برسائی ہیں…
اور برسا رہا ہے… ہمارا ہر سانس اس کا عطاء کیا ہوا ہے… اس کی مرضی ہمیں جس حال
میں رکھے… اس کی خوشی کہ ہمیں کھول دے یا باندھ دے… زندہ رکھے یا ماردے… یا جو
چاہے کرے… ہمارا کام … شکر اور صبر ہے… اگر ہم اس میں کامیاب ہوگئے تو پھر اس کی
رحمت اور بخشش کا دریا ایسا جوش میں آتا ہے کہ… انسان حیران رہ جاتا ہے… حضرت ایوب
علیہ السلام کو … دنیا و آخرت میں کیا کچھ ملا… قرآن پاک ان نعمتوں اور رحمتوں کا
گواہ ہے… ان شاء اللہ … آپ کو بھی بہت کچھ
ملے گا… سب سے بڑھ کر یہ کہ… رب راضی ہوجائے گا… ا س لیے … شکوہ نہ کریں… شکایت نہ
کریں… غیر اللہ کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائیں… دل تنگ نہ ہونے دیں…
بس شکر اور صبر والا ایک سجدہ… اس وقت … آپ کو بہت اونچا لے جاسکتا ہے… فارسی کے
چند اشعار نظر سے گزرے تھے…جن کا مفہو م یہ ہے کہ … ایک بار خوشی اور تندرستی کے
ایام میں… حضرت جبرئیل علیہ السلام … حضرت ایوب علیہ السلام کے پاس تشریف لائے…
اور پوچھا!… آپ بیماری اور مصیبت کے دنوں میں زیادہ خوش تھے یا اب؟… حضرت ایوب
علیہ السلام نے ہر حال میں شکر ادا کرکے فرمایا… بیماری اور مصیبت کے ایام میں…
محبوب کی محبت اور توجہ بہت زیادہ تھی… وہ روزانہ پوچھتے تھے اے میرے ایوب! کیسے ہو؟…
کیا حال ہے؟… بس اب خوشی اور تندرستی کے دنوں میں… اس چیز کی کمی محسوس ہوتی ہے…
اے زلزلہ کے غم جھیلنے والے… مسلمانو!… عرش والے رب کی طرف توجہ کرو… ممکن ہے …
محبت کے ساتھ آواز آرہی ہو… اے میرے بندو کیسے ہو؟… اللہ تعالیٰ کی محبت پر جان، مال، اولاد… اور مکان سب
کچھ فداء … اور قربان … اللہ تعالیٰ ہم پر… اور آپ پر رحم فرمائے… ہماری
تعزیت قبول فرمائیے…
دعاء مغفرت
اس زلزلے میں… جو
… نابالغ بچے اور بچیاں جاں بحق ہوئے… وہ تو معصوم تھے… ان کے لئے دعاء مغفرت کی
ضرورت ہی نہیں… اللہ پاک ان کو جنت کے حور وغلمان کے ساتھ وہاں کے…
میٹھے اور سچے مزے عطاء فرمائے… دنیا کے بے حیا ماحول میں معلوم نہیں… بڑے ہو کر
یہ بچے… مسلمان رہتے یا گناہوں کے ہاتھوں مرجھا کر… کافر وفاسق ہو کر مرتے… ا ﷲ
پاک نے انہیں … بچپن ہی میں اپنے پاس بلالیا… اور ان کو آزمائش سے بچا کر اپنی
رحمت کا پکا مستحق بنادیا… اللہ پاک ان بچوں کے لواحقین کو … صبر عطاء فرمائے…
اور ان بچوں کو ان کی مقبول شفاعت اور بخشش کا ذریعہ بنائے… ان بچوں کے علاوہ…
باقی جو مسلمان حضرات وخواتین شہید … اور جاں بحق ہوئے… دل کی گہرائیوں سے ہماری
دعاء ہے کہ… اللہ پاک ان سب کی مغفرت فرمائے… ان کے تمام کبیرہ،
صغیرہ… ظاہر وباطن گناہ معاف فرمائے… ان کو سکون والی قبر عطاء فرمائے… ان کی
ارواح کو علّیّین میں مقام عطاء فرمائے… اور اس مصیبت والی موت کو… ان کے حق میں
شہادت بنا کر… انہیں شہداء والا اجر عطاء فرمائے…
شاباش ومرحبا
بہت رشک کے ساتھ…
بہت محبت کے ساتھ… اور بہت پیار کے ساتھ… ان تمام لوگوں کو شاباش جنہوں نے… مصیبت
زدہ مسلمانوں کی مدد کی… ان کو ملبے سے نکالا… ان کے سوکھے ہونٹوں تک پانی کا
گھونٹ پہنچایا… اور ان کے کانپتے جسموں کو کمبل سے ڈھانپا… آفرین اور مرحبا!… ان
نوجوانوں کے لئے جو کندھوں پر سامان رکھ کر… زخمیوں تک پہنچاتے رہے… واہ آپ نے
جوانی کاخوب فائدہ اٹھایا… حقیقت میں یہ وقت … اللہ تعالیٰ کو منانے اور جنت کمانے کا ہے… اللہ پاک کو اپنے بندوں سے بہت پیار ہے… بہت پیار…
ماں کے پیار سے بھی زیادہ… اب جو اللہ کے ان مصیبت زدہ بندوں کی مدد کرتا ہے… وہ بھی… اللہ پاک کا پیارا بن جاتا ہے… بلکہ… مخلوق کی خدمت
کرنے والے تو …ا ﷲ تعالیٰ کے خاص بندے بن جاتے ہیں… انہیں عابدوں اور زاہدوں سے
بہت اونچا مقام ملتا ہے… اور … ان کے اعمال کا ترازو بہت بھاری ہوجاتا ہے… اس وقت
سسکتے انسانوں کو مدد کی ضرورت ہے… کوئی بھی… بخل اور سستی سے کام نہ لے… اور نہ
میدان ان گمراہ کن این جی اوز کے لئے خالی چھوڑ دے… جو خدمت اور مسکراہٹ کے عوض
ایمان خریدتی ہیں… حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے … خدمت خلق کے جو فضائل اور فوائد
بیان فرمائے ہیں… ان کی موجودگی میں… اس بات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ… مسلمان
اس میدان میں سستی کریں گے… ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم خود… خدمت خلق کی بہترین مثال تھے… جو
شخص …مخلوق کے کام میں لگتا ہے… اللہ پاک اس کے کاموں میں لگا رہتا ہے… جو دنیا میں
کسی کی تکلیف دور کرتا ہے… اللہ پاک آخرت میں اس کی تکلیف دور فرماتا ہے… خدمت…
نفل عبادت سے ہزار ہا درجہ افضل ہے… اور انسان کی بخشش کا بہترین ذریعہ ہے… ہمیں …
آقا صلی اللہ علیہ وسلم … ہی کے ذریعہ معلوم ہوا کہ… ایک
زانیہ عورت… پیاسے کتے کو پانی پلانے کے بدلے… بخشی گئی… اور ایک عابدہ، زاہدہ
عورت … بلی کو مارنے کے جرم میں… جہنم میں ڈالی گئی… معلوم ہوا ہے کہ… حضور اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے… سچے نوجوان … اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے عاشق… خوب بڑھ چڑھ کر … محنت
کر رہے ہیں… بہت سے لوگ مال دے رہے ہیں… بہت سے… ضرورت کی اشیاء جمع کر رہے ہیں…
بہت سے آگے جاکر… ضرورت کا سامان پہنچا رہے ہیں… اور بہت سے زخمیوں کی دیکھ بھال
کر رہے ہیں… یہ تمام بھائی… ہماری طرف سے ’’مبارکباد‘‘ قبول کریں… ماشاء اللہ … آپ کا رمضان خوب رہا اور آپ نے… اس مبارک
مہینے کو کمالیا… اللہ پاک… امت مسلمہ کو… آپ جیسے جوانوں سے آباد
رکھے… اور آپ کی نیکیوں اور محنتوں کو قبول فرمائے…
ایک تنبیہ
خدمت بھی افضل
عبادت ہے… اور نفس وشیطان کی کوشش ہوتی ہے کہ … انسان کی ہر عبادت دنیا ہی میں
ضائع ہوجائے… یوں وہ محنت اور تکلیف بھی اٹھائے اور اجر سے بھی محروم رہے… اس لیے
… امدادی کام کرنے والے تمام حضرات کو چاہئے کہ وہ نفس اور شیطان کے پھندوں سے
محفوظ رہیں… اور چند امور کا اہتمام کریں…
)۱(ریاکاری…
شرک کا ایک درجہ ہے… ریاکاری نیک اعمال کو گناہ بنادیتی ہے… اور انسان کی نیکیوں
کو برباد کردیتی ہے… اس لیے اپنے اندر ’’اخلاص‘‘ کو تازہ کریں… اس وقت مختلف
تنظیمیں جماعتیں… اور افراد میدان میں اتر آئے ہیں… ظاہر بات ہے کہ… ایک دوسرے کو
دیکھ کر مقابلے کا جذبہ ابھرے گا… تب… ریاکاری کا دروازہ تیزی سے کھل جائے گا… اور
اتنا اونچا عمل… برباد ہوجائے گا… آپ جانتے ہیں کہ … سجدہ کتنی اہم عبادت ہے حدیث
پاک میں آتا ہے کہ… انسان اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب … سجدہ کی حالت میں
ہوتا ہے… رمضان المبارک میں تروایح کے… دوران… جب … آیت سجدہ آتی ہے تو کئی لوگ…
صرف یہ دکھانے کے لئے کہ… ہمیں معلوم ہے… یہ آیت سجدہ ہے بہت تیزی کے ساتھ سجدہ
میں جاتے ہیں… اوریوں… توحید کے نشان ’’سجدہ‘‘ کو… ریاکاری کے شرک سے آلودہ کر
بیٹھتے ہیں… اور اس تیزی کی وجہ سے بعض اوقات امام سے پہلے سجدہ میں چلے جاتے ہیں…
حالانکہ یہ ایک ’’مستقل گناہ‘‘ ہے… اور حدیث پاک میں… امام سے پہلے رکوع و سجدہ
وغیرہ میں جانے والے کے بارے میں آیا ہے کہ… قیامت کے دن اس کا چہرہ… گدھے جیسا بنایا
جاسکتاہے… اس لیے… امدادی کارکن… ریاکاری سے بچیں اور صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے یہ ساری محنت کریں…
)۲( فرائض
کا اہتمام کریں… خصوصاً فرض نماز ضرور ادا کریں… کام زیادہ ہو تو نوافل وغیرہ چھوڑ
دیں… مگر فرض اور وتر… اور فجر کی دوسنتیں… بالکل نہ چھوڑیں… بعض اوقات… خدمت کے
دوران اس بارے میں غفلت ہوجاتی ہے… جو خطرناک ہے… اور بعض اوقات نفس کچھ بہانے
بناتا ہے کہ … پانی نہیں ہے… کپڑے صاف نہیں ہیں… وغیرہ… حالانکہ شریعت میں… بالکل
سختی نہیں ہے… اور ہر عذر کی حالت میں رعایت موجود ہے… مگر… فرض نماز چھوڑنے کی
رعایت… کسی کو بھی نہیں ہے…
)۳( حیا
کا اہتمام کریں… بہت ساری بہنیں اور بیٹیاں… ننگے سر سامنے آئیں گی… تب… اپنی ماں،
بہن اور بیٹی کو یاد کرکے… اللہ تعالیٰ کا خوف کریں… اور اپنی نظر اور ارادے کو
پاکیزہ رکھیں… کسی … بہن، بیٹی پر بری نظر نہ ڈالیں… اور نہ کسی کو برائی کے ارادے
سے ہاتھ لگائیں… یہ مصیبت ہر کسی پر آسکتی ہے… خود سوچیں … ہمارا گھر گر جائے…
ہمیں اپنی، بہنیں اور بیٹیاں باہر لا کر بٹھانا پڑیں… اور خود ہم زخمی پڑے ہوں…
تب… کچھ لوگ امداد کے نام پر آئیں… اور بری اور گندی نظروں کے تیر… برسانے لگیں…
تب ہمارا کیا حال ہوگا؟… کیا ہماری یہ خواہش نہیں ہوگی کہ… ہمیں … کلاشنکوف
ملے اور ہم ان خبیثوں کو بھون کر رکھ دیں…
رمضان المبارک کا
مہینہ ہے… اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ … نظریں نیچی رکھو…
ہمیں خدمت کے
میدان میں… ان تمام باتوں کا خیال رکھ کر چلنا ہوگا… ورنہ… یہ خدمت ہمارے لیے جہنم
اور ناکامی بن سکتی ہے…
)۴( زخمیوں
کی خدمت… اور دور دراز کے علاقوں تک سامان پہنچانے والے جو ساتھی… روزہ نہ رکھ
سکیں… وہ… روزہ نہ رکھیں… اور بڑھ چڑ ھ کر دور دراز علاقوں تک پیاسوں کو پانی…
بیماروں کو دواء… اور بہنوں کو دوپٹہ پہنچائیں… رمضان المبارک کے بعد … اپنے ان
روزوں کی قضاء کرلیں… اور جو باہمت ساتھی روزہ اور خدمت دونوں کو جمع کرسکتے ہوں…
وہ … دونوں کے بیک وقت مزے لوٹیں…
)۵( خود
کو… نفس اور شیطان کی شرارت سے بچانے کے لئے… چلتے پھرتے ذکر کا اہتمام کریں… پہلا
کلمہ… استغفار… درود شریف… تیسرا کلمہ… اور دیگر دعائیں پڑھتے رہیں… اور ایک دوسرے
کو دین کی تلقین کرتے رہیں… تاکہ… ملبے اور تھکاوٹ کا اثر دین اور ایمان پر نہ پڑ
جائے…
سانپ اور بچھو
معلوم ہوا کہ…
زلزلے کے بعد… زہریلے سانپ… اور بچھو بھی کثرت سے نکل آئے ہیں… اور افسوس یہ ہے
کہ… ان سانپوں اور بچھوؤں کی شکل انسانوں جیسی ہے… چنانچہ… وہ بھیس بدل کر خوب
نقصان پہنچا رہے ہیں… جی ہاں… زخمیوں کو لوٹنے والے لوگ… انسان تو نہیں ہوسکتے …
بے بسوں کی مجبوری سے دولت کمانے والے… انسان تو نہیں ہوسکتے… بے آسرا بیٹیوں کو
ہوس کا نشانہ بنانے والے انسان تو نہیں ہوسکتے… لاوارث بچوں کو اغواء کرکے لے جانے
والے انسان تو نہیں ہوسکتے… امدادی سامان جمع کرکے… خود کھا جانے والے انسان تو
نہیں ہوسکتے… یہ سب… موذی جانور اور درندے ہیں… یہ لوگ انسانیت کے چہرے پر داغ
ہیں… میں نے کتابوں میں پڑھا ہے کہ… برصغیر کی تقسیم کے وقت… جو مسلمان… مشرقی
پنجاب سے ہجرت کرکے… اپنی بہنوں ، بیٹیوں کو سکھوں سے بچا کر… ادھر لے آئے تھے… ان
میں سے بعض کو… یہاں کے وڈیروں اور دوسرے سانپوں نے برباد کردیا… یہ لوگ… باقاعدہ
ٹولیاں بنا کر شکار کی تلاش میں نکلتے تھے… اور اللہ اللہ کرتے بے بس خاندانوں کو برباد کرتے تھے… ایسے
ظالموں پر تو آسمان بھی تھوکتا ہوگا… اور زمین کا ذرہ ذرہ ان پر لعنت بھیجتا ہوگا…
پاکستان میں جب بھی… ٹرین کا حادثہ ہوتا ہے… بہت سے درندے… زخمیوں کو لوٹنے پہنچ
جاتے ہیں… وہ … خاک اور خون میں تڑپتے انسانوں کی جیبیں خالی کرتے ہیں… اور عورتوں
کے زیور ان کے جسموں سے نوچ کر… انہیں مزید زخمی کرتے ہیں… دنیا کی محبت … اور مال
کی لالچ کتنی گندی بیماری ہے؟… اے میرے بھائیو اور بہنو… اللہ کے
لئے … اللہ کے لئے ہم سب خود کو… مال کی محبت سے بچائیں…
اور اپنی آل اولاد… اور بہن بھائیوں کو بھی… اس گندی ناپاکی سے بچائیں… مال کی
محبت… انسان کو پلید، ناپاک اور نجس بنادیتی ہے… اور اس کو انسانیت کے مقام سے گرا
کر گندہ جانور بنادیتی ہے … زلزلے کی تباہ کاری سے لاکھوں انسان… تڑپ رہے ہیں… ہر
طرف چیخیں اور آہیں ہیں… تب… یہ جانور میدان میں آکر … زخمی اور غم زدہ انسانوں کو
لوٹ رہے ہیں… اللہ پاک ان کو ہدایت عطاء فرمائے… اور ان کے شر سے
تمام انسانوں کی حفاظت فرمائے… ہماری حکومت انتہا پسندی کی بجائے اگر اس طبقے کو
ختم کرنے کی کوشش کرتی تو … آسمان کے فرشتے بھی اس کا ساتھ دیتے…
اے انسانو! اللہ پاک سے ڈرو… قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے… اور
وہ زلزلہ ضرور آنے والا ہے… اس دن کی خاطر… اپنی اصلاح کرلو… مہنگائی نہ بڑھاؤ…
غریبوں کو نہ لوٹو… اور متاثرین پر اپنے جرائم کی چُھریاں نہ چلاؤ… امدادی کارکنوں
کو چاہئے کہ لوگوں کو… قدرتی آفات کے ساتھ ساتھ… ان سانپوں اور بچھوؤں سے بچانے کی
بھی کوشش کریں…
ایک غلطی
دیکھنے میں آیا ہے
کہ… جب بھی… اس طرح کے واقعات میں امداد اور چندے کی اپیل کی جاتی ہے تو لوگ…
پرانے کپڑوں، پرانے بستروں اور پرانے سامان کے ڈھیر لگا دیتے ہیں… چار سال پہلے
طالبان کے سقوط کے وقت بھی ایسا ہی منظر تھا… اور اب بھی … بعینہٖ وہی منظر ہر چوک
اور ہر گلی میں نظر آرہا ہے… بعض تنظیموں نے صرف دکھاوے کے کیمپ لگا دیئے ہیں
تاکہ… ان کے ووٹر ناراض نہ ہوں… اور ان کو سیاسی نقصان نہ پہنچے… بعض تنظیموں نے
اپنے کارکنوں کی لعن طعن سے بچنے کے لئے… کیمپ لگادیئے ہیں… اور لوگ دھڑا دھڑ
پرانا سامان ان کیمپوں میں جمع کر وا رہے ہیں… اس بارے میں گذارش ہے کہ… اپنی آخرت
کے لئے… اچھا اور کار آمد سامان بھجوائیں… اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنی محبوب اور پسندیدہ
چیزیں دیں… کیمپ لگانے والوں سے بھی گزارش ہے کہ… وہ … صرف ضروری اور کام آنے والی
اشیاء وصول کریں… ورنہ بعد میں… یہ تمام سامان… کباڑ والے کوڑیوں کے بھاؤ خریدیں
گے… اور کسی مستحق کو کوئی نفع نہیں ہوگا… ہاں… جو لوگ بہت غریب ہیں… اور ان کے
پاس دینے کے لئے سوائے پرانی چیزوں کے اور کچھ نہیں ہے تو ان کا دینا مبارک ہے…
اور اس سے ان شاء اللہ … مستحقین کو ضرور
فائدہ ہوگا… کیونکہ …قربانی کے ہر عمل میں… اللہ پاک نے بے شمار فائدے رکھے ہیں…
ایک خطرناک طرز
عمل
اس طرح کے مشکل
حالات میں… کچھ لوگ دوسروں کے نامہ اعمال کھول کر… بیٹھ جاتے ہیں … کہ فلاں نے یہ
نہیں کیا… فلاں نے وہ نہیں کیا… ان لوگوں کی مجلسیں غیبت کی گیس سے بدبودار… اور
ان کی باتیں امت مسلمہ کو نقصان پہنچانے والی ہوتی ہیں… ایسے لوگوں سے اور ان کی
باتوں سے بچیں اور اپنے اندر کسی طرح کے انتشار کو جگہ نہ دیں… ان لوگوں کی باتوں
سے متاثر ہو کر… بہت سے گھر بیٹھنے والے حساب دان… مجاہدین پر طعن وتشنیع شروع
کردیتے ہیں کہ … آپ نے یہ نہیں کیا… آپ نے وہ نہیں کیا… ایسے لوگوں کی خدمت میں
ادب کے ساتھ عرض کریں کہ… الحمدﷲ ہمیں اپنے فرائض کا شعور اور احساس ہے… اور ہم
اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہیں… اور الحمدﷲ ہم اپنے گھروں میں آرام سے بیٹھ کر…
دوسروں پر تنقید نہیں کرتے… اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے… جان کی قربانی سے لیکر…
آرام کی قربانی تک کے تمام شعبے ہمارے ہاں زندہ ہیں… جہاد، علم، تصوف، خدمت خلق…
اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام اپنی استطاعت کے مطابق… الحمدﷲ ہورہاہے…
موجودہ حادثہ میں
بھی … ہم … اپنی استطاعت کے مطابق کام کر رہے ہیں… اور مزید باہمی مشاورت سے اس
میں ترقی کر رہے ہیں… ہمارا دل چاہتا ہے کہ … یہ سارا کام ہم سنبھال لیں… مگر…
دنیا بھرکی پابندیاں بھی ہم پر ہیں… اور امت مسلمہ نے جہاد سے غفلت کا جو عمومی
جرم کیا ہے… اس کا بوجھ بھی ہمارے ساتھیوں کے ناتواں کندھوں پر ہے… محاذ اب بھی
گرم ہیں… کسی زلزلے نے ان کی ضروریات اور گرمی کو کم نہیں کیا…
سینکڑوں شہداء کے
لاوارث گھرانوں کا چولھا بھی… انہیں کے ذمہ ہے… کسی حادثے کی وجہ سے … ان کو تو
نظر انداز نہیں کیا جاسکتا… اسی طرح باقی ذمہ داریاں اور کام بھی ہیں… ایسے موقع
پر… تنقیدی پارٹی کا زہر اور گیس بعض اوقات امت مسلمہ کو… جماعت کی برکت سے محروم
کردیتا ہے… امارت اسلامی افغانستان کے سقوط کے وقت بھی اسی طرح کے پروپیگنڈے نے
امت مسلمہ کو… بے حد زخم پہنچائے… اور معلوم نہیں کیا کچھ تباہ کردیا…
غیبت اور چغل خوری
کے … برے اثرات سے خود کو بچائیں… کسی طرح کے احساس کمتری کا شکار نہ ہوں… اور
اپنے فرائض کی بجا آوری میں لگے رہیں… اور جس قدر ممکن ہو بڑھ چڑھ کر… موجودہ
حادثے میں متاثرین کی مدد کریں… اور تنقید وانتشار کے زہر سے خود کو بچائیں…
دعاء کا اہتمام
یہ تمام کام ایک
طرف… اور دعاء کی طاقت ایک طرف… حدیث پاک میں آتا ہے کہ… تقدیر کو دعاء کے سوا
کوئی چیز نہیں ٹال سکتی… دعاء… پانی، آگ اور ہوا سے زیادہ طاقتور … اور لوہے سے
زیادہ مضبوط چیز ہے… دعاء لمحات میں آسمانوں کو پار کرلیتی ہے… اور پلک جھپکتے عرش
تک پہنچ جاتی ہے… اس لیے موجودہ حالات میں خوب خوب دعاؤں کا اہتمام ہو… ایسی
دعائیں… جو … عمل اور کامیابی کے دروازے کھلوادیں… ہر شخص اس دعاء کا بھی اہتمام
کرے کہ… یاا ﷲ! موجودہ حادثے سے متعلق… میری جو انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری بنتی
ہے وہ مجھے ادا کرنے کی توفیق اور ہمت عطاء فرما… گھروں میں بیٹھی… ہماری مسلمان
مائیں، بہنیں… اس وقت خوب دعائیں کریں… پاکستان کے مسلمان زلزلے کا شکار ہیں…
افغانستان کے مسلمانوں پر امریکا اور اس کے ا تحادی ظلم اور فحاشی برسا رہے ہیں…
عراق پر صلیب کا قبضہ ہے… کشمیر پر برہمنی سامراج کا راج ہے… فلسطین زخمی ہے…
گوانٹا نامو بے… پل چرخی… تہاڑ… اور ابو غریب… سینکڑوں جیلوں اور عقوبت خانوں میں…
ہزاروں مسلمان جوانیاں تڑپ رہی ہیں… پگھل رہی ہیں…
جہاد کے خلاف…
عالمی تحریک زوروں پر ہے… اور مسلمان ملکوں کے حکمران… کافروں سے بڑھ کر… جہاد کے
خلاف سرگرم ہیں… جہاد کے خلاف یہ مہم… دراصل اسلام اور قرآن کے خلاف مہم ہے… اس
لیے کہ وہ ’’اسلام‘‘ جس میں جہاد نہ ہو… اللہ کا
بھیجا ہوا ’’اسلام‘‘ نہیں ہے… اور نہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا ’’اسلام‘‘ ہے… ان تمام
پریشانیوں کے باوجود امت مسلمہ کے کچھ لوگ… مکمل دین پر قائم ہیں… وہ کفار سے لڑ
رہے ہیں… اور کسی ملامت کی پروا نہیں کر رہے… یا اللہ ہمیں بھی انہیں میں شامل رکھیے…
الغرض… ان تمام
حالات کو مدنظر رکھ کر… دعاء کا اہتمام کریں… اپنی ذات کے خول سے باہر آکر… قبر کو
سامنے رکھ کر… قربانی کے جذبے کے ساتھ… ہم سب خوب خوب… دعاء کریں… دنیا کے حالات
تیزی سے بدل رہے ہیں… وقت کی رفتار آندھی کی طرح زور دار ہے… ہم … کہیں ’’کامیاب
قافلے‘‘ سے پیچھے نہ رہ جائیں… اس کے لئے… ہمیں رات کے اندھیروں میں… دعاء کے نور
کو ڈھونڈنا ہوگا…!!!
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کے دل کی آنکھیں… کھول دیں…
انہوں نے اس دلکش اور حسین رات میں بہت کچھ… دیکھ لیا… اور سب کچھ پالیا… بعض
حضرات نے دیکھا کہ سمندر کا پانی میٹھا ہوچکا ہے… اللہ اکبر… جی ہاں جس رات کی فضیلت میں قرآن پاک کی
پوری سورت نازل ہوئی ہو… اس میں… سمندر کی سیاہی اور کڑواہٹ دور ہوگئی تو کون سی
بڑی بات ہے؟… کاش ہمارے دلوں کی سیاہی… اور ہمارے اخلاق کی کڑواہٹ بھی دور ہوجائے…
بعض حضرات نے دیکھا کہ اس رات کے آتے ہی ہرچیز … اللہ تعالیٰ کے حضور سجدے میں گرگئی… اور رات بھر
سجدے کے مزے لوٹتی رہی… کاش عید کمانے والے تاجروں کو بھی یہ رات یاد رہے… اللہ والوں نے اس رات میں بہت کچھ دیکھا… جی ہاں جن
کے دل زندہ ہوتے ہیں… انکی آنکھوں سے پردے ہٹا دیئے جاتے ہیں… ہم لوگوں کو کچھ نظر
نہیں آتا… کیسے نظر آئے؟… ہم تو ابھی تک ’’خود‘‘ کو نہیں دیکھ سکے۔ ’’خود‘‘ کو
نہیں پہچان سکے… جن کے معدے ہر وقت بھرے رہتے ہیں… وہ سارا دن ’’گیس‘‘ سے لڑتے
رہتے ہیں… اور رات کو پھر… اپنا ’’پیٹ‘‘ جہنم کی طرح بھر لیتے ہیں… اس حال میں
آنکھیں کس طرح کھل سکتی ہیں… رمضان المبارک آتا ہے تاکہ ہم… بھوک کا مزہ حاصل
کریں… اور کچھ قربانی دیں… مگر … ایسا کم ہوتا ہے بلکہ… رمضان آتے ہی ’’کھانے‘‘ کی
فکر اور بڑھ جاتی ہے… پکوڑے، سموسے، پھینیاں اور پتہ نہیں کیا کیا… عورتوں کا وقت
کھانے بنانے اور چننے میں برباد ہوتا ہے… اور مرد خریدنے اور اٹھانے میں… رمضان
ضائع کردیتے ہیں… آخری عشرہ… ایک عظیم الشان رحمت بن کر آتا ہے… ایسی رحمت کہ… پکے
’’جہنمی‘‘ تک ’’جنتی‘‘ بنادئیے جاتے ہیں… اور ایک رات کی عبادت کا اجر … تراسی سال
چار مہینے کی مقبول عبادت… اور قربانی سے بڑھادیا جاتا ہے… مگر عظیم نفع کمانے کا
یہ موسم… عید کی تیاری… میں برباد ہوجاتا ہے… اے معزز مسلمانو… عید تو ہے ہی ان
لوگوں کی خوشی … جنہوں نے رمضان المبارک کو کمالیا… پالیا… اور حاصل کرلیا… اس
بدنصیب کی کیا عید؟… جس کا رمضان گناہوں اور دنیاداری میں ضائع ہوگیا… حسن بصریؒ
نے عید کے دن کچھ لوگوں کو قہقہے لگاتے دیکھا تو فرمایا… اگر پردہ ہٹادیا جائے تو
کوئی بھی قہقہہ نہ لگائے… رمضان مقابلے کا میدان تھا کہ… کون بڑھ چڑھ کر اس میں…
دوسروں سے آگے بڑھتا اور عبادت کرتا ہے… پھر کچھ لوگ بخشے جاتے ہیں… اور کچھ محروم
رہتے ہیں… بخشے جانے والوں کو اپنا اجر اور مقام پتہ چل جائے تو شکر میں ڈوب
جائیں… اور محروم رہنے والوں کو اپنی حالت کا پتہ چل جائے تو غم میں غرق ہوجائیں…
بات چل رہی تھی ’’شب قدر‘‘ دیکھنے کی… اللہ پاک کچھ دکھا دے تو اس کا کرم… ویسے ’’کچھ
دیکھنا‘‘ بالکل ضروری نہیں ہے… ہاں ماننا اور یقین کرنا ضروری ہے… آئیے مختصر طور
پر … شب قدر… یعنی بڑی قدر ومنزلت والی رات کا ایک منظر دیکھتے ہیں… ممکن ہے کچھ
ہاتھ آجائے… ہمارا مالک تو بہت کریم… اور مہربان ہے…
شب قدر کا خلاصہ
)۱(
اس رات کی فضیلت
کے بیان میں قرآن پاک کی ایک پوری سورت نازل ہوئی ہے… اس سورت کا نام ’’سورۃ
القدر‘‘ ہے… یہ آخری پارے میں ہے۔
)۲(
اللہ تعالیٰ کی آخری اور سب سے اعلیٰ اور افضل کتاب…
اسی رات میں نازل ہوئی… جی ہاں… قرآن پاک لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر… اسی رات میں
اترا ۔
)۳(
’’لیلۃ
القدر‘‘ ایک ہزار مہینے سے بہتر ہے۔ (القرآن) یعنی اس ایک رات کی عبادت کا ثواب…
اجر اور درجہ… ایک ہزار مہینے تک مسلسل عبادت کرنے سے… بہت بڑھ کر ہے… کتنا بڑھ کر
ہے؟ یہ اللہ پاک ہی بہتر جانتے ہیں۔
)۴(
اس رات میں فرشتے
نازل ہوتے ہیں۔ (القرآن) بے شمار فرشتے… جوق در جوق آسمان سے اترتے ہیں… وہ … بہت
شوق سے… عبادت کرنے والوں کو دیکھتے ہیں… اور ان سے مصافحے کرتے ہیں… ان کو اپنی
دعاء اور توجہات سے نوازتے ہیں… ان کے ساتھ بیٹھتے ہیں… کیا خوب نورانی صحبت ہوتی
ہے…
)۵(
حضرت جبرئیل علیہ
السلام (روح القدس) اس رات میں زمین پر اترتے ہیں۔ (القرآن)
ہم لوگ ہروقت
شیطانی دنیا کے… سردار ابلیس کی زد میں رہتے ہیں… مگر… شب قدر کے سجدے اتنے مبارک
اور مقدس… اور اتنے پیارے ہیں کہ… روحانی دنیا کے تاجدار… حضرت جبرئیل علیہ السلام
زمین پر تشریف لے آئے… مرحبا، خوش آمدید… اللہ اکبر … سبحان اللہ … اگر دل سے سوچیں تو خوشی سے جان نکلتی ہے
کہ… کون آرہے ہیں؟… کاش وہ ہمیں اچھی حالت میں پائیں… کہیں ہم غیبت کا حرام گوشت
نہ کھا رہے ہوں… کہیں ہم لا یعنی کاموں میں مصروف نہ ہوں… کہیں ہم سگریٹ، نسوار
اور پان کی بدبو میں غرق نہ ہوں… کہیں ہم ساڑھیاں اور جوتیاں نہ خرید اور بیچ رہے
ہوں… کاش وہ ہمیں سجدے میں دیکھیں… سبحان ربی الاعلیٰ… ایسا سجدہ جو خالص اللہ تعالیٰ کیلئے ہو… کسی بڑے وزیر یا افسر کے دورے
کے وقت… ماتحتوں کی کیا حالت ہوتی ہے؟… حضرت سیدنا جبرئیل علیہ السلام جیسے جاہ
وجلال والے… مقرب فرشتے تشریف لا رہے ہیں… اس امت کے عبادت گزار… سچے مردوں اور
عورتوں کو دعاء دینے کیلئے… ان کو پیار بھری نظروں سے دیکھنے کیلئے… ہاں ان نظروں
سے … جن سے انہوں نے ہمارے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا… حضرت جبرئیل علیہ السلام تو
انبیاء کرام پر اترتے تھے… مگر ہائے قربان رب کی رحمت پر کہ… ہمیں کیسی رات بخشی
کہ عام لوگوں کیلئے بھی… حضرت سیدنا جبرئیل علیہ السلام سلامتی لیکر اتر آئے… مجھے
الفاظ نہیں ملتے کہ کس طرح خوشی اورعظمت کے اس منظر کو بیان کروں… اللہ اکبر کبیرا… ہائے کاش ہم … یہ رات پالیں… ہائے
کاش ہم کسی طرح اس رات کو کمالیں… کچھ نظر آئے یا نہ آئے… یہ قرآن پاک کا سچا
اعلان ہے… کہ … روح القدس حضرت جبرئیل علیہ السلام اور فرشتے… اس رات میں اترتے
ہیں… اے مسلمانو! … خود کو… اور اپنے گھروں کو ان چیزوں سے پاک کرلو… جن سے فرشتوں
کو تکلیف ہوتی ہے… یا … جن کی موجودگی میں رحمت کے فرشتے قریب تشریف نہیں لاتے…
احادیث سے ثابت ہے کہ… رحمت کے فرشتے اس گھر میں نہیں آتے جس میں کتا ہو… سوّر
(خنزیر) ہو… جاندار کی تصویر ہو… یا بدکاری کی وجہ سے ناپاک ہونے والا کوئی فرد ہو…
کچا پیاز… اور
لہسن نہ کھائیں… بدبودار کپڑے نہ پہنیں… اور ظالم ٹی وی کے سامنے نہ بیٹھیں…
بس وہ پیاری رات
آرہی ہے… ابھی سے… خوشی اور ادب کے ساتھ استقبال کی تیاری شروع کردیں…
)۶(
اس رات میں فرشتے
اور روح القدس… اللہ تعالیٰ کے حکم سے نازل ہوتے ہیں۔(القرآن)
اللہ تعالیٰ کے اس خاص حکم سے خود اندازہ لگالیں کہ…
اس رات کی کتنی قدر ہے… اور کتنی قیمت؟… حضرت شیخ الاسلام ؒ لکھتے ہیں… یعنی اللہ کے
حکم سے روح القدس (حضرت جبرئیل ؑ) بے شمار فرشتوں کے ہجوم میں نیچے اترتے ہیں تاکہ
عظیم الشان خیر وبرکت سے زمین والوں کو مستفیض کریں اور ممکن ہے ’’روح‘‘ سے مراد
فرشتوں کے علاوہ کوئی اور مخلوق ہو۔ (تفسیر عثمانی)
)۷(
پورے سال کے
انتظامی امور کا نظام… فرشتے اسی رات میں زمین پر لاتے ہیں۔ (القرآن)
یعنی پورا نظام ہی
اسی رات میں نافذ ہوتا ہے… یا جتنی خیریں سارا سال آنی ہوتی ہیں… وہ … اسی رات میں
بانٹی جاتی ہیں…
)۸(
یہ رات سراپا
’’سلام ‘‘ ہے۔ (القرآن)
یعنی تمام رات
فرشتوں کی طرف سے ایمان والوں پر ’’سلام‘‘ ہوتا رہتا ہے کہ ایک فوج آتی ہے اور
دوسری جاتی ہے… یا مطلب یہ ہے کہ … یہ رات سراپا سلامتی ہے، ہر طرح کے شر، فساد
وغیرہ سے امن رہتا ہے… حضرت شیخ الاسلامؒ لکھتے ہیں… یعنی وہ رات امن وچین اور
دلجمعی کی رات ہے، اس میں اللہ والے لوگ عجیب وغریب طمانیت اور لذت وحلاوت اپنی
عبادت کے اندر محسوس کرتے ہیں اور یہ اثر ہوتا ہے نزول رحمت وبرکت کا جو روح اور
ملائکہ کے توسط سے ظہور میں آتا ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ اس رات جبرئیل ؑ اور
فرشتے عابدین وذاکرین پر صلوٰۃ وسلام بھیجتے ہیں… یعنی ان کے حق میں رحمت اور
سلامتی کی دعاء کرتے ہیں… (تفسیر عثمانی)
فرشتوں کا صلوٰۃ
وسلام… یا اللہ ہم سب کو اپنے فضل سے نصیب فرما…
)۹(
(یہ ساری رحمت، برکت اور
فضیلت) صبح تک رہتی ہے۔ (القرآن)
یعنی یہ رات اول تا آخر… غروب
آفتاب سے لیکر طلوع فجر تک … ان فضائل سے آراستہ ہے جن کا ذکر اوپر والی آیات میں
ہوا ہے…
)۱۰(
جو شخص شب قدر میں
ایمان کے ساتھ اور ثواب (یعنی عبادت) کی نیت سے کھڑا ہو… اس کے پچھلے تمام گناہ
معاف کردئیے جاتے ہیں… (بخاری، مسلم)
اس صحیح حدیث پاک
سے… ’’لیلۃ القدر‘‘ کمانے کا طریقہ معلوم ہوگیا کہ… اس رات قیام کیا جائے… قیام سے
مراد نوافل ہیں … جبکہ… باقی عبادات یعنی تلاوت اور ذکر بھی اس میں داخل ہیں… مگر
یہ عبادت ایمان کے ساتھ ہو… اور اجر وثواب حاصل کرنے کا دل میں پختہ یقین ہو…
اور رات بھر کی یہ
عبادت پوری بشاشت، محبت اورتوجہ سے ہو… بوجھ سمجھ کر نہ ہو… حضرت مفتی صاحبؒ لکھتے
ہیں ’’مناسب ہے کہ جتنی دیر جاگنا چاہے اس کے تین حصے کرے ایک حصہ میں نوافل پڑھے
اور ایک حصہ میں تلاوت کلام اللہ کے اندر مشغول رہے اور تیسرا حصہ استغفار، درود
شریف، دعاء وغیرہ وغیرہ ذکر اللہ میں گزارد ے… حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب قدس اللہ سرہ العزیز نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو خواب میں دیکھا تو دریافت فرمایا کہ اب
بزرگوں کی نسبت میں وہ کیفیت نہیں ہوتی جو پہلے بزرگوں کی نسبت میں ہوتی تھی اس کی
کیا وجہ ہے؟ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
نے ارشاد فرمایا کہ پہلے بزرگ تین چیزوں کی پابندی فرماتے تھے کثرت نوافل، کثرت
تلاوت اور کثرت ذکر اللہ ۔ اب اس زمانہ میں ذکر اللہ کی
کثرت کا تو بزرگوں کو کچھ خیال ہے مگر تلاوت اور نوافل کی کثرت کا اہتمام کم
ہوگیاہے… ’’الاّنادرًا‘‘ اس لیے نسبت مع اللہ کی
کیفیت میں بھی فرق آگیا…
واقعی اب جو لوگ اللہ والے کہلاتے ہیں ان کے ہاں بھی اکثر صرف کثرت
ذکر کی ہی تعلیم کا اہتمام ہوتا ہے… نوافل وتلاوت کا خیال ہی نہیں… ہمارے اسلاف کا
تو یہ طریقہ نہ تھا …
)۱۱(
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ عبادت وغیرہ میں
اتنا مجاہدہ کرتے تھے جو دوسرے دنوں میں نہیں کرتے تھے (مسلم شریف)
اس حدیث شریف سے
یہ سبق ملا کہ… ہم بھی… کچھ محنت بڑھا دیں اور عبادت میں کچھ مشقت، تکلیف… اور
مجاہدہ اٹھائیں… تاکہ… شب قدر کی صحیح قدر ہوسکے… اور ہماری جھولی بھی بھر جائے…
)۱۲(
جب رمضان کا آخری عشرہ شروع
ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کمر بند مضبوطی سے باندھ لیتے… اور
اپنی رات کو (عبادت سے) زندہ رکھتے اور اپنے گھر والوں کو جگاتے۔
)بخاری،
مسلم(
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مبارک عمل سے… روشنی ملی کہ… ان
راتوں میں عبادت کا عمومی ماحول بنایا جائے… اور اپنے اہل خانہ کو بھی محرومی سے
بچایا جائے… ہاں جس سے پیار ہوتا ہے … دل چاہتا ہے کہ وہ بھی… آخرت کے مزے لوٹے…
لیلۃ القدر میں تو … دنیا آخرت کی بے شمار نعمتیں بانٹی جاتی ہیں… اور انسان کو
روحانی زندگی نصیب ہوتی ہے… اس لیے اپنے گھر والوں کو بھی… اہتمام سے جگایا جائے…
اور پیار ومحبت کے ساتھ عبادت میں لگایا جائے… اور انہیں سمجھایا جائے کہ … آج
خلوت کا کونہ پکڑو… اور خود کو نور اور سلامتی کے حوالے کردو…
)۱۳(
شب قدر میں حضرت جبرئیل علیہ
السلام فرشتوں کے جھرمٹ میں نازل ہوتے ہیں اور ہر اس بندے کیلئے دعاء رحمت کرتے
ہیں جو کھڑا یا بیٹھا اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہا ہو (بیہقی)
اس حدیث پاک سے یہ
خاص بات معلوم ہوئی کہ … اصل فضیلت اللہ تعالیٰ کی یاد کی ہے… ذکر کہتے ہی اللہ پاک کی یاد کو ہیں… جس کا سب سے بہترین طریقہ…
نماز… ہے… الغرض اس قیمتی رات میں… جو عبادت بھی کی جائے خوب توجہ کے ساتھ کی
جائے… یعنی دل اللہ پاک کی طرف متوجہ ہو… تب … عبادت کی حقیقت نصیب
ہوگی … اور اس رات کی خصوصی برکت اور رحمت بھی…
)۱۴(
شب قدر کو رمضان
کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو ۔ (بخاری)
اللہ پاک کی حکمت کہ… لیلۃ القدر کو اس نے روپوش
فرمادیا کہ… اسے ڈھونڈو… محبوب کے ساتھ آنکھ مچولی کا مزہ کسی کسی کو ہی سمجھ میں
آتا ہے… قدر ومنزلت والی یہ رات… چھپالی گئی تاکہ… سچے عاشق اس کی خوشبو سونگھتے
پھریں… اور اس کی تلاش میں خود کو خوب تھکائیں… ’’لیلۃ القدر‘‘ کون سی رات ہے؟… اس
میں بہت سے ’’اقوال‘‘ ہیں… سب سے مضبوط بات وہی ہے جو اس حدیث پاک میں بیان ہوئی
کہ… رمضان المبارک کا آخری عشرہ اور پھر اس کی پانچ طاق راتیں… پس خوب محنت کرو…
اے نیکیوں میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنے والو…
)۱۵(
تمہارے اوپر ایک
مہینہ آیا ہے جس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جو شخص اس رات سے محروم
رہ گیا گویا ساری ہی خیر سے محروم رہ گیا اور اس کی بھلائی سے محروم نہیں رہتا مگر
وہ شخص جو حقیقتاً محروم ہی ہے۔(الترغیب والترہیب)
کتنی راتیں ہم نے…
دنیا کی خاطر جاگ کر کاٹیں… کتنی راتیں گناہوں… اور عیاشیوں کی نظر ہو گئیں… کتنی
راتیں بیماری … اور بے چارگی نے چاٹ لیں… تو کیا… اللہ پاک کیلئے… اپنے رب کیلئے… اپنے خالق و مالک
ومولیٰ کے لئے… دوچار راتیں جاگ لینا مشکل ہے؟… پھر یہ جاگنا ہمارے ہی نفع کا ہے…
ہمارا مولیٰ اور مالک تو غنی اور بے نیاز ہے… ہم نے کتنی راتیں … گھر والوں کو
اپنے لئے جگایا… کیا ایک دو راتیں … محبوب حقیقی کیلئے انہیں نہیں جگایا جاسکتا…
ہاں بے شک جب… قرآن لیلۃ القدر کی فضیلت سنا رہا ہو… آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاش میں جاگ رہے ہوں… حضرت
جبرئیل ؑاس رات کے عابدوں سے ملاقات کر رہے ہوں… تو ایسی رات سے … محروم رہنا…
واقعی بڑی سخت محرومی ہے… یا اللہ اس محرومی سے میری حفاظت فرما… ہم سب کی حفاظت
فرما…
)۱۶(
حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا… اگر مجھے شب قدر کا پتہ چل جائے
تو کیا دعاء مانگوں؟… حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دعامانگو:
اَللّٰہُمَّ
اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ (مسند احمد)
اس مبارک دعاء کا
ترجمہ یہ ہے…
اے میرے پروردگار
آپ معاف کرنے والے ہیں، اور معاف کرنے کو پسند فرماتے ہیں… پس مجھے بھی معاف
فرمادیجئے…
اس حدیث شریف سے
ایک تو ہمیں… شب قدر کی ایک پیاری دعاء معلوم ہوگئی… دوسری طرف یہ اشارہ بھی ملا
کہ … دعاء بہت اہم عبادت ہے… اسی لیے بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اس رات دعا ء میں
مشغول رہنا… زیادہ بہتر ہے…
جبکہ عام رائے یہی
ہے کہ … نماز سب سے افضل ہے… اور بہتر یہ ہے کہ مختلف عبادات کو جمع کیا جائے جیسا
کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے…
)۱۷(
شب قدر کی صبح کو
جب سورج نکلتا ہے تو اس کی شعاع نہیں ہوتی۔ (مسلم شریف)
احادیث میں شب قدر
کی بعض ظاہری نشانیاں بتلائی گئی ہیں… ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس رات کے بعد… صبح
جب سورج نکلتا ہے تو وہ چودھویں کے چاند کی طرح ہوتا ہے… یعنی اس میں شعاع نہیں
ہوتی… یہ علامت کئی احادیث شریفہ میں آئی ہے… جبکہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے
کہ… یہ رات … کھلی ہوئی چمکدار ہوتی ہے، بالکل صاف شفاف، نہ زیادہ گرم نہ زیادہ
ٹھنڈی بلکہ معتدل، گویا اس میں چاند کھلا ہوا ہے… اس رات میں… شیاطین پر شہاب ثاقب
نہیں مارے جاتے… اور اس رات کی ایک باطنی علامت یہ ہے کہ جب اس کے بعد سورج نکلتا
ہے تو… اس کے ساتھ شیطان نہیں ہوتا…
)۱۸(
اللہ تعالیٰ نے میری امت کو لیلۃ القدر عطاء فرمائی
ہے اور یہ تم سے پہلے والے لوگوں کو عطاء نہیں کی گئی۔ (کنزالعمال)
حدیث شریف سے
معلوم ہوا کہ… شب قدر اس امت کا اعزاز … اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ کا خاص تحفہ ہے… پس اس کی بھرپور قدر
کرنی چاہئے۔
)۱۹(
لیلۃ القدر میں
فرشتے… زمین پر کنکریوں کی تعداد سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ (کنزالعمال)
دیکھئے کتنا
بہترین منظر… اور موقع ہوتا ہے… کہ فرشتوں کی اتنی بڑی تعداد کو اپنے سجدوں کا
گواہ بنایاجائے… اور ان کی نورانی، پاکیزہ صحبت کا فائدہ اٹھایا جائے۔
)۲۰(
جس نے شب قدر میں
عشاء اور فجر کی نماز جماعت سے ادا کی تو اس نے شب قدر میں سے بڑا حصہ پالیا۔(کنز
العمال)
چونکہ یہ رحمت اور
برکت والی رات ہے اس لیے جس نے اتنا بھی اہتمام کیا تو وہ بھی اس کی برکت سے محروم
نہیں رہے گا… اب خود ہی اندازہ لگالیں کہ پوری رات عبادت میں گزارنے والے کو کیا
کچھ… اور کتنا کچھ ملے گا…
روحانیت کا خلاصہ
اوپر جو بیس نکات
عرض کیے ہیں… ان سے ان شاء اللہ شب قدر… اور اس کے معمولات کا وہ خلاصہ… سمجھ
آگیا ہوگا جو عمل کیلئے کافی ہے… وگرنہ اس عظمت والی رات کا تفصیلی حال تو … مستند
کتابوں کے سینکڑوں صفحات پر بکھرا پڑا ہے… اب آخر میں … آخری عشرہ کو قیمتی بنانے
… اور شب قدر کو ڈھونڈنے کا ایک مفید، تیر بہدف اور مؤثر ترین نسخہ … اور اگر یہ
کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ یہ نسخہ… روحانیت کا خلاصہ ہے… اللہ پاک ہم سب کو اس پر… شرعی حدود میں رہتے ہوئے…
عمل کی توفیق عطاء فرمائے…
امام احمد بن علی
البونی نور اللہ مرقدہ… شمس المعارف میں بیان فرماتے ہیں…
’’الصمت یورث
معرفۃ اللہ ‘‘
خاموشی سے اللہ پاک کی معرفت حاصل ہوتی ہے…
’’والعزلۃ
تورث معرفۃ الدنیا‘‘
اور خلوت وتنہائی
سے دنیا کی معرفت ملتی ہے…
’’والجوع
یورث معرفۃ الشیطان‘‘
اور بھوک سے شیطان
کی پہچان ملتی ہے…
’’والسہر
یورث معرفۃ النفس‘‘
اور بیداری سے نفس
کی معرفت حاصل ہوتی ہے…
یہ چار جملے بہت
تفصیل طلب ہیں… جبکہ ہمارے کالم کا دامن تنگ ہے… خلاصہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کیلئے زبان پر قابو پایاجائے…
دنیا کی حقیقت اس کے دھوکے اور فناء کو سمجھنے کیلئے خلوت اختیار کی جائے… ورنہ
انسان یہاں کے روڑے، پتھر اور مٹی جمع کرتے کرتے ناکام مر جاتا ہے… بھوک سے شیطان
کی سازشوں شرارتوں اور مکاریوں کا علم حاصل ہوتا ہے… اور راتوں کو ذکر وعبادت کے
لئے جاگنے سے اپنے نفس کی پہچان ہوتی ہے… اور اس کی شرارتوں اور حالتوں کا پتہ
چلتا ہے… حتی الامکان … شرعی حدود میں رہتے ہوئے اس چار نکاتی نصاب پرعمل کیا جائے
تب… دوسرے اعمال میں جان پڑ جائے گی… اور دل میں صفائی… اور باطن میں نور محسوس
ہوگا…
بلا ضرورت بات چیت
بند… بلا ضرورت لوگوں سے اختلاط بند… زیادہ کھانے اور معدہ بھرنے سے پرہیز… اور
رات کو جاگ کر خوب عبادت… اللہ پاک مجھے اور آپ کو اس کی توفیق عطا فرمائے…
آواز لگ رہی ہے
آخری عشرہ شروع
ہوتے ہی… لیلۃ القدر کی خوشبو آنا شروع ہوجاتی ہے… اللہ کے
مقرب بندے… اس کی تلاش میں رات دن ایک کردیتے ہیں… جبکہ… خود یہ حسین، البیلی اور
دلکش رات یہی آواز لگاتی ہے کہ… میںلیلۃ القدر ہوں… قدر ومنزلت والی رات… کسی کو
کیا معلوم کہ میری کتنی قدر وقیمت ہے؟… کہاں ہیں میرے قدردان کہ… میں ان کو رب سے
ملادوں… زمین سے اٹھا کر… آسمان پر پہنچادوں… کہاں ہیں میرے قدردان؟ … کہاں ہیں
میرے قدردان؟…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو ’’تقویٰ‘‘ نصیب
فرمائے… زلزلہ سے متاثر ہونے والوں کیلئے ہر طرف… ماشاء اللہ … خوب فنڈ ہو رہا ہے… اہل دل مسلمان دل
کھول کر عطیات وصدقات دے رہے ہیں… اور امدادی کارکن خوب محنت کرکے… مال اور ضرورت
کا سامان مستحقین تک پہنچا رہے ہیں… اللہ جل شانہ قبول فرمائے… چار سال پہلے طالبان کے
سقوط کے وقت بھی… کم وبیش ایسا ہی منظر تھا… اور مسلمان ماؤں بہنوں نے… اپنا آخری
زیور تک … اللہ کی راہ میں لٹا کر … اپنا نام… اونچی فہرست میں
شامل کرالیا تھا… یہ سب کچھ مبارک… مگر مال اور سامان اپنے ساتھ بہت بڑے فتنے اور
گناہ بھی لے آتے ہیں… اور کئی بدنصیب (العیاذب اللہ ) اس مال کی وجہ سے ہلاکت اور
جہنم کی کھائیوں میں جاگرتے ہیں… مال اس امت کا فتنہ ہے… اور وہ شخص اس امت کا ولی
اور ابدال ہے جو اس فتنے سے بچ جائے … قرآن پاک نے مال کے مسئلے کو جگہ جگہ کھول
کر بیان فرمایا … تاکہ … مسلمانوں کا نظریہ اور عمل مال کے بارے میں درست ہوجائے…
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے قول وعمل کے ذریعے سے
ہمیں اس بارے میں سب کچھ سکھادیا ہے… آئیے ’’اجتماعی مال‘‘ کے بارے میں اپنا راستہ
سیدھا… کامیابی اور جنت کی طرف کرنے کیلئے ماضی کے چند… کامیاب نقشے دیکھتے ہیں…
کامیاب لوگوں کے ساتھ چلنا… اور کامیاب لوگوں کے راستے پر چلنا ہی … کامیابی کی
ضمانت ہے… ان نقشوں کو پڑھنے سے پہلے دل کو دنیا سے آخرت کی طرف موڑنے والا ایک
قصہ حاضر خدمت ہے…
مال کی حقیقت
بنی اسرائیل میں
سے ایک آدمی کا انتقال ہوگیا… اس کے دو بیٹے تھے… ان دونوں کے مابین ایک دیوار کی
تقسیم کے سلسلے میں جھگڑا ہوگیا… جب دونوں آپس میں جھگڑ رہے تھے تو انہوں نے دیوار
سے ایک غیبی آواز سنی کہ تم دونوں جھگڑا مت کرو… کیونکہ میری حقیقت یہ ہے کہ میں ایک
مدت تک اس دنیا میں بادشاہ اور صاحب مملکت رہا… پھر میرا انتقال ہوگیا اور میرے
بدن کے اجزاء مٹی کے ساتھ گھل مل گئے… پھر اس مٹی سے کمہار نے مجھے گھڑے کی ٹھیکری
بنادیا… پھر ایک لمبی مدت تک ٹھیکری کے ٹکڑوں کی صورت میں رہنے کے بعد میں مٹی اور
ریت کی صورت میں تبدیل ہوگیا… پھر کچھ مدت کے بعد لوگوں نے میرے اجزائے بدن کی اس
مٹی سے اینٹیں بناڈالیں… اور آج تم مجھے اینٹوں کی شکل میں دیکھ رہے ہو، لہٰذا تم
ایسی گندی دنیا پر کیوں جھگڑتے ہو؟ والسلام ۔(جنۃ القناعہ ص۴۹۳)
پہلا نقشہ
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلان
ایک صاحب کو صدقات
اورعشر کی وصولی کیلئے بھیجا جاتا ہے… وہ واپس آکر کہتے ہیں… یہ مال اور جانور تو
بیت المال کے لئے ہیں… اور یہ مال مجھے ہدیہ ملاہے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر ناراض ہوتے ہیں… اور شام کو
اپنے صحابہ کرام کو جمع کرکے یہ وعظ فرماتے ہیں…
’’صدقات کی
وصولی کیلئے جانے والے کو کیا ہوا؟ ہم اسے صدقات وصول کرنے کیلئے بھیجتے ہیں… وہ
واپس آکر ہمیں کہتا ہے … یہ تو آپ لوگوں کے کام کی وجہ سے ملا ہے اور یہ مجھے ہدیہ
ملا ہے… وہ اپنے ماں باپ کے گھر میں بیٹھ کر کیوں نہیں دیکھ لیتا کہ اسے ہدیے ملتے
ہیں یا نہیں؟… اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے تم میں سے جو آدمی بھی
صدقات کے مال میں تھوڑی سی بھی خیانت کرے گا اور صدقات کے جانوروں میں سے کچھ بھی
لے لے گا وہ اسے اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے قیامت کے دن لائے گا… اونٹ، گائے اور
بکری جو لیا ہوگا اسے گردن پر اٹھا کر لائے گا اور ہر جانور اپنی آواز نکال رہا
ہوگا… اس کے بعد آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ خوب اوپر اٹھاکر
فرمایا:’’میں نے (تمہیں اللہ کا پیغام) پہنچادیا ہے۔ ‘‘ (بخاری، حیاۃ الصحابہ ج۳ص۶۲۷)
قیامت کا ہولناک
دن… سورج سوا نیزے پر… اپنے برے اعمال کا بوجھ الگ اور کندھوں پر جانور بھی سوار…
یا اللہ حفاظت فرما… روایات سے ثابت ہے کہ … زمین کی
خیانت کی ہوگی تو ہ بھی کندھوں پر سوار ہوگی… ہدیہ لینا اور دینا… حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب سنت ہے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایا قبول فرمائے… ہدیہ کا جبہ
پہن کر جمعہ پڑھایا… ہدیے کی سواری استعمال فرمائی… مگر یہاں… صورتحال مختلف اور
مشکوک تھی… اس لیے… اتنی سخت وعید فرمائی… اے متاثرین کیلئے امداد جمع کرنے والو!…
اے اجتماعی اموال کے امینو!… خوب احتیاط سے عمل کرو… اور زبان حال… اور اپنے عمل
سے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا دل ٹھنڈا کرنے کیلئے کہو… جی ہاں
ہمارے آقا! ہمارے محبوب! بے شک آپ نے اللہ
تعالیٰ کا پیغام ہم تک پہنچادیا… بے شک آپ
نے بڑا احسان فرمایا… ہم حاضر ہیں… حاضر ہیں… عمل کیلئے حاضر ہیں… ان شاء اللہ ایک پائی کی خیانت نہیں کریں گے… خواہ کتنی ہی
تکلیف اٹھانی پڑے…
دوسرا نقشہ
آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی بے چینی
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو آپ کے چہر ہ
مبارک کا رنگ بدلا ہواتھا… مجھے ڈر ہوا کہ کہیں یہ کسی درد کی وجہ سے نہ ہو… میں
نے کہا یارسول اللہ ! آپ کو کیا ہوا؟ آپ
کے چہرے کا رنگ بدلا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان سات دینار کی وجہ سے جو
کل ہمارے پاس آئے ہیں اور آج شام ہوگئی ہے اور وہ ابھی تک بستر کے کنارے پڑے ہوئے
ہیں۔ ایک روایت میں یہ ہے کہ وہ سات دینار ہمارے پاس آئے اور ہم ابھی تک ان کو خرچ
نہیں کرسکے۔ (بزازحیوٰۃ الصحابہ ج۲ص۲۳۹)
امانت میں خیانت
بدترین جرم… اور منافقین کی خاص علامت ہے… اور اس سے بچنے کا ایک بہترین طریقہ یہ
ہے کہ… اجتماعی مال آتے ہی اسے فوراً خرچ کرلیا جائے… ایسا نہ ہو کہ اچانک موت
آجائے اور وہ مال ضائع ہوجائے… یا ورثاء اسے ذاتی مال سمجھ کر تقسیم کرلیں… تب یہ
مال (نعوذب اللہ ) جہنم کا انگارہ بن جائے گا… جو دل تک کو بھون دیتا ہے… اس لیے
مال فوراً مستحقین تک پہنچائیں… اور اگر فوراً نہ پہنچا سکیں تو کچھ معتبر لوگوں
کو گواہ بنادیں کہ… فلاں مال اجتماعی ہے… یا وصیت لکھ کر کسی کے حوالے کریں… جیسا
کہ… دیگر احادیث شریفہ سے معلوم ہوتا ہے…
تیسرا نقشہ
یتیم کے مال جیسا
حکم
آپ جانتے ہیں کہ… اللہ پاک نے یتیم کے مال کا کیاحکم بیان فرمایا ہے…
ارشاد باری تعالیٰ کا ترجمہ ہے…
’’جو لوگ
یتیموں کا مال ناجائز طور پر کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں اور وہ جہنم
کی آگ میں ڈالے جائیں گے۔‘‘ (النساء ۱۰)
اب دیکھئے… حضرت
عمر رضی اللہ عنہ بیت المال کے متعلق کیا فرماتے ہیں…
آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: میں اللہ کے
مال کو (یعنی مسلمانوں کے اجتماعی مال کو جو بیت المال میں ہوتا ہے) اپنے لیے یتیم
کے مال کی طرح سمجھتا ہوں۔ اگر مجھے ضرورت نہ ہو تو میں اس کے استعمال سے بچتا ہوں
اور اگر مجھے ضرورت ہو تو ضرورت کے مطابق مناسب مقدار میں لیتاہوں۔ (ابن سعد، حیاۃ الصحابہ ۔ج۲ص۳۷۷)
امیر المؤمنین کو
اختیار تھا کہ… بیت المال میں سے اپنا وظیفہ اور خرچہ لے سکتے تھے… مگر آپ نے حد
درجہ احتیاط فرمائی… اور اپنے لیے محض اتنا اختیار رکھا… جتنا کسی مالدار یتیم کے
فقیر ولی کو ہوتا ہے کہ… وہ صرف بقدر ضرورت لے سکتا ہے… ان حضرات نے اپنے دل… حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں ایسے پاکیزہ بنالیے تھے
کہ سونا، چاندی… اور مال کی کشش ان کیلئے کوئی معنیٰ نہیں رکھتی تھی… اور پھر
احتیاط کا یہ عالم تھا کہ… ایک بار آپ کے پاس کچھ مال آیا تو آپ کی صاحبزادی… حضرت
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے آکر عرض کیا… اے امیر المؤمنین! اللہ تعالیٰ نے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم
دیاہے… اس لیے اس مال میں آپ کے رشتہ داروں کا بھی حق ہے… حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے بیٹی! میرے رشتہ داروں کا حق
میرے مال پر ہے اور یہ تو مسلمانوں کا مال غنیمت ہے…
چوتھا نقشہ
حرام مال کے
نقصانات
غزوہ خیبر میں
مسلمانوں کو شاندار فتح… اور بہت سا مال غنیمت ملا… اسلامی لشکر… آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں… خوشی خوشی واپس آرہا
تھا… آج اس لشکر کی جھولی… اجر، ثواب، سعادت… اور مال غنیمت سے بھری ہوئی تھی…
حدیث شریف کے مطابق… جہاد سے واپسی کا سفر بھی… جہاد میں جانے والے سفر کی طرح
مبارک ہوتاہے… لشکر میں ایک غلام بھی تھا… راستے میں ایک جگہ پڑاؤ ڈالا گیا تو اس
غلام کو تیر لگا… جو … اس کی موت کا ذریعہ بن گیا… صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اسے رشک سے دیکھا… اور عرض کیا…
یارسول اللہ اس کیلئے شہادت مبارک ہو… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہرگز نہیں… قسم اس ذات کی
جس کے قبضے میں میری جان ہے وہ چادر جو اس نے مال غنیمت میں سے تقسیم کرنے والے کے
ہاتھ میں پہنچنے سے پہلے لے لی تھی آگ بن کر اس پر بھڑک رہی ہے… یہ سن کر لوگ سخت
خوفزدہ ہوگئے… اور ایک شخص ایک تسمہ یا دو تسمے لیکر حاضر ہوا… اس نے کہا یہ میں
نے خیبر کے دن لیے تھے… حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا… یہ ایک تسمہ یا دو تسمے آگ
کے ہیں…(بخاری، فضائل جہاد ص۴۸۶)
اجتماعی مال میں
خیانت… ایمان کے منافی ہے… جس شخص کا ایمان سلامت ہو وہ اجتماعی مال میں خیانت کا
سوچ بھی نہیں سکتا… جبکہ… منافق کو جب موقع ملتا ہے تو وہ خیانت کر گزرتا ہے…
الغرض … حرام مال کا پہلا نقصان یہ ہوا کہ انسان کا نام… ایمان والوں کی فہرست سے
نکال کر … نعوذب اللہ … منافقین کے ساتھ لکھ دیا جاتا ہے…
اس کے علاوہ بھی
بے شمار نقصانات ہیں مثلاً:
)۱( حرام
مال سے کیا ہوا صدقہ خیرات قبول نہیں ہوتے ۔(مسند احمد)
)۲( حرام
کھانے، پینے اور استعمال کرنے والے کی دعاء قبول نہیں ہوتی۔ (مسلم)
)۳( حرام
مال سے خریدا ہوا کپڑا پہن کر جو نماز پڑھی جاتی ہے وہ قبول نہیں ہوتی۔ (مسند
احمد)
)۴( انسان
کے جسم کا جو گوشت حرام مال کھانے سے بنتا ہے وہ جہنم کا مستحق ہے۔(مسنداحمد)
)۵( لوگوں
کے صدقات وزکوٰۃ میں خیانت کرنے والے شخص کو قبر میں آگ کی ذرہ پہنادی گئی۔(نسائی)
)۶( اجتماعی
مال میں خیانت کرنے والا شخص قیامت کے دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدد کیلئے پکارے گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے میں کچھ اختیار نہیں
رکھتا۔ میں نے تم تک اللہ تعالیٰ کے احکامات پہنچادیئے تھے۔ (بخاری)
)۷( اجتماعی
مال میں خیانت عار ہے، ذلت ہے اور آگ ہے ۔ (مسنداحمد)
اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں پر رحم فرمائے اور ہمیں
خیانت کے جرم عظیم سے محفوظ فرمائے… اور ہمیں… آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے محروم نہ فرمائے…
پانچواں نقشہ
اجتماعی مال سے
قرض اٹھانا
امیر المؤمنین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ زمانہ خلافت میں بھی تجارت کیا کرتے تھے…
ایک بار آپ نے تجارتی قافلہ ملک شام بھیجنے کا ارادہ کیا تو کچھ رقم کی ضرورت پڑی…
آپ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ
عنہ کے پاس آدمی بھیجا کہ مجھے چار ہزار قرض دے دیں، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قاصد سے کہا… امیر المؤمنین
سے کہو کہ وہ بیت المال سے قرض لے لیں اور بعد میں واپس جمع کرادیں۔ قاصد نے جب
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ جواب پہنچایا تو آپ کو بڑی گرانی
ہوئی… بعد میں جب آپ کی حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات ہوئی تو آپ نے ان سے
فرمایا… تم نے ہی کہا تھا کہ عمر بیت المال سے چار ہزار قرض لے لے … اگر میں
تجارتی قافلہ کی واپسی سے پہلے مرگیا تو تم لوگ کہو گے کہ امیرالمؤمنین نے چار
ہزار لیے تھے اب ان کا انتقال ہوگیا ہے اس لیے یہ چار ہزار ان کو معاف کردئیے
جائیں… (تم لوگ تو چار ہزار چھوڑ دو گے) اور میں ان کے بدلے قیامت کے دن پکڑا جاؤں
گا۔ نہیں میں بیت المال سے بالکل نہیں لوں گا… بلکہ میں چاہتا ہوں کہ تم جیسے بخیل
آدمی سے ادھار لوں تاکہ اگر میں مرجاؤں تو وہ میرے مال میں سے اپنا ادھار وصول
کرے۔ (ابن سعد حیاۃ الصحابہ ج۲ص۳۷۹)
اس واقعہ میں بہت
سے سبق ہیں…
)۱( حضرات
صحابہ کرام ایک دوسرے سے بے حد محبت رکھتے تھے… اور ایک دوسرے کے ساتھ بے تکلفی کا
معاملہ برتتے تھے… حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قرض مانگنا… حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی ا
ﷲ عنہ کا نہ دینا… پھر بھی دونوں میں ملاقات اور مذاکرہ کا ہونا… اور حضرت عمر رضی
اللہ عنہ کا صاف صاف باتیں سنا کر اپنا دل صاف
کرلینا… اپنے حکومتی اختیارات کو قطعاً استعمال نہ کرنا… اور امیرالمؤمنین ہو کر
عام بھائیوں کی طرح معاملہ کرنا… یہ سب کچھ ان کی باہمی محبت اور اخوت کا نتیجہ
تھا… تلخی بھی اپنوں کے ساتھ ہی ہوتی ہے… اور انسان ڈانٹ ڈپٹ بھی اپنے محبوبین ہی
سے کرسکتا ہے… پھر یہ دنوں حضرات تو عشرہ مبشرہ میں سے بھی تھے… رضی اللہ تعالیٰ عنہم
)۲( بظاہر
اس میں کچھ حرج نہیں کہ… بیت المال میں سے قرض اٹھالیا جائے… اور اسے لکھ کر
گواہوں کے سپرد کردیا جائے مگر… حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے امت مسلمہ کیلئے ایک مثال چھوڑی کہ… اپنے
تجارتی کاموں کیلئے اجتماعی مال کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے… ویسے مشاہدہ بھی
یہی ہے کہ خیانت کا آغاز قرض سے ہوتا ہے… پہلے انسان اجتماعی مال میں سے قرضہ
اٹھاتا ہے… پھر آہستہ آہستہ اس کے دل سے اس مال کا خوف کم ہونے لگتا ہے… پھر قرضے
معاف کراتا ہے… اور پھر (نعوذب اللہ ) ہاتھ آگے بڑھنے لگتے ہیں… اور وہ خود کو اس
مال کا حقدار سمجھ کر … خیانت کرنے لگتا ہے… اس لیے … پہلا دروازہ … یعنی قرض کا
سلسلہ ہی بند کردیا جائے… تب … تقویٰ مضبوط رہے گا… اور ان شاء اللہ خیانت سے حفاظت رہے گی…
)۳( رزق
حلال کی طلب… کوئی برا کام یا گناہ نہیں ہے… حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خلافت کے زمانے میں تجارت کرنا اس کی بہت
بڑی دلیل ہے… بلکہ… دین کا کام کرنے والے حضرات کے پاس اگر اپنا ذاتی مال ہو… اور
ان کی ذاتی تجارت ہو تو… بیت المال پر ان کا بوجھ نہیں پڑے گا… اور وہ فکر معاش سے
بے فکر ہو کر کام کرسکیں گے… اور ان کی طبیعت خیانت کی طرف بھی مائل نہیں ہوگی…
مگر وہ حضرات جن کے کلی اوقات کی… دینی کاموں کو ضرورت ہوتی ہے وہ تجارت وغیرہ میں
نہ الجھیں تو بہتر ہے… اور اگر تجارت کریں بھی تو ایسا کام اختیار کریں جس میں
زیادہ مشغولیت نہ ہو…
)۴( قرض
کی دو قسمیں ہیں… ایک یہ کہ تجارت وغیرہ کیلئے قرض لیا جائے… اس کے بارے میں تو ہم
نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا عمل پڑھ لیا… اور یہی ہمارے لیے بہترین
نمونہ اور مثال ہے… جبکہ قرض کی دوسری قسم یہ ہے کہ انتہائی ضروری… ذاتی ضروریات
کیلئے قرض لیا جائے… اور پھر اسے جلد لوٹاد یا جائے… تو وہ حضرات جن کی زندگیاں
دین اور جہاد کیلئے وقف ہیں وہ بیت المال سے اس طرح کا قرض لے سکتے ہیں… مگر شرط
یہ ہے کہ … خفیہ نہ لیں… اس قرض پر گواہ بنائیں… اسے لکھ کر رکھیں… اور اپنے عہدے
یا منصب کا رعب ڈال کر… اس کی واپسی میں خلل نہ ڈالیں… چنانچہ روایت ہے کہ حضرت
عمر رضی اللہ عنہ کو ضرورت پیش آتی تو بیت المال کے نگران کے
پاس آتے اور اس سے ادھار لے لیتے، بعض دفعہ آپ تنگ دست ہوتے تو بیت المال کا نگران
آکر ان سے قرض ادا کرنے کا تقاضا کرتا اور ان کے پیچھے پڑ جاتا ، آخر حضرت عمر رضی
اللہ عنہ قرض کی ادائیگی کی کہیں سے کوئی صورت بناتے…
بعض دفعہ ایسا ہوتا کہ آپ کو وظیفہ ملتا تو اس سے قرض ادا کرتے… اس واقعہ پر بہت
غور کرنے کی ضرورت ہے… تقریباً آدھی دنیا کا حکمران… اور تنگ دست… کپڑوں پر پیوند…
ذاتی ضروریات کیلئے قرضہ لینے کی حاجت، بیت المال کے نگران کا پیچھے پڑنا… آپ کا
بالکل ناراض نہ ہونا… اور قرضہ واپس کرنے کی صورت بنانا… کیا ہمارا بھی اجتماعی
مال کے بارے میں یہی رویّہ ہے؟…کیا ہم بھی اس بارے میں اتنے محتاط، اتنے متواضع
اور اتنے عاجزی پسند ہیں؟… کیا ہم سے بھی چھوٹے ذمہ دار اسی طرح حساب اور بازپرس
کرسکتے ہیں؟… کیا ہم بھی اتنی خندہ پیشانی سے اس طرح کی صورتحال کا سامنا کرتے
ہیں؟… جماعتوں، تنظیموں، ٹرسٹوں، مدارس اور دینی اداروں کے ذمہ داروں کیلئے… یہی
بہترین نمونہ …اور یہی کامیابی کی ضمانت ہے… جو اس میں جتنی سبقت کرے گا… اللہ تعالیٰ کے ہاں… ان شاء اللہ … اتناہی اونچا مقام پائے گا…
چھٹا نقشہ
روزی مل کر رہتی
ہے
عماد الدولہؒ… ایک
معروف مسلمان بادشاہ گزرے ہیں… وہ ایک غریب آدمی کے بیٹے تھے جو مچھلی کا شکار
کرکے اپنے کنبے کو پالا کرتا تھا… اس غریب آدمی کے تین بیٹے تھے… اور یہ تینوں
بادشاہ… اور حکمران بنے… اور ان میں سے عماد الدولہ کو اعلیٰ سیاسی سوجھ بوجھ کی و جہ سے زیادہ مقبولیت ملی… عماد الدولہ کے
واقعات میں لکھا ہے کہ جب انہوں نے ’’شیراز‘‘ پر قبضہ کیا تو ان کے پاس مال ودولت
نہیں تھا… ان کے لشکری اور ساتھی جمع ہو کر… مال کا تقاضا کرنے لگے… اور یہ تقاضا…
بغاوت کا روپ اختیار کرنے لگا… عمادالدولہ… غم اور پریشانی کے عالم میں غرق… ایک
کمرے میں لیٹے ہوئے تھے… انہوں نے دیکھا کہ چھت کی ایک طرف سے … ایک سانپ نکلا…
اور دوڑتا ہوا دوسری طرف کے ایک سوراخ میں غائب ہوگیا… عماد الدولہ کو خطرہ ہوا
کہ… یہ سانپ کہیں ان پر نہ گرجائے… اور نقصان نہ پہنچائے… انہوں نے خدام کو بلایا…
سیڑھی منگوائی… اور سانپ کو تلاش کرنے لگے… تب پتا چلا کہ… دو چھتوں کے درمیان ایک
خفیہ کمرہ بنا ہو ا ہے… اس کمرے کی تلاشی لی گئی تو… سونے کے پانچ لاکھ دینار کا
خزانہ… اس میں چھپایا گیا تھا… ایک زہریلے خطرناک سانپ سے بچنے کی کوشش… اور اس
میں اتنی بڑی روزی کا ہاتھ آنا… عمادالدولہ نے یہ رقم اپنے لشکر اور ساتھیوں میں
تقسیم کی… چنانچہ بغاوت ٹھنڈی ہوگئی… اور حکومت ایسی جمی کہ عراق اور فارس کے اکثر
علاقوں تک فتوحات کا سلسلہ پھیل گیا… کتابوں میں لکھا ہے کہ پانچ لاکھ دینار کا
خزانہ ملنے کے بعد… جب اسے بغاوت وغیرہ سے اطمینان ہوا تو اس نے سوچا کہ کچھ کپڑے
وغیرہ سلوالیے جائیں… اس نے لوگوں سے پوچھا کہ… سابق حکمران کا درزی کون تھا؟…
لوگوں نے نام پتا بتادیا… اس نے اپنے کچھ سپاہی اسے لانے کیلئے بھیجے کہ آکر ناپ
لے جائے… وہ درزی سابق حکمران کا رازدان تھا… اور سابق حکمران نے اس کے پاس اپنا
خزانہ چھپایا ہوا تھا… سپاہی جب اس درزی کے پاس پہنچے اور اسے بتایا کہ نئے حکمران
عمادالدولہ نے اسے بلایا ہے تو وہ سمجھا کہ میرا راز فاش ہوگیاہے… اور اب میری خیر
نہیں… وہ ڈرتے، کانپتے عمادالدولہ کے پاس آیا اور آتے ہی گڑگڑاکر کہنے لگا… کہ … اللہ کی
قسم میرے پاس صرف بارہ صندوق ہیں… اور آپ یقین کریں… مجھے معلوم نہیں ہے کہ … ان
میں کیا ہے؟… عماد الدولہ نے وہ صندوق اٹھوائے تو ان میں بھی خزانہ… اور قیمتی
سامان نکلا… (حیاۃ الحیوان ج۱ص۳۹۷)
روزی ملنے کے ان
دو عجیب واقعات کے بعد آئیے … چند مبارک روایات پڑھتے ہیں… تب … بات ان شاء اللہ دل
میں اتر جائے گی…
)۱( حضرت
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی
شخص اپنی روزی سے بھاگے تو وہ روزی اسے اسی طرح پالے گی جس طرح موت انسان کو
پالیتی ہے ۔ (ابن ابی الدنیا۔ جنۃ القناعہ
ص۴۶۲)
یعنی اللہ جل
شانہ نے ازل سے انسان کیلئے جو رزق… لکھ دیا ہے… انسان لاکھ چاہے اس سے نہیں بھاگ
سکتا… بلکہ… قسمت کی روزی اسی طرح اٹل اور یقینی ہے … جس طرح … موت اٹل اور یقینی
ہے…
)۲( حضرت
ابودرداء رضی اللہ عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ رزق آدمی
کو موت سے زیادہ تلاش کرتا ہے۔
(کنزالعمال)
یعنی روزی… موت سے
بھی زیادہ تیزی… اور مضبوطی کے ساتھ انسان کو ڈھونڈ لیتی ہے… اور اس تک پہنچ جاتی
ہے…
)۳( اسی
طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ آدمی اگر اپنے رزق سے بھاگے
تو رزق اس کا پیچھا کرتاہے اور اسے اسی طرح پالیتا ہے جس طرح موت سے بھاگنے والے
کو موت پالیتی ہے پس اے لوگو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور حلال طریقہ سے رزق حاصل
کرو…(بیہقی وکنزالعمال)
عجیب بات ہے کہ …
روزی انسان کو ڈھونڈ رہی ہے … اور انسان اس کی خاطر… جہنم میں چھلانگیں لگا رہا
ہے… اللہ پاک ہمیں… یقین عطا فرمائے… تب … کوئی شخص بھی
حرام اور مشتبہ مال میں ہاتھ نہیں ڈالے گا… پس اے مسلمان بھائیو!… اور بہنو… ہم سب
خود کو حرام سے بچائیں… اور اپنی قسمت کی روزی… صرف اور صرف حلال ذرائع سے حاصل
کریں… اور خصوصی طور پر… اجتماعی اموال… چندے کی اموال… اور اموال غنیمت میں بہت
زیادہ احتیاط کریں… اور جب بھی ہمیں کوئی روزی ملے تو… اسے لینے، کھانے… اور
استعمال کرنے سے پہلے… ضرور دیکھ لیں کہ… وہ ہمارے لیے حلال ہے یا نہیں؟… اگر ہم
ایسا نہیں کریں گے تو قیامت کے دن سخت مشکل پیش آسکتی ہے… جیسا کہ اگلے نقشے میں آرہاہے…
ساتواں نقشہ
برا وقت
لوگوں پر ایک ایسا
زمانہ آئے گا کہ آدمی کو اس کی پرواہ نہیں ہوگی کہ وہ جو کچھ لے رہا ہے وہ حلال ہے
یا حرام؟ (بخاری)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے درد سے… اس برے وقت کا نقشہ
کھینچا ہے… جب لوگ جہنمی مزاج ہوجائیں گے… اور اس بات کی تحقیق نہیں کریں گے کہ…
ان کو جو کچھ مل رہا ہے وہ جائز بھی ہے یا نہیں؟… بس ملنا چاہئے … جہاں سے بھی
ملے… جیسا بھی ملے… حالانکہ ایک مسلمان… مومن کو تو اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ… اس
کی روزی میں… حرام شامل نہ ہو… اس لیے کہ قیامت کے دن… ہر شخص سے یہ پوچھا جائے گا
کہ… مال کہاں سے کمایا تھا؟ … اور کہاں خرچ کیا تھا؟… اور جب تک ان سوالوں کا درست
جواب نہیں دے لے گا… اس کے قدم وہاں سے نہیں ہٹیں گے… اس لیے اس معاملے میں نہ شرم
جائز ہے… اور نہ مروّت… حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے پاس جب بھی کوئی مال آتا
تھا تو… اس کی تحقیق فرماتے تھے… اور اگر کسی پر اعتماد کرکے بغیر تحقیق استعمال
فرمالیتے… تو بعد میں ضرور معلوم کرلیتے کہ یہ چیز کیسی تھی؟… حضرت ابوبکر صدیق
رضی اللہ عنہ … اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مشہور واقعات ہیں کہ … آپ نے ہدیہ میں
ملنے والا دودھ پی لیا… بعد میں… تحقیق کرنے پرمشکوک معلوم ہوا تو … گلے میں انگلی
ڈال کر … قے کرلی… اور سارا دودھ باہر نکال دیا… اللہ تعالیٰ ہمیں بھی… ایسی ہی سوچ، فکر… اور احتیاط
نصیب فرمائے… اللہ تعالیٰ رزاق ہے… وہ ماں کے پیٹ میں بھی ہمیں
روزی پہنچاتا رہا… اور پھر ہروقت ہماری روزی کا بندوبست کرتا ہے… اب ہمیں حرام اور
غلط مال استعمال کرنے سے پہلے… اس عظیم رزاق سے شرم کرنی چاہئے… جو … دن رات ہمیں
روزی عطاء فرماتا ہے… اور قیامت کے دن ہم نے اس کے حضور پیش ہونا ہے…
آٹھواں نقشہ
روزی کی ضرورت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
لوگوں پر ایک ایسا
وقت آئے گا جب دینار ودرہم ہی کام آئیں گے۔
(مسنداحمد)
دینار سونے کا سکہ
اور درہم چاندی کا سکہ ہوتا تھا… حدیث پاک کا مفہوم یہ ہے کہ ایک زمانہ ایسا آئے
گا جب روپے پیسے کے بغیر کام نہیں چلے گا… تو … اس زمانے میں روپیہ پیسہ کمانے کی
محنت کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے… دراصل حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کیلئے جو معاشی نظام…
نافذ فرمایا… اس میں روپے پیسے کمائے بغیر بھی زندگی بسر ہوسکتی تھی… یعنی یہ
ضروری نہیں تھا کہ ہر شخص ہی پیسہ کمانے میں لگ جائے… مسلمانوں کے لئے بیت المال
موجود ہوتاتھا… جہاد کی کثرت تھی ہر طرف سے غنائم آتے تھے… اور غلاموں اور ذمیوں
کی بہتات تھی جو مسلمانوں کو جذیہ دیتے تھے اور ان کی زمینوں میں کام کرتے تھے…
مگر بعد میں… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے مطابق زمانہ بدل گیا…
اور اب اس بات کی ضرورت رہتی ہے کہ… ہر شخص کیلئے خود کمانے اور روزی حاصل کرنے کا
کوئی ذریعہ ہو… چنانچہ اس حدیث شریف کے راوی حضرت مقداد بن معدی کرب رضی اللہ عنہ نے بھی دودھ دینے والے جانور پال رکھے تھے
اور آپ ان کا دودھ فروخت کرتے تھے۔ بعض لوگوں نے اس پر تعجب کا اظہار کیا تو انہوں
نے یہ حدیث شریف سنادی… جب اس زمانے میں یہ حال تھا تو اب کیا صورتحال ہوگی؟… خود
اندازہ لگایا جاسکتا ہے…
مقصد… اور خلاصہ
اس پوری بات کا یہ ہے کہ… مال کی مذمت اور اس میں احتیاط کا پڑھ کر بہت سے لوگ…
سارے کام کاج چھوڑنے پر آجاتے ہیں… اور پھر لوگوں کے محتاج ہوجاتے ہیں… اس لیے
حرام مال سے احتیاط کی جائے… مگر… ضرورت ہو تو حلال مال کمانے کی صورت بھی اختیار
کی جائے… البتہ اگر کسی کو توکل کااعلیٰ درجہ نصیب ہو تو… اس کی الگ بات ہے… ایسے
لوگوں کو تو اللہ پاک اپنے کام میں لگائے رکھتا ہے اور ان کیلئے
غیب سے روزی کا بندوبست فرماتا ہے… ایسے لوگوں کی سب سے بڑی علامت یہ ہوتی ہے کہ …
وہ … روزی کے سلسلے میں مخلوق سے نہ تو سوال کرتے ہیں… اور نہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے روزی کی طمع اور امید
رکھتے ہیں…
باقی جو لوگ… حلال
روزی کیلئے… حلال طریقے سے … دنیا کی محبت کے بغیر… محنت کرتے ہیں… ان کیلئے درج
ذیل روایت میں بڑی بشارت ہے…
’’حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ … بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں
کہ نماز، روزہ، حج اور عمرہ ان کیلئے کفارہ نہیں بنتے… ان گناہوں کا کفارہ روزی
طلب کرنے کی فکر بنتی ہے‘‘… (کنز العمال)
یعنی بعض گناہ…
نماز، روزہ، حج وغیرہ سے بھی معاف نہیں ہوتے… ان گناہوں کو … وہ پریشانی معاف
کراتی ہے… جس کی تکلیف بندہ مومن… حلال روزی کمانے کیلئے… برداشت کرتا ہے…
نواں نقشہ
وصیت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
’’کسی ایسے
مسلمان شخص کیلئے جس کے پاس وصیت کے قابل کوئی چیز ہو درست نہیں کہ وہ دو راتیں
گزار دے، مگر اس حال میں کہ اس کا لکھا ہوا وصیت نامہ اسکے پاس ہو۔ ‘‘ (بخاری)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
’’جس نے وصیت
کی حالت میں انتقال کیا تو اس کی موت ٹھیک راستہ پر اور سنت پر ہوئی اور وہ تقویٰ
اور شہادت پر مرا… اور اسے بخش دیا گیا۔‘‘ (سنن ابن ماجہ)
ان دو احادیث… اور
دیگر احادیث وروایات سے تاکید معلوم ہوگئی کہ … وہ حضرات وخواتین … جن کے پاس
اجتماعی اموال… یا لوگوں کے اموال وغیرہ ہوتے ہیں وہ بالکل دیر نہ کریں… موت کسی
بھی لمحے آسکتی ہے… فوراً وصیت نامہ لکھ کر… بااعتبار لوگوں کے حوالے کریں… ایسا
نہ ہو کہ اچانک آنکھ بند ہوجائے… پیچھے ورثاء بھی حرام کھائیں… اور خود اپنی گردن
بھی… مرتے ہی… نعوذب اللہ پکڑی جائے…
دسواں نقشہ
دو راستے
محتاج لوگوں کیلئے
… مال جمع کرنا… جہاد کیلئے فنڈ اکٹھا کرنا… متاثرین کیلئے امداد جمع کرنا… بیت
المال بنانا… اور چلانا… یہ سب عظیم الشان نیکیاں… اور باقی رہنے والے کام اور
صدقات ہیں… اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی بہت بڑی قیمت ہے… اور یہ وہ
نیکیاں ہیں… جو … مرنے کے بعد اصل کام آئیں گی… احادیث سے ثابت ہے کہ… جس طرح …
خرچ کرنے والوں کو اجر ملتا ہے… اسی طرح جمع کرنے، سنبھالنے، حساب رکھنے…اور
پہنچانے والوں کو بھی پورا پورا اجر ملتا ہے… دیکھیں کتنی بڑی سعادت ہے… ہم کروڑوں
روپے نہیں دے سکتے… مگر … جمع کرکے امانت کے ساتھ پہنچانے پر ہمیں… ہمارا پیارا
رب… کروڑوں روپے کا اجر عطاء فرمادیتا ہے… اس لیے وعیدیں پڑھ کر… ہمت نہ ہاریں…
بلکہ… اور زیادہ محنت اور احتیاط سے کام کریں… ایک شخص کسی سیٹھ کے ہاں ملازمت کرتا
ہے… وہ سیٹھ اسے اس بات کی تنخواہ دیتا ہے کہ وہ … اس کے مال کا حساب رکھے اور اسے
سنبھالے… اب یہ شخص … دس بیس ہزار کی تنخواہ کیلئے… ایک ایک پائی گنتا ہے… بار بار
حساب کرتا ہے… اور روزانہ کھاتہ برابر جوڑتا ہے… وہ اس کام سے نہیں اکتاتا…
کیونکہ… اسے اسکی تنخواہ ملتی ہے… میرے عزیز بھائیو… اور بہنو… اللہ پاک تو ہمیں … صرف دنیا کی تنخواہ نہیں… بلکہ سب
کچھ دیتا ہے… اجر، ثواب، روزی، عزت، شہادت… اور جنت… اور سب سے بڑھ کر … اسی کی
خوشی، پیار اور رضاء… تو پھر ہم کیوں اکتائیں… اور کیوں حساب سے پریشان ہوں… ایک
مسلمان بہن… روتے روتے اپنے ہاتھوں سے سونے کی آخری انگوٹھی اتار کر … اللہ پاک کے راستے میںدے رہی ہے… وہ دعاء کر رہی ہے
کہ … یا اللہ مجھ غریب کے پاس بس یہی مال باقی تھا… اے پیارے
ربّا! مجھ غریب سے قبول فرمالے… ادھر اس کے آنسو گرتے ہیں… اور ادھر شیطان چیخیں
مارکر … اپنے سر میں خاک ڈالتا ہے… ہماری بہن کا ہاتھ خالی ہوگیا… اس نے اپنے گمان
میں مجاہدین… یا زلزلہ کے متاثرین تک مال پہنچادیا… کیا اے مسلمان بھائی… اپنی اس
مقدس بہن کا یہ صدقہ… صحیح مصرف تک پہنچانا… آپ کی ذمہ داری نہیں ہے؟…
٭٭٭
اللہ کی قسم… اللہ
آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا آپ توصلہ رحمی کرتے ہیں… ہمیشہ آپ سچ بولتے ہیں لوگوں
کے بوجھ کو اٹھاتے ہیں… یعنی دوسروں کے قرضے اپنے سر رکھتے ہیں اور ناداروں(
غریبوں مسکینوں) کی دیکھ بھال فرماتے ہیں۔ آپ امین ہیں لوگوں کی امانتیں رکھتے
ہیں… مہانوں کی ضیافت کا حق ادا کرتے ہیں… حق بجانب امور میں آپ ہمیشہ امین اور
مددگار رہتے ہیں…( سیرۃ المصطفیٰ جلد اول)
ہاں اللہ رب العزت
کی قسم… اللہ پاک آپ کو کبھی بھی رسوا نہیں کرے گا… پیارے بھائیو… اور بہنو! یہ ام المومنین حضرت
خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وہ یقینی، اور میٹھی باتیں ہیں… جو … انہوں نے اپنے محبوب
آقا، اور خاوند… حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسوقت فرمائیں تھیں
…جب… روئے زمین پر ابھی تک کسی نے اسلام قبول نہیں کیا تھا… آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نبوت و رسالت کا عظیم بوجھ اور عظیم الشان منصب اٹھا کر گھر آئے
تھے… راستے میں ہر درخت اور پتھر نے… آپ کو سلام کیا تھا… السلام علیک یا رسول
اللہ… آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھر آتے ہی… حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو… سب
کچھ بتا دیا… اور فرمایا… مجھ کو اپنی جان کا خطرہ ہے… اس وقت ایک عورت نے پھر
سعادت کا میدان جیت لیا… جی ہاں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے … فوراً فرمایا…آپ کو
بشارت ہو آپ ہر گز نہ ڈریئے… مبارک ہو اور آپ کو بشارت ہو… اللہ کی قسم… اللہ
تعالیٰ آپ کے ساتھ سوائے خیر اور بھلائی کے کچھ نہیں کرے گا… میں پھر کہتی ہوں…کہ
آپ کو بشارت ہو آپ یقینا اللہ کے ر سول برحق ہیں…
حضرت خدیجہ رضی
اللہ عنہا… عورتوں میں سب سے پہلے ایمان لے آئیں… انہوں نے… آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کا اس تنہائی کے عالم میں خوب خوب ساتھ دیا… اور رفیقہ ٔحیات…
رفیقۂ میدان عمل بھی بن گئیں… حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے… کتنا بڑا کام کیا؟…
کتنی بڑی سعادت اٹھائی؟ … کتنا اونچا اور پائیدار اجر پایا… یہ باتیں پھر کسی مجلس
میں …ان شاء اللہ… آج ہمارا موضوع کچھ اور ہے… دیکھیں… جس دن حضور اکرم صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کو رسالت سے نوازا گیا… آپ صلی اللہ علیہ وسلم چالیس برس کی عمر کو
پہنچ چکے تھے… مکہ مکرمہ کا ماحول کفر، شرک، ظلم اور گناہ سے بھرپور تھا… ہر طرف
بے حیائی کے سانپ دندناتے پھرتے تھے… گلی گلی شراب و زنا کا دور دورہ تھا… طاقتور
لوگ’’ ظالم‘‘ تھے… اور کمزوروں غریبوں کا کوئی پرسان حال نہیں تھا…ہرشخض کو بس
پیٹ،شرم گاہ اور ناک کی فکر تھی… اور انسانیت انہیں تین گڑھوں میں گھٹ گھٹ کر مر
رہی تھی… ہائے مال ہائے مال… ادھر عورت ادھر عورت … بس میں اور میں… میں ایسا میں
ویسا… میرا یہ حق، میرا یہ نام…ہر کسی کو اپنی فکر تھی… الغرض معاشرہ پر گناہ کا
ہر ساز بج رہا تھا… ہر طرف بے حیائی کی موسیقی تھی… ظلم ناچ رہا تھا… اس ماحول میں
اللہ تعالیٰ نے پیارے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح سے بچایا کہ … عقل
دنگ رہ جاتی ہے کہ ذرہ برابر… کسی گناہ اور ظلم کا سایہ بھی آپ پر نہ پڑا… اور آپ
کی طبیعت مبارکہ کا خمیر… رحمت، شفقت، ایثار، قربانی… اور خدمت… وغیرہ جیسی اعلیٰ
صفات پر اٹھایا گیا… آیئے… حضرت امام بخاریؒ کے ساتھ … مزے لے لے کر… اس حدیث شریف
کو دوبارہ پڑھتے ہیں… جو … ہم نے شروع میں پڑھی ہے۔ ایسی حدیث جس میں ہمارے آقا
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک شان اور صفات کا ذکر ہو… ایک بار پڑھنے سے کہاں
دل بھرتا ہے؟… محبوب کی باتیں… محبوب ہوتی ہیں… دل چاہتا ہے بار بار سنے… زبان
چاہتی ہے بار بار بتائے … قلم چاہتا ہے بار بار لکھے… پھر اس زمانے میں تو … ان
مبارک’’صفات‘‘ کا تذکرہ کرنے کی بار بار ضرورت ہے کیونکہ… حضور پاک صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کی امت درد سے تڑپ رہی ہے۔ ایک نظر آزاد کشمیر… اور صوبہ سرحد کے متاثرہ
اضلاع پر ڈالیں… آج حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت ظلم سے کراہ رہی ہے…
ایک نظر فلسطین، افغانستان، مقبوضہ کشمیر… اور عراق پر ڈالیں…آج حضور پاک صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کی امت بوجھ تلے سسک رہی ہے… ایک نظر برما، فلپائن ، تھائی لینڈ،
سنکیانک، ہندوستان، بوسنیا… اور اب پاکستان پر بھی ڈالیں… آج حضور پاک صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کی امت گناہوں کی یلغار کے سامنے تنکے کی طرح لرز رہی ہے… ایک نظر
اپنے ماحول اور معاشرے پر ڈالیں… آیئے صحیح بخاری شریف کی اس مفصل روایت کے کچھ
حصہ کا خلاصہ پڑھتے ہیں…
’’حضرت عائشہ
رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کے سلسلے کا
آغاز اچھے خوابوں سے ہوا… آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو خواب دیکھتے وہ صبح کی
روشنی کی طرح ظاہر ہو جاتا… پھر خلوت اور تنہائی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
لئے محبوب بنا دی گئی… آپ غار حراء میں خلوت فرماتے تھے… اس کے بعد حضرت جبرائیل
علیہ السلام کے آنے اور آپ پر پہلی وحی نازل ہونے کے احوال ہیں… تیسری بار جب آپ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ( اپنے ساتھ) بھینچا… اور
آیات پڑھائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے… کانپتے دل کے ساتھ ان آیات کو
دہرایا… پھر آپ حضرت خدیجہ بنت خویلہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے…
فقال زملّونی
زملّونی… اور ارشاد فرمایا مجھے کمبل اوڑھائو، مجھے کمبل اوڑھائو… انہوں نے کمبل
اوڑھا دیا… حتیٰ ذھب عنہ الروع فقال لخدیجۃ و أَخَبَرھَا الخَبر لقد خشیتُ علی
نفسی… جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خوف دور ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
حضرت خدیجہ کو پورا واقعہ سنا کر فرمایا مجھے اپنی جان کا خوف ہے… فقالت خدیجۃ
کلّا…حضرت خدیجہ نے فرمایا… ہر گز نہیں… واللہ مایخزیک اللہ ابدًا… اللہ کی قسم… اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی بھی
رسوا نہیں فرمائے گا…انک لتصل الرحم… آپ تو صلہ رحمی( اہل خاندان پر احسان)فرماتے
ہیں… و تحمل الکل… اور بے کسوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں…وتکسبُ المعدوم… اور غریبوں کے
لئے کماتے ہیں… و تقری الضیف… اور مہمان نوازی کرتے ہیں… و تعین علی نوائب الحق…
اور مصائب میں مدد کرتے ہیں۔ ( صحیح بخاری ج۔ا
ص۳)
اس روایت میں پہلی
بات تویہ ہے کہ … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خوف اور ڈر… نعوذ باللہ بزدلی کی
وجہ سے نہیں تھا… ہمارے حضرت مفتی ولی حسن صاحب نور اللہ مرقدہ فرماتے تھے… یا تو
یہ طبعی خوف تھا جو اچانک یہ سب کچھ دیکھنے سے پیدا ہوا اور ختم ہو گیا… حضرت جبرائیل
علیہ السلام کی قوت کا اندازہ لگانا مشکل ہے… وہ اچانک آئے… اور انہوں نے تین بار
بھینچا اور دبایا… یا یہ خوف نہیں… منصب نبوت کا رعب تھا… یا… ذمہ داری کا بوجھ
تھا… جو خوف اور سردی کی صورت میں طاری ہوا… قیامت تک کے انسانوں کی ہدایت کے لئے
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری اور سب سے مقرب رسول منتخب کیا گیا تھا…اور
یہ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے جان کا خوف ہے…اس کا مطلب
بھی یہی تھا کہ …ذمہ داری اتنی بڑی ہے کہ … جان
نکلنے کا خوف ہے… یہ موت کا ڈر نہیں تھا… بلکہ … ذمہ داری اور منصب کی عظمت
کا بیان تھا۔
دوسر ی بات یہ ہے
کہ … حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنی تکلیف اور محنت کے ساتھ وحی کا
بوجھ اٹھایا… اور اسے امت کے لئے آسان فرمایا… مگر … آج امت مسلمہ نے قران پاک سے
منہ موڑا ہوا ہے… ہر طرف جدید تعلیم جدید تعلیم کا شور ہے… جبکہ … انسانوں کی
کامیابی… اور نجات ’’وحی الٰہی‘‘ میں ہے… کاش حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
سچے عاشق… آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان تکلیفوں کا اندازہ لگائیں… جو آپ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے… اللہ تعالیٰ کی وحی اٹھانے، سنبھالنے… اور ہم تک پہنچانے
کے لئے برداشت فرمائی ہیں… اور پھر قرآن پاک کو خودبھی پڑھیں… سیکھیں، سمجھیں… اور
اس پر عمل کریں… اور اپنی اولاد کو بھی…اللہ پاک کی عظیم وحی کا حافظ و عالم و
عامل بنائیں۔
تیسری بات یہ ہے
کہ …حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے … پورے عزم، جزم اور یقین کے ساتھ فرمایا کہ …
اللہ پاک آپ کو رسوا نہیں فرمائے گا… کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں یہ
پانچ صفات موجود ہیں:
)۱(صلہ
رحمی… اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ حسن سلوک۔
)۲(تحمل
الکل… کل کہتے ہیں بوجھ کو… یعنی آپ لوگوں کا بوجھ خود اٹھا کر انہیں ہلکا پھلکا
فرما دیتے ہیں۔ ضعیفوں، محتاجوں، بے کسوں کی مدد کرنا… یتیموں کی کفالت کرنا… بے
سہارا لوگوں کی معاونت کرنا… یہ سب تحمل الکل میں شامل ہے۔
)۳(وتکسب
المعدوم… یہ بہت وسیع جملہ ہے… اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ …آپ محنت کر کے مال کماتے
ہیں… اور پھر وہ مال ناداروں اور غریبوں میں بانٹ دیتے ہیں… یعنی آپ صرف اس لئے
مال کمانے کی تکلیف اٹھاتے ہیں تاکہ وہ مال بے سہارا، اور محتاج و مستحق لوگوں میں
تقسیم کر سکیں… اس جملے کے اور بھی کئی معنیٰ… حضرات محدثین نے لکھے ہیں:
)۴( وتقری
الضیف… آپ مہمان نوازی کرتے ہیں… ظاہر ہے اس پر مستقل ڈٹے رہنا آسان کام نہیں ہے۔
)۵( و
تعین علی نوائب الحق… نوائب جمع نائب… اس کے معنیٰ ہیں حادثہ… مصیبت… یعنی آپ ایسے
مصیبت زدہ افراد کی مدد کرتے ہیں جو مدد کے حقدار ہوں…یا حق کی وجہ سے مصیبت زدہ
ہوں۔
بعض روایات میں…
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ایک چھٹی صفت بھی بیان فرمائی کہ …آپ بے حیا عورتوں
کے پاس نہیں جاتے… یعنی عفیف اور پاکدامن ہیں۔
پس جو شخص… اللہ
تعالیٰ کی طرف سے ان اونچی صفات پر قائم ہو… وہ… رسوا نہیں کیا جاتا۔
اللہ تعالیٰ نے آپ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو… رسالت و نبوت سے سرفراز فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے اپنی امت میں بھی… ان صفات عظیمہ کا بیج بو دیا… آپ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے رشتہ داروں کے وہ حقوق بیان فرمائے کہ… کوئی بھی مسلمان ان پر ظلم
کرنے کا تصور تک نہیں کر سکتا… اور آپ نے ہر مسلمان کو… خدمت، سخاوت، اور ایثار و
مہمان نوازی کا پیکر بنا دیا… بے شک… آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محنت رنگ
لائی… آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے آپ والی صفات کو … اپنا لیا… اور آپ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کو… اختیار کر لیا… آج دنیا انکی مثال لانے سے
قاصر ہے… اللہ پاک نے ان کو پیار کی نظر سے دیکھا اور ان سے راضی ہو گیا… مگر یہ
سلسلہ رکا نہیں… اسلام… ایک سدابہار دین ہے… قیامت تک حضور اکرم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کے دیوانے عاشق… آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفات کو اپناتے رہیں گے…
آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں… جو اپنے تمام رشتہ داروں کے … شرعی حقوق جانتے ہیں…
اور پھر شرعی حدود میں رہتے ہوئے انہیں ادا کرتے ہیں… آج بھی… لوگوں کے بوجھ اپنے
کندھوں پر اٹھانے والے ایسے افراد زندہ ہیں… جو سایہ دار درخت کی طرح خود تو دھوپ
اٹھاتے ہیں … جبکہ … دوسروں تک ٹھنڈا سایہ پہنچاتے ہیں… جی ہاں… آج بھی وہ خوش
نصیب زندہ ہیں… جو … کمزوروں، یتیموں… اور عیالداروں کے لئے مال کماتے ہیں… خود
سادہ کھاتے ہیں… موٹا پہنتے ہیں… اور اپنے مال سے دوسروں کو خوب نفع پہنچاتے ہیں…
جی ہاں… آج بھی مہمانوں کی خاطر… بھوکے پیٹ سونے والے… اور دل کی چاہت کے ساتھ
مہمانوں کی خدمت کرنے والے زندہ ہیں… اور حادثات میں لوگوں کی… آخری حد تک مدد
کرنے والے… موجود ہیں… اسی لئے تو امت میں… دین باقی ہے… اسی لئے تو امت کی شان آج
بھی … مسلّم ہے… اللہ پاک نے انہیں لوگوں کی وجہ سے ابھی تک امت مسلمہ کو اجتماعی
رسوائی سے بچایا ہوا ہے۔
الرحمت ٹرسٹ کے…
ذمہ دارو! اور کارکنو!… اللہ پاک آپ پر رحم فرمائے… اور آپ کی محنتوں کو قبول
فرمائے… آپ لوگ خوش نصیب ہیں… اللہ پاک نے آپ کو اپنے کاموں کے لئے ایسا چن لیا کہ
… اب … فرصت کانام و نشان تک نہیں ہے… ہاں فرصت کس بات کی؟… اللہ پاک کے کاموں سے
فرصت؟… قربانی ا ور عبادت سے فرصت؟… ہماری دعا ہے ایسی فرصت ہمارے دشمنوں کو ملے…
ہمیں تو اپنے مالک کی نوکری چاہئے… اپنے مالک کی بندگی چاہئے… ابھی ایک کام سے
سرنہ اٹھا ہو کہ دوسرا کام مل جائے… اور قبول بھی ہو جائے… اس سے بڑھ کر اور کیا
نعمت ہو گی؟… یا اللہ! فخرسے بچا… شکر کی توفیق عطاء فرما… یا ربا! آپ کا شکر…یا
ربا! آپ کا شکر…ابھی قربانی مہم سے فارغ نہیں ہوئے تھے…ہماراجمع کیاہواگوشت ابھی
تک غریبوں کے گھرمیں موجودتھا کہ…اے ہمارے رب! آپ نے گندم مہم پر لگا دیا… ابھی
شہید کی عظیم ماں… اس گندم سے … شہید کے بچوں کو روٹی کھلا ہی رہی تھی کہ تونے
ہمیں… دیوانوں کی طرح… حیّ علی الصلوٰۃ… حیّ علی الصلوٰۃ کے کام پر لگا دیا…یا
اللہ! کیسے شکر ادا کریں… نعمتیں بے شمار ہیں جبکہ ہماری زبان ناقص …ابھی اقامتِ
صلوٰۃ مہم کی خوشبو فضاء میں تھی کہ … رجب مہم کا اعلان ہوا… ابھی اس کے تانے بانے
بن رہے تھے کہ… الحمد للہ دس مقامات پر دورہ تفسیر کا نور… پھیلتا ہی چلا گیا… ہم
ابھی اس نور کو سمیٹ رہے تھے کہ … رمضان شریف تشریف لے آیا… شہداء کے گھرانوں کی
کفالت سے لیکر… زلزلہ زدگان کی مددتک… آپ نے ہمیں توفیق بخشی… اور ابھی عید کے
کپڑے اتارے نہیں تھے کہ… مرکز کی طرف سے اعلان عام آ گیا کہ… ایک مہینہ… رات دن
ایک کر کے … زلزلہ سے متاثر ہونے والے… افراد کے لئے بھرپور مہم چلائی جائے…
کیونکہ… ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سپاہی… حضرت محمد صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کی امت کو اس دکھ اور درد میں اکیلا نہیں چھوڑ سکتے۔
اب تمام ذمہ دار…
اور کارکن بغیر آرام کئے… اس مہم میں الحمد للہ مصروف ہو رہے ہیں… اس سال تو الحمد
للہ … حج پر بھی… وفد جا رہا ہے… خوب مانگنے… رب کو منانے… اور پھر قربانی… اور
قربانی والی عید… یہ تو صرف ایک پہلو کا ذکر ہے… رب تعالیٰ نے تو اپنے ان بندوں کو
ان کاموں سے بھی… اونچے کاموں پر لگایا ہوا ہے… الحمدللہ…الحمد للہ… الحمد للہ… یا
اللہ! ایمان اور اخلاص کے بعد… استقامت عطاء فرما… یا اللہ! تیری ہی توفیق سے نقل
کر رہے ہیں… تواس نقل کو اصل بنا دے… یا اللہ! ہمیں برباد کرنے، ہمیں مٹانے… ہمیں
بار بار روکنے کے لئے … بہت سارے ’’سر‘‘ جمع ہوتے ہیں… بہت سی ’’زبانیں‘‘ چلتی
ہیں… بہت سی ’’سازشوں‘‘ کے کارخانے دن رات محنت کرتے ہیں… مگر … تیرا فضل اور
احسان ہے کہ … بات اب تک بنی ہوئی ہے۔
اے
پیارے مالک!… ہم سے راضی ہو جا… ہم سے کام لے لے… اور ہمیں… رسوائی اور محرومی سے
بچا… اور ایک چھوٹی سی دعاء… آپ کے لئے چھوٹی… اور ہمارے لئے بڑی… کہ … یا اللہ!
ہمیں… حب دنیا سے بچا کر… اپنی ملاقات کا سچا شوق نصیب فرما… اور پھر … شہادت کے
خون میں نہلا کر… اپنی وہ پیاری ملاقات نصیب فرما…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے رحم وکرم کا معاملہ فرمائے… موسم
تیزی سے ٹھنڈا ہورہا ہے… بارش شروع ہوچکی ہے… اور برف گرنے ہی والی ہے… زلزلہ سے
تباہ حال لاکھوں انسان ابھی تک آزمائش کے جوکھم سے گزر رہے ہیں… اس وقت انہیں مدد،
تعاون اور خدمت کی ضرورت ہے… جبکہ… بہت سے ادارے اور تنظیمیں کام بند کرکے واپس
جارہی ہیں… زخمیوں کو تڑپتا… اور بچوں کو بلکتا چھوڑ کر… اور بعض ادارے … متاثرین
کیلئے جمع ہونے والے فنڈ کا ایک بڑا حصہ… اپنی تشہیر اور اشتہارات پر صرف کررہے
ہیں … یقینا اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہئے…
بڑے اخبارات کے پہلے صفحہ پر… اشتہار کا خرچہ لاکھوں روپے پڑتا ہے… لاکھوں روپے سے
بہت سے افراد کو چھت، بہت سے بھوکوں کو نوالہ اور بہت سی بے آسرا بہنوں کو دوپٹہ
اور آنچل دیا جاسکتاہے…
ایک دن… اخبار میں
اشتہار دینے پر پندرہ لاکھ برباد… اور جب روزانہ اشتہار چلے گا… اور کئی کئی
اخبارات میں چلے گا تو خرچہ کروڑوں میں جا پہنچے گا… عجیب بات ہے… ماؤں کی گود میں
بچے بھوکے مر رہے ہیں… بوڑھے بزرگ سردی میں ٹھٹھر رہے ہیں… اور لاشیں بے گور وکفن
پڑی ہیں… ایسے میں خود کو بھلا کر خدمت کرنا ہی اچھا لگتا ہے… نہ کہ… تشہیر وتعارف
میں ’’امدادی اموال‘‘ برباد کرنا… ہاں ایک حد تک… تشہیر کی ضرورت موجود ہے… تاکہ…
عوام کو … ’’تعاون‘‘ کی طرف متوجہ کیا جاسکے… مگر… اس کیلئے کم خرچ ذرائع استعمال
کیے جاسکتے ہیں… میرا مقصد … کسی پر تنقید نہیں… اپنے رفقاء اور ساتھیوں کیلئے
’’نقشۂ عمل‘‘ فراہم کرنا ہے… تاکہ… مقابلے کی دوڑ میں کود کر کوئی اپنا عمل برباد
نہ کرے… اور مصیبت زدہ لوگوں کے خون اور آہوں پر جمع ہونے والا مال… محض اشتہارات،
جہازوں کے ٹکٹ… ذمہ داروں کے دورے… اور وفود کی مہمان نوازی پر قربان نہ ہوجائے…
خیر… یہ ہر کسی کے اپنے سوچنے کی بات ہے… اللہ تعالیٰ… اس بحران میں اخلاص کے ساتھ… خدمات
سرانجام دینے والے… تمام افراد اور اداروں کی محنت قبول فرمائے… بات یہ چل رہی تھی
کہ… کچھ لوگ امداد اور تعاون چھوڑ کر واپس جارہے ہیں… انہیں اس وقت ایسا نہیں کرنا
چاہئے… کل یہ حالات خود ان پر بھی آسکتے ہیں… اور یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ… حسب
عادت عوام کا جوش بھی ٹھنڈا پڑ رہا ہے … اور … ہر کوئی یہ سوچ کر امداد سے ہاتھ
کھینچ رہا ہے کہ… اب میرے تعاون کی کیاضرورت ہے؟… حکومت خود… روزانہ کروڑوں روپے
خرچ کر رہی ہے… امریکہ جھولیاں بھر بھر کر ڈالر بھیج رہا ہے… اقوام متحدہ نے سامان
کے ڈھیر لگادئیے ہیں… باقی ممالک کے امدادی جہاز … صبح شام اڑانیں بھر رہے ہیں…
فضاء میں ہیلی کاپٹروں کا شور ہے… ہندوستان نے ایل او سی کھول کر… کئی ٹرک امداد
بھیج دی ہے… یہ سب کچھ اپنی جگہ… مگر سچ یہ ہے کہ اب بھی مصیبت زدہ انسانوں کو…
امداد اور خدمت کی اسی طرح ضرورت ہے جس طرح آٹھ اکتوبر کے فوراً بعد تھی… ہر طرح
کی امدادی سرگرمیوں کے باوجود… ابھی تک … بہت کچھ کرنا باقی ہے… بلکہ… اگر یہ کہا
جائے تو مبالغہ نہیں ہوگا کہ… ابھی تک … جو کچھ کیا گیا ہے… اس سے دس گنا مزید… کی
فوری ضرورت ہے… ابھی تک بعض علاقے سب کی نظروں سے اوجھل ہیں… انہیں ڈھونڈنے … اور
وہاں سسکتے ہوئے انسانوں تک تعاون پہنچانے کی ضرورت ہے… اکثر لوگ بے گھر ہوچکے
ہیں… اور یہ پورا زلزلہ زدہ علاقہ … وہاں کے مکینوں کیلئے ایک ایسا رِستا ہوا زخم
بن گیا ہے… جس میں… مسائل ہی مسائل ہیں… بس اللہ پاک ہی اپنا خاص کرم فرمائے… ورنہ … بحالی کا
کام بہت مشکل ہے… ان حالات میں جو لوگ بھی… ان مصیبت زدہ انسانوں کی … کسی بھی طرح
خدمت کریں گے… وہ … اپنی دنیا اور آخرت کیلئے بہت بڑا نفع کمالیں گے… اس لیے… جوش
اور جذبے کو ٹھنڈا نہ ہونے دیں… اور اللہ پاک جو مال بھی عطاء فرمائے… اس میں سے… متاثرین
زلزلہ کیلئے کچھ نہ کچھ ضرور نکالیں… اور حکمرانوں کے ’’سیاسی دعوؤں‘‘ اور رنگین
تصویروں سے یہ نہ سمجھ لیں کہ… بس … اب کام ختم ہوگیا ہے… ’’الرحمت ٹرسٹ‘‘ کے
احباب… دعاء اور تحسین کے مستحق ہیں کہ… انہوں نے… مزید ایک مہینہ کی مخلصانہ…
بھرپور اور زور دار مہم کا اعلان کیا ہے… مسلمانان پاکستان کو چاہئے کہ وہ … ان
غیور، فقیر، جانباز… اور امانتدار دیوانوں کے ساتھ مل کر… آزاد کشمیر اور صوبہ
سرحد کے دور دراز علاقوں تک پہنچیں اور اپنے نامۂ اعمال کو… خدمت کے نور سے منور
کریں… مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ… مدینہ طیبہ میں ایک بار… میرے شیخ حضرت اقدس مفتی
ولی حسن صاحب نور اللہ مرقدہ… شام کی چہل قدمی کے دوران ایک بزرگ کے
پاس تشریف لے گئے… سلام دعاء کے بعد… کچھ باتیں ہوئیں… وہ بزرگ مسلسل درود شریف
پڑھ رہے تھے… بات چیت کے دوران ان کی تسبیح تھوڑی دیر کیلئے رکتی… اور پھر درود
شریف کے ساتھ چلنے لگتی… بعد میں معلوم ہوا کہ غالباً…روزانہ پچھتر ہزار کا معمول
ہے… وہ بزرگ جہاں بیٹھے تھے وہاں قریب ہی کھانے کی دیگیں پک رہی تھیں… اور وہ
پکانے والوں کو وقتاً فوقتاً ہدایات بھی جاری کر رہے تھے… میرے حضرت تھوڑی دیر
وہاں بیٹھے رہے… جب واپس ہونے لگے تو بزرگوں نے فرمایا… مفتی صاحب! کسی وقت اکیلے
تشریف لائیں کچھ باتیں کرنی ہیں… اگلے دن حضرت پھر مجھے ساتھ لے کر ان کے پاس
تشریف لے گئے… انہوں نے اکیلے نہ آنے کا شکوہ کیا… حضرت نے فرمایا آپ اس کی فکر نہ
کریں… انہوں نے اپنے کچھ خواب سنائے… بشارت والے ان خوابوں کو سن کر حضرت روتے
رہے… اور واپسی پر مجھے فرمایا… یہ باتیں لوگوں کو نہ بتانا… یہ ان حضرات کا حسن
ظن ہے ورنہ مجھے اپنی حالت کا علم ہے… خیر اس واقعہ کے بعد مجھے … اس اللہ والے بزرگ کے حالات معلوم ہوئے کہ… سالہا سال سے
مدینہ پاک میں مقیم ہیں… روزانہ سینکڑوں افراد کو کھانا پکا کر کھلاتے ہیں… پہلے
خود پکاتے تھے اور اب کئی ملازم رکھ لیے ہیں… ایک دو بار انہوں نے ہمارے وفد کیلئے
بھی کھانا بھیجا…
روزانہ ہزاروں بار
درود شریف، سینکڑوں افراد کو کھانا کھلانا… بڑے بڑے اکابر ومشائخ کی رہائش کا
انتظام کرنا… اور بہت سے کام… ایک بوڑھا انسان یہ سب کچھ کیسے کر رہا ہے… اور اتنے
اونچے مقام تک کیسے پہنچا ہے؟… معلوم ہوا کہ سارا ’’خدمت‘‘ کا کمال ہے یہ بزرگ
جوانی کے عالم میں مدینہ منورہ آئے تھے… تب … یہاں تیل نہیں نکلا تھا… اور پیسے کی
ریل پیل نہیں تھی… انہوں نے دیکھا کہ… چند بیمار افراد جنہیں کوڑھ (جذام) کا مرض
ہے وہ بھی… مدینہ پاک میں مقیم ہیں… کوڑھ کے مریض سے سب لوگ… حتی کہ قریبی رشتہ
دار بھی دور بھاگتے ہیں… کیونکہ ہاتھ پاؤں کے زخموں سے بدبو آتی ہے… اور یہ خطرہ
بھی محسوس ہوتا ہے کہ… ان کا مرض ہمیں نہ لگ جائے… پنجاب کے اس سعادت مند نوجوان
نے… ان مریضوں کی خدمت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا… وہ قصائی کی دکان سے ہڈیاں
جمع کرتا… انہیں دھو کر… پکاتا… پھر ان مریضوں کے ہاتھ منہ دھلوا کر انہیں… ہڈیوں
کا شوربہ پلاتا… اور ان کی راحت کا خیال رکھتا… حدیث پاک میں آتا ہے کہ… تم زمین
والوں پر رحم کرو … آسمان والا رب تم پر رحم فرمائے گا… ایک اور حدیث شریف میں آتا
ہے کہ… ایک شخص نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں… اپنی سخت دلی کی شکایت
کی… کہ میرا دل سخت ہے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خطرناک بیماری کا یہ علاج تجویز
فرمایا کہ… تم یتیموں کے سر پر (شفقت کا) ہاتھ پھیرا کرو اور مسکینوں، حاجت مندوں
کو کھانا کھلایا کرو…
اور ایک حدیث شریف
میں آیا ہے کہ… جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی حاجت پوری کرتا ہے… اللہ پاک اس کی حاجت پوری فرماتا ہے… اور جو کسی
مسلمان کی تکلیف اور مصیبت کو دور کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کی مصیبتوں میں سے اس کی
مصیبت کو دور کرے گا… اور جو کوئی کسی مسلمان کے عیب کو چھپائے گا… یعنی اس کی
پردہ داری کرے گا… (اس کی عزت رکھے گا) اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ داری فرمائے گا…
اور جب تک کوئی بندہ اپنے کسی مسلمان بھائی کی امداد واعانت کرتا رہے گا… اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتا رہے گا…
اس طرح کی احادیث
بہت زیادہ ہیں… ان شاء اللہ ’’القلم‘‘ کے اسی شمارے میں آپ کو… ایسی ’’چالیس
احادیث‘‘ پڑھنے کی سعادت مل جائے گی… الغرض… اس نوجوان نے فقر وتنگدستی کے باوجود…
مدینہ منورہ میں قیام پذیر… حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے معذور ومریض مہمانوں کی خدمت کی…
ان کی بیماری اور بو سے نفرت نہیں کی… تو اللہ پاک نے اس کی خدمت کو قبول فرما کر… اسے
’’مدنی‘‘ بنادیا… ہر طرح کی مالی فراوانی عطاء فرمائی… خوب عبادت کی توفیق بخشی…
رہنے کیلئے عمدہ جگہ… اور لوگوں کو کھلانے کیلئے… لاکھوں روپے عطاء فرمائے… اور
ایسی شان بخشی کہ… مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن صاحبؒ جیسے بزرگ خود چل کر
… ان کے پاس جاتے تھے… یہ تو دنیا کی چند نعمتیں ہیں… خدمت کا اصل اجر تو آخرت میں
ملتا ہے… یوں… سمجھ لیجئے کہ آخرت میں اللہ پاک نے ’’خدام‘‘ کے لئے اجر وثواب کی جو بارش
تیار کر رکھی ہے… دنیا میں… اس کے چند چھینٹے نصیب ہوجاتے ہیں… حدیث پاک کا مفہوم
ہے کہ… بھوکے مسلمان کو کھانا کھلانے والے کو… اللہ تعالیٰ جنت کے پھل کھلائے گا… پیاسے کو پانی
پلانے والے کو… شراب طہور پلائے گا… ننگے کو کپڑا پہنانے والے کو… جنت کے سبز جوڑے
پہنائے گا…
اے میرے بھائیو!…
اور بہنو! … کیا ہمیں ان تمام چیزوں کی… اشد ضرورت نہیں ہے؟… بے شک ہمیں آخرت میں
ان تمام چیزوں کی سخت ضرورت ہوگی … اور دنیا میں بھی… ہمیں… اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم کی سخت ضرورت ہے… اور اللہ تعالیٰ کا فضل … اور اس کی طرف سے برکت حاصل
کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ’’خدمت‘‘ ہے… امام طاؤسؒ بہت بڑے عالم، امام، بزرگ گزرے
ہیں… آپ تابعی تھے… یعنی حضرات صحابہ کرام کے صحبت یافتہ… ان کے بہت عجیب واقعات
کتابوں میں لکھے ہیں… ان کی عفت اور پاکدامنی کا یہ عالم تھا کہ… ایک عورت ان کو
گمراہ کرنے کی کوشش میں… خود تائب ہوگئی… اس کا بیان ہے کہ میں نے جس پر بھی تیر
پھینکا وہ پھنس گیا مگر امام طاؤس کو میں گمراہ نہ کرسکی… میں نے انہیں گناہ کی
طرف بلایا تو فرمانے لگے ٹھیک ہے فلاں وقت آجانا… میں اس وقت پہنچ گئی وہ مجھے لیکر
حرم شریف (کعبۃ اللہ ) پہنچ گئے… اور
فرمانے لگے… یہاں کرتے ہیں… میں نے حیرت سے کہا… یہاں کیسے؟… فرمانے لگے… اللہ تو
ہر جگہ موجود ہے… وہ یہاں بھی دیکھے گا… اور دوسری جگہ بھی… یہ سن کر وہ عورت تائب
ہوگئی… امام طاؤسؒ جو دعائیں مانگا کرتے تھے ان میں سے ایک دعاء یہ بھی ہے…
اللہم ارزقنی
الایمان والعمل ومتعنی بالمال والولد
ترجمہ: اے میرے
پروردگار مجھے ایمان اور عمل عطاء فرمائیے اور مال اور بیٹے کے ذریعے سے مجھے دنیا
کا فائدہ بخشئے…
امام طاؤسؒ فرماتے
ہیں کہ… ایک شخص کے چار بیٹے تھے… وہ آدمی بیمار ہوگیا… چاروں بیٹوں میں سے ایک نے
اپنے بھائیوں سے کہا… یا تو آپ لوگ والد صاحب کی خدمت کریں یا مجھے کرنے دیں… مگر
شرط یہ ہے کہ جو بھی خدمت کرے گا وہ والد کی میراث میں سے حصہ نہیں لے گا… تینوں
بھائیوں نے کہا کہ اچھا تم ان کی خدمت کرو… اور میراث سے حصہ نہ لو… وہ بیٹا اپنے
والد کی خدمت میں لگ گیا… جب والد کا انتقال ہوا تو اس نے معاہدہ کے مطابق … وراثت
میں کچھ بھی نہ لیا… اور تمام مال وجائیداد باقی تین بیٹوں میں تقسیم ہوگئی… رات
کو خدمت کرنے والے بیٹے نے اپنے والد کوخواب میں دیکھا… وہ فر ما رہے تھے فلاں جگہ
چلے جاؤ وہاں سو دینار رکھے ہیں وہ لے لو… بیٹے نے پوچھا ابا جان! کیا ان میں برکت
ہے؟ والد نے کہا نہیں… اس نے صبح اپنی بیوی کو خواب بتایا تو اس نے کہا جاؤ وہ سو
دینار لے آؤ بس یہی برکت کافی ہے کہ ہم کچھ لے کر کھائیں، پئیں اور پہنیں… مگر وہ
نہ گیا… اگلی رات پھر والد کو خواب میں دیکھا وہ بتا رہے تھے… بیٹا فلاں جگہ چلے
جاؤ وہاں دس دینار رکھے ہیں وہ لے لو… بیٹے نے پوچھا: کیا ان میں برکت ہے؟ والد نے
کہا نہیں… صبح اپنی بیوی کو خواب بتایا تو اس نے پھر ترغیب دی… مگر وہ نہ مانا…
تیسری رات پھر والد صاحب خواب میں آئے اور کہنے لگے… فلاں جگہ چلے جاؤ وہاں ایک
دینار رکھا ہے وہ لے لو… بیٹے نے عرض کیا… کیا اس میں برکت ہے… والد نے فرمایا ہاں
اس میں برکت ہے… صبح جاکر بیٹے نے وہ دینار اٹھالیا… اور بازار کی طرف نکل کھڑا
ہوا… وہاں ایک شخص دو مچھلیاں فروخت کر رہا تھا… اس نے پوچھا کتنے کی ہیں؟… اس نے
کہا ایک دینار کی… اس نے خرید لیں… گھر لا کر انہیں صاف کرنے لگا تو دونوں کے پیٹ
سے ایک ایک بے حد قیمتی… اور نایاب موتی نکلا… قصہ طویل ہے… خلاصہ یہ کہ… یہ دونوں
موتی… ملک کے بادشاہ نے… کئی خچر سونے کے بدلے خرید لیے… اور یوں خدمت کی خاطر باپ
کی تھوڑی سی جائیداد قربان کرنے والا یہ شخص… کروڑوں پتی بن گیا… یعنی … بوڑھے باپ
کی خدمت پر… آخرت میں… نعمتوں کی جو بارش اس کیلئے تیار تھی… اس کے چند چھینٹے دو
موتیوں کی صورت میں… دنیا ہی میں وصول ہوگئے… اس واقعہ سے ہمیں یہ سبق بھی ملا کہ…
خدمت کا موقع پانے کیلئے… دوسروں پر سبقت کرنی چاہئے… اور خوب قربانی دینی چاہئے…
ایسے سچے واقعات بے شمار ہیں… اور خدمت کے فضائل کا… اندازہ لگانا مشکل ہے… حکایت
ہے کہ… بنی اسرائیل کے ایک عابد نے ستر سال تک خلوت میں… بے ریا عبادت کی… ستر سال
بعد جب وہ اٹھا تو راستے میں ایک عورت نے اسے فتنے میں ڈال دیا… اس گناہ میں مبتلا
ہوتے ہی اس کی ستر سال کی عبادت ضائع ہوگئی… وہ اسی غم میں جارہا تھا… اس کے پاس
دو روٹیاں تھیں… اسے سخت بھوک لگی تو روٹیاں کھانے کیلئے رکا… تب… کسی مستحق محتاج
نے اس سے سوال کیا اس نے وہ دونوں روٹیاں اس کو دے دیں… اللہ پاک کو اس کا یہ عمل اتنا پسند آیا کہ… اسے … اس
کا مقام واپس عطا فرمادیا… ہم نے اپنے حضرات اکابر کے واقعات میں… خدمت کے عجیب
مناظر پڑھے ہیں… مادر علمی جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے بانی…
محدّث العصر حضرت بنوریؒ… راتوں کو چھپ کر… طلبہ کے بیت الخلاء صاف کیا کرتے تھے…
حالانکہ… بہت نفیس اور معطر مزاج کے عالی مقام محدث اور عالم تھے… حضرت شیخ
الاسلام مدنیؒ نے… ریل گاڑی میں… ایک ہندو کیلئے… بیت الخلاء اپنے ہاتھوں سے صاف
کیا… وہ بدنصیب… اپنی منزل آنے سے پہلے گاڑی سے اتر گیا… اور کہنے لگا کہ… اگر ان
کے ساتھ مزید بیٹھا تو مسلمان ہوجاؤں گا…
ایک اہم نکتہ
اسلام نے جس طرح
سے ’’خدمت خلق‘‘ کے مسئلے کو سکھایا اور سمجھایا ہے… اس کی وجہ سے… سچا اور اصلی
مسلمان… خدمت کے جذبے سے سرشار ہوتا ہے… بلکہ… خدمت سے بڑھ کر ایک چیز ہے… جس کا
نام ہے ’’ایثار‘‘… یعنی اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دینا… اور خود قربانی کرکے…
دوسروں کو نوازنا…
الحمدﷲ… سچے
مسلمانوں میں تو ’’ایثار‘‘ پایا جاتا ہے… وہ … خود پیاسے مرجاتے ہیں… اور اپنے
ہونٹوں سے لگا پانی… اپنے بھائی کے ہونٹوں سے لگادیتے ہیں… مسلمانوں کے علاوہ باقی
قوموں میں… خدمت کا جذبہ تو ضرور ہوتا ہے مگر ان میں ایثار نہیں ہوتا… اب یہاں
اشکال یہ ہوتا ہے کہ… آج کل زمینی صورتحال اس کے برعکس ہے… مسلمانوں میں… خدمت اور
ایثار کا جذبہ ختم ہوچکا ہے… بلکہ وہ تو لوٹ مار میں مصروف ہوجاتے ہیں… جبکہ
عیسائی اور دوسری اقوام کے لوگ… بڑھ چڑھ کر انسانی خدمت کے کام کرتے ہیں… قیدیوں
سے لیکر بچوں تک… اور انسانوں سے لیکر جانوروں تک کی خدمت کیلئے ان کی تنظیمیں
ہیں… اور وہ خدمت کے حوالے سے … بلا امتیاز ہرجگہ… اور ہر فرد تک پہنچتے ہیں… یہ
ایک ایسا اشکال اور اعتراض ہے جس نے بہت سے ’’مسلمانوں‘‘ کو کفر پسند بنادیا ہے…
میں نے خود انڈیا کی جیلوں میں دیکھا کہ … جب … ریڈکراس کے گورے اور گوریاں
مجاہدین سے ملنے آتے تھے… مسکرا مسکرا کر ان کے دکھ پوچھتے تھے… اور زبانی ہمدردی
کا اظہار کرتے تھے تو کئی مجاہدین بے حد متاثر ہوتے تھے… اور پھر خدمت کے بعد کا
مشن شروع ہوجاتا… جی ہاں عیسائیت کی تبلیغ… ایسے قلم اور پنسلیں بانٹی جاتیں… جن
کو جیب میں لگانے سے … صلیب … کی تصویر ظاہر ہوجاتی… نفسیاتی علاج کے نام پر… جہاد
کے خلاف ذہن سازی کی جاتی… اور سمجھایا جاتا کہ… اصل تو انسانیت ہے… ایک بار … میں
نے ان کو بہت محنت کرکے… کھال سے باہر نکال لیا… تب … مجاہدین حیران رہ گئے… ہوا
یہ کہ … وہ ہنستے مسکراتے… ناز اور ادائیں دکھاتے ہمارے وارڈ میں آئے… آکر… ہمدردی
جتانے لگے… میں نے کہا… آپ لوگ کام تو کچھ کرتے نہیں… اور بس منہ دکھا کر چلے جاتے
ہیں… کہنے لگے کیا کام؟… میں نے کہا کمانڈر سجاد خانؒ شہید ہوگئے… آپ لوگوں نے کیا
کیا؟… ان کے والدین کو لائے؟… میت کو واپس لے گئے؟… اس ظلم پر آواز اٹھائی؟…
قاتلوں پر مقدمہ چلوایا؟… قیدیوں کے تحفظ کیلئے کچھ کیا؟… وہ کہنے لگے یہ سب کچھ
ہمارے بس میں نہیں ہے… خیر بحث جب گرم ہوئی… اور ان کا ’’انسانیت انسانیت‘‘ کا وعظ
شروع ہوا تو میں نے کہا… آپ لوگ دنیا کو پاگل بناتے ہیں… کیا آپ لوگوں کی اکثر
معیشت کا انحصار اسلحہ کی فروخت پر نہیں ہے؟… کہنے لگے ہاں ہم اسلحہ بیچتے ہیں؟…
میں نے کہا… انسانیت کیلئے؟… آپ کے اسلحے سے افریقہ میں روزانہ ہزاروں افراد قتل
ہوتے ہیں… آپ کے اسلحے سے ایشیا غربت کی کھائی میں گرا پڑا ہے… آپ کے اسلحے نے
عربوں کا تیل نچوڑ لیا ہے… آپ کے اسلحے نے انسانوں کو انسانوں کا دشمن بنادیا ہے…
آپ لوگ تو ساری دنیا کا خون پی کر… گورے چٹے ہوگئے ہیں… وہ کافی دیر تک تحمل سے
ٹالتے رہے… مگر… پھر گرم ہوگئے اور کہنے لگے ہاں ہم افریقہ اور ایشیا کے پاگلوں کو
اسلحہ بیچتے ہیں تاکہ وہ خوب لڑیں… اور ہم سے مزید اسلحہ خریدیں… یہ ہمارا بزنس
ہے… یہ ہماری معیشت ہے… ہماری مرضی ہم جو چاہیں کریں… تب… بہت سے مجاہدین نے اس
دن… مسکراتے چہروں کے پیچھے چھپے مکروہ کرداروں کو دیکھا… ان لوگوں نے مختلف گروپ
بنائے ہوئے ہیں… بعض گروپ… لوگوں کو ایک دوسرے کا مخالف بناتے ہیں… بعض دونوں کو…
ایک دوسرے کے خلاف زیادہ اچھا اسلحہ خریدنے پر آمادہ کرتے ہیں… بعض امن امن کا شور
مچا کر… جنگ کو مزید بھڑکاتے ہیں… اور بعض خدمت کے نام پر… اپنے لیے ہمدردی حاصل
کرتے ہیں… اور جاسوسی کا کام سر انجام دیتے ہیں…
آج پوری دنیا میں…
عیسائیت کی تبلیغ… اور استعماری قوتوں کی جاسوسی کا پورا نیٹ ورک … انسانی ہمدردی
کی انہیں تنظیموں پر قائم ہے… مجھے اعتراف ہے کہ… ان کا چھوٹا عملہ… خدمت کے جذبے
سے سرشار ہوتا ہے… مگر مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ… ان لوگوں کو باقاعدہ اس کی تربیت
دی جاتی ہے… اور انہیں اسی کام کی تنخواہ ملتی ہے… اور اس چھوٹے عملے کے پیچھے…
اصل پالیسی ساز… اپنے مکروہ عزائم پورے کرنے کیلئے موجود ہوتے ہیں…
ایک اہم بات
اب سوال یہ ہے کہ…
مسلمانوں میں یہ جذبہ کیوں کمزور پڑ گیا ہے… جواب بہت تفصیل طلب ہے میں صرف ایک
مختصر سے اشارے کے ذریعے اسے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں… ماضی قریب میں … خلافت
اسلامیہ کے سقوط کے بعد… افریقہ، عرب، ایشیا اور یورپ کے تمام مسلمان انتشار کا
شکار ہوئے… تب برطانیہ اور یورپ نے اکثر
مسلمان ملکوں پر قبضہ کرلیا… اس قبضے کے دوران انہوں نے… مسلمانوں کوجو ظاہری و
باطنی نقصانات پہنچائے ان کی بھیانک داستان ایک طرف… یہاں ہم صرف اس بات پر غور
کریں کہ… انہوں نے مسلمانوں کو قابو رکھنے، انہیں غلام بنانے… اور انہیں اسلام سے
ہٹانے کیلئے جو ’’نظام حکومت‘‘ قائم کیا… وہ بہت خطرناک، ناپاک… اور سخت تھا… اب
برطانیہ اور یورپ خودتو ان اسلامی ملکوں کو چھوڑ کر چلے گئے… مگر… ان ظالموں نے
اپنے پیچھے اپنے اس ’’نظام حکومت‘‘ کو قائم رکھا جو… انہوں نے غلاموں کیلئے بنایا
تھا… اور اب ہمارے… روشن خیال، حکمران انگریز کے اسی نظام کو پوری مضبوطی سے چلا
رہے ہیں… حالانکہ… جب قوم کو آزادی ملی تھی تو نظام بھی بدلنا چاہئے تھا… اور ایسا
نظام لانا چاہئے تھا جس کے ذریعے غیروں پر نہیں اپنوں پر حکومت کی جاتی ہے… خود
امریکہ، برطانیہ… اور یورپ اپنے ملکوں میں… الگ نظام سے حکومت کرتے ہیں… اور وہاں
کے حکمران عوام کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں… اور اپنے مذہب کے ساتھ وفاداری کو اپنے
اوپر لازم رکھتے ہیں… جبکہ ہمارے ہاں… حکمران خود کو قابض… اور عوام کو غلام
سمجھتے ہیں… جس کی وجہ سے عوام میں اسلامی … یعنی انسانی جذبات آہستہ آہستہ دم
توڑتے جاتے ہیں… اور غلاموں والی بری عادتیں… پورے معاشرے کو برباد کر رہی ہیں… یہ
تو دینی مدارس… اور دینی جماعتوں کا احسان ہے کہ… عوام میں کچھ نہ کچھ دین زندہ
ہے… ورنہ غلاموں کاکوئی دین، ایمان… اور جذبہ نہیں ہوتا…
کاش مسلمانوں کو…
کوئی ایسے مسلمان حکمران مل جائیں جو ان ملکوں سے… قابض قوتوں والا… حیوانی نظام
ختم کرکے… انسانوں کو عزت دینے والا… اسلامی نظام نافذ کریں… اور دین کے ساتھ مکمل
وابستگی رکھیں… تب … آپ کو مسلمانوں کے جذبہ خدمت وایثار کے ایسے مناظر نظر آئیں گے
کہ … باقی دنیا اس کی مثال پیش نہیں کرسکے گی…
خلاصہ یہ ہے کہ…
امریکہ، برطانیہ اور یورپ کی حکومتیں اپنی عوام کی خیر خواہ… اپنے مذہب کی وفادار…
اور اپنے مشن کی پکی ہیں… خدمت کے یہ سارے شعبے خود حکومتیں اپنی نگرانی… اور
امداد سے چلا رہی ہیں… اگرچہ… حکمت کے تحت… ان کے لئے… آزاد ادارے بنادئیے گئے
ہیں… اور اس خدمت کے پیچھے… مسلمانوں کو مرتد بنانے… اور ان کے خلاف جاسوسی کرنے
کے… مقاصد کار فرما ہیں…
جبکہ دوسری طرف …
اسلامی ملکوں کی حکومتیں… اپنی عوام کی دشمن ہیں… اور ان پر قابض افواج والا
ظالمانہ حیوانی نظام … چلا رہی ہیں… ان حکومتوں کا اپنے دین سے کچھ لینا دینا
نہیں… اور ان کا مشن صرف اپنی خاندانی… اور شخصی حکومتیں بچانا ہے … چنانچہ وہ
مسلمانوں کے جذبہ خدمت کو ابھارنے کی بجائے… اسے فنا کر رہی ہیں…
اس کے باوجود
اس کے باوجود…
الحمدﷲ… چونکہ اسلام زندہ ہے… اور غیر سرکاری طور پر اسلام کی دعوت، تبلیغ اور
خدمت کا کام ہو رہا ہے… اور جہاد کا فریضہ بھی… محدود پیمانے پر جاری ہے… اس لیے
اسلام کی فطرت کے مطابق… سچے مسلمانوں میں… خدمت اور ایثار کا جذبہ بھی موجود ہے…
چنانچہ… اس زلزلے کے بعد اسلامی جماعتوں نے اپنے جذبے سے لاکھوں مصیبت زدہ انسانوں
کو مدد پہنچائی… اور انہیں مشکل گھڑی میں سہارا دیا… انگریزوں کے قابضانہ نظام کی
حفاظت کرنے والے حکمرانوں کو مسلمانوں کا یہ انداز خدمت اچھا نہیں لگ رہا… اس لیے…
وہ منتیں ترلے کرکے… نیٹو کی افواج کو لے آئے ہیں تاکہ… ان اسلامی تنظیموں کو
نکالنے کیلئے… کوئی بہانہ تجویز کیا جاسکے… مگر… اسلام اور اس کے خدام نے باقی
رہنا ہے… یہ امت آخری امت ہے… اس امت کے بعد قیامت ہے… اس لیے… الحمدﷲ… کسی نہ کسی
طرح… دینی جماعتیں خدمت کا کام بھی سرانجام دے رہی ہیں… اور اپنے باقی دینی کاموں
اور شعبوں کو بھی چلا رہی ہیں…
آخری گذارش
آج بہت سی باتیں
کرنی تھیں… مگر… ابھی ایک دو باتیں بھی پوری نہ ہوسکیں… کہ کالم کی جگہ ختم ہونے
لگی ہے… اس لیے اب مختصر طور پر… چند گذارشات …
)۱(تمام
اہل دل ساتھی خدمت کی اس مہم میں جان توڑ محنت اور کوشش کریں… اور کسی طرح کی
غفلت، سستی اور ریاکاری کو اپنے قریب نہ آنے دیں…
)۲(متاثرین
زلزلہ کو… دین کی بھی دعوت دیں… اگر وہ لوگ نماز ادا کرنے لگے… جہاد کے قائل
ہوگئے… زکوٰۃ کو سمجھ گئے… بے حیائی سے تائب ہوگئے… اور ذکر اللہ میں لگ گئے تو ان شاء اللہ … یہ مصیبت ان کی بخشش کا ذریعہ بن جائے
گی… اور دنیا میں اللہ پاک ان کے تمام نقصانات کا بہترین ازالہ فرمادے
گا…
)۳( تمام
مصیبت زدہ افراد کو بتائیں کہ… اسماء الحسنیٰ اور درود شریف کی کثرت کریں… اللہ پاک کے ننانوے نام جو حدیث شریف میں آئے ہیں
عجیب تاثیر رکھتے ہیں… ان کا خوب ورد کریں… ان شاء اللہ جلد مصیبت ٹل جائے گی… اور عجیب وغریب فوائد
نصیب ہوں گے… ان شاء اللہ …
)۴( اس
بات سے نہ شرمائیں کہ… بار بار لوگوں سے چندے کی اپیل کرنا پڑتی ہے… آپ اپنی ذات
کیلئے کچھ نہیں کر رہے… یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے ہے… او ر اللہ تعالیٰ کی رضاء کیلئے سب کچھ برداشت کرنا انبیاء
علیہم السلام کی سنت ہے…
)۵( شہرت…
اور تشہیر پر اموال برباد نہ کریں… اور نہ محض تعارف کیلئے امدادی مال سے ایسے
وفود لے کر جائیں جن کے جانے سے لوگوں کو کوئی فائدہ نہ ہو…
)۶(خدمت
کے فضائل اپنی جگہ… مگر … ہجرت اور جہاد کے برابر کوئی عمل نہیں… حالات کے تحت
اسلامی نظریات نہیں بدلے جاتے… اسلام کے اہم اور محکم فریضے کی قدر وقیمت دل میں
کم نہ ہو… اور نہ ہی قربانی کے نظریات میں کسی طرح کی کمزوری آئے…
)۷( عبادات
وذکراذکار کا اہتمام کریں… جاندار کی تصویر بازی سمیت ہر گناہ سے بچیں… اور آپس
میں دینی مذاکرے اور نصیحت کا اہتمام رکھیں…
)۸( نیٹو
اور امریکہ کی افواج کو دیکھ کر بہت سے لوگ… آپ سے پوچھیں گے کہ… ان کے ساتھ کیا
کیا جائے؟… یہی لوگ عراق اور افغانستان میں مسلمانوں پر آگ اور بارود برسا رہے
ہیں… یہی لوگ لاکھوں مسلمان بچوں کے قاتل ہیں… اور یہ اب کشمیر پر قبضہ کرنے آئے
ہیں… تو کیا ان پر حملہ جائز ہے؟… آپ ایسے لوگوں کو بتائیں کہ … جہاد کا پورا نظام
قرآن وسنت میں موجود ہے… اور ہم سب مسلمان اسی نظام کے تابع ہیں… ایک شخص ایک وقت
میں واجب القتل ہوتا ہے… مگر… دوسرے وقت میں اسی شخص کو قتل کرنا حرام ہوتا ہے…
مثلاً … دشمنوں کے ساتھ جنگ میں… ان کا ایک سپاہی خوب لڑ رہا ہے… مسلمانوں کو شہید
کر رہا ہے… اب اس شخص کو مارنا… ضروری … اور باعث ثواب ہے مگر اگلے دن… مسلمانوں
کے اپنے دشمنوں سے مذاکرات …شروع ہوگئے… اور انہوں نے… اسی شخص کو … اپنا ایلچی
اور قاصد بنا کر بھیج دیا… اب … اس شخص کو قتل کرنا حرام ہوگا… حالانکہ … اس نے کل
بیسیوں مسلمانوں کو شہید کیا تھا… اب اگر اسے قتل کرنا ہے تو … اس کے واپس جانے کا
انتظار کرنا ہوگا… اپنے گھر آئے ہوئے اس شخص کو … قتل کرنا حرام ہے… آپ خود
دیکھیں… ابو سفیانؓ … جب مکہ مکرمہ سے مشرکین کا لشکر لے کر آتے تھے تو … تمام … مسلمان
ان کے خون کے پیاسے ہوتے تھے… مگر جب… فتح مکہ سے پہلے وہ امان لے کر بات چیت
کیلئے آئے تو کسی نے ان کو پتھر بھی نہ مارا… جذبات اپنی جگہ … مگر مسلمان جذبات
کانہیں … قرآن وسنت کا غلام ہے… نیٹو اور امریکہ کی افواج پر آزاد کشمیر میں حملہ
کرنا… جائز نہیں ہوگا… بلکہ… اس طرح کے کسی بھی حملے سے خود ان کے مقاصد پورے ہوں
گے… اور مسلمانوں کو… اور جہادی تحریکوں کو نقصان پہنچے گا… ان پر یہاں حملہ کرنے
والے… غیروں کو نہیں… لاکھوں مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں گے… ہماری حکومت نے ان کو
یہاں لا کر بہت بڑی غلطی کی ہے… خو دان کا آنا بھی مشکوک ہے… مگر چونکہ وہ اعلان
جنگ کرکے نہیں آئے… اور نہ انہوں نے قبضے کا اعلان کیا ہے… جبکہ عراق اور
افغانستان پر انہوں نے باقاعدہ قبضہ کیا ہے… اس لیے… اسلام کے ظاہری احکامات کے
مطابق ان پر … یہاں حملہ کرنا… ناجائز ہوگا…
)۹(مسلمانوں
سے چندے کی اپیل کے ساتھ یہ گذارش بھی کی جائے کہ وہ مصیبت زدہ مسلمانوں کیلئے
خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں… مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اجتماعی دعاؤں کا اہتمام
کریں… اور اللہ پاک سے معافی… اور اس کی رحمت مانگیں…
)۱۰( متاثرین
کی امداد کیلئے جتنے بھی… ادارے اور افراد سرگرم ہیں… ان کے ساتھ کسی طرح کے لڑائی
جھگڑے میں مبتلا نہ ہوں… کوئی اور اس کی کوشش بھی کرے تو خوبصورتی سے اپنا دامن
بچالیں… کھانا دسترخوان پر کھایا جاتا ہے… پیشاب اور قضاء حاجت بیت الخلاء میں کی
جاتی ہے… ہل کھیت میں چلایا جاتا ہے… جبکہ… قلم کاغذ پر چلتا ہے… یعنی… ہر کام
کیلئے الگ مقام اور موقع ہوتا ہے… لڑائی کی جگہ اور ہے… خدمت کی جگہ اور… اس وقت
متاثرہ علاقوں میں خدمت کی ضرورت ہے… نہ کہ آپس میں لڑائی کی…
)۱۱( خدمت
… ایک اچھا کام ہے… جو بھی یہ کام کرتا ہے… اللہ پاک اسے اس کا بدلہ عطاء فرماتا ہے… حتی کہ…
کافر اور منافق بھی… خدمت خلق کریں تو دنیا میں… اس کا بہترین صلہ پاتے ہیں… اب
اگر کوئی اپنی ’’خدمت‘‘ کو ’’عبادت‘‘ بنانا چاہتا ہے تو… اللہ تعالیٰ کے نام کے بغیر … کوئی چیز ’’عبادت‘‘
نہیں بن سکتی… اس لیے… صرف وہی ’’خدمت‘‘… ’’عبادت‘‘ ہوگی… جو اللہ تعالیٰ ہی کی رضاء کیلئے کی جائے گی… اس لیے…
لازم ہے کہ… ہم اپنے اندر اخلاص پیدا کریں… شور شرابے اور مقابلے کے اس زمانے میں
اخلاص پیدا ہونا بہت مشکل کام ہے… ہم اور آپ جانتے ہیں کہ … مشکل کو صرف اللہ پاک ہی آسان فرماسکتا ہے… پس ہم رات کی تنہائی
میں … اور دن کے اجالے میں دعاء کریں کہ یا اللہ … ہم یہ ’’خدمت‘‘… صرف، صرف اور صرف آپ کی
رضا کیلئے کرنا چاہتے ہیں… تاکہ… اے ہمارے رب آپ راضی ہوجائیں… یا اللہ ہمیں اخلاص عطاء فرما… یا اللہ ہمیں اخلاص عطاء فرما… یا اللہ ہمیں اخلاص عطاء فرما…
٭٭٭
اور ماہنامہ بینات کا خصوصی
شمارہ
اللہ تعالیٰ قبول
فرمائے… ایک سال کے ’’طویل انتظار‘‘کے بعد… الحمدللہ…وہ ’’ خصوصی شمارہ‘‘ منظر عام
پر آ ہی گیا… جس کی ہم سب کو ضرورت تھی ـ قارئین کرام کویاد ہو گا کہ اس سال تو
آٹھ اکتوبر کو شدید زلزلہ آیا ہے۔جبکہ پچھلے سال نو اکتوبر (۴ ۲۰۰) کراچی میںایک
جنازہ اٹھا تھا… ایک عاشق کا جنازہ… ایک بڑے مسلمان کا جنازہ … ایک جانباز مجاہد
کا جنازہ …جی ہاں…امت مسلمہ کے محبوب رہنما… استاذ محترم حضرت مولانا مفتی محمد
جمیل خان …کو شہید کر دیا گیا تھا … یاد رکھیں شہادت کی تاریخ ۲۳ء شعبان ۱۴۲۵ھ بمطابق ۹؍ اکتوبر ۲۰۰۴ء ہے ان کے غم سے
بے حال … اور صدمے سے نڈھال…وفادار ساتھیوں نے اعلان کیاتھا کہ … ان کے مکمل حالات
زندگی …اور نابغہ روزگار کارنامے اجاگر کرنے کے لئے… عنقریب کسی معتبر رسالے کا …
خصوصی شمارہ شائع کیا جائے گا … تب سے ہر خاص و عام کو اس ’’مرھم‘‘ کا انتظار تھا…
سعادت کا یہ قرعہ ’’بالآخر‘‘ماہنامہ بیّنات کراچی کے نام نکلا…جو… جامعۃ العلوم
الاسلامیہ بنوری ٹائون کراچی کا ترجمان رسالہ ہے … اس وقت جبکہ میں یہ الفاظ لکھ
رہا ہوں … وہ خصوصی شمارہ میرے سامنے ہے ـ میری خواہش، تمنا اور مشورہ ہے کہ
…القلم کے قارئین … اس ’’خصوصی شمارے‘‘ کو حاصل کریں … اسے پڑھیں، سمجھیں، سینے سے
لگائیں … اور اپنے گھر کے کتب خانے کو اس کے ذریعے سے … برکت اور سعادت عطا کریں …
ماشاء اللہ لکھنے والوں نے خوب سخاوت کی ہے … اور شہید مکرمؒ کے ساتھیوں نے خوب
محنت کی ہے… یہ خصوصی شمارہ بارہ سو چالیس صفحات پر مشتمل ہے… بارہ سو صفحات پر تو
حضرت شہید مکرمؒ کے بارے میں مضامین … تاثرات، تبصرے ـــ اور انکی یادگار تحریریں
ہیں … اس کے بعد … دل کو رلانے والی چند تصاویر ہیں … ان میں وہ ’’خون‘‘ بھی نظر
آ رہا ہے … جو بہت کچھ پوچھ رہا ہے … اور بہت کچھ سمجھا رہا ہے … آخری چند صفحات
پر … حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی شہیدؒ کے بارے میں چند مضامین ہیں … ختم نبوت کا
یہ پروانہ … حضرت استاذ محترمؒ کے ساتھ شہید ہوا … یہ خصوصی شمارہ بہت اثر انگیز
ہے … اس کا ہر صفحہ… واہ جمیلؒ، واہ جمیل
ؒ کہہ رہا ہے… اور اس کا ہر مضمون…آہ جمیلؒ، آہ جمیلؒ پکار رہا ہے … اکثر
لکھنے والوں نے روتے ہوئے لکھا… اور پھر روتے چلے گئے اور رلاتے چلے گئے … کسی نے
کہا … بیٹا جمیل … کسی نے کہا ابو جمیل، کسی نے لکھا بھائی جمیلؒ…کسی نے پکارا
حضرت جمیلؒ …کسی نے بولا ولی جمیل، کسی نے للکارا مجاہد جمیلؒ…کسی نے لکھا خادم
جمیلؒ … کسی نے کہا مجدّد جمیلؒ …کسی نے کہا ترجمان حق جمیلؒ …کسی نے بولا … شہید
جمیلؒ … مگر ایک بات مشترک ہے … کیا بڑا کیا چھوٹا ہر کوئی پکار رہا ہے …میرا
جمیلؒ، میرا جمیلؒ … ہاں وہ سب کے تھے … مگر … رب تعالیٰ نے انہیں جس طرح سے بلایا
… یوں لگتا ہے … فرمایا گیا … کسی کا نہیں …صرف میرا جمیل …ہاں وہ صرف … اللہ پاک
کے تھے … اور جس کے بھی تھے … اللہ پاک کی نسبت سے تھے … اس کتاب کو اوّل تا آخر
…دیکھنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ … استاذ محترم نور … اور خوشبو کی چادر اوڑھے …
دولھا بنے بیٹھے ہیں … اور چاروںطرف لوگوں کا ہجوم ہے …اور ہر کوئی ان پر پھول
نچھاور کر رہا ہے … خوشبو ڈال رہا ہے …اور ہر کوئی رو رہا ہے … تڑپ رہا ہے …عش عش
کر رہا ہے … اور اپنے دل میں ’’رشک‘‘ کی کیفیت محسوس کر رہا ہے … ان شاء اللہ آپ
جب یہ کتاب خرید کر …پڑھنا شروع کریں گے تو آپ کو بھی کم و بیش یہی کیفیت … یہی
منظر نظر آئے گا … حضرت شعیب بن حربؒ کا مقولہ ہے …
’’ جوچھوٹا
بننے پر راضی ہو… اللہ تعالیٰ اسے سردار اور بڑا بنا کر ہی چھوڑتا ہے ‘‘ … آپ اس
کتاب کے جس مضمون کو بھی پڑھیں گے … آپ کو اس مقولے کی صداقت کا اذعان ہوتا چلا
جائے گا… مجھے چونکہ… حضرت شہید مکرمؒ کے ساتھ … طبعی اور جذباتی لگائو ہے اس لئے
ابتدا میں تو … اس کتاب کو آسانی سے نہ پڑھ سکا… بس جیسے ہی کوئی مضمون شروع کرتا
تو ان کی یاد … ان کی جدائی کا غم … اور ان کے موجود نہ ہونے کا ہول … دل کو پکڑ
لیتا …اور میں کتاب سینے پررکھ کر …چھت کو گھورتا رہتا… پھر آہستہ آہستہ ہمت نے
کچھ قرار پکڑا تو …کتاب کا ضروری حصّہ پڑھ ڈالا …اور آج ’’ القلم‘‘ کا خصوصی
شمارہ تیار کرنے کے لئے … از سر نو پوری کتاب کا جائزہ لیا … ہمارے جو مسلمان
بھائی اور بہن اس کتاب کو پڑھیں گے وہ ان شاء اللہ بہت سے فائدے حاصل کریں گے
…مثلاً
۱ ایک کامیاب انسان
کی زندگی کے حالات … اورکارنامے معلوم ہونگے… تب …کامیابی کی طرف سفر ان شاء اللہ
آسان رہے گا …
۲ ایک مخلص کی
داستان حیات …اخلاص کا معنیٰ سمجھائے گی …یادرہے ہمارے لئے اخلاص …سانس سے زیادہ
ضروری ہے…
۳ حضرات اکابر کی
روشن تحریریں پڑھنے کو ملیںگی…
۴ خدمت دین کے مختلف
شعبوں کا تعارف نصیب ہو گا…
۵ دل کی سختی دور ہو
گی …کیونکہ پوری کتاب رقّت سے معمور ہے …
۶ اپنی اولاد کی
دینی تعلیم و تربیت کے طریقے اورراستے معلوم ہونگے…
۷ قرآن پاک، حرمین
شریفین …اور جہاد سے عشق پیدا ہو گا…
۸ دل
میں شوق شہادت مچلے گا …اورحُبّ ِدنیا کی غلاظت دور ہو گی…
۹ دین کے لئے محنت
کرنے کا جذبہ …اور ہمت پیدا ہو گی…
۱۰ دنیا کے مختلف ملکوں، خطوں
…اور علاقوں کے حالات معلوم ہو نگے اور امت مسلمہ کو درپیش مسائل سے روشناسی حاصل
ہوگی…
یہ تو محض دس نمبر
ہیں …ان شاء اللہ …کتاب پڑھنے کے بعد آپ بے شمار فوائد محسوس فرمائیں گے … بس
حالات کی ستم ظریفی …اور کچھ دھول اوردھواں کہ …حضرت شہید مکرمؒ کی زندگی کے بعض
جرات مندانہ پہلو …اس کتاب میں …پوری طرح سے اجاگر نہ ہو سکے …حالانکہ …یہی وہ
پہلو ہیں …جن کی وجہ سے انہیں شہید کیا گیا …اور گولیوں کا نشانہ بنایا گیا …بہر
حال اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا …انکی شہادت ہی سب کچھ سمجھنے کے لئے کافی ہے
…اللہ پاک ہمیں بھی … جذبہ جہاد اور شوق شہادت نصیب فرمائے …اس کتاب میں …وقت کے
عظیم اکابر حضرات نے جو خراج تحسین …تحریر فرمایا ہے …ہم اس کا کچھ حصہ …شائع کر
رہے ہیں …تا کہ …کتاب تک رسائی نہ پانے والوں کے لئے …کچھ سامان مہیا ہو جائے …اسی
طرح اس خصوصی شمارہ کی بعض نظمیں اوراشعار بھی …حاضر خدمت ہیں …حضرت شہید مکرّمؒ
کے …رفیق خاص…اور معتمد حضرت مولانا مفتی خالد محمود صاحب زید مجدہ نے ’’عکس
جمیل‘‘ کے عنوان سے…ایک مفصّل مضمون تحریر فرمایا ہے …ہم اس مضمون کا ابتدائی حصہ
… شائع کر رہے ہیں …حضرت شہید مکرّم ؒ کے قریبی رشتہ داروں نے … بہت وقیع اور درد
انگیز مضامین لکھے ہیں … اس کتاب میں ایسے مضامین کی تعداد بارہ ہے …ہم ان میں سے
…شہید مکرّمؒ کی والدہ محترمہ کا …مضمون ان صفحات پر شائع کر رہے ہیں …باقی
…صاحبزادوں، بھائیوں…بہنوں …اور دیگر رشتہ داروں کے مضامین بھی …پڑھنے کے لائق
ہیں…حضرت مولانا مفتی مزمّل حسین صاحب زید قدرہ نے …اقراء روضۃ الاطفال کا مفصّل،
مدّلل …اوردلنشین تعارف لکھا ہے …یہ مضمون ایک ’’ تاریخی دستاویز‘‘ کی حیثیت رکھتا
ہے …بھائی وسیم غزالیؒ نے بھی …قلم توڑ کر …خون جگر پیش کیا ہے… حضرات علماء نے
…ہر پہلو کو اجاگر کرنے کی سعی فرمائی ہے …جبکہ …صحافی دوستوں نے بھی یادوں کے
پھول بکھیرے ہیں …میں آج زیادہ کچھ نہیں لکھتا …آج…القلم کے یہ چاروں صفحات
…اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے …اللہ تعالیٰ کے مخلص اور سرفروش بندے…حضرت استاذ
محترم مولانا مفتی محمد جمیل خان صاحب شہیدؒ کے نام
یا اللہ …اس ادنیٰ
سی کاوش کو قبول فرما اور شہید مکرّم کے درجات بلند فرما…
آمین …یا ربّ
الشہداء والمجاہدین …
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے دنیا میں بہت کام کر گئے…
کتنی خوبصورت اور حسین زندگیاں تھیں… ان حضرات وخواتین کی… آج ہم ان کے واقعات
پڑھتے ہیں تو جسم میں بجلی دوڑنے لگتی ہے… انہوں نے اتنا جہاد کیا کہ … علاقوں کے
علاقے فتح کرلیے… اب ان علاقوں میں دین کا جو کام بھی ہوتا ہے… اس کا اجر … ان
فاتحین کو بھی ملتا ہے… اب وہ مزے کرتے ہوں گے اور خوب عیش اڑاتے ہوں گے… تھوڑا سا
سوچئے کہ وہ بھی اگر… سوتے رہتے، مال جمع کرتے رہتے، اپنے نفس کے چکروں میں پڑے
رہتے، ہر وقت مسلمانوں کو توڑنے کی سازشیں کرتے رہتے تو … وہ اتنا اونچا کام کرسکتے
تھے؟… ان حضرات نے اخلاص کے ساتھ ایسی محنت کی کہ … کافروں کے علاقے چھین کر…
انہیں ’’اسلامی سلطنت‘‘ کا حصہ بنایا… اور وہاں اسلام نافذ کیا… جبکہ ہم لوگ…
’’اسلامی امارت‘‘ کی بھی حفاظت نہ کرسکے… اور وہ دن دھاڑے ہم سے چھین لی گئی… آخر
کچھ کھوٹ، قصور، شرارت، کمی… اور غلطی تو ہمارے اندر ضرورہے… ورنہ اس زمانے کے نفس
پرست کافر… اور بزدل منافق کبھی ہم پر غالب نہیں آسکتے تھے… کاش یہی بات سوچ کر…
ہماری سستی اور غفلت دور ہوجائے… ماضی کے لوگوں نے… دین کی کیسی کیسی خدمات
سرانجام دیں… ہم ان کے حالات پڑھتے ہیں تو سر چکرانے لگتا ہے… یا اللہ وہ
بھی تیرے بندے تھے… انہیں بھی بھوک، نیند اور شہوت ستاتی ہوگی… پھر وہ اتنا کام
کیسے کر گئے کہ صدیاں گزر گئیں… مگر… دنیا آج بھی ان کے علم ان کی کتابوں… اور ان
کی تحقیق کی محتاج ہے… ان میں سے بعض نے تو اتنا کچھ لکھ لیا کہ اگر ہم اسے نقل
کرنے لگیں تو زندگی گزر جائے… پھر وہ حضرات… خوب قرآن پاک بھی پڑھتے تھے، ذکر بھی
صبح و شام کرتے تھے… راتوں کو جاگ جاگ کر نوافل بھی ادا کرتے تھے… ان کی کئی کئی
شادیاں بھی تھیں… مگر پھر بھی… وہ اتنا کام کرگئے کہ اب تک … ان کا کام زندہ ہے…
اور ان کا اجر جاری ہے… پھر عجیب بات یہ ہے کہ… ان کو جتنی قوت اور طاقت ملتی گئی
وہ اسے دین کے کاموں میں صرف کرتے گئے… ان میں سے کسی نے بھی پیچھے مڑنے… یا رکنے
کا ارادہ نہیں کیا… بلکہ… مسلسل اپنی محنت بڑھاتے گئے… اور اللہ پاک کے دئیے ہوئے ہر موقع سے فائدہ اٹھاتے گئے…
آپ ایک حسین اور خوبصورت عورت کو ہی لے لیجئے… ایک ہزار سال سے زیادہ کا عرصہ بیت
گیا… مگر… کوئی بھی مؤرخ جب تاریخ لکھنے بیٹھتا ہے تو … اس خاتون کو سلام کیے بغیر
آگے نہیں بڑھ سکتا… کوئی بھی عراق کی تاریخ لکھتا ہے تو اسے اس ’’عورت‘‘ پر کئی
صفحات لکھنے پڑتے ہیں… کوئی حرمین شریفین کی تاریخ لکھتا ہے تو اسے… اس عورت کی
خدمات کا اعتراف کرنا پڑتا ہے… کوئی دنیا بھرکے اہم کارناموں کی فہرست بناتا ہے تو
اسے… اس عورت کو خراج تحسین پیش کرنا پڑتا ہے… کوئی مصنف دنیاکے کامیاب اور بامراد
افراد کے نام جمع کرتا ہے تو اسے اس عورت کا نام اونچی فہرست میں لکھنا پڑتا ہے…
علم ہو یا خدمت خلق… ذہانت ہو یا نیکی ہر باب میں اس عورت کو یاد رکھاجاتا ہے…
آخر کیوں؟… دنیا
میں خوبصورت عورتیں تو بے شمار ہیں… اور ان کی تاریخ… زیادہ اچھی نہیں ہے… ان میں
سے اکثر کا تذکرہ… سستی، فتنہ پرستی… اور بے حیائی کے عنوان سے کیا جاتا ہے… مگر…
خلیفہ ہارون الرشید کی بیوی ’’زبیدہؒ ‘‘ …
دنیا کی وہ ’’کامیاب عورت‘‘ ہے جس نے سعادت اور ہمت کی ہر چوٹی کو سر کیا… اور دین
کی ہر گھاٹی کو عبور کیا… اگر وہ بدنصیب ہوتی تو بس اپنے خاوند پر اپنے حسن کا جال
پھینک کر… اسے … قابو میں رکھنے… اور اپنی سوکنوں پر برتری پانے میں… اپنی ساری
زندگی برباد کرلیتی… یا … ہر وقت مال گنتی رہتی… اور اسے اپنی اولاد کیلئے چھوڑ کر
مر جاتی… لیکن ایسا نہیں ہوا… اللہ پاک نے اسے اچھی شکل… اور بہترین دماغ دیا تو اس
نے خود کو… اللہ پاک کی رضا کیلئے وقف کردیا… اس نے اپنے حسن
وجمال پر فخر نہیں کیا… اور نہ اسے دنیا پانے کا ذریعہ بنایا… اس نے شکر کیا… اور
وہ اللہ تعالیٰ کی ہوگئی… جب وہ اللہ کی
ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے دنیا کو رسوا کرکے… اس کے قدموں میں
لا بٹھایا… جی ہاں وہ امیر المؤمنین کی چہیتی بیوی بن گئی… مگر… اس نے اسے کافی
نہیں سمجھا … اور نہ اسے اپنی منزل قرار دیا… وہ تو … بس اللہ تعالیٰ ہی کو راضی کرنا چاہتی تھی… چنانچہ… اسے
جو کچھ ملتا گیا وہ اسے اللہ تعالیٰ کے کاموں میں لگاتی گئی… اور جیسے جیسے
اس کے اختیارات بڑھتے گئے… اس کا دینی کام بھی بڑھتا گیا… وہ اللہ تعالیٰ کی بن گئی… تو … اللہ تعالیٰ اس کی قدر بڑھاتا گیا… اس خاتون نے دیکھا
کہ اب مجھے اتنی طاقت مل چکی ہے کہ … میری زبان ہلانے سے… ہزاروں افراد حرکت میں
آسکتے ہیں… اور شاہی خزانے کا منہ کھل سکتا ہے… تب اس نے عیش وعشرت کا کوئی
پروگرام نہیں بنایا… اس نے اپنے نام کو مزید چمکانے کا فضول کام نہیں کیا… اس نے
زبان ہلائی… اور دیکھتے ہی دیکھتے عراق سے لیکر مکہ مکرمہ اور منیٰ، عرفات تک پانی
کی نہر… جاری ہوگئی… اب ہر سال… لاکھوں زائرین حرم اس پانی سے پیاس بجھا رہے تھے
اور … کعبۃ اللہ کے سامنے جھولیاں پھیلا پھیلا کر ’’زبیدہ‘‘ کے
لئے دعائیں مانگ رہے تھے… اسے کہتے ہیں… موقع سے فائدہ اٹھانا… اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو اس کی رضا کے لئے استعمال
کرنا… اہل تاریخ بتاتے ہیں کہ … یہ نہر صدیوں تک … اللہ تعالیٰ کے مہمانوں کو سیراب کرتی رہی… زبیدہؒ کے
اور بھی بہت عجیب احوال ہیں… اللہ تعالیٰ کی یہ مخلص ، محنتی… اور عقلمند بندی…
عزم وہمت کی ایک تاریخ رقم کر گئی ہے… اللہ پاک اس کے درجات کو مزید بلند فرمائے… اور ہمیں
بھی… کام کی ہمت، توفیق اور سلیقہ عطاء فرمائے… آج بھی ایسے بے شمار مرد اور
عورتیں موجود ہیں جو … اسلام اور مسلمانوں کے لئے بہت کچھ کرسکتے ہیں… ایسے افراد
بھی موجود ہیں جو صرف زبان ہلادیں تو … ایک سال میں… ایک سو مساجد آباد ہوجائیں…
ایسے افراد بھی ہیں جو صرف اشارہ کردیں تو… علاقوں کے علاقے جہاد کی محنت سے زرخیز
ہوجائیں… ایسے افراد بھی ہیں جو … اپنی نیند میں سے دو گھنٹے کم کرکے اسے خدمت
قرآن پر لگادیں تو ہزاروں زبانیں… تلاوت کرنے کا طریقہ سیکھ لیں… ایسے افراد بھی ہیں
جو … اپنے نفس کی بڑائی اور سستی سے نجات پالیں تو… صدقہ جاریہ کے اونچے پہاڑ
منٹوں میں کھڑے ہوجائیں… اور ایسے افراد بھی ہیں جو صرف چند الفاظ بول دیں تو
ہزاروں غریبوں کے گھروں میں رزق کے برتن بھرجائیں… اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بہت صلاحیتیں… اور بہت
قوتیں عطاء فرمائی ہیں… مگر… بہت کم لوگ ایسے خوش نصیب ہوتے ہیں جو ان قوتوں… اور
صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں… ابھی پچھلے شمارے میں آپ نے… حضرت مفتی محمد جمیل
خان شہیدؒ کے کچھ حالات پڑھے… یقین کیجئے انہوں نے اللہ پا
ک کی دی ہوئی ہر چیز کو… اس کی رضا کیلئے … استعمال کیا … اور پھر تھوڑے ہی عرصے
میں اتنا کام کرگئے… جتنا… کئی ہزار افراد مل کر بھی نہیں کرسکتے… میں نے انہیں
خود دیکھا کہ… اپنے تعارف اور اپنی رشتہ داری تک کو دین کے کاموں میں استعمال کرتے
تھے… گویا کہ انہوں نے ’’سب کچھ‘‘ لگادیا… تب … اللہ پاک نے بھی انہیں ’’سب کچھ‘‘ عطاء فرمادیا… آج
چالیس ہزار بچے ان کے قائم کردہ مدارس میں قرآن پاک پڑھ رہے ہیں… جبکہ… وہ خود
جہاد اور شہادت کا مزہ لوٹ رہے ہیں…
اب کسی ’’کم ہمت‘‘
شخص کو لے لیجئے… وہ … اپنی پوری زندگی میں چار سو بچوں کا ادارہ بھی نہیں چلا
سکتا… بس ہر وقت ناشکری… ہر وقت سونا… ہر وقت فضول گپ بازی… ہر وقت سازشیں،
شرارتیں… اور دوستیاں… اس طرح زندگی … برباد… اور آخرت بھی خدانخواستہ مشکوک… پھر
وہ افراد جو کسی … شرعی جماعت کے رکن ہوتے ہیں … ان پر تو اللہ تعالیٰ کی بہت نوازش… اور مہربانی ہوتی ہے… یہ
لوگ اگر جماعت کی قدر کریں… امیر کی اطاعت کریں… اور محنت سے کام لیں تو… اللہ پاک … پورے عالم میں ان کے کام کو پھیلا دیتا
ہے… اور… انہیں ناقابل شکست قوت، شوکت، رعب… اور توفیق عطاء فرماتا ہے… یہ لوگ…
جماعت کی قوت کے ذریعہ… دین کو بہت فائدہ پہنچا سکتے ہیں… اپنے لیے قیامت تک کا
صدقہ جاریہ بنا سکتے ہیں… مگر اکثر ایسا نہیں ہوتا… کچھ ہی دن میں بعض لوگ تھک
جاتے ہیں… بعض جماعت سے زیادہ اپنی ذات کو اہمیت دینے لگتے ہیں… اور کچھ مال اور
غفلت کے فتنے میں مبتلا ہوجاتے ہیں… تب … اندر ہی اندر دوستیاں بنتی ہیں… گروپ
بنتے ہیں… اپنے نفس کو سجدے کرانے کے لئے خفیہ معاہدے ہوتے ہیں… پھر … امیر کی
نافرمانی… اور جماعت کی ناقدری ہوتی ہے … تب … ساری قوت بکھر جاتی ہے… اور وہ لوگ
جن کو اللہ تعالیٰ نے… علاقوں کے علاقے روشن کرنے کی قوت دی
تھی… واپس اپنی گلی میں آ بیٹھتے ہیں… تب انہیں پتہ چلتا ہے کہ… انکی ساری قوت
’’جماعت‘‘ کے زور پر تھی… اور انہوں نے… شیطان کے حکم پر… اپنی ہی قوت کو توڑا ہے…
اور اپنی آخرت کو برباد کیا ہے… تب پچھتانے سے کچھ نہیں بنتا… اب انہیں چاہئے کہ
سای زندگی بکری کی طرح ’’میں میں‘‘ کریں… کیونکہ اسی ’’میں‘‘ اور ’’ہم‘‘ نے ہی
انہیں جماعت اور قوت سے محروم کیا… اے اللہ کے
بندو… ا ور اے اللہ کی بندیو!… اللہ پاک سے ڈرو… اور غفلت، سستی اور ’’میںمیں‘‘ سے
توبہ کرکے… دین کا کام کرو… کافروں کے لشکر میدانوں میں اتر آئے ہیں… فحاشی اور بے
حیائی کا سیلاب سب کچھ بہا کر لے جارہا ہے… کافروں کی این جی اوز خدمت کے نام پر…
ڈاکے ڈال رہی ہیں… مسلمان قرآن سے محروم ہورہا ہے… مسلمان جہاد سے محروم ہو رہا
ہے… مسلمان دین سے محروم ہو رہا ہے… اب سستی اور غفلت کا وقت نہیں ہے… اب تھک ہار
کر بیٹھ جانے کا زمانہ نہیں ہے… اب جماعتوں کو توڑنے … اور خفیہ یاریاں کرنے کا
وقت نہیں ہے… اب غیبتوں اور شرارتوں کا وقت نہیں ہے… اے باصلاحیت مسلمانو! اللہ کے
لئے خود کو تولو… اور پھر اپنا سارا وزن دین کے کاموں پر خرچ کرڈالو… اگر تمہارے
چلنے سے کوئی کام ہوتا ہے تو بغیر تھکے چلتے رہو… خواہ ٹانگیں ٹوٹ جائیں… اگر
تمہارے بولنے سے کچھ کام ہوتا ہے تو… بولتے رہو خواہ سینہ پھٹ جائے… اگر تمہارے
جاگنے سے کچھ کام ہوتا ہے تو جاگتے رہو… خواہ دماغ تھک جائے… اورسنو… اگر تمہارے
مرنے سے کچھ کام ہوتاہے تو مر جاؤ… تب … رب کریم خود استقبال فرماتا ہے… اور یاد
رکھنا… زندہ رہنے والے تمہاری موت کو رشک کی نگاہ سے دیکھیں گے… بس اپنے اندر
اخلاص پیدا کرو… اللہ کی ’’رضا‘‘ اللہ کی
رضا… اور اللہ پاک کی رضا…
یاد رکھو! اخلاص
کے راستے کا سب سے بڑا بُت ’’میں‘‘ ہے… اسے توڑ دو… اپنا نام مٹادو … اپنی قوم
بھول جاؤ… اپنے علاقے کو چھوڑ دو… اخلاص کے بعد… محنت کو اپنا اوڑھنا بچھونا
بنالو… اللہ پاک نے انسان کی کامیابی کیلئے… محنت کو ایک اہم
ذریعہ بنایا ہے… دیکھو… اللہ پاک کا ارشاد ہے…
لَقَدْ خَلَقْنَا
الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدْ
ترجمہ: بے شک ہم نے انسان کو تکلیف میں پیدا کیا ہے۔
(البلد۴)
اس آیت کی تشریح
میں حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ… فرماتے ہیں…
’’انسان دنیا
میں آرام پانے نہیں کام کرنے آیا ہے۔‘‘
)ترجمہ حضرت
لاہوری ص۹۵(
انسان کی قسمت میں
تکلیف ہی تکلیف لکھی ہے… مگر… خوش قسمت ہیں وہ انسان جو دین کی خاطر تکلیف اٹھاتے
ہیں… ایسے لوگوں کیلئے اللہ پاک راستے کھول دیتا ہے… اور وہ ان کے ساتھ ہو
جاتا ہے…
والذین جاہدوا
فینا لنہدینہم سبلنا وان اللہ لمع المحسنین (العنکبوت۶۹)
ترجمہ: اور جن لوگوں نے ہمارے لیے کوشش کی ہم ان کو
ضرور اپنے رستے دکھادیں گے اور اللہ تعالیٰ تو محسنین کے ساتھ ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے… سات چیزوں کے … آنے سے
پہلے… نیک اعمال میں جلدی کرلو… تم انتظار نہیں کر رہے مگر سات چیزوں کا… (۱) سب کچھ بھلادینے
والا فقرکا… (۲)سرکش
بنادینے والی مالداری کا… (۳)سب کچھ بگاڑنے والی بیماری کا… (۴)عقل اور ہوش ختم
کرنے والے بڑھاپے کا … (۵)اچانک
موت کا… (۶) دجال
کا… جن غائب چیزوں کا انتظار ہے … ان میں یہ … سب سے بڑا شر ہے… (۷)قیامت کا… اور
قیامت بہت سخت… اورتلخ ہے… (ترمذی)
ہم سب کے سامنے یہ
سات چیزیں ہیں… اس لیے جلدی کریں… جلدی کریں…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے…
ما ذئبان
جائعان ارسلا فی غنم بافسد لہا من حرص
المرء علی المال والشرف لدینہٖ…
ترجمہ: ’’دو بھوکے بھیڑئیے جو کسی ریوڑ پر چھوڑ دئیے
جائیں اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا مال اور مرتبہ حاصل کرنے کا حرص آدمی کے دین
کو نقصان پہنچاتا ہے۔‘‘ (مشکوٰۃ کتاب الرقاق)
ہم نے پڑھ لیا کہ
مال اور مرتبے کا حرص انسان کے دین کے لئے کتنا خطرناک ہے… جی ہاں بہت خطرناک …
بلکہ… بعض اوقات تو عزت ومرتبے کا یہ شوق انسان کو منافق بنادیتا ہے… میں نے چند
دن پہلے اخبار کے صفحہ اول پر ایک بہت بڑی ’’سرخی‘‘ پڑھی… رات کو… بی بی سی نے بھی
مزے لے لے کر وہ بری خبر سنائی… وہ خبر کونسی ہے؟… تھوڑا سا انتظار فرمالیں… پہلے
ہم قرآن پاک کی دو آیات مبارکہ پڑھتے ہیں… قرآن پاک پڑھنے سے دل کا زنگ دور ہوتا
ہے… آپ اگر پریشان ہیں، غمگین ہیں… دل میں شہوت کے کیڑے گندگی پھیلا رہے ہیں… یا …
دنیا داروں کے مال پر نظریں جارہی ہیں تو فوراً قرآن پاک کی تلاوت کریں… اور خوب
تلاوت کریں… تب … آپ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ… دل کا زنگ دھل رہا ہے… مگر شرط
یہ ہے کہ… تلاوت زیادہ ہو… یعنی عام معمول سے کم از کم پانچ گنا زیادہ… مثلا
روزانہ ایک پارہ پڑھتے ہیں تو ایسی حالت میں … پانچ پارے تلاوت کریں… یا دس… پہلے
دو دن تو زیادہ کچھ محسوس نہیں ہوگا بلکہ… کچھ بوجھ اور کچھ مشکل حالت ہوگی… مگر…
تیسرے دن سے ایسا مزہ آئے گا… ایسا مزہ آئے گا جیسے … دل … دودھ اور شہد پی رہا
ہو… اور مزے لے لے کر چسکیاں بھر رہا ہو…
تلاوت کے آداب
مختصر طور پر … حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنیؒ نے … فضائل اعمال
میں لکھ دئیے ہیں… وہاں ملاحظہ فرمالیں… ہم تو آج ’’ایک خطرناک خبر‘‘ کا زنگ دھونے
کیلئے اس مضمون میں… دو آیات مبارکہ… اور ان کی مختصر تفسیر کا مذاکرہ کرتے ہیں…
دیکھئے پانچواں
پارہ… سورہ نساء آیت ۱۳۸… اور
۱۳۹ … اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے…
بَشِّرِ
الْمُنَافِقِیْنَ بِاَنَّ لَہُمْ عَذَاباً اَلِیْمَا oنِ الَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ
الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآئَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ط اَیَبْتَغُوْنَ
عِنْدَہُمُ الْعِزَّۃَ فَاِنَّ الْعِزَّۃَ ﷲِ جَمِیْعًاo
ترجمہ: ’’(اے
پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم) منافقوں (یعنی دو رخے لوگوں) کو
بشارت سنا دو کہ ان کیلئے دردناک عذاب تیار ہے۔ وہ منافق جو مومنوں کو چھوڑ کر
کافروں کو دوست بنا تے ہیں، کیا یہ ان کے ہاں عزت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو عزت تو
سب اللہ ہی کے قبضہ میںہے۔‘‘
آئیے ان مبارک
آیات کو مزید سمجھنے کیلئے بعض ’’مستند مفسرین‘‘ کی باتیں پڑھتے ہیں
حضرت محقق عثمانیؒ
لکھتے ہیں:
’’دین حق پر
ہو کر گمراہوں سے بھی بنائے رکھنا یہ بھی نفاق کی بات ہے۔‘‘
)تفسیر
عثمانی ص۱۳۱(
صاحب تفسیر عثمانی
ان دو آیات کی تفسیر ان الفاظ میں فرماتے ہیں:
’’یعنی
منافق لوگ جو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں ان کیلئے سخت عذاب ہے
اور ان کا یہ خیال کہ کافروں کے پاس بیٹھ کر ہم کو دنیا میں عزت ملے گی بالکل غلط
ہے، سب عزت اللہ تعالیٰ کے واسطے ہے جو اس کی اطاعت کرے گا اس کو
عزت ملے گی۔ خلاصہ یہ ہوا کہ ایسے لوگ دنیا اور آخرت دونوں میں ذلیل وخوار رہیں
گے۔‘‘
)تفسیر
عثمانی ص ۱۳۱(
تفسیر ’’انوار
البیان فی کشف اسرار القرآن‘‘ کے مصنف ان آیات کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
’’طارق ابن
شہاب بیان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعا لیٰ عنہ (اپنے زمانہ خلافت میں) شام کی طرف
روانہ ہوئے اس وقت ہمارے ساتھ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعا لیٰ عنہ بھی تھے۔ چلتے چلتے حضرت عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ اپنی اونٹنی سے اتر گئے اور اپنے
موزے اپنے کاندھے پر ڈال لیے اور اونٹنی کی باگ پکڑ کر چلنا شروع کردیا۔ حضرت ابو
عبیدہ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے عرض کیا کہ اے امیر المؤمنین! آپ
ایسا کرتے ہیں کہ موزے نکال کر کاندھے پر ڈال کر اونٹنی کی باگ پکڑ کر چل رہے ہیں؟
مجھے تو یہ اچھا نہیں لگتا کہ یہاں کے شہر والے اور لشکر اور نصاریٰ کے بڑے لوگ آپ
کو اس حال میں دیکھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے فرمایا افسوس ہے تیری بات پر اے
ابو عبیدہ ! تیرے علاوہ کوئی شخص یہ بات کہتا تو اسے عبرتناک سزا دیتا جو امت
محمدیہ کیلئے عبرتناک ہوتی۔ پھر فرمایا کہ بلا شبہ ہم لوگ (عرب) ذلیل قوم تھے اللہ نے
ہم کو اسلام کے ذریعے عزت دی اس کے بعد جب کبھی بھی ہم اس چیز کے علاوہ عزت طلب
کریں گے جس سے اللہ نے ہمیں عزت دی ہے تو اللہ تعالیٰ ہمیں ذلیل فرما دے گا۔ ‘‘(رواہ الحاکم فی
المستدرک صفحہ ۲۶،ج۱)
آج دیکھا جاتا ہے
کہ مسلمان ہونے کے دعویدار نصاریٰ کے طور طریقے اختیار کرنے میں، داڑھی مونڈنے
میں، افرنگی لباس پہننے میں، کھانے پینے میں اور معیشت میں اور معاشرت میں، حکومت
میں اور سیاست میں دشمنان دین کی تقلید کرنے کو عزت کی چیز سمجھتے ہیں۔ کتاب اللہ ، سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کرنے میں، اسلامی لباس پہننے
میں، بیاہ شادی میں سنت کا طریقہ اختیار کرنے میں، اسلامی قوانین اختیار کرنے میں
خفت اور ذلت محسوس کرتے ہیں جس طرح منافقین کافروں سے دوستی کرکے ان کے یہاں عزت
چاہتے تھے، آج کے مسلمان بھی انہیں کے طرز کو اپنا رہے ہیں۔ اسلام اور اعمال اسلام
میں عزت نہ سمجھنا اور کافروں سے دوستی کرنے اور ان کی طرف جھکنے اور ان کی تقلید
میں عزت سمجھنا بہت بڑی محرومی ہے۔
حضرات صحابہ رضوان
اللہ علیہم اجمعین سچے مسلمان تھے کافران
سے ڈرتے تھے۔ اب جب کہ مسلمان ہی کافروں کی طرف جھک رہے ہیں اور ان کے رنگ میں
رنگے جار ہے ہیں تو عزت کہاں رہی؟یہود ونصاریٰ اور ہنود کا اتباع کرنے والے غور
کریں۔(انوارالبیان فی کشف اسرار القرآن صفحہ ۳۷۷۔۳۷۸،ج۲)
حکیم الامۃ حضرت
تھانویؒ بیان القرآن میں تحریر فرماتے ہیں…
’’منافقین کو
خوشخبری سنادیجئے اس امر کی کہ ان کے واسطے آخرت میں بڑی دردناک سزا تجویز کی گئی
ہے۔ جن کی یہ حالت ہے کہ عقائد تو اہل ایمان کے نہ رکھتے تھے مگر وضع بھی اہل
ایمان کی نہ رکھ سکے چنانچہ کافروں کو دوست بناتے ہیں مسلمانوں کو چھوڑ کر کیا ان
کے پاس جاکر معزز رہنا چاہتے ہیں سو خوب سمجھ لو کہ اعزاز تو سارا خدا کے قبضہ میں
ہے وہ جس کو چاہیں دیں‘‘۔(بیان القرآن ص۱۶۵ج۱)
ان آیات کے
’’مسائل السلوک‘‘ میں حضرت تھانویؒ لکھتے ہیں…
’’فیہ ذم
لطلب الجاہ وہو ظاہر‘‘ (بیان القرآن ص۱۶۵ج۱)
یعنی اس آیت میں
بالکل وضاحت کے ساتھ ’’طلب جاہ‘‘ کی مذمت ہے۔
علامہ ابن
کثیرؒ ’’تفسیر ابن کثیر‘‘ میں ان آیات
مبارکہ کی دلنشین تشریح وتفسیر لکھنے کے بعد فرماتے ہیں کہ…
’’مناسب
معلوم ہوتا ہے کہ ہم یہاں وہ حدیث بھی لکھ دیں جو امام احمدؒ نے (مسند میں) روایت
کی ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے:
’’جو عزت اور
فخر کے طور پر اپنے نو(۹) کافر
آباء واجداد کا تذکرہ کرے گا تو وہ ان کے ساتھ جہنم میں دسواں ہوگا‘‘۔ (تفسیر ابن
کثیر ص۵۴۴ج۱)
یعنی اگر کسی کو اللہ پاک نے اسلام کی توفیق دی تو اب اس کے لئے جائز
نہیں کہ … اپنے کافر آباء واجداد کے نام سے عزت وفخر حاصل کرنے کی کوشش کرے… جس
طرح کہ آج کے قوم پرست لیڈر… اسلام کو نئی چیز… اور اپنی لسانی قومیت کو ہزاروں
سال پرانی چیز قرار دے کر… اپنے… کافر آباء واجداد کے نام پر فخر کرتے ہیں… اللہ پاک ہم سب کی حفاظت فرمائے…
حضرت مولانا مفتی
محمد شفیع صاحبؒ نے ان دو آیات کی تشریح میں پورے دو صفحات پر بہت مؤثر کلام
فرمایا ہے ہم یہاں ان کی ’’تقریر‘‘ میں سے دو باتیں پیش کر رہے ہیں…
)۱( کفار
ومشرکین کو خود ہی عزت نصیب نہیں، ان کے تعلق سے کسی دوسرے کو کیا عزت مل سکتی ہے،
اسی لیے حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
مَنِ اعْتَزَّ
بالعبید اَذلّـہُ اللہ
یعنی جو شخص
مخلوقات اور بندوں کے ذریعے عزت حاصل کرنا چاہے تو اللہ تعالیٰ اس کو ذلیل کردیتے ہیں… ( تفسیر جصّاص و معارف القرآن ص۵۸۳ج۲)
)۲( یہاں
عزت سے مراد اگر ہمیشہ قائم اور باقی رہنے والی آخرت کی عزت ہے تب تو دنیا میں اس
کا مخصوص ہونا اللہ تعالیٰ کے رسول اور مؤمنین کے ساتھ واضح ہے،
کیونکہ آخرت کی عزت کسی کافر ومشرک کو قطعاً حاصل نہیں ہوسکتی، اور اگر مراد دنیا
کی عزت لی جائے توعبوری دور اور اتفاقی حوادث کو چھوڑ کر انجام کے اعتبار سے یہ
عزت وغلبہ بالآخر اسلام اور مسلمانوں ہی کا حق ہے، جب تک مسلمان صحیح معنی میں
مسلمان رہے، دنیا نے اس کا آنکھوں سے مشاہدہ کرلیا اور پھر آخر زمانہ میں جب حضرت
عیسیٰ علیہ السلام کی امامت وقیادت میں مسلمان صحیح اسلام پر قائم ہوجائیں گے تو
پھر غلبہ انہی کا ہوگا۔ (تفسیر معارف القرآن ص۵۷۳)
انڈیا کی جن جیلوں
میں ’’کشمیری مجاہدین‘‘ کو قید رکھا گیا ہے… وہاں… انڈیا کے مخبر اور جاسوس اس بات
کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں کہ کس مجاہد لیڈر کو لوگوں کے درمیان ’’بڑائی‘‘ کا شوق
ہے… پھر وہ ایسے مجاہدین کو شکارکرتے ہیں… جیل کا ’’ایس پی‘‘ انہیں اپنے دفتر میں بلا
کر کرسی پر بٹھاتا ہے… چائے پلاتا ہے… ان کی عقلمندی کی تعریف کرتا ہے… انہیں کھڑے
ہو کر ملتا ہے… اور واپسی پر دروازے تک چھوڑنے آتا ہے… تب … بعض عزت کے شوقین بلکہ
مریض حضرات… ان غلیظ اداؤں میں پھنس جاتے ہیں … اور اپنے نقلی پروٹوکول کو سب کچھ
سمجھ کر… اپنے… پیارے شہید بھائیوں کا خون تک بھول جاتے ہیں… اسی صورتحال کو مدنظر
رکھتے ہوئے ہم لوگ جیل میں کہا کرتے تھے کہ… اللہ پاک جسے ذلیل کرنا چاہتا ہے اس کے دل میں اپنی
عزت اور بڑائی کا شوق ڈال دیتا ہے…
اب ہم اپنی اصل
بات کی طرف لوٹتے ہیں … ہم نے مضمون کے شروع میں ایک حدیث پاک پڑھ لی… پھر… اللہ پاک نے ہمیں اپنی مبارک ومعطر کتاب قرآن پاک کی
دو آیات پڑھنے… اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائی… اب آئیے اخبار اٹھا کر وہ بیان
پڑھتے ہیں جس کا تذکرہ مضمون کے شروع میں ہوا تھا… یہ روزنامہ ’’اوصاف‘‘ ہے…
پاکستان کا ایک بڑا اخبار… اس کی مرکزی سرخی ملاحظہ فرمائیے…
’’دنیا میں
عزت کیلئے عسکری تنظیموں سے بچنا ہوگا، ’’صدر پرویز مشرف‘‘
خبر کی مزید تفصیل
میں لکھا ہے…
’’صدر مملکت
جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ اگر ہم نے اقوام عالم میں اپنی عزت اور وقار کو بحال
رکھنا ہے تو ہمیں مذہبی انتہا پسندی اور عسکری تنظیموں سے دور رہنا ہوگا… (روزنامہ
اوصاف)
اس کے بعد صدر
صاحب نے جو فوجی وردی میں ملبوس تھے کہا:
’’اکیسویں
صدی میں آگے جانے کا طریقہ لڑائی نہیں معاشی خوشحالی اور علم ہے۔‘‘ (روزنامہ
اوصاف)
میں یہ خبر پڑھ کر
حیران رہ گیا کہ… ہمارے صدر صاحب ایک طرف تو کعبہ شریف پر چڑھ کر نعرے لگاتے ہیں…
اورد وسری طرف … اپنوں کو مار کر کافروں کے ہاں عزت ڈھونڈ رہے ہیں… کیا… انہوں نے
قرآن پاک کی وہ آیات نہیں پڑھیں جن کا اوپر تذکرہ ہوا ہے… میں اسی الجھن میں تھا کہ
اخبار کی بڑی سرخی سے کچھ نیچے… ایک اور سرخی پر نظر پڑی… اور میری الجھن ختم
ہوگئی… آپ بھی ملک کے صدر کا بیان ملاحظہ فرمائیں…
’’سوچنے میں
وقت ضائع ہوتا ہے جو جی میں آئے کر گزر تا ہوں‘ صدر مشرف‘‘ (روزنامہ اوصاف)
ہائے ہماری قسمت…
بس ہم یہی دعاء کرتے ہیں کہ… اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہمارے حکمرانوں کو… قرآن پاک
پڑھنے، سمجھنے اور نافذ کرنے کی توفیق عطا فرمائے…اور ہمیں آخرت کی سوچ اور دین کی
سمجھ عطاء فرمائے… اور ہمیں ہر قدم ’’سوچ سمجھ‘‘ کر اٹھانے کی سعادت عطا فرمائے… (آمین یا ارحم الراحمین)
٭٭٭
اللہ کے
لئے اے مسلمانو!… قرآن پاک کی طرف لوٹ آؤ… اللہ کے
لئے… اللہ کے لئے فوراً لوٹ آؤ… ہماری غفلت نے ہمیں تباہ
کردیا ہے… برباد کردیا ہے… کتنا بڑا زلزلہ آیا مگر ہم نے عبرت نہ پکڑی… وہی
بدمعاشیاں، وہی تماشے، وہی جانوروں والی حرکتیں… اور وہی بندر والا ناچ… حکمرانوں
کو ذرا خیال نہ آیا کہ… ان کے کرتوُتوں نے قوم کو کتنے بڑے عذاب میں مبتلا کیا ہے…
اسی طرح غفلت سے اُچھلتے پھرتے ہیں اور لوگوں کو جبراً قرآن پاک سے دور کر رہے
ہیں… سیاستدانوں کو کچھ خیال نہ آیا کہ ملبے کے نیچے دبی لاشیں ان کو کیا سمجھا
رہی ہیں… سب نے اپنا ’’قد‘‘ بڑھانے کے لئے چھلانگیں لگانا شروع کردیں… دینداروں نے
ذرا نہ سوچا کہ ان سے کیا کوتاہی ہورہی ہے… حالانکہ… مدینہ منورہ میں صرف تیز ہوا
چل پڑتی تھی تو… آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے جانثار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین… مسجدوں کی طرف دوڑ پڑتے تھے… اور اللہ پاک کے خوف سے کانپنے اور لرزنے لگتے تھے… یہاں
لاکھوں افراد اکھاڑ دیئے گئے… مگر… کچھ ایسا نہ کیا گیا جس کی ’’اصل ضرورت‘‘ تھی…
بلکہ… بعض جگہ تو دنیا پرستی اور شہوات کا کھیل … اور زیادہ شروع ہوگیا… ہاں…
جنہوں نے اپنے نظریات کو قرآن پاک کے مطابق نہ بنایا ہو… ان پر… یہود ونصاریٰ کی
گوری اور چمکدار این جی اوز کا جادو جلدی چڑھ جاتا ہے… اے مسلمانو!… ہمیں اپنے آپ
کو پہچاننے کی ضرورت ہے… اور … یہ پہچان قرآن پاک کے ذریعہ ہی ممکن ہے… اے
مسلمانو!… ہمیں خود کو سدھار نے کی ضرورت ہے… اور ہمیں… قرآن پاک ہی سدھرنے کا
راستہ بتا سکتا ہے… مگر ہم… قرآن پاک سے بہت دور ہوچکے ہیں … اور مزید دور ہوتے
چلے جارہے ہیں… اسی لیے… ہم بے وزن ہوگئے… اور اسی لیے ہم ’’بے آبرو‘‘ ہو گئے…
حالانکہ… قرآن پاک موجود ہے… اور اس کی ہر آیت… اور اس کے ہر حکم میں… ہمارے لیے
زندگی ہے… رحمت ہے، ہدایت ہے، حفاظت ہے، شفاء ہے… اور کامیابی ہے… ٹھیک ہے ہمارے
پاس اب کوئی ’’مرکز‘‘ نہیں رہا… مگر… قرآن پاک تو موجود ہے… ہم ’’قرآنی جماعت‘‘ بن
کر مرکز حاصل کرسکتے ہیں… ٹھیک ہے ہم مغلوب ہوچکے ہیں… مگر… ہمارے پاس قرآن پاک تو
موجود ہے… ہم … قرآنی اصولوں کو اپنا کر… غلبہ حاصل کرسکتے ہیں… ٹھیک ہے ہم سے
سکون چھن گیا … مگر… ہمارے پاس قرآن پاک تو موجود ہے… ہم قرآن پاک کے میٹھے طریقے
پر چل کر سکون حاصل کرسکتے ہیں… ٹھیک ہے ہم بکھر چکے ہیں… مگر ہمارے پاس قرآن پاک
تو موجود ہے ہم قرآن پاک کی رسی کو تھام کر… متحد ہوسکتے ہیں… ٹھیک ہے ہم کمزور
ہوچکے ہیں… مگر… ہمارے پاس قرآن پاک تو موجود ہے ہم قرآن پاک کی قوت کو اپنے اندر
لا کر… طاقتور ہوسکتے ہیں… اے مسلمانو! اللہ کے
لئے قرآن پاک کی طرف لوٹ آؤ… چھوڑو امریکا اور اسرائیل کی سازشوں کے تذکرے… یہ
کافر، انکی قوت اور ان کا شور شرابا… ہر زمانے میں موجود تھا… روم وفارس کی قوت
اور دبدبہ ان سے کم نہیں تھا… مگر… صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے قرآن پاک کو پڑھا، سمجھا… اور
اس پر عمل کرتے ہوئے آگے بڑھے تو یہ قوتیں ان کے جوتوں کا غبار بن گئیں… پھر آج کا
مسلمان کیوں بے بسی سے ہاتھ مل رہا ہے؟… آج کا مسلمان کیوں خوف سے کانپ رہا ہے؟…
صرف اسی لیے کہ اس نے قرآن پاک کے آئینے میں خود کو… اور اپنے دشمنوں کو نہیں
دیکھا… اور نہ… اس نے قرآن پاک والا راستہ اختیار کیاہے… اگر آج مسلمانوں پر حالات
خراب ہیں تو ماضی میں کون سے اچھے تھے؟… اٹھاون سال پہلے تو ہمارے اس پورے علاقے
پر انگریز کا راج تھا… کسی زمانے فرعون، کسی زمانے نمرود، کسی زمانے ابوجہل، کسی
زمانے تاتاری… اور کسی زمانے منگول… آزمائش تو آتی ہے… مگر مسلمان تو کبھی اپنے
دین سے دستبردار نہیں ہوتا… مسلمان تو کبھی کسی طوفان سے نہیں ڈرتا… مسلمان تو
کبھی اپنے نظریات نہیں بدلتا… قرآن پاک نے بتایا ہے کہ… اصل عزت اسلام کی عزت ہے…
بس … مسئلہ ہی ختم… قرآن پاک نے بتایا ہے کہ اصل کامیابی… آخرت کی کامیابی ہے… بس
مسئلہ ہی ختم… قرآن پاک نے بتایا ہے کہ دنیا کی زیب وزینت سب کھیل تماشا اور بے
کار ہے… بس مسئلہ ہی ختم…قرآن پاک نے بتایا کہ … ہر موت ناکامی نہیں… بس مسئلہ ہی
ختم… قرآن پاک نے بتایا ہے کہ امن کا معنیٰ… اللہ کی
ناراضی اور عذاب سے بچنا ہے… بس مسئلہ ہی ختم… قرآن پاک نے بتایا ہے کہ… شہادت موت
نہیں زندگی ہے… بس مسئلہ ہی ختم… اور قرآن پاک نے سمجھایا ہے کہ… کافروں کا دنیا
میں مزے کرنا ان کی کامیابی کی وجہ سے نہیںہے… بس مسئلہ ہی ختم… اور قرآن پاک نے
بتایا ہے کہ… مسلمان دنیا میں کھانے پینے، مکانات بنانے اور دنیا آباد کرنے نہیں…
قرآن پاک پر عمل کرنے، جہاد کرنے، دین کو غلبہ دلانے… اللہ پاک کو راضی کرنے… اور اپنی قبر اور آخرت بنانے
کے لئے آیا ہے… بس مسئلہ ہی ختم… قرآن پاک نے سمجھایا ہے کہ… مسلمان شرک وکفر کا
غلبہ برداشت نہیں کرسکتا … بس مسئلہ ہی ختم… قرآن پاک نے بتایا ہے کہ… مسلمان اللہ کے
دشمنوں کا یار نہیں ہوسکتا… بس مسئلہ ہی ختم… قرآن پاک نے تبایا ہے کہ… یہود
ونصاریٰ … اور دوسرے اسلام کے دشمن مسلمانوں سے کبھی راضی نہیں ہوسکتے… بس مسئلہ
ہی ختم… اور قرآن پاک نے ہمیں بتایا کہ … بڑے بڑے بادشاہ ناکام تھے… کیونکہ وہ
کافر تھے… اور بہت سارے فقرا کامیاب تھے… حالانکہ وہ ظلم وستم سے مارے گئے… اگر
کامیابی یہی ہے… اور یقینا یہی ہے تو مسئلہ ہی ختم … اللہ کے
لئے اے مسلمانو!… قرآن پاک کی طرف لوٹ آؤ… قرآن پاک ہمیں جس قسم کا مسلمان بناتا
ہے… اس مسلمان کے لئے ناکامی کا تصور ہی نہیں ہے… وہ کامیاب ہی کامیاب ہے… زندہ
رہے تب بھی کامیاب اور مرجائے تب بھی کامیاب… ایسے مسلمان سے شیطان بھی مایوس ہوتا
ہے… اور دنیا بھر کے کافر بھی اس سے مایوس … وہ… مسلمان نہ مغرب کا ایجنٹ ہوتا ہے
نہ مشرق کا … وہ نہ مال کا پجاری ہوتا ہے اور نہ کافروں کی طاقت کا… وہ نہ موت سے
ڈرتا ہے… نہ … ایٹم بم سے … وہ صرف اللہ کا ہوتا ہے… وہ اللہ کے
پاک رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہوتا ہے… وہ کعبۃ اللہ کا
ہوتا ہے… اور وہ مسلمانوں کا ہوتا ہے… اسلام دشمن کافر اسے کبھی اپنا دوست نہیں
سمجھتے… بلکہ… وہ اسے مارنے، پکڑنے اور برباد کرنے کیلئے سازشیں کرتے ہیں… مگر… وہ
اپنی زندگی آزادی کے ساتھ گزارتا ہے… وہ … کسی سے زندگی کی بھیک نہیں مانگتا… وہ …
لا الہ الا اللہ کہتا ہے اور پھر اس پر ڈٹ جاتا ہے… اسی لیے تو…
دنیا بھر کے کافر ’’قرآن کی تعلیم‘‘ کے دشمن ہیں… وہ جانتے ہیں کہ… قرآن پاک کے
ہوتے ہوئے… اسلام کا خاتمہ ناممکن ہے… جہاد کا خاتمہ ناممکن ہے… وہ کہتے ہیں… سب
کچھ پڑھو… قرآن پاک نہ پڑھو… سب کچھ سمجھو قرآن پاک نہ سمجھو… کیونکہ… قرآن پاک…
اسلام کے دشمنوں کیلئے… موت کی آسمانی بجلی ہے … اور وہ … قرآنی دعوت کی قوت کو
جانتے ہیں… قرآن پاک جب مسکراتا ہے تو… کروڑوں بھولے بھالے کافر… اسلام کی طرف
دوڑتے ہیں… اور فوج در فوج مسلمان ہوجاتے ہیں… اے مسلمانو!… اللہ کے
لئے قرآن پاک کی طرف لوٹ آؤ… اور … دنیا کو قرآن پا ک کی مسکراہٹ دکھادو… تب …
ناپاک حسیناؤں کی مسکراہٹ اپنا اثر کھو دے گی… قرآن پاک جب کڑکتاہے ، گرجتا ہے …
تو … اسلام کے دشمنوں کی طاقت مکڑی کے جالے کی طرح … ٹوٹ جاتی ہے… اور پھٹ کر بکھر
جاتی ہے… اے مسلمانو! اللہ کے لئے ہمت کرو… اور … دنیا کو قرآن پاک کی کڑک
اور گرج کا مشاہدہ کرادو… آج… لوگوں کے کان حضرت خالد بن ولیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ… اور حضرت قعقاع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی للکار کو ترس گئے ہیں… ہاں…
مظلوموں کو بہت انتظار ہے… اور قرآن پاک جب اپنا دامن پھیلاتا ہے تو… اللہ پاک کی زمین… توحید اور نور سے بھر جاتی ہے… اے
مسلمانو!… اللہ کے لئے… قرآن پاک کی دعوت کو عام کرو… تاکہ… اس
کے دامن کے سائے میں روتی، بلکتی… اور سسکتی انسانیت سکون لے سکے… اور رب تعالیٰ
کے راستے تک پہنچ سکے… اے مسلمانو! … تم تو قرآن پاک کے ’’داعی‘‘ تھے مگر اب تو
خود… تمہارے سینے قرآن پاک سے خالی ہیں… تم … اوروں کو کیا دعوت دو گے؟… اے
مسلمانو!… تم توقرآن پاک کے مبلغ تھے… مگر… اب تو تم خود قرآن پاک کو نہیں سمجھتے…
تم … ساری دنیا کو کیا سمجھاؤ گے… کیا تم نے کبھی سوچا کہ… تمہاری اس غفلت سے کتنا
نقصان ہورہا ہے؟… آج … لاکھوں افراد روزانہ کفر کی حالت پر مر رہے ہیں… کیا تم نے
ان تک قرآن پاک پہنچایا؟… کیا تم نے جہاد کے ذریعے ان کے علاقوںمیں دین کو داخل
کیا؟… نہیں بالکل نہیں… تم تو خود… دنیا پرست بن چکے ہو… تمہیں نوٹ بنانے، نوٹ
گننے، … اور جائیدادیں جوڑنے سے فرصت ہی نہیں ہے … تم تو… خود شہوت پرست جانور…
اور اپنی ذات کے سوراخ میں بند کیڑے بن چکے ہو… تمہیں کیا فکر… کہ کتنے لوگ کفر پر
مر رہے ہیں… تمہیں کیا فکر… کہ تمہارے قرآن پاک چھوڑنے کی وجہ سے … کفر کتنا
طاقتور ہوگیا… اور کافر کس قدر اپنے کفر پر پکے ہوگئے… کاش… تم قرآن پاک کے حکم کے
مطابق صرف… اللہ پاک کو جان دینے کا وعدہ کرلیتے تو… کفر کبھی
طاقتور نہ ہوتا… اور نہ سارے کافر اپنے کفر پر اتنے پکے ہوتے… مگر افسوس… آج کافر
مغرور ہوگئے ہیں… کیونکہ تم ان کی نظروں میں مقام پانے کے لئے مرے جارہے ہو… ہائے
اس ذلت اور پستی کا تصور کرنا بھی مشکل ہے… جانور بھی اتنی ذلت اور پستی گوارہ
نہیں کرتے… آپ اخبار اٹھا کر دیکھ لیں… ہمارے حکمران، ہمارے دانشور اور ہمارے
دنیادار سبھی کافروں سے امن اور عزت کا سرٹیفیکیٹ لینے کے لئے… قرآن پاک کا انکار
تک کر جاتے ہیں… حالانکہ مسلمان دنیا میں ذلیل ہونے کے لئے پیدا ہی نہیں ہوا… مگر جب
ہم نے… قرآن پاک کی ’’زندگی‘‘ کو چھوڑا تو پھر ذلت کی ’’موت‘‘ نے ہمیں ہر طرف سے
گھیر لیا ہے… ہم نے قرآن پاک کے ’’سکون‘‘ کو چھوڑا تو ہر طرف سے … بے سکونی نے
ہمیں تباہ کردیا ہے… نہ ہمارا ’’نکاح‘‘ قرآن کے مطابق، نہ ہماری ’’طلاق‘‘ قرآن پاک
کے مطابق… نہ ہمارا ’’مرنا‘‘ قرآن کے مطابق نہ ہمارا ’’جینا‘‘ قرآن کے مطابق… نہ
ہماری ’’سیاست‘‘ قرآن کے مطابق نہ ہماری ’’قیادت‘‘ قرآن کے مطابق… نہ ہماری
’’تعلیم‘‘ قرآن کے مطابق … نہ ہماری ’’تربیت‘‘ قرآن کے مطابق… نہ ہماری ’’سوچ‘‘
قرآن کے مطابق… اور نہ ہمارے نظریات قرآن کے مطابق…
تب ہم پر اگر
اندھیرے چھاگئے ہیں تو کیا تعجب ہے؟… ہم نے نور کو چھوڑ دیا ہے تو اندھیرے ہی
ہمارا مقدر بنیں گے… اے مسلمانو! اللہ پاک کے لئے قرآن کی طرف لوٹ آؤ… دیکھو اب بھی…
کچھ لوگ قرآن پاک کو تھامے ہوئے ہیں… اللہ
پاک نے انہیں کتنا نوازا ہے… روزانہ…
کروڑوں اربوں ڈالر ان کے خلاف خرچ کیے جارہے ہیں… روزانہ سینکڑوں جہاز ان کے خلاف
اڑانیں بھرتے ہیں… روزانہ سینکڑوں من بارود ان پر برسایا جارہا ہے… مگر وہ… زندہ
ہیں، کامیاب ہیں… اور قرون اولیٰ کا نشان ہیں… تب … ساری دنیا کا کفر چیختا ہے کہ…
مسلمانوں کو قرآن سے روکو… کچی مسجدوں کی چٹائی کو الٹ دو… تاکہ… قرآن پاک کی
تعلیم بند ہوجائے… عالم اور مولوی کو ڈرادو… تاکہ… قرآن پاک کی تعلیم بند ہوجائے…
غیر ملکی ویزوں کے دروازے کھول دو… تاکہ قرآن پاک کی تعلیم بند ہوجائے… باطل فرقوں
کے ڈسے ہوئے افراد کو حکمران بنادو تاکہ… قرآن پاک کی تعلیم بند ہوجائے… دینداروں
پر روزی تنگ کردو… تاکہ قرآن پاک کی تعلیم بند ہوجائے… مدرسہ کی ’’خودی‘‘ کو بیٹری
ڈال دو… تاکہ… قرآن پاک کی تعلیم بند ہوجائے… قرآنی روح سمجھانے والوں کو قتل
کردو… منظر سے غائب کردو… تاکہ… قرآن پاک کی تعلیم بند ہوجائے… جہادی مراکز میں
قرآن کے مضامین خوب کھلتے ہیں… جہادی مراکز تباہ کردو… تاکہ… قرآن پاک کی تعلیم
بند ہوجائے… زمانے کے فرعون ڈر رہے ہیں کہ… قرآن پاک … محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے نوجوانوں میں… حضرت موسیٰ
علیہ السلام کا جذبہ بھردے گا… دنیا کے فرعون کانپ رہے ہیں کہ… قرآن پاک… اس امت
کی بیٹیوں کو حضرت آسیہ بنادے گا… زمانے کے نمرود طاقت کی آگ بھڑکا کر بھی کانپ
رہے ہیں کہ… قرآن پاک … پھر فرزندان ابراہیم کے لشکر کھڑے کردے گا… زمانے کے
ابولہب گھبرائے ہوئے ہیں… اور زمانے کے عبد اللہ بن ابی… قرآن پاک کے خلاف ہر حربہ آزما رہے ہیں…
وہ چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ اے مسلمانو! قرآن کو چھوڑ دو ہم تمہیں مالا مال
کردیں گے… اے مسلمانو! قرآن کو چھوڑ دو ہم … یہ ناچنے والی لڑکیاں تمہارے قدموں
میں ڈال دیں گے… تب اچانک مسلمان کی نظر… قرآن کی بتائی ہوئی جنت پر پڑتی ہے… اور
قرآن انہیں پاکیزہ حوروں کی حسین داستاں سناتا ہے تو… پھر … مسلمان کافروں کے مال…
اور ان کی بے حیائی پر تھوک دیتا ہے… اسی لیے… اے مسلمانو! اللہ کیلئے قرآن پاک کی طرف لوٹ آؤ… تم مرد ہو تو… اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ مرد کو… قرآن پاک میں ڈھونڈو…
اور پھر ویسے مرد بن کر… اللہ پاک کی رضا، محبت اور جنت کو جیت لو … تم عورت
ہو تو… قرآن پاک کو دیکھ کر… اللہ پاک کی پسندیدہ عورت بنو … تب … تم ہمیشہ ہمیشہ
کے لئے کامیاب ہوجاؤ گی… الغرض تم جو کچھ بھی ہو… جہاں بھی ہو… جس حال میں بھی ہو…
اللہ کیلئے قرآن پاک کی طرف لوٹ آؤ… وقت تیزی سے گزر
رہا ہے… مساجد پکار رہی ہیں… مظلوموں کی لاشیں فریاد کر رہی ہیں… عقوبت خانوں اور
جیلوں سے… ظلم کا بھیانک دھواں اٹھ رہا ہے… ہر طرف کفر، اندھیرا… اور بے چینی ہے…
ہر طرف شرک، بدمعاشی اور بے حیائی ہے … وہ دیکھو… شہداء حیران ہیں… وہ دیکھو ہماری
قبر ہمارے بالکل قریب آچکی ہے… وہ دیکھو!… موت ہمیں دیکھ رہی ہے… وہ دیکھو… زمانے
کا مؤرّخ ہماری بری داستان لکھنے کو تیار بیٹھا ہے… وہ دیکھو… قیامت کا حساب کتاب
بالکل سامنے ہے… وہ دیکھو… زمین پھٹنے کو ہے… دیر مت کرو… دیر مت کرو… اے
مسلمانو!… اللہ کے لئے قرآن پاک کی طرف لوٹ آؤ… ہاں … دو رکعت
پڑھ کر اس کا پکا وعدہ کرلو… رنگ ونور کی اگلی مجلس میں… ان شاء اللہ قرآن پاک سمجھنے کا آسان اور مختصر نصاب… بیان
ہوگا… مگر… اس سے پہلے خوب غور کرلو… خوب سوچ لو… اور ایک زور دار انگڑائی لیکر
غفلت کے رسّے توڑ دو… ایک نئے عزم کی بجلی اپنے اندر بھرلو… اور پھر… رب تعالیٰ سے
توفیق مانگو… ہاں مسلمانو! ہاں… بس اب تک بہت ہوچکا … اب اللہ کیلئے… قرآن پاک کی طرف لوٹ آؤ…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے محبوب شہر مکہ مکرمہ میں… جمع ہو کر
بھی … وہ کوئی اچھا فیصلہ نہ کرسکے… مسلمانوں پر حکومت کرنے والے… ان پچاس سے زائد
حکمرانوں کو… کسی نے نہیں بتایا کہ… مکہ مکرمہ جہاد کے ذریعہ فتح ہوا تھا… جی ہاں
امت مسلمہ میں سے کسی سچے مسلمان کو اس حقیقت سے انکار نہیں ہے… حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دس ہزار جاںنثار صحابہ
کرامؓ نے پوری جنگی تیاری… اور مکمل عسکری حکمت عملی کے ساتھ… مکہ مکرمہ کی طرف
پیش قدمی فرمائی تھی… یہ حملہ اس قدر سخت اور منظم تھا کہ… مشرکین مکہ کا جنگی
غرور خاک میں مل گیا اور وہ لڑائی نہ کرسکے… مکہ مکرمہ سے لیکر مدینہ منورہ تک
قربانیوں کی جو داستان زمین اور آسمان کو یاد ہے… کاش کوئی اس کا ایک ورق ان
’’حکمرانوں‘‘ کو سنادیتا… ان حضرات نے ’’مدینہ منورہ‘‘ حاضری دی … مگر… انہیں یاد
نہ رہا کہ… مدینہ منورہ جہاد فی سبیل اللہ
کی برکت سے ایک مکمل ’’اسلامی ریاست‘‘
بنا… قرآن پاک کی ایک پوری سورۃ ’’سورۃ الحشر‘‘ کو پڑھ کر دیکھ لیجئے…
پھر اسی مدینہ
منورہ سے ہر دو مہینے میں ایک اسلامی لشکر ’’جہاد‘‘ کے لئے روانہ ہوتا تھا… اور وہ
زمانہ روئے زمین کا بہترین… اور ترقی یافتہ ترین زمانہ تھا… اس زمانے میں آسمان کی
بلندیاں زمین کو رشک سے دیکھتی تھیں… اور بوڑھے سورج نے اتنا خوبصورت زمانہ نہ
پہلے دیکھا تھا… اور نہ وہ بعد میں دیکھ سکا… جی ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس زمانے میں… مدینہ منورہ تشریف فرما
تھے… مجاہدین کا ایک لشکر جارہا تھا… تو … دوسرا واپس آرہا تھا… شہداء کے جنازے
مہک رہے تھے… مدینہ منورہ کی گلیوں میں شہیدوں کے یتیم بچے آسمان کے ستاروں کی طرح
چمکتے تھے… گھوڑوں کے طاقتور پاؤں غبار اڑا رہے تھے… بہت معطر غبار… ہر شخص زخمی
تھا… اور وہ اپنے زخموں کو یوں محبت سے دیکھتا تھا جس طرح حسن والے اپنے محاسن کو
دیکھتے ہیں… بوڑھے، بچے، عورتیں سب جہاد میں جارہے تھے… صبح شام زخمی ہو رہے تھے…
کٹ رہے تھے… اور اسلام تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا… حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے جسم کے ٹکڑوں والے مدینہ منورہ میں بھی
ہمارے حکمرانوں کو ’’جہاد سمجھنے‘‘ کی توفیق نہ ملی… وہ جہاد کے خلاف بیانات داغتے
ہوئے… امریکی سفیروں سے تازہ ہدایات لیتے ہوئے… اپنے ملکوں سے روانہ ہوئے… اور …
جہاد کے خلاف اپنی تقریروں کے بنڈل سر پر لاد کر واپس آگئے… اب ہر طرف شور ہے کہ…
مکہ اجلاس بہت تاریخی تھا… حالانکہ… کچھ بھی نہیں… اچھے سے اچھا لباس پہننے والوں
کا ایک ’’تاریخی میلہ‘‘ تھا… اور بس … کیا ان حضرات نے سوچا کہ وہ ’’حرمین
شریفین‘‘ کے پاس ہیں… ’’حرمین‘‘ کامطلب ہے ’’دوحرم‘‘ یعنی دو حرمت والے مقامات… ان
دو حرمت والے مقامات پر غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع ہے… آپ جب جدّہ سے مکہ مکرمہ کی
طرف روانہ ہوتے ہیں تو حدود حرم میں داخل ہوتے ہی… آپ ان بڑے بڑے کتبوں کو دیکھ
سکتے ہیں… جن پر لکھا ہوتا ہے کہ … ’’یہاں سے آگے غیر مسلموں کا داخلہ قطعاً ممنوع
ہے‘‘… حدود حرم کا یہ رقبہ میلوں تک پھیلا ہوا ہے… کاش… یہ حکمران حضرات اپنے چند
انچ کے دل کو بھی اللہ پاک کا ’’حرم‘‘ بنا کر حرم شریف میں داخل ہوتے…
ہاں اگر ایسا ہوتا تب واقعی یہ اجلاس… ایک ’’تاریخی اجلاس‘‘ بن جاتا… مگر ان کے
دلوں میں تو… غیرمسلموں کی عزت، عظمت، ہیبت… اور شوکت ابل رہی تھی… ان کا اول آخر
بس ایک ہی مطالبہ تھا کہ ہم سب عالمی برادری کے ہاں کس طرح مقام حاصل کریں؟… ہم
عالمی برادری کے دشمنوں کو کیسے ختم کریں؟… اور ہم اسلام دشمن غیر مسلموں کے خلاف
لڑنے والے مسلمانوں کو کس طرح ذبح کریں؟…
یا اللہ میں تیری عظمت اور غیرت پر قربان… تو چاہے تو
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی گود میں کھلانے والے ابولہب
کو… مردود کافر بنادے… اور چاہے تو … بن دیکھے حضرت اویس قرنی کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا مقبول پروانہ بنادے… تو چاہے تو
قریش کے عالی نسب سردار کو ’’ابوجہل ناپاک‘‘ بنادے… اور چاہے تو حبشہ کے کالے غلام
کو’’ سیدنا حضرت بلال رضی اللہ عنہ‘‘ بنادے… یا اللہ میں تجھ پر قربان… بے شک تو جہان والوں سے غنی
ہے… تو نے اپنے کتنے بندوںکو… حرم پاک سے دور… پہاڑوں، ریگستانوں اور تنگ غاروں
میں بٹھادیا… وہ حرم پاک سے دور اس کے لئے تڑپتے ہیں… مگر تو نے ان کے دلوں کو حرم
پاک والی غیرت عطاء فرمادی ہے… بے شک ان کے دلوں میں صرف تو بستا ہے… تیرا نام
بستا ہے… تیری عظمت بستی ہے… اور وہاں… تیرا کوئی دشمن پھٹک بھی نہیں سکتا…
یا اللہ تیری شان بہت عجیب اور بہت بلند ہے… حرم پاک
تیرا تھا… کعبہ شریف تیرا تھا… مگر وہاں سے… تیرے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نکال دیا گیا… وہ… حرم کی طرف حسرت
سے دیکھتے رہے… اور کلیجے کے آنسو بہاتے رہے… اس وقت … تونے اے میرے ربّا… ابوجہل،
امیہ بن خلف، عقبہ بن ابی معیط… اور ابولہب جیسے اپنے دشمنوں کو کعبہ شریف میں
بسائے رکھا… ہاں وہ ایک امتحان تھا… مگر وہ نہ سمجھے… ادھر تیرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے… مکہ مکرمہ اور کعبہ شریف سے جدائی
کا زمانہ کس درد میں گزارا… اے میرے رب تو خوب جانتا ہے… مگر… تیرا نظام بہت عجیب
ہے… لوگ تیرے دشمن ’’فرعون‘‘ کو بادشاہت کی کرسی پر دیکھتے ہیں… اورتیری مقرب بندی
’’حضرت آسیہ‘‘ خون میں ڈوبی پڑی ہوتی ہے… ہاں میرے ربا… تیرا نظام عجیب ہے… اور
اصل کامیابی تجھے راضی کرنا ہے… فرعون کو ایک وقتی مزہ ملا… اور پھر دائمی عذاب…
معلوم نہیں کب سے جل رہا ہے… اور ہمیشہ جلتا رہے گا…
یا اللہ ایسے مزے سے تیری پناہ… اور بی بی آسیہ کو ایک
درد ملا… چند لمحے کا محبت بھرا درد… اور پھر مزے ہی مزے، بلندی ہی بلندی… اور
ترقی ہی ترقی… ناپاک فرعون کو تیری خاطر چھوڑا تو جنت میں انہیں آقا مدنی حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت ملے گی… اللہ اکبر کتنا اونچا مقام ہے… کوئی ہے جو اس ترقی
اور عظمت کا اندازہ لگا سکے… ایسی سعادت کیلئے تو ہزار جانیں قربان کردی جائیں تب
بھی سودا سستا ہے…
مکہ مکرمہ میں جمع
ہونے والے ہمارے حکمران… اپنی عوام کی بات نہیں سنتے… حالانکہ ان کے آئیڈیل
امریکہ، برطانیہ اور یورپ کے حکمران اپنی عوام کی بات سنتے ہیں… اگر ہمارے
حکمرانوں کو بھی سننے کی توفیق ہوتی تو ہم ضرور چند سوالات ان کے سامنے رکھتے…
عزت مآب شاہ عبد
اللہ … جو … آج کل سعودی عرب کے حکمران ہیں… ایک زمانے تک دینی اور عربی چھاپ
رکھتے تھے… مسلمان سالہا سال سے دعائیں کر رہے تھے کہ وہ جلد حکمران بنیں… اب… شاہ
…صاحب سے کوئی پوچھے کہ آپ کو امت مسلمہ کے مجاہدین سے تو بہت شکوے ہیں مگر… کبھی
آپ نے سوچا کہ… آپ نے مقدس سرزمین کے کتنے خزانے کافروں کی گود میں ڈال رکھے ہیں…
مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور سرزمین حجاز پوری دنیا کے مسلمانوں کااثاثہ ہے… ماضی
کے مسلمان حکمرانوں نے… روم و فارس کے خزانے مکہ اور مدینہ کی گود میں لا ڈالے…
اور آپ نے… مکہ اور مدینہ کی دولت نکال کر… اسلام دشمن کافروں کی گود میں ڈال دی
ہے…
امریکہ کی صرف ایک
کمپنی میں شاہ عبد اللہ کے دو سو بلین
ڈالر جمع ہیں… اور آج زلزلے سے زخمی پاکستان کو صرف پانچ بلین ڈالر کے لئے ساری
دنیا سے بھیک مانگنی پڑ رہی ہے… اللہ پاک نے آخری زمانے میں مسلمانوں کو غلبے کیلئے
بے شمار دولت عطا فرمائی… حجاز سے لیکر مکران کے ساحل کی ریت کو… اللہ پاک نے سونے سے زیادہ قیمتی بنادیا… مگر…
مسلمانوں کے حکمران اس دولت کا کوئی فائدہ نہ اٹھا سکے… بلکہ… یہ دولت ان کیلئے
گدھے کا بوجھ ثابت ہوئی… اور وہ مزید عیاش ہو کر غلامی کی دلدل میں پھنستے چلے
گئے… مسلمانوں کے کئی ممالک میں… بندوق کے زور پر فوجی حکومتیں چل رہی ہیں… اور…
امریکا کے جنگی طیارے ان حکومتوں پر حفاظتی پہرہ دے رہے ہیں… مسلمانوں کے کئی
ممالک میں خاندانی حکومتیں چل رہی ہیں… جنہوں نے… عوام کے بنیادی حقوق تک سلب کر
رکھے ہیں… وہ بہت دلچسپ منظر ہوتا ہے جب ہمارے یہ حکمران اسٹیج پر انصاف، رواداری،
عدم تشدد اور اخلاق کے موضوع پر… خطاب فرمارہے ہوتے ہیں… اور ان کی عوام ان کے
بوٹوں کے نیچے کراہ رہی ہوتی ہے… اور ان حکمرانوں کے منہ سے… اپنے مسلمان بھائیوں
کے خون کی بو آرہی ہوتی ہے… کچھ عرصہ پہلے تک تو یہ اکٹھے جمع بھی نہیں ہوتے تھے…
کیونکہ ان میں سے کچھ امریکہ کے تھے اور کچھ سوویت یونین کے … مگر… سوویت یونین کے
خاتمے کے بعد… یہ سب… ایک ہی دسترخوان کے ’’پیربھائی‘‘ بن گئے ہیں… اور انہیں حکم
ملا ہے کہ… اب تم سب اکٹھے ہوجاؤ، ایک ہوجاؤ… اور سیسہ پلائی دیوار بن جاؤ… جہاد
کو ختم کرنے کیلئے… اور اصلی اسلام کو مٹانے کیلئے… چنانچہ اس بار… یہ بات بھی زیر
غور رہی کہ… اسلامی فتویٰ جاری کرنے کا اختیار بھی ان ’’عالم باعمل‘‘ حکمرانوں کو
دے دیا جائے… اب مسلمانوں نے فتویٰ لینا ہو تو… ان مفتیان وقت سے لیں… جن کے نزدیک
اللہ کے لئے لڑنا فساد… اور امریکہ کی خاطر لڑنا جہاد
ہے… جن کے نزدیک عورت کا برقع پہننا غلطی اور اسکا نیکر پہن کر گھومنا اسلام ہے…
یا اللہ مسلمانوں پر رحم فرما… اور انہیں… قرآن پاک کی
نعمت سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرما… یہ سب کچھ قرآن پاک کو پیٹھ پیچھے
پھینکنے کا نتیجہ ہے کہ ہم اس قدر رسوا ہو رہے ہیں… اسی لیے تو بار بار یہ دُہائی
دی جارہی ہے کہ… اے مسلمانو! اللہ کے لئے قرآن پاک کی طرف لوٹ آؤ… دیکھو… جس وقت
اسلام مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے چند گھرانوں تک محدود تھا… اور مسلمانوں کے
پاس روئے زمین کے صرف ایک چھوٹے سے شہر کی حکومت تھی… قرآن پاک اس وقت بھی یہی
اعلان کر رہاتھا کہ… جو اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت کرے گا… اللہ تعالیٰ اس کی نصرت کرے گا… اور اللہ کا
لشکر غالب ہوگا… کافروں پر دنیا وآخرت میں عذاب آکر رہے گا… مسلمان غالب ہوں گے…
کفر مغلوب ہوگا… حالانکہ اس وقت روما کی سلطنت موجود تھی… فارس جیسی سپرپاور موجود
تھی… چاروں طرف کفر ہی کفر تھا… اور ہر طرف فوجی طاقت اور دنیاوی ترقی کا سمندر
ٹھاٹھیں مار رہاتھا… ہمارے آج کے دانشور اس وقت موجود ہوتے تو نعوذب اللہ قرآن پاک کامذاق اڑاتے کہ… ابھی… ایک محلے میں
چند مسلمان ہیں… اور باتیں ہورہی ہیں روم اور فارس کی… مگر… صرف تیس سال کے عرصے
میں قرآن پاک کے سارے وعدے… لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لئے …
ہاں قرآن پاک سچ
بولتا ہے… یہ رب عظیم کا کلام ہے…جھوٹ اس کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتا… قرآن عظمت
اور ترقی کا جو راستہ دکھاتا ہے… بس… اسی راستے میں مسلمانوں کی نجات ہے… طاقتور
رومی اپنی کتاب کی حفاظت نہ کرسکے… اور وہ کلیسا کے ہاتھ کا کھلونا بن گئی… طاقتور
یہودی اپنی کتاب کی حفاظت نہ کرسکے اور وہ … نفس پرستوں کی تحریفات کانشانہ بن
گئی… مگر… مسلمانوں کو اللہ پاک نے توفیق بخشی… انہوں نے… اپنے دل قرآن پاک
کیلئے وقف کردیئے… اور اپنے دماغ اس کے الفاظ سے روشن کرلیے… وہ راتوں کو اٹھ کر
قرآن پاک پڑھتے رہے… اور اپنے دن کی گھڑیوں کو قرآن پاک کے ذریعے قیمتی بناتے رہے…
قرآن پاک کی اصل حفاظت تو اللہ تعالیٰ نے فرمانی ہے… اور اس کا وعدہ ہے کہ وہ
اس کی حفاظت فرمائے گا… مگر… اس نے جن لوگوں کو عظمت وعزت دینی ہوتی ہے انہیں قرآن
پاک کے ساتھ جوڑ دیتا ہے… وہ قرآن پاک کو پڑھتے ہیں… اسے یاد کرتے ہیں، اسے سمجھتے
ہیں، اس پر عمل کرتے ہیں، راتوں اور دنوں کو جاگ جاگ کر اس کی تلاوت کرتے ہیں… اور
اپنے عقائد،اعمال… اور عادات کو قرآن مجید کے مطابق بناتے ہیں… وہ قرآن پاک کے
پیغام کی خاطر جان اور مال کی پوری قربانی دیتے ہیں… وہ قرآن پاک کو حقیر دنیا کے
عوض نہیں بیچتے… اور قرآن پاک کی طرف ساری دنیا کو بلاتے ہیں… آپ تاریخ اٹھا کر
دیکھیں… ماضی میں آپ کو وہی لوگ کامیاب نظر آئیں گے… جنہوں نے قرآن پاک کے ساتھ
وفا کی… اور قرآن پاک کی عالمگیر دعوت کو… قرآن پاک ہی کے طریقے (جہاد) کے ذریعے
دنیا میں عام کیا… حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کاا رشاد گرامی ہے…
ان اللہ یرفع بہذا الکتاب اقواماً ویضع بہ آخرین
ترجمہ: بے شک اللہ جل
شانہ اس کتاب یعنی قرآن مجید کی وجہ سے کتنے ہی لوگوں کو بلند کرتا ہے اور کتنے ہی
لوگوں کو پست وذلیل کرتاہے۔ (صحیح مسلم)
کاش مسلمانوں کے
مسائل پر غور کرنے والے حکمران… اور دانشور حضرات اس حدیث شریف کو سامنے رکھ کر…
فیصلے اور تجزئیے کیا کریں تو چند دن میں دنیا کا نقشہ ہی بدل جائے… مگر ایسا نہیں
ہوتا… کافروں کی طاقت کا رعب… دل و دماغ پر سوار کرلیا جاتا ہے… اور پھر مسلمانوں
کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ بس اب اپنی گردن ان کے سامنے جھکادو یہی ترقی ہے اور یہی
عقلمندی… اب ان لوگوں سے پوچھا جائے کہ دجّال کے مقابلے میں ان کا فتویٰ کیا
ہوگا؟… کیا وہاں بھی جان بچانا ہی کامیابی ہوگا؟… اورجان بچانے کے لئے کفر اختیار
کرنا جائز ہوگا؟… اللہ تعالیٰ ایسے دانشوروں سے مسلمانوں کی حفاظت
فرمائے… اس وقت… بہت زوردار طریقے سے ’’رجوع الی القرآن‘‘ کی مہم چلانے کی ضرورت
ہے… کیونکہ جو مسلمان اس وقت قرآن پاک کی طرف لوٹ آئے گا وہی کامیاب ہوگا… اور اسی
کا ایمان محفوظ ہوگا… ورنہ اس وقت جو آندھی چلی ہے وہ… اس قدر زور دار ہے… کہ بے
دین تو بے دین… بہت سے دیندار مسلمانوں کا ایمان بھی خطرے میں جا پڑا ہے… مثلا
سورۃ النساء کی آیت ۱۵۰
کی تشریح وربط میں حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ لکھتے ہیں…
’’جو لوگ
بظاہر مسلمان ہوں، قرآن حکیم کو مانتے ہوں، لیکن اپنی طرف سے اس کی تاویلیں گھڑ
لینی چاہیں کہ کلام الٰہی کی ایسی شرح کی جائے جس میں جہاد کا ذکر نہ آنے پائے،
کہیں کہ لڑنے مرنے میں دنیا کی تباہی ہے تو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ لوگ کفر اور
ایمان کے درمیان کوئی راستہ اختیارکرنے کے آرزو مند ہیں،یا چاہتے ہیں کہ قرآن
حکیم، توراۃ اور انجیل میں سے صرف اپنے مطلب کی باتیں اخذ کرلیں اور ایسے انتخاب
کو اس دعویٰ کی بنا پر جائز بتاتے ہیں کہ سب کتابیں آسمان سے نازل ہوئی ہیں، یہ
لوگ یقینا کافر ہیں… اور ان کے لئے ذلت خیز عذاب مہیا ہے۔‘‘ (ترجمہ حضرت لاہوری
صفحہ ۱۶۱)
اب آپ خود اندازہ
لگائیں کہ… قرآن پاک سے دوری کے نتیجے میں کتنے دیندار مسلمان (نعوذب اللہ ) جہاد
کا انکار کرکے … کفر ونفاق کا شکار ہوسکتے ہیں… اس لیے… اب یہ درد بھری صدا لگانے
کی ضرورت ہے کہ… اے مسلمانو! اللہ کے لئے قرآن پاک کی طرف لوٹ آؤ… مگر… اس صدا
اورمہم کا آغاز ہم میں سے ہر فرد… عورت ہو یا مرد… اپنی ذات سے کرے… اور اپنے غافل
دل کو بار بار کہے کہ… اے غافل! قرآن پاک کی طرف لوٹ آ… پھر بالکل تنہائی میں…
باوضو بیٹھ کر اپنی غفلت پر دو آنسو بہائے اور خود سے پانچ سوالات کرے…
)۱( کیا
مجھے قرآن پاک درست تلفظ سے پڑھنا آتا ہے؟
)۲(کیا
میں روزانہ قرآن پاک کی تلاوت کرتا ہوں؟
)۳( کیا
مجھے قرآن پاک کی سمجھ ہے کہ اللہ پاک نے میری ہدایت کیلئے اس میں کیا کیا ارشاد
فرمایاہے؟
)۴( کیا
میں قرآن پاک کی ہر بات پر مکمل یقین رکھتا ہوں؟
)۵( کیا
میں قرآن پاک پر مکمل عمل کرتا ہوں؟
اے میرے مسلمان
بھائیو! اور بہنو!… ہم نے ساری زندگی اور لوگوں سے بہت سوالات کیے… اوردوسروں کے
بہت عیب دیکھے… مگر آج چند لمحے اپنی ذات کے بھلے کے لئے بھی نکال لیں… دوسروں کی
اچھائیاں یا برائیاں ہماری قبرمیں نہیں جائیں گی… ہمارے ساتھ ہمارا ’’عمل‘‘ جائے
گا… آج خود کو کسی جگہ بند کرکے… یہ پانچ سوال ضرور پوچھ لیں… اور پھر بار بار
پوچھتے رہیں… اگر جواب ہاں میں ملے تو تکبر نہ کریں… کیونکہ اپنی تجوید، اپنی
قرأت اور اپنے علم پر تکبر اور غرور کرنے والے… برباد ہوجاتے ہیں… حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امت کے بعض قاریوں کو (نعوذب
اللہ ) منافق قرار دیا ہے… اس لیے تکبر نہ کریں… بلکہ… شکر ادا کریں… اور اس نعمت
کو دوسروں تک عام کریں… حضور پاک صلی اللہ
علیہ وسلم کا ارشاد ہے…
یاعلی تعلم القرآن
وعلمہ الناس فان مت حجت الملئکۃ الی قبرک کما تحج الناس الی بیت اللہ العتیق
ترجمہ: اے علی (رضی اللہ عنہ) قرآن سیکھو اور اسے لوگوں کو سکھلاؤ کیونکہ
اگر اسی میں تمہاری موت آگئی تو فرشتے تمہاری قبر کی اس طرح زیارت کرنے آئیں گے جس
طرح لوگ بیت اللہ الحرام کی زیارت کرنے آتے ہیں۔ (فضائل حفاظ
القرآن ص۴۰۳
بحوالہ ابونعیم)
لیکن اگر پانچ
سوالوں کا جواب نفی میں ملے… یا … ان میں سے بعض کا جواب نفی میں ہو تو پھر… فکر
کی بات ہے… پورے قرآن پاک کو ماننا تو فرض ہے… اور اس میں ذرہ برابر کوتاہی… ہمارے
ایمان کو تباہ… اورہماری آخرت کو تاریک کرسکتی ہے… اسی طرح باقی چاروں چیزیں بھی…
درجہ بدرجہ ضروری ہیں…
آہ… آج اکثر
مسلمانوں کو قرآن پاک پڑھنا ہی نہیں آتا… افسوس کتنا بڑا نقصان ہے… اور کتناعظیم
خسارہ… اللہ کیلئے، اللہ کیلئے… اے مسلمانو! اس کی فکر کرو… بوڑھے ہوگئے
تب بھی اس کی فکر ہو… جوان ہو تب بھی اس کی فکر کرو… اور اپنی اولاد کو اس عظیم
نعمت سے محروم نہ کرو… جو کوئی اپنی اولاد کو دین اور قرآن سے محروم کرتا ہے وہ
اپنی اولاد کا قاتل ہوتا ہے… قیامت کے دن… یہ اولاد اپنے قاتل والدین کی گردن پکڑے
گی… اور اللہ تعالیٰ سے کہے گی کہ ہم نے تو اپنے بڑوں کی بات
مانی تھی… انہوں نے ہی ہمیں گمراہ کردیا…
قرآن پاک میں کئی
جگہ … اللہ پاک نے اپنی اولاد کو قتل کرنے سے منع کیا ہے…
سورۃ الانعام میں ارشاد باری تعالیٰ ہے…
ولا تقتلوا
اولادکم من املاق نحن نرزقکم وایاہم
ترجمہ: اور تنگ دستی کے سبب اپنی اولاد کو قتل نہ کرو،
ہم تمہیں اور انہیں رزق دیںگے۔(الانعام۱۵۱)
حضرت مولانا احمد
علی لاہوریؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں…
’’بھوک کی
وجہ سے اولاد کا قتل نہ کرنا پہلا ترجمہ ہے، جس طرح زمانہ جاہلیت میں رائج تھا اور
دوسرا ترجمہ جو ساری دنیا کے لئے ہے یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی فقط رزق کمانے کیلئے
اولاد کو معمولی پیشوں میں قید کر رکھتا ہے اور اس کو حسب الفطرت پڑھنے، تعلیم
الٰہی دلانے اور اللہ تعالیٰ کے دروازے کی طرف قدم اٹھانے سے روکتا ہے
تو یہ بھی قتل اولاد ہے، یہ بات مسلمانوں کی تباہی کا باعث ہے۔‘‘ (ترجمہ حضرت
لاہوریؒ ص۲۳۵)
ہمارا یہ موضوع
ابھی جاری ہے… ان شاء اللہ آئندہ مجلس میں… قرآن پاک کی طرف لوٹنے کی منظم
ترتیب عرض کرنے کی کوشش کی جائے گی…
یا اللہ … ہمیں قرآن پاک ’’عطا‘‘ فرما… اور ہمیں اس
کی دعوت پورے عالم میں جاری کرنے والا بنا… اور قرآن پاک کو ہمارا… دنیاو آخرت میں
رفیق وانیس بنا…
آمین یا ارحم
الراحمین…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہمیں
قران پاک کی اہمیت سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے… کیونکہ… ہم میں سے اکثر اس سے غافل
ہیں… وہ کیسا عجیب اور حسین زمانہ تھا… حضرت جبریل علیہ السلام آسمانوں کے اوپر سے
’’قرآن پاک‘‘ لاتے تھے… پھر… آقا مدنی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سناتے تھے… آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلدی جلدی اسے پڑھتے تھے تاکہ … اپنے… پیارے رب کے
کلام کو پورا پورا یاد کر لیں… تب… اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ … آپ جلدی نہ کیجئے…
ہم آپ کو پورا پورا پڑھائیں گے اور آپ کی زبان پر اسے جاری فرما دیں گے… آقا مدنی
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کی پیاری باتیں اپنے صحابہ کرام اور اپنے گھر
والوں کو سنا دیتے… تب… ہر طرف تلاوت ہی تلاوت… شروع ہو جاتی… کوئی نماز میں پڑھ
رہا ہے تو کوئی بازار میں… کوئی سن رہا ہے تو کوئی سنا رہا ہے… عورتیں گھروں میں
پڑھ رہی ہیں… مجاہدین گھوڑوں کی پیٹھ پر پڑھ رہے ہیں… رات کا کچھ حصہ ہی گزرتا تھا
کہ بستر چھوڑ دیئے جاتے… اور … تلاوت شروع ہو جاتی… کوئی زور زور سے پڑھتا تاکہ
شیطان کو بھگائے… اور سونے والوں کو جگائے… اور کوئی چپکے چپکے پڑھتا اور اپنے رب
کے ساتھ ’’مزیدار‘‘ سرگوشیاں کرتا… رمضان المبارک کا مہینہ آتا تو حضرت جبریل علیہ
السلام اجازت لیکر آ جاتے… اور آقا مدنی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قرآن پاک
کا دور کرتے… ہر طرف حفاظ ہی حفاظ تھے اور ہر طرف تلاوت ہی تلاوت… سبحان اللہ کتنا
سکون ہوتا ہے اور کیا مزہ آتا ہے جب ہر طرف… قرآن پاک کا نور دمک رہا ہو اور تلاوت
کی خوشبو مہک رہی ہو… حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ پاک نے کوہِ طور پر بلا کر
اپنا کلام سنایا…حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کلام سے ایسی لذت پائی کہ دیدار اور
زیارت کی خواہش فرمانے لگے… اللہ اکبر، محبوب کے کلام میں واقعی اتنی لذت ہوتی ہے
کہ انسان بے قابو ہو جاتا ہے اور ملاقات کے لئے تڑپنے لگتا ہے… اسی لئے تو قرآن کو
پڑھنے اور سمجھنے والے بے اختیار ’’میدان جہاد‘‘ کی طرف دوڑتے ہیں کہ کب… محبوب
حقیقی سے ملاقات نصیب ہو جائے…ہاں بے شک اللہ کا کلام بہت اونچا، بہت لذیذ اور بہت
میٹھا کلام ہے… ولید بن مغیرہ عرب کا مشہور شاعر اور سردار تھا… مشرکین مکہ کو بہت
امید تھی کہ یہ ’’مضبوط شخص‘‘ قرآن پاک سے متاثر نہیں ہو گا مگر… ولید نے ایک ہی
بار قرآن مجید سنا تو اس کا اسیر ہو گیا… لوگوں نے کہا ابن مغیرہ! یہ کیا ہوا؟…
کہنے لگا اس کلام نے دل موہ لیا ہے… یہ انسانی کلام نہیں ہے… اس کی بات خوبصورت
اور اس کا انداز دلنشین ہے… یہ اس پھل دار درخت کی طرح ہے جس کا اوپر کا حصہ پھل
دیتا ہے اور نیچے کا حصہ گہرا ہوتا ہے… یہ کلام غالب ہو گا اور ہر گز مغلوب نہ ہو
گا اور جو اس سے ٹکرائے گا پاش پاش ہو جائے گا۔(الاتقان فی علوم القرآن )
آج کئی ساتھی
شکایت کرتے ہیں کہ ہماری حالت پہلے جیسی نہیں رہی… نماز میں پابندی نہیں رہتی، دل
سخت ہو گیا ہے رونا نہیں آتا… نظر کی حفاظت نہیں ہوتی… آخر ایسا کیوں ہے؟… یہ
شکایت درست ہے اور اکثر دیندار لوگ اس حالت سے دوچار ہوتے ہیں… ہم نے خود ایسے
افراد کو دیکھا ہے جو برے ماحول میں تھے… اور ہر برائی میں مبتلا تھے… پھر اللہ
پاک نے ان پر فضل کیا… انہوں نے توبہ کی اور پورے جوش و خروش کے ساتھ دیندار بن
گئے…مگر کچھ ہی عرصہ بعد ان کی حالت پہلے سے بھی بگڑ گئی… اور وہ دوبارہ گناہوں کا
شکار ہو گئے… ویسے بھی ہر دیندار انسان پر شیطان حملہ آور ہوتا رہتا ہے اور اسے
جہنم کی طرف گھسیٹنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے… قرآن مجید بتاتا ہے کہ …دراصل انسان
کے دل میں ’’زنگ‘‘ لگ جاتا ہے… اور یہ زنگ جس قدر بڑھتا ہے دل اسی قدر سخت ہوتا
چلا جاتا ہے… اور بالآخر یہ زنگ اس دل کو مردہ کر دیتا ہے… اللہ پاک ہم سب کے دلوں
کی حفاظت فرمائے… ہمارے رہبر اور آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس زنگ
کو دور کرنے کا طریقہ ہمیں سکھا دیا ہے… حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان
فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا! ’’اِن دلوں کو
بھی زنگ لگ جاتا ہے جس طرح لوہا پانی لگنے سے زنگ آلود ہو جاتا ہے… عرض کیا گیا کہ
یا رسول اللہ! تو پھر ان دلوں کی صفائی کی کیا صورت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا! موت کو کثرت سے یاد کرنا اور قرآن شریف کی زیادہ تلاوت
کرنا‘‘۔ (بیہقی، مشکوٰۃ)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے جو حضرات جتنے پرانے تھے وہ اس قدر
زیادہ دیندار، زیادہ بہادر اور زیادہ عبادت گزار تھے… مگر … ہم میں جو جتنا پرانا
ہوتا جاتا ہے اسی قدر بگڑتا چلا جاتا ہے… اور اس کا دل… حب دنیا، حب جاہ اور تکبر
کا بیت الخلاء بن جاتا ہے… اور وجہ صرف یہی ہے کہ ہم… اور کاموں میں مشغول ہو کر…
قرآن پاک سے غافل ہو جاتے ہیں… وہ قرآن پاک جو نور، ہدایت اور روحانیت کا منبع ہے…
جب ہم… اصل مرکز سے کٹ جائیں گے تو دل … اور عزائم میں بجلی کہاں سے آئے گی؟…
حضرات صحابہ کرام نے ساری زندگی جہاد کیا مگر قرآن پاک کو نہیں چھوڑا… انہوں نے
ساری امت تک دین پہنچایا… مگر قرآن پاک کو نہیں چھوڑا… بلکہ… علماء کرام کا تو
یہاں تک فرمانا ہے کہ حضرات صحابہ کرام کے علم میں برکت اس لئے تھی کہ انہوں نے…
جہاد کے میدانوں میں قرآن پاک کا علم حاصل کیا… تب … قرآن پاک نے ان کے لئے اپنا
سینہ کھول دیا… آج پھر مسلمانوں کو قومیت اور وطنیت کے بدبودار نعروں کی طرف بلایا
جا رہا ہے… ایسے وقت میں قرآن پاک کی طرف لوٹنے کی ضرورت اور زیادہ بڑھ گئی ہے…
کیونکہ… قومیت کے نعرے بعض اوقات ایمان تک سلب کر لیتے ہیں… ہندوستان کے مشرکوں کی
طرف سے ہر دوسرے دن ایسے وفود آ رہے ہیں جو ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہم پنجابی ہیں…
ہم پختون ہیں… ہم بلوچ ہیں… ہم سرائیکی ہیں… حالانکہ ان نعروں کو یاد دلانے کی کیا
ضرورت ہے؟ ہم الحمدللہ کلمہ طیبہ… لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ پڑھ کر اسلام کے
دامن میں آچکے ہیں… اب کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت
حاصل نہیں ہے… قران پاک نے ہمیں سمجھایا ہے کہ تمہاری قومیں اور قبیلے صرف
’’تعارف‘‘ اور ’’پہچان‘‘ ہیں… اور اصل فضیلت ’’تقویٰ‘‘ میں ہے… قرآن پاک نے دنیا
بھر کے مسلمانوں کو… بھائی بھائی قرار دیا ہے… اور ہم سب کو سمجھایا ہے کہ اگر
اپنی برادری اور قبیلے کے لوگ اللہ کے دشمن ہوں تو ان کو چھوڑ دو… اور اللہ کی
جماعت بن جائو…مگر آج کے قوم پرست لیڈر فخر کے ساتھ کہتے ہیں ہم چودہ سو سالہ
مسلمان… اور پانچ ہزار سالہ پنجابی، پختون اور سرائیکی ہیں یعنی نعوذ باللہ… اسلام
کو اپنی قوم سے کم درجہ دیتے ہیں… یہ جملہ کتنا خطرناک اور کفر خیز ہے… کبھی ہم نے
سوچا؟… صحابہ کرام نے اگر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور ہم پر دعویٰ دائر کر
دیا تو ہم کیا کریں گے… ان حضرات میں سے بعض نے جہادمیں اپنے مشرک باپ کو قتل کیا…
بعض نے اپنے بھائی کے سینے میں تلوار اتاری… انہوں نے اپنا وطن چھوڑا… انہوں نے
اپنا سب کچھ چھوڑا اور انکی انہیں قربانیوں کی برکت سے یہ ’’پیارا دین‘‘ ہم تک
پہنچا… ورنہ آج ہم نعوذ باللہ کسی بت کے سامنے سجدے میں پڑے ہوتے یا … کسی جانور
کا پیشاب پی رہے ہوتے… حضرات صحابہ کرام میں سے اکثر ’’اصل عرب‘‘ تھے مگر انہوں نے
خود کو اپنی قومیت میں ’’محدود‘‘ نہیں کیا بلکہ انہوں نے اپنی ہی قوم کے خلاف جہاد
کیا …مگر آج ہم اللہ کے دشمنوں کو اس لئے گلے لگا رہے ہیں کہ وہ ہماری زبان بولتے
ہیں؟… کیا ابوجہل… کو عربی نہیں آتی تھی؟… یا ابولہب پانچ ہزار سالہ عرب نہیں
تھا؟… کیا کعب بن اشرف یہودی عربی کا بہترین ادیب ، شاعر، دانشور اور فنکار نہیں تھا؟…جواب اگر ہاں میں ہے تو
پھر حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سب کے خلاف کیوں جہاد کیا؟… اللہ پاک
ہم ظالموں کے کرتوت معاف فرمائے کہ ہم ’’مسلمان‘‘ ہونے کے بعد ’’کفر‘‘ کی طرف بڑھ
رہے ہیں… اے مسلمانو! جاہلیت کے ان گندے نعروں سے توبہ کرو اور اعلان کرو کہ اسلام
ہی سب سے بڑی نعمت ہے… اور ہم مسلمان ہیں صرف مسلمان…یاد رکھو جس دل میں اپنی
قومیت کا فخر اور ناز موجود ہو گا اس دل نے کلمہ طیبہ کی ناشکری کی… اور ’’کلمہ
طیبہ‘‘ کی ناشکری بہت بڑا عذاب ہے… یاد رکھو عربی ہونا کوئی فخر نہیں، بلوچ ہونا
کوئی فخر نہیں، پختون ہونا کوئی فخر نہیں پنجابی ہونا کوئی فخر نہیں… اللہ پاک نے
جسے جہاں چاہا پیدا فرما دیا… اور پھر جنہیں پسند فرمایا انہیں ’’اسلام‘‘ کی نعمت
سے سرفراز فرما دیا… حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسی لئے فرمایا کرتے تھے کہ جو اسلام
کے علاوہ کسی چیز میں عزت ڈھونڈے گا تو اللہ پاک اسے رسوا کر دے گا… اللہ پاک نے
قرآن مجید میں اعلان فرمایا ہے کہ ’’حزب اللہ‘‘ یعنی اللہ کی جماعت ضرور غالب رہتی
ہے… اور حزب اللہ کی تفصیل قران پاک نے جو بتائی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ … یہ لوگ اللہ تعالیٰ اور اسلام کے مقابلے میں اپنے کنبے،
قبیلے اور رشتہ داریوں کی پرواہ نہیں کرتے… ماضی میں مسلمان جب بھی ’’حزب اللہ‘‘
بنے اللہ کے فرشتے انکی نصرت کے لئے زمین پر آگئے کیونکہ فرشتے نہ پنجابی ہیں،نہ
سرائیکی اور نہ پٹھان… وہ اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کی
مدد کیلئے بھیجے جاتے ہیں…کافر ہمیشہ اس بات سے خوفزدہ رہتے ہیں کہ مسلمان ’’حزب
اللہ‘‘نہ بن جائیں…انہوں نے ماضی قریب میں دیکھا کہ … افغان مجاہدین…اور امیر
المومنین ملا محمد عمر مجاہد کے ہاتھ پر ساری دنیا کے ایمان والے عرب و عجم جمع ہو
گئے…وہاں قومیت و وطنیت کا بت ٹوٹا تو لوگوں نے … سات سال تک … چودھویں صدی میں
خلافت راشدہ جیسا دور دیکھ لیا…کافر اس صورتحال سے خوفزدہ ہیں اس لئے وہ ہمیں یاد
دلاتے رہتے ہیں کہ تم مسلمان بعد میں ہو پہلے تم پختون ہو،عرب ہو،ہندکو ہو،پنجابی
اور سرائیکی ہو… پھر صرف یہی نہیں بلکہ … ہر قوم کے دل میں دوسری زبان اور قوم
والوں کے لئے نفرت اور حقارت کے جذبات تک بھڑکائے جاتے ہیں…چنانچہ پختونوں کے ہاں
’’پنجابی‘‘ نفرت کا نشان اور پنجابیوں کے ہاں ’’پٹھان‘‘ کو نفرت کا نشان بنا کر
پیش کرتے ہیں تاکہ مسلمان متحد نہ ہو جائیں…ان ظالموں نے برصغیر میں لسانیت پرستی
کا ایسا جادو چلایا کہ۱۹۷۱ء
میں …بنگالی اور غیر بنگالی مسلمان ایک دوسرے کو گاجر،مولی کی طرح کاٹتے رہے اور
بالآخر … پاکستان کے دو ٹکڑے ہو گئے… میں نے کراچی میں اکثر مسلمانوں کی زبان پر
’’بنگالی‘‘ کا لفظ نفرت اور حقارت کے ساتھ سنا… حالانکہ … آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کے ساتھ محبت کی برکت سے مجھے …آقا مدنی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہر
امتی بہت پیارا لگتا ہے… اور میرا دل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی امتی کو
حقارت سے دیکھنا گوارہ نہیں کرتا… حوض کوثر پر آقا مدنی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کے ہاتھ مبارک سے پانی پینے کی خواہش ہو تو … دل کو یاد ہی نہیں رہتا کہ مسلمان کے
علاوہ ہمارا کوئی اور نام بھی ہے… ہر انسان پیشاب کرتا ہے ہر انسان کے جسم میں
غلاظت بنتی ہے ہر انسان میں ناپاک خون ہے… پھر معلوم نہیں …بعض لوگ اپنے اوپر کس
بات کا فخر کرتے ہیں… انہیں دنوں مجھے بنگلہ دیش کا سفر در پیش ہوا میں بنگلہ دیش
کے فرشتہ صفت اولیاء، علما اور طلباء کو دیکھ کر حیران رہ گیا… دل چاہا کہ مدینہ
پاک کی اس مٹی پر قربان ہو جائوں… جس پر … میرے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کے پائوں مبارک پڑے تھے… آپ یقین کریں … وہاں کے اکابر اور مدارس میں اتنا نور…
اور اتنی روحانیت محسوس ہوئی کہ میرا دل ایک خاص سکون محسوس کرنے لگا… یہ آپ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلمے کی برکت ہے کہ جس نے بھی سچے دل سے پڑھ لیا وہ
’’انسان ‘‘ بن گیا… میں ایک ہفتے تک بنگلہ دیش کے پرُنور مدارس میں گھومتا رہا اور
… بنگلہ دیشی علماء و طلباء … اور مسلمانوں کی محبت کو صاف محسوس کرتا رہا… عرب
ہوں یا عجم ہم سب اسلام سے پہلے گدھوں سے بدتر تھے… اللہ پاک نے ہمیں اسلام دیا …
اور قرآن عنایت فرمایا تو ہم انسان بن گئے اور … اب… کچھ لوگ ہمیں دوبارہ گدھا
بننے کی دعوت دے رہے ہیں… ہائے کاش ہم سب مسلمان اس گندی اور بدبودار دعوت سے
محفوظ ہو جائیں اور ہمارے دل ہر طرح کی لسانی عصبیت سے بالکل پاک ہو جائیں… تب ہم
ان شاء اللہ حزب اللہ بن جائیںگے…
ہمیں یاد رکھنا
چاہئے کہ قبر میں ہم سے ہمارا دین تو پوچھا جائے گا…زبان اور قوم نہیں… اس لئے
…وہی سبق یاد رکھیں جو آگے سنانا ہے اور اس بات کو بھلا دیں جو ہمیں برباد کرنے
کیلئے یاد کرائی جا رہی ہے…یہ موضوع بہت طویل ہے…بس خلاصہ یہ ہے کہ قرآن پاک کی
طرف لوٹ آئیں تاکہ ہم ’’لسانیت پرستوں‘‘ کی جاہلیت کا شکار ہو کر مدینہ منورہ کی
خوشبو سے محروم نہ ہو جائیں…
۱۶؍دسمبر کی تاریخ آتی ہے تو دل میں
یہی درد اٹھتا ہے کہ… لسانیت کے مردود نعروں نے ہمیں اتنا کمزور کر دیا تھا کہ …
گائے کے پجاری مسلمانوں پر غالب آ گئے … اور پاکستان دو ٹکڑے ہو گیا…اب کالا باغ
ڈیم کا شور بھی مسلمانوں کو دوبارہ اسی گندی دلدل میں پھنسانے کیلئے ہے…چنانچہ…
حکومت کی خواہش کے مطابق … پھر سڑکوں پر سندھی، پنجابی، پختون کے نعرے شروع ہو گئے
ہیں…انگریز نے پونے دو سو سال تک ان نعروں کی وجہ سے ہمیں بندر بنائے رکھا اور ہم
پر حکومت کی…اور اب… انگریزوں کے جانشین بھی قوم کو انہی نعروں میں لگا کر… حکومت
کر رہے ہیں… ہائے کاش مسلمان قرآن پاک کی طرف لوٹ آئیں اور اعلان کر دیں کہ ہم
مسلمان ہیں……صرف مسلمان… صرف مسلمان- یاد رکھیں! …آج جس مسلمان کا دل… لسانیت
پرستی اور قومیت پرستی سے پاک ہو گا… اللہ پاک اس سے ان شاء اللہ … بہت کام لے گا…
اور یہی مسلمان… حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیارا… اور محبوب امتی ہو
گا… آج الحمدللہ… مسلمان فتوحات کی طرف بڑھ رہے ہیں… امریکی حکومت نے عراق اور
افغانستان سے پسپائی کا اعلان کر دیا ہے…صدر بش نے دو ہفتے کے دوران پانچ مرتبہ
…اپنی قوم سے خطاب کیا ہے اور امریکیوں پر زور دیا ہے کہ وہ مایوسی اور شکست کے
احساس کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیں…یہ بات بالکل واضح ہے کہ … فتح اور شکست
تقریر میں نہیں میدان میں نظر آتی ہے… بش کا اپنی قوم کو بار بار تقریر سے مطمئن
کرنا صاف بتا رہا ہے کہ … میدان میں انہیں شکست ہو رہی ہے… اور اس شکست کے اثرات
امریکی قوم اچھی طرح محسوس کر رہی ہے… الحمد للہ سوویت یونین ختم ہو گیا ہے… اور
امریکہ… شکست کی طرف بڑھ رہا ہے… مسلمانوں کی تعداد دنیا میں بڑھ رہی ہے … اور جس
طرح حضرت موسیٰ ؑ پر ان کی قوم کے نو عمر … نوجوان سب سے پہلے ایمان لائے تھے …اسی
طرح آج کا نو عمر … نوجوان تیزی سے اسلام کی طرف آ رہا ہے… نو عمر… لڑکیاں پورا
پردہ کر رہی ہیں اور اسلام کیلئے ہر طرح کی قربانی کیلئے تیار ہیں… اور ہماری
مسلمان عورتیں… ساس بہو کے جھگڑے اور سوکنوں کی جنگوں سے بالاتر ہو کر … اسلام اور
مسلمانوں کیلئے کچھ کر گزرنے کا جذبہ رکھتی ہیں… ان حالات میں ہمیں مایوس نہیں
مضبوط ہونے کی ضرورت ہے اور مضبوط ہونے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ …ہم قرآن پاک
کی طرف لوٹ آئیں… اور کافروں کی طرف سے چلنے والے میڈیا کے شور سے ہرگز متاثر نہ
ہوں… اب آئیے’’رجوع الی القرآن‘‘ کے مختصر نصاب کی طرف…اس نصاب کے پانچ اجزاء یا
لازمی حصے ہیں…
۱۔یقین ۲۔ادب ۳۔ تلاوت ۴۔عمل ۵۔دعوت
یعنی
قرآن پاک پر مکمل ایمان لانا اور ا سکی ہر بات پر یقین ر کھنا،قرآن پاک کا ہر
طرح سے ادب کرنا،اس کے الفاظ کا ،اس کے اوراق کا ،اس کے درس کا،اس کے حاملین کا…
الغرض قرآن پاک کے ساتھ جس چیز کی بھی نسبت ہو اس کا ادب کرنا… قرآن پاک کی درست
تلفظ کے ساتھ خوب خوب تلاوت کرنا… رات بھی اور دن بھی… سفر میں بھی اور حضر میں
بھی، مجالس میں بھی اور تنہائی میں بھی،نماز میں بھی اور بازار میں بھی… قرآن پاک
پر پورا پورا عمل کرنا یعنی اپنا عقیدہ،اپنا نظریہ اور اپنا عمل قرآن پاک کے
مطابق بنانا… اور اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں قرآن پاک ہی کو اپنا رہبر
بنانا… اور ہر قدم پر پہلی رہنمائی اس سے لینا، اور پھر قرآن پاک کی دعوت کو …
پوری دنیا تک پہنچانا اور روئے زمین کو … قرآنی نظام کا تابع بنانا… آپ یقین
کریں… ہم یہ پانچ کام (ان شاء اللہ) کر سکتے ہیں… بشرطیکہ … ہم اللہ تعالیٰ کو
راضی کرنا چاہیں اور اپنی قبر اور آخرت کو سنوارنا چاہیں … اور ہمارے دل و دماغ پر
… اسلام کی عظمت کا جذبہ سوار ہو… اس پانچ نکاتی نصاب پر عمل کی کیا صورت ہو گی؟…
انشاء اللہ آئندہ مجلس میں اس پر گفتگو کریں گے…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے
جتنے بھی مقر ّب، پیارے اور کام کے بندے اور بندیاں…اس امت میں گزرے ہیں ان سب نے…
قرآن پاک کے ساتھ خوب دل لگایا… آج ہم ان کے واقعات پڑھ کر حیران رہ جاتے
ہیں…انہوں نے ہم سے بہت زیادہ کام کیا…بہت زیادہ جہاد کیا…بہت زیادہ کتابیں
لکھیں…بڑی بڑی حکومتیں چلائیں …مگر اتنی مصروفیت کے باوجود وہ روزانہ بہت زیادہ
قرآن پاک تلاوت کرتے تھے…حضرت امام ابوحنیفہؒ اور حضرت امام شافعیؒ نے کتنا کام
کیا… آج دنیا کے نو ّے فیصد مسلمان ان کے علوم اور تحقیقات پر اعتماد کرتے ہیں… یہ
حضرات اکثر روزانہ ایک قرآن پاک تلاوت کر لیتے تھے… جی ہاں پورے تیس پارے… اور
رمضان المبارک کے مہینے میں عیدالفطر کا چاند نکلنے تک ساٹھ ختم پورے کر لیتے تھے…
ہمارے اصلاحی معمولات میں روزانہ ایک پارہ تلاوت کرنے کی گزارش کی گئی ہے مگر اکثر
خطوط میں یہی جملہ لکھا ہوتا ہے کہ… تلاوت پوری نہیں ہوتی… اللہ پاک ہماری حالت پر
رحم فرمائے… قرآن پاک کی جتنی تلاوت کی جائے انسان کی زندگی اور وقت میں اتنی ہی
برکت ہوتی ہے…اور انسان زیادہ سے زیادہ دین کا کام کر لیتا ہے… خیر اس وقت تو
’’فتنے‘‘کا زمانہ ہے… اسکول، کالج کی تعلیم پہلے ہی سے ’’غفلت خیز‘‘ تھی اب اسے مزید
سیکولر بنایا جا رہا ہے… دینی مدارس کے گلے میں رجسٹریشن کا پھندا ڈالا جا رہا ہے
… جبکہ… مسجد تعمیر کرنے کیلئے حکومتی این او سی کی ضرورت ہے… کچھ عرصہ پہلے ہم نے
ایک مسجد پر چند نئی اینٹیں رکھی ہی تھیں کہ پولیس کی کئی موبائلیں پہنچ گئیں… کہ
اب کسی مسجد میں توسیع وغیرہ بھی… بغیر اجازت کے نہیں ہو سکتی… میں حیران ہوتا ہوں
کہ انگریز کے زمانے میں اتنی بڑی بڑی… اور عالیشان مساجد کیسے تعمیر ہو گئیں کہ اب
تک لوگ انہیں دیکھنے جاتے ہیں… کاش ہماری حالیہ حکومت انگریز سے بڑھ کر تو مظالم
نہ ڈھائے … کہ ایک دن ’’حساب‘‘ بھی ہونا ہے… اب ان حالات میں…اپنا اور اپنی آئندہ
نسل کا ایمان بچانے کے لئے… ’’رجوع الی القرآن‘‘ سے بہتر اور کوئی راستہ نہیں ہے…
اس لیے ہم نے اپنے گریبان میں منہ ڈال کر بھی یہی صدا لگائی ہے… اور تمام مسلمانوں
کے لئے بھی یہی آواز لگائی ہے کہ اے اللہ کے بندو… اللہ کے
لئے قرآن پاک کی طرف لوٹ آؤ… قرآن جس بات کو سچ کہے ہم بھی اسی کو سچ کہیں… اور
قرآن جسے باطل قرار دے ہم بھی اسے باطل قرار دیں… ہمارا عقیدہ قرآن پاک کے مطابق
ہو… چنانچہ ہم نہ بش کی طاقت کو سجدہ کریں نہ کسی ولی کی قبر کو… بس قرآن پاک جس
کے سامنے سجدے کو جائز قرار دے اسی کے سامنے ہمارا سر بھی سجدہ کرے اور ہمارا دل
بھی… پھر ہمارا نظریہ بھی قرآن پاک کے مطابق ہو اور ہماری سیاست بھی… ہمارا جینا
بھی قرآن پاک کے مطابق ہو اور ہمارا مرنا بھی… ہم رات کے آخری حصے میں بستر اور حلال
ساتھی کو چھوڑ دیں… اور فرشتوں کی موجودگی میں… لمبی لمبی سورتیں پڑھ کر تہجد ادا
کریں… پھر ہمارے دن کا آغاز سورۃ یس شریف سے ہو… اور جب … رات کو لوگ اپنے کمروں
اور گھروں کو روشن کرنے کی فکر میں ہوں تو اس وقت ہم اپنی قبر کی روشنی کا انتظام
سورۃ الملک کی تلاوت سے کرر رہے ہوں… جب دنیا میں ہر کوئی یہ اعلان کر رہا ہو کہ
ہم کامیاب ہیں… ہم کامیاب ہیں تو ہم قرآن پاک سے پوچھیں کہ… کامیابی کیا ہوتی ہے؟…
اور کون کامیاب ہے؟… تب ہم پروپیگنڈے اور میڈیا کے دھوکے سے آزاد ہوجائیںگے…
پچھلے ہفتے ہم نے
’’رجوع الی القرآن‘‘ کا پانچ نکاتی نصاب عرض کیا تھا آج اس نصاب کو نافذ کرنے کے
آسان طریقے عرض کرتے ہیں… اگر ہم سب نے ان طریقوں پر عمل کیا تو… ان شا ء اللہ … ہمارا نام بھی قرآن پاک کے ’’خادموں‘‘
میں لکھ لیا جائے گا… اور… ان شاء اللہ ہمارے لئے دنیا اور آخرت کی منزلیں آسان ہوجائیں
گی… اور…ان شاء اللہ ہمیں بھی ’’خوشبودار زندگی‘‘ اور ’’معطر آخرت‘‘ نصیب ہو جائے
گی… آیئے عمل کی نیت سے اس مبارک نصاب کا طریقہ کار پڑھتے ہیں…
پہلا کام…مذاکرہ
انسان… غفلت اور
نسیان کا مریض ہے… اس نے عالم ارواح میں بھی وعدہ کیا تھا کہ… ہمارا رب ایک اللہ
ہے… پھر دنیا میں آکر بھول گیا… اللہ پاک نے اس کی یاددہانی کے لئے… انبیاء اور
رُسل بھیجے… اور کتابیں اور صحیفے نازل فرمائے… یاد دہانی کے اس عمل کو ’’مذاکرہ‘‘
کہتے ہیں… یہ بہت ضروری اور بہت مبارک عمل ہے… صحابہ کرام بہت اونچے لوگ تھے مگر
ان کو بھی … یاددہانی اور نصیحت کی ضرورت پڑتی تھی… اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یاد دہانی کراتے رہیں کیونکہ یاد
دہانی سے ایمان والوں کو فائدہ ہوتا ہے… گائے اگر جگالی نہ کرے تو گھاس، چارہ ہضم
نہیں ہوتا…اسی طرح… انسان کو اگر یاد دہانی نہ کرائی جائے تو غافل ہو جاتا ہے…آج
ہم… قرآن پاک سے بُری طرح غافل ہیں… پہلا کام یہ کریں کہ…خود کو، اپنے گھر والوں
کو… اپنے رشتہ داروں اور ساتھیوں کو… بار بار یاد دہانی کرائیں کہ… قرآن پاک اللہ
تعالیٰ کا کلام ہے… اس میں ہدایت، رحمت، کامیابی… اور شفاء ہے… اور اس سے غفلت بہت
بڑا جرم اور محرومی ہے… حکمران سے لے کر مزدور تک سب اس کتاب کے محتاج ہیں… یاد
دہانی کا طریقہ یہ ہے کہ فوری طور پر دو کتابیں خرید لیں اور چند دن تک ڈٹ کر ان
کا مطالعہ کریں… اور ان کی تعلیم کرائیں… یقین کریں پندرہ دن میں… آپ اپنے اندر
ایک ایسا انقلاب محسوس کریں گے… جس میں… نور ہی نور اور روشنی ہی روشنی ہو گی… اور
آپ کا دل ان شاء اللہ… قرآن پاک کی طرف اس طرح لپکے گا جس طرح… بچہ ماں کے دودھ کی
طرف لپکتا ہے… یاد رکھیں جنت آسمانوں کے اوپر ہے… اور جہنم زمینوں کے نیچے ہے… اگر
ہم اوپر جانا چاہتے ہیں توہمیں … اوپر سے آنے والی ’’وحی‘‘ یعنی قرآن پاک کے ساتھ
اپنی روح کو باندھنا ہوگا… وگرنہ زمین کی چیزیں، یہاں کی کشش اور یہاں کے تقاضے
ہمیں… نیچے جہنم میں گرادیں گے…
جو دو کتابیں ہم
نے خریدنی ہیں وہ یہ ہیں:
)۱( ’’فضائل
حفاظ القرآن، معہ علوم وقصص واخلاق حملۃ القرآن‘‘
یہ کتاب حضرت
مولانا قاری محمد طاہر صاحب مدظلہ مقیم مدینہ منورہ نے لکھی ہے… یہ کتاب مذاکرہ
اور تعلیم کے لئے لاجواب ہے اور آپ کو اس کتاب میں… قرآن پاک کے بارے میں ہر وہ
بات مل جائے گی… جس کی ہمیں ضرورت ہے…
)۲(
’’فضائل
قرآن‘‘
یہ کتاب شیخ
الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحبؒ مہاجر مدنی کی ہے… اور فضائل اعمال کا حصہ
دوم ہے…
بس ایک بار ہمت
کرکے ان دونوں کتابوں کو پڑھ لیجئے… یا سن لیجئے اور پھر اپنے آپ سے پوچھیئے کے ہم
نے قرآن پاک جیسی عظیم نعمت کی قدر کی ہے یا ناشکری؟…
ایک خوشخبری
ان غریب مسلمانوں
کے فائدے کے لئے جو یہ کتابیں نہیں خرید سکتے… یہ ترتیب بنائی گئی ہے کہ ہفت روزہ
’’القلم‘‘ میں… ہر ہفتہ… فضائل قرآن پاک… اور حقوق قرآن پاک وغیرہ کے موضوع پر… ان
شاء اللہ ایک مضمون شائع کردیا جائے تاکہ… کتابیں نہ ملنے
کی صورت میں… اسی مضمون کی تعلیم… ہر گھر اور ہر مجلس میں ہوتی رہے… فی الحال ہم
حضرت مولانا قاری محمد طاہر صاحب رحیمی مدظلہ کی کتاب سے… مضامین کا ایک سلسلہ
شروع کر رہے ہیں… یہ مضامین آپ صفحہ ہدایت پر ملاحظہ فرما لیا کریں…
انیسویں پارے کے
شروع میں ہے کہ قیامت کے دن حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم… اللہ تعالیٰ سے شکایت فرمائیں گے کہ…
اے میرے رب میری قوم نے قرآن پاک کو چھوڑ دیا تھا… اے مسلمانو! کہیں ہم لوگ اس
’’شکایت‘‘ کی زد میں آکر ’’شفاعت‘‘ سے محروم نہ ہو جائیں… آپ نے بہت سے ناول پڑھے
ہوں گے… بہت سے ڈائجسٹ پڑھے ہوں گے… بہت سی فلمیں اور ڈرامے دیکھے ہوں گے… بہت سا
وقت گپ شپ اور لطیفہ بازی میں گزارا ہو گا… اب… آپ کا ایک غریب مسافر بھائی آپ سے
صرف دو کتابیں پڑھنے کی التجاء کر رہا ہے تو اللہ کیلئے… یہ التجا مان لیجئے…
فضائل اعمال تو ہر مسجد میں موجود ہوتی ہے… اس میں حکایات صحابہ کے بعد فضائل قرآن
کا حصہ ہے جس کے صرف ستاسی صفحات ہیں… جی ہاں جاسوسی اور سسپنس ڈائجسٹ سے بہت کم…
اور فضائل قرآن کا یہ حصہ الگ کتابچے کی صورت میں بھی چھپا ہوا ہے… حضرت قاری طاہر
صاحب مدظلہ کی کتاب اگرچہ مفصل ہے مگر اس میں ایسی معلومات کا خزانہ ہے… جو دنیا
آخرت میں کام آنے والی ہیں… امید ہے کہ… یاد دہانی اور مذاکرہ کا یہ سلسلہ ان شاء
اللہ… ہر گھر میں فوراً ہی شروع ہو جائے گا… اور ہماری مجلسیں بھی اس مذاکرے سے
رونق پائیں گی…
دوسرا کام… تلاوت
کی ترتیب
ایک بار میں
پاکستان سے باہر… ایک دوسرے ملک میں تھا… وہاں میرے پرانے جاننے والے ایک دوست مل
گئے… انہوں نے اصرار کیا کہ ایک رات ہمارے گھر میں قیام کریں… تعلق ایسا تھا کہ
میں مان گیا… عشاء کے بعد انہوں نے اپنی غربت کے باوجود طرح طرح کے کھانے دسترخوان
پر جمع کردئیے… اور پھر صفائی دینے کے لئے بتانے لگے کہ… گھر کی مسلمان خواتین بہت
خوش ہیں… انہوں نے یہ کھانے محنت سے تیار کیے ہیں… رات کو ایک اور مہمان بھی میرے
ساتھ… ان کی بیٹھک میں موجود تھے… فجر کی نماز ہم سب نے جماعت سے ادا کی… نماز
مکمل ہوتے ہی… وہ چھوٹا سا گھر خوبصورت تلاوت میں ڈوب گیا… صاحب خانہ ان کے کئی
بیٹے… اور گھر کے تمام مرد بیٹھک میں حلقہ بنا کر بیٹھ گئے… ہم دونوں مہمان بھی ان
کے ساتھ شامل ہوگئے… معلوم ہوا کہ اندر خواتین کا بھی یہی نظم ہے… حلقے میں ایک
آدمی تلاوت کرتا اور باقی سنتے… پھر اس کے بعد والا شروع ہوجاتا … اور یوں سب نے
قرآن پاک پڑھا بھی… اور سب نے سنا بھی… چھوٹے بچے اتنی خوبصورت آواز… اور تلفظ سے
پڑھ رہے تھے کہ… کئی بڑوں کو شرم آرہی تھی… اور ان کے دل میں… اچھا پڑھنے کا جذبہ
پیدا ہو رہا تھا… اس دور دراز ملک کی وہ مجلس میرے دل ودماغ میں اتر گئی… اور اس
وقت سے میری خواہش اور تمنا ہے کہ… ہمارے گھرانوں میں بھی… تلاوت کا یہ پیارا
ماحول بن جائے… آپ اُن دونوں کتابوں میں تلاوت کے فضائل پڑھ لیںگے… تب … ان شا ء اللہ آپ
کو احساس ہوگا کہ درست تلفظ کے ساتھ قرآن پاک پڑھنا کتنا اہم … اور مفید کام ہے…
چنانچہ… مزید تأخیر کیے بغیر آپ اپنے لئے استاذ کا انتظام کریں… سب سے پہلے… اپنی
نماز اور قرآن پاک کی آخری دس سورتوں کی تجوید درست کریں… پھر… پورا قرآن پاک
تجوید کے ساتھ پڑھنا سیکھیں… اور جب تک… یہ نعمت حاصل نہ کریں دل کو چین نہ لینے
دیں… اسی طرح… روزانہ کم از کم ایک پارہ کی تلاوت کا معمول بنائیں… اور پھر… اس
میں ترقی کرتے چلے جائیں… گھر میں اگر بیوی موجود ہو اور اس کا خاوند نہ اسے دیکھے،
نہ اس سے بات کرے… اور نہ اس کی طرف توجہ کرے تو اس کے دل پر کیا گزرے گی… ہمارے
گھروں میں… قرآن پاک خوبصورت غلافوں میں موجود ہوتا ہے… اور ہمارا سارا دن… اور
ساری رات اس سے غفلت میں گزر جاتی ہے… کیا یہ اچھی بات ہے؟… قرآن پاک سے یاری کرنے
والوں کو تو قبر میں بھی قرآن پاک کی صحبت نصیب رہے گی… اور کوئی سانپ بچھو قریب
نہیں آسکے گا… اور قیامت کے دن قرآن پاک اپنے یاروں کی طرف سے… جواب بھی دے گا… اس
لئے بس آج ہی سے… فجر کی نماز سے پہلے اور فجر کے بعد ہر گھر کے… ہر حصے سے… قرآن
پاک کی پیاری پیاری آواز آنا شروع ہو جائے…تب… آسمان والے اس گھر کو یوں چمکتا ہوا
دیکھیں گے… جس طرح… زمین والے آسمان کے ستاروں کو دیکھتے ہیں…
ایک فتنہ
بعض ’’مفکر‘‘ قسم
کے لوگ… تلاوتِ قرآن پاک کی اہمیت کو (نعوذ باللہ) کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں…وہ
کہتے ہیں کہ… بغیر سمجھے الفاظ رٹنے سے کیاہوتا ہے… کچھ عرصہ قبل ہمارے شہر کے ایک
مشہور ڈاکٹر صاحب نے مجھے بتایا کہ پہلے میں روزانہ بیس منٹ تلاوت کرتا تھا اب
تلاوت چھوڑ دی ہے اور فلاں تفسیر کا مطالعہ کرتا ہوں… حالانکہ تلاوت خود مستقل ایک
عبادت ہے… اور انبیاء علیہم السلام کی بعثت کے مقاصد میں شامل ہے… حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم، حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اور ان کے بعد … امت کے ائمہ، مجاہدین…
اور صلحاء کے نزدیک تلاوت کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے… حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جو چار کام قرآن پاک نے بتائے ہیں
ان میں پہلا یہی ہے کہ… آپ اللہ کی آیتیں لوگوں کو پڑھ کر سناتے ہیں… اس لیے
تلاوت سے غفلت سوائے محرومی کے اور کچھ نہیں ہے…
تیسرا کام… فہم
قرآن
رجوع الی القرآن
کے نصاب پر عمل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ… فہم قرآن کی ترتیب بنائی جائے… حضور پاک
صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے بہت تاکید فرمائی ہے…
اور کچھ نہیں تو مسلمان عورتوں کو سورۃ نور ضرور سمجھانی چاہئے اور مردوں کو سورۃ
مائدہ… کیا ہمارے دل اس شوق سے نہیں پھٹتے کہ ہمارے اللہ پاک نے ہم سے کیا کیا فرمایا ہے؟… اور وہ ہمیں
معلوم ہونا چاہئے… قرآن پاک سمجھنے کی سب سے بہترین صورت تو یہ ہے کہ ہم کسی مستند
اور متقی عالم دین سے… جو خود بھی قرآن پاک پر عمل کرتے ہوں… باقاعدہ قرآن پاک
پڑھیں اور سمجھیں… علم کا اصل راستہ ’’تعلّم‘‘ یعنی شاگردی ہے…
لیکن اگر اس کا
موقع نہ ہو تو… ابتدائی طور پر یہ چند کتابیں خرید لیں…
)۱(’’تفسیر
عثمانی‘‘ (۲)’’ترجمہ
وحاشیہ‘‘ حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ (۳) ’’تفسیر بیان القرآن‘‘ حضرت تھانویؒ…
تفسیر عثمانی تو
ایک جلد پر مشتمل ہے… اس میں قرآن پاک کا ترجمہ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن
صاحبؒ کا ہے… انہوں نے یہ ترجمہ مالٹا کے جزیرے کالا پانی میں انگریز کی قید کے
دوران تحریر فرمایا… یہ ترجمہ دراصل حضرت شاہ عبدالقادرؒ کے ترجمہ کی تلخیص ہے… اس
ترجمہ کے حاشیہ پر شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ کی تفسیر ہے… یہ
تفسیر علماء اور عوام سب ہی کے لئے ایک عظیم الشان تحفہ ہے…
ترجمہ حضرت مولانا
احمد علی لاہوریؒ، یہ بھی ایک جلد پر مشتمل ہے … یہ ترجمہ بہت سلیس، رواں اور با
محاورہ ہے اور حاشیہ پر حضرت لاہوریؒ کا زبردست علمی حاشیہ ہے… قرآن پاک کے ’’حکم
جہاد‘‘ اور ’’دینی سیاست‘‘ کو سمجھنے کے لئے یہ حاشیہ لاجواب ہے…
تفسیر بیان
القرآن، حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی لاجواب اردو تفسیر ہے… بعض
محقق علماء کرام نے اس تفسیر کو اردو تفاسیر کا ’’سرتاج‘‘ قرار دیا ہے…
ان تین کتابوں سے
ان شاء اللہ فہم قرآن کا مسئلہ کافی حد تک حل ہو جائے گا لیکن اگر… ہمت کر کے
تفسیر معارف القرآن بھی خرید لیںتو ان شاء اللہ بہت فائدہ ہو گا… آٹھ جلدوں پر
مشتمل یہ تفسیر مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ کی شاہکار تالیف ہے…
ویسے تفاسیر تو الحمد للہ بہت ہیں… خود اردو زبان میں بھی اب تک درجنوں تفاسیر
منظر عام پر آچکی ہیں… جبکہ… قرآن مجید کی کل تفاسیر کی تعداد دو لاکھ کے قریب
بتائی جاتی ہے… ہم نے یہاں صرف ان تفاسیر کا تذکرہ کیا ہے جو… مستند ہونے کے ساتھ
ساتھ عام فہم بھی ہیں…
تفاسیر سے استفادے
کا طریقہ
ان تفاسیر سے فہم
قرآن کا طریقہ یہ ہے کہ روزانہ ایک رکوع کی تلاوت کریں… پھر اس کا ترجمہ پڑھیں…
اور پھر ان تینوں تفاسیر سے اس کی تشریح پڑھ لیں… اس دوران جو بات سمجھ نہ آئے وہ
لکھ لیں… اور کسی مستند عالم دین سے پوچھ لیں…
ضروری تنبیہ
قرآن پاک کی تفسیر
اور تشریح میں… اپنی رائے کو دخل نہ دیں… کوئی بات ذہن میں آ بھی جائے تو جب تک اس
کی تحقیق نہ کرلیں اسے بیان نہ کریں… ماضی میں بہت سے لوگ… اس حرکت کی وجہ سے
برباد ہوگئے… اس لیے تفسیر کے معاملہ میں صرف اپنے مستند اسلاف کی تحقیق پر ہی
اعتماد کریں… اور اپنی طرف سے کوئی بات بنانے سے بچیں…
ضروری احتیاط
بعض جاہل لوگوں نے
بھی تفسیر کے نام سے کتابیں لکھی ہیں… وہ چونکہ انگریزی الفاظ، سائنسی علوم اور
جدید اصطلاحات کا بکثرت استعمال کرتے ہیں تو عام لوگ… ان کی باتوں سے متاثر ہوجاتے
ہیں … حالانکہ … ان میں سے بعض ظالم تو ’’منکر حدیث‘‘ اور کٹر ’’نیچری‘‘ ہیں… جبکہ…
دوسرے بعض کو… دینی علوم پر عبور اور گرفت حاصل نہیں ہے… اس لیے… ہر کسی کی تفسیر
نہ پڑھیں… بلکہ صرف مستند اہل علم کی تفاسیر کا مطالعہ کریں…
بس یہ ہے پانچ
نکاتی نصاب کو نافذ کرنے کا آسان… اور سادہ سا طریقہ… اس طریقے کی بدولت… قرآن پاک
کے ساتھ ہمارا تعلق بحال…اور پھر… ان شاء اللہ مضبوط ہو جائے گا…
ایک عظیم الشان
نعمت
الحمد للہ ہمارے
ملک میں… دینی تعلیم کے مدارس کی نعمت موجود ہے… اس لئے اپنی نئی نسل کو اسلام اور
قرآن پاک سے جوڑنے کے لئے ان مدارس میں داخل کرائیں… آٹھ نو سال میں جب وہ دین کو…
اور قرآن پاک کو سمجھ لیں اور شعوری مسلمان بن جائیں تو پھر آپ کی مرضی… ان کو ڈاکٹر
بنائیں یا انجینئر…یا انہیں دین کے کاموں کے لئے ہی وقف رکھیں… ماضی کے لوگوں نے
سولیوں پر لٹک کر… آگ کی خندقوں میں جل کر… اپنا ایمان بچایا… ہمیں بھی چاہئے کہ…
اپنے ایمان کی قدر کریں… اور قرآن کے ذریعے اپنے ایمان کی حفاظت کریں… بس… کئی
ہفتے سے جاری اس موضوع کو آج اسی درد بھری صدا کے ساتھ ختم کرتے ہیں کہ…
اے مسلمانو… اللہ
کیلئے، اللہ کیلئے، اللہ کیلئے… قرآن پاک کی طرف لوٹ آؤ…
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ کا شکر ہے قوم نے بہت عرصہ بعد… پھر گرجدار، کڑک دار طوفانی تقریریں سنیں
ہیں… جذبے، ولولے اور غیرت سے بھرپور تقریریں…ان شاء اللہ… اس سے بہترین نتائج
برآمد ہوں گے… اور روشن خیالی نام کی ’’کالی ماتا‘‘ کے دو تین دانت تو ضرور ٹوٹیں
گے… ویسے بھی بہت عرصہ سے اہل حق کے اسٹیج پر خاک اڑ رہی تھی… اللہ تعالیٰ جزائے
خیر دے ’’لال مسجد‘‘ والوں کو… انہوں نے اپنے عظیم و شہید والد کی مسند کو پھیکا
نہیں پڑنے دیا… میرا دل چاہتا ہے کہ اس جرأتمند، خوبصورت… اور دین کے دیوانے
خاندان پر ایک پورا کالم لکھوں… اور اگر مجھے راہ چلتے… حضرت مولانا عبداللہ شہیدؒ
کا سچا جانشین… حضرت مولانا عبدالعزیز نظر آجائے تو اس کی پیشانی چوم لوں…ماشاء
اللہ… کیا خوب ایمان ہے اور کیا خوب قربانی… اللہ پاک ’’نظر بد‘‘ اور ’’ شرِبد‘‘
سے بچائے… ان کے علاوہ ہر طرف کچھ خاموشی خاموشی سی نظر آتی تھی… سبحان اللہ… چند
سال پہلے تک اہل حق کا اسٹیج کس شان کا ہوتا تھا… لوگ ابھی جلسہ سے اٹھے نہیں ہوتے
تھے کہ… تقریروں کی کیسٹیں امریکی سفارت خانے تک جا پہنچتی تھیں… اور خود کو
طاقتور سمجھنے والوں کے پائے ہلنے لگتے تھے… اس زمانے کے کس کس منظر کو یاد کروں…
ایسا محسوس ہوتا تھا کہ قرآن پاک کا مدنی روپ مسکرا رہا ہے… پھر اچانک خزاں کا
موسم شروع ہو گیا… بہت سے گلے گھونٹ دیئے گئے… اور خوف و بزدلی کی بدبو نے مجمع
منتشر کر دیا… اور تو اور تقریروں کا رنگ تک بدل گیا… کچھ مہینے پہلے بعض دوست بتا
رہے تھے کہ ہم ایک مسجد میں جمعہ ادا کرنے گئے… کسی زمانے یہاں کے خطیب صاحب بہت
عمدہ خطاب فرمایا کرتے تھے… اور دشمنان اسلام کو آڑے ہاتھوں لیا کرتے تھے… مگر اس
دن ان کے خطاب کا رنگ بدلا ہوا تھا… خطیب صاحب صفائی دے رہے تھے کہ اسلام کا دہشت
گردی سے کیا تعلق؟… اسلام دہشت گردی کا مخالف ہے، پھر اچانک وہ جوش میں آگئے… اور
فرمانے لگے… لوگ اسلام اور علماء کو دہشت گرد کہتے ہیں حالانکہ ہم علماء کو تو
بندوق چلانا بھی نہیں آتی… اور پھر انہوں نے فخر سے اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے
فرمایا آپ مجھے دیکھیں… میں نے بندوق تو دور کی بات کبھی پستول تک نہیں چلایا…
بلکہ کبھی اپنے ہاتھ میں پسٹل اٹھایا تک نہیں… وہ اس بات کو پورے فخر، جرأت اور
غرور کے ساتھ بار بار دہراتے رہے… اور ہمارے ساتھی حیرت سے انہیں تکتے رہے… یہ تو
اچھا ہوا کہ کسی نے نعرہ نہیں لگا دیا … سربکف سربلند…… تیری جرأت کو سلام! … میں
نے جب یہ واقعہ سنا تو کافی پریشان ہوا… اور مجھے ڈر لگنے لگا کہ کچھ عرصہ اگر
مزید یہی حالت رہی تو… کئی لوگ اسٹیج پر اچھل اچھل کر… اور سینے پر ہاتھ مار کر
کہیں گے… ہم وہ ہیں جنہوں نے کبھی چوہا تک نہیں مارا… ہم وہ ہیں جنہیں غلیل پکڑنا
تک نہیں آتی… ہم وہ ہیں کہ اپنے سائے سے ڈرتے ہیں… اور ہر کتے کو دیکھ کر بھاگ
جاتے ہیں… اے لوگو! تم نے ہمیں کیا سمجھ رکھا ہے… اے آسمان گواہ رہنا ہم نے کبھی
جہاد کا نام نہیں لیا … ہم نے کبھی اسلحہ چلنے کی آواز نہیں سنی … اور ہم نے کبھی
شہادت کا تصور تک نہیں کیا… اے کافرو آؤ ہمارے گلے لگ جاؤ… اور اے صحافیو! لکھ
لو کہ خرگوش کی سوسالہ زندگی… شیر کی ایک روزہ زندگی سے بہتر ہے…
ہماری
حکومت نے اسٹیج کا بدلا ہوا یہ رنگ دیکھا تو اس کی ہمت اور بڑھ گئی… ہر مسجد میں
نگرانی، ہر مدرسہ میں نگرانی… اور ایسا بھونڈا دباؤ کہ جیسے حکومت اور اس کی
ایجنسیوں کو… اس کام کے علاوہ کوئی اور کام ہے ہی نہیں… میں نے خود دیکھا کہ ہر
مسجد میں کئی کئی خفیہ اہلکار متعین تھے… اور علماء کرام کے گھروں اور دفاتر کے
گرد… ان اہلکاروں کا ہالہ بنا رہتا تھا… عجیب صورتحال تھی… فن اور ثقافت کے نام پر
جاسوسی کرنے والے آزاد، لسانیت کے نام پر ملک توڑنے والے آزاد، بے حیائی پھیلانے
والے آزاد، غیر ملکیوں کے لئے ہر خدمت سرانجام دینے والے صحافی آزاد… اور
افغانستان کے شمالی اتحاد والے آزاد… اور نگرانی صرف مجاہدین، علماء… اور مساجد و
مدارس کی ہو رہی تھی… اسی دوران حضرت مفتی نظام الدین شامزیؒ شہید کر دیئے گئے… ان
کے کچھ عرصہ بعد… حضرت مفتی جمیل احمدؒ خان کو خون میں نہلا دیا گیا… اور اس سے
کچھ پہلے دینی جماعتوں کی موجودگی میں… جہادی تنظیموں پر نئی پابندی کے صدارتی حکم
پر… سب وزراء اعلیٰ کا انگوٹھا لگوالیاگیا…
حالانکہ…
اکثر جہادی جماعتیں… اہل حق کے گرد حفاظت کا مضبوط حصار تھیں… یہ لوگ مدارس کے
خادم اور مساجد کے چوکیدار تھے… وہ علماء کے خادم اور مشائخ کے شیدائی تھے… ان
لوگوں نے کبھی اپنے ان فرائض سے غفلت نہیں کی… اسی لئے… سب سے پہلے انہیں رستے سے
ہٹانے کی کوشش کی گئی… اور پھر اچانک مدارس کے گرد پھندا سخت ہونے لگا… کچھ عرصہ
پہلے… لندن کے بم دھماکوں کا ملبہ مدارس پر گرا کر یہ جذباتی اعلان کر دیا گیا کہ…
تمام غیر ملکی طالب علم قرآن پاک کی تعلیم چھوڑ کر پاکستان سے نکل جائیں… سبحان
اللہ!… وہ پاکستان جہاں پر ہر غیر ملکی مالدار کا… خواہ وہ بے حیائی کے لئے ہی
کیوں نہ آیا ہو… پلکیں بچھا کر استقبال کیا جاتا ہے … اس میں یہ اعلان ہوا کہ…
قرآن پاک پڑھنے والے تمام غیر ملکی فوراً نکل جائیں… کیا یہ اللہ تعالیٰ کی مساجد
کو ویران کرنے کی سازش نہیں ہے؟… کیا یہ دینی مدارس کو تباہ کرنے کی کوشش نہیں
ہے؟… دراصل حکومت کو بتایا گیا تھا کہ دینی مدارس کا چندہ غیر ملکوں سے آتا ہے…
اور اس کا ذریعہ یہ غیر ملکی طلبہ بنتے ہیں… حکومت کے بد دین عناصر یہ بات کہاں
برداشت کر سکتے تھے… لندن بم دھماکوں کے بعد انہیں موقع مل گیا… اور انہوں نے
آنکھیں بند کرکے… دینی مدارس کے خلاف…یہ… اقتصادی توپ چلا دی… مال، دولت اور ڈالر
کی پوجا کرنے والے… دانشوروں کا خیال یہی ہے کہ سب کچھ پیسے سے ہو رہا ہے… اور
پیسے کے لئے ہو رہا ہے…اس لئے جیسے ہی ’’پیسہ‘‘ بند ہو گا… جہاد بھی بند ہو جائے
گا… اور مدارس بھی… اس لئے سارا زور چندہ بند کرنے… اور اکاؤنٹ سیل کرنے پر لگایا
جا رہا ہے… اگر ان لوگوں کا حافظہ ٹھیک ہوتا تو انہیں یاد رہتا کہ… طالبان نے جب
بامیان کے بت گرانے کا اعلان کیا تو انہیں…دنیا بھر سے… اربوں ڈالر کی آفر ہوئی
تھی… مدرسے کا ایک غریب مولوی… امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد… راتوں رات اربوں
پتی بن سکتا تھا…پھر…کیا ہوا… سب نے دیکھا کہ بت اڑا دیئے گئے… اور ڈالروں پر تھوک
دیا گیا… ۶سال
پہلے جب کچھ کشمیری مجاہدین نے انڈین ائیر لائن کا طیارہ اغواء کر لیا تھا… اور…
ان مسلمان رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا… جن کو انڈیا نے… غیر قانونی قید
میں رکھا ہوا تھا… تو اس اغواء شدہ طیارے میں ایک ایسا غیر ملکی شخص بھی سوار تھا
جسے اس کی مالداری کی وجہ سے… ’’کرنسی کنگ‘‘ کہا جاتا تھا… اب یہ بات کتابوں میں
چھپ چکی ہے کہ… اس شخص نے بارہا ان ہائی جیکروں کو بہت موٹی رقم کی پیشکش کی… مگر…
وہ اللہ کے بندے رقم لینا تو دور کی بات… اس کے ساتھ تفصیلی بات کرنے پر بھی راضی
نہ ہوئے… وہ آٹھ دن تک… کروڑوں ڈالر کی چمک دکھاتا رہا… اور ہر لمحہ مایوس ہوتا
رہا… آٹھویں دن یہ ہائی جیکر… تین مسلمانوں کی رہائی ملنے پر… اسی طرح خالی ہاتھ…
اور پاکدامن اتر گئے… جس طرح وہ سوار ہوئے تھے… انہوں نے نہ کسی کو لوٹا… اور نہ
کسی کی عزت کو پامال کیا… ایک ہندو نوجوان لڑکی نے… اپنے ایک خط میں لکھا کہ… یہ
لوگ انسان نہیں بہت اونچی مخلوق تھے… ہمارے ملک میں کسی کی عزت محفوظ نہیں
رہتی…جبکہ… ان لوگوں نے آٹھ دن تک… ہماری بے بسی کے باوجود… ہم پر نگاہ تک نہیں
اٹھائی… ملا محمد عمر مدظلہ کا واقعہ ہو…یا ہائی جیکروں کی ایمان افروز داستان …یہ
سب کچھ یورپ اور امریکہ میں شائع ہو چکا ہے… اور اس کی برکت سے بے شمار لوگ
’’مسلمان‘‘ ہو رہے ہیں… مگر خود ہمارے دانشوروں کا دماغ اسی سوئی پر اٹکا ہوا ہے
کہ چندہ بند تو جہاد بند… چندہ بند تو مدرسہ بند… اور یہ لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں
کہ… چونکہ مدرسہ میں رہائش اور کھانا مفت ملتا ہے اس لئے غریب لوگ اپنے بچوں کو
مدرسہ میں بھیج دیتے ہیں… حالانکہ… یہ بات اور سوچ بالکل جاہلانہ، ظالمانہ… اور
حقائق کے برخلاف ہے… مال اور پیسوں کے لالچی لوگ تو اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے
ہیں…تاکہ …کچھ بن کر پیسہ کما کر لائیں… اور اگر اسکول نہیں بھیج سکتے… تو مزدوری
کراتے ہیں… اور بعض تو غیرت اور عزت کی حدود کو بھی بھول جاتے ہیں… ان میں سے کوئی
بھی اپنے بچے کو مدرسہ میں نہیں بھیجتا… مدرسہ میں تو صرف ایماندار اور غیرت مند
لوگ اپنے بچوں کو بھیجتے ہیں… اور خود روکھی سوکھی پر گزارہ کرکے اپنے بچوں کو
قرآن و سنت کے نور سے رنگتے ہیں… ہم ایسے غیور والدین کو سلام پیش کرتے ہیں… میں
نے خود آٹھ سال تک مدرسہ میں پڑھا ہے… مجھے یاد نہیں کہ میں نے کوئی ایسا طالب
علم دیکھا ہو جس کو… اس کے والدین نے اس لئے مدرسہ بھیجا ہو کہ… ان کے پاس اسے
کھلانے کے لئے روٹی نہیں تھی… پھر جہاں تک چندے کا سوال ہے تو… بہت کم ایسے مدارس
ہیں جنہیں غیر ملکی مسلمان چندہ بھیجتے ہیں… ننانوے فیصد مدارس مقامی چندے اور
عطیات سے چلتے ہیں… اس لئے غیر ملکی طلبہ کو نکالنے سے مدارس بند ہو جائیں گے… اگر
کسی نے ایسا سوچا ہے تو یہ غلط ہے… مدارس تو ان شاء اللہ بند نہیں ہوں گے… قرآن
پڑھنے پڑھانے والے بھوکے نہیں مریں گے… ہاں یہ ملک… ضرور اپنا نقصان کرے
گا…کیونکہ… وہ زمین جہاں اللہ کا نام لینے… اور اس کا قرآن پڑھنے سے لوگوں کو
روکا جائے… خوف اور بدامنی کا تندور بن جاتی ہے… قرآن پاک سورہ بقرہ کی آیت (۱۱۴) میں
اس کی طرف واضح اشارہ کرتا ہے… اور ہزاروں سال کی تاریخ بھی… اس حقیقت کی گواہی
دیتی ہے… ہماری حکومت اس طرح کے فضول کاموں میں لگ کر… پہلے ہی ملک کا کافی نقصان
کر چکی ہے… زلزلے کی آفت سے نمٹنے میں یہ حکومت بری طرح ناکام رہی ہے… اور اب
قرآن پاک کی تعلیم کو روکنے کا ’’گناہ عظیم‘‘ قوم کے کندھوں پر لادا جا رہا ہے…
مسلمانوں کو چاہئے کہ روز روز کے الیکشنوں… اور تماشوں سے سر اٹھا کر… حقائق کو
دیکھیں… اور سیاست سے دامن جھاڑ کر ’’اسلامی غیرت‘‘ کے راستے پر چلیں… آج اللہ
تعالیٰ کے فضل و کرم سے… حضرات علماء کرام نے بیداری کی پہلی اینٹ رکھ دی ہے… غیر
ملکی مسلمانوں کو… پاکستان میں قرآن پاک کی تعلیم سے روکنا ایک بہت بڑا ظلم… اور
گناہ ہے… حکومت ان لوگوں کو روکے جو یہاں… بد معاشی اور بے حیائی کے لئے آتے ہیں…
حکومت ان لوگوں کو روکے جنہوں نے یہاں جاسوسی کے نیٹ ورک قائم کر رکھے ہیں… حکومت
ان لوگوں کو روکے جو یہاں لسانیت پھیلانے آتے ہیں… حکومت ان لوگوں کو روکے جو
یہاں کی جنگلی حیات کو ختم کرنے آتے ہیں…تب… ان شاء اللہ ساری قوم حکومت کا ساتھ
دے گی… مگر یہ کہاں کا انصاف ہے کہ… مسلمانوں پر بمباری کرنے والوں کو ملک کے
باسٹھ اڈے پیش کر دیئے جائیں… اور قرآن پاک پڑھنے والوں سے کہا جائے کہ… فلاں
تاریخ تک ملک سے نکل جاؤ… یہ ظلم نہیں چلے گا…
جنہوں
نے ڈٹ جانے کا اعلان کیا ہے… انہیں مبارک ہو… وہ دین اور قرآن پاک کی حفاظت کا
ذریعہ بنے ہیں… یقین کریں… اگر وہ ڈٹے رہے تو… فتح ان شاء اللہ انہی کی ہو گی… اور
قوم انہیں… ان شاء اللہ… ہرگز ہرگز مایوس نہیں کرے گی… شہداء کے لئے جنت مہکانے
والا رب… قوی، قادر… اور مقتدر ہے… اصل اقتدار اسی کا ہے… صرف اسی کا… اللہ
اکبر… بسم اللہ الرحمن الرحیم یادائمُ بلا فناء ویا قائمُ بِلا زوال و یا
میسر بلا وزیر… اللہ اکبر…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے… بات باجوڑ سے شروع کریں یا ہری پور کے دفتر سے؟ چلیں پہلے ایک چھوٹا سا واقعہ پڑھ لیتے ہیں… علامہ علی ابن برہان الدینؒ نے اپنی معروف و مقبول کتاب ’’سیرۃ حلبیہ‘‘ میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے کا ایک عجیب واقعہ لکھا ہے… اس کا خلاصہ یہ ہے کہ… ایک شخص سفر پر گیا پیچھے ایک طاقتور جن اس کی شکل اپنا کر اس کے گھر آنا جانا شروع ہوگیا، وہ شخص واپس آیا تو اسے صورتحال کا علم ہوا جبکہ اس کی بیوی ’’جن‘‘ ہی کو اپنا خاوند سمجھتی رہی تھی۔ وہ شخص بہت غمگین اور پریشان ہوا مگر ’’جن‘‘ بہت طاقتور تھا اس نے کہا اگر تم نے مجھے اپنے گھر آنے جانے سے روکا تو میں تمہیں قتل کردوں گا۔ وہ شخص ڈر گیا اور اس نے ’’جن‘‘ سے معاہدہ کرلیا۔ اب دن کو یہ شخص گھر میں رہتا اور رات کو جن آکر قبضہ جمالیتا… ایک رات جن نے اسے کہا کہ آج میری ذمہ داری آسمان کے قریب جاکر فرشتوں کی خبریں سننے پر لگی ہے… اگر تم چاہو تو میں تمہیں ساتھ لے جاؤں… وہ شخص تیار ہوگیا اور ’’جن‘‘ کی پیٹھ پر اس کی گردن کے بال پکڑ کر بیٹھ گیا… جن اڑتا ہوا بہت اوپر آسمان کے قریب جا پہنچا … ابھی وہ اپنے بیٹھنے کی جگہ ڈھونڈ ہی رہا تھا کہ آواز آئی…
ماشاء
اللہ کان ولا حول ولا قوۃ الا با للہ
وہی
ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اور ہر توفیق اور قوت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے… یہ آواز سنتے ہی جن کو
گویا آگ لگ گئی اور وہ نیچے کی طرف گرنے لگا… اور بالآخر زمین پر آگرا… اس شخص
نے وہ الفاظ یاد کرلیے … ماشاء اللہ کان ولا حول ولا قوۃ الا با للہ … اگلی رات
جب یہ جن حسب سابق اس کے گھر کی عزت برباد کرنے آیا تو اس شخص نے یہی دعاء پڑھی
جسے سنتے ہی ’’شیطان جن‘‘ بھاگ گیا اور پھر کبھی واپس نہ آیا… اور یوں وہ گھر
آزاد ہوگیا… قرآن پاک کی ’’سورۃ الجن‘‘ میں اس بات کی وضاحت وصراحت موجود ہے کہ
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے جنات نے آسمان کے
قریب مورچے قائم کر رکھے تھے اور وہ وہاں بیٹھ کر فرشتوں کی باتیں سنتے تھے… (پھر
یہ باتیں نجومیوں اور کاہنوں کو بتاتے تھے) حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مبارکہ کے بعد ان پر آسمانی
گولے گرنے لگے اور اللہ پاک نے انہیں وہاں سے بھگا کر کفر وشرک کا ایک
دروازہ بند فرمادیا… یوں آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکتوں نے زمین وآسمان سب کو پاک
اور روشن کردیا… حضرت ابوالدرداء رضی اللہ
عنہ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حفاظت کی جو دعاء سکھلائی اس میں
بھی اس واقعہ والے الفاظ اس اضافے کے ساتھ موجود ہیں…
ماشاء
اللہ کان وما لم یشاء لم یکن
ولا
حول ولا قوۃ الا با للہ العلی العظیم
اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہیں
چاہتا نہیں ہوتا اور ہر توفیق اور طاقت اللہ تعالیٰ بلند وبرتر ہی کی طرف سے ہے…
یہ
دعاء کچھ مفصل ہے، صحابہ کرام اس کو بہت یقین کے ساتھ پڑھتے تھے ایک صحابی کو
بتایا گیا کہ آپ کے گھر آگ لگ گئی ہے، فرمایا ہر گز نہیں … بعد میں ان کی بات
درست نکلی لوگوں نے پوچھا آپ نے اس قدر یقین سے کیسے فرمادیا تھا؟ انہوں نے ارشاد
فرمایا میں نے یہ دعاء پڑھ رکھی تھی… ان شاء اللہ کبھی موقع ملا تو یہ مفصل دعاء حوالے، ترجمے اور
فضائل کے ساتھ قارئین کرام کی خدمت میں پیش کی جائے گی… آج تو ہمارا موضوع یہ
عقیدہ ہے کہ … جو کچھ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے… یہ عقیدہ مسلمان
کو چٹان کی طرح مضبوط بنادیتا ہے اور اس کے ہر دکھ اور درد پر مرہم رکھ دیتا ہے…
باجوڑ میں جو کچھ ہوا وہ مسلمانوں کو تڑپا رہا ہے اور اب ہری پور کے واقعہ نے رہی
سہی کسر بھی نکال دی ہے… مگر ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی نصرت سے مایوس نہیں
ہیں… وہ ہمارا مالک ہے اس کی مرضی جو چاہے کرے… اور ہم اس کے بندے اور غلام ہیں…
ہمارا کام ہے کہ ہم راضی خوشی سب کچھ تسلیم کریں… اور اپنے پیارے، مہربان اورعظیم
رب کے ساتھ جڑے رہیں… وہ ہمارے لیے ماں سے زیادہ مہربان ہے وہ جو کچھ کرتا ہے
ہمارے بھلے اور فائدے کیلئے کرتا ہے… اس کی محبت عجیب ہے… اس کی محبت سب سے زیادہ
اپنے خاص بندے اور محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے… مگر اللہ تعالیٰ کے اس محبوب ترین بندے کی زندگی آپ نے
دیکھی؟… کون سا دکھ ہے جو ان پر نہیں آیا؟… اور کون سی تکلیف ہے جو انہیں نہیں
پہنچی؟… پیدا ہونے سے پہلے یتیم ہوگئے… بچپن میں غربت دیکھی… جوانی ہر طرح کے عیش
وآرام سے دور گزری… مکہ کی گرم چٹانوں کے درمیان سخت دھوپ میں بکریاں چرائیں…
کوئی وہاں کی گرمی جاکر تو دیکھے… پھر خلوت اور تنہائی کی لمبی لمبی ریاضتیں
برداشت فرمائیں… کھانے میں صرف پانی اور ستو پر گزارا فرماتے تھے… پھر نبوت کا تاج
ختم نبوت کی مہر کے ساتھ عطاء ہوا … اور ایک اکیلے انسان کو بتایا گیا کہ… آپ نے
پورے عالم میں اسلام کو پہنچانا ہے… نہ اسباب، نہ وسائل نہ لشکر… اور نہ مال
ودولت… سامنے قوم ایسی کہ بالکل پکی مشرک… بتوں کے نام پر جان دینے والی… مکہ کے
مشرک ہزار زانی، ہزار شرابی مگر اپنے مذہب کے بہت پکے تھے… اور ان کو غرور تھا کہ
وہ بیت اللہ کے خادم اور حج کے منتظم ہیں…
اور ان کو اکڑ تھی کہ وہ ’’عربی‘‘ ہیں اور کوئی ان کے سامنے ان کی فصاحت کی وجہ سے
بول نہیں سکتا… ایسی قوم کے درمیان… اللہ پاک نے اپنے محبوب کو اکیلا کھڑا کرکے فرمایا کہ
ان تک میرا وہ پیغام پہنچادیں جس سے ان کے کان نا آشنا ہیں… پھر کیا تھا… دعوت کا
آغاز ہوا اور پتھر برسنے لگے… کیا ہم نے بھی کبھی دین کی خاطر پتھروں کی بارش
دیکھی ہے؟… گلی سے گزرتے تو گالیاں پڑتیں… مکانوں کے نیچے سے گزرتے تو کوئی گلے
میں رسہ ڈال کر گھسیٹتا اور کوئی… گندی اوجھڑی لاکر اوپر ڈال دیتا… ہائے میرے اللہ ! عجیب وقت تھا، بس چند لوگ ہی ایمان لائے
تھے… پھر طائف جانے کا حکم ملا… وہاں ظالموں نے بچے پیچھے لگا دئیے جو پتھر مارتے
تھے اور دوڑاتے تھے، نہ رکنے کا موقع تھا نہ بیٹھنے اور سر چھپانے کی جگہ… چھ میل
تک پتھر کھاتے رہے، ہائے میرے آقا… ہائے میرے آقا… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتوں میں خون بھر گیا… جوتے بھی
مبارک اور خون بھی مبارک… اور ان سب سے بڑھ کر وہ دین مبارک، جس کی خاطر یہ عظیم
تکلیفیں اٹھائی جارہی تھیں… آج یہ دین ہم جیسے تن آسانوں… اور نفس پرستوں کے
ہاتھ آیا ہے… جن پر ذرا سی آزمائش آجائے تو دین اور جہاد سے بھاگنے لگتے ہیں…
مکہ میں صبح شام لوگوں کو دعوت، ان کے دھکے، گالیاں، ظلم… پھر تین سال تک شعب ابی
طالب کی نظر بندی… حضرت بلال رضی اللہ عنہ اپنی بغل میں کچھ چھپا کر لاتے تو میرے آقا
صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے کی کوئی چیز ملتی… ورنہ غم،
فاقے اور تنگی… پھر ہجرت کا حکم ملا تو گھر پر مشرکین کا حملہ… غار ثور پر ان کا
گھیراؤ… راستے کے سخت پتھر… قربان جاؤں صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پر کہ انہوں نے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو کندھے پر اٹھالیا… مدینہ منورہ
پہنچے تو سترہ مہینے گزرتے ہی جہاد اور جنگ شروع … اور آزمائشوں کا ایک نیا دور…
کبھی سفر، کبھی بھوک، کبھی زخم… کبھی فتح… اور کبھی ظاہری فتح سے دوری… بہت مشکل
دور تھا بہت مشکل… روشن خیال منافقین دس دس گز کی زبانیں نکالے… صبح شام تکلیف
دیتے تھے… ظالموں نے گھر کی عزت وحرمت پر بھی زبان چلائی… اور اماں عائشہ صدیقہ
رضی اللہ عنہا پر تہمت لگادی… یہ مرحلہ بہت مشکل ہوتا ہے…
گھر اور خاندان کی طرف اٹھنے والی انگلیاں انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہیں… مگر
پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم استقامت کا پہاڑ بنے رہے… آپ کو بخار
ہوتا تھا تو وہ بھی عام لوگوں سے زیادہ سخت… آپ کو کھانا ملتا تھا تو غریبوں کے
کھانے سے بھی زیادہ معمولی اور کم… مگر رات کو جب عبادت کرتے کرتے پاؤں میں ورم
پڑ جاتے تو اماں عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتیں… آپ تو بخشے بخشائے ہیں پھر اتنی
مشقت کیوں؟ ارشاد ہوتا :
’’افلا
اکون عبداً شکورا ‘‘
کیا
میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ …
اتنی
تکلیفیں اور پھر شکر ہی شکر… آج ہم اپنے گریبان میں جھانکیں… ذرا سی مشقت آجائے…
ذرا سی آزمائش آئے… فوراً کہتے ہیں ہمارے ساتھ یہ کیوں ہوا؟… ہم گرنے اور
ڈگمگانے لگتے ہیں… آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں شہادت کا مسئلہ سمجھایا… اور
ہمارے مزے کرادئیے کہ… شہید ہوئے اور گناہ معاف… شہید ہوئے اور رب راضی … اور جنت
پکی… قرآن پاک نے ایک بار نہیں بار بار اعلان کیا… کہ شہید زندہ ہیں… رب کے ہاں
کھاتے پیتے ہیں… مزے کرتے اور خوشیاں مناتے ہیں… ہمارے نبی نے ہمیں بتایا کہ شہداء
نے اللہ تعالیٰ سے کہا ہمارے پیچھے رہ جانے والوں تک
ہمارے اس شانداز اعزاز واکرام کی خبر پہنچ جائے … پھر کوئی بھی گھر نہیں بیٹھے گا
اور کوئی بھی اس سے محروم ہونا گوارہ نہیں کرے گا… نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ باتیں بتا کر… ہمارے لیے مرنا
اور جینا دونوں آسان بنادئیے… اور ہمیں عزت اور کامیابی کا راز بتادیا… صحابہ
کرام نے اس راز کو سمجھا وہ موت کے پیچھے دوڑے تو دنیا سے کفر ختم ہوتا گیا … روم
وفارس بکھر کر رہ گئے… عرب وعجم پر دین کا غلبہ ہوگیا… وہ خود بھی کامیاب ہوگئے…
اب مزے سے خوشیاں منا رہے ہوں گے… اور انہوں نے کروڑوں انسانوں کو بھی کامیابی کے
راستے پر ڈال دیا… امریکہ کے پجاری کیا سمجھیں کہ شہادت کیسی لذیذ نعمت ہے… امریکہ
کو خدا سمجھنے والوں کو کیا پتا کہ شہادت کتنی مزیدار اور حقیقی زندگی ہے… رب کعبہ
کی قسم شہادت اتنی لذیذ ہے کہ جنت میں جاکر لوگ حکومت، عزت، مال ہر دنیاوی نعمت
بھول جائیں گے… مگر شہادت کے مزے کو وہاں بھی یاد رکھیں گے… اے مسلمانوں کو شہادت
سے ڈرانے والو! موت سے بچ کر دکھا دو… موت تو تم پر بھی آنی ہے… رب کعبہ کی قسم
ضرور آنی ہے… موت کا وقت اٹل ہے… نہ ایک منٹ پہلے آسکتا ہے… اور نہ ایک منٹ
مؤخر ہو سکتا ہے… اسی لیے تو مسلمان موت کے پیچھے دوڑتے ہیں… اور تم لوگ موت کے
آگے دوڑتے ہو… اگر کوئی اس وہم میں ہے کہ… امریکہ جو چاہے گا وہی ہوگا… تو … وہ
اپنا عقیدہ اور دماغ درست کرلے… نہیں ہرگز نہیں… صرف وہی ہوگا جو اللہ تعالیٰ چاہے گا… امریکہ نے افغانستان پر
کروز میزائلوں سے حملہ کیا… وہ مسلمانوں کو ڈرانا چاہتا تھا… مگر کوئی نہیں
ڈرا…چند نوجوان اٹھے اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے جا ٹکرائے… کیا کسی نے سوچا تھا کہ
مسلمان… کروز میزائلوں کے شہداء کا اتنا سخت قصاص لیں گے؟… پھر امریکہ افغانستان
میں اتر آیا… اس کے ذہن میں زیادہ سے زیادہ مدت… ایک سال کی تھی… مگر آج پانچواں
سال چل رہا ہے… کیا وہی ہوا جو اس نے چاہا؟… پھر وہ عراق میں جاگھسا… جہاں اسے
مزاحمت کا خطرہ ہی نہیں تھا… عراق کے وردی والے محافظ تو پہلی رات نوٹوں پہ بک
گئے… اور پکے ہوئے پھل کی طرح امریکہ کی گود میں جاگرے… اپنے لوگوں کو مارنے کاٹنے
والے یہ ’’بہادرفوجی‘‘ کافروں کے سامنے دو منٹ بھی نہیں ٹھہر سکتے… ان کا سارا
غرور، سارا تکبر اور سارا زور اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں کے خلاف چلتا ہے… وہاں ان
کے ہاتھ ڈنڈوں کی طرح اور زبانیں قینچیوں کی طرح چلتی ہیں مگر… کافروں کے سامنے یہ
لوگ حلوے کی پلیٹ اور شراب کا گلاس ثابت ہوتے ہیں… اللہ پاک انہیں ہدایت عطاء فرمائے اور ان میں سے کچھ
کو مدینہ والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا غلام بنائے… آج مسلمانوں
کیلئے سب سے بڑی مصیبت یہی لوگ ہیں… عراق کی فوج کا دنیا میں ڈنکا تھا اور نیشنل
گارڈز کے نخرے آسمانوں سے ٹکراتے تھے… مگر بغداد پر حملے کی رات نیشنل گارڈ کے
سارے جرنل، اور افسر جہاز میں بیٹھ کر… امریکہ پہنچ گئے… اور امریکہ نے سمجھا کہ…
اب عراق تر نوالہ ہے… مگر مدینہ منورہ سے شہادت کا پیغام آیا… اور پھر… عراق نے
قرون اولیٰ کی یادیں تازہ کردیں… کیا وہی ہوا جو امریکہ نے چاہا؟… آج باجوڑ کے
غیور مسلمانوں پر بمباری کی گئی… پانچ سالہ بچوں تک کی بوٹیاں اڑائی گئیں… امریکی
طیارے ہمارے ملک کی حدود میں داخل ہوگئے تو یہاں کے ’’جدید راڈار‘‘ اندھے ہوگئے…
ہماری ایجنسیاں جن کو مدرسے کے بچوں میں …چھپی دہشت گردی نظر آجاتی ہے… آرام سے
سوئی رہیں… امریکی طیارے آئے اور بم برسا کر مسلمانوں کو شہید کرکے چلے گئے … سب
مطالبہ کر رہے ہیں کہ امریکا معافی مانگے… ہم یہ مطالبہ نہیں کرتے… نہ مسلمانوں کا
خون اتنا سستا ہے… کہ کسی شرابی منہ کے دو بول اس کی قیمت بن سکیں… اس خون کی قیمت
اللہ تعالیٰ جانتاہے… امریکا نے یہ بمباری اس لیے کی
تاکہ … لوگ ڈر جائیں… اور جہاد سے توبہ کرلیں… نہیں ایسا نہیں ہوگا … امریکہ جو
کچھ چاہتا ہے وہ نہیں ہوگا… بلکہ… وہی ہوگا جو اللہ تعالیٰ چاہے گا… تب … ظلم کے ساتھ ظالم کو بھی
رونا پڑے گا… اسلام ایک زندہ دین ہے… یہ افراد کا محتاج نہیں ہے… ملا عمر نہیں
رہیں گے تو کیا ہوجائے گا؟… اسامہ بن لادن نہیں رہیں گے تو کیا ہوجائے گا؟ کچھ بھی
نہیں… جو شہادت پائے گا وہ زندگی کے امتحان میں کامیاب ہوکر مزے میں چلا جائے گا…
اور پیچھے دوسرے لوگ دین اور جہاد کی امانت کو سنبھال لیں گے… یہ کوئی نوکری نہیں
کہ چھوٹ جائے… یہ قرآن والا نظریہ ہے… جس نے باقی اور سلامت رہنا ہے… پوری قوم
باجوڑ کے واقعہ پر رو رہی ہے اور غم وغصے سے سلگ رہی ہے جبکہ دوسری طرف خود کو ملک
کا محافظ اور ٹھیکیدار سمجھنے والے خفیہ اہلکار… بیس پچیس گاڑیوں میں بھرکر ہری
پور جا پہنچے رات کے سوا دو بجے … شور مچاتے، بندوقیں لہراتے اور گالیاں دیتے…
انہوں نے بیس ساتھیوں کو گرفتار کرلیا… دفتر میں توڑ پھوڑ کی… اور بڑے فخر سے بیس
نہتے علماء حفاظ … اور متقین کو باندھ کر اسلام آباد لے گئے… کیا اس طرح کے ظلم
سے کسی خیر کی توقع کی جاتی ہے؟ کاش یہی بہادری ان امریکیوں کے خلاف دکھائی جاتی
جو آپ کے ملک کے پندرہ افراد کو شہید کرکے بھاگ گئے… مگر کہاں؟… وہاں تو جھک جھک
کر سلام کیے جاتے ہیں… ہم سرحد اسمبلی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جس نے دینی غیرت
کا ثبوت دیتے ہوئے… امریکی سفیر کی ملک بدری کی قرارداد منظور کی ہے… چلیں غیرت کا
ایک جملہ تو سننے کو ملا… باجوڑ کے شہداء قبروں میں مزے کر رہے ہیں… وہ دجال کی
آگ سے گزرکر ان شاء اللہ … رحمن کی جنت
میں ہیں… ان کی زندگی کا بس اتناہی وقت مقرر تھا… ہاں وہ خوش نصیب رہے کہ ان کی
زندگی کا اختتام ایک اور لذیذ، حسین اور خوبصورت زندگی پر ہوا… جس زندگی کے لئے
کتنے مسلمان تڑپتے ہیں… اور راتوں کو اللہ
تعالیٰ کے حضور آہ وزاری کرتے ہیں… باجوڑ
کی قبریں اور اس کے خوش نصیب باسی بھلائے نہیں جائیں گے… ان کا خون… ضرور اپنا رنگ
دکھائے گا… ان پر ہونے والا ظلم ضرور ظالم کی طرف واپس لوٹے گا… یہ دھمکی نہیں… اللہ تعالیٰ کا نظام قدرت ہے… اور اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتاہے…
ماشاء
اللہ کان ومالم یشاء لم یکن ولا حول ولا قوۃ الا با للہ
العلی العظیم
٭٭٭
اللہ تعالیٰ استقامت عطاء فرمائے… جب بھی ’’ایمان
والوں‘‘ پر مشکل وقت آتا ہے… انہیں گمراہ کرنے اور بہکانے کی کوششیں تیز ہوجاتی
ہیں… ایک روایت میں آیا ہے کہ جب مسلمانوں کو غزوہ احد میں ظاہری شکست ہوئی تو
کچھ ’’یہودی‘‘ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے… مفسرین نے اس یہودی ٹیم کے دو
افسروں کے نام بھی لکھے ہیں… ایک تھا ’’فنحاص بن عازوراء‘‘ اور دوسرا تھا ’’زید بن
قیس‘‘ ان دونوں نے صحابہ کرام سے کہا… آپ لوگوں نے دیکھ لیا کہ اُحد کی لڑائی میں
آپ کا کیا حشر ہواہے؟… اگر آپ لوگ حق پر ہوتے تو کبھی شکست نہ کھاتے… بس اب
’’اسلام‘‘ کو چھوڑو اور ہمارے ساتھ مل جاؤ… (یعنی ’’عالمی برادری‘‘ کا حصہ بن
جاؤ) … اس کے بعد انہوں نے اپنے مذہب کے حق ہونے پر تقریر کی… حضرات صحابہ کرام
لمبی بحثوں میں نہیں پڑتے تھے… انہوں نے یہودیوں کے اس وفد کو جلد ہی نمٹا دیا…
حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے جواب دینے کی بجائے خود یہودیوں سے پوچھا
کہ آپ لوگوں کے مذہب میں عہد توڑنا کیسا ہے؟… انہوں نے کہا بہت بڑا گناہ ہے… حضرت
عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے تو عہد کیا ہوا ہے کہ…
مرتے دم تک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ساتھ رہوں گا… یہودیوں نے یہ سن
کر کہا یہ شخص تو ’’غلط آدمی‘‘ ہے… پھر وہ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے… تو اسلام کے اس
سچے عاشق نے کڑک کر فرمایا… اللہ میرا رب، محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرے نبی، اسلام میرا دین، قرآن میرا
امام، کعبہ میرا قبلہ اور مسلمان میرے بھائی… میں اسی پر راضی میں اسی پر پکا…
یہودی ناکام ہو کر بھاگ گئے اور جب یہ قصہ آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا تو آپ نے دونوں صحابہ سے
فرمایا…
اصبتما
خیرا وافلحتما… آپ دونوں نے کامیابی اور بھلائی پالی…
دنیا
بھر کے عقوبت خانوں میں… مسلمان مجاہدین کو پہلے خوب مارا جاتا ہے… خوب ستایا جاتا
ہے… پھر جب… کافروں اور ان کے یاروں کو یقین ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ تھک گئے ہیں اور
ماریں کھا کھا کر کمزور ہو گئے ہیں تو پھر… جہاد اور اسلام کے خلاف ذہن سازی اور
’’موٹی ویشن‘‘ کا عمل شروع ہوجاتا ہے… اچانک کچھ آفیسر اس جیل اور عقوبت خانے کا
دورہ کرتے ہیں… یہ لوگ اچھے لباس اور مہذب انداز میں آتے ہیں… وہ مظلوم قیدیوں سے
دعاء سلام کے فوراً بعد چلاّ کر کہتے ہیں… ارے یہ تو شریف لوگ ہیں خبردار اب اگر
کسی نے ان کو ہاتھ لگایا… ساتھ ہی وہ ان لوگوں کو چند گالیاں بھی دیتے ہیں… جواب
تک ان قیدیوں کو مارتے رہے تھے… اور پھر کرسیوں پر بٹھا کر… یہودیوں والی تقریریں
شروع ہوجاتی ہیں… امن، محبت، انسانیت کی باتیں، ملک کے مفاد کی باتیں، اسلام کی
باتیں… اور دنیا میں دولت اور عزت پانے کی باتیں… تشدد کے ستائے ہوئے بعض قیدی
حکمت عملی کے تحت مار سے بچنے کیلئے… ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں … تب … ان
’’لوٹوں‘‘ کی خوشی دیکھنے کے لائق ہوتی ہے… مگر کچھ قیدی بہت صاف اور سخت جواب
دیتے ہیں، تب یہ مہذب لوگ واپس اپنی اصلیت پر آجاتے ہیں اور ان کے اندر چھپے ہوئے
زہریلے سانپ پھنکارنا شروع کردیتے ہیں…
میں
نے یہ منظر بہت بار دیکھا ہے… اور مجھے اس منظر سے اتنی نفرت ہے کہ… بس اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے… میں نے خوبصورت سوٹ
پہنے آفیسروں کو میٹھی میٹھی باتیں کرتے بارہا سنا ہے… مگر جب میں نے انہیں صاف
جواب دیا تو ان کی ساری تہذیب ایک طرف رہ گئی… اور وہ غصے اور بے بسی سے کانپنے
لگے… میں نے ایسا سری نگر میں بھی دیکھا اور جموں میں بھی… اور پھر میں نے یہی
منظر پاکستان میں بھی دیکھا… سری نگر کے ایک عقوبت خانے میں تو انڈین آرمی کا ایک
کرنل باقاعدگی سے کشمیری مجاہدین کو … گمراہ کرنے کیلئے آتا تھا… وہ بہت نرمی اور
محبت سے بولتا تھا اور کئی کئی گھنٹے تقریر کرتا تھا… ہم سب انسان ایک جیسے ہیں…
ہم سب کے جسموں میں سرخ خون ہے… زندگی بھگوان کی بڑی نعمت ہے، آؤ مل جل کر شانتی
اور پریم (امن و محبت) سے رہیں… وہ اپنے ساتھ انڈین فلموں کی ویڈیو کیسٹیں بھی
لاتا تھا جو کشمیری مجاہدین کو دکھائی جاتی تھیں… کئی دن کی بھرپور محنت کے بعد اس
کرنل کو شک گزرا کہ میں اس کی ساری محنت پر پانی پھیر دیتا ہوں… اور کشمیریوں کو
دوسرا ذہن دیتا ہوں… چنانچہ… مجھ پر مزید سختی کردی گئی… اور میرا دروازہ چوبیس
گھنٹے بند رہنے لگا… اسی عقوبت خانے میں ایک طرف محبت کا یہ راگ سنایا جاتا تھا جب
کہ دوسری طرف… اتنا سخت تشدد اور ٹارچر ہوتاتھا کہ… اس سے اللہ کی
پناہ… محبت کا درس دینے والے اپنے اصلی چہرے کو چھپا نہیں سکتے تھے… چنانچہ میں اس
کرنل کی محنت پر کیا پانی پھیرتا… خود ان کی لاٹھیاں، ڈنڈے اور گالیاں ان کی حقیقت
بتانے کے لئے کافی تھیں… مجھے آج بھی اس عقوبت خانے کے مناظر یاد آتے ہیں تو …
میں سب کچھ بھول جاتا ہوں… اور مجھے صرف چیخیں سنائی دیتی ہیں… صرف چیخیں… ان
بوڑھے کشمیری بزرگوں کی چیخیں جو پاکستان سے کشمیر کے الحاق کا خواب دیکھ رہے تھے…
اور بڑھاپے میں اتنا خوفناک تشدد برداشت کر رہے تھے… میراتھن ریس کے پجاریو! … تم
نے انہیں یاد رکھا یا بھلادیا؟… وہ بھی چاہتے تو بمبئی اور دہلی کی حسیناؤں کو
اپنی بغل میں لیے پھرتے… مگر وہ اسلام اور پاکستان کے لئے ماریں کھا رہے ہیں…
پاکستان کے تنخواہ خور محافظوں کو اس بات کی کیا فکر کہ ان عقوبت خانوں میں کتنی
جوانیاں آگ میں جلا دی گئیں… اور کتنی زبانیں پاکستان زندہ باد کہنے کے جرم میں
کاٹ دی گئیں… ہمارے عہدہ پرست، تنخواہ خور محافظوں کو تو بس اپنے اسٹارز کی فکر ہے
کہ ترقی کب ہوگی؟… ان کے دماغ سوچ سے اور دل جذبے سے خالی ہیں… اوپر والے جو کیسٹ
ان کے دماغ میں ڈال دیں وہ ان کی زبانوں پر… فر فر چلنے لگتی ہے… حکمران مسلمان ہو
تو یہ اسلام کی تعریف میں بولتے نہیں تھکتے… اور حکمران کوئی بددین روشن خیال ہو
تو پھر ان کی تقریریں بھی اسی کے ساتھ گھوم جاتی ہیں… ہاں مجھے چیخیں سنائی دیتی
ہیں… چھوٹے چھوٹے بچوں کی چیخیں اور خوبصورت جوانوں کی چیخیں…
مجھے
یاد ہے کہ عید کا مبارک دن تھا ساری دنیا کے مسلمان گوشت اور مٹھائیاں کھا رہے
تھے… جبکہ سری نگر کے اس عقوبت خانے میں… تمام مسلمان قیدی صرف اپنے آنسو پی رہے
تھے… اور اپنے بستروں میں ہچکیاں لے لے کر رو رہے تھے… اگر جہاد کشمیر کو روشن
خیالی کے ناپاک بت پر ذبح کرناتھا تو پھر اتنی دیر کیوں لگائی؟… کون جواب دے گا
ہزاروں جوانیوں کا جو خاک کا پیوند بن گئیں… کون جواب دے گا ہزاروں سہاگوں کا جو
دن دہاڑے اجڑ گئے… لوگوں نے اپنے کندھوں کے اسٹار بڑھا لیے… کئی کو موٹی موٹی
پینشنیں مل گئیں… کئی کو زمینیں اور پلاٹ الاٹ ہوگئے… کیا ان لوگوں کے سینے میں دل
نہیں ہے؟…کیا انہوں نے مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضری نہیں دینی؟… کیا
امریکہ ان کو قبر کے عذاب سے بھی بچائے گا؟… معلوم نہیں یہ بے حس طبقہ کس مٹی سے
بنا ہے… کاش ان میں تھوڑا سادردہوتا…
بات
چل رہی تھی… ذہن سازی کی… کہ مظلوم مسلمانوں کو کس طرح سے گمراہ کرنے کی کوشش کی
جاتی ہے… ایک بار سری نگر میں کسی بڑے افسر یا حکمران کا دورہ تھا… انڈین آرمی نے
اپنی کارکردگی دکھانے کیلئے… تمام غیر ملکی قیدیوں کو اس کے سامنے پیش کرنا تھا…
چنانچہ … قیدیوں کے بکھرے بال زبردستی سیدھے کیے گئے… ان کے منہ صابن سے دھلوائے
گئے اور صاف کپڑے پہنا کر ایک کمرے میں بٹھادیا گیا… تھوڑی دیر بعد… خفیہ ادارے کا
ایک افسر بہت مہذب طریقے سے اندر آیا … جب اس نے بات شروع کی تو ہم پہچان گئے کہ
وہ … کشمیری پنڈت ہے… اس نے مجاہدین کا ذہن بدلنے کیلئے لمبی چوڑی تقریر کی… مجبور
قیدی خاموشی سے سنتے رہے… ہماری خاموشی نے اس کی ’’خطابت‘‘ کو چار چاند لگادئیے…
وہ بہت کچھ بکتا رہا اور ہمدردی کے پتے پھینکتا رہا… تب اللہ تعالیٰ نے مجھے ہمت اور توفیق دی… میں نے… چند
باتیں بلند آواز سے کرلیں… بس پھر کیا تھا پنڈت غصے اور بے چینی سے بدحواس ہوگیا…
تھوڑی دیر پہلے وہ ’’انسانیت‘‘ اور ’’ہمارا اور آپ کا خون ایک‘‘ کے موضوع پر خطاب
کر رہا تھا… اور اب غصے میں گدھے کی طرح دھاڑ رہا تھا کہ تم لوگ دہشت گرد ہو… میرا
دل چاہتا ہے کہ ابھی ابھی تمہیں فائرنگ اسکواڈ کے حوالے کردوں… وہ گولیاں مار کر
تمہاری دھجیاں بکھیردے… چونکہ مجلس کا رنگ بدل چکا تھا اس لیے ایک مجاہد ساتھی نے
کہا… پنڈت جی خالی ہاتھ مسلمانوں پر گرم ہو رہے ہو؟… ایک کلاشن میرے ہاتھ میں دو
اور ایک خود پکڑو پھر دیکھو میں تمہاری بہادری کس طرح سے نکالتا ہوں؟… پنڈت یہ سن
کر غصے میں کچھ بکتا ہوا باہر نکل گیا… میں اکثر اس طرح کے افسروں سے کہا کرتا تھا
کہ آپ کی تو ’’نوکری‘‘ ہے اور ہمارا نظریہ ہے… آپ لوگ ہم پر اتنی محنت نہ کریں
کیونکہ آپ کے بڑے لیڈروں نے اگر دہلی میں بیٹھ کر کوئی اور فیصلہ کرلیا تو پھر
آپ کی اس محنت کا کیا بنے گا؟… اس لیے بس اپنی ڈیوٹی پوری کرو اور انسانیت وغیرہ
کی باتیں چھوڑو … آپ لوگ تو روبوٹ ہیں… آپ کے اوپر والے آپ کو حکم دیں کہ دن کو
رات اور رات کو دن کہو تو آپ پوری اطاعت کریں گے… جب آپ لوگوں کا کوئی ’’ایمان‘‘
اور ’’نظریہ‘‘ ہی نہیں ہے تو پھر اتنی لمبی تقریریں کر کے اپنا گلا خشک کیوں کرتے
ہو… ممکن ہے آپ ایک موضوع پر تقریر کرو… اور اچانک اوپر کے افسر کا حکم آجائے کہ
اب ہماری پالیسی اس کے بالکل الٹ ہے تو آپ کو فوراً اپنی تقریر بدلنی پڑے گی…
جبکہ مجاہدین… اللہ پاک کے فضل سے ایک واضح اور مضبوط نظریہ رکھتے ہیں… تم ان کو
مارو یا کاٹو… ان شاء اللہ ان کے نظریات نہیں بدلیں گے… اور اگر تم ان کے جسم کو
پاؤں کے انگوٹھے سے کاٹنا شروع کرو… اور ان کی گردن تک کاٹتے چلے جاؤ تو… ان شاء
اللہ ان کی ہر بوٹی اور ہڈی میں… تمہیں وہی نظریہ نظر آئے گا… یہ لوگ اللہ تعالیٰ
کو ماننے والے ہیں… یہ حضرت محمد ا کے امتی ہیں… یہ اپنی جانیں اللہ تعالیٰ کو
فروخت کر چکے ہیں… اور اب اپنا بیچا ہوا سامان حوالے کرنے کے لئے تڑپ رہے ہیں… ان
لوگوں کو حوروں کے پیغام آتے ہیں… یہ لوگ جنت کی خوشبو سونگھتے ہیں… اور یہ لوگ…
اس دنیا میں رہنا اپنے لئے بوجھ سمجھتے ہیں… چودہ سو سال ہو گئے… ہر فرعون اور
نمرود نے جہاد ختم کرنے کی کوشش کی… مگر… کوئی بھی کامیاب نہ ہو سکا…اب بھی… ان
شاء اللہ… سب ناکام ہو جائیں گے… اور جہاد جاری رہے گا…جہاد کی بیعت وہ عزت کا
جھنڈا ہے جس کی خاطر دونوں بازو… اور پھر گردن خوشی سے کٹائی جا سکتی ہے… یہ بیعت
ہمارے لئے رب تعالیٰ تک پہنچنے… اور اسے خوش کرنے کا ذریعہ ہے… اس کی خاطر تو ساری
دنیا سے دشمنی مول لی جا سکتی ہے…
حکمران
آتے جاتے رہتے ہیں… بے نظریہ لوگوں کی تقریریں چلتی رہتی ہیں… جو لوگ کہتے ہیں کہ
ہم اگر طالبان کا ساتھ دیتے تو مر جاتے… ہم نے امریکہ کا ساتھ دے کر خود کو بچا
لیا ہے… اللہ کی قسم یہ لوگ بھی اپنے وقت پر مر جائیں گے… تب انہیں معلوم ہو گا
کہ… موت سے کوئی نہیں بچ سکتا، موت اپنے مقررہ وقت پر ہی آتی ہے… پھر موت سے بچنے
کے لئے کافروں کا زر خرید غلام بننے سے کیا فائدہ!… قرآن پاک اول تا آخر ہمیں
یہی بات سمجھاتا ہے… اور طرح طرح کے سچے قصے سناتا ہے کہ… موت سے بھاگنے والے موت
سے نہیں بچ سکتے… جنہوں نے کہا کہ اگر ہم امریکہ کا ساتھ نہ دیتے تو وہ ہمارا
آملیٹ بنا دیتا اللہ پاک نے زلزلے کا ایک جھٹکا دے کر آملیٹ بنا دیا اور بستیوں
کو اکھاڑ دیا… اب بلاؤ امریکہ کو کہ وہ تمہیں زلزلے سے بچائے… کاش مسلمان قرآن
پاک کو سمجھتے… اور کاش مسلمان اس دنیا کی گندی اور تکلیف دہ زندگی کو اپنا مقصد
نہ بناتے… زلزلے سے پہلے ملک کے محافظ… مجاہدین اور دینداروں کے خلاف آپریشن کی
تیاری مکمل کر چکے تھے… ان عظیم لوگوں نے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں…
مجاہدین کے گھروں، مسجدوں اور اداروں پر چھاپے مارنے تھے… جیلوں اور عقوبت خانوں
میں ان روزے داروں اور شب بیداروں پر… ڈنڈے برسانے کی پوری تیاریاں کر لی گئی
تھیں… غیر ملکی سفیروں کو خوشخبری کے اشارے دیئے جا چکے تھے… مگر زلزلہ آگیا…
ہمارے حکمرانوں کو ایک لاکھ افراد کے مارے جانے کا افسوس نہیں ہوا…البتہ… انہیں
مجاہدین کے بچ جانے کا بے حد دکھ ہوا… انہوں نے آہ بھر کر کہا کہ… اس زلزلے نے تو
مجاہدین کی لاٹری نکال دی ہے… دل کی وہ حسرت اب رنگ لائی ہے اور اللہ کے بندوں کو
ستانے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے… قرآن پاک بتاتا ہے کہ ایسے حالات ہمیشہ سے حق
والوں پر آتے رہے ہیں… ایسے مواقع پر وہ نہ کمزور ہوتے تھے، نہ بزدلی دکھاتے تھے…
اور نہ جھکتے تھے… ہاں بس ایک ہی دعا مانگا کرتے تھے۔
ربنا
اغفرلنا ذنوبنا و اسرافنافی امرنا و ثبت اقدامنا وانصرنا علی القوم
الکافرین (اٰل عمران ۱۴۷)
اے
ہمارے رب… ہمارے گناہوں کو معاف فرما دے اور ہم نے اپنے کام میں جو غلطیاں کی ہیں
وہ بھی معاف فرما دے اور ہمیں مضبوطی عطا فرما… اور کافروں کے مقابلے میں ہماری
نصرت فرما…
کسی
زمانے میں ایک اللہ والے بزرگ تھے… خفیہ اداروں نے ان کی شکایت خلیفہ تک پہنچائی…
خلیفہ نے ان کو بلوایا… وہ نہ گھبرائے اور نہ جھکے… خلیفہ نے کوڑے مارنے کا حکم
دیا… کوڑے برسے تو ان کی زبان پر یہی دعاجاری ہو گئی… سبحان اللہ … اللہ تعالیٰ کے
عاشق بھی عجیب ہیں… انڈین فوجیوں کو جب مار پڑتی ہے تو وہ انڈیا کو گالیاں دیتے
ہیں… ایسے بے شمار واقعات مجھے معلوم ہیں… امریکہ کے فوجیوں پر مار پڑتی ہے تو وہ
امریکہ اور اس کے صدر کو گالی دیتے ہیں کہ ہمیں مروا دیا… مگر جب اللہ کے عاشقوں
کو مار پڑتی ہے تو تڑپ کر کہتے ہیں… یا اللہ قصور وار ہم ہیں… آپ ہمیں معاف فرما
دیں… یا اللہ معاف فرما دے… یا اللہ معاف فرما دے… وہ بزرگ بہت بوڑھے تھے … اللہ
پاک نے انہیں زیادہ نہیں آزمایا… اور فوراً شہادت عطاء فرما دی…
سبحان
اللہ… کیسی خوش بختی کہ شہادت مل گئی… تکلیفوں والی زندگی سے نجات دے کر… مزے اور
راحت والی زندگی عطاء ہو گئی… ان کو مارنے والے بھی چند دن بعد اپنے وقت پر مر
گئے… آج وہ مردہ ہیں… اور جن کو مارا گیا وہ زندہ ہیں… یا رباّ! کتنی میٹھی ہے
شہادت… کتنی پیاری ہے شہادت اور کتنی حسین ہے شہادت… اگر مجنوں شہادت کی ہلکی سی
خوشبو سونگھ لیتا تو وہ لیلیٰ کو بھول جاتا… مگر ہم لوگ ذلت اور تکلیف کے ساتھ
جینے کو شہادت پر ترجیح دیتے ہیں… اللہ پاک ہماری حالت پر رحم فرمائے… اور ہمیں
زندگی، موت کا قرآنی عقیدہ سمجھنے اور اپنانے کی توفیق عطا فرمائے… معلوم نہیں
مجھے آج یہ بکھری ہوئی باتیں کیوں یاد آرہی ہیں؟… کیوں یاد آرہی ہیں؟… میرے کان
کیوں چیخیں سن رہے ہیں؟… مجھے سجاد شہید کا گلابی چہرہ کیوں یاد آرہا ہے؟ مجھے ان
کے جسم پر پڑے ہوئے نیلے نیلے داغ کیوں یاد آرہے ہیں؟
مجھے
نہیں معلوم میرے دل میں ایک ’’شعلہ‘‘ بار بار کیوں ابھر رہا ہے؟ ہاں مسلمانو! مجھے
نہیں معلوم کے میرے دل و دماغ پر کیا گزر رہی ہے؟ کیا گزر رہی ہے؟
ربنا اغفرلنا ذنوبنا و اسرافنافی امرنا و ثبت اقدامناوانصرنا علی القوم الکافرین۔
٭٭٭
اللہ
پاک کی قسم تم ہمارے سید اور آقا حضرت محمد ا کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے… تمہارے باپ
دادا بھی ان کا کچھ نہ بگاڑ سکے… گندی نسل کے کیڑو! گالیاں دینے اور کارٹون بنانے
سے تمہیں کیاملا؟… حسد کی آگ میں جلتے رہو رب کعبہ کی قسم تم کبھی کامیاب نہیں ہو
سکو گے… تمہیں خوش فہمی تھی کہ مسلمان مٹ گئے… تم نے جشن منا لئے تھے… مگر اب
تمہیں احساس ہوا کہ نہ اسلام مٹا ہے نہ مسلمان …تو اب تم نے غم و غصے کی آگ میں
جل کر… ہمارے محبوب ا کوگالیاں بکنا شروع کر دیں… خبیث ظالمو! غم و غصے کی آگ میں
جل کر مر جاؤ… تم آقا مدنی ا کے دین کو نہیں مٹا سکتے… کاش تم میں غیرت نام کی
کوئی چیز ہوتی… کاش تم میں بہادری اور ہمت ہوتی تو آقا مدنی ا کے غلاموں سے پنجہ
لڑاتے… مگر غلاظت و خباثت کے غبارو! تم میںلڑنے کی طاقت کہاں ہے؟… تم تو ہمارے
غیرت سے عاری حکمرانوں کے سہارے جی رہے ہو ورنہ… اب تک… مسلمان تمہیں تمہاری اصلیت
دکھا چکے ہوتے… اپنے ایٹم بموں پر فخر نہ کرو… اپنے اسلحے اور بدکار فوجیوں پر ناز
نہ کرو… یہ پانی کے بلبلے… اور مٹی کا ڈھیر ہیں… تم نے ہر جگہ مسلمانوں سے مار
کھائی ہے… اور اب بھی الحمدللہ… ہر جگہ مار کھا رہے ہو… اسی لئے تو تمہیں اس پاک ہستی
پر غصہ آتا ہے جو آج بھی دلوں پر راج کر رہی ہے… اور جس کا نام اور جس کی شان
اللہ پاک نے آسمان سے بھی بلند کردی ہے… ورفعنالک ذکرک … ہمارے آقا ا نے ماں باپ
کی گالیاں دینے سے منع فرمایا ہے… ورنہ میں آج کارٹون بنانے والے منحوس سے اتنا
ضرور کہتا کہ جا کر… اپنی ماں سے اپنے باپ کا نام تو پوچھ لو… شاید وہ چھانٹی کر
کے بتا سکے… مگر میں یہ بات نہیں پوچھتا… البتہ… اتنا ضرور پوچھتا ہوں کہ… اب تم
پر اور تمہارے دل پر کتنی لعنت برس رہی ہے؟ میرے آقا مدنی ا کے لئے تو یہ سب کچھ
نیا نہیں ہے… وہ مکہ میں تھے تو تمہارے باپ دادا کا ان سے یہی رویہ تھا… وہ مدینہ
پہنچے تب بھی تمہارے باپ دادا اسی طرح بکتے رہے… اسی طرح جلتے رہے… مگر کیا ہوا؟…
تمہارے کلیسا کا راج دنیا کے اکثر حصہ سے ختم ہو کر ویٹی کن کے چھوٹے سے شہر… اور
پوپ کی آدھی ٹوپی میں رہ گیا جبکہ… میرے آقا کا دین مشرق و مغرب میں پھیل گیا…
تم نے گالیاں بکیں… اور تمہارے کلیسا اور چرچ بے حیائی کا مرکز بن گئے… اور ان پر
’’برائے فروخت‘‘ کے بورڈ لگ گئے… جبکہ… آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی اذان پوری دنیا
میں گونجنے لگی… تم نے کارٹون کیوں بنایا؟… کیا تمہیں آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم
کا غلام خالد بن ولید رضی اللہ عنہ… اور ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ یاد آگیا
تھا… ہاں ہاں جل مرو… آقا کے غلاموں نے تمہارے باطل کو توڑا تھا… تم نے کارٹون اس
لیے بنایا کہ تمہیں سلطان صلاح الدین ایوبی یاد آگیا تھا… آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ادنیٰ سا غلام … جس نے …تمہاری
نسلوں کو چھٹی کا دودھ یاد دلادیا تھا… کیا تمہیں سلطان بایزید یلدرم اور محمد شاہ
ثانی نے خواب میں آکر ڈرا دیا… او بزدل گیدڑ!… کیا تجھے قسطنطنیہ میں پاپا کے تخت
کا ٹوٹا ہوا پایا یاد آگیا تھا؟… یا تجھے آج کے وہ فدائی یاد آگئے… جنہوں نے…
ثابت کر دیا ہے کہ وہ آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے غلام ہیں… تمہارے
بم، تمہارے ڈالر، تمہارے یورو، تمہارے فوجی اور تمہارے نام نہاد مسلمان ایجنٹ… ہر
دن ناکام ہو رہے ہیں… اس لئے تمہیں غم پہنچا اور تم نے کارٹون بنا ڈالا… کاش تم نے
اپنی ماں کا دودھ پیا ہوتا تو کارٹون بنانے کی بجائے میدان میں نکل کر مسلمان
فدائیوں کا مقابلہ کرتے… مگر کہاں؟ تم تو اب اپنی شکل بھی نہیں دکھاؤ گے… مجھے
یقین ہے کہ تم میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت نہیں بنا سکتے… ان جیسا تو
اللہ پاک نے کسی کو نہیں بنایا… ہاں تم نے ظلم کیا، تم نے گستاخی کی، تم نے ہمارے
دلوں پر خنجر کا وار کیا… اور تم نے بے حیائی میں خنزیر کو پیچھے چھوڑ دیا… تمہیں
معلوم نہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثار کیسے لوگ ہیں؟… تم نے ٹی
وی پر مسلمانوں کے حکمرانوں کو ناچتا گاتا… اور کافروں کے لباس میں مسکراتا دیکھ
کر غلط اندازہ لگایا… تم نے ڈالروں اور نوٹوں کی خاطر کافروں کے بوٹ صاف کرنے والے
مسلمانوں کو دیکھ کر غلط اندازہ قائم کیا… نہیں رب کعبہ کی قسم محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کے جانثار اپنی وفاداری… اور دیوانگی میں بے مثال ہیں… کاش تم تاریخ پڑھ کر
دیکھتے… اور کاش تم آج کے حقیقی مسلمانوں کے حالات پر نظر دوڑاتے…آؤ… میں تمہیں
چند مناظر دکھاتا ہوں… اور پھر ایک سچی بات… ہاں بالکل سچی بات بتلاتا ہوں…
چند
مناظر
(۱) بیعت
رضوان کے موقع پر عرب کا مشہور دانشور عروہ بن مسعود حضور پاک صلی اللہ علیہ
وسلم سے مذاکرات کے لئے آیا… گفتگو کے دوران اس نے اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ
علیہ وسلم کی ڈاڑھی مبارک پر لگایا تو اس کے بھتیجے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا کہ مشرک کا ہاتھ
آقا صؒی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی مبارک کو نہ چھوئے… حالانکہ عروہ نے
عربوں کی عادت کے مطابق ہاتھ لگایا تھا… گستاخی سے نہیں…
او
کارٹون بنانے والے شیطان! کاش تیرا گستاخ ہاتھ ہمیں نظر آجائے…
(۲) عروہ
بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضور ا کی مجلس میں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب
کوئی حکم دیتے تو ہر صحابی یہ چاہتا کہ سب سے پہلے وہ یہ حکم بجا لائے… جب آپ صلی
اللہ علیہ وسلم لعاب مبارک نکالتے تو وہ زمین پر نہ گرتا صحابہ کرام رضوان اللہ
علیہم اجمعین سے ہاتھوں میں لے کر چہروں پر مل لیتے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم
وضو فرماتے تو وضو سے گرنے والے پانی پر ہر کوئی اس طرح بڑھتا کہ قریب ہوتا کہ اس
کی خاطر لڑائی ہو جائے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم سے کوئی بال گرتا تو
وہ اسے سنبھال لیتے… اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو فرماتے تو ہر طرف
سناٹا چھاجاتا…
او
گستاخی کرنے والے ظالم… تو نے کس ذات پر انگلی اٹھائی ہے رب کعبہ کی قسم آج بھی
امت کے دلوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں قربانی دینے کا جذبہ
اسی طرح موجزن ہے…
(۳) غزوہ
احد کے موقع پر آپ ا پر مشرکین کا ہجوم ہو گیا اور آپ گھیرے میں آگئے تب انصار
کے سات نوجوان ایک ایک کرکے آگے بڑھتے گئے اور اپنی تلواروں اور جسموں سے آپ صلی
اللہ علیہ وسلم کی ڈھال بن کر کٹ گئے… ہاں وہ سب فدا ہو گئے… اور جنت پا
گئے…
او
گستاخ ظالمو!… ان سات خوش نصیبوں کے پیچھے دوڑنے والے آج بھی زندہ ہیں… ہائے کاش،
ہائے کاش… اور سنو ان سات میں سے ایک زیاد بن سکنؓ بھی تھے… وہ طوفان بن کر ان
لوگوں سے ٹکرائے جنہوں نے آقا صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کیا تھا… حضرت
زیاد نے ان کو مار مار کر پیچھے دھکیل دیا اور خود زخموں سے چور ہو کر گر گئے… پھر
پتا ہے کیا ہوا؟… حضرت زیاد گھسٹ گھسٹ کر آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں
تک پہنچے اور اپنا سر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر رکھ دیا… اور جان
اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دی… ہائے کتنی بڑی سعادت ہے، کتنی بڑی خوش نصیبی… اے میرے
نبی پر حملہ کرنے والو!… حضرت زیاد رضی اللہ عنہ کے جانشین زندہ ہیں… نبی کے قدموں
پر اپنا منہ رکھنے کی خواہش… ہر تمنا اور خواہش سے بڑھ کر ہے… قیامت کے دن کیا خبر
کس کے بھاگ جاگ جائیں… کس کی قسمت چمک جائے… اور آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے
قدموں کا ایک بوسہ نصیب ہو جائے… اس سعادت کو پانے کے لئے جسم کی ہر بوٹی کٹ جائے
تو سودا سستا ہے، بہت سستا…
(۴) غزوہ
احد کے دن آقا صلی اللہ علیہ وسلم پر تیروں کی بوچھاڑ تھی… حضرت طلحہ رضی
اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ پر تیر روکے… وہ ہاتھ ہمیشہ کے لئے شل ہو گیا… مگر آقا صلی
اللہ علیہ وسلم تک کوئی تیر نہ پہنچ سکا… اور سنو جب تیروں کی بوچھاڑ زیادہ
ہو گئی تو حضرت ابود جانہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے
کھڑے ہو گئے… انہوں نے چہرہ تو آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر لیا اور
پیٹھ دشمنوں کی طرف… آنکھوں سے محبوب کا دیدار کر رہے تھے اور پیٹھ پر تیر کھا
رہے تھے… معلوم نہیں کتنے تیر جسم میں اتر گئے مگر… اس اندیشہ سے اپنی جگہ سے نہ
ہٹے کہ کوئی تیر آقا صلی اللہ علیہ وسلم تک نہ پہنچ سکے… ایک موقع پر حضور
پاک صلی اللہ علیہ وسلم گر گئے تو حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے خود کو سیڑھی
بنا دیا… آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر پاؤں رکھ کر اوپر محفوظ جگہ تک جا پہنچے…
یورپ
کے سود خور شرابیو! کس کس منظر کو سناؤں… حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی داستان
کہوں کہ کس طرح سانپ سے ڈسے گئے… مگر آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر
پاؤں نہ ہٹایا… یا سلطان ایوبی کی بات سناؤں جس نے ایک عیسائی جرنیل کی طرف سے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی پر آرام چھوڑ دیا… اور بدلہ لے کر دم
لیا…
او
ظالمو! ہماری تاریخ تابناک ہے اور ہمارا حال بھی الحمد للہ عاشقوں اور جانثاروں سے
خالی نہیں ہے… محلات میں رہنے والے ہمارے عیاش حکمرانوں کی بزدلی سے دھوکا مت
کھاؤ… جھونپڑیوں اور کچے کمروں میں اسلام کے سچے عاشق تمہاری اس ظالمانہ حرکت پر
راتوں کو اٹھ اٹھ کر رو رہے ہیں… میرے پاس مناظر کا ڈھیر ہے… جو میں تمہیں دکھا
سکتا ہوں میرے پاس اونچے اونچے کردار ہیں… حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ، حضرت
سالم بن عمیر رضی اللہ عنہ… اور نابینا مجاہد اور عاشق رسول حضرت عمیر بن عدی رضی
اللہ عنہ و غیر ھم… ان سب نے گستاخانِ رسول سے اللہ تعالیٰ کی زمین کو پاک کیا…
میں ان مناظر کا تذکرہ روک کر ایک بالکل سچی بات کہنا چاہتا ہوں… میں زندہ
رہا یا مرگیا… ان شاء اللہ… دنیا اس بات کی سچائی کا اعتراف کرے گی…
سچی
بات
امریکہ
اور یورپ کے لوگو!… اگر تم زمین پر امن چاہتے ہو… اور اپنی دنیا کی اس زندگی کے
مزے لوٹنا چاہتے ہو تو پھر… حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی
سے باز رہو… اور جن لوگوں نے یہ ظلم کیا ہے ان کو خود عبرتناک سزا دو… ورنہ رب
کعبہ کی قسم یہ دنیا خون اور آگ سے بھر جائے گی اور ہر طرف خوفناک تباہی ہی تباہی
ہو گی… ہم مسلمان اچھے ہیں یا برے؟، ہم امن پسند ہیں یا دہشت گرد؟… اس کا فیصلہ جب
ہونا ہو گا ہو جائے گا… مگر ایک بات بالکل پکی ہے کہ… ہمیں وہ دنیا بالکل اچھی
نہیں لگتی جس میں ہمارے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کی
جاتی ہو… یقین کرو ہمیں ایسی دنیا کا وجود تک گوارا نہیں… ہاں ہم اس بارے میں پاگل
ہیں، ہم اس بارے میں مجبور ہیں… اے صبح کے وقت کی ہواؤ… اے اللہ کے فرشتو! حضور
پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اطہر تک ہمارا سلام پہنچا دو… اور عرض کر دو
کہ آقا! ہم بہت شرمندہ ہیں! بہت شرمندہ… آقا ہم بہت شرمندہ ہیں، بہت شرمندہ…آقا
ہم بہت شرمندہ ہیں… آقا ہمیں معاف کر دیں… ہم اس خبیث دنیا کے پیچھے پڑ گئے… ہم
نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو چھوڑ دیا… ہم عزت ذلت اور کار کوٹھی
کے چکر میں پھنس گئے… ہم عہدے بازی اور تفرقات میں ڈوب گئے… ہمیں زندہ رہنے کے شوق
نے مکڑی کا جالا بنا دیا… ہمیں زمینوں اور پلاٹوں کے شوق نے مٹی کا ڈھیر بنا دیا…
اور ادھر اے آقا آپ کی توہین کرنے کی کوشش کی گئی… آقا ہم شرمندہ ہیں… اور آپ
کی حرمت پر کٹ مرنے کے لئے تیار ہیں… آقا معاف فرمادیں… آقا ہم شرمندہ ہیں…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ان کے شر سے امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے…
گذشتہ رات ریڈیو پر ان کی باتیں سنیں تو دل غم میں… اور سر ’’درد‘‘ میں ڈوب گیا…
وہ مسلمانوں کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے تھے… بی بی سی اردو سروس والوں نے
برطانیہ میں مقیم ’’اسلامی اسکالر‘‘ ڈاکٹر غیاث الدین صدیقی صاحب کو اپنے پروگرام
’’ٹاکنگ پوائنٹ‘‘ میں دعوت دی تھی کہ وہ… شان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کے مسئلے پر لوگوں کے
سوالات کے جواب دیں… میں نے سوچا کہ شاید وہ امت مسلمہ کے زخموں پر مرہم رکھیں گے
مگر وہ تو پکّے ’’روشن خیال‘‘ نکلے… ان کو ناپاک کارٹونوں پر اتنا دُکھ نہیں تھا
جتنا صدمہ انہیں مسلمانوں کے احتجاج پر تھا… وہ آخرت کے خوف سے بے نیاز ہو کر
عجیب عجیب باتیں بولتے چلے گئے…
علامہ
اقبالؒ نے غالباً اسی لیے فرمایاتھا:
میاں
نجار بھی چھیلے گئے ساتھ
نہایت
تیز ہیں یورپ کے رندے
ڈاکٹر
غیاث الدین اس بات پر دُکھی تھے کہ مسلمان اتنے سخت جذباتی کیوں ہو رہے ہیں؟… اس
سے تو یورپ کو بہت غلط میسج جائے گا اور وہ سمجھیں گے کہ مسلمان واقعی ’’شدت
پسند‘‘ ہوتے ہیں… واہ ڈاکٹر صاحب واہ!… آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی پر بھی آپ کا دل نہ رویا…
معلوم نہیں کس مٹی سے آپ جیسے لوگ بنے ہیں… آپ نے جس قدر ظالمانہ باتیں کیں ان
کا جواب کسی نہ کسی دن تو آپ کو دینا ہی پڑے گا … کیا برطانیہ کی شہریت اتنی
قیمتی چیز ہے کہ اس کی خاطر ’’غیرتِ ایمان‘‘ بھی بیچی جاسکتی ہے؟… آپ نے کفر اور
اسلام کو برابر قرار دے کر اللہ پاک کی کتاب سے منہ موڑا… آپ نے کہا جب کوئی
غیر مسلم اسلام قبول کرتا ہے تو ہم خوش ہوتے ہیں اور جب کوئی مسلمان اسلام چھوڑ کر
کسی اور مذہب کو اختیار کرتا ہے تو ہم اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں… تو کیا ڈاکٹر
صاحب! کفر اور اسلام آپ کی نظر میں ایک جیسے ہیں؟… کیا ماضی میں کسی مسلمان
اسکالر نے اسلام کی ایسی خوفناک گستاخی کی ہے؟… اگر کفر اور اسلام ایک جیسے ہیں تو
پھر صحابہ کرام نے اسلام کی خاطر ماریں کیوں کھائیں؟… اور اللہ کے
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری دنیا کو اسلام کی دعوت کیوں
دی؟… پھر آپ نے کہا کہ دنیا بہت آگے نکل گئی ہے اور ہم مسلمان پیچھے رہ گئے ہیں…
ڈاکٹر صاحب دنیا کس چیز میں آگے نکل گئی ہے؟… کیایہ دنیا اور اس کی زیب وزینت
انسان کا مقصود ہے؟… دنیا تو قوم عاد کے زمانے میں بہت آگے نکل گئی تھی… اور
قرآنی الفاظ سے اشارہ ملتا ہے کہ انہوں نے موجودہ زمانے کی ترقی سے بہت زیادہ
ترقی کرلی تھی… اگر جناب کو عربی آتی ہو تو ’’لعلکم تخلدون‘‘ کے الفاظ
پر غور فرمائیں کہ قوم عاد کی ترقی موجودہ زمانے کی ترقی سے کئی ہاتھ آگے تھی… تب
حضرت ہود علیہ السلام نے انہیں آخرت کی یاد دلائی… توحید کی دعوت دی… تو کیا آگے
بڑھتی قوم کو اللہ کے نبی نے پیچھے دھکیلا؟… اور پھر قوم عاد اپنی
تمام تر ترقی کے ساتھ تباہ کردی گئی… یاد رکھنا ڈاکٹر صاحب! موجودہ ترقی بھی اسی
طرح تباہ ہوگی… اور تب آپ جیسے لوگ جنہوں نے ’’گاڑی اور موبائل‘‘ کو ترقی سمجھ کر
اسلام کو حقیر قرار دیا ہے… بہت پچھتائیں گے، بہت پچھتائیں گے… ہائے کاش آپ نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان حجروں کو یاد کرلیتے جن میں آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی بسر فرمادی… ڈاکٹر صاحب! کیا
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے پیچھے رہ گئے تھے؟… اس زمانے
میں روم وفارس کے بادشاہ آج کے حکمرانوں سے زیادہ قیمتی لباس پہنتے تھے اور اپنے
محلات اور کرسیوں کو سونے، چاندی سے سجاتے تھے… اگر اس زمانے میں آپ اور وحید
الدین خان جیسے اسکالر زندہ ہوتے تو نعوذباللہ اسلام کو اس لیے ’’حقیر‘‘ کہہ دیتے
کہ اسلام کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی غلاظت کے ڈھیر اپنے پاس
جمع نہیں کیے تھے؟…
ڈاکٹر
صاحب… قرآن اور دین کو بدلنے سے کام نہیں چلے گا آپ جیسے لوگ ہی مسلمانوں کی
ترقی میں رکاوٹ ہیں… آپ لوگ دین کے نام پر دنیا کی طرف بلاتے ہیں… آپ لوگ
مسلمانوں کو ’’مہذب گیدڑ‘‘ بننے کی دعوت دیتے ہیں… آپ لوگ برطانیہ اور یورپ کی
روشنی سے مرعوب ہیں… آپ لوگوں کے دلوں سے اسلام کی عظمت نکل چکی ہے… آپ لوگوں کو
’’فقرِغیور‘‘ کے معنیٰ بھول چکے ہیں… آپ مسلمانوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ زیادہ
سے زیادہ انگریزی علوم پڑھیں… تاکہ یورپ کے بوٹ پالش کرنے والوں کی تعداد میں
اضافہ ہو… آپ بار بار ایک ہی جملہ دہرا رہے تھے کہ یورپ سیکولرازم کی زبان
سمجھتا ہے اس لیے ہمیں اس کے ساتھ یہی زبان بولنی چاہئے… تُف ہو ایسی عقل مندی اور
دانشوری پر… ہم مسلمان ہو کر سیکولر زبان بولیں؟… آخر کیوں؟… کیا یورپ کا بدکار
معاشرہ ہماراخدا ہے؟… کیا یورپ کے ناپاک لوگ دنیا کے حکمران ہیں؟… کیا ہماری
کامیابی اور ناکامی کی چابی یورپ کے ہاتھ میں ہے؟… ہاں یورپ کے لوگوں نے مذہب کو
شکست دی ہے، ہم یہ بات مانتے ہیں… مگر انہوں نے جھوٹے اور باطل مذاہب کو شکست دی
ہے… اسلام کو شکست دینا ان کے بس میں ہی نہیں ہے… اسلام کی گود ابھی ہری ہے… اسلام
کادامن ابھی تک فدائیوں سے لبریز ہے… ہمیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک زبان سکھلائی ہے … ہم
کمزور ہوں یا طاقتور… ان شاء اللہ … وہی
زبان بولتے رہیں گے…
ہمارے
آقا صلی اللہ علیہ وسلم … ان کے پاؤں کی خاک پر میں قربان…
انہوں نے اپنے مُٹھی بھر جاںنثاروں کے ساتھ مدینہ منورہ میں… ایک … اسلامی ریاست
قائم کی … بہت چھوٹی سی ریاست… بہت سادہ سی ریاست… اور آپ جیسوں کی نظر میں…
(نعوذباللہ) غیر ترقی یافتہ اور پسماندہ ریاست… اور پھر پوری شان کے ساتھ اس ریاست
سے کچھ وفود روانہ ہوئے… انہوں نے پھٹے ہوئے پیوند لگے کپڑے پہن رکھے تھے… ا ن کی
تلواروں کے دستوں پر لتّے بندھے ہوئے تھے… مگر ان کے دل احساس کمتری سے پاک تھے…
جی ہاں… وہ احساس کمتری جس نے آپ جیسے اسکالرز کو دین کی تحریف پر مجبور کر رکھا
ہے… ان وفود کے پاس کچھ ’’خطوط‘‘تھے… سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط… یہ خطوط کچی دیواروں اور
کھجور کی ٹہنیوں سے بنی ’’مسجد نبوی‘‘ میں بیٹھ کر لکھے گئے تھے… ان خطوط کا سب سے
نمایاں جملہ… جس کے ذریعے دنیا کے بادشاہوں کو خطاب کیا گیا تھا… سیکولر زبان میں
نہیں تھا… اس جملے کی گونج آج تک سنائی دے رہی ہے… أَسْلِم تَسْلَم …
اسلام لے لاؤ، سلامت رہو گے… ڈاکٹر صاحب! آپ کو تکلیف تو ہو گی… مگر میں اس جملے
کا اصل ترجمہ لکھتا ہوں…
اے
دنیا کے بادشاہو! سلامتی چاہتے ہو تو اسلام قبول کرلو…
واہ
مزہ آگیا… سبحان اللہ کتنی خوبصورت زبان ہے… رب کعبہ کی قسم مسلمان کو
بس یہی زبان زیب دیتی ہے… نمرود کے پاس حکومت تھی ترقی تھی… حضرت ابراہیم علیہ
السلام نے ’’سیکولر ڈائیلاگ‘‘ نہیں کیا… کلہاڑا اٹھایا… اور بتوں کو توڑ دیا…
ڈاکٹر صاحب آپ کو تو بُرا لگا ہوگا… اس طرح تو نفرت پھیلتی ہے نا؟… مگر مجھے تو
یہ ادا ایسی پسند آگئی کہ ہر دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کئی کئی بار سلام
بھیجتا ہوں… اور نمرود کا نام تک نہیں لیتا… یاد رکھنا ڈاکٹر صاحب!… دنیا ٹونی اور
بش کو بھول جائے گی… مگر میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے جاںنثار امتی زندہ رہیں گے…
ڈاکٹر صاحب! اگر آپ کے نزدیک یورپ کا ویزہ ہی سب کچھ ہے… اگرآپ کے نزدیک دنیا کی
ترقی کامیابی کا معیار ہے… اگر آپ کے نزدیک اسلام اور مسلمان (نعوذباللہ) حقیر
ہیں ، تب تو آپ سے بات کرنا فضول ہے… اللہ پاک آپ کے خیالات اور نظریات سے مسلمانوں کی
حفاظت فرمائے… اور آپ کو قارون سے زیادہ دنیا کی ترقی اور فرعون سے زیادہ اونچا
مقام عطا فرمائے… ہم لوگ تو غریب مسلمان ہیں…
فرعون
کا بڑا معزز مقام تھا (آپ کی سوچ کے مطابق) اور حضرت موسیٰ علیہ السلام ڈرتے
چھپتے پھرتے تھے (خائفا یتر قب) قارون مزے کر رہا تھا اور ترقی پر ترقی کرتا چلا
جارہا تھا … اور حضرت موسیٰ الٰہی علم سیکھنے کیلئے… بھوکے پیاسے جنگلوں کی خاک
چھانتے پھرتے تھے… اور جہاد کی خاطر ریگستانوں کی دھوپ جھیل رہے تھے… انہوں نے
فرعون سے ڈائیلاگ شروع نہیں کیا تاکہ ترقی میں شریک ہوجاتے… ڈاکٹر صاحب ہم غریب
مسلمان ہیں… ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ
علیہ وسلم کبھی کبھار بھوک کی وجہ سے کمر
کو سہارا دینے کیلئے پیٹ پر پتھر باندھ لیتے تھے… اس لیے آپ جیسے ترقی اور عزت کے
دلدادہ دانشوروں سے ہم نے کوئی بات نہیں کرنی… لیکن اگر آپ واقعی اسلام اور
مسلمانوں کے ساتھ مخلص ہیں… اور آپ یہی سمجھتے ہیں کہ انگریز بن کر انگریز کا
مقابلہ کرنے سے اسلام کو فائدہ پہنچے گا… اور یہ کہ مسلمانوں کو اسلامی غیرت اور
جذبات کسی برف خانے میں رکھ دینے چاہئیں… اس سے اسلام کو فائدہ پہنچے گا… تو پھر
ہمت کیجئے… اور ہمارے ساتھ دلائل سے بات کیجئے… القلم کے صفحات حاضر ہیں… ہم آپ
کی ہر بات شائع کریں گے… اور ان شاء اللہ اسی کالم میں جواب دیں گے… اگر یورپ سے بات چیت
ہوسکتی ہے تو… ایک غریب مسافر ’’سعدی‘‘ سے بات چیت میں کیا حرج ہے؟ آپ دل کھول کر
دلائل دیجئے اور ہم ان شاء اللہ دل کھول کر جواب عرض کریں گے… یہ گز ہے اور یہ
میدان… اسلام آپ کابھی دین ہے اور ہمارا بھی دین ہے… قرآن ہمارا بھی ہے اور آپ
کا بھی… دور بیٹھ کر لوگوں کو ’’جاہل‘‘ کہنے سے کام نہیں بنے گا… دور بیٹھ کر
لوگوں کو ان پڑھ بتانے سے کام نہیں بنے گا… آئیے ہم اور آپ خود کو… اللہ تعالیٰ کی کتاب کے حوالے کردیں… ہم خود کو سنت
نبوی کے حوالے کردیں… ہم اسلاف امت اور فقہاء اسلام کی تحقیقات سے فائدہ اٹھائیں…
اور ایک دوسرے کو سمجھانے کی کوشش کریں… اور حق بات کو تسلیم کریں…
کاش
خود کو ’’روشن خیال، اعتدال پسند اور روادار‘‘ کہنے والے … خود کو بھی اعتدال پسند
اور ’’روادار‘‘ بنالیتے… مگر ڈاکٹر صاحب! ایسا نہیں ہے، امریکہ اور یورپ کے ہاتھ
پر ’’روشن خیالی‘‘ کی بیعت کرنے والے بہت ظالم ہیں… اور دلیل کی بجائے طاقت پر
یقین رکھتے ہیں… کیونکہ … ان کا ’’پیر‘‘ بھی طاقت کے زور پر اپنے ’’گند‘‘ کو روشن
خیالی بنا کر دکھاتا ہے… مجھے آج اسلام آباد کے ہوٹل کی ایک تقریب یاد آرہی ہے…
بہت اصرار کے ساتھ مجھے اس میں بلایا گیا تھا… میں نے بار بار انکار کیا… مگر جب
حضرت مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ بھی دعوت دینے والوں میں شامل ہوگئے تو میں اس
’’محفل‘‘ میں حاضر ہوگیا… پاکستان کے ایک سابق فوجی جنرل اور وزیر داخلہ عدم تشدد
اور رواداری پر درس دے رہے تھے… اور اسلام، اسلام کر رہے تھے… میں نے گستاخی کی…
اور عرض کردیا کہ جناب اسلام، اسلام کرنے کی بجائے خود اسلام سے ہی پوچھ لیتے ہیں
کہ کیا ٹھیک ہے اور کیا غلط؟… وزیر داخلہ صاحب ٹائم نکالیں، میں قرآن پاک کی
سینکڑوں آیاتِ جہاد ان کو سناتا ہوں… وہ بھی… اپنے دلائل پیش کریں… ہمیں خود کو
اور مسلمانوں کے بچوں کو مروانے کا شوق نہیں ہے… اور نہ جہاد سے ہماری روٹی روزی
وابستہ ہے… ہم تو اس لیے جہاد کا نام لیتے ہیں کہ یہ اسلام کا ایک لازمی رُکن اور
فریضہ ہے… میں اسی طرح کی باتیں کرتا چلا گیا اور وزیر داخلہ صاحب … کے چہرے کا
رنگ بدلتا چلا گیا… رواداری اوربرداشت کا درس دینے والے ’’جنرل صاحب‘‘ خود چند حق
باتیں برداشت نہ کر سکے اور انتقام لینے پر اتر آئے…
اللہ اکبر … آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی ہو تو … یہ
’’روشن خیالے‘‘ برداشت برداشت کا سبق یاد دلاتے ہیں… مگر جب خود ان کی ذات کا
مسئلہ ہو تو پورے ملک کی سرکاری طاقت… اپنے ذاتی انتقام کے لئے جھونک دیتے ہیں… ان
کے اسی روییّ سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ ’’روشن خیالی‘‘ کسی نظرئیے کا نام نہیں ہے…
بلکہ یہ ’’ہندوفلاسفی‘‘ ہے کہ اپنے سے طاقتور کو سجدہ اور سیلوٹ اور اپنے سے کمزور
کو لات اورمُکّا…
آپ
تجربہ کرکے دیکھ لیں… آپ خود کو ’’روشن خیال، اعتدال پسند‘‘ کہلانے والے کسی
حکمران سے پوچھیں… جناب! کوئی (نعوذباللہ) اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کرے تو ہم کیا کریں؟…
جواب ملے گا برداشت کرو… اگر کوئی اسلام کیخلاف کچھ کرے؟… جواب ملے گا، کرتا رہے
تم برداشت کرو… جناب کوئی بدبخت حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم، آپ کے صحابہ کرام، آپ کی ازواج
مطہرات پر کچھ بکے؟… جواب ہوگا ہر کسی کی اپنی سوچ ہے، جذبات میں نہ آؤ… پھر
پوچھیں… جناب کوئی آپ کو یا آپ کی حکومت کو بُرا بھلا کہے… آپ کی ذات پر کیچڑ
اچھالے، آپ کی پالیسیوں پر تنقید کرے… جواب ملے گا کہ اس کو پکڑ لو، ماردو…
گرفتار کرو… اور ایسے لوگوں کو ختم کردو…
وحید
الدین خان ہو یا ڈاکٹر غیاث الدین صدیقی… ان سب کی خدمت میں پورے اخلاص کے ساتھ…
’’علمی مباحثے‘‘ کی دعوت پیش کی جاتی ہے… اگر آپ کا موقف سچا ہوا تو ہم انشاء اللہ اسے ضرور تسلیم کریں گے… اور اگر ہمارا موقف آپ
کو درست معلوم ہو تو… اللہ کیلئے… اسلام اور مسلمانوں کو مزید ذلیل اور
رُسوا قرار دینے کے جرم سے توبہ کرلیں… اور اگر اللہ تعالیٰ توفیق دے تو اسلام کی خاطر جہاد فی سبیل اللہ بھی کریں… اور دین کی خاطر ’’دنیا کے مفادات‘‘
کی قربانی دیں… مجھے معلوم نہیں کہ… یہ حضرات ہماری اس دعوت کو قبول کریں گے یا
نہیں؟… معلوم نہیں یہ مباحثہ ہوگا یا نہیں؟… ہاں مجھے اور بہت کچھ معلوم ہے… مجھے
معلوم ہے کہ بعض ماؤں نے اپنے جوان بیٹوں کو سینے سے لگا کر… دعاء دی ہے کہ… اللہ پاک تمہیں آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرنے والوں تک موت کا پیغام
بن کر پہنچائے… ہاں مجھے معلوم ہے … ابھی چند دن پہلے ایک خوبصورت اور تکڑا… پاک
صاف، سیدھا سادہ نوجوان سویا ہوا تھا… کمرے میں اندھیرا تھا اور وہ جوانی کی گہری
نیند میں غرق تھا… اچانک کمرے میں روشنی چھا گئی… زبردست روشنی… اس نے آنکھ
کھولی… دیکھا کہ دروازے کو کسی نے دو تین انگلیوں سے پکڑ رکھا ہے… اور ان انگلیوں
سے روشنی ہی روشنی پھوٹ رہی ہے… یہ منظر چند لمحے رہا… اور دو چار دن بعد… وہ …
نوجوان قربانی کے پل سے گزر کر ان انگلیوں والے روشن اور معطر ہاتھ کے پاس چلا گیا
… رب کی مہمانی… رب کی محبتیں … اور رب کے بلاوے… جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ایسے مزے کرا گئے… ہماری موت کو
زندگی بنوا گئے… ہمارے لیے بشارتوں کے دروازے کھلوا گئے… اور ہمیں اصل زندگی کا
راز بتا گئے… اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی ہو… اور ہم زندہ
رہنے کے خواب دیکھتے رہیں… ایسا بہت مشکل ہے… ایسا بہت مشکل ہے…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں کم ہمتی اور سستی
سے… اللہم انی اعوذبک من العجز والکسل… یہ پیاری دعاء حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیاری امت کو سکھائی ہے… میں
جس شہر میں رہتا ہوں وہاں ایک معیاری اور قدیم انگریزی اسکول ہے… اس ’’اسکول‘‘ کی
تعلیم اس قدر مہنگی ہے کہ جاگیرداروں، بڑے تاجروں اور رشوت خور سرکاری افسروں کے
علاوہ کوئی اپنے بچے کو یہاں داخل نہیں کراسکتا… جس محلے میں میرا بچپن گزرا اس
پورے محلے میں سے صرف ایک لڑکا اس اسکول میں داخلہ حاصل کرسکا… وہ انکم ٹیکس کے
ایک انسپکٹر کا بیٹا تھا… چند سال پہلے میں اس اسکول کے باہر سے گزرا تو میں نے
دیکھا کہ اس کے وسیع وعریض میدان میں گھوڑے دوڑ رہے ہیں… میں نے مقامی ساتھیوں سے
پوچھا کہ یہ کیا ہے؟… انہوں نے بتایا کہ اسکول کے ’’طلبہ‘‘ پولو کھیل رہے ہیں…
اسکول کی طرف سے بہترین گھوڑوں پر پولو سکھانے اور کھیلنے کا مکمل انتظام موجود
ہے… ادھر کراچی شہر کے مضافات میں ایک ’’دینی مدرسہ‘‘ ہے… پہلے وہ ایک زرعی فارم
اور بھینس باڑہ تھا… ویرانی کا فائدہ اٹھا کر… علاقے کے ڈاکو ساری بھینسیں بھگا کر
لے گئے… تمام بھینسیں خاموشی سے چوروں اور ڈاکوؤں کے ساتھ چلی گئیں… کیونکہ ’’جس
کی لاٹھی اسی کی بھینس‘‘… فارم کے مالک پر اللہ تعالیٰ نے نظر کرم فرمائی… اس نے بیس ایکڑ پر
محیط یہ پوری زمین… دین کیلئے وقف کردی… دین کے جن خادموں کو یہ زمین دی گئی وہ بے
چارے خالی ہاتھ تھے… چنانچہ فارم کے مالک نے ان کے ساتھ مزید تعاون کیا کہ پوری
زمین کے گرد چار دیواری بنوادی… ایک خوبصورت مسجد تعمیر کرادی… اور بھینسوں کی
سابقہ رہائش گاہ میں کچھ ترمیم واضافہ کرکے اسے رہائشی کمروں کی صورت دے دی… اور
یوں صدقہ جاریہ کا ایک میٹھا دریا جاری ہوگیا… فارم کے مالک نے دو گھوڑے بھی پال
رکھے تھے… وہ گھوڑے بھی اس نے مدرسہ میں دے دئیے… مدرسہ کے اساتذہ اور طلبہ… کبھی
کبھار ان گھوڑوں پر سوار ہو کر اپنا بدن ہلکا کرتے اور باہر سے آنے والے مہمانوں
کو… گھڑ سواری کی دعوت دیتے… کراچی سے باہر ایک بیابان میں واقع اس غریب مدرسہ کے
غریب طلبہ گھوڑے کی پیٹھ پر کیا بیٹھے کہ ہر طرف خطرے کے الارم بجنے لگے… ہوشیار،
خبردار! مولوی ٹریننگ کر رہے ہیں، مولوی ٹریننگ کروا رہے ہیں… چنانچہ جہاں تک سڑک
نہیں پہنچ سکی وہاں تک حکومتی ایجنسیوں کے اہلکار پہنچنے لگے… کئی ادارے حرکت میں
آگئے… پوری عالمی برادری کے کان کھڑے ہوگئے… اور مدرسہ کی انتظامیہ سے ’’پوچھ
تاچھ‘‘ کا سلسلہ شروع ہوگیا… معلوم ہوا ہے کہ اب وہ گھوڑے مدرسہ سے نکال دئیے گئے
ہیں… لیکن تازہ معلومات کے مطابق انگریزی اسکول کے گھوڑے بدستور دوڑ رہے ہیں… اور
ان پر کسی خفیہ ایجنسی یا سرکاری ادارے کو کوئی اعتراض نہیں ہے…
دیکھا
آپ نے کتنی عجیب بات ہے؟… مدرسہ میں دو گھوڑے برداشت نہ ہوسکے اور انگریزی اسکول
میں درجنوں گھوڑے سر آنکھوں پر… وجہ بالکل واضح ہے کہ دنیا کے لوگ… علماء، دینی
مدارس کے طلبہ اور دیندار مسلمانوں کو سست اور کمزور بنانا چاہتے ہیں… آج پاکستان
کے ہر اسکول میں پی ٹی ماسٹر ہوتا ہے… اسکولوں میں ورزش کا باقاعدہ انتظام ہے اور
یہ ایک لازمی چیز ہے… لیکن کیا مدرسہ میں بھی ورزش ممکن ہے؟… آپ دودن طلبہ کو
ورزش کرائیں، تیسرے دن ملک کے محافظ… اپنی مونچھوں کو تاؤدیتے ہوئے پہنچ جائیں
گے… اور بتائیں گے کہ یہ کام آپ لوگ نہ کریں… اس سے پاکستان پوری دنیا میں
’’بدنام‘‘ ہوتا ہے… اور پوری دنیا کو یہ ’’میسج‘‘ جاتا ہے کہ دینی مدارس میں جہاد
کی تربیت ہوتی ہے… چنانچہ ورزش بند…
اے
مسلمان بھائیو! یہ صورتحال بہت خطرناک اور نقصان دہ ہے… دینی طبقہ اگر سست ہوگیا
تو اس کا نقصان پوری امت کو اٹھانا پڑے گا… آج ساری دنیا میں ورزش کا دور دورہ
ہے… برطانیہ اور یورپ کے لوگ گھڑ سواری کرتے ہیں… کشتی رانی کرتے ہیں… پیلی نسل کے
لوگ جوڈو کراٹے کے فن میں خوب محنت کر رہے ہیں… بدھ مذہب کے بھکشو (مذہبی رہنما)
اپنے مذہبی اداروں میں باقاعدہ لڑائی اور دفاع کا فن سیکھتے اور سکھاتے ہیں… اور
اسے اپنے مذہب کا حصہ سمجھتے ہیں… ہندوؤں میں جگہ جگہ یوگا کے مراکز اور پہلوانی
کے اکھاڑے کھل گئے ہیں… اور تقریباً ہر قوم اپنے جسم کو سستی اور کمزوری سے بچانے
کی محنت کر رہی ہے… اس سب کے باوجود ایک سوچی سمجھی ’’اسکیم‘‘ کے تحت دیندار
مسلمانوں کو زبردستی سستی میں دھکیلا جارہا ہے… تاکہ… دین کی امانت اٹھانے والوں
کو کمزور کیا جاسکے… اب جبکہ امریکا اور یورپ نے مسلمانوں کے خلاف ہر طرف ظلم، دل
آزاری اور گستاخی کے محاذ کھول دئیے ہیں… مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات کے عین
مطابق خود کو چٹانوں کی طرح مضبوط اور چیتے کی طرح چست بنانا چاہئے… اسلام دنیا کا
واحد دین ہے جس میں مذہبی طور پر ’’سستی‘‘ کو گناہ قرار دیا گیا ہے اور جس طرح کفر
اور نفاق سے پناہ مانگی گئی ہے… اسی طرح سستی اور کم ہمتی سے بھی اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کی ترغیب دی گئی ہے…
اسلام میں گھڑ سواری ایک اعلیٰ عبادت اور جہاد کے لئے گھوڑا پالنا ایک بڑی نیکی
ہے… ہمارے آقا حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم … خود بہت زبردست اور ماہر گھڑ سوار
تھے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہترین تیر انداز تھے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کُشتی میں عرب کے نامور پہلوانوں
کو شکست دی… آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود دوڑ لگایا کرتے تھے … اور آپ صلی
اللہ علیہ وسلم اس زمانے کا ہر مروّجہ ہتھیار چلانا
جانتے تھے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیر اندازی، گھڑ سواری… اور نیزہ بازی
کی محفلوں میں شرکت فرماتے تھے… اور اس طرح کی محفلوں کی حوصلہ افزائی فرمایا کرتے
تھے… جبکہ… اس کے برعکس اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کا پیٹ بڑھا ہوا دیکھتے تو اس کو
پسند نہیں فرماتے تھے… اور نہایت لطافت کے ساتھ اس پر تنبیہ فرماتے تھے… حضرات
صحابہ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان تمام اداؤں کو اپنا لیا… اور
اپنے جسموں سے سستی کے آخری قطرے تک کو نچوڑ کر پھینک دیا… ان حضرات کے نزدیک
’’بزرگ‘‘ وہ نہیں ہوتا تھا جو عورتوں کی طرح ہر وقت لپیٹا لپٹایا رہے… نزاکت سے
چلے اور سستی کا گودام ہو… بلکہ ان کے ہاں تقویٰ اور بزرگی کا معیار کچھ اور تھا…
حضرت
عمر رضی اللہ عنہ دوڑ لگا کر چھلانگ لگاتے اور گھوڑے کی پشت
پر سوار ہو جاتے… آج کوئی عالم دین اس طرح کرے تو لوگ کہیں گے اس میں ’’تقویٰ‘‘
نہیں ہے… اور ممکن ہے اس کے کئی مقتدی اس کے پیچھے نماز پڑھنا چھوڑ دیں… یہ لوگ
چاہتے ہیں کہ علماء میں ’’نفاق‘‘ پیدا کردیں… اور ان کے جسموں کو بے کار اور بے
ڈھنگا بنادیں… دارالعلوم دیوبند کے تمام پرانے فضلاء بتاتے ہیں کہ وہاں جسمانی
ریاضت اور ورزش کا مکمل انتظام موجود تھا… فقیہ العصر حضرت مفتی رشید احمد صاحب
نور اللہ مرقدہ کو تو ہم نے خود دیکھا کہ بنوٹ وغیرہ کے
کتنے ماہرتھے… کچھ عرصہ پہلے راولپنڈی میں دیوبند کے فاضل ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی
تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے بھی دیوبند میں لاٹھی سیکھی اور کئی دیگر امور حرب کی
تربیت لی… دراصل کافروں نے ہماری ناک کاٹنے کیلئے ان چیزوں کے خلاف اتنا شور
مچادیا ہے کہ ہم نے بھی… بدنامی سے بچنے کیلئے اپنے ہاتھوں سے اپنی ناک کاٹنی شروع
کردی ہے… کیا ورزش جرم ہے؟… کیا کُشتی سیکھنا جرم ہے؟… دفاع تو ہر انسان کا بنیادی
حق ہے پھر اس سے اسے کس طرح محروم کیا جاسکتا ہے… پھر ہمارا دین تو دعوت اور جہاد
والا دین ہے… اس میں بیٹھنے کا تصور ہی نہیں ہے… صحابہ کرام چلتے رہے، لڑتے رہے،
بڑھتے رہے تو دین پورے عالم تک پہنچا… ماضی میں ہمارے تمام اسلاف بہت مضبوط، بہت
چست اور بہت بہادرتھے… حضرت امام بخاریؒ کی ورزش اور تلوار بازی مشہور ہے… حضرت
عبد اللہ بن مبارک کی تلوار بازی شہرۂ
آفاق تھی… حضرت امام احمد سرماری لکڑی کی چوب سے تلواروں کا مقابلہ کرتے تھے… یہ
حضرات بہت شوق سے گھڑ سواری کرتے تھے… یہ کونے سنبھال کر بیٹھ جانے کی ’’بدعت‘‘ تو
علماء میں بہت بعد میں پیدا ہوئی ہے… اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم لوگ اپنے جسموں
کو امراض کا ’’میڈیکل اسٹور‘‘ بنانے کی بجائے… چستی اور محنت کا خزانہ بنائیں…
دیندار مسلمان اپنی ڈاڑھی اور دستار کو ورزش کے راستے کی رکاوٹ نہ سمجھیں کہ لوگ
ہنستے ہیں… آپ پاگلوں کو ہنسنے دیں… اور ورزش کو معمول بنائیں … دینی مدارس کے
طلبہ تو ورزش اورجسمانی ریاضت کو خود پر فرض قرار دیں تاکہ دین کی امانت کا درست
حق ادا کرسکیں… اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ… ہم لوگوں سے اس سلسلے میں جو غفلت اور
سستی ہونی تھی… اس کا انجام تو ہم طرح طرح کی ’’بیماریوں‘‘ اور ’’بے کاریوں‘‘ کے
ذریعہ بھگت رہے ہیں… اب ہمیں… اپنی آئندہ نسل پر رحم کرنا چاہئے… آج سے ہی اپنے
بچوں کے لئے جسمانی صحت… اور جسمانی قوت کا ایک بہترین نصاب بنائیں… اور پھر اسلام
کے مستقبل کی خاطر عبادت سمجھ کر اس نصاب پر محنت کریں… آپ اپنا ذہن بنالیں کہ
ایک مسلمان کو کیا ہونا چاہئے؟… بس پھر اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو ویسا بنانے کی
محنت شروع کردیں… ہمارا بیٹا بہترین گھڑ سوار ہو… ہمارا بیٹا کُشتی اور کراٹے کا
فن جانتا ہو… ہمارا بیٹا تیراکی کا ماہر ہو… ہمارا بیٹا جب پندرہ سال کی عمر میں
پگڑی باندھ کر گھوڑے کی باگ پکڑے تو پتا چلے کہ کوئی مسلمان نوجوان آرہا ہے… ایسا
نہ ہو کہ… اس کے کمزور جسم اور انگریزی بالوں کو دیکھ کر… یہ پہچاننا مشکل ہوجائے
کہ یہ ہی ہے یا شی؟… چہرے پر ڈاڑھی… مسنون بال… سر پر عمامہ یا ٹوپی،… دین کا علم…
مضبوط عقیدہ… پاکیزہ مزاج… سخت اور پھرتیلا جسم… عقابی آنکھیں … آفاقی عزائم…
ذکرکی محبت… فکر آخرت … تمام مروّجہ ہتھیاروں کی مہارت، تیراکی… تیراندازی، کشتی
رانی… خوشخطی… علم تجوید و قرأت میں مہارت… اور چیتے جیسی تیزی … کیا آپ امت
مسلمہ کو ایک ایسا بیٹا دینے کو تیار ہیں؟… یا … کمزور، لاغر… بدنظر، میوزک کا
شوقین… منہ چھیلا… فارمی انڈا… ایسا نوجوان مسلمانوں کے کس کام کا؟… یہ تو ’’بش
اور بلیئر‘‘ کے کام آئے گا… اس لیے اب مزید دیر نہ کریں فوری طور پر اپنی اولاد
کی طرف توجہ دیں…ان کی غذا پر غور کریں اور ا سے صحت مند اور سادہ بنائیں… ٹافیاں‘
بسکـٹ‘ چیونگم اور سافٹ ڈرنک بالکل بند کردیں… گندم، مکئی اور جوار کی روٹی کا
عادی بنائیں… اور دودھ اورپھلوں پر لائیں… پھر ان کی جسمانی ورزش اور تربیت کا
کوئی محفوظ اور پاکیزہ نظام بنائیں… پھر ان کے ماحول کو صحت مند رکھنے کیلئے …
انہیں ٹی وی، ناول، ویڈیوگیمز، کمپیوٹر… اور بلیئرڈ سے بچائیں… اور برے لوگوں کی
صحبت سے انہیں نفرت دلائیں… پھر ان کی دینی تعلیم کا بندوبست کریں… تجوید، حفظ اور
دینی علوم… اور ساتھ ساتھ ان کے نظریات میں… ایمانی غیرت کی بجلی ابھی سے بھرتے
جائیں… اور یہ کام بچوں کی مائیں، پھوپھیاں اور خالائیں بہترین انداز میں کرسکتی
ہیں… ٹھیک ہے ہم لوگ خود کچھ نہ بن سکے… مگر… ہم مدینہ منورہ کی گود میں اپنے جوان
اور کڑیل بیٹے تو ڈال سکتے ہیں… ٹھیک ہے ہمارے جسم بنانے کا وقت غفلت میں گزر گیا…
مگر ہم … اپنے بچوں کو تو مضبوط چٹانیں بنا سکتے ہیں…
اے
مسلمانو! … یہ دین کی پکار ہے… اور یہی ہمارے پیارے دین ’’اسلام‘‘ کاتقاضاہے!
آئیے
پھر صدق دل سے ہم سب مل کر… سستی اورکم ہتی کے عذاب سے بچنے کی دعاء مانگتے ہیں…
اللہم
انا نعوذبک من العجز والکسل…
آمین
یا رب الشہداء والمجاہدین ویا رب العالمین
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ کے محبوب اور آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتنے معزز
،کتنے محبوب اور کتنے پیارے ہیں… ان جیسی عزت اور شان روئے زمین پر نہ کسی کو ملی
… اور نہ مل سکتی ہے… اب دنیا بھر کے اسلام دشمن کافروں کو اس کا اندازہ ہونے لگا
ہے… حالانکہ ابھی تو امت مسلمہ نے عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اظہار کا
پہلا قدم اٹھایا ہے… یورپ کے تاجر پریشان اور وہاں کے اخبارات حیران ہیں… ڈنمارک
کے اخبارات اپنا تھوکا ہوا خود چاٹ رہے ہیں… یقین کیجئے صرف احتجاج کے پہلے مرحلے
پر ہی دنیاء کفر لرز کر رہ گئی ہے… ہاں میرے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت
اور شان بہت اونچی ہے… انکی گستاخی کا جرم کرنے والوں پر زمین تنگ ہو جائے گی… وہ
گیدڑ کی ذلت والی زندگی جئیں گے اور کتے کی عبرتناک موت مریں گے… حالانکہ ابھی تو
کچھ بھی نہیں ہوا… یہ تو غم کی سسکیاں ہیں آنسو تو ابھی باقی ہیں… یہ تو محض
دھواں ہے آگ تو ابھی باقی ہے… امریکہ اور یورپ نے ’’مسلمان حکمرانوں‘‘ کو ہدایات
جاری کر دی ہیں کہ … کسی طرح سے احتجاج کا یہ سلسلہ بند کیا جائے… مگر کہاں؟… دنیا
کے ساتوں بڑے سمندر اپنے ہر طرف احتجاج ہی احتجاج دیکھ رہے ہیں… مسلمان تو مسلمان
اللہ تعالیٰ کی ہر مخلوق احتجاج کرنے کے لئے بے تاب ہے… اے ظالمو! تم نے کوئی
چھوٹا گناہ تو نہیں کیا… محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ
نے ایسے جانثار دیئے ہیں کہ تاریخ ان کی مثال پیش کرنے سے عاجز ہے… تمہیں اطمینان
تھا کہ افغانستان پر تمہارا قبضہ ہے… اور کرزئی سب کچھ سنبھال لے گا مگر وہاں سخت
احتجاج ہوا اور بندوقوں نے گولیاں برسائیں… تمہیں اطمینان تھا کہ ہندوستان کے پچیس
کروڑ مسلمان اب ٹھنڈے پڑ چکے ہیں… مگر وہاں تو احتجاج تھمنے کا نام نہیں لے رہا…
میرٹھ کے مسلمانوں نے اعلان کیا ہے کہ جو کارٹون بنانے والے ناپاک سرکو کاٹے گا
اسے اکیاون کروڑ روپے کا انعام دیا جائے گا… اور میرٹھ کے مسلمان اسے سونے میں تول
دیں گے… میرٹھ والو! تمہارا جذبہ مبارک! مگر معاف کرنا اسلام کے مجاہدین کو تم سے
پہلے کسی نے … بہت بڑی قیمت کے بدلے خرید لیا ہے… ہاں اکیاون کروڑ سے زیادہ اور
وزن کے برابر سونے سے بہت زیادہ قیمت دیکر خرید لیا ہے… معلوم ہے کس نے؟… ہاں
مجاہدین کو اللہ تعالیٰ نے خرید لیا ہے… یہ بکے ہوئے لوگ ہیں اسی لئے تو کسی اور
کی نہیں سنتے… کسی اور کی نہیں مانتے…
مسلمانو!
پچھلے چار سال سے تو تم نے ان مجاہدین کو بھلایا ہوا تھا… اب آقا صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کے نام مبارک نے قربانی دی تو تمہیں جہاد بھی یاد آ گیا اور مجاہدین
بھی… اب ہر کوئی غازی علم الدین کو یاد کر رہا ہے… اب ہر مسلمان دل کی گہرائی سے
الجہاد الجہاد پکار رہا ہے… ہندوستان کے ایک مسلمان وزیر نے بھی غیرت کی آواز
بلند کی ہے… ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں… مگر پاکستان کے وزراء کو ابھی کسی اور
زمانے کا انتظار ہے… مجھے حیرت ہے کہ … جن لوگوں کے نزدیک ’’نفرت پھیلانا‘‘ سب سے
بڑا جرم تھا وہ ابھی تک خاموش ہیں… انہوں نے کارٹونوں کی نفرت کو محسوس نہیں کیا؟
… ہاں انکی ڈیوٹی صرف مسلمان انتہا پسندوں کو ختم کرنے پر لگائی گئی ہے… اس
لئے انہوں نے ڈنمارک کے انتہا پسندوں کے خلاف اپنے ہونٹوں کو حرکت نہیں دی… نصیب
اپنا اپنا… اور قسمت اپنی اپنی… یہ دنیا تیزی سے گزر رہی ہے ہر آدمی موت کی طرف
بھاگ رہا ہے… قبر ہر ایک کو روزانہ ایک گز اپنی طرف کھینچ رہی ہے… کوئی خوش نصیب
عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پھول اور روشنی جمع کر رہا ہے… کوئی خوش
نصیب جان ہتھیلی پر رکھے رب سے شہادت کی فریاد کر رہا ہے… اور کچھ ’’بدنصیب‘‘ ظلم
اور غفلت کے انگارے جمع کر رہے ہیں… موت آئے گی تو فیصلہ ہو جائے گا… معلوم ہوا
ہے کہ یورپ کے ایک وزیر نے کارٹون والی شرٹ پہنی… پھر اسے استعفیٰ دینا پڑا… معلوم
ہوا ہے کہ یورپ کے تمام ممالک کے حکمرانوں نے ڈنمارک کو تعاون کا یقین دلایا ہے…
اور آزادی رائے کے حق پر زور دیا ہے… اظہار رائے کی آزادی کا جھوٹ بہت خوفناک
ہے… انگریزوں نے دنیا پر اپنے اقتدار کے زمانے میں ’’زبان بندی‘‘ کا قانون نافذ
کیا… اور ہم اب تک اس کالے قانون کی نحوست بھگت رہے ہیں… اگر سب کچھ بولنے کی
آزادی ہے تو پھر ’’دعوتِ جہاد‘‘ پر پابندی کیوں لگائی جاتی ہے… ٹھیک ہے میدان میں
آ کر بہادروں کی طرح مقابلہ کرو… تمہارے دل میں جو کچھ آئے تم بولو… اور ہمارے
دل میں جو کچھ آئے ہم بولتے ہیں… پھر دیکھتے ہیں کہ دنیا کا رنگ کیا ہوتا ہے… کیا
یورپ ایک مہینے کے لئے… ہاں صرف ایک مہینے کے لئے یہ چیلنج قبول کر سکتا ہے؟… کبھی
نہیں… تم نے تو اپنے ایجنٹوں کے ذریعے مسلمانوں کی آواز بند کی ہوئی ہے… تم تو
کروڑوں… اربوں ڈالر خرچ کر کے دعوتِ جہاد کے راستے بند کراتے ہو… تم نے جہادی
جلسوں پر پابندیاں لگوائیں… تم نے جہادی کیسٹوں کو جرم قرار دیا… اب کس ناپاک منہ
سے تم ’’آزادیٔ اظہار‘‘ کی بات کرتے ہو… جب تمہارے نزدیک کارٹون بنانے سے کچھ
نہیں ہوتا تو پھر… مدرسوں میں دین کی خالص تعلیم دینے پر… تمہارے پیٹ میں کیوں درد
ہونے لگتا ہے؟ جب رائے کے اظہار کی آزادی ہے تو پھر مدارس والے جو کچھ پڑھا رہے
ہیں انہیں پڑھانے دو… جہاد کی دعوت دینے والوں کو … اپنی بات کہنے دو… اسلام کا
پیغام پہنچانے والوں کو … کھلم کھلا بات کرنے دو… مگر تم تو طاقت اور پیسہ استعمال
کر کے… مسلمانوں کی زبان روکتے ہو… اور پھر یہ جھوٹا دعویٰ بھی کرتے ہو کہ تم
جمہوریت اور سیکولر ازم کے علمبردار ہو… تم لوگوں نے آخرت سے غافل ہو کر… دنیا کے
عیش کو اپنا مقصود بنایا… اور پھر اپنی دنیا کی زندگی کو عیش وآرام سے بھرنے کے
لئے مادی ترقی کی… اب تم یہودیوں کی انگلیوں پر ناچ کر اپنے عیش و آرام کو کیوں
برباد کرنا چاہتے ہو؟… آج کی نازک دنیا کا تباہ ہونا اتنا ہی آسان ہے جس طرح تیل
پر آگ کا لگنا… اگر تم مذہبی لوگ ہو اور تمہیں آقاصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
اختلاف ہے تو … پھر بدکاروں کی طرح گالیاں دینے… اور کارٹون بنانے کی بجائے تم
مناظرے کے میدان میں اترو… انشاء اللہ مسلمان علماء… تمہارے علمی غرور کا نشہ
اتاردیں گے… اگر تم بے دین ہو تو پھر… مقدس دینی ہستیوں پر انگلیاں اٹھانے سے باز
رہو… خنزیر کی طرح کھائو پیو… آزاد خر مستیاں کرو اور مر جائو… اگر تمہیں جنگ
کاشوق ہے تو پھر کھل کر میدان میں اترو… اور سازشی گِدھوں کی طرح مردار کھانے کی
بجائے شیروں کی طرح میدان میں مقابلہ کرو… انشاء اللہ اسلام کے فدائی دستے تمہاری
نام نہاد طاقت کا غرور توڑ دیں گے… اور اگر تم امن پسند اور مہذب ہو تو پھر…
دوسروں کے جذبات کا احترام کرو… اور اس بات کو مت بھولو کہ دوسرے لوگ تم سے اچھے
انسان ہیں… تم نے خود کو ’’پہلی دنیا‘‘ اور غریبوں کو ’’تیسری دنیا‘‘ کہہ کر جو
نظام دنیا پر مسلط کیا ہے اب اس کے ٹوٹنے میں زیادہ دن باقی نہیں رہے…
اے
مسلمانو! … ہمارے آقا… ہمارے محبوب حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
ہماری جوانی کے زمانے میں… گستاخی کا نشانہ بنایا گیا ہے… اگر ہم اب بھی نہ سنبھلے
تو حوض کوثر پرکس منہ سے… حاضری دیں گے… اے مسلمانو! تم نے جن کا لباس پہنا انہوں
نے آقاصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دی اللہ کے لئے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کی محبت میں اس لباس پر تھوک دو… اور اسے نفرت کا نشان بنا دو… اے مسلمانو!
تم نے جن کو خوبصورت سمجھ کر انکی طرح ڈاڑھیاں منڈوائیں… انکی طرح بال رکھے… تم نے
دیکھ لیا کہ وہ کتنے گندے… کتنے بدصورت اور کتنے ناپاک ہیں… اللہ کے لئے آقا صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میں ان ظالموں کی شکلوں پر تھوک دو… اور اپنا چہرہ
آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے سجا لو… سر پر آقا صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کی سنت والے بال رکھ لو اور عمامہ سجا لو… رب کعبہ کی قسم اگر کالج اور
یونیورسٹی کے طلبہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک شکل و صورت اور سنت
اختیار کر لیں تو یورپ کے گستاخانِ رسول کانپ اٹھیں گے… اور درد سے چیخنے لگیں گے…
اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ’’خصوصی رعب‘‘
عطاء فرمایا ہے… اس رعب کا تذکرہ قرآن پاک میں بھی ہے… اور کئی صحیح احادیث میں
بھی… اور احادیث سے ثابت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رعب آپ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمنوں پر ایک مہینے کی مسافت کی دوری سے بھی پہنچ جاتا
تھا… حضرات مفسرین نے لکھا ہے کہ … امت میں سے جو سچا مسلمان ہو گا… اور جو
آقاصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پکا فرمانبردار ہو گا اللہ تعالیٰ اس کو بھی یہ
رعب عطا فرمائے گا… آج بعض فقیر ومسافر مسلمانوں کے رعب سے دنیا کی بڑی بڑی
طاقتیں لرزہ براندام ہیں… اے مسلمانو! ہم کافروں کا لباس پہن کر… ہم کافروں کی شکل
بنا کر … ہم جہاد کی تربیت چھوڑ کر… اس رعب سے محروم ہو گئے… تب کچھ بدنسل کافروں
کو آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گستاخی کا موقع مل گیا… ہم میلاد کے حلوے کی
دیگیں بانٹتے رہ گئے اور دشمنوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دستار مبارک
پر حملہ کر دیا… اب بھی موقع ہے کہ سنبھل جائو اور توبہ کر لو… اور سیفٹی… بلیڈ
اور شیونگ کریم کو نالی میں پھینک دو… تمہارے چہرے کی ڈاڑھی… اور تمہارے سر کا
عمامہ ڈنمارک کی ٹانگیں ہلا دے گا …
اے
مسلمانو! ہر گھر میں فضائل جہاد کی تعلیم کو لازم کر لو… ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم
غزوہ بدر کو پڑھیں… ہم غزوہ احد کو سمجھیں … اور ہم غزوہ تبوک کے درد کو محسوس
کریں… ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہاد میں کس طرح سے
زخمی ہوئے… اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے کیا کیا؟… اے
مسلمانو! ہم پر لازم ہے کہ ہم ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے… قرآن پاک کے حکمِ جہاد
کو سمجھیں… قرآن پاک پانچ سو سے زائد آیتوں میں جہاد کا حکم سناتا ہے… جہاد کا
حکم سمجھاتا ہے… ایسی کیسٹیں بازار میں ملتی ہیں جن میں… ان آیات جہاد کی تفسیر
موجود ہے… اے مسلمانو!… عشق مصطفی کی شمع کا پروانہ بننے کے لئے جہاد کی تعلیم کو
عام کرنا ہو گا… جب جہاد کی آیات کے بغیر قرآن مکمل نہیں ہو سکتا تو پھر… جہاد
کے بغیر ایک مسلمان کس طرح سے مکمل مسلمان ہو سکتاہے… اللہ کرے مظاہرے ہوتے رہیں…
بحر اوقیانوس سے لیکر بحر احمر تک شانِ مصطفی کے نعرے بلند ہوتے رہیں… اللہ کرے
مسلمانوں کا یہ جذبہ مزید بیدار ہو… اللہ کرے مسلمان حکمرانوں کو بھی عشق رسول کا
کوئی مبارک ذرہ نصیب ہو جائے… یہ سب کچھ اپنی جگہ… مگر وقت کا تقاضا کچھ اور ہے…
ہاں ایسے مسلمان… جن کا من بھی مسلمان ہو… اور تن بھی مسلمان… جن کا ظاہر بھی
مسلمان ہو اور باطن بھی مسلمان… جو خود کو مسلمان کہلوائیں اور پھر اپنے عمل … شکل
اور کردار سے مسلمان نظر بھی آئیں جو اسلام ہی کو سب سے بڑی عزت سمجھیں اور دنیا
کی ظاہری ترقی سے مرعوب نہ ہوں… ہاں ایسے مسلمان جو خود کو… اللہ تعالیٰ کے پاس
بیچ دیں… اس کی پیاری رضا… اور اس کی حسین جنت کے بدلے… ہاں ایسے مسلمان جن کے خون
میں… عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشبو ہو… اور جو فقیری کو شاہی پر
ترجیح دیں…
ہاں
ایسے مسلمان… جو پورے عالم کو مسلمان کرنے کا عزم اور جذبہ رکھتے ہوں… اور جن کے
نزدیک زندگی کا مطلب… اللہ تعالیٰ کے راستے میں قربان ہونا ہو… ہاں ایسے مسلمان
وقت کا تقاضا ہیں… اور ایسے مسلمان وقت کی ضرورت ہیں… مسجد نبوی کے میناروں سے
آواز آرہی ہے… ہاں… اللہ پاک کی قسم آواز آ رہی ہے… اشھد أَن محمد رسول
اللّٰہ… میں گواہی دیتا ہوں… محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم… اللہ کے رسول ہیں…
سبز گنبد مسلمانوں سے پوچھ رہا ہے… کیا اس آواز کو مانتے ہو؟… کیا اس آواز کو
مانتے ہو؟… کیا اس آواز کو مانتے ہو؟… اگر مانتے ہو تو پھر خود کو اس کے مطابق
ڈھالتے کیوں نہیں؟ … اس آواز کو ماننے والے ویسے تو نہیں ہوتے جیسے تم ہو… جائو
دیکھو… اس آواز کے ماننے والے کیسے تھے… وہ دیکھو احد میں کٹے پڑے ہیں… وہ دیکھو
بدر میں اپنے زخموں کے ساتھ موجود ہیں… وہ دیکھو… وہ دیکھو… وہ دیکھو… وہ کہاں
کہاں تک جا پہنچے… مگر تم تو … رنگین فلموں… اور ناپاک ٹی وی چینلوں میں گم ہو چکے
ہو… اٹھو اب توبہ کرو… غسل کرو اور پاک ہو جائو… گنبد خضراء بلا رہا ہے… گنبد
خضراء پکار رہا ہے…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر ہے کہ… فرعون اپنی
’’فرعونیاں‘‘ دکھا کر دنیا سے چلا گیا … وہ پانی میں ڈوب مرا… اور اب قرآن پاک کی
آیت کے مطابق آگ میں جل رہا ہے… وہ خود کو نعوذباللہ ’’الہٰ العالمین‘‘ اور
’’بڑا رب‘‘ کہا کرتا تھا… مگر جب وقت آیا تو اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق ’’پانی‘‘ نے اس کو اُلٹا
کردیا… اور مظلوموں کو اس کے ظلم سے نجات مل گئی…
اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر ہے کہ بش اپنی ’’بشیاں‘‘
دکھا کر جنوبی ایشیاء سے چلا گیا… فرعون کی ’’فرعونیاں‘‘ اور بش کی ’’بشیاں‘‘ آپس
میں ملتی جلتی ہیں… حتیٰ کہ دونوں کی خارجہ پالیسی اور الفاظ بھی ایک دوسرے سے
ملتے جلتے ہیں… فرعون کی ’’فرعونیاں‘‘ اور بش کی ’’بشیاں‘‘ کیا ہیں؟ اس کا تذکرہ
ان شاء اللہ کچھ آگے چل کر… پہلے دو ایمان افروز واقعات پڑھ
کر اپنے دل کو ہمت اور قوت کی ’’خوراک‘‘ دیتے ہیں…
حضرت
آسیہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ
فرعون
کو جب آسیہؓ کے ایمان کی خبر ہوئی تو کہنے لگا شاید تجھے جنون ہوگیا ہے، آسیہؓ
نے فرمایا مجھے تو جنون نہیں ہوا، لیکن یہ سچ ہے کہ میرا اور تیرا بلکہ تمام زمین
و آسمان کا ایک ہی معبود ( اللہ تعالی)
ہے… جس کا کوئی شریک نہیں، اس پر اس نے آسیہؓ کے کپڑے پھاڑ ڈالے اور نہایت سختی
سے مارا اور میکے بھیج دیا اور کہلا بھیجا کہ اس پر پاگل پن سوار ہوگیا ہے۔ آسیہؓ
نے فرمایا میں گواہی دیتی ہوں کہ میرا اور تم سب کا رب بلکہ تمام آسمان اور زمین
کا رب ایک ہی ہے… ان کے باپ نے کہا آسیہ! میں نے ’’الہٰ العالمین‘‘ سے تیرا نکاح
کردیا تھا اور تو نہایت خوبصورت عورت ہے… (پس ایمان چھوڑ اور دنیا کی ترقی کے مزے
اڑا) آسیہؓ نے جواب دیا ایسی باتوں سے اللہ کی
پناہ! اگر تم دونوں سچے ہو تو مجھے ایک تاج تو پہنادو، جس کے سامنے سورج اور پیچھے
چاند اور گرد اگرد ستارے جڑے ہوں… (مقصد یہ تھا کہ تمہاری دنیا کی حکومت اور ترقی اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت کے سامنے کچھ بھی
نہیں ہے) اس پر فرعون نے آسیہؓ کو میخوں سے عذاب دینا شروع کیا… ہاتھ پاؤں میں
میخیں گاڑ دیں… اور قصاب کو بلا کر حکم دیا کہ اس کے ساتھ اسی طرح پیش آ جس طرح
تو ذبح کرنے کے بعد بکری کے ساتھ پیش آتا ہے، اس وقت فرشتے بولے کہ اے پروردگار!
یہ عورت فرعون کی بلا میں پھنس گئی ہے… اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا کہ یہ تو ہماری ملاقات کی
مشتاق ہو رہی ہے، پھر جب نزع تک نوبت پہنچی تو اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام سے فرمایا
(حالانکہ وہ خود خوب علم رکھتا ہے) کہ میری بندی کے ہونٹ ہل رہے ہیں ذرا سنو! کہ
کیا کہتی ہے… جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا یا رب وہ تو یہ کہہ رہی ہے …
رب
ابن لی عندک بیتاً فی الجنۃ ونجنی من فرعون وعملہ ونجنی من القوم الظالمین…
اے
میرے رب! جنت میں اپنے پاس میرے لیے ایک گھر بنا دیجئے اور مجھ کو فرعون سے اور اس
کے عمل سے محفوظ فرمادیجئے اور مجھ کو تمام ظالم لوگوں سے نجات دلا دیجئے!…
یہاں
یہ قصہ گزر رہا تھا کہ قصاب کھال کھینچتا جاتا تھا اور ادھر اللہ تعالیٰ نے آسیہؓ کے لئے جنت کا دروازہ کھول دیا
ان کی نظر ادھر لگی ہوئی تھی اور زبان پر ’’ اللہ اللہ ‘‘
جاری تھا… چنانچہ اسی وقت ان کی نظر پڑی تو کیا دیکھتی ہیں کہ ایک سفید موتی کا
بنا ہوا مکان ہے اور اسی حالت میں ان کی روح جسم سے نکل گئی… (نزہۃ المجالس)
آسیہؓ
کامیاب ہو گئیں اور جنت کی ہمیشہ والی نعمتوں میں جا بیٹھیں، قیامت کے بعد ان کی
شان اور زیادہ بلند ہو جائے گی… اور انہیں سرورکونین حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت نصیب ہوگی… جبکہ فرعون دنیا
کے عارضی مزے کرکے مر گیا… اب آگ میں جل رہا ہے اور قیامت کے دن اس کے عذاب کو
اور سخت کردیا جائے گا… چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے…
(ترجمہ)
اور خود فرعونیوں پر سخت عذاب آپڑا وہ صبح شام آگ کے سامنے لائے جاتے ہیں اور جس
دن قیامت قائم ہوگی (حکم ہوگا کہ) فرعونیوں کو سخت عذاب میں لے جاؤ (المومن۴۵،۴۶)
مسلمان
خود فیصلہ کرلیں کہ کون کامیاب رہا اور کون ناکام؟
فرعون
کی ملازمہ کا واقعہ
رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب معراج پر تشریف لے گئے تو براق
زمین اور آسمان کے درمیان چلتا تھا، جہاں تک نظر جاتی تھی اس کا ایک قدم ہوتا تھا
(اچانک) خوشبو آنے لگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا
کہ یہ جنت کی خوشبو ہے؟ جبرئیل علیہ السلام نے جواب دیا یہاں سے جنت بہت دور ہے…
واقعہ یہ ہے کہ فرعون کی ایک ملازمہ تھی جو اس کی بیٹی کو کنگھا کیا کرتی تھی… ایک
دن وہ کنگھی کر رہی تھی کہ کنگھی اس کے ہاتھ سے گر گئی تو اس کے منہ سے کلمۂ
توحید ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ نکل گیا… جب اللہ والے کی زبان سے بات نکلتی ہے تو پھر وہ چھپتی
نہیں ہے بلکہ پہلے سے زیادہ پھیل جاتی ہے، فرعون کی بیٹی نے کہا میرے باپ کے سوا
تیرا اور کوئی معبود ہے؟ اس نے جواب دیا میرا اور تیرے باپ کا معبود بلکہ تمام
آسمان وزمین کا ایک ہی معبود ( اللہ تعالیٰ) ہے… اس نے … فرعون کو خبر کردی، فرعون
نے اس کو بلوا کر ماجرا دریافت کیا… ملازمہ نے کہا ہاں ایسا ہی ہے… میں اس اللہ کو
مانتی ہوں جس نے مجھے پیدا کیا اس پر فرعون نے اس کے ہاتھ پاؤں کٹوا دیئے، اس
ملازمہ کی دو بیٹیاں تھیں ایک شیرخوار اور دوسری تین چار سال کی، فرعون نے بیٹیوں
کے ذبح کرنے کی دھمکی دی ماں برابر ڈٹی رہی… اس پر فرعون نے بڑی بیٹی کو ذبح کر
ڈالا اور چھوٹی بیٹی کو ماں کے سینے پر رکھ دیا، ماں گھبرائی، اس پر اللہ تعالیٰ نے شیرخوار بچی کو زبان دی، اس نے کہا
امی جان! میری بہن جنت میں میرا اور آپ کا انتظار کر رہی ہے… ظالم نے ماں اور
بیٹی کو ذبح کردیا… (جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا) آج یہ … اس کی قبر سے خوشبو
آرہی ہے جو ساتویں آسمان تک پہنچتی ہے…(نزہۃ المجالس)
یہ
واقعات اگرچہ ’’اسرائیلی‘‘ ہیں مگر میں تمام مسلمانوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ سورۃ
اٰل عمران کی آیت (۱۶۹) تا (۱۷۱) میں شہداء کے
فضائل، ان کی شان، ان کے مزے، ان کے ٹھاٹھ پڑھ کر دیکھ لیں… تب معلوم ہوگا کہ یہ
واقعات بھی اسی نوعیت کے ہیں… اللہ پاک
’’شہداء‘‘ کو جو کچھ دیتا ہے وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے… تفسیر کبیر میں امام رازیؒ
نے ان آیات کی ایسی تفسیر لکھی ہے کہ جسے پڑھ کر دنیا کی حکومتیں… اور یہاں کی
ترقی اور ٹھاٹھ ایک فضول کھیل اور مذاق معلوم ہوتے ہیں… شہادت کے انہی سچے اور پکے
فضائل نے تو صحابہ کرام کو گھروں میں بیٹھنے نہ دیا… اور وہ روم وفارس سے
’’معاہدوں‘‘ کی بھیک مانگنے کی بجائے ان پر چڑھ دوڑے… اور پھر نہ دنیا میں قیصر
رہا نہ کسریٰ… اللہ پاک نے ان کو سمجھایا
کہ تم دنیا میں اچھلتے پھرتے ان کافروں سے مرعوب نہ ہونا… بلکہ… ان تک اسلام کا
پیغام پہنچانا… صحابہ کرام نے لبیک کہا اور پھر اسلام پورے عالم پر چھا گیا… اگر
وہ بھی ظاہری ترقی پر نظریں گاڑ دیتے تو آج میں اور آپ اسلام کی نعمت سے محروم
ہوتے… اب آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف کہ فرعون کی فرعونیاں … اور بش کی بشیاں
ملتی جلتی ہیں…
فرعونیاں
اور بشیاں
(۱)
فرعون
کی پہلی ’’فرعونی‘‘ کہ وہ خود کو بہت کچھ سمجھتا تھا… اللہ پاک کا ارشاد ہے
(ترجمہ)
پھر فرعون نے سب کو جمع کیا پھر پکارا… پھر کہنے لگا میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں
(النازعات ۲۳۔۲۴)
آپ
’’بش‘‘ کے دعوے سن لیں… آج کل چونکہ بادشاہت کی جگہ ’’جمہوریت‘‘ کا دور ہے اس لیے
وہ اپنے ملک کو ’’سپر پاور‘‘ کہتا ہے…
(۲)
فرعون
کی دوسری ’’فرعونی‘‘…
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(ترجمہ)
بے شک فرعون زمین پر (اپنی بڑائی قائم کر رہا تھا اور) سرکش ہوگیا تھا اور اس نے
وہاں کے لوگوں کو کئی گروہوں میں تقسیم کردیا تھا (اس نے) ان میں سے ایک گروہ کو
کمزور کر رکھا تھا، ان کے لڑکوں کو قتل کرتاتھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رکھتا
تھا، بے شک وہ فسادیوں میں سے تھا (القصص۴)
فرعون
کی ’’فرعونیوں‘‘ کا نشانہ… بنی اسرائیل تھے… اور بش کی ’’بشیوں‘‘ کا نشانہ
’’مسلمان‘‘ ہیں… افغانستان، عراق، فلسطین اور ہر جگہ… مسلمانوں کے بیٹے ذبح کیے
جارہے ہیں … اور ان کی بیٹیوں کو یتیم اور بیوہ کرکے مشکل زندگی سے دوچار کیا
جارہا ہے… فرعون نے لوگوں کو بانٹ دیا… بش نے بھی انسانوں کو بانٹ دیا… فرعون نے
قبطیوں کو ہر ظلم کی آزادی دے دی، بش نے بھی مسلمانوں کے دشمنوں کو کھلی چھوٹ دے
دی… فرعون نے ’’سبطیوں‘‘ کو تباہ کرنے کا اعلان کیا جبکہ بش ’’مجاہدین‘‘ کے خاتمے
کی باتیں کرتا ہے…
(۳)
فرعون
کی ایک اور ’’فرعونی‘‘ کو قرآن پاک یوں بیان فرماتا ہے
(ترجمہ)
اور فرعون میخوں والے کے ساتھ ( اللہ تعالیٰ نے کیا کیا) (الفجر۵)
یعنی
فرعون میخوں والا تھا… ایک معنیٰ یہ کہ اپنے مخالفین کو سخت اذیت پہنچاتا تھا… اور
دوسرا معنیٰ یہ کہ بہت فوجی طاقت والا تھا…
معلوم
نہیں فرعون کے عقوبت خانوں کا نام کیا تھا… مگر بش کے عقوبت خانوں میں سے بعض کے
نام معلوم ہیں… ’’ابوغریب جیل‘‘، ’’گوانٹا ناموبے‘‘ کا ایکسرے کـیمپ… ’’بگرام ایئر
بیس‘‘ کا ٹارچر سینٹر… اور بہت سے خفیہ عقوبت خانے… جہاں قیدیوں کے جسموں میں ظلم
کی میخیں گاڑی جارہی ہیں… جہاں انہیں مارا جاتا ہے… جہاں انہیں جلایا جاتا ہے اور
یہ سب قیدی مسلمان ہیں… صرف مسلمان…
(۴)
بش
نے ابھی اپنے حالیہ دورے کے دوران… کابل میں کہا مٹھی بھر مجاہدین ہمارا کچھ نہیں
بگاڑ سکتے… ہم ان کو پکڑ لیں گے… ہماری طاقت کا ان کو اندازہ نہیں… بش کی یہ
’’بشیانہ‘‘ دھمکیاں فرعون کی ’’فرعونی‘‘ دھمکیوں سے ملتی جلتی ہیں… ملاحظہ فرمائیے
قرآن پاک کی یہ آیات…
(ترجمہ)پھر
فرعون نے شہروں میں اپنے نمائندے بھیجے کہ (موسیٰ اور ان کے ساتھی) یہ ایک تھوڑی
سی جماعت ہے اور انہوں نے ہمیں بہت غصہ دلایا ہے اور ہم سب ہتھیاروں سے مسلح ہیں۔
(الشعراء ۵۳تا۵۶)
آج
بش کے سفیر اور نمائندے دنیا بھر کے ملکوں میں… یہی اعلان کر رہے ہیں … اور ہر طرف
سے مسلمانوں کے خلاف امداد اور تعاون مانگ رہے ہیں… اور انہیں اپنے اسلحہ پر ناز
ہے… فرعون نے بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلاف ’’اتحاد‘‘ بنایا… اور بش نے بھی
مسلمانوں کے خلاف اتحاد بنایا ہے… قرآن پاک بار بار بتاتاہے کہ فرعون نے اپنے
اتحادیوں کو بھی ذلیل وناکام کرایا… اب دیکھیں بش کے اتحادیوں کا … کیا بنتا ہے؟
(۵)
فرعون
کی ایک ’’فرعونی‘‘ یہ تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو
نعوذب اللہ ’’حقیر‘‘ سمجھتا تھا… چنانچہ
قرآن پاک بتاتا ہے…
(ترجمہ)
اور فرعون نے اپنی قوم میں اعلان کرکے کہا، اے میری قوم کیا میرے پاس مصر کی
بادشاہت نہیں ہے اور کیا یہ نہریں میرے (محل کے) نیچے سے نہیں بہہ رہی ہیں کیا تم
نہیں دیکھتے؟ کیا میں اس سے بہتر نہیں ہوں جو (نعوذباللہ) ذلیل ہے اور صاف بات بھی
نہیں کرسکتا… (الزخرف۵۱۔۵۲)
آگے
قرآن پاک بہت دلچسپ بات فرماتاہے…
(ترجمہ)
پس اس نے اپنی قوم کو احمق بنادیا تو وہ اس کے کہنے میں آگئے کیونکہ وہ بدکار لوگ
تھے… (الزخرف ۵۴)
آگے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے…
(ترجمہ)
پس جب انہوں نے ہمیں غصہ دلایا تو ہم نے ان سے انتقام لیا پس ہم نے ان سب کو غرق
کردیا…
ان
تمام آیات کو بار بار پڑھیں… کیا فرعون کی ’’فرعونیاں‘‘ اور بش کی ’’بشیاں‘‘ ملتی
جلتی نہیں ہیں؟…
قرآن
پاک کے اٹھائیس پاروں میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قصہ مذکور ہے… اور فرعون کی
مزید ’’فرعونیاں‘‘ بھی بیان کی گئی ہیں… ہم نے صرف چند مثالیں پیش کردی ہیں جو
سمجھنے والوں کیلئے انشاء اللہ … کافی ہیں…
فرعون
نے بنی اسرائیل پر کیا کیا مظالم ڈھائے؟… فرعون نے ظلم کا کیسا بازار گرم کیا؟…
فرعون کی طاقت اور ترقی کا کیا عالم تھا؟ فرعون نے کیسی کیسی حماقتیں کیں؟… فرعون
کی کابینہ کے لوگ کون تھے اور کیسے تھے؟… فرعون ذاتی طور پر کیسا بزدل تھا؟… فرعون
کا بدترین انجام کس طرح ہوا؟… یہ سب کچھ قرآن پاک میں موجود ہے… بش جی نے جنوبی
ایشیاء کا دورہ کیا… افغانستان پر ہاتھ رکھا… پاکستان کو پاؤں دکھایا… اور باقی
سب کچھ بھارت کے لئے وقف رکھا… ہمیں کوئی شکوہ نہیں ہے… کیونکہ قرآن پاک کا واضح
اعلان ہے کہ… یہود ونصاریٰ کبھی بھی مسلمانوں سے راضی نہیں ہوسکتے… اور جن
مسلمانوں سے وہ راضی ہوتے ہیں وہ مسلمان… مسلمان نہیں رہتے… اس لیے ہمیں کوئی شکوہ
نہیں کہ اس نے یہاں کم وقت کیوں دیا… اس نے کوئی معاہدہ کیوں نہیں کیا… اس نے یہاں
کھانا کیوں نہیں کھایا… اس نے رہائش کیلئے اپنا سفارت خانہ کیوں منتخب کیا… مجھے
معلوم ہے کہ بہت سے قلمکار ان تمام باتوں کا رونا روئیں گے… اور شکوؤں کی پٹاری
کھولیں گے کہ… اس نے بھارت کو یہ دیا اور بھارت کو وہ دیا… اور ہمیں کچھ نہیں دیا…
مگر سعدی کو کوئی شکوہ نہیں ہے… اللہ تعالیٰ نے ہمیں بش کو راضی کرنے کیلئے پیدا نہیں
کیا… بلکہ ہم اس کے راضی ہونے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں… بش نہ کسی کو زندگی
دے سکتا ہے نہ موت… نہ وہ عزت کا مالک ہے اور نہ ذلت کا… اور نہ اس کی دوستی مرنے
کے بعد کچھ کام آسکتی ہے… جب اصل دور شروع ہوگا… اور لمبی زندگی شروع ہوگی… ہم
فقیروں کی خواہش اور تمنا ہے کہ… اللہ کرے ہم مسلمان رہیں… اور ہمارا رب اللہ تعالیٰ … ہم سے راضی ہوجائے… بے شک اللہ ایک ہے… اس کا کوئی شریک نہیں…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہدایت عطا فرمائے… اس وقت ’’عیسائیوں‘‘
نے امت مسلمہ کے خلاف جنگ کی کمان سنبھال رکھی ہے… وہ ہم سے ہر جگہ لڑ رہے ہیں…
اور اب ’’ناپاک کارٹون‘‘ بنا کر اس جنگ کو مزید بھڑکا رہے ہیں… قرآن پاک کی تیسری
سورۃ کا نام ’’سورہ اٰل عمران‘‘ ہے… حضرات مفسرین کے نزدیک اس سورۃ کا اہم ترین
موضوع… عیسائیوں کی اصلاح ہے… چنانچہ حضرت لاہوریؒ لکھتے ہیں…
’’سورۃ
بقرہ میں یہود مخاطب بالذات تھے اور نصاریٰ بالتبع۔ ٰال عمران میں نصاریٰ کی اصلاح
مقصود بالذات ہے اور یہود کی بالتبع، حضرت شاہ عبدالقادر صاحبؒ کا یہی خیال ہے ‘‘
(حاشیہ حضرت لاہوریؒ)
حضرت
دریا بادیؒ لکھتے ہیں…
سورۂ
بقرہ میں خطاب جس طرح خاص طور پر یہود کی جانب تھا، کہا جا سکتا ہے کہ اسی طرح اس
سورۃ میں ’’مسیحیوں‘‘ کی جانب ہے… (تفسیر ماجدی)
عیسائی
اپنی نسبت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف کرتے ہیں جو… اللہ تعالیٰ کے برحق رسول
اور نبی ہیں… اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی کتاب ’’انجیل‘‘ نازل فرمائی… مگر
’’عیسائی‘‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر تشریف لے جانے کے کچھ عرصہ بعد…
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور انجیل سے دور ہو گئے… تب وہ مال اور عیاشی کے پجاری بن
گئے… اور انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ’’زھد‘‘ کو بھلا دیا… دنیا مانتی ہے
اور دنیا جانتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس فانی اور بے کار دنیا کو کسی
بھی طرح اپنے قریب نہ آنے دیا… وہ اس بھری دنیا میں ایک پیالے اور ایک تکیے کے
مالک تھے… پھر انہوں نے ان دو چیزوں کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے میں دے دیا… آج
فانی دنیا کے پیچھے پاگلوں کی طرح دوڑتے عیسائیوں کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے
کیا رشتہ؟… ان لوگوں نے ’’انجیل‘‘ کو بھی بدل دیا… اور مسلسل بدلتے جا رہے ہیں…
آج پاکستان سے لے کر مراکش تک ہر اسلامی ملک میں وہ ’’پیغام محبت‘‘ کے نام سے جو
پمفلٹ اور کتابچے تقسیم کرتے ہیں… ان کا مقصد صرف اور صرف مسلمانوں کو مرتد بنانا
ہوتا ہے… خیر اپنی اپنی قسمت ہے… مجھے آج کچھ اور عرض کرنا ہے… ورنہ ان کے
’’مشنری اداروں‘‘ پر کچھ عرض کرتا… اب تو ہمارے قومی اخبارات میں ان کے ’’ارتدادی
لٹریچر‘‘ کے اشتہارات شائع ہوتے ہیں… یعنی مسلمان مالکوں اور ایڈیٹروں کے اخبارات…
مسلمانوں کو اسلام سے مرتد کرنے کی دعوت میں شریک ہو رہے ہیں… قسمت اپنی اپنی ہے…
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے تمام عالم کے لئے… اور تمام
انسانیت کے لئے بھیجا ہے… آپ کی تشریف آوری کے بعد اب کامیابی کا صرف ایک ہی
راستہ ہے… اور وہ ہے ’’دین اسلام‘‘… آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لائے تو دنیا
میں یہودی بھی موجود تھے اور عیسائی بھی… مشرک بھی موجود تھے اور مجوسی بھی… آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو بتایا کہ سابقہ تمام مذاہب اور ادیان اپنی اصل پٹڑی
سے اتر چکے ہیں… اور اللہ تعالیٰ نے ان کو منسوخ کر دیا ہے… آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے دعوت کا آغاز ’’مشرکین مکہ‘‘ سے کیا… ان میں سے کچھ مسلمان ہوئے… باقی نے
پتھر مارے اور تلواریں نکال لیں… اللہ تعالیٰ قرآن پاک کی ’’متعدد سورتوں‘‘ میں
انہیں سمجھانے… اور ان سے نمٹنے کے طریقے بتاتے ہیں… پھر حضور پاک صلی اللہ علیہ
وسلم نے مدینہ منورہ پہنچ کر ’’یہودیوں‘‘ کو دعوتِ اسلام دی… ان میں سے چند خوش
نصیب اسلام لے آئے… اور باقی ضد اور حسد پر اتر آئے… اللہ تعالیٰ نے ان کی
اصلاح… ان کے امراض، اور ان سے نمٹنے کے طریقے بیان فرمائے… سورۃ بقرہ اول تا آخر
پڑھتے جایئے… دل عش عش کرتا ہے… اور زبان الفاظ کے بوسے لیتی ہے… ملک عرب میں
’’عیسائی‘‘ بھی موجود تھے اور ان کا ’’کلیسا‘‘ بھی قائم تھا… یعنی روم کے کلیسا کا
نمائندہ… یمن کے شمال میں ایک علاقہ تھا ’’نجران‘‘… وہ عرب میں ان کا گڑھ تھا… اور
ان کی مذہبی قیادت وہاں رہتی تھی… نجران کے عیسائیوں اور لاٹ پادریوں کا ایک بڑا
وفد… حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لئے… مدینہ منورہ آیا… آپ صلی
اللہ علیہ وسلم نے اس وفد کا بہت اکرام فرمایا… اور خوب توجہ اور تسلی سے انہیں
دعوت دی… وہ اپنے ساتھ اعتراضات اور شبہات کی پوٹلیاں بھر کر لائے تھے… آپ صلی
اللہ علیہ وسلم نے بہت خندہ پیشانی سے ان کی باتیں سنیں… اور ان کو ایسے جوابات
دیئے کہ قیامت تک کے لئے کافی ہو گئے… حقیقت یہ ہے کہ نجران والوں کو اسلام سمجھ
آگیا تھا… ان کے دل جھک گئے تھے مگر… مال، ھائے مال… خبیث دنیا کے ٹھاٹھ نے انہیں
اسلام کی دولت سے محروم رکھا… اس موقع پر وہ واقعہ یاد آرہا ہے جو… ’’رد
عیسائیت‘‘ کے اسپیشلسٹ مفسر نے لکھا ہے… لیجئے آپ بھی اس واقعہ کا خلاصہ ملاحظہ
فرمایئے تاکہ آپ کو ’’عیسائیت‘‘ کے سمجھنے میں مدد ملے…
’’
نجران سے جو وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اس میں ان کا بڑا
پادری ’’ابو حارثہ بن علقمہ‘‘ بھی تھا… وہ ان میں ’’اسقف‘‘ کہلاتا تھا راستہ میں
اس کے خچر نے ٹھوکر کھائی تو اس کے بھائی نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان
میں نازیبا الفاظ کہے… ابو حارثہ نے غصے میں وہ الفاظ خود اپنے بھائی کو کہہ دیئے،
اس نے کہا بھائی صاحب! یہ کیوں؟ ابو حارثہ نے کہا واللہ وہ شخص جن کے پاس ہم جا
رہے ہیں وہ نبی ہیں جن کا حضرت مسیح اور یوحنا کے عہد سے اب تک انتظار تھا… یہ سن
کر اس کے بھائی نے کہا اگر ایسا ہے تو پھر ان کے دین کو قبول کیوں نہیں کر لیتے،
ابو حارثہ نے کہا بھائی! اگر میں ایسا کروں تو جو کچھ بادشاہوں نے ہمیں دے رکھا ہے
سب واپس لے لیں، عزت جاتی رہے دنیا بھی رکھنی ضروری ہے… (ملخص از تفسیر حقانی)
دیکھا
آپ نے؟… اصل بنیاد یہی ہے… دنیا اور اس کی محبت، باقی ساری باتیں اسی کی خاطر
ہیں… اس لئے تو حدیث شریف میں دنیا سے محبت کرنے والے انسان کو ’’کتا‘‘ قرار دیا
گیا ہے… اب کتے کو کیا فکر کہ آگے قبر ہے… اور پھر آخرت… کھانا، پینا، بھونکنا،
کاٹنا… اور خواہش پوری کرنا… یہی کتے کا اول ہے اور یہی کتے کا آخر… حضور اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسائیوں سے مناظرہ فرمایا… وہ لاجواب ہو گئے… مگر ایمان نہ
لائے تب… نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مردہ دلوں کو جھنجوڑا تاکہ دنیا کی
غلاظت نکل جائے… اور وہ ایمان لے آئیں… معلوم ہے آپ کو؟… کہ آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں ’’مباھلے‘‘ کی دعوت دی… اور فرمایا کہ
آؤ تم بھی اپنے بچوں اور عورتوں کو لے آؤ… میں بھی لے آتا ہوں… اور پھر جھوٹے
پر اللہ تعالیٰ کی لعنت بھیجتے ہیں… عیسائی جانتے تھے کہ اس مباھلہ کے بعد اگر وہ
ایمان نہ لائے تو ان کا حشر کیا ہو گا؟… تب وہ… ’’مباھلہ‘‘ سے بھاگ گئے… دعوتِ
مباھلہ کی آیت قرآن مجید میں موجود ہے… اس کا ترجمہ اور تفسیر پڑھ کر دیکھ
لیجئے… سورۃ اٰل عمران آیت ۶۰،۶۱۔
اس
مفصل واقعے کا صرف ایک اقتباس یہاں پیش خدمت ہے…
’’ان
آیات کے نازل ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مباھلہ کے لئے تیار ہو گئے اور
اگلے روز حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ، حضرت فاطمہ الزہراء
رضی اللہ عنہا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے ہمراہ لے کر باہر تشریف لے آئے،
نصارائے نجران مبارک اور نورانی چہروں کو دیکھ کر مرعوب ہو گئے… اور آپ سے مہلت
مانگی کہ ہم آپس میں مشورہ کر لیں، اس کے بعد آپ کے پاس حاضر ہوں گے… علیحدہ جا
کر آپس میں مشورہ کرنے لگے، سیدایہم نے عاقب عبدالمسیح سے کہا، خدا کی قسم تم کو
خوب معلوم ہے کہ یہ شخص ’’نبی مرسل‘‘ ہے تم نے اگر اس سے مباھلہ کیا تو بالکل ہلاک
اور برباد ہو جاؤ گے… خدا کی قسم میں ایسے چہروں کو دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ پہاڑ
کے ٹلنے کی بھی دعاء مانگیں تو پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائیں خدا کی قسم تم نے ان
کی نبوت اور پیغمبری کو خوب پہچان لیا ہے… عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں آپ صلی
اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ کہا ہے وہ بالکل قول فیصل ہے… خدا کی قسم کسی قوم نے
کبھی کسی نبی سے ’’مباھلہ‘‘ نہیں کیا مگر ہلاک ہوئے لہٰذا تم مباہلہ کر کے اپنے کو
ہلاک مت کرو، تم اپنے ہی دین پر قائم رہنا چاہتے ہو تو صلح کر کے واپس ہو جاؤ…
بالآخر انہوں نے مباھلہ سے گریز کیا اور سالانہ جزیہ دینا منظور کیا… آپ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، عذاب
اہل نجران کے سروں پر آگیا تھا… اگر یہ لوگ مباھلہ کرتے تو بندر اور سور بنا دیئے
جاتے اور تمام وادی آگ بن کر ان پر برستی اور تمام اھل نجران ہلاک ہو جاتے، حتیٰ
کہ درختوں پر کوئی پرندہ بھی باقی نہ رہتا…‘‘ (سیرت المصطفی جلد ۳)… جہاں
خوش نصیب عیسائی… حضرت نجاشی رضی اللہ عنہ نے بن دیکھے… آقا صلی اللہ علیہ وسلم
کی غلامی اختیار کر لی… وہاں رومیوں کی روٹیوں پر اینٹھنے والے نجران کے بد نصیب
عیسائی… خالی ہاتھ واپس چلے گئے… جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا بھر کے
حکمرانوں کو اسلام کی دعوت دی تب بھی… عیسائیوں میں کچھ نرمی آئی… مگر دنیا اور
ہائے دنیا… نے انہیں اسلام قبول کرنے سے روکے رکھا… حالانکہ ان کو اسلام کا حق
ہونا معلوم ہو چکا تھا… دعوت کو ٹھکرانے کے بعد اسلام کے پرامن جھنڈے نے… مجاہدین
کے کندھوں پر عیسائی دنیا کا رخ کیا… یہ ’’جھنڈا‘‘ مشرکین پر غالب آچکا تھا… اور
اس جھنڈے نے ’’یہودیوں‘‘ کو پورا پورا سبق سکھا دیا تھا… عیسائیوں سے بہت خیر کی
توقع تھی… اور وہ دور بھی تھے اس لئے ان کا نمبر دیر سے آیا… تب عیسائی دنیا نے
مسلمانوں کا ایک ’’عظیم کردار‘‘ دیکھا… کبھی زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ، کبھی جعفر
طیار رضی اللہ عنہ… اور کبھی عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ… عیسائی حیران تھے کہ
سب کٹ رہے ہیں مگر کوئی نہیں جھکتا… تب… آسمان سے ایک نور چمکا، زمین نے ہلکی سی
کروٹ لی… اور اللہ تعالیٰ کی تلوار خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی صورت میں نیام سے
ایسی باہر آئی کہ… دنیا پر راج کرنے والا کلیسا… ایک تنگ سے نیام میں بندہو کر رہ
گیا… آج شاید ’’عیسائی‘‘ اس بات کو بھول گئے ہیں کہ… ہم مسلمان صرف مدینہ منورہ
میں تھے… اور ان کی حکومت مغرب سے مشرق تک پھیلی ہوئی تھی… تب ہماری بے سرو
سامانی… اور ان کی قوت کا کوئی مقابلہ ہی نہیں تھا… مگر ہم نے اس وقت بھی ان کے
استقبال کے لئے سرخ قالین بچھا کر بھیک کا پیالہ ان کے سامنے نہیں پھیلایا تھا… ہم
نے دعوتِ اسلام دی تھی اور ہم نے جہاد کیا تھا… کیا قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ کی
کڑک اور مثنی رضی اللہ عنہ کی سر فروشی کو بھول گئے؟… کیا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ
اور ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ کو بھول گئے… تم اس وقت بھی ’’ترقی‘‘ پر تھے… اور
ہم اس وقت بھی پیوند زدہ کپڑے پہنتے تھے… ہاں البتہ اس وقت ہم میں دنیا کی غلاظت
کو ’’ترقی‘‘ سمجھنے والے بے رنگ لفافے موجود نہیں تھے… کیا تمہاری تاریخ کی کتابوں
میں ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ کا نام نہیں ملتا؟…
پھر
ہماری اور تمہاری آنکھ مچولی چلتی رہی… نہ ہم نے کبھی ہار مانی… اور نہ تم نے
عیاری اور چالاکی چھوڑی… تم نے بیت المقدس چھین لیا تو زنگیؒ اور ایوبیؒ نے واپس
لے لیا… ہم نے قرطبہ پر جھنڈے گاڑے اور تمہیں عزت سے رکھا… مگر تم نے جب واپس لیا
تو خون کے دریا بہا دیئے… ہاں بزدل ایسا ہی کیا کرتے ہیں… ہم نے کبھی فتح کے وقت
ہوش کا ساتھ نہیں چھوڑا… اور نہ کبھی شکست کو دل کا روگ بنایا ہے… وجہ یہ ہے کہ
ہمارے پاس سورۃ اٰل عمران موجود ہے جو شکست سے ابھرنے اور سنبھلنے کا طریقہ سکھاتی
ہے… اور ہمیں یہ اصول یاد کراتی ہے کہ تلک الایام نداولھا بین الناس… کہ جنگ میں
فتح اور شکست آتی رہتی ہے… دن ادلتے بدلتے رہتے ہیں… اور حالات میں ’’ہیر پھیر‘‘
ہوتا رہتا ہے… میں مانتا ہوں کہ آج تم لوگ طاقتور ہو… مگر میں یہ بھی جانتا ہوں
کہ اللہ کی قسم ہم بھی ’’مغلوب‘‘ نہیں ہوئے… مسلمان تب مغلوب ہوتا ہے جب وہ کفر کے
سامنے سر جھکا دے… اگر وہ سر نہ جھکائے تو ہر حال میں وہی غالب رہتا ہے… ہمارے کٹے
ہوئے… اور تنے ہوئے سر بتا رہے ہیں کہ ہم الحمدللہ آج بھی غالب ہیں… بات کچھ دور
نکل گئی… ہم مسلمانوں کے پاس قرآنی دستور موجود ہے… اس لئے کارٹونوں کی اشاعت کے
بعد پاکستان یا کسی اسلامی ملک میں… نہتے عیسائیوں پر کوئی حملہ نہیں ہوا… اور
میری دعاء ہے کہ ایسا کبھی ہو بھی نہ… ہمیں مسلمانوں کے اس طرز عمل پر فخر ہے کہ…
وہ جیسے بھی ہیں اسلام کے اہم اصولوں کے سامنے بچھ جاتے ہیں…
…
آج کے اس کالم کا ’’اہم مقصد‘‘ صرف یہی ہے کہ مسلمان… خود کو خالی ہاتھ نہ
سمجھیں… اور نہ بش اور انڈیا کی دوستی سے گھبرائیں… اور نہ بش کے دورے کی ناکامی
کے مرثیے پڑھیں… بلکہ تمام مسلمان حکمران اور عوام… اللہ تعالیٰ سے مدد، رہنمائی
اور ہدایت مانگیں… اور عیسائیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی ہدایات سورۃ اٰل عمران
میں وضاحت اور تفصیل کے ساتھ موجود ہیں… اور آج ہمیں جس ظاہری شکست اور پسپائی کا
سامنا ہے… اس کا مکمل علاج بھی اس سورۃ مبارکہ میں موجود ہے… یہ سورۃ ہر مسلمان کو
شہادت اور آخرت کا ایسا دیوانہ بنا دیتی ہے کہ… اس کی نظر میں دنیا کی چمک حقیر و
ذلیل ہو کر رہ جاتی ہے… آپ جانتے ہیں کہ یہی ’’عیسائیوں‘‘ کا پہلا اور سب سے بڑا
ہتھیار ہے… انہوں نے دنیا کی چمک دکھا کر ہی ہمارے حکمرانوں کو اپنا ’’حقیر غلام‘‘
اور چپڑاسی بنا رکھا ہے… جب مؤمن کے دل میں شہادت کا جنون ہو گا تو پھر یہ ہتھیار
اس پر کارگر نہیں ہو گا… اور شہادت کے طلبگار مسلمان کو دنیا کی کوئی طاقت شکست
نہیں دے سکتی… سورۃ اٰل عمران میں جہاد کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے… جس میں اس
طرف واضح اشارہ ہے کہ… مسلمانوں کو ان عیسائیوں سے لڑنا پڑے گا جو یہودیوں کے اشارے
پر ناچتے ہیں… یہ سورۃ ان منافقین کے حالات بھی بتاتی ہے… جو مسلمانوں کی ظاہری
شکست کے زمانے میں… ’’دانشور‘‘ بن جاتے ہیں اور مسلمانوں کو اس بات پر آمادہ کرنے
کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ جہاد چھوڑ دیں… اور کفر کی غلامی اختیار کر لیں… قرآن پاک
سمجھاتا ہے کہ… یہ لوگ جھوٹے اور بزدل ہیں… اور اندر سے خود کافر ہیں… یہ کہتے ہیں
کہ جہاد میں موت ہے تو ان کو بتا دو کہ تم بھی اپنے وقت پر مر جاؤ گے… اور موت
اپنے وقت سے پہلے کسی پر نہیں آتی… اور بتا دو کہ جہاد کی موت تو بہت اونچی، بہت
لذیذ، بہت میٹھی، بہت حسین، بہت مست، بہت البیلی… اور بہت ناز والی زندگی ہے… اور
جو زخموں سے چور ہو کر بھی جہاد میں لگے رہتے ہیں… ان کے لئے اللہ تعالیٰ کے پاس
اجر عظیم ہے… اے عیسائیو!… اب بھی ایمان قبول کر لو… اور اسلام کے سلامتی والے
سائے میں آجاؤ… اور اس بات کو بھول جاؤ کہ تم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے
امتیوں کو مٹا دو گے… یا جہاد کی شمع کو بجھا دو گے… تم ڈیزی کٹر بم برسا سکتے ہو…
تم ایٹم بم استعمال کر سکتے ہو،… تم ہماری حکومتوں کو اپنی انگلیوں پر نچا سکتے
ہو… تم ہماری افواج کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر سکتے ہو… ہاں تم یہ سب کچھ کر
سکتے ہو… میں ان تمام باتوں کو تسلیم کرتا ہوں… مگر یاد رکھو… تم اسلام کا کچھ بھی
نہیں بگاڑ سکتے، تم مسلمانوں کو ختم نہیں کر سکتے، تم جہاد کے مبارک عمل کو بند
نہیں کرا سکتے… ہاں تم قرآن پاک کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے… اور سنو! تم ہم سے
سورۃ اٰل عمران نہیں چھین سکتے… یہ سورۃ ہمیں ایک راز بتاتی ہے… جی ہاں مسلمانوں
کے عیسائیوں پر غالب ہونے کا راز… ہاں ہم یہ راز پڑھ کر پھر تم پر غالب آجائیں
گے… اگر تم اس راز کو سمجھنا چاہتے تو… آج کے کالم کا آخری جملہ غور سے پڑھو…
’’ہاں
تم مسلمانوں سے شہادت کی زندگی اور اس کی لذتیں نہیں چھین سکتے‘‘…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہم سب کو نفس اور شیطان کے شر سے بچائے…
افغانستان میں مجاہدین کے سابق رہنما جناب صبغت اللہ مجدّدی پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے… مجدّدی صاحب کے
حالات زندگی پر کچھ لکھنے کا ارادہ تھا… وہ کچھ عرصہ پہلے تک پشاور میں بہت
’’شان‘‘ سے گھومتے تھے… ادھر ’’سربیا‘‘ کا قابل نفرت درندہ ’’سلوبودان ملازوچ‘‘
ذلت کی موت مر گیا ہے… کچھ باتیں اس کی زندگی اور موت پر بھی کرنی تھیں… خبروں میں
سنا… ہماری ایک بوسنیائی بہن کہہ رہی تھی کہ اللہ پاک نے اس ظالم سے ہمارا بدلہ لے لیا ہے… اس
’’مسلمان بہن‘‘ کا پورا گھر ’ملازوچ منحوس‘‘ نے برباد کر ڈالا تھا… مشرق وسطیٰ کی
تقدیر بدلنے کا دعویٰ کرنے والا… اسرائیلی صدر ’’ایریل شرون‘‘ نزع کی حالت میں موت
کی تلخی اور سختی چاٹ رہا ہے… کچھ الفاظ اس کے بارے میں بھی لکھنے تھے کہ… اللہ تعالیٰ ’’دشمنان اسلام‘‘ کی صفوں کو کس طرح مٹا
رہا ہے… بے چارے ’’لال کرشن ایڈوانی‘‘ کو اس کی پارٹی نے صدارت سے ہٹا دیا ہے… اور
اب ’’ایڈوانی‘‘ رتھ یاترا کے ذریعے دوبارہ زندہ ہونے کیلئے مٹی چاٹ رہا ہے… اس
بارے میں بھی بات کرنی تھی کہ مسلمانوں کو ’’ہسپانیہ‘‘ یاد دلانے والوں کو اللہ تعالیٰ ’’غزنوی‘‘ اور ’’سومنات‘‘ یاد دلا رہا
ہے… مگر میری دائیں جانب ایک خط رکھا ہوا ہے… بڑے صفحات اور وہ بھی ایک دو نہیں
پورے آٹھ… جی ہاں آٹھ صفحے کا روتا دھوتا خط… جو ہماری ایک ’’پڑھی لکھی‘‘ مسلمان
بہن نے لکھا ہے… میں تمام باتیں چھوڑ کر اسی خط کے بارے میں کچھ عرض کرنے پر خود
کو مجبور پا رہا ہوں… خط کا خلاصہ یہ ہے کہ ہماری یہ ’’بہن صاحبہ‘‘ انٹرنیٹ پر
اسلام کی ’’خدمت‘‘ کرتی تھیں… ’’چیٹنگ‘‘ کے اس مبارک عمل کے دوران ان کا رابطہ ایک
اور ’’خادم اسلام‘‘ سے ہوگیا… اس ’’خادم اسلام‘‘ نے بتایا کہ اس کا تعلق ’’جیش محمد
صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ سے ہے… اور وہ مجاہد اور دین کا
داعی ہے… پھر وہ شخص اس ’’بہن صاحبہ‘‘ کو دھوکا دے گیا… اور اس نے جھوٹ، فریب اور
مکر کے بہت سے جال بچھائے… اور پھر ’’ایک اور جھوٹ‘‘ کا سہارا لیکر غائب ہوگیا… اب
بہن صاحبہ نے فریاد کی ہے کہ ان کو انصاف دلایا جائے… یہ خط پڑھنے کے بعد انٹرنیٹ
سے میری نفرت میں اور اضافہ ہوا… اس خط اور شکایت کے سلسلے میں ہماری جو ’’دینی
ذمہ داری‘‘ بنتی ہے وہ تو… ان شاء اللہ ادا ہوجائے گی… حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی طرف منسوب جماعت کے نام پر
دھوکا دینے والے… ہمیشہ نقصان ہی اٹھاتے ہیں… لیکن اگر انصاف کیا جائے تو پہلی
گذارش ’’بہن صاحبہ‘‘ ہی سے کرنی ہوگی کہ… آپ کا انٹرنیٹ سے کیا تعلق ہے؟… آپ اللہ تعالیٰ کی بندی، … باپردہ، باشرع اور باحیاء
بہن… آپ کا کمپیوٹر کی ’’ناپاک دنیا‘‘ سے کیا لینا دینا؟… کئی سال پہلے جب
’’انٹرنیٹ‘‘ نیا نیا آیا تھا تو اس ظالم کی ’’خطرناکی‘‘ محسوس کرتے ہوئے… بندہ نے
ایک مفصل مضمون لکھا تھا… جو بار بار شائع ہوا … اس کا عنوان تھا… ’’انٹرنیٹ کے
ڈسے ہوئے‘‘… پھر کچھ عبرتناک حالات سامنے آئے تو ہماری قیادت نے اپنی جماعت میں
کمپیوٹر کے عمومی استعمال پر پابندی لگادی… اور ضروری کاموں کے استعمال کیلئے کچھ
لازمی شرائط مقرر کردیں… ہماری کوشش رہتی تھی کہ جماعت کے تمام کمپیوٹرز کا ڈیٹا
وغیرہ مسلسل نگرانی کی زد میں رہے… اور وقتاً فوقتاً اس کی تفتیش اور نگرانی ہوتی
رہے… پھر ایک اور فتنہ آیا… اور وہ تھا ’’جہادی سی ڈیز‘‘ کا فتنہ… اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر… اس سے بھی جماعت کو دور
رکھنے کی کوشش کی گئی… حالانکہ استعمال کرنے والوں کے دلائل بہت ’’وزنی‘‘ اور
’’زوردار‘‘ تھے… مگر ہماری قیادت یہی کہتی رہی کہ ’’دعوت جہاد‘‘ کے لئے قرآن پاک
کافی ہے… حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات، احادیث اور صحابہ کرام کے
واقعات کافی ہیں… کمپیوٹر اور تصویر کا استعمال جتنا عام ہوگا… اسی قدر فتنے اور
فساد کا دروازہ کھلے گا… مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ… ایک بار مجھے تاشقند، سمرقند
اور بخارا وغیرہ جانے کا موقع ملا… بخارا میں قیام کی ایک ٹھنڈی اور یادگار رات…
وفد کے علماء کرام میں ٹی وی اور تصویر کے موضوع پر ’’مباحثہ‘‘ چھڑ گیا… بعض علماء
کرام کی رائے تھی کہ… ٹی وی بہت برا مگر اس کے ہر استعمال کو حرام نہیں کہا
جاسکتا… وہ اس پر دلائل دے رہے تھے… اور اس میں شک نہیں کہ وہ ’’اصحاب علم‘‘ اور
’’اصحاب تقویٰ‘‘ حضرات تھے… اور خود عملی طور پر ’’ٹی وی‘‘ اور ’’تصویر‘‘ سے دور
تھے… اور ان کے دلائل صرف ’’شرعی مسئلے‘ کی وضاحت کیلئے تھے… اس موقع پر… حکیم
الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ نے فرمایا… چھوڑیں جی! ان دلائل کو…
’’ٹی وی‘‘ نجس العین … یعنی بالکل ناپاک ہے… ایسا ناپاک جو کسی طرح سے پاک نہیں ہو
سکتا… اب انٹرنیٹ، کمپیوٹر… اور ٹی وی کے جو فتنے ہماری آنکھوں کے سامنے آرہے
ہیں… ان سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ… حضرت لدھیانوی شہیدؒ کا موقف ہی درست تھا…
ہمارے بعض دوست اس وہم کا شکار ہیں کہ وہ… انٹرنیٹ اور ٹی وی چینلز کے ذریعے دین
کی خدمت کرلیں گے… میں نے ایک ایسا چیلنج کیا ہوا ہے… جو ابھی تک ’’ناکام‘‘ نہیں
ہوا… حالانکہ میری دلی تمنا ہے کہ… وہ ’’ناکام‘‘ ہو جائے… میں نے یہ اعلان کر رکھا
ہے کہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کثرت سے استعمال کرنے والے حضرات وخواتین میں سے کوئی
ایک فرد… مجھے خط لکھ کر بتا دے… کہ وہ اس استعمال کے دوران کسی غلطی کا شکار نہیں
ہوا… یقین کریں مجھے اب تک کسی ایسے خط، ایسے فون، ایسے ایس ایم ایس کا انتظار ہے…
مجھے یقین ہے کہ یہ دنیا کبھی بھی اچھے اور سچے لوگوں سے خالی نہیں ہوئی… ہمارے
مسلمان بھائیوں اور بہنوں میں سے کچھ ایسے ضرور ہوں گے جنہوں نے… انٹرنیٹ یا
کمپیوٹر کے گناہ بے لذت سے اپنی آنکھیں اور دل نہیں جلائے ہوں گے… مگر ایسے لوگ
بہت ہی تھوڑے ہوں گے… ورنہ… سب کی انگلی کسی نہ کسی لمحے پھسل جاتی ہے… اور وہ
بدنظری، بدسمعی اور ذہنی عیاشی کے کسی نہ کسی گناہ میں ضرور مبتلا ہوجاتے ہیں… اگر
آپ نے انٹرنیٹ پر دو چار لڑکیاں مسلمان کر بھی لیں تو کیا آپ بھول گئے کہ… ہماری
لاکھوں مسلمان بہنیں… اسی کے ذریعے کافرہ… اور بے حیاء بن رہی ہیں؟… کمپیوٹر کی
دنیا میں ڈوبے ہوئے ہمارے مسلمان لڑکے… اور لڑکیاں اپنا کیا کچھ کھو چکے ہیں؟…
کبھی آپ نے اندازہ کیا؟… ان کی آنکھیں کمزور، رنگ پیلے، ذہن بے کار… اور دل عشق
نامراد کا شکار… اور ان کی قیمتی زندگیوں کے قیمتی اوقات… یوں برباد ہوتے ہیں … جس
طرح آگ پر گھی پگھل جاتا ہے… ہائے جوانی کے یہ لمحات جہاد میں… یا مصلّے پر آہ
وزاری میں گزرتے تو چہروں کا نور دیکھ کر… کافر مسلمان ہوجاتے …چند دن پہلے میں
قرآن پاک کی مستند اور مقبول تفسیر … ’’الجامع لاحکام القرآن‘‘… یعنی ’’تفسیر
قرطبی‘‘ کا مطالعہ کر رہا تھا… اس میں ایک حدیث پاک نظر سے گزری… حدیث چونکہ ضعیف
ہے… اس لیے میں نے کبھی اس کو نہ بیان کیا… اور نہ کسی مسئلے کی حجت یا دلیل
بنایا… اس میں ارشاد تھا کہ اپنی خواتین کو لکھنا نہ سکھاؤ اور نہ انہیں چھتوں پر
بنے مکانات میں ٹھہراؤ… مفسر نے وجہ یہ لکھی تھی کہ خواتین کمزور دل ہوتی ہیں اور
جلد فتنے کا شکار ہوجاتی ہیں… چھتوں پر سے بے اختیار مردوں کو جھانک سکتی ہیں…
ہماری بہنیں ناراض نہ ہوں… ہم سب اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں… اور اسی کے غلام ہیں… عزت
وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے سے ملتی ہے… کیا
ایسا نہیں ہے کہ… ہماری خواتین کے نزدیک مردوں کو دیکھنا کوئی عیب ہی نہیں سمجھا
جاتا…؟؟ خود تو ماشاء اللہ پورا پردہ کریں گی… ہاتھوں پر دستانے اور پاؤں
میں موزے تک پہنیں گی… مگر مردوں کو دیکھنا اپنا حق سمجھیں گی… حالانکہ… قرآن پاک
نے ایمان والے مردوں کو حکم دیا کہ… اپنی نظریں نیچی رکھو… اور اسی قرآن پاک نے
ایمان والی عورتوں کو بھی یہی حکم دیا کہ… وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں… نابینا صحابی
حضرت اقدس عبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کو پردے میں
جانے کا حکم دیا… اور فرمایا کہ… اگر وہ نابینا ہیں تو تم تو نابینا نہیں ہو… اس
لیے ایسی چھتوں پر قیام سے روکا گیا جہاں سے جھانکنا تانکنا آسان ہو… تاکہ… امت
کی پاکیزہ بہنیں کسی ادنیٰ فتنے کا شکار بھی نہ ہوں… ہاں اگر چھتیں ایسی ہوں جن کے
گرد چار دیواری ہوتی ہے تو ان میں کوئی حرج نہیں ہے… اور اگر ’’مسلمان بیٹی‘‘ خود
اپنے مقام کو سمجھ لے… اور اپنی قیمت کو پہچان لے تو پھر اس کیلئے کسی بھی جگہ
کوئی حرج نہیں ہے… تب … حدیث کا معنیٰ یہ ہوگا کہ ایسی اونچی جگہوں پر قیام
نہ ہو، جہاں پر وہ مردوں کو نظر آئیں… اور دوسری بات یہ فرمائی کہ ان کو لکھنا نہ
سکھاؤ… اس کا مقصد بھی لکھائی، پڑھائی سے روکنا یا منع کرنا نہیں ہے… ماضی میں
مسلمان خواتین نے اپنے قلم سے اسلام کی بے حد خدمت کی ہے… ہمارے زمانے میں… حضرت
مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کے مجاہد اور سید گھرانے کی خواتین نے… اپنے قلم کے
ذریعے … مسلمانوں کو بہت فائدے پہنچائے ہیں… حضرت امام طحاویؒ کی بیٹی بہت بڑی،
محدّثہ اور مصنّفہ تھیں… مقصد صرف اتنا ہے کہ… اس بارے میں خواتین جلد فتنے کا
شکار ہوجاتی ہیں… اور ان میں سے اکثر کے قلم … پاکیزگی کا راستہ چھوڑ کر … لگ
لگاؤ اور عشق ومحبت کی آگ برسانے لگتے ہیں… ’’پہلے سلام دعاء‘‘… پھر تعارف، پھر
دینداری پھر اپنے فضائل… اور پھر معاملہ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے… حالانکہ قلم ایک
مقدس امانت ہے… اور لکھنا ایک بہت بڑی نعمت ہے… مگر جب ان نعمتوں کو غلط استعمال
کیا جاتا ہے تو… پھر سزا اور عذاب بھی سخت ہوتا ہے… اللہ تعالیٰ ہمیں قلم اس لیے دیتا ہے کہ ہم اس کے
ذریعے اُس سے تعلق جوڑیں… اور ہم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پھنسنے پھنسانے کے چکر میں
مبتلا ہوجاتے ہیں… ایسی خواتین اور لڑکیاں آخر میں رسوا ہوتی ہیں… اور پھر ساری
زندگی روتی اور ناشکری کرتی ہیں… اے اللہ کی بندیو! … ذرا اللہ تعالیٰ سے محبت کرکے دیکھو… صرف ایک رکوع ایسا
کرو کہ جو صرف اور صرف اللہ پاک کو راضی کرنے کیلئے ہو… یا اللہ میں تیری ہوں، یا اللہ میں تیری ہوں، یا اللہ میں تیری ہوں… قیام سے رکوع کی طرف جاتے ہوئے،
دل کو محبت اور عظمت سے بھر کر… یا اللہ صرف تیرے لیے … صرف آپ کو راضی کرنے کیلئے رکوع
کر رہی ہوں… اب آپ کے سامنے… صرف آپ ہی کیلئے سجدے میں گر رہی ہوں… ہر کسی سے دل
لگانے کی بجائے… صرف اللہ تعالیٰ سے دل لگائیں… تو رب کعبہ کی قسم ان کا
ہر مسئلہ خود حل ہوجائے… اور اسلام کا دامن مجاہدین سے بھر جائے… مگر اب تو
مسلمانوں کے پاس سیٹیاں بجانے والے نوجوان… اور دل پھینک لڑکیوں کے سوا کچھ اور
نظر ہی نہیں آرہا… تب ظالموں نے… ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے کارٹون بنا ڈالے… سچی بات یہ ہے کہ
خواتین نے اللہ تعالیٰ سے دل کو توڑا تو مسلمان معاشرے کی کمر
ہی ٹوٹ گئی… یاد رکھیں ناجائز عشق ناجائز ہی ہوتا ہے… خواہ وہ کسی کرکٹر سے کیا
جائے… یا کسی مجاہد سے… نکاح کے بغیر گپ شپ، خط بازی اور دل لگی حرام ہے خواہ کسی
فلم ایکٹر سے کی جائے… یا کسی عالم یا بزرگ سے… مہربانی کرکے شیطان کے اس دھوکے
میں نہ آئیں کہ… پگڑی باندھنے والوں سے ناجائز عشق اور فضول دل لگی جائز ہے… اور
گانا گانے والوں سے نہیں… اور ایک بات خوب یاد رکھیں کہ… نفاق سے بچنا سب سے ضروری
کام ہے… گناہ کرنا ہے تو اس کو گناہ سمجھ کر کریں اور اس پر نادم رہیں… کسی گناہ
کو حلال بنانے کی غلطی نہ کریں، ورنہ کفر کا خطرہ ہوگا… دنیا داری کرنی ہے تو دنیا
دار بن کر کریں… اگر دین کے لبادے میں ایسا کیا تو پھر بہت بڑا ظلم ہوگا… کسی سے
غلط عشق کرنا ہے تو صاف بتا کر کریں… کسی کو بہن کہہ کر… پھر اس سے ناجائز لذت لیں
گے تو زمین بھی لرز جائے گی… یاریاں کرنے کا شوق ہے تو عام نوجوان بن کر کریں…
جہاد کے لبادے میں کریں گے تو پھر یہ دین سے دشمنی ہوگی… گناہگار بخشا جاتا ہے مگر
منافق کو تو توبہ کی توفیق بھی بہت کم ملتی ہے… مسلمان عورت صرف اللہ پاک کے ساتھ جڑ جائے تو اسلامی معاشرہ اتنا
طاقتور ہوجائے گا کہ… دنیا بھر کے کفر سے ٹکرا جائے گا… مگر آج تو شادی سے پہلے
عشق اور شادی کے بعد خاوند کی نگرانی… ہماری عورتوں کا فرض منصبی ہے… حالانکہ ان
کا کام اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا تھا… وہ شادی کے بعد زیادہ
عبادت کرتیں… زیادہ اپنے دل کو پاک کرتیں… اور زیادہ دین کا کام کرتیں… اور اپنے
خاوندوں کو بتا دیتیں کہ… ہم اللہ تعالیٰ کے ہر حکم پر راضی ہیں… آپ گناہ سے بچیں
خواہ چار شادیاں کریں… مگر گناہ کرکے گھر میں قدم نہ رکھنا… میں اپنے اوپر سوکن
برداشت کرسکتی ہوں… مگر اپنے مالک کے نافرمان کو برداشت نہیں کرسکتی… اگر خواتین
اسلام اللہ تعالیٰ کے حکموں پر سر جھکادیتیں تو ہمارا
معاشرہ پاک ہوجاتا… مگر آج کی عورت کو… ایسا خاوند برداشت ہے جو بے نمازی ہو،
بدنظر ہو، بیس عورتوں سے دوستی رکھتا ہو… مگر ایسا خاوند برداشت نہیں جو دوسری
بیوی رکھتا ہو… خواہ وہ اللہ تعالیٰ کا مقرب ہی کیوں نہ ہو… جو مسلمان…
مسلمان ہونے کے باوجود ایک سے زیادہ شادیوں کو برا کہتے ہیں… ان کے ایمان خطرے میں
ہیں… کیونکہ وہ قرآن پاک کے حکم پر (نعوذبا للہ) انگلی اٹھاتے ہیں… وہ انبیاء
علیہم السلام، خلفائے راشدین… اور صحابہ کرام کے عمل کو غلط سمجھتے ہیں… اور اپنی
ذات کی خاطر دین کو برا جانتے ہیں… باقی یہ بھی درست ہے کہ… ہمارے معاشرے میں…
زیادہ شادیوں کا فی الحال عمومی تحمل نہیں ہے… مرد ہوس پرست اور ظالم ہو چکے ہیں…
اور بے انصافی ان کے خون کا حصہ بن چکی ہے… جبکہ عورتیں… اللہ تعالیٰ سے کٹ چکی ہیں… وہ نہ تو اللہ تعالیٰ کو اپنا رازق ورزاق سمجھتی ہیں… اور نہ اللہ تعالیٰ کو اپنا معز ّ (عزت دینے والا) مانتی
ہیں… وہ جنت کی بجائے دنیاکی طلبگار ہیں… اللہ تعالیٰ ہم سب کی اصلاح فرمائے… اور ہمارے دلوں
کو مسلمان بنائے… اور اپنی ذات پاک کے ساتھ اخلاص والی محبت عطاء فرمائے… بات
انٹرنیٹ سے چلی تھی اور بہت دور نکل گئی… ہماری جس بہن نے شکایت لکھی ہے… سچ یہ ہے
کہ ان کو شکایت کا حق نہیں ہے… آپ انٹرنیٹ استعمال ہی نہ کرتیں تو کوئی آپ کو اس
طرح سے تنگ نہ کرسکتا… اگر آپ نے انٹرنیٹ استعمال کیا بھی تھا تو صرف عورتوں سے
رابطہ رکھتیں… آپ نے مردوں سے رابطہ نہیں کرنا تھا… اگر آپ نے کسی مرد سے دین
سیکھنے کیلئے رابطہ کیا بھی تو… اپنی ذاتی زندگی سے اس کو آگاہ نہیں کرناتھا… اگر
آپ نے اپنی ذاتی زندگی سے آگاہ کردیا… اور اس نے ایک جماعت کا نام لیکر آپ کو
دھوکا دیا… تو جس طرح اب آپ نے خط لکھا ہے… دھوکا کھانے سے پہلے اس شخص کی تصدیق
کیلئے بھی خط لکھ سکتی تھیں… اور پوچھ سکتی تھیں کہ… یہ شخص اعتبار کے قابل ہے یا
نہیں؟… میری بہن! غلطی اصل میں آپ ہی سے ہوئی ہے… سچے دل سے توبہ کریں… اللہ پاک بہت معاف فرمانے والا ہے… مگر معافی اسی کے
لئے ہے جو خود کو قصور وار سمجھے… اگر اپنے لیے عذر ڈھونڈے جائیں کہ یہ وجہ تھی یا
وہ وجہ تھی… تو پھر توبہ نہیں ہوتی… ہم سب مجرم ہیں اور قصور وار ہیں… ہمیں اپنی
گردن اپنے مالک کے سامنے جھکا دینی چاہئے… اور اپنے دل کو ’’تکبر‘‘ اور ’’میں‘‘ سے
پاک کرلینا چاہئے… میری بہن! آپ کے دل میں دین کا درد ہے تو اللہ پاک آپ کی ضرور مدد فرمائے گا… بس رات کا آخری
حصہ اس کے نام… صرف اس کے نام وقف کردیجئے… میری بہن! میں نے… آپ کا نام مضمون
میں نہیں لکھا… نہ آپ کا پتا چھاپا ہے… اور نہ آپ کے راز کو فاش کرنے کی غلطی کی
ہے… میرے پاس جتنے بھی خطوط آتے ہیں … میں ان کو ’’شرعی امانت‘‘ سمجھتا ہوں… اور
کسی کے عیب کو… کسی کے سامنے ظاہر نہیں کرتا… مگر آپ کا قصہ مجھے اس لیے لکھنا
پڑا… کہ جہاد کے نام پر دھوکا دینے والے… انٹرنیٹ کے کھلاڑی، ہر طرف پھیلے ہوئے
ہیں… اور ہماری بہت سی سادہ دل بہنیں… دین اور جہاد کے نام پر دھوکا کھا رہی ہیں …
خود آپ نے بھی لکھا ہے کہ میں دوسری لڑکیوں کو بھی اس طرح کے دھوکے سے بچانا
چاہتی ہوں… اس لیے آپ کا ’’بے نام‘‘ اور ’’ادھورا قصہ‘‘ مجھے لکھنا پڑا کہ شاید…
کسی اور بہن کا ایمان بچ جائے… آپ پر لازم ہے کہ آپ ’’انٹرنیٹ‘‘ کو بالکل چھوڑ
دیں… قرآن پاک موجود ہے… اسی سے رنگ، روشنی، اور رہنمائی حاصل کریں… اگر دینی
رہنمائی در کار ہے تو امت کے مستند علماء کرام کو خط لکھیں… مگر پوری احتیاط کے
ساتھ… کسی کو زیادہ القاب نہ لکھیں… اپنی زندگی کے اوراق نہ کھولیں… اور اصلاح کے
علاوہ کسی تعلق کو مقصود نہ بنائیں… آخر میں ان تمام بھائیوں، اور بہنوں سے
دردمندانہ گذارش ہے جو… انٹرنیٹ پر اپنی زندگیاں برباد کر رہے ہیں کہ… اس موذی کو
اپنے گھر سے نکال دیں… اور یہی وقت دین کی خدمت میں گزاریں… خود دین سیکھیں… اور
دوسروں تک بھی اللہ تعالیٰ کا دین صحیح طریقے سے پہنچائیں… انٹرنیٹ
پر بیٹھ کر اپنی صحت اپنی آنکھیں… اور اپنا دماغ برباد نہ کریں… اور نہ اس کی
دینی باتوں سے خود کو دھوکے میں رکھیں… فوائد تو ہر چیز میں موجود ہیں… سائنسدانوں
کے مطابق پیشاب پینے میں بھی کچھ فائدے ہیں… حیوٰۃ الحیوان میں پاخانہ کھانے کو
بعض بیماریوں کا علاج لکھا ہے… شراب کے بارے میں خود قرآن پاک کا اعلان ہے کہ اس
میں کچھ نہ کچھ فائدہ موجود ہے… مگر اس کا گناہ اور نقصان اس کے فائدے سے زیادہ
ہے… گھروں کے وہ بزرگ جنہوں نے اپنے بچوں کو دین کے دھوکے میں کمپیوٹر خرید کر دے
دیئے ہیں… ان سے گزارش ہے کہ … ہفتے میں ایک بار کسی ’’ماہر‘‘ کو بلوا کر چیک کیا
کریں کہ… میاں صاحبزادے نے پورے ہفتے میں کمپیوٹر پر کتنی چڑیاں ماری ہیں؟ … اور
کون کون سے کارنامے سر انجام دئیے ہیں؟… کمپیوٹر بھی اپنے استعمال کرنے والوں کا
نامۂ اعمال محفوظ رکھتا ہے… اس لیے اسے ’’چیک‘‘ کیا جاسکتا ہے… اور وہ دینی
ادارے، جماعتیں … اور افراد جو کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کو دینی کاموں کیلئے استعمال
کرنا چاہتے ہیں… وہ … اس کی ’’شرعی نگرانی‘‘ کا پورا نظام بنائیں… مثلاً … غلط ویب
سائٹس جام کردیں… کمپیوٹر کو کوئی اکیلا استعمال نہ کرے… ڈیٹا چیک ہوتا رہے…
کمپیوٹر بڑے کمرے میں ہو… چھوٹے کیبن نہ ہوں… وغیرہ وغیرہ… اے مسلمان بھائیو! اور
اے مسلمان بہنو! شیطان نے قسم کھائی ہے کہ وہ ہمیں جہنم میں لے جانے کی پوری کوشش
کرے گا… اور ہماری ہر طرف سے ہم پر حملہ کرے گا… ہم پر اپنے گھڑ سوار اور پیادے
دستے بھیجے گا… اور ہمارے ہر ہر طرف دنیا کی چمک، دمک چکاچوند… شہوتیں اور لذتیں
بھر دے گا… تب معلوم ہے… اللہ پاک نے کیا فرمایا؟… اللہ پاک نے فرمایا… (اے شیطان تو جو کچھ بھی کرلے)
میرے مخلص بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا…
ہاں
اللہ کے مخلص بندے… یعنی خالص بندے… ملاوٹ سے پاک
بندے… صرف اسی کے، صرف اسی کے… جن کا جینا اسی کیلئے، جن کا مرنا اسی کیلئے… جن کی
محبت اسی کیلئے… جن کی نفرت اسی کیلئے… نماز سے لیکر جہاد تک… اور وضو سے لیکر حج
تک… ہر عمل وہ صرف اللہ تعالیٰ کیلئے کرتے ہیں … ان کا نکاح بھی اللہ کی رضا کیلئے… اور ان کی طلاق بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے… ہاں اللہ کے
خالص بندے… مخلص بندے… ایسوں پر شیطان کا بس نہیں چلتا…
مگر…
نفاق اور ریاکاری کی اس دنیا میں … جہاں کوئی عمل بھی لوگوں کو بتائے بغیر… لوگوں
کو دکھائے بغیر نہیں ہوتا… اخلاص جیسی نعمت کہاں سے ملے؟… ہائے اخلاص جیسی نعمت…
کہاں سے ملے؟… آئیے ادھر ہی چلیں… اور کہاں جائیں؟… اسی کی طرف چلیں جس کے ہم سب
ہیں… اور اسی سے ’’اخلاص‘‘ مانگ لیں… یا اللہ … اے ہمارے مالک ہم سب کو اپنا بنا… اور
ہمیں اخلاص عطاء فرما…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ان کو آخرت کے اونچے مقامات عطاء
فرمائے… وہ ذاتی اور اجتماعی دونوں میدانوں میں… عمدہ صلاحیتوں کے مالک تھے… آج
کئی دنوں کے بعد اخبار خریدا تو اس میں کئی جگہ ان کا تذکرہ تھا… اخبار ہی کے
ذریعے معلوم ہوا کہ آج ڈیرہ اسماعیل خان کے… حق نواز پارک میں ان کی یاد میں
اجتماع ہورہا ہے… بے شک ان کے نظریات، ان کے کارنامے… اور ان کے افکار یاد رکھنے
کے لائق ہیں… اور وہ امت مسلمہ کا مشترکہ اثاثہ ہیں… وہ بہت پختہ اور جید
عالم دین تھے… جی ہاں تمام قرأتوں کے قاری، صاحب فتویٰ مفتی… اور صاحب مسند استاذ
حدیث… مگر اس کے باوجود منجھے ہوئے سیاستدان بھی تھے… سیاست کے ساتھ ساتھ… اپنے
علم کی حفاظت کرنا اور اس سے رشتہ جوڑے رکھنا بہت ہی مشکل کام ہے… وہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس ’’مشکل‘‘ کو
نباہتے رہے اور سیاست کی گہماگہمی ان کے ’’علمی مقام‘‘ کو نقصان نہ پہنچا سکی…
ہماری
یہ امت ’’کتابی‘‘ اور ’’تلواری‘‘ امت ہے… اس کا پہلا سبق ہی… ذلک الکتاب… سے
شروع ہوتا ہے… ’’کتاب‘‘ کی تلاوت، ’’کتاب‘‘ کا علم… ’’کتاب‘‘ پر عمل اور ’’کتاب‘‘
سے رشتہ اس امت کی ’’خاص شان‘‘ ہے… اور جب بھی ’’امت‘‘ کی قیادت ان لوگوں نے کی جن
کا ’’کتاب‘‘ سے رشتہ مضبوط تھا تو امت نے … بہت اونچی کامیابیاں حاصل کیں… حضرات
علماء دیوبند کو اللہ پاک نے فولادی اعصاب عطاء فرمائے تھے… ان حضرات
کیلئے ’’کتاب‘‘ سے رشتہ جوڑے رکھنا قطعاً آسان نہیں تھا… ملک کا حکمران
’’انگریز‘‘ اُن کا بدترین دشمن تھا… خانقاہ تھانہ بھون کے بعض دروازوں پر انگریزکی
لگائی ہوئی آگ کے نشانات میں نے… خود اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں… حضرت مدنیؒ دن
رات ریل اور جیل میں ہوتے تھے… مگر… دارالعلوم کی مسند پر بخاری اور مسلم جیسی
مشکل کتابوں کا درس بھی جاری رہتا تھا… حضرت شیخ الہندؒ بڑھاپے میں مالٹا کے اذیت
خانے میں ڈالے گئے… مگر ترجمہ اور تفسیر کا کام پوری آب وتاب سے جاری رہا… حضرت
نانوتویؒ کی زندگی ’’سراسر تحریک‘‘ اور ’’سراسر جہاد‘‘ تھی مگر علم ایسا تھا کہ اس
زمانے میں اور پھر بعد میں ان کی مثال ڈھونڈنا مشکل ہے… حضرت گنگوہیؒ جو فقہ کے
امام تھے… خود شاملی کے جہاد میں شریک تھے… جہاد کا لفظ آسان ہے… مگر غاصب
حکمرانوں سے ٹکر لینے والوں پرجو حالات آتے ہیں… ان کا تصور بھی تن آسانوں کیلئے
مشکل ہے… انگریز تو ویسے ہی بہت ناپاک، بہت شاطر اور بہت ظالم قوم ہے… اس نے
برصغیر میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ کیا وہ تاریخ کا ایک نہ بھلایا جانے والا
’’سیاہ باب‘‘ ہے… ہر قدم پر فتنے، ہر قدم پر فرقے …نئی نئی جھوٹی نبوتیں… الحاد
اور بدعات کے خوفناک گٹر… لسانیت پرستی، علاقہ پرستی، جاگیرداری، نواب گیری… اور
دلوں کو مسخ کردینے والا نظام تعلیم… ہائے اس ظالم کے کس کس ظلم کو یاد کیا جائے…
پھر طرح طرح کے کالے قانون، عقوبت خانے، سی آئی ڈی… اور ہر وقت مسلمانوں سے آباد
جیلیں… مگر آپ حیران ہوں گے کہ الحمدللہ… ان میں سے کسی جگہ بھی ’’درس قرآن‘‘
بند نہیں ہوا… ہمارے اکابر نے ’’کتاب‘‘ کو تھامے رکھا… اور اسے مضبوطی سے پکڑے
رکھا… دراصل ’’کتاب‘‘ کے علم کیلئے… امن اور فرصت کی شرط ہے ہی نہیں… یہ ’’کتاب‘‘
تو خود… ہجرت وجہاد… اور جنگ وقتال کے ماحول میں نازل ہوئی ہے… اس ’’کتاب‘‘ کے سب
سے پہلے حاملین کو… حلوے اور پراٹھے نہیں، پتھروں اور تلواروں کا سامنا رہا ہے…
مکہ مکرمہ کے تیرہ سال کون سا امن تھا… اور کون سی فرصت؟… طائف کے بازاروں اور
باغات میں کون سا گوشۂ عافیت تھا؟… مدینہ منورہ کی طرف سفر کون سا آسان تھا؟…
اور پھر مدنی زندگی میں… کتنی فرصت اور کتنا آرام تھا؟… مگر ان سخت حالات میں
قرآن پاک برابر نازل ہورہا تھا… اللہ تعالیٰ کے نبی اور آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ… دعوت وجہاد کا کام بھی کر رہے تھے… اور
’’کتاب‘‘ کا بھی پورا پورا حق ادا کر رہے تھے… انہوں نے ’’کتاب‘‘ کی خاطر ایک دن
کام سے چھٹی نہیں لی… اور نہ ہی… کام کو عذر بنا کر انہوں نے ایک دن ’’کتاب‘‘ سے
غفلت برتی…
دراصل
’’کتاب‘‘ اپنا سینہ کھولتی ہی ’’کام‘‘ والوں کیلئے ہے… ان کی اس محنت کا نتیجہ یہ
نکلا کہ… سارے صحابہ کرام عالم بھی تھے، مجاہد بھی تھے، اور دینی سیاستدان بھی
تھے… ’’کتاب‘‘ اور ’’کام‘‘ دونوں کا حق ادا کرنے نے ان کو ایسا بنادیا تھا… چنانچہ
حضرات خلفائے راشدین نے جب حکومتیں چلائیں تو ان کی… دینی اور ’’کتابی‘‘ سیاست کے
سامنے دنیا کی تمام تر ’’سیاست‘‘ ناکام ہوگئی… سبحان اللہ ! حضرات صحابہ بھی کیسے عظیم لوگ … اور
مسلمانوں کیلئے کیسی عظیم مثال تھے… وہ مظلوم تھے تب بھی… ’’کتاب‘‘ سے جڑے رہے… وہ
قید تھے تب بھی ’’کتاب‘‘ سے جڑے رہے… وہ مہاجر ہوئے تب بھی ’’کتاب‘‘ سے غافل نہ
ہوئے… وہ مجاہد بنے تب بھی’’کتاب‘‘ ان کے ساتھ رہی… اور وہ ’’کتاب‘‘ کے ساتھ
رہے… وہ حکمران بنے تب بھی ہر آئے دن’’کتاب‘‘ سے ان کا رشتہ مضبوط تر ہوتا
چلا گیا… وہ جانتے تھے کہ … دنیا اور آخرت میں کامیابی کا تمام تر راز اسی کتاب
میں ہے… وہ جانتے تھے کہ یہی رب تک پہنچنے کی سیڑھی… اور جنت تک چڑھنے کی رسی ہے…
وہ سمجھ گئے تھے کہ… دنیا فتنوں کی جگہ ہے… اور ان فتنوں کی ’’قابل نفرت حقیقت‘‘
صرف آسمان کی وحی یعنی ’’کتاب‘‘ ہی سمجھا سکتی ہے… ورنہ انسان اتنا کمزور ہے کہ…
مال، ترقی اور زندہ رہنے کے شوق میں آسانی سے تباہ ہوسکتاہے… برصغیر پر پونے دو
سو سال حکومت کے دوران… انگریز کی پوری کوشش یہی رہی کہ مسلمانوں کو ’’کتاب‘‘ سے
کاٹ دے… دینی مدارس کا لفظ انگریز کو گالی کی طرح کیوں برا لگتا ہے؟… صرف اس لیے
کہ ان مدارس میں ’’کتاب‘‘ پڑھائی جاتی ہے… اللہ تعالیٰ معاف فرمائے… انگریز جزوی طور
پر اپنی کوشش میں کامیاب ہوا… اور اس نے مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کو ’’کتاب‘‘ سے
کاٹ دیا… چند دن پہلے ’’مینار پاکستان‘‘ پر جو جلسہ ہوا… اس میں خود کو مسلمان
کہنے والے لیڈروں نے جو کچھ کہا… وہ اسی ’’انگریزی محنت‘‘ ہی کا کڑوا پھل ہے… نام
مسلمانوں والے… مگر دل میں اسلام اور مسلمانوں کے لئے ذرہ برابر جگہ نہیں… دنیا،
صرف دنیا اور کافروں کی خوشنودی… کیا یہ کسی مسلمان کا منشور ہوسکتا ہے؟… انگریزی
نصاب تعلیم نے مسلمانوں میں ایک ایسا طبقہ پیدا کردیا ہے… جو ’’کتاب‘‘ سے بالکل
جاہل اور نا آشنا ہے… یہ لوگ فخر سے مسلمان کہلاتے ہیں مگر… ان کے دل ’’کتاب اللہ ‘‘ کے احکامات سے نفرت رکھتے ہیں… آپ ان
کے ساتھ گھنٹوں بیٹھ جائیں… آپ کو قبر، حشر، آخرت کا کوئی تذکرہ یا دھیان نہیں
ملے گا… بس دنیا، دنیا اور یہاں کی مجبوریاں اور غیر ملکی دباؤ… اور یہ کہ ہم
دنیا سے کٹ کر نہیں رہ سکتے… اگر ان کو بتایا جائے کہ قرآن پاک قبر یاد دلاتا ہے…
آخرت کی زندگی کو اصل بتاتاہے … دنیا کی زندگی کو فانی قرار دیتا ہے… اور کفار سے
یاری کو پسند نہیں کرتا تو… وہ… حیرت اور نفرت سے اُلٹی سیدھی باتیں کرنے لگتے
ہیں… اور قبر وآخرت کی باتیں کرنے والے کو پاگل سمجھتے ہیں… میانوالی جیل میں اسارت
کے دوران مجھے ایک آفیسر نے کہا… آپ کی باتیں عجیب ہیں؟ … میں حیران ہوا کہ… سب
لوگ مر رہے ہیں… سوسال پہلے کے تقریباً تمام لوگ مرچکے ہیں… معلوم ہوا کہ مرنا
حقیقت ہے… اسی حقیقت کو یہ لوگ عجیب سمجھتے ہیں… اور ہر لمحہ فنا ہونے والی زندگی
کی خاطر… اپنا دین، ایمان سب کچھ برباد کر رہے ہیں… ظالم انگریز نے کچھ مسلمانوں
کو…ا نگریزی تعلیم دے کر… ان کے ہاتھوں سے ’’کتاب‘‘ چھین لی… کچھ کو قبروں اور
مزاروں پر جا بٹھایا… اور ا ن کے دلوں سے کتاب کا نور چھن گیا… کچھ کو قادیانیت
اور انکار حدیث کی ناپاک دلدل میں جاڈالا… جہاں ’’کتاب‘‘ سے وہ لوگ یکسر محروم
ہوگئے… کچھ لوگوں کو لسانیت پرستی اور علاقہ پرستی کے بدبودار نعروں میں مبتلا
کرکے… ’’کتاب‘‘ کی خوشبو سے محروم کردیا… اور کچھ لوگوں کو جمہوری سیاست، اور
جاگیرداری کا ایسا چسکا لگایا کہ… وہ … ’’کتاب‘‘ سے دور ہوتے چلے گئے… اور کچھ
لوگوں کو بے حیائی، نشے بازی اور بے کاری کے فتنوں میں ڈال کر… ’’کتاب‘‘ کے علم سے
دور کردیا…
ان
حالات میں ’’حضرات علماء کرام‘‘ نے اپنی جانوں پر کھیل کر… اور خود کو مٹی میں ملا
کر… ’’کتاب‘‘ کے ساتھ اپنے تعلق کو جوڑے رکھا… لوگوں کے گھروں سے روٹیاں مانگ کر
کچی مسجدوں میں قرآن پڑھنے والے… چوری اور ڈاکہ ڈال کر بھی روٹی کما سکتے تھے…
مگر روٹی ان کا مقصود نہیں تھی… وہ ’’کتاب‘‘ چاہتے تھے… اور اسی کی خاطر یہ مجاہدے
اور اذیتیں اٹھا رہے تھے… یاد رکھیں! ’’کتاب اللہ ‘‘ کے علم سے محروم سیاستدان … مسلمانوں کو
کبھی کامیابی نہیں دلا سکتے… اور ایسی قیادت جس کا ’’کتاب‘‘ سے تعلق نہ ہو…
مسلمانوں کو سیدھے راستے کی طرف نہیں لے جاسکتی… بات کچھ دور نکل گئی… حضرت مولانا
مفتی محمودؒ کا ’’ذکر خیر‘‘ اخبار میں پڑھا تو بے ساختہ یہ باتیں… ’’نوک قلم‘‘ پر
آگئیں… کچھ عرصہ پہلے تک ’’کتاب‘‘ اور ’’کام‘‘ کا یہ جوڑ… پوری آب وتاب کے ساتھ
نظر آتاتھا… حضرت مفتی محمودؒ ، حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ، حضرت مولانا عبد
اللہ درخواستی ؒ، حضرت مولانا
عبدالحق حقانیؒ اور بہت سے حضرات … ان حضرات نے بڑی محنتیں فرمائیں…
اور اپنے لیے صدقات جاریہ کے انبار جمع فرمائے…
وہ
نہ گوشہ نشین کتابی عالم بنے… اور نہ ’’کتاب‘‘ سے دور آزاد سیاستدان… انہوں نے
سیاست کے گلیاروں میں… اپنی علمی ودینی شان کو ماند نہیں پڑنے دیا… اور نہ مدارس
کی چار دیواری میں امت کے اجتماعی حالات سے غافل ہوئے… ختم نبوۃ کا مسئلہ آیا تو
وہ کفن باندھ کر نکلے… اور بالآخر قادیانیوں کو… قانونی طور پر مرتد قرار دلوا کر
دم لیا… پھر ان کے پڑوس میں ’’جہاد افغانستان‘‘ شروع ہوا تو … ان حضرات نے جہاد کا
اوّلین فتویٰ… بغیر کسی خوف اور ترغیب کے جاری کیا… اور اپنے جیسے ایک کتابی عالم
حضرت مولانا محمد نبی محمدیؒ… کی بھرپور مدد کی… افغانستان کے جہاد میں بڑے بڑے
لوگوں نے شرکت کی… مگر… سیدھی راہ پر وہی رہے جن کا ’’کتاب‘‘ سے براہ راست رشتہ
تھا… حضرت مولانا محمد نبی محمدیؒ، حضرت مولانا محمد یونس خالصؒ وغیرہم… جبکہ
’’کتاب‘‘ سے دوری نے… ’’استاذ سیاف، استاد ربانی، پیر گیلانی… اور صبغت اللہ مجددی کو غلط راستوں پر جا ڈالا… اسی طرح وہ لوگ
جنہوں نے ’’کتاب‘‘ سے تو تعلق رکھا مگر ’’کتاب‘‘ کے بتائے ہوئے ’’کام‘‘ میں نہیں
لگے… وہ بھی امریکہ اور کرزئی کے جال میں تڑپ رہے ہیں…
دراصل
اللہ پاک نے امت کو ’’کتاب‘‘ بھی دی… اور
لوہے کا استعمال بھی سکھایا… سورۃالحدید پڑھ کر دیکھ لیجئے… خود حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم ادھر ’’کتاب‘‘ لاتے تھے…
اور ادھر ’’کام‘‘ میں لگ جاتے تھے…
پہلی
’’وحی‘‘ نازل ہوتے ہی ’’کام‘‘ شروع ہوا… اور آخری وحی نازل ہونے تک جاری رہا… علم
وجہاد کا یہی جوڑ زمین پر خلافت قائم کرتاہے… اور علم وجہاد کا یہی تعلق… امت
مسلمہ کو کامیاب ’’قیادت‘‘ فراہم کرتا ہے… امت کی قیادت ’’کتاب‘‘ کا پورا علم حاصل
کرتی ہے… اور امت کے عوام… ان کی پوری اطاعت کرتے ہیں… مگر ’’کام‘‘ کے میدان میں
علماء اور عوام سبھی مل کر محنت کرتے ہیں… اللہ کرے امت مسلمہ میں یہ دونوں
کام اکٹھے جاری رہیں… اور مزید زور پکڑیں… ورنہ ’’کام‘‘ اور ’’کتاب‘‘ کا الگ الگ
کونے سنبھال لینا ان فتنوں کو آواز دے رہا ہے… جن کے آگے پیچھے اندھیرا ہی
اندھیرا ہے… آج ہی کے اخبار کی ایک بڑی خبر یہ تھی کہ… دینی جماعتوں کے بعض
اراکین اسمبلی نے رشوت لیکر… سینیٹ کے انتخابات میں اپنے ووٹ فروخت کیے ہیں… اب ان
کو پارٹی سے نکالا جارہا ہے… واضح بات ہے کہ اگر ان لوگوں کو روزانہ… ’’کتاب‘‘ کے
نور سے سیراب کیا جاتا تو اتنی گھٹیا حرکت کرنے پر وہ موت کو ترجیح دیتے… مگر
افسوس کہ ’’کتاب‘‘ اور ’’کام‘‘ کے بڑھتے فاصلے… ہرجگہ اور ہر مقام پر طویل ترین
ہوتے جارہے ہیں… مجاہدین میں سے بہت سے افراد اور جماعتیں ان فاصلوں کا شکار ہیں…
ان کے ہاں ’’کتاب‘‘ سے دوری کچھ عیب نہیں… تب … جہاد بہت آسانی سے فساد بن جاتا
ہے… اور دشمنان اسلام کو اپنے کام میں آسانی ہوجاتی ہے… دین کا کام کرنے والے
افراد اور جماعتوں کے لئے ’’کتاب‘‘ ہی کامیابی کی ضمانت ہے… محض وقتی جذبات، نعرے…
اور وابستگی کافی نہیں ہے… آپ اور ہم نے بارہا دیکھا ہوگا… کہ کتنے لوگ دنیاداری
اور گناہ چھوڑ کر دین سے وابستہ ہوتے ہیں… وہ پورے جوش کے ساتھ آتے ہیں اور خوب
خوب کام کرتے ہیں… مگر پھر وہ اپنی زندگی کے کسی مرحلے پر… ’’کتاب اللہ ‘‘ کی رہنمائی لینا بھول جاتے ہیں… وہ کسی
ایسے کاروبار میں جاپڑتے ہیں جو ’’کتاب‘‘ کے خلاف ہوتا ہے… وہ کوئی ایسی شادی کرتے
ہیں … جو … ’’کتاب اللہ ‘‘ کے اصولوں کے
خلاف ہوتی ہے… وہ کوئی ایسا طرز عمل اپناتے ہیں جو ’’کتاب‘‘ سے مطابقت نہیں رکھتا…
تب ان کی زندگی دین سے ہٹ کر… دنیا کی طرف گِر جاتی ہے… اور وہ دنیا کی غلاظت، اس
کی زیب وزینت اس کی گندگیوں… اور اس کی ظاہری ٹیپ ٹاپ میں پڑ جاتے ہیں… میں نے ایسے
مجاہدین بھی دیکھے ہیں… جو… اس ظالم دنیا کو بالکل چھوڑ چکے تھے اور اس دنیا کی
ناپاک محبت سے پاک ہوچکے تھے… وہ ہر وقت شہادت کیلئے تڑپتے تھے… اور ان کے چہروں
پر ایمان کا نور برستا تھا… مگر پھر انہوں نے غلطی کی… اور غافل دنیاداروں سے
دوستی کرلی… تب… ان کو اپنا سادہ لباس برا لگنے لگا وہ کپڑوں اور جوتوں میں عزت
ڈھونڈنے لگے… اپنے گھروں کے لئے صوفوں اور اعلیٰ فرنیچر کی فکر میں پڑ گئے… اور
پھر اللہ پاک کی پناہ… فرشتوں کے مقام سے گِر کر دنیا دار جانوروں کے درجے
پر جاپڑے… کہاں اللہ تعالیٰ کے قرب
کا عشق… اور کہاں جوتوں اور سامان کی ناپاک حرص… کہاں فرشتوں والی پیاری زندگی اور
کہاں ریاکاری اور دکھاوے والی شیطانی زندگی…
اللہ تعالیٰ ہم سب کے ایمان کی حفاظت فرمائے… اور
ہمیں اپنے پاک نبی صلی اللہ علیہ
وسلم کی طرح ’’فقیری‘‘ سے محبت عطاء فرمائے … اے اللہ کے بندو! کسی کی دولت اور کسی کی ظاہری چمک
سے متاثر نہ ہو… ایمان کی حفاظت کرو… چاہے گردن کٹ جائے… اپنی اولاد کے رشتوں میں
احتیاط کرو… جو لوگ صرف مال دیکھ کر رشتہ دیتے یا لیتے ہیں… ان سے رشتہ نہ کرو…
بلکہ اگر اللہ تعالیٰ نے مال دیا بھی ہو تو… ایسے لوگوں سے چھپا لو… اور
انہیں بتاؤ کہ اگر دین کو دیکھ کر نکاح کرناہے تو کرو… ورنہ نہیں… ’’کتاب اللہ ‘‘
کو دیکھ کر… دوستی جوڑنی ہے تو ٹھیک… ورنہ نہیں… اے اللہ کے بندو!… اللہ پاک فرما رہا ہے کہ… تمہیں یہ دنیا
کی زندگی دھوکے میں نہ ڈالے… اور اللہ تعالیٰ
سے غافل نہ کرے…
قبر
قریب ہے… اور موت سر پر کھڑی ہے… ایمان، جہاد اور دینی غیرت بہت اونچی، بہت عالی
شان اور بہت عزت والی نعمتیں ہیں… مال عیب ہے، مال فتنہ ہے… اور مال مصیبت ہے… مگر
اس کے لئے نہیں جو اس کا شرعی حق ادا کرے اور اسے دین کے لئے لگائے… ہمیشہ غریبوں
کی صحبت اختیار کرو… اپنے دل کو کار کوٹھی کی محبت سے پاک رکھو… اپنے عزت اور شان
والے نبی کی زندگی کو یاد رکھو… اور دنیا کی چمک دمک میں اپنی جہادی شان کو رسوا
نہ کرو… ہم لوگ کپڑوں پر پیوند لگاتے تھے تو… ہم تقریباً ساری دنیا کے حکمران تھے…
اور اب ہم استری میں عزت ڈھونڈتے ہیں تو ہرجگہ ذلیل ہیں… اللہ تعالیٰ کی
نعمتیں استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے… مگر… دل دنیا کی محبت سے پاک رہے… بیت
الخلاء میں قرآن پاک نہیں رکھا جاسکتا… جس دل میں دنیا کی محبت اور عظمت ہو اس
میں اللہ تعالیٰ کی محبت جگہ نہیں
پاتی… اگر اچھا پہننے، اچھا کھانے… اور اچھا استعمال کرنے سے کسی کے دل میں
’’تکبر‘‘ عُجبُ اور بڑائی پیدا نہیں ہوتی تو… اس کیلئے کچھ حرج نہیں… مگر دوسروں
کو دکھانے کیلئے جو کچھ ہوگا وہ ہمیں… اللہ تعالیٰ سے دور کرکے محض ریاکار بنادے
گا… اللہ تعالیٰ حضرت مفتی محمودؒ
کے درجات بلند فرمائے… انہوں نے ختم نبوۃ تحریک کی قیادت فرمائی… انہوں نے جہاد
افغانستان کا فتویٰ دیا اور اس جہاد کی نصرت فرمائی… انہوں نے وفاق المدارس جیسے
عظیم ادارے کی تشکیل ومضبوطی میں اہم کردار ادا کیا… انہوں نے صوبہ سرحد میں نو
ماہ تک وزارت علیاکی مسند پر… حتی المقدور دین کی خدمت کی… انہوں نے ہزاروں دینی
فتاویٰ تحریر فرمائے… انہوں نے سالہا سال تک دینی مدارس کے طلبہ کو قرآن وحدیث کے
علوم پڑھائے… انہوں نے بہت سے حج کیے… بار بار عمروں کی سعادت حاصل کی… اور پھر حج
ہی کے سفر کے دوران… جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے مہمان
خانے میں… آخرت کے سفر کی طرف روانہ ہوگئے… سعدی غریب بھی اس وقت وہاں تھا… اسے
ان کی آخری مجلس بھی یاد ہے… اور ان کا ایمبولینس میں لٹایا جانا بھی … اور پھر
ظہر کی نماز میں ان کی صحت کیلئے دعاء… مگر پھر فوراً انتقال کی خبر… پھر
دارالحدیث میں… قطار لگا کر… بار بار ان کی زیارت… پھر حضرت ڈاکٹر عبدالحئی
عارفی ؒ کی امامت میں… ان کی نماز جنازہ… پھر ان کی ملتان… اور پھر عبد
الخلیل منتقلی… اللہ پاک ان کے
درجات بلند فرمائے… اللہ پاک نے
انہیں بے شمار ذاتی صلاحیتوں… اور مفید اجتماعی صلاحیتوں سے نوازا… اور پھر ان سے
خوب کام لیا… انہیں اچھی زندگی عطا فرمائی… اور انہیں سفر حج کی مبارک موت سے
ہمکنار فرمایا… اللہ تعالیٰ قیامت
تک ان کی حسنات کو جاری رکھے…
…آمین
یا ارحم الراحمین…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے پیارا نام محمدصلی
اللہ علیہ وسلم ہے… ہم جب بھی یہ نام لیتے ہیں… ہمارے ہونٹ دو بار خوشی سے
ایک دوسرے کا بوسہ لیتے ہیں… آپ بھی محبت سے کہیں! محمدصلی اللہ علیہ وسلم …
دیکھا آپ نے دل کتنا خوش ہوا اس میں سرور کی ایک لہر دوڑ گئی… اور ہونٹ کتنے خوش
ہوئے وہ ایک دوسرے کو مبارک دینے کیلئے دوبار گلے ملے… ہاں اللہ کی قسم یہ بہت ہی پیارا نام ہے بہت
ہی پیارا… میں، میرے ماں باپ اور میرے بچے اس پر قربان… آپ کو معلوم ہے یہ نام
بھی آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم
کا معجزہ ہے… علماء نے اس نام کے بہت خوبصورت ترجمے کیے ہیں… جس ترجمے کو دیکھیں
تو دل سے آواز آتی ہے… سبحان اللہ ! یہ
نام بھی ایک عظیم اور پرکشش معجزہ ہے… صاحب قاموس نے لکھا ہے…
محمد
الذی یحمد مرۃ بعد مرۃٍ
یعنی
محمد وہ ہے جس کی بار بار تعریف کی جائے… یعنی جس کی تعریف کا سلسلہ ختم نہ ہو…
مہینے سال بن گئے، سال صدیاں بن گئیں… مگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کا سلسلہ … اس
طرح جاری ہے کہ بند ہو ہی نہیں سکتا… کیا اپنے کیا غیر… جو بھی عقل رکھتا ہے…
تعریف کرتا چلا جاتا ہے… جس نے صورت دیکھی تو وہ حسن یوسف علیہ السلام کو بھول گیا
… اور پھر تعریف کرتا چلا گیا… اور جس نے سیرت دیکھی تو پکار اٹھا کہ بس… یہی
انسان کی ترقی کا سب سے آخری اور اونچا مقام ہے… نہ ان جیسا کوئی پہلے تھا نہ ان
جیسا کوئی بعد میں آسکتا ہے… جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسکراتا دیکھتا ہے وہ
بھی تعریف میں ڈوب جاتا ہے… اور جو میدان میں لڑتا دیکھتا ہے تو وہ بھی عش عش کے
قصیدے پڑھتا ہے… دنیا گدھے اور گھوڑے پر تھی تب بھی اسے رہنمائی… محمدصلی اللہ
علیہ وسلم کے در سے ملتی تھی… اور اب دنیا طیاروں اور سیارچوں میں ہے… مگر
پھر بھی… وہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی محتاج ہے… انسانی مسائل جوں جوں
بڑھتے جاتے ہیں… محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کی تعلیمات کی ضرورت اسی قدر بڑھتی جاتی ہے… تب ہر عقل والا تعریف کرتا ہے…
اور تعریف کرتا چلا جاتا ہے … محمد صلی اللہ علیہ وسلم … محمدصلی اللہ علیہ وسلم
…
بعض
اہل تحقیق اس پاک لفظ کا ترجمہ کرتے ہیں… وہ ذات جس کی بہت تعریف کی جائے… جی ہاں اللہ تعالیٰ کے بعد پھر کس کی شان اور
تعریف … میرے آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم سے زیادہ ہوئی؟… اوپر عرش سے لیکر نیچے فرش تک تعریف ہی تعریف…تعریف کا آغاز
تو خود رب تعالیٰ نے کیا… اور سورتوں کی سورتیں آیتوں کی آیتیں اپنے محبوب کی
تعریف میں نازل کردیں… حضرت جبرئیل علیہ السلام پہلی وحی لے کر آئے تو وحی بعد
میں پڑھائی… پہلے بے اختیار گلے لگ گئے… فرشتوں کے جھرمٹ صبح سے شام تک زمین
وآسمان کے درمیان درود شریف کے تحفے جمع کرتے ہیں… اور پھر روضۂ اطہر پر پہنچا
آتے ہیں… کروڑوں انسان، صبح و شام کی ہر گھڑی… اللہم صل علی محمد… اللہم صل
علی محمد… ہر کوئی الگ رنگ سے پڑھتا ہے، ہر کوئی الگ ترنگ سے پڑھتا ہے… ارے
کیوں نہ پڑھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سب پر احسانات ہی اتنے ہیں
کہ… ساری مخلوق مل کر ان کا بدلہ نہیں دے سکتی… کیا انسان کیا جنات… کیا سمندر کیا
پہاڑ… کیا آسمان کیا زمین… سب پر میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے
احسانات ہیں… اور سب کو ان احسانات کا اعتراف اور احساس ہے… مگر سب عاجز ہیں کہ…
کیسے شکریہ ادا کریں، سب عاجز ہیں کہ کیسے تعریف کریں، سب عاجز ہیں کہ کس طرح سے
محبت کا اظہار کریں… تب … ان کے دلوں سے آواز آتی ہے… اللہم … اے
ہمارے رب آپ ہی یہ کام کرسکتے ہیں… صل علی محمد… آپ ہی نے ان جیسی کامل
ومکمل اور محبوب ہستی پیدا کی… اور آپ ہی ان کو بدلہ دے سکتے ہیں… ان کا حق ادا
کرسکتے ہیں… صبح سے لیکر شام تک کروڑوں، اربوں بار اس زمین پر درود شریف پڑھا جاتا
ہے… جب عبدالمطلب نے اپنے یتیم… اور ظاہری طور پر بے آسرا پوتے کا نام محمد رکھا
تھا تو کون سوچ سکتا تھا کہ … یہ سب کچھ ہوگا؟… پھر ہم کیوں نہ کہیں کہ عبدالمطلب
نے یہ نام خود نہیں رکھا… بلکہ… ان سے رکھوایا گیا … ان کے دل پر اس پاک نام کو
اتارا گیا… ورنہ غریب اماں آمنہ کے یتیم بیٹے کو تو… اس وقت وہ دائیاں بھی نہیں
لے رہی تھیں… جن کو زیادہ انعام کا لالچ تھا… اسی لیے تو حلیمہ کے بھاگ کھلے اور
ان کی قسمت جاگی… ہاں… محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی برکات اسی کو ملتی
ہیں… جو … ملعون دنیا کا لالچی نہیں ہوتا…
کچھ
محققین نے محمد کا ترجمہ کیا ہے… خوبیوں والا… تمام اچھی صفات والا… الذی
اجمعت فیہ الخصال المحمودۃ …وہ ذات جس میں تمام بھلائیاں اور اچھی صفات جمع
ہوگئیں… اس ترجمے میں کوئی کافر بھی شک نہیں کرسکتا… مگر سچ یہ ہے کہ … محمد
صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بھی اونچے ہیں… اس لیے تو سعدی فقیر کہتا
ہے… خوبیاں ان میں جمع ہوگئیں یہ بات ٹھیک… مگر حق یہ ہے کہ جو چیز ان میں آگئی…
وہی خوبی بن گئی… وہی خوبصورت بن گئی… خوبیوں نے انہیں خوبصورت نہیں بنایا… بلکہ
انہوں نے خوبیوں کو خوبصورت بنایا… وہ نہ ہوتے تو کونسی چیز ہے جو خوبی کہلاتی…
اور کونسی چیز ہے جو خوبصورت کہلاتی؟…
ہاں
اللہ کی قسم… ذات محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی بہت پیاراہے…
کیا
ہم اس نام سے دور تو نہیں ہوتے جارہے؟… کیا ہم اس ذات سے دور تو نہیں ہوتے جارہے؟…
عرب کا وباؤں زدہ شہر یثرب… کس کے دم قدم… اور کس کی برکت سے ’’مدینہ منورہ‘‘ …
مدینہ طیبہ… طابہ اور طیبہ بنا… کہ آج آسمان بھی جھک کر مدینہ کی زمین پر
رشک کرتا ہے… حبشہ کا کالا غلام… حسن وعظمت کے اس مقام پر کیسے پہنچا کہ… کروڑوں
انسانوں کی آنکھیں ہر دور میں اس کی زیارت کو ترستی ہیں… اور اس کی یاد میں عقیدت
کے آنسو بہاتی ہیں… کہاں مدینہ کی کچی گلیاں… اور پھر کہاں روم و فارس کے لٹتے
خزانے… کہاں اپنے اونٹوں اور مونچھوں پر لڑنے والے… اور پھر کہاں دنیا پر علم
وحکمت کے خزانے لُٹانے والے… جس طرف دیکھتے جائیں… اور جس رخ پر سوچتے جائیں… بے
اختیار آنسو مچلنے لگتے ہیں… اور زبان دل کو ساتھ لے کر پڑھتی ہے… اللہم صل
علی محمد… اللہم صل علی سیدنا محمد…
آج
ربیع الاول کا مہینہ شروع ہوئے تیسرا دن ہے… میں عید میلاد النبی نہیں مناتا…
کیونکہ اگر میرا ایمان سلامت ہے تو میرا ہر دن عید میلاد النبی ہے… مجھے ہر دن
آقا صلی اللہ علیہ وسلم کلمہ
پڑھاتے ہیں، نماز سکھاتے ہیں… اور معلوم نہیں کیا کچھ سکھاتے ہیں… ایسا ہر مسلمان
کے ساتھ ہوتا ہے… ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ
وسلم سے جدا ہو کر… نہ مسلمان رہ سکتے ہیں اور نہ انسان… ہم ایک دن پیدائش مبارک
کا جشن منائیں… اور پھر انہیں بھول جائیں… یہ ظلم ہوگا ظلم… ان کے ساتھ نہیں… اپنے
ساتھ اور اپنی نسلوں کے ساتھ… مگر ہم غیروں کے کرسمس سے متاثر ہو کر… سچے عاشقوں
کا طریقۂ محبت بھول جاتے ہیں… ارے محبت کوئی آسان کام تو نہیں ہے؟… پیٹ، معدے
اور لالچ کے اس زمانے میں تو محبت ویسے ہی اس دنیا سے روٹھ کر میکے چلی گئی ہے…
محبت سیکھنی ہے تو صحابہ کرام سے سیکھو… محبت سیکھنی ہے تو ازواج مطہرات سے سیکھو…
محبت سیکھنی ہے تو اماں فاطمۃ الزہراء سے سیکھو… چند جلتے بجھتے بلب، دوچار رنگین
جھنڈیاں ایک آدھ جلوس… اور پھر کھانے کی دیگ… ارے نہ تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو سمجھا اور نہ ان
کی محبت کو… امام قرطبی ؒ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ … حضرت عبد اللہ بن
زید رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ… آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال فرمالیا ہے …
فوراً قبلہ رخ ہوکر پکارے… اے ربا! آنکھیں واپس لے لے… ان کا کام اب ختم ہوچکا
ہے… دعاء ایسی سچی تھی کہ فوراً قبول ہوگئی… امام رازیؒ نے تفسیر کبیر میں… اور
بعض دوسرے مفسرین نے بھی اپنی تفاسیر میں لکھا ہے… آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم احد کے دن زخموں سے چور
تھے… خون اتنا بہہ گیا تھا کہ غشی کے دورے پڑتے تھے… بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا… ابا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم دھو دھو کر قربان
ہورہی تھیں … اچانک آقا صلی اللہ علیہ
وسلم نے اٹھ کر مشرکین کے تعاقب کا فیصلہ فرمایا… اور اعلان ہوا کہ… جو اُحد کی
لڑائی میں شریک تھا… صرف وہی میرے پیچھے چلا آئے… تب آسمان نے عشق ووفا کا وہ
منظر دیکھا… جسے وہ کبھی نہیں بھلا سکے گا… کیسے بھلائے گا؟… جب عرش والے رب نے اس
منظر کو قرآن پاک کی انمٹ آیت… اور اپنے قدیم کلام کا ازلی حصہ بنادیا ہے… بہتے
زخموں اور کٹے جسموں کے ساتھ … تکبیر کے نعرے بلند ہوئے… اور مدینہ سے حمراء الاسد
تک آٹھ میل کی زمین… اس زخمی، قافلے کے خون سے گل رنگ ہوگئی… قافلہ جارہا تھا
ساٹھ ستر کے درمیان کی نفری تھی… اور ادھر دو عاشق اپنے زخموں سے کراہ رہے تھے…
اور بے چینی سے تڑپ رہے تھے… او میرے یار آقا چلے گئے… وہ دیکھو… وہ جارہے ہیں…
اور ہم پیچھے رہ گئے… آقا بھی تو زخمی تھے… وہ جائیں اور ہم ان کے ساتھ نہ ہوں…
ہائے دل پھٹ رہے ہیں… سر سے پاؤں تک رستے زخم بھول گئے… شکست کا غم یاد نہ رہا …
خون سے خالی جسم کے تقاضے دماغ سے نکل گئے… ارے یار! آقا تشریف لے جارہے ہیں… اور
ہم یہاں؟… اٹھو ہمت کرو… مگر کہاں؟… آخر انسان تھے گوشت کٹ چکا تھا… خون نچڑ چکا
تھا… تب ایک معاہدہ ہوا… یار میں ہمت جمع کرکے اٹھتا ہوں… اور تمہیں بھی اپنی کمر
پر لاد تا ہوں… جتنی دیر چل سکا چلتا رہوں گا… جب گر جاؤں گا تو تم میرا بوجھ
اٹھا لینا…
پھر
وہ دونوں آقا صلی اللہ علیہ وسلم
کے پیچھے اسی شان سے روانہ ہوگئے… گرتے پڑتے، ایک دوسرے کو اٹھاتے… اور پھر آقا
کے قدموں تک پہنچ گئے… مگر آسمان کی وحی ان سے پہلے… ان کی تعریف میں پہنچ چکی
تھی… گویا اس منظر نے زمین وآسمان کو اپنے گھیرے میں لے لیا تھا… آؤ عید میلاد
النبی منانی ہے تو اس شان سے مناؤ… جیسے ان دو حضرات نے منائی… آج بھی تو آقا
صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو… ایسے
زخمی قافلوں کی ضرورت ہے… مگر کہاں؟… ہم تو بہت دور نکل گئے ہیں… بہت دور… آؤ
واپسی کی کوشش کریں… ورنہ تباہ ہوجائیں گے، برباد ہوجائیں گے…
بات
چل رہی تھی… نام محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کی… یہ کتنا پیارا نام ہے… کتنا پیارا… امت مسلمہ نے جہاں… اس نام والے سے
اپنا رشتہ مضبوط رکھا وہاں انہوں نے… اس نام کو بھی خوب مضبوطی سے تھامے رکھا…
محدثین، مفسرین کے نام پڑھ لیجئے… کوئی محمد… کوئی احمد… میرے ارد گرد کئی کتابیں
پڑی ہیں… اکثر مصنفین کے نام محمد یا احمد… سبحان اللہ امت نے ذات کی برکتیں بھی حاصل کیں…
اور نام کے مزے اور برکتوں سے بھی پورا پورا حصہ لیا … مجوسیوں اور بدھ متوں کے
علاقے بخارا کی ایک عورت نے پتہ نہیں کیا سوچ کر… اپنے… لخت جگر کا نام محمد رکھا…
اور پھر یتیمی میں اسے پالا… آج اس عورت کے بارے میں پوچھو وہ کون ہے؟… ساری علمی
دنیا کہتی ہے… وہ تو امام بخاریؒ کی ماں ہے… جی ہاں محمد بن اسماعیل بخاریؒ کی
ماں… یہ میرے ساتھ تفسیر قرطبی پڑی ہے… عجیب بلند پایہ تفسیر… میں سالہا سال سے اس
کا دیوانہ ہوں اور اب تو کئی دن سے الحمدللہ روزانہ آٹھ گھنٹے میں اس کے قریب
رہتا ہوں… آج سے پہلے مجھے کبھی خیال نہ آیا کہ مصنف کا پورا نام تو دیکھ لوں…
بس اتنا پتا تھا کہ وہ ’’امام قرطبی‘‘ ہیں… جس آیت کی تفسیر سمجھنی ہوتی ہے… وہی
صفحہ کھول لیتا ہوں… آج اسم محمد پر لکھنے بیٹھا تو کتاب پر غور سے نام دیکھا… یہ
بھی ’’محمد‘‘ ہیں… ابو عبد اللہ محمد بن
احمد الانصاری القرطبی… یہ دیکھیں یہ شہرہ آفاق تفسیر… البحر المحیط میرے بائیں
جانب رکھی ہے… ماشاء اللہ کمال کی
تفسیر ہے… اور واقعی علم کا البحر المحیط یعنی سمندر ہے… اس کے مصنف کا نام بھی
محمد ہے… محمد بن یوسف ابو حیان اندلسی… دیکھا آپ نے مسلمان کتنے شوق سے … اپنے
بچوں کا نام محمد رکھتے تھے… اور پھر کتنے اہتمام سے ان کو اس نام کی لاج رکھنے کے
قابل بناتے تھے… آج جبکہ یورپ کے برے لوگوں نے… حضرت محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کے خلاف… ایک نئی جنگ شروع کی ہے… اور کارٹونوں کا سہارا لیکر اپنے دل کا بغض
نکالا ہے تو… ہمیں اس جنگ کاجواب تین طریقے سے دینا ہوگا… ان میں سے ایک طریقہ یہ
ہے کہ… ہم اس مبارک نام کو اور زیادہ پھیلائیں… اور ہم میں سے ہر مسلمان مرد اور
عورت… اس بات کی نیت کرلے کہ… ان شاء اللہ
… میں اپنے ایک بیٹے کا نام محمد رکھوں گا… تب کچھ عرصہ بعد… محمد نام کے لاکھوں
بچے ایمان اور قرآن کے سائے میں پل کر… جوان بنیں گے… اور ایک ایک گھر، ایک ایک
گلی میں… حافظ محمد… عالم محمد، مجاہد محمد… مفتی محمد اور… کمانڈر محمد ہوں گے…
جب آپ اور ہم یہ مبارک نیت کریں تو ساتھ… اس بات کا بھی عزم کریں کہ… ہم اپنے
محمد کو… حضرت محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کا سچا امتی بنائیں گے… اسے قرآن پاک حفظ کرائیں گے… اسے تیراکی اور گھڑ
سواری سکھائیں گے… اسے دین کا علم پڑھائیں گے… اور اسے جانباز وجری مجاہد بنائیں
گے … آپ کو معلوم ہے… حضرت محمد صلی اللہ
علیہ وسلم کتنے بہادر تھے؟… امام رازیؒ نے سورۃ نساء کی آیت ۸۴ کی
تفسیر میں لکھا ہے کہ… پوری مخلوق میں سب سے بڑے بہادر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے… اور آپ تمام مخلوق
میں سب سے زیادہ جنگی امور کے ماہر تھے… کیا آپ کو معلوم ہے؟… آخری زمانے کے سب
سے بڑے مجاہد کا نام کیا ہوگا؟… جی ہاں وہ بھی محمد ہوں گے جن کا لقب مہدی ہوگا…
چونکہ وہ مسلمانوں کے امیر بھی ہوں گے اس لیے ان کو امام کہا جاتا ہے…یعنی حضرت
امام مہدی… اب اگر ہم بھی ہر گھر میں… کم از کم ایک محمد… حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق تیار
کریں تو انشاء اللہ … اس نام کا … ایک
پورا مبارک لشکر وجود میں آجائے گا… ہمارے اندر عجمی رسم ورواج کی وجہ سے… نئے
نئے نام رکھنے کا ایک غلط شوق رائج ہے… گھر میں بچے کا نام رکھتے ہوئے… اس بات کا
پورا زور لگایا جاتا ہے کہ… یہ نام… پورے خاندان میں پہلے کسی کا نہ ہو… اور بالکل
نیا ہو… اس بری رسم نے ہمیں پرویز جیسے … غلط ناموں پر ڈال دیا ہے… آپ حضرات
صحابہ کرام اور صحابیات کے نام دیکھیں… ایک ہی گھر میں کئی بچوں کا ایک ہی نام رکھ
دیا جاتا تھا… آج بھی عربوں میں یہ اچھا رواج موجود ہے… وہ اس فکر میں نہیں پڑتے
کہ خاندان میں ایک نام کے کئی افراد نہ ہوں… بلکہ اس بات کی فکر کی جاتی ہے کہ بچے
کا اچھے سے اچھا نام رکھا جائے… عربوں میں اکثر بڑے بیٹے کا نام اس کے دادا کے نام
پر رکھا جاتا ہے… جبکہ ہمارے ہاں یہ اچھا خاصا عیب شمار ہوتا ہے… پورے خاندان میں
ایک بچی کا نام ’’عائشہ‘‘ ہوگیا تو بس اب یہ بابرکت نام… پورے خاندان کیلئے ممنوع
… ہمارے ایک محترم بھائی فرماتے ہیں کہ… ہر گھر میں ایک ’’عائشہ‘‘ ہونی چاہئے… ان
کی دل سے نکلی ہوئی اس بات کا یہ اثر ہوا کہ اس وقت بعض گھرانوں میں ایک چار
دیواری میں ماشاء اللہ تین تین ’’عائشہ بیبیاں‘‘ موجود ہیں… اسی طرح
ہمارے ہاں لمبے چوڑے نام رکھنے کا رواج ہے… حالانکہ… نام اگر ایک لفظ پر مشتمل ہو
تو بہتر ہے… جیسے محمد… احمد… عمر… مگر ایک رواج چل پڑا ہے کہ… شعر کے ایک مصرعہ
کے برابر نام رکھا جاتا ہے… پھراس کے آگے پیچھے، ملک، چودھری، خان، حافظ، قاری،
علامہ، سید، بخاری، کاظمی… معلوم نہیں کیا کیا لگا کر… نام کو پورا ایک کالم
بنادیا جاتا ہے… بات کچھ دور نکل گئی… خلاصہ یہ ہے کہ… یورپ کی جنگ کا جواب دینے
کیلئے جو تین اقدامات اس وقت ضروری محسوس ہورہے ہیں… ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ…
ہم اس پاک نام کو خوب پھیلائیں… بعض لوگ یہ نام رکھنا بے ادبی سمجھتے ہیں… حالانکہ
ایسا ہر گز نہیں ہے… یہ بے ادبی نہیں محبت کی علامت ہے… بس پھر دیر کیسی … آج سے
ہی یہ مہم شروع ہوجائے کہ اب جو بیٹا اللہ
پاک دے گا… اس کا نام محمد ہوگا… اور اس کا کام ’’جہادِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ ہوگا… اس مبارک بیٹے کے
آنے سے پہلے… خود کو سیرتِ محمد صلی اللہ
علیہ وسلم کے مطابق بنالیں… اس کے استقبال کیلئے گھر کو ٹی وی سمیت تمام
امراض سے پاک کرلیں… اور جب وہ آجائے تو پھر … اسے ایسا تیار کریں کہ جوان ہوتے
ہی… حضرت امام مہدی کے لشکر کا جانباز سپاہی بن سکے… جب ہر طرف… لاکھوں خوبصورت،
پاک سیرت اور تگڑے مضبوط جوان… اپنا نام محمد بتا رہے ہوں گے تو… یہ منظر اسلام کے
لئے کتنا خوشگوار… اور دشمنان اسلام کیلئے کتنا عجیب پیغام ہوگا… کارٹون بنانے
والے کی قبر پر… ایک کالا کتا پیشاب کر آئے گا… اور کہے گا اے مردار! اگر میرا
مالک میرا نام تیرے نام جیسا رکھ دے… تو میں اسے اپنی توہین سمجھوں گا… اور دوسری
طرف لاکھوں جانباز ’’محمد‘‘… ہاتھوں میں قرآن پاک اور تلوار اٹھائے… جھوم جھوم کر
پڑھ رہے ہوں گے…
اللہم
صل علی سیدنا محمد …
اللہم
صل علی سیدنا محمد…
تب
آسمان، زمین… مٹی پتھر، پھول پتے… اور بارش کے قطرے بھی پکاریں گے…
اللہم
صل علی محمد…
اللہم
صل علی سیدنا محمد…
ہاں
اس وقت بھی کائنات میں… اللہ تعالیٰ
کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کا نام چل رہا ہے… اور آئندہ بھی انہیں کا نام چلتا رہے گا…
ورفعنا
لک ذکرک
اور
اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ کا ذکر بلند کردیا… (القرآن)
جی
ہاں اللہ تعالیٰ نے ان کا نام بلند کردیاہے… بہت بلند،
بہت بلند… آئیں مل کر پڑھیں… اور جھوم کر پڑھیں
اللہم
صل علی سیدنا محمد…
اللہم
صل علی سیدنا محمد…
اللہم
صل علی سیدنا محمد…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے ان کو ’’علم‘‘ تو بہت دیا
تھا… مگر ظاہری خوبصورتی عطاء نہیں فرمائی تھی… اللہ تعالیٰ کی مرضی … انسان کا کام ہے کہ بس
خوب شکر ادا کرے… علامہ دمیریؒ نے ان کا قصہ بہت تفصیل سے لکھا ہے… وہ اپنے زمانے
کے ’’امام‘‘ اور ’’محدّث‘‘ تھے… پوری اسلامی دنیا میں ان کے علم کی دھوم مچی ہوئی
تھی… مشرق ومغرب کے مسلمان ان کی زیارت کیلئے آتے تھے… اور ان سے علم حاصل کرتے
تھے… ان کے پاس علم تو بہت تھا… مگر وہ آنکھوں سے ’’چُندھے‘‘ تھے، پنڈلیاں بھی
ٹیڑھی تھیں اور ظاہری طور پر ’’کم صورت‘‘ تھے… ایک بار خراسان کے ایک عالم ان سے
علم حاصل کرنے آئے… اور بہت متاثر ہوئے… اور عجیب وغریب الفاظ میں ان کی تعریف کرنے
لگے… امام صاحب نے جب اپنی ایسی تعریف سنی تو فرمانے لگے… میری بیوی کو میری قدر
نہیں ہے تم چل کر یہ باتیں اس کے سامنے کرو تا کہ… اسے معلوم ہو کہ لوگ میرے بارے
میں کیا کہتے ہیں… خراسانی عالم نے کہا… بالکل! میں حاضر ہوں آپ مجھے ان کے پاس
لے جائیں… امام صاحب اسے اپنے گھر لے گئے، اپنی بیوی کو دروازے کے قریب پردے میں
بٹھایا… اور عالم سے کہا… میری بیوی سن رہی ہے تم بات شروع کرو… خراسانی عالم نے
تقریر شروع کی… اے اللہ کی بندی! تم
خوش نصیب ہو تمہارے خاوند کے مقام کو دنیا مانتی ہے… تم ان کے چہرے کی بدصورتی،
آنکھوں کے چندھیاپن، اور ٹانگوں کے ٹیڑھا ہونے کو نہ دیکھو… خراسانی عالم کی
تقریر یہاں تک پہنچی تھی کہ امام صاحب غصے میں کھڑے ہوگئے اور فرمایا… میں تمہیں
اپنی برائیاں گنوانے تو نہیں لایا تھا… دفع ہوجاؤ میرے گھر سے… تم تو میری بیوی
کو میرے وہ عیب بھی بتا رہے ہو جن پر پہلے اس کی نظر نہیں تھی… خیر یہ تو ایک قصہ
ہے جو علامہ دمیریؒ نے ’’حیوٰۃ الحیوان ‘‘ میں لکھا ہے… اگر آپ نے تفصیل سے پڑھنا
ہو تو وہاں پڑھ لیں… یہاں عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب سے یہ دنیا بنی ہے… خاوند
بیچارے اسی کوشش میں ہیں کہ کسی طرح ان کی بیوی ان کی قدر اور مقام کو پہچان لے…
اور اس کے لئے بعض اوقات وہ دوسروں کی خدمات بھی حاصل کرتے ہیں… جس طرح اس قصے میں
امام صاحب نے اپنے ایک خراسانی شاگرد کو استعمال کرنے کی کوشش کی… ابھی کل کی ڈاک
میں مجھے ایک خط ملا… ایک صاحب نے اپنے محبت بھرے تعارف کے بعد حکم دیا ہے کہ میں
’’محکمہ بہبود آبادی‘‘ کے خلاف مضمون لکھوں… پھر ا نہوں نے تاکید کرتے ہوئے
فرمایا ہے کہ… اس موضوع پر لکھنا آپ کی ذمہ داری ہے… پھر انہوں نے مجھے مزید غیرت
دلاتے ہوئے لکھا ہے کہ… فلاں رسالے والے اس موضوع پر لکھ چکے ہیں… اور آخر میں
انہوں نے تحریر فرمایا ہے کہ… ان کی اہلیہ محترمہ اس محکمے میں ملازمت کرتی ہیں…
اس لیے یہ مضمون ضرور آنا چاہئے… ان کا یہ خط پڑھ کر مجھے ’’امام صاحب اور
خراسانی شاگرد‘‘ کا قصہ یاد آگیا… اللہ کے
بندے! جو بیوی مسلمان ہو کر اپنے خاوند کا کہنا نہیں مان رہی… میرا کالم اس پر کیا
اثر کرے گا؟… مسلمان بیوی کے لئے اللہ تعالیٰ
اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم
کے بعد خاوند سے بڑھ کر کس کا حکم ہو سکتا ہے؟ … ویسے بھی میں فرمائشی عنوانات پر
مضمون نہیں لکھ سکتا… حالانکہ کوشش بھی کرتا ہوں… مگر لکھنا انسان کے اپنے بس میں
تو نہیں ہے… اللہ تعالیٰ جس کی
توفیق عطاء فرماتے ہیں… وہ ٹوٹی پھوٹی تحریر قلم پر آجاتی ہے…
کافی
عرصہ سے مجھے ’’کیبل‘‘ کے خلاف مضمون لکھنے کی فرمائشیں آرہی ہیں… مگر میں اب تک
نہیں لکھ سکا… ویسے فرمائش کرنے والے اتنا تو سوچ لیتے کہ میرے پاس نہ ٹی وی ہے نہ
کیبل… آج میں نے ایک بھائی سے کہا کہ یار! کچھ دن کیلئے کیبل لگوادو… تاکہ … میں
اس کی تمام برائیاں اچھی طرح دیکھ کر کالم لکھ سکوں… کچھ دن پہلے اخبار میں ایک
خاتون کا خط شائع ہوا تھا کہ… فلاں ٹی وی چینل کا فلاں گندہ پروگرام اب ہماری
برداشت سے باہر ہے… ہم ایسے پروگرام اپنے گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھ
سکتیں… اب اس خاتون کو کون سمجھائے کہ… کس نے زبردستی آپ کے گھر میں ٹی وی رکھ
دیا ہے؟… اور کس نے آپ کے ٹی وی میں مفت کیبل کی تار جوڑ دی ہے؟… خود ٹی وی خرید
کے لاتے ہیں… خود کیبل کا کنکشن لگواتے ہیں… خود شوق سے دیکھتے ہیں اور پھر خود
چیخیں مارتے ہیں کہ بے حیائی ہوگئی… بے حیائی ہو گئی… ٹی وی تو بنا ہی بے حیائی کے
لئے ہے… ٹی وی کا مہذب سے مہذب ڈرامہ بھی نامحرم کی تصویر، موسیقی اور عشق بازی سے
پاک نہیں ہوتا… کیبل کے بارے میں جو کچھ سننے میں آرہا ہے… اور اخبارات میں شائع
ہوتا ہے وہ سب ناقابل بیان ہے… ہمت ہے ایسے مسلمان نوجوانوں کی… جو اپنی بہنوں کے
ساتھ بیٹھ کر رقص، موسیقی… عشق بازی اور لگ لپیٹ کے مناظر دیکھ لیتے ہیں… ایسا
کرنے سے پہلے یہ خود مرگئے ہوتے… یا ان کی بہنیں مر گئی ہوتیں تو زیادہ اچھا ہوتا…
مسلمان بھائی تو اپنی بہن پر غیر مرد کا سایہ نہیں پڑنے دیتے… اور اس کی حفاظت
کیلئے جان تک قربان کردیتے ہیں… مگر یہ عجیب بھائی ہیں جو اپنی بہنوں کے ساتھ بیٹھ
کر ٹی وی چینل اور فلموں کے فحش مناظر دیکھتے ہیں… اپنے گھر میں ٹی وی اور کیبل
چلانا… اور پھربے حیائی کے شکوے کرنا… بہت عجیب سا لگتا ہے… اللہ کرے یہ نفاق نہ ہو… کیونکہ اس میں سے
’’نفاق‘‘ کی بو صاف محسوس ہوتی ہے… ایک بزرگ کا خط اخبار میں آیا تھا کہ… اب تو
ٹی وی پر ایسے پروگرام آرہے ہیں کہ… بعض مناظر دیکھ کر… ہمیں اپنی بیٹیوں کے
سامنے آنکھیں نیچی کرنی پڑتی ہیں… سبحان اللہ ! کیا تقویٰ ہے؟… ٹی وی خود خرید کر لائے،
اس میں کیبل کی تار بھی خود لگوائی… پھر اپنی بیٹیوں کے ساتھ تشریف فرما ہو کر…
باجماعت اس کو دیکھتے بھی رہے… اب پتا نہیں کس منظر پر… غیرت اسلامی جاگی کہ
آنکھیں نیچی کرنی پڑیں…
اب
تو کچھ لوگوں نے ’’اسلامی چینل‘‘ کھول کر معاملے کو زیادہ خراب کردیا ہے… اور
لوگوں کو اپنے گھر میں ٹی وی رکھنے کا جواز مل گیا ہے… خیر میں نے بھی مزاحاً ایک
بھائی سے کہا کہ ٹی وی اور کیبل لگاؤ تا کہ… پوری تحقیق کے ساتھ مضمون لکھ سکیں…
اور ایک ایک برائی کا خوب کھل کر تذکرہ کر سکیں… اور جب کالم لکھ لیں تو پھر…
سیاستدانوں کی طرح یہ سوچ کر ٹی وی رکھ لیں کہ خبریں سننا تو ضروری ہیں… اگر ہم نے
نہ سنیں تو دنیا سے پیچھے رہ جائیں گے…
ٹی
وی اور کیبل کے موضوع پر لکھنے کی فرمائش کرنے والوں سے عرض ہے کہ… اس بارے میں ہم
سب کا موقف بالکل صاف … اور ایمانداری پر مبنی ہونا چاہئے… گناہ کو گناہ سمجھنے ہی
میں خیر ہے… تب … کبھی نہ کبھی توبہ کی توفیق مل جاتی ہے… اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت بڑی اور بہت
زیادہ ہے… اور اس کی رحمت اس کے غضب سے آگے ہے… وہ معاف فرمانے والا … اور معافی
کو پسند کرنے والا ہے… اس کی بخشش کے خزانے بے انتہا اور بہت وسیع ہیں… وہ گناہوں
کو معاف فرماتا ہے… اور ان کو بالکل مٹادیتا ہے… بلکہ… اگر استغفار اور توبہ سچی
ہو اور مسلسل ہو تو وہ… گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے… اللہ اکبر! …
کتنی بڑی رحمت ہے کہ جرم کو عبادت میں بدل دیا جائے… وہ کون سا گناہ ہے جو اس کی
رحمت کے سامنے ٹھہر سکے… مجھے بعض مسلمان بہنیں اور بھائی بہت مایوسی کا خط لکھتے
ہیں کہ… ہمارے گناہ بہت زیادہ ہیں… بار بار توبہ کی ہے مگر پھر توبہ ٹوٹ جاتی ہے…
اور اب بخشش کی کوئی صورت نظر نہیں آتی… میں ان کو جواب میں لکھتا ہوں … اللہ کے بندو! ہمارے گناہوں کی کیا ہمت کہ مولیٰ
کریم کی رحمت کے سامنے ٹھہر سکیں… ان گناہوں کی حیثیت ہی کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت کے سامنے رُک سکیں…
بس ہمت نہ ہارو… اگر ہمت ہاردی تو پھر شیطان جیت جائے گا… شیطان کے ساتھ یہ جنگ
مرتے دم تک رہنی ہے… جو ہمت کرکے سچی توبہ اور استغفار کرتا رہے گا وہ ان شاء اللہ … جیت جائے گا اور شیطان پر فتح پالے گا…
اور جو گھبرا کر اور مایوس ہو کر توبہ چھوڑ دے گا … اس کے لئے خطرہ ہے… اس لیے جب
کبھی شیطان گرا دے فوراً اٹھ جاؤ… اور دل کے پورے عزم اور پوری ندامت کے ساتھ…
آئندہ بالکل وہ گناہ نہ کرنے کی نیت کے ساتھ توبہ کرلو … اس طرح اگر شیطان ایک دن
میں ستر بار گرادے… تو تم بھی اکہتر بار اٹھو، سنبھلو… اور رب کی چوکھٹ پر سر رکھ
کے آنسو بہاؤ… اس دنیا میں کوئی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اب وہ گناہوں سے بالکل
محفوظ ہو چکا ہے… یہ جنگ مرتے دم تک جاری رہنی ہے… اس میں کامیابی توبہ کرنے والوں
کی ہے… اور توبہ وہی کرتے ہیں جو گناہ کو گناہ سمجھتے ہیں…
ٹی
وی کی تقریباً ہر چیز ناپاک اور گناہ ہے… علماء کی تقاریر کیلئے ٹیپ ریکارڈ کافی
ہے… خواتین کو ان کی زیارت کی قطعاً ضرورت نہیں ہے… اور نہ اس میں کوئی دینی فائدہ
ہے… اس لیے اس گناہ کو… گناہ سمجھ کر چھوڑ دیا جائے… ٹی وی کو گھر سے نکال دیا
جائے… اور اس بحث کو ختم کردیا جائے کہ ٹی وی اور کیبل میں کیا فائدہ ہے اور کیا
نقصان؟ اگر تھوڑے سے لوگ بھی مضبوط رہے تو ان شاء اللہ پورے معاشرے پر… ان کے اثرات پڑیں
گے… باقی رہا محکمہ ’’بہبود آبادی‘‘ تو اس کے بارے میں کئی بیانات الحمدللہ… ماضی
میں ہوچکے ہیں… اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق عطاء فرمائی تو ان شاء اللہ مضمون بھی آجائے گا… جبکہ آج تو
میرے سامنے دو بہت اہم موضوع تھے…
(۱) ہماری
حکومت نے مری قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک تنظیم کو ’’کالعدم‘‘ قرار دے دیا ہے…
اپنی برادری میں اضافہ ہو تو خوشی ہوتی ہے… ہم ایک بار بہت سخت جیل میں ڈالے گئے…
جب … ابتدائی مہمان نوازی کے بعد سیلوں میں ڈالا گیا تو ایک پاکستانی قیدی نے گلے
لگا کر کہا… یقین کریں! آپ کے آنے سے اتنی خوشی ہوئی کہ بیان سے باہر ہے… کچھ
عرصہ بعد جب ان صاحب سے دوستی ہوگئی تو ہم نے شکوہ کیا اور کہا… ہم مار کھا کر جیل
میں ڈالے گئے اور آپ کو خوشی ہوئی؟ تو فرمانے لگے اپنی برادری میں اضافہ ہو تو
خوشی ہوتی ہے… دینی جماعتیں بے چاری بار بار کالعدم ہورہی ہیں… جبکہ… قتل وغارت سے
لیکر بھتے خوری تک میں ملوث سیاسی جماعتیں مزے سے حکومت کا حصہ ہیں… اور اب تک ان
کے خفیہ عقوبت خانے چل رہے ہیں اور ان کے اسلحے کے ذخائر بھی محفوظ ہیں… مگر چونکہ
امریکا ان سے ناراض نہیں ہے… اس لیے… ملک کو بھی ان سے کوئی خطرہ نہیں ہے… اب پہلی
بار ایک غیر دینی جماعت ’’کالعدم‘‘ ہوئی تو اپنی برادری میں اضافے پر خوشی ہوئی…
ویسے سنا ہے حکومت نے اب بھی احتیاط سے کام لیا ہے… اور اصل سیاسی جماعت کی جگہ
ایک ’’ہوائی جماعت‘‘ پر پابندی لگائی ہے… خیر پھر بھی برادری میں نام ہی کا سہی
کچھ اضافہ تو ہوا…
ایک
عاشق جس کا دل لُٹ گیا تھا باغ میں گیا… وہاں اس نے بلبل کو اُداس دیکھا… معلوم
ہوا کہ بلبل سے پھول چِھن گیا ہے… تو اس نے بلبل کو پکار کر کہا… آ عندلیب! مل کے
کریں آہ وزاریاں… میرا بھی ارادہ تھا کہ آج کالم لکھوں گا… آبلوچا! مل کر کریں
آہ وزاریاں… عاشق نے بلبل سے کہا تھا … اے بلبل تو ہائے گل! پکار اور میں کہوں گا
ہائے دل! … تیرا پھول چھن گیا اور میرا دل چھن گیا… میں نے بھی سوچا تھا کہ… سیاسی
جماعت والوں کو کہوں گا بابا! تمہاری پارٹی چھن گئی… مگر ہمارا تو دل روندا گیا…
وہ خوبصورت سفید پرچم جس کے پہلو پر تین سیاہ دھاریاں تھیں… جس میں سے نور کی
شعاعیں برستی تھیں… ہاں وہ امت مسلمہ کے سرکا تاج… اور شہداء کی بہنوں کے سر کا
آنچل تھا… اس نے کوئی جرم نہیں کیا تھا… ہاں کوئی جرم نہیں… وہ تو عزتوں کا
محافظ… اور غیرت کا پاسبان تھا… وہ رات دن دشمنان اسلام سے لڑتا تھا… اور شہداء کے
گھروں کے چولھے جلاتا تھا… ہاں مگر وہ مجرم تھا… کیونکہ وہ واشنگٹن کی بجائے
’’مدینہ منورہ‘‘ کی خاک کے بوسے لیتا تھا… اس لیے…
چلیں
چھوڑیں! آج اس موضوع پر لکھنا تھا مگر معذرت! کہ فرمائشی خط کی وجہ سے یہ موضوع
چھوٹ گیا…
(۲) دوسرا
جو موضوع ذہن میں تھا… وہ ایک دعاء تھی… ہم پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی بارش ہر وقت برستی رہتی ہے…
اتنی نعمتیں، اتنی نعمتیں کہ ان کو شمار نہیں کیا جاسکتا… مگر پھر اچانک …ہم ان
نعمتوں سے محروم کردئیے جاتے ہیں… آخر کیا وجہ ہے؟… یقینا ناقدری اور ناشکری!…
شیطان خود کفور ہے… بڑا کافر بڑا ناشکرا… وہ ہم پر تنگ دلی کے حملے کرتا ہے… اور
ہم زبان سے ایک ایسا جملہ بول جاتے ہیں کہ… بہت اونچی نعمت چھن جاتی ہے… وہ ہمیں
فخر میں مبتلا کرتا ہے… ہم اکڑتے ہیں اور نعمت چھن جاتی ہے… وہ ہمیں ناقدری کا زہر
دیتا ہے… ہم اسے پیتے ہیں اور نعمت چھن جاتی ہے… یہ بہت تفصیل طلب مضمون ہے… نعمت
کیوں چھنتی ہے؟… ان شاء اللہ کبھی موقع ملا تو اس پر کچھ عرض کرنے کی کوشش کی
جائے گی… اصل چیز تو اللہ تعالیٰ کی توفیق اور حفاظت ہے… اس لیے ہم ایک
مسنون دعاء یاد کرلیں… اور اسے دل کی گہرائی سے مانگتے رہیں… وہ دعاء مقبول ہوگئی
تو بہت ممکن ہے کہ… ہماری محرومیوں کا سلسلہ بند ہوجائے… اور بلندی سے ڈھلوان کی
طرف گرنے والا ہمارا نصیب بلند ہوجائے…
دعاء
یہ ہے…
اَللّٰہُمَّ
لاَ تَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ طَرْفَۃَ عَیْنٍ وَّلاَ تَنْزِعْ مِنِّیْ صَالِحَ
مَااَعْطَیْتَنِیْ…
ترجمہ:
اے میرے پروردگار مجھے ایک پلک بھر بھی میرے نفس کے حوالے نہ فرما اور مجھ سے نہ
چھین وہ اچھی چیز جو تو نے مجھے عطاء فرمائی ہے…
اگر
اس دعاء سے پہلے یہ الفاظ بھی پڑھ لیں تو ان شا ء اللہ زیادہ فائدہ ہوگا…
یَا
حَیُّ یَا قَیُّوْمُ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ اَصْلِحْ
لِیْ شَأنِیْ کُلَّـہٗ…
ترجمہ:
اے زندہ اے تھامنے والے تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں تیری رحمت کے ذریعے فریاد
کرتا ہوں، میرے تمام احوال کو درست فرمادے…
پہلی
مسنون دعاء میں لفظ ’’ تَنْزِعْ‘‘ (زا پر زیر کے ساتھ) ہے میں نے بعض
لوگوں کو ’’ تَنْزَعْ‘‘ (زا پر زبر کے ساتھ) پڑھتے سنا ہے جو غلط ہے… اس
دعاء سے پہلا فائدہ یہ نصیب ہوتا ہے کہ… انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں
کی قدر کرنے لگتا ہے… اور ان نعمتوں کے چھین لیے جانے سے ڈرنے لگتا ہے… اس کیفیت
کا نصیب ہوجانا بہت مبارک ہے… چنانچہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم خود
نعمتوں کے زائل ہوجانے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگا کرتے تھے…
اَللّٰہُمَّ
اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِکَ
کہ
اے میرے پرودگار میں نعمتوں کے زوال سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں… (دعاء کا اتنا
حصہ مناجات مقبول میں مذکور ہے اصل کتاب موجود نہ ہونے کی وجہ سے پوری دعاء اور
حوالہ نہیں لکھا جاسکا) اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کا استغفار کچھ عرصہ پہلے آپ
اسی کالم میں پڑھ چکے ہیں… اس میں بھی یہ الفاظ تھے…
وَاغْفِرْلِیْ
الذُّنُوْبَ الَّتِیْ تُغَیِّرُ النِّعَمْ
کہ
اے اللہ میرے وہ گناہ بخش دے جو
نعمتوں کے ختم ہونے کا ذریعہ بنتے ہیں…
معلوم
ہوا کہ اس فکر کا پیدا ہو جانا بھی سنت ہے… اور خود کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا محتاج سمجھنا
بندہ مؤمن کی شان ہے… پس یہ دعاء نعمتوں کی حفاظت کیلئے ہے… دیکھیں جہاد کتنی
عظیم الشان نعمت ہے… آج لاکھوں مسلمانوں میں سے ایک آدھ کو یہ نعمت نصیب
ہوتی ہے… مگر ان میں سے بھی بعض سے یہ نعمت چھین لی جاتی ہے… اسی طرح ہر نعمت کا
معاملہ ہے… اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی نعمتوں کی قدر نصیب فرمائے… اور ان نعمتوں
کے زوال سے ہماری حفاظت فرمائے…
یَا
حَیُّ یَا قَیُّوْمُ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ اَصْلِحْ
لِیْ شَأنِیْ کُلَّہٗ ولاَ تَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ طَرْفَۃَ عَیْنٍ
وَّلاَ تَنْزِعْ مِنِّیْ صَالِحَ مَا اَعْطَیْتَنِیْ … اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ
اَعُوْذُبِکَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِکَ … اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ الذُّنُوْبَ
الَّتِیْ تُغَیِّرُ النِّعَمْ … آمین یا ارحم الراحمین…
وصل
اللہم علی خیر خلقک سیدنا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم
٭٭٭
اللہ تعالیٰ امت مسلمہ پر رحم فرمائے… کراچی کے
افسوسناک دھماکوں پر کچھ عرض کرنے سے پہلے چند واقعات پیش خدمت ہیں…
حضرت
مفتی ولی حسن صاحبؒ کا واقعہ
حضرت
مولانا مفتی ولی حسن صاحب نور اللہ مرقدہ…
سبق پڑھانے کیلئے دارالحدیث میں تشریف لائے… سبق ’’صحیح بخاری‘‘ کا تھا یا ’’جامع
ترمذی‘‘ کا… سبق کے دوران حضرتؒ نے بہت غمزدہ لہجے میں فرمایا… ’’فلاں سیاسی لیڈر
نے اپنی تقریر کے دوران مولانا شاہ احمد نورانی کی بطور توہین نقل اتاری ہے… یہ
بہت افسوسناک واقعہ ہے کسی لیڈر کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ایک عالم دین کی اس
طرح توہین کرے…
حضرؒت
کافی دیر تک اس افسوسناک سانحے پر غم کا اظہار فرماتے رہے… اور آپ نے اس لسانیت
پرست سیاسی لیڈر کی کافی مذمت بھی فرمائی… ہم طلبہ کیلئے یہ منظر کافی حیران کن،
عجیب اور چشم کشا تھا… حضرتؒ توحید وسنت کے سچے علمبردار… اور بدعات کے شدید مخالف
تھے… مگر اس کے باوجود آپ کا ایک دوسرے مسلک کے عالم دین کے ساتھ اس طرح اظہار
ہمدردی کرنا… ہمیں ’’اسلامی اعتدال‘‘ اور ’’دینی اخلاق‘‘ کا وہ سبق سکھا رہا تھا
جس کی اس وقت امت مسلمہ کو شدید ضرورت ہے…
حضرت
شیخ الہندؒ کا واقعہ
پہلے
جو واقعہ ذکر کیا ہے وہ اپنی آنکھوں کا دیکھا ہوا تھا… جبکہ یہ واقعہ کتابوں میں
پڑھا ہے اور اپنے اکابر سے بارہا سنا ہے… حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحب
دیوبندی نور اللہ مرقدہ… جب
’’مالٹا‘‘ کے عقوبت خانے سے رہا ہو کر ہندوستان تشریف لائے تو ’’مسلمانان ہند‘‘ نے
ان کا پرجوش والہانہ استقبال کیا… اور ہر جگہ لاکھوں افراد ان کی بات سننے اور
زیارت کرنے کیلئے جمع ہوئے… حضرت شیخ الہندؒ کو اللہ پاک نے بہت اونچا علمی مقام… اور بہت
اعلیٰ روحانی مقام عطاء فرمایا تھا… حضرت نے مسلمانوں کے اس ’’رجوع عام‘‘ کے وقت
بس اسی بات پر زور دیا کہ… مسلمانوں کے مسائل کا حل دو چیزوں میں ہے…
(۱) قرآن
پاک کی طرف لوٹ آئیں
(۲) فرقہ
واریت چھوڑ دیں…
حضرتؒ
ہر جگہ یہی صدا لگاتے رہے اور ’’انگریزی اقتدار‘‘ سے برصغیر کی آزادی کی راہ
ہموار فرماتے رہے…
حضرتؒ
یہ سبق سکھا کر چلے گئے… معلوم نہیں مسلمانوں نے اس پر کتنا عمل کیا…
اکوڑہ
خٹک کا واقعہ
افغانستان
پر امریکی حملے سے کچھ پہلے… دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں… دفاع افغانستان
کونسل کا اجلاس ہوا… اس بھرپوراجتماع میں تقریباً تمام ’’مکاتب فکر‘‘ کی بڑی قیادت
موجود تھی… مجھے اس وقت بہت خوشی ہوئی جب… بریلوی مکتب فکر کے رہنما مولانا شاہ
احمد نورانی صاحب نے بغیر لگی لپٹی… بہت کھلے الفاظ میں طالبان کی بھرپور تعریف
کی… اور انہیں والہانہ خراج عقیدت پیش کیا…
یورپ
کا واقعہ
مجھے
ایک بار یورپ کے ایک مرکزی ملک میں جانے کا اتفاق ہوا… ایک دن کچھ حضرات ملنے
کیلئے تشریف لائے… اور پوچھنے لگے کیا آپ بریلویوں کی مسجد میں بھی تقریر کی دعوت
قبول کرلیں گے؟… میں نے عرض کیا… ضرور ان شاء اللہ … مجھے تو ’’جہاد فی سبیل اللہ ‘‘ کی آواز
پہنچانی ہے… اگر آپ حضرات کو یہ موضوع ’’برداشت‘‘ ہو تو مجھے آپ کی مسجد میں جا
کر بیان کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے… وہ میرا ’’غیر متوقع‘‘ جواب سن کر بہت خوش
ہوئے… اور میرے ’’میزبانوں‘‘ کے ساتھ بیان کا وقت ’’مقرر‘‘ کر گئے… بندہ اس دن
اپنے رفقاء کے ہمراہ اس مسجد میں پہنچ گیا… نماز مغرب کا وقت قریب تھا اور
’’بیان‘‘ نماز مغرب کے بعد تھا… مجھے دعوت دینے والے مسجد کمیٹی کے حضرات کی خواہش
تھی کہ نماز کی امامت بھی میں کراؤں… مگر میں نے اس میں زیادہ دلچسپی نہ دکھائی…
اور صف کے ایک کونے میں جا بیٹھا… اذان کے بعد منقش جبے اور شاندار دستار میں
ملبوس امام صاحب تیزی سے آگے بڑھے… اور انہوں نے میری امامت کے تمام امکانات کو
’’کالعدم‘‘ کردیا… اور میں بھی ایسا ہی چاہتاتھا… نماز کے بعد بیان شروع ہوا… امام
صاحب تھوڑی دیر ’’شان بے رغبتی‘‘ کے ساتھ پہلو دے کر بیٹھے رہے… مگر پھر آہستہ
آہستہ متوجہ ہوتے گئے… اور بالآخر پوری طرح متوجہ ہوگئے… مجنوں نے لیلیٰ ہی کی
بات کرنی تھی… میں بھی مدینہ منورہ کی فضاؤں سے جہاد کے قصے چنتا اور سناتا رہا…
اور عاشقان مصطفی صلی اللہ علیہ
وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے
زخم مبارک اور آپ کا جہاد مبارک یاد دلاتا رہا… بیان کے بعد ایک صاحب کے گھر
کھانا تھا… امام صاحب بھی تشریف لے آئے اور بہت تپاک سے ملے… اور فرمانے لگے میں
’’سندھی‘‘ اور پکا ’’بریلوی‘‘ ہوں… میری عمر چالیس سال ہوچکی ہے… آج زندگی میں
پہلی بار کسی کے بیان میں رویا ہوں… ہم بریلوی لوگ جہاد سے بہت دورا ور بہت محروم
ہوگئے ہیں… امام صاحب کا دل کھل چکا تھا اور آدمی بھی صاف گو تھے… خوب کھل کر
بولے اور نماز کی امامت کا موقع نہ دینے پر معذرت کرتے رہے…
گولڑہ
شریف کا واقعہ
حضرت
پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑویؒ نے فتنہ قادیانیت کے خلاف بڑا کام کیا… مرزا ملعون
نے ان کے خلاف ایک رسالہ ’’تحفۂ گولڑویہ‘‘ بھی لکھا ہے… ایک دن مجھے خیال ہوا کہ
پنڈی اسلام آباد تو آنا جانا رہتا ہے… کسی دن گولڑہ شریف بھی ہو آؤں… بالآخر
ایک دن ترتیب بن ہی گئی… حضرت پیر صاحبؒ کے مزار پر لکھا تھا کہ خواتین کا آنا
ممنوع ہے… یہ بورڈ دیکھ کر کافی مسرت ہوئی… فقہاء اسلام نے خواتین کے قبروں پر
جانے کو بالاتفاق ممنوع قرار دیا ہے… اور چند کڑی شرطوں کے ساتھ بصورت مجبوری اسکی
اجازت دی ہے… میں اپنے رفقاء کے ہمراہ ’’مرقد‘‘ پر فاتحہ وغیرہ پڑھنے لگا… کچھ لوگ
تلاوت بھی کر رہے تھے… پھر اچانک ایک صاحب نے تلاوت مکمل کی… قرآن پاک کو ایک طرف
رکھا اور قبر کو باقاعدہ سجدہ کیا… میں نے حسن ظن کے طورپر سوچا کہ قبلہ کی طرف
سجدہ کیا ہوگا… مگر غور سے دیکھا تو قبلہ ان کی دائیں طرف تھا… یہ منظر بہت تکلیف
دہ تھا… ایسے محسوس ہوا کہ دل پر مکا سا لگا ہے… مزید ایسے مناظر سے بچنے کیلئے ہم
وہاں سے جلد روانہ ہوگئے…
واپسی
پر حضرتؒ کے جانشینوں میں سے ایک صاحب علم، صاحب کلام مؤحد بزرگ سے ملاقات ہوئی…
ہم نے ان کے ملفوظات سنے اور ان سے درخواست کی کہ … جہاد کا فریضہ ظلم اور
لاپروائی کا نشانہ بن رہا ہے… حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کون بڑا بزرگ تھا اور
کون بڑا مقامات والا؟… جب آپ صلی اللہ علیہ
وسلم خود جہاد میں لڑنے نکلے تو ان کے وارث کہلانے والوں کی کیا ذمہ داری بنتی
ہے؟… آپ بھی مسلمانوں کو جہاد کی دعوت دیا کریں… انہوں نے فرمایا میں ضرور دوں گا
آپ کچھ ایسی کتابیں بھجوادیں جن میں جہاد کا مواد یکجا مل جائے… بندہ نے وعدہ
کیا… انہوں نے مشروب پلایا اور دعا کرا کے رخصت کیا… کچھ دنوں بعد بندہ نے ان کی
خدمت میں چند کتب بھجوادیں…
یہ
چند واقعات کراچی کے بم دھماکوں کی وجہ سے… یاد داشت میں تازہ ہوگئے… میں نے خبروں
میں سنا کہ ’’کچھ حضرات‘‘ جہادیوں پر ان بم دھماکوں کا الزام ڈال رہے ہیں… تب مجھے
دکھ بھی ہوا اور حیرت بھی… جہاد کے ساتھ الحمدللہ… ’’فی سبیل اللہ ‘‘ کا لفظ جڑا ہوا ہے… جو … مجاہدین کو
ناجائز دہشت گردی سے روکتا ہے… مجاہدین افغانستان میں جہاد کیلئے گئے تو انہوں نے…
افغانیوں سے ان کا مسلک نہیں پوچھا… بس جیسے ہی معلوم ہوا کہ سوویت یونین نے حملہ
کیا ہے… اور مسلمانوں کے اس ملک میں… کیمونزم کے آنے کا خطرہ ہے … تو بس مشرق
ومغرب کی پاکیزہ روحیں… فرشتوں کی طرح اڑتی ہوئی افغانستان میں جمع ہوگئیں… اور
انہوں نے اپنے گوشت، ہڈیوں اور خون سے دنیا کے نقشے کو بدل کر رکھ دیا… مجاہدین
کشمیر میں جہاد کرنے گئے انہوں نے کشمیریوں سے یہ نہیں پوچھا کہ وہ دیوبندی ہیں یا
بریلوی؟… اور کشمیری ماؤں نے مجاہدین کی روٹیاں پکاتے وقت یہ نہیں پوچھا کہ… ان
کا مسلک کیا ہے؟… مجاہدین کے ہاں مسلمانوں کے خون کی وہی قیمت ہے جو قرآن پاک نے
بیان فرمائی ہے… اور وہ جانتے ہیں کہ کفر وشرک کے بعد سب سے خطرناک اور مہلک جرم…
بے گناہ مسلمان کو قتل کرنا ہے… مجاہدین کو کیا پڑی ہے کہ وہ جنت کے راستے کو چھوڑ
کر… اس طرح کی قتل وغارت میں الجھیں… اور دشمنان اسلام کو مسلمانوں پر ہنسنے کا
موقع دیں… آپ حضرات مجاہدین کے نظریات کو سمجھنا چاہتے ہیں تو… ’’زادمجاہد‘‘ نامی
کتاب پڑھ کر دیکھیں… جس میں جہاد کو فساد بننے سے بچانے کا مکمل نظام پیش کیا گیا
ہے…
میں
نہیں جانتا کہ کراچی کے بم دھماکے کس نے کرائے ہیں… مجھے تو ویسے ہی کراچی کے
حالات پر دکھ ہوتا ہے… کراچی کے مسلمان جنازے اٹھااٹھا کر تھک گئے ہیں… اور بوری
بند لاشوں کا تحفہ دینے والے درندوں کی پیاس ابھی تک نہیں بجھی… ہاں میں پورے وثوق
سے کہہ سکتا ہوں کہ دین کی خاطر… فریضہ جہاد ادا کرنے والے ’’مجاہدین‘‘ اس قسم کی
حرکت کا تصور بھی نہیں کرسکتے… اس لیے… بریلوی بھائیوں سے گزارش ہے کہ… آپ پر ظلم
ہوا ہے اس کا سب کو افسوس ہے… مگر اب آپ ظلم پر ظلم نہ کریں … ایک طرف آپ حضرات
نے… طویل عرصے سے خود کو مسلمانوں کے اجتماعی مسائل سے الگ رکھا ہوا ہے… اور جہاد
جیسے عاشقانہ فریضے کو اپنی لغت تک سے نکال دیا ہے… افغانستان میں ’’جہاد وشہادت‘‘
کا بازار گرم رہا مگر آ پ حضرات اس سے دور رہے… کشمیر میں جہاد کا زمزمہ بلند ہوا
مگر آپ حضرات کے کانوں تک ’’بدر‘‘ اور ’’احد‘‘ کا پیغام نہ پہنچ سکا… آخر میں
نام کی ایک تنظیم وجود میں آئی… اور دیواروں کی چاکنگ کے بعد واپس گم ہوگئی…
ہندوستان میں بابری مسجد کا مسئلہ اٹھا… مگر آپ حضرات نے کوئی کروٹ نہیں لی…
فلسطین کے جہاد سے آپ دور رہے اور چیچنیا کی قیادت پاکستان میں آ کر بھی آپ کی مہمان
نوازی کا لطف نہ اٹھا سکی… معلوم نہیں جہاد جیسے قرآنی فریضے سے ایسی بے پروائی
آپ نے کیوں برتی؟… اور معلوم نہیں آپ کو آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے زخموں کی یاد نے جہاد
کیلئے بے چین کیوں نہیں کیا؟… خیر میں اس معاملہ میں زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا کہ
غم کے اس وقت میں اس کو بھی فرقہ واریت قرار نہ دے دیا جائے… اس سلسلے میں میری
آپ سے اتنی گزارش ہے کہ قرآن پاک کی پانچ سو سے زائد آیات جہاد… اور حضور پرنور
صلی اللہ علیہ وسلم کے ستائیس غزوات
اور جہاد کے بارے میں آپ کی مبارک احادیث ایک بار ضرور پڑھ لیں … اور پھر اپنے
عمل کا جائزہ لیں کہ… جہاد سے محروم ہو کر آپ کن راہوں پر نکل گئے ہیں… اور اتنی
بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود آپ امت مسلمہ کے اجتماعی مسائل سے کس قدر لا تعلق
ہیں… آج تو میں آپ سے صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ… چلیں آپ نے جہاد جیسا محکم
اور قطعی اسلامی فریضہ چھوڑا… آپ نے غزوات النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چشم پوشی کی… وہ آپ
جانیں اور آپ کی قیادت… مگر یہ تو مناسب نہیں ہے کہ آپ ان لوگوں کو ستانا بھی
شروع کردیں… جو پوری امت مسلمہ کی طرف سے جہاد کا فریضہ ادا کر رہے ہیں… اور ان
مشکل حالات میں بھی اسلام کے اس فریضے کا نام لے رہے ہیں… آپ کا ہر دن مجاہدین کے
خلاف پریس کانفرنسیں کرنا… اسلام دشمن قوتوں کو خوش کر رہا ہے… اور آپ غیر محسوس
طریقے پر ان کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں… مجاہدین تو پہلے ہی ظلم اور پابندیوں کا
شکار ہیں… آپ ان پر مزید کونسی پابندیاں لگوانا چاہتے ہیں؟… اگر جہاد بند ہوگیا
اور مجاہدین ختم ہوگئے تو کس کا نقصان ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو جہاد اور مجاہدین کا
اتنا اکرام فرماتے تھے کہ سرورکونین ہونے کے باوجود… مجاہدین کو مدینہ منورہ کے
باہر تک چھوڑنے جاتے تھے… آج امت مسلمہ کے دامن میں چند مجاہد رہ گئے ہیں… عشق
مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا تقاضا
تو یہ تھا کہ… آپ ان کی قدر کرتے، ان کے ساتھ شامل ہوتے اور ان کی تعداد بڑھاتے…
مگر دشمنوں نے بزدلی اور حب دنیا کی ایسی ہوا چھوڑی ہے کہ … اب مسلمان خود جہاد
کرنا تو درکنار… مجاہدین کی مخالفت تک کرنے لگ گئے ہیں… ہاں ایسا قرآن پاک سے
ثابت ہے کہ… جو لوگ جہاد چھوڑ بیٹھتے ہیں وہ مسلمانوں سے لڑتے ہیں… ہاں ایسا حدیث
پاک سے ثابت ہے کہ… ترک جہاد سے ذلت آتی ہے… اور مسلمانوں پر وہ وقت آئے گا جب
وہ ایک دوسرے کو ماریں گے… اور ایک دوسرے کو پکڑیں گے… شیطان بھی سرگرم ہے… اور
شیطانی قوتیں بھی سرگرم ہیں… ہر طرف طاغوت کے فتنے اور دجال کے شوشے نظر آرہے
ہیں… ان حالات میں مسلمان ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہوجائیں… یہ افسوسناک ہے…
مگر ہم کیا کرسکتے ہیں… جو کچھ ہونا ہے وہ ہو کر رہے گا… البتہ ہم دعاء اور کوشش
تو کر سکتے ہیں کہ… ہم طاغوت، شیطان اور دجال کے حامی نہ بنیں… اور ہم دنیا کی
فانی زندگی کی خاطر … اپنی آخرت کو تباہ نہ کریں… مدینہ منورہ میں بھی غزوۂ احد
کی ظاہری شکست کے بعد… جہاد پر ایسے ہی حالات آئے تھے… جس طرح افغانستان سے امارت
اسلامی کے سقوط کے بعد یہاں آئے ہوئے ہیں… بلکہ مدینہ منورہ والے حالات زیادہ سخت
تھے… آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم
زخمی تھے… حضرات صحابہ کرام میں سے ستر بڑے حضرات شہید ہوچکے تھے … اور سینکڑوں
حضرات زخمی تھے… منافقین نے جہاد کے خلاف ایک شور برپا کیا ہوا تھا… اور بزدل لوگ
دانشور بن بیٹھے تھے… اگر یہ دین سچا ہوتا تو شکست کیوں ہوتی؟… اگر نبی سچے ہوتے
تو زخمی کیوں ہوتے؟… مسلمانو! اب جہاد کا مزہ تم نے چکھ لیا ہے اب اس کا نام بھی
مت لو ورنہ مارے جاؤ گے… اور ہمیں بھی مرواؤ گے… یہ نعرے ہر طرف گونج رہے تھے…
اور منافقین اور یہود کے خیر سگالی وفد مشرکین مکہ کے پاس دورے کر رہے تھے… عجیب
مشکل وقت تھا ہر کوئی جہاد کے خلاف بول رہا تھا… اور جہاد کو ہلاکت تباہی… اور
بربادی بتا رہا تھا… اسی حالت میں ایک سال گزر گیا… اور وہ وقت آگیا جب ابوسفیان
کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے… مسلمانوں نے پھر مقابلے کے لئے جانا تھا… مشرکین مکہ
نے پیسے دے کر ایسے لوگ خریدے جو مسلمانوں میں خوف… اور جہاد کے خلاف نفرت پھیلا
سکیں… ایک سال پورا ہوا… آسمان وفاداری کا منظر دیکھنے کیلئے زمین پر نظریں جمائے
بیٹھا تھا… عرش سے ایک حکم آیا… اے میرے پیارے نبی آپ مشرکین سے لڑنے کیلئے
تشریف لے جائیے… کوئی ساتھ نہیں چلتا تو… پرواہ نہ کیجئے آپ اکیلے ہی نکل جائیے…
اور مسلمانوں کو قتال پر ابھارئیے… جنگ تو اللہ تعالیٰ نے لڑنی ہے… کون اس کا مقابلہ
کرسکتا ہے؟… حضور پاک صلی اللہ علیہ
وسلم نے جہاد کی دعوت دی اور خود روانہ ہوگئے… تکبیر کے نعرے گونجے اور بہت سے
مسلمان بھی ساتھ ہوگئے… آسمان جھوم اٹھا… کرائے پر چلنے والے دانشور بغلیں
جھانکنے لگے … یہودیوں کی نیند اڑ گئی… اور مسلمانوں کا وفادار دستہ پھر ’’بدر‘‘
کی طرف روانہ تھا… ۳ ہجری
کی تاریخیں اپنے سینے میں خوشی کی ٹھنڈک لے کر رخصت ہوگئیں… ابوسفیان وعدے کے
باوجود نہ آئے… اور جہاد کے خلاف پروپیگنڈے کا طوفان اپنی موت آپ مر گیا… اور
پھر کیا تھا… مزے ہوگئے مزے… وہی قرآن پاک جو ’’احد‘‘ کی پسپائی پر ڈانٹ رہا تھا
اب ’’بدرصغریٰ‘‘ میں جانے پر پیار کر رہا تھا… اور تعریف کے پھول نچھاور کر رہا
تھا… اللہ تعالیٰ کی خاطر سب کچھ چھوڑ نے والے فقیروں کو
اور کیا چاہئے تھا… قرآن نے ان کو شاباش دی اور وہ جہاد کے خوبصورت سینے سے چمٹ
گئے… پھر کچھ ہی عرصہ بعد… احد کی شکست کے طعنے سہنے والے مظلوم مجاہدین… بنو
نضیر، بنو قریظہ… اور بنو قینقاع کے قلعوں کے مالک بن گئے… خیبر کی زمین ان کو
جزیہ دینے لگی… مکہ مکرمہ کے دروازے ان پر کھل گئے… اور طائف کے پہاڑوں نے ان کا
استقبال کیا… تب… مکہ میں امیہ بن خلف کے پاؤں تلے کراہنے والا… سیدنا بلال رضی اللہ عنہ… کعبۃ اللہ کی چھت پر اذان دے رہا تھا… اور کچھ
عرصہ بعد یہی بلال رضی اللہ عنہ
دمشق کے ایک مورچے پر پہرہ دے رہا تھا… اے عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ کرنے والو! جہاد
کو گالی نہ دو… جہاد کو برا نہ کہو… ورنہ آسمان بھی روئے گا… اور زمین بھی تڑپے
گی…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو اچھے حکمران
نصیب فرمائے… زخمی امت اس نعمت کی بہت محتاج ہے… دشمنوں کی پوری کوشش ہے کہ…
مسلمانوں کو کوئی اچھا حکمران نہ ملنے پائے… ایسا حکمران جس کے سینے میں ’’مسلمان
دل‘‘ ہو… افغانستان میں مسلمانوں کو ایک اچھا حکمران ملا… اس کے ’’انداز حکمرانی‘‘
میں ایمانی خوشبو تھی… اس لیے اقوام متحدہ نے اسے تسلیم نہ کیا… حالانکہ ملک کے
نوّے فیصد حصے پر اس کی مضبوط حکومت تھی… اور تو اور اسلامی ممالک کی کانفرنس نے
بھی… اس کو نشست نہ دی… بالآخر آگ اور بارود کی بارش میں اس کی حکومت گرادی گئی…
اور مسلمان ایسے حکمران سے محروم ہوگئے… جو ان کی فکر رکھتا تھا… جو ان کیلئے روتا
اور تڑپتا تھا… جو ان سے کم درجے کا لباس پہنتا تھا… اور جس کے شاہی دسترخوان پر
عام غریبوں والا کھانا چُنا جاتا تھا… ہاں دنیا کا کفر، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ایمان کی خوشبو سے آج تک لرز
رہا ہے… وہ کہتے ہیں کہ ’’عُمرؓ‘‘‘ نہ ہوتے تو آج اسلام دنیا کے سات سمندروں تک
پھیلا ہوا سب سے بڑا دین نہ ہوتا… اور وہ کہتے ہیں کہ عمرؓ جیسے حکمران جب بھی
مسلمانوں کو ملیں گے… مسلمان چھا جائیں گے، مسلمان غالب ہوجائیں گے… اب فلسطین میں
حماس والوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے… سرفروشی اور خدمت ’’حماس‘‘ کے ایمان
میں ’’خوشبوئے عمرؓ‘‘‘ پیدا کرتی ہے… ایک طرف شہداء کے قافلے ہیں… نو خیز جوانیاں
جو دین کی خاطر کٹ گئیں… وہ نوجوان دولھے جو بارود کی جیکٹ پہن کر… حوروں کے جھرمٹ
میں گم ہوگئے… اور اٹھارہ سے پچیس سال کی وہ جوان بیٹیاں… جنہوں نے مہندی لگا کر
دنیا کی دلہن بننے کی بجائے… خوشبودار خون سے حسن پایا اور جنت کی حوریں بن گئیں…
حماس کے فدائی قافلے عجیب تھے، بہت باہمت، بہت پرعزم اور بہت پاک صاف… یہودی اور
ان کے سرپرست خواب میں بھی ان گرجتے، کڑکڑاتے اسلامی دستوں کو نہیں بھلا سکتے…
حماس نے کئی بار اسرائیل کو شکست دی… اور اس کے جاسوسی نظام کو الٹ کر رکھ دیا…
حماس نے اپنے قائد، بانی اور مرشد شیخ احمد یٰسینؒ کو بندوق کے زور پر… اسرائیل سے
آزاد کرایا… حماس کے سامنے خسیس یہودیوں کو بارہا گھٹنے ٹیکنے پڑے… دنیا کے کفر
کو سب کچھ یاد ہے… ہاں شیخ احمد یسین! کو کون بھول سکتا ہے… امت مسلمہ کا بوڑھا
اور معذور جرنیل… مجاہدین کا قابل فخر امام… اور حماس کی کارکن وہ بوڑھی عورتیں…
ہاں خوبصورت بوڑھی عورتیں جو شہیدوں کے گھروں میں راشن، کپڑے… اور دوائیاں پہنچا
آتیں ہیں… وہ اس کام سے بالکل نہیں تھکتیں… وہ شہیدوں کے بچوں کو خود لوری دے کر
رات کو سلا آتی ہیں… اور ان کے گھروں کا چولھا جلا آتی ہیں… شہید احمد یسینؒ نے
اندھا جہاد نہیں کیا… انہوں نے جہاد کے پیچھے ’’خدمت‘‘ اور ’’جماعت‘‘ کے دو بازو
جوڑ دئیے ہیں… حماس والے ایک طرف یہودیوں پر آگ برساتے ہیں تو دوسری طرف … اپنے
لوگوں کے گھروں کا پانی بھی خود بھرتے ہیں… شیطان ’’جماعت‘‘ اور ’’اجتماعیت‘‘ کا
دشمن ہے… وہ مسلمانوں کی کسی تنظیم کو ’’جماعت‘‘ نہیں بننے دیتا… اس کے وساوس اور
اس کے شبہات جماعتوں کو توڑ دیتے ہیں… وہ جانتا ہے کہ … ’’جماعت‘‘ میں اس کی موت
ہے… شیخ احمد یسین خود تو جسم سے معذور تھے مگر دل اور عقل سے معذور نہیں تھے…
انہوں نے ’’جماعت‘‘ بنائی یہ تو ایک آسان کام تھا… مگر پھر انہوں نے اس ’’جماعت‘‘
کو چلایا… و اللہ یہ بہت مشکل کام تھا… شیطان کا ڈسا ہوا ہر شخص ’’جماعت‘‘
کا دشمن ہوتا ہے… اس زمانے میں منظم جماعت چلانا… لوہے کے چنے چبانے سے زیادہ مشکل
ہے… مگر شیخ پر اللہ تعالیٰ کا فضل
رہا… وہ وہیل چیئر پر بھی ثابت قدم رہے… وہ یہودی عقوبت خانوں میں بھی ثابت قدم
رہے… وہ خوش نصیب تھے ان کو اچھے رفقاء ملے… جنہوں نے ان کے ہاتھ پر ’’بیعت‘‘ کی…
اور پھر اس ’’بیعت‘‘ کے تقاضوں کو نبھایا… ان کو آخری عمر تک عبدالعزیز رنتیسی جیسے
مدبّر اور خالد مشعل جیسے ’’شیرصفت‘‘ ساتھی نصیب رہے… اور بالآخر شیخ کو ان کی
محنتوں کا صلہ شہادت کی صورت میں مل گیا… نماز فجر کے بعد… اپنی وہیل چیئر پر،
یہودیوں کے ہاتھوں… سبحان اللہ ! کیا خوش
نصیبی ہے کہ… شہادت خود ان کو ملنے اور چومنے آئی… اور سجا، سنوار کر اپنے ساتھ
لے گئی… شیخ چلے گئے… مگر جماعت ’’منظم‘‘ تھی اور ’’بیعت‘‘ پر قائم تھی… یہاں
افراد طاقتور نہیں تھے ’’نظام‘‘ طاقتور تھا… چنانچہ سرفروشی کا بازار بھی گرم رہا
اور خدمت کا پھول بھی خوشبو بکھیر تا رہا… حماس نے فلسطینیوں کو سب کچھ دیا تھا تو
اس بار فلسطینیوں نے ووٹ دے کر… ان کو ’’انتخابات‘‘ میں چن لیا… ہاں حماس والے اب
حکمران بن گئے ہیں… ان کے حکمران بننے پر اکثر مجاہدین نے خوشیاں منائیں… مگر میرا
دل دھک دھک کرنے لگا… القلم کے بعض عزیز دوستوں نے استقبالی مضمون لکھے تو جی چاہا
کہ انہیں نہ لکھنے کا مشورہ دوں… کیونکہ اب حماس کو ’’خراج تحسین‘‘ نہیں
’’دعاؤں‘‘ کی ضرورت ہے… حماس والوں کو چلنے نہیں دیا جائے گا… ان کے اور فلسطینی
عوام کے میٹھے رشتے کو کڑوا کیا جائے گا… حماس میں سے کمزور ایمان والوں کو عسکریت
سے دور کھینچا جائے گا… اور بالآخر امت مسلمہ کے اس قابل فخر لشکر کو بھی ٹکڑوں
میں بانٹ دیا جائے گا… اللہ کرے
’’اسماعیل ہانیہ‘‘ ملا محمد عمر سے سبق سیکھیں… اور انہیں کی طرح غیرت اور غریبی
کے ساتھ حکومت چلائیں… اور جب ’’عزت کی دستار‘‘ پر سودا کرنے کی فرمائش کی جائے تو
حکومت کو تھوک دیں… اور پھر اپنے مورچوں میں لوٹ جائیں… دراصل دنیا کا سارا نظام،
اسلام دشمنوں نے اسی ترتیب سے بنایا ہے کہ … مسلمانوں کو ’’اچھے حکمران‘‘ نصیب نہ
ہوں… اور نہ ان میں ’’خلافت‘‘ قائم ہوسکے… ان شاء اللہ جہاد کے زور سے یہ نظام ٹوٹے گا تب…
اچھے حکمرانوں کو برداشت کیا جائے گا اور مسلمانوں کو ’’مسلمان‘‘ حکمران نصیب
ہوسکیں گے… فی الحال تو بس ظلم ہی ظلم ہے… اور زخم ہی زخم…
غیر
مسلم ملکوں اور عوام کو ایسے حکمران تو مل گئے ہیں جو ان کے ہمدرد ہیں … جبکہ
مسلمانوں کے حکمران… صرف مسلمانوں کے دشمن ہیں… افغانستان پر غیروں نے قبضہ کرلیا…
کسی مسلمان حکمران نے آہ تک نہ کہی بلکہ… غیروں کے ساتھ شامل ہوگئے… عراق پر
غیروں نے قبضہ کیا… مگر مسلمان حکمرانوں کے گلے سے کوئی آواز نہ نکلی… مسلمان
مشرق ومغرب میں لٹ گئے… مگر مسلمان حکمران خود انہیں کا سودا کرتے رہے… اور
مسلمانوں کو کافروں کے ہاتھوں فروخت کرتے رہے… ہمارے صاحب حال بزرگ، حضرت قاری
محمد عرفان صاحب نور اللہ مرقدہٗ…
بہت جوش کے ساتھ فرمایا کرتے تھے… قیامت کے دن اگر میری بخشش ہوگئی تو سب سے پہلی
درخواست یہ کروں گا … یا اللہ ! حضرت عمر
رضی اللہ عنہ سے ملاقات کرا دے… یہ کہتے ہوئے حضرت قاری
صاحبؒ کی آنکھوں میں آنسو مچلنے لگتے تھے… ہاں امت مسلمہ کو ہر زمانے میں حضرت
عمر رضی اللہ عنہ کی ضرورت پڑتی ہے…
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان
کو اللہ تعالیٰ سے مانگا تھا نا! ہاں ان کو مانگا تھا…
اسلام کیلئے مسلمانوں کیلئے امت مسلمہ کیلئے… آج مجاہدین کے گھروں کے چولھے
بُجھتے ہیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ
یاد آتے ہیں… وہ مجاہدین کے گھروں کا خود خیال رکھا کرتے تھے… اور ان کے گھروں کا
سودا خرید کر لاتے تھے… جب مجاہدین کے خطوط آتے تو خود اُن گھروں پر دے آتے اور
فرماتے جواب لکھ رکھنا… فلاں تاریخ کو قاصد محاذ پر جائے گا… اگر کسی مجاہد کی
ماں، بیوی کہتی کہ ہمیں لکھنا نہیں آتا تو آدھی دنیا کا بادشاہ اس کی چوکھٹ کے
باہر کاغذ قلم لیکر بیٹھ جاتا… وہ لکھواتی رہتی اور یہ لکھتے رہتے… ہائے سیدنا
عمرؓ ! آپ کی کس کس ادا کو یاد کروں… آج جہاد کے پاؤں میں بیڑیاں ہیں… آج
مجاہدین کے ہاتھوں میں زنجیریں ہیں… آج مجاہدین کے گھروں پر چھاپوں کا خوف ہے…
اور اللہ کے رستے کے مجاہد اپنے بچوں سے دور دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں…
ہاں
آج سیدنا عمر رضی اللہ عنہ موجود
نہیں ہیں… اور نہ ان کی خوشبو والا کوئی حکمران موجود ہے… ملا محمد عمر میں حضرت
عمر رضی اللہ عنہ کی خوشبو تھی…
انہوں نے بعض غیر افغانی مجاہدین سے فرمایا تھا… آپ کے لئے میرا ملک حاضرہے یہاں
رہنا ہو تو خوشی سے رہیں… زلزلہ آیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ یاد آئے… مدینہ منورہ میں قحط
پڑا تو حضرت عمرؓ نے اس پورے عرصے میں گوشت، گھی وغیرہ کوئی لذیذ چیز نہ کھائی اور
اکثر عاجزی کے ساتھ یہ دعاء کرتے تھے… یا اللہ ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو میری شامت اعمال
سے تباہ نہ فرما… آج پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کردار کو زندہ کرنے کی ضرورت
ہے… میں نے اخبار میں پڑھا کہ عراق میں بیس سے زیادہ ایسے افراد کی لاشیں ملیں جن
کے نام ’’عمر‘‘ تھے… ہاں دنیا کا کفر ’’عمر‘‘ کو مٹانا چاہتا ہے… مگر اسلام اور
مسلمانوں کو ’’عمر‘‘ کی ضرورت ہے… اور جس طرح اسلام کے ابتدائی زمانے میں مسلمان
کمزور تھے تو… اللہ پاک نے عمرؓ کے
ذریعے انہیں طاقت اور قوت بخشی تھی… اسی طرح اس زمانے میں بھی مسلمان کمزور ہیں…
اب بھی انہیں قوت وطاقت ’’کردار عمر ؓ ‘‘ کو اپنانے سے مل سکتی ہے… حضرت عمر
رضی اللہ عنہ جیسا مضبوط عقیدہ…
حضرت عمرؓ جیسا طاقتور نظریہ… حضرت عمرؓ جیسا جہاد… اور حضرت عمرؓ جیسی سیاست… جو
مسلمان چاہتا ہے کہ وہ اسلام اور قرآن کے قریب تر ہوجائے… اسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روشنی لینی ہوگی… اس لیے کہ
قرآن پاک ان کی رائے کی تصدیق فرماتا تھا… اور اسلام کا پورا نقشہ ان میں موجود
تھا… دینی جماعتیں حضرت عمرؓ سے روشنی لیں اور ان سے نظام سیکھیں… طاقتور افراد
حضرت عمرؓ سے طاقت کا استعمال سیکھیں… جن پر دوسروں کی ذمہ داریاں ہیں وہ حضرت
عمرؓ سے ذمہ داری نبھانے کا طریقہ معلوم کریں… لباس اور جوتوں میں غرق عزت کے
شوقین افراد… حضرت عمرؓ سے عزت کا اصل راز معلوم کریں… اور شعراء شعر کہنے سے پہلے
حضرت عمرؓ سے آداب شاعری کا درس لیں… حکمران حکومت چلانے کیلئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اشاروں کو سمجھیں… اور فاتحین
دنیا فتح کرنے کا راز حضرت عمرؓ سے معلوم کریں… تصوف اور فقیری کے دعویدار معرفت
کے نکتے حضرت عمرؓ کی خانقاہ سے سیکھیں… جہاد کے دعویدار حضرت عمرؓ کے ٹریننگ کیمپ
سے سچے مجاہد بن کر نکلیں… اور خود کو سیاست کے ماہر بتانے والے حضرت عمرؓ کے
دربار عالی میں حاضری دے کر اسلامی سیاست کے اصل اصول معلوم کریں… ہاں اللہ پاک
کی قسم… ہم سب کو ’’عمر ؓ‘‘ کی ضرورت ہے… اسلام کو سمجھنے کیلئے… قرآن پاک
کو دل میں اتارنے کیلئے… جہاد کے مقام کو پہچاننے کیلئے… اور اپنی عزت رفتہ حاصل
کرنے کیلئے… ہاں ہمیں اس سادہ انسان کی ضرورت ہے جو خود تجارت کرکے کماتا تھا… جی
ہاں آج یہ کام دینی تقدس کے خلاف سمجھا جاتا ہے… ہاں ہمیں اس غیور انسان کی ضرورت
ہے جو اپنے کپڑے خود سی لیتا تھا… اور ان پر پیوند لگاتا تھا… ہاں ہمیں اس سخت
انسان کی ضرورت ہے جس کی ہیبت سے کسریٰ کے کنگرے ہل جایا کرتے تھے… ہاں ہمیں اس
نرم دل انسان کی ضرورت ہے جو بوڑھی عورتوں کے سامنے اپنی غلطی تسلیم کرکے ہچکیاں
لے کر روتا تھا… ہاں ہمیں اس مست انسان کی ضرورت ہے … جس کی نظروں میں اسلام کے
علاوہ عزت کا کوئی اور معیار نہیں تھا، ہاں ہمیں اس بیدار انسان کی ضرورت ہے جو
خلافت کے زمانے میں راتوں کو قافلوں کا پہرہ دیا کرتا تھا… اے عمرؓ! آپ پر کروڑوں
رحمتیں ہوں، میں آپ کی کس کس ادا کو یاد کروں… آج وزیرستان ظلم کی آگ میں جھلس
رہا ہے … آج کشمیر ہم سے شکوہ کناں ہیں… آج کراچی خوف اور دہشت سے لرز رہا ہے…
آج ہمارے حکمران… اجنبی لوگ ہیں… آج ہمارا اسلام لرز رہا ہے… اور دل بے چینیوں
کا شکار ہے… آج امت مسلمہ کے قیدی مایوسی کے غار میں دھکیلے جارہے ہیں… آج اسلام
پر تحریفات کا حملہ ہے… آج ہر شخص اپنی ذات کے خول میں بند ہے… اور مسلمانوں کے
لئے سوچنے والے بہت کم لوگ باقی ہیں… آج ہماری سیاست ’’بددینی‘‘ اور ’’بے فکری‘‘
کا مجموعہ ہے… اور آج ہمارا جہاد ’’نظم وضبط‘‘ سے محروم ہے… اے عمرؓ! آپ پر اللہ تعالیٰ کی کروڑوں رحمتیں ہوں… شیطان آپ سے ڈرتا
تھا جبکہ وہ ہم پر شیر ہے… فتنے آپ سے بھاگتے تھے جبکہ ہم پر حملہ آور ہیں… تب
ہمیں آپ کی یاد ستاتی ہے… آپ ’’فاتح‘‘ تھے پہاڑ، سمندر اور ہوائیں آپ کے ایمان
کی بدولت آپ کا ساتھ دیتی تھیں… آپ مسلمانوں کے لئے بہت ہمدرد اور بہت رقیق
القلب تھے… اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کی طرف سے آپ کو خوب خوب
جزائے خیر نصیب فرمائے… اور ہمارے ایمان کو بھی آپ کے ایمان کی خوشبو کا کچھ حصہ
نصیب فرمائے…
…آمین
یا ارحم الراحمین…
٭٭٭
اللہ جلّ شانہٗ کی شان دیکھئے… انتہا پسندی کو ختم
کرنے کا دعویٰ کرنے والے اب خود… انتہا پسندوں کی زبان بولنے لگے ہیں… سلام ہو ان
پاکیزہ روحوں پر جنہوں نے اسلام کی خاطر اپنے جسموں کا کٹنا گوارہ کیا… جنہوں نے
وقت کے دجّال سے ٹکر لی… جنہوں نے کروز میزائل اور بی باون B-52طیاروں
کی پرواہ نہیں کی… وہ خود گرتے رہے مگر انہوں نے اسلام کا جھنڈا سر نگوں نہیں ہونے
دیا… اور اللہ پاک کے ان فدائیوں نے
صدر بش اور ٹونی بلیئر کا دامن شکست کے کانٹوں سے بھر دیا… سلام ہو شہداء قندوز
پر… سلام ہو شہدائے مزار شریف پر… سلام ہو شہدائے تورا بورا پر… سلام ہو شہدائے
بغداد و موصل پر… سلام ہو شہدائے فلوجہ اور تکریت پر… سلام ہو اسیران گوانٹا نامو
بے پر… سلام ہو اسیرانِ ابوغریب جیل پر… سلام ہو… امیر المؤمنین ملا محمد عمر
مجاہد، شیخ اُسامہ بن لادن… اور ابو مصعب الزرقاوی پر… سلام ہو شہادت کیلئے تڑپنے
والے فدائی دستوں پر… ہاں! ان سب پر سلام ہو… جنہوں نے اسلام کی لاج رکھی… جنہوں
نے قرآن پاک کی عظمت کا لوہا منوایا… اور جنہوں نے حالات کے بھاری پتھر کو… اپنے
خون سے ایسا اُلٹ دیا کہ اب… انتہا پسندوں کو ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والے … خود
انتہا پسندوں کی زبان بولنے لگے ہیں… ہم نے بہت پہلے اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر کہا تھا کہ… ایسا ہوگا… تب
لوگ ہنستے تھے اور مذاق اُڑاتے تھے… ایک کالم نویس نے لکھا تھا بھول جاؤ اب
مجاہدین کو اور طالبان کو… یہ لوگ ماضی کا غبار بن چکے ہیں… چند دن بعد ان کا نام،
پتا مٹ جائے گا… آج کوئی اس کالم نویس سے جاکر پوچھے کہ… او… ظاہری طاقت کے
پجاری! دیکھ ماضی کا غبار مستقبل کا مینار بننے کو ہے… امریکہ جو کل تک چنگھاڑ رہا
تھا اب تھکاوٹ اور ندامت سے چور ہے… بش جو دنیا پر گرج رہا تھا اب تیزی سے زوال
پذیر ہے اور چند دن بعدماضی کا غبار بننے والا ہے… اور وہ جن کو امریکہ کی یاری پر
ناز تھا اب پکاررہے ہیں… ہم امریکہ کے پالتو نہیں ہیں… ہم امریکہ کے ’’پالتو‘‘
نہیں ہیں…
ہاں!
سلام ہو ان کو جو اندھیرے میں بھی … روشنی کے ساتھ رہے… سلام ہو ان پر جو بلاخیز
طوفانوں میں بھی ڈٹے رہے… اور استقامت کے حسین گیسو سنوارتے رہے… ہاں وہ کٹ گئے‘
وہ لُٹ گئے … وہ قبروں میں جا سوئے‘ وہ سمندروں میں ڈبو دئیے گئے‘ وہ عقوبت خانوں
میں آزمائے گئے ‘ وہ گھروں سے بے گھر ہوئے‘ وہ اپنوں سے جدا ہوئے… وہ مارے گئے…
ستائے گئے … اور گالیوں اور بدنامیوں کا نشانہ بنے… مگر ان میں سے آج کوئی بھی
نہیں پچھتا رہا… سب خوش ہیں … اور خود کو خوش نصیب سمجھ رہے ہیں… انہوں نے سب کچھ
کھو کر بھی یہ بیان نہ دیا کہ … ہم اللہ تعالیٰ
کے نہیں… ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نہیں… ہم جہاد کے نہیں… ہم
اپنے امیر کے نہیں… سبحان اللہ ! وہ
اپنے کٹے جسموں اور ظاہری طور پر ویران زندگیوں کے باوجود… اپنی بات پر پکے ہیں
اور اپنے نظرئیے پر ڈٹے ہوئے ہیں… جبکہ …ا ن کے خلاف قائم ہونے والا ’’عالمی
اتحاد‘‘اب ’’عالمی انتشار ‘‘ بننے والا ہے… دنیا کے تیس ۳۰ ممالک
اپنی لاکھوں فوج … اور اپنی جدید ترین ٹیکنالوجی کے باوجود… ایک ’’فقیر مولوی‘‘ کو
شکست نہ دے سکے… وہ ایک ’’عرب مسافر‘‘ کو نہ پکڑ سکے… وہ بوڑھے صدام کی گردن نہ
جھکا سکے…
اور
وہ اپنے طیاروں اور میزائلوں کے باوجود… سوکھی روٹی کھانے والوں کا مقابلہ نہ
کرسکے… اللہ ! اللہ ! کتنی اونچی ہے آپ کی شان اور کتنے
سچے اور محکم ہیں آپ کے قوانین … پانچ سال پہلے کوئی سوچ بھی سکتا تھا کہ …
طالبان امریکہ کے سامنے چالیس دن بھی ٹھہر سکیں گے؟… عراق کے عوام امریکہ کا ایک
مہینہ تک مقابلہ کر سکیں گے؟… اللہ کی
قسم! اب بھی کسی اندھے کو جہاد سمجھ نہیں آتا تو اس میں جہاد کا کیا قصور ہے؟…
انڈیا خود کو منی سپر پاور سمجھتا ہے… اور وہ پاکستانی افواج کو دو سے زائد بار
شکست دے چکا ہے… مگر چند ہزار نہتے اور کمزور مجاہدین کے سامنے وہ ’’بے بس‘‘ہے…
صدر
بش کے دورۂ بھارت کے دوران … انڈیا کی حکومت نے ’’کشمیری مجاہدین‘‘ کا رونا رویا
اور صدر بش سے مدد کی فریادکی… صدر بش نے پاکستانی حکمرانوں کی گردن دبائی اور
نہایت سختی کے ساتھ ’’جہاد کشمیر ‘‘ کو روکنے کا حکم دیا… ابھی ’’صدر بش‘‘ پاکستان
میں ہی تھا کہ یہاں کے حکمرانوں نے … جن کا دعویٰ ہے کہ وہ امریکہ کے پالتو نہیں
ہیں… جہاد کشمیر کے خلاف عملی اقدامات شروع کر دئیے … اور ایک لاکھ شہداء کے خون
سے گلرنگ تحریک سے بے وفائی کی… کیا یہ سب کچھ پاکستان کے مفاد میں ہے؟… جہاد
کشمیر بھی ان شاء اللہ بند نہیں
ہوگا مگر مسلمانوں کا مسلمانوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونا ایک عذاب ہے… اور دنیا کا
کفر زور زبردستی … اور دھمکی کے ذریعے مسلمانوں کو اس عذاب میں مبتلا کرنا چاہتا
ہے… یہ بے غیرت لوگ خود تو مسلمانوں کا کسی بھی میدان میں مقابلہ نہیں کر سکتے…
چنانچہ وہ اپنے ’’غیر پالتو‘‘ وفاداروں کو ڈراتے ہیں… اور انہیں مسلمانوں کے
مقابلے میں لاکھڑا کرتے ہیں…
امریکہ
طالبان کی حکومت نہیں گرا سکتا تھا اگر پاکستان اس کی اتنی زیادہ مدد نہ کرتا …
مگر اس کے باوجودآپ امریکہ کے پالتو نہیں ہیں کہ امریکہ نے تھوڑی سی امداد مانگی…
اورآپ نے ایک ٹیلیفون پر اپنا سب کچھ اس کی خدمت میں پیش کردیا… بے شک سچ ہے کہ
آپ امریکہ کے پالتو نہیں ہیں… ملک کے تریسٹھ فضائی اڈے امریکہ کے حوالے کر دیے
گئے … اور خوشیاں منائی گئیں کہ ہمیں ان اڈوں کا کرایہ مل رہا ہے … یعنی اپنی
دھرتی اور اپنی عزت کرائے پر دے دی گئی… چھ سو سے زائد مجاہدین کو پکڑ کر شہید کر
دیا گیا اور ان کی لاشیں دریائوں اور جنگلوں میں پھینک دی گئیں… گوانتاناموبے کا
عقوبت خانہ آباد کرنے کیلئے چھ سو سے زائد مجاہدین کو پکڑ کر امریکہ کے حوالے کر
دیا گیا … گزشہ پانچ سال میں امریکہ کے حکم پر اپنے ملک میں اپنی عوام کے خلاف
سینکڑوں خونی آپریشن کئے گئے… امریکہ اور یورپ کے حکم پر جہاد کشمیر کی کئی
تنظیموں پر پابندی لگائی گئی… امریکہ اور یورپ کے حکم پر دینی مدارس کے طلبہ کرام
کو ستایا گیا … اور ان مدار س کے نظام میں بارہا بھونڈی مداخلت کی گئی…امریکہ اور
یورپ کے حکم پر اپنے ملک کی کئی نامور ہستیوں کو پکڑا گیا‘ مارا گیا… اور ستایا
گیا… امریکہ اور یورپ کے حکم پر ملک کے تعلیمی نظام کو بدلا گیا … اور بے حیائی کو
عام کیا گیا… امریکہ اور یورپ کے حکم پر … ملکی وزارتیں تقسیم کی گئیں… اور غیروں
کے پسندیدہ افراد کو ملکی اقتدار میں حصے دار بنایا گیا… امریکہ اور یورپ کے حکم
پر ملک کے ایٹمی راز قربان کیے گئے … اور ایٹمی سائنسدانوں کو ’’مجرم
‘‘بنایا گیا… پاکستان کا ہر ذرّہ گواہ ہے کہ گذشتہ پانچ سالوں میں وہ حکم
دیتے رہے… اور ہماری حکومت اسے پورا کرتی رہی… وہ شکایتیں کرتے رہے اور ہماری
حکومت صفائیاں دیتی رہی… وہ دباتے رہے اور ہماری حکومت ذلت کے ہر مقام سے نیچے گر
کر دبتی رہی… مگر یہ سب کچھ کرنے کے باوجود ہماری حکومت امریکہ کی نظر میں حامد
کرزئی اور من موہن سنگھ جتنا مقام حاصل نہ کر سکی… اوراب ایٹمی معاملے سے لے کر …
بحالی جمہوریت کے معاملے تک صدر بش نے … صدر پرویز مشرف کو ’’انگوٹھا ‘‘ دکھا دیا
ہے… ان حالات میں ہماری حکومت کا امریکہ کے خلاف گرجنا… اس حسرت اور ندامت کی گھڑی
کا آغاز ہے … جو مسلمانوں کے خلاف کافروں کی مدد کرنے والوں پرمسلّط کی جاتی ہے…
قرآن پاک نے ’’سورۃ المائدہ ‘‘میں اس مسئلے کو بہت تفصیل اور وضاحت سے بیان
فرمایا ہے… بے شک قرآن پاک ایک زندہ اور ’’سدا بہار‘‘ کتاب ہے… اس کی کوئی آیت
پرانی نہیں ہوتی اور نہ اس کا کوئی حکم اپنا اثر کھوتا ہے…
آپ
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کا تازہ بیان پڑھیے… جس میں انہوں نے صاف الفاظ
میں کہہ دیا ہے کہ میں امریکہ اور یورپ کاپالتو نہیں ہوں… اور انہوں نے امریکہ کو
پہلی بار صاف لفظوں میں پاکستانی حدود میں کارروائی سے روکا ہے … اور انہوں نے
اپنے چھپے ہوئے ’’دانتوں‘‘سے بھی ڈرایا ہے …اور پھر آپ ’’سورۃ المائدہ ‘‘کی آیات
پڑھئے… سبحان اللہ ! قرآنی صداقت
کے سامنے دل جھک جائے گا…اور خوشی سے عش عش کر ے گا… کل رات بی بی سی کی خبریں
سنتے ہوئے میں خوشی سے جھومتا رہا… میرا دل اللہ تعالیٰ کی عظمت اور محبت کے مراقبے
سے بھر گیا … جہاد کی حقیقت دل کی گہرائیوں میں اور زیادہ پختہ ہوگئی … اور میرے
خشک ہونٹ بار بار مسکراہٹ کے مزے لیتے رہے… واہ میرے اللہ واہ! آپ کی شان کتنی بلند ہیں… ملا
عمر صاحب کا سب کچھ لٹ گیا… مگر وہ بالکل نہیں پچھتائے … اس طرح کا بیان
خدانخواستہ ان کی طرف سے آتا تو میں جی بھر کر روتا… اللہ پاک ان کو مزید استقامت عطاء فرمائے…
ملا فضل کا زخمی جسم گوانتاناموبے کے تندور میں جل رہا ہے… مگر ان کی طرف سے
ایساحسرت بھرا بیان نہیں آیا… وہ سب تو اللہ تعالیٰ کا شکر اد ا کر رہے
ہیں… جبکہ وہ جنہیں اپنی پالیسی پر ناز اور اپنی قوت پر غرو رتھا… اب پچھتا رہے
ہیں… اورصفائیاں پیش کررہے ہیں… ویسے یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی نصرت ہی سے ممکن ہوا… چند
دن پہلے حکومت کے ایک اہلکار نے امریکہ کو فرعون قرار دیا… اور اسے کسی ’’موسیٰ‘‘
کے ظاہر ہونے سے ڈرایا… میں یہ بیان سن کر خوش بھی ہوا اور حیران بھی … اس کے بعد
ملک کے وزیر خارجہ قصوری صاحب نے امریکہ کو آڑے ہاتھوں لیا… تب بہت حیرانی ہوئی
کہ … اتنے صابر شاکر لوگ اب آہ و زاری پر کس طرح اُتر آئے ہیں… امریکیوں نے
پاکستان کو ’’کتا‘‘ قرار دیا… مگر یہ لوگ خاموش رہے… امریکہ نے پاکستانی حدود میں
کئی بار پاکستانی شہریوں کو خاک و خون میں تڑپایا تب بھی یہ لوگ خاموش رہے… امریکہ
نے پاکستان کے اندرونی اور دینی معاملات میں بار ہا مداخلت کی مگر یہ لوگ خاموش
رہے… یورپ کی طرف سے کارٹونوں کا ظالمانہ فتنہ اُٹھا مگر یہ لوگ خاموش رہے… امریکہ
نے عراق کو برباد کیا مگر یہ لوگ خاموش رہے …امریکی فوجیوں نے قرآن پاک کی شدید
بے حرمتی کی… مگر یہ لوگ خاموش رہے… اب اچانک ’’صبر و وفا شعاری‘‘ کا پیمانہ لبریز
ہوا ہے تو ایک ایک کرکے سب بول رہے ہیں اور چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ ہم آزاد
ہیں، ہم آزاد ہیں… جناب عالی! جو لوگ آزاد ہوتے ہیں انہیں اپنی آزادی بتانے کی
ضرورت نہیں ہوتی… اور جو لوگ پالتو نہیں ہوتے وہ ساری دنیا کو نظر آتے ہیں کہ
پالتو نہیں ہیں… انہیں صفائی دینے کی ضرورت نہیں ہوتی… بات بالکل واضح ہے کہ ماضی
میں ہماری حکومت نے بے انتہا غلطیاں کی ہیں… اور امریکہ کے ہاتھوں سخت دھوکا کھایا
ہے… اور ہمارے حکمرانوں نے امریکہ کی خوشنودی کی خاطر وہ کام کیے ہیں… جو کسی بھی
مسلمان کو زیب نہیں دیتے… اور ان کاموں کی بدولت ہمارے حکمران نہ دنیا کے رہے ہیں
اور نہ آخرت کے… وہ نہ اپنوں کیلئے قابل قبول ہیں اور نہ غیروں کیلئے … وہ اب
امریکہ کو اپنی وفاداریاں یاد دلاتے ہیں مگر اسے کچھ یاد نہیں آرہا… وہ امریکہ کو
بنیاد پرستوں سے ڈرا کر اپنی اہمیت سمجھانا چاہتے ہیں مگر وہ سمجھنے کے موڈ میں
نہیں ہے… گذشتہ پانچ سالوں میں اسلام کے فدائی مجاہدین نے امریکہ کے چہرے پر شکست
کی جو کالک ملی ہے… وہ یہ ساری کالک پاکستانی حکمرانوں کے منہ پر ملنا چاہتا ہے…
اور ان کو ہٹا کر ان سے زیادہ ’’وفادار‘‘ حکمران لانے کا خواہشمند ہے… ان حالات
میں پاکستانی حکمرانوں نے … انتہا پسندوں کی زبان بولنا شروع کردی ہے تو اس میں
حیرت کی کونسی بات ہے؟… تقریباً پانچ سال پہلے میں نے حکومت کے ایک بڑے عہدیدار کے
سامنے ایسی ہی باتیں کی تھیں… تو انہوں نے گھبرا کر اپنی زبان دانتوں کے نیچے
دبالی تھی… وہ فرما رہے تھے جناب! آپ کی باتیں جذباتی ہیں… ہم نے دنیا میں رہنا
ہے تو ہمیں امریکہ کا ساتھ دینا ہوگا… ورنہ ہم تباہ ہوجائیں گے… اور ہمارا کچھ بھی
نہیں بچے گا… میں نے ان کو ’’قرآنی آیات‘‘ سنائیں اور عرض کیا… آپ جو کچھ بھی
کرلیں امریکہ آپ سے خوش نہیں ہوگا… اور روایات سے ثابت ہے کہ جو کسی ظالم کی مدد
کرتا ہے… اللہ پاک اسی ظالم کو اس
پر مسلط فر مادیتا ہے…
یاد
رکھنا امریکہ آپ لوگوں پر مسلط ہوگا… اور وہ آپ سے مطمئن بھی نہیں ہوگا… قرآنی
آیات سن کر وہ کچھ لمحے کیلئے ٹھٹکے… اور پھر حسرت بھرے لہجے میں کہنے لگے… ہمارے
پاس ایسے میزائل نہیں ہیں جو امریکہ کا مقابلہ کرسکیں… میں نے کہا ہمارے پاس ایسے
بے شمار میزائل ہیں جو دنیا کے ہر کفر کا مقابلہ کر سکتے ہیں… میری یہ بات سن کر
وہ مجھے حیرانی سے اس طرح دیکھتے رہے… جس طرح کسی قابل احترام پاگل کو دیکھا جاتا
ہے… آج صدر جنرل پرویز مشرف کہہ رہے ہیں کہ … میں امریکہ کا پالتو نہیں ہوں… میرے
منہ میں بھی دانت موجود ہیں… کیا میں بھی انہیں اسی طرح دیکھوں… جس طرح پانچ سال
پہلے مجھے دیکھا جا رہا تھا… کاش ہمارے حکمران اب بھی توبہ کرلیں… اور اللہ تعالیٰ سے رہنمائی اور مدد مانگ کر…
عزت ، آزادی… اور عظمت کے راستے کو اختیار کریں… زندگی اور موت کا وقت مقرر ہے…
امریکہ کی دوستی کسی کی زندگی میں اضافہ نہیں کرسکتی… عزت اور ذلت کا مالک صرف اور
صرف اللہ تعالیٰ ہے…
امریکہ
مسلمانوں کا کھلا دشمن اور زمانے کا طاغوت ہے… عزم وہمت سے کام لینے والوں کے ساتھ
اللہ تعالیٰ کی مدد اترتی ہے… جو
مصیبت قسمت میں لکھی ہو وہ امریکی حملے کی بجائے زلزلے سے بھی آسکتی ہے… ان تمام
حقائق کو سامنے رکھ کر ہمارے حکمران قرآن پاک سے رہنمائی لیں… امریکہ سے اپنے
تمام اڈے واپس لیں… امریکی جاسوسوں کو چوبیس گھنٹے کے اندر پاکستان سے نکل جانے کا
حکم دیں… شہداء کرام کی ارواح سے معافی مانگیں… مظلوم قیدیوں کو رہا کریں… اسلام
اور ملک کے وفادار باکردار مسلمانوں کو تنگ کرنا چھوڑ دیں… دینی مدارس کی خود
مختاری اور آزادی کو بحال کریں… خود پانچ وقت کی نماز کا اہتمام کریں… جہاد کو
اسلامی فریضہ مانیں… اور اپنے ملک کیلئے آزاد اور پروقار خارجہ پالیسی اپنائیں…
تب صرف آپ ہی نہیں بلکہ… پوری دنیا اس بات کا اعلان کرے گی کہ آپ اللہ کے بندے اور اسلام کے بیٹے ہیں… اور
آپ امریکہ کے بالکل ’’پالتو نہیں ہیں‘‘…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے… حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے عاشق … شہید ناموسِ
رسالت… قابل فخر اور قابل رشک اسلامی بھائی محمد عامر چیمہ شہید ؒ کو ہمارا
سلام پہنچے… عقیدت بھرا سلام، محبت بھرا سلام، بہت پیارا بہت میٹھا دل کی گہرائیوں
سے نکلا ہوا سلام… اگر کسی ’’پاگل‘‘ کو شک ہے کہ… عامر کی شہادت سے کوئی ڈر جائے
گا… کوئی گھبرا جائے گا تو وہ اپنے دماغ کا علاج کرائے… کل میں عامر کے والد محترم
کی آواز سن رہا تھا… یقین کریں ذرہ برابر افسوس کا اظہار نہیں تھا… بس فخر تھا جو
چھلک رہا تھا اور خوشی تھی جو مہک رہی تھی… ہاں اللہ کے شیروں کے والدین ایسے ہی ہوا کرتے
ہیں… بے شک عامر اللہ تعالیٰ کا شیر
تھا جس کی ایک گرج نے ’’گوری نجاست‘‘ کو ہلا کر رکھ دیا… ہاں ایک کمزور سے نوجوان
نے پورے یورپ کے گستاخان رسول پر لرزہ طاری کردیا… ہم تو عامر کی زیارت کو ترس رہے
تھے مگر وہ آرام سے سو گیا… مجھے اس سوئے ہوئے دولھے پر وہ شعر یاد آرہا ہے … جو
ہندوستان کے ایک شاعر نے ان بچوں کی لاشیں دیکھ کر کہا تھا… جو ایک ’’مسجد‘‘ کا
تحفظ کرتے ہوئے شہید ہوگئے تھے…
شاعر
نے ان معصوم پھولوں میں شہادت کی خوشبو مہکتے دیکھی تو تڑپ کر کہنے لگا ؎
تعجب
کیا جو ان بچوں کو یہ شوق شہادت ہے
یہ
بچے ہیں انہیں کچھ جلد سو جانے کی عادت ہے
ہاں
مجھے عامر کے مقام کو دیکھ کر وہ حدیث شریف یاد آرہی ہے… جو امام بخاریؒ نے اپنی
مایہ ناز تصنیف ’’صحیح بخاری‘‘ کی ’’کتاب الجہاد‘‘ میں لائی ہے کہ… ایک صاحب
مسلمان ہوتے ہی میدانِ جہاد میں کود پڑے… انہوں نے ابھی تک ایک نماز بھی ادا نہیں
کی تھی… کیونکہ نماز کا وقت ہی ان پر نہیں آیا تھا… اِدھر کلمہ پڑھا، مسلمان ہوئے
اور اُدھر جنت کے میدان میں اتر پڑے… اور شہید ہوگئے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا اونچا مقام دیکھ
کرفرمایا:
عمل
قلیل واجر کثیر
کہ
تھوڑی سی دیر کا عمل کیا… اور بہت بڑا اجر پالیا… عامر یار! سچ بتاتا ہوں اس زمانے
میں تم مجھے اس حدیث شریف کا مصداق نظر آتے ہو… اور تمہیں یہ مقام اس لیے ملا کہ
تم نے سچا عشق کیا… اور سچا عشق انجام کی پرواہ نہیں کیا کرتا ؎
جان
دے دی ہم نے ان کے نام پر
عشق
نے سوچا نہ کچھ انجام پر
تم
تو یورپ میں ’’ڈگری‘‘ لینے گئے تھے… کس کو خبر تھی کہ… عشق کی پرواز تمہیں وہ ڈگری
دلا دے گی… جس ڈگری کے بعد کسی چیز کی ضرورت ہی نہیں رہتی… واہ عامر! تم تو عجیب
انسان نکلے… یورپ جانے والے نوجوان واپسی پر اپنی بغل میں کسی ’’گوری خباثت‘‘ کو
لے کر آتے ہیں… مگر تم جب منگل کو ہمارے پاس آؤ گے تو تمہاری ماں…(۷۲) بہتّر
پاک، حسین اور معطر حوروں کی ساس بنی بیٹھی ہوگی…
ہاں
سچے مسلمان جوان اپنی ماں کے لئے ایسی ہی ’’بہو‘‘ لاتے ہیں… عامر! سچ بتاؤ… عشق
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ سچا
مقام تمہیں کیسے مل گیا؟… یورپ میں جا کر تو لوگ اندھے ہوجاتے ہیں… سارا دن بدنظری
اور شہوت کی آگ میں جلتے ہیں… شراب کی پیپ سے اپنا معدہ ناپاک کرتے ہیں… نائٹ
کلبوں میں اپنا دل اور دماغ بیچ آتے ہیں… اور انہیں تو ’’مدینہ منورہ‘‘ کی گلیاں
تک بھول جاتی ہیں… پیارے شہید! اب بتا بھی دو کہ تمہیں عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نور کیسے نصیب ہوگیا؟…
کلمہ تو سبھی پڑھتے ہیں… آقا صلی اللہ علیہ
وسلم کا حسن اور مقام بھی سب کو معلوم ہے… آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے زخموں کا بھی سب کو پتا
ہے… مگر تمہارے دل پر یہ نور کیسے برسا؟… ہاں مجھے معلوم ہے تم یہ راز نہیں بتاؤ
گے… ہاں! سچا عشق بہت خفیہ ہوتا ہے… حضرت زیاد بن سکنؓ زخموں سے چور تھے پھر بھی
گھسٹ گھسٹ کر آگے بڑھتے رہے… اور پھر اپنا رخسار آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک پر رکھ دیا…
اور روح نے جسم کو سلام کہہ دیا کہ… اب تو کام پورا ہوچکا ہے… عامر! ہمیں معلوم
نہیں تم نے جاگتے ہوئے کچھ دیکھا یا سوتے ہوئے… اور پھر تمہارے لیے زندہ رہنا مشکل
ہوگیا… ہاں دیکھنے کیلئے تو بہت کچھ موجود ہے مگر دنیا کی محبت نے آنکھوں کو
اندھا… اور دل کے آئینے کو دھندلا کردیا ہے… اس لیے تو شہداء کی تعداد کم نظر
آرہی ہے… ورنہ … آخرت اور شہادت کے مزے دیکھنے والوں کیلئے زندہ رہنا بہت مشکل
ہوجاتا ہے… عامر بھائی! تم نے حضرت معاذؓ اور حضرت معوذؓ کی سنت کو زندہ کردیا… وہ
دونوں غزوہ بدر میں زخمی شیروں کی طرح بے چینی سے ادھر ادھر دوڑتے پھر رہے تھے…
اور ایک ایک سے پوچھتے تھے ابوجہل کہاں ہے؟… ابوجہل کون ہے؟… حضرت عبدالرحمن بن
عوف رضی اللہ عنہ سے بھی انہوں نے
یہی پوچھا… انہوں نے فرمایا اے بچو!… کیوں پوچھتے ہو؟… فرمانے لگے ہم نے سنا ہے کہ
وہ آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی
شان میں گستاخی کرتا ہے … اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ستاتا رہا ہے… آج ہم
اس کا حساب چکا کر اپنے دل کی اس آگ کو ٹھنڈا کرنا چاہتے ہیں… جو معلوم نہیں کب
سے ہمیں تڑپا رہی ہے… حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے اشارہ کیا… اور وہ دونوں بچے یوں
ابوجہل کی طرف بڑھے جس طرح کمان سے تیر نکلتا ہے… عامر بھائی! تم نے بھی جب سنا کہ
ظالموں نے گستاخی کی ہے تو تم نے جینے کو حرام کرلیا… تمہارے پاس کچھ نہیں تھا مگر
تم نے اپنے چاقو سے… وقت کے فرعونوں کو چیلنج کردیا… لوگ کہتے ہیں کہ طاقت نہ ہوتو
جہاد نہیں ہوتا… مگر عشق نے کبھی اس بات کو نہیں مانا… نہ غزوۂ بدر میں… اور نہ
صلیبی جنگوں میں… اور نہ تم نے اے عامر شہیدؒ اس بات کو سعادت کے رستے کی رکاوٹ
بننے دیا… ایک چاقو لے کر تم نے سفر کا آغاز کیا… اور صرف ایک مہینے میں امت
مسلمہ کی آنکھوں کا تارا، جنت کے مہمان، اور زمانے کے غازی اور شہید بن گئے… ہاں
تمہارے ماں باپ کو حق ہے کہ تم پر ناز کریں… امت مسلمہ کو حق ہے کہ تم پر فخر کرے…
اور نوجوانوں کا حق ہے کہ وہ تمہیں اپنا آئیڈیل بنائیں… عامر بھائی! میں نے تمہیں
نہیں دیکھا… مگر مجھے یوں لگتاہے کہ میرے اور تمہارے درمیان صدیوں سے یاری ہے… اور
ہم ایک دوسرے کے پرانے دوست ہیں… دراصل تم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یاری کرکے ہم سب کے
دلوں کو جیت لیا ہے… اب تم زندہ رہو گے… ان شاء اللہ … اور تمہیں کوئی نہیں مار سکے گا… حوریں
تمہارا استقبال کریں گی… فرشتے تم پر سلامتی بھیجیں گے، شہداء تم سے ملاقاتیں کریں
گے… اور تم اپنے رب کے مزے دار قرب میں لذت والی روزی کھاؤ گے… امت مسلمہ کے
علماء تمہارے لیے دعائیں مانگیں گے… اولیاء کرام رات کی آخری گھڑیوں میں تمہارے
لیے دامن پھیلائیں گے… مجاہدین تمہارے نام کے شعلے دشمنوں کی طرف برسائیں گے،
مائیں تمہیں پیار کریں گی… اور بہنیں رو رو کر تمہارے اونچے درجات کے لئے آنسو
بہائیں گی… ہاں عامر! اب تم سب مسلمانوں کے بیٹے اور بھائی بن گئے ہو… شعراء
تمہاری شان میں درد بھرے فخریہ قصیدے لکھیں گے… اور جوان عورتیں اپنے بچوں کو
تمہارے جیسا بنانے کیلئے رب کے حضور سجدے والی دعائیں کریں گی… عامر بھائی ! ہم نے
سنا ہے کہ تمہاری شہادت کو… خود کشی بتایا جارہا ہے… تا کہ… تمہاری بلند شان پر
گرد وغبار ڈالا جا سکے؟… مگر… تمہارا خون تو مہک رہا ہے… شہیدوں کو کون بدنام
کرسکتا ہے؟… خود کشی یورپ اور واشنگٹن کے پجاری کرتے ہیں… مدینہ منورہ کے بیٹے تو
خود کشی کا نام تک نہیں لیتے… عامر! تو اللہ تعالیٰ کا شیر اور پاک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشق تھا… اس عشق میں
ناکامی ہے ہی نہیں… پھر خود کشی کیسی؟…
ہاں
عامر! ہم نہیں بھولیں گے کہ تمہیں بہت ستایا گیا… ہاں اللہ پاک کی قسم… ان سسکیوں اور آہوں کو
نہیں بھلایا جائے گا جو تمہارے گلے سے بلند ہوئی ہوں گی… امت مسلمہ! جیسی بھی ہے…
الحمدللہ بے حس نہیں ہے… ظالم لوگ تمہارے چاقو سے ڈر گئے… تمہارے بیانات اور عزائم
نے ان کو ہلا کر رکھ دیا… تب … انہوں نے تمہیں ستایا… تمہیں تڑپایا… اور تمہیں
تکلیف کا نشانہ بنایا… ہائے عامر! کاش زمین کے ایک چپے پر بھی اسلامی حکومت قائم
ہوتی تو … تمہاری آہوں کا برسرِعام حساب مانگا جاتا… عامر! تمہارے جیسے نوجوان ہر
جگہ اسی طرح ستائے جاتے ہیں… اسی طرح تڑپائے جاتے ہیں… مکہ کا ریگستان زمانے کے
بلال پر ہمیشہ گرم رہتا ہے… اور زمانے کا اُمَیّہ ہمیشہ وقت کے بلال کی گردن پر
پاؤں رکھتا رہتا ہے… مگر انجام بہت اچھا ہوتاہے… مکہ میں اذان گونجتی ہے… امیہ کا
گلا ہوا جسم بدر کے اندھے کنویں میں ڈالا جاتا ہے… اور بلال مسجد نبوی کا مؤذن،
بدر کا مجاہد، مکہ کا فاتح… اور کعبہ کا منادی بن جاتا ہے… عامر بھائی! جو کچھ تم
پر بیتا ہے مجھے اس کا احساس ہے… کیونکہ… میں بے شمار بھیانک مناظر کا گواہ ہوں…
اور میرا دل بہت سی تلخ یادوں کے ساتھ جینے پر مجبور ہے… میں نے بہت سی چیخیں سنی
ہیں… میں نے تشدد سے شہید ہونے والوں کو دیکھا ہے… اور میں نے تشدد کرنے والوں کے
منحوس تیور خود پڑھے ہیں…
مگر
عامر! ایک بات سچی ہے کہ میں تم سے تعزیت نہیں کروں گا … ہاں تم اگر کسی گوری
کافرہ کے عشق میں مبتلا ہوچکے ہوتے تو میں ضرور تعزیت کرتا… تم یورپ کی رنگینیوں
کا چارہ بن چکے ہوتے تو میں ضرور تعزیت کرتا… تم کسی نائٹ کلب میں ناچ رہے ہوتے تو
میں ضرورت تعزیت کرتا… تم اس گندی دنیا کو ترقی یافتہ سمجھ رہے ہوتے تو میں ضرورت
تعزیت کرتا… مگر اب کس بات پر تعزیت کروں؟ تمہیں مارا گیا تو یہ مار تمہارے لیے
آخرت کا تمغہ بن گئی… ہم کس طرح سے بھولیں کہ آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے زیادہ تشدد کا
نشانہ بنایا گیا… عامر! اگر تم پر تھوکا گیا تو یہ بھی تم سے ایک سنت زندہ ہوئی…
عامر! تمہیں ڈرایا دھمکایا گیا تو تمہارے خوف کے ہر لمحے پر جنت نے تمہارے بوسے
لیے… عامر! تمہیں تنہائی کی وحشت میں زخمی کیا گیا تو حوریں جنت سے اتر کر پہلے
آسمان پر تمہاری زیارت کیلئے آبیٹھیں … اور جب تمہیں گرایا گیا… تو تم نے
بلندیوں کی طرف سفر کا مزہ پایا… عامر! تم تو جان چکے ہوگے کہ کیسی تعزیت اور کس
طرح کی تعزیت؟… تم تو ناموس رسالت کی موجودہ تحریک کے بانی بن گئے… تمہارا خون اور
تمہارا جسم اس عمارت کی بنیاد بن گئے… جو عمارت ضرور بلند ہوگی… اے عامر! تم اللہ پاک کی طرف سے اتنی ہی زندگی لائے
تھے مگر… تم خوش نصیب نکلے کہ تمہیں زندگی کے بعد زندگی مل گئی… اور تم امتحان میں
ان شاء اللہ … کامیاب ہوگئے… عامر
بھائی! ہم نے ایک صحابی کا قصہ پڑھا… ان کی شادی نہیں ہوئی تھی… شکل وصورت سے بھی
غلاموں جیسے تھے… وہ شہید ہوگئے … کسی دوست نے آواز دے کر پوچھا! کتنی شادیاں
ہوئیں؟ انہوں نے ہاتھ کی انگلیوں سے اشارہ کرکے بتادیا… عامر! تمہیں بھی شادی
مبارک ہو… اگر میں شاعر ہوتا تو آج تمہارا ایسا ’’سہرا‘‘ لکھتا کہ… جوانیاں تڑپ
کر رہ جاتیں… ہاں اصل دولھے تو تم ہو اور ’’سہرا‘‘ تمہارے ہی لیے لکھا جانا چاہئے…
دنیا کی شادیاں تو تکلّفات اور رسومات کی آگ میں جل رہی ہیں… ان میں تو غفلت اور
پریشانیاں زیادہ ہیں… ان میں تو فضول خرچے اور بے شمار رسوائیاں شامل ہوگئی ہیں…
مگر تمہاری شادی بہت اچھی اور بہت مبارک ہے… ہاں میں شاعر ہوتا تو تمہارے لیے سو(۱۰۰) اشعار
والا ’’سہرا‘‘ لکھتا… اور پھر اسے خوب مزے لے لے کر پڑھتا… عامر یار کیا کروں مجھے
تو تم پر رشک آرہا ہے… اتنی جلدی اور اتنا آسان سفر… اور اتنی خوبصورت منزل… اللہ پاک ہمیں شہادت سے محروم نہ فرمائے… عامر
سچ بتاتا ہوں!… اگر یہ دعاء قبول ہوگئی تو پھرمیں تم سے ملوں گیا… تمہیں سینے سے
لگاؤں گا… تمہاری پیشانی کا بوسہ لوں گا… اور تمہیں شادی پر مبارکباد دوں گا…
عامر بھائی! شادی مبارک ہو!
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ… عامر عبدالرحمن
چیمہ شہیدؒ کے جنازے میں لاکھوں مسلمانوں نے شرکت کی… اس بابرکت جنازے میں شریک ہر
مسلمان ہماری ’’مبارکباد‘‘ قبول فرمائے… گرمی کا موسم تھا، جنازہ بھی ایک غیر
معروف گاؤں میں تھا… لوگوں کو وہاں تک پہنچانے اور لے جانے کا کوئی باقاعدہ
انتظام بھی نہیں تھا… نماز جنازہ کا حتمی وقت بھی کسی کو معلوم نہیں تھا… مگر پھر
بھی لاکھوں مسلمان وہاں پروانوں کی طرح جمع تھے… یہ سب کچھ اس قابل ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے کہ… امت
مسلمہ میں الحمدللہ… ایمان بھی موجود ہے اور جذبہ بھی… کیا بوڑھے کیا جوان، بسوں
پر لٹکتے اور پیدل گھسٹتے عاشق کی بارات کا حصہ بننے کیلئے بے چین تھے… کتنے لوگ
روزانہ معلوم کرتے تھے کہ عاشق کب آئے گا؟… عاشق کب پہنچے گا؟… وہ ایک ایک سے
پوچھتے تھے عاشق کہاں اترے گا؟… غیرتمند غریب مسلمان جیب میں کرایہ لیے ایک ایک
گھڑی گن کر گزار رہے تھے… پہلے اعلان ہوا کہ عاشق پنڈی، اسلام آباد آئے گا… مگر
ایسا نہ ہوسکا… لوگ سارا دن دیوانوں کی طرح اس کے گھر اور جنازہ گاہ کے چکر کاٹتے رہے…
پھر تاریخ ملتوی ہوتی گئی تاکہ… عشق کی آگ ٹھنڈی پڑ جائے… اور دھرتی کے فخر کو
چپکے سے مٹی میں دبادیا جائے… مگر عاشق کا جنازہ ایسی دھوم سے نکلا کہ بادشاہوں کے
جلوس اس کے سامنے شرمندہ ہوگئے… امام احمد بن حنبلؒ فرمایا کرتے تھے کہ ہمارا… اور
ہمارے دشمنوں کا فیصلہ ’’جنازے‘‘ کریں گے… مسلمانی کا دعویٰ کرنے والے حکمرانوں نے
امام احمد بن حنبلؒ کو قید کیا تھا… اور ان کی پیٹھ پر کوڑے برسائے تھے… امام
صاحبؒ کا جب انتقال ہوا تو لاکھوں مسلمانوں نے نماز جنازہ میں شرکت کی… وقت کے
حکمران ’’متوکل باللہ‘‘ نے اپنے کارندے بھیجے کہ جنازہ گاہ کی پیمائش کرکے اندازہ
لگاؤ کہ… کتنے لوگوں نے نماز جنازہ ادا کی ہے… پیمائش سے اندازہ ہوا کہ کل پچیس
لاکھ افراد نے نماز جنازہ ادا کی تھی… ورکانی جو امام احمد بن حنبلؒ کے پڑوسی تھے
فرماتے ہیں کہ جس دن امام احمد بن حنبلؒ فوت ہوئے ہیں… اس دن بیس ہزار یہودی،
نصرانی ومجوسی آپ کے جنازہ کی حالت دیکھ کر مسلمان ہوئے… میں عامر شہید کے جنازے
پر اس لیے بار بار شکر ادا کر رہاہوں کہ … معلوم نہیں عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عظیم مظاہرہ دیکھ کر
کتنے لوگ مسلمان ہوئے ہوں گے… کہاں جرمنی کی وہ تاریک جیل اور اس کی قاتل کوٹھڑی…
کہاں ایک اجنبی، گمنام مسافر… اور کہاں مسلمانوں کا یہ ٹھاٹھیں مارتا سمندر… ہر
شخص عامر کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے بے تاب تھا … ہاں جس کی محبت کے فیصلے آسمانوں
پر ہوچکے ہوں… زمین پر اسے ایسی ہی محبت اور مقبولیت ملتی ہے… میں نے بار بار
معلوم کیا… اور جنازے میں شرکت کرنے والوں سے پوچھا… کسی نے دولھے کی جھلک بھی
دیکھی؟… معلوم ہوا کہ کچھ لوگوں نے قبر میں اتارتے وقت عاشق کو دیکھ لیا… اور پھر اس
کے چہرے کا نور دیکھ کر بے ہوش ہوکر گر پڑے … سبحان اللہ ! کیا اعزاز ہے اور کیا اکرام… کئی دن
پرانی میت چاند کی طرح چمک رہی تھی… اور گلاب سے بڑھ کر مہک رہی تھی… اللہ تعالیٰ
کا شکر ہے کہ اس نے ہمارے زمانے کو… شہداء کے خون اور سچے لوگوں کی سچائی سے
مہکادیا ہے… ہم خواہ مخواہ حالات کی خرابی کا شکوہ کرکے ہر وقت ناشکری کرتے رہتے
ہیں… میں اس زمانے کے کس کس ’’صدیق‘‘ کو یاد کروں… کس کس ستارے کی بلندی کا ذکر
چھیڑوں… اور کس کس پھول کی خوشبو کا حال سناؤں؟… اس زمانے کے عاشقوں نے تو قرون
اولیٰ کی یادیں تازہ کردی ہیں… مجھے بنگلہ دیش کا ابوعبیدہ یاد آرہا ہے… عالم،
مفتی اور مجاہد… تہجد کے وقت قرآن پاک تلاوت کرنے والا… وہ افغانستان میں شہید
ہوگیا… میں اس کی یادین سمیٹنے افغانستان گیا… افغان جہاد کا ’’درانتی توڑ‘‘ زمانہ
آخری مرحلے میں تھا… افغان مجاہدین نے انگریزوں کا ہیٹ توڑا، کیمونسٹوں کی درانتی
توڑی اور اب وہ ’’صلیب‘‘ کے مد مقابل ہیں… خیر اس زمانے کا جہاد ’’کیمونسٹوں‘‘ کے
خلاف تھا… ’’ابوعبیدہ‘‘ ایک جنگ میں شہید ہوگیا… میں نے وہاں جاکر حالات معلوم کیے
تو دل ٹھنڈا ہوگیا… کوئی اس کے خون کی خوشبو کو یاد کر رہا تھا… تو کوئی اس کے
چہرے کی روشنی کے تذکرے کر رہا تھا… ایک افغان مجاہد نے بتایا… ہم نے ابوعبیدہ کو
قبر میں لٹادیا… اندھیری رات میں اس کا چہرہ چاند کی طرح روشن تھا… میں مبارکباد
کا پیغام لے کر بنگلہ دیش جا پہنچا… ایک کچے گھر کے غریب مالک کو اس کے سب سے بڑے
بیٹے کی شہادت کی خبر ملی تو اٹھ کر دوڑ پڑا… معلوم ہوا کہ مسجد میں شکرانے کے
نوافل ادا کرنے گیا ہے… ایک چھوٹی سی بچی خوشی خوشی بتاتی پھر رہی تھی کہ میرا
بھائی شہید ہوگیا ہے… وہ پورا خاندان میری اس طرح سے خدمت کر رہا تھا جیسے میں ان
کے بیٹے کیلئے کار، کوٹھی، بنگلہ اور بیوی کی خبر لایا ہوں… کھانے میں کچھ چیزیں
بہت اصرار سے کھلائی گئیں… بتایا گیا کہ شہید کی ماں نے خود پکائی ہیں… میں عجیب
وغریب جذبات لے کر واپس ہوا… گاؤں میں سائیکل رکشہ کے سوا کوئی سواری نہیں تھی…
میں رکشہ پر بیٹھا سوچوں میں گم اڈے کی طرف جا رہا تھا … خیال ہوا کہ عاشق کے گھر
کا آخری دیدار کرلوں… پیچھے مڑ کر دیکھا تو شہید کے والد آنکھوں میں آنسو لیے
ننگے پاؤں رکشے کے پیچھے دوڑتے آرہے ہیں… میں نے رکشہ رکوالیا اتر کر پوچھا کیا
حکم ہے؟… فرمایا بس محبت اور ثواب میں دوڑ رہا ہوں آپ سفر جاری رکھیں… میں نے منت
سماجت کرکے ان کو واپس کیا… اور اپنے زمانے کی ترقی دیکھ کر حیران رہ گیا… ہاں یہ
بہت خوش نصیب زمانہ ہے… اس میں جہاد اور شہادت کی فراوانی ہے… اس میں خوشبودار
جنازے اور روشن قبریں ہیں… مجھے ایک افغان مجاہد نے بتایا کہ اس نے خود… ابوعبیدہ
کی قبر سے کئی بار قرآن پاک کی تلاوت کی آواز سنی ہے… میرا دوست اختر جب شہید
ہوگیا تو کراچی میں ایک ساتھی نے مجھے وہ رومال دکھایا جس پر اختر کا خون لگا تھا…
میں نے خود اس میں سے عجیب خوشبو سونگھی حالانکہ ایک ہفتہ گزر چکا تھا … پشاور
والوں کو عبد اللہ عزام شہید اور ان کے دو جوان بیٹوں کا جنازہ یاد ہوگا…
اکثر عرب مجاہدین… کرامات نہیں مانتے تھے مگر… شہیدوں کے جنازے نے ان کو سب کچھ
ماننے پر مجبور کردیا… عبد اللہ عزام شہید کے خون سے خوشبو ٹپک رہی تھی…
تینوں جنازوں پر چادریں تھیں… مجاہدین بتاتے ہیں کہ ہر جنازے سے الگ خوشبو آرہی
تھی… اور ہم پہچان رہے تھے کہ… کون سی چار پائی کس شہید کی ہے… کمانڈر سجاد شہیدؒ
کا آخری دیدار میں نے جموں کے ایک ہسپتال میں کیا… وہ سردخانے میں رکھے ہوئے تھے…
چہرے پر گہری مسکراہٹ تھی… تین دن گزر چکے تھے جسم ریشم کی طرح نرم تھا… میں نے
اپنے یار کو سلام پیش کرنے کیلئے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھا تو… پیشانی ابھی تک
گرم تھی… میرے ہاتھوں میں ڈبل ہتھکڑی تھی… اور میرا دوست بالکل آزاد تھا… بالکل
آزاد… اسی لیے تو مسکرا رہا تھا… اس سے دو دن پہلے وہ خواب میں آیا تھا… میں نیم
غنودگی کی حالت میں تھا… مجھے کہنے لگا ’’مجھے معاف کردو! میں نے اوپر جانا ہے‘‘ …
میں چونک کر اٹھ گیا… اس وقت تک ہمارے پاس اس کے صرف زخمی ہونے کی خبر تھی… کچھ
دیر بعد شہادت کی خبر آگئی… مجھے ہسپتال لے جانے والا پولیس کا ڈی ایس پی…
عاشق کا چہرہ دیکھ کر حیران تھا… اور ایک ایک کو بتا رہا تھا… پوسٹ مارٹم کرنے
والے بھی عجیب کرامات سنا رہے تھے… اللہ تعالیٰ
کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس زمانے کے صدیقین اور شہداء کا یار بنایا… ہم ان سے
پیار کرتے تھے اور وہ ہم سے پیار کرتے تھے… حدیث پاک میں آتا ہے… المرء مع
من احبّ… آدمی قیامت کے دن انہیں کے ساتھ ہوگا… جن سے وہ پیار کرتا ہے… ممکن ہے
آپ سوچیں کہ میں ’’صدیقین‘‘ کا لفظ کیوں استعمال کر رہا ہوں… یہ تو بہت اونچا لفظ
ہے…
آپ
یقین کریں اس زمانے میں اللہ تعالیٰ
نے… کئی حضرات کو یہ مقام نصیب فرمایا ہے… اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ… اللہ تعالیٰ نے ان کی زبانوں کو سچا فرمادیا …
اور انہیں شہادت سے پہلے… شہادت کی خوشخبری سنادی… میں کراچی میں تھا … اطلاع ملی
کہ میرے استاذ محترم حضرت مولانا بدیع الزمان صاحبؒ کا انتقال ہوگیا ہے… میں جنازے
میں شرکت کیلئے حاضر ہوا… مسجد کے محراب میں حکیم الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف
لدھیانوی شہیدؒ … تشریف فرما تھے… انہوں نے مجھے اپنے ساتھ بٹھالیا… اور شفقت
ومحبت کا اظہار فرمانے لگے… وہ اردگرد بیٹھے لوگوں کو بتا رہے تھے: بھائی! ہم نے
تو جہاد کی بیعت کرلی ہے…
واپسی
پر مسجد ہی میں میرا ہاتھ پکڑ کر جوش سے فرمانے لگے… بھائی! میں نے جہاد کی رسمی
بیعت نہیں کی… آزما کر دیکھ لو جہاں بھیجناہو بھیج دو…
میں
شرمندہ شرمندہ ان کے ساتھ چل رہا تھا اچانک رک گئے… اور فرمایا… دیکھ لینا میں
بستر پرنہیں مروں گا… بس چند ہی دن گزرے کہ وہ خون میں نہائے اور شہید ہوگئے…
ایمان والی زندگی اور شان والی موت اس صاحب قلم عارف وعالم کو ملی جو روئے زمین کے
چند بڑے لوگوں میں سے ایک تھے…
رب
کعبہ کی قسم یہ وہ انعام ہے جو بہت خاص لوگوں کو ملتا ہے… ورنہ کسی کو کیاخبر اسکا
انجام کیساہوگا؟… یہاں مجھے ایک سچا نوجوان یاد آگیا… اللہ تعالیٰ نے اس کی بات کو بھی اپنی
رحمت سے سچا فرمادیا… پچیس سال کا حسین وجمیل… اور جانباز کشمیری مجاہد نوید انجم
شہید… اللہ اکبر!… کتنا متقی،
پاکیزہ، بہادر… اور باصلاحیت نوجوان تھا… جیل حکام نے ہمیں جیل سے نکال کر… دوبارہ
ٹارچر سینٹر بھیجنے کا حکمنامہ جاری کیا… ادھر جیل سے خلاصی کیلئے سرنگ تیار ہورہی
تھی… نوید انجم سرنگ بھی کھودتا تھا… ہمارا پہرہ بھی دیتا تھا… اور مستقبل کے
جہادی عزائم کے خاکوں میں رنگ بھی بھرتا تھا… جیل حکام نے حکمنامہ بھیجا تو وہ شیر
کی طرح گرجا کہ میرے بزرگوں کو تم اس وقت لیجاؤ گے جب میری لاش گرے گی… وہ نہتّا
تھا اور ڈٹ گیا… دیوانوں کی طرح تکبیر کے نعرے لگاتا اور اپنے فرن میں خنجر چھپا
کر پھرتا… وہ مجھ سے بہت پیار کرتا تھا… ایک دن آکر کہنے لگا میں نے خواب دیکھا
ہے تعبیر بتائیں گے… خواب سن کر میں نے کہاایسا لگتاہے کہ آپ کی ساری مشکلات دور
ہونے والی ہیں… وہ ایک دم تڑپ گیا… کہنے لگا ایسا نہ کہیں ، بلکہ یوں کہیں کہ ہم
سب کی مشکلات دور ہونے والی ہیں… یہ اس کی محبت کا عروج تھا کہ وہ ہمیں چھوڑ کر
اپنی مشکلات کاحل بھی نہیں چاہتا تھا… وہ ایک ایسے ’’حسن ظن‘‘ میں مبتلا تھا جس کی
حقیقت موجود نہیں تھی… ایک رات وہ میرے پاس آیا میں کچھ لکھ رہا تھا… وہ واپس چلا
گیا… میں نے دیکھا بہت بے چین ہے اور بار بار آتا ہے… اور جاتا ہے… پھر وہ قریب
بیٹھ کر مجھے دیکھنے لگا… میں نے وجہ پوچھی کہنے لگا بس آپ کے پاس بیٹھنے کو دل
چاہ رہا ہے… آپ اجازت دیں کہ میں آپ کو دباتا رہوں اور آپ لکھتے رہیں… میں نے
کہا اس طرح تو لکھنے میں حرج ہوگا… آپ جاکر سوجائیں ان شاء اللہ کل تفصیل سے بیٹھیں گے… یہ سن کر وہ
پریشان ہوگیا… آنکھوں میں آنسو بھر کر چلا گیا… اگلے دن جیل میں ہمارا پولیس سے
مقابلہ ہوا… سہہ پہر کے وقت ہم جیل حکام کی گرفت میں تھے… ہمیں ڈیوڑھی میں لے
جاکر… خوب زخمی کیا جارہا تھا… میری آنکھیں ’’نوید دیوانے‘‘ کو ڈھونڈ رہی تھیں…
اچانک خبر آئی کہ وہ تو دوپہر کو ہی شہید ہوگیا تھا… اور ہمیں اس کی لاش گرنے کے
بعد ہی جیل سے باہر لایا گیا… ہاں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی زبان سے نکلی ہوئی
بات… اللہ تعالیٰ پوری فرما دیتا
ہے… یہ لوگ صدیقین ہوتے ہیں… اس وقت امت مسلمہ خوش نصیبی کے اونچے دور سے گزر رہی
ہے… افغانستان میں شہداء، کشمیرمیں شہداء… عراق میں شہداء… فلسطین میں شہداء اور
ہمارے اردگرد ہر طرف صدیقین اور شہداء… آج روزانہ بہت سی مائیں … اپنے فدائی بیٹے
رخصت کرتی ہیں… تب آسمان انہیں جھانک جھانک کر دیکھتا ہے… شہادت کی خبر آنے کے
بعد جب شہید کی ماں… مٹھائی بانٹ رہی ہوتی ہے تو بہت سے زمانے ہمارے زمانے کو رشک
کے ساتھ دیکھتے ہیں… آپ حیران ہوں گے کہ مجھ سے بعض خواتین خطوط میں ’’شہادت‘‘ کے
وظیفے پوچھتی ہیں…
میرے
ایک بہت محترم استاذ کراچی میں شہید ہوگئے… میں ان کی شہادت کے وقت دوسرے ملک میں
قید تھا… واپس آیا تو ایک دن ڈاک میں ان کی صاحبزادی کا خط ملا… فرما رہی تھیں کہ
بھائی! میں نے ابو کی طرح شہید ہونا ہے… میری یہ تمنا پوری ہوجائے اس کیلئے کچھ
وظائف بتادیں… میں نے ان کو لکھا کہ سورۃ یوسف کثرت سے پڑھا کریں… اور ’’یاشہید جل
شانہ‘‘ کا ورد کیا کریں… ’’الشہید‘‘ اللہ تعالیٰ کا نام ہے… میں جب
مدرسہ میں پڑھا کرتا تھا تو ’’مشکوٰۃ شریف‘‘ کے سبق کے دوران ہمارے استاذ محترم
حضرت مولانا حبیب اللہ مختار شہیدؒ … نے فرمایاتھا… جو شخص کثرت سے
سورۃ یوسف کا ورد کرے اللہ تعالیٰ اسے شہادت نصیب فرماتے ہیں… میں نے
اپنی بہن کو یہی وظیفہ لکھ دیا… اور یہ وظیفہ اس لیے مجرب ہے کہ … وظیفہ بتانے
والے کو بھی اللہ تعالیٰ نے شہادت کی نعمت عطاء فرمائی… حضرت
مولانا حبیب اللہ مختارؒ ایک حملے میں شہید ہوئے… انہوں نے مشکوٰۃ
شریف کی کتاب الجہاد کا اردو ترجمہ ’’جہاد‘‘ کے نام سے ترتیب دیا اور اسے شائع بھی
کروایا تھا… اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے… کچھ عرصہ پہلے
ہمارا راولپنڈی کا ایک کم عمر ساتھی شہید ہوا… مجھے ڈاک میں اس کی ہمشیرہ کا خط
ملا… انہوں نے لکھا تھا کہ… انہوں نے اپنے گھر میں دورہ تربیہ کیا ہے اور تمام
معمولات کے علاوہ کچھ وظیفے شہادت کی نعمت پانے کیلئے بھی کیے ہیں… جس زمانے میں
مسلمان بچیاں ’’شہادت‘‘ چاہتی ہوں… جس زمانے کی گود میں عامر چیمہ شہید کی قبر بنی
ہو… جس زمانے کی مٹی نے شہداء کے خون سے حسن پایا ہو… جس زمانے کے ’’اکابر‘‘ شہادت
کی دعاء مانگتے ہوں… جس زمانے کے نوجوان فدائی قافلوں کے مسافر ہوں … اگر میں اس
زمانے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کروں تو یہ میرا فرض بنتا ہے… یہ
میرا حق بنتا ہے… ناشکری کیلئے بہت سی خبریں موجود ہیں… تنقیدی کالم لکھنے کیلئے
بہت سے بیانات سامنے ہیں… مگر گوجرانوالہ کے گاؤں ’’ساروکی چیمہ‘‘ کے کھیتوں میں
لاکھوں مسلمانوں کا اجتماع… قلم اور دل کے رخ کو شکر کی طرف موڑتا ہے… سورج قیامت
تک نکلتا رہے گا، چاند اپنی روشنی پھیلاتا رہے گا… لوگ آتے رہیں گے اور مر مر کر
قبروں میں اترتے رہیں گے… موسم کبھی گرم ہوگا کبھی ٹھنڈا… مگر اللہ تعالیٰ
کی طرف سے کسی مسلمان کو… شہادت کا مل جانا ایک ایسی نعمت ہے… جس کاکوئی بدل نہیں…
امت مسلمہ کا ایک عاشق کے استقبال میں اس طرح نکلنا… ایک ایسی علامت ہے… جس کاکوئی
جواب نہیں… شہید عامر کے چہرے پر نور کا برسنا… ایک ایسا واقعہ … جس کو نظر انداز
کرنا ممکن نہیں… قرآن پاک جہاد کی آیات سے بھرا پڑا ہے… قرآن وحدیث میں شہادت
کی مٹھاس کو کھول کھول کر سمجھایا گیا ہے… ماضی کے قبرستان شہیدوں کے اونچے مقام
کی داستان ہر لمحہ سناتے رہتے ہیں… میں خوش ہوں ہمارا زمانہ بانجھ نہیں ہے… میں
خوش ہوں ہمارا دور بے آبرو نہیں ہے… اگر قرآن پاک سنا رہا ہے تو الحمدللہ… اس
زمانے میں بھی سننے والے کان موجود ہیں… سمجھنے والے دل موجود ہیں… اگر اللہ تعالیٰ
خرید رہاہے … تو الحمدللہ اس زمانے میں بھی بکنے والی جوانیاں موجود ہیں… اگر حسن
مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم چمک رہا ہے تو الحمدللہ… اس زمانے میں بھی
عاشق موجود ہیں … یا اللہ ہمیں بھی شامل فرما… یا اللہ ہمیں بھی قبول فرما…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے جو عمل کیا
جائے… وہی عمل انسان کے کام آتا ہے… اور وہی عمل انسان کے کام آئے گا… تھوڑی دیر
کیلئے آنکھیں بند کریں اور سوچیں… میرے پاس ایسے اعمال کتنے ہیں جو میں نے خالص اللہ تعالیٰ کیلئے کیے ہیں… ہمیں سب کچھ اللہ تعالیٰ دیتا ہے… اور آئندہ جو کچھ
ملے گا وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی دے
گا… پھر اگر ہمارا ہر عمل بھی اسی کے لئے ہو تو کتنا مزہ آجائے… اللہ اکبر کتنا مزہ آجائے… ہاں بے شک
وفاداری اور محبت میں بہت مزہ ہے… اچھا ہم سب آنکھیں بند کرتے ہیں… اور ایک بار
خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے کہتے
ہیں… سبحان اللہ … دیکھا آپ نے کتنا سکون
ملا… اور زمین سے آسمان تک نور ہی نور بھر گیا… یہ نور ہمارا ہوگیا اب قیامت کے
اندھیرے میں کام آئے گا… قرآن پاک نے بتایا ہے … قیامت کے دن ایمان والوں کا نور
ان کے آگے اور دائیں طرف دوڑ رہا ہوگا… اللہ اکبر کتنا مزہ آئے گا… اللہ پاک ہم سب کو نور عطاء فرمائے… دراصل دل کی دنیا
کچھ اور ہے… اچھا آج آپ ایک کام ضرور کریں… تھوڑی دیر کیلئے سب سے الگ بیٹھ
جائیں… کسی مصلے پر، کسی کرسی پریا جہاں دل چاہے… مگر ہوں بالکل اکیلے… پھر دماغ
سے سارے خیالات نکال کر اپنی پوری توجہ اپنے سانس پر کرلیں… اور آنکھیں بند کرکے
اپنے سانس کی نگرانی کریں… سانس اندر جا رہا ہے، سانس باہر آرہا ہے… یاد رکھیں
آپ کا ذہن ادھر ادھر بھٹکے گا مگر آج ہمت کریں اور ذہن کو واپس لے آئیں… اور
اپنے سانس کی نگرانی کریں… کہ سانس اندر جارہا ہے سانس باہر آرہا ہے… تھوڑی دیر کی
نگرانی سے معلوم ہے کیا ہوگا؟ آپ کو اپنے اندر کی دنیا نظر آنے لگے گی… دل کی
دنیا، روح کی دنیا، ایک نئی دنیا، ایک بڑی دنیا… جی ہاں ہمارے اندر بھی ایک دنیا
قائم ہے… ہمیں اس دنیا کا بھی خیال رکھنا چاہئے… جس طرح ہم جسم کی دنیا کا خیال
رکھتے ہیں… ہم پیٹ بھرنے کیلئے کھانا کھاتے ہیں… اور معلوم نہیں کتنی چیزیں کھاتے
ہیں… جسم میں بیماری ہوجائے تو ڈاکٹر اور حکیم کے پاس جاتے ہیں… اور بہت سی
دوائیاں کھاتے ہیں… جسم کی کھال خراب ہوجائے تو کریمیں اور لوشن لگاتے ہیں… جسم کی
خاطر بیت الخلاء جاتے ہیں … اور معلوم نہیں کیا کیا کرتے ہیں… الغرض چوبیس گھنٹے
ہم اپنے جسم کی خدمت میں لگے رہتے ہیں… ہمیں چاہئے کہ اپنی روح اور اپنے دل کیلئے
بھی کچھ کریں… دل سفید بھی ہوتا ہے اور بیمار ہو کر کالا بھی ہوجاتا ہے… حدیث پاک
میں آیا ہے کہ گناہ کی وجہ سے دل پر سیاہ نقطے لگ جاتے ہیں… اور اگر توبہ نہ کی
جائے تو وہ پورے دل کو کالا کردیتے ہیں… اب ہمارا فرض بنتا ہے کہ جس طرح آئینے
میں اپنا چہرہ دیکھتے ہیں… اسی طرح اپنے دل کو بھی دیکھا کریں… آئینے میں نظر
آئے کہ چہرے پر کالک لگی ہے تو منہ دھوتے ہیں… ایسے ہی دل کی بھی نگرانی کرنی
چاہئے… اچھا آج تھوڑا سا وقت اپنے اندر جھانکنے کے لئے تو نکال لیں… ہمارے اندر
والا انسان جاگے گا تو دنیا میں حالات اچھے ہوجائیں گے… ہمارے سینے میں دائیں طرف
ہماری روح ہے… اورر بائیں طرف ہمارا دل… آنکھیں بند کرکے سر جھکائیں اور دائیں
طرف سینے میں اپنی روح کو تلاش کریں… ہاں شروع میں وہ نظر نہیں آتی… کھانے، چائے
سموسے، کوکاکولا اور گیس نے روح بیچاری کو چھپادیا ہے… روح تو بھوکا رہنے سے خوش
ہوتی ہے… جسم تھکتا ہے دین کے کام میں تو روح کو تازگی محسوس ہوتی ہے… جسم بھوک
برداشت کرتا ہے اللہ پاک کی خاطر تو روح طاقتور ہوجاتی ہے… اپنی روح
کو ڈھونڈ کر دیکھیں کہ بے چاری کس حال میں ہے؟…
کہیں
زخمی تو نہیں، بیمار تو نہیں، میلی کچیلی تو نہیں… اور دیکھیں کہ انسانی شکل کی ہے
یا (نعوذباللہ) جانور بن چکی ہے؟… اپنی روح سے پوچھیں کہ کیاحال ہے؟… کیا تو
مسلمان ہے؟… ہاں اگر ہم کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی روح کی نگرانی، دیکھ بھال
اور خدمت کرنی ہوگی… اور ہمارے سینے میں بائیں طرف دل ہے… اسے دیکھیں وہ کیا کر
رہا ہے؟… کہیں اس پر کالک اور میل تو نہیں لگی ہوئی؟ … وہ کس کو یاد کر رہا ہے؟…
دل دنیا کا سب سے بڑا عاشق ہے… ہر وقت کسی کے عشق میں لگا رہتا ہے… اس لیے حکم دیا
گیا کہ اسے… اللہ تعالیٰ کی محبت
اور عشق سے بھردو… ہاں آنکھیں بند کریں… اور دل کو دیکھیں… پھر اسے پیار سے کہیں…
اے دل! اس کا نام لے جس نے تجھے پیدا کیا … اللہ اللہ … اے دل! اس کو یاد کر جس کے
پاس جانا ہے… اللہ اللہ …اے دل! اس
سے پیار کر جس نے پیار کو پیدا کیا… اے دل! اس سے محبت کر جس نے محبت کو پیدا کیا…
اللہ اللہ … اپنے دل کو اللہ
اللہ پر لگادیں… اور سوچتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کا حسین نور میرے دل
میں آرہا ہے… اللہ اللہ …
چند
دن اپنے سانس کی نگرانی کریں، صرف دو منٹ… چند دن اپنی روح کو ڈھونڈیں اور دیکھیں
صرف دو منٹ… چند دن اپنے دل کو دیکھیں اور اس کی نگرانی کریں اور اسے ذکر میں
لگائیں صرف تین منٹ…
کیا
ہم اپنے اندر کی دنیا کو آباد کرنے کیلئے روزانہ سات منٹ دے سکتے ہیں؟… ناشتے، دو
پہر کے کھانے اور رات کے کھانے پر کتنا وقت لگتا ہے؟… ہم ہر وقت اپنی آنکھیں کھلی
رکھتے ہیں… اور بعض اوقات یہ آنکھیں اللہ
تعالیٰ کو ناراض بھی کردیتی ہیں… تو کیا اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے سات منٹ اپنی
آنکھیں بند کرنا مشکل ہے؟… میرے شیخ، اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو اپنی رحمت اور
سکون سے بھر دے، فرمایا کرتے تھے… قرب قیامت کا دور ہے اب صرف دل والا اسلام چلے
گا عقل والا نہیں… حضرت کی یہ بات اب کچھ کچھ سمجھ آنے لگی ہے کیونکہ… دنیا جس رخ
پر چل پڑی ہے اس میں عقل جلد گمراہ ہوجاتی ہے… اور کہتی ہے ہم نے دنیا کے ساتھ
چلنا ہے… ہم نے دنیا کے ساتھ چلنا ہے… اب اگر دل میں دین ہو تو ایمان بچ سکتا ہے
ورنہ بہت مشکل ہے… مجھے امیر المؤمنین ملا محمد عمر سے الحمدللہ بہت محبت ہے… میں
نے انہیں دیکھا کہ وہ اپنے فیصلے عقل سے نہیں ’’دل‘‘ سے کیا کرتے ہیں… ہماری خوش
نصیبی ہے کہ ہم نے ایسے دل والے انسان کی زیارت کی ہے… اللہ پاک ان کی حفاظت فرمائے اور ان کے
فیض سے امت مسلمہ کو سیراب فرمائے… آج کل ’’جمہوری سیاست‘‘ کا دور ہے… اسلامی
جماعتیں بھی اسلام نافذ نہیں کرسکتیں… ملا محمد عمر مدظلہ کا دل زندہ تھا انہوں نے
اسلام کے احکامات کو نافذ کردیا… ان کی حکومت نہیں رہی تو کیا ہوا؟… اور بھی تو سب
کی ختم ہوجائے گی… انسان کو زندگی اور حکومت ایک دن کی ملے یا سو سال کی… سوال اس
پر ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات
پر کتنا عمل کیا…بالغ ہونے کے بعد زندگی ایک دن کی ملی تو پانچ نمازوں کا سوال
ہوگا… اور اگر دس دن کی ملی تو پچاس نمازوں کا… صرف اس لیے اسلام نافذ نہ کرنا کہ
دینداروں کی حکومت ختم نہ ہوجائے یہ تو دل والی بات نہیں ہے… اگر بددین بھی موسیقی
بجائیں اور دیندار بھی تو پھر… دینداروں کا حکومت پر بیٹھنا خود ان کیلئے قیامت کا
سوال ہوگا… عقل اس بات کو نہیں سمجھ سکتی… مگر دل والے امیر المؤمنین نے یہ بات
سمجھ لی… اور اپنی حکومت کو نہیں اسلام کی تنفیذ کو مقصد بنالیا… ان کے دور حکومت
میں ریڈیو چلتا تھا مگر اس پر ساز گانے نہیں بجتے تھے… انہوں نے نماز کا نظام قائم
کیا… انہوں نے حدود وقصاص کو نافذ کیا… انہوں نے اسلامی خارجہ پالیسی کی بنیاد
رکھی اور روس کو ناراض کرکے چیچنیا کی حکو مت کو تسلیم کیا… انہوں نے امریکہ کو
ناراض کرکے اسامہ بن لادن کو پناہ دی… انہوں نے انڈیا کو ناراض کرکے بھارتی طیارے
کے اغواء کرنے والے مجاہدین کو باحفاظت اپنے ملک سے گزارا… یہ سب کچھ صرف وہی
انسان کرسکتا ہے جس کا دل زندہ ہو… جس کا دل مسلمان ہو… ان میں سے کوئی کام بھی
آسان نہیں تھا… بھارتی وزیر خارجہ جسونت سنگھ نے بہت بڑی پیشکش کی تھی اس شرط پر
کہ… طالبان طیارہ اغواء کرنے والے پانچ اور رہا ہونے والے تین مجاہدین کو پکڑ کر
انڈیا کے حوالے کردیں… جسونت سنگھ کو جو جواب امیرالمؤمنین کی طرف سے ملا… اس پر
آسمان بھی خوشی سے جھوم اٹھا ہوگا… ہاں مسلمان اپنے مسلمان بھائیوں کو بیچا نہیں
کرتے… پھر بامیان کے دوہزار سالہ بت ایک اشارے سے بارود کا لقمہ بن گئے… ٹھیک ہے
ملا عمر صاحب کی حکومت ساڑھے چھ سال رہی… مگر اس عرصے کے کارنامے صدیوں پر محیط
ہیں… حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی حکومت تو ڈھائی سال رہی تھی… مگر دنیا آج تک ان
کو یاد کرتی ہے اور انہیں روئے زمین کے کامیاب ترین حکمرانوں میں شمار کرتی ہے…
باقی عقل کے ساتھ حکومت کرنے والے ساڑھے چھ سال بھی رہتے ہیں یا نہیں؟… اور جاتے
وقت اپنی جھولی میں کیا لے جاتے ہیں… ملا محمد عمر کی جھولی تو عظیم کارناموں سے
بھری ہوئی ہے… ہاں ان کے پاس دل والا اسلام تھا… اور میرے شیخ نے فرمایا کہ اب صرف
دل والا اسلام ہی کام آئے گا… قرآن پاک بار بار مسلمانوں کو غزوہ بدر یاد دلاتا
ہے… غزوہ بدر کے ایک ایک منظر کو یاد دلاتا ہے… اگر جہاد صرف قوت سے ہی ہوتا تو
قرآن پاک غزوہ بدر کو بطور مثال پیش نہ کرتا… کل میں تفسیر مدارک دیکھ رہا تھا…
سورۃ انفال کی آیت ۴۲ میں
اللہ تعالیٰ نے بدر کے میدان جنگ کا
نقشہ بیان فرمایا ہے… امام نسفیؒ لکھتے ہیں کہ اس زمانے کے لوگوں کو میدان کا نقشہ
معلوم تھا… پھر قرآن پاک نے اس کا ذکر کیوں چھیڑا؟… دراصل یہ سبق یاد دلانا مقصود
ہے کہ فتح اسباب سے نہیں اللہ تعالیٰ
کی نصرت سے ملتی ہے… میدان جنگ میں مسلمانوں کی صورتحال کمزور تھی… وہ میدان کے اس
حصے میں تھے جو جنگ کے لئے موزوں نہیں تھا جبکہ مشرکین بہترین جگہ پر تھے… یہی بات
امام زاریؒ نے بھی لکھی ہے… غزوہ بدر کی ہر ادا کو قرآن پاک نے محفوظ رکھا… اور
بار بار یاد دلایا کہ مسلمان جب بھی غزوہ بدر کی ترتیب زندہ کریں گے… وہ فتح پائیں
گے… غزوہ بدر کی فتح دل والے ایمان کی بدولت نصیب ہوئی… عقل کے مطابق تین سو تیرہ
خالی ہاتھ افراد کا ایک ہزار مسلح جنگجو لشکر سے ٹکراجانا… مصلحت کے خلاف اور کھلی
ہلاکت ہے… مگر قرآن پاک تو باقاعدہ منظر کشی کرتا ہے… نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر سے نکلنا… راستے
میں آپ کا صحابہ کرام سے مشاورت کرنا، اچانک دونوں لشکروں کا آمنے سامنے آجانا…
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑانا… آسمان سے
بارش کا برسنا، اس خوفناک ماحول میں صحابہ کرام کا نیند سے جھومنا اور آرام پانا…
فرشتوں کا اترنا… فرشتوں کی تربیت… مال غنیمت کے معاملات، قیدیوں کے معاملات…
الغرض ہر بات قرآن پاک نے لکھ دی اور خاک کی اس مٹھی تک کا تذکرہ کر ڈالا جو آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمنوں کی
طرف پھینکی تھی… یہ سب کچھ کیا ہے؟… قرآن نے طاقت کے توازن کا مسئلہ کیوں نہیں
اٹھایا؟… اور بار بار بدر کے واقعات کیوں سنائے… چودہ سو سال کی تاریخ گواہ ہے کہ
مسلمانوں نے جب بھی فتح حاصل کی بدر کی ترتیب پر حاصل کی… قوت کے توازن پر نہیں…
مسلمان جب بھی دل سے مسلمان ہوئے تو اللہ پاک
نے ان پر اپنے راستے کھول دئیے… قرآن پاک بتاتا ہے کہ صحابہ کرام کو غزوہ بدر میں
دشمنان اسلام کا لشکر… کم تعداد میں نظر آتا تھا… گویا اللہ پاک نے آنکھوں کا نظام بھی ان دل
والوں کیلئے بدل دیا … آنکھ ایک کو ایک اور دو کو دو دیکھتی ہے… مگر جہادکی برکت
سے صحابہ کرام کو ایک ہزار مشرک ستر یا سو نظر آرہے تھے… بعض مفسرین نے لکھا ہے
کہ جس مسلمان کے دل میں اللہ تعالیٰ
کی عظمت ہو اسے اسلام کے دشمن کمزور اور حقیر وذلیل نظر آتے ہیں… امام احمد بن
حنبلؒ کو گرفتار کرکے طرسوس لایا گیا ان پر ابراہیم بن مصعب نامی کوتوال مقرر تھا
اس نے چند دن امام صاحب کو دیکھا تو کہنے لگا:
’’میں
نے کسی انسان کو بادشاہوں کے آگے احمد بن حنبل سے بڑھ کر بے خوف نہیں پایا۔ یومئذٍ
ما نحن فی عینیہ الا کامثال الذباب۔ یعنی ہم حکومت کے افسر اُن کی نظر میں مکھیوں
سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے تھے…
جہاد
کیلئے جنگی قوت ضرور بنانی چاہئے یہ قرآن پاک کا حکم ہے… مگر غزوہ بدر کو یاد
رکھنا چاہئے اور گھر بیٹھ کر قوت نہ ہونے کو جہاد کے راستے کی رکاوٹ قرار نہیں
دینا چاہئے… بات کچھ دور نکل گئی… آج کا سبق ہم سب کیلئے بہت اہم ہے… اللہ پاک کی رضا کیلئے ہم تمام اعمال کرنے
والے بن جائیں… ہمارا ایمان، ہماری نماز، ہمارا جہاد… اور ہماری ہر محنت صرف اور
صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہو… ہمارے
پاس اللہ تعالیٰ کے لئے خالص اعمال
کا ذخیرہ ہو… اس لیے کہ قبر منہ کھول کر ہمارا انتظار کررہی ہے… اخلاص پیدا کرنے
کے لئے ہمیں اپنے اندر کی دنیا کو ٹھیک کرنا ہوگا… اندر کی دنیا تک پہنچنے کے لئے
اور وہاں کی صفائی اور ستھرائی کے لئے… سات منٹ کا نصاب عرض کیا ہے… مجھے معلوم ہے
کہ… کھانے، پینے اور سونے پر دس گھنٹے خرچ کرنا آسان ہے… مگر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے سات منٹ کا عمل مشکل ہے…
نفس
کہے گا… یہ عمل کل سے شروع کریں گے… پھر یہ کل دور ہوتی جائے گی… اور شیطان کہے گا
ان چیزوں سے کیا ہوتا ہے کام کرو کام… آپ اور ہم نہ شیطان کی مانیں… اور نہ نفس
امّارہ کی… یہ دونوں ہمارے دشمن ہیں… اس لیے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے، چپکے سے آج ہی سات منٹ
کا عمل شروع کردیں… اور دل والا مسلمان بننے کی… اللہ تعالیٰ سے دعاء کریں…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں پر اپنی رحمت
کی ایسی نظر فرماتا ہے کہ وہ بندے … اللہ والے بن جاتے ہیں…سبحان اللہ ! کیسا میٹھا لفظ ہے اللہ والے ، اللہ والے … ہماری خوش
نصیبی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں
بعض ’’ اللہ والوں ‘‘ کی صحبت نصیب فرمائی …ہاں افسوس بھی ہے کہ ہم ان کی
پوری طرح قدر نہ کر سکے … اور مکمل فائدہ نہ اٹھا سکے … اللہ پاک معاف
فرمائے … اور جو ’’ اللہ والے ‘‘ موجود ہیں انکی صحیح قدر کرنے کی ہم سب کو
توفیق عطاء فرمائے …حضرت بنوری ؒ بہت اونچے اور بہت عجیب انسان تھے ان کی نگاہیں
دور تک دیکھتی تھیں … انہوں نے اپنے ادارے کیلئے معلوم نہیں کہاں کہاں سے ’’ اللہ والے
‘‘ ڈھونڈے اور پھر مخلص ’’ اللہ والوں ‘‘ کی ایک محفل بلکہ سلطنت سجا دی… یہ
لوگ بہت عجیب تھے خالص اللہ والے ،
دین کی غیرت رکھنے والے ، حب دنیا سے پاک اور جہاد کی محبت سے سرشار… ان میں سے
ایک ایک کی ادائیں یاد آتی ہیں تو دل پر ایمان کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے …میں نے
انہیں جلوت میں بھی دیکھا اور خلوت میں بھی …بخدا انکی ’’خلوت ‘‘ انکی ’’جلوت‘‘ سے
زیادہ ایمان والی تھی …بعض مناظر تو دل پر ایسے نقش ہیں کہ بھلائے نہیں بھولتے …ہم
رات کے ایک بجے جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کی مسجد کے باغیچے کی طرف والے
برآمدے میں تکرارو مطالعہ کر رہے تھے … غالباً امتحانات کا زمانہ قریب تھا …
اچانک ہم نے دیکھا کہ حضرت مولانا محمد ادریس صاحب میرٹھی ؒ … اپنے گھر سے اتر کر
مسجد کی طرف تشریف لا رہے ہیں … سفید عمامہ، سفید لباس ، سفید داڑھی مبارک ، حسین
چہرہ ، بڑی بڑی خوبصورت آنکھیں اور مناسب بھاری بدن … انکی عمراسّی سال سے اوپر
تھی مگر پاؤں جما کر بہت وقار سے چلتے تھے … وہ مسجد کے صحن میں داخل ہو کر سیدھے
مسجد کے ہال کی طرف جا رہے تھے … وہ ہمیشہ امام صاحب کے دائیں طرف پہلی صف میں
نماز ادا کرتے تھے … میں نے گیارہ سال کے عرصے میں انکو پہلی صف سے محروم ہوتے
نہیں دیکھا …بہت توجہ والی اور لمبی نماز ادا کرتے تھے اور انہیں نماز سے خاص عشق
تھا…مگر رات کے ایک بجے اس طرح سے مسجد میں آنا خلاف معمول تھا ۔میں نے آگے بڑھ
کر سلام کیا … ان سے سلام میں پہل کرنا بہت مشکل تھا …وہ ہر چھوٹے بڑے کو خود سلام
کرتے تھے …ایک بار چند طلباء میں مقابلہ بھی ہوا کہ …کون حضرت کو ان کے سلام کرنے
سے پہلے سلام کرتا ہے …سب نے کئی بار کوشش کی مگر ناکام رہے …جو بھی سامنے ہوتا
حضرت کا پیار بھرا جلالی انداز کا سلام اسے نصیب ہو جاتا… اللہ تعالیٰ اپنے
خاص بندوں کو جو ’’رعب‘‘ اور شان عطا فرماتا ہے وہ بھی انہیں حاصل تھی … طالب علم
ان کے چہرے پر نظر ڈالتے تو جلال کی کیفیت محسوس کرتے … آپ حضرات آزما لیں جو
شخص اپنی زبان کو فضول استعمال نہ کرتا ہو … اور بے حیائی کی فحش باتیں اس کی زبان
سے نہ نکلتی ہوں تو اسکے چہرے پر ایمان کی ایک خاص شان اور رونق ہوتی ہے … حضرت
مولانا محمد ادریس صاحب ؒ تو بہت کم بولتے تھے … انکی زبان ذکر میں مشغول رہتی تھی
… گپ شپ نام کی کوئی چیز انکی زندگی میں نہیں تھی ۔بہرحال طالب علم شرارتی ہوتے
ہیں … ان میں سے ایک چھپ کر راستے میں کھڑا ہو گیا … حضرت تشریف لائے تو اچانک
نکلا اور سامنے آتے ہی اس نے سلام کر لیا … حضرت نے چلتے چلتے اسے پورا جواب دیا
اور وہ فتح کی خوشیاں سمیٹ کر اپنے ساتھیوں میں آ بیٹھا…اے مسلمان بھائیو! اور
بہنو ! سلام کے فضائل تو میں نے اور آپ نے بھی بہت پڑھے ہیں … مگر اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی قدر کسی کسی کو
پوری طرح نصیب ہوتی ہے … ایسے حضرات ہی ’’ اللہ والے ‘‘ ہوتے ہیں …اور ان کا
مزاج شریعت کے عین مطابق بن جاتا ہے… خیر اس رات ایک بجے میں نے آگے بڑھ کر سلام
کے بعد پوچھا …حضرت آپ ابھی سے مسجد تشریف لے جا رہے ہیں ؟… فرمانے لگے، بھائی !
فجر کی نماز ادا کرنے جا رہا ہوں …میں نے عرض کیا ابھی تو رات کے ایک بجے ہیں
…فرمایا اچھا ! ہم نے سمجھااذان ہو گئی ہے …آج جب ہر طرف نماز میں سستی … اور
نماز پر ظلم نظر آتا ہے تو مجھے بے اختیار وہ ’’ اللہ والا‘‘ یاد آجاتا ہے
… جس کی نماز کے ساتھ محبت کا یہ عالم تھا کہ گویا وہ نماز ہی کیلئے جی رہے ہیں
…بعض اوقات گھڑی خراب ہو جاتی اور کوئی وقت بتانے والا نہ ہوتا تو ایک نماز کو کئی
کئی بار … پورے خشوع و خضوع سے ادا کرتے … اور اس عمل میں خوشی اور تازگی محسوس
کرتے… حضرت عمررضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ جس کی نماز نہیں اسکا دین میں کچھ
حصہ نہیں … حضرت ہمیں حدیث شریف کی مشہور کتاب صحیح مسلم شریف پڑھایا کرتے تھے …
کئی بار سبق پڑھاتے ہوئے ان پر شدید گریہ طاری ہوا … تب ہم نے ان کے بعض نظریات کو
سمجھا… بڑھاپے کی وجہ سے وہ سبق کی زیادہ تشریح نہیں کر سکتے تھے …بس عبارت پڑھی
جاتی تھی اور وہ کبھی کبھار ایک دو جملے بول لیتے تھے …مگر بعض مقامات پر انکے
آنسوؤں نے وہ کام کیا جو تقریریں اور تحریریں نہیں کر سکتیں …حضرت اماں عائشہ
صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت والی روایت
آئی تو چہرہ مبارک سرخ ہو گیا اور آنکھوں سے آنسو اس طرح بہہ رہے تھے کہ …
تھمنے کا نام نہ لیتے تھے … میں نے انکو اتنا زیادہ روتے کبھی نہیں دیکھا … وہ
پوری حدیث پڑھی گئی جو کافی مفصل ہے … وہ مسلسل روتے رہے اور پھر بغیر کچھ بولے اٹھ
کر چلے گئے … مگر تمام طلباء کے دل میں امہات المؤمنین کی عظمت اور محبت کا ایسا
بیج بو گئے جو پچاس تقریریں بھی نہیں بو سکتیں… ایک بار حدیث شریف آئی کہ امانت
اٹھ جائے گی(یعنی ہر طرف خیانت عام ہو جائے گی ) اور امانت پر قائم رہنے والا شخص
اس طرح ہو گا جس طرح ہاتھ پر انگارہ رکھنے والا …وہ اس حدیث شریف کی عبارت سن کر
بہت روئے…اور ہچکیاں لے لے کر امانت داری کی تاکید کرتے رہے … آج جبکہ اکثر
لوگوں کو اسکی کچھ فکر نہیں کہ مال کہاں سے آرہا ہے … اور کہاں خرچ ہو رہا ہے؟ …
اور اجتماعی مال ذاتی ملکیت بنتا جا رہا ہے …اور اموال میں خیانت عام ہو چکی ہے تو
ہمیں حضرت کے آنسو اور آپ کی ہچکیاں یاد آتی ہیں …اور دل چاہتا ہے کہ آج پھر
کوئی اسی طرح دل کو پگھلا کر آنسو بنائے … اور پھر مسلمانوں کو سمجھائے کہ اللہ کے لئے خیانت نہ کرو … اللہ کے لئے خیانت نہ کرو … ذکر اللہ سے
غفلت ، اموال میں بے احتیاطی اور امیر اور جماعت کی ناقدری نے آج بش اور کرزئی کو
مسلمانوں پر مسلط کر دیا ہے … کاش مسلمان ذکر اللہ کو اپنے دل میں اتار لیں ، اجتماعی
اموال میں بہت احتیاط کریں اور جماعت کی دل سے قدر کریں تو … دنیا کا نازک کفر
اپنے ایٹم بموں سمیت مجاہدین کے قدموں میں آگرے گا … خیانت کے ساتھ ذلت اور شکست
لازمی ہے یہ قرآن پاک کا فیصلہ ہے …سورۃالانفال پڑھ کر دیکھ لیں بات انشاء اللہ دل میں اتر جائیگی… ایک بار سبق کے
دوران اس بات پر رونے لگے کہ طلبہ نماز خشوع و خضوع کے ساتھ ادا نہیں کرتے …اور
نماز میں اپنا سبق اور اپنی کتابوں کی علمی بحثیں … اور حواشی سوچتے رہتے ہیں …
فرمانے لگے تم نماز میں اللہ پاک کے
سامنے کھڑے ہوتے ہو … اور پھر سوچتے ہو کہ ’’مختصر المعانی‘‘ کے حاشیے میں یہ لکھا
ہے … ایسا نہ کیا کرو … یہ فرما کر رونے لگے اور درد سے فرمایا … اللہ کے بندو نماز میں اللہ پاک کو یاد کیا کرو…حضرت کی کس کس
ادا کو یاد کروں… اور ان کے کس کس آنسو پر آنسو بہاؤں ؟… اللہ تعالیٰ انکی نصیحتوں پر ہم سب کو عمل
کرنے کی توفیق عطا فرمائے …بات یہ چل رہی تھی کہ کچھ لوگ ’’ اللہ والے‘‘ہوتے
ہیں ایسے ’’ اللہ والوں‘‘ کی زیارت باعث اجرو ثواب ہے…اور انکی صحبت میں
بیٹھنا بے ریا عبادت سے افضل ہے … اور انکی خدمت کرنا مستقل سعادت کا ذریعہ ہے
…حضرت بنوریؒ نے اپنے ادارے میں دنیائے روحانیت کے جن بادشاہوں کو جمع فرمایا ان
میں سے ایک حکیم الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید ؒ بھی تھے …اپنے
زمانے کے کامیاب ترین اور ترقی یافتہ انسان … اللہ تعالیٰ نے انہیں وہ
نعمتیں عطا فرمائیں جو وہ کسی کسی خوش نصیب کو عطا فرماتا ہے …خلاصہ بس اتنا ہے کہ
وہ ایک قابل رشک ہستی تھے اور دین کے ہر میدان میں اپنا منفرد مقام رکھتے
تھے … اللہ تعالیٰ نے انکو ایسا قلم عطا فرمایا کہ وہ اپنے زمانے کے ’’شاہ
قلم‘‘ بن گئے …آپ انکی کوئی کتاب اٹھا کر دیکھیں …ہر کتاب بہت مفید ، بہت وزنی ،
بہت مؤثر … اور بہت سخی ہے … اس وقت امت مسلمہ کو جن فتنوں کا سامنا ہے ان سے
حفاظت کے لئے … مسلمانوں کو حضرت لدھیانوی شہیدؒ کی کتب کی طرف رجوع کرنا چاہئے…
آپ تجربہ کر لیں اور حضرت کی کوئی کتاب پڑھ کر دیکھ لیں وہ انسان کی پیاس بجھانے
کی صلاحیت رکھتے ہیں … میٹھی زبان ، شائستہ انداز ، مثبت لہجہ ،دل نشین عبارت،
آسان الفاظ اور مدلّل مضمون انکی ہر تحریر کا لازمی جزو ہوتے ہیں … انہوں نے جس
موضوع کو ہاتھ لگایا اسکا پورا حق ادا کرنے کی مکمل کوشش فرمائی… اور یوں وہ الحاد
، زندقہ ، اور فسق کے طوفانوں کا رخ موڑنے میں ’’الحمدللہ‘‘ کامیاب رہے …انہوں نے
امت کی موجودہ ضرورت کے تقریباً ہر موضوع پر لکھا اور مسلمانوں کے لئے ایک رہنما نصاب
چھوڑ گئے … آپ نے پہلے علم میں رسوخ حاصل کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے علمی دنیا کے
لئے ’’حجت‘‘ بن گئے … پھر آپ نے علوم معرفت کی طرف قدم بڑھایا اور کچھ ہی عرصہ
میں اونچے مقام کی ’’علامت ‘‘ بن گئے… ساتھ ہی آپ نے مشق قلم کا سلسلہ جاری
رکھا اور اس میدان میں ’’سند‘‘ مانے گئے… آپ نے تحریک ختم نبوت کیلئے خود کو
ہمیشہ وقف رکھا اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور دینی غیرت کا ’’عَلَم‘‘
بنے رہے… اور زندگی کے آخری حصے میں آپ نے جہاد فی سبیل اللہ کا دامن پکڑا اور
دیکھتے ہی دیکھتے اس اونچے عمل کی سب سے اونچی چوٹی ’’شہادت‘‘ کے مستحق بن گئے…
ادارۂ القلم نے حضرت لدھیانوی شہیدؒ کے افکار اور انوار کو امت مسلمہ تک پہنچانے
کیلئے ایک خصوصی شمارہ نکالنے کا ارادہ کیا ہے… حضرت کی زندگی… آپکی علمی خدمات…
آپکی جہادی خدمات… اور خاص طور پر آپ کے قلمی مآثر یعنی آپکی تحریروں اور
کتابوں کا تعارف… ’’القلم‘‘ کے تمام قارئین اور قارئیات اس خصوصی شمارے کی آسانی
اور کامیابی کیلئے دعاء فرمائیں… اور اہلِ علم اور اہلِ قلم حضرات اس حسین بزم میں
حصہ لینے کیلئے جلد از جلد اپنے مضامین ارسال کریں… اور جن حضرات نے حضرتؒ کی کسی
کتاب سے استفادہ کیا ہو…وہ ضرور اپنے تاثرات قلم بند کرکے بھیجیں ،تاکہ… حضرتؒ کی
عظیم دینی خدمات میں ہمارا حصہ بھی شامل ہوجائے…
فتح
الجواد کامطالعہ
آپ
نے دیکھا ہوگا کہ الحمد للہ… ہفت روزہ ’’القلم‘‘ کے ’’صفحہ ہدایت‘‘ پر آیات جہاد
کی تشریح کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ …کافی عرصہ سے قارئین اس کا تقاضا کررہے تھے…
اب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مکمل پابندی کے ساتھ یہ سلسلہ شروع ہوچکا ہے…
معلوم ہوا ہے کہ قرآن پاک کی مدنی سورتوں کی پانچ سو اٹھاون آیات کے جہادی
مضامین کوان شاء اللہ ’’فتح الجواد‘‘ میں پیش کیا جائیگا… جبکہ مکی سورتوں میں سے
بھی ستر سے زائد آیات کے جہادی اشارات اس میں شامل ہیں… اس بات کی ضرورت محسوس کی
جارہی تھی کہ… آیات جہاد کی مدلل تشریح حوالوں کے ساتھ تحریر کی جائے… اب تک
ہزاروں مسلمان ’’دورہ تفسیر آیات الجہاد‘‘ کی کیسٹوں پر گذارہ کررہے تھے… ان
کیسٹوں کی افادیت اپنی جگہ… الحمدللہ دنیا کے کئی ممالک کے مسلمانوں نے ان کیسٹوں
کی بدولت قرآن پاک کے حکم جہاد کو سمجھا…اورانکار جہاد کے جرم سے توبہ کی… مگر
تحریر بہرحال ایک الگ سند اور فائدہ رکھتی ہے… اب جبکہ آیات جہاد کی تشریح القلم
میں شائع ہورہی ہے تو ہم سب کو چاہیے کہ ہم اس سے فائدہ اٹھائیں… آج مسلمانوں کی
ایک بہت بڑی تعداد جہاد کے فریضے کا انکار کرتی ہے… گویا کہ وہ قرآن پاک کی ساڑھے
پانچ سو سے زائد آیات کی منکر ہے… یہ صورتحال بہت خطرناک ہے… ہمیں اپنے اور اپنے
مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے ایمان کی فکر کرنی چاہیے… اور ان کو اتنی بات ضرور
سمجھانی چاہیے کہ وہ اگر جہاد نہیں کررہے تو انکی مرضی… مگر فریضہ جہاد کا انکار
کرکے اپنے ایمان کو خراب یا ختم نہ کریں… قرآن پاک پر ایمان لانے والا کوئی
مسلمان بھی جہاد کے انکار کی جرأت اور ہمت نہیں کرسکتا… مگر… ظالم قادیانیوں اور
دوسرے گمراہ فرقوں نے جہاد کے خلاف تاویلات کا ایسا طوفان اٹھایا ہے کہ مسلمان
…جہاد جیسے فریضے کو چھوڑنے پر استغفار تک نہیں کرتے… بلکہ نعوذ باللہ اس عظیم
قرآنی فریضے کو چھوڑنے پر فخر کرتے ہیں… قرآن پاک نے نہایت تفصیل کے ساتھ جہاد
کے مسئلے کو سمجھایا ہے… اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خون مبارک
دے کر امت کی غفلت کو دور فرمایا ہے… آیات جہاد کی اس تشریح کا پابندی سے مطالعہ
کریں… اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے قرآن پاک کا ایک نسخہ خرید لیں… اور روزانہ
کچھ وقت قرآن پاک کے حکم جہاد کو سمجھنے کیلئے مختص کرلیں… القلم کا شمارہ سامنے
رکھ کر وہ آیت نکالیں جس کی تشریح بیان کی گئی ہے… پہلے ایک دوبار اس آیت کی
تلاوت کریں…پھر اس کا ترجمہ دو، تین بار پڑھیں… اور پھر تشریح پڑھتے چلے جائیں اور
کچی پینسل سے قرآن پاک کے حاشیے پر خاص خاص باتیں لکھتے چلے جائیں… پورے ہفتے میں
یہ عمل تین بار کریں گے تو وہ آیت اور اسکی تشریح آپ کے دل و دماغ میں اتر
جائیگی… اور نشانات لگانے کی وجہ سے آئندہ جب بھی آپ تلاوت کریں گے تو یہ آیات
آپ کو… بھولا ہوا فریضہ یاد دلائیں گی… تب بہت ممکن ہے کہ آپ کو اللہ پاک جہاد
کے میدان میں بلا لے… تب تو مزے ہوجائیں گے …یا اللہ پاک آپ کے مال میں سے کچھ
حصہ جہاد کے لئے قبول فرمالے… یا اللہ پاک شہادت کی سچی تڑپ دل میں عطاء فرمادے…
یعنی خون میں نہا کر اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شوق دل میں پیدا ہوجائے… اگر ایسا
ہوگیا تو پھر تو بیڑہ ہی پار ہوجائیگا… ان شاء اللہ۔ بس یہ ہے مختصر سا طریقہ’’
فتح الجواد فی معارف آیات الجہاد‘‘سے فائدہ اٹھانے کا… اللہ تعالیٰ اس مجموعے کو
قبول فرمائے… اسے مکمل کرنے کی مؤلف کو توفیق عطاء فرمائے …اور ہم سب کو اس سے
فائدہ اور برکت عطاء فرمائے۔ آمین یا ارحم الراحمین…
دوسرا
سبق
پچھلے
ہفتے سات منٹ کا ایک نصاب عرض کیا تھا… اللہ کرے اس پر عمل ہوا ہو۔ اب اس نصاب کا
دوسرا سبق سمجھ لیں… پہلے دو منٹ ہم اپنے سانس کی نگرانی کررہے تھے اور پوری توجہ
اس کی طرف مرکوز کرکے… دیکھ رہے تھے کہ وہ اندر جارہا ہے اور باہر آرہا ہے… اگر
آپ نے پچھلے سات دن یہ عمل کیا ہے تو ان شاء اللہ اپنی توجہ کو مضبوط کرنے اور
دماغ کو قابو رکھنے کی کافی صلاحیت پیدا ہوگئی ہوگی… اب اس عمل کو اس طرح کریں کہ
سانس اندر جاتے وقت بھی ’’ اللہ ‘‘ کہہ رہاہے اور باہر نکلتے وقت بھی ’’ اللہ ‘‘
کہہ رہا ہے… بس صرف دومنٹ تک اپنی توجہ سانس پررکھیں کہ وہ اللہ کا ذکر کرتے ہوئے اندر جارہا ہے… اور
اللہ کا ذکر کرتے ہوئے باہر آرہا ہے… اگلے دو منٹ گردن جھکا کر… اور آنکھیں بند
کرکے اپنی توجہ سینے کے دائیں طرف روح پر رکھیں… اور پورا اور یقینی تصور کریں کہ
روح ’’ اللہ ‘‘’’ اللہ ‘‘ کہہ رہی ہے… اور اگلے تین منٹ دل کو اسی طرح ’’ اللہ ‘‘’’
اللہ ‘‘ کروائیں… یاد رکھیں اللہ تعالیٰ کا ذکر سب سے بڑی چیزہے… نماز بھی اللہ تعالیٰ کے ذکر کیلئے ہے اور جہاد بھی
اللہ تعالیٰ کے ذکر کی بلندی کیلئے ہے… قرآن پاک پکار پکار کر مجاہدین کو ذکر کی
طرف بلارہا ہے تاکہ انہیں فلاح، غلبہ، فتح اور کامیابی ملے… ذکر زبان سے دل میں
اترے گا تو پھر کھال اور بال بھی ’’ اللہ اللہ ‘‘ کریں گے اور وہ کیفیت
نصیب ہوگی جو احادیث شریف میں آئی ہے کہ ذکر سے زبان تررہے … اور تنہائی میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرکے آنسو بہانا نصیب ہوںگے…
صحیح حدیث میں آیا ہے کہ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے عرش کا سایہ نصیب
فرمائے گا… بس اصل چیز اللہ تعالیٰ
کاذکر ہے… باقی جو طریقے عرض کئے جارہے ہیں وہ تو بس ’’ورزش‘‘ کی طرح ہیں… آج کل
کی مشینی زندگی نے انسان کے دل و دماغ کو بھی ’’موبائل فون‘‘ بنادیا ہے… ان پر ہر
وقت گھنٹیاں بجتی رہتی ہیں… اور طرح طرح کی کالیں آتی رہتی ہیں… اس لئے اس دل کو
اور دماغ کو ذکر پر لانے کیلئے … کچھ طریقے بتائے جاتے ہیں تاکہ دل اور دماغ کو
خیالات کی آندھی سے نجات ملے اور اس میں سے خواہشات نکل جائیں… اور آدمی کو اللہ تعالیٰ کے ذکر کیلئے اپنے دل اور
دماغ میں تنہائی کاحسین ماحول نصیب ہوجائے … آپ سب جانتے ہیں کہ محبوب جتنا قریبی
ہو اس سے ملاقات بھی اتنی ’’تنہائی‘‘میں اچھی لگتی ہے… اب خود سوچیں کہ جب ’’محبوب
حقیقی‘‘ کو یاد کیا جائے تو کتنی تنہائی ہونی چاہیے… کمرے میں کوئی نہ ہو، دل میں
بھی کوئی اور نہ ہو… اور دماغ میں بھی کچھ اور نہ ہو… اور ماحول یہ بن
جائے ؎
ہر
تمنا دل سے رخصت ہوگئی
اب
تو آجا اب تو خلوت ہوگئی
اے
اللہ تعالیٰ کے دین کے مجاہدو! تم زمین کی خوش قسمت ترین مخلوق ہو… تم اللہ تعالیٰ
کے پیارے ہو… تم پر اللہ تعالیٰ کا بہت احسان ہے… مگر یاد رکھو اگر تم اس نعمت کو
برقرار رکھنا چاہتے ہو…اور غزوہ بدر کی ترتیب پر فتح اور نصرت چاہتے ہو تو پھر…
اپنے محبوب حقیقی سے سچا پیار کرو… تمہاری زبان بھی ’’اس کا نام لے اور تمہارا دل
بھی‘‘ اسے یاد کرے… اور تمہاری کھال اور تمہار ے بال بھی اللہ اللہ پکاریں… نکال دو سب
چیزیں اور فضول خواہشیں دل سے اور پکار کر کہو… اب تو آجا اب تو خلوت ہوگئی
’’
اللہ ‘‘’’ اللہ ‘‘’’ اللہ ‘‘’’ اللہ ‘‘’’ اللہ ‘‘’’ اللہ ‘‘’’ اللہ ‘‘’’ اللہ ‘‘…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کی شان دیکھئے… افغانستان میں ’’طالبان‘‘
نے حملے تیز کیے تو گویا کہ دنیا میں ’’زلزلہ‘‘ آگیا… اب ہر کوئی اس ’’موضوع‘‘ پر
بول رہا ہے… اور ہر لکھنے والا اس ’’عنوان‘‘ پر لکھ رہا ہے… چار پانچ سال پہلے جب
ایک مسافر نے یہ لکھا تھا کہ طالبان ختم نہیں ہوئے… وہ دوبارہ ابھریں گے اور انشاء
اللہ سب کو نظر آئیں گے… اور یہ کہ افغانستان کے
صحیح حالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے… تب روشن خیال قلمکار مذاق اڑاتے تھے… کیونکہ
انہیں امریکا کی طاقت پر مکمل بھروسہ تھا… چند دن پہلے بی بی سی کا نمائندہ پشاور
کے ایک تجزیہ نگار سے بہت عجیب سوالات کر رہا تھا… طالبان تو ختم ہوگئے تھے اب
دوبارہ کہاں سے آگئے؟… یہ وہی طالبان ہیں یا کوئی اور؟… ان کے پاس اسلحہ اور
ہتھیار کہاں سے آئے ہیں؟… ان کی مالی مدد کون کرتا ہے؟… عوام میں ان کی حمایت ہے
یا نہیں؟ … ان تمام سوالات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ اور یورپ ابھی تک
مسلمانوں کے حالات، نظریات اور طرز عمل سے واقف نہیں ہیں… یا وہاں کی حکومتوں نے
اپنے لوگوں کو غلط فہمی میں مبتلا کر رکھا ہے…
صدر
بش کا دوسرا دور حکومت بھی آدھا گزر چکا ہے مگر ابھی تک… وہ اپنی ’’صلیبی جنگ‘‘
میں کچھ بھی حاصل نہیں کرسکا… ہاں ہزاروں امریکی فوجیوں کی تازہ قبروں پر صلیب کا
نشان ضرور نظر آرہا ہے… صدر بش کہہ سکتے ہیں کہ اتنی ساری صلیبیں جو فوجیوں کی
قبروں پر لگی ہوئی ہیں… اُن کا کارنامہ ہے کیونکہ یہ ساری صلیبیں ان کے دور حکومت
میں لگی ہیں… صدر بش کی جھولی میں فخر کے جو دوچار کارنامے ہیں وہ بھی ان کے اپنے
نہیں… یہ کارنامے بش کے مسلمان کہلانے والے نوکروں نے اس کی جھولی میں ڈالے ہیں…
میں دنیا کو چیلنج کرکے پوچھتا ہوں کہ امریکی فوجیوں نے اب تک کونسی کامیابی حاصل
کی ہے؟… مجھے صرف ایک ’’کامیابی‘‘ بتادیں…
کوئی
نہیں، کوئی نہیں… تورابورا کا آپریشن بہت دھوم سے شروع کیا گیا اور بی باون
طیاروں کی بمباری اور کروز میزائلوں کے خوفناک حملوں سے ان اونچی پہاڑیوں کو ریت
بنادیا گیا… ڈیزی کٹر جیسا خطرناک بم کئی بار استعمال کیا گیا… زیر زمین بینکرز
تباہ کرنے والے جدید بم بھی دل کھول کر برسائے گئے… جب ہر طرف خاموشی چھا گئی اور
تورابورا میں سانس لینے والی ہر مخلوق مٹی میں مل گئی تو امریکہ کے بہادر فوجی
افغان فوجیوں کی آڑ لیکر وہاں داخل ہوئے… امریکی صدر کے کان کسی بڑی خبر سننے
کیلئے امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی کے انتخابی نشان کے کان لگ رہے تھے… مگر کئی دن
کی تفتیش، تحقیق اور ڈی این اے ٹیسٹوں کے بعد… امریکی فوجیوں کو صرف اتنا معلوم
ہوسکا کہ مسلمانوں کو شکست دینا آسان نہیں ہے… اپنے اور غیر سب مانتے ہیں کہ
اسامہ بن لادن تورابورا ہی میں موجود تھے… مگر ’’سورۃ الانفال‘‘ ہر زمانے میں اپنی
زندگی کا ثبوت دیتی ہے… کاش تمام مسلمان اس سورۃ سے رہنمائی حاصل کریں… یہ سورۃ
بتاتی ہے کہ مکہ اور عرب کے تمام بڑے سردار سر جوڑ کر بیٹھے تھے… محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گرفتار کرنا چاہئے… نہیں، نہیں ان
کے ساتھی جانثار ہیں وہ موت پر سوار ہو کر آئیں گے اور اپنے آقا کو چھڑا کر لے
جائیں گے… محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے نکال دیا جائے، نہیں نہیں
ان کی زبان میں اثر ہے جہاں جائیں گے وہاں کے لوگوں کو ساتھ ملا لیں گے… پھر کیا
کیا جائے؟… کیا کیا جائے؟… طاقتور لوگ ایک ایسے انسان سے پریشان ہیں جو مکہ کے ایک
کچے گھر میں خالی ہاتھ بیٹھا رب کا قرآن پڑھ رہا تھا… وہ جو صبح شام ستایا جارہا
تھا، مارا جارہا تھا… میں ان کے قدموں کی مٹی پر قربان… پھر ایک اژدھا پھنکارا کہ
محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو قتل کردو… اور سارے قبائل مل کر
قتل کرو… اس کے دلائل وزنی تھے … اور پھر آپریشن کی تیاری ہوئی… ایک فرد کو شہید
کرنے کیلئے ایک سو جوان تیار ہوئے… ایک سو تلواروں کی دھار کو تیز کیا گیا… سورۃ
انفال بتاتی ہے مسلمانو! جب وہ یہ سازش اور تیاری کر رہے تھے… تو ایک اور جگہ بھی
تدبیر اور تیاری کا شور تھا… ادھر رات کو آپریشن شروع ہوا… کِلنگ آپریشن… ادھر
آسمانوں پر ہلچل ہوئی… عرش سے لیکر فرش تک ایک غیبی نظام مقرر فرمادیا گیا…
فرشتوں کے سردار جبرئیل امین علیہ السلام کچے گھر میں اتر آئے… حضرت علی رضی اللہ عنہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر جا لیٹے… عمر پندرہ سال
اور قربانی اتنی بڑی… ادھر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے گھر کھانا پک گیا… ایک بچی ’’اسماء
ؓ ‘‘ پورے جذبے کے ساتھ اسے باندھ رہی ہے… اور کچھ نہیں ملا تو اپنے دوپٹے کو پھاڑ
کر رسی بنالیا… باپ جارہا ہے، بیٹی اس کے پاؤں کی زنجیر نہیں بن رہی بلکہ خود
رخصت کر رہی ہے… پھر غارِ ثور… پھر صدیق اکبر کے کندھے جن پر انہوں نے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھالیا… مشرکین کا آپریشن مکہ سے
غارِثور تک پھیل گیا… پھر خبر آئی کہ پورا مدینہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لئے نکلا ہوا ہے… تب
ابوجہل کا چہرہ غم، حسرت اور افسوس سے لٹک گیا… میں نہیں جانتا کہ تورابورا کے
آپریشن کے بعد بش کا کیا حال ہوا ہوگا… سورۃ انفال نے ایک جملے میں سارا مسئلہ
سمجھادیا… وَیَمْکُرُوْنَ وَیَمْکُرُ اللہ … وہ مشرک ظالم جب سازش کر رہے تھے تو اللہ پاک بھی تدبیر فر ما رہا تھا… وَ اللہ خَیْرُ الْمَاکِرِیْن… اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے آگے کس کی سازش چل سکتی
ہے؟… میں نے بارہا جھولی پھیلا کر مسلمان قلمکاروں کی منّت سماجت کی… اللہ کیلئے کافروں کی طاقت اور سازش کا زیادہ ڈھنڈورا
نہ پیٹا کرو… لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طاقت بتایا کرو… یَمْکُرُ اللہ اور وَ اللہ خَیْرُ الْمَاکِرِیْن کے معنی سمجھاؤ تاکہ…
مسلمان اپنے رب سے پوری طرح جُڑ جائیں… یہ اسلام کی کونسی خدمت ہے کہ امریکہ اور
اسرائیل کی طاقت اور سازشیں بتابتا کر مسلمانوں کا حوصلہ ختم کیا جائے… ان کی
ٹیکنالوجی اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے سامنے ناکام ہوچکی ہے… اور
ناکام ہوتی رہے گی… مجھے بتاؤ انہوں نے اپنے بدنصیب نو کروں کے تعاون کے بغیر
کونسی کامیابی حاصل کی ہے؟… شاہی کوٹ کا آپریشن کئی ہفتے جاری رہا آخر میں معلوم
ہوا کہ ’’سیف الرحمن منصور‘‘ کو اللہ تعالیٰ بچا کر لے گیا… حضرت امیر المؤمنین پر
کئی یقینی آپریشن ہوئے مگر دشمنوں کو ہر بار خاک چاٹنی پڑی… اور سورۃ انفال مسکرا
مسکرا کر سناتی رہی… اِنَّ اللہ مُوْہِنُ کَیْدِ الْکَافِرِیْن… ہاں یقینا اللہ تعالیٰ کافروں کی سازشیں، تدبیر اور تیاری کو
کمزور بنانے والا ہے… اور گرج گرج کر اعلان کرتی رہی … وَاَنَّ اللہ مَعَ الْمُؤْمِنِیْن … اور اللہ تعالیٰ تو ایمان والوں کے ساتھ ہے… اب ہے کوئی
جو مقابلے میں ٹھہر سکے؟… افغانستان میں پانچ سال کے دوران سوائے ناکامی، موت اور
ذلت کے اور کیا ہاتھ لگا ہے؟… اب اگر کوئی کامیابی مل بھی گئی تو کیا فائدہ؟…
قرآن پاک موجود ہے اور مسلمانوں کو زندگی کا راز بتاتا ہے… ملا محمد عمر صاحب
مدظلہ بھی دنیا سے چلے جائیں گے… ہم سب نے بالآخر مرنا ہے مگر سورۃ انفال ایسے
افراد پیدا کرتی رہے گی جو موت کا گریبان پکڑ کر زندگی حاصل کریں گے… اِذَا
دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ…
بی
بی سی کا نمائندہ قرآن پاک پڑھ لیتا… یا مسلمانوں کی تاریخ دیکھ لیتا تو اسے
طالبان کے دوبارہ کھڑے ہونے پر حیرت نہ ہوتی… طالبان مجاہدین پوری دنیا کو بتا رہے
ہیں کہ… اپنے بموں اور طیاروں کی طاقت کو نہ دیکھو… ہماری تاریخ کو دیکھو! کہ ہمیں
مٹانا کسی کافر کے بس کی بات نہیں ہیں… ہمارے پاس غارِحراء ہے… وہ اِقْرَاء
کہہ کر ہمیں طالبعلم بناتی ہے… ہمارے پاس دار بنی ارقم ہے وہ فَذَکِّرْ کہہ کر
ہمیں داعی بناتا ہے… ہمارے پاس غارِ ثور ہے… وہ ہمیں ہجرت سکھاتی ہے… ایک اللہ تعالیٰ کی خاطر گھر کو چھوڑ دینا، وطن کو سلام
کہہ دینا… والدین اور بیوی بچوں سے کھڑے کھڑے جدا ہوجانا… اللہ اکبر… کیا عشق کی دیوانگی ہے معصوم بیٹی گلے میں
ہاتھ ڈال رہی ہے… باپ آنسو روک کر اس کے ہاتھ نرمی سے الگ کرتا ہے… اور پھر ایک
نامعلوم سفر … نہ آگے کا پتا نہ پیچھے کی خبر… یا اللہ میں آرہا ہوں… سب کچھ چھوڑ کر… اپنی زندگی میں
اپنے بچوں کو یتیم کرکے… میں آرہا ہوں… آسمان سے سورۃ انفال کا نور پھر چمکا…
ہاں آجاؤ… یہ سودا گھاٹے کا نہیں… لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّاَجْرٌ کَرِیْم… کاش
کافر اسلام کے ’’نظام ہجرت‘‘ ہی کو دیکھ اور سمجھ لیتے تو فضول میں اپنے ہزاروں
جوان مسلمانوں کے ہاتھوں سے نہ مرواتے… ارے ظالمو! مسلمان صرف اس لیے ہجرت کرتا ہے
کہ وہ… اللہ تعالیٰ کے دین کو مغلوب نہیں دیکھ سکتا… وہ دین
کے فرائض پر پابندی برداشت نہیں کرسکتا… وہ کافروں کے سامنے گردن نہیں جھکا سکتا…
یہی بات سارے مفسرین لکھتے ہیں… اور یہی بات حضرات فقہاء کرام نے لکھی ہے… شعراء
کے قصیدوں میں وطن اور اہل وعیال کو چھوڑنا… موت سے مشکل قرار دیا گیا ہے… مسافری
اور اجنبیت کے تھپیڑے انسان کو توڑ دیتے ہیں…
خدایا
پیری و آوارگی درد دگر دارد
چوں
مرغِ آشیاں گم کردہ وقت شام می لرزد
مگر
ہجرت کی آواز لگی تو آسمان نے عجیب عجیب مناظر دیکھے… ابوسلمہؓ الگ بندھے پڑے
ہیں… ام سلمہؓ الگ تڑپ رہی ہیں… اور دونوں کا بیٹا سلمہ ماں باپ کے لئے رو رہا ہے
بلک رہا ہے… میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں… اور زینبؓ بیٹی مکہ
میں ابو ابو کہہ رہی ہیں… غزوۂ بدر کے بعد ہجرت کیلئے نکلیں تو ظالموں نے راستے
بند کردئیے… پھر کئی سال بعد پیارے والد کا ہاتھ سر پر نصیب ہوا… کس کس کی ہجرت کا
تذکرہ کیا جائے… ہجرت کی یہ سنہری کڑی… مکہ سے چلی اور آج افغانستان تک اس کا نور
چمک رہا ہے… طالبان نے ہجرت کی اور اپنے آپ کو بخشوالیا… ہاں ہجرت پچھلے تمام
گناہوں کو مٹادیتی ہیں… طالبان نے مغفرت اور پھر عزت کا مقام پالیا… آج کرزئی کے
فوجی طالبان کمانڈروں سے چھپ چھپ کر ملاقاتیں کر رہیں ہیں… اور اپنے لیے پرچیاں
لکھوا رہے ہیں… دنیا کے سارے کافر مل کر ’’اسلامی ہجرت‘‘ سے وجود پانے والی جماعت
کا مقابلہ نہیں کرسکتے… پھر ہمارے پاس منیٰ کے میدان میں عقبہ کی گھاٹیاں ہیں… وہ
ہمیں ’’نصرت‘‘ سکھاتی ہیں نصرت بھی ایسی کہ… اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہجرت کرنے والوں کیلئے اپنے
دل، گھر اور مال کے دروازے کھول دئیے… اور انہیں اس بات کا احساس تک نہ ہونے دیا
کہ یہ کوئی اجنبی وطن ہے… سورۃ انفال نصرت کا تذکرہ چھیڑتی ہے تو مفسرین کے قلم
’’انصار‘‘ کی تعریف میں عربی گھوڑوں کی طرح دوڑنے لگتے ہیں… اور سمندر کی لہروں کی
طرح اٹھکیلیاں کرنے لگتے ہیں… ان ’’انصار‘‘ نے اسلام کی فتح کی بنیاد ڈال دی… وہ
خود بھوکے رہے مگر انہوں نے ’’مہاجرین‘‘ کو بھوکا نہیں سونے دیا… انہوں نے مہاجرین
کو اپنے لیے اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت سمجھا اور پھر اس نعمت کی
ایسی قدر فرمائی… کہ سب سے عظیم ہجرت فرمانے والے مہاجر فی سبیل اللہ نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ ہی کو وطن بنالیا…
حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے پیار تھا… اور مکہ فتح بھی
ہوگیا تھا… مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ حنین کے بعد انصار کے سامنے
یہ اعلان فرمادیا … اے انصار لوگوں کو مال لے جانے دو اور تم مجھے لے جاؤ… یہ
سنتے ہی انصار پر خوشیوں کی جو برسات برسی اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا…
لوگ پوچھتے ہیں مجاہدین کو کھانا کہاں سے ملتا ہے؟ … وہ بینکوں کے اکاؤنٹ
کھنگالتے ہیں … حالانکہ ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے چراغ بجھا دیا تھا…
وہ
بجھا ہوا چراغ آج تک ہر سچے مسلمان کے گھر میں پوری شان سے موجود ہے… ہاں مدینہ
منورہ میں آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مہمان آگیا تھا… آپ نے ایک
صحابی کے حوالے فرمادیا کہ یہ خوش نصیبی آپ کے نام… وہ خوشی خوشی لے گئے… گھر میں
جاکر بیوی سے کھانے کا پوچھا… انہوں نے بتایا تھوڑا سا کھانا ہے یا بچے کھا سکتے
ہیں یا مہمان… اب دونوں سر جوڑ کر بیٹھے ہیں کہ کس طرح بچوں کو بہلا کر سلائیں…
پھر کس طرح مہمان کو کھانا کھلائیں کہ سارا کھانا وہ کھالے… اور اسے پتہ بھی نہ
چلے کہ ہم نے اس کے ساتھ نہیں کھایا… تھوڑی دیر کے مشورے میں پلان تیار ہوگیا…
بیوی نے خوب محنت کرکے پھولوں جیسے معصوم بچوں کو بھوکا سلادیا… پھر کھانا لگایا گیا…
سب نے کھانا شروع کیا تو کسی بہانے سے چراغ بجھادیا گیا… اب اندھیرے میں مہمان کھا
رہا ہے… اور گھر والے خالی منہ ہلا کر کھانا کھانے کی آواز پیدا کر رہے ہیں… یہ
سب کچھ اندھیرے میں ہوگیا… مہمان نے سیر ہو کر کھانا کھالیا ہے… گھر والے سب بھوکے
سو رہے ہیں… مگر اس اندھیرے میں کوئی دیکھ رہا تھا… ہاں جس کی خاطر یہ سب کچھ ہو
رہا تھا وہ دیکھ رہا تھا… اگلے دن آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا… رات کو تمہاری مہمان نوازی
اللہ تعالیٰ کو بہت پسند آئی… ہائے میں قربان … اللہ تعالیٰ کی پسند کی خاطر تو جسم کے ٹکڑے کروانا
بھی آسان…
اے
دانشورو!… وہ بجھا ہوا چراغ آج بھی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ… مال اور روٹی کس لیے
ہوتی ہے… اسی لیے تو کشمیر کے غریب مسلمان سولہ سال سے مجاہدین کو کھلا رہے ہیں…
اور اب افغانستان کی غریب مائیں طالبان کیلئے روٹیاں پکا رہی ہیں… امریکہ اور یورپ
میں خاوند اور بیوی اکٹھے بیٹھ کر اپنا اپنا سگریٹ جیب سے نکالتے ہیں… پھر اگر
کوئی ’’سخی خاوند‘‘ اپنے لائٹر سے بیوی کا سگریٹ سلگادے تو وہ خوشی سے شکریہ ادا
کرتی ہے کہ… میرا خاوند تو حاتم طائی بن گیا… ورنہ ’’امریکن سسٹم‘‘ کا معنی ہی یہی
ہے کہ گدھوں کی طرح ہر کوئی اپنی اپنی ’’کھرلی‘‘ سے کھائے… کراچی اور لاہور میں
ہمارے کنجوس لوگ اپنی کنجوسی کو … ’’امریکن سسٹم‘‘ کا جدید نام دیتے ہیں کہ… ہر
کوئی بس میں اپنے ٹکٹ خود خریدے اور اپنے کھانے کا بل خود ادا کرے… انہیں کیا
معلوم کہ ’’ایثار‘‘ کیا ہوتا ہے… اور دوسرے کو روٹی کھلانے کا کیا مزہ ہے … ان کی
مذہبی مشنریوں کے لوگ بھی سب تنخواہ دار ہوتے ہیں… جبکہ… ہمارے ہاں جان دینے والے
مجاہد بھی بغیر کسی معاوضے کے اپنا سب کچھ قربان کرتے ہیں… ہماری تبلیغی جماعت کے
لاکھوں افراد اپنے خرچ پر ملک ملک بستی بستی گھومتے ہیں… اس لیے چندہ بند کرنے اور
اکاؤنٹ سیز کرنے سے کچھ نہیں بنے گا… اس امت کا ’’اصل طبقہ‘‘ اور ’’اصل مکھن‘‘ ہی
وہ افراد ہیں جو مال سے محبت نہیں کرتے… سورۃ انفال نے ان کی تربیت ہی ایسی کی ہے
کہ ان کو ’’بے غرض سپاہی‘‘ بنادیا ہے… اور انہیں سمجھایا ہے کہ مال کا خیال دل سے
نکال دو… تمہیں روزی دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے… تم اس کے کام میں مداخلت نہ
کرو… اور حرام اور مشکوک مال کا تصور بھی نہ کرو… اے مجاہدو! اسلام کے بے غرض
سپاہی بن کر تم اپنا کام کرو… اور خیانت کے نام سے بھی نفرت کرو… سورۃ انفال نے
جہاد اور مجاہدین کو مال سے آزاد کردیا ہے… جو خوش نصیب اس سورۃ کو مانتے اور
سمجھتے ہیں وہ مال سے ہر گز محبت نہیں رکھتے… اور اجتماعی اموال میں اس طرح احتیاط
کرتے ہیں کہ… اس کی طرف رغبت سے دیکھتے تک نہیں … سورۃ انفال سمجھاتی ہے کہ مال
اسی کو ملے گا جو مال کی محبت سے پاک ہوگا… زندگی اس کو ملے گی جو موت کو ڈھونڈے
گا… اور دنیا اسی کے قدموں میں ڈھیر ہوگی جو دنیا کو چھوڑے گا… طالبان بتا رہے ہیں
کہ ہمارے پاس بہت کچھ ہے… غارِ حرا، غارِ ثور، دارِ بنی ارقم… اور منیٰ کی
گھاٹیاں… یہ چند مثالیں ہیں ورنہ خزانہ بہت بڑا ہے… ہمارے پاس بدر کا میدان ہے…
ہمارے پاس صفہ کا چبوترہ ہے… ہمارے پاس احد کا پہاڑ ہے… اور ہمارے پاس حدیبیہ کا
ایک درخت ہے… ہم مالا مال لوگ ہیں… کلمہ طیبہ نے ہم پر نعمتوں اور سعادتوں کے
دروازے کھول دئیے ہیں… ہمارے لیے زمین پر اللہ تعالیٰ کا ایک الگ نظام ہے… اس نظام کی ہوائیں
بھی اور ہیں… اور اس نظام کے اصول بھی اور ہیں… ہم موجود تھے اور انشاء اللہ موجود رہیں گے… سورۃ انفال ہمارے لیے مزید اچھے
ساتھی بھرتی کرتی رہے گی… ہم میں سے کچھ چلے جائیں گے ان کی جگہ تازہ خون والے
آئیں گے… ہم شخصیات کا نام نہیں نظریات کا نام ہیں… اور اس نظرئیے کا محافظ… ’’
اللہ تعالیٰ‘‘ ہے… ہم سے لڑنے سے پہلے
’’غزوۂ بدر‘‘ کو یاد کرلیا کرو… ہمیں گھیرنے سے پہلے ’’غارِثور‘ ‘ کی تاریخ پڑھ
لیا کرو… ہمیں ختم کرنے کی بکواس کرنے سے پہلے یرموک اور قادسیہ کے قصے دیکھ لیا
کرو… غلبہ ہمارے لیے ہے… اور انشاء اللہ فتح ہمارا مقدّر ہے… ہم تمہارے سامنے تب شکست
کھاتے ہیں… جب ہم ’’ہم‘‘ نہیں رہتے… یعنی اپنے ماضی سے کٹ جاتے ہیں… ہم مغلوب تب
ہوتے ہیں جب ہمارے دل میں دنیا اور مال کی محبت آجاتی ہے… اب بہار کا موسم ہے
دنیا اور مال کی محبت سے آزاد… کافی سارے مسلمان الحمد اللہ موجود ہیں… ہاں اقتصادی پابندیاں لگانے سے پہلے
پھر یاد کرلینا… ہم نے چراغ بجھادیا تھا…
٭٭٭
ایک
خوش نصیب بادل
اس
صدی کے ایک عظیم کردار، بطل اسلام الشیخ ابومصعب الزرقاوی کی شہادت پر… خراج
تحسین…
ان
کے کارناموں کا مختصر تذکرہ… اور
عیسائیوں
کی قبریں Oجہاد
افغانستان خوش نصیب روحوں کا عالمی اجتماع Oپاکستان کی وزارت
خارجہO جہاد افغانستان میں شریک ہونے والے عرب مجاہدین Oمیدان
جہاد کے بدلتے رنگ…
۱۹جمادی
الاولیٰ ۱۴۲۷ھ
بمطابق ۱۶ جون ۲۰۰۶ء
ایک
خوش نصیب بادل
اللہ تعالیٰ نے ابومصعب الزرقاویؒ کی تمنا پوری
فرمادی… اور ہم نے خبر سنی کہ وہ ماشاء اللہ شہید ہوگئے ہیں… ہمارے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خاتون سے فرمایاتھا… تمہارے
بیٹے کو شہادت کا دُہرا (ڈبل) اجر ملا ہے… کیونکہ اسے اہلِ کتاب کے کافروں نے قتل
کیا ہے… اہلِ کتاب کے کافر یہی بدقسمت یہودی اور عیسائی ہیں… جن کی کتابوں میں
آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی اور بشارت موجود تھی…
مگر جب آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو ان کی اکثریت نے ضد
اور دنیا کی لالچ کی وجہ سے انکار کردیا… یہ لوگ پہلے اہلِ کتاب تھے… جب انکار کیا
تو کافر بن گئے… اس لیے ان کو ’’کفارِ اہلِ کتاب‘‘ کہا جاتا ہے… یہ لوگ مسلمانوں
کو ختم کرنا چاہتے ہیں اوردن رات انہیں اذیتیں پہنچاتے ہیں… مسلمان ہی کیا؟ یہ لوگ
تو زمین کو بھی اذیت اور تکلیف پہنچاتے رہتے ہیں… امام غزالیؒ نے ’’احیاء العلوم‘‘
جس کا پورا نام ’’احیاء علوم الدین‘‘ ہے، میں لکھا ہے… عیسائیوں کی قبروں نے اللہ تعالیٰ کے دربار میں شکایت کی کہ ان کی بدبو کی
وجہ سے ہم بہت تکلیف میں ہیں… اللہ تعالیٰ قبر کے عذاب سے بچائے ان عیسائیوں نے تو
الٹا قبروں کو عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے… ان کی زندگی بے حیائی کی بدبو اور تعفّن
میں گزرتی ہے… مرنے کے بعد ان کی بدبو سے قبر کی زمین اورمٹی تک کو تکلیف پہنچتی
ہے… کراچی پولیس نے کچھ عرصہ پہلے ایک یہودی مردے کی لاش زمین سے نکالی تھی… اللہ پاک کی پناہ! … اس قدر زیادہ بدبو تھی کہ پولیس
کے آفیسر بھی بے ہوش ہونے کو تھے… منہ پر کپڑے باندھ کر وہ لاش کے ٹکڑے جمع کر
رہے تھے اور اس پورے علاقے میں بدبو ہی بدبو پھیلی ہوئی تھی…
میرے
ایک استاذ تھے حضرت مولانا عبدالرحیم منہاجؒ… ان کا پرانا نام ’’ڈیوڈ منہاس‘‘ تھا…
وہ عیسائی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے… پھر مذہبی تعلیم حاصل کرکے عیسائیوں کے پادری
بنے… اور پندرہ سال تک ’’پادری‘‘ کا منصب کماتے رہے… پھر اللہ پاک نے انہیں ہدایت عطاء فرمائی… وہ مسلمان
ہوئے، کچھ عرصہ عام مسلمان رہے… اور پھر اصلی اور سچے، متقی اور صاحبِ علم مسلمان
بن گئے… اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا سے بے رغبتی اور زُہد کی
نعمت عطاء فرمائی تھی… اور ان کے ہاتھوں سے کئی کرامات بھی ظاہر ہوئیں… انہوں نے
ہمیں چند دن تک ’’عیسائیت‘‘ کے بارے میں درس دیا… اور عیسائیوں کے خوب پول کھولے…
ان کی باتوں میں سے ا یک یہ بھی تھی کہ خنزیر (سور) کا گوشت کھانے کے وجہ سے
عیسائیوں کے مسام کھل جاتے ہیں اور ان سے شدید بدبو آتی رہتی ہے… وہ پوچھتے تھے
کہ یورپ اور امریکہ کی گوری چٹی سرخ عورتوں کو اتنے پرفیوم، باڈی سپرے اور میک اپ
کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟… وہ بتاتے تھے کہ یہ بدبو انتہائی سخت اور ناقابل برداشت ہوتی
ہے… حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ان اہلِ کتاب کافروں نے
ایک مسلمان کو شہید کیا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شہید کی والدہ کو… شہید کے لئے
دُہرے اجر کی بشارت سنائی… ہمارے تازہ شہید شہزادے ابو مصعب الزرقاوی نور اللہ مرقدہ وطاب اللہ وثراہ وکثر اللہ امثالہ… کو بھی اس بشارت کا پورا حصہ ملتا ہے
کیونکہ… انہیں بھی اہلِ کتاب کافروں نے قتل کیاہے…
یہودیوں
کی قیادت میں عیسائیوں کا ملک امریکہ… امریکہ کے زر خرید نوکر عراق کے موجودہ
حکمران اور فوجی … اور اُردن کے خفیہ ادارے … واہ زرقاویؒ واہ… تیرے جیسے شیر جوان
تو کسی کسی ماں کو نصیب ہوتے ہیں… ایک انتالیس سالہ غریب مسلمان کو مارنے کیلئے
تین ملکوں کا مشترکہ آپریشن… اور چار سال کا طویل عرصہ… خود کو سپرپاور سمجھنے
والے ملک کو چار سال تک زرقاویؒ نے انگلیوں پر نچایا… اور اس کے ایک سو سے زائد
فوجیوں کو مٹی میں دبادیا… وہ چار سال تک اس ملک میں دندناتا پھرتا رہا جہاں ڈیڑھ
لاکھ امریکی فوجی موجود تھے… جہاں دنیا کے تیس ممالک کے لشکر صلیبیں اٹھائے حملہ
آور ہیں… زرقاویؒ ان کے درمیان زندہ رہا… اور انہیں ہر آئے دن تڑپاتا رہا… حقیقت
میں زرقاویؒ اس قابل ہے کہ اس پر رشک کیا جائے… میں نے پچھلے کالم میں بھی عرض کیا
تھا کہ موت تو سب پر آنی ہے… اسے امریکہ کی فتح قرار نہیں دیا جاسکتا… ایک
زرقاویؒ کیلئے چار سال لگ گئے جبکہ اس امت کی گود ایسے ’’زرقاوئیوں‘‘ سے بھری پڑی
ہے… پھر جس تیزی سے یہ دنیا ہلاکت کی طرف بڑھ رہی ہے اس میں ہر دو سال بعد جنگ کا
طریقہ بھی تبدیل ہوجاتا ہے… اب اگر ماضی کے کسی مشہور سپہ سالار کو زندہ کرکے لایا
جائے تو وہ بے چارہ دور حاضر کی جنگ میں کیا کرسکے گا؟… اب نہ تو تلوار گھومتی ہے
،نہ نیزے لہراتے ہیں… پھر کچھ عرصہ پہلے تک بندوقوں کی آمنے سامنے والی جنگ ہوتی
تھی… ہم نے افغانستان میں وہ جنگ دیکھی ہے… مگر اب اس میں بھی بہت تبدیلی آچکی
ہے… پہلے طیاروں سے بمباری ہوتی تھی… اب کچھ مسلمان سائنسدانوں نے خود طیاروں کو
بم بنادیا… نائن الیون کے موقع پر ان بموں کا تجربہ کیا گیا جیسا کہ ساری دنیا نے
دیکھا… اب جدید مسلمان سائنسدانوں نے خود ’’انسان‘‘ کو ’’بم‘‘ بنانے کے تجربے شروع
کر رکھے ہیں… ان سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جب ہم مسلمانوں کو ویسے ہی دن رات مارا
جارہا ہے تو پھر ہم خود کیوں نہ مر جائیں… اور مرتے مرتے اور لوگوں کو بھی ساتھ لے
جائیں… خلاصہ یہ ہے کہ اگر واقعی یہ دنیا ترقی کر رہی ہے تو پھر اس میں جنگ کا
طریقہ بھی ہر سال اپنا ’’ماڈل‘‘ اور ’’اسٹائل‘‘ بدلتا ہے… افغانستان کے پرانے
کمانڈروں کو جو جنگ آتی ہے اب وہ جنگ نہیں ہورہی … اس لیے پرانے کمانڈر اگر شہید
ہوگئے تو کوئی خاص نقصان نہیں ہوگا… کیونکہ نئی جنگ کے نئے کمانڈر تیار ہوچکے ہیں…
اور ہر دو سال بعد مزید نئے کمانڈر تیار ہوجاتے ہیں… عراق کی جنگ بھی طرح طرح کے
پینترے اور اسٹائل بدل رہی ہے… زرقاوی شہیدؒ نے اپنے دور کے جہاد کی کمان کی… اور
ان کو مبارک ہو کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بھرپور کامیابی عطا فرمائی…
زرقاویؒ کا دورِجہاد انشاء اللہ یاد رکھا جائے گا… اور زرقاویؒ کا تخت بھی
ایوبیؒ اور یلدرمؒ جیسے فاتحین کی صفوں میں بچھے گا… امریکہ آج ایک زرقاویؒ کی
شہادت پر خوشی منا رہا ہے… تو زرقاویؒ نے چار سال تک تقریباً ہر دن امریکیوں اور
ان کے نوکروں اور اتحادیوں کے مرنے کی خوشی منائی ہے… کشتی اور باکسنگ کے مقابلے
میں فیصلہ ’’پوائنٹ‘‘ کی بنیاد پر ہوتا ہے یا ’’ناک آؤٹ‘‘ کی بنیاد پر… ناک
آؤٹ تو کوئی فریق ہوا نہیں کیونکہ نہ امریکہ نے عراق سے فوجیں نکالی ہیں… اور نہ
عراق کی جہادی تحریک ختم ہوئی ہے… چنانچہ ثابت ہوا کہ دونوں فریق ابھی تک ’’رِنگ‘‘
اور اکھاڑے میں موجود ہیں… اب فیصلہ پوائنٹ کی بنیاد پر ہوگا… ساری دنیا مل کر گِن
لے کہ امریکہ کے پوائنٹ زیادہ ہیں یا زرقاوی شہیدؒ کے… امریکہ نے زرقاویؒ، ان کے
مرشد اور چھ ساتھی شہید کیے… جبکہ زرقاویؒ نے سینکڑوں امریکی اور اتحادی افسر اور
فوجی مارے… امریکہ کو چار سال تک ناکامی اور اب ایک دن کامیابی ملی… جبکہ زرقاوی
چار سال کے ہر دن کامیاب رہے کہ… پکڑے نہیں گئے… اور اب بھی کامیاب ہوئے کہ شہید
ہوئے… امریکہ اور اس کے حواریوں کو زرقاویؒ کا ٹھکانہ معلوم ہوچکا تھا… مگر امت
محمدیہ (علی صاحبہا الف تحیات) کے اس شیر پر زمینی حملے کی جرأت کسی کو نہ ہوسکی…
امریکیوں نے ایک دن فتح کی خوشی منائی جبکہ… زرقاویؒ کو یہ خوشی ایک ہزار سے زیادہ
دنوں تک نصیب ہوتی رہی… میں مزید پوائنٹ نہیں گِنتا… کل میں نے ایک ساتھی سے کہا…
بھائی! مجھے زرقاویؒ کا شہادت کے بعد والا کوئی فوٹو دکھادو… وہ فوراً ایک اخبار
لے آئے… مجھے ’’تصویر‘‘ اور ’’فوٹو‘‘ بالکل اچھے نہیں لگتے… اگر کسی جاندار کے
ہوں… مگر کل دل نے مجبور کردیا… میں نے ایک نظر سکون سے سوئے ہوئے زرقاویؒ کو
دیکھا… اور پھر میرے دل نے چٹکی بھر کر کہا … دیکھو! ہمارا زرقاویؒ جیت گیا ہے…
معلوم نہیں کتنی راتیں زرقاویؒ نے شہادت مانگتے ہوئے گزاری ہوں گی… اس کی بے چین
روح شہادت کی تلاش میں کس کس منزل سے نہیں گزری؟… وہ چھوٹی سی عمر میں افغانستان
جا پہنچا… جہاں امت مسلمہ کی خوش نصیب ترین ’’روحوں‘‘ کا عالمی اجتماع تھا… کیا
عرب کیا عجم، کیا گورے کیا کالے، کیا جوان کیا بوڑھے… افغانستان میں خوش بختی کا
میلہ لگا ہوا تھا… میں نے خود وہاں اتنے ملکوں کے افراد دیکھے کہ یاد رکھنا مشکل
ہے… وہ سب اللہ تعالیٰ سے شہادت مانگتے تھے… وہ زخموں پر ایک
دوسرے کو مبارکباد دیتے تھے… وہ شہداء کے جنازوں کو رشک سے دیکھتے تھے… وہ ایک
دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر آخرت کی شفاعت کے وعدے لیتے تھے… وہ بڑی نوکریاں اور
خوبصورت بیویاں چھوڑ آئے تھے… وہ عیش وآرام اور ظاہری عزت کے سارے دھندوں کو
طلاق دے آئے تھے… وہ سچے لوگ تھے… ان میں سے کچھ اپنی عورتوں کو بھی ساتھ لائے
ہوئے تھے… ان کی یہ خواتین مردوں سے بڑھ کر ایمان اور حوصلے والی… اور شہادت وجہاد
کی طلب گار تھیں… امت مسلمہ کا یہ ’’مکھن‘‘ افغانستان کی سرزمین پر جمع تھا… ان
میں سے جوشہید ہوگئے… ان میں سے چند سو کی عجیب داستان ڈاکٹر عبد اللہ عزام شہیدؒ نے ’’عشاق الحور‘‘ نامی کتاب میں جمع
فرمادی ہے… خود مجھے ان میں سے کئی افراد یاد آتے ہیں تو دل کسی اور دنیا میں
پہنچ جاتا ہے… یہ لوگ سب کچھ چھوڑ چکے تھے گویا کہ ہاتھ دھو کر اللہ تعالیٰ کی رضاء،جنت اور شہادت کے پیچھے پڑ گئے
تھے… ان حضرات کا جہاد سچا تھا اس لیے اس جہاد کا نور پورے عالم میں پھیل گیا…
افغانستان کے یہی جانباز بوسنیا پہنچے… افغانستان کے یہی سرفروش فلسطین پہنچے…
افغانستان کے تربیت یافتہ کئی منور چہرے کشمیر پہنچے… ادھر افغانستان پورے عالم
اسلام کا مرکز بن گیا… ساری دنیا کے مجاہدین وہاں آکر آرام کا سانس لیتے تھے…
اور امیر المؤمنین حضرت ملا محمد عمر مجاہد کی مہمان نوازی کا لطف اٹھاتے تھے…
وہاں پہنچ کر سب کو معلوم ہوتا تھا کہ ہم مسلمانوں کے پاس بھی اپنی زمین… اور اپنا
گھر ہے…
پرسوںجب
پاکستان کی وزارت خارجہ کی ترجمان… زرقاویؒ شہید کی شہادت پر امریکہ کو مبارکباد
دے رہی تھی تو دل سے آہ نکلی… پاکستان کو زرقاویؒ سے کیا تکلیف تھی؟… پاکستان تو
مسلمانوں کا ملک ہے اور اسلام کے نام پر وجود میں آیا ہے… پاکستان اور کچھ نہیں
کرسکتا تھا تو کم از کم خاموش ہی رہتا… مگر ہماری وزارت خارجہ مسلمانوں کے دلوں
میں خنجر گھونپنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتی… وہاں بیٹھے ہوئے ’’طوطے‘‘ اپنی
بولی نہیں بولتے… وہ پاکستان کی عوام اور مسلمانوں کی ترجمانی نہیں کرتے… وہ
امریکہ کے محکمہ خارجہ کا ایک حقیر سا حصہ ہیں… زرقاویؒ جیسے مسلمان مجاہد کے قتل
پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے… ان کی زبان نے کوئی شرم محسوس نہیں کی؟… کاش کوئی
ان ظالموں سے پوچھے کہ ان کے اس بیان میں پاکستان کا کونسا مفاد چھپا ہوا تھا؟…
دنیا کے کئی کافر ملکوں نے بھی زرقاویؒ کی شہادت پر ایسا بیان نہیں دیا کیونکہ… وہ
خود کو امریکہ کا ’’رکھیل‘‘ اور نوکر نہیں سمجھتے… خیر ہماری وزارت خارجہ والے
اپنے لئے انگارے جمع کرتے رہیں… مگر یاد رکھیں امریکہ کبھی بھی ان سے خوش اور
مطمئن نہیں ہوگا…
افغانستان
میں دنیا بھر سے جو خوش نصیب ’’روحیں‘‘ جمع ہوئی تھیں ان میں ایک ’’الشیخ ابو مصعب
الزرقاویؒ‘‘ بھی تھے… ایک گمنام اور چھوٹے سے سپاہی… افغانستان کے جہاد نے کفر کے
ایک ستون کو شکست دی… تو زرقاویؒ سوویت یونین کو شکست دینے والے گمنام مجاہدین میں
شامل تھے… افغانستان کا جہاد جو تکوینی طور پر پورے عالم اسلام کے فائدے کیلئے
شروع ہوا تھا اگر سوویت یونین کی شکست کے بعد ختم ہوجاتا تو… بات نہیں بنتی تھی…
افغانستان کی زمین میں دنیا بھر کے شہداء کرام کا خون موجزن تھا… چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا فرمادئیے کہ… مجاہدین
امریکہ کا گریبان پکڑ کر اسے افغانستان میں لے آئے… امریکہ نے افغانستان پہنچنے
کے بعد حالات سے مجبور ہو کر … عراق میں فوج اتارنے کافیصلہ کرلیا… اور یوں
کمپیوٹر کے ذریعہ دنیا پر راج کرنے والا امریکہ افغانستان کے پہاڑوں اور عراق کے
صحراؤں میں مارا گیا… آج دنیا کے کئی آزاد بازاروں میں امریکی فوجیوں سے چھینا
ہوا سامان فروخت ہورہا ہے… اور امریکی ٹیکنالوجی کا رعب مداری کے تماشا دکھانے
والے سانپ جتنا رہ گیا ہے… خود امریکی عوام نے صدر بش کو ’’ناکام صدر‘‘ کا لقب دے
دیا ہے… جبکہ ٹونی بلیئر کی کرسی اب زمین بوس ہونے کو ہے…
زرقاویؒ
ایک بادل کی طرح افغانستان سے اڑا اور عراق کے صحراؤں میں جہاد کی بارش بن کر
برسا… چار سال تک اس بادل کی گرج، کڑک، چمک اور بجلی سے… امریکی آشیانے لرزہ
براندام رہے… اور عالم اسلام کے فدائی سپاہی اس بادل کے سائے میں منظم ہوتے رہے…
اپنی کامیاب ترین اور قابل رشک انتالیس سالہ زندگی… محاذوں، جنگوں، جیلوں… اور
روپوشیوں میں گزار کر یہ بادل… اچانک جنت کی ہواؤں میں گم ہوگیا… آسمان کے کنارے
پر سات رنگوں کی قوس قزح اس بادل کی رخصتی کا اعلان کر رہی ہے… ہاں سات رنگوں سے
بالکل صاف لکھا ہوا ہے:
’’
اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل ہونے والوں
کو مردہ گمان نہ کرو… وہ زندہ ہیں… اپنے رب کے قرب والے مقام پر کھا پی رہے ہیں…
اور خوشیاں منا رہے ہیں‘‘…
وَلَا
تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْیَائٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ
یُرْزَقُوْن… فَرِحِیْنَ بِمَا اٰتٰہُمُ اللہ مِنْ فَضْلِہ…
اے
خوش نصیب ہواؤ! اٹھو… اے خوش بخت بادلو اٹھو! جگہ خالی نہ ہونے دو… صحراؤں کی
گرمی کو فنا کردو… ایسے گرجو کہ چور بھاگ جائیں… ایسے کڑکو کہ ڈاکو خوف سے لرزنے
لگیں… اور ان پر بجلیاں برسادو جو انسانیت کے قاتل ہیں… ہاں اے خوش نصیب بادلو!
آسمان تمہارا ہے، زمین تمہاری ہے… یہ سب کچھ تمہارے رب نے تمہارے لیے بنایا ہے…
چھوڑ دو اپنی جگہیں اور آسمان پر مشرق سے مغرب تک پھیل جاؤ… اور پھر ایسا برسو
کہ پیاسی زمین… تمہیں دعائیں دے … اس کی پیاس بجھ جائے اور وہ پاک ہوجائے…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں بعض ’’خاص دنوں‘‘ کا تذکرہ
فرماتے ہیں… ان میں سے بعض دن تو وہ ہیں جن میں نافرمان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا… اور بعض وہ دن ہیں جن
میں فرمانبردار لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی خاص نصرت اور مدد نازل ہوئی…
میں
اور آپ آج کل جس مٹی اور زمین پر چلتے ہیں… اس کے ایک ایک چپے میں بڑے بڑے انسان
دفن ہیں… کچھ عرصہ بعد ہم بھی دفن ہوجائیں گے اور ہم پر کچھ اور لوگ چل پھر رہے
ہوں گے… یہ سلسلہ جاری ہے اور جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا جاری رہے گا… انسان کو بھول جانے
کی عادت ہے اس لیے اسے بار بار یاد دہانی کرائی جاتی ہے… قرآن پاک ’’تذکرہ‘‘ یعنی
یاد دہانی کرانے والی کتاب ہے… اللہ تعالیٰ ہمیں اس پاک اور عظیم کتاب کے ساتھ پورا
تعلق عطاء فرمائے… اور اسے ہمارے لیے دنیا اور آخرت کا ’’نور‘‘ اور ’’روشنی‘‘
بنائے…
خاص
دنوں کی یاد دہانی ’’تذکیر با یّام اللہ ‘‘
کہلاتی ہے… اور یہ یاد دہانی انسانوں کو بہت فائدہ دیتی ہے… خود ہماری زندگی کے
بعض دن اور بعض راتیں ایسی ہوتی ہیں جن کی یاد آتے ہی انسان کی کیفیت بدل جاتی
ہے… آج کل جون کا گرم مہینہ چل رہا ہے… کسی وقت رات کو محلے کا چوکیدار سیٹی
بجاتا ہے تو مجھے جون ۱۹۹۹ء
کی ایک خوفناک… مگر بہت ہی عجیب رات یاد آجاتی ہے… سات سال کا عرصہ گزرنے کے
باوجود وہ رات اور اس کے تمام مناظر مجھے اچھی طرح سے یاد ہیں… جی ہاں وہ کافی گرم
رات تھی… اور اس کا ایک ایک لمحہ بھاری تھا… کشمیر کی جہادی تحریک سے بے وفائی
کرنے والوں کو کیا معلوم کہ اس تحریک کا دامن کتنی قربانیوں سے بھرا پڑا ہے… اس
خوفناک رات نے ہمیں بہت سے سبق سکھائے… اس رات نے ہمیں تڑپایا… مگر شکر کے سجدوں
میں بھی گرایا… میں ابھی تک اس بات کو نہیں سمجھ سکا کہ وہ رات ہمارے حق میں تھی
یا ہمارے خلاف… وہ ہمارے لیے نعمت تھی یا تنبیہ؟… ہاں اس گرم رات میں سب کچھ تھا…
وہ نعمت اور نصرت کا عجیب نمونہ بھی تھی… اور تنبیہ کی محبت بھری چٹکی بھی… وہ رات
ہم سب ساتھیوں نے جاگ کر گزاری تھی… رات کے ایک بجے اچانک خوفناک سیٹیوں اور
بیہودہ گالیوں کے شور نے پوری جیل کو جگادیا تھا… اللہ اکبر کبیرا… وہ منظر یاد آتا ہے تو دل بیٹھنے
لگتا ہے… بس یوں سمجھئے کہ ایک طوفان تھا جو پوری قوت سے چنگھاڑ رہا تھا… خوفناک
سیٹیاں، چیخیں، لاٹھیوں کے برسنے کی آوازیں، خوف، غصہ، حسرت، بے بسی، تذبذب… اور
بے یقینی… پولیس والوں کی لاٹھیاں اس قدر زور سے برس رہی تھیں کہ کھال اور گوشت نے
ہڈیوں کی حفاظت چھوڑ دی… کسی کا سر پھٹا، کسی کے گھٹنے ٹوٹے… کسی کا بازو بے جان
ہوا… اور کوئی ٹانگ سے محروم ہوا… مارنے والے بوکھلاہٹ کا شکار تھے اور چیخ چیخ کر
گالیاں بھی بک رہے تھے… جبکہ مظلوم قیدی درد اور غم کی شدت سے چیخ رہے تھے… اور
آسمان کی طرف منہ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کو پکار رہے تھے… مجھے اس رات حضور پاک
صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ’’ید اللہ علی الجماعۃ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے… بہت اچھی طرح
سمجھ آگئی… بے شک مسلمانوں کی کامیابی اور حفاظت ’’جماعت‘‘ اور اجتماعیت میں ہے…
جب وہ ’’جماعت‘‘ کی صورت میں ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا ہاتھ… اللہ تعالیٰ کی نصرت، اللہ تعالیٰ کی حفاظت… اور اللہ تعالیٰ کی خاص حمایت انہیں حاصل ہوتی ہے…
جب
وہ ’’جماعت‘‘ کی صورت میں ہوتے ہیں تو ان کے ہر فرد میں… پوری جماعت کے افراد کی
طاقت ہوتی ہے… اور زمین وآسمان کی تمام مخلوقات ان کی خدمت میں لگ جاتی ہیں… اسی
لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’جماعت‘‘ کی اس قدر اہمیت بیان
فرمائی کہ… حضرات صحابہ کرام ’’جماعت‘‘ اور ’’اجتماعیت‘‘ کی حفاظت کو سانس لینے سے
زیادہ ضروری سمجھتے تھے… مکہ مکرمہ میں یہ ’’جماعت‘‘ قائم ہوئی… مدینہ منورہ اس
جماعت کا مرکز بنا… اور جماعت میں رکنیت کی شرط… قوم، وطن، قبیلہ، یا مالداری نہیں
تھی… بلکہ کل چار شرطیں تھیں… کوئی نیا ہو یا پرانا… گورا ہو یا کالا… عربی ہو یا
عجمی… غریب ہو یا مالدار… جو بھی ان چار شرطوں میں سے تین کو پورا کرتا تھا وہ
جماعت کا رکن بن جاتا تھا… ایمان، ہجرت، نصرت… اور جہاد… یہ کل چار شرطیں تھیں…
ایمان اور جہاد تو لازمی تھا… جبکہ ہجرت اور نصرت میں سے ایک کا ہونا ضروری تھا…
جو دارالکفر میں تھے ان پر ہجرت لازمی تھی اور جو مرکز میں تھے ان پر نصرت لازم
تھی… یہ جماعت قائم ہوئی تو زمین نے اپنا رنگ بدل لیا… اور آسمان کے انداز بھی
بدل گئے… یہ جماعت بدر کے میدان میں چند تلواریں، لاٹھیاں اور پتھر لے کر نکلی…
جسم پر پھٹے ہوئے کپڑے اور پاؤں میں جوتوں کی جگہ چمڑے اور کپڑے کے چیتھڑے …مگر
یہ ایک جماعت تھی… اس کا ایک امیر تھا… وہ تین سو تیرہ تھے… مگر ان میں سے ہر شخص
کے بازوؤں میں تین سو تیرہ کی طاقت تھی… اس لیے تو وہ طاقتور مشرکوں کو بھیڑوں
بکریوں کی طرح باندھ لائے… اللہ اکبر! یہ جماعت جو اللہ تعالیٰ کے لئے بنی تھی… ایک جان ہو کر جب میدان
میں اتری تو آسمان وزمین میں ہلچل مچ گئی… جبرئیل امین علیہ السلام ’’حیزوم‘‘
نامی گھوڑی پر بیٹھ کر زمین پر اتر آئے… حضرت میکائیل علیہ السلام بھی عمامہ
باندھ کر میدان بدر میں آپہنچے… اور پھر فرشتوں کی ایک قطار تھی آسمان سے زمین
تک… اللہ تعالیٰ کی اس پیاری جماعت کو پانی کی ضرورت پڑی
تو ہوائیں مچل گئیں… اور بادل جھوم جھوم کر برسنے لگے… تھوڑا سا قرآن پاک پر غور
فرمائیں… فرشتے اتر رہے ہیں اور جنگ میں شریک ہیں، بادل برس برس کر مجاہدین کی
نصرت کر رہے ہیں… غیبی سکون اونگھ اور نیند کی صورت میں اس جماعت کے ذہنوں کو
آسودہ کر رہا ہے… نصرت کی خاص ہوا جس کا نام ’’صبا‘‘ ہے خوب مزے کے ساتھ چل رہی
ہے… عرب کے طاقتور ترین ایک ہزار مسلح جنگجو… تین سو تیرہ مجاہدین کے ہاتھوں گاجر
مولی کی طرح کٹ رہے ہیں… کہ اچانک آواز آتی ہے… جی ہاں عرش کے اوپر سے آواز آتی
ہے کہ… نصرت ومدد کے یہ سارے مناظر تو بس دل کا سکون ہیں… اے مسلمانو! تمہاری اصل
نصرت تو ہم نے کی ہے…
وَمَا
النَّصْرُ اِلاَّ مِنْ عِنْدِ اللہ
اصل
نصرت تو اللہ تعالیٰ کی ہے… فرشتے بھی اس کے، بادل بھی اس کے،
نیند بھی اس کی… مگر مسلمانوں کی جماعت ان چیزوں پر بھی نظر نہ رکھے… اصل مدد ہم
خود فرما رہے ہیں… اور سنو یہ جنگ بھی ہم نے خود لڑی ہے…
فَلَمْ
تَقْتُلُوْہُمْ وَلٰـکِنَّ اللہ قَتَلَہُمْ
اے
مسلمانو! تم نے ان مشرکوں کو قتل نہیں کیا… بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں قتل فرمایا ہے…
اللہ تعالیٰ کی یہ پیاری جماعت غزوہ بدر کی فاتح بن
کر مدینہ منورہ آئی… مہاجرین کی قربانی… انصاری کی نصرت… اور قوم، قبیلے، وطن،
زبان اور مال کی لالچ سے آزادی… یہ جماعت طاقت پکڑتی گئی… پھر غزوہ احد میں امیر
کی نافرمانی کی سزا اس جماعت کو بھگتنی پڑی… انہوں نے اطاعت کا مزہ غزوہ بدر میں
چکھا تھا… اب اس بات کی ضرورت تھی کہ نافرمانی کی سزا کو بھی دیکھ لیں… کیونکہ یہ
جماعت قیامت تک کے لئے نمونہ تھی… اور آنے والے مسلمانوں کے لئے ’’مثال‘‘ تھی…
غزوہ احد میں امیر کی نافرمانی کی سخت سزا ملی… مگر پھر انہیں معاف کردیا گیا… اب
وہ ’’نافرمانی‘‘ کے لفظ سے ہی نفرت کرتے تھے… اطاعت کا جذبہ اور نافرمانی سے نفرت…
اب اس جماعت کا مقابلہ دنیا کی کوئی طاقت نہیں کر سکتی تھی… انہوں نے یہودیوں کے
طاقتور قلعوں کی طرف رخ کیا… تو بنی اسرائیل کے خونخوار بھیڑئیے اپنی دم دبا کر
گیدڑ بن گئے… کسی نے ہتھیار ڈالے تو کسی نے جان گنوائی… اب یہ جماعت واپس مکہ
مکرمہ کی طرف جارہی ہے… اسے فتح کرنے نہیں صرف ’’عمرہ‘‘ کرنے… مشرکین نے راستہ
روکا… جماعت کا ایک رکن مذاکرات کرنے گیا… خبر آئی کہ شہید ہوگیا… بس پھر کیا تھا
چودہ سو مقدس ہستیوں نے بھی مرنے کا عزم کرلیا… ایک درخت کے نیچے چودہ سو ہاتھ…
اپنے امیر اور آقا کے ہاتھ پر تھے… اچانک اوپر سے آواز آئی… جی ہاں عرش کے اوپر
سے کہ… اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بھی تمہارے ہاتھوں کے اوپر ہے…
جماعت نے ’’اجتماعیت‘‘ دکھائی تو مکہ کا شرک لرزنے لگا… وہ جو مارنے پر تلے تھے
مذاکرات اورصلح پر آمادہ ہوئے… اور مسلمانوں کا نمائندہ بھی زندہ سلامت واپس
آگیا… یہاں ’’جماعت‘‘ اور ’’اجتماعیت‘‘ کے بیسیوں دلکش مناظر دیکھنے میں ملتے
ہیں… مسلمانوں کے نمائندے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ … جب مکہ مکرمہ مذاکرات کے لئے گئے تو وہاں
کے ایک سردار نے انہیں دعوت دی کہ… عثمان! تمہیں میری پناہ حاصل ہے کعبہ کا طواف
کرلو… جماعت کے نمائندے نے کہا… اپنے امیر اور جماعت کے بغیر میں یہ سعادت حاصل
نہیں کروں گا… تب دنیا میں کون تھا جو ایسی جماعت کے سامنے ٹھہر سکتا … جو اسلام
ہجرت اور جہاد کے بنیاد پر ایک جسم اور ایک جان بن چکی تھی… یہ لوگ بڑھتے گئے… اور
زمین ان کے قدموں تلے سمٹتی گئی… ایک وقت تھا کہ زمین پر ان کے رہنے کی جگہ نہ
تھی… مگر پھر وہ وقت آیا کہ وہ زمینوں اور سمندروں کے حکمران بن گئے… دنیا کے طاقتور
لشکر ان کے سامنے آکر لڑنا بھول جاتے تھے… اور بپھرے ہوئے سمندر کو یہ یاد نہیں
رہتا تھا کہ اس کا کام ڈبونا ہے… آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے… صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جماعت کی کمان سنبھال لی… اور ان لوگوں
کا صفایا کردیا جو جماعت میں رخنہ ڈال رہے تھے… فاروق اعظم رضی اللہ عنہ آئے تو مدینہ منورہ میں قائم ہونے والی
اسلامی ریاست… آدھی دنیا تک پھیل گئی… آپ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے زمانے کے حالات اور فتوحات پڑھ کر دیکھ
لیں… انسان کی عقل حیرانی کے مارے سوچنا چھوڑ دیتی ہے… اور انسان کے حواس پر ہیبت
چھا جاتی ہے… کہاں روم وفارس کی سپر طاقتیں اور کہاں اونٹ چرانے والے دیہاتی بدّو…
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ’’جماعت‘‘ اور ’’اجتماعیت‘‘ اس
قدر طاقتور تھی کہ… ہزاروں میل دور بیٹھے ہوئے گورنر اور کمانڈر اپنے لباس
اورکھانے تک کی اجازت… امیرالمؤمنین سے لیتے تھے… حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے عین جنگ کے دوران… عالم اسلام کے سب سے
بڑے کمانڈر اور فاتح… حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ان کے منصب سے معزول فرمادیا… یہ اپنی
نوعیت کا انوکھا واقعہ ہے… حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اپنے سپاہیوں کے دلوں پر راج کرتے تھے… اور
وہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی ’’تلوار‘‘ تھے… مگر ان کی معزولی کے
واقعہ سے بھی ’’جماعت‘‘ پر کوئی فرق نہیں آیا بلکہ جماعت کا ہر فرد… شخصیت پرستی
کی بجائے… جماعت کی حفاظت میں لگا رہا… خود حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر جس نیک نفسی، عالی ہمتی، حق
پرستی… اور ’’اجتماعیت‘‘ کا ثبوت دیا… دنیا اس کی مثال پیش نہیں کرسکتی… جبکہ عام
مسلمانوں کی حالت یہ تھی کہ انہوں نے بھی کسی طرح کے فتنے کو سر نہیں اٹھانے دیا…
مؤرخین نے لکھا ہے:
’’حضرت
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے حمص پہنچ کر اپنی معزولی کے متعلق ایک
تقریر کی… تقریر میں یہ بھی کہا کہ امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ کو شام کا افسر مقرر کیا اور جب میں
نے تمام (ملک) شام کو زیر کرلیا تو مجھ کو معزول کردیا… اس فقرے پر ایک سپاہی اٹھ
کھڑا ہوا اور کہا کہ اے سردار چپ رہ، ان باتوں سے فتنہ پیدا ہوسکتا ہے، خالد رضی اللہ عنہ نے کہا ’’ہاں! لیکن عمر رضی اللہ عنہ کے ہوتے ہوئے فتنہ کا کیا احتمال ہے؟ ‘‘
(الفاروق ص۱۲۷)
چونکہ
دونوں طرف سے نیت صاف تھی… اور مقصود اپنی ذات نہیں تھی اس لیے جلد ہی دل صاف
ہوگئے… اور محبت واحترام میں پہلے سے بھی اضافہ ہوگیا… چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ سے مالی حساب لینے کے بعد فرمایا:
’’خالد!
و اللہ تم مجھ کو محبوب بھی ہو اور میں
تمہاری عزت بھی کرتا ہوں‘‘
اس
کے بعد اپنے تمام عہدیداروں کو خط لکھا کہ ’’میں نے خالد رضی اللہ عنہ کو ناراضی یا خیانت کی وجہ سے معزول نہیں
کیا… لیکن میں دیکھ رہا تھا کہ لوگ ان کی وجہ سے فتنہ میں پڑتے جارہے تھے (کہ
فتوحات ان کی بہادری اور جنگی حکمت عملی کی وجہ سے ہورہی ہیں) اس لیے میں نے ان کا
معزول کرنا مناسب سمجھا تاکہ لوگ یہ سمجھ لیں کہ جو کچھ کرتاہے اللہ تعالیٰ کرتاہے۔‘‘(ملخص از الفاروق)
اگر
خدانخواستہ اس موقع پر کچھ لوگ… حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو مظلوم قرار دے کر ان کی حمایت میں کھڑے
ہوجاتے… یا حضرت خالد رضی اللہ عنہ اس فکر میں پڑ جاتے کہ میرے بغیر ’’کام‘‘ کا
کیا ہوگا… تو مسلمانوں کی جماعت میں رخنہ پڑ جاتا… فتوحات رک جاتیں… اور خود حضرت
خالد رضی اللہ عنہ جیسے عظیم فاتح بھی تاریخ کا ایک متنازعہ
کردار بن جاتے… مگر یہ سب کچھ نہیں ہوا… مسلمانوں کی جماعت قائم رہی… حضرت خالد بن
ولید رضی اللہ عنہ عام سپاہی بن کر جہاد کرتے رہے… ان کا کام،
اجر اور نام سب کچھ محفوظ رہا… آج تاریخ انہیں سلام پیش کرتی ہے… اور ہرمؤرخ ان
کے جوتوں کی خاک کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بناتا ہے… یہ سب کچھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تربیت کا نتیجہ تھا… جو آپ نے
’’جماعت‘‘ کی حفاظت کے سلسلے میں بہت محنت سے فرمائی تھی… وقت گزرتا گیا اور اسلام
میں نئے لوگ آتے گئے… اسلام، ہجرت اور جہاد کی جگہ قوموں، قبیلوں اور زبانوں کے
نعرے بھی گونجنے لگے تب… زمین نے بھی اپنے تیور بدل لیے… اور آسمان کا انداز بھی
بدل گیا…
ہم
مسلمانوں کی چودہ سو سالہ تاریخ… اس طرح کے کئی عروج و زوال… اور نشیب وفراز کی
داستانوں سے بھری پڑی ہے… اللہ تعالیٰ کا قانون اٹل ہے… مسلمانوں نے جب بھی
اسلام اور جہاد کی بنیاد پر جماعت قائم کی… اور ایک امیرکی اطاعت میں متحد ہوئے تو
انہیں غلبہ ملا… اور کامیابی نے ان کے قدم چومے… اور جب بھی مسلمانوں کی جماعت
ٹوٹی… وہ برباد ہوئے اور انسانوں کے جنگل میں بے سہارا مارے گئے… سات سال پہلے ایک
گرم رات ہم نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا… وہ خوفناک سیٹیاں آج بھی کانوں میں
گونج رہی ہیں… خوف، پریشانی، اور بے بسی کے وہ مناظر آج بھی اچھی طرح سے یاد ہیں…
ہم ایک جماعت تھے تو سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا… ہم سرنگ کھود رہے تھے، اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کو اندھا فرمادیا تھا… تین چار
مہینے تک وہ کچھ نہ دیکھ سکے… جبکہ ہم… ہر آئے دن اللہ تعالیٰ کی نصرت کے عجیب مناظر دیکھ رہے تھے… اللہ اکبر! بہت عجیب مناظر… اگر ان تمام مناظر کو
بیان کروں تو ظاہر بین دنیا کے بہت سے لوگ ماننے سے انکار کردیں گے… ہم خوش تھے
کہ… اللہ تعالیٰ کی یہ نصرت ہم پر نازل ہو رہی ہے… مگر جب
جون کی گرم رات… لاٹھیاں برس رہی تھیں تو ہمیں پتہ چلا کہ… وہ غیبی نصرت ہم پر
نہیں… جماعت پر تھی… ہاں بے شک ’’جماعت‘‘ پر تھی… کاش مسلمان سمجھیں! … کاش
مجاہدین اسے اپنے خون کا حصہ بنائیں…
(اس
قصے کی کچھ تفصیل اور باقی باتیں آئندہ ہفتے… ان شاء اللہ تعالیٰ…)
٭٭٭
اللہ تعالیٰ معاف فرمائے… پچھلے مضمون کی دوسری قسط
لکھنے کا ارادہ تھا مگر… جناب عرفان صدیقی صاحب کے تازہ مضمون نے ’’خیال جی‘‘ کو
بھڑکادیا… اس لیے اس ہفتے آپ ’’خیال جی‘‘ کی خیالی باتوں پر گزارہ کریں… اللہ تعالیٰ نے موقع عطا فرمایا تو ’’خوفناک رات‘‘ کی
دوسری قسط ان شاء اللہ اگلی بار پیش خدمت کی جائے گی…
خیال
جی کا سفر نامہ امریکہ
میرا
نام خیال جی ہے… میں آج امریکہ جارہا ہوں… کل میں نے ’’القلم‘‘ کے تازہ شمارے میں
عرفان صدیقی صاحب کا کالم پڑھا… انہوں نے صدر بُش کے خلاف بہت سی باتیں لکھی ہیں…
ایک روشن خیال یعنی بُش کا وفادار پاکستانی ہونے کے ناطے میں نے سوچا کہ ’’حقِ
نمک‘‘ ادا کروں … اور لگے ہاتھوں صدر بش سے اس مضمون کا جواب لے آؤں… کیونکہ اس
مضمون میں صدر بش سے کہا گیا ہے … بادشاہِ عالم پناہ کچھ تو بولیں!…
امریکی
سفارتخانے میں
میں
نے اپنا پاسپورٹ اٹھایا اور ویزہ لگوانے کیلئے امریکی سفارت خانے جا پہنچا… امریکی
سفیر کو جیسے ہی خبر ہوئی کہ ایک ’’پاکستانی‘‘ شہری ویزہ لینے آیا ہے تو وہ بھاگ
کر اپنے دفتر سے باہر نکل آئے… گھٹنے چھو کر انہوں نے مجھے سلام کیا… اور کہنے
لگے… زہے نصیب کیسے تشریف لانا ہوا؟… میں نے بتایا کہ امریکہ جانا چاہتا ہوں، ویزہ
لینے آپ کے پاس آیا ہوں… میری بات سن کر امریکی سفیر کی چیخ نکل گئی… بڑی مشکل
سے جذبات پر قابو پاکر کہنے لگے… ارے صاحب! آپ نے تو شرمندہ کردیا… آپ مجھے فون
کر دیتے اور پاسپورٹ بھجوادیتے… میں ویزے کی مہر لگا کر خود آپ کے پاس پاسپورٹ لے
کر آجاتا… آپ پاکستانیوں نے ہماری خاطر اپنا دین اور دنیا تباہ کی… آپ لوگوں نے
ہماری خاطر اپنے سینکڑوں لوگوں کو ذبح کیا… آپ حضرات نے ہمیں اپنے فضائی اڈے
دئیے… تو کیا ہم ایک معمولی سے ویزے کے لئے آپ کو لائن لگوائیں گے؟…
اے
پاکستانی بھائی! آج تو آپ نے مجھے شرمندہ کردیا… چلیں آپ میرے دفتر میں تشریف
رکھیں… میں خود آپ کا فارم پرُ کرتا ہوں… اور مہر لگواکے آتا ہوں… میں سفیر صاحب
کے کمرے میں ٹھاٹھ سے بیٹھ گیا… انہوں نے میرے لئے کافی منگوائی… میں کافی پیتا
رہا اور وہ بھاگ بھاگ کر ویزے کے مراحل طے کراتے رہے…
امریکن
ائیرلائن کے جہاز میں
سفیر
صاحب نے پاسپورٹ میرے حوالے کیا… اور ایک دوسرا لفافہ بھی… میں نے پوچھا اس میں
کیا ہے؟… کہنے لگے امریکن ائیرلائن کا ٹکٹ ہے… آپ پاکستانی ہماری صلیبی جنگ کا
ہراوّل دستہ ہیں… یہ ٹکٹ قبول فرمائیں… میں نے بورڈنگ بھی کرادی ہے… رات کو میں
ائیرپورٹ پہنچا… امیگریشن کا مرحلہ منٹوں میں طے ہوگیا… جہاز کے عملے نے میرے لیے
خصوصی سیڑھی لگائی… اور مجھے بزنس کلاس کی فرنٹ سیٹ پر بٹھایا… جہاز کے کپتان نے
آکر مجھے خوش آمدید کہا… مرحبا اے پاکستانی! ہمارا جہاز خوش نصیب ہے کہ آپ اس
پر بیٹھے ہیں… آپ نے ہمیں ابوزبیدہ پکڑ کر دیا… آپ نے ہمیں ابوالفرج اللّیبی
گرفتار کرکے دیا… آپ نے چھ سو مسلمان زنجیروں میں باندھ کر ہمارے حوالے کیے…ہم
امریکی لوگ اپنے آپ کو… پاکستان میں امریکہ سے زیادہ باعزت اور بااختیار دیکھتے
ہیں… خوش آمدید اے غیرت مند پاکستانی… امید ہے آپ کا سفر ہمارے ساتھ خوشگوار
گزرے گا… وہ سارا راستہ مجھے کھلاتے پلاتے گئے… اور بگرام، ابوغریب اور گوانٹا
ناموبے کی دلکش کہانیاں سناتے رہے… انہوں نے مجھے بتایا کہ ان تمام کارناموں میں
آپ کا حصہ اور ثواب بھی شامل ہے…
امریکی
ایئرپورٹ پر
میں
جہاز سے اُتر کر جیسے ہی لاؤنج میں پہنچا … پورا ائیرپورٹ خوفناک الارم سے گونج
اٹھا… مجھے بتایا گیا کہ یہ الارم اور سرخ بتیاں معزز پاکستانی کا استقبال ہیں…
امیگریشن کے عملے نے منٹوں میں مجھے فارغ کردیا… میں نے پوچھا تلاشی کہاں ہوں گی؟…
جواب ملا ارے جناب! آپ کی تلاشی؟… کیا آپ پاکستانیوں نے کبھی ہم امریکیوں سے
تلاشی لی ہے؟… جب آپ نہیں لیتے تو ہم کیوں لیں؟… آپ ہمارے محسن ہیں… ہمارے جہاز
آپ کے اڈوں سے اڑ کر افغانستان کے دہشت گرد بچوں کا قیمہ بناتے ہیں… ہم ایسے بے
وفا اور طوطا چشم نہیں کہ آپ کی تلاشی لیں… آپ وی آئی پی لاؤنج کا راستہ پکڑیں
اور بے دھڑک امریکہ میں داخل ہوجائیں…
ایئرپورٹ
کے باہر
معلوم
نہیں کس نے یہ خبر اڑادی تھی کہ ایک پاکستانی… امریکہ تشریف لا رہا ہے… ایئرپورٹ
کے باہر ہجوم ہی ہجوم تھا… سب سے پہلے اسکول کے بچوں نے مجھے گلدستے پیش کیے… اور
ترانہ گایا:
مرحبا
اے پاکستانی…!
اے
وردی والے…!
اے
مرد میدانی…!
قبائلی
مسلمانوں کی لاشیں …
اور
فوجیوں کے چھلنی بدن…
صرف
ہماری خاطر…
صرف
ہماری خاطر…
واہ
واہ…!!
کیسی
ہے غیرت…
اور
کیسی جوانی…
مرحبا!
اے پاکستانی…!
اس
کے بعد مجھے این جی اوز کی عورتوں نے گھیر لیا… جب میں نے انہیں حسرت کے ساتھ
بتایا کہ میں مختاراں مائی نہیں… خیال جی ہوں… اور افسوس کہ میرے حقوق بھی محفوظ
ہیں تو وہ مایوس ہو کر چلی گئیں… شاید انہیں خبر تھی کہ مختاراں مائی تشریف لارہی
ہیں… اس کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت ہوئی… وہ سب دہشت گردی کے خلاف جنگ
میں ہمارے کردار پر تعریفیں کر رہے تھے… میں نے شکریہ، شکریہ… اور تھینک یو، تھینک
یو کرکے ان سے جان چھڑائی… ورنہ وہ تو میری تعریف میں زمین وآسمان کے قلابے ملا
رہے تھے… ایک نے تو یہ تاریخی جملہ بھی کہہ دیا کہ… نیپال جیسا ملک بھی ہماری اتنی
فرمانبرداری نہیں کرتا جتنی آپ پاکستان والے کر رہے ہیں… میں نے بے نیازی کے ساتھ
اُس کی بات سنی اور فخر کے جذبات کو چھپاتا ہوا ٹیکسی میں آ بیٹھا…
وہائٹ
ہاؤس میں
راستے
میں جس امریکی کو پتہ چلتا کہ میں ٹیکسی میں جارہا ہوں… وہ محبت کے ساتھ گردن اٹھا
کر مجھے دیکھتا ہی چلا جاتا… کئی ایک نے مجھے روک کر کچھ کھلانے پلانے کی بھی کوشش
کی … مگر میرے پاس وقت کی کمی تھی… ڈرائیور نے بتایا کہ ازبکستان نے ہم امریکیوں
کو ایک فضائی اڈہ دیا تھا… ہم نے اُن کے خلاف ایک بیان دیا تو انہوں نے وہ اڈہ
واپس لے لیا… آپ پاکستانیوں نے ہمیں تریسٹھ اڈے دئیے… ہم نے آپ لوگوں کو
’’کتّا‘‘ بنایا… آپ لوگوں پر انڈیا کو ترجیح دی… مگر آپ نے اڈے خالی کرانے کی
بات نہیں کی… ہم آپ لوگوں کی غیرت کو سلام کرتے ہیں… اس کی بات سن کر فخر کی وجہ
سے مجھے اپنا سینہ پھولتا ہوا محسوس ہوا…
تھوڑی
دیر میں ہم وہائٹ ہاؤس کے سامنے تھے …پروٹوکول افسر نے آگے بڑھ کر گاڑی کا
دروازہ کھولا… اور کہنے لگا… تشریف لائیے! مرحبا اے پاکستانی… آپ نے ہماری خاطر
اپنے ملک کے چاروں طرف آگ لگادی… اور اپنے تمام بارڈر غیر محفوظ بنادئیے… آپ نے
ہماری خاطر ہمارے سٹی بینک کے نائب صدر کو اپنے ملک کا وزیر اعظم بنادیا… آپ نے
ہماری خاطر کشمیر کی تحریک سے ہاتھ دھولیے… اے پاکستانی! آپ کے کارنامے بہت بلند
اور آپ کی غیرت کی داستان بہت طویل ہے… تشریف لائیے وہائٹ ہاؤس آپ کا منتظر ہے…
استقبالی
نغمے
پروٹوکول
افسر نے بتایا کہ ہم نے آپ کے استقبال کے لئے… رنگارنگ تقریب منعقد کی ہے… میں نے
اسے کہا یار! جلدی صدر بش سے ملاؤ… مجھ میں اپنی تعریف سننے کی مزید ہمت
نہیں ہے… اس نے کہا چلیں بس اس تقریب کو مختصر کردیتے ہیں… ہمارے پاپ سنگرز اُچھل
کود کر ایک نغمہ سنائیں گے… آپ اسے اپنے لیے اکّیس توپوں کی سلامی سمجھیں… وہ
مجھے ایک ہال میں لے گیا… میرے داخل ہوتے ہی ہال تالیوں اور سیٹیوں سے گونجنے لگا…
ہر کوئی گردن اٹھا کر میری زیارت کر رہا تھا… آفیسر نے بھاری آواز میں اعلان
کیا… خواتین وحضرات! معزز پاکستانی کے پاس وقت کم ہے… بس وہ ایک نغمہ سنیں گے… اور
صدر سے ملنے چلے جائیں گے… اس نے فنکاروں کو اشارہ کیا… لمبے بالوں والے مرد اور
چھوٹے بالوں والی عورتیں ہاتھوں میں گٹار اٹھا کر اسٹیج پر آگئے… اور انہوں نے
اُچھل اُچھل کر نغمہ گانا شروع کردیا… اس نغمے کا مفہوم کچھ یوں تھا:
واہ،واہ،واہ
پاکستانی…!!
واہ،واہ،واہ
پاکستانی…!!
تم
نے ہمیں کندھا دیا…
تم
نے ہمیں سب کچھ دیا…
تم
جیسا ہم نے دیکھا نہیں…
ہمارے
لیے اتنا نرم…
اور
…
اپنوں
پر اتنا گرم…
ہمارے
لیے پیار نچھاور…
اپنوں
پر بے دردی…
ہمارے
لیے سوٹ اور ٹائی…
اپنوں
کے لئے وردی…
واہ،واہ،واہ
پاکستانی…!!
یہ
نغمہ سن کر غرور کی وجہ سے میری گردن تن گئی… اور میں سوچنے لگا کہ ہمارے روشن
خیال حکمرانوں نے اپنے کارناموں کی وجہ سے… ملک اور قوم کا نام کتنا بلند کردیا
ہے… حالانکہ پاکستانی قوم کی اکثریت ویسی نہیں ہے … جیسے امریکہ والے سمجھ رہے
ہیں…
پہلی
ملاقات
پروٹوکول
افسر مجھے ایک آراستہ کمرے میں لے گیا… یہاں ایک دردناک منظر میرا منتظر تھا…
میرا جاننے والا پنجاب کا ایک کالا سا لڑکا… جو بس کا کنڈیکٹر ہواکرتا تھا… اس
کمرے میں موجود تھا… مجھے یہ دیکھ کر صدمہ پہنچا کہ اس نے چھوٹی سی نیکر اور کالر
والی ایک مختصر سی قمیض پہن رکھی ہے… میرے دل سے آہ نکلی کہ ہائے بیچارہ!… جب یہ
پنجاب میں بس کا کنڈیکٹر تھا تو اس کے پاس پوری شلوار ہوتی تھی… اب امریکہ میں آ
کر اتنا غریب ہوگیا کہ… ایک چھوٹی سی نیکر پہننے پر مجبور ہے… میں آگے بڑھ کر اس
سے افسوس اور تعزیت کرنے ہی والا تھا کہ… پروٹوکول افسر نے مجھے بتایا… یہ ہمارے
ملک کی وزیر خارجہ مس کونڈا لیزا رائس ہیں…
وزیر
خارجہ سے ملاقات
مجھے
افسوس ہوا کہ میں اتنی مشہور ہستی کو نہیں پہچان سکا… وہ آگے بڑھیں اور فرمانے
لگیں مرحبا! اے پاکستانی! وہائٹ ہاؤس آپ کی آمد پر خوشی محسوس کر رہا ہے… آپ
نے ہماری خاطر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو قید کیا… آپ نے ہماری خاطر جہادی تنظیموں
پر پابندی لگائی… آپ نے ہماری خاطر مدارس کے نصاب میں تبدیلی کا بیڑہ اٹھایا… آپ
نے ہماری خاطر وہ سب کچھ کیا جو ایک ذرہ برابر غیرت رکھنے والا انسان بھی کسی کی
خاطر نہیں کرسکتا… میں آپ کا استقبال کرتی ہوں… صدر بش ابھی ابھی… مجھ سے پوچھ کر
ٹوائلٹ تشریف لے گئے ہیں… وہ آتے ہی آپ سے ملاقات کریںگے…
چند
نصیحتیں
پروٹوکول
افسر مجھے ایک کونے میں لے گیا… اس نے رازداری کے انداز میں کہا… صدر بش کی
خوشنودی حاصل کرنے کے لئے آپ اُن کی ہر بات کی تعریف کریں… باقی ان کی زبان
سمجھنے میں آپ کو کچھ دِقّت ضرور ہوگی… ان کے منہ سے بکثرت ہوا نکلتی ہے اور پھر
وہ ’’ہوا‘‘ ان کے الفاظ میں شامل ہوجاتی ہے…چنانچہ وہ پاکستان کو ’’پھَیکِشْٹان‘‘
اور ٹوائلٹ کو ’’ٹھوائلٹ‘‘ کہتے ہیں… اسی طرح افغانستان ان کے منہ سے
’’اَفگِھینشٹان‘‘ بن کر نکلتا ہے اور کرزئی کو وہ ’’کھر زئی‘‘ کہتے ہیں…
صدر
سے ملاقات
صدر
صاحب ٹوائلٹ سے بہت ہشاش بشاش حالت میں نکلے… وہ یوں مسکرا رہے تھے جیسے ابھی کسی
ملک پر بمباری کرکے آرہے ہوں… پروٹوکول افسر نے مجھے بتایا کہ… وہ کھانا کھڑے ہو
کر کھاتے ہیں اور مصافحہ بیٹھ کر کرتے ہیں… اس لیے آپ ان کے برابر والی کرسی پر
بیٹھ جائیں… میں نے ایسا ہی کیا… صدر بش اچانک میری طرف مڑے اور انہوں نے اپنا
ہاتھ آگے بڑھادیا… مصافحہ کے بعد گفتگو شروع ہوئی…
انہوں
نے پاکستان کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملادئیے… اور بتایاکہ ہمیں اتنے
زیادہ تعاون کی بالکل امید نہیں تھی… آپ لوگوں نے تو اپنا دین، ایمان سب کچھ
ہمارے لیے بیچ دیا… اور قیمت بھی بہت کم لی… اب سنا ہے کہ حدود آرڈیننس کا بھی
خاتمہ کرنے والے ہیں…
صدر
بش تعریفوں پر تعریفیں کرتے جار ہے تھے… اور میں ہر تعریف پر شعرا ء کی طرح آداب!
آداب! کہہ رہاتھا… تعریفوں کا طوفانِ بدتمیزی تھما تو انہوں نے میرے اس طرح اچانک
آنے کی وجہ پوچھی… میں نے ’’القلم‘‘ نکال کر سامنے رکھ دیا کہ پاکستان کے ایک
صحافی نے آپ سے جواب مانگا ہے… صدر بش نے کہا… میں پڑھنے لکھنے سے پرہیز کرتا
ہوں… تم یہ اخبار ڈاکٹر رائس کو دے دو… یہ پڑھ کر مجھے بتادیں گی … پھر میں میڈیا
کے سامنے جواب دوں گا… مگر اس شرط پر کہ… ’’تالی مار‘‘ طبقہ موجود ہو جو میری ہر
بات پر تالیاں پیٹے…
مضمون
کا جواب
کانفرنس
ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا… پوری دنیا کا میڈیا جمع تھا… کیمرے بجلیاں پھینک رہے
تھے… اور ’’تالی مار‘‘ طبقہ تالیوں کے لئے بالکل تیار بیٹھا تھا… صدر بش اچانک
نمودار ہوئے… پہلے خاموش کھڑے رہے، پھر اچانک مسکرانے لگے… کیمرے ان کی ادائیں
محفوظ کر رہے تھے… اور ’’تالی مار‘‘ان کی ہر مسکراہٹ اور ٹھمکے پر تالیاں نچھاور
کر رہے تھے… صدر نے کہا…
’’پھیکشٹان
کے ایک صحافی نے مجھ سے جواب مانگا ہے… میں جواب فوراً دے دیتا… مگر میں
’’ٹھوائلٹ‘‘ میں تھا…‘‘
(تالیاں،
زور دار تالیاں)
’’صحافی
نے لکھا ہے کہ تم ’’فرعون‘‘ کا انجام یاد رکھو… مجھے ’’فرعون‘‘ کے بارے میں پتہ
نہیں تھا… ڈاکٹر کونڈا نے بہت محنت کرکے اس کی اسٹوری اور انجام معلوم کرکے… مجھے
بتایا… میرا خیال ہے کہ فرعون پاگل تھا کہ خود… پیغمبر موسیٰ ؑ کے پیچھے نکل
پڑا… میں ایسا پاگل نہیں ہوں… میں ہر جگہ اپنے فوجی بھیج کر انہیں مرواتا ہوں… اور
خود زیرِ زمین بنکر میں چُھپ جاتاہوں… اب بتاؤ میرا انجام فرعون جیسا کس طرح
ہوسکتا ہے؟ ‘‘
(تالیاں،زوردار
تالیاں)
’’دوسری
بات یہ کہ فرعون ڈوب کر مرا تھا… شاید اسے سوئمنگ (تیراکی) نہیں آتی تھی… میں اب
تیراکی سیکھنا شروع کر رہا ہوں…‘‘
(تالیاں)
’’تیسری
بات… ڈوب کر وہ مرتا ہے جس میں کچھ شرم ہوتی ہے… پھر میں کیسے ڈوب کر مر سکتا
ہوں؟‘‘
(زوردار
تالیاں)
’’اے
پھیکشٹانی صحافی!… مجھے سمجھانے سے پہلے اپنے گھر کی خبر لو… میں ملک کا صدر ہوں…
مگر جب میری صدارت کی میعاد ختم ہوجائے گی تو میں ایک دن کے لئے بھی اس میں اضافہ
نہیں کرسکتا…مگر تم… پندرہ کروڑ انسان ایک بوٹ کے نیچے دبے ہوئے ہو… اٹھاون سال
ہوگئے تم سارے مل کر صرف یہ قانون بھی نہ بنا سکے کہ… ہر فوجی اور سرکاری افسر
اپنے وقت پر ریٹائر ہوجائے… تمہاری تو یہ حالت ہے کہ … ایک شخص اپنی پینٹ کی جیب
سے… دو روپے کا بال پین نکال کر… خود کو ملک کا تاحیات صدر… اور فوج کا تاحیات
سربراہ لکھ سکتا ہے… اور تم پندرہ کروڑ انسان دو روپے کے بال پین کی لکیر کے نیچے
دَب کر رہ جاتے ہو… ہم چاہتے ہیں تمہارے ہاں ایسا ہی ہوتا رہے… اور تم بھیڑوں
بکریوں کی طرح ہانکے جاتے رہو… تم سب ایک بوٹ کے نیچے ہو… اور وہ بوٹ ہمارے نیچے
ہے…‘‘
(تالیاں،
زور دار تالیاں)
’’اے
صحافی! میں نے آپ کے مضمون کا دو ٹوک جواب دے دیا ہے… اب آپ میری بات کا جواب
دیں… اور کچھ تو بولیں…‘‘
صدر
بش فاتحانہ انداز میں پریس کانفرنس ختم کرنا چاہتے تھے کہ ایک صحافی کھڑا ہوگیا…
اور کہنے لگا … جناب صدر! آپ نے مضمون کے آخری حصے کا جواب نہیں دیا…
صدر
نے کہا وہ حصہ پڑھو… صحافی پڑھنے لگا…
’’آج
تم زرقاوی کو شہید کرکے شادیانے بجا رہے ہو…
تمہیں
شاید اندازہ نہیں…
کہ
زرقاوی مرا نہیں کرتے!
شہادتوں
سے ہمکنار قافلے لٹا نہیں کرتے…
ان
کے ہر قطرۂ خون سے ایک چمن ایجاد ہوتا ہے…
کیا
تم دیکھ نہیں رہے کہ یہ چمنستان چار سو لہلہانے لگے ہیں؟
کچھ
تو بولو…!
کچھ
تو کہو…!‘‘
مضمون
کا یہ حصہ سن کر صدر کے چہرے کا رنگ بدل گیا… وہ تھوڑی دیر خاموش رہے… پھر پہلو
بدل کر بلند آواز سے بولے:
’’لیڈیز
اینڈ جنٹھلمین!
میں
ٹھوائلٹ جا رہا ہوں‘‘
(تالیاں،
زوردار تالیاں)
’’باقی
باتوں کا جواب وزیر خارجہ دیں گی… ‘‘
صدر
صاحب تیزی سے واپس چلے گئے… وزیر خارجہ کالج کی استانیوں کی طرح میٹھی زبان میں
کڑوا لیکچر دینے لگیں… صحافی اُکتا اُکتا کر اٹھنے لگے… اسی اثناء میں میرا
’’خیال‘‘ بھی ٹوٹ گیا… میں نے دیکھا کہ میں ’’القلم‘‘ سینے پر رکھے اپنے کمرے میں
لیٹا پڑا ہوں… جون کے مہینے کی گرمی میرا پسینہ نچوڑ رہی ہے… چھت کا … پنکھا گرم
ہوا پھینک رہا ہے… اچانک میری آنکھوں میں آنسو رینگنے لگے… میں ابھی جس ’’خیال‘‘
میں گم تھا وہ مجھے یاد آنے لگا… اور یہ بات سوچ کر میرا دل بیٹھنے لگا کہ… کہیں
ہمارے حکمران صدر بش کی خاطر… اس ملک کا نام ’’پھیکشٹان‘‘ ہی نہ رکھ دیں… ابھی اور
کچھ نہیں تو چلیں…ملک کا نام تو سلامت ہے… مسلمانوں کا ’’پاکستان‘‘… علامہ اقبالؒ
کا ’’پاکستان‘‘… علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کا ’’پاکستان‘‘… لاکھوں شہداء کا
’’پاکستان‘‘…
یا
اللہ ! شہداء کرام کے اس ملک ’’پاکستان‘‘
کی حفاظت فرما… اور اسے اپنے ’’نظریۂ وجود‘‘ پر واپس آنے کی توفیق عطاء فرما
(آمین)
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کبھی ہنساتا ہے… اور کبھی رُلاتا ہے… یہ
بات قرآن پاک نے اس طرح بیان فرمائی ہے… وَاَنَّہ ٗ ہُوَ اَضْحَکَ
وَاَبْکٰی… میں جب بھی ’’جیل‘‘ اور ’’قید‘‘ کے واقعات یاد کرنے بیٹھتا ہوں تو کبھی
ہنستا ہوں… اور کبھی روتا ہوں… اللہ کرے ہمارا رونا اورہنسنا سب اللہ تعالیٰ کی رضا والا بن جائے… پہلے ایک بار جیل
کی کہانی شروع کی تو پھر اچانک اسے ادھورا چھوڑ دیا… دل میں تمنا تھی کہ سارے
ساتھی واپس آجائیں پھر یہ کہانی مکمل کروں گا… ابھی جون کے گرم مہینے کی ایک رات
خواب میں برادر محترم کمانڈر سجاد خان شہید رحمہ اللہ سے
ملاقات ہوئی تو … مجھے وہ ’’خوفناک رات‘‘ یاد آگئی… جس رات کے زخموں نے ’’سجاد
شہید‘‘ کو حوروں کا دولھا بنایا تھا… اس رات کا قصہ بہت طویل اور بہت سبق آموز ہے
مگر… شاید میں آج بھی اسے مکمل نہ کرسکوں…
قید
سے رہائی کے بعد ایک اللہ والے بزرگ نے فرمایا تھا… جیل میں آپ پر ہر طرح
کے حالات آئے ہوں گے آپ کوشش کریں کہ… اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بیان کیا کریں جو اس قید
اور رہائی کے دوران نصیب ہوئیں… اس سے اللہ تعالیٰ کی محبت میں اضافہ ہوتا ہے… اور اپنے
اوپر ہونے والے مظالم کا تذکرہ نہ چھیڑیں… بے شک ان کی بات بہت اونچی اور سچی تھی…
مسلمان کو ہر وقت اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرنا چاہئے… اور اپنے
اوپر اللہ تعالیٰ کے احسانات کو محسوس کرنا چاہئے… اس
خوفناک رات بھی اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہم پر ہوئے… بے شک وہ
بہت مہربان، بہت کریم ہے… وہ رحمن اور رحیم ہے… اور اس کی صفتِ رحمت اس کے غضب سے
آگے ہے… ہم نے ’’قید‘‘ کے دوران ہمیشہ اس کی رحمت کو اپنے سانس سے بھی زیادہ قریب
پایا… ہم نے مجاہدین پر ظلم کرنے والوں کو بھیانک انجام سے دوچار ہوتے دیکھا…
انڈین فوج کے خفیہ محکمے کا ایک میجر بہت ظالم تھا… وہ مجاہدین کی داڑھیوں پر اپنا
بوٹ رگڑتا تھا… اور تشدّد کے ساتھ ساتھ ماں بہن کی گالیاں بھی بکتا تھا… حکومت نے
اسے خاص طور پر میرے لیے مقرر کیا تھا چنانچہ وہ… اپنے دل کی نفرت اور بغض بھرپور
طریقے سے نکالتا تھا… مجاہدین نے اپنے مولیٰ جلّ شانہٗ کے دربار میں اس کا شکوہ
کیا… اور سجدوں میں گر کر دعائیں مانگیں… تب یکایک وہ غائب ہوگیا… وہ اپنے ہاتھ
میں کرنٹ لگانے والا ایک برقی ڈنڈا رکھتا تھا… کئی دن ہوگئے ہم نے نہ اسے دیکھا
اور نہ اس کے کرنٹ پھینکتے ڈنڈے کو… معلوم ہوا کہ وہ ایک دھماکے میں ’’مردار‘‘
ہوگیا ہے… اور اس کی لاش تک نہیں ملی…
مجاہد
کے لئے موت خوشیوں کی شادی ہے جبکہ کافر کے لئے موت جہنم کا دروازہ ہے… کوٹ بھلوال
جیل کا ایک ایس پی جس نے مجاہدین پر مظالم کے پہاڑ توڑے… ایک دم بدل گیا اور بجھ
کر رہ گیا… ہم نے لوگوں سے وجہ پوچھی تو معلوم ہوا کہ… اس کے جواں سال بیٹے نے خود
کشی کرلی ہے… اس لیے اب یہ ظلم سے پرہیز کرنے لگا ہے… مجاہدین پر ظلم کوئی چھوٹا
گناہ نہیں ہے… مجاہدین اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے پاس بیچ دیتے ہیں… وہ اللہ تعالیٰ کے سپاہی ہیں… اور اللہ تعالیٰ ان سے بہت پیار فرماتا ہے… پس جو بدبخت
اور بدنصیب لوگ ان پر ظلم کرتے ہیں… وہ بہت جلد اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوجاتے ہیں… ہم نے بہت
سے لوگوں کو اس عذاب میں تڑپتے دیکھا ہے… تب وہ راتوں کو چھپ کر آتے تھے اور
مجاہدین سے معافیاں مانگتے تھے… سورۃ الانفال میں ا اللہ تعالیٰ نے اس مسئلہ کو بہت تفصیل سے بیان
فرمایا ہے… اور یہ بات اچھی طرح سے سمجھائی ہے کہ… جو مسلمان اللہ تعالیٰ کے راستے ’’جہاد‘‘ میں نکل پڑتے ہیں… وہ اللہ تعالیٰ کے خاص اور مقر ّب بندے بن جاتے ہیں… اس
لیے جو لوگ ان مجاہدین کو نقصان پہنچانے کا ارادہ کرتے ہیں… وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دیتے ہیں… اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کا سکون چھین لیتا ہے… ان پر
خوف اور رعب مسلط فرما دیتا ہے… اور پھر ان کے نیچے سے زمین بھی چھین لیتا ہے… یہ
لوگ بہت دردناک موت مارے جاتے ہیں… موت کے وقت انہیں سخت تکلیف دی جاتی ہے… اللہ تعالیٰ کے فرشتے ان کے منہ اور پیٹھوں پر آگ کے
کوڑے برساتے ہیں… اور ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ… یہ تو ابھی معمولی عذاب ہے جو
تمہیں چکھایا جارہا ہے… اصل عذاب تو جہنم کی صورت میں تمہارے لیے آگے تیار ہے… اللہ اکبر کبیرا … کتنا خوفناک منظر ہوتا ہے ان
ظالموں کی روح قبض کرنے کا جو مجاہدین کو ختم کرنے کے لئے نکلتے ہیں… قرآن پاک نے
بالکل صاف الفاظ میں یہ سب کچھ بیان فرمادیا ہے… اور دنیا پرست مسلمانوں کو صاف
تنبیہ کردی ہے کہ … تم کافروں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف جنگ میں حصہ نہ لو…
ورنہ … تمہارا انجام بھی اسی طرح خوفناک اور دردناک ہوگا… آپ تمام معتبر تفاسیر
اٹھا کر دیکھ لیجئے… مکہ کے وہ کمزور دل، مصلحت پسند مسلمان… جو ابوجہل کے لشکر
میں شامل ہو کر ’’بدر‘‘ آگئے تھے… ان کا خیال یہ تھا کہ جس طرف کا پلہ بھاری ہو گا
اسی طرف مل جائیں گے… میدان میں انہوں نے مسلمانوں کی بے سروسامانی اور کم تعداد
دیکھی تو چیخ پڑے… اور کہنے لگے… ان لوگوں کو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال دیا ہے…
پھر وہ کافروں کی طرف سے لڑے اور مارے گئے… قرآن پاک کے بیان کے مطابق وہ سب جہنم
کا ایندھن قرار پائے… یا اللہ ! ہمارے
ایمان، ہمارے خاتمے اور ہماری آخرت کی حفاظت فرما…
آج
بھی زمانے کے ابوجہل کا لشکر بہت شان وشوکت والا ہے… اور مسلمانوں کے دنیا پرست
جتھے اس لشکر کا حصہ بنتے چلے جارہے ہیں… یا اللہ ! موت ابوجہل کے لشکر کا حصہ بننے سے کروڑ
گنا افضل ہے… یا اللہ ! ہر کلمہ گو مسلمان
کی حفاظت فرما… مجاہدین پر ظلم کرنے والوں کے ساتھ موت کے وقت جو کچھ ہوتا ہے… اسے
تو سچی کتاب قرآن پاک نے بیان فرمادیا ہے… جبکہ دنیا میں ان کے ساتھ جو کچھ ہوتا
ہے اسے ہم نے کئی بار اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے… یہ سب لوگ اپنی زندگی ہی میں ’’بے
عز ّت‘‘ اور ’’ذلیل‘‘ ہوئے اور ’’نامُرادی‘‘ نے انہیں اپنے پنجوں میں دبالیا… بے
شک اللہ تعالیٰ کا انتقام بہت سخت ہے … اور جو اس کے
’’اولیاء‘‘ اور ’’مجاہدین‘‘ کو ستاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ سے اعلان جنگ کرتا ہے… اس ’’خوفناک رات‘‘
ظلم کرنے والے افراد میں سے بہت سے اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں… اور باقی بھی خزاں
کے پتوں کی طرح لرز رہے ہیں… ہم نے اس رات عملی طور پر یہ سبق سمجھا کہ… اللہ تعالیٰ ’’جماعت‘‘ کے ساتھ ہے…
حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
الجماعۃ
رحمۃ والفرقۃ عذاب (مسند احمد)
ترجمہ:
جماعت رحمت ہے اور علیحدگی عذاب
ہم
جماعت تھے تو وہ سارے کام آسانی سے ہوتے چلے گئے جو بظاہر ناممکن تھے… مجھے یقین
ہے کہ اگر میں وہ سارا واقعہ کسی ماہر فوجی افسر کو سناؤں تو وہ ماننے سے انکار
کردے گا… چنانچہ جب ہماری سرنگ پکڑی گئی تو وہاں کی حکومت کے ماہرین نے بھی یہی
کہا کہ… یہ کام انسانوں کا نہیں مشینوں کا ہے… اسی لیے جیل کا تمام عملہ تبدیل
کردیا گیا… کیونکہ انہیں یقین تھا کہ جیل حکام کی مکمل معاونت کے بغیر یہ کام ہو
ہی نہیں سکتا… حالانکہ اللہ رب العزت گواہ ہے کہ …ہمارے پاس اس کی نصرت کے
سوا اور کچھ بھی نہیں تھا… یہ نصرت اس لیے تھی کہ ہم ایک جماعت تھے اور حدیث پاک
میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
ید
اللہ مع الجماعۃ والشیطان مع من خالفہم
یرکض (نسائی)
ترجمہ:
اللہ تعالیٰ کی مدد جماعت کے ساتھ ہوتی ہے اور شیطان
جماعت کی مخالفت کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے جو ایڑ لگاتا ہے یعنی ان کو خوب
اکساتاہے…
ستر
مجاہدین نے ایک ’’امیر‘‘ چنا اور پھر اس کی امارت میں متحد ہوگئے تب ایک سو بیس فٹ
کی غار بنتی چلی گئی… جو ناممکن کام تھا… ہزاروں من مٹی اور سینکڑ وں پتھر چھپا
لیے گئے جو بالکل ناممکن تھا… باہر سے پیسے منگوالیے گئے جو بہت مشکل تھا… باہر
موجود مجاہدین سے رابطہ بحال ہوگیا اور وہ مدد کے لئے مستعد ہوگئے… یہ تو بالکل
عجیب تھا… جیل کے اندر چاقو، خنجر… اور دیگر اسلحہ بنالیا گیا… یہ سب کچھ حیرت
انگیز تھا… تالوں کی چابیاں بنالی گئیں… جو ناممکن کام تھا… اور دیواروں کے شگاف
اور سوراخ دشمن کی آنکھوں سے پوشیدہ رہے… جو صرف جہاد کی کرامت تھی… یوں لگتا تھا
کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت ایک مضبوط سائبان کی طرح ہمارے
سروں پر ہے… چنانچہ سب کچھ آسانی سے ہوتا چلا گیا… ساتھ لے جانے کے لئے تھیلیاں
بن گئیں… خشک میوے آگئے… پانی کی بوتلیں مہیا ہوگئیں… اور بوٹ خرید لیے گئے…
آپ
یقین جانیں ان میں سے کوئی کام بھی… عام حالات میں آسان اور ممکن نہیں تھا… مگر
جماعت کے سامنے تو سمندر بھی سر جھکا دیتا ہے… اور پہاڑ بھی بِچھ جایا کرتے ہیں…
جماعت دلوں کے جوڑ اور ایک امیر کی اطاعت کا نام ہے… اور اصل اطاعت اس وقت ہوتی ہے
جب فیصلہ ناگوار ہو… اس لیے حدیث پاک میں سمجھایا گیا…
من
کرہ من امیرہ شیئا فلیصبر (بخاری)
ترجمہ:
جس کو اپنے امیر کی کوئی چیز ناگوار گزرے تو وہ صبر کرے…
آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرات انصار کو خاص طور پر سمجھایا
کہ میرے بعد تم پر اور لوگوں کو ترجیح دی جائے گی مگر تم حق پر ہونے کے باوجود
جماعت نہ توڑنا اور صبر کرنا… صلح حدیبیہ کے موقع پر مسلمانوں کی جماعت کو جو
لازوال مضبوطی عطاء ہوئی اس کی وجہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فیصلہ تھا جو … اکثر صحابہ کرام
کو سمجھ نہ آیا تھا… وہ بہت عجیب جذباتی منظر تھا… حضرت ابوجندل زنجیروں میں
بندھے ہوئے مکہ سے بھاگ کر تشریف لائے تھے… وہ مسلمانوں سے مدد کی فریاد کر رہے
تھے… مشرکین مکہ ان کو چودہ سو مسلمانوں کے سامنے گھسیٹ کر واپس لے جارہے تھے…
مسلمان جذبات کی شد ّت سے کانپ رہے تھے اور خیموں میں چھپ چھپ کر رو رہے تھے… مگر
کسی نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہیں کی… تب یہ لوگ سچے
مجاہد قرار پائے… کیونکہ سچا مجاہد وہ ہوتا ہے کہ جب لڑنے کا حکم ملے تو بجلی کی
طرح لڑائی میں کود جائے… اور جب نہ لڑنے کا حکم ملے تو سخت جذبات کے عالم میں بھی
اپنی تلوار نیام میں ڈال لے… صحابہ کرام نے اس وقت مکمل فرمانبرداری کی تب اعلان
ہوا کہ اب تم پر فتوحات کے دروازے کھل چکے ہیں… اچھے حالات میں تو سب لوگ امیر کی
اطاعت کرتے ہیں… مگر جب حالات کا رُخ بدل جائے اور اطاعت کرنے میں ظاہری طور پر
خسارہ ہی خسارہ نظر آئے تو تب حقیقی مسلمان کا پتہ چلتا ہے… اور اصل اطاعت اسی
وقت ہوتی ہے… اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو بار بار اس بات کا حکم
دیا کہ امیر کا حکم سنو اور عمل کرو… یعنی حکم کان میں پڑنے کے بعد اب دیر نہ کرو…
اور اپنی مصلحتیں نہ دیکھو بلکہ… حکم پورا کرنے میں ہر طرح کی قربانی دو… خواہ اس
میں اپنے جذبات کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے… خواہ جان اور مال سب کچھ ہی کیوں
نہ قربان کرنا پڑے…
آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
علیک
السمع والطاعۃ فی عسرک ویسرک ومنشطک ومکرہک واثرۃ علیک (مسلم)
ترجمہ:
امیر کا حکم سنو اور اس کی اطاعت کرو، آسانی میں اور تنگی میں خوشی میں اور مشکل
میں اور اس وقت بھی جب تم پر کسی کو ترجیح دی جائے۔
ہم
نے تین مہینے تک ’’جماعت‘‘ اور اس پر اللہ
تعالیٰ کی ’’نصرت‘‘ کے مزے چکھے اور ان
واقعات کو… اپنی آنکھوں سے دیکھا جو دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت بڑھاتے رہے… ہم نے صحابہ کرام کے
نام پر کئی ’’مجموعے‘‘ بنائے… ہر مجموعہ کے ذمہ دار مقرر ہوئے… شام کو یہ مجموعے
(گروپ) اپنا (اسلحہ اور سامان باندھ کر جب مشق کرتے تھے تو… زمین وآسمان کے تمام
نظارے مسکراتے ہوئے محسوس ہوتے تھے… درمیان میں دو چار بار ’’شیطانی حملہ‘‘ بھی
ہوا… کچھ لوگوں کے نزدیک ان کی ذات اور ناک اسلام سے بھی اونچی ہوتی ہے… وہ اپنی
عزت اور نام کی خاطر ’’جماعت‘‘ کو توڑنا اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں… ایسے لوگ
اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہوتے ہیں… مگر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا اور شیطان کا ہر حملہ ناکام
ہوا… اور الحمد اللہ جماعت محفوظ رہی… مگر
آخر میں جب بیرونی نصرت میں کچھ تاخیر ہوئی… اور امیر نے ’’صبر‘‘ کا حکم دیا تو
کچھ ساتھی حالات کی مجبوری میں بہہ گئے… انہوں نے ’’صبر‘‘ کرنے سے انکار کردیا…
سمجھانے کا وقت گزر چکا تھا … امیر نے سب کو جمع کرکے جماعت تحلیل کردی… کچھ دل
والے رونے لگے… ایک سادہ سے نوجوان نے اوپر دیکھ کر کہا… اللہ پاک کی نصرت واپس جا رہی ہے… کچھ دیوانے امیر کے
ساتھ چپکے رہے کہ… ہم تو الگ نہیں ہوں گے… افراتفری کے اس عالم میں… خوفناک رات آ
پہنچی… اور اللہ پاک نے اپنے اٹل قانون کے مطابق… فیصلہ فرمادیا…
بے
شک اللہ تعالیٰ کسی قوم کی اچھی حالت کو… خراب حالت میں
نہیں بدلتا… جب تک اس قوم کے افراد اپنے دل کے ارادے اور نیت کو خراب نہیں کرلیتے…
دل انسان کا بادشاہ ہے… جب یہ ٹھیک ہوتا ہے تو آسمان کو بھی زمین پر کھینچ لاتا
ہے… اس لیے دل میں جب اخلاص ہو تو… انسان کا عمل آگ، پانی اور ہوا سے بھی زیادہ
طاقتور ہوتا ہے… مگر جب انسان اپنے دل کو… ناپاک کرلے اور اس میں خود غرضی آجائے…
اپنا مفاد آجائے تو پھر یہ دل… ایک لالچی جانور کا دل بن جاتا ہے… جس میں قوت نام
کی کوئی چیز نہیں ہوتی… وہ دل جو ’’ اللہ ‘‘ کو دے دیا جائے … وہ اتنا قیمتی ہوتا
ہے کہ تمام زمین اور آسمان مل کر اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے… اور وہ دل جو
’’لیلیٰ‘‘ کو دے دیا جائے وہ پیشاب کے قطرے سے بھی زیادہ حقیر ہوتا ہے… خود غرضی …
اور مفاد پرستی انسان کو بے کار بنادیتی ہے… اور ایسا انسان شیطان کا آلہ کار بن
جاتا ہے… اس لیے انسان کو چاہئے کہ وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ ہی کا رہے… اور ہر کام اللہ تعالیٰ ہی کے لئے کرے…
یا
اللہ ! ہم سب کو اخلاص نصیب فرما…
کمانڈر
سجاد شہید رحمہ اللہ جو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رضاء کے طالب رہے… اور انہوں نے ہمیشہ
اپنی ذات کو مسلمانوں کے اجتماعی مفادات کے لئے قربان کیا… اس موقع پر بھی
’’مجاہدین‘‘ کے کام آگئے… جیل حکام اتنی بڑی سرنگ دیکھ کر بپھرے ہوئے تھے… انہوں
نے پہلے حملے ہی میں سترہ ساتھیوں کو شدید زخمی کردیا… اگلی صبح ان کا ارادہ باقی
افراد کو تختہ مشق بنانے کا تھا… مگر فجر کے وقت کمانڈر سجاد شہید رحمہ اللہ نے
آسمانوں کا رخ کرلیا… وہ زخموں سے چور شہید ہوگئے… جیل حکام پر ایک دم خوف اور
کپکپی طاری ہوگئی… جیل نعروں سے گونجنے لگی… جیل کے آفیسر مجاہدین کی منتیں کرنے
لگے… اگلے دن… جماعت کا امیر… اپنے زخمی ساتھیوں کی عیادت کے لئے لے جایا گیا… کئی
ایک نے قدموں پر گر کر معافی مانگنے کی کوشش کی… اس نے کہا… میرے بھائیو!… میں آپ
سب کو معاف کر چکا ہوں… مگر کاش ہماری جماعت نہ ٹوٹتی… اور اوپر سے اترنے والی
نصرت ہم سب کو… نصیب رہتی… ہم اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی ہیں… آج وہ مسلمان اس
واقعہ سے عبرت حاصل کریں جن کے ہاں… حلف، بیعت اور عہد کی قیمت بس اتنی ہے کہ… اسے
توڑ کر تین روزے رکھ لیے جائیں… حالانکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے:
’’
اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں کافر سب سے بدتر
ہیں… اور کافروں میں سب سے بدتر وہ ہیں جو عہد توڑتے ہیں‘‘ (تفسیر قرطبی)
مفسرین
نے لکھا ہے کہ… عام کافر بھی عہد نہیں توڑتے… یہ کام تو صرف بدترین کافروں کا ہے…
تو پھر مسلمان عہد توڑنے کا جرم کس طرح سے کرسکتے ہیں؟… عہد توڑنے اور امیر کی
نافرمانی کرنے والوں پر دشمن غالب آجاتے ہیں… تب جو پریشانی اور تکلیف آتی ہے وہ
بہت عام اور بہت بھیانک ہوتی ہے… کیا ہم نے نہیں دیکھا کہ غزوہ احد کے موقع پر جو
آزمائش آئی اس میں خود… آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی زخم پہنچے جو صحابہ کرام کے
لئے اپنے زخموں سے زیادہ تکلیف دہ تھے… افغانستان میں قائم ہونے والی امارت
اسلامیہ بھی… اسی جرم کی بھینٹ چڑھ گئی… اور بہت سی مضبوط اسلامی تحریکیں بھی… اسی
جرم نے چاٹ لیں… اطاعت امیر کا مسئلہ سمجھنا اس لیے مشکل ہے کہ… اس کا تعلق آخرت
کی کامیابی سے ہے… اور شیطان مسلمانوں کو آخرت سے غافل کرتا رہتا ہے… آج پھر
’’مقابلے‘‘ کا وقت ہے کفر اور اسلام کے لشکر آمنے سامنے ہیں…
اے
مسلمانو! اس وقت اسلام کی عزت کا سوال ہے اس لیے… اکیلی بکری بن کر کافروں کی پلیٹ
کا کباب نہ بنو… بلکہ… بیعت کا راستہ اختیار کرو… جماعت میں شامل ہوجاؤ… اور اپنے
ہر قدم اور ہر عمل سے جماعت کو مضبوط بناؤ… تب … اللہ تعالیٰ کی مدد تمہارے ساتھ ہوگی… اللہ تعالیٰ کی رحمت تمہارے ساتھ ہوگی… اللہ تعالیٰ کی نصرت تمہارے ساتھ ہوگی… اور … اللہ اکبر کبیرا… اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہوگا…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے… انا اللہ وانا الیہ راجعون… نمونۂ محبوبیت حضرت اقدس
مفتی عبدالستار صاحب بھی تشریف لے گئے… آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے… جب تمہارے حکمران
تم میں سے بدترین لوگ ہوں… اور تمہارے مالدار لوگ بخیل ہوں… اور تمہارے معاملات
تمہاری عورتوں کے ہاتھ میں ہوں تو پھر… زمین کا پیٹ تمہارے لیے زمین کی پیٹھ سے
بہتر ہے… حضرت مفتی صاحب نور اللہ مرقدہ بھی… ان شاء اللہ بہترین جگہ منتقل ہوگئے ہیں… اس یقین کے باوجود
دل کو قرار نہیں مل رہا وہ آہستہ آہستہ سلگ رہا ہے… اور خاموشی سے رو رہا ہے…
مژہ
تر ہیں نہ آنکھوں میں نمی معلوم ہوتی ہے
مجھے
اس دل کے رونے پر ہنسی معلوم ہوتی ہے
مجھے
کئی مناظر ایک ایک کرکے یاد آرہے ہیں… اور ان کی بلند وبالا، پروقار اور پرسکون
شخصیت دل کو کھینچ رہی ہے… حافظ شیرازی نے کہاتھا ؎
شاہ
شمشاد قداں خسرو شیریں دہناں
کہ
بمژگان شکند قلب ہمہ صف شکناں
(شمشاد
جیسے قد والوں کا بادشاہ، شیریں دہن والوں کا شاہ … جو اپنی پلکوں سے تمام صف
شکنوں کا دل توڑ دے)
میں
مبالغہ نہیں کر رہا… کیا آپ نے کبھی حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کی
زیارت کی ہے؟ … کیا آپ نے چند لمحے ان کی پرسکون صحبت کا لطف اٹھایا ہے؟… اگر آپ
کو یہ سعادت نصیب ہوئی ہے تو آپ حافظ رحمہ اللہ کے
اس شعر کو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں… ماضی میں ’’لغت‘‘ کی تحقیق کرنے والے حضرات
دیہاتوں اور جنگلوں میں گھوما کرتے تھے تاکہ… بعض الفاظ کے حقیقی معنیٰ اور مُراد
کو سمجھ سکیں… اور وجہ اس کی یہ ہے کہ ’’الفاظ‘‘ کے پیچھے ایک پورا ’’ماحول‘‘ اور
ایک مکمل ’’منظر‘‘ ہوتا ہے… جب تک انسان اس ماحول اور منظر کو نہ دیکھے وہ بعض
الفاظ کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا… جس نے ’’عید‘‘ نہ دیکھی ہو اس کو کیا معلوم ہے
کہ… ’’عید‘‘ کے لفظ میں کیا کچھ چھپا ہوا ہے؟… حضرت اقدس مفتی عبدالستار صاحب نور اللہ مرقدہ کی صحبت میں… صرف تین منٹ گزارنے سے ان
تین اہم الفاظ کا مطلب انسان کو آسانی سے سمجھ آجاتا تھا… (۱) وقار
(۲)سکون
(۳)محبت…
ان کو پہلی نظر میں دیکھنے سے معلوم ہوتا تھا کہ… وقار کسے کہتے ہیں؟… وقار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نعمت ہے جو حدیث شریف کے
مطابق … ان لوگوں کو نصیب ہوتی ہے… جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل اتباع کرتے ہیں…
وقار
کی یہ عظمت حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کی ایک ایک ادا سے چھلکتی تھی… ان کا اٹھنا،
بیٹھنا، چلنا… اور گفتگو فرمانا… ’’وقار‘‘ کے حسن میں رنگا ہوا ہوتا تھا… سچی بات
یہ ہے کہ ’’وقار‘‘ کی اس حسین اور پرکشش ادا کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا…
’’وقار‘‘ کے بعد جو دوسری چیز حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ میں نظر آتی تھی وہ ’’سکون‘‘ تھا… میں نے انہیں
صحت کی حالت میں بھی دیکھا… اور شدید بیماری کے عالم میں بھی… وہ دونوں حالتوں میں
’’پرسکون‘‘ نظر آئے… میں نے ان کا بیان بھی سنا… اور ان کی خاموشی بھی دیکھی…
ماشاء اللہ ان کے بیان میں بھی ’’سکون‘‘ تھا اور خاموشی میں
بھی ’’سکون‘‘… یہ کیفیت بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے… مگر حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ پر
تو اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان تھا وہ خود پرسکون تھے… اور
جو کوئی ان کے پاس جا بیٹھتا تھا وہ بھی پرسکون ہوجاتا تھا… جس زمانے ہماری جماعت
میں کچھ وقتی انتشار ہوا تھا… اکثر حضرات علماء کرام حالات پوچھتے تھے اور
اعتراضات کے جوابات طلب فرماتے تھے… اور یہ کوئی بری بات بھی نہیں تھی… حضرات
علماء کرام کو ’’جماعت‘‘ سے محبت تھی… اور وہ اپنے دل کی تشفّی چاہتے تھے… اور
الحمد اللہ حالات اور حقائق سننے کے بعد
اپنی سرپرستی اور دعاؤں سے نوازتے تھے… انہی ایام میں ایک روز جامعہ خیر المدارس
جانا ہوا… پاکستان کا یہ نامور علمی ادارہ ہمارے لیے ہر اعتبار سے معزز، محترم اور
محبوب ہے… وہاں پہنچ کر اطلاع ملی کہ حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ تو
سخت علیل ہیں… اور کئی دن سے کسی کے ساتھ ملاقات نہیں فرما رہے… مجھے یہ سن کر بہت
رنج ہوا… ان کی چند منٹ کی مجلس کو میں نے ہمیشہ اپنے لیے غنیمت سمجھا… اور ان کی
نگاہ محبت سے دل کو قوت اور ہمت نصیب ہوتی تھی… بہرحال میں جامعہ کے دیگر حضرات سے
ملاقات میں مشغول ہوگیا… ملاقاتوں سے فارغ ہو کر طلبہ کرام کے پیار بھرے ہجوم سے
دھکے کھاتے ہوئے جب میں گاڑی میں بیٹھا تو اطلاع ملی کہ … حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ اپنے گھر پر انتظار فرما رہے ہیں…
تشنہ
لب مسافر کو ’’ساقی‘‘ کا بلاوا آجائے تو دل کتنا خوش ہوتا ہے… میں جلد ہی ان کے
’’دربار‘‘ میں حاضر ہوگیا… انہوں نے سینے سے لگایا اور پھر کافی دیر تک لگائے ہی
رکھا… ؎
خوشی
سے لبریز شش جہت ہے، زبان پر شور تہنیت ہے
یہ
وقت وہ ہے جگر کے دل کو وہ اپنے دل سے ملا رہے ہیں
مجھے
تو اس بھرپور معانقے نے مکمل طور پر آسودہ کردیا… پھر انہیں سہارا دے کر بٹھایا
گیا… تب معلوم ہوا کہ طبیعت کافی خراب ہے… مگر سر سے لے کر پاؤں تک سکون ہی سکون
نظر آرہا تھا…
اس
دن انہوں نے ہماری مہمان نوازی زبان سے کم اور آنکھوں سے زیادہ فرمائی… ہاں وہ
مسکرا مسکرا کر ہمیں اپنی آنکھوں سے سکون اور محبت کے جام پلاتے رہے…
شراب
آنکھوں سے ڈھل رہی ہے نظر سے مستی ابل رہی ہے
چھلک
رہی ہے، اچھل رہی ہے، پیئے ہوئے ہیں پلا رہے ہیں
ان
دنوں ہماری مجلسیں کافی گرم ہوتی تھیں… سوال وجواب کا شور ہوتا تھا… دلائل اور
وضاحتوں کا دور چلتا تھا… اور شکوے دور کرنے کی محنت ہوتی تھی… مگر یہاں کچھ بھی
نہیں تھا… ہم وقار کے دروازے سے گزر کر سکون کے باغیچے میں بیٹھے آنکھوں کی شرابِ
محبت پی رہے تھے… بقول حضرت مجذوب رحمہ اللہ اصل مے کشی تو یہی ہے ؎
مے
کشو! یہ تو مے کشی رندی ہے مے کشی نہیں
آنکھوں
سے تم نے پی نہیں آنکھوں کی تم نے پی نہیں
پوری
مجلس پر ایک عجیب سکون چھایا ہوا تھا… مجلس میں موجود ایک عالم نے تازہ حالات
چھیڑنے کی کوشش کی تو … حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ نے
انہیں مسکرا کر دیکھا اور خاموش کرا دیا… اور پھر محبت کے ساتھ اپنے دونوں ہاتھ
میرے کندھوں پر رکھ دئیے… اور آنکھوں سے محبت کے پھول برسانے لگے… مجھے اس قدر
عنایت کی کہاں تاب تھی؟… وہ مجھے دیکھ رہے تھے اور میں سر جھکائے… اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر رہا تھا اور ان کے پاکیزہ
اور مبارک ہاتھوں کا لمس نور کی طرح میرے جسم میں دوڑ رہا تھا… اس موقع پر تائید
اور ہمدردی کے چند جملے بھی ارشاد فرمائے… مجلس کے آخر میں ’’دورہ تفسیر آیات
الجہاد‘‘ کا تذکرہ چھڑ گیا… کارگزاری سن کر بہت مسرور ہوئے… مجلس میں موجود ایک
عالم نے مشورہ دیا کہ… اس دورے کا نام ’’دورہ تفسیر القرآن‘‘ رکھ دیا جائے… حضرت
مفتی صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا ’’مخالفت تو جہادی آیات کی ہو رہی ہے
اس لیے دورہ آیات الجہاد زیادہ بہتر ہے‘‘… مجلس کا اختتام حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کی
دعاء پر ہوا… واقعہ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ… حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کو
اللہ تعالیٰ نے ان کے علم، تقویٰ، عمل اور اخلاص کی
بدولت ’’سکون‘‘ کی خاص نعمت عطاء فرمائی تھی… یہ سکون خود ان کے دل اور اعضاء پر
بھی طاری رہتا تھا… اور ان کے پاس بیٹھنے والوں کو بھی محسوس ہوتا تھا… سخت اور
مشکل حالات میں بھی ’’سکون‘‘ کی یہ نعمت ان کے پاس محفوظ رہتی تھی… ہم اور آپ
اچھی طرح جانتے ہیں کہ… ایسا بہت کم ہوتا ہے… مصیبت، غصہ، شہوت، ریاکاری وغیرہ کے
شیطانی حملے… دل کا سکون ختم کردیتے ہیں… اور انسان ہیجانی کیفیات کی آگ میں جلنے
لگتا ہے… حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کی تیسری صفت ’’محبت‘‘ تھی… محبت کی اس نعمت نے
ان کو ’’محبوب‘‘ بنادیا تھا… اور ’’محبوبیت‘‘ کی یہ شان ان کی ایک ایک ادا سے
مہکتی تھی… ابھی بھی یہ الفاظ لکھتے ہوئے میرا دل ان کی یاد میں گم ہوجاتا ہے اور
مجھ سے… الفاظ لکھنے میں غلطی ہوجاتی ہے… اللہ اکبر کبیرا… وہ اللہ تعالیٰ کے سچے عاشق تھے اور پکے وفادار… وقت کے
’’مفتی اعظم‘‘ ہونے کے باوجود وہ … عشق کی دکانوں پر عام خریداروں کی طرح قطار
لگاتے تھے… اور اپنے علمی مقام اور فقہی شان سے بے پروا ہو کر اپنے سے کم تر لوگوں
کے جوتے سیدھے کرتے تھے… حافظ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ؎
در
کوئے عشق شوکتِ شاہی نمی خرند
اقرار
بندگی کن و دعوائے چاکری
(عشق
کے کوچہ میں شاہی دبدبہ نہیں خریدتے ہیں غلامی کا اقرار اور نوکری کا دعویٰ کر)
ان
کی کوشش رہی کہ وہ اپنے ’’روحانی مقام‘‘ کے مزے خود ہی لوٹتے رہیں… اور لوگوں سے
بچنے کے لئے اپنا شمار ’’مریدوں‘‘ میں کرتے رہیں… مگر کچھ لوگوں نے پہچان لیا اور
ان کی طرف باقاعدہ رجوع ہونے لگا… ؎
بنیئے
بہت نہ پارسا آنکھیں تو دیکھئے ذرا
رندوں
نے تاڑ ہی لیا نشہ ٔ مئے چھپا نہیں
ویسے
بھی اب ’’روحانی دنیا‘‘ کے نئے دستور… اہل علم کے بس کا کام نہیں رہے… تعویذ،
دھاگے، خلافتوں کی فراوانیاں، معیار کی ارزانیاں، دنیا پرستی کے مناظر، شریعت کے
معاملے میں بے جا آسانیاں… اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ مگر اس سے ملاقات کا
شوق ناپید… اونچے مقامات کی باتیں مگر دین کے لئے ادنیٰ سی قربانی کا تصور بھی
محال… غریبوں کے لئے سخت قوانین اور مالداروں کے لئے دروازے کھلے… مساکین کی توہین
اور اہل دنیا کا اکرام… اور جہاد سے بے رغبتی اور بعض اوقات جہاد کے معنی میں
تحریف… (نعوذ باللہ من ذلک)
اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطاء فرمائے ان اہل علم اولیاء
کرام کو… جو ا ب بھی احسان وسلوک کے چراغ جلائے بیٹھے ہیں… اور ’’تزکیہ‘‘ کی اہم
ذمہ داری نبھا رہے ہیں… اور ’’تصوف‘‘ کے اسلامی معیار کو بچانے کے لئے محنت کر رہے
ہیں… ورنہ حالت یہاں تک جا پہنچی ہے کہ… خود کو مٹانا تو درکنار… خلافت پانا اور
’’حضرت‘‘ کہلوانا ہی پہلی اور آخری خواہش ہوتی ہے… خود سوچئے جب نیت اپنی پوجا
کرانے کی ہوگی تو نفس کی اصلاح خاک ہوگی… حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ علم وسلوک کے جامع تھے اور اپنے زمانے میں
’’محبت‘‘ اور ’’محبوبیت‘‘ کا چلتا پھرتا نمونہ تھے… میں نے ان کے ساتھ گزری ہر
مجلس میں یہی محسوس کیا کہ وہ… دنیا، یہاں کے مال اور یہاں کے نام سے بے غرض ہیں…
اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے طالب ہیں… اسی کیفیت کو
’’محبت‘‘ کہتے ہیں، اسی کا نام ’’اخلاص‘‘ ہے اور یہی انسان کی اصل ترقی ہے…
؎
کسی
کی یاد میں بیٹھے جو سب سے بے غرض ہو کر
تو
اپنا بوریا بھی پھر ہمیں تخت سلیماں تھا
رمضان
المبارک کے مہینے میں ایک اور بڑے ولی اور عالم کا انتقال ہوا ہے… یہ ’’روحانی
دنیا‘‘ کے گمنام بادشاہ تھے… اور سوات کے علاقہ ’’جورا‘‘ کی ایک مسجد میں مقیم
تھے… انہوں نے پوری زندگی دو تین افراد کے علاوہ کسی کو بیعت نہیں کیا… کچھ علماء
کرام نے ان سے شکایت کی کہ آپ کے پاس اپنے بزرگوں کی ’’نسبت‘‘ ایک امانت کے طور
پر ہے… آپ یہ ’’امانت‘‘ آگے منتقل کریں… انہوں نے فرمایا میرے پاس آگ میں گرم
کیا ہوا لوہا ہے… اور لوگ کپڑے کی چادریں لے کر آتے ہیں… کیا میں یہ ’’لوہا‘‘ ان
کی چادروں میں ڈال دوں؟… مجھے ان کا یہ جواب سمجھنے میں کچھ وقت لگا مگر پھر بات
سمجھ میں آگئی… آج اکثر لوگ بزرگوں کے پاس کس لیے جاتے ہیں؟… میں بدگمانی نہیں
کر رہا آپ خود جاکر کسی ’’ اللہ والے‘‘
کے ہاں مشاہدہ کر لیں… اکثر لوگ دنیا کے مسائل حل کرانے آتے ہیں… غریب مالدار
ہونا چاہتے ہیں، مالدار مزید مالدار بننا چاہتے ہیں… بیمار شفاء حاصل کرنا چاہتے
ہیں، عاشق اپنی پسند کے محبوب کو پانا چاہتے ہیں… بے سکونی اور ٹینشن کے مریض سکون
کی تلاش میں ہیں… کچھ لوگ خلافت لے کر خود ’’پیری‘‘ کرنا چاہتے ہیں… اور کچھ ایسی
عزت چاہتے ہیں کہ جو بھی انہیں دیکھے ان کا غلام بن جائے… آپ جا کر تلاش کریں کہ اللہ تعالیٰ کو پانے کے لئے کتنے لوگ آتے ہیں؟… اللہ تعالیٰ کے لئے قربانی کا جذبہ لے کر کتنے لوگ
آتے ہیں؟… جن مسائل کے لئے لوگ بزرگوں کے پاس جاتے ہیں… ان مسائل کو تو صرف اللہ تعالیٰ ہی حل فرما سکتا ہے… موت، زندگی، نفع،
نقصان، بیماری، شفاء، غریبی، امیری اور عزت وذلت کا مالک تو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے… مخلوق میں سے کوئی کسی دوسرے کے نفع
اور نقصان کا مالک نہیں ہے… حضرات انبیاء علیہم السلام سے بڑھ کر کون اللہ تعالیٰ کا مقرب اور اللہ تعالیٰ کا دوست (ولی) ہوسکتا ہے… حضرات انبیاء
علیہم السلام خود بیمار ہوئے… انہوں نے فاقے کاٹے، انہیں زخم پہنچے… انہیں قید میں
ڈالا گیا… اور انہیں شہید کیا گیا… حضرات صحابہ کرام میں سے کئی حضرات اچھے خاصے
کھاتے پیتے تھے مگر جب وہ ایمان لائے… اور انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تو… سارا مال قربان کردیا
اور ان کے گھروں میں فاقے ہونے لگے… اور انہیں اپنے معصوم بچوں کو بہلا کر بھوکا
سلانا پڑا… مگر صحابہ کرام مطمئن تھے کیونکہ انہوں نے دنیا کی خاطر بیعت نہیں کی
تھی… وہ تو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا چاہتے تھے… اب کون ہے
ایسا جو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ’’بیعت‘‘ کرے…
اور پھر ہر طرح کی تنگی، مصیبت، فاقے اور خوف کو برداشت کرے… دنیا کا مال ودولت
اور عزت حاصل کرنے کی غرض … اور اللہ تعالیٰ کی رضاء حاصل کرنے کی نیت… یہ دریا کے دو
کنارے ہیں… جو کبھی جمع نہیں ہوسکتے…
مجاہدین
میں سے بھی جو اللہ تعالیٰ کی رضاء کے طالب ہوتے ہیں… ان کی شان ہی
کچھ اور ہوتی ہے… ان پر ایک خاص نور نظر آتا ہے… اور یہ لوگ آخرت کے مقابلے میں
دنیا کی بڑی سے بڑی حکومت اور راحت کو… کوئی وقعت نہیں دیتے… مگر جن کا دل بگڑ
جائے… اور وہ جہاد کے نام پر اپنا نام چمکانے، یا دنیا بنانے میں پڑ جائیں تو وہ…
برباد ہوجاتے ہیں… جس دنیا کی خاطر وہ محنت کر رہے ہیں وہ ایک ایکسیڈنٹ یا جھٹکے
میں ختم ہوجائے گی… اور وہ آخرت شروع ہوجائے گی جس کے لئے ان کے پلے میں کچھ بھی
نہیں ہوگا…
جورا
(سوات) کے رہنے والے… حضرت اقدس مولانا محمد اکرم جنگی خیل نور اللہ مرقدہ… اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے ہیں… ان کا
اپنا ذوق تھا… جبکہ باقی اکابر اس معاملے میں نرمی فرماتے ہیں اورا پنا دروازہ سب
کے لئے کھلا رکھتے ہیں… اس زمانے میں اسی کی زیادہ ضرورت ہے… لاکھوں پتھروں میں سے
کوئی ایک ’’پارس‘‘ نکل ہی آتا ہے… کوئلے کی کان میں سے ’’قیمتی ہیرا‘‘ بھی نکل
آتا ہے… آج جبکہ ہر طرف دنیا، دنیا اور دنیا کے طلبگار … جانوروں کی طرح مال اور
نام کے پیچھے دوڑ رہے ہیں… ان میں سے کچھ … اللہ تعالیٰ کے طلبگار بھی نکل آتے ہیں… زمین کی گود
ابھی بانجھ نہیں ہوئی… عشق کی محفلیں بے رونق سہی مگر ابھی ویران نہیں ہوئیں…
زخموں کو سیڑھی بنا کر محبوب تک پہنچنے والے مجنوں کم سہی مگر الحمد اللہ … موجود
ہیں… اس وقت زمین پر بدترین لوگوں کی حکومت ہے، مالدار مسلمان بے حد بخیل،کنجوس
اور ظالم ہوچکے ہیں… مسلمانوں کے دل اور دماغ عورتوں کے قبضے میں ہیں… اور ان کے
معاملات پر عورتوں کا کنٹرول ہے… ان حالات میں موت، زندگی سے افضل ہے… اور زمین کا
پیٹ زمین کی پیٹھ سے بہتر ہے…
وقت
کے اولیاء تیزی سے جا رہے ہیں… فتویٰ کے تاجدار ایک ایک کرکے اٹھتے جارہے ہیں…
سلوک اور احسان کے مسند نشین قطار در قطار دنیاسے رخصت ہو رہے ہیں… زمانے کے نامور
مجاہد رہنما… برق رفتاری سے دنیا چھوڑ کر اوپر کاسفر کر رہے ہیں… ان روشن چراغوں
کے جانے سے اندھیرا مزید پھیل رہا ہے… اور ان میں سے ہر ایک کی جدائی پر وہی منظر
ہوتا ہے جو حضرت خواجہ مجذوب رحمہ اللہ نے حضرت حکیم الامۃ رحمہ اللہ کے
وصال پر کھینچا تھا ؎
یہ
رحلت ہے کسی آفتاب ہدیٰ کی
یہ
ہر سمت ظلمت ہے کیوں اس بلا کی
یہ
کس قطب الارشاد نے منہ چھپایا
کہ
دنیا ہے تاریک صدق وصفا کی
اٹھا
کون عالم سے محبوب عالم
صدا
کیوں ہے ہر سمت آہ وبکا کی
یہ
کس کا ہے سوگ آج گھر گھر جہاں میں
احبّا
کی قید اور نہ قید اقربا کی
یہ
رہ رہ کے اف کس کی یاد آرہی ہے
یہ
کیوں دل میں ٹیسیں ہیں اف اس بلا کی
کلیجے
ہیں کیوں آج شق اہل دل کے
جدائی
ہے یہ آج کس دل ربا کی
خواجہ
صاحب رحمہ اللہ نے یہ نظم زندگی میں ایک بار کہی… جبکہ ہمیں
گذشتہ چھ سالوں میں تیس سے زائد بار اس نظم کے منظر کا سامنا ہے…
حضرت
مولانا ابوالحسن ندوی رحمہ اللہ سے جو بات شروع ہوئی… اس میں اضافہ ہی ہوتا
جارہا ہے… حضرت مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ ، حضرت مولانا یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ ، حضرت مفتی عبدالشکور ترمذی رحمہ اللہ ، حضرت مفتی عبدالقادر رحمہ اللہ جیسے ارباب فقہ وفتویٰ کے بعد… اب حضرت مفتی
عبدالستار صاحب رحمہ اللہ نے بھی اس مسند کو خیرباد کہہ دیا ہے…
ہم
اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی ہیں… اس دنیا میں کسی
نے نہیں رہنا… اللہ تعالیٰ کی مرضی وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے… مگر… اس
کے حکم کے مطابق ہمیں بھی … کچھ نہ کچھ کرنا ہے… وہ حالات جن میں زمین کا پیٹ … اس
کی پیٹھ سے افضل بن جاتا ہے… اچھے حالات تو نہیں ہیں… کیونکہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ارشاد فرمایا کہ جب تمہارے
حکمران… تم میں سے بہترین لوگ ہوں… تمہارے مالدار سخی ہوں… اور تمہارے معاملات
باہمی مشورے سے طے ہوتے ہوں تو زمین کی پیٹھ (یعنی زندہ رہنا) … زمین کے پیٹ (یعنی
دفن ہونے) سے بہتر ہے… آج زمین کی پیٹھ کیوں خراب ہے؟… اس لیے کہ اس دور میں زمین
کے باشندے میں اور آپ ہیں… اگر ہم لوگ اچھے ہوتے تو زمین کے حالات بھی اچھے
ہوجاتے… ہم اپنی اجتماعی ذمہ داریوں سے غافل ہوئے تو برے لوگ ہم پر مسلط ہوگئے… ہم
میں بخل عام ہوا تو مالدار طبقہ مزید بخیل بن گیا… ہم نے اپنے معاملات عورتوں کے سپرد
کیے تو بے چاری عورتیں اس بوجھ کو نہ اٹھا سکیں… وہ خود بھی برباد ہوئیں اور انہوں
نے معاشرے کو بھی برباد کردیا… لیکن ابھی ہم مرے نہیں ہیں… ہم اب بھی اپنی اس
زندگی کا فائدہ اٹھالیں… مال، نام اور قوم قبیلے سے بالا تر ہو کر ہم سچے مسلمان…
اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے طالب بن جائیں… اور ہمیں اللہ تعالیٰ نے جو کچھ دیا ہے… مال، نام … اور
صلاحیت… ہم یہ تمام چیزیں دین اسلام اور جہاد کے لئے وقف کردیں… حضرت مفتی
عبدالستار صاحب نور اللہ مرقدہ کی رحلت پر… اگرہمیں یہ بات سمجھ آگئی
اور ہماری نیت میں اخلاص پیدا ہوگیا تو گویا… ہم نے اللہ تعالیٰ کے اس عظیم ولی… اور امت مسلمہ کی دلربا
شخصیت سے بھرپور فیض حاصل کرلیا…
اللہم
اجرنا فی مصیبتنا واخلف لنا خیرا منہا…
اللہم
لا تحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ…
آمین
یا رب العالمین
وصلی
اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا محمد وآلہ
واصحابہ اجمیعن
٭٭٭
اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو غلبہ عطاء فرمائے… ظالم
یہودیوں کی نظر (نعوذباللہ )… مدینہ منورہ پر ہے… یہودیوں کے طیارے بمباری کر رہے
ہیں… ان کے ٹینک آگ اُگل رہے ہیں… اور فلسطین ولبنان کے مظلوم مسلمان… بمباری سے
گرنے والی عمارتوں کے نیچے بے بسی کے آخری سانس لے رہے ہیں… یہودی، انبیاء علیہم
السلام کے قاتل… یہودی سونے کے بچھڑے کے پجاری… یہودی بندروں اور خنزیروں کی اولاد
… دنیا کی سب سے بزدل… سب سے ذلیل … سب سے ناکام… اور سب سے گندی قوم … ناپاک،
نجس، مرُدار… بدبودار… چوہوں سے زیادہ غلیظ اور کمزور… انسانیت کے نام پر ایک
دھبہ… زمین پر بوجھ…
اب
یہی یہودی… مدینہ منورہ پر قبضے کی بات کر رہے ہیں… ان کے منہ میں خاک اور آگ کے
انگارے… مدینہ منورہ کا پاک نام ان کی ناپاک زبانوں سے سن کر… ہر مسلمان کا خون اس
کی رگوں میں ’’جذبۂ جہاد‘‘ بن کر دوڑنے لگتا ہے… اے یہودیو! تمہارا خواب کبھی
پورا نہیں ہوگا… مدینہ منورہ نے سوا چودہ سو سال پہلے تمہیں نکال پھینکا تھا… تم
مدینہ منورہ کی پاک زمین کے قابل نہیں تھے… تم نے وہاں بھی ’’سود‘‘ اور ’’لسانی
عصبیت‘‘ کی لعنتیں عام کردی تھیں… اور ان دوچیزوں کے ذریعے وہاں کے مقامی لوگوں کو
اپنا ذلیل غلام بنالیا تھا… مگر ’’مدینہ منورہ‘‘ کی قسمت میں ازل سے سعادت لکھی
تھی… وہاں ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا ننھیالی قبیلہ آباد تھا… مدینہ
منورہ والے میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے ’’پیارے ماموں‘‘ لگتے تھے… پھر وہ
خود چل کر مکہ مکرّمہ گئے اور اسلام کے نور سے اپنے دل اور دماغ روشن کر آئے… پھر
وہ کہنے لگے کیوں نہ ہم آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس لے آئیں… وہ جانتے تھے
کہ وہ بہت بھاری پتھر اٹھا رہے ہیں… وہ جانتے تھے کہ وہ دنیا بھر کی دشمنی مول لے
رہے ہیں …وہ جانتے تھے کہ اب ان پر تلواریں برسیں گی… اور ان کے چھوٹے چھوٹے بچے
’’یتیم‘‘ ہوجائیں گے … مگر اے یہودیو! تمہیں یاد ہے … وہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو لے آئے… اور پھر واپس نہیں جانے
دیا… وفاداری کا مطلب تم جیسے بے وفا اور خود غرض جانوروں کو کہاں سمجھ آسکتا
ہے؟… تمہیں وہ دن یاد ہے… مدینہ منورہ کی گلیاں خوشی میں ڈوبی ہوئی تھیں… مدینہ
منورہ کی پاکیزہ بچیاں ترانے پڑھ رہی تھیں… ایک جوش تھا، ایک سرور تھا اور ایک
عجیب نورانی کیفیت… ارے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے تھے… ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم تو کسی کے خواب میں آجائیں تو اس کی
نیند کو خوشبودار بنا دیتے ہیں… وہاں تو آقا صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لا رہے تھے… اے مسلمانو! اس
عجیب منظر کو یاد کرو اور ہجرت کے معنیٰ سمجھو… اے یہودیو! اس عجیب دن کو یاد کرو
اور اس بات سے مایوس ہوجاؤ کہ تم… اپنی مکاریوں اور سازشوں کے ذریعے مسلمانوں کو
ختم کر دو گے… نہیں اللہ کی قسم نہیں… حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی تمہارے ہاتھوں سے ختم نہیں
ہوں گے… تم لاکھ اپنے خزانوں کے منہ کھولو… تم لاکھ فری میسن کے گندے کیڑوں کو
پالو… تم لاکھ اپنی شرمگاہوں کے ڈورے مسلمان حکمرانوں پر ڈالو… رب کعبہ کی قسم… تم
اسلام اور مسلمانوں کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے… ہاں بندروں اور سوروں کی اولاد! …
اچھی طرح یاد رکھو… تم مسلمانوں کے ہاتھوں ختم ہو جاؤ گے… تمہاری نسل مٹ جائے گی…
تمہارا نام ونشان ختم ہوجائے گا… اور زمین کا کوئی درخت اور پتھر تمہیں پناہ نہیں
دے گا… کروڑوں ڈالر خرچ کرکے اپنا رعب قائم کرنے کی کوشش نہ کرو… تمہارے زر خرید
دانشور مسلمانوں کو تم سے ڈراتے ہیں… ارے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت چوہوں سے نہیں ڈرا کرتی…
تمہاری پر اسرار کہانیاں مشہور ہیں کہ… جو تمہاری خفیہ تنظیم ’’فری میسن‘‘ کے خلاف
لکھتا ہے وہ… اچانک مار دیا جاتا ہے… تمہارے جاسوسی اداروں کے کارنامے بھی بڑھا
چڑھا کر بیان کیے جاتے ہیں… مگر تم کچھ بھی نہیں ہو… کاش مسلمان تمہاری حقیقت کو
سمجھ لیتے… اور سارے مسلمان مل کر تم پر تھوک دیتے تو تم… ان کی تھوک میں بہہ
جاتے…
اگر
تم واقعی طاقتور ہوتے تو دنیا کے ایک چھوٹے سے ٹیلے پر… ایک چھوٹی سی ’’کالونی‘‘
میں نہ رہ رہے ہوتے… تمہاری سازشیں کس کام کی؟… دنیا بھر میں تم خوف اور ذلت کی
زندگی گزارتے ہو… اور سانس لینے کے بدلے رشوت دے کر جیتے ہو… تم ہرجگہ ’’نفرت‘‘
اور ’’سازش‘‘ کا نشان ہو… تم ہر جگہ دوسروں کے محتاج ہو… اور تمہارا اپنا کوئی
وجود نہیں… تمہاری قوت اور طاقت کا ساراراز… مسلمان حکمرانوں کی ’’بے حمیتی‘‘ میں
چھپا ہوا ہے… ان ظالموں نے فلسطین کے نہتے مسلمانوں کو تمہارے جبڑوں میں اکیلا
چھوڑ دیا ہے… تم نے ’’احمدیٰسین‘‘ جیسے چند شیر مار کر خود کو کچھ سمجھنا شروع
کردیا ہے … حالانکہ چوہے اگر بیماری پھیلا کر شیر کو مار دیں تو چوہے… چوہے ہی
رہتے ہیں… شیر نہیں بن جاتے… تم نے مسلمانوں کی مقدس سرزمین پر قبضہ کیا… اب
مسلمانوں کا اجتماعی فرض تھا کہ وہ … مل کر تمہارے خلاف جہاد کرتے… اور تمہیں مقدس
سرزمین سے نکال باہر کرتے… مگر مسلمانوں نے غفلت کی، وہ دنیا کی حقیر زندگی کو
چمکدار بنانے میں مشغول ہوگئے… ان کی فوجیں کافروں کی نوکر اور غلام بن گئیں… ان
کے حکمران غیرت سے بہت دور نیلامی کے کوٹھے پر جا بیٹھے… جہاں انہیں صرف اپنی اور
اپنے اقتدار کی فکر ہے… مسلمان نوجوان ناچنے لگا… وہ ’’پب‘‘ اور ’’کلب‘‘ میں جاکر
مدینہ منورہ کے نور سے محروم ہونے لگا… اس کو کمپیوٹر نے ’’پیلا‘‘ کردیا… اس کو ڈش
اور کیبل نے ’’نیلا‘‘ کردیا… وہ عشق معشوقی کے چکر میں کھو گیا… تب… اے سوروں اور
بندروں کی اولاد تم نے مسجد اقصیٰ پر قبضہ کرلیا… اور اب تمہارے طیارے بمباری کر
رہے ہیں… مگر مسلمان حکمران خاموش دیواروں کی طرح… اپنے جبوں اور وردیوں میں جکڑے
بیٹھے ہیں… مگریاد رکھو! وقت ایک جیسا نہیں رہتا… کسی دن مسلمانوں کے ضمیر پر لگے
ہوئے یہ تالے ٹوٹ جائیں گے… ہاں مسلمانوں کے حکمران… مسلمانوں کے ضمیر پر لگے ہوئے
تالے ہیں… یہی لوگ کافروں کے محافظ ہیں… یہی لوگ مسلمانوں کو ایک دوسرے کی مدد
کرنے سے روکتے ہیں… یہی لوگ مسلمانوں کو ڈانس اور گانے پر لگا کر بزدل بناتے ہیں…
ان لوگوں کے نزدیک امریکہ کی خاطر لڑنا ’’قومی مفاد‘‘ اور مسلمانوں کی خاطر لڑنا
ٹھیکیداری اور ملک دشمنی ہے… وہ ڈھٹائی کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہم نے ہر کسی کا ٹھیکہ
نہیں لے رکھا… ارے اگر تم نے مسلمانوں کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا تو پھر … تمہیں
مسلمانوں پر حکمرانی کا حق حاصل نہیں ہے… مسلمان ایک ’’امت‘‘ ہیں… مسلمان ایک
’’جسم‘‘ ہیں… مسلمان ایک ’’خاندان‘‘ ہیں… مسلمان ایک ’’جماعت‘‘ ہیں… جو اسے نہیں
مانتا وہ قرآن پاک کو نہیں مانتا… وہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو نہیں مانتا… دنیا کا
کوئی بارڈر اور کوئی نقشہ… مسلمانوں کو تقسیم نہیں کر سکتا… اور انسانوں کی بنائی
ہوئی لکیریں… اللہ تعالیٰ کے قوانین کو نہیں توڑ سکتی… قرآن پاک
نے تمام مسلمانوں کو بھائی قرار دیا ہے … انما المؤمنون اخوۃ… قرآن پاک نے
مسلمانوں کو ایک فریق… اور کافروں کو دوسرا فریق قرار دیا ہے… مسلمان کے نزدیک
رنگ، نسل، قوم، قبیلہ… اور زبان کی ’’تعارف‘‘ سے بڑھ کر کوئی حیثیت نہیں… انگریزوں
نے اپنے ظالمانہ دور میں مسلمانوں کو تقسیم کیا… انگریزوں نے مسلمانوں کی
’’خلافت‘‘ کو ختم کیا… تب… افغان مسلمانوں نے امت مسلمہ کی لاج رکھی تھی…
اور ۱۹۱۹ء
میں ہزاروں انگریز فوجیوں کو کاٹ کر رکھ دیا تھا… ملکہ برطانیہ کا پرچم آدھی دنیا
پر لہرا رہا تھا مگر… مسلمانوں کی سرزمین افغانستان اس منحوس، ذلیل… اور ظالمانہ
پرچم سے محفوظ رہی… افغان مجاہدین نے پورے انگریزی لشکر کو… جہنم کی راہ دکھائی…
اور ایک انگریز سرجن کو اس لیے زندہ چھوڑ دیا تاکہ وہ … برطانیہ جاکر اپنی فوج کی
حالت بتا سکے… آج برطانیہ نے اسی شکست کا بدلہ لینے کے لئے پھر افغانستان میں…
فوجیں اتار دی ہیں… دنیا میں کوئی ان سے یہ پوچھنے والا نہیں کہ تمہارا افغانستان
میں کیا کام ہے؟… کوئی پاکستانی مجاہد کشمیر میں نظر آجائے تو دنیا ’’کراس بارڈر
ٹیرر ازم‘‘ کا شور مچادیتی ہے… کوئی عرب فدائی افغانستان میں نظر آجائے تو
’’عالمی دہشت گردی‘‘ کا شور بلند ہو جاتا ہے… حالانکہ ہم مسلمان ہیں… اور ہم قرآن
پاک کو اپنا پہلا اور آخری دستور مانتے ہیں… اور قرآن پاک نے ہمیں مسلمانوں کی
مدد کا حکم دیا ہے… خواہ وہ کہیں بھی ہوں…
ہاں
اے مسلمانو! وہ دن یاد کر نے کے قابل ہے جب آقا صلی اللہ علیہ وسلم … مکہ مکرمہ چھوڑ کر ’’مدینہ منورہ‘‘
پہنچے تھے… ہر طرف خوشی تھی اور عجیب جذبات … اس منظر کا تصور تو کرو… اللہ اکبر کبیرا … دل مچلنے لگتا ہے اور آنکھیں
بھیگ جاتی ہیں… مرنے کے بعد حوض کوثر پر… اللہ کرے ہمارے برے اعمال آڑے نہ آجائیں… ہمیں کتنی
شدت سے اس لمحے کا انتظار ہے… ہماری گناہگار آنکھیں… اور آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پاکیزہ جھلک… یا اللہ نصیب فرما… یا اللہ نصیب فرما… مگر اُس دن مدینہ منورہ والوں کے
نصیب پوری طرح سے جاگے ہوئے تھے… آقا صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لا رہے تھے… یاد کیجئے…
دارالندوۃ میں مشرکین کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مشورہ… پھر (نعوذب اللہ )
شہید کرنے پر اتفاق… ایک سو خونخوار مشرک… ایک سو تیز تلواریں… گھر مبارک کا مکمل
محاصرہ… آسمان سے جبرئیل امین علیہ السلام کی آمد… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر حضرت علی رضی اللہ عنہ … مشرکین کے سر پر خاک… آقا صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان سے گزر کر صدیق اکبر رضی
اللہ عنہ کے گھر… صدیق کی بیٹی کا کھانا باندھنا اور
لقب پانا… غلام کا دو اونٹنیاں لے آنا… جو پہلے سے ہجرت کے لئے خریدی گئی تھیں…
پھر غارثور… مشرکین کا دوبارہ محاصرہ… کبوتری کے انڈے، مکڑی کا جالا… کالے سانپ کا
صدیق کے پاؤں پر کاٹنا… آنسوؤں کا آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر گرنا… پیارے، میٹھے اور
شفاء بخش لعاب کا کمال… پھر لمبا سفر… کئی سو کلو میٹر… آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں مبارک زخمی… اللہ اکبر کبیرا… صدیق اکبر کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کندھے پر اٹھا لینا… ام معبد اور
ان کی بکری کے نصیب جاگنا… سراقہ کا دھنسنا… اور قبا والوں کی قسمت پر آسمان کا
رشک کرنا… اور پھر مدینہ منورہ… صحابہ کرام اونٹنی کے گرد دیوانوں کی طرح دوڑ رہے
ہیں… بچیاں ترانہ پڑھ رہی ہیں… چاند… ہاں چودھویں کا چاند ہم پر طلوع ہو رہا ہے…
وداع کی گھاٹیوں سے یہ چاند روشن ہو رہا ہے… اللہ تعالیٰ کا شکر ہم پر واجب ہو چکا ہے… خواتین
دروازوں کے پیچھے سے… ایک جھلک کے لئے… جی ہاں ایک نورانی اور پاکیزہ جھلک کے لئے
دعائیں مانگ رہی ہیں… ہر شخص کے سینے میں دل زور زور سے دھڑک رہا ہے… بس ایک ہی
تمنا ہے اور ایک ہی آرزو کہ… آقا صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر کو اپنا گھر بنالیں… اے
مسلمانو! کبھی کبھار اس دن کو یاد کرلیا کرو… ہمت اور معرفت کے نئے دروازے تم پر
کھلتے چلے جائیں گے… اور یہودیو! تم بھی اس دن کو یاد رکھو… تمہارے باپ دادے اپنے
قلعوں سے یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے… ان ہوس پرستوں اور دنیا کے غلاموں نے اس عظیم
نعمت کی قدر نہ کی… تب… مدینہ منورہ نے تمہیں باہر پھینک دیا… اب اس بات کو بھول
جاؤ کہ تم واپس وہاں آجاؤ گے… تم ایک نہیں سارے مسلمان حکمرانوں کو خرید لو… تم
’’فری میسن‘‘ کی ممبر عورتوں کو اونچے ایوانوں تک پہنچا دو… تم جو کچھ بھی کرلو…
انشاء اللہ تم کامیاب نہیں ہوسکو گے… تمہاری ساری دولت اپنی
جگہ… تمہارا اثر ورسوخ اپنی جگہ… تمہارے خفیہ ادارے اپنی جگہ… تمہارے مسلمان ایجنٹ
اپنی جگہ… تمہارے ایٹم بم اور اسلحے اپنی جگہ… ہماری تو بس اتنی دعا ہے کہ… اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لئے تم تک پہنچنے کے راستے
کھول دے… پھر رب کعبہ کی قسم… تمہیں اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ تم نے کس ماں کا
دودھ پیا ہے…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے بہت سے پیارے نام ہیں… بہت اچھے، بہت
حسن والے اور بہت نفع دینے والے… تم اللہ کہو یا رَحْمٰنُ کہہ کر پکارو… جس نام سے بھی
پکارو… اس کے پیارے پیارے نام ہیں… ان شاء اللہ ’’اسماء الحسنیٰ‘‘ کے زور پر مسلمان ترقی کریں
گے اور فتح پائیں گے… ضرورت اس بات کی ہے کہ ’’اسماء الحسنیٰ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے پیارے پیارے ناموں سے انہیں ’’پیار‘‘
ہو جائے… اور پھر وہ عظمت، محبت اور ادب کے ساتھ ان ناموں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو ہر گھڑی اور ہر وقت پکارنے لگ جائیں…
میرا تجربہ یہ ہے کہ جس مسلمان مرد یا عورت پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل متوجہ ہوتا ہے… اللہ تعالیٰ اسے اپنے ’’پیارے نام‘‘ یاد کرنے اور
پڑھنے کی توفیق عطاء فرما دیتا ہے… ننانوے نام یاد کرنے میں کتنی دیر لگتی ہے؟…
زیادہ سے زیادہ آدھا گھنٹہ… اور اگر کسی کا ’’دماغ‘‘ بدنظری میں پگھل چکا ہو تو
دو گھنٹے… ہم میں سے ہر ایک کو ہزاروں چیزوں اور افراد کے نام یاد ہیں… کرکٹ کے
تمام کھلاڑیوں کے نام بچے بچے کو یاد ہوتے ہیں… تو پھر ننانوے نام یاد کرنا کونسا
مشکل کام ہے؟… یہ ننانوے نام تو ’’محبت‘‘ کے خزانے ہیں… قوت اور روحانیت کے خزانے…
اور ’’نور‘‘ کے دریا… جی ہاں نور کے دریا… ان ’’دریاؤں‘‘ کے سامنے دنیا کے مال ودولت
اور …دنیا کے دریاؤں اور سمندروں کی کیا حیثیت ہے؟… حضرات صحابہ کرام ’’اسماء
الحسنیٰ‘‘ پڑھتے تھے اور سمندروں پر پیدل چلتے ہوئے گزر جاتے تھے… ’’اسماء
الحسنیٰ‘‘ میں سے ایک ایک نام ایسا ہے جو سیدھا ’’عرش‘‘ تک پہنچتا ہے… اور
آسمانوں میں اس کی گونج سنائی دیتی ہے… اللہ اکبر کبیرا…
آج
یہ ساری باتیں ایک ’’خبر‘‘ سن کر میرے ذہن میں تازہ ہوگئیں… پچھلے چار سال میں یہ
خبر ہمیں بار بار سننے میں ملتی ہے… چند سال پہلے میں نے اللہ تعالیٰ کے مخلص ولی حضرت اقدس مولانا قاری محمد
عرفان صاحبؒ کو فون پر بتایا… حضرت! حکومت نے پھر مجاہدین اور ان کے حامیوں کے
خلاف ’’آپریشن‘‘ کی تیاری مکمل کرلی ہے… حضرت نے فرمایا تمام ساتھیوں کو بتادیں…
یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ… اور وَاُفَوِّضُ اَمْرِیْ اِلَی اللہ اِنَّ اللہ بَصِیْرٌ بِالْعِبَادِ… کا کثرت سے ورد کریں…
میں نے حضرت کا یہ پیغام فوری طور پر تمام مجاہدین تک پہنچا دیا… آپ دیکھیں کہ
حکومت کے ظلم کا سنتے ہی اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھنے والے ولی کی توجہ فوری
طور پر… ’’اسماء الحسنیٰ‘‘ کی طرف منتقل ہو گئی… یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ، یَا
اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ، یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ… اللہ تعالیٰ کے اس پیارے نام پر ایک خاص فرشتہ مقرر
ہے… صرف تین بار پڑھنے سے قبولیت کا خاص دروازہ کھل جاتا ہے… حکومت کے ’’ظالمانہ
آپریشن‘‘ سے حفاظت کے لئے اگر روزانہ باوضو… پانچ سو بار پڑھ لیا جائے تو اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت نصیب ہوجاتی ہے… اور جس
بندے پر اللہ تعالیٰ کی ’’رحمت‘‘ ہو زمانے کے فرعون اور دجال
اس کا کیا بگاڑ سکتے ہیں… جبکہ… وَاُفَوِّضُ اَمْرِیْ اِلَی اللہ اِنَّ اللہ بَصِیْرٌ بِّالْعِبَاد… قرآن پاک کی آیت ہے…
یہ دعاء اٰل فرعون میں سے مسلمان ہونے والے شخص نے پڑھی تھی… تب… اللہ تعالیٰ نے اسے فرعون کے ہر ظلم اور سازش سے
بچالیا… اور خود فرعون اور اس کے حواری ’’برے عذاب‘‘ میں مبتلا ہوگئے… اللہ تعالیٰ ہمیں ’’یقین‘‘ کی دولت عطا فرمائے… اور
ملعون دنیا کی محبت ہمارے دلوں سے نکال دے… تب ہمیں معلوم ہوگا کہ ’’اسماء
الحسنیٰ‘‘ کتنی بڑی نعمت ہے… حضرت قاری عرفان صاحبؒ کی زیارت کے لئے مجاہدین بکثرت
ان کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے… حضرت قاری صاحبؒ لکڑی کی دراز کھولتے اور نوٹ
نکال کر ان مجاہدین میں بانٹ دیتے… ان کا یہ پیار بھرا ’’ہدیہ‘‘ کئی بار مجھے بھی
نصیب ہوا… ایک بار فرمانے لگے… معلوم ہے یہ پیسے کہاں سے آتے ہیں؟… یہ اللہ تعالیٰ کے نام ’’اَلْوَہَّابُ‘‘ کی برکت سے ہیں…
اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو اس نام کی
خاص برکت عطا فرمائی تھی… کیونکہ انہوں نے اسی نام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے زمین کی ’’بے مثال حکومت‘‘ مانگی تھی…
رَبِّ
ہَبْ لِیْ مُلْکًا لَّا یَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْ بَعْدِیْ اِنَّکَ اَنْتَ
الْوَہَّابُ
اللہ تعالیٰ نے انہیں ’’بے مثال حکومت‘‘ بھی عطاء
فرمائی… اور جتنا مال دیا اس پر سے ہر طرح کا حساب بھی معاف فرمادیا…
ہٰذَا
عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِکِ بِغَیْرِ حِسَابٍ
قاری
صاحبؒ نے فرمایا… اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی اس نام مبارک کی برکت عطاء
فرمائی ہوئی ہے… پھر جوش سے فرماتے تھے… اب مجھ سے کوئی حساب کتاب پوچھنے والا
نہیں ہے… ہم نے خود دیکھا کہ حضرت قاری صاحبؒ نے اپنی زندگی بے حد ’’زہد‘‘ میں
گزاری مگر وہ… ہزاروں لاکھوں روپے ایک ایک مجلس میں تقسیم فرمادیا کرتے تھے… اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ان کا یقین کامل تھا… اور
یہی یقین انسان میں ’’قوت‘‘ پیدا کرتا ہے… قاری صاحبؒ کی خدمت میں جب بھی کسی
پریشانی کا اظہار کیا جاتا تو جوش کے ساتھ فرماتے … اللہ ایک ہے… اللہ ایک ہے… ان پر اللہ تعالیٰ کے اسماء… اَلْوَاحِدُ، اَلاَْحَدُ،
اَلْفَرْدُ، اَلْوِتْرُ… کا غلبہ تھا… وہ یقین رکھتے تھے کہ دنیا آخرت کے ہر
مسئلے کا حل … اللہ تعالیٰ کو ’’ایک‘‘ ماننے میں ہے… بے شک جب
پیشانی ایک کے سامنے جھکے… دل ’’ایک‘‘ ہی کی مانے… عقل ’’ایک ‘‘ ہی کی پیروی کرے…
اور اس ’’ایک‘‘ کے سوا کسی سے کچھ بھی ہونے کا یقین دل سے ختم ہوجائے تو پھر… ہر
مسئلہ فوراً حل ہوجاتا ہے… قاری صاحبؒ کی اس سخاوت اور فیاضی کو دیکھ کر… ان لوگوں
کو شک ہوگیا جو امریکہ کو (نعوذبا للہ) اللہ تعالیٰ سے زیادہ طاقتور مانتے ہیں… یہ اس زمانے
کی بات ہے جب امریکہ نے پاکستان کی ’’فوجی حکومت‘‘ کو… اپنی سرپرستی میں نہیں لیا
تھا… اس وقت حکومت کے کچھ لوگوں نے… حضرت قاری صاحبؒ پر یہ ظالمانہ الزام لگادیا
کہ وہ (نعوذباللہ ) امریکی ایجنٹ ہیں… ایک بڑے افسر نے جب میرے سامنے یہ الزام
دہرایا تو غم وغصے سے… میرے آنسو بہنے لگے… میں نے کہا آپ نے یہ الزام لگا کر
اپنی آخرت برباد کرنے کا قدم اٹھایا ہے… کاش آپ اس سچے اللہ والے مسلمان کو ایک نظر دیکھ لیتے… میں نے جب
قاری صاحبؒ کے حالات سنائے تو وہ افسر صاحب گھبرا گئے… کچھ دن بعد وہ حضرت قاری
صاحبؒ کو دیکھنے پہنچے تو ایمان اور فقر کی شان دیکھ کر دنگ رہ گئے… اور انہوں نے
اپنے الزام سے توبہ کرلی… آج مسلمانوں میں مال کا لالچ عام ہے… اور مسلمان اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کے پیارے پیارے ناموں سے
غافل ہیں… اس لیے جب بھی انہیں کسی دیندار یا مجاہد کے پاس کچھ ’’پیسہ‘‘ نظر آتا
ہے تو فوراً طرح طرح کے الزامات لگانے شروع کردیتے ہیں… میں نے ایک خطیب کی کیسٹ
سنی وہ اپنی تقریر میں کہہ رہے تھے… جیش محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو امریکہ سے ڈالر آتے ہیں… حالانکہ
جیش محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو امریکہ نے کبھی ایک دن کے لئے بھی
برداشت نہیں کیا… مگر دنیا پرست لوگوں کے نزدیک کوئی جماعت امریکی تعاون کے بغیر
ترقی کر ہی نہیں سکتی… ہم نے الحمد اللہ جماعت کا مالیاتی نظام… اسلامی احکامات کے مطابق
تقوے اور وقار پر قائم کیا… اور جہادی اموال کو اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھ کر اس میں ہر طرح کی خیانت
سے بچنے کی کوشش کی… مگر… پھر بھی دنیا پرست لوگوں نے طرح طرح کے الزامات لگائے…
دراصل یہ لوگ خود مال سے عشق رکھتے ہیں… اور ان کا اللہ تعالیٰ کے پیارے نام ’’اَلْوَہَّابْ‘‘ پر یقین
نہیں ہے… اس لیے وہ منہ بھر کر الزامات لگاتے ہیں… اور ماحول کو خراب کرتے ہیں…
ابھی ایک تازہ خبر پڑھ کر ممکن ہے… الزامات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوجائے…
اس
تازہ خبر کا خلاصہ یہ ہے کہ… ۱۹۹۹ء
میں جن مجاہدین نے انڈیا کا طیارہ اغواء کیا تھا… ان مجاہدین کو اور ان کے مطالبے
پر رہا ہونے والے مجاہد رہنماؤں کو بھارتی وزیر خارجہ جسونت سنگھ نے ایک لال بیگ
میں بیس کروڑ ڈالر بھی دئیے تھے… کانگریس پارٹی نے یہ الزام لگایا ہے اور پاکستان
کے کئی اخبارات نے اس پر تبصرے اور تجزئیے بھی لکھ ڈالے ہیں… اس وقت جب کہ انڈیا
کشمیری مجاہدین کے حملوں کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہے… اس کاخلائی سیارچہ
اوندھے منہ گر کر تباہ ہوچکا ہے… اس کا میزائل تجربہ ناکام ہوچکا ہے… ان حالات میں
مجاہدین کو بدنام کرنے کے لئے یہ آواز اٹھائی گئی ہے… بھارت جب سے بنا ہے… انڈین
طیارے کے اغواء جیسی ذلت اور ناکامی اس کے حصے میں نہیں آئی… یہ ناکامی اس کے
چہرے پر کلنک کا ٹیکہ اور ذلت کا نشان ہے… یوم آزادی کی تقریب کے موقع پر ہر سال
بھارت کا ہر صدر ایک ہی مضمون کی تقریر کرتا ہے کہ… بھارت مہا شکتی (بڑی طاقت) ہے…
بھارت نے پاکستان کے نوے ہزار فوجی پکڑ کر باندھ دئیے… بھارت نے اڑتالیس، پینسٹھ
اور اکہتر کی جنگ میں پاکستان کو ناکوں چنے چبوائے… اور اب کارگل کی فتح کا تذکرہ
بھی اس تقریر کا حصہ بن چکا تھا… مگر اللہ
تعالیٰ کے لئے قربان ہونے کا جذبہ رکھنے
والے پانچ مجاہدین نے اس مہاشکتی (بڑی طاقت) کی… ناک زمین پر رگڑ دی اور مسلسل
فتوحات کے غرور کو خاک میں ملادیا… انڈیا کی حکومت اور ایجنسیوں نے اس ذلت آمیز
شکست کا داغ دھونے کی فوری طور پر کئی کوششیں کیں مثلاً:
(۱) وزیر
خارجہ جسونت سنگھ نے طالبان کو بڑی امداد کی پیشکش کی… اور مطالبہ کیا کہ ان تمام
مجاہدین کو پکڑ کر ہمارے حوالے کردیا جائے… طالبان نے نفرت وحقارت کے ساتھ اس
مطالبے کو مسترد کردیا
(۲) ہائی
جیکروں کے مطالبے پر رہا ہونے والے مجاہدین کو قتل کرنے کے لئے طرح طرح کے جال
بچھائے گئے اور پاکستان کی… بعض پارٹیوں سے بھی مدد لی گئی… مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی ہر تدبیر کو ناکام فرمادیا
(۳) اسلام
آباد کے بعض کم عقل اور نفس پرست صحافیوں کو خریدا گیا اور ان کے ذریعہ… یہ بات
پھیلائی گئی کہ رہا ہونے والے مجاہدین (نعوذباللہ ) بھارتی ایجنٹ ہیں… اور بھارت
نے ان کو بعض تنظیمیں ختم کرنے کیلئے بھیجا ہے… یہ پروپیگنڈا بھی اپنی موت آپ مر
گیا
(۴)پاکستانی
حکومت پر… بڑی طاقتوں اور پاکستان میں موجود انڈین ایجنٹوں کے ذریعے اس بات کا
دباؤ ڈالا گیا کہ… وہ رہا ہونے والے مجاہدین کو ختم کرے… یا انہیں قید میں ڈالے …
اور ان کی مقبولیت کم کرنے کے اقدامات کرے… پاکستانی حکومت اس دباؤ کا شکار ہوئی
اور اس نے مسلمانوں اور پاکستان کی اس فتح کو… اپنے ظالمانہ اقدامات کے ذریعے
دھندلا کرنے کی ہر کوشش کی…
بیس
کروڑڈالر دینے کا الزام بھی ان شاء اللہ اپنی موت آپ مرجائے گا… البتہ ڈالروں کے لالچی
اس موقع پر اپنے منہ سے جو رال ٹپکائیں گے… اللہ تعالیٰ اس کے شر سے ہم سب کی حفاظت فرمائے …
باوثوق ذرائع سے جس بات کی تصدیق ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ… ہائی جیکر مجاہدین نے شروع
میں تین مطالبات رکھے تھے…
(۱) کمانڈر
سجاد خان شہیدؒ کا جسد خاکی ان کے والدین کے حوالے کیا جائے… یاد رہے کہ… کمانڈر
سجاد شہیدؒ جموں کے ایک قبرستان میں… آسودہ خاک ہیں
(۲) اڑتیس
مسلمان قیدیوں کو رہا کیا جائے
(۳) دو
سو ملین ڈالر فدیہ ادا کیا جائے
بعد
ازاں قندھار کے اہل علم حضرات نے ’’ہائی جیکر مجاہدین‘‘ کو مطالبہ نمبر (۱) اور
مطالبہ نمبر (۳) واپس
لینے پر راضی کرلیا… چنانچہ کئی دن تک صرف مطالبہ نمبر (۲) یعنی اڑتیس
مسلمانوں کی رہائی پر مذاکرات چلتے رہے… بالآخر تین مسلمانوں کی رہائی پر… فیصلہ
ہوا… اور جمعۃ المبارک ۲۲؍رمضان
المبارک… بمطابق ۳۱دسمبر ۱۹۹۹ء
…انڈین حکومت نے تین مجاہدین کو… اور ہائی جیکر حضرات نے انڈین طیارے کو رہا
کردیا… اور امت مسلمہ طویل عرصے کے بعد ’’فتح مبین‘‘ کا یہ منظر دیکھ کر… اللہ تعالیٰ کی محبت میں سرشار ہوگئی… و اللہ الحمد رب العالمین…
انڈین
حکومت نے اگر تاوان میں کچھ رقم دی ہوتی تو وہ… اسی وقت مجاہدین کو بدنام کرنے کے
لئے اس کا پرچار کرتی… اور عالمی ذرائع ابلاغ سے یہ خبر چھپی نہ رہتی… دراصل انڈیا
اس وقت زخمی سانپ کی طرح… بے چینی سے بل کھا رہا ہے… اور کروٹ پر کروٹ لے رہا ہے…
پاکستان میں موجود ایک ملک دشمن لابی نے اسے یقین دلا دیا تھا کہ… کشمیر کا مسئلہ
ختم اور مجاہدین کا قصہ پاک… مگر… اللہ تعالیٰ نے جہاد اور مجاہدین کی لاج رکھ لی…
سرینگر سے کپواڑہ تک… اور ڈوڈہ سے لے کر پونچھ اور راجوری تک… جہاد پوری سرمستی کے
ساتھ جھوم رہا ہے… اور پوری قوت کے ساتھ گونج رہا ہے… کشمیر کی زمین کے ہر چپے پر…
شہداء کا خون ہے… اس لیے غیروں کی جفاء… اور اپنوں کی بے وفائی کے باوجود کشمیر اب
بھی للکار رہا ہے… اور کشمیر اب بھی گرج رہا ہے… انڈیا کی ناہموار حکومت کے مظالم
نے… اس کے دشمن بڑھا دئیے ہیں… بمبئی کے بم دھماکے انہیں انڈین شہریوں کا کام ہے
جو… ترشول کی نوکیلی سیاست سے تنگ آچکے ہیں… انڈیا جب زخمی اور بے چین ہوتا ہے
تو… پاکستانی حکومت پر دباؤ ڈال دیتا ہے… اور امریکہ سے مزید دباؤ ڈلواتا ہے…
پاکستانی حکومت جب دباؤ میں آتی ہے تو مردوں کی طرح مقابلہ کرنے کی بجائے…
پاکستان کے دیندار طبقے پر ظلم کا آپریشن شروع کردیتی ہے… تب… وہ سفاکانہ مناظر
نظر آتے ہیں کہ آسمان بھی… ہمارے حکمرانوں کی ’’بدنصیبی‘‘ اور سفاکیت پر روتا
ہے… پولیس بوٹوں سمیت مسجدوں میں گھستی ہے… اللہ والوں کی داڑھیوں کو نوچا جاتا ہے… سادہ کپڑوں
والے… بے وضواہلکار… مساجد کی پہلی صفوں میں تجسس کی بو پھیلاتے ہیں… گاڑیوں کے
خوفناک ہارن اور بوٹوں کی دھمک سے معصوم بچوں کے دل دہل جاتے ہیں… بوڑھے ہاتھوں
میں نوکیلی ہتھکڑیاں ڈال دی جاتی ہیں… کئی گھر ویران ہوجاتے ہیں… کئی بچے والدین
کے جیتے جی یتیمی کا مزہ چکھتے ہیں… دینی کتابوں کی بے حرمتی ہوتی ہے… مونچھوں
والے ہونٹوں سے بدبودار گالیاں نکلتی ہیں… ایک شور، ایک ہنگامہ… اور ایک طوفان
بدتمیزی… دو ہفتے میں تین ہزار ’’داڑھی والے مسلمان‘‘ جیلوں کے ’’قصوری وارڈز‘‘
میں ڈال دئیے جاتے ہیں… اخبارات میں داڑھی والے مجرموں کے فوٹو چھپتے ہیں … ایک
آدھ نامور مجاہد رہنما گرفتار کرکے… خفیہ اداروں کے سیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے…
ریڈیو، ٹی وی پر فخر سے یہ خبر سنائی جاتی ہے… تب … گورے ملکوں کے سفیر ٹیلیفون پر
مبارکباد دیتے ہیں… دو چار کروڑ ڈالر قرضے کی کوئی قسط کھول دی جاتی ہے… کسی ملک
کا کوئی بڑا اہلکار… ’’ویل، ڈومور‘‘… (شاباش ابھی مزید کرو) کی داد دیتا ہے… حکومت
پر سے دباؤ کم ہو جا تا ہے… حکمران خوشی کا جشن مناتے ہیں … مگر… ایک معصوم بچہ
اپنی ماں سے پوچھتا ہے… امی! ابو کہاں ہیں؟… امی آپ مجھے کئی دن سے دودھ کیوں
نہیں پلا رہیں؟… امی! یہ سوکھی روٹی تو مجھ سے چبائی بھی نہیں جارہی… امی ابوجان
کب آئیں گے؟… اس بچے کی ماں آنسو روکتی ہے… ہچکی کو سینے میں دباتی ہے… ایک نقلی
مسکراہٹ چہرے پر لا کر کہتی ہے… بیٹا ابو تو اللہ تعالیٰ کے راستے میں گئے ہیں… تمہارے لیے ڈھیروں
کھلونے لینے… وہ جلدی آجائیں گے… اتنا کہتے ہی اس کے آنسوؤں کا بند ٹوٹ جاتا
ہے… وہ بچے سے آنسو چھپانے کے لئے جلدی سے باہر نکل جاتی ہے… تب اس کی ہچکی سے
آسمان ہل جاتا ہے… آنسو ٹپ ٹپ برستے ہیں… اور دل سے آواز نکلتی ہے… یَا
اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ… یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ… یَا اَرْحَمَ
الرَّاحِمِیْنَ… حکومت والو! ان مسلمان بیٹیوں کی تربیت ہی ایسی ہے… وہ ’’یَا
اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ‘‘ پکارتی ہیں… مگر یاد رکھو… جس دن انہوں نے… یَا
قَہَّارُ، یَا قَہَّارُ، یَا قَہَّارُ… پکار لیا… رب کعبہ کی قسم… تمہاری راتیں
بھی تاریک ہوجائیں گی… اور تمہارے بچے بھی… تمہاری زندگی میں یتیمی کا مزہ چکھ لیں
گے… اور اصل بات یہ کہ ’’یوم حساب‘‘ بھی تو دور نہیں ہے…
لِمَنِ
الْمُلْکُ الْیَوْمَ… لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کی کتاب میں مہینوں کی گنتی بارہ ہے… ان
بارہ مہینوں میں سے چار مہینے ’’حُرمت‘‘ والے ہیں… ان چار ’’حُرمت‘‘ والے مہینوں
میں سے ایک یعنی ’’رجب‘‘ کا مہینہ شروع ہو چکا ہے… آئیے سب سے پہلے ’’رجب‘‘ کی
مسنون دعا پڑھ لیں
اَلّٰلھُمَّ
بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ…
یہ
دعاء الحمد اللہ ہر سال یاد کرائی جاتی
ہے… دراصل یہ برکت اور رحمت کا ذریعہ ہے… حالات تو بدلتے رہتے ہیں مگر بندے کو ہر
وقت اللہ تعالیٰ ہی سے مانگتے رہنا چاہئے… یا اللہ ہمارے لئے رجب اور شعبان کے مہینے میں برکت عطاء
فرما… اور ہمیں رمضان المبارک نصیب فرما… رؤیت ھلال یعنی چاند دیکھنے کے مسئلے پر
جب طوفانی جھگڑے کھڑے ہوتے ہیں تو … بعض مسلمان سوچتے ہیں… کیا ہی اچھا ہوتا کہ
ہمارے مہینے بھی جنوری، فروری کی طرح سورج کے حساب سے ہوتے… تب کوئی جھگڑا نہ ہوتا
اور نہ ہی ایک ملک کے مسلمان الگ الگ عیدیں مناتے… اور یوں اُمتِ مسلمہ ’’چاند
ماری‘‘ سے بچ جاتی… یہ خیال ظاہری طور پر اگرچہ کافی دلکش ہے مگر درست نہیں… اس
خیال کے درست نہ ہونے پر بہت سے دلائل دئیے جا سکتے ہیں یہاں صرف ایک دو آسان سی
باتیں یاد رکھ لیں:
(۱) محرّم،
صفر وغیرہ قمری مہینوں کی ترتیب … اللہ تعالیٰ نے اپنے سب سے افضل اور آخری نبی حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مقرر فرمائی ہے… ظاھر بات ہے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو نظام دیا گیا ہے وہی… انسانیت
کیلئے زیادہ نفع مند اور افضل ہے۔
(۲) مسلمان
ہر سال ایک مہینہ روزے رکھتے ہیں… اور ہر سال ان کی ایک بڑی تعداد حج کرتی ہے… اگر
اسلامی مہینے بھی جنوری، فروری کی طرح مقرر اور جامد ہوتے تو انسان مشقت میں پڑ
جاتے… اور عبادت کا مزہ ختم ہو جاتا… ابھی رمضان کبھی گرمی میں آتا ہے، کبھی سردی
میں … کبھی بہار میں آتا ہے اور کبھی خزاں میں … اس طرح دنیا کے ہر خطے کے انسان
اپنا بہترین گزارہ کرلیتے ہیں… اور ہر موسم کے روزے کا مزہ چکھ لیتے ہیں… لیکن اگر
رمضان المبارک ہر سال ایک ہی موسم میں آتا تو کچھ لوگ ہمیشہ کی مشقت میں… اور کچھ
لوگ ہمیشہ کی تن آسانی میں مبتلا ہو جاتے…
(۳) چاند
کا معاملہ ہر گز پیچیدہ نہیں ہے… مگر چونکہ مسلمان حکمران دینی معاملات کو اہمیت
نہیں دیتے اس لئے جھگڑے پیدا ہو رہے ہیں… عرب ممالک میں ھجری تاریخ… سرکاری طور پر
جاری ہے… وہاں حکومت خود اس تاریخ کی حفاظت کاانتظام کرتی ہے… اس لئے وہاں کوئی
جھگڑا نہیں ہوتا اور نہ دو عیدیں منائی جاتی ہیں… خیر کوئی حکمت سمجھ میں آئے یا
نہ آئے… ہم مسلمان اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے غلام ہیں… ہمارے ربّ
نے ہمارے لئے جو مہینے مقرر فرمائے ہیں وہ چاند کے حساب سے ہیں… اور ان کے نام
محرّم ، صفر وغیرہ ہیں… نہ کہ جنوری، فروری … اور ہمارے کیلنڈر کی ترتیب حضور پاک
صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مبارکہ سے شروع ہوتی ہے… اور
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا چودہ سو ستائیسواں سال چل
رہا ہے… چنانچہ اس وقت جبکہ … مسلمانوں کے ملک افغانستان پر غیر ملکی فوجوں کا
حملہ جاری ہے… اور تاریخ میں پہلی بار افغانستان کے چار صوبوں کا کنٹرول نیٹو کی
افواج نے سنبھال لیا ہے… اس وقت جبکہ مسلمانوں کے ملک فلسطین پر … یہودی گیدڑ
بمباری کر رہے ہیں… اس وقت جبکہ مسلمانوں کے ملک لبنان کو … یہودیوں کے ناجائز ملک
اسرائیل نے اُدھیڑا ہوا ہے… اس وقت جبکہ مسلمانوں کے ملک عراق پر… امریکہ اور اس
کے حواریوں کا قبضہ ہے… اس وقت جبکہ مسلمانوں کے حسین خطے کشمیر پر برھمنی سامراج
ظلم کا رَقص کر رہا ہے… اس وقت جبکہ اُمتِ مسلمہ زخمی حالت میں … آسمان کی طرف
دیکھ کر اللہ اللہ پکار رہی ہے… دن کے بارہ بجنے والے ہیں رجب کی
پانچ تاریخ ہے… اور سن ۱۴۲۷ھ
کا سال رواں دواں ہے… اللہ پاک کا شکر ہے کہ اتنا عرصہ بیتنے کے باوجود ہم
مسلمان زندہ ہیں… اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم بڑھتے ہی چلے جا رہے
ہیں… ہم نے ابوجہل کا فتنہ جھیل لیا… ہم بچ گئے اور ابوجہل بدر کے کنویں میں ڈال
دیا گیا… صحیح بخاری کی روایت ہے کہ … آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے پکار کر فرمایا… اے ابوجہل!
ہمارے ربّ نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا وہ ہم نے سچا پایا ہے…
آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلان چودہ سو ستائیس برس کے بعد
بھی گونج رہا ہے… اور ہر زمانے کے ہر ابوجہل کی گردن جھکارہا ہے… وہ کون سا فتنہ
ہے جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نہیں اُٹھایا گیا؟… وہ کونسی سازش ہے جو شیطان
کے پجاریوں نے مسلمانوں کے خلاف نہیں رچی؟… عبد اللہ بن سبا کا فتنہ کتنا خطرناک تھا… تاتاریوں کا
طوفان کتنا ہیبت ناک تھا… صلیبی جنگوں کا لشکر کتنا خونخوار تھا… مگر وہ سب ختم ہو
گئے اور الحمد اللہ ہم باقی ہیں… ہمارا
وہی قبلہ وکعبہ ہے… ہمارا وہی کلمہ ہے… اور ہمارا وہی قرآن ہے… الحمد اللہ کچھ بھی تو نہیں بدلا… کعبۃ اللہ کے
خلاف کتنی سازشیں ہوئیں… مگر وہ پوری شان سے کالی کملی اوڑھے سینہ تان کر کھڑا ہوا
ہے… دنیا میں کسی اور کے پاس ایسا محفوظ اثاثہ … اور ایسا باوقار مرکز ہے؟ … بالکل
نہیں، ہر گز نہیں… مسجد نبوی شریف اور پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اقدس کے خلاف کتنی بھیانک
سازشیں رچی گئیں… اللہ اکبر کبیرا… ایسی خوفناک سازشیں کہ ان کا تذکرہ
سن کر دل رونے لگتا ہے… مگر میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا روضۂ مبارک پورے وقار کے ساتھ
محفوظ ہے… زمانے کے بادشاہ وہاں کی مٹی کیلئے ترستے ہیں… اور زخمی دل مسلمان وہاں
جا کر اس طرح سکون محسوس کرتے ہیں… جسطرح سالہا سال کا بچھڑا بچہ اپنی پیاری ماں
کی گود میں … کیا دنیا میں کسی کے پاس عزت و سکون کا ایسا شاندار مرکز ہے؟…
روزانہ
کروڑوں اربوں درود و سلام کے پھول اور موتی وہاں نچھاور ہوتے ہیں… آسمان سے لے کر
زمین تک فرشتوں کا ہجوم … دنیا بھر کے درود و سلام جمع کر کے لاتا ہے… اور آقا
صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پہنچاتا ہے… کافروں کے سازشی
دماغ … ہزار مرزے قادیانی گھڑ لائیں… روضہ اقدس کا حسن و جمال… مسلمانوں کی نظروں
میں کسی ’’دجّال‘‘ کو جچنے ہی نہیں دیتا… ہاں، الحمد اللہ ہم زندہ ہیں… اور ہماری زندگی کا اعتراف ان کو
بھی کرنا پڑتا ہے جو ہمیں مارنا چاہتے ہیں… افغانستان کا آپریشن زیادہ سے زیادہ
ایک سال کا تھا… مگر آج پانچواں سال بیت گیا… افغانستان کے ہر پتھر سے طالبان نکل
کر … اعلان کر رہے ہیں… ہم نے اپنے ربّ کے وعدے کو سچا پایا ہے… اللہ تعالیٰ درجات بلند فرمائے… حضرت مولانا یونس
خالص صاحب ؒ کے … آج میں اُنہی کی یاد میں مضمون لکھنے بیٹھا تھا… مگر بات کا رُخ
بدل گیا… اسرائیل کے تازہ حملوں نے مسلمانوں میں کسی قدر مایوسی کا ماحول پیدا
کردیا ہے… حالانکہ یہ جوش اور ہمت کا موقع ہے… اور اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ
مسلمان… الحمد اللہ زندہ ہیں… اسرائیل کا
آپریشن اپنی موت آپ مر رہا ہے… اور عرب کے غفلت زدہ ماحول میں… الحمد اللہ ایمانی حرارت کا نور اُبل پڑا ہے… آخر کفر وظلم
کا یہ جال اسی طرح تو ٹوٹے گا… زرقاوی ؒ کی شہادت کے بعد امریکیوں پر عراق میں جو
تابڑ توڑ حملے ہو رہے تھے… ان کی خبروں کو چھپانا ظالموں کی اہم ترین ضرورت تھی…
اب ریڈیو اور اخبار میں عراق کے تذکرے آخری کونے میں گم ہو چکے ہیں… امریکہ عراق
کی جنگ سے جو کچھ حاصل کرنا چاہتا تھا وہ حاصل نہیں کر سکا… تب … ایک نیا دائو
آزمایا جا رہا ہے… اور اس دائو کا وبال بھی انشاء اللہ …
اسرائیل اور امریکہ پر ہی پڑے گا… مولوی یونس خالص ؒ… ان مسلمان فاتحین میں سے تھے
جنہوں نے سوویت یونین کو عبرت ناک شکست دی… ایک زمانے میں افغانستان کی سات
جماعتوں … اور ان کے سات لیڈروں کا چرچہ تھا… مولوی محمد نبی محمدیؒؒ ، مولوی محمد
یونس خالصؒ، گلبدین حکمتیار ، عبدالربّ رسول سیاف، استاد ربّانی ، صبغت اللہ مجددی، پیرگیلانی…
مولوی
محمد یونس خالصؒ ان سب میں ایک منفرد شان کے جہادی رہنما تھے… میں نے چند دن اُن
کے ساتھ گذارے … اور انہیں قریب سے سمجھنے کی سعادت حاصل کی… مجھے لاہور کا وہ
جلسہ اچھی طرح سے یاد ہے جس میں مولوی یونس ؒ کی تقریر پر پاکستان کے علماء کرام
جھوم اُٹھے تھے… اور ایک عالم دین نے بے ساختہ کہاتھا… خالصؒ واقعی خالص ہے… سوویت
یونین کے خلاف جہاد کے زمانے میں… طورخم سے لے کر پُل چرخی تک… اور اُدھر خوست سے
لے کر میدان تک مولوی خالصؒ کی رزم گاہ آباد تھی… وہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے والے، اس کے احکامات کی بجا
آوری کرنے والے… اور جہادی اموال میں حد درجہ امانت اور احتیاط قائم کرنے والے
رہنما تھے… انہوں نے سوویت یونین کے خلاف جہاد شروع کیا اور پھر فتح کا دلکش منظر
بھی… اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا… اب جبکہ… افغانستان پر امریکہ نے قبضہ کیا تو کئی
جہادی رہنما… اپنے عقیدے اور عمل کو نہ بچا سکے… استاد ربانی تو پہلے ہی… لسانیت
پرستی کی ٹھوکر کھا کر اونچی منزل سے … تاریک کھائیوں میں گر چکے تھے… جبکہ سیاف،
مجددی اور گیلانی نے بھی… وقت کے دجّال کے سامنے گردن جھکا دی… مولوی محمد نبی
محمدّی الحمد اللہ اپنے ایمان اور عمل کی
سلامتی کے ساتھ… اس دنیا سے رُخصت ہوگئے… گلبدین حکمتیار نے بھی امریکہ کے سامنے
سر نہیں جھکایا… مگر سخت آزمائش مولوی محمد یونس خالصؒ کے لئے تھی… ان کے اہم
ترین کمانڈر اور رفقاء … امریکی چمک میں کھو گئے تھے… کمانڈر عبدالحق نے خود کو
…’’پہلے کرزئی‘‘ کے طور پر پیش کر دیا… اور فوراً ہی مارے گئے… حاجی عبدالقدیر خان
بھی ننگرہار کی گورنری پر اپنا ماضی چھنوا بیٹھے… اور پھر کابل میں مارے گئے…
مولوی دین محمد بھی استقامت نہ دِکھا سکے… مولوی یونس خالصؒ خود ننگر ہار کے تھے…
اور وہاں ان کے تمام رفقاء نے پھیکے پن کا مظاہرہ کیا… طبعی غیرت کی وجہ سے مولوی
یونس خالصؒ نے پاکستان کا رُخ بھی نہ کیا… اب دنیا انتظار میں تھی کہ… عزت، غیرت
اور بہادری میں گوندھا ہوا یہ بوڑھا عالم، مجاہد، صحافی… اور شاعر کیا قدم اُٹھاتا
ہے… کابل کی اونچی کرسیاں مولوی خالصؒ کو… ’’ھیت لک‘‘ کہہ رہی تھیں… ان کے معمولی
کمانڈر وفاقی وزارتوں پر براجمان تھے… اور ان کے ساتھی مجددی وغیرہ… اپنے بڑھاپے
کی راحت پر اپنے اچھے انجام کو قربان کر چکے تھے… اب مولوی خالصؒ کیا کرتے؟…
امریکہ میں صدر رونالڈریگن کو اسلام کی دعوت دینے والا مولوی خالصؒ… جو … پچاس سال
سے ایک گردے پر جی رہا تھا… بڑھاپے کے عالم میں اس سخت آزمائش سے دوچارہوا… مجھے
انتظار تھا کہ مولوی خالصؒ کیا قدم اُٹھاتے ہیں… کابل کی حسین اور خوبصورت
’’جہنم‘‘ کی طرف جاتے ہیں… یا … جہاد کی سنگلاخ چٹانوں میں ’’جنت‘‘ کا راستہ
ڈھونڈتے ہیں… تب … اللہ تعالیٰ نے خاص فضل فرمایا اور اس بوڑھے فاتح کے
ایمان اور عمل کو بچا لیا… مولوی خالصؒ نے …ا مریکہ کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا…
اور سوویت یونین کے بعد… دنیا کی دوسری بڑی طاقت امریکہ کے خلاف بھی جہاد کا اعلان
کر دیا… اور بڑھاپے کے مشکل ایام میں … روپوشی کی سخت زندگی کو اختیار کر لیا…
مبارک باد، صد ہزار مبارک باد… سلام، ہزاروں سلام… اس استقامت پر، اس جرأت پر…
اور اس کارنامے پرکہ… کم عقل کمیونسٹوں کو شکست دینے والا فاتح… نفس پرست امریکیوں
کے خلاف بھی جہاد میں شامل ہو گیا… اور اپنی جھولی سعادتوں سے بھر گیا… میرے پاس
الفاظ نہیں کہ میں… مولوی محمد یونس خالص رحمۃ اللہ علیہ کے خراجِ عقیدت کا حق ادا کر سکوں… اللہ اکبر کبیرا… اللہ تعالیٰ کی شان دیکھئے… مولوی خالصؒ کے قریبی
رفقاء… ان کا ساتھ چھوڑ گئے… مگر… ان کے ایمان اور نظریے نے ان کا ساتھ نہ چھوڑا…
اور بالآخر انہیں صحیح سلامت اللہ تعالیٰ کے حضور لے گیا… اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے… ان کے درجات بلند
فرمائے… انہیں اپنے شہداء ساتھیوں کے ساتھ ملائے… اُمتِ مسلمہ کو اُن کا نعم البدل
عطاء فرمائے… اور اللہ تعالیٰ ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرمائے… اخبارات
نے لکھا ہے کہ … مولوی یونسؒ خالص کو ان کی وصیت کے مطابق … کسی گمنام جگہ پر سپرد
خاک کر دیا گیا ہے… اتنا بڑا اور اتنا معروف لیڈر … اور پھر گمنام قبر… واقعی سچ
ہے کہ … خالصؒ ، خالص تھا…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے بر صغیر کے مسلمانوں کو ایک آزاد ملک
عطا فرمایا… اس ملک کا نام ’’پاکستان‘‘ رکھا گیا… یعنی پاک ملک، پاک سرزمین… آج
سے ٹھیک آٹھ دن بعد ۱۴؍اگست
کے دن یہ ملک انسٹھ سال کا ہوجائے گا… جب چودہ ۱۴ ؍اگست ۱۹۴۷ء
کو یہ ملک بنا تھا تو رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اپنا نور بکھیر رہا تھا… ہر طرف
ایک جوش تھا اور خوشی کی عجیب لہر… مسلمانوں کے قافلے پاکستان کی طرف یوں بڑھ رہے
تھے جس طرح شمع کی طرف پروانے بڑھتے ہیں… لوگ ذبح ہو تے رہے، کٹتے رہے اور لٹتے
رہے مگر پاکستان سے ان کی محبت کا یہ عالم تھا کہ… جب ان میں سے کسی کی گردن کاٹی
جاتی تھی تو کٹا ہوا سر اپنا رخ پاکستان کی طرف کرلیتا تھا… وہ سب یہی سمجھ رہے
تھے کہ پاکستان اسلام کی سرزمین ہے… پاکستان مسلمانوں کا ملک ہے…
ہاں
اس زمانے میں آزادی کا مطلب ’’اسلام کی آزادی‘‘ تھی… اور پاکستان کا مطلب ’’لا
الہ الا اللہ ‘‘ سمجھا جاتا تھا… ہر طرف
بس ایک ہی نعرہ گونجتا تھا… پاکستان کا مطلب کیا… لا الہ الا اللہ … برصغیر پر انگریز کی حکومت تھی تو ’’خالص
اسلام‘‘ کے علاوہ کسی چیز پر پابندی نہیں تھی… آج کے بڑے جاگیردار جن زمینوں کا
خون چوس رہے ہیں… یہ زمینیں ان کے باپ دادا کو انگریز نے اپنی خدمت کے عوض بخشی
تھیں… آج جو پولیس ہمارے گلی کوچوں پر راج کر رہی ہے… یہ پولیس اور اس کا پورا
نظام انگریزوں نے قائم کیا تھا… اس زمانے میں بھی مسلمان ایس پی، ڈی ایس پی اور
انسپکٹر ہوتے تھے… اور انگریز کی طرف سے ملنے والے ’’اوپر کے حکم‘‘ پر سب کچھ کر
گزرتے تھے… وہ فوج جو انسٹھ سال سے پاکستان پر حکومت کر رہی ہے یہ بھی انگریز نے قائم
کی تھی… ہمارے سابق صدر ایوب خان برٹش آرمی کے کرنل تھے… برصغیر تقسیم ہوا تو
ہماری قسمت کی آرمی ہمیں دے دی گئی… اور اس کا نام پاکستان آرمی ہوگیا… اور
پاکستان آرمی کے پہلے چیف آف اسٹاف ایک انگریز افسر ’’جنرل گریسی‘‘ مقرر ہوئے…
انگریز کے زمانے میں شراب پینے کی آزادی تھی… کلب جانے اور ناچنے کی آزادی تھی…
لڑکیاں آزادی سے نیکر پہن سکتی تھیں… اور موسیقی پر کوئی پابندی نہیں تھی… پھر
لاکھوں مسلمان اپنے لیے الگ وطن کیوں مانگ رہے تھے؟… اور سینکڑوں قافلے پاکستان کی
طرف لپک لپک کر کیوں کٹ رہے تھے؟… وہ کونسی آزادی تھی جسے وہ حاصل کرنا چاہتے
تھے؟… اس وقت چودہ اگست آیا تھا تو ہر طرف ایمان وعزیمت اور شہداء کے خون کی
خوشبو پھیل گئی تھی… اور آج چودہ اگست آرہا ہے تو ہر طرف کفر و بے حیائی… اور
شراب وبدکاری کی بدبو دماغ کو ہلا رہی ہے… فائیو اسٹار ہوٹل بک ہوچکے ہیں … غیر
ملکی شراب کے کنٹینر مہنگے داموں بک چکے ہیں… اور پولیس کو بتادیا گیا ہے کہ ہاتھ
ہلکا رکھے کیونکہ… زنا وشراب سے پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں ہے… ناچ گانے اور رقص
وموسیقی سے پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں ہے… پاکستان کو تو صرف مسجد کی اذان، تقریر
اور لاؤڈ اسپیکر سے خطرہ ہے… اور پاکستان کو تو صرف اسلام اور خالص مسلمانوں سے
خطرہ ہے… ہماری حکومت ہر سال شراب وکباب میں ڈوب کر جشن آزادی مناتی ہے… اور
ہمارا ملک آہستہ آہستہ پگھلتا جارہا ہے… ۱۹۷۱ء میں آدھا ملک
الگ ہوگیا… نہ کسی کو ذرہ برابر شرم آئی… اور نہ کوئی پچھتایا… اور اب بھی
’’لسانیت پرستی‘‘ کا کالا سانپ عیاش حکمران خود اپنی گود میں پال رہے ہیں…
زمین
بدلی، زمانہ بدلا، مگر نہ بدلے تو وہ نہ بدلے
جو
تنگ وتاریک ذہنیت تھی، وہی ہے برروئے کار اب بھی
اگر
انگریزوں سے آزادی اس لیے لی گئی تھی کہ… ہم آزادی سے ’’بے حیائی‘‘ کر سکیں تو
ہندوؤں کے ساتھ رہتے ہوئے یہ ’’بڑا کام‘‘ زیادہ سہولت سے ہوسکتا تھا… یقینا
’’بمبئی‘‘ بے حیائی میں لاہور سے آگے ہے…
جگر
مراد آبادی مرحوم نے آزادی کے کچھ عرصہ بعد ایک نظم کہی تھی… اس نظم کا ہر شعر
آج بھی پوری طرح سے زندہ محسوس ہوتا ہے… ملاحظہ فرمائیے اس نظم کے چند اشعار…
اگرچہ
آزادیٔ وطن کو گزرچکا ایک سال کامل
مگر
خود اہل وطن کے ہاتھوں فضا ہے ناساز گار اب بھی
خود
اپنی بدنیتی کے ہاتھوں برے نتائج بھگت رہے ہیں
صداقتوں
سے، حقیقتوں سے وہی ہے لیکن فرار ا ب بھی
زمین
بدلی، زمانہ بدلا، مگر نہ بدلے تو وہ نہ بدلے
جو
تنگ وتاریک ذہنیت تھی وہی ہے بر روئے کار اب بھی
کوئی
یہ چپکے سے ان سے پوچھے، کہاں گئے آپ کے وہ وعدے؟
نچوڑتا
ہے لہو غریبوں کا دستِ سرمایہ دار اب بھی
سفارشیں
ظالموں کے حق میں پیام رحمت بنی ہوئی ہیں
نہیں
ہے شائستہ سماعت دکھے دلوں کی پکار اب بھی
اسی
کا ہے نام اگر ترقی، تو اس ترقی سے باز آئے
کہ
خون مخلوق سے خدا کی زمین ہے لالہ زار اب بھی
ہمیں
ملا کر بھی خاک وخوں میں نہیں ہیں وہ مطمئن ابھی تک
ہماری
خاک لحد کے ذرے ہیں ان کے دامن پہ بار اب بھی
جو
محو جشن نظام نو ہیں، پکار کر ان سے کہہ رہا ہوں
یہ
جان ہے سو گوار اب تک، یہ دل ہے ماتم گسار اب بھی
منافقت
کی ہزار باتیں وہ سنتے رہتے ہیں اور خوش ہیں
مگر
صداقت کی صاف وسادہ سی بات ہے ناگوار اب بھی
نہ
وہ مروّت، نہ وہ صداقت، نہ وہ محبت، نہ وہ شرافت
رہین
خوف وخطر ہیں یعنی، سکون امن وقرار اب بھی
زبان
ودل میں نہ ربط صادق، نہ باہمی وہ خلوص کامل
جو
تھے غلامانہ زندگی میں، وہی ہیں لیل ونہار اب بھی
یہ
جشن آزادی وطن ہے، مگر اسی جشن وسرخوشی میں
بہت
ہیں سینہ فگار اب بھی، بہت ہیں بے روز گار اب بھی
یہی
جو سادہ سے قہقہے ہیں یہی جو پھیکے سے ہیں تبسم
انہیں
کی تہہ میں بہت سے اشکوں کے ہیں رواں آبشار اب بھی
گرانیاں
اس طرف وہ ارزاں، ادھر یہ افلاس وتنگ دستی
مگر
حکومت کا ہے یہ عالم، ذرا نہیں شرمسار اب بھی
یہ
نظم کافی طویل ہے … ہم نے چند اشعار جو موجودہ حالات کے عین مطابق ہیں پیش کردئیے
ہیں… اگر اس موضوع کو مزید طول دیا جائے تو ایک عبرتناک کتاب بن سکتی ہے… یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس قدر سازشوں، شرارتوں…
اور حماقتوں کے باوجود پاکستان ابھی تک محفوظ ہے… مگر صرف تنقید کرنے اور عیب گننے
سے بات نہیں بنے گی… صرف ماتم کرنے اور شکوؤں کی فہرست بنانے سے بھی کام نہیں چلے
گا… گورنر جنرل غلام محمد سے لے کر جنرل پرویز مشرف کی ذاتی زندگیوں کی جھاگ اڑانے
سے بھی ہماری ذمہ داری پوری نہیں ہوگی… بلکہ اصل سوچنے کی بات یہ ہے کہ خود ہم میں
سے ہر ایک نے اب تک کیا کیا ہے؟ اور آئندہ ہم نے کیا کرنا ہے؟… یہ بات درست ہے کہ
ہم پر انگریز کے غلاموں کی حکومت چلی آرہی ہے… یہ بات درست ہے کہ پاکستان کی کسی
حکومت نے بھی اسلام کے ساتھ وفاداری نہیں کی… یہ بات درست ہے کہ پاکستان دنیا بھر
کے مسلمانوں کے لئے محافظ اور نمائندہ ملک نہیں بن سکا… یہ بات درست ہے کہ پاکستان
مسلمانوں کے خلاف کافروں کے کام آرہا ہے… یہ بات درست ہے کہ پاکستان کے حکمران
اپنی ذات اور اپنے اقتدار کے پجاری ہیں… یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں بے حیائی
کو سرکاری طور پر پھیلایا جارہا ہے… یہ بات درست ہے کہ پاکستان امریکا کی صلیبی
جنگ میں اس کا دست راست بنا ہوا ہے… یہ بات درست ہے کہ پاکستان کا سیاسی نظام ذلت
اور ابتری کا شکار ہے… یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں مہنگائی نے غریبوں کی کمر
توڑ رکھی ہے… یہ بات درست ہے کہ پاکستان کے بچے اور شہری چند نوٹوں کے عوض دنیا
بھر میں فروخت ہو رہے ہیں… یہ سب کچھ درست … اور بھی بہت کچھ درست… مگر سوال یہ ہے
کہ میں بھی تو ایک پاکستانی ہوں… میں نے اب تک کیا کیا ہے؟… اور مجھے آئندہ کیا
کرنا ہے؟… آئیے اس سال چودہ اگست کے دن ’’خود احتسابی‘‘ کا جشن مناتے ہیں… ہاں!
ہم اپنا احتساب کرتے ہیں صرف اپنا… وہ بھی گھر یا بازار میں نہیں کسی پاک مسجد میں
جاکر… پاک کپڑے پہن کر، باوضو ہو کر… دو رکعت میں محبت والے چار سجدے کرکے… ہم خود
سے پوچھیں کہ ہم نے اب تک آزادی کا کیا فائدہ اٹھایا ہے؟… اور ہم آئندہ کیا کرنے
کا عزم رکھتے ہیں… مہنگائی پھیلانے والی مخلوق آسمان سے تو نہیں اتری… ہم میں سے
جو تاجر ہیں، دکاندار ہیں… وہ اسلامی احکامات کے مطابق تجارت شروع کردیں… رب کعبہ
کی قسم ہمارے بازار کی شکل ہی بدل جائے گی… آج کا بازار تو یوں لگتا ہے جیسے
سانپوں کا جنگل ہو… لوگوں کو لوٹنے والے، دھوکا دینے والے، ملاوٹ کرنے والے… اور
ظلم کرنے والے سانپ ہر دکان میں پھن پھیلائے بیٹھے ہیں… رکشہ اور ٹیکسی چلانے
والے… انسانوں کو لوٹنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے… اور حکمت، ڈاکٹری اور علاج
کے نام پر جو ظلم وگناہ عام ہو رہا ہے اسکی داستان تو بہت دردناک ہے… بے حیائی
پھیلانے والی مخلوق زمین سے نہیں نکلی… ہم میں سے ہر ایک ’’بے حیائی‘‘ کے ہر کام
سے توبہ کرلے… ناجائز دوستیاں، یاریاں، عشق بازیاں… بدنظری، موسیقی، گانا، ناچ… ٹی
وی، وی سی آر، انٹرنیٹ، سب کچھ چھوڑ دے… اور گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ سے دعاء مانگے… اے میرے رب مجھ سے بے
حیائی کو دور فرما دے اور مجھے اپنے مخلص بندوں میں شامل فرمالے… اسی طرح ہم ہر
معاملے میں اپنے عمل کو درست کرتے جائیں… اور ماضی میں جو غلطیاں ہم سے ہوئی ہیں…
ان سے سچی توبہ کرتے چلے جائیں… یاد رکھیں صرف حکمرانوں کی غلطیاں گننے سے کام
نہیں بنے گا… ہم میں سے ہر شخص اپنی طاقت کو درست استعمال کرے ہم میں سے ہر شخص
اپنی شہوت کو درست استعمال کرے… ہم میں سے ہر شخص اپنے مال کو درست استعمال کرے…
ہم میں سے ہر ایک اپنی عزت کو درست استعمال کرے… اور ہم آزادی کا فائدہ اٹھا کر
خود کو پکا اور سچا مسلمان بنالیں… یہ تو ہوا ہمارا ذاتی معاملہ… اب آئیے اپنی
خارجہ پالیسی کی طرف … ہماری حکومت کی خارجہ پالیسی اگر کفر اور ظلم کے حق میں ہے
تو ہم… اپنی خارجہ پالیسی اسلام اور انصاف کے حق میں کردیں… یہ ملک اسلام کے لئے
بنا ہے اور یہ مسلمانوں کا ملک ہے… ہم آزادی سے اپنی خارجہ پالیسی بنا سکتے ہیں…
اگر اس پالیسی کی وجہ سے ہمیں کوئی جیل میں ڈالے تو ہم آزادی سے ’’سنت یوسفی‘‘
پوری کرسکتے ہیں… اس پالیسی پر کوئی ہمیں قتل کرے تو ہم آزادی سے مقام شہادت
پاسکتے ہیں… اور اگر کوئی ہمیں پھانسی پر لٹکا دے تو ہم… آزادی سے موت کے میٹھے
ہونٹ چوس سکتے ہیں… ہم میں سے ہر ایک اپنی خارجہ پالیسی یہ بنالے کہ ہم… دنیا بھر
کے مسلمانوں کے ساتھ ہیں… اور ہم ہر مظلوم مسلمان کی مدد اپنا فرض سمجھتے ہیں… اور
ہم مسلمانوں پر ظلم کرنے والوں کو اپنا ذاتی دشمن مانتے ہیں… ہماری خارجہ پالیسی
کا پہلا اصول ’’ اللہ اکبر‘‘ ہے کہ… اللہ تعالیٰ سب سے بڑا، سب سے طاقتور اور سب سے عظیم
ہے… ہم اسی سے ڈرتے ہیں، اسی کی عبادت کرتے ہیں… اور اس کی وحدانیت، اطاعت اور
عبادت میں کسی کو اس کا شریک نہیں مانتے… ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی طاقت کو مچھر کے پر اور
مکڑی کے جالے جتنا بھی نہیں سمجھتے… اس لیے ہم کسی مچھر کے پر سے ڈر کر… یاکسی
مکڑی کے جالے کے خوف سے اپنی کوئی پالیسی نہیں بناتے… ہمیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں مارسکتا… ہمیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عزت یا ذلت نہیں دے سکتا…
اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ہماری روزی میں تنگی یا
کشادگی نہیں کرسکتا… اللہ تعالیٰ نے ہمیں مسلمانوں کی مدد کا حکم دیا ہے
وہ ہم کرتے رہیں گے… اس سے کوئی گورا ناراض ہو یا کالا… اللہ تعالیٰ نے ہمیں ظالموں کی قوت توڑنے کا حکم دیا
ہے… وہ ہم توڑتے رہیں گے ہمارے ہاتھ میں پتھر ہو یا بم… ہم فلسطینی مجاہدین کے
ساتھ ہیں… ہم افغان مجاہدین کے ساتھ ہیں… ہم کشمیری مجاہدین کے ساتھ ہیں… ہم
لبنانی مجاہدین کے ساتھ ہیں… ہم فلپائنی مجاہدین کے ساتھ ہیں… ہم برمی مجاہدین کے
ساتھ ہیں… ہم دنیا بھر کے ہر اس سچے مجاہد کے ساتھ ہیں جو شریعت کے مطابق جہاد کر
رہا ہے… ہمارا مال اللہ تعالیٰ کا ہے… اور اس کے لئے حاضر ہے… ہماری جان
اللہ تعالیٰ کے لئے ہے… اور اس کی خاطر حاضر ہے…
ہماری اولاد… اور ہمارا خاندان سب کچھ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے… اسلام کی سربلندی کی خاطر
حاضر ہے… اللہ پاک نے ہمیں ماں کے پیٹ سے آزاد پیدا کیا ہے…
ہم دنیا کی کسی طاقت کے غلام نہیں ہیں… ہم امن چاہتے ہیں مگر ایمان کے ساتھ… ہم
سلامتی چاہتے ہیں مگر اسلام کے ساتھ… ہم اخلاق کے علمبردار ہیں مگر عزت کی تلوار
کے ساتھ… ہم انسانی خون کا احترام کرتے ہیں مگر مساوات اور وقار کے ساتھ… ہم نے
کلمہ ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ پڑھنے کے بعد… اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی اختیار کرلی ہے… اب دنیا کا
کوئی فرعون اور دجال ہمیں اپنا غلام نہیں بنا سکتا… ہم نے اپنی جان ومال اللہ تعالیٰ کو بیچ دی ہے… اب ہم دنیا کے کسی فرعون
وقارون کے ہاتھوں نہیں بک سکتے… ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سپاہی ہیں… ہم دنیا کی کسی کفریہ
طاقت کے سپاہی بن کر اس کی خواہشات کا مکروہ چارہ نہیں بن سکتے… ہم نے انسٹھ سال
پہلے انگریز سے آزادی حاصل کی… اب دوبارہ اسکی چوکھٹ پر سر نہیں رکھ سکتے… ہم
آزاد ہیں… ہم آزاد ہیں… ہم آزاد ہیں… زمین ہماری ہے… اوپر کے حصے پر ہمیں نہ
رہنے دیا گیا تو ایک طوفان اٹھا کر ہم زمین کے اندر کے حصے میں اپنا محل بنالیں
گے… میرے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا مفہوم ہے…
اللہ کے
صالح بندے جب قبر میں دفن کیے جاتے ہیں تو… اللہ تعالیٰ حکم فرماتا ہے… میرے اس بندے کے لئے جنت
کے دروازے کھول دو… تب قبر خوب کشادہ ہوجاتی ہے… جہاں تک نظر جاتی ہے وہاں تک وہ
کشادہ ہوجاتی ہے… اور اس میں جنت کی ہوائیں اور لذتیں بھر جاتی ہیں… سبحان اللہ … اتنی بڑی جاگیر، اتنی خوبصورت اور وسیع
کوٹھی… اور قرآن پاک جیسا حسین ومعطر ساتھی… ارے کیا بتاؤں… مزے ہی مزے ہوتے
ہیں… مزے ہی مزے ہوتے ہیں… آئیے اس چودہ اگست کو کسی مسجد کی چٹائی پر… سجدوں اور
آنسوؤں کے ساتھ ’’جشن آزادی‘‘ منائیں… شیطان سے آزادی کا جشن… نفس امّارہ سے
آزادی کا جشن… انگریزوں سے آزادی کا جشن… کافروں اور منافقوں سے آزادی کا جشن…
حرص اور لالچ سے آزادی کا جشن… زنا اور گناہ سے آزادی کا جشن… غلام حکمرانوں سے
آزادی کا جشن… خوف اور بزدلی سے آزادی کا جشن… ایسا زبردست جشن، ایسا شاندار جشن
جو ہمیں اصل آزادی دلا دے… جو ہماری قبر کو کشادہ بنادے… جو ہمیں اندلس کے ساحل
پر کھڑا ہوا… طارق بن زیاد بنادے… اے القلم کے پڑھنے والے… بھائیو! اور بہنو!…
ایسا جشن آزادی… آپ سب کو مبارک… ہم سب کو مبارک…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے اپنے فضل سے ہمیں
مسلمان بنایا… اسلام کی اس عظیم الشان بے مثال نعمت کا اصل فائدہ تو آخرت کی اصل
زندگی میں معلوم ہوگا… اس وقت دنیا کے بڑے بڑے کافر رو رو کر چیخ چیخ کر حسرت کے
ساتھ کہہ رہے ہوں گے… کاش ہم بھی مسلمان ہوتے… کاش ہم بھی مسلمان ہوتے… قرآن پاک
نے یہ حقیقت ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے:
رُبَمَا
یَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ کَانُوْا مُسْلِمِیْنَ
آخرت
تو آنے والی ہے اس سے پہلے دنیا ہی میں کافروں کی… ذلت کا زمانہ شروع ہوچکا ہے…
ایک ناکامی کے بعد دوسری ناکامی… ایک رسوائی کے بعد دوسری رسوائی… اور ہر بڑی
سازش… بحمد اللہ …ذلیل اور ناکام… اور ہر جوتا الٹا اپنے ہی سر… ابھی اسرائیل کو
دیکھ لیجئے اس کے ساتھ کیا ہوا؟… چھ ہفتے کا آپریشن اپنی موت آپ مرگیا… خود اکثر
یہودیوں کی رائے یہی ہے کہ اس جنگ میں اسرائیل کو شکست ہوئی ہے… تاریخ گواہ ہے کہ
یہودی جب ہارتا ہے تو پھر ہارتا ہی چلا جاتا ہے… جبکہ دوسری طرف عالم اسلام میں
بیداری اور جذبے کی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے… عمارتیں بنتی اور گرتی رہتی ہیں…
سڑکیں دوبارہ تعمیر ہوجاتی ہیں… بجلی کے کھمبے واپس لگائے جاسکتے ہیں… اور شہید
ہونے والوں کے غم کو تسلیم ورضا کی خوشی سے دھویا جاسکتا ہے… مگر شکست کے زخم کو
سینا اور پسپائی کی ذلت کو برداشت کرناآسان نہیں ہوتا… لبنان نے اپنی سڑکیں،
عمارتیں اور چند افراد کھوئے ہیں جبکہ… اسرائیل نے اپنی عزت کھوئی ہے… اپنا رعب
کھویا ہے… اپنی دہشت کھوئی ہے… اپنی بدمعاشی حیثیت کھوئی ہے… اور اپنا مورال کھویا
ہے… اسرائیل کے بہت سے فوجی بھی مارے گئے… جو بدقسمتی سے ناقابل شکست سمجھے جاتے
تھے… اسرائیل کے بہت سے شہری بھی مارے گئے جو… خود کو محفوظ سمجھتے تھے کہ… امریکہ
اور یورپ کی چھتری ان کے سر پر ہے… اب اسرائیلی سیاست اور اسرائیلی معاشرہ سخت
انتشار کا شکار ہے… اور یہودی غنڈے ایک دوسرے کا گریبان کھینچ رہے ہیں… اس وقت دو
خبریں آپس میں کندھا ملا کر ساتھ ساتھ چل رہی ہیں… پہلی خبر اسرائیل کی شکست اور
دوسری خبر برطانیہ میں طیارے تباہ کرنے کی سازش کا انکشاف… اور زمین پر بیٹھے
’’ہائی جیکروں‘‘ کی گرفتاری… ان دونوں خبروں کا آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بہت
گہرا تعلق ہے… آئیے اس کھچڑی کے اجزاء، دال، چاول، نمک،… اور کالی مرچ وغیرہ کو
الگ کرکے دیکھتے ہیں… اور یوم آزادی کے موقع پر… عالم اسلام کی فتح کا ’’شکر‘‘
بھی مناتے ہیں…
عراق
کے شعلے
امریکا
نے ایک نقشہ بنایا تھا… بالکل نیا نقشہ… ایک نئے مشرق وسطیٰ کا نقشہ… اللہ اکبر کبیرا… عرب حکمرانوں نے امریکہ کی نوکری،
چاکری میں اپنا سب کچھ لگادیا… مگر امریکہ اب بھی راضی اور مطمئن نہیں ہے… کاش
امریکہ کا ساتھ دینے والے ’’عقلمند‘‘ کچھ عبرت حاصل کریں… نئے ’’مشرق وسطیٰ‘‘ کی
خاطر عراق میں صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹا گیا… یہ کام تو آسانی سے ہوگیا
کہ… عراق کے شیعہ پکے ہوئے پھل کی طرح امریکہ کی گود میں جاگرے… اور انہوں نے
امریکہ کا اس طرح سے ساتھ دیا کہ… عقل حیران … اور ناطقہ سر بگریبان ہے… صرف
’’مقتدی صدر‘‘ کے لوگوں نے چند گولیاں… امریکہ کے خلاف چلائیں… بعد میں معلوم ہوا
کہ وہ بھی ’’نوراکشتی‘‘ تھی… اور دوسرے شیعہ گروپوں سے نمایاں ہونے کی ایک کوشش…
اور بس… مگر عراق کے ’’مسلمان‘‘ بہت سخت جان نکلے… اور انہوں نے جہاد کے ایسے شعلے
بھڑکا دئیے جنہوں نے… امریکی نقشے کا ایک حصہ جلا کر راکھ کردیا… اس پوری بات کا
قدرے باریکی سے جائزہ لیں… بہت سے پراسرار راز کھل جائیںگے…
یہودیوں
کی بے تابی
نئے
مشرق وسطیٰ میں امریکیوں نے… عراق، بحرین، کویت وغیرہ اپنے حامی شیعوں کے سپرد
کرنے تھے… کیونکہ عراق میں ’’شیعہ‘‘ بہت کام آئے… ان کے مذہبی رہنما واشنگٹن اور
نیویارک جا بیٹھے… اور ان کے مسلح دستوں نے چن چن کر عراق کے سنیوں کو قتل کیا…
فرقہ واریت کی یہ آگ امریکہ نے بھڑکائی اور بدقسمتی سے شیعہ اس کا شکار ہوگئے…
انہوں نے صدام حسین سے نجات ہی کو سب کچھ سمجھا… اور اپنے پرانے نعرے بھول گئے…
امریکہ چاہتا تھا کہ… عراق، بحرین… اور کویت اسی طرح کے شیعوں کو دے دے… ایران اور
شام بھی شیعوں کے پاس رہیں مگر حکومتیں تبدیل کردی جائیں… سعودی عرب پر سیکولر
سنیوں کی حکومت ہو… اور یوں ’’مشرق وسطیٰ‘‘ میں اسلام کے لئے کوئی جگہ… اور امریکہ
کے لئے کوئی خطرہ باقی نہ رہے… اسرائیل امریکی قلعہ… اور امریکہ کی یہودی کالونی
ہے… عراق کے فوراً بعد… اسرائیل کو اجازت ملنی تھی کہ وہ… اپنے دشمنوں حماس،
اسلامی جہاد… اور حزب اللہ کی صفائی کردے… امریکہ بے چارہ عراق میں پھنس
گیا… ادھر حماس والے حکومت تک پہنچ گئے… اور لبنان سے شامی افواج کے نکلنے کے
باوجود… حزب اللہ کی مقبولیت میں کوئی فرق نہیں آیا… اسرائیل بے
تاب تھا اور تین سال سے … حملہ کرنے کے لئے تڑپ رہا تھا… اب جا کر امریکہ نے اسے
اجازت دی … تاکہ… حماس اور حزب اللہ کی کمر ٹوٹ جائے… اور دنیا کی توجہ عراق سے ہٹ
جائے…
خواب
الٹا ہوگیا
امریکہ
اور اسرائیل کا خیال تھا کہ… حزب اللہ کا کوئی بھی ساتھ نہیں دے گا… عراق کے شیعوں نے
جس طرح عراق کے سنیوں کا قتل عام کیا ہے… اس کی وجہ سے عرب دنیا میں شیعوں کے لئے
ہمدردی باقی نہیں رہی… اب حزب اللہ اکیلی ہوگی… اور ایک آدھ ہفتے میں اس کا دم نکل
جائے گا… مگر یہ خواب الٹا ہوگیا… عالم اسلام کے سنی عوامی حلقے لبنان کے ساتھ
کھڑے ہوگئے… مصر سے سعودی عرب تک سروں پر کفن باندھے ’’فدائی دستے‘‘ شیروں کی طرح
دھاڑنے لگے… لوگوں نے چلتی گاڑیاں سڑک پر روک کر … لبنان کے امدادی فنڈ میں دے
دیں… مسلمان خواتین نے زیورات کے ڈھیر لگادئیے… شاہ عبد اللہ نے پہلی بار شاہ فیصل کی یاد تازہ کرکے… اپنی
آخرت کے لئے آسانی کا سامان کیا… مسلمان حکمران اپنی بے حسی کے ساتھ الگ تھلگ جا
پڑے… اور اسرائیل کو اپنی طرف سروں پر کالے اور سرخ رومال باندھے… فدائی نوجوان
بڑھتے ہوئے نظر آئے… تب اسرائیل کا حسین خواب… بھیانک بھوت بن گیا… اسرائیل نے
آج تک ’’اقوام متحدہ‘‘ کی کوئی بات نہیں مانی… مگر… اب اس نے فرمانبردار بچوں کی
طرح جنگ بندی کی قرارداد پر سر جھکادیا… ساری دنیا اس بات پر حیران ہے… اور طاقت
کے پجاری دانشور کوئی بات بنا نہیں پا رہے… تل ابیب سے لے کر مکہ مکرمہ تک ایک ہی
شور ہے… اسرائیل ہار گیا… اسرائیل کو شکست ہوگئی… کاش عراق اور ایران کے شیعہ عراق
میں… آنکھیں بند کرکے امریکہ کی حمایت نہ کرتے تو آج… مشرق وسطیٰ تو کیا دنیا کا
نقشہ بھی کچھ اور ہوتا…
پرانے
مکار دشمن کی چال
تاریخ
میں پہلی بار اسرائیل کے لئے… شکست لکھی جانی تھی… یہ بات ٹونی بلیئر اور بش کو
گوارہ نہیں تھی… اس لیے دونوں مل بیٹھے… اپنی رہی سہی ناک… اور عزت بچانے کے لئے…
تب ایک نیا ڈرامہ دنیا بھر کے میڈیا پر چھا گیا… جی ہاںاسرائیل کی طرف سے جنگ بندی
قبول کرنے سے دو دن پہلے… فضا کو دھویں سے بھرنے کے لئے… ایک مضحکہ خیز ڈرامہ
رچایا گیا… تاکہ اسرائیل اس دھویں اور گرد کا فائدہ اٹھا کر… اپنے اترے ہوئے کپڑے
سنبھالے… اور چپکے سے بھاگ جائے…
لبنان
جل رہا تھا… بیروت پر اسرائیلی میزائل آگ بن کر گر رہے تھے… حیفہ میزائلوں سے لرز
رہا تھا… اقوام متحدہ کے دفاتر میں ایک قرارداد پر سودے بازی جاری تھی… مگر دنیا
بھر کے میڈیا پر ایک اور خبر چھائی ہوئی تھی… چند پاکستانی مسلمان نوجوان پکڑے گئے
ہیں… انہوں نے امریکی جہازوں کو فضا میں ہی مار گرانے کا منصوبہ بنایا ہوا تھا…
منصوبہ کامیاب ہونے والا تھا… امریکی جہاز گرنے والے تھے کہ برطانوی پولیس نے دہشت
گردوں کو پکڑ لیا… امریکہ نے اس قوالی میں آواز ملائی کہ … ارے ہم بھی پکڑنے
والوں میں ساتھ تھے… اچانک ڈھول کی تھاپ پر… پاکستان کے قوال نے سُر لگائی… ارے سب
کچھ ہم نے کیا… یہ دہشت گرد ہم نے پکڑے ہیں… ہمیں شاباش دو… ہمیں شاباش دو…
صحافیوں
نے… پاکستانی قوال سے پوچھا آپ نے کب یہ عظیم کارنامہ سر انجام دیا… جواب ملا یہی
کوئی ایک ہفتہ پہلے… صحافیوں نے… برطانیہ والوں سے پوچھا کہ یہ کارنامہ آپ نے کب
سر انجام دیا… انہوں نے کہا سات مہینے سے ہم تاک میں تھے… کوئی ایک بم برآمد نہیں
ہوا… کیمیکل کی کوئی بوتل نہیں پکڑی گئی… کوئی پستول، چھری چاقو… ان دہشت گردوں کے
پاس نہیں تھا… مگر ہر طرف شور ہے… دہشت گردی کاعظیم منصوبہ ناکام… خطرناک دہشت گرد
پکڑے گئے… ہر طرف ہائی الرٹ…
اللہ اکبر کبیرا… سرائیکی کی ایک مشہور نظم کا ترجمہ
کچھ یوں ہے… بہرے نے کہا مجھے ڈھول کی آواز سنائی دے رہی ہے… اندھے نے کہا فوراً
چل کر دیکھ لیتے ہیں… گنجے نے کہا! نہ بابا میں نہیں جاتا وہ لوگ بال پکڑ کر
گھسیٹیں گے… لنگڑے نے کہا ارے ہم بھاگ جائیں گے… اے پیرفریدا!یہ سب تھوک کے حساب
سے سچ بول رہے ہیں… ہم ان میں سے کس کو جھوٹا کہہ سکتے ہیں…
مسلمان
دہشت گرد پکڑے گئے… ان کے پاس اسلحہ، بارود… اور کوئی سامان نہیں تھا… یہ خطرناک
منصوبہ بالکل آخری مرحلے میں تھا… برطانوی پولیس سات مہینوں سے ان کی نگرانی کر
رہی تھی… پاکستان والوں نے ایک ہفتہ پہلے… برطانوی پولیس کو ان کی خبر دی… امریکی
پولیس بھی برطانوی اہلکاروں کے ساتھ تھی… ٹونی بلئیر نے نیند سے جگا کر صدر بش کو
یہ خوشخبری سنائی… تمام کے تمام دہشت گرد پکڑے گئے… خطرہ اب بھی باقی ہے… اس گروپ
کا کوئی آدمی گرفتاری سے نہیں بچ سکا… جہاز تباہ ہوسکتے ہیں اس لیے ڈیڑھ سو
پروازیں منسوخ… پیر فریدا… ان خبروں میں سے تم کس کو جھوٹا کہو گے…
ڈرامے
کا پس منظر
کچھ
دن پہلے برطانوی حکومت نے ایک سروے کروایا… اس سروے سے معلوم ہوا کہ… برطانیہ کے
بیس فی صد مسلمان ابھی تک… مکمل انگریز نہیں بنے… یہ لوگ مجاہدین کو اپنا ہیرو
مانتے ہیں… اور جہاد کو ایک اسلامی فریضہ اور حکم… ٹونی بلیئر اس سروے پر سخت
جھنجلائے میں نے بی بی سی پر ان کا انٹرویو سنا… وہ ڈرے ہوئے سانپ کی طرح پھنکار
رہے تھے… انہوں نے کہا… روشن خیال مسلمانوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ … اس بیس فیصد
طبقے کو ٹھیک کریں… ان کے دل سے مغرب اور برطانیہ کی مخالفت نکالیں… اور انہیں سچا
برطانوی بنائیں… ٹونی بلیئر کی اس بات پر ’’روشن خیال‘‘ برگر خور مسلمان کچھ ناراض
تھے… ان کا کہنا تھا کہ… ہم سچے اور ’’محب انگریز‘‘ برطانوی ہیں… وزیر اعظم خواہ
مخواہ ہم پر شک کر رہے ہیں… پھر ہم روشن خیالی کے تقاضوں میں اتنے مصروف ہیں کہ…
بنیاد پرستوں کو سمجھانے کے لئے ہمارے پاس ٹائم ہی نہیں… تب ٹونی بلیئر اور ان کے
ساتھیوں نے یہ دلچسپ منصوبہ بنایا… اب صورتحال یہ ہے کہ برطانیہ وغیرہ ملکوں میں
اسکولوں کی چھٹیاں ہیں … ان دنوں اکثر پاکستانی اور انڈین مسلمان واپس اپنے ملکوں
میں آتے ہیں… یہاں ان کے لیے شادیوں اور دعوتوں کی تاریخیں طے ہوتی ہیں… وہاں کے
ٹیکسی ڈرائیور یہاں آ کر ادبی نشستوں کی صدارت کرتے ہیں… اور کانوں میں بالیاں
پہنے ہوئے نوجوان ہر جگہ یہ کہہ کر… اپنا رعب جھاڑتے ہیں کہ… ہم برٹن سے آئے ہیں…
ہم برٹن سے آئے ہیں… ادھر اسرائیل کو کپڑے پہننے کے لئے دھویں کی ضرورت تھی… اور
ادھر امریکہ اور برطانیہ کے ائیر پورٹوں پر مسلمانوں کا ہجوم تھا… تب اچانک جہاز
تباہ کرنے والے دہشت گرد پکڑے گئے… فلائٹیں منسوخ ہوئیں… ہر پانچ منٹ بعد جوس پینے
والے… اور ہر پندرہ منٹ بعد ٹوائلٹ جانے والے روشن خیال… ائیر پورٹوں پر پھنس گئے…
ان سب کو یہ تکلیف ’’مسلم شدت پسندوں‘‘ کی وجہ سے ہوئی ہے… وہ بڑی قطاروں میں کھڑے
کھڑے تھک گئے ہیں… ان کی شادیاں اور دعوتیں کینسل ہورہی ہیں… ٹونی بلیئر کا خیال
ہے کہ… اب یہ روشن خیال لوگ… ٹونی کو دعائیں دیں گے کہ تم نے ہمیں بچالیا… اور شدت
پسندوں کو گالیاں دیں گے کہ تم نے ہمیں تھکادیا… یوں بنیاد پرستی کا خطرہ کم ہو
جائے گا… اور مجاہدین کی مقبولیت کا گراف گر جائے گا… اسی لیے دہشت گردوں کے پکڑے
جانے کے باوجود خطرہ قائم ہے… فلائٹیں منسوخ ہو رہی ہیں… اور ائیرپورٹوں پر ہجوم
ہی ہجوم ہے… مگر نتیجہ یہ نکلا کہ… اسلامی شدت پسندوں کے خلاف تو کسی کا ذہن بنا نہیں…
خود برطانیہ کی حکمران لیبر پارٹی کے تیس لیڈروں نے ٹونی کو خط لکھ دیا ہے کہ…
تمہاری اور بش کی پالیسیوں نے دنیا کو غیر محفوظ بنادیا ہے… تم دونوں نے لوگوں کو
اتنا تنگ کیا کہ اب وہ… جہاز گرانے پر اتر آئے ہیں…
دلچسپ
حمایت
ٹونی
بلیئر کے ایک دوست ہیں… ان کا صحافیوں میں بول بالا ہے… اس مالدار اور پڑھے لکھے
انگریز نے عزم کیا ہوا ہے کہ وہ… ٹونی کے چہرے وغیرہ سے بدنامی کا ہر داغ دھو دیں
گے… گذشتہ دنوں لبنان کے مسئلے پر ٹونی بلیئر… صدر بش سے ملنے گئے… ان کا ہمدرد،
عقلمند اور مالدار دوست بھی ساتھ تھا… اس نے امریکی صحافیوں سے ٹونی بلیئر کی
ملاقات رکھوائی… اور اس میں ٹونی بلیئر کی صفائی ان الفاظ میں دی… ’’یہ بات غلط ہے
کہ ٹونی بلیئر بش کی ران پر بیٹھنے والا کتا ہے… ایسا ہر گز نہیں… بلکہ میرا دوست
ٹونی… وہ تربیت یافتہ کتاہے… جو صدر بش کی رہنمائی کرتا ہے… (تالیاں، زور دار
تالیاں)…
شیخ
الہند کی خوشبو
جیش
محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر دنیا میں سب سے پہلے پابندی
’’برطانیہ‘‘ نے لگائی… حضرت مفتی جمیل خان شہید رحمہ اللہ کو
برطانیہ میں… گرفتار کرکے کہا گیا کہ… آپ کا جیش سے تعلق ہے… اور شکوہ کیا گیا
کہ… جیش والے ہم سے بہت نفرت رکھتے ہیں… ان کا رہنما ہمیں سخت برا بھلا کہتا ہے…
حضرت مفتی شہید رحمہ اللہ کو بعد میں چھوڑ دیا گیا… انہوں نے واپسی پر
بتایا کہ برطانیہ کی ’’جیش‘‘ پر گہری نظر ہے… اور وہ اس کے خلاف سخت محنت کر رہا
ہے… پھر برطانیہ نے انڈیا کے ساتھ مل کر بھی جیش کے خلاف طرح طرح کے طوفان اٹھائے…
پچھلے سال برطانیہ میں بم دھماکے ہوئے تو ٹونی کی انگلی جیش کی طرف اٹھی… اب اس
ڈرامے میں جن بیچارے مسلمان نوجوانوں کو پکڑا گیا ہے … ان کا رشتہ بھی جیش سے جوڑا
جا رہا ہے… آخر اس کی کیا وجہ ہے؟… میرے ہمسفر دوست خیال جی نے کئی دن تک اس
’’راز‘‘ کو سمجھنے کی کوشش کی … آج وہ برطانیہ والوں کو پڑھ سمجھ کر واپس آیا تو
اس سے پوچھا… بابا! یہ راز سمجھ آیا؟ … خیال جی نے الٹا سوال کردیا… یہ شیخ الہند
رحمہ اللہ کون تھے… اور مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کس
شخصیت کا نام تھا؟… میں ان دونوں بزرگوں کے حسین تذکرے میں کھو گیا… اسیر مالٹا،
مجاہدین شاملی کے جانشین… مسند علم کے صدر نشین… جہاد وخلافت کے داعی… دعوت رجوع
الی القرآن کے علمبردار… اسلامی سیاست کے امین… انگریز کے سامنے جنہوں نے سر نہیں
جھکایا… نو سال جیل کاٹی… ایک بار ارشاد فرمایا مجھے جلا کر میری خاک اڑاؤ تو وہ
بھی… اس طرف نہیں جائے گی جہاں انگریز ہوگا… وہ جن کو موت کی سزا انگریز جج نے
سنائی … وہ جنہوں نے انگریز کی فوج میں بھرتی کو حرام قرار دیا … وہ عظیم لوگ، وہ
وقت کے قطب… میں ان دونوں کے تذکرے میں ڈوبتا چلا گیا… خیال جی نے چٹکی بھر کر
مجھے حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ اور حضرت مدنی رحمہ اللہ کی
حسین یادوں سے واپس کھینچا … اور کہنے لگا کہ بس بس… اب بات سمجھ آگئی… برطانیہ
والے کہہ رہے تھے ہمیں ’’جیش والوں سے شیخ الہند رحمہ اللہ اور حضرت مدنی رحمہ اللہ جیسے اپنے باغیوں کی بو آتی ہے… یہ لوگ ہمیں
انہیں کے فکری، علمی اور عملی جانشین معلوم ہوتے ہیں… یہ ویزے کے لئے ہمیں درخواست
نہیں دیتے… اور نہ ہمارے گورے رنگ اور ترقی سے متاثر ہوتے ہیں … اور انہوں نے ان
مسلمان علماء کو بھی نہیں بھلایا جنہیں ہم نے… تندوروں میں جلا کر مارا تھا… یہ
لوگ شیخ الہند رحمہ اللہ کے دماغ سے سوچتے ہیں… اور ہمیں ان سے شیخ الہند
رحمہ اللہ کے نظریات کی ’’بو‘‘ آتی ہے… میں نے خیال جی کی
گردن پر ہاتھ مارا… اور کہا ’’بو‘‘ نہیں خوشبو کہو… ہاں پیارے شیخ الہند رحمہ اللہ کی
خوشبو… اسیر مالٹا کی خوشبو… سچے اسلام کی خوشبو…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ حرص، لالچ اور طمع سے ہم سب کی حفاظت فرمائے… نفس کی یہ بیماریاں انسان کو ذلیل ورسوا کردیتی ہیں… اور جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کی بدولت… ان بیماریوں سے بچ جاتا ہے… وہ کامیاب ہوجاتا ہے… عرب میں ایک بہت لالچی اور حریص شخص ’’اشعب بن جبیر‘‘ نامی گزرے ہیں… ان کو اپنی اس بیماری کا علم اور احساس بھی تھا… ایک بار ان سے پوچھا گیا کہ … تمہاری طمع، لالچ اور حرص کی شدت کا کیا عالم ہے؟… وہ کہنے لگے… میں جب کسی جنازے کے ساتھ چلتا ہوں… اور دیکھتا ہوں کہ دو آدمی آپس میں آہستہ آہستہ باتیں کر رہے ہیں تو مجھے گمان ہوتا ہے … مرنے والا ضرور اپنے مال سے میرے لیے کچھ وصیت کر گیا ہے… اور یہ دونوں اسی کا تذکرہ کر رہے ہیں… اسی طرح جب کسی شخص کو جیب میں ہاتھ ڈالتے دیکھتا ہوں تو گمان ہوتا ہے، یہ اب مجھے کچھ نہ کچھ ضرور دے گا… حدیث پاک میں آیا ہے کہ انسان کے پیٹ کو قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے… اس میں بھی لالچی اور حریص انسان کی خصلت کاذ کر ہے کہ… دنیا میں اس کی خواہشات بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں… اشعب بن جبیر تو دنیا سے گزر گئے… اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے… مگر ہمارے زمانے کے حریص اور لالچی… اشعب سے کئی قدم آگے ہیں… پاکستان کی سابقہ وزیر اعظم شریمتی بے نظیر زرداری صاحبہ ہی کو لے لیجئے… وہ اس وقت اقتدار اور کرسی کی لالچ میں بہت شدت سے غوطے کھا رہی ہیں… کہتے ہیں بلی بہت دور سے دودھ کی خوشبو سونگھ لیتی ہے… بالکل اسی طرح محترمہ نے بھی اپنی ناک کو پوری طرح سے کھول رکھا ہے… جیسے ہی پاکستان کے حالات کچھ خراب ہونے لگتے ہیں… محترمہ کو ’’اقتدار‘‘ اور ’’کرسی‘‘ کی خوشبو ’’بے حال‘‘ کردیتی ہے… تب انہیں نہ اپنی زبان پر قابو رہتا ہے اور نہ سوچ پر… ان دنوں پاکستان پھر غیر ملکی دباؤ میں ہے… برطانیہ میں ان پاکستانی نژاد ہائی جیکروں کا شور ہے جنہوں نے امریکی جہاز گرانے تھے… جبکہ انڈیا میں بمبئی کے بم دھماکوں کا شور ہے… اور من موہن سردار جی کافی روٹھے روٹھے سے لگ رہے ہیں… برطانیہ کے واقعہ کی وجہ سے پاکستان پر سفید کوّوں کی یلغار ہے… جبکہ انڈیا کے واقعہ کی وجہ سے امن مذاکرات رک گئے ہیں… محترمہ نے ان حالات کو اپنے لیے سنہری موقع سمجھا… اور ایک بار پھر اپنی وہ زبان کھولی… جس زبان کے شرسے اللہ تعالیٰ کی پناہ… محترمہ کے تازہ بیانات کی چند جھلکیاں ملاحظہ فرمائیے!
٭
صدر مشرف پاکستان میں انتہا پسندی کے خاتمے میں ناکام رہے ہیں، انتہا پسندی سے
نمٹنے اور مذہبی جماعتوں اور جنگجو گروپوں کا اثر ورسوخ محدود کرنے کے لیے مزید
اقدامات کی ضرورت ہے۔
٭
میرے دور میں دینی مدارس کو قاعدے اور قانون کا پابند بنایا گیا تھا، آج ضیاء دور
کی طرح دینی مدارس کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
٭
جہاں بھی دہشت گردی کے واقعات ہوتے ہیں ان میں لازمی طور پر کوئی پاکستانی ملوث
ہوتا ہے۔
٭
پاکستان کی فوجی حکومت جمہوریت پسند اور میانہ رو طبقوں کی حوصلہ شکنی کر رہی ہے
اور انتہا پسندوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔
بے
نظیر بھٹو کے اس پورے بیان… اور انٹرویو سے صرف ایک ہی چیز ٹپک رہی ہے… اور وہ ہے
کرسی کی ہوس… باقی ’’جمہوریت‘‘ وغیرہ کے دعوے تو عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے ہیں…
یہ کیسی ’’جمہوریت‘‘ ہے کہ… اپنے ملک کے ایک معزز طبقے کے خلاف غیروں کو خوش کرنے
کے لئے… ہرزہ سرائی کی جائے… کیا پاکستان کے دینی مدارس اور ان سے وابستہ لاکھوں
افراد… اس ملک کے شہری نہیں ہیں؟… محترمہ کے بیان سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کا
ایجنڈا بھی صدر مشرف کی طرح امریکہ اور مغرب کو خوش کرنے کا ہے… چنانچہ وہ بار بار
اس بات کی دُہائی دے رہی ہیں کہ… صدر مشرف امریکی اور مغربی مفادات کے تحفظ میں
ناکام ہو چکے ہیں… اس لیے اب اس ’’خادمہ‘‘ کو موقع فراہم کیا جائے… اس لیے کہ
’’خادمہ‘‘ صدر مشرف سے زیادہ لبرل، زیادہ روشن خیال اور زیادہ مغرب پسند ہے… پھر
سب سے دلچسپ یا عبرتناک بات یہ ہے کہ… اس بیان میں پاکستان کی فوجی حکومت سے ایک
بار پھر درخواست کی گئی ہے کہ وہ… بے نظیر اور زرداری جیسے روشن خیالوں کی حوصلہ
افزائی کرے… اور اقتدار میں انہیں حصہ دے…
دیکھا
آپ نے یہ ہے وہ جمہوریت جو بے نظیر پاکستان میں لانا چاہتی ہے… امریکی تائید سے…
یورپ کی مدد سے… یا پاکستانی فوج ہی کے تعاون سے… الغرض کسی بھی طرح اقتدار کی
کرسی پر… بے نظیر کا پہنچ جانا ہی جمہوریت ہے… یا اللہ ہم
مسلمانان پاکستان کی ایسی ملعون جمہوریت سے حفاظت فرما… جس جمہوریت میں ہماری
حکمران بے نظیر بھٹو ہو… بے نظیر بھٹو کے ماضی کو دیکھتے ہوئے… اور ان کے اس حالیہ
بیان پر نظر رکھتے ہوئے… متحدہ مجلس عمل اور مسلم لیگ(ن) کو چاہئے کہ وہ بے نظیر
بھٹو سے اپنے راستے ابھی سے الگ کرلیں… ورنہ یہ ’’مغرب زدہ‘‘ عورت وہی کچھ کرے گی…
جو صدر مشرف کی حکومت مسلمانوں اور پاکستان کے ساتھ کر رہی ہے… اور ستم یہ ہوگا کہ
یہ سب کچھ جمہوریت کے نام پر کیا جائے گا… وہ جمہوریت جسے دنیا میں بدقسمتی سے
’’مقدس گائے‘‘ سمجھا جاتا ہے…
اس
میں شک نہیں کہ پاکستان کی حفاظت کے لئے… فوج کا اقتدار سے دور ہونا از حد ضروری
ہے… کیونکہ حکومت کرنے والی فوجیں کبھی بھی ملکوں کا دفاع نہیں کرسکتیں… فوج کا
کام سیاست نہیں جہاد اور دفاع ہے… اور فوج کے سیاست میں آنے کی وجہ سے ملک اور
فوج دونوں کا شدید نقصان ہورہا ہے… اور اس بات میں بھی شک نہیں کہ موجودہ حکومت
اپنی پالیسیوں کی وجہ سے بے حد کمزور ہوچکی ہے… اور عوام میں اس حکومت کی جڑیں کسی
بھی جگہ مضبوط نہیں ہیں… ان دونوں باتوں کو تسلیم کرنے کے باوجود… یہ بات برداشت
نہیں کی جاسکتی کہ تمام اپوزیشن پارٹیاں… بے نظیر کو اپنے کندھے پر بٹھا کر کرسی
تک پہنچادیں… بے نظیر بھٹو نے ماضی میں اس ملک کو نظریاتی طور پر بے حد نقصانات
پہنچائے ہیں… اورانہوں نے اپنے خاوند نامدار کے ساتھ مل کر دونوں ہاتھوں سے اس ملک
کا خون نچوڑا ہے… اور اب تو سنا ہے کہ دونوں خاوند بیوی نے اپنے ’’معدے‘‘ کا بھی
علاج کروالیا ہے… اور اب ان کو خوب کھل کر بھوک لگتی ہے…
جنرل
ضیا ء الحق جب ایک فضائی حادثے میں چل بسے تو اس وقت بھی بے نظیر صاحبہ ملک سے
باہر تھیں… جنرل کے جانے کے بعد… انہوں نے وطن واپسی کا اعلان کیا… لاہور میںان کا
شاندار استقبال ہوا… اور ملک کا رخ اسلام سے کفر کی طرف مڑ گیا… یہ بات میں نہیں
کہہ رہا… بلکہ عالم اسلام کے نبّاض مفکّر… حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ نے
بے نظیر کی حکومت آنے سے پہلے ہی یہ بات فرمادی تھی… وہ کراچی میں جامعۃ العلوم
الاسلامیہ علامہ بنوریؒ ٹاؤن کے دارالحدیث میں خطاب فرما رہے تھے… انہوں نے نہایت
غم اور درد کے ساتھ اس بات کا تذکرہ فرمایا کہ… ایک مغرب زدہ عورت کا اس طرح سے
استقبال… میرے خیال میں پاکستان درست سمت کی طرف نہیں جارہا… اور اب اس ملک کا
’’نظریاتی تشخص‘‘ شدید خطرے میں ہے… اللہ تعالیٰ کے اس عظیم ولی کا خدشہ درست نکلا اور
پاکستان نے الٹا سفر شروع کردیا… اور جیسے ہی اردگرد کی فضاء کفر کے لئے سازگار
ہوئی… پاکستان کافروں کی فوج کا ہر اول دستہ بن گیا… اس وقت ملک کی عجیب صورتحال
ہے… جو لوگ حکومت کر رہے ہیں… وہ امریکہ اور مغرب کو یقین دہانیاں کرا رہے ہیں کہ
ہم… آپ کے سچے وفادار ہیں… ہم اسلامی جہاد کی تمام تحریکوں کو فنا کر دیں گے… ہم
مدارس کو ماڈرن کلب بنادیں گے… ہم مساجد کو نکیل ڈال دیں گے… ہم آپ کی جنگ کا سب
سے آگے رہنے والا دستہ ہیں… ہم نے اتنے مجاہدین مارے، اتنے پکڑے، اتنے ذبح کیے…
اور ہم نے آپ کی خاطر اپنے اتنے فوجی مروائے… دوسری طرف بے نظیر جیسے لوگ دن رات
امریکہ… اور یورپ کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ… جناب آپ کے ساتھ فراڈ
ہورہا ہے… صدر مشرف اندر اندر سے مجاہدین اور مولویوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں… وہ
پاکستان میں جہادی کیمپ چلا رہے ہیں… القاعدہ والوں کو بھی انہو ںنے چھپا رکھا ہے…
طالبان بھی ان کی پناہ میں بیٹھے ہوئے ہیں… اس لیے آپ فوری طور پر صدر مشرف کو
ضیاء الحق والے طیارے میں بٹھائیں… اور مجھ روشن خیال، مادر پدر آزاد، ڈبل لبرل
کو پاکستان میں حکومت کا موقع دیں… میں چند ہی دن میں سارے مجاہدین کو پکڑ کر ختم
کردوں گی… مولویوں کو جیلوں میں ڈال دوں گی… القاعدہ کا نام ونشان مٹادوں گی… اور
طالبان کو پاکستان سے نکال دوں گی…
اللہ اکبر کبیرا… عجیب دور آگیا ہے… گویا کہ
مجاہدین، علماء ،مساجد اور مدارس ان ظالم لوگوں کے لئے وہ ’’شکار‘‘ ہیں… جسے وہ
اپنے آقا امریکہ کی خدمت میں پیش کرکے… اقتدار کی بھیک مانگتے ہیں … یعنی پاکستان
کی کرسی امریکہ کے ہاتھ میں ہے… اور اس کرسی کا اصل حقدار وہی ہے جو… اسلام اور
جہاد کو نقصان پہنچائے… اندر کی ایک خبر یہ بھی ہے کہ… امریکہ موجودہ حکومت اور بے
نظیر میں صلح کا ’’روڈمیپ‘‘ تیار کرچکا ہے… چنانچہ جب اپوزیشن کی تحریک واقعی
سنجیدہ اور گرم ہوگی تو… بے نظیر بھٹو چھلانگ لگا کر حکومت کی طرف ہوجائیں گی… اور
تب روشن خیال جرنیل… اور روشن خیال سیاستدان مل کر اس ملک کو امریکہ کی پسندیدہ
کالونی بنائیں گے… و اللہ اعلم… اللہ پاک ہی بہتر جانتا ہے کہ آگے کیاہونے والا ہے…
گورنر
جنرل غلام محمد… منہ سے جھاگ پھینک کر کہتا تھا کہ کون مائی کا لال میری حکومت گرا
سکتا ہے؟… مگر اچانک ایک دن چند فوجی افسر آئے… انہوں نے تھپڑ مار کر دستخط کرا
لیے اور گھر بھیج دیا… سکندر مرزا نے حکومت سنبھالی تو وہ ’’شاہ ایران‘‘ والے ناز
اور نخرے میں مبتلا ہوئے… ہر رات شباب وکباب اور رقص کی محفل سجتی تھی… غیر ملکوں
سے کھانے آتے تھے… اور حکومت مضبوط تھی… اچانک ایک رات چند ماتحت فوجی افسر آئے…
انہوں نے گریبان سے پکڑا، گالیاں دیں، استعفیٰ کے کاغذ پر دستخط کرائے… اور صدر
صاحب کو کہیں اٹھا کر لے گئے… ایوب خان تشریف لائے فرماتے تھے دل چاہتا ہے تمام
مولویوں کو سمندر میں پھینک دوں… پھر ان کے اپنے گھر میں ان کے خلاف نعرے گونجے…
اور یحییٰ خان کا عذاب ملک پر مسلط ہوگیا… وہ دین اور علماء کے شدید دشمن تھے…
انہوں نے آدھا ملک اپنی شراب کی بوتل سے توڑا… اور گمنامی میں مر گئے… بھٹو کی
گرج چمک کو کون بھولے گا… ایک رعب تھا اور طمطراق … مگر تارا مسیح نے گردن میں
پھندا ڈال دیا… ضیاء الحق آئے تو مسکرا مسکرا کر اپنے اقتدار کے رسے کو مضبوط
کرتے چلے گئے… پھر کمند وہاں ٹوٹی جہاں… کسی کی نہیں چلتی… پھر بے نظیر بھٹو… اور
نواز شریف نے دو دو باریاں لگائیں یہ دونوں خود ہی اپنی ذاتی طاقت… اور ذاتی
انتقام کے لئے فوج کو پچکارتے ہشیارتے رہے… خفیہ ایجنسیوں کا استعمال بے دریغ ہوا…
اور آمروں جیسے طور طریقے اپنے لیے پسند کیے گئے… پھر ایک کالی رات صدر مشرف
آگئے… اس وقت ان کے ارد گرد کے افراد اور حالات ان جیسے نہیں تھے… انہوں نے صبر
اور حکمت عملی سے کام لیا… نائن الیون نے حالات ان کے حق میں کردئیے… اور افراد
انہوں نے خود ادھر ادھر کردئیے… ان کی تمنا تھی کہ قوم کتوں سے کھیلے… لڑکیاں نیکر
پہنیں… عورتیں مردوں سے ہاتھ ملائیں… اور ملک عیاشی اور موسیقی میں ڈوب جائے…
حالات نے ان کا ساتھ دیا… ان کے دل کی بہت سی تمنائیں پوری ہوگئیں… مولوی کا
اسپیکر بند ہوگیا… اور موسیقار کا اسپیکر گونجنے لگا… مجاہد چھپنے پر مجبور ہوئے…
اور مخلوط میراتھن دوڑ سڑکوں پر آگئی… اب تک سب کچھ صدر صاحب کی خواہش کے مطابق
ہوتا جارہا ہے… مگر یہ دنیا ان کی تو نہیں… اللہ تعالیٰ کی ہے… اور اللہ تعالیٰ کی ڈھیل کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے… ہم
نہیں جانتے کہ آگے کیا ہوگا… صدر مشرف کو مزید وقت ملے گا یا … ملک پر بے نظیر کا
عذاب آئے گا… مگر مساجد اور مدارس کو ’’تماشہ گاہ‘‘ سمجھنے والے… کسی بھول میں نہ
رہیں… زمین پر ہر وقت ’’چالیس ابدال‘‘ موجود ہوتے ہیں… زمین پر ہر وقت کم از کم…
ایک جماعت اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والی موجود ہوتی
ہے… زمین پر اللہ تعالیٰ کے … اولیاء اور مخلص بندے موجود ہوتے
ہیں… رب کعبہ کی قسم… میں نے اب بھی مساجد میں جہاد کے وعظ سنے ہیں… کون بند کر
سکتا ہے جہاد کو؟… بے نظیر صاحبہ! آپ بھی زور لگالیں… کافروں کو خوش کرنے کے لئے…
اقتدار کی کرسی پر ٹکنے کے لئے… آپ بھی جہاد، مجاہدین، مدارس… اور مساجد کے خلاف
زور لگالیں… رب کعبہ کی قسم سوائے ناکامی اور حسرت کے … آپ کے ہاتھ کچھ بھی نہیں
لگے گا…بلکہ مٹی میں دفن ہونے سے پہلے… آپ کا منہ خاک سے بھر جائے گا… مساجد میں اللہ تعالیٰ کا نام بلند ہوتا ہے… مدارس میں اللہ تعالیٰ کا دین پڑھایا جاتا ہے… مجاہدین اللہ تعالیٰ کے سپاہی ہیں… ان سے ٹکر لینا کچھ آسان
کام نہیں ہے… آپ نے اقتدار حاصل کرنے کی خاطر… امریکہ کو خوش کرنے کے لئے… جو
بیان دینا تھا دے لیا… اب میں بھی… شہادت کی تمنا میں… اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے… یہ بیان دے رہا ہوں
کہ… ہمارا خون… اسلام کی حفاظت کے لئے… مساجد ومدارس کی حفاظت کے لئے… دین کی
سربلندی کے لئے حاضر ہے… بے نظیر صاحبہ!… مساجد ومدارس کی مقدس دیواروں سے پہلے…
اس خون کو عبور کرنا پڑے گا…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ جس کا
بھلا چاہتا ہے اسے… اپنے پیارے دین کی سمجھ عطاء فرمادیتا ہے… یعنی دین کا علم…
اور دین کا طریقہ اسے سکھا دیتا ہے… سمجھا دیتا ہے… تب دماغ پر بھی ’’دین اسلام‘‘
کی حکومت ہوتی ہے… دل کو بھی ’’دین اسلام‘‘ ہی کی ہر بات اچھی لگتی ہے… اور عمل پر
بھی ’’دین اسلام‘‘ کی مکمل چھاپ آجاتی ہے… آج ایسے مسلمان کہاں ہیں؟… جن کا دل
بھی مسلمان ہو، دماغ بھی مسلمان ہو… عقیدہ بھی مسلمان ہو… نیت بھی مسلمان ہو… اور
ان کا عمل بھی مسلمان ہو… کیا ایک مسلمان چند نوٹوں کی خاطر کافروں کے مفادات کے
لئے استعمال ہوسکتا ہے؟… کیا ایک مسلمان اپنے مسلمان بھائیوں کے گردے بیچ کر مال
کما سکتا ہے؟… کیا ایک مسلمان اپنے افسر کے حکم کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اونچا مان سکتا ہے؟… ہائے کاش!
دین کا علم اور اس کی سمجھ ہوتی تو… امت مسلمہ آج اس طرح سے بے حال… اور بدحال نہ
ہوتی… بلوچستان میں کس نے کس کو مارا؟… مرنے والے بھی مسلمان کہلاتے ہیں اور مارنے
والے بھی… کسی کو ’’تنخواہ‘‘ کی مجبوری ہے… اور کسی کو ’’ناک‘‘ کی… ان سب کے نزدیک
(نعوذباللہ ) … اللہ تعالیٰ کا حکم ’’تنخواہ‘‘ اور ’’ناک‘‘ کے برابر
بھی نہیں… کسی کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ بتایا جاتا ہے… اور کسی کے پیچھے انڈیا کا
… ہائے مسلمان! تو تو صرف اللہ تعالیٰ کا تھا… مگر آج دنیا کے کافر جو تیرے
لونڈی، غلام بننے تھے … تیرے مالک بنے ہوئے ہیں… اور تو ان کا حقیر ایجنٹ… کاش
ایسا نہ ہوتا… چند سال پہلے ’’بنگال‘‘ میں مسلمانوں نے مسلمانوں کو کاٹا… تب انڈیا
کے مشرک اپنے پیلے دانت نکال کر… قہقہے لگاتے رہے… قبروں پر قبریں بنتی چلی گئیں…
قاتل بھی مسلمان… مقتول بھی مسلمان… یہاں تک کہ مسلمان بیٹیوں کی عزتیں… انہوں نے
پامال کیں… جن کو وہ اپنا مسلمان بھائی اور باپ سمجھ رہی تھیں… بالآخر ملک ٹوٹ
گیا… جنوبی ایشیاء کے مسلمان مزید کمزور ہوگئے… آج پھر بلوچستان سے وزیرستان تک
وہی منظر ہے… اونچے محلات میں شراب کے جام چھلک رہے ہیں… اور غریب مسلمان مر رہے
ہیں… کوئی تنخواہ کی خاطر… اور کوئی ناک کی خاطر… خود سوچئے اگر دین کا علم اور اس
کی سمجھ ہوتی تو یہ سب کچھ ہوسکتا تھا؟… اسی لیے تو ’’مدرسے‘‘ کی مخالفت کی جاتی
ہے… امریکہ کے وہائٹ ہاؤس سے لے کر تل ابیب کے ’’یہودی خانوں‘‘ تک… ’’مدرسے‘‘ کے
خلاف ایک شور برپا ہے…
مدرسہ
بند کرو… مدارس کو قابو کرو… مدارس کے نصاب کو بدلو… مدارس کے علماء کو جدید
بناؤ… سب جانتے ہیں کہ… مدارس کے خلاف شور مچانے والے ہمارے ’’خیرخواہ‘‘ نہیں
ہیں… ان کا یہ شور اور مشورے ہمیں فائدہ پہنچانے کے لئے نہیں ہیں… دراصل وہ اس نسل
کو ختم کرنا چاہتے ہیں… جو قرآن پاک کو ’’حرف آخر‘‘ سمجھتی ہے… وہ اس قبیلے کو
ختم کرنا چاہتے ہیں… جن کے نزدیک مدینہ منورہ کے کچے حجروں کی قدر… وہائٹ ہاؤس سے
زیادہ ہے… وہ اس خاندان کو ختم کرنا چاہتے ہیں… جو دل کی آنکھوں سے دیکھتا ہے…
شعبان کا مہینہ شروع ہوچکا ہے… اللہ تعالیٰ اس مہینے کی برکتیں ہم سب مسلمانوں کو
عطاء فرمائے … اور ہمارے ’’ایمان وعمل‘‘ کو اس مہینے میں ایسی خوبصورتی عطاء
فرمائے کہ ہم… رمضان المبارک کو منہ دکھانے کے قابل ہوسکیں… شعبان کا مہینہ شروع
ہوتے ہی پاکستان، ہندوستان… اور بنگلہ دیش کے مدارس میں تعلیمی سال مکمل ہوجاتا
ہے… علوم نبوت… اور علوم قرآن کے ’’طالب‘‘ اپنا تعلیمی سال مکمل کرکے گھروں کا رخ
کرتے ہیں… اب سوا دو مہینے تک وہ فارغ ہوتے ہیں… اور چھٹیاں مناتے ہیں… جبکہ بعض
’’طالبعلم‘‘ چھٹیوں کے ان دنوں کو بھی… قیمتی بنانے کی ’’جدوجہد‘‘ میں لگے رہتے
ہیں… گویا کہ مدارس کی سالانہ چھٹیاں ہوتے ہی دینی مدارس کے طلبہ کرام … دو حصوں
میں بٹ جاتے ہیں… ایک وہ جو چھٹیوں کو غنیمت جان کر… خوشی خوشی اپنے گھروں کا رخ
کرتے ہیں… والدین اور بہن بھائیوں سے ملتے ہیں… رمضان المبارک میں اپنے محلے اور
علاقے میں قرآن پاک سنتے اور سناتے ہیں… اور رشتہ داروں کے بیچ رہ کر پورے سال کی
تھکاوٹ دور کرتے ہیں… دوسرے وہ طالبعلم جو چھٹیوں میں بھی دین کو سمجھنے اور علم
کو پانے کی محنت جاری رکھتے ہیں… ان میں سے بعض اعلاء کلمۃ اللہ کی
اعلیٰ اور مشکل محنت میں جڑ جاتے ہیں… بعض دورہ تفسیر، دورہ صرف ونحو… اور دورہ
میراث کا فائدہ اٹھاتے ہیں… جبکہ بعض تبلیغی جماعت میں چلہ لگا آتے ہیں… اس موقع
پر گھر جانے والے طلبہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ… وہ مدارس کے لئے چلتے پھرتے
’’نورانی اشتہارات‘‘ بن جائیں… پورا سال انہوں نے جو کچھ پڑھا ہے اس پر عمل کریں…
ان کا لباس، رہن سہن… اور چلنا پھرنا دین کے مطابق ہو… ان کے تمام ’’معاملات‘‘ پر
دین ہی کی چھاپ نظر آئے… اور وہ اپنے علاقے میں جاکر… ٹی وی، انٹرنیٹ… موبائل بازی…
اور فضول دوستیوں سے دور رہیں… ان کو چھٹیوں کے دوران بھی… اس بات کا مکمل احساس
رہنا چاہئے کہ وہ مسلمان… اور دین کے طالبعلم ہیں… اور اس وقت ساری دنیا کا کفر…
دینی مدارس کے طلبہ کو ’’نیم انگریز‘‘ اور ’’جدید لفافہ‘‘ بنانے کے لئے سرگرم ہے…
ایک ’’طالبعلم‘‘ کے لئے سب سے خطرناک چیز مال کی محبت … اور اس گندی دنیا کو
’’ترقی یافتہ‘‘ سمجھنا ہے… یہ دنیا ترقی یافتہ نہیں ’’فسادزدہ‘‘ ہے… اور یہ دنیا
فانی ہے… یہاں کی ترقی صرف ایک ہی ہے کہ… انسان یہاں پر اللہ تعالیٰ کا بندہ… اور غلام بن کر رہے … باقی جو
کچھ نظر آرہا ہے وہ ظاہری چمک، فتنہ، شیطانی جال… اور دھوکا ہے… نام کی اس ترقی
نے… انسان کو ’’مصیبت زدہ مشین‘‘ بنادیا ہے… لوگ اب بھی پہلے کی طرح مر رہے ہیں…
فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے آسانی سے مرجاتے تھے… اب مہنگے ہسپتالوں میں اپنی پوری
جائیداد خرچ کرکے مرتے ہیں … لوگ اب بھی بیمار ہوتے ہیں… فرق اتنا ہے کہ پہلے دو
روپے کا ’’مربہ آملہ‘‘ کھانے سے ٹھیک ہوجاتے تھے… اب پانچ لاکھ کی ہارٹ سرجری کرا
کے بھی… ٹھیک نہیں ہوتے… قبریں اب بھی آباد ہو رہی ہیں… فرق اتنا ہے کہ پہلے
قبروں پر اتنا بوجھ نہیں تھا… اب دنیا کی غلاظت اور محبت نے قبرستانوں کو آگ
لگادی ہے… نہ انسان کی عمر بڑھی… نہ انسان کو صحت ملی… نہ انسان کے سر سے موت ٹلی…
پھر یہ کیا ترقی ہے؟… ہاں انسان سے انسانیت چھن گئی ہے… انسان سے اس کا ذہنی اور
قلبی سکون چھن گیا ہے… اور انسان سے آخرت کی اصل زندگی کی فکر چھن گئی ہے… آج
دنیا کو ’’جہازوں‘‘ پر فخر ہے… کوئی سوچے ان جہازوں نے انسانوں کا کیا دیا ہے؟… وہ
کونسی خوشی ہے جو ان جہازوں سے پہلے… انسان کی گود میں نہیں تھی… اور اب کونسا وہ
غم ہے… جو ان جہازوں کی وجہ سے انسان پر مسلط نہیں ہے… گیارہ ستمبر کے جہازوں نے
تو دنیا کو وحشت اور دہشت میں ڈال دیا ہے… اب بوڑھی عورتیں ہاتھوں پر کریم لگاتی
ہیں تو… جہاز فضا سے زمین پر آبیٹھتا ہے… میں ان ایجادات کا مخالف نہیں ہوں… مگر
ان چیزوں کو کمال سمجھنا… مسلمانوں کے ایمان کے لئے… کینسر کی طرح خطرناک ہے… حضور
پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آواز لگائی کہ… دنیا فانی ہے…
دنیا مردار ہے اور اس کے طلبگار کتوں کی طرح ہیں… دنیا کی زیب وزینت پر نظر نہ
ڈالو… غریب، امیر سے افضل اور اعلیٰ ہے… سادہ کھاؤ… سادہ پہنو… سادہ رہائش اختیار
کرو… تب ان آوازوں کو سن کر… چند لوگ ’’اصل انسان‘‘ بن کر ابھرے… ایسا انسان جو
لالچ اور خود غرضی سے پاک ہو… ان چند انسانوں نے چند سالوں میں دنیا کو امن اور
انصاف سے بھر دیا…
مجھے
اسکول کالج کی تعلیم سے… پہلا اختلاف یہی ہے… وہاں سب سے پہلی بات جو دل میں
بٹھائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ… دنیا نے اب بہت ترقی کرلی ہے… اور مسلمان پیچھے رہ
گئے ہیں… اسکول کالج کے تعلیم یافتہ ننانوے فیصد حضرات کے ذہن میں یہ بات پختہ
ہوچکی ہے… اور یہ نظریہ خون کی طرح ان کی رگوں میں رچ بس گیا ہے… چنانچہ پھر وہ
دیندار بنیں یا دنیا دار… ان کی سوچ اسی نظرئیے کی غلام رہتی ہے… وہ یہی کہتے ہیں
کہ مسلمانوں کو اگر کافروں کا مقابلہ کرنا ہے تو وہ … سائنس اور ٹیکنالوجی میں
ترقی کریں… ان کی اس ظاہری طور پر وزنی بات کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟… کبھی آپ نے
غور فرمایا!… اعلیٰ سائنس اور اونچی ٹیکنالوجی تو اسی وقت ملتی ہے جب … ہم اپنے
نوجوانوں کو کافروں کے تندور میں ڈالیں… جب یہ آٹا… پکتا ہی کافروں کے تندور میں
ہے تو پھر … وہ روٹی بھی انہیں کے کام آتی ہے… اصل بات تو یہ ہے کہ پہلے چند لوگ
سچے مسلمان بنیں… ان کا دل، دماغ … اور عمل مسلمان ہو… پھر یہ لوگ ’’نبوی محنت‘‘
کے رستے قربانی دے کر ’’مسلمان معاشرہ‘‘ بنائیں… پھر مسلمان اپنے زیراثر جو سیکھنا
چاہیں سیکھیں… اور جو بنانا چاہیں بنائیں… مگر اب تو ان تعلیم یافتہ لوگوں کی نظر
میں نعوذباللہ یورپ کی ناپاک رنگینی…
معبود اور خدا کا درجہ رکھتی ہے… میرا تجربہ یہ ہے کہ آپ اپنی تحریر وتقریر میں…
اگر اسلام کے کسی حکم کو سائنس کے مطابق ثابت کردیں تو… ان حضرات کے چہروں پر رونق
آجاتی ہے… استغفر اللہ ، استغفر اللہ …
یعنی اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کو بھی… اسی وقت خوشی سے
مانتے ہیں جب… یہ احکامات ’’موجودہ سائنس‘‘ کے مطابق ہوں… ایک بار ایک صاحب نے مجھ
سے فرمایا… آپ اپنی تقریر میں اس بات کا حوالہ دیا کریں کہ… اسلام کے فلاں حکم کی
اب سائنس نے بھی تائید اور توثیق کردی ہے … میں نے عرض کیا… آپ اس بات کو بھول
جائیں کہ میں اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بات پر… حقیر سائنسدانوں کی
’’مہرتصدیق‘‘ لگوانے جاؤں گا… میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان… کسی کی تصدیق وتائید کا
محتاج نہیں ہے… سائنس کے اصول اور نتائج بدلتے رہتے ہیں… مشینیں جھوٹ بول جاتی ہیں
… رپورٹیں غلط ثابت ہوتی ہیں… جبکہ… آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمادیا وہ ہر زمانے میں
اٹل ہے… ناقابل تردید ہے… ہماری عقل میں آئے یا نہ آئے… دنیاداروں کو سمجھ آئے
یا نہ آئے… مگر افسوس کہ آج مسلمان… انگریز اور انگریزی کے رعب تلے دبا ہوا ہے…
اس کی ناک مدینہ منورہ کی خوشبو کو سونگھنے سے قاصر ہے… وہ تقریر میں انگریزی کے
دوچار الفاظ بولنے کو علم کی معراج سمجھتا ہے… اور اس کے نزدیک موجودہ بیمار دنیا
ترقی یافتہ ہے… اسکول کالج کی تعلیم نے یہ غلط ذہنیت مسلمانوں میں پیدا کی ہے… اور
اب کافروں کی خواہش ہے کہ… مدرسہ والے بھی اسی ذہنیت کو اپنالیں… اسی لیے نصاب میں
تبدیلی کا شور مچایا جارہا ہے…
ایک
پاکدامن آدمی… ایک فتنہ پرور حسینہ سے ہمیشہ بچ جاتا تھا… حسینہ کی سہیلیاں اسے
طعنے دیتیں کہ… تمہارے اندر کچھ کمی ہے… اسی لیے یہ ’’مرد‘‘ تمہارے ہاتھوں گرفتار
نہیں ہوتا… حسینہ نے کہا … میرا سارا فتنہ میری آنکھوں میں ہے… اور یہ سنگدل شخص…
میری آنکھیں نہیں دیکھتا… جس دن … اس نے میری آنکھیں دیکھ لیں… یہ میرے قدموں
میں کتے کی طرح لوٹے گا… آج امریکہ اور یورپ کی کافرانہ تہذیب کو یہی شکوہ ہے کہ
… مدرسہ والے ہماری حسین آنکھوں کو نہیں دیکھتے… دیکھ لیں تو ہمارے قدموں کے کتے
بن جائیں… اور جہاد وغیرہ کا نام ہی بھول جائیں… اگر ان کو برگر، پیپسی کا چسکہ پڑ
جائے، فائیواسٹار کلچر کی رنگینی ان کی ضرورت بن جائے… ٹھنڈے کمرے اور نرم گاڑیاں
ان کی مجبوری بن جائیں… دکھاوا اور فیشن ان کی عورتوں کا فخر بن جائے… ایئرہوسٹس
اور نرس ان کی حاجت بن جائے تو پھر… کہاں مدینہ منورہ کے کچے حجرے… کہاں حضرت عمر
کا پیوند والا کرتہ… کہاں خالد کی تلوار… اور کہاں ایوبی کا استغناء… دنیا کی چمک
انسان کو کمزور، حقیر، ذلیل… اور بے کار جانور بنادیتی ہے…
ایک
چھوٹا سا سوال
جو
حضرات یہ فرماتے ہیں کہ… مسلمان جب تک عصری علوم اور سائنس میں ترقی نہیں کریں گے…
اس وقت تک موجودہ کفریہ طاقتوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے… میں ان حضرات سے … ادب کے
ساتھ ایک سوال کرنا چاہتا ہوں… اس وقت دنیا میں … جن مسلمانوں نے عصری علوم اور
سائنس میں کچھ نہ کچھ ترقی کرلی ہے… وہ کافروں کا مقابلہ کر رہے ہیں یا ان کے کام
آرہے ہیں؟… وہ دین کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں یا دنیا کماتے کماتے کفر سے قریب تر
ہوگئے ہیں؟… ارے جناب! کافروں کا مقابلہ تو… نہتے اور غریب مسلمان کر رہے ہیں… اور
ہر میدان میں انہیں کی بدولت اسلام اور مسلمانوں کا سر فخر سے بلند ہے… باقی تو سب
کافروں کے تندور کی لکڑیاں بنے ہوئے ہیں… اور کھانے پینے سے لے کر سوچ اور عقیدے
تک کافر بن رہے ہیں… مضمون کی ابتداء میں جو تمہید عرض کی تھی… اب اس کی طرف لوٹتے
ہیں … اللہ تعالیٰ جس سے بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں… اس کو
دین کی سمجھ عطاء فرمادیتے ہیں… دینی مدارس میں چھٹیاں ہوچکی ہیں… رمضان المبارک
کے سات دن بعد… یعنی سات شوال سے ملک کے تمام دینی مدارس میں… نیا سال شروع ہوتا
ہے… داخلے کی شرائط سادہ… اور طریقہ کار بالکل آسان ہوتا ہے… میری مسلمان
بھائیوں… اور بہنوں سے درخواست ہے کہ… وہ رمضان المبارک میں… خوب دعاء کریں کہ… اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ خیر اور بھلائی کا ارادہ
فرمادے… اور پھر شوال میں اپنے بچوں کو دینی مدارس میں داخل کروائیں… اللہ کرے آپ کے بچے کامیاب حافظ، عالم، مجاہد… اور
دین کے خدمت گار بنیں… اگر یہ نہ ہوسکا… تو ان شاء اللہ اتنا تو ضرور ہوگا کہ وہ… چھ ہزار تنخواہ کی
خاطر کافروں کے سپاہی اور مسلمانوں کے قاتل تو نہیں بنیں گے… فلموں میں ناچنے گانے
والے جانور تو نہیں بنیں گے… صحافت کے نام پر کافروں کی دلاّلی اور خدمت کرنے والے
ایجنٹ تو نہیں بنیں گے… گردے اور دیگر انسانی اعضاء فروخت کرنے والے معالج تو نہیں
بنیں گے… انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے بھیانک ڈاکو تو نہیں بنیں گے… مال کے عوض
ہر خدمت سرانجام دینے والا بکاؤ مال تو نہیں بنیں گے… آپ آٹھ نو سال کے لئے ان
کو مدرسے بھیج دیں… مدرسے کا انتخاب سوچ، سمجھ کر… اور استخارے کے بعد کریں… جن
مدارس میں دنیاداری اور مادّہ پرستی زیادہ ہو… ان سے اپنے بچوں کو دور رکھیں …
نوسال بعد جب ان کو دین کی سمجھ آجائے تو پھر… آپ کی مرضی… ان کو دین کی خدمت پر
لگادیں یا ڈاکٹر، انجینئر، صحافی… یا کچھ اور بنائیں…
ایک
ضروری گزارش
دینی
مدارس کے موضوع پر ایک بار بیان ہوا… میرے ایک دوست اپنے موبائل فون پر یہ بیان…
کسی مغربی ملک کے مسلمانوں کو سنا رہے تھے… ظاہر بات ہے تفصیلی بیان سنانے پر ان
کا کافی خرچہ ہوا… بیان کے بعد آنکھوں میں آنسو لے کر فرمانے لگے… آپ کی باتیں
سر آنکھوں پر… مگر آپ ہم ’’انگریزی تعلیم یافتہ‘‘ مسلمانوں کے لئے بھی کچھ
گنجائش چھوڑ دیا کریں… میں نے انہیں تفصیل سے اپنا موقف سمجھایا تو خوش ہوگئے…
دراصل ’’انگریزی تعلیم یافتہ‘‘ مسلمانوں کو اس بات کا احساس دلانے کی سخت ضرورت ہے
کہ… ان سے کیاکچھ چھین لیا گیا ہے… ان سے قرآن پاک چھینا گیا… ان سے رسول پاک صلی
اللہ علیہ وسلم کی سنت کا علم چھینا گیا… ان سے فقہ
اسلامی کا علم چھینا گیا… ان سے اسلامی سوچ چھینی گئی … سب سے پہلے وہ اپنے اندر
اس بات کا احساس پیدا کریں کہ… ان سے کتنی عظیم الشان نعمتیں چھینی گئیں ہیں… اور
انہیں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے دنیا کے ناکام لوگوں کی
باتیں پڑھنے پر مجبور کیا گیا ہے… اس احساس کے پیدا ہوتے ہی… انگریزی تعلیم یافتہ
مسلمان… اسلام کے لئے اتنا قیمتی ہوجاتا ہے کہ وہ… بعض اوقات علماء کرام سے زیادہ
دین کی خدمت کر گزرتا ہے… ’’ترقی‘‘ کا معنیٰ ہے بلندی اور اوپر چڑھنا… اگر آپ
کافرانہ تہذیب کو بلند سمجھیں گے تو آپ کا… راستہ ہی غلط ہے… اور جب آپ کے دل نے
مان لیا کہ… مدینہ منورہ کی سادہ اور غریب تہذیب ترقی یافتہ تھی… اور نیویارک اور
یو کے کی تہذیب فساد زدہ ہے تو… اب آپ کا راستہ ٹھیک ہوگیا… پھر عصری تعلیم کی
وجہ سے دنیا کے معاملات کی سمجھ زیادہ ہوتی ہے… اس لیے… کام کرنے میں آسانی رہتی
ہے… اور چونکہ ’’علمی قیل وقال‘‘ کم ہوتی ہے… اس لیے قربانی دینے کا جذبہ… عصری
تعلیم یافتہ مسلمانوں میں… دینی مدارس کے طلبہ سے زیادہ ہوتا ہے… اس لیے یہ کہنا
درست نہیں کہ… عصری تعلیم والوں کے لئے کوئی گنجائش ہی نہیں ہے… ان کے لئے تو بہت
گنجائش ہے… علماء اگر موتی ہیں تو عصری تعلیم والے مسلمان ایسے جوہری بن سکتے ہیں…
جو موتی کی قدر منواتا ہے… علماء اگر اسلام کی تلوار ہیں تو عصری تعلیم یافتہ
مسلمان… اسلام کے بازو بن سکتے ہیں… بس شرط ایک ہی ہے کہ… اپنی نیت میں اخلاص پیدا
کریں… اور موجودہ ترقی کی عظمت دل سے نکال کر… اپنا راستہ درست کرلیں… پھر منزل ان
شاء اللہ … دو قدم کے فاصلے پر ہے…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہمیں دل کی خوشی اور رغبت کے ساتھ… تمام
’’فرائض‘‘ ادا کرنے کی توفیق عطاء فرمائے… اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرنا… یہ بھی ایک
اسلامی فریضہ ہے… بہت اہم اور ضروری فریضہ … بہت مبارک اور پیارا فریضہ… دل اور
مال کو پاک کرنے والا فریضہ… مصیبتوں کو دور کرنے اور خوشیوں کو قریب لانے والا
فریضہ… اللہ پاک کو راضی کرنے… اور مخلوق کی خدمت کرنے والا
فریضہ… اللہ تعالیٰ ہمیں دل کی خوشی کے ساتھ یہ فریضہ ادا
کرنے کی توفیق عطاء فرمائے… آئیے چند باتوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں…
حج
پر خوشی، زکوٰۃ پر دل کی تنگی
حج
بھی اللہ تعالیٰ نے فرض فرمایا ہے… اور زکوٰۃ بھی اسی
رحمت والے پیارے رب نے فرض کی ہے… مگر دیکھا گیا ہے کہ … مسلمان ’’حج‘‘ سے بہت خوش
ہوتے ہیں… اور زکوٰۃ کے نام سے بھی گھبراتے ہیں… خصوصاً عورتیں… اپنے ’’زیورات‘‘
کی زکوٰۃ کا مسئلہ سن کر… غم اور کنجوسی سے مرنے لگتی ہیں… آخر یہ فرق کیوں ہے؟…
قرآن پاک میں زکوٰۃ کا مسئلہ… حج سے زیادہ بیان ہوا ہے… سترّ سے زائد مقامات پر
تو… زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم نماز ادا کرنے کے حکم کے ساتھ بیان ہوا ہے…
اقیموا الصلوٰۃ وآتوا الزکوٰۃ
یعنی
نماز قائم کرو… اور زکوٰۃ ادا کرو… زکوٰۃ حج سے پہلے فرض ہوئی… اور فرائض کی ترتیب
میں اس کا تذکرہ… حج سے پہلے آیا ہے… مگر پھر بھی زکوٰۃ کو رغبت، شوق، محبت… اور
اہتمام سے ادا نہیں کیا جاتا… حالانکہ زکوٰۃ کا تعلق ہماری غذا کے ہر لقمے سے ہے…
مال کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی تو سارا مال ناپاک… اور نقصان دہ ہوجاتا ہے… تب ہر
لقمہ زہر بن کر جسم کے اندر اترتا ہے… تعجب ہے کہ مسلمان شوق سے ’’عمرے‘‘ کرتے
ہیں… اللہ کرے کرتے رہیں… مگر عمرہ فرض نہیں ہے… جبکہ
زکوٰۃ اسلام کا ایک قطعی، لازمی… اور محکم فریضہ ہے… اور جب مال کی زکوٰۃ ادا نہیں
کی جاتی تو… زمین فساد اور حرام سے بھر جاتی ہے… اور انسان کا مال بھی گندا ہوجاتا
ہے اور اس کا دل بھی ناپاک…
اے
مسلمان! بہنو… خوشی اور سرور کے ساتھ اپنے زیورات اور مال کی زکوٰۃ ادا کرو… اگر
ایک ماں اپنے بچے کو ایک ہزار روپے دے… اور پھر مامتا کا پیار اپنی آنکھوں اور
آواز میں بھر کر کہے… اے میرے پیارے بیٹے!… اے میرے لال!… اس ایک ہزار میں سے
پچیس روپے… مجھے تو دے دے… بیٹا ماں کی پیار بھری آواز پر تڑپ جاتا ہے… اور کہتا
ہے… امّاں اے میری پیاری امّاں!… میرا سب کچھ آپ کے لئے حاضر ہے… اور پھر خوشی سے
جھومتے ہوئے پچیس روپے ماں کی خدمت میں ادب سے پیش کردیتا ہے… اب خود سوچیں ماں کی
محبت زیادہ ہے یا اللہ تعالیٰ کی… اللہ تعالیٰ نے ہمیں مال دیا… جبکہ ہم ماں کے پیٹ سے
خالی ہاتھ آئے تھے… پھر اس نے اپنے بندے کوحکم دیا کہ… اے میرے بندے… اس مال میں
سے چالیسواں حصہ مجھے دے دو… صرف چالیسواں حصہ… اور وہ بھی پورے سال میں ایک بار…
جی ہاں ایک ہزار روپے میں سے صرف پچیس روپے… اور پھر یہ وعدہ بھی کہ… اس کا اجر
دنیا آخرت میں ملے گا… اور یہ بشارت بھی کہ… زکوٰۃ دینے والوں کا مال بڑھتا ہی
چلا جاتا ہے… بڑھتا ہی چلا جاتا ہے… اے پیارے بندے… تیرا پیارا رب! تجھ سے مانگ
رہا ہے… حالانکہ وہ غنی ہے اور تو محتاج… اب خود سوچئے ایک مسلمان کو کتنی خوشی سے
زکوٰۃ ادا کرنی چاہئے… مگر ہماری مسلمان بہنیں کہتی ہیں… ہائے میرا زیور… اور
مسلمان بھائی کہتا ہے… ہائے میرا کاروبار… استغفر اللہ … استغفر اللہ … استغفر اللہ … یہ عجیب مسلمانی ہے… کاش ہم سب
مسلمان… زکوٰۃ ادا کرنے میں بھی وہی خوشی محسوس کریں… جو ہم حج ادا کرنے میں کرتے
ہیں…
ایک
شخص دیکھا
اللہ تعالیٰ کی زمین پر اچھے لوگوں کی کمی نہیں ہے…
مگر میں نے اکثر مسلمانوں کو زکوٰۃ کے معاملے میں … غفلت اور سستی کرتے دیکھا ہے… اللہ تعالیٰ معاف فرمائے… یہ وہ فتنہ ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد… سب سے پہلے سر اٹھایا
تھا… کئی لوگ زکوٰۃ کو بوجھ سمجھ کر اسلام سے مرتد ہونے لگے… بعض قبائل نے زکوٰۃ
دینے سے انکار کردیا… حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے جنگ فرمائی… صحابہ کرام کی
ایک جماعت شروع میں اس جنگ کی قائل نہیں تھی… وہ فرماتے تھے کہ یہ لوگ… کلمہ پڑھتے
ہیں، نماز ادا کرتے ہیں، توحید ورسالت کا اقرار کرتے ہیں… مگرحضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی نظر بہت دور تک دیکھتی تھی… انہوں نے اس
فتنے کو پہچان لیا… جو فتنہ لوگوں کو بخیل جانور… اور مال کا پجاری بنادیتا ہے…
اور آج اسی فتنے کی وجہ سے … مسلمانوں کا مال امریکہ اور سویئٹزرلینڈ کے بینکوں
میں گل سڑ رہا ہے … زکوٰۃ کے بغیر کیسا اسلام ؟… اور کیسا مسلمان؟… حضرت صدیق اکبر
رضی اللہ عنہ نے جب اپنا عزم دکھایا … اور اپنا موقف
سمجھایا تو تمام صحابہ کرام کا… اس مسئلے پر ’’اجماع‘‘ ہوگیا… حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد… صحابہ کرام کا کسی
مسئلہ پر یہ پہلا ’’اجماع‘‘ تھا… تب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے تلوار کی نوک سے اس فتنے کی جڑ کاٹ دی…
اور اسلام کا نظریاتی نور… اپنی اصل شاہراہ پر آ کر… روم و فارس کی طرف بڑھنے
لگا… معلوم ہوا کہ… زکوٰۃ کو بوجھ اور جرمانہ سمجھنا… مسلمان کا کام نہیں ہے…
مسلمان کو تو اگر یہ حکم ملے کہ وہ اپنا سارا مال دے دے تو… اس کو ایک منٹ کی
تاخیر بھی نہیں کرنی چاہئے… کیونکہ مسلمان… اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار کو کہتے ہیں… مگر شیطان
مال والوں کو ڈراتا ہے کہ… اگر تم نے زکوٰۃ دی تو تمہارا مال کم ہوجائے گا… تم
غریب ہو جاؤ گے… عورتوں کو ڈراتا ہے کہ… اگر تم زیور سے زکوٰۃ ادا کرتی رہی تو
چند سال میں… تمہارا سارا زیور ختم ہوجائے گا… حالانکہ شیطان کی باتیں جھوٹی ہیں…
قرآن
پاک کا اعلان ہے کہ… زکوٰۃ سے مال بڑھتا ہے… کیا قرآن پاک کی بات میں شک کیا
جاسکتا ہے؟… حدیث شریف میں آیا ہے کہ… صدقہ (زکوٰۃ وغیرہ) سے مال کم نہیں ہوتا…
کیا حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان میں شک کی گنجائش ہے؟… پھر
خود سوچیں کہ ہم نے جو کچھ زکوٰۃ اور صدقے میں دیا… وہ تو ہمارے لئے آخرت میں
محفوظ ہوگیا… اور جو کچھ ہم بچا کر رکھ رہے ہیں… یہ تو ضائع ہوجائے گا… بہرحال
قسمت کی بات ہے … اللہ تعالیٰ ہماری قسمت اچھی فرمادے … اور ہمیں دین
کی سمجھ عطاء فرمادے…
میں
یہ عرض کر رہا تھا کہ… اکثر لوگ زکوٰۃ وغیرہ کے معاملے میں خوشدلی کا مظاہرہ نہیں
کرتے… اکثر لوگ تو دیتے ہی نہیں… جو دیتے ہیں وہ تنگ دلی… اور تنگی کے ساتھ دیتے
ہیں… البتہ میں نے ایک شخص دیکھا… وہ زکوٰۃ دینے میں ایسے خوش ہورہا تھا… جس طرح
کوئی جوان آدمی اپنی شادی پر خوش ہوتا ہے… وہ بتا رہا تھا کہ میں نے اپنے خزانچی
(کیشئر) سے کہا کہ… سارے مال کا حساب کرکے… ابھی سے اگلے دو سالوں کی زکوٰۃ ادا
کردو… میرے خزانچی نے ایسا ہی کیا… اور سارے مال کا حساب کرکے اگلے دو سالوں کی
زکوٰۃ بھی ادا کردی… مگر اللہ تعالیٰ نے عجیب معاملہ فرمایا… اور میرے مال اور
کاروبار میں اتنی برکت عطاء فرمائی کہ… چھ مہینے میں وہ مال کئی گنا بڑھ گیا… اور
اگلے دو سالوں کی زکوٰۃ… اسی ایک سال کی زکوٰۃ بن گئی… اللہ اکبر کبیرا…
مجھے
ایک ’’عارف‘‘ کی بات یاد آگئی… انہوں نے بہت وجد کے عالم میں فرمایا تھا … ’’تم اللہ تعالیٰ کو نقد دو اور وہ تمہیں ادھار پر ٹالتا
رہے… نہیں نہیں ایسا نہیں ہوتا… اللہ تعالیٰ بہت غیرت والا ہے… وہ نقد بھی دیتا ہے…
اور ادھار کا سچا وعدہ بھی فرماتا ہے… حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر کا سارا مال دے دیا… حتی کہ…
سوئی اور دھاگہ بھی… مگر میں نے کسی کتاب میں نہیں پڑھا کہ… اگلے دن ان کو بھیک
مانگنی پڑی ہو… ہم اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو دیں… اور وہ ہمیں لوگوں کا محتاج
کردے… ایسا نہیں ہوتا… ایسانہیں ہوتا…
کروڑوں
کی دولت، ورثاء کی پریشانی
اللہ تعالیٰ ہر گناہگار کو معاف فرمائے… ایک بار کچھ
حضرات تشریف لائے… وہ ساٹھ لاکھ روپے کی رقم اٹھائے پھرتے تھے… اور کسی خیر کے کام
میں لگانا چاہتے تھے… ان سے جب اس رقم کی ’’مد‘‘ پوچھی گئی تو بتانے لگے… ہمارے
ایک بھائی صاحب کا انتقال ہوگیا ہے… یہ ان کے نمازوں کے کفارے اور زکوٰۃ کی رقم
ہے… یعنی وہ صاحب کروڑوں روپے کما کر… اور پھر انہیں دنیا میں چھوڑ کر انتقال کر
گئے… انہوں نے اس مال کے کمانے پر کتنی محنت کی ہوگی… اس کے سنبھالنے کی کتنی فکر
کی ہوگی… اس کو بڑھانے کے کتنے جتن کیے ہوں گے… اسی محنت اور فکر میں نمازیں بھی
چھوٹ گئیں… زکوٰۃ بھی ادا نہ ہوسکی… اب ورثاء اس ڈر سے کہ… یہ مال مرنے والے پر
قبر میں کتنا ظلم کر رہا ہوگا… کفارہ ادا کرنا چاہتے تھے… ہائے کاش… زیورات والی
مسلمان عورتیں… اور مال والے مسلمان بھائی… کم از کم یہ حدیث پاک ہی پڑھ لیں… امام
بخاریؒ اپنی سند سے… حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت فرماتے ہیں کہ… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’جس
آدمی کو اللہ تعالیٰ نے مال عطاء فرمایا پھر اس نے اس مال کی
زکوٰۃ ادا نہیں کی تو قیامت کے دن یہ مال ایک ایسے زہریلے، گنجے سانپ کی شکل میں
لایا جائے گا جس کی آنکھوں کے اوپر دو سفید نقطے ہوں گے۔ یہ سانپ اس مال دار شخص
کے گلے کا طوق بنادیا جائے گا۔ (یعنی اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا) پھر وہ سانپ
اس شخص کی دونوں باچھیں پکڑے گا اور کہے گا میں تیرا مال ہوں… میں تیرا خزانہ ہوں…
(بخاری)
یا
اللہ آپ کی پناہ… یا اللہ آپ کی پناہ… یا اللہ آپ کی پناہ…
تھوڑا
سا سوچیں
جب
ہم نے مر ہی جانا ہے تو اتنا مال… جمع کرنے کا کیا فائدہ؟… عالم اسلام آج …
مالداروں کی کنجوسی کی وجہ سے… کافروں کا محتاج ہے… اے مسلمانو!… اپنے طرز عمل کو
تبدیل کرو… جان لو … زکوٰۃ تو فرض ہے… تم زکوٰۃ کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ کرو… بلکہ جب بھی
کوئی روزی یا مال ملے اس میں سے پہلے اللہ
تعالیٰ کے نام کا حصہ نکالو… پھر اسے اپنے
استعمال میں لاؤ… اللہ کرے یہ جذبہ اور کیفیت ہم سب کو نصیب ہوجائے… فی
الحال ضروری کام یہ ہے کہ… زکوٰۃ کی فرضیت کامسئلہ… اپنے دل کو… اور اپنے اردگرد
رشتہ داروں اور دوست واحباب کو سمجھایا جائے… زکوٰۃ کے مسائل بھی لوگوں تک پہنچائے
جائیں… کیونکہ اکثر لوگ ان مسائل سے ناواقف ہیں… مسلمانوں کو بتایا جائے کہ جو مال
تم زکوٰۃ میں دو گے وہ تمہاری راحت بن جائے گا… اور جس مال کی زکوٰۃ نہیں دو گے اس
مال سے قیامت کے دن تمہارے لیے… آگ کے انگارے بنائے جائیں گے… جن سے… چہرے، پیٹھ
اور پہلو کو داغا جائے گا… مسلمانوں کو سمجھایا جائے کہ زکوٰۃ ادا نہ کرنے سے ان
کا دل ناپاک… اور مال گندا ہوجاتاہے…
دن
مقرر کرلیں
زکوٰۃ
جب ایک اسلامی فریضہ ہے تو… مال والے مسلمانوں کو… اس فرض کی ادائیگی کا اہتمام
کرنا چاہئے… ان کو چاہئے کہ … زکوٰۃ ادا کرنے کے لئے انتظامی طور پر کوئی ایک
اسلامی تاریخ مقرر کرلیں… اور ہر سال اسی تاریخ پر اپنے تمام مال کا حساب کرکے
زکوٰۃ ادا کردیا کریں… اور یہ بات بھی یاد رکھیں کہ… زکوٰۃ کا نصاب سونے اور چاندی
میں سے… اُس کے حساب سے ہوگا جس کی قیمت کم ہو… ظاہر بات ہے کہ آجکل چاندی سستی
ہے… اور چاندی کا نصاب… ساڑھے باون تولہ… یعنی 612.35 گرام ہے… جس کی قیمت آج کل
گیارہ ہزار روپے کے لگ بھگ بنتی ہے… وہ خواتین جن کے پاس… تھوڑا سا سونا ہو اور
کچھ نقد رقم… خواہ وہ پانچ روپے ہی کیوں نہ ہوں… اگر ان کے سونے کی قیمت گیارہ
ہزار روپے تک ہوگی تو… ان کے ذمہ زکوٰۃ لازم ہوگی… وہ مسلمان جو جانور پالتے ہیں…
ان کو چاہئے کہ… جانوروں کی زکوٰۃ کا نصاب اور حساب معلوم کریں… اور پابندی کے
ساتھ ہر سال زکوٰۃ ادا کریں… ہم کوشش کریں گے کہ انشاء اللہ …ہفت روزہ القلم میں… زکوٰۃ کے اہم مسائل چھاپ
دئیے جائیں…
اصل
بات
ابتداء
میں جو بات اپنی اور آپ کی نصیحت کیلئے عرض کی تھی… وہ بات اصل یاد رکھنے اور عمل
کرنے کی ہے کہ… ہم دل کی خوشی، محبت ، رغبت اور شوق کے ساتھ… زکوٰۃ ادا کریں… اور
اسے اپنے لئے ایک نعمت اور سعادت سمجھیں… اور بے چینی کے ساتھ زکوٰۃ ادا کرنے کے
دن کا انتظار کیا کریں… اور کھلے ہاتھ اور خوشدلی کے ساتھ… اصل مقدار سے کچھ اضافہ
کرکے زکوٰۃ ادا کیا کریں… یہ کیفیت جس کو نصیب ہوجائے گی … اسے ایمان کی ایک خاص
حلاوت اور مٹھاس ملے گی… اور اس کا دل سکون سے بھر جائے گا… ان شاء اللہ …
اللہ تعالیٰ کی غیرت
ہم
میں سے اکثر کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ… اگر کوئی ہمیں مال دے تو چھپا کر دے… اور کسی
کو نہ بتائے… بلکہ… بعض لوگ تو دینے والوں سے ’’وعدے‘‘ بھی لیتے ہیں کہ… کسی کو
بتانا نہیں… مگر یہی لوگ جب کچھ بھی… اللہ
تعالیٰ کے راستے میں دیتے ہیں تو … ضرور
لوگوں کو بتاتے ہیں… یہ عجیب معاملہ ہے… یعنی اپنی غیرت تو اتنی زیادہ کہ ہماری
ناک نیچی نہ ہو… اور ہمیں چھپا کر دیا جائے… اور اللہ تعالی کی عظمت کا اتنا بھی دھیان نہیں کہ… اس کے
راستے میں دے کر… لوگوں کو بتاتے پھریں…
اے
مسلمانو!… یاد رکھو، بہترین صدقہ وہی ہے جو چھپا کر دیا جائے… اور اپنے بائیں ہاتھ
کو بھی خبر نہ ہو… باقی قرآن پاک میں اس بات کی اجازت ہے کہ… لوگوں کے سامنے بھی
مال خرچ کیا جاسکتا ہے… صدقہ دیا جاسکتا ہے… بلکہ زکوٰۃ وغیرہ تو کھلم کھلا ّ دینے
سے یہ فائدہ بھی ہوتا ہے کہ… دوسروں کو ترغیب ملتی ہے… بہرحال اصل چیز ’’اخلاص‘‘
ہے… اور سب سے خطرناک چیز شرک ہے… اور ریاکاری شرک کی چھوٹی بہن ہے… زکوٰۃ اور
صدقہ چھپا کر دیں… یا کھلم کھلا… نیت اللہ
تعالیٰ کی رضا کی ہونی چاہئے…
بس
اللہ تعالیٰ راضی ہوجائے… بس اللہ تعالیٰ خوش ہوجائے… بس اللہ تعالیٰ قبول فرمالے…
اس
کے علاوہ کوئی نیت نہ ہو… یا اللہ ! ہم سب
کو اخلاص عطاء فرما… آمین یا ارحم الراحمین
اگر
زندگی رہی… اور توفیق ملی تو اس موضوع پر باقی باتیں آئندہ ہفتے…
ان
شاء اللہ تعالیٰ…
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ جزائے خیر عطاء فرمائے ان کو… جنہوں نے میرے پا س ماہنامہ’’الخیر‘‘ کا تازہ
شمارہ بھجوایا ہے… دو سو اڑتالیس (۲۴۸) صفحات پر مشتمل یہ خوبصورت رسالہ… فقیہ العصر
حضرت مولانا مفتی عبدالستار صاحبؒ… کی یاد میں نکالا گیا ’’خصوصی شمارہ‘‘ ہے…’’
یاد‘‘ بھی عجیب چیز ہے… جب آتی ہے تو انسان کو اپنے ساتھ بہا کر لے جاتی ہے…
خصوصاً جب یہ ’’یاد‘‘ اپنی کسی محبوب شخصیت کی ہو…
آئی
جب انکی یاد تو آتی چلی گئی
ہر
نقشِ ماسوا کو مٹاتی چلی گئی
ہر
منظرِ جمال دکھاتی چلی گئی
جیسے
انہی کو سامنے لاتی چلی گئی
ہر
واقعہ قریب تر آتا چلا گیا
ہر
شئے حسین تر نظر آتی چلی گئی
بے
حرف و بے حکایت و بے ساز و بے صدا
رگ
رگ میں نغمہ بن کے سماتی چلی گئی
جتنا
ہی کچھ سکون سا آتا چلا گیا
اتنا
ہی بے قرار بناتی چلی گئی
دل
بھی عجیب چیز ہے… معلوم نہیں کہاں کہاں بھٹکتا رہتا ہے… اور ساتھ مجھے بھی بھٹکاتا
رہتا ہے ؎
جا
رہے ہیں بس جدھر ہم کو لئے جاتا ہے دل
میرا
مصمم ارادہ تھا کہ انشاء اللہ… زکوٰۃ کے موضوع کو مکمل کروں گا… اور اپنے مسلمان
بھائیوں… اور بہنوں سے عرض کروں گا کہ… ہم سب مل کر دین کے تمام فرائض اور
سنتوں کو زندہ کرنے کی محنت کریں… پچھلے ہفتے ’’فریضۂ زکوٰۃ‘‘ کے موضوع پر چند
باتیں عرض کی تھیں… اس ہفتے اسی موضوع پر … کچھ مبارک حدیثیں اور چند عبرتناک
واقعات سنانے تھے… مگر میرے ہاتھ میں ایک کتاب آ گئی… میں نے اس کے چند صفحات
پڑھے تو دل اس کتاب کے مصنف کی یاد میں کھو گیا… میں انہیں گزشتہ سترہ سال سے
جانتا ہوں… اور کئی بار ان کی کتابوں سے فیض حاصل کر چکا ہوں… وہ علم اور جہاد کا
’’رنگ و نور‘‘ تھے… اور بالآخر اپنے کام میں کامیاب ہوئے… اور شہادت کی حسین
وادیوں میں کھو گئے… میں ان کے ثواب میں شریک ہونے کے لئے… انکی باتیں لکھنے لگا…
اگر اللہ تعالیٰ نے پسند فرمایا اور وہ مضمون مکمل ہو گیا تو… انشاء اللہ جلد ہی
قارئین کرام کی ملاقات اس عجیب و غریب کامیاب انسان سے ہو جائے گی… مگر اس وقت تو
ہمارے سامنے’’ماہنامہ الخیر‘‘ کا خصوصی شمارہ ہے… یہ شمارہ کل میرے ہاتھ لگا… میں
نے جلدی جلدی مختلف مقامات سے پڑھ ڈالا… کچھ ضروری کام سامنے تھے اس لئے دل بھر
کر… استفادہ نہ کر سکا… دن کٹ گیا تو رات آ گئی… اور رات کا کٹنا… اور بیداری
جھیلنا خود ایک عجیب کام ہے جگر مرحوم نے فرمایا تھا ؎
نازک
ترے مریض محبت کا حال ہے
دن
کٹ گیا تو رات کا کٹنا محال ہے
جگرؒ
کا ہی دوسرا شعر بالکل حسبِ حال ہے… وہ فرماتے ہیں ؎
دنیا
یہ دکھی ہے پھر بھی مگر، تھک کر ہی سہی سو جاتی ہے
تیرے
ہی مقدر میں اے دل! کیوں چین نہیں آرام نہیں
رات
کے ڈیڑھ بجے پھر ماہنامہ الخیر میرے ہاتھ میں تھا… اور اب کی بار میری ملاقات حضرت
مفتی صاحب نور اللہ مرقدہ کے ساتھ ہو گئی… جی ہاں ملاقات… بہت لذت بھری ملاقات…
بہت لطف بھری ملاقات… اور وہ بھی کئی دنوں کے بعد ؎
مدت
میں وہ پھر تازہ ملاقات کا عالَم
خاموش
ادائوں میں وہ جذبات کا عالَم
نغموں
میں سمویا ہوا وہ رات کا عالَم
وہ
عطر میں ڈوبے ہوئے لمحات کا عالَم
اللہ
رے، وہ شدتِ جذبات کا عالَم
کچھ
کہہ کے وہ بھولی ہوئی بات کا عالَم
عارض
سے ڈھلکتے ہوئے شبنم کے دو قطرے
آنکھوں
سے جھلکتا ہوا برسات کا عالَم
وہ
نظروں ہی نظروں میں سوالات کی دنیا
وہ
آنکھوں ہی آنکھوں میں جوابات کا عالَم
نازک
سے ترنم میں اشارات کے دفتر
ہلکے
سے تبسم میں کنایات کا عالَم
وہ
عارضِ پر نور وہ کیف نگہِ شوق
جیسے
کہ دمِ صُبح مناجات کا عالَم
شرمائی
لجائی ہوئی وہ حسن کی دنیا
وہ
مہکی ہوئی بہکی ہوئی رات کا عالَم
حضرت
مفتی صاحبؒ سے ملاقات ہو گئی… اور وہ وقار ، سکون اور محبت کے ساتھ اپنے حالاتِ
زندگی سناتے چلے گئے… پاکیزہ بچپن، قابل رشک جوانی… اور شرابِ محبت سے مخمور
بڑھاپا… حفظِ قرآن اور تحصیل علم کی منزلیں… اساتذہ کے معطر تذکرے… اور رب تعالیٰ
کے انعامات کا والہانہ ذکر… جی ہاں! ماھنامہ الخیر کے اس خصوصی شمارے میں
صفحہ ۲۷ تا ۴۲… حضرت
مفتی صاحبؒ کی خود نوشت سوانح حیات ہے… اس میں ایک بڑے آدمی نے خود کو چھوٹا
دکھانے کی کوشش کی ہے… ایک شمشاد قد حسین نے اپنے حسن پر تواضع کے پردے ڈالے ہیں…
مگر یہ کوشش کامیاب نہیں ہوئی… قد اونچا ہوتا ہی چلا گیا… اور حسن مزید نکھرتا ہی
چلا گیا… حضرتؒ کا یہ مضمون اپنی مثال آپ ہے… ہم نے قارئین القلم کے لئے… اسی
شمارے میں اسے چھاپ دیا ہے…اب ہمارے قارئین بھی حضرت مفتی صاحبؒ سے ملاقات کا یک
گونہ شرف حاصل کر سکیں گے…’’ ماھنامہ الخیر‘‘ کے مدیر اعلیٰ حضرت مولانا محمد حنیف
صاحب جالندھری مدظلہ العالی… اور ’’ مدیر‘‘ حضرت مولانا محمد ازھر صاحب مدظلہ
العالی… ڈھیروں دعائوں اور مبارک باد کے مستحق ہیں کہ … انہوں نے اسقدر جلدی… اتنے
بہترین ’’خصوصی شمارے‘‘ کی اشاعت کا اہتمام فرمایا… جزا ھم اللہ احسن الجزاء فی
الدارین… ان دونوں حضرات کے … وقیع مضامین بھی اس خصوصی شمارے کی زینت ہیں… حضرت
مولانا محمد حنیف صاحب جالندھری نے حضرت مفتی صاحبؒ کا وہ خط بھی… اپنے مضمون میں
شائع کر دیا ہے… جس خط میں حضرت مفتی صاحبؒ نے انہیں دورانِ اسفار نماز اور ذکر کے
اہتمام کی تلقین فرمائی ہے… حضرت قاری صاحب کا مضمون… اور اس مضمون میں شامل اس خط
کو پڑھ کر مجھے اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ… قاری صاحب اپنے ظاہر کی طرح اپنے
باطن کو بھی سنوارنے… اور سجانے کی پوری محنت کرتے ہیں… ان کے مقام کا کوئی
اور آدمی ہوتا تو ’’تہمت‘‘ کے ڈر سے… اس اصلاحی خط کو اپنے مضمون کا حصہ نہ
بناتا… حضرت مفتی صاحبؒ کا یہ اصلاحی خط بھی ’’القلم‘‘کے اس شمارے میں شائع کیا جا
رہا ہے… اللہ کرے دین کا کام کرنے والے… اور جہاد کی دعوت دینے والے… اس پر بڑھ
چڑھ کر عمل کریں… حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ نماز باجماعت کا مکمل اہتمام نہیں کرتے…
ان کے دین کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا… بغیر ستون کے کونسی عمارت ہے جو قائم رہ
سکے؟… مجھے جب دین اور جہاد کے کسی خادم کے بارے میں معلوم ہوتا ہے کہ وہ… فجر کی
نماز بلاعذر گھر میںادا کرتا ہے تو… میرے دل پر غم اور صدمے کا ایک مکا لگتا ہے…
یا اللہ تمام مسلمانوں کو عموماً اور دین کا کام کرنے والوںکو خصوصاً… نماز باجماعت
کا اہتما م کرنے کی توفیق عطاء فرما… اور ہمارے دلوں کو نماز کی اصل اہمیت
سمجھا…آپ دیکھیں جہاد کتنا مقدس اور کتنا مبارک عمل ہے؟… قرآن پاک نے اعلان کیا
ہے کہ… کعبۃ اللہ کی خدمت بھی جہاد کے برابر نہیں ہے… پھر جہاد میں فتح پانا کتنی
بڑی نعمت ہے؟… اس فتح کی برکت سے زمین پر دین قائم ہوتا ہے… اور فاتح کے لئے ہر اس
نیک عمل کا اجر لکھا جاتا ہے… جو اس کی فتح کردہ زمین پر جاری ہوتا ہے… اس
زمین پر جتنی اذانیں ہونگی، جتنی نمازیں ادا ہونگی، جتنا علم پڑھا پڑھایا جائے گا…
اللہ اکبر کبیرا… یہ اجر کا کتنا بڑا خزانہ ہے… کیا دنیا کا کوئی کیلکولیٹر اس کا
حساب کر سکتا ہے؟… نہیں ہر گز نہیں… لیکن اس ’’فاتح‘‘ کے لئے اتنے بڑے اجر کے
باوجود… نماز میں غفلت کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے… اگر کوئی فاتح پورا امریکہ
فتح کر کے وہاں اسلام قائم و نافذ کر دے… تب بھی اس کو ایک نماز معاف نہیں ہو گی…
نماز تو بڑی بات ہے اس کے لئے فرض نماز کا ایک سجدہ بھی معاف نہیں ہو گا… دراصل
اسلام کی عمارت نماز کے ستون پر قائم ہے… اللہ تعالیٰ ہمیں نماز کی اس اہمیت کو
سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے… اور نماز کو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سکون
بنائے… اور ہمیں مساجد کا اس سے زیادہ عشق عطاء فرمائے… جتنا عشق مجنوں کو لیلیٰ
کے گھر سے تھا کہ… کبھی اس دیوار کو چومتا تھا… اور کبھی اُس دیوار کو… ’’ ماھنامہ
الخیر‘‘ کے اس شمارے میں… حضرت مفتی صاحبؒ کے بارے میں مختلف اہل قلم حضرات
کے چالیس سے زیادہ مؤقر مضامین موجود ہیں… ان میں سے بعض مضامین بہت دلچسپ، مفید
اور اثر انگیز ہیں… خود حضرت مفتی صاحبؒ کے دو بیانات بھی نقل کئے گئے ہیں… جبکہ
ایک مضمون خالص آپ کے ملفوظات پر مبنی ہے… حضرت مفتی صاحبؒ کے جانشین… اور خلف
الرشید حضرت مولانا مفتی عبداللہ صاحب نے حضرتؒ کے حالاتِ زندگی کو تفصیل کے ساتھ
بیان فرمایا ہے… جبکہ حضرت کے دو پوتوں… اور ایک بہو صاحبہ کے مضامین بھی پڑھنے
لائق ہیں… اس خصوصی شمارے میں کل پانچ نظمیں ہیں… جن میں سے ایک نظم ملک کے سکہّ
بند شاعر حافظ محمد ابراہیم فانی مدظلہ کی فکرِ رسا کا نتیجہ ہے… یہ خصوصی شمارہ چھپ
کر منظرِ عام پر آ چکا ہے… ہم نے ’’القلم‘‘ کے تین صفحات اسی خصوصی شمارے کے
تعارف کیلئے وقف کئے ہیں… تاکہ… اللہ پاک راضی ہو کہ اس کے ایک مخلص اور پیارے
بندے کا ذکر خیر… اس لئے عام کیا جا رہا ہے تاکہ … مسلمانوں میں دین کی محبت بڑھے…
وہ علم اور تقوے کے مقام کو سمجھیں… وہ اہل حق کو پہچانیں… وہ اپنی نمازوں کو
جاندار بنائیں… اور ان میں… اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کا جذبہ پیدا ہو…ہمارے ایک
عزیز ساتھی نے اس خصوصی شمارے پر یہ تبصرہ فرمایا کہ … اس میں حضرات اکابر کے
مضامین بہت کم ہیں… ان کے اس ہمدردانہ اشکال کا جواب کئی طرح سے دیا جا سکتاہے
مثلاً… (۱) حضرت
مفتی صاحبؒ ماشاء اللہ خود وقت کے اکابر میں سے تھے… اس وقت جو دو چار بڑے حضرات
بحمد اللہ… حیات ہیں… حضرت مفتی صاحبؒ ان میں سے ایک تھے…
(۲) دو
ماہ سے کم عرصے میں یہ خصوصی شمارہ تیار کیا گیا… ظاہر بات ہے… اتنے کم عرصہ میں…
اس سے بہتر’’شمارہ‘‘ منظر عام پر لانا بظاہر ناممکن معلوم ہوتا ہے… سنا ہے کہ کئی
اکابر حضرات کے خدّام… ان کے خصوصی شمارے تیار کر رہے ہیں… مہینوں پر مہینے گزرتے
جا رہے ہیں… مگر ابھی تک آنکھیں… حضرت چنیوٹیؒ جیسے اکابر کے مفصل حالاتِ زندگی
پڑھنے کے لئے ترس رہی ہیں…
(۳) رجب
سے لیکر پندرہ شوال تک… حضرات علماء کرام سے ملنا… ان سے مضامین لینا… کافی مشکل
ہوتا ہے… سال کا اختتام… اور پھر نئے تعلیمی سال کا آغاز… سبھی حضرات مصروف… اور
منتشر ہوتے ہیں…
(۴) کئی
بڑے حضرات جو لکھا کرتے تھے… گذشتہ چار پانچ سال میں… خود تاریخ کا حصہ بن گئے
ہیں… آہ! کس کس کو یاد کیا جائے بس چند حضرات موجود ہیں… اور ان میں سے بھی بعض
بے حد علیل… اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ پر رحم فرمائے…
(۵) حضرات
اکابر کے حالاتِ زندگی… اور ان کے دینی کارنامے … ان کی وفات کے بعد جتنا جلد منظر
عام پر آ جائیں… اسی قدر زیادہ مفید… اور نافع ہوتے ہیں… انکی یاد دلوں میں تازہ
ہوتی ہے… محبت کے جذبات بھی زندہ ہوتے ہیں… تب… انکی تعلیمات کا منظرِ عام پر آ
جانا انسان کو جلد نفع پہنچاتا ہے… اور سیدھے راستے پر ڈالتا ہے… بہر حال کچھ بھی
ہو… ماھنامہ الخیر کا یہ خصوصی شمارہ وقت کی ضرورت تھی… امید ہے کہ انشاء اللہ …
اس سے اُمت مسلمہ کو فائدہ پہنچے گا… ہم اس شمارے کے چیدہ چیدہ تحفے… حضرت مفتی
صاحبؒ کی خود نوشت سوانح حیات… اور آپ کا ایک مؤثر بیان… القلم کے اس شمارے میں
شامل کر رہے ہیں… یا اللہ قبول فرما… یا اللہ نافع بنا… آمین یا ارحم الراحمین…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطاء فرمائی… اور
’’روم‘‘ کی وسیع عیسائی سلطنت ختم ہو گئی… اب قیامت تک کوئی بھی ’’قیصرروم‘‘ نہیں
بن سکتا… حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احزاب کے موقع پر مسلمانوں کو
یہ خوشخبری سنادی تھی کہ… روم کی سلطنت ختم ہونے والی ہے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کو چند برس ہی ہوئے تھے
کہ … مسلمان مجاہدین کے قافلے… ایمان اور انصاف کی شمعیں اٹھائے ملکِ روم کی طرف
بڑھے… اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے روم کی عظیم سلطنت… یوں پگھل گئی… جس طرح پانی میں
نمک… اور پھر آسمان نے وہ منظر بھی دیکھا جب مسلمانوں نے… قسطنطنیہ بھی فتح
کرلیا… والحمد اللہ رب العالمین… سچی بات
یہ ہے کہ عیسائی مذہب عملی طور پر کبھی کا… دنیا سے ختم ہوچکا ہے… اب عیسائیت نام
ہے اسلام دشمنی کا… سرمایہ داری کا… ظلم اور زیادتی کا … اور کھلی بے حیائی کا…
اسی لیے تو عیسائی اکثریت کے ممالک نے خود کو ’’عیسائی‘‘ کہلانے کی بجائے
’’سیکولر‘‘ کہلانا پسند کیا ہے… ہاں یہ سچ ہے کہ عیسائیت ختم ہوچکی ہے… مگر
’’عیسائی تعصب‘‘ باقی ہے… اور عیسائیت کا نام باقی ہے… جو شخص چاہے کہ وہ جانوروں
کی طرح آزاد زندگی گزارے وہ عیسائی ہوجائے … نہ شراب کی ممانعت نہ سور کے گوشت
کی… نہ بغیر شادی تعلقات پر کوئی قدغن… اور نہ ہم جنس پرستی پر… جو مرضی کھاؤ، جو
مرضی پہنو، جو مرضی بولو، جو مرضی کرو… کیا کوئی آسمانی دین اس طرح کا ہوسکتا
ہے؟… کتا ایک جانور ہے مگر پھر بھی سوچ سمجھ کر … اور موقع محل دیکھ کر بھونکتا
ہے… مگر عیسائیت میں… ان کے ’’پوپ‘‘ سمیت ہر کسی کو کھلا بھونکنے کی اجازت ہے… یہ
لوگ چاہتے ہیں کہ دنیا بے حیائی سے بھر جائے… اور اسلام بھی اسی طرح ختم ہوجائے جس
طرح قیصرِروم کی سلطنت ختم ہوئی… یہ اپنی ’’تاریخی شکست‘‘ کا بدلہ لینا چاہتے ہیں…
مگر یہ کامیاب نہیں ہوںگے…
پاپے
کا تعارف
ایک
عیش پرست شخص جو پاپائے روم کہلاتا ہے… عیسائی بیچاروں کا اصل ’’پاپا‘ ‘ تو ختم ہو
گیا… انہوں نے اس کی یاد گار کے طور پر … اپنے لیئے ایک نیا ’’پاپا‘‘ (باپ) بنالیا
ہے… وہ مسلمانوں کو جھٹلانا چاہتے ہیں کہ… دیکھو! روم کا ’’قیصر‘‘ اب بھی موجود
ہے… اور ’’اسقف اعظم‘‘ اب بھی زندہ ہے… مگر دنیا اتنی بے وقوف نہیں ہے کہ… اسے
’’ویٹی کن‘‘ کا چھوٹا سا، حقیر شہر نظر نہ آئے… عیسائیوں نے ’’ویٹی کن‘‘ کے چھوٹے
سے شہر کو ایک پوری ریاست اور ملک کا درجہ دے دیا ہے… ’’پوپ‘‘ اس ریاست کا بادشاہ
ہوتا ہے… اور چند گلیوں کے اس ملک پر اس کی باقاعدہ حکومت قائم ہوتی ہے… پاپائے
اعظم، پاپائے روم اور اسقف اعظم جیسے اونچے الفاظ کی کھال میں… جو بھوسا بھرا ہوتا
ہے… اسے ایک واقعہ سے سمجھنے کی کوشش کریں…
جیل
میں ایک بار ہمارے وارڈ میں… نشے کے عادی ایک قیدی کو ڈالا گیا… ہمارا وارڈ ہائی
سیکورٹی بلاک تھا… وہاں بڑے ملزم اور خطرناک قیدی رکھے جاتے تھے… نشے کا عادی ہونا
تو کوئی بڑا جرم نہیں ہے… مگر اس قیدی نے جیل حکام سے جھگڑا کیا تھا… اس بڑے جرم
میں اسے چند دن کے لئے ’’قصوری‘‘ قرار دے کر ہمارے ساتھ رکھا گیا… یہ شخص پچیس سال
سے جیل آجا رہا تھا… اور وہ ’’جیل مینوئل‘‘ اور ’’جیل معلومات‘‘ کا
انسائیکلوپیڈیا تھا… ہمارے وارڈ کے ساتھی کبھی کبھار مزاح کے موڈ میں ہوتے تو اس
کو کرسی پر بٹھا کر… وزیر جیل خانہ جات قرار دے دیتے… اور خود صحافی بن کر سوالات
پوچھتے… آپ یقین جانیں وہ شخص گردن اونچی کرکے باقاعدہ وزیر بن جاتا… اور نہایت
سنجیدگی کے ساتھ ہر سوال کا جواب دیتا… دنیا بھر کے عیسائیوں نے… مذہب سے تو اپنی
گردن چھڑالی… مگر اپنے مذہب کی نشانی کے طور پر… کراچی کے ’’لالوکھیت‘‘ جتنے ایک
شہر کو… رومی سلطنت کا پایہ بنا کر وہاں ایک ’’پاپا‘‘ بٹھا دیا ہے… یہ عجیب
’’پاپا‘‘ اور مذہبی رہنما ہے… جو سونے اور جواہرات کا جڑاؤ تاج پہنتا ہے… ہیرے کی
انگوٹھی ہاتھ میں ڈالتا ہے… کروڑوں روپے کے زرق برق کپڑے پہنتا ہے… اس کے گرد
درجنوں جوان لڑکیاں سیکرٹری کے فرائض انجام دیتی ہیں… اس کو نہلانے، دھلانے کے لئے
بھی خادم اور خادمائیں مقرر ہیں… اس کے گرد ہر وقت مسلح دستے پہرہ دیتے ہیں… اس کو
باقاعدہ سیلوٹ کیا جاتا ہے… اس کا ایک مسلح شاہی دستہ اس کے محل کے گرد ساکت وصامت
بتوں کی طرح… متعین رہتا ہے… یہ ’’پاپا‘‘ جہاں جاتا ہے… سربراہ مملکت کا
’’پروٹوکول‘‘ لیتا ہے… مذہب کے بارے میں اس کی کوئی نہیں سنتا… البتہ سیاسی طور پر
وہ ایک ’’نمائشی بت‘‘ ہے… جس کی پوجا کی جاتی ہے… وہ اپنے پیروکاروں کو کسی جنگ سے
روک نہیں سکتا… ہاں کبھی کبھار کوئی ایسا تنقیدی بیان جھاڑ دیتا ہے… جس کی اہمیت
بوڑھے کی کھانسی جتنی بھی نہیں ہوتی… اس کو عبادت اور روحانیت سے کوئی سروکار نہیں
ہوتا… اس کی سیکرٹریاں سارا دن اس کے کپڑے بدلواتی رہتی ہیں… اور اس کے سیکرٹری اس
کی طرف سے بیانات جاری کرتے رہتے ہیں… یہ ’’پاپا‘‘ مرجاتا ہے تو اسے آبنوس کے صندوق
میں ڈال کر… سونے کی کیلیں گاڑ کر… ایک تہہ خانے میں دفنا دیا جاتا ہے… یہ ہے وہ
’’پاپا‘‘ جو ابھی چند روز قبل آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی بکا ہے… اللہ پاک اسے جلد آبنوس کا تابوت اور سونے کی کیلیں
اور چرچ کا تہہ خانہ نصیب فرمائے…
پاپے!
ایک بات تو بتا
تھوڑا
ہی عرصہ ہوا کہ پچھلا ’’پاپا‘‘ مرگیا… وہ پولینڈ کا رہنے والا تھا… چونکہ ’’پاپا‘‘
کا عہدہ… عبادت، ریاضت، تقوے اور جفا کشی والا کام تو ہے نہیں… یہ تو بادشاہی ہے،
عیاشی ہے اور مزے… اس لیے اس کا جانشین بننے کے لئے ’’پاپوں‘‘ کی ایک لائن لگی
ہوئی تھی… اس لائن میں آگے آگے نائجیریا کا ایک ’’پادری‘‘ تھا… مگر نام کے
عیسائیوں کو ’’کالاپاپا‘‘ کہاں گوارہ تھا… وہ جرمنی کے اس گورے پادری کو آگے
لائے… جو آجکل ’’پاپا‘‘ ہے… آپ یہ پڑھ کر حیران ہوں گے کہ … یہ ’’پاپا‘‘ پہلے
فوجی تھا… انٹی ایئر کرافٹ گن چلاتا تھا… یعنی جہاز گراتا تھا… پھر فوج سے بھاگ کر
پادری بن گیا… اب اس کے پیچھے پچھتر ’’پادری‘‘ ’’پاپا‘‘ بننے کیلئے اس کے مرنے کا
انتظار کر رہے ہیں… خلاصہ یہ ہے کہ ’’پاپوں‘‘ کی کوئی کمی نہیں ہے… مگر یہ
’’پاپا‘‘ اپنی حقیر سی جان کی حفاظت کے لئے… کروڑوں ڈالر خرچ کرتا ہے… ہر وقت مسلح
پہرے داروں میں رہتا ہے… جہاں جاتا ہے… وہاں بھی زمینی اور فضائی سیکورٹی مانگتا
ہے… مجھے پوچھنا صرف یہ ہے کہ … اے پاپے! تو اپنی حقیر سی جان کے لئے… تلواریں ہی
تلواریں اٹھائے پھرتا ہے… اور دوسری طرف تو اعتراض کرتا ہے … حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار پر… جن کی تلوار نے دنیا سے
ظلم اور شرک کا خاتمہ کیا…
کچھ
تو شرم کر! یا تو اپنے ارد گرد سے تلواریں ہٹالے… یا اعتراض کرنا چھوڑ دے… مجھے
معلوم ہے تو تلواریں نہیں ہٹائے گا… حالانکہ نہ تیرے زندہ رہنے کا کوئی فائدہ ہے…
اور نہ تیرے مرنے کا کوئی نقصان… جبکہ آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار نے تو انسانیت کو صرف فائدہ
ہی پہنچایا ہے…
اے
پاپے! ہمیں معلوم ہے
’’پاپے‘‘
نے اس موقع پر اپنی زبان کیوں نکالی ہے؟… اور آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کو کیوں یاد کیا ہے؟… دراصل
’’پاپا‘‘ بہت غمگین ہے… ’’پاپا‘‘ کے ’’بیٹے‘‘ اسلام کو مٹانے اور مسلمانوں کو
مارنے کیلئے… افغانستان میں آئے ہوئے ہیں… اور وہاں ’’پاپا‘‘ کے ان طاقتور بیٹوں
کو حیرتناک شکست کا سامنا ہے… چھبیس طاقتور ملکوں پر مشتمل نیٹو اتحاد کے فوجی…
افغانستان میں بری طرح پھنس چکے ہیں… انہوں نے اپنے رکن ممالک سے … پچیس سو مزید
فوجیوں کی مانگ کی ہے… مگر کوئی ملک پچیس فوجی دینے کو بھی تیار نہیں ہے … صرف
پولینڈ نے ایک ہزار کا وعدہ کیا ہے مگر وہ بھی آئندہ فروری تک… امریکی وزیر خارجہ
نے اعلان کیا ہے کہ… اگر نیٹو ممالک نے مزید فوجی نہ بھیجے تو حامد کرزئی کی
’’جمہوری حکومت‘‘ گِر جائے گی… نیٹو افواج کے سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ… ہمیں غلط
معلومات دے کر بھیجا گیا… اور طالبان کے بارے میں ہمارے اندازے غلط تھے… اللہ اکبر کبیرا… اے انسانو! اب تو اسلام کی صداقت پر
ایمان لے آؤ… ایک طرف اکیلے اور نہتے طالبان… اور دوسری طرف امریکہ اور چھبیس
ترقی یافتہ ممالک… طالبان مطمئن ہیں… اور اتحادی فوجی چیخ رہے ہیں… یہ سب کچھ کیا
ہے؟… اسلام کی صداقت کے لئے اس زمانے میں… اور کونسی نشانی درکار ہے؟… نیٹو ممالک
کے فوجی اونچی اور بڑی تنخواہوں کے باوجود میدان میں آنے کے لئے تیار نہیں… اور
دوسری طرف الزام ہے کہ… طالبان کے حامی سرحد عبور کرکے تیزی سے آرہے ہیں… امریکی
وزیر خارجہ کے کہنے پر پچیس سو فوجی ہاتھ نہیں آرہے جبکہ… ملا محمد عمر حفظہ اللہ تعالیٰ آج اعلان فرمادیں… اور حکومت پاکستان
راستہ کھول دے تو… انشاء اللہ ایک ہفتے میں ایک لاکھ فدائی افغانستان میں…
دنیا بھر کے مختلف علاقوں سے پہنچ جائیں گے… اللہ اکبر کبیرا… افغانستان کے تازہ حالات نے
مسلمانوں کے ایمان کو مضبوط کردیا ہے… اور اسلام کی حقانیت کا نور… دنیا بھر کے
غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دے رہا ہے… روم کا ’’پاپا‘‘ اسی صورتحال کو دیکھ کر
پریشان ہے… اور اسی بدحواسی میں اس کی زبان قابو میں نہیں رہی… اور اس نے آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی بک دی ہے… اور دل
کی جلن نکالنے کے لئے… اس نے تلوار کا طعنہ بھی دیا ہے… تاکہ… مسلمانوں کے نام
نہاد شرابی، وکیل فوراً شور مچادیں کہ… اسلام کا تلوار سے کوئی تعلق نہیں… اور
تلوار کے لئے اسلام میں کوئی جگہ نہیں … یوں پاپا! ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتا
ہے… ایک طرف وہ لوگوں کو اسلام کے خلاف بھڑ کا رہا ہے… اور دوسری طرف ’’انکار
جہاد‘‘ کا شور برپا کرانے کے لئے… جاہل وکیلوں کو دانہ ڈال رہا ہے… اے پاپے! ہمیں
معلوم ہے تو کیا چاہتا ہے… مگر تیری یہ سازش… انشاء اللہ … کامیاب نہیں ہوگی… تو ہماری تلواروں کا
رونا رونے سے پہلے اپنے ’’بیٹوں‘‘ کے اسلحہ خانے میں جھانک کر دیکھ… اگر تو
آنکھیں رکھتا ہے…
پاپے
کے بیٹے
عیسائی
لوگ پاپے کو فادر یعنی باپ مانتے ہیں… اس اعتبار سے ’’پاپا‘‘ کو دیکھنا چاہیے کہ
اس کے بیٹے… کیا کیا خرمستیاں کر رہے ہیں… پاپا کے بیٹے عراق میں روزانہ بستیاں
اجاڑ رہے ہیں… اور ہزاروں بے گناہوں کو قتل کررہے ہیں… پاپا کے بیٹے افغانستان میں
اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک نظریاتی جنگ میں… معصوم بچوں کا قیمہ بنا رہے ہیں…
پاپا کے بیٹے اریٹریا میں مسلمانوں کی عزتیں پامال کر رہے ہیں… پاپا کے بیٹے ایتھو
پیا میں ظلم کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں… پاپا کے بیٹے جنوبی سوڈان میں… ایک اسلامی
ملک کو تقسیم کرنے کے لئے سر توڑ جنگ لڑ رہے ہیں… پاپا کے بیٹے نائجیریا میں
اقتدار پر قبضے کے لئے ہر سازش رچا رہے ہیں… پا پا کے بیٹے ساری دنیا میں… سرمایہ
داری کے ذریعہ غربت پھیلا کر… لوگوں کو مرتد اور اپاہج بنا رہے ہیں… پاپا کے بیٹے
دنیا بھر میں ایڈز پھیلا رہے ہیں… پاپا کے بیٹے دنیا کی ہر بے حیائی کے اصل
ٹھیکیدار ہیں… پاپا کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دشمن یہودیوں کے ایجنٹ بنے
ہوئے ہیں… پاپا کے بیٹے انبیاء علیہم السلام کی شان میں گستاخیاں کر رہے ہیں…
اے
پاپا! اپنے بیٹوں کو سنبھال… اگر تو نہیں سنبھال سکتا تو پھر تو ’’نقلی پاپا‘‘ ہے…
اور اگر تو ان کے ان کارناموں پر خوش ہے تو پھر… تو ’’پاپا‘‘ نہیں دنیا میں بدی
پھیلانے والا شیطان ہے…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا رحمت والا مہینہ رمضان المبارک… الحمد
اللہ ہمیں پھر نصیب ہوگیاہے… اللہ تعالیٰ اس مہینے میں اپنا خاص فضل فرما کر …
میری اور آپ سب کی مغفرت فرمائے… اور ہمیں ان ’’ہلاکت زدہ‘‘ لوگوں میں شامل نہ
فرمائے… جو رمضان کا مہینہ تو پاتے ہیں مگر اپنی بخشش نہیں کراتے… رمضان المبارک
میں ہماری بخشش ہوجائے… اور یہ مہینہ ہمارے لیے قیمتی بن جائے… یہ صرف اللہ تعالیٰ کے فضل ہی سے ممکن ہے… البتہ ہمارے لیے
ضروری ہے کہ ہم محنت اور کوشش کریں… رمضان المبارک کو حاصل کرنے کا مختصر نصاب
حاضر خدمت ہے…
ادب،
احتیاط اور عاجزی سے رہیں
رمضان
المبارک کا پورا مہینہ… عبادت اور رحمت والا ہے… اس مہینے کے دن بھی بابرکت… اور
اس کی راتیں بھی پرنور… اور اس کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے… اس لیے اس مہینے کے داخل
ہوتے ہی… ایمان والوں پر ایک خاص کیفیت طاری ہوجاتی ہے… ادب، عاجزی اور احتیاط کی
کیفیت… ایسا نہیں ہوتا کہ روزہ افطار کرتے ہی… نفس کا جن بوتل سے باہر آجائے… اور
گناہ کے کام اور شرارتیں شروع ہوجائیں… بلکہ… دن ہو یا رات ہر مسلمان رمضان
المبارک کے نور کو محسوس کرے… اپنے ہر معاملہ میں شریعت کی پاسداری اور احتیاط
کرے… اور ہر لمحہ اس فکر میں لگا رہے کہ… رمضان المبارک گزر رہا ہے… میں نے اپنی
بخشش کرانی ہے… اس وقت میں نیکی کا کونسا کام کروں؟… ہر وقت نیکی کی جستجو میں لگا
رہے… اور جائز لذت اور ضرورت کے اوقات میں بھی اپنے دل کو ذکر اللہ سے
غافل نہ کرے…
اس
کیفیت کے حاصل کرنے کے لئے… رمضان المبارک کے فضائل کی روزانہ تعلیم مفید رہے گی…
خواہ چند منٹ ہی کیوں نہ ہو…
الٹی
چھلانگ سے بچنا چاہئے
انسان
کا ’’نفس ِ امارہ‘‘ اور شیطان… اس کو الٹی راہ پر ڈالتا ہے… رمضان المبارک کا اصل
مطلب ہے قربانی… یعنی کم کھانا، کم پینا، کم سونا… زیادہ مال خرچ کرنا… اور خوب
جہاد کرنا… اب شیطان نے انسانوں کو سکھا دیا ہے کہ رمضان المبارک کا مطلب ہے… خوب
کھانا کہ پیٹ پھول جائے… خوب پینا کہ پیٹ پھٹنے لگے… خوب سونا کہ بستر بھی تنگ
آجائے… اور خوب مال کمانا کہ ہر وقت بازار کے فسادزدہ ماحول میں بیٹھنا پڑے…
دراصل شیطان رمضان المبارک سے بہت ڈرتا ہے… وہ اتنی محنت کرکے انسانوں کو گناہ
کرواتا ہے… مگر رمضان المبارک میں تمام گناہ بخش دئیے جاتے ہیں … اور عبادات کا
اجر بڑھادیا جاتا ہے… اور خود شیطان کو باندھ دیا جاتا ہے… اس لیے شیطان… رمضان
المبارک سے پہلے ہی نفس کو خوب پٹی پڑھاتا ہے… چنانچہ رمضان المبارک کے آتے ہی…
اکثر لوگ کھانے، پینے اور کمانے کی فکر میں لگ جاتے ہیں… اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے…
کچھ
کام بڑھا دیں
رمضان
المبارک میں عام دنوں سے زیادہ… عبادات میں محنت کرنی چاہئے… اور محنت وہ ہوتی ہے
جو انسان کو تھکاتی ہے… رمضان المبارک کے پہلے لمحے سے لے کر… آخری دن سورج غروب
ہونے تک محنت کا یہ سلسلہ جاری رہے… چنانچہ فوری طور پر یہ کام بڑھادینے
چاہئیں…
(۱) نماز:
یعنی فرائض وواجبات کا خوب اہتمام اور نوافل کی کثرت… رمضان المبارک میں
’’تراویح‘‘ بہت بڑی نعمت ہے… کوئی مسلمان اس نعمت سے محروم نہ ہو… اور تہجد کا
بھرپور اہتمام کیا جائے…
(۲)۔
تلاوت: کم از کم تین پارے اور زیادہ جس قدر ممکن ہو…
(۳)۔
صدقات: یعنی خوب سخاوت کی جائے… خوب مال خرچ کیا جائے… ان مسلمانوں تک افطار اور
کھانا پہنچایا جائے جو دشمنان اسلام سے ٹکر لے رہے ہیں… یا اپنے گھروں سے محروم
ہجرت پر مجبور ہیں…
(۴)۔
جہاد: رمضان المبارک جہاد کا مہینہ ہے… غزوہ بدر اسی مہینے میں پیش آیا… اس لیے
غزوہ بدر کی ہر یاد تازہ کرنی چاہئے… جان کی قربانی، مال کی قربانی… جہاد کی دعوت…
مجاہدین کے لئے ضروریات کی فراہمی… یا جس کام پر تشکیل ہوجائے…
(۵)۔
آخرت کی فکر: ہم نے اس دنیا میں نہیں رہنا… اور اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے… یہ
فکر اور عقیدہ انسان کی اصلاح کے لئے لازمی ہے… اس کا زیادہ سے زیادہ محاسبہ اور
مذاکرہ کیا جائے… تب فضول کوٹھیاں بنانے، مال جمع کرنے اور اس دنیا کی خاطر ذلیل
ہونے کے عذاب سے … نجات مل جائے گی… اور اعمال میں اخلاص پیدا ہوگا…
یہ
پانچ کام زیادہ کرنے ہیں… مگر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ… ہر عمل کی جان اخلاص اور ذکر
میں ہے… یعنی ہر عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کیا جائے اور ہر عمل میں اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی یاد کا نور بھرا ہوا
ہو… تب وہ عمل قبول ہوتا ہے…
کچھ
کام بند کردیں
(۱)۔
بدنظری… اپنی آنکھوں کی خوب خوب حفاظت کرنی چاہئے … ورنہ رمضان المبارک کا نور
حاصل کرنا مشکل ہوجائے گا…
(۲)۔
ٹی وی… بالکل بند کردیں، نہ خبریں نہ کچھ اور
(۳)۔
گناہ والی مجلسیں… وہ مجالس جن میں بے حیائی کی باتیں… غیبت اور جھوٹ کا چلن ہو…
ان مجالس میں بیٹھنا بند کردیں…
چند
کام کم کردیں
(۱)۔
کھانا
(۲)۔
پینا
(۳)۔
سونا
(۴)۔
جائز لذت حاصل کرنا
(۵)۔
گفتگو کرنا
(۶)۔
دنیوی اخبارات ورسائل پڑھنا
یہ
تمام کام عام دنوں سے کم کردینے چاہئیں…
افطار
پارٹیوں سے بچیں
رمضان
المبارک میں شیطان کا ایک پھندا… غفلت زدہ افطار پارٹیاں ہیں… ان پارٹیوں میں
کھانے کی حرص، فضول گپ بازی… اور قیمتی وقت کا ضیاع ہوتا ہے… نہ آپ کسی کو پارٹی
دیں نہ کسی کی پارٹی میں جائیں… ہاں کوئی دینی اجتماع ہو تو اس میں شرکت کرسکتے
ہیں… افطار کی دعوت بہت فضیلت والا عمل ہے… اس فضیلت کو حاصل کرنے کے لئے… غریبوں
کے گھر، شہداء کرام کے ورثاء کے گھر، علماء اور دین کے خدمتگاروں کے گھر افطاری…
اور کھانا بھجوادیں… افطاری کی رقم مجاہدین اور مہاجرین کو بھجوادیں… اگر کسی کو
افطاری پر گھر بلائیں تو فضائل اعمال… اور فضائل جہاد کی تعلیم کا اہتمام کریں…
ایک دوسرے کے مقابلے پر دعوتیں نہ کریں… بلکہ… اپنے وقت کو قیمتی بنائیں… اور
افطاری کا کھانا بھجوادیا کریں…
اعتکاف
عجیب عبادت ہے
رمضان
المبارک کا ایک خاص تحفہ ’’اعتکاف‘‘ کا عمل ہے… جن مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ توفیق عطاء فرمائیں… وہ محبت، احترام،
خوشی… اور مکمل آداب کے ساتھ اعتکاف کی عبادت کو غنیمت سمجھیں…
ہم
امۃ محمد ا کے فرد ہیں
جب
کسی انسان کو اللہ تعالیٰ… عبادت، خلوت اور ذکر کی توفیق عطاء
فرماتا ہے تو… اس انسان کو عجیب مزہ آنے لگتا ہے… تب خطرہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی
اجتماعی ذمہ داریوں سے غافل نہ ہوجائے… اس لیے بھرپور عبادت وتلاوت کے ساتھ ساتھ
یہ بات یاد رہے کہ… ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں… ہمارے رسول حضرت محمد
صلی اللہ علیہ وسلم خود میدانوں میں نکل کر… تلوار اٹھاتے
اور جہاد فرماتے تھے… اس عظیم اور بہترین امت کا فرد ہونے کی وجہ سے… ہم پر بہت سی
ذمہ داریاں عائد ہیں… اور ہم پرانی امت کے صوفیوں کی طرح… صرف خلوت، عبادت اور
تنہائی کے مزے نہیں لوٹ سکتے… اس لیے ہم پر لازم ہے کہ ہمارا دل فلسطین،
افغانستان، عراق، کشمیر… اور پوری دنیا کے مسلمانوں کے درد کو محسوس کرے… ہم ان
مجاہدین کے لئے دعاء کریں جو ہمارے سرکا تاج ہیں… اس لیے کہ وہ میدانوں میں لڑ رہے
ہیں… ہم ’’دشمنانِ انسانیت‘‘ کی جیلوں میں قید ’’اسیرانِ اسلام‘‘ کے لئے بلک بلک
کر دعائیں مانگیں… ہم حضرت امیر المؤمنین، شیخ اسامہ اور ان تمام مجاہدین کے لئے
دعائیں مانگیں… جن پر دین کی خاطر زمین تنگ کردی گئی ہے… ہم مجاہدین کے غلبے، اور
دشمنانِ اسلام کی ناکامی کے لئے رو رو کر دعائیں کریں… اور ہم اپنے دل کو… حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے امتی کا دل بنائیں…
روزانہ
کا سوال
ممکن
ہے یہ رمضان المبارک ہماری زندگی کا آخری رمضان ہو… اگر ہم نے اس میں بھی اپنی
بخشش نہیں کرائی تو پھر کب کرائیں گے؟… مگر اپنی بخشش کرانا ہمارے اپنے بس میں تو
نہیں ہے… اس لیے روزانہ بلاناغہ… دو رکعت نماز صلوٰۃ حاجت پڑھ کر دعا کیا کریں… یا
اللہ اس رمضان المبارک کو ہمارے لیے رحمت، مغفرت،
جہنم سے نجات اور عافیت والا مہینہ بنا… ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جن پر تیرا
فضل ہے… اور جن کی بخشش ہوئی ہے… اور ہمیں اپنی پناہ عطاء فرما… ان لوگوں میں شامل
ہونے سے… جو رمضان تو پاتے ہیں مگر ان کی بخشش نہیں ہوتی…
یہ
صلوٰۃ الحاجۃ… اور یہ دعاء پورے رمضان المبارک میں … کسی دن ناغہ نہ ہو… ہم بار
بار مانگتے رہیں گے… تڑپ تڑپ کر مانگتے رہیں گے تو… ہمارا مہربان رب اپنا فضل
فرمادے گا… انشاء اللہ
آخری
عشرے کی حفاظت
رمضان
المبارک کا آخری عشرہ بہت قیمتی ہوتا ہے… عید کے لئے نیا جوڑا بالکل ضروری نہیں
ہے… اور نئے جوتے کے بغیر بھی عید کی خوشیاں پوری طرح سے مل جاتی ہیں… رمضان
المبارک کا آخری عشرہ بازاروں میں ضائع کرنا افسوسناک ہے… اس عشرے کا تو ایک ایک
لمحہ کروڑوں اربوں روپے سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے… اگر اللہ تعالیٰ پردے ہٹادیں… اور لوگ آخری عشرے کی
عبادت کا اجر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں تو… دکانیں اور مارکیٹیں چھوڑ کر بھاگ
آئیں… اللہ تعالیٰ کے پاک اور سچے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جو کچھ بتادیا ہے… وہ …
آنکھوں دیکھے سے زیادہ یقینی ہے… اس لیے جس طرح بھی بن پڑے… آخری عشرے کو ضائع
ہونے سے بچایا جائے… اور اس عشرے کے دن اور رات قیمتی بنائے جائیں… افسوس کہ عید
کی خریداری کے نام پر… اپنی اصل خوشیوں کو برباد کرنے کا رواج… مسلمانوں میں عام
ہوچکا ہے… ممکن ہے یہ رمضان المبارک ہمارا آخری رمضان ہو… اس لیے ہم اسے قیمتی
بنالیں… ہم اسے پالیں… یا ارحم الراحمین توفیق عطاء فرما!…
کچی
مسجد کی خوشبو
بھاولپور
میں واقع… جامع مسجد عثمانؓ و علیؓ کی داستان بھی عجیب ہے… ماشاء اللہ لا
قوۃ الاّ باللہ … اس کی بنیاد باوضو رکھی گئی… اور اللہ تعالیٰ کے فدائیوں نے باوضو… اور بے اجرت اس کے
کام میں حصہ لیا… اس کا گارا اٹھانے والے بہت سے نوجوان… اب انشاء اللہ حوروں کے دولھے ہیں… جی ہاں ! وہ شہید ہوچکے
ہیں… اکثر مساجد میں جگہ زیادہ اور نمازی کم ہوتے ہیں… مگر اس مسجد پر اللہ تعالیٰ کا احسان رہا… بارہا یہ اپنے نمازیوں اور
مہمانوں کے لئے چھوٹی پڑ گئی… یہ مسجد الحمد اللہ جب سے بنی… آباد رہی… اس میں مسجد نبوی والے
اعمال زندہ کرنے کی پوری کوشش ہوتی رہی… اذان، نماز، تلاوت تو ہر مسجد کی شان ہے…
تعلیم تعلم… ذکر اذکار، دعوت… اور جہاد کے نعرے… تعلیم قرآن، تلاوت قرآن… تعلیم
حکمت اور تزکیہ… اور دور دور کی تشکیلیں… اور کبھی کبھار زوردار نعرے… الحمد اللہ رب العالمین… جب اس مسجد کی تعمیر شروع ہوئی تو…
ہم نے حضرت اقدس قاری محمد عرفان صاحب ؒ سے نام تجویز کرنے کی درخواست کی… فرمانے
لگے اس کا نام ’’جامع مسجد عثمانؓ وعلیؓ ‘‘ ہوگا… پھر فرمایا میں نے چاروں
خلفاء راشدین کے نام پر مسجد بنانے کا ارادہ کیا تھا… پہلے دو حضرات کے نام کی بنا
چکا ہوں… اور اب میرے جانے کا وقت قریب ہے… اس لیے باقی دو حضرات کے نام کی یہ
مسجد ہوگئی… پھر خوشخبری سنائی کہ… دیکھ لینا ایک سال بعد اس مسجد میں سے خوشبو
آنے لگے گی… حضرت کی بشارت درست ثابت ہوئی… اور ایک سال کے عرصے ہی میں اس مسجد کے
فیض کی خوشبو… دور دور تک پھیل گئی… اور ’’دورہ تربیہ‘‘ کی پاکیزہ مہمان نوازی بھی
اسی مسجد کے حصے میں آئی… بے شک اس مسجد کے در و دیوار نے… تھوڑے سے عرصے میں
جتنا ذکر سنا ہے… اور جتنی تلاوت کو جذب کیا ہے… وہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل ہے… والحمد اللہ رب العالمین…
الحمد
اللہ کچی مسجد میں اذان گونجتی رہی… دنیا
بھر کے کفر کے نہ چاہنے کے باوجود… اور الحمد اللہ آج تک گونج رہی ہے… اللہ تعالیٰ تا قیامت اسے ایمان وجہاد کے ساتھ آباد
رکھے… تعلیم، تزکیہ اور جہاد کے قافلے اس مسجد میں اترتے رہے… اللہ کرے تا قیامت اترتے رہیں… اب ضرورت تھی کہ اس
مسجد کو کشادہ کیا جائے … اللہ تعالیٰ نے غیب سے انتظام فرمادیا… اور اب سنا ہے
کہ کچی مسجد ماشاء اللہ پکی ہوچکی ہے… کل رات پکی مسجد میں تراویح کا
آغاز ہوا… خوب رونق تھی… اور خوب دعائیں مانگی گئیں… خوش نصیب ہیں وہ مسلمان…
جنہیں اس مبارک مسجد کی تعمیر اور خدمت کا موقع ملا… دین کا یہ مرکز جب تک آباد
رہے گا… اس کی خدمت کرنے والوں کے اجر میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا… دنیا میں ایسی
جگہیں کم ہیں… جن کا نور ایک پورے عالم کو روشن کرتا ہے… اور جن کی ’’دھمک‘‘ کالے
اور سفید عالمی ایوانوں تک میں سنائی دیتی ہے…
یا
اللہ ! یا ارحم الراحمین… یہ سب آپ کا ہے، آپ کی
طرف سے ہے، اور آپ کے لئے ہے… قبول فرما، قبول فرما، قبول فرما…
معلوم
نہیں کیوں… اس مسجد شریف کا تذکرہ آتے ہی میری آنکھیں بھیگ رہی ہیں… ہاں میں
اپنے رب کا شکر ادا کر رہا ہوں… اس کی رحمت سانس سے زیادہ قریب ہے… اور کامیاب ہے
وہ …جو اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی ہو…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے پُر اسرار بندے کیسے اونچے اونچے کام
کر گئے… اللہ اکبر کبیرا… انسان کی عقل حیران رہ جاتی ہے… اور
ماضی کے قصوں کی تصدیق ہوجاتی ہے… ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں کہ… تین ہزار مجاہدین
نے ایک لاکھ کا مقابلہ کیا… سات سو مجاہدین تین لاکھ کے لشکر سے ٹکرا گئے… وہ
قادسیہ وہ یرموک اور وہ اندلس کا ساحل… یہ سب سچے واقعات ہیں … اور موجودہ زمانے
کے باہمت مسلمانوں نے اپنے تازہ کارناموں سے… ان تمام واقعات کی تصدیق کردی ہے… بے
شک خواجہؒ نے سچ فرمایا ؎
اگر
ہمت کرے پھر کیا نہیں انسان کے بس میں
یہ
ہے کم ہمتی جو بے بسی معلوم ہوتی ہے
آئیے
آج ہم رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں… چند سال پہلے کے ایک مبارک رمضان کا ایک
ایمان افروز قصہ یاد کرتے ہیں… دراصل تین دن پہلے انڈیا کی سپریم کورٹ نے ایک
فیصلہ سنایا ہے… آج کل مقبوضہ کشمیر میں اس ظالمانہ فیصلے کے خلاف… زوردار
احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں… انڈیا کی حکومت بیس اکتوبر کا انتظار کر رہی ہے تاکہ
وہ… ایک مسلمان کشمیری نوجوان کو پھانسی کے تختے پر شہید کرسکے… اور ادھر مجھے ایک
واقعہ یاد آرہا ہے… آئیے روزے کی حالت میں… رمضان المبارک کی معطر گھڑیوں میں
ایمان وعزیمت کے اس واقعہ کو یاد کرتے ہیں…
وہ
تاریخ یاد رکھنے کے لائق ہے
۲۷؍رمضان
المبارک ۱۴۲۲ھ
… ۱۳دسمبر۲۰۰۱ء
جمعرات
کا دن… خود کو منی سپر پاور کہنے والا ہندوستان… اور ہندوستان کا سب سے اہم مقام
یعنی پارلیمنٹ ہاؤس… لوک سبھا یعنی قومی اسمبلی کا جاری اجلاس… ہزاروں مسلح پہرے
دار… سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات… حفاظتی دستوں کے پانچ حصار… یعنی ایسی جگہ
جہاں چڑیا پر نہیں مار سکتی… آرمی، سی آر پی ایف، پولیس… اور بلیک کیٹ کمانڈوز…
تاریخ یاد رکھیں… ستائیس رمضان المبارک جمعرات کا دن… معلوم ہے کیا ہوا تھا؟…
انسانی تاریخ کا ایک یاد گار واقعہ… جب پانچ افراد … سیکورٹی کے پانچوں حصار توڑ
کر… پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں داخل ہوگئے… تب پہلی بار … امن کے گھونسلے میں
بیٹھ کر جنگ کے فیصلے کرنے والے کوّوں نے خوفناک دھماکوں کی آوازیں سنیں… ملک کے
نائب صدر کی گاڑی… ایک دھماکے کے ساتھ اڑ گئی… اور پانچ شاہین گولیاں برساتے ہوئے…
اندر کے ہال کی طرف بڑھے… اور ان میں سے آخری تو… اندر کے دروازے تک جا پہنچا…
ساری دنیا حیران… مشرکین کے لیڈر گم سم… میڈیا پر بس ایک ہی خبر کا شور… اور بی جے
پی کے لیڈر اپنی کرسیوں کے نیچے… یوں لگا کہ… کئی سو سال کے بعد کسی غزنوی نے پھر
انڈیا فتح کرلیا ہے… کئی گھنٹے بعد ہندوستانی حکمرانوں کے سانس واپس آئے… سیکورٹی
کے افراد اندر گھسے… لیڈروں کو باہر نکالا گیا… یہ سب کیا تھا؟… صرف پانچ مسکراتی
لاشیں… مہکتی لاشیں… مسلمانوں سے پوچھ رہی تھیں… ارے تم کروڑوں کی تعداد میں ہو
کر… ان بزدلوں سے مار کھا رہے ہو؟… اور یہی پانچ لاشیں… مشرکین کو بتا رہی تھیں کہ
… کشمیر میں گرنے والے ’’مسلمان خون‘‘ کے چند چھینٹے… اب تمہاری پارلیمنٹ تک بھی
پہنچ چکے ہیں… ظلم کرنے والو!… مظلوموں کا خون بہت طاقتور ہوتا ہے… بہت طاقتور…
بہت طاقتور…
زمین
لرز اٹھی
اس
وقت ہندوستان پر بی جے پی کی حکومت تھی… ایڈوانی جیسا متعصب لیڈر ملک کا وزیر
داخلہ تھا… یہ لوگ آرام دہ کمروں میں بیٹھ کر مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے کے
عادی تھے… کشمیر میں نہایت بے دردی کے ساتھ مسلمانوں کا لہو بہہ رہا تھا… اور
عزتیں پامال ہورہی تھیں… بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنا نے کی تیاری آخری مراحل
میں تھی… اور ’’نائن الیون‘‘ سے جنم لینے والے حالات کی وجہ سے… ہندو حکمران بہت
سہانے خواب دیکھ رہے تھے… قارئین کو یاد ہوگا کہ… افغانستان میں طالبان حکومت کے
خاتمے کے وقت… ہندوستانی حکمرانوں نے کتنی خوشی کا اظہار کیا تھا؟… واجپائی نے
اپنی کھنکھناتی آواز میں کہا تھا کہ اب… پاکستان کے حالات بھی افغانستان کی طرح
تبدیل ہوجائیں گے… ہر طرف سے ایک ہی آواز تھی کہ اب جہاد ختم… تحریک کشمیر ختم…
تحریک طالبان ختم… اور اب مسلمانوں کو ہتھیار ڈال دینے چاہئیں… ایسے وقت میں…
انڈین پارلیمنٹ دھماکوں سے لرز اٹھی… ’’جہادختم‘‘ کے نعرے لگانے والے منہ پھٹے رہ
گئے… واشنگٹن سے لے کر دلّی تک … زمین لرز اٹھی… اور دشمنانِ اسلام اندر تک کانپ
اٹھے… کئی گھنٹے بعد جب دنیا کے اوسان واپس آئے… اور ہندوستانی حکمرانوں کے دل کی
دھڑکن درست ہوئی تو… خوفزدہ گیدڑ گرجنے لگے… بس اب بات چیت نہیں ہوگی… اب آر پار
کی جنگ ہوگی… اب دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ دیا جائے گا… پہلے خوف کی کوئی انتہا
نہیں تھی… اور جب پانچ شیر شہید ہوگئے تو پھر شور کی کوئی انتہا نہیں تھی… اخبارات
غرّانے لگے… ریڈیو بھونکنے لگا… اور جنگ کا ایسا طبل بجا کہ برصغیر ایک بار پھر ہل
کر رہ گیا…
وہ
پانچ کون تھے
دنیا
حیران تھی کہ یہ پانچ افراد کون تھے؟… انسان تھے یا جنّات؟… گوشت پوست کے بنے ہوئے
تھے یا لوہے پتھر کے؟… ان کے اعصاب فولاد کی تاروں سے بنے تھے یا اسٹیل سے؟… ان کی
تربیت کس نے کی تھی؟… کیونکہ امریکی کمانڈوز بھی دنیا بھر میں مار کھا رہے ہیں…
ہندوستانی اور پاکستانی کمانڈوز اتنی بڑی کارروائی کا خواب میں بھی تصور نہیں
کرسکتے… پھر یہ کس ملک کے باشندے اور کس تربیت گاہ کے تیار کردہ لڑاکو تھے؟…
ہندوستان کا دعویٰ ہے کہ یہ پانچوں مسلمان تھے ٹھیک ہے ہم یہ دعویٰ تسلیم کرتے
ہیں… والحمد اللہ رب العالمین… ہاں انہیں
کے باپ دادا نے یرموک اور قادسیہ کی جنگیں لڑی تھیں… ہاں انہیں کے بڑوں نے اندلس
کے ساحل پر سمندر کو حیران کردیا تھا… ہاں انہیں کے آباء واجداد نے قسطنطنیہ میں
خشکی پر کشتیاں چلائی تھیں… اللہ اکبر کبیرا… مسلمان بھی عجیب ہیں… جب دل چاہے
سمندر میں کھڑی کشتیوں کو آگ لگادیں… اور جب دل چاہے خشکی پر کشتیاں دوڑا دیں… یہ
قوم رب کی پیاری قوم ہے… اور اس قوم کے باہمت افراد… پیٹ اور معدے سے آزاد ہو کر…
جب عرش والے کو خوش کرنے پر اتر آتے ہیں تو پھر… ان کے کارناموں پر آسمان بھی
جھوم اٹھتا ہے…
ہندوستان
جیسے بڑے ملک کی سب سے محفوظ ترین جگہ پر… حملہ آور ہونے والے افراد بھی اسی
مسلمان قوم کے فرد تھے… آپ ان دنوں کے اخبارات اٹھاکر دیکھیں… عسکری ماہرین کے
تجزئیے سنیں… سب حیران تھے اور ششدر… اور کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا… کاش وہ
لوگ بھی غور فرمائیں… جو ایٹم بم کے مالک ہو کر ’’جنس بازار‘‘ بنے ہوئے ہیں… وہ
لوگ بھی غور فرمائیں جو لاکھوں مسلح افواج رکھنے کے باوجود… خوف سے تھرتھر کانپ
رہے ہیں… اور کافروں کے اجرتی قاتل بنے ہوئے ہیں… ہندوستانی حکومت کا کہنا ہے کہ
وہ پانچوں مسلمان تھے… ہم ہندوستانی حکومت کے اس دعوے کو تسلیم کرتے ہیں کیونکہ…
ایسا عظیم کارنامہ مسلمان بیٹے ہی سرانجام دے سکتے ہیں… امت مسلمہ کے ان سپوتوں کو
سلام… ایک نہیں… ہزاروں سلام… ان کو دودھ پلانے والی ماؤں کو سلام… یقینی بات ہے
انہوں نے کوئی دہشت گردی نہیں کی… انہوں نے اصل قاتلوں کے گریبان میں ہاتھ ڈالا…
انہوں نے مظلوموں کی آہ وپکار کا بدلہ لیا… انہوں نے کسی بے قصور سویلین کو نہیں
مارا… انہوں نے فوجیں چلانے والے ہاتھوں پر لرزہ طاری کیا… انہوں نے عزم وہمت کی
داستان کو نئی تازگی بخشی… ان کی روحوں کو امت مسلمہ کا سلام پہنچے…
ظالموں
کے نقصانات
اٹل
بہاری واجپائی نے کانپتی ٹانگوں کے ساتھ… پاکستان کے خلاف جنگ کا اعلان کردیا…
انڈیا کی دس لاکھ فوج… اپنے جدید ہتھیاروں کے ساتھ بارڈر پر آبیٹھی… ہندوستان کی
پگڑی زمین پر گر چکی تھی… وہ اپنی ساکھ بحال کرنے کے لئے بے چین تھا… پارلیمنٹ کی
سیکیورٹی کا از سر نو جائزہ لیا گیا… بہت سے لوگ نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے…
کروڑوں اربوں روپے کے نئے انتظامات کیے گئے… فوج پر روزانہ کے اخراجات میں کروڑوں
روپے کا اضافہ ہوا … سفارتی کوششوں پر بھی پانی کی طرح پیسہ بہایا گیا… پانچ غریب
نوجوانوں نے اپنے خون سے انڈین خزانوں کے بند توڑ دئیے… کل تک ہندوستان مسلمانوں
کے قتل عام پر مال خرچ کر رہا تھا… کشمیر میں مسلمانوں کا قتل عام… ہندوستان میں
آٹھ ہزار سے زائدمسلم کش فسادات… اجودھیا اور بمبئی کے ہنگامے… آسام میں بنگالی
مسلمانوں کا قتل عام… مگر اب انڈیا کو اپنے تحفظ پر بہت موٹا مال خرچ کرنا پڑا… ان
بھاری اخراجات نے انڈیا کی کمر بٹھادی… اور اگلے الیکشن میں بی جے پی منہ کے بل
گری… اور سنگھ پریوار کا ساٹھ سال تک حکومت کرنے کا خواب چکنا چور ہوگیا…
کاش
ادھر کوئی باہمت ہوتا
اس
وقت انڈیا کسی صورت میں بھی جنگ نہیں کرسکتا تھا… اگر اس نے جنگ کرنی ہوتی تو اس
سے بڑھ کر اور کونسا موقع ہوسکتا تھا؟… اس نے اپنی قوم کا حوصلہ… اور اپنی ناک
بچانے کے لئے… پاکستان کے بارڈر پر فوج لا بٹھائی… یہ وقت مسئلہ کشمیر کے حل کا
بہترین موقع تھا… پارلیمنٹ پر حملہ پاکستان نے نہیں کیا تھا… اور نہ پاکستان میں
قائم کسی جماعت نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی… انڈین حکومت بھی جانتی تھی کہ
حملے کی وجہ کشمیر کے مظالم ہیں… ان حالات میں اگر پاکستان میں کوئی باہمت حکومت
ہوتی تو… دو ماہ کے اندر مسئلہ کشمیر حل ہوسکتا تھا… مگر پاکستان پر تو روشن خیالی
کی مرگی کا دورہ پڑا ہوا تھا… اسلام آباد میں انڈین ایجنٹ حکمرانوں کے ارد گرد
جگہ بنا چکے تھے… انہوں نے حکمرانوں کو خوب ڈرایا… چنانچہ مضبوط موقف اپنانے کی
بجائے پاکستان نے کمزوری دکھائی… ملک کے صدر نے بلاوجہ کشمیر کی دو جہادی تنظیموں
پر پابندی لگادی… اور بھی چند ذلت آمیز اقدامات کرکے… بھارت کو اپنی فوجیں واپس
لے جانے کا بہانا فراہم کردیا گیا… چنانچہ ایک سال گزرنے پر انڈیا نے… اپنی فوجیں
واپس بلالیں… اربوں ڈالر کا نقصان، بی جے پی کی شکست… اور بے سود محاصرہ… ہاں ایک
فائدہ ضرور ہوا… جن سرحدی علاقوں میں… انڈین فوج تعینات تھی… وہاں ان کے جانے کے
بعد فصل خوب اگی… کیونکہ یہ فوجی پورے ایک سال تک ان زمینوں کو… وافر کھاد فراہم
کرتے رہے… مگر ہماری فوج اور ہمارے حکمرانوں نے… پیچھے ہٹنے اور شکست کھانے کی
گویا قسم کھا رکھی ہے… انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حل کا ایک نادر موقع… گنوادیا… اور
اس موقع پر بھی انڈیا کو فتح کا جشن منانے دیا… فیا للاسف…
بزدلوں
کا انتقام
وہ
پانچوں جانباز تو شہید ہوگئے… اخباری اطلاعات کے مطابق انہیں دہلی کے ایک قبرستان
میں آسودہ خاک کردیا گیا… مگر انڈیا کی حکومت اس بات کا سراغ نہ لگا سکی کہ… یہ
ہیبت ناک حملہ کس طرح سے ہوا؟… کئی دن تک اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کے بعد…
ظلم کی تان پھر مظلوم کشمیریوں پر ہی ٹوٹی… ایک بزرگ کشمیری پروفیسر، ایک کشمیری
نوجوان تاجر… اور اس کی اہلیہ کو ملزم قرار دے کر گرفتار کرلیا گیا… دہشت گردی کی
بہری عدالت نے تینوں کو سزا سنادی… یہ قانونی جنگ جب سپریم کورٹ تک پہنچی تو… بزرگ
پروفیسر اور مسلمان بہن کو رہائی مل گئی… جب کہ… نوجوان کشمیری تاجر محمد افضل
گورو کو سزائے موت سنائی گئی… دراصل انڈیا کی حکومت اور وہاں کی عدالتیں… اپنی ذلت
ناک شکست کا بدلہ لینے پر… ہر حال میں تلی ہوئی ہیں… فدائی مجاہدین تو بدلے کی جگہ
باقی چھوڑتے ہی نہیں… چنانچہ… اب کسی نہ کسی کو تو سولی پر لٹکانا ہے تاکہ… دنیا
کی سب سے بڑی جمہوریت کی کٹی ہوئی ناک کو… مرہم لگایا جاسکے… اگر یہ کیس واقعی سچا
اور مضبوط ہوتا تو… پروفیسر صاحب اور مسلمان بہن کس طرح سے رہا ہوجاتے؟… پروفیسر
صاحب کی رہائی کے بعد ان پر خفیہ ایجنسیوں نے قاتلانہ حملہ بھی کیا… مگر اللہ پاک نے انہیں بچالیا… اب انڈیا کی عدالت نے محمد
افضل گورو کی سزائے موت کی تاریخ مقرر کردی ہے… جی ہاں ۲۰؍ اکتوبر ۲۰۰۶ء
انڈیا اپنی پارلیمنٹ پر حملے کا انتقام… ایک بے قصور مسلمان نوجوان کو… پھانسی کے
پھندے پر لٹکا کر لینے کا ارادہ رکھتا ہے… ہاں بزدلوں کا انتقام اسی طرح کا
ہواکرتا ہے…
سزائے
موت یا انعامِ موت
ہر
آدمی نے مرنا ہے… من موہن سنگھ بھی مرجائے گا… اور اٹل بہاری واجپائی بھی…
ایڈوانی بھی موت سے نہیں بچے گا اور بال ٹھاکرے بھی… اور ہم سب بھی اپنے اپنے وقت
پر مرجائیں گے… اگر محمد افضل کی اللہ تعالیٰ سے ملاقات ۲۰؍اکتوبر کو لکھی
ہے تو پھر… اسے کوئی نہیں ٹال سکتا… اور اگر محبوب کے وصال میں مزید کچھ وقت باقی
ہے تو محمد افضل کو … اس وقت تک کوئی نہیں مار سکتا… موت کے بارے میں بحث کی کوئی
گنجائش نہیں ہے… موت کا وقت اٹل ہے… نہ آگے ہوسکتا ہے نہ پیچھے… البتہ اس موقع پر
مجھے دو باتیں عرض کرنی ہیں… پہلی بات تو یہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے وہ موت جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں آئے… ایمان کے بعد سب سے
بڑی نعمت ہے… اس لیے اگر انڈیا کے بت پرست مشرک… کلمہ توحید پڑھنے والے محمد افضل
کو پھانسی پر لٹکاتے ہیں تو… یہ سزائے موت نہیں… انعامِ موت ہے… جی ہاں موت کا
انعام… جو دنیا کی ہر تکلیف سے جان چھڑا کر آخرت کی راحتوں کا مستحق بنا دیتا ہے…
اسی لیے شہید کو مردہ کہنے سے منع فرمادیا گیا ہے ؎
موت
کیا آئے گی ہم عشق کے دیوانوں کو
موت
خود کانپتی ہے نام سے دیوانوں کے
یہ
تو ہوئی پہلی بات… اور دوسری بات یہ ہے کہ… اگر محمد افضل کو پھانسی دے دی گئی…
اور اس بے گناہ نوجوان کو شہید کردیا گیا تو پھر… ظلم اور موت کا دامن اپنا ہاتھ
پھیلا دے گا… میں دھمکی نہیں دے رہا… بلکہ مسلمانوں کا مزاج بتا رہا ہوں… جی ہاں!…
اگر اس بے قصور مسلمان نوجوان کو پھانسی پر لٹکایا گیا تو… رب کعبہ کی قسم اس کے
پاک خون کا قصاص لیا جائے گا… ہاں سن لو! اس کے گرم اور جوان خون کا قصاص ضرور لیا
جائے گا… اللہ تعالیٰ کے حکم سے… اللہ تعالیٰ کی توفیق سے…انشاء اللہ …
انشاء اللہ … انشاء اللہ …
٭٭٭
ماشاء
اللہ کا نور
اللہ تعالیٰ کا وہ پیارا بندہ… فلسطین میں پیدا ہوا…
اور… پشاور کے مضافات میں ’’مدفون‘‘ ہوا… جی ہاں اس کی قبر ’’پبی‘‘ کے ایک قبرستان
میں ہے… اس کے ساتھ ’’محمد‘‘ اور ’’ابراہیم‘‘ دو شہید نوجوان بھی… آرام فرما ہیں…
’’محمد‘‘ کی عمر بیس سال… اور ابراہیم پندرہ سال کا ہے… یہ دونوں اس کے اپنے بیٹے
ہیں… یہ تینوں ’’پشاور‘‘ میں اکٹھے شہید ہوئے… جمعۃ المبارک کے دن ۲۴نومبر ۱۹۸۹ء…
پشاور
کے لوگ مہمانوں کا استقبال کرنے… انہیں ٹھکانا دینے… انہیں راحت پہنچانے… پھر
انہیں شہید کرنے… اور قبر کے لئے جگہ دینے میں کمال رکھتے ہیں… یہ سلسلہ صحابی
رسول صلی اللہ علیہ وسلم… حضرت سنان بن سلمہ الھذلی رضی اللہ عنہ سے شروع ہوا… اور شہید عبد اللہ بن عزامؒ تک آ پہنچا… اور ’’ماشاء اللہ ‘‘ ابھی تک جاری ہے… حضرت سنان رضی اللہ عنہ کی قبر مبارک… ان کے تیس سے زیادہ شہداء
ساتھیوں کے ہمراہ… پشاور کے مضافات ’’چغرمٹی‘‘ میں ہے… وہ اسی جگہ شہید ہوئے… اور
اسی جگہ انہیں قبر کی مٹی نصیب ہوئی… اس علاقے میں اب بھی ان کے مبارک گھوڑوں کی
ٹاپیں… اور ان ’’ٹاپوں‘‘ کی بازگشت محسوس ہوتی ہے…
ہاں
بے شک ’’پشاور‘‘ خوش نصیب ہے… اس نے صحابہ کرام کی پیاری، میٹھی اور دلآویز
آوازیں سنی ہیں… اس نے فاتحین کے قدم چومے ہیں… وہ سید احمد شہیدؒ کا میزبان رہا
ہے… اس نے عبد اللہ عزامؒ کی روح پرور
تقریریں سنی ہیں… اس نے شیخ تمیم عدنانیؒ کو کندھا دیا ہے… وہ ’’سوویت یونین‘‘ کی
شکست کا ’’بیس کیمپ‘‘ رہا ہے… اور اس نے عبد اللہ عزامؒ اور ان کے دو بیٹوں کو فراخ دلی سے… قبریں
دی ہیں… اللہ کرے پشاور کی اس خوش نصیبی کو… چار چاند لگے
رہیں… اور ’’ماشاء اللہ لاقوۃ الا باللہ ‘‘ کا نور اسے… ہر ’’نظر ِ بد‘‘
سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں رکھے…
جہاد
… اللہ تعالیٰ کا خاص فضل
شیخ
عبد اللہ عزامؒ کی پیدائش ۱۹۴۱ء
میں… فلسطین کے علاقے ’’جنین‘‘ کے ایک گاؤں ’’السیلۃ الحارثیہ‘‘ میں ہوئی… ۱۹۶۶ء
میں انہوں نے… دمشق کی اسلامی یونیورسٹی سے … بی اے کے مساوی… ’’لیسانس‘‘ کی ڈگری
حاصل کی… اور پھر اردن کے شہر عمان کے ایک اسکول میں… مدرس مقرر ہوگئے… ۱۹۶۷ء
میں اسرائیل نے مسجد اقصیٰ اور غرب اردن پر قبضہ کیا تو… مستقبل کا شہید حال کا
مجاہد بن کر میدان میں کود پڑا… اردن میں مجاہدین کی ایک تنظیم ’’قواعدالشیخ‘‘ کے
نام سے قائم ہوئی… شیخ اس تنظیم کے ایک جبہے کے کمانڈر مقرر ہوئے… اس دستے کا نام
’’قاعدۃ بیت المقدس‘‘ تھا… یہ سرفروش نہتے مجاہدین … اللہ تعالیٰ کا نام بلند کرکے… اسرائیل پر حملے کرتے
تھے… شیخ کو بھی ان ’’مبارک معرکوں‘‘ میں شرکت کی سعادت ملی… بے شک جہاد اللہ تعالیٰ کا فضل ہے… وہ جسے چاہتا ہے عطاء
فرماتاہے…
’’القاعدہ‘‘
کا معنیٰ
ہم
نے پڑھ لیا کہ شیخ ؒاردن میں… جس جماعت میں شامل تھے اس کا نام
’’قواعدالشیوخ‘‘ تھا… اور جس گروپ کے کمانڈر تھے اس کا نام ’’قاعدۃ بیت المقدس‘‘
تھا… آجکل دنیا میں جو جہادی تنظیم سب سے زیادہ معروف ہے… اس کا نام بھی
’’القاعدۃ‘‘ ہے… عربی زبان سے ناواقفیت کی وجہ سے عام لوگ… اس لفظ کا معنیٰ نہیں
سمجھتے… ایسے حضرات کی آسانی کے لئے عرض ہے کہ… ’’القاعدۃ‘‘ کے لفظ کا اصل
’’قَعَدَ قُعُودًا‘‘ ہے… جس کا معنیٰ ہے بیٹھنا… پھر جب اس لفظ کے ساتھ ’’حرب‘‘
یعنی جنگ کا لفظ مل جائے تو اس کا معنیٰ ہوتا ہے … جنگ کے لئے جنگجو افراد مہیا
کرنا… چنانچہ مصباح اللّغات میں ہے… قعدللحرب جنگ آزما لوگوں کو مہیا کرنا… جبکہ
القاعدہ کا اصل معنیٰ عمارت کی بنیاد … اور اڈّہ… چنانچہ عربی زبان میں فوجی اڈے
کو ’’القاعدۃ العسکریۃ‘‘ کہتے ہیں… اب عام طور پر ’’القاعدۃ‘‘ کا لفظ جنگی اڈے،
جہادی مرکز… اور عسکری مورچے کے لئے استعمال ہوتاہے…امید ہے کہ ان شاء اللہ اب
آپ کو… القاعدۃ کا معنیٰ سمجھنے میں… کوئی دشواری نہیں ہوگی… مسلمان اپنے لئے ایک
جنگی مرکز … اور فوجی اڈہ قائم کریں… یہ بات عالم کفر کو کہاں برداشت ہے… اس لیے
’’القاعدۃ‘‘ کا لفظ ان کے لئے ’’ناقابل ہضم‘‘ ہوچکا ہے… ویسے شیخ عبد اللہ عزامؒ نے… افغانستان میں جو جہادی اور رفاہی
تنظیم قائم کی تھی… اس کا نام ’’مکتب الخدمات‘‘ تھا… شیخ اسامہ بن لادن نے اسی
تنظیم کے زیر اہتمام… جہادی تربیت حاصل کی… اور اسی تنظیم کے ایک گروپ ’’کتیبۃ
الغربا‘‘ کے ساتھ ’’خوست‘‘ کے جہاد میں بھیجے گئے… بعد میں شیخ اسامہ نے اپنی ایک
تنظیم ’’القاعدۃ‘‘ کے نام سے بنائی… جو افغانستان کے علاوہ یمن، الجزائر، صومالیہ
میں بھی جا پہنچی… جہاد افغانستان کے دوران عرب مجاہدین کی بہت سی نئی تنظیمیں
وجود میں آئیں… ان میں سے کم وبیش سولہ تنظیمیں خالص ’’جہادی‘‘ تھیں… جبکہ بعض
تنظیموں کے اپنے دوسرے مقاصد تھے… کچھ بدعقیدہ عربوں نے ان غیر جہادی تنظیموں کی
آڑ میں غلط عقائد اور نظریات پھیلانے کا دھندہ بھی شروع کر رکھا تھا… مگر اکثر پر
خیر غالب تھی… ان تمام تنظیموں کے دفاتر کسی زمانے میں پشاور میں تھے… پھر کچھ
قندھار منتقل ہوگئے… اور چند ایک جلال آباد اور کابل…
گیارہ
ستمبر ۲۰۰۱ء
جب امریکہ پر ’’جہازی حملہ‘‘… ہوا… اور پھر امریکہ نے ۷؍اکتوبر ۲۰۰۱ء
افغانستان پر حملہ کردیا تو یہ تمام تنظیمیں… اور ان کے افراد منتشر ہوگئے… اور
پھر دنیا نے ان سب کا نام ’’القاعدہ‘‘ رکھ دیا… پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر فیصل
آباد سے گرفتار ہونے والے ’’ابوزبیدہ‘‘ کا ’’القاعدہ‘‘ سے کوئی تعلق نہ تھا… مگر
وہ بھی گرفتار ہوتے ہی ’’القاعدہ‘‘ کے کمانڈر قرار پائے… یہ موضوع بہت تفصیل طلب
ہے… یہاں صرف اتنا عرض ہے کہ… جہاد افغانستان میں شرکت کرنے والے عرب مجاہدین کے
پہلے امیر، مربیّ اور مرشد… حضرت شیخ عبد اللہ عزامؒ تھے… اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے…
علم
اور جہاد کا حسین سنگم
عبد
اللہ عزام شہیدؒ… ایک مستند عالم دین،
اصول فقہ کے ماہر فقیہ، صاحب طرز مصنف… دل کی زبان سے بولنے والے خطیب، عابد شب
بیدار اور مثالی مجاہد تھے… انہوں نے علم اور جہاد کے رشتے کو ساری زندگی نبھایا…
انہوں نے علم اور جہاد کی خاطر ہجرتیں کاٹیں… جب حالات نے ساتھ دیا تو انہوں نے
بندوق اٹھائی، جب ان سے بندوق چھینی گئی تو انہوں نے … کتاب اٹھالی… جہاد میں رہ
کر وہ علم کی دوستی نبھاتے رہے… اور علم میں مشغولیت کے دوران اپنے لیے محاذ
ڈھونڈتے رہے… فلسطین کے حالات نے انہیں اردن میں لا بٹھایا تو وہ دینی علوم حاصل
کرنے لگے… ۱۹۶۷ء
میں جہاد کا بازار گرم ہوا تو انہوں نے ایک لمحہ تاخیر نہیں کی… اور فوراً یہودیوں
کے خلاف برسرپیکار ہوگئے… ۱۹۷۰ء
کے سال اردن کے حالت بدل گئے… جہاد کے لئے کوئی راستہ باقی نہ رہا تو شیخ نے پھر
کچھ عرصہ کتاب اٹھالی… اور دینی علوم میں ’’ڈاکٹریٹ‘‘ کی ڈگری تک جا پہنچے… انہوں
نے مصر کے ’’جامعہ ازہر‘‘ سے علم کا فیض حاصل کیا… مگر وہاں کے جمود اور مداہنت کو
اپنے دل میں جگہ نہ دی… اب وہ محاذ کے مجاہد تو نہ رہے تھے بلکہ… اردن کی ایک
یونیورسٹی کے پروفیسر تھے مگر جہاد کی دعوت… ان کے ہر سبق میں گونجتی تھی… اسی کی
پاداش میں وہ… اردن یونیورسٹی سے فارغ کردئیے گئے… ملک کی فوجی حکومت نے ان کی
معزولی کا فرمان جاری کیا… گویا کہ وہ ’’کالعدم‘‘ قرار پائے… پھر ان کی بے چین روح
ان کو سعودی عرب لے گئی… وہاں تھوڑا عرصہ جدہ کی ایک یونیورسٹی میں استاذ رہے…
ادھر افغانستان میں ’’شہادت کا بازار‘‘ کھل چکا تھا… ابھی ابتدائی دن تھے… اور
جہاد کا زیادہ چرچہ نہ ہوا تھا… مگر جو پیدا ہی جہاد کی خدمت کے لئے ہوا تھا وہ
کہاں بے خبر رہ سکتا تھا؟… سعودی عرب کی پر تعیش زندگی اس کے لئے… بوجھ بن گئی…
کسی طرح اپنا تبادلہ… سعودی یونیورسٹی کے ’’مبعوث‘‘ کے طور پر اسلام آباد کرالیا…
اب مجاہد اور جہاد کے درمیان صرف ڈھائی گھنٹے گاڑی کے سفر کی مسافت تھی… اور شہید
اور اس کے مقام شہادت کے درمیان صرف ڈیڑھ سو کلو میٹر کا فاصلہ… اسلام آباد سے
اٹھ کر شیخ پشاور آ بیٹھے… ایک بڑے استاذ اور مقبول پروفیسر کی بجائے عام مجاہد
بننے کو انہوں نے ترجیح دی… اب کی بار قسمت ان کے ساتھ تھی… پابندیوں کا اذیت ناک
دور ختم ہو رہا تھا… ماہر تیراک کو جی بھر کر تیرنے کے لیے میٹھا سمندر ملنے کو
تھا… حق گو خطیب کے لئے شان والا منبر اور جان فدا کرنے والے سامعین منتظر تھے…
اور امت مسلمہ کے بے چین اور پابند جرنیل کو… طور خم سے لے کر پل چرخی… اور چترال
سے لے کر سالانگ تک کا محاذ جنگ پکار رہا تھا… شیخ عبد اللہ عزامؒ پشاور تشریف لائے… اور کچھ ہی عرصہ بعد ان
کی دعوت جہاد… عرب وعجم کے کانوں سے ٹکرانے لگی… ان کے شاہوار قلم نے جب پھریری لی
تو… امریکہ اور یورپ سے… عرب جہادیوں کے قافلے افغانستان کی طرف لپکنے لگے… واہ ری
قسمت… مرد میدان کو کھلا میدان مل گیا… شیخ کی تقریریں ہوا کے دوش پر سفر کرنے
لگیں… ان کی تحریروں نے بدمست عربوں کو… حوروں کا عاشق بنادیا… اور شیخ کی یہ حالت
تھی کہ… بولتے بھی تھے، لکھتے بھی تھے… افغانستان جا کر لڑتے بھی تھے… اور دنیا
بھر کے اسفار کرکے جہادی دعوت کو بھی عام کرتے تھے… باوفا بیوی نے پوچھا سیدی!
بچوں کا بھی کچھ حق ہے؟… فرمانے لگے تمہیں ایسے ہی دنوں کے لئے تو اتنے عرصہ سے
تیار کر رہا تھا… اب تم بچوں کو دین سکھاؤ… مجھے بہت کام ہے… مجھے بہت کام ہے…
واہ میرے رب واہ… جس کو تو پسند فرماتا ہے اپنے کام میں لگادیتا ہے… اور خوب کام
دیتا ہے… خوب کام لیتا ہے… تیری شان جلَّ جلا لُہ…
مکتب
الخدمات
شیخ
عبد اللہ عزامؒ نے فلسطین اور اردن کے برے
حالات دیکھے تھے… اب اللہ پاک نے ان کو کھلے کام کا موقع دیا … یہ بات
’’تاریخی جھوٹ ہے کہ افغان جہاد کے لئے… سی آئی اے نے بھرتی مراکز کھولے تھے… ہاں
اتنا ضرور تھا کہ… سوویت یونین کے خوف میں جکڑا ہوا امریکہ اور یورپ… افغان جہاد
سے خوش تھا… اس لیے اس کی طرف سے وہ رکاوٹیں نہیں تھیں… جو آج ہیں… نہ عبد اللہ عزامؒ کو امریکہ لایا… اور نہ اسامہ بن لادن کو…
ان سب کو قرآن پاک کی آیات… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات… اور شہداء افغانستان کی
خوشبو… افغانستان کھینچ لائی… مسلمان اگر واقعی مسلمان ہو تو وہ جہاد کے لئے ترستا
ہے… آسمانوں کے اوپر سے عرش والے رب نے جہاد کے عالمی احیاء کا فیصلہ فرمایا تو…
دشمنان اسلام کی عقلیں ماری گئیں… وہ اس جہاد کے حامی اور موافق بن گئے… رب تعالیٰ
نے عبد اللہ عزام کی آواز کو… سوز اور
اثر بخشا… اور ان کے قلم میں غیب سے تاثیر عطاء فرمائی… شیخ کی صرف ایک کتاب
’’آیات الرّحمٰن فی جہاد الافغان‘‘… کئی لاکھ کی تعداد میں شائع اور تقسیم ہوئی…
اس کتاب کو پڑھ کر ہزاروں افراد نے میدان جہاد کی طرف دیوانہ وار دوڑ لگائی… جہاد
کا کام پھیلا تو شیخ نے… ۱۹۸۴ء
میں… اپنے بعض عرب ساتھیوں کے ساتھ مل کر… ’’مکتب الخدمات‘‘ کی بنیاد ڈالی… اور
افغانستان میں دو بڑے معسکر قائم کئے… اس زمانے جہاد کے زمزمے ایسے بلند ہوئے کہ…
شیخ کے جہادی مراکز… افراد کی کثرت سے چھلکنے لگے… عرب مجاہدین بااسباب تھے… اور
وسائل سے مالا مال… مگر وہ یہاں آتے ہی اپنا سب کچھ لٹا دیتے تھے… پشاور سے
افغانستان تک عربی لہجے کی تلاوت گونج رہی تھی… معسکرات گولیوں اور گولوں کی گھن
گرج میں جھوم رہے تھے… مصلّوں پر آنسو اور پتھروں پر خون ٹپک رہاتھا… شہیدوں کے
قافلے رواں دواں تھے… اور آسمان جھک کر… زمین کی قسمت کو رشک سے دیکھ رہا تھا…
’’مکتب‘‘ کی شان تو شیخ کے بعد باقی نہ رہ سکی مگر… ان کی دعوت گونجتی رہی… ان کا
پیغام دلوں کو گرماتا رہا… اور ان کی تحریریں… امت مسلمہ میں روح پھونکتی رہیں…
پندرہ
کتابیں
شیخ
عبد اللہ عزامؒ بلند پایہ مصنف تھے… انہوں
نے مستقل طور پر کئی کتابیں تصنیف فرمائیں… ان تصانیف میں سے سولہ کتابیں ان کی
زندگی میں شائع ہوئیں … اور عالم اسلام میں پھیل گئیں… البتہ ۹۱۱ بڑے
صفحات پر مشتمل ان کا ’’ڈاکٹریٹ‘‘ کا رسالہ ’’دلالۃ الکتاب والسنۃ علی الاحکام من
حیث البیان والاجمال او الظہور والخفا‘‘ اشاعت پذیر نہیں ہوسکا…
آخری
زمانے میں وہ اپنے نائب اور رفیق خاص شیخ تمیم عدنانی شہید کے حالات زندگی پر کتاب
لکھ رہے تھے… جو مکمل نہ ہوسکی… ان مستقل تصانیف کے علاوہ وہ باقاعدگی کے ساتھ کئی
جہادی رسالوں میں… اداریئے اور مضامین لکھا کرتے تھے… ان کی شہادت کے بعد ان کے
ساتھیوں نے … ان کے تحریری کام کو خوب بڑھایا… پشاور میں ایک مستقل ادارہ ’’مرکز
الشہید عزام الاعلامی‘‘ کے نام سے قائم ہوا… اس ادارے نے شیخ ؒ کے بکھرے
ہوئے مضامین کو… کتابوں کی صورت میں ڈھالنا شروع کیا… اور شیخ کے خطبات کو بھی…
کیسٹوں سے نقل کرکے کتابیں بنادیا… یوں شیخ ؒ کی تصانیف کی تعداد… اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے خوب بڑھ گئی… مجھے اچھی
طرح سے یاد ہے کہ… شیخ کی شہادت کے کچھ عرصہ بعد… جب مجھے ان کی تصانیف جمع کرنے
کا… شوق پیدا ہوا تو میں نے پشاور میں ان کے مکتب سے رابطہ کیا… مجھے یہ تمام
تصانیف آسانی سے مل گئیں… اور ایک پورا کارٹن ان چھوٹی بڑی کتابوں سے بھر گیا… اس
دوران شیخ ؒ کی کتابوں کے ترجمے بھی اردو اور دیگر زبانوں میں شائع ہوئے… اللہ تعالیٰ شیخ کے ان مآثر کو ان کے لئے… قیامت تک
کا صدقہ جاریہ بنائے… شیخ ؒ نے اپنے قلم سے بھی چومکھی جنگ لڑی… ان کا ایک
ہاتھ افغانستان میں تھا تو دوسرا فلسطین میں… وہ ایک طرف ’’السرطان الأحمر‘‘ میں
کیمونسٹوں کا گریبان پکڑتے تھے تو دوسری طرف ’’حماس الجذور التاریخیۃ والمیثاق‘‘
میں یہودیوں کو للکارتے تھے… ’’آیات الرّحمٰن‘‘ میں وہ افغان جہاد کے قصے سناتے
تھے تو ’’العقیدۃ واثرھا فی بنائِ الجیل‘‘ میں مجاہدین کی نظریاتی تربیت کرتے تھے…
شیخ پر ان کی مقبولیت کے کچھ عرصہ بعد ہی… مختلف طبقات کی طرف سے اعتراضات کی بوچھاڑ
شروع ہوگئی تھی… ان پر اعتراضات کرنے والے افراد… ظاہری طور پر توحید اور اخلاص
میں ڈوبے ہوئے لوگ تھے… بعض کا کہنا تھا کہ شیخ کا عقیدہ درست نہیں ہے… وہ سلفی
طرز عمل کو نہیں اپناتے اور تقلید ائمہ کی وکالت کرتے ہیں… بعض کا اعتراض تھا کہ
افغانستان کے مسلمان حنفی اور مشرک ہیں… ان کے ساتھ مل کر جہاد کرنا جائز نہیں…
بعض کا دعویٰ تھا کہ شیخ نے جہاد کے نام پر خوب دولت جمع کرلی ہے… جبکہ بعض کے
نزدیک جہاد کا وقت نہیں آیا تھا… ابھی امت کو مزید تیاری اور کاموں کی ضرورت ہے…
عرب ممالک کے گمراہ فرقوں نے شیخ پر الزامات کی بارش کردی… کوئی اور ہوتا تو جلد
گھٹنے ٹیک دیتا… مگر شیخ ڈٹے رہے… اور مناسب الفاظ میں… ہر اعتراض کا جواب دیتے
رہے… انہوں نے اپنی تصانیف میں فرضیت جہاد کا مسئلہ تفصیل سے بیان کیا… وہ اس پر
خوشی کا برملا اظہار کرتے تھے کہ… افغانستان کے مسلمان حنفی ہیں… اور سب ایک مسلک
پر قائم ہیں… وہ عرب مجاہدین کو بھی تلقین کرتے تھے کہ… افغانوں کے ساتھ جہاد کے
دوران ان جیسی نماز ادا کرو… اور فروعی مسائل میں ان مجاہدین کو نہ الجھاؤ… وہ
توحید کے نام پر تکفیر کرنے والوں کا بھی خوب آپریشن کرتے تھے… اور سلفیوں کی شدت
پسندی کو بھی نکارتے تھے… دوسری طرف شیخ کی نظر عالمی حالات اور سیاست پر بھی تھی…
وہ مسلمانوں کو کافروں کے ملکوں میں آباد ہونے سے روکتے تھے… اور انہیں وہاں سے
ہجرت کی تلقین فرماتے تھے… وہ امریکہ کے تیور بھی اچھی سمجھتے تھے… اور برملا
امریکہ کے خطرے سے مسلمانوں کو آگاہ کرتے تھے… الغرض شیخ نے زمانے اور وقت کی
ضرورت کے مطابق… ہر موضوع پر قلم اٹھایا… اور مسلمانوں کی رہنمائی کی… وہ حماس اور
اخوان المسلمون کے حامی تھے… اور ان کی وکالت کرتے تھے… وہ اسلامی ملکوں کی داخلی
سیاست پر بھی نظر رکھتے تھے… شیخ کی چند کتابوں کے نام پڑھنے سے قارئین کو معلوم
ہوگا کہ… ان کی تصانیف کی کیاقدر وقیمت ہے…
عرض
حال
اوپر
کی سطروں میں آپ نے جو تحریر ملاحظہ فرمائی ہے وہ… میرے اس مضمون کا ابتدائی حصہ
ہے جو… رمضان المبارک سے پہلے شروع کیا تھا… یہ مضمون ابھی مکمل نہیں ہوا… ابھی تک
جتنے صفحات لکھے گئے ہیں ان میں سے ’’بارہ ابتدائی صفحات‘‘ آپ نے پڑھ لیے… دعا
فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اس مضمون کو جو دراصل ایک چھوٹی سی کتاب
ہے مکمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے… اس مضمون میںجہاں تک آپ نے پڑھ لیا ہے اس کے
بعد شیخ ؒ کی کتابوں کا تعارف ہے… ان کی تین سو کیسٹوں کا تذکرہ ہے… ان کے
دو رسالوں کا ذکر ہے… ان کی جماعت کے تیرہ شعبوں کا بیان ہے… ان کی شہادت اور ان
کے آخری دن کا تذکرہ ہے… اور پھر شیخ ؒ کی اپنی بہت سی باتیں ہیں… رمضان
المبارک کا آخری عشرہ آنے والا ہے… اللہ
تعالیٰ میری بھی بخشش فرمائے اور آپ سب
کی بھی… ہلاک ہو وہ شخص جس نے رمضان المبارک پایا اور اپنی بخشش نہیں کرائی… یہ
دعاء حضرت جبرئیل علیہ السلام نے مسجد نبوی میں فرمائی… اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر آمین فرمائی… رمضان المبارک
کی گھڑیاں تیزی سے گزر رہی ہیں… دنیا کی دھوکے والی عارضی زندگی کی فکر… آخرت کی
ابد الآباد… ہمیشہ والی زندگی سے غافل کر رہی ہے… رمضان المبارک گزر گیا اور
ہماری بخشش نہ ہوئی تو ہمارا کیا بنے گا؟… اب جن چیزوں پر محنت ہو رہی ہے وہ تو…
یہاں رہ جائیں گی… اس لیے بہت فکر کی ضرورت ہے بہت فکر کی… فدائی مجاہدین کو اللہ پاک معلوم نہیں کیا دکھا دیتا ہے کہ وہ ایک منٹ
میں… دھوکے کی دنیا سے نجات پا جاتے ہیں… ہاں جو لوگ پہچان جاتے ہیں، سمجھ جاتے
ہیں… اور لذتِ آشنائی سے سرشار ہوجاتے ہیں… ان کے لئے دکھوں سے بھری اس دنیا کو… اللہ تعالیٰ کے لئے قربان کرنا آسان ہوجاتا ہے…
حقیقت سے آشنا ان نیک لوگوں کا تذکرہ… انسان کے دل میں ہمت پیدا کرتا ہے… حضرت
شیخ عبد اللہ عزام شہیدؒ بھی ’’عارف با للہ
‘‘ تھے… لذتِ آشنائی سے سرشار … دنیا کے فانی ہونے کا یقین رکھنے والے… خوب کام
کرنے والے… سعادت اور شہادت سے اپنی جھولی بھرنے والے… اپنا سب کچھ لٹا کر سب کچھ
پانے والے… اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے… اور ہم سب پر
رحم اور اپنا فضل فرمائے… آمین یا ارحم الراحمین…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی رضا کے مطابق ’’عیدالفطر‘‘
منانے کی توفیق عطاء فرمائے… عید منانے کا ایک مختصر سانصاب… حاضر خدمت ہے…
رمضان
المبارک کے آخری لمحات
رمضان
المبارک کو بہت اچھی حالت … اور کیفیت میں الوداع کہنا چاہئے… یہ محبوب مہینہ جب
جارہا ہو تو وہ ہمیں با وضو حالت میں… تلاوت کرتے، استغفار کرتے… یا دین کا کوئی
کام کرتے ہوئے دیکھے… اور ہم تشکر، ندامت اور محبت کے آنسوؤں کے ساتھ … بہت ہی
پیارے رمضان المبارک کو رخصت کریں… وہ سحری کے وقت کا نور، وہ افطار کے وقت کی
برکت… وہ تراویح کے وقت کی خوشبو… اور وہ محبوب کی خاطر بھوکے پیاسے رہنے کا مزہ…
وہ رحمتوں کی بارش… وہ مغفرتوں کی بوچھاڑ… وہ خوفناک جہنم سے آزادی کے پروانے… وہ
تلاوت کی لذت… وہ نمازوں کا سرور… اور وہ فرشتوں کے میلے… اللہ اکبرکبیرا… یہ سب کچھ جا رہا ہے… جی ہاں
پیارا رمضان المبارک جا رہا ہے… مجاہدین پر خصوصی نصرت کے نازل ہونے کا مہینہ… وہ
بدر والا مہینہ… وہ فتح مبین والا مہینہ… الوداع، الوداع… الوداع…
دلوں
کے مریض… ہوشیار!
رمضان
المبارک میں جن لوگوں نے… اللہ تعالیٰ کو راضی کیا… وہ لوگ بخشے گئے… پاک
ہوگئے… اور اہل جنت میں شامل ہوگئے… یہ کتنی بڑی خوشی ہے؟… بہت بڑی،… بہت بڑی…
آپ
ذرا قرآن پاک میں جنت کا حسن تو پڑھ کر دیکھیں… اللہ پاک بار بار جنت کی فضائیں… اور جنت کی ادائیں
یاد دلاتا ہے… ساری دنیا کی چمک، دمک … جنت کی ایک گز زمین کے حسن تک نہیں پہنچ
سکتی… آپ ٹی وی چینلز پر دنیا کے حسن کو دیکھ کر متاثر نہ ہوں… جنت کے مقابلے میں
یہ سب کچھ ’’نمائشی کھیل تماشا‘‘ ہے… محض دھوکہ، جی ہاں ایک فانی اور عارضی چمک…
ارے جنت تو بہت اونچی ہے، بہت پیاری ہے، بہت حسین ہے… بہت میٹھی ہے… ذرا سورۃ
الرحمن میں جھانک کر دیکھیں… نیویارک اورسوئٹزرلینڈ کا حسن ویران کھنڈرات کی طرح
نظر آئے گا… اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں… اس جنت کی طرف دوڑو… یہ میں
نے اپنے لوگوں کے لئے تیار کی ہے… اللہ تعالیٰ کے لوگ… اللہ تعالیٰ کے بندے… اب آپ خود سوچیں … جن لوگوں کے
لئے جنت کی ہمیشہ ہمیشہ والی… ابد الآباد والی زندگی کا فیصلہ ہوجائے… ان کے لئے
کتنی بڑی خوشی ہے… اب اس خوشی کو منانے کا آغاز عید کی رات سے ہی کردینا چاہئے…
عید کی رات… یعنی عید کے دن سے پہلے والی رات… جو لوگ عبادت کرتے ہیں… اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو خاص زندگی عطاء فرماتا ہے…
لیجئے ’’زندہ دل‘‘ بننے کا طریقہ معلوم ہوگیا… اور دل کے مریضوں کو خوشخبری مل
گئی… اللہ اکبر کبیرا… آخرت کی اصل زندگی سے غافل لوگ…
عید کی رات بازاروں میں مگن… سینماؤں میں مست… اور دنیا کی رسموں میں مصروف …
جبکہ دل والے… اس رات بھی اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی فکر، محنت… اور جستجو
میں…
اب
آپ بتائیں… عید کس کو نصیب ہوئی؟… ان کو جو محبوب حقیقی سے غافل ہو گئے… یا ان کو
جو آج بھی محبوب حقیقی کے ساتھ ہیں… اور اس کی یاد میں ڈوبے ہوئے ہیں… ہوسکے تو
اس رات زیادہ عبادت کی جائے… رمضان المبارک کی یادوں کو تازہ رکھا جائے… وگرنہ
اتنا تو ضرور رہے کہ… عشاء اور فجر کی نماز… مسجد میں باجماعت ادا ہو… اور رات کا
دامن گناہوں سے پاک رہے…
من
قام لیلتی العیدین محتسبا لم یمت قلبہ یوم تموت القلوب
(رواہ
ابن ماجہ)
من
احیا لیلۃ الفطر ولیلۃ الاضحیٰ لم یمت قلبہ یوم تموت القلوب
(رواہ
الطبرانی فی الاوسط)
دوخوشیاں
عید
الفطر کے دن… مسلمانوں کے لئے دو بڑی خوشیاں ہیں… ایک یہ کہ… اس دن اللہ تعالیٰ ’’صدقۃالفطر‘‘ قبول فرماتا ہے… یہ بہت
بڑی سعادت ہے کہ… اللہ تعالیٰ ہمیں مال عطاء فرما کر… پھر اس میں سے
کچھ اپنے نام پر قبول فرمالے… اور اسے ہماری آخرت کے لئے محفوظ فرمادے… اس لیے
عید کے دن پہلا کام ’’صدقۃ الفطر‘‘ ادا کرنا ہے… دل کی خوشی کے ساتھ خوب زیادہ سے
زیادہ ’’صدقۂ فطر‘‘… اپنی طرف سے اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے ادا کریں… اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے… ہمیں اس کی
توفیق عطاء فرمائی… دوسری خوشی… مسلمانوں کے اجتماع میں… اللہ تعالیٰ کے حضور دو رکعت نماز ادا کرنے کی ہے… اللہ اکبر کبیرا…
رمضان
المبارک میں محبوب کی خاطر… بھوکے پیاسے رہنے والے عاشقوں کو… آج ایک خاص ملاقات
پر بلایا گیا ہے… یہ خاص ملاقات ہے عید کی نماز… اس لیے صبح اٹھ کر خوب اچھی طرح
نہالیں… پاک صاف ہوجائیں… اپنے لباس میں سے جو اچھا ہو وہ زیب تن کریں… خوشبو
لگائیں… مسواک کرکے منہ کو معطر کریں… جو عطر میسر ہو وہ لگائیں… سرمہ اور عمامہ
سے زینت حاصل کریں… الغرض محبوب سے خصوصی ملاقات کی خوب اچھی طرح تیاری کرکے …
جلدی جلدی… عید گاہ پہنچ جائیں… پہلی صف میں امام صاحب کے بہت قریب… کیونکہ آج
خاص نماز ہے… اور خاص ملاقات… ایسا نہ ہو… بچوں کی انگلیاں پکڑتے …قیمتی جوتیاں
سنبھالتے… اور لوگوں کی خاطر پہنے گئے کپڑوں کو سنوارتے… ہماری عید کی نماز سڑک پر
ادا ہو رہی ہو…
تیرہ
سنتیں
’’عیدالفطر‘‘
مسلمانوں کی ایک ’’دینی خوشی‘‘ ہے… یہ کرسمس، دیوالی، ہولی… اور بیساکھی جیسا کوئی
بدمست تہوار نہیں ہے… اللہ تعالیٰ نے مسلمانوںکو پوری دنیا میں ایک
’’امتیازی شان‘‘ عطا فرمائی ہے… اس لیے مسلمانوں کی عبادات بھی امتیازی شان رکھتی
ہیں… اور ان کی خوشیاں بھی… شیطان نے ہر مذہب کی عبادات میں ڈھول باجے… اور دوسری
خرافات شامل کردی ہیں… مگر اسلامی عبادات شیطان کی ملاوٹ سے محفوظ ہیں… نماز،
روزہ، حج، زکوٰۃ… اور جہاد… ہر عبادت خالص ہے… باوقار ہے اور اخلاق کی تعمیر کرنے
والی ہے… اللہ تعالیٰ کے نزدیک سچا اور برحق دین… صرف ’’دین
اسلام‘‘ ہے… اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد… اسلام کے علاوہ اور
کوئی راستہ مقبول نہیں ہے… دنیا بھر کے دشمنان اسلام مسلمانوں کی ’’امتیازی شان‘‘
کو ختم کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں… آپ نے سنا ہوگا کہ آج کل برطانیہ میں…
مسلمان خواتین کے ’’اسلامی پردے‘‘ پر طوفان اٹھایا جارہا ہے… آخر کیوں؟… کیا
انسانی حقوق کی آزادی اس کی اجازت نہیں دیتی؟… دراصل یہ لوگ مسلمانوں کی ہر
امتیازی شان کو مٹانا چاہتے ہیں… کچھ نادان مسلمانوں نے… اپنی عید کو بھی… کافروں
کے تہواروں کی طرح… لباس کی نمائش، ہلڑ بازی، شور شرابے… اور بدمستی کا دن سمجھ
لیا ہے… کاش مسلمانوں کو یاد رہے کہ وہ ’’خیر امت‘‘ ہیں… اور انہیں پوری انسانیت
تک ’’پیغامِ ہدایت‘‘ پہنچانے کیلئے بھیجا گیا ہے… مسلمان کبھی بھی شیطان اور وقت
کا پجاری نہیں ہوسکتا… مسلمان دراصل ان نظریات کا نام ہے… جو آسمانوں کے اوپر سے…
انسانوں کے رب نے نازل فرمائے ہیں… عبادت کا وقت ہو تو مسلمان تب بھی… مدینہ منورہ
کی طرف دیکھتا ہے… اور حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سے طریقہ پوچھتا ہے… اور جب خوشی کا
وقت ہو تب بھی… مسلمان مدینہ منورہ ہی سے خوشی منانے کا طریقہ سیکھتا ہے… مدینہ
منورہ سے ملنے والی ہدایات کی روشنی میں حضرات علماء کرام نے… عید کے دن کے لئے
تیرہ سنتیں ذکر فرمائی ہیں… ایک ایک ’’سنت شریف‘‘ کو گنتے جائیے اور عمل کی نیت
کرتے جائیے…
۱
شرع کے موافق اپنی آرائش کرنا
۲
غسل کرنا
۳
مسواک کرنا
۴
حسب طاقت اچھے کپڑے پہننا
۵
خوشبو لگانا
۶
صبح کو بہت جلد اٹھنا
۷
عیدگاہ میں بہت جلد جانا
۸
عیدالفطر میں صبح صادق کے بعد عیدگاہ میں جانے سے پہلے کوئی میٹھی چیز کھانا اور
عیدالاضحی میں نماز عید کے بعد اپنی قربانی کے گوشت میں سے کھانا مستحب ہے
۹
عیدالفطر میں عیدگاہ جانے سے پہلے صدقۂ فطراداکرنا
۱۰
عید کی نماز عیدگاہ میں پڑھنا بغیر عذر شہر کی مسجد میں نہ پڑھنا
۱۱
ایک راستہ سے عید گاہ میں جانا اور دوسرے راستہ سے واپس آنا
۱۲
عیدگاہ جاتے ہوئے راستہ میں اللہ اَکْبَرْ اللہ اَکْبَرْ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ وَ
اللہ اَکْبَرْ اللہ اَکْبَرْ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ… عیدالفطر میں
آہستہ آہستہ کہتے ہوئے جانا اور عیدالاضحی میں بلند آواز سے کہنا
۱۳
سواری کے بغیر پیدل عیدگاہ میں جانا…
شکر
کریں احتجاج نہیں
بعض
لوگ خصوصاً خواتین… عید کے دن احتجاج کا موڈ بنالیتی ہیں… وہ گھرانے جن میں کسی کا
انتقال ہوگیا ہو… یا گھر کا کوئی عزیز فرد جیل یا مصیبت میں ہو… ایسے گھرانوں کی
خواتین عام طور سے کہتی ہیں… اس سال ہم عید نہیں منا رہے… اور پھر پرانے کپڑے پہن
کر… بھوت کی صورت بنا کر… احتجاج کرتی ہیں… خود بھی روتی ہیں، دوسروں کو بھی رلاتی
ہیں… یہ طریقہ ناشکری… اور تکبر والا ہے… عید تو ایک ’’دینی خوشی‘‘ ہے… رمضان
المبارک کی رحمتوں اور برکتوں کی خوشی… پس جس کی رمضان المبارک میں بخشش ہوگئی… اس
کی عید تو خود ہی ہوجاتی ہے… اور جو رمضان المبارک میں محروم رہا… وہ لاکھ خوشیاں
اور مستیاں کرلے… اس کی کوئی عید نہیں… عید کا دن شکر اور شکرانے کا دن ہے… اگر
آپ کے کسی عزیز کا انتقال ہو گیا ہے تو… آپ تلاوت کرکے اور نوافل ادا کرکے… اس
کے لئے خوب ساری دعائیں کریں… اگر آپ کے عزیز جیل میں ہیں تو… تلاوت اور نوافل کے
بعد ان کی رہائی کے لئے دعاء مانگیں… مگر احتجاج والا ماحول نہ بنائیں… ہم اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں… ہم خدا نہیں کہ سب کچھ
ہماری مرضی سے ہو… اللہ پاک کی مرضی جس کو چاہے زندہ رکھے… اور جس کو
چاہے موت دے… ہمارا کام اس کی تقدیر پر راضی ہونا ہے… اور اس سے صبر کی دعاء کرنا
ہے… اگر ہم اکڑیں گے اور کہیں گے کہ ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟… تو یہ تکبر کی
علامت ہے… مسلمان کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا بندہ اور غلام رہے… اور خود کو کچھ نہ
سمجھے…
وہ
تو مزے میں ہیں
وہ
خواتین جن کے بیٹے یا خاوند… اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہیں… ان کو تو عید کے دن
بہت خوشی کرنی چاہئے… اور بہت شکر ادا کرنا چاہئے… یہ سعادت تو کسی کسی کو نصیب
ہوتی ہے… بدقسمتی دیکھئے کہ وہ عورتیں… جن کے بیٹے یا خاوند کافروں کے ملکوں میں…
مال کمانے کیلئے گئے ہوئے ہیں… وہ تو عید کے دن خوش ہوتی ہیں… حالانکہ ان کے لئے
پریشانی، خطرے اور نقصان والی بات ہے… جبکہ وہ عورتیں جن کے بیٹے، خاوند یا بھائی…
اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہوتے ہیں… وہ غم کرتی ہیں…
حالانکہ ان کے تو مزے ہی مزے ہیں… اللہ تعالیٰ توفیق دے تو… قرآن پاک میں جہنم کا
تذکرہ پڑھیں… اور شمار کریں کہ جہنم کا تذکرہ کتنی بار ہے… اور جہنم کتنی خوفناک
ہے… اور وہاں ایک منٹ گزارنا کتنا بڑا عذاب ہے… یقین جانیں یہ جہنم حق ہے… اور وہ اللہ تعالیٰ کے نافرمانوں کے لئے بھڑک رہی ہے… چیخ
رہی ہے… اور چنگھاڑ رہی ہے… اگر آپ کا بیٹا اور خاوند … اس جہنم سے بچنے کے لئے
اور جنت کو پانے کے لئے… جہاد میں نکلے ہیں تو… یہ بہت خوشی کی بات ہے… دنیا تو
چند روزہ ہے… کبھی قبرستان جاکر قبروں کو گنیں… سب لوگ مر رہے ہیں… اور سب لوگ مر
جائیں گے… جن کے بیٹے اور خاوند حقیقی مستقبل کو سنوارنے کے لئے نکلے ہیں… وہ شکر
کریں اور خوشیاں منائیں… تلاوت کریں، نوافل ادا کریں اور ان کی کامیابی کیلئے دعا
مانگیں…
غریبوں
کا دل نہ دکھائیں
اللہ تعالیٰ نے آپ کو مال دیا ہے تو… اس کی اتنی
نمائش نہ کریں کہ… غریبوں کے لئے زندہ رہنا مشکل ہوجائے… بہت قیمتی چیزیں اپنے
بچوں پر نہ لادیں…بانٹ کر کھائیں…… اور ارد گرد کے ماحول پر نظر رکھیں… اور تو
اور… کسی غریب کے گھر کے سامنے گوشت کی ہڈیاں… اور پھلوں کے چھلکے تک نہ ڈالیں…
کہیں ایسا نہ ہوکہ … اس کے بچے بھی گوشت اور پھل مانگنے لگیں… اور وہ بے چارہ غم
کے آنسو پی کر جلتا رہے…
قناعت
کا تاج پہنیں
اللہ تعالیٰ نے جن کو غریب بنایا ہے… وہ مالداروں سے
افضل ہیں… وہ مالداروں سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے… اور وہ انبیاء علیہم السلام
کے طریقے پر ہیں… وہ اپنی آنکھوں میں لالچ، محرومی… اور سوال کی ذلت نہ بھریں…
اپنے سر پر قناعت کا تاج رکھیں… عید کے دن نئے کپڑے… بالکل ضروری نہیں ہیں… بچوں
کے لئے نئے جوتے ہر گز ہرگز ضروری نہیں ہیں… اس لیے ان چیزوں کا غم نہ کھائیں… اور
نہ اپنے دل میں اللہ تعالیٰ سے شکوہ لائیں… پیوند لگے کپڑوں میں جو
عزت اور شان ہے… وہ ریشم کے لباس میں نہیں ہے… کسی کو اس بات پر نہ کوسیں کہ وہ
ہمیں… کیوں نہیں دیتا… اور نہ اپنے بیوی بچوں کو… کسی کے مال پر نظر کرنے دیں…
قناعت اور استغنا کا تاج پہنیں… اور قبر کی مٹی کو یاد رکھیں… رب کعبہ کی قسم…
دنیا انہیں لوگوں کو ستاتی ہے جو موت اور قبر کو بھول جاتے ہیں… اور جو لوگ موت
اور قبر کو یاد رکھتے ہیں… یہ دنیا ان کے قدموں پر گرتی ہے… عید کا ایک دن بھی گزر
جائے گا… چاروں طرف دنیا کے میلے دیکھ کر اپنی غریبی اور فقیری کو داغدار نہ ہونے
دیں…
وہ
بھی ہمارے اپنے ہیں
آج
کل کی مہذب دنیا میں… کچھ ایسی جگہیں بھی ہیں… جہاں ’’تہذیب جدید‘‘ اپنے عروج پر
ہے … کس کس جگہ کا نام لوں… گوانٹاناموبے، ابوغریب جیل، بگرام ایئربیس کا عقوبت
خانہ… تہاڑ جیل کا پھانسی گھاٹ… تالاب تلو جموں… پاپاون پاپاٹو سری نگر… اور بہت
سی جگہیں … ان تمام جگہوں پر مسلمانوں کا گوشت جل رہا ہے… مسلمان جوانیاں فولادی
سلاخوں میں پگھل رہی ہیں… اور قرآن پاک کے اوراق بے حرمتی کے نشانوں پر ہیں… گرم
آنسو… تڑپتی آہیں… بے تاب سجدے… اور غم کے سمندر… مگر اللہ تعالیٰ کے شیر وہاں بھی ڈٹے ہوئے ہیں… وہاں بھی
مسکرا مسکرا کر عیدیں گزارتے ہیں… عید کے دن شکرانے کے نفل پڑھتے ہیں… اور کہتے
ہیں… ربا! ہم خوش ہیں… ربا! ہم راضی ہیں…
اے
مسلمان بھائیو! اور بہنو!… وہ سب ہمارے اپنے ہیں… عید کے دن ان کو بھی یاد رکھیں…
اور ان کے مشن کو بھی اور اپنی مقبول دعاؤں میں انہیں نہ بھولیں…
اے
اسلام کے جانبازو!… سعدی فقیر تمہیں سلام کہتا ہے… تم سب کو عید مبارک … عیدمبارک…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا کس طرح سے شکر ادا کیا جائے… یہ رمضان
المبارک تو بہت عجیب تھا… بہت مبارک بہت شاندار بہت پرسکون… اور فتوحات کا تو گویا
بند ہی ٹوٹ گیا تھا… دن راتوں سے زیادہ حسین تھے… اور راتیں دنوں سے زیادہ روشن…
ہر طرف نور ہی نور تھا… اور خوشبو ہی خوشبو… اور تو اور… تھوڑی دیر کے لئے ریڈیو
کو کھولتے تو وہ… ایسی خبریں سناتا کہ سر کے ساتھ دل بھی سجدے میں گر جاتا… بس یہ
سب کچھ اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر… اللہ تعالیٰ کا احسان اور فضل تھا… ہم کس طرح سے اس
نعمت پر… اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں… خوشی سے مر جانے پر دل
چاہتا ہے…
اللہم
لک الحمد کما ینبغی لجلال وجہک وعظیم سلطانک…
اللہم
لا نحصی ثنائً علیک انت کما أثنیت علی نفسک…
بالکل
حق بات ہے کہ… اے ہمارے عظیم مالک ہم آپ کی ثناء اور تعریف کا حق ادا نہیں
کرسکتے… آپ تو ویسے ہیں جیسے آپ نے خود کو بیان فرمایا ہے… شکر ہے اے پیارے مالک
شکر ہے… وقت کا فرعون بش… اسی رمضان المبارک میں پہلی بار بولا کہ… عراق ہمارے لیے
دوسرا ویت نام ہے… بات منہ سے نکل گئی… اگلے دن وہائٹ ہاؤس والے لوٹے بھر بھر کر…
صفائی کرتے رہے… مگر آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے دار غلاموں نے تو سن لیا کہ…
رب کے فدائی جیت گئے اور بش ہار گیا… ادھر برطانیہ کی فوج کے سربراہ نے اسی رمضان
المبارک میں جھنجلا کر کہا… ہم نے عراق جا کر غلطی کی ہے… ہمیں وہاں سے فوراً واپس
آجانا چاہئے… اس بیان نے رب کی خاطر بھوکے پیاسے رہنے والے روزہ دار مسلمانوں کے
دل جہاد کی عظمت سے بھر دئیے… مگر برطانیہ کی حکومت کو گویا سانپ سونگھ گیا… ایک
رات تک جوڑ توڑ کے بعد… چند بالٹیاں پانی ڈال کر… شکست کے اس اعتراف کو… دھونے کی
کوشش کی گئی… مگر کہاں؟… اللہ اکبرکبیرا…
مسلمان زندہ باد… رمضان المبارک زندہ باد… اچھا پھر ایک اور کمال ہوا… امریکہ کے
ایک بڑے اہلکار نے… الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو دیا… اور وہ بات کہہ ڈالی… جو ایک
زمانے تک صرف مجاہدین کہتے اور لکھتے تھے… اور دنیا والے ان پر ہنستے تھے… امریکی
اہلکار نے کہا… ہم نے عراق میں آ کر حماقت کی ہے… اس بیان نے امریکہ کے ایوانوں
میں… خفت اور ذلت کی ہوا چھوڑ دی… صفائیوں پر صفائیاں آنے لگیں کہ… یوں نہیں کہا
تھا… یہ نہیں کہا تھا… تب بی بی سی والوں نے خود اس کی آواز میں پورا بیان دوبارہ
سنادیا… اے روزہ دار مجاہدو! مبارک ہو… اے فدائیو! مبارک ہو… تمہارا خون مہک رہا
ہے… تمہارا لہو گرج رہا ہے… میں تمہاری عظمت کو سلام کرنا چاہتا ہوں… مگر تم تو
بہت اونچے ہو… اللہ پاک تم تک ہمارا سلام پہنچائے… ابھی عالم کفر نے
زرقاوی شہید کی خوشی کا جشن منایا ہی تھا کہ… ایک مہینے میں چھیانوے امریکی فوجیوں
کے لاشے گرے… اور تڑپے… جی ہاں وہی بہادر فوجی … جو ملا عبدالسلام ضعیف جیسے
مسلمان قیدیوں کو باندھ کر… انہیں لاتیں اور مکے مارتے تھے… اور نہتے مسلمانوں کو
مار مار کر خوشی سے ناچتے تھے… ملا عبدالسلام ضعیف نے بھی عجیب کتاب لکھ دی ہے… ہر
مسلمان کو وہ کتاب پڑھنی چاہئے… اور ہم پاکستانی تو اس کتاب کو پڑھ کر… سر سے
پاؤں تک شرم میں ڈوب جاتے ہیں… ادھر افغانستان میں بھی رمضان المبارک خوب مہکا…
خوب برسا اور خوب گرجا… بس عراق اور افغانستان میں صرف اتنا فرق ہے کہ… افغانستان
میں خبریں دب جاتی ہیں… عالمی ذرائع ابلاغ کے آزاد نمائندے وہاں موجود نہیں ہیں…
پاکستانی حکومت بھی اپنی دینی اور اسلامی ذمہ داریوں سے غافل ہے… اور طالبان اللہ والے لوگ ہیں… میڈیا کی طرف زیادہ توجہ نہیں
دیتے… ورنہ افغانستان میں بھی… امت مسلمہ کی عظمت پوری آب وتاب کے ساتھ چمک رہی
ہے… چھبیس ملکوں کے فوجی اتحاد نیٹو کے فوجی سربراہ نے… رمضان المبارک میں اپنی
شکست کا اعتراف کیا… کابل جیسے شہر میں جہاں سیکورٹی کے چھتیّ ہی چھتیّ ہیں… اسلام
کے روزہ دار فدائیوں نے برطانیہ کا کانوائے الٹ دیا… اور ان علاقوں میں کارروائیاں
کیں… جہاں چڑیا پر نہیں مار سکتی… ہاں سچ ہے… چڑیا پر نہیں مار سکتی مگر شاہینوں
…اور شہبازوں کو کون روک سکتا ہے؟… پورے رمضان المبارک میں… ملا محمد عمر کا قندھار…
کافر فوجوں اور ان کے منافق میزبانوں کیلئے… بھڑکتا ہوا تندور بنا رہا… اور پھر
ہمارے کانوں نے وہ خبر بھی سنی… جس کے سننے کا کوئی ظاہری امکان ہی نہیں تھا… اللہ اکبرکبیرا… برٹش رائل آرمی کے بہادر سپاہی…
ایٹمی طاقت رکھنے والے نیٹو فوجی… قلعہ موسیٰ میں شکست کھا کر طالبان سے معاہدہ کر
آئے… اپنی جان کی امان لے آئے… اور اپنی کٹی ہوئی ناک … کے ساتھ اس علاقے سے
بھاگ آئے… واہ اسلام واہ… واہ جہاد واہ… واہ رمضان واہ… یا اللہ کس
طرح سے آپ کا شکر ادا کریں… انٹرنیٹ کے کھلاڑی جب امریکہ اور نیٹو کی طاقت کو
تولتے تھے… زمین لرزنے لگتی تھی… اور دوسری طرف… بے بس طالبان … غریب، نہتے بھوکے…
مگر غیرت مند مسلمان… اور پھر ماہ رمضان… کاش کوئی قلمکار اٹھے اور صرف اس واقعہ
پر… ایک پوری کتاب لکھ ڈالے… ایک ایسی فتح کی داستان جو دلوں کو زندہ کرنے والی
ہے… جو قرآن پاک کی آیات جہاد کو سمجھانے والی ہے… کل تک کون مانتا تھا… اور آج
کون انکار کرسکتا ہے کہ… اس رمضان المبارک میں مجاہدین نے خوست کی چھاؤنی فتح کی…
اور وہاں اسلام کا جھنڈا لہرایا… کل تک کون مانتا تھا… اور آج کون انکار کرسکتا
ہے کہ… افغانستان کے ایک قابل قدر حصے پر طالبان کی حکومت ہے… وہ لینڈکروزر گاڑیوں
میں آزادانہ گھوم رہے ہیں… اور ان کے بڑے اپنے چھوٹوں کے درمیان… مختلف علاقے اور
مال غنیمت تقسیم کر رہے ہیں… ہائے رمضان اس بار تو تیری ادائیں ایسی تھیں کہ… تو
بہت یاد آئے گا… بہت یاد آئے گا … کیا یہ بات بُھلائی جاسکتی ہے کہ… انیس اکتوبر
کے دن… تہاڑ جیل دہلی کی جیل نمبر تین کے پھانسی گھاٹ میں… ایک شخص… ہاں بالکل
اکیلا شخص اپنے سیل میں… قرآن پاک کی تلاوت کر رہا تھا … اور جیل حکام… اس کو طنزیہ
نظروں سے دیکھ رہے تھے… پھانسی کا پھندا لٹکادیا گیا تھا… تختہ بھی درست کردیا گیا
تھا… جیل حکام بار بار اس پر نقلی مشق کر رہے تھے… تاکہ… بیس اکتوبر کی صبح چھ
بجے… کوئی غلطی نہ رہ جائے… پھر ماموں نام کے ایک ماہر جلاد کو لایا گیا… اس نے
دور سے … اور پھر قریب آکر افضل کو دیکھا… جی ہاں محمد افضل کو… روزے دار افضل
کو… جلاد کی نظریں اس کی گردن پر تھیں… اور محمد افضل کی نظریں… عرش کی طرف تھیں…
عین اسی وقت… افضل سے بہت دور… بہت دور… ایک مسجد میں ایک سو اسّی روزے دار… اپنے
دامن پھیلائے بیٹھے تھے… یہ سب رب کے دروازے پر اعتکاف میں پڑے ہوئے تھے… وہ ’’بسم
اللہ الرحمن الرحیم‘‘ کا ورد کر رہے تھے… ان میں سے
کسی کو افضل کی ماں نے نہیں جنا تھا… مگر وہ یوں بے تاب تھے جیسے کل ان کا سگا
بھائی… پھانسی پر لٹکنے والا ہے… وہ رو رہے تھے اور رب سے فریاد کر رہے تھے… افضل
کو تو خبر بھی نہیں تھی کہ… اس کے کتنے بھائی رو رہے ہیں… بلک رہے ہیں… اور سجدوں
میں اس کے لئے رب کے حضور فریاد کر رہے ہیں… ادھر آنسوؤں کا سیلاب تھما… ادھر
میناروں سے اذان گونجی… روزہ داروں کے منہ نے دعاء کے ساتھ… کھجوروں کا بوسہ لیا…
اسی لمحے تہاڑ جیل کے آئی جی کو حکمنامہ ملا کہ… کل محمد افضل کو پھانسی نہیں ہوگی…
اللہ اکبرکبیرا… اسلامی رشتہ… محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا قائم فرمودہ رشتہ… جہاد اور بیعت
کا رشتہ… اب بھی الحمد اللہ زندہ ہے… موت
کا وقت… اور طریقہ کار اٹل ہے… مگر اس پورے واقعہ میں بہت کچھ مہک رہا ہے… اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ… آگے کیا ہوگا… محمد
افضل کو پھانسی کے ذریعے رب کی ملاقات نصیب ہوگی… یا فی الحال یہ معاملہ ٹل جائے
گا؟… محمد افضل کو پھانسی ہوئی تو اس کے بعد کیا ہوگا؟… یہ سب کچھ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے… مگر ایک بھائی کی خاطر…
سینکڑوں بھائیوں کا تڑپنا… امت مسلمہ کے لئے ایک خوشخبری… اور عالم کفر کے لئے ایک
پیغام ہے…
اے
پیارے رمضان المبارک … تیری کس کس خوشبو کو یاد کروں… ہم تیرا حق ادا نہیں کرسکے…
اس پر ہم شرمندہ ہیں… اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے… مگر تو نے تو اس بار
امت مسلمہ کو… اللہ تعالیٰ کے حکم سے بہت کچھ دیا… جہاد کی دعوت
دینے والوں نے جس طرف کا رخ کیا… اللہ تعالیٰ کی نصرت کو اپنے سامنے پایا… یوں لگتا
تھا کہ… ہوائیں بھی ان دیوانوں کے ساتھ جہاد کی دعوت دے رہی ہیں… کراچی سے خیبر تک
اسلام اور جہاد کی دعوت کا ایک نورانی سیلاب تھا… خود مجاہدین حیران تھے کہ… یہ سب
کچھ کس طرح سے ہورہا ہے… حکومتی جبرسے سہمی ہوئی مسجد کمیٹیوں کو کئی سال بعد یاد
آیا کہ… مساجد میں دعوت جہاد کو روکنا ایک جرم اور عظیم گناہ ہے… انہوں نے توبہ
کی… اور منبر ومحراب سے… مسجد نبوی والی دعوت گونجنے لگی… مجاہدین پر اعتراضات
کرنے والا طبقہ… معلوم نہیں اس سال کہاں غائب تھا… ان سے ملاقات نہ ہوسکی… اور
دعوت جہاد کو ہتھکڑیاں ڈالنے والوں نے بھی الحمد اللہ مسلمانوں کا کردار ادا کیا… صرف ایک دو بدنصیبوں
نے مجاہدین پر پرچے کاٹ کر اپنا نامہ اعمال سیاہ کیا… جبکہ باقی پر رمضان المبارک
کا پورا اثر رہا… اللہ تعالیٰ اس پر شکر کی توفیق عطاء فرمائے… اور
تکبر، ناز اور ’’میں‘‘ سے بچائے… کام وہی مقبول ہوتاہے جو اللہ تعالیٰ کے لئے ہو… جب نام، فخر اور ’’میںمیں‘‘
شروع ہوجائے تو نصرت ہٹ جاتی ہے… اور عمل ضائع ہوجاتا ہے…
اس
رمضان المبارک کے پیارے قصے بے شمار ہیں… پوری دنیا میں خوب تلاوت گونجی… خوب سجدے
ادا ہوئے… مساجد آباد رہیں… شیطان کے اڈوں پر بھیڑ میں کچھ کمی واقع ہوئی… پانے
والوں نے بہت کچھ پالیا… فدائیوں نے سب سے بڑھ کر قربانی دی… اور رمضان المبارک
پوری طرح سے کمالیا…
الوداع
اے رمضان… اے نورانی محبوب الوداع… شکریہ اے رمضان… زخمی دلوں پر مرہم رکھنے کا…
معذرت اے رمضان … تیرا حق ادا نہ کرسکنے پر… بے حساب شکر… اللہ تعالیٰ کا… اپنے مالک، محبوب حقیقی… اور معبود
برحق کا… جو ایک ہے… اس کا ہر گز ہرگز … کوئی شریک نہیں… اور آخر میں پھر یہ سچی
بات کہ… یا اللہ ہم آپ کے شکر کا حق ادا نہ کرسکے… معاف فرما،
معاف فرما، معاف فرما… اے معافی سے پیار کرنے والے معاف فرما… اللہم انک عفو تحب
العفو فاعف عنا…
…آمین
یا ارحم الراحمین…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے ظلم کو حرام فرمایا ہے… وہ خود بھی
کسی پر ظلم نہیں کرتا… اور نہ اس بات کو پسند فرماتا ہے کہ… مخلوق میں سے کوئی بھی
دوسرے پر ظلم کرے… اللہ تعالیٰ ظالموں سے نفرت فرماتا ہے… چنانچہ ہم اس
کے بندے بھی ظالموں سے نفرت کرتے ہیں… اس وقت صورتحال بہت عجیب ہے… باجوڑ کے زخم
خوردہ مسلمانوں کا اصرار ہے کہ… اللہ تعالیٰ کے گھر مسجد پر بمباری… نیٹو کی کافر
فوجوں نے کی ہے… مگر خود کو مسلمان کہنے والے پاکستانی حکمرانوں کا اصرار ہے کہ
نہیں یہ ’’نیک کام‘‘ ہماری اپنی ’’مسلمان فوج‘‘ نے سرانجام دیا ہے… باجوڑ والے چیخ
چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ… اللہ تعالیٰ کی
کتاب قرآن مجید کی تعلیم کے مدرسے کو کافروں نے تباہ کیا ہے… مگر ہمارے حکمران یہ
ذمہ داری بھی اپنے کندھوں پر ڈال رہے ہیں… باجوڑ والوں کا دعویٰ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمانوں … یعنی قرآن وسنت کے
طالبعلموں کو غیر مسلم امریکی فوجیوں نے ذبح کیا ہے… مگر ہمارے فوجی ترجمان کا
دعویٰ ہے کہ یہ عظیم کارنامہ اور نیک عمل بھی ہم نے ادا کیا ہے… اناللہ وانا الیہ راجعون… یا اللہ ! اگر واقعی یہ گندا اور بدکام ہمارے
حکمرانوں نے کیا ہے تو… ہم ان کے عمل سے بری ہیں… ان کے اس جرم عظیم کا وبال… پورے
ملک پر نہ ڈال… بلکہ ان کی گردن توڑ… جنہوں نے اس ’’گناہ عظیم‘‘ کا فیصلہ کیا…
جنہوں نے اذان کی آواز کو دبانے کی منحوس کوشش کی… جنہوں نے مسلمانوں کو اسّی سے
زائد بچوں اور نوجوانوں کی لاشوں کا غم دیا… قرآن پاک کا علم حاصل کرنے والے طلبہ
کو تو فرشتے بھی رشک سے دیکھتے ہیں… اور ان کے قدموں کے نیچے اپنے پر بچھاتے ہیں…
معلوم نہیں وہ ظالم کس کی اولاد تھے… جنہوں نے قرآن پاک کے طالبعلموں پر بم برسادئیے…
اب ان ظالموں کو امریکہ … انعام کے طور پر سور کا گوشت دے گا… جسے وہ اور ان کی
اولادیں کھا کھا کر مریں گی… ہائے بدبختی تیری بھی کوئی انتہا ہے؟… حضرت ابو
الدرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ… میں نے خود سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
کُلُّ
ذَنْبٍ عَسَی اللہ اَنْ یَّغْفِرَہٗ اِلاّ الرَّجُلَ یَمُوْتُ
مُشْرِکًا اَوْ یَقْتُلُ مُؤمِنًا مُّتَعَمَِدًا (ابوداؤد، ابن حبان)
یعنی
امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر گناہ کو معاف فرما دے گا مگر اس شخص
کو جو مشرک مرا ہو یا جس نے جان بوجھ کر کسی مؤمن کو قتل کیا ہو…
ہاں
زور سے کہو تم نے خود یہ بمباری کی ہے… زور زور سے اپنی یہ نیکی اور کارنامہ بیان
کرو … اور سنو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
یَأتِی
الْمَقْتُوْلُ مُتَعَلِّقًا رَاْسَہٗ بِاِحْدٰی یَدَیْہِ مُتَلَبِّیًا قَاتِلَہٗ
بِالْیَدِ الْاُخْرٰی تَشْخَبُ اَوْ دَاجُہٗ دَمًا حَتّٰی یَاْتِیَ بِہِ
الْعَرْشَ، فَیَقُوْلُ الْمَقْتُوْلُ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ: ہَذَا قَتَلَنِیْ
فَیَقُوْلُ اللہ عَزَّوَ جَلَّ لِلْقَاتِلَ: تَعَسْتَ،
وَیُذْہَبَ بِہٖ اِلَی النَّارِ (ترمذی)
یعنی
قیامت کے دن مقتول اس حال میں آئے گا کہ… اس کے ایک ہاتھ میں اپنا سر لٹک رہا
ہوگا… اور دوسرے ہاتھ سے اس نے قاتل کو پکڑ رکھا ہوگا… اور اس کی رگوں سے خون بہہ
رہا ہوگا… اسی حالت میں وہ قاتل کو پکڑ کر عرش تک آئے گا اور رب العالمین سے کہے
گا اس نے مجھے قتل کیا تھا… اس پر اللہ تعالیٰ قاتل سے فرمائے گا کہ تو ہلاک ہوگیا… پھر
قاتل کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا…
ہاں
اس حدیث پاک کو بار بار پڑھو… باجوڑ کے دینی مدرسے کے حفاظ قیامت کے دن… عرش تک
جائیں گے… انہوں نے اپنے سر اپنے ہاتھوں میں اٹھا رکھے ہوں گے… ہاں وہی سر جو تم
نے کاٹ دئیے… ہاں وہی سر جن سے قرآن پاک کی آواز آتی تھی… ہاں وہی سر جو امریکہ
کے سامنے نہیں جھکتے تھے… اور ان کے دوسرے ہاتھ میں تمہاری گردن ہوگی… تب اللہ تعالیٰ ڈالر کے پجاریوں کے خلاف… فیصلہ فرما دے
گا … عجیب بات ہے… صحافیوں کو بتایا گیا کہ… مدرسہ میں صبح چار بجے جہاد کی ٹریننگ
ہوتی تھی… پھر ایک ویڈیو دکھائی گئی جس میں چند طلبہ ورزش کر رہے ہیں…اگر ورزش
کرنے کی سزا قتل ہے تو اسکولوں پر بمباری کرو… جہاں ہر روز پی ٹی ماسٹر ورزش کراتے
ہیں… کھلم کھلا دن دہاڑے… ان کالجوں پر بمباری کرو … جہاں خود تمہارے گوریلے سول
ڈیفنس کی ٹریننگ دیتے ہیں… اس میں ورزش بھی کرائی جاتی ہے اور فائرنگ بھی… کیا
پاکستان کے قانون میں لکھا ہوا ہے کہ ’’ورزش‘‘ کی سزا ’’موت‘‘ ہے؟… ٹھیک ہے مان
لیا کہ وہ جہاد کے لئے ورزش کرتے تھے… اللہ کرے ہر مسلمان ایسا کرتا ہو… تو کیا جہاد کیلئے
ورزش کرنے کی سزا موت ہے؟… کوئی قانون تو بتاؤ؟… کوئی جواز تو فراہم کرو… ہاں ایک
جواز ہے کہ امریکہ کا حکم تھا… اور ہم اس کے غلام ہیں… اور وہ ہمیں انعام میں ڈالر
دیتا ہے… کیا اسلام کا کلمہ پڑھنے والا کوئی انسان وہ تمام باتیں… اپنے منہ سے
نکال سکتا ہے… جو باتیں ہمارے حکمران کھلم کھلا بول رہے ہیں؟… یوں لگتا ہے کہ… کسی
بھی لمحے زمین پھٹ جائے گی… اور آسمان ٹوٹ گرے گا… آخر ظلم اور بے غیرتی کی کوئی
انتہا تو ہو؟… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
لَزَوَالُ
الدُّنْیَا اَھْوَنْ عِنْدَ اللہ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُّسْلِمٍ (رواہ مسلم)
یعنی
پوری دنیا کا ختم ہوجانا اللہ تعالیٰ کے نزدیک… ایک مسلمان کے قتل کے مقابلے
میں معمولی چیز ہے…
ہاں
رب کعبہ کی قسم مسلمان کا قتل… بہت بڑا جرم ہے… بہت عظیم جرم… بہت خطرناک گناہ…
حضرت لدھیانویؒ شہید کردئیے گئے… پھر مفتی شامزئیؒ کو خون میں نہلایا گیا… پھر
مفتی جمیلؒ کے حسین سراپے کو چھلنی کیا گیا… پھر کبھی وانا اور کبھی شکئی… اور اب
باجوڑ… پہلی مرتبہ نہیں دوسری مرتبہ… شاید یہ لوگ دنیا کو تباہ کروانا چاہتے ہیں…
کیونکہ زمین اتنے ظلم شاید اب نہ اٹھا سکے… دنیا بھر میں جگہ جگہ ایٹم بم بکھرے
پڑے ہیں… ہائیڈروجن بموں کے اسٹاک بھی جگہ جگہ موجود ہیں… مسلمانوں کا خون خود
مسلمان کہلانے والے بیچ رہے ہیں… آسمان رو رہا ہے… زمین لرز رہی ہے… ایسے میں صرف
ایک جھٹکا… زمین کو پتھر سے بھی پہلے کے زمانے میں دھکیل دے گا… ڈالر، مال،
گاڑیاں… اور حرام کے بنگلے… سب کچھ یہاں رہ جائے گا… مسلمانوں کو قتل کرنے والے
حجاج بن یوسف کا انجام کتنا خوفناک ہوا؟… حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والوں کا انجام کتنا عبرتناک
تھا؟… کرائے کے قاتل بھی خوفناک انجام سے نہیں بچ سکیں گے… جب موت کا وقت آئے گا
تو امریکہ… ان کو نہیں بچا سکے گا… کاش یہ چند لمحے کیلئے مسلمان بن کر سوچتے… تو
ایسا کبھی نہ ہوتا… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
لَوْ
اَنَّ اَہْلَ السَّمٰوٰتِ وَاَہْلَ الْاَرْضِ اِشْتَرَکُوْا فِیْ دَمِ مُّؤمِنٍ
لَاَکَبَّہُمُ اللہ فِی النَّارِ (ترمذی)
یعنی
اگر آسمانوں اور زمین کے رہنے والے تمام لوگ ایک مسلمان کے قتل میں شریک ہوجائیں
تو اللہ پاک ان سب کو جہنم میں ڈال دے گا…
بے
شک ایک مسلمان جو ایمان والا ہو… اس کی حرمت اور عزت اللہ پاک کے نزدیک… کعبہ شریف کی حرمت اور عزت سے
زیادہ ہے… اس لیے مومن کا قتل… کفر وشرک کے بعد… اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ ہے…
آج
باجوڑ خون سے رنگین ہے… اسّی سے زائد نئی قبریں بن چکی ہیں… سرخ کفن پہن کر… دینی
مدارس کے طلبہ … اپنی اس منزل تک پہنچ چکے ہیں جس کی تلاش میں وہ نکلے تھے… حضرت
مولانا لیاقت اللہ شہیدؒ کا صدقہ جاریہ… قیامت تک کے لئے جاری
ہوگیا… ان کے بچے خوش ہیں کہ… ہمارے بابا ہمارے لیے جنت میں محل بنانے گئے ہیں …
دوسری طرف یہ خوشی ہے کہ… اسّی سے زائد دہشت گرد مارے گئے… اب امریکہ زیادہ محفوظ
ہوچکا ہے… ہمارے جوانوں نے امریکی وفاداری کا حق ادا کردیا ہے… شاباش کے غلغلے
ہیں… اور ڈالر گنے جارہے ہیں… ہم خوشی اور غم کے اس شور میں صرف دو باتیں عرض کرتے
ہیں… جی ہاں صرف دو حقیقی باتیں… پہلی بات تو مولانا لیاقت اللہ ؒ اور اس مدرسے کے تمام شہید طلبہ سے عرض
کرنی ہے کہ… اے خوش نصیب اللہ والو! تمہیں شہادت کا تاج اور منزل کا ملنا
مبارک ہو… تمہارا ’’انجام‘‘ دیکھ کر ہم نے کوئی ’’عبرت‘‘ نہیں پکڑی… بلکہ ہمارا
’’شوق جہاد‘‘ الحمد اللہ اور زیادہ بڑھ
گیا ہے… آپ حضرات کو شہادت بھی ملی… اور بہت سے مزید انعامات بھی… آپ حضرات کا
پڑھنا پڑھانا اسی لیے تھا کہ… انجام اچھا ہو جائے خاتمہ ایمان پر ہوجائے… اور اللہ پاک راضی ہو جائے… انشاء اللہ … یہ سب چیزیں آپ کو نصیب ہوگئیں… بہت سے
بچے ’’کتاب اللہ ‘‘ حاصل کرنا چاہتے تھے…
اب ان کو خود ’’ اللہ ‘‘ مل گیا… اور یوں راستہ مختصر ہوگیا… اے شہداء کرام! آپ
شہادت کے وقت مسجد… اور مدرسہ میں تھے… تہجد اور فجر کی تیاری میں تھے… اور باوضو
تھے… آپ نماز میں اللہ تعالیٰ سے باتیں کرنا چاہتے تھے… مگر اس نے آپ
کو خود اپنے پاس ہی بلالیا… یوں آپ کو جلد منزل مل گئی… اے شہداء کرام! اگر آپ
واقعی جہاد کی تیاری اور ورزش کرتے تھے تو آپ کو… پوری امت کی طرف سے سلام… اور
خراج تحسین… اللہ کرے ہر مدرسہ میں جہاد کی ورزش ہو… اور ہر دینی
ادارہ جہاد کے دینی فریضے کو یاد رکھے… کیونکہ یہ سب کچھ ’’جرم‘‘ نہیں ’’فرض‘‘ ہے…
اور فرض کو ادا کرتے ہوئے آپ کا شہید ہوجانا… ایک ایسی سعادت ہے جس کو حاصل کرنے
کیلئے محنت کرنی چاہئے…
اے
باجوڑ کے شہداء… اللہ تعالیٰ تمہاری ارواح تک ہمارا سلام پہنچائے… ہم
اس واقعہ سے ڈرے اور سہمے نہیں… بلکہ… پھولوں کی طرح بکھرے ہوئے آپ کے جسم دیکھ
کر… ہمیں رشک آرہا تھا… اور ہمارا ایمانی جذبہ مضبوط ہو رہاتھا… ایک مسلمان کے
لئے شہادت سے بڑا کوئی انعام نہیں ہے… ہمارے تمام دینی کام اسی لیے تو ہیں کہ… اللہ پاک راضی ہوجائے… خاتمہ ایمان پر ہوجائے… اور
جنت الفردوس میں جگہ مل جائے… تو پھر… شہادت اور قتل سے ڈرنے کی کیا گنجائش ہے؟…
اے شہداء کرام! آپ ہم سے پہلے چلے گئے… اللہ پاک آپ کی بخشش فرمائے… آپ کی شہادت کو قبول
فرمائے… آپ کو اونچے اونچے مقامات عطاء فرمائے… وإنّا انشاء اللہ بکم لاحقون… اور ہم بھی انشاء اللہ آپ سے آ ملیں گے… دوسری بات باجوڑ کے غمزدہ،
زخم خوردہ غیور مسلمانوں سے ہے کہ… وہ اس موقع پر ’’غزوہ احد‘‘ کویاد کریں… ستر
صحابہ کرام کی لاشیں… شہداء کے جسموں کے ٹکڑے… غم پر غم… اور مصیبت پر مصیبت…
کافروں کا اعلان کہ اب یہ لوگ ٹوٹ چکے ہیں… آگے بڑھو اور ان کا مکمل خاتمہ کردو…
منافقین کے قہقہے، طعنے، سازشیں… اور پیلے پیلے دانت… اللہ اکبر کبیرا… کتنا مشکل وقت تھا… مسلمانوں کے
سامنے دو ہی راستے تھے… ایک پسپائی کا راستہ جس میں ظاہری امن تھا… اور وقتی عافیت
… اور دوسرا سنبھلنے اور ڈٹ جانے کا راستہ تھا… جس میں سوائے زخموں اور ہلاکت کے
اور کچھ نظر نہیں آرہا تھا… اس وقت اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر رحم فرمایا… اور انہیں
پسپائی سے بچالیا… آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر… مسلمانوں نے ڈٹ جانے اور
مقابلہ کرنے کا عزم کیا… تب سات آسمانوں کے اوپر سے آواز آئی کہ… بس فیصلہ
ہوگیا ہے… اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُوْمِنِیْنَ… اے مسلمانو! جب
تمہارا ایمان سلامت ہے تو پھر تم ہی غالب ہو… جان کا کیا ہے وہ تو ویسے ہی جسم سے
نکلنی ہے… اصل تو ایمان ہے… بس ادھر مسلمان غزوہ احد کے امتحان میں کامیاب ہوئے تو
اُدھر… ان کے لئے فتوحات کے راستے کھل گئے… اور پھر وہ آگے ہی آگے بڑھتے چلے
گئے… غزوہ احد کا امتحان بہت سخت تھا… مگر اس میں کامیابی کا انعام بھی بہت بڑا تھا…
آج باجوڑ کے پہاڑ غزوہ احد والی استقامت دیکھنے کے منتظر ہیں… قرآن پاک کے
واقعات زندہ اسباق ہیں… اور تاریخ اپنا پیغام دہراتی رہتی ہے… اے باجوڑ کے غیور
مسلمانو!… اس وقت متحد ہونے، مضبوط ہونے، حوصلہ قائم رکھنے… اور آگے بڑھنے کا وقت
ہے… حالات کے تندور میں منافقین کو اپنے مفادات کی روٹیاں نہ پکانے دو… بلکہ…
شہداء کرام کے سرخ خون کے پیغام کو سمجھو… غزوہ احد کو ایک بار پھر قرآن پاک میں
جھانک کر دیکھو… اور زخمی حالت میں بھی… اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانبردار رہو… تب… فطرت کا قانون
اپنا فیصلہ سنائے گا… اور تم … اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے غالب رہو گے…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ دین ’’اسلام‘‘ کا خود محافظ
ہے… اسلام کے فرائض میں سے سب سے مشکل ’’جہاد فی سبیل اللہ ‘‘ کا فریضہ ہے… اللہ تعالیٰ اس فریضے کی حفاظت کے لئے جن افراد کو
منتخب فرماتا ہے وہ روئے زمین کے بہترین افراد ہوتے ہیں… یہ بات قرآن مجید سے بھی
ثابت ہے… اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی… اصل حفاظت تو خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے… مگر وہ قرآن اور جہاد کی
حفاظت کے لئے اپنے بہترین بندوں کو استعمال فرماتا ہے… اور پھر اپنی باقی مخلوقات
کو ان بندوں کے کام پر لگادیتا ہے… میرا گمان تھا کہ … محترم جاوید چوہدری صاحب
بھی… اللہ تعالیٰ کے ان بہترین بندوں میں سے ایک ہیں… جو
فریضہ جہاد کی خدمت، اشاعت، وکالت اور حفاظت کے لئے چن لیے گئے ہیں… وہ روزنامہ
جنگ میں کالم لکھتے تھے تو ان کے بعض کالم پڑھ کر دل جھوم اٹھا… پھر وہ
یاسرمحمدخان کے نام سے ایک اسلامی اخبار میں بھی لکھنے لگے… ان کا ایک مضمون پڑھ
کر میں نے انہیں تہنیتی خط بھی لکھا… میرے سامنے شہداء کرام کی ایک لمبی قطار ہے…
کمانڈر عبدالرشید شہید سے لے کر عزیزم عدنان تک… اور اختر شہید سے لے کر کمانڈر
سجاد تک… اور کس کس کا نام لوں… مجھے وہ سب اچھی طرح یاد ہیں… اور پھر ان سے پہلے
کے شہداء… احد اور بدر کے شہداء تک… اور پھر آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک اور مقدس لہو… آپ کا دانت
مبارک… اور … اور … حضرت جبرئیل علیہ السلام کے دانتوں پر لگا ہوا جہاد کا غبار…
پھر قرآن پاک کی جہاد والی سورتیں اور پانچ سو سے زائد آیتیں… اور پھر فدائیوں
کے محبت نامے… اس لیے جو لکھنے والا بھی جہاد کے حق میں لکھتا ہے وہ ہمیں پیارا
لگتا ہے… ہم اپنے دل میں اس کا بے حد احترام پاتے ہیں… پاکستان کے قومی اخبارات
میں جہاد کے خلاف لکھنے والوں کی تو بہتات ہے… جبکہ جہاد اور مجاہدین کے لئے کلمہ
خیر کہنے والے کالم نویس بہت کم ہیں… ہائے افسوس کہ اب ان کی تعداد بھی مزید کم ہوتی
جارہی ہے… ہاں بے شک جہاد ایک مشکل فریضہ ہے… اور اس پر استقامت صرف اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل سے ہی ممکن ہے… ماضی میں
بھی محترم جاوید چوہدری صاحب کے بعض مضامین سے مجھے اختلاف ہوا… میں نے ان کے
مضمون ’’وراثت‘‘ کا جواب ’’تورابورا‘‘ کے نام سے لکھا… مگر دل میں ان کا احترام کم
نہیں ہوا… مجھے احساس تھا کہ ان کے پاس جو ’’تعلیم‘‘ ہے … اور ان کے ارد گرد جو
’’ماحول‘‘ ہے… اس کے اعتبار سے ان کا جہاد کے حق میں لکھنا… امیر المؤمنین ملا
محمد عمر مجاہد کو خراج تحسین پیش کرنا… حضرت مفتی شامزئی ؒ کو سلام عقیدت
کہنا… ایک بڑی غنیمت اور قابل رشک توفیق ہے… میں اپنے حالات کی وجہ سے مستقل کوئی
اخبار نہیں پڑھ سکتا… اس لیے میرے سامنے چوہدری صاحب کے صرف وہی کالم آتے رہے جو
مختلف دینی رسائل میں… اشاعت مکرر کے طور پر شائع ہوئے… ہر کالم خوبصورت تھا… اور
کافی حد تک مدلل بھی… مگر بروز منگل ۱۴؍شوال
بمطابق ۷نومبر ۲۰۰۶ء
روزنامہ ایکسپریس… مجھے خبر ملی کہ… چوہدری صاحب نے جہاد افغانستان کے خلاف کالم
لکھا ہے… مجھے اعتبار نہ آیا… یہ خبر نجم سیٹھی، راجہ محمد انور، خالد احمد، ارد
شیر کاؤس جی جیسے کالم نویسوں کے بارے میں ہوتی تو کوئی حیرت ہوتی نہ پریشانی…
بعض رفقاء نے کہا کہ ہم اس کالم کا جواب لکھ رہے ہیں… میں نے ان سے عرض کیا کہ
ہاتھ ہلکا رکھیں… اور ذاتی حملے سے گریز کریں… مجھے توقع تھی کہ چوہدری صاحب نے
کوئی ایک آدھ ادیبانہ چٹکی بھری ہوگی… اوربس… مگر جب شام کو یہ اخبار میرے ہاتھ
لگا تو اس مضمون کے بارے میں… میرا تمام تر ’’حسن ظن‘‘ اپنی موت آپ مرگیا… چوہدری
صاحب نے اپنے شوخ اور چنچل انداز میں… سولہ لاکھ شہداء پر چھری چلائی ہے… مجھے یوں
لگا کہ ایک شخص کچھ عرصہ تک بلندیوں کی طرف سفر کرنے کے بعد… واپس ’’زیروپوائنٹ‘‘
پر آ کھڑا ہوا ہے… جی ہاں انسان کے بعض جملے اس کے تمام اونچے اعمال کو اکارت
کردیتے ہیں… حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ ایک شخص اپنے اعمال کی برکت سے جنت کے دروازے
تک جا پہنچتا ہے… تب اس کی زبان سے ایک ایسی بات نکلتی ہے جو اسے جنت کی بلندیوں
سے اتار کر… جہنم کی کھائیوں میں لا گراتی ہے… معلوم نہیں روزنامہ ایکسپریس کا اثر
ہے… یا کوئی اور مجبوری؟… چوہدری صاحب نے اپنے قابل رشک ماضی سے ایک دم ہاتھ دھو
لیے… اللہ تعالیٰ ہمارے اور ان کے اعمال کی حفاظت فرمائے…
دراصل آج کل صحافت کا ماحول پرآشوب ہے… اسلام آباد میں فلیٹ… لاہور میں کوٹھی…
غیر ملکوں کے اسفار… وی آئی پی پروٹوکول… اور بے شمار خواہشات… جب سبھی لوگ ان
چیزوں کی طرف دوڑ رہے ہوں تو پھر… بنیاد پرستی کی تہمت سہہ کر… جہاد پر ڈٹے رہنے
والے لوگ بہت کم رہ جایا کرتے ہیں… چوہدری صاحب کے اس مضمون میں بعض باتیں بچگانہ
ہیں… بعض باتیں ظالمانہ ہیں… اور بعض لا علمی کا نتیجہ … ان باتوں کے بارے میں کچھ
عرض کرنے سے پہلے چوہدری صاحب کے مضمون سے بعض اقتباسات پیش خدمت ہیں… ان کے اس
مضمون کا نام ہے… وہ گدھے کہاں ہیں؟… مضمون کا آغاز ایک سعودی شہزادے ’’بندربن
سلطان‘‘ کے تعارف سے ہے… اس سعودی شہزادے کی آپ بیتی ان کے ایک کلاس فیلو ’’ولیم
سمپن‘‘ نے لکھی ہے… اس کتاب کا نام ’’دی پرنس‘‘ ہے… جاوید چوہدری صاحب نے اس کتاب
کو پڑھا… اور اسی کے تناظر میں اپنا یہ کالم تحریر فرمایا ہے… وہ لکھتے ہیں:
(۱) ’’شہزادہ
بندر بن سلطان کی اس کتاب نے افغان جہاد کے بارے میں میرے تمام تصورات جڑوں سے ہلا
دئیے اور مجھے پہلی بار یہ جہاد کی بجائے انا اور مفادات کی جنگ لگی، شہزادے نے
انکشاف کیا ’’امریکہ نے یہ جنگ ڈالروں کے بل بوتے پر لڑی تھی اور ڈالروں کی مدد ہی
سے جیتی‘‘
(۲)’’شہزادے
نے گورباچوف کو سمجھایا، جناب صدر آپ کی ایجنسیاں آپ کو غلط اطلاعات دے رہی ہیں
سعودی عرب افغانستان میں ۲۰۰ ملین
ڈالر کی بجائے ۵۰۰ ملین
ڈالر خرچ کر رہا ہے‘‘
(۳) ’’میری
نظر میں شہزادہ بندر بن سلطان بن عبدالعزیز السعود کی یہ کتاب ڈیٹرجنٹ پاؤڈر کی
حیثیت رکھتی ہے اس کتاب نے افغان جہاد کے بارے میں میرے سارے تصورات دھو کر رکھ
دئیے، میری نسل افغان جہاد کے دوران پل کر جوان ہوئی تھی لہٰذا ہم اسے کفر اور
اسلام کی جنگ سمجھتے تھے اور اس جنگ میں کام آنے والے مجاہدین کو شہید اور زخمیوں
کو غازی کہتے تھے لیکن مجھے شہزادہ بندر بن سلطان کی کتاب پڑھ کر معلوم ہوا یہ جنگ
جہاد نہیں تھا‘‘…
جاوید
چوہدری صاحب کے اس مضمون کا مرکزی کردار ’’گدھے‘‘ ہیں… ان کے بقول شہزادے نے لکھا
ہے کہ ہم نے اور امریکہ نے … پوری دنیا سے دھڑادھڑ گدھے خرید کر… افغان مجاہدین کو
دئیے تاکہ وہ ان گدھوں پر اپنا جنگی سازو سامان منتقل کرسکیں… مضمون کے آخر میں…
چوہدری صاحب نے اپنی شدید تشویش کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے…
’’جب
سے میں نے یہ کتاب پڑھی ہے میں گدھوں کے بارے میں شدید تشویش کا شکار ہوں اور میرا
دل چاہ رہا ہے میں جنرل حمید گل صاحب سے رابطہ کروں اور ان سے پوچھوں ان گدھوں کا
کیا بنا تھا اور وہ تمام گدھے اس وقت کہاں ہیں؟‘‘…
چوہدری
صاحب سے چند سوالات
محترم
چوہدری صاحب! آپ کے اس مضمون کی روشنی میں آپ سے چند سوالات ہیں…
(۱) سچ
بتائیں یہ ساری معلومات آپ کو صرف اسی کتاب سے ملیں؟ کیا آپ اس سے پہلے ان باتوں
اور الزامات کو نہیں جانتے تھے؟…
چوہدری
صاحب ! میں نے جب سے افغان جہاد کا نام سنا ہے… اس وقت سے یہ تمام اعتراضات بھی سن
رہا ہوں… پاکستان کا ایک پورا طبقہ اسے روس امریکہ کی جنگ کہتا تھا… امریکی امداد
کا آنا بھی کوئی خفیہ راز نہیں تھا … پاکستانی ایجنسیوں کا تعاون بھی کوئی زیر
زمین نہیں تھا… کیا آپ کسی جنگل میں گوشہ نشین تھے یا کسی پہاڑ پر بکریاں چرا رہے
تھے کہ آپ کو ان تمام باتوں کا علم نہ ہوسکا… اور آپ غلط فہمی میں افغان جنگ کو
’’جہاد‘‘ سمجھتے رہے… اور اب یکایک آپ جنگل سے تشریف لائے اور آپ نے شہزادے کی
کتاب پڑھی… اور آپ کو احساس ہوا کہ آپ کے ساتھ تو دھوکا ہوا ہے… چوہدری صاحب! ہم
سب نے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے… ہزاروں مائیں افغان
جہاد میں اپنے لخت جگر شہید کروا چکی ہیں… ایک مسلمان ہر گناہ کرسکتا ہے… مگر جھوٹ
نہیں بول سکتا… آپ نے اپنے مضمون کو چٹ پٹا بنانے کے لئے… اتنا بڑا جھوٹ کس لیے
بولا؟…
(۲) سچ
بتائیں… آپ افغان جنگ کو ’’جہاد‘‘ کیوں سمجھتے تھے ؟ اور اس میں کام آنے والوں
کو شہید کیوں مانتے تھے؟… اگر قرآن پاک کی آیات جہاد کی وجہ سے… تو پھر ان میں
تو کوئی تبدیلی نہیں آئی… اپنی اسلامی غیرت اور جذبہ اخوت کی وجہ سے… تو پھر اس
میں کمی کی کیا وجہ ہے؟… یا صرف اس وجہ سے کہ کسی نے آپ کو… کسی غار میں چھپ کر
یہ بتادیا تھا کہ افغان جہاد میں امریکی ڈالر نہیں آئے… افغان جہاد میں سعودی
امداد نہیں آئی…
(۳) جن
گدھوں کا آپ نے بار بار ذکر کیا ہے … سچ بتائیں ان گدھوں سے آپ کی مراد کیا ہے؟…
واقعی بار برداری والے گدھے؟… تو پھر شدید تشویش کی کیا حاجت ہے؟… وہ جہاں ہوں گے
کھاپی رہے ہوں گے… لید پیشاب کر رہے ہوں گے… آپ کو ان سے کیا کام ہے؟… کیا شدید
تشویش کا لفظ بناوٹی جھوٹ نہیں ہے؟… اور اگر ان گدھوں سے آپ کی مراد مجاہدین یا
مہمان مجاہدین ہیں تو… آپ کی ہمت اور حوصلے کو داد کہ آپ نے کتنی اونچی ہستیوں
کو گالی دی… ہوسکے تو اپنی آخرت کی خاطر روزانہ ایک بار اپنے اس غیر مہذب جملے کو
پڑھ لیا کریں… بے شک آپ نے بڑا ظلم کیا ہے… کاش آپ ایسا نہ کرتے… معلوم نہیں آپ
کے اس جملے پر کتنے ملحد، کیمونسٹ اور زندیق خوش ہوئے ہوں گے… معلوم نہیں کتنے
لوگوں نے اس جملے کا اثر لیا ہوگا… مگر یہ بات واضح ہے کہ… جن لوگوں نے افغان جہاد
کے شہداء کے خون کی خوشبو خود سونگھی ہے… جنہوں نے ان کی قبروں سے تلاوت کی آواز
سنی ہے… جنہوں نے جنگ کے دوران مجاہدین کو سوکھی روٹیاں کھاتے دیکھا ہے… ان پر ان
جملوں کا کوئی اثر نہیں پڑے گا… آپ کسی کو شہید سمجھیں یا نہ سمجھیں… کسی کو غازی
قرار دیں یا نہ دیں… اس کا تعلق آپ کے نامہ اعمال سے ہے… جبکہ شہداء اور غازی تو
کالم نویسوں کی ’’سند‘‘ اور خراج تحسین کے محتاج نہیں ہیں…
(۴) چوہدری
صاحب! حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جو جہاد ہوا تھا… اس میں بعض
جنگوں کے دوران عرب کے عیسائیوں نے مجاہدین کا ساتھ دیا تھا… اور ان کے فوجی دستے
باقاعدہ جنگ میں شریک ہوئے تھے… دنیا کا کوئی مؤرخ اس کا انکار نہیں کرسکتا… جناب
عالی آپ کے نزدیک ان جنگوں کا کیا حکم ہے؟… کیا آپ (نعوذباللہ ) ان کے جہاد ہونے
کا بھی انکار کردیں گے؟…
چوہدری
صاحب! احادیث کی کتابوں میں… نہایت صراحت کے ساتھ قرب قیامت کی جن جنگوں کا تذکرہ
ہے… ان میں سے ایک بڑی جنگ مسلمان اور عیسائی مل کر تیسرے فریق کے خلاف لڑیں گے…
تمام محدثین کا اتفاق ہے کہ یہ جنگ… جہاد فی سبیل اللہ ہوگی… آپ اس جہاد کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟…
چوہدری
صاحب! جہاد کو قرآن پاک سے سمجھنے کی کوشش کریں… یہ کھیل نہیں ایک اہم اور مقدس
فریضہ ہے… جہاد کو احادیث مبارکہ کی روشنی میں سمجھیں… تب آپ کو اس طرح کے
اشکالات پیدا نہیں ہوں گے… جہاد کو فقہ کی کتب میں سمجھیں… تب آپ کو معلوم ہوگا
کہ… کس سے تعاون لینا جائز ہے اور کس سے ناجائز؟… اپنے ہر کام میں ’’سورس‘‘
ڈھونڈنے والے لوگ بھی جب مجاہدین پر انگلیاں اٹھاتے ہیں تو معاملہ بہت عجیب سا
لگتا ہے…
ایک
بچگانہ کہانی
چوہدری
صاحب کے اس مضمون میں ایک بات تو بہت عجیب ہے… سوویت یونین جیسا بڑا ملک… تیس ہزار
ایٹم بموں کا مالک… جرمنی سے افغانستان تک پھیلی ہوئی ایک جابرانہ ریاست… پانچ
کروڑ انسانوں کے خون پر تعمیر ہونے والا ایک انقلابی اتحاد… اس سوویت یونین کے صدر
گورباچوف کو ایک سعودی شہزادے نے… اپنے دلائل سے ڈرادیا… اور گورباچوف اپنی فوجیں
نکالنے پر آمادہ ہوگیا… واہ چوہدری صاحب واہ… یہاں مجھے ایک بات یاد آگئی… ہمارے
مدرسے میں ایک اللہ والے بزرگ محدث تھے … جوانی میں انگریزی تعلیم
کے زبردست حامی… مگر پھر ان کا رخ بدل گیا… اور انہوں نے خود کو قرآن وسنت کی
تعلیم اور عبادت کے لیے وقف کردیا… عمر کے آخری کئی سال وہ عملاً گوشہ نشین رہے…
بس عبادت کرتے تھے اور اسباق پڑھاتے تھے… اور حج عمرے کے سفر کے علاوہ مدرسہ سے
باہر نہیں نکلتے تھے… البتہ حالات سے باخبر رہنے کے لئے چند لمحے اخبار پر نظر ڈال
لیتے… یا بعض علماء سے حالات پوچھ لیتے تھے… تفصیلی گفتگو سے ان کو پریشانی ہوتی
تھی اس لیے بہت مختصر کلام… کرتے اور سنتے تھے… ان کا خیال تھا کہ ان کے طلبہ بھی
ان کی طرح گوشہ نشین ہیں … اس لیے سبق میں کبھی کبھار اخبار کی کوئی خبر سنادیتے…
اور پھر معصومیت کے ساتھ ہنس کر فرماتے ارے تمہیں کیا پتہ تم تو طالب علم ہو … ایک
بار سبق کے دوران فرمایا… بھائی آج کل پاکستان میں صدر ضیاء الحق کی حکومت ہے… ان
سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت تھی… کیا آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ… ضیاء نے
بھٹو سے حکومت کیسے چھینی؟… ارے بھائی ایک رات وہ چپکے سے بھٹو کے گھر کی پچھلی
طرف سے اندر گھس گیا… پہلے اس نے ٹیلیفون کی تار کاٹی اور پھر بھٹو کو باندھ دیا…
اور گھر کی چھت پر کھڑے ہو کر چلانے لگا کہ… میں صدر ہوں… میں صدر ہوں… یہ قصہ سنا
کر حضرت خوب ہنسے اور فرمایا ارے تمہیں کیا پتہ… تم تو طلبہ ہو… چوہدری صاحب آپ
نے بھی خوب کہانی سنائی… اگر اس طرح کی ملاقاتوں سے اتنے بڑے فیصلے ہوتے ہیں تو
مہربانی فرمائیے… دوچار اور بندر بن سلطان کھڑے کردیجئے جو … سپر طاقتوں کے صدور
کو ڈرا دھمکا کر شکست دے دیں… جناب والا! سوویت یونین کے پاس بھی تیل کی کمی نہیں
تھی… وسطی ایشیا ء کی ریاستیں تیل پر تیر رہی تھیں… یہ جہاد تھا جہاد… اور مجاہدین
کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نصرت کہ… سعودیہ جیسے کمزور ملک کے
سفیر کو… سوویت اتحاد کے صدر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی ہمت ہوئی… ورنہ آپ
مسلم دنیا کے حکمرانوں کو بھی جانتے ہیں… اور ان کے شہزادوں کوبھی…
پانچ
سو ملین اور کئی ٹریلین
آپ
اور آپ کے مرشد شہزادہ بندر بن سلطان کے نزدیک… پانچ سو ملین ڈالر سالانہ کی وجہ
سے سوویت یونین یہ جنگ ہار گیا… چوہدری صاحب! آپ تو اعداد وشمار کے ماہر ہیں…
پچھلے تین چار سال میں امریکہ… عراق میں کئی ٹریلین ڈالر خرچ کر چکا ہے… مگر اس کے
باوجود نہتے عراقی مجاہدین کے سامنے اسے پسپائی کا سامنا ہے… کچھ تو انصاف
فرمائیں… اب آپ نے اگرچہ اپنی باتوں کا رخ پاکستانی ایجنسیوں کی طرف پھیر دیا ہے…
مگر پہلے مضمون میں تو آپ نے صراحۃً ’’شہداء کی شہادت‘‘ اور اس جنگ کے جہاد ہونے
کا انکار کیا ہے… آپ خود اپنے دوسرے مضمون میں یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ… افغان جہاد
میں کوئی جرنیل یا اس کا بیٹا کام نہیں آئے… عام غریب مسلمان شہید ہوئے… اب آپ
کی کس بات کو سچا مانا جائے؟… اگر دل میں کچھ ندامت پیدا ہوئی تھی تو کھل کر معذرت
کرنے میں آپ کا اعزاز تھا… نہ یہ کہ امریکی حکام کی طرح سامعین اور قارئین پر
نزلہ ڈال دیا جائے کہ انہوں نے ہمارے بیان کو سمجھانہیں…
ایک
دعاء
آپ
کے نظریات تو ایک سعودی شہزادے کی کتاب نے جڑوں سے ہلا دئیے… ہم نے سنا تھا کہ
نظریات خون کے ساتھ جسم وجان میں بستے اور دوڑتے ہیں… مگر آپ نے پاؤڈر ڈال کر
نظریات کو دھو ڈالا… گزارش یہ ہے کہ… ایسا صرف افغان جہاد کے بارے میں ہوا ہے یا
پوری دنیا کی تمام جہادی تحریکات آپ کی نظر میں مشکوک ہوگئی ہیں؟… اس لیے کہ
فلسطینی مجاہدین کی امداد اب تک سعودی عرب کرتا ہے… کشمیری مجاہدین پر ایجنسیوں کے
ایجنٹ ہونے کا دعویٰ ہے… چیچن مجاہدین کو ترکی کی سیکولر حکومت امداد دیتی ہے…
دراصل اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کے لئے ان کے دشمنوں کو بھی
مسخر فرمادیا ہے … ان حالات میں اگر کوئی صحیح جذبے اور سچی نیت سے جہاد کرے تو…
بے شک اس کا جہاد مقبول ہے… مگر آپ نے جو نظریہ قائم کیا ہے وہ تو ہر تحریک بلکہ
ہر شخص کو مشکوک بنانے والا ہے… میری دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو واپس لے آئے… زندگی مختصر اور
موت سامنے ہے… اور آخرت کی منزلیں بہت دشوار ہیں… اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے… اگر ہم ان سطحی
باتوں کو مستند سمجھ کر… عزیمت کی داستانوں پر مٹی ڈالتے رہے تو خود ہم اپنے ماضی
سے کٹ جائیں گے… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ…
جہاد مسلسل جاری رہے گا… اور امت کی (کم از کم) ایک جماعت ہر زمانے میں حق کی خاطر
قتال فی سبیل اللہ کرتی رہے گی… اگر ہم ڈالروں کی برسات کے شوشے
چھوڑتے رہے تو ہم سے پوچھا جاسکتا ہے کہ… وہ جماعت کہاں ہے؟… کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان غیر واقعی ہوسکتا ہے؟… نہیں…
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بلاشبہ حق اور سچ ہے … اور
ہر زمانے میں قتال فی سبیل اللہ جاری رہتا ہے… اور الحمد اللہ اس زمانے میں بھی جاری ہے… اور موجودہ زمانے میں
جہاد کے عالمی احیاء کا سہرہ افغان جہاد کے سر پر چمک رہا ہے… اس مبارک جہاد میں اللہ تعالیٰ کی نصرت کھل کر زمین پر اتری… اور روئے
زمین کا نقشہ بدل گیا… باقی ہر انسان کا عمل اس کی نیت پر ہے… اگر کسی نے مال اور
نوکری کی خاطر کچھ کیا تو وہ یقینا جہاد نہیں… اور اگر کسی نے نوکری کے ساتھ نیت
بھی ٹھیک کرلی تو نوکری جہاد کی قبولیت کے راستے میں رکاوٹ نہیںہے…
افغان
جہاد اسلامی تاریخ کا ایک روشن باب بن کر… مکمل اعزاز کے ساتھ محفوظ ہوچکا ہے… اس
جہاد کے خاتمے کے کئی سال بعد اس پر سوالات اٹھانا سمجھ سے بالاتر ہے… باقی رہے وہ
گدھے جو مجاہدین کا سازوسامان اٹھاتے تھے… تو محترم چوہدری صاحب! وہ گدھے ان لوگوں
سے اچھے رہے جو مسلمان کہلاتے ہیں… اور جہاد فی سبیل اللہ کو
نہیں مانتے…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد ہے… یا اللہ معافی یا اللہ توبہ … ہمارے گناہوں اور ہماری
بدنصیبی نے زمین کو آگ سے بھر دیا ہے… یا اللہ معافی یا اللہ توبہ…
پاکستان
کی قومی اسمبلی نے اللہ تعالیٰ کے غضب کو آواز دے دی ہے… ایک اسلامی
ملک کی پارلیمنٹ نے ایک ایسا قانون پاس کردیا ہے… جس پر ہر کافر اور ہر ظالم خوش
ہے… بے پردہ، بے حیا عورتیں خوشی سے مٹھائیاں بانٹ رہی ہیں… جبکہ اللہ والے رو رہے ہیں… زمین سسک رہی ہے… امریکہ اس
قانون پر خوش ہے جبکہ… کعبہ ناراض ہے… یا اللہ معافی یا اللہ توبہ…
زنا
کرنے والے پہلے بھی یہ گناہ کرتے تھے… اور جنہوں نے کرنا ہے وہ اب بھی کریں گے…
پھر کچھ لوگ توبہ کرکے اس داغ کو دھو لیتے ہیں… اور کچھ اپنے ساتھ اسے قبر میں لے
جاتے ہیں… اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کی زنا اور لواطت سے حفاظت
فرمائے… ہر طرف ننگی تصویریں ہیں… ہر طرف گندی فلمیں ہیں… ٹی وی، کیبل، سی ڈی… اور
انٹرنیٹ … ہر طرف بدکاری کی دعوت ہے… ہر طرف بے حیائی کا پرچار ہے… بے پردہ
عورتیں… ان کے رنگ برنگے کپڑے… شیطان کے میلے… آنکھوں کی خیانت… مال کی ہوس…
جسموں کے سودے… ہر دل پر ناپاکی کے حملے… ہر آنکھ میں طرح طرح کے اشارے… جہنم کی
آگ بھڑک اٹھی ہے… جنت شرما کر دور ہو رہی ہے… یا اللہ معافی یا اللہ توبہ…
مسلمان
گھر سے نکلتا تھا تو پہلی دعا یہی ہوتی تھی… یا اللہ نظروں کی حفاظت فرمانا… اپنی نافرمانی سے بچانا
… بسم اللہ توکلت علی اللہ …
ولا حول ولا قوۃ الاّ با للہ … مگر اب تو آنکھیں کتوں کی طرح بھونکتی ہیں… جہاں
سے عورت گزرتی ہے… ہر گردن اسی طرف مڑتی ہے… عورتوں نے بھی ظلم کی حد کردی …
مسلمان ہو کر بے پردہ گھومتی ہیں… مسلمان ہو کر خوشبو لگا کر نکلتی ہیں… اور برقع
پہننے والیوں کو بھی شیطان نے ورغلایا… وہ برقعے پر طرح طرح کے پھول بوٹے اور
ڈیزائن بنا کر نکلتی ہیں… تاکہ غلیظ نگاہیں ان پر بھونکتی رہیں… گندی گردنیں ان کی
طرف گھومتی رہیں… ہائے حضرت حوّا کی بیٹیاں… ہائے حضرت فاطمہ کی بیٹیاں… ہائے اماں
عائشہ کی بیٹیاں … کیا ہو گیا ہے انہیں… ہر طرف ناپاک بو پھیل رہی ہے… پاکستان کی
قومی اسمبلی میں… بے پردہ ننگے سر عورتیں مرد سیاستدانوں کے منہ میں مٹھائیاں
ٹھونس رہی ہیں… یا اللہ معافی یا اللہ توبہ…
ہم
کس کو الزام دیں… ہر کسی پر نفس وشیطان نے برف ڈال دی ہے… جی ہاں ہر کوئی دوسروں
کو مشورے دے رہا ہے… اور خود کچھ کرنے کو تیار نہیں… ہر کوئی حالات کا رونا روتا
ہے… اور پھر خود حالات کا حصہ بن جاتا ہے… دانشور سیاستدانوں کو کُوس رہے ہیں… اور
خود مال بنانے میں لگے ہوئے ہیں… اور سیاستدان بے چارے… ایک دوسرے پر جوتیاں برسا
رہے ہیں… مجاہدین کو سب سے پہلے توڑا گیا… اور اب ان کو مزید ٹکڑیوں میں بانٹا
جارہا ہے… دلوں پر ایک خوف مسلط ہے… اور بزدلی کی بارش موسلا دھار برس رہی ہے…
جہاد پر پابندی لگادی گئی… مدارس پر بم برسادئیے گئے… مہمانوں کو ذلیل کیا گیا…
ملکی راز فروخت کردئیے گئے… عزت والے رُسوا کیے گئے… اور اب علماء کے لئے اسمبلیوں
کے دروازے بھی بند ہونے والے ہیں… حکمت، حکمت اور مصلحت، مصلحت کے نعروں نے کیا
دیا؟ … سب کچھ چھن گیا… نصاب بدل دئیے گئے… حدیث وفقہ کی کتابوں پر کمپیوٹر رکھ
دئیے گئے… مولوی کی چٹائی چھین کر اسے کرسی پر لٹکادیا گیا… سیاستدانوں کو جہاد سے
توبہ کرا کے اسمبلیوں میں آنے دیا گیا… اور اب پھر انہیں نکالا جارہا ہے… معلوم
نہیں اس ملک کا کیا بنے گا؟… یا اللہ معافی یا اللہ توبہ…
ہمارے
گناہوں کی شامت دیکھئے… ہماری بدنصیبی کی انتہا دیکھئے… اسلام ہر جگہ جیت رہاہے…
اور صرف پاکستان میں ہار رہا ہے… اسلام امریکہ میں جیت گیا وہاں بش پارٹی کی شکست
اسلام اور جہاد کی فتح ہے… اسلام عراق میں جیت رہا ہے کل ہی ٹونی بلیئر نے کہا…
عراق ہمارے لیے عذاب بن چکا ہے… اسلام افغانستان میں جیت رہا ہے… جہاں کئی صوبے
اور کئی علاقے پھر شریعت کی خوشبو سے مہک اٹھے ہیں… جی ہاں اسلام ہر جگہ جیت رہا
ہے… ہر طرف ترقی کر رہا ہے… جبکہ پاکستان میں… اسلام پر شدید حملے ہورہے ہیں… کھلے
عام یہ کہا جارہا ہے کہ… اس ملک کو اسلام سے پاک کردیا جائے گا… کھلے عام بے حیا
لوگوں کو… مسلمانوں کے خلاف متحد ہونے کی دعوت دی جارہی ہے… اخبارات میں اسلام اور
جہاد کے خلاف کھلم کھلا لکھا جارہا ہے… جہاد کا نام پاکستان میں جرم بن چکا ہے…
آخر اس کی ہمارے گناہوں کے علاوہ اور کیا وجہ ہے؟… بزدلی کا گناہ … حبّ دنیا کا
گناہ… باہمی نزاع اور جھگڑے کا گناہ… ان گناہوں نے پاکستان کے دینی طبقے کو کمزور
کردیا ہے… شاطر حکومت نے دینی طبقے کو ایک دوسرے کا دشمن بنادیا ہے… سیاستدان
مجاہدین کو حکومت کا ایجنٹ کہہ رہے ہیں… جبکہ مجاہدین سیاستدانوں کو حکومت کا آلۂ
کار سمجھ رہے ہیں… حکومت نے سب کے دامن پر بدنامی کے چھینٹے ڈال دئیے ہیں… اور ہر
ایک کو دوسرے سے ایسا بدگمان کردیا ہے کہ… اب مل بیٹھنا مشکل ہے… یہ سب گناہوں کی
شامت نہیں تو اور کیا ہے؟… یا اللہ معافی یا اللہ توبہ…
اس
وقت پورے ملک میں ’’علاقہ پرستی‘‘ کا طوفان سر اٹھا رہا ہے… جی ہاں ایک امت کو
مختلف زبانوں اور علاقوں میں بانٹا جارہا ہے… پہلے صوبائی تقسیم… پھر لسانی تقسیم…
اور پھر ہر قبیلہ دوسرے کا مخالف … کراچی ظلم اور بدامنی سے سلگ رہا ہے… اس سال
پچاس ہزار سے زائد تو صرف موبائل فون چوری ہوئے… ہر طرف اغواء عام ہے اور قتل
وغارت… بلدیاتی الیکشنوں نے ملک کو ’’غنڈہ مافیا‘‘ سے بھر دیا ہے… اب ہر علاقے کے
الگ بدمعاش ہیں… اور ہر طرف ان کے چیلے… ملک کی پولیس بے لگام ہوچکی ہے… ہر نمازی
اور ہر داڑھی والا ان کا آسان شکار ہے… خفیہ ایجنسیاں ملک کی بے تاج حکمران ہیں…
پشاور سے کراچی تک ان کے عقوبت خانوں میں سسکیوں بھری تلاوت گونج رہی ہے… مہنگائی
نے عوام کی کمر توڑ دی ہے… دال، پیاز اور آلو تک غریب کی پہنچ سے باہر ہیں… پورے
ملک میں ایک ہی قانون نافذ ہے کہ… موجودہ حکومت اور اس کے سربراہ کو صدر تسلیم
کرو… اور پھر جو دل میں آئے کر گزرو… تب کوئی جرم گناہ نہیں… حدیث پاک میں آتا
ہے کہ جب بندے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی
کرتے ہیں تو… اللہ تعالیٰ ان کے حکمرانوں کے دل عذاب کی طرف موڑ
دیتا ہے… تب وہ انہیں سخت تکلیفیں پہنچاتے ہیں… ہاں ہمارے گناہ حد سے زیادہ بڑھ
چکے ہیں… شیطان نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا… اسی لیے تو حکمران ہمیں صبح شام ستا
رہے ہیں… رات دن تنگ کر رہے ہیں… یا اللہ معافی یا اللہ توبہ…
پاکستان
میں اچھے مسلمانوں کی کمی نہیں ہے… مگر ہر ایک تنہا ہے… اور ہر کوئی اکیلا… کوئی
بھی اپنے بازوؤں میں جماعت کی طاقت نہیں پاتا… یہ اللہ تعالیٰ کے ناراض ہونے کی علامت ہے… الامان
الامان… آپ نے تبلیغی اجتماع دیکھا… اس میں لاکھوں اچھے مسلمان تھے… ہمارے روشن
خیال حکمران… ملک کا پورا خزانہ خرچ کر کے بھی… اتنے ’’روشن خیال‘‘ کسی ایک جگہ
جمع نہیں کرسکتے… ملک کے ایک صوبے میں دینی جماعتوں کی اپنی حکومت ہے… ایسا
پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے… ملک کے ایک اور صوبے کی حکومت دینی جماعتوں
کے دم سے قائم ہے… قومی اسمبلی میں دینی جماعتوں کے اراکین کی تعداد… پینسٹھ ۶۵ کے
قریب ہے… یہ بھی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے… دینی مدارس میں طلبہ کی تعداد… ماضی
کے تمام سالوں سے زیادہ ہے… اور اب ماشاء اللہ یہ
تعداد بھی لاکھوں تک پہنچ چکی ہے… دینی خانقاہوں پر بھی لوگوں کا ہجوم پہلے سے
زیادہ ہے… ہر طرف رش ہی رش ہے اور بھیڑ ہی بھیڑ… مگر انہیں حالات کے دوران وہ سب
کچھ ہوگیا… جو پہلے کبھی نہیں ہوسکا تھا… پاکستان مجاہدین کے خلاف جنگ کا ہر اوّل
دستہ بن گیا… پاکستان نے مجاہدین کو قتل کیا… اور انہیں امریکہ کے سپرد کیا…
پاکستان کے ذریعہ دنیا کی واحد اسلامی حکومت ’’امارۃ اسلامیہ افغانستان‘‘ ختم کردی
گئی… پاکستان میں جہادی جماعتوں کو کالعدم قرار دیا گیا… پاکستان دنیا بھر کی بے حیائی
کا مرکز بن گیا… ان دنوں لاہور کا عالمی فلمی میلہ عروج پر ہے… پاکستان ڈاکٹر
عبدالقدیر خان کے لئے قید خانہ بن گیا… پاکستان میں ناموس رسالت کے قانون کو چھیڑا
گیا… پاکستان میں پاسپورٹ سے مذہب کا خانہ غائب کرنے کی کوشش کی گئی… پاکستان میں
کئی بڑے علماء کو سرکاری سرپرستی میں شہید کردیا گیا… پاکستان کے عقوبت خانوں کو
مجاہدین سے بھر دیا گیا… اور پاکستان میں وہ ٹی وی چینل چلادئیے گئے جو انسانیت کے
نام پر عار ہیں… حالانکہ ماضی میں جب صرف دو چار علماء کرام اسمبلیوں میں ہوتے
تھے… اور مدارس میں طلبہ کی تعداد کم تھی… یہ سارے اقدامات کسی کے وہم وگمان میں
بھی نہیں آتے تھے… معلوم ہوتا ہے کہ گناہوں کی شامت نے ہمیں بری طرح سے گھیر لیا
ہے… ترک جہاد کا گناہ… انکار جہاد کا گناہ… مداہنت کا گناہ… حبّ جاہ کا گناہ… یا
اللہ معافی یا اللہ توبہ…
اس
وقت سب سے پہلے دو چیزوں کی ضرورت ہے… پہلی چیز توبہ اور دوسری چیز عمل کا عزم…
توبہ کا مطلب یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے گناہوں کو ذبح کردے… تمام گناہوں کو
چھوڑ دے… سچے دل سے توبہ کرلے… اور تین کاموں کو اپنالے… تلاوت، تعلیم، تزکیہ…
قرآن پاک کی تلاوت… قرآن وسنت کی تعلیم… اور نفس کی اصلاح… اور ایک راستے کو
اختیار کرلے… اور وہ ہے جہاد فی سبیل اللہ
کا راستہ… طاغوت سے ٹکرانے کا راستہ… جان
اور مال کی قربانی دینے کا راستہ… یہ تو ہوئی توبہ … اور دوسری چیز ہے عمل کا عزم…
کہ میں خود جو کچھ کرسکتا ہوں کر گزروں… وقت تیزی سے گزر رہا ہے… حکمرانوں نے حدود
اللہ کو پامال کیا ہے… اولیاء اللہ کو
قتل کیا ہے… اور شعائر اللہ کا کھلم کھلا مذاق اڑایا ہے… ان حالات میں زندگی
بے معنیٰ ہو کر رہ جاتی ہے… ہمارے حکمران اتنے مضبوط نہیں ہیں کہ… اللہ تعالیٰ کا مقابلہ کرسکیں… یا اس کے مخلص
بندوں کے سامنے ٹھہر سکیں…
ان
لوگوں کو صرف ہمارے گناہوں نے سہارا دیا ہوا ہے… اور ہماری آپس کی نا اتفاقی نے
ان کو… جنگل کا شیر بنایا ہوا ہے… ورنہ ساری دنیا جانتی ہے کہ یہ ناچنے گانے والے
عیاش لوگ کتنے بہادر ہیں… کاش پاکستان میں ایک… جی ہاں! صرف ایک ایسا شخص کھڑا
ہوجائے… جس کا ایمان حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایمان جتنا نہ سہی… ملا محمد عمر کے
ایمان جیسا ہو… تب اس ملک میں بھی اسلام جیت جائے گا… مسلمان جیت جائیں گے… یا اللہ گواہ رہنا… ہم اپنی کمزوری کے باوجود تجھے حاضر
وناظر جان کر یہ اعلان کرتے ہیں کہ… حکومت نے قرآن وسنت کے خلاف جو قانون منظور
کیا ہے… ہم اس کو تسلیم نہیں کرتے… آزمائش کے اس موقع پر ہماری وفاداری… اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے… اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے… اور اسلامی شریعت کے ساتھ
ہے… یا اللہ ہمارے گناہوں کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا … ہمیں
معاف فرمادے… یا اللہ معافی… یا اللہ توبہ…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ان کو بھی بلا لے جو جانے کے لئے تڑپ رہے
ہیں… مگر جا نہیں سکتے… آمین یا ارحم الرّاحمین … آپ کو معلوم ہے زمین پر ایک
بڑا عاشق گزرا ہے … بہت بڑا عاشق، پکاّ عاشق، سچاّ عاشق… اس نے عشق کے ہر امتحان
میں کامیابی حاصل کی… اور اپنے محبوب سے وفاداری کا حق ادا کردیا… اس سچے عاشق کی
کہانی بہت عجیب ہے… وہ چھوٹا سا تھا تب بھی سچا عاشق تھا… اس نے اپنے محبوب کے
علاوہ ہر کسی سے تعلق توڑ دیا … اس نے دیکھا کہ لوگ اصلی محبوب کو چھوڑ کر دوسری
چیزوں کے سامنے سر جھکا رہے ہیں… وہ یہ منظر برداشت نہ کرسکا… لوگوں نے اس کے سامنے
ستارے، چاند اور سورج کو پیش کیا کہ… یہ فائدہ دینے والی بڑی بڑی چیزیں ہیں تم ان
کے سامنے سر جھکا دو… اس نے کہا نہیں ہر گز نہیں… یہ ڈوبنے اورفنا ہونے والی چیزیں
ہیں… اور یہ سب میرے محبوب کے غلام ہیں… میرا محبوب ایک ہے… میرا محبوب ایک ہے…
لوگوں نے کہا یہ پاگل ہوگیا ہے… مجنون ہوچکا ہے… ہمارے پاس اتنے بڑے بڑے خوبصورت
بُت ہیں… یہ بُت ہماری حاجتیں پوری کرتے ہیں… اور یہ ان بتوں کو برُا بھلا کہتا
ہے… اے نوجوان! دنیا کے ان طاقتور بتوں کے سامنے گردن جھکادے… تجھے سب کچھ ملے گا…
امن، عزت، عیش، آرام اور عہدے… نوجوان نے کہا… میرا محبوب ایک ہے… گھر میں باپ
چچا نے سمجھایا… مگر نوجوان ڈٹا رہا کہ… میرا محبوب ایک ہے… پھر کشمکش بڑھ گئی…
ملک کے حکمران اور طاقتور لوگ اس نوجوان کے دشمن بن گئے… کوئی اور ہوتا تو ڈر
جاتا… مگر یہ نوجوان تو ’’حنیف‘‘ تھا… حنیف کہتے ہیں… پکے، سچے، مخلص عاشق کو… جو
’’ایک‘‘ کے عشق میں باقی سب کو بھلا دیتا ہے… اور اس ’’ایک‘‘ کی خاطر سب کچھ لٹا
دیتا ہے… جب قوم دشمنی پر اتری تو وہ بھی مقابلے پر آگیا… وہ أحد أحد ’’ایک‘
ایک‘‘ کا نعرہ لگاتا تھا … اور خود بھی ابھی تک اکیلا تھا… اس کا محبوب ایک تھا…
اور پورے ملک میں اس محبوب کا سچا عاشق بھی ایک تھا… ایک طرف پوری قوم، پورا ملک،
پورا قبیلہ اور پوری برادری… اور دوسری طرف ایک کمزور سا اکیلا نوجوان… مگر جب عشق
سچا ہو تو ظاہری آنکھیں لذت کی وجہ سے بند ہوجاتی ہیں… وہ ظاہری آنکھیں… جو
لوگوں کی طاقت دیکھتی ہیں… جو عقل کے ترازو پر حالات کو تولتی ہیں… اس نوجوان کی
بھی ظاہری آنکھیں بند ہوگئیں تھیں… اور وہ دل کی آنکھوں سے دیکھتا تھا… اور دل
کی تو دنیا ہی الگ ہے… نوجوان نے ہاتھ میں کلہاڑی لی… قوم کے لوگ کسی میلے پر شہر
سے باہر تھے… نوجوان شہر کے بڑے بت خانے میں گھس گیا… حنیف اپنے محبوب کے علاوہ
کسی کا خود کو خدا کہلوانا برداشت نہیں کرتا… اس نے کلہاڑی کے ایسے ہاتھ چلائے کہ
بتوں کو کاٹتا چلا گیا… انہیں توڑتا چلا گیا… اسے عشق کی آبرو بچانی تھی… اپنی
جان نہیں… جان نے تو جانا ہی جانِ جاناں کے پاس ہے… اس جان کو بچانے کی فکر کرنا
سب سے بڑی غلطی ہے… تھوڑی دیر میں بتکدہ بتوں کی لاشوں سے بھر گیا… قوم والے واپس
آئے… انہوں نے بتوں کا یہ حشر دیکھا تو غصے سے چیخنے لگے … ان کا غضب اور جوش
عروج پر تھا… وہ گدھوں کی طرح چیخ رہے تھے… بالکل اسی طرح جس طرح نائن الیون کے
بعد امریکہ والے… ماردو، پکڑ لو، ختم کردو، مٹا دو… اس نوجوان کا نام ونشان بھی
ختم کردو… تب آگ کا بہت بڑا الاؤ جلایا گیا… یہ آگ ایسی خوفناک تھی کہ فضا میں
پرندہ تک نہیں گزر سکتا تھا… اگر لوہا بھی اس آگ میں ڈالا جاتا تو پگھل جاتا… مگر
وہ نوجوان مسکرا رہا تھا… اسے محبوب سے ملاقات کی امید ہوچلی تھی… ارے سچے حنیف کو
تو محبوب ملنا چاہیے… آگ سے گزر کر ملے یا کسی بھی طرح ملے… قوم والے سوچ رہے تھے
کہ… اب معافی مانگ لے گا… سر جھکا دے گا… سمجھوتہ کرلے گا… بات چیت کا دروازہ کھول
دے گا … مگر کہاں؟ … وہ تو آگ کو یوں دیکھ رہا تھا جس طرح دولہا… اپنی سہاگ رات
کو دیکھتا ہے… ادھر عاشق کی موت قریب نظر آئی تو زمین وآسمان میں ہلچل مچ گئی…
محبوب کے خادم آسمانوں سے اڑ کر آئے… اور کہنے لگے… ہم بھی اسی ’’ایک‘‘ کے غلام
ہیں جس کا تو عاشق ہے… اجازت دے کہ ہم اس آگ کو بجھا دیں… عاشق نے مسکرا کر کہا…
میں اس ’’ایک‘‘ کے سوا کسی کی مدد نہیں لیتا… میں تو حنیف ہوں حنیف… یعنی یکسو،
یکجہت، بنیاد پرست، متطرّف… حنیف کبھی بھی حالات کا غلام نہیں ہوتا… پھر عاشق کو
آگ میں ڈال دیا گیا… اس کے محبوب نے آگ کو حکم دیا کہ… اے آگ میرے عاشق کے لئے
ٹھنڈی ہوجا… اور سلامتی بن جا… کئی دن تک آگ بھڑکتی رہی… عشق کا ایک امتحان پورا
ہوا… پھر دوسرا امتحان آیا کہ… اپنا علاقہ چھوڑ دو… عاشق کی کوئی قوم نہیں ہوتی…
کوئی وطن نہیں ہوتا… اس نے ہجرت کا امتحان بھی پورا کیا… اور محبوب کی خاطر وطن
چھوڑ دیا… اب ایک اور امتحان آیا کہ… اکیلے رہو… نہ اولاد ہوگی نہ کوئی ابا کہے
گا… عاشق نے کہا میں تو حنیف ہوں… مجھے ابا نہیں بندہ بننے پر ناز ہے… جوانی اور
بڑھاپا بغیر اولاد کے گزر گئے… مگر حنیف اپنے محبوب کا شکر ہی ادا کرتا رہا… وہ
محبوب کو راضی کرنے کے ہر جتن کرتا… خوب عبادت ، خوب ذکر… اور خوب مہمان نوازی…
رات کو گھر کے قریب آگ جلادیتا کہ… کوئی مہمان دیکھے تو گھر پر آجائے… اور میں
اپنے محبوب کی خوشی میں اسے کھلاؤں… اسے پلاؤں… جب بڑھاپا پوری طرح حاوی ہوگیا
تو محبوب نے فرمایا… اب تجھے اولاد ملے گی… مگر اسے بھی میرا بنانا… عاشق نے کہا
میں حاضر ہوں… پھر اولاد مل گئی… اب حکم ملا کہ توکّل کا امتحان دو… اپنی ایک بیوی
اور ایک بچے کو فلاں جگہ چھوڑ آؤ جہاں نہ پانی ہے نہ سبزہ… عاشق نے نہ پوچھا کہ
وہ کیا کھائیں گے کیا پئیں گے؟… حنیف ان باتوں کو نہیں سوچا کرتے… ادھر حکم ملا
اور ادھر بیوی بچے کو لے کر روانہ… ایک لق دق صحرا کی گرمی میں ان دونوں کو چھوڑ
کر واپس… یہ امتحان بھی کامیابی سے گزر گیا… محبوب نے اس کے بیوی بچے کو طرح طرح
کی نعمتیں دے دیں… اب بچہ چلتا ہے… معصوم لہجے میں ابا ابا کہتا ہے… باپ آتا ہے
تو انگلی پکڑ کر اس کے ساتھ دوڑتا ہے… باپ کا دل خوشی سے لبریز ہے… تب محبوب نے
اپنے حنیف سے کہا… اس بچے کو ہمارے لیے ذبح کردو… اس نے چھری اٹھائی… بچے کی انگلی
تھامی اور ذبح کرنے کے لئے روانہ ہوئے… راستے میں ایک دانشور نے تین بار گمراہ
کرنے کی کوشش کی… تینوں بار عاشق نے اسے پتھر مار کر بھگا دیا… اب بچہ زمین پر ہے…
عاشق نے اس کی گردن پر چھری چلادی… اور اپنے گمان میں اپنا پیارا بیٹا ذبح کردیا…
مگر یہاں معاملہ ہی کچھ اور تھا… زمین پر ایک دنبہ ذبح شدہ موجود تھا… اور بیٹا
صحیح سالم مسکرا رہا تھا… اور عرش سے آواز آرہی تھی… اے عاشق تو سچا نکلا… اب
تیرے سارے امتحان پورے ہوگئے… اب تو میرا گھر تو بنا… اور پھر اس گھر کے گرد چکر
لگا… اور دنیا میں اعلان کردے کہ… اے لوگو آؤ میرے محبوب کے گھر پر آؤ… اے
عاشق تیری آواز سب سنیں گے… اور جو لبیک کہے گا وہ میرے گھر ضرور آئے گا… اب تو
عاشق کے مزے ہوگئے… ارے عشق کی اصل لذت تو محبوب کے گھر پہنچ کر ہی پوری ہوتی ہے…
اور اب تو عاشق خود محبوب کا گھر بنا رہا ہے… بیٹا بھی اس کے ساتھ ہے… اور پھر جنت
سے دو پتھر لائے گئے… ایک کا نام حجر اسود پڑا… اور دوسرے کا نام مقام ابراہیم
رکھا گیا… اللہ اکبر کبیرا… حج کے دن قریب آرہے ہیں… خوش نصیب
مسلمان اللہ پاک کے گھر کی طرف دوڑ دوڑ کر جارہے ہیں… سعدی
فقیر کو وہ عاشق یاد آگیا… جس کے عشق کی اداؤں کو اللہ تعالیٰ نے زندہ رکھا… ہاں کروڑوں درود و سلام
ہوں حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام پر… اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ
السلام پر… ان دونوں نے کعبۃ اللہ کی تعمیر کی… اور قرآن پاک نے ان کی اس تعمیر
کا نقشہ کھینچا… سورۃ البقرۃ… اور سورۃ الحج میں ملاحظہ فرمالیجئے…
حج
اسلام کے محکم اور قطعی فرائض میں سے ایک فریضہ ہے… یہ زندگی میں ایک بار فرض ہوتا
ہے… جب اس کی شرائط پائی جائیں… اور سال میں ایک مرتبہ ادا ہوتا ہے… جس مسلمان کا
حج قبول ہوجائے اس کے تمام گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں… اور حاجی اللہ تعالیٰ کے مہمان ہوتے ہیں… حج کے اس فریضے
کی جہاد کے فریضے کے ساتھ بہت مشابہت ہے… شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ… اور دیگر حضرات نے اسے تفصیل سے
بیان فرمایا ہے… جہاد کی طرح حج میں بھی ہجرت ہے… جہاد کی طرح حج میں بھی مال کی
قربانی ہے… جہاد کی طرح حج میں بھی بھاگ دوڑ اور تھکاوٹ ہے… جہاد کی طرح حج میں
بھی دشمنوں کو مارنا ہے… جہاد کی طرح حج میں بھی خون بہانا ہے… جہاد کی طرح حج میں
بھی محبوب کی خاطر سب کچھ چھوڑنا ہے… اور بھی بہت سی مشابہتیں ان دونوں فریضوں کے
درمیان ہیں… اللہ تعالیٰ کی قدرت دیکھیں کہ… جہاد نے حج کا راستہ
صاف کیا… کعبۃ اللہ مشرکوں کے قبضے میں تھا… جہاد نے اسے آزاد
کرایا… تب حج فرض ہوا اور اس کا راستہ صاف ہوا… اور پھر حج نے جہاد کو ترقی دی…
مسلمانوں کے خلفاء حج میں حاضر ہوتے تھے… اور حج کے فوراً بعد اسلامی لشکروں کو
ترتیب دے کر دنیا بھر کے محاذوں کی طرف بھیجتے تھے…
ابھی
کچھ عرصہ پہلے مجاہدین کے ایک امام شیخ احمد یٰسین شہیدؒ… حج کے موقع پر منیٰ میں
ایک بڑے مجمع سے خطاب کر رہے تھے… میں نے وہ تصویر دیکھی تو مجھے حج اور جہاد کا
پرانا اور لا زوال تعلق یاد آگیا… امت مسلمہ کے حکماء نے فریضہ حج کی عجیب عجیب
حکمتیں بیان کی ہیں… بعض کا کہنا ہے کہ … حج عشق والی عبادت ہے… ایک بندۂ مومن
کو… اللہ تعالیٰ سے جو سچا عشق ہے حج اسی کے اظہار کا
ذریعہ ہے… گھر چھوڑ نا، کپڑے اتار کر دو کفن نما چادریں پہن لینا… میلا کچیلا
رہنا… ناخن نہ کاٹنا… جمرات پر پتھر برسانا… محبوب کے گھر کے گرد دیوانہ وار چکر
کاٹنا… اس گھر کے ایک کونے کو چومنا… اس کی بعض دیواروں سے بچوں کی طرح چمٹنا اور
لپٹنا… صفاء مروہ کے درمیان دوڑنا… محبوب کی خاطر جانور اور بال قربان کرنا… الغرض
ایک سچا عاشق جو کچھ کرتا ہے… حج میں وہ سب کچھ موجود ہے… لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ…
میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں… کئی دن تک یہی پکار صبح شام اور ہر آن… لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ…
اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ… اسی لیے استاذ محترم حضرت مولانا محمد ادریس صاحب میرٹھیؒ
فرمایا کرتے تھے… بابا! حج پیسوں سے نہیں شوق سے نصیب ہوتا ہے… حضرت مولاناؒ نے
غالباً تئیس یا اس سے زیادہ حج ادا کیے تھے… ایک دن جب وہ ہمیں تفسیر جلالین کا
سبق پڑھا رہے تھے… حج کا تذکرہ کرکے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے… اور فرمایا تم لوگ
سمجھتے ہو حج پیسوں سے ہوتا ہے… نہیں بابا! حج تو سچے شوق سے نصیب ہوتا ہے… اور
میں تمہارے اندر یہ شوق نہیں دیکھ رہا… حضرت کے عشق نے پوری جماعت میں… اللہ تعالیٰ کے گھر کے شوق کی آگ لگا دی… کئی طلبہ
آبدیدہ ہوگئے… سبق کے بعد حضرت باہر نکلے تو میں نے عرض کیا… حضرت آج دل میں سچا
شوق پیدا ہوگیا ہے آپ دعاء فرمادیں… حضرت نے جلال کے ساتھ فرمایا… جب شوق پیدا
ہوگیا ہے تو ضرور جاؤ گے… اس بات کو چند ماہ ہی گزرے تھے کہ… مجھ جیسا غریب
طالبعلم احرام باندھ کر… لَبَّیْکَ اَللّٰہمَّ لَبَّیْکَ پکارتا ہوا حرمین کی طرف
دوڑ رہا تھا… بعد میں ہم نے جب بھی حضرتؒ کی اس بات پر غور کیا… تو اس کی حقیقت
مزید واضح ہوتی چلی گئی… لوگ شادیوں پر کتنا مال خرچ کرتے ہیں؟… مکانوں اور دکانوں
کی خواہش پر کتنا مال اینٹوں اور پتھروں کو کھلا دیا جاتا ہے؟… مگرحج کی طرف توجہ
نہیں جاتی… اور جس کو اللہ پاک اپنے گھر کا پتہ بتا دیتا ہے… اور شوق عطاء
فرمادیتا ہے تو غریب سے غریب انسان بھی وہاں پہنچ جاتے ہیں… بات یہ عرض ہورہی تھی
کہ… علماء اور حکماء نے فریضۂ حج کی بہت سی حکمتیں بیان کی ہیں … اس مختصر سے
مضمون میں ان سب کا احاطہ تو ممکن نہیں ہے… ایک حکمت یہ عرض کردی کہ اس میں مؤمن
کی ’’شانِ عشق‘‘ کا اظہار ہے… اور ایک حکمت یہ ہے کہ… مسلمان فریضۂ حج کو زندہ
کرکے… یہ پیغام دیتے ہیں کہ… ہمارا تعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ہے… ہم
انہیں کی ملت میں سے ہیں… اور ہم انہیں کے طریقے پر قائم ہیں… ہم نہ مشرک ہیں نہ
یہودی… ہم نہ ستارہ پرست ہیں نہ عیسائی… ہم نہ بتوں کے سامنے جھکنے والے ہیں… اور
نہ ظالم حکمرانوں کے سامنے… ہم ’’ایک‘‘ کے ہیں… صرف ’’ایک‘‘ کے… اور ہم سے دین کے
بارے میں… کسی طرح کی مداہنت اور غداری کا تصور بھی نہ کرو… ہم ابراہیم حنیف کے
بیٹے ہیں… اور ہم خود بھی ’’حنیف‘‘ ہیں… ہم نہ دنیا کی چمک پر گرتے ہیں… اور نہ
موت کی آگ سے ڈرتے ہیں… اللہ تعالیٰ کی
خاطر وطن چھوڑنا… بیوی بچے چھوڑنا… اور جان ومال کی قربانی دینا ہمارا محبوب کام
ہے… ہم ایک گھر کے ہیں… اس گھر کے سوا کسی طرف اپنا رخ نہیں پھیرتے… قیصر کے محلات
ہوں یا کسریٰ کے کنگرے… وائٹ ہاؤس کا رعب ہو… یا بیکھنگم پیلس کی چمک… ہم ان میں
سے کسی کو خاطر میں نہیں لاتے… آج جبکہ پوری دنیا کا کفر مسلمانوں کو دین سے
ہٹانے کے لئے… کبھی مال کی چمک دکھاتا ہے تو کبھی ایٹم بموں… اور بمباری کی آگ سے
ڈراتا ہے… ان حالات میں آٹھ ذوالحجہ کے دن تیس لاکھ سے زائد مسلمان… ایک جیسا
لباس پہن کر… ننگے سر اللہ تعالیٰ کی طرف…
اس سال بھی… لَبَّیْکَ اَللّٰہمَّ لَبَّیْکَ کہتے ہوئے دوڑ رہے ہوں گے… اور
اعلان کر رہے ہوں گے… اے بش! ہم سے مایوس ہوجا… اے ٹونی اپنے پونڈ سنبھال رکھ… ہم
کبھی تمہارے غلام نہیں ہوسکتے… ہم ایک اللہ کے
ہیں… دیکھو ہم ’’حنیف‘‘ ہیں… ہم ’’حنیف‘‘ ہیں… لَبَّیْکَ اَللّٰہمَّ لَبَّیْکَ …
لَبَّیْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ … اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ
وَالْمُلْکَ… لَاشَرِیْکَ لَکَ…
اللہ تعالیٰ ان کو بھی بلالے … جو جانے کے لئے تڑپ
رہے ہیں… مگر جا نہیں سکتے…
…آمین
یا ارحم الراحمین…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے جب کرکٹ کے مشہور کھلاڑی ’’یوسف
یوحنّا‘‘ کو… ہدایت عطاء فرمائی تو دل کو اتنی خوشی ہوئی جو بیان سے باہر ہے… پھر اللہ تعالیٰ نے مزید فضل فرمایا کہ ’’محمد یوسف‘‘ نے
باقاعدہ نماز شروع کردی… اور اپنے چہرے پر ’’سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کا نور سجا لیا… دراصل اسلام کا
پورا فائدہ تبھی ہوتا ہے جب کوئی انسان… پورا مسلمان بن جائے… اور اسلام کو اپنے
دل وجان میں اتارلے… تب اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں… اور اسے اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت یعنی ’’ایمان‘‘ نصیب
ہوجاتا ہے… ملاحظہ فرمائیے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دو حدیثیں… ان کے بعد ہم عرض
کریں گے کہ کیا اب کرکٹ کوئی مقدس کھیل بن گیا ہے؟…
پہلی
حدیث
امام
مسلمؒ اپنی سند کے ساتھ حضرت عمرو بن العاص ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ… حضرت عمرو بن
العاصؓ نے فرمایا: جب اللہ پاک نے اسلام قبول کرنے کا خیال میرے دل میں
ڈالا تو میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض
کیا، آپ اپنا ہاتھ بڑھائیے تاکہ میں آپ سے بیعت کروں، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ آگے فرمادیا۔ تب میں نے
اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عمرو! تمہیں کیا
ہوا؟ میں نے عرض کیا: میں (اسلام قبول کرنے سے پہلے) ایک شرط لگانا چاہتا ہوں۔ آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کیا شرط لگانا چاہتے
ہو؟ میں نے کہا: یہ شرط کہ میرے گناہ بخش دئے جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عمرو! کیا تمہیں
معلوم نہیں کہ اسلام قبول کرنا پچھلے سب گناہوں کو ختم کردیتا ہے اور ہجرت بھی
پچھلے گناہوں کو ختم کردیتی ہے اور حج بھی پچھلے گناہوں کو مٹادیتا ہے۔ (صحیح
مسلم)
دوسری
حدیث
امام
بخاریؒ نے سند کے ساتھ حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت کیا ہے وہ بیان فرماتے ہیں کہ
میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے کہ : جب بندہ
اسلام قبول کرلیتا ہے اور اس کا اسلام اچھا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی ان تمام برائیوں کو معاف فرمادیتا
ہے جو اس نے پہلے کی ہوتی ہیں… اور اسلام قبول کرنے کے بعد قانون یہ رہتا ہے کہ
ایک نیکی پر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ثواب دیا جاتا ہے اور ہر برائی پر ایک
برائی کا گناہ ہوتا ہے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اسے بھی معاف فرمادے۔ (بخاری)
صاحب
معارف الحدیث لکھتے ہیں:
اس
حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کے دین (اسلام) کو اپنا دین بنانے سے اور مسلمان
ہوجانے سے پچھلے گناہ معاف ہونے کی یہ شرط ہے کہ اسلام کا حسن بھی زندگی میں
آجائے یعنی اس کا قلب وباطن نور اسلام سے منور اور قالب وظاہر اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری سے مزین اور
آراستہ ہوجائے۔ ’’فحسن اسلامہ‘‘ کا یہی مطلب ہے۔ پس اگر کسی شخص کی زندگی اسلام
میں آجانے کے بعد بھی نورِ اسلام اور اسلام کے حسن سے خالی رہی اور اس کے ظاہر
وباطن پر اسلام کا رنگ نہیں چڑھا تو پچھلے سب گناہوں سے معافی کا یہ اعلان اس کے
لئے نہیں ہے۔ (معارف الحدیث ص۱۱۹ج۱)
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ یوسف کو اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت یعنی ’’ایمان‘‘ کی
توفیق ملی… اور پھر اسلام کے اچھے اثرات ان کے اعمال… اور شکل وصورت پر ظاہر ہوئے…
درخت کی جڑیں ٹھیک ہوں تو اس پر اچھی شاخیں… پھول پتے اور پھل ظاہر ہوتے ہیں…
ایمان اگرچہ ایک عقیدے اور اقرار کا نام ہے … مگر اس کی بہت سی شاخیں بھی ہیں…
انہی شاخوں اور اعمال کے ذریعے ایمان کی تکمیل ہوتی ہے … اور انسان پر اس کا رنگ
چڑھتا ہے… ہمارے ملک پر آج کل ایک ’’عذاب‘‘ مسلط ہے… اور روشن خیالی کے ناپاک
بھوت نے ملک کو گندا کیا ہوا ہے… اس لیے ہمارے حکمرانوں نے محمد یوسف کے مسلمان
ہونے پر نہ تو خوشی کا اظہار کیا… اور نہ انہیں مبارکباد دی… البتہ انہوں نے
کھلاڑیوں کے باجماعت نماز پڑھنے پر… اپنی تکلیف کا اظہار ضرور کیا کہ … اس کی وجہ
سے پاکستان عالمی برادری کی نظر میں بدنام ہورہا ہے… اور اس کا امیج خراب ہو رہا
ہے… یقینی بات ہے کہ ’’محمدیوسف‘‘ نے حکمرانوں کی خوشی اور شاباش کے لئے اسلام
قبول نہیں کیا… انہوں نے تو اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے اور اپنی زندگی اور آخرت
کامیاب بنانے کے لئے اسلام قبول کیا ہے… اس لیے حکمرانوں کی مبارکباد کی انہیں
کوئی ضرورت نہیں ہے… اسلام میں نئے اور پرانے مسلمان کی کوئی تفریق نہیں ہے… جو
شخص بھی سچے دل سے مسلمان ہوتا ہے وہ اسلامی برادری میں برابر کا درجہ پالیتا ہے…
مگر نئے مسلمان کے لئے بھی کچھ چیزیں ضروری ہوتی ہیں… پہلی چیز یہ کہ وہ اسلام کو
اچھی طرح سے سیکھے، سمجھے اور پہچانے… اور دوسری بات یہ کہ دنیا کی ظاہری کامیابی
یا دنیا کے ظاہری امتحان کو… اسلام کے حق ہونے کامعیار نہ بنائے… اسی طرح اس کے
لئے یہ بھی ضروری ہے کہ… وہ اپنے غیر مسلم رشتہ داروں سے تعلقات میں اسلامی
احکامات کو مدّنظر رکھے… ماضی میں کئی نومسلم حضرات کے ساتھ بڑے بڑے حادثات ہوچکے
ہیں … اور بعض سے تو شیطان نے بالآخر ایمان کی نعمت چھین ہی لی… یا اللہ رحم فرما… یا اللہ رحم فرما… ہمارے قارئین نے مقبوضہ کشمیر کے سابق
وزیر اعلیٰ فاروق عبد اللہ کا نام سنا
ہوگا… یہ خاندان شرک جیسے سب سے بڑے جرم اور گناہ سے تائب ہو کر مسلمان ہوا… مگر
دین کو اچھی طرح نہ سمجھنے کی وجہ سے… اور کافروں سے میل جول نہ چھوڑنے کی وجہ سے
شیطان نے اس خاندان کو الٹا پٹک دیا… آج فاروق عبد اللہ کے بیٹے نے ایک عیسائی لڑکی سے… اور اس کی بیٹی
نے ایک ہندو لڑکے سے شادی کرلی ہے… اور فاروق عبد اللہ خود بھی اکثر وبیشتر کفریہ کلمات بکتا رہتا ہے…
چند دن پہلے اس نے کہا کہ میں… اگلے جنم میں عورت بن کے پیدا ہونا چاہتا ہوں…
دراصل جو لوگ مسلمان ہوتے ہیں وہ شیطان کی پیٹھ میں چھرا گھونپتے ہیں… تب شیطان
بھی ان کے خلاف پوری پلاننگ سے حملہ آور ہوتا ہے… اور اسلام قبول کرنے والے کے
کافر رشتہ دار بھی پورا زور لگاتے ہیں کہ کسی طرح… اسے واپس کافر بنادیں… یا کم از
کم پختہ مسلمان نہ بننے دیں… اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کے ایمان کی حفاظت فرمائے… خود
ہماری آنکھوں دیکھے واقعات بھی یہی بتاتے ہیں کہ… نومسلم حضرات کو شیطان دنیاداری
اور اپنے پرانے رشتے داروں کی محبت میں پھنسا کر اسلام سے دور کردیتاہے…
خیر
یہ ایک الگ موضوع ہے… اس وقت تو بات چل رہی ہے … ہمارے نئے مسلمان بھائی
’’محمدیوسف‘‘ کی… جنہوں نے حال ہی میں کرکٹ کے کئی نئے عالمی ریکارڈ قائم کرکے
دنیا کو حیرانی میں ڈال دیا ہے… اس موقع پر میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں… اپنے
اندر اس بات کی ہمت نہیں پا رہا کہ میں محمدیوسف کو ان کے ’’کرکٹی ریکارڈوں‘‘ پر
مبارکباد دوں… معذرت، بہت معذرت… بلکہ مجھے اس بات کا دکھ ہے کہ… داڑھی والے محمد
یوسف کو کرکٹ کھیلتا دیکھ کر… اب ہمارے نوجوان مسلمانوں نے کرکٹ کو بھی ایک مقدس
کھیل سمجھنا شروع کردیا ہے…
یہ
بات خطرناک بھی ہے اور اصلاح طلب بھی … آج اگر محمدیوسف کا سنچریاں بنانا اسلام
کا کمال بتایا جارہا ہے تو کیا کل … اس کے صفر پر آؤٹ ہونے کو بھی نعوذبا للہ
اسلام سے جوڑا جائے گا؟… اسلام کا کرکٹ سے کیا تعلق؟…
کرکٹ
ایک برا کھیل… اور فضول لہو ولعب والا گناہ ہے… اس کھیل نے مسلمانوں کو کافی
نقصانات پہنچائے ہیں… اور انہیں مفلوج قوم بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے… کرکٹ
میں مال کا اسراف ہے… کرکٹ میں وقت کی بربادی ہے… کرکٹ میں بے حیائی اور بے کاری
کا فروغ ہے… کرکٹ میں مسلمان نوجوانوں کی صلاحیتوں کا جنازہ ہے… اور کرکٹ میں جوا،
سٹہ اور قیمتی زندگی کی تباہی ہے… کیا مسلمان کا یہی کام ہے کہ وہ سارا دن ایک
گیند پھینکتا رہے… اس کو مارتا پیٹتا رہے… اس کے پیچھے بھاگتا رہے… اسے اپنی پتلون
پر رگڑتا رہے… اور قوم کا وقت اور کروڑوں کا سرمایہ برباد کرتا رہے… آج اگر
پاکستانی ٹیم ویسٹ انڈیز سے جیت گئی ہے تو کل یہی ٹیم… انڈیا میں ہار کر آئی تھی…
تو کیا نعوذبا للہ اسلام ہار گیا تھا؟… پاکستان ہار گیا تھا؟… داڑھی اور نماز نے
اثر نہیں دکھایا تھا؟… آج اگر محمد یوسف کے ریکارڈ داڑھی کی برکت سے ہیں تو کیا
سعیدانور کو نعوذبا للہ داڑھی لے ڈوبی؟… وہ پاکستان کا مشہور سلامی بلے باز تھا…
جب اللہ پاک نے اسے سچا مسلمان بنایا تو وہ ایک دن بھی
جم کر نہ کھیل سکا… تو کیا نعوذبا للہ داڑھی اور نماز نے اسے نقصان پہنچایا۔ وہ
کھیل جو ہزاروں مسلمانوں کی نمازیں برباد کرتا ہے… اور مسلمانوں کے قیمتی اوقات کو
تباہ کرتا ہے… اس کھیل کو اسلام کے ساتھ جوڑنا کسی بھی طرح زیب نہیں دیتا… آج اگر
ہم نے… محمدیوسف کی سنچریوں پر بغلیں بجائیں… اور قرآن پاک کی تلاوت چھوڑ کر
کمنٹری سننے میں اپنا وقت تباہ کیا تو… کل کوئی بھی منفی واقعہ برے لوگوں کی
زبانیں کھول دے گا… اور وہ کسی شکست کی ذمہ داری اسلام اور داڑھی پر ڈال دینگے…
مجھے یقین ہے کہ ’’محمدیوسف‘‘ جیسے جیسے اسلام سیکھتے جائیں گے اسی طرح انہیں کرکٹ
سے دوری اور نفرت ہوتی جائے گی کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے…
من
حسن اسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ
یعنی
آدمی کے اسلام کی خوبی اور حسن میں یہ بھی داخل ہے کہ وہ فضول اور غیر مفید کاموں
اور باتوں کو چھوڑدے۔ (ترمذی)
صاحب
معارف الحدیث اس روایت کی تشریح میں لکھتے ہیں:
انسان
اشرف المخلوقات ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو بہت قیمتی بنایا ہے اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ انسان کو وقت کا اور
صلاحیتوں کا جو سرمایہ دیا گیا ہے وہ اس کو بالکل ضائع نہ کرے بلکہ صحیح طور سے اس
کو استعمال کرکے زیادہ سے زیادہ ترقی اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرے۔ یہی دین
کی تمام تعلیمات کا حاصل اور لُبّ لباب ہے اور یہی ایمان واسلام کا مقصد ہے۔ اس
لیے جو خوش نصیب یہ چاہے کہ اس کو ایمان کا کمال حاصل ہو اور اس کے اسلام کے حسن
میں کوئی داغ دھبہ نہ ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ کھلے گناہوں اور بداخلاقیوں کے
علاوہ تمام فضول اور غیر مفید کاموں اور باتوں سے اپنے آپ کو بچائے رکھے، اور
اپنے وقت اور اپنی تمام خداداد قوتوں اور صلاحیتوں کو بس ان ہی کاموں میں لگائے جن
میں خیر اور منفعت کا کوئی پہلو ہو، یعنی معاد یا معاش کے لحاظ سے ضروری یا مفید
ہوں۔ یہی اس حدیث کا مطلب ہے۔ جو لوگ غفلت سے لا یعنی باتوں اور بے حاصل چیزوں میں
اپنا وقت اور قوتیں صرف کرتے ہیں وہ نادان جانتے نہیں کہ اللہ نے
ان کو کتنا قیمتی بنایا ہے اور وہ اپنے کیسے بیش بہا خزانہ کو مٹی میں ملاتے ہیں۔
اس حقیقت کو جس نے سمجھ لیا ہے بس وہی دانا اور عارف ہیں۔ (معارف الحدیث ص۱۴۶ج۱)
یقین
جانیں اسلام کی عزت یا بدنامی کا تعلق ان دنیا کی چیزوں سے ہر گز نہیں ہے… اللہ تعالیٰ نے اسلام کی بنیادوں کو مضبوط رکھنے کے
لئے… اپنے فرمانبردار ترین بندوں کو دنیا کی آزمائش میں مبتلا فرمایا… چنانچہ
حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ… سب سے زیادہ تکلیف انبیاء پر آتی ہے پھر ان پر جو ان کے
بعد اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہوتے ہیں… حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی دوڑ میں سب سے آگے نکل
جاتی تھی… تب اللہ تعالیٰ نے اسلام کی بنیادوں کو ان باتوں سے
بچانے کے لئے ایک بار اسے روک دیا… اور وہ ایک یہودی کی اونٹنی سے ہار گئی… بعض
صحابہ کرام کو غصہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سمجھایا کہ… ان معاملات میں
ہار جیت دنیا کے عام معمولات کا حصہ ہے… حضرات صحابہ کرام جب ایمان لائے تو انہیں
مال ودولت اور وطن سے محروم ہونا پڑا… اور اپنے باپ بھائیوں سے جنگیں کرنی پڑیں…
کرکٹ تو ایک نامراد اور برا کھیل ہے… کسی اچھے کھیل یا مقابلے میں بھی فتح وشکست…
اسلام کے حق وباطل ہونے کا معیار نہیں ہے… ہاں بعض صورتوں میں ان چیزوں سے اسلام
کو… بطور معجزہ یا کرامت فائدہ پہنچایا جاتا ہے… جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکانہ نامی ایک نامور پہلوان کو
کشتی میں تین بار پچھاڑا…
اس
وقت کرکٹ کا ماحول بہت تباہ شدہ ہے… تمام کھلاڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ’’مشہوری
ماڈل‘‘ ہیں… ان کے سینوں پر پیپسی کا بیج ہوتا ہے… کرکٹ میں سٹہ، جوا، بے حیائی…
اور مال کی حرص کا مکمل قبضہ ہے… کرکٹ کے تمام بڑے اور نامور کھلاڑی غیر مسلم ہیں…
کرکٹ کا چیمپئن بھی ایک غیر مسلم ملک ہے… کرکٹ سے کسی مسلمان کو ایک ذرہ برابر
اسلامی یا دینی فائدہ نہیں ہے… اس لیے براہ کرم… محمد یوسف کی محبت میں کرکٹ کو
مقدس کھیل سمجھ کر… اس میں اپنا وقت برباد نہ کریں… مجھے معلوم ہے کہ… کرکٹ کا
چسکہ نشے کی طرح بہت گہرے جراثیم رکھتا ہے… اچھے خاصے دیندار لوگ کمنٹری سننے میں
اپنا قیمتی وقت برباد کرتے ہیں… اور کئی سمجھدار لوگ بھی تازہ اسکور معلوم کرنے کے
لئے بے قرار رہتے ہیں… ان کا یہ عمل اپنی جگہ… مگر اس ظلم سے تو سب کو بچنا چاہئے
کہ… کرکٹ کو اسلام اور دین کے ساتھ جوڑنے کا گناہ کربیٹھیں… اور محمدیوسف کی بیٹنگ
کو ثواب سمجھ کر… ٹی وی کے سامنے باوضو جا بیٹھیں… اور صلوٰۃ الحاجۃ پڑھ کر فتح
وشکست کی دعائیں مانگیں… عراق کے فدائی اپنی جانیں نچھاور کر رہے ہیں… فلسطین میں
روزانہ بیس نوجوانوں کے جنازے اٹھتے ہیں… کشمیر میں روزانہ تیس مسلمان خون میں نہلا
کر دفنائے جاتے ہیں… افغانستان میں مسلمانوں کے اصل ہیرو اسلام کے لئے اپنے جسموں
کے چیتھڑے اڑا رہے ہیں… آپ ان سب کی خبریں زیادہ شوق سے ڈھونڈا کریں… اور ان کی
کامیابی کے لئے صلوٰۃ الحاجۃ پڑھا کریں… اور اپنی دعاؤں کو ان کرکٹ کھلاڑیوں پر
رسوا اور شرمندہ نہ کریں جو… رشوت لے کر میچ فکس کرلیتے ہیں… اور ٹی وی پر شراب کی
ماڈلنگ کرتے ہیں… کرکٹ ٹیم میں دینداری کا آنا ایک خوش آئند اقدام ہے… سناہے
فلموں کے کچھ اداکار بھی دیندار ہو رہے ہیں… اور کچھ پاپ سنگرز بھی اب توبہ تائب
ہو رہے ہیں… یہ سب کچھ بہت اچھا… مگر اس سے نہ تو کرکٹ مقدس ہوگئی ہے… اور نہ
فلمیں حلال ہوگئی ہیں… اور نہ میوزک اور موسیقی کو جواز کا فتویٰ مل گیا ہے… اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو سچا مسلمان بنائے… اور ہم
سب مسلمانوں کو گناہ کا ہر کام چھوڑنے کی توفیق عطاء فرمائے… ایمان کا ادنیٰ ترین
درجہ یہ ہے کہ برائی کو دل سے برا سمجھا جائے… جو ایمان کے اس درجے پر بھی نہیں ہے
وہ (نعوذباللہ ) ایمان سے بالکل محروم ہوسکتا ہے… کرکٹ اور اس کا ماحول بھی ایک
’’منکر‘‘ یعنی گناہ ہے… اور کچھ نہیں تو اسے دل سے ہی برا سمجھ لیں… اگر ہمارے
پیارے بھائی محمدیوسف کو کسی عقلمند نے یہ بتا دیا ہے کہ… دعوت کی نیت سے کرکٹ
کھیلتے رہو… تاکہ … دیندار طبقہ بھی کرکٹ کی لت میں مبتلا ہوجائے تو… محمدیوسف کو
چاہئے کہ… ایسا مشورہ نہ مانے… بلکہ… سارا دن ایک مسکین سی گیند کو مارنے پیٹنے کی
بجائے… یہی وقت قرآن پاک پڑھنے میں گزارے… اپنے رشتہ داروں تک اسلام کا پیغام
پہنچائے… دینی علوم سیکھے… اور اللہ تعالیٰ توفیق دے تو… اپنے مضبوط بازوؤں
سے ان کی پٹائی کرے جن کی پٹائی کرنے میں اجرہی اجر ہے… اور ثواب ہی ثواب…
(آخر
میں چند مبارک احادیث جن کا تعلق آج کے مضمون سے ہے)
(۱) ایمان
کے لئے ایک ضروری عمل
رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
جو
شخص اس حال میں مرا کہ نہ تو اس نے جہاد کیا اور نہ اپنے دل میں اس کی تمنا کی تو
وہ نفاق کی ایک صفت پرمرا۔(مسلم)
(۲) ظاہری
ترقی نافرمان کو بھی مل سکتی ہے
رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
تم
کسی نافرمان (کافر یا فاسق) کی کسی نعمت کی وجہ سے ہر گز اس پر رشک نہ کرنا۔ تم کو
معلوم نہیں ہے کہ مرنے کے بعد اس پر کیا کیا مصیبتیں پڑنے والی ہیں، اللہ تعالیٰ کے پاس اس کے لئے ایک ایسا قاتل ہے جس کو
کبھی موت نہیں۔ (یعنی جہنم) (پس ایسے جہنمی شخص پر رشک کرنا بہت بڑی غلطی ہے)۔
(شرح السنہ)
(۳) بعض
لوگ دنیا سے محروم مگر اللہ تعالیٰ کے مقرب
رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:
بہت
سے پراگندہ بالوں والے، گردوغبار میں اٹے ہوئے جن کو دروازوں پر دھکے دئیے جائیں
(وہ اللہ تعالیٰ کے ایسے مقرب ہوتے ہیںکہ) اگر وہ اللہ تعالیٰ پر کسی بات کی قسم کھا لیں تو ان کی قسم
کو اللہ تعالیٰ ضرور پورا فرمائے۔(صحیح مسلم)
اس
موضوع پر قرآنی آیات، احادیث رسول… اور تاریخی واقعات بہت ہیں… اسلام کا مجموعی
مزاج سمجھنے کے لئے انشاء اللہ … یہ تین
احادیث کافی ہیں!
ربنا
لا تزغ قلوبنا بعد اذ ہدیتنا
وہب
لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوہاب
آمین
یا ارحم الراحمین
٭٭٭
اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو خوشیوں والی عید نصیب
فرمائے… ذو الحجہ کا مبارک مہینہ شروع ہونے والا ہے… حجاج کرام کے قافلے بیت اللہ شریف کے گرد جمع ہو رہے ہیں… عید الاضحی کا دن
تیزی سے قریب آرہاہے… اور ہماری موت کا وقت بھی جلدی جلدی ہماری طرف بڑھ رہاہے…
ایک
صاحب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا… اے اللہ کے
نبی! لوگوں میں سب سے زیادہ عقلمند اور سمجھدار کون ہے؟… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اَکْثَرُہُمْ
ذِکْرًا لِّلْمَوْتِ وَاَکْثَرُہُمْ اِسْتِعْدَادًا اُوْلٰٓئِکَ الْاَکْیَاسُ
یعنی
لوگوں میں زیادہ عقلمند وہ ہے… جو موت کو زیادہ یاد رکھتا ہے… اور موت کے لئے
زیادہ سے زیادہ تیاری کرتا ہے…
پھر
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عجیب نکتہ بیان فرمایا :
ذَہَبُوْا
بِشَرَفِ الدُّنْیَا وَکَرَامَۃِ الْاٰخِرَۃِ
یعنی
جو لوگ موت کو زیادہ یاد رکھتے ہیں اور اس کی زیادہ تیاری کرتے ہیں… یہی لوگ دنیا
میں عزت پاتے ہیں اور آخرت کا اکرام بھی انہیں نصیب ہوتا ہے… معلوم ہوا کہ ’’موت
کی یاد‘‘ دنیا کی بہت سی بیماریوں اور ذلتوں کا علاج… اور دنیا کے بہت سے مسائل کا
حل ہے… اسی لیے حدیث پاک میں فرمایا گیا…
مَنْ
کَانَتْ نِیَّتُہٗ طَلَبَ الْاٰخِرَۃِ جَعَلَ اللہ غِنَاہُ فِیْ قَلْبِہٖ وَجَمَعَ لَہٗ شَمْلَہٗ
وَاَتَتْہُ الدُّنْیَا وَہِیَ رَاغِمَۃٌ وَمَنْ کَانَتْ نِیَّتُہٗ طَلَبَ
الدُّنْیَا جَعَلَ اللہ الْفَقْرَ بَیْنَ عَیْنَیْہٖ وَشَتَّتَ عَلَیْہِ
اَمْرَہٗ وَلاَ یَاْتِیْہٖ مِنْہَا اِلاَّ مَاکُتِبَ لَـہٗ (ترمذی)
یعنی
جس شخص کی نیت ’’آخرت کی طلب‘‘ کی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اس کے دل کو غنی فرما دیتے ہیں… اور اس
کی حالت کو درست فرمادیتے ہیں اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر ناک رگڑتی ہوئی آتی
ہے… اور جس شخص کی نیت دنیا کی طلب کی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اس کی پیشانی اور چہرے پر محتاجی کے
آثار ڈال دیتا ہے اور اس کی حالت پراگندہ کردیتا ہے، اور اسے دنیا اتنی ہی ملتی
ہے جتنی اس کے مقدر میں لکھی ہوتی ہے…
ہمارے
حضرت مفتی ولی حسن صاحب نور اللہ مرقدہ سے ایک شخص نے شکایت کی کہ میں ایک لڑکی
کے عشق میں پھنس چکا ہوں… اور اب زندگی بہت مشکل ہو چکی ہے… بہت کوشش کی، بہت
دعائیں مانگیں، بہت وظیفے کیے مگر جان نہیں چھوٹتی… اللہ کے
لئے میرا علاج فرمادیجئے… حضرت نے فرمایا موت کا مراقبہ کیا کرو … چند دن تو دل
نہیں لگے گا مگر کچھ دن پابندی سے کرنے کے بعد موت اپنے قریب محسوس ہوگی… تب
تمہارا علاج ہوجائے گا… اس شخص نے محنت کے ساتھ چند دن مراقبہ کیا تو اللہ پاک نے اسے ذلت اور رسوائی والی اس بیماری سے
نجات عطاء فرمادی… موت کا مراقبہ تھوڑا سا مشکل ہے… اور جو لوگ اس کا سچا مراقبہ
کرتے ہیں ان پر سے ہر طرح کی مالی تنگی ہٹالی جاتی ہے… اور زیادہ سامان، مکان ،
کپڑوں اور جائیداد کا شوق تو خود بخود دل سے نکل جاتا ہے… موت کا مراقبہ اس لیے
مشکل ہے کہ… ہم مرناہی نہیں چاہتے… اور ہمارے دلوں میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شوق بہت کم ہے… اور موت کا
مراقبہ اس لیے بھی مشکل ہے کہ… یہ مراقبہ انسان کو شیطان کے جال سے بچاتا ہے… اور
انسان کو حقیقی انسان بناتا ہے… کل ۱۰؍دسمبر کے دن
پوری دنیا میں انسانی حقوق کا دن منایا گیا… میں نے اخبارات میں… ظالم اور جابر
حکمرانوں کے عجیب وغریب بیانات پڑھے… اور تو اور افغانستان کا قاتل صدر کرزئی بھی…
تقریر کرتے ہوئے رو پڑا… کافروں کے ہاتھوں بکنے والے کرائے کے اس قاتل کو اگر موت
یاد ہوتی… اور وہ موت کی تیاری کی فکر رکھتا تو کبھی بھی امریکیوں کا آلہ کار نہ
بنتا… زندگی انسان کی مجبوری ہے اس کی خاطر انسان بکتا ہے، فروخت ہوتا ہے، ظلم
کرتا ہے، ذخیرہ اندوزی کرتا ہے، غفلت کرتا ہے… اور طرح طرح کے گناہ کرتا ہے… جبکہ
موت انسان کی نجات ہے… اس کی تیاری کرنے والے ہمیشہ دنیا کے اوپر رہتے ہیں… اور
دنیا ان کے نیچے اور پیچھے بھاگتی اور ذلیل ہوتی ہے… انسانی حقوق کا احترام بھی
وہی لوگ کرتے ہیں جن کو موت کا خیال ہوتا ہے… اور انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے
آگے جاکر اپنے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہے…
موت
کا مراقبہ کئی طرح کا ہے…مثلا… قرآن پاک کی ان آیات کو پڑھیں جن میں موت اور اس
کے منظر کو بیان کیا گیا ہے… اور پھر ان آیات کا یقین اپنے دل میں بٹھا کر سوچیں
کہ میں نے بھی بہت جلد مرجانا ہے… اور میں آج بھی مرسکتا ہوں… کیا میں نے آج
مرنے کی تیاری مکمل کی ہوئی ہے؟ کیا میں آج اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے قابل ہوں؟…
دوسرا
طریقہ یہ ہے کہ … باوضو آنکھیں بند کرکے موت کے تمام مراحل کا تصور کریں… جان نکل
رہی ہے… پہلے پاؤں سے نکلی پھر پنڈلیاں ٹھنڈی ہوئیں… اسی طرح گردن تک روح نکل
گئی… گھر والے رو رہے ہیں… سارا سامان یہاں رہ گیا… بہت کچھ بولنا تھا مگر زبان
نہیں چلتی… پھر لوگ اٹھا کر قبر میں ڈال آئے… اور واپس آگئے… اب اکیلی اور
اندھیری قبر ہے، فرشتوں کی پوچھ تاچھ ہے… اور تنہائی ہی تنہائی ہے… خوبصورت بدن گل
سڑ کر بدبودار ہو رہا ہے… برے اعمال ایک ایک کرکے سانپ اور بچھو کی شکل میں آرہے
ہیں… اب کوئی عمل نہیں بس بدلہ ہی بدلہ ہے… اچھے اعمال کا اچھا بدلہ اور برے اعمال
کا برا بدلہ…
موت
کے مراقبے کا تیسرا طریقہ جو قدرے آسان… اور زیادہ مؤثر ہے وہ یہ کہ کسی بھی
مستند کتاب میں سے روزانہ ان احادیث مبارکہ کو پڑھ لیا جائے جو موت، قبر اور آخرت
کے بارے میں آئی ہیں… اور ہفتے میں ایک دو بار ان احادیث مبارکہ کی کسی کے ساتھ
تعلیم… یعنی مذاکرہ بھی کرلیا جائے…
جبکہ
موت کے مراقبے کا چوتھا طریقہ یہ ہے کہ… سچے دل سے شہادت کی دعاء مانگیں اور پھر
شہادت کے راستے کو اختیار کرکے چل پڑیں… یہ طریقہ سب سے زیادہ مؤثر اور طاقتور ہے
اور اس طریقے کی برکت سے مکانات، کاریں، زمینیں اور کوٹھیاں تو درکنار… کپڑوں کے
تین جوڑے بھی اپنی ملکیت میں اچھے نہیں لگیں گے… اور انسان کا دل چاہے گا کہ… دنیا
کی ہر میل کچیل اس سے دور ہوجائے… میں نے یہ چار طریقے بطور مثال کے عرض کردئیے…
باقی جس کو جس طریقے سے موت اپنے اتنے نزدیک محسوس ہو کہ اسے دنیا کی لذتوں کا
خیال اس وقت بھول جائے… وہ اس طریقے کو اختیار کرے… کیونکہ یہ ہمارے سچے ہمدرد
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے… آپ نے اپنے بعض صحابہ
کرام کو زیادہ ہنستے دیکھا تو فرمایا… لذتوں کو دور کرنے والی چیز یعنی موت کو یاد
کرو… اس لیے چوبیس گھنٹے میں ایک بار موت کو اس طرح یاد کرنا کہ… اس وقت تمام
لذتیں فنا ہوجائیں اور موت دل کے قریب محسوس ہو انسان کے لئے ضروری عمل ہے… اللہ تعالیٰ مجھے بھی اس کی توفیق عطاء فرمائے اور
آپ سب کو بھی اگر ہم موت کو یاد نہیں رکھیں گے… اور اس کی تیاری نہیں کریں گے تب
بھی موت نے تو آنا ہے… وہ ہمارے اردگرد روزانہ آتی ہے ایک دن ہمارے پاس بھی
آجائے گی… اللہ کرے اچھی اور خوبصورت موت آئے… اللہم بارک لی
فی الموت وفیما بعد الموت…
مضمون
کے آغاز میں یہ بات عرض ہوئی تھی کہ عیدالاضحی کا دن قریب آرہا ہے… اب ہم نیکیوں
کے اس سیزن کو بھی اچھی طرح کمالیں تاکہ دنیا میں بھی خوشی نصیب ہو اور مرنے کے
بعد بھی مزہ آجائے تو اس کے لئے ایک مختصر سا نصاب عرضِ خدمت ہے…
آخرت
کے لئے نوٹ گن لیں
مالدار
مسلمانوں کو چاہئے کہ ابھی سے حساب کتاب کرلیں… اور سوچ لیں کہ اپنی آخرت کے لئے
میں نے کتنا مال خرچ کرنا ہے… ہو سکے تو چند نوٹ الگ کرکے رکھ لیں کہ میں ان سے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے زیادہ سے زیادہ قربانیاں
کروں گا… پھر اپنے گھر بھی قربانی کریں، شہداء کرام کے گھروں میں بھی بھجوائیں…
اور مجاہدین تک بھی اللہ تعالیٰ کی دعوت یعنی حلال گوشت بھجوانے کی کوشش
کریں… میرے بھائیو! اور بہنو! یہ سارا پیسہ یہاں رہ جائے گا… ابھی سے ایک لفافہ
الگ کرلو وہ بہت کام آئے گا… بہت کام آئے گا… ان شاء اللہ
غریب
حضرات مسئلہ پوچھ لیں
جو
مسلمان مرد اور عورتیں غریب ہیں وہ بھی اپنے مال اور زیورات کا حساب لگوا لیں… گھر
میں ضرورت سے زائد بھی بہت قیمتی قیمتی چیزیں ہوتی ہیں ان کو بھی ایک نظر دیکھ
لیں… قربانی بہت فضیلت والا عمل ہے… یہ ہمارے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی
سنت ہے… قربانیاں پل صراط پر کام آنے والی سواریاں ہیں… قربانی گناہوں کی معافی
کابہت بڑا ذریعہ ہے… اس لیے کسی مستند عالم دین سے پوچھ لیں کہ مجھ پر قربانی واجب
ہے یا نہیں… اگر وہ واجب بتادیں تو بالکل کوئی حرج نہیں کہ اپنے موبائل سیٹ کو بیچ
دیں… اللہ تعالیٰ اور عطاء فرما دے گا موبائل فون اور
زیورات بہت ہیں… جبکہ قربانی کا دن تو قسمت سے آتا ہے… اور اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں سے قربانی قبول فرماتا ہے…
چاند
پر نظر رکھیں
ذوالحجہ
کی پہلی دس راتیں بہت مبارک ہیں … اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ان راتوں کی قسم کھائی
ہے… ان راتوں میں کچھ نہ کچھ عبادت کا اہتمام کرنا چاہئے… اسی طرح ذوالحجہ کے پہلے
نو دنوں میں نفل روزے کی بھی کافی فضیلت آئی ہے… اور نو ذی الحجہ کا روزہ تو بہت
قیمتی ہے… اسی طرح ایک سنت یہ بھی ہے کہ جب ذوالحجہ کا چاند نظر آجائے تو وہ لوگ
اپنے بال اور ناخن وغیرہ نہ تراشیں جنہوں نے قربانی کرنی ہو… اسی طرح نو ذی الحجہ
کی فجر کی نماز کے بعد سے لے کر تیرہ ذی الحجہ کی عصر کی نماز تک… ہر فرض نماز کے
بعد تکبیر تشریق کا پڑھنا بھی واجب ہے…
الغرض
ذوالحجہ کا چاند اپنے ساتھ نیکیوں اور لذتوں کا ایک پورا پیکج لے کر آتا ہے اس
لیے پورے اہتمام سے چاند پر نظر رکھیں… اور جس رات چاند نکلنے کا اعلان ہوجائے اسی
رات سے اعمال شروع کردیں… ویسے بھی ہر اسلامی ہجری مہینے کے چاند پر نظر رکھا کریں
تاکہ… چاند کی پہلی رات ان مسنون دعاؤں کا لطف اٹھا سکیں… جن کی چاند دیکھنے پر
پڑھنے کی ترغیب آئی ہے… ذوالحجہ کے تمام اعمال معلوم کرنے کے لئے مکتبہ ابن مبارک
لاہور سے شائع شدہ کتاب ’’تحفۂ ذی الحجہ‘‘ کا مطالعہ فرمائیں…
چھریاں
تیز کروالیں
قربانی
اپنے ہاتھ سے ذبح کرنی چاہئے… اور اگر کسی اور سے کرائیں تو یہ بھی ٹھیک ہے… اس
لیے چھریاں تیز کرالیں تاکہ جانور کو راحت رہے… عید کے لئے اپنے کپڑے پاک صاف
دھلوا کر ابھی سے الگ رکھ لیں… ذوالحجہ شروع ہونے سے ایک دن پہلے اپنے ناخن تراش
لیں… مونچھیں ٹھیک کرلیں… اگر جانور کو اکرام کے ساتھ کھڑا کرنے اور کھلانے پلانے
کا انتظام ہو تو ابھی سے جانور خرید لیں… اور استطاعت ہو تو ’’الرحمت ٹرسٹ‘‘ والوں
کے پاس بھی قربانی کی رسید کٹوالیں… عید کی نماز کے لئے جلدی نکلیں اور پہلی صف
میں نماز ادا کریں… عید کے دن کی تمام سنتوں کو زندہ کریں… اور مجاہدین، شہداء
کرام اور امت مسلمہ کے لئے دعاؤں کا خاص اہتمام فرمائیں…
گھر
میں گتا لٹکادیں
ہماری
خواتین اکثر تکبیرات تشریق بھول جاتی ہیں… اس لیے نو ذی الحجہ سے پہلے والی رات…
ایک گتے پر یہ عبارت لکھ کر اس کمرے کی دیوار پر لٹکادیں جس میں خواتین نماز ادا
کرتی ہوں…
(
اللہ اَکْبَرْ اللہ اَکْبَرْ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ ، وَ اللہ اَکْبَرْ اللہ اَکْبَرْ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ… آج فجر کی نماز
کے بعد سے لے کر ۱۳ ذی
الحجہ کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد ایک بار آہستہ آواز سے تمام خواتین یہ
تکبیرات پڑھ لیا کریں…)
شکر
مولیٰ بے حد و بے حساب
آج
جب یہ مضمون لکھنا شروع کیا تو مجھے اطلاع ملی کہ… الحمد اللہ القلم کا یہ تازہ شمارہ… اس مبارک اخبار کا
سوواں شمارہ ہوگا…
الحمد
اللہ رب العالمین… الحمد اللہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات… اللہم لک الحمد کما
ینبغی لجلال وجہک وعظیم سلطانک۔ اللہم لا نحصی ثنائً علیک انت کما اثنیت علی نفسک۔
الحمد اللہ رب العالمین الرحمٰن الرحیم
قبل کل شیء والحمد اللہ بعد کل شیء والحمد
اللہ علی کل حال سبحان اللہ لم
یزل سبحان الحی القیوم یا ستار یا ستار برحمتک یا ارحم الراحمین…
یہ
اخبار اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر شروع کیا گیا تھا… یہ اخبار
محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے جاری کیا گیا تھا … اور یہ
اخبار اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہی چلتا رہا… اللہ تعالیٰ اسے ’’نظربد‘‘ اور ’’شربد‘‘سے اپنی حفاظت
میں رکھے…
ماشاء
اللہ لا قوۃ الا باللہ
اللہ تعالیٰ اسے مزید ترقی اور قبولیت عطاء فرمائے…
اور اسے ہم سب کے لئے صدقہ جاریہ اور ذخیرۂ آخرت بنائے…
دل
جب خوشی سے لبریز ہو تو قلم کے پھسلنے کا خطرہ ہوتا ہے… اس لیے شکر اور دعاء پر ہی
بس کرتا ہوں … اور اس اخبار کا حق ادا کرنے میں ہم سے جو کوتاہی رہ گئی ہے… اس پر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں…
سبحان
اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم وبحمدہ استغفر اللہ واتوب الیہ
وصلی
اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ
سیدنا
محمد والہ واصحابہ اجمعین۔
٭٭٭
اللہ تعالیٰ اہل پاکستان کو ۱۶دسمبر ۱۹۷۱ء
کے حادثے سے سبق حاصل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے… اتفاق سے آج بھی ۱۶ دسمبر
کا دن ہے اور پاکستان کے مسلمان… ڈھاکہ کے ساتھ ساتھ سری نگر کے سقوط کا رونا بھی
رو رہے ہیں… چند دن پہلے پاکستان کے فوجی صدر نے اعلان کیا کہ ہم کشمیر کی آزادی
نہیں چاہتے… پھر وزارت خارجہ کی ترجمان خاتون نے ارشاد فرمایا کہ کشمیر پاکستان کا
اٹوٹ انگ نہیں ہے… ان دو بیانات کے بعد سے اخبارات میں ایک شور برپا ہے… کئی کالم
نویس حضرات نے اچھے اچھے… اور درد بھرے کالم لکھے ہیں… اور بعض ابھی تک لکھ رہے
ہیں… اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر عطاء فرمائے… ہم نے
اس موضوع پر خاموشی اختیار کی… کیونکہ ہمارے لیے نہ تو صدر پاکستان کا بیان نیا ہے
اور نہ وزارت خارجہ کا شوشہ… پاکستان کی کشمیر پالیسی تو طالبان کی گردن پر چھری
چلانے کے ساتھ ہی تبدیل ہوگئی تھی… یہ تو کشمیر کی جہادی قیادت اور وہاں کے
مجاہدین کا حوصلہ ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح ’’تحریک ِ کشمیر‘‘ کی گاڑی چلا رہے ہیں…
انہوں نے بے پناہ قربانیاں دے کر… اور جان توڑ مشکلات سہہ کر ’’جہادِ کشمیر‘‘ کے
شعلوں کو بلند رکھا ہوا ہے… بعض کالم نویس حضرات تو اس موضوع پر ایک آدھ مضمون لکھ
کر اینٹھنے بھی لگے ہیں… اور انہوں نے حسبِ عادت خود کو غازی قرار دے کر مجاہدین
کے گریبان میں ہاتھ ڈال دیا ہے کہ… اس موقع پر وہ تنظیمیں اور جماعتیں کہاں گئیں
جو مجاہدین کو کشمیر بھجوایا کرتی تھیں… جناب والا! وہ تنظیمیں اور جماعتیں اب بھی
سری نگر سے کپواڑہ تک اپنے خون سے گلشنِ جہاد کو سینچ رہی ہیں… اور حالیہ بیانات
نے ان کے حوصلوں پر مایوسی کی راکھ نہیں ڈالی … آج ۱۶دسمبر کے دن یہ
موضوع چھڑ ہی گیا ہے تو آئیے… اس کو چند حقائق اور واقعات کی روشنی میں سمجھنے کی
کوشش کرتے ہیں…
ایک
شہر کی پرُاسرار کہانی
وہ
بدھ کا دن تھا… بہت ٹھنڈا بہت برفیلا… فروری کی نو تاریخ اور سال ۱۹۹۴ء
کا تھا… اس دن میں سری نگر ائیرپورٹ پر اترا تو ہر منظر دیکھ کر حیران رہ گیا…
جہاز جب ائیرپورٹ پر رُکا تو میں نے کھڑکی والے شیشے سے باہر جھانکا… ائیرپورٹ میں
ہر طرف فوج ہی فوج نظر آرہی تھی… مسلح اور ہوشیار فوجی اپنے بینکروں میں مستعد
کھڑے تھے… جہاز کی سیڑھی سے نیچے اترے تو سیڑھی کے دونوں جانب خفیہ اداروں کے
اہلکار ہر مسافر پر نظریں گاڑے گھُور رہے تھے… جیسے ہی ہم لاؤنج میں داخل ہوئے تو
یہاں بھی ریت کی بوریوں کے بینکر اور مورچے اور ان میں مسلح فوجی… ائیرپورٹ سے
باہر نکلے تو فوجی دستوں کی تعداد عام شہریوں سے زیادہ نظر آئی… ہر سڑک پر ہر چند
گز کے فاصلے پر بینکر اور مورچے… میں نے دنیا کے کئی جنگ زدہ علاقے دیکھے ہیں… اور
بارہا کرفیو کا منظر بھی دیکھا ہے مگر… سری نگر جتنی فوج میں نے کسی جگہ نہیں
دیکھی… ہر دس پندرہ فٹ کے فاصلے پر فوجی جوان مستعد کھڑے تھے… اور انہوں نے اپنی
رائفلیں زنجیر کے ذریعہ اپنی پیٹی (بیلٹ) سے باندھ رکھی تھیں… میں نے اپنے میزبان
سے اس کی وجہ پوچھی تو بتانے لگے کہ مجاہدین پستول کا فائر یا بٹ مار کر فوجی کو
گرا دیتے تھے اور اس کی گن لے بھاگتے تھے اس لیے اب ہر فوجی اپنی گن جسم سے باندھ
کر رکھتا ہے… شہر میں سفر کے دوران یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ ہر فوجی بینکر پر
خاکی رنگ کے جال ڈلے ہوئے تھے… جنگ کے دوران ایسے جال مورچوں کو کیموفلاج کرنے کے
لئے لگائے جاتے ہیں تاکہ… دشمن کا جہاز ان مورچوں کو نہ دیکھ سکے… میں نے میزبان
سے پوچھا کہ سری نگر پر کس کی بمباری کا خطرہ ہے؟… (پاکستان کے جہاز تو اب دوسرے
ملکوں پر بمباری نہیں کرتے)… انہوں نے بتایا کہ مجاہدین کے گرینیڈ حملوں سے حفاظت
کے لئے یہ جال ڈالے گئے ہیں… الغرض سری نگر کا ہر منظر حیرت کا ایک نیا باب تھا…
پھر ہماری گاڑی ایک گلی میں داخل ہوئی… اس گلی کے آغاز پر بھی مورچہ موجود تھا…
اسی گلی میں چند گز کے فاصلے پر وہ مکان تھا جہاں مجھے ٹھہرایا گیا… اس دن سری نگر
میں کڑا کے کی سردی پڑ رہی تھی… میرے میزبانوں نے مجھے کانپتا دیکھا تو ہر طرح کے
کپڑے مجھ پر ڈال دئیے اور کمرے کو بھی گرم کرنے لگے… میں کئی کمبلوں کے بوجھ میں
دبا یہی سوچ رہا تھا کہ مجاہدین سے ملاقات کیسے ہوگی؟… وہ اتنی سیکورٹی کے درمیان
سے گزر کر کس طرح سے یہاں پہنچیں گے؟… کیا ان کے پاس اسلحہ بھی ہوگا؟… مجاہدین اس
شہر میں کارروائیاں کس طرح سے کرتے ہیں؟… یہاں تو ہر سڑک، ہر راستہ، ہر گلی اور ہر
موڑ پر فوجیوں کے جتھے ہیں… ایک اندازے کے مطابق صرف سری نگر میں سیکورٹی دستوں کے
کم و بیش ایک لاکھ افراد موجود ہیں… کسی کو میری ان باتوں میں مبالغہ نظر آئے تو
وہ خود سری نگر دیکھ آئے… وہاں اب بھی تحریک جاری ہے… ممکن ہے کچھ عرصہ بعد حالات
بدل جائیں مگر ابھی تک… صورتحال جوں کی توں ہے… اور انڈیا اپنے ہزاروں فوجی مروا
کر… اور ایک لاکھ کشمیریوں کو شہید کرکے بھی کچھ حاصل نہیں کرسکا… اس وقت پاکستان
میں انڈیا کے کئی چہیتے لوگ بہت اونچی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں… آپ نے سری نگر
دیکھنا ہو تو ان سے ایک پرچی لکھوا لیں… تب انڈین سفارتخانہ آپ کو فوراً ویزہ
جاری کردے گا… لاہور کے نجم سیٹھی صاحب… پنجابی کانگریس کے فخرالزماں صاحب… کراچی
کے ایم کیو ایم والے… بعض پختون اور سرائیکی قوم پرست… آپ ان میں سے کسی سے پرچی
لے کر آسانی سے انڈیا جاسکتے ہیں… پہلے جو لوگ سری نگر جاتے تھے وہ جان پر کھیل
کر وہاں پہنچتے تھے… طرح طرح کے روپ بدل کر اور جذبۂ جہاد سے سرشار ہو کر… مگر اب
تو روشن خیالی کے راستے کھل گئے ہیں… اب جان سے نہیں ایمان سے ہاتھ دھونے والوں کو
وہاں کا ویزہ آسانی سے مل جاتا ہے… مجھے وزارت خارجہ کی ترجمان کے بیان سے تو ذرہ
برابر حیرت نہیں ہوئی… پاکستان کے روشن خیال بھوت چار سال سے ننگا ناچ رہے ہیں…
اور طالبان کے ساتھ ساتھ کشمیری مجاہدین کا خون بھی پی رہے ہیں… البتہ مجھے اس بات
پر کچھ حیرت ہوئی کہ… پاکستان کی وزارت خارجہ نے اپنے دوست انڈیا سے کشمیر میں اس
کے ہزاروں فوجی مارے جانے پر ہمدردی کا اظہار کیوں نہیں کیا… حالانکہ وزارت خارجہ
اور اس سے پہلے صدر پاکستان کے بیان سے چار باتیں تو ثابت کردی گئی ہیں (۱)کشمیر
پاکستان کا حصہ نہیں ہے (۲)کشمیری
بھی پاکستان کے نہیں ہیں (۳)انڈیا
پاکستان کا بہت گہرا دوست ہے (۴)من
موہن سنگھ بہت مخلص انسان ہیں… اب ان چار باتوں سے یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ…
گذشتہ سولہ سال میں پاکستان کے دشمن کشمیریوں نے … پاکستان کے دوست انڈیا کے
ہزاروں فوجی… اسلام اور پاکستان کے نام پر مار دئیے… چنانچہ اب پاکستان پر لازم ہے
کہ وہ… انڈیا کی حکومت اور مردار فوجیوں کے اہل خانہ سے تعزیت اور اظہار ہمدردی
کرے… دیکھیں آسمان کب یہ منظر بھی دیکھتا ہے… یہی آسمان آج سے پینتیس سال پہلے…
نوّے ہزار پاکستانی فوجیوں کو ڈھاکہ میں… انڈین فوج کے ساتھ ہتھیار ڈالتے … اور ان
کا قیدی بنتے پہلے ہی دیکھ چکا ہے… یہ آسمان ہماری ’’عزّت مندی‘‘ اور غیرت کے
ایسے مناظر دیکھنے کا عادی ہوچکا ہے…
عرض
کر رہا تھا کہ… میں سری نگر کے ایک گھر میں کمبلوں کے بوجھ تلے دبا یہ سوچ رہا تھا
کہ… مجاہدین کیسے آئیں گے؟… اور وہ اس شہر میں کارروائیاں کس طرح سے کرتے ہیں…
ظاہری طور پر اس کا امکان مجھے تو نظر نہیں آرہا تھا… مگر تھوڑی دیر بعد مجاہدین
کا تانتا بندھ گیا … پہلے امجد بلال… مگر اس کمانڈر نے اپنی ہیئت بدلی ہوئی تھی…
اس کے بعد… کمانڈر سجاد خان شہیدؒ کے حارسین… جن کے جسموں سے اسلحے کی جھنکار صاف
سنائی دے رہی تھی… خوب جوان، صحت مند، موٹے تازے، سرخ سفید، مضبوط… اور پرُنور
مجاہدین… وہ مجھ سے ملتے تو خوشی کی وجہ سے اور زیادہ سرخ ہوجاتے… اور ان کے چہروں
کا عزم اور حسن یہی بتاتا کہ … کشمیر انڈیا کا حصہ نہیں ہے…
ان
میں سے ہر ایک مکمل طور پر مسلح تھا… کلاشنکوف، پسٹل، وائرلیس، کئی زائد میگزین…
اور ڈھیروں گرینیڈ… سالہا سال سے بخاری شریف پڑھانے والے ایک شیخ الحدیث صاحب نے…
کشمیر میں ایک مجاہد کو جب اس پورے سامان کے ساتھ مسلح حالت میں دیکھا تو فرمانے
لگے… میرا ایمان آج مکمل ہوا ہے… اب یہ بات بتانے میں کوئی حرج نہیں کہ وہ گورا
چٹا، سنہری داڑھی والا کمانڈر صوبہ سرحد کے ضلع دیر سے تعلق رکھتا تھا… کیونکہ وہ
اب شہید ہوچکا ہے… اللہ تعالیٰ اس کے درجات بلند فرمائے… جہاد کشمیر کو
ایجنسیوں کا جہاد کہنے والے بھی کتنے ظالم ہیں… کاش وہ کشمیر کے کسی غازی کو لڑتا
یا کسی شہید کو مہکتا دیکھ لیتے تو اپنی زبان کو ضرور لگام دیتے… اچھے برے لوگ ہر
جگہ ہوتے ہیں… کعبہ شریف تک بھی بعض منافق پہنچ جاتے ہیں… مثبت منفی واقعات ہر
تحریک کے ساتھ چمٹے رہتے ہیں… مگر حقیقت بین نگاہیں… سب کچھ دیکھ لیتی ہیں… حارسین
کے بعد خود کمانڈر سجاد خان شہید ؒ بھی تشریف لے آئے… انہوں نے پستول باندھ رکھا
تھا… یہ پوری بات بتانے کا مقصد یہ ہے کہ … جہاد کشمیر بہت سخت جان ہے… اسی سری
نگر میں مجاہدین روزانہ کارروائیاں کرتے ہیں جس سری نگر کی سیکورٹی کا تذکرہ میں
نے ابھی کیا ہے… اسی سری نگر کے لال چوک میں ہر سال مجاہدین پاکستان کا پرچم
لہراتے ہیں… اسی سری نگر میں انڈین آرمی کی مایہ ناز چھاؤنی بادامی باغ کی فول
پروف سیکورٹی کو… ایک سولہ سال کے نوجوان آفاق شہیدؒ نے تہس نہس کردیا… اسی سری
نگر کی گلیوں میں غازی باباؒ کئی سال تک انڈین آرمی کے لئے ہیبت کا نشان بنے رہے…
ہتھیار ڈالنے کے عادی لوگوں کو کیا خبر… اور وزارت خارجہ والوں کو کیا پتہ کہ
کشمیر کی تحریک کیا ہے؟… اور اس تحریک کی گود میں کیسے کیسے حسین جوانوں کے ٹوٹے
ہوئے پھول جیسے لاشے پڑے ہیں…
کشمیر
سے پسپائی کا آغاز
ایک
بڑی دکان میں ڈاکو گھس آئے… دکان کے منیجر کے پاس ان سے لڑنے کا سامان اور افراد
وافر تعداد میں موجود تھے… مگر جب ایک موٹے ڈاکو نے اسے دھمکی دی تو منیجر ڈر گیا…
اس نے ڈاکو کی مطلوبہ تجوری اس کے حوالے کردی… دکان کے مالک اور ملازموں نے اس سے
کہا کہ تم نے بزدلی اور بے غیرتی کی ہے… یہ ڈاکو ہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تھے
… وہ تو پڑوس کی دکان پر ڈاکہ ڈالنے کے لئے یہ سارا ڈرامہ کر رہے تھے… اور تم نے
انہیں پڑوس پر ڈاکہ ڈالنے کے لئے اپنی دکان سے راستہ بھی دے دیا… جب لعنت ملامت کا
شور زیادہ ہوا تو منیجر نے سب کو جمع کرکے … اور ڈاکوؤں کی موجودگی میں ایک تقریر
کی… اس تقریر میں اس نے کہا… میں نے بہت سوچ سمجھ کر یہ قدم اٹھایا ہے… اور میں نے
ایک تجوری اور ساتھ والی دکان پر ڈاکے کا راستہ اس لیے دیا ہے … تاکہ … میرے دائیں
طرف جو الماری رکھی ہے وہ بچ جائے… اس میں بہت قیمتی مال ہے… اور وہ الماری بھی بچ
جائے جو میرے بائیں طرف رکھی ہے… اس میں تو بہت ہی قیمتی چیزیں ہیں… دکان والوں نے
جب یہ تقریر سنی تو دل پکڑ کر رہ گئے… وہ سمجھ گئے کہ اب کوئی الماری بھی نہیں بچے
گی… اور ہمارے اس منیجر نے ڈاکو کو تمام الماریاں خود ہی دکھا دی ہیں…
اب
آئیے ایک اور تقریر کی طرف… آج سے پانچ سال پہلے اکتوبر کی ایک نیم ٹھنڈی شام
ریڈیو پر ایک آواز سنی جا رہی تھی… میرے ہم وطنو! ہم نے پاکستان کے مفاد میں
امریکہ کو… افغانستان پر حملے میں تعاون (لاجسٹک سپورٹ) دینے کا فیصلہ کیا ہے… اور
اس میں پاکستان کے تین مفاد ہیں… (۱) ہماری
کشمیر پالیسی محفوظ رہے گی (۲)ہمارا
ایٹمی اثاثہ محفوظ رہے گا (۳)ہماری
معیشت مضبوط ہوگی… اسی دن عقل والوں نے کہہ دیا تھا کہ اب نہ … ایٹمی اثاثے بچیں
گے اور نہ کشمیر پالیسی… اور نہ ہی ہماری معیشت کو کچھ سہارا ملے گا… بلکہ… ہمارا
ملک داخلی انتشار میں مبتلا ہو کر کمزور سے کمزور تر ہوتا چلا جائے گا… آج پانچ
سال بعد صورتحال یہ ہے کہ… ہماری کرنسی بنگلہ دیش اور افغانستان کی کرنسی سے بھی
گر چکی ہے… ہمارا ایٹمی فخر بیمار اور نظر بند ہے… اور ہمارے ایٹمی اثاثے مسلسل
نگرانی میں ہیں… اور کشمیر پالیسی پر ہمارے حکمرانوں نے اپنا پستول جنرل من موہن
سنگھ کے قدموں میں ڈال دیا ہے… عجیب اتفاق ہے … ۱۹۷۱ء جس بھارتی جنرل
کے سامنے ہماری فوج نے ہتھیار ڈالے تھے وہ بھی سکھ تھا… اور جہلم سے تعلق رکھتا
تھا… اور اب کشمیر پالیسی کے ہتھیار بھی ایک سکھ اور سرزمین جہلم کے ایک سابق
فرزند من موہن سنگھ کے سامنے ڈالے جا رہے ہیں… راجہ انور صاحب کو چاہئے کہ وہ
بھارت اور جہلم کی اس شاندار فتح پر بھی ایک کالم لکھیں… جس طرح انہوں نے بھارتی
جنرل اروڑہ کی شان میں ایک کالم لکھا تھا…
سب
سے پہلے پاکستان
جس
دن سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ گونجا تھا… اسی دن اندازہ ہوگیا تھا کہ اب… کچھ بھی
نہیں بچے گا… صرف پاکستان بچ جائے گا… ظاہر بات ہے پورے ملک میں کسی بھی جگہ کا
نام پاکستان نہیں ہے… کشمیر کا نام کشمیر ہے… اس لیے کشمیر کے الگ ہونے سے پاکستان
کا کیا نقصان ہوگا؟… اس سے پہلے پاکستان کی خاطر بنگال کو الگ کیا گیا… وہ بھی
بنگال تھا پاکستان تو نہیں تھا… بلوچستان والوں کو خوب ستایا جارہا ہے… اگر وہ
دردِ سر بنے تو ان کو بھی الگ کردیں گے… کیونکہ وہ بلوچستان ہے پاکستان تو نہیں…
صدر کرزئی نے ظاہر شاہ کے اشارے پر امریکہ سے صوبہ سرحد مانگ لیا ہے کہ… یہ صوبہ
دراصل افغانستان کا ہے… اور افغانستان میں امریکہ کی حفاظت کے لئے اس صوبے کو
افغانستان کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے… امریکہ اگر اس بات پر راضی ہوگیا تو وہ رچرڈ
آرمٹیج کو دوبارہ بھیج دے گا… ظاہر بات ہے پاکستان کو بچانے کے لئے سرحد کا صوبہ
دینے میں کیا حرج ہوگا؟… سرحد تو سرحد ہے پاکستان تو نہیں… ادھر پنجابی کانگریس
والے ماضی کے کافرانہ رشتے ڈھونڈ کر واہگہ بارڈر توڑنے کی باتیں کر رہے ہیں… اگر
دونوں پنجاب ایک ہو جائیں اور من موہن سنگھ جیسے ’’مخلص‘‘ کے ہاتھوں میں چلے جائیں
تو یہ بھی ٹھیک ہے… کیونکہ پنجاب پنجاب ہے پاکستان تو نہیں… باقی رہ گیا کراچی اور
سندھ تو ایم کیو ایم … اور جئے سندھ تحریک والوں کا قارورہ بھی بھارت سے ملتا ہے…
اگر وہ لوگ الگ ’’جناح پور‘‘ بنالیں تو کیا حرج ہے؟… کراچی پاکستان تو نہیں ہے…
سبحان اللہ … ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کیا
خوب نعرہ ہے… ممکن ہے اٹک شہر میں کپڑے اتار کر ناچنے والا جوان بھی یہی نعرہ لگا
رہا ہو… کیونکہ اس نعرے نے مسلمانوں کے ملک پاکستان کو بے آبرو اور بے لباس کر
دیا ہے…
کٹے
ہوئے سر
عراق
اور افغانستان ہمیں سمجھا رہے ہیں کہ… جہادی تحریکوں کو ختم کرنا آسان کام نہیں
ہے… بے وفا حکومتیں جب مجاہدین کا تعاون چھوڑ دیتی ہیں تو… زمین کے اونچے پہاڑ اور
گھنے جنگلات مجاہدین کے لئے اپنا سینہ کھول دیتے ہیں… شہداء کا خون زندہ رہتا ہے…
اور اپنے مشن کی تکمیل کے لئے پکارتا ہے… ہم نے پانچ سال پہلے افغانستان کے آئندہ
حالات پر جب مضمون لکھا تھا … تو کئی لوگوں نے کہا کہ یہ ہمیں دھمکی دی جارہی ہے…
ہم حالات سنبھالنا جانتے ہیں… میں نے عرض کیا تھا کہ… دھمکی نہیں قرآن پاک کے
آئینے سے سمجھا ہوا ایک تجزیہ ہے… اور آپ حالات نہیں سنبھال سکیں گے… چنانچہ بعد
میں ایسا ہی ہوا… آج حکومت خود مذاکرات اور جرگوں کی بات کر رہی ہے… جبکہ اُس وقت
صرف گولی اور ہتھکڑی کی بات کی جاتی تھی… اب کشمیر کے بارے میں جو کچھ بھی کیا جا
رہا ہے وہ بھی مستقبل میں اچھے حالات کی خبر نہیں دے رہا… آئندہ کل کیا ہوگا یہ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے… مگر سچے مجاہد کبھی ہتھیار
نہیں ڈالا کرتے… وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ایسے ’’تسلیم‘‘ ہو چکے ہیں کہ
اب کسی اور کے سامنے تسلیم (سرنڈر) ہونے کا تصور بھی نہیں کرتے… اللہ تعالیٰ انہیں استقامت عطاء فرمائے… ابھی پانی ان
کی گردن تک پہنچا ہے… مگر جب پانی سر سے اونچا ہونے لگے گا تو بہت سے سر… اپنے
جسموں سے الگ ہو کر پانی کے اوپر آجائیں گے… اور ان کٹے ہوئے سروں سے بہنے والا
خون پانی کو سرخ کر دے گا…
مایوسی
گناہ ہے
جن
کے بچے جہاد کشمیر میں شہید ہوئے ہیں وہ مایوس نہ ہوں… ایمان کے بعد شہادت سب سے
بڑی نعمت ہے… اور شہادت کی قبولیت کے لئے فوری نتیجہ شرط نہیں ہے… ماضی کی کئی
مبارک تحریکیں ظاہری طور پر کوئی فوری نتیجہ نہ دے سکیں… شہداء بالاکوٹ بھی تو بے
کسی کے ساتھ شہید کردئیے گئے… مگر حضرت سید احمد شہیدؒ اور حضرت شاہ اسماعیل شہیدؒ
کا خون رائیگاں تو نہیں گیا… یہ خون آج بھی مہکتا ہے تو کئی دلوں میں ایمان وجہاد
کا نور چمک اٹھتا ہے… اس لیے شہداء کے ورثاء وزارت خارجہ کے ایک زنانہ بیان کو دل
کا بوجھ نہ بنائیں… وہ شکر کریں شکوہ نہیں… اور ’’لطف اللطیف‘‘ کتاب میں مذکور…
بارہ ہزار بار ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ والا عمل کرکے تحریک کشمیر کی
کامیابی کے لئے دعاء کریں… اسی طرح جہاد کشمیر کے مجاہدین، معاونین اور ہمدرد بھی
مایوس نہ ہوں… اس وقت عالم کفر کا مشترکہ پلان یہ ہے کہ… کسی طرح سے مجاہدین میں
مایوسی پھیلائی جائے… آپ نے سنا ہوگا … عراق اور افغانستان میں مار کھانے والے
اتحادی ممالک… اپنی فوجیں واپس بلانے کے لئے دور دور کی تاریخوں کا اعلان کر رہے
ہیں… کوئی ۲۰۰۹ء
بتا رہا ہے تو کوئی ۲۰۱۲ء
… تاکہ مسلمان مایوس ہو کر پسپا ہوجائیں… کہ اتنی لمبی جنگ ہم کیسے لڑیں گے… یہ
بیانات ’’پالیسی‘‘ نہیں بلکہ جنگی چال ہوتے ہیں… چند دن پہلے امریکی جنرل جان ابی
زید نے تیسری عالمی جنگ کی دھمکی دے کر… چوراہے پر کھڑے کالم نویس حسن نثارکے طوطے
اڑا دئیے… اس دن اتفاقاً بدقسمتی سے میں نے ’’چوراہا‘‘ کالم پڑھ لیا… قرآن پاک نے
سمجھایا ہے … جو شخص مسلمانوں میں گھس کر انہیں اپنے کافر یاروں سے ڈراتا ہے وہ
شیطان ہے… ارشاد باری تعالیٰ ہے:
انما
ذلکم الشیطان یخوف اولیائہ فلا تخافوہم وخافون ان کنتم مؤمنین (آل عمران۱۷۵)
یقین
کریں اس دن وہ کالم پڑھ کر مجھے یہی آیت یاد آئی… حسن نثار نے مسلمانوں کو اپنے
اس کالم میں اتنا ڈرایا… اتنا ڈرایا کہ یقینا کئی کمزور دل مسلمانوں کے دل بیٹھ
گئے ہوں گے… یہ کالم کیا ہے بزدلی کی چھوڑی ہوئی مکروہ ہوا ہے… اس میں مجاہدین کا
تذکرہ بدتمیزی کے ساتھ کیا گیا ہے… اور مسلمانوں کو اکسایاگیا ہے کہ وہ ان مجاہدین
سے تعلق چھوڑ دیں… ورنہ… امریکہ یہ بم مار دے گا… وہ بم مار دے گا… اور فلاں
ٹیکنالوجی استعمال کرے گا… اور ہم میں سے کوئی نہیں بچے گا… اور ابھی تک امریکہ نے
اصل بم تو مارے ہی نہیں ہیں… میرا دل چاہا کہ میں اس خوفزدہ شخص سے پوچھوں… امریکہ
نے اب تک تمہارے پسندیدہ بم کیوں نہیں مارے؟… کیا تم نے اسے روک رکھا ہے؟… اگر کل
وہ مار بھی دے گا تو ہر شخص نے اپنے وقت پر ہی مرنا ہے… لوگ بغیر بموں کے بھی تو
مرر ہے ہیں… تو کیا بموں کی موت سے بچنے کے لئے کافروں کے سامنے سجدہ کرنا جائز
ہے؟… مجھے حیرانی ہوتی ہے ان لوگوں پر… جو موت کے قرآنی فلسفے کو نہیں سمجھتے…
ارے زندگی چھوڑنا کسی کے لئے مشکل تھا تو وہ حضرات صحابہ کرامؓ تھے… کیونکہ ان کی
زندگی جنت کی طرح حسین تھی… انہیں آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے جام نصیب تھے… وہ صبح شام
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حسین صحبت میں جنت کے مزے لوٹتے
تھے… ان کی موت کا مطلب تھا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جدائی… مگر شہادت پانے کی خاطر وہ
اتنی حسین زندگی کو چھوڑنے کے لئے بے قرار رہتے تھے… جبکہ… ہماری زندگیوں میں رکھا
ہی کیا ہے؟… ہر طرف ظلم، پریشانیاں، بیماریاں… اور دھوکے بازی… صحابہ کرامؓ کے لئے
دنیا زیادہ حسین تھی کیونکہ آقا صلی اللہ
علیہ وسلم یہاں موجود تھے… جبکہ ہمارے لیے
آخرت زیادہ حسین ہے کیونکہ… ہماری سب سے محبوب ہستیاں تو وہاں ہیں… اور سب سے بڑھ
کر اللہ تعالیٰ سے ملاقات… مگر پھر بھی صحابہ کرامؓ
شہادت مانگتے تھے… اور ہم دنیا کی زندگی کی خاطر ہر جرم کرتے ہیں… جب مدینہ منورہ
میں کچھ منافقین نے حضرات صحابہ کرام ؓ کو ڈرایاکہ… جہاد میں نہ نکلو ورنہ
زمانے کے طاقتور کافر تمہیں مار دیں گے… تب قرآن پاک نے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا… ان سے کہہ دیجئے کہ تم تو
جہاد میں نہیں نکل رہے… تم اپنے آپ کو موت سے بچالو…
قل
فادرء وا عن انفسکم الموت ان کنتم صادقین۔ (اٰل عمران ۱۶۸)
میں
بھی ایٹمی حملے سے ڈرانے والوں سے یہی عرض کرتا ہوں کہ… آپ ساری زندگی بش اور
بلیئر کی پوجا کریں… بے شک آپ جہاد میں نہ نکلیں… بے شک آپ مجاہدین کی حمایت بھی
نہ کریں… بے شک آپ اپنے امن کی خاطر ہر چڑھتے سورج کو سجدہ کریں… مگر پھر بھی موت
آپ کو آدبوچے گی… جب صورتحال یہ ہے تو پھر موت سے بچنے کے لئے اپنے ایمان اور
اپنی آخرت کو کیوں برباد کیا جائے… اور کیوں نہ شہادت جیسی کامیابی کو اپنی
تمنابنایاجائے…
خلاصہ
اس گزارش کا یہ ہے کہ اس وقت جو بیانات آرہے ہیں وہ مسلمانوں میں مایوسی پھیلانے
کے لئے… جان بوجھ کر دئیے جارہے ہیں… اس لیے اپنے حوصلے کو بچائیں اور ہمت سے کام
لیں… تمام گناہوں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں… اور اس طرح کے بیانات
سن کر مایوس نہ ہوں… ہر اچھا کام اللہ تعالیٰ کی مدد سے پورا ہوتا ہے نہ کہ… مخلوق کے
تعاون سے…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو شاندار ماضی عطاء فرمایا
ہے… آج ماضی قریب کی چند ایمان افروز جھلکیاں یاد کرتے ہیں…
نہ
رکنے والا قافلہ
مکہ
کے مشرکوں نے کچھ مسلمانوں کو قید کر رکھا تھا… وہ انہیں مارتے تھے اور ستاتے تھے…
مار تو مکہ کے مسلمانوں کو پڑ رہی تھی جبکہ اُس کا درد… مدینہ منورہ میں آقا مدنی
صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچ رہا تھا… آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی اس درد سے تڑپتے
تھے… وہ آسمان کی طرف دعاء کی جھولی پھیلاتے تھے… اور زمین پر ان قیدیوں کو آزاد
کرانے کی تدبیریں بناتے تھے… بالآخر دعائیں قبول ہوئیں… تدبیریں کارگر ثابت
ہوئیں… اورتمام قیدی چھوٹ گئے… سوا چودہ سو سال پہلے کا یہ منظر… اسلام اور
مسلمانوں کا مزاج بن گیا… مسلمان اپنے قیدی بھائیوں کے بارے میں بہت حساس ہوگئے…
اور ان کی اس ’’حساسیت‘‘ نے تاریخ اسلام کے سینے کو فتوحات سے بھر دیا… آج سے
ٹھیک سات سال پہلے بالکل انہیں دنوں میں قندھار ائیرپورٹ پر… انڈیا کا ایک طیارہ
مجاہدین کے قبضے میں تھا… اور مطالبہ صرف ایک تھا کہ ہمارے مسلمان قیدی بھائیوں کو
رہا کرو… چودہ صدیاں پہلے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان قیدی چھڑانے کی جو مہم جاری
فرمائی تھی… وہ مہم ۱۹۹۹ء
میں بھی جاری نظر آرہی تھی… پانچ مجاہدین جن کو دنیا ’’ہائی جیکر‘‘ کہتی تھی…
آسمان کی طرف جھولی پھیلا کر بلک رہے تھے… یا اللہ ہمارے بھائیوں کو رہا فرمادے… اور یہی پانچ
مجاہد دشمنوں کی طرف اسلحہ لہرا کر گرج رہے تھے… او ظالمو! ہمارے بھائیوں کو رہا
کردو… حال کی کڑیاں ماضی کی سنہری زنجیر کے ساتھ مل رہی تھیں… قیدی چھڑانے والوں
میں… آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم… آپ کے صحابہ کرام خصوصاً حضرت ابو
جندلؓ، حضرت ابو بصیرؓ… پھر فاروق اعظم ؓ… پھر حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ… پھر محمد
بن قاسمؒ… معتصم ب اللہ ؒ… بے شک جس قافلے کے سالار خود آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم ہوں… وہ قافلہ چلتا ہی رہتا ہے… کبھی
نہیں رُکتا، کبھی نہیں رُکتا…
پانچ
بمقابلہ پچیس لاکھ
کشمیر
کی جہادی تحریک کے حوالے سے انڈیا نے بہت سے مسلمانوں کو قید کر رکھا ہے… ان
قیدیوں کو خوب مارا جاتا ہے… اور بے حد ستایا جاتا ہے… ان قیدیوں کی آہ وپکار جب
آزاد مسلمانوں تک پہنچتی ہے تو وہ روتے ہیں، تڑپتے ہیں… اور بلکتے ہیں… آج سے
سات سال پہلے چند نوجوانوں نے ارادہ کرلیا کہ ہم… اپنے قیدی بھائیوں کو چھڑائیں
گے… یہ چند نوجوان آپس میں مل بیٹھے… انہیں دنوں انڈیا میں قید ایک مسلمان نے
قیدیوں کے حالات پر ایک مضمون لکھ کر بھجوایا تھا… یہ چند نوجوان جن کا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مددگار نہیں تھا… اپنی
مجلسوں میں اس مضمون کو پڑھتے تھے اور ایک دوسرے کو سناتے تھے… ایک بار یہی مضمون
پڑھتے ہوئے غم کی وجہ سے ان کی چیخیں نکل گئیں… اور ان کے ذمہ دار پر بیہوشی طاری
ہوگئی… جموں کے عقوبت خانوں میں داڑھیوں پر پیشاب کیا جارہا ہے… ہائے ربا ہم زندہ
ہیں… آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کسی مسلمان قیدی کو
کافروں سے چھڑائے گا اس نے گویا کہ مجھے قید سے رہا کروایا (او کما قال) … مضمون
کی ایک ایک سطر بجلی بن کر ان کے خون اور آنسوؤں میں مچلتی رہی… تب انہوں نے ایک
حتمی فیصلہ کرلیا… جی ہاں مرنے کا فیصلہ… ہم جان دے دیں گے مگر یہ کام کرکے رہیں
گے… مسلمان جب مرنے کا فیصلہ کرلے تو وہ ایٹم بم سے زیادہ طاقتور ہوجاتا ہے… ان سب
نے موت کی بیعت کے لئے اپنا ہاتھ اپنے ذمہ دار کے ہاتھ پر رکھ دیا… بس پھر کیا
تھا… حالات کی برف پگھلنے لگی… یہ سب خالی ہاتھ تھے… اللہ پاک نے اسباب عطاء فرمادئیے… ان کے سامنے
اندھیرا تھا… اللہ پاک نے روشنی کا نور عطاء فرمادیا… آسمان نے
زمین کو جھانک کر دیکھا… محمد بن قاسم کا کردار محض ماضی کا افسانہ بننے سے محفوظ
رہا… آج کی مائیں اپنے بچوں کو جب پرانے قصے سناتی ہیں تو وہ پوچھتے ہیں… امی جان
اب ایسے مسلمان کیوں پیدا نہیں ہوتے… کیا معاذ ؓ اور معوذ ؓ صرف ماضی
کا کردار تھے؟… ایک بار چند بہت چھوٹے بچوں نے مجھ سے کہانی سنانے کی فرمائش کی…
میں نے تھوڑا سا سوچا اور پھر ان معصوم بچوں کو سات سال پہلے انڈین جہاز کے اغواء
کا قصہ سنانے لگا… معصوم بچے کھانا چھوڑ کر پورے انہماک سے سننے لگے… ان کی
آنکھیں چمک رہی تھیں… تب میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اے مالک! آپ کا عظیم
احسان کہ… آج بھی امت مسلمہ کے پاس کہنے اور سننے کے لئے بہت کچھ موجود ہے… چند
نوجوان انڈیا سے ٹکر لینے کا ارادہ کر چکے تھے… وہ انڈیا جس کے سیکورٹی دستوں کی
تعداد پچیس لاکھ کے لگ بھگ ہے… حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر اور اس کے سپاہی بھی عجیب
ہیں… پانچ افراد پچیس لاکھ سے ٹکرانے جا رہے ہیں… اور کہتے ہیں کہ ہم… ان کی قید
سے اپنے مسلمان بھائی چھڑا کر لائیں گے… اگر نہ چھڑا سکے تو جان ہی دے آئیں گے…
ایک ایٹمی طاقت، بری، بحری، فضائی فوج کے لاکھوں سپاہی… لاکھوں نیم فوجی دستے…
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت… اور دنیا میں اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ملک… وہ چند
افراد تھے… ان چند میں سے پانچ کا انتخاب ہوا… فتح یا شہادت… اللہ اکبر… سوا چودہ سو سال بعد بھی ایک قافلہ چل
پڑا… انہیں راہوں پر… جی ہاں پرانی راہوں پر…
سلام
ہو امت مسلمہ تیری عظمت کو… اور سلام ہو ان کو جو اپنی جانوں پرکھیل کر امت مسلمہ
کی لاج رکھتے ہیں…
ایک
جھگڑا اور قسمت کا قرعہ
اپنے
ماں باپ، بیوی بچوں… الغرض ہر چیز کو چھوڑ کر یہ پانچ مسلمان نیپال جا پہنچے…
انہوں نے سارا کام خود ہی کیا… اور پھر جہاز پر سوار ہونے کا دن مقرر ہوگیا… وہ
جہاز پر اسلحہ لے جانا چاہتے تھے… طے یہ پایا کہ ایک فرد سارا اسلحہ لے جائے گا…
اگر وہ بحفاظت گزر گیا تو باقی چار کو اطلاع کرے گا تب وہ بھی آجائیں گے… اور اگر
وہ پکڑا گیا تو باقی بچ جائیں گے… اب ہر ایک نے خود کو قربانی کے لئے پیش کردیا…
آج کے دانشور کو اللہ پاک کی رضا کے لئے جانوروں کی قربانی سمجھ نہیں
آرہی… مگر عشق کے دیوانے اپنی جان کی قربانی کے لئے ایک دوسرے سے آگے بڑھتے ہیں…
ان پانچ میں سے ہر ایک زور لگا رہا تھا… اور اپنے حق میں دلائل دے رہا تھا… پھر طے
پایا کہ ’’قرعہ اندازی‘‘ کرلیتے ہیں… قرعہ اندازی ہوئی اور ان کا نام نکل آیا جو
ان پانچ کے ’’امیر‘‘ تھے… اب یہ قافلہ پھر رو رہا ہے… سب اپنے امیر کی منتیں کر
رہے ہیں کہ آپ نہیں… مگر وہ ڈٹا ہوا ہے کہ اب تو میرا نام نکل آیا ہے… عاشقوں کا
یہ قافلہ دراصل ایمانی آنسوؤں کا قافلہ تھا… ان سب کی عمریں غفلت کے قہقہے لگانے
کی تھیں… مگر وہ ہر قدم پر رو رہے تھے… صرف ایک رب کی خاطر… صرف اپنے مقصد کی
خاطر… قرعہ کا فیصلہ درست نکلا… اسلحہ حفاظت سے جہاز میں پہنچ گیا… اور باقی چار
بھی جہاز پر سوار ہوگئے… دنیا کرسمس کی مستی میں تھی… زمانے کے ظالم اپنی طاقت کے
غرور کے ساتھ… اکیسویں صدی میں داخلے کا پروگرام بنا رہے تھے… اور ایک جہاز نیپال
کے ائیرپورٹ سے اڑ کر… کہیں جارہا تھا… دور بہت دور
پانچ
ایئرپورٹ
پائلٹ
نے چائے منگوائی تھی… ایئرہوسٹس نے چائے پیش کرنے کے لئے کاک پٹ کا دروازہ کھولا…
مگر چائے سے پہلے ایک نقاب پوش مجاہد پائلٹ کے سر پر جا پہنچا… شیروں جیسی ایک
گرج… اور ہاتھ میں گرینیڈ… پائلٹ پہلے ہی جھٹکے میں فرمانبردار بن گیا… جہاز کے
مسافروں نے ایک آواز سنی… ایک دراز قد نوجوان… اعلان کر رہا تھا… خواتین وحضرات
یہ جہاز ہائی جیک کرلیا گیا ہے… آپ آرام سے اپنی نشستوں پر بیٹھے رہیں… کنٹرول
ٹاور سے ہوتی ہوئی یہ خبر انڈیا کے ایوانوں سے ٹکرائی… ہر طرف ایک شور ایک
افراتفری… جہاز کھٹمنڈو سے اڑا تھا… پائلٹ نے چالاکی کی اور تیل ختم ہونے کا بہانہ
بنا کر… امرتسر ائیرپورٹ پر اس نے جہاز کو اتار لیا… بس پھر کیا تھا… جہاز کے ہر
طرف کالی وردیوں والے بلیک کیٹ کمانڈوز… خاکی وردی والے پولیس دستے… اور سبز وردی
والے فوجی سپاہی… اللہ تعالیٰ کے پانچ بندے… ہر طرف سے گھیر لیے گئے…
مگر انہیں کیا ڈر… فتح نہیں تو شہادت سہی… گھبراتا اور ڈرتا وہ ہے جس کا زندہ رہنے
کا ارادہ ہو… ادھر پائلٹ اپنی چالاکی پر مسرور… ادھر فوجیوں کے دستے اور گاڑیاں
جہاز کی طرف بڑھتے ہوئے… اللہ اکبرکبیرا… پائلٹ کو انتظار اس گولی کا جو جہاز
کا ٹائر اڑا دے… اور مجاہدین کو انتظار اس آسمانی نصرت کا جو جہاز کو دوبارہ اڑا
دے… پائلٹ کو انتظار اس گاڑی کا جو رن وے کا راستہ روک دے… اور مجاہدین کو انتظار
اس ’’نفحہ ربانیہ‘‘ کا جو ان کے لئے فتح کا راستہ کھول دے… مجاہدین نے جہاز کو
رکنے نہیں دیا… وہ اسے مسلسل گھماتے رہے اور پائلٹ کو گرج گرج کر دھمکاتے رہے… جب
ہر طرف ہزاروں مسلح فوجی پھیل گئے تو پھر… مجاہدین نے مرنے کا عزم کرلیا… انہوں نے
پائلٹ کو گرینیڈ پھاڑنے کی آخری دھمکی دی…اور گنتی شروع کردی… جیسے ہی الٹی گنتی
ایک تک پہنچے گی… تمام گرینیڈ پھٹ جائیں گے… گنتی کا ہر عدد پائلٹ پر کوڑے کی طرح
برس رہا تھا… وہ سمجھ چکا تھا کہ دھمکی کھوکھلی نہیں ہے … ابھی گنتی پوری نہیں
ہوئی تھی کہ اس نے جہاز اڑا دیا… پانچ مسلمان پچیس لاکھ فورسز کو شکست دے کر لاہور
ایئرپورٹ پر اترے… لاہور ائیرپورٹ کے کنٹرول ٹاور سے دھمکی دی گئی کہ… ہم میزائل
ماردیں گے… جواب آیا خوشی سے ماردو… لاہور سے تیل لے کر… جہاز دبئی جا اترا… یہاں
زخمیوں اور کمزوروں کو رہا کردیا گیا… پائلٹ نے جان بوجھ کر جہاز بہت زور سے زمین
پر اتارا تاکہ وہ خراب ہوجائے… مگر جہاز تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں تھا… پائلٹ نے ہاتھ جوڑ کر
مجاہدین سے کہا آپ لوگ انسان نہیں… کوئی بہت اونچی مخلوق ہیں… کیونکہ آپ پر غیبی
مدد آتے میں خود دیکھ رہا ہوں… دبئی سے جہاز کابل پہنچا… ایئرپورٹ حکام نے اسے
اترنے نہیں دیا اور رن وے کی لائٹیں بند کردیں… تب جہاز نے قندھار کا رخ کیا… اور
اس پانچویں ائیرپورٹ نے اپنا سینہ کھول دیا…
ہر
طرف سے امداد کے ٹرک روانہ
پانچ
مجاہدین اکیلے تھے… ان کے مقابلے میں پوری دنیا کا کفر تھا… مگر اچانک صورتحال بدل
گئی… اور ان پانچ مجاہدین کو ہر طرف سے امداد کے ٹرک پہنچنا شروع ہوگئے… دراصل ہوا
یہ کہ… پہلے پہل تو کسی کو پتہ ہی نہیں تھا کہ یہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے… خبروں میں
بھی قیاس آرائیاں زوروں پر تھیں… مگر جب مجاہدین نے پہلی بار انڈیا سے رابطہ کیا…
اور مسلمان قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تو ہر کسی کو صورتحال معلوم ہوگئی… بس
پھر کیا تھا… یار جلدی سے عمرے کا احرام باندھو… حرم شریف چل کر دعا کرتے ہیں کہ اللہ پاک ان مجاہدین کی مدد فرمائے… بھائی وضو کرو
جلدی مسجد نبوی شریف چلتے ہیں… چند مجاہدین نے طیارہ پکڑا ہے اللہ پاک ان کی نصرت فرمائے… نمازوں کے بعد مساجد میں
اعلان… امام صاحب دعاء فرمائیں اللہ تعالیٰ ان سرفروشوں کو کامیاب کرے… بوڑھی مائیں…
ربا ہمارے ان بچوں کو سرفراز فرما… میں ہزار رکعت نفل پڑھوں گی… ربا میں ایک مہینے
کے روزے رکھوں گی… یا اللہ میں ایک سو رکعت نوافل ادا کروں گی… جوان بہنیں…
یا ارحم الراحمین ہمارے بھائیوں کو فتح دے… میں سو روزے رکھوں گی… میں شرعی پردہ
شروع کردوں گی… میں صدقہ کروں گی… میں قرآن پاک کے اتنے ختم کروں گی… ہر طرف
دعائیں… ہر طرف مچلتے آنسو… داڑھی رکھنے کی نیتیں… ادھر رمضان المبارک کا آخری
عشرہ شروع ہوگیا… ہزاروں لاکھوں مسلمان اعتکاف میں جا بیٹھے… اور پھر سجدوں کے
آنسوؤں سے مصلے گیلے ہونے لگے… معتکف حضرات ہر گھنٹے بعد خبریں معلوم کر وا رہے
تھے… حرم شریف میں طواف اور عمرے جاری تھے… تراویح کے بعد اکثر لوگوں کی زبانوں پر
ایک ہی موضوع تھا…
الغرض…
پانچ افراد پہلے تنہا تھے مگر اب ان کے دامن میں بہت کچھ جمع ہوچکا تھا… دعاؤں
اور نیک تمناؤں کے ٹرک اور کنٹینر ہر طرف سے روانہ تھے… اور ادھر وہ قیدی جن کی
رہائی کے لئے یہ سب کچھ ہو رہا تھا… خوشی اور رنج کی کیفیت میں غوطے کھا رہے تھے…
اس کے بعد کیا ہوا… ابھی اس واقعہ کی کئی جھلکیاں باقی ہیں… اگر زندگی رہی اور
توفیق ملی تو انشاء اللہ پھر کبھی ان کا تذکرہ ہوگا… دسمبر کے آخر میں
حکمرانوں اور سیاستدانوں کے تکلیف دہ بیانات کی بھرمار ہے… اخبارات ہاتھ میں
اٹھاتے ہی دل رونے لگتا ہے… کفر اور سیکولرازم کی وکالت میں زبانیں قینچیوں کی طرح
چل رہی ہیں… اندھیرے کی اس گھٹن کو دور کرنے کے لئے دسمبر ہی کا ایک واقعہ عرض
کردیا ہے… اللہ تعالیٰ قبول فرمائے… ہمارے حضرت قاری محمد عرفان
صاحب نور اللہ مرقدہ فرمایا کرتے تھے… جب مجاہدین پر کوئی مشکل
آئے تو وہ اس واقعہ کو سامنے رکھ کر یوں دعاء کیا کریں… یا اللہ جس
طرح تو نے جہاز والے واقعہ میں مجاہدین کی نصرت فرمائی تھی… اسی طرح اب بھی ہماری
نصرت فرما… آمین یا ارحم الراحمین…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ان کو ’’شہداء‘‘ کا بلند مقام نصیب
فرمائے… آہ ! ملا اختر محمد عثمانی بھی شہید ہوگئے…
ان
اللہ وانا الیہ راجعون
اللّٰہم
لا تحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ…
بے
شک یہ دنیا فانی ہے… کیسے کیسے محبوب لوگ جدا ہوتے جارہے ہیں… ؎
اے
خدا باقی ہے تو، اپنی محبت دے مجھے
دیکھ
لی فانی ہے دنیا اس سے نفرت دے مجھے
تیرے
در کا ہو رہوں اب ایسی قسمت دے مجھے
چھوڑ
دوں دنیا کو بالکل ایسی ہمت دے مجھے
دیکھ
لی بس دیکھ لی یہ سخت بے بنیاد ہے
ملا
عثمانی کون تھے؟… ایک مؤمن، ایک سچے مسلمان… مہمان نواز اور بہادر جوان… خوبصورت،
خوب سیرت، سادہ مگر باوقار انسان… تحریک اسلامی طالبان کے مرکزی رہنما…
امیرالمؤمنین ملا محمد عمر مجاہد زید قدرہٗ کے وفادار ساتھی، قریبی معتمد اور بے
تکلف دوست… قندھار کی مرکزی فوجی چھاؤنی کے سابق سربراہ… مزار شریف کے سابق کور
کمانڈر… طالبان کی موجودہ مرکزی شوریٰ کے رکن… طالبان تحریک کی طرف سے قبائل کے
ذمہ دار… ایک مخلص، ذہین، معاملہ فہم اورنرم مزاج عالم دین… امریکہ اور اس کے
حواریوں کو مطلوب… مسلمانوں کے بے حد محبوب… اپنے نام کی طرح خوش مزاج… مضبوط
بھاری بدن… ابھرے ہوئے کندھے… ذہانت اور حیاء سے مخمور موٹی موٹی نشیلی آنکھیں…
ملاحت سے بھرپور گول چہرہ… غصے پر مسکراہٹ غالب… امریکہ اور اس کے اتحادی خوش ہیں
کہ مسلمانوں کا ایک ستون گر گیا… ایک مینارہ ٹوٹ گیا… ایک دلکش گنبد مسمار ہوگیا…
جبکہ اہل ایمان آزمائش کی اس گھڑی میں… اللہ تعالیٰ کو یاد کر رہے ہیں… اللہ اکبر کبیرا… ؎
ہے
یہ اے دل امتحان کا وقت رہ ثابت قدم
صبر
کر حق کی مشیت پر نہ ہر گز مار دم
سہہ
خوشی سے جو بھی پیش آئے تجھے رنج والم
یہ
نہیں رنج و الم اسکو سمجھ فضل وکرم
شکر
کر یہ خار غم بھی نشترِ فصّاد ہے
………
عیش
دنیا ہیچ ہے دنیائے فانی ہیچ ہے
ہیچ
ہے وہ چیز جو ہو آنی جانی ہیچ ہے
ذکر
فانی بھی عبث ہے یہ کہانی ہیچ ہے
جس
کا ہو انجام غم وہ شادمانی ہیچ ہے
عیش
میں ہے بس وہی، دنیا سے جو آزاد ہے
ملا
اختر محمد عثمانی ؒ… تحریک اسلامی طالبان کے بانیوں میں سے تھے… وہ تواضع کا
پیکر تھے… مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں رعب
بھی خوب عطاء فرمایا تھا… قندھار طالبان حکومت کا دار الخلافہ تھا… اور ملا عثمانی
اس قندھار کے نظامی کمانڈر تھے… امیرالمؤمنین کا طریقہ تھا کہ اپنے ذمہ داروں کے
عہدے اور منصب بدلتے رہتے تھے… انہوں نے ملا عثمانی کو مزار شریف بھیجا تو وہ اپنی
چادر کندھے پر ڈال کر فوراً روانہ ہوگئے… مگر کچھ عرصہ بعد ان کو واپس بلوا لیا
گیا… وہ اپنے امیر کی محبت، وفاداری اور دوستی میں اپنی مثال آپ تھے… امیر
المؤمنین ان سے مزاح بھی کرتے تھے اور کبھی کبھار زور آزمائی بھی… کشمیری
مجاہدین نے جب انڈیا کا طیارہ قندھار لا اتارا تو کابل کے طالبان حکام… سخت غیر
ملکی دباؤ کا شکار ہوئے… تب امیر المؤمنین نے اپنے یار عثمانی کو بلا کر یہ
معاملہ ان کے سپرد کردیا… ملا عثمانی نے فراست، سیاست اور تدبّر کا وہ منظر پیش
کیا کہ… دنیا کے نام نہاد مہذب حلقے حیران رہ گئے… آٹھ دن بعد مسئلہ حل ہوگیا…
اور ملا عثمانی کی عزت مند دستار میں کامیابی اور سعادت کا ایک نیا موتی جگمگانے
لگا… اس وقت بہت سے دوستوں نے انہیں ’’میزبان صاحب‘‘ کا پیارا نام دے دیا… اب
’’میزبان صاحب‘‘ کا لفظ زبان پر آتا ہے تو دل ایک جھٹکے کے ساتھ … چند آنسو آنکھوں
کی طرف دھکیل دیتا ہے… یقین نہیں آتا کہ ’’میزبان صاحب‘‘ بھی چلے گئے… خبر سننے
کے بعد انتظار تھا کہ ابھی تردید آجائے گی… ابھی وہ خود بول پڑیں گے… مگر ایسی
خبریں اکثر سچ ہی نکلا کرتی ہیں… جی ہاں یہ خبر اب یقینی ہوچکی ہے کہ… وہ ہنستا
مسکراتا، خوبصورت انسان بھی شہیدوں کے جھرمٹ میں گم ہوچکاہے…
اللہم
اجرنا فی مصیبتنا واخلف لنا خیرا منہا
امریکہ
اور نیٹو کے بم اسی لیے تو بنے تھے کہ اسلام سر نہ اٹھا سکے… مسلمان اپنے دین کو
نافذ نہ کرسکیں… اقوام متحدہ بھی اسی لیے بنی تھی کہ مسلمان ’’خلافت‘‘ قائم نہ
کرسکیں… نیٹو کا اتحاد بھی اسی لیے وجود میں آیا تھا کہ مسلمان ایک ’’امت‘‘ کے
طور پر دوبارہ کھڑے نہ ہوسکیں… آپ باریکی سے جائزہ لیجئے… آپ کو اسلام دشمنی کا
یہ جال اچھی طرح سے نظر آجائے گا… مگر اللہ تعالیٰ ’’غالب‘‘ ہے… اور امت مسلمہ بہت سخت جان
ہے… دنیا بھر کے کافرانہ معاشی نظام اور ظالمانہ فوجی نظام کے درمیان… شہداء کا
خون چمکا… اور افغانستان میں ’’امارت اسلامیہ‘‘ کا اعلان ہوگیا… اقوام متحدہ نے
طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا… او آئی سی نے طالبان کو اپنی رکنیت نہیں دی…
بیرونی امداد تو درکنار کوئی ملک قرضہ دینے… اور افغان سفارتخانہ استعمال کرنے کی
اجازت دینے کے لئے تیار نہ تھا… مگر اس کے باوجود سات سال تک یہ حکومت چلتی رہی…
حالانکہ تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ… ایسی حکومت تو چند ماہ بھی نہیں چل سکتی…
سات سال کے اس عرصے میں پوست کی کاشت پر پابندی لگادی گئی… جبکہ آج ساری دنیا مل
کر بھی پوست کی کاشت کو نہیں روک پا رہی… طالبان کے زمانے میں لوگوں سے اسلحہ لے
لیا گیا تھا… اور پورے ملک میں مثالی امن قائم ہوگیا تھا… جبکہ آج بدامنی ہی
افغانستان کی اصل حکمران ہے… کفر اور ظلم کی تیز ہواؤں کے درمیان طالبان ایک شمع
کی طرح… خود کو جلا کر روشنی پھیلا رہے تھے… تب دنیا بھر کے کفر نے ان پر حملہ
کردیا… امارت اسلامیہ ختم ہوگئی… مگر طالبان باقی رہے… اور آج پھر افغانستان کے
ایک قابل قدر حصے پر ان کی حکومت قائم ہے… وہ جہاد بھی کر رہے ہیں… اور عوام کی
خدمت بھی… وہ دین پر عمل بھی کر رہے ہیں… اورغیر ملکی غاصبوں کا مقابلہ بھی… وہ
زخمی بسمل کی طرح روز ایک نیازخم کھاتے ہیں مگر عجیب بات ہے کہ… ہر زخم کے ساتھ ہی
ان میں ایک نئی زندگی پیدا ہوجاتی ہے… ؎
آج
تو ہر وار پر اک تازہ دم بسمل میں ہے
دیکھنا
ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
طیارے
اڑ رہے ہیں، ٹینک گرج رہے ہیں… طوفانوں جیسی بمباری علاقوں کے علاقے ملیامیٹ کر
رہی ہے… ہیلی کاپٹر زہریلی گیس پھینک رہے ہیں… بکتر وزرہ بند فوجی اندھا دھند
فائرنگ کر رہے ہیں… انڈیا بھی مجاہدین کے خلاف ہتھیار بھیج رہا ہے… پاکستان والے
بھی طالبان کو پکڑ رہے ہیں… بحری بیڑوں سے تاک تاک کر میزائل مارے جارہے ہیں…
سیٹلائٹ سیارچے ایک ایک پتھر کی نگرانی کر رہے ہیں… مگر ان سب کے درمیان میں سے…
ہر دن ایک ’’طالب‘‘ سجدے سے سر اٹھاتا ہے … دعاء کے لئے ہاتھ پھیلاتا ہے… اور پھر
بارود سے بھری گاڑی میں بیٹھ کر نیٹو کے کسی فوجی دستے سے جا ٹکراتا ہے… ملا اختر
محمد عثمانی کے نصیب بھی اچھے تھے… وہ ایک اسلامی حکومت کے کار آمد عہدیدار رہے…
انہیں استقامت کا اجر بھی ملا… اور ہجرت اور جہاد کا بھی… اور پھر وہ ایک بھرپور
ایمانی زندگی گزار کر… اپنے حقیقی محبوب اور دوست کی طرف روانہ ہوگئے… ایسے ہی
لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ… عَاشَ سَعیدًا ومَاتَ شَہیدًا… یعنی زندگی
سعادت کی پائی… اور موت شہادت کی حاصل کی… گویا کہ مزے ہی مزے ہوگئے… ایسے لوگوں
کی ’’روانگی‘‘ کا منظر خواجہ شیراز یوں بیان کرتے ہیں ؎
بخت
ار مدد کند کشم رخت سوئے دوست
گیسوئے
حور گرد فشاند ز مفرشم
یعنی
اگر میرا نصیب مدد کرے اور میں دوست کی طرف روانہ ہوجاؤں تو حوروں کے بال میرے
فرش کی جگہ کو جھاڑ دیں…
حافظ
ؒ فرماتے ہیں… ؎
مژدہ
وصل تو کو کز سر جاں بر خیزم
طائر
قد سم واز دام جہاں بر خیزم
یعنی
تیری ملاقات کی خوشخبری کہاں ہے؟ تا کہ اس کی خاطر میں اپنی جان سے ہاتھ دھو لوں…
میں عالم قدس کا پرندہ ہوں اور دنیا کے جال سے نکل جاؤں…
ملا
عثمانی ؒ بھی عالم قدس کا پرندہ تھا… ان کے ساتھ راتیں گزارنے والوں نے
بتایا ہے کہ وہ رات کو اٹھ کر… کسی کی یاد میں رویا کرتے تھے اور دن کو قرآن پاک
ہاتھ میں لے کر… کسی کی باتوں کو دہرایا کرتے تھے… جی ہاں اللہ تعالیٰ کی یاد… اور اللہ تعالیٰ کی باتیں… یہی قرآن پاک تو ہے جس نے
طالبان کو کھڑا رکھا ہوا ہے… ورنہ ظاہری حالات تو بالکل موافق نہیں ہیں… لوگ
پوچھتے ہیں کہ… یہ لوگ امریکہ سے کب تک لڑیں گے؟… امریکہ بہت بڑی طاقت ہے… اگر
امریکہ چلا بھی گیا تو اس کی بمباری تو باقی رہے گی… طالبان اگر جیت بھی گئے تو ان
کو حکومت کون بنانے دے گا؟… اس حکومت کو کوئی بھی تسلیم نہیں کرے گا… دور سے
میزائل مار کر طالبان حکمرانوں کو ختم کردیا جائے گا… چھوٹے ایٹم بم استعمال کرکے
آدھے ملک کو جلا کر راکھ کردیا جائے گا… اسی طرح کے اور سوالات، ایسے ہی خدشات
اور اژدھوں جیسے خوفناک وسوسے…
انہیں
خدشات اور اندیشوں نے مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کو جہاد سے دور کردیا ہے… ماضی میں
جہاد کے حامی ایک دانشور کو امریکہ والوں نے اپنے ملک بلا کر اپنی طاقت دکھائی تو
وہ… کانپتے ہوئے واپس آئے اور فرمانے لگے… ہم جس دریا میں رہتے ہیں امریکہ اس
دریا کا مگرمچھ ہے… اس لیے اس سے لڑ کر ہم زندہ نہیں رہ سکتے… ماضی میں طالبان کے
کئی حامی اب طالبان کو ’’بے وقوف‘‘ سمجھ رہے ہیں… ہمارے ملک کی طاقتور فوج کا ہر
بڑا افسر بس ایک ہی بات کہتا ہے کہ… امریکہ سے لڑنا ناممکن ہے… اس لیے اس کی
فرمانبرداری کے علاوہ ہمارے پاس کوئی راستہ ہی نہیں ہے… یہ تمام باتیں بہت مضبوط
ہیں مگر … طالبان نے اپنی آنکھیں، اپنے کان اور اپنے دل قرآن پاک کے ساتھ جوڑ
رکھے ہیں… اسی لیے وہ کٹ کٹ کر اٹھ رہے ہیں… اور اٹھ اٹھ کر کٹ رہے ہیں… وہ کچھ نہ
پا کر بھی مطمئن ہیں… اور کچھ پا کر بھی بے آرام ہیں… ؎
حاصل
عشق یہی ہے کہ نہ ہو کچھ حاصل
اس
کو حاصل ہی نہ سمجھو کہ جو حاصل ہوجائے
قرآن
پاک ان کو نقشے دکھاتا ہے… نمرود، اس کا ملک ، فوج، لشکر بمقابلہ اکیلے حضرت
ابراہیم علیہ السلام… نتیجہ نمرود ختم ابراہیم علیہ السلام کامیاب… فرعون اس کا
ملک اور لشکر بمقابلہ حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام… نتیجہ بالکل
واضح… قوم عاد، قوم ثمود… حضرت نوح علیہ السلام کی عالمگیر قوم… اور پھر طوفان…
اکیلے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم… دوسری طرف پورے عالم کا کفر… قتل،
گرفتاری اور ملک بدری کے منصوبے … بھونڈا تشدّد… عجیب جنگیں… نتیجہ بالکل واضح… ہم
اگر قرآن پاک سے ہٹ کر دنیا کے حالات دیکھیں تو ہر طرف… امریکہ ہی امریکہ نظر
آتا ہے… اور اگر قرآن پاک کی رہنمائی میں حالات دیکھیں تو ہر طرف اللہ ہی
اللہ نظر آتا ہے… اور اب تو امریکہ کی بے بسی ظاہری
طور پر بھی صاف دکھلائے دینے لگی ہے… ملا اختر محمد عثمانی شہیدؒ بھی قرآن پاک سے
روشنی لیتے تھے… اور اپنی راتوں کو آباد رکھتے تھے… ایسے ہی لوگ عشق کے تقاضوں کو
بھی سمجھتے ہیں… اور عشق کی وسعت کو بھی پہچانتے ہیں… ؎
در
عاشقی گریز نباشد ز سوز و ساز
استادہ
ام چوں شمع مترساں ز آتشم
یعنی
عاشقی میں سوز و ساز کے سوا کوئی چارہ نہیں، میں شمع کی طرح کھڑا ہوں مجھے آگ سے
نہ ڈرا…
مجاہدین
پر اعتراضات کرنے والے لوگ… اپنے پیٹ، معدے اور مفادات کے غلام ہیں… ان کے دل میں
مسلمانوں کا درد نہیں ہے… اس لیے وہ کفر کی طاقت کا رونا رو کر… عشق کے تقاضوں سے
غافل ہوچکے ہیں… جگر ؒ فرماتے ہیں ؎
وہ
عشق کی وسعت کیا جانیں محدود ہے جن کی فکر و نظر
وہ
درد کی عظمت کیا سمجھیں بے درد جو انساں ہوتے ہیں
یہ
فیصلہ اپنے دل سے کر‘ ہونا ہے تجھے کس صف میں شریک
ہمدرد
بھی انساں ملتے ہیں بے درد بھی انساں ہوتے ہیں
اس
میں شک نہیں کہ اس وقت دنیا میں… مسلمانوں کے لئے کافی مشکلات ہیں… امریکہ اور اس
کے حواریوں کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے… مگر مایوسی کی کوئی بات نہیں… ایمان کا
دروازہ کھلا ہے… اسلام کا راستہ کھلا ہے… اور شہادت کا باغ بھی مہک رہا ہے… ملا
اختر محمد عثمانی ؒ بھی تو کافروں کو مطلوب تھے مگر وہ… ٹھاٹھ کے ساتھ جیتے
رہے اور جب وقت آیا تو شہادت کی چوٹی پر جا بیٹھے… اب کوئی ان کو نہیں پکڑ سکتا…
دنیا والے تو ابھی چاند تک پہنچے ہیں… جبکہ شہید کا گھر اور مقام تو چاند
کیاآسمانوں سے بھی بلند ہے … ہم ملا اختر محمد عثمانی ؒ سے محبت رکھتے تھے…
اور اب اس محبت میں اور بھی اضافہ ہوگیا ہے… اور یہی محبت ہمیں مجبور کرتی ہے کہ…
ہم ان کے ایصال ثواب کے لئے تلاوت کر رہے ہیں… دعائیں کر رہے ہیں… ان کی یاد میں
اشک اور جدائی کے آنسو بہارہے ہیں… سچے مسلمان تو دجال جیسے خوفناک فتنے میں بھی
ثابت قدم رہیں گے… تو پھر ہم موجودہ چھوٹے دجالوں سے ڈر کر اپنی زبان کیوں بند
کریں… ملا اختر محمد عثمانی شہیدؒ… اگر امریکہ کو مطلوب تھے تو ہوتے رہیں… ہمیں تو
وہ محبوب تھے… بہت محبوب… امریکہ نے اپنے مطلوب مجرم پر بم برسائے… تو ہم اپنے
محبوب مجاہد پر خراج تحسین کے پھول کیوں نہ نچھاور کریں… یا اللہ … یاارحم الراحمین! ہمارا محبت بھرا سلام
امت مسلمہ کے قابل رشک شہید… حضرت اقدس ملا اختر محمد عثمانی شہید تک پہنچادے…
السلام
علینا وعلی عباد اللہ الصالحین
آمین
یا رب الشہداء والمجاہدین
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:
یَوْمَئِذٍ
تُحَدِّثُ اَخْبَارَہَا (الزلزال۴)
یعنی
قیامت کے دن زمین اپنی خبریں بیان کردے گی… زمین اپنی کون سی خبریں بیان کرے گی؟
یہ بات حضرات صحابہ کرام سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھی…
اَتَدْرُوْنَ
مَا اَخْبَارُہَا؟
کیا
آپ لوگ جانتے ہیں کہ زمین کی خبریں کیا ہیں؟… حضرات صحابہ کرام نے عرض کیا:
اللہ وَرَسُوْلُــہٗ اَعْلَمُ
اللہ تعالیٰ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں… تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
فَاِنَّ
اَخْبَارَہَا اَنْ تَشْہَدَ عَلٰی کُلِّ عَبْدٍ اَوْ اَمَۃٍ بِمَا عَمِلَ عَلٰی
ظَہْرِہَا اَنْ تَقُوْلَ عَمِلَ عَلَیَّ کَذَا وَکَذَا یَوْمَ کَذَا وَکَذَا۔
(مسنداحمد ، ترمذی)
’’زمین
کی خبریں یہ ہیں کہ وہ ہر مرد اور عورت کے بارے میں گواہی دے گی کہ اس نے فلاں دن
مجھ پر فلاں کام کیا تھا اور فلاں دن فلاں کام کیا تھا‘‘…
لاہور
کی زمین کو میراتھن دوڑ کی تاریخ یاد رہے گی… اس میں شرکت کرنے والوں کے نام بھی
یاد رہیں گے… اور اسے منعقد کراکے بش اور بلیئر کی نظروں میں ’’پاک صاف‘‘ بننے
والے بھی یاد رہیں گے… مردوں عورتوں کی مخلوط میراتھن دوڑ سے پاکستان ایک نئے دور
میں داخل ہوگیا ہے… ہاں اللہ پاک کی زمین کو یہ اور اس طرح کے دوسرے ظالمانہ
بیانات بھی یاد رہیں گے… چند نیم برہنہ مرد اور عورتیں ایک شہر میں جمع ہوئیں…
حکومت وقت نے عوام کے کروڑوں اربوں روپے ان کی حفاظت پر جھونک دئیے… ملک کی حفاظت
پر مامور فوجی جوان بینڈ لے کر نغمے بجاتے رہے… صوبے بھر کی فورسز ان ننگے لوگوں
کے لئے سردی میں ٹھٹھرتی رہیں… ملک کا صدر ہیلی کاپٹر پر بیٹھ کر آیا… اس نے اس
ننگے مظاہرے کو اپنی فتح قرار دیا… پھر لوگ دوڑنے لگے… آخر میں انعامات تقسیم
ہوئے… اور حکومت کے بقول پوری دنیا میں پاکستان کی عزت بڑھ گئی… یعنی اس ملک کی عزت
کپڑے اتارنے سے بڑھتی ہے… یا اللہ خیر فرما! اور اس ملک کو عمومی عذاب سے بچا…
مخلوط
میراتھن کی مستی میں حکمرانوں نے بسنت منانے کا اعلان بھی کردیا ہے… یہ لوگ اب
گناہوں کو سڑکوں پر لا رہے ہیں… یاد رکھیں کسی دن جہاد بھی سڑکوں پر آجائے گا… تب
معلوم ہو گا کہ کون جیت رہا ہے… اور کون ہار رہا ہے…
ہمارے
حکمران بھی عجیب ہیں … یہ لوگ کھاتے اس ملک کا ہیں… اور گیت غیروں کے گاتے ہیں… یہ
لوگ حکومت اپنی عوام پر کرتے ہیں… اور خوشی غیروں کی چاہتے ہیں… میراتھن دوڑ کی
تقریروں سے بھی بس یہی رال ٹپک رہی تھی کہ اب… دنیا کی نظروں میں پاکستان کا امیج
بہتر ہوجائے گا … کیاپاکستان کسی بکاؤ عورت کا نام ہے… جو اپنے گاہکوں کو خوش
کرنے کے لئے اپنی شکل ٹھیک کرتی رہتی ہے… کاش تھوڑی سی شرم اور غیرت ہوتی تو ایسے
الفاظ اپنے منہ سے نکالنے سے پہلے موت آجاتی…
برما
جیسے ملک کو فکر نہیں ہے کہ دوسری دنیا میں ہمارا امیج بہتر ہو… نیپال کو اس کی
پروا نہیں ہے کہ دنیا اس کے بارے میں کیا کہتی ہے… بھوٹان اور مالدیپ جیسے چھوٹے
ملکوں کے حکمران بھی ایسی ذلت آمیز باتیں نہیں کرتے… مگر ہمارے حکمرانوں پر تو
غیروں کو خوش کرنے کا دورہ پڑا ہوا ہے… ہائے ہمارے برے اعمال!… اور ہائے ان کی
شامت!…
حدیث
پاک میں آتا ہے کہ جو لوگ کسی گناہ کو روک نہ سکیں… لیکن زبان سے اس کو برا کہیں…
اور دل میں برا سمجھیں تو وہ… اس گناہ سے بری الذمہ ہوتے ہیں… یا اللہ ہم
زبان سے بھی ان مجرمانہ تماشوں کی مذمت کرتے ہیں… اور دل میں بھی ان سے نفرت رکھتے
ہیں… یا اللہ ہمیں توفیق عطاء فرما کہ ہم … زندگی کے آخری
سانس تک کلمۂ حق کہتے رہیں… حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے…
سَیِّدُ
الشُّہَدَآئِ حَمْزَۃُ بْنُ عَبْدِالْمُطَّلِبِ وَ رَجُلٌ قَامَ اِلٰی اِمَامٍ
جَآئِرٍ فَاَمَرَہٗ وَنَہَاہٗ فَقَتَلَہٗ (الترمذی والحاکم وقال صحیح الاسناد)
یعنی
شہداء کے سردار حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ہیں اور وہ شخص ہے جو ظالم حکمران کے سامنے
کھڑا ہوگیا اور اس کے سامنے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے لگا جس پر حکمران
نے اسے قتل کردیا…
حضرت
مفتی نظام ا لدّین شامزئی ؒ اسی جرم میں شہید کیے گئے… مفتی محمد جمیل خان
شہید ؒ کو اسی جرم میں ذبح کیا گیا… مگر یہ جرم تو ہوتا رہے گا اس لیے کہ…
مسلمانوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک پر جن باتوں کی بیعت کی
ہے… ان میں سے ایک بات یہ بھی ہے…
وَعَلٰی
اَنْ نَقُوْلَ بِالْحَقِّ اَیْنَمَا کُنَّا (بخاری،مسلم)
یعنی
ہم بیعت کرتے ہیں اس بات پر بھی کہ ہم جہاں بھی ہوں گے حق بات کہیں گے…
حق
کہنے کا یہ سلسلہ اگر رک جائے تو آسمان سے عمومی عذاب نازل ہوتا ہے… تب کوئی بھی
نہیں بچتا… حدیث صحیح میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان گرامی ہے…
اَنَّ
الْقَوْمُ اِذَا رَاَوُا الْمُنْکَرَ فَلَمْ یُغَیِّرُوْہٗ عَمَّہُمُ اللہ بِعِقَابٍ۔
(نسائی،ابن
حبان)
یعنی
جب لوگ کسی منکر (گناہ) کو دیکھیں … اور اس کو نہ روکیں تو پھر اللہ تعالیٰ ان سب کو عمومی عذاب میں پکڑتا ہے …
گناہوں سے یہ روکنا اپنی اپنی استطاعت کے مطابق تین طریقے سے ہوسکتا ہے… حضور اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے…
مَنْ
رَاٰی مِنْکُمْ مُنْکَراً فَغَیَّرَہٗ بِیَدِہٖ فَقَدْ بَرِیَٔ، وَمَنْ لَّمْ
یَسْتَطِعْ اَنْ یُّغَیِّرَہٗ بِیَدِہٖ فَغَیَّرَہٗ بِلِسَانِہٖ فَقَدْ بَرِیَٔ،
وَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ اَنْ یُّغَیِّرَہٗ بِلِسَانِہٖ فَغَیَّرَہٗ بِقَلْبِہٖ
فَقَدْ بَرِیَٔ وَذٰلِکَ اَضْعَفُ الْاِیْمَانِ۔(نسائی)
یعنی
جو شخص کسی گناہ کو دیکھے اور اسے اپنے ہاتھ (یعنی طاقت) سے روک دے تو وہ بری
الذمہ ہوگیا… اور جو ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہ رکھتا ہو مگر زبان سے روکے تو وہ
بھی بری ہوگیا… اور جو زبان سے روکنے کی طاقت نہ رکھتا ہو وہ دل سے روکے تو وہ بھی
بری ہوگیا اور یہ ایمان کا (آخری اور) کمزور ترین درجہ ہے…
حکومت
اپنی طاقت اور دباؤ کے ذریعے… امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا سلسلہ روکنا
چاہتی ہے… جماعتوں پر پابندی، اخبارات پر پابندی… علماء کرام کی گرفتاری… خطباء کی
زبان بندی سب اسی سلسلے میں ہے… کچھ کمزور لوگ ڈر بھی گئے ہیں… مگر اللہ پاک کے مخلص بندوں کو ڈرنے کی کیا ضرورت؟… وہ
مارے جائیں تو شہید… زندہ رہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے، حق گو، مجاہد امتی… ان کو
راحت ملے تو نعمت… اور تکلیف پہنچے تو مغفرت… اس دنیا میں دین کی خاطر سب کچھ
قربان کیا جاسکتا ہے… اور اس قربانی میں سعادت اور کامیابی ہے… جماعتوں کے نام
قربان… خوبصورت نورانی پرچم قربان… بھرے بھرائے دفاتر قربان… خوب چلتے ہوئے رسائل
اور اخبارات قربان… اپنا امن، چین اور سکون قربان… اور وقت آنے پر جان بھی قربان…
یہ ساری قربانیاں سستی ہیں… مگر دین کو کسی چیز پر قربان نہیں کیا جاسکتا…
میراتھن
دوڑ پر اپنی فتح کا اعلان کرنے والے بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہیں… ابھی حالات
اتنے گدلے نہیں ہوئے کہ وہ خوشیاں منانے میں حق بجانب ہوں… اگر چند ہزار افراد
میراتھن دوڑ میں نیکر پہن کر آگئے تو کیا ہوا؟… اسی لاہور کی بغل میں ڈیڑھ مہینہ
پہلے بیس لاکھ مسلمان ایک تبلیغی اجتماع میں جمع تھے… اور وہ سب انتہا پسندوں کے
لئے دعائیں مانگ رہے تھے… آپ کا دل خوش کرنے کیلئے عرض ہے کہ… تبلیغی اجتماع کے
شرکاء نے تین دن میں جتنا پیشاب اور پاخانہ کیا… وہ بھی میراتھن دوڑ کے شرکاء سے
زیادہ تھا… اس لیے ابھی فتح کی خوشی منانے میں جلدی نہ کریں… ملک کے دینی مدارس
میں چوبیس لاکھ سے زیادہ طلبہ زیر تعلیم ہیں… یہ سب پورا لباس پہنتے ہیں اور چہروں
پر داڑھیاں رکھتے ہیں… آپ کو تکلیف تو پہنچتی ہوگی مگر اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے صبر سے کام لیں… مدارس کے یہ
بچے جب سڑکوں پر آجاتے ہیں تو آپ چلاّنے لگتے ہیں کہ… ان کو گمراہ کرکے لایا گیا
ہے…
ابھی
دو دن پہلے کی بات ہے… باجوڑ کے صدر مقام خار میں دسیوں ہزار افراد جمع تھے… وہ سب
امریکہ کے خلاف نعرے لگا رہے تھے… اور بی بی سی پر ہم نے خود سنا کہ وہ ایک اور
پیارا نعرہ بھی لگا رہے تھے… سبیلنا سبیلنا الجہاد الجہاد… یہ سب لوگ اپنے خرچ پر
آئے تھے… ان کو چوہدری پرویز الٰہی نے ملکی خزانے کے زور پر گھروں سے نہیں نکالا
تھا… ان کی حفاظت کے لئے سلامتی دستے بھی موجود نہیں تھے… پھر چند ہزار ننگے لوگ
ان دسیوں ہزار داڑھی والوں کا مقابلہ کس طرح سے کرسکتے ہیں… ان سب باتوں کو
چھوڑئیے… ایک طرف آپ کھڑے ہوجائیے… اور لوگوں کو اپنی بات سننے کے لئے بلائیے…
اور دوسری طرف کوئی ایک غریب سا مولوی کھڑا ہوجاتا ہے… یقین جانیئے… آپ کے جلسے
میں کوّے بولنے لگیں گے… جبکہ علماء میں ایسے بھی ہیں کہ… جہاں اپنا بوریہ اور
چٹائی ڈال دیں وہاں لاکھوں مسلمان پروانہ وار جمع ہوجاتے ہیں… پھر فتح کی اتنی
اونچی اونچی باتیں کرنا اچھا تو نہیں لگتا… ہم جانتے ہیں زمانہ فساد کی طرف جارہا
ہے… اور قرب قیامت کی علامات ظاہر ہو رہی ہیں… مگر اس دین کی بنیادیں بہت مضبوط
ہیں… حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لوگوں کو پہلے سے
سمجھادیا کہ ایک وقت آئے گا… جب ہر طرف فتنے ہوں گے… اور ہر طرف فساد… مگر اس وقت
بھی کچھ لوگ حق کے ساتھ چمٹے رہیں گے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ان امتیوں کے فضائل سوا چودہ
سو سال پہلے بیان فرمادیئے… اللہ تعالیٰ کا نور ہدایت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک کے ذریعے امت تک پہنچ
چکا ہے… اب جو لوگ بھی اس پاکیزہ نورانی سینے سے چمٹے رہیں گے وہ کبھی… گمراہ نہیں
ہوں گے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمانے کے فساد کے وقت دین کو زندہ
کرنے والے حضرات کے لئے… سو شہیدوں کے اجر کی فضیلت سنائی ہے… اور ایک حدیث صحیح
میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے…
عِبَادَۃٌ
فِیْ الْہَرَجِ کَہِجْرَۃٍ اِلَیَّ۔(مسلم)
’’فتنوں
کے زمانے میں عبادت کرنا… (یعنی اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور غلامی کے کاموں میں
لگے رہنا) ایسا ہے جیسے میری طرف ہجرت کرنا‘‘…
خود
سوچئے جن لوگوں نے اپنا سینہ… حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک کے سامنے… بھیک کے
پیالے کی طرح پھیلایا ہوا ہے تاکہ … ہدایت، رحمت، برکت… اور کامیابی کا فیض نصیب
ہوجائے … وہ جب ایسی احادیث سنتے ہیں کہ… اس زمانے میں دین پر استقامت اختیار کرنا
ایسا ہے… جیسے کوئی شخص حضور پاک صلی اللہ
علیہ وسلم کی طرف ہجرت کر جائے… تو اس کے
لئے دین پر ثابت قدم رہنا آسان ہوجاتا ہے… ایسی احادیث مبارکہ سن کر… سچے مسلمان
میراتھن دوڑ پر بھی تھوک دیتے ہیں… اور بسنت پر بھی… وہ ٹی وی چینلوں کی رنگینی
میں بھی نہیں کھوتے… اور زمانے کے ظالموں سے امن اور زندگی کی بھیک بھی نہیں
مانگتے… آپ نے خبروں میں بارہا سنا ہوگا کہ عراق وافغانستان میں متعین امریکی
فوجی… اپنی حکومتوں کو گالیاں دیتے ہیں… ہم نے خود کشمیر میں انڈین فوجیوں کو اپنے
ملک اور اپنی حکومت کو گالیاں دیتے سنا ہے… جبکہ دوسری طرف ستر سال کا ایک بوڑھا
شخص… اپنے باوقار قدموں پر چل کر پھانسی کے تختے پر آتا ہے… وہ اپنی کڑک دار
آواز میں پورا کلمہ شہادت پڑھتا ہے… وہ خود پر طعنے کسنے والوں کو کھرے کھرے
جوابات دیتا ہے… خود سوچئے اس عمر کا آدمی تو شادی کی تقریب میں بھی … لنگڑا کر،
کراہ کر یا سہارا لے کر جاتا ہے… مگر بوڑھا صدام… صدام حسین بن چکا تھا… اپنے ماضی
سے تائب ایک مجاہد… ایک عجیب حوصلہ مند شخص… موت کی رسی آنکھوں کے سامنے جھول رہی
ہو تو آواز پر رعشہ طاری ہوجاتا ہے… آپ آنکھیں بند کرکے اپنی پھانسی کا منظر
سوچیں… جسم پر پسینہ آجائے گا… مگر توبہ قبول کرنے والے رب نے صدام حسین پر رحم
فرمایا… معلوم نہیں رب کائنات کو اس کا کونسا عمل پسندآگیا… ایک کہاوت ہے… دھوبی
کا کتا بھونکتا گدھے پر ہے اور کاٹتا بکری کو ہے… اسی طرح ایران… امریکہ کے خلاف
بہت بولتا ہے… مگر وہ کام ہمیشہ امریکہ ہی کے آتا ہے… افغانستان سے لے کر عراق تک
امریکہ کے اصل مفادات کو ایران نے ہی پورا کیا ہے… ایران کا انقلاب… اپنے گمان میں
پورے عالم اسلام بلکہ پوری دنیا کے لئے تھا… ایران کی پہلی نظر نجف پر اور دوسری
کعبہ شریف پر تھی… تب صدام نے اس فرقہ واریت کا راستہ روک کر… امت مسلمہ کو مزید
ٹوٹنے سے بچایا تھا… اور زندگی کے آخری سالوں میں… صدام باقاعدہ ایک مجاہد تھا…
اس کا آخری وقت میں پڑھا ہوا کلمہ شہادت… ابھی تک کانوں میں رس گھول رہا ہے… کسی
زمانے میں جب صدام بعث پارٹی کا صدر تھا… حزب البعث العربی الاشتراکی… تب دل میں
آتا تھا کہ… کاش یہ قوم پرست عرب رہنما سچا مسلمان بن جائے… لاشرقی ولا غربی… اللہ پاک نے رحم فرمایا… اور صدام کو جہاد کی بارش
میں دھو کر صاف ستھرا کردیا… چنانچہ اس نے شہادت کے وقت اللہ تعالیٰ کا کلمہ پڑھا… جو عرب وعجم سب کا رب ہے…
اور صدام نے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دی… جو قیامت تک سب
انس وجن کے لئے نبی، رسول… اور کامیابی کی واحد ضمانت ہیں…
اَشْہَدُ
اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْہَدُ اَنَّ
مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔
صدام
حسین مر کر بھی جیت گیا… اور اس کو مارنے والے بچ کر بھی ہار گئے… اصل بات یہ عرض
کی جارہی تھی کہ… دنیا میں اسلام اور مسلمان ابھی اس حالت تک نہیں پہنچے کہ… چند
ہزار ادھ ننگے افراد کے سڑکوں پر آجانے سے… کوئی مغرب پرست لیڈر اپنی فتح کا
اعلان کردے…
اے
امت مسلمہ کے سعادت مند بھائیو اور بہنو! … اپنے سر اور چہرے اللہ وحدہ لاشریک لہ کی طرف متوجہ رکھو… اپنی گردن
اسی کے سامنے جھکاؤ… روشن خیالی کے ان ہیبت ناک مناظر کو دیکھ کر حوصلہ نہ ہارو…
لوگ تو گوانٹا نامو بے کے خوفناک عقوبت خانوں میں بھی حق کو نہیں بھولے… وہ اپنے
دین اور نظریات پر قائم ہیں… اور اپنی محنتوں کا کچھ نہ کچھ صلہ اس دنیا میں بھی
وصول کر رہے ہیں… بوسنیا کے ایک عالم جن کا تذکرہ ملا عبدالسلام ضعیف نے بھی اپنی
کتاب میں کیا ہے… گوانٹا ناموبے میں خوفناک تشدد کا شکار ہیں… مگر وہ خوش ہیں… ان
کو بارہا خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار نصیب ہوچکا ہے… وہ اپنے آپ
کو سعادت مند سمجھتے ہیں… زمانے کا ظالم امیہ سارا دن… زمانے کے اس بلال کو مارتا
ہے، گرم ریت پر جلاتا ہے… مگر جب رات کو یہ بلال آنکھیں بند کرتا ہے تو اسے…
مقصود کائنات محبوب عالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات اور زیارت نصیب ہوجاتی ہے…
مصر کی عورتوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھا تو ہاتھ کے زخم بھول گئیں…
بوسنیا کا یہ عالم ان کو دیکھتا ہے جو حضرت یوسف علیہ السلام سے بھی حسن میں آگے
ہیں… اچھے برے حالات چلتے رہتے ہیں… مگر دنیا اور آخرت انہی کی ہے جو
رَبُّنَا اللہ ُ ( اللہ تعالیٰ ہی ہمارا رب ہے) کہہ کر پھر ڈٹ جاتے ہیں…
ہاں
سن لو القلم پڑھنے والو!… یہ دنیا اور آخرت ان لوگوں کی ہے جو دین پر استقامت
رکھتے ہیں… جو دین پر ڈٹ جاتے ہیں… اور جو اس فانی دنیا کو اپنا مقصود نہیں بناتے…
القلم یہی سچا پیغام پہنچانے کی وجہ سے خود بھی آندھیوں کی زد میں رہتا ہے… آپ
سب سے دعاؤں کی درخواست ہے…
٭٭٭
اسلامی
سال کا آغاز ہوگیا… چاند دیکھتے ہوئے اذان کی آواز نے ایک خوبصورت نکتہ سمجھا
دیا… مسلمانوں سے گزارش ہے کہ وہ اسلامی تاریخ کو اپنائیں… محرم الحرام کے مسنون
اعمال… اور اس بات کی وضاحت کہ محرم الحرام فضیلت اور شان والا مہینہ ہے… غم اور
نحوست والا نہیں…
۵ محرم
الحرام ۱۴۲۸ھ
بمطابق ۲۶ جنوری ۲۰۰۷ء
خوش
آمدید ۱۴۲۸ھ!
اللہ تعالیٰ اس نئے سال کو امت مسلمہ کے لئے… اور
تمام انسانیت کے لئے خیر وبرکت والا سال بنائے… آپ کو معلوم ہوگا کہ الحمد اللہ نیااسلامی ہجری سال شروع ہوچکا ہے… آئیے نئے
سال کے موقع پر آپس میں چند باتوں کا مذاکرہ کر لیتے ہیں…
بابرکت
نورانی آغاز
ہفتہ
کے دن مغرب کی اذان سے کچھ پہلے… نئے مہینہ اور نئے سال کا چاند دیکھنے کے لئے میں
گھر کے صحن میں آبیٹھا… میری نظریں آسمان پر مغرب کی طرف تھیں… دل میں کافی امید
تھی کہ آج انشاء اللہ چاند نظر آجائے گا… جی ہاں محرم الحرام کا
چاند… نئے اسلامی سال کا پہلا چاند… ۱۴۲۸ھ کا آغاز… ہاں
میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مبارکہ کا چودہ سو اٹھائیسواں
سال شروع ہوجائے گا… مطلع بالکل صاف تھا اور آسمان پر دور دور تک کوئی بادل نظر
نہیں آرہا تھا… میری نظریں آسمان کی طرف تھیں کہ اچانک پوری فضاء ایک خوشبودار
اور نورانی شور سے بھر گئی… اللہ اکبر، اللہ اکبر… اللہ اکبر، اللہ اکبر… یہ مغرب کی اذان کا شور تھا… ہر طرف سے
خوبصورت آوازیں آرہی ہیں… مختلف لہجے اور مختلف طرزیں … مگر الفاظ ایک، معنیٰ
ایک، پکار ایک اور پیغام ایک… تب میں تھوڑی دیر کے لئے چاند کو بھول کر آقا مدنی
صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد میں کھو گیا… میرا دل زبان کو
ساتھ لے کر درود شریف پڑھنے لگا… واہ میرے آقا واہ… مرحبا صد مرحبا! آپ نے اپنی
امت کے لئے اللہ تعالیٰ سے کیسا پیارا دین لایا… کیسا پاک کتنا
پرنور… دیکھیں اس دین میں نئے سال کا آغاز خود بخود اللہ اکبر کے نعرہ سے ہورہا ہے… ایک مؤمن نے نیا سال
داخل ہوتے ہی کیا عمل کیا؟… اس نے اذان دی یا اذان کا جواب دیا… اللہ اکبر اللہ اکبر… اس نے وضو کیا… اس نے مغرب کی نماز ادا
کی… اس کا دل پاک اس کی زبان پاک… اس کا لباس پاک… اور اس کا جسم پاک… میں سوچ رہا
تھا کہ یہ دین کتنا پیارا ہے کتنا پاک ہے… ابھی نئے سال کی پہلی گھڑیاں ہیں… کئی
مسلمانوں کو معلوم ہوگا کہ چاند نظر آیا ہے جبکہ اکثر کو یہ بات معلوم نہیں ہوگی…
مگر آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی ترتیب نے آٹو میٹک طور پر سب کو
عبادت میں لگا کر سب کا آغاز اچھا کردیا… غیر مسلموں کی نیو ائیر نائٹ کتنی گندی
ہوتی ہے… کتنی غلیظ کتنی ناپاک… آدھی رات کا خمار… شیطانی میوزک کا شور… منی، مذی
اور پیشاب میں لتھڑے ہوئے ناپاک کپڑے… دلوں میں شہوت کی پیپ… اور ہر طرف غفلت کے
سیاہ اندھیرے… عجیب بات ہے جب عید وغیرہ کے دن پر مسلمانوں میں کچھ اختلاف ہوجاتا
ہے تو… ہمارے کئی دانشور فوراً یہ تجویز پیش کردیتے ہیں کہ… مسلمانوں کو بھی
جنوری، فروری کی ترتیب اختیار کرلینی چاہئے… اس شمسی ترتیب میں دن اور مہینے آسانی
سے معلوم ہوجاتے ہیں … اور کوئی اختلاف نہیں ہوتا… ایسا مشورہ دینے والے دانشور ان
تمام برکتوں کو بھول جاتے ہیں جو ہجری قمری تقویم کی برکت سے مسلمانوں کو نصیب
ہیں… میں اس موضوع پر پہلے بھی عرض کر چکا ہوں اس لیے آج اسے چھوڑتے ہیں… جنوری،
فروری والے اپنے نئے سال کا آغاز آدھی رات کو بارہ بجنے پر کرتے ہیں… جبکہ
مسلمان نئے سال کا آغاز ذوالحجہ کے آخری سورج کے غروب ہونے پر کردیتے ہیں… چاروں
طرف فضاء میں اذانیں گونج رہی تھیں… باوضو مسلمان مسجدوں کی طرف دوڑ رہے تھے…
چھوٹے بچے اذان کی آواز کے ساتھ آواز ملا کر توتلی زبانوں میں اللہ اکبر اللہ اکبر پکار رہے تھے… پوری دنیا میں صرف مسلمان ہی
مکمل اہتمام کے ساتھ پاک، صاف اور عبادت کے لئے مستعد تھے… میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم پر کروڑوں اربوں درود وسلام… اس
وقت ۱۴۲۸ھ
کا سال دنیا میں اپنی آنکھیں اور کان کھول رہا تھا… اس نے سب سے پہلے اذان کی
آواز سنی… اس نے مسلمانوں کو نماز کے لئے تیار دیکھا… اور یوں نئے سال نے اپنا
سفر شروع کردیا… اے نئے ہجری سال ہم تجھے خوش آمدید کہتے ہیں… تو گواہ رہنا کہ ہم
اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک لہ مانتے ہیں… ہم حضرت
محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا بندہ اس کا رسول اور آخری نبی مانتے
ہیں … اور اسلام ہی ہمارا دین ہے… رضینا باللہ ربا وبالاسلام دینا و بمحمد صلی اللہ علیہ وسلم رسولا ونبیا…
یہ
سخت جان قافلہ
پچھلے
سال کا چاند اپنے ساتھ کئی ستاروں کو افق کے اس پار لے گیا… جہاں ایک بڑی دنیا
آباد ہے… الشیخ ابو مصعب الزرقاویؒ، حضرت مفتی عبدالستارؒ، ملا اختر محمد عثمانی،
ہمارا یار ببَّن میاں… بھائی عدنان… بھائی سیف اللہ ، صدام حسین… اور بہت سے… کس کس کا نام
لوں… اب دیکھیں اس سال کس کس کا نمبر لگتا ہے… اور ۱۴۲۸ھ کا سال کس کس
کی تاریخ وفات کا حصہ بنتا ہے… یہ سب اپنی جگہ… مگر سوچنے کی ایک اور بات کافی اہم
ہے… ایک خوبصورت علاقہ تھا ہرا بھرا… ہر طرف باغات تھے سر سبز… اور موسم بھی تھا
وہاں کا دلکش… وہاں ایک شخص پہنچا… اکیلا اور پیدل… وہ شخص ایسا کہ جو اسے دیکھے
بس دیکھتا ہی رہ جائے… اتنا حسین کہ اس کے حسن کو بیان کرنے کے لئے الفاظ میسر
نہیں ہیں… اور آواز اتنی خوبصورت کہ فضائیں اپنا ترنم بھول جائیں… اس شخص نے
خوبصورت علاقے کے لوگوں کو ایک بات بتلائی… بہت سچی بات بہت اونچی بات… مگر وہ نہ
مانے اور اکڑ گئے… انہوں نے گالیاں دیں، دھکے دئیے… تشدد کیا اور پھر علاقے کے
لڑکوں سے کہا کہ اس شخص کو مارو… ہائے اللہ ہائے اللہ … اب پتھروں کی بوچھاڑ ہے… اور ایک اکیلا
شخص… سر چھپانے کی جگہ نہیں… کوئی انسان بچانے والا نہیں… پاگل بچوں کو کوئی
سمجھانے والا نہیں… وہ مار رہے ہیں اور یہ دوڑ رہا ہے… ہائے اللہ ہائے اللہ … ایک قدم؟ دو قدم؟… نہیں نہیں کئی میل کئی
کلو میٹر… پاگل لڑکے کہاں تھکتے تھے ان کو تو ایک کھیل… اور بڑوں کی طرف سے کھلی
ڈھیل مل گئی تھی… زمین تڑپ رہی تھی… آسمان رو رہا تھا… فرشتے مچل رہے تھے… چاروں
طرف سے پتھر اور گالیاں… کبھی اٹھ جاتے کبھی گر جاتے… کبھی چلتے، کبھی بھاگتے اور
کبھی لڑکھڑا جاتے… سر سے پاؤں تک خون ہی خون… جوتا خون سے بھر گیا… اور ظلم کا یہ
چکر کئی میل تک گھومتا رہا… اے دین کی خدمت کے نام پر مزے دار دفاتر میں بیٹھنے
والو… تمہیں یہ منظر یاد ہے؟… تھوڑی سی آزمائش پر… جہاد کے کام سے استعفے پیش کرنے
والو جانتے ہو… وہ شخص کون تھے؟… روشن خیالی کے نام پر دین کے احکامات کو ذبح کرنے
والو… تم نے کبھی سوچا کہ تم بھی اس شخص کے کچھ لگتے ہو… فرشتے اس بستی کو کچل کر
سرمہ بنادینا چاہتے تھے… مگر پتھر کھانے والے کو اپنے دین کی فکر تھی… اپنی امت کی
فکر تھی… آج سوا چودہ سو سال بعد… اس اکیلے شخص کا نام لینے والوں کی تعداد… ڈیڑھ
ارب کے لگ بھگ ہے… اس شخص کے ماننے والوں کے پاس زمین کے ایک بڑے حصے کی حکومت ہے…
اس شخص کا نام آج بھی عزت اور راحت کی چابی ہے… میں ٹیکنالوجی کے پجاریوں سے
پوچھتا ہوں… کس چیز نے اس اکیلے اور نہتے شخص کے پیغام کو پورے عالم میں عام
کردیا؟… وہ جو پتھر کھانے کے بعد گرتے تھے تو کوئی اٹھانے والا نہیں ہوتا تھا… آج
ان کے نام پر کروڑوں چھتیں… کروڑوں انسانوں کو سایہ دیتی ہیں… ان کے نام پر مدرسے
ہیں، ادارے ہیں، جماعتیں ہیں، تنظیمیں ہیں… اور آج بھی ان کا نام اللہ تعالیٰ کے نام کے بعد سب سے مقدس اور محترم ہے…
عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ… ایک اور سال بیت گیا مگر نہ اسلام ختم ہوا اور نہ محمد
عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی… یہ سخت جان قافلہ آگے ہی
آگے بڑھ رہا ہے… اور ہر طوفان کا رخ موڑ رہا ہے… اس لیے مایوس ہو کر کافروں کو
سجدے کرنے کی ضرورت نہیں ہے… تھک ہار کر جہاد چھوڑنے کی گنجائش نہیں ہے… اور دین
بچانے کے دھوکے میں دین کو بدلنے کی اجازت نہیں ہے… ۱۴۲۸ھ خوش آمدید… اللہ تعالیٰ تجھے بھی… حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے امتی دکھائے… تو گواہ رہنا کہ
ہم… اُسی شخص کے غلام ہیں… جنہوں نے خوبصورت وادی میں… بدسیرت لوگوں کے تشدد کو
برداشت کیا تھا… مگر اپنا کام نہیں چھوڑا تھا… اپنا پیغام نہیں چھوڑا تھا… یا اللہ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم پر بے شمار درود و سلام… بے شمار درود
وسلام…
محرم
الحرام کا مطلب
اسلامی
ہجری سال کے پہلے مہینے کا نام ہے… محر ّم … اس کا معنیٰ ہے مُعَظَّم… یعنی عظمت
والا، حرمت والا، شان والا، فضیلت والا، احترام والا مہینہ… آج جس وقت میں یہ
الفاظ لکھ رہا ہوں محرم ۱۴۲۸ھ
کی دوسری تاریخ ہے… محرم کے ساتھ ’’الحرام‘‘ کا لفظ بھی لکھا جاتا ہے… یعنی ’’محرم
الحرام‘‘… یہ لفظ اس لیے لکھا جاتا ہے کہ … اللہ تعالیٰ نے ’’ملّت ابراہیمی‘‘ میں چار مہینوں کو
خاص عزت وحرمت عطاء فرمائی ہے… ان چار مہینوں میں پہلا محرم ہے… دوسرا رجب، تیسرا
ذوالقعدہ اور چوتھا ذوالحجہ… یعنی اسلامی سال کا آغاز بھی حرمت والے مہینے سے
ہوتا ہے… اور اس کا اختتام بھی حرمت والے مہینے پر ہوتا ہے… عرب کے لوگ اسلام سے
پہلے بھی ان مہینوں کی تعظیم کیا کرتے تھے… کیونکہ ان میں ملت ابراہیمی کی بعض
اچھی باتیں زندہ تھیں… اسی طرح آسمان سے نازل ہونے والے دوسرے ادیان میں بھی…
محرم اور اسکی دس تاریخ (عاشوراء) کی خاص اہمیت تھی… صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ
یہود ونصاریٰ بھی دس محرم کا روزہ رکھا کرتے تھے… اس سے معلوم ہوا کہ ان لوگوں کے
نزدیک بھی چاند کے مہینوں کا اعتبار ہوتا تھا… مگر پھر وہ اپنی کتاب اور دین کی ہر
بات سے اسی طرح منحرف ہوتے گئے… جس طرح آج کل کے روشن خیال مسلمان… اسلام نے حرمت
والے چار مہینوں میں جنگ بندی کا حکم نازل فرمایا… مگر پھر اسلام اور مسلمانوں کے
دفاع کے لئے اس کی اجازت مرحمت فرمادی… اسلام میں کسی دن، رات یا مہینے کے افضل
ہونے کا مطلب یہ ہے… کہ اس دن اس رات یا اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر خاص انوارات…
خاص رحمتیں اور خاص تجلیات نازل ہوتی ہیں… اور ان دنوں میں رحمت اور بخشش کے عمومی
بازار سجائے جاتے ہیں… ظاہر بات ہے کہ ہم خود اللہ تعالیٰ کے انوارات وتجلیات کو نہیں دیکھ سکتے…
یہ بات تو اللہ تعالیٰ ہی بتا سکتے ہیں… اور اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو وحی کے ذریعے بتاتے ہیں…
پس خلاصہ یہ ہوا کہ… اسلام میں کسی بھی دن یا مہینے کی اہمیت اور فضیلت صرف حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتانے اور سمجھانے سے ہی معلوم
ہوسکتی ہے… اس لیے مسلمان طرح طرح کے دن اور عیدیں نہیں مناتے … یہ اسلام کا ڈسپلن
اور نظم وضبط ہے کہ… ہمارے آقا نے ہمارے لیے جو ترتیب مقرر فرمادی ہے ہم بس اسی
کے تابع ہیں… انہوں نے جس دن کو عید کہا بس وہی عید ہے… اور جس مہینے کو حرمت والا
کہا وہی مہینہ حرمت والا ہے… ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم الحرام کو حرمت والا مہینہ
قرار دیا… آپ نے اس کی دس تاریخ کو روزہ رکھا… اور اپنے صحابہ سے بھی رکھوایا…
آپ نے زندگی کے آخر میں اعلان فرمایا کہ ہم آئندہ سال دو روزے رکھیں گے… محرم
الحرام کی یہ فضیلت بتا کر آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے پردہ فرما گئے… حجۃ الوداع کے
موقع پر آسمان سے اعلان آیا کہ اب دین مکمل ہوچکا ہے… حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کے بعد… اس دین میں
نہ کوئی کمی ہوسکتی ہے… اور نہ کوئی اضافہ… مسلمان محرم کو خوشی کا مہینہ سمجھتے
تھے کہ… یہ عبادت والا مہینہ ہے… حاجی حج کے مزے لوٹ کر واپس آتے تھے… عرب قربانی
کا گوشت سُکھا کر کھاتے تھے… مسلمان روزے رکھتے تھے… اس مہینے میں نکاح اور شادیاں
کرتے تھے… اور زندگی کے معمولات کو خوب نبھاتے تھے… مگر معلوم نہیں… کس شیطان کی
نظر لگ گئی کہ… یکایک… محرَّم کا مہینہ مسلمانوں کے لئے غم کا مہینہ قرار دے دیا
گیا… استغفر اللہ ، استغفر اللہ … اب لوگ اس مہینے میں شادیاں نہیں کرتے… اور ہر
طرف فرقہ واریت کا شور مسلمانوں کے سال کے آغاز کو گدلا کردیتا ہے…
کربلا
کا سانحہ بہت اندوہناک … مگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا… مسلمانوں نے ربیع الاول
کو کالا نہیں کیا… خلفاء راشدین کے وصال ہوئے، شہادتیں ہوئیں مسلمانوں نے ان کے
وفات کے مہینے کالے نہیں کیے… اسلام کے افضل ترین شہداء… رمضان اور شوال میں بدر
واحد کے دوران کٹے… مگر مسلمانوں نے رمضان اور شوال کو کالا نہیں کیا… ہاں کافروں
نے مسلمانوں کی خوشیاں برباد کرنے کے لئے… شہادت کو ماتم بنادیا… شہادت اور وہ بھی
نواسۂ رسول کی… اور نواسۂ رسول بھی ایسے کہ جنت کے جوانوں کے سردار… ان کی شہادت
پر یہ سب کچھ؟؟… ہاں رب کعبہ کی قسم یہ سب کچھ سمجھ سے بالاتر اور اسلام کے مزاج
سے بہت دور ہے… مگر مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ اس فرقہ واریت کا شکار ہوچکا ہے…
چنانچہ دس محرم کا دن… جو آسمان سے اللہ تعالیٰ کے خاص انوارات وتجلیات کے نزول کا دن
ہے… مسلمانوں کے لئے غم اور گناہ کا دن بنادیا گیا ہے… اناللہ وانا الیہ راجعون… انا ا للہ وانا الیہ راجعون…
محرم
الحرام کے دو اعمال
عاشوراء
یعنی دس محرم الحرام کا روزہ تو احادیث صحیحہ سے ثابت ہے… اور اس نفل روزے کی بہت
فضیلت ہے… یہود ونصاریٰ کی مشابہت سے بچنے کے لئے… علماء امت نے دو روزے رکھنے کی
تلقین کی ہے… نو اور دس محرم کے روزے… یا دس اور گیارہ محرم کے روزے… بعض علماء
کرام فرماتے ہیں کہ… اب چونکہ یہود ونصاریٰ محرم کا روزہ رکھتے ہی نہیں… بلکہ اب
تو انہیں محرم کا پتہ ہی نہیں اس لیے… اب ان کی مشابہت کا خطرہ ختم ہوچکا ہے…
چنانچہ ایک روزہ بھی کافی ہے… مگر اکثر اہل علم کے نزدیک دو روزے رکھنے چاہئیں…
جیسا کہ بعض احادیث کے مفہوم سے ثابت ہوتاہے…
یہ
تو ہوا محرم کا ایک عمل… دوسرا عمل جو بعض روایات سے ثابت ہے… وہ ہے دس محرم کے دن
اپنے گھر والوں پر کھانے پینے اور روزی میں فراخی کرنا… اس عمل کی برکت سے اللہ تعالیٰ… پورا سال روزی میں فراخی فرماتے ہیں… یہ
احادیث اگرچہ سند کے اعتبار سے کمزور ہیں… مگر کئی طرق (یعنی سندوں) سے یہی مفہوم
بیان کیا گیا ہے… جس سے کچھ نہ کچھ فضیلت تو بہرحال معلوم ہوجاتی ہے … یہ تو ہوئے
دو اعمال جن کا ان شاء اللہ ہم سب اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے اہتمام کریں… اور تیسرا
عمل یہ کہ اس مہینے میں بھی عبادت کا اور گناہوں سے بچنے کا خوب اہتمام کیا جائے
جیسا کہ… حرمت والے کسی بھی مہینے میں کیا جاتا ہے…
ایک
گزارش
مسلمان
بھائیوں… اور بہنوں سے عاجزانہ درخواست ہے کہ وہ… اسلامی ہجری سال کو اپنائیں… اور
ہر مہینے کا چاند دیکھ کر پہلی رات کی مسنون دعاؤں کا اہتمام کیا کریں… میری
گزارش ہے کہ آپ ایک بار کوئی مستند کتاب منگوا کر وہ دعائیں پڑھ کر دیکھیں… جو
چاند دیکھ کر پڑھنا مسنون ہیں… ان دعاؤں میں وہ تمام خیریں اور برکتیں ہیں جن کی
ہمیں پورا مہینہ ضرورت پڑتی ہے… آج ہی اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر چند کام کرلیں… معلوم نہیں
کل ہم زندہ ہوں گے یا نہیں…
۱
اسلامی سال کے بارہ مہینوں کے نام یاد کرلیں
۲
اپنے گھر کے لئے ایک ہجری کیلنڈر خرید کر لے آئیں اور اسے مناسب جگہ پر آویزاں
کردیں
۳
بچوں کو ان مہینوں کے نام یاد کرانا شروع کردیں
۴
حِصْنِ حصین یا معارف الحدیث منگوا کر ان دعاؤں کو ایک نظر دیکھ لیں جن کو چاند
رات میں پڑھنا مسنون ہے
۵
نیت کرلیں کہ ہر مہینے کا چاند دیکھنے کی کوشش کریں گے اور دعاؤں کا اہتمام کریں
گے
چند
احادیث مبارکہ
۱
عن ابن عباس رضی اللہ عنہما ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صام یوم عاشوراء وامر بصیامہ ۔(بخاری،
الترغیب والترہیب)
یعنی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء (دس محرم) کے دن کا روزہ
رکھا اور اس کے روزے کا حکم فرمایا۔
۲
عن ابی قتادۃ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سئل عن صیام یوم عاشوراء فقال یکفّر
السنۃ الماضیۃ۔(مسلم، الترغیب)
یعنی
عاشوراء کا روزہ پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔
۳
عن ابن عباس رضی اللہ عنہما انہ سئل عن صیام یوم عاشوراء فقال ما علمت
ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صام یوما یطلب فضلہ علی الایام الا
ہذا الیوم۔(مسلم، الترغیب)
یعنی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے بعد سب سے زیادہ
فضیلت والا روزہ عاشوراء کے روزے کو سمجھتے تھے۔
(اور
بعض روایات میں ہے کہ اس دن کے روزے کا خاص اہتمام فرماتے تھے)
۴
عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال من اوسع علی عیالہ واہلہ یوم
عاشوراء اوسع اللہ علیہ سائر سنتِہ
(رواہ
البیہقی وغیرہ من طرق وعن جماعۃ الصحابۃ وقال البیہقی: ہذہ الاسانید وان کانت
ضعیفۃ فہی اذ ضمّ بعضہا الی بعض اخذت قوۃ و اللہ اعلم ’’الترغیب والترہیب‘‘)
یعنی
جو کوئی عاشوراء کے دن اپنے عیال اور گھر والوں پر روزی کی وسعت کرتا ہے اللہ تعالیٰ پورا سال اس پر وسعت فرماتا ہے۔
۵
عن ابن عباس ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قدم المدینۃ فوجد الیہود صیاماً یوم
عاشوراء فقال لہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماہذا الیوم الذی تصومونہ فقالوا ہذا
یوم عظیم انجی اللہ فیہ موسیٰ وقومہ وغرّق فرعون وقومہ فصامہ موسیٰ
شکراً فنحن نصومہ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فنحن احق واولی بموسیٰ منکم فصامہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وامر بصیامہ (بخاری)
یعنی
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو عاشوراء کا روزہ رکھتے
ہوئے پایا تو وجہ دریافت فرمائی، انہوں نے کہا: یہ عظیم دن ہے اللہ تعالیٰ نے اس میں فرعون اور اس کی قوم کو غرق
کرکے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات دی، تب حضرت موسیٰ علیہ السلام
نے بطور شکر اس دن کا روزہ رکھا… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم تم سے زیادہ موسیٰ علیہ
السلام سے تعلق رکھتے ہیں چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور مسلمانوں کو
بھی اس کا حکم فرمایا…
ان
پانچ روایات سے محرم الحرام کے دو خاص اعمال کی فضیلت اور تاریخ معلوم ہوگئی… اہل
علم نے لکھا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں بھی عاشوراء کا روزہ
رکھتے تھے کیونکہ عاشوراء ملت ابراہیمی میں بھی عظمت وتعظیم والا دن تھا… جبکہ بعض
اہل علم کی رائے ہے کہ… رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت سے پہلے عاشوراء کا روزہ
فرض تھا پھر رمضان المبارک کے روزے فرض ہوگئے اور عاشوراء کا روزہ نفل رہ گیا…
اللہ تعالیٰ اس نئے سال کو امت مسلمہ کے لئے خیر
وبرکت… اور فتح ونصرت والا سال بنائے…
آمین
یا ارحم الراحمین…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ان بیٹیوں کی حفاظت فرمائے… جو مساجد اور
مدارس کی حفاظت کے لئے … اپنی جانیں، ہتھیلی پر رکھ کر… ظالموں کو للکار رہی ہیں…
اور غیرتمند مسلمانوں کو پکار رہی ہیں… ہائے کاش ان بیٹیوں کو نہ نکلنا پڑتا…
قرآن پاک کی یہ ’’حافظات‘‘ یہ امت مسلمہ کی پیاری بیٹیاں… یہ اماں عائشہؓ اور
اماں حفصہؓ کی روحانی بیٹیاں… ہائے کاش ان کو اتنا مجبور اور اتنا دکھی نہ کیا
جاتا… قرآن پاک نے تو پہلے ہی سمجھا دیا کہ مساجد کی حرمت سے کھیلنے والے… بہت
ظالم ہیں بہت ظالم…
’’اس
سے بڑھ کر اور کون ظالم ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی مسجدوں میں ذکر اللہ کو
بند کرادے اور ان کی ویرانی کی کوشش کرے ان لوگوں کو تو کبھی بے باک ہو کر ان میں
قدم بھی نہ رکھنا چاہئے ان (ظالم) لوگوں کی دنیا میں رسوائی ہوگی اور آخرت میں ان
کے لئے بڑا عذاب ہے۔‘‘ (البقرہ ۱۱۴)
مساجد
کے خلاف ظلم کا یہ تازہ دور… ٹونی بلیئر کے دورے سے شروع ہوا ہے… وہ ناکام اور
جابر انگریز پاکستان آیا ہی اسی کام کے لئے تھا… اس نے مساجد اور مدارس میں اصلاح
کے نام پر اس ملک کے ظالموں کو خطیر رقم دی… اب اسی ’’انگریزی مال‘‘ کو خرچ کیا
جارہا ہے… سب سے پہلے… عصر کی اذان اور جماعت پر ڈاکہ ڈالا گیا… اس دن ٹونی بلیئر
خود فیصل مسجد کے آس پاس منڈلا رہا تھا… عصر کی نماز… پانچ نمازوں میں سب سے
زیادہ اہم ہے… یہ صلوٰۃ الوسطیٰ کہلاتی ہے… مکہ کے مشرک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کہا کرتے تھے کہ عصر کی
نماز مسلمانوں کو اپنی جان اور اولاد سے زیادہ محبوب ہے… ظالموں نے سب سے پہلا
ڈاکہ عصر کی اذان اور جماعت پر ڈالا… تحفظِ مساجد کی تحریک تو اسی دن شروع ہوجانی
چاہئے تھی… دل کی روشنی سے لکھنے والے قلمکار… جناب عرفان صدیقی نے تڑپ تڑپ کر
دُھائی دی کہ ظالمو! مجھے میری اذان لوٹا دو… ہاں ’’تحفظِ مساجد‘‘ کی تحریک اسی
وقت سے شروع ہوجاتی تو آج مسجد امیر حمزہؓ کے پتھر ہماری بدنصیبی پر آنسو نہ
بہاتے… اذان بند کرانا اور جماعت نہ ہونے دینا یہ بھی تو مساجد کو ویران
کرنا ہے… کاش جس وقت ٹونی بلیئر نے مساجد اور مدارس کی اصلاح کے لئے فنڈ کا اعلان
کیا تھا تو اسی وقت تحریک شروع ہوجاتی… اگر ایسا ہوتا تو آج ہماری معصوم بیٹیاں
ہاتھوں میں ڈنڈے اٹھا کر… تیز ہواؤں میں جلنے والے چراغ کی طرح نہ لرز رہی ہوتیں…
شریعت یا شہادت کا نعرہ تو مسلمان مردوں کے لئے تھا… ایک بیٹی نے کہا کہ مردوں نے
چوڑیاں پہن لی ہیں تو ہمیں ڈنڈے اٹھانا پڑے ہیں… نہیں بیٹی نہیں… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ابھی اتنی بے حس نہیں ہوئی…
تمہارے بھائی زندہ ہیں اور ہر طرف ان کے دَم سے زندگی کے شعلے نظر آرہے ہیں… کل
جو عراق میں تین سو شہید ہوئے… کل جو افغانستان میں بیس شہید ہوئے… کل جو کشمیر
میں پانچ شہید ہوئے…
ہاں
بیٹی! کبھی ایسا وقت آجاتا ہے کہ… فاصلے بڑھ جاتے ہیں… اور اسلام کی بیٹی کو بھی
بیٹا بننا پڑ تا ہے… ایسا صدیوں سے ہورہا ہے… اے بیٹی! تو نے خود کو اکیلا سمجھ
لیا ہے… نہیں ہر گز نہیں… تجھے معلوم نہیں کہ تیرے اس طرح میدان میں اتر آنے پر …
کون کون تڑپ رہا ہے… کون کون رو رہا ہے… ہاں اس وقت جبر کا دور ہے… ہاں اس وقت امت
میں تفرقے کاد ور ہے… یہ سچ ہے کہ ہزاروں لاکھوں نوجوان تیرے گرد بھائیوں کا حصار
نہیں بنا سکے… مگر یاد رکھ بجلیاں… ہاں ایمان اور غیرت کی بجلیاں ہر طرف دوڑ پڑی
ہیں… مجھے معلوم ہے کہ … حکومت کے بد دماغ لوگ تجھ پر حملے کا پروگرام بنا رہے ہیں
… مگر یاد رکھ … قسم ہے رب کعبہ کی کہ… ایسا کوئی بھی حملہ ملک کی تاریخ کو سیاہ
کرکے رکھ دے گا … میں میدانوں اور پہاڑوں میں جذبات کا تلاطم دیکھ رہا ہوں… میں
دور سمندر کے کنارے تک مچلتی بجلیاں دیکھ رہا ہوں… مساجد… تو کعبہ کی بیٹیاں ہیں…
اور تو اے بہن!… اسلام کی بیٹی ہے… تو نے کعبہ کی بیٹی کی خاطر جان ہتھیلی پر رکھی
ہے … اب اسلام کے سپاہی تیری عزت، تیری حرمت اور تیرے تقدس کو کس طرح سے فراموش کر
سکتے ہیں؟… اے اسلام آباد کے حکمرانو!… اللہ کے
لئے مسلمان بنو… مساجد گرانا مسلمانوں کا کام نہیں ہے… قرآن پاک کی حافظات بیٹیوں
پر ہاتھ اٹھانا… مسلمانوں کا شیوہ نہیں ہے… کافروں کے حرام لقمے کھانے والے
ایجنٹوں کی باتوں میں نہ آؤ… اور اس ملک کو مزید تباہی میں مت دھکیلو… اللہ کے
لئے اللہ کے لئے… کچھ تو اپنے مسلمان ہونے کا ثبوت بھی
دو… یاد رکھو… تاریخ گواہ ہے کہ مساجد کو ویران کرنے والوں سے حکومت چھین لی جاتی
ہے… ان پر دنیا کی ذلت اور آخرت کا عذاب مسلط کردیا جاتا ہے… ڈرو اللہ پاک کے عذاب سے… اور خود کو بچاؤ دنیا کی
خوفناک رسوائی سے… اللہ کے لئے کچھ تو غیرت کھاؤ… ادھر ٹونی بلیئر نے
تم سے حساب مانگا… اور ادھر تم نے مسجد امیر حمزہ پر بلڈوزر چڑھا دئیے… مسجد کی
دیوار سسکتی رہی… اس کی چھت روتی رہی… اس کے پتھر حیرت سے تمہیں دیکھتے رہے… مگر
تم نے ذرہ برابر حیا نہ کی… ہائے کاش تمہیں مسجد کا مقام معلوم ہوتا… اس جگہ تو
فرشتے بھی جھک کر اترتے ہیں… مسجد اللہ کا گھر ہے… اے ظالمو! … میرے اللہ کا
گھر… ہاں ظالمو!… اللہ تعالیٰ کا گھر… معلوم نہیں تمہارے سینے میں دل
ہے یا کوئی چیز… پھر اسی پر بس نہیں… تم نے مزید مساجد اور مدارس گرانے کا اعلان
کردیا ہے… تمہاری زبان ایسا اعلان کرنے سے بھی نہیں رُکی… تب امت مسلمہ کی بیٹیاں
روتی تڑپتی باہر نکل آئیں… اب تم ان پر حملے کے پروگرام بنا رہے ہو… کیا ایسا
کرنے کے بعد تم اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچ جاؤ گے… کیا تمہارے گھر
میں ’’بیٹیاں‘‘ نہیں ہیں… کیا تمہیں ’’بیٹی‘‘ کے لفظ کی حرمت کا اندازہ نہیں ہے؟… اللہ کے
لئے خود کو اور اس ملک کو ویران ہونے سے بچاؤ… یاد رکھو… جب تک اس ملک نے باقی
رہنا ہے… اس وقت تک تو یہاں مساجد کے تحفظ کے لئے… اسلام کے دیوانے اسی طرح
میدانوں میں نکلتے رہیں گے … پاکستان کی سرزمین کو حضرت مفتی ولی حسن ؒ جیسا مرد
درویش یاد ہے… جب مساجد کے خلاف ایک عدالت نے فیصلہ دیا تو… وقت کا یہ ولی اور شیخ
الحدیث کفن باندھ کر … میدان میں نکل آیا… تب صوبہ سرحد کے غیور قبائل اور کراچی
کے جری نوجوان… ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر اتر آئے… اور حکومت وقت کو ایک
بند کمرے میں اپنی تھوک کو چاٹنا پڑا… لال مسجد کا خطیب اور امام… مولانا
عبدالعزیز بھی کوئی دنیا پرست لیڈر نہیں ہے کہ… کسی لالچ یا دھمکی سے دب جائے گا…
وہ مفتی ولی حسن… کا شاگرد ہے… اے حکمرانو!… کسی بند کمرے میں ہی سہی اس کی بات سن
کر… اپنے ظالمانہ احکامات واپس لے لو… اسی میں سب کی خیر ہے… اور اسی میں سب کا
بھلا ہے… اب آخر میں چند بکھری ہوئی باتیں عرض خدمت ہیں… شاید ان باتوں سے اس
مسئلے کا کچھ تعلق نکل آئے… اور کچھ راستے کھل جائیں…
امام
رازی کا نکتہ
آپ
نے چھٹے پآرے کی آخری آیت تو پڑھی ہوگی… اور بار بار سنی بھی ہوگی… جی ہاں سورۃ
مائدہ کی آیت ۸۲ جس
میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دشمنوں کی تفصیل بیان
فرمائی ہے…
لَتَجِدَنَّ
اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الْیَہُوْدَ …الآیۃ…
یعنی
مسلمانوں کے سخت ترین دشمن یہودی ہیں اور مشرک… جبکہ عیسائی مسلمانوں سے ہمدردی
رکھتے ہیں… اور اس کی وجہ یہ ہے کہ… عیسائیوں میں علماء اور تارک دنیا راہب موجود
ہیں… اور عیسائیوں میں تکبر نہیں ہے… حضرات مفسرین فرماتے ہیں کہ… عیسائیوں کا
مسلمانوں کے لئے ہمدرد ہونا انہیں تین اسباب کی وجہ سے تھا… اب جبکہ ان میں نہ
توعلماء ہیں اور نہ تارک دنیا راہب… اور نہ ان میں تواضع ہے… اس لیے ان میں ہمدردی
بھی باقی نہیں رہی… خیر یہ ایک الگ اور مفصل بحث ہے… یہاں جو بات عرض کرنی ہے وہ
یہ ہے کہ امام رازیؒ نے ایک سوال اٹھایا ہے… اور پھر اس کا عجیب جواب بھی ارشاد
فرمایا ہے… سوال یہ کہ عیسائی عقیدے کے اعتبار سے یہودیوں سے زیادہ بدتر تھے…
کیونکہ عیسائیوں کا عقیدہ اللہ تعالیٰ کے لئے بھی نعوذباللہ تثلیث کا تھا… اس لیے عیسائی توحید کے بھی منکر
تھے اور رسالت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی… جبکہ یہودی عقیدے کے اعتبار
سے عیسائیوں سے کم بُرے تھے کیونکہ وہ توحید کے بہرحال قائل تھے… پھر کیا وجہ تھی
کہ عیسائی مسلمانوں کے ہمدرد تھے اور یہودی سخت دشمن؟… امام رازیؒ فرماتے ہیں وجہ
یہ تھی کہ یہودیوں میں ’’حبّ دنیا‘‘عیسائیوں سے زیادہ تھی… پس جس قوم میں دنیا اور
مال کی محبت جتنی زیادہ ہوگی وہ قوم اسلام اور مسلمانوں کی اتنی زیادہ دشمن ہوگی…
آج
پاکستان پر کن لوگوں کی حکومت ہے… سر سے لے کر پاؤں تک دنیا، مال، سود، جائیداد
میں لتھڑے ہوئے لوگ … جن کا اوّل بھی دنیا جن کا آخر بھی دنیا… آخرت سے غافل ان
لوگوں کے نزدیک دنیا کی خاطر سب کچھ جائز ہے… یہاں تک کہ امریکہ کے ہاتھوں خود کو
اور اپنے ضمیر کو بیچ دینا بھی… یاد رکھئے… دنیا پرست لوگ اسلام اور مسلمانوں کے
دشمن ہوتے ہیں… اب ان لوگوں کا مقابلہ صرف اور صرف ایک طریقے سے کیا جاسکتا ہے اور
وہ طریقہ ہے اپنے دل کو دنیا کی محبت سے پاک کرنا… اس میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شوق بھرنا… اور اسے شہادت
کا مشتاق بنانا… اگر ظالم بھی دنیا پرست ہو… اور مظلوم بھی دنیا کی ہوس کا شکار تو
پھر ظالم کی رسی کو ڈھیل ملتی رہتی ہے… یہی ہمارے حکمرانوں کی کامیابی ہے کہ… وہ
ہم جیسے دنیا پرست دینداروں کے حکمران ہیں… یا اللہ ہمیں حبّ دنیا سے نجات عطاء فرما…
صدیوں
کا تجربہ
مشرکین
مکہ کے ارادے خطرناک تھے… حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے چودہ سو صحابہ کرام ان کے
نرغے میں تھے… اسلام کو مٹانے اور مسلمانوں کو جڑ سے ختم کرنے کا موقع ان کے
دروازے تک خود آ پہنچا تھا… جی ہاں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے بہت دور مکہ مکرمہ کے
قریب ’’حدیبیہ‘‘ کے مقام تک تشریف لے آئے تھے اور آپ عمرہ فرمانا چاہتے تھے…
مشرکین مکہ نے فیصلہ کن حملے کا ارادہ کرلیا … تب آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنے
صحابہ کرام سے موت کی بیعت لے لی… صحابہ کرام کی بیعت جذباتی نہیں حقیقی تھی یعنی
وہ واقعی موت کے لئے تیار ہوگئے … اور ذہن بنالیا کہ بس اب یہ زندگی ختم اور آج
ہم نے مرنا ہے… تب ان کے رعب سے زمین لرز اٹھی… اور مکہ کے جنگجو مشرک اپنے گھر کے
دروازے پر صلح کے لئے آمادہ ہوگئے… دراصل مؤمن کی کمزوری زندہ رہنے کا شوق … اور
مؤمن کی قوت اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شوق ہے… اگر ہم زندہ رہنے
کا ہی ذہن بنائیں تو امریکہ تو کیا تھوڑا سا بخار، سر کا درد اور ایک چوہا بھی
ہمیں خوب تنگ کرسکتا ہے… لیکن اگر ہم مرنے کا ذہن بنالیں تو آسمان وزمین بھی
راستے میں نہیں ٹھہر سکتے… قرآن پاک نے حضرت طالوت کے لشکر کا قصہ بیان فرمایا تو
اس میں بھی یہی نکتہ سمجھایا کہ… جالوت کے بڑے لشکر کو دیکھ کر جب حضرت طالوت کے
لوگ حوصلہ ہارنے لگے تو وہ لوگ… جو دل سے شہادت کے لئے تیار تھے آگے بڑھے اور
انہوں نے پورے لشکر کو تھام لیا… جموں کی جیل میں ایک بار مشرکین نے ایک عالم دین
مجاہد کی داڑھی کی توہین کی… اس دن ہم نے مرنے کا پکا عزم کرلیا… اللہ اکبر کبیرا… دل کو ایسا سکون ملا کہ الفاظ سے
بیان نہیں کیا جاسکتا… آخری نماز ادا کی تو پتہ چلا کہ نماز کیا ہوتی ہے… اور پھر
جیل کے بلاک پر قبضہ… مگر مشرکین جلد ہی جھک گئے انہوں نے توہین سنت کے جرم پر
معافی مانگ لی… اور لڑائی سے پیچھے ہٹ گئے… حالانکہ ان کے پاس بندوقیں اور مجاہدین
کے پاس پتھر تھے… یہ مسلمانوں کا صدیوں کا تجربہ ہے… مگر دل کو اس پٹاخے باز دنیا
سے ہٹا کر آخرت اور شہادت کی طرف مائل کرنا آسان کام نہیں ہے… انسان چاہتا ہے بس
زندہ رہے خواہ دونوں آنکھیں، دونوں ہاتھ اور دونوں ٹانگیں بھی نہ ہوں… خواہ دن
رات بیماریوں میں کراہنا پڑے… خواہ فوجی بوٹوں کی ذلت کے نیچے رہنا پڑے… خواہ عزت
اور ضمیر کو فروخت کرنا پڑے… خواہ آنکھوں کے سامنے مساجد گرتی رہیں… خواہ جسم کے
ایک ایک حصے سے بیماری کا خون بہتا رہے… زندگی کا یہ شوق مؤمن کی پرواز کے لئے
ایک بڑی رکاوٹ ہے… قرآن پاک کی دل سے تلاوت کرنے اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور صحابہ کرام کے حالات
پڑھنے سے … یہ رکاوٹ دور ہوجاتی ہے…
ایک
عجیب دعاء
امام
احمد بن علی بونی ؒ اپنی مشہور کتاب ’’شمس المعارف الکبریٰ‘‘ میں لکھتے ہیں…
رُوِیَ
عَنْہُ دُعَائٌ مُجَرَّبٌ کَانَ عِیْسٰی عَلَیْہِ السَّلاَمُ یُحْیِیٖ بِہِ
الْمَوْتٰی
یعنی
حضرت امام مقاتل بن سلیمانؒ سے ایک مجرب دعاء منقول ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی
دعاء کے ذریعہ مردوں کو زندہ فرماتے تھے… آخر میں لکھتے ہیں…
واسئل
ما شئت فان لم یستجب لک فالعن مقاتلا
یہ
دعاء پڑھ کر جو چاہو مانگو (ان شاء اللہ دعا قبول ہوگی) اور اگر تمہاری دعاء قبول نہ ہو
تو مجھے یعنی (امام مقاتلؒ) کو برا بھلا کہو…
(عربی
دان حضرات فالعن کا معنیٰ سمجھتے ہیں)
وہ
مجرب وظیفہ جو اب تک بے شمار مواقع پر مجاہدین کے کام آچکا ہے… یہ ہے کہ فجر کی
نماز پڑھ کر اسی جگہ بیٹھے بیٹھے (کوئی بات کرنے یا قبلہ سے رخ پھیرنے سے پہلے) یہ
دعاء ایک سو مرتبہ پڑھیں اور آخر میں اپنے مقصد کے لئے دعاء مانگیں…
بِسْمِ
اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ وَلَا حَوْلَ وَلَا
قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہ الْعَلِیِّ
الْعَظِیْمِ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ یَا قَدِیْمُ یَا دَائِمُ یَا فَرْدُ
یَا وِتْرُ یَا اَحَدُ یَا صَمَدُ یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ یَا ذَاالْجَلَالِ
وَالْاِکْرَامِ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللہ لَا اِلٰہَ اِلاَّ ہُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ
وَہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۔ (شمس المعارف عربی ص۱۴۸)
ہر
دعاء کی طرح اس کے اوّل آخر بھی چند بار درود شریف پڑھ لیں… یہ بہت نازک وقت ہے…
مسلمان بہنیں خطرے میں ہیں… ’’مساجد اللہ ‘‘
خطرے میں ہیں… حکومت نے بہنوں پر ہاتھ اٹھایا تو مسلمانوں کی ذمہ داری بڑھ جائے
گی… مسلمان آپس میں لڑیں اس کا کبھی بھی اچھا نتیجہ نہیں نکلتا… مساجد کا تحفظ
بہرحال ’’مسلمانوں‘‘ کا فرض ہے… ان تمام باتوں کو مدّنظر رکھ کر… آپ کل صبح ہی
فجر کی نماز کے بعد مذکورہ بالا دعاء کا وظیفہ کریں… یہ دعاء اسماء الحسنیٰ اور
ایک قرآنی آیت پر مشتمل ہے… الفاظ بہت اونچے اور شریعت کے عین مطابق ہیں… ایک سو
بار یہ دعاء پڑھ کر… جامعہ حفصہؓ کی بیٹیوں کی حفاظت اور مقصد میں کامیابی کے لئے
دعاء کریں… مساجد کے تحفظ کی دعاء کریں… ہماری اس بارے میں کیا ذمہ داری بنتی ہے…
اس ذمہ داری کو سمجھنے اور ادا کرنے کی دعاء کریں… اور امت مسلمہ کے لئے اور تمام
مجاہدین کے لئے دعاء کریں… خوب دل کھول کر مانگیں، خوب تڑپ کر مانگیں… پورے یقین
کے ساتھ مانگیں… اللہ تعالیٰ ہم سب کی دعائیں قبول فرمائے… وہ بیٹیاں
جو اسلام اور مساجد کے تحفظ کے لئے… کئی دن سے مشقت برداشت کر رہی ہیں وہ بھی… اس
عمل کو پورے اخلاص کے ساتھ کریں… اور کثرت سے بسم اللہ الرحمن الرحیم کا ورد رکھیں…
اللہ تعالیٰ نے میدان عمل میں نکلنے والوں کو زیادہ
ذکر کرنے کا حکم دیا ہے… اس لیے مصر اور بخارا وسمرقند کی مثالیں نہ دی جائیں کہ
ختم بخاری اور وظائف سے کچھ نہیں ہوتا… ایک مشہور صحابی فرمایا کرتے تھے کہ … اگر
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سکھائے ہوئے فلاں کلمات نہ پڑھوں
تو یہودی مجھے اپنے جادو سے گدھا بنا دیں… میدان عمل میں نکلنے والوں کو تو ذکر اللہ سے
بہت زیادہ نفع ملتا ہے اس لیے اس کا خوب اہتمام کرنا چاہئے…
یا
اللہ رحم فرما… یا اللہ معاف فرما… یا اللہ نصرت نازل فرما… یا اللہ ان
بیٹیوں کی حفاظت فرما… یا اللہ مساجد کی حفاظت فرما… یا اللہ ہمیں اپنا فرض خوش اسلوبی سے ادا کرنے کی توفیق
عطاء فرما… قبول فرما، قبول فرما، قبول فرما…
آمین
یا رب المستضعفین یا ارحم الراحمین
وصلی
اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد واٰلہ واصحابہ
اجمعین
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہمیں شرح صدر نصیب فرمائے، ہمارا سینہ کھول دے… اگر ہمیں یہ نعمت
نصیب ہوگئی تو ہم کامیاب ہوجائیں گے… ورنہ معاملہ بہت مشکل ہے بہت مشکل… حضرات
انبیاء علیہم السلام نے خود کو کبھی بے بس نہیں سمجھا… حالانکہ ان پر وہ مشکلات
آئیں کہ اگر پہاڑوں پر آجاتیں تو وہ ریزہ ریزہ ہوجاتے… ایک شخص سمندر میں ہے اور
اس کو ایک بہت بڑی مچھلی نے نگل کر اپنے معدے میں اتارلیا ہے… مگر وہ شخص نہ ہی
اللہ تعالیٰ سے غافل ہوا اور نہ ہی اس نے خود کو بے بس سمجھا … کیا ایسی خوفناک
صورتحال کا ہم اور آپ مقابلہ کرسکتے ہیں؟… ہم تو چھوٹی چھوٹی باتوں پر بے بس اور
مایوس ہو کر… کفر اور گناہ کے راستے پر نکل کھڑے ہوتے ہیں … ایک اور شخص ہے… وہ
بچپن سے امتحانات کا شکار ہے… مگر وہ ایک لمحہ بھی مایوس نہیں ہوا… بچپن میں وہ
اپنی ماں سے جدا ہوا اور ایک صندوق میں ڈال کر دریا کے حوالے کردیا گیا… اللہ
اللہ کیا عجیب منظر ہے… ماں اپنے بیٹے کو دشمنوں کے خوف سے خود ہی صندوق میں
بند کرکے دریا میں ڈال رہی ہے… اور اس کی بے قرار بہن دریا کے ساتھ ساتھ دوڑتی
جارہی ہے… میرا بھیّا… کہاں جاتا ہے؟ … اس کا نصیب اسے کہاں لے جاتا ہے؟… اور پھر
معلوم ہے کیا ہوا؟… وہ صندوق دریا کی لہروں سے اس نہر کی طرف مڑ گیا جو بڑے دشمن
کے محل میں جارہی تھی… اللہ اللہ عجیب
منظر ہے … جس ظالم سے بچانے کے لئے دریا میں ڈالا تھا… دریا کی لہروں نے اسی کے
گھر کی طرف دھکیل دیا… بہن اپنا دل پکڑ کر رہ گئی… مگر وہ انجام سے بے فکر نگرانی
میں لگی رہی… اس نے دیکھا کہ دشمن کی بیوی نے صندوق کو نہر سے نکال لیا ہے… اور
بچے کو اپنا بیٹا بنانے کا اعلان کردیا ہے… پھر یہ بچہ جوان ہوا… اور اس کے ہاتھ
سے ایک کافر مارا گیا… بڑادشمن جو بیوی کی وجہ سے اب تک اپنا ہاتھ روکے ہوا تھا
کھلی دشمنی پر اُتر آیا… اس نے اجلاس بلایا… وزراء، فوجی کمانڈر اور بڑے سردار سب
نے یہی مشورہ دیا کہ اس نوجوان کو قتل کردیا جائے… وہاں ایک آدمی یہ سب کچھ سن رہا
تھااور وہ دل سے اس نوجوان کا خیر خواہ تھا… ابھی اجلاس جاری ہی تھا کہ وہ دوڑ کر
آیا اور اس نے نوجوان کو بتادیا کہ… قتل کا حکم جاری ہوچکا ہے جلدی سے نکل جاؤ…
بچپن کے مسافر کے سامنے اب ایک اور سفر تھا… اسے نہ منزل معلوم تھی نہ راستہ، اس
نے اوپر نگاہیں اُٹھائیں اپنے رب سے دعاء مانگی اور چل پڑا… کوئی اور ہوتا تو کہتا
اب میں کہاں جاؤں… مگر وہ نکل پڑا… جس رب سے اس نے دعاء مانگی تھی… اس نے راستہ
بھی دکھادیا اور اچھے لوگوں کے پاس پہنچادیا… آٹھ دس سال گزر گئے… اب وہ ایک اور سفر
پر روانہ ہوا… اللہ اللہ! حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی بھی عجیب
ہے… ایک سفر کے بعد دوسرا سفر… ایک آزمائش کے بعد دوسری آزمائش… کبھی صندوق میں
پڑے دریا میں تیر رہے ہیں… کبھی خوف کی حالت میں مدین کی طرف دوڑ رہے ہیں… کبھی
مدین سے مصر کی طرف جارہے ہیں… پھر مصر سے راتوں رات نکل کر ارض مقدس کی طرف جارہے
ہیں… پھر کبھی مجمع البحرین کا سفر ہے… اور زندگی کے آخری تمام سال وادی تیہ کے
صحراء میں چلتے چلتے بیت گئے… مگر وہ کبھی مایوس نہیں ہوئے، کبھی غافل نہیں ہوئے…
اور نہ کبھی انہوں نے خود کوبے بس سمجھا…
اب وہ کتنے مزے میں ہیں اور کتنے سکون میں… میرے آقا مدنی
صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قبر میں نماز پڑھتے دیکھا… یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام
کی خصوصیت ہے… اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمانوں پر ان سے ملاقات کی… جبکہ
فرعون اب بھی روزانہ آگ میں جلایا جاتا ہے… قرآن پاک نے ہمیں یہ سچی خبر سنائی ہے…
آٹھ دس سال مدین گزارنے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی اہلیہ کے ساتھ جارہے
تھے… انہوں نے اچانک روشنی دیکھی… اسے وہ آگ سمجھ کر اس کی طرف گئے تاکہ… گھر
والوں کے لئے ’’حرارت‘‘ کا بندوبست کرسکیں… وہاں جا کر حکم ملا کہ جوتے اتار و اور
ہماری بات سنو… اللہ اللہ کیسا
عجیب منظر ہے… وہ شخص جس کو بچپن سے جوانی تک دشمنوں نے مارنے کی ہر کوشش کی…
دیکھتے ہی دیکھتے اللہ تعالیٰ کا ’’کلیم‘‘ بن گیا… کلیم اللہ، کلیم اللہ، کلیم
اللہ… علیہ الصلوٰۃ والسلام… یہ لفظ کتنا میٹھا ہے ’’کلیم اللہ‘‘… آپ بھی ایک بار
کہیں کلیم اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام… یعنی وہ جو اللہ تعالیٰ سے باتیں کرتا ہے…
اور اللہ تعالیٰ اس سے باتیں کرتا ہے… مجازی عاشقوں سے پوچھیں کسی خوبصورت لڑکی سے
باتیں کرنے میں کتنا مزہ آتا ہے؟… لوگ گھنٹوں موبائل پر یہ ناپاک رس چوستے رہتے
ہیں… عقیدت مند مریدوں سے پوچھیں اپنے شیخ سے بات کرنے میں کتنا مزہ آتا ہے؟… لوگ
اس کے لئے ترستے رہتے ہیں، تڑپتے رہتے ہیں… دنیا پرستوں سے پوچھیں کہ صدر اور وزیر
اعظم سے بات کرنے میں کتنا مزہ آتا ہے؟… لوگ ملاقاتوں کے فوٹو اپنے ڈرائنگ روم میں
سجاتے ہیں… فلم پرستوں سے پوچھیں کہ اداکاراؤں سے بات کرنے میں کتنا مزہ آتا ہے؟…
لوگ چند منٹ کی ملاقات پر لاکھوں روپے نچھاور کردیتے ہیں… اللہ اللہ … حضرت موسیٰ علیہ السلام کی
خوش بختی دیکھیں کہ اللہ پاک خود ان سے کلام فرماتا ہے… درمیان میں کوئی فرشتہ بھی
نہیں ہوتا… آہا کس قدر اونچا مقام ہے… کس قدر اونچا … حسینوں کا حسن جس اللہ
تعالیٰ نے پیدا کیا… بزرگوں کو بزرگی جس اللہ تعالیٰ نے عطاء فرمائی… بادشاہوں کو
بادشاہت جس مالک نے دی وہ خود کیسا ہوگا… اس کا کلام کیسا ہوگا… یہی وجہ ہے کہ
کوہِ طور پر موسیٰ علیہ السلام ’’بے حال ‘‘ ہوگئے… اور مزید قرب کے لئے مچل گئے…
رَبِّ اَرِنِیْ اَنْظُرْ اِلَیْکَ … اے میرے رب اپنی ایک جھلک تو دکھا دے… ایک
جھلک میرے رب… ایک جھلک… انبیاء تو بہت مضبوط ہوتے ہیں انہیں اپنے اوپر قابو نصیب
ہوتا ہے … مگر کلام میں اتنا لطف تھا اتنا مزہ تھا اتنی لذت تھی کہ دل بے تاب
ہوگیا… اور بے اختیار رَبِّ اَرِنِیْ اَنْظُرْ اِلَیْکَ …پکار اٹھا… خیر عشق کی یہ
داستان بہت طویل ہے اور آج ہمارا یہ موضوع بھی نہیں ہے… تھوڑی دیر کلام کے بعد حکم
ملا کہ اے موسیٰ… آپ فرعون کے پاس جائیں اسے میری وحدانیت کا پیغام سنائیں… اور یہ
ذمہ داری دی گئی کہ بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دلائیں… اللہ اللہ کیسا عجیب منظر ہے… ایک تنہا
شخص، ایک مسافر شخص… جس کو آٹھ سال کی مزدوری کے بعد شادی ملی… جس کے پاس اتنے
وسائل بھی نہیں تھے کہ اپنی بیوی کے لئے سفر میں گرمی اور حرارت کا بندوبست کر
سکتا… اسی لیے تو آگ کا ایک انگارہ ڈھونڈتا پھر رہا تھا… اس کو حکم ملا کہ فرعون
کو جا کر توحید کی دعوت دیں اور بنی اسرائیل کو اس کے ظلم سے نجات دلائیں… کوئی
اور ہوتا تو اتنے بڑے بوجھ کی وجہ سے یا تو مرجاتا… یا پاگل ہوکر قہقہے لگانے
لگتا… مصر میں داخلہ ہی مشکل تھا… وہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام پر قتل کا مقدمہ
تھا… پھر فرعون تک رسائی بظاہر ناممکن تھی… رسائی ہو بھی جاتی تو فرعون کہاں سنتا…
اپنے کسی سنتری کو اشارہ کرتا اور گردن کٹ کر زمین پر جاگرتی… فرعون ستر ہزار
شہروں کا تاجدار بادشاہ تھا… اور اس کو ’’ربِّ اعلیٰ‘‘ یعنی ’’بڑارب‘‘ مانا جاتا
تھا… مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کچھ نہ پوچھا… صرف ایک دعاء مانگ لی…
قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْo وَیَسِّرْلِیْ
اَمْرِیْ (طٰہٰ ۲۵۔۲۶)
ٹھیک ہے میرے رب تیرا غلام حاضر ہے… بس آپ میرا سینہ کھول
دیں اور میرا کام آسان کردیں… انسان کا سینہ اگر کھل جائے تو پھر سب کچھ آسان ہے…
سب کچھ آسان… ع
وسعتِ دل ہے بہت وسعتِ صحرا کم ہے…
سینہ کھل جانے کا آسان ترجمہ ہے… یا اللہ مجھے ہمت دے دے… ع
اگر ہمت کرے پھر کیا نہیں انسان کے بس میں
سینہ کھل جانے کا اصل مطلب یہ ہے کہ… انسان فنا فی اللہ
ہوجائے… یعنی سینے میں اللہ تعالیٰ کے نور کی ایسی تجلی اترے کہ دل… بزدلی، کم
ہمتی، شہوت پرستی اور حب دنیا سمیت ہر گندگی سے پاک ہوجائے… تب انسان کی سوچ یہ بن
جاتی ہے کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے کرنا ہے… میں نے تو صرف محنت کرنی ہے… حضرت
موسیٰ علیہ السلام نے نہ فوج مانگی… نہ مال مانگا… نہ حمایت کرنے والے عوامی جتھے
مانگے… نہ پناہ گاہ مانگی… نہ شیلٹر مانگا… بس یہی مانگا کہ… اے میرے رب میرے دل
کو اپنا بنالے… کیونکہ جس کے دل پر… اللہ تعالیٰ کا نور اترتا ہے… اللہ تعالیٰ ہی
اس کا سب کچھ بن جاتا ہے… یہ دعاء قبول ہوگئی تو اسباب میں سے دو چیزیں مانگیں…
ایک یہ کہ میری زبان میں ایسی فصاحت دے دے کہ میری بات لوگوں کے دلوں پر اثر کرے…
وَاحْلُلْ عُقْدَۃً مِّنْ لِّسَانِیْ یَفْقَہُوْا
قَوْلِیْ(طٰہٰ۲۷،۲۸)
اور میرے بھائی کو میرا وزیر بنا کر میرے کام میں میرے ساتھ
کردے… تاکہ ہم جماعت بن جائیں … ہم دو ہو جائیں… اس لیے کہ اکیلی ذات صرف اللہ
تعالیٰ ہی کی اچھی ہے… وزیر کہتے ہیں… بوجھ اٹھانے والے کو… یعنی میں تیرے کام میں
لگا رہوں… اور میرا بھائی میرا ہر طرح سے معاون بنا رہے… اس واقعے سے آپ اندازہ
لگائیں کہ… ’’شرح صدر‘‘ کتنی بڑی نعمت ہے… انبیاء علیہم السلام کو یہ نعمت نصیب
ہوتی ہے اس لیے وہ بے بسی اور مایوسی محسوس نہیں کرتے… حضرت ایوب علیہ السلام کا
واقعہ دیکھیں… حضرت یوسف علیہ السلام کی آزمائشیں دیکھیں… حضرت عیسیٰ علیہ السلام
کی مشکلات دیکھیں… ان سب کو ’’شرح صدر‘‘ نصیب تھا… سینہ کھل چکا تھا… ہمت مکمل
ہوچکی تھی… دل پر اللہ تعالیٰ کے نور کی ایسی تجلی تھی کہ یہ حقیر سی دنیا اور اس
کی پریشانیاں ان کے عزائم کو کمزور نہیں کرسکتی تھیں…
اور پھر ’’شرح صدر‘‘ کی یہ نعمت… ہمارے آقا حضرت محمد عربی
صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ نصیب ہوئی… اور اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ احسان
ان الفاظ میں ذکر فرمایا…
اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ… (الشرح۱)
کیا ہم نے آپ کو شرح صدر کی نعمت عطاء نہیں فرمائی… اللہ اللہ … کیسا عجیب منظر ہے… اگر سینہ
کھل جائے تو پیٹ پر پتھر بندھے ہوئے ہیں اور روم وفارس کے محلات فتح ہونے کی
خوشخبریاں سنائی جارہی ہیں… اور اگر سینہ نہ کھلے تو ایک کتے کے بھونکنے پر بھی
انسان مایوسی اور بے بسی کے اندھیروں میں گم ہوجاتا ہے… آج ہم مسلمانوں کا مرض یہی
ہے کہ ہمارا سینہ بند ہے… اور ہم اس عظیم نعمت سے تقریباً محروم ہیں… ورنہ اللہ
تعالیٰ تو وہی ہے… اور اس کی قوت بھی وہی ہے… مگر ہم اپنے دل اور سینے کی تنگی کی
وجہ سے قدم قدم پر خوار ہیں… اگر ہمارا سینہ کھلا ہوتا تو یہ دنیا ہمیں بہت چھوٹی نظر
آتی… مگر ہمیں تو یہاں کے پلاٹ اور کوٹھیاں بھی بڑی نظر آتی ہیں… اسی لیے زمین ہم
پر تنگ ہوتی جارہی ہے… یا اللہ رحم فرما… اور اپنا فضل فرما کر ہمارا سینہ بھی
کھول دے… ہمیں بھی شرح صدر عطاء فرما… یا اللہ یہ ٹھیک ہے کہ ہم گناہگار ہیں… سر
سے لے کر پاؤں تک گناہوں میں لتھڑے ہوئے ہیں… ہر طرف حرام روزی ہے… موبائل فون پر
گناہ… کمپیوٹر پر گناہ… گلی گلی میں گناہ… ہر طرف مسلمان صبح سے شام تک بس تیری
نافرمانی ہی کی فکر میں ہیں… مگر میرے اللہ آپ تو غفور ہیں… آپ تو غفّار ہیں… معاف
فرمادیجئے… آپ ’’تو ّاب‘‘ ہیں… ہم سب کو توبہ کی طرف کھینچ لیجئے… آپ ’’جبّار‘‘
ہیں ہماری بگڑی بنادیجئے … اور آپ ’’ہادی‘‘ ہیں ہمیں ہدایت دے دیجئے… ہم نام تو آپ
ہی کا لیتے ہیں… اور سجدہ بھی صرف آپ ہی کو کرتے ہیں… یا اللہ ہمارے گناہ بہت سہی
مگر آپ تو موجود ہیں… ہمیشہ ہمیشہ کے لئے… پھر سینہ کھول دیجئے نا… پیارے رب ہم
اور کہاں جائیں… یا اللہ یہ ٹھیک ہے… امریکہ طاقتور ہے، روس کے پاس بہت قوت ہے…
بھارت بھی بڑا ملک ہے… ہمارے حکمران عزت بیچ کر عزت پانے کے خواہشمند ہیں… ہر طرف
ہمارے لیے راستے بند ہیں… اور جیلیں کھلی ہیں… مگر میرے رب آپ تو موجود ہیں…
امریکہ تو ایک ستارہ نہیں بنا سکتا آپ نے اربوں کھربوں ستارے بنادئیے… امریکہ پانی
کا ایک قطرہ نہیں بنا سکتا… آپ نے سمندروں کے سمندر بنادئیے… یہ زمین اور اس کی
طاقتیں آپ کے عرش اور کرسی کے سامنے ایسے ہیں جیسے صحرا میں پڑی ایک چھوٹی سی
انگوٹھی… آپ موجود ہیں… پھر بھی ہم ان چھوٹے چھوٹے کافروں سے دب گئے … اس لیے کہ
ہمارے دل پر نور کی تجلی نہیں ہے… ہم شرح صدر سے محروم ہیں… یا اللہ اب کافروں کے
نخرے بہت بڑھ گئے ہیں… وہ تیرے بندوں کو گمراہ کر رہے ہیں… انہوں نے ہر طرف گناہ
ہی گناہ … پوری کوشش کے ساتھ پھیلا دئیے ہیں… اور اہل اسلام خود کو مجبور سمجھ کر
ان کے سامنے بے بس ہیں… یا اللہ ہمیں مایوسی اور بے بسی سے آپ کے سوا اور کون نکال
سکتا ہے؟… آپ کے سوا اور کون ہے جو ایسا کرسکے… کوئی نہیں… میرے رب… کوئی نہیں…
پھر ہمارا سینہ کھول دیجئے نا… صرف رحمت کی ایک نظر فرما کر… اپنے فضل والی ایک
نظر فرما کر… اگر آپ نے اپنی مغفرت اور رحمت والی نظر نہ فرمائی تو ہم تباہ
ہوجائیں گے… ہم برباد ہوجائیں گے… شیطان ہمیں گندے گندے گناہوں میں ڈال دے گا… اور
دنیا کا جبر ہمیں کفر کے سامنے مصلحت کی زنجیر ڈال کر جھکادے گا…
یا اللہ … یہ ٹھیک ہے ظاہری طور پر حالات بہت خراب ہیں …
امیر المؤمنین در بدر ہیں… ابوجندل جودھ پور میں سسک رہے ہیں… نصراللہ منصور
وارانسی میں اپنے بالوں کو سفید ہوتا دیکھ رہے ہیں… مجاہدین پر پابندی لگ چکی ہے…
جہاد کے معاونین نے منہ موڑ لیا ہے… بڑے بڑے اہل دین کافروں اور منافقوں سے مصلحت
کی باتیں کر رہے ہیں… قلمکاروں کے قلم زہر اُگل رہے ہیں… بے حیائی نے ہر شخص کو
مفلوج کردیا ہے… مسلمانوں میں ہندوؤں کی رسومات عام ہو چکی ہیں… مالدار کنجوس اور
مسرف بن چکے ہیں… غریب لالچی اور حاسد بن چکے ہیں… ہر طرف رسومات کی چوکھٹ پر
پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ذبح کی جارہی ہے… نوجوان بے فکری میں اپنی
خواہشات کی پوجا میں لگے ہوئے ہیں… اہل علم کم ہمت اور جامد ہوچکے ہیں… اور ہم سب
پر شیطان اور نفس کے حملے ہیں… کالے سانپ کے حملے… کالے سانپ کے حملے… مگر میرے
اللہ آپ تو موجود ہیں… اور آپ فتّاح ہیں … حالات اور دروازے کھولنے والے… آپ رحمن
ہیں… آپ رحیم، عطوف، کریم اور رؤف ہیں… آپ کے سامنے ان حالات کی کیا حیثیت ہے…
گوانٹانامو بے کے پنجرے آپ کے سامنے کیا چیز ہیں … اور امریکہ آپ کے سامنے کیاہے…
میرے مالک آپ قادر ہیں قدیر ہیں… قوی ہیں اور مقتدر ہیں… قھّار ہیں اور وہّاب ہیں…
اور آپ ہی مالک الملک اور ذوالجلال والاکرام ہیں… اور آپ تو حیّ قیوّم ہیں… اے
حلیم اے عظیم… ہم آپ کی طرف ہی دیکھ رہے ہیں… صرف آپ کی طرف… صرف آپ کی طرف…
کئی لوگ مایوس ہوگئے… انہوں نے نشے میں سکون ڈھونڈا… مگر
کہاں؟… اب وہ کسی کے نہیں رہے… کسی نے کافروں سے ہاتھ ملانے میں سکون ڈھونڈا… مگر
کہاں؟… اب وہ خارش زدہ جانوروں سے بھی زیادہ پریشان ہیں… کسی نے دوستیوں اور
کھیلوں میں سکون ڈھونڈا… مگر کہاں؟… وہ تو غفلت میں جا پڑے… میرے مالک حالات ہیں
ہی ایسے کہ مسلمان… اپنا منصب بھول کر نشے، رسومات، فلموں… اور عشق بازیوں کا
سہارا ڈھونڈ رہے ہیں… اے میرے مالک کیا آپ ہم سے ناراض ہیں… ہم تو آپ کے محبوب صلی
اللہ علیہ وسلم اور حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں… آپ کی رحمت تو آپ کے غضب
سے بہت آگے ہے… اے میرے مالک آپ ناراض ہیں؟…آپ کو آپ کی رحمت کا واسطہ ہے… ہمیں
معاف فرما دیجئے… یا اللہ ہم نے آپ کا نام لیا تو سب سے کٹ گئے… سب ہمارے دشمن بن
گئے… مگر پھر شیطان اور نفس کے کالے سانپ نے ہم سے انتقام لیا … اور ہمیں آپ کی
نظر رحمت کے قابل بھی نہ چھوڑا… ٹھیک ہے ہم قابل نہیں… مگر نا اہلوں کو اہل کون
بناتا ہے… صرف آپ ہی تو بنا سکتے ہیں… اگر آپ نے ہمیں معاف نہ فرمایا تو ہم… دنیا
آخرت میں خسارہ پانے والے بن جائیں گے… اے ہمارے رب ہم نے قصہ سنا ہے… تیرا ایک
بندہ کعبہ کا طواف کر رہا تھا اور رو رو کر دعاء مانگ رہا تھا… یا اللہ مجھے
’’عصمت‘‘ عطاء فرما دے… مجھے ایسا معصوم بنادے کہ میں تیری نافرمانی کر ہی نہ سکوں
… تب کعبہ سے آواز آئی اے ابراہیم… ہم اگر سب کو معصوم بنا دیں تو پھر اپنا فضل کس
پر کریں گے… اے میرے رب ہمیں معلوم ہے آپ ’’گناہگاروں‘‘ پر اپنا فضل فرماتے ہیں…
پھر ہم پر اپنا فضل فرمادیجئے نا… اس بھری دنیا میں ہم سے زیادہ محتاج اور کون
ہوگا… ہم سے زیادہ محتاج اور کون ہوگا… امریکہ ہمیں مٹانا چاہتا ہے… برطانیہ ہمیں
ختم کرنا چاہتا ہے… اقوام متحدہ ہماری دشمن ہے… ناٹو اتحاد ہمارا جنگی مخالف ہے… اسلامی
دنیا کے حکمران ہمیں تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں… شیطان ہمیں رسوا کرنا چاہتا ہے…
نفس امّارہ ہمیں ہلاک کرنا چاہتا ہے… بزدلی ہمیں ذلیل کر رہی ہے… بخل ہمیں برباد
کر رہا ہے… کم ہمتی نے ہم سے سکون چھین لیا ہے… اور سستی نے ہمیں گھریلو جانور
بنادیا ہے… یا اللہ اگر آپ ہمارا سینہ کھول دیں تو ہم … ان سب دشمنوں سے ٹکرا
جائیں… اور زمین پر تیرا نام اور تیرا نظام بلند کردیں… یا اللہ ہمارا سینہ کھلے
تو دنیا کی گندی فکریں ہم پر مسلط نہ ہوں… اور ہم زمان و مکان کی قید سے آزاد
ہوکر… دیوانوں کی طرح دوڑتے چلے جائیں… تیرا قرآن لے کر… اور تیرا دین لے کر… آج
ہم بیماریوں، علاجوں، شادیوں، مکانوں، دکانوں اور رسومات میں اپنا وقت برباد کر
رہے ہیں… اگر ہمیں شرح صدر نصیب ہوجائے تو ہم… تیرا پیارا دین لے کر پہاڑوں اور
سمندروں سے ٹکرا جائیں… اور حضرات صحابہ کرام کی طرح دور دور اپنی قبریں بنائیں…
اے میرے مالک آپ نے قرآن مجید میں واضح اشارہ دیا ہے کہ آپ… انبیاء علیہم السلام
کے علا وہ… اور لوگوں کو بھی… شرح صدر کی نعمت عطاء فرماتے ہیں… آپ کا فرمان ہے:
اَفَمَنْ شَرَحَ اللہ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ فَہُوَ عَلٰی
نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّہٖ (الزمر۲۲)
اللہ تعالیٰ جس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے وہ اپنے
رب کی طرف سے نور اور روشنی میں ہوتا ہے…
اور سورۃ الانعام میں آپ کا پیارا ارشاد گرامی ہے:
فَمَنْ یُّرِدِ اللہ اَنْ یَّہْدِیَہُ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ
لِلْاِسْلَامِ (الانعام۱۲۵)
اللہ تعالیٰ جسے ہدایت دینا چاہتا ہے اس کا سینہ اسلام کے
لئے کھول دیتا ہے…
یا رب آپ کا ہر فرمان بلا شبہ سچا ہے… اور آپ ہی نے فرمایا
ہے کہ… آپ مانگنے والوں کو عطاء فرماتے ہیں… آج سعدی مسکین بھی جھولی پھیلا کر
بیٹھاہوا ہے… اور القلم کے پڑھنے والے بھی… یا اللہ آپ ہمارا سینہ اسلام کے لئے
کھول دیجئے… اور ہمیں ضائع ہونے سے بچا لیجئے… اے کریم کرم فرما کر… یہ دعاء قبول
فرمالیجئے… ہمارے ہر طرف آگ ہی آگ ہے… اگر آگے جا کر بھی آگ ہی ملی تو ہم برباد
ہوجائیں گے… ہمیں نفاق سے اور قول وفعل کے تضاد سے بچا لیجئے… اور سب سے بڑی دعاء
یہ ہے کہ… اپنی ناراضی سے بچا لیجئے… اگر آپ راضی ہیں تو ہمیں حالات کی کوئی پروا
نہیں… اور اگر آپ ناراض ہیں؟… اللہ اللہ رحم فرمائیے آپ کی ناراضی کا لفظ جب اتنا بھاری
ہے تو اس کی حقیقت کتنی تلخ ہوگی… ہم زبانوں سے آپ کا نام لے رہے ہیں… آپ ہمارے
دلوں میں بھی اپنا ذکر جاری فرمادیجئے… وہ ذکر جس سے قلوب کو چین اور اطمینان ملتا
ہے…
اَلاَ بِذِکْرِ اللہ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ…
یا ارحم الراحمین… رحمت کی ایک نظر فرما کر… اپنا ذکر… ہمیں
عطاء فرمادیجئے… ہمارے دل کو سکون دے دیجئے… سکون دے دیجئے… سکون دے دیجئے… اور
اپنی رحمت سے ہمارا سینہ کھول دیجئے…
رَبِّ اشْرَحْ صُدُوْرَنَا وَیَسِّرْلَنَا اُمُوْرَنَا…
آمین یا ارحم الراحمین…
وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہٖ سیدنا محمد وآلہٖ واصحابہٖ
وسلم تسلیما…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے بندے جب اس کا شکر ادا کرنے پر آتے ہیں تو
فرشتوں سے بھی آگے نکل جاتے ہیں… لیکن جب کسی انسان پر ناشکری کا دورہ پڑتا ہے تو
وہ شیطان کو بھی حیران کردیتا ہے… شکر گزاری بہت بڑی نعمت ہے… مگر اس نعمت کو پانے
والے بندے بہت تھوڑے ہیں… اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
اِعْمَلُوْا اٰلَ دَاوُدَ شُکْرًا وَّقَلِیْلٌ مِّنْ
عِبَادِیَ الشَّکُوْرُ (سبا۱۳)
ترجمہ: عمل کرو اے داؤد کے گھر والو اللہ تعالیٰ کا احسان
مان کر اور میرے بندوں میں احسان ماننے والے تھوڑے ہیں…
ہر انسان سر سے لے کر پاؤں تک اللہ تعالیٰ کے احسانات میں
ڈوبا ہوا ہے… مگر ان احسانات کو مان کر شکر کرنے والے بہت تھوڑے ہیں… عرش سے لے کر
فرش تک اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہی نعمتیں ہیں… اور مسلمان پر تو اتنی نعمتیں ہیں کہ
کوئی شمار نہیں کرسکتا… اللہ پاک کو کیا ضرورت تھی اتنی بڑی جنت بنانے اور سجانے
کی… دودھ، شہد اور شراب کے دریا… مشک وعنبر کے پہاڑ اور موتیوں کے محلات… اور پھر
دلکش پاکیزہ حوریں اور سب سے بڑھ کر اللہ پاک کا دیدار… یہ سب کچھ ایمان والوں پر
اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ… چھوٹی سی تاریک قبر تاحد نظر کشادہ ہوجاتی ہے اور جنت
کی خوشبو سے مہک اٹھتی ہے…
اللہ اکبر کبیرا… مگر اس سب کے باوجود ’’ناشکری‘‘ کی آگ
ایمان کو جلا رہی ہے… ہم میں سے ہر ایک حالات کا رونا رو رہا ہے… اس وقت اللہ
تعالیٰ کے شکر کی بے حد ضرورت ہے… شکر ہوگا تو ہم میں قوت پیدا ہوگی… ہم اپنے اوپر
اللہ تعالیٰ کے احسانات کو محسوس کریں گے… ہم ان احسانات کی قدر کریں گے… ہم ان
احسانات اور نعمتوں کو درست استعمال کریں گے… تب ہم ہر طرح کے گھاٹے اور عذاب سے
بچ جائیں گے… ارشاد باری تعالیٰ ہے…
مَا یَفْعَلُ اللہ بِعَذَابِکُمْ اِنْ شَکَرْتُمْ
وَاٰمَنْتُمْ وَکَانَ اللہ شَاکِرًا عَلِیْمًا (نساء۱۴۷)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر
گزار بنو اور ایمان لے آؤ اور اللہ تعالیٰ قدردان ہے سب کچھ جاننے والا…
اس وقت ’’حالات‘‘ تیزی سے بدل رہے ہیں… ہر گھنٹے بعد ایک
نئی خبر آتی ہے… اور اگلے گھنٹے وہ تبدیل ہوجاتی ہے… پرسوں اطلاع ملی کہ ’’لال
مسجد‘‘ کے اردگرد پاکستان کی بہادر سپاہ نے اپنا گھیرا ڈال لیا ہے… ممکن ہے وہ
حملہ کریں اور مسلمان بچیوں پر گیس کے گولے اور گولیاں برسائیں… تب ہر طرف مصلے
بچھ گئے… سجدے ہوئے، آنسو ٹپکے، جذبات ابلے… ایک شور تھا اور ایک غم بھرا سناّٹا
بھی… مگر گیارہ بجے مطلع صاف ہوگیا… پولیس والے واپس چلے گئے… بے صبرے لوگ اس وقت
بھی ذکر و شکر کی بجائے یہی پکار اٹھے… ہائے افسوس… پھر معلوم ہوا کہ حضرات علماء
کرام مذاکرات کے لئے تشریف لائے ہیں… آج کے اخبار میں اطلاع ہے کہ مذاکرات ناکام
ہوچکے ہیں اور اب کسی بھی لمحے آپریشن کا خطرہ ہے…
اس وقت مسلمان متفقہ قیادت سے محروم ہیں… اس لیے کچھ پتہ
نہیں چلتا کہ کیا کیا جائے اور کیا نہ کیا جائے؟… اللہ تعالیٰ اس معاملے کو خیر
وعافیت کے ساتھ حل فرمائے… اور اہل ایمان کی خاص نصرت فرمائے … اب اس موضوع پر
مزید کیا لکھا جائے کیونکہ کچھ معلوم نہیں کہ حالات کس رخ پر جائیں گے… تحریکوں
میں تدبیریں اور پینترے بدلے جاتے ہیں… جو لوگ خود اس کام میں نکلے ہوئے ہیں فیصلہ
انہیں پر چھوڑ دیا جائے… وہ کچھ مطالبات منوا کر پیچھے ہٹیں تو انہیں ’’پسپائی‘‘
کا طعنہ نہ دیا جائے… اور وہ حالتِ مظلومیت تک پہنچیں تو انہیں خود کو ہلاکت میں
ڈالنے والا قرار نہ دیا جائے… اس پورے واقعے میں شکر کے جو پہلو ہیں ان پر غور
کرکے… اللہ تعالی کے احسانات کو مانا اور پہچانا جائے… شیطان دراصل ’’کفور‘‘ یعنی
بہت بڑا ناشکرا ہے… چنانچہ وہ ناشکری کے راستے سے انسانوں کو ڈستا ہے… ایک آدمی
تھوڑا سا بیمار پڑتا ہے… اللہ تعالیٰ اسے اس بیماری کے ذریعے گناہوں اور مصیبتوں
سے چھٹکارے کا راستہ دیتا ہے… تب شیطان اس پر حملہ آور ہو کر اس سے اتنی ناشکری
کراتا ہے کہ… وہ شخص بیماری کی تکلیف بھی جھیلتا ہے… اور گناہ کا بوجھ بھی اٹھا
لیتا ہے… ایک شخص کو اللہ تعالیٰ لوگوں پر زیادہ خرچ کرنے کی توفیق دیتا ہے… اس
خرچ کے بدلے اس کے درجات بلند ہوتے ہیں… اس کے گناہ معاف ہوتے ہیں … اور اس کو
روزی ملتی ہے… اچانک شیطان اس پر ناشکری کا حملہ کرتاہے کہ تو تو فلاں فلاں کو
کھلا رہا ہے… تب یہ انسان بھول جاتا ہے کہ کھلانے والا اور دینے والا تو اللہ
تعالیٰ ہے… میں تو ماں کے پیٹ سے خالی ہاتھ آیا تھا… اور مال تو ہوتا ہی والدین،
اہل وعیال، اقارب اور دین کے کاموں پر خرچ کے لئے ہے… قارون نے دولت جمع کی تو وہ
دولت اسے زمین میں دھنسا کر اپنے ساتھ لے گئی… اور صدیق اکبرؓ نے سب کچھ لٹایا تو
زمین کے خلیفہ بن گئے… بس جیسے ہی انسان ناشکری اور تنگ دلی میں پڑتا ہے تو اسے
ناشکری کا وبال چکھنا پڑتا ہے… پھر یا تو اس کی روزی بند کردی جاتی ہے… یا اسے
خزانے کا سانپ بنادیا جاتا ہے کہ… بس نوٹ گنتا رہے، ان کے کم ہونے پر جلتا رہے… ان
کے زیادہ ہونے پر مزید اضافے کے لئے تڑپتا رہے… ایک انسان کو اللہ تعالیٰ
’’جماعت‘‘ عطاء فرماتا ہے… اس جماعت کے ذریعے اسے دین کے وسیع کام کی توفیق ملتی
ہے… دنیا آخرت میں عزت کا سامان بنتا ہے… اعمال میں جڑنے کی ترغیب ملتی ہے… اور
قیامت تک کے لئے صدقہ جاریہ چھوڑنے کا موقع ملتا ہے… اچانک شیطان اس پر ناشکری کا
حملہ کرتا ہے… اور اسے جماعت بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے… شیطان اس کے کان میں کہتا
ہے کہ تو تو اکیلا اچھا ہے… تو تو اکیلا بہت کچھ ہے… تو تو اکیلا بڑی چیز ہے…
اکیلا ہونے میں آزادی اور عزت ہے… اور جماعت میں پابندی اور ذلت ہے… تب یہ شخص
ناشکری کرتا ہے… اور اللہ تعالیٰ کی نعمت ’’جماعت‘‘ سے الگ ہو کر شیطان کا آسان
لقمہ بن جاتا ہے… اور ایک لمحے کے فیصلے سے کروڑوں اربوں نیکیوں سے محروم ہو کر…
بے کاری اور غیبت کی مکھیاں مارنے میں مشغول ہوجاتا ہے… ہم میں سے ہر مرد غور کرے
اور ہر عورت غور کرے کہ… ہم پر اللہ تعالیٰ کی جتنی بھی ’’اصل نعمتیں‘‘ ہیں… شیطان
ان تمام نعمتوں کی قدر ہمارے دل میں کم کراتا رہتا ہے… اور ہمیں سمجھاتا رہتا ہے
کہ… یہ سب کچھ تم پر بوجھ ہے… تب ہم میں سے کتنے لوگ ’’شیطانی حملے‘‘ سے بچتے
ہیں؟… غور کریں تو آیت مبارکہ کا مطلب آسانی سے سمجھ آجائے گا کہ… قَلِیْلٌ مِّنْ
عِبَادِیَ الشَّکُوْرُ … اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے… احسان ماننے والے بندے
تھوڑے ہیں… آج ہماری ’’ناشکری‘‘ کا نتیجہ ہے کہ ہر نعمت ہم سے چھنتی چلی جارہی ہے…
اور ہم محروم سے محروم تر ہوتے چلے جارہے ہیں… اس لیے ہمیں چاہئے کہ ہم اللہ تعالیٰ
سے شکر کی توفیق مانگا کریں… سنت اور نفل نمازوں کے سجدے میں تڑپ تڑپ کر… بِلک
بِلک کر کہا کریں:
اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنْ عِبَادِکَ الشَّکُوْرِ
اے میرے پروردگار مجھے اپنے شکر گزار بندوں میں سے بنادے…
اور کہا کریں:
اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ شُکْرَ نِعْمَتِکَ
(کنزالعمال ص۷۹ج۲)
اے میرے پروردگار میں آپ سے آپ کی نعمتوں پر شکر کی توفیق
مانگتا ہوں…
اور کہا کریں:
اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنَا شَاکِرِیْنَ لِنِعْمَتِکَ
مُثْنِیْنَ بِہَا قَابِلِیْہَا وَاَتِمَّہَا عَلَیْنَا…
’’اے ہمارے پروردگار ہمیں اپنی نعمتوں پر شکر کرنے والا ان
نعمتوں کی قدر کرنے والا ان کا استقبال کرنے والا بنا اور ان نعمتوں کو ہم پر مکمل
فرما‘‘
دراصل شکر ایک بنیادی نعمت ہے… جس کو یہ نعمت نصیب ہوجاتی
ہے اس کے لئے ہر نعمت کا دروازہ کھلتا چلا جاتا ہے… قرآن پاک جیسی عظیم الشان کتاب
کی پہلی آیت میں بھی شکر سکھایا گیا:
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ… (الفاتحہ)
اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے شرک نہیں کرتے… وہ
تو ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کی نعمت کو پہچان لیتے ہیں… اور پھر ان کا دل اللہ
تعالیٰ ہی کے سامنے جھکا رہتا ہے… نماز جیسی افضل عبادت کے فوراً بعد جو دعائیں
سکھائی گئی ہیں… ان میں بھی شکر کی توفیق مانگی گئی ہے… آپ جانتے ہیں کہ فرض نماز
کے فوراً بعد دعاء کی مقبولیت کا خاص وقت ہوتا ہے… بہت ہی زیادہ خاص… اس وقت جو
دعائیں پڑھنا مسنون ہے… ان میں سے ایک دعاء یہ بھی ہے:
اَللّٰہُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ
عِبَادَتِکَ (ابوداؤد)
اے میرے پروردگار میری مدد فرما اپنے ذکر پر اپنے شکر پر
اور اپنی اچھی عبادت پر…
یہ دعاء اتنی اہم ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کاہاتھ پکڑ کر انہیں سکھائی… اور فرمایا اے معاذ مجھے آپ
سے محبت ہے میں آپ کو وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز میں یہ دعاء ضرور کیاکریں…
اب ہم خود ہی اندازہ لگا لیں کہ شکر کتنی بڑی نعمت ہے… شکر
اصل میں دل کے اندر ہوتا ہے… انسان کا دل اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو محسوس کرنے
لگتا ہے… وہ ان نعمتوں کی قدر کرتا ہے… اور ان نعمتوں کو اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کا
احسان اور فضل سمجھتا ہے… دل میں جب یہ کیفیت ہوتی ہے تو زبان بھی ساتھ دیتی ہے…
یوں شکر زبان سے بھی ادا ہوتا ہے… اور جب زبان ادا کرتی ہے تو جسم کے سارے اعضاء
بھی دل اور زبان کا ساتھ دیتے ہیں اور انسان اس نعمت کو… اللہ تعالیٰ کی رضا کے
مطابق استعمال کرتا ہے… آپ خود سوچئے کہ ایک آدمی اگر کسی کو ہر مہینے ایک لاکھ
روپے دیتا ہو تو… لینے والا اس آدمی کی کتنی عزت کرتا ہے… ا س کے دل میں اس کا کس
قدر احترام آجاتا ہے… حالانکہ اللہ پاک نے ہمیں ایسی بے شمار نعمتیں دی ہیں جن کی
کوئی قیمت ادا کرہی نہیں سکتا… اللہ پاک نے ہمیں روح عطاء فرمائی ہے… دنیا کا کوئی
بادشاہ روئے زمین کے تمام خزانے خرچ کرکے بھی اپنے مرے ہوئے بیٹے کے لئے روح نہیں
خرید سکتا… ایک نابینا شخص اگر اربوں روپے کا مالک ہو… وہ چاہے گا کہ اپنی ساری
دولت دے کر ’’بینائی‘‘ خریدلے… جبکہ اللہ پاک نے ہمیں مفت آنکھیں عطاء فرمادی ہیں…
الغرض کس کس نعمت کا تذکرہ کیاجائے… ایمان کتنی بڑی نعمت ہے… حضور پاک صلی اللہ
علیہ وسلم کی امت میں سے ہونا کتنی بڑی نعمت ہے… پیاس کے وقت پانی کا ملنا کتنی
بڑی نعمت ہے… ہمارے کچھ نوجوان بھائیوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت جہاد کی قدر کی…
انہوں نے ٹریننگ لی… اور اپنی جان کھانے پینے اور پیشاب پاخانہ کرنے میں ہی لگائے
رکھنے کی بجائے میدانوں میں نکل گئے… ان کی اس شکر گزاری نے پوری دنیا
میں اسلام کو ایک نئی قوت … اور مسلمانوں کو ایک نئی زندگی بخشی… خود
یہ نوجوان، کشمیر، عراق، افغانستان… اور فلسطین میں شہید ہو کر… جنت کے وسیع محلات،
خوشبودار قبروں، مشک اور عنبر کے پہاڑوں… اور حسن کا شاہکار حوروں کے مالک بن گئے…
اور یہاں ان کے خون نے ایسا رنگ دکھایا کہ اللہ تعالیٰ کے دشمن پھر ایک دوسرے سے
لڑنے پر اتر آئے ہیں… سوویت یونین کے انحلال کے بعد امریکہ خود کو دنیا کی واحد
بڑی طاقت کے روپ میں پیش کر رہا تھا… مگر جب اسلام کے شکر گزار فدائیوں نے امریکہ
کو آئینہ دکھایا تو اب… روس نے پھر انگڑائی لی ہے… اور روس کا صدر پرسوں اپنی ایک
تقریر میں امریکہ پر ایسا غرّایا ہے کہ مزہ آگیا… حالانکہ امریکہ کے وہم وگمان میں
بھی نہیں تھا کہ… اب قیامت تک اسے روس سے ایسی زبان سننے کو ملے گی… چنانچہ روسی
صدر کا زوردار بیان کئی گھنٹے تک میڈیا پر اکیلا گونجتا رہا… اور تمام تبصرہ نگار
امریکہ کے رد عمل کے انتظار میں اپنی گھڑیاں دیکھتے رہے… تقریباً پورا دن گزر گیا…
امریکہ پر سکتہ طاری رہا اور بالآخر بارہ گھنٹے بعد ایک پھسپھسا سا بیان جاری ہوا…
اللہ اکبرکبیرا … ہمیں روس سے کوئی ہمدردی نہیں ہے یہ ملک مسلمانوں کا مجرم اور
قاتل ہے… مگر ان دو کفریہ طاقتوں کا آپس میں پھر سینگ اڑانا… شہداء کرام کے خون کی
واضح اور زندہ کرامت ہے… ادھر وینزویلا کاصدر شاویز بھی جب امریکہ پر برستا ہے تو
پنجاب کے جلسے یاد آجاتے ہیں… فیڈرل کاسترو بوڑھا ہوگیا مگر پھر بھی امریکہ سے
نہیں ڈرتا… شمالی کوریا والوں کو امریکہ نے ڈرایا تو انہوں نے فوراً ایٹمی دھماکہ
کردیا… جبکہ چشم بددور ہمارے حکمران تو امریکہ کے خلاف دھماکہ اور بیان تو درکنار…
اس کے ڈرسے وضو بھی احتیاط سے توڑتے ہیں… ان حکمرانوں کا ہم پر مسلط ہونا بھی
ناشکری کی وجہ سے ہے… افغانستان میں سولہ سال تک جہاد کا بازار سجا رہا… ٹریننگ
سینٹر کھلے عام دعوت جہاد دیتے رہے… مگر پاکستان والوں نے اس دینی سوغات سے فائدہ
نہ اٹھایا وہ اپنی ذات میں مگن رہے یا اس جہاد کو روس امریکہ کی جنگ کہتے رہے… پھر
جب افغانستان میں طالبان منظم ہوئے تو پاکستان کے اہل دین کے لئے متحد ومنظم ہونے
کا بہترین موقع تھا… مگر ناشکری کا وبال غالب رہا اور کوئی بھی اپنی انفرادی اینٹ
کو چھوڑنے پر تیار نہ ہوا… جس کا نتیجہ آج نکل رہا ہے… اور اب بھی بعض لوگوں کی
پوری کوشش ہے کہ جو دوچار افراد متحد ہیں… ان کو توڑ دیا جائے… ان ظالموں کے نزدیک
بیعت علی الجہاد کوئی حیثیت نہیں رکھتی… وہ ’’بیعت‘‘ جس کی بدولت اللہ تعالیٰ کی
نصرت زمین پر اترتی ہے… جب لوگوں نے اس کی بے قدری کی تو پھر… انہیں کافروں اور
منافقوں کا نوکر اور ترجمان بننا پڑا…
خلاصہ یہ ہے کہ… ’’ناشکرا‘‘ شیطان ہم پر ’’ناشکری‘‘ کے حملے
کرکے… ہمیں ایک ایک نعمت سے محروم کرتا جارہا ہے… خالص دینی تعلیم کے مدارس پر اب
کمپیوٹر کا بخار ہے… دین کی خاطر آزاد مساجد پر نگرانی اور کنٹرول کے پھندے ہیں…
اہل دین علماء پر… دنیاداری، دنیا پرستی اور حب دنیا کے حملے ہیں… ماضی کی حسین
سادگی پر ملمع سازی کے پردے ہیں… آہ… ہم سے کیا کچھ چھن گیا… اور کیا کچھ چھینا
جارہا ہے… مگر اس کے باوجود شکر ہی کی طرف لوٹنے میں خیر ہے… جو کچھ ہمارے پاس ہے
ہم اس پر شکر ادا کریں… اس کی پوری پوری قدر کریں… اور اسے ٹھیک ٹھیک استعمال
کریں… ہم دنیا کی ہر تکلیف کو عذاب سمجھ کر… شکوے کے آنسو نہ بہائیں… اور نہ ہی اس
دنیا کو ایسا مقصود بنائیں کہ اس کے نفع ونقصان کے ساتھ ہمارا دل… اور بلڈ پریشر
وابستہ ہوجائے… اللہ تعالیٰ کا شکر اتنی بڑی نعمت ہے کہ شکر گزار انسان فرشتوں سے
بھی بھاری ہوجاتا ہے… روایات میں آیا ہے کہ… بعض صحابہ کرام نے جب والہانہ الفاظ
میں اللہ تعالیٰ کی حمد کی… اور اس کا شکر ادا کیا تو فرشتے اس شکر اور حمد کی
عظمت کی وجہ سے اسے لکھ ہی نہ سکے… اور اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچ کر عرض کرنے لگے
کہ ہم ان بھاری کلمات کو کس طرح لکھیں…
ایسی ہی دو دعائیں یہاں عرض کی جاتی ہیں… ہم آج ہی اللہ
تعالیٰ کی ہر نعمت کا شکر ادا کرلیں… کل جب ہم مرجائیں گے تو اعمال کا دروازہ بند
ہوجائے گا… اور ایک بار ’’سبحان اللہ‘‘ کہنے کا موقع بھی نہیں ملے گا… اس لیے شکوے
شکایتوں کا رونا بند … حالات پر ماتم بند… دل ہر طرح کے شکوے سے پاک… چند لمحے کی
تنہائی… اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی یاد… نعمتوں کی کثرت پر بہتے آنسو … اور پھر دل
بھی کہے الحمدللہ… اور زبان بھی پکارے الحمدللہ…
پہلی دعاء
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ حَمْدًا طَیِّبًا
مُبَارَکًا فِیْہِ عَلٰی کُلِّ حَالٍ حَمْدًا یُوَافِیْ نِعَمَہٗ وَیُکَافِیُٔ
مَزِیْدَہٗ (الترغیب والترہیب)
دوسری دعاء
اَللّٰہُمّ لَکَ الْحَمْدُ کُلُّہٗ وَلَکَ الْمُلْکُ
کُلُّہٗ وَبِیَدِکَ الْخَیْرُ کُلُّہٗ وَاِلَیْکَ یَرْجِعُ الْاَمْرُ کُلُّہٗ
عَلَانِیَتُہُ وَسِرُّہُ لَکَ الْحَمْدُ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ
اِغْفِرْلِیْ مَا مَضَیٰ مِنْ ذُنُوْبِیْ وَاعْصِمْنِیْ فِیْمَا بَقِیَ مِنْ
عُمْرِیْ وَارْزُقْنِیْ اَعْمَالًا زَاکِیَۃً تَرْضٰی بِہَا عَنِّیْ وَتُبْ
عَلَیَّ (الترغیب والترہیب)
…آمین یا رب العالمین…
٭٭٭
اللہ پاک ہم سب کو اسلام کی صحیح سمجھ عطاء فرمائے… آج کل
اخبارات میں دو طرح کی خبریں زوروں پر ہیں… ایک تو ان ’’دھماکوں‘‘ کی خبریں ہیں جن
کی شد ّت سے پورا پاکستان لرز رہا ہے… اور دوسری طرف حکمرانوں کے یہ بیانات ہیں کہ
ان ’’دھماکوں‘‘ سے اسلام بدنام ہورہا ہے… اور دنیا والوں کی نظروں میں پاکستان کا
امیج خراب ہورہا ہے… یعنی ہمارے حکمرانوں کو ان دھماکوں میں بے گناہ مرنے والوں کی
اتنی فکر نہیں ہے جتنی فکر انہیں اسلام کی عزت اور مسلمانوں کے وقار کی ہے… سبحان
اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم… ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب ’’اسلام‘‘ پر نئے حملوں
کا آغاز ہے… برصغیر پر انگریزوں نے اپنے قبضے کو مضبوط کرنے کے لئے ’’اسلامی
نظریات‘‘ پر جو حملے کیے تھے… اب امریکہ بھی اُنہیں تجربات کو آزما رہا ہے… سنا ہے
کہ امریکی سفارتخانے کے اہلکار لاہور اور دوسرے شہروں میں مزاروں کے چکر کاٹ رہے ہیں…
اور ایک ’’نئے صوفی اسلام‘‘ کی تشکیل میں مصروف ہیں… ایسا ’’اسلام‘‘ جو امریکہ کے
سامنے سرجھکانے کی ترغیب دے… اور مسلمانوں کو غیر مسلح کرسکے… اللہ اللہ کیا وقت آگیا ہے… اے رب کریم ہمارے دین اور
ہمارے ایمان کی حفاظت فرما… اپنے حکمرانوں کی زبان سے ’’اسلام کی بدنامی‘‘… اور
’’اسلام کی درست تشریح‘‘ جیسے الفاظ سن کر مجھے دو واقعات شد ّت سے یاد آرہے ہیں…
جموں کی ایک جیل میں ہمارا تیسری بار ’’انٹروگیشن‘‘ ہورہا
تھا… تفتیشی افسر بچپن سے لیکر جوانی تک کے تمام حالات پوچھتے تھے… ان دنوں چوبیس
گھنٹے ہتھکڑی لگی رہتی تھی…وہ بہت عجیب دن تھے… کمانڈر سجاد خان شہید، کمانڈر
نصراللہ منصور حفظہ اللہ تعالیٰ اور دیگر کئی رفقاء کرام سب زیرِ تشدد اور زیرِ
تفتیش تھے… اس جیل میں خفیہ پولیس کا ایک پنڈت اہلکار بہت متعصب اور بدزبان تھا…
اس کے ذمے ہمارے بیانات کو ٹائپ کرنے کا کام تھا… ایک بار میری تفتیش چل رہی تھی…
ایک کرسی پر تفتیشی افسر ہاتھ میں ڈنڈا لیے بیٹھا تھا… جبکہ دوسری میز کرسی پر وہ
پنڈت میرا سابقہ بیان ٹائپ کر رہا تھا… بیان ٹائپ کرتے ہوئے وہ اچانک میری طرف مڑا
اور چیخ کر کہنے لگا… تو نے شادی تو کی نہیں پھر حج کیسے کرلیا؟… تیرا حج نہیں
ہوا… اسلام میں شادی سے پہلے حج جائز نہیں ہے… میں نے کہا تمہیں کس نے یہ غلط
مسئلہ بتایا ہے؟… کہنے لگا مجھے اسلام کا علم ہے محمد صاحب (صلی اللہ علیہ وسلم)
نے فرمایا ہے کہ شادی سے پہلے حج نہیں ہوتا… اس کی یہ بات سن کر میرا پارہ چڑھ
گیا… اور میں نے ہتھکڑی اور ڈنڈے کی پرواہ کیے بغیر اسے سختی سے کہا… اسلام کے
بارے میں زیادہ منہ نہ مارو… خاموشی سے بیان ٹائپ کرو… تمہارا اسلام سے کیا واسطہ…
اور معلوم نہیں میں نے غصے میں اور کیا کچھ کہا تو وہ خاموش ہوگیا… اور آہستہ آواز
میں گالیاں دے کر بیان ٹائپ کرنے لگا…
دوسرا واقعہ بھی جموں کا ہے… مجھے جب پیشی کے لئے دو چار
بار عدالت لے گئے تو وہاں لوگوں کا رش لگ جاتا تھا… کوئی تعویذ کی فرمائش کرتا تھا
تو کوئی دم کرانے کی… لوگوں کی دیکھا دیکھی پولیس والوں کو بھی شوق چڑھ جاتا اور
وہ بھی میرے کان کے قریب منہ کرکے اپنے مسائل بتانے لگتے… پولیس کا ایک ہندو
اہلکار میری ہمدردی لینے کے لئے کہنے لگا… جناب ہم بھی تو ’’جہاد‘‘ کر رہے ہیں…
سارا دن وردی پہن کر ڈیوٹی دیتے ہیں… اور لوگوں کی حفاظت اور سیوا (خدمت) کرتے
ہیں… یہ جہاد نہیں تو اور کیا ہے؟… آج جب میں اپنے حکمرانوں کی زبان سے اسلام اور
جہاد کا نام سنتا ہوں تو مجھے پنڈت کا ’’اسلام‘‘ اور ہندو کا ’’جہاد‘‘ یاد آجاتا
ہے… ہمارے حکمران حضرات نے کب اور کون سا فیصلہ کرنے سے پہلے یہ سوچا کہ… اسلام کا
اس بارے میں کیاحکم ہے؟… مگر اب یہ لوگ بدحواس ہوچکے ہیں اور انہیں بھی سمجھ آچکا
ہے کہ اسلام کا نام لیے بغیر گزارہ نہیں ہوسکتا… حالانکہ سیدھی سی بات ہے کہ آپ نے
اب تک جو فیصلے کیے… ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں تھا… آپ نے امریکہ کی صلیبی
جنگ میں اس کا ساتھ دیا… آپ نے اپنی بغل میں کتے اٹھا کر فخر کیا… آپ نے ناچ گانے
اور فحاشی کی سرپرستی کی… آپ نے سینہ ٹھونک کر بسنت کا تہوار منایا… آپ نے کھلم
کھلا حدود اللہ کے خلاف زبان چلائی… آپ نے مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑایا… آپ نے
مسلمانوں کو امریکہ کے حوالے کرکے انعامات لیے… آپ نے مساجد کو شہید کیا… آپ نے
مدارس پر بمباری کی… آپ نے داڑھی اور برقعے کا ہر روز مذاق اڑایا… آپ نے جہاد کو
دہشت گردی قرار دیا… اور آپ نے بارہا کہا کہ ہم امریکہ اور یورپ کی نظروں میں
مقبول ہونا چاہتے ہیں… الغرض آپ نے ہر کام اپنی ذات، اپنے مفاد اور اپنی سوچ کے
تحت کیا… اب جن لوگوں کو آپ نے ستایا تو ان میں سے بھی بعض آپ کی طرح کے ہتھکنڈوں
پر اتر آئے … انہوں نے پورے ملک میں دھماکوں کا جال بچھادیا… اور یہ بھی نہ دیکھا
کہ کون کس کو مار رہا ہے… ان لوگوں کی اس روش کو دیکھ کر آپ بوکھلا گئے… اور اب آپ
کو اسلام کی عزت اور بدنامی کا مسئلہ یاد آرہا ہے…
کاش پالیسیاں بنانے… اور حرام نوٹوں کے انعامات سے جیب
بھرنے سے پہلے آپ اسلام اور قرآن کی طرف دیکھ لیتے تو یہ نوبت ہی نہ آتی… ہم نے
بہت پہلے عرض کردیا تھا …کہ آپ لوگ بارود کے ڈھیر پر بیٹھ کر انگاروں سے کھیل رہے
ہیں… مگر آپ نے اس وقت ہماری بات کا مذاق اڑایا تھا… اور کہا تھا کہ آپ لوگ
دھمکیاں دے رہے ہیں… ہم ہر کسی سے نمٹنا جانتے ہیں… ہم نے بہت پہلے عرض کیا تھا
کہ… منظم جہادی تنظیموں کو توڑوگے تو بے شمار چھوٹے گروپ وجود میں آئیں گے… اور ان
گروپوں پر کسی کا کنٹرول نہیں ہوگا… مگر آپ نے ایک نہ سنی اور پوری دہشت گردی کا
مظاہرہ کرکے تنظیموں کو توڑا اور ستایا… اور اس کے بدلے گوروں سے شاباش وصول کرکے
خوشی منائی… اب پورے ملک میں سینکڑوں تنظیمیں ہیں اور سینکڑوں امیرالمؤمنین… بے
شمار لوگوں نے دودو چار چار افراد کو اپنے ساتھ جوڑ کر ان سے مرنے مارنے اور اپنی
اطاعت کرنے کے حلف لے لیے ہیں… ان ’’امیروں‘‘ میں سے اکثر کمپیوٹر کے کھلاڑی ہیں…
جو سی ڈیز دیکھ کر مجاہد بنے… اور ویب سائٹوں سے انہوں نے تربیت حاصل کی… ان لوگوں
کو بھی حکمرانوں کی طرح اسلام اور جہاد کی پوری سمجھ نہیں ہے… مگر وہ کمپیوٹر کے
زعم میں خود کو امام اور خلیفہ سمجھتے ہیں… اور جب انہیں کوئی سادہ دل نوجوان مل
جاتا ہے تو اس کے جسم سے دوچار گرینیڈ باندھ کر اسے آگے روانہ کردیتے ہیں… ان میں
سے بعض لوگ اغوا برائے تاوان کا جرم بھی کر گزرتے ہیں… کیونکہ وہ کمپیوٹر پر وہ سب
کچھ دیکھتے ہیں جو انہیں پاگل بنانے کے لئے کافی ہے… تلواروں سے کٹتے مسلمان… بے
آبرو ہوتی معصوم بہنیں… تڑپتے ہوئے بچے… اور ملبوں کے نیچے دبے ہوئے بوڑھے مسلمان…
ماضی میں جہادی جلسے ہوتے تھے… مدارس میں جہاد کی بات ہوتی تھی تو ان جذبات کو…
اسلام کے مطابق ڈھال لیا جاتا تھا… ان نوجوانوں کوسمجھایا جاتا تھا کہ… بے گناہ کو
…مارنا کتنا بڑا جرم ہے… ان نوجوانوں کو بتایا جاتا تھا کہ… ظلم جتنا بھی ہوجائے
مگر ہم اللہ تعالیٰ کے احکامات کے پابند ہیں… اور ہم اسلامی حدود سے تجاوز نہیں
کرسکتے … حکومت نے جہادی جلسے بند کرادئیے … جہاد کی بات پر پابندی لگادی تو اب جس
کو جو سمجھ آرہا ہے وہ کر رہا ہے… اور ابھی تو آغاز ہے آگے آگے دیکھئے… حالات کی
آگ کہاں تک پہنچتی ہے… اس لیے کہ حکومت نے اب بھی اپنا طرز عمل نہیں بدلا… اب بھی
وہی سخت زبان ہے… اب بھی ہر طرف پولیس گردی کی دہشت ہے… اب بھی خفیہ ایجنسیوں کے
عقوبت خانوں میں گمنام چیخیں ہیں… اور اب بھی ہر داڑھی والا… اور ہر نمازی مشکوک
ہے… اس لیے اب جو بھی حملہ یا دھماکہ ہوتا ہے اس کا قصوروار نہ تو اسلام ہے اور نہ
جہاد… ان حملوں کی ترغیب خود حکومت کی پالیسیوں نے دی ہے… اور ان حملوں کے لئے
ماحول خود حکومت ہی نے بنایا ہے…چنانچہ اسلام اور جہاد کی بدنامی کا تو سوال ہی
پیدا نہیں ہوتا… ہمارے حکمرانوں نے کبھی اسلام کو پڑھنے اور سمجھنے کی زحمت گوارہ
نہیں کی… یہ لوگ کسی کو وضو تک نہیں سکھا سکتے… اور نہ دو رکعت نماز کی امامت
کراسکتے ہیں… یہ لوگ فخر کے ساتھ نماز چھوڑتے ہیں… اور روزے کھاتے ہیں… حج نہیں
کرتے… زکوٰۃ کی جگہ سود کے نظام کو مسلط کرتے ہیں… اور جہاد کا کھلم کھلا انکار
کرتے ہیں… اب ان لوگوں کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اسلام کے حوالے دے کر کسی کو کچھ
سمجھائیں… یا کسی کو کسی کام سے روکیں… آپ کے پاس طاقت ہے… آپ وہ استعمال کر رہے
ہیں… اور جن لوگوں کو آپ نے ستایا وہ اپنی طاقت استعمال کر رہے ہیں… اسلام کا خیال
نہ آپ نے رکھا نہ وہ صحیح طور پر رکھ رہے ہیں… آپ نے ان پر ظلم کیا… اب وہ آپ پر
کر رہے ہیں… اور اب آپ نے ان کو ڈھونڈنے کے لئے مزید مظالم کا پیکج تیار کیا ہے…
ان مظالم کے نتیجے میں مزید ظلم وجود پائے گا… اور ’’ہرج‘‘ کا وہ ’’فتنہ‘‘ سامنے
آجائے گا… جس کے بارے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی کا مفہوم
ہے کہ… قاتل کو پتا نہیں ہوگا کہ وہ کیوں قتل کر رہا ہے… اور مقتول کو علم نہیں
ہوگا کہ اسے کیوں مارا جارہا ہے… حکمرانوں کو اگر عالمی برادری کی پوجا سے فرصت
ملے تو کبھی اپنے تفتیشی مراکز کا دورہ کریں… جہاں دن رات خود کش حملہ آور تیار
کیے جاتے ہیں… ماں کی گالی، بہن کی گالی… نماز پڑھنے کی اجازت مانگنے پر نعوذباللہ
نماز کو گالی… جسموں سے اترے کپڑے… بے حیائی پر مبنی تشدد… اور فرقہ وارانہ باتیں…
جو شخص بھی چند ماہ اس طرح کی کسی جہنم میں گزار کر باہر آتا ہے… وہ ایک لمحہ بھی
اس دنیا میں زندہ نہیں رہنا چاہتا… ان لوگوں کو سمجھایا جائے تو کہتے ہیں … کل
کوئی دھماکہ ہوگا تو سب سے پہلے ہمیں ہی اٹھایا جائے گا… پولیس اور خفیہ ایجنسیوں
نے تو تعداد پوری کرنی ہوتی ہے… اور جن لوگوں کا نام ایک بار ان کی فہرست میں
آجائے… وہی سب سے پہلے اٹھائے جاتے ہیں… تو جب ہم نے بے گناہ ماریں کھانی ہیں…
غلیظ گالیاں سننی ہیں… بے ہودہ زبانیں سہنی ہیں تو اس سے اچھا ہے کہ ہم خود ہی
مرجائیں… ہزاروں شریف اور غیرتمند لوگ پولیس اور ایجنسیوں کے اس ظلم سے بچنے کے
لئے ملک بھر میں چھپتے پھر رہے ہیں… یہ غیور لوگ گالیاں نہیں سہہ سکتے… تب حکومت
کے عقلمند لوگ مونچھوں پر تاؤ دے کر کہتے ہیں… یہ جو سامنے نہیں آرہے یہ ضرور کسی
جرم میں ملوث ہوں گے … سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم … ملک کے یہ مونچھوں
والے محافظ بہت لاڈلے ہیں… وہ چاہتے ہیں کہ لوگوں کو ستاتے رہیں… اور لوگ ان کے
سامنے سرجھکا کر پیش ہوتے رہیں… اور ان کے وحشیانہ اور غلیظ مظالم سہتے رہیں…
انہیں لوگوں کے رویے کی وجہ سے پاکستان کا مشرقی بازو الگ ہوا… انہیں لوگوں کے
رویے کی وجہ سے بلوچستان کے لوگوں میں احساس محرومی پیدا ہوا… اور اب یہی لوگ
کشمیری مہمانوں کو اپنے پروٹوکول کے جوتوں تلے روند کر انہیں بھی اپنا دشمن بنانے
پر تلے ہوئے ہیں… میں یقین سے کہتا ہوں کہ اگر یہ لوگ اپنا رویہ ٹھیک کرلیں… اپنا
لہجہ ٹھیک کرلیں… ہر مسلمان کو شک کی چبھتی نگاہوں سے دیکھنا چھوڑ دیں… غیروں کے
مفادات کے لئے اپنوں کو ذبح کرنا چھوڑ دیں تو حالات میں بہت مثبت تبدیلی آسکتی ہے…
مگرہدایت تو قسمت والوں کونصیب ہوتی ہے… اللہ تعالیٰ ہم سب کی قسمت اچھی کرے… اس
وقت ملک کے حالات حکمرانوں کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں… ستائے ہوئے لوگ بے شمار گروپوں
میں بٹ گئے ہیں… غیر ملکی دباؤ اسی بات کے لئے بڑھتا جارہا ہے کہ مسلمان آپس میں
لڑیں… وزیرستان کا معاہد توڑنے کے لئے امریکہ سے واضح احکامات آچکے ہیں… یوں سمجھ
لیں ایک کالی آندھی ملک پر مسلط ہوچکی ہے… حکمرانوں سے یہ توقع نہیں ہے کہ وہ
حالات کو درست کرنے کی کوئی مثبت کوشش کریں گے… کیونکہ یہ لوگ مکمل طور پر غیر
ملکی طاقتوں کے دباؤ میں ہیں… ان حالات میں ہم اللہ تعالیٰ ہی سے رہنمائی، عافیت
اور استقامت کا سوال کرتے ہیں… اور اسی سے مدد مانگتے ہیں:
نَسْتَعِیْنُ بِاللہ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْہِ… حَسْبُنَا
اللہ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ وَلاَ حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہ الْعَلِیِّ
الْعَظِیْمُ…
اب اس بات کا خدشہ بھی بڑھ چلا ہے کہ شاید حکمران… بوکھلا
کر ملک کے دینی طبقے کو مزید تنگ کریں… اور ملک کو مزید انارکی میں دھکیلیں… اس پر
ڈرنے کی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہے… انسان کے ساتھ وہی
کچھ پیش آتا ہے جو اس کی قسمت میں لکھا ہوتا ہے… اس لیے امن کی خاطر دین سے
دستبردار نہ ہوں… اور جہاد کے ساتھ بے وفائی نہ کریں… ہم سب اللہ تعالیٰ سے مدد
مانگیں اور ایک دوسرے کے لئے استقامت کی دعاء کریں… جہاد کا برملا اعلان کرنے والے
بھی اپنے وقت پر ہی مرتے ہیں… اور جہاد کے منکروں کو بھی موت اپنے وقت پر آدبوچتی
ہے… جہاد کے خلاف زبردست مہم چلانے والے ایک بڑے اخبار کے ایڈیٹر کا حال ہی میں
جواںسالی کی عمر میں انتقال ہوا ہے… مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ اور مفتی محمد
جمیل خان شہیدؒ… جہاد کے نعرے لگاتے ہوئے بھی باون سال کی عمر جی گئے… اور پھر
شہادت کی زندگی پا گئے… مگر جہاد کے خلاف سر توڑ مہم چلانے والے اخبار کے ایڈیٹر
صاحب سینتیس سال کی عمر میں چل بسے… مجھے ان کی موت پر دکھ ہوا… اللہ تعالیٰ ان کے
ساتھ اپنے رحم کا معاملہ فرمائے… امریکی اہلکار ’’نیاصوفی اسلام‘‘ متعارف کرانے کے
لئے نکل کھڑے ہوئے ہیں… جس اسلام کا پہلا رکن انکار جہاد… یا تحریف جہاد ہے… اس
لیے خانقاہوں والے ہوشیار رہیں اور اسلام کے سچے صوفیاء کرام کی طرح جہاد کی دعوت
کو اپنے بیانات کا حصہ بنائیں… اور عام مسلمان ان لوگوں سے دور رہیں جو بزرگی اور
تصوّف کی آڑ میں اسلام کے اہم فریضے جہاد کا انکار کرتے ہوں… اسی طرح مسلمان شرک
اور قبر پرستی سے بھی بچیں… اور حقیقی اولیاء کرام سے خوب محبت رکھیں… جمعۃ
المبارک کا دن… الحمدللہ… ہم مسلمانوں کے
پاس فتنوں سے بچنے کا بہترین ذریعہ ہے… اس لیے جمعۃ المبارک کے دن کو قیمتی
بنالیں… تب کوئی امریکی یا کوئی انگریز بھیس بدل کر ہمیں دھوکا نہیں دے سکے گا…
برٹش آرمی کا ایک مشہور کرنل لاہور میں کتنا عرصہ تک نقلی ’’شاہ جی‘‘ بن کر
مسلمانوں کو گمراہ کرتا رہا… حق کی پہچان دوچیزوں میں ہے ایک دین کا علم اور دوسرا
جہاد فی سبیل اللہ… جن کے پاس یہ دو چیزیں ہوں وہی اللہ تعالیٰ کے سچے ولی ہوتے
ہیں… اور جو جہاد کے منکر ہوں ان کا تو مسلمان ہونا بھی یقینی نہیں ہے… جمعۃ
المبارک کے دن سب سے پہلے سورۃ الکہف … یا اس کی پہلی اور آخری دس آیات کی تلاوت
کرلی جائے… یہ مسنون عمل دجّالی فتنوں سے حفاظت کا بہترین ذریعہ ہے… پھر نماز جمعہ
کی پہلی اذان ہوتے ہی خرید وفروخت اور تمام کام چھوڑ کر مسجد کی طرف جلدی جانا
چاہئے… اس سے ’’حب دنیا‘‘ کے سانپ کو شکست ملے گی… جمعہ کے خطبہ کے دوران پوری
توجہ سے وعظ سننا چاہئے… اس سے دین کا علم نصیب ہوگا… دونوں خطبوں کے درمیان دعاء
مانگنی چاہئے… اس سے دنیا آخرت کی خیریں نصیب ہوں گی… جمعہ کے لیے جاتے یا آتے وقت
کچھ صدقہ دیا جائے … اس سے مال کی محبت کم ہوگی… اور مصیبتیں ٹلیں گی… جمعہ کی
نماز پہلی صف میں اداء کریں… اس سے مقبول صدقے کا اجر ملے گا… عربی خطبہ بھی پوری
توجہ، ادب اور اہتمام سے سنیں… اس سے فرشتوں کی خاص رفاقت نصیب ہوگی… جمعہ نماز کے
بعد… سورۃ فاتحہ، اور چاروں قل سات سات بار پڑھ لیں… اس سے اگلے جمعہ تک شیطان سے
انشاء اللہ حفاظت رہے گی… جمعہ کے دن عصر تا مغرب کا وقت درود شریف، عبادت اور
دعاء میں گزاریں تو بے شمار خیریں نصیب ہوں گی… دراصل جمعہ کا دن ہمیں دین کے ساتھ
جمع کردیتا ہے یعنی اچھی طرح جوڑ دیتا ہے… اس دن کے غسل کی بھی کافی فضیلت ہے اس
کا بھی اہتمام کرنا چاہئے… کتابوں میں لکھا ہے کہ… ماضی کے مسلمان جمعۃ المبارک کی
فضیلت، مقام اور اہمیت سمجھتے تھے جس کی وجہ سے وہ دس گیارہ بجے ہی غسل کرکے مسجد
کی طرف چل پڑتے تھے… چنانچہ بارہ بجے کے قریب مساجد کے راستے لوگوں کے رش کی وجہ
سے بند ہوجاتے تھے… اللہ اکبر کبیرا… آج ہم لوگوں کا کیا حال ہے؟… جمعہ کے دن کو
ضائع کرنے کی وجہ سے ہم فتنوں کا شکار ہو رہے ہیں… ہمیں چاہئے کہ ہم جمعۃ المبارک
کے دن کا پورا ’’اسلامی نصاب‘‘ اپنا کر… ایک ہفتے کے لئے اپنے ایمان اور دل کی
بیٹری کو چارج کرلیا کریں… اور سارا دن نماز، تلاوت، ذکر، درود شریف، صدقہ، تعلیم
وتعلم… اور دعوت جہاد اور دعوت خیر میں گزارا کریں… تب ان شاء اللہ کوئی امریکی،
برطانوی… اور نفاقی مذہب… اسلام کے نام پر ہمیں گمراہ نہیں کرسکے گا…
اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ اِیْمَانًا دَائِمًا۔
وَاَسْئَلُکَ قَلْبًا خَاشِعًا۔ وَاَسْئَلُکَ عِلْمًا نَافِعًا۔ وَاَسْئَلُکَ
یَقِیْنًا صَادِقًا۔ وَاَسْئَلُکَ دَوَامَ الْعَافِیَۃِ وَاَسْئَلُکَ الشُّکْرَ
عَلَی الْعَافِیَۃِ۔ وَاَسْئَلُکَ الْغِنٰی عَنِ النَّاس۔
آمین یارب العالمین
وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا محمد وآلہ واصحابہ
اجمعین۔
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے پیارے اولیاء سے محبت ایمان کی علامت ہے… جب
دنیا میں بدی اور برائی کا غلبہ ہونے لگتا ہے تو نیک لوگوں کو بدنام کیا جاتا ہے…
تاکہ لوگ ان سے محبت نہ کریں اور نہ ہی نیکی کے راستے میں کوئی کشش محسوس کریں…
میں کئی سال تک انڈیا میں رہا وہاں مسلمانوں کے نامور بادشاہ حضرت اورنگزیب
عالمگیرؒ کے خلاف باقاعدہ ذہن سازی کی جاتی ہے… اخبارات میں اب بھی ان کے خلاف
مضامین چھپتے ہیں… سنا ہے کہ کئی فلمیں بھی ان کے حسین کردار کو بدنما دکھانے کے
لئے بنائی گئی ہیں… ہندو لیڈر اورنگزیب کے لفظ کو گالی کے طور پر استعمال کرتے
ہیں… کسی بھی شخص کو برا بتانا ہو تو کہا جاتا ہے کہ اس میں اورنگزیب کا خون آگیا
ہے… اورنگزیب کے خلاف ہندوستان میں جاری یہ پروپیگنڈہ تو سمجھ میں آتا ہے… کیونکہ
اورنگزیبؒ ایک پکے سچے مسلمان تھے اور انہوں نے ہندوستان میں اسلام کی ترویج اور
تنفیذ کے لئے کافی کام کیا… ہندوؤں کے نزدیک اورنگزیبؒ کا یہ جرم ناقابل معافی ہے…
مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں بھی کچھ عرصہ سے اورنگزیب عالمگیرؒ کے خلاف
اخبارات میں ایک منفی مہم چل نکلی ہے… کالے دانتوں والی بعض پان خور عورتوں نے ان
کے خلاف مضمون لکھے ہیں… روشن خیالی کی کیچڑ سے بعض مورخ بھی پھن اٹھا کر نکل آئے
ہیں… ان کے نزدیک اکبر بادشاہ ہیرو اور اورنگزیب ظالم تھا… یہ مورخ غزنویؒ، غوریؒ
اور ان سے پہلے محمد بن قاسمؒ کے خلاف بھی دھڑا دھڑ لکھ رہے ہیں… بلکہ صورتحال کچھ
ایسی بن چکی ہے کہ… اخبارات کے کالم پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان پر
ہندوؤں کا قبضہ ہوچکا ہے… اور پاکستان بھارت کا ایک صوبہ بن چکا ہے… اورنگزیب
عالمگیرؒ مسلمانوں کے قابل فخر حکمران تھے… اگر آپ نے ان کے بارے میں ٹھیک ٹھیک
جاننا ہو تو… مورخ اسلام حضرت مولانا محمد میاں صاحبؒ کی کتاب ’’علماء ہند کا شاندار
ماضی‘‘ کی جلد اوّل کا مطالعہ کریں… اورنگزیبؒ پر جتنے بھی اعتراضات آج دہرائے
جارہے ہیں ان سب کا جواب آپ کو اس کتاب میں مکمل تفصیل کے ساتھ مل جائے گا… صاحب
فضائل القرآن لکھتے ہیں…
’’اورنگزیب عالمگیرؒ ہندوستان کے بادشاہ گزرے ہیں۔ کہا جاتا
ہے کہ ان کو بارہ ہزار احادیث مع السند یاد تھیں۔ قرآن کریم حفظ تھا۔ علوم دینیہ
پر کامل عبور تھا۔ بخارا اور ہرات سے لیکر برما تک ان کی سلطنت تھی۔ ہندوستان اور
پاکستان سب اس میں شامل تھے۔ اتنی بڑی سلطنت کے باوجود فرض نماز تو کجا تہجد بھی
کبھی ناغہ نہ ہوئی۔ عالمگیرؒ ہی کا ارشاد ہے کہ ’’وہ شخص (پکاسچا) مسلمان نہیں جو
نماز فجر کے بعد قرآن کریم کی تلاوت نہ کرے۔‘‘ (فضائل القرآن ص۱۳۶۹)
اورنگزیبؒ اپنے ہاتھ سے قرآن پاک کی کتابت فرمایا کرتے تھے
میں نے کراچی کے ایک سید صاحب کے پاس اورنگزیبؒ کا کتابت کردہ قرآن پاک کا اصل
نسخہ خود دیکھا ہے… ماشاء اللہ کیا خوب اور عمدہ خط تھا… آج کل کے کمپیوٹروں کا خط
تو اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے… اس زمانے میں اورنگزیبؒ کے دشمن مورخین بھی
کہا کرتے تھے کہ اس شخص کے اعصاب لوہے کی تاروں سے بنے ہیں کہ عین جنگ کے دوران
باجماعت نماز ادا کرتا ہے… اورنگزیبؒ کی داستان بہت میٹھی اور لذیذ ہے… مگر مجھے
آج یہ داستان بیان نہیں کرنی بلکہ اس طوفان کی طرف اشارہ کرنا ہے… جو روشن خیالی
کے نام پر ہم مسلمانوں سے ان کا ماضی تک چھین لیناچاہتا ہے…
مجھے یقین ہے کہ بہت سے ٹی وی چینل بھی… مسلمانوں کی عظیم
ہستیوں کو بدنام کرنے کا مکروہ کام سرانجام دے رہے ہوں گے… اللہ پاک کا شکر ہے کہ
میرے پاس ٹی وی نہیں ہے… دراصل تصویر انسان کے دل ودماغ پر بے حد اثر کرتی ہے… ٹی
وی دیکھنے والے لوگوں کو نمازمیں بھی طرح طرح کی تصویریں ہی نظر آتی ہیں… اور ٹی
وی کافروں کا کام آسان کردیتا ہے… بس کوئی گندی شکل والا بھیانک شخص کھڑا کردیا
جائے… اور ٹی وی کے کسی ڈرامے میں اسے اورنگزیب عالمگیرؒ قرار دے دیا جائے… اب جو
بچہ اور جوان اسے دیکھے گا اس کے دماغ میں مسلمانوں کے ایک عظیم حکمران اور دینی
رہنما کا غلط منظر راسخ ہو جائے گا… انڈیا والوں نے یہی کیا کہ اورنگزیبؒ پر فلمیں
بنائیں اور اس میں ان کی شکل بہت بھیانک دکھائی… بظاہر یہ معمولی بات ہے… مگر
حقیقت میں یہ بہت بھاری فتنہ ہے… یہ ہم مسلمانوں کے پاکیزہ خیالات کو گدلا اور
خراب کرنا چاہتے ہیں… اورنگزیب مغل تھا… مغلوں کا حسن دنیا میں مشہور ہے… اس کا
چہرہ عبادت وریاضت کے نور سے منور تھا… مسلمان عبادت گزار تو سنگ مرمر کی مورتیوں
سے زیادہ حسین اور ملیح ہوتے ہیں… پھر وہ ایک بہادر، طاقتور اور جنگجو انسان تھا…
بہت کم عمری کے زمانے میں اس نے ایک بدمست ہاتھی کا مقابلہ کیا اور اسے مار دیا…
وہ جنگ کے میدان میں گھمسان کی لڑائی کے وقت ناشتہ کرتا تھا اور نماز ادا کرتا
تھا… ایسے جوان تو خوابوں سے بھی زیادہ حسین ہوتے ہیں… فلمیں دیکھنے والے فارمی
انڈوں کو کیا پتہ کہ سنت اور شجاعت والا مردانہ حسن کتنا دلکش ہوتا ہے… مگر ٹی وی
کا فتنہ بہت خطرناک ہے… ہمارے مسلمانوں کے دماغ میں نعوذباللہ رام اور ہنومان کے
عکس بٹھائے جارہے ہیں… وہ انڈین فلموں میں بھگوان کو گالیاں کھاتا دیکھتے اور سنتے
ہیں تو ان کے دل سے اللہ پاک کی عظمت نکل جاتی ہے… وہ لکشمی دیوی کے حسن کے پجاری
بنتے جارہے ہیں… اور ہندو ثقافت ان کے دل ودماغ پر حاوی ہوتی جارہی ہے…
آخر یہ بسنت کیا ہے؟… ہمیں پاکستان میں رہتے ہوئے سالہا سال
ہوچکے ہیں … مگر اس ’’ہندوساز‘‘ حکومت سے پہلے کبھی ہم نے بسنت کا یہ شور نہیں سنا
تھا… غافل لوگ کچھ نہ کچھ مستی ضرور کرتے تھے مگر… سرکاری سرپرستی میں اتنا جشن…
اتنا شور کبھی سنائی نہیں دیتا تھا… اور اس بات کا تو تصور بھی نہیں تھا کہ ملک کا
صدر خود ان تقریبات کا ’’دیوتا‘‘ بن کر لاہور میں موجود ہوگا… اور لاہوری اس کے
چرنوں (قدموں) میں انیس مسلمانوں کی بلی (قربانی) چڑھائیں گے… یہ دراصل پاکستان کو
ہندوستان کا حصہ بنانے کی ایک کوشش ہے… اسی کوشش کے تحت سرحدوں پر جنگ بندی نافذ
ہے… اسی کوشش کے تحت نصاب تعلیم میں ہندو رہنماؤں کا تعارف شامل کیا جارہا ہے… اسی
کوشش کے تحت بھانڈوں، کنجروں، میراثیوں کا سرحد کے آر پار آنا جانا لگا ہوا ہے…
اسی کوشش کے تحت اخبارات میں منفی مضامین لکھوائے جارہے ہیں … اور اسی کوشش کے تحت
بسنت کے تہوار کو ’’عیدین‘‘ سے زیادہ اہمیت کے ساتھ منایا جارہا ہے… معلوم نہیں ہم
پاکستان کے مسلمانوں نے کون سا ایسا جرم کرلیا ہے کہ اب ہماری حکومت اس ملک کو
ہندوستان کا حقیر سا صوبہ بنانے پر تُلی ہوئی ہے… آپ حیران ہوں گے کہ بسنت کے موقع
پر اسلام آباد کا انڈین سفارتخانہ بے حد مصروف ہوتا ہے… یہی سفارتخانہ لاہور کے
غافلوں کو شراب اور دیگر نجاستیں فراہم کرتا ہے… اللہ اکبر کبیرا… عجیب حالات آگئے
ہیں کہ کشمیری مجاہدین پر طرح طرح کی پابندیاں ہیں… اور اب ان کی تمام قیادت کو
گرفتار کرنے کے پروگرام ہیں جبکہ… انڈین سفارتخانہ مکمل آزادی کے ساتھ پاکستانیوں
کے رابطے میں ہے… اور اسی کی نگرانی میں بسنت کا تہوار منایا جاتا ہے… چلیں اگر اس
بحث کو چھوڑ بھی دیں کہ بسنت ہندوؤں کا تہوار ہے یا کوئی موسمی میلہ… تب بھی صرف
بسنت کے انداز کو دیکھ لیں… قیامت کی کونسی علامت ہے جو وہاں نہیں ہوتی… الامان
الامان… منافقت کی کونسی نشانی ہے جو وہاں نظر نہیں آتی… الامان الامان… اور
کافروں کا کونسا طریقہ ہے جو وہاں زندہ نہیں ہوتا… الامان الامان… لاہوری مسلمان
اگر عمومی عذاب سے بچنا چاہتے ہیں تو انہیں چاہئے کہ کم از کم ایک خاموش مظاہرہ ہی
بسنت کے خلاف کر ڈالیں… تاکہ اس بات کا پتہ تو چلے کہ اس بستی میں اللہ تعالیٰ کے
کچھ وفادار بندے بھی ہیں… اگر چند ہزار افراد بھی کسی جگہ جمع ہو کر صرف اتنا
اعلان کریں کہ… کفر وفساد کے اس تہوار سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے… یہ بسنت
کلاشنکوف اور ٹی وی کے زور پر منوائی گئی ہے… اور پھر یہ چند ہزار افراد آنکھوں
میں آنسو لے کر اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کریں، استغفار کریں… توبہ ربّا توبہ…
معافی ربّا معافی… لاہور والو یاد رکھو… اس قدر کھلم کھلا گناہوں پر اپنی
ناپسندیدگی کا اظہار بھی نہ کرنا… اللہ تعالیٰ کے عذاب کو زمین پر لاسکتا ہے…
واہگہ بارڈر زیادہ دور نہیں ہے… اکھنڈ بھارت کا ایجنڈا رکھنے والے فوجی لاہور پر
نظریں گاڑے کھڑے ہیں… ہمارے ملک کے محافظ اپنوں کو مارنے میں مصروف ہیں… کشمیری
مجاہدین جو پاکستان کی ڈیفنس لائن تھے زخمی زخمی ہیں… افغانستان کے ایک بڑے حصے پر
’’را‘‘ کا قبضہ ہے… متعصب ہندوؤں نے سمجھوتہ ایکسپریس پر حملہ کرکے ساٹھ مسلمانوں
کی جلی ہوئی لاشوں کا تحفہ بھیج دیا ہے… ملک کے خفیہ ادارے کشمیری مجاہدین کو
پکڑنے کے لئے اپنی فہرستوں کو آخری شکل دے رہے ہیں… انڈین حکمران پاکستان پر قبضے
کے خواب دیکھ کر… صبح کا ناشتہ امرتسر اور دوپہر کا کھانا لاہور میں کھانے کی بات
کر رہے ہیں… پاکستان جل رہا ہے… اور ملک کا سپہ سالار پتنگ اڑا رہا ہے… بسنت منا
رہا ہے… اور مسلمانوں کو تھوک کے حساب سے گالیاں دے رہا ہے… ان حالات میں ہم
پاکستان کے مسلمانوں کا اللہ تعالیٰ کے سوا کونسا سہارا ہے… بسنت کی بدبو عذاب کو
بلا رہی ہے… اس لیے ہم اللہ تعالیٰ کو منالیں… اور روشن خیالی کے تمام ناپاک
اقدامات سے کھلم کھلا برأت کا اعلان کریں… ہم گذشتہ سات سالوں میں یہی دیکھ رہے
ہیں کہ جس کسی نے بھی اپنا دین پیچھے رکھ کر اس حکومت کا ساتھ دیا وہ ضرور ڈسا
گیا… روشن خیالی کا عفریت خطرناک ہونے کے ساتھ ساتھ چالاک بھی ہے… وہ ایک ایک کرکے
اور الگ الگ کرکے دین کے نشانات کو کھا رہا ہے مٹا رہا ہے… اس لیے اب اپنے
’’بچاؤ‘‘ کا وقت نہیں دین اور شعائر دین کی حفاظت کا وقت ہے… روشن خیالی کے
علمبرداروں نے بارہا کہا ہے کہ ہم… ایک نیا اسلام لا رہے ہیں… اور ہم آہستہ آہستہ
سب کچھ بدل دیں گے… اورنگزیب عالمگیرؒ کے خلاف تبرّے بازی… اور بسنت کے میلے اسی
تبدیلی کی طرف جانے والے قدم ہیں… ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ خود اپنے دین کا
اور قرآن پاک کا محافظ ہے…
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ
لَحَافِظُوْنَ
اور اللہ پاک اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اٹھنے والے اس
طوفان کا رخ بھی موڑ دے گا… مگر ہمیں بھی کچھ کرنا ہے… اور سب سے پہلے ہمیں اپنے
ایمان، عقیدے اور نظرئیے کو محفوظ بنانا ہے… اس لیے ٹی وی سے بچیں… کالے دانتوں
والی پان خور عورتوں کے مضمون… اور دل کی کالک سے کالم لکھنے والے صحافیوں کے
مضامین نہ پڑھیں… ہم قرآن پاک کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کریں… ہم قرآن پاک کو علماء
کرام کی نگرانی میں سمجھنے کی کوشش کریں… اور دور جدید کی ترقی کو بڑی چیز نہ
سمجھیں… سب سے بڑا اللہ تعالیٰ ہے… اور سب سے بڑی چیز ایمان ہے… اور سب سے بڑی
کامیابی حسن خاتمہ اور شہادت ہے… ہم اللہ تعالیٰ کے اولیاء کرام اور مجاہدین سے
محبت رکھیں… خواہ وہ ماضی کے حضرات ہوں یا حال کے… اور ہم اللہ تعالیٰ کے
نافرمانوں سے اپنے دل کو دور رکھیں…
اللہ پاک کا شکر ہے کہ… ہمارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ
وسلم ’’مسجد‘‘ جیسی پاکیزہ، معطر، نورانی جگہ ہمیں دے گئے ہیں… مسجد میں اللہ
تعالیٰ کا پیار اور فرشتوں کی صحبت ملتی ہے… ہم مساجد سے دل لگائیں اور ان میں
پورے ادب کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں… اور ہمارا طریقہ یہ بن جائے کہ جیسے
ہی ہم پر کسی مصیبت یا گناہ کا حملہ ہو تو ہم… مسجد کی طرف دوڑ پڑیں اور وضو کرکے
مسجد کے سائے میں اس طرح پناہ لے لیں… جس طرح چیل سے خوفزدہ مرغی کے بچے مرغی کے
پروں میں پناہ لیتے ہیں… دل پہ شہوت کا حملہ ہو یا غضب کا… موت بھول جائے یا آخرت…
کوئی پریشانی آجائے یا مصیبت ہم فوراً جنت کے باغات یعنی مساجد میں جاکر … جنت کے
پھل کھانا شروع کردیں… آپ خود سوچیں جنت کے پھلوں میں کتنی شفاء ہوگی… اور کتنا
سکون؟… یہ نسخہ ہمارے مہربان آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بیان فرمایاہے …
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مساجد کو جنت کے باغات قرار دیا اور وہاں جاکر سبحان
اللہ و الحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر… پڑھنے کو جنت کے پھل قرار دیا… اپنے
مہربان ترین محبوب کی بات مان کر ایک بار تو جنت کے کسی باغ میں… خود کو اللہ پاک
کا مہمان سمجھ کر جا بیٹھیں… اور پھر پوری محبت اور توجہ سے پڑھیں…
سبحان اللہ… و الحمدللہ… ولا الہ الا اللہ… واللہ اکبر… پھر
دیکھیں دل پر کیسی عید گزرتی ہے… ہماری مسلمان خواتین پوچھیں گی کہ ہم کیا کریں؟…
ہم تو عام طور پر مساجد جا نہیں سکتیں … مساجد میں پردے کی جگہ بھی نہیں ہوتی… اور
زمانہ بھی فتنوں کا ہے… اور احادیث مبارکہ کے مطابق عورت کی نماز گھر میں زیادہ
افضل ہے… اور گھر میں بھی الگ اپنے کمرے میں زیادہ افضل ہے… پھر ہم کیا کریں؟…
جواب مدینہ منورہ کی پاک فضاؤں سے بہت پہلے مل چکا ہے… مگر عمل میں بہت غفلت ہے…
مہربان آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حکم ملا تھا کہ ہر گھر میں نماز کے
لئے ایک جگہ بنادو… پھر اسے خوب پاک صاف رکھو… اور اسے خوشبو سے مہکاؤ… مگر اب تو
گھروں میں عورتوں کی نماز… بچوں کے پیشاب والی قالینوں اور چٹائیوں پر ہوتی ہے… ہر
گھر کے ہر کمرے میں اٹیج باتھ… کئی کئی باورچی خانے… ڈائننگ ہال… ڈرائنگ روم اور
معلوم نہیں کیا کیا؟… مگر نماز کے لئے کوئی مخصوص جگہ نہیں … ہونا تو یہ چاہئے تھا
کہ سب سے پہلے نماز کی الگ جگہ مقرر کرلی جاتی… مسجد کی نیت سے نہیں مصلے کی نیت
سے… پھر اس کو خوب پاک کیا جاتا… روزانہ وہاں خوشبو مہکائی جاتی… اور منظر یہ ہوتا
ہے کہ… ایک خاتون آرہی ہے اور دوسری جارہی ہے… کوئی سجدے میںہے تو کوئی تلاوت میں
اور کوئی درود شریف میں مگن ہے… گھر کی سرپرست ماں جی نے سب کو بلا کر حضرت داؤد
علیہ السلام کا قصہ سنایا کہ… اللہ پاک نے ان کے خاندان کو شکر کا حکم دیا تو
انہوں نے گھر میں عبادت کی جگہ بنادی… اور سب گھر والوں کی باری مقرر کردی… یوں
چوبیس گھنٹے حضرت داؤد علیہ السلام کے گھر میں عبادت کی ترتیب بن گئی…
اللہاکبرکبیرا… کیسا پیارا، کیسا حسین اور کیسا دلکش منظر ہے… کاش آج بھی کسی گھر
میں ایسا ہو… کاش آج بھی ہر گھر میں ایسا ہو… چلیں پوری نقل نہیں تو ادھوری نقل تو
کی جاسکتی ہے… نافرمانوں نے اپنے گھروں میں بڑے بڑے ٹی وی لاؤنج بنادئیے… کیا اللہ
پاک کے سچے فرمانبردار عاشق اپنے گھر میں تین گز جگہ نماز اور تلاوت کے لئے مقرر
نہیں کرسکتے… جب یہ جگہ مقرر ہوجائے خواہ وہ ایک مصلے کی جگہ ہی کیوں نہ ہوتو
وہاں… خوب صفائی کریں اور یوںمحبت کے ساتھ عطر لگائیں کہ یہ محبوب حقیقی سے باتیں
کرنے کی جگہ ہے… پھر وہاں بیٹھ کر پوری محبت سے پڑھیں… سبحان اللہ و الحمدللہ ولا
الہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم … بسنت منانے والے
لوگ حرام کھاتے ہیں تو کھاتے رہیں… آپ مزے اڑائیں اور جنت کے پھل کھائیں، جنت کے
پھل… جی ہاں جنت کے پھل…
سبحان اللہ و الحمدللہ ولا الہ الا اللہ
واللہ اکبر… ولا حول ولا قوۃ
الا باللہ العلی العظیم…
٭٭٭
اللہ اکبر کبیرا… بے حد شکر اور خوشی کا مقام ہے کہ… ایک ایمان افروز ، دلکش،
نظریہ ساز اور مفید و مؤثر کتاب منظر عام پر آرہی ہے…
الحمدللہ الذی
بنعمتہ تتم الصالحات
کتاب کا نام ہے ’’قافلۂ سخت جاں‘‘ اور اس کے مصنف ہیں
صاحبِ عرفان… جی ہاں اپنے محترم عرفان صدیقی صاحب… اللہ تعالیٰ ان کو سلامت رکھے…
انہوں نے عشق ومحبت سے معمور… اور جذبۂ اخوت وغیرت سے لبریز جو مضامین ہفت روزہ
القلم کے لئے تحریر فرمائے ہیں… ان دلپذیر اور پرکشش مضامین کا مجموعہ… اب الحمدللہ کتاب کی صورت میں شائع ہورہا ہے… کتاب
کا مکمل مسوّدہ میرے سامنے موجود ہے… یہ عجیب کتاب ہے جہاں سے بھی نظر ڈالیں مضمون
کی عبارت انسان کواپنی گرفت میں لے لیتی ہے… اور پڑھنے والے پر سحر طاری کردیتی
ہے… ماشاء اللہ ہر کالم اس قدر دلنشین اور دلپذیر ہے کہ… حافظِ شیراز کا یہ شعر
یاد آجاتا ہے ؎
نہ ہر کو نقش نظم زد کلامش دلپذیر آمد
تذورِ طرفہ میگرم کہ چالاک ست شاہینم
یعنی ایسا نہیں کہ ہر لکھنے والے کا کلام دلپذیر بھی ہو،
میں اس لئے اونچے مضامین کو شکار کرلیتا ہوں کہ میری فکر شاہین کی طرح تیز اور برق
رفتار ہے۔
اور حافظؒ کا یہ مصرعہ ملاحظہ فرمائیں ؎
وفاداری وحق گوئی نہ کارِ ہر کسے باشد
یعنی وفاداری اور حق گوئی ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے… جی
ہاں یہ دو بلند صفات اللہ تعالی کے خاص بندوں کو ہی نصیب ہوتی ہیں… آپ جب بھی اس
کتاب کو پڑھیں گے آپ کو اس میں وفاداری کی خوشبو اور حق گوئی کی مہک ضرور محسوس
ہوگی… اس کتاب میں بعض عجیب کیفیات ہیں… اور اس کتاب کی بعض انمول خصوصیات ہیں…
میں صرف دو کیفیات کا تذکرہ کرتا ہوں اور اس کے بعد انشاء اللہ چند خصوصیات کا…
غزوۂ اُحد والی کیفیت
آہ! مسلمانوں کو بعض اوقات شکست بھی ہوتی ہے… یہ اللہ
تعالیٰ کی مرضی ہے… مگر جس شکست کے دوران چند مسلمان اس وقت ڈٹ جائیں جب اسلامی
لشکر پسپا ہو چکا ہو تو… اس شکست کے بعد مسلمانوں کے عروج کا زمانہ شروع ہوجاتا
ہے…
غزوۂ احد میں اسلامی لشکر کے پاؤں اچانک اکھڑ گئے… مشرکین
کے دو سو گھڑ سواروں نے پیچھے کی طرف سے ان پر حملہ کردیا تھا… یہ اُفتاد بہت
اچانک تھی… مسلمان پیچھے مڑے تو مشرکین کا بھاگتا ہوا لشکر واپس لوٹا اور حملہ آور
ہوگیا مسلمان دونوں طرف سے گھر گئے… ان کی تلواریں غلطی سے ایک دوسرے پر چل گئیں…
شیطان نے آواز لگائی کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) بھی شہید ہوگئے ہیں تو دلوں پر
ناامیدی نے حملہ کردیا… اللہ اکبر کبیرا عجیب منظر تھا… غم، خوف، زخم… طنزیہ
قہقہے، تاریک مستقبل… بس غم ہی غم… اور غم ہی غم… اکثر مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے
تھے… مگر میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم ڈٹے رہے… اور چند دیوانے بھی ان کے گرد سائے
کی طرح … حق پر ڈٹے رہے… یہ ڈٹے ہوئے لوگ عجیب تھے… واللہ بہت عجیب… وہ آقا کی طرف
آنے والے تیر اپنے سینے… اور ہاتھوں پر روک رہے تھے… وہ دفاع بھی کر رہے تھے اور
حملہ بھی… وہ چند افراد تین ہزار مشرکوں کو روکے کھڑے تھے کہ آقا تک … کوئی نہ
پہنچ سکے… ہر طرف ہائے واویلا اور منافقت کی بو پھیل رہی تھی مگر… مجال ہے یہ چند
افراد ایک قدم پیچھے ہٹے ہوں… وہ سب کچھ کر رہے تھے… جنگ بھی لڑ رہے تھے… مسلمانوں
کا حوصلہ بھی بڑھا رہے تھے… آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت بھی کر رہے تھے…
مشرکوں کے نعروں کا ترکی بہ ترکی جواب بھی دے رہے تھے… پیارے نبی صلی اللہ علیہ
وسلم کے زخم بھی دھو رہے تھے… اپنے زخمیوں کی خبر گیری بھی کر رہے تھے… اور خود
اپنے زخموں کا درد بھی سہہ رہے تھے… بالآخر مسلمان بچ گئے… اسلام بچ گیا… کچھ عرصہ
شکست کا اثر رہا اور پھر مسلمانوں نے ایک طویل عرصہ تک کسی سے شکست نہیں کھائی… آج
پھر ایک جنگ ہے… اس جنگ میں بھی دشمنان اسلام کا نشانہ میرے آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم کا خیمہ ہے… وہ نعوذباللہ اس خیمے کو اکھاڑنا چاہتے ہیں… اور ان کے
زوردار حملے سے مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ چکے ہیں… اسلامی لشکر کے اکثر افراد پسپا ہو
کر میدان جنگ سے بھاگ چکے ہیں… اور مسلمان کہلانے والے حکمران کافروں کے ساتھ
جاملے ہیں… طاقتور دشمن کبھی میرے آقا کی امت پر بمباری کرتا ہے… کبھی آقا کے
امتیوں کو قید خانوں میں ڈالتا ہے… اور کبھی کارٹون اور خاکے بنا کر خود آقا صلی
اللہ علیہ وسلم کی ذات پر حملہ کرتا ہے… دشمنوں کے حملے بہت سخت ہیں… افغانستان سے
لے کر عراق تک زمین پر آگ ہی آگ ہے… مگر ہاں اس بار بھی تمام مسلمان پسپا نہیں
ہوئے… کچھ دیوانے، کچھ فرزانے، کچھ پروانے آج بھی آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے
کے گرد کھڑے دشمنوں کا مقابلہ کر رہے ہیں… وہ کٹ کٹ کر گر رہے ہیں مگر آقا کے خیمے
کا پہرہ دے رہے ہیں… عجیب جنگ ہے جنگ احد سے بہت ملتی جلتی… نفاق کا زور ہے مگر
ایمان والے بھی عجیب شان پر اترے ہوئے ہیں… ایٹم بموں کے مالک چھوٹے چھوٹے فدائیوں
سے خوفزدہ ہیں… آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے کا پہرہ دیتے ہوئے زرقاوی شہید
ہوگیا… ملا اختر عثمانی شہید ہوگیا… غازی بابا شہید ہوگیا… اور ملا عمر ابھی تک
ڈٹا ہوا بے جگری سے لڑ رہا ہے… اور اس خیمے کے ایک کونے پر ایک شخص اپنے قلم کو
تلوار بنا کر پہرہ دے رہا ہے… اس شخص کا نام عرفان صدیقی ہے… وہ آقا صلی اللہ علیہ
وسلم کی طرف پھینکے جانے والے ہر تیر کا جواب دیتا ہے… وہ تڑپ تڑپ کر مقابلہ کرتا
ہے… طاقتور دشمنوں کو کھری کھری سناتا ہے… وہ کبھی ملاعمر کے چہرے کی خاک جھاڑتا
ہے تو کبھی بوڑھے گیلانی کو جاکر سہارا دیتا ہے… وہ کبھی فلسطینی مجاہدین کا حوصلہ
بڑھاتا ہے تو کبھی دجلہ فرات کے کنارے جا کر حسان بن ثابتؓ کی طرز میں لشکر اسلام
کو ہمت دلاتا ہے… وہ چاہتا تو اپنے سیّال قلم کو بیچ کر امریکہ کے دورے کرتا پھرتا
مگر وہ تو… آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے کا پہرہ دے رہا ہے… آپ
قافلۂ سخت جاں کے ایک ایک مضمون کو پڑھتے جائیے آپ کو اکثر مضامین میں
یہی کیفیت نظر آئے گی… یہی پہرہ نظر آئے گا…
صدیقی صاحب! مبارک ہو… بہت مبارک … خزاں کے موسم میں بہار
کی نگرانی مبارک ہو… اس خزاں کے بعد پھر بہار ہے… اور اس بہار کی رُتوں میں آپ کا
بھی حصہ شامل رہے گا… شہیدوں کی قبروں پر جب موسم بہار میں پھول کھلیں گے… تو
پھولوں کی مہک میں آپ کا حصہ بھی شامل ہوگا… جی ہاں یہ سب کچھ ’’اصل زندگی‘‘ میں
بہت کام آنے والا ہے… آخر حوض کوثر پر بھی تو ایک تقریب ہونی ہے… مبارک ہو آقا صلی
اللہ علیہ وسلم کے خیمے کے پہرے دارو! مبارک ہو…
وفا کی خوشبو
ان کے پیچھے لوگوں کی قطاریں تھیں… ان کی ایک جھلک دیکھنے
کے لئے لوگ ترستے تھے… پھر موسم بدل گیا… ان کا نام لینا جرم ٹھہرا… تب قطاریں
غائب ہوگئیں… اور بڑے بڑے مجمعے چھٹ گئے… مگر کچھ لوگ ان کے ساتھ کھڑے رہے… انہوں
نے حیرت سے پوچھا تم کیوں نہیں بھاگے؟… وفاداروں نے جواب دیا ہم نے تم سے جس کی
خاطر پیار کیا تھا وہ کل بھی موجود تھا آج بھی موجود ہے اور ہمیشہ موجود رہے گا…
ہمارا پیار نام اور معدے کے لئے نہیںاس کے لئے تھا جس نے وفا کو پیدا کیا… اور وہ
وفا کرنے والوں سے پیار کرتا ہے… یہ ہے وہ دوسری کیفیت جو آپ کو صدیقی صاحب کی
کتاب میں جگہ جگہ پر محسوس ہوگی…
طالبان اقتدار میں تھے تو ان کے پیچھے لوگوں کی
قطاریں تھیں… اسامہ بن لادن آزاد تھے تو مسلمان ان کے متوالے تھے… علی گیلانی کا
نام پاکستان کے حکمران بھی عقیدت سے لیتے تھے… ڈاکٹر عبدالقدیر خان اسلام آباد میں
چلتے پھرتے تو ملاقاتیوں کے میلے ان کے دروازے پر نظر آتے تھے… مگر پھر موسم بدل
گیا… طالبان کا نام لینا جرم ٹھہرا… اسامہ کا تذکرہ دہشت گردی قرار دے دیا گیا…
علی گیلانی پاکستان کی خاطر سب کچھ گنوا کر بھی پاکستان کا مجرم بن گیا… اور ڈاکٹر
عبدالقدیر خان کا تذکرہ بھی ملک دشمنی کے زمرے میں آنے لگا… صورتحال جب یہ ہوئی تو
کئی لوگوں نے وقت کے سامنے سجدہ کیا… اور اپنی گردن جھکادی … مجاہدین کے لئے لوگوں
نے اپنے دروازے بند کردئیے… کالم نویسوں نے ’’ازراہ احتیاط‘‘ ان تمام شخصیات کے
تذکرے بند کردئیے… اور ماضی میں جہاد اور مجاہدین کے حق میں کالم لکھنے والوں نے…
اپنے ماضی کے گناہ دھونے کے لئے… ٹی وی چینلوں اور روشن خیالی کے حق میں مضامین
لکھنا شروع کردئیے… مگر اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطاء فرمائے عرفان صدیقی صاحب کو کہ
وہ ڈٹے رہے… آپ اس کتاب کے اکثر مضامین میں ان حضرات کا تذکرہ پائیں گے جواَب…
مطلوب اور کالعدم ہیں… وہ حضرات خود بھی یہ کالم پڑھ کر حیران ہوتے ہوں گے کہ…
اکثر لوگ بھاگ گئے مگر یہ شخص بغیر کسی غرض کے ابھی تک ڈٹا کھڑا ہے… آخر کس کی
خاطر؟… جواب واضح ہے… اسی کی خاطر جس کی خاطر کل آپ لوگوں سے محبت کی تھی… جی ہاں
وفا سے پیار کرنے والے اللہ تعالیٰ کی خاطر جو وفاداروں کو خوب نوازتا ہے… بہت
خوب…
یہ تو وہ کیفیتیں ہیں جو اس کتاب میں بالکل صاف طور پر
محسوس ہوتی ہیں جبکہ… بعض انمول خصوصیات بھی آپ کو اس تاریخی کتاب میں ملیں گی
مثلاً:
۱۔ قرآن وسنت کی درست ترجمانی
صدیقی صاحب ماشاء اللہ دینی معاملات میں بہت محتاط ہیں…
اللہ کی شان دیکھئے کہ انسان کا علم اور تقویٰ جس قدر بڑھتا جاتا ہے… دینی معاملات
کے بارے میں اس کی احتیاط میں اضافہ ہوتا جاتا ہے… حضرات صحابہ کرام میں سے بعض جب
کوئی حدیث سناتے تھے تو ان پر خوف اور احتیاط کی وجہ سے گریہ طاری ہوجاتا تھا کہ
کوئی بات غلط نہ نکل جائے… اسلاف میں سے کسی کا فرمان ہے… لا ادری نصف العلم یعنی
یہ بات کہنا کہ ’’میں نہیں جانتا‘‘ یہ آدھا علم ہے… امام شافعیؒ جیسے امام فرماتے
ہیں کہ جیسے جیسے میرا علم بڑھتا جاتا ہے مجھے اپنی جہالت کا زیادہ پتا چلتا جارہا
ہے… صدیقی صاحب پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ وہ دینی معاملات میں خود بھی احتیاط
کرتے ہیں… اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتے ہیں…
اسی کتاب کے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:
’’قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ یہ نام نہاد روشن خیال طبقہ دنیوی
علوم پر اپنے آپ کو سند خیال کرتا ہے۔ یہ ہر گز اجازت نہیں دیتا کہ کوئی شخص
سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، کمپیوٹر یا انفارمیشن ٹیکنالوجی کے امور میں مداخلت
کرے لیکن جب ’’دین‘‘ کا معاملہ آتا ہے تو یہ ’’مجتہد العصر‘‘ بن بیٹھتے اور ’’مفتی
اعظم ‘‘ کے انداز میں فتوے جاری کرنے لگتے ہیں۔ انہیں اس بات کا کچھ اندازہ ہی
نہیں کہ دینی معاملات، قرآنی نصوص اور سنت نبوی کے حساس ترین منطقوں میں داخل ہونے
کا استحقاق ہر کسی کو نہیں۔‘‘
صدیقی صاحب کی اسی احتیاط کا نتیجہ ہے کہ وہ اکثر وبیشتر
قرآن وسنت کا حوالہ نہیں دیتے مگر بات قرآن وسنت کی کرتے ہیں… ان کی بعض عبارتیں
قرآن و سنت کے عالی احکامات کی دلنشین تشریح ہوتی ہیں… مثال کے طور پر ان کے یہ
جملے ملاحظہ فرمائیے…
’’جب سوچ کے سارے راستے دنیوی مفادات کی منزلوں کی طرف نکل
جائیں اور انسان کی نگاہ دور کے منظروں سے ہٹ کر سامنے بچھے دسترخوانوں تک محدود
ہو کر رہ جائے تو اس کی پوری شخصیت دنیاداری کے سانچے میں ڈھل جاتی ہے۔ مادیت کا
طلسم اس کے افکار واعمال کو پوری گرفت میں لے لیتا ہے اور ذرا ذرا سے لذائذ اس کا
منتہائے مقصود بن جاتے ہیں۔ جب انسان ایسے آشوب میں مبتلا ہوجائے تو اس کے پر
خودبخود جھڑنے لگتے ہیں، اس کے لہو کی حرارت پر برف گرنے لگتی ہے، اس کے ایمان
ویقین کے قلعے کمزور ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور اس کے دست وبازو کی توانائی خودبخود
کسمسانے لگتی ہے۔ یہ کیفیت ہولے ہولے شیروں کو بھی روبا ہی سکھانے لگتی ہے اور
انہیں اپنی ایسی جبلی خصوصیات سے محروم کردیتی ہے جو ان کے رعب، وقار، دبدبے اور
عظمت کی علامت ہوتی ہے۔‘‘
قرآن وسنت میں ’’حبّ دنیا ‘‘اور’’ وہن‘‘ کو مسلمانوں کے
زوال کا اہم سبب قرار دیا گیا ہے… مذکورہ بالا عبارت میں قرآن وسنت کے اس فلسفے کا
جس طرح سے خلاصہ بیان کیا گیا ہے وہ اپنی نظیر آپ ہے…
اسی سلسلے کی ایک اور مثال ملاحظہ فرمائیے…
صدیقی صاحب لکھتے ہیں…
’’عراق کے انتخابات بھی لیپاپوتی کا ایک بہانہ ہیں… لیکن
امریکہ کی ساکھ اب اس قدر خراب ہوچکی ہے کہ وہ اپنے پیراہن صدچاک کو کیسی کیسی
خوشبوؤں میں بساتا رہے، اس کے ایک ایک انگ سے سڑاند اور بساند اٹھتی رہے گی اور
عطر بیزی کی ہر کوشش اس کے تعفن میں اضافہ کرتی رہے گی۔‘‘
یہ بہت عجیب عبارت ہے… یہ قرآن پاک کی آیت ’’انما المشرکون
نجس‘‘ اور بعض دیگر آیات کا دلچسپ خلاصہ ہے… ہمارے کمزور مسلمان اس وقت امریکہ کی
چمک، دمک اور چکا چوند پر اپنا ایمان قربان کر رہے ہیں… ان حالات میں مسلمانوں کو
امریکہ کی سڑاند، بساند اور تعفن یاد دلانا… کتنا ضروری کام ہے…
میں اور بھی مثالیں پیش کرتامگر کالم میں اتنی گنجائش نہیں
ہے آپ ’’قافلۂ سخت جاں‘‘ میں شامل صدیقی صاحب کے کالم ’’روشنی کا سفر‘‘ … پلٹ آؤ
اپنی اصل کی جانب… اور تلاش ایک گمشدہ اذان کی… خاص طور سے ملاحظہ فرمالیں… آپ بھی
اس حقیقت کے قائل ہو جائیں گے…
۲۔ عربی ادب سے ہم آہنگ
صدیقی صاحب کے یہ تمام کالم اردو میں ہیں مگر… ان پر ’’عربی
ادب‘‘ کا خوبصورت صحرائی رنگ غالب ہے… بات دراصل یہ ہے … کہ ہم مسلمانوں کی مادری
زبانیں تو الگ الگ ہوسکتی ہیں مگر ہم سب کی فطری اور دینی زبان عربی ہے… پس جو شخص
فطری، طبعی طور پر اسلام کے جس قدر قریب ہوتا ہے اسی قدر وہ عربی زبان کے بھی قریب
تر ہوتا چلا جاتا ہے… اگر آپ عربی ادب سے تھوڑی سی بھی واقفیت رکھتے ہوں تو آپ کو…
صدیقی صاحب کے جملے، ان کی تشبیہات، ان کے استعارات اور ان کے انداز میں عربی ادب
کی لطافت صاف محسوس ہوگی… صدیقی صاحب بنیادی طور پر ماشاء اللہ ایک سکّہ بند ادیب
ہیں… موجودہ دور میں اخبارات کے مشہور کالم نویسوں میں سے کوئی بھی… بلامبالغہ …
اس میدان میں ان کا ہم پلّہ نہیں ہے… میں نے کئی بڑے کالم نویسوں کو اردو ادب کے
معاملہ میں ٹھوکر کھاتے دیکھا ہے… مگر صدیقی صاحب! جس موضوع پر بھی لکھیں… زبان
وادب کے معیار کو برقرار رکھتے ہیں… اور سہل نگاری یا اثر انگیزی کی خاطر اپنی
تحریر کو رکیک نہیں ہونے دیتے… حرف، لفظ اور لغت کی پاسبانی بھی ایک بڑی خدمت ہے…
۳۔ شانِ حنیفی
دورِ حاضر کا ایک بڑا فتنہ ’’وسیع المشربی‘‘ ہے… باصلاحیت
اور مقبول افراد کو اس بات کا چسکہ پڑ جاتا ہے کہ وہ… ہر کسی کے ہاں قابل قبول ہوں
بلکہ… مقبول ہوں… خواہ اسکی خاطر عقیدہ بیچنا پڑے… نظریہ گھمانا پڑے… یا ضمیر کو
جنس بازار بنانا پڑے… امت مسلمہ کے بڑے بڑے قدآور افراد کو اسی شوق نے مٹی میں
ملادیا ہے … اور وہ دل بہلانے والا کھلونا بن کر رہ گئے ہیں … حالانکہ ہمارے دین
کا مزاج ہی ’’حنیفی‘‘ ہے… سب جہتیں چھوڑ کر ایک جہت کی طرف منہ موڑنا… سب دروازوں
کو چھوڑ کر ایک دروازے کا ہو رہنا… اور اپنے عقائد اور نظریات کو ہر طرح کے شرک
اور ملاوٹ سے پاک رکھنا… کیا ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے سب لوگ آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کے دوست تھے؟… کیا سب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حامی تھے؟…
مکہ میں تو اکثریت مخالف تھی… جبکہ مدینہ منورہ میں بھی یہودیوں اور منافقوں کے
بڑے بڑے قلعے سینہ تان کر کھڑے تھے… مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو کبھی
’’مقبولیت‘‘ کی فکر میں نہیں پڑے… آپ اپنے سچے عقیدے اور نظرئیے کی دعوت دیتے رہے
اور لوگوں میں سے خوش نصیب افراد اس کے قائل ہوتے چلے گئے… صدیقی صاحب کے مضامین
میں آپ کو یہ اسلامی شان بھی صاف نظر آئے گی… وہ یکجہتی کو پسند کرتے ہیں… اور
بالکل کھلم کھلا امت مسلمہ کی بات کرتے ہیں… وہ اس بات سے نہیں ڈرتے کہ ان کو
’’متعصب مسلمان‘‘ کی گالی دی جائے گی… بلکہ وہ اس طرح کے الزام کو ’’تمغۂ سعادت‘‘
سمجھتے ہیں… وہ طالبان کے حامی ہیں تو پھر انہوں نے حامد کرزئی سے جوڑنے کا کبھی
نہیں سوچا… وہ پاکستانی ہیں تو پھر پاکستان کے مفاد میں کسی بھی ملک کے گریبان میں
ہاتھ ڈالنے سے نہیں رُکتے… یکسوئی کی یہ شان انسان کو معتبر بناتی ہے اور ایسے
افراد ہی امت مسلمہ کی صحیح خدمت کرسکتے ہیں… میں نے ان کی یکسوئی پر بطور مثال ان
کی کئی عبارتیں جمع کی تھیں… مضمون لمبا ہوتا جارہا ہے اور باتیں بہت باقی ہیں…
ویسے بھی ہمارے قارئین عنقریب خود یہ کتاب پڑھ لیں گے…
۴۔ ان اجری اِلاّ علی اللہ
قرآن پاک بتاتا ہے کہ… جو نبی بھی تشریف لائے انہوں نے
ایمان کی دعوت دینے کے بعد فرمایا… ان اجری اِلاّ علی اللہ اے لوگو! میں اس دعوت
کے بدلے تم سے کچھ نہیں مانگتا… کچھ نہیں چاہتا… میرا اجر تو اللہ تعالیٰ کے ہاں
ہے… مجھے وہیں سے مزدوری ملے گی… انبیاء علیہم السلام نے صرف زبان سے یہ بات نہیں
فرمائی بلکہ اپنے عمل سے بھی ثابت کر دکھایا کہ ہم دعوت الی اللہ کے معاملے میں
مخلوق سے بے غرض ہیں … اور یہ ’’بے غرضی‘‘ اس بات کی دلیل ہے کہ ہماری دعوت سچی
ہے… انبیاء علیہم السلام کے بعد ان کے سچے امتی دعوت کے میدان میں اترے تو انہوں
نے بھی یہی نعرہ بلند کیا کہ ہمارا اجر، ہمارا بدلہ، ہماری مزدوری اللہ تعالیٰ کے
پاس ہے… ہم لوگوں سے کچھ نہیں مانگتے، کچھ نہیں چاہتے… دور حاضر کے مایہ ناز
دانشور جناب عرفان صدیقی صاحب کو بھی اللہ تعالیٰ نے اس صفت میں سے حصہ عطاء
فرمایا ہے… میں جب یہ مضمون لکھنے کی تیاری کر رہا تھا تو میں نے ان کی کتاب
’’قافلۂ سخت جاں‘‘ سے بعض فہرستیں مرتب کیں… ان میں سے ایک فہرست دور
حاضر کے ان لوگوں کی تھی جن کی شان اور تعریف میں صدیقی صاحب اپنا پورا زور قلم
صرف کرتے ہیں… مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ ان میں سے کوئی ایک بھی اس قابل نہیں
ہے کہ… صدیقی صاحب کو سوائے دعاؤں اور آنسوؤں کے کچھ دے سکے… یہ تمام وہ لوگ ہیں
جن کا نام لینا جرم کے مترادف ہے… ملا محمد عمر مجاہد، شیخ اسامہ بن لادن، ڈاکٹر
عبدالقدیر خان، سید علی گیلانی، عامر چیمہ شہید، ابو مصعب الزرقاوی شہید… مجاہدین
افغانستان، مجاہدین کشمیر، مجاہدین عراق، مجاہدین فلسطین … اہل حماس… اہل مدارس…
اہل مساجد… اور دور حاضر کے مظلوم افراد دوسری طرف صدیقی صاحب کا قلم جن لوگوں کی
ناک مٹی میں ملاتا ہے وہ آجکل کے فرعون، ہامان، قارون … اور ابوجہل ہیں… اگر صدیقی
صاحب اپنے قلم کو الٹا کردیں… اور روشن خیالی کے حق میں ایک قصیدہ لکھ دیں تو ان
پر بھی نوٹوں کی برسات ہوسکتی ہے کہ وہ اس زمانے کے نامور ادیب ہیں… مگر اللہ
تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنے دین کے کام کے لئے چن لیتا ہے… مقدر کا رزق اور مقدر
کی عزت صدیقی صاحب کو اب بھی مل رہی ہے… اور جو کچھ آگے تیار ہے انشاء اللہ… اس کا
مقابلہ بش کی بادشاہت… اور بلیئر کے خزانے ہر گز ہر گز نہیں کرسکتے…
۵۔ غیرت ایمانی
حضرت مفتی نظام الدین شامزئیؒ فرمایا کرتے تھے… کفار کو
مسلمانوں کی عبادت اور ظاہری دینداری سے کوئی ڈر نہیں ہے… وہ تو مسلمانوں کی
’’غیرت ایمانی‘‘ سے ڈرتے ہیں… اور ان کی پوری کوشش یہی ہے کہ کسی بھی طرح مسلمانوں
سے ’’غیرت‘‘ کو چھین لیا جائے… صدیقی صاحب الحمدللہ غیور مسلمان ہیں… وہ غیرت سے لکھتے ہیں
اور غیرت کا بھرپور سبق پڑھاتے ہیں… غیرت دراصل نتیجہ ہے ’’اخوتِ ایمانی‘‘ کا…
مسلمانوں کی باہمی اخوت جس قدر مضبوط ہوتی ہے اس قدر ان میں غیرت ایمانی پیدا ہوتی
ہے… صدیقی صاحب امت مسلمہ کے ہر مسئلے کو اپنا ذاتی مسئلہ سمجھتے ہیں… آپ اس کتاب
میں دیکھیں گے کہ وہ پورے عالم پر نظر رکھ کر لکھتے ہیں… اور جہاں کہیں کسی بھی
مسلمان کوکوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے اس پر قلم اٹھاتے ہیں… پاکستان کی میراتھن ریس
ہو یا برطانیہ کی بیٹیوں کے حجاب کا مسئلہ… اسلام آباد کی اذان کی تلاش ہو یا رومی
پاپے کا مدلّل محاسبہ… عامر چیمہ شہیدؒ کی قربانی ہو یا فلسطین کی زمین پر بہنے
والا خون… مسئلہ کشمیر ہو یا مسئلہ لبنان… جہاد افغانستان ہو یاجہاد عراق… صدیقی
صاحب کا قلم ہر معاملے پر امت مسلمہ کی صحیح ترجمانی کرتا ہے… اسلامی اخوت کے اس
وسیع جذبے نے ان کو غیرت ایمانی کا وقار اور جلال عطاء فرمادیا ہے… وہ جب دشمنان
اسلام پر برستے ہیں تو پڑھنے والے کا خون بھی تیزی سے گردش کرنے لگتا ہے… بلکہ ان
کے بعض جملے تو پڑھنے والے پر حال طاری کردیتے ہیں… کچھ عرصہ پہلے حامد کرزئی نے
جب حضرت امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد کو بزدل کہا تو… عرفان کی صدیقی غیرت
جوش میں آگئی انہوں نے اس موقع پر جو تاریخی کالم لکھا وہ اس قابل ہے کہ اسے بار
بار پڑھا جائے… کالم کا عنوان ہے ’’یہ فصل ہماری ہی کاشتہ ہے‘‘… اس مضمون کا آخری
حصہ ملاحظہ فرمائیے…
’’اور جو اس (کرزئی) نے کہا ہے
’’ملا محمد عمر بزدل ہے‘‘
یہ اس کے اندر کا خوف ہے
وہ خوف جو اس طرح کے حشرات الارض کو لاحق رہتا ہے
وہ خوف جو کسی چمگاڈر کو صبح خوش حال سے ہوتا ہے
کرزئی جیسوں کی زبان پر اس مرد جری کا نام جچتا ہی نہیں،
سامراج کی چاکری کرنے والے کیاجانیں کہ لا الہ الا اللہ کی سرمدی لذت کیا ہوتی ہے؟
استعمارکی چوکھٹ پر ماتھا ٹیکنے والوں کو کیا خبر کہ مصنوعی
خداؤں کے گریباں چاک کرنے والے اہل جنوں کیا ہوتے ہیں؟
ملا محمد عمر کا نام تو صاحبان عزیمت کی درخشاں تاریخ کا
سنہری ورق رہے گا او رحامد کرزئی کو تاریخ اپنے کوڑادان میں رکھنا بھی اپنی توہین
خیال کرے گی… جارج ڈبلیوبش کے مرغ دست آموز کو ایسے مقدس نام اپنے ہونٹوں پر لانے
سے قبل ہزار بار سوچنا چاہئے۔‘‘
سبحان اللہ کتنا دلکش اور پرغیرت کلام ہے… میں نے جب پہلی
بار ان جملوں کو پڑھا تو بار بار پڑھتا ہی چلا گیا… اور کئی دن تک یہ جملے میرے دل
ودماغ میں گونجتے رہے… میں نے چاہا کہ صرف ان جملوں کی ساخت، ترکیبوں اور مضمون پر
پورا ایک کالم لکھ دوں…
یہ تو ایک مثال ہے… اس کتاب کے اکثر مضامین میں اس طرح کے
ایمان افروز اور غیرت افزاء جملوں کی فراوانی ہے…
آخری بات
میرا ارادہ تھا کہ کم از کم دس خصوصیات کا تذکرہ کروں گا…
مگر میں ابھی تک کچھ بھی نہیں لکھ سکا… میں نے ’’قافلۂ سخت جاں ‘‘کے چند مضامین
الگ نکال کر رکھے تھے کہ ان پر جی بھر کے لکھوں گا… خاص طور پر … اے روحِ محمد صلی
اللہ علیہ وسلم… مدینہ کیسی بستی ہے… میں نے کئی مقامات پر نشانات لگائے تھے کہ ان
تاریخی جملوں کو… اپنے اس مضمون میں نقل کروں گا… ابھی تو میں نے القلم والوں کو
مبارکباد بھی دینی تھی کہ انہیں یہ کتاب چھاپنے کی سعادت مل رہی ہے… مگر کچھ بھی
نہ ہوسکا اور میرے کالم کی جگہ پوری ہوگئی… ویسے اچھا ہی ہوا… کیونکہ صدیقی صاحب
کی کتاب ہم جیسوں کے خراج تحسین کی محتاج نہیں ہے… اللہ تعالیٰ اس کتاب کو خصوصی
قبولیت اور مقبولیت عطاء فرمائے… ہاں آخر میں اتنی بات ضرور کہتا ہوں کہ… مجھے اس
کتاب کے جلد چھپنے کا انتظار ہے… یہ کتاب جب چھپ جائے گی تو میں اس کے کئی نسخے
خریدلوں گا … ایک نسخہ تو خود رکھ لوں گا… جبکہ باقی اپنی محبوب ہستیوں کو بھیج
دوں گا… اور دعا کروں گا کہ کسی طرح ایک نسخہ طالبان تک بھی پہنچ جائے… تاکہ… ان
اللہ کے بندوں کو پتہ چلے کہ سارا پاکستان ان کا دشمن نہیں ہے … بلکہ یہاں تو
عرفان صدیقی جیسے لوگ بھی ان کی یاد میں آنسو بہا رہے ہیں… اس لیے اے افغان بھائیو
ہم سب پاکستانیوں کو اپنے معصوم بچوں کا قاتل نہ سمجھو… پھر میں کوشش کروں گا کہ
اس کتاب کا ایک نسخہ مقبوضہ کشمیر میں سید علی شاہ گیلانی صاحب تک پہنچادوں… تاکہ
گیلانی صاحب کے بہتے آنسوؤں میں کچھ کمی آئے… اور ان کو پتا چلے کہ ’’کشمیر
فروشی‘‘ کی ذلت سارے پاکستان کی پالیسی نہیں ہے…
اور ہاں میری خواہش ہوگی کہ… کتاب کے کچھ نسخے شہداء کرام
کے اہل خانہ تک پہنچ جائیں تاکہ… انہیں تسلی ہو کہ! میدان ابھی اجڑا نہیں…
مقابلہ اب بھی جاری ہے اور…
شہداء کے قافلوں کی طرف…
مزید قافلے ہاں سخت جان قافلے…
دوڑتے جارہے ہیں…کچھ اہل دل… اہل بیاں
دل کی روشنی سے لکھ رہے ہیں
ان کے قلم امت مسلمہ کی کڑکتی تلواریں بن کر
اسلامی لشکروں کی حُدی خوانی کر رہے ہیں
خزاؤں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر
بہار کا قصیدہ لکھ رہے ہیں
شہداء کی قبروں کے پتھر کیوں اداس ہوں
قافلہ تو آگے ہی بڑھ رہاہے
زخم کھا کھا کر…
خون کی لکیروں پر
یا فتح کی طرف
یا
شہادت کی جانب
ہاں یہی ہے امتِ مسلمہ کے لئے پیغام ’’قافلۂ سخت جاں‘‘ کا…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ پاکستان کو مکمل آزادی عطاء فرمائے… آج کل
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب بھی اپنے گھر کے ایک کمرے میں نظر بند ہیں… اور اب وہ
بھی پاکستان کے مظلوم دینی طبقے کی طرح فوجی بوٹ کے نیچے کراہ رہے ہیں… اللہ
تعالیٰ ان کی نصرت فرمائے اور انہیں غم اور بے بسی کے ان حالات سے چھٹکارا عطاء
فرمائے… انگریزوں نے برصغیر کے مسلمانوں سے خوفناک انتقام لیا ہے… ان بدکردار
گوروں کے کالے مظالم آج تک جاری ہیں… انگریز برصغیر پر قابض بن کر آیا… جب وہ آیا
تھا تو یہاں مسلمانوں کی حکومت تھی… مگر جب وہ گیا تو حکومت ہندوؤں کو دے گیا… اور
مسلمانوں پر اپنا کالا نظام اور کالے غلام مسلط کرگیا… اب پاکستان ہو یا ہندوستان…
کشمیر ہو یا بنگلہ دیش ہر جگہ مسلمان عجیب ذلت کا شکار ہیں… آہ، آہ کتنی تباہ کن
صورتحال ہے… ہم ایک ایسے پنجرے میں بند ہیں جس میں پھڑپھڑانا بھی جرم ہے… اور ہم
ایک ایسی چُھری سے ذبح کیے جارہے ہیں جس کے نیچے کراہنا بھی غداری ہے… ہمارے
حکمران کافروں کے سامنے انتہائی بے عزت ہیں… مگر اپنے مسلمانوں کے سامنے ان کی انا
اور عزت آسمانوں کو چھونے لگتی ہے… بوڑھا اکبر بگٹی قتل کردیا گیا، جاوید ہاشمی
سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا… مولوی لیاقت اللہ بموں کی آگ سے شہید کردیا گیا…
اور بھی بہت کچھ ہوگیا کس کس بات کا تذکرہ کروں… ملک میں کوئی قانون نہیں، کوئی
انصاف نہیں… بس امریکہ کی غلامی کا اعلان ہے اور طاقت کا ننگا ناچ… ابھی تازہ
واقعہ دیکھیں… ملک کے چیف جسٹس کو اچانک حکم ملا کہ حاضری دو… وہ بے چارہ بھاگ کر
آرمی ہاؤس پہنچا… وہاں اسے حکم ملا کہ فوراً استعفیٰ دو… اکھڑ مزاج جج تھوڑا سا
پھڑپھڑایا اور چھری کے نیچے کسمسایا… بس پھر کیا تھا… یہ عظیم گستاخی برداشت نہ
ہوسکی اور جج صاحب نے بھی زندگی کے وہ دن دیکھ لئے جو دن کالعدم دینی جماعتوں کے
رہنما سالہا سال سے دیکھ رہے ہیں… اب جج صاحب ایک کمرے میں بیٹھے آنسو بہا رہے
ہیں… ان کے دل سے گرم آہیں اٹھ رہی ہیں… وہ بے بسی کے ساتھ سوچتے ہوں گے کہ اب میں
کہاں جاؤں؟… کس عدالت میں اپیل کروں؟… کس کو اپنا غم سناؤں؟… زندگی کے باقی دن
کیسے کاٹوں؟… اللہ کرے بے بسی کے اس عالم میں جج صاحب کو اصل حاکم کا پتا چل جائے…
وہ وضو کریں اور احکم الحاکمین کے دربار میں اپنی اپیل لگادیں… ہاں جس عظیم دربار
سے سب کو انصاف ملتا ہے… اور ملک کے مظلوم مسلمان اسی عدالت میں اپیل دائر کیے
بیٹھے ہیں… وہ ٹھنڈی رات کس کو بھول سکتی ہے جی ہاں بہت یخ بستہ… ایک کالی
رات ۱۲ جنوری ۲۰۰۲ء کی
رات… جب ریڈیو پر ایک کرخت اور مکروہ آواز گونج رہی تھی… میں نے جہادی تنظیموں کو
بین کردیا ہے… میں نے پابندی لگادی ہے… اگلی صبح ہزاروں افراد گرفتار کرلیے گئے…
داڑھیوں والے، لمبی زلفوں والے اور پگڑی والے… ہر طرف خوف کا عالم تھا اور ایک
وحشت زدہ ماحول… تب ملک کی کسی عدالت نے مجاہدین کا ساتھ نہ دیا، وکیلوں سے مشورے
ہوئے تو جواب ملا کہ عدالتیں کچھ نہیں کرسکتیں… آپ لوگ وقت اور سرمایہ ضائع نہ
کریں… کچھ لوگ پھر بھی عدالتوں تک گئے… مگر بے رخی، سرد مہری، ڈرے ہوئے جج، سہمے
ہوئے وکیل… اور لمبی لمبی تاریخیں… تب مونچھوں والے امریکی غلام قہقہے لگا کرکہتے
تھے… اور جاؤ عدالتوں میں… تم ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے… مجھے خود ایک عدالت میں
لے جایا گیا… پولیس افسر نے جج صاحب کو بتایا ہم نے ان کو آج گرفتار کیا ہے آپ دس
دن کا ریمانڈ دے دیں… میں نے جج صاحب کو بتایا کہ میں آٹھ مہینے سے گرفتار ہوں…
تمام اخبارات میں میری گرفتاری کی خبریں ہیں… عام لوگوں تک کو پتاہے کہ میں آج
نہیں آٹھ مہینے سے نظر بند ہوں… مگر جج صاحب نے ایک نہ سنی اور ریمانڈ کا حکم نامہ
لکھنے لگے… میں نے کہا جج صاحب ایک دن آپ بھی اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہوں
گے… کہیں ایسا نہ ہو کہ اس دن الٹے لٹکائے جائیں… یہ سن کر ان کے چہرے کا رنگ بدل
گیا انہوں نے جلدی سے پولیس کے حق میں فیصلہ لکھا اور اٹھ گئے… بعد میں پتا چلا
انہوں نے حکومت کو درخواست دی کہ مجھے سیکورٹی فراہم کی جائے… مجھے دھمکی دی گئی
ہے اور میری جان کو خطرہ ہے… مجاہدین کے لئے ظلم اور بے بسی کا یہ دور اب تک جاری
ہے… اور ان کا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی سہارا نہیں ہے… ملک کی عدالتوں نے حکومت کے
ہر ظلم پر اپنی آنکھیں بند رکھیں… اتنی بڑی بڑی جماعتوں پر بغیر کوئی قانونی تقاضا
پورا کیے پابندی لگادی گئی… اور ان جماعتوں کے لئے عدالتوں سے رجوع کا دروازہ بھی
بند کردیا گیا… ہزاروں افراد کو ان کے گھروں سے اغواء کرکے اندھیرے عقوبت خانوں
میں بند کردیا گیا… اور حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ملک کی پولیس اور خفیہ ادارے
جس شخص کو چاہیں بغیر عدالتی حکم کے اٹھا سکتے ہیں… اور سالہا سال تک اپنی قید میں
رکھ سکتے ہیں… مصر میں جمال عبدالناصر کے زمانے میں وہاں کے دینی طبقے پر بھی ایسا
ہی ظلم کیا گیا تھا… مصر کی فوج اور خفیہ ادارے ظلم اور کم عقلی میں اتنے مشہور
ہوگئے تھے کہ لوگوں نے ان پر طرح طرح کے لطیفے بنا رکھے تھے… ایک مشہور لطیفہ یہ
تھا کہ خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے ایک قہوہ خانے پر چھاپہ مارا… انہیں اطلاع ملی
تھی کہ وہاں چند انتہا پسند مسلمان قہوہ پی رہے ہیں… چھاپے کی کارروائی جیسے ہی
شروع ہوئی … قہوہ خانے میں موجود تمام لوگ گرفتاری سے بچنے کے لئے اِدھر اُدھر
بھاگنے لگے… وہاں ایک مداری بھی اپنے بندر کے ساتھ موجود تھا… خفیہ پولیس کو دیکھ
کر وہ بندر بھی بھاگ کھڑا ہوا… مداری نے بہت مشکل سے اسے پکڑا اور پوچھا کہ تجھے
ان خفیہ اہلکاروں سے کیا ڈر ہے؟… یہ تو صرف انتہا پسند مسلمانوں کو پکڑتے ہیں…
بندر نے جواب دیا… مجھے ڈرتھا کہ یہ لوگ مجھے گرفتار کرلیں گے … اور چھ مہینے تک
انہیں یہ بات بھی کنفرم نہیں ہوگی کہ میں بندر ہوں یا انسان… اس طرح میری بے گناہی
ثابت ہونے تک میری زندگی کا بڑا حصہ ان کے عقوبت خانوں میں گزر جائے گا…
آج چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بھی ایک طرح کے عقوبت خانے
میں بند ہیں… انہوں نے اگر استعفیٰ دے دیا تو انہیں آزاد کردیا جائے گا… حکومت کے
ہمدرد اہلکار انہیں ’’عقلمندی‘‘ اور ’’دانشمندی‘‘ سے کام لینے کا مسلسل مشورہ دے
رہے ہیں… لیکن اگر وہ ڈٹ گئے تو پھر حالات کچھ بھی ہوسکتے ہیں… ہمارے ملک میں گردن
نہ جھکانے کی سزا موت ہے… حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عدالت کے قاضیوں کو
بشارت دی ہے کہ وہ اگر ظلم سے بچیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہوگا… ہمیں معلوم
نہیں کہ چوہدری صاحب کی سابقہ زندگی کیسی تھی… اگر واقعی انہوں نے لوگوں کو انصاف
دیا ہے تو اللہ پاک بھی ان کی نصرت فرمائے گا… جج یا قاضی کا عہدہ اسلام کے نزدیک
ایک اہم، حساس اور بلند منصب ہے… حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ
ہجرت کے بعد یہ شعبہ بھی قائم فرمایا… اور اسلام کے سب سے پہلے قاضی خود آپ صلی
اللہ علیہ وسلم ہی تھے… لوگ آپ کی خدمت میں اپنے معاملات اورجھگڑے لایا کرتے تھے
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کافیصلہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فرمایا کرتے
تھے… قرآن پاک کی کئی آیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور پھر آپ کے توسط سے
امت کے حکمرانوں اور ججوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان انصاف کے
ساتھ فیصلہ کریں… اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فیصلہ کریں… حضور اکرم صلی اللہ
علیہ وسلم کے زمانے ہی میں جب کام بڑھ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر
رضی اللہ عنہ کو بھی اپنے ساتھ اس شعبے میں شامل فرما لیا… چنانچہ بعض روایات سے
ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاۃ طیبہ ہی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے
حکم سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بطور قاضی کئی مقدمات کا فیصلہ کیا… پھر جب
یمن کا علاقہ بھی فتح ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ…
اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو وہاں کا قاضی بنا کر بھیجا…
حضرات خلفائے راشدین کے زمانے میں قاضی کا منصب بہت اہم اور
بلند تھا… اور قاضی کو اس بات کا مکمل اختیار تھا کہ وہ امیر المؤمنین کو بھی عام
ملزم کی طرح عدالت میں طلب کرے… حضرات خلفائے راشدین کے عدالتی نظام کی بدولت اللہ
تعالیٰ کی زمین انصاف سے بھر گئی… اور لوگ جوق در جوق مسلمان ہونے لگے… حضرت عمر
رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک بار زلزلہ آنے لگا تو آپ نے زمین پر کوڑا مار کر
فرمایا رک جا!… میں نے تجھ پر کوئی بے انصافی نہیں کی… چنانچہ زمین رک گئی اور
زلزلہ برپا نہ ہوا…
ماضی قریب میں ہمارے بھائی طالبان نے اسلامی عدالت کے نظام
کو صدیوں بعد پوری شان و شوکت سے زندہ کیا… قندھار کے ایک سفر کے دوران اسلامی
عدالت کے چیف جسٹس صاحب ملاقات کے لئے تشریف لائے… وہ ماشاء اللہ علم اور تقوے کا
حسین امتزاج تھے… انہوں نے طالبان کے عدالتی نظام کی تفصیل بتائی تو سب اہل مجلس
حیران رہ گئے… انہوں نے بتایا کہ اب تو مجرم خود کو ہماری عدالت میں سزا کے لئے
پیش کردیتے ہیں… اور بڑے سے بڑے مقدمے کا فیصلہ چند دن میں ہوجاتا ہے… مجلس کے آخر
میں چیف جسٹس صاحب نے کمال تواضع سے کام لیتے ہوئے مجلس میں موجود علماء کرام سے
لجاجت کے ساتھ درخواست کی کہ آپ حضرات قرآن وسنت کی روشنی میں میری کچھ رہنمائی
فرمائیں… تاکہ ہم بالکل خالص اور درست اسلامی عدالت قائم کرسکیں… ۲۰۰۱ء میں جب طالبان حکومت کا سقوط ہوا تو چوروں اور ڈاکوؤں نے
دوبارہ لوگوں کو لوٹنا شروع کردیا… سننے میں آیا ہے کہ ڈاکو کہا کرتے تھے کہ ہم نے
سات سال طالبان کے انصاف کی وجہ سے یہ کام چھوڑے رکھا… اب طالبان نہیں رہے تو
ہمارے لئے بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہے… پاکستان کا عدالتی نظام شروع ہی سے عوام کو تیز
اور سستا انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے… اور یہ نظام ہمیشہ فوجی اور حکومتی
مداخلت کا نشانہ رہا ہے… ماضی میں ملک کے مظلوم دینی طبقے کو انصاف نہ مل سکا… تو
انہوں نے عدالتوں کی طرف جانا چھوڑ دیا… اب وہ بس اللہ تعالیٰ ہی کے سامنے اپنی
فریاد اور اپیل پیش کرتے ہیں … اور انہیں اللہ تعالیٰ سے پورا انصاف مل
رہا ہے … اور اللہ تعالیٰ ہی ان کا بہترین محافظ ونگہبان ہے…
فَاللہ خَیْرٌ حَافِظًا وَہُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ
مگر آج انصاف فراہم کرنے والے جج خود انصاف کے محتاج ہیں…
پاکستان کا عدالتی نظام ایک گہری کھائی کے کنارے پر کھڑا ہوا ہے… جب کسی ملک کا
عدالتی نظام گر جاتا ہے تو پھر لوگ خود فیصلے کرتے ہیں… اور پورا ملک افراتفری کا
شکار ہوجاتا ہے… آج وقت ہے کہ ملک کے تمام جج صاحبان اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع
کریں… اپنے گناہوں کی معافی مانگ کر آئندہ کے لئے انصاف کے ساتھ فیصلے کرنے کا عزم
کریں… عدالتی نظام کو قرآن وسنت کے مطابق بنائیں… اپنی زندگیوں میں بھی تقویٰ اور
احتیاط کو لازم پکڑیں… اور پریشانی کے ان حالات میں اپنے لیے ہمیشہ کی خیر اور
کامیابی کا راستہ ڈھونڈ لیں… حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاضیوں اور ججوں کی
تین قسمیں بتائی ہیں… ان تین قسموں میں سے ایک جنتی اور دو قسمیں جہنمی ہیں… آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا…
القضاۃ ثلٰـثۃٌ واحد فی الجنۃ واثنانِ فی النّار فا مّا
الذی فی الجنۃِ فرجل عرف الحق فقضٰی بہٖ ورجل عرف الحق فجار فی الحکم فہو فی النار
ورجل قضٰی للناس علی جہل فہو فی النار۔ (ابوداؤد)
’’یعنی قاضی (جج حضرات) تین قسم کے ہیں ان میں سے ایک قسم
جنتی اور دو قسمیں جہنمی ہیں… جنتی وہ ہے جس نے حق کو سمجھا اور اس کے مطابق فیصلہ
کیا اور جہنمی وہ ہے جس نے حق کو سمجھا مگر اس کے خلاف فیصلہ کیا اور وہ بھی جہنمی
ہے جو بے علم اور جاہل ہونے کے باوجود لوگوں میں فیصلے کرے‘‘۔
آج جج صاحبان طرح طرح کے دباؤ کا شکار ہیں… ایک طرف خود ان
کے معاشی مسائل ہیں… اور دوسری طرف حکومتی دباؤ کے مسائل… چند ماہ پہلے پشاور کے
ایک جج صاحب نے اچانک چھٹی لی… پھر تین دن تبلیغی جماعت میں لگائے… واپس آکر اپنے
بچوں کو بازار لے گئے اور خوب چیزیں خرید کر دیں اور پھر رات کو خود کشی کرلی… لوگ
بتاتے ہیں کہ وہ کسی ظالمانہ فیصلے پر مجبور کئے جارہے تھے… چنانچہ انہوں نے ظلم
سے بچنے کے لئے جان دے دی… واللہ اعلم اصل مسئلہ کیا ہوگا مگر خودکشی تو حرام ہے…
اور بہت بڑا گناہ… اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے وہ جہاد میں چلے جاتے تو ظلم سے
بھی بچ جاتے اور ممکن ہے جام شہادت بھی نصیب ہوجاتا… یہ واقعہ عرض کرنے کا مقصد یہ
ہے کہ جج صاحبان مشکل میں تو ہیں مگر… اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر مشکل کا حل موجود ہے…
کوئی عام انسان ہو یا کوئی اونچی عدالت کا جج… سب کے لئے مشکلات کا حل یہی ہے کہ
اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کو ٹھیک کرلیاجائے… اسی نے ہمیں پیدا کیا… اسی نے
ہمیںزمین پر ٹھہرایا… اسی نے ہمیں موت دینی ہے… اور پھر ہم نے دوبارہ زندہ ہو کر
اسی کے حضور حاضر ہونا ہے… وہی اوّل ہے وہی آخر ہے وہی ظاہر ہے وہی باطن ہے… اور
وہی ہر چیز پر قادرہے…
یا اللہ! ہر اس مظلوم کی مدد فرما جو دین کی خاطر ظلم کا
شکار ہے… آمین یا رب العالمین…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کی مسجدیں صرف ایمان والے ہی آباد کرتے ہیں… اللہ تعالیٰ کے مخلص
بندے مساجد آباد کرنے کی فکر اور دن رات محنت کر رہے ہیں… جبکہ باقی دنیا
’’بازاروں‘‘ اور گناہ کی جگہوں کو آباد کرنے کی فکر میں دن رات ایک کر رہی ہے… ہاں
اپنی اپنی قسمت ہے… اللہ تعالیٰ میری اور آپ کی قسمت اچھی بنائے اور ہمیں اپنے
پیارے گھروں یعنی ’’مساجد‘‘ کے ساتھ جوڑ دے… آج آپ کی خدمت میں ایک چھوٹا سا
سوالنامہ پیش کیا جارہا ہے… آپ اس سوالنامے کو پڑھ کر اپنے دل سے جواب مانگیں…
انشاء اللہ بہت فائدہ ہوگا… ادھر اللہ تعالیٰ کا ایک اور احسان ہوا اور ایک دینی
تمنا پوری ہونے کے قریب ہوئی… یقینا آپ بھی یہ جان کر خوشی محسوس کریں گے کہ القلم
کا اگلا شمارہ انشاء اللہ… زاہد العصر امام العارفین حضرت مولانا قاری عرفان صاحبؒ
کا ’’خصوصی نمبر‘‘ ہوگا… آپ اس میں بہت کچھ پڑھیں گے… مثلاً حضرت اقدس قاری صاحبؒ
کا سوانحی خاکہ… آپ کا ایمان ساز وصیت نامہ… سرکاری ملازمت کے دوران آپ کے دینی
کارنامے… جہاد کے ساتھ آپ کی شیفتگی اور محبت… آپ کی بعض نادر تحریریں… آپ کا عشق
نبوی میں ڈوبا ہوا ایک خطاب… آپ کے بعض وظائف اور مجربات… آپ کی کرامتیں… اور بہت
سی باتیں اور یادیں… القلم والوں کو اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطاء فرمائے کہ کیسے
کیسے عظیم لوگوں سے اپنے قارئین کی ملاقات کرواتے رہتے ہیں… پاکستان میں اس وقت
حکومت اور عدلیہ کا بحران شدت اختیار کرتا جارہا ہے… تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ
خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں کہ ان واقعات کے پیچھے سے وہ خیر برآمد ہوجائے جس کا
کئی سالوں سے مسلمان شدت سے انتظار کر رہے ہیں… اللہ تعالیٰ کے لئے کیا بعید ہے…
ملک کے صدر نے جس کرکٹ ٹیم کو دولہوں کی طرح ورلڈ کپ جیتنے بھیجا تھا وہ ماشاء
اللہ اپنے کوچ کو دفن کرکے واپس آرہی ہے… اللہ کرے غفلت اور نام نہاد روشن خیالی
کا ہر ستون اسی طرح زمین بوس ہو… اور مسلمان اپنی عزت کرکٹ میں نہیں اسلام میں
تلاش کریں… ان گیارہ بارہ کھلاڑیوں کا ہارنا نہ تو ملک کی شکست ہے اور نہ اسلام
کی… اس لیے غمزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے… البتہ خوشی کا ایک پہلو ضرور ہے کہ اب
کرکٹ کو اسلام کے ساتھ جوڑنے کا فتنہ انشاء اللہ دم توڑ جائے گا… اور لوگ مصلوں پر
بیٹھ کر میچ جیتنے کی دعاء نہیں کریں گے… دراصل اس طرح کی دعائیں جن میں گناہ کا
عنصر شامل ہو… انسان پر ’’قبولیت‘‘ کے دروازے بند کرنے کا باعث بن سکتی ہیں… اللہ
پاک ہم سب کی حفاظت فرمائے… ادھر ہمارے رفقاء اس سال پورے ملک کے کاشتکاروں تک
اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام پہنچانے کی تیاری میں ہیں کہ… زمین کی پیداوار میں سے
اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو… ’’احیاء عشر‘‘ کی یہ مہم انشاء اللہ عنقریب شروع ہونے
والی ہے… آج کے اس کالم میں اس پر بھی ایک تحریر پیش خدمت ہے… پہلے ملاحظہ فرمائیے
مسجد کے بارے میں ہر مسلمان سے چند سوالات…
اے مسلمان بھائیو!
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ مسجد کتنی بڑی اور عظیم الشان جگہ
ہے؟ مسجد کا کتنا اونچا مقام ہے؟ مسجد اللہ تعالیٰ کو کتنی محبو ب ہے؟
اے مسلمان بھائیو!
کیا آپ کو معلوم ہے کہ مسجد اللہ تعالیٰ کے انوارات کے نازل
ہونے کی جگہ ہے؟ وہ انوارات جن کے ہم سب محتاج ہیں۔
اے مسلمان بھائیو!
کیا آپ کو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک زمین پر سب سے
محبوب جگہ مسجد ہے اور سب سے ناپسندیدہ جگہ بازار؟… کیا ہم بھی مسجد سے محبت رکھتے
ہیں؟
اے مسلمان بھائیو!
کیا آپ جانتے ہیں کہ مسجد کے ساتھ گہرا تعلق ایک مسلمان کے
سچا مومن ہونے کی علامت ہے؟… کیا ہم مسجد کے ساتھ گہرا تعلق رکھتے ہیں؟
اے مسلمان بھائیو!
کیا آپ کو معلوم ہے کہ جس مسلمان کا دل مسجد میں اٹکا ہوا
ہو… یعنی مسجد کے ساتھ جڑا ہوا ہو وہ مسلمان قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عرش کے
سائے میں ہوگا… ذرا اپنے دل کا جائزہ لیجئے کہ وہ مسجد کے ساتھ جڑا ہوا ہے یا
نہیں؟
اے مسلمان بھائیو!
مسجد میں سے کچرا، گندگی اور کوڑا کرکٹ نکالنا حور عین کا
مہر ہے، کیا ہم یہ فضیلت حاصل کرتے ہیں؟
اے مسلمان بھائیو!
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ہر مسجد تقدس میں کعبۃ اللہ کا پرتو
اور عکس رکھتی ہے اور مسجدیں کعبۃ اللہ کی بیٹیاں ہیں… اور مسجدیں اللہ تعالیٰ کا
عظیم دربار ہیں جہاں آنے والے اللہ تعالیٰ کے مہمان ہوتے ہیں؟
اے مسلمان بھائیو!
جب ایسا ہے تو پھر ہم مسجد کی فکر اور خدمت اپنے گھر سے
زیادہ کیوں نہیں کرتے؟
اے مسلمان بھائیو!
کیا آپ جانتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام نے اپنے ہاتھوں سے
مسجدیں بنائیں… حضرات صحابہ کرام نے مسجدیں بنانے میں خود مزدوروں کی طرح کام کیا…
خلفاء راشدین نے مسجدوں میں جھاڑو دینے کو اپنی سعادت سمجھا… کیا ہمارے کندھوں نے
بھی کبھی اللہ تعالیٰ کا گھر بنانے کے لئے پتھروں اور اینٹوں کا بوجھ اٹھایا ہے؟
کیا ہمارے ہاتھوں کو مسجدوں میں جھاڑو دینے کی سعادت ملی ہے؟ کیا ہم بھی ہر نماز
کے لئے مسجد میں جانے کے انتظار میں رہتے ہیں؟
اے مسلمان بھائیو!
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ دنیا کے مکانات مرنے کے بعد یہاں رہ
جائیں گے… اور کچھ عرصہ بعد کھنڈر بن جائیں گے؟… جبکہ مسجدیں جنت میں بھی ساتھ
جائیں گی… اور جو شخص دنیا میں مسجد بناتا ہے اللہ پاک اس کے لئے جنت میں گھر
بناتا ہے… اور جنت کا یہ گھر وہاں کے مکانات میں اسی طرح ممتاز ہوگا جس طرح دنیا
میں مسجد عام گھروں سے ممتاز ہے… جب ایسا ہے تو پھر کیوں نہ ہم بھی مرنے سے پہلے
مسجد بنالیں… یا مسجد بنانے میں حصہ ڈالیں یا مسجدیں آباد کرنے کی محنت کریں… یا
مسجدیں بنانے میں مفت مزدوری کریں… یا ویران مساجد کو کسی بھی طرح آباد کریں… اے
مسلمانو! ہم اللہ تعالیٰ کا گھر بنائیں گے اور اس کا گھر آباد کریں گے تو ہمارا
گھر بھی آباد رہے گا دنیا میں بھی… اور آخرت میں بھی…
اے مسلمان بھائیو!
کیا آپ کو معلوم ہے کہ مسجد مسلمانوں کی اصلاح اور ہدایت کا
مرکز ہے مسلمان مسجد سے جس قدر دور ہوتا ہے اسی قدر شیطان اس کو گمراہ کرتا ہے…
کیا آپ جانتے ہیں کہ مسجد مسلمانوں کے اتحاد واتفاق کا مرکز ہے… اس لیے کہ مسجد
میں سب مسلمان برابر ہوتے ہیں اور وہ اپنے علاقے زبان اور برادری سے اوپر ہو کر
سوچتے ہیں…
آج مسلمان بکھر گئے ہیں کیونکہ وہ مسجد سے دور ہوگئے ہیں…
اگر آج بھی مسلمان مسجد کی طرف لوٹ آئیں… اور ہماری مسجدیں ان اعمال سے آباد ہوں
جو مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) والے اعمال ہیں تو مسلمان پھر متحد ہوسکتے ہیں…
کیا ہم اس سلسلے میں کچھ کردار ادا کرسکتے ہیں؟
اے اللہ کے پیارے بندو!
یہ چند سوالات ہیں اور چند باتیں … آپ ان پر غور کریں اور
سب سے پہلے اپنی ذات کو عمل کے لئے تیار کریں… امید ہے کہ ہم میں سے ہر شخص اپنے
دل سے ان سوالات کا جواب مانگے گا… اور اب پیش خدمت ہے ’’عشر‘‘ کے بارے میں ایک
تحریر
زمین میں دفن ہونے سے پہلے
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر احسان فرمایا کہ ان پر زمینوں
کی پیداوار میں عشر کو لازم کردیا… اللہ تعالیٰ تو غنی اور بے نیاز ہے وہ اگر
بندوں سے کچھ لیتا ہے تو اس میں بندوں ہی کا فائدہ ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں
بھی… پس بہت بڑی خوشخبری اور برکت ہے ان لوگوں کے لئے جن کے مال میں سے اللہ
تعالیٰ کچھ حصہ قبول فرمالے…
اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:
خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمْ
وَتُزَکِّیْہِمْ بِہَا وَصَلِّ عَلَیْہِمْ اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّہُمْ وَاللہ
سَمِیْعٌ عَلِیْمٌO اَلَمْ
یَعْلَمُوْا اَنَّ اللہ ہُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَیَاْخُذُ
الصَّدَقٰتِ وَاَنَّ اللہ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُO (التوبہ ۱۰۳،۱۰۴)
ترجمہ: (اے نبی) ان کے مالوں میں سے صدقہ لے کر
اس سے ان کے ظاہر کو پاک اور ان کے باطن کو صاف کردے اور انہیں دعاء دے بے شک تیری
دعاء ان کے لئے تسکین ہے اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ کیا یہ لوگ نہیں جانتے
کہ اللہ تعالیٰ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور صدقات لیتا ہے اور بے شک
اللہ تعالیٰ ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔
اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ بندے کا جو مال اللہ تعالیٰ
قبول فرماتا ہے اس کی برکت سے انسان کو ظاہری اور باطنی پاکی نصیب ہوتی ہے اور
انسان کی روح گناہوں کے اثرات سے پاک ہوجاتی ہے۔ تُزَکِّیْہِمْ کا ترجمہ بعض
مفسرین نے ’’بابرکت کرنے‘‘ کا کیا ہے یعنی صدقہ انسان کو گناہوں کے اثرات سے پاک
صاف کرتا ہے اور اموال کی برکت بڑھاتا ہے۔
دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَماَ اٰتَیْتُمْ مِنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَا فِیْ اَمْوَالِ
النَّاسِ فَلاَ یَرْبُوْا عِنْدَاللہ وَمَا اٰتَیْتُمْ مِنْ زَکٰوۃٍ تُرِیْدُوْنَ
وَجْہَ اللہ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُضْعِفُوْنَ۔ (الروم۳۹)
ترجمہ: یعنی جو مال سود پر تم دیتے ہو تاکہ
لوگوں کے مال میں بڑھتا رہے تو اللہ کے ہاں وہ نہیں بڑھتا اور جو مال دل کی پاکی
سے اللہ کی رضا چاہتے ہوئے دیتے ہو تو یہ مال بڑھ جاتا ہے۔
حضرت شیخ الاسلامؒ لکھتے ہیں:
یعنی سود بیاج سے اگرچہ بظاہر مال بڑھتا دکھائی دیتا ہے
لیکن حقیقت میں گھٹ رہا ہے (یعنی کم ہو رہا ہے) جیسے کسی آدمی کا بدن ورم سے پھول
جائے وہ بیماری یا پیام موت ہے… اور زکوٰۃ نکالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مال کم ہوگا
فی الحقیقت وہ بڑھتا ہے جیسے کسی مریض کا بدن مسہل وتنقیہ (یعنی جسم کو صاف کرنے
والی ادویات کے استعمال) سے گھٹتا دکھائی دے مگر انجام اس کا صحت ہو۔ سود اور
زکوٰۃ کا حال بھی انجام کے اعتبار سے ایسا ہی سمجھ لو… یَمْحَقُ اللہ الرِّبٰوا
وَیُرْبِی الصَّدَقَاتِ (البقرۃ۲۷۶) (یعنی اللہ تعالیٰ سود کو مٹادیتا ہے اور صدقات کو بڑھادیتا
ہے) حدیث میں ہے کہ ایک کھجور جو مؤمن صدقہ کرے قیامت کے دن بڑھ کر پہاڑ کے برابر
نظر آئے گی۔ (تفسیر عثمانی)
ہم الحمدللہ مسلمان
ہیں… اور ایک مسلمان کے لئے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کافی ہے:
مَا نَقَصَتْ صَدَقَۃٌ مِّنْ مِّالٍ (مسلم)
کہ صدقہ سے مال میں کمی نہیں آتی
ایک صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا صدقہ کیا ہے؟
ارشاد فرمایا:
اَضْعَافٌ مُّضَاعَفَۃٌ وَعِنْدَاللہ الْمَزِیْد (مسنداحمد)
یعنی دنیا میں مال کو کئی گنا بڑھانے والا اور اللہ تعالیٰ
کے ہاں سے بہت کچھ دلانے والا۔
سبحان اللہ… اب بھی مسلمان پریشان ہیں کہ مال میں برکت نہیں
ہوتی… کاش کماتے وقت حلال کا اور کمانے کے بعد صدقہ اور زکوٰۃ نکالنے کا اہتمام
کیا جائے تو مسلمان کے لئے دنیا آخرت میں برکت ہی برکت اور وسعت ہی وسعت ہے… آج کل
ہمارے کاشتکار اور زمیندار بھائی… غربت، پریشانی اور بخل کا بے حد شکار ہیں…
زمینوں کی پیداوار کم ہورہی ہے کھیتی پر طرح طرح کی بیماریوں کا حملہ ہے… اور کئی
کئی اسپرے کرنے پر بہت زیادہ لاگت آتی ہے… الغرض زمیندار اور کسان مالی تنگی کا
شکار ہیں… ان حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ وہ… زمین کی پیداوار میں سے سب سے
پہلے اللہ تعالیٰ کا حصہ نکالا کریں… اور پورے اہتمام سے ’’عشر‘‘ ادا کیا کریں…
پھر دیکھیں کہ زمین میں کتنی برکت ہوتی ہے… یہ لوگ جب تک زمین پر رہیں گے زمین کی
پیداوار بڑھتی رہے گی اور جب یہ لوگ زمین میں دفن کردئیے جائیں گے تو قبر ان کا
خوشی سے استقبال کرے گی… (اگر خاتمہ ایمان پر ہوا)… لیکن آج کے کاشتکار کو بیس
بوری گندم میں سے ایک بوری اللہ تعالیٰ کے راستے میں ادا کرنا بھاری معلوم ہوتا ہے
… یہ لوگ سوچتے نہیں کہ… اللہ پاک ہی نے انہیں یہ سب کچھ عطاء فرمایا ہے… اور
آئندہ بھی وہی عطاء فرمائے گا… یہ سوچتے نہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کو دیں گے تو وہ
بے نیاز رب ہمیں دنیا آخرت میں بڑھا چڑھا کر دے گا… یہ لوگ سوچتے نہیں کہ آخر ہم
نے مرنا بھی ہے… چلو انیس بوریاں دنیا کی تھوڑی سی زندگی کے لئے رکھ لیں تو ایک
بوری آخرت کی دائمی زندگی کے لئے بھی آگے بھجوادیں… یہ لوگ سوچتے نہیں کہ کل ہم نے
مرجانا ہے… اور ہمیں اسی زمین میں دفن کیا جائے گا… تب ہم قبر کو کیا منہ دکھائیں
گے… اللہ تعالٰ کا حق کھانے والے… غریبوں کا حصہ کھانے والے… اور اللہ تعالیٰ کا
حکم نہ ماننے والے نافرمان؟…
زمین کی پیداوار میں سے ’’عشر‘‘ اداکرنے کا مسئلہ قرآن پاک
میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے:
وَاٰتُوْا حَقَّہٗ یَوْمَ حَصَادِہٖ (الانعام ۱۴۱)
ترجمہ: ’’اور جس دن اسے (یعنی کھیتی اور پھل کو)
کاٹو اس کا حق ادا کرو‘‘
حضرت لاہوریؒ لکھتے ہیں:
’’تمام میوہ جات تمہارے لئے حلال ہیں بشرطیکہ اللہ تعالیٰ
کے نام پر مساکین کا حق ادا کرو اور اسراف نہ کرو‘‘ (حاشیہ حضرت لاہوریؒ)
حضرت شیخ الاسلامؒ لکھتے ہیں:
یعنی جو غلے اور پھل حق تعالیٰ نے پیدا فرمائے ہیں ان کے
کھانے سے بدون سند (یعنی بلادلیل) کے مت رکو، ہاں دو باتوں کا خیال رکھو ایک یہ کہ
کاٹنے اور اتارنے کے ساتھ یہ جو اللہ تعالیٰ کا حق اس میں ہے وہ ادا کردو، دوسرے
فضول اور بے موقع خرچ مت کرو۔ اللہ تعالیٰ کے حق سے یہاں کیا مراد ہے؟ اس میں
علماء کے مختلف اقوال ہیں، ابن کثیرؒ کی رائے یہ معلوم ہوتی ہے کہ ابتداء ً مکہ
معظمہ میں کھیتی اور باغ کی پیداوار میں سے کچھ حصہ نکالنا واجب تھا جو مساکین اور
فقراء پر صرف کیا جائے مدینہ طیبہ پہنچ کر ۲ ھ میں اس کی مقدار وغیرہ کی تعیین وتفصیل کردی گئی یعنی بارانی زمین کی
پیداوار میں (بشرطیکہ خراجی نہ ہو) دسواں حصہ اور جس میں پانی دیا جائے بیسواں حصہ
واجب ہے۔ (تفسیر عثمانی)
زمین کی پیداوار پر لازم اس زکوٰۃ کو ’’عشر‘‘ کہتے ہیں… لفظ
عشر کے اصل معنی ہیں ’’دسواں حصہ‘‘… وہ زمینیں جو بارانی ہیں یعنی بارش سے سیراب
ہوتی ہیں ان کی پیداوار میں سے دسواں حصہ اور جن زمینوں کو خود پانی دیا جاتا ہے
ان کی پیداوار کا بیسواں حصہ نکالنا واجب ہے۔ اور شریعت کی اصطلاح میں دونوں کو
’’عشر‘‘ ہی کہتے ہیں… موجودہ وقت میں جس طرح مسلمانوں نے… دین کے دیگر فرائض اور
احکامات میں غفلت بازی کو اپنا طریقہ بنالیا ہے… اسی طرح ’’عشر‘‘ کے مسئلے میں بھی
ہمارے مسلمان کاشتکار شدید غفلت کاشکار ہیں… بلکہ اب تو اکثر کاشتکاروں کو ’’عشر‘‘
کا مسئلہ ہی معلوم نہیں ہے… اللہ تعالیٰ کا حکم توڑنے اور اس کا حق کھانے کا وبال
آج زمینداروں اور کاشتکاروں پر صاف نظر آرہا ہے… وہ اور ان کی اولادیں طرح طرح کے
سخت گناہوں اور جرائم میں ملوث ہو رہی ہیں… جاگیرداروں کے مظالم اور گناہ تو کافروں
کو بھی شرمندہ کر رہے ہیں… جبکہ چھوٹے کاشتکار بخل، حرص اور غربت کا شکار ہیں… ان
حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ… دین کی فکر رکھنے والے جانباز مسلمان اٹھ کھڑے
ہوں… اور وہ دین کے اس واجب کو زندہ کرنے کے لئے بھی سر توڑ محنت کریں … وہ اللہ
تعالیٰ کا حکم… اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام لے کر ایک ایک کاشتکار
کے پاس جائیں… اور اسے ’’عشر‘‘ کا مسئلہ سمجھائیں… اور اسے ترغیب دیں کہ زمین میں
جانے سے پہلے زمین کا حق ادا کردو… اور اپنی زمین اور آخرت کو برکت سے بھر لو… کچھ
عرصہ پہلے جس طرح ہمارے جانباز بھائیوں نے پورے ملک میں ’’اقامت صلوٰۃ‘‘ مہم چلائی
تھی… اسی طرح اس سال وہ ’’احیاء عشرمہم‘‘ کے لئے ایک مہینے کی بھرپور محنت کریں…
اللہ تعالیٰ کو اپنے دین سے پیار ہے… یہ دین اللہ تعالیٰ کا قانون ہے… جو لوگ
حکومت کا قانون نافذ کرتے ہیں وہ حکومت کے پیارے ہوتے ہیںاور جو لوگ اللہ تعالیٰ
کا قانون نافذ کرنے نکلتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے سپاہی اور اس کے پیارے بن جاتے
ہیں… اللہ تعالیٰ کے ان احکامات کو لوگوں سے ادا کروانا اسلامی حکومت کی ذمہ داری
ہے… لیکن جب اسلامی حکومت موجود نہ ہو تو یہ احکامات ختم نہیں ہوجاتے… تب علماء،
مجاہدین اور دین کا درد رکھنے والے مسلمانوں پر لازم ہوتا ہے کہ وہ … اللہ تعالیٰ
کے ان احکامات کو مسلمانوں تک پہنچائیں… اور پوری قوت اور محنت کے ساتھ ان احکامات
کی دعوت دیں… اپنے تمام ساتھیوں سے میری پرزور عاجزانہ درخواست ہے کہ وہ… اس
’’مہم‘‘ کو اللہ پاک کی رضا کے لئے کامیاب بنائیں… سب سے پہلے صلوٰۃ الحاجۃ ادا
کرکے اللہ تعالیٰ سے اس کام کی توفیق مانگیں… اس کے بعد اپنے عمل کو درست کریں…
یعنی پکا عزم کریں کہ ہم خود انشاء اللہ زکوٰۃ عشر وغیرہ اسلامی احکامات پر پورا
پورا عمل کریں گے… اور ماضی میں جو غفلت ہوگئی ہو اس پر خوب توبہ استغفار کریں… اس
کے بعد… مرکز کی طرف سے موصول ہونے والی ترتیب کے مطابق پہاڑوں، گلیوں، شہروں،
دیہاتوں… اور قصبوں میں پھیل جائیں اور ایک ایک کاشتکار کے کانوں اور دل تک اللہ
تعالیٰ کا حکم وَاٰتُوْا حَقَّہٗ یَوْمَ حَصَادِہٖ پہنچادیں…
٭٭٭
اللہ ایک ہے… قل ہو اللہ احد اے نبی فرمادیجئے ’’اللہ ایک
ہے‘‘… ہمارے محبوب حضرت قاری محمد عرفان صاحبؒ جوش کے ساتھ فرمایا کرتے تھے ’’اللہ
ایک ہے‘‘… اے القلم کے پڑھنے والو دل کے یقین کے ساتھ کہہ دو ’’اللہ ایک ہے‘‘… اس
کا کوئی شریک نہیں … ’’اللہ ایک ہے‘‘… ہم سب نے اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے… سب کچھ
فنا ہوجائے گا… صرف اللہ تعالیٰ باقی رہ جائے گا… پھر ہم اللہ تعالیٰ کی نافرمانی
کیوں کریں؟… ’’اللہ ایک ہے‘‘… وحدہ لاشریک لہ پھر ہم اس کی ناشکری کیوں کریں؟…
’’اللہ ایک ہے‘‘… ’’اللہ ایک ہے‘‘… ’’اللہ ایک ہے‘‘ تو پھر کیوں نہ ہم اس کے نام
پر کٹ مریں… ہاں یہی کائنات کا سب سے بڑا سچ ہے کہ ’’اللہ ایک ہے‘‘ … کوئی اس جیسا
نہیں… کوئی اس جیسا ہو ہی نہیں سکتا… میں اسی کا ہوں… ہم سب اسی کے ہیں… کسی اور
کے نہیں، کسی اور کے نہیں… اس نے ہمیں پیدا کیا… اور دنیا میں ہمیں اپنی بندگی اور
غلامی کے لئے بھیجا… اور آخرت کو بدلے کی جگہ بنایا… وہاں وہ اپنوں کو ایسا نوازے
گا، ایسا نوازے گا کہ سب پکار اٹھیں گے کہ ’’اللہ ایک ہے‘‘…
اللہ تعالیٰ کی ایک جلیل القدر نعمت
ہمارے محبوب حضرت قاری محمد عرفان صاحب … اللہ پاک ان کو
آخرت کی ساری خوشیاں عطاء فرمائے… ہمیں ہر مجلس میں یہ سبق یاد دلایا کرتے تھے کہ
’’اللہ ایک ہے‘‘… اس لیے مضمون کا آغاز خود کو اسی سبق کی یاد دہانی سے ہوا… اب
چند باتیں ان کے بارے میں جو ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کی ایک بہت جلیل القدر نعمت
تھے… ان کی صحبت بڑی غنیمت تھی… ان کی زیارت سکون آور تھی… ان کی دعائیں انمول
سرمایہ تھیں… ان کی نصیحتیں ایمان افروز تھیں… اور ان کی موجودگی ایک عظیم الشان
نعمت تھی… ان کے ساتھ پہلی ملاقات بھی اچھی طرح یاد ہے… بالکل ایک حسین روحانی
خواب کی طرح… اور ان کے ساتھ آخری ملاقات بھی یاد ہے… ہاں اس فانی دنیا میں آخری…
آگے اللہ پاک رحم فرمائے… وہ تو اونچے درجوں والے آدمی تھے… اس دنیا کی ہر خوشی
اور راحت بیچ کر آخرت خریدنے والے آدمی… ایسے محنتی، مخلص اور جفاکش لوگوں کے تو
آخرت میں اونچے درجے ہوں گے… اللہ پاک ہم تن آسانوں پر بھی رحم فرمائے… پہلی اور
آخری ملاقاتوں کے درمیان بہت سی ملاقاتیں ہوئیں… کراچی، بالاکوٹ، ہری پور،
بہاولپور، ملتان… جی ہاں شکر ہے میرے رب کا بہت سی ملاقاتیں ہوئیں… لمبی لمبی،
پیاری پیاری ملاقاتیں ہوئیں… خوب مزہ آیا خوب لطف اٹھایا… خوب پیار پایا… اور پھر
ان کے انتقال کی خبر بھی آگئی… اس وقت جب پر بندھے ہوئے تھے… اور راستہ بہت دور
تھا… وہ تو موت کا یوں بے قراری سے انتظار کر رہے تھے جس طرح مجنوں لیلیٰ کا… اور
جوان دولہا سہاگ رات کا… اپنا کفن ساتھ اٹھائے پھرتے تھے… اور اسے عروسی کے جوڑے
کی طرح اپنے بستر کے بہت قریب رکھتے تھے… ہر آدمی کو اپنی موت کے بارے میں طرح طرح
کی فکریں ہوتی ہیں… ان کو بس ایک فکر تھی کہ کفن دفن میں دیر نہ ہوجائے… بس روح کے
آزاد ہوتے ہی چار گھنٹے کے اندر تدفین ہوجائے… کسی کا انتظار نہ کیا جائے… بات
سمجھ میں آتی ہے کہ اتنی جلدی کیوں تھی؟… ہاں وہ فرمایا کرتے تھے ’’اللہ ایک ہے‘‘…
ان کا جینا مرنا اسی اللہ ایک کے لئے تھا تو پھر… اس کے پاس جانے میں دیر کیسی؟…
دنیا میں کس کا انتظار؟… مجھے جلدی رب کے مہمان خانے میں پہنچادینا… مجھے جلدی قبر
میں دفن کر آنا… میرا محبوب ایک ہے… ’’اللہ ایک ہے‘‘… ’’اللہ ایک ہے‘‘…
پہلی ملاقات
اگر ان کے ساتھ وابستہ یادوں کو لکھنا شروع کروں تو بات بہت
لمبی ہوجائے گی… دراصل وہ ہم پر اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم احسان تھے… میرے مہربان
اور رحمن مالک کا احسان دیکھئے کہ جیسے ہی مجاہدین پر مشکل وقت آنے لگا… اس نے
تکوینی طور پر زمانے کے بڑے بڑے اولیاء کو جہاد اور مجاہدین کے سروں کا سایہ
بنادیا… گذشتہ سات سال میں جو کچھ ہوا… اگر حضرت لدھیانوی شہیدؒ … کی شفقت
وسرپرستی اور حضرت قاری محمد عرفان صاحبؒ کی رہنمائی اور دعائیں نہ ہوتیں تو
معاملہ کافی مشکل ہوجاتا… ان دو حضرات کا نام تو قلم پر آگیا وگرنہ… اولیاء کرام
کی ایک قابلِ قدر فہرست الحمدللہ آنکھوں
کے سامنے ہے… ان میں کچھ اپنے رب کے پاس چلے گئے… اور چند ایک الحمدللہ موجود ہیں… اللہ تعالیٰ ان کی زندگیوں
میں برکت عطاء فرمائے… یہ تمام حضرات اپنی ان ذمہ داریوں کو نباہ رہے تھے جو
تکوینی طور پر اللہ تعالیٰ نے ان کے سپرد کی تھیں… مگر پھر یکایک اللہ تعالیٰ نے
ان سب حضرات کے دلوں کو جہاد کی طرف متوجہ فرمادیا… اور ان کی دعاؤں کو مجاہدین کی
قوت بنادیا… اے مسلمانو! موجودہ زمانے کے جہاد کی اس سے بڑھ کر اور کیا حقانیت
ہوسکتی ہے؟… تفسیر اور حدیث کے امام مجاہدین کی سرپرستی کر رہے ہیں… اور زمانے کے
قطب ابدال مجاہدین کے لئے دعائیں اور آنسو بہا رہے ہیں… جب ’’جماعت‘‘ کا قیام عمل
میں آیا تو ایک دن حضرت لدھیانوی شہیدؒ نے مجھے بلایا… اس دن ان پر عجیب کیفیت
طاری تھی اور آنکھیں نور سے چمک رہی تھیں… ارشاد فرمایا! بھائی مخالفت بہت ہوگی
بالکل پروا نہ کرنا… کام انشاء اللہ خوب چلے گا… بس اپنے کام میں لگے رہنا مخالفین
کے پیچھے نہ پڑ جانا… پھر ایک تحریر لکھوائی… اور اس جماعت کو اپنی جماعت قرار
دیا… اب بھی الحمدللہ بعض اکابر حیات ہیں…
اور وہ جہاد اور مجاہدین کی مکمل سرپرستی فرماتے ہیں… خیر یہ تو ایک الگ موضوع ہے…
عرض یہ کر رہا تھا کہ اگر حضرت قاری صاحبؒ سے وابستہ تمام یادیں لکھوں تو پوری ایک
کتاب بن جائے گی… اس لئے صرف وہی باتیں عرض کرنے کی کوشش کروں گا جن میں میرے لئے
اور پڑھنے والوں کے لئے کوئی سبق ہوگا اور کوئی نصیحت… یا اللہ آپ کو آپ کے ایک
ہونے کا واسطہ میری مدد فرما دیجئے…
حضرت قاری صاحبؒ سے پہلی ملاقات بہت اچانک اور بہت دلکش
تھی… مجھے ان کے صاحبزادے نے بتایا کہ میرے والد صاحب ملنا چاہتے ہیں… میں نے عرض
کیا ضرور تشریف لے آئیں… میں اپنی رہائی کے بعد کراچی میں عارضی طور پر مقیم تھا…
اور جماعت کے قیام کا اہم ترین مرحلہ شروع تھا… ہر طرف شور اور گہما گہمی تھی… ایک
طرف محبت کرنے والوں کے سمندر تھے تو دوسری طرف جماعت کے قیام کو روکنے والوں کے
بڑے بڑے گڑھے… مجھے اندازہ نہیں تھا کہ کام کے شروع میں ہی اتنی مشکلات سامنے
آجائیں گی…
حافظ شیرازؒ تو فرماتے ہیں ؎
کہ عشق آساں نمود اوّل ولے اُفتاد مشکلہا
کہ شروع میں عشق آسان تھا مگر پھر اچانک مشکلات آگئیں… مگر
ہمارے ساتھ تو عجیب ہوا کہ… عشق شروع ہوتے ہی مشکلات نے اپنے نوکیلے دانت نکال
لئے… اس وقت جہادی جماعتیں آزادی کے ساتھ کام کر رہی تھیں… ملکی اور عالمی سطح پر
کوئی خاص رکاوٹیں نہیں تھیں… پاکستان میں دو درجن سے زائد جہادی جماعتیں موجود
تھیں… ان کے کھلے عام دفاتر تھے… چنانچہ میں نے اور میرے رفقاء نے بھی یہی سوچا کہ
ہمارے لئے بھی جماعت قائم کرنا اور اسے چلانا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا… مگر جیسے ہی
ہم نے نام تجویز کیا اور جماعت کا اعلان کرنے کی تیاری کی… دنیا بھر میں گویا ایک
بھونچال آگیا… عالمی طاقتوں نے حکومت پاکستان سے کہا کہ ان کو روکو یہ عالمی دہشت
گرد جمع کریں گے… اور پاکستان میں قائم بعض جہادی جماعتوں نے حکومت سے فریاد کی کہ
ان کو روکو یہ فرقہ پرستی پھیلائیں گے اور حکومت سے آزاد ہو کر کام کریں گے…
الغرض ہر طرف سے اتنا دباؤ پڑا کہ حکومت پاکستان نے پوری
قوت کے ساتھ جماعت کے اعلان کو روکنے کا فیصلہ کرلیا… اور یہ طے پا گیا کہ اڑنے سے
پہلے ہی ان کے پر کاٹ دیئے جائیں… دوسری طرف ہم نے اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر اپنی
کشتی طوفان میں ڈالنے کا عزم کرلیا تھا… مگر ہم کمزور تھے اور حکومت بہت طاقتور…
میں کئی سال بعد پاکستان آیا تھا… دفتر تو درکنار اپنے بیٹھنے کی جگہ بھی نہیں
تھی… ان حالات میں اچانک حضرت قاری صاحبؒ میرے کمرے میں داخل ہوئے… جی ہاں اللہ
تعالیٰ کی نصرت بن کر… اور کمرہ خوشبو سے مہکنے لگا اور روشنی سے چمکنے لگا… وہ
اپنے بیٹے کے سہارے چل کر آئے مجھے خوب سینے سے لگایا اور چند ایسی باتیں فرمائیں
کہ میں بوکھلا گیا… ان کی باتوں میں بے پناہ محبت تھی اور کچھ بشارتیں…
پہلی ملاقات کا سبق
اس ملاقات کی کیفیت تو الفاظ میں بیان نہیں ہوسکتی… مگر
اتنا یاد ہے کہ ان کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں… اور ان کے الفاظ سیدھے دل میں اتر
رہے تھے… تھوڑی دیر بعد ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مجھ ناچیز کی دعائیں اپنے فضل
سے قبول کرتا ہے… میں نے فوراً عرض کیا… حضرت ہماری جماعت قائم ہوجائے اس کی دعاء
فرمادیجئے… ارشاد فرمایا:… میں آپ کے لئے دعاء کروں؟… چلیں ٹھیک ہے میرے پاس دلیل
موجود ہے کہ چھوٹا بڑے کے لئے دعاء کرسکتا ہے… حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے دعاء کی فرمائش فرمائی تھی… کیا آپ اجازت دیں گے کہ میں
دو رکعت نماز ادا کروں… میں نے ادب سے سر ہلادیا انہوں نے اپنا رومال بچھایا… دو
رکعت نماز بیٹھ کر ادا کی اور پھر دعاء کے لئے ہاتھ اٹھالئے… یا اللہ آپ ایک ہیں…
آپ نے خود قرآن مجید میں چالیس سے زائد بار فرمایا ہے… ان اللہ علٰی کل شیء قدیر…
واللہ علٰی کل شیء قدیر… وہ اسی طرح اللہ تعالیٰ سے باتیں کرتے رہے اور دعاء
فرماتے رہے… میں نے ایسی دعائیں پہلی بار دیکھی اور سنی تھی… ہم بھی ہاتھ اٹھا کر
ان کے ساتھ شریک تھے… وہ کبھی دعا کرتے اور کبھی درمیان میں ہمیں کوئی نصیحت… پتہ
نہیں چل رہا تھا کہ دعاء ہے یا اصلاحی بیان… پھر اچانک انہوں نے ہاتھ چہرے پر
پھیرے اور مجھے فرمایا… انشاء اللہ جماعت ضرور بنے گی… کوئی مائی کا لال نہیں روک
سکے گا… اور جماعت خوب چلے گی… اور بھی اس طرح کی چند باتیں ارشاد فرمائیں…
پھر انہوں نے وعدہ لیا کہ اگر جماعت بن گئی تو آپ میرے گاؤں
میری مسجد میں آ کر بیان کریں گے… میں نے عرض کیا ضرور انشاء اللہ… پھر وہ جانے
لگے میں نے حاضرین سے آواز چھپا کر عرض کیا… اولاد کی تمنا ہے دعاء فرمائیں کہ
اللہ پاک صالح اولاد عطاء فرمادے… شادی چند دنوں تک ہونے والی ہے … وہ تھوڑی دیر
کے لئے خاموش ہوئے اور فرمایا انشاء اللہ بیٹا ہوگا… اور جتنی کم سے کم مدّت میں
صحت مند بچہ پیدا ہوسکتا ہے… انشاء اللہ اتنی مدّت میں پیدا ہوجائے گا… پھر مصافحہ
ہوا اور وہ ہمیں حیران چھوڑ کر تشریف لے گئے… اس ملاقات کے محض چند دن بعد حضرت
مفتی نظام الدین شامزیؒ اور حضرت مفتی جمیل خان صاحبؒ نے کراچی پریس کلب میں جماعت
کا اعلان کردیا… اور شادی کے نو مہینے بعد اللہ پاک نے مجھے بیٹا عطاء فرمادیا…
اور یہ حدیث شریف دل و دماغ میں نور بکھیرنے لگی… حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا…
رُبَّ اَشْعَثَ اَغْبَرَ مَدْفُوْعٍ بِالْاَبْوَابِ لَوْ
اَقْسَمَ عَلَی اللہ لَاَبَرَّہٗ
یعنی بہت سے پراگندہ حال لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اگر وہ اللہ
تعالیٰ پر قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کو ضرور پورا کرے (صحیح مسلم)
حضرت قاری صاحبؒ کی بعض صفات
حضرت قاری صاحبؒ کی خدمت میں حاضری سے بہت دینی فائدہ ملتا
تھا… وہ عجیب علمی نکتے بھی بیان فرماتے تھے… ایک بار فرمایا پانی کی آٹھ قسمیں
ہیں… آپ لوگ بتائیں کہ ان میں سے سب سے افضل پانی کونسا ہے؟… پھر ارشاد فرمایا سب
سے افضل وہ پانی ہے جو بطور معجزہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک انگلیوں
سے نکلا تھا… اس کے بعد باقی سات اقسام بیان فرمائیں… ہم نے یہ نکتہ ان ہی کی
زبانی سنا… اسی طرح ایک بار ارشاد فرمایا کہ جہاد کی قرآنی آیات ایک ہزار ہیں… اب
بندہ نے تفاسیر کے مطالعے اور قرآن پاک کی بار بار تلاوت کے بعد جو فہرستیں مرتب
کی ہیں ان سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ… اگر مکمل تحقیق کی جائے تو مکی سورتوں کے
اشاراتِ جہاد سمیت کم و بیش ایک ہزار آیات میں جہاد کا مسئلہ بیان ہوا ہے… حضرت
قاری صاحبؒ کو قرآن پاک کے ساتھ بہت گہرا تعلق نصیب ہوا تھا… وہ قرآن پاک کے علوم
اور تجوید کے متعلق نکتے جمع فرماتے تھے اور ان کو بیان بھی کرتے تھے… میں نے ان
کے کاغذات میں کئی فہرستیں دیکھی ہیں جو وہ خود مرتب فرمارہے تھے… قرآن پاک کا
ذاتی نام ’’قرآن مجید‘‘ قرآن میں کتنی جگہ آیا ہے؟… علم کا لفظ قرآن پاک میں کتنی
جگہ آیا ہے؟… اسی طرح جب بھی حضرت قاری صاحبؒ کے سامنے کوئی مسئلہ پیش کیا جاتا تو
اس کا حل قرآن پاک سے بتانے کی کوشش فرماتے تھے… اور قرآنی وظائف پر بھی خاصا عبور
رکھتے تھے… یہ باتیں اور علمی سوغاتیں تو ان کی ہر مجلس کا تحفہ تھیں… ہمیں جو اصل
فوائد نصیب ہوتے تھے ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:
(۱) ’’اللہ ایک ہے‘‘، اس کا یقین
مضبوط ہوتا تھا
(۲) جہاد سے محبت بڑھتی تھی
(۳) دنیا سے بے رغبتی پیدا ہوتی تھی
(۴) رضا بالقضاء یعنی اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی رہنے کا
جذبہ پیدا ہوتا تھا
(۵) ’’توکُّل‘‘ کا مطلب سمجھ آتا تھا
(۶) حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا شوق اور صحابہ
کرام کی محبت تازہ ہوتی تھی۔
حضرت قاری صاحبؒ بعض اوقات کسی کام کی پیشین گوئی بھی فرما
دیتے تھے… چنانچہ کچھ لوگوں نے کہنا شروع کردیا کہ ہم ان سے بشارتیں اور پیشین
گوئیاں سننے جاتے ہیں… حالانکہ ایسا ہر گز نہیں تھا… ہم تو اس دور میں ماضی کے ایک
مبارک انسان کی زیارت کے لئے جاتے تھے… جو دنیا میں رہتے ہوئے دنیا کو چھوڑ چکا
تھا… جو اس دنیا کے ہر انسان کو کچھ نہ کچھ دینے کی فکر رکھتا تھا… اور خود کسی سے
کچھ لینے کا آرزومند نہیں تھا… جو سر سے پاؤں تک بیماریوں، تکلیفوں اور معذوریوں
کے باوجود زبان پر شکوہ نہیں لاتا تھا… اور اللہ تعالیٰ کے شکر میں مگن رہتا تھا…
جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی راضی رکھنے کی فکر نہیں کرتا تھا… جو سوکھی روٹی
پانی میں بھگو کر شکر کرکے کھاتا تھا… جو چوبیس گھنٹے میں تین گھنٹے سوتا تھا… جو
دین کے کاموں کے لئے اسی طرح تڑپتا تھا جس طرح اہلِ دنیا مال کے لئے تڑپتے ہیں…
اور جو ہر وقت موت کی مکمل تیاری میں رہتا تھا… جی ہاں مکمل تیاری میں… کیا ہم بھی
ایسے ہیں؟… نہیں ہم تو اس دنیا کی راحت، عزت اور مفاد کی خاطر آخرت کی ہر نعمت
قربان کردیتے ہیں… جبکہ اس نے آخرت کی خاطر دنیا کی ہر راحت اور نعمت کو قربان کر
رکھا تھا… کیونکہ اس کو یقین تھا کہ ’’اللہ ایک ہے‘‘…
جہاد سے والہانہ محبت
ایک بار انہوں نے ملاقات کے لئے یاد فرمایا… ہم چند ساتھی
حاضر خدمت ہوئے تو اس دن کا منظر حیران کن تھا… حضرت قاری صاحبؒ خاکی رنگ کا لباس
پہنے بیٹھے تھے… حیرانی کی وجہ یہ تھی کہ حضرت ہمیشہ سفید لباس کا شدت سے اہتمام
کرتے تھے… اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیتے تھے… یہ ان کا اپنا خاص ذوق تھا اور
اللہ والوں کی اپنی بعض خاص ’’ذوقیات‘‘ ہوا کرتی ہیں… ان کے ہاں سفید لباس کا
اہتمام اس قدر تھا کہ اپنی مخصوص اصلاحی مجالس میں اس لباس کے بغیر شرکت کی اجازت
نہیں دیتے تھے… مگر اس دن انہوں نے خاکی رنگ کی شلوار پہن رکھی تھی اور طبیعت پر
بے حد جوش طاری تھا… ارشاد فرمانے لگے یہ لباس میں نے خاص طور پر سلوایا ہے صرف
جہاد کے لئے … صرف جہاد کے لئے… اب میں جہاد میں شرکت کے لئے تیار ہوں… پھر اپنا
عصا اٹھا کر کھڑے ہوگئے اور جہاد کی شان میں جوش سے بیان فرمانے لگے… جب ہماری
واپسی ہوئی تو گھر سے باہر تک چھوڑنے کے لئے نکلے اور دروازے سے نکل کر دیوار کا
سہارا لے کر کھڑے ہوگئے… اور بہت بلند آوازسے والہانہ انداز میں جہاد پر بیان
فرماتے رہے… اہل محلہ کافی تعداد میں جمع ہوگئے… وہ سب حیرت سے دیکھ رہے تھے کہ یہ
کیا ہورہا ہے؟… مگر جہاد کی محبت میں سرمست حضرت قاری صاحبؒ کس کی پروا کرتے تھے؟…
حضرت قاری صاحبؒ کے جہاد کے ساتھ تعلق کے واقعات بہت زیادہ ہیں… میں نے خاکی لباس
والا واقعہ اس لئے عرض کردیا کہ وہ لوگ جو حضرت قاری صاحبؒ کو جانتے ہیں… وہ اس
بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حضرت قاری صاحبؒ کے نزدیک جہاد کا کیا مقام تھا کہ
انہوں نے اس کی خاطر اپنے لباس تک کو کچھ دیر کے لئے بدل لیا… حضرت قاری صاحبؒ کئی
سال تک مجاہدین کے سروں پر ٹھنڈا سایہ بنے رہے… وہ مجاہدین کی آمد پر اتنے خوش
ہوتے کہ اپنی معذوری کے باوجود نعرے لگاتے ہوئے باہر نکل آتے… میں کس طرح سے اس
منظر کو بھولوں گا کہ ایک مرتبہ جب ہم ا ن کے کمرے میں داخل ہوئے تو وہ دروازے کے
پاس گھٹنوں کے بل کھڑے ہو کر ہم سے ملے… حالانکہ معذوری اور بیماری کا یہ عالم تھا
کہ اپنے بستر سے گھسٹ گھسٹ کر دروازے تک آتے تھے مگر پھر بھی بے حد خوش تھے… وہ
کئی بار مجاہدین کے مراکز میں تشریف لے گئے اور کئی کئی دن کا بابرکت قیام فرمایا…
جہادی جماعتوں پر پابندی لگی تو حضرت قاری صاحبؒ کی محبت، شفقت اور سرپرستی میں
مزید جوش آگیا… وہ مجاہدین کو ہمت دلاتے تھے، دعاؤں سے نوازتے تھے، ملاقات کے وقت
خوب کھلاتے پلاتے تھے اور رخصت کے وقت مالی ہدایا دیتے تھے… ہماری جماعت پر تو ان
کے احسانات شمار سے باہر ہیں… وہ اسے اپنی جماعت سمجھتے تھے اور صرف اسی جماعت کی
سرپرستی فرماتے تھے… جماعت کے قیام کے بعد جماعت کی تعلیم کے لئے مرکز کا انتظام
نہیں تھا… حکومت وقت نے بہت رکاوٹ ڈال رکھی تھی… اور بعض بااختیار افراد نے تو کہہ
دیا تھا کہ ایک سال تک اس کا خیال ہی دل سے نکال دو… ہم نے حضرت قاری صاحبؒ سے
دعاء کی درخواست کی… انہوں نے دعاء فرمائی اور پھر ارشاد فرمایا مرکز جلدی بنے گا
کوئی مائی کا لال نہیں روک سکے گا اور خوب کام ہوگا… اللہ پاک نے ان کی دعاء سن لی
اور چند دن بعد کئی ہزار افراد کی موجودگی میں انہوں نے خود اس مرکز کا افتتاح
کیا… اور الحمدللہ پانچ سال میں ایک لاکھ
کے لگ بھگ افراد نے اس مرکز سے فیض حاصل کیا… حضرت قاری صاحبؒ خود بھی اس مرکز سے
محبت رکھتے تھے… وہ کئی مرتبہ یہاں تشریف لائے… آخری بار اپنی بیماری کے باوجود
اہلیہ محترمہ کے ساتھ تشریف لائے… چند دن قیام فرمایا… ملاقات کے لئے حاضری ہوئی
تو بہت خوش تھے… اپنا کفن دکھا کر فرمایا کہ اگر میرا یہاں انتقال ہو جائے تو چار
گھنٹے کے اندر اسی مرکز میں تدفین کردیں… اور میری اہلیہ یہاں چار مہینے دس دن کی
عدت گزاریں گی پھر اپنے گاؤں چلی جائیں گی… مرکز کے اس قیام کے دوران انہوں نے
’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ کا وہ عمل بھی عطاء فرمایا جو … مجاہدین کے لئے ’’رحمت
الٰہی‘‘ اور ’’نصرت ربانی‘‘ کا ذریعہ بنا ہواہے… ماشاء اللہ ولا قوۃ الا باللہ…
مختصر واقعہ اس عمل کے عطاء فرمانے کا یہ ہے کہ … جب حضرت
نے مرکز کا آخری سفر فرمایا تو بندہ بھی زیارت وملاقات کے لئے حاضر ہوا… آپ نے
اپنے کمرے کے درمیان چادر لٹکاکر اس کے دو حصے کردئیے تھے… ایک حصے میں اہلیہ
محترمہ کا قیام تھا اور دوسرے میں حضرت ؒ آنے والوں سے ملاقات کرتے
تھے…
میں حاضر ہوا تو حسب سابق بہت محبت اور تپاک سے ملے… پہلے
انہوں نے شکریہ ادا کیا کہ آپ کے ساتھیوں نے میرے لئے بہت اچھا انتظام کیا ہے… میں
یہاں خوش ہوں… پھر ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے وہ رومال سے آنسو پونچھتے تھے اور
فرماتے تھے مجھے سب پتا چل گیا ہے کہ آپ کے خلاف کیا کچھ کیا جارہاہے… (ان دنوں
جماعت میں کافی بحران تھا اور ہمارے خلاف شدید مہم چلی ہوئی تھی مگر ہم نے حضرت
قاری صاحبؒ کو کچھ نہیں بتایا تھا) مگر یاد رکھیں مولانا! کہ ’’اللہ ایک ہے‘‘… یہ
لوگ کامیاب نہیں ہوں گے… اس لئے کہ ’’اللہ ایک ہے‘‘ اور وہ آپ کے ساتھ ہے… اگر دو
ہوتے تو ایک ان کے ساتھ ہوتا ایک آپ کے ساتھ … مگر ’’اللہ ایک ہے‘‘… ہاں بس آپ
اتنا کریں کہ میں ایک عمل بتاتا ہوں… آپ وعدہ کریں کہ یہ عمل اپنے والد صاحب کو
بھی نہیں بتائیں گے… میں بھی یہ عمل کرتا ہوں آپ بھی کریں اور ایک اور ساتھی بھی…
انشاء اللہ مخالفوں کی ہر سازش ناکام ہوجائے گی… پھر حضرت نے ’’بسم اللہ الرحمن
الرحیم‘‘ کا عمل تلقین فرمایا… ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ تو اللہ تعالیٰ کے عرش
کے خزانوں میں سے ایک بڑا خزانہ ہے… اللہ پاک نے اس عمل کے ساتھ کی ہوئی دعا قبول
فرمائی اور ہماری جماعت الحمدللہ محفوظ
رہی… اس کے بعد حضرت ؒ کراچی تشریف لے گئے… بندہ کو ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ کے
عمل سے بہت فائدہ ہوا تو مجاہدین کے لئے اس عمل کو عام کرانے کی تمنا پیدا ہوئی…
میں نے حضرتؒ سے ٹیلیفون پر عرض کیا کہ مجاہدین بہت مظلوم اور پریشان حال ہیں…
مہربانی فرمائیں اور اس عمل کو عام فرما دیں… حضرتؒ خلاف عادت تھوڑی دیر خاموش رہے
اور پھر فرمایا ٹھیک ہے… وہ دن ہے اور آج کا دن کہ اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کو
’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ کی قوت اور برکت میں سے حصہ عطاء فرمادیا ہے… جو کہ
یقینا ہمارے حضرت قاری صاحبؒ کا فیض اور ان کا صدقہ جاریہ ہے… (قارئین القلم اگر
یہ عمل معلوم کرنا چاہیں تو لطف اللطیف د میں ملاحظہ فرمالیں)…
جہاد کے ساتھ حضرت قاری صاحبؒ کے تعلق کی داستان بہت طویل
ہے… انہوں نے مجاہدین کو بہت فائدہ پہنچایا… اور مستقبل کے لئے بہت اعلیٰ بشارتوں
سے نوازا… اللہ تعالیٰ پر کسی کا زور نہیں چلتا کبھی وہ اپنے بندوں کو ’’کرامت‘‘
سے نوازتا ہے اور بشارتوں اور پیشین گوئیوں کو پورا فرمادیتا ہے… اور کبھی وہ شان
بے نیازی پر آتا ہے تو اولیاء اللہ کی زبان سے نکلی ہوئی بشارت بھی پوری نہیں
ہوتی… کُلَّ یَومٍ ہُوَ فی شأن… اللہ تعالیٰ مالک ہے… اور ہم اس کے بندے ہیں…
ہماری دعاء ہے کہ حضرت قاری صاحبؒ نے ہم ناکارہ لوگوں کو جن دعاؤں سے نوازا… جن
بشارتوں سے نوازا… اللہ پاک ان کو محض اپنے فضل سے پورا فرمادے گا… اس لیے کہ
ہمارا تو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں… اور ’’اللہ ایک ہے‘‘…
مقبولیت دعاء کی وجہ
حضرت قاری صاحب ؒ ’’مستجاب الدعوات‘‘ تھے یعنی
ان کی دعائیں قبول ہوتی تھیں… دعاء قبول ہونے کی جو شرطیں احادیث مبارکہ میں آئی
ہیں وہ حضرت قاری صاحبؒ میں موجود تھیں… میں نے ان کے ساتھ ایک بار چوبیس گھنٹے کا
وقت گزارا… اس پورے عرصے میں انہوں نے کوٹی ہوئی برف کے دو چمچے تناول فرمائے… نہ
روٹی نہ سالن نہ چائے ارشاد فرمایا کہ برف لے آئیں… برف کو کوٹ کر دو چمچے کھالئے
اور بس… حالانکہ سفر تھا مگر وہ اس کم خوراکی کے باوجود ہشاش بشاش رہے… رزق حلال
کا بہت زیادہ اہتمام تھا… بلاتحقیق کسی کا ہدیہ تک نہ لیتے تھے… ذکر وعبادت تو
ماشاء اللہ اسلاف کے طرز کی تھی… جبکہ شریعت کی پابندی اور اتباع سنت میں بھی بہت
سخت تھے… یہ تمام صفات انسان کی دعاء کو جاندار بناتی ہیں مگر حضرت قاری صاحبؒ
اپنے ’’مستجاب الدعوات‘‘ ہونے کی ایک خاص وجہ بیان فرمایا کرتے تھے… ارشاد فرمایا
کہ ایک بار میرے شیخ ؒ نے مجھے بلایا… (آپ سلسلہ نقشبندیہ میں
حضرت اقدس مولانا عبدالغفور عباسی مہاجر مدنیؒ سے بیعت تھے) اور ارشاد فرمایا کہ
میں نے آپ کو خلافت دے دی ہے… میں نے عرض کیا حضرت ! میں بہت سخت ہوں مجھے خلافت
نہ دیں… مگر حضرت نے خلافت عطاء فرمادی، پھر فرمایا… اگر آپ اللہ تعالیٰ سے شکوہ
نہیں کریں گے تو آپ کی ہر دعاء انشاء اللہ قبول ہوگی… چنانچہ مجھ پر جیسے بھی
حالات آجائیں میں اللہ تعالیٰ سے شکوہ نہیں کرتا… اللہ اکبر کبیرا… اللہ تعالیٰ کی
تقدیر پر راضی رہنا کتنی بڑی صفت… اور کتنی بڑی نعمت ہے…
ہم میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے خوش
ہوجائے… جبکہ ہم خود اللہ تعالیٰ سے خوش نہیں ہوتے… حالانکہ ہم اللہ تعالیٰ سے خوش
اور راضی ہوں گے تو وہ ہم سے خوش ہوگا… ہم نے حضرت قاری صاحبؒ کو ہمیشہ اللہ
تعالیٰ سے خوش اور راضی دیکھا… وہ خود کو نعمتوں میں ڈوبا ہوا محسوس کرتے تھے…
حالانکہ ظاہری طور پر ان کی زندگی اتنی مشکل تھی کہ عام لوگ دو دن بھی اتنی سخت
زندگی نہیں گزار سکتے… میں اکثر عرض کرتا ہوں کہ ’’مجاہدۂ نفس‘‘ اگر دیکھنا ہو تو
حضرت قاری صاحبؒ کی زندگی میں دیکھیں… وہ پیٹ کی رسولی کی وجہ سے لیٹ تک نہیں سکتے
تھے اور ساری رات اور دن بیٹھ کر گزارتے تھے… اور بیٹھے بیٹھے چند گھنٹے کی نیند
کرلیتے تھے… ایک طرف معذوری تھی اور دوسری طرف غیرت… تو وضو کرنا بھی ایک پہاڑ
تھا… مگر وہ خوشی سے ایسی سخت زندگی مکمل عبادت اور آداب کے ساتھ جی رہے تھے… آج
ہم لوگ دو چار تسبیح پڑھ کے اور صرف اصلاحی بیعت کرکے نفس کے جہاد اور مجاہدے کی
بات شروع کردیتے ہیں… حالانکہ نفس کا مجاہدہ اور جہاد تو تب ہوتا ہے جب جینا مشکل
ہوجائے اور انسان اللہ پاک کی رضاء کے کاموں اور شکر میں لگا رہے…
حضرت قاری صاحبؒ علماء کرام سے فتویٰ لے کر دوا تک نہیں
کھاتے تھے… اور آپریشن کے تو لفظ سے ہی انہیں چڑ تھی… اللہاکبرکبیرا… کتنی سخت
مشقت والی زندگی انہوں نے خوشی خوشی اللہ پاک کا بندہ بن کر گزاری… اور تو اور جب
ان سے حال پوچھا جاتا تھا تو سخت تکلیف کے عالم میں بھی اپنی بیماری کا تذکرہ نہیں
چھیڑتے تھے… بلکہ ’’اللہ ایک ہے‘‘ کا نعرہ لگا کر دینی باتوں میں مشغول ہوجاتے
تھے… ہاں بے شک ایک مؤمن کے لئے یہ بہت بڑی نعمت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر
دل سے راضی ہو… آج ہمیں اس نعمت کی سخت ضرورت ہے… حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے
اپنی کئی مبارک دعاؤں میں ہمیں یہ نعمت مانگنے کا طریقہ بھی سکھایا ہے… چونکہ یہی
نعمت اور صفت حضرت قاری صاحبؒ کے تمام کمالات کی بنیاد تھی اس لیے ہم بھی ان مسنون
الفاظ میں اس نعمت کی دعاء مانگا کریں:
(۱) اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ
اَسْئَلُکَ الصِّحَّۃَ وَالْعِفَّۃَ وَالْاَمَانَۃَ وَحُسْنَ الْخَلْقِ وَالرِّضَا
بِالْقَدْرِ (بیہقی، کنزالعمال)
ترجمہ: اے اللہ میں آپ سے مانگتا ہوں ’’صحت‘‘
اور ’’پاکدامنی‘‘ اور ’’امانت داری‘‘ اور اچھے اخلاق اور تقدیر پر راضی رہنا۔
(۲) اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الرِّضَا بِالْقَضَائِ
(کنزالعمال)
ترجمہ: یا اللہ میں آپ سے مانگتا ہوں تقدیر پر
راضی ہونا۔
(۳) اَللّٰہُمَّ اَرْضِنِیْ بِقَضَائِکَ وَبَارِکْ لِیْ فِیْمَا
قُدِّرَلِیْ
ترجمہ: یا اللہ مجھے اپنی تقدیر پر راضی
فرمادیجئے اور جو میرے مقدر میں لکھا ہے اس میں میرے لئے برکت عطاء فرمادیجئے…
روایات میں آتا ہے کہ سعادت مند آدمی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ
کی تقدیر پر راضی ہوتا ہے… اور شقی وبدبخت وہ ہے جو تقدیر پر راضی نہیں ہوتا…
اللہ پاک مجھے اور آپ سب کو سعادت مند مسلمان بنائے دراصل
تقدیر پر راضی نہ ہونے کی دو بڑی وجوہات ہوتی ہیں:
(۱) تکبر (۲) حبّ دنیا
جس آدمی کے دل میں تکبر ہوتا ہے اس پر جیسے ہی مشکل حالات
آئیں تو وہ چیخنے اور ٹوٹنے لگ جاتاہے کہ میرے ساتھ یہ سب کیوں ہوا؟… حالانکہ ہم
سب اللہ تعالیٰ کے غلام اور بندے ہیں اور اس نے ہمیں اپنی غلامی اور بندگی کے لئے
پیدا فرمایا ہے…
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلاَّ لِیَعْبُدُوْنِ
اور جس آدمی کے دل میں حبّ دنیا ہوتی ہے اس کی خواہشیں
زیادہ ہوتی ہیں بس جیسے ہی اس کی کوئی خواہش ٹوٹتی ہے وہ بے صبری کرتا ہے اور
چیخنے لگتا ہے… حالانکہ ہم سب نے مرنا ہے… اور جہنم کا اوپر والا درجہ اس امت کے
لوگوں کے لئے ہے… ہمیں تو اس سے بچنے کی فکر کرنی چاہئے نہ کہ… اپنی خواہشات اور
تمناؤں کی… اللہ پاک میری اور آپ سب کی تکبر اور حبّ دنیا سے حفاظت فرمائے… ہم سب
ان دو بیماریوں سے بچنے کی خاص دعا ء کیا کریں… اللہ تعالیٰ نے حضرت قاری صاحبؒ کو
تکبر سے بچایا… حبّ دنیا سے بچایا… اور پھر اپنی رضا پر راضی فرمادیا… اب قاری
صاحبؒ اپنی شاندار ایمانی… اور پرمشقت جہادی زندگی گزار کر اللہ تعالیٰ کے پاس
ہیں… اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ صدیقین والا معاملہ فرمائے… یا اللہ ان کے درجات بلند
فرما کیونکہ وہ تو یہی کہا کرتے تھے کہ … ’’اللہ ایک ہے‘‘…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کی شان دیکھئے… ہمارے حضرت قاری محمد عرفان
صاحبؒ کی ذات کی طرح ان کا ’’خصوصی شمارہ‘‘ بھی خوب مفید ثابت ہوا… پڑھنے والوں نے
حضرت قاری صاحبؒ کی یادوں اور باتوں سے بہت فائدہ پایا، بہت فیض اٹھایا… الحمدللہ ہر طرف سے خوشی اور مسرت کے پیغامات
آرہے ہیں… اللہ تعالیٰ ’’القلم‘‘ والوں کو جزائے خیر عطاء فرمائے اب وہ اس خصوصی
شمارے کو ایک خوبصورت کتابچے کی صورت میں شائع کر رہے ہیں… قارئین کرام دعاء
فرمائیں کہ یہ کتابچہ جلدی آجائے… اللہ پاک کے ایک سچے اور مخلص عاشق کا تذکرہ ہم
سب کے کتب خانوں کی زینت بنے… معلوم ہوا ہے کہ اس کتابچے میں القلم کے مضامین کے
علاوہ مزید مضامین بھی ہوں گے…
’’ الحمدللہ الذی بنعمتہٖ تتم
الصالحات‘‘
یہاں ایک اور خوشخبری بھی سن لیجئے… القلم کا اگلا شمارہ
بھی ایک ’’خصوصی نمبر‘‘ ہے… جی ہاں قرآن پاک کی آیات جہاد پر لکھی جانے والی کتاب
’’فتح الجوّاد فی معارف آیات الجہاد‘‘ پر خصوصی شمارہ… اللہاکبرکبیرا ربیع الاوّل
کے موقع پر یہ ہم سب کے لئے کتنا قیمتی تحفہ ہوگا… آج ہر طرف ’’عید میلاد النبی‘‘
کے نام پر جشن ہی جشن ہیں… قورمے، بریانی، حلوے اور نہاری کی بو میں رچے ہوئے ڈکار
لینے والے اُمَّتی… میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر جلوس نکال رہے ہیں…
نعوذ باللہ! نقلی روضے، گنبد اور پہاڑ بنا رہے ہیں… دراصل یہ لوگ ’’کرسمس‘‘ کا
مقابلہ کرنا چاہتے ہیں… اور یہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین اور مزاج کو
نہیں پہچانتے… یہ لوگ مکہ کے تیرہ سالوں کی دہشت زدہ راتیں اور سخت دن بھول چکے
ہیں… ان لوگوں کو طائف کا سفر بھی یاد نہیں ہے… انہیں ہجرت کی رات اور غار ثور کی
روپوشی کا بھی ادراک نہیں ہے… انہیں برستے پتھروں، بھونکتی گالیوں اور شعب ابی
طالب کی تنہائیوں کا بھی احساس نہیں ہے… یہ تو بس جشن میں مست ہیں… طرح طرح کے
کھانے، لاؤڈ اسپیکر، پھولوں سے لدے واعظ، گانوں کی طرز پر نظمیں گانے والے نعت
خوان… اور رنگ برنگے سجادہ نشین… ان کو کیا پتا کہ غزوہ بدر کیا ہے… ان کو کیا
معلوم کہ غزوہ احد کا پیغام کیا ہے… ان کو کہاں سمجھ کہ بئیر معونہ کی ستر لاوارث
لاشیں اور پھر میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی آہیں اور آنسو ہمیں کس راستے اور کس
سوچ کی طرف بلا رہے ہیں… ان کو تو بس جشن منانا ہے… اور اسلام میں ایک نئی عید کا
اضافہ کرنا ہے… آج کل جو بھی میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھتا ہے…
پریشان اور غمزدہ دیکھتاہے… میرے پاس ایک نہیں کئی خطوط موجود ہیں… مسلمان آج کے
ہوں یا آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے … یہ سب میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم
کے اپنے امتی ہیں… میرے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سے جب اپنے زمانے کے ستر
امتیوں کی لاشیں برداشت نہ ہوئیں… تو آج کی لاشیں کس کی ہیں؟… اب تو ہر دن ستر
نہیں کئی سو مسلمان شہید ہوتے ہیں… ٹکڑے ٹکڑے کئے جاتے ہیں… ہر طرف خونخوار
بھیڑئیے میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو بھنبھوڑ رہے ہیں… اور امت کے پاس
سر چھپانے کی جگہ تک نہیں ہے… اللہ تعالیٰ یہ سب حالات جب میرے آقا تک پہنچاتا
ہوگا تو ان کے دل مبارک پر کیا گزرتی ہوگی… ہائے امت… ہائے امت… زمانے کے بدترین
لوگ اس امت کے حکمران بن گئے… ہاں وہی ظالم جو امت کا خون بیچ کر شراب خریدتے ہیں…
اور مسلمانوں کو آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سے دور کھینچتے ہیں… کل میلاد کا جشن
منانے والے آج آدھا دن تو سوئے ہونگے… اور پھر جاگ کر کیا کریں گے؟… کھانے کی
دیگوں کا حساب… چندے اور آمد وخرچ کا حساب… ایک دوسرے پر زیادہ کھانے کے الزامات…
شامیانے، دریاں اور ان پر بکھرے ہوئے چاول… نہ کسی مسلمان کو سنت کی دعوت ملی… نہ
کسی مسلمان کو جہاد کاسبق ملا… نہ کسی غافل کی غفلت دور ہوئی… نہ کسی فاسق کا فسق
توبہ کے آنسوؤں سے دھلا… ہر طرف بجلی چوری ہوئی… عیسائیوں کی طرح جلتی بجھتی
لائٹیں… اور ہندوؤں کی طرح دیوالی کے دئیے جلائے گئے… اللہ اکبر کبیرا… کہاں مدینہ
منورہ کا باوقار منظر … جو نہ کسی کی پیدائش پر بدلتا تھا اور نہ کسی کی موت سے اس
پر کوئی فرق پڑتا تھا… اور کہاں یہ بازاری میلے… رب کعبہ کی قسم ڈر لگتاہے کہ یہ
سب کچھ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی نہ ہو… آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کا ان چیزوں سے کیا تعلق… آپ کی شان تو ان تماشوں سے بہت بلند ہے… اور اس بار
تومزید ستم یہ ہوا کہ اپنے لیڈروں کی تصویریں بھی ’’عید میلاد النبی‘‘ کے جلوس کا
حصہ بنادی گئیں… استغفر اللہ، استغفراللہ…
ہائے کاش یہ لوگ ان کاموں سے توبہ کرتے… ہائے کاش انہوں نے
اگر کوئی خوشی منانی بھی ہے تو اسے دینی ڈھنگ سے مناتے… اور میرے آقا کی امت کا غم
کھاتے…
ادارہ القلم اپنے اگلے شمارے میں آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کے جہاد والے پیغام کو عام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے… ہمارے قارئین کو معلوم
ہوگا کہ روئے زمین کا ایک عظیم دجالی فتنہ ’’قادیانیت‘‘ ہے… اس فتنے کا بانی مرزا
غلام قادیانی مشرقی پنجاب کا رہنے والا ایک سازشی انسان تھا… اس زمانے میں برصغیر
پر انگریزوں کی حکومت تھی…اور انگریز مسلمانوں کے جذبہ جہاد سے خائف تھے… چنانچہ
انہوں نے مرزا قادیانی کو کھڑا کیا جس نے کئی مسلمانوں کے ذہنوں میں جہاد جیسے
محکم فریضے کے خلاف وساوس کے بیج بودئیے… مرزا قادیانی نے اپنی ذات کے بارے میں
طرح طرح کے دعوے کئے اور بالآخر اس ملعون نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم
نبوت پر ڈاکہ ڈالنے کی ناپاک کوشش کی… مرزا قادیانی کا فتنہ اوّل تا آخر جہاد فی
سبیل اللہ کے خلاف ایک منظم کوشش کا نام ہے… ہر قادیانی فرقہ پرستی کے خلاف خوب
بولتا ہے اور یہی قادیانیوں کی سب سے بڑی پہچان ہے… حالانکہ قادیانی خود سب سے بڑے
فرقہ پرست اور گمراہ ہیں… مرزا قادیانی ۱۹۰۸ء میں مرگیا… اب اس کی ’’بدقسمت قوم‘‘ اگلے سال یعنی ۲۰۰۸ء میں صد سالہ جشن منانے کی تیاری کر رہی ہے… ہائے افسوس کے
ہر مرتد مدعی نبوت کا فتنہ جلد ختم ہوگیا… مگر یہ ناسور اب اگلے سال سو سال سے
زائد عمر کا ہوجائے گا… ہماری یہ بدنصیبی اپنی جگہ… مگر الحمدللہ آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیوں
نے مرزا قادیانی کے تمام جال ٹکڑے ٹکڑے کرد ئیے ہیں… چنانچہ اب جو شخص بھی قادیانی
ہوتا ہے وہ دلیل کے دھوکہ میں نہیں بلکہ مال اور ظاہری امن کے لالچ میں مرتد ہوتا
ہے…
مرزا قادیانی کا سب سے خطرناک جال جہاد کے خلاف وساوس کا
تھا… افسوس کہ یہ وساوس مرزا قادیانی کو نہ ماننے والے مسلمانوں میں بھی عام ہو
رہے تھے… حالانکہ جہاد کا مسئلہ سورج سے زیادہ روشن اور واضح ہے… اب الحمدللہ قرآن پاک کی آیات جہاد پر مستقل کتاب
منظر عام پر آرہی ہے… اس کتاب میں قرآن پاک کی سینکڑوں آیات جہاد کو مستند حوالہ
جات کے ساتھ بیان کیا گیا ہے… کتاب کی پہلی جلد جو سورۃ البقرۃ، سورۃ آل عمران،
سورۃ النساء اور سورۃ المائدۃ کے معارفِ جہاد پر مشتمل ہے… اگلے ہفتے تک انشاء
اللہ قارئین کرام تک پہنچ جائے گی… سورۃ الانفال بھی الحمدللہ مکمل تفصیل کے ساتھ کئی سو صفحات پر
لکھی جا چکی ہے… اور جہاد کے اصل دلائل تو ملتے ہی سورۃ التوبہ، سورۃ الانفال اور
سورۃ محمد میں ہیں… مگر اس کے باوجود سورۃ بقرۃ اور آل عمران وغیرہ کی آیات جہاد
کو ہی دیکھ لیں تو پورا جہاد سمجھ آجاتا ہے… اور جہاد کے خلاف ہر وسوسہ اور شبہ
زائل ہوجاتا ہے… کئی مسلمان کافی عرصہ سے اس کتاب کا انتظار کر رہے تھے… آیات جہاد
کی تفسیر کیسٹوں میں تو موجود تھی اور الحمدللہ لاکھوں مسلمانوں تک پہنچ چکی تھی مگر…
مستند حوالہ جات کے ساتھ کتابی صورت میں دستیاب نہیں تھی… اب اللہ پاک کے فضل وکرم
سے یہ مرحلہ بھی کسی حد تک مکمل ہوچکا ہے… اور الحمدللہ کتاب کی اشاعت سے پہلے ہی اس کے بیس
ہزار سے زائد نسخوں کا آرڈر مکتبے کو موصول ہوچکا ہے… ’’القلم‘‘ کا اگلا شمارہ
انشاء اللہ اسی کتاب کے مکمل تعارف پر مشتمل ہوگا… اس شمارے میں آپ کو جہاں کتاب
کے بارے میں کافی معلومات حاصل ہوں گی وہاں قرآن پاک کی آیات جہاد کی فہرستیں بھی
دیکھنے کو ملیں گی… مدنی سورتوں میں آیاتِ جہاد… مدنی سورتوں میں اشاراتِ جہاد…
مکی سورتوں میں درجنوں اشاراتِ جہاد اور حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کے نزدیک
مزید آیاتِ جہاد… ربیع الاوّل کے موقع پر ’’آیات جہاد‘‘ کا مذاکرہ… ان حالات سے
میل کھاتا ہے جو آج امت مسلمہ کو درپیش ہیں… مرزا قادیانی نے ختم نبوت کا انکار
کیا تو علماء کرام نے قرآن پاک کی دو سو آیات جمع کرکے مسئلہ ختم نبوت کو بالکل
واضح فرمادیا… مرزا قادیانی نے حیات حضرت مسیح علیہ السلام کا انکار کیا تو علماء
کرام نے قرآن وسنت سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کے دلائل کو جمع فرمادیا… اسی طرح
مرزا قادیانی نے جب جہاد فی سبیل اللہ کا انکار کیا… اور جہاد کے مسئلے کو مشکل
اور مشتبہ بنادیا تو الحمدللہ… مجاہدین نے
قرآن پاک کی آیات جہاد کو جمع کرکے چھاپ دیا ہے… اب قادیانیوں کے پاس کوئی ایسا
سوراخ نہیں بچا جس سے وہ مسلمانوں کو علمی طور پر ڈس سکیں… باقی رہی مال اور
پرتعیش زندگی کی حرص… تو اس کی خاطر طوائفیں جسم بیچتی ہیں… اسی کی خاطر چور چوری
کرتا ہے… اسی کی خاطر ڈاکو جانوں سے کھیلتے ہیں… اسی کی خاطر مسلمان کہلانے والے
لوگ کافروں کے سپاہی بنتے ہیں… مال کے لالچی یہ سارے مجرم خود کو کوئی مذہبی ٹولا
یا جماعت نہیں سمجھتے… اور نہ اپنے ان جرائم کے لئے قرآن وسنت سے کوئی دلیل گھڑتے
ہیں… قادیانی ان تمام مجرموں سے بڑے مجرم ہیں… وہ مال، عہدے اور ظاہری امن وعیش کی
خاطر حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا انکار کرتے ہیں… وہ مسلمانوں کے
خلاف انگریزوں اور امریکیوں کی جاسوسی کرتے ہیں… وہ جہاد کا انکار کرتے ہیں… اور
جہاد کے خلاف طرح طرح کے وساوس عام کرتے ہیں… اور بدبختی کی انتہا یہ کہ ایک بالکل
نیا مذہب گھڑنے کے باوجود وہ مسلمانوں کے جسم کے ساتھ کینسر کی طرح چپکے رہنا
چاہتے ہیں… اور افسوس یہ کہ طوائفوں، چوروں اور ڈاکوؤں کے برخلاف یہ مجرم ٹولہ
اپنے جرائم کے حق میں قرآن وسنت سے دلائل بھی گھڑتا ہے… آج جبکہ کافروں کی طاقت ایٹم
بم تک پہنچ چکی ہے… اور مسلمانوں کا نہ تو کوئی شرعی خلیفہ ہے… اور نہ ان کے پاس
کوئی دار الھجرۃ… ان حالات میں قادیانیوں کے جہاد کے خلاف پھیلائے ہوئے وساوس
’’دانشمندی‘‘ اور ’’سرکاری پالیسی‘‘ بن چکے ہیں… اے مسلمانو! بہت سوچنے کا مقام ہے
کہ … میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قتال فی سبیل اللہ قیامت تک جاری رہے
گا… جی ہاں مسلسل جاری رہے گا… اور مرزا قادیانی نے بکواس کی کہ اب جہاد بند ہوچکا
ہے… اے مسلمانو! کس کی بات سچی ہے؟… جہاد کو فساد کہنے والو! تم کس کا ساتھ دے رہے
ہو؟… اپنے ہر عمل کو شرعی جہاد قرار دینے والو! تمہاری تاویلیں کس کو فائدہ پہنچا
رہی ہیں؟… ہاں رب کعبہ کی قسم میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ہی سچی ہے… اور
قتال فی سبیل اللہ جاری ہے… اور تاقیامت جاری رہے گا… جب تک کہ اپنا آخری ہدف
ویکون الدین اللہ مکمل طور پر حاصل نہ کرلے… میدانوں میں اتر کر
جہاد کرنے والو مبارک ہو… تم آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی حفاظت کر
رہے ہو… جہاد کی درست دعوت دینے والو مبارک ہو… تمہاری دعوت آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم کی مبارک دعوت کا اتباع ہے…
تمام مسلمانوں کی خدمت میں عرض ہے کہ اگر آپ بھی آقا مدنی
صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے کے پہرے دار بننا چاہتے ہیں تو پھر جہاد کے ساتھ… اپنا
معاملہ ٹھیک کرلیں… جہاد کو ویسے ہی سمجھیں جس طرح آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے
سمجھایا… جہاد کو ویسے ہی سمجھیں جس طرح حضرات صحابہ کرام نے سمجھا… اور جہاد کو
ویسے ہی سمجھیں جس طرح ہمارے اسلاف اور ہمارے اکابر نے سمجھا… اللہ پاک کے حضور
اخلاص کے ساتھ دعاء فرمائیں کہ… کتاب ’’فتح الجوّاد فی معارف آیات الجہاد‘‘ جلد
منظر عام پر آجائے… اللہ تعالیٰ اسے اپنے دربار میں قبولیت عطاء فرمائے… اور زیادہ
سے زیادہ مسلمانوں کو جہاد سمجھانے کا ذریعہ بنائے… یاد رکھئے کسی بھی عمل کے لئے
دعاء کرنے والا اس عمل کے اجر میں حصے داربن جاتا ہے…
اور ہاں القلم کے لئے بھی دعاء کیجئے کہ وہ… اگلے ہفتے آپ
تک ایک اور خصوصی شمارہ لانے کی تیاری کر رہاہے…
٭٭٭
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمدللہ رب
العالمین الرحمٰن الرحیم مالک یوم الدین ایاک نعبد وایاک نستعین اہدنا الصراط
المستقیم صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الضالین آمین۔
الحمدللہ وسلام
علٰی عبادہ الذین اصطفیٰ… سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین و
الحمدللہ رب العالمین… اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد وعلٰی اٰلِ سیّدنا محمد کما
صلیت علی سیّدنا ابراہیم وعلی اٰلِ سیّدنا ابراہیم انک حمید مجید اللّٰہم بارک
علٰی سیّدنا محمد وعلٰی اٰلِ سیّدنا محمد کما بارکت علٰی سیّدنا ابراہیم وعلٰی
اٰلِ سیّدنا ابراہیم انک حمید مجید… اللہم لک الحمد کما ینبغی لجلال وجہِک
ولِعَظِیْمِ سلطانک…
اما بعد
(۱) اللہ
تعالیٰ اپنے فضل سے قبول فرمائے اس تالیف کا نام ’’فتح الجواد فی معارف آیات
الجہاد‘‘ ہے کتاب کی یہ جلد اوّل سورۃ البقرۃ، اٰل عمران، النساء اور المائدہ
کی ۱۵۹ آیات کے جہادی مضامین پر مشتمل ہے۔ جبکہ اکتیس آیات
کے اشاراتِ جہاد کو بھی مختصراً بیان کیا گیا ہے۔
(۲) کتاب کی تالیف سے پہلے قرآن پاک کی کئی بار تلاوت کی گئی
اور مضامین جہاد کے حوالے سے چار فہرستیں مرتب کی گئیں۔ یہ چاروں فہرستیں اس کتاب
میں پیش کردی گئیں ہیں تاکہ طلبۂ علم کے لئے آسانی ہو اور اہل علم حضرات تحقیق
فرماسکیں۔
(۳) پہلے ارادہ یہ تھا کہ جلد اوّل سورۃ الانفال تک ہو مگر سورۃ
الانفال کے جہادی مضامین قدرے تفصیل سے لکھے گئے ہیں اس لیے اگر سورۃ الانفال کو
بھی جلد اوّل میں شامل کیا جاتا تو کتاب کی ضخامت بڑھ جاتی اس لیے سورۃ المائدہ تک
کے مضامین کو جلد اوّل میں شائع کیا جارہاہے۔
(۴) اس کتاب کی تالیف میں مستند عربی اور اردو تفاسیر سے
استفادہ کیا گیا ہے اور زیادہ کوشش اسی بات کی رہی ہے کہ کوئی مضمون بے حوالہ اور
غیر مستند نہ رہے۔ تالیف کے دوران جو بات بھی ذہن میں آئی اس کے لئے مستند تفاسیر
سے تائید اور حوالہ ڈھونڈنے کی پوری محنت کی گئی۔ یوں الحمدللہ اس کتاب کا بیشتر حصہ مستند اور معتبر
مفسرین حضرات کی علمی تحقیقات پر مشتمل ہے۔
(۵) اس کتاب میں جن عربی تفاسیر سے استفادہ کیا گیا ہے ان میں
سرفہرست تفسیر قرطبی، تفسیر مدارک، تفسیر کبیر، روح المعانی، جلالین، البحر
المحیط، ابن کثیر وغیرھا شامل ہیں۔ آپ کو جابجا ان کتابوں کے حوالے اور عبارتیں اس
کتاب میں ملیں گی۔ عربی عبارات کا اردو ترجمہ بھی ساتھ دے دیا گیا ہے بعض مقامات
پر عربی عبارات کا ترجمہ اس لیے نہیں دیا گیا کہ کسی معتبر اردو تفسیر کے حوالے سے
وہی بات اسی مقام پر بیان ہوچکی ہے۔
تفاسیر کا حوالہ دیتے وقت صفحات کا نمبر نہیں دیا گیا صرف
تفسیر کا نام دینے پر اکتفا کیا گیاہے۔ اگر آپ وہ حوالہ اصل تفسیر میں دیکھنا
چاہتے ہیں تو اسی آیت کی تفسیر میں وہ حوالہ آسانی سے مل جائے گا۔
(۶) اردو کی مستند تفاسیر میں سے زیادہ انحصار حضرت شاہ
عبدالقادر صاحب نور اللہ مرقدہ کی تفسیر موضح القرآن (موضح قرآن) پر کیا گیا ہے۔
قرآن پاک کی آیات سے جہادی مضامین کے سمجھنے اور سمجھانے کے حوالے سے حضرت شاہ
صاحبؒ ’’امام‘‘ کا درجہ رکھتے ہیں باقی تمام مفسرین اس باب میں ان کے مقتدی ہیں۔
حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ نے بھی حضرت شاہ صاحبؒ کے طریقے کو آگے بڑھایا ہے
اور اپنے لاجواب حواشی میں مضامین جہاد کو خوب کھولا ہے۔ حضرت اقدس تھانویؒ نے
تفسیر بیان القرآن میں حیرت انگیز علمی شان کے ساتھ مضامین جہاد کو واضح فرمایا ہے۔
جبکہ حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ نے بھی اس موضوع کا حق ادا کرنے
کی پوری کوشش فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان چاروں حضرات کے درجاتِ عالیہ کو مزید
بلندی عطاء فرمائے اس کتاب کی تالیف میں ان چاروں حضرات کی تحقیقات کو اکثر لیا
گیاہے۔ حضرت شاہ صاحبؒ، حضرت تھانویؒ اور حضرت لاہوریؒ کے نزدیک مزید کئی آیات کا
تعلق بھی جہاد سے بنتا ہے۔ اس کتاب میں ان آیات کی طرف بھی اشارہ کردیا گیا ہے مگر
چونکہ اُن آیات کا جہاد کے ساتھ تعلق ربط کی بناء پر زیادہ اور مضمون کے اعتبار سے
کم ہے اس لئے باقاعدہ طور پر اُن کے مضامین کو بیان نہیں کیا گیا۔ ان چار تفاسیر
کے علاوہ تفسیر حقانی سے بھی خوب استفادہ ہوا یہ تفسیر دراصل امام رازیؒ کی تفسیر
کبیر سے مستفاد ہے۔ حضرت دریاآبادیؒ کی تفسیر ماجدی نے بھی کئی مقامات پر ساتھ دیا
وہ تاریخ اور جغرافیے کے ماہر ہیں۔ نیز معارف القرآن، تفسیر الفرقان، ترجمان
القرآن اور انوار البیان بھی زیر مطالعہ رہیں۔
اردو تفاسیر کا حوالہ ڈھونڈنے کا طریقہ بھی وہی ہے کہ بس
متعلقہ آیت کھولئے اور حوالہ ملاحظہ فرمالیجئے دو چار جگہ ایک آیت کا حوالہ دوسری
آیت کے ساتھ لگایا گیا ہے تو ساتھ وضاحت کردی گئی ہے کہ مفسر صاحب نے یہ بات فلاں
آیت کی تفسیر میں لکھی ہے۔ حضرت شاہ عبدالقادر صاحبؒ کا چونکہ بہت احسان ہے اس لیے
ان کی عبارتوں کے شروع میں اکثر کلام برکت کاعنوان دے دیا گیاہے۔ حضرت شاہ صاحبؒ
کی تفسیر کا نام ’’موضح القرآن‘‘ معروف ومشہور ہے مگر بعض اہل علم کاخیال ہے کہ
اصل نام موضح قرآن ہے اور یہ تاریخی نام ہے یعنی ابجد کے حساب سے اس نام میں تاریخ
ِ تالیف بیان کی گئی ہے۔
(۷) جہاد امت مسلمہ کا مقبول موضوع ہے اس لئے حضرات مفسرین اس
پر دل کھول کر لکھتے ہیں۔ اگر مفسرین کے تمام اقوال اور عبارتیں لکھی جاتیں تو
کتاب بہت ضخیم ہوجاتی۔ اسی طرح اگر ہر آیت کے مناسب احادیث مبارکہ اور حضرات فقہاء
کرام کے اقوال بھی لکھے جاتے تو ہر آیت کے مضامین میں کئی صفحات کا اضافہ ہوسکتا
تھا۔ اسی طرح اگر دعوت اور وعظ کا انداز اختیار کیا جاتا اور ہر آیت کے مضمون کو
وعظ کے انداز میں بیان کیا جاتا تو بات کافی لمبی ہوجاتی۔ چنانچہ ان تمام چیزوں کو
چھوڑ دیا گیا ہے اور طریقہ یہ اختیار کیاگیا ہے کہ ہر آیت کے مضمونِ جہاد کو واضح
کردیا جائے اور مستند عبارتوں کے ذریعے اُس کی پوری وضاحت کردی جائے۔ تاکہ
مسلمانوں کو معلوم ہوجائے کہ قرآن پاک کی یہ آیت انہیں کیا سمجھا رہی ہے۔ اور
انہیں اس بات کا یقین ہوجائے کہ جہاد اسلام کا ایک محکم اور قطعی فریضہ اور اللہ
تعالیٰ کا بالکل واضح حکم ہے۔
اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ یہ کوشش الحمدللہ کامیاب رہی ہے اور ہر آیت کا جہادی
مضمون اس طور پر واضح ہوگیا ہے کہ بے شمار اعتراضات اور وساوس کا جواب خود بخود
معلوم ہوجاتاہے۔ اور یہ بات اچھی طرح دل میں بیٹھ جاتی ہے کہ جہاد مولویوں کا گھڑا
ہوا مسئلہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا بالکل واضح اور تاکیدی حکم ہے اور جہاد کا اصل
معنیٰ کیا ہے۔ البتہ بعض آیات کے ساتھ ان سے سمجھے گئے اسباق اور عصر حاضر کے ساتھ
ان کی مطابقت کو بھی عرض کردیا گیا ہے۔
(۸) قرآن پاک اوّل تا آخر اللہ تعالیٰ کی سچی اور قدیم کتاب ہے۔
اس پوری کتاب پر ایمان لانا فرض ہے۔ قرآن پاک کی کسی ایک آیت کا انکار بھی کفر ہے۔
اور ایمان لانے کے اعتبار سے قرآن پاک کو تقسیم کرنا کہ بعض کو مانا جائے اور بعض
کو نہ مانا جائے یہ کافروں اور ظالموں کا طریقہ ہے۔ ہم پورے قرآن پاک پر ایمان
لائے ہیں اور الحمدللہ ایمان رکھتے ہیں۔
ماضی میں اسلاف نے قرآن پاک کے مختلف حصوں کی الگ الگ تفاسیر لکھی ہیں۔ کسی نے
آیات الاحکام پر تفسیر لکھی تو کسی نے قصص القرآن کو الگ بیان فرمایا کسی نے شان
نزول پر کتاب لکھی تو کسی نے نماز والی آیات کو چھانٹا اور جمع فرمایا۔ اس لیے
’’جہادی آیات‘‘ کی الگ تالیف کو ئی نئی چیز نہیں ہے بلکہ یہ بھی قرآن پاک اور دین
کی خدمت کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے۔ اس زمانے میں قرآن پاک کے حکم جہاد کے خلاف بہت
تدبیریں، مکر اور کوششیں ہو رہی ہیں۔ اور مسلمانوں کو اس گمراہی کی طرف بلایا
جارہا ہے کہ وہ غیر جہادی اسلام کو اختیار کریں۔ ان حالات میں اللہ تبارک وتعالیٰ
کی توفیق سے قرآن پاک کی ان آیات کو بیان کیا جارہا ہے جن میں جہاد کا بیان ہے۔
کافروں کی طاقت اپنی جگہ، دنیا کے تقاضے اپنی جگہ، مسلمانوں کی کمزوری اپنی جگہ۔
مسلمانوں سے ہماری صرف اتنی سی درخواست ہے کہ وہ ایک بار ان آیات اور ان کے مستند
مضامین کو پڑھ لیں۔ اور کچھ نہیں تو صرف ان آیات کا ترجمہ ہی پڑھ لیں۔ اور پھر
فیصلہ کریں کہ۔ ہم نے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔ اور یہ بات تو سب کو معلوم
ہے کہ صرف وہی دین اور اسلام ہی سچا اور معتبر ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن
پاک میں بیان فرمایاہے اور جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول وعمل سے
بیان فرمایا ہے۔
(۹) اس کتاب میں قرآن پاک کی جن آیات کو بیان کیا گیا ہے وہ
آیات جب نازل ہورہی تھیں تو مسلمان کمزور تھے، بہت کم تھے اور دنیاکے صرف ایک خطے
میں موجود تھے۔ ان مسلمانوں نے ان آیات کو پڑھا تو اپنی کمزوری اور قلت کا عذر
نہیں کیا بلکہ ان آیات کو اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر عمل کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔
نتیجہ کیا نکلا یہ ہم سب کے سامنے ہے اور آج ہم بھی اسی لیے مسلمان ہیں کہ ماضی کے
مسلمانوں نے ہمت سے کام لیا اور قرآن پاک پر عمل کیا۔
آج پندرھویں صدی ہجری میں جب ان آیات کو جمع کرکے مسلمانوں
کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے تو بھی مسلمان کمزور اور کسی حد تک مغلوب ہیں۔ مگر
پھر بھی مسلمانوں کی تعداد کافی ہے اور ان کے پاس وسائل بھی بالکل ابتدائی زمانے
کے مسلمانوں سے زیادہ ہیں۔ چنانچہ ان آیات کو پڑھ کر یہ کہنا کہ یہ ہمارے لیے نہیں
ہیں کیونکہ ہم کمزور ہیں ایک بہت ہی عجیب بات ہوگی۔ ہم سب کو چاہئے کہ ہم کامیابی
اور عزت کے اِن نسخوں اور غلبے کے ان طریقوں کو عمل کی نیت سے پڑھیں اور اللہ
تعالیٰ سے ایمانِ کامل اور توفیقِ عمل کی دعاء کریں۔
(۱۰) آیاتِ جہاد جمع کرنے کا سلسلہ ۱۹۹۵ء سے شروع ہوا تھا۔ ابتدائی طور پر چارسو سولہ آیات کی فہرست تیار ہوئی اور
تعلیم الجہاد حصہ چہارم کے عنوان سے ان آیات کا ترجمہ اور مختصر تشریح شائع ہوئی۔
قید سے آزادی کے بعد کتابوں تک رسائی ہوئی اور مطالعہ کا موقع ملا تو دیگر آیات کے
جہادی مضامین بھی علم میں آئے۔ اس دوران دوبار سورۃ الانفال کا اور دوبار آیاتِ
جہاد کا دورہ پڑھانے کی سعادت بھی ملی۔ اس تالیف کے دوران کراچی، ملاکنڈ، مردان
اور کوہاٹ میں منعقد ہونے والے ان دوروں کی تقاریر (جوکیسٹوں سے لکھی گئی ہیں) الحمدللہ کافی کام آئیں… کوہاٹ کے دورے کے بعد
یہ دورہ خود تو پڑھانے کی توفیق نہ مل سکی البتہ اللہ تعالیٰ نے کئی رفقاء کرام کو
یہ سعادت نصیب فرمادی۔ اب الحمدللہ کئی
سال سے یہ چھ حضرات پابندی کے ساتھ یہ دورہ پڑھا رہے ہیں۔ اور اب تک کئی ہزار
مسلمان اس دورے کے توسُّط سے قرآن پاک کا حکم جہاد سمجھ چکے ہیں۔ گزشتہ سال ان چھ
رفقاء کرام کی خدمت میں جو خط بھیجا گیا تھا وہ بھی اس تعارف کے آخر میں شامل کیا
جارہا ہے۔ امید ہے کہ اہل علم حضرات کو انشاء اللہ اس خط کے ذریعے اس دورے کی
افادیت سمجھنے میں آسانی ہوگی۔
(۱۱) قرآن پاک کے جہادی مضامین جب ہزاروں لاکھوں مسلمانوں تک
پہنچے تو اس بات کا تقاضہ بڑھ گیا کہ آیات جہاد کو تحریری طور پر بھی جمع کرلیا
جائے۔ گزشتہ سال عیدالاضحی سے کچھ پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ کام شروع کرنے کی توفیق
عطاء فرمادی۔ پہلے فہرستیں تیار کی گئیں اور پھر سورۃ البقرۃ سے کام کا آغاز
ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر ہے کہ بہت کم عرصے میں یہ مشکل کام سورۃ الانفال
کے آخر تک جاپہنچا۔ مگر اس کے بعد مزید کام نہیں ہوسکا۔ اب اگر اللہتعالیٰ نے چاہا
اور اپنا احسان اور فضل فرمایا تو سورۃ التوبہ سے یہ کام دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
تمام مسلمان قارئین اور قارئات سے دعاء کی درخواست ہے۔
(۱۲) اب تک جتنا کام ہوا ہے یہ بھی میرے بس میں نہیں تھا۔ اور نہ
ہی میں اس کام کا اہل ہوں۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ اس نے توفیق
عطاء فرمادی۔ اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ہے کہ اس نے مجھے مقبول دعائیں دینے
والے والدین عطاء فرمائے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ان دو بندوں نے دل کی محبت اور توجہ
سے مجھے خوب دعائیں دیں۔ جب بھی کام رُکا وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑائے اور
مالک الملک نے دروازے کھول دئیے۔ اللہ تعالیٰ میرے والدین کریمین کو جزائے خیر اور
دنیا آخرت میں ان احسانات کا بہترین بدلہ عطاء فرمائے۔ اس کتاب کو پڑھنے والے تمام
مسلمانوں سے بھی ان کے لئے دعاء کی التماس ہے۔ اور کس کس کے احسانات کا تذکرہ
کروں؟ الحمدللہ ہر کسی نے اپنی بساط سے
بڑھ کر میرے ساتھ معاونت کی۔ اور خوب خوب دعاؤں سے نوازا۔ کسی کا نام لکھوں تو کسی
کا رہ جائے گا۔ جبکہ ان سب نے یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے کیا اور اللہ
تعالیٰ تو سب کو جانتا ہے اور وہ تو شکور ہے شکور… بے حد قدردان… اسی سے دعاء ہے
کہ وہ ان سب کو اجر عظیم عطاء فرمائے۔
یا اللہ اس ادنیٰ سی ناچیز کوشش کو اپنی رضاء کے لئے قبول
فرما…قبول فرما…قبول فرما
ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم وتب علینا انک انت
التواب الرحیم
و صلی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیّدنا محمّد وعلٰی آلہ
واصحابہ
وازواجہ وبناتہ واتباعہ اجمعین وسلم تسلیماً کثیراً کثیرا۔
محمد
مسعود ازہر
۳؍صفرالخیر ۱۴۲۸ھ،
یوم
الاربعاء
آیات جہاد کا دورہ پڑھانے والے علماء کرام کی خدمت میں ایک
گذارش نامہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
چار فہرستیں حاضر خدمت ہیں:
(۱) مدنی سورتوں میں مضامین
جہاد والی آیات کی فہرست۔ اس میں کل ۵۵۸ آیات
کی نشاندہی کی گئی ہے۔
فتح الجواد کا کام شروع کرنے سے پہلے کئی بار پورے قرآن پاک
کی تلاوت کی گئی اور ترجمہ پڑھا گیا جس کے بعد یہ فہرست مرتب ہوئی ہے۔ جن جدید
آیات کو اس فہرست میں شامل کیا گیاہے اُن کے مضامینِ جہاد کو سمجھنے کے لئے حاشیہ
حضرت لاہوریؒ موضح القرآن (موضح قرآن) اور تفسیر کبیر کا مطالعہ
فرمائیں۔
(۲) دوسری فہرست مدنی سورتوں میں اشاراتِ جہاد والی آیات کی ہے۔
ادنیٰ تامل اور مطالعے سے اس فہرست کے اشارات کو سمجھا جاسکتا ہے۔
(۳) تیسری فہرست مکی سورتوں کی ان آیات مبارکات کی ہیں جن میں
جہادی اشارات بالکل واضح ہیں۔
(۴) چوتھی فہرست ان آیات کی ہیں جو ہماری فہرست میں شامل نہیں
ہیں مگر حضرت لاہوریؒ نے ان کو ربط کی بناء پر (نہ کہ مضمون کی بناء پر) جہادی
آیات قرار دیاہے۔
مبارکباد
احادیث وآثار سے بالکل صاف طور پر یہ بات سمجھ آتی ہے کہ
آخری زمانے میں پھر جہاد فی سبیل اللہ پوری آب وتاب اور شان وشوکت سے جاری ہوگا
اور زمین پر خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہوگی۔ آپ حضرات کا یہ دورہ آیات الجہاد
پڑھانا انہی بشارتوں کے قائم ہونے کا اشارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت پر جتنا
شکر ادا کریں کم ہے اور اس نعمت کی جس قدر ہوسکے قدر کریں۔
اُلجھن کی حاجت نہیں
باربار آیات کی تعداد میں تبدیلی سے کوئی الجھن پیدا نہ ہو۔
ہم نے کبھی بھی کسی تعداد میں حصر کا دعویٰ نہیں کیا۔ مقصد جہاد فی سبیل اللہ کا
احیاء ہے۔ جیسے ہی اس بارے میں علم کا اضافہ ہوتا ہے ہم یہ امانت مسلمانوں تک
پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ تفسیر میں رائے کا دخل نہیں ہے جب بھی اسلاف کی طرف سے
مستند اقوال سامنے آتے ہیں ہم ان کی پیروی کرتے ہیں اور اپنی رائے کو قطعاً کوئی
دخل نہیں دیتے۔ ماضی کے دوراتِ تفسیر کی کیسٹیں سن لیں ہر دورے میں یہی عرض کیا
گیا ہے کہ کسی تعداد میں حصر کا دعویٰ نہیں ہے۔ اب چونکہ تحریری کام شروع کرنا تھا
اس لیے ازسر نو محنت کی گئی ہے۔
غزوات کی تعلیم
دورہ تو قرآنی ترتیب سے پڑھائیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک
کی جو ترتیب قائم فرمائی ہے اسی میں خیر اور حکمت ہے چنانچہ پہلے سورۃ بقرۃ کی
آیات پھر اٰل عمران کی اسی طرح ھلمّ جرًّا… مگر جب کسی غزوے یا سریے کی
آیات آئیں تو سیرت المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے اس کی تعلیم کرادی جائے۔
اور مزید جو کچھ کہنا ہو وہ زبانی کہہ دیا جائے۔ اس سے ایک تو طلبہ کی مستند ماخذ
تک رسائی ہوجائے گی دوسرا دورے کا ماحول بھی ان شاء اللہ پرجوش ہوجائے گا۔
سورۃ انفال کی تقریر
کراچی میں سورۃ انفال کا جو دورہ ہوا تھا وہ کافی مفصل تھا
اگر تمام اساتذہ کرام ایک بار اُس کو سن لیں یا اُس کی لکھی ہوئی تقریر پڑھ لیں تو
ان شاء اللہ کافی فائدہ ہوگا… لکھی ہوئی تقریر میں کتابت کی کافی اغلاط ہیں۔
تازہ تحفے
کوہاٹ کا دورہ بھی لکھا جا چکا ہے اور مردان کا بھی۔ لکھائی
کافی صاف اور غلطیاں بہت کم ہیں۔ ان کی نقل (کاپی) حاصل کرلیں تو انشاء اللہ فائدہ
ہوگا… فتح الجواد بھی سورۃ برأۃ تک ہوچکی ہے (برأۃ شامل نہیں ہے) اگر سہولت سے
اس کی کاپی مل جائے تو انشاء اللہ مفید رہے گی۔ مگر اس میں ’’خصوصی ابحاث‘‘ کا
اضافہ باقی ہے۔
تنقید سے احتراز
جہاد پر قرآنی دلائل دلوں کی شفاء کے لئے کافی ہیں اس لیے
صراحۃً یا تعریضاً تبلیغی جماعت اور خانقاہوں وغیرہ پر ہرگز ہر گز تنقید نہ کریں۔
اپنی بات پوری قوت سے بیان کردیں ان شاء اللہ وہی کافی ہوجاتی ہے…
تاثرات
اگر ممکن ہو تو دورے کے بعد طلبہ کو عموماً اور شریک دورہ
علماء و خواص کو خصوصاً اپنے تاثرات لکھنے کی دعوت دی جائے پھر انہیں محفوظ کرکے
شعبہ دعوت تک پہنچادیں۔
میں نہیں
بندہ کی رائے یہ ہے… میرا خیال یہ ہے… احقر کی رائے یہ ہے
جیسے جملوں سے بچیں۔ ہم امت کے چھوٹے لوگ ہیں ہمیں بڑوں والی باتیں زیب نہیں
دیتیں۔ علم سارا لکھا جا چکا ہے اس لیے نہ کوئی تازہ تحقیق ہے اور نہ کسی کا تفرّد
۔کوئی بات ذہن میں آجائے اور پھر کتاب میں مل جائے تو توافق کا نعرہ لگانے سے
بچیں۔ آج کل حافظے کمزورہیں اس لیے اس دعوے میں غلطی ہوسکتی ہے ممکن ہے ماضی میں
ہم نے یہ تحقیق کسی سے سنی ہو یا کسی کتاب میں پڑھی ہو… ویسے بھی اس طرح کے نعرے
اور دعوے ہم جیسے طالبعلموں پر علم کا دروازہ بند کرسکتے ہیں کیونکہ مستکبر کو علم
نصیب نہیں ہوتا… بس خود کو اسلاف کی باتوں کا ناقل بتائیں اور اپنے دل میں بھی خود
کو ایسا ہی سمجھیں…
عصرحاضر
اسباق کے دوران عضر حاضر کی تحریکوں کا تعارف بھی آجائے۔
مسلک حقّہ کی دعوت بھی ضمناً چلتی رہے اور اپنی جماعت کی طرف پورے شرح صدر کے ساتھ
مسلمانوں کو متوجہ کیا جائے۔
ایک رنگ میں برکت
اگر سب ساتھی اپنی طرز ایک رکھیں… اور ایک ’’رنگ‘‘ میں
پڑھانے کی کوشش کریں تو اس میں فائدہ ہوگا اور یہ نامعلوم عرصے تک صدقہ جاریہ رہے
گا۔ ان شاء اللہ
دعاء کا اہتمام
سبق سے پہلے اور دورے کے دوران صلوٰۃ الحاجۃ اور دعاء کا
خاص اہتمام رہے تاکہ اوپر سے مدد آتی رہے …ایک غریب مسافر بھی آپ کی دعاؤں کا
محتاج ہے…
والسلام
خویدم
محمد
مسعود ازہر
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بے شمار ہیں… اللہ اللہ کیسا عجیب
اجتماع تھا… کوہاٹ والے سالہاسال تک اسے یاد رکھیں گے… اور باہر کے مہمان کوہاٹ
والوں کے دینی جذبے اور مہمان نوازی پر معلوم نہیں کب تک انہیں دعائیں دیتے رہیں
گے… ہزاروں مسلمان ایک اللہ کا نام بلند کر رہے تھے… ذکر اللہ کی ایسی محفلوں کو
اللہ تعالیٰ کے پاک اور نورانی فرشتے زمین سے آسمانوں تک گھیر لیتے ہیں…
اللہاکبرکبیرا… ایک صاحب فرما رہے تھے یوں لگتا تھا کہ میں جنت میں ہوں… خیر جنت
تو بہت اونچی جگہ ہے… مگر ایسی مجالس جنت تک پہنچنے کا ذریعہ ضرور بن جاتی ہے… حافظ
شیرازؒ نے بھی اسی لیے ’’کنارآب رکناباد‘‘ اور ’’گلگشت مصلّٰی‘‘ کا والہانہ تذکرہ
کیا ہے… اب آپ بتائیے کس کس کو اس اجتماع کی مبارکباد دی جائے… ان کارکنوں کو
جنہوں نے اس قدر محنت کی کہ راتوں کو دن بنادیا… ان ذمہ داروں کو جو ایک ایک لمحہ
مشکلات سے ٹکراتے رہے… اس بوڑھے بزرگ کو جو اپنے بیٹے کی کتاب علماء کرام کی خدمت
میں پیش کر رہا تھا… مگر وہ اپنے بیٹے کو نہ دیکھ سکا… پھر بھی اس کی آنکھیں تشکر
کے آنسو بہاتی رہیں… شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریاؒ کے جانشین حضرت مکی مدظلہ
کو… جو اسی تقریب میں شرکت کے لئے مکہ مکرمہ سے خاص طور پر تشریف لائے… آپ بتائیے
کس کو مبارک باد دی جائے… حضرت حافظ محمد صغیر صاحب مدظلہ العالی کو… دو شہید
بیٹوں کے والد جو بڑھاپے اور کمزوری کے باوجود رات کے تین بجے… پورے مجمع کو ساتھ
لے کر رب تعالیٰ کے حضور آہ وزاری کر رہے تھے… کربوغہ شریف کے سادات گھرانے کے
انمول موتی… علم وتقویٰ کے حسین امتزاج حضرت مفتی مختار الدین شاہ صاحب کو جنہوں
نے خوبصورت بیان فرمایا… گوجرانوالہ کے علمی وتفسیری خاندان کے چشم وچراغ حضرت
مولانا فیاض سواتی کو… جنہوں نے مجمع کو گرمادیا… یا میرے استاذ حضرت چنیوٹیؒ کے
جانشین حضرت مولنا محمد الیاس کو… ہاں یہ بہت نور بھرا اجتماع تھا… ایسے اجتماع
امت مسلمہ کو کبھی کبھار نصیب ہوتے ہیں… نہ ٹی وی نہ کیمرے اور نہ صحافیوں کے ناز
نخرے… نماز کی دعوت، جہاد کی دعوت، تلاوت قرآن پاک کی دعوت، جان قربان کرنے کا
عزم… اور اللہ ایک ہے اللہ ایک ہے کے سچے نعرے… یوں لگتا تھا کہ مدینہ والے پاک
نبی کے فدائی امتی بار بار ایک اعلان کر رہے ہیں کہ… آقا ہم آپ کے ہیں آقا ہم آپ
کے ہیں… مباکباد دینے بیٹھیں تو ایک لمبی فہرست ہے… اس چھوٹے سے مضمون میں کیا ہمت
کہ ان سب کا تذکرہ کر سکے… اس مجمع میں امت مسلمہ کے فاتحین موجود تھے… اس اجتماع
میں عملی میدانوں کی خوشبودار مٹی سنبھالنے والے مجاہد موجود تھے… اس محفل میں
مستقبل کے شہداء اور فدائی موجود تھے… اس محفل میں شہداء کرام کے خوش نصیب ورثاء
حاضر تھے… اس جلسے میں سینکڑوں علماء کرام موجود تھے…
وزیرستان کے نامور شیخ الحدیث اور اللہ والے بزرگ مولانا
محمد اسحاق صاحب نے پشتو میں خطاب فرمایا… جبکہ اپنی ایک ٹانگ جہاد میں قربان کرنے
والے نامور کمانڈر اور حضرت اقدس مفتی رشید احمد صاحبؒ کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا
عبدالحلیم صاحب خاموش توجہات بکھیر رہے تھے… برادر محترم مولانا مفتی منصور احمد
صاحب نے تاریخ کے موتی بکھیرے تو مولانا الیاس قاسمی نے انڈین جیلوں کے آنسوؤں کی
برسات میں مجمع کو رلادیا… میں آج کس کس کو مبارکباد دوں… کراچی سے آنے والے
مولانا سعداللہ صاحب کو… آزاد کشمیر سے تشریف لانے والے مولانا کمال الدین صاحب
کو… سندھ سے تشریف لانے والے حضرت مولانا علی نواز بروہی کو… تلاوت کی مشکبو فضاء
قائم کرنے والے قرّاء حضرات کو… دلوں کے تار ہلادینے والے نظم خوانوں کو… یا ساری
رات جم کر بیانات سننے والے مسلمانوں کو… ہاں یہ بہت لمبی اور بہت خوبصورت فہرست
ہے… جب سوا گیارہ بجے کتاب کا افتتاح ہوا تو وہ منظر دلوں میں اتر گیا… انکار جہاد
کے زمانے میں آیات جہاد کی کتاب سینہ تان کر… میدان میں اتر آئی… صرف ایک اللہ کی
نصرت سے… جی ہاں صرف ایک اللہ کی نصرت سے… پانچ سو اٹھاون مدنی آیات جہاد…
اللہاکبر اکتیس مدنی اشارات جہاد… اللہ اکبر… اور ستر مکی آیات میں جہاد کے اشارات
اور قصے… اللہ اکبرکبیرا… آہ کتنے بدنصیب ہیں وہ لوگ جو اتنی ساری آیات جہاد کا
انکار کرتے ہیں… خیر یہ موضوع الگ ہے… بات تو مبارکباد کی چل رہی ہے… اس کے مستحق
تو بہت لوگ ہیں… وہ چھ علماء کرام جن کے سروں پر دستار تحریض علی القتال سجائی
گئی… یاایہا النبی حرض المؤمنین علی القتال… یہ چھ خوش قسمت امتی… ہر سال مدینہ
والے نبی کی دعوت مسلمانوں تک پہنچاتے ہیں… اور آیات جہاد کی تفسیر پڑھاتے ہیں…
اللہ پاک نظربد سے بچائے یہ حضرات تو ماشاء اللہ قابل رشک ہیں… کوہاٹ کے علاقے تپی
کے وہ مہمان نواز لوگ… جنہوں نے اپنی مسجدیں، حجرے اور گھر مہمانوں کے لئے وقف
کردیئے… اور ان پر نصرت کا ایسا جنون سوار ہوا کہ صبح وہ مہمانوں کو ڈھونڈتے پھرتے
تھے… ان کی خواتین نے مہمانوں کے لئے پرتکلف کھانے پکائے… کس کس کو مبارکباد دی
جائے… ان مسلمان ماؤں اور بہنوں کو جنہوں نے اجتماع کی کامیابی کے لئے لمبے لمبے
وظیفے کیے… دوپٹے پھیلا کر دعائیں مانگی… اور ان میں سے بعض تو اجتماع والی پوری
رات مصلّے پر آہ وزاریاں کرتی رہیں… اے ربّا خیر… اے ربّا نصرت… اے ربّا حفاظت…
ہاں یہ بہت عجیب اجتماع تھا… اس میں بہت اونچے اونچے وعدے لیے جارہے تھے… یوں
سمجھیں مجمع کو کعبۃ اللہ اور روضہ رسول اطہر کے ساتھ جوڑا جارہا تھا… اور ان کو
قرآن پاک اور جہاد کا شیدائی بنایا جارہا تھا… مبارکباد کے مستحق لوگوں کے نام تو
لکھنے بیٹھ گیا ہوں… مگر مجھے معلوم ہے کہ بہت سے نام رہ جائیں گے… مسلمانوں کی
صفوں میں ایسے اونچے لوگ بہت ہیں… جو گمنام ہیں… وہ اللہ تعالیٰ کے ہیں… اور اللہ
تعالیٰ بھی ان کو صرف اپنا ہی رکھتا ہے… میری تمنا تھی کہ آج حضرت
لدھیانوی شہید… کو نہ بھلایا جائے… حضرت شامزی شہیدؒ کو بھی یاد رکھا جائے… اور
میرے محبوب مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ کا ذکر جمیل بھی نہ چھوٹے… اللہ پاک نے
ساتھیوں کی زبان سے وہ سب کچھ کہلوادیا جو ان حضرات کے لئے اس موقع پر کہا جانا
چاہئے تھا… مجمع فرشتوں کے گھیرے میں ہو… آسمان سے سکینہ نازل ہو رہا ہو تو پھر
خوف اور احتیاط منہ چھپا کر بھاگ جاتی ہے… عزیزم مولانا طلحہ السیف نے وہ سب کچھ
کہہ دیا جو عام طور سے نہیں کہا جاتا… یا نہیں کہا جاسکتا… انہوں نے شکر میں ڈوب
کر اپنے زمانے کو شاندار زمانہ قرار دیا… ہاں شکر گزاری کا یہی بہترین طریقہ ہے…
مبارکباد کے مستحق تو وہ ساتھی بھی بہت ہیں جو کراچی سے بیگ اٹھا کر چلے… اور چالیس
گھنٹے کے سفر کو اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنے لیے قیمتی اجر بنا آئے… اور وہ بھی جو
بلوچستان سے آئے… کہاں کوئٹہ اور کہاں کوہاٹ؟… مگر عشق کی کشش راستے سمیٹ دیتی ہے…
بنوں کے نامور علماء خود کو چھپا کر عام مجمع میں بیٹھے تھے… جبکہ سوات اور شانگلہ
سے درجنوں علماء کرام طویل سفر طے کرکے آئے تھے… اور ہمارے حضرت قاری عمر فاروق
صاحب مدظلہ کو یاد ہی نہ رہا کہ وہ کس قدر بیمار ہیں… ہاں بے شک اللہ تعالیٰ کی
نعمتیں بے شمار ہیں… اور جہاد اور جماعت نے الحمدللہ ساتھیوں کو ایک خاندان بنادیا ہے… جی
ہاں قوم، قبیلے، رنگ، نسل زبان اور علاقے سے بلند ایک ’’اسلامی برادری‘‘… سورۃ
انفال کے آخر میں ایسی برادری قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے … اورسورۃ برأۃ میں اس
برادری کے مرکز اور اس کی ذمہ داریوں کو سمجھایا گیا ہے … آج جبکہ ہر طرف لسانیت
کے بدبودار نعرے ہیں… ان سب کے درمیان مدینہ منورہ کے ماحول کی پیروی کرنا… اللہ
پاک کا خاص فضل ہے…
قریشی، اموی، حبشی، رومی، فارسی، غفاری… اللہاکبرکبیرا… سب
ایک ہوگئے تھے ناں؟… پھر اب کیوں پنجابی، پختوں، مہاجر، بلوچ اور سرائیکی کے نعرے
ہیں… ان نعروں کا انجام معلوم ہے کیا ہوگا؟… استغفراللہ، استغفراللہ… آخر میں یہی
کہا جائے گا کہ جب ہماری قوم ہی سب سے اونچی، سب سے اعلیٰ، سب سے مہذب، سب سے
بہادر اور سب سے بہترین ہے تو پھر نبی بھی… نعوذباللہ اپنا ہونا چاہئے… مکہ مدینہ
والے عربی نبی تو ہماری قوم سے نہیں تھے… ابھی چند دن پہلے ایک لسانی لیڈر نے
خلفاء راشدین پر اپنی ناپاک زبان چلائی… یہ لوگ کہاں جارہے ہیں؟… اور مسلمان ہونے
کے باوجود اسلام کے علاوہ کن زبانوں اور قومیتوں پر فخر کر رہے ہیں؟… اسلام نے تو
اپنے گھر میں سب کو برابر کی جگہ دی… اسی لیے تو بڑے ائمہ اور بڑے محدثین اکثر غیر
عربی ہیں… کیونکہ اسلام سب کا ہے… اور ہم سب اسلام کے ہیں… اے ساتھیو! اپنی اس
اسلامی برادری کی قدر اور حفاظت کرو… اور اسے مزید مضبوط بناؤ… الحمدللہ یہ اجتماع ’’اسلامی برادری‘‘ کا اجتماع
تھا… سب شرکاء کو بس یہی یاد تھا کہ ہم مسلمان ہیں… اللہ اکبرکبیرا… یہ کتنی بڑی
نعمت ہے… قبر میں نہیں پوچھا جائے گا کہ پختون تھے یا پنجابی… ہاں یہ ضرور پوچھا
جائے گا کہ تمہارا دین کیا تھا؟… اس لیے جو لوگ ہمیں یہ سبق یاد کرا رہے ہیں کہ ہم
مسلمان ہیں… وہ لوگ ہمارے محسن ہیں… یہ ہماری دنیا آخرت کامیاب بنانے کی فکر کر
رہے ہیں… اللہ پاک ان کو جزائے خیر دے… مبارکباد میں تذکرہ اگر حضرت قاری محمد
عرفان صاحبؒ کا نہ ہو تو بات بہت ادھوری رہ جائے گی… آج سے تین سال پہلے حضرت قاری
محمد عرفان صاحبؒ کے انتقال کے فوراً بعد… ایک مکتبہ قائم کیا گیا… اور اس مکتبے
کا نام حضرتؒ کے نام پر مکتبہ عرفان رکھا گیا… حضرت قاری صاحبؒ اللہ تعالیٰ کے
مقبول بندے تھے… الحمدللہ یہ مکتبہ خوب
چلا… سب سے پہلے لطف اللطیف جل شانہ نامی کتاب اس مکتبہ نے شائع کی… جس کے اب تک
ماشاء اللہ انیس ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں… اور پھر تو کتابوں کا ایک تانتا بندھ گیا…
اور اب فتح الجوّاد کی اشاعت کا تاج بھی اسی مکتبہ کو نصیب ہوا… مکتبہ عرفان والے
رفقاء اس سعادت پر اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کریں وہ کم ہے… اس مجلس کا مرکزی
خطاب تو حضرت اقدس مولانا عبدالحفیظ مکی صاحب مدظلہ کا تھا… اللہ پاک نے ان کی
آواز میں عجیب مٹھاس اور نور رکھا ہے… ان کی آواز سنتے ہی یوں لگتا ہے کہ کان دل
میں اتر آئے ہیں یا دل کانوں میں آ بیٹھا ہے… ماشاء اللہ عجیب لذت اور تازگی اللہ
پاک نے ان کے خطاب میں عطاء فرمائی ہے… امید ہے کہ اس اجتماع میں کیے گئے ان کے
مرکزی بیان کی کیسٹ انشا ء اللہ دور دور تک سنی جائے گی… ان کا بیان تو ماشاء اللہ
چشم بددور… مگر عزیزم مفتی عبدالرؤف صاحب نے بھی دل کھول کر رکھ دیا… اور اس
معاملے کی طرف توجہ دلائی جو اس وقت ملک کے دینی طبقوں کے لئے بے حد اہم ہے…
اجتماع سے ایک دن پہلے میں سوچ رہا تھا کہ اس ہفتے جو کالم لکھوں گا اس کا عنوان
ہوگا… ’’ایجنسیوں کے ایجنٹ‘‘ … اجتماع میں جب اللہ پاک کی توفیق سے عزیزم مفتی صاحب
نے اس موضوع کو لیا تو دل سے دعاء نکلی… آپ یقین جانیں اس ’’مکروہ الزام‘‘ نے
پاکستان کے اہل دین کی جڑوں کو کھوکھلا کرکے رکھ دیا ہے… ہر شخص دوسرے کو ایجنسی
کا ایجنٹ قرار دینے پر یوں تلا ہوا ہے جیسے وہ کوئی فرض ادا کر رہا ہو… اس مکروہ
اور ناپاک الزام کی داستان بہت دردناک اور دلخراش ہے… ہمارے محبوب حضرت مفتی محمد
جمیل خان شہید پر یہ الزام میں نے سب سے پہلے سنا… اللہاکبرکبیرا… کئی مولوی نما
لوگ یہی کہتے پھرتے تھے کہ جمیل خان ایجنسیوں کا آدمی ہے… پھر کراچی کی ایک گلی
میں ایجنسیوں کا یہ ایجنٹ کئی گولیاں کھا کر اپنے بچوں کے سامنے شہید پڑا ہوا تھا…
یہ ایجنٹ اپنے پیچھے چار سو مدارس، چالیس ہزار قرآن پاک کے طالبعلم، چھ ہزار سے
زائد حفاظ… اور جہاد وخدمت کی ایک انوکھی مثال چھوڑ گیا…
اے لوگو! کیا ایجنسیوں کے ٹاؤٹ ایسے ہوتے ہیں؟ کیا وہ مفتی
جمیلؒ جیسی قابل رشک زندگی جیتے ہیں؟… کیا وہ مفتی جمیلؒ جیسی موت کو گلے لگاتے
ہیں؟… اگر لعنت بھیجنا جائز ہوتی تو ان لوگوں پر بھیجتا جنہوں نے ایسے عظیم انسان
پر ایسا مکروہ الزام لگایا… پھر یہ الزام کس پر نہیں لگا؟… حضرت مولانا حق نواز
شہید کے جلسوں میں لوگ زیادہ آنے لگے تو اعلان ہوگیا کہ یہ ایجنسیوں کا ایجنٹ ہے…
حالانکہ ایجنسیاں تو ملک کے صدر کے جلسے کو کامیاب نہیں بنا سکتیں وہ ایک غریب
مولوی کے جلسے میں اتنا بڑا مجمع کہاں سے لے آئیں؟ … پچھلے الیکشن میں افغان جہاد
کی برکت سے لوگوں نے ایم ایم اے کو ووٹ دئیے… صوبہ سرحد میں ان کی حکومت بنی… اور
بلوچستان میں وہ حکومت کا حصہ بنے… تو ہر جگہ ایک ہی اعلان تھا کہ یہ ایجنسیوں کے
لوگ ہیں… یہ ملا ملٹری اتحاد ہے… خیر سیاستدان حضرات کا تو اپنا طریقہ کار ہے… وہ
حکومت حاصل کرتے ہیں اور ملک کے خفیہ ادارے خود حکومت کا حصہ ہیں… اور پاکستان میں
چونکہ فوجیانہ نظام حکومت ہے اس لیے یہاں کی سیاست پر بھی فوج کا پورا تسلط رہتا
ہے… مگر اس کے باوجود ہم نے کبھی بھی دینی سیاسی جماعتوں کو ایجنسیوں کا ایجنٹ
نہیں کہا… کیونکہ ہم اس ناپاک اور مکروہ الزام کی سنگینی کو سمجھتے ہیں… اور وجہ
اس کی یہ ہے کہ اسی الزام کی چھری سے مجاہدین کو طویل عرصے سے ذبح کیا جارہا ہے…
حالانکہ حکومت اور اس کے اداروں نے جتنی تکلیف مجاہدین اور ان کی قیادت کو پہنچائی
ہے اسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے… اگر مجاہدین ایجنسیوں کے ایجنٹ ہوتے تو وہ
آرام سے حکومت کر رہے ہوتے… مکمل پروٹوکول کے ساتھ گھوم رہے ہوتے… مگر وہ تو دربدر
ہیں… ان کی زندگی بعض اوقات موت سے بھی مشکل ہوجاتی ہے… ان کے گھر زیر نگرانی میں
… ان کے ٹیلیفون سنے جاتے ہیں… ان کو لمحہ بہ لمحہ ستایا جاتا ہے… اور موقع ملنے
پر ان کو مارا اور پکڑا جاتا ہے… یہ تو جہاد کی کرامت ہے کہ یہ لوگ پر عزم ہیں اور
اپنے کام پر ڈٹے ہوئے ہیں… کچھ عرصہ پہلے وفاق المدارس پر الزام لگاتھا کہ یہ
ایجنسیوں کا ادارہ ہے… پھر مولانا قاری محمد حنیف جالندھری پر الزام کا تیر چلا…
جب انہوں نے پنجاب کے ’’قرآن بورڈ‘‘ کی صدارت قبول کی… اور اب ہر اخبار میں بس یہی
شور ہے کہ لال مسجد، جامعہ حفصہ اور جامعہ فریدیہ والے ایجنسیوں کے ایجنٹ ہیں… آخر
یہ الزام کس بنیاد پر لگایا جاتا ہے؟… اسلام میں تہمت لگانا ناجائز ہے… بدگمانی
رکھنا جرم ہے… اور بلا ثبوت الزام لگانا بڑا گناہ ہے… پھر اچھے خاصے دیندار لوگ
اپنی قبر اور آخرت بھلا کر یہ الزام اتنی کثرت سے ایک دوسرے پر کیوں لگا رہے ہیں؟…
کراچی میں تو ایک پورا گروپ موجود ہے… یہ لوگ باقاعدہ گشت
اور ملاقاتیں کرکے لوگوں کو بتاتے ہیں کہ مجاہدین ایجنسیوں کے ایجنٹ ہیں… معلوم
نہیں یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو کیا منہ دکھائیں گے… پھر تعجب کی بات یہ ہے کہ سننے
والوں پر بھی شیطان کوئی ایسا جادو کردیتا ہے کہ وہ اس الزام کو فوراً قبول کرلیتے
ہیں… حالانکہ اگر تھوڑا سا بھی عقل سے کام لیا جائے تو اس الزام کا جھوٹا پن واضح
ہوجاتا ہے… مثلاً… الزام لگانے والوں سے پوچھا جائے کہ… ٹھیک ہے وہ لوگ ایجنسیوں
کے ٹاؤٹ اور آپ دین کے سچے خادم اور مجاہد اعظم… تو پھر آپ اتنے امن اور ٹھاٹھ کے
ساتھ کیسے پھر رہے ہیں؟… کیا امریکہ، برطانیہ اور پرویز مشرف کو آپ کا دین پسند
ہے؟… اگر مجاہدین ایجنٹ ہیں تو افغانستان میں کون لڑ رہا ہے؟… کشمیر میں کون
پہاڑوں کی برف کو اپنے خون سے سرخ کر رہا ہے؟… اور گلی گلی جہاد کے نام کو کون
زندہ کر رہا ہے؟… مگر لوگ کچھ نہیں پوچھتے کیونکہ اس الزام کے ساتھ شیطان کی پوری
قوت اور کشش جڑی ہوئی ہے… اور اس الزام نے دینی طبقے کو بے عزت اور بے وقعت بنا کر
رکھ دیا ہے… ہائے کاش یہ ظالمانہ سلسلہ بند ہوجائے… ہائے کاش ان لوگوں کو تو اس
الزام سے معاف رکھا جائے جن کی زندگیاں کانٹوں پر گزر ہی ہیں… کچھ عرصہ پہلے میں
نے نامور ملحد حسن نثار کا ایک کالم پڑھا… اس بدفطرت وبدصورت انسان نے لکھا کہ ملا
عمر اور اسامہ بن لادن سی آئی اے کے ایجنٹ ہیں … اور دلیل یہ دی کہ امریکہ کو
مسلمانوں پر حملے کے لئے بہانے کی ضرورت تھی… اس نے ان دونوں کو کھڑا کیا انہوں نے
امریکہ پر حملہ کیا… بس پھر امریکہ کو جواز مل گیا… اب جب امریکہ پوری دنیا کے
مسلمانوں کو ختم کرنا چاہے گا تو وہ ایک اور ملاعمر اور اسامہ کھڑا کرے گا… پھر ان
کو حکم دے گا کہ مجھ پر حملہ کرو… پھر اس حملے کو بہانہ بنا کر سارے مسلمانوں کو ختم
کردے گا… یہ تو اس کے ایک کالم کا خلاصہ ہے جبکہ دوسرے کالموں میں بار بار لکھتاہے
کہ… امریکہ ناقابل تسخیر ہے، امریکہ کے پاس یہ طاقت ہے وہ طاقت ہے… اب کوئی اس
بددماغ سے نہیں پوچھتا کہ امریکہ کو مسلمانوں پر حملے کے لئے اس طرح کے بہانوں کی
کیا ضرورت ہے… جس میں اس کے ہزاروں افراد مارے جائیں… کچھ عرصہ پہلے گوجرانوالہ کے
ایک نجومی نے اخبار میں لکھا کہ… انڈیا نے اپنا طیارہ جان بوجھ کر اغواء کرایا تھا
تاکہ پاکستان کو بدنام کرسکے… سبحان اللہ عجیب منطق ہے… میں نے اس نجومی کو فون
کیا اور اس کی خبر لی تو معانی مانگنے لگا کہ بس غلطی سے لکھ دیا… میرا مقصد یہ
نہیں تھا، وہ نہیں تھا… اللہ کے بندو! اسلام کے دشمنوں کو مسلمانوں پر حملے کے لئے
کسی بہانے کی ضرورت نہیں ہوتی… وہ جب قوت پاتے ہیں اور ہمت پکڑتے ہیں تو سب کچھ کر
گزر تے ہیں… اگر وہ رکے ہوئے ہیں تو ان کو اللہ پاک نے مجاہدین کی برکت سے روک
رکھا ہے… حکومت پاکستان نے دینی مدارس کے خلاف جو کچھ کرنا تھا وہ کر رہی ہے… بعض
مدارس حکومتی دباؤ کے تحت اپنا رخ بدل رہے ہیں… وہاں اب دنیا داری اور کمپیوٹر
بازی کا شور قرآن وسنت کی آواز پر حاوی ہو رہا ہے… مگر جو مدارس ڈٹے ہوئے ہیں ان
کے ساتھ اللہ پاک کی نصرت ہے… حکومت کا بس چلے تو ایک دن میں تمام مدارس بند کردے…
مگر اللہ تعالیٰ موجود ہے… اور اس نے زمین پر کافروں اور فاسقوں کو اتنی ہمت نہیں
دے دی کہ وہ دین کے ہر نشان کو مٹادیں… اب ان حالات میں حکومت والوں کو جامعہ حفصہ
کے بہانے کی کیا ضرورت ہے؟… علماء کرام میں سے اگر ایک بڑی تعداد کو لال مسجد
والوں کے طریقہ کار سے اختلاف ہے تو یہ ان کا شرعی حق ہے… وہ یہی فرمائیں کہ ہمیں
یہ طریقہ پسند نہیں ہے … مگر فوری طور پر ایجنسیوں کے ایجنٹ ہونے کا دعویٰ کردینا
اہل دین کی شان کے خلاف ہے… اور یہ ایسا الزام ہے جس کا ثبوت شاید کسی کے پاس بھی
نہ ہو… آج مجاہدین کو اور دینداروں کو جو قوت حاصل ہے وہ اللہ تعالیٰ کی نصرت سے
ملی ہے ایجنسیوں کی وجہ سے نہیں… کیونکہ ایجنسیاں تو خود بہت کمزور ہیں… امریکہ،
برطانیہ، نیٹو، پاکستان اور افغانستان کی پچاس سے زائد خفیہ ایجنسیاں مل کر بھی…
حضرت ملا محمد عمر صاحب کو نہیں پکڑ سکیں… یہ سب ایجنسیاں طالبان کو ختم نہیں
کرسکیں… یہ سب ایجنسیاں جیش محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طاقت کو نہیں توڑ سکیں… یہ
سب ایجنسیاں پاکستان کے مدارس کی ایک اینٹ بھی نہیں اکھاڑ سکیں… یہ سب ایجنسیاں
مجاہدینِ عراق کی مزاحمت کو نہیں توڑ سکیں…یہ سب ایجنسیاں کشمیر کی تحریک کو بند
نہیں کرسکیں… یہ سب ایجنسیاں پاکستان اور عالم اسلام میں علماء کرام کے اثر ورسوخ
کو کم نہیں کرسکیں… بلکہ… جب سے ان تمام ایجنسیوں نے جہاد، مجاہدین اور مدارس کے
خلاف عالمی اتحاد بنایا ہے… اس وقت سے الحمدللہ جہاد، مجاہدین اور مدارس کی قوت میں
اضافہ ہوا ہے… گذشتہ پانچ سال میں دنیا بھر میں مجاہدین کی تعداد میں چار سو گنا…
دعوت جہاد کی قوت میں تین سوگنا… اور مدارس کے طلبہ کی تعداد میں سوفیصد اضافہ
ہواہے… اب ہمارے پاس کہنے کے لئے دو ہی باتیں ہیں… ایک بات یہ ہے کہ جہاد،
مجاہدین، علماء اور مدارس کے ساتھ اللہ پاک کی نصرت ہے… اور دوسری بات حسن نثار
والی کہ… امریکہ تو نعوذباللہ خدائی طاقت رکھتا ہے… وہ جان بوجھ کر جہاد، مجاہدین،
علماء… اور مدارس کو ترقی دے رہا ہے تاکہ… وہ حسن نثار جیسے پکے مسلمانوں کو مارنے
کے لئے بہانہ ڈھونڈ سکے… کیونکہ بغیر بہانے کے اگر وہ حسن نثار کو مارے گاتو حسن
نثار کی لاش اس کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کردے گی… اب آپ بتائیے آپ ان دو
باتوں میں سے کس بات کے قائل ہیں؟…
یاد رکھیں اگر ہم نے اللہ تعالیٰ کی طاقت کو مانا اور ایک
دوسرے پر الزام تراشی نہ کی تو پھر… مستقبل مسلمانوں کا ہے… لیکن اگر ہم ایکدوسرے
کو ایجنسیوں کا غلام کہتے رہے تو پھر… شاید ہم خود دین کا وہ نقصان کر بیٹھیں جو
کافروں اور منافقوں کی پچاس ایجنسیاں مل کر بھی نہیں کرسکیں… الحمدللہ… کوہاٹ کے تاریخی اجتماع میں مسلمانوں
کی توجہ اس مسئلے کی طرف بھی بھرپور طریقے پر دلائی گئی… اللہ تعالیٰ سے امید ہے
کہ اس کا اثر ہوگا… اور انشاء اللہ بہت سے مسلمان اس ظالمانہ الزام سے بچیں گے…
اور اس خطرناک گناہ سے توبہ کریں گے… انہی الزامات کی نحوست سے وزیرستان میں
مجاہدین ایک دوسرے سے لڑ پڑے ہیں…
اللہ تعالیٰ تمام اہل دین کی حفاظت فرمائے… بات یہ چل رہی
تھی کہ اجتماع کی مبارکباد کس کس کو دی جائے… چونکہ سب کو مبارکباد دینا ممکن نہیں
ہے… اس لئے ہم اصل کام کریں… اور وہ ہے اس رب تعالیٰ کا شکر جس کی توفیق … اور جس
کے فضل سے یہ سب کچھ ہوا… اگر وہ نہ چاہتا تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا تھا… آئیے سر
بھی جھکائیں اور دل بھی جھکائیں… اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں… اور ہم میں سے
کوئی یہ نہ کہے کہ میں نے یہ کیا… میں نے وہ کیا… اور ہم میں سے کوئی یہ نہ سوچے
کہ سب کچھ میری محنت سے ہوا… میری دعاء سے ہوا… میرے نام سے ہوا… میری تقریر سے
ہوا… بلکہ ہمارا یقین ہو کہ ہم تو نااہل تھے… سب کچھ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوا…
اور اس نے ہمیں جو توفیق عطاء فرمائی اس پر ہم صرف اللہ تعالیٰ ہی سے بدلے اور اجر
کے امیدوار رہیں… اگر ہمیں یہ یقین نصیب ہوگیا تو ہم… خوش نصیب اور یہ اجتماع
ہمارے لئے مبارک… اور اگر ہم نے ’’میںمیں‘‘ شروع کردی تو پھر جس برتن میں سوراخ ہو
اس میں پانی نہیں ٹھہرتا… اللہ پاک ہم سب کو خوش نصیب بنائے اور اس اجتماع کی
برکات دور دور تک پھیلائے… اور محنت اور شرکت کرنے والے تمام علماء کرام،
بزرگوںاور ساتھیوں کو خوب خوب اجر عطاء فرمائے… کتاب کی پہلی جلد الحمدللہ منظر عام پر آچکی ہے… جبکہ آگے کا کام
کافی مشکل اور طویل ہے… حضرات علماء کرام نے اس کتاب کے بارے میں جو کچھ فرمایا ہے
… اس نے کتاب کے مؤلف کے بوجھ، شرمندگی اور احساس کم مائیگی کو اور بڑھا دیا ہے…
اب لاکھوں مسلمان دوسری اور تیسری جلد کا مطالبہ کر رہے ہیں… جبکہ ایک غریب، کم
علم، کمزور مسافر اکیلا بیٹھا سورۃ برأۃ شروع کرنے کی کوشش کر رہا ہے… کیا وہ یہ
بھاری کام کر پائے گا؟… ظاہر بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خاص مدد اور توفیق کے بغیر
بالکل ممکن نہیں ہے… ۱۹۹۵ء کے آخر میں جب اس نے مشرکین کی ایک جیل میں آیات جہاد کو
شمار کرنا شروع کیا تب بھی حالات خراب تھے… اور بہت مشکل… اس سے پہلے یہی کہا جاتا
تھا کہ قرآن پاک میں پونے دوسو آیات جہاد ہیں… تب اللہ پاک نے خاص رحمت فرمائی…
دلی کی تہاڑ جیل نمبر ۲ کے وارڈ نمبر پانچ کی ایک کوٹھڑی میں یہ کام شروع
ہوگیا… اور الحمدللہ آٹھ دس دن کی شبانہ
روز محنت سے چار سو سولہ آیات مبارکہ کی فہرست بھی بن گئی… ان کا ترجمہ بھی لکھا
گیا… اور مختصر سی تشریح بھی… یہ سب کچھ تعلیم الجہاد حصہ چہارم کے نام سے بار بار
شائع ہوتا رہا… جہاد سے محبت رکھنے والے حضرات بار بار کہتے رہے کہ ان آیات کی قدرے
مفصل تشریح آجائے… مگر موقع نہ ملا… پھر اچانک ایک ایسا سفر پیش آیا جس میں نہ
کوئی گھر رہا نہ کوئی وطن… امید تھی کہ یہ سفر جلد مکمل ہوجائے گا… یا گھر واپسی
ہوجائے گی یا قبر مل جائے گی… مگر سفر لمبا ہوتا چلا گیا… تب اللہ پاک نے پھر آیات
جہاد گننے کی توفیق دے دی… اب حالات دلی کی تہاڑ جیل سے الحمدللہ بہتر تھے کہ کچھ کتابیں میسر تھیں…
تہاڑ جیل میں تو بس قرآن پاک کے دو نسخے تھے… ایک پر حضرت تھانویؒ کا ترجمہ تھا
اور دوسرے پر حضرت شیخ الاسلامؒ کا حاشیہ… مگر اب تو عربی اور اردو کی کئی تفاسیر
سامنے تھیں… چند دن کی محنت لگی تو الحمدللہ چار فہرستیں بن گئیں… اور اپنی آنکھیں
بھی کھل گئیں… اور جہاد کے عجیب قرآنی معارف سامنے آتے چلے گئے… ابتداء میں ارادہ
یہ ہوا کہ ایک پورا قرآن پاک ترجمے کے ساتھ چھاپ دیا جائے… اس میں آیات جہاد کا
ترجمہ سرخ رنگ سے نمایاں کردیا جائے… اور حاشیے میں مختصر تشریح ان آیات جہاد کی
دے دی جائے… خیال یہ تھا کہ جب یہ قرآن پاک گھر گھر پہنچے گا … مسلمان اسکی تلاوت
کریں گے… اور سینکڑوں آیات کے نیچے سرخ ترجمہ دیکھ کر اسے نمایاں طور پر پڑھیں گے
تو ان کی آنکھیں کھل جائیں گی… اور وہ مرزا قادیانی کے جال میں آ کر جہاد کا انکار
نہیں کریں گے… اسی خیال کے تحت پورے قرآن پاک کا ترجمہ تیار کیاگیا… اور بہت اعلیٰ
کتابت میں قرآن پاک کا متن شریف بھی حاصل کیا گیا … مگر وہی ہوتاہے جو اللہ پاک
چاہتا ہے… اللہ تعالیٰ نے فرصت اور فراغت کا ایک گوشہ عنایت فرمادیا… عام دنیا اور
اس کے شور سے دور… وہاں جب کام شروع ہوا تو بڑھتا چلا گیا… اور چند مہینے میں سورۃ
انفال بھی مکمل ہوگئی… یہ ساری داستان سنانے کا ایک خاص مقصد ہے… اور آپ سب حضرات
وخواتین سے ایک لالچ ہے، ایک غرض ہے… اور ایک گزارش…
کیا آپ صرف ایک بار… کسی خاص وقت میں … اس غریب الدیار، کم
علم اور کمزور مسافر کو اپنی مقبول دعاء کا تحفہ دے سکتے ہیں؟… اللہ پاک جانتا ہے
کہ وہ آپ سب کی دعاء کا کس قدر محتاج ہے…
شب تاریک وبیم موج وگرداب چنیں ہائل
کجا دانند حال ما سبکساران سا حلہا
یہ حافظ شیرازؒ کا شعر ہے قاضی سجاد صاحب نے اس کا ترجمہ ان
الفاظ میں کیا ہے…
’’اندھیری رات اور موج کا خوف اور ایسا خوفناک بھنور…
ساحلوں کے بے فکرے (لوگ) ہمارا حال کب سمجھ سکتے ہیں‘‘…
اللہ پاک آپ سب سے راضی ہوجائے… آپ کو امن وعافیت عطاء
فرمائے… آپ ایک بار دعاء کردیں کہ… اللہ پاک فتح الجوّاد کے مؤلف کو آسانی اور
قبولیت کے ساتھ… بلا تعطل یہ کام مکمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے… یا اللہ آسان
فرما… یا اللہ قبول فرما…
کتنے دلوں میں تمنا ہے کہ جب یہ کتاب مکمل ہوجائے … تب ایک
بار پھر دین کے دیوانے جمع ہوں… وہ ’’اللہ ایک ہے‘‘… ’’اللہ سب سے بڑا ہے‘‘ کے
نعرے بلند کریں… کوہاٹ کے مسلمان پھر مہمان نوازی کا اجر لوٹیں… اور وادیٔ شہداء
سے جاتے وقت ہر شخص کہہ رہا ہو… شکر ہے اللہ پاک کا… اور شکریہ اہل کوہاٹ کا…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لئے جہنم کی آگ تیار فرمائی ہے … اور ہم مسلمانوں کو
اس آگ سے بچنے کا حکم دیاہے… ہائے جہنم کی آگ بہت خوفناک ہے بہت خطرناک… دنیا کے
سب سے طاقتور ایٹم بم جو آگ پیدا کرتے ہیں وہ جہنم کی آگ سے انہتر حصے ہلکی ہے…یا
اللہ ہمیں بچالے…یا اللہہمیں بچالے… اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی صلی اللہعلیہ
وسلم کو بھیجا تو ان کو ’’بشیر‘‘کے ساتھ’’نذیر‘‘ بھی بنایا… یعنی انسانوں کو اللہ
تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والا… جہنم سے ڈرانے ولا…
آج ہم مسلمانوں کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے
ورثاء کی ضرورت ہے جو ہمیں جہنم سے ڈرائیں … جو ہمیں جہنم کے بارے میں بتائیں… ہاں
آج ہم مسلمان کسی مخلص ڈرانے والے کے سخت محتاج ہیں… کیونکہ ہماری آنکھیں ان
آنسوؤں سے خشک ہوچکی ہیں… جو اللہ تعالیٰ کے خوف سے نکلتے ہیں…
’’دو آنکھوں کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی ایک وہ آنکھ جو
اللہ تعالیٰ کے خوف سے روئی ہو اور دوسری وہ جو جہاد فی سبیل اللہ میں پہرے داری
کرتے ہوئے جاگی ہو۔‘‘ (حدیث رواہ الترمذی)
میں اور آپ اپنی آنکھوں سے پوچھیں کہ اللہ تعالیٰ کے خوف
والے آنسو کہاں گئے؟… ہمیں دنیا کے چھوٹے چھوٹے مسئلے تو دن رات رلاتے ہیں… اور
ہمارے دماغ پر سوار رہتے ہیں… مگر ہم اس جہنم کو بھول گئے… جو بھڑک بھڑک کر کالی
ہوچکی ہے… جس کا ایک ذرہ زمین پرپھینک دیا جائے تو ساری زمین جل کر راکھ ہوجائے…
ہاں یہ جہنم موجود ہے…اور یہ ہمارے مسائل میں سے اہم ترین مسئلہ ہے… جو لوگ جہنم
کاانکار کرتے ہیں وہ کافر ہوجاتے ہیں … اور جو جہنم کو بھلادیتے ہیں وہ غافل
ہوجاتے ہیں… حالانکہ ہمارے محبوب آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار…جی ہاں
بے شمار بار ہمیں جہنم سے ڈرایا… اور ہمیں یاد دلایا کہ جہنم تیار ہے… جہنم بھڑک
رہی ہے… اس کی گہرائی ہزاروں سال کی مسافت سے زیادہ ہے… اور اس کے سانپ، بچھو، گرم
پانی، زقّوم… ہائے اللہ آپ کی پناہ… اے رحیم آپ کی پناہ… حضرت نعمان بن بشیر رضی
اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا… اور زور زور سے فرمایا
اَنْذَرْتُکُمُ النَّارَ، اَنْذَرْتُکُمُ النَّارَ … میں نے تمہیں جہنم کی آگ سے
ڈرایا ہے… میں نے تمہیں جہنم کی آگ سے خبردار کردیا ہے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے
قراری کے ساتھ یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھے سے گر کر پاؤں پر آپڑی…
آج کوئی ہے جو اس طرح تڑپ تڑپ کر جہنم کی خوفناکی سے امت کو بچانے کی فکر کرے؟… اب
تو وعظ کہنے والوں کو یہی فکر ہوتی ہے کہ بس تقریر خوب جم جائے… اب تو علماء بھی
ترقی اور معاشی پیکج پر خطبات دینے لگ گئے ہیں… کون ہے جو بازاروں میں غرق… اور
گناہوں میں مست مسلمانوں کو یاد دلائے کہ بس موت آنے ہی والی ہے… اے مسلمانو! جہنم
سے بچنے کی جان توڑ محنت کرو… آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اطلبو الجنۃ جُہدکم، واہربوا من النّار جہدکم، فان الجنۃ
لاینام طالبہا، وان النّار لاینام ہاربہا (الطبرانی)
یعنی جنت کو پانے کے لئے پورا زور لگاؤ اور جہنم سے بچنے کے
لئے بھرپور محنت کرو، کیونکہ جنت کو پانے والا سوتا نہیں اور جہنم سے بچنے والا
آرام نہیں کرتا…
آج کوئی ہے جو جاکر الطاف حسین کو لندن میں جہنم یاد دلائے…
یہ شخص کس قدر بے فکری سے مسلمانوں کو برباد کر رہا ہے… اس کے حکم پر جلسے جلوسوں
میں نکلنے والوں کو کہاں یاد ہے کہ ہم نے مرنا ہے… اور ہم اسلام کے خلاف اور
لسانیت پرستی کے حق میں اپنی زندگی تباہ کر رہے ہیں… کوئی ہے جو ان کو بتائے کہ جو
لوگ دنیا میں اللہ پاک کے خوف سے نہیں روتے انہیں آخرت میں بہت رونا پڑے گا… جہنم
میں جانے والے بدنصیب اتنا روئیں گے کہ ان کے چہروں پر ان کے آنسو نالیاں بنادیں
گے… پھر آنسو ختم ہوجائیں گے تو خون جاری ہوجائے گا… اور اتنا بہے گا کہ کشتیاں اس
خون میں چل سکیں گی… یا اللہ آپ کی پناہ… رب کعبہ کی قسم یہ سب باتیں سچی ہیں… لوگ
مذاق اڑاتے ہیں کہ دنیا کہاں تک پہنچ گئی اور تم جنت جہنم کی باتیں کرتے ہو… ہاں
ہم نے مرنا ہے اس لیے یہ باتیں کرتے ہیں… ہاں یہ باتیں رب تعالیٰ نے قرآن پاک میں
بیان فرمائی ہیں اس لئے ہم نے انہیں یاد رکھنا ہے… ہاں یہ باتیں ہمارے ہمدرد اور
محبوب آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی ہیں… اس لیے ہمارے نزدیک یہ باتیں
بہت ضروری ہیں… بہت ضروری… ورنہ شیطان تو ایسا ظالم ہے کہ ہمیں غفلت اور بے کاری
کے گڑھوں میں پھینک دیتا ہے… اور ہم کئی دن اور کئی راتیں اس بات میں گزار دیتے
ہیں کہ فلاں نے ہمارے بارے میں کیا کہا… فلاں نے ہمارے بارے میں کیا سوچا… اللہ
اکبر کبیرا… ہمیں عام انسانوں کی کی ہوئی ایک چھوٹی سی بات پریشان کردیتی ہے… جبکہ
ہم اس جہنم کو بھول جاتے ہیں جسے قیامت کے دن جب لایا جائے گا تو اس کی ستر ہزار
لگامیں ہوں گی… اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ کر لا رہے
ہوں گے۔(صحیح مسلم)
اور تو اور میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سب سے
لاڈلی… سب سے پیاری بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا تک سے فرمادیا:
یا فَاطمۃُ انقذی نفسَکِ من النّار، فانی لا املکُ لکم من
اللہ شیئًا۔ (مسلم)
اے فاطمہ اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ… میں تمہارے لئے
اللہ پاک کے آگے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں…
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہلیہ محترمہ… خوب گڑگڑا کر
اللہ تعالیٰ سے دنیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کی دعاء مانگ رہی تھیں…
آپ جانتے ہیں کہ یہ کوئی چھوٹی نعمت تو نہیں ہے… آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی
بیوی بن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنا… اللہ اکبر کتنی بڑی نعمت ہے… مگر
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سمجھایا کہ یہ دنیا کی چیزیں تو لکھی جا چکی ہیں…
تم اگر یہ دعاء مانگتی کہ اللہ پاک تمہیں جہنم اور عذاب قبر سے بچائے تو یہ زیادہ
بہتر اور افضل ہوتا(صحیح مسلم)
آج کی مسلمان عورت اگر قبر اور جہنم کو مسئلہ سمجھے اور اس
کی فکر کرے تو زمین کے آدھے جھگڑے ختم ہوجائیں… مگر کون یاد دلائے… انسان کو تو
نسیان کا مرض ہے… نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو بار بار یاد دلاتے تھے… اور ایسا یاد
دلاتے کہ عورتیں اور مرد بسا اوقات بے ہوش ہوجاتے… اور انہیں دنیا کے سارے مسائل
بھول جاتے… مگر اب تو واعظوں کا سارا زور اسلام کو سائنس کے مطابق ثابت کرنے پر
ہے… چبا چبا کر انگریزی الفاظ بولنے پر ہے… ہاں دل والا اسلام اور جذبوں والا
اسلام اب ہر جگہ سننے کو نہیں ملتا… ورنہ آج گلی گلی میں فساد نہ ہوتا… بے نظیر
بھٹو جس اعتماد کے ساتھ امریکی عزائم پورے کرنے کا اعلان کر رہی ہیں… یہ بھی نہ ہو
سکتا… کیونکہ مسلمان غفلت اور لالچ کے اس زنانہ بت کی بات ہی نہ سنتے… مگر اب تو
بازار، مارکیٹ، پیسہ، سیاست اور پروٹوکول کے شور نے… قرآن پاک کے ڈرانے کو بھلادیا
ہے… اور میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی بے قرار تقریریں بھی لوگوں کے کانوں تک
نہیں پہنچ رہیں… اور تو اور اسلام اور جہاد کا نام لینے والوں کو بھی آخرت، جنت،
جہنم، عذاب قبر یاد نہیں ہے… بس میڈیا، تصویر بازی اور سطحی شورشرابا ہے… کہاں گئی
سوز والی تلاوت جو دلوں کو زندہ کرتی ہے… کہاں گیا دل کی گہرائیوں سے نکلاہوا ذکر
جو دنیا سے بے رغبت کرتا ہے… کہاں گیا جنت کا وہ حسین تذکرہ جو انسان کو دین کی
خاطر جان قربان کرنے پر کھڑا کرتا ہے… کہاں گیا عذاب قبر کا وہ حقیقی منظر جو
انسان کو گناہوں سے روکتا ہے… اور کہاں گیا جہنم کا وہ بیان جو آنسو کھینچ لیتا
ہے… اور انسانوں کے اخلاق درست کرتا ہے… قرآن پاک تو سورۃ فاتحہ سے والناس تک یہ
سب کچھ بیان کرتا ہے… کیا ہم بھی ان مسائل کو ’’اہم‘‘ سمجھتے ہیں؟… کیا ہم ان
’’مسائل‘‘ کی فکر رکھتے ہیں؟… کیا ان مسائل کی یاد میں ہمارا دل روتا ہے؟…
میرے بھائیو! اور بہنو! اپنے آپ کو دیکھنے اور ٹٹولنے کی
ضرورت ہے… آخرت سے غافل ہونے کی وجہ سے ہم دنیا کے شہوت پرست جانور بن چکے ہیں… جس
کی نحوست سے ہم پر ظالم اور بے حیاء لوگ مسلط ہوچکے ہیں… کاش ہماری زندگی ایمانی
ہوتی… کاش ہماری زندگی ’’جہادی‘‘ ہوتی… ہاں رب کعبہ کی قسم جہادی زندگی مسلمانوں
کو مکان، دکان، کوٹھی اور ظالم حکمرانوں سے آزاد رکھتی ہے… جانے والے مسافر کبھی
ریلوے اسٹیشنوں پر اپنا وقت اور سرمایہ برباد نہیں کرتے… اسی طرح جہادی لوگ بھی
جنت تک پہنچنے سے پہلے سانس نہیں لیتے… میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں:
اِتَّقُوْ النَّارَ وَلَوْ بِشَقِّ تَمْرَۃٍ فَمَنْ لَّمْ
یَجِدْ فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ (بخاری)
جہنم سے بچو اگرچہ ایک کھجور کا کچھ حصہ دے کر… اور اگر وہ
بھی تمہارے پاس نہ ہو تو اچھی بات زبان سے نکال کر جہنم سے بچو…
اے میرے بھائیو!… اے مسلمان بہنو! جہنم کی آگ بھڑک رہی ہے…
انسان اور پتھر اس کا ایندھن ہیں… یہ آگ بہت خطرناک ہے… آج ہی سے صبح شام اس سے
بچنے کی پورے شعور کے ساتھ کوشش کریں اور اس سے پناہ مانگنے کو ہم سب اپنا معمول
بنالیں… صبح شام سات بار
اَللّٰہُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ
اور
رَبَّنَا اٰتِنَا فِیْ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِیْ
الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ
اور
رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَہَنَّمَ اِنَّ
عَذَابَہَا کَانَ غَرَامًا…
اور قرآن وسنت میں اس آگ کا منظر پڑھ کر تنہائی میں بیٹھ کر
روئیں… رونا نہ آئے تو رونے کی شکل بنائیں… اور یاد رکھیں خود کومسلمان یا مجاہد
کہلوالینا کافی نہیں ہے… اس آگ کو اپنے سے دور کرنے کے لئے کافی محنت درکار ہے… اس
محنت کے لئے آج ہی نکل کھڑے ہوں… جہاد میں جان دے کر، جہاد میں مال دے کر… صدقات
کرکے… عبادات کا اہتمام کرکے… رزق حلال کا التزام کرکے… اپنے اخلاق، معاملات اور
کاروبار کو اسلام کے مطابق بنا کے… الغرض پورا مسلمان بن کے ہم جہنم سے بچنے کی
فکر کریں… اور ان لوگوں سے بچیں جو غفلت کا پرچار کر رہے ہیں… دنیا دار سیاسی
لیڈر، غافل قوم پرست … روشن خیالی کے ناپاک بھوت… اور گناہوں کے سوداگر… ان سب سے
ہم دور رہیں… اور ہر عمل اللہ پاک کی رضا کے لئے کرنے کا پورا اہتمام کریں… یا
اللہ محض اپنے فضل وکرم سے ہم سب کو جہنم سے بچا… اور ہمیں اپنی رضاء اور جنت نصیب
فرما…آمین یا ارحم الرّاحمین
ایک جامع دعاء
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری اور جامع دعاؤں میں
سے ایک یہ بھی ہے:
اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْجَنَّۃَ وَمَا قَرَّبَ
اِلَیْہَا مِنْ قَوْلٍ اَوْ عَمَلٍ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ
اِلَیْہَا مِنْ قَوْلٍ اَوْ عَمَلٍ (کنز العمال ص۷۶ ج۲)
ترجمہ: اے میرے پروردگار میں آپ سے جنت کا سوال
کرتا ہوں اور ان باتوں اور اعمال کا جو جنت سے قریب کردیں اور میں آپ کی پناہ میں
آتا ہوں جہنم کی آگ سے اور ان باتوں اور اعمال سے جو جہنم کے قریب کردیں…
ایک بہت ہی اہم دعاء
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں یہ دعاء اس طرح (تاکید اور اہتمام) سے سکھاتے
تھے جس طرح قرآن پاک کی کوئی سورۃ سکھا رہے ہوں:
اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ جَہَنَّمَ،
وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ
الدَّجَّالِ، وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ (رواہ مالک
ومسلم وابوداؤد)
ترجمہ: اے میرے پروردگار میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں جہنم
کے عذاب سے اور آپ کی پناہ میں آتا ہوں عذاب قبر سے اور آپ کی پناہ میں آتا ہوں
دجال مسیح کے فتنے سے اور آپ کی پناہ میں آتا ہوں زندگی اور موت کے فتنے سے…
یہ دعاء یاد کرلیں ہر نماز کے تشہد میں درود شریف کے بعد اس
کا ہم سب اہتمام کریں… اور اس بات کو بھی دل میں بٹھالیں کہ ہمارے اصل ’’مسئلے‘‘
یہ معاملات ہیں نہ کہ وہ چیزیں، باتیں اور کام جو ہم دن رات سوچتے اور کرتے ہیں…
بے شک غربت، بے روزگاری اور بہت سے سخت مسائل امت کے سامنے ہیں… مگر جو شخص آخرت
کا سچا طالب بن جائے اس کے دنیاوی مسائل خود بخود حل ہوجاتے ہیں… اسی لیے کہا جاتا
ہے کہ موت کا مراقبہ کرنے والوں کو مالی تنگی نہیں ستاتی… ہے نا عجیب بات؟… آپ سچے
دل سے عمل کرکے دیکھ لیں آپ کو خود یقین ہوجائے گا… ان شاء اللہ…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں وہ نور اور روشنی عطاء فرمائے…
جس سے ہم اللہ تعالیٰ کی عظمت اور بڑائی کو پہچان سکیں… اللہ تعالیٰ معاف فرمائے
ہم کئی بار بے ادبی اور گستاخی کے جرم میں مبتلا یا شریک ہوجاتے ہیں… گستاخی اور
وہ بھی اللہ تعالیٰ کی… استغفراللہ … استغفراللہ… اس سے بڑا جرم اور کیا ہوسکتا
ہے؟ … اللہ پاک اخبارات کے کالم نویسوں کو ہدایت عطاء فرمائے … ان میں سے اکثر
ظالموں کو اللہ تعالیٰ کا مقام ہی معلوم نہیں … کل میں نے ایک ابھرتے ہوئے صحافی
کا کالم پڑھنا شروع کیا ابھی چند سطریں ہی پڑھی تھیں کہ وہ ظالم پٹڑی سے اتر گیا …
اور اللہ پاک کا یوں تذکرہ کر گیا جیسے نعوذباللہ کسی عام انسان کا … اس کے الفاظ
پڑھ کر میری روح کانپ اٹھی … اور میں نے اخبار بند کردیا … چند دن پہلے ایک بوڑھا
مزاح نگار جو روزنامہ ایکسپریس میں کالم لکھتا ہے ’’تقدیر‘‘ کی توہین کا مرتکب ہوا
… ایک اور کالم نویس نے نعوذباللہ اللہ پاک کے لئے ’’چھُٹی‘‘ کا لفظ استعمال کیا…
ایک اور ظالم نے یہ بکواس لکھی کہ چونکہ دنیا چھ دن میں بنی ہے اس لئے اتنی جلد
بازی میں ایسی بے کار دنیا ہی بن سکتی تھی… استغفراللہ استغفراللہ … یہی حال لطیفے
بازوں کا ہے جن کے لطیفوں کی کیسٹیں لوگ شوق سے سنتے ہیں… یہ لوگ بھی اللہ پاک کے
نام کی بے حرمتی کر جاتے ہیں… ارے ظالمو! مذاق اور مزاح کی باتوں میں عرش عظیم کے
رب کا تذکرہ کس طرح سے ہوسکتا ہے؟
یہ لوگ لطیفے گھڑتے ہیں کہ مولوی نے کہا میرے ساتھ اللہ
تعالیٰ ہے تو ٹریفک پولیس والے نے کہا پھر تو ڈبل سواری کا چالان کاٹتا ہوں…
ہائے میرے رب معاف فرما… لطیفے بکنے والوں کو کیا پتا کہ وہ
کس کا نامِ نامی لے رہے ہیں… اور دوسری طرف عام مسلمان جن کو عقائد تک کا صحیح علم
نہیں ہے ان لطیفوں پر قہقہے لگاتے ہیں… اور یوں اس بھیانک جرم میں شریک ہوجاتے
ہیں… ادھر شاعروں کا معاملہ تو کچھ زیادہ ہی بگڑا ہوا ہے… وہ تو اپنی بدزبانی سے
بارگاہ الٰہی کی بے حد توہین کے مرتکب ہوتے ہیں… فیض ہو یا فراز یہ مسلمانوں کے
روپ میں کفر اور بے ادبی کی خدمت کرتے ہیں… اور ہم صرف اس لئے ان کی ظالمانہ
گستاخی برداشت کر جاتے ہیں کہ وہ فن کے ’’استاد‘‘ ہیں … اللہ تعالیٰ کی ایک صفت
’’الحلیم‘‘ ہے یعنی بہت زیادہ حلم اور بردباری والا… جبکہ فیض بکتا
ہے ؎
اک فرصت گناہ ملی وہ بھی چار دن
دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے
نعوذباللہ، نعوذباللہ… اللہ پاک جزائے خیر عطاء فرمائے
’’زہیر‘‘ کو انہوں نے اس شعر کا کچھ یوں جواب دیا ؎
خود اپنے منکروں کی بھی کرتا ہے پرورش
دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے
ہمارے علاقے کا ایک شاعر جو کسی زمانے تک اچھے شعر کہتا
رہا… مگر پھر روزنامہ خبریں کے فاسقانہ ماحول میں گیا تو اس ظالم نے بھی عرش کی
طرف تھوکنے کی کوشش کی… وہ اپنے ایک سرائیکی شعر میں کہتا ہے… یا اللہ ہم جنت میں
اکھتر حوروں کے بغیر گزارا کرلیں گے تو ہمیں دنیا میں پیٹ بھر کر روزی دے دے…
اب جو بے روزگار مسلمان اس شعر کو پڑھے گا وہ اس بھیانک
گستاخی پر عش عش کرے گا… حالانکہ آج مسلمانوں پر جتنی بھی معاشی تنگی ہے وہ سب ان
کے اپنے کرتوتوں کا نتیجہ ہے…
آخر کس شریعت نے انہیں حکم دیا ہے کہ وہ شادی بیاہ پر
لاکھوں کروڑوں خرچ کریں… اور اس ہندوانہ خرچے کے لئے بھیک مانگتے پھریں… کس شریعت
نے حکم دیا ہے کہ مسلمان مکانوں پر مکان تعمیر کرتے رہیں … کس شریعت نے حکم دیا ہے
کہ سودی نظام کو اپنے اوپر مسلط کرکے اپنے رزق کے دروازوں کو تنگ کریں… خیر یہ الگ
موضوع ہے… مگر ایک مسلمان اللہ پاک سے اس طرح تو شکوہ نہیں کرسکتا جس میں طنز کا
عنصر شامل ہو… کہاں ہم چھوٹے چھوٹے کیڑے مکوڑے اور کہاں وہ عظمت والا رب جس کے
سامنے سورج چاند اور کُل کائنات پر نہیں مار سکتے… جس نے سات آسمان ایک کلمہ
’’کُن‘‘ سے پیدا فرمادئیے… جبکہ انسان ابھی تک ان آسمانوں کے قریب بھی نہیں پھٹک
سکا… اللہ پاک کے پیارے انبیاء نے بھوک برداشت کی مگر انہوں نے ایسا کوئی شکوہ
نہیں فرمایا… اور مسلمان جب اسلام پر عمل کرتا ہے تو وہ ساری دنیا کو بانٹ بانٹ کر
تھک جاتا ہے مگر اس کا مال ختم نہیں ہوتا… کچھ عرصہ پہلے ایک اخبار نے اپنے ’’سنڈے
میگزین‘‘ میں ’’ایک غریب ایک کہانی‘‘ کے نام سے بعض غریبوں کے انٹرویو کئے… میں نے
یہ انٹرویو غور سے پڑھے… ایک مسلمان ہونے کے ناطے مجھے غریبوں سے محبت ہے… میں جب
بھی کسی غریب کو دیکھتا ہوں تو فوراً دعاء کرتا ہوں کہ یا رب العالمین اس کو اپنے
فضل سے رزق کی وسعت عطاء فرمائیے… بھیک مانگتے بچے اور سڑکوں پر بیٹھے خلاؤں کو
گھورتے غریب بوڑھے دیکھ کر میرا دل خون کے آنسو روتا ہے… میں خوابوں خیالوں میں
ایسے تندور بناتا رہتا ہوں جہاں سے غریبوں کو عزت کے ساتھ مفت روٹی ملے… میں
خیالات کی دنیا میں ایسے ادارے قائم کرتا رہتا ہوں جہاں میں غریب بوڑھے لوگوں کو
عزت کے ساتھ رہنے اور کھانے پینے کی خدمت فراہم کرسکوں… بہاولپور میں مرکز عثمانؓ
وعلیؓ کی تعمیر کے مشورے کے وقت میں نے ساتھیوں سے عرض کیا کہ… اس میں ایک حصہ ان
لاوارث بزرگوں اور بوڑھوں کے لئے بنائیں جن کو مسلمانوں نے اور ان کے اہل خانہ نے
فراموش کرکے دھکے کھانے کے لئے چھوڑ دیا ہے… ہائے کاش مسلمان مالدار اپنی زکوٰۃ
ٹھیک ٹھیک ادا کرتے… ہائے کاش مسلمانوں کو معلوم ہوتا کہ بھوکے کو کھانا کھلانے پر
کیا کچھ ملتا ہے… تب وہ اپنے بیٹے اور بیٹی کو بعد میں کھلاتے پہلے کسی بھوکے کو
تلاش کرکے اس کی خدمت میں کھانا پیش کرتے… اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ نے تو زمین کو
رزق سے بھردیا ہے… مگر انسانوں کی ہوس اور مسلمانوں کی بددینی نے سارے مسائل کھڑے
کئے ہوئے ہیں… آج پاکستان میں زمینیں کیوں مہنگی ہورہی ہیں؟… صرف اس لیے کہ ملک کے
فوجی آفیسروں اور سود خوروں نے زمین کا کاروبار شروع کردیا ہے… چونکہ یہ لوگ ملک
کے حکمران بھی ہیں اس لئے اب انسانوں کو رہنے کے لئے تو درکنار قبر کے لئے بھی
زمین آسانی سے نہیں ملتی… اب ان حالات میں اللہ تعالیٰ سے شکوہ کرنے کی کیا گنجائش
ہے؟… اب حوروں اور جنت پر طنز کا کیا جواز ہے… یہ شراب خور شعراء ہمیں اپنے رب
عظیم سے کاٹنا چاہتے ہیں… میں نے ایک ترقی پسند شاعر کا مضمون دیکھا… وہ لکھ رہا
تھا کہ فیض صاحب لندن میں میرے مکان پر آئے… انہوں نے مکان دیکھنے کی خواہش ظاہر
کی… میں نے اپنی انگریز بیوی سے کہا کہ فیض صاحب کو پورا مکان دکھا دے… اب فیض
صاحب ایک ہاتھ میں بوتل پکڑے شراب بھی پیتے جاتے تھے اور میری بیوی کے ساتھ مکان
بھی دیکھتے جاتے تھے… جب بھی انہیں مکان کی کوئی چیز اچھی لگتی بے اختیار میری
بیوی کو چومنے لگ جاتے… یوں انہوں نے شراب کی مستی میں جھوم جھوم کر اور غیر عورت
کو چوم چوم کر مکان دیکھ لیا… اب آپ بتائیے کیا ایسا بدمست انسان مسلمانوں کا خیر
خواہ ہوسکتا ہے؟… شراب پی کر شعر کہنے والے… تیز میوزک لگا کر کالم لکھنے والے…
غیر ملکی دوروں کے لئے اپنا ایمان بیچنے والے… ہر گندگی میں منہ ڈالنے والے یہ قلم
فروش لوگ مسلمانوں کے دانشور کس طرح سے ہوسکتے ہیں؟…
اے مسلمانو! ان ظالم لوگوں سے دور رہو جو نعوذباللہ اللہ
پاک کا تذکرہ بھی طنز، مزاح اور بے ادبی کے زمرّے میں کرجاتے ہیں… اور ہم نادانستہ
طور پر ان کے کالم پڑھ کر اپنے ایمان کو خراب کر بیٹھتے ہیں… آپ خود سوچیں قرآن
پاک کی عظمت کس لئے ہے؟… اسی لئے ناں کہ وہ اللہ جل شانہ کی کتاب ہے… کعبہ کی عزت
کیوں ہے؟… اسی لئے کہ وہ اللہ پاک کا گھر ہے… ایمان کسے کہتے ہیں؟… اللہ پاک کو
اور اس کے احکامات کو دل سے ماننے کا نام ایمان ہے… فرشتے کیوں مقدس ہیں؟… اسی لئے
کہ وہ اللہ پاک کے فرمانبردار بندے ہیں… انبیاء علیہم السلام کی شان کیوں بلند
ہے؟… اسی لئے کہ اللہ پاک نے ان کو رسالت اور نبوت کے لئے منتخب فرمایا… کوئی بزرگ
عزت والا کیوں ہوتا ہے؟… اسی لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا ولی اور دوست ہوتا ہے…
مجاہد کا مقام اونچا کیوں ہے؟… اسی لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلمے کی سربلندی کے
لئے قربانی پیش کرتا ہے… نماز کیوں اچھی ہے؟… اسی لئے کہ وہ اللہ پاک کی یاد ہے…
روزہ کیوں افضل ہے؟… اسی لئے کہ وہ اللہ پاک کے ساتھ وفاداری کا اظہار ہے… حج کیوں
پسندیدہ ہے؟… اسی لئے کہ وہ اللہ پاک کے ساتھ عشق کا منظر ہے… زکوٰۃ کیوں اچھی چیز
ہے؟… اسی لئے کہ وہ اللہ پاک کے نام پر نکالی جاتی ہے…
اے مسلمانو! یہی معنیٰ ہے ’’ الحمدللہ رب العالمین‘‘ کا …
کہ جس چیز میں جو خوبی بھی ہے وہ اللہ پاک کی طرف سے ہے… اور اللہ پاک کی وجہ سے
ہے… اور اللہ پاک کی نسبت سے ہے… پھر یہ کونسا طریقہ ہے کہ ہم پیروں اور مرشدوں کا
تو احترام کریں… اور اللہ پاک کی عظمت بھول جائیں… ہم ہر کسی کو بڑے بڑے القاب دیں
اور اللہ تعالیٰ کا نام بے ادبی سے لیں… ہم ہر کسی سے ڈریں اور ہمارے دل میں اللہ
پاک کاخوف نہ ہو… ہم ہر کسی کے سامنے دبیں مگر اللہ پاک کے سامنے عاجزی نہ کریں…
حالانکہ ہمارا کلمہ ’’لا الہ الا اللہ‘‘ سے شروع ہوتاہے کہ اللہ پاک کے سوا حقیقت
میں کوئی کچھ بھی نہیں ہے… دنیا میں جس چیز کی کوئی شان ہے … وہ اللہ پاک کی عطاء
اور نسبت سے ہے… اور ہماری نماز کی ابتداء ہے ’’اللہاکبر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سب سے
زیادہ عظمت اور بڑائی والا ہے… یہی ہماری اذان کی ابتداء ہے… اور یہی ہمارا جینا
مرنا ہے… پھر کیا بات ہے کہ ہمارے دل اللہ پاک کی خشیت سے خالی ہیں؟… ہمارے قلمکار
اللہ پاک کا نام لکھتے ہیں تو ادب کے قرینوں کو بھول جاتے ہیں… ہمارے لطیفے باز
اللہ پاک کے نام کو لطیفوں میں استعمال کر رہے ہیں… ہم لوگ ان اوراق کی بے حرمتی
کرتے ہیں جن پر اللہ پاک کا نام لکھا ہوتا ہے… حالانکہ کئی گناہگار اسی لئے بخشے
گئے کہ انہوں نے اللہ پاک کے لکھے ہوئے نام کو ادب سے اٹھایا… اس کو خوشبو سے
مہکایا اور اونچی جگہ رکھ دیا… ہم لوگوں کے سامنے بن ٹھن کر جاتے ہیں اور نماز میں
اللہ پاک کے سامنے میلے کچیلے کھڑے رہتے ہیں… آخر یہ سب کیا ہے؟… ہم ایک فوجی افسر
یا تھانیدار کے سامنے بیٹھتے ہیں تو اپنی انگلیوں کو نہیں چٹخاتے… مگر نماز میں
ہمیں اپنے ہر عضو کی خارش یاد رہتی ہے… کسی فوجی کو بتائیں کہ وہ اپنے میجر کے
سامنے خارش کھجاکے دکھائے… ہم جب دنیا میں کسی سے کچھ مانگنے جاتے ہیں تو پوری
توجہ اس کی طرف رکھتے ہیں… مگر دعاء میں ہمارا کیا حال ہوتا ہے؟… حالانکہ ہم عظمت
والے رب عظیم سے مانگ رہے ہوتے ہیں… وہ رب عظیم جن کے سامنے جبرئیل علیہ السلام
تھرتھر کانپتے ہیں… جن کے سامنے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم درخت کی شاخ کی طرح
لرزتے تھے… ہاں جو اللہ پاک کو جتنا پہچانتا ہے اسی قدر ڈرتا ہے… اسی قدر ادب کرتا
ہے … اور اسی قدر محبت اور خشیت میں ڈوبا رہتا ہے… کاش موذن اذان دیتے وقت یہ
سوچتا کہ میں رب کی عظمت کا اعلان کررہا ہوں… تب اس کی اذان میں بلالی سوز ہوتا…
مگر اب تو آواز ہے اور لہجہ… اور یہ فکر کہ لوگوں کو اذان کیسی لگی؟… اللہاکبرکبیرا…
اللہ پاک کی یاد ہر عبادت کی روح ہے… اور ہم اسی روح سے محروم ہوتے جارہے ہیں… بے
شک بے ادب بے نصیب ہوتا ہے… اور بے ادبی بھی جب اللہ تعالیٰ کی ہو تو اس سے بڑھ کر
اور بڑا جرم کیا ہوسکتا ہے؟… میں اپنے تمام مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو اللہ
تعالیٰ کا واسطہ دے کر عرض کرتا ہوں کہ
۱۔ ہم سب اللہ تعالیٰ کی عظمت کو سمجھیں، قرآن
پاک کی اکثر سورتوں کا آغاز اللہ پاک کی شان اور تعریف کے بیان سے ہوتا ہے ہم اس
پر غور کیا کریں… اور وہ احادیث مبارکہ پڑھیں جن میں اللہ پاک کی عظمت کا بیان ہے…
اور خود اپنے دل سے پوچھیں کہ اللہ پاک کے بغیر دنیا اور آخرت میں رہ ہی کیا جاتا
ہے؟
۲۔ ہم جب بھی اللہ پاک کانام لیں عظمت سے لیں
اللہ تعالیٰ، اللہ پاک، اللہ جل شانہ… اللہ جل جلالہ … اللہ العظیم… اللہاکبر…
اللہ اجلّ… اللہ عز اسمہ … اور جب بھی اللہ پاک کا نام سنیں ہمارے دل ڈر جائیں…
سورۃ انفال میں بیان فرمایا گیا کہ اصل ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب ان کے سامنے
اللہ پاک کا ذکر آتا ہے تو وہ ڈر جاتے ہیں… کالے رنگ کے ایک غلام نے کلمہ پڑھا…
کلمہ پڑھتے ہی اللہ پاک کی عظمت دل میں بیٹھ گئی … وہ تڑپ کر پوچھنے لگے کہ جب میں
گناہ کرتا تھا تو کیا اللہ پاک مجھے دیکھتے تھے؟ جواب ملا جی ہاں… بس یہ سنتے ہی
چیخ ماری اور دل پھٹ گیا کہ… میرا محبوب مالک مجھے اپنی نافرمانی کرتے ہوئے دیکھتا
رہا پھر بھی پردے ڈالتا رہا… اور میں کتنا نالائق کہ اس کے سامنے اس کی نافرمانی
کرتا رہا… اللہ پاک نے اپنے اس بندے کو بخش دیا کہ اس کے دل میں اللہ پاک کے لئے
ڈر تھا… ادب تھا اور شرم تھی…
۳۔ عام اخبارات کے کالم نویسوں کے کالم اور
مضامین پڑھنا چھوڑ دیں خصوصاً طنز ومزاح لکھنے والے جو اس میں بھی اللہ پاک کا
تذکرہ کر جاتے ہیں اور اسلام کے خلاف لکھنے والے… یہ لوگ غیر محسوس طریقے سے
مسلمانوں کے دلوں سے اللہ پاک کی عظمت کم کرتے ہیں… اور اسلام اور شعائر اسلام کی
توہین کرتے ہیں… قرآن پاک میں واضح حکم ہے کہ دین کا مذاق اڑانے والوں کے ساتھ جو
بیٹھے گا وہ بھی ان ہی میں سے ہوجائے گا… پس ایسے لوگوں کے کالم پڑھنا ان کے گناہ
اور جرم میں شریک ہونا ہے… یہ بہکے ہوئے لوگ ہر گز اس قابل نہیں ہیں کہ ہم ان کی
باتیں پڑھیں یا سنیں… الحمدللہ اسلامی
دنیا میں ایک سے بڑھ کر ایک اچھی کتاب موجود ہے… اسلامی کتب خانہ بہت وسیع ہے… اور
اسلام کے خادم قلمکار بھی کسی دور میں کم نہیں ہوئے… آپ یقین کریں… اللہ پاک کی
گستاخی اور اللہ پاک کا بے ادبی سے تذکرہ ایک خطرناک ترین جرم ہے… میرا دل خون کے
آنسو رو رہا ہے اور میں صرف خیر خواہی کی بناء پر آپ سب کی منت سماجت کر رہا ہوں…
اللہ کے لئے اپنا ایمان بچائیں… اور میرے عظیم رب کے گستاخوں کو منہ ہی نہ لگائیں…
ہم مسلمان گناہگار تو ہوسکتے ہیں مگر ہم اللہ پاک کے باغی اور گستاخ تو نہیں
ہوسکتے… آپ نے خلافت عثمانیہ کا نام سنا ہوگا… ساڑھ پانچ سو سال تک یہ خلافت
مسلمانوں کی روحانی ماں بنی رہی… اور حجاز سے لے کر یورپ تک اس خلافت کا پرچم
لہراتا رہا… عثمانیہ خاندان کو اللہ پاک نے یہ عظیم سعادت صرف ’’ادب‘‘ کی وجہ سے
عطاء فرمائی… اس خلافت کا بانی اوّل ایک عام آدمی تھا… ایک رات غلطی سے وہ قرآن
پاک کی طرف پاؤں کرکے سو گیا… جب اسے معلوم ہوا تو ندامت کے مارے رونے لگا اور
ساری رات ادب سے کھڑا رہا… بس پھر کیا تھا اس خاندان کو اللہ پاک نے اپنے گھر
کعبۃاللہ اور مسجد نبوی تک کا سینکڑوں سال خادم بنائے رکھا… ہم سب مسلمانوں کو
چاہئے کہ قرآن پاک کا غایت درجے ادب ملحوظ رکھیں…
۴۔ ایسے لطیفے جن میں اللہ پاک کا نام استعمال
کیا جائے یا جن میں قرآن پاک یا فرشتوں کی بے حرمتی کا شائبہ ہو… ان کو ہر گز نہ
سنا جائے اور نہ آگے سنایا جائے… مضمون نویس حضرات جب مزاح لکھنے لگیں تو اس میں
انشاء اللہ اور ماشاء اللہ جیسے الفاظ تک استعمال نہ کریں…
۵۔ مشرکوں کے نزدیک، خدا، بھگوان، شیو، برہما،
دیوی، دیوتا کا ایک الگ اور غلط تاثر ہے… وہ جب چاہتے ہیں کسی کو پوجتے ہیں اور جب
چاہتے ہیں اسی کو گالی دیتے ہیں… انڈین فلموں میں بھگوان، خدا وغیرہ کے الفاظ کا
بہت گستاخانہ استعمال ہوتا ہے یہ فلمیں ویسے بھی مسلمانوں کے لئے زہر قاتل ہیں…
مگر ان کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ ان کی وجہ سے مسلمان کا اپنے رب تعالیٰ کے
بارے میں عقیدہ خراب اور کمزور ہوجاتا ہے اور بعض اوقات خالص کفریہ جملے ان فلموں
میں استعمال ہوتے ہیں… آپ خوش نہ ہوں کہ مسلمانوں کا نام رکھنے والے چند خبیث افراد
انڈین فلموں کے ہیرو ہیں… یہ خبیث تو مسلمانوں کے دشمن ہیں… شاہ رخ ہو یا سلمان
خان یا کوئی اور… فلم دیکھنا تو ویسے ہی جائز نہیں مگر انڈین فلمیں تو ایمان کے
لئے ازحد خطرناک ہیں… وہ بھگوان کوخدا کے معنیٰ میں لے کر پھر اسے گالیاں دیتے ہیں
جس سے مسلمانوں کے ایمان میں بھی سوراخ ہونے لگتا ہے…
اس لئے خود کو اور اپنی اولاد کو ہر طرح کی فلموں سے عموماً
اور انڈین فلموں سے خصوصاً بچائیں… اوروہ علماء کرام جو دین کی خدمت کے لئے ٹی وی
پر آنا شروع ہوگئے ہیں… اللہ پاک کی رضا کے لئے اپنے اس عمل پر نظر ثانی کریں…
کیونکہ اب کئی لوگ ان کا درس سننے کے لئے ٹی وی خریدیں گے… پھر آدھا گھنٹہ یہ درس
ہوگا اور باقی تمام وقت اللہ رب العالمین کی گستاخی اور نافرمانی… اور ماضی قریب
میں جن مسلمانوں نے ٹی وی جلادئیے تھے ان کو بھی جواب دینا ہوگا کہ حرمت اور خباثت
کا یہ اڈہ اب کس طرح سے حلال ہوگیا ہے… ٹی وی کو حلال قرار دینے والے حضرات سے
نہایت عاجزی کے ساتھ درخواست ہے کہ… اپنے اور دوسروں کے گھروں اور ایمانوں کو
جلانے سے پہلے ایک بار پھر غور فرمالیں… یا پھر مساجد میں بھی ٹی وی اور کیبل کی
اجازت دے دیں… اس لئے کہ اگر یہ جائز ہے اور اس پر درس قرآن سننا حلال ہے تو پھر
یہ مبارک کام مسجد میں بھی ہونا چاہئے… اللہ پاک حفاظت فرمائے…
۶۔ دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور بڑائی کا نور
پیدا ہوجائے… اس کے لئے ہم خاص طور سے دعاء کیا کریں… ایسی کئی دعائیں حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھائی ہیں… مناجات مقبول کی دعائیں ترجمے کے
ساتھ ملاحظہ فرمالیں اس موضوع کی کئی دعائیں مل جائیں گی… اگر میری قسمت میں ہوا
تو انشاء اللہ اسی کالم میں کبھی وہ دعائیں آپ کی خدمت میں عرض بھی کردوں گا… آج
صرف ایک دعاء بیان کی جارہی ہے… یہ بہت عجیب عاشقانہ اور والہانہ دعاء ہے… یہ دعاء
ایک بزرگ حضرت ابراہیم کرمانی ؒ سے مروی ہے وہ سجدے میں یہ دعاء مانگا
کرتے تھے… اور فرمایا کرتے تھے کہ میں جب بھی یہ دعاء مانگتا ہوں مجھے حکم
دیاجاتاہے کہ اسے خوب اچھی طرح سے مانگو… اس دعاء میں بھی اللہ تعالیٰ سے ادب کی
التجاء کی گئی ہے:
اَللّٰہُمَّ اُمْنُنْ عَلَیَّ بِـإِقْبَالِی عَلَیْکَ
وَاِصْغَائِیْ اِلَیْکَ وَاِنْصَاتِیْ لَکَ وَالْفَہْمِ عَنْکَ وَالْبَصِیْرَۃِ
فِی اَمْرِکَ وَالنَّفَاذِ فِیْ خِدْمَتِکَ وَحُسْنِ الاَْدَبِ فِیْ
مُعَامَلَتِکَ…
ترجمہ: اے میرے پروردگار مجھ پر احسان فرما کہ
میں تیری طرف متوجہ رہوں اور تیرے احکامات کو کان لگا کر سنوں اور تیرے حکموں کو
سنتے وقت خاموش رہوں اور تیری باتوں کو سمجھوں اور تیرے حکم کو پہچانوں اور تیرے
کاموں میں لگا رہوں اور تیرے معاملے میں خوب اچھی طرح سے با ادب رہوں…
آمین یا ارحم الراحمین… وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ
سیدنا محمد وآلہ واصحابہ وسلم تسلیما کثیرا…
خاص گزارش
اللہ تعالیٰ کے نام کی قسمیں زیادہ نہ کھائیں، خصوصاً
کاروبار میں اللہ پاک کا نام غلط استعمال نہ کریں… کسی پر لعنت نہ بھیجیں… بات بات
پر اللہ گواہ ہے، اللہ گواہ ہے نہ کہیں… اللہ تعالیٰ کا نام لے کر خود کو، دوسروں
کو اور بچوں کو بددعاء نہ دیں کہ خدا غرق کرے وغیرہ… اللہ تعالیٰ کے نام پر کسی کو
دھوکہ نہ دیں… یہ تمام باتیں چونکہ سخت بے ادبی کے زمرے میں آتی ہیں اس لئے ہم سب
ان سے بچنے کا پورا اہتمام کریں…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ اُن کے درجات بلند فرمائے… وہ اللہ تعالیٰ کے
شکر گذار بندے تھے… ان کا نام تھا ’’عبدالقیوم‘‘ اور وہ چترال سے تعلق رکھتے تھے
مگر طویل عرصہ سے کراچی میں مقیم تھے… عالم باعمل، عبادت گذار، متقی اور قناعت
پسند بزرگ تھے… جی ہاں حضرت مولانا عبدالقیوم چترالی استاذ جامعۃ العلوم الاسلامیہ
علامہ بنوری ٹاؤن کراچی انتقال فرما گئے ہیں… اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو جنت کا باغ
بنائے… وہ حضرت بنوریؒ کے معتمد ساتھی تھے… ایک زمانے تک جامعۃ العلوم الاسلامیہ
بنوری ٹاؤن میں ان کا ’’صرف‘‘ کا سبق معروف تھا… مجھے بھی ان سے علم ’’صرف‘‘ اور
ترجمہ قرآنِ پاک آخری دس پارے پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی… وہ ’’پاکباز‘‘ انسان تھے
بے حیائی والے گناہوں کا ایسا نقشہ کھینچتے تھے کہ انسان کو ان گناہوں سے طبعی گھن
آنے لگتی تھی… ان کی سب سے قابل رشک صفت ’’قناعت‘‘ تھی اپنی سائیکل پر بہت خوشی
اور شکر کا اظہار کرتے تھے… ایک بار کسی مہمان عالم کو اپنے گھر لے گئے… اس عالم
نے چھوٹا سا مکان دیکھ کر کہا حضرت! آٹھ نو بچوں کے ساتھ اتنے سے مکان میں کیسے
گذارہ ہوتا ہے؟… فرمانے لگے! بھائی کیا کہہ رہے ہو یہ تو بنگلہ ہے پورا ڈاک بنگلہ
اور ہماری ضرورت سے بھی زائد ہے… تہجد کا بہت اہتمام تھا آٹھ رکعت نماز میں ایک
بار یا دو بار سورۃ یس ٓ پڑھتے تھے… اور جمعرات کی رات سورۃ دخان پڑھنے کی فضیلت
بیان فرمایا کرتے تھے… کئی سال پہلے موت ان کے قریب سے گذر گئی… وہ اس گاڑی میں
موجود تھے جس پر فائرنگ کرکے حضرت اقدس مولانا مفتی عبدالسمیع صاحبؒ… اور حضرت
اقدس مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختار صاحبؒ کو شہید کیا گیا تھا… قاتلوں نے فائرنگ
کے بعد گن پاؤڈر چھڑک کر گاڑی میں آگ بھی لگادی تھی… مگر حضرت مولانا عبدالقیوم
صاحبؒ اس وقت بالکل محفوظ رہے… اور جلتی گاڑی میں سے صحیح سالم نکل کر خود مدرسہ
پہنچ گئے… بے شک موت کا وقت مقرر ہے اور اٹل ہے… اللہ پاک یہ حقیقت ہمارے دلوں میں
اُتار دے تو ہمارے بے شمار مسائل حل ہوجائیں… اللہ تعالیٰ حضرت مولاناؒ کے درجات
بلند فرمائے اور ان کے پسماندگان کے دلوں پر صبر برسائے… انّا للہ وانّا الیہ
راجعون… اللّہم لا تحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ… آمین یا رب العالمین… ’’القلم‘‘ کے
قارئین سے حضرت استاذ محترم ؒ کے لئے دعاؤں کی گذارش ہے…
دعائیں رنگ لارہی ہیں
محترم جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری نے لاہور کا مقابلہ بھی
جیت لیاہے… اللہ پاک کبھی مچھر کے ذریعے نمرود کو ہلاک فرماتا ہے… اور ہاتھیوں کا
لشکر ابابیلوں سے تباہ کرواتا ہے… کہاں ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب جیسے قد آور
انسان… اللہ اکبرکبیرا… اسلامی دنیا کا پہلا مسلمان سائنسدان جس نے خود اپنے زور پر
ایٹم بم بنایا… ایک بہادر، مقبول اور نیک انسان… مگر جنرل پرویز مشرف ان کو بھی
آسانی سے دبا گئے… اور پورا ملک خاموش تماشائی بنااپنے قومی ہیرو کی تذلیل دیکھتا
رہ گیا… صدر صاحب کا معدہ کافی طاقتور ہے کیونکہ اس معدے پر امریکی تندور لگا ہوا
ہے… نواز شریف ہضم، بے نظیر ہضم، اکبر بگٹی ہضم، اپنے پرانے فوجی رفقاء ہضم، دو
وزراء اعظم ہضم… تعجب کیجئے جمالی صاحب بھی ہضم… حالانکہ وہ کافی موٹے تازے انسان
ہیں… پھر افغان پالیسی ہضم، طالبان سفیر ہضم، کشمیر پالیسی ہضم، ’’حدود‘‘ والا بل
ہضم… چھ سو مجاہدین ہضم… قرآن پڑھنے والے معصوم بچے ہضم… وزیرستان اور بلوچستان کے
سینکڑوں مسلمان ہضم… اور معلوم نہیں کیا کچھ ہضم… مگر اب اچانک ایک ایسا لقمہ گلے
میں اٹک گیا ہے… جس کے اٹکنے کا تصور بھی نہیں تھا… چیف جسٹس صاحب اسلام آباد سے
لاہور پہنچے تو راستے میں عوام ہی عوام تھے… یہ لوگ چیف جسٹس کی محبت میں نہیں…
بلکہ جنرل پرویز مشرف سے تنگ آنے کی وجہ سے سڑکوں پر نکلے ہیں… عوام کے دل کے زخم
اب اُبھر رہے ہیں… ’’میںمیں‘‘ کرکے ظلم وستم ڈھانے والی روشن خیالی اب تیزہواؤں
میں لرز رہی ہے… حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول چکے ہیں… اونچے ایوانوں کے خفیہ کمروں
میں مارشل لا یا ایمرجنسی لگانے کے مشورے ہو رہے ہیں… مجاہدین کو شکار کرکے
مونچھوں کو تاؤ دینے والے شکاری اب اپنے اوپر بھونک رہے ہیں… اللہاکبرکبیرا… قربان
ہوجاؤں اپنے مالک کی شان پر کہ وہ کمزور مسلمانوں کی دعائیں کیسے سنتا اور قبول
فرماتا ہے… کچھ دن پہلے اللہ تعالیٰ کے بندوں نے ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ کی
رسّی پکڑ کر عرش تک اپنے نالے پہنچائے کہ… یا اللہ اس حکومت کا ظلم وستم اب تمام
حدود سے تجاوز کرچکا ہے… ابھی دعائیں گلے میں تھیں کہ پورا ملک ’’گو مشرف گو‘‘ کے
نعروں سے گونج اٹھا… اگر یہ تحریک علماء چلاتے تو ساری دنیا ان کے خلاف اٹھ کھڑی
ہوتی… اگر یہ تحریک دینی مدارس کے طلبہ چلاتے تو جنگی ہیلی کاپٹر اور ٹینک حرکت
میں آجاتے… مگر اللہ پاک نے وکیلوں کو کھڑا کیا اور روشن خیالی اپنا منہ دیکھتی رہ
گئی… واہ میرے مالک واہ… آپ کی شان جلّ جلالہ… انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑنے والوں
کی اپنی جڑیں ان کے ہاتھوں میں آگئی ہیں… کئی دن ہوگئے اخبار اداس ہیں کہ انتہا
پسندی کے خلاف کوئی بیان نہیں آیا… کوئی دھمکی نہیں چھپی… دعائیں کرنے والوں سے
گذارش ہے کہ… تھوڑی سی مزید ہمت کریں ایک بار پھر مصلّٰی بچھائیں… پھر ’’بسم اللہ
الرحمن الرحیم‘‘ پھردعائیں…
مظلوم قیدی عقوبت خانوں میں تڑپ تڑپ کر رو رہے ہیں… دربدر
پھرنے والوں کے لئے زندہ رہنا مشکل ہوگیا ہے… گوانتا ناموبے کا قید خانہ ہمارے
انہیں حکمرانوں کی ایجاد ہے… وہاں سے ایسے مسلمانوں کو لایا جارہا ہے جو ذہنی
توازن کھوچکے ہیں… اور ان میں سے ایک کا وزن بیس کلو رہ گیا ہے… کشمیر کے اس پار
مجاہدین خود کو تنہا اور بے بس محسوس کرنے لگے ہیں… بے حیائی سڑکوں پر نکل آئی ہے…
اور داڑھی برقعے کا مذاق اب ملک کا کلچر بنتا جارہا ہے… یہ سب کچھ ’’عذاب‘‘ ہے جو
ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہم پر مسلط ہے… مہنگائی، بھوک، بے حیائی، بددینی… اور
لاقانونیت … ملک ایک جنگل بن چکا ہے… اے دعاء کرنے والو… ایک بار پھر… ہاں دل کے
ساتھ زبان کو ملا کر… اور آنسوؤں کی لڑیاں پرو کر…
وہ دیکھو! دعائیں رنگ لا رہی ہیں…
فتح الجوّاد کی تصحیح
الحمدللہ ’’فتح
الجوّاد فی معارف آیات الجہاد‘‘ کو اللہ پاک نے مسلمانوں کی خوشی کا ذریعہ بنادیا
ہے… یہ کتاب مسلسل دو پریسوں میں چھپ رہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ لوگوں تک پہنچ رہی
ہے…
الحمدللہ الذی
بنعمتہٖ تتم الصالحات… ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ العلی العظیم … ’’فتح
الجوّاد‘‘ کی کتابت کے بارے میں ایک ضروری وضاحت عرض ہے کہ… اس کتاب کی تصحیح اور
پروف ریڈنگ پر الحمدللہ کافی محنت کی گئی
ہے… چھپائی سے پہلے کم از کم پانچ علماء کرام نے اس کی الگ الگ پروف ریڈنگ کی ہے…
اس لئے الحمدللہ اس میں غلطیاں نہ ہونے کے
برابر ہیں… جو چند غلطیاں رہ گئی ہیں وہ آئندہ اشاعت میں انشاء اللہ درست کردی
جائیں گی… اہم بات یہ ہے کہ ہر زبان چند سال بعد اپنا لہجہ اور انداز بدلتی رہتی
ہے… حضرت شاہ عبدالقادر صاحبؒ کے زمانے کی اردو اور آج کی اردو میں کافی فرق ہے…
تفسیر میں حضرت شاہ صاحبؒ کی اصل عبارتیں ہیں… بعض حضرات سمجھتے ہیں کہ یہ کتابت
کی غلطی ہے… پھر اکابر میں سے بعض حضرات کا اپنا ادبی اسلوب ہے… مثلاً حضرت مولانا
عبدالماجد دریا آبادی کئی الفاظ کے متعلق اپنی ایک مستقل رائے رکھتے ہیں وہ
’’جغرافیائی‘‘ کے لفظ کو درست نہیں سمجھتے بلکہ اسے ’’جغرافی‘‘ لکھتے ہیں… اسی طرح
ان کے ہاں ’’معاشرتی‘‘ کے لفظ کو ’’معاشری‘‘ لکھا جاتا ہے… اب بعض قارئین جیسے ہی
’’جغرافی‘‘ یا ’’معاشری‘‘ کا لفظ دیکھتے ہیں تو فوراً جیب سے قلم نکال کرغلطی کا
نشان لگادیتے ہیں… اور پھر خط لکھ کر مطلع بھی کرتے ہیں کہ یہ غلطیاں رہ گئی ہیں…
ایسے حضرات سے گذارش ہے کہ وہ اردو حوالوں میں جہاں غلطی محسوس کریں تو پہلے …
موضح القرآن، بیان القرآن، تفسیر حقانی، تفسیر عثمانی، تفسیر ماجدی وغیرہ… الغرض
جس تفسیر کی عبارت ہو پہلے وہاں ملاحظہ فرمائیں… حضرت تھانویؒ کا اسلوب نگارش الگ
ہے… حضرت لاہوریؒ کا الگ ہے… حضرت حقانیؒ کا الگ ہے… مؤلف فتح الجوّاد نے اکثر
مقامات پر ان حضرات کی عبارتیں من وعن نقل کی ہیں… اور جہاں ان کی عبارت زیادہ
مشکل محسوس ہوئی وہاں بریکٹ میں وضاحت کردی ہے… اور بعض جگہ اگر کسی عبارت کو
آسانی کی خاطر تبدیل کیا ہے تو وہاں لکھ دیا ہے کہ یہ اصل عبارت کا خلاصہ یا اس کی
تسہیل (آسان شدہ صورت) ہے… باقی رہا عربی عبارات پر اعراب کا معاملہ تو… کسی بھی
عربی تفسیر کی عبارت پر اعراب نہیں دیکھے گئے… عربی جاننے کا مطلب ہی یہی ہوتا ہے
بغیر اعراب کے عربی کو پڑھا اور سمجھا جاسکے…
باقی الحمدللہ ہر
عربی عبارت کا آسان اردو ترجمہ کردیا گیا ہے … جس سے عربی نہ جاننے والے مسلمان
پورا فائدہ اٹھا سکتے ہیں…
اللہ پاک کا احسان ہے کہ اتنے کم وقت میں… اتنی معیاری
چھپائی اور عمدہ کتابت کے ساتھ یہ کتاب منظر عام پر آگئی ہے… کتاب کے کافی حصے کا
پشتو ترجمہ ہوچکا ہے… جبکہ دیگر زبانوں میں تراجم کے لئے تیاری ہورہی ہے… اللہ پاک
آسان فرمائے… اللہ تعالیٰ قبول فرمائے…
آمین یا ارحم الرّاحمین…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو ’’شہادت‘‘ کی حقیقت اور
فضیلت سمجھا دے… دو دن ہوئے ہمارے پیارے اور بہادر کمانڈر حضرت ملا داداللہ اخوند
جام شہادت نوش فرماگئے… صلیبی فوجی اور ان کے حواری جنگل کے گیدڑوں کی طرح ’’شیر‘‘
کی لاش پر خوشی سے ناچ رہے ہیں… آہ ملا داداللہ … کفر کے لئے دہشت کا نشان… آج
میٹھی نیند سو گیا… وہ نیند جس کے پیچھے ایک خوبصورت زندگی ہے… ہاں بہت ہی حسین
اور اصلی زندگی… اُدھر ہمارے محبوب ساتھی اور بزرگ جناب ملک محمد سعید صاحب نے بھی
’’شہادت‘‘ کو پالیا ہے… ڈیرہ اسماعیل خان میں کل ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی… وہ
مجاہدین کے سرپرست بھی تھے اور محبوب بھی… اُن کی پیار بھری ادائیں ناقابل فراموش
ہیں… اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہوئے وہ اس فانی دنیا کو سلام کرگئے… اُدھر کراچی
میں حکومت نے قاتلوں کے رسّے کھول کر انہیں مظلوم مسلمانوں پر چھوڑ دیا… برطانیہ
کے دارالحکومت لندن سے ہمیشہ مسلمانوں کے قتلِ عام کے احکامات جاری ہوتے رہے ہیں…
اس بار بھی ایسا ہی ہوا… صدرِ پاکستان کو مبارک ہوکہ انہوں نے ایک بار پھر ’’عوامی
طاقت‘‘ دنیا کو دکھا دی ہے… وزیرستان، بلوچستان اور باجوڑ کے بعد کراچی میں صدر
صاحب کی ’’عوامی طاقت‘‘ مسلمانوں پر گولیاں برساتی رہی… پولیس کو حکم تھا کہ
آنکھیں کھلی رکھے اور ہاتھ بند… اور کسی کو قاتلوں سے بچ کر نہ بھاگنے دے… کراچی
خون میں لت پت کراہ رہا تھا… جبکہ اسلام آباد میں ناچ گانے کاشو… اور ننگے بالوں
والی ایک وزیر کے ناز نخرے عروج پر تھے… صدر صاحب نے ایک بار پھر بازو اٹھائے، ہوا
میں مکّے لہرائے… یا اللہ آپ نے تو سب کچھ دیکھا… باجوڑ سے لے کر کراچی تک کا خون
کچھ مانگ رہا ہے… اے میرے مالک بے شک آپ کے ہاں ہر چیز کا ایک مناسب وقت مقرر ہے…
ہماری سعادت اسی میں ہے کہ ہم آپ کی تقدیر پر راضی رہیں… بات شہادت کی چل رہی تھی…
صرف دو دن میں اتنے بڑے بڑے تین واقعات ہوگئے… ہم انسان ہیں اور اپنی فطری
کمزوریوں سے مغلوب ہیں… اسی لئے ملک سعید صاحب کی شہادت کا سنتے ہی دل پر مکا لگا…
کئی دعائیں زبان پر جاری ہوگئیں… پہلی دعا، جو قرآن پاک نے سکھائی ہے… انا للہ
وانا الیہ راجعون… یہ دعا بتاتی ہے کہ اللہ پاک نے ظلم نہیں کیا… اس نے اپنے ہی
بندے کو اپنی طرف بلایا ہے… اور آگے بھی ظلم نہیں ہوگا… کچھ دن بعد سب ہی اللہ پاک
کے پاس جمع ہوجائیں گے… دوسری دعا جو کسی مصیبت کے وقت پڑھنے کے لئے آقا مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم نے سکھائی ہے… اللّٰہم اجرنی فی مصیبتی واخلف لی خیرا منہا… ملک
صاحب شہید کی جدائی ہمارے لئے بہرحال ایک نقصان ہے ایسے مخلص، بے لوث اور قربانی
والے حضرات خال خال ہی ملتے ہیں… وہ ہماری جماعت کے لئے اللہ پاک کی ایک نعمت تھے…
جب جماعت پر پابندی لگی تو یوں بے چین تھے جیسے کسی ماں کا بچہ اس سے چھن گیا ہو…
مگر اللہ پاک نے جماعت کو بچا لیا تو ملک صاحب کی خوشی اور بہاریں بھی لوٹ آئیں…
ایک بار مجھے فرمایا کہ جب جماعت پر پابندی لگی تو میں کئی کئی گھنٹے تک اپنی بچی
کے ساتھ صرف اسی موضوع پر باتیں کرتا رہتا تھا… اُن کی محبت عجیب تھی… ایسی محبت
جو کسی حال میں بھی ’’بدگمانی‘‘ کا شکار نہیں ہوتی… میرا آپریشن ہوا تو وہ سیدھے
میرے گھر تشریف لے آئے۔ کچھ علماء کرام کو بعض حضرات نے بتایا تھا کہ میں نے جہاد
کے نام پر بہت مال، کوٹھی اور جاگیر بنالی ہے… ملک صاحب ان کو بھی ساتھ لے آئے اور
ان کا ذہن صاف کرکے گئے… اُن کا گھر مجاہدین کا پُر آرائش مہمان خانہ تھا… جہاں
ملک صاحب ہر آنے والے کا خوب اکرام فرماتے تھے… میں اکثر جس شہر میں بھی جاتا تھا
تو میزبانوں کی کثرت کی وجہ سے اس بات کا فیصلہ مشکل ہوتا تھا کہ کہاں قیام کیا
جائے… مگر ڈیرہ اسماعیل خان میں ملک صاحب شہید کا گھر مجھے اپنے ذاتی گھر کی طرح
لگتا تھا… ہم نہایت سکون سے وہاں چلے جاتے اور آسانی اور بے تکلفی کے ساتھ کھاتے
پیتے اور آرام کرتے… ملک صاحب جس طرح محبت کے ساتھ کھانا کھلاتے تھے وہ منظر میں
زندگی بھر نہیں بھول سکتا… وہ کھانے کے بڑے بڑے تھال دسترخوان پر سجا دیتے اور پھر
ہمیں اس طرح سے کھلاتے… جس طرح ماں اپنے چھوٹے بچوں کو کھلاتی ہے… اے میرے پیارے
رب… اب تو ہمارے ملک صاحب آپ کے پاس ہیں… انہوں نے صرف آپ کی خاطر ہمیں راحت
پہنچائی… ہمارا ان سے دین کے علاوہ کوئی اور رشتہ نہیں تھا… اے میرے مالک اب وہ آپ
کے پاس ہیں… آپ نے خود فرمایا ہے کہ آپ شہداء کرام کو کھلاتے پلاتے ہیں…
عِنْدَرَبِّہِمْ یُرْزَقُوْن… ہمارے ملک صاحب کو خوب کھلائیے… اے پیارے رب خوب
پلائیے… ان پر اپنی محبت برسائیے… ان کے اہل خانہ اور بچوں کی حفاظت فرمائیے…
انہوں نے اپنے گھر اور اپنی اولاد کو آپ کے دین پر لگا دیا تھا… بچی ماشا ء اللہ
عالمہ… ایک بیٹا حافظ و عالم… دوسرا بیٹا اس سال عالم بن جائے گا انشاء اللہ اور
تیسرا بیٹا گھر کا خدمتگار… اور ان کی اہلیہ محترمہ مجاہدین کے لئے کھانے بنا بنا
کر نہیں تھکتی تھیں… آج مجھے کسی نے بتایا کہ ماشا اللہ ان کے سب گھر والوں کا صبر
بھی قابل رشک ہے… وہ خوشی سے اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی ہیں… حالانکہ ملک صاحب
جیسا محبوب ان سے بچھڑ گیا… مگر گھر والے جانتے ہیں کہ ملک صاحب کہاں گئے ہیں؟ اور
شہادت کا مقام کتنا اونچا ہے؟… اللہ پاک ملک صاحب کے گھر، اولاد اور مال کو اپنی
حفظ و امان میں رکھے… اور ان کے خاندان میں دین اور جہاد کے کام کو مزید ترقی عطا
فرمائے… ہم ان کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لئے دعائیں کررہے ہیں… قرآنِ پاک کا
ایصالِ ثواب کررہے ہیں… اور ان کی نیکیوں، محبتوں اور وفائوں کو یاد کررہے ہیں… یا
ارحم الراحمین ہم سب کو صبر جمیل عطا فرما… اگر اللہ پاک نے توفیق عطاء فرمائی تو
ڈیرہ اسماعیل خان جانا ہوگا… مگر عمامہ باندھے، کالی سفید داڑھی والا میرا محبوب
میزبان گھر کا رستہ دکھانے کے لئے گاڑی کے آگے بھاگتے ہوئے… دوڑ دوڑ کر کھانا لاتے
ہوئے… میٹھی میٹھی باتیں کرتے ہوئے… اور جہاد کا کام منظم کرنے کے مشورے دیتے ہوئے
نظر نہیں آئے گا… ٹھیک ہے جیسے میرے مالک کی مرضی… میں بھی کسی کے گھر جانے کی
بجائے سیدھا قبرستان چلا جائوں گا… کسی سے پوچھوں گا… یہاں میرے ملک صاحب کا گھر
کونسا ہے؟… پھر اپنے ساتھیوں کو دور چلے جانے کا عرض کروں گا… اور ملک صاحب کے پاس
اکیلا بہت دیر تک بیٹھا رہوں گا… یہ بھی نہ ہوسکا تب بھی ٹھیک ہے… چند دن بعد میں
بھی تو اس دنیا کو چھوڑ جائوں گا… پھر تو انشاء اللہ ملاقات ہوجائے گی… یا ارحم
الراحمین ہم سب کمزوروں کی بخشش فرما … اور ہم سب ساتھیوں کو اپنی رحمت کے سائے
میں جمع فرما… ابھی ملک صاحبؒ کا غم تازہ تھا کہ افغانستان سے یہ دلخراش خبر آئی
کے… حضرت ملا داداللہ اخوند صلیبی بمباری میں شہید ہوگئے ہیں… صلیبیوں کا خنجر ایک
بار پھر مسلمانوں کے سینے پر چلا ہے… کوئی بات نہیں جنگ میں ایسا ہوتا رہتا ہے…
مسلمان کا کافروں کے ہاتھوں شہید ہوجانا… اس کے لئے عظیم کامیابی ہے… جبکہ مسلمان
کا کافروں کے ہاتھوں بِک جانا … اور گمراہ ہوجانا عظیم خسارہ ہے… کافر ایک طرف
بمباری کررہے ہیں… اور دوسری طرف ڈالروں اور بے حیائی کی برسات… جو مسلمان بمباری
کا شکار ہورہے ہیں وہ تو خوش نصیب ہیں… موت تو اپنے وقت پر ہی آتی ہے… جب یہ مہلک
اسلحہ ایجاد نہیں ہوا تھا تب بھی لوگ مرتے تھے… اور بسا اوقات طوفانوں، وبائوں…
اور زلزلوں سے ایٹم بم سے بڑھ کر نقصان ہوجاتا تھا… اس لئے ایٹم بم… اور بمبار
طیارے ایسی چیز نہیں ہیں جن کی وجہ سے ہم کافروں کو سجدہ کرنا شروع کردیں… اور
انہیں ناقابل تسخیر قرار دے کر جہاد کی منسوخی کا اعلان کردیں… ملا داداللہ ایک
بڑے جرنیل اور اسلامی تاریخ کے نمایاں فاتح تھے… انہوں نے سوویت یونین سے پنجہ
لڑایا… اور فتح یاب ہوئے… تحریک طالبان میں انہوں نے شمالی اتحاد کا مقابلہ کیا…
اور فتح یاب ہوئے… ان کی ایک ٹانگ قربان ہوچکی تھی مگر وہ چیتے جیسی پھرتی کے مالک
تھے… اور دشمن اُن کو ’’بے رحم‘‘ سمجھتے تھے… اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارْ… ہم
نے جب بھی اُن کا نام سنا بہادری، فتح… اور عزیمت کے عنوان سے سنا… کابل میں ان سے
پہلی ملاقات وزیراعظم کے محل میں ہوئی… حضرت امیر المومنین نے یہ محل اپنے نظامی
(فوجی) کمانڈروں کی کچھار بنا دیا تھا… ملا فضل اور ملا داداللہ نے ہماری دعوت کی
تھی… کافی بڑی اور پُر تکلف دعوت… اس دعوت کے دولہا حضرت اقدس مولانا محمد یوسف
لدھیانوی شہیدؒ تھے… حضرت مفتی محمد جمیل خان صاحب شہیدؒ بھی موجود تھے… اور دیگر
کئی اکابر بھی… ملا فضل… اللہ پاک ان کو رہائی عطا فرمائے… طالبان کے سپہ سالار
اور ملا داداللہ ان کے نائب تھے… یہ دونوں میزبان… علماء کرام کے سامنے یوں ادب سے
خاموش بیٹھے تھے جس طرح مدارس کے طلبہ اپنے بڑے اساتذہ کرام کے سامنے ہوتے ہیں… آہ
تحریک طالبان… تیری کس کس ادا کو یاد کرکے آنسو بہائوں… کتنے آنسو؟ آہ، آہ، آہ…
صدیوں سے یہ زمین ایسے حکمران دیکھنے کے لئے ترس رہی تھی… ملا داداللہؒ خاموش طبع
تھے… وہ خالص جنگجو مزاج کے حامل تھے… اُن سے دوسری ملاقات کراچی میں حضرت مفتی نظام
الدین شامزئی ؒ کے گھر میں ہوئی… حضرت لدھیانویؒ حضرت شامزئیؒ اور حضرت جمیلؒ
تینوں شہادت کا تاج پہن کر… خون میں غسل کرکے ایک ہی جگہ آرام فرما رہے ہیں… اُن
کی قبریں ساتھ ساتھ ہیں… اللہ اکبر کبیرا… ان حضرات کا آپس میں عجیب تعلق تھا اور
عجیب ساتھ… افغانستان پر صلیبی افواج نے… منافقین کے تعاون سے حملہ کیا تو ملا
داداللہ قندوز کے محاذ پر بھیج دیئے گئے… جنرل رشید دوستم سے طالبان کے مذاکرات
ہوئے تو ملا داداللہ نے اپنا پستول ہاتھ میں لے کر کہا… میں اپنی زندگی میں یہ کسی
کے حوالے نہیں کرسکتا… پھر وہ چھپتے چھپاتے واپس قندھار پہنچ گئے… اس وقت عالم کفر
پر سکتہ اور مسلمانوں پر خوشی کا عالم تھا… پھر کئی بار کافروں نے ملا داداللہ کی
شہادت اور گرفتاری کا جشن منایا… مگر اللہ تعالیٰ کا یہ سپاہی ہربار للکارا کہ میں
زندہ ہوں… اور مجھے گرفتار کرنا کافروں کے لئے کوئی آسان کام نہیں ہے… اللہ اکبر
کبیرا … افغانستان کا موجودہ جہاد دنیا کا سب سے مشکل ترین جہاد ہے… طالبان ظاہری
طور پر بالکل اکیلے ہیں… ہر جہاد کی کامیابی کے لئے ایک ’’دارالھجرۃ‘‘ کی ضرورت
ہوتی ہے… طالبان کو کوئی ’’دارالھجرہ‘‘ میسر نہیں ہے… افغانستان پر امریکہ اور
نیٹو کا قبضہ ہے… اور تمام پڑوسی ممالک طالبان کے بدترین دشمن ہیں… ایران،
ازبکستان اور پاکستان سب ہی عملی یا نظریاتی طور پر امریکہ کے معاون ہیں… عراقی
مجاہدین کو الحمدللہ عرب ممالک کے مالدار مسلمان جھولیاں بھر کر امداد بھیج رہے
ہیں… جبکہ طالبان کی معاونت کے لئے ایسا کوئی مالدار طبقہ موجود نہیں ہے… پاکستان
کے مالدار دینی ادارے دوسرے کاموں اور اپنے بچائو پر مال لٹا رہے ہیں… افغان جہاد
کے سابقہ اکثر کمانڈر امریکہ کے سامنے سر ڈال چکے ہیں… مجددی جیسے پیر طریقت،
گیلانی جیسے بزرگ، سیاف جیسے انقلابی لیڈر، ربانی جیسے مذہبی رہنما… اور اب سنا ہے
کہ حکمتیار بھی… سب ہی نے امریکہ کے سامنے سر جھکانے میں عافیت سمجھی ہے… ان حالات
میں امریکہ اور نیٹو کے ساتھ پنجہ لڑانا… اللہ اکبر کبیرا… بہت بڑا کام ہے… بہت ہی
اونچا کام… اور اس جہاد میں شرکت کرنے والے… اس زمانے کے بڑے اور سچے مسلمان ہیں…
یہی حال کشمیر اور عراق کے جہاد کا بھی ہے کہ … وہاں بھی ظاہری حالات مجاہدین کے
خلاف اور سامنے دشمن انتہائی طاقتور ہے… کاش دنیا کے عقلمند لوگ ان معرکوں کو غور
سے دیکھیں تو اسلام کی حقانیت پر ایمان لے آئیں… مگر بُرا ہو… نام کے مسلمان
صحافیوں کا… یہ ظالم طبقہ مسلمانوں کے ہر جہاد اور ہر کارنامے پر مٹی اور گندگی
ڈال رہا ہے… یہ کم عقل اور مال کے لالچی صحافی مجاہدین کی غلط تصویر پیش کرتے ہیں…
اور باہر کی دنیا کے لوگ اُن کو اندر کا آدمی… اور مسلمان سمجھ کر اعتبار کرلیتے
ہیں… یہی صحافی مجاہدین کو انٹرویو دینے پر مجبور کرتے ہیں کہ… اس سے بہت فائدہ
ہوگا… پھر جب مجاہدین انٹرویو دے دیتے ہیں تو یہی صحافی ان مجاہدین کے سیٹیلائٹ
ٹیلیفونوں کے نمبر کافروں کو دے دیتے ہیں۔ جی ہاں ڈالروں کے عوض… یہ صحافی مجاہدین
کے راز فروخت کرتے ہیں… اور اکثر بڑے مجاہدین ان ہی کی مخبری پر بمباری کا نشانہ
بنا دیئے جاتے ہیں… خود کو دین کا خادم کہنے والے ایک صحافی نے مجھے بہت مجبور کیا
کہ… آپ ایک بار ٹی وی پر آجائیں… اسلام اور جہاد کو بے حد فائدہ ہوگا… میں نے
انکار کیا تو وہ اڑا رہا اور کہنے لگا آپ چہرے پر رومال کا گھونگھٹ ڈال کر آجائیں…
میں نے پوچھا کیا فائدہ ہوگا؟… وہ عجیب عجیب فائدے گنوانے لگا… میں نے سوچا کچھ
بھی فائدہ نہیں ہوگا… جو ہماری بات سننا چاہتے ہیں وہ ہم سے مل سکتے ہیں… جلسوں
میں آسکتے ہیں… دنیا بھر میں پھیلی ہوئی کیسٹیں سن سکتے ہیں… کتابیں پڑھ سکتے ہیں…
مضامین دیکھ سکتے ہیں… لوگوں کو ہماری شکل سے کیا لینا دینا ہے؟… آواز اور قلم کے
ذریعہ پیغام پہنچتا ہے نہ کہ شکل کے ذریعہ… اب جو علماء کرام ٹی وی پر تشریف لارہے
ہیں وہ یہ بتائیں کہ… اُن کے درس کے وقت خواتین کیا کریں؟… اگر آنکھیں بند یا نیچی
کرلیں تو پھر ٹی وی اور ٹیپ ریکارڈ میں کیا فرق ہوگا؟… اور اگر آنکھیں پھاڑ کر
مولانا صاحب کی زیارت سے لطف اندوز ہوتی رہیں تو پھر… ان کے کان تو قرآنِ پاک سنیں
گے… اور آنکھیں گناہ کریں گی… ہمارے علاقے میں مستری اور مزدور جب کام کرنے کے لئے
کسی چھت پر چڑھتے ہیں تو کئی بار یہ اعلان کرتے ہیں!… ’’پردے والو پردہ کرو ترکھان
مزدور کوٹھے تے چڑھدے‘‘… یعنی پردے والو پردہ کرلو… مستری اور مزدور چھت پر چڑھ
رہے ہیں… ٹی وی پر درس کے لئے تشریف لانے والے علماء بھی کم از کم اپنا پروگرام
شروع کرنے سے پہلے… یہ آواز لگا دیا کریں… ’’پردے والو پردہ کرو مولانا صاحب ٹی وی
تے چڑھدے‘‘… مگر وہ تو بے دھڑک ہر کسی کے گھر میں ٹی وی کے ذریعہ گھس آتے ہیں… اور
خواتین آنکھیں پھاڑ کران کو دیکھتی ہیں… اور ممکن ہے بہت سی عورتیں تو ان غیر محرم
علماء کی زیارت کو ثواب بھی سمجھ رہی ہوں… دراصل جو صحافی حضرات دینداروں کے
’’رہنما‘‘ بن کر اُنہیں زمانے کی اونچ نیچ سکھاتے ہیں… وہی علماء اور مجاہدین کو
گھسیٹ گھسیٹ کر ’’منبر و محراب‘‘ سے گرا کر… ’’اسٹوڈیو‘‘ میں پھینک رہے ہیں… ٹی وی
کے بارے میں اچھی رائے یہ تھی کہ جو مجاہدین اور علماء خالص اچھی نیت سے بلا ارادہ
آجاتے ہیں… اُن کو برا نہ کہا جائے… کیونکہ یہ لوگ نہ تو کسی کو ٹی وی دیکھنے کی
دعوت دیتے ہیں… اور نہ ہی ٹی وی پر آنے کا خود اہتمام کرتے ہیں… اور جو لوگ اپنی
شہرت اور دکھاوے کے لئے آتے ہیں ان کا معاملہ اللہ پاک پر چھوڑ دیا جائے… اور اس
پورے معاملے کو ’’فتوے‘‘ اور ’’تحریر‘‘ کے زور پر جائز نہ کیا جائے… مگر اب تو سنا
ہے کہ یہ معاملہ ’’فتوے‘‘ تک جا پہنچا ہے… اور ٹی وی پر آنے کے لئے ’’دینی اموال‘‘
بھی ٹی وی چینل والوں کو ’’وقت کے کرائے‘‘ کے طور پر دیئے جارہے ہیں… اور بینروں
وغیرہ کے ذریعے لوگوں کو ٹی وی پر درسِ قرآن دیکھنے اور سننے کی ترغیب بھی دی
جارہی ہے… اللہ پاک رحم فرمائے اور اس مسئلے کو امت مسئلہ میں مزید نزاع کا ذریعہ
بننے سے بچائے… مجاہدین کی کئی جماعتیں کافی عرصہ سے کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور سی ڈیز
استعمال کررہی ہیں… کئی علماء کرام بھی وقتاً فوقتاً بعض حساس معاملات پر مجبوراً
ٹی وی پر آتے رہتے ہیں… کئی دینی پروگراموں میں صحافی حضرات گھس کر تصاویر اور
ویڈیو کلپس بناتے رہتے ہیں… یہ سب کچھ ہورہا تھا… اور ہوتا رہتا… ہر کسی کا معاملہ
اس کی نیت پر چھوڑ دیا جاتا… مگر فتویٰ، اہتمام، کرایہ ادا کرکے وقت خریدنا اور
تشہیریہ کام نہ ہوتے تو امتِ مسلمہ کے لئے بڑی خیر ہوتی… واللہ اعلم بالصواب… حضرت
ملا داداللہ شہیدؒ پر اللہ تعالیٰ کی حفاظت کا سایہ رہا… وہ قندھار سے لیکر
وزیرستان تک آزادانہ گھومتے تھے… وہ مسلسل سفر میں رہتے تھے اور کثرت سے سیٹیلائٹ
فون استعمال کرتے تھے… اُن کا وجود کفر کے لئے ایک طوفان کی طرح تھا… مگر بالآخر ہر
’’فاتح‘‘ نے زمین کو چومنا ہوتا ہے… ہر مزدور کو اجرت لینے کے لئے مالک کے پاس
جانا ہوتا ہے… ہر تھکے ہارے مسافر کو کسی شب بسیرا کرنا ہوتا ہے… ہر ذی روح کو
اپنی روح جسم کے پنجرے سے آزاد کرنی ہوتی ہے… اور ہر مقبول مجاہد کو شہادت کی
لیلیٰ سے نکاح کرنا ہوتا ہے… ملا داداللہ کی فاتحانہ زندگی کا اختتام… بہادرانہ
شہادت پر ہوگیا… عزت، غیرت، عزیمت اور بہادری کا ایک انوکھا باب تاریخ کا حصہ بن
گیا… ملا محمد عمر مجاہد کے اسلامی لشکر کا سپہ سالار… اپنا کام پیچھے والوں کے
سپرد کرکے آرام کرنے… اور اجر پانے چلا گیا… کافروں اور منافقوں کے لئے خوشی کی
کوئی بات نہیں ہے… ہر باعمل مجاہد شہادت سے پہلے اپنا ایک پورا لشکر تیار کرلیتا
ہے… اور جب اس کا خون زمین پر گرتا ہے تو… اس کا لشکر دشمن کی طرف کوچ کا اعلان
کردیتا ہے… ہاں اے اسلام کے دشمنو! کل تک ملادادا اللہؒ خود تم سے لڑتا تھا… اب اس
کا خون تم سے لڑے گا… اور شہید کے خون کو تم شکست نہیں دے سکتے…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو آزماتا ہے… بھائی سعودمیمنؒ کو
بھی خوب آزمایا گیا… مگر یکم جمادی الاولیٰ ۱۴۲۸ھ جمعۃ المبارک کے دن اُس کی آزمائش کے دن ختم ہوگئے… مظلومیت اور شہادت کی
موت زندگی بن کر آئی اور اُسے اپنے ساتھ لے گئی…وہ جب سے گھر واپس آیا تھا بے شمار
لوگ اس کی زندگی اور صحت یابی کی دعائیں مانگ رہے تھے… مگر جنہوں نے خود جاکر اُسے
دیکھا وہ یہی کہتے تھے کہ اب اس کا اپنے محبوب رب کے پاس جانا ہی بہتر ہے…
اُس کا وزن اٹھارہ بیس کلو رہ گیا تھا… دماغ کی بعض رگیں
پھٹ چکی تھیں… وہ کسی کو نہیں پہچان سکتا تھا… اس کی زبان ’’اپنی داستانِ غم‘‘
سنانے سے قاصر تھی… کہاں وہ بھاگتا دوڑتا، ہنستا مسکراتا خوبصورت جوان… اور کہاں
یہ ہڈیوں کا ایک مظلوم ڈھانچہ… ہاں بے شک یہ دنیا فانی ہے… معلوم نہیں یہ سب کچھ
دیکھ کر بھی ہم کیوں اس دنیا سے دل لگاتے ہیں؟… سعودمیمن کو جنوبی افریقہ سے
گرفتار کیا گیا تھا… پھر اُسے گوانٹانامو بے لے جایا گیا… مگر وہ تو پاکستانی حکام
کو مطلوب تھا… وہ اسے اپنے امریکی یاروں سے واپس پاکستان لے آئے… اور پھر وہ سب
کچھ ہوا جو پاکستان کے عقوبت خانوں میں ملک کی حفاظت کے نام پر ہو رہاہے… سعود اگر
مجرم تھا تو حکومت اسے عدالت میں پیش کرتی… مگر کہاں؟… ہم تو ایک ایسے جنگل میں
رہتے ہیں… جس میں کالے سانپ اور موٹے اژدھے آزاد ہیں… اور یہی لوگ قانون کے
رکھوالے ہیں… اس جنگل میں انسان ہونا جرم ہے… اور مسلمان ہونا اس سے بھی بڑا جرم…
کچھ دن پہلے خبر ملی کہ سعود میمن گھر واپس آگیا ہے… خبر
مختصر تھی چنانچہ دل بہت خوش ہوا… مگر پھر تفصیلات آتی چلی گئیں اور خوشی نے صبر
کی گود میں پناہ لے لی… گوانٹاناموبے سے اور بھی کئی قیدی واپس آئے ہیں… ان قیدیوں
نے وہاں کی دلخراش داستانیں سنائیں… مگر ان کے جسموں میں کچھ طاقت بھی باقی تھی…
اور ان کا دماغ بھی سوچنے اور پہچاننے کے قابل تھا… شاید امریکی فوجی پاکستانی
تفتیش کاروں سے بہت کم ظالم ہیں… میں نے ایک بار فوج کے ایک بڑے افسر سے کہا… آپ
لوگ اپنے اہلکاروں کی اخلاقی تربیت کیوں نہیں کرتے… یہ لوگ ماں بہن کی گالیاں دیتے
ہیں… اور قیدیوں کے ساتھ بے حیائی پر مبنی تشدد کرتے ہیں… کیا راز اگلوانے کے لئے
ان دوکاموں کے علاوہ اور کوئی طریقہ نہیں ہے؟… انہوں نے وعدہ کیا کہ میں دیکھوں
گا… مگر کون اس بدنصیب قوم پر رحم کھاتا ہے… یہاں تو انسانوں کے لئے کوئی قانون
نہیں ہے… میں ایک بار زیر حراست تھا… میری نگرانی پر مامور ایک اہلکار نے مجھے
کہا… آپ شکر کریں آپ پر تشدد نہیں ہورہا… اور آپ کے دو ساتھی بھی آپ کے ساتھ ہیں…
ورنہ قریب ہی ایک حراستی مرکز ہے… وہاں ہر وقت چیخوں کی آواز گونجتی رہتی ہے…
ہمارا ایک افسر بہت زبردست تھا… اس کا آرڈر تھا کہ میں جب بھی یہاں آؤں مجھے صرف
اور صرف چیخوں کی آواز آنی چاہیے… چنانچہ تمام ملازم ہر وقت الرٹ رہتے تھے… انہیں
جیسے ہی صاحب کی آمد محسوس ہوتی وہ لاٹھیاں لے کر قیدیوں پر پل پڑتے… تب صاحب
چیخوں کے شور میں مسکراتے ہوئے تشریف لے آتے… میں نے یہ کہانی سنانے والے اہلکار
سے کہا… کوئی بات نہیں تم مجھے نہ ڈراؤ… ڈرنے کی بات ہی کیا ہے… انسان کے ساتھ وہی
کچھ ہوتا ہے جو اس کی قسمت میں لکھا ہوتا ہے… انسان کے اندر بھی تو کبھی کبھار
تشدد کے جھٹکے لگتے رہتے ہیں… کبھی پیٹ کا درد… کبھی سر کا درد اور کبھی کوئی چوٹ
اور زخم… اس لئے تشدد ایسی چیز نہیں ہے جس سے بچنے کے لئے انسان اپنے دین یا
نظریات کو بدلے…میں نے کہا یاد رکھنا تمہارا یہ ظالم آفیسر بہت دردناک موت مرے گا…
اور تب اسے پتہ چلے گا کہ مظلوموں کی چیخوں میں کیا مزہ ہوتا ہے… اس اہلکار نے سر
جھکا کر کہا… جی وہ مرگیا ہے، بہت دردناک اور حسرتناک موت… اور اس کے بیوی بچے بھی
اس کے سامنے حادثے میں مرے ہیں… ایکسیڈنٹ ہوا… اس نے چوٹوں کا درد بھی دیکھ لیا…
اپنے سامنے اپنے بیوی بچوں کو تڑپتا، سسکتا اور مرتا بھی دیکھ لیا… اور پھر گناہوں
اور حسرتوں کی گٹھڑیاں اٹھا کر وہ خود بھی مرگیا…
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا بھر کے ظالموں کو
تنبیہ فرمائی… مظلوم کی بددعاء سے بچو… کیونکہ اس کی بددعاء اور اللہ تعالیٰ کے
درمیان کوئی پردہ نہیں ہے… مگر آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بھی تو وہی سنتے
ہیں… جن کے دلوں میں کچھ ایمان ہو… سوویت یونین نے افغان مجاہدین سے انتقام لینے
کے لئے ’’گلم جم ملیشیا‘‘ کے نام سے ایک فوجی دستہ بنایا تھا… جنرل عبدالرشید
دوستم اسی حیوانی دستے کا سربراہ تھا… ان تمام فوجیوں کو جنگلوں میں رکھ کر تربیت
دی گئی… اور کھرچ کھرچ کر ان کے اندر سے اسلام اور انسانیت کو نکال دیا گیا… ہر
چیز کھاؤ، ہر کام کرو، ہر خواہش جہاں چاہو پوری کرو… ضمیر کچھ نہیں بس اصل چیز
نوکری، پیسہ، عیش اور آفیسر کا حکم ہے… گلم جم ملیشیا کے یہ جانور جب افغانستان
میں اترے تو انہوں نے بہت تباہی مچائی… میں نے ان میں سے کئی افراد کو قریب سے
دیکھا ہے… نشے میں دھت، آنکھیں ہر طرح کے انسانی جذبوں سے خالی… قتل و غارتگری اور
لذت کوشی کا جنون… شاید بھیڑیا بھی کبھی بکریوں پر ترس کھا جائے… مگر یہ لوگ ہر
انسان کو بس اپنا شکار ہی سمجھتے تھے… یہی حال اسلامی ممالک کے کئی خفیہ اداروں کا
ہے… اللہ اللہ… یہ کیسے بے حس، ظالم اور وحشت ناک لوگ ہیں… ان کا کوئی ایمان ہے
اور نہ کوئی نظریہ… بس اشارہ ملا اور کسی پر ٹوٹ پڑے… ان کے منہ سے ہر گالی نکل
سکتی ہے… اور ان کا تھپڑ ہر کسی پر برس سکتا ہے… میں نے ایک بار ایک بڑے فوجی افسر
سے کہا… آپ لوگ نماز، جہاد اور داڑھی کی وجہ سے مجاہدین کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں…
ذرا سوچیں کہ اگر اللہ پاک صحابہ کرام میں سے کسی کو زندہ کرکے تمہارے ملک میں لے
آئے تو تم کیا کرو گے؟… ان کی بھی داڑھی ہوگی وہ بھی نماز کے پابند اور جہاد کے
متوالے ہوں گے… کیا اس وقت بھی آفیسر کے حکم پر نعوذباللہ ؟؟؟… استغفراللہ
استغفراللہ… ان خفیہ اداروں میں ’’ٹارگٹ کلنگ‘‘ کے لئے کچھ نشانہ باز ہوتے ہیں… بے
حس، بے ضمیر اور محض روبوٹ… بس حکم ملا اور جاکر گولی مار آئے… کاش ایسی نوکری
کرنے سے پہلے یہ لوگ مرگئے ہوتے تو مسلمانوں کا… اور خود ان کا بھی بھلا ہوجاتا…
آج میرے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی امت بہت مظلوم ہے…
بے حد مظلوم… کافر خود تو ہم پر ظلم کر رہے ہیں… مگر انہوں نے جن مسلمانوں کو خرید
کر امت مسلمہ کے خلاف کھڑا کردیا ہے… یہ بہت بے درد اور بہت ظالم ہیں… مصری حکومت
کے خفیہ اہلکار… اللہ پاک ان کے شر سے ہر مسلمان کو بچائے… ان کے مظالم پر تو
انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے… آخر سعودمیمن پر ظلم ڈھانے والے بھی تو مسلمان
کہلاتے ہوں گے… آخر کس نے ان کو اس بات کا حق دیا ہے کہ وہ… ایک جیتے جاگتے انسان
کو لاش بنا کر پھینک گئے… اگر ان کو ملک کی خدمت کرنی تھی تو سعودمیمن کے خلاف
چارج شیٹ… عدالت میں پیش کردیتے… مگر ظلم کرنے والوں کو تو… کافروں نے لگایا ہی
اسی کام پر ہے کہ… مسلمانوں کو سر نہ اٹھانے دو… ان کو ذلیل جانوروں جتنے حقوق بھی
نہ دو… اور ان کو انصاف کے لئے ترساؤ… چنانچہ آج ہر طرف امت مسلمہ پر ظلم ہی ظلم
ہے… اللہ تعالیٰ بھلا کرے مجاہدین کا… جنہوں نے مسلمانوں کے لئے سر اٹھا کر جینے
کا کچھ راستہ ہموار کیا ہے… انہیں مجاہدین کی قربانی ہے کہ… مسلمانوں میں بھی عزت
مند لوگ پیدا ہورہے ہیں… ورنہ کافروں اور منافقوں کا تو یہی دل چاہتا ہے کہ ہر
مسلمان کو سعود میمنؒ بنا کر کسی گلی میں پھینک جائیں… سعودمیمنؒ کراچی کے پاپوش
نگر قبرستان میں… حضرت شیخ مفتی رشید احمد صاحبؒ کے قریب ایک قبر میں جاسویا ہے…
پانچ معصوم بچے یتیم ہوگئے… ایک عالمہ، فاضلہ خاتون نے دین کی خاطر بیوہ ہونے کا
اعزاز بھی پالیا… ہزاروں افراد نے سعودمیمنؒ کے لئے دعاء کے ہاتھ اٹھائے… دنیاداری
سے شروع ہونی والی مختصر داستان… دین کی خاطر مظلومانہ شہادت پر مکمل ہوگئی…
اناللہ وانا الیہ راجعون… اللہ پاک اس مظلوم جوان کے درجات بلند فرمائے… وہ ایک
مالدار تاجر تھا… مگر اس کی دنیا داری… اس کے کام آگئی… بے شک بہت کم مالدار ایسے
ہوتے ہیں جو اپنے مال سے اصل فائدہ اٹھاتے ہیں… سعودمیمن انہی خوش نصیب لوگوں میں
سے تھا… جنہوں نے اپنے مال سے آخرت خریدلی… وہ سب سے پہلے ۱۹۸۹ء میں حضرت مفتی رشید احمد صاحبؒ کے ہاں نظر آیا… اس وقت
گاڑیاں زیادہ نہیں تھیں… مگر وہ گاڑی کا مالک تھا… اس کی شادی بھی دین کی نسبت سے
ہوئی… وہ شریعت کا پابند تھا… اور جوانی میں بھی ’’مسلمان‘‘ تھا… پھر جب حضرت مفتی
صاحبؒ کے ہاں مسلح پہرہ شروع ہوا تو میں نے سعود کے ہاتھ میں پستول دیکھا… میں ہنس
پڑا… کراچی کا ایک نازک سا میمن نوجوان مجاہدین کے روپ میں بہت بھلا لگ رہا تھا…
حضرت مفتی صاحبؒ نے افغانستان کا سفر فرمایا تو وہ ان کے … ان قریبی مریدین میں
شامل تھا جو اس مبارک سفر میں ان کے ہمرکاب رہے… اس سفر کے بعد ’’سعود‘‘ سے دوستی
سی ہوگئی… پھر میں چھ سال کے لئے سفر پر چلا گیا… مجھے ’’سعود‘‘ یاد تھا مگر ان سے
کوئی رابطہ نہیں تھا… رہائی سے دو دن پہلے میں نے اسے خواب میں دیکھا …وہ مجھ سے
گلے ملا اور خوب لپٹ کر اور چہرے سے چہرہ جوڑ کر ملا… اور پھر کسی راستے پر چلا
گیا… میںنے خواب کی تعبیر سمجھی کہ… انشاء اللہ کوئی سعادت گلے لگانے والی ہے… مگر
یہ خواب مستقبل کی سچی تصویر تھا… رہائی کے بعد میں کراچی آیا تو سعود نظر نہیں
آئے… معلوم ہوا کہ حضرت حکیم محمد اختر صاحب مدظلہ سے بیعت ہوگئے ہیں… مگر دو دن
بعد رات کے وقت ’’سعود‘‘ آگئے… اور اسی طرح گلے ملے جس طرح خواب میں ملے تھے… اور
پھر اپنے حلقے میں چلے گئے… میں لوگوں کے ہجوم میں تھا… کام بھی زیادہ تھے… کسی
آنے جانے والے سے تفصیلی گپ شپ کا موقع نہیں ملتا تھا… سعود کے ساتھ دوبارہ ملاقات
نہ ہوسکی… بس اتنا معلوم ہوا کہ دین اور جہاد کے کاموں میں پہلے کی طرح تعاون کرتے
ہیں… پھر میں گرفتار ہوگیا… جیل میں خبر سنی کہ ایک یہودی ’’ڈینیل پرل‘‘ مارا گیا
ہے… میں تو ڈینیل پرل کو نہیں جانتا تھا… جیل میں پہلی بار اس کا نام سنا تھا… مگر
’’ڈینیل پرل‘‘ مجھے ہی ختم کرنے آیا تھا … جیسا کہ بعد کی خبروں سے معلوم ہوا…
چنانچہ جب وہ مارا گیا تو اس کے قریبی حلقوں کی نظر میری طرف اٹھی… جیل میں مجھ سے
تفتیش ہوئی… انہیں دنوں سعود میمن کا نام اخبارات میں آنے لگا… معلوم نہیں ان کا
اس معاملے سے کیا تعلق تھا؟… سعود میمن تو اپنی داستان بھی نہیں سنا سکے… گوانتا
ناموبے میں ان پر کیا بیتی… یہ بات ان کے سینے میں ہے… وہ کسی کو بتا ہی نہیں سکے…
اور پھر اپنے ہم وطن حکمرانوں نے ان کے ساتھ کیا کچھ کیا… ظلم کی یہ داستان بھی
سعود کی ہڈیوں میں گم ہوگئی… وہ گھر تو آگیا مگر کچھ بول نہ سکا… کتنی گالیاں،
کتنا ٹارچر… اور کتنا ظلم؟ وہ ان تمام کی فائلیں اپنے سینے میں دبا کر… بڑی عدالت
میں لے گیا… اب تو سعود کی زبان کھل گئی ہوگی… وہ یہ تمام داستانیں سنا رہا ہوگا…
اب تو اس کی روح آزاد ہوچکی ہے… اسے ظلم کرنے والوں کے بھیانک چہرے یاد ہوں گے… بے
حس، بے ضمیر، سپاٹ اور غیرت سے عاری چہرے… چنگیزخان مر گیا… ہلاکو بھی ہلاک ہوگیا…
سب ظالم اپنے ظلم کا کڑوا انجام بھگتنے کے لئے مرتے ہیں… حجاج بن یوسف بھی حسرت کی
موت مرگیا… سعود میمن کے قاتل بھی مرجائیں گے… تب سعود میمن کو اللہ پاک کی طرف سے
’’انصاف‘‘ اور ’’عدل‘‘ دکھایا جائے گا… ہاں سعود بھائی! اللہ تعالیٰ کا انصاف اور
عدل پکا ہے… تب سعود ہنسے گا مسکرائے گا… فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ
الْکُفَّارِ یَضْحَکُوْن…
اور بھائی سعود کے پانچ معصوم بچے… ہاں دل پر چوٹ لگتی ہے…
مگر اللہ تعالیٰ موجود ہے… وہی رازق ہے اور وہی وکیل اور کفیل ہے… وہ انشاء اللہ
ایک مظلوم شہید کے بچوں کو ضائع نہیں فرمائے گا… اللہ پاک ان بچوں کو اپنی امان
میں رکھے… اور ان کو قرآن پاک کا علم، عمل، راستہ… اور رشتہ عطاء فرمائے…
سعود کے گھر والے… اور دوست احباب سبھی غمگین ہیں… اللہ پاک
سعود کو قبر میں ایسی خوشی، ایسا لطف اور ایسا مزہ عطاء فرمائے کہ… اس کے سارے غم
دُھل جائیں… اور پھر سعود اتنا خوش ہو… اتنا خوش ہو کہ اس کی خوشی کے اثرات… اس کے
گھر والے، اس کے بچے اوراس کے دوست احباب بھی محسوس کریں… اور انہیں صبر نصیب
ہوجائے… یا ارحم الراحمین یہ ایک چھوٹی سی دعاء ہے جو اپنے فضل سے قبول فرمالیجئے…
سعود کو آپ کے نام پر مارا گیا…دشمنوں نے اپنی دشمنی اتارلی… اب تو وہ آپ کے پاس
ہے… یار کے پاس ہے… اور آپ تو بہت قدردان ہیں… بہت نواز نے والے ہیں… ہاں ہم سب کو
یہ یادرکھنا چاہئے کہ… بھائی سعود اب دشمنوں کے پاس نہیں… اللہ تعالیٰ کے پاس ہے…
یار کے پاس ہے…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو ایمان کامل نصیب فرمائے… بے
شک ’’ایمان‘‘ سب سے بڑی نعمت ہے سب سے بڑی نعمت… حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم دعاء
فرمایا کرتے تھے… اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ اِیْمَانًا دَآئِمًا … یا اللہ
میں آپ سے دائمی ایمان کا سوال کرتا ہوں… دائمی ایمان وہ ہوتا ہے جوہروقت دل میں
موجود رہتا ہے… ورنہ کئی کبیرہ گناہ ایسے ہیں کہ جب انسان ان میں مشغول ہوتا ہے تو
اس دوران ایمان اس کے دل سے نکل جاتا ہے… پھر گناہ کے بعد واپس آتا ہے … زنا،
بدکاری، لواطت کے دوران ایمان دل میں نہیں رہتا… یا حنان الامان الامان … ہمارے
آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دعاء فرمایا کرتے تھے… اللہم انی اسئلک ایمانا
یباشر قلبی … اے میرے اللہ میں آپ سے ایسے ایمان کا سوال کرتا ہوں جو دل میں اترا
ہوا ہو… شہوت پرست انسان کے دل میں ’’شہوت‘‘ بھری ہوتی ہے تو… وہ بس اسی کے بارے
میں سوچتا ہے… اسی کی خاطر دیکھتا ہے… اسی کی خاطر سنتا ہے… اسی کی خاطر مال خرچ
کرتا ہے… اسی کی خاطر چلتا ہے… بدنظری، ناجائز دوستی، تصویر بازی، گانا سننا… ناچ
دیکھنا اور پتہ نہیں کیا کیا… کسی بھی چیز سے دل نہیں بھرتا… بلکہ آگ اور خارش
مزید بھڑکتی چلی جاتی ہے… امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ انسان کا نفس بہت ظالم ہے…
اگر یہ کچھ کرنے پر آجائے تو پھر اسے اللہ تعالیٰ کا واسطہ دو… تب بھی باز نہیں
آتا… تمام انبیاء ، صدیقین، شہداء… اور اس کے ماں باپ کا واسطہ ہو تب بھی باز نہیں
آتا… یہ سب کچھ وہ ’’نفس‘‘ کرتا ہے… جسے ہم پالتے ہیں… اگر ہم اسے پالنے کی بجائے
سنوارتے تو یہ ہمارے ساتھ ایسا ظلم نہ کرتا… الغرض جب ایمان دل میں اترا ہوا ہو تو
پھر انسان… ایمان کے مطابق سوچتا، کرتا، چلتا… اور خرچ کرتا ہے… اور تو اور اپنی
جان بیچ کر اس کے بدلے جنت خرید لیتا ہے… حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم دعاء فرمایا
کرتے تھے:
اللہم یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک
اے میرے اللہ اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین
پر ثابت قدم فرمادے۔
آپ نے کبھی سوچا سورج کتنا بڑا ہے… کیسے وقت پر نکلتا ہے…
اور کس طرح سے وقت پر غروب ہوتا ہے… اللہ کے لئے سورج پر تھوڑا سا غور کریں… کیا
یہ خود بخود پیدا ہوگیا… خود سے تو ایک ’’بلب‘‘ بھی نہیں بنتا… جس کو تھوڑی سی
طاقت ملتی ہے وہ سرکش ہوجاتا ہے… مگر سورج کو کس نے قابو میں کر رکھا ہے… ایٹم بم
سے ڈر کر امریکہ کو سجدہ کرنے والو!… سورج کو پیدا کرنے والے رب سے بھی ڈرو…
امریکہ تو بس تباہی کے آخری کنارے پر کھڑا ہے… ہاں امریکہ پر اللہ تعالیٰ کا قہر
نازل ہونا شروع ہوچکا ہے… امریکہ ٹوٹ رہا ہے، امریکہ پھوٹ رہا ہے… شہداء کے قافلے
اپنا خون ہاتھوں میں اٹھائے… امریکہ کی طرف بڑھ رہے ہیں… اور امریکہ لرز رہا ہے…
میں نہ لفّاظی کر رہا ہوں… اور نہ مبالغہ آمیزی… امریکہ کے بھروسے پر ظلم کرنے
والے فوجی حکمران… اب کعبہ کی چھت کو یاد کر رہے ہیں… ہاں کعبہ معظمہ مشرفہ… نور
اور ہدایت کا مرکز… مسلمانوں کا قبلہ … وہاں سے ہدایت تقسیم ہوتی ہے… مگر پورے
انصاف کے ساتھ… یہ نہیں کہ قریب آنے والے ’’غیر مستحق‘‘ کو مل جائے… اور دور والے
’’مستحقین‘‘ محروم رہیں… نہیں نہیں رب کعبہ کی قسم نہیں… کعبہ زمین کا ایسا محور
اور مرکز ہے کہ پوری زمین اس کی شعاعوں کی لپیٹ میں ہے… ابن خطل کعبہ کے پردوں سے
لٹکا ہوا تھا مگر محروم رہا… اور مدینہ کے انصار کعبہ سے دور ہر نماز میں کعبہ کے
انوارات پاتے تھے… ابوجہل بار بار اندر داخل ہوتا تھا… مگر جس دل میں رب کعبہ پر
ایمان نہ ہو… کعبہ بھی اس پر پیار کی نظر نہیں ڈالتا… کعبہ کو دیکھنا سعادت، کعبہ
میں لگے حجر اسود کو چومنا سعادت، کعبہ کے قریب ہونا سعادت، کعبہ کے چکر کاٹنا
سعادت، کعبہ میں داخل ہونا سعادت… مگر یہ سب انہی کے لئے جن کے دل کا قبلہ درست
ہو… حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم دعاء فرمایا کرتے تھے
اللہم طہر قلبی من النفاق
اے میرے اللہ ! میرے دل کو نفاق سے پاک فرمادیجئے …
اور فرمایا کرتے تھے
اللہم انی اسئلک ایمانا لا یرتدُّ
یا اللہ پکا ایمان عطاء فرما جو بار بار پھرتا نہ رہے…
سڑک پر لڑکی دیکھی… ایمان غائب… بازار میں پہنچے ایمان
غائب… کسی سے لڑائی ہوئی ایمان غائب… زبان کھولی ایمان غائب… ایسا ایمان جو نہ
جھوٹ سے بچائے، نہ بدنظری سے… نہ خیانت سے بچائے اور نہ حرام خوری سے… کیا وہ
ایمان قبر کے عظیم الشان اور سخت عذاب سے بچا لے گا؟… سچی بات یہ ہے کہ… ہمارا
ایمان بہت کمزور، بیمار اور زخمی ہے… اور ہمیں اس کی اتنی بھی فکر نہیں… جتنی اپنے
فانی جسم کی صحت کی ہوتی ہے… ڈاکٹر، دوائیاں، پرہیز، واکنگ، ہسپتال… اور پتا نہیں
کیا کیا… اور ایمان کے لئے اتنا وقت بھی نہیں کہ روزانہ کم از کم اسے پانی ہی دے
دیا کریں… جی ہاں قرآن پاک زندگی عطاء کرنے والا ’’پانی‘‘ ہے… حدیث پاک طاقت دینے
والا پانی ہے… آپ تجربہ کرلیں… روزانہ تلاوت، اور دینی کتابوں کا بلاناغہ روزانہ
مطالعہ کریں… پھر اپنے دل کی حالت دیکھیں… اور جن دنوں قرآن وسنت پر مبنی مطالعہ،
تعلیم یا مذاکرہ نہ کریں ان دنوں اپنی حالت دیکھیں… آپ کو واضح فرق نظر آئے گا… دل
کی کھیتی کو عرش سے آنے والا پانی روزانہ ملنا ضروری ہے… ورنہ یہ کھیتی سوکھ جاتی
ہے… وہاں گندے پودے اُگ آتے ہیں… وہاں شہوت اور حب جاہ کی دلدل بن جاتی ہے… اور دل
کی زمین ایسی سخت ہوجاتی ہے کہ… اس میں خیر کا نام و نشان باقی نہیں رہتا…
اللہاکبرکبیرا… آپ بازار میں جاکر ایسے افراد کو دیکھ سکتے ہیں جن کی زندگی کا
اوّل آخر ’’پیسہ‘‘ ہے… ان کی آنکھوں سے لالچ، حرص اور وحشت ٹپکتی ہے… وہ پیسے کی
خاطر کچھ بھی کرسکتے ہیں… یا اللہ ہمیں ایسے لوگوں میں سے نہ بنا… اپنی پاک پناہ
نصیب فرما… ہمارے حکمران… اللہ پاک ان کے شر سے حفاظت فرمائے… کیا کچھ نہیں کر
رہے؟… ظلم، قتل وغارت اور جھوٹ کی سیاست… اللہ تعالیٰ چیف جسٹس کی تحریک کو کامیاب
فرمائے… ابھی تک تو یہ تحریک بہت مثبت جا رہی ہے… اور یہ اس قابل ہے کہ مسلمان اس
کی کامیابی کے لئے دعاء کریں… موجودہ حکومت کی گردن پر خون کا ایک بڑا پہاڑ سوار
ہے… اکابر امت کا خون، دینی مدارس کے طلبہ کا خون، مجاہدین کا خون… اور مظلوم
قبائل کا خون… اس حکومت نے سات سال میں کافروں پر ایک گولی بھی نہیں چلائی… جبکہ
اہل ایمان کو ہر جگہ قتل اور قید کیا ہے… ایسا لگتا ہے کہ اب یہ خون کھولنے لگا
ہے… اور آسمانی ڈھیل کا وقت ختم ہو رہا ہے… برطانیہ کے سفیر نے وردی اتارنے کا حکم
دیا ہے… اس پر ہمارے حکمران ان سے سخت ناراض ہیں… اور تاریخ میں پہلی مرتبہ …
برطانیہ کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفترخارجہ بلا کر احتجاج کیا گیا ہے… سبحان اللہ
وبحمدہ… برطانیہ نے ہمیشہ ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت کی… مگر ہمارے
حکمرانوں نے کبھی احتجاج نہیں کیا… بلکہ ان کے ہر دباؤ کے سامنے گردن جھکائی… اور
ان کی ہر بات کو عالمی برادری کا حکم سمجھا… برطانیہ جہادی جماعتوں پر بھونکا تو
حکمرانوں نے ان جماعتوں پر پابندی لگا دی… برطانیہ دینی مدارس پر بھونکا تو ہمارے
حکمرانوں نے ان مدارس پر رسّے پھینکنے شروع کردیئے… برطانیہ نے اپنے ایک شہری کی
پھانسی روکنے کا حکم دیا تو حکمرانوں نے لبیک کی پوری تسبیح پڑھ ڈالی… اور تو اور
برطانیہ کے کسی اخبار میں کوئی بات شائع ہوجائے تو ہمارے حکمران اس پر عمل کرنا…
اپنا روشن خیالی فریضہ سمجھتے ہیں… مگر جب برطانیہ نے وردی پر ہاتھ ڈالا ہے تو…
ہمارے حکمرانوں نے خود کو ’’دوشیزہ‘‘ قرار دے کر… برطانیہ کے اس حکم کو ’’دست
درازی‘‘ کا نام دے دیا ہے… ہاں بے شک دنیا کے حالات تیزی سے بدل رہے ہیں… زمین کے
اندر موجود تیل کے خزانے ختم ہوتے جارہے ہیں… ترقی کے نام پر پھیلائی جانے والی
آلودگی نے زمین کا درجہ حرارت بہت بڑھا دیا ہے… برفانی سمندر اور گلیشئرز پگھلنے
والے ہیں… بڑے بڑے سمندری طوفان اور زلزلے زمین کا سینہ چیرنے کی تیاری کر رہے
ہیں… فدائیوں کا خون عرش کے قدموں میں سجدہ ریز ہے… نوخیز جوانیاں کٹ کٹ کر اسلام
کے لئے عزت کی بھیک مانگ رہی ہیں… اور اللہ پاک دیکھنے والا اور خوب سننے والا ہے…
آپ خود سوچیں بیس سال کا ایک خوبصورت نوجوان… سینے پر بم سجائے… اللہ پاک کے در پر
ذبح ہونے جارہا ہے… والدین، بہن بھائی… اور رنگینیوں سے بھری یہ دنیا چھوڑ کر
سرکٹانے جارہا ہے… اس کے جسم میں اتنی طاقت ہے کہ وہ… اپنے ایک ایک بال کو مزے میں
غرق کر سکتا ہے… مگر نہیں وہ سب خواہشات بھلا کر… اللہ پاک کی خاطر اپنے جسم کا
قیمہ بنانے جارہا ہے… آپ خود سوچیں زمانے میں اس سے بڑا مسلمان کون ہوگا؟… اس سے
بڑا ولی کون ہوگا؟… اس سے زیادہ سچا کون ہوگا کہ… اس نے اللہ پاک کا حکم سنا اور
اب ٹکڑے ٹکڑے ہونے جارہا ہے… اسے معلوم ہے کہ اب اس کی زندگی میں چند منٹ باقی
ہیں… پھر وہ بارود کے ساتھ اڑ جائے گا… ان آخری لمحات میں یہ فدائی مجاہد گڑگڑا تا
ہے … اے میرے اللہ اسلام کو عزت دے… اسلام کو عظمت دے… مسلمانوں کو غالب فرما…
اسلام کو غالب فرما… کیا اس کی یہ دعاء ردّ ہوجائے گی؟… کیا سچے دل سے نکلی یہ آہ
رائیگاں چلی جائے گی؟… اے مسلمانو!… دین کے سارے کام برحق … ساری تحریکیں مبارک… مگر
رب کعبہ کی قسم ’’فدائی‘‘ سے بڑا عمل اس زمانے میں کسی کے دامن میں نہیں ہے…
فدائیوں کے کے یہ دستے اب زمین سے عرش تک پھیل چکے ہیں… میں اگر دنیا کے رنگ دیکھ
کر اندازہ لگاؤں تو پھر… واقعی حالات خراب نظر آتے ہیں… مگر جب اپنا سر اپنے
ہاتھوں میں اٹھائے ذکر کرتے ہوئے فدائی دیکھتا ہوں تو مجھے … یہی نظر آتا ہے کہ اب
اسلام غالب ہونے والا ہے… اور انشاء اللہ مسلمانوں کا دور شروع ہونے والا ہے…
فدائی مجاہدین نے ’’ایمانِ کامل‘‘ کی چوٹی کو پالیا ہے… انہیں یقینِ کامل ہے کہ
اللہ تعالیٰ موجود ہے… وہ ایک ہے… وہ سچا ہے… اس کا فرمان سچا ہے… وہ ہمیں مرنے کے
بعد زندگی دے گا… اور قیامت آئے گی… ان تمام باتوں پر سوفیصد ایمان ہی کسی نوجوان
کو اپنی جان قربان کرنے پر کھڑا کرسکتا ہے… آخری زمانے کے یہ البیلے امتی… پہلے
زمانے کے مسلمانوں جیسا ایمان رکھتے ہیں… ان کا ایمان ہم سب کے لئے ایک سبق بھی
ہے… اور ترغیب بھی…
اے بازاروں میں خود کو برباد کرنے والے مسلمانو!… اے گھریلو
معاملات میں پھنس کر پنجرے میں بند پرندہ بننے والے مسلمانو!… اے نفس پرستی میں
غرق مسلمانو!… اے تین تین مہینے ایک ایک بیٹی کی شادی پر برباد کرنے والے
مسلمانو!… اپنے ایمان کو ٹھیک کرو… تم دنیا میں اس لئے نہیں آئے کہ خالہ، پھوپھی…
اور ساس بہو کے جھگڑوں میں بہادری دکھاؤ… تم دنیا میں اس لئے نہیں بھیجے گئے کہ…
مکان پر مکان اور دکان پر دکان بناتے چلے جاؤ… اے مسلمانو تم بہترین امت ہو… تمہیں
تمام انسانیت کی کامیابی کا کام دے کر بھیجا گیا ہے… تم اسلام کی خاطر ہر قربانی
دیتے ہو… اور تم کفر کو طاقتور بننے سے روکتے ہو… زمین والوں کا تم پر حق ہے کہ تم
ان کو… اللہ تعالیٰ کا بندہ اور آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانبردار بناؤ…
اٹھو اے مسلمانو!… اپنا یہ فرض ادا کرو… دیکھو ہم تو اللہ پاک کی خاطر ٹکڑے ٹکڑے
ہو رہے ہیں… امت کے فدائی… یہ پیغام مسلمانوں کو دے کر خود عراق، افغانستان،
کشمیر… اور فلسطین میں… ایک نئی تاریخ لکھ رہے ہیں… ایک شاندار تاریخ… جس میں
زمانے کے دجّال… ان کمزور بچوں کے سامنے بے بس نظر آرہے ہیں… بے شک ایمان کی طاقت
بہت بڑی ہے… اور ایمان ہی سب سے بڑی نعمت ہے… سب سے بڑی نعمت…
٭٭٭
اللہ رب العالمین کے لئے ہی تمام تعریفیں ہیں… اور اللہ
تعالیٰ کا بے انتہا شکر ہے کہ ہمارے شیخ مرشد اور مربیّ حضرت اقدس مفتی ولی حسن
صاحبؒ کے علمی جواہر پارے منظر عام پر آنا شروع ہوگئے ہیں… کراچی سے میرے ایک بہت
مخلص دوست، بزرگ اور ہم مشرب ساتھی نے حضرتؒ سے متعلق تین کتابیں بھجوائی ہیں…
اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطاء فرمائے… ان تین کتابوں میں سے دو کو دیکھ کر تو
بے حد خوشی ہوئی… پہلی کتاب ہمارے حضرت کی شاہکار تصنیف ’’فتنہ انکار حدیث‘‘ ہے…
لندن میں قائم ’’ختم نبوت اکیڈمی‘‘ نے نئی کتابت اور عمدہ طباعت کے ساتھ اس علمی
تحفے کو شائع کیا ہے… اور ماشاء اللہ وہ اس قیمتی کتاب کو مفت تقسیم کر رہے ہیں…
یہ کتاب ہمارے حضرت کے عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا منہ بولتا ثبوت ہے… منکرین
حدیث خواہ چکڑالوی ہو یا غلام احمد پرویز یا نیلام گھر والا طارق عزیز… یہ سب
مسلمانوں کے مجرم ہیں… حضرتؒ نے ان کا علمی محاسبہ فرمایا ہے… اور مسلمانوں کو
اپنے اندر ’’دینی غیرت‘‘ پیدا کرنے کی دعوت دی ہے… آہ دینی غیرت! جی ہاں مسلمانوں
کا وہ ایمانی سرمایہ جس سے بہت سے دیندار کہلانے والے مسلمان بھی محروم ہوتے چلے
جارہے ہیں… دوسری کتاب حضرتؒ کے خود تحریر فرمودہ مضامین کا مجموعہ ہے… اللہ اکبر
کبیرا… کتاب کیا ہے علم، ادب، تحقیق، نصیحت… اور دینی غیرت کا ایک شاہکار ہے…
القلم کے تمام قارئین اور قارئات … خصوصاً علماء کرام اور طلبہ کرام کو فوراً اس
کتاب کا مطالعہ کرنا چاہئے… اور دوسرے مسلمانوں تک بھی یہ شاندار تحفہ پہنچانا
چاہئے… آپ یقین جانئے آپ کو اس کتاب میں بہت کچھ ملے گا… یہ کتاب مولانا فصیح احمد
صاحب نے ترتیب دی ہے… ۴۸۳ صفحات پر مشتمل یہ علمی ذخیرہ حضرتؒ کے تقریباً بتیس
اہم مضامین اور فتاویٰ پر مشتمل ہے… اللہ تعالیٰ نے ہمارے حضرت کو دیگر صلاحیتوں
کے ساتھ ساتھ لکھنے کی صلاحیت بھی خوب عطاء فرمائی تھی… آپ جس موضوع پر قلم اٹھاتے
تھے تو معلومات اور نصیحت کا ایک دریا بہا دیتے تھے… یہ سچ ہے کہ حضرتؒ نے بہت
زیادہ نہیں لکھا… یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی تھی… الحمدللہ ہمارے حضرت ایک شخصیت ساز کارخانہ تھے…
انہوں نے اپنے دل کے ایمان اور قوت سے دین کا بہت کام کیا… انہوںنے ہزاروں ایسے
شاگرد چھوڑے جن میں سے بعض بڑے مصنف بھی بنے… آج حضرتؒ کے شاگردوں کی تصانیف
سینکڑوں سے متجاوز ہیں… ملک کے بڑے بڑے دینی مدارس کے شیوخ الحدیث حضرتؒ کے شاگرد
ہیں… اور حضرتؒ کے شاگرد جہاد سمیت دین کے اہم شعبوں میں خدمات سرانجام دے رہے
ہیں…
زیادہ تصانیف کوئی ایسا کمال نہیں ہے جس کو معیار بنا کر…
کسی مقبول انسان پر تنقید یا تحسُّر کا بازار گرم کیا جائے… اللہ پاک اپنے مقبول
بندوں سے جس طرح سے چاہتا ہے کام لیتا ہے… حضرتؒ نے علم دین پڑھایا… اور ماشاء
اللہ خوب پڑھایا… آپ کا ترمذی کا سبق ایسا تھا کہ آپ سے بڑے اکابر اس کی تمنا کرتے
تھے کہ ہم حضرت مفتی صاحبؒ سے ’’ترمذی‘‘ پڑھیں… آپ کا ہدایہ ثالث کا سبق شہرہ آفاق
تھا… آپ فقیہ النفس تھے… آپ کا حلقۂِ ارشاد ایک چلتا پھرتا بادل تھا جو موسلا
دھار برستا تھا… اور آپ کی دینی غیرت ایک ایسی صفت تھی جس نے زندہ دل علماء اور
مجاہدین پیدا فرمائے… حضرت کو ’’دنیادار‘‘ بننے کے بے شمار مواقع ملے مگر آپ کو
زیادہ مالداری سے گھن اور نفرت تھی… آپ نے دنیاداری کے دریا میں اپنے کپڑوں کو تر
نہیں ہونے دیا… آپ میں ’’تواضع‘‘ تھی جو آج ڈھونڈنے سے نہیں ملتی… آج کے دینداروں
کی ’’اکڑ‘‘ اور ’’ذوق پرستی‘‘ نے ماحول کو آلودہ کر رکھا ہے… ہمارے حضرت دینی
تحریکوں کے بے لوث حامی تھے… ان سے ملنا آسان تھا… اور ان سے استفادہ کرنا اس سے
بھی زیادہ آسان تھا… پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ… آپ کے دل میں حکمرانوں اور
مالداروں کا ذرہ برابر رعب نہیں تھا… آج کے کئی علماء مستقل طور پر دنیاداروں کے
نرغے میں ہیں… اور حکومتی عہدیداروں کو بھی وافر گھاس ڈالتے ہیں… مگر ہمارے حضرت
ان دونوں طبقوں سے بالکل آزاد رہے… ورنہ بڑے مالدار تو علماء کرام کے مزاج اور
نظریات تک پر اثر انداز ہوجاتے ہیں… ہمارے حضرت کے دل میں اللہ تعالیٰ کا بے حد
خوف تھا… ان کا ہر فیصلہ اور ہر قدم اسی خوف اور خشیت کے گرد گھومتا تھا… ٹھیک ہے
ان کی کتابیں بہت زیادہ نہیں ہیں… مگر ہم نے ان کے گھر میں دنیاداری کو چھلکتے اور
ابلتے نہیں دیکھا… وہ لاکھوں روپے کے ہدیئے ٹھکرا دیتے تھے… اور بعض اوقات ان کے گھر
میں مہمانوں کو چائے پلانے تک کی استطاعت نہیں ہوتی تھی… کراچی کے ایک نیک عالم
حضرت مولانا محمد حسین صدیقی صاحب نے بھی حضرتؒ کی سوانح مرتب کی ہے… مگر اس میں
تو حضرتؒ کو ایک دائرے میں محدود کرنے کی دانستہ کوشش صاف نظر آتی ہے… کاش صدیقی
صاحب مدظلہ کچھ وسعت قلبی اور تحقیق سے کام لیتے تو ان کی یہ کتاب ان کے لئے زیادہ
بہتر سرمایۂ آخرت ہوتی… حد سے بڑھی ہوئی مالداری اور اس میں مشغولیت علماء کرام
کے لئے ایک فتنہ ہے… اپنی اولاد کی شاندار اور اسراف زدہ شادیاں علماء کرام کے لئے
فتنہ ہے… اپنے گرد غریبوں اور فقیروں کی جگہ بڑے مالداروں کو رکھنا علماء کرام کے
لئے ایک فتنہ ہے… ہاں اگر یہ مالدار پوری طرح سے علماء کرام کے تابع ہوتے… اور
انہوں نے اپنی حد سے بڑھی ہوئی دنیاداری میں کچھ کمی کی ہوتی… اور ان میں بھی
اخلاق نبوی پیدا ہوئے ہوتے تو پھر بہت اچھا تھا… بہت ہی اچھا… مگر وہ تو بینکوں پر
بینک فیکٹری پر فیکٹری … اور کوٹھی پر کوٹھی بناتے جارہے ہیں… اور الٹا وہ علماء
کرام کو دنیا کے تقاضے بھی سمجھاتے اور سکھاتے ہیں… اور علماء کرام کے گھروں تک پر
اثر انداز ہوتے ہیں… کیا یہ سب کچھ ٹھیک ہے؟… کیا اس سے جہاد اور حق گوئی متاثر
نہیں ہوتی… کیا اس کی وجہ سے قربانی کا جذبہ سرد نہیں پڑتا… بہر حال یہ ایک دردناک
پہلو ہے… الحمدللہ ہماری آنکھوں نے ایسے
علماء کرام کی زیارت کی ہے جو ان چیزوں سے آزاد تھے… اور ان کے نزدیک ’’پروٹوکول
کلچر‘‘ ایک غلاظت کی طرح ناپسندیدہ تھا… ہمارے حضرت مفتی ولی حسن صاحبؒ علماء کرام
کے اس مبارک اور محفوظ طبقے کے سرخیل تھے… اور حضرت مولانا محمد منظور احمد نعمانیؒ…
اور حضرت مفتی عبدالستار صاحبؒ اس طبقے کی شان تھے… مالدار مسلمان تو دراصل رحم کے
قابل ہیں… وہ دنیا میں بری طرح سے پھنس چکے ہیں… اور مزید پھنستے چلے جارہے ہیں…
ان لوگوں کی قسمت میں جہاد اور شہادت بہت کم… اور دین کی خاطر کوئی قربانی نہ ہونے
کے برابر ہے… یہ ٹھیک ہے کہ حضرات صحابہ کرام میں بڑے بڑے مالدار حضرات موجود تھے…
مگر وہ اگلی صفوں میں جاکر جہاد کرتے تھے… ان کا مال اسلام اور مسلمانوں کے مفاد
میں کام آتا تھا… ا ور ان کی مالداری خود ان کے لئے اور مسلمانوں کے لئے رحمت تھی…
وہ اگر کروڑوں کماتے تھے تو کافروں کے بینکوں میں جمع نہیں کراتے تھے… بلکہ پورے
کے پورے تجارتی قافلے کھڑے کھڑے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کردیتے تھے… مگر آج کا
مسلمان سرمایہ دار تو دین سے بے زار ہے… اور جو دیندار ہیں ان میں سے اکثر کی بس
یہی خواہش ہے کہ مسلمان ہر میدان میں کافروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوجائیں… ان حالات
میں ایسے علماء اور داعیوں کی ضرورت ہے جو … اپنے دل کو دنیاوی اغراض سے پاک کرکے
مسلمان مالداروں سے مخاطب ہوں… اور ان کی اصلاح کی فکر ایسے انداز میں کریں کہ خود
ان کے دل میں ان مالداروں کا رعب نہ ہو… اللہ کرے طلبہ کرام میں ایسے افراد تیار
ہوں… جو فقیری اور مسکینی کی قدر ومنزلت کو سمجھتے ہوں… اور دنیا کی چمک اور
پروٹوکول کو بے حقیقت سمجھتے ہوں…
میرے سامنے حضرتؒ کے مضامین کا مجموعہ موجود ہے… کتاب کا
نام ’’انتخاب مضامین مفتی ولی حسن ٹونکی رحمۃ اللہ علیہ‘‘ ہے… یہ کتاب مکتبہ
فاطمیہ، پیٹروڈی سوزا روڈ‘‘ گارڈن ایسٹ نے شائع کی ہے… اور مکتبۃ الحبیب، بنوری
ٹاؤن، کتب مارکیٹ کراچی میں دستیاب ہے… کتاب کا حرفِ آغاز خود مرتب جناب مولانا
فصیح احمد نے تحریر فرمایا ہے… انہوں نے کئی اچھی باتوں کے علاوہ حضرتؒ کے کم
لکھنے کا رونا بھی رویا ہے… جو اس موقع پر بے جا ہے… اکابر کی زندگی میں کوئی بڑا
یا چھوٹا انہیں یہ مشورہ دے تو یقینا یہ ’’نصیحت‘‘ کے زمرے میں آئے گا… اور ہر
انسان ’’نصیحت‘‘ کا محتاج ہے… مگر ان کی وفات کے بعد اس طرح کی باتیں… اللہ تعالیٰ
معاف فرمائے ایک طرح کا ’’تبرّا‘‘ محسوس ہوتا ہے… اپنے ’’ذوقیات‘‘ پر اس قدر مضبوط
ایمان کوئی اچھی بات نہیں ہے… بہرحال مولانا فصیح احمد ہم سب کے محسن اور شکریہ کے
مستحق ہیں کہ انہوں نے اتنا جلیل القدر تحفہ ہم تک پہنچایا ہے… کتاب کا ابتدائیہ
حضرتؒ کے صاحبزادے ڈاکٹر مسعود حسن صاحب نے بہت خوبصورت تحریر فرمایا ہے…
’’ابتدائیہ‘‘ کے بعد حضرتؒ کی مختصر سوانح حیات استاذ محترم حضرت مولانا ڈاکٹر
حبیب اللہ مختار شہیدؒ کے قلم سے ہے … حضرت ڈاکٹر صاحبؒ منجھے ہوئے قلمکار اور
مصنف تھے انہوں نے مختصر سے مضمون میں کافی باتوں کا احاطہ فرمایا ہے… اللہ پاک ان
کے درجات بلند فرمائے… کتاب کے صفحہ ۱۷ سے
حضرتؒ کے مضامین، مقالات اور فتاویٰ کا سلسلہ شروع ہوتا ہے… حضرتؒ کے درج ذیل
مضامین اس مجموعہ میں شامل ہیں:
۱ اس دور کا عظیم فتنہ
۲ احکام شرعیہ میں رائے عامہ کی حیثیت
۳ اسلامی قانون میں حد کا تصور
۴ مرزا غلام قادیانی کو مجدد ماننے والوں
کا حکم
۵ قادیانیوں کے ساتھ موالات
۶ کفریات پرویز
۷ رافضی کی نماز جنازہ
۸ فرمان مصطفوی کے نام سے شائع شدہ اشتہار
کا حکم
۹ مغربی ممالک میں اوقات نماز سے متعلق ایک
اہم استفتاء
۱۰ نماز کے بعد صلوٰۃ وسلام
۱۱ عید الفطر
۱۲ ذبح کا مسنون طریقہ اور مشینی ذبح کے
متعلق مسائل
۱۳ زکوٰۃ سے متعلق ایک اہم استفتاء اور اس
کا جواب
۱۴ طلاق ثلاثہ
۱۵ عائلی قوانین (پوتاپوتی نواسا نواسی کی
وراثت)
۱۶ نقد وتبصرہ برکتاب مجموعہ قوانین اسلام
۱۷ اسلام اور بیمہ انشورنس
۱۸ پاک وہند کے حجاج کے لئے میقات کا مسئلہ
۱۹ زکوٰۃ عبادت ہے ٹیکس نہیں
۲۰ مستدرک حاکم کی ایک حدیث
۲۱ جواہر حدیث
۲۲ رمضان اور قرآن
۲۳ مساجد کی شرعی حیثیت
۲۴ رجم
۲۵ زمین اور اس کے مسائل اسلامی اور معاشی
نقطہ نظر سے
۲۶ عظیم سانحہ
۲۷ محدث العصر (حضرت بنوری نور اللہ مرقدہ)
۲۸ مولانا محمد شاہ امروٹی
۲۹ میدان علم وسیاست کا شہسوار
۳۰ چوں کفر از کعبہ برخیزد
ان مضامین میں سے بعض تو علماء کرام کے لئے مفید ہیں جبکہ
اکثر مضامین عوام وخواص سب کے لئے بہت نفع مندہیں… دینی مدارس کے طلبہ کرام سے
میری پرزور درخواست ہے کہ وہ اس کتاب کے مضمون نمبر ۲۷ ’’محدث العصر‘‘ کا ضرور اور جلد مطالعہ فرمائیں… ان شاء اللہ یہ مضمون آپ پر
علم، تحقیق اور عمل کا ایک عجیب دروازہ کھولے گا… مالدار طلبہ اس مضمون کی فوٹو
کاپیاں کرا کے غریب طلبہ بھائیوں کو ہدیہ کردیں… دل چاہتا ہے کہ کتاب کے اس تعارف
میں حضرتؒ کی بعض عبارات بھی آخر میں شامل کی جائیں… ایسی عبارات تو بہت زیادہ
ہیں… مگر بطور نمونہ ایک دو عبارتوں کو یہاں نقل کیا جاتا ہے…
حضرت ؒ تحریر فرماتے ہیں:
’’حدیث کا آخری جملہ ہے
’’ومن ابطا بہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ‘‘
جس کو اس کے عمل نے پیچھے کردیا، اس کا نسب اس کو آگے نہیں
بڑھا سکتا۔
حدیث شریف کا یہ جملہ بھی بڑا معنی خیز ہے اور ایک بڑی
حقیقت بیان کی جارہی ہے۔ انسان ایک عرصہ تک اس وہم میں مبتلا رہا کہ نسب وحسب اس
کی نجات کا ضامن ہے، یہود کا تو مستقل نعرہ تھا کہ
’’نحن ابناء اللہ واحباء ہ‘‘
ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے دوست ہیں۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ ہم انبیاء کی
اولاد ہیں۔ قرآن کریم نے ان کے اس جاہلانہ تصور کی بار بار تردید کی ہے اور واشگاف
الفاظ میں اظہار کیا کہ مدارِ نجات عمل ہے نسب نہیں، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
بھی اسی حقیقت کو بیان فرما رہے ہیں اور ذہن نشین کرا رہے ہیں کہ عمل سے بلند
درجات نصیب ہوتے ہیں۔ جو شخص کو تاہ عملی کی وجہ سے بلند درجات حاصل نہ کرسکا تو
اس کا نسب اس کو آگے نہیں بڑھا سکتا۔ اس راز کا دنیا میں بھی ہم مشاہدہ کرتے ہیں
کہ جو لوگ لگن، محنت سے کام کرتے ہیں وہ مقصود حاصل کرلیتے ہیں اور عالی نسب جو
صرف اپنی نسبتوں پر فخر ومباہات کرتے ہیں، کام، محنت سے جی چراتے ہیں بہت پیچھے رہ
جاتے ہیں، جب دنیا میں نسب کام نہیں آتا تو آخرت میں کیا کام دے گا‘‘۔ (ص۳۰۵)
حضرت ؒ تحریر فرماتے ہیں:
’’تابعی جلیل حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کو جب مشہور
ظالم حجاج بن یوسف ثقفی نے شہید کیا تو اس زمانہ کے ایک شیخ نے کہا تھا
’’لقد مات سعید بن جبیر وما علی ظہر الارض احد الا وہو
محتاج الی علمہ‘‘
(سعید بن جبیر ایسے وقت دنیا سے رخصت ہوئے جبکہ روئے زمین
کا ہر شخص ان کے علم کا محتاج ہے)
سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کے قتل وشہادت کا واقعہ ۹۵ھ کو پیش آیا۔ جب کہ پہلی صدی بھی ختم نہیں ہوئی تھی، رسو ل
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جمال جہاں تاب کو دیکھنے والے چند نفوس باقی تھے،
تابعین کی بڑی تعداد علم وعرفان کی شمع فروزاں کئے ہوئے تھی، محدثین کبار اور
فقہاء عظام کے حلقہ ہائے درس کی وجہ سے حدیث وفقہ کے چرچے عام تھے، زہد واتقا عام
مسلمانوں کا شعار تھا لیکن سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت ایک بجلی تھی جو
امت مسلمہ کے ایوان پر گری اور اس سے یہ ایوان متزلزل ہوگیا، ہر شخص نے اس کو
محسوس کیا اور آہ وفغاں کا ایک سیلاب عالم اسلام کے قلوب کو چیرتا ہوا نکل گیا۔
آخر ایسا کیوں ہوا؟ وجہ بالکل ظاہر ہے کہ اس وقت کچھ فتنے عالم اسلام کی پرسکون
اور حیات آفرین سطح پر ابھر رہے تھے۔ اعتزال، رفض اور تشیع، خروج جنم لے رہے تھے۔
پھر سب سے بڑا فتنہ تو حجاج کا ظلم اور اس کی سفاکیاں تھیں۔ ان سارے فتنوں کا
مقابلہ حضرت سعید بن جبیر مردانہ وار کر رہے تھے، ان کے وجود سے لوگوں کو بڑی
ڈھارس تھی۔ قدرتی طور پر ان کی شہادت لوگوں پر بڑی شاق گزری۔ اور اب تو فتنے ہی
فتنے ہیں۔ سارا عالم فتنوں سے گھرا ہوا ہے اور سب سے بڑا فتنہ تو یہ ہے کہ مسلمان
دین ومذہب سے کوسوں دور نکلے جارہے ہیں۔ (ص۳۷۶)
حضرتؒ کی اس عبارت میں بھی یہی درد چھپا ہے کہ… مسلمانوں کو
ہر دور میں ایسے علماء کرام کی ضرورت رہی ہے جو ظلم سے ٹکرانے والے اور قربانی
دینے والے ہوں… اللہ تعالیٰ مولانا فصیح احمد صاحب کو بہت جزائے خیر عطاء فرمائے…
اور انہیں حضرتؒ کے دیگر مضامین کو بھی جمع کرنے کی توفیق عطاء فرمائے… امید ہے کہ
دین کی غیرت رکھنے والے مسلمان اس کتاب کو حاصل کریں گے… اور اپنی راتوں، اپنے
اوقات اور اپنے ایمان کو اس کتاب سے مہکائیں گے…
ایک ضروری گزارش
مسجد اللہ تعالیٰ کا گھر ہے… یہ اللہ تعالیٰ کا پر عظمت
دربار ہے… اور تمام مساجد جنت کے باغات ہیں… مسلمان بہت ذوق وشوق سے مساجد کا
اہتمام فرمائیں… مگر یہ اہتمام ادب کے اعلیٰ درجے کے ساتھ ہو… دیکھنے میں آرہا ہے
کہ… بعض لوگ مساجد میں شور مچاتے ہیں… آوازیں بلند کرتے ہیں… اللہ کے بندو! یہ سخت
جرم ہے اور قیامت کی علامت ہے… اسی طرح بعض لوگ مساجد میں دنیاوی گپ شپ اور فون
کالیں کرتے ہیں… بعض لوگ تعلیم وغیرہ کے بعد گپ شپ کی بلند آواز مجالس منعقد کرتے
ہیں… آپ کو معلوم ہے کہ… آپ کی آواز سے اگر ایک نمازی کو بھی خلل ہوا تو آپ نے
اللہ تعالیٰ کے مہمان کو ایذاء پہنچائی… مساجد میں تو تلاوت اور ذکر بھی اتنی آواز
میں کرنا درست نہیں جس سے نمازیوں کو تکلیف ہو… بعض حضرات دائیں بائیں دیکھے بغیر
زور زور سے تلاوت اور ذکر کر کے نمازیوں کو پریشان کرتے ہیں… اے اللہ تعالیٰ کے
بندو! اللہ سے ڈرو… کوئی سنتری اپنے آفیسر کی مجلس میں کیسے بیٹھتا ہے؟… مرید اپنے
شیخ کی مجلس میں کتنا باادب بیٹھتے ہیں… اور وہ اچھا کرتے ہیں… مگر سب سے زیادہ
ادب اور خشیت کا مقام مسجد ہے… خوب اہتمام فرمائیے… خوب زیادہ…
واجرکم علی اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ جن مسلمانوں کی جان ومال جنت کے بدلے خرید لیتا
ہے… وہ مسلمان بے حد خوش نصیب ہوتے ہیں… بہت ہی زیادہ خوش نصیب… مگر آہ! ہر کوئی
اس قابل نہیں ہوتا کہ محبوب رب اسے خرید لے… آہ شہادت! آہ شہادت… ایک میٹھی موت …
نہیں موت نہیں زندگی… بہت میٹھی، بہت سکون والی… اے مسلمانو! تھوڑا سا سوچو! کیا
موت اپنے وقت سے پہلے آسکتی ہے؟… قرآن پاک فرماتا ہے کہ نہیں … کیا موت ایک منٹ
مؤخر ہوسکتی ہے؟… قرآن پاک فرماتا ہے ’’نہیں‘‘… پھر سچے دل سے شہادت مانگتے ہوئے
دل کیوں کانپتا ہے؟… بات واضح ہے کہ ہر کوئی شہادت کا اہل نہیں ہوتا… ہر کسی کو
اللہ پاک نہیں خریدتا… شہادت کیا ہے؟ کبھی ہم نے سوچا… ادھر آنکھ بند ہوئی اور
ادھر مزے ہی مزے شروع ہوگئے… ارے سارے گناہ معاف… رہنے کے لئے اونچے اونچے محلاّت…
اور پاکیزہ جیون ساتھی… اور ہر لمحہ اللہ پاک کے راضی ہونے کی عجیب خوشی، عجیب
مستی… پھر بھی ہر کوئی دل سے شہادت کیوں نہیں مانگتا؟… بات وہی ہے کہ اللہ پاک کا
یہ سودا صرف اپنے پیاروں کے ساتھ ہوتا ہے… وہ پیارے جو اللہ پاک سے ملنے کا شوق
رکھتے ہیں… جو اللہ پاک کی باتوں پر یقین رکھتے ہیں… ورنہ سب جانتے ہیں کہ ہم ایک
دن مر ہی جائیں گے… زمین میں بیج بویا جاتا ہے، پھر پودا نکلتاہے، پھر درخت بنتا
ہے… اور پھر سوکھ کر بکھر جاتا ہے یا جلا کر راکھ بنادیا جاتا ہے… انسان بھی اسی
طرح بچپن سے گزر کر جوان اور پھر سوکھے درخت کی طرح… ہاں سب ختم ہو رہے ہیں… مگر
شہداء نے کمال کیا کہ یہاں بھی اپنا پورا وقت گزارتے ہیں… اور مرتے ہی ہر دُکھ، ہر
تکلیف، ہر تنگی، ہر بیماری اور ہر پریشانی سے نجات پا جاتے ہیں… نہ موت کا درد، نہ
قبر کی تنگی، نہ منکر نکیر کی سختی اور نہ کوئی غم… آہ شہادت، آہ شہادت… اللہ پاک
کی قسم! شہادت بہت اونچی اور میٹھی نعمت ہے… اللہ پاک کی رضاء کے لئے اس کے دین کی
خاطر قربان ہوجانا… بہت بڑی سعادت ہے اور بہت بڑی عقلمندی… کوئی لاکھ خود کو دھوکا
دے مگر اسے ماننا ہی پڑے گا کہ… شہادت جیسی نعمت ایمان کے بعد اور کوئی نہیں ہے…
میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کون سا مقام نہیں تھا… ربّ کعبہ کی قسم! ان کے
پاس تو سب کچھ تھا… مگر تمنا کیا تھی کہ بار بار شہادت پاؤں، بار بار شہادت پاؤں…
ارے محبوب کی خاطر ذبح ہونے کا مزہ ہی کچھ اور ہے… ہم جیسے بے وفا اسے کیا جانیں…
اس مزے کو تو آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے… اور انہی سے صحابہ کرامؓ نے
بھی سمجھ لیا… اس لئے تو آدھی دنیا کا حکمران سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ بلک
بلک کر شہادت مانگتا تھا… اللہ پاک نے ایمان والوں کی جان ومال کو خرید لیا ہے… اس
قیمت پر کہ ان کے لئے جنت ہے… وہ قتل کرتے ہیں اور قتل ہوتے ہیں… یہ وعدہ اللہ پاک
کے ذمّے پکا ہے… تورات، انجیل اور قرآن جیسی کتابیں اس وعدے کی گواہ ہیں… اے لوگو!
اللہ پاک سے بڑھ کر اپنا وعدہ پورا کرنے والا اور کون ہوسکتا ہے؟… پس جن لوگوں سے
یہ سودا ہوچکا ہے وہ اپنے اس سودے پر خوشیاں منائیں… اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے…
یہ ہے قرآن مجید کی ایک آیت مبارکہ کا مفہوم … اللہاکبرکبیرا … مبارک ہو اے امت
مسلمہ کے شہیدو!… بہت مبارک ہو… آہ شہادت، آہ شہادت… کیا مجھے اور آپ کو بھی یہ
نعمت مل سکتی ہے؟… اپنے اعمال کو دیکھیں تو ناممکن نظر آتی ہے… مگر جب اللہ پاک کے
فضل وکرم کو دیکھیں تو بہت امید ہوتی ہے… لیکن کیا ہم نے کبھی سچے دل سے اسے مانگا
بھی ہے؟… حالات سے تنگ ہو کر نہیں، وقتی جوش میں آکر نہیں، مجمع کو گرمانے کے لئے
نہیں، بلکہ خالص اللہ پاک کی محبت میں… کیا ہم نے کبھی شہادت مانگی ہے؟… باوفا
بیوی کو خاوند کی ملاقات کا کس قدر شوق ہوتا ہے؟… کہتی ہے کہ وہ کب آئیں گے کہ میں
اپنا سب کچھ نچھاور کردوں گی… ایک خفیہ جذبہ، ایک خالص جذبہ… جو کسی کو بھی نہیں
بتایا جاتا… ایک وفادار بندہ بھی اللہ پاک کی محبت میں ڈوب کر سوچتا ہے کہ… مالک
کے لئے کب ذبح ہوں گا؟… کب میں ان کے نام پر کٹ کر گروں گا… کب؟ کب؟ … ایک خفیہ
نورانی جذبہ… اللہاکبرکبیرا… میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا… جو سچے دل سے
شہادت مانگے گا اسے شہادت کا درجہ دے دیا جائے گا… اگرچہ وہ اپنے بستر پر ہی کیوں
نہ مرا ہو… کچھ لوگ جہاد میں آئے… آتے ہی خفیہ جذبے نے انہیں آگے پہنچا دیا… اور
وہ فوراً شہادت سے ہم آغوش ہوگئے… کچھ اور لوگ جہاد میں آئے، اللہ پاک نے ان سے
بڑے بڑے کام لئے اور پھر انہیں… شہادت عطاء فرمادی… کچھ اور لوگ جہاد میں آئے… کچھ
کام کیا اور پھر ’’پرانے مجاہد‘‘ بن کر گھر جا بیٹھے… اب وہ صرف ’’غیبت‘‘ کا حرام
گوشت کھاتے ہیں… اپنے اعمال کی دنیاوی قیمت وصول کرتے ہیں… اور کام میں جُڑے ہوئے
مجاہدین کے خلاف نفرت پھیلاتے ہیں… ہاں خود کو مجاہدین کہلوانے والوں کی بھی کئی
قسمیں ہیں… قرآن پاک کی سورۂ توبہ نے ان کے حالات قیامت تک کے لئے بیان فرما دئیے
ہیں… کچھ اور لوگ جہاد میں آئے… اللہ پاک نے ان سے کام لیا… ان کو آزمائشوں میں
ڈالا… مگر وہ ڈٹے ہوئے ہیں اور شہادت کی راہوں پر گامزن ہیں… ان کو معلوم ہے کہ
شہادت اپنے وقت سے پہلے نہیں آئے گی… ہمارا کام تو میزبانِ رسول ابو ایوب انصاری
رضی اللہ عنہ کی طرح چلتے رہنا ہے… چلتے رہنا… مدینہ منوّرہ سے لے کر قسطنطنیہ کی
دیوار تک… دنیا کے ایک کونے سے لے کر دوسرے کونے تک… کچھ اور لوگ جہاد میں آئے…
اللہ پاک نے انہیں دشمنوں کے ہاتھوں قید کی آزمائش میں ڈال دیا… پھر وہ چھوٹ گئے…
مگر انہوں نے کام بند کردیا… اور غیبت شروع کردی… جبکہ کچھ لوگ چھوٹ کر آئے تو
انہوں نے گھر سے پہلے کام کی خبر لی… اور اللہ پاک نے انہیں ماضی کی سعادتوں سمیت
دوبارہ جوڑ لیا… ہاں میرے بھائیو! شہادت ہر کسی کو نہیں ملتی… آہ شہادت، آہ شہادت…
وہ دیکھو اُحد کے دامن میں ستر بادشاہ… اللہاکبرکبیرا … قرآن پاک نے ان کے حالات
کھول کر بیان کردئیے… وہ دیکھو بدر کے میدان میں چودہ (۱۴)خوش نصیب… قرآن پاک نے ان پر آفرین بھیجی… اور پھر بدر و اُحد کے ان بادشاہوں
کا لشکر پھیلتا چلا گیا… آج بھی بھرتی جاری ہے… عراق، افغانستان، کشمیر، فلسطین
اور معلوم نہیں کہاں کہاں… ارے شہادت کا بازار بھی کبھی ٹھنڈا ہوسکتا ہے؟… ہاں یہ
بازار کبھی ٹھنڈا نہیں ہوتا… مگر یہ نعمت قسمت والوں کو ملتی ہے… آہ شہادت، آہ
شہادت… پہلا کام ہے سچے دل سے اس کی دعاء… اور اس میں شرطیں لگانا چھوڑ دیں… کوئی
کہتا ہے امام مہدی کے ساتھ شہید ہوں، اور کوئی کچھ اور جوڑتا ہے… بابا! مقبول
شہادت جب اور جہاں مل جائے وہ بڑی نعمت ہے… ہم کون ہیں شرطیں لگانے والے؟… ممکن ہے
ان شرطوں کے پیچھے نفس کی کوئی خواہش چھپی ہو… پھر قربانی کیسی؟… شہدائے اُحد تو
ایک ایسی جنگ میں شہید ہوئے جس میں مسلمانوں کو ظاہری شکست ہوئی تھی… مگر دنیا کا
کوئی فاتح شہید ان مظلوم شہداء کے ہم پلہ ہوسکتا ہے؟… حضرت سیدنا حسین رضی اللہ
عنہ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے… خارجیوں کا برا ہو کہ ان کے خلاف نفرت
پھیلاتے پھرتے ہیں… ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا بھی خیال نہیں…
تاریخ کے حوالوں کو گولی مارو… بس اسی پر فیصلہ کر لو کہ ہم دعاء کرتے ہیں… اللہ
پاک ہمارا حشر حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ فرمائے… اور اُن کا قاتلانِ
حسین کے ساتھ… حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کن حالات میں ہوئی؟… مقصد یہ
ہے کہ دعا ء میں شرطیں نہ لگاؤ… بس شہادت مانگو کہ ربّا فضل فرما اور اپنے راستے
کی مقبول شہادت نصیب فرما… بعض لوگ ظاہری طور پر بے نتیجہ شہید ہوتے ہیں… مگر اللہ
پاک ان کی شہادت کو ان کے لئے اور مسلمانوں کے لئے بہت قیمتی بنادیتا ہے… بالاکوٹ
کے شہداء کتنی عجیب حالت میں شہید ہوئے …مسلمانوں کی بے وفائی، مال پرست لوگوں کی
طوطا چشمی… اپنے علاقے سے دوری اور اسباب کے بارے میں بے بسی… ان کی تو لاشیں
اٹھانے والا بھی کوئی نہیں تھا… مگر آج وہ جہاد اور شہادت کا حسین استعارہ بنے
ہوئے ہیں… اور ان کے جہادی آثار لاکھوں مسلمانوں کو جہاد اور شہادت کا مسئلہ سمجھا
رہے ہیں…
دوسرا کام ہے ’’بیعت علی الجہاد‘‘… یعنی اللہ پاک سے
باقاعدہ سودا کرنے کے لئے ایک امیر کے ہاتھ پر جہاد کی بیعت کرلو… بیعت علی الجہاد
بہت عظیم نعمت ہے… جس کسی نے بھی سچے دل اور اخلاص سے یہ بیعت کی ہے… وہ اکثر
شہادت سے محروم نہیں رہا… آپ قرآن پاک میں شہادت کی آیات پڑھیں… اور پھر ’’بیعت
علی الجہاد‘‘ کی آیات پڑھیں… آپ کو واضح مناسبت نظر آئے گی… حضرت مولانا محمد یوسف
لدھیانوی شہیدؒ … قرآن وسنت کے ماہر عالم دین تھے… انہوں نے ایک بار مسجد میں مجھ
سے فرمایا… میں نے جہاد کی رسمی بیعت نہیں کی، حقیقی بیعت کی ہے… اور دیکھنا میں
بستر پر نہیں مروں گا… بیعت کے معنیٰ ہیں بیچنا، سودا کرنا… کہ اللہ پاک سے سودا
کرلیا ہے… شہادت ہر کسی کو نہیں ملتی… اس لئے ’’بیعت علی الجہاد‘‘ کرنے والے بھی
بہت کم ہیں… اور اسے نبھانے والے اس سے بھی کم… بس جہاں نفس پر یا مفادات پر ذرا
سا بوجھ پڑا وہاں بیعت ختم… دنیا کی عورتوں کے لئے لوگ کیا کیا پاپڑ بیلتے ہیں
جبکہ… جنت کی حوروں کو سب نے (نعوذباللہ) بے قیمت سمجھ رکھا ہے… آہ شہادت، آہ
شہادت…
بیعت علی الجہاد کے بعد اگلا کام ہے… جہاد کے راستے پر چلتے
رہنا چلتے رہنا… جہاں تشکیل ہوجائے… جب بلاوا آئے… کوئی مجاہد خود کو بھاری نہ
ہونے دے… مجاہد بھاری ہوتا ہے دو چیزوں سے … ایک مال کی لالچ… اور دوسرا عہدے کا
حرص… مجاہد تو اپنے امیر کے ہاتھ پر بیٹھا ہوا وہ ’’باز‘‘ ہوتا ہے… جو اشارہ ملتے
ہی اپنے کام پر جھپٹ پڑتا ہے… مال کے لالچی لوگ جہاد کو اور خود کو نقصان پہنچاتے
ہیں… اور عہدے سے چپک جانے والے شہادت سے اکثر محروم رہتے ہیں… مجاہد کے نزدیک
کوئی تشکیل بڑی نہیں ہوتی… اور نہ کوئی چھوٹی… گاڑی اور سہولتیں مجاہد کے نزدیک
گدھے کے برابر بھی حیثیت نہیں رکھتیں… جو مجاہد اپنے امیر کو اس بات کا حق نہیں
دیتے کہ وہ جہاں چاہے ان کی تشکیل کرے وہ مجاہد نہیں… جہاد کے راستے کی رکاوٹ ہوتے
ہیں… انہیں کی وجہ سے فتنے آتے ہیں… اور انہیں کی بدولت پاکیزہ راستے ناپاک ہوتے
ہیں… ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں جو جہاد دے کر گئے ہیں… بس وہی جہاد ہی
شہادت اور کامیابی کا ضامن ہے… اس جہاد میں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ فاروق اعظم
رضی اللہ عنہ مامور ہوتے ہیں… اور کم سن اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ ان کے امیر…
اے مجاہدو!… اللہ کے لئے خود کو ہلکا رکھو… تب تم دشمن پر
بہت بھاری پڑو گے… اور جہاد کو زمانے کا کوئی فرعون، کوئی بش اور کوئی پرویز نقصان
نہیں پہنچا سکے گا… خود کو اسباب، عہدے اور پروٹوکول کا عادی نہ بناؤ… اور نہ جہاد
کے اسباب کو گناہ کے کاموں میں استعمال کرو… تب تمہیں بھی ان شا ء اللہ شہادت نصیب
ہوگی… اور تم بھی اس میٹھی نعمت کے مستحق بنوگے…
اب ایک بہت ضروری اور اہم گذارش
اے مسلمانو!… اگر آپ شہادت کے طلبگار ہو تو ان لوگوں سے
بچو… جو جہاد چھوڑ کر دوسرے کاموں میں لگ گئے ہیں… اور وہ مجاہدین کی غیبت اور
مخالفت کرتے ہیں… یہ لوگ آپ کے ایمان کے لئے بہت خطرناک ہیں، بہت خطرناک… انہوں نے
چند دن جہاد میں گزارے… مگر یہ جہاد کے اہل نہ تھے اس لئے اللہ پاک نے ان کو
ہٹادیا… اگر یہ لوگ مخلص اور سچے ہوتے اور کسی واقعی مجبوری کی وجہ سے گھر بیٹھے
ہوتے تو یہ کبھی بھی مجاہدین کی مخالفت نہ کرتے… بلکہ یہ لوگ اپنی محرومی پر بلک
بلک کر روتے اور ہر ملنے والے سے اپنے لئے دعاء اور استغفار کراتے… جی ہاں انسان
پر بعض اوقات ایسے حالات آجاتے ہیں کہ وہ جہاد نہیں کر سکتا… مگر وہ جہاد کو نقصان
بھی نہیں پہنچاتا… بلکہ خوب استغفار کرتا ہے… خوب روتا اور تڑپتا ہے… مگر یہ لوگ
تو ذرّہ برابر نہیں پچھتاتے… یہ تو جہاد کو خالہ جی کا گھر سمجھ کر گئے تھے … مگر
جب انہیں جیلوں میں جانا پڑا… گوانٹا نامو بے اور دوسرے عقوبت خانوں میں جانا پڑا
تو یہ لوگ ثابت قدم نہ رہ سکے… اب وہ پرُامن زندگی گزارنا چاہتے ہیں… مگر افسوس یہ
کہ وہ دن رات مجاہدین کے خلاف زہر اُگلتے ہیں… ان کی زبانوں پر دو ہی الزامات ہیں…
مجاہدین مال کھا رہے ہیں… اور مجاہدین ایجنسیوں کے ایجنٹ ہیں… عجیب بات یہ ہے کہ
کوئی ان ظالموں سے نہیں پوچھتا کہ تم خود جہاد پر کیوں نہیں جاتے؟… تم نے کس عذر
کی بنا پر جہاد چھوڑ دیا ہے؟… عراق، افغانستان، کشمیر وغیرہ میں کون لوگ لڑ رہے
ہیں؟… کن کو ختم کرتے کرتے ٹونی بلیئر کا اقتدار ختم ہو رہا ہے؟… کن سے لڑتے لڑتے
بش اب ٹُھس ہوگیا ہے؟… کون ہیں جنہوں نے ہند پر لرزہ طاری کر رکھا ہے؟… کن کو
مارنے کے لئے نیٹو کا اتحاد دن رات اپنی لاشیں گن رہا ہے؟… ہاں کوئی کچھ نہیں
پوچھتا… اور یہ ’’پرانے مجاہد‘‘ غیبت کا حرام گوشت مزے سے کھاتے اور کھلاتے رہتے
ہیں… چند دن پہلے ایک خاتون کا خط آیا کہ مجھے ایک پرانے مجاہد نے جواب کسی جگہ
پڑھاتے ہیں بتایا ہے کہ… آپ نے جیل میں کمانڈر نصر اللہ منصور کو تھپڑ مارا تھا…
استغفراللہ ، استغفراللہ… اللہ پاک کمانڈر صاحب کو جلد واپس لے آئے … وہی اس جھوٹے
بہتان کا زیادہ بہتر جواب دے سکتے ہیں… الحمدللہ میرا تو آج بھی ان سے محبت کا رشتہ
قائم اور تازہ ہے… لیکن بالفرض اللہ نہ کرے ایسا کوئی واقعہ ہوا بھی ہو… تو کیا دو
انسانوں کے درمیان کبھی اختلاف اور جھگڑا اور پھر صلح نہیں ہوتی؟… مگر ’’پرانے
مجاہدین‘‘ کی گود میں بس اسی طرح کی جھوٹی باتیں اور واقعات ہیں… اور کوئی ان سے
یہ نہیں پوچھتا کہ… ان حالات میں آپ کا جہاد چھوڑنا کس طرح سے جائز ہے؟… اور کام
میں جڑے ہوئے مجاہدین کے خلاف نفرت پھیلانا کون سا ثواب ہے؟… میرے ایک اور عزیز
ساتھی بتا رہے تھے کہ ان کے گاؤں کا گوانٹا ناموبے سے رہا ہونے والا ایک شخص… غیبت
کا تفصیلی بازار لگاتا ہے… اس سے کوئی بھی بات کرے تو کہتا ہے … اگر آپ کے پاس
’’تین گھنٹے‘‘ ہوں تو میں ان مجاہدین کی حقیقت آپ کو بتا سکتا ہوں… تین گھنٹے
غیبت… اور غیبت زنا سے بدتر گناہ… استغفراللہ، استغفراللہ…
اے مسلمانو!… ان لوگوں سے بچو… انہوں نے اپنے اعمال تو ضائع
کردئیے ہیں اب یہ دوسروں کے ایمان پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں… جہاد کوئی موسمی میلہ نہیں
ہے کہ… جب حالات ٹھیک تھے تو یہ لوگ جاتے تھے… اب حکومتوں کا خطرہ ہے تو انہوں نے
خود کو ’’فریز‘‘ کرنے کی بات شروع کردی ہے… جو لوگ جہاد چھوڑ کر غیبت کرتے ہیں ان
کی کسی بات کا اعتبار نہیں ہے… یہ خود جھوٹ گھڑتے ہیں، بدگمانیاں پالتے ہیں اور
نفرتیں بیچتے ہیں… اللہ پاک ان کو توبہ کی توفیق عطاء فرمائے اور ہمیں ان جیسے برے
انجام سے اپنی پناہ میں رکھے…
بات یہ چل رہی تھی کہ… شہادت ایک بہت پیاری اور میٹھی نعمت
ہے… مگر یہ نعمت ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی… ہم سچے دل سے اس کی طلب اپنے اندر پیدا
کریں… ہم سچے دل سے اسے اللہ پاک سے مانگیں… ہم مقبول لوگوں سے اپنے لئے شہادت کی
دعاء کروائیں… والدین اپنے بچوں کو شہادت کی دعاء دیں… شہادت اور اس کی محبت عام
ہوگی تو اسلام کو دنیا بھر میں غلبہ ملے گا… صرف بارہ ہزار شہادت کے شیدائی مسلمان
جہاں جمع ہوجائیں گے… وہاں انہیں انشاء اللہ فتح نصیب ہوگی… ہم شہادت پانے کے لئے
ان نسخوں پر بھی عمل کریں جن کا آج کے کالم میں مذاکرہ ہوا ہے… اللہ پاک ہم پر
اپنا فضل فرمائے… اور ہمیں اپنے پیارے راستے کی مقبول شہادت نصیب فرمائے…
آہ شہادت! آہ شہادت!
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا سورۃ توبہ میں ارشاد گرامی ہے:
یرضونکم بافواہہم وتابیٰ قلوبہم (التوبۃ۸)
یعنی یہ مشرکین اور کفار اپنی زبانی باتوں اور الفاظ سے
تمہیں خوش کرتے ہیں جبکہ ان کے دل تمہاری دشمنی سے بھرے پڑے ہیں…
ابھی ہمارے ملک پاکستان میں ’’امریکی مہمان‘‘ آئے ہوئے ہیں۔
دو نائب وزیر خارجہ اور ایک فوج کی سینٹرل کمان کے سربراہ… ان تینوں مہمانوں سے
ملنے کے لئے ہمارے ’’مسلمان لیڈروں‘‘ کا ایک ہجوم قطار لگائے کھڑا ہے… ہر کوئی ان
سے محبت اور وفاداری کا بڑھ چڑھ کر اظہار کر رہا ہے…
انا للہ وانا الیہ راجعون
کسی کے سینے میں ’’مسلمان دل‘‘ اور منہ میں ’’پاک زبان‘‘
ہوتی تو ان مجرموں سے پوچھتا کہ… ساری دنیا میں مسلمانوں کا قتل عام کیوں کر رہے
ہو؟…
سورۃ توبہ کی آیت ۷ تا ۹ … قرآن پاک نے چار جرائم کا تذکرہ فرمایا ہے کہ یہ بدترین
جرائم ہیں…
۱۔ اللہ پاک کے ساتھ شریک ٹھہرانا… (امریکی حکام
عیسائی ہیں اور عیسائی تین خدا ماننے کی وجہ سے مشرک ہیں)
۲۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ ماننا (امریکی حکام
ہمارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر ہیں)
۳۔ مسلمانوں سے دشمنی رکھنا (امریکی حکام لاکھوں مسلمانوں کے
قاتل اور مسلمانوں کے سخت دشمن ہیں)
۴۔ دنیا پرستی میں اتنا مگن ہوجانا کہ دنیا ہی اصل مقصود بن
جائے اور دنیا پرستی کی خاطر ایمان قبول نہ کرنا (امریکیوں کی مادہ پرستی سب کے
سامنے ہے)…
قرآن پاک کے نزدیک یہ چار بہت گندے، بہت برے اور قابل نفرت
جرائم ہیں… کیاآج کا مسلمان بھی ان چیزوں کو ’’جرم‘‘ سمجھتا ہے؟…
اگر جرم سمجھتا تو پھر کافروں کا غلام کیسے بنتا… افسوس صد
افسوس کافروں نے جہاد کو دہشت گردی کا نام دے کر ’’جرم‘‘ قرار دیا… اور پھر اپنے
غلاموں کو ساتھ لے کر اس جرم کے خاتمے کے لئے جنگ شروع کردی… حالانکہ جہاد اللہ
پاک کا ’’حکم‘‘ ہے… امریکی اس ’’حکم الٰہی‘‘ کو ختم کرنے کے لئے لڑ رہے ہیں… پھر
بھی وہ ہمارے محبوب اور ہیرو ہیں…
اے مسلمانو!… کچھ تو سوچو، کچھ تو سمجھو… کیا اللہ تعالیٰ
کے ساتھ شرک کرنا کوئی چھوٹا جرم ہے؟… کیا ہمارا اپنے رب سے یہی تعلق ہے کہ ہم اس
کے منکروں اور دشمنوں کو اپنا یار بنائیں؟…
پھر کس منہ سے قیامت کے دن اللہ پاک کے سامنے پیش ہوں گے؟…
کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ ماننا چھوٹا جرم ہے؟… کیا لاکھوں مسلمانوں
کو بمباری سے روند ڈالنا چھوٹا جرم ہے؟… کیا دنیا کو عیش پرستی اور بے حیائی سے
بھر کر ایمان اور آخرت سے لوگوں کو غافل رکھنا چھوٹا جرم ہے؟…
آہ عراق کی پاکیزہ عصمتیں!… کون ہے ان کا وارث؟ …
اجمع العلماء علی انہ اذا سبیت امراۃ واحدۃ اصبح الجہاد فرض
عین علی کل المسلمین حتی تنقذ المرأ ۃ…
یعنی امت کے اہل علم کا اجماع ہے کہ اگر ایک مسلمان عورت کو
کافر اپنا قیدی بنا لیں تو تمام مسلمانوں پر جہاد فرض عین ہو جائے گا یہاں تک کہ
اس عورت کوچھڑا لیا جائے…
آہ صرف ایک مسلمان بیٹی… مگر آج تو ایک نہیں ہزاروں ادھڑے
ہوئے آنچل… بوسنیا سے لے کر فلسطین تک… کشمیر سے لے کر عراق تک… افغانستان سے لے
کر فلسطین تک…
کیوں؟ کیوں؟… ہماری فوجیں گونگی دیواریں، کافروں کے فرنٹ
لائن اتحادی… ہمارے سیاستدان رنگیلے… اور ہمارے واعظ بے زبان… معلوم نہیں عبداللہ
بن مبارکؒ کہاں سو گئے؟… فرمایا کرتے تھے:
کیف القرار وکیف یہدئُ مسلم
والمسلمات مع العدوّ المعتدی
ارے ایک مسلمان کو کیسے سکون اور قرار آئے جبکہ… ہماری
مسلمان بہنیں ظالم دشمن کے قبضے میں ہیں…
کسی نے رچرڈ باؤچر سے عراق اور افغانستان کی بیٹیوں کا حساب
مانگا؟… کسی نے نیگرو پونٹے سے دجلہ وفرات میں بہتی لاشوں کا جواب مانگا؟… احساس
کمتری کی چمکیلی بوریاں کیسے ان کافروں کے سامنے سر اٹھا کر بولتیں… دل میں کفر کی
محبت ہے… دل میں مال کا لالچ ہے… دل میں عہدے کی ہوس ہے… دل میں ترقی کا رعب ہے …
دل میں امریکہ کی دہشت ہے… ہاں جو دل ’’اللہ اکبر‘‘ سے خالی ہوں… جو دل ’’سبحان
اللہ‘‘ سے خالی ہوں… جو دل ’’ الحمدللہ‘‘ سے خالی ہوں… ہاں جو دل ’’لاالہ الا
اللہ‘‘ سے محروم ہوں… وہ دل نہیں ہوتے… انہیں دل کہنا د ل کی توہین ہے… جس اخبار
کو اٹھا کر دیکھ لیں… اندھیرا نظر آتا ہے … صرف اندھیرا… بزدلی کا اندھیرا، احساس
کمتری کا اندھیرا… اور دنیا کی ہوس کا اندھیرا… کالم نویس انٹرنیٹ سے دنیا کی بڑی
کمپنیوں کا پروفائل پڑھ کر… حرص اور لالچ میں تڑپنے لگتے ہیں… اور پھر قلم اٹھا کر
مسلمانوں کو یہی سبق دیتے ہیں کہ… بس دنیا پرست بنو… اپنے پاس ڈھیر ساری گندگی جمع
کرو… اور آخرت کو نہ مانو… کیونکہ جو آخرت کو مانتے ہیں وہ دنیا میں ترقی نہیں کرسکتے…
نعوذباللہ، استغفراللہ…
آفرین ہو افغانستان والوں پر… انہوں نے اپنا ملک کھنڈر
بنوالیا مگر غلامی کو قبول نہیں کیا… افسوس ہم تو بالکل غلام بن گئے… اپنی بلڈنگیں
اور سڑکیں بچانے کے لئے ہم نے اپنی عزت کو نیلام کردیا… امریکی وزیر خارجہ یہاں
ایسے بول رہے تھے جس طرح پاکستان امریکہ کی ایک حقیر سی کالونی ہو… کتنے ظالم اور
قابل نفرت ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے ملک اور قوم کو امریکہ کا غلام بنادیا ہے…
آفرین ہو عراق والوں پر… چھ لاکھ لاشیں دے کر بھی انہوں نے امریکہ کے سامنے سر
نہیں جھکایا… ہم نے بھی تو زلزلے میں ایک لاکھ افراد گنوادئیے… اگر ہم بھی اپنی
اسلامی غیرت اور عزت کو بچا لیتے تو شاید اس سے بھی کم قربانی دینی پڑتی… مگر
افسوس، دنیا بھر کی اقوام میں ’’بے عزتی‘‘ کے وکٹری اسٹینڈ پر ہم نے ہی کھڑے ہونا
تھا…
کوئی ہے جو مسلمانوں کو سمجھائے کہ… کافروں کے ملکوں میں
مال کمانے کے لئے دھڑا دھڑ نہ جاؤ… تمہاری اس حرص نے مسلمانوں کی عزت کا جنازہ
نکال دیا ہے… کوئی ہے جو مسلمانوں کو سمجھائے کہ محبت اور نفرت کا قرآنی معیار کیا
ہے؟… لوگ ہمارے بارے میں کہتے ہیں کہ ہم نفرت پھیلاتے ہیں… حالانکہ ہم تو محبت کا
درس دیتے ہیں… اے بندو اپنے پیدا کرنے والے رب، اللہ تعالیٰ سے محبت کرو… اپنے آقا
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرو… تمام انبیاء، صدیقین، شہداء، صالحین سے
محبت کرو… اہل بیت، صحابہ کرام اور اولیاء اللہ سے محبت کرو… ہر ایمان والے فرد سے
محبت کرو… ہر غریب، مسکین، یتیم، محتاج سے محبت کرو… محبت، محبت اور محبت… ہم تو
جانوروں پر ظلم کو حرام سمجھتے ہیں… ہم تو ایک چیونٹی کو بلاوجہ مارنا برا سمجھتے
ہیں… مگر تم ہمارے بچوں کے چیتھڑے اڑاؤ اور ہم تم سے محبت کریں… اس بات کو بھول جاؤ…
رب کعبہ کی قسم ساری دنیا کے مسلمان شرعی طور پر ایک جان کی طرح ہیں… تم بوسنیا کی
بیٹیوں کو حرام کے حمل اٹھانے پر مجبور کرو… تم ہماری آبادیوں پر ڈیزی کٹر بم
برساؤ… اور ہم تم سے محبت کریں… اس بات کو بھول جاؤ… تم ہمارے ملکوں کو اپنی
انسانی شکارگاہیں بناؤ… اور ہم تمہیں مہذب اور ترقی یافتہ سمجھیں… اس کو بھول جاؤ…
جو لوگ تمہاری نوکری کر رہے ہیں… انہیں یا تو تمہاری طاقت کا ڈر ہے… یا تمہارے
ڈالروں کی ہوس … ہم تو الحمدللہ تم سے
اتنا بھی نہیں ڈرتے جتنا کوئی مچھر سے ڈرتا ہے… ہم موت کے انتظار میں زندگی گزارنے
والے صحابہ کرام کی روحانی اولادیں ہیں… اور ہمیں تمہارے ڈالر غلاظت سے زیادہ
ناپاک لگتے ہیں… اس لئے تم سے محبت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا… میں تم سے محبت
کروں تو قندوز کے کنارے ڈیزی کٹر بم سے جل جانے والے جمعہ خان شہید کو کیا منہ
دکھاؤں… میں تم سے محبت کروں تو کنٹینر میں سسک سسک کر شہید ہونے والے سلطان بھائی
کو کیا منہ دکھاؤں…
ملا اختر عثمانی کے قاتلو… ملا داد اللہ کے قاتلو… ہزاروں
لاکھوں مسلمانوں کے قاتلو… تم سے محبت کرکے میں اپنے ایمان سے محروم نہیں ہونا
چاہتا… تمہارے پاس کون سی ایسی چیز ہے جو مجھے متاثر کرے؟… اللہ تعالیٰ کی توحید
سے تم محروم ہو… آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی سے تم محروم ہو… انسانی
قدروں اور حیاء سے تم محروم ہو… تمہارے ڈالر تو فانی ہیں… یہ مرنے کے بعد کسی کام
نہیں آئیں گے… تمہارے منہ سے مسلمانوں کا خون ٹپک رہا ہے… جو مجھے چین کی نیند
نہیں سونے دیتا… تمہاری ترقی نے زمین کا حسن چھین لیا ہے… تم نے فضاء کو آلودگی سے
بھر دیا ہے… تم نے انسانوں کو نوٹ گننے اور گیس بنانے والی مشینیں بنادیا ہے… تم
نے دنیا کو معاشی ناہمواری کے دلدل میں پھنسا دیا ہے… اللہ کی قسم جس شخص کے دل
میں ذرہ برابر ایمان ہو… اور اسے یاد ہو کہ میں نے مرنا ہے اور مرنے کے بعد اللہ
تعالیٰ کو حساب دینا ہے… وہ کبھی بھی تم سے متاثر نہیں ہوسکتا… تمہیں اپنی طاقت پر
ناز ہے تو یہ ناز محض ایک فریب ہے… تم اپنے زر خرید ایجنٹوں کے بغیر ایک قدم آگے
نہیں بڑھا سکتے… تم عراق اور افغانستان سمیت ہر جگہ بدترین شکست سے دو چار ہو… تم
وہ جادوگر ہو جس کی جان مسلمانوں کی ایک کمزوری میں پوشیدہ ہے… ہاں دنیا کی محبت
کی کمزوری… مسلمانوں میں ’’دنیا کی محبت‘‘ آگئی ہے… اس لئے تمہارا جادو سر چڑھ کر
بول رہا ہے… جس دن مسلمانوں کی اس کمزوری کا علاج ہوگیا… اس دن تم واپس اپنی اوقات
پر آجاؤ گے… امام مہدی کے لشکر میں کل بارہ ہزار افراد ہوں گے… مگر یہ بارہ ہزار
مسلمان دنیا کی محبت سے آزاد ہوں گے… ان کے نزدیک خیمہ اور کوٹھی ایک جیسے ہوں گے…
ان کے نزدیک ریشم اور ٹاٹ میں کوئی فرق نہیں ہوگا… ان کے نزدیک کھانے کا مطلب بھوک
مٹانا اور پہننے کا مطلب جسم چھپانا ہوگا… اور وہ موت کی تلاش میں گھوم رہے ہوں
گے… تب یہ لشکر دنیا کے ایک بڑے حصے کو فتح کرلے گا… آج کا مسلمان بھی حب دنیا سے
نجات پالے… فائیو اسٹار کلچر اور پروٹوکول کے خرخشوں سے آزاد ہوجائے … شادی، لباس
اور کھانے کو ضرورت کی چیز سمجھے … اور اسلام کے علاوہ کسی چیز میں عزت نہ ڈھونڈے…
اور شہادت کا طلب گار ہو تو پھر امریکہ اور یورپ کو اپنی اصل اوقات نظر آجائے گی…
آج چند فدائیوں نے دنیا کی سپر طاقتوں کا ناک میں دم کیا ہوا ہے… زمینوں، پلاٹوں،
کوٹھیوں، کاروں، جوتوں، لباسوں… اور چمکیلی چیزوں سے آزاد یہ فدائی مجاہدین… اصل
اور حقیقی مسلمان ہیں…
حکومت والوں سے ہمارا مطالبہ ہے کہ… مسلمانوں کے اس ملک کو
کافروں کے ہاتھوں فروخت کرنے سے پرہیز کریں… یہ ملک آپ کی جائیداد نہیں ہے اور نہ
آپ نے ہمیشہ زندہ رہنا ہے… اپنی خواہشات کی خاطر آئندہ نسلوں کو غلامی کا طوق ورثے
میں دے کر جانا کسی ’’شریف انسان‘‘ کا شیوہ نہیں ہے… اور امریکی مہمانوں سے ہم صرف
اتنا کہتے ہیں کہ آپ… مہمان بن کر آیا کریں، مسلمان مہمانوں کا اکرام کرتے ہیں…
خواہ وہ مہمان غیر مسلم ہی کیوں نہ ہوں… مگر ہمارے آقا بن کر آنے کی ضرورت نہیں
ہے… ہم مسلمان غلامی پر موت کو ترجیح دیتے ہیں… اور ہمارا خون بہت کڑوا ہے جو کسی
کو بھی ہضم نہیں ہوسکتا… ہاں اگر ہمارے مسلمان کہلانے والے چند لوگ آپ کے ’’وفادار
غلام‘‘ بن چکے ہیں تو آپ ان کو اپنے ساتھ لے جائیے…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم
کی محبت عطاء فرمائے… اصل بات عرض کرنے سے پہلے چند تمہیدی باتیں عرضِ خدمت ہیں…
زبان ناپاک نہیں ہوتی
پہلے آج کے کالم کا نام رکھا تھا… رشدی خنزیر، انگریزوں کا
سر… مگر پھر خنزیر کا لفظ کاٹ دیا… دراصل بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ’’خنزیر‘‘ کا
نام لینے سے زبان ناپاک ہوجاتی ہے… حالانکہ یہ مسئلہ غلط ہے… اگر کسی کا نام لینے
سے زبان ناپاک ہوتی تو پھر ابوجہل، شیطان اور کعب بن اشرف کا نام لینے سے ناپاک
ہوتی… بش، ٹونی بلیئر اور ملکہ برطانیہ کا نام لینے سے ناپاک ہوتی… مرزا قادیانی،
فرعون اور نمرود کا نام لینے سے ناپاک ہوتی… ان تمام لوگوں کی گندگی اور ناپاکی کے
سامنے تو خنزیر بیچارہ شرمندہ ہوجاتا ہے… انسان کی زبان چلتا پانی ہے… یہ زبان
آسانی سے ناپاک نہیں ہوتی… ہاں اگر ان ناپاک لوگوں کا نام محبت سے لیا جائے… اور
ان کی محبت دل میں بھی اتاری جائے تو اس وقت… سب کچھ ناپاک ہوجاتا ہے… رشدی ملعون
کے لئے خنزیر اور سور کا لفظ ہی کچھ مناسب تھا… لیکن سب لوگوں کو مسئلہ معلوم نہیں
ہے… اس لئے مضمون کا عنوان بدلنا پڑا… رشدی خبیث، انگریزوں کا سر… ضرور کٹے گا…
ضرور کٹے گا…
انگریزی اعزاز میں کوئی عزت نہیں
برطانیہ کی ملکہ نے… اللہ پاک اسے ذلیل فرمائے… ہم مسلمانوں
کے بدترین دشمن ’’رشدی خبیث‘‘ کو ’’سر‘‘ کا خطاب دیا… میں نے یہ خبر پڑھی مجھے نہ
دکھ ہوا نہ افسوس… میں نے کبھی انگریزوں سے خیر کی توقع رکھی ہی نہیں… میں نے کبھی
انگریزوں کو ’’اپنا‘‘ سمجھا ہی نہیں… انگریز تو لاکھوں مسلمانوں کے قاتل اور تاریخ
کے بدترین مجرم ہیں… اب رشدی جیسے خبیث کو انگریز عزت نہیں دیں گے تو اور کون دے
گا؟… ہمیں تو اس بات کا دکھ ہے کہ رشدی زندہ ہے… ہمیں تو اس پر شرمندگی ہے کہ میرے
پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا گستاخ دشمن ابھی تک سانس لے رہا ہے… چند کتّے کسی
ایک کتے کی گردن میں کوئی ہار ڈال دیں تو کتّا انسان نہیں بن جاتا… انگریز بھی
ناپاک اور رشدی بھی ناپاک… ایک قاتل نے دوسرے کی گردن میں ہار ڈالا ہے… ایک سور نے
دوسرے سور کی گردن میں رسہ ڈالا ہے… کونسا اعزاز اور کون سی عزت؟… اچھا ہوا انگریزوں
نے رشدی کو اپنا ’’سر‘‘ بنادیا… ایسا ناپاک سر انگریزوں کی گردن کو بھی بری طرح
غیر محفوظ بنا دے گا… میں اس موضوع پر بالکل نہ لکھتا… کیونکہ رشدی کا نام لکھنے
سے بھی دل پر چوٹ لگتی ہے… یہ ملعون تو گندا کیڑا اور بدترین انسان ہے… مگر ہماری
حکومت نے اس واقعہ پر… جس پھیکے احتجاج کا ڈرامہ رچایا… اس نے دل کے زخم تازہ
کردئیے… عجیب ظالمانہ الفاظ میں احتجاج ہے کہ… برطانیہ کے اس طرح کے اقدامات سے
انتہا پسندوں کو فائدہ پہنچے گا… دہشت گردی کے خلاف جنگ متاثر ہوگی… یہ احتجاج ہے
یا اپنے باپ سے شکوہ… ہائے ظالمو! تمہیں حوض کوثر والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی
عزت وحرمت کا خیال کم… اور انتہا پسندی کا ڈر زیادہ ہے… وہ جو پتھروں سے لہولہان
ہو کر ’’امتی امتی‘‘ پکارتے تھے… ان کی امت کے لیڈر اتنے پھیکے عاشق… اگر تمہیں
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کا پاس ہوتا تو برطانیہ کے ساتھ سفارتی تعلقات
ختم کردیتے… افغانستان میں برطانیہ اور امریکہ کے ساتھ اپنا ناپاک اتحاد توڑ دیتے…
اور برطانوی سفیر کو ملک سے دفع ہونے کے لئے کہتے… مگر کہاں؟
ابھی کل ہی ٹونی بلیئر کی خاطر فیصل مسجد میں اذان بند
کرائی… ابھی کل ہی ٹونی بلیئر سے دینی مدارس کی اصلاح کے نام پر پیسہ لیا… یہ عجیب
احتجاج ہے… بہت ظالمانہ احتجاج… کل تک ہمارے حکمران خود کو روشن خیال ثابت کرنے کے
لئے کپڑوں سے باہر نکل رہے تھے… مگر جب پاکستان کے غیور مسلمانوں نے روشن خیالی پر
تھوک دیا تو اب خود کو مسلمان ثابت کرنے کی کوشش زوروں پر ہے… ٹھیک ہے مسلمان بننا
ہے تو دروازے کھلے ہیں… مگر پورے مسلمان بنو… اگر برطانیہ کو تکلیف پہنچانی ہے …
اور اس سے احتجاج کرنا ہے تو صرف جیش محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پابندی ختم کرنے
کا اعلان کردو… برطانیہ سر سے پاؤں تک لرز جائے گا… تب تم اسے کہنا کہ تم نے حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخ دشمن کو نوازا تو ہم نے… حضرت محمد صلی اللہ
علیہ وسلم کے جانثاروں سے پابندی ہٹادی… ہائے کاش تم ایسا کرتے مگر کہاں؟… مگر
کہاں؟…
یہ انعامات کیسے؟
ایک اور تکلیف دہ معاملہ… رشدی کے قتل پر انعامات کا اعلان
ہے… کیا میرے آقا رحمت دو عالم کی عزت کو ڈالروں میں تولا جاسکتا ہے؟… یہ کیا فضول
حرکت ہے؟… کوئی کہتا ہے جو رشدی کو مارے گا اسے اتنے لاکھ ڈالر… کوئی کہتا ہے جو
رشدی کو قتل کرے گا اسے اتنا سونا… کیا انعامات مقرر کرنے والوں کے اپنے ہاتھ ٹوٹ
گئے ہیں؟… کیا ان کا آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی رشتہ ہے کہ وہ آقا کے دشمنوں
کو کرائے کے قاتلوں سے مروائیں… ہاں اسلامی لشکر کا امیر انعامات کا اعلان کرتا
تھا… مگر ساتھ ہی اپنے سپاہیوں کو اس کام کے لئے آگے بھی بڑھاتا تھا… خمینی نے
رشدی کے قتل پر انعام کا اعلان کیا… مگر اپنی لاکھوں سپاہ میں سے کسی کو نہیں
بھیجا… یہ کیا مذاق ہے؟… ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ رشدی کو قتل کرنے کی حتی
الامکان کوشش کرے… کئی مسلمانوں نے کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکے… اللہ پاک ان کو
اجر عطاء فرمائے… اور کئی ایک کوشش میں ہیں… انعامات کا اعلان کرنے والے تو چھپ
جائیں گے… کوئی رشدی کے قاتلوں کے گھر پانی تک نہیں پہنچائے گا… مگر خوش نصیب لوگ
اس کی تاک میں لگے رہیں گے… بالآخر کوئی نہ کوئی تو پہنچ ہی جائے گا… تب جو پہنچے
گا وہ حوض کوثر پر آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں بیٹھا ہوگا… ہاں اسی
انعام کی خاطر کوئی نہ کوئی یہ سعادت پا ہی لے گا… ڈالروں کے انعامات کا اعلان
کرنے والو… بس کرو، مزید مذاق اسلام کی عزت کے ساتھ نہ کرو… اگر تمہارے دل میں درد
ہے تو یہ ڈالر ابھی سے جاکر ان عزت مند مسلمانوں کو دے دو… جو افغانستان اور عراق
میں برطانیہ اور امریکہ کو ماں کا دودھ یاد دلا رہے ہیں… وہ ان پیسوں سے اسلحہ
خرید لیں گے… اور تمہارا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں پکا ہوجائے گا… کاش ایسا ہوتا…
مگر کہاں؟… مگر کہاں؟…
عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر خطرات سے ٹکرانے والے
مسلمان بہت تھوڑے ہیں…
امام مالکؒ کا عاشقانہ کلام
عباسی خلیفہ ہارون الرشید نے امام مالکؒ سے پوچھا… نبی اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے کا کیا حکم ہے؟…
امام مالکؒ نے ارشاد فرمایا:
ما بقائُ الامّۃ بعد شتمِ نبیّہا
اس امت کی کیا زندگی ہے جس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو
گالیاں دی جائیں۔
امام قرطبیؒ اپنی مایہ ناز تفسیر میں یہ جملہ تحریر فرماتے
ہیں:
اجمع عامۃ اہل العلم علیٰ انّ من سبّ النبی صلی اللہ علیہ
وسلم علیہ القتل (القرطبی)
یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی
بکنے والے کی سزا اجماعی طور پر قتل ہے… امت مسلمہ اس مسئلے میں شروع سے بہت حساس
ہے… اور یہ اس امت کی خوش بختی ہے… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخ کی سزا
قتل ہے… یہ مسئلہ قرآن پاک نے بھی بیان فرمایا ہے… حدیث رسول میں بھی اس کا ثبوت
ہے… اور حضرات صحابہ کرام نے عملی طور پر اس مسئلے کو بارہا نافذ فرمایا ہے … فتح
مکہ کے موقع پر سب کو معاف کردیا گیا… مگر گستاخان رسول کو کعبۃ اللہ میں بھی نہیں
بخشا گیا… وجہ صاف ہے کہ اس ناپاک جرم سے زمین وآسمان لرز اٹھتے ہیں… اور جب تک
ایسے مجرموں کو مار نہ دیا جائے اس وقت تک امت مسلمہ کی گردنوں پر بوجھ رہتا ہے…
اس وقت بدنصیبی سے مسلمانوں کے پاس کسی جگہ بھی اپنی حکومت اور اپنی فوج نہیں ہے…
ہاں نام کی اسلامی حکومتیں ہیں جن کا کام کافروں کی نوکری، چاکری کرنا… اور
مسلمانوں کو مارنا ہے… اس کے باوجود الحمدللہ مسلمان جہاد کر رہے ہیں… قربانیاں دے
رہے ہیں… اور اس کی برکت ہے کہ… سلمان رشدی حقیر چوہے کی طرح کانپتا پھرتا ہے… وہ
ہر ملک میں نہیں جاسکتا… وہ آزادی کے ساتھ گھوم پھر نہیں سکتا… اس کافر پر دنیا کی
زندگی بھی تنگ ہوچکی ہے… اور آگے بھی خوفناک آگ دہک رہی ہے… ہزاروں عقابی فدائی
آنکھیں رشدی خبیث کے تعاقب میں ہیں… کبھی تو کسی کے ہاتھ آہی جائے گا یہ چوہا… اور
پھر عبرتناک موت مارا جائے گا… کروڑوں درود و سلام میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم
پر… ان کا دشمن مارا جائے گا تو آسمان بھی مسکرائے گا… زمین بھی خوشی سے سرشار ہوجائے
گی… ہاں کسی مسلمان ماں نے تو … کسی ایسے شیر کو دودھ پلایا ہوگا… جو رشدی کو مار
دے گا… یا رشدی کو مروا دے گا…
انگریزوں کاسر
اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب میں … دین اور مذہب کو گالی
دینا اور پیغمبروں کا مذاق اڑانا کچھ جرم نہیں… جب یہ مذاہب سچے تھے اس وقت تو
یقینا یہ سب کچھ جرم ہوگا… مگر پھر ظالموں نے اپنے دین بدل ڈالے… انہوں نے گستاخوں
کو لگام نہ دی… چنانچہ دین محفوظ نہ رہ سکے… گستاخ شروع میں گستاخ ہوتا ہے… لیکن
اگر اس کو نہ مارا جائے… اور نفرت کا نشان نہ بنایا جائے تو وہ… لیڈر اور رہبر بن
جاتا ہے… اور اس کی بکواس مذہب کا حصہ قرار پاتی ہے… آپ عیسائیوں اور یہودیوں کی
کتابیں پڑھ لیں… توبہ توبہ… ہر گستاخی مذہب کا حصہ بن گئی … آفرین ہو اسلام پر… اس
نے مسئلہ سمجھایا کہ ایسے خبیثوں، ملعونوں کو ماردو… آفرین ہو اسلام کے جانثاروں
پر کہ انہوں نے ایسے ہر خبیث کو مارا یا نفرت کا نشانہ بنایا… چنانچہ اسلام الحمدللہ محفوظ ہے… کوئی گستاخی اور بے ادبی دین
کاحصہ نہیں بن سکی… مگر اس بات کو امریکی اور برطانوی خچر کیسے سمجھیں… ان کے ہاں
تو عزت نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں… صدر کلنٹن نے اپنی سوانح حیات میں لکھا ہے کہ…
میرے باپ سے طلاق … لینے کے بعد میری ماں ایک کالے بالوں والے شخص سے ملتی تھی… وہ
اکثر ہمارے گھر آتا تھا… ایک بار اس نے مجھے گالف کھیلنے والی اسٹک بھی تحفے میں
دی… ایک اسٹک اور کلنٹن خوش… واہ رے عزت، واہ رے غیرت… مگر برطانیہ کے انگریز اپنی
ملکہ کے بارے میں… پچھتر گز کی ناک رکھتے ہیں… لندن کے ہائیڈپارک میں ہر کسی کو
گالی دی جاسکتی ہے … مگر برطانیہ کی ملکہ کو نہیں… ہم مسلمان تو گالیاں دینے کے
عادی نہیں ہیں… ورنہ ملکہ کی حقیقت اور اس کا شجرہ نسب کھول کر رکھ دیتے… خیر بات
کو مختصر کرتے ہیں… ہمارے لوگ ہر گورے کو انگریز کہتے ہیں … حالانکہ انگریز ایک
خاص اور گندی قوم کا نام ہے… جس کا وطن برطانیہ ہے… اسی برطانیہ کے انگریزوں نے
سلمان رشدی کو ’’سر‘‘ کا خطاب دے کر… اس کو ’’جناب‘‘ قرار دیا ہے… ہم تو سر کے لفظ
کو اردو ہی میں لیں گے… یعنی اب برطانیہ نے رشدی خبیث کو اپنا ’’سر‘‘ بنالیا ہے…
میرے خیال میں یہ برطانیہ کی تباہی کا آغاز ہے… رشدی کی لعنت اب برطانیہ کو لے
ڈوبے گی… ماضی میں بھی برطانیہ نے مسلمانوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے… تندوروں
میں مسلمانوں کے جسم جلائے… ترکی کی خلافت عثمانیہ کوختم کیا… اور بے شمار مظالم …
بے شمار جرائم… اب مسلمانوں کے سامنے برطانیہ کا دھڑ بھی مجرم ہے… اور اس کا سر
بھی مجرم ہے… ایسا لگتا ہے کہ ۱۸۵۷ء کے شہداء کی روحوں نے کروٹ لی ہے… میں اللہ تعالیٰ کے
بھروسے پر کہتا ہوں کہ … برطانیہ کو یہ سب کچھ بہت مہنگا پڑے گا… بہت مہنگا… غلامی
کے اثرات ساٹھ سال کے شوگر زدہ بوڑھے کی طرح کھانس رہے ہیں… اور آزادی کا سورج
افغانستان کے پہاڑوں کے پیچھے سے مسکراتا ہوا طلوع ہورہا ہے… وہ دیکھو دجلہ اور
فرات کے شفاف پانی میں… آزادی کے سورج کا عکس چمک رہا ہے…
اللہ اکبر کبیرا … اللہ اکبر کبیرا…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے حضرات صحابہ کرامؓ کو عجیب مزاج عطاء
فرمایا… وہ دین کا کام کرکے اس کا بدلہ دنیا میں نہیں چاہتے تھے… کیا آج کوئی ایسا
انسان موجود ہے؟… ہم تو ہر عبادت، ہر نیک کام کا فوری بدلہ دنیا میں دیکھنا چاہتے
ہیں… حضرات صحابہ کرام مزے کی زندگی گزار رہے تھے مگر جب انہوں نے آقا مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم کی غلامی اختیار کی تو ان پر تکلیفوں کے طوفان ٹوٹ پڑے… اسلام قبول
کرنے سے پہلے کس میں ہمت تھی کہ حضرت صدیق اکبرؓ پر ہاتھ اٹھاتا؟… وہ مکہ کے
مالدار اور معزز ترین لوگوں میں سے تھے… مگر جب اسلام قبول کیا تو ان کو اتنا مارا
جاتا تھا کہ بے ہوش ہوجاتے تھے… اور چہرہ اتنا سوج جاتا تھا کہ جاننے والے بھی نہ
پہچان سکتے تھے… مگر وفاداری دیکھیں… جیسے ہی ہوش آتا آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا
پوچھتے… اور جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خیریت معلوم نہ ہوجاتی نہ کھانا کھاتے
نہ دوا لیتے… ان کی سوچ کیا تھی؟… یہ نہیں کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ
سے ہم پر تکلیفیں آرہی ہیں… وہ ایسی سوچ کو کفر سمجھتے تھے… ان کے دل اور دماغ میں
تو ایک ہی بات تھی کہ… آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا ہم پر احسان ہے کہ انہوں نے ہمیں
اللہتعالیٰ کا راستہ… ہدایت کا راستہ دکھایا… مفاد پرستی والا مذہب تو مشرکوں کا
ہے جودنیا کے مفادات کے لئے پوجا کرتے ہیں… عبادت کرتے ہیں اور عقیدت رکھتے ہیں…
مگر اب مسلمانوں میں شرک کے یہ جراثیم پھیل رہے ہیں… اب ان پیروں، فقیروں کے ہاں
مسلمانوں کا ہجوم ہوتا ہے جو… مستقبل کی پیشین گوئیاں کرتے ہیں، قسمت کا حال بتاتے
ہیں… دنیا بنانے کے وظیفے اور طریقے سمجھاتے ہیں… اور دنیا کے مسائل حل کرتے ہیں…
ان کے ہاں اسلام کی عظمت، دین کی عزت، شریعت کی غیرت، مسلمانوں کی مظلومیت… اور
دین کی خاطر قربانی کا کوئی تذکرہ نہیں ہوتا… اب مسلمانوں کا یہ مزاج بن رہا ہے کہ
جس عبادت کے بعد کوئی تکلیف آجائے وہ عبادت چھوڑ دیتے ہیں… دین کے جس کام کے بعد
کوئی آزمائش آجائے اسے ترک کردیتے ہیں… اللہ پاک ہم سب کوقرآن پاک کی سمجھ عطاء
فرمائے… حضرت ایوب علیہ السلام کی تکالیف، حضرت یونس علیہ السلام کی آزمائش اور
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعات کو ہم بھول گئے… اگر عبادت اور دین کی خدمت کا
مطلب دنیا کے مزے پانا ہے تو پھر… ان انبیاء علیہم السلام کے اعمال میں کیا کمی
تھی؟… وہ تو عبادت کے بہت اونچے مقام پر فائز تھے … خیر یہ ایک لمبا موضوع ہے… آج
آپ کسی مسلمان کو دو وظیفے بتائیں… ایک کا فائدہ یہ کہ دنیا خوب ملے گی، روزی بارش
کی طرح برسے گی… اور دوسرے کا فائدہ یہ کہ قبر کے عذاب سے حفاظت ہوگی… آپ دیکھیں
گے کہ وہ پہلے عمل کو بہت جلدی اور رغبت سے کرے گا… اور دوسرے عمل کو شاید کرے ہی
نہ یا کیا تو بعد میں اور بے رغبتی سے… دنیا کی اسی فکر نے ہمیں دنیا کا غلام
بنادیا ہے… آج پھر ملک میں سیلاب کے ریلے ہیں… کبھی زلزلے، کبھی سیلاب اور کبھی
حکومتی آپریشن… ہم سب کو مل کر خوب دعاء کرنی چاہئے… خوب توبہ کرنی چاہئے… اور ان
مواقع پر ایک دوسرے کے کام آنا چاہئے… ہر مسلمان مرد اور عورت کم از کم ان مصیبت
زدہ لوگوں کے لئے دعاء کا تو اہتمام کرے… ہم ایک امت ہیں… ایک جسم کی طرح ہیں…
ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کی تکلیف کو اپنے اوپر محسوس کرنا چاہئے… اس موقع پر
حکومت پر کیا تنقید کی جائے… حکومت کے لوگ تو سیلاب اور زلزلے سے بھی بڑی مصیبت
میں مبتلا ہیں… دن رات گناہ کرنا… جھوٹ بولنا، سود کی لعنت کو عام کرنا، غریبوں کا
خون نچوڑ کر بلڈنگیں بنانا، ملک کو لوٹ کر اپنے غیر ملکی اکاؤنٹس کے پیٹ بھرنا،
کافروں کے سامنے صبح، شام جھکنا… اسلام کے دشمنوں کی مدد کرنا… اللہ پاک رحم
فرمائے یہ کتنی سخت مصیبتیں ہیں جن میں حکمران طبقہ مبتلا ہے… ان کے دلوں میں بے
سکونی کی آگ جل رہی ہے… اور وہ چند دن بعد آنے والی قبر سے غافل ہیں… ان کے بچے ان
کی آنکھوں کے سامنے گناہ کرتے ہیں… اور ان کی بیویاں ان کے قابو سے باہر ہیں… وہ
ایک ایسے عذاب میں پھنس چکے ہیں … جس سے نکلنے کے راستے بہت کم ہیں… ان کے گرد
مفاد پرست جانوروں کے غول ہیں… وہ خود پروٹوکول آفیسروں کے ہاتھوں یرغمال ہیں…
شیطان ان کے ساتھ کھیلتا ہے… اور نفس ان پر سانپ کی طرح پھنکارتا ہے…
اللہ پاک ہم سب پر رحم فرمائے… بات حضرات صحابہ کرام کی چل
رہی تھی… انہوں نے ہر سعادت کو پالیا مگر پھر بھی ان میں قربانی دینے کا جذبہ
بڑھتا چلا گیا… دراصل وہ اپنی نیکیوں کا پورا بدلہ چاہتے تھے… اور نیکیوں کا پورا
بدلہ اللہ تعالیٰ کی رضا ہے… اور اللہ تعالیٰ کی رضا جنت سے بھی بڑی نعمت ہے… حضرت
ابو ایوب انصاریؓ کی جھولی میں کونسی سعادت نہیں تھی؟… وہ السابقون الاوّلون میں
سے تھے… حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ میں میزبان تھے… آپ صلی اللہ
علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شرکت کی سعادت سے بار بار منور ہوئے تھے… مگر وہ
بڑھاپے میں بھی جہاد میں چلتے رہے… کوئی سمجھاتا کہ اب تو بس کریں تو سورۃ توبہ کی
ایک آیت سناتے کہ یہ آیت گھر نہیں بیٹھنے دیتی… حضرت مقداد بن اسودؓ کتنے بڑے
صحابی ہیں… اللہاکبر کیا کہنے ان کی سعادت کے… بڑھاپے میں جسم بھاری ہوگیا تھا مگر
جہاد میں جارہے تھے… آج لوگ کہتے ہیں کہ جہاد کرنا حکومت کا کام ہے… اور خود مزے
سے گھر بیٹھ جاتے ہیں… دیکھنے والوں نے دیکھا کہ حضرت مقدادؓ بہت بوڑھے ہوچکے ہیں،
جسم مبارک بھاری ہوگیا ہے… انہوں نے سمجھایا کہ آپ نہ جائیں… اس وقت مجاہدین کی
کمی نہیں تھی… اور مسلمانوں کا کوئی علاقہ کافروں کے قبضہ میں بھی نہ تھا… اسلامی
حکومتیں جہاد کے احیاء کو اپنا پہلا کام سمجھتی تھیں… چنانچہ جہاد فرض کفایہ تھا…
فرمانے لگے یہ سورۃ توبہ جو منافقوں کے احوال کرید کرید کر بیان کرتی ہے… یہ مجھے
گھر نہیں بیٹھنے دیتی… ہاں سورۃ توبہ نہیں مانتی کہ میں گھر بیٹھ جاؤں… چنانچہ
جہاد پر نکل کھڑے ہوئے… بے شک سورۃ توبہ جہاد کو عجیب طریقے سے سمجھاتی ہے… اللہ
پاک کی توفیق سے بندہ نے پچھلے چار ہفتے سورۃ توبہ کے ساتھ گذارے… اللہ اکبر
کبیرا… کیسی عجیب سورۃ ہے… انسان کو پسینہ آجاتا ہے اور بار بار ایک ہی دعاء دل سے
نکلتی ہے کہ… یا اللہ نفاق سے بچا، یا اللہ نفاق سے بچا… سورۃ توبہ ہر مسلمان پر
(جو سخت معذور نہ ہو) جہاد اور اس کی تیاری کو فرض کرتی ہے… اور ان لوگوں کو منافق
بتاتی ہے جو جہاد کی بالکل تیاری نہیں رکھتے… ان لوگوں کو بھی منافق بتاتی ہے جو
کہتے ہیں… اگر ہم جہاد میں گئے تو ہم کمزور ہیں، گناہ کر بیٹھیں گے اور ہم جہاد کا
حق ادا نہیں کرسکیں گے… اسی طرح وہ منافقوں کی قسمیں بیان کرتی چلی جاتی ہے کرتی
چلی جاتی ہے… صحابہ کرامؓ فرماتے ہیں کہ ہم ڈر گئے کہ یہ سورۃ تو کسی کو نہیں بخشے
گی…
دراصل سورۃ توبہ ایک سوال پوچھتی ہے… سوال یہ کہ آقا مدنی
صلی اللہ علیہ وسلم خود جہاد میں لڑنے جارہے ہیں… اب بتاؤ جو نہیں جاتے اور خود کو
جہاد سے بالاتر سمجھتے ہیں ان کے پاس کیا عذر باقی رہ جاتا ہے؟… حضور پاک صلی اللہ
علیہ وسلم سے بڑا کوئی معلم ہے؟… آپ سے بڑا کوئی داعی ہے؟… آپ سے بڑا کوئی ذاکر
ہے؟… آپ سے بڑا کوئی مرشد ہے؟… آپ سے زیادہ کوئی مصروف ہے؟ آپ سے زیادہ کسی پر ذمہ
داری ہے؟… آپ سے بڑا کوئی مبلغ ہے؟ … آپ سے زیادہ کوئی قیمتی ہے؟… نہیں نہیں بالکل
نہیں… تو پھر جو نہیں جارہے یہ کون ہیں؟… چنانچہ ایسے لوگوں کو منافق کہنا کوئی
سخت بات نہیں ہے… جو دین کے نام پر دنیا کو مقصود بنالیں… جو اللہ تعالیٰ سے محبت
کے دعوے تو کریں مگر موت یعنی اللہ تعالیٰ سے ملاقات سے ڈریں… یہ کیسے مسلمان
ہیں؟… ایسے ہی مسلمان کافروں کے ہاتھوں بِکتے ہیں… اور دین سے بے وفائی کرتے ہیں …
سورۃ توبہ کے اس مطالعے کے دوران بندہ نے اس کے چند خلاصے اپنے مسلمان بھائیوں اور
بہنوں کے لئے لکھ لئے… تاکہ ان کی اس مبارک سورۃ کی طرف توجہ ہوجائے… سورۃ توبہ نے
منافق مردوں کے ساتھ ساتھ منافق عورتوں کا بھی تذکرہ فرمایا ہے… ہاں عورتیں بھی
منافقہ ہوتی ہیں… جہاد کے راستے کی رکاوٹ، دین کے احکامات کی باغی… اور دنیا پرست…
اللہ پاک ہم سب کو نفاق سے بچائے… اللہ کے لئے سورۃ توبہ کو ایک بار غور سے، دل کی
آنکھوں سے پڑھ لیں… یہ سورۃ اللہ پاک نے ہم مسلمانوں ہی کے لئے نازل فرمائی ہے
تاکہ ہم… اللہ پاک کی مرضی اور اس کے احکامات کو سمجھیں… رسالے، ڈائجسٹ بہت پڑھ
لئے، اخباری کالم بہت پڑھ لئے، فون اور کمپیوٹر سے بہت کھیل لیا… اب چند لمحے سورۃ
توبہ کے لئے بلکہ اپنی نجات کے لئے بھی ہم نکالیں… بندہ نے سورۃ توبہ کے جو چند
خلاصے جمع کئے ہیں ان میں سے ایک آپ کی خدمت میں آج کی مجلس میں پیش کر رہا ہے… آپ
خود بھی پڑھیں، سمجھیں اور دوسرے مسلمانوں تک بھی پہنچائیں… اور اس خلاصے کی روشنی
میں پوری سورۃ توبہ کو کسی بھی مستند ترجمے اور تفسیر کی مدد سے پڑھ لیں…
سورۃ توبہ کے بعض جہادی مضامین کا عجیب خلاصہ
سورۃ توبہ اوّل تا آخر جہادی معارف اور مضامین سے لبریز ہے
اور یہ سورۃ چونکہ آخر میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے ہے اس لئے اس کے تمام
مضامین محکم، قطعی اور حرف آخر ہیں… یہ سورۃ مبارکہ اسلام کے کئی اہم غزوات کو
بیان فرماتی ہے… جیسے فتح مکہ، غزوۂ تبوک غزوۂ حنین… حضرات مفسرین نے لکھا ہے کہ
اس سورۃ کی آیت قاتلوہم یعذبہم اللہ بایدیکم (آیت۱۴) میں فتح مکہ کی ترغیب ہے… اور آیت انفروا خفافاً وثقالاً (آیت۴۱) کے ذریعے مشکل ترین جہادی سفر غزوۂ تبوک کی ترغیب ہے یعنی
اس سورۃ میں جہاد کا مکمل نصاب موجود ہے… جہاد کی فرضیت، جہاد کی ترغیب، فرضیت
جہاد کی وجوہات اور حکمتیں، جہاد کے فضائل، جہاد چھوڑنے کی وعیدیں، جہاد کرنے کے
فائدے، شہادت کے عجیب فضائل، مشرکین کے خلاف جہاد، اہل کتاب کے خلاف جہاد، جہاد کے
بارے میں منافقین کا طرز عمل، جہاد کے مخالف منافقین کی اقسام، ان منافقین کے سدا
بہار بہانے، مسلمانوں کے لئے ایک عظیم اور خالص مرکز کا قیام، فضیلت ہجرت ونصرت،
جہاد میں مال خرچ کرنے کی اہمیت اور فضیلت ، جنگ کرنے کا طریقہ ، منافقین کا طرز
عمل اور ان سے نمٹنے کے طریقے اور بہت کچھ…
طلبۂ علم کی سہولت کے لئے سورۃ مبارکہ کے بعض ضروری جہادی
مضامین کا خلاصہ درج ذیل ہے، ہر مضمون کے آخر میں اس آیت کا نمبر بھی لکھا جارہا
ہے جس میں یہ مضمون مذکور ہے:
۱۔ جہاد فی سبیل اللہ کی سات حکمتیں اور فائدے
قتال تو نام ہے لڑائی کا۔ کیا اس لڑائی میں کچھ فائدے اور
حکمتیں ہیں کہ اللہ پاک نے اس کا حکم دیا؟ جی ہاں قتال فی سبیل اللہ میں بہت عظیم
الشان ظاہری وباطنی حکمتیں اور فائدے ہیں سورۃ توبہ کی آیت (۱۴) اور (۱۵) میں سات بہت اونچی حکمتیں بیان فرمائی گئی ہیں:
۲۔ وہ پانچ باتیں جو جہاد سے رکنے کا عذر نہیں بن سکتیں
پانچ چیزیں ایسی ہیں جن کو عذر قرار دے کر لوگ جہاد سے رک
سکتے ہیں سورۃ توبہ نے بیان فرمایا کہ یہ پانچ عذر جہاد چھوڑنے کا بہانہ نہیں بن
سکتے :
(۱) دشمنان اسلام اگر بعض نیک کام کرتے ہوں تو ان کی وجہ سے ان
کے خلاف جہاد رک نہیں جائے گا، مشرکین مکہ حرم شریف کے مجاور اور خادم تھے مگر اس
نیکی کی وجہ سے ان کے خلاف جہاد ترک نہیں کیا گیا۔ آیت(۱۷)
(۲) مسلمان مسجد میں بیٹھ کر ذکر و فکر کرنے اور مساجد آباد
رکھنے کو جہاد چھوڑنے کا عذر نہیں بنا سکتے۔ آیت(۱۹)
(۳) دشمنان اسلام سے اگر کوئی دنیاوی تعلق یا خونی رشتہ ہو تو
اس کی وجہ سے ان کے خلاف جہاد بند نہیں ہوگا۔ آیت(۲۳)
(۴) قلت تعداد مانع جہاد نہیں ہوسکتی یعنی کم تعداد کو عذر بنا
کر جہاد چھوڑنا ٹھیک نہیں ہے۔ آیت(۳۵)
(۵) اگر دشمنان اسلام سے جہاد کرنے میں مسلمانوں کو اپنے
اقتصادی اور مالی نقصان کا خطرہ ہو تو اس کی وجہ سے جہاد ترک نہیں کیا جائے گا
یعنی اگر دشمنان اسلام سے مسلمانوں کو کچھ مالی مفادات مل رہے ہوں اور ان کے خلاف
جہاد کرنے سے ان مفادات کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو تو اس کی قطعاً پرواہ نہ کی
جائے۔ آیت(۲۸)(مفہوم تقریر حضرت لاہوریؒ)
۳۔ اہل کتاب کے خلاف جہاد
اہل کتاب یہود ونصاریٰ کے خلاف بھی جہاد ہوگا… سورۃ توبہ نے
تفصیل سے بیان فرمایا ہے کہ اہل کتاب کے خلاف کب تک جہاد جاری رکھا جائے گا؟… اہل
کتاب کے خلاف جہاد کیوں کیا جاتا ہے؟… اہل کتاب میں کون کون سی ایسی خرابیاں آگئی
ہیں جن کی وجہ سے ان کو مغلوب کرنا ضروری ہے؟ (ورنہ ان کی یہ خرابیاں دنیا میں
پھیل جائیں گی) آیت (۲۹ تا ۳۵)
۴۔ اپنے آپ کو جہاد سے مستثنیٰ رکھنا نفاق کی علامت ہے
کسی شرعی عذر کے بغیر جہاد سے رخصت مانگنا اور خود کو جہاد
سے مستثنیٰ رکھنا نفاق کی علامت ہے اس اہم مضمون کا آغاز آیت (۴۵) سے ہوتا ہے… اور پھر سورۃ توبہ نے وہ پانچ طرح کے افراد
بیان فرمائے ہیں جو خود کو جہاد سے مستثنیٰ رکھتے ہیں اور نفاق کے مرض میں مبتلا
ہوتے ہیں:
(۱) وہ لوگ جو جہاد میں نکلنے کی تیاری نہیں کرتے پھر جب جہاد
کا وقت آتا ہے تو بہانے بنا کر خود کو مستثنیٰ رکھتے ہیں اور رخصت مانگتے ہیں۔
آیت(۴۶)
(۲) وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہم جہاد میں نکل بھی گئے تو ہم کمزور
ہیں ہم کچھ نہیں کرسکیں گے بلکہ ہم گناہوں اور فتنوں میں مبتلا ہوجائیں گے۔ آیت (۴۹)
(۳) وہ جو اللہ پاک کی رضا کے لئے نہیں مال کی خاطر جہاد کرتے
ہیں بس جب ان کو مال کم ملتا ہے تو بگڑ جاتے ہیں اور ناراض ہو بیٹھتے ہیں۔ آیت (۵۸)
(۴) وہ جو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم خیال نہیں ہیں اور
وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدگمان ہیں، ایسے لوگ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے
دین کی خاطر لڑنے کو درست نہیں سمجھتے۔ آیت (۶۱)
(۵) وہ جو عہد کرتے ہیں کہ ہمیں جب وسعت اور آسانی ملے گی تو ہم
جہاد کریں گے پھر جب وسعت مل جاتی ہے تو اسی کے مزے میں پڑ جاتے ہیں اور جہاد نہیں
کرتے۔ آیت (۷۵)(مفہوم تقریر حضرت لاہوریؒ)
۵۔ جہاد کی بدولت منافق بے نقاب ہوجاتے ہیں
بہت سے منافق جو خود کو مسلمان کہتے ہیں اور جماعت اسلام
میں گھسے رہتے ہیں ان کی اصل حقیقت تب بے نقاب ہوتی ہے جب انہیں اسلام کے اہم
فریضے جہاد فی سبیل اللہ میں جانی اور مالی شرکت کے لئے بلایا جاتا ہے… نفاق اور
منافقت کو سمجھنے کے لئے سورۂ توبہ کے مضامین بے حد صاف، واضح اور مفصل ہیں… اس
میں منافقین کی اقسام کا بھی بیان ہے۔ مثلاً آیت (۱۰۱) میں ان منافقین کا تعارف ہے جو ’’ناقابل معافی‘‘ ہیں کیونکہ ان کا نفاق
اعتقادی ہے اور ان کا نصب العین افتراق بین المسلمین ہے… جبکہ اس کے بعد والی آیت
میں کئی مفسرین کے نزدیک ان منافقین کا بیان ہے جو ’’قابل معافی‘‘ ہیں کیونکہ ان
کا نفاق عادی ہے اعتقادی نہیں۔ اس طرح آیت (۶۷) میں منافقین کا نصب العین اور ان کی سزا بیان کی گئی ہے جبکہ آیت (۱۰۷) میں مسجد ضرار کا تذکرہ ہے کہ کس طرح سے مسلمانوں میں گھسے
ہوئے منافق اسلام دشمن کافروں کو مسلمانوں کے خلاف مدد، تعاون، مراکز اور اڈے
فراہم کرتے ہیں۔ الغرض منافقین کی سوچ، ان کے خیالات ان کے طرز عمل، ان کے منشور
اور ان کے طریقہ کار کو سمجھنے کے لئے سورۂ توبہ کے مضامین حرف آخر کا درجہ رکھتے
ہیں۔ اوپر چند مثالیں پیش کردی گئی ہیں باقی تفصیل آیات کے ترجمے، تفسیر اور معارف
سے انشاء اللہ واضح ہوجائے گی کیونکہ اگر ان تمام مضامین کا صرف خلاصہ بھی لکھا
جائے تو وہ بھی بہت مفصل ہوجائے گا۔ ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ نفاق، منافقت اور
منافقوں سے حفاظت کے لئے سورۃ توبہ کو اچھی طرح پڑھے اور سمجھے۔ واللہ اعلم
بالصواب۔ منافقین کی جہاد سے دوری، جہاد سے نفرت اور پہلو تہی، جہاد میں نہ جانے
کے لئے ان کے نقلی عذر اور بہانے اور ان کے بہانوں کا جواب۔ یہ سورۃ توبہ کا ایک
اہم ترین موضوع ہے۔
۶۔ ترک جہاد پر سخت وعیدیں
سورۂ توبہ کا ایک موضوع فریضہ جہاد کے ترک پر وعیدیں ہیں۔
ظاہر بات ہے یہ وعیدیں غزوۂ تبوک کے بیان کے ضمن میں آئی ہیں تو اس سے جہاد کا
معنی بھی واضح ہوجاتا ہے کہ کون سا جہاد چھوڑنے پر یہ تمام وعیدیں آئی ہیں… ترک
جہاد پر یہ وعیدیں کئی آیات میں وارد ہوئی ہیں مثلاً آیت (۱۳)، (۱۶)، (۲۴)، (۳۸)، (۳۹)، (۴۲)، (۴۵)، (۴۶)، (۴۷)، (۸۷)، (۹۳)، (۹۵)… اور بہت سی آیات…
دراصل سورۂ توبہ میں ترک جہاد پر منافقین کو بہت سخت
وعیدیں سنائی گئی ہیں چنانچہ اگر ان تمام آیات کو بھی شامل کرلیا جائے تو یہ فہرست
کافی لمبی ہوجائے گی۔
تمام مسلمانوں سے گذارش ہے کہ وہ ان آیات کو جن کے نمبرات
یہاں عرض کیے گئے ہیں ایک بار توجہ سے پڑھ لیں اور پھر ان آیات کی روشنی میں جہاد
کے بارے میں اپنے عقیدے، فکر اور عمل کی اصلاح فرمائیں۔
۷۔ فرضیت وافضلیت جہاد
سورۂ توبہ جہاد فی سبیل اللہ کی فرضیت کو بھی بیان فرماتی
ہے اور دوسرے اعمال پر جہاد کی افضلیت کو بھی چنانچہ ملاحظہ کریں درج ذیل آیات: (۱۹)، (۲۰)، (۲۱)، (۲۲)، (۸۸)، (۸۹)، (۱۱۱)، (۱۱۲)، (۱۳۰)، (۱۳۱)، (۳۹)، (۳۶)، (۴۱)، (۴۴)، (۷۱)، (۷۲)، (۷۳)، (۱۱۷)، (۱۲۳) اور دیگر کئی آیات۔
اگر صرف یہی آیات ترجمے اور مختصر تشریح کے ساتھ پڑھ اور
سمجھ لی جائیں تو انشاء اللہ جہاد کی فرضیت، فضیلت اور عظمت سمجھنے کے لئے کافی
ہیں۔
۸۔ طریق جنگ کی تعلیم
سورۂ توبہ میں مسلمانوں کو جنگ کے طریقے کی تعلیم بھی ہے۔
مثال کے طور پر ملاحظہ فرمائیے آیات (۱۲)،(۱۲۳)
۹۔ سورۂ انفال کا تتمہ اور مسلمانوں کا ایک خالص مرکز
سورۂ انفال کے آخر میں مسلمانوں کی ایک عالمی برادری اور
جماعت قائم فرمائی گئی تھی اب اس جماعت اور برادری کے لئے ایک ایسے مرکز کی ضرورت
تھی جو ان ہی کے لئے خاص اور خالص ہو اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے سرزمین حجاز کو
منتخب فرمایا اور اس مرکز کی ترتیب کا پورا نقشہ سورۂ برأۃ میں نازل فرمادیا۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفاء کرام نے اسی نقشے کے تحت اسلامی
مرکز کو قائم فرمایا جس کے بعد اسلام پوری دنیا پر چھاتا چلاگیا۔
سورۂ برأۃ کی ابتدائی آیات میں مسلمانوں کے لئے خالص
مسلمان بننے اور زمین پر اللہ تعالیٰ کے نظام کو قائم کرنے کے لئے واضح حکم اور
سبق موجود ہے۔
۱۰۔ سورۂ برأۃ کے چھ حصے
شیخ عبداللہ عزام شہیدؒ کے بیان کے مطابق سورۃ توبہ چھ اہم
موضوعات پر مشتمل ہے:
(۱) المقطع الاوّل: من الآیۃ الاولیٰ الی الایۃ الثامنۃ
والعشرین وہذہ کلہا تعلن الحرب علی مشرکی الجزیرۃ العربیۃ الخ۔
یعنی سورۂ برأۃ کا پہلا حصہ اور موضوع جو ابتدائی اٹھائیس
آیات پر مشتمل ہے وہ ہے مشرکین عرب سے عمومی اعلان جنگ، معاہدوں وغیرہ کے ختم ہونے
کی تفصیلات، چار مہینے کی مہلت، مشرکین سے قتال کرنے کی وجوہات وغیرہ۔
(۲) المقطع الثانی: حملۃ شدیدۃ علی اہل الکتاب، مبررات قتالہم
یعنی سورۃ کا دوسرا حصہ اور موضوع اہل کتاب کے خلاف قتال کے
حکم اور ان کے خلاف قتال کی وجوہات پر مشتمل ہے۔
(۳) المقطع الثالث: تہدید ووعید وتانیب وتبکیت للذین یقعدون عن
الجہاد مالکم اذا قیل لکم انفروا فی سبیل اللہ اثاقلتم الی الارض (التوبۃ۳۸)
سورۃ کا تیسرا حصہ اور موضوع ان لوگوں کے لئے سخت تنبیہ،
وعید، ڈانٹ پر مشتمل ہے جو جہاد پر نہیں نکلتے، جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے:
مالکم اذا قیل لکم۔ الآیۃ
(۴) المقطع الرابع: وہو نصف السورۃ تقریباً کشف صفات المنافقین
(ومنہم من عاہد اللہ) (ومنہم الذین یوذون النبی) (ومنہم من یقول أذن لی) (والذین
اتخذوا مسجدا ضراراو کفرا) الی آخرہ: ہذا نصف السورۃ تقریبا، سمیت البحوث لانہا
بحثت عن عیوب المنافقین قال ابن عباسؓ: مازالت التوبۃ تنزل وتقول منہم ومنہم حتی
قلنا لاتدع احدا بینت نہائیا صفاتہم ومؤ امراتہم، تخللہم فی داخل المجتمع المسلم،
بث الاراجیف، الفساد تثبیط المسلمین عن الجہاد۔
یعنی سورۃ کا چوتھا حصہ اور موضوع جو تقریباً آدھی سورۃ پر
مشتمل ہے وہ ہے منافقین کے حالات اور صفات کا انکشاف۔ سورۃ توبہ کا ایک نام سورۃ
’’البحوث‘‘ بھی ہے کیونکہ وہ منافقین کے عیوب کو کرید کرید کر نکالتی اور دکھاتی
ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سورۃ توبہ کی آیات برابر نازل ہوتی
رہیں اور بتاتی رہیں کہ ان منافقوں میں سے وہ بھی ہیں۔ اور وہ بھی ہیں۔ یہاںتک کہ
ہم نے کہا یہ سورۃ کسی کو نہیں چھوڑے گی… اس سورۃ نے قطعی طور پر منافقین کی صفات،
ان کی سازشیں، اسلامی معاشرے میں ان کا گھسنا، مسلمانوں میں خوف پھیلانا، فساد
مچانا، مسلمانوں کو جہاد سے روکنا سب کچھ بیان فرمادیا۔
(۵) المقطع الخامس: تصنیف
المجتمع المسلم
یعنی سورۃ کا پانچواں موضوع اسلامی معاشرے میں موجود افراد
کی قسمیں بیان کرنا ہے۔
(۱) السابقون الاوّلون۔ یعنی ایمان اور ہجرت ونصرت میں سبقت
کرنے والے مہاجرین وانصار۔ (۲)وہ کمزور ایمان والے جنہوں نے نیک وبداعمال خلط کیے۔ (۳) منافقین۔ (۴)وہ جن کی توبہ کا معاملہ مؤخر رکھا گیا۔ (۵) وہ جنہوں نے مسجد ضرار بنائی۔ (۶)بیعت رضوان والے۔ (۷)بدروالے۔ (۸)احد والے وغیرہ وغیرہ۔
(۶) المقاطع السادس: و مقطع طبیعۃ البیعۃ لہذا الدین (ان اللہ
اشتریٰ من المؤمنین انفسہم واموالہم بان لہم الجنۃ)
یعنی سورۃ کا چھٹا حصہ اور موضوع ان خاص مسلمانوں کے مزاج
اور صفات کا بیان ہے جو اس دین کی خاطر خود کو بیچ دیتے ہیں یعنی جان ومال کی
قربانی دیتے ہیں اور کسی بھی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر
جہاد کرنے سے پیچھے نہیں رہتے جیسے یہ آیات:
ان اللہ اشتریٰ (الآیۃ)
ماکان لاہل المدینۃ (الآیۃ)۔ (فی ظلال سورۃ التوبۃ)
٭٭٭
اللہ تعالیٰ امت مسلمہ پر رحم فرمائے… ہر طرف خون ہی خون
ہے… لال خون، سرخ خون… مگر ڈرنے، گھبرانے اور جھکنے کی ضرورت نہیں ہے… قرآن پاک کی
سچی آیتیں جھوم جھوم کر جنت کا تذکرہ سنا رہی ہیں… ہاں اللہ پاک کے راستے میں
ستائے جانے والے، اور مارے جانے والے اس پیاری جنت میں جائیں گے… یہ بات قرآن پاک
خود بتاتا ہے… اے مسلمانو! کیا اللہ پاک کی بات میں شک ہوسکتا ہے؟ … آج بہت سی
باتیں کرنے کا ارادہ تھا… ہمارے عزیز اور محترم ساتھی مولانا محمد مقصود احمد بھی
شہید ہوگئے… غازی علم دین، ابن احمد شیخ اور سوچتے رہ جانے والا نورانی… یہ سب ایک
دم شہید ہوگئے… ارادہ تھا کہ ان کی کچھ باتیں کچھ یادیں عرض کروں گا… انڈیا کی قید
سے کئی مجاہدین رہا ہوئے… ان کو بھی مبارکباد پیش کرنی تھی… مگر لال مسجد کا خون…
اور جامعہ حفصہؓ کی مظلومیت اپنا حق مانگ رہی ہے…
وہاں ابھی تک آپریشن جاری ہے… معصوم بچوں کے لئے دودھ نہیں
ہے وہ ماؤں کی گود میں تڑپ رہے ہیں… امت مسلمہ کی بیٹیاں اپنے ہی ملک میں
’’اجتماعی قبر‘‘ میں دفنائی جا رہی ہیں… معلوم نہیں ملک پر کس کا قبضہ ہے…
حکمرانوں کا غرور اس چوٹی پر پہنچ چکا ہے… جس کے آگے انشاء اللہ ڈھلوان ہے… لال
مسجد کا موضوع کافی طویل اور پیچیدہ ہے… ہر زبان پر الگ تبصرہ ہے… اور ہر کسی کو
بس اپنی ’’صفائی‘‘ کی فکر ہے… اور لوگوں کی زبانیں قینچیوں کی طرح چل رہی ہیں… مگر
ہم نہ تو اپنی صفائی دیتے ہیں… اور نہ کسی پر اعتراض کرتے ہیں… ہماری فکر یہ ہے کہ
اس وقت لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ پر ظلم ہورہا ہے… یہ ظلم بند ہوجائے … آئیے اس
موضوع کے بعض پہلوؤں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں…
یہ خوف اور ڈر کا وقت نہیں ہے
بی بی سی کا صحافی ’’عامر احمد خان‘‘ کہہ رہا تھا کہ اس
آپریشن نے پاکستان کی سب دینی، جہادی جماعتوں کے حوصلے توڑ دیئے ہیں… اور وہ سب
سہمے ہوئے لگ رہے ہیں… نہیں عامر احمد خان یہ سب تمہاری غلط فہمی ہے… پاکستان کے
دینی، جہادی لوگ سہمے ہوئے نہیں بلکہ بپھرے ہوئے ہیں… اے انگریزوں کے تنخواہ خور!
اس آپریشن میں ڈرنے کی کیا بات ہے؟… جہاد میں تو لوگ آتے ہی مرنے کے لئے ہیں…
شہادت تو رب تعالیٰ کی مہمانی ہے… حوروں کا دولہا بننے کے لئے مجاہد تڑپتے ہیں…
پھر ڈرنے کی کیا بات ہے؟… لوگ تو زلزلے میں بھی مر جاتے ہیں… تو کیا پھر زمین پر
رہنا چھوڑ دیں؟… لوگ تو سیلاب سے بھی مرجاتے ہیں… تو کیا پھر صحراؤں میں جا بسیں؟…
ارے کم عقل!… گولی سے مرنا اور وہ بھی اللہ کے راستے میں… یہ تو بیوی کے ساتھ ملنے
سے زیادہ لذیذ ہے… کتنے مجاہد ہیں جن کو گولی لگنے کے بعد احتلام ہوجاتا ہے… ہاں
اللہ کی قسم شہادت بہت لذیذ ہے اور جنت بہت مزیدار ہے… ان حالات میں جو ڈرے گا وہ
ممکن ہے منافق ہو جائے… اللہ پاک نفاق سے ہماری حفاظت فرمائے…
الحمدللہ کوئی ڈر
نہیں، کوئی خوف نہیں … کوئی اندیشہ نہیں… ہاں افسوس ہے، غم ہے… اور صدمہ ہے… ہماری
آنکھوں میں جو آنسو نظر آرہے ہیں… یہ خوف کے نہیں غم کے آنسو ہیں… بہنیں مر رہی
ہوں تو بھائیوں کو صدمہ ہوتا ہی ہے… اللہ پاک مظلوموں کی نصرت فرمائے…
سب مجاہد وہاں کیوں نہیں گئے؟
بعض لوگ جو اپنے کہلاتے ہیں… مگر وہ اپنے نہیں ہیں… وہ خود
کوئی عمل نہیں کرنا چاہتے … مگر دوسروں پر اعتراض کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں… وہ
پوچھتے ہیں فلاں جماعت وہاں کیوں نہیں گئی؟… آپ لوگ وہاں لڑنے کے لئے موجود کیوں
نہیں تھے؟… ان اللہ کے بندوں کو کون بتائے کہ لال مسجد کسی ’’محاذ جنگ‘‘ کا نام
نہیں تھا کہ سب مجاہد وہاں جا بیٹھتے… وہ ایک مسجد تھی اور ایک مدرسہ… انہوں نے
ایک پر امن تحریک شروع کی… انہوں نے لوگوں سے کہا کہ جو آئے صرف بستر اور ڈنڈا
لائے… ان کا اپنا گمان بھی یہی تھا کہ حکومت آپریشن نہیں کرے گی… وہ صبح شام
چوہدری شجاعت سے لیکر ننگِ انسانیت اعجاز الحق تک سب سے مذاکرات کر رہے تھے… کیا
ان حالات میں سب مجاہدین کا شرعاً وہاں جاکر مورچے کھول لینا ٹھیک تھا؟… ہمیں کوئی
ندامت نہیں ہے کہ جیش محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مجاہدین وہاں نہیں تھے… لال مسجد
والوں نے کوئی اعلان جنگ نہیں کیا تھا… اب جو اسلحہ وہاں نظر آرہا ہے… ایسا لگتا
ہے کہ آخری دنوں میں انہوں نے جمع کیا… اور اس وقت جو لڑائی نظر آرہی ہے یہ اسلحے
کی جنگ نہیں … بلکہ اللہ تعالیٰ مظلوموں کی مدد کر رہا ہے… اعتراضات داغنے والوں
کو چاہئے کہ مسلمانوں کو غم کے اس موقع پر معاف کریں اور اعتراضات کرنے کی بجائے…
دعاؤ ں اور استغفار میں لگیں…
اسلامی حجاب کی توہین
کہا جاتا ہے کہ مولانا عبدالعزیز صاحب برقعے میں گرفتار
ہوئے… اس پر دین دشمن عناصر نے خوب مذاق اڑایا… پھر حکومت نے بھی دین دشمنی کے مزے
لئے اور اس جلیل القدر عالم دین کو برقعے میں ٹی وی پر پیش کیا … اب جس اخبار کو
اٹھا کر دیکھیں… ہر بدزبان، بے ضمیر کالم نویس برقعے کے خلاف اپنے پیلے دانت نکال
رہا ہے… یقینا یہ سب کچھ اہل دین کے لئے ایک آزمائش ہے… لال مسجد پر حملے کے بعد
ملک بھر میں مسلمان احتجاجی مظاہرے کر رہے تھے… برقعہ والے واقعے کے بعد وہ مظاہرے
بھی کمزور پڑ گئے… اللہ پاک مسلمانوں پر رحم فرمائے… اور مولانا عبدالعزیز کو اللہ
پاک عزت اور عافیت کے ساتھ رہائی عطاء فرمائے… ہمیں کیا معلوم کہ وہ کس طرح گرفتار
ہوئے؟ … ممکن ہے حکومت نے مذاکرات کا دھوکہ دے کر گرفتار کیا یا کسی جھوٹے جذباتی
نے انہیں کوئی خواب سنا کر باہر نکالا… گرفتاری کے بعد تو انسان اپنی مرضی سے کچھ
نہیں بول سکتا… جہادی جماعتوں کے کمانڈر اپنے ساتھیوں کو یہی وصیت کرتے رہتے ہیں
کہ… اگر ہم گرفتار ہوجائیں تو گرفتاری کے بعد ہمارے کسی بیان کا اعتبار نہ کرنا…
اور نہ گرفتاری کے بارے میں گھڑے گئے واقعات کو درست ماننا… انسان گوشت
اور ہڈی کا بنا ہوا کمزور سا ڈھانچہ ہے… تشدد، بے عزتی اور بے حیائی کے ذریعہ
قیدیوں سے کیا کچھ کہلوایا جاتا ہے… مولانا عبدالعزیز جہادی کمانڈر تو نہیں ہیں…
وہ ایک مخلص عالم دین ہیں… اور انہوں نے اپنی سمجھ کے مطابق ایک تحریک شروع کی… اس
وقت وہ آزمائش میں ہیں… گرفتاری ایک خوفناک آزمائش ہے… ہمیں ان کے لئے جھولی پھیلا
کر دعا ء کرنی چاہئے… پھر بھی یہ کوئی یقینی بات نہیں ہے کہ وہ برقعے میں گرفتار
ہوئے… انڈیا کی جیل میں آرمی کا ایک میجر مجھ پر ڈنڈے برساتا تھا… پھر اپنا بوٹ
داڑھی پر رکھ کر اچھلتا تھا… اور طرح طرح کی گالیاں دیتا تھا… اس کا مطالبہ یہ تھا
کہ میں ٹی وی پر آ کر کہوں… انڈین آرمی کشمیر میں لوگوں کی خدمت کر رہی ہے… اور
مجاہدین عوام پر ظلم کر رہے ہیں… مظلوم قیدی دشمنوں کے ہاتھوں میں ایک بے بس
کھلونا ہوتا ہے… اگر اللہ پاک میری نصرت نہ فرماتا تو میرا اس طرح کا کوئی بیان
نشر ہوجاتا… اور مزے سے گھر بیٹھے ہوئے لوگ کہتے… دیکھا اس کو بہت چیختا تھا… اب
جہاد کے خلاف بولتا ہے… اللہ پاک کافروں اور منافقوں کا تختۂ مشق بننے سے ہم سب
کی حفاظت فرمائے…
رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَۃَ لِّلْقَوْمِ
الظَّالِمِیْنَ وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِکَ مِنَ الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنَ۔
اس وقت کی دعاء
قرآن پاک پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ… اس وقت ہم
مسلمانوں کو وہ دعاء بہت کثرت سے پڑھنی چاہئے… جو حضرات انبیاء علیہم السلام کے
مجاہد ساتھی دشمنوں کے ہاتھوں تکلیف اٹھانے پر پڑھتے تھے… قرآن پاک بتاتا ہے کہ…
جب ان اللہ والوں کو جہاد میں شکست، زخم اور تکلیفیں پہنچتیں تو ان کی زبان پر صرف
یہی دعاء ہوتی تھی…
رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَاِسْرَافَنَا فِیْ
اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنَ۔
(آل عمران ۱۴۷)
پھر اللہ تعالیٰ نے اس دعاء کی برکت سے انہیں دنیا آخرت میں
بہترین بدلہ عطاء فرمایا… اگر ہوسکے تو ’’فتح الجوّاد‘‘ یا کسی تفسیر میں سورۃ آل
عمران کی آیات (۱۴۷) تا (۱۴۸) کی تفسیر اس موقع پر ضرور پڑھ لیں… اس مبارک دعاء میں بے حد
قوت اور تاثیر ہے… جو اس کو جتنی کثرت سے پڑھے گا… اور جتنی توجہ سے پڑھے گا اسی
قدر انشا ء اللہ فائدہ پائے گا… فتح الجوّاد کے مؤلف لکھتے ہیں:
’’انبیاء علیہم السلام کے ساتھ مل کر جن اللہ والوں نے جہاد
کیا وہ غم، پریشانی اور مصیبت کے وقت ایک طرف تو ثابت قدمی سے جہاد کرتے رہے اور
دوسری طرف وہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعائیں مانگتے رہے:
(۱) یا اللہ ہمارے گناہ معاف فرما
(۲) اس جہاد کے عمل میں ہم سے جو غلطیاں ہوئی ہیں وہ معاف فرما
(۳) ہمیں ثابت قدمی عطاء فرما
(۴) ہمیں دشمنوں پر غلبہ عطاء فرما‘‘… آگے چل کر لکھتے ہیں:
فائدہ: آیت سے چند باتیں معلوم ہوئیں:
(۱) جہاد میں شکست اور مصیبت کے وقت عام لوگوں کو جان کی فکر پڑ
جاتی ہے مگر مخلص اللہ والے مجاہدین کو ایمان کی فکر لگ جاتی ہے اور وہ استغفار
کرنے لگتے ہیں۔
(۲) جہاد میں شکست کے وقت عام لوگ دنیوی سہارے ڈھونڈتے ہیں مگر
مخلص مجاہدین اللہ تعالیٰ کے سامنے جھولی پھیلا کر اس کا سہارا مانگتے ہیں۔
(۳) جہاد میں شکست کے وقت عام لوگ ایک دوسرے کی غلطیاں اچھالنے
لگتے ہیں جبکہ مخلص اللہ والوں کی نظر فو راً اپنے گریبان پر پڑتی ہے اور وہ اللہ
تعالیٰ سے اپنی غلطیوں کی معافی مانگنے لگ جاتے ہیں۔
(۴) جہاد میں شکست کے وقت عام لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اب ہم کبھی
دشمن پر غالب نہیں آسکتے مگر مخلص مجاہدین اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتے ہیں اور
انہیں امید ہوتی ہے کہ وہ دشمن پر غالب آسکتے ہیں چنانچہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی
دعاء کرتے ہیں۔ (فتح الجوّاد ص۲۵۷ج۱)
ایک غیر متوقع جنگ
حکومت نے اس وقت جو جنگ مسلط کی ہے وہ غیر متوقع ہے… وہاں
ہزاروں کی تعداد میں بچیاں موجود تھیں… جو اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ وہ لوگ جنگ
نہیں چاہتے… مگر حکومت نے اپنی دوسری پریشانیوں سے نکلنے کے لئے مسلمانوں کا خون
بہایا… اب بھی وقت ہے کہ حکومت اپنی غلطی کو محسوس کرے اور فی الفور اس جنگ کو بند
کردے… اگر یہ جنگ جاری رہی تو اس کا دائرہ بہت پھیل جائے گا… یہ کوئی دھمکی نہیں
بلکہ سچی بات ہے… ہم مسلمان ہیں اور الحمدللہ مسلمانوں کے مزاج کو اچھی طرح سمجھتے
ہیں… اگر ۱۹۷۱ء میں کافروں کے سامنے ہتھیار ڈالے جاسکتے ہیں تو پھر آج …
مسلمانوں کا خون بچانے کے لئے ہتھیار رکھے بھی جاسکتے ہیں… اس وقت حکومت کا فرض ہے
کہ… صحافیوں کی انگلیوں پر نہ ناچے بلکہ صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے اس جنگ کو
بند کردے…
دوسچی باتیں
آخر میں اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر دو باتیں عرض کر رہا ہوں…
میں زندہ نہ بھی رہا تو انشاء اللہ… زندہ رہنے والے ان باتوں کی سچائی دیکھ لیں
گے… پہلی بات یہ ہے کہ موجودہ آپریشن کا نقصان صرف اور صرف اس حکومت اور ملک کی
فوج کو ہوگا… ظاہری طور پر لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ کا نقصان نظر آرہا ہے… مگر
حقیقت میں نقصان مظلوم کا نہیں ظالم کا ہورہا ہے… جو بچے وہاں شہید ہو رہے ہیں ان
کی موت کا یہی وقت مقرر تھا… کوئی بھی شخص اپنے وقت سے پہلے نہیں مر سکتا… مگر
حکومت مسلسل خسارے کی طرف بڑھ رہی ہے… ایسا خسارہ جو کافی زیادہ ہوگا…
دوسری بات یہ ہے کہ بددین صحافی اور غیرملکی حلقے حکومت کو
شہہ دے رہے ہیں کہ … وہ اس آپریشن کو اسی جگہ تک محدود نہ رکھے… بلکہ اسے بڑھا کر
تمام دینی قوتوں کو ختم کردے… حکومت نے ان بدخواہوں کے دباؤ میں آ کر… آپریشن کو
پھیلانا شروع کردیا ہے… یقینا یہ بہت بڑی غلطی ہے…
یہ ملک اسلام کے لئے بنا ہے… دین اسلام ہی اس ملک کی بقاء
ہے… ملک کے دینی طبقے مکڑی کا جالا نہیں ہیں جو آپریشن سے ختم کردیئے جائیں گے…
زمین کے پلاٹوں پر ہاؤسنگ اسکیمیں چلانے والے… جنت کے محلاّت والوں کو کبھی ختم
نہیں کرسکتے… کبھی نہیں کبھی نہیں… ان شاء اللہ، ان شاء اللہ ، ان شاء اللہ…
اللہ پاک کا کلمہ بلند ہو کر رہے گا…
واللہ غالب علیٰ امرہ ولکن اکثر الناس لایعلمون۔۔۔
٭٭٭
اللہ تعالیٰ بھائی مقصود احمد کی شہادت قبول فرمائے… اور
اُن کو خوب اعلیٰ مقام عطاء فرمائے… وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والے، اُس کے دین
کی خدمت کرنے والے… اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شوق رکھنے والے انسان تھے… انہوں
نے چھوٹی سی عمر پائی مگر… کام ماشاء اللہ خوب کرگئے… دراصل اس پیارے انسان پر
اللہ تعالیٰ کی بہت رحمت اور فیّاضی تھی… اللہ پاک نے اُسے صلاحیتوں سے مالا مال
کر رکھا تھا… اور اُس کوایک خاص قسم کی برکت اورمحبوبیت عطاء فرمائی تھی… مقصود
شہید کی زندگی پر نظر ڈالیںتو اُن کے لئے کئی الفاظ ذہن میں اُتر آتے ہیں… مثلاً
صلاحیتوں کا پہاڑ، دلِ بیقرار، لاپرواہی کی حد تک بہادر، قربانی کی حد تک وفادار،
شہداء کا ترجمان، مقبول قلمکار، ایک شرمیلا انسان، با ادب ساتھی… اور اُمت مسلمہ
مظلومہ کا غمخوار…
آپ یقین کریں ان ناموں میں ذرّہ بھر مبالغہ نہیں ہے… اللہ
پاک نے اپنے اس شہید بندے میں اتنی صفات جمع فرمادی تھیں کہ یہ نام بھی اُس کا
پورا نقشہ نہیں کھینچ سکتے… ہاں مقصود شہید میں ایک خامی بھی تھی،… مگر اس خامی
میں اُس کا قصور نہیں تھا… حضرت یوسف علیہ السلام کو اللہ پاک نے حُسن اور محبوبیت
عطاء فرمائی تو… اُنکی یہ خوبی اُن کے لئے کئی پریشانیوں کا باعث بنی… بچپن میں
پھوپھی نے اُن پر قبضہ جمانے کا فیصلہ کیا… مگر والد کہاں چھوڑتے تھے؟… تب پھوپھی
نے محبوب بھتیجے کو پانے کے لئے اُن پر چوری کا الزام لگایا… اور بطور سزا ساتھ لے
گئیں… پھر اسی حُسن اور محبوبیت نے بھائیوں کو حسد میں ڈالا تو انہوں نے کنویں میں
پھینک دیا… پھر اسی محبوبیت کا اثر تھا کہ زلیخا نے قبضہ کرنے کا فیصلہ کر لیا…
مگر جب اُس کے ہاتھ میں بھی نہ چڑھے تو اُس نے جیل میں ڈلوا دیا… ہمارے بھائی
مقصود کو بھی اللہ پاک نے ’’محبوبیت‘‘ عطاء فرمائی تھی… چنانچہ وہ بھی پوری زندگی
قبضہ جمانے والوں کی کھینچا تانی کا شکار رہے… جو بھی اُن کی صلاحیتوں کو دیکھتا
تھا فوراً اُن پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کر لیتا تھا… بھائی مقصود اپنے مشن اور اپنی
جماعت کے ساتھ یکسو رہنا چاہتے تھے… وہ شروع تا آخر مجاہد رہنا چاہتے تھے… اُنکی
روح ایک بڑے مجاہد کی روح تھی… مگر طبیعت میں شرمیلا پن اور مروّت تھی… کسی کو
انکار نہیں کرسکتے تھے… چنانچہ چکّی کی طرح اُن سے کام لیاگیا… جس کی وجہ سے سوا
چھ فٹ اونچا اور تگڑا مجاہد جوانی ہی میں بیمار ہوگیا… اللہ پاک اُسکو خوب سکون
اور مزے عطاء فرمائے… وہ بہت تھکا اور بہت کام کرتا رہا… بھائی مقصود شہیدؒ کی بعض
صفات بہت عجیب تھیں… اب وہ یاد آتے ہیں تو میں گھنٹوں کوئی کام نہیں کرسکتا… بس
اُن کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں… اور پھر چونک کر اُنہیں دعائیںدینے لگتا ہوں…
ماشاء اللہ ہماری جماعت کا شعبہ نشر و اشاعت اللہ پاک کے فضل سے عالمی معیار کا
مضبوط ادارہ ہے… آپ کو معلوم ہے کہ بھائی مقصود شہیدؒ اس ادارے کے بنیادی معمار
اور ستون تھے… دراصل وہ خود ایک مکمل ادارہ تھے… جماعت بنی تو وہ پورے جذبے کے
ساتھ شامل ہوگئے… مجھے فکر تھی کہ جماعت کا رسالہ کون چلائے گا… طویل عرصہ تک
مجاہدین کے نشر اشاعت اور دعوت کے شعبے میرے پاس رہے تھے… چنانچہ ان شعبوں کے بارے
میں میرا ذہن کچھ اونچا سوچتا تھا… ساتھیوں نے بتایا کہ بھائی مقصود کو رسالہ دے
دیں… چنانچہ اللہ تعالیٰ پر توکُّل کرکے اُن کو پہلا رسالہ دے دیا گیا… اللہ اکبر
کبیرا اُس رسالے کے چند شماروں نے ہی پاکستان اور بیرون پاکستان دھوم مچا دی… وہ
دن اور ۴ جولائی ۲۰۰۷ یعنی
اپنی شہادت کے دن تک بھائی مقصود نے اس گھوڑے کی لگامیں پوری مضبوطی سے تھامے
رکھیں… پہلے پندرہ روزہ جیش محمد صلی اللہ علیہ وسلم… پھر ’’الاصلاح‘‘، پھر ’’شمشیر‘‘، پھر ’’راہِ
وفا‘‘… اور اب ’’القلم‘‘… کچھ عرصہ تک اداریہ میںخود لکھتا رہا پھر وہ بھی بھائی
مقصود کے سپرد ہوگیا… ’’بناتِ عائشہؓ‘‘ کے معمارِ اوّل بھی ہمارے بھائی
مقصود شہیدؒ تھے… بعض اوقات میں اُن کو زبانی کوئی موضوع یا مضمون بتا
دیتا… وہ سر جھکا کر سنتے رہتے اور صبح صاف ستھرا مضمون لاکر حوالے کر
دیتے… اُن کا دماغ کمپیوٹر کی طرح اور قلم مشین کی طرح چلتا تھا… آجکل مجاہدین
میں یہ وباء عام ہے کہ پولیس اور گرفتاری سے بہت ڈرتے ہیں… بس ایک پولیس والا
دیکھا اور بھاگ دوڑ شروع… اورکام بند… مگر بھائی مقصود تو اس بارے میں
لوہے کی چٹان تھے… حکومت نے اُن کے زیرادارت چلنے والے چار رسالے بند کئے… کئی بار
چھاپا پڑا… کئی بار دفتر اُلٹ دیئے گئے، ایک بار دفتر بم دھماکے سے اڑا دیا گیا…
مگرمقصود شہید نے ایک بار بھی خوف، ڈر اور بدحواسی کا کوئی جملہ زبان سے نہیں
نکالا… وہ خود کو اللہ پاک کی امانت سمجھتے تھے… اپنی جان جنت کے بدلے بیچ چکے
تھے… مزار شریف سے زندہ بچ کر آنے کے بعد اُن کے دل میں زندہ رہنے کا کوئی شوق
باقی نہیں رہاتھا… چنانچہ وہ ہر دم موت کے لئے تیار رہتے تھے… قلم انکی جیب میں
ہوتا تھا… اور پورا رسالہ اُن کے دماغ میں… ہر رسالہ بند ہونے کے بعد وہ بس اپنے
مرکز سے نئے رسالے کا نام پوچھتے تھے… اور پھر کسی بھی جگہ بیٹھ کر رسالہ تیار کر
لیتے تھے… کراچی کی زمین جب دینی رسائل کے لئے تنگ ہوئی … تو وہ اپنے مرکز کے کہنے
پر لاہور اُٹھ آئے… ہاں اس جنت مکیں شخص کا کوئی وطن نہیں تھا… کوئی سامان نہیں
تھا… چنانچہ اُسے علاقہ بدلنے میں اتنی دیر بھی نہیں لگتی تھی جتنی دیر … تکلّف کے
مارے ہوئے لوگ کپڑے بدلنے میں لگا دیتے ہیں… اسلام ہر مسلمان کو ’’آفاقی‘‘ دیکھنا
چاہتاہے… یعنی ایسا انسان جو پوری دنیا کو اسلام کے رنگ میں لانے کے لئے ہر دم
حرکت، جستجو اور جہادمیں رہتا ہو… اسلام کو ’’گھریلو انسان‘‘ پسندنہیں ہیں… جو
مرنے سے پہلے اپنے گھریلو مسائل کی قبر میں دفن ہو جاتے ہیں… وہ لاہور سے ’’راہِ
وفا‘‘ نکال رہے تھے… اور خوب نکال رہے تھے… پھر اللہ پاک نے ’’القلم‘‘ عطاء فرمایا
تومقصود بغیر کسی توقف کے اسلام آباد آبیٹھے… ہاں یہ سب قابلِ رشک صفات ہیں… لوگ
کہتے ہیں کہ لکھنے پڑھنے والے لوگ بہادر نہیں ہوتے مگر مقصود شہید تو بلا کے
بہادرتھے… کراچی میں ایک بار کچھ لوگ ہمارا پیچھا کر رہے تھے… ہم نے انہیں بھانپ
لیا تو وہ بھاگنے لگے تب شیردل مقصود اُن کے پیچھے لگ گئے … اور تھوڑی دیر بعد ان
میں سے ایک کو اسطرح اُٹھاکرلائے… جس طرح کسی بچے کو اُٹھایا جاتا ہے… اس کے علاوہ
بھی اُنکی بہادری کے بہت سے واقعات ہیں… وہ ہمیشہ محاذ پر جانے کے خواہشمند رہے
اور محاذ ہی کو سب سے افضل تشکیل سمجھتے رہے…
مجھے انکی عجیب و غریب صلاحیتوں کا ہمیشہ اعتراف رہا… کئی
بار اُن کے مضامین پر اُنکو انعام بھی پیش کیا… اور کئی بارانکی بعض صفات دیکھ کر
خوشی اور حیرت بھی ہوئی… ایک بار میں ہری پور سے پنڈی کی طرف آرہا تھا… چلتی گاڑی
ہی میں پتہ چلا کہ ہمارا سندھ کا جماعتی منتظم کافی گڑ بڑ کر رہاہے… میں نے دعاء
کی تو میرے ذہن میں بھائی مقصود کا ’’نورانی چہرہ‘‘ آگیا… میں نے صوبائی منتظم کو
فون کرکے بتایا کہ آپ کی تشکیل ختم ہے… اور پھر بھائی مقصود کو فون پر کہا کہ آپ
کراچی اور سندھ کا کام سنبھال لیں… میرا تجربہ ہے کہ کوئی بھی ساتھی اسطرح کی فوری
تشکیل سے گھبرا جاتا ہے… اور کچھ نہ کچھ ’’چوں چوں‘‘ ضرور کرتا ہے… مگر بھائی
مقصود کا جواب تھا ’’جی ٹھیک ہے‘‘… سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم… وہ فوراً
نشریات کے دفتر سے اُٹھے اور صوبائی مرکز پہنچ کر ایک نئے محاذ پر ڈٹ گئے… وہ تقریر
بہت کم کرتے تھے جبکہ سابق منتظم کافی تیز مقرر تھے… مگر اخلاص کے سامنے تقریروں
کی کیا چلتی ہے… انہوں نے کراچی کا کام ایسا سنبھالا کہ دیکھنے والے حیران رہ گئے…
اور آج تک وہ کام الحمدللہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے… جس میں بھائی مقصود شہید کا
بلا واسطہ صدقہ جاریہ شامل ہے…
اللہ پاک نے اُن کو ’’ادب‘‘ کا اونچا مقام دیا تھا… اپنے
ولیٔ کامل والد محترم کا بہت ادب کرتے تھے… اپنے بڑے بھائیوں کا بہت ادب کرتے تھے…
اور جماعت میں بھی اپنے سے بڑوں کا ادب پوری طرح ملحوظ رکھتے تھے… دراصل ادب کا
امتحان تب ہوتا ہے جب کسی کو … اُسکی غلطی اور عیب بتایا جائے… ایسے وقت میں تو
اکثر لوگ اپنے والد، امیر اور پیر کے ادب کو بھی بھول جاتے ہیں… اور اپنی صفائی
میں اتنا کیچڑ اچھالتے ہیں کہ الامان والحفیظ… مگر بھائی مقصود شہیدؒ بہت عجیب
تھے… ایک بار جماعت میں اُن کے خلاف کچھ طوفان اُٹھا… باصلاحیت افراد پر ایسی
آزمائشیں آتی رہتی ہیں… میں نے تمام لوگوں کی باتیں سنکر سب کو باہر بھیج دیا
اور بھائی مقصود شہیدؒ کو بلایا … وہ اندر آئے تو چہرے پر غم کے اثرات تھے… مجھے
اُن سے محبت تھی تو یہ حالت برداشت نہ ہوئی… میں کچھ بولنے کی کوشش کر رہا تھا تو
اُنہوں نے جیب سے ایک کاغذنکالا اور دونوں ہاتھوں سے مجھے دے دیا… اللہ اکبر کبیرا
خط کیاتھا ایمان کا شاہکار، انابت الی اللہ اور جماعت سے اظہار محبت کا مرقع تھا…
انہوں نے کوئی صفائی نہیں دی تھی… نہ کسی پر کوئی جوابی الزام لگایا تھا … اور نہ
خط میں کسی طرح کے شکوے کی کوئی بو آرہی تھی… خط کے آخر میں تھا کہ اللہ پاک کی
خاطر مجھے جماعت کے کاموں سے محروم نہ کیا جائے… خط پڑھ کر میری آنکھوں میں آنسو
آگئے اورمقصود شہید کا قد میرے دل میں اور زیادہ بلندہوگیا… میں نے وہ خط اُن کو
واپس کر دیا اور عرض کیا کہ اسے ضائع فرما دیں اور بے فکر ہو کر کام کریں… ابھی
کچھ عرصہ پہلے غالباً ڈیڑھ سال قبل میں نے ملک کے ایک قومی روزنامے میں بھائی
مقصود شہید کا مضمون دیکھا… یہ مضمون ناقدری کے ساتھ ادارتی صفحہ دوم پر لگا ہوا
تھا… مضمون پڑھا تو اندازہ ہوا کہ اسمیںکانٹ چھانٹ ہوئی ہے… تحقیق کی تو معلوم ہوا
کہ واقعی مضمون کو کانٹا چھانٹا گیا ہے… یہ سب دیکھ کر مجھے تکلیف پہنچی… میری
نظرمیں مقصود شہید بہت اونچے قلمکار اور امت مسلمہ کا سرمایہ تھے… اور اللہ پاک نے
انہیں مقبول اخبارات میںلکھنے کا کھلا موقع بھی عطاء فرمایا ہوا تھا… تو پھر اس
طرح ناقدری کے ساتھ ان نفاق زدہ اخبارات میں مضمون بھیجنے کی کیا ضرورت تھی؟…
انہیں دنوں میں نے اُن کے پاس اخبار کے لئے کچھ کاغذات بھجوائے تو اوپراُن کا نام
القاب کے ساتھ لکھ دیا… اچھی طرح تو یاد نہیں غالباً میںنے اُن کا نام اسطرح لکھا…
’’قاطع محدودیت وسیع الحلقہ برادر عزیز مولانا مقصود احمد صاحب‘‘… مجھے معلوم تھا
کہ بھائی مقصود شہیدؒ کو کچھ عرصہ سے یہ مشورہ بھی دیا جارہا تھا کہ … ایک جماعت
میں خود کومحدود نہ کریں بلکہ کھلا اور وسیع کام کریں… میںنے اسی کو مدّ نظر رکھتے
ہوئے اُن کے نام کے ساتھ یہ القاب لکھ دئیے… دراصل میرے نزدیک ’’محدودیت‘‘ بہت بڑا
کمال ہے… طاقت جب ایک مرکز میں محدود ہوتی ہے تو ’’ایٹم بم‘‘ بن جاتی ہے… اور ایک
مرکز میں محدود و مضبوط ہونے والے انسان ہی دنیا کو فتح کرتے ہیں… وسعت پسندی تو
محض ایک دھوکہ اور صلاحیتوں کو ضائع کرنے والی چیز ہے… میری خواہش تھی کہ بھائی مقصود
شہیدؒ زیادہ سے زیادہ لکھیں… خوب کتابیں لکھیں… اور یہ کتابیں جماعت ہی کے مکتبے
سے چھپیں اور تقسیم ہوں… خیر میں نے اُن کو کاغذات بھجوا دئیے… مجھے یہ توقع نہیں
تھی کہ مقصود شہیدؒ ان دو الفاظ کو اتنی سنجیدگی سے لیں گے… مگر وہ تو وفا کی
بلندی پر فائز تھے… دو چار روز ہی میں اُن کا خوبصورت خط مجھے مل گیا… وہ فرما رہے
تھے… میں کچھ اپنی ذاتی مجبوریوںکی وجہ سے… اور دوسرا اس خیال سے کہ آپکی کی طرف
سے اجازت ہے ان اخبارات میں لکھتا ہوں… اگر حکم فرمائیں تو ابھی چھوڑ دوں، میں
اپنے عہد پر الحمدللہ پوری طرح سے قائم ہوں… میں نے انہیں جواب بھیجا کہ خوب شرح
صدر سے لکھتے رہیں… اللہ پاک مدد فرمائے… بھائی مقصود شہیدؒ کو اللہ پاک اُن کے
اُن محبوب کرداروں کے ساتھ اعلیٰ علیین میں جمع فرمائے… جن کا وہ والھانہ تذکرہ
لکھتے تھے… ہم تو اُن کے جانے سے غمگین بھی ہیں… اور پریشان بھی … انا
للہ و انا الیہ راجعون… اور یہ دعا پڑھ رہے ہیں:
اللّٰھم اجرنا فی مصیبتنا واخلف لنا خیرا منھا…
عجیب بات ہے کہ ساڑھے سات سال کے اس ہنگامہ خیز عرصے میں
میری بھائی مقصود شہیدؒ سے کبھی ادنیٰ سی تلخی بھی نہیں ہوئی … اور ہم نے ایک
دوسرے کو کبھی ’’نہ‘‘ نہیں کہا… اس پورے عرصے میں انہوں نے کبھی کوئی
مطالبہ نہیں کیا… اور نہ میںنے انکی زبان سے دنیا یا مال کا کوئی لفظ سنا… وہ بعض
چیزوں میں مثالی اعتدال کے حامل تھے… وہ تمام جہادی تحریکوں کے بے باک اور بے لوث
حامی تھے… آجکل بعض لوگ افغان جہاد کو مانتے ہیں مگر کشمیر کے جہاد پر زبان چلاتے
ہیں… جبکہ بعض کشمیر کے جہاد کو مانتے ہیں مگر افغان جہاد پر شکوک رکھتے ہیں… مگر
بھائی مقصودشہیدؒ تو گویا پیدا ہی جہاد اور مجاہدین کی خدمت اور وکالت کے لئے ہوئے
تھے… افغانستان، کشمیر، عراق، فلسطین… اور چیچنیا سب تحریکوں پر اُنکی گہری نظر
تھی… اور وہ درست اور تحقیقی معلومات رکھتے تھے… میں نے اوپر عرض کیا کہ ہم نے
کبھی ایک دوسرے کو ’’نہ‘‘ نہیں کہا… ہاں ایک واقعہ اس سے مستثنیٰ
ہے… انہوں نے زندگی میں دوبار مجھ سے اپنی ’’تصانیف‘‘ پر تقریظ لکھنے
کی فرمائش کی… پہلی بار تو حالات اچھے تھے میں نے فوراًہاں کردی… اُن کی کتاب کا
مسوّدہ لیا مختصر سی تحریر لکھ دی… مگردوسری بار حالات ٹھیک نہیں تھے … انہوں نے
قیدیوں کے موضوع پر لکھی ہوئی اپنی کتاب کا تذکرہ کیا تو میں نے قلبی خوشی کا
اظہار کیا… اور اُن کو بہت مبارکباد دی… انہوں نے کہا اگر تکلیف نہ ہو تو تقریظ
لکھ دیں… میں نے عرض کیا حالات آپ کے سامنے ہیںاگرموقع ملا تو انشاء اللہ ضرور
لکھ دوں گا اور اگر نہ لکھ سکا تو آپ کتاب چھاپنے میں تاخیر نہ کریں… انہوں نے
مسکرا کر سر جھکا دیا جی ٹھیک ہے… اللہ اکبر کبیرا… ہمارے جامعہ میں دبئی کا رہنے
والا ایک پاکستانی طالبعلم پڑھنے آیا تھا… وہ بہت موٹا تھا مگر عمر کافی کم یعنی
نو دس سال کے لگ بھگ تھی… شام کو چھٹی کے بعد وہ بچوں کے ساتھ کھیلتاتھا اور گیند
کی مار سے بچنے کے لئے… بھاگ کر ایک چھوٹے سے ستون کے پیچھے چُھپ جاتا
تھا… وہ خود کو اپنی عمر کے مطابق چھوٹا سمجھتا تھا مگر اُس کا موٹا بدن ستون کے
پیچھے کہاں چھپتا تھا؟… چنانچہ بچے اُسکو پکڑ لیتے اور گیندسے مارتے تو وہ حیران
ہوتا کہ میں تو چھپا ہوا تھا… بھائی مقصود شہیدؒ کی روح پر ایمانی انوارات تھے… وہ
تواضع کی وجہ سے خود کو چھوٹا سمجھتے تھے… مگر اللہ پاک نے ان کو لمبا چوڑا جسم
اور چٹانوں، ستاروں جیسی صفات عطاء فرمائی تھیں… مجھے اُن کے شرما کر سر جھکانے پر
بہت پیار آتا تھاکہ… ایک پہاڑ، ایک ستارہ کسطرح خود کو سمیٹنے کی کوشش کر رہا ہے…
اب مقصود شہید کی یاد آتی ہے تو اُن کے اللہ والے والدین کے صبر پر رشک آتا ہے…
اُن کے محبت کرنے والے بھائیوںکی ہمت پر رشک آتا ہے کہ وہ کس طرح سے اپنی آہوں
کو چھپا رہے ہیں… اللہ پاک اُن کو بہت اجر اور بے انتہاسکون عطاء فرمائے… اُن کو
اپنے پیارے لال کی شہادت پر مبارکباد پہنچے… ہمارے مخدوم مکرّم مفتی محمد منصور
احمد صاحب نے مقصود شہیدؒ پر مضمون لکھا تو اسے پڑھ کر مجھے… سمندرکا
وہ سفر یاد آگیاجسمیں ہماری لانچ لہروں کی زد میں آگئی تھی… اونچی اونچی لہروں
پرہماری کشتی تنکے کی طرح ڈول رہی تھی… ایک لہر کشتی کو نیچے پھینکتی تو دوسری
اوپر اُٹھا لیتی… مفتی منصور احمد صاحب کے دل میں غم اور یادوں کی لہریںاُن کے
مضمون کو اوپر نیچے پھینک رہی تھیں… مگر وہ صبر کے چپّو چلاتے ہوئے کسی طرح مضمون
کی کشتی کو کنارے تک لے گئے… ہاںمفتی صاحب! ایسے ہی مواقع پر صبر اللہ پاک کی محبت
کو کھینچ لیتا ہے…
واللہ یحب الصابرین… ان اللہ مع الصّابرین…
بھائی مقصود شہیدؒ نے ساتھیوں کی شہادت پر جو مضامین لکھے…
اُن کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ انکی روح شہادت کے لئے کتنی بے چین تھی…
شکر ہے مالک کا جس نے مانگنے والے کی دعا قبول
فرمائی… اور اُسے شہادت کا تاج پہنایا… معلوم نہیں ’’مقصود‘‘ کس کا
’’مقصود‘‘ تھا… مگر ’’مقصود‘‘ کا اپنا ’’مقصود‘‘ اللہ پاک کی رضا اور شہادت تھی…
اللہ پاک نے اسکی آرزو کی لاج رکھی اور مقصود نے اپنے مقصود کو پالیا…
و آخردعواھم أَن الحمدللہ رب العالمین…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے بندوں نے رجب کا مہینہ شروع ہوتے ہی یہ دعاء
مانگی…
اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَشَعْبَانَ
وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ
صبح، شام، رات، دن یہ دعاء مانگی جارہی ہے… اور الحمدللہ ایسا لگتا ہے کہ قبول بھی ہورہی ہے…
ابھی رجب کا آغاز ہے اور امت مسلمہ پر خوشیوں اور برکتوں کی بارشیں نازل ہونا شروع
ہوگئی ہیں… چیف جسٹس صاحب بحال… حکومت کا غرور ایسا ٹوٹا کہ تعزیت کرنے کو دل
چاہتا ہے… ظاہری حالات تو یہ تھے کہ ۲۰؍جولائی
کے اخبارات میں یہ اشتہار شائع ہوتا کہ… چیف جسٹس کی گرفتاری کو ایک سو چونتیس دن
ہوگئے… مگر اللہ پاک کی شان کہ خبر کچھ اور چھپی… ادھر صدر بش کو کینسر ہوگیا
ڈاکٹروں نے بے ہوش کیا تو ڈک چینی امریکہ کا صدر ہوگیا… ڈاکٹروں نے کینسر کے پانچ
لوتھڑے نکال لئے ہیں… ہاں مظلوموں کا خون اب کینسر کی صورت میں بش کو کاٹ رہا ہے…
ادھر طالبان نے غزنی میں عیسائیت کی تبلیغ کرنے والے جنوبی کوریا کے مشنریوں کو
رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ہے… اس واقعہ نے ویٹی کن کے پاپے کو ہلا کر رکھ دیا ہے…
طالبان نے اپنے قائدین کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے… اللہاکبرکبیرا… ادھر فلسطین میں
ڈھائی سو قیدی یہودیوں کی جیلوں سے رہا ہوگئے ہیں… ابھی مزید ساڑھے تین سو رہا ہوں
گے تو گرفتار یہودی فوجی کو مجاہدین چھوڑیں گے… سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ
العظیم… اے ہمارے پروردگار رجب اور شعبان کو ہمارے لئے برکت والابنا اور ہمیں
رمضان المبارک تک پہنچا… آج اس موضوع پر کچھ لکھتا مگر ’’خیال جی‘‘ کا اصرار ہے کہ
آج اس کی خیالی باتوں کو موقع دیا جائے… خیال جی اپنے حق میں تین دلائل دیتے ہیں…
(۱) بہت عرصہ ہوا آپ صرف ’’دل جی‘‘ کی باتیں لکھ رہے ہیں آخر
’’خیال جی‘‘ کا بھی تو کچھ حق ہے (۲)جس طرح چیف جسٹس صاحب بحال ہوئے ہیں اسی طرح مجھے بھی بحال
کیا جائے (۳)القلم کے قارئین کافی عرصہ سے میری کمی محسوس کر رہے ہیں…
خیال جی کے ان دلائل کے بعد اب انکار کی گنجائش نہیں ہے…
لیجئے آج آپ خیال جی کی ’’خیالی دنیا‘‘ اور ’’خیالی باتوں‘‘ کا لطف اٹھائیے:
خیال جی اور پرواز
میرا نام ’’خیال جی‘‘ ہے… اور میرے دوست کا نام ہے
’’پرواز‘‘… ہم دونوں ہندوستان میں پاکستان بننے سے پہلے پیدا ہوگئے تھے… ابھی ہم
چھوٹے چھوٹے تھے کہ پاکستان بن گیا… اور ہمارے گھر والے ہمیں اٹھا کر ادھر لے آئے…
پھر اچانک ہم ترکی چلے گئے… وہاں جا کر ہمیں معلوم ہوا کہ اصل اسلام کیا ہے… نائٹ
کلب، ڈانس، کتے پالنا اور یاریاں کرنا… میں اور پرواز جب ترکی کی لڑکیوں کو نیکر
پہنے دیکھتے تو آپس میں گلے لگ کر روتے کہ… ہمارے ملک کی عورتیں ابھی تک برقع کیوں
پہنتی ہیں… مسلمانوں کی اسی فکر میں ہم دونوں کبھی کسی نائٹ کلب جا بیٹھتے اور
وہاں کے پاکیزہ ماحول میں مولوی، داڑھی، جہاد اور برقع کے خلاف آپس میں جذباتی
باتیں کرتے… ہم کہتے کاش ہمارے ملک میں بھی نائٹ کلب چلیں، لڑکیاں نیکر پہنیں اور
میوزک کے شور میں اصل اسلام کا بول بالا ہو… وہاں ہماری دوستی کچھ انگریزوں سے
ہوئی تو انہوں نے ہمیں ’’کتے‘‘ پالنے کے فوائد سے آگاہ کیا… بس پھر کیا تھا ہم نے
فوراً کتے پال لئے… اب جس وقت ہم امت مسلمہ کی ترقی کی فکر کرتے تو ہماری بغل میں
کتے بھی ہوتے تھے… سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسان جس جانور کے ساتھ رہتا ہے اس کی
عادتیں انسان میں آجاتی ہیں… سائنسدانوں کی یہ بات سچی نکلی اور کتوں کی تمام
خوبیاں ہمارے اندر تیزی سے پیدا ہوتی چلی گئیں… مثلاً بہت زیادہ بھونکنا، ہر بات
بھونک جانا یعنی بول جانا… چنانچہ ایسا بھی ہوا کہ ہمارے مشیروں اور دوستوں نے
ہمیں کوئی بات بولنے سے منع کیا تو ہم نے فوراً… صحافی بلوائے اور ان کے سامنے
’’آف دی ریکارڈ‘‘ کی شرط کے ساتھ بات بول دی… یوں بات بھی پیٹ میں نہ رکھنی پڑی
اور مشیروں کے مشورے کا بھرم بھی برقرار رہا… کتوں کی خاص عادت ہے کہ اپنوں کو
چھوڑو نہیں غیروں کو چھیڑو نہیں… کتے اپنے ہم نسل کتوں سے لڑتے ہیں جبکہ انسان کی
غلامی کرتے ہیں… ہم نے بھی فیصلہ کرلیا کہ مسلمانوں کو چھوڑیں گے نہیں اور کافروں
کو چھیڑیں گے نہیں… الغرض لمبی داستان ہے خلاصہ یہ سمجھ لیں کہ… ہم کتوں کی تمام
عادتوں سے مالا مال ہوگئے… اور پھر ہم پاکستان آگئے۔
سوچ ایک راستے الگ
میں اور پرواز ایک دوسرے کے مکمل ہم خیال تھے… مگر روزی کی
تلاش نے ہمیں الگ الگ کردیا… پرواز فوج میں چلے گئے اور میں کاروبار میں لگ گیا…
کبھی کبھار ہم مل بیٹھتے تھے تو پھر وہی باتیں کرتے تھے… ترکی کی روشن خیالی اور
پاکستان کی انتہا پسندی… مگر ہم خوش تھے کہ چلو ہم تو روشن خیال ہیں… اور اصل
اسلام پر عمل کرتے ہیں… داڑھی منڈاتے ہیں، نماز نہیں پڑھتے، جہاد کو گالیاں دیتے
ہیں، مولویوں اور برقعے کے دشمن ہیں… اور امریکہ اور یورپ کو اپنا رول ماڈل مانتے
ہیں… بالآخر ناچتے گاتے ہماری جوانی گذر گئی… اب ہم دونوں کافی مالدار تھے… پھر
اچانک پرواز نے ایک پرواز سے اتر کر ملک کی صدارت سنبھال لی… اور میں نے بھی اپنے
کاروبار کی شاخیں ہرطرف پھیلادی… میں نے پرواز کے صدر بننے کے بعد اس کا فوٹو
دیکھا کہ اس نے کتوں کو بغل میں اٹھایا ہوا ہے تو مجھے اس پر بہت پیار آیا… اور
مجھے پاکستان کے بارے میں اپنے خواب پورے ہوتے نظر آئے… شروع میں تو پرواز کچھ دب
دب کر روشن خیالی کا چرچہ کرتا تھا مگر اچانک نائن الیون نے اس کے پروں کی طاقت
بڑھادی… اب وہ کھلم کھلا جہاد، داڑھی، انتہا پسندی، مولویت، مدرسہ کے خلاف بولتا
تھا… اور بہت زیادہ بولتا تھا… میں کبھی کبھار اس سے ملنے جاتا تو وہ بہت جوش کے
ساتھ بتاتا کہ اب پاکستان بھی اتاترک کا ترکی بننے والا ہے… بس تم تھوڑا سا انتظار
کرو…
ایک عجیب واقعہ
اصل اسلام پر کاربند ہونے کی وجہ سے میں مسجد میں بہت کم
جاتا تھا… کتوں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے کپڑے بھی ناپاک ہوتے تھے… اور اتنے سارے
داڑھی والے نمازیوں کو دیکھنا میرے جیسے روشن خیال مسلمان کے لئے ناقابل برداشت
ہوتا تھا… چنانچہ سال میں ایک آدھ بار ہی کسی مجبوری کی وجہ سے میں مسجد جاتا تھا…
مگر ایک بار میرے ایک رشتے دار مجھ سے ملنے آگئے… وہ کچھ مذہبی آدمی تھے… ظہر کی
نماز کا وقت ہوا تو انہوں نے کہا خیال جی مجھے مسجد لے جائیے… میں نے بھاگ دوڑ کر
صاف کپڑے پہنے… اور آدھا پونا وضو بنایا اور ان کو لے کر مسجد چلا گیا… محلے کے
لوگ مجھے شلوار قمیص اور ٹوپی میں دیکھ کر حیران ہو رہے تھے… کیونکہ میں تو رات کو
بھی ٹائی باندھ کر سونے کا عادی تھا کہ کہیں غیر انگریزی لباس میں موت نہ آجائے…
خیر امام صاحب نے نماز پڑھائی تو سلام کے بعد ایک نوجوان کھڑا ہوگیا… چہرے پر بلا
کی معصومیت اور تھوڑا سا رعب… پوری داڑھی اور لمبے بال… اور سر پر فلسطینی مجاہدین
والا رومال… اس نے اعلان کیا کہ سنتوں کے بعد چند منٹ تشریف رکھیں… میں فوراً
بھانپ گیا کہ یہ دہشت گرد ہے… مجھے پتا تھا کہ آج کل ’’پرواز‘‘ دہشت گردوں کو
پکڑتا ہے … اور امریکہ کے حوالے کرتا ہے… میں نے سوچا کہ اس کی تقریر اپنے موبائل
میں ٹیپ کروں گا… اور پھر فوراً پرواز کو فون کھڑ کا دوں گا کہ پولیس کو بھیج دے…
یوں میں انتہا پسندی ختم کرنے میں پرواز کا کچھ تو ہاتھ بٹادوں گا… یہ تمام باتیں
سوچتے ہی میرا دل جرمن کتے کی طرف خوشی میں اچھلنے لگا… اور میری آنکھوں میں
’’جیمزبانڈ‘‘ جیسی چمک آگئی… اور مسجد میں آنے کی وجہ سے مجھے جو پریشانی ہو رہی
تھی وہ اب مسرت میں بدل گئی… لو بھائی میرا مسجد میں آنا بھی کام آگیا… میرے مہمان
سنتوں سے فارغ ہو چکے تھے… انہوں نے واپسی کا اشارہ کیا تو میں نے کہا… ایک شکار
ہاتھ لگا ہے… اس کو سرکار کا مہمان بنوا کر پھر چلتے ہیں… مسجد میں آئے ہیں تو
بغیر نیکی کئے کیسے واپس چلے جائیں؟…
دل ہاتھوں سے نکل گیا
سنتوں کے بعد وہ نوجوان کھڑا ہوگیا… میں نے موبائل کو
ریکارڈنگ پر لگادیا… مگر اچانک فضا ہی بدل گئی… وہ نوجوان بولتا کم تھا اور روتا
زیادہ تھا… اے بھائیو! اے مسلمانو! آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم احد کے میدان میں
زخمی ہوئے… ہائے میرے آقا کا خون … ہائے میرے آقا کا خون… اس کے یہ الفاظ سن کر
موبائل میرے ہاتھوں سے گر گیا… وہ نوجوان کبھی آیتیں پڑھتا… کبھی حدیثیں سناتا،
کبھی جیلوں میں بند مسلمانوں کے واقعات دہراتا… کبھی جہاد کی بات کرتا، کبھی نماز
کی دعوت دیتا… اور کبھی جنت کے تذکرے چھیڑ دیتا… آخر میں اس نے سوال کیا… اے
مسلمانو! دین وہ ہے جو آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم لائے… یا دین وہ ہے جو کافروں
سے مغلوب ہونے والے ہمارے حکمران پیش کر رہے ہیں؟… اس کی باتوں نے مجھے رلا دیا…
وہ بار بار پوچھتا تھا کہ اتنا مال جمع کرنے کا کیا فائدہ ہے؟… جبکہ ہم نے کل
مرجانا ہے… پھر جب اس نے جہاد کی کرامتوں کا تذکرہ چھیڑا تو میرا دل ہاتھ سے نکل
گیا… آنسوؤں کے قطرے میرے چہرے پر رم جھم کرنے لگے… بیان ختم ہوگیا… لوگ چندہ دینے
لگے مگر میں بیٹھا رہا… میں آج مال نہیں اپنا دل دینا چاہتا تھا … سب لوگ چلے گئے
تو میں اس کے پاس گیا… باتیں شروع ہوئیں تو میری آنکھیں کھلتی چلی گئیں… میں نے
اسے کہا میں مالدار شخص ہوں… تم غریب نوجوان ہو میں تمہاری مالی مدد کرنا چاہتا
ہوں… وہ ہنس کر بولا کہ جناب میری نہیں جماعت اور جہاد کی مدد کیجئے… میں نے کہا
اور تمہیں کچھ نہیں چاہئے؟… اس نے حسرت سے آہ بھری دو آنسو اس کی آنکھوں سے پھسلے
اور وہ بولا… چچا مجھے شہادت چاہئے آہ شہادت آہ شہادت… میں نے پوچھا… ’’پرواز‘‘ نے
ملک میں جہاد اور جماعتوں پر پابندی لگادی ہے تم کس طرح سے کھلم کھلا کام کر رہے
ہو؟… اس نے کہاچچا! اللہ کے نور کو کوئی نہیں چھپا سکتا … کوئی نہیں روک سکتا… میں
نے اپنی جیب کے سارے پیسے نکال کر اس کے رومال میں ڈالے… اس نے مجھے ایک کیسٹ دی
اور ایک کتاب… اور میں تھکے تھکے قدموں کے ساتھ واپس گھر آگیا…
میرے رب نے مجھے جوڑ لیا
رات کو میں نے اپنے کمرے میں بند ہو کر کیسٹ سنی تو لرز کر
رہ گیا… میری زبان سے پہلی بار نکلا یا اللہ توبہ یا اللہ توبہ… معلوم نہیں وہ کون
سی گھڑی تھی کہ میری توبہ رنگ لے آئی… میں نے کتاب کھولی تو نام تھا فضائل جہاد…
میں نے پڑھنا شروع کی تو پڑھتا چلا گیا… یوں لگتا تھا کہ کوئی چیز میرے دل سے زنگ
اتار رہی ہے… جب میں شہیدوں کے تذکرے اور جنت کے احوال تک پہنچا تو میری حالت بدل
گئی… میں چیخیں مار رہا تھا… اور بچوں کی طرح زمین پر لوٹ رہا تھا… مجھے اپنے ماضی
کی کالی زندگی زہریلے سانپ کی طرح کاٹ رہی تھی… اور مجھے اپنی بربادی پر سخت شرم
آرہی تھی… کتاب پڑھتے پڑھتے اچانک میرے کانوں سے اذان کی آواز ٹکرائی… آج یہ آواز
کانوں میں رس گھول رہی تھی جبکہ پہلے میں اذان کی آواز سن کر موذن اور مولویوں کو
گالیاں دیتا تھا… موذن نے کہا… اشہد ان محمدا رسول اللہ… محمد صلی اللہ علیہ وسلم
کا نام سن کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے … دل چاہا کہ اڑ کر مدینہ چلا جاؤں… آج
مجھے اس نام میں عجیب اپنائیت محسوس ہو رہی تھی… میں اٹھ کر باتھ روم میں گیا… خوب
اچھی طرح نہایا… اور مسجد میں حاضر ہوگیا… نماز کے بعد امام صاحب سے اس نوجوان کا
پتہ پوچھا تو وہ گھبرا گئے… مجھ سے کہنے لگے جناب بچہ ہے معاف کردیں، اس کو نہ
پکڑوائیں… میں نے کہا امام صاحب اب خیال جی وہ نہیں ہے آپ بے فکر ہو کر پتہ
بتائیں… انہوں نے مجھے نوجوان سے ملادیا… میں نے اسے بتایا کہ مجھے نہ تو درست
کلمہ آتا ہے… نہ وضو اور نماز کا طریقہ … اس نے کہا آپ سامان لائیں پندرہ دن میں
سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا… میں کپڑے بریف کیس میں ڈال کر لے آیا… وہ مجھے اپنے مرکز
لے گیا… وہاں تو عجیب ماحول تھا… ہر طرف اللہ اللہ کی صدائیں… خوب رونا دھونا… اور
جہاد کی باتیں، شہادت کی امنگیں… میں بھی ان کے ساتھ دورہ تربیہ اور پھر اساسیہ
میں شامل ہوگیا… انہوں نے مجھ چونسٹھ سال کے بڈھے کو باپ کا احترام دیا… مجھے نماز
سکھائی… تلاوت سکھائی… اور دین پڑھایا… اور پھر ایک دن ظہر کی نماز کے بعد اللہ
اللہ کا ذکر کرتے ہوئے مجھے اپنے دل میں کچھ اترتا ہوا محسوس ہوا… ہاں بس اس دن
میرے اللہ پاک نے مجھے اپنے سے جوڑ لیا… اب میں ایک سال سے ان مجاہدین کے ساتھ کام
کرتا ہوں… اور مجھے امید ہے کہ ماضی کی کالی زندگی مجھے میرے رب نے معاف فرمادی
ہے… اس پورے عرصے میں مجھے کچھ یاد نہ رہا… اور نہ میری پرواز سے ملاقات ہوئی…
اچانک ایک دن میں نے اپنا پرانا نمبر کھولا تو پرواز کا میسج آیا ہوا تھا… یار
اتنا عرصہ ہوگیا کبھی آؤ مل کر ڈیٹ مارنے چلیں… میں نے سوچا ٹھیک ہے پرواز کو جاکر
سمجھاتا ہوں … ممکن ہے وہ بھی جہاد کے انکار سے توبہ کرلے… اور مجاہدین کو ستانا
بند کردے… چنانچہ اگلے دن میں پرواز کی طرف روانہ ہوگیا… اور سارا راستہ جہاد کے
دلائل یاد کرتا گیا…
پرواز حیران رہ گیا
پرواز کو جیسے ہی میرے پہنچنے کی اطلاع ملی اس نے مجھے
فوراً بلالیا… مگر مجھے دیکھتے ہی ہکا بکا رہ گیا… چہرے پر داڑھی، مولویوں جیسا
لباس اور شلوار ٹخنوں سے اوپر… وہ چیخا خیال جی! یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں؟… میں نے
آگے بڑھ کر ان کو گلے سے لگایا اور پوچھا تم تو سیّد ہو نا پرواز؟… کہنے لگا ہاں
بالکل!… میں نے کہا سیّد کس کی اولاد ہیں… کہنے لگا حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم
کی… میں نے کہا پرواز ان کی داڑھی تھی، ان کا ازار بھی ٹخنوں سے اوپر ہوتا تھا… اس
حلیے سے نفرت بہت بڑا عیب ہے اپنے چہرے کی شکنیں ٹھیک کرو… ہماری بچپن کی دوستی
تھی… پرواز ہنس پڑا اور کہنے لگا… انتہا پسندی میرے دوستوں تک بھی پہنچ گئی… مگر
میرا عزم ہے کہ میں بش کی مدد سے اسے ختم کرکے دم لوں گا… اچھا یہ بتاؤ کیا پیو
گے؟… آف دی ریکارڈ… میں نے کہا سادہ پانی، امرت کولا یا گُڑ کا شربت… وہ حیرانی سے
مجھے دیکھنے لگا… خیر اس نے بادام کا شربت منگوالیا… اور کہنے لگا اچھا پہلے گپ شپ
کرو گے یا میرے کتوں سے ملو گے؟… میں نے کہا اب کتوں سے یاری ختم ہے… اللہ پاک نے
انسانوں سے ملادیا ہے… وہ مجھے پھر شک کی نگاہوں سے دیکھنے لگا… اب میں نے گلا صاف
کرکے… اسے دین کی، جہاد کی اور مجاہدین کو تنگ نہ کرنے کی دعوت دینا شروع کی… وہ
بے زاری سے سنتا رہا… پھر مجھے روک کر کہنے لگا… یار اب یہ ناٹک بند کرو، بہت
ہوگیا مذاق… میں پہلے ہی چیف جسٹس کی وجہ سے پریشان ہوں… میں نے سوچا تھا کہ ڈاکٹر
عبدالقدیر خان کی طرح اس کی مونچھیں بھی قید میں سفید کرادوں گا… مگر یہ تو مجھے
ہی توڑ گیا… اب اوپر سے تم نے یہ فضول بک بک شروع کردی ہے… چھوڑو اس مذاق کو اور
کچھ مزے کی باتیں کرو… یار تمہیں ترکی کی وہ لڑکی… میں نے اس کی بات کاٹ دی اور
کہا… پرواز بیٹیوں کا پردہ قرآن کا حکم ہے… میں مذاق نہیں کر رہا … خود سوچو ہم
دونوں چونسٹھ سال کے بڈھے ہوگئے ہیں… آج کل میں مرجائیں گے… ہم نے قبر کے لئے کیا
تیاری کی ہے؟… ہم نے آخرت کا کیا سامان کیا ہے؟… کیا بش ہمیں وہاں کے عذاب سے بچا
لے گا؟… پرواز! اب بس کرو اور جہاد کی مخالفت چھوڑ دو… میرے ساتھ چل کر دورہ
اساسیہ کرو اور پھر دورہ تربیہ میں اللہ اللہ کرو… پرواز مزہ آجائے گا حقیقی مزہ…
اصل مزہ…
پرواز غضبناک ہوگیا
جب پرواز نے دیکھا کہ میں واقعی سنجیدہ ہوں تو غصے سے اس کا
رنگ بدل گیا… مجھے کہنے لگا خیال جی بس کرو، بس کرو… میری زبان نہ کھلواؤ… میں نے
کہا پرواز کھل کے بولو کوئی حرج نہیں… وہ غصے میں کھڑا ہوگیا… اس نے اپنی پینٹ کی
جیبوں میں ہاتھ ڈالے… اور کھڑکی کی طرف منہ کرکے بولا… خیال جی مجھ سے جہاد کو وہ
فائدہ پہنچ رہا ہے… جو تم جیسے کئی ہزار افراد مل کر بھی نہیں پہنچا سکتے… ارے
پرواز تم اور جہاد کو فائدہ؟… میں چیخ پڑا اور میں بھی کھڑا ہوگیا… وہ بولا… اچھا
یہ بتاؤ آج سے پانچ سال پہلے پاکستان میں جہاد کی کتنی تنظیمیں تھیں؟… میں نے
تھوڑا سا سوچ کر کہا چھ سات ہوں گی… وہ مسکرا کر بولا اب کتنی ہیں؟… میں نے کہا کم
از کم دو سو… وہ بولا… پانچ سال پہلے پاکستانی مجاہدین میں خود کش کتنے تھے؟ جنہیں
تم فدائی مجاہد کہتے ہو… میں نے کہا دو چار یا آٹھ دس… اس نے کہا اور اب؟… میں نے
کہا ہزاروں… اس نے قہقہہ لگایا… اور کہنے لگا پاکستان کے کس علاقے پر پانچ سال
پہلے مجاہدین کا کنٹرول تھا؟… میں نے کہا کسی علاقے پر نہیں… کہنے لگا اور اب؟…
میں نے کہا بہت سے علاقے عملاً مجاہدین کے قبضے میں ہیں… اب تو گویا پرواز پر ہنسی
کا دورہ پڑ گیا… وہ خاص اسٹائل سے کرسی پر بیٹھا… اور میز پر مکاّ مار کر کہنے
لگا… چھ سات تنظیموں سے دو سو تنظیمیں بن گئیں… آٹھ دس فدائیوں سے ہزاروں فدائی
پیدا ہوگئے … علاقوں کے علاقے مجاہدین کے قبضے میں چلے گئے… وزیرستان سے لے کر
کراچی تک مجاہدین دندناتے پھر رہے ہیں… کل تک ان کے لیڈروں کے پاس لائسنس والے
سیمی آٹو میٹک ہتھیار تھے… اور آج وہ راکٹوں، توپوں اور گولوں کے مالک ہیں… کل تک
وہ پولیس والوں سے بھی بھاگتے پھرتے تھے… اور آج ان میں سے بعض آرمی کے قافلے اڑا
رہے ہیں… کل تک وہ مسکین نظر آتے تھے… اور آج شیروں کی طرح دھمکیاں دیتے ہیں… خیال
جی… اب تم خود ہی بتاؤ میں نے جہاد کو نقصان پہنچایا ہے یا فائدہ؟… پرواز نے یہ
سوال کرکے میری آنکھوں میں آنکھیں گاڑ دیں… اور میں تھوڑی دیر کے لئے سکتے میں چلا
گیا…
میرا ایمان متزلزل ہونے لگا
پرواز کی وزنی باتیں سن کر میرا ایمان متزلزل ہونے لگا… چند
دن پہلے میرے محلے کی ایک پتلی سی چودھرانی نے بھی مجھے یہ طعنہ دیا تھا کہ…
مجاہدین ایجنسیوں کی پیداوار ہیں… اور کچھ لوگوںنے مجھے بتایا تھا کہ حکومت خود ان
مجاہدین کو پال رہی ہے… مگر اس وقت مجھ پر جہاد کا نشہ اور ذکر کی لذت حاوی تھی…
اور میں نے بعض غازیوں اور عملی مجاہدین کے ’’نورانی‘‘ چہرے بھی دیکھ لئے تھے… اس
لئے مجھے یہ سارے الزامات غلط لگے تھے… مگر آج پرواز نے مجھے ہلا کر رکھ دیا… مگر
میں ہار ماننے والا کہاں تھا… میں ایک خاص اسٹائل سے پرواز کی کرسی کی پشت کی طرف
آیا اور میں نے… اس کے گلے میں بانہیں ڈال کر کہا… پرواز یار سچ بتاؤ… کیا تم
واقعی جہاد کے حامی ہو؟… کیا تم مجاہدین کی باقاعدہ سرپرستی کر رہے ہو؟… یا واقعی
جہاد کی یہ تمام بہاریں تمہارے دم سے ہیں؟… پھر میں نے جذباتی ہو کر اس کے کندھے
پکڑ لئے اور زور دے کر کہا… پرواز آج دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی صاف کردو… اور
اپنے پرانے دوست کے سامنے اپنا دل کھول کر رکھ دو… پرواز نے اپنے کندھے چھڑوائے
اور مجھے کہا… خیال جی آج غم کی رات ہے… بلکہ رونے کی رات ہے… چیف جسٹس بحال ہوچکا
ہے… آج میں غم غلط کرنے کے لئے سب کچھ سچ سچ بتاؤں گا… تم سامنے بیٹھو اور آرام سے
بات سنو… میں سامنے کی کرسی پر بیٹھ گیا… پرواز نے کہا… سنو خیال جی… میں نہ جہاد
کا حامی ہوں نہ مجاہدین کا سرپرست… اور نہ میں نے اپنے وہ نظریات بدلے ہیں جن کے
تم ترکی کے زمانے سے گواہ ہو… مگر قسمت کا کھیل کہ مجھ سے جہاد کو بے انتہا فائدہ
پہنچا… خیال جی… میں اسلام کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا مگر مجھے اتنا پتہ ہے کہ
اسلام مشکل حالات میں مضبوط ہوتا ہے… میں نے حالات کو سیکولرازم کے موافق پا کر
جہاد کو مٹانے کی پوری کوشش کی مگر… جہاد مضبوط تر ہوتا چلا گیا… میں نے جب ہر
تقریر میں انتہا پسندی کے خلاف بات کی تو لوگ … انتہا پسندی کے ہمدرد بنتے چلے
گئے… میں نے مجاہدین کے گھر اجاڑے تو انہوں نے جنگلوں اور پہاڑوں پر بسیرا کرلیا
اور وہاں چھا گئے… میں نے مجاہدین کو لاشوں کے تحفے دئیے تو… ان لاشوں نے ان کے
جذبات کو آسمانوں تک پہنچادیا… اور سنو خیال جی! میں نے تو جہاد کی دعوت بھی آسان
کردی… وہ کس طرح پرواز؟… تم تو دعوت جہاد کے سخت مخالف ہو… پرواز نے کہا… خیال جی
جہاد کا مسئلہ ایک زمانے تک علماء سمجھا سکتے تھے… کیونکہ ہم روشن خیالوں نے جہاد
کے خلاف اتنے وسوسے پھیلا دیئے تھے کہ جہاد کو سمجھانا اور لوگوں سے منوانا ہر کسی
کے بس کی بات نہیں تھی… مگر میں نے قوم پر ایسے مظالم ڈھائے کہ اب کالج کا کوئی
نوجوان لڑکا کھڑے ہو کر… ان مظالم کو گنوا کر درجنوں لوگوں کی جہاد پر تشکیل
کردیتا ہے… نہ کوئی قرآنی آیت نہ حدیث… بس میرے کارنامے سنائے… علماء کی لاشیں،
مجاہدین کے جنازے، مدارس پر بمباری، مساجد کی مسماری، جہادی تنظیموں پر پابندی،
علماء کی زبان بندی… اور کنجروں میراثیوں کی حوصلہ افزائی… اور اسی طرح کے اور
کارنامے… اور یہ جو میں دن رات کہتا ہوں کہ ہم امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادی ہیں…
میرے اسی جملے کو لے کر لوگ جہاد کی پوری تقریر تیار کرلیتے ہیں کہ… دیکھو پرواز
امریکہ کا یار اور اس کا مددگار ہے… بس یہ بات سنتے ہی لوگ جہاد پر تیار ہوجاتے
ہیں… وہ دیکھو میں نے ایک عورت ’’پیلو خر چھلانگ یار‘‘ کو وزیر بنایا… وہ جا کر
گوروں سے لپٹ گئی… یہ بات بھی لوگوں کو جہاد پر ابھارتی ہے… اور جو کمی کوتاہی رہ
گئی تھی وہ لال مسجد پر میرے حملے نے پوری کردی… اب کسی مسلمان کو جہاد پہ کھڑا
کرنے کے لئے بس یہی ایک واقعہ سنادینا کافی ہے… پرواز نے ایک لمبا سانس لیا اور
مجھ سے کہا… خیال جی تم نے کتنے مجاہد اب تک تیار کیے ہیں؟… میں نے انگلیوں کے
پوروں پر گِنا تھوڑا سا سوچا اور کہا شاید سات یا آٹھ آدمیوں کو اب تک تیار کیا
ہوگا… پرواز نے خوفناک قہقہہ لگایا اور کہنے لگا صرف سات آٹھ… اور آگئے مجھے دعوت
دینے … دیکھو میں نے ہزاروں کو کھڑا کردیا ہے ہزاروں کو… اور میرا ارادہ تو ان مجاہدین
کو ٹینکوں سے روندنے کا تھا… مگر ملک کا ماحول ساتھ نہیں دیتا… مگر خیال جی اگر
میں ان پر ٹینک چڑھا دیتا تو ان کی تعداد اب لاکھوں میں ہوتی… دیکھو عراق میں ایک
مجاہد بھی نہیں تھا بش نے طیارے اور ٹینک چڑھائے تو اب چھ لاکھ مجاہدین کی پوری
اسلامی آرمی بن گئی ہے وہاں…
یہ بات بتا کر پرواز خلاء میں گھورنے لگا… یہ اس کی بچپن کی
عادت ہے کہ اچانک گم ہوجاتا ہے… میں اس کی ان عجیب باتوں سے حیران تھا… میں نے گلا
صاف کرکے کہا… پرواز اگر تم جہاد کے حامی ہو تو… اب مجاہدین کو تنگ کرنا چھوڑ دو…
اگر لاشوں کے تحفے دیناہی جہاد کی خدمت ہے تو تم اپنا بھی تو سوچو کہ آخر تم نے…
اس سارے خون کا حساب دینا ہے…
پرواز نے سر جھٹک کر کہا… مجھے سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے…
ہر زمانے کے اپنے اپنے کردار ہو تے ہیں… میں نے بھی اپنے لئے ایک کردار چوائس
کرلیا ہے… مجھے میرے حال پر چھوڑ دو… میں نے کہا کونسا کردار؟… پرواز نے کہا تمہیں
غزوہ بدر کا علم ہے؟… میں نے کہا ہاں میں نے اسے خوب پڑھا ہے… پرواز نے کہا… غزوہ
بدر میں مسلمان ننگے پاؤں، پھٹے کپڑے، لاٹھیاں اٹھا کر میدانوں کی طرف کیوں شیروں
کی طرح گرجتے ہوئے بھاگ رہے تھے؟ تم نے شاید غور سے نہیں سوچا؟… ان کے اس جذبے کے
پیچھے کئی عوامل تھے کئی وجوہات تھیں… یہ ٹھیک ہے قرآن نے انہیں جہاد کا حکم دیا
تھا… یہ بھی ٹھیک ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ تھے… یہ بھی ٹھیک
ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی نصرت کا بھروسہ تھا… مگر ان کے طوفانی جذبے کے پیچھے
ایک اور کردار بھی تھا… اور وہ تھا ابوجہل کا کردار… مسلمانوں کو معلوم تھا کہ
مشرکین کے لشکر میں ابوجہل موجود ہے… بس اس کی وجہ سے ان کے غصے، جذبے اور یلغار
میں کئی گنا اضافہ ہوگیا تھا… ابوجہل کے مظالم ان کی آنکھوں میں خون کی طرح اتر
آئے تھے… اور ان کے جسم میں بجلیاں دوڑنے لگی تھیں… یقین کرو اگر ابوجہل اس لشکر
میں نہ ہوتا تو شاید مسلمانوں کے جذبے میں اتنا طوفان نہ ہوتا… خیال جی… جہاد کے
لئے قرآنی آیات بھی ضروری، احادیث بھی ضروری… سیرت کے واقعات بھی ضروری، مگر یاد
رکھو… ظالم کا ظلم اور ابوجہل کی ظالمانہ جہالت بھی جہاد کو فائدہ پہنچاتی ہے…
جاؤ تم اپنا کردار ادا کرو… اور مجھے اپنا کردار ادا کرنے
دو اور سنو آئندہ مجھ سے ملنے مت آنا… ورنہ… کسی اخبار میں سعود میمن… اور لال
مسجد کی کہانی پڑھ لینا… یہ کہہ کر پرواز کرسی سے اٹھ کر اندر چلا گیا… اور میں …
یعنی خیال جی چونسٹھ سالہ دوستی کا یہ انجام دیکھ کر… قبر کو یاد کرتے ہوئے باہر
نکل آیا…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے یاد دلایا کہ ہجرت کے موقع پر حضرت محمد صلی
اللہ علیہ وسلم کو کون بچا کر لایا تھا؟… شام کی طرف سے مدینہ منورہ میں زیتون کا
تیل لایا جاتا تھا… زیتون کا درخت بھی برکت والا اور اس کا پھل اور تیل بھی برکت
والا… حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زیتون کا تیل کھاؤ اور اسے لگاؤ…
زیتون کے تیل کو قرآن پاک نے ایک بڑی مثال میں بھی بیان فرمایا ہے… اس بار شام کے
جو تاجر زیتون کا تیل لائے وہ اپنے ساتھ ایک خبر بھی لائے… روم کی عیسائی سلطنت
مسلمانوں پر حملے کی تیاری شروع کرچکی ہے… چالیس ہزار کا ایک لشکر سرحد تک پہنچ
چکا ہے… یہ ۹ ہجری کا زمانہ تھا… مسلمانوں نے جزیرہ عرب کو تقریباً
پاک کردیا تھا… مکہ مکرمہ پر ایک نوجوان مسلمان صحابی عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ
گورنر تھے… حنین اور طائف کا مسئلہ بھی نمٹ چکا تھا… موسم سخت گرمی کا تھا، کھجور
تیار تھی، دھوپ سخت اور سائے کی جگہ خوشگوار تھی… اور کچھ آثار قحط اور خشک سالی
کے بھی تھے… اور دوسری طرف روم کی طاقتور اور اپنے زمانے کی سپرپاور حکومت کا رعب
تھا… مسلمانوں کی خوش بختی کے عروج کا آخری زمانہ تھا… حضور اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم ان کے سروں پر موجود تھے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی کے آخری دو
سال… اللہاکبرکبیرا… حکم فرمایا کہ سب نکل پڑو… کوئی بھی پیچھے نہ رہے، نہ خواص نہ
عوام… نفیر عام کا ڈنکا بجا… مدینہ منورہ کی مسجد اور گلیاں ’’حی علی الجہاد‘‘
’’حی علی الجہاد‘‘ کے نعرے سے گونج اٹھیں… مقابلہ روم کی سپرپاور سے ہے، اور ان کے
حملہ کرنے سے پہلے ان پر حملہ کرنا ہے… قرآن پاک نور کی بارش برسا رہا ہے کہ
عیسائیوں سے جہاد کرنا کیوں ضروری ہے… یہ لوگ کتنے برے اور کتنے گندے ہیں … نعوذ
باللہ، اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹا تجویز کرتے ہیں… یہ لوگ زمین کو معاشی نا ہمواری
کے ظلم سے بھرتے ہیں… ان کی مذہبی قیادت فتویٰ فروش لالچیوں کے ہاتھ میں ہے… اے
مسلمانو! ان سے لڑو … ان سے طاقت چھین لو… یہ تمام آیتیں سورۃ توبہ میں موجود ہیں…
جی ہاں وہی سورۃ توبہ جسے پاکستان کے حکمرانوں نے نصاب کی کتابوں سے نکال دیا ہے…
مگر یہ سورۃ قرآن پاک میں موجود ہے… اور موجود رہے گی… یہ اللہ پاک کا کلام ہے،
جسے کوئی بد دماغ نقصان نہیں پہنچا سکتا… اور خوش نصیب مسلمان سورۃ توبہ پر عمل
کرتے رہیں گے… اور انشاء اللہ کامیاب ہوتے رہیں گے… غزوۂ تبوک عجیب غزوہ تھا… یہ
میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری غزوہ تھا… جی ہاں وہ آخری اسلامی لشکر جس کی کمان
حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم خود فرما رہے تھے… اس غزوہ میں تیس ہزار مسلمان
شریک ہوئے… جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان عام (جس کو شریعت کی اصطلاح میں
نفیر عام کہا جاتا ہے) فرمایا تو لوگوں کی چھ قسمیں ہوگئیں … قرآن پاک نے ان تمام
قسموں کو بیان فرمایا… جلدی جلدی بھاگ بھاگ کر جہاد میں شریک ہونے والے… صدیق اکبر
اپنی ملکیت کا تمام سامان لے کر… اللہاکبرکبیرا… صدیق اکبر مسلمان ہوئے تھے تو
چالیس ہزار درہم رکھنے والے مکہ کے سیٹھ تھے… پھر یہ مال دین پر اور آقا مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم پر خرچ ہوتا رہا، مسلمان غلام خرید خرید کر آزاد ہوتے رہے، آٹھ سو
درہم کی دو اونٹنیاں ہجرت کے لئے خریدیں… ہجرت کے وقت پانچ ہزار درہم بچ گئے تھے
وہ آقا کی خدمت کے لئے ساتھ لے لئے… اور پھر ان سے مسجد نبوی کی زمین خریدی گئی…
اور جب انتقال فرمایا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بقول ایک درہم بھی پاس
نہیںتھا…
حضرت فاروق اعظمؓ آدھا سامان… حضرت عثمانؓ، حضرت عبدالرحمن
بن عوفؓ بڑی بڑی رقمیں اور ابو عقیل انصاریؓ ساری رات ایک کھیت میں مزدوری کرتے
رہے، انہیں اس کے بدلے دو سیر کھجوریں ملیں تو وہ لا کر پیش خدمت کردیں… پہلی قسم
وہ لوگ جو بھاگ بھاگ کر خود بھی آرہے تھے، سامان بھی لا رہے تھے… دوسری قسم وہ لوگ
جنہیں تھوڑی دیر دنیا نے اپنی طرف کھینچا مگر پھر ان کا ایمان غالب آگیا اور وہ
لشکر اسلامی میں شامل ہونے کے لئے دوڑ پڑے… تیسری قسم وہ لوگ جو جانے کے لئے تڑپ
رہے تھے، رو رہے تھے، مچل رہے تھے مگر معذور تھے کسی کے پاس سامان نہیں تھا تو
کوئی چلنے سے معذور تھا۔ چوتھی قسم وہ لوگ جو مسلمان تھے مگر سستی کا شکار ہوگئے…
انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا اور خود کو سزا کے لئے پیش کردیا… پانچویں قسم
وہ لوگ جو منافق تھے، انہوں نے طرح طرح کے بہانے بنائے اور جہاد میں شریک نہیں
ہوئے… چھٹی قسم وہ لوگ جو منافق تھے مگر وہ جاسوسی کے لئے اور حضور اکرم صلی اللہ
علیہ وسلم کو نقصان پہنچانے کے لئے لشکر میں شامل ہوگئے تھے… اللہ پاک نے ان تمام
قسم کے افراد کے بارے میں آیتیں نازل فرمائیں…
یہ ایک تفصیلی موضوع ہے… آج عرض یہ کرنا ہے کہ غزوۂ تبوک
کا اعلان ہوچکا تھا… کچھ لوگ سستی کر رہے تھے… اور کچھ گھبرا بھی رہے تھے… اس وقت
قرآن پاک نے ساڑھے نو سال پرانا ایک واقعہ یاد دلایا… جی ہاں حضور پاک صلی اللہ
علیہ وسلم کی ہجرت کا واقعہ… اور لوگوں کو سمجھایا کہ اللہ پاک تمہارا محتاج نہیں
ہے… اللہ پاک کا دین بھی تمہارا محتاج نہیں ہے… اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
بھی تمہارے محتاج نہیں ہیں… اگر تم لوگ جہاد پر نہیں نکلو گے تو اپنا ہی نقصان کرو
گے… عظیم الشان جنت سے محروم رہو گے… اور دنیا کی فانی زندگی پر آخرت کی ہمیشہ کی
زندگی کو قربان کرنے والے کم عقل بنو گے… اللہ تعالیٰ کا اس سے کوئی نقصان نہیں
ہوگا… ہجرت کے موقع پر رسول اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف ایک ساتھی، حضرت صدیق اکبر
رضی اللہ عنہ تھے… وہاں اللہ پاک نے کیسے نصرت فرمائی… اور کس کس ڈھنگ سے نصرت
فرمائی… اور اپنے نبی کو مدینہ منورہ تک بحفاظت پہنچادیا…
سورۂ توبہ کی آیت رقم (۴۰) ہجرت کے عجیب واقعہ کو یاد کراتی ہے… اور مسلمانوں کو جہاد اور قربانی کی دعوت
دیتی ہے… حضرت صدیق ا کبر ہجرت کی رات بھی کامیاب رہے اور تبوک کے دن بھی کامیاب
رہے… اللہ پاک ان کی ایمانی فراست کا کچھ حصہ ہم لوگوں کو بھی عطاء فرمائے جو ہر
امتحان میں ناکام رہتے ہیں… اور ادنیٰ چیزوں کے پیچھے خود کو برباد کرتے رہتے ہیں…
صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنی ہر چیز آخرت کے لئے قربان کردی… اللہ پاک نے دنیا
میں بھی ان کو کسی کا محتاج نہیں فرمایا… اور آخرت میں بھی کتنا اونچا مقام ان کے
لئے مقدّر فرمایا… ہجرت کے موقع پر تو ان کے ایمان نے وہ کارنامے دکھائے کہ آسمان
کے فرشتے بھی حیران رہ گئے… جب غارثور کی طرف جا رہے تھے تو ان پر عجیب کیفیت طاری
تھی… کبھی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے چلتے، کبھی پیچھے اور کبھی دائیں
اور بائیں… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پوچھنے پر عرض کیا… کسی طرف سے دشمن آپ پر
حملہ آور نہ ہوجائے اسی فکر میں یہ سب کچھ کر رہا ہوں… اور فرمایا کہ میں چاہتا
ہوں کہ آپ بچ جائیں اور میں قتل ہوجاؤں… اور فرمایا کہ اگر میں مارا گیا تو ایک
آدمی مرے گا اور آپ کو کچھ ہوا تو امت ہلاک ہوجائے گی… پھر غار ثور کو صاف کیا…
سانپ نے کاٹا… ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کندھے پر بھی اٹھا کر چلے اور
پاؤں کے نشانات چھپانے کے لئے اپنے پنجوں کے بل چلتے رہے، جس سے پاؤں زخمی ہوگئے…
آہ قربانی… صدیق اکبر کی ساری تھکاوٹیں اور زخم دور ہوگئے
اور اجر ومقام کا زمانہ شروع ہوگیا… وہ لوگ سوچیں جو سارے مزے اور آرام اسی زندگی
میں پانا چاہتے ہیں… اور سو سو کر اپنی جوانیاں بستروں پر ذبح کر رہے ہیں… بات یہ
عرض ہو رہی تھی کہ غزوۂ تبوک کے موقع پر ہجرت کا واقعہ یاد دلایا گیا تو اس میں
بے شمار حکمتیں تھیں… اور قربانی پر آمادہ کرنے کے لئے ہجرت کا واقعہ ایک خاص
تاثیر رکھتا ہے… اور اس میں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ مسلمان مشکل حالات میں ہجرت کے
واقعہ سے سبق لیا کریں… آج ہمارے چاروں طرف ایسے کئی مناظر نظر آرہے ہیں جو ہمارے
دلوں کو زخمی کرتے ہیں… ایسے وقت میں ہجرت کے واقعات زخموں پر مرہم کا کام دیتے
ہیں… دراصل کافروں نے تو اپنے گمان میں ہجرت کی رات اسلام کو ختم کردیا تھا…
کتابوں میں لکھا ہے کہ ہجرت کی رات جب ایک سو مسلح کافروں نے حضور اکرم صلی اللہ
علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کر رکھا تھا تو ابوجہل کی خوشی سنبھالے نہیں سنبھلتی
تھی… وہ قہقہے لگا رہا تھا اور اپنے ساتھیوں سے کہہ رہا تھا کہ… محمد(صلی اللہ
علیہ وسلم) کہتے تھے کہ میرے ساتھی غالب ہوں گے اور وہ تمہیں قتل کریں گے اور تم
جہنم میں جاؤ گے اور وہ جنت میں جائیں گے، آج دیکھو سب کچھ ختم ہونے والا ہے… ہجرت
کی رات جب کافر اسلام کو ختم نہ کرسکے حالانکہ یہ خاتمہ تلوار کے ایک وار کے فاصلے
پر تھا… اور ظاہری طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچنے کا ذرہ برابر امکان نہیں
تھا… مگر اللہ پاک نے بچایا… تو اب اس دین کو کون ختم کرسکتا ہے… ہاں کافر اپنی
باتوں سے ایسا ماحول ضرور بنا لیتے ہیں کہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ… اب اسلام ختم
اور اب مسلمان ختم… امریکی اٹھیں گے اور وزیرستان پر ایک بم ماریں گے تو وزیرستان
ختم… پھر افغانستان پر ایٹم بم ماریں گے تو افغانستان ختم… مگر یہ سب کہنے کی باتیں
ہیں… امریکی توعراق میں ایسے پھنسے ہیں کہ واپسی کا راستہ نہیں مل رہا… اور ایٹم
بم چلانے والے خوب جانتے ہیں کہ ان کا واسطہ کس قوم سے ہے… نائن الیون والے جہاز
امریکہ کے کسی ایٹمی ری ایکٹر پربھی گر سکتے تھے… اور مسلمان الحمدللہ اس بات سے محفوظ ہیں کہ کوئی ان کا
مکمل خاتمہ کردے… یہ جاپانی نہیں ہیں کہ ایٹم بم کھا کر چپ بیٹھ جائیں گے… یہ دشمن
کا ہر قرضہ اتارنے والی قوم ہے… ماضی میں ہمیں ختم کرنے کا خواب دیکھنے والوں کا
اب نام ونشان بھی باقی نہیں ہے… کوئی جائے اور منگولیا نامی چھوٹے سے ملک میں
تاتاریوں کی ہڈیاں تلاش کرے… وہ تاتاری جنہیں لوگ یاجوج ماجوج سمجھ کر اپنے ہاتھ
پاؤں ڈھیلے چھوڑدیتے تھے…
آج میں نے اخبار میں بعض تصویریں اور خبریں دیکھیں تو پھر
ہجرت کے مناظر یاد آگئے… دارالندوہ مکہ میں مشرکین کے نیٹو جیسے اتحاد کا
ہیڈکوارٹر تھا… وہاں مشورہ ہو رہا تھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا کیا
جائے؟ … بالآخر طے پایا کہ ہر قبیلے سے ایک جوان آدمی لیا جائے پھر یہ تمام لوگ مل
کر حملہ کریں… اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبیلے والے لوگ تمام قبائل سے نہیں
لڑ سکیں گے… بالآخر دیت پر فیصلہ ہوگا تو تمام قبائل مل کر ادا کریں گے… اسی
دارالندوہ سے متحدہ فورسز کا لشکر نکلا تھا اور اس نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم
کے گھر مبارک کا محاصرہ کرلیا تھا… گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی
رضی اللہ عنہ تھے… آج جب کسی جگہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اسی طرح کا اجلاس
ہوتا ہے تو ہجرت کی رات یاد آجاتی ہے… اس رات میرے آقا محاصرے میں تھے… اور آج آقا
کا دین اور آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی محاصرے میں ہیں… اور کافروں مشرکوں کے
عزائم بالکل ویسے ہی ہیں… مگر اللہ پاک اپنے دین کا اور مسلمانوں کا محافظ ہے… وہ
دارالندوہ ۸ھ میں مسلمانوں کے قبضے میں آگیا تھا… اور حضرت معاویہ رضی
اللہ عنہ کے زمانے میں اس کے مسلمان مالک نے اسے بیچ کر تمام رقم اللہ پاک کے
راستے میں دے دی تھی… انشاء اللہ آج کے وہ ہیڈکوارٹر جہاں زمانے کے طاقتور لوگ
بیٹھ کر… اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کی باتیں کرتے ہیں… ایک دن مسلمانوں کے
قبضے میں آئیں گے… بس شرط یہی ہے کہ مسلمان اپنے گھروں سے چمٹے رہنے کی بجائے ہجرت
اور جہاد کے عمل کو زندہ کریں… آج جب مسلمانوں کے کچھ قاتل خانہ کعبہ کے دروازے پر
کھڑے ہو کر فوٹو کھنچواتے ہیں تو مسلمانوں کے دل سے ہوک اٹھتی ہے کہ… ملا محمد عمر
کعبہ شریف نہیں جاسکتے… اکثر جہادی مسلمان کعبہ شریف نہیں جاسکتے… اور یہ مسلمانوں
کے قاتل جب چاہتے ہیں وہاں پہنچ جاتے ہیں… اس کا جواب بھی ہجرت کا واقعہ دیتا ہے…
آپ صلی اللہ علیہ وسلم آنکھوں میں آنسو لئے مکہ مکرمہ سے نکل رہے تھے… بلکہ نکالے
جارہے تھے… اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کو مخاطب کرکے فرما رہے تھے…
ما اطیبک من بلد واحبک الی ولو لا ان قومی اخرجونی ما سکنت
غیرک
’’اے مکہ تو کتنا پاکیزہ شہر ہے اور مجھ کو بہت ہی محبوب ہے
اگر میری قوم مجھ کو نہ نکالتی تو میں تیرے علاوہ کسی اور جگہ سکونت اختیار نہ
کرتا…‘‘
ابوجہل اور دوسرے مشرکین خانہ کعبہ کے متولّی بنے ہوئے تھے
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ثور پہاڑ کی ایک تاریک غار میں روپوش تھے… اور پھر سات
سال تک آپ خانہ کعبہ نہ آسکے… کعبہ شریف نے اپنی مبارک آنکھوں سے ایسے کئی مناظر
دیکھے ہیں… کعبہ شریف کا خادم اور عابد حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کعبہ کے
نزدیک سولی پر لٹکا ہوا تھا… اور حجاج جیسا ظالم و قاتل کعبہ کا حاکم قرار پایا
تھا… حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کافروں کے لشکر
کے ساتھ غزوۂ بدر میں آئے تھے اور اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے… حضرت علی رضی
اللہ عنہ نے ان سے بات کی کہ چچا ایمان لے آتے تو ہجرت اور جہاد کا اجر عظیم پاتے…
چچا بھتیجے کی بات کچھ بڑھ گئی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خیر خواہی کے تحت کچھ
تلخی بھی کرلی… اس پر حضرت عباسؓ نے فرمایا تم لوگ ہماری برائیاں تو گنواتے ہو مگر
ہماری نیکیوں کا تذکرہ نہیں کرتے… حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حیرت سے پوچھا کہ چچا!
آپ لوگوں کی کوئی نیکی بھی ہے؟… انہوں نے کہا کیوں نہیں ہم خانہ کعبہ کی خدمت کرتے
ہیں… اسے آباد رکھتے ہیں، اس کی تعمیر کرتے ہیں، حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں، ان کی
خدمت کرتے ہیں… اس پر قرآن پاک کی آیات نازل ہوئیں کہ خانہ کعبہ کی خدمت، آبادی
اور حاجیوں کو پانی پلانا ایمان لانے اور جہاد کرنے کے برابر ہر گز نہیں ہوسکتا…
بلکہ جہاد کا درجہ ان خدمات سے بہت اونچا ہے… الغرض ہجرت کا واقعہ مسلمانوں کو کسی
بھی وقت مایوس نہیں ہونے دیتا… بلکہ ہر موقع پر ان کی رہنمائی کرتا ہے… اور انہیں
حوصلہ دیتا ہے کہ اللہ پاک نے کتنے مشکل وقت میں اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ
علیہ وسلم کو بچایا ہے… وہ اللہ تعالیٰ اب بھی موجود ہے… وہ حی ّ قیوم ہے… اسے
اونگھ اور نیند تک نہیں آتی… وہ پاک اور بلند ہے… اس کی نصرت آج بھی ان پر اترتی
ہے… جو ہجرت اور جہاد کے عمل کو زندہ کرتے ہیں… ہم میں سے ہر مسلمان صرف ایک بار
اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھے کہ میں نے… دین کی خاطر کیا چھوڑا ہے… اور میں نے
دین کی خاطر کیا قربانی دی ہے…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے ہاتھی والوں کے لشکر سے اپنے گھر کی حفاظت
فرمائی… اس وقت چھوٹے چھوٹے پرندے ’’ابابیل‘‘ خانہ کعبہ کی حفاظت کے لئے… اللہ پاک
کا لشکر بن گئے تھے… وَمَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ اِلَّا ہُو … جی
ہاں بے شک اللہ تعالیٰ کے لشکروں کو خود اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے… بس اتنا اندازہ
ہے کہ اس بار کے ’’ابابیل‘‘ وہ فدائی مجاہدین ہوں گے جو خانہ کعبہ کی طرف ٹیڑھی
آنکھ سے دیکھنے والے ناپاک امریکیوں کو جہنم کے آخری کونے تک پہنچا دیں گے… دراصل
امریکی اب مکمل طور پر پاگل ہوچکے ہیں… ان کے ساتھ جو کچھ عراق اور افغانستان میں
ہو رہا ہے اس کا انہوں نے خواب میں بھی تصور نہیں کیا تھا… کل تک ’’کٹی ٹانگوں‘‘
اور ایک بازو والے لوگ کابل اور قندھار میں نظر آتے تھے… مگر آج نیویارک، واشنگٹن
اور کیلی فورنیا میں ’’کٹی ٹانگوں‘‘ والے امریکی عبرت کا نشان بنے پھرتے ہیں…
امریکہ ایک طرف دنیا کا مالدار اور عیاش ملک بھی رہنا چاہتا ہے … اور دوسری طرف
دنیا کا فاتح بھی بننا چاہتا ہے… یہ دونوں باتیں کبھی جمع نہیں ہوسکتیں… دنیا کا
فاتح وہی بن سکتا ہے جو سوکھی روٹی خوشی سے کھاتا ہو… مگر امریکی تو برگر خور،
شرابی اور جنسی دیوانے… یہ لوگ کسی کو مار تو سکتے ہیں مگر فتح نہیں کرسکتے… ٹھیک
ہے ان کے پاس ایٹم بم ہیں … کوئی حرج نہیں، کوئی ڈر نہیں … یہ بے شک خوشی سے پوری
دنیا کو کھنڈر بنادیں… تب ان کھنڈروں سے بھی گھوڑوں کے لشکر اٹھیں گے… اور ان پر
قرآن پڑھنے والے سوار ہاتھوں میں اسلام کا جھنڈا اٹھائے… سمندروں کو روند ڈالیں
گے… ہاں یہ بحری جہاز نہیں گھوڑے … اور یہ جہادی گھوڑے سمندروں کو روند ڈالیں گے…
ارے ظالمو! شیر تو ہوتے ہی جنگلات میں ہیں… اور اسلام ایک صحراء سے اٹھا… ایک چٹیل
پہاڑ کی غار میں اس کا نزول شروع ہوا … اور اسلام نے ہجرت اور جہاد کی گود میں قوت
پائی… دنیا کا موجودہ نظام تو اسلام، خلافت اور جہاد کے راستے کی رکاوٹ ہے… عراق
میں دنیا کا نظام رائج تھا تو صدام نے جہاد کا گلا دبائے رکھا… مگر جب تم نے عراق
کو کھنڈر اور جنگل بنایاتو صدام بھی شیر بن گیا… اور چھ لاکھ مجاہدین بھی تمہاری
موت بن گئے… رب کعبہ کی قسم تمہارے ایٹم بموں سے کوئی منافق ہی ڈرتا ہوگا…
مسلمانوں کو کیا ڈر… چند دن پہلے قرآن پاک سے باتیں کرتے ہوئے صفحات الٹے تو جنت
کا تذکرہ شروع ہوگیا… اللہ اکبرکبیرا… قرآن پاک نے ایسی جنت دکھائی کہ دل بے قرار
ہوگیا… ارے جنت کو ماننے والوں کے لئے زندگی کے دن… قید کے دن ہیں… کہ کب ختم ہوں
گے تو آزادی ملے گی… تم اور تمہارا ناپاک منہ اور خانہ کعبہ؟… شیخ سعدیؒ نے ایک
نجومی کا قصہ لکھا ہے کہ ایک بار بے وقت گھر آگیا تو بیوی کو غیر مرد کے ساتھ
پایا… کسی نے اس پر پھبتی کسی کہ تجھے آسمان اور ستاروں کی خبر کا تو دعویٰ ہے اور
اپنی چار پائی کا پتہ نہیں کہ اس پر کون ہے؟… امریکیو! اپنے گھر کی خبر لو… خانہ
کعبہ کے بارے میں زبان سنبھال کر بات کرو ورنہ رب کعبہ کی قسم یہ زمین تمہیں پناہ
نہیں دے گی… مدینہ منورہ کا پاک نام اپنے ناپاک منہ سے نہ لیا کرو ورنہ مدینہ
منورہ کے خادم تمہیں ہواؤں میں بکھرا ہوا بھوسا بنادیں گے… ابھی تو تم بغداد کو
دیکھو… فلوجہ کو بھگتو… اور بصرہ کی آگ میں جلو… قندھار سے کابل تک موت کے پتھروں
سے سنگسار ہونے والو!… کعبہ بہت دور ہے… کعبہ بہت اونچا ہے… مسلمانوں کے گھر پیدا
ہونے والے کرزئی! اب تو کچھ شرم کر… استاذ سیّاف … اب تو اپنی کسی پرانی تقریر کو
سن کر مسلمانوں والا کلمہ پڑھ… صبغت اللہ مجددی!… اللہ کے لئے اپنے خاندان اور
بزرگوں کی لاج رکھ… افغانستان کے فارسی بانو! امام ابوحنیفہؒ کے ہم نسلو!… خانہ
کعبہ پر حملے کی باتیں ہو رہی ہیں اب تو قوم پرستی کی دلدل سے نکلو… اور پنج شیر
کی گھاٹیاں امریکیوں کا قبرستان بنادو… اے ازبکو! اے بلخ کے شہزادو! امام شامل اور
امام بخاری کو یاد کرو… تمہارا لیڈر دوستم نہیں بلکہ امام بخاریؒ ہے… پرویز مشرف!…
او خود کو سیّد کہنے والے! او کعبہ کی چھت پر نعرے لگانے کا دعویٰ کرنے والے… اب
تو غیرت کی انگڑائی لے… اور امریکہ سے رشتہ توڑ کر مدینہ والے نبی صلی اللہ علیہ
وسلم کے رشتے کی لاج رکھ… اے پاکستان کی افواج!… اے اسلحہ بردار فوجیو! تم نے بھی
حوض کوثر پر پانی اور دیدار مانگنا ہے… آج تمہاری آڑ لے کر کعبۃ اللہ اور مسجد
نبوی گرانے کی باتیں ہو رہی ہیں… اللہ کے لئے اب تو بندوقوں کا رخ پھیر کر… اپنے
مسلمان ہونے کی لاج رکھ لو… اے خورشید قصوری، اے چوہدری شجاعت ، اے وزیرو!… اے
مشیرو! اب تو حد ہوگئی… قومی اسمبلی کی قراردادوں سے کام نہیں چلے گا… مذمت کے
بیانات سے بات نہیں بنے گی… یاد رکھو کعبہ روٹھ گیا توکہاں جاؤ گے؟… اور آقا روٹھ
گئے تو کہاں مرو گے؟… امریکہ افغانستان میں فتح پانے کے لئے… وہاں کی جنگ پاکستان
میں منتقل کرنا چاہتا ہے… تاکہ وہ افغانستان پر آسانی سے قبضہ کرلے… اور پھر اس
پورے خطے کو کفر کی نجاست میں ڈبودے… امریکہ چاہتا ہے کہ قندھار، ہلمند اور ارزگان
میں امریکی قافلوں پر پھٹنے والے بم اسلام آباد، پشاور… اور وزیرستان میں پھٹتے
رہیں… تاکہ دنیا پر امریکی قبضہ آسان ہوجائے… پاکستان کی حکومت میں گھسے ہوئے
امریکی ایجنٹ… ایسے اقدامات کر رہے ہیں کہ پاکستان کے دیندار طبقے میں اشتعال
پھیلے… اور ساری جنگ اسی خطے میں سمٹ کر رہ جائے… وہ دو کلو بارود جس سے چار کافر
فوجی مر سکتے ہیں… وہ چار پاکستانی فوجی مارنے پر خرچ ہوجائے… مسلمان، مسلمان کو
قتل کرے اور امریکہ پوری دنیا سے میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو مٹا دے…
لال مسجد پر حملہ اسی لئے کیا گیا… امریکہ نے خود تسلیم کیا کہ یہ ہماری پالیسی کا
حصہ تھا… لال مسجد والے حضرات تو آخری دم تک لڑائی ٹالتے رہے… مگر انہیں مظلومیت
کے ساتھ شہید کردیا گیا… اور پھر پورا ملک خاک و خون اگلنے لگا… معصوم بچوں اور
بہنوں کی کٹی، جلی لاشوں نے مسلمانوں کو پکارا… تو پورا ملک لرز کر رہ گیا… ادھر
وزیرستان میں بھی جان بوجھ کر آگ بھڑکائی گئی… بالکل صاف معاہدے کے باوجود فوجی
چوکیاں مسلط کرنے کا آخر کیا جواز تھا؟… کیا ہماری فوج کے کمانڈر اس بات کو ابھی
تک نہیں سمجھ سکے کہ امریکہ ان کو اپنی جگہ مرنے والا چارہ بنا رہا ہے؟…
امریکہ پوری دنیا پر قبضہ چاہتا ہے… اور اس کے لئے اس نے دو
مرکزی خطے منتخب کئے ہیں… ایک عراق اور دوسرا افغانستان… عراق ہاتھ آئے تو مشرق
وسطیٰ قبضے میں آتا ہے… اور افغانستان ہاتھ آئے تو وسط ایشیا پر قبضہ آسان ہوتا
ہے… دنیا کا اکثر تیل مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا کی زمین میں چھپا پڑا ہے… اور
امریکی، یہودی دجال اسی تیل کی طاقت سے اسلام کو مٹانا چاہتا ہے… مگر قرآن پاک کو
سمجھنے والے مجاہدین اپنے اصل دشمن کو پہچان گئے… انہوں نے خود کو مقامی لڑائیوں
میں کھپانے کی بجائے اسلام کے اصل دشمن کی گردن ناپی … تب عراق اور افغانستان میں
اسلام مسکرانے لگا… اور فدائی جہاد مسرت کے قہقہے لگانے لگا… اب امریکہ کُڑکی کے
چوہے کی طرح پھنس کر آخری ہاتھ پاؤں مار رہا ہے… مگر فدائی جہاد ہے کہ رکنے کا نام
نہیں لے رہا … مسلمانوں کی مائیں بھی عجیب ہیں کہ کیسے شاندار بیٹوں کو جنم دیتی
ہیں اور مسلمان نو جوان تو ماشاء اللہ… جنت کی شان ہیں… اللہاکبرکبیرا… ایک دن بھی
ان فدائیوں نے امریکہ اور اس کے حواریوں کو چین سے نہیں بیٹھنے دیا… کہاں مشرق
وسطیٰ… اور کہاں وسط ایشیا اب تو عراق سے بھاگنے کی قراردادیں بش کے منہ کی کالک
بن رہی ہیں… اور ٹونی بے چارہ تو سفیر بن گیا ہے ہاں ایک سفیر بالکل حقیر… واہ
میرے اللہ واہ… سلام ہو امت کے ان فدائیوں پر… جنہوں نے ایمان کا حق ادا کیا … اور
جنہوں نے ایمانی فراست سے کام لیتے ہوئے دشمن کو پہچانا… ہاں مسلمانوں کے اس وقت
اصل اور خطرناک دشمن تین ہیں… اسرائیل کے یہودی، امریکہ، برطانیہ کے استعماری… اور
بھارت کے مشرک… باقی سب ان کے چمچے کڑچھے اور لونڈی غلام ہیں… قرآن پاک نے… اور
ہمارے سپہ سالار اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمنوں کی پہچان سکھائی ہے … اور نمبر
لگا لگا کر بتایا ہے کہ پہلے یہ پھر وہ… مدینہ کے منافقین نے مسلمانوں کو کتنا
اشتعال دلایا… مگر آقا صلی اللہ علیہ وسلم صبر فرماتے رہے… اشتعال بھی ایسا ویسا
نہیں بہت خوفناک… اگر میں اور آپ ہوتے تو پھٹ پڑتے اور وہیں خروج کرکے اسلام کی
ترقی کو روک دیتے … مگر وہ صحابہ کرام تھے اور ان کے سروں پر آقا صلی اللہ علیہ
وسلم موجود تھے… سبحان اللہ کیسی باتدبیر جنگ لڑی … صرف ۶ہجری سے ۹ہجری
تک کی کاروائیاں دیکھ لیں… ادھر مشرکین سے صلح اور ادھر یہود کا صفایا… پھر مشرکین
نے عہد توڑا تو ان کی طرف خروج… پھر حنین اور طائف… مگر طائف جان بوجھ کر ادھورا
چھوڑا… تو وہ خود اسلام کی گود میں آگرا… اور جب جزیرہ عرب کا معاملہ نمٹا تو روم
کی طرف روانگی… سبحان اللہ کیا ترتیب ہے… کاش آج کے مجاہدین بھی جہاد کو قرآن پاک
اور آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے سمجھیں تو ہر کتے کے پیچھے دوڑ نہ لگادیں…
اور نہ ہی اصل دشمن کو چھوڑ کر… روبوٹوں پر اپنی زندگیاں قربان کرتے رہیں… خیر بات
دور نکل گئی… امریکہ کے صدارتی امیدوار نے انتہا پسندی کا علاج یہ تجویز کیا ہے
کہ… نعوذباللہ حرمین شریفین پر حملہ کردیا جائے… اس بیان نے امت مسلمہ کے دلوں میں
غم کی آگ لگادی ہے… حرمین شریفین تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہیں… ان پر تو ان
امریکی یہودیوں کا باپ دجال بھی حملہ نہیں کرسکے گا… مگر ان بیانات کے بعد
مسلمانوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ… بھرپور جواب دیں… اور ایسی قوتوں کو ہی
صفحہ ہستی سے مٹادیں جو ایسے گندے عزائم رکھتی ہیں… میری اس بات پر ہنسنے کی ضرورت
نہیں… ہاں آج بھی مسلمان اگر مسلمان مجاہد بن جائیں تو ان چوہوں کو عبرتناک انجام
سے دو چار کرسکتے ہیں… مگر افسوس کہ مسلمان جہاد سے دور ہیں اور مسلمانوں پر نفاق
زدہ طبقہ مسلط ہے… میں امت مسلمہ کی طرف سے امریکی صدارتی امیدوار سے کہتا ہوں:…
’’تیرے جیسے ناپاک کعبہ شریف تک کبھی نہیں پہنچ سکیں گے… انشاء اللہ کبھی نہیں… ہم
مسلمان تیرے اور کعبہ کے درمیان اپنے لہو کی ایسی دلدل بنادیں گے جس میں تم سب
ذلیل ہو کر غرق ہو جائو گے… انشاء اللہ، انشا ء اللہ…
…اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں کے ساتھ نصرت دیکھئے… انڈیا کا
وہ ’’فوجی کیمپ‘‘ تباہ و برباد ہو گیا ہے جہاں کمانڈر سجاد شہیدؒ کو گیارہ دن تک
بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ابھی جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں اس وقت
’’کھندرو آرمی کیمپ‘‘ میں آگ بھڑک رہی ہے… اور دھماکوں پر دھماکے ہو رہے
ہیں…مبصرین بتا رہے ہیں کہ ابھی یہ آگ تین دن تک مزید بھڑکے گی…اللہ اکبر کبیرا…
اس ’’رجب‘‘ کی برکتیں دیکھیں کہ انڈیا جو گولہ بارود کشمیری مسلمانوں پر چلانے کے
لئے لایا تھا وہ خود اس کے اپنے فوجیوں کے لئے جہنم بن گیا ہے… اللہ اکبر کبیرا…
انڈیا والوں کو اپنی اس فوجی چھائونی پر بڑا ناز تھا… فروری ۱۹۹۴ء کے گیارہ ٹھنڈے دن ہم نے اس چھائونی میں ایک ’’قیدی‘‘ کے
طور پر گزارے تھے… یہ بہت بڑا کیمپ تھا… انڈین افسر بڑے فخر سے بتا تے تھے کہ اگر
پاکستان سے جنگ چھڑ گئی تو اسلحے کی سپلائی کے لئے ہماری یہ ایک چھائونی کافی ہے…
وہاں ہر تھوڑی دیر بعد ہیلی کاپٹر یا جنگی جہازوں کے اترنے ، چڑھنے کی آوازیں آتی
تھیں… اس وقت ایک سکھ جنرل اس چھائونی کا انچارج تھا… ہم چونکہ ’’بڑے قیدی‘‘ تھے
اس لئے اس نے فتح کا جشن منانے کے لئے ہم سے ملاقات کی… وہ کہہ رہا تھا کہ اگر آپ
لوگ پورے کشمیر کو بھی گھیر لیں تو ہمیں جنگ جاری رکھنے کے لئے یہی ایک چھائونی
کافی ہے… کمانڈر سجاد خان شہیدؒ کو مجھ سے الگ رکھا گیا تھا… آخری دو دن ہم پھر
اکٹھے کر دیئے گئے تو ان کے جسم پر زخموں کے نشان تھے… ہم نے یہ دو دن نماز پڑھنے،
آنسو بہانے اور آہستہ آواز میں ایک دوسرے کو تسلی دینے میں گزارے… پھر ہمیں ایک
ڈاکٹر کے سامنے پیش کیا گیا… وہ بدنصیب خود کو مسلمان کہہ رہا تھا اور ہم پر خوب
گرج برس رہا تھا… وہ بار بار کہتا تھا کہ پاگلو! زندہ رہنا سیکھو، زندہ رہنا
سیکھو… معلوم نہیں وہ کس زندگی کی بات کر رہا تھا… ہندوستان میں رہ
جانے والے مسلمانوں پر بھی عجیب آزمائش ہے… ان میں سے بہت سے تو مشرکوں کی نوکری
کر کے اسلام سے بہت دور نکل گئے ہیں… اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں پر رحم فرمائے…
مقبوضہ کشمیر میں فوج کے ہر تشدد کے بعد… اور ہر انٹروگیشن کے بعد ’’میڈیکل چیک
اپ‘‘ کا قانون ہے… ہم روزے سے تھے اور کچھ کچھ زخمی تھے اور وہ ہمیں گالیاں دے رہا
تھا… ہاں بے چارہ اپنی ’’دیش بھگتی‘‘ اور ’’ ملکی وفاداری‘‘اپنے ہندوساتھیوں کو
دکھا رہا تھا… اس دن شدید سردی تھی اور ’’کھندرو کیمپ‘‘ میں ہر طرف سفید برف نے
زمین اور چھتوں کو ڈھانپ رکھا تھا… ہم سردی سے تھر تھر کانپ رہے تھے… اور زنجیروں
میں کھینچے جا رہے تھے… پھر جب ہمیں گاڑیوں کے کانوائے کی طرف لیجایا جا رہا تھا
تو بعض دفعہ ہم گھٹنوں تک برف میں دھنس جاتے تھے… اور ہماری زنجیریں کھینچنے والے
بھی ادھر ادھر پھسلتے تھے… مجھے ’’کھندرو چھائونی‘‘ سے رخصت کا منظر اچھی طرح یاد
ہے… آج الحمد للہ وہ چھائونی اپنے ظلم کی آگ میں جل رہی ہے… بی بی سی کا نمائندہ
جب خبر سنا رہا تھا تب بھی دھماکوں کی آوازیں مسلسل آ رہی
تھیں۔ اللّٰھم بارِک لَنَا فِی رجب و شعبان و بلغنا رمضان…عجیب بات ہے
کہ چند دن پہلے ہندوستان کی صدر ایک ’’عورت‘‘ کو بنایا گیا… جب وہ حلف اٹھا رہی
تھی تو مجھے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث مبارکہ یاد آئی… وہ قوم
کبھی فلاح نہیں پا سکتی جو اپنے معاملات کو عورت کے سپرد کر دے… انڈیا میں صدارت
کا عہدہ اگرچہ زیادہ بااختیار نہیں ہے… مگر پھر بھی صدارت، صدارت ہی ہوتی ہے… ایک
بوڑھی، متعصب مشرکہ ہندو عورت کے آنے کے بعد ہم امید کر سکتے ہیں کہ انشاء اللہ
انڈیا زوال کا منہ دیکھے گا… کھندرو کیمپ میں پھٹ پڑنے والا اربوں روپے کا اسلحہ…
اسی کی امید دلا رہا ہے… معلوم نہیں کتنے فوجی مارے گئے ہونگے؟… اس بات کا کسی کو
بھی پتہ نہیں چلے گا… یہ فوجی بھی عجیب مظلوم لوگ ہوتے ہیں… اپنے حکمرانوں کی خاطر
ہر ظلم اور ہر گناہ کرتے ہیں… ان کے زور پر ہرظالم کی فرعونی اور منافقوں کی
حکمرانی قائم رہتی ہے… مگر جب یہ مرتے ہیں تو بہت عبرت کی موت مرتے ہیں… لاشوں تک
کا پتہ نہیں چلتا… حکومتیں خود ہی ان کو دریائوں، سمندروں میں ڈال دیتی ہیں… یا
گڑھے کھود کر دفنا دیتی ہیں تاکہ اپنے نقصان اور شکست کو چھپا سکیں… کھندروکیمپ
بھی آج انڈین فوجیوں کا ’’شمشان گھاٹ‘‘ بنا ہوا ہے… یہ شہداء کے خون کی کرامت ہے…
آج صبح ہی ہمارے ایک مخلص، جانباز ساتھی بھائی مغیرہؒ راجوری میں شہید ہو گئے… وہ
جہاد کشمیر کے شاہین تھے اور عرصہ دراز سے ’’مشرکین انڈیا‘‘ کے خلاف برسرپیکار
تھے… ابھی خبروں میں انڈین حکومت کا ایک اہلکار بتا رہا تھا کہ شہید ہونے والا یہ
مجاہد’’جیش محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘‘ کا ڈویژنل کمانڈر تھا… اور بابری مسجد
کی جگہ بنائے گئے مندر پر حملے کا پشتیبان تھا… اللہ تعالیٰ’’بھائی
مغیرہؒ ‘‘ کی شہادت کو قبول فرمائے… ان کا حشر’’غزوہ ہند‘‘ کے شہداء
میں فرمائے… اور بابری مسجد کے ’’بیٹوں‘‘ میں انہیں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے۔ ہمارے
ہاں تو کوئی ایسی ’’منحوس فضا‘‘ قائم ہو رہی ہے جس میں جہاد کے اہم محاذوں کو
بھلایا جا رہا ہے… اور مسلمانوں کے اہم معاملات پر مٹی ڈالی جا رہی ہے… جہاد کشمیر
اب کس کو یاد ہے؟… ہزاروں شہداء اور لاکھوں قربانیاں… اللہ کرے مسلمان اس تحریک کو
یاد رکھیں… اور اس سے غافل نہ ہوں… اور بابری مسجد کو بھی مسلمان بھولتے جا رہے
ہیں۔ حالانکہ مسجد بھلانے کی چیز نہیں ہوتی… قریب ہو یا دور ہر مسجد ہم سب
مسلمانوں کی ہے… بابری مسجد ہو یا لال مسجد… ہر ایک کا اپنا حق ہے اور ہر ایک کی
اپنی پکار… افغانستان کے شہر کابل کے جرگے میں شریک ضمیر فروش لوگ کیا جانیں…
ایمان کیا ہے اور غیرت کسے کہتے ہیں… بش اور کونڈا لیزا کے حکم پر جمع ہونے سے
پہلے مر جاتے تو زیادہ فائدے میں رہتے… اتنے بڑے گناہ سے تو بچ جاتے…
قرآن پاک ہمیں سمجھاتا ہے کہ … کامیاب وہ نہیں جو دنیا میں کچھ پالے… بلکہ کامیاب
وہ ہے جو اپنا ’’فرض‘‘ ادا کر لے… جی ہاں فرض ادا کرتے ہوئے ٹکڑے ٹکڑے
ہو جانا کامیابی ہے… اور فرض چھوڑ کر سات زمینوں کی بادشاہت پا لینا سراسر خسارہ
ہے… اور ذلت… بات انڈیا کے ’’کھندرو کیمپ‘‘ کی چل رہی تھی کہ عورت کی حکمرانی کے
اثرات شروع ہو گئے ہیں… پاکستان کے مسلمانوں کو چاہئے کہ ’’بے نظیر‘‘ کے شر سے
بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے خوب دعائیں مانگیں… اور اگر آپ کے جاننے والوں میں سے
کوئی بے نظیر کا حامی ہو تو اس کو سمجھائیں… اور اللہ تعالیٰ کا خوف دلائیں… آج کل
بے نظیر بھٹو کی پھرتیاں عروج پر ہیں… کبھی لندن تو کبھی واشنگٹن… اور ہر جگہ ایک
ہی بات کہ میں پاکستان جا کر… انتہا پسندوں کو ختم کر دوں گی… بی بی
صاحبہ! پاکستان آپ کے خاندان کی جاگیر نہیں ہے۔ وہ جن کو آپ ختم کرنے آ رہی ہیں وہ
بھی اس ملک کے شہری… اور اس زمین کے باشندے ہیں… آپ کی تو عمر کا اکثر
حصہ یورپ کی رنگینیوں میں گزرا ہے… اور آپ نے یہاں کے لوگوں کا خون چوس کر وہاں
جائیدادیں بنائی ہیں… بی بی صاحبہ اللہ تعالیٰ سے نہ ٹکرائیں اور نہ ہی امریکہ کی
محبت میں بے ہوشی اور مدھوشی کی باتیں کریں… پاکستان کا دینی طبقہ سمندر کی جھاگ
نہیں ہے کہ آپ اس پر اپنا پائوں رکھ دیں گی تو وہ ختم ہو جائے گا… اتنی
کفر پرستی اچھی نہیں ہوتی اور اس کا انجام بھی کوئی زیادہ اچھا نہیں ہوتا… پاکستان
کے دینی طبقے کوچاہئے کہ اپنے اختلافات بھلا کر بے نظیر کے اقتدار سنبھالنے کا
راستہ روکیں… ملک کا صدر تو اس کو لانے پر تلا ہوا ہے اور یہ دونوں مل کر پورے ملک
کو تباہ کرنا چاہتے ہیں… مسلمان اپنے ان اجتماعی مسائل سے غافل نہ ہوں… بلکہ ابھی سے
دعائوں کا اور محنتوں کا آغاز کر دیں… اور ان دونوں سے بچنے کی فکر کریں… کافروں،
ظالموں… اور فاسقوں کی حکمرانی سے بچنا ایک اسلامی حکم اور شرعی تقاضا ہے… قرآن
پاک نے جگہ جگہ اس مسئلے کو بیان فرمایا ہے… مگر ہم نے اسے ’’سیاست‘‘
کا نام دے کر ایک غلط کام سمجھ رکھا ہے… یہ ہماری بہت بڑی غلطی ہے… سورۃ بقرہ جیسی
عظیم الشان سورۃ کا اختتام بھی اسی دعا پر ہوا ہے کہ … اے ہمارے مولا ہمیں کافروں
پر غلبہ عطاء فرمایئے… معلوم ہوا کہ اللہ پاک چاہتے ہیں کہ ایمان والے اس بات کی
فکر رکھیں کہ انہیں کافروں، ظالموں پر غلبہ نصیب ہو جائے… اسی لئے تو انہیں دعا
سکھا دی تاکہ انہیں یہ فکر پیدا ہو جائے… کیونکہ انسان اسی چیز کی دعا مانگتا ہے
جس کی اس کو فکر ہوتی ہے… آج گیارہ اگست ہے چند دن بعد پاکستان ساٹھ سال کا
’’بابا‘‘ بن جائے گا… اور قمری حساب سے تو باسٹھ، تریسٹھ سال کا ہو جائے گا… باسٹھ
سال کا یہ بابا… مسلمان ہے… ملک کے ’’روشن خیال غلام‘‘ اس بابے کو کافروں کا نوکر…
اور ناچنے گانے والا بے حیاء بڈھا بنانا چاہتے ہیں… ان حالات میں
مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اس بابے کو غلامی اور بے حیائی سے بچائیں… اور باسٹھ سال
کی باوقار عمر میں… اسے ایک باوقار مسلمان ملک بنا دیں… یاد رکھیں جس زمین پر گناہ
کئے جاتے ہیں وہ زمین گناہ کرنے والوں سے روٹھ جاتی ہیں… اور ان سے سخت ناراض ہوتی
ہے… باسٹھ سال کا ’’بابا پاکستان‘‘ روشن خیال غلاموں کے بوجھ تلے دب کر
کراہ رہا ہے… اور بے نظیر بھٹو اس ’’بابے‘‘ کے کندھے پر اچھلنے کودنے کی تیاریاں
کر رہی ہے… اے مسلمانو!… اس ’’بابے‘‘ کے لئے اللہ تعالیٰ سے خیر مانگو… بس یہی ہے
مسلمانوں کے لئے اس ’’یوم آزادی‘‘ پر ایک غریب مسافر کا پیغام۔
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہی ہمارا رب ہے اور ہم اس کے ’’بندے‘‘ ہیں…
اللہ تعالیٰ نے ہم پر کچھ چیزیں لازم فرمادی ہیں… ان چیزوں کے بغیر ہم اللہ تعالیٰ
کو نہیں پاسکتے… اور نہ کامیاب ہوسکتے ہیں… ان ’’لازمی چیزوں‘‘ میں سب سے زیادہ
ضروری چیز ’’ایمان ‘‘ ہے…
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’حج اکبر‘‘ کے موقع پر
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جن چار باتوں کا ’’اعلانِ عام‘‘ کروایا… ان میں سے ایک
بات یہ بھی تھی کہ جنت میں صرف ایمان والے داخل ہوں گے… اور حضور اکرم صلی اللہ
علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد صرف وہی ایمان قابل قبول ہے جو آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کے بتائے ہوئے قرآنی طریقے کے مطابق ہو…
مشرکین ہوں یا یہود و نصاریٰ یہ جب تک حضور اکرم صلی اللہ
علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا آخری نبی نہیں مانتے… اور آپ کے بتائے ہوئے طریقے پر
ایمان نہیں لاتے یہ سب ’’کافر‘‘ اور ناکام ہیں… یہ کسی مولوی کا فتویٰ نہیں قرآن
پاک کا واضح فیصلہ ہے… جو قرآن پاک نے بار بار سنایا ہے… مولوی نہ تو تنگ نظر ہیں
اور نہ غلط فتویٰ بازی کے شوقین… اور جنت بھی اللہ تعالیٰ کی ہے… مولویوں کو کیا
ضرورت کہ کسی کو ’’کافر‘‘ کہیں یا کسی کو جہنمی… مگر جب اللہ تعالیٰ خود ایک بات
بیان فرمادے تو پھر مولوی ہو یا غیر مولوی کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس بات کا
انکار کرے… ان تمام باتوں کو سمجھنے کے بعد اب اس اسلام پر غور کریں جو صوفی ازم
کے نام سے مسلمانوں کو سکھایا جا رہا ہے… یہ کیسا اسلام ہے؟… استغفراللہ،
استغفراللہ… مومن اور کافرتک کا فرق ختم کردیا گیا… کوئی شخص حضور اکرم صلی اللہ
علیہ وسلم کو مانے یا نہ مانے وہ ایک برابر… عجیب و غریب باتیں آج کل اخبارات میں
چھپ رہی ہیں… آج ہی ایک کالم نویس نے حضرت شیخ علی ہجویریؒ اور گرونانک کو ایک
برابر قرار دے دیا… اور دونوں کو ’’کامیاب روحانی ہستیاں‘‘ قرار دیا… حالانکہ
گرونانک کا اسلام قبول کرنا ثابت نہیں ہے… کل ایک اور کالم نویس نے چھوٹی نیکیوں
کی ترغیب دیتے ہوئے اسلامی عبادات کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کی … حالانکہ اسلام نے
نیکیوں سے کب روکا ہے؟… اسلام نے تو ’’خدمت خلق‘‘ کے وہ احکامات پیش فرمائے ہیں جن
کی مثال دنیا کے پاس نہیں ہے… تو پھر ’’خدمت خلق‘‘ کی ترغیب دیتے ہوئے اسلامی
عبادات کے خلاف زبان چلانے کی کیا ضرورت ہے؟ … کچھ دن پہلے اس کالم نویس نے ایک
عیسائی شرابی کو شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا شاگرد اور خلیفہ قرار دے دیا… معلوم
نہیں یہ لوگ ان باتوں سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں… کیا مسلمان نماز چھوڑ کر غریب
بچوں میں جوگر بوٹ تقسیم کرتے پھریں؟ … کیا ان کا یہ عمل نماز کے قائم مقام بن
سکتا ہے؟… غریبوں کی خدمت بہت بڑی چیز ہے مگر یہ نماز چھوڑے بغیر ہو تو کامیابی
ہے… اور نماز چھوڑ کر ہو تو غفلت ہے…
ہمارے وہ کالم نویس بھائی جن کی روح کو ’’فرانس‘‘ میں جا کر
چین ملتا ہے وہ صرف دنیاوی موضوعات پر ہی لکھا کریں تو کتنی بڑی خیر ہوجائے… ان کو
نہ قرآن پاک کا علم ہے نہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ کا… ان
کو نہ اسلامی تاریخ سے کوئی تعلق ہے اور نہ مسلمانوں کے اجتماعی مسائل سے… مگر پھر
بھی وہ ’’اسلامی موضوعات‘‘ پر لکھتے ہیں… اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو گمراہ کرتے
ہیں… ہائے کاش مسلمان ان لوگوں کی گمراہی سے بچ جائیں… اور ان کے فتنے سے محفوظ
رہیں… آج کل مسلمان ویسے ہی دین سے دور ہیں … اور یہ کالم نویس ان کو مزید
’’بددین‘‘ بنانے پر تلے ہوئے ہیں… کبھی قربانی کے خلاف مضمون، کبھی جہاد کے خلاف
شوشے، کبھی اسلامی عبادات کی تحقیر… اور کبھی یہ جملہ کہ ’’اللہ تعالیٰ مسجد میں
نہیں ملتا‘‘… جی ہاں فائیو اسٹار ہوٹلوں کو آباد کرنے والے مفکرین مسجدوں کو ویران
کرنے کے سوا اور کر ہی کیا سکتے ہیں… ان میں کچھ لوگوں کے قلم میں شیطانی تاثیر
ہے… وہ ہر بات کو کہانی اور افسانہ بنا کر دلچسپ کردیتے ہیں… اور پھر جو کچھ ان کے
دماغ میں آتا ہے اس کو ’’دین‘‘ بنا کر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں… اللہ تعالیٰ
مسلمانوں کی حفاظت فرمائے… اور انہیں اپنی رضا والے کاموں میں جوڑ دے… آج کتنے
مسلمان ہیں جن کو درست قرآن پاک پڑھنا نہیں آتا… آپ خود سوچیں کیا یہ چھوٹا عیب
ہے؟… جب قرآن پاک ٹھیک نہیں ہوگا تو نماز بھی درست نہیں ہوگی… آپ خود سوچیں یہ
کتنا بڑا خسارہ ہے… حق تو یہ ہے کہ جن مسلمان مردوں اور عورتوں کو درست قرآن پاک
پڑھنا نہیں آتا وہ اپنی محرومی پر چیخیں مار کر روتے… اور رات دن ایک کرکے قرآن
پاک پڑھنا سیکھتے… قرآن پاک اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے نازل فرمایا ہے… اگر ہم
مسلمان اسے نہیں پڑھیں گے تو اور کون پڑھے گا؟… یہ کتاب نور ہے اور ہدایت اور اس
میں دلوں کی شفاء ہے… یہ اللہ تعالیٰ کا عظیم کلام ہے… کلام اللہ، کتاب اللہ… اللہ
پاک کی باتیں اور ہم ان سے محروم … علماء نے لکھا ہے کہ جس کو قرآن پاک ٹھیک پڑھنا
نہ آتا ہو وہ نفل نمازوں اور اذکار میں وقت لگانے کی بجائے قرآن پاک سیکھے اور اگر
اتنی روزی موجود ہو کہ فاقے کی نوبت نہ آتی ہو تو روزی کمانے کا وقت بھی قرآن پاک
سیکھنے پر لگائے… اور کچھ نہیں تو سورۃ فاتحہ اور ایک دو چھوٹی سورتیں تو پوری جان
لگا کر ٹھیک کرلے تاکہ نماز تو ادا کرسکے… میرا خیال ہے کہ ’’صوفی ازم‘‘ اور
’’معرفت‘‘ کی اونچی اونچی باتیں کرنے والے کالم نویسوں کو سورۃ فاتحہ بھی صحیح
تلفظ کے ساتھ نہیں آتی… ہمارے حکمرانوں اور وزیروں کو وضو کا ٹھیک طریقہ تک نہیں
آتا… اسلام کی روایت تھی کہ جمعہ کا خطبہ اور نمازوں کی امامت مسلمانوں کے حکمران
خود کراتے تھے… بنو امیہ کے زمانے میں جب بعض خلفاء نے بیٹھ کر خطبہ دینا شروع کیا
تو اہل دل تڑپ اٹھے کہ اب ’’خطبے‘‘ کو زوال آرہا ہے… اور پھر مامون الرشید کے بعد
حکمران اس نعمت سے محروم ہوتے چلے گئے… اور آج یہ حالت ہے کہ مسلمانوں کا صدر دو
رکعت نماز کی امامت نہیں کراسکتا… مگر اس کو فخر ہے کہ وہ بہت بڑا مسلمان ہے… اور
وہ کعبہ کی چھت پر چڑھ جاتا ہے… دراصل ’’صوفی ازم‘‘ کا یہ نیا نعرہ مسلمانوں کو
جہاد، قرآن، نماز اور پورے دین سے محروم کرنے کی ایک سازش ہے… بس قوالی سنو،
مزاروں کے چکر کاٹو، قبروں پر چادریں چڑھاؤ، مستقبل کی پیشین گوئیاں کرو… اور
کافروں کو مسلمانوں کے برابر سمجھو اور ہر طاغوت کے سامنے گردن جھکاؤ… اور دین کے
نام پر دنیا بناؤ… یہی ہے صوفی ازم… اور یہی ہے بش کا بنایا ہوا وہ دین جس کو
نعوذباللہ اسلام کا نام دیا جارہا ہے… یہاں ایک بات اور بھی یاد رکھیں… اللہ
تعالیٰ اپنے اولیاء کو طرح طرح کی کرامتیں عطاء فرماتا ہے… اور کئی بزرگوں کو
تھوڑا بہت ’’کشف‘‘ بھی ہوتا ہے… ہم نے الحمدللہ ایسے بعض بزرگوں کی زیارت کی ہے جن کو
’’کشف‘‘ ہوتا تھا … مگر یہ لوگ شریعت کے پورے پابند اور توحید کے مکمل قائل تھے…
اور ان میں سے کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا ’’ڈاکیا‘‘ ہے…
فارسی زبان میں ’’ڈاکیے‘‘ کو ’’پیغامبر‘‘ یا ’’پیغمبر‘‘ کہتے ہیں… اور ’’پیمبر‘‘
بھی اسی کا ہم معنیٰ ہے… پیغام لانے والا، پیام لانے والا… اب اخبارات میں ایسے
بزرگوں کا بھی تذکرہ آرہا ہے جو خود کو اللہ تعالیٰ کا ڈاکیا قرار دے رہے ہیں… اور
’’صاحب کشف‘‘ ہونے کے مدّعی ہیں… اللہ اکبرکبیرا… میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ
تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبت تھی… مگر ان کی پوری زندگی ہجرتوں، مشکلوں اور جہاد
میں گزر گئی… اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برملا سمجھایا کہ مجھے غیب کا علم حاصل
نہیں ہے… میں اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ساری زندگی جن محنتوں اور تکلیفوں میں گزاری ان کا تصور بھی مشکل ہے… مگر آج کا
’’صوفی ازم‘‘ کیا ہے… صرف آرام، آرائش، آسائش اور دنیا کے ڈھیر… آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے پوری زندگی مسجد کو آباد فرمایا جبکہ ان لوگوں کے مراکز یا تو فائیو اسٹار
ہوٹل ہیں یا بزرگوں کے مزارات… مسلمان تھوڑا سا غور کریں تو وہ حقیقت حال کو سمجھ
سکتے ہیں… آج بھی الحمدللہ ’’اصل صوفیاء
کرام‘‘ موجود ہیں… مگر وہ تو ایک نماز کی تکبیر اولیٰ قضاء کرنا بھی گوارہ نہیں
کرتے… اور نہ مالداروں کے دروازوں کے چکر کاٹتے ہیں… اور نہ خود کو اللہ تعالیٰ کا
’’ڈاکیا‘‘ قرار دیتے ہیں… وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی مخلوق
کی خدمت کرتے ہیں… اور جہاد اور ہجرت کے راستے سے قربانی دینے کو اپنی سعادت
سمجھتے ہیں…
اے مسلمان بھائیو… اور اے مسلمان بہنو! اپنے ایمان کی حفاظت
کرو… ایمان سے بڑی کوئی دولت نہیں ہے… صبح شام رات دن اس نعمت کا شکر ادا کرو… اور
عقیدے کی خرابی سے بچو اور فکر کی گمراہی سے دور رہو… اسلام وہی ہے… جو قرآن پاک
نے بیان فرمایا ہے… اور جس کی قولی اور عملی تشریح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمائی ہے… اور جس کو امت کے فقہاء کرام نے مرتب فرمایا ہے… نیکی وہی ہے جس کو
اللہ تعالیٰ نیکی قرار دے ورنہ تو ایک طوائف بھی اپنے کام کو ’’خدمت خلق‘‘ قرار دے
سکتی ہے… اور گناہ وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم
نے گناہ قرار دیا ہے… وحی کا دروازہ بند ہوچکا ہے اور آسمان سے اب کسی پر کچھ نازل
نہیں ہوتا… اپنا عقیدہ ٹھیک رکھو… اپنی فکر کو درست رکھو… اسلامی فرائض کو ٹھیک
ٹھیک مانو… اور جہاد کا ہرگز انکار نہ کرو… اے مسلمانو!… اللہ پاک کے گھر ’’مسجدوں‘‘
کو خوب آباد کرو… وہاں جا کر دنیا کی باتیں اور شور شرابا نہ کرو… اور وہاں اپنی
آواز بلاوجہ بلند نہ کرو… مساجد جنت کے باغات ہیں وہاں جا کر سکون حاصل کیا کرو…
اے مسلمانو! قرآن پاک پڑھنا سیکھو اور اپنی عورتوں کو بھی سکھاؤ… اور قرآن پاک کو
علماء کرام کی نگرانی میں سمجھنے کی پوری محنت کرو… اے مسلمانو! عمل کی کوتاہی
توبہ سے معاف ہوجاتی ہے … مگر عقیدے اور فکر کی کوتاہی انسان کو توبہ تک نہیں کرنے
دیتی… ایک شخص گناہگار ہے اور وہ توبہ کرتا ہے… یہ اس شخص سے بہت افضل ہے جو غریب
بچوں میں جوگر بوٹ تقسیم کرنے کو فرض نماز سے بہتر سمجھتا ہے… یہ شخص توبہ نہیں
کرے گا بلکہ اپنے جرم پر فخر کرے گا… اور دوسروں کو بھی گمراہ کرے گا…
مسلمانوں کو چاہئے کہ عام اخبارات کے کالم نویسوں کے مضامین
پڑھنے کی بجائے… یہی وقت اپنی آخرت کے لئے کچھ سامان کرلیا کریں… مسجد میں جاکر
تین آیتیں پڑھنا دنیا کی تمام فانی نعمتوں سے بڑھ کر ہے… اور دین کا علم حاصل کرنا
افضل ترین اعمال میں سے ایک مقبول عمل ہے… آپ اپنی استطاعت کے مطابق چند کتابیں
خرید کر اپنے گھر رکھ لیں… اور جو وقت اخبارات کے کالم پڑھنے میں لگاتے ہیں وہ وقت
ان کتابوں کے مطالعے کے لئے وقف کردیں… یاد رکھیں اللہ پاک کی رضاء کے لئے چند منٹ
دین کا علم حاصل کرنا ہمیں ابدالآباد کی نعمتوں کا مستحق بنا سکتا ہے… جی ہاں
ہمیشہ کی نعمتیں… نہ ختم ہونے والی نعمتیں … آپ مفتی کفایت اللہؒ کی ’’تعلیم
الاسلام‘‘ خرید لیں… اور مفتی عبدالشکور لکھنویؒ کی علم الفقہ… انشاء اللہ عقیدہ
ٹھیک ہوجائے گا اور پاکی، پلیدی اور وضو، نماز کے مسائل معلوم ہوجائیں گے… آپ یقین
کریں اتنا علم بھی بہت بڑی نعمت ہے… اور یاد رکھیں کہ ہم اچھے مسلمان اور اچھے
نمازی بنے بغیر کبھی بھی ’’اچھے انسان‘‘ نہیں بن سکتے… یہ لوگ جو غریبوں کا رونا
رو کر دوسروں کو ’’قربانی‘‘ نہ کرنے کی دعوت دیتے ہیں خود یہی لوگ روزانہ اپنے
دسترخوان پر ایک ’’قربانی‘‘ کی قیمت کا کھانا لگاتے ہیں… ان کو غریبوں کا درد ہوتا
تو یہ خدمت کا آغاز اپنی ذات سے کرتے … مگر ان کی تو شادیوں پر لاکھوں روپے خرچ
ہوجاتے ہیں اور اس میں ان کو نہ کوئی غریب یاد آتا ہے نہ فقیر… میں کسی پر ذاتی
تنقید نہیں کر رہا… ہم سب اصلاح اور توبہ کے محتاج ہیں… اور ہم ہر مسلمان کو اپنے
سے افضل اور اچھا سمجھتے ہیں… مگر اللہ پاک کے دین میں ’’کمی بیشی‘‘ ہم سے برداشت
نہیں ہوتی… حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا…
أینقص الدین وانا حی … دین میں کمی کی جائے اور میں زندہ
ہوں یہ ممکن نہیں ہے… اسی طرح آپ حضرت تھانویؒ کی کتاب ’’بہشتی زیور‘‘ لے لیں… یا
ڈاکٹر مفتی عبدالواحد کی ’’مسائل بہشتی زیور‘‘ … انشا ء اللہ ہر صفحہ آپ کو دین کے
قریب کرے گا … اور پھر حضرت مولانا یوسف کاندھلویؒ کی ’’حیات الصحابہ‘‘ لے لیں…
اور مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کی ’’سیرت المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ …
اللہاکبر کبیرا… دونوں کتابیں ماشاء اللہ ایمان افروزی کا خزانہ ہیں…
روزانہ چند صفحات پڑھ لیں تو دل کی سیاہی اترتی محسوس ہوتی
ہے… اور آپ حضرت تھانویؒ کی ’’مناجات مقبول‘‘ لے لیں… اور حضرت پھولپوریؒ کی
’’معرفت الٰہیہ‘‘ … آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ اصل تصوف اور اصل روحانیت کیا ہے…
اور آپ حضرت مولانا محمد زکریاؒ کی ’’آپ بیتی‘‘ لے لیجئے… زندگی گزارنے کا ڈھنگ
آجائے گا… میرے شیخ ؒ فرماتے تھے کہ اس کتاب کو پڑھنے والا آدھا ولی تو
بن ہی جاتا ہے… اور آپ حضرت مولانا محمد زکریاؒ کی ’’فضائل اعمال‘‘ لے لیجئے…
سبحان اللہ زندگی کو منور کرنے والی کتاب فضائل اعمال… اور آپ حضرت مفتی رشید احمد
صاحبؒ کا وعظ ’’ترک منکرات‘‘ لے لیجئے انشاء اللہ بہت کچھ سمجھ آجائے گا… اور آپ
اگر پورے دین کو مختصر الفاظ میں سمجھ کر اپنی زندگی اللہ پاک کی رضا کے مطابق
گزارنا چاہتے ہیں تو ایک چھوٹی سی کتاب لے لیجئے… اس کتاب کا نام ہے ’’دستورحیات‘‘
اور اس کے مصنف ہیں حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ … آپ اس کتاب کو پڑھ کر
ایک عجیب نورانی علم پائیں گے اور ایک عجیب قسم کا سکون آپ کو نصیب ہوگا… اور آپ
مولانا محمد میاں صاحبؒ کی کتاب ’’علماء ہند کا شاندار ماضی‘‘ خرید لیں… آپ کو ایک
نئی دنیا سے تعارف نصیب ہوگا اور آپ کو برصغیر کے حالات سمجھنے اور حضرت مجدد الف
ثانی ؒ کی تحریک کو سمجھنے میں خاص مدد ملے گی… اور آپ ’’تفسیر
عثمانی‘‘ لے لیں… اور مولانا عاشق الٰہی صاحبؒ کی ’’تفسیر انوار البیان‘‘ … ان
دونوں تفسیروں کی مدد سے آپ قرآن پاک کو انشاء اللہ آسانی سے سمجھ لیں گے… اور
مزید مدد کے لئے حضرت اقدس لاہوریؒ کا ترجمہ اور حاشیہ اپنے ساتھ رکھ لیں… اور آپ
مولانا منظور احمد نعمانی ؒ کی ’’معارف الحدیث‘‘ لے لیں… اور مولانا
بدر عالم میرٹھیؒ کی ’’ترجمان السنّہ‘‘ … آپ کو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی
احادیث مبارکہ کو سمجھنے میں مدد ملے گی… اور آپ امام غزالی ؒ کی کتاب
’’منہاج العابدین‘‘… اور ’’کیمیائے سعادت‘‘ لے لیں آپ کو نفس کی اصلاح کے اور دینی
و روحانی ترقی کے راز معلوم ہوجائیں گے… کتابوں کے ناموں کی فہرست تو بہت طویل ہے…
آپ ایسا کریں کہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کی کتابوں کا مکمل سیٹ خرید لیں…
اور ایک طویل عرصہ تک علم ، عمل، اخلاص اور دینی معلومات کے سمندر میں مز ے کے
غوطے لگائیں… آپ حضرت مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کی کتابوں کا پورا سیٹ لے لیں اور
دین و دنیا کے مزے لوٹیں… آپ حضرت مفتی رشید احمد صاحبؒ کے مواعظ لے لیں اور اپنے
تقوے کو مضبوط سے مضبوط تر بنالیں… اور آپ حضرت مولانا سرفراز صاحب صفدر دامت
برکاتہم کی کتابیں لے لیں اور اپنے عقیدے کو پورے اعتماد سے درست کرلیں… الحمدللہ اہل علم حضرات نے ہم مسلمانوں کے لئے
شبانہ روز دماغ سوز محنت کرکے دین کے مفاہیم کو بے حد آسان تحریر فرمادیا ہے… ہمیں
چاہئے کہ ہم ان محنتوں سے فائدہ اٹھائیں… لاہور کے مکتبہ عرفان… اور کراچی کے
مکتبہ حسن کی کتابیں ہمارے لئے بہترین رہنما ہیں… جو ہمیں ایمان والی زندگی اور
کامیاب خاتمے کا طریقہ بتاتی ہیں…
گمراہی کے سمندر میں نور اور ہدایت کے یہ جزیرے ہمیں اپنی
طرف بلا رہے ہیں… وقت تیزی سے گزر رہا ہے ہمیں جلد ازجلد خود کو آخرت کے لئے تیار
کرنا چاہئے… اللہ پاک میری بھی مدد فرمائے اور آپ سب کی بھی…
آمین یاارحم الراحمین
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا پیارا مہینہ ’’رمضان المبارک‘‘ بس آنے ہی
والا ہے… آج شعبان کی ۱۴ تاریخ ہے… کئی لوگ آج رات ’’آتش بازی‘‘ کی تیاریاں کر
رہے ہیں … اللہ پاک ان کو ہدایت اور سمجھ عطاء فرمائے… مسلمانوں کا ان فضول چیزوں
سے کیاتعلق؟… یہ تو کافروں اور مشرکوں کے طریقے ہیں… مسلمان دکانداروں کو چاہئے کہ
وہ ’’آتش بازی‘‘ کا سامان اپنی دکان پر رکھا ہی نہ کریں… رمضان المبارک کے استقبال
اور تیاری کے لئے شعبان ہی سے محنت شروع کر دینی چاہئے… اہل علم فرماتے ہیں کہ
شعبان کی نیکی کا رمضان المبارک کے ساتھ گہرا تعلق ہے… پس جو لوگ ’’شعبان‘‘ اچھا
گزارتے ہیں وہ رمضان المبارک کو بھی خوب کماتے ہیں… ہم سب لوگ بہت تیزی کے ساتھ
’’موت‘‘ کی طرف جا رہے ہیں… اور ہم ایسے عجیب لوگ ہیں کہ جا آگے رہے ہیں اور تیاری
پیچھے کے لئے کر رہے ہیں… اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق
عطاء فرمائے … قبر کا منہ صاف نظر آرہا ہے اور ہاتھ اعمال سے خالی ہیں… رمضان
المبارک بخشش کا مہینہ ہے اور یہ مہینہ مسلمانوں کے لئے اللہ تعالیٰ کا خاص تحفہ
ہے… اس وقت پاکستان میں ’’سیاسی موسم‘‘ سخت گرم ہے… اور ملک کے فوجی صدر کو ہردن
ایک نئی شکست کا سامنا ہے… جی ہاں بے شک عزت کا مالک اللہ تعالیٰ ہے… وہ جسے چاہے
عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کرتا ہے… صدر صاحب نے جن لوگوں کو رسوا کرنے کی
کوشش کی وہ تو سب ’’عزت مند‘‘ ہوگئے ہیں… اور ان کا قد مزید اونچا ہوگیا ہے… جبکہ
صدر صاحب خود زمین میں دھنستے جارہے ہیں… کل تک وہ دوسروں کو ’’کالعدم‘‘ قرار دیتے
تھے آج ان کے ہر فیصلے کو ’’کالعدم‘‘ کیا جارہاہے … یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ
کیا ’ ’گندگی کے پہاڑ‘‘ کو چیف جسٹس صاحب اپنے بیلچے سے صاف کرسکیں گے؟… جی ہاں
ظالم اور نفس پرست حکمرانوں کی وجہ سے پاکستان پر مسائل کا ایک پہاڑ سوار ہے… اور
لاقانونیت خود حکمرانوں کا ہتھیار بن چکی ہے… ان حالات میں ایک جج کیا کچھ کرسکے
گا… اس بارے میں کچھ بھی یقین سے نہیں کہا جاسکتا… البتہ ہر طرف خوشیاں منائی جا
رہی ہیں… اور لوگ خوش ہیں کہ ظالم حکمرانوں کی گردن کچھ تو جھکی ہے… ابھی ’’لال
مسجد‘‘ کا معاملہ بھی سپریم کورٹ میں زیر بحث ہے… اللہ تعالیٰ اس معاملے پر بھی
عدالت کو ہمت عطاء فرمائے اور انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے کی توفیق عطاء فرمائے…
امریکہ کا صدر خود کہہ چکا ہے کہ لال مسجد کا آپریشن ہمارے مشن کا حصہ تھا… یعنی
امریکہ کی خوشنودی کے لئے مسجد اور مدرسہ کو ظلم کا نشانہ بنایا گیا… اور امت
مسلمہ کی بیٹیوں کا خون بہایا گیا… امید ہے کہ عدالت انصاف کرے گی اور اگر وہ ایسا
نہ بھی کرسکی تو … مظلوموں کا خون انصاف کا راستہ ڈھونڈ ہی لے گا… لال مسجد کے
حساس معاملے پر لکھنے والے اہل دین قلم کاروں سے گزارش ہے کہ وہ… ایسی باتیں لکھیں
جن کا خود ان کو اور پڑھنے والوں کو دینی فائدہ پہنچے… خواہ مخواہ کی تنقید اور
تبرّے بازی سے کیا ملتا ہے؟… ہر کسی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ’’فرض‘‘ کو سمجھے
اور اس کو ادا کرے … آپ نے خود جو کچھ کیا وہ لکھیں… اور اب مسلمانوں کو کیا کرنا
چاہئے وہ لکھیں… اس کے علاوہ کی باتیں ’’دینی فائدے‘‘ کے زمرے میں نہیں آتیں …اس
میں کچھ شک نہیں کہ ’’بعض افراد‘‘ اور ’’بعض اداروں ‘‘ سے غلطیاں ہوئی ہیں… اور
ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ’’مجاہدین‘‘ کو خاص طور پر تنقید کا نشانہ بنایا جارہاہے
… مگر اس کے باوجود ہمارے ساتھیوں کو اپنے ’’مثالی طرز عمل‘‘ پر قائم رہتے ہوئے
صبر سے کام لینا چاہئے… اس وقت اہل حق کی باہم مخالفت کا فائدہ براہ راست ’’ظالم
حکومت‘‘ کو پہنچے گا… اور وہ دینی قوتوں کو مزید کمزور کرنے میں کامیاب ہوجائے گی…
اللہ پاک نے ہم لوگوں کو الحمدللہ
’’بہترین کام‘‘ عطاء فرمایا ہوا ہے … ہم ’’امر بالمعروف‘‘ اور ’’نہی عن المنکر‘‘
کے کام میں لگے ہوئے ہیں… ہم الحمدللہ
مسلمانوں کو جہاد کا مسئلہ سمجھاتے ہیں اور جہاد کی دعوت دیتے ہیں… یہ اللہ تعالیٰ
کی ایسی عظیم الشان نعمت ہے جس کی فضیلت بیان سے باہر ہے… آج ہر طرف جہاد کا انکار
ہے… اور جہاد کا انکار قرآن پاک کا انکار ہے… ان حالات میں الحمدللہ ہمارے ساتھی گاؤں گاؤں، قریہ قریہ جاکر
’’آیاتِ جہاد‘‘ کا سبق پڑھا رہے ہیں… کیا یہ چھوٹی نعمت ہے؟… کیا یہ معمولی سعادت
ہے؟… ارے یہ تو ایسی سعادت ہے کہ اس کی خاطر ہر گالی برداشت کی جاسکتی ہے … کافر
چاہتے ہیں کہ قرآن پاک کی آیاتِ جہاد کو مٹا دیا جائے… منافق چاہتے ہیں کہ ان آیات
پر نعوذباللہ مٹی ڈال دی جائے… اربوں کھربوں ڈالر کا سرمایہ اور زمینی فضائی
طاقتیں جہاد کو مٹانے کے لئے دن رات خرچ ہو رہی ہیں… ایسے میں اللہ تعالیٰ چند
فقیر لوگوں کو کھڑا فرمادیتے ہیں جو گلی گلی جاکر… الجہاد الجہاد کی آواز لگاتے
ہیں… یہ لوگ قرآن پاک کے اصلی اور سچے خادم ہیں… فیصل آباد میں حضرت مولانا ضیاء
القاسمی نور اللہ مرقدہ کی مسجد … اور پھر صوابی، کوئٹہ، بہاولپور، کوہاٹ، کراچی،
پشاور، ٹنڈوالہ یار، شکار پور … مظفر آباد، کوٹلی… اے مسلمانو! قرآن پاک جہاد بیان
کر رہا ہے… لوگوں کی باتیں غلط ہوسکتی ہیں… مگر جو کچھ قرآن پاک فرما رہا ہے وہ تو
حق ہے، سچ ہے… اے میرے دوستو! … کیا ہمارے لئے یہ بہتر نہیں کہ ہم قرآن پاک کا
پیغام مسلمانوں تک پہنچاتے رہیں… الحمدللہ
کتنے مسلمانوں نے انکارِ جہاد کے گناہِ عظیم سے توبہ کرلی ہے… اور کس طرح سے دورہ
تربیہ نے مسلمانوں کو اللہ پاک کی طرف بلایا اور جوڑا ہے… ہمیں اپنی صفائی پیش
کرنے کی کیا ضرورت ہے… ہمارے شہداء ساتھی مسکراتے ہوئے محو پرواز ہیں… اے میرے
بھائیو اور ساتھیو کام کرو کام… اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو… دین کی
خدمت اور جہاد کی دعوت ایک عظیم الشان نعمت ہے… اگر ہم بھی خدانخواستہ جہاد کے
منکر یا مخالف ہوتے تو ہمارے لئے کتنا بڑا عذاب ہوتا… جب بھی قرآن پاک کی تلاوت
کرتے تو سینکڑوں آیاتِ جہاد کے سامنے شرمندہ ہوتے… جب بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم کی سیرت پڑھتے تو غزوات کے تذکرے سے آنکھیں چراتے… جب بھی صحابہ کرام کے
واقعات پڑھتے تو جہادی تذکروں پر غوطے کھاتے… اللہاکبرکبیرا… جہاد کو نہ ماننا
کتنا بڑا عذاب ہے کہ اب بعض زبانیں غزوہ بدر کے خلاف بھی تاویلات پھونکنے لگی ہیں…
استغفراللہ، استغفراللہ… جس غزوہ کو اللہ پاک نے خود مسلمانوں کے لئے ’’نشانی‘‘
قرار دیا اسی کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ مثال اور نشانی نہیں ہے… ہاں بے شک
جہاد کا انکار ایک ایسا عذاب ہے جو انسان کو گندہ کردیتا ہے… قرآن پاک کی تاویل،
غزوات کی تاویل، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے خون سے روگردانی…
اور جھوٹی مثالیں اور فضول باتیں… اللہ پاک کا شکر ہے کہ جہاد کو ماننے کی برکت سے
قرآن پاک کی کسی آیت کو سن کر چہرے پر ناگواری نہیں آتی… آپ تجربہ کرلیں جہاد کے
منکر اور مخالف بعض آیات کو سن کر بدک جاتے ہیں اور بھڑک اٹھتے ہیں… آہ قرآن پاک
سن کر بدکنا اور بھڑکنا کتنا بڑا عذاب ہے کتنا سخت عذاب… اللہ پاک کا شکر ہے کہ اس
نے ہمیں جہاد کو سمجھنے اور ماننے کی توفیق محض اپنے فضل سے عطاء فرمائی ہے… اور
اب دعوتِ جہاد کی شمع ہر طرف روشنی پھیلا رہی ہے… کتنا مزہ آتا ہے کہ سامنے ’’قرآن
پاک‘‘ ہوتا ہے اور اسی کی بنیاد پر جہاد کو سمجھا اور سمجھایا جاتا ہے… نہ کوئی
جھگڑا نہ کوئی اختلاف … قرآن پاک کی بالکل صاف صاف اور واضح آیات … الحمدللہ ثم الحمدللہ … اور کئی ساتھیوں نے اس کی بھی اطلاع
دی ہے کہ انہوں نے ’’فتح الجواد‘‘ کی جلد اوّل کا مطالعہ مکمل کرلیا ہے… ہماری
مسلمان خواتین کو بھی چاہئے کہ وہ قرآن پاک کی آیات جہاد کو اچھی طرح سے پڑھ اور
سمجھ لیں تاکہ ’’انکارِ جہاد‘‘ کے ’’عذاب‘‘ سے محفوظ رہیں… معلوم ہوا ہے کہ عورتوں
میں بھی ’’انکارِجہاد‘‘ کے جراثیم پھیلائے جارہے ہیں… عام حالات میں اگرچہ عورتوں
پر جہاد فرض نہیں ہے مگر فرض عین ہونے کی حالت میں عورتوں کو بھی جہاد کرنا
پڑتاہے… اور عام حالات میں بھی عورتوں کے تعاون کے بغیر مردوں کا جہاد میں نکلنا
آسان نہیں ہوتا اس لئے خواتین کو بھی ’’فریضہ جہاد‘‘ سمجھانے اور سکھانے کی ضرورت
ہے… معلوم ہوا ہے کہ حالیہ دورات تفسیر میں بعض مقامات پر خواتین نے بھی شرکت کی
ہے اور ان میں سے بعض نے سند بھی حاصل کی ہے… الحمدللہ ثم الحمدللہ… اور اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ان
’’دو رات تفسیر‘‘ کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے… انشاء اللہ ان کے اختتام پر مفصل
کارگزاری آپ ’’القلم‘‘ میں ملاحظہ فرمالیں گے… بات یہ چل رہی تھی کہ ’’رمضان
المبارک‘‘ کی آمد قریب ہے… اور شعبان کا برکت والا مہینہ آدھا گزر چکا ہے… ملک
کے گرم سیاسی حالات اور ہر طرف پھیلی ہوئی افراتفری ہمیں اپنے اصل
مقاصد سے غافل نہ کردے… اور ہم دین کی خدمت اور آخرت کی تیاری سے ہٹ کر کسی فضول
کام میں نہ لگ جائیں یہ ہے ہماری آج کی مجلس کا اصل موضوع…
امت مسلمہ کے اجتمای مسائل اب بھی سلگ رہے ہیں … عراق میں
جہاد زوروں پر جاری ہے اور برطانیہ نے بصرہ سے اپنی افواج واپس بلانے کا اعلان
کردیا ہے… ادھر افغانستان میں ’’ڈانس جرگہ‘‘ کے باجود تاریخ اسلامی کا ایک اہم
معرکہ جاری ہے… چند بے سروسامان لوگ پوری دنیا کے کفر سے ٹکرا رہے ہیں… اور
برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ چالیس سال تک افغانستان میں رہنے کا ارادہ رکھتا
ہے… ہائے برطانیہ بے چارہ! ایک دم کٹا بادشاہ جو دنیا پر دوبارہ حکومت کے خواب
دیکھتا رہتا ہے… یقینا یہ خواب انشاء اللہ کبھی پورے نہیں ہوں گے… کشمیر میں الحمدللہ جہاد جاری ہے… اللہ تعالیٰ مجاہدین کو
قوت، ہمت اور استقامت عطاء فرمائے… شہداء کرام کے گھروں اور خاندانوں کی دیکھ بھال
بھی مسلمانوں کے ذمے ہے… اور مسئلہ جہاد کو امت مسلمہ کے سامنے بیان کرنا بھی ایک
ضروری کام ہے… الغرض ایک بڑی جنگ جاری ہے اور جو بھی اس جنگ میں سانس لے گا… یا
پیچھے ہٹے گا وہ شکست کھا جائے گا… شعبان ہو یا رمضان یہ سب ہمیں اللہ تعالیٰ کے
ساتھ جوڑتے ہیں… قرآن پاک کے ساتھ جوڑتے ہیں … اللہ تعالیٰ ہمارے لئے شعبان میں
برکت عطاء فرمائے… اور ہمیں رمضان المبارک اپنی رضاء کے مطابق گزارنے کی توفیق عطاء
فرمائے…
آمین یا ارحم الراحمین…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ کچھ دن کے ناغے کے بعد پھر
’’ڈاک‘‘ پڑھنے کی توفیق ملی… بیس کے قریب خطوط ہوں گے… کچھ اصلاحی اور کچھ دوسرے
موضوعات پر… دو یا تین خطوط ’’سانحہ لال مسجد‘‘ کے بارے میں تھے… کافی جذباتی جی
ہاں روتے رُلاتے خطوط… کمپیوٹر اور موبائل کے اس دور میں ’’خطوط‘‘ اور ڈاک کا
سلسلہ تقریباً ختم ہو رہا ہے… مگر اس کے باوجود الحمدللہ میرے پاس کافی ڈاک آتی ہے… گذشتہ چند
ماہ سے خط لکھنے والوں کو یہ شکایت ہے کہ ان کو جوابی خطوط نہیں پہنچ رہے… حالانکہ
ہم الحمدللہ پوری پابندی اور اہتمام کے
ساتھ جوابی خطوط ارسال کرتے ہیں… معلوم نہیں محکمۂ ڈاک گڑبڑ کرتا ہے یا سرکاری
جِنّاتْ … بہرحال پھر بھی الحمدللہ یہ
سلسلہ جاری ہے… اصلاحی خطوط لکھنے والے بعض باہمت بھائیوں اور بہنوں کو گذشتہ پانچ
مہینے سے جوابی خطوط نہیں پہنچ رہے مگر وہ پابندی کے ساتھ خط لکھ رہے
ہیں… اللہ پاک ان سب کو جزائے خیر عطاء فرمائے… اور ان کو دینی، دنیاوی
اور ظاہری وباطنی ترقیات سے نوازے… ہر ماہ اصلاحی خط لکھنا خط لکھنے والے کو بہت
فائدہ پہنچاتا ہے ، خواہ جواب ملے یا نہ ملے… میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ جب کوئی
شخص اصلاح کے لئے خط لکھتا ہے تو جواب ملنے سے پہلے اللہ تعالیٰ اس کی رہنمائی
فرمادیتا ہے… کیونکہ خط لکھنے والے نے ثابت کردیا کہ وہ اپنی اصلاح چاہتا ہے اور
وہ اپنے روحانی امراض سے خوش نہیں ہے… پس جب اس نے سچی نیت کا ثبوت دیاتواللہ
تعالیٰ کی رحمت اس کی طرف متوجہ ہوجاتی ہے…
بعض خطوط سے یہ بھی معلوم ہوا کہ الحمدللہ مسلمانوں کو ’’لطف اللطیف جل شانہ‘‘
کتاب سے کافی فائدہ ہورہا ہے… اور بہت سے لوگ جعلی عاملوں اور تعویذ فروشوں سے بچ
کر اس کتاب کے ذریعے آسودگی حاصل کر رہے ہیں… اللہ تعالیٰ اس کتاب کو مزید نافع
بنائے اب تک الحمدللہ اس کے بیس کے قریب
ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں، اللہتعالیٰ قبول و مقبول فرمائے…
میری اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں سے درخواست ہے کہ عام
وظائف اپنی جگہ مگر زیادہ توجہ تلاوت قرآن پاک کی طرف رکھیں… اور اللہ تبارک
وتعالیٰ کے ’’اسماء الحسنیٰ‘‘ سے خوب خوب فائدہ اٹھائیں… جب بھی کوئی حاجت یا
پریشانی ہو تو دو رکعت صلوٰۃ الحاجۃ پڑھیں… قرآن پاک کی تلاوت کریں اور اکیس بار
تمام اسماء الحسنیٰ پڑھ کر دعاء کریں… انشاء اللہ پہاڑوں کی طرح مشکل نظر آنے والے
مسائل بھی اللہ پاک کے فضل و کرم سے حل ہوجائیں گے… ’’لطف اللطیف‘‘ کتاب میں اسی
بات کی دعوت ہے جن مسلمانوں کے پاس یہ کتاب نہ ہو وہ اسے خرید لیں اور ساتھ ساتھ
اسماء الحسنیٰ کی کتاب ’’تحفہ ٔ سعادت‘‘ بھی حاصل کریں اور اس کو ایک بار محبت سے
پڑھ لیں… حیرانی کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے پاس اللہ تعالیٰ کا کلام ’’قرآن
مجید‘‘ موجود ہے… مسلمانوں کے پاس ’’اسماء الحسنیٰ‘‘ موجود ہیں… اور مسلمانوں کے
پاس ’’صلوٰۃ الحاجۃ‘‘ موجود ہے اس کے باوجود وہ کہتے ہیں کہ فلاں جادو، فلاں اثر…
ارے بھائی کونسا جادو اور کونسا اثر قرآن پاک اور اسماء الحسنیٰ کے مقابلے میں
ٹھہر سکتا ہے؟… ہاں دل میں یقین کی کمی ہوتو پھر الگ بات ہے…
بعض خطوط میں ’’فتح الجواد‘‘ کا بھی تذکرہ ہے… ایک عالم دین
نے خبر دی ہے کہ انہوں نے ’’فتح الجواد‘‘ کا مطالعہ مکمل کرلیا ہے اور انہیں الحمدللہ اس سے کافی فائدہ پہنچا ہے… اور اب وہ
دوسری جلد کا بے تابی کے ساتھ انتظار کر رہے ہیں… ان کی اور ان جیسے دوسرے حضرات
کی خدمت میں عرض ہے کہ ’’فتح الجواد‘‘ کی تکمیل کے لئے خصوصی دعاؤں کا اہتمام
فرمائیں… الحمدللہ سورۃ توبہ آیت ۶۰ تک کے فوائد اور معارف جہاد لکھے جاچکے ہیں اور سائز
کے اعتبار سے دوسری جلد کا مواد مکمل ہے مگر ناشرین کا ارادہ ہے کہ سورۃ توبہ مکمل
ہونے پر دوسری جلد شائع کی جائے … اللہ تبارک وتعالیٰ کے لئے کیا مشکل ہے وہ نظر
رحمت فرمائے تو سب کچھ آسان ہوجاتا ہے…
اس بار کی ڈاک میں چند خطوط لال مسجد کے سانحہ کے بارے میں
تھے… دو خط پاکستان سے اور ایک خط سعودیہ سے… جبکہ بعض دیگر خطوط میں بھی اس
اندوہناک سانحے کا سرسری تذکرہ موجود تھا … بعض طالبعلم بھائیوں نے لکھا ہے کہ اس
واقعہ نے دماغ کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور دل پر مایوسی کے بادل چھا گئے ہیں… پڑھائی
میں دل نہیں لگتا اور طبیعت بے چین رہتی ہے… کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کریں اور
کیا نہ کریں… ان بھائیوں کی خدمت میں عرض ہے کہ اس طرح کے واقعات کے بعد مایوسی
اور بددلی کا شیطانی حملہ اہل ایمان پر ہوتا ہے… مگر ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی
کتاب موجود ہے… غزوۂ احد کا سانحہ کتنا بڑا تھا… اور بئر معونہ کا غم کتنا خوفناک
تھا… اور إفک (تہمت) کا ظلم کتنا عظیم تھا… مگر مایوسی اور بددلی کبھی جائز نہیں
ہوتی، یہ شیطانی حملہ بہت خطرناک ہوتا ہے… بندہ نے لال مسجد کے سانحہ سے دو دن
پہلے تفصیل سے عرض کردیا تھا کہ یہ خوف اور بے دلی کا وقت نہیں ہمت، جرأت اور
استقامت کا وقت ہے… آپ وسوسوں کے غوطے کھانے کی بجائے غزوۂ احد اور بئر معونہ کا
واقعہ … اور قرآن پاک کی آیات جہاد کا ایک بار پھر مطالعہ کریں، انشاء اللہ دل کھل
جائے گا اور دماغ درست سوچنا شروع کردے گا … سانحہ لال مسجد پر کچھ لوگوں نے
’’شیعوں‘‘ اور ’’رافضیوں‘‘ کی طرز پر سوچنا، بولنا اور لکھنا شروع کردیا ہے… ایسے
لوگ ’’شہداء لال مسجد‘‘ کے وفادار نہیں بلکہ ان کے مقدس مشن کے دشمن ہیں… کربلا کے
میدان میں جب نواسۂ رسول، جگر گوشۂ بتول حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اپنے
خاندان کے کئی افراد کے ساتھ مظلومانہ طور پر شہید کردئیے گئے تو ’’شیعوں‘‘ اور
’’رافضیوں‘‘ نے خود کو شہداء کا وارث قرار دے کر حضرات صحابہ کرام کے خلاف تبرّے
کا بازار گرم کردیا… یہ لوگ ہائے حسین، ہائے حسین کہتے اور ساتھ ساتھ صحابہ کرام کو
گالیاں دیتے کہ وہ اس موقع پر کہاں چلے گئے تھے؟… انہوں نے کربلا کے شہداء کو
بچایا کیوں نہیں؟… حالانکہ کربلا کے واقعہ پر پوری امت مسلمہ رو رہی تھی اور غم سے
نڈھال تھی… اور اس وقت جو صحابہ کرام موجود تھے ان کا اس واقعہ میں کوئی قصور نہیں
تھا… مگر رافضی کھڑے ہوئے اور انہوں نے ہر مقدس گریبان پر ہاتھ ڈال دیا اور یوں
امت مسلمہ پر مزید غموں اور پریشانیوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے… اس وقت ’’انصاف پسند‘‘
لوگوں نے شور مچانے والے رافضیوں سے پوچھا کہ تم لوگ سب کو قصوروار ٹھہرا رہے ہو
حالانکہ تم خود بھی تو کربلا میں لڑنے نہیں پہنچے… بلکہ تمہارا کردار قاتل کا رہا…
مگر ہائے حسینؓ، ہائے حسینؓ کا شور مچانے والے رافضیوں نے کسی کی کوئی بات نہ سنی
اور انہوں نے مسلمانوں کے سینے میں ظلم کا خنجر اتار دیا… اس وقت بھی بعض لوگ
دانستہ یا نادانستہ طور پر شیعوں کی زبان استعمال کر رہے ہیں… یہ لوگ شہداء لال
مسجد کے وارث بن کر… اکابر علماء کرام کو گالیاں دے رہے ہیں… جہادی جماعتوں پر
الزامات لگا رہے ہیں… اور امت کے ہر مقدس گریبان پر ہاتھ ڈال رہے ہیں… حالانکہ یہ
لوگ خود بھی لال مسجد میں شریک اور شہید نہیں ہوئے … مگر فسادی لوگوں کو تو گریبان
پکڑنے کے لئے کوئی بہانہ چاہئے… آج ان لوگوں کے شور کی وجہ سے لال مسجد کا مسئلہ
’’اختلافی‘‘ بنتا جارہا ہے اور قاتل حکومت … ایک مسجد کو تالے ڈال کر اور ایک
مدرسے کو مٹی میں ملا کر اطمینان سے بیٹھی ہوئی ہے… حالانکہ یہ وقت اختلاف کا نہیں
ہے… اللہ پاک کا گھر اور اس کے مینار اذان کو ترس رہے ہیں… مولانا عبداللہ شہیدؒ
کی اس مسجد کا منبر کسی غیور خطیب کی یاد میں اشک بہا رہا ہے … جبکہ ’’شیعہ صفت‘‘
لوگ کسی کو کچھ کرنے ہی نہیں دے رہے… جو عالم دین یا بزرگ کھڑے ہوتے ہیں ان پر
گالیوں کی بوچھاڑ کر دی جاتی ہے کہ پہلے وہ کہاں تھے؟… اور سب سے زیادہ ان مجاہدین
کو ستایا جارہا ہے جو ایک منٹ کے لئے بھی فریضہ جہاد سے غافل نہیں ہوئے بلکہ… جہاد
کے بڑے بڑے محاذوں پر ڈٹ کر کام کرتے رہے… آج ہر طرف سے ہر مسلمان کا مطالبہ ہے کہ
جامعہ حفصہ کو دوبارہ تعمیر اور فعال کیا جائے تو معلوم ہوا کہ جامعہ حفصہ ایک
مدرسہ تھا کوئی محاذ جنگ نہیں تھا… ظالم حکومت نے ایک مدرسے کو پامال کیا اور بئر
معونہ کے وارث حفاظ و حافظات کو شہید کیا… اب دیکھیں ایک طرف تو امت مسلمہ کا یہ
نقصان ہوا… غازی عبدالرشیدؒ اور مولانا محمد مقصود احمد ؒ جیسے لوگ شہید ہوگئے…
اور دوسری طرف امت مسلمہ کو یہ نقصان پہنچایا جارہا ہے کہ حضرت شیخ مولانا سلیم
اللہ خان صاحب جیسے اکابر کی توہین وتنقیص کی جارہی ہے… گویا کہ آج ہر غم اور ہر
تباہی کا دروازہ ’’امت مسلمہ‘‘ اور ’’علماء و اہل حق‘‘ پر ٹوٹ پڑا ہے… ایسے وقت
میں تبرّا باز ’’شیعہ صفت‘‘ طبقے کی زبان کو روکنے کی سخت ضرورت ہے… ان بے عمل،
بدعمل اور زبان دراز لوگوں نے کبھی کوئی کام نہیں کیا… افغانستان کی امارت اسلامیہ
ختم ہوئی تو ان لوگوں نے صرف طعنے دیئے… اور آج لال مسجد خون خون ہوئی تو ان لوگوں
نے طعنوں کا بازار پھر گرم کردیا… آخر کوئی تو ان سے پوچھے کہ یہ چاہتے کیا ہیں؟…
لال مسجد کے نام پر شور اور بغاوت کا بازار گرم کرنے والے مجھے بتائیں کہ ان کے
پاس کیا پروگرام ہے؟… اگر واقعی ان کے پاس کوئی مفید عملی ترتیب ہوئی تو ہم ان شاء
اللہ ان کا ساتھ دیں گے مگر ان کے پاس تو سوائے غیبت، شور اور طعنوںکے کچھ بھی
نہیں ہے…
اس وقت اگر وفاق المدارس والے حضرات اس مسئلے کو حل کرنے کے
لئے کھڑے ہوئے ہیں تو ہمیں چاہئے کہ ان کا احترام کریں اور ان کا ساتھ دیں تاکہ…
مسجد کو دوبارہ آباد کیا جاسکے… مولانا عبدالعزیز صاحب کو چھڑایا جاسکے… اور
قاتلوں کو تختہ دار تک پہنچایا جاسکے… اس موقع پر اگر ہم آپس میں الجھے رہے تو
قاتل بچ جائیں گے اور ہمارے نوجوان گستاخ شیعوں اور خارجیوں کی طرح اپنے اکابر کے
گریبان پکڑتے رہ جائیں گے… اور بہت ممکن ہے کہ کسی موقع پر ایک دوسرے کا خون کرنے
پر بھی اتر آئیں… اللہ تعالیٰ امت مسلمہ پر رحم فرمائے… رمضان المبارک کی برکتیں
عطاء فرمائے… اور ہمیں دینی معاملات کو سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے… امارت
اسلامیہ کے سقوط کے وقت جن لوگوں نے شور مچایا تھا، جماعتیں توڑی تھیں اور جذبات
میں مکے مار کر میزیں توڑیں تھیں… ان لوگوں نے بعد میں کیا کیا؟ میں نے ان سب سے
عرض کیا تھا کہ آپ جو کچھ چاہتے ہیں وہ بتائیں مگر ان کی زبانوں پر ایک ہی بات تھی
کہ سب بے غیرت ہوگئے ہیں… اور اب ہم کسی کی اطاعت نہیں کرسکتے… ہم نے ان سے اور سب
سے عرض کیا تھا کہ دشمن نے اپنا وار کرلیا ہے اب شہرت اور باتوں سے ہٹ کر جہاد کی
طرف توجہ کرو اور حملہ آور دشمن کے مقابلے کی تدبیر کرو… مگر وہ لوگ غیبت کا گوشت
کھاتے رہے اور شور مچاتے رہے… آج کوئی ان سے جاکر پوچھے انہوں نے کیا کیا؟ … وہ آج
بھی زندہ ہیں اور اسی ملک میں رہ رہے ہیں… جبکہ ُاس وقت جو لوگ مخلص رہے وہ الحمدللہ کامیاب ہوئے… اور اللہ پاک نے ان سے
بڑے بڑے کام لئے … اور آج کے اخبار کی ایک بڑی سرخی تھی کہ افغانستان میں امریکہ
کو شکست فاش ہوچکی ہے مگر وہ اسے تسلیم کرنے کی ہمت نہیں رکھتا…
میں ’’اہل استقامت‘‘ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں… مجاہدین
کو چاہئے کہ ’’میڈیا‘‘ اور شہرت سے دور رہیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ جڑے رہیں اور
اپنے کام کو مقدم رکھیں اور نام کی فکر نہ کریں… جو اہل ایمان ساتھی رمضان المبارک
مہم کے لئے نکل کھڑے ہوئے ہیں… ان سب کو میرا عقیدت اور پیارا بھرا سلام … میں آپ
سب کے لئے دعاء گو ہوں … آپ بھی اپنی دعاؤں میں مجھے یاد رکھیں…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ’’رمضان المبارک‘‘ کا نور ہم سب کو نصیب
فرمائے… آج الحمدللہ چوتھا روزہ ہے اور
فضاء میں ہر طرف ایک خاص سکون نظر آرہا ہے… بے شک رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کا
مہینہ ہے، بہت برکت والا، بہت نور والا، بہت سکون والا… اللہ کرے ہم سب اس مہینے
کو کمالیں، حاصل کرلیں اور ہم سب کی اس میں بخشش ہوجائے… آئیے اس کے لئے چند باتوں
کا مذاکرہ کرتے ہیں
اللہ تعالیٰ سے توڑنے والی تین چیزیں
ایک مسلمان کو تین چیزیں اللہ تعالیٰ سے توڑتی ہیں: (۱)زیادہ کھانا پینا۔ (۲)لوگوں
سے زیادہ میل جول۔ (۳)ضرورت سے زیادہ باتیں کرنا۔
علامہ ابن القیم ’’زادالمعاد‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’کھانے پینے کی زائد مقدار، لوگوں سے زیادہ میل جول، ضرورت
سے زیادہ گفتگو وہ چیزیں ہیں جن سے جمعیت باطنی میں فرق آتا ہے اور انسان اللہ
تعالیٰ سے کٹ کر مختلف راستوں پر بھٹکنے لگتا ہے۔ (زاد المعاد)
یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے ہمیں رمضان المبارک اور
روزہ نصیب فرمایا جس میں ہم اپنی ان تینوں بیماریوں کا علاج کرسکتے ہیں اور اپنی
روح کو پاک کرسکتے ہیں… پس ضروری ہے کہ رمضان المبارک میں کم کھائیں… لوگوں کے
ساتھ فضول گپ شپ کی مجلسیں نہ کریں اور اپنی زبان کو بہت قابو میں رکھیں…
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ روزہ ڈھال
ہے، جب تک اس کو پھاڑ نہ ڈالا جائے (نسائی)۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کس چیز سے پھاڑ
ڈالے؟ ارشاد فرمایا: جھوٹ یا غیبت سے۔
اے مسلمانو! رمضان المبارک نور ہی نور ہے… پس اس کے ایک ایک
منٹ کو اللہ تعالیٰ کے لئے وقف کردو… اور اپنی زبانوں کو بہت قابو میں رکھو۔
رمضان المبارک کا اثر پورے سال پر ہوتا ہے
رمضان المبارک بہت قیمتی ہے… یہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کا
احسان اور انعام ہے… پس جو لوگ رمضان المبارک کو ٹھیک طرح گزارتے ہیں ان کا پورا
سال بلکہ پوری زندگی اچھی گزرتی ہے… اور جو لوگ رمضان المبارک کو ضائع کردیتے ہیں
ان کا پورا سال خراب گزر تا ہے اور شیطان ان کو ذلت اور گناہ میں ڈالتا ہے… حضرت
مجدّد الف ثانیؒ نے ایک بہت عجیب نکتہ لکھا ہے، اس نکتے کو سمجھ کر بار بار پڑھیں
تو رمضان المبارک کا ایک منٹ ضائع کرنا بھی گوارہ نہ ہو…
حضرت مجدّدؒ لکھتے ہیں:
’’اس مہینہ کو قرآن مجید کے ساتھ بہت خاص مناسبت ہے اور اسی
مناسبت کی وجہ سے قرآن مجید اسی مہینہ میں نازل کیا گیا، یہ مہنیہ ہر قسم کی خیر
وبرکت کا جامع ہے، آدمی کو سال بھر میں مجموعی طور پر جتنی برکتیں حاصل ہوتی ہیں
وہ اس مہینہ کے سامنے اس طرح ہیں جس طرح سمندر کے مقابلہ میں ایک قطرہ، اس مہینہ
میں جمعیت باطنی (یعنی دل کے سکون واطمینان) کا حصول پورے سال جمعیت باطنی کے لئے
کافی ہوتا ہے اور اس میں انتشار اور پریشان خاطری (یعنی دل کا ادھر اُدھر بھٹکنا)
بقیہ تمام دنوں بلکہ پورے سال کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے، قابل مبارکباد ہیں وہ
لوگ جن سے یہ مہینہ راضی ہو کر گیا، اور ناکام وبدنصیب ہیں وہ جو اس کو ناراض کرکے
ہر قسم کی خیر وبرکت سے محروم ہوگئے۔‘‘ (مکتوبات)
اس عبارت میں اشارۃً یہ بھی بتادیا کہ رمضان المبارک میں
قرآن پاک کی تلاوت زیادہ کرنے سے رمضان المبارک کی برکتیں زیادہ نصیب ہوتی ہیں… پس
خوب دل لگا کر زیادہ سے زیادہ قرآن پاک پڑھا جائے… دن کو تلاوت، رات کو تراویح میں
پڑھنا اور سننا اور چلتے پھرتے وہ سورتیں اور آیتیں پڑھتے رہنا جو زبانی یاد ہیں…
اگر ہم نے چار منٹ باتیں کیں تو ہمیں کیا ملے گا؟… اور اگر انہی چار منٹوں میں ایک
بار سورۃ یس ٓ پڑھ لی تو آخرت کا عظیم خزانہ ہمارے ہاتھ آجائے گا… رمضان المبارک
میں تو ہرعبادت کا ثواب ستر گنا سے بھی زیادہ ہوجاتا ہے… بس اے مسلمانو! قرآن پاک
سے دل لگاؤ… اور اس کی خوب تلاوت کرو… خوب تلاوت
ایک کام تو کرلیں
رمضان المبارک میں نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا
ثواب ستر فرضوں کے برابر ہوجاتا ہے… اس میں شک کی گنجائش نہیں… پھر ہم اتنے بڑے
ثواب کو حاصل کیوں نہیں کرتے؟… رمضان المبارک میں صرف اتنا کرلیں کہ تراویح کا
پورا اہتمام کریں… اور ہر نماز کے ساتھ جو غیر مؤکدہ سنتیں اور نوافل ہیں ان کا
بھی اہتمام کرلیں تو تقریباً چالیس رکعت نفل ہوجائیں گے… اللہ اکبر! رمضان المبارک
کے اسّی سجدے ہمیں نصیب ہوجائیں گے… ان سجدوں کا کتنا اجر ہوگا، کتنا نور ہوگا اور
ان نوافل کی وجہ سے ہم اللہ تعالیٰ کے کتنے قریب ہوجائیں گے اس کو الفاظ میں بیان
نہیں کیا جاسکتا… اور کچھ نہیں تو ہم سب ایک عمل کا اہتمام کرلیں… وہ عمل یہ ہے کہ
روزانہ دو رکعت ’’صلوٰۃ الحاجۃ‘‘ پڑھ کر دعاء کرلیا کریں کہ یا اللہ ہمیں رمضان
المبارک اپنی رضا کے مطابق گزارنے کی توفیق عطاء فرما… اور اس رمضان المبارک میں
ہماری بخشش فرما… انشاء اللہ یہ مختصر سا عمل ہمیں بڑے اعمال پر کھڑا کردے گا… خود
سوچیں ان لوگوں کے لئے کتنا اجر ہے جو رمضان المبارک میں جہاد کا فریضہ زندہ کرتے
ہیں… اور جہاد کا کام کرتے ہیں… یعنی سب سے افضل مہینے میں سب سے افضل کام… اللہ
اکبرکبیرا … اسلام کا سب سے فضیلت والا غزوہ… غزوۂ بدر بھی اس مہینے میں ہوا… یہ
مبارک غزوہ قیامت تک کے مسلمانوں کے لئے ایک روشن مثال، ایک واضح دلیل اور ایک
چمکتا ہوا نشانِ راہ ہے…
ایک بڑی غلطی
رمضان المبارک ’’صبر‘‘ کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے…
یہ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے… رمضان المبارک کا مقصد نفس کی اصلاح
ہے یعنی مسلمان کو تقویٰ نصیب ہوجائے… حضرت مولانا ابوالحسن ندویؒ لکھتے ہیں:
’’یہ (روزہ) دراصل اخلاقی تربیت گاہ ہے جہاں سے آدمی کامل
ہو کر اس طرح نکلتا ہے کہ خواہشات کی لگام اس کے ہاتھ میں ہوتی ہے، خواہشات اس پر
حکومت نہیں کرتیں بلکہ وہ خواہشات پر حکومت کرتا ہے، جب وہ محض اللہ کے حکم سے
مباح اور پاک چیزوں کو ترک کردیتا ہے تو ممنوعات اور محرمات سے بچنے کی کوشش کیوں
نہ کرے گا؟ جو شخص ٹھنڈے میٹھے پانی اور پاکیزہ ولذیذ غذا کو خدا کی فرمانبرداری
میں چھوڑ سکتا ہے، وہ حرام اور نجس چیزوں کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنا کیسے گوارہ کر
سکتا ہے اور یہی ’’لعلکم تتقون‘‘ کا مفہوم ہے۔‘‘ (ارکان اربعہ)
مگر آج ہم لوگوں نے صبر اور روزے کے اس مہینے کو ’’کھانے
پینے‘‘ کا مہینہ بنادیا ہے… استغفراللہ، استغفراللہ… بس ہر کسی کی زبان پر کھانے
اور پینے کا تذکرہ ہے… طرح طرح کی سحری اور طرح طرح کی افطاری… بازاروں میں کھانے
پینے کے نئے نئے آئٹم… یہ کھاؤ وہ پیئو کے بڑے بڑے اشتہار… عجیب شیطانی چکر ہے کہ
پورا مہینہ چیزیں خریدنے، پکانے اور کھانے میں گزر جاتا ہے اور آخری عشرہ عید کی
خریداری کی نذر ہوجاتا ہے… ہائے بدقسمتی کہ اتنا قیمتی رمضان جس کے ذریعے ہم جنت
کی ہمیشہ ہمیشہ والی بڑی بڑی نعمتیں حاصل کرسکتے تھے طرح طرح کے کھانے بنانے میں
گزر جاتا ہے… استغفر اللہ، استغفراللہ …
امام غزالیؒ لکھتے ہیں:
’’پانچواں ادب یہ ہے کہ افطار کے وقت حلال غذا میں بھی
احتیاط سے کام لے اور اتنا نہ کھائے کہ اس کے بعد گنجائش ہی باقی نہ رہے، اس لئے
کہ حلق تک بھرے ہوئے پیٹ سے زیادہ بڑھ کر کوئی بھر جانے والی چیز اللہ کے نزدیک
ناپسندیدہ نہیں ہے… اگر روزہ دار افطار کے وقت دن بھر کی تلافی کردے اور جو دن بھر
کھانا تھا وہ اس ایک وقت کھالے تو اللہ کے دشمن پر غالب آنے اور شہوت کو ختم کرنے
میں روزہ سے کیا مدد ملے گی؟ یہ عادتیں مسلمانوں میں اتنی پکی اور عام ہوچکی ہیں
کہ رمضان کے لئے بہت پہلے سے سامان خوراک جمع کیا جاتا ہے اور رمضان کے دنوں میں
اتنا اچھا اور نفیس کھانا کھایا جاتا ہے جو اور دنوں میں نہیں کھایا جاتا، روزہ کا
مقصود تو خالی پیٹ رہنا اور خواہشات نفس کو دبانا ہے تاکہ تقویٰ کی صلاحیت پیدا
ہوسکے، اب اگر معدہ کو صبح سے شام تک کھانے پینے سے محروم رکھا جائے اور شہوت اور
بھوک کو خوب امتحان میں ڈالنے کے بعد انواع واقسام کے کھانوں سے پیٹ بھر لیا جائے
تو نفس کی خواہشات اور لذتیں کم نہ ہوں گی اور بڑھ جائیں گی، بلکہ ممکن ہے کہ بہت
سی ایسی خواہشات جو ابھی تک خوابیدہ تھیں وہ بھی بیدار ہو جائیں، رمضان کی روح اور
اس کا راز ان طاقتوں کو کمزور کرنا ہے جن کو شیاطین اپنے وسائل کے طور پر استعمال
کرتے ہیں اور یہ بات ’’تقلیل غذا‘‘ ہی سے حاصل ہوگی، یعنی یہ کہ شام کو اتنا ہی
کھائے جتنا اور دنوں میں کھاتا تھا۔ اگر کوئی دن بھر کا حساب لگا کر ایک ہی وقت
میں کھالے تو اس سے روزہ کا فائدہ حاصل نہ ہوگا۔
بلکہ یہ بھی آداب میں داخل ہے کہ دن میں زیادہ نہ سوئے،
تاکہ بھوک پیاس کا کچھ مزہ معلوم ہو، قُویٰ کے ضعف کا احساس ہو، قلب میں صفائی
پیدا ہو، اسی طرح ہر رات کو اپنے معدہ کو اتنا ہلکا رکھے کہ تہجد اور اوراد میں
مشغولی آسان ہو اور شیطان اس کے دل کے پاس منڈلا نہ سکے اور دل کی اس صفائی کی وجہ
سے عالم قدس کا دیدار اس کے لئے ممکن ہو۔ (احیاء العلوم)
باقی یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ رمضان المبارک میں مؤمن کا رزق
بڑھا دیا جاتا ہے… اور مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ خوب ہمدردی کرتے ہیں اور ایک
دوسرے کو افطار کراتے ہیں… اس کی وجہ سے عام دنوں کی بنسبت کھانے پینے کی چیزوں
میں کچھ اضافہ ہو ہی جاتا ہے… تو اس کا آسان علاج یہ ہے کہ ہم اپنی عبادت اور محنت
میں بھی اضافہ کردیں… جو پہلے ایک پارہ پڑھتا تھا وہ اب دس یا پانچ پارے پڑھے…
چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے ان چار چیزوں کی کثرت کی جائے:
(۱) کلمہ طیبہ۔ (۲)استغفار۔ (۳)جنت کا سوال (۴)جہنم
سے پناہ…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ، اَسْتَغْفِرُاللہ، اَللّٰہُمَّ
اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْجَنَّۃَ وَاَعُوْذِبَکَ مِنَ النَّارِ
اسی طرح نوافل بھی بڑھا دیئے جائیں… اور جتنا کھانا اپنے
گھر میں کھائیں اتنا یا اس سے زیادہ مجاہدین، مہاجرین اور غریبوں تک پہنچائیں… اس
طرح حساب برابر ہو جائے گا اور افطار وسحری کی زیادہ چیزیں ہمارے روزے کو خراب
نہیں کرسکیں گی… امام ابن قیمؒ لکھتے ہیں:
روزہ ظاہری اعضاء اور باطنی قوتوں کی حفاظت میں بڑی تاثیر
رکھتا ہے، فاسد مادہ کے جمع ہوجانے سے انسان میں جو خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں ان سے
وہ اس کی حفاظت کرتا ہے۔ (زادالمعاد)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
اس لحاظ سے یہ (روزہ) اہل تقویٰ کی لگام، مجاہدین کی ڈھال
اور ابرار و مقربین کی ریاضت ہے۔ (زادالمعاد)
یعنی سب مسلمان ’’روزے‘‘ کے محتاج ہیں اور ’’روزہ‘‘ ہم سب
کی ضرورت ہے خواہ کوئی مجاہد ہو یا بہت بڑا ولی… اور روزہ کا مقصد اسی وقت حاصل
ہوتا ہے جب غذا میں کچھ کمی کی جائے… پس اے مسلمانو! روزے کا مزہ حاصل کرو اور یہ
مزا بھوکا رہنے میں ہے نہ کہ اتنا کھانے میں کہ پیٹ سخت ہوجائے…
روح کی پرواز
ہر زندہ انسان میں دو چیزیں ہوتی ہیں ایک روح اور دوسرا
جسم… یاد رکھیں ہماری روح اوپر سے آئی ہے… جی ہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے
عالم غیب سے عالم قدس سے … اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
ونفخت فیہ من روحی (حجر۲۹)
’’اور میں نے (یعنی اللہ تعالیٰ نے) اس میں اپنی طرف سے روح
پھونک دی‘‘
اور ہمارا جسم زمین کی مٹی سے بنا ہے… لیس دار مٹی، چپکنے
والی مٹی… سڑی ہوئی مٹی سے… اسی لئے تو انسان میں چپکنے کی عادت ہے… دنیا کی چیزوں
پر یہ انسان گرتا ہے اور ہر چیز سے چپکتا ہے…
انا خلقنا ہم من طین لازب (الصّٰفّٰت۱۱)
’’ہم نے ان لوگوں کو چپکتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا
اگر آپ نے یہ بات سمجھ لی تو اب اگلی بات سمجھیں… انسان کی
روح اسے اوپر لے جانا چاہتی ہے… اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرانا چاہتی ہے کیونکہ روح
اوپر سے آئی ہے… پس جن لوگوں کی روح ٹھیک اور طاقتور ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ سے
ملاقات کا شوق رکھتے ہیں اور جنت کی نعمتوں کو یاد کرکے وہاں جانے کے لئے بے قرار
ہوجاتے ہیں… مگر جن لوگوں کی روح جسم کے قبضے میں آجاتی ہے تو ایسے لوگ جانوروں کی
طرح صرف اپنی خواہشات پوری کرنے میں لگے رہتے ہیں… آپ ایسے لوگوں کو بھی دیکھیں گے
جن کو پوری زندگی میں ایک منٹ بھی جنت کا شوق پیدا نہیں ہوتا… اور نہ اللہ تعالیٰ
سے ملاقات ان کو اچھی لگتی ہے… یہ لوگ بس کھاتے ہیں کماتے ہیں اور دنیا بناتے ہیں…
اور دنیا کی چیزوں پر گرتے ہیں… اگر یہ بات بھی آپ کو سمجھ آگئی تو اب اگلی بات
سمجھیں!
انسان اگر اپنی روح کو طاقتور بنالے تو وہ فرشتوں کے مقام
تک جا پہنچتا ہے بلکہ بعض اوقات فرشتوں سے بھی افضل ہوجاتا ہے… اور اگر انسان اپنے
جسم کے تقاضوں کو پورا کرنے میں لگا رہے تو وہ جانوروں سے بھی بدتر ہوجاتا ہے…
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَیَاْکُلُوْنَ
کَمَا تَاْکُلُ الْاَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًی لَّہُمْ (محمد۱۲)
’’اور جو کافر ہیں وہ عیش کر رہے ہیں اور کھا (پی) رہے ہیں
جس طرح چوپائے (جانور) کھاتے ہیں آگ ہی ان کا ٹھکانا ہے‘‘
اب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر رحم فرمایا کہ… ان کو رمضان
المبارک اور روزہ نصیب فرمایا… اس روزے کی برکت سے انسان کی روح اس کے جسم پر غالب
آجاتی ہے اور اسے اوپر کی طرف لے جاتی ہے جی ہاں ایمان کی طرف، ترقی کی طرف اور
جنت کی طرف… پس ہمیں رمضان المبارک اور روزے کی نعمت کا شکر ادا کرنا چاہئے اور اس
مبارک موسم سے پورا پورا فائدہ اٹھا کر اپنی روح کو مضبوط بنانا چاہئے… ایک حدیث
قدسی ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
’’روزہ میرے لئے ہے اور میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا…‘‘
اللہ اکبرکبیرا… اللہ تعالیٰ نے جس بدلے کو روزے دار کے لئے
چھپا رکھا ہے اور فرمایا ہے کہ میں وہ خود اسے بلاواسطہ دوں گا وہ کتنا بڑا بدلہ
ہوگا… کتنا عظیم کتنا مزیدار… یا اللہ ہم سب کو نصیب فرما… ہم سب کو نصیب فرما…
(آمین یا ارحم الراحمین)
٭٭٭
اللہ تعالیٰ توفیق عطاء فرمائے… ایک تحفہ آپ سب کی خدمت میں
پیش کرنے کا ارادہ ہے… بہت قیمتی اور بہت شاندار تحفہ… میں جب بھی اس ’’تحفے‘‘ کے
فضائل اور فوائد پڑھتا ہوں تو دل چاہتا ہے کہ ہر مسلمان اس قیمتی خزانے کا مالک بن
جائے… اب الحمدللہ رمضان المبارک کے پیارے
پیارے دن اور میٹھی میٹھی راتیں ہیں، اب تو اس تحفے کی قیمت اور زیادہ بڑھ گئی ہے…
میری آپ سب سے عاجزانہ درخواست ہے کہ رمضان المبارک ہی میں اس پر عمل شروع
فرمادیں… انشاء اللہ اس کی برکت سے رمضان المبارک کے انوارات بھی خوب خوب حاصل ہوجائیں
گے… وہ ’’تحفہ‘‘ آپ کی خدمت میں پیش کرنے سے پہلے دو باتیں…
(۱) علامہ ابن القیمؒ زاد المعاد میں لکھتے ہیں:
رمضان المبارک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ مبارکہ
یہ تھا کہ آپ مختلف عبادات کی کثرت فرماتے تھے، حضرت جبرئیل علیہ السلام رمضان
المبارک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن پاک کا دور کرنے کے لئے تشریف
لاتے تھے… جن دنوں حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے آپ
ان دنوں چلتی ہواؤں سے بھی زیادہ سخاوت فرماتے، ویسے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم
لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے جبکہ رمضان المبارک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی
سخاوت اور بڑھ جاتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک میں صدقہ، احسان،
تلاوت قرآن، نماز، ذکر اور اعتکاف کی کثرت فرماتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم
خاص طور پر رمضان المبارک میں دیگر مہینوں سے زیادہ عبادت کا اہتمام فرماتے
تھے۔(زادالمعاد ص۲۵ ج۲)
ہم نے اور آپ نے اپنے رہبر و آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کا عمل پڑھ لیا… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور پیروی ہی میں ہمارے لئے
خیر ہی خیر ہے… ہم ’’امت مسلمہ‘‘ کے افراد ہیں ہمارے لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم کے اتباع ہی میں کامیابی ہے… ہم یہودی نہیں ہیں کہ بنی اسرائیل میں اپنے لئے
’’نمونے‘‘ ڈھونڈیں… پس اے بھائیو اور بہنو… رمضان المبارک کی ایک ایک گھڑی کو
قیمتی بنانے کی فکر ہم سب کو کرنی چاہئے… یاد رہے کہ رمضان المبارک کا ہر لمحہ
’’رمضان‘‘ ہے… اس لئے روزہ افطار کرنے کے بعد شرارتوں میں لگ جانا ٹھیک نہیں ہے…
(۲) ہمارے اکابر میں سے امام الاولیاء حضرت مولانا احمد علی
لاہوریؒ کو اللہ تعالیٰ نے امتیازی شان بخشی تھی … آپ قرآن پاک کی جہادی تفسیر
بیان فرماتے تھے اور خود بھی جہاد کے لئے تیار رہتے تھے… انتقال کے بعد آپ کی قبر
مبارک سے خوشبو آتی تھی… آپ نے پوری زندگی رزق حلال کا خاص اہتمام فرمایا… آپ پختہ
عالم دین اور صاحب کشف ولی اللہ تھے… مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی
ندویؒ جیسے اکابر نے آپ سے علمی وروحانی فیض حاصل کرنے کو سعادت سمجھا… اتنے اونچے
مقام کے عالم اور ولی کا ’’جہاد‘‘ کے بارے میں کیا طرز عمل تھا؟… ملاحظہ فرمائیے
یہ عبارت:
جہاد کشمیر میں حضرت لاہوریؒ کا حصہ
کشمیر کی جنگ میں مجاہدین کی کمی نہ تھی، کمی تھی تو سامان
حرب اور دیگر ضروریات کی… جس کے لئے سرمایہ کی ضرورت تھی حضرت (لاہوریؒ) اس جہاد
میں حصہ لینے کی خاطر ہزاروں روپے کی وہ رقم جو شیرانوالہ مرکز میں جمع ہوتی خود
لے کر روانہ ہوتے اور اس وقت کی ذمہ دار شخصیت کے سپرد کردیتے، اس کا واپسی پر
باقاعدہ اعلان کردیتے، شب و روز اہمیت جہاد کا ذکر ہوتا، فرماتے: دل کی تمنا یہی
ہے کہ ڈوگروں کے مقابلے میں فرنٹ پر پہنچ کر صف اوّل میں شریک ہوجاؤں، سینے میں
گولی لگے اور شہادت نصیب ہوجائے، ہوتا وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہو، مجاہدین
کی ضروریات کا مہیّا کرنا زیادہ ضروری تھا اس کام میں حضرتؒ نے بڑھ چڑھ کر حصہ
لیا۔(مرد مؤمن ص۱۲۹)
مبارک ہو ان خوش قسمت ساتھیوں کو جو مسجد نبوی سے لے کر
حضرت لاہوریؒ کی مسجد تک کے سلسلے کو زندہ رکھے ہوئے ہیں… مسجد نبوی شریف میں تبوک
کے مجاہدین کے لئے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر بچھائی اور آقا کے سچے
غلام حضرت لاہوریؒ نے کشمیری مجاہدین کے لئے چادر بچھائی… مبارک ہو جہاد کے خادموں
کو، مبارک ہو شہداء کے خدمتگاروں کو… بہت مبارک بہت مبارک…
ایک قیمتی تحفہ
ان دو باتوں کے بعد اب اپنی اصل بات کی طرف آتے ہیں… تحفہ،
جی ہاں بہت قیمتی تحفہ یہ ہے کہ ہم سب فجر کی نماز کے بعد ایک سو بار ایک عظیم
الشان کلمہ پڑھ لیا کریں:
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ لَہُ
الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ…
جی ہاں سو بار… پوری محبت اور توجہ سے پڑھ لیا کریں… یقین
کریں اتنا کچھ ملے گا جو بیان سے باہر ہے… یہ ایسا طاقتور کلمہ ہے جو فوراً عرش
عظیم تک جا پہنچتا ہے اور انسان کے لئے رحمت، قبولیت اور حفاظت کا دروازہ کھلوا
دیتا ہے… اور ایک مسلمان کو اونچے درجے کا مسلمان بنادیتا ہے … اللہ اکبر کبیرا…
حضرت امام بخاریؒ نے یہ حدیث مبارک روایت کی ہے… پوری محبت سے پڑھیں کہ آقا صلی
اللہ علیہ وسلم ہم سے کیا فرما رہے ہیں:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے دن میں سو مرتبہ پڑھا:
لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وہو علی
کل شیء قدیر (ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے اس کا کوئی
شریک نہیں وہی بادشاہت کا مالک ہے اور اسی کے لئے سب تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر
قادر ہے) تو اس کو دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ہوگا اور اس کے نامۂ اعمال میں سو
نیکیاں لکھی جائیں گی اور سو گناہ مٹا دیئے جائیں گے اور اس دن شام تک کے لئے یہ
دعاء شیطان سے اس کی حفاظت (کا ذریعہ) ہوگی اور اس سے کوئی شخص افضل نہ ہوگا لیکن
جس نے اس سے بھی زیادہ پڑھا ہو۔ (صحیح بخاری)
اللہ اکبر کبیرا… اندازہ لگایئے کہ کتنی زیادہ فضیلت ہے اور
کتنی زیادہ حفاظت… لوگ پوچھتے ہیں ایک کلمے میں اتنی طاقت؟ جی ہاں یہ اللہ پاک کے
کلمات ایٹمی اسلحے کے ’’ڈیجیٹل کوڈ‘‘ سے زیادہ طاقتور ہیں… نمبر تو سب ایک، دو تین
ہوتے ہیں مگر بعض نمبر ملائیں تو کسی بھنگی سے بات ہوتی ہے اور بعض نمبر ملائیں تو
ملک کا بادشاہ فون اٹھاتا ہے… ریموٹ دھماکے میں بھی چند نمبر ملاتے ہیں اور منٹوں
میں زمین لرز جاتی ہے… زبان سے ’’قبول ہے‘‘ کا جملہ کہا تو غیر عورت حلال ہوگئی…
اور صرف لفظ ’’طلاق‘‘ کے استعمال سے حلال بیوی سے تمام رشتے ختم… اللہ پاک کے
اسماء الحسنیٰ اور اللہ پاک کے کلمات پورے پورے جہانوں کے مالک ہیں… پانچ چھ فٹ کا
انسان اتنے بڑے جہانوں کا تصور بھی نہیں کرسکتا… اللہ پاک کے ستاروں میں سے بعض
ستارے پوری زمین سے ایک سو گنا بڑے ہیں… اور اللہ پاک کے کلمات ان ستاروں سے بھی
بڑے ہیں… ایک روایت کا مفہوم ہے کہ لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ ایسا کلمہ ہے
کہ اگر آسمان وزمین حلقہ بنا کر رکاوٹ بن جائیں تب بھی یہ کلمہ اور اس کلمے کا ذکر
اس رکاوٹ کو توڑ دے گا ( اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پہنچ جائے گا) اور اگر
آسمان وزمین ایک پلڑے میں رکھ دیئے جائیں اور دوسرے پلڑے میں یہ کلمہ ہو تو کلمے
والا پلڑا جھک جائے گا اور آسمان وزمین سے بھاری ہوجائے گا… (کتاب الزہد)
بعض روایات میں یہاں تک آتا ہے کہ اس کلمے کو پڑھنے والے کی
حفاظت کے لئے اللہ پاک آسمان سے خاص فرشتے نازل فرماتا ہے… اور شیطان اس کو کوئی
نقصان نہیں پہنچا سکتا… اور شرک کے علاوہ کوئی گناہ اس شخص تک نہیں پہنچ سکتا…
ویسے تو ’’وجد‘‘ کے ساتھ یہ ’’کلمہ‘‘ صبح شام چلتے پھرتے پڑھتے رہنا چاہئے… وحدہ
وحدہ کی رٹ لگانے سے دل کو سکون ملتا ہے کہ ہم ایک کے غلام ہیں… اور ہمارا رب ایک
ہے… اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے… اور لہ الملک کہنے سے یقین بنتا ہے کہ دنیا کے
بادشاہ اور حکمران کچھ نہیں… اصل مالک، اصل شہنشاہ صرف اللہ ہے… مگر اس کلمے کا
زیادہ فائدہ حاصل کرنے کے تین طریقے ہیں… اور جو مسلمان ان تین طریقوں کی پابندی
کرتا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اس کی جھولی بھر جاتی ہے… خصوصاً شرم گاہ کے
گناہوں میں پھنسے ہوئے لوگ… اور ہاتھوں سے بدکاری کرنے والے لوگ جب اس عمل کو کرتے
ہیں تو ان کو سکون نصیب ہوجاتا ہے… اور سچی توبہ کی توفیق مل جاتی ہے… دراصل اس
کلمے کی برکت سے بندے کی زندگی اچھے اعمال کی طرف مڑ جاتی ہے… اور یوں وہ ’’افضل
ترین مسلمانوں‘‘ کے مقام تک جا پہنچتا ہے… پڑھنے کے تین طریقے درج ذیل ہیں:
(۱) صبح فجر کے بعد اور رات کو مغرب یا عشاء کے بعد ایک سو بار پڑھیں
(۲) فجر اور مغرب کی نماز کے بعد اسی جگہ بیٹھے بیٹھے دس بار
پڑھیں مگر اس میں یحیی ویمیت کے الفاظ بڑھادیں
لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ لَہُ
الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ
قَدِیْرٌ
اس کے بے شمار فضائل ہیں… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا:
جو کوئی فجر کی نماز کے بعد تشہد کی حالت میں بیٹھے بیٹھے
کوئی گفتگو کرنے سے پہلے دس بار یہ کلمہ پڑھ لے اللہ تعالیٰ اس کے لئے دس نیکیاں
لکھ دے گا (دوسری روایت کے الفاظ میں ہے کہ دس مقبول نیکیاں لکھ دے گا) اور اس کے
دس گناہ مٹا دے گا (دوسری روایت میں ہے کہ دس ہلاک کرنے والے گناہ مٹا دے گا) اور
اس دن وہ ہر ناگوار چیز سے محفوظ رہے گا اور شیطان سے حفاظت میں رہے گا اور شرک کے
سوا کوئی گناہ اس تک نہیں پہنچ سکے گا۔(ترمذی، الترغیب)
اور نسائی کی روایت میں ہے کہ جو مغرب کے بعد دس بار پڑھے
گا وہ صبح تک یہ سارے فضائل اور فوائد حاصل کرے گا… اور اللہ تعالیٰ اس کے لئے
محافظ فرشتے اتارے گا جو اس کی شیطان سے حفاظت کریں گے۔(نسائی، الترغیب)
(۳) جب بازار میں ہوں تو اس کلمے کو بہت کثرت سے پڑھیں اور اس
میں مزید وَہُوَ حَیٌّ لَّا یَمُوْتُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ کے الفاظ بڑھا دیں… بازار
میں صرف ایک بار یہ کلمہ پڑھنے سے اللہ تعالیٰ ہزاروں ہزار… یعنی لاکھوں بے شمار
نیکیاں عطاء فرماتا ہے۔
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ لَہُ
الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِیْ وَ یُمِیْتُ وَہُوَحَیٌّ لَّا یَمُوْتُ
بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ…
امام ترمذیؒ نے ’’جامع ترمذی‘‘ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ
سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
جو کوئی بازار گیا اور اس نے پڑھا
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ لَہُ
الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِیْ وَ یُمِیْتُ وَہُوَحَیٌّ لَّا یَمُوْتُ
بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ…تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے
ہزاروں ہزار نیکیاں لکھ دے گا اور اس کے ہزاروں ہزار گناہ مٹا دے گا اور اس کے
ہزاروں ہزار درجے بلند کردے گا اور اس کے لئے جنت میں محل بنائے گا۔(ترمذی)
حدیث شریف میں ’’اَلْف اَلْف‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا
ترجمہ بعض علماء ’’دس لاکھ‘‘ کرتے ہیں اور بعض ’’ہزاروں ہزار‘‘ … ویسے یہ لفظ عربی
زبان میں کسی چیز کی کثرت بیان کرنے کے لئے بولا جاتا ہے…
جب کوئی دشمن کے سامنے حق بولے تو وہ اچھا لگتا ہے… بازار
شیطان کا اڈہ ہے پس جو مومن وہاں جاکر بھی اللہ تعالیٰ کو نہیں بھولتا… بلکہ ان
طاقتور اور جامع الفاظ کے ساتھ اس کی وحدانیت اور عظمت کا اعلان … اور اپنی
وفاداری کا اظہار کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کو بہت پسند آتا ہے… چنانچہ اس کے لئے
رحمتوں اور فضیلتوں کے دروازے کھل جاتے ہیں…
خلاصہ یہ ہوا ہے کہ اس باعظمت اور بابرکت کلمے کا پورا
فائدہ حاصل کرنے کے لئے یہ تین نکاتی نصاب پیش کیا گیا ہے کہ صبح شام سو سو بار
پڑھ لیں، فجر اور مغرب کے بعد دس دس بار پڑھ لیں (یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ کے اضافے کے
ساتھ) اور جب بازار جائیں یا بازار سے گزریں تو کم از کم ایک بار اور زیادہ سے
زیادہ جتنا ہو سکے اس کا اہتمام کریں… (یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَہُوَ حَیٌّ لَّا
یَمُوْتُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ کے اضافے کے ساتھ) … اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو
آسانی اور قبولیت کے ساتھ اس کی توفیق عطاء فرمائے…اور اس عظیم کلمے کا پورا پورا
فیض عطاء فرمائے… آئیے مضمون کے خاتمے پر میں بھی پڑھ لوں اور آپ بھی
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ لَہُ
الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِیْ وَ یُمِیْتُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ
قَدِیْرٌ…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں سے بنائے، جنہوں نے رمضان
المبارک پایا اور اپنی بخشش کرالی… ملک کے سیاسی حالات کافی گرم ہیں… عدالتوں کو
’’مشکل کشا‘‘ سمجھنے والوں کو مایوسی کا دھکا لگا ہے… اور ادھر ’’بے نظیر صاحبہ‘‘
کی بے تابی عروج پر ہے اور وہ جلدی سے جلدی ’’کرسی‘‘ پر بیٹھنے کے لئے… پاکستانیوں
کو پکڑ پکڑ کر کافروں کے حوالے کر رہی ہیں… شیطان کا دھوکا بھی عجیب ہے، بے چاری
ابھی تک ملک میں واپس آئی نہیں… اس کے مشیر جنرل پرویز مشرف کے پاؤں چاٹ رہے ہیں
کہ وہ بے نظیر پر سے مقدمات ختم کردے… ادھر جان کا خطرہ اتنا ہے کہ کروڑوں روپے کی
بلٹ پروف گاڑی منگوائی جارہی ہے… مگر اس کے باوجود سخاوت کا یہ عالم ہے کہ کبھی
ڈاکٹر عبدالقدیر خان امریکہ کے حوالے، کبھی جیش محمد صلی اللہ علیہ وسلم والے
انڈیا کے حوالے… کبھی داؤد ابراہیم بھارت کے حوالے… کبھی ملک کے سائنسدان اقوام
متحدہ کے حوالے… ایسا لگتا ہے بی بی صاحبہ اس ملک میں اکیلی رہنا چاہتی ہیں… ادھر
ہمارے کرکٹ کھلاڑی رمضان المبارک کی برکت سے ٹونٹی ٹونٹی ورلڈ کپ جیتنا چاہتے تھے…
قوم کے روزے دار ان کے لئے دعائیں کر رہے تھے… استغفراللہ، استغفراللہ… کرکٹ کا
شوق رکھنے والوں سے درخواست ہے کہ وہ اس کھیل کو دین، رمضان اور دعاء کے ساتھ نہ
جوڑیں… کھیل بس کھیل ہوتا ہے، اس کی ہار جیت سے نہ تو کوئی دین ہارتا جیتتا ہے اور
نہ کوئی ملک… ویسے اگر پاکستان کی ٹیم جیت جاتی تو ملک کا کافی نقصان ہوتا… ہمارے
سخی بہادر ’’صدرصاحب‘‘ اس غریب ملک کے کروڑوں روپے ’’فاتح کھلاڑیوں‘‘ میں بانٹ
دیتے… ان کھلاڑیوں کے استقبال پر بہت سے لوگ اپنے روزے خراب کرتے… اخبارات میں ان
’’شودوں‘‘ کے بڑے بڑے فوٹو لگتے… اور کشمیر اور سیاچن پر ہندوستان کے قبضے میں
کوئی فرق نہ آتا… ادھر ہندوستان میں اپنی ٹیم کی فتح پر خوشیاں منائی جارہی ہیں…
وہ ملک جہاں کی ۳۳ فیصد آبادی بھوکی ننگی ہے وہاں ٹیم کے ہر کھلاڑی کو
اسّی لاکھ روپے دیئے گئے ہیں… بعض کھلاڑیوں کو مکانات بھی ملے ہیں… کرکٹ کا نشہ
بھی عجیب ہے کچھ عرصہ بعد بنگلہ دیش ’’ورلڈچیمپیئن‘‘ بن جائے گا… کافر چاہتے ہیں
کہ مسلمان انہی فتوحات میں خوش رہیں اور وہ پوری اسلامی دنیا پر قبضہ کرتے چلے
جائیں… ابھی ہمارے ملک میں صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں… یہ عجیب ’’دہشت گرد
انتخابات‘‘ ہیں… گولی، ڈنڈا، وردی، بدمعاشی، بے حیائی اور غیروں کی غلامی… معلوم
نہیں ایسے انتخابات کی ضرورت ہی کیا ہے؟… نتیجہ تو سب کو معلوم ہے … اللہ تعالیٰ
رحم فرمائے اور مسلمان کہلانے والے حکمرانوں کو آخرت کی فکر عطاء فرمائے…
؎ سامان سو برس کا پل کی خبر نہیں
آخرت کے حساب کتاب سے بے خوف آنکھیں بند کرکے وہ اپنے
اقتدار کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں… ایوب خان، یحییٰ خان اور ان سے پہلے سکندر مرزا
… یہ سب کہاں گئے؟… گہری قبریں، خوفناک کھائیاں اور سخت منزلیں… کاش کوئی یاد
رکھے، کاش کوئی یاد رکھے… بات یہ چل رہی تھی کہ پاکستان کا سیاسی ماحول کافی گرم
ہے… ہم دن کے وقت تو اخبار سے دور رہتے ہیں… روزے کی حالت میں اخبار پڑھنا ایک ظلم
اور بوجھ محسوس ہوتا ہے… مشکوک خبریں، جھوٹے کالم، فتنہ انگیز تصویریں… اور دھوکے
باز اشتہارات… روزے کی حالت میں یہ تمام کام ممنوع ہیں… اور روزہ نہ بھی ہو تب بھی
اخبارات کی تصاویر اور اشتہارات سے نظروں کی حفاظت کرنی چاہئے… ’’موبائل فون‘‘ تو
اب باقاعدہ فتنہ بنتا جارہا ہے… روزانہ نئے نئے پیکج اور پھر ان پیکیجوں کے
اشتہارات… معلوم نہیں روز کتنے گھرانے اس موبائل فون کی وجہ سے تباہ ہوتے ہیں…
جمعہ کے دن شرعی مسائل والے صفحے پر تھا کہ میاں بیوی میں موبائل فون کی وجہ سے
طلاق ہوگئی … یا اللہ رحم فرما… موبائل فون تو حیاء اور تقوے کا قاتل بنتا جارہا
ہے… یہ ایسا سانپ ہے جو کسی کو ڈس لے تو قبر کے عذاب اور ذلت میں جا پھینکتا ہے…
خیر دن کو تو اخبار کسی تکیے کے نیچے روپوش رہتا ہے مگر رات کو کبھی کبھار تھوڑا
سا دیکھ لیتے ہیں اور بی بی سی کی اردو خبروں سے بھی کچھ حالات معلوم ہوجاتے ہیں…
کاش ہمارے فوجی حکمران رمضان المبارک کے تقدس کا خیال رکھتے ہوئے ’’صدارتی ڈرامہ‘‘
کچھ عرصہ کے لئے موخر کردیتے… مگر جسٹس افتخار محمد چودھری کے ڈر سے صدر صاحب جلد
از جلد قانون کی کھال پہننا چاہتے ہیں… چنانچہ پولیس، فوج، رینجرز اور سیاستدان،
ان سب کے روزے صدر صاحب نے خراب کردیئے ہیں… شاید دنیا کا ہر گناہ موجودہ حکمرانوں
کی قسمت میں لکھا ہوا ہے… رمضان المبارک کے مہینے میں بھی قبائلی مسلمانوں کے خلاف
آپریشن جاری ہے… اورادھر نیٹو والوں کی خدمت بھی پورے جذبے کے ساتھ کی جارہی ہے…
یہاں ایک دلچسپ بات یاد آگئی… اللہ تعالیٰ مجاہدین کو جزائے
خیر عطاء فرمائے، انہوں نے قرون اولیٰ کی فتوحات کی یادیں تازہ کردی ہیں… ایک
دوروز پہلے افغانستان میں تعینات صلیبی فوجوں کے کمانڈر نے کہا کہ ہم جو علاقہ فتح
کرتے ہیں کرزئی کے فوجی اس علاقے کی حفاظت نہیں کرسکتے… اور طالبان وہ علاقے
دوبارہ فتح کرلیتے ہیں… اب اس سال جو علاقے ہم نے فتح کیے تھے اگلے سال ان کی خاطر
ہمیں پھر جنگ کرنی پڑے گی… اللہ اکبر کبیرا… یہ ہے عالمی قوتوں اور ایٹمی
ٹیکنالوجی کی بے بسی… ان مسلمانوں کے سامنے جو رمضان المبارک میں سوکھی روٹی کھا
کر جہاد کر رہے ہیں… اللہاکبرکبیرا… دراصل ’’ایمان‘‘ سب سے بڑی طاقت ہے… وہ لوگ اس
طاقت کو کیا جانیں جنہوں نے ’’ایمان‘‘ کا مزہ چکھا ہی نہیں… یہ کہنا کہ ابھی جہاد
کا وقت نہیں آیا ایک خطرناک گناہ ہے… کل کوئی کھڑے ہو کر کہے گا کہ حج کا فریضہ تو
پکے مسلمانوں کے لئے تھا ہم کچے مسلمان ہیں ابھی ہمارے لئے حج کا وقت نہیں آیا…
اسی طرح کوئی نماز کا انکار کردے گا اور کوئی زکوٰۃ کا…کیونکہ قرآن پاک کی کسی آیت
کے شروع میں یہ نہیں لکھا ہوا کہ یہ حکم پکے مسلمانوں کے لئے ہے اور یہ کچے
مسلمانوں کے لئے… یہ بھی کہیں نہیں لکھا ہوا کہ نماز اور روزہ ہر مسلمان کے لئے ہے
اور جہاد صرف پکے مسلمانوں کے لئے ہے… الحمدللہ میرے آقا مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم کی محنت ایسی کمزور نہیں ہے کہ ابھی سے پکے مسلمانوں کی نسل ہی ختم
ہوجائے… اس زمانے کے جو ’’فدائی مجاہدین‘‘ ہیں ان کے ایمان کے سامنے پوری دنیا کا
کفر لرزہ براندام ہے… بیس سال کا نوجوان مسکراتا ہوا، کلمہ پڑھتا ہوا، ذکر کرتا
ہوا… اپنے جسم کے ہزاروں ٹکڑے کروادیتا ہے… آخر کس لئے؟ … صرف اللہ تعالیٰ کے لئے…
صرف اللہ پاک کے لئے… ہاں اس نوجوان کو اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر پکا یقین ہوتا ہے،
بالکل پکا ایمان … اسی لئے تو وہ خوشی سے آخرت کی کامیابی کو گلے لگا لیتا ہے…
ایمان کا نعرہ اتنا طاقتور ہے کہ… شیطان کے تمام جال ٹوٹ جاتے ہیں… آجکل لوگ کثرت
سے ’’وسوسوں‘‘ کی شکایت کرتے ہیں کہ مجھے یہ وسوسہ آتا ہے وہ وسوسہ آتا ہے… میرے
پاس جو ڈاک آتی ہے اس میں بھی ایسے خطوط کافی مقدار میں ہوتے ہیں جن میں وسوسوں کی
پریشانی کا اظہار ہوتا ہے… ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے وساوس کا ایسا علاج
ارشاد فرمایا ہے کہ جس کے کرتے ہی فوراً… تمام وساوس اور وساوس ڈالنے والے شیاطین
دُم دبا کر بھاگ جاتے ہیں… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا کہ جب ’’وسوسہ‘‘ آئے
تو فوراً اعلان کردو
اٰمنت باللہ ورسولہ
ترجمہ: میں ایمان لایا اللہ پر اور اس کے رسول صلی اللہ
علیہ وسلم پر…
آپ یقین کے ساتھ یہ عمل کرکے دیکھ لیں … جیسے ہی دل میں
کوئی وسوسہ اللہ تعالیٰ کے بارے، اس کے انبیاء کے بارے … حضرات صحابہ کرام کے
بارے، دین کے بارے، جہاد کے بارے میں آئے فوراً کہیں…
اٰمَنْتُ بِاللہ وَرَسُوْلِہٖ…
وہ وسوسہ انشاء اللہ اسی وقت غائب ہوجائے گا اور دل ایمان
سے بھر جائے گا… اس میں ’’تجربے‘‘ کی ضرورت ہی نہیں ہے، یہ ایک یقینی اور پکا علاج
ہے… دراصل ’’ایمان‘‘ بہت بڑی طاقت ہے… ایک کافر ستر سال تک پہاڑوں کے برابر گناہ
کرتا رہے اور پھر ایمان لے آئے… ایمان اس کے کروڑوں اربوں گناہ مٹا کر رکھ دے گا…
ایمان کی طاقت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ جہنم سات زمینوں کے نیچے ہے اور جنت سات
آسمانوں کے اوپر ہے… ایک شخص کفر کی وجہ سے جہنم کی پستی میں ہوتا ہے پھر وہ اچانک
ایمان لے آتا ہے تو وہ جنتی بن جاتا ہے… دنیا کا کون سا راکٹ اتنا لمبا سفر طے کر
سکتا ہے… چاند جو زمین کے بالکل قریب ہے اس تک جاتے ہوئے بھی ایک راکٹ کے کئی کئی
انجن جل جاتے ہیں… جبکہ جنت تو بہت دور ہے بہت اونچی ہے آسمانوں سے بھی دور اور
اونچی… مگر ایمان کی طاقت ایک بندے کو زمین سے اٹھا کر جنت تک لے جاتی ہے… اللہاکبرکبیرا…
ویسے ’’وسوسوں‘‘ کا حکم یہ ہے کہ ’’وسوسہ‘‘ آنا نقصان دہ نہیں ہے وسوسہ لانا نقصان
دہ ہے… یعنی جو وسوسے خود آتے ہیں ان کی فکر اور پرواہ نہ کریں… اگر روزے دار کو
پوری ایک دیگ چاول کھانے کا وسوسہ آئے تو کیا اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا؟… ایک بزرگ
نے فرمایا کہ انسان کا ذہن سڑک کی طرح ہے … سڑک پر ہر طرح کی ٹریفک چلتی رہتی ہے…
گاڑیاں، گدھے، گھوڑے، انسان سب سڑک پر چلتے ہیں… گدھے گھوڑے سڑک پر لید بھی کردیتے
ہیں مگر بعد میں گزرنے والے ٹرک اس لید کو صاف کردیتے ہیں… اسی طرح انسان کو بھی
ہر طرح کے اچھے برے خیالات اور وسوسے آتے رہتے ہیں… بس کوشش یہ کرے کہ ٹریفک کو
رکنے نہ دے… یعنی کسی وسوسے کو پکڑ کر نہ بیٹھ جائے بلکہ برے وساوس کو
آگے گزاردے… اور پیچھے اچھے خیالات اور ذکر کی ٹریفک چلا دے… وسوسے ہر کسی کو آتے
ہیں اور جو لوگ معدے کے مریض ہوتے ہیں ان کو زیادہ آتے ہیں… اس لئے زیادہ وسوسوں
سے بچنے کے لئے معدہ ٹھیک رکھیں اور وسوسوں کی وجہ سے کوئی نیکی نہ چھوڑیں، کوئی
عبادت نہ چھوڑیں اور نہ مایوس ہو کر بیٹھ جائیں… بلکہ وسوسوں کو جھٹک دیں اور جب
وسوسہ آئے خوب توجہ سے یہ نعرہ لگائیں
اٰمنت باللہ ورسولہ
ارے میں تو اللہ تعالیٰ کا ہوں اور اس کے رسول صلی اللہ
علیہ وسلم کا ہوں… ایمان کا اعلان انشاء اللہ ہر وسوسے کو بھگا دے گا… بات یہ چل
رہی تھی کہ طالبان کی یلغار کے سامنے الحمدللہ نیٹو افواج بے بسی محسوس کر رہی ہیں…
یہ سب ایمان کی برکت ہے جبکہ ہمارے بدنصیب حکمران نیٹو کی صلیبی افواج کا ساتھ دے
رہے ہیں… اللہ پاک ہم سب پر رحم فرمائے، رمضان المبارک کا سب سے قیمتی موسم یعنی
آخری عشرہ آنے والا ہے… آج ماشاء اللہ سولھواں روزہ ہے… اعتکاف والے ایک ایک منٹ
گن کر اس لمحے کا انتظار کر رہے ہیں جب وہ اللہ تعالیٰ کے مہمان بن جائیں گے… لیلۃ
القدر کی حسین رات آسمانوں کے اوپر سے جھانک رہی ہے… اللہ پاک مجھے بھی نصیب
فرمائے اور آپ سب کو بھی… آمین یاار حم الراحمین
٭٭٭
اللہ،اللہ ،اللہ رمضان المبارک مکمل ہونے والا ہے… یہ سوچ
کر دل اداس ہوتا ہے کہ صرف چار پانچ دن باقی رہ گئے ہیں… اللہ،اللہ ،اللہ ، کبھی
آپ نے سوچا کہ نماز کا آغاز کس نام سے ہوتا ہے؟…
ہم ’’اللہ اکبر‘‘ کہہ کر نماز شروع کرتے ہیں یعنی لفظ
’’اللہ‘‘ سے نماز شروع ہوتی ہے… اور نماز کا اختتام بھی اسی مبارک نام پر ہوتا ہے
جب ہم سب کہتے ہیں ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ‘‘… آخر میں لفظ ’’اللہ‘‘ ہی زبان سے
نکلتا ہے… یعنی نماز نے سکھادیا کہ ابتداء بھی ’’اللہ‘‘ کے نام سے اور انتہا بھی
’’اللہ‘‘ کے نام پر… اسی لئے تو آج رمضان المبارک کے اختتام پر میرا دل اللہ،اللہ
،اللہ پکار رہا ہے… اور دل چاہتا ہے کہ پورا کالم اسی ایک نام سے بھر دوں … اور
کچھ بھی نہ لکھوں بس اللہ،اللہ ،اللہ لکھتا جاؤں … اور پھر میں بھی پڑھوں اور آپ
بھی اللہ،اللہ ،اللہ … اس مضمون کو پڑھتے وقت جب بھی اللہ پاک کا نام مبارک آئے تو
آپ بھی ساتھ پڑھ لیں اللہ،اللہ ،اللہ … آپ اذان کو دیکھیں وہ ’’اللہ‘‘ سے شروع
ہوتی اور ’’اللہ‘‘ پر ختم ہوتی ہے… آغاز اللہ اکبر… اور اختتام لا الہ الا اللہ …
ایک مسلمان جب پیدا ہوتا ہے تو پہلی آواز اس کے کان میں پڑتی ہے اللہ اکبر… اور
مرتے وقت آخری لفظ اس کی زبان سے نکلتا ہے ’’اللہ‘‘ … لا الہ الا اللہ … اے
مسلمانو! اپنے بچوں کو سب سے پہلے ’’اللہ‘‘ کا نام سناؤ تاکہ مرتے وقت ان کی زبان
کا آخری لفظ ’’اللہ‘‘ ہو… رمضان المبارک کا آغاز بھی ’’اللہ‘‘ کے نام سے ہوا، چاند
نکلا تو اذان کی آواز گونجی اللہاکبر… پھر مسلمان اللہ پاک کی خاطر تراویح میں
کھڑے ہوگئے… اور پھر رات کے آخری حصے میں ’’اللہ کے نام پر لوگوں نے ایک دوسرے کو
’’سحری‘‘ کے لئے جگایا … اللہ کے پیارو! سحری کھالو… اللہ کی بندی اٹھو روٹی پکاؤ…
اللہ کے بندے دہی تو لے آؤ … بس سب کی زبان پر ’’ اللہ،اللہ ،اللہ ‘‘
… اللہپاک کے لئے روزہ … اللہ پاک کے لئے رات کا قیام، اللہپاک کے لئے
جہاد، اللہ پاک کے لئے صدقات، خیرات … اور اللہ پاک کے لئے گناہوں سے دوری … رمضان
نے تو مسلمانوں کے مزے کرادیئے اور ان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ جوڑ دیا اور ماحول
ایسا بن جاتا ہے کہ فضاء سے بھی ’’ اللہ،اللہ ،اللہ ‘‘ پڑھنے کی آواز محسوس ہوتی
ہے… اور آسمان کے تارے بھی پڑھتے ہیں اللہ،اللہ ،اللہ … آپ کبھی رات کو تنہائی میں
آسمان کی طرف دیکھیں، رمضان المبارک کا آسمان اور طرح کا محسوس ہوتا ہے… ہاں بھائی
یہ معمولی مہینہ تو نہیں ہے، یہ اللہ پاک کا اپنا خاص مہینہ ہے… بہت خاص، بہت
پیارا، اتنا پیارا کہ اللہ پاک نے اس میں قرآن مجید کو نازل فرما دیا… اور قرآن
پاک تو عرش اور کرسی سے بھی عظیم اور افضل ہے، دنیا کے آسمان زمین تو اس کے سامنے
کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتے… اللہ،اللہ ،اللہ رمضان المبارک میں قرآن پاک پڑھنے میں
کتنا مزہ آتا ہے، جیسے دل کو کسی نے شہد اور نور سے بھر دیا ہو… پھر دیکھیں آسمان
سے نصرت اس مہینے میں یوں نازل ہوتی ہے جیسے موسلا دھار بارش… غزوۂ بدر اسی مہینے
میں ہوا اور قیامت تک کے مسلمانوں کے لئے مثال بن گیا… مفسرین نے لکھا ہے کہ غزوۂ
بدر میں اللہ تعالیٰ نے جن فرشتوں کو جہاد کی وردی پہنادی ہے وہ قیامت تک اسی وردی
میں رہیں گے… اور مجاہدین کی نصرت کے لئے اترتے رہیں گے … اللہ،اللہ ،اللہ وردی کے
تذکرے سے یاد آگیا کہ قوم نے اس رمضان المبارک میں یہ عظیم الشان خوشخبری بھی سنی
کہ جنرل پرویز مشرف چند دن تک اپنی وردی اتار دیں گے… بے شک یہ مظلوم پاکستانیوں
کے لئے بہت بڑی خوشخبری ہے اور اللہ پاک کی بہت بڑی نصرت… آپ یقین کریں کہ اگر
اللہ پاک کی نصرت نہ ہوتی تو یہ جنرل مرنے کے بعد بھی خوشی سے وردی نہ اتارتا… اور
اس کی وردی مزید کئی سالوں تک مسلمانوں کے لئے مصیبت بنی رہتی… مگر اللہ پاک نے اس
کو مجبور کردیا ہے… وہ خوشی سے یہ فیصلہ نہیں کر رہا… وردی تو اس کی کھال ہے… اب
انشاء اللہ یہ کھال اتر جائے گی… اللہ پاک کا بہت شکر اور رمضان المبارک کا بہت
شکریہ … صدر صاحب کی وردی تو انشاء اللہ اتر جائے گی مگر ’’جہادی فرشتوں‘‘ نے وردی
نہیں اتاری… وہ قیامت تک زمین پر اترتے رہیں گے انشاء اللہ… وہ غزوۂ حنین میں بھی
اترے اور غزوۂ خندق میں بھی… اور وہ بنوقریظہ کے محاصرے میں بھی شریک ہوئے… افغانستان
کے جہاد میں ان فرشتوں کو روسی کافروں نے دیکھا اور ان میں سے کئی ایک یہ مناظر
دیکھ کر مسلمان ہوگئے… اللہ،اللہ ،اللہ … ڈاکٹر عبداللہ عزامؒ نے افغان جہاد کی
کرامتوں پر کتاب لکھی تھی… آیات الرحمٰن فی جہاد الافغان … کشمیر کے جہاد میں بھی
اللہ تعالیٰ کی نصرت خوب نازل ہوئی… اگر یہ نصرت نہ ہوتی تو انڈین آرمی ایک مہینے
میں جہاد کشمیر کے ہر نشان کو مٹا دیتی… پانچ، دس ہزار مجاہدین کا سات لاکھ آرمی
سے مقابلہ ہے… اس رمضان المبارک میں الحمدللہ کشمیری مجاہدین نے انڈین آرمی پر خوب
حملے کیے ہیں … اللہ،اللہ ،اللہ … نصرتوں والا رمضان المبارک جا رہا ہے… اور دل پر
اداسی کے بادل چھا رہے ہیں… پورے آٹھ سال پہلے ۲۲ رمضان کو جمعۃ المبارک کا دن تھا… اور اس سال بھی ۲۲ رمضان جمعۃ المبارک کے دن آیا ہے… اللہ،اللہ ،اللہ …
یاد کریں ۲۲رمضان المبارک جمعہ کا دن آٹھ سال پہلے… انڈیا میں جب ایک
جنازہ اٹھا تھا اور ایک جہاز اڑا تھا… جنازہ تو مفکر اسلام حضرت مولانا سید
ابوالحسن علی ندویؒ کا تھا… غلاموں کے ملک میں بسنے والا ایک ’’آزادمسلمان‘‘ … ایک
’’بڑا مسلمان‘‘ ایک ’’مثالی مسلمان‘‘ … اللہ،اللہ ،اللہ … بے شک مولانا ابوالحسن
ندویؒ جن کو ’’علی میاں‘‘ کہا جاتا تھا اس زمانے میں مسلمانوں کے ’’فکری امام‘‘
تھے… انہوں نے ہمیشہ ’’اسلام کی عظمت‘‘ کا خواب اپنی آنکھوں میں سجائے رکھا … اور
ہندوستان کے مسلمانوں کو برملا کہتے رہے کہ ہم نے دوبارہ اس زمین کو حاصل کرنا ہے…
اور ہم مسلمان غلامی کے لئے پیدا نہیں ہوئے… حضرت علی میاں جہاد کے عاشق تھے وہ
حضرت سید احمد شہیدؒ کے خاندان سے تھے… انہوں نے مسلمانوں کو جہاد پر کھڑا کرنے کے
لئے بہت کچھ لکھا … جی ہاں ماشاء اللہ بہت کچھ لکھا … وہ سید احمد شہیدؒ… کے قافلے
کی داستانیں عرب و عجم کو سناتے رہے اور اسلام کی تاریخ عزیمت مسلمانوں کو سمجھاتے
رہے… زندگی کے آخری سالوں میں انہوں نے بڑے بڑے غم دیکھے ان کی پاک آنکھوں نے دہلی
کے تخت پر واجپائی اور ایڈوانی جیسے متعصب درندوں کو ناچتے دیکھا … ان کے دینی
ادارے ’’ندوۃ العلماء‘‘ پر پولیس نے چھاپہ ڈالا … اور بھی بہت کچھ ایسا ہوا جو
مایوس کرنے والا تھا… مگر حضرت علی میاںؒ نے مایوسی کو اپنے قریب نہ آنے دیا… ان
کو بارہا کہا گیا کہ آپ عرب ممالک میں رہائش اختیار کرلیں وہاں کے حکمران اور عوام
آپ کے عقیدتمند ہیں… اور عرب دنیا میں آپ کی تصنیفات کی دھوم ہے… مگر وہ ہندوستان
میں ڈٹے رہے اور فرماتے رہے یہ ہم مسلمانوں کا ملک ہے… آج نہیں تو کل مسلمان اسے
ضرور حاصل کرلیں گے… اللہ،اللہ ،اللہ … ایک اللہ کا ولی، مسلمان دانشور ساری زندگی
اسلامی فتوحات کی کہانیاں مسلمانوں کو سناتا رہا… وہ غازیوں اور جانبازوں کے تذکرے
کر کرکے امت کو سنبھالتا رہا… اس نے اپنی زندگی میں ایک مجاہد کے ہاتھ بھی چومے
اور آنکھوں سے لگائے جب اسے پتہ چلا کہ اس مجاہد نے اپنے ہاتھوں سے جہاد میں حصہ
لیا ہے… مگر جب وہ اس دنیا سے جا رہا تھا تو اس کے ملک پر ایڈوانی اور واجپائی کی
حکومت تھی … اور ہندوستان میں دور دور تک جہاد اور عزیمت کا کوئی جھنڈا نظر نہیں
آرہا تھا… ان حالات میں اگر وہ ’’سیدزادہ‘‘ اپنی آنکھیں بند کرلیتا تو بہت عجیب سا
لگتا کہ ’’تاریخ دعوت وعزیمت‘‘ اور … ’’جب ایمان کی بہار آئی‘‘ کا مصنف
کس قدر غم اور گھٹن کے ماحول میں دنیا سے جارہا ہے… مگر اللہ بہت بڑا
ہے، اللہ ایک ہے، اس نے اس اسلامی مورخ کو ایک بڑی فتح دکھا کر دنیا سے
رخصت فرمایا … جی ہاں انہیں دنوں پانچ مجاہدین نے انڈیا کا ایک طیارہ پکڑ لیا تھا…
وہ اپنے مسلمان بھائیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے… انڈیا پہلے ایک دو دن تو
گرجا اور دھاڑا کہ ہم نہیں جھکیں گے مگر رمضان المبارک میں اللہ پاک کی نصرت
مسلمانوں پر بارش کی طرح برس رہی تھی… دو دن بعد انڈیا کو اندازہ ہوا کہ وہ ہر طرف
سے پھنس چکا ہے… تب انڈیا کے حکمرانوں نے وہاں کے علماء کے پاؤں پکڑے… آپ ہمارا مسئلہ
حل کرا دیجئے… ایک بڑی ذلت اور شکست انڈیا کے دروازے پر دستک دے رہی تھی… ایڈوانی
نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہندوستان کی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں اتنی شرمناک
شکست پہلے کبھی نہیں ہوئی… جی ہاں بہت عجیب شکست … پانچ مجاہدین نے ایک منی
سپرپاور کو بے بس کردیا … انڈیا نہ لڑ سکتا تھا اور نہ بھاگ سکتا تھا… ادھر اس
واقعے کی وجہ سے طالبان کو خوب عالمی تشہیر مل رہی تھی جس سے مسلمانوں کے دل خوشی
سے لبریز تھے… اور کئی مسلمانوں کو تو پہلی بار معلوم ہوا تھا کہ طالبان ایک
باقاعدہ طاقت اور حکومت کا نام ہے… ورنہ وہ اسے محض ایک دھڑا اور پارٹی سمجھتے
تھے… الغرض اس واقعے سے اسلام اور مسلمانوں کو عزت ہی عزت مل رہی تھی… اور حضرت
علی میاںؒ جیسے دل کے مجاہد اپنی مسرور آنکھوں سے اپنی زندگی کا یہ آخری منظر دیکھ
رہے تھے… انڈیا کی حکومت کے بڑے بڑے اہلکار ان کے دروازے کے باہر بھکاریوں کی طرح
کھڑے تھے… اور ملک کے حکمران ان کی اور حضرت مولانا سید اسعد مدنیؒکی فون پر منتیں
کر رہے تھے… اللہ،اللہ ،اللہ … کتنا عجیب منظر تھا … حضرت آپ طالبان کو سمجھائیں…
علماء فرماتے آپ تو طالبان کو مانتے ہی نہیں تھے، اور نہ ہمیں ان کے پاس جانے دیتے
تھے… اور آپ کا کہنا تھا کہ طالبان کچھ بھی نہیں ہیں… نہیں حضرت ہم غلطی پر تھے
طالبان بہت بڑی قوت ہیں ہم پھنس چکے ہیں … ملک کے وقار کا مسئلہ ہے، دوسو افراد کی
جانوں کا مسئلہ ہے… آپ کچھ کریں، آپ کچھ کریں… تاریخ کی کتابوں میں فاتحین کے
گھوڑوں کو تصور کی آنکھوں سے دیکھ کر خوش ہونے والے … حضرت مولانا ابوالحسن ندویؒ
نے اپنی حقیقی آنکھوں سے اسلام کی فتح کا منظر دیکھ لیا …جب ان کی قوم کے پانچ
بچوں نے… اللہ تعالیٰ کی نصرت سے ہندوستان کے غرور کو اپنے قدموں تلے روند ڈالا…
اور پھر ایک بہت عجیب منظر زمین وآسمان نے دیکھا … اللہ،اللہ ،اللہ … ایک جہاز جموں
کے ائیر پورٹ پر تیار کھڑا تھا … ایک جہاز دہلی کے ایئرپورٹ پر تیار کھڑا تھا… دو
جہاز قندھار کے ائیر پورٹ پر تیار کھڑے تھے… یہ سب کس کے لئے؟ … ایک غریب مسلمان
کے لئے جو ایک چھوٹا سا مجاہد تھا … اور انڈیا والوں نے اسے رکشے پر سفر کرتے ہوئے
کمانڈر حضرت سجاد شہیدؒ کے ساتھ گرفتار کیا تھا… جی ہاں ایک چھوٹے سے غریب مجاہد
کے لئے یہ چار پانچ جہاز تیار کھڑے تھے… اپنے نہیں دشمن کے جہاز … یہ ہے جہاد کی
کرامت اور یہ ہے جہاد کا کمال … جموں والے جہاز نے اس کو دہلی پہنچانا تھا، ملک کا
وزیر اعظم ایک دن پہلے سے جموں میں بیٹھا اپنی شکست کے معاملات کنٹرول کر رہا تھا
… دہلی والے جہاز نے اس مجاہد کو قندھار لے جانا تھا… بغیر ٹکٹ، بغیر ویزے کے …
اور وزیر خارجہ بھی گردن جھکائے ساتھ تھا… قندھار کے ایک جہاز نے اس کے وہاں
پہنچنے کے بعد آزاد ہونا تھا… اور قندھار کے دوسرے جہاز نے اس کی رہائی کے بعد
آزاد ہونے والے مسافروں کو واپس لے جانا تھا… اللہ،اللہ ،اللہ … کیسی عجیب نصرت
تھی اور کیسے عجیب لمحات … حکومتِ ہندوستان نے اپنی شکست کو ہلکا کرنے
کے لئے کروڑوں، اربوں ڈالر خرچ کیے… اسلام آباد کے کئی صحافی خریدے گئے جو اس
واقعہ کو ’’انڈین سازش‘‘ قرار دیں … خفیہ ایجنسیوں کے کئی لوگ خریدے گئے جو فتح
اور رہائی پانے والے مجاہدین کے خلاف رپورٹیں لکھ لکھ کر ان پر زمین تنگ کریں …
جی ہاں کافر جانتے ہیں کہ … اس طرح کے واقعات کی تشہیر سے
اسلام کو کتنا فائدہ ملتا ہے… اور مسلمانوں کا حوصلہ کتنا بلند ہوتا ہے… اب تو بہت
کچھ ماضی کا حصہ بن گیا … ورنہ اس واقعہ نے تو مسلمانوں میں ایک نئی جان پھونک دی
تھی… میں کیسے عرض کروں کہ اس وقت کیا حالات تھے… ہاں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ مفسرین
کی بات سمجھ آگئی کہ جہادی فرشتوں نے وردی نہیں اتاری… وہ اب بھی مسلمانوں کی نصرت
کے لئے اترتے ہیں اور قیامت تک اترتے رہیں گے… انڈیا نے اس طیارے کو چھڑانے کے لئے
فضائی حملے کی ترتیب بنائی … مگر جائزہ لینے کے بعد منہ کی کھائی … قندھار میں
مقیم عرب مجاہدین بغیر کسی کے حکم کے… ائیر پورٹ کے گرد راتوں کو پہرہ دے رہے تھے
اور ایمانی جوش سے ان کے دل شیر بن چکے تھے… وہ راتوں کو گھاس میں چھپے رہتے تھے…
حالانکہ ان کا اس ’’ہائی جیکنگ‘‘ سے کوئی تعلق نہیں تھا … مگر اللہ کا نام تھا اور
اسلام کا رشتہ … طالبان نے ایئرپورٹ پر اسٹنگر میزائل کی گاڑیاں لا کھڑی کیں تو
خوف اور غم سے بنیئے کی آنکھیں ابل پڑیں… اور پھر جب فتح ہوئی تو ایک ہی نام گونج
رہا تھا … جی ہاں اللہ کا نام صرف اللہ کا نام … اللہ،اللہ ،اللہ …
اسلام کی یہ عظیم فتح حضرت مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کے لئے دنیا میں آخری بشارت
تھی کہ … آپ نے اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر جو کچھ لکھا ہے وہ انشاء اللہ ہو کر رہے
گا…
۲۲ رمضان جمعہ کے دن… تاریخ دعوت وعزیمت کا مصنفؒ اسلامی
عزیمت اور فتح کا ایک تازہ واقعہ آنکھوں میں سجائے… اس دنیا سے جارہا تھا… اور
دہلی سے ایک طیارہ قندھار کی طرف اڑ رہا تھا… اللہ،اللہ ،اللہ … ہندوستان کے ایک
عالم نے فرمایا … آ ج کا دن بھی کتنا عجیب ہے ایک سورج غروب ہو رہا ہے… اور ایک
سورج طلوع ہو رہا ہے… بے شک اسی دن جیش محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا سورج طلوع ہوا…
جس نے مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کی بہت سی تمناؤں کو اللہ پاک کے فضل و کرم سے
پورا کیا… یا ارحم الراحمین رمضان المبارک کے ان پاک لمحات میں دعاء ہے کہ … اس
پاک جماعت اور لشکر کی حفاظت فرما… اسے خوب ترقیات عطاء فرما… اور اسے اپنی رضا
والی جماعت بنا … یا اللہ،اللہ ،اللہ … یا اللہ،اللہ ،اللہ
… پیارا رمضان المبارک جارہا ہے… ہم سب کی بخشش فرما … آمین
یا اللہ،اللہ ،اللہ …
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہم سب پر بے شمار ہیں… ہمیں ان
نعمتوں کو ہر وقت یاد کرتے رہنا چاہئے اور خود کو ناشکری اور مایوسی سے بچانا
چاہئے… اللہ پاک نے ہم سب کو ’’بے کار‘‘ پیدا نہیں فرمایا… امام رازیؒ نے لکھا ہے
کہ یہ دنیا تو ختم ہوجائے گی مگر ایک مومن جنت میں داخل ہونے کے بعد ہمیشہ ہمیشہ
زندہ رہے گا… یعنی یہ دنیا تو فانی ہے جبکہ مومن کے لئے ہمیشہ کی زندگی ہے… پس ایک
مومن کو اس دنیا کے واقعات اور حادثات سے نہیں گھبرانا چاہئے… مومن اس دنیا سے
زیادہ مضبوط ہے… اللہ اکبرکبیرا کتنا عجیب اور کتنا سچا نکتہ ہے اور اللہ پاک کو
مسلمانوں سے کتنا پیار ہے… امارت اسلامیہ افغانستان کے سقوط کے بعد لال مسجد کا
سانحہ بے شک بہت بڑا ہے… مگر اہل ہمت نے افغانستان میں ہار نہیں مانی اور وہ پوری
دنیا کی بڑی ایٹمی طاقتوں کے سامنے ڈٹ گئے تب اللہ پاک نے ان کی نصرت فرمائی… اور
آج بڑی طاقتوںکے حکمران اپنے فوجیوں کی مسخ شدہ لاشوں سے پریشان ہیں… لال مسجد کے
معاملہ میں بھی امت مسلمہ کو مایوس نہیں ہونا چاہئے، انشاء اللہ یہاں بھی کامیابی
اہل ایمان کی ہوگی… شرط صرف ایک ہے کہ ہمت سے کام لیا جائے … امریکہ نے صلیبی جنگ
میں شکست کے بعد ’’ بی بی بے نظیر‘‘ کو اپنا سپاہی بنا کر پاکستان بھیجا ہے… صدر
مشرف نے خود اعتراف کیا ہے کہ ’’بی بی‘‘ کی واپسی میں امریکہ کا ہاتھ ہے… پھر بی
بی کے استقبال پر جو کروڑوں اربوں روپے خرچ ہوئے وہ بھی امریکہ سے آئے… اور پھر
امریکی پلان کے مطابق ’’بی بی‘‘ کو بال بال بچا کر دو دھماکے کیے گئے… تاکہ ’’بی
بی‘‘ ملک کی مقبول لیڈر بن جائے… اور ان دھماکوں کو بہانا بناکر ملک کے دینی،
جہادی طبقے کی گردن ناپنا آسان ہوجائے… مگر یہ سب تدبیریں انشاء اللہ ناکام ہوں گی
اور اسلام انشاء اللہ غالب ہو کر رہے گا… بے نظیر کا خود کہنا ہے کہ اسے اس حملے
کی پہلے سے خبر تھی… سبحان اللہ وبحمدہ… اور اس حملے کی اطلاع ایک دوست پڑوسی ملک
نے دے دی تھی… پڑوس کے دوست ملک سے مراد بھارت ہے یا کرزئی کا افغانستان… اور اب
بی بی کا مطالبہ ہے کہ حملے کی تفتیش بھی ’’غیرملکی‘‘ آکر کریں… سبحان اللہ وبحمدہ
سبحان اللہ العظیم… یہ ہے ملک کے ساتھ وفاداری اور یہ ہے جنگل کا تماشا… غیر
ملکیوں نے بھیجا، غیر ملکیوں نے حملے کی خبر دی اور اب تفتیش بھی غیر ملکی کریں
تاکہ بی بی ملک پر حکومت کرسکے… یا اللہ ہمارے گناہوں کو معاف فرما اور ہم پر ایسے
ظالموں کو مسلط نہ فرما… ہمارے وہ مسلمان بھائی جو ’’بی بی‘‘ کے دیوانے ہیں اللہ
پاک کی خاطر اپنی قبر اور آخرت کو سامنے رکھ کر ان تمام باتوں پر غور فرمائیں… آج
ہم مسلمانوں کو بری طرح سے مارا جارہا ہے بی بی کے جلوس میں مرنے والے بھی مسلمان
تھے… غیرملکیوں کے اس کھیل میں معلوم نہیں کتنے اور مسلمانوں کو تباہی کے گڑھے میں
دھکیلا جائے گا… حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کو ٹی وی چینلوں سے دور رہنا چاہئے یہ ٹی
وی چینل ایک عجیب قسم کا زہر پھیلا رہے ہیں … اور مسلمانوں نے ان چینلوں پر اندھا
اعتماد شروع کردیا ہے… اسی لئے ہر طرف پریشانی اور مایوسی پھیل رہی ہے… اے مسلمانو!
اللہ پاک کا کلام ’’قرآن مجید‘‘ ہمارے پاس موجود ہے کسی بھی معاملے پر رہنمائی
لینی ہو تو قرآن پاک سے لیں… اور ٹی وی چینلوں کے شور سے اپنے نظریات کو دور
رکھیں… پچھلے ہفتے ہمارے اخبار نے بھی چھٹی منائی ہے اس لئے آج بہت سی باتیں دل
اور دماغ میں جمع ہیں وہ سب باتیں تو شاید نہ ہوسکیں کیونکہ اذان میں صرف بیس منٹ
باقی ہیں… ان بیس منٹوں میں چند باتوں کا تذکرہ کرلیتے ہیں…
اہل رمضان المبارک کو مبارک باد
جن مسلمان بھائیوں اور بہنوں نے رمضان المبارک اور عیدالفطر
کی دینی خوشیاں اور بہاریں لوٹیں ہیں ان سب کی خدمت میں مبارکباد عرض ہے…
آج ایک ساتھی بتا رہے تھے کہ انہوں نے ماشاء اللہ اس رمضان
المبارک میں قرآن پاک کے تیئس ختم مکمل کیے… اور دس دن کا اعتکاف بھی کیا… ماشاء
اللہ لاقوۃ الا باللہ… ڈاک میں بھی ایسے خطوط تھے جن سے معلوم ہوا کہ ماشاء اللہ
بہت سے بھائیوں اور بہنوں نے رمضان المبارک خوب کمایا ہے… مجاہدین نے بھی
افغانستان، عراق اور کشمیر میں اس رمضان المبارک کو بہت قیمتی بنایا … بہاولپور کی
جامع مسجد عثمانؓ و علیؓ میں تین سو سے زائد افراد نے آخری عشرے کا اعتکاف کیا اور
دورہ تربیہ کے اعمال کا روحانی لطف اٹھایا… ہاں بے شک یہی چیزیں کام آنے والی ہیں
باقی تو سب کچھ بے کار جارہا ہے… زمانہ گواہ ہے کہ انسان خسارے میں گر رہا ہے …
سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے ایمان کے ساتھ نیک اعمال کیے… اور حق پر مضبوطی سے ڈٹے
رہے اور ایک دوسرے کو صبر، استقامت اور ہمت کی دعوت دیتے رہے… قرآن پاک کی سورۃ
’’العصر‘‘ یہی سکھاتی ہے غالباً امام شافعیؒ کا قول ہے کہ اگر پورے قرآن پاک میں
سے صرف یہی ایک سورۃ نازل ہوتی تو انسانیت کی کامیابی اور ہدایت کے لئے کافی تھی…
خوشخبری
اپنے محسنین کو یاد رکھنا، کامیاب انسانوں کے تذکرے سے اپنے
دلوں کو زندہ رکھنا… اور اپنے اسلاف سے وابستہ رہنا اہل ایمان کا شیوہ ہے… اسی عمل
کو زندہ رکھتے ہوئے ہفـت روزہ القلم نے اس سال اپنے محسن اکابر میں سے کئی حضرات
کے خصوصی شمارے نکالنے کا ارادہ کیا ہے… حکیم الاسلام حضرت لدھیانوی شہیدؒ، سفیر
ختم نبوت حضرت چنیوٹیؒ، خطیب اسلام حضرت قاسمیؒ، استاذ العلماء حضرت نعمانیؒ کے
خصوصی شمارے انشاء اللہ اس سال اگلے رمضان سے پہلے شائع کیے جائیں گے… تمام بھائی
اور بہنیں خصوصی دعاء فرمائیں کہ… اللہ تعالیٰ اس عمل کو آسان فرمائے، قبول فرمائے
اور مقبول بنائے… پہلے خصوصی شمارے کی تیاری شروع کردی گئی ہے… اہل قلم حضرات اس
نیکی میں اپنا حصہ شامل فرمائیں…
خراج تحسین
رمضان المبارک کے آخری ایام میں وزیرستان کے مسلمان شدید
آزمائش کا شکار ہوئے… اپنے طیاروں نے اپنے لوگوں پر بمباری کی… باپردہ عورتیں،
روزے دار بزرگ اور کمزور بچے جان بچا کر بنوں کی طرف دوڑے… کھلا آسمان، سردی کا
موسم اور حالات کی بے رخی… ان حالات میں الرّحمت ٹرسٹ کے کارکنوں نے اللہ تعالیٰ
کے بھروسے پر ’’بنوں‘‘ کا رخ کیا… اور ان روزے داروں کے منہ تک کھانا پہنچایا جو
پریشانی اور خوف سے خلاؤں میں گھور رہے تھے… اللہ تعالیٰ ان مخلص کارکنوں کو جزائے
خیر عطاء فرمائے، میری معلومات کے مطابق ان میں سے کئی ایک نے تین دن اور تین
راتیں مسلسل جاگ کر کام کیا… انہوں نے بے آسرا مسلمانوں کو بستر پہنچائے، مریضوں
کا علاج کیا اور ہزاروں افراد کے لئے کھانے کا بندوبست کیا… اے قدردان رب ان سب کو
اپنی رحمت سے ڈھانپ لے اور ان سب کے عمل کو قبول فرما…
ایک موقع
ایک زمانے میں جہاد کی تربیت بے حد آسان تھی… ہم اس وقت
اپنے مسلمان بھائیوں کی منّت سماجت کرتے رہے کہ اللہ کے لئے اس موقع کا فائدہ
اٹھالو… جہاد اللہ تعالیٰ کا حکم اور اسلام کا محکم فریضہ ہے… اس عمل کو سیکھ لو
اور خود کو اسلام کی خدمت کا اہل بناؤ ممکن ہے کچھ عرصہ بعد یہ نعمت اتنی آسان نہ
رہے… تب کچھ لوگوں نے بات سنی اور مانی جبکہ اکثر مسلمان جہاد کی تربیت سے محروم
ہے… انا للہ وانا الیہ راجعون… آج جہاد کی تربیت پہلے کی طرح آسان نہیں رہی کہ تین
سو روپے خرچ کرکے لوگ افغانستان جاتے تھے اور اسلام کا ایک قطعی فریضہ سیکھ آتے
تھے… یقینا محروم رہنے والے لوگوں کو اپنی محرومی پر رونا چاہئے اور اللہ تعالیٰ
سے استغفار کرنا چاہئے… اور دعاء کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو شرعی
جہاد کی سمجھ اور تربیت عطاء فرمائے… اور جہاد کے نام پر زمین پر فساد پھیلانے سے
بچائے… آج اکثر لوگ امام مہدیؓ کے تشریف لانے کی بات کرتے ہیں یہ لوگ سوچیں کہ
امام مہدیؓ تو جہاد کو قائم فرمائیں گے… تب وہ لوگ کیا کریں گے جنہوں نے جہاد کو
سراسر اپنی زندگی سے نکال دیا ہے اور خود کو بنی اسرائیل کا پیروکار اور
’’کچامسلمان‘‘ قرار دے کر جہاد کے انکار کا ایک اور دروازہ کھول دیا ہے… اللہ پاک
انہیں اور ہم سب کو ہدایت عطاء فرمائے…
دورہ اساسیہ
دین کو سمجھنے، عقیدے کو سمجھنے، جہاد کا مسئلہ یاد کرنے،
اپنا وضو درست کرنے، نماز ٹھیک کرنے، اپنی تجوید کو درست کرنے… اور حلال حرام کے
مسائل یاد کرنے کی ہر مسلمان کو ضرورت ہے… کئی مسلمان ایسے ہیں جن کو کلمہ طیبہ کا
تلفظ ٹھیک طرح سے نہیں آتا… وضو اور طہارت کے مسائل سے کئی مسلمان بے خبر ہیں… آپ
خود سوچیں کہ جب کوئی شخص ناپاک ہوگا تو اس کی نماز کس طرح سے قبول ہوگی… کئی
مسلمان جہاد کا معنیٰ تک نہیں سمجھتے حالانکہ جہاد کا مسئلہ قرآن پاک کی سینکڑوں
آیات میں بیان ہوا ہے … اور کئی مسلمانوں کو اسلامی عقیدے تک کی خبر نہیں ہے … کیا
آپ چاہتے ہیں کہ صرف پندرہ دن میں آپ کو یہ تمام نعمتیں نصیب ہوجائیں؟… جی ہاں صرف
پندرہ دنوں میں تین اہم کتابوں کا درس… تعلیم الاسلام، تاریخ اسلام اور تعلیم
الجہاد … اور کلمے سے لے کر وضو، اذان، اقامت، تجوید اور نماز کی درستگی اور اصلاح
… اور کئی احادیث مبارکہ زبانی حفظ… جی ہاں یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے
ممکن ہے اور اب تک سینکڑوں افراد ’’دورہ اساسیہ‘‘ کے ذریعے یہ سب کچھ حاصل کرچکے
ہیں… دیر نہ کیجئے آج ہی سے اپنی زندگی کے پندرہ دن فارغ کرکے ’’دورہ اساسیہ‘‘
کرنے کی ترتیب بنائیے… یہ دورہ ہر مہینے جامع مسجد عثمانؓ و علیؓ بہاولپور میں
مخلص اور جید علماء کرام کی نگرانی میں کرایا جاتا ہے… خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنے
گھر والوں اور بھائیوں، بیٹوں کو اس دورے کے لئے بھجوائیں … اور دنیا کے کاموں میں
مشغول مسلمانوں کو چاہئے کہ فوراً دین کی بنیادی باتیں سیکھنے کے لئے یہ آسان کورس
کرنے کی ترتیب بنائیں… زندگی تیزی سے موت کی طرف دوڑ رہی ہے وقت کم ہے اور آگے کی
منزلیں بہت کٹھن اور مشکل ہیں… دیر نہ کیجئے اور اس نعمت اور موقع سے جلد از جلد
فائدہ اٹھالیجئے…
اللہ پاک ہم سب مسلمانوں پر رحم فرمائے اور ہمیں ہدایت اور
صراط مستقیم کی نعمت عطاء فرمائے…
آمین ، آمین، آمین
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے اس بہادر بندے نے بھرپور زندگی گزاری… نام
تو ان کا ’’محمد‘‘ تھا مگر ہر جاننے والا انہیں ’’مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ‘‘ کے
نام سے جانتا ہے… زندگی کا آغاز ہجرت سے ہوا جی ہاں وہ نو سال کے تھے کہ پاکستان
بن گیا اور ان کا مردم خیز علاقہ ’’جالندھر‘‘ خاک وخون میں ڈوب کر انڈیا کے قبضے
میں چلا گیا… جالندھر کی دھرتی نے پاکستان کے لئے بڑے قیمتی تحفے بھیجے… یقین نہ
آئے تو ملتان کا ’’خیرالمدارس‘‘ اور فیصل آباد کا جامعہ قاسمیہ دیکھ لیں… ہجرت کے
بعد ایک اور سنت زندہ ہوئی، جی ہاں والد محترم چل بسے اور چھوٹا سا ’’محمد‘‘ یتیم
ہوگیا… زندگی کا آغاز ہجرت اور یتیمی سے ہوا اور زندگی کا شباب دین اور توحید کی
خدمت میں کٹ گیا… اور بڑھاپا اہل عزیمت کی سرپرستی کرتے ہوئے گزرا… اور زندگی کا
اختتام دین کے افضل اور بلند ترین شعبے جہاد فی سبیل اللہ کی بیعت پر ہوا… اور
آخری وقت زبان سے کلمہ ’’لا الہ الا اللہ‘‘ بلند ہوا… کیا آپ میں سے کسی نے ان کو
تقریر کرتے دیکھا ہے؟… یقین کیجئے وہ بلاشبہ ’’خطابت کے بادشاہ‘‘ تھے… میں نے دو
تین بار ہی آمنے سامنے ان کی تقریر سنی ہے… اللہاکبرکبیرا… کیا خوب انداز تھا اور
کتنا رعب اور جلال… کراچی میں ختم نبوت کی مجلس عمل کا جلسہ تھا … تمام مکاتب فکر
کے مایہ ناز خطباء جمع تھے… بندہ کا طالبعلمی کا زمانہ تھا اور جامعۃ العلوم
الاسلامیہ بنوری ٹاؤن میں طلبہ پر جمعرات کے علاوہ جلسوں میں جانے پر پابندی تھی…
ہم جامعہ کے گیٹ پر جلسوں کے اشتہارات پڑھتے تھے اور بڑے خطباء حضرات کے نام پڑھ
کر منہ میں پانی بھی آتا تھا کہ ضرور جانا چاہئے… مگر جامعہ کے قانون کو توڑنے کی
ہمت نہیں تھی… ختم نبوت کا یہ جلسہ اتفاق سے جمعرات کو تھا اور کراچی کا نشتر پاک
عوام سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا… مگر ابھی تک جلسہ جما نہیں تھا لوگ گھوم پھر رہے
تھے اور ادھر ادھر دیکھ رہے تھے… اچانک اعلان ہوا کہ حضرت مولانا ضیاء القاسمی
خطاب کے لئے آرہے ہیں… بس پھر کیا تھا ایک دم فضاء ہی بدل گئی… حضرت قاسمیؒ پانچ
منٹ آسمانی بجلی کی طرح گرجے، کڑکے اور بادل کی طرح برسے… اور پھر بیٹھ گئے… پانچ
منٹ کے اس خطاب نے اجتماع کا رنگ ہی بدل دیا اور فضاء نعروں سے گونجنے لگی… میرے
لئے یہ ایک حیرت انگیز واقعہ تھا پانچ منٹ میں تو مشکل سے خطبہ پورا ہوتا ہے… پانچ
منٹ میں تو خطباء اپنے حواس کو درست نہیں کر پاتے… پانچ منٹ تو خطباء مجمع کی نبض
ٹٹولنے میں لگا دیتے ہیں… مگر یہ کیسا ’’خطیب‘‘ ہے کہ پانچ منٹ میں اس نے سب کچھ
کہہ لیا اور سب کچھ کرلیا… نہ تو جلدی کی وجہ سے اس کی زبان لڑکھڑائی اور نہ آواز
کی بلندی نے اس کے موضوع کو خراب کیا… وہ پر اعتماد جارحانہ لہجے میں جچے تلے
الفاظ کے ساتھ حکومت اور قادیانیوں تک مسلمانوں کے جذبات پہنچانے میں کامیاب رہے…
سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم… ’’خطابت‘‘ کا جوہر بھی اللہ تعالیٰ کسی کسی
کو عطاء فرماتے ہیں… یہ نعمت نقّالی، بناوٹ اور تصنّع سے نہیں ملتی… خطابت بھی علم
کا حصہ ہے اور علم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت ہے… حضور اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم سب سے بڑے خطیب تھے آپ جیسا خطیب نہ کوئی گزرا اور نہ کوئی آئے گا… پھر آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے علم کے اس شعبے کو بھی سکھایا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم
’’معلّم‘‘ تھے… حضرات صحابہ کرام نے علم کے دوسرے شعبوں کی طرح اس شعبے کو بھی
سیکھا… حضرات خلفاء راشدین بہت اونچے پائے کے خطباء تھے… اور حضرت کعب بن
مالکؓ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطیب کہلاتے تھے… خطابت کو
لوگ فن سمجھتے ہیں جو ایک غلطی ہے… خطابت کا فن اور فنکاری سے کوئی تعلق نہیں ہے…
یہ ایک ’’علم‘‘ اور ’’صفت‘‘ ہے جو اللہ پاک اپنے بعض بندوں کو عطاء فرماتا ہے… پھر
جس کے دل میں دین کا جتنا درد اور اخلاص ہوتا ہے اُسی قدر اس کی ’’خطابت‘‘ میں
نکھار آتا ہے… اور اس سے اللہ تعالیٰ کے بندوں کو فائدہ نصیب ہوتا ہے… پانچ منٹ کا
یہ خطاب تو خوشبو کے ایک تازہ جھونکے کی طرح گزر گیا اور ان کی تقریر دوبارہ سننے
کے لئے دل میں ایک امنگ سی پیدا ہوگئی… اس واقعہ کے کئی سال بعد یہ خواہش بھی پوری
ہوگئی … کراچی میں کلفٹن کی طرف جاتے ہوئے تین تلوار سے الٹی طرف دو محلے ہیں… ایک
کا نام ’’دہلی کالونی‘‘ اور دوسرے کا ’’پنجاب کالونی‘‘ ہے… پنجاب کالونی میں ایک
جلسہ تھا اور اس کے مہمان خصوصی حضرت قاسمیؒ تھے… میں طالبعلمی کے آخری زمانے میں
دہلی کالونی میں رہتا تھا اور ایک مسجد کا ’’امام‘‘ تھا اور جمعہ بھی پڑھاتا تھا…
مسجد کی امامت ایک بڑی سعادت ہے… حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود مسجد نبوی شریف
کے’’امام‘‘ تھے… اور آپ کے بعد حضرات خلفاء راشدین خود ’’امامت‘‘ فرماتے تھے…
انگریز کی غلامی کے منحوس اثرات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ’’امامت‘‘ جیسے عظیم منصب
کو نعوذباللہ چھوٹا سمجھا جاتا ہے… چنانچہ آج اگر کسی عالم سے پوچھا جائے کہ آپ
کیا کرتے ہیں؟ تو وہ بتائیں گے فلاں مسجد کا ’’خطیب‘‘ ہوں… حالانکہ
خطابت تو ایک بار جمعہ کے دن ہوتی ہے جبکہ امامت روزانہ پانچ وقت ہوتی ہے… مگر
چونکہ آج ’’امامت‘‘ کا لفظ نعوذباللہ بھکاری کی طرح حقیر سمجھا جاتا ہے اور چھوٹے
علماء پر بھی اس کا اثر ہے اس لئے وہ خوشی اور سعادتمندی کے ساتھ یہ نہیں کہتے کہ
میں فلاں مسجد کا ’’امام‘‘ ہوں… اس رات مجھے حضرت قاسمیؒ کا خطاب بہت قریب سے ان
کے نزدیک بیٹھ کر سننے کی سعادت ملی… یقینا وہ ہوش اڑا دینے والا خطاب کرتے تھے…
تقریر کے دوران وہ یخنی یا قہوہ بھی پی رہے تھے مگر اس سے ان کی روانی، جولانی اور
تسلسل میں کوئی فرق نہیں آرہا تھا… وہ توحید بیان کر رہے تھے مگر عشق رسالت میں
سرشار ہو کر… اور ان کے خطاب میں ’’آسمانی فیض‘‘ صاف چھلک رہا تھا… ’’آسمانی فیض‘‘
سے مراد ہے ’’وحی کا فیض‘‘ … میری اس آسان سی گزارش کو سمجھنے کی کوشش فرمائیں… جس
’’خطیب‘‘ کی خطابت پر اللہ تعالیٰ کے کلام اور وحی کا فیض نازل ہوتا ہے وہ خطابت
بارش کی طرح ہوتی ہے… کصَیِّبٍ من السماء (القرآن) … جی ہاں بارش کی طرح مفید،
جاندار، مسلسل … اور پائیدار… سوکھی زمین تر ہوجائے … مردہ زمین زندہ ہوجائے… بنجر
زمین زرخیز ہوجائے … پیاسوں کی پیاس بجھ جائے… انسان اور جانور نہا دھو کر اپنی
میل کچیل دور کرلیں … شیطانی نجاست اور گندگی کو دھو دیا جائے … میلے اور ناپاک
کپڑے دھل کر پاک ہوجائیں… اور بچا ہوا پانی زمین کے سوتوں میں محفوظ ہو کر آئندہ
آنے والے انسانوں کے کام آئے… کیا بارش میں یہ تمام فائدے نہیں ہوتے؟… جی ہاں ان
کے علاوہ بھی بہت سے فوائد ہوتے ہیں… بالکل اسی طرح جس خطیب کی خطابت پر وحی کا
اثر ہوتا ہے تو اس کی تقریر بھی بارش کی طرح ہوتی ہے… کافر مسلمان ہوتے ہیں،
گناہگار توبہ کرتے ہیں، مردہ دل لوگوں کے دل زندہ ہوتے ہیں، ناپاک لوگ پاک ہوتے
ہیں، غمزدہ پیاسے لوگوں کی پیاس بجھتی ہے … اور روحانی بیماریوں میں مبتلا افراد
شفاء پاتے ہیں… اور یہ تقریریں آئندہ نسلوں کی بھی رہنمائی کرتی ہیں… مگر آپ جانتے
ہیں کہ آسمانی بارش میں تین اور چیزیں بھی ہوتی ہیں … بجلی، گرج (کڑک) اور
اندھیرا…
فیہ ظلمت ورعد وبرق (القرآن)
کہ اس بارش میں اندھیرے بھی ہیں اور کڑک بھی اور بجلی بھی…
بے شک قرآن کے فیض یافتہ خطیبوں کی تقریر میں بھی یہ تین چیزیں ہوتی ہیں… وہ اسلام
کی عظمت کا ایسا نقشہ کھینچتے ہیں کہ کافروں اور منافقوں کو اپنا مستقبل تاریک نظر
آنے لگتا ہے… وہ اللہ تعالیٰ کے وعدے اور وعید سناتے ہیں تو کافروں اور منافقوں کی
آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے… اسی لئے تو ایسے خطیبوں پر پابندی لگادی
جاتی ہے جن کی تقریروں سے زمانے کے فرعون بڑے بڑے لشکر رکھنے کے باوجود ڈرتے ہیں…
اور ان کی تقریروں میں آسمانی بجلی کی کڑک، گرج اور روشنی ہوتی ہے… وہ جب للکارتے
ہیں تو کافر اور منافق ڈر اور خوف سے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیتے ہیں…
یجعلون اصابعہم فی اذانہم من الصواعق حذر الموت (القرآن)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث خطباء… اسلام کے
دشمنوں پر موت کی بجلیاں برساتے ہیں اور جہاد کے اس عمل کی دعوت دیتے ہیں جس عمل
میں کفر اور نفاق کے لئے ناکامی اور موت ہے… حضرت قاسمیؒ کا خطاب بھی قرآن پاک
یعنی وحی الٰہی کے فیض سے منور تھا… اللہ پاک نے ان کو دین کا درد بھی عطاء
فرمایا… اور بولنے کا سلیقہ بھی سکھایا…
خلق الانسانo علمہ
البیان (القرآن)
اور پھر اللہ پاک نے ان کو اچھے رفقاء اور دین کا کام کرنے
کی توفیق بھی عطاء فرمائی… اگر ’’توفیق‘‘ نہ ہو تو صلاحیتوں سے کچھ ہاتھ نہیں آتا…
آپ دیہاتوں میں چلے جائیں آپ کو ’’بولنے والے‘‘ ایسے لوگ ملیں گے جن کی بولنے کی
صلاحیت بڑے بڑے خطباء سے زیادہ ہے… مگر ان کا بولنا بس اسی کام آتا ہے کہ وہ رات
کو چند افراد کے درمیان بیٹھ کر لوگوں کی نقلیں اتارتے ہیں… اور قصے کہانیاں سناتے
ہیں… دنیا میں بہادر بہت ہوتے ہیں مگر جس کو توفیق ملتی ہے وہی ’’فاتح‘‘ بنتا ہے
ورنہ کتنے بہادر لوگ … سور کا شکار کرنے، سانپ مارنے اور جنگلوں کی خاک چھاننے میں
ختم ہوجاتے ہیں… دنیا میں ’’صاحب علم‘‘ بہت ہیں مگر جسے توفیق ملتی ہے اسی کا علم
مفید ہوتا ہے ورنہ کئی بڑے بڑے علماء بادشاہوں اور حکمرانوں کی چاپلوسی میں غرق
ہوگئے… اکبر بادشاہ کے دربار میں ایسے علماء موجود تھے جو فقید المثال تھے مگر وہ دین
کی اتنی خدمت بھی نہ کرسکے جتنی ایک ان پڑھ بزرگ پالن حقانی نے اللہ تعالیٰ کی
توفیق سے کرلی… حضرت قاسمیؒ کو اللہ تعالیٰ نے دین کے کام کا میدان بھی عطاء
فرمایا اور توفیق بھی… وہ جب چھوٹے تھے تو اپنے بڑوں کی سرپرستی کو سعادت سمجھتے
رہے… ان کی اسی سعادتمندی نے ان کو حضرت مدنیؒ کا مرید بنادیا… حالانکہ حضرت مدنیؒ
بہت دور تھے مگر قاسمیؒ کی قسمت بہت اونچی تھی… پھر ان کو حضرت مفتی محمودؒ جیسے
جامع الصفات استاذ اور حضرت ہزارویؒ جیسے درد دل رکھنے والے قائد ملے… رفقاء کے
معاملے میں بھی ان کی قسمت اچھی رہی ان کو حضرت تونسوی مدظلہ، حضرت چنیوٹیؒ…اور
حضرت علامہ خالد محمود مدظلہ جیسے حضرات کے ساتھ کام کی لذت نصیب ہوئی… اللہ پاک
نے ان کو قبولیت بھی خوب عطاء فرمائی کہ جس طرف رخ فرمایا زمین ان کے لئے ہموار
ہوتی چلی گئی… اور یوں یورپ کی وادیوں میں بھی انہوں نے اسلام کی اذان بلند کی…
جوانی میں وہ ’’جارحیت پسند‘‘ انداز کو نبھاتے رہے اور اس کی خاطر ماریں بھی
کھائیں اور جیلیں بھی کاٹیں… مگر بڑھاپے میں وہ ’’مفاہمت پسند‘‘ نظر آئے … اور
مفاہمت پسندی کا یہ انداز انہوں نے اپنے ’’چھوٹوں‘‘ کی سرپرستی اور حفاظت کرنے کے
لئے اختیار کیا… ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں جو جوانی میں بڑوں کی سرپرستی کو سعادت
سمجھیں… اور جب خود بڑے ہوجائیں تو اپنے چھوٹوں کی سرپرستی کو اپنی ذمہ داری
سمجھیں… حضرت قاسمیؒ بہت قسمت والے تھے… وہ چھوٹے تھے توحضرت مدنیؒ کی سرپرستی میں
آگئے… اور جب بڑے ہوئے تو انہوں نے حضرت جھنگویؒ کو اپنی سرپرستی میں لے لیا… مجھے
اچھی طرح یاد ہے کہ ان کے انتقال سے تقریباً ایک ڈیڑھ سال پہلے بندہ کراچی میں
تھا… پیغام ملا کہ حضرت قاسمیؒ ملاقات کرنا چاہتے ہیں… مجھے کافی خوشی محسوس ہوئی
اور میں نے فوراً وقت طے کرلیا… حضرت مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ کے گھر یہ مفصل اور
محبت بھری ملاقات ہوئی… حضرت قاسمیؒ کے ساتھ حضرت مولانا محمد اعظم طارق شہیدؒ اور
چند دیگر احباب بھی تھے… حضرت قاسمیؒ بہت تپاک اور گرم جوشی سے ملے … اور ملاقات
کا مقصد یہ بیان فرمایا کہ آپ جہاد کا جو کام کر رہے ہیں اس میں اگر حکومتی طور پر
کچھ رکاوٹیں ہوں تو میری خدمات حاضر ہیں… بندہ نے ان کا شکریہ ادا کیا اور حکومت
کے ساتھ جاری جھڑپوں کا احوال سنایا تو بہت خوش ہوئے اور فرمایا بس ٹھیک ہے آپ
بالکل ٹھیک چل رہے ہیں … پھر انہوں نے اپنے گھر حاضری کی دعوت دی … بندہ فیصل آباد
حاضر ہوا یہ دن زندگی کے اچھے دنوں میں سے ایک تھا… وہ اپنے رفقاء کے جھرمٹ میں
اپنے گھر کے باہر انتظار میں کھڑے تھے ہمارا قافلہ پہنچا تو چہرہ خوشی سے دمکنے
لگا… افسوس کہ اسی وقت میرے پاس ایک بڑے بزرگ کا فون آگیا جس کی وجہ سے مجھے گاڑی
سے اترنے میں تاخیر ہوئی، فون والے بزرگ فوری جواب پر مصر تھے… حضرت قاسمیؒ باہر
کھڑے تھے اورمیں گاڑی میں بے چین… اس بے ادبی پر دل کافی رنجیدہ ہوا… اور اب جب
بھی یہ واقعہ یاد آتا ہے تو ان کے ایصال ثواب کے لئے کچھ پڑھ کر بخشتا ہوں… اللہ
کرے انہوں نے محسوس نہ فرمایا ہو … گاڑی سے نکلا تو انہوں نے اپنے بازوؤں میں لیکر
بوسوں کی بارش فرمادی اور خوب سینے سے لگایا… اللہ پاک ان کو اس شفقت پر بہت جزائے
خیر عطاء فرمائے… کھانے کے دوران محبت کے کئی مناظر دیکھے اپنے ایک ساتھی کو بلا
کر میرے ساتھ بٹھایا اور اسے فرمایا دیکھ لیا! تمہاری خواہش پوری کردی اب خوب دل
بھر کر مل لو… بندہ صحافیوں سے دور رہتا تھا مگر حضرت قاسمیؒ صحافیوں میں بہت
مقبول تھے اور اس دن بھی ان کے کئی چہیتے صحافی جمع تھے… مجھے حکم دیا کہ ان سے
بات کرلیں… میں نے صحافیوں کے کارنامے اور مظالم جو ہمارے ساتھ جاری تھے عرض کیے
تو فرمایا میں ان کو سمجھاتا ہوں اور آپ تھوڑی سی بات کرلیں… یوں انہوں نے دونوں
فریقوں کو راضی کردیا… اور پھر لاہور میں ایک جلسہ تھا … وہ اسٹیج پر تقریر فرما
رہے تھے، ان کے گرجنے، برسنے کی آواز مجھ تک مہمان خانے میں پہنچ رہی تھی مگر جلسہ
کے منتظمین تقریر سننے کی میری خواہش کے باوجود مجھے اسٹیج پر نہیں لے جا رہے تھے…
ان کا خیال تھا کہ میرے جانے سے مجمع اٹھ جائے گا اور نعرے لگائے گا جس سے حضرت
قاسمیؒ کا خطاب متاثر ہوگا … جب ان کا خطاب ختم ہوا تو مجھے اسٹیج پر لے جایا گیا…
جب بیان کرنے کے لئے بیٹھا تو حضرت قاسمیؒ … حضرت مولانا محمد احمد لدھیانوی کے
ہمراہ مائک کی طرف بڑھے، میں ان کو دیکھ کر کرسی سے کھڑا ہوگیا… انہوںنے مائک کے
سامنے آکر ’’بیعت علی الجہاد‘‘ کا اعلان کردیا… یہ اعلان بہت اچانک اور انتہائی
غیر متوقع تھا… وہ بہت بڑے آدمی تھے اور میں ایک ادنیٰ سا انسان… اور عمر میں ان
سے پورے تیس سال چھوٹا… مگر اسلام اپنا اصلی رنگ ہر زمانے میں دکھاتا ہے… حضرت
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیس سال کے امیر لشکر تھے… اور حضرت فاروق اعظم رضی
اللہ عنہ ان کے مامور سپاہی… بے شک جہاد ہر زمانے میں اپنا رنگ دکھاتا ہے کہ…
زمانے کے مقبول لوگ کفن اوڑھنے سے پہلے جہاد کی وردی زیب تن کرنے کو ضروری سمجھتے
ہیں… وہ بیعت کا اعلان کر رہے تھے، مجمع طوفانی نعرے لگا رہا تھا … اور میں حیرت
زدہ طالبعلم یہ منظر دیکھ رہا تھا… حضرتؒ نے باقاعدہ بیعت کے الفاظ ادا کیے اور
میرے ہاتھوں میں اپنے دونوں ہاتھ دے دیئے… ہزاروں مسلمانوں کے سامنے اس طرح سے
’’بیعت علی الجہاد‘‘ کا نمونہ پیش کرنا حضرت قاسمیؒ کی طرف سے ’’دعوت جہاد‘‘ کو
قوت پہنچانے کیلئے تھا… میں الحمدللہ خود
کو اچھی طرح سے جانتا ہوں اس لئے اپنے بارے میں کسی بڑائی یا غلط فہمی کا شکار
نہیں ہوا… البتہ میرے دل میں جہاد کی عظمت اور زیادہ بڑھ گئی… کیونکہ حضرت اقدس
لدھیانوی شہیدؒ جیسے فقیہ، حضرت اقدس مولانا محمدشریف اللہ مولویانوی مدظلہ جیسے
نابغۃ العصر مفسر اور حضرت قاسمیؒ جیسے خطیب اسلام کا جہاد کے لئے بیعت کرنا… قرآن
پاک کی آیات جہاد کی اس زمانے میں عملی تفسیر ہے… یہ حضرات رسماً یا تکلّفاً بیعت
کرنے والے نہیں ہیں… حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح احادیث مبارکہ کا مفہوم
ہے کہ جب فتنے بہت زیادہ ہوجائیں گے اور بارش کی طرح برسیں گے تب دو طرح کے لوگ ہی
محفوظ رہیں گے… ایک وہ جو دنیا سے کٹ کر پہاڑوں میں گوشہ نشین ہوں، وہاں بکریاں
چرائیں اور ان سے اپنی غذا کا بندوبست کریں اور دوسرے وہ جو جہاد کے ساتھ پوری طرح
سے وابستہ ہوجائیں… ان احادیث مبارکہ سے صاف سمجھ آتا ہے کہ جب فتنے بہت زیادہ
ہوجائیں گے تب بھی جہاد رہے گا… اور اس جہاد کے ذریعہ مسلمانوں کو ایمان کی سلامتی
نصیب ہوگی… یعنی جہاد کسی زمانے میں بند یا موقوف نہیں ہوگا… پس جو لوگ کہتے ہیں
کہ آج کل جہاد کا وقت نہیں ہے وہ بہت بڑی غلطی میں جا پڑے ہیں… الحمدللہ زمانے کے افضل ترین اور اعلم ترین
اکابر نے بیعت علی الجہاد کرکے اس قرآنی مسئلے کو تحریف سے بچایا ہے… اللہ پاک ان
سب حضرات کو اپنی شایان شان جزائے خیر عطاء فرمائے… اس زمانے میں صدر بش، صدر مشرف
اور بے نظیر جیسے لوگوں کا جہاد کی مخالفت کرنا بجائے خود جہاد کے حق ہونے کی دلیل
ہے… یعنی اس زمانے کا جہاد بھی شرعی جہاد ہے اسی لئے تو ’’دشمنان اسلام‘‘ اس سے اس
قدر خوفزدہ اور لرزیدہ ہیں… حضرت قاسمیؒ نے اپنی سرپرستی کا ہاتھ ہمارے سروں پر
رکھا تو دل کو بہت تسلّی ملی… وہ بھی دین کے ان بڑے خادموں میں سے ایک تھے جن کے کردار
کو داغدار کرنے کے لئے… طرح طرح کی فضول باتیں مشہور کی گئی تھیں… غیبت جس طرح زنا
سے بڑا گناہ ہے اسی طرح وہ زنا سے زیادہ لذیذ بھی ہے… اسی لئے اکثر لوگ غیبت میں
بہت آسانی سے مبتلا ہوجاتے ہیں… دین کے ان خادموں کی غیبت کرنا جن کی زندگی کا ایک
ایک لمحہ اسلام کے لئے وقف ہے، یہ بہت بڑا گناہ ہے… حضرت قاسمیؒ کے بارے میں بھی
فضول اور بے ہودہ لوگوں نے بعض باتیں دشمنان اسلام کے بہکاوے پر مشہور کر رکھی
تھیں… ہم نے جب ان کو قریب سے دیکھا تو ان فضولیات سے بہت بلند محسوس کیا… وہ تو
ایک زندہ دل بڑے انسان اور خادم اسلام تھے… اگر ان کے دل میں دین کی تڑپ نہ ہوتی
تو خود کراچی جاکر اپنی خدمات پیش کرنے کی ان کو کیا ضرورت تھی؟ … وہ عزت اور شہرت
کے اس مقام پر تھے جہاں انہیں کسی اور کے نام کی ضرورت نہیں تھی … بے شک وہ دین کے
کام کو اپنی ڈیوٹی اور اپنے چھوٹوں کی سرپرستی کو ذمہ داری سمجھتے تھے … ہم ان کی
سرپرستی کی ابتدائی خوشی ہی میں تھے کہ ان کے بلاوے کا وقت آگیا… یہی شوال کا
مہینہ تھا اور ۱۴۲۱ھ کا سن … خبر ملی کہ وہ چلے گئے…
ہم ان کی سرپرستی کا زیادہ وقت نہ پا سکے… مگر نسبتیں،
یادیں اور نیکیاں نہیں مرتیں… یہ ’’باقیاتِ صالحات‘‘ ہیں… اللہ تعالیٰ ان کے درجات
بلند فرمائے… القلم نے آج اپنے اس محسن کے لئے یادوں کی یہ محفل سجائی ہے… تمام
قارئین کچھ تلاوت کریں اور پھر دعاء کریں، حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمی نور اللہ
مرقدہٗ کے لئے …
اللہ پاک ان کے درجات بلند فرمائے… ان کی حسنات کو قبول
فرمائے… انسان جتنا بڑا بھی ہو پیچھے والوں کی دعاؤں سے اس کو فائدہ پہنچتا ہے… اس
لئے آج ہم سب دعاء کرکے حضرت قاسمیؒ کو فائدہ پہنچائیں… جنہوں نے پوری زندگی ہمیں
فائدہ پہنچایا…
اللہم اغفرلہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ واکرم نزلہ ووسّع مدخلہ
واغسلہ بالماء والثلج والبرد… واجعل قبرہ روضۃ من ریاض الجنۃ … اللہم برّد قبرہ
وطیّب آثارہ… آمین یا ارحم الراحمین یا اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے ہم پر کوئی ظلم نہیں کیا… وہ اپنے بندوں پر
ظلم نہیں کرتا ہاں ہم خود ’’ظالم‘‘ ہیں… ہر گناہ اور خیانت کو ہم نے حلال کر لیا
ہے … اور ہر برائی کو ہم نے اپنی مجبوری سمجھ لیا ہے… موجودہ حالات کا اندھیرا
ہمارے اعمال کی وجہ ہے… ہم آج ہی توبہ کرلیں تو اندھیرا دور ہوجائے گا… مگر
کہاں؟ ہم تو ’’ڈبل مجرم‘‘ ہیں پہلے خوب گناہ کرتے ہیں پھر جب ان گناہوں
کی نحوست ہمیں گھیر لیتی ہے تو ہم توبہ کی جگہ ایک اور گناہ کر ڈالتے ہیں … مایوسی
اور ناشکری کا گناہ …
اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا خود ایک خطرناک اور مہلک
گناہ ہے… اسی لئے ہمارے غموں کی رات طویل ہوتی جارہی ہے اور ہم مزید پھنستے اور ا
لجھتے جارہے ہیں … مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے ’’جماعتی زندگی‘‘ کی نعمت عطاء
فرمائی تاکہ ہم ایک دوسرے کا سہارا بنیں اور ایک دوسرے سے کندھا ملا کر قوت اور
ہمت حاصل کریں … مگر ہم تو ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے ہیں… اللہ پاک امت مسلمہ پر
رحم فرمائے…
حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے گناہ کیے اور بڑی غلطیاں
کیں … اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب بھیجا … انہوں نے مایوس ہونے کی بجائے توبہ کا
راستہ اختیار کیا… ساری قوم اپنے بچوں اور جانوروں کو لیکر میدان میں آگئی اور
رورو کر، گڑ گڑا کر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے لگی… اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ ادا
اور ’’عقلمندی‘‘ پسند آئی اور عذاب ٹل گیا اور ’’نبی‘‘ بھی واپس مل گئے… شیطان
پہلے گناہ کرواتا ہے تاکہ مصیبت آجائے اور جب مصیبت آجاتی ہے تو مایوس کرتا ہے
تاکہ مصیبت پکّی ہوجائے … ہم اس وقت شیطان کے دوسرے حملے کی زد میں ہیں … وہ ہمیں
مایوس کر رہا ہے حالانکہ مایوسی کی کوئی بات نہیں ہے… اللہ تعالیٰ موجود ہے، وہ
رحمن اور غفور ہے… وہ رحیم اور ودود ہے… بہت پیار کرنے والا، بہت رحم فرمانے والا
… اس نے ہمارے لئے کتنے پیار سے جنت بنائی ہے… اور اپنی اتنی بڑی بڑی مخلوقات میں
سے ہم چھوٹے سے انسانوں کو اپنی ’’خلافت‘‘ کے لئے منتخب فرمایا ہے… اتنا بڑا آسمان
ایک نہیں سات آسمان، اتنا بڑا سورج، سات زمینیں، کروڑوں اربوں ستارے اور سیارے…
اللہ اکبرکبیرا انسان تو اتنی بڑی مخلوقات کے مقابلے میں ایک ذرّہ
برابر بڑائی نہیں رکھتا… سمندر، پانی، ہوا، مٹی، لوہا اور آگ، اللہ پاک کی مخلوقات
کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا … انسان نے دور بینوں کی مدد سے جو کچھ دیکھ لیا ہے
وہ بھی بہت بڑا ہے… اگر ہر انسان کو زمین سے دس گنا بڑی جگہ دی جائے تب بھی کائنات
کا ایک کونہ نہیں بھرے گا… اور جو کچھ انسان نے ابھی تک نہیں دیکھا وہ تو بہت
زیادہ اور بہت بڑا ہے… پھر اللہ پاک کی ’’کرسی‘‘ ان تمام سے بڑی ہے اور اللہ پاک
کا عرش اس سے بھی بڑا ہے… اور اللہاکبر… اللہ پاک تو سب سے بڑا ہے… اس عظیم رب نے
اس چھوٹے سے انسان کو آسمانوں، زمینوں اور سیاروں پر فضیلت دی اور اسے اپنا خلیفہ
بنایا … اور سمجھادیا کہ اے انسان جب تو مجھے یاد کرتا ہے تو میں تجھے یاد کرتا
ہوں… اللہ اللہ اللہ … کیسی عجیب اور سرشار کرنے والی بات ہے… یا اللہ ہمیں اپنے
ذکر کی توفیق عطاء فرما… ذکر نصیب ہوگیا تو سارے غم دُھل جائیں گے… اور انسان اپنی
ذات اور ناک کو بھول کر ’’بامقصد انسان‘‘ بن جائے گا…
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر جو بڑے بڑے احسانات
فرمائے ان میں سے ایک بڑا احسان یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اللہ
تعالیٰ سے جوڑنے والی دعائیں سکھائیں … آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اللہ تعالیٰ
کی ’’حمد‘‘ کرنے اور اس کا شکر ادا کرنے کے ایسے طریقے سکھائے جن کی برکت سے آسمان
بھی جھوم اٹھتے ہیں … ویسے بھی ہر کامیاب مسلمان اس زمین سے بہت بڑی جنت کا مالک
ہے… زمین کے چھوٹے چھوٹے پلاٹوں پر قبضے کرنے والے اور ان پلاٹوں کی خاطر اپنے
ایمان کو خراب کرنے والے اللہ تعالیٰ سے ڈریں … جو کسی کی تھوڑی سی زمین پر بھی
قبضہ کرے گا قیامت کے دن سات زمینوں کو طوق بنا کر اس کے گلے میں لٹکایا جائے گا …
اور زمینوں کا یہ بوجھ اسے جہنم میں جا پھینکے گا … اللہ تعالیٰ کی ’’حمد‘‘ ایک
بڑی نعمت ہے اللہ تعالیٰ کو اپنے ’’حمّاد‘‘ بندوں سے پیار ہے … ’’حمّاد‘‘ اس کو
کہتے ہیں جو اللہ پاک کی خوب حمد و تعریف کرتا ہے… ایسے لوگوں کے لئے جنت میں ایک
عالیشان مقام ہے جس کا نام ’’بیت الحمد‘‘ ہے… اور قیامت کے دن ان لوگوں کو جو
جھنڈا دیا جائے گا وہ بھی ’’لواء الحمد‘‘ حمد کا جھنڈا ہوگا … اللہ پاک کے شکر
گذار بندے جنہوں نے دل اور زبان سے اللہ تعالیٰ کی حمد کی وہ اس جھنڈے کے نیچے
آرام سے جنت تک پہنچیں گے … دنیا میں اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ حمد ہمارے آقا
حضرت محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ان کو اللہ پاک ’’مقام محمود‘‘ عطاء
فرمائے گا … اللہ پاک کی حمد کرنے والے بندے اللہ پاک سے ہمیشہ خوش رہتے ہیں اور
اللہ پاک بھی ان کی دعا ہر آن سنتا اور قبول فرماتا ہے… ہم روزانہ کئی بار کہتے
ہیں
سمع اللہ لمن حمدہ
یعنی اللہ پاک ان کی دعاء سنتا اور قبول فرماتا ہے جو اللہ
تعالیٰ کی حمد کرتے ہیں … ربنا ولک الحمد … حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں
اللہ تعالیٰ کی مقبول حمد کرنے کے کئی طریقے اور الفاظ سکھائے… آج ہم سب ’’حمد‘‘
پر مشتمل ایک مسنون دعاء یاد کرلیں اور پھر دنیا آخرت میں اس دعاء کے مزے اٹھائیں
…
دعاء کے الفاظ یہ ہیں:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ تَوَاضَعَ کُلُّ شَیْئٍ
لِعَظْمَتِہٖ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ذَلَّ کُلُّ شَیْئٍ لِعِزَّتِہٖ
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ خَضَعَ کُلُّ شَیْئٍ لِمُلْکِہٖ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ
الَّذِیْ اِسْتَسْلَمَ کُلُّ شَیْئٍ لِقُدْرَتِہٖ
ترجمہ : تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ
کے لئے ہیں جس کی عظمت کے سامنے ہر شئے جھکی ہوئی ہے … اور تمام تعریفیں اس اللہ
تعالیٰ کے لئے ہیں جس کی عزت کے سامنے ہر چیز ذلیل اور تابع ہے … اور تمام تعریفیں
اس اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس کی بادشاہت کے سامنے ہر چیز فرمانبردار ہے اور تمام
تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس کی قدرت کے سامنے ہر چیز سر تسلیم خم کیے
ہوئے ہے…
اللہ اکبر کیسی عجیب حمد اور کیسی عجیب دعاء ہے… ترجمہ
ملحوظ رکھ کر دل سے پڑھیں تو انسان پر وجد طاری ہوجاتا ہے اور دنیا کے حکمرانوں،
نظاموں اور طاقتوں کا رعب دل سے فوری طور پر نکل جاتا ہے… اور یہ دعاء ایسی ’’عجیب
التاثیر‘‘ ہے کہ اسے پڑھ کر جو کچھ مانگا جائے وہ (ان شاء اللہ) ضرور ملتا ہے …
اور انسان کے لئے قبولیت کا ایک دروازہ کھل جاتا ہے…
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:
قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول : من قال :
الحمد اللہ الذی تواضع کل شیئٍ لعظمتہ الخ ، فقالہا یطلب
بہا ما عند اللہ کتب اللہ لہ بہا الف حسنۃ، ورفع لہ بہا الف درجۃ وَوُکّل بہا
سبعون الف ملک یستغفرون لہ الی یوم القیٰمۃ (الطبرانی، الترغیب)
ایک ہزار نیکیاں، ایک ہزار درجات بلند اور ستر ہزار فرشتوں
کی قیامت تک استغفار … اللہ اکبرکبیرا … حقیقت میں حمد بہت بڑی چیز ہے… اس وقت ملک
میں جو حالات ہیں ہم ان پر مایوس ہونے کی بجائے ’’حمد‘‘ کریں… یہ ’’حمد‘‘ ہمیں
استغفار کی طرف لے جائے گی کیونکہ اللہ پاک کی نعمتیں انسان کو یاد رہیں تو نظر
اپنے گناہوں پر پڑتی ہے… اور جب ہم ’’استغفار‘‘ اور توبہ کریں گے تو ان شاء اللہ
حالات ٹھیک ہوجائیں گے …
الحمدللہ، الحمدللہ، الحمدللہ، نستغفر اللہ ونتوب الیہ
اور جو تھوڑی سی پریشانی اس وقت ہماری مبارک جماعت پر آئی
ہے اس پر بھی ہم اللہ تعالیٰ کی حمد کریں
الحمدللہ، الحمدللہ، الحمدللہ
اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کیں
نستغفر اللہ ونتوب الیہ
اور مایوس ہونے کی بجائے اپنی غلطیوں کا ازالہ کرکے کام کو
تیز کردیں اور یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں خیر اور بڑی مصلحت ہوتی
ہے… ساداتِ کربوغہ کے مسند نشین … ولی کامل حضرت مولانا مفتی مختار الدین شاہ صاحب
مدظلہ العالی اپنی کتاب ’’آئینہ ایمان‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:
’’اگر کسی آزمائش کی وجہ سے آپ سے (کچھ) لوگ کٹ گئے اور آپ
کی جماعت پہلے کی نسبت (کچھ) کم رہ گئی تو اس سے قطعاً نہ گھبرائیں، ایسا (ہونا)
ضروری بھی ہے، کیونکہ جب گندم کے دانے پک جاتے ہیں تو پھر ہم کو یہی بتایا گیا ہے
کہ گندم کو بھوسہ سے نکالنے کے لئے تمام کٹی ہوئی فصل پر بیل، ٹریکٹر یا تھریشر
وغیرہ چلائیں اور اس کو ہوا میں اڑائیں تاکہ گندم بھوسہ علیحدہ کیا جائے … اور اللہ
تعالیٰ کا یہی قانون جماعت حقہ (حق والی جماعت) کے لئے بھی ہوتا ہے کہ ان پر ایک
آزمائش لاتا ہے تاکہ اس جماعت میں سچوں کو جھوٹوں سے الگ کردیا جائے اور اس آزمائش
میں سچوں کی صلاحیتیں اور قوتیں مزید ابھر کر آجاتی ہیں اور ان کا کھوٹ اور
کمزوریاں دور ہوجاتی ہیں اور جو جھوٹے اور کھوٹے ہوتے ہیں وہ جماعت سے پھینک دیئے
جاتے ہیں اور جماعت صاف و ستھری ہو کر رہ جاتی ہے۔ (آئینہ ایمان ص۲۱۳)
چند افراد چلے گئے، اللہ پاک کا شکر ہے… کوئی شکوہ نہیں
کوئی دکھ نہیں … ہاں اتنا افسوس ضرور ہے کہ ’’دینی جذبات‘‘ کا جھوٹا لبادہ اوڑھ کر
جانے والے ’’دینی احکامات‘‘ کے مطابق جاتے تو ہم ان کو ’’مجبورِ غیرت‘‘ سمجھتے …
مگر دین کے واضح احکامات کو توڑ کر دین کی خدمت کے دعوے ایک مذاق معلوم ہوتا ہے…
اور یہ قانون ہے کہ دین اور جماعت کا مذاق اڑانے والے خود ایک مذاق بن کر رہ جاتے
ہیں…
اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں پر رحم فرمائے… اللہ تعالیٰ
اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا … ہاں بندے خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں…
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ تَوَاضَعَ کُلُّ شَیْئٍ
لِعَظْمَتِہٖ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ذَلَّ کُلُّ شَیْئٍ لِعِزَّتِہٖ
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ خَضَعَ کُلُّ شَیْئٍ لِمُلْکِہٖ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ
الَّذِیْ اِسْتَسْلَمَ کُلُّ شَیْئٍ لِقُدْرَتِہٖ
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد وعلی آلہ وصحبہ
وسلم تسلیماً کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے جتنی مخلوق پیدا فرمائی ہے… اس مخلوق کی
تعداد کے برابر سبحان اللہ، الحمدللہ،
اللہ اکبر … لاالہ الا اللہ، ولا حول ولا قوۃ الا باللہ…
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت صفیہ رضی
اللہ عنہا ایک بار کھجور کی چار ہزار گٹھلیاں سامنے رکھ کر تسبیح کر رہی تھیں… آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں آپ کو اس سے زیادہ تسبیح کرنے کا طریقہ نہ
سکھاؤں؟ … انہوں نے عرض کیا ضرور یارسول اللہ! … آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا: … یوں پڑھو
سُبْحَانَ اللہ عَدَدَ خَلْقِہٖ
یعنی اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے برابر سبحان اللہ … میں پاکی
بیان کرتی ہوں اللہ تعالیٰ کی اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر …
اور ایک روایت میں اسی طرح الحمدللہ، اللہ اکبر، لاالہ الا اللہ اور ولا
حول ولاقوۃ الا باللہ کا بیان ہے … اس لئے آج کے ’’کالم‘‘ کی پہلی سطر آپ بھی دل
اور زبان کو ایک ساتھ ملا کر پڑھ لیں۔ اللہ تعالیٰ نے جتنی مخلوق پیدا فرمائی ہے
اس مخلوق کی تعداد کے برابر سبحان اللہ، الحمدللہ، اللہ اکبر … لا الہ الا اللہ، ولا حول
ولاقوۃ الا باللہ … ہمارے ملک میں ایمرجنسی لگی ہوئی ہے جو یقینا ایک مصیبت اور
آزمائش ہے اور ہر طرف غم اور گھٹن کا ماحول ہے… ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ کی ’’حمد
وتسبیح‘‘ اور زیادہ کرنی چاہئے اور قرآن پاک کے سائے میں پناہ لینی چاہئے
عن ابی قتادۃ الانصاری رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم من قرأ آیۃ الکرسی وخواتیم سورۃ البقرۃ عند الکرب اعانہ اللہ عز و
جل (ابن السنی)
یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے جس نے مصیبت
کے وقت آیۃ الکرسی اور سورۃ بقرۃ کی آخری (تین) آیات پڑھ لیں اس کی اللہ جل شانہ
نصرت فرمائے گا…
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے بعد اب ایک اور مجرم ’’جسٹس افتخار
محمد چودھری‘‘ حکومت کے زیر عتاب ہے … اس شخص کا جرم یہ ہے کہ اس نے غریب انسانوں
کو انصاف فراہم کرنے کی کوشش کی … انگریز نے برصغیر سے جاتے ہوئے پاکستان کی عوام
کو پولیس، فوج اور جاگیرداروں کے حوالے کردیا تھا … جج صاحب نے انگریز کے اس حکم
کی مخالفت کرتے ہوئے پاکستان کی عوام کو ’’آزادی‘‘ دلانے کی کوشش کی … چنانچہ اب
وہ خود ’’قید‘‘ کے مزے لے رہے ہیں… اور ملک میں ہر طرف پکڑو، مارو اور بند کرو کا
شور اور بھاری بوٹوں کی دھمک ہے۔ ہمارے حکمران بھی عجیب لوگ ہیں، اتنا بھی نہیں
سوچتے کہ ان کا کام عوام کو راحت پہنچانا ہے نہ کہ تکلیف … اور اتنا بھی یاد نہیں
رکھتے کہ ایک دن وہ بھی مرجائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے… دراصل
ہمارے ملک کو مظلوموں کی آہوں … اور مقتولوں کے خون نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اس
لئے اب یہاں کوئی محفوظ نہیں ہے… افغانستان میں ہونے والے ہر ظلم کے پیچھے ہمارے
حکمرانوں کی مدد تھی … اور اب تک ہے … ہزاروں مسلمان صلیبی بمباری اور مظالم کا
نشانہ بن گئے … اور ہم ناچ ناچ کر کہتے رہے ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ … اور اب ’’بے
نظیر بھٹو‘‘ کی صورت میں ایک اور عذاب اور مصیبت ہم پر مسلط ہونے کی تیاری کر رہی
ہے… امریکہ کی لاڈلی ’’بے نظیر بھٹو‘‘ صبح شام امریکہ امریکہ کا ورد کر رہی ہے اور
امریکہ بھی اس کی ایک رات کی نظر بندی کو گوارہ نہیں کر رہا … آپ خود سوچیں یہ
صورتحال ملک کو کس طرف لے جارہی ہے؟ … انڈیا کے وزیر دفاع نے اپنی فوج اور
ایجنسیوں کو تیار رہنے کا حکم دے دیا ہے کہ عنقریب ہمیں پاکستان میں امن کی بحالی
کے لئے اہم کردار ادا کرنا ہے …
اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے مسلمانوں کا ملک پاکستان اب ایک
خطرناک تقسیم کی طرف بڑھ رہا ہے… جب ایک ملک کی عوام اور فوج ایک دوسرے کو ذبح کر
رہے ہوں تو اس سے زیادہ برے حالات اور کیا ہوسکتے ہیں؟ … ملک میں ایمرجنسی کا لگنا
ہی ا س بات کی علامت ہے کہ ملک کے حالات بدتر دور میں داخل ہوچکے ہیں وہی دور جس
کی نشاندہی بہت پہلے ’’کالی آندھی‘‘ نامی ایک مضمون میں کردی گئی تھی … حکمران یہ
سمجھ رہے ہیں کہ وہ اخبارات، ٹی وی اور صحافیوں کا منہ بند کرکے حالات کو چھپا
سکتے ہیں حالانکہ یہ ان کی غلط فہمی ہے … زیادہ پابندیوں کی وجہ سے تو حالات اور
زیادہ خراب ہوتے ہیں اور طرح طرح کی افواہیں جنم لیتی ہیں … ادھر امریکہ نے کہا ہے
کہ ہم نے پاکستان کے ایٹمی اثاثے قابو کرنے کا پورا انتظام کرلیا ہے … یہ ہے نتیجہ
امریکہ نواز پالیسیاں اختیار کرنے کا… علماء کرام کو شہید کرنے کا… جہاد پر پابندی
لگانے کا … اور مساجد ومدارس پر بم برسانے کا…
کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ملک کے حکمران اپنی پالیسیوں پر
نظر ثانی کریں… خیر یہ تو ان کی اپنی مرضی ہے مگر ان حالات میں ملک کے دینی طبقے
کو کیا کرنا چاہئے؟ … اسی دینی طبقے کو ختم کرنے کے لئے ہی ساری تدبیریں ہیں … اور
اب ’’آخری تدبیر‘‘ یہ ہے کہ پورے ملک میں دینی طبقے کو آپس میں لڑا کر ختم کروایا
جائے … اس وقت کروڑوں، اربوں ڈالر اس منصوبے پر خرچ کیے جا رہے ہیں اور پاکستان کے
دینی طبقے کو بری طرح سے ’’تقسیم‘‘ اور ’’اختلافات‘‘ میں ڈالا جارہا ہے…
اللہ تعالیٰ رحم فرمائے اور ہمیں وہ دن دیکھنے سے بچائے جب
’’خارجیوں‘‘ کی طرح خود کو مجاہد کہنے والے کچھ کم عقل گروپ علماء اور مجاہدین کو
قتل کرنے کے لئے قرآن پاک پر حلف اٹھا رہے ہوں … اور ان لوگوں کے ہاتھ پر وفاداری
کی بیعت کر رہے ہوں جن کے پاس دین اور جہاد کا علم ہی نہ ہو… اور جن کے چہرے خود
بے وفائی اور عہد شکنی کی کالک سے سیاہ ہوں …
یا اللہ رحم فرما … یا اللہ رحم فرما … اسلام میں خارجیوں
کا فتنہ بہت خطرناک تھا … یہ کم عقل لوگ خود کو حق پر سمجھتے تھے … اور حضرت علی
رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جیسے حضرات کو اسلام کے راستے کی رکاوٹ
سمجھتے تھے … ان کے نزدیک قتل کرنا ہی ہر مسئلے کا حل تھا اور وہ بے دریغ لوگوں کی
جانوں سے کھیلتے تھے …
خارجیوں کا دماغ اور مزاج رکھنے والے لوگ ہر زمانے میں
موجود رہتے ہیں … انڈیا میں گرفتاری کے دوران ہمارے ساتھ ایک نوجوان مجاہد بھی قید
تھے … اللہ پاک ان کو جلد رہائی عطاء فرمائے وہ دین کا واجبی علم بھی نہیں رکھتے
تھے، نماز وغیرہ فرائض بھی پوری طرح ادا نہیں کرتے تھے مگر ان کے نزدیک ہر مسئلے
کا حل ’’قتل کرنا‘‘ اور ٹھوک دینا (یعنی ماردینا) تھا …
وہ میرے درس میں شریک ہوتے تھے کبھی درس میں بے پردگی کے
خلاف بات ہوتی تو درس کے بعد غصے میں کانپتے ہوئے آتے کہ حضرت جی! ان تمام بے پردہ
عورتوں کو قتل کرنا جائز ہے؟ میں جواب دیتا نہیں، بالکل نہیں تو وہ الجھ پڑتے اور
حیرانی سے مجھے دیکھتے …
کبھی فحاشی، عریانی کی بات ہوتی تو ان کا فتویٰ ہوتا کہ سب
فلم بنانے اور دیکھنے والوں کو ٹھوک دیا جائے … داڑھی کا مسئلہ بیان ہوتا تو ان کے
نزدیک داڑھی کٹوانے والے سب لوگ ’’واجب القتل‘‘ قرار پاتے … میں ان کی حالت دیکھ
کر کہتا تھا کہ اللہ پاک اس شخص کو طاقت نہ دے اگر اس کو طاقت مل گئی تو یہ ’’عدّی
امین‘‘ اور ’’حجاج بن یوسف‘‘ کو پیچھے چھوڑ دے گا… میں پوری کوشش کے باوجود اس کو
یہ نہ سمجھا سکا کہ ’’قتل‘‘ ایک بڑی سخت چیز ہے… یہ اگر اسلامی احکامات کے مطابق
ہو تو بہت بڑا ثواب اور معاشرے کا بہت نافع علاج ہے لیکن اگر یہ اسلامی احکامات کے
خلاف ہو تو شرک اور کفر کے بعد جہنم میں لے جانے کا سب سے بڑا ذریعہ … اور اللہ
پاک کے غضب کو دعوت دینے والا سب سے بڑا کام ہے… اللہ پاک کو اپنی ’’مخلوق‘‘ سے
پیار ہے اس لئے وہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی اپنی ذات کے لئے یا فساد کے
لئے اس کی مخلوق کو مارے … اسی طرح ہر آدمی کو اس بات کا شرعی اختیار نہیں ہے کہ
وہ اپنے ہاتھ پر لوگوں سے بیعت لے کر ان سے فدائی حملے کرائے … ایسے امیر کے لئے
اسلام میں کچھ شرائط ہیں … اور محض ’’جذبات‘‘ سے کوئی کام حلال نہیں ہوجاتا … حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بعض بڑے واقعات ہوئے… ایسے واقعات کہ آج بھی
جب ہم ان کو پڑھتے ہیں تو جذبات اور غصے سے روح کانپنے لگتی ہے… مگر ان واقعات پر
بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’قتل‘‘ کا دروازہ نہیں کھولا … حضرت ام المؤمنین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت کا واقعہ کتنا سخت اور اذیت ناک تھا …
ہمارے بزرگ استاذ حضرت مولانا محمد ادریس صاحب میرٹھیؒ جب مسلم شریف میں یہ واقعہ
پڑھا رہے تھے تو انکی چیخیں نکل گئیں … خود قرآن پاک نے ’’سبحانک ہذا بہتان عظیم‘‘
فرمایا … میں سوچتا ہوں کہ ایسا خطرناک واقعہ آج کے کسی بڑے مقبول مذہبی رہنما کی
اہلیہ کے ساتھ ہوجائے تو معلوم نہیں کتنے افراد قتل ہوجائیں گے … مگر مدینہ منورہ
میں اس واقعہ پر ایک قتل بھی نہیں ہوا … حالانکہ پورا مدینہ منورہ رو رہا تھا … ہر
طرف غم اور اداسی سے دل پھٹے جا رہے تھے … آپ یہ سوچیں کہ تہمت کتنی عظیم ہستی پر
لگی تھی… مگر اسلام اسلام ہے اس نے اس موقع پر بھی اپنے ماننے والوں کو اپنے قابو
میں رکھا اور کوڑوں کی اس سزا پر اکتفا کرایا جو اسلام کا حکم تھا … دراصل ایسے
مواقع پر ’’اطاعت‘‘ سے ہی اسلام مضبوط ہوتا ہے اور دنیا پر حکومت کرتا ہے… لیکن جب
’’خارجیوں کی طرح اپنے جذبات کو خدا بنالیا جائے تو پھر مسلمانوں کو آپس کی
لڑائیوں ہی میں محدود رہنا پڑتا ہے… اور کافر خوشی سے بغلیں بجاتے ہیں …
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ … ایمرجنسی کے اندھیرے کا فائدہ اٹھا
کر ملک کے دینی طبقے کو آپس میں لڑانے اور مروانے کی تیاریاں زوروں پر ہیں … میں
اس خطرے کو ’’سرخ آندھی‘‘ کی طرح زمین پر اترتے دیکھ رہا ہوں … وزیرستان سے لے کر
کراچی تک میں اس کا ماحول بنایا جارہا ہے…
ہمیں آج سے ہی اس آندھی … کو روکنے کی کوشش شروع کردینی
چاہئے… تمام دینی طبقوں اور جماعتوں کا اتحاد اور اتفاق تو بظاہر فی الحال ممکن
نہیں ہے مگر چند آسان سے اقدامات کرکے اللہ تعالیٰ کے اس عذاب سے حفاظت کا سامان
کیا جاسکتا ہے … (۱)دین کا کام کرنے والے تمام افراد، جماعتیں اور ادارے اپنے
اندر اخلاص پیدا کریں، ریاکاری اور شہرت کے دلدادہ عناصر کو قیادت سے دور کردیں (۲)جہاد و قتال کے شرعی احکامات کا آپس میں خوب مذاکرہ ہو (۳)اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کو مضبوط بنانے والے اعمال کو
زندہ کیا جائے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچا جائے (۴)دین کے کام پر پوری محنت صرف کی جائے جب محنت زیادہ ہوگی تو فتنے کم آئیں گے
اور جب قیادت ’’تن آسان‘‘ ہوجائے گی اور سارا وزن کارکنوں پر آپڑے گا تو ہر طرف
فتنے پھیل جائیں گے (۵)ایک دوسرے کے بارے میں غلط فہمیوں سے بچا جائے…
یہ چند اقدامات تو قسمت والے مسلمان کریں گے مگر ایک کام ان
تمام سے زیادہ ضروری ہے … اور وہ ہے نفاق سے بچنا …
اے مسلمانو! نفاق بہت خطرناک جرم ہے، اسلام میں دورنگی اور
دو رُخی کا تصور ہی نہیں ہے… پورا قرآن پاک ہمیں اوّل تا آخر ’’خالص مسلمان‘‘ بننے
کی دعوت دیتا ہے… اس لئے ’’نفاق‘‘ اور ’’دورنگی‘‘ سے بچیں … اللہ تعالیٰ کے سوا
ہمیں کوئی نہیں مار سکتا … اور اللہ تعالیٰ کے سوا ہمیں کوئی روزی سے محروم نہیں
کرسکتا … تو پھر ڈرنے اور نفاق کا راستہ اختیار کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
اگر آپ کسی کے ساتھ ہیں تو پھر مکمل اخلاص اوروفاداری سے اس
کے ساتھ رہیں اور اگر آپ کا دل کسی سے کٹ چکا ہے تو پھر اس کو صاف صاف بتادیں …
ایک جماعت میں رہتے ہوئے اسی جماعت کی جڑیں کاٹنا کسی مسلمان کا شیوہ تو ہر گز
نہیں ہوسکتا … اور ایمان کے بعد اخلاص و وفاداری جیسی خوشبودار چیز دنیا میں اور
کوئی نہیں ہے …
یا اللہ ہم سب کو اخلاص نصیب فرما … اخلاص نصیب فرما …
…آمین یا ارحم الراحمین…
سبحان اللہ، الحمدللہ، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ، ولا حول
ولا قوۃ الا باللہ
اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق کی تعداد کے برابر … تمام مخلوق
کے ہم وزن سبحان اللہ، الحمدللہ،
اللہ اکبر، لا الہ الااللہ … ولا حول ولاقوۃ الا باللہ…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی خاص رحمت فرما کر ہم مسلمانوں کو
’’آزادی‘‘ عطاء فرمائے… ہم تو ساری دنیا میں ’’غلام‘‘ بنا دئیے گئے ہیں… یااللہ
اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر رحم فرما… عرب مسلمان بھی غلام … ترک
مسلمان بھی غلام … افغان مسلمان بھی غلام … سیّد بھی غلام، مغل بھی غلام، گورے بھی
غلام، کالے بھی غلام … اور دکھ یہ کہ اس غلامی پر خوش اور مطمئن اور ہر گلی میں
الگ خلیفہ اور ہر پانچ قدم پر الگ سلطنت … بے شک غلاموں میں بادشاہ بھی زیادہ ہوتے
ہیں، حکمران بھی بے شمار ہوتے ہیں، قبیلے بھی ان گنت ہوتے ہیں… اور ہر شخص کو اپنی
اطاعت کروانے کاشوق خوب ذلیل کرتا ہے خوب ذلیل … آخر امریکہ کا نائب وزیر خارجہ
’’نیگرو پونٹے‘‘ حکمران بن کر پاکستان کیوں آیا؟ … کیا ہم ایک آزاد ملک کے شہری
ہیں؟ … صدر مشرف کو شوق ہے کہ قوم ان کے بوٹوں کے نیچے رہے… اور قوم میں بھی ہر
دوسرا آدمی لوگوں کو اپنے قدموں پر گرانے کی فکر میں ہے… ہر استاذ کی خواہش ہے کہ
اس کے شاگرد اس کی ’’ہربات‘‘ مانیں… ہر افسر کی خواہش ہے کہ اس کے ماتحت اس کے
زرخرید غلام بن کر رہیں … ہر پیر کی خواہش ہے کہ اس کے مرید اس کی پیغمبر کی طرح
اطاعت کریں … ہر لیڈر کی خواہش ہے کہ عوام اس کے قدموں کا کیڑا بنے رہیں … میں اس
وقت حیران ہوتا ہوں جب کسی مسجد کا منّا سا خطیب … جس کی ابھی داڑھی آرہی ہوتی ہے…
اور وہ کسی مدرسے میں درجہ خامسہ، سادسہ کا طالبعلم ہوتا ہے وہ جمعہ کے خطبہ میں
’’اپنی اطاعت‘‘ کے موضوع پر تقریر کر رہا ہوتا ہے… جی ہاں وہ سورۃ حجرات کی آیات
سے یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کی آواز سے اونچی آواز میں بولنا بھی لوگوں کے لئے جائز
نہیں ہے…
استغفراللہ، استغفراللہ… آخر ہم سب کو کیا ہوگیا ہے؟ … ہم
میں سے ہر شخص پر ’’خدا‘‘ بننے اور لوگوں کو اپنے سامنے جھکانے کا شوق سوار ہے…
اسی لئے تو ساری دنیا ہمارے سر پر سوار ہے… ہندوستان کے کروڑوں مسلمانوں پر من
موہن اور سونیا گاندھی سوار ہیں…
فلسطین والوں کے سر پر یہودی سوا رہیں … افغانیوں کی گردن
پر امریکہ اور نیٹو سوار ہیں … روسی چینی مسلمانوں کے سروں پر کیمونسٹ سوار ہیں …
فلپائنی مسلمانوں پر عیسائی سوار ہیں … اور ہم پاکستانی، ترکی، سعودی مسلمانوں کے
سروں پر غلامی کا گند سوار ہے… اب کون اس سچے دین اسلام کو پوری دنیا تک پہنچانے
کی فکر کرے… ہم سب مسلمان تو بس ایک دوسرے کو اپنے نیچے لگانے کی فکر میں ہیں …
ہمار ایک ساتھی تھا … اللہ پاک اس کو معاف فرمائے … وہ ساتھیوں سے چھپ چھپ کر اپنی
اطاعت کا حلف ’’قرآن مجید‘‘ پر لیتا تھا … استغفراللہ، استغفر اللہ … کیا قرآن پاک اسی لئے نازل ہوا ہے؟ … اتنی
عظیم الشان کتاب کا استعمال اتنے گھٹیا مقاصد کے لئے ؟ … اللہ جل شانہ کے عظیم
کلام کا استعمال اپنے نفس کی اطاعت کے لئے؟ … قرآن پاک ہاتھ میں دے کر یہ عہد کہ
میں جو بھی کہوں گا تم مانو گے اور جس کام کا حکم دوں گا اسے پورا کرو گے… کیا
قرآن پاک جو اللہ پاک کا کلام ہے اسی چیز کا سبق دیتا ہے؟ … بے شک اسلام میں امیر
کی اطاعت کا تاکیدی حکم ہے… اور مسلمانوں کی کامیابی، غلبے اور اجتماعیت کا راز
بھی ’’اطاعت‘‘ میں ہے… مگر اطاعت کس کی؟ … لوگوں نے حضرات خلفاء راشدین کی اطاعت
غلاموں سے بڑھ کر کی… مگر یہ ’’خلفاء کرام‘‘ کیسے لوگ تھے؟ … انہوں نے لوگوں سے
اپنی نہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کروائی … انہوں
نے لوگوں سے ذاتی مفادات حاصل نہیں کیے بلکہ ہر کسی کو خود نفع پہنچایا… اور انہوں
نے ہر آدمی کو دین کے کام میں جوڑا … آپ خود دیکھیں لاکھوں کروڑوں انسان ان کے
فرمانبردار تھے … مگر وہ پیوند لگے ہوئے کپڑے پہنتے تھے … زمین پر سر رکھ کر
سوجاتے تھے … بازار میں جاکر خود بھاؤ تاؤ کرکے سودا خرید لاتے تھے … ضرورت کے وقت
تجارت بھی کرتے تھے… اور خود کو ’’عام انسان‘‘ بنا کر رکھتے تھے…
نیگروپونٹے پاکستان میں ایک حکمران کی طرح ناچتا پھر رہا
تھا … صدر مشرف اس کو یقین دلا رہے تھے کہ میں آپ کی فرمانبرداری میں ’’بے مثال‘‘
ہوں، جبکہ بے نظیر اس کو پیغام بھیج رہی تھی کہ … نہیں یہ پوری فرمانبرداری نہیں
کر رہے مجھ ناچیز کنیز کو موقع دیا جائے میں آپ کی ہر خدمت پورے خلوص سے سرانجام
دوں گی … گویا مسلمانوں کی لاشوں کا ’’ٹینڈر‘‘ کھلا ہوا تھا … ہر کوئی بولی لگا
رہا تھا اور اب آخری فیصلہ بش کے ہاں سے ہوگاکہ … مسلمانوں کے قتل عام کا ٹھیکہ کس
کو دیا جائے؟…
ہاں جب ہم میں سے ہر شخص کو اپنے سامنے ’’سجدے کروانے‘‘ کا
شوق ہے تو ہمارا یہی حال ہونا ہے… حالانکہ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں
اس ’’ناپاک شوق‘‘ سے منع فرمایا ہے… ایک نہیں کئی احادیث مبارکہ ہیں اور اسلام کا
مزاج ہی ’’فرمانبرداری‘‘ والا ہے… مگر ہم تو فرمانروائی کے شوقین بن کر ذلیل ہو
رہے ہیں … جو تھوڑا سا دین پڑھ لیتا ہے وہ چاہتا ہے لوگ اس کی اطاعت کریں … جو
تھوڑا سا بدمعاش بن جاتا ہے وہ چاہتا ہے کہ لوگ اس کو ’’دادا‘‘ مانیں … جو نورانی
قاعدہ پڑھا لیتا ہے وہ چاہتا ہے لوگ اس کے غلام بن جائیں … جو کسی پارٹی میں کوئی
عہدہ حاصل کرلیتا ہے وہ چاہتا ہے کہ باقی لوگ اس کی پوجا کریں … جو تھوڑی سی تقریر
کرلیتا ہے وہ چاہتا ہے لوگ اس کو کندھوں سے نیچے نہ اتاریں … جس کو کہیں سے
’’خلافت‘‘ ہاتھ آجاتی ہے وہ چاہتا ہے مرید اس کی اجازت کے بغیر پیشاب بھی نہ کریں
… اور جس کو لکھنا آجاتا ہے وہ چاہتا ہے کہ لوگ اس کو آنکھوں کا تارا بنا کر رکھیں
… ہاں بے شک ہمارا معاشرہ متکبر لوگوں سے بھر چکا ہے … اکڑنے والے، دوسروں کو اپنے
سامنے جھکانے والے… اور لوگوں کی اطاعت سے دل کا سرور محسوس کرنے والے پاگل ہر طرف
بکھرے ہوئے ہیں … ان حالات میں ہمیں کافروں کی غلامی کے سوا اور کیا مل سکتا ہے؟ …
ہم اس بات کو بھول گئے کہ مسلمانوں کا معاشرہ تو … تواضع کرنے والے، خدمت کرنے
والے اور ایک دوسرے کا اکرام کرنے والے لوگوں سے بھرا ہوتا ہے … معاشرے کے اسی رُخ
کو ’’رحماء بینہم ‘‘ کے الفاظ سے سمجھایا گیا ہے … اس معاشرے کا ’’داخلی نظام‘‘
رحمت اور محبت سے بھرا ہوتا ہے … سب لوگ ایک دوسرے کی خدمت کرتے ہیں اور خود کو
دوسروں سے کم تر سمجھتے ہیں … سب لوگ اپنے ذمہ داروں کی اطاعت کرتے ہیں اور ذمہ
دار اپنی اطاعت کروا کے خوش نہیں ہوتے… اور نہ وہ ذاتی اطاعت کرواتے ہیں … بلکہ
اللہ اور رسول کی اطاعت پر لوگوں کو مضبوط کرتے ہیں … اسلامی معاشرہ پروٹوکول کی
لعنت سے پاک ہوتا ہے اور اس معاشرے کا سب سے معزز مقام ’’مسجد ‘‘ ہوتاہے … اسلامی
معاشرے میں کوئی ایسے ’’رنگین بت‘‘ نہیں ہوتے جن کی ’’شان‘‘ نعوذباللہ انبیاء سے
بھی بڑھ کر ہو کہ … بازار میں جاکر سودا خریدنے اور گھر میں جھاڑو دینے کو بھی
اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہوں …
اسلامی معاشرہ خالص جہادی معاشرہ ہوتا ہے جس میں ہجرت اور
جہاد کی ہر وقت تیاریاں ہوتی ہیں … لمبی لمبی شادیاں، بڑے بڑے بنگلے اور بے تحاشا
دنیاداری کا اسلامی معاشرے میں کوئی تصور ہی نہیں ہے… وجہ بالکل واضح ہے کہ… حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں … اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم
کا دین پوری انسانیت کے لئے اور قیامت تک کے لئے ہے… اب یہ دین ساری دنیا تک ہم
مسلمانوں نے پہنچانا ہے اور اس دین کو غالب رکھنے کی محنت بھی ہم نے کرنی ہے … کیا
ہم یہ محنت کر رہے ہیں ؟ … کاروبار میں مست مسلمان اپنے گریبان میں جھانک کر
دیکھیں … گھریلو جھگڑوں میں مشغول خواتین ایک نظراپنی مصروفیات پر ڈالیں … ہاں
افسوس کہ ہم مسلمان اللہ کے دین کی فکر سے غافل ہوچکے ہیں … افریقہ کے جنگلوں تک
اس دین کو کون لے جائے گا؟ … یورپ کے غرور اور ناپاک رنگینیوں سے کون نمٹے گا؟ …
کافروں کی ہولناک قوت کو دینی دعوت کے راستے سے کون ہٹائے گا؟ … برہمن کے جال سے
کروڑوں مسلمانوں کو کون نکالے گا؟ … یہودیوں کے جبڑوں کو توڑ کر مسجد اقصیٰ کو کون
آزاد کرائے گا؟ … کیا اس کی فکر ان لوگوں کو ہے جن کا نام اگر کوئی بے اکرامی سے
لے لے تو سارا دن درد سے جلتے رہتے ہیں … کیا اس کی فکر ان عورتوں کو ہے جو اپنے
خاوند پر بلاشرکت غیرے حکومت کو ہی زندگی کی کامیابی سمجھتی ہیں … اے اللہ کے
بندو… اور اے اللہ کی بندیو! … اللہ تعالیٰ سے بامقصد زندگی کی دعاء مانگو… اپنے
لئے بھی اور میرے لئے بھی… اور اپنے دل سے اپنے اکرام اور اطاعت کا شوق نکال دو…
مگر کہاں؟… یہ ظالم شوق آسانی کے ساتھ دل سے نہیں نکلتا … یہ کُتّے کی خارش ہے جو
ہر وقت بڑھتی ہی رہتی ہے… اسی کی خاطر لوگ ’’نقلی سید‘‘بنتے ہیں … اس
کی خاطر لوگ طرح طرح کے جھوٹ بولتے ہیں اور سارا دن بکری کی طرح’’ میں میں‘‘ کرتے
ہیں کہ … میں ایسا میں ایسا … اسی کی خاطر لوگ اپنی جھوٹی کرامتیں گھڑتے ہیں … اسی
کی خاطر لوگ جھوٹے خواب بناتے ہیں … اسی کی خاطر لوگ علاقہ پرستی اورقوم پرستی کا
بدبودار نعرہ اٹھاتے ہیں … اور اسی کی خاطر لوگ قوت اور پیسے کا بے دریغ استعمال
کرتے ہیں … ہاں یہ ظالم شوق کتے کی خارش کی طرح ہے جو انسان سے ہر بُرا کام کرواتا
ہے… اور یہ شوق ہر گھڑی بڑھتا ہی جاتاہے …اور ہم اس شوق کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے
دور ہوتے جا رہے ہیں، دور، بہت دور… ہاں اللہ تعالیٰ اس دل میں نہیں آتا جس میں
تکبرّ ہو… جس میں خود کو بڑا سمجھنے کا ’’گند‘‘ ہو… اللہاکبرکبیرا … ہم اس ’’ظالم
شوق‘‘ کی وجہ سے کتنے نقصانات اٹھا رہے ہیں :
(۱)اللہ تعالیٰ سے دور ہو رہے ہیں جو سب سے بڑانقصان ہے …
(۲)ریاکار بنتے جارہے ہیں کیونکہ ہر وقت خود کو’’اچھا‘‘ اور
’’بڑا‘‘ دکھانے کی فکر انسان کو ریاکار بنادیتی ہے …
(۳)ہم غلام بنتے جارہے ہیں اس لئے کہ جن کے دل میں اپنی اطاعت
کروانے کا شوق ہو وہ اونچے مقاصد اور جہاد سے دور ہوجاتے ہیں اور ان کا معاشرہ
تفریق کا شکار ہو کر کمزور ہوجاتا ہے… ہاں بے شک جس معاشرے میں لاکھوں معبود،
لاکھوں بادشاہ، لاکھوں خلیفہ، لاکھوں امراء، لاکھوں ملکان، لاکھوں خوانین، لاکھوں
دادے، لاکھوں جگّے، لاکھوں جاگیردار حکومت کر رہے ہوں … وہ معاشرہ غیروں اور
کافروں کا غلام ہی بنتا ہے …
(۴)اپنی اطاعت کروانے کا شوق انسان کو ہمیشہ پریشان اور غمگین
رکھتا ہے… کوئی اکرام میں کھڑا نہ ہوا تو پریشان … کسی نے نام بے ادبی سے لے لیا
تو پریشان … کسی کے سامنے کوئی کمزوری ظاہر ہوگئی تو پریشان … بس انسان کو اپنی
ناک کی فکر ہر وقت غم میں ڈالے رکھتی ہے…
(۵)اپنی اطاعت کا شوق انسان کو لوگوں کا محتاج بنادیتا ہے… جس
طرح ایک بھکاری ہاتھ میں پیالا لے کر ایک ایک آدمی سے بھیک مانگتا رہتا ہے اسی طرح
… انسان کا دل بھی بھکاری کا پیالا بن جاتا ہے اور ہر آدمی سے اپنی اطاعت اور
اکرام کی بھیک مانگتا رہتا ہے…
(۶)اطاعت کروانے کے شوقین آدمی کا یہ شوق بعض دفعہ اتنا بڑھ
جاتاہے کہ … وہ اپنی دعاء قبول نہ ہونے پر بھی بگڑ جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری
بات کیوں نہ مانی… نعوذباللہ، نعوذباللہ … اللہ تعالیٰ تو رب اور مالک ہے اس کی
مرضی دعاء قبول فرمائے یا نہ فرمائے… ہم کون ہیں شکوہ اور شکایت کرنے والے … ہمارا
فرض ہے کہ ہم اس کی تقدیر اور فیصلے پر راضی رہیں … اور دل کی تنگی اور شکوے کے
بغیر اس سے مانگتے رہیں …
بہرحال یہ ایک طویل موضو ع ہے … خلاصہ بس یہی ہے کہ … اطاعت
کروانے کا شوق ایک خطرناک بیماری ہے جس نے ہمیں ہر طرف سے گھیر لیا ہے… کیا ہم اس
رسوا اور ذلیل کرنے والی بیماری سے بچنا چاہتے ہیں؟ … جی ہاں اگر بچنا چاہتے ہیں
تو ہم آج سے چند کام شروع کردیں :
(۱)خوب توجہ اور فکر سے دعاء کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس گندی
بیماری سے نجات اور آزادی عطاء فرمائے … یقین کریں اگر ہمیں اس سے نجات مل گئی تو
ہماری زندگی سکون سے بھر جائے گی … اور ہم لوگوں کو فائدہ پہنچانے والے انسان بن
جائیں گے …
(۲)وہ لوگ جو مختلف ذمہ داریوں اور عہدوں پر ہیں یا افسر ہیں
وہ خود کو اپنے ماتحتوں سے افضل نہ سمجھیں … اور اس کا طریقہ اپنے گناہ یاد رکھنا
اور دوسروں کے عیبوں پر نظر نہ ڈالنا ہے… اور اس بات کو سمجھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ
کے نزدیک ’’انسان‘‘ کی کتنی عزت اور عظمت ہے… کوئی استاذ ہو یا شاگرد، پیر ہو یا
مرید، افسر ہو یا کلرک ، کمانڈر ہو یا مجاہد… یہ سب ’’انسان‘‘ ہونے میں تو برابر
ہیں اور ’’مسلمان‘‘ ہونے میں بھی برابر ہیں اور ممکن ہے کہ مسلمان ہونے میں کئی
چھوٹے اپنے بڑوں سے افضل ہوں … اس لئے کسی ’’عہدے‘‘ ’’لیڈری‘‘ … آفیسری اور استاذی
کی وجہ سے کوئی خود کو دوسروں سے افضل نہ سمجھے … فضیلت کا معیار تقویٰ ہے …
(۳)اپنی زندگی کو تکلّفات سے پاک رکھیں ، اپنے ہاتھ سے اپنا
جوتا صاف کریں… کبھی کبھار کپڑے اور برتن دھویا کریں … بازار میں جاکر خرید وفروخت
کیا کریں … پیسوں کا حساب کیا کریں اور اپنے ہاتھ سے ریزگاری لیا اور دیا کریں …
الغرض کسی بھی جائز انسانی کام کو … اپنی شان کے خلاف نہ سمجھیں اور نہ بننے دیں …
بلکہ انبیاء علیہم السلام اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرح …
اپنی زندگی کو سادہ اور بے تکلّف رکھیں …
(۴) جو لوگ ماتحت ہوں ان کو اپنی ذاتی اطاعت کی ترغیب نہ دیں …
بلکہ اللہ اور اس کے رسول اور دینی کاموں میں ان کی اطاعت کو خرچ کریں …
(۵) ایسے پرندے اور جانور نہ پالیں جو انسانی اشاروں پر تیزی سے
اطاعت کرتے ہیں … کیونکہ انسان کمزور ہے چناچہ وہ کتے کے دُم ہلانے سے بھی اپنے آپ
کو کچھ سمجھنا شروع کردیتا ہے…
(۶) جماعت کے نیچے کے عہدیدار اپنے ماتحت ساتھیوں کو یہی بتائیں
کہ آپ پر ہماری اطاعت واجب نہیں ہے، صرف امیر کی اطاعت واجب ہے اور ہم اس کے
احکامات پہنچانے اور انہیں نافذ کرنے کا ایک ذریعہ ہیں…
(۷) حضرات انبیاء علیہم السلام اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ
علیہم اجمعین کی زندگیوں کا مسلسل مطالعہ اور مذاکرہ کیا جائے اور زمانے کے لوگوں
کے مزاج کو دین سمجھنے کی بجائے… حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ اور
حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حالات سے دین کا مزاج سمجھا جائے…
(۸) ذاتی انتقام پر معاف کرنے کو ترجیح دی جائے اور قوت کا
استعمال صرف اللہ پاک کے دین کے لئے کیا جائے… اور اپنی ذات کے بارے میں خود کو
قوت ہونے کے باوجود کمزور سمجھا جائے …
(۹) لینے کی بجائے دینے والا مزاج بنایا جائے کہ میں کس طرح سے
مسلمانوں کو… عزت، راحت، فائدہ اور اکرام دے سکتا ہوں… جس آدمی پر بھی نظر پڑے یا
جس کا بھی خیال آئے فوراً یہ سوچیں کہ میں اس کو کیا فائدہ پہنچا سکتا ہوں… اور
نہیں تو دعاء دے سکتا ہوں … سلام کرسکتا ہوں … خوش اخلاقی سے مل سکتا ہوں … کوئی
اچھی بات بتا سکتا ہوں … یہ فکر بہت مبارک ہے…
(۱۰) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ارشاد فرمودہ مسنون دعاء
کا اہتمام کریں…
اللّٰہم اجعلنی صغیراً فی عینی وکبیراً فی أعیُنِ النَّاس
اے پروردگار! مجھے میری اپنی نظروں میں چھوٹا اور لوگوں کی
نظروں میں بڑا بنادیجئے …
یہ دعاء اسی مفہوم کے ساتھ مختلف الفاظ سے آئی ہے جو الفاظ
یاد ہوں ان سے پڑھ لیں … دن رات میں کئی بار اس دعاء کا اہتمام کریں… اللہ تعالیٰ
مجھے اور آپ سب کو اس خطرناک مرض سے آزادی عطاء فرمائے…
یا اللہ، یارحم الراحمین آپ ہمارے رب ہیں اور ہم آپ کے بندے
… آپ نے ہم پر اپنی اطاعت اور اپنے رسول اور شرعی امراء کی اطاعت لازم فرمائی ہے…
یا اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائیے… اور اپنی ذاتی اطاعت کروانے کا شوق ہمارے
دلوں سے دور فرما دیجئے… اور نفس کی غلامی سے ہمیں بچا لیجئے… یاارحم الراحمین …
ہمارے دل اپنی محبت سے، اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے، جہاد کے جذبے
سے، شہادت کے شوق سے،آخرت کی فکر سے، اسلام کی غیرت سے، دین کو دنیا پر غالب کرنے
کے شوق سے بھر دیجئے … اور ہمیں لوگوں کی محتاجی سے بچا لیجئے … یا ارحم الراحمین
ہم مسلمانوں کو آزادی عطاء فرما دیجئے، آزادی عطاء فرمادیجئے … اور ہمیں دنیا کی
ذلت اور آخرت کی رسوائی سے بچا لیجئے… آمین یا ارحم الراحمین…
(تنبیہ) اس مضمون کا یہ مطلب نہ لیا جائے کہ شاگرد استاذ
کی، مرید اپنے شیخ کی اور مجاہد کمانڈر کی اطاعت نہ کریں، دینی اطاعت تو مسلمان کا
شیوہ ہے … مقصد یہ ہے کہ کسی کے دل میں ذاتی اطاعت کروانے کا شوق پیدا ہونا ایک
خطرناک مرض ہے…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے کتنا بڑا فضل فرمایا کہ جس دن زمین و آسمان
پیدا فرمائے اسی دن ’’توبہ کا دروازہ‘‘ بھی بنادیا … اور یہ دروازہ اس وقت تک کھلا
رہے گا جب تک سورج مغرب کی طرف سے طلوع نہیں ہوتا… اللہ اکبر کبیرا کتنا بڑا فضل
ہے اور کتنا بڑاا حسان… توبہ کا یہ دروازہ ’’مغرب‘‘ کی طرف ہے اور بہت بڑا ہے…
ستّر سال تک کوئی سوار اپنی سواری پر دوڑتا رہے تو اس کی چوڑائی ختم نہ ہو … ہم سب
کو چاہئے کہ سچی توبہ کرکے اس دروازے میں داخل ہوجائیں … اللہ تعالیٰ توبہ کرنے
والوں سے محبت فرماتا ہے… جی ہاں ان مجرموں، گناہگاروں کو جو سچے دل سے توبہ کرلیں
اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے… اللہ تعالیٰ کے پاس مغفرت کی کمی نہیں ہے … اس کی
رحمت بہت بڑی ہے بہت ہی بڑی … اچھا اس بات کو یہاں روک کر پہلے ایک دعاء یاد
کرلیتے ہیں … آج کل فالج کا مرض بہت عام ہے… حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس
سے حفاظت کاعمل بیان فرمایا ہے … حضرت قبیصہ بن المخارق رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ
علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا میں بوڑھا ہوچکا ہوں میری ہڈیاں
کمزور پڑ گئی ہیں آپ مجھے کوئی ایسی دعاء سکھا دیجئے جس سے اللہ تعالیٰ مجھے نفع
عطاء فرمائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا فجر کے بعد تین بار یہ دعاء
پڑھ لیا کریں
سُبْحَانَ اللہ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ
آپ اندھے پن، کوڑھ اور فالج سے بچ جائیں گے اور آپ ان الفاظ
سے دعاء کیا کریں
اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِمَّا عِنْدَکَ وَأَفِضْ
عَلَیَّ مِنْ فَضْلِکَ وَانْشُرْ عَلَیَّ مِنْ بَرَکَاتِکَ
اے میرے پروردگار! میں آپ سے ان نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جو
آپ کے پاس ہیں اور مجھ پر اپنا فضل فرما دیجئے اور اپنی برکتیں مجھ پر برسا دیجئے…
(مسند احمد وفی اسنادہ راو لم یسمّ)
حدیث کی سند تو ظاہر ہے زیادہ مضبوط نہیں ہے مگر بندہ نے
اہل علم کو یہ وظیفہ بتاتے سنا ہے … اور ہمارے ایک استاذ محترم فرمایا کرتے تھے کہ
میاں فجر کے بعد تین بار
سبحان العظیم وبحمدہ ولا حول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم
پڑھا کرو، انشاء اللہ چلتے پھرتے اس دنیا سے رخصت ہوگے …
بعد میں ہم نے دیکھا کہ ان کا انتقال اسی حالت میں ہوا کہ خود چلتے پھرتے تھے اور
کسی کے محتاج اور معذور نہیں تھے… حقیقت میں یہ بہت بڑی نعمت ہے کہ انسان کسی کا
محتاج نہ ہو خصوصاً اس زمانے میں جبکہ ’’خدمت کا جذبہ‘‘ اور ’’بڑوں کا ادب‘‘ بہت
کم ہوچکا ہے … اور اکثر لوگوں کی اولاد نالائق، گستاخ اور نافرمان ہے… اللہ تعالیٰ
ہم سب کو والدین کی نافرمانی اور ایذاء رسانی سے بچائے حضور اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم نے جن گناہوں کو ’’کبیرہ گناہ‘‘ قرار دیا ہے ان میں سے ایک والدین کی
نافرمانی بھی ہے… اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بشارت بھی سنائی ہے کہ بوڑھے
والدین کی خدمت کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ اس دنیا میں بھی بہت سی نعمتیں عطاء
فرماتا ہے جن میںسے ایک نعمت یہ ہے کہ بڑھاپے میں انہیں خدمتگار نصیب ہوجاتے ہیں…
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
ما اکرم شاب شیخا لسنہ الا قیض اللہ لہ من یکرمہ عند سنہ
یعنی جو جوان آدمی کسی بوڑھے کا اس کی عمر کی وجہ سے اکرام
کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے بڑھاپے کے زمانے میں ایسے افراد مقرر فرمادے گا جو اس کا
اکرام کریں گے۔(ترمذی)
ایک اور روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جس آدمی کے دل میں اللہ
تعالیٰ کا جتنا ادب اور جلال ہوگا اسی قدر وہ بوڑھے مسلمانوں کا اکرام کرے گا…
ان من اجلال اللہ تعالیٰ اکرام ذی الشیبۃ المسلم
کہ اللہ تعالیٰ کی عزت وشان میں یہ بھی شامل ہے کہ مسلمان
بوڑھے کا اکرام کیا جائے… (ابوداؤد)
یہ موضوع کافی طویل ہے اور آج کل اس معاملے میں مسلمانوں کی
غفلت بہت دردناک ہے… بوڑھے بیچارے اپنے ہاتھوں کے بنائے ہوئے گھروں میں ’’اجنبی
مسافروں‘‘ کی زندگی گزار رہے ہیں اور جوان اولاد نے ان کو حسرت کی آہیں بھرنے کے
لئے پھینک دیا ہے… اللہ تعالیٰ ہم سب پر اس معاملے میں رحم فرمائے… جوان اولاد کو
تو سمجھانا کافی مشکل ہے کیونکہ جوانی کی مستی انسان کو بہت کم سوچنے دیتی ہے… اور
قسمت والے جوانوں کو ہی توبہ نصیب ہوتی ہے… مگر بوڑھے حضرات تو سمجھدار ہوتے ہیں
وہ ان حالات کو تھوڑی سی محنت کرکے تبدیل کرسکتے ہیں … بس طریقہ یہی ہے کہ اللہ
تعالیٰ کی یاد، عبادت اور محبت میں خود کو لگادیں، اولاد سے کوئی غرض نہ رکھیں،
اور اپنی تمناؤں کو سمیٹ لیں … پھر انشاء اللہ ان کے بڑھاپے میں ایک ’’خاص نور‘‘
آجائے گا اور اولاد ان کو شر نہیں پہنچا سکے گی … بات یہ چل رہی تھی کہ چلتے پھرتے
اس دنیا سے رخصت ہوجانا ایک نعمت ہے کیونکہ انسان اگر معذور اور محتاج ہوجائے تو
کافی پریشان ہوتا ہے اور نا اہل لوگ اسے بوجھ سمجھنا شروع کردیتے ہیں … حالانکہ
کمزوروں اور ضعیفوں کی برکت سے مسلمانوں پر رحمت اور نصرت نازل ہوتی ہے اور ان کی
خدمت سے اللہ تعالیٰ کا قرب نصیب ہوتا ہے… مگر ناچ گانے، موبائل اور انٹرنیٹ کے اس
زمانے میں اس حقیقت کو سمجھنے والے لوگ بہت کم رہ گئے ہیں …
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایمان اور شہادت پر خاتمہ نصیب
فرمائے، ہر طرف ظلم اور گناہ کی آندھیاں چل رہی ہیں… بس وہی بچ سکتا ہے جس کو اللہ
تعالیٰ بچائے اور اللہ تعالیٰ اس کو بچاتا ہے جس میں بچنے کی فکر ہو… ہمیں چاہئے
کہ اپنی ہر مجلس کا اختتام اللہ تعالیٰ کی تسبیح، ذکر اور استغفار پر کرنے کی پختہ
عادت ڈال لیں … کیونکہ موت بھی زندگی کی اس مجلس کا خاتمہ اور اگلی مجلس کا آغاز
ہے
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
من جلس فی مجلس فکثر فیہ لغطہ فقال قبل ان یقوم من مجلسہ
ذلک سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَشْہَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ
اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ الا غفرلہ ما کان فی مجلسہ ذلک
یعنی جو شخص کسی مجلس میں بیٹھا اور وہاں فضول، لغو اور بے
فائدہ باتیں زیادہ ہوتی رہیں تو اگر وہ مجلس سے اٹھنے سے پہلے یہ کلمات پڑھ لے تو
اس مجلس کے گناہ اس کے لئے معاف کردیئے جائیں گے
سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَشْہَدُ اَنْ لاَّ
اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ (ترمذی)
سبحان اللہ کتنی بڑی نعمت ہے… احادیث سے ثابت ہے کہ گناہ کی
مجلسیں انسان کے لئے قیامت کے دن کا بڑا خسارہ ہوں گی … آج کل تو گناہ کی مجلسیں
بے شمار ہیں … ٹی وی کی مجلس، موبائل گیمز کی مجلسیں، کمپیوٹر اور نیٹ کی مجلسیں …
اوّل تو ہمیں ان مجالس سے بچنا چاہئے لیکن اگر شیطان پھنسا لے تو ہم اس دعاء کو
پڑھنا نہ بھولیں … انشاء اللہ گناہ مٹ جائیں گے … اور اگر ہم اس دعاء کا دل کی
توجہ سے اہتمام کرتے رہے تو بہت سی بری مجلسوں سے انشاء اللہ ہماری جان چھوٹ جائے
گی … ابوداؤد کی ایک روایت میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مجلس سے
اٹھتے تو اس دعاء کا اہتمام فرماتے، اس پر ایک صاحب نے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کا یہ معمول پہلے تو نہیں تھا … آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ذلک کفارۃ لما یکون فی مجلس
کہ یہ کلمات مجلس کے گناہوں کا کفارہ ہیں (ابوداؤد)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو گناہوں سے پاک اور معصوم تھے مگر
امت کی تعلیم کے لئے… اور اپنے عظیم درجات کی مزید بلندی کے لئے آپ صلی اللہ علیہ
وسلم ان مبارک کلمات کا اہتمام فرماتے تھے… بلکہ ایک روایت سے تو یہ بھی معلوم
ہوتا ہے کہ… ان کلمات کے دو عظیم الشان فائدے ہیں پہلا فائدہ یہ ہے کہ مجلس میں جو
نیکی ہوئی ان پر ان کلمات کی برکات سے قبولیت کی مہر لگ جاتی ہے کہ اب یہ نیکی
ضائع نہیں ہوگی اور دوسرا فائدہ وہی ہے کہ مجلس کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے…
چنانچہ اچھی مجلس، تلاوت کی مجلس، ذکر و نماز کی مجلس، دعوت وبیان کی مجلس کے بعد
بھی اس کا اہتمام کرلیا جائے … نسائی کی روایت میں بالکل واضح طور پر آیا ہے کہ
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مجلس میں بیٹھتے یا نماز ادا کرتے تو یہ
کلمات پڑھتے تھے، اس پر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان کلمات کے بارے میں
پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ان تکلم بخیر کان طابعاً علیہن الی یوم القیمۃ وان تکلم
بشرٍّ کان کفارۃ لہ
یعنی اگر مجلس میں اچھی بات کہی ہے تو اس پر قیامت کے دن تک
کے لئے حفاظت کی مہر لگ جاتی ہے… اور اگر بری بات کہی ہے تو اس کے لئے یہ کلمات
کفارہ بن جاتے ہیں … (نسائی)
دوسری ایک روایت میں ’’مجلس ذکر‘‘ کی تصریح ہے کہ اگر مجلس
ذکر میں یہ دعاء پڑھے تو وہ مجلس اس کے لئے قیامت تک محفوظ ہوجاتی ہے
فقالہا فی مجلس ذکر کان کالطابع یطبع علیہ، ومن قال فی مجلس
لغوٍ کان کفارۃ لہ (نسائی)
بعض روایات میں اس دعاء کو تین بار پڑھنے کا تذکرہ ہے اس
لئے تین بار پڑھنا زیادہ مفیدہے
حقیقت میں یہ دعاء بہت بڑا خزینہ ہے… ہر نیکی کے بعد اور ہر
غلطی کے بعد اس کا اہتمام ہو تو ’’حسن خاتمہ‘‘ کی منزل انشاء اللہ آسان ہوجائے
سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَشْہَدُ اَنْ لاَّ
اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ
ترجمہ: اے میرے اللہ آپ پاک ہیں اور تمام
تعریفیں آپ کے لئے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں
آپ سے معافی چاہتا ہوں اور آپ کی طرف توبہ کرتا ہوں
جن مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو یہ دعاء یاد ہے وہ اس کے
پڑھنے کا اہتمام کریں … آج ہی سے جب تلاوت کریں، یہ مضمون پڑھیں اور کسی بھی اچھی
یا برُی مجلس میں بیٹھیں یا اٹھیں تو یہ دعاء توجہ سے پڑھ لیں … انشاء اللہ دل میں
عجیب سا سکون محسوس ہوگا … نیکیاں محفوظ ہوتی اور گناہ مٹتے محسوس ہوں گے … بعض
لوگ کہتے ہیں اتنی دعائیں ہیں کس کس کو معمول بنائیں ؟ … ان کی خدمت میں عرض ہے کہ
انسان کی زبان بولنے سے نہیں تھکتی … سبزی بیچنے والے کتنی آوازیں لگاتے ہیں؟ …
بسوں کے کنڈیکٹر کتنا بولتے ہیں ؟ … جن لوگوں کو بک بک یا گپ شپ کی عادت ہو وہ
کتنا بکتے ہیں؟ … حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں تو ایمان والوں کے لئے
سانس لینے کی طرح سکون آور ہیں … خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کا جتنا کام
کیا کوئی اور اتنا کرسکتا ہے؟ … ہر گز نہیں … پھر اتنے کام کے باوجود آپ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ان دعاؤں کو معمول بنایا تو معلوم ہوا کہ ہم فارغ لوگوں کے لئے تو
اور زیادہ ممکن ہے … بس دل میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کا ذوق اور شوق پیدا ہوجائے اور
یہ بات ذہن میں بیٹھ جائے کہ … ہم نے ذکر کے ذریعے اپنی جنت کو آباد کرنا ہے… لوگ
دنیا کا گھر بنانے کے لئے کتنی مشقت اٹھاتے ہیں؟ … جنت تو بہت قیمتی ہے … بہت
قیمتی …
اس دعاء کے آخر میں بھی توبہ کا ذکر ہے… یا اللہ میں آپ کی
طرف توبہ کرتا ہوں … اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان بناتے وقت ہی توبہ کا بہت بڑا
دروازہ مغرب کی طرف بنادیا ہے تاکہ اس کے بندے اس دروازے سے گزر کر اس تک پہنچیں …
شیطان ملعون ہمیں جہنم کی طرف کھینچ رہا ہے … ہمارا نفس شیطان کا تعاون کر رہا ہے…
شیطان تھوڑی دیر بھی چین سے نہیں بیٹھتا، اس نے قسم کھائی ہے کہ میں انسانوں کے
آگے پیچھے، دائیں بائیں ہر طرف سے ان پر حملے کروں گا … اس نے قسم کھائی ہے کہ میں
انسانوں کو گمراہ کروں گا …اس نے قسم کھائی ہے کہ میں انسانوں کو اپنے ساتھ جہنم
میں لے جانے کی زوردار محنت کروں گا … شیطان اپنے پیادے اور سوار لشکر کے ساتھ ہم
پر حملہ آور ہے… وہ طرح طرح کے روپ بدلتا ہے … وہ ہمیں آخرت سے غافل کرتا ہے… وہ
ہمارے وقت کو برباد کرتا ہے… وہ ہمیں گندی دوستیوں میں پھنساتا ہے… وہ ہمیں جہاد
سے دور کرتا ہے… وہ ہمیں دنیا کی الجھنوں میں پھنساتا ہے … اور ہم کمزور لوگ طوفان
میں گھری کشتی کی طرح ہچکولے کھا رہے ہیں … ہمارے نیچے جہنم کی گہرائی ہے اور جنت
بہت اوپر ہے بہت دور … عجیب پریشانی اور غم کا ماحول ہے … ایک گناہ کے بعد دوسرا
گناہ، ایک غلطی کے بعد دوسری غلطی … اور ایک ناکامی کے بعد دوسری ناکامی … شیطان
آواز لگا رہا ہے کہ تم تو جنت کے قریب بھی نہیں جاسکتے اس لئے محنت چھوڑو … اور
دنیا میں تو چند دن آرام اور مزے کرلو … اور ہمارا نفس شیطان کی ہاں میں ہاں ملا
رہا ہے کہ نیکی کا راستہ بہت مشکل ہے … اور تم کمزور ہو … مایوسی کے اس اندھیرے
میں … قرآن پاک کے الفاظ نور بن کر برستے ہیں … میرا اللہ شیطان سے فرما رہا ہے:
اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْہِمْ سُلْطَانُ
(اے شیطان جتنا بھی زور لگا لے ) ان انسانوں میں جو میرے
بندے ہیں ان پر تیرا زور نہیں چلے گا…
اللہ تعالیٰ کے بندے، اللہ تعالیٰ کے سچے غلام … ان کی بڑی
صفت ’’اخلاص‘‘ ہے کہ ہر عمل اللہ تعالیٰ کے لئے کرتے ہیں … اور توبہ کے دروازے کی
طرف دوڑتے چلے جاتے ہیں … دوڑتے چلے جاتے ہیں … شیطان ان کو گراتا ہے وہ اٹھ کر
پھر دوڑ پڑتے ہیں … نفس ان کو بٹھاتا ہے وہ کھڑے ہو کر پھر دوڑ پڑتے ہیں … اللہ
تعالیٰ کی طرف، توبہ کے دروازے کی طرف دوڑ رہے ہیں، دوڑ رہے ہیں … وہ جانتے ہیں کہ
ان کے گناہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے زیادہ نہیں ہیں … وہ جانتے ہیں کہ رب تعالیٰ کا
نظام دنیا کے لوگوں کے نظام سے مختلف ہے… ایک دن میں ستر گناہ ہوجائیں تب بھی توبہ
مل جاتی ہے… ایک آنسو جہنم کی آگ بجھا دیتا ہے… وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے
سوا کوئی نہیں ہے کہ … جس کی طرف ہمیں پناہ ملے… اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر
بہت فضل فرمانے والا ہے… آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
اللہ تعالیٰ ہر رات اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے کہ کوئی دن کا
گناہگار توبہ کرلے اور ہر دن اپنا (رحمت والا) ہاتھ پھیلاتا ہے کہ رات کا گناہگار
توبہ کرلے… اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک سورج مغرب سے طلوع نہیں
ہوجاتا (صحیح مسلم)
اللہ اکبر کبیرا … اللہ تعالیٰ کا رحمت والا ہاتھ !!!… ہمیں
یہ رحمت نصیب ہوجائے تو پھر شیطان ہمارا کیا بگاڑ سکتا ہے … اللہ پاک بلا رہاہے …
اپنی رحمت کی طرف، توبہ کے دروازے کی طرف
تُوْبُوْا إِلَی اللہ جَمِیْعًا اَیُّہَا الْمُؤمِنُوْنَ
لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ (النور)
اے ایمان والو! تم سب اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کرو تاکہ تم
کامیاب ہوجاؤ …
فَفِرُّوْا إِلَی اللہ (الذّاریات)
پس اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑ پڑو …
اے مسلمانو! … آ ج کا سورج بھی مشرق کی طرف سے نکلا ہے…
معلوم ہوا کہ توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور اللہ تعالیٰ کا رحمت والا ہاتھ ہمیں اپنی
طرف بلا رہا ہے… رب عظیم کو ہماری ضرورت نہیں مگر وہ پھر بھی ہمیں بلا رہا ہے… پھر
دیر کس بات کی؟ … ہم گناہ چھوڑ دیں، ہم مایوسی کو پرے پھینک دیں … اور دوڑ پڑیں
اپنے رب کی طرف اپنے پیدا کرنے والے، پالنے والے مالک کی طرف …
یا اللہ توبہ، یا اللہ توبہ، یا اللہ توبہ
سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَشْہَدُ اَنْ لاَّ
اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے سوا سب کچھ فانی ہے… پاکستان کی برّی افواج
کے سربراہ نے بھی حالات سے مجبور اور بے بس ہو کر بالآخر وردی اتار ہی دی…
اللہ اکبر کبیرا عجیب منظر تھا، آنکھوں میں آنسو، چہرے پر غموں کی بوچھاڑ، لڑکھڑاتی
زبان … اور حسرت ہی حسرت … دنیا نے صدام حسین کو پھانسی چڑھتے دیکھا مگر صدام نے
ان لمحات میں بھی اپنے حواس اور اپنی آواز پر قابو رکھا ہوا تھا اور اس کی گردن
تنی ہوئی تھی… مگر جنرل پرویز مشرف وردی اتارنے کے لمحے اپنے حواس پر قابو نہ رکھ
سکے … وہ کافی بوڑھے لگ رہے تھے اور انتہائی غمگین … ہاں! جب یہ فانی انسان کسی
چیز کے سہارے خود کو خدا سمجھ بیٹھتا ہے اورہر بات میں اپنی ’’میں‘‘ کو اونچا
رکھتا ہے تو جب اس کا سہارا باقی نہیں رہتا تو وہ اونچی دیوار کے ساتھ لٹکے ہوئے
اس انسان کی طرح بے بسی محسوس کرتا ہے جس کی ٹانگوں کے نیچے سے سیڑھی کھینچ لی گئی
ہو… اس میں ہم سب کے لئے بے شمار عبرتیں ہیں … ہم دنیا کے عہدوں اور سہاروں کو سب
کچھ نہ سمجھیں … ہم طاقت کے نشے میں ظلم نہ کریں … ہم فانی چیزوں کا سہارا لیکر
’’میںمیں‘‘ نہ کریں … ہم دنیا کے عہدوں اور عزتوں کو اپنی کھال نہ سمجھیں … اور ہم
دنیا کی نہیں آخرت کی فکر کریں … وردی کا اترنا ابھی ایک حسرت ناک کہانی کا آغاز
ہے … ابھی آگے کیا کچھ ہوگا اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے… ہمیں تو ہر واقعہ سے
اپنے لئے ہی سبق اور عبرت لینی چاہئے …
ہم سب قبر کی طرف جا رہے ہیں … ہم سب اپنے حساب کی طرف
جارہے ہیں … دنیا کی زندگی، یہاں کے اسباب، یہاں کی طاقت ان سب چیزوں کو ہم اللہ
تعالیٰ کی رضا کے کاموں میں لگا دیں… یہی سب سے بڑا سبق ہے … اور کافروں کا ساتھ
دینے والوں کے لئے عبرت ہے کہ … کس طرح سے امریکہ نے ’’صدرصاحب‘‘ کو اکیلا چھوڑ
دیا … اور کس طرح سے ’’نیگروپونٹے‘‘ نے آخری ملاقات میں ان سے اپنی آنکھیں پھیر
لیں …
اللہ کرے ’’صدر صاحب‘‘ کسی دن تنہائی میں بیٹھ کر سوچیں کہ
انہوں نے کیا حاصل کیا … اور کیا کچھ کھودیا؟ … وردی اترنے کے بعد تو ’’صدر‘‘ کی
مصروفیات بہت محدود ہوجاتی ہیں … پاکستان اور ہندوستان میں جو نظام حکومت رائج ہے
وہ ’’برطانوی جمہوریت‘‘ یا ’’پارلیمانی نظام‘‘ کہلاتا ہے… دراصل جمہوریت کی بھی دو
قسمیں ہیں برطانوی جمہوریت اور امریکی جمہوریت … برطانوی جمہوریت میں صدر کا عہدہ
ایک ’’نمائشی بت‘‘ کا منصب ہے … بھارت کا صدر سارا دن اسکول کے بچوں میں انعامات
تقسیم کرتا رہتا ہے… یا مہمانوں کے ساتھ بیٹھ کر ٹافیاں چوستا رہتا ہے… یہی حال
ہمارے ملک کے صدر کا بھی ہوتا ہے … مگر جب صدر باوردی ہو تو وہ بہت مصروف ہوتا ہے…
ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے بھی بہت مصروف وقت گزارا … کرکٹ سے لے کر ڈاکٹر
عبدالقدیر خان تک کا ہر معاملہ اپنے ہاتھوں میں رکھا … مگر اب وہ فارغ ہیں اور
بتدریج فارغ ہوتے چلے جائیں گے … ان کے پاس اسمبلی توڑنے کا اختیار ہے مگر ان کے
اعصاب کمزور ہوچکے ہیں … اب وہ سوچ سکتے ہیں … اللہ کرے سوچیں کہ انہوں نے
افغانستان میں ’’مقدس امارت اسلامیہ‘‘ ختم کرکے کیا حاصل کیا؟ … انہوں نے اپنے ملک
کو امریکہ کا اڈہ بنا کر کیا پایا؟ … انہوں نے جہاد پر پابندی لگا کر کیا کرلیا؟ …
انہوں نے انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے انتھک محنت کی مگر کیا پایا؟ … انہوں نے ہر
برے اور بے حیا انسان کو ترقی دی … مگر میراتھن دوڑ میں کپڑے اتار کر دوڑنے والوں
نے بھی مشکل میں ان کا ساتھ نہ دیا … امریکہ افغانستان فتح نہیں کرسکا … پاکستان
میں جہاد پہلے سے زیادہ طاقتور ہوگیا … روشن خیالی کا لفظ گالی اور انتہا پسندی کا
حرف ایک تمغہ بن گیا … جی ہاں صدر صاحب کے کندھوں پر فتح اور حصولیابی کا ایک بھی
نشان نہیں ہے… کاش وہ سوچیں کہ … انہوں نے باجوڑ کے مدرسے اور لال مسجد پر بمباری
کرکے کیا حاصل کیا؟ … دنیا میں ان کارناموں سے کیا پایا اور آخرت میں کس چیز کے
امیدوار ہیں؟ … معصوم بچوں اور قرآن کے حافظوں کا خون … جی ہاں اب وردی اتر گئی ہے
جو کبھی واپس نہیں آئے گی، کبھی نہیں … مگر خون پکارتا رہے گا، مظلوموں کا خون …
قرآن پاک کی حافظہ بچیوں کا خون … طرح طرح کی شکلیں بدل کر آنکھوں کے سامنے آتا
رہے گا … بِأیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ … کہ کس جرم میں ہمیں مارا گیا … کس جرم میں ہمیں
مارا گیا … حجاج بن یوسف جب مرنے کے لئے بیمار ہوا تو تھوڑی تھوڑی دیر بعد چیخیں
مار کر بیدار ہو جاتا تھا … اردگرد والے وجہ پوچھتے تو کہتا جیسے ہی آنکھ لگتی ہے
حضرت سعید بن جبیرؒ آجاتے ہیں اور میری گردن دبا کر پوچھتے ہیں … اے ظالم مجھے کس
جرم میں قتل کیا تھا؟ …
وردی اترنے کی کہانی ابھی پہلے مرحلہ میں ہے اس لئے اس کو
یہیں چھوڑ کر ہم آپس میں عیدالاضحی منانے کی چند باتیں کرلیتے ہیں … پچھلے سال اسی
کالم میں عید گزارنے کا پورا ’’پیکج‘‘ عرض کیا تھا کہ … ہم مسلمانوں کو کیا کیا
کام کرنے چاہئیں … اللہ کرے وہ مضمون یاد ہو اور ہم سب اس عید پر بھی اللہ تعالیٰ
کو خوب راضی کریں … الرحمت ٹرسٹ والے احباب نے القلم اخبار میں اشتہار دیا ہے کہ …
ہم ان کے ساتھ مل کر ’’اجتماعی قربانی‘‘ میں حصہ لیں … اور اپنی قربانی کی کھالیں
ان کو دیں … یہ اشتہار اگر کسی عام ادارے کی طرف سے ہوتا تو نظر انداز کیا جاسکتا
تھا مگر جن اللہ کے بندوں نے یہ اشتہار دیا ہے ان کی داستان بہت عجیب ہے … یہ
دیوانے لوگ صبح شام دین کا کام کرتے ہیں اور ماشاء اللہ ایسی قربانیاں دیتے ہیں کہ
اسلام کے اچھے زمانوں کی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں … سعدی فقیر نے تو ان کی کارکردگی
اور تاریخ دیکھنے کے بعد یہی طے کیا ہے کہ وہ اپنی قربانی انہیں کے ذریعہ سے کرے
گا… کیونکہ یہ شریعت کے اصولوں کی پاسداری کرنے والے اور پورے دین کی فکر رکھنے
والے لوگ ہیں … ان کا کام ماشا ء اللہ بہت وسیع ہے … ان کے سروں پر اللہ تعالیٰ کی
رحمت ہو کہ ان کے ساتھ ۱۶۳۹ شہداء کرام کے گھرانے وابستہ ہیں … یہ لوگ ہر مہینے
سات لاکھ روپے سے زائد کی رقم ۴۶۷ ایسے گھرانوں تک پہنچاتے ہیں … جن میں سے ہر گھرانہ
اپنے اندر عزیمت کی ایک داستان رکھتا ہے… اس ادارے کا نظام عجیب ہے ان کو جیسے ہی
خبر ملتی ہے کہ فلاں ساتھی شہید ہوگیا ہے تو یہ اس شہید کے بازو بن کر اس کے کاموں
میں لگ جاتے ہیں۔ سب سے پہلے شہید کے گھر جا کراہل خانہ کو اطلاع اور تسلی دیتے
ہیں … شہید کا متروکہ سامان اس کے گھر پہنچا آتے ہیں … پہلی ہی ملاقات میں ہر شہید
کے گھرانے کے ساتھ پندرہ سے پچیس ہزار کا تعاون کرتے ہیں … یہ اس مد میں اب تک
پونے دو کروڑ سے زائد کی رقم خرچ کر چکے ہیں اور پھر اگر حالات معلوم کرنے کے بعد
شہید کے اہل خانہ مستقل تعاون کے مستحق معلوم ہوں تو … صرف ایک اللہ تعالیٰ کے
بھروسے پر اس گھرانے کا ماہانہ وظیفہ مقرر کردیتے ہیں … ان اللہ کے بندوں نے
’’اسیران اسلام‘‘ کو بھی فراموش نہیں کیا … یہ قیدیوں کو چھڑاتے ہیں، ان کے اہل
خانہ کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور قیدیوں تک جیلوں میں راشن دوائیاں اور دیگر سامان
پہنچاتے ہیں … آپ اگر ان کے اسی شعبے کو دیکھ لیں تو حیران رہ جائیں گے کہ یہ کس
قدر محبت کے ساتھ ایک ایک قیدی کے لئے پارسل بناتے اور بھیجتے ہیں … ان پارسلوں
میں کپڑوں سے لے کر ضرورت کی تقریباً ہر چیز ہوتی ہے… یہ اللہ کے بندے دن رات
مظلوموں کی دعاؤں اور تشکر کے آنسوؤں کا اجر پاتے ہیں … انہوں نے افغانستان سے ایک
سو آٹھ قیدی فدیہ دے کر چھڑائے اور اس مد میں پونے چار کروڑ روپے سے زائد کی رقم
خرچ کی اور اسیران ہند کی قانونی مدد، رہائی اور خدمت پر ان کے دو شعبے کروڑوں
روپے کی رقم خرچ کر چکے ہیں … پھر ان پر اللہ تعالیٰ کی نصرت دیکھیں کہ اس نے
تھوڑے سے عرصے میں ان کے کام کو کہاں تک پہنچادیا … پاکستان کے ۹۸ اضلاع کی ۲۷۱ تحصیلوں میں ان کے ہزاروں نمائندے اور رضاکار صبح شام دین اور خدمت کا
کام کر رہے ہیں … ان کے صرف ایک شعبہ دعوت کے افراد دینی کام کے لئے جو سواریاں
استعمال کرتے ہیں ان میں سات گاڑیاں ۱۷۲ موٹر
سائیکلیں اور ۹ سائیکلیں شامل ہیں … یہ تمام پہیے اللہ پاک کی رضا
اور اسلام کی سربلندی کی محنت کے لئے گھومتے اور چلتے ہیں … ما شا ء اللہ لاقوۃ
الا باللہ … ان کا مالیات کا نظام عجیب ہے تقویٰ، حفاظت اور وقار ان کے تین اصول
ہیں … یہ شعبہ ہر ماہ اوسطاً ایک کروڑ روپے مختلف مصارف میں خرچ کرتا ہے اور کبھی
اس سے بھی بہت زیادہ … اس شعبے میں شریعت کا حکم ہی سب سے طاقتور اتھارٹی ہے جبکہ
افراد کا عمل دخل بطور خدمت کے ہے … ماشاء اللہ لاقوۃ الا باللہ … اللہ تعالیٰ ان
کو ’’نظربد‘‘ اور ’’نفاق وشقاق‘‘ سے بچائے رکھے زمانے کے اولیاء اور اقطاب نے ان
پر اعتماد کیا … ایک صاحب بتا رہے تھے کہ ان کے نانا محترم حرم پاک میں مقیم ہیں
اور فرماتے ہیں کہ میں نے خود کو اس جماعت کے لئے دعائیں کرنے پر وقف کر رکھا ہے …
ہاں بے شک ان دیوانوں کا حق ہے کہ ہم ان کو دعائیں دیں اور ان کو اپنے لئے نعمت
سمجھیں … کئی لوگ جہاد میں آئے تو مسجد سے دور ہوگئے ان لوگوں نے دوبارہ مسجد نبوی
کے ماحول کی بات کی اور ملک بھر میں مساجد کا ایک نورانی سلسلہ شروع کردیا …
درجنوں مسجدیں آباد ہوگئیں مگر ان کی سوچ کا شاہین ۳۱۳ مساجد کی طرف پرواز کر رہا ہے… ایک زمانے تک پورے دین کی دعوت دینے والا
لٹریچر عام نہیں تھا جہاد پر کتابیں نہیں ملتی تھیں مگر ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ
نے توفیق عطاء فرمائی… کتابوں پر کتابیں لکھتے گئے اور مکتبوں پر مکتبے کھولتے گئے
جن سے اب تک دعوت جہاد کا اتنا کام ہوا ہے جس کی نظیر ماضی قریب میں نہیں ملتی…
لاکھوں کیسٹیں، لاکھوں کتابچے اور معتبر کتابوں کے لاکھوں نسخے … ماشاء اللہ لاقوۃ
الاباللہ … ظاہری طور پر سادہ نظرآنے والے ان افراد پر اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہے
کہ اس نے ان کو دین کے تمام شعبوں کی فکر اور سمجھ عطاء فرمائی ہے…
ان کے پاس تعلیم کا شعبہ ہے… اور ایک ایسا کورس بھی ہے کہ
صرف پندرہ دن میں ایک نومسلم کو اچھا خاصا باشعور مسلمان بنا دیتے ہیں … ان کے پاس
تزکیہ کا شعبہ بھی ہے… ماشاء اللہ خوب روتے ہیں خوب آنسو بہاتے ہیں اور اپنے نفس
کو سنوارنے کی فکر رکھتے ہیں… ان کے پاس تربیت کا شعبہ بھی ہے… جو کافی وسیع ہے
اگر بیان کروں تو میرے قلم کے پر جلنے لگیں … اور حقیقت میں یہ عملی لوگ ہیں …
مدرسے چلاتے ہیں، مساجد آباد کرتے ہیں، ہسپتال چلاتے ہیں، مکتبے چلاتے ہیں،
اجتماعات کرتے ہیں، اخبار اور رسالے نکالتے ہیں، ویب سائٹس لانچ کرتے ہیں، زلزلہ
زدگان اور مہاجرین کی مدد کرتے ہیں، ذکر، تلاوت، تعلیم اور تزکیہ کی مجالس سجاتے
ہیں، نمازکی دعوت دیتے ہیں، جہاد کا شرعی مسئلہ بیان کرتے ہیں، تربیتی
دورے کرتے ہیں … دورہ تفسیر پڑھاتے ہیں … اور اپنی جانیں اللہ تعالیٰ کو بیچ دیتے
ہیں… مجھے خوشی ہوگی کہ میں اپنی قربانی ان کے ساتھ کروں … ممکن ہے اس کا گوشت کسی
خوش قسمت شہید کا بچہ کھا لے … اللہ اکبر کتنا مزہ آئے گا … یا اللہ تعالیٰ کے
راستے کا کوئی مہاجر یا میدان کا کوئی جانباز مجاہد … ارے یہ لوگ تو ہمارے گھر
آجائیں تو ہم ان کی دعوت کے لئے بکرے کاٹ دیں … ’’الرحمت‘‘ والے ہماری دعوت خود ان
کے گھروں تک پہنچا آتے ہیں… اس لئے مالدار مسلمانوں سے میری گذارش ہے کہ … الحمدللہ گھر میں کئی کئی قربانیاں ہوتی ہیں اور
گوشت کی کمی نہیں ہوتی آپ چند قربانیاں الرحمت ٹرسٹ والوں کے ذریعے سے کرلیں…
کراچی کے لوگ تو ماشاء اللہ قربانیوں کا ذوق رکھتے ہیں … امارت اسلامیہ کے پرنور
زمانے میں کراچی کے ایک صاحب پانچ سو قربانیاں امارت اسلامیہ کو بھجوایا کرتے تھے
… الحمدللہ ان کے مال میں کوئی کمی نہیں
آئی بلکہ … برکت اور اضافہ ہی ہو ا …اسی طرح اپنی قربانیوں کی کھالیں بھی ’’الرحمت
ٹرسٹ‘‘ کو جمع کروائیں … ان کھالوں سے انشاء اللہ دین کے بڑے بڑے کام ہوں گے تو آپ
کے اجر میں اضافہ ہوگا … اور آپ ایک مبارک تحریک کے وسیع دینی کاموں میں شریک
ہوجائیں گے … ابھی سے نیت کریں اور خود جاکر اور ڈھونڈ کر پہنچانے کی کوشش کریں …
باقی اجر تو اللہ پاک ہی دینے والا ہے… واجرکم علی اللہ …
٭٭٭
اللہ تعالیٰ رحم فرمائے ایسا لگتا ہے کہ ہم ہندوستان میں
گھوم پھر رہے ہیں… جی ہاں! ہر طرف بت ہی بت نظر آرہے ہیں… آخر سیاستدانوں کو یہ
بات کیوں یاد نہیں رہتی کہ وہ مسلمان بھی ہیں اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور
پیش ہونا ہے… کیا اسلام کا عمومی مزاج اس قدر ’’بت سازی‘‘ کی اجازت دیتا ہے؟… میں
جب پہلی بار ہندوستان گیا تو وہاں کے بازار اور گلی کوچوں کو دیکھ کر دل کراہیت سے
بھر گیا … بلکہ ’’یوپی‘‘ کے بعض علاقوں کو دیکھ کر تو بہت گھِن آئی … ہر چوک پر
کوئی مجسمہ، ہر گلی میں کوئی بت اور ہر موڑ پر بڑی بڑی تصویریں… وہاں کے ہر بدصورت
اور بدشکل لیڈر کی بس یہی خواہش ہے کہ اس کا مجسمہ کسی جگہ لگادیا جائے … مجسموں،
بتوں اور تصویروں کی نحوست سے مسلمانوں کا سانس بند ہونے لگتا ہے … مگر اس وقت تو
پاکستان کا ہر شہر رنگ برنگے بتوں سے عجیب منحوس منظر پیش کر رہا ہے… ہر سیاسی
پارٹی نے بڑے بڑے تصویری سائن بورڈ ہر طرف لگا دیئے ہیں … فضا میں عجیب گھٹن اور
ہوا میں زہریلی آلودگی محسوس ہو رہی ہے… میں نے ارادہ کیا تھا کہ الیکشن اور
انتخابات کے بارے میں کچھ نہیں لکھوں گا … مگر اس موضوع پر یہ چند الفاظ اس لئے
لکھ دیئے کہ ممکن ہے کوئی عمل کرلے … انتخابی امیدواروں سے گذارش ہے کہ تصاویر
اورمجسموں کو اتنا نہ پھیلائیں … اور اس بات کا خیال رکھیں کہ ان مجسموں اور
تصویروں پر خرچ ہونے والے مال کا ان کو حساب دینا ہوگا … یہ بات ٹھیک ہے کہ اس وقت
غفلت اور تصویر بازی کا دور دورہ ہے… مگر اسلام کے احکامات اور اسلام کا مزاج
بالکل واضح ہے اور غفلت کے اس دور میں جو شریعت پر عمل کرے گا اس کو بہت زیادہ اجر
ملے گا … حدیث شریف کی کتابوں میں دو آدمیوں کا واقعہ مذکور ہے ایک بار یہ دونوں
بازار میں تھے تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ہمیں چاہئے کہ ہم غفلت کے اس
ماحول میں اللہ تعالیٰ سے استغفار کریں … چنانچہ دونوں استغفار میں لگ گئے… پھر ان
میں سے ایک کا انتقال ہوگیا، دوسرے صاحب نے انہیں خواب میں دیکھا تو وہ فرما رہے
تھے کہ اس شام کے عمل پر اللہ تعالیٰ نے ہم دونوں کی بخشش فرمادی ہے…
بازار کے غفلت والے ماحول میں دو مسلمانوں کا توبہ استغفار
اور اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہونا، اللہ تعالیٰ کو اتنا پسند آیا کہ ان دونوں
کی بخشش کردی گئی … اللہ اکبر کبیرا… غفلت کے ماحول میں شریعت پر قائم رہنا اللہ
تعالیٰ کو کتنا محبوب ہے… ملاحظہ فرمائیے اس واقعہ کا اصل متن ۔
عن ابی قلابۃ رضی اللہ عنہ قال: التقی رجلان فی السوق، فقال
احدہما للآخر: تعال نستغفراللہ فی غفلۃ الناس ففعل فحمات احدہما، فلقیہ الآخر فی
النوم فقال: علمت ان اللہ غفر لنا عشیۃ التقینا فی السوق۔ (رواہ ابن ابی الدنیا
وغیرہ (الترغیب))
معلوم ہوا کہ مسلمان کو ماحول کا بہانہ بنانے کی بجائے
ماحول کو بدلنے کی ہمت اور محنت کرنی چاہئے … زمانہ جس قدر حضور اکرم صلی اللہ
علیہ وسلم کے دور مبارک سے دور ہوتا جارہا ہے اس قدر اس میں فساد زیادہ ہو رہا ہے…
مگر فساد کے زمانے میں عمل کا اجر بھی بڑھتا چلا جارہا ہے… حضور اکرم صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
للعامل فیہن مثل اجر خمسین رجلا یعملون مثل عملہ
یعنی جب دنیا میں فساد زیادہ ہوجائیں گے، لوگ بخل، نفس
پرستی، خود رائی اور دنیاداری میں لگ جائیں گے اس وقت جو دین پر عمل
کرے گا اسے پچاس عمل کرنے والوں کا اجر ملے گا … اور بعض روایات سے ثابت ہے کہ
صحابہ کرام جیسا اجر ملے گا … (مقام نہیں اجر) … اور ایک روایت میں تو آپ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فتنوں کے زمانے میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور فرمانبرداری کو آپ صلی
اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت جیسا قرار دیا … سبحان اللہ وبحمدہ سبحان العظیم …
معلوم ہوا کہ ماحول کی خرابی کا شور مچا کر حرام کو حلال نہ کیا جائے بلکہ دین پر
ثابت قدمی کی ہمت اور محنت کی جائے … جمہوری انتخابات میں جو مسلمان حصہ لیتے ہیں
وہ بھی ماحول سے متاثر نہ ہوں بلکہ … اہم اسلامی احکامات کی پاسداری کریں اور بڑے
بڑے مجسمے، تصویریں اوربت بنا کر اپنے دین کو خطرے میں نہ ڈالیں … موجودہ ماحول کے
اعتبار سے یہ ایک چھوٹی سی بات ہے مگر حقیقت میں یہ ایک چھوٹی اور سطحی بات نہیں
ہے… بلکہ اس سے ایک مسلمان کے مزاج کا پتہ چلتا ہے کہ اس کے دل میں اسلامی احکامات
کی کتنی قدر موجود ہے …
ادھر الحمدللہ
عیدالاضحی کا دن بھی قریب ہے… اور حجاج کرام کے قافلے بھی حرمین شریفین کی طرف
رواں دواں ہیں … ہم تمام مسلمان ابھی سے اس بات کا عزم کرلیں کہ انشاء اللہ ہم عید
کا دن غفلت میں نہیں گزاریں گے بلکہ … اپنی اس عید کو اپنے لئے ایک ’’یادگار‘‘ عید
بنائیں گے … جی ہاں ’’یادگار‘‘ عید وہ ہوگی جو آخرت میں خوب کام آئے … جب ہم اپنے
’’اصل وطن‘‘ میں ہوں گے اور نہ ختم ہونے والی زندگی شروع ہوجائے گی … عید کے دن
کون کون سے کام مسنون ہیں؟ … ہم ’’تحفۂ ذی الحجہ‘‘ نامی کتابچے میں پڑھ لیں اور
پھر محبت کے ساتھ درود شریف پڑھتے جائیں اور عشق کے ساتھ ایک ایک سنت کو پورا کرتے
جائیں … ہم اس سال اپنی استطاعت کے مطابق خوب بڑھ چڑھ کر اچھی سے اچھی قربانی کریں
… یہ بری بات ہے کہ جیب میں موبائل سیٹ پندرہ ہزار کا اور قربانی کے لئے تین ہزار
… مہنگا موبائل سیٹ ہماری ضرورت نہیں وہ تو محض ایک فضول عیاشی اور بے کار نمائش
ہے جبکہ قربانی تو ہماری ضرورت ہے… یہ تو ہمارے بہت کام آئے گی انشاء اللہ … اس
لئے موبائل سیٹ سستا ہوجائے اور قربانی قیمتی اور بہترین ہوجائے تو یہ نفع کا سودا
ہے اور عقلمندی والی بات …
ہم میں سے بعض افراد عید کے دن قرآن پاک کی تلاوت کا ناغہ
کردیتے ہیں … اللہ کے بندو! یہ تو وفاداری والی بات نہ ہوئی … خوشی کے دن تو خوشی
والے کام کرنے چاہئیں اور اللہ پاک کے کلام کی تلاوت تو بہت خوشی والا عمل ہے…
کہاں ہم چھوٹے، حقیر اور ناپاک اور کہاں اللہ عظیم وجلیل کا پاک کلام … یہ تو اس
کا احسان ہے کہ ہمیں پڑھنے کی اجازت دی… اور اس پڑھنے کو ہمارے لئے دنیا آخرت کی
خوشی کا ذریعہ بنایا … بس اے بھائیو اوربہنو! عید کے دن تلاوت کا ناغہ نہ ہو … خوب
گوشت کھاؤ، خوب ملو جلو، خوب کباب بناؤ پلاؤ پکاؤ جوس پیو … مگر تلاوت بھی کرلو …
اور اگر تمام گھر والے اکٹھے بیٹھ کر تلاوت کرلو گے تو خوب لطف آئے گا اور خوب اجر
ملے گا …
اور اے مسلمان بھائیو اور بہنو! اس عید پر ایک چھوٹا سا کام
تو کرلو … انشاء اللہ آئندہ آنے والے مسلمان تمہیں دعائیں دیں گے … اور تم بھی ان
لوگوں میں شامل ہوجائو گے جنہوں نے دین سے ’’بدعات‘‘ کی جھاڑیوں کو دور کیا … اور
سنت کے نور کی حفاظت کی … عید کے دن نئے کپڑے، نیا جوڑا، نیا جوتا مسلمانوں نے
ضروری سمجھ لیا ہے … اور اس کی وجہ سے بہت سی خرابیوں نے جنم لے لیا ہے… آپ عید کے
دنوں پر درزیوں کی دکانوں پر جائیں … یا کپڑے کی مارکیٹ کو دیکھیں تو ہر طرف شیطان
ناچتا نظر آتا ہے … درزیوں اور دکانداروں کی نمازیں ضائع ہو تی ہیں … عید الفطر پر
ان سب کا رمضان المبارک کا آخری عشرہ ضائع ہوتا ہے… غریب لوگ نئے جوڑے اور جوتے کے
لئے قرضہ اٹھاتے ہیں … اور جن کے بچوں کو یہ چیز میسر نہ آئے وہ ناشکری کی آہیں
بھرتے ہیں … معلوم ہوا کہ ایک بے ضرر سی چیز اب کتنی خوفناک شکل اختیار کر تی جارہی
ہے … اس لئے ہم عید کے موقع پر ’’نیا جوڑا، نیا جوتا‘‘ کی رسم کو بالکل چھوڑ دیں …
بس اپنے لباس میں سے جو اچھا جوڑا ہو اس کو دھو کر پہن لیا کریں اور یہی معاملہ
اپنے بچوں کے ساتھ بھی کریں … اور جوتا تو کوئی ایسی چیز ہی نہیں کہ اس کی زیادہ
فکر کی جائے اپنے استعمال والے جوتے کو دھو لیں یا پالش کرکے چمکا لیں… آپ یقین
کریں آپ کے اس عمل سے کتنے مسلمانوں کو فائدہ ہوگا اور آپ کو کوئی کمی محسوس نہیں
ہو گی … طویل عرصہ ہوگیا کہ ہم نے الحمدللہ عید پر نیا جوڑا نہیں پہنا اور نئے
جوتے کا تو تصور بھی نہیں مگر الحمدللہ
عید بہت اچھی گزر جاتی ہے… اور آج تک کسی نے راستے میں روک کر نہیں پوچھا کہ نیا
جوڑا کیوں نہیں پہنا؟ … نیا جوتا کہاں ہے؟ … اللہ کرے اس سال القلم کے تمام قارئین
… اور ہمارے تمام ساتھی اس بات کا اہتمام کرلیں اور دو تین سال تک کرتے رہیں تو
انشاء اللہ پورا ماحول ہی بدل جائے گا … اور مالدار لوگ غریبوں کے دلوں کا خون
نہیں کرسکیں گے… نیا جوڑا اس وقت بنایا جائے جب اس کی ضرورت ہو عید ہی کے موقع پر
اس کا التزام نہ کیا جائے … نیا جوتا بھی اس وقت خریدا جائے جب اس کی ضرورت ہو اس
کے لئے عید کا موقع خاص نہ کیا جائے بس یہ ہے وہ چھوٹا سا کام جو ہم اللہ تعالی کی
رضا کے لئے اس عید سے شروع کردیں … اور ہم اپنا مزاج یہ بنالیں کہ شادی ہو یا غمی
… عید ہو یا کوئی سوگ سب سے پہلے ہمارا ذہن اس طرف جائے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کا
حکم کیا ہے؟ … اس میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کیا ہے؟ … اگر
ہمارا طرز عمل یہ بن گیا تو ہمارے لئے دنیا آخرت دونوں آسان ہوجائیں گی … اور ہم
انسانوں کی بنائی ہوئی ظالمانہ رسومات کے غم اور اندھیرے سے بچ جائیں گے انشاء
اللہ…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کو جن دس دنوں میں نیک اعمال زیادہ پسند ہیں …
آجکل وہی دس دن چل رہے ہیں… جی ہاں آج ذو الحجہ کی چار تاریخ ہے… حضور اکرم صلی
اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
ما من ایام العمل الصالح فیہن احب الی اللہ من ہذہ الایام
العشرۃ (صحیح بخاری)
یعنی اللہ تعالیٰ کو عمل صالح جتنا ان دس دنوں میں محبوب ہے
اتنا کسی دوسرے دن میں نہیں … اللہ اکبر کبیرا … خوش نصیب ہیں وہ مجاہد جو ان دس
دنوں میں اپنی جان اور مال کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ کا فرض ادا کر رہے ہیں…
پرسوں بھی اخبار میں ایک فدائی کی ٹکڑے ٹکڑے ہوجانے والی گاڑی کی تصویر تھی… اس
اللہ کے عاشق بندے نے قندھار میں نیٹو کے قافلے سے خود کو ٹکرادیا …
اللہاکبرکبیرا… قربانی کے مہینے میں اپنی جان کی قربانی دے دی اور ہر غم اور مصیبت
سے پاک ہوگیا … شہید کو نہ حساب کتاب کی فکر اور نہ قبر کی پوچھ تاچھ کا غم ، بس ادھر
آنکھ بند ہوئی اور ادھر رحمتوں کے دروازے کھل گئے … اور شہید ان رحمتوں کے مزے میں
کھو گیا …
اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ لاَ اِلـٰہَ اِلاَّ
اللّٰہُ
وَاللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ
الْحَمْدُ
دراصل ذو الحجہ کا مہینہ اللہ تعالیٰ کی تکبیر یعنی بڑائی
بلند کرنے کا مہینہ ہے خوب زیادہ تکبیر، خوب زیادہ اللہاکبر… ان دنوں تو ہمیں چلتے
پھرتے، اٹھتے بیٹھتے ’’تکبیر‘‘ بلند کرنی چاہئے…
اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ لاَ اِلـٰہَ اِلاَّ
اللّٰہُ
وَاللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ
الْحَمْدُ
زبان سے بھی اللہ اکبر … اور دل سے بھی اللہ اکبر … سب سے
زیادہ خوش نصیب تو فدائی مجاہدین ہیں جو کفار ومشرکین کے خلاف برسرپیکار ہیں … اور
وہ بھی خوش نصیب ہیں جو ان مجاہدین کی خدمت اور ترتیب میں صبح شام مشغول ہیں …
کیونکہ جہاد ایک اجتماعی فریضہ ہے اور اجتماعی کام میں اگر روٹیاں پکانے والا بھی
غائب ہوجائے تو نظام درہم برہم ہونے لگتا ہے… اس لئے سب کو خوشخبری ہے کہ سب اجر
کے مستحق ہیں … انشاء اللہ… اور جو حج کرنے پہنچ گئے اور جو جانے والے ہیں انہوں
نے بھی بہت کچھ کمالیا اور عشق کا رستہ پالیا…
اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ لاَ اِلـٰہَ اِلاَّ
اللّٰہُ
وَاللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ
الْحَمْدُ
اور ہم یہاںپیچھے رہ جانے والے حاجیوں کے لئے دعاء کریں …
اور مجاہدین کے لئے بھی خوب دعاء کریں … یوں ہم بھی ان کے عمل کی کچھ خوشبو پالیں
گے … ویسے بھی آج کل جو دن چل رہے ہیں وہ تو اللہ تعالیٰ کی خاص سخاوت کے دن ہیں …
اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ لاَ اِلـٰہَ اِلاَّ
اللّٰہُ
وَاللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ
الْحَمْدُ
ان دنوں میں کعبۃ اللہ پر خصوصی انوارات نازل ہوتے ہیں … ان
دنوں خون اور جان دینے والوں کی قیمت بڑھا دی جاتی ہے … ان دنوں منیٰ، عرفات اور
مزدلفہ پر خاص تجلیات نازل ہوتی ہیں … ان دنوں بخشش کے عجیب مناظر ہوتے ہیں … بندے
اپنا سب کچھ پیش کرتے ہیں اور انہیں اپنے رب کی طرف سے سب کچھ مل جاتاہے … تھوڑا
سا غور کریں … حضرت ابراہیم علیہ السلام کا امتحان تو بہت عرصہ سے چل رہا تھا مگر
اس امتحان کی تکمیل کب ہوئی… جی ہاں یہی ذوالحجہ کا مہینہ تھا … اور اس کی دس
تاریخ …
اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ لاَ اِلـٰہَ اِلاَّ
اللّٰہُ
وَاللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ
الْحَمْدُ
وہ مسلمان جن کے دل زندہ ہیں ذوالحجہ کا چاند دیکھ کر ہی
بیدار ہوچکے ہیں … دن کا روزہ اور رات کو حسب استطاعت عبادت … اور نہیں تو گناہوں
سے حفاظت … کیونکہ یہ حرمت والا مہینہ ہے اس کے دن خوشبودار اور راتیں ایسی معطر
کہ اللہ پاک نے قرآن مجید میں ان کی قسم کھالی ہے… والفجر ولیال عشر … اسلامی سال
کا آخری مہینہ … حج اور قربانی والا مہینہ … وہ مہینہ جس میں اللہ تعالیٰ کو یہ
بات زیادہ پسند ہے کہ اس کے بندے اس کی بڑائی اور تکبیربلند کریں …
اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ لاَ اِلـٰہَ اِلاَّ
اللّٰہُ
وَاللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ
الْحَمْدُ
خوش نصیب مسلمان جیب میں نوٹ ڈال کر قربانی کے جانور خریدتے
پھرتے ہیں … دنبے، بکرے، گائے، بھینس اور اونٹ … ہر طرف منڈیاں لگی ہوئی ہیں …
مالدار تو کئی کئی خرید رہے ہیں جبکہ غریب بھی پوری محبت کے ساتھ بڑی قربانیوں میں
حصے ڈال رہے ہیں… ہر ایک کے دل میں ایک ہی آواز ہے کہ… ہمارے رب نے قربانی مانگی
ہے تو ہم حاضر ہیں ، ہم حاضرہیں …
اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ لاَ اِلـٰہَ اِلاَّ
اللّٰہُ
وَاللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ
الْحَمْدُ
مسلمان عورتیں اپنے خاوندوں کو اپنی چوڑیاں دیکر کہتی ہیں
کہ ان کو بیچ کرمیری طرف سے قربانی کا انتظام کردیں … ارے زیور؟ … جی رب نے قربانی
مانگی ہے اور قربانی ہوتی ہی وہ ہے جس میں کچھ ’’قربان‘‘ کیا جائے … زیور تو گل سڑ
جائے گا … جبکہ قربانی کا جانور قیامت کے دن زندہ کرکے لایا جائے گا تب اس کا ایک
ایک بال اس مشکل دن کام آئے گا … بہنیں اپنے بھائیوں سے کہہ رہی ہیں بھیا میری
قربانی … اور بیٹیاں اپنے والدین کے ساتھ سر جوڑ کر قربانی کی ترتیب بنا رہی ہیں …
یہ ہے اسلام کی شان اور یہ ہے اس امت کا حسن
اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ لاَ اِلـٰہَ اِلاَّ
اللّٰہُ
وَاللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ
الْحَمْدُ
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا … قربانی کے ہر بال
کے بدلے نیکی ملے گی … اور عید کے دن قربانی سے زیادہ محبوب عمل اللہ تعالیٰ کے
نزدیک اور کوئی نہیں ہے … آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منور ہ کے دس سال مسلسل
قربانی فرمائی … اور اپنی امت کی طرف سے قربانی فرماتے رہے … آپ کی یہ نسبت آگے
چلی تو صحابہ کرام نے اسے زندہ رکھا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ پوری زندگی … حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بھی قربانی کرتے رہے …آقا صلی اللہ علیہ وسلم
کا وہی دین آج بھی زندہ ہے… اور کامیابی کل بھی اسی دین میں تھی … اور آج بھی اسی
دین میں ہے … دنیا اپنے پاگل پن کو ترقی سمجھتی ہے تو سمجھتی رہے … ہماری ترقی تو
یہی ہے کہ ہم اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جڑے رہیں … اور عید کا دن آئے
تو ہم بھی ان کی طرح قربانی کرتے ہوئے نظر آئیں … پورے عشق کے ساتھ، پورے جوش کے
ساتھ
اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ لاَ اِلـٰہَ اِلاَّ
اللّٰہُ
وَاللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ
الْحَمْدُ
وہ مسلمان جن کے پاس قربانی کی واقعی استطاعت نہیں ہے وہ
بالکل غم نہ کریں … ان کی غربت خود ایک قربانی ہے… اور غریب کی شان امیر سے بہت
اونچی ، بہت بلند ہے … اس لئے امت کے غرباء فقراء بالکل غم نہ کریں … وہ دل میں
نیت کرلیں کہ یارب! اگر آپ ہمیں مال دیں گے تو ہم اس میں سے ضرور قربانی کریں گے …
ہم اس کو جہاد پر لگائیں گے … ہم اس میں سے زکوٰۃ خیرات، صدقات دیں گے … اور اس
میں سے ’’ہدیے‘‘ دیں گے … ان کی یہ نیت ان کو بہت اونچا لے جائے گی … یاد رکھیں
اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر خوشی خوشی راضی ہوجانا ایک ایسی عبادت ہے جس کے مقابلے کی
عبادت کوئی نہیں … اس لئے غریب بھی اپنی حالت پر خوش ہو کر، عشق اور جوش کے ساتھ
ان دنوں اللہ تعالیٰ کی تکبیر بلند کریں …
اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ لاَ اِلـٰہَ اِلاَّ
اللّٰہُ
وَاللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ
الْحَمْدُ
ہم سب اسی وقت کامیاب ہوں گے جب ہم اپنے آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم کی باتوں کو مانیں گے … اور ان کے طریقے پر چلیں گے … آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم نے عید کے موقع پر غریبوں اور یتیموں کا کتنا خیال رکھا … ہم بھی یہی
طریقہ اختیار کرلیں … چپکے چپکے غریبوں کے گھر قربانی کا جانور پہنچا آئیں … یا
عید کے دن پورے احترام کے ساتھ پہلے ان کو گوشت دے آئیں … ہم عید کے دن شہداء کرام
کی ماؤں سے ڈھیروں دعائیں لے آئیں … اور ہم یتیم بچوں کے لئے اپنے بچوں جیسے کپڑے،
جوتے بنائیں … بس اے مسلمانو! ہم میں سے مال والوں کو یہ فکر لگ جائے کہ ان کا مال
صرف ان کے لئے نہیں ہے … اس مال میں بڑے بڑے حقوق ہیں اور بڑی ذمہ داریاں… ہم نے
وہ حقوق ادا کردیئے تو یہ مال جنت کا پھل ہے اور وہاں کی نہریں … اور اگر وہ حقوق
ادا نہ کیے تو یہ مال قبر کا اژدہا ہے اور جہنم کا کالا سانپ … یا اللہ حفاظت فرما
… یا اللہ حفاظت فرما …
اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ لاَ اِلـٰہَ اِلاَّ
اللّٰہُ
وَاللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ
الْحَمْدُ
ہم سے پہلے بہت لوگ اس دنیا میں رہتے تھے … آج ان میں سے
کوئی بھی نہیں ہے … وہ سب مر گئے ہیں اور ان میں سے کئی لوگوں کی قبریں تک مٹ چکی
ہیں … بس چند دنوں میں ہم بھی قبروں میں جا سوئیں گے … سب مال، دُکان، مکان یہاں
رہ جائیں گے… مرنے کے بعد ہمیں پتہ چلے گا کہ وہاں نیک اعمال کی کتنی قدر ہے؟ …
انسان تمنا کرے گا کہ مجھے زمین پر واپس بھیجا جائے میں اپنی ساری دولت قربان
کردوں گا … اور ایک لمحہ بھی ذکر سے غافل نہیں رہوں گا … مگر جانے کے بعد واپسی
نہیں ہوگی … پوچھا جائے گا کہ زندگی کیسے گزاری؟… جوانی کن کاموں میں گزاری؟… مال
کہاں سے کمایا کہاں لگایا؟… قبر کی تنہائی اور آخرت کی منزلوں کی گہرائی اور مشکل
مشکل سوالات… اگر آج ہم میں سے کسی کو تیس ہزار فٹ اونچا اڑنے والے جہاز سے زمین
پر گرا دیا جائے تو ہمارا کیا حال ہوگا… دنیا سے برزخ اور آخرت کی منزلیں تو اس
بھی زیادہ دور ہیں…اخلاص سے کیا ہوا ایک ایک عمل کام آئے گا… کیا اس وقت ہمارے
نامۂ اعمال میںا یک ایسی عید ہوگی جس میں ہم نے کوئی گناہ نہیں کیا ہوگا؟… یہ بات
آج ہمیں سوچ لینی چاہیے کیونکہ ابھی ہم زندہ ہیں۔
اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ لاَ اِلـٰہَ
اِلاَّ اللّٰہُ
وَاللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ
الْحَمْدُ
ایک ایسی عید جو قیامت کے دن ہمیں مسکرا کر سہارا دے… اور
جو جنت میں ہمارے ساتھ رہے… ایک ایسی عید جس میں خوشیوں کی مسکراہٹ کے ساتھ چند
آنسو بھی ہوں… جو گناہوں سے استغفار کرتے ہوئے ٹپکے ہوں… جو اسیران اسلام کی رہائی
کی دعا کرتے ہوئے گرے ہوں… جو اپنے شہداء ساتھیوں کو ایصال ثواب کرتے ہوئے مچل پڑے
ہوں…جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اپنے گناہوں کو یاد کرکے اظہار تشکر میں برس پڑے
ہوں… یا جو فلسطین، افغانستان، عراق، کشمیر اور برما وغیرہ کے مظلوم مسلمانوں
اورجانباز مجاہدوں کے لئے دعائیں کرتے ہوئے گرے ہوں۔
اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ لاَ اِلـٰہَ اِلاَّ
اللّٰہُ
وَاللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ
الْحَمْدُ
ایک ایسی عید جس پر ہمیں یاد رہے کہ ہم مسلمان ہیں… اس لئے
ہم کوئی غیر اسلامی حرکت نہ کریں… دن کا آغاز فجر کی باجماعت نماز سے ہو… اور پھر
غسل ، خوشبو، سرمہ، عمامہ، مسواک، پاک کپڑے اور زبان پر تکبیر، دل میں تکبیر…
عیدگاہ کی طرف عشق کے ساتھ جلدی روانگی، پہلی صف میں عید کی نماز توجہ اور خشوع کے
ساتھ… اور پھر قربانی… مسلمانوں کی غم خواری… اہل خانہ کے حقوق کی ادائیگی۔
دین اور جہاد کی محنت … والدین کی
خدمت … اپنے بیوی بچوں کی دلداری … تمام نمازیں باجماعت مسجد میں … قرآن پاک کی
تلاوت اور زبان، دل اور نظر کی حفاظت … یتیموں کے سروں پر شفقت کا ہاتھ … رب
تعالیٰ کی دعوت حلال گوشت کے مزے اور دل کی گہرائیوں سے شکر … اور غفلت سے حفاظت
کیا یہ سب کچھ ایک دن میں ممکن ہے؟ … جی ہاں جن کی قسمت
اچھی ہو ان کے لئے تو اس سے بھی زیادہ ممکن ہوجاتا ہے… کیونکہ بے شک ہم چھوٹے ہیں،
دن بھی چھوٹا ہے مگر رب تعالیٰ تو بڑا ہے، بہت بڑا ہے سب سے بڑا ہے…
اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ لاَ اِلـٰہَ اِلاَّ
اللّٰہُ
وَاللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ
الْحَمْدُ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ عید الاضحی خوب شان سے آئی… ہم
پاکستان والوں نے صبح عید کی نماز ادا کی، خوب لطف پایا اور پھر بارہ بجے سے جمعہ
کی تیاری شروع ہوگئی اور جمعۃالمبارک کی پرسکون نماز نصیب ہوئی… مسلمانوں میں
قربانی کا جوش تھا ہر طرف جانور ذبح ہورہے تھے اور تکبیر کی معطّر آوازیں گونج
رہی تھیں… اللہ کرے عالم اسلام کو اجتماعی طور پر یہ خوشیاں بار بار نصیب ہوتی
رہیں اور مسلمانوں کو اپنی حکومت، اپنا نظام اور اپنے حکمران نصیب ہوں… فلسطین،
عراق، افغانستان اور کشمیر اس سال بھی خون میں نہایا رہا… اور کئی
مسلمان اس سال بھی آزادی اور حفاظت کی دعائیں مانگتے رہے… اور اسیران
اسلام سلاخوں کے پیچھے سسکتے رہے… ہاں جن لوگوں نے اپنی جانیں اللہ تعالیٰ کو بیچ
کر جہاد اور شہادت کے راستے کو اختیار کرلیا ہے وہ سب سے اچھے رہے… ان کو ایمان
نصیب ہو ا ا ور امن بھی… ساری دنیاموت سے ڈرتی ہے جبکہ یہ لوگ موت سے عشق رکھتے
ہیں… بس اسی لئے ان پر کوئی خوف نہیں ہے اور نہ کوئی ڈر…
ماشاء اللہ لا قوۃ اِلّا باللہ … بارک اللہ لھم…
عید سے پہلے سب لوگ اپنی فکروں میں تھے جبکہ ’’الرحمت
ٹرسٹ‘‘ کے مخلص اور جانباز کارکن اسلام اور امتِ مسلمہ کی فکر میں لگے ہوئے تھے…
انہوں نے عزم کر رکھا تھا کہ اس سال قربانی کا گوشت دور دور تک پہنچائیں گے… ہاں
اُن فاتحین کے گھروں تک بھی جو افغانستان کی زمین پر امریکی بمباری کا نشانہ بنے
اور اپنے پیچھے پیارے پیارے سرخ سفید مسلمان بچے چھوڑگئے… اور مقبوضہ
کشمیر کے اندر تک بھی… اور اُن خیموں تک بھی جہاں مسلمانوں کی عزت کے
مینار سردیوں کی راتیں گزارنے پر مجبور ہیں… الرحمت ٹرسٹ کے جانباز پورے ملک میں
پھیل گئے… نہ تھکاوٹ کی پرواہ نہ جھوٹے پمفلٹوں کا کوئی غم … کوئی کم
عقل لاکھ بار مجاہدین کو ایجنسیوں کا ایجنٹ کہتا رہے زمین خود ’’اہل ایمان‘‘ کی
صداقت کی گواہی دیتی ہے… سب لوگ اپنے گھروں کی قربانی کا سوچ رہے تھے جبکہ الرحمت
ٹرسٹ کے جانباز شہداء، اسیران، مجاہدین… اور مہاجرین کے گھروں کے لئے
خوشیاں جمع کر رہے تھے… اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو نظر بد سے اور تفرقے
سے بچائے رکھے آپ حضرات نے بہت کچھ کما لیا… بہت کچھ پا لیا۔
ماشاء اللہ لا قوۃ اِلّا باللہ …
بارک اللہ لکم… بارک اللہ فیکم…
یہ ایک عجیب اور دلکش محنت تھی… کارکن اپنے اپنے
علاقوں سے قربانی جمع کرکے ایک طے شدہ مرکز میں بھجوا رہے
تھے… اور وہ مرکز یہ قربانیاں مستحقین تک پہنچانے کے لئے مختلف
ذمہ داروں کو ’’وکیل‘‘ بنا رہا تھا… اور ساتھ ساتھ یہ پیغام اور وارننگ
بھی نشر کی جارہی تھی کہ… اے بھائیو! مسلمانوں نے ہم پر اعتماد کیا ہے
اور اپنی واجب قربانیوں کے لئے ہمیں وکیل بنایا ہے… پس آپ حضرات ایک
ایک قربانی کو ادا کرنے کے لئے اسطرح محنت کریں جس طرح اپنی ذاتی واجب قربانی ادا کرنے
کیلئے کرتے ہیں… اور یاد رکھیں اگر ایک قربانی بھی رہ گئی تو یہ بڑا
وبال والا کام ہوگا… اگر اتفاق سے کوئی قربانی وقت پر ادا ہوتی نہ
محسوس ہو تو فوراً مرکز میں اطلاع دیں… مرکز وہ قربانی اُسی وقت ادا
کردیگا… اِدھر یہ اعلان نشر ہورہا تھا اور اُدھر دھڑا دھڑ قربانیاں
تقسیم ہو رہی تھیں… الحمدللہ ان اللہ والوں نے اس سال تین ہزار ایک سو
تینتیس (۳۱۳۳) قربانیاں اتنی دور دور تک تقسیم کردیں کہ اُن مقامات کے نام
لکھنا ٹھیک نہیں اور اس کے علاوہ سینکڑوں قربانیاں اجتماعی طور پر کراچی، بہاولپور
اور کوہاٹ میں کی گئیں۔
ماشاء اللہ لا قوۃ اِلّا باللہ …
بارک اللہ لھم…
میرے محبوب استاد حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان صاحب
شہیدؒ نے ایک بار مجھ سے فرمایا حاسدین کے حاسدانہ الزامات کی زیادہ صفائی دینے کی
ضرورت نہیں ہے… بلکہ جو لوگ دین کے کام پر جلتے ہیں اور دین کے خادموں پر جھوٹے
الزامات لگاتے ہیں اُن کو مزید جلانا چاہیئے… بس اپنا دامن صاف رکھو اور حاسدوں کو
جلاتے رہو، جلاتے رہو… وہ اگر کہیں کہ سنا ہے گاڑی خریدی ہے تو جواب دو ایک نہیں
دو تین خرید رہے ہیں… اگر کہیں کہ سنا ہے مکان بنایا ہے تو ان کو کہو جی چھوٹا سا
بنایا ہے اور بڑے کی تلاش جاری ہے… اللہ اکبر کبیرا… بڑے مکان کی تلاش
جاری ہے جنت کے بڑے مکان کی، بہت بڑے مکان کی… اللہ پاک نصیب فرمائے۔
حضرت مفتی صاحب شہیدؒ بڑے آدمی تھے… ہم وسعت ظرفی میں اُن
کو رشک بھری نگاہوں سے دیکھتے تھے… اب انکی بات پر آدھا عمل کرتے ہوئے
اجتماعی قربانی کی اصل مقدار عرض کر رہا ہوں… بڑھا چڑھا کر نہیں… الرحمت ٹرسٹ
والوں کے مطابق اس سال ایک کروڑ ایک لاکھ اٹھہتر ہزار (۱۰۱۷۸۰۰۰) کی قربانیاں تقسیم کی گئیں، جبکہ کل بہتر لاکھ باون ہزار کی مقامی اجتماعی
قربانیاں کی گئیں… یعنی کل پونے دو کروڑ۔
ماشاء اللہ لا قوۃ اِلّا باللہ … بارک اللہ لھم…
اچھا پہلے ایک حدیث شریف سن لیں اور پھر ایک سچا واقعہ،
حدیث شریف تو یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
جو شخص اپنے کسی بھائی کے کام کے لئے چل کر جاتا ہے تو اس
کا یہ عمل دس سال کے اعتکاف سے افضل ہے اور جو شخص ایک دن کا اعتکاف بھی اللہ
تعالیٰ کی رضا کے لئے کرتا ہے اللہ تعالیٰ ا سکے اور جہنم کے درمیان تین خندقیں
آڑ فرما دیتے ہیں، ہر خندق زمین و آسمان کی مسافت سے زیادہ چوڑی
ہے… ایک روایت میں یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے بھائی کے ساتھ اسکی
ضرورت پوری کرنے کیلئے چلے پھرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مسجد نبوی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے
فرمایا کہ (یہ عمل) میری اس مسجد میں دو ماہ اعتکاف کرنے سے افضل ہے۔
(رواہ الطبرانی فی الاوسط والحاکم و قال صحیح الاسناد الی
آخرہ الترغیب)
اب ایک واقعہ سنئے… افغانستان میں امارت اسلامیہ
کے زمانے میں ایک بڑے مجاہد تھے جو اُدھر دور دریا کے پار سے آئے تھے، بہت مضبوط،
بہت بہادر… امیر المؤمنین نے اُن کے بارے میں بشارت کا خواب دیکھا تواُنہیں ایک
خوبصورت سا لقب دیا اور بہت سے مجاہدین کا کمانڈر بنا دیا… وہ شیروں کی
طرح لڑتے تھے اور ماں کی طرح مجاہدین کا خیال رکھتے تھے… پھر جب نیٹو افواج اور
امریکہ نے امارت اسلامیہ پر حملہ کیا تو وہ مزار شریف کے محاذ پر تھے… پھر ایک دن
بمبار ی ہوئی اور وہ شہید ہوگئے… مجھے عید کے دن ان کی یاد آئی میں نے فوراً
الرحمت ٹرسٹ کے ایک ذمہ دار سے رابطہ کیا اور پوچھا اُن کے گھر قربانی کا کیا
بنا؟… فرمانے لگے ہم نے گائے پہنچا دی ہے۔
ماشاء اللہ لا قوۃ اِلّا باللہ … بارک اللہ لھم…
اجتماعی قربانی کے معاملے میں پورے ملک میں الحمدللہ اچھا
کام رہا مگر کراچی کے چار اضلاع نے ماشاء اللہ امتیازی اجر کمایا…
الرحمت ٹرسٹ والوں نے کراچی کے دس ضلعے حضرات عشرہ مبشرہ کے
نام پر بنا رکھے ہیں… ان میں ضلع سیدنا عمرؓ اول، ضلع سیدنا ابوبکرؓ
دوم، ضلع سیدنا عثمانؓ سوم اورضلع سیدنا طلحہؓ چوتھے مقام پر رہے… جبکہ رحیمیار
خان، پشاور، سیالکوٹ، بہاولپور، راولپنڈی، فیصل آباد اور کوہاٹ بھی امتیازی اضلاع
میں شامل ہوگئے۔
پچھلے سالوں میں سوات کا کام بھی بہت ’’عجب‘‘ شان والا تھا
مگر اس سال وہاں حالات خراب رہے۔ اللہ تعالیٰ وہاں کے مسلمانوں کی نصرت اور حفاظت
فرمائے اور حکمرانوں کو توفیق دے کہ وہ اپنے علاقے فتح کرنے اور مسلمانوں پر
آپریشن کرنے سے باز رہیں۔ ملک کے کئی علاقوں میں حالات کی خرابی… اور بعض ناواقف
لوگوں کی جھوٹی طعنہ زنی کے باوجود ’’الرحمت ٹرسٹ‘‘ اللہ تعالیٰ کی نصرت سے اپنی
شرعی ذمہ داریاں پوری کرنے میں مصروف ہے۔
ماشاء اللہ لا قوۃ اِلّا باللہ … بارک اللہ فیھم…
حضرت اقدس حکیم العصر مولانا محمدیوسف لدھیانوی شہیدؒ بڑے
صاحب بصیر ت بزرگ تھے… ایک بار مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ مجھے اُن کی خدمت میں لے
گئے… یہ حضرت کی زندگی کے آخری ایام تھے… فرمانے لگے کہ انشاء اللہ جماعت کا کام
تو خوب چلے گا بس مخالفت کرنے والوں کی پرواہ نہ کریں اور اُن سے الجھ کر اپنی
توانائی ضائع نہ کریں… الحمدللہ حضرت کے اس فرمان کو پلّے باندھنے اور اس پر عمل
کرنے کی پوری کوشش کی… لوگوں نے عجیب عجیب طریقے پر تنگ کیا اور قوت برداشت توڑنے
کی پوری کوشش کی … طرح طرح کے پمفلٹ، الزامات، خطوط اور جھوٹی باتیں… الحمدللہ
جماعت کا مالیات کا نظام شریعت کے مطابق ہے اور مرکزی قیادت میں شامل ساتھی تک
مقروض رہتے ہیں… ہمارے نزدیک جہادی اموال سے ذاتی جائیدادیں بنانا کسی مسلمان کا
کام ہو ہی نہیں سکتا… اور اجتماعی اموال میں خیانت بدترین جرم ہے… مگر
اس کے باوجود لوگوں نے مالی معاملات پر بھی انگلیاں اُٹھائیں… الحمدللہ اُن سے
الجھے بغیر شہداء اور غازیوں کا یہ قافلہ کام کرتا رہا اور کر رہا ہے… قربانی مہم
سے عید کی رات دس بجے ان جانبازوں نے ہاتھ جھاڑے تو اسی وقت ’’چرم قربانی مہم‘‘
میں لگ گئے… چندہ اور صرف چندہ ان لوگوں کا کام نہیں… انکے چندے کے
آگے اور پیچھے دین کے بڑے بڑے کام ہیں… اور الحمدللہ… چندہ مہم میں
بھی یہ خیال غالب رہتا ہے کہ مسلمانوں کو مال کے ذریعے قربانی دینے اور اسلام کی
خدمت میں شریک ہونے کے مواقع فراہم کئے جائیں… حقیقت میں مال کوئی حیثیت نہیں
رکھتا… اللہ پاک کے پاس خزانے ہی خزانے ہیں… زمین خزانوں سے بھری پڑی ہے اور
آسمان خزانوں سے اٹے پڑے ہیں… مال کی ہوس اور لالچ وہی لوگ کرتے ہیں
جو آخرت سے غافل ہیں… جبکہ دن رات شہادت کی دعائیں مانگنے والے ان
اللہ کے بندوں کو مال کی ہوس نہیں جنت کی لالچ ہے اور آخرت کی کامیابی کاحرص…
ماشاء اللہ لا قوۃ اِلّا باللہ … بارک اللہ فیھم…
ٹرسٹ کے ذرائع کے مطابق الحمدللہ… کھالوں کی مہم بھی اچھی
رہی… کراچی کے اضلاع سیدنا ابو بکر ؓ، سیدنا عمرؓ… نمایاں رہے جبکہ باقی ملک میں
رحیم یار خان، کوہاٹ، سیالکوٹ، بہاولپور، ضلع سیدنا سعدؓ کراچی، صوابی، ضلع سیدنا
عثمانؓ کراچی … اور فیصل آباد میں الحمدللہ اچھاکام ہوا…
اللہ تعالیٰ اُن تمام مسلمانوں کو جزائے خیر عطا فرمائے
جنہوں نے اجتماعی قربانی اور چرم قربانی مہم میں اس بابرکت، امانتدار اور عملی
ادارے ’’الرحمت ٹرسٹ‘‘ کے ساتھ شرکت کی… اور اللہ تعالیٰ اُن کارکنوں
اور ذمہ داروں کو اپنی محبت اور رحمت کی نظر نصیب فرمائے جنہوں نے خوب محنت اور
اخلاص کے ساتھ کام کیا… اور اب انکی نظریں آرام کے بستروں پر نہیں
اونچی منزلوں اور اونچے پہاڑوں پر ہیں…
ماشاء اللہ لا قوۃ اِلّا باللہ
بارک اللہ لھم، بارک اللہ فیھم، بارک اللہ علیھم
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہی نے موت کو پیدا فرمایا اور زندگی کو بھی…
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
الذی خلق الموت والحیٰوۃ لیبلو کم ایکم احسن عملا وہو
العزیز الغفور
(اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے) جس نے موت اور زندگی کو
پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں کس کے کام اچھے ہیں اور وہ غالب، بخشنے والا
ہے… (الملک۲)
بی بی بے نظیر صاحبہ بھی اپنی چون(۵۴) سالہ زندگی کے اعمال ساتھ لے کر اس دنیا سے چل بسیں… اور ان کی اچانک اور
ناگہانی موت پر سب حیران ہیں… مگر اللہتعالیٰ کا نظام غالب ہے اور اس کے نظام میں
کوئی ’’بے وقت‘‘ نہیں مرتا… بلکہ ہر کسی کی موت کا لمحہ، طریقہ اور جگہ مقرر ہے…
بے نظیر صاحبہ سیاسی لحاظ سے ایک بڑی شخصیت تھیں ان کی خون آلود موت پر پورا ملک
ہنگاموں، ہڑتالوں اور دنگوں کی لپیٹ میں ہے… آج چار دن ہوگئے مگر ابھی تک بازار
بند ہیں اور سندھ میں لسانیت پرستی کا اژدھا شعلے پھنکار رہا ہے … اسلام نے عورت
کو ایک بلند، حساس اور باعزت مقام عطاء فرمایا ہے چنانچہ ایک عورت کے قتل پر اکثر
لوگ دکھی ہیں … اسلام آباد میں کچھ عرصہ پہلے جامعہ حفصہؓ کی مظلوم بیٹیوں کو
گولیوں اور بموں کا نشانہ بناکر شہید کیا گیا… دلوں میں آگ اس وقت بھی بھڑکی مگر
اس کا انداز مختلف تھا … وہ مظلوم بہنیں اسلامی اور مشرقی خواتین تھیں اور ان کے
پیچھے کوئی سیاسی پارٹی … اور صوبائی نعرہ بازی نہیں تھی … جبکہ بے نظیر صاحبہ
مغرب اور امریکہ کی پسندیدہ لیڈر تھیں اور ان کی پارٹی ایک بڑی سیاسی طاقت ہے…
بہرحال اس وقت ملک جل رہا ہے، سندھ میں گھر لٹ رہے ہیں … غنڈوں اور بدمعاشوں کے
قافلے ہر طرف دندناتے پھر رہے ہیں … معصوم بچیاں ہاتھوں میں قرآن پاک اٹھا کر
غنڈوں سے اپنی عصمت کی بھیک مانگ رہی ہیں … سندھ میں سندھی نہ بولنے والے مسلمانوں
کی دکانوں کو جلایا جارہا ہے اور ان کی خواتین پر مجرمانہ حملے کیے جارہے ہیں …
گاڑیاں جل رہی ہیں، بینک لٹ رہے ہیں، ریل کی پٹریاں اکھاڑی جارہی ہیں … اور لوگوں
کو برسر عام مارا جارہا ہے… مگر وزیرستان اور سوات میں اپنی رٹ قائم کرنے کے لئے
گن شپ ہیلی کاپٹروں سے بمباری کرنے والی حکومت معلوم نہیں کہاں ہے؟ … کہاں ہیں
بمبار طیارے اور لمبے لمبے فوجی کانوائے؟… کہاں گئی حکومت کی شہرۂ آفاق رٹ؟ …
اللہ تعالیٰ ہم مسلمانوں پر اور اہل پاکستان پر رحم فرمائے یہاں موت سستی ہوچکی ہے
اور زندگی مہنگی … اور امن تو گویا کہ ہم سے روٹھ چکا ہے… حکومت کہہ رہی ہے کہ بے
نظیر بھٹو کو القاعدہ اور قبائلی مجاہدین نے مارا ہے … اور حکومت نے ان کے فون بھی
فوراً سن اور پکڑ لیئے ہیں… حکومت کی دلیل یہ ہے کہ مجاہدین نے بے نظیر صاحبہ کو
عورت ہونے کی وجہ سے اور مغرب نواز ہونے کی وجہ سے مارا ہے… دوسری طرف قبائلی
مجاہدین کا دعویٰ ہے کہ بے نظیر صاحبہ کو خود حکومت نے قتل کیا ہے… اور ہمارا اس
قتل سے کوئی تعلق نہیں ہے… ان کا کہنا ہے کہ اسلام عورت کے قتل کی عموماً اجازت
نہیں دیتا … حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفائے راشدین جب اسلامی لشکر
کو جہاد کے لئے روانہ فرماتے تھے تو اس لشکر کو ایک حکم یہ بھی دیا جاتا تھا کہ
عورتوں کو مت قتل کرنا … دوسری بات یہ کہ بے نظیر صاحبہ تو حکومت میں نہیں تھیں تو
وہ ہمیں کیا نقصان پہنچا سکتی تھی کہ ہم اسے قتل کرتے … یہ اور اس طرح کے بہت سے
دلائل …
ادھر پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ قتل حکومت اور حکومت
نواز سیاسی پارٹی نے کروایا ہے… خلاصہ یہ کہ جانے والی تو چلی گئی اب پیچھے والے …
اس کے قتل کا الزام ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں … اور پاکستان متواتر جل رہا ہے اور
فسادات کے زخموں سے کراہ رہا ہے… اس میں شک نہیں کہ مجاہدین اور پاکستان کا دیندار
طبقہ اس بات کو پسند نہیں کرتا تھا کہ بے نظیر بھٹو پاکستان کی صدر یا وزیر اعظم
بنیں … اور یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ بے نظیر صاحبہ نے پچھلے دنوں امریکہ کو خوش کرنے
کے لئے کئی متنازعہ بیانات دیئے جن پر وہ شاید وزیر اعظم بن کر بھی عمل نہ کرسکتیں
… مگر اس سے یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ انہیں مجاہدین نے قتل کیا ہے… کیونکہ ملک کے
ریٹائر فوجی حکمران صدر پرویزمشرف نے بے نظیر کو ہمیشہ اپنا رقیب سمجھا … ایک بار
انہوں نے جھلا کر فرمایا کہ بے نظیر تو امریکہ اور مغرب کی ڈارلنگ بنی ہوئی ہے …
اس پر بی بی سی نے ایک دانشور کا یہ تبصرہ نشر کیا کہ صدر صاحب دراصل حسد میں
مبتلا ہوچکے ہیں … وہ کئی سال سے بلاشرکت غیرے امریکہ کی ’’ڈارلنگ‘‘ تھے مگر اب
جبکہ امریکہ کا دل ان سے اکتا گیا ہے اور وہ بے نظیر کو لانا چاہتا ہے تو صدر صاحب
بے نظیر کو اپنی سوکن اور رقیب سمجھ رہے ہیں… اس سے پہلے صدر صاحب اپنی اکلوتی
کتاب ’’ان دی لائن آف فائر‘‘ میں بھی بے نظیر صاحبہ کو دل کھول کر گالیاں دے چکے
ہیں … اور چند دن پہلے انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ بے نظیر کے ساتھ ان
کے حالیہ سمجھوتے کے پیچھے امریکی دباؤ کار فرماہے…
بہرحال یہ ایک سنجیدہ اور گھمبیر مسئلہ ہے… بعض لوگوں کا
خیال ہے کہ حکومت نے ایک تیر سے تین شکار کرنے کی کوشش کی ہے… پہلا یہ کہ بے نظیر
جیسی مضبوط سیاسی حریف کو راستے سے ہٹا دیا گیا… دوسرا یہ کہ اس کا الزام مجاہدین
کے سر ڈال کر ان کا گھیرا تنگ کیا جائے… اور تیسرا یہ کہ انتخابات کو منسوخ کرکے
ملک میں ’’صدرراج‘‘ کی راہ ہموار کی جائے گی … اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ
آگے کیا ہوتا ہے… پاکستان ہو یا افغانستان، کشمیر ہو یا فلسطین، عراق ہو یا
الجزائر مسلمانوں کے ہر ملک میں موت بہت سستی اور زندگی بہت مہنگی ہوچکی ہے…
مسلمانوں کے دشمن بہت طاقتور اور بدمست ہو چکے ہیں اور وہ اس امت مسلمہ کو ختم
کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں… اس وقت مسلمانوں کو ایک ایسے ملک کی ضرورت ہے جو خالص
ان کا ہو… اور ایک ایسے حکمران کی ضرورت ہے جو غیروں کے دباؤ سے آزاد اور اللہ
تعالیٰ سے ڈرنے والا بااخلاق اور بہادر انسان ہو… زمین کا ایک ٹکڑا اور ایک مسلمان
حکمران امت مسلمہ کی ضرورت ہے تاکہ خلافت کی وہ گود آباد ہوسکے جس سے اسلام اور
جہاد کے لشکر تیار ہوتے ہیں … آج ہر طرف موت ہی موت ہے… سود سے خریدی گئی گاڑیوں
کے روز ہونے والے ایکسیڈنٹوں میں بے شمار لوگ مر رہے ہیں … فسادات اور دنگوں میں
روزانہ درجنوں افراد لقمہ اجل بن رہے ہیں … معلوم ہوا کہ جہاد میں موت نہیں ہے…
موت تو ہر جگہ اور ہر کام میں آجاتی ہے… بے نظیر بھٹو کی موت میں بھی ہمارے لئے
یہی سبق ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو کام کا بنائیں … اور ہر وقت موت کے لئے تیار
رہیں … مرنے کے بعد نہ بش کی دوستی کام آتی ہے اور نہ اقوام متحدہ کی قرار دادیں …
وہاں کا تو نظام ہی الگ ہے … آج ہر طرف لوگ قرآن خوانیاں کر رہے ہیں … کیا ہی مزہ
آئے کہ انسان اپنی زندگی میں ہر کام قرآن پاک سے پوچھ پوچھ کر کرے… اور قرآن پاک
کو اپنا رفیق بنائے …
کس سے دوستی کرنی ہے اور کس سے نہیں؟ … قرآن پاک سے پوچھا
اور سمجھا جائے … کیسی سیاست کرنی ہے اور کیسی نہیں؟ یہ بھی قرآن پاک سے سیکھا
جائے … کن سے ملنا ہے اور کن سے لڑنا ہے؟ … یہ بھی قرآن پاک میں دیکھا جائے … کیا
بش کی تعزیت ، کونڈا لیزا رائس کے افسوس بھرے آنسو، اور ہیلری کلنٹن کا
خراج تحسین ایک فرض نماز کا بدل بھی ہوسکتا ہے؟ … مرنے کے بعد تو وضو، طہارت،
نماز، پردہ، حیا، غیرت، انصاف، زکوٰۃ، صدقات، جہاد، روزہ، حج وغیرہ اور ایمان کامل
کام آتا ہے نہ کہ قومی ایوارڈ اور عالمی برادری کا خراج تحسین… پیپلز پارٹی والوں
کو بھی چاہئے کہ خود کو لبرل، سیکولر اور مغرب پرست کہلوانے کو فخر نہیں عار
سمجھیں… اور پورے اخلاص کے ساتھ توبہ کرکے اسلام اور ملک کی خدمت کریں … آج
پاکستان کو ایسے حکمرانوں کی ضرورت ہے جو ’’بااخلاق‘‘ ہوں اخلاق کے معنیٰ بہت وسیع
ہیں… خلاصہ یہ کہ اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا ہی اخلاق ہے… آج تو چور، غنڈے اور
ڈاکو ملک کے حکمران بنے ہوئے ہیں … ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کے دل میں
انسانوں کے لئے پیار اور ایثار کا جذبہ ہو … آج ہر طرف دھاڑتے ہوئے پولیس افسروں،
غراتے ہوئے ایجنسی اہلکاوں، لوٹ مار کرتے ہوئے وزیروں اور غیروں کے ہاتھوں بکتے
ہوئے حکمرانوں کے ٹولے ہیں …
ہمیں حالات کا کوئی شکوہ نہیں ہے … اللہ تعالیٰ کو یہی
منظور اور پسند تھا کہ ہم اس زمانے میں پیدا ہوں … حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ
علیہم اجمعین جس زمانے میں پیدا ہوئے وہ کونسا کوئی سنہری دور تھا۔ ہر طرف کفر
تھا، شرک تھا، ظلم تھا… اور بے انصافی اور قتل وغارت تھی … پھر اللہ پاک نے اپنے
آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دینِ حق دے کر بھیجا تو صحابہ کرام رضوا ن اللہ
علیہم اجمعین نے اس نعمت کی قدر کی … اور ہر طوق اپنے گلے سے نکال کر خود کو آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا غلام بنادیا … پھر اللہ پاک نے ان کو اپنی کتاب دی
تو انہوں نے نعمت کی قدر کی… اور اپنی عقل، سوچ، قومی رسومات کو ایک طرف کرکے کتاب
اللہ ہی کو اپنا رہنما بنالیا … بس پھر کیا تھا زمانہ خود بخود بدلتا چلا گیا اور
دیکھتے ہی دیکھتے ’’خیرالقرون‘‘ بن گیا … پھر نہ ابوجہل کی جہالت باقی رہی اور نہ
روم و فارس کا ظلم اور بے انصافی… اللہ پاک کا شکر ہے کہ … رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کا دین اور فیض آج بھی اپنی اصل حالت میں ہمارے پاس موجود ہے… اور کتاب
اللہ بھی اسی حالت میں موجود ہے جس پر وہ نازل ہوئی تھی، اس میں ایک حرف یا لفظ کی
تبدیلی نہیں ہوئی… پھر ہم زمانے کو کیوں نہیں بدل پا رہے؟ … دراصل ہم میں دو چیزوں
کی کمی ہے ایک قدردانی اور دوسری ہمت … جی ہاں ہم نے دین کی قدر نہیں کی… اور
ہمارے دل ہمت سے خالی ہیں… صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے روم وفارس کو ایک مچھر کے
برابر نہیں سمجھا جبکہ ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اب امریکہ اور یورپ کا مقابلہ کرنا
ممکن ہی نہیں ہے… صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے خود کو دین پر لگایا جبکہ ہم نے خود
کو دنیا پر قربان کیا ہوا ہے … ہمارے لئے ایکسیڈنٹ میں مرنا آسان اور جہاد میں
جانا پہاڑ کی طرح بھاری ہے… کسی کو بتایا جائے کہ رات کو ایک ہزار بار درود شریف
پڑھ لو تو وہ حیران ہوتا ہے کہ اتنا وقت کہاں سے لاؤں … جبکہ کمپیوٹر پر ایک ویب
سائٹ کھولنے میں تیس منٹ برباد کر دینا آسان ہے … اللہ کے بندو! تیس منٹ میں تو دو
ہزار سے زائد بار درود شریف پڑھا جاسکتا ہے… مگر درود شریف تو قسمت والے لوگ پڑھتے
ہیں جن کے چہروں پر نور برستا ہے جبکہ آدھی رات کمپیوٹر پر انگلیاں پھیرنے والے
چہرے نور اور ایمان کی حلاوت سے محروم ہوتے ہیں… یہ ہماری ناقدری اور کم ہمتی کی
ایک چھوٹی سی مثال ہے… آخر وہ بھی انسانی ہاتھ تھے جنہوں نے بیت المقدس کو فتح کیا
… وہ بھی انسانی ہاتھ تھے جنہوں نے کافروں کے جرنیلوں کی گردنیں توڑیں … اور وہ
بھی انسانی ہاتھ ہوتے ہیں جو ایک شرمناک گناہ کے لئے تنہائی کی جگہ ڈھونڈتے رہتے
ہیں… اللہ پاک کی مرضی کہ جس کو اونچی ہمت دے دے اور جس سے چاہے اس کے اعمال کی
بدولت ہمت چھین لے …
اللہ پاک ہم سب کو دین کی قدر … اور جہاد فی سبیل اللہ کی
ہمت عطا فرمادے… بے نظیر بھٹو کے قتل پر پاکستان کے حکمران ملک کے دینی طبقے کو
دھمکیاں دے رہے ہیں … بش اور براؤن کے بیانات بھی خوف پھیلا رہے ہیں … ہم نے اس
موقع پر یہ چند سطریں لکھ دیں کہ مجاہدین اور دینداروں کو ڈرنے اور گھبرانے کی
ضرورت نہیں ہے… مجاہدین کا مقابلہ کفر کی اصلی طاقتوں سے ہے جو بیت المقدس پر قبضہ
کرچکے ہیں … جو کعبہ شریف اور روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ناپاک نگاہوں
سے دیکھ رہے ہیں … اور جنہوں نے مسلمانوں کے ممالک اور خطوں پر قبضہ کر رکھا ہے …
مدینہ منورہ کے جانبازوں کا یہ مقابلہ مدینہ منورہ کی مکمل
فتح تک انشاء اللہ جاری رہے گا … حکومت دل کھول کر تحقیقات کرے اور تحقیقات کرتے
وقت ایک آئینہ بھی سامنے رکھ لے … اسے اس ملک کو جلانے اور اس گلشن کو اجاڑنے والے
چہرے خودبخود نظر آجائیں گے… ان شا ء اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کا تذکرہ کرنے سے اللہ تعالیٰ کی
رحمت نازل ہوتی ہے… ہماری آج کی مجلس اور محفل کا موضوع بھی … ایک اللہ والا ہے جو
چھ دن پہلے ہمیں چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے پاس چلا گیا … وہ بہت اللہ اللہ کرتا تھا،
دوسروں کو بھی اللہ اللہ کراتا تھا اور اللہ اللہ کا سبق پڑھتا اور پڑھاتاتھا … اس
کے مزے ہوگئے کہ وہ اللہ کے پاس چلا گیا … اب ہم سوچیں کہ جو لوگ صبح و شام ’’دنیا
دنیا‘‘ ’’پیسہ پیسہ‘‘ کرتے ہیں وہ تو دنیا اور پیسہ یہاں چھوڑ جاتے ہیں … تو آگے
کی زندگی کے لئے اپنے ساتھ کیا لے جاتے ہیں؟ …
ایک خط ایک تمنا
میں اپنے گھر میں نظر بندی کے دن گزار رہا تھا کہ ایک دن
مجھے ڈاک ملی … اس ڈاک میں ڈیرہ غازی خان سے ایک خط تھا اور اس خط میں ایک بزرگ
اللہ والے کا تعارف … خط میں یہ بھی لکھا تھا کہ وہ آپ کے لئے دعاء کرتے رہتے ہیں
آپ رہا ہوں تو ان سے ملنے کے لئے جائیں … خط پڑھ کر دعاء کی کہ ملاقات ہوجائے اور
دل میں تمنا بھی پیدا ہوئی کہ اللہ والے کا دیدار ہوجائے …
پہلی ملاقات
رہائی کے بعد کچھ ضروری کام، کچھ اہم اجلاسات اور کچھ لمبے
سفر ہوئے مگر اپنی تمنا یاد تھی… بالآخر حاضری ہوہی گئی … وہ ہمارے علاقے سے زیادہ
دور نہ تھے، ہم چند گاڑیوں کے قافلے میں ان کی طرف روانہ ہوئے اور الحمدللہ آسانی سے پہنچ گئے … وہاں تو سادگی ہی
سادگی تھی۔ ایک پختہ مگر کم گنجائش والی مسجد، کچے مکانات والا گاؤں، مدرسہ کے چند
خستہ حال کمرے، پانی ٹپکاتے ہوئے کچھ گیلے گیلے باتھ روم… مگر ان سب کے درمیان ایک
’’بڑا آدمی‘‘ جو خاموش رہتا تو چھایا رہتا اور بولتا تو لوٹ لیتا… عمر سو سال یا
اس سے کچھ کم یا زیادہ… آنکھوں سے محبت یوں ٹپکتی تھی جس طرح ابلتے چشمے کا پانی …
اور زبان سے اسم ’’اللہ‘‘ یوں ادا ہوتا کہ گویا اس زبان کو اس نام کے علاوہ کوئی
نام آتا ہی نہیں … ہم تھوڑی دیر وہاں رکے سچی بات ہے بہت مزہ آیا… انہوں نے سرائیکی
زبان میں بیان فرمایا اور ہمارے سینوں پر انگلی رکھ کر ’’اللہ اللہ‘‘ کی ضربیں
لگائیں، ہمیں کھانا کھلایا، ڈھیروں دعائیں دیں اور فرمایا اپنے رفقاء کو یہاں
بھیجتے رہیں … تین دن کے لئے مجاہدین کو بھیجا کریں میرے پاس خود تو کچھ نہیں رو
رو کر اللہ تعالیٰ سے دلوانے کی دعاء کرتا رہوں گا …
خبیث کو اندر سے نکالیں
یہ حدیث شریف تو بار بار پڑھی اور سنی تھی کہ شیطان انسانی
جسم میں خون کی طرح دوڑتا ہے… مگر اس عظیم الشان حدیث کی اصل کیفیت اس بڑے اللہ
والے کے بیان سے سمجھ آگئی … جب دل میں ذکر نہیں ہوتا تو شیطان وہاں اپنا اڈہ بنا
لیتا ہے اور اپنی زہریلی سونڈ سے دل میں ’’گناہ پرستی‘‘ کا ٹیکہ لگا دیتا ہے… اب
انسان کا دل ہر وقت ناجائز خیالات سے بھرا رہتا ہے… بدبودار گندے گٹر کی طرح ہر
برائی اس کے دل میں ابلتی رہتی ہے… زنا، لواطت، بے حیائی کے خیالات اور خوب گناہ
کرنے، پیسہ بنانے اور عیاشی پانے کے خیالات … لوگوں کے حقوق پامال کرنے اور اقتدار
پانے کے خیالات اور پتہ نہیں کیا کیا … اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے … وہ اللہ
والا فرماتا تھا کہ اس خبیث شیطان کو اپنے اندر سے نکالو تو بات بنے گی … ورنہ جسم
بھی عذاب میں اور روح بھی عذاب میں … اور یہ شیطان دل سے نکلے گا کیسے؟ … یہ تب
نکلے گا جب دل اس کے اپنے مالک کو دے دو گے… اور دل کا مالک ہے اللہ تعالیٰ… پس دل
میں اللہ تعالیٰ کا نام، اس کا ذکر اور اس کی یادٹکا دو … اگر تم نے ایسا نہ کیا
تو اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ اے بندے دل تو میرا گھر تھا تم نے میرا گھر میرے دشمن
یعنی شیطان کو دے دیا؟ …
جنگل اور مجنون
مجنوں کے بارے میں سنا ہے کہ وہ ہر وقت ’’لیلیٰ لیلیٰ‘‘
کرتا تھا … اور اسے لیلیٰ کے سوا کوئی اور نظر نہ آئے اس کی خاطر وہ جنگل میں نکل
جاتا تھا… اور صحراؤں میں جاکر ’’لیلیٰ لیلیٰ‘‘ کرتا تھا … پھر مجنوں مرگیا تو وہ
صحرا اور جنگل اداس ہوگئے… ہم آج جس اللہ والے کا تذکرہ کر رہے ہیں وہ ’’سچا
عاشق‘‘ پکا دیوانہ … اور حقیقی مجنوں تھا… وہ فرماتے تھے کہ دل بھی اللہ اللہ کرے،
کھال بھی اللہ اللہ کرے، ہر بال بھی اللہ اللہ کرے، گوشت اور ہڈیاں بھی اللہ اللہ
کریں… روح بھی اللہ اللہ پکارے اور جسم بھی اللہ اللہ کہنے میں لگا رہے… اس حقیقی
مجنوں نے بھی ایک ’’جنگل‘‘، ’’صحرا‘‘ آباد کر رکھا تھا… وہ فرماتے تھے کہ نماز کے
بعد روتے ہوئے اس صحرا کی طرف تیزی سے چلے جاؤ … اور اپنے رب سے کہو میرے پیارے
مالک میں آرہا ہوں … اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اے میرے مالک میں آرہا ہوں … اے
میرے رب میں تیری طرف چل رہا ہوں … تیرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرا فرمان
سنایا ہے کہ بندہ میری طرف چل کے آئے تو میں دوڑ کر آتا ہوں … آجا میرے رب میرے دل
کو آباد فرما دے اور مجھے معاف فرمادے … بس یہی باتیں کہتے ہوئے اس جنگل کے کسی
تنہا مقام پر جا بیٹھو اور دل سے ہر تمنا اور ہر غیر اللہ کو نکال کر خوب توجہ سے
ذکر کرو… اور اپنے گناہوں کو یاد کرکے آنسو بہاؤ … اور خوب توبہ کرو …
اللہ والے کا یہ نصاب بہت عجیب تھا … جو بھی جنگل میں جا
بیٹھتا اس کے سر کے بال بھی اللہ اللہ کرنے لگتے اور جب اپنے گناہوں پر نظر پڑتی
تو چیخیں نکل جاتیں … ہاں اس جنگل میں دل کا بوجھ بہت ہلکا ہوجاتا تھا … آج میں
سوچ رہا ہوں وہ جنگل کتنا اداس ہوگا … کتنا اداس…
یاری بڑھتی گئی
ایک بار کی ملاقات کے بعد ’’شوقِ دیدار‘‘ بڑھ گیا… رفقاء کو
تین دن کے لئے بھیجنے کا سلسلہ بھی شروع ہوا… مگر ہر کسی کا ذوق اپنا اپنا … کچھ
کو ماحول راس آیا اور کچھ کو نہیں مگر حضرت کی ذات سے ہر کوئی متاثر ہو کر ہی آیا…
ان کی ذات تو روشنی کے ایک ہالے میں رہتی تھی… حالانکہ بہت سادہ تھے اور کمزور
ونحیف … اکیلے ہی تشریف لاتے اور اکیلے ہی گھر چلے جاتے… مگر جیسے ہی وہ مسجد میں
آتے تو ہر کسی کو محسوس ہوجاتا کہ ماحول میں کوئی تبدیلی ہوئی ہے… دراصل ان کی ذات
ذکراللہ میں گم ہوچکی تھی اور ذکراللہ کی اپنی ایک ہیبت ہے اور اپنا ایک جلال …
پھر ہمارا ان کے پاس آنا جانا بڑھ گیا اور وہ بھی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد
فرماتے … الحمدللہ الحمدللہ دیکھا ناں اللہ پاک نے ملادیا … ایک
بار انہوں نے اپنے اجتماع میں بیان کی دعوت دی جسے سعادت سمجھ کر قبول کرلیا … اس
دن اور رات ان کے ساتھ کئی نشستیں ہوئیں … وہ بڑھاپے، تھکاوٹ، گرمی اور پیاس سے بے
نیاز یہی سمجھاتے رہے کہ بس اللہ تعالیٰ کے ذکر سے دلوں کو آباد کرو … جی ہاں ان
پر ایک خاص حال طاری تھا … پھر ہم نے ان کو اپنے ہاں تشریف آوری کی دعوت دی… انہوں
نے خوشی سے منظور فرمالی… تشریف لائے، بیان فرمایا، ہمارے مرکز کو رونق بخشی،
تھوڑا سا کھانا بھی خلاف معمول تناول فرمایا… اور واپس تشریف لے گئے … ایک بار
حالات کچھ خراب تھے بعض لوگوں کی باتوں سے دل پر وزن تھا ، ان کی خدمت میں حاضری
ہوئی … ذکر اللہ کے بیان کے ساتھ فرمایا کہ کسی کے لئے بددعاء نہ کرنا … سارے کام
انشاء اللہ ٹھیک ہوجائیں گے… اللہ پاک نے ان کی زبان سے ایسی بات ظاہر فرمادی جس
سے فوری نفع ہوا … اللہ پاک ان کو اس کا بہترین بدلہ عطاء فرمائے …
پھولوں کے رنگ
گلاب کا پھول سرخ بھی ہوتا ہے … اور سفید بھی… اور بعض جگہ
گلابی بھی… اللہ تعالیٰ کے اولیاء اور دین کے علماء مختلف رنگوں کے ہوتے ہیں… بعض
لوگ کسی ولی کے رنگ کو دیکھ کر اسے ہی ’’حق کا رنگ‘‘ سمجھ لیتے ہیں اور دوسروں پر
تنقید شروع کردیتے ہیں… چند دن پہلے حضرت اقدس لاہوریؒ… کے بارے میں ایک کتاب پر
نظر پڑی… میں نے کافی محنت سے وہ کتاب حاصل کی… وجہ بالکل صاف ہے کہ مجھے حضرت
لاہوریؒ سے بہت محبت ہے… بچپن سے ان کا نام اپنے خاندان میں سنا، پھر دوران تعلیم
ان کے تذکرے ہوتے رہے… پھر ان کے ترجمہ قرآن پاک اور حاشیہ کا مطالعہ کیا… ان کی
سوانح پڑھی… اور کئی بار ان کے مرقد پر حاضری ہوئی … ان میں سے ہر چیز نے ان کی
محبت میں اضافہ کیا… ہم کراچی کے پڑھے ہوئے مولوی لاہور کے اکابر تک پہنچنے میں
کافی وقت لگاتے ہیں… کیونکہ کراچی ماشاء اللہ اکابر اور کتابوں کے بارے میں خود
کفیل ہے… چنانچہ آیاتِ جہاد پر کام کرتے ہوئے میری توجہ حضرت لاہوریؒ کے ترجمے اور
حاشیے کی طرف نہ گئی … وہ تو ابھی چند سال پہلے میں نے ان کا ترجمہ اور حاشیہ پایا
اور اسے دو تین بار پڑھا اور ان کی بعض تحقیقات کو آیات جہاد کی فہرست میں شامل
کیا… بات دور نکل گئی، میں یہ عرض کر رہا تھا کہ حضرت لاہوریؒ کے بارے میں ایک
کتاب نظر سے گزری تو کافی محنت کرکے منگوائی … مگر مطالعہ شروع کرتے ہی مایوسی اور
پریشانی نے گھیر لیا… فاضل مصنف صاحب حضرت لاہوریؒ کی تعریف میں ایک ہی جملہ لکھ
کر دوسرے اولیاء اور علماء پر چڑھائی کردیتے ہیں کہ … حضرت تو ایسے تھے، جبکہ آج
کل بڑے بڑے علماء اور مشائخ میں یہ عیب ہے وہ عیب ہے… میں نے چند صفحات تک تو
برداشت کیا مگر جب ان کے قلم کی دھار اسی طرح گردنوں کو کاٹتی رہی تو میں نے کتاب
بند کردی… اور پھر دوبارہ نہیں کھولی… کچھ عرصہ پہلے ہمارے اکابر میں سے ایک کی
سوانح حیات چھپی جو کافی مفید تھی مگر اس میں بھی ’’تنقید‘‘ کا انداز شامل ہوگیا
مثلاً حضرت خود امامت کراتے تھے حالانکہ آجکل بڑے بڑے علماء ومشائخ اس سے کتراتے
ہیں … حضرت واسکٹ نہیں پہنتے تھے حالانکہ بڑے بڑے اکابر الخ… میں نے یہ سوانح پڑھ
کر اس کے مرتب صاحب کو خط لکھا کہ… اتنی مفید اور موثر کتاب کو اگر تنقید سے پاک
رکھا جائے تو کتنا اچھا ہو… بس اتنی بات ٹھیک ہے کہ حضرت خود امامت کراتے تھے… اب
اس کے بعد باقی علماء کی کھال اتارنے کی کیا حاجت ہے؟… خلاصہ کلام یہ ہے کہ پھولوں
کی طرح اولیاء کرام اور اکابر امت کے بھی اپنے اپنے رنگ ہوتے ہیں… بس ضروری بات یہ
ہے کہ اخلاص کی خوشبو ہو، اتباع سنت اور شریعت کی پیروی کا نور ہو… یہ دو چیزیں جس
میں ہوں وہ ٹھیک ہے خواہ اس کی زندگی کا رنگ جیسا بھی ہو … کچھ کے ہاں زہد اور فقر
کا رنگ ہوتا ہے… اور کچھ کے ہاں اسباب کے استعمال کا… کچھ کچی عمارتیں پسند کرتے
ہیں اور کچھ پکی عمارتوں میں روشنی پھیلاتے ہیں… کچھ بے حد سادہ لباس زیب تن
فرماتے ہیں اور کچھ شرعی حدود میں رہتے ہوئے بہترین لباس پہنتے ہیں … بعض کے ہاں
علم پر زور ہوتا ہے تو بعض کے ہاں ذکر پر… کسی پر انبیاء علیہم السلام کی نسبت کا
رنگ نظر آتا ہے اور کسی پر صحابہ کرام اور اولیاء کرام کی… اس لئے کسی کے رنگ کو
’’حتمی چیز‘‘ سمجھ کر دوسروں کی کھال ادھیڑنا ٹھیک نہیں ہے… مخلص، متبع سنت اور
شریعت کے پیروکار بزرگ کے پاس سائیکل ہو وہ بھی ٹھیک اور پجیرو گاڑیاں ہوتو وہ بھی
ٹھیک… کپڑوں پر پیوند ہوں تو وہ بھی ٹھیک اور استری ہو وہ بھی ٹھیک … لیکن اگر
دنیا کی محبت ہو، مریدوں کے مال پر نظر ہو… مالدار مریدوں کی غریبوں سے زیادہ قدر
ہو… جہاد کی مخالفت ہو، سنت کی خلاف ورزی اور شریعت سے آزادی کی باتیں ہوں تو پھر
ہر رنگ برا ہے خواہ سادگی والا رنگ ہو یا شاہانہ رنگ…
القلم کی سعادت
چاہ ککرے والا شجاع آباد… کے رہائشی بزرگ اللہ والے حضرت
اقدس شیخ طریقت حاجی محمد حسین صاحب نے سعادت مندی کی ایک طویل زندگی گزاری… انہوں
نے گیارہ حج ادا کیے… چالیس سال سے زائد عرصہ حضرت شیخ المشائخ بہلوی نور اللہ
مرقدہ کی خدمت میں گزارے… انہوں نے پیر بننے سے پہلے ساٹھ سال تک مریدی کی اور پھر
بھی یہی کہتے رہے کہ میں بے علم ہوں اور میں پیر نہیں ہوں… بس اللہ تعالیٰ کے فضل
و کرم سے روحانی علم کا ایک ذرہ اپنے مرشد کی برکت سے نصیب ہوا ہے… اتنی طویل
ذاکرانہ زندگی گزارنے کے بعد وہ اس دنیا کو چھوڑ گئے ہیں
انا للہ وانا الیہ راجعون … ان اللہ ما
اعطی ولہ ما اخذ وکل شی عندہ باجل مسمی… اللہم لاتحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ…
اللہم اجرنا فی مصیبتنا واخلف لنا خیرا منہا…
ایسے اللہ والوں کا وجود مسلمانوں کے لئے رحمت اور بخشش کا
باعث ہوتا ہے… بہرحال ایک صدمہ ہے اور ایک محرومی… مگر اللہ اللہ کرنے والا اللہ
کے پاس چلا گیا اُس کے لئے تو خوشی اور شادی کا مقام ہے… حضرت حاجی محمد حسین صاحب
نور اللہ مرقدہ کے مجاہدین پر توجہات اور دعاؤں کے احسانات تھے… ’’القلم‘‘ کی
سعادت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس مخلص بندے کے تذکرے پر مشتمل یہ خصوصی نمبر شائع
کر رہا ہے… اس میں آپ حضرتؒ کا سوانحی خاکہ اور ان کا ایک کیمیا اثر بیان بھی
ملاحظہ فرمائیں گے … اللہ تعالیٰ حضرتؒ کے درجات بلند فرمائے اور ان کے جملہ
پسماندگان کو ان کے نقش قدم پر چلائے اور ان کے صدقات جاریہ کو تاقیامت جاری رکھے…
آمین یا ارحم الراحمین…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ آپ سب پر اپنی رحمت نازل فرمائے… ایک بار ابھی
پوری محبت اور توجہ سے درود شریف پڑھ لیجئے…
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدِ نِ
النَّبِیِّ الاُْمِّیِّ وَعَلٰی آلِہٖ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا۔
آپ یقین کرلیجئے کہ اللہ پاک نے آپ پر دس رحمتیں نازل
فرمائی ہیں، اس میں ذرہ برابر شک کی گنجائش نہیں ہے … آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم
پر ’’درود وسلام‘‘ پڑھنے کا حکم خود اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیا … اور ہمارے آقا مدنی
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مسلمان بھی اللہ تعالیٰ کا یہ حکم پورا کرے گا
اللہ تعالیٰ ہر بار کے درود شریف کے جواب میں اس پر دس درود نازل فرمائے گا … یعنی
دس رحمتیں اور بہت سی نعمتیں اس کے علاوہ… اسے کہتے ہیں یقین کی کیفیت … خوب یاد
رکھئے کہ جتنا یقین پختہ ہوگا اسی قدر فائدہ ملے گا … جب آقا صلی اللہ علیہ وسلم
نے ایک بات فرمادی تو ہمیں اس میں شک کی اجازت ہی کہاں ہے؟ … میں اپنے ساتھیوں سے
عرض کیا کرتا ہوں کہ جب تمہیں محسوس ہو کہ اللہ پاک ناراض ہے تو فوراً سبحان اللہ
وبحمدہ سبحان اللہ العظیم پڑھ کر دیکھو … اگر دل اور زبان دونوں یہ مبارک کلمہ
پڑھنے لگیں تو خوش ہوجاؤ کہ اللہ پاک کی محبت متوجہ ہے… کیونکہ آقا صلی اللہ علیہ
وسلم کا فرمان ہے کہ یہ دوکلمے اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں … سبحان اللہ وبحمدہ
سبحان اللہ العظیم … اب شک کی کیا گنجائش ہے؟ … اجر اور فضیلت اسی کو ملتی ہے جو
یقین رکھتا ہے، شک کرنے والے تو ہمیشہ دھکے کھاتے رہتے ہیں … ظاہر پرست کہتے ہیں
کہ مولوی نے جنت کو سستا کردیا ہے کہ ایک بار درود شریف پڑھو تو جنت، وضو کے بعد
ایک دعاء کلمہ شہادت کی پڑھ لو تو جنت اور فلاں استغفار پڑھ لو تو جنت اور آیۃ
الکرسی پڑھ لو تو جنت … وہ کہتے ہیں کہ جنت اتنی سستی نہیں ہے مولوی نے اسے سستا
کردیا ہے… ظاہر پرستوں کی بات بالکل غلط ہے دراصل ان جاہلوں کو درود شریف، آیۃ
الکرسی اور استغفار کی قیمت کا اندازہ ہی نہیں ہے… اگر انہیں ان اعمال کی قیمت کا
اندازہ ہوتا اور ان اعمال کے اثرات کا تھوڑا سا پتہ ہوتا تو وہ ایسی غلط بات نہ کہتے…
بش کے پاس دنیا بھر کی آرائشیں ہیں مگر اس کی زبان کلمہ نہیں پڑھ سکتی … کلمہ اور
درود شریف تو قسمت والے پڑھتے ہیں جی ہاں وہی قسمت والے جن پر اللہ تعالیٰ کی رحمت
متوجہ ہوتی ہے… اور کوئی عمل ایسا نہیں ہے جو دوسرے اعمال کو جنم نہ دیتا ہو… جب
کوئی کسی کو گالی دیتا ہے تو اس گالی سے کتنے اعمال جنم لیتے ہیں … لڑائی، زخم،
دشمنی، انتقام، نفرت اور معلوم نہیں کیا کیا … اور جب کوئی کسی سے کہتا ہے ’’مجھے
تم سے محبت ہے‘‘ تو یہ ایک جملہ کتنے اعمال کو جنم دیتا ہے… پھر خود سوچئے کہ درود
شریف کے اثرات کتنے ہوں گے اور کلمہ طیبہ اور استغفار کے اثرات کتنے ہوں گے… اور
ان مبارک کلمات سے کتنے اونچے اعمال جنم لیتے ہوں گے… ایک آدمی ساری زندگی محنت
کرتا ہے اور مال خرچ کرتاہے، صرف اس بات پر کہ میں نے فلاں سے انتقام لینا ہے… وجہ
کیا ہے؟ جی اس نے میری ماں کو گالی دی تھی… صرف ایک گالی نے کتنے اعمال کو جنم دیا
… اور دوسرا آدمی کسی کی ساری زندگی خدمت کرتا ہے کہ اس نے فلاں موقع پر میرے حق
میں ایک جملہ ادا کیا تھا … جب انسانی جملوں کا یہ وزن ہے تو پھر قرآن پاک کی آیات
کا وزن کتنا ہوگا اور درود شریف کا وزن کتنا ہوگا …
اللہ اکبر کبیرا … منکرین حدیث اور نیچریوں نے مسلمانوں کو
اُن مبارک کلمات کی برکت سے محروم کرنے کی سازش کی ہے جو مبارک کلمات دلوں میں نور
بھرتے ہیں، اعمال کی اصلاح کرتے ہیں، جنت میں پھل پھول لگاتے ہیں … اور ایک مومن
کو وزن دار مومن بناتے ہیں … آپ ہمت کریں روزانہ ایک ہز ار بار درود شریف کا معمول
بنالیں پھر دیکھیں کہ آپ کے دل میں کس طرح سے سکون کے دریا بہتے ہیں … اور آپ کے
اوقات اور اعمال میں کتنا وزن پیدا ہوتا ہے… دنیا میں بے شمار لوگ بے شمار کتابیں
لکھتے ہیں مگر جب درود شریف کی کثرت کرنے والے حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ
نے قلم اٹھایا تو ان کی ہر کتاب پورے عالم میں پھیل گئی… کیا شیخ صاحب کے پاس اپنی
کتابیں پھیلانے کے لئے کوئی جدید ٹیکنالوجی تھی… نہیں بلکہ وہ تو بہت سادہ سے فقیر
منش انسان تھے… ہاں ان کے دل میں ایمان تھا اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی
محبت… اور وہ تلاوت کلام پاک اور درود شریف کی کثرت فرماتے تھے اور نمازوں کا پورا
اہتمام کرتے تھے… چنانچہ ان چیزوں کا فائدہ انہیں ملا، خود ان کے اعمال سنورتے چلے
گئے، ان کے اوقات میں برکت ہوتی چلی گئی … اور پھر جو کچھ انہوں نے لکھا وہ ہواؤں
کے دوش پر سارے عالم میں پھیل گیا … ان کے رسالہ ’’فضائل درود شریف‘‘ کو ہی لے
لیجئے … حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں ڈوبے ہوئے کچھ اللہ والوں نے ان
سے یہ رسالہ لکھنے کی فرمائش کی … حضرت شیخ ؒ خود عاشق صادق تھے … اور
عاشق صادق ہمیشہ اپنے آپ کو اپنے محبوب کے سامنے بے حد حقیر سمجھتا ہے… اور اسے
ہمیشہ یہ خیال رہتا ہے کہ محبوب کی بے ادبی نہ ہوجائے …
فاسٹ فوڈ اور معدے کے اس زمانے میں عشق کا مطلب بہت کم لوگ
سمجھتے ہیں … اکثر ناواقف لوگ موبائل فون اور انٹرنیٹ پر لڑکیاں پھنسانے کو عشق
سمجھتے ہیں … اللہ کی پناہ، اللہ کی پناہ … اللہ کی قسم یہ عشق نہیں یہ تو ’’پیشاب
پرستی‘‘ ہے… اللہ تعالیٰ ہم سب کی اور ہمارے اہل واولاد کی اس سے حفاظت فرمائے …
حضرت شیخ الحدیثؒ سے جب درود شریف کے فضائل پر رسالہ لکھنے کی فرمائش کی گئی تو
حضرت شیخ کانپ گئے … کہاں سیاہ زلفوں والے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم اور کہاں میں
… مگر اصرار بڑھتا گیا تو تیار ہوگئے کہ چلو اس بہانے محبوب کے قرب کا کچھ ذریعہ
ہوجائے گا … اب عشق کی نزاکتوں کا حال دیکھیں … وہ شخص جس نے پچاس سال تک حدیث
شریف کی بڑی بڑی کتابیں پڑھائیں … اور جن کے درس میں حضرت مدنیؒ جیسے محدث چپکے سے
آکر بیٹھ جایا کرتے تھے … جی ہاں وہ شخص جنہوں نے مؤطا امام مالک کی شہرہ آفاق شرح
لکھی اور جنہوں نے حضرت گنگوہیؒ کے علوم کو قلم کی زبان بخشی … جی ہاں زمانے کے
معتبر ترین شیخ الحدیث جب فضائل درود شریف لکھنے بیٹھے تو بے حال ہوگئے اور قلم نے
جواب دے دیا، تب انہوں نے حضرت حکیم الامۃ تھانویؒ کے رسالہ ’’زاد السعید‘‘ کو
بنیاد بنا کر اپنے قلم کو سہارا دیا … اور پھر حضرت شیخ ؒ کا علم
اپنی وہبی شان کے ساتھ ٹھاٹھیں مارنے لگا … جی ہاں محبوب تک پہنچنے میں وقت لگتا
ہے… مگر جب ملاقات ہوجائے تو پھر دل کھل جاتا ہے … ماشاء اللہ حضرت
شیخ ؒ نے کیا خوب رسالہ لکھا ہے… گزشتہ دنوں میرے ایک قلبی عزیز
حج پر تھے مجھے مصلّے پر بیٹھے بیٹھے پتہ نہیں کیا خیال آیا کہ ان سے رابطہ کرکے
کہا … آپ فضائل درود شریف پڑھ لیں … انہوں نے مکہ مکرمہ میں ایک رات لگا کر پڑھ
لیا اور بتایا کہ عجیب فائدہ ہوا … اس دن کے بعد سے میں نے اپنے کئی رفقا ء کرام
کو اس طرف توجہ دلائی، بخدا جس نے بھی پڑھا جھوم اٹھا اور ایک عالم ومجاہد ساتھی
نے تو باقاعدہ شکریہ ادا کیا کہ آپ نے مجھے یہ رسالہ پڑھوایا اللہ تعالیٰ آپ کو
جزائے خیر عطاء فرمائے …
میری آج کے کالم میں پڑھنے والوں سے بھی گذارش ہے کہ وہ
حضرت شیخ الحدیثؒ کے رسالہ ’’فضائل درود شریف‘‘ اور حضرت حکیم الامۃؒ کے رسالہ
’’زادالسعید‘‘ کا مطالعہ فرمالیں … زاد السعید کا مطالعہ تو ایک گھنٹے میں ہوجاتا
ہے جب کہ فضائل درود شریف کو پانچ گھنٹے میں ختم کیا جاسکتا ہے… اگر ایک مجلس میں
ممکن نہ ہو تو دو چار دن میں پڑھ لیں … انشاء اللہ نور کا ایک راستہ، علم کا ایک
دروازہ اور یقین کا ایک باب دل میں کھل جائے گا … اور ہمارے ناپاک دل کو پاکی حاصل
کرنے کا طریقہ معلوم ہوجائے گا … بے شک آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، آپ
کی حسین زلفوں کی محبت، آپ کے پیارے چہرے کی محبت، آپ کی کالی کملی کی محبت، آپ کی
دلکش مسکراہٹ کی محبت … آپ کی آل اولاد کی محبت، آپ کے اصحاب کی محبت … اور آپ کے
دین، آپ کے جہاد اور آپ کی ایک ایک سنت کی محبت … بہت بڑی چیز ہے بہت ضروری چیز
ہے…
یَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّمْ دَآئِمًا اَبَدًا
عَلٰی حَبِیْبِکَ مَنْ زَانَتْ بِہِ الْعُصُر
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم پر بے شمار احسانات ہیں … آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھر کھا کر، زخم سہہ کر اور فاقے اٹھا کر یہ پیارا دین ہم
تک پہنچایا … خود سوچیں کہ اگر ہم مسلمان نہ ہوتے تو کتنے بدترجانور ہوتے… آقا صلی
اللہ علیہ وسلم کی محنت اور روحانیت کا فیض ہے کہ ہم کلمہ پڑھتے ہیں، کسی دن صرف
وضو کی نعمت پر غور کرلیں تو سارا دن درود شریف پڑھنے سے زبان نہ تھکے… اس وضو نے
ہمیں کتنا پاک رکھا ہوا ہے … ورنہ دنیا تو ناپاکی میں کتوں کو پیچھے چھوڑ چکی ہے…
حضرت آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے کس کس احسان کا ذکر کیا
جائے … اللہ اکبر کبیرا … میں یہ الفاظ لکھ رہا ہوں اور مؤذن کی آواز آرہی ہے…
اشہد ان محمداً رسول اللہ،
اشہد ان محمداً رسول اللہ
حضرات صحابہ کرام خوش نصیب تھے، ہماری مائیں امہات المومنین
تو بہت خوش نصیب تھیں … ان سب کو آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار بھی ملا
اور قرب بھی اور ان کو آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کا موقع بھی ملا …
اللہ پاک کی قسم حضرت بلال، حضرت انس اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضوان اللہ علیہم
اجمعین بہت سعادت مند تھے… انہوں نے حضرت آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے اٹھائے …
اگر ساری دنیا کی سلطنت صرف اس سعادت پر قربان کردی جائے تو سودا بہت سستا ہے…
اللہ اکبر کبیرا… جن کی زیارت کا شوق سب انبیاء علیہم السلام اور فرشتوں کو تھا
حضرات صحابہ کرام نے ان کی بڑی بڑی مجلسوں کا لطف پایا … اللہ اکبر
کبیرا حضرات صحابہ کرام کی خوش نصیبی بہت بڑی ہے، بہت اونچی ہے رضوان
اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔
اس وقت مسلمانوں پر فتنوں کا زور ہے اور درود شریف کی کثرت
ان فتنوں کا علاج ہے… وجہ صاف ہے کہ درود شریف کی برکت سے اللہ تعالیٰ کی رحمت
اترتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہر مصیبت کو دور کرسکتی ہے… ہم اگر روزانہ
ایک ہز ار بار درود شریف پڑھ لیں تو اللہ تعالیٰ کی دس ہزار رحمتیں بلاشبہ نازل
ہوں گی … اور قیامت کے دن حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب بھی نصیب ہوگا …
درود شریف چھوٹے بھی ہیں اور بڑے بھی … حدیث شریف میں درود شریف کے کئی صیغے وارد
ہوئے ہیں … زاد السعید اور فضائل درود شریف میں درود و سلام کے بیالیس صیغے جمع
فرمائے ہیں اور چند دوسرے درود شریف بھی لکھے ہیں …
اگر ایک آدمی روزانہ ایک ہزار بار
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِ نِ النَّبِیِّ
الاُْمِّیِّ وَآلِہٖ وَسَلِّمْ
ہی پڑھ لے تو زیادہ سے زیادہ پندرہ منٹ لگتے ہیں… اللہ کے
بندو اور بندیو! یہ پندرہ منٹ قبر اور آخرت میں بہت کام آئیں گے … ہم نے دور حاضر
میں درود شریف کی ایک اور بڑی برکت یہ دیکھی ہے کہ جو مسلمان صحیح عقیدے کے ساتھ
درود شریف کی کثرت کرتے ہیں وہ جہاد کا انکار نہیں کرتے … آپ جانتے ہیں کہ جہاد
اسلام کا ایک محکم اور قطعی فریضہ ہے… لغوی معنیٰ میں الجھے بغیر جہاد کا مطلب
اتنا واضح ہے کہ بش اور ہیلری کلنٹن تک بھی سمجھتے ہیں … جہاد کا انکار قرآن پاک
کے ایک بڑے حصے کا انکار ہے جو کہ صریح کفر ہے… جہاد کے معنیٰ حضور اکرم صلی اللہ
علیہ وسلم کے غزوات مبارک نے بالکل واضح فرمادیئے ہیں اور آ پ صلی اللہ علیہ وسلم
کے زخم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خون جہاد کا معنیٰ سمجھانے کے لئے سب سے
مستند مضمون ہے … مگر شیطان ملعون نے طرح طرح کے لبادے اوڑھ کر جہاد کے انکار کا
فتنہ کھڑا کیا ہے… اللہ تعالیٰ اس فتنے سے مسلمانوں … کی حفاظت فرمائے… میرا تجربہ
ہے کہ جو مسلمان صحیح عقیدے کے ساتھ درود شریف کی کثرت کرتے ہیں وہ اس فتنے سے بچے
رہتے ہیں …
مجھے اللہ تعالیٰ نے دنیا کے کئی ملکوں میں جانے کا موقع
عطاء فرمایا ہے میں نے ہر جگہ درود شریف کی کثرت کرنے والے علماء، بزرگوں اور عام
مسلمانوں کو جہاد کا حامی پایا ہے… یہ اس زمانے میں درود شریف کی ایک کھلی برکت
اور کرامت ہے… مصنفین میں سے جہاد کے بالکل صاف شفاف معنیٰ بیان کرنے میں حضرت
تھانویؒ کو خاص کمال حاصل ہے… آپ نے اپنی مایہ ناز تصنیف ’’نشر الطیب فی ذکر النبی
الحبیب صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جہاد اور غزوات
کو اتنا بے غبار اور دلنشین بیان فرمایا ہے کہ دل سے دعائیں نکلتی ہیں … اور تفسیر
بیان القرآن میں جہاد کے موضوع پر خاص الخاص محنت فرمائی ہے اور سورہ توبہ کی
ابتدائی انتیس آیات کی ترتیب جوڑنے میں چھ ماہ کی دماغ سوز مشقت فرمائی ہے… یہاں
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حضرت حکیم الامۃ تھانویؒ جن ایام میں اپنی کتاب
’’نشرالطیب‘‘ لکھ رہے تھے ان دنوں ہر طرف زلزلے آرہے تھے اور طاعون کا مرض عام
تھا… مگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک تذکرے پر مشتمل اس کتاب کی برکت
سے آپ کا علاقہ ہر طرح کے زلزلے اور آفات سے محفوظ رہا… نشر الطیب کو پڑھ کر انسان
کے آنسو بے اختیار ٹپکنے لگتے ہیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت انسان
کے خون میں نور بن کر دوڑنے لگتی ہے… حضرت حکیم الامۃؒ نے اس کتاب میں آپ صلی اللہ
علیہ وسلم کے مبارک حالات ’’ابتدائے نور‘‘ سے ’’انتہائے ظہور‘‘ تک لکھے ہیں … اور
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی مبارک کے ہر دور کا نقشہ کھینچا ہے… اگر ہمارے
گھروں میں ایک بار اس کتاب کی تعلیم کرالی جائے تو بے انتہا فائدے کی انشاء اللہ
امید ہے… حضرت تھانویؒ کے نزدیک بھی درود شریف کی کثرت کا بہت اہتمام تھا اور آپ
حضرت گنگوہیؒ کے قول کے مطابق کثرت درود شریف کی کم سے کم تعداد تین سو بیان فرمایا
کرتے تھے… آپ نے خود ’’نشر الطیب‘‘ میں اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا تذکرہ فرمایا ہے
کہ اس کتاب کی تصنیف کے زمانے میں پورے علاقے میں برکت رہی اور یہ علاقہ ہر طرح کی
آفات سے محفوظ رہا…
بے شک حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک تذکرہ اور آپ
پر پڑھا جانے والا درود وسلام مسلمانوں کے لئے ایک بڑی رحمت ہے … آج کل پاکستان کے
حالات بہت خراب ہیں ہر طرف بدامنی اور مہنگائی کا دور دورہ ہے… حکومت کی نا اہلی
اور ظلم نے ملک کو اندھیرے اور بھوک میں دھکیل دیا ہے… لوگ آٹے کے لئے دھکے کھا
رہے ہیں … اور غریبوں کے لئے عزت سے جینا مشکل ہوگیا ہے … ان حالات پر ایک پورا
کالم لکھا جاسکتا تھا … مگر بندہ نے حالات کی خرابی لکھنے کی بجائے یہ قرآنی نسخہ
عرض کردیا ہے کہ مسلمان حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق کو مضبوط بنائیں …
اور درود شریف وسلام کی کثرت کریں … اس کے لئے چند کتابیں بھی عرض کردی ہیں… اللہ
تعالیٰ سے بہت امید ہے کہ وہ درود وسلام کی برکت سے ہمارے حال پر رحم فرمائے گا …
ہمارے اعمال کی اصلاح فرمائے گا اور ہمارے لئے آسانیاں مقدّر فرمائے گا ان شا ء
اللہ …
بے شک حالات کی خرابی برے اعمال کا نتیجہ ہے … اور برے
اعمال کی اصلاح کے لئے درود شریف ایک بہترین تحفہ ہے… آئیے آخر میں پھر محبت اور
توجہ سے درود شریف پڑھ کر اپنی آج کی اس معطر مجلس کو ختم کرتے ہیں… اللہ کرے آپ
سب اگلے ہفتے کا کالم آنے سے پہلے پہلے زاد السعید اور فضائل درود شریف کا مطالعہ
کرلیں
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی
اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ
اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ، اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ
مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ
اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔
الحمد اللہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی… سبحان ربک رب
العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین و الحمدللہ رب العالمین…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہم سب کو نور اور روشنی عطاء فرمائے… بے شک
اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا دوست ہے وہ ان کو اندھیروں سے ’’نور‘‘ کی طرف نکالتا
ہے…
اَللّٰہُمَّ اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ
وَاَخْرِجْنَا مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ
اے ہمارے پروردگار ہمیں سیدھے راستے پر چلا اور ہمیں
اندھیروں سے نکال کر نور عطاء فرما…
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اللہ تعالیٰ نے بہت نور
عطاء فرمایا تھا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر بھی نور کا سوال کرتے تھے اور اللہ
تعالیٰ سے نور ہی نور… اور نور ہی نور مانگتے تھے…
’’اے میرے پروردگار میرے دل میں نور عطاء فرما، میری قبر
میں نور عطاء فرما، میرے آگے، پیچھے، دائیں بائیں، اوپر، نیچے نور عطاء فرما …
میرے بالوں میں گوشت میں، ہڈیوں میں، کھال میں اور خون میں نور عطاء فرما… یا اللہ
میرے نور کو بڑھا… اور مجھے نور عطاء فرما…‘‘
نور مانگنے کی یہ دعائیں حدیث شریف میں مختلف الفاظ سے آئی
ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد جاتے وقت اور تہجد کے بعد خاص طور سے نور کی
دعاء مانگا کرتے تھے …
اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا وَّفِیْ
لِسَانِیْ نُوْرًا وَّاجْعَلْ فِیْ سَمْعِیْ نُوْرًا وَّاجْعَلْ فِیْ بَصَرِیْ
نُوْرًا وَّاجْعَلْ مِنْ خَلْفِیْ نُوْرًا وَّمِنْ اَمَامِیْ نُوْرًا وَّاجْعَلْ
مِنْ فَوْقِیْ نُوْرًا وَّمِنْ تَحْتِیْ نُوْرًا اَللّٰہُمَّ اَعْطِنِیْ نُوْرًا۔
(مسلم)
زبان میں نور، آنکھوں میں نور، کانوں میں نور ہر طرف نور ہی
نور…
بات بالکل واضح ہے کہ ہم ہر طرف سے اندھیروں میں گھرے ہوئے
ہیں اور ہم نور کے بے حد محتاج ہیں … اور اللہ تعالیٰ خود نور ہے…
اللہ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالاَْرْضِ
اور ہر نور اسی کی طرف سے ملتا ہے، اور ہر روشنی اسی کی طرف
سے آتی ہے… اور ہر نور کو اسی نے پیدا کیاہے
’’حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں
مجھے بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں سے پہلے کس چیز کو پیدا کیا… آپ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جابر! اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں سے پہلے تمہارے
نبی(صلی اللہ علیہ وسلم) کے نور کو اپنے نور کے فیض سے پیدا کیا پھر وہ نور جہاں
اللہ تعالیٰ نے چاہا سیر کرتا رہا، اس وقت نہ لوح تھی نہ قلم تھا، نہ جنت تھی نہ
جہنم تھی، نہ فرشتہ تھا نہ آسمان تھا، نہ زمین تھی نہ سورج تھا، نہ چاند تھا نہ دن
تھا اور نہ انسان تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرنا چاہا تو اس نور کے
چار حصے کیے۔ ایک حصے سے قلم، دوسرے سے لوح اور تیسرے سے عرش پیدا کیا۔ (رواہ
عبدالرزاق بسندہ، نشرالطیب)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدالبشر تھے… اور آپ صلی
اللہ علیہ وسلم اولاد آدم علیہ السلام میں سے تھے
قُلْ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰی اِلیَّ
(الکہف)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب انبیاء کے آخر میں تشریف لائے مگر
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نور مخلوق میں سب سے پہلے بنایا گیا، ایک روایت میں ہے:
’’حضرت آدم علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا
مبارک نام عرش پر لکھا ہوا دیکھا تھا اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ
والسلام سے فرمایا: اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے تو میں تم کو پیدا نہ
کرتا۔ (رواہ الحاکم وصححہ، نشرالطیب)
حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا آپ کو نبوت کس وقت مل گئی تھی؟ آپ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس وقت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام روح اور جسم کے
درمیان تھے۔ (رواہ الترمذی وقال حدیث حسن نشرالطیب)
اس مسئلے کی تفصیل جاننی ہو تو حضرت حکیم الامۃ تھانویؒ کی
کتاب ’’نشرالطیب‘‘ کا غور اور محبت سے مطالعہ کرلیں… یہاں تو بس شوق دلانے کے لئے
چند روایات نقل کردی ہیں، ورنہ ہمارا آج کا موضوع کچھ اور ہے… یہاں نور بشر کے
اختلافی مسئلے میں الجھنے کی بھی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اسی کتاب ’’نشر الطیب‘‘ میں
حضرت تھانویؒ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل زندگی کا کچھ خاکہ بھی بیان
فرمایا ہے، جس میں کھانے، پینے، اولاد، نکاح، ازواج مطہرات سب باتوں کا تذکرہ ہے…
اس لئے مسئلہ اختلافی نہیں بنتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو نورانی فرشتوں سے بھی
افضل ہیں … اور فرشتوں کے سردار حضرت جبرئیل امین علیہ السلام سے بھی افضل ہیں …
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ پاک نے جو نور عطاء فرمایا وہ مخلوق کو دیئے
گئے ہر نور سے بر تر ہے… ہمارا آج کا موضوع تو یہ ہے کہ ہم اندھیروں میں بھٹکنے
والے انسانوں کو ’’نور‘‘ کی بے حد ضرورت ہے… اگر ہمیں نور نصیب نہ ہوا تو ہم
اندھیروں میں ڈوب جائیں گے اور اللہ بچائے، اللہ بچائے اندھیروں کا سوداگر یعنی
شیطان ہمیں اندھیر نگری یعنی جہنم کی طرف لے جائے گا … شیطان کا اندھیرا، نفس کا
اندھیرا، جسمانی تقاضوں اور شہوتوں کا اندھیرا، کفر کا اندھیرا، نفاق کا اندھیرا …
اور ناشکری، کم ہمتی، دنیا پرستی کا اندھیرا …
جی ہاں اندھیرے بے شمار ہیں اسی لئے قرآن پاک میں جمع کا
صیغہ لایا گیا ہے ’’الظلمٰت‘‘ ظلمۃ کہتے ہیں اندھیرے کو اور ظلمٰت اسی کی جمع ہے…
جبکہ نور ایک ہے … کیونکہ اللہ ایک ہے اللہ ایک ہے …
آج ہماری روح اور ہمارا جسم اندھیرے میں ڈوبا جارہا ہے…
اللہ کی قسم گہرے سمندر میں ڈوب جانا اتنا خطرناک نہیں جتنا گمراہی، نفاق اور کفر
میں ڈوبنا خطرناک ہے… کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ ہم کتنے گہرے اور مہلک اندھیروں
میں ڈوب رہے ہیں؟… کیا ہم نے کبھی ڈوبتے ہوئے بے بس انسان کی طرح اللہ
کو پکارا … اللہ،اللہ،اللہ…
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ بہت سے ساتھیوں نے درود شریف سے دل لگا لیا ہے… جب
مجھے اطلاع ملتی ہے کہ فلاں ساتھی نے ایک ہزار بار درود شریف کا معمول بنالیا ہے
تو دل سے دعاء نکلتی ہے… ورنہ آج تو ہمارا پورا ملک اندھیروں میں بری طرح غرق ہے…
ابھی الیکشن کا اندھیرا ہے… جھوٹ، دھوکا اور بدمعاشی … اندھیرا ہی اندھیرا … کچھ
اچھے لوگ بھی کھڑے ہیں اللہ کرے وہ کامیاب ہوں اور کامیاب ہونے کے بعد دین کی خدمت
کریں … ہر طرف بدامنی کا اندھیرا … اور قتل و غارت کا اندھیرا… غیر ملکی ایجنٹ ملک
میں دندناتے پھرتے ہیں اور ہر طرف پکڑو، مارو، گھیرو اور کاٹو کا اندھیرا ہے…
سیاستدان چھپ چھپ کر قوم کو دھوکے دے رہے ہیں … کروڑوں اربوں روپے کے اشتہارات
پانی کی طرح نالیوں میں بہہ رہے ہیں … اور صدر مشرف اپنے یورپی دوستوں کو منانے کے
لئے غیر ملکی سیر پر ہیں … اندھیرا ہی اندھیرا، اندھیرا ہی اندھیرا… ہر شخص کے
دماغ میں شہوت کا بھوت سوار ہے… عورتیں چھپ چھپ کر غیر مردوں سے دوستیاں کر رہی
ہیں اور مردوں کی نگاہیں ہر عورت کو دیکھ کر کتے کی طرح بھونکنے لگتی ہیں … اور
حلال حرام کا فرق کرنے والے مسلمان تو اب بہت کم ہوتے جارہے ہیں … امت کے قیمتی
لوگ آدھا دن سوتے ہیں اور آدھی رات جاگ کر ضائع کرتے ہیں …اللہ اکبر کبیرا… جوانی
کے قیمتی لمحات بستروں، کمپیوٹروں اور گپ بازیوں نے تباہ کردیئے … وہ مسلمان جن کے
ذمے پوری دنیا کو جگانے کی ذمہ داری تھی اذان کی آواز سن کر بھی نہیں جاگتے … اور
دن کے قیمتی لمحات بستروں میں دفن کردیتے ہیں …اللہ ، اللہ،اللہ…
مدینہ منورہ کا گنبد خضراء حیران ہے… اور مسجد اقصیٰ آنسو
بہا رہی ہے کہ قوم کے قیمتی سرمائے کو ذلت اور بے کاری نے جکڑ رکھا ہے … اگر یہ سب
کچھ اندھیرا نہیں تو اور کیا ہے؟
وہ مسلمان نوجوان جو زمین کا سینہ چیر سکتے تھے… اور جو
چاند پر اذان دے سکتے تھے انٹرنیٹ پر اپنی زندگی اور جوانی تباہ کر رہے ہیں… ہر
شخص نے اپنے کئی کئی نام رکھے ہوئے ہیں اور ہر نام کا الگ ای میل ایڈریس… اور ہر
نام سے الگ دوستیاں، الگ لڑکیاں، الگ لڑکے… ہائے مسلمان ہائے تجھے کیا ہوگیا
ہے؟…ای میل پر یاریاں کرنے والے نوجوان! مدینہ منورہ کی طرف تو دیکھ … اللہ کے لئے
تھوڑی سی شرم کر… میں اکثر عرض کرتا رہتا ہوں کہ امریکہ انشاء اللہ مسلمانوں کا
کچھ نہیں بگاڑ سکتا مگر کمپیوٹر اور انٹرنیٹ مسلمانوں کو برباد کرکے رکھ دیں گے…
یا اللہ حفاظت فرما، یا اللہ حفاظت فرما… انٹرنیٹ نے
مسلمانوں میں نفاق پھیلا دیا ہے… بظاہر چہرے پر داڑھی، سر پر زلفیں مگر دل میں
گناہوں کی پیپ اور خون… مجاہد اور مسجد سے دور استغفراللہ، استغفراللہ…
مجھے جنوبی افریقہ کا ایک نوجوان ملا… وہ غمزدہ تھا کہ اس
نے اپنی زندگی کے کئی سال کمپیوٹر پر ضائع کردیئے… وہ شہادت چاہتا تھا اور دل کا
سکون … کیونکہ کمپیوٹر نے اسے برباد کردیا تھا … اس نے بتایا کہ میں نے اسّی ہزار
سے زائد صفحات اسکین کیے… اور زندگی کے بے شمار دن اور راتیں اس منحوس کمپیوٹر پر
ضائع کیے… آنکھیں کمزور، دل غافل، کمر میں درد، خفیہ یاریاں، دھوکے بازیاں،
گمراہیاں… اور وقت کا ضیاع یہ کمپیوٹر کا ادنیٰ سا تحفہ ہے… پاکستان جیسے ملک میں
تو انٹرنیٹ کی کوئی خاص دینی ضرورت ہے ہی نہیں … آپ کو مسئلہ معلوم کرنا ہے تو الحمدللہ ہر محلے میں عالم، مفتی موجود ہیں… آپ
کو قرآن پاک سننا ہے تو ایک سے ایک قاری موجود ہے اور ٹیپ اور کیسٹیں بھی موجود
ہیں… آپ نے کتابیں پڑھنی ہیں تو ہر شہر میں مکتبے کھلے ہوئے ہیں اور جگہ جگہ دینی
کتب کے ذخیرے ہیں… آپ کو تقاریر سننی ہیں تو آڈیو کیسٹوں کا وسیع تر خزانہ دستیاب
ہے… پھر آپ کو نیٹ پر مغزماری کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ … جس کو کھولنے میں اتنا وقت
لگتا ہے جس میں آپ آسانی سے ایک پارہ کلام الٰہی کی تلاوت کرسکتے ہیں… ہاں کافروں
کے ملکوں میں مقیم مسلمانوں کے لئے نیٹ کے ذریعے کچھ دینی فوائد حاصل کرنے کی سہولت
ہے… بات دور نکل گئی … عرض یہ کر رہا تھا کہ ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے، کیا ہم
نے کبھی اس اندھیرے سے نکلنے کی فکر کی ؟… کیا ہم نے کبھی اللہ تعالیٰ سے تڑپ تڑپ
کر نور مانگا… یا اللہ میں ڈوب رہا ہوں، ڈوب رہا ہوں… اے آسمان و زمین کے نور مجھے
نور دے دے، نور دے دے، روشنی دے دے، مجھے سنبھال لے، مجھے بچالے … چند دن پہلے میں
ایک حجام کی دکان پر بال کٹوانے گیا … دکان میں گھستے ہی گانے اور میوزک کی منحوس
اور ناپاک آواز کانوں سے ٹکرائی … میں تیزی سے باہر نکلنے لگا تو ’’نائی‘‘ نے
ازراہ ہمدردی آواز بند کردی اور خود ایک آدمی کی داڑھی مونڈنے میں مصروف ہوگیا …
اندھیرا ہی اندھیرا، اندھیرا ہی اندھیرا، ٹی وی ، کیبل، تصویریں، بے حیائی اورغیر
شرعی حجامت … معلوم نہیں ہوتا تھا کہ کسی مسلمان کی دکان ہے یا کوئی مسلمان ملک …
پوری دیوار عورتوں کی نیم برہنہ تصویروں سے بھری ہوئی تھی… میں ذکر کرنا چاہتا تھا
مگر بتوں کے درمیان شرم آرہی تھی… اچانک نائی صاحب کی غیرتِ اسلامی جوش میں آئی
اور وہ مجھے سنانے کے لئے مذہبی گفتگو میں مگن ہوگئے … ان کا استرا سنت رسول کو
مونڈ رہا تھا اور ان کی زبان ڈاکٹر ذاکر نائک اور ڈاکٹر اسرار احمد کی تعریف میں
قینچی کی طرح چل رہی تھی… داڑھی مونڈوانے والے بزرگ بھی اس کے ساتھ شریک ہوگئے…
یارا ڈاکٹر ذاکر نائک نے تو سکھوں اور ہندوؤں کی بولتی بند کردی… یار وہ کتنے بجے
آتا ہے، شام آٹھ بجے اردو میں، کس چینل پر؟ پیس ٹی وی پر… ٹھیک ہے یار آج سے میں
بھی دیکھوں گا… ہاں یار ضرور دیکھنا بہت مزہ آتا ہے بہت لطف آتا ہے… اندھیرا ہی
اندھیرا، اندھیرا ہی اندھیرا… ہائے میرے اللہ آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم آپ کا
نور بانٹتے رہے مگر ہم مسلمان کہاں جاگرے… آج کتنے لوگوں کو قرآن پاک کی حقیقی
سمجھ ہے؟ … ہے کسی کو فکر کہ مجھے دین کا پتہ نہیں … غزوۂ بدر اور احد کو سمجھنے
والے آج کتنے مسلمان ہیں؟ … کافروں کے ایجنٹ صبح سات بجے اپنے دفتروں اور ڈیوٹیوں
پر پہنچ کر مسلمانوں کے خلاف کام شروع کردیتے ہیں… جبکہ اسلام کے خادم دوپہر بارہ
بجے ناشتہ کر رہے ہوتے ہیں …اندھیرا ہی اندھیرا، اندھیرا ہی اندھیرا…
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھایا تھا کہ … فجر اور
عشاء کی نماز میں خاص طور سے مسجدوں کی طرف جایا کرو تمہیں نور ملے گا … اللہ
تعالیٰ نے سمجھایا کہ قرآن پاک میں نور ہی نور ہے… مگر ہم مسجد اور قرآن پاک سے کس
قدر دور ہوگئے … ہم اندھیروں میں گرے تو کافر ہم پر چھا گئے … آج وہ ایٹمی اثاثے
تباہ کرنے کی دھمکی دیتے ہیں… پاکستان کے حکمرانوں کا کچھ پتہ نہیں… یہ افغانستان
اور کشمیر کی طرح ایٹمی اثاثے بھی کافروں کے حوالے کرسکتے ہیں… ویسے بھی انہوں نے
اسلام اور مسلمانوں کی لاج کب رکھی ہے… یہ تو ذلت اور پستی کے اندھیروں میں ایسے
ڈوبے ہیں کہ ان کو نور اور روشنی کی خواہش بھی نہیں رہی… مگر میں ایک چھوٹا سا
مسلمان امریکہ اور یورپ سے پوچھتا ہوں کہ ٹھیک ہے تم ایٹمی اثاثوں کو لے جاؤ گے…
مگر یہ بتاؤ کہ نور سے بھرے ہوئے مسلمانوں کا کیا کرو گے؟… نور کا ایک ذرہ ایک سو
ایٹم بموں سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے… اللہ ، اللہ ، اللہ … اسلام کے وہ فدائی جن کے
دل میں اللہ تعالیٰ کا نور ہے وہ تمہارے کسی خواب کو پورا نہیں ہونے دیں گے… یاد
رکھو تم سازش میں جیت سکتے ہو مگر جنگ میں نہیں … اگر تمہارے پاس ہتھیار بہت ہیں
تو کیا پروا مجاہدین کے پاس نور بہت ہے… اور یاد رکھو ’’اینٹی نور میزائل‘‘ آج تک
کوئی ایجاد نہیں کرسکا… اللہ تعالیٰ کا وہ نور جو آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کو
نصیب ہوا اور آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم اسے امت میں بانٹ گئے وہ نور ابھی بہت
سے سینوں میں سلامت ہے… انٹرنیٹ، موبائل اور کوٹھی بنگلے کے لالچ نے ابھی تک بہت
سے مسلمانوں تک رسائی نہیں پائی … نور کے یہ شعلے جب تم پر برستے ہیں تو تم چیخیں
مارتے ہو اور تمہاری قوت اور ٹیکنالوجی بے بس ہوجاتی ہے… الحمدللہ نور والے فدائیوں نے تمہیں عراق میں
شکست دی ہے اور نور والے طالبان نے تمہیں افغانستان میں خاک چٹائی ہے… کاش تم شرم
کرتے کہ تینتیس ملک مل کر مجاہدین کا مقابلہ کر رہے ہو اور پھر بھی ہار رہے ہو…
معلوم ہوا کہ تم نور کا مقابلہ نہیں کرسکتے… تو پھر آؤاور ضد چھوڑو اور تم بھی اس
نور کے مستحق بن جاؤ … ہاں امریکہ والو! مسلمان ہوجاؤ… ہاں! یورپ والو! مسلمان
ہوجاؤ … آجاؤ اس نور کی طرف جو اللہ پاک نے قرآن کی صورت میں نازل کیا ہے… اور
آجاؤ اس نور کی طرف جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی صورت میں چمک رہا
ہے… آجاؤ ظالمو آجاؤ… جانوروں جیسی شہوت پرستی چھوڑ دو، مسلمانوں سے ٹکرانا چھوڑ
دو، نائٹ کلبوں کے اندھیروں کو چھوڑ دو … آجاؤ توحید، رسالت، اسلام اور قرآن کے
نور کی طرف… یقینا تم کو سلامتی ملے گی… اور اگر تم اس نور کی طرف نہ آئے تو پھر
یاد رکھو تم اس نور کو بجھا نہیں سکتے… اور نہ اس نور سے ٹکرا سکتے ہو…
یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللہ بِاَفْوَاہِہِمْ
وَاللہ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰـفِرُوْنَ۔
اللہ تعالیٰ اس نور کو پورا فرما کر رہے گا… ہر کچے پکے گھر
میں یہ نور پہنچے گا… اور اسلام دنیا پر پھر غالب ہوگا… ضرور غالب ہوگا … اے
مسلمانو! … اندھیروں سے توبہ کر و… اللہ تعالیٰ سے نور مانگو، نور مانگو، نور
مانگو… اور نور کو ڈھونڈو اور نور کو تلاش کرو …
اللہ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالاَْرْضِ
اللہ ہی آسمان وزمین کا نور ہے
اللہ، اللہ ، اللہ …
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے ہم مسلمانوں پر بہت بڑا احسان فرمایا کہ…
ہمیں ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ جیسی عظیم الشان نعمت عطاء فرمائی… بے شک جہاد بہت بڑی
نعمت اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے… اللہ اکبر کبیرا… عزت کی زندگی اور شہادت کی
موت… ایک مسلمان کو اور کیا چاہئے؟ … آج نہ جہاد کے دلائل لکھنے ہیں اور نہ فضائل…
الحمدللہ دلائل اور فضائل آج کے اخبار میں
آپ کو بہت ملیں گے جو دوسرے رفقاء کرام نے لکھ دیئے ہیں… اللہ تعالیٰ ان سب کا
لکھنا قبول فرمائے … دراصل جہاد کا مسئلہ بہت واضح ہے… جہاد والا کام تو فرشتوں کے
ذمے تھاپھر اللہ پاک نے انسانوں پر احسان فرمایا اور انہیں جہاد والا کام دے دیا…
اور پھر اس امت پر خصوصی احسان فرمایا کہ جہاد کو ان کے دین کا حصہ بنادیا اور
اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تلوار دے کر مبعوث فرمایا … اللہ اکبر
کبیرا… اب وہ دن ہے اور آج کا دن ہے جنت کی حوریں خوب بنتی ہیں، سنورتی
ہیں… اور خوب زیب وزینت کرتی ہیں… جی ہاں اللہ تعالیٰ کے راستے کے
مجاہدین کے لئے… اور جنت خوب مہک رہی ہے… کافروں نے ایٹم بم بنا کر اسلام کو مٹانے
کا خواب دیکھا ہے… مگر جہاد مسکرا رہا ہے… جہاد جگمگا رہا ہے، جہاد للکار رہا ہے…
کافروں کے خواب چکنا چور ہو رہے ہیں … اور شہیدوں کا خون ہر طرف خوشبو بکھیر رہا
ہے اللہ پاک نے جہاد کی نعمت دے کر بہت بڑا احسان فرمایا اور جنت کے لمبے راستے کو
مختصر فرمادیا… پہلے یہ نعمت فرشتوں کے پاس تھی اب اس امت کے مجاہدین کے پاس ہے
اور فرشتے بھی محروم نہیں ہوئے اب ان کا کام مجاہدین کی مدد کرنا ہے اور میدان جہاد
میں رب کی نصرت بن کر اترنا ہے… اللہاکبرکبیرا… دین کے دشمنوں نے جہاد کے خلاف طرح
طرح کے اعتراضات اور شبہات پھیلائے مگر ان کی کوئی بات وزنی نہیں ہے… قرآن پاک کی
آیتوں نے جہاد کے مسئلے کو بالکل واضح کردیا ہے… جہاد کا مسئلہ اتنا واضح اور
تاکیدی ہے کہ ماضی کے مفسرین اور فقہاء اس پر بحث کرتے رہے کہ اگر خدانخواستہ
مسلمانوں پر بڑی گمراہی کا حملہ ہو اور ان کی اکثریت جہاد چھوڑ دے تو سچے اور
حقیقی مسلمان اس وقت کس طرح سے فریضۂ جہاد کو ادا کریں گے؟ … امام قرطبیؒ لکھتے
ہیں:
کیف یصنع الواحد اذا قصر الجمیع
یعنی اگر کسی جگہ کے تمام لوگ جہاد چھوڑ دیں تو ایک آدمی اس
وقت کس طرح سے جہاد کرے؟
پھر اس کا جواب دیتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی صورت ضرور نکالے
۱) کسی ایک مسلمان قیدی کو
فدیہ دے کر چھڑائے، یعنی کسی گرفتار مجاہد کو فدیہ دے کر رہا کرائے یا
۲) کسی دور دراز کے محاذ پر پہنچ کر خود لڑائی میں حصہ لے یا
۳) کسی مجاہد کو پورا سامان جہاد دے کر بھیجے۔ (القرطبی)
مقصد یہ ہے کہ چھٹی نہیں ہے، ایک سچے اور حقیقی مسلمان کو
کسی نہ کسی طریقے پر جہاد میں حصہ لیتے رہنا چاہئے کیونکہ … جہاد کے بغیر ایمان
مکمل نہیں ہوتا اور جہاد کے بغیر ایمان والی موت نصیب ہونا مشکل ہوتا ہے… آپ حضرات
نے مشہور تابعی حضرت سعید بن مسیبؒ کا نام سنا ہوگا، اہل علم ان کو تابعین کا
سردار کہتے ہیں وہ فرمایا کرتے تھے کہ … جہاد ہر مسلمان کی اپنی ذاتی اور ایمانی
ضرورت ہے کیونکہ جو شخص جہاد اور نیت جہاد کے بغیر مر جائے وہ منافقت کی موت مرتا
ہے پس خود کو منافقت سے اور منافقت والی موت سے بچانا فرض عین ہے…
مگر اس زمانے کے کچھ نادان لوگوں نے ’’ترک جہاد‘‘ کو اپنے
گلے کا ہار بنالیا ہے… وہ کہتے ہیں کہ ابھی جہاد کا وقت نہیں آیا؟ … استغفراللہ،
استغفراللہ…
اسلام کا جو فریضہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل
ہوگیا، اب اس کو منسوخ یا موقوف کرنے کا اختیار کسی کو نہیں ہے، کسی کو بھی نہیں
ہے… پرانے زمانے کے فقہاء اور مفسرین اس پر بحث کرتے تھے کہ اکیلا آدمی کس طرح سے
جہاد کرے جبکہ آج کے نادان واعظ کہتے ہیں کہ … جہاد سرکار کا کام ہے، جہاد کی
شرطیں پوری نہیں، جہاد کا وقت نہیں آیا… اور جہاد کی فلاں فلاں قِسمیں ہیں …
اللہ رب العالمین ایسی باتیں کہنے والوں کے شر
سے پوری امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے، دراصل یہ لوگ کافروں کی طاقت سے مرعوب ہیں اور
اللہ پاک کے لئے جان دینا نہیں چاہتے… غزوۂ تبوک کے موقع پر جو منافق جہاد کے لئے
نہیں نکلے تھے ان کے بارے میں امام رازیؒ لکھتے ہیں:
فکانوا کالآئسین من الفوز بالغنیمۃ بسبب انہم کانوا
یستعظمون غزو الروم فلہذا السبب تخلفوا۔ (تفسیر کبیر)
یعنی یہ لوگ رومیوں کی طاقت کو بہت بڑا (ناقابل تسخیر)
سمجھتے تھے اور ان کے مقابلے میں کامیابی سے گویا بالکل مایوس تھے۔
ایک اور جگہ امام رازیؒ نے مسلمان اور منافق کا فرق لکھا ہے
کہ مسلمان تو جہاد کا نام اور اعلان سن کر جہاد کے لئے دوڑ پڑتے ہیں جبکہ منافق
طرح طرح کے بہانے تراشنے لگتے ہیں کہ کس طرح سے جہاد سے بچ جائیں:
والمقصود من ہذا الکلام تمییز المومنین من المنافقین فان
المومنین متی امروا بالخروج الی الجہاد تبادروا الیہ ولم یتوقفوا والمنافقون
یتوقفون ویتبلدون ویأتون بالعلل والاعذار۔ (تفسیرکبیر)
پس معلوم ہوگیا کہ … جہاد کے خلاف جو لوگ طرح طرح کے دلائل
لاتے ہیں وہ دلائل نہیں ہوتے صرف شیطانی وسوسے اور نفسانی بہانے ہوتے ہیں … جب آقا
مدنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود تلوار لے کر میدان جہاد میں لڑنے بار بار تشریف
لے گئے تو بات ہی ختم ہوگئی… جہاد کے معنیٰ بھی معلوم ہوگئے اور جہاد کی اہمیت
بھی… اگر جہاد اہم نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اپنے محبوب وحبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو
اس میں زخمی نہ ہونے دیتا … آج کی مجلس کے شروع میں عرض کیا ہے کہ آج نہ جہاد کے
دلائل بیان کرنے ہیں اور نہ فضائل، بلکہ آج آپ سب کے ساتھ ایک ’’دعاء‘‘ کا تبادلہ
(مبادلہ) کرنا ہے… یہ ایک ضروری دعاء ہے جو میں آپ کے لئے مانگوں اور آپ میرے لئے
مانگیں … دراصل قرآن پاک نے سمجھایا ہے کہ بعض لوگ خود کو مسلمان بھی کہلواتے ہیں
اور بسا اوقات دیندار بھی … مگر وہ بدنصیب لوگ ہوتے ہیں کیونکہ اللہ پاک ان سے ناراض
ہوتا ہے اور اس کی علامت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو جہاد میں نہیں نکلنے دیتا …
استغفراللہ، استغفراللہ…
اب ہم نے تڑپ تڑپ کر یہ دعاء کرنی ہے کہ اللہ پاک مجھے اور
آپ کو ان لوگوں میں شامل ہونے سے محفوظ فرمائے …
بدنصیب لوگوں کا یہ گروپ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے
زمانے سے شروع ہوا اور تاقیامت رہے گا… قرآن پاک کی سورۃ توبہ کی آیت ۴۳ سے اس گروہ کا تذکرہ شروع ہوتا ہے اور کئی آیات تک یہ
دل ہلانے والا تذکرہ جاری رہتا ہے… ایک مسلمان اگر غور سے ان آیات کو پڑھے تو غم
اور خوف سے آنکھیں بھیگ جاتی ہیں اور دل لرزنے لگتا ہے… حضرت آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم غزوۂ تبوک کے لئے تشریف لے جارہے تھے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب
مسلمانوں کو نکلنے کا حکم دیا… اس وقت اہل ایمان کی طرف سے ایمان کے عجیب عجیب
مناظر سامنے آئے اور صحابہ کرام سب کچھ لٹا کر رومیوں سے ٹکرانے کے لئے تیار
ہوگئے… مگر بدنصیب لوگوں نے طرح طرح کے بہانے بنانا شروع کردیئے، کسی نے دینداری کا
لبادہ اوڑھ کر کہا کہ جہاد میں نکلنے سے میرا دین تباہ ہوجائے گا تو کسی نے اپنے
گھر کا بہانہ بنایا… آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بہانے سن کر ان کو گھر رہنے کی
اجازت دیتے رہے اس وقت سورۃ توبہ ایک گرج بن کر نازل ہوئی کہ… اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ
تعالیٰ آپ کو معاف فرمائے آپ نے ان کو اجازت کیوں دی؟ … آپ کو چاہئے تھا کہ آپ ان
کو اجازت نہ دیتے تاکہ یہ سرعام رسوا ہوجاتے … اور پھر قرآن پاک نے وہ بات فرمادی
جو سخت دلوں کو پگھلا دیتی ہے:
ولکن کرہ اللہ انبعاثہم
اللہ پاک نے ان کے جہاد میں نکلنے کو پسند ہی نہیں فرمایا…
اللہ پاک نے ناپسند فرمایا کہ یہ لوگ عزت وعظمت والے میدان جہاد میں پہنچیں پس اس
نے ان کو سست کرکے عورتوں کے ساتھ گھروں میں بٹھا دیا…
ہائے اللہ معافی … ہائے ربا معافی… ہائے مولا معافی…
تفسیر مدارک اور روح المعانی وغیرہ میں حضرت ابن عباس رضی
اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہ انتالیس افراد تھے جن کے بارے میں ابتدائی طور پر یہ
آیتیں نازل ہوئیں:
وکانوا تسعۃ وثلاثین رجلاً (المدارک)
اللہ پاک ناراض ہوجائے یہ ایک مومن کے لئے جہنم سے بھی سخت
عذاب اور سزا ہے … پس آپ میرے لئے دعاء فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان انتالیس
افراد کے گروہ میں شامل ہونے سے بچائے اور میں آپ سب کے لئے یہی دعاء کرتا ہوں …
یہ انتالیس افراد کس جہاد میں جانے سے رکے تھے؟ … سب کو معلوم ہے کہ غزوۂ تبوک سے
جو کہ ایک جنگ تھی … پس جہاد کے شرعی معنیٰ بھی معلوم ہوگئے … اور یہ بھی معلوم
ہوگیا کہ جہاد سے محرومی ایک بڑا عذاب اور مصیبت ہے… ہمیں اس وقت کسی اور پر تنقید
کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہمیں تو اپنی فکر ہے کہ ہم جہاد سے محروم نہ ہوجائیں…
جہاد ایک مشکل فریضہ ہے کیونکہ یہ اسلام کی بلند چوٹی کا سب سے اوپر والا مقام ہے…
اوّل تو اتنے اونچے مقام تک چڑھنے کے لئے کافی محنت لگتی ہے اور دوسرا اس مقام پر
پہنچ کر گرنے کا بھی ڈر رہتا ہے… جو لوگ دنیا کے تقاضوں اور شہوتوں سے ہلکے رہتے ہیں
وہ جلد ہی چڑھ جاتے ہیں … اور جو لوگ جماعت بن کر ایک دوسرے کو تھامے رکھتے ہیں وہ
گرنے سے بچ جاتے ہیں … اللہ پاک ہمیں گرنے سے بچائے اور ہمیں جہاد سے محروم نہ
فرمائے … دراصل یہ دنیا اور اس کے تقاضے بہت ظالم اور دلکش ہیں … ایک مجاہد جب اس
دنیا کی طرف دیکھنے لگتا ہے تو اس کا پاؤں پھسل جاتا ہے اور وہ جہاد کی نورانی
چوٹی سے گر جاتاہے … یا اللہ رحم فرما، یا اللہ رحم فرما… پھر جہاد سے محرومی کا
فتنہ بھی بہت عجیب ہے… اکثر گناہ ایسے ہیں کہ انسان ان میں مبتلا ہونے کے بعد شرم
اور خوف محسوس کرتا ہے… مگر ترکِ جہاد کے گناہ کو شیطان نے دلکش بنادیا ہے… آپ
جہاد چھوڑ کر گھر بیٹھ جانے والے کسی شخص سے بات کریں وہ خود کو دنیا کا افضل ترین
شخص ثابت کرے گا اور جہاد کرنے والوں پر طرح طرح کی تنقیدیں کرے گا … اگر
خدانخواستہ میں اور آپ بھی اسلام کی چوٹی سے پھسل کر دنیا کے دلدل میں جاگرے تو
ہمارا بھی یہی حال ہوجائے گا… اور بالآخر ایک دن موت کے ظالم پنجے ہماری گردنیں
دبا دیں گے اور ہم شہادت کی زندگی اور لذتوں سے محروم ہوجائیں گے
یا اللہ رحم فرما، یا اللہ رحم فرما…
مجھے اور آپ کو یقین کرنا چاہئے کہ جہاد چھوڑنے کا نقصان
صرف اور صرف خود ہمیں ہی پہنچے گا… اگر جہاد چھوڑ کر ہم نے امریکہ میں بنگلہ
بنالیا، دبئی میں محل خرید لیا، اپنے گرد دنیا بھرکی عورتیں جمع کرلیں اور اپنے
ذاتی جہاز لے لئے تب بھی ہم ایک ذلیل مچھر سے بھی زیادہ حقیر رہیں گے… کیونکہ یہ
تمام چیزیں میدان جہاد میں لگنے والی مٹی کے بھی برابر نہیں ہیں… ہائے کتنے خوش
نصیب ہیں وہ مجاہد جو اپنا امتحان پورا کرکے شہید ہوگئے… اب کوئی کار، کوئی کوٹھی،
کوئی عورت، کوئی عزت، کوئی لالچ ان کو جہاد سے محروم نہیں کرسکتی…
مگر ہم تو خطرے میں ہیں… ہر طرف خوف ہے اور طرح طرح کے فتنے
… لوگ خوبصورت جوتی پہن کر ناز نخرے کرنے لگتے ہیں… ہائے مسلمان تو تو روم وفارس
کے خزانوں کو بھی نفرت سے دیکھتا تھا اب تو جوتے، کوٹھی اور کپڑے میں عزت دیکھ رہا
ہے… جہاد چھوڑ دو اور امن سے رہو… یہ بدبودار نعرہ بے شمار لوگوں کو جہاد سے محروم
کر چکا ہے… اللہ پاک کی قسم جو امن انسان کو جہاد سے دور کرتا ہو، اللہ پاک کی
رحمت سے دور کرتا ہو وہ امن نہیں ہے… ہاں بے شک جو امن ببر شیر کو بندر بنادے وہ
امن خود ایک ذلت اور عذاب ہے…
اے القلم کے پڑھنے والو… مجھے اور آپ کو اپنے نفس کی نگرانی
کرنی چاہئے اور اس کو سمجھانا چاہئے کہ یہ … جہاد چھوڑنے پر ہمیں نہ ابھارے… یاد
رکھیئے! جو نفس جہاد کے خلاف ابھارتا ہو وہ ’’نفس امّارہ‘‘ ہے خواہ وہ کتنی ہی
نیکیوں میں لگا رہتا ہو … جی ہاں جہاد اللہ پاک کا حکم ہے… اے نفس کیا تو اللہ پاک
کے حکم سے رو گردانی کرتا ہے؟… جہاد کی فرضیت اور فضائل قرآن پاک نے بیان فرمائے
ہیں … اے نفس اگر تو جہاد میں نکلا اور تجھے شہادت نصیب ہوگئی تو تو ابد الآباد،
یعنی ہمیشہ ہمیشہ کی نعمتوں کا مستحق بن جائے گا… تجھ سے نہ آنکھوں کا حساب ہوگا
نہ کانوں کا … تجھ سے نہ قبر کی پوچھ تاچھ ہوگی اور نہ حشر کا حساب… تو فرشتوں کے
ساتھ گھومے گا اور ہواؤں اور بادلوں میں تیرتا پھرے گا… تیرا رب تجھ سے راضی ہوگا
اور جنت کی نہریں تیرے ساتھ کھیلیں گی … اے نفس تیری جان حضور اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم کی جان سے زیادہ قیمتی نہیں ہے، جب وہ جہاد میں نکلے تو پھر تو خود کو قیمتی
سمجھ کر کیوں گھر میں بیٹھا ہوا ہے؟
اے نفس! پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد اور مجاہد کے
جو فضائل ارشاد فرمائے ہیں کیا تو ان تمام فضائل سے محروم رہے گا؟… پھر تو قیامت
کے دن آقا صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کا کس طرح سے سامنا کرے گا؟ … اے
نفس! زندگی کے دن مقرر ہیں، موت کا وقت مقرر ہے، روزی کے لقمے مقرر ہیں پھر تو
جہاد کو چھوڑ کر کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟ … جہاد کی مٹی، جہاد کے قدم، جہاد کی
بھوک، جہاد کا ایک ایک لمحہ نعمت اور رحمت ہے کیا تو ان تمام چیزوں سے محروم ہونا
چاہتا ہے؟ … اے نفس! یہ دنیا بے وفائی، ظلم، بیماری اور پریشانی کی جگہ ہے کیا تو
اس پریشانی والی زندگی کی خاطر راحتوں اور لذتوں والی زندگی قربان کر رہا ہے؟…
اے مسلمان ! تیرے جہاد چھوڑنے سے کافروں نے کتنی طاقت بنالی
ہے… اب سلمان رشدی ہماری ماؤں کو گالیاں دیتا پھرتا ہے، وہ خبیث شخص، ازواج مطہرات
پر زبان چلاتا ہے… امریکہ کے دانشور کعبۃ اللہ اور مسجد نبوی پر بمباری کی باتیں
کر رہے ہیں… اور کافروں کے لشکر عراق، افغانستان، کشمیر اور فلسطین میں رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا خون بہا رہے ہیں۔
اے مسلمان تو نے دنیا کو سب کچھ سمجھا تو آج تجھے آٹے کے
لئے قطار لگانی پڑتی ہے… حالانکہ ایک زمانے میں روم وفارس کے بادشاہ تجھے خراج دے
کر جیتے تھے… اے مسلمان تو نے زندہ رہنے کا شوق پالا تو تجھے آج کافروں کے ملکوں
میں جاکر ان کے کتے نہلانے پڑتے ہیں … حالانکہ تو تو افضل ترین امت کا فرد تھا…
اے مسلمان تو نے جہاد چھوڑا تو آج زمانے کے بدترین لوگ تیرے
حکمر ان بن گئے وہ تجھے دن رات بیچتے، مارتے اور ستاتے ہیں … اے نفس اللہ تعالیٰ
سے ڈر، اس دنیا کی حقیقت کو سمجھ … کسی قبرستان میں جاکر مردوں سے بولنے کی کوشش
کر… کسی گندگی کے ڈھیر پر دنیا کی چیزوں کاحشر دیکھ … اور کسی بڑھاپے سے حسن کی بے
ثباتی کا راز پوچھ … تب تو جہاد چھوڑنے کے گناہ اور عذاب سے باز رہے گا…
اے القلم کے پڑھنے والو… ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے نفس کو
سمجھائیں… اور یاد دہانی کے لئے روزانہ آیاتِ جہاد، فضائلِ جہاد اور واقعات ِجہاد
کا مذاکرہ کیا کریں… شیطان کو جہاد سے سخت چڑ ہے… وہ جانتا ہے کہ جہاد بخشش اور
جنت کا راستہ ہے، اس لئے وہ ہرمجاہد کے پیچھے لگا رہتا ہے کہ کسی بھی طرح اسے جہاد
سے محروم کرکے حقیر دنیا کا ذلیل غلام بنادے… اس لئے ہمیں روز فضائل جہاد کی تعلیم
کراکے اپنے ایمان کو تازہ کرناچاہئے… اور فتح الجوّاد کا بھی بار بار مطالعہ
کرناچاہئے…
مگر ایک بات یاد رکھیں… اپنے نفس کو سمجھانے سے بھی فائدہ
ہوگا، روزانہ کی تعلیم، مذاکرے اور مطالعے سے بھی فائدہ ہوگا… مگر اصل مسئلہ تب حل
ہوگا جب ہم اپنے دل میں جہاد کی قدر بٹھا لیں گے، خود کو جہاد کا محتاج سمجھیں گے
اور جہاد سے محرومی کو عذاب جانیں گے… آپ دیکھیں ایک آدمی اپنی جان اور صحت کو
اپنے لئے ضروری سمجھتاہے تو پھر اس کی حفاظت کے لئے کتنی تدبیریں کرتا ہے ا ور
کتنی دعائیں مانگتا ہے… حالانکہ جہاد فی سبیل اللہ ہمارے لئے جان اور صحت سے زیادہ
ضروری ہے… جان نہ ہوئی تو مرجائیں گے اور مرنا تو ویسے بھی ہے، صحت نہ ہوئی تو
بیمار ہوجائیں گے… مگر جہاد سے محروم ہوئے تو برباد ہوجائیں گے کیونکہ جہاد سے
محرومی اللہ تعالیٰ کی ناراضی کی علامت ہے… آپ ایک بار سورۃ توبہ کی آیت ۴۳ اور اس سے پہلے کی دو آیتیں اور اس کے بعد کی دس
آیتوں کا مطالعہ کرلیں … اگر اللہتعالیٰ نے مجھے توفیق بخشی تو انشا ء اللہ اپنی
کسی اگلی مجلس میں ان بارہ تیرہ آیات کا خلاصہ عرض کروں گا… آپ ان آیات میں جھانک
کر دیکھیں کہ جہاد سے محرومی کتنا بڑا عذاب اور کتنی عظیم رسوائی ہے… اور اللہ پاک
چاہتا ہے کہ بعض لوگ جہاد میں نہ نکلیں… کیونکہ ان کا جہاد میں نکلنا اللہ پاک کو
پسند نہیں ہے… اعوذباللہ، اعوذباللہ، استغفراللہ، استغفراللہ… یہ کتنی شدید وعید
ہے اور کتنا سخت عذاب کہ انسان اتنا گر جائے اور اتنا گندہ ہوجائے کہ اللہ پاک اس
کو جہاد سے محروم فرمادے… یا اللہ، یااللہ، یااللہ آپ کو آپ کی وسیع رحمت کا واسطہ
کہ مجھے ان لوگوں میں شامل ہونے سے اپنی پناہ میں لے لیجئے اور جو مسلمان مرد اور
عورتیں اس مضمون کو پڑھ رہے ہیں ان کے لئے بھی یہی دعاء ہے کہ اللہ پاک ان کو جہاد
کی محرومی سے اپنی پناہ میں رکھے اور یہی دعاء اپنے والدین، اہل خانہ، عزیز
واقارب، دوست احباب اور محسنین ومعاونین کے لئے بھی ہے… یا اللہ یا ارحم الراحمین
ہمیں اپنی ناراضی سے بچالیجئے… اور ہمیں محرومی اور بدنصیبی سے بچالیجئے…
اے القلم کے پڑھنے والو… آپ میرے لئے دعاء کریں، میں آپ کے
لئے دعاء کرتا ہوں … جہاد کا انکار کفر ہے، جہاد کا ترک محرومی ہے، اور شہادت
ایمان کے بعد سب سے بڑی نعمت ہے … ا للہ پاک ہمیں کفر اور محرومی سے بچائے، مقبول
شہادت کی نعمت نصیب فرمائے اور انتالیس بدنصیب افراد والے گروہ میں شامل ہونے سے
ہم سب کی حفاظت فرمائے… آمین یا ارحم الراحمین یا اللہ ، یا اللہ، یا اللہ…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے کہ اس نے ہمیں زمانے کے بڑے
علماء کرام سے تعلق، محبت اور نسبت عطاء فرمائی ہے… علم اللہ تعالیٰ کا نور ہے اور
اللہ تعالیٰ جس انسان سے خیر اور بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کا علم عطاء
فرماتا ہے … قرآن و حدیث میں جس ’’علم‘‘ کی فضیلت بیان ہوئی ہے یہ وہی علم ہے جو
انبیاء علیہم السلام کے واسطے سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے … اللہ تعالیٰ نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو بہت وسیع علم فرمایا ہے … آپ اگر اس امت
کے علماء کرام کے حالات پڑھیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے … ایک ایک عالم نے ہزاروں
کتابیں لکھیں اور ایسی کتابیں لکھیں کہ زمانہ ان کی مثال پیش نہیں کرسکتا … ان
علماء کرام کے علم کو دیکھ کر خود سوچیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم
کتنا ہوگا … حیرت کی بات ہے کہ آج کل کے مسلمان سائنس کے شعبدوں سے متاثر ہوتے ہیں
اور اسلام کو سائنس پر پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں … حالانکہ آجکل کے سائنسدان نور
اور روشنی سے محروم اور جاہل ہیں … انہوں نے انسانوں کے اخلاق تباہ کردیئے ہیں اور
انسانوں کی صحت برباد کردی ہے… آج سائنس کی ترقی کا دور ہے اور ہر آدمی بیمار ہے…
جبکہ آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صحت کا یہ عالم تھا کہ ایک حکیم
صاحب مدینہ منورہ میں کئی دن تک رہے اور بالآخر یہ کہہ کرچلے گئے کہ یہاں تو کوئی
بیمار نہیں ہے … اللہ اکبرکبیرا… لوگ کھیتی باڑی بھی کرتے تھے، لمبے لمبے سفر بھی
کرتے تھے، عبادات میں بھی لگے رہتے تھے، جہاد میں پورا پورا دن گھوڑے کی پیٹھ پر
تلواریں بھی چلاتے تھے، نیزے بھی گھماتے تھے اور رات کو آرام سے سو کر اپنے وقت پر
تہجد کے لئے بھی اٹھ جاتے تھے اور کئی کئی شادیاں حکیموں کا تعاون حاصل کیے بغیر
کرتے تھے… مطلب یہ ہے کہ سائنس کوئی اتنی بڑی چیز نہیں ہے جس کو دیکھ کر ہم
مسلمانوں کے دل سے ’’دینی علوم‘‘ کی قدر نکل جائے اور ہم قرآن و سنت کے علم سے
محروم ہو کر اے بی سی کو سب کچھ سمجھنے لگیں … چند دن پہلے میں ایک جگہ سے گزرا تو
زمین کی عجیب حالت دیکھی … کچھ لوگ زمین کھود کر پائپ بچھا رہے تھے، قریب ہی گٹر
لائن بچھی ہوئی تھی… اللہ پاک نے اتنی خوبصورت زمین بنائی مگر انسان نے اپنے آرام
کی ہوس میں اس کو نالیوں، پائپوں، تاروں اور پتہ نہیں کن کن چیزوں سے چھید دیا ہے…
پہاڑوں کا حسن تباہ ہوگیا، دریاؤں کا شریں پانی کیمیکلوں کے زہر سے ابلنے لگا،
جنگلات کا طلسماتی منظر ماضی کا افسانہ بن گیا … ہر طرف مشینوں کا شور ہے اور
بیماریوں سے بھرے انسان …ہم ترقی کے دشمن نہیں ہیں مگر اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے یہ
ترقی نہیں خود کشی ہے … یہ انسان اور انسانیت کو ختم کرنے کا ایک کھیل ہے… ہاں بے
شک اسی طرح قیامت آئے گی … تب معلوم ہوگا کہ علمِ دین کی کیا قیمت تھی… دین کا علم
انسان کو انسان بناتا ہے اور انسانیت کو ترقی دیتا ہے… اسی لئے تو انسانیت کے سب
سے بڑے محسن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’دین کے علم‘‘ کو فرض قرار دیا…
طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم (بیہقی)
یعنی دین کے علم کی طلب ہر مسلمان پر فرض ہے۔
جی ہاں اتنا علم جس سے حلال حرام کا پتہ چلے، پاکی ناپاکی
کا حال معلوم ہو اور دینی فرائض سے واقفیت ملے … اور فرائض ادا کرنے کا درست طریقہ
معلوم ہو … اتنا علم تو ہر مسلمان کے ذمہ لازم ہے… مگر افسوس کہ آج تو مسلمانوں کو
اپنے عقیدے تک کا علم نہیں، چنانچہ کوئی بھی کھڑا ہو کر ان کو گمراہ کردیتا ہے …
آج تقریباً ہر شہر میں ’’امام مہدی‘‘ کا دعویٰ کرنے والے پاگل موجود ہیں اور کئی
لوگ ان کے دعوے کو تسلیم کرتے ہیں…
آج ہر محلے اور علاقے میں نقلی پیر موجود ہیں … تعویذ فروش،
توہم پرست اور ان پیروں کے پاس عورتوں کا ہجوم ہے… مسلمان عورتیں چھپ چھپ کر ان
پیروں کے پاس جاتی ہیں اور اپنے ایمان کو برباد کرتی ہیں … دین کا علم اللہ تعالیٰ
کا خوف پیدا کرتا ہے اور آج کا مسلمان علم سے بھی محروم ہے اور اللہ تعالیٰ کے خوف
سے بھی، اس لئے وہ ہر کتے اور بلی سے ڈرتا ہے… میرا کئی سال سے ارادہ ہے کہ بخاری
شریف کے شروع میں امام بخاریؒ نے علم کی فضیلت پر جو احادیث مبارکہ نقل فرمائی ہیں
ان کا ترجمہ کرکے ایک کتابچے کی صورت میں چھاپ دوں … ممکن ہے بہت سے مسلمانوں کی
آنکھیں کھل جائیں کہ انہوں نے علم سے محروم رہ کر اپنا کتنا بڑا نقصان کیاہے… اللہ
کے پاک نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو ہمارے خیرخواہ تھے ان سے بڑھ کر ہمارا کون
خیرخواہ ہوسکتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علم کا ایک ایک حرف سیکھنے پر طرح
طرح کے فضائل اور فوائد بیان فرمائے، قرآن پاک نے علم کی فضیلت کو مختلف انداز سے
بیان فرمایا … آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک سمجھایا کہ علم انبیاء علیہم
السلام کی وراثت ہے، اور علم کا راستہ جنت کا راستہ ہے اور جو کوئی اسلام کو زندہ
کرنے کے لئے علم حاصل کرتا ہے اس کے اور انبیاء علیہم السلام کے درمیان جنت میں
صرف ایک درجے کا فرق ہوگا
من جاء ہ الموت وہو یطلب العلم لیحی بہ الاسلام فبینہ وبین
النبیین درجۃ واحدۃ فی الجنۃ۔(دارمی)
خیر یہ ایک طویل موضوع ہے… میں صرف اپنے مسلمان بھائیوں اور
بہنوں کے سامنے ایک سوال رکھنا چاہتا ہوں … کیا تمام انسانیت کی کامیابی اللہ
تعالیٰ کے احکامات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے میں نہیں ہے؟ … آپ
کیا جواب دیں گے؟ … یہی نا کہ بے شک تمام اولاد آدم کی کامیابی اس وقت اللہ تعالیٰ
کے احکامات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے میں ہے اور اس بات میں شک
کرنا بھی کفر کے مترادف ہے … تو پھر اللہ تعالیٰ کے احکامات کو جاننا اور رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو معلوم کرنا کتنا ضروری ہوگیا … بس اسی چیز کا
نام علم ہے… اور آج ہم اسی علم سے دور ہوتے جارہے ہیں … یاد رکھیں علم کے بغیر
جہالت ہی جہالت، اندھیرا ہی اندھیرا اور خسارہ ہی خسارہ ہے… اس لئے ہر مسلمان کو
چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو دین کا علم پڑھائے اور ان کو ہلاکت اور تباہی کے راستے
سے بچائے… قرآن پاک کا علم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا علم، میراث کا
علم، جہاد کا علم … اور مکمل شریعت کا علم … اللہ تعالیٰ علماء کرام کو جزائے خیر
عطاء فرمائے انہوں نے انتہائی مختصر نصاب ترتیب دیا ہے … آپ کا بچہ اٹھارہ انیس
سال کی عمر تک عالم بن سکتا ہے… اس کے بعد آپ کی مرضی کہ اس کو دین ہی میں لگادیں
… یا ڈاکٹر، انجینئر بنادیں … اور عام مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ دین کا علم حاصل
کریں… اور یاد رکھیں کہ عالم، فاضل بننا ضروری نہیں ہے… آپ چلتے پھرتے اور دنیا
کمانے کے دوران بھی علم حاصل کرسکتے ہیں … حضرات علماء کرام نے لکھا ہے کہ علم
حاصل کرنے کے جو فضائل قرآن وسنت میں آئے ہیں … ان کو حاصل کرنے کے لئے مدرسہ میں
داخلہ لینا ضروری نہیں ہے… حضرات صحابہ کرام نے تمام علوم رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم سے سن کر اور آپ کی صحبت میں رہ کر حاصل کیے … اور پھر میدانِ جہاد کی برکت
نے ان کے علوم کو ترقی دے دی … چنانچہ آج بھی ہر مسلمان اپنے علاقے اور محلے کے
مستند عالم صاحب سے علم حاصل کرسکتا ہے اور اس کے دو طریقے ہیں:
(۱) کچھ وقت نکال کر ان سے
پڑھتے رہیں
(۲) ان کے مشورے سے مستند علماء کرام کی کتابوں کا مطالعہ کرتے
رہیں۔
ہمارے بہاولپور کے مرکز جامع مسجد عثمانؓ وعلیؓ میں ایک
مختصر علمی کورس ’’دورہ اساسیہ‘‘ کے نام سے پڑھایا جاتا ہے اس میں بھی شرکت کرسکتے
ہیں … اور لاہور کے عالمِ دین مفتی ڈاکٹر عبدالواحد صاحب نے ’’فہم دین کورس‘‘ کے
نام سے تین کتابوں پر مشتمل ایک نصاب متعارف کرایا ہے وہ بھی کافی مفید ہے … اللہ
پاک مجھے اور آپ سب کو علم نافع عطاء فرمائے، علم چونکہ اللہ تعالیٰ کا نور ہے اس
لئے اس میں ایک ’’خاص لذت‘‘ ہے اور یہ لذت جس کو نصیب ہوجاتی ہے اسے بغیر علم کے
چین نہیں آتا … اور ایسے لوگوں کے لئے علم حاصل کرنا آسان ہوجاتا ہے کیونکہ وہ
سوتے، جاگتے، کھاتے پیتے جب بھی موقع پاتے ہیں کتاب سے اپنا سر جوڑ لیتے ہیں …
حضرت مفتی نظام الدین شامزیؒ کو دیکھا کہ کھڑے کھڑے کسی کتاب کا مطالعہ شروع
کردیتے تھے اور اسے مکمل پڑھ لیتے تھے … حضرت مولانا جلال الدین حقانی کو دیکھا کہ
سارا دن جہاد کے جلسے اور ملاقاتیں نمٹائیں رات کو طلبہ سر کی مالش کرنے آئے تو ان
سے احادیث کا مذاکرہ کرلیا … وہ لوگ جو علم حاصل کرنے کے لئے ترتیبیں اور پلان
بناتے رہتے ہیں ان کو علم کی لذت اور چسکہ نصیب نہیں ہوتا، ورنہ علم تو ایک نور ہے
انسان کسی بھی وقت، کسی بھی طریقے سے اسے حاصل کرسکتا ہے…
ہمارے قارئین کرام کو معلوم ہے کہ آج کا اخبار ایک بڑے عالم
ربانی حضرت اقدس مولانا محمد منظور احمد نعمانی صاحب نور اللہ مرقدہ کے بارے میں
خصوصی شمارہ ہے … آپ آج کے شمارے میں حضرت نعمانیؒ کی سوانح حیات بھی پڑھیں گے اور
ان کے علمی کارنامے بھی … انہوں نے آدھی صدی سے بھی زیادہ عرصے تک دینی علوم کی دن
رات خدمت فرمائی … یہ حضرت نعمانیؒ کی کرامت ہے کہ آج جب میں ان کے بارے میں مضمون
لکھنے بیٹھا تو ان کی بجائے علم کی فضیلت پر بات چل پڑی … دراصل انہوں نے خود کو
علم کی خدمت اور احیاء کے لئے مٹادیا تھا … وہ ایک ایک دن میں بیس سے زیادہ اسباق
پڑھا لیتے تھے حالانکہ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے… میں نے بھی کچھ عرصہ تدریس کی ہے
مدرسہ کی طرف سے پانچ اسباق تھے اور دو تین اسباق خارجی طور پر طلبہ کو پڑھاتا تھا
… یعنی کل سات آٹھ اسباق روزانہ اور اس میں دماغ کی چولیں ہل جایا کرتی تھیں اور
گلا بیٹھ جاتا تھا… اس لئے بیس اسباق کا لفظ آسان ہے مگر اس پر عمل کرنے لئے کتنا
علم ا ور کتنی ہمت چاہئے اس کو صرف اصحابِ تدریس علماء کرام ہی سمجھ سکتے ہیں …
اور پھر کتابیں بھی معمولی نہیں بخاری، ترمذی سے لے کر خیالی اور ملاحسن تک …
منقولات بھی اور معقولات بھی… ہم نے زمانۂ طالبعلمی میں سنا تھا کہ منطق اور علمِ
کلام کے ماہر علماء جو ’’معقولی علماء کرام‘‘ کہلا تے ہیں کافی ’’بلند مزاج‘‘ ہوتے
ہیں … یعنی کچھ اکڑ، کچھ رعب، کچھ شان اور کچھ کج کلا ہی… حضرت شیخ الحدیث مولانا
محمد زکریا مہاجر مدنیؒ نے بھی اپنے زمانے کے ایک ’’معقولی عالم‘‘ کا تذکرہ آپ
بیتی میں فرمایا ہے کہ وہ کہتے تھے بخاری میرے علاوہ کوئی نہیں پڑھا سکتا … مگر
حضرت نعمانیؒ جو معقولات کے مدرس ہی نہیں امام تھے، ہر طرح کی تعلّی، تکبر اور خود
بینی سے بہت دور تھے اور مکمل طور پر اخلاص کے رنگ سے منور تھے… اللہ پاک کا شکر
اور احسان ہے کہ اس نے ہمیں ان کی زیارت نصیب فرمائی، ا ن کی صحبت کا موقع عطاء
فرمایا، ان سے استفادے کی توفیق عطاء فرمائی … اور ان کے ساتھ محبت کا تعلق بخشا …
بلاشبہ بلاشبہ وہ بہت بڑے آدمی اور شان والے عالم دین تھے اور ان کو دیکھ کر
اسلامی تاریخ کی صداقت کا یقین تازہ ہوتا تھا …
اسلامی تاریخ کی صداقت؟ … جی ہاں ماضی کے بڑے بڑے علماء کا
تذکرہ اور ان کی علمی خدمات کی تاریخ … بے شک حضرت نعمانیؒ بھی اسی قافلے کے ایک
راہرو تھے ، ان کو دیکھ کر یقین آتا تھا کہ واقعی ماضی کے علماء کرام کے بارے میں
جو کچھ لکھا گیا ہے وہ سچ ہے اور اس میں مبالغے کا کوئی شائبہ نہیں ہے… اور بے شک
’’علمِ نافع‘‘ انسان میں تواضع اور بلند اخلاق پیدا کرتا ہے… ایک بار ان کی خدمت
میں بطور ہدیہ چند نوٹ پیش کیے تو واپس کرتے ہوئے فرمایا: اتنے سارے پیسے میں کیا
کروں گا؟ … میں نے منت کی تو قبول فرمالئے، کیا پندرھویں صدی میں بھی ایسے لوگ
موجود ہیں جو مال سے اتنے بے رغبت ہیں؟ … آج کی نام نہاد ترقی نے تو ہر انسان کو
لالچی جانور بنادیا ہے … انسان کرے بھی کیا… مالداروں کے نخروں نے غریبوں کے لئے
زندہ رہنا مشکل بنادیا ہے اور نئی نئی ایجادات نے انسانی زندگی کو ویران کردیا ہے…
آجکل بجلی اور گیس کا بحران ہے تو ہر گھر کا چولھا ٹھنڈا ہے… پہلے یہی عورتیں
آسانی سے لکڑی جلا لیتی تھیں … مگر نئی ایجاد نے انسان کو مشین کا محتاج کردیا ہے
جب مشین بند تو انسان بے کار…
جب چھوٹے سے بچے کی معمولی دوا تین سو روپے سے لے کر ایک
ہزار تک کی آتی ہو تو انسان نے مال کا محتاج تو ہونا ہے… اس لئے آج بہت کم لوگ حرص
اور لالچ سے محفوظ ہیں… ان حالات میں اپنے وقت کا استاذ العلماء پانچ دس ہزار کی
رقم کو حقیقی بے رغبتی سے پھینک رہا تھا تو دل کو سکون ملا کہ واقعی اسلام کی
باتیں سچی ہیں اور دین کا علم انسان کے دل کو کتنا غنی کردیتاہے…
حضرت نعمانیؒ کا کچا مدرسہ ہمارے گھر سے زیادہ دور نہیں
تھا… مگر مسافرانہ زندگی کی وجہ سے ان کے پاس حاضری کم رہی … مجھے ان سے علم حاصل
کرنے کا شوق تھا، ارادہ تھا کہ دورہء حدیث کے بعد ایک سال ان کے پاس تکمیل کروں گا
مگر … تعلیم کے آخری سال جہاد سے دل لگا اور ادھر مادر علمی میں مدرس رکھ لیا گیا
تو یہ تمنا حسرت بن گئی … میں نے اس کی تلافی یوں کی کہ اپنے دو چھوٹے بھائیوں کو
حضرت نعمانیؒ کے قدموں میں جا بٹھایا … میں تو بہت دور جیل کاٹ رہا تھا، وہاں سے
خط لکھا تو بھائیوں نے بات مان لی اور یوں علم کے اس دریا کا میٹھا پانی ہمارے گھر
تک بھی الحمدللہ پہنچ گیا… یہ دنیا تیزی
سے قیامت کی طرف دوڑ رہی ہے، زمین کی پیٹھ پر چلنے والے اس کے پیٹ سے گزر کر برزخ
میں جمع ہو رہے ہیں … اور عالم ارواح سے نئی روحیں زمین پر آباد ہو رہی ہیں … یہ
زمین ایک ہوٹل کے کمرے کی طرح ہے جہاں ہر شخص کا قیام عارضی ہے… اللہ پاک ہمیں
آخرت کی فکر نصیب فرمائے… میں کراچی میں تھا کہ حضرت نعمانیؒ کے وصال کی خبر آئی …
چونکہ ان سے دوطرفہ قریبی محبت کا رشتہ تھا، وہ استاذ بھی تھے اور محسن بھی، اس
لئے خبر سنتے ہی دل کو صدمہ پہنچا، میں نے دل کے صدمے کی قرآنی دوا دل پر لگائی …
وہ قرآنی دواء یہ دعاء ہے … انا للہ وانا الیہ راجعون
میں نے حضرت نعمانیؒ سے صرف تین سبق پڑھے تھے ایک سبق تو
افغانستان میں پڑھا تھا جب وہ پہلے جہاد کے زمانے میں ہمارے ’’معسکر‘‘ میں تشریف
لائے تھے اور میری خوش قسمتی کہ میں ان کا میزبان، ڈرائیور، خادم اور مترجم تھا…
ان کا پہلا سبق یہ تھا…
’’جہاد نماز روزے کی طرح اسلام کا ایک فریضہ ہے اور اس کا
منکر کافر ہے اور اسے بلاعذر ترک کرنے والا فاسق ہے‘‘… حضرت نعمانیؒ کے اس سبق کا
حوالہ بہت بعد میں ’’مبسوط سرخسی‘‘ میں ملا… مگر الحمدللہ میں نے اپنے محبوب استاذ کا یاد کرایا
ہوا یہ سبق بے شمار مسلمانوں تک پہنچایا… دوسرا ایک سبق جلالین کا تھا اور
تیسراایک سبق بخاری شریف کا…
ایک بار میں نے ان سے عرض کیا جلالین میں کونسا حصہ زیادہ
مضبوط ہے… محلّیؒ والا یا سیوطیؒ والا… فرمایا ہم تو استاذ والے کو ترجیح دیں گے
یعنی محلّیؒ والا حصہ زیادہ مضبوط ہے… جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کے ماہر
شیخ التفسیر حضرت مولانا محمد ادریس صاحب میرٹھیؒ نے بھی ایک بار فرمایا تھا کہ
سیوطیؒ کی اصل تفسیر ’’الدرالمنثور‘‘ ہے، جلالین میں تو وہ اپنے استاذ کی نقل کرتے
چلے گئے ہیں… تمنا تھی کہ حضرت نعمانیؒ سے ’’الفوز الکبیر‘‘ پڑھ لوں… اس کے لئے ان
کی خدمت میں حاضری بھی دی وہ راضی تھے مگر بہت علیل … وعدہ فرمایا کہ صحت ملی تو
انشاء اللہ ضرور پڑھاؤں گا مگر ان کے انتقال کی خبر آگئی… جس طرح آج صبح (۲۶محرم ۱۴۲۹ھ بمطابق ۵فروری۲۰۰۸ء) حضرت اقدس سید نفیس الحسینی شاہ صاحب کے انتقال کی خبر
آئی ہے… انا للہ وانا الیہ راجعون… حضرت شاہ صاحبؒ عالم اسلام کے نامور کاتب، رائے
پوری سلسلے کے مستند شیخ، سکہ بند شاعر، کئی اہم کتابوں کے مصنف، جہاد کے والہانہ
عاشق، مجاہدین کے سرپرست، کئی بڑے علماء کرام کے مرشد اور عالمی مجلس تحفظ ختم
نبوت کے مرکزی نائب امیر تھے… اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند
فرمائے اللہم لاتحرمنا اجرہ ولاتفتنا بعدہ … حضرت اقدس مولانا محمد
یوسف لدھیانوی شہیدؒ کی شہادت کے بعد حضرت شاہ صاحبؒ کو مجلس تحفظ ختم نبوت کا
نائب امیر مقرر کیا گیا تھا… اور حضرت مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ کے معروف ادارے ’’اقراء
روضۃ الاطفال‘‘ کی سرپرستی بھی آپ کے حصے میں آئی تھی… حضرت شاہ صاحبؒ کو حضرت سید
احمد شہیدؒ سے خصوصی محبت تھی چنانچہ آپ نے ان کے بارے میں ایک وقیع کتاب بھی
تحریر فرمائی… آپ کی بلند پایہ شاعری کا مجموعہ ’’برگ گل‘‘ کے نام سے معروف ہے اور
لاہور میں واقع آپ کی خانقاہ پر سالکین کا ہجوم رہتا تھا… اہل علم، اہل دل ایک ایک
کرکے اٹھتے جارہے ہیں… اللہ تعالیٰ امت مسلمہ پر رحم فرمائے اور اس میں اہل علم،
اہل دل اور اہل جہاد کی کثرت فرمائے… آمین یا ارحم الراحمین۔
٭٭٭
اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر رحم
فرمائے… امت کے بڑے لوگ اور امت کے غمخوار افراد تیزی سے اٹھتے جا رہے ہیں… خبر
آئی ہے کہ جامعہ نظامیہ میر علی کے شیخ الحدیث اور مہتمم حضرت مولانا محمد اسحاق
صاحب بھی انتقال فرما گئے ہیں…
انا للہ وانا الیہ راجعون، اللہم اجرنا فی مصیبتنا واخلف
لنا خیرا منہا۔ اللہم لاتحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ…
اگر آپ کبھی میرانشاہ گئے ہوں تو آپ نے دارالعلوم نظامیہ
ضرور دیکھا ہوگا… بنوں سے میرانشاہ جاتے ہوئے ’’میرعلی‘‘ کے قریب سڑک کے کنارے
دائیں طرف یہ شاندار مدرسہ قائم ہے… ماشاء اللہ بہت بارونق، کافی بڑا اور پرنور
مدرسہ ہے، حضرت مولانا محمد اسحاق صاحب نوّر اللہ مرقدہ اسی مدرسے کے ’’شیخ
الحدیث‘‘ تھے… بلند قامت، بھاری بدن، رقیق القلب اور جہاد کے پرزور حامی بلکہ خود
مجاہد… کئی سال ہوئے ان سے ملاقات نہ ہوسکی مگر ان کی شفقت اور محبت کا سلسلہ
غائبانہ طور پر جاری رہا۔ ’’فتح الجوّاد‘‘ کی افتتاحی تقریب میں اہتمام کے ساتھ تشریف
لائے اور بہت نصیحت آموز بیان فرمایا… ان کے بیان کا موضوع وہ سات افراد تھے جو
حدیث شریف کے مطابق قیامت کے دن ’’عرشِ الٰہی‘‘ کے سائے میں ہوں گے… اللہ تعالیٰ
ہم سب کو قیامت کے دن اپنے عرش کا سایہ نصیب فرمائے… حضرت مولانا تو چلے گئے اور
ماشاء اللہ عرش کا سایہ پانے کے لئے کافی بڑے اعمال کا خزانہ ساتھ لے گئے … اللہ
تعالیٰ اپنے فضل سے ان کے اعمال قبول فرمائے، وہ جید عالم دین تھے، حدیث شریف کی
بڑی بڑی کتابیں پڑھاتے تھے، شروع سے آخر تک مجاہدین افغانستان اور مجاہدین کشمیر
کے میزبان اور معاون رہے… یقینا یہ سارے اعمال بہت وزنی ہیں… ایک بار بہت لمبا سفر
کرکے ملاقات کے لئے بالاکوٹ تشریف لائے، غالباً ساڑھے پانچ سال پہلے کی بات ہے… ان
کی خدمت میں اسماء الحسنیٰ کی کتاب ’’تحفۂ سعادت‘‘ پیش کی گئی، کافی دیر تک اس کا
مطالعہ فرماتے رہے اور پھر فرمایا میں تو روزانہ اسماء الحسنیٰ اس طرح پڑھتا ہوں
کے ہر ’’اسم مبارک‘‘ کو سو بار پڑھ لیتا ہوں، یہ ٹھیک ہے یا نہیں؟… بندہ ان کی
تواضع پر بھی حیران ہوا اور اس بات پر بھی کہ اتنی مصروفیات کے باوجود روزانہ ہر
اسم مبارک کو سو بار پڑھنا ان کے لئے کس طرح سے ممکن ہوتا ہے… بے شک اللہ تعالیٰ اپنے
مقرب بندوں کے اوقات میں خاص برکت عطاء فرماتا ہے… اور جو لوگ جتنا زیادہ ذکر کرتے
ہیں ان کے اوقات میں اتنی ہی برکت ہوتی ہے… پھر اسماء الحسنیٰ کی شان دیکھیں کہ
اللہ تعالیٰ نور کے ان خزانوں سے جن بندوںکو تعلق عطاء فرمادیتا ہے وہ عجیب عجیب
طریقوں سے ان کو پڑھتے ہیں… حضرت مولانا محمد اسحاق صاحبؒ کا طریقہ تو آپ نے جان
لیا کہ ہر اسم کو ایک سو بار پڑھنے کا معمول تھا، جبکہ امامِ تفسیر حضرت مولانا
محمد شریف اللہ صاحب مدظلہ ایک اور ایمان افروز طریقہ تلقین فرماتے ہیں… بے شک
اللہ تعالیٰ کی شان بہت بلند ہے اور ’’اسماء الحسنیٰ‘‘ میں نور ہی نور اور روشنی
ہی روشنی ہے… ان میں سے ہر اسم کی الگ لذت ہے اور الگ تجلّی… تمام مسلمانوں کو
چاہئے کہ ننانوے اسماء الحسنیٰ جو کہ ترمذی شریف کی حدیث میں آئے ہیں ان کو یاد
کرلیں… قرآن پاک کے اکثر نسخوں پر شروع میں یہ اسماء لکھے ہوتے ہیں… یاد کرنے کے
بعد ان کو محبت سے پڑھا کریں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بشارت دی ہے کہ جو
ان اسماء کو یاد کرے گا اس کے لئے جنت ہے… بے شک ان اسماء الحسنیٰ میں جنت کے مزے
ہیں، ایک ایک اسم پڑھتے جائیں دل پر مرہم کی طرح ٹھنڈک اترتی ہے… پس آپ سب بھائی
اور بہنیں آج ہی ان کو یاد کرلیں اور پھر ان کو یاد رکھیں… اور جب دعاء کے لئے
ہاتھ اٹھائیں تو ایک بار تمام اسماء محبت کے ساتھ پڑھ لیا کریں یا اللہ ، یا رحمن
، یا رحیم سے یاصبور تک…
اور اگر کبھی کوئی مشکل ہو یا حاجت ہو تو دو رکعت صلوٰۃ
الحاجۃ پڑھ کر ان اسماء الحسنیٰ کو اکیس بار پڑھ کر دعا کریں، بے شمار لوگوں کا
تجربہ ہے کہ دعاء قبول ہوتی ہے… خود ہمارے محبوب مالک اور رب نے قرآن پاک میں
فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پیارے پیارے نام ہیں ان ناموں سے اس کو پکارا کرو، ان
ناموں کے ساتھ اس سے دعاء کیا کرو…
آج اگر امت مسلمہ ’’مسجد‘‘ کو اپنا مرکز بنالے، جہاد کو
اپنا اخلاق بنا لے اور نماز، تلاوت، ذکر اور درود شریف میں دل لگا لے تو چند دن
بعد امریکہ اوریورپ اس کو جزیہ دینے پر مجبور ہوجائیں گے… رب کعبہ کی قسم اس بات
میں نہ تو کوئی مبالغہ ہے اور نہ کوئی تردّد… حضرات صحابہ کرام تھوڑے سے تھے،
کمزورتھے اور بے اسباب تھے مگر وہ دنیا پر چھا گئے… بے شک ان کو غلبہ دینے والا رب
آج بھی موجود ہے… دیر ہماری طرف سے ہے کہ ہم اپنی ذات کے اندھیروں میں گم ہیں اور
ہم نے غلبے کے راستے کو اختیار نہیں کیا… لوگ کہتے ہیں کہ جہاد کی فرضیت کی بات
کرنے والے علماء عمر، علم اور تجربے میں چھوٹے ہیں جبکہ بڑے علماء کرام تو جہاد کی
زیادہ فضیلت کے قائل نہیں ہیں… لیجئے آج میں آپ کو ایک بڑے عالم دین کا خط پڑھاتا
ہوں، یہ خط میرے بائیں طرف رکھا ہوا ہے اور میں نے آج ہی بڑی محبت سے اس پر عطر
لگایا ہے… یہ خط حضرت مولانا محمد اسحاق صاحبؒ کا ہے، جن کی عمر ستر اسی سال کے لگ
بھگ ہوگی، اور وہ طویل عرصہ سے شیخ الحدیث تھے… مدارس بنات کے ننھے منھے شیخ
الحدیث نہیں بلکہ تجربہ کار، عمر رسیدہ اور ماہر شیخ الحدیث… کچھ عرصہ پہلے ہمارے
چند ساتھی ان سے ملے تو انہوں نے بندہ کے لئے یہ خط تحریر فرمایا… اس خط میں انہوں
نے ’’فریضۂ جہاد‘‘ کی جو فضیلت اور حکمت بیان فرمائی ہے وہ مسلمانوں کے لئے
سمجھنے اور یاد کرنے کی بات ہے… لیجئے ایک مستند عالم دین کی تحریر ملاحظہ
فرمائیے…
’’من جانب الاحقر دعاء گو، دعاء جو، مدرس وخادم الطلباء
جامعہ نظامیہ شمالی وزیرستان عیدک
الی المحترم ………
خدائے پاک ظاہر وباطن فتنوں سے محفوظ رکھے، خدائے پاک ہر
طرح حفاظت فرمائے آمین
ملاقات کا انتہائی شوق ہے، بالمواجہہ ملاقات میسر نہ ہوا
نصف الملاقات کاغذ پر لکھ کر اکتفا ہوا۔ چند ساتھی آئے تھے ان کے ملاقات سے بہت
خوشی ہوئی، مجاہدین کے ملاقات سے مجھ کو بہت خوشی حاصل ہوتا ہے… اسلام ا ور
مسلمانوں کا عزت جہاد میں مضمر ہے، کفار یہود ونصاریٰ کا ذلت جہاد میں رکھا ہوا
ہے، جہاد سے مسلمان اور اسلام غالب ہوتا ہے اور کفر اور کفار ذلیل ہوتے ہیں، اسلام
کے ہر عمل کے بے شمار فوائد ہیں، لیکن غلبۂ اسلام اور مسلمین اور ذلۃ کفار میں
جہاد کا نمایاں دخل ہے، حتی یعطوا الجزیۃ عن یدوہم صاغرون کے منظر کا انتظار جہاد
سے ہوسکتا ہے (یعنی کفار ذلیل ہو کر مسلمانوں کو جزیہ دیں) میں آپ صاحب کے ساتھ
ملاقات کے وقت کہا تھا کہ کوئی دن ایسا نہ گزرے جس میں تمہارا بیان نہ ہو۔ القلم
کے ذریعے اپنے ارشادات ارشاد فرمائیے۔
الاحقر دعاء گو، دعاء جو مدرس مدرسہ جامعہ نظامیہ شمالی
وزیرستان عیدک۔
…………………
حضرت مولاناؒ ایک بار ہمارے گھر تشریف لائے تھے، اس دن
فرمایا کہ آپ روزانہ بیان یا تقریر کیا کریں… پھر اس کے کچھ فوائد بھی بیان
فرمائے، کچھ عرصہ بعد اوپر مدرسہ میں تشریف لائے وہاں مجاہد ساتھیوں کا مظاہرہ
دیکھ کر خوشی سے روتے رہے اور مجھے دوبارہ فرمایا کہ روزانہ بیان کیا کرو اس میں
خاص حکمت ہے… میں نے حضرت مولاناؒ کی نصیحت پر عمل کی حتی الوسع کوشش کی ہے مگر
اللہ تعالیٰ معاف فرمائے پورا عمل نہیں کرسکا… گذشتہ چارسال سے تو بیان سننے والے
بھی کبھی کبھار ملتے ہیں… ہفتے میں ایک دن تو رنگ و نور کی صورت میں تمام قارئینِ
القلم کے لئے بیان ہوجاتا ہے… باقی دنوں میں اگر کوئی ہاتھ آجائے تو فضائل جہاد
کتاب کی تعلیم کرادیتا ہوں… باقی جیسے اللہ پاک کی مرضی … دراصل مجھے تقریر کرنے
کا شوق نہیں تھا اور بیان سے پہلے طبیعت پر کافی بوجھ رہتا تھا، غالباً حضرت
مولاناؒ نے اپنی فراست ایمانی سے اس حالت کو بھانپ لیا چنانچہ انہوں نے یہ مشورہ
صادر فرمایا اور اپنے اس آخری خط میں بھی اس کی یاد دہانی کرائی… حضرت مولاناؒ کی
مادری زبان پشتو تھی اور پشتو بھی قبائلیوں والی، اس کے باوجود اردو اچھی بول لیتے
تھے، مگر چونکہ اردو سے واسطہ کم پڑتا تھا اس لئے خط میں آپ نے اس کا اثر دیکھا
ہوگا… اردو چونکہ کوئی مقدس زبان نہیں ہے کہ اس میں تصحیح فرض کے درجے میں ہو اس
لئے میں نے ان کا خط من وعن پیش کردیا ہے… مسلمانوں کے لئے بس ایک ہی زبان مقدس ہے
اور وہ ہے ’’عربی‘‘ … اللہ تعالیٰ مسلمانوں میں عربی زبان کو جاری اور عام فرمائے…
حضرت مولانا اسحاق صاحبؒ ہم سے جدا ہوگئے، اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے،
انشاء اللہ چند ساتھی ان کے گھر اور مدرسہ جاکر القلم کے قارئین کے لئے ان کے
حالات زندگی جمع کرکے لائیں گے، اس وقت تک انتظار فرمائیں… اور دل کی توجہ سے کچھ
قرآن پاک پڑھ کر حضرت مولانا ؒ کی روح کو ایصالِ ثواب کریں… بے شک وہ ہمارے شفیق
محسن اور ہمدرد غمخوار تھے… اللہم اکرم نزلہ ووسع مدخلہ
الرحمت ڈائری
اللہ تعالیٰ نے ایک اور احسان فرمایا ہے… الحمدللہ الحمدللہ الحمدللہ ’’الرحمت ڈائری‘‘ شائع ہوچکی ہے… کافی
عرصہ سے خواہش تھی کہ ایسی ڈائری تیار ہو جس کا ہر صفحہ علمی اور دینی فوائد سے
معمور ہو… اللہ پاک کی توفیق سے ایک ترتیب طے ہوئی اور پھر چند ساتھیوں نے محنت کی
تو الحمدللہ کام بن گیا… اب آپ الرحمت
ڈائری کا پہلا صفحہ کھولیں گے تو انشاء اللہ خوشی اور حیرت میں ڈوب جائیں گے اور
اگلا صفحہ کھولنے میں آپ کو کچھ وقت لگے گا… ہر صفحے پر آپ کو ایک عقیدہ معلوم
ہوگا، ایک سنت کا علم ہوگا، ایک آیت کا ترجمہ نصیب ہوگا اور ایک بڑے گناہ سے واقفیت
ملے گی… سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم … پھر رمضان کی تاریخیں شروع ہونے سے
پہلے رمضان المبارک گزارنے کا طریقہ … شوال کی تاریخ آنے سے پہلے عیدالفطر کے مکمل
آداب اور ذوالحجہ کی تاریخیں شروع ہونے سے پہلے ذوالحجہ کے اعمال آپ کے علم میں
آجائیں گے…
اسی طرح محرم، صفر، ربیع الاوّل اور دیگر مہینوں کے متعلق
شرعی احکامات بھی اپنی اپنی جگہ پر موجود ہیں … ڈائری میں جہادی آیات کا ترجمہ بھی
ہے اور شہداء کا تذکرہ بھی… جہاد کے اقوال بھی ہیں اور جہادی تاریخیں بھی… اور ان
سب کے علاوہ رنگین صفحات پر آیات قرآنی اور کتابوں کے تعارف کی ایک قوس قزح بکھری
ہوئی ہے… اور ڈائری کا اختتام اس دعاء پر ہوا ہے جس پر امام بخاریؒ نے اپنی کتاب
’’صحیح البخاری‘‘ کا اختتام کیا ہے… یعنی سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم
دل سے دعاء ہے ان تمام ساتھیوں کے لئے جنہوں نے یہ دینی
وعلمی تحفہ امت تک پہنچانے کے لئے محنت کی ہے… اللہ پاک ان سب کی سعی کو مشکور
فرمائے
آمین یا ارحم الراحمین… سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ
العظیم… وصلّ اللّٰہم علی حبیبک سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وسلم تسلیما…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہر خیر عطاء فرمائے اور ہرشر سے بچائے،
الیکشن ۲۰۰۸ء کے نتائج تیزی سے آرہے ہیں… ابھی تک اگرچہ صورتحال واضح
نہیں ہوئی مگر اتنا معلوم ہوچکا ہے کہ صدر پرویز مشرف کی پارٹی قاف لیگ کو عبرتناک
شکست کا سامنا ہے… مجلسِ عمل بھی ’’انتخابی ہزیمت‘‘ کی طرف تیزی سے رواں دواں ہے…
قوم پرست پارٹیوں نے کافی سیٹیں جیت لی ہیں … اور مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی
سیٹوں پر سیٹیں جیتتی چلی جارہی ہیں… قدّر اللہ ماشاء … ہم لوگ تو انتخابی سیاست
اور جمہوریت سے کافی دور ہیں، اس لئے صرف اس دعاء پر اکتفاء کر رہے ہیں کہ اللہ
تعالیٰ پاکستان کو مسلمان حکمران عطاء فرمائے… اللہ تعالیٰ کے وفادار، رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کے وفادار، اسلام کے وفادار، جہاد کے وفادار حکمران … اللہ
تعالیٰ کے لئے کچھ مشکل نہیں مگر ہمارے اعمال کی شامت ہر بار اپنا رنگ دکھاتی ہے…
اللہ تعالیٰ معاف فرمائے اللہ تعالیٰ رحم فرمائے… آج کی مجلس میں حالیہ انتخابات
کے بارے میں چند باتیں عرض کرنی ہیں:
حضرت شیخ آملیٹ
فرزند راولپنڈی شیخ رشید صاحب اپنے دونوں حلقوں سے انتخابات
ہار گئے ہیں… ہر کوئی اس خبر کو نہایت خوشی کے ساتھ دوسروں کو سنا رہا ہے… شیخ
صاحب ایک زمانے میں ’’مجاہد‘‘ تھے… وہ کشمیری مجاہدین کا ایک کیمـپ چلاتے تھے … ان
دنوں ہم بھی ان سے ملاقی ہوئے … شیخ صاحب نے ایک جدید کلاکوف رائفل دکھائی اور
فرمایا کہ میں ہندوؤں کو مارنا چاہتا ہوں … پھر وہ اسلامی جمہوری لیڈر بنے، علماء
کے پاس جاتے تھے، مزاروں پر چادریں چڑھاتے تھے، سر پر ٹوپی اوڑھتے تھے اور نماز
ادا کرتے تھے … پھر اچانک وہ فلموں کے بادشاہ بن گئے اور بالآخر صدر پرویز کے ہاتھ
پر بیعت کرکے وہ روشن خیالی کے گٹر میں جاگرے… تب انہوں نے فرمایا میرا جہاد سے
کیا واسطہ؟ … میں نے تو کبھی ائرگن بھی نہیں چلائی … اور اگر ہم طالبان کے خلاف
امریکہ کا ساتھ نہ دیتے تو وہ ہمارا ’’آملیٹ‘‘ بنا دیتا … اللہاکبرکبیرا… امریکہ
اور اس کے تمام اتحادی مل کر بھی طالبا ن کاآملیٹ نہیں بنا سکے جبکہ … شیخ صاحب
روشن خیالی کی آگ میں جل کر کوئلہ ہوگئے … ان کی ’’ابن الوقتی‘‘ کچھ کام نہ آئی …
عبرت ہے مسلمانو! عبرت! اللہ تعالیٰ برے انجام سے ہم سب کی حفاظت فرمائے… حالات کے
ساتھ گھومنے والے لوگ خود کو عقلمند سمجھتے ہیں مگر ایک دن حالات کی چکی ان کو پیس
کر رکھ دیتی ہے…
یا اللہ ہمیں ہر معاملے میں اچھا انجام نصیب فرما اور ہمیں
دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے بچا … یہی مفہوم ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کی سکھائی ہوئی اس دعاء کا…
اَللّٰہُمَّ اَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِی الاُْمُوْرِ
کُلِّہَا وَ اَجِرْنَا مِنْ خِزْیِ الدُّنْیَا وَعَذَابِ الآْخِرَۃِ
ایک عجیب اتفاق
صدر پرویز مشرف بھی عجیب انسان ہیں، شروع سے لیکر آخر تک جس
کسی نے بھی ان کا ساتھ دیا وہ آخر میں ضرور پچھتایا … وہ فوجی جرنیل جنہوں نے ان
کے لئے نواز شریف کا تختہ الٹا وہ بھی پچھتائے… ان کے وہ دوست جنہوں نے ان کی
خواہش کا احترام کرتے ہوئے مجاہدینِ ِافغانستان وکشمیر کے خلاف کارروائیاں کیں وہ
بھی پچھتاتے پھرتے ہیں … ان کے صحافی یار جنہوں نے ان کو ایک بڑا لیڈر بنا کر پیش
کیا اب شرم کے مارے منہ چھپاتے پھر رہے ہیں … میاں اظہر جیسے لوگ جنہوں نے ان کی
خاطر قاف لیگ سجائی وہ کئی سال تک چھپ کر پچھتاتے رہے … وہ لوگ جنہوں نے ان کے حکم
پر باجوڑ اور لال مسجد کے معصوم بچوں اور بچیوں کو ذبح کیا صبح شام پچھتاتے پھرتے
ہیں … اور آج سے پچھتانے کی باری شروع ہوئی ہے چودھری شجاعت کی، شیخ رشید کی … اور
اعجاز الحق، شیر افگن سے لیکر وصی ظفر تک کی… یا اللہ بری صحبت سے ہم سب کی حفاظت
فرما … حافظ حسین احمد صاحب رات کو فرما رہے تھے کہ ایم ایم اے والے بھی اسی
’’نحوست‘‘ کا شکار ہوئے ہیں… کیونکہ وہ بھی صدر صاحب کے بارے میں نرم رویہ رکھنے
پر بدنام تھے، واللہ اعلم بالصواب…
لال مسجد کا خون کھولا ہے
اعجاز الحق کے ہارنے کی خبر آئی تو بے اختیار غازی
عبدالرشید شہیدؒ، مولانا محمد مقصود احمد شہیدؒ … اور لال مسجد کے شہید بچے اور
بچیاں یاد آگئے… اعجاز الحق نے جس طرح سے اس معاملے میں مجرمانہ کردار ادا کیا یہ
شکست اس کا ادنیٰ سا بدلہ ہے… لال مسجد والے تو مرکر بھی جیت گئے جبکہ اعجاز الحق
زندہ رہ کر بھی ہار گیا … اس نے جس طرح سے مولانا محمد مقصود احمد شہیدؒ پر
الزامات کے تیر برسائے اور ان کے باخدا ورثاء کو ستایا وہ سب کچھ ناقابل فراموش
ہے… وزارت اور کرسی کی ہوس نے اس شخص کو اتنا گرایا کہ اس نے اپنے والد کے نام کو
بھی رسوا کردیا… انتخابات میں ہارجیت کوئی بڑی چیز نہیں ہوتی مگر پھر بھی معلوم
نہیں کیوں اس شخص کے ہارنے پر اہلِ ایمان خوشی محسوس کر رہے ہیں… اور کسی کو خوش
ہونے سے تو کوئی روک نہیں سکتا…
بوریے پر واپسی مبارک
پچھلے انتخابات میں ’’اتفاقاً‘‘ بہت سے علماء کرام منتخب ہو
کر اسمبلیوں میں جا پہنچے تھے… ایسا افغانستان پر امریکہ کے حملے کی وجہ سے ہوا
تھا… پاکستان کے مسلمان طالبان سے جذباتی وابستگی … اور مجاہدین سے بھرپور محبت
رکھتے تھے، ظالم امریکہ نے افغانستان پر حملہ کرکے معصوم بچوں کا قیمہ بنایا اور
امارت اسلامیہ کو ختم کیا تو پاکستان کے مسلمانوں میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑ
گئی… انہی دنوں یہاں انتخابات ہوئے تو مسلمانوں نے ہر داڑھی، پگڑی اور ٹوپی والے
کو امریکہ کی نفرت میں ووٹ ڈالا… اور یوں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اسمبلیوں
کا حلیہ ہی بدل گیا… چونکہ یہ سب کچھ اتفاقا ہوا تھا اس لئے لوگ امید کر رہے تھے
کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا … حضرت مفتی جمیل خان صاحب شہیدؒ کے ساتھ آخری ملاقات میں
بندہ نے عرض کیا تھا کہ حضرت یہ سب کچھ عارضی ہے… اس کو مستقل کامیابی سمجھ کر
جمہوریت کو جہاد اور خلافت سے افضل سمجھنا غلط ہے اور آپ لکھ لیں کہ اگلے انتخابات
میں ایسا نہیں ہوگا… ملاقات کے بعد مجھے اپنی بات اور انداز پر ندامت بھی ہوئی مگر
سب کچھ کھلی آنکھوں سے نظر آرہا تھا … پاکستان میں سب لوگ ووٹ نہیں ڈالتے… جی ہاں
آدھے بھی نہیں ڈالتے… یہاں کی آبادی کا صرف بیس پچیس فیصد حصہ ووٹنگ میں بمشکل حصہ
لیتا ہے… بلکہ اوسط نکالی جائے تو ووٹ ڈالنے والے افراد ملک کی آبادی کا پندرہ
فیصد حصہ بنتے ہیں … یعنی سو افراد میں سے صرف پندرہ افراد ووٹ ڈالتے ہیں … اور ان
پندرہ فیصد افراد کو وڈیروں، جاگیرداروں، خانوں (خوانین)، نوابوں اور لسانیت
پرستوں نے اپنا غلام بنا رکھا ہے… اس لئے ہر بار شکلیں بدل کر یہی لوگ ہی منتخب
ہوتے ہیں اور پھر علاج وغیرہ کے بہانے ملکی خزانے سے برطانیہ کو خراج اور جزیہ دے
آتے ہیں … علماء اور دینداروں کو تو کوئی کوئی ووٹ دیتا ہے… ہاں بعض علماء کرام کی
عقیدت کا حلقہ وسیع ہے اور بعض اوقات حالات کی گرمی باشعور ووٹروں کو جمع کردیتی
ہے… پچھلی بار حالات کی گرمی نے ایم ایم اے کو جتوایا… اب چاہئے یہ تھا کہ یہ
حضرات اسے اپنی زندگی کا آخری اور سنہری موقع سمجھ کر ہر خوف سے بے خوف ہوجاتے اور
ملکی نظام کو صحیح سمت عطاء کرتے … مگر چونکہ یہ جیت اتفاقی تھی اور پہلے سے کوئی
تیاری اور پلاننگ نہیں تھی اس لئے یہ تمام حضرات بھی انگریزی نظام کا حصہ بن گئے…
اور حکمرانوں کے غلط اقدامات کی بدنامی ان کے سر آگئی…
پھر ایک اور المیہ بھی ہوا… جمہوریت کا چسکہ ایک خطرناک چیز
ہے ہمارے اکابر تو جمہوریت کا حصہ اس طور پر بنتے تھے کہ کسی طرح برائی کو کم
کرسکیں… مگر اس بار جو حضرات منتخب ہوئے ان کو حکومتی اہلکاروں نے اپنے گھیرے میں
رکھا اور مسلسل ان کو ’’اعتدال پسند‘‘ بننے کی دعوت دیتے رہے… سوچنے کی بات تو یہ
تھی کہ لوگوں نے ان کو ووٹ ’’شدت پسند‘‘ ہونے کی وجہ سے دیئے تھے مگر یہ اسی دینی
استقامت اور شدت سے دور ہوتے چلے گئے… علماء کا کام مساجد کی آبادی ہے، مگر کسی
وزیر نے مسجد کو اپنا دفتر نہ بنایا… پروٹوکول کی لعنت ایک جرم ہے یہ لوگ بھی اس
کو نباہتے رہے… انگریزی نظام تعلیم ہر برائی کی جڑ ہے مگر یہ اسی نظام تعلیم کی
کتابیں بانٹتے رہے اور لڑکیوں کے کالج کھولتے رہے اور اپنے ان کارناموں پر میڈیا
میں فخر بھی کرتے رہے… چنانچہ اس بار لوگوں نے کہا کہ جناب! یہ سارے کام تو پیپلز
پارٹی اور اے این پی والے بھی کرسکتے ہیں اس لئے آپ واپس اپنے بوریے پر تشریف
لائیے اور ہماری دینی خدمت کیجئے، کیونکہ یہ کام … آپ کے علاوہ اور کوئی نہیں
کرسکتا … الحمدللہ آج سے پھر یہ علماء
کرام اپنے بوریے اور چٹائی پر واپس آجائیں گے… یہ دوبارہ منبر ومحراب کو رونق
بخشیں گے… اب یہ کھل کر مجاہدین اور جہاد کی اہمیت بیان کرسکیں گے … اور اس بات پر
غور کرسکیں گے کہ ملک میں اسلامی نظام کیسے نافذ ہوگا …
انتخابات میں کامیابی کے بعد علماء کرام کے طبقے پر چند
منفی اثرات بھی پڑے تھے … مثلاً دنیاداری اور فیشن کا زہد اور سادگی پر غلبہ ہو
رہا تھا… نمازوں میں باجماعت حاضری میں کوتاہی ہو رہی تھی… ٹی وی اور کیمرے کا
استعمال بہت بڑھ گیا تھا… مصلوں پر بیٹھ کر وزراء سے ’’موبائل ٹاکنگ‘‘ کو فخر
سمجھا جارہا تھا… مخلوط اجلاسوں میں شرکت کی وجہ سے روحانیت اور نورانیت ماند پڑ
رہی تھی… میڈیا کے چبھتے سوالات سے بچنے کے لئے صفائیاں دینے کا رجحان بڑھ گیا
تھا… علماء کرام میں عالم، مفتی، مجاہد اور شہید کی بجائے کونسلر، ناظم، ایم پی
اور وزیر بننے کی دوڑ عروج پر تھی… سیاسی مداریوں کو مطمئن رکھنے کے لئے مداہنت کا
مرض بھی تیزی سے سرایت کر رہا تھا… خلاصہ یہ کہ مولوی کی شان اور کج کلاہی خطرے
میں تھے… مولوی صفہ کے چبوترے سے جتنا دور ہوتا ہے اسی قدر عزت وایمان سے بھی دور
ہوجاتاہے…
اب الحمدللہ عوام
نے تعاون کیا اور علماء کو واپس جنت کے باغ یعنی مسجد میں لا بٹھایا… ساری زندگی
علماء کرام عوام کے ایمان کو بچاتے ہیں، اس بار عوام نے ووٹ نہ دے کرعلماء کرام کے
ایمان کو بچایا ہے… اس پر علماء کرام کو عوام کا شکریہ ادا کرنا چاہئے…
اب اس کے بعد دو راستے ہیں، ایک یہ کہ جمعیت العلمائے ہند
کی طرح ہمارے علماء کرام بھی انتخابات میں حصہ لینے سے توبہ کرلیں … اور دعوت،
عبادت، خدمت اور جہاد کے ذریعہ مسلمانوں کو متحد کریں اور اسلامی نظام کی راہ
ہموار کریں… اور اگر انتخابات میں حصہ لینا ہی ان کو مناسب معلوم ہوتا ہے تو اس کے
لئے ایسے افراد کی کھیپ تیار کریں جو ماحول کو بدلنے کی روحانی اور دینی طاقت
رکھتے ہوں… اور احساس کمتری کے مرض سے محفوظ ہوں… اور ان میں دینی غیرت اتنی پختہ
ہو کہ ان کی موجودگی میں کوئی اسمبلی حدود اللہ کے خلاف کوئی بل منظور نہ کرسکے…
پچھلے الیکشن میں لوگوں نے شدید اصرار کرکے ہمارے محبوب ومخدوم حضرت اقدس مولانا
محمد منظور احمد نعمانی صاحبؒ کو بھی کھڑا کردیا تھا… حضرتؒ نے خاص دلچسپی نہ
دکھائی چنانچہ کامیاب نہ ہوسکے… انتخابات کے بعد ان کی خدمت میں حاضری ہوئی تو بہت
خوش تھے، فرمایا اچھا ہوا ہم ہار گئے، کون اس بڑھاپے اور بیماری میں دینی اسباق
چھوڑ کر اسلام آباد کے فضول چکر لگاتا رہتا… اس واقعہ سے ثابت ہوا کہ علماء کرام
انتخابات ہارنے پر خوش ہوتے ہیں اس لئے ہم اس موقع پر ان کی خدمت میں کوئی تعزیت
پیش نہیں کرتے… دو دن بعد جمعہ کا دن آئے گا … علماء کرام منبروں پر بیٹھے ہوں گے
اور باقی سب چوہدری، وڈیرے، خان ان کے سامنے سرجھکا کر بیان سن رہے ہوں گے…
اے مسلمانو! اصل عزت وہی ہے جسے اللہ پاک عزت قرار دے اور
جس عزت سے اللہ پاک خوش ہو۔
نواز شریف کی ذمہ داری
نواز شریف صاحب کا سابقہ دور حکمرانی کوئی قابل تعریف نہ
تھا… ان کے گرد بھی اسلام آباد کے معروف ڈاکو اور قادیانی جمع تھے… مگر پھر اللہ
پاک ان کو اپنے گھر لے گیا، ان دنوں ان کے اچھے اچھے بیانات وہاں سے آتے رہے… پھر
اللہ پاک نے ان کو جزوی آزادی دی تو انہوں نے لندن میں بیٹھ کر بھی مسلمانوں کے
اسلامی جذبات کی قدر کی… انہوں نے جہاد کشمیر کو اپنا مشن قرار دیا… انہوں نے
افغانستان پر امریکی حملے میں تعاون دینے کو غلط کام قرار دیا… انہوں نے ڈاکٹر
عبدالقدیر خان اور جسٹس افتخار محمد چودھری کی کھل کر حمایت کی… انہوں نے مجاہدین
کو انڈیا کے حوالے کرنے سے دوٹوک الفاظ میں انکار کیا… پھر اللہ تعالیٰ نے ان کا
راستہ کھولا تو وہ واپس پاکستان آگئے… انہیں اپنے ہم وطنوں سے ملنے اور اپنے مرحوم
والد کی قبر پر فاتحہ پڑھنے کا موقع ملا… پھر انہوں نے انتخابات میں حصہ لینے کا
دانشمندانہ فیصلہ کیا اور انتخابی مہم کے دوران لال مسجد کے مظلوم خون کو بھی خوب
یاد کیا… اب مجاہدین کی حمایت، مظلوم ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب کی اشک شوئی اور شہداء
لال مسجد کے خون کی دہائی کی برکت سے ان کو انتخابات میں مثالی کامیابی ملی ہے…
نواز شریف صاحب نے جلاوطنی کا دور بھی جھیلا ہے اور قید تنہائی کا غم بھی کاٹا ہے…
اب ان کے لئے دین، ملک اور قوم کی خدمت کا بہترین موقع ہے…
اقتدار میں آنے کے بعد اقتدار کو طول دینے کی خواہش انسان کو برباد کردیتی ہے…
نواز شریف یاد رکھیں کہ امریکہ اور ساری کفری دنیا کو خوش کرکے بھی ماضی کے حکمران
اپنا اقتدار نہیں بچا سکے… اس لئے وہ اللہ پاک کی رضا کے لئے اپنے وعدوں کو یاد
رکھیں … اور ان ذمہ داریوں کو نبھائیں جن کو نبھانے میں ان کے لئے دنیا آخرت کی
کامیابی ہے… انشاء اللہ…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی امت کے جن
افراد کو غیر معمولی علم وحکمت سے نوازہ… حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی
شہیدؒ بھی انہی افراد میں سے ایک تھے…
ایک بار روزنامہ جنگ کے ایڈیٹر میر جاوید الرحمن حضرتؒ سے
ملنے آئے، اس خصوصی ملاقات میں حضرتؒ نے تحدیث بالنعمۃ کے طور پر فرمایا کہ الحمدللہ مجھے اسلام کے ہر حکم کی حکمت اللہ
تعالیٰ نے سمجھادی ہے… اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ’’الحکیم‘‘ ہے یعنی حکمت والا…
چنانچہ اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم اور کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا … ایک مسلمان بندے
کا کام یہ ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی حکمت سمجھ آئے یا نہ آئے وہ
ہرحکم پر عمل کرے اور اللہ تعالیٰ کی ہرتقدیر پر راضی رہے… مگر اللہ تعالیٰ اپنے
بعض بندوں پر خصوصی انعام فرماتا ہے اور انہیں اپنے احکامات کی بعض حکمتیں سمجھا
دیتا ہے… مسند الہند حضرت شاہ ولی اللہ ؒ پر اللہ تعالیٰ نے علم کا یہ خاص دروازہ
کھولا، چنانچہ وہ اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں اسی موضوع کو بیان فرماتے ہیں …
یہ ہماری خوش نصیبی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمانے کے ایک عالم حضرت لدھیانوی
شہیدؒ کو بھی یہ خصوصی علم عطاء فرمایا، اسی لئے حضرتؒ کو زمانے کے علماء کرام
’’حکیم العصر‘‘ کے لقب سے یاد کرتے ہیں… حضرت لدھیانوی شہیدؒ نے اللہ تعالیٰ کے
فضل و کرم سے دین کے ہر شعبے کو سمجھا اور پھر اس کی خدمت بھی کی… انہوں نے اپنی
علمی زندگی کا آغاز تدریس یعنی علوم نبوت پڑھانے سے کیا… اور پھر زندگی کے آخری دن
بھی حدیث شریف کی معروف کتاب ’’ابوداؤد‘‘ پڑھانے کے لئے ہی گھر سے نکلے… انہوں نے
ختم نبوت کے تحفظ کا کام اوائل جوانی سے شروع کیا اور پھر زندگی کے آخری دم تک وہ
عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معرکہ لڑتے رہے… انہوںنے قادیانیت کو علمی طور
پر موت کے گھاٹ اتارا، الحمدللہ ساری دنیا
کے ناپاک قادیانی مل کر بھی ان کے دلائل کا جواب نہ دے سکے… وہ حضرت شاہ
عبدالعزیزؒ کی کتاب ’’تحفۂ اثنا عشریہ‘‘ کے مدّاح تھے، ان کو یہ کتاب بھی پسند
تھی اور اس کا نام اور موضوع بھی… ایک بار کراچی سے لاہور اور پھر رائے ونڈ ان کے
ساتھ سفر کی سعادت ملی تو وہ اس کتاب کا تذکرہ فرماتے رہے… اور پھر انہوں نے اسی
طرز کو اپناتے ہوئے ’’تحفۂ قادیانیت‘‘ لکھ ڈالی… ایک انتہائی مدلّل اور صف شکن
کتاب … اللہ تعالیٰ حضرتؒ کو جزائے خیرعطا فرمائے انہوں نے اس کتاب پر بہت محنت
فرمائی… ویسے بھی اللہ تعالیٰ نے ان کو محنتی طبیعت عطاء فرمائی تھی مگر اس کتاب
پر تو انہوں نے اپنی جان توڑ دی … ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کا یہی
تقاضا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کا مکمل ناطقہ بند کردیا جائے… اب
حضرتؒ آرام سے سوتے ہیں اپنے پرنور کچے مزار میں اور ان کے دو رفیق اور خادم بھی
ان کے ساتھ ہیں… کس کی مجال ہے کہ جاکر آرام میں خلل ڈال سکے… بے شک دین کے لئے
محنت کرنے والوں کو بہت آرام ملتا ہے، بہت آرام…
حضرتؒ نے دین کے شعبہ احسان وسلوک کو بھی سمجھا اور اسے بھی
اپنالیا… انہوںنے حضرت اقدس علامہ خیر محمد جالندھریؒ سے بیعت کی، پھر ان کے بعد
بھی اپنے نفس کی اصلاح کے لئے فکر مند رہے… حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ کے
حلقۂ ادارت میں شامل ہوئے، یہاں انہوں نے سلوک کی منزلیں طے کیں تو خلافت کے
مستحق ہوئے… پھر انہوں نے اس روحانی سلسلے کی بھی خوب خدمت کی… اور اپنے شیخ ومرشد
کے حالات زندگی پر ایک پوری کتاب تحریر فرمائی… حضرت شیخ ؒ چلے گئے تو
حضرت لدھیانویؒ نے گدّی نشینی کا اعلان کرنے کی بجائے ایک اور شیخ ڈھونڈ لیا… اور
جس زمانے ان کے قلم کا فیض عرب ویورپ تک پہنچ رہا تھا، اس زمانے میں بھی وہ ایک
مرید بن کر حضرت ڈاکٹر عبدالحئی عارفی ؒ کی خانقاہ میں بیان سن رہے
ہوتے تھے… حضرت عارفی ؒ شاعری کا ذوق رکھنے والے ایک لطیف مزاج بزرگ
تھے… حضرت لدھیانویؒ جو کہ اشارہ شناس ادیب تھے حضرت عارفی ؒ کے گرویدہ
ہوگئے … ان سے باقاعدہ بیعت ہوئے اور خلافت بھی پائی… شیخوپورہ کے ایک سفر میں ان
کے ساتھ جانے کی سعادت ملی تو حضرت عارفی ؒ کے تذکرے میں کھوئے رہتے
تھے… ان کے واقعات سناتے تھے، ان کے اشعار دہراتے تھے اور ان کے ساتھ اپنی دو طرفہ
محبت کا تذکرہ کرتے تھے…
احسان و سلوک کے شعبے میں کمال حاصل کرکے پھر اس سوغات کو
دن رات لوگوں میں بانٹتے رہے، اور ماشاء اللہ اس شعبے میں بھی اپنے عروج تک پہنچے…
یہاں تک کہ حضرت امام شامزئی ؒ جیسے اکابر نے بھی ان کے ہاتھ پر بیعت
کی اور ان کے مرید اور خلیفہ ہوئے… آخری زمانے میں تو لوگوں کا ان کی طرف بہت رجوع
تھا اور رمضان المبارک میں ان کا اعتکاف کافی پرہجوم ہوتا تھا… حضرت لدھیانویؒ کا
خاص شعبہ تحریر وتصنیف کا تھا وہ قلم کے شہسوار تھے … انہوں نے جوانی کے آغاز سے
قلم تھاما اور پھر آخری دم تک قلم سے دین کا نور پھیلاتے رہے… اس شعبے میں انہوں
نے ایسا کمال حاصل کیا کہ امت کے بڑے مصنّفین میں ان کا شمار کیا جاتا ہے… تمام
مسلمانوں سے میری درخواست ہے کہ وہ حضرت لدھیانوی شہیدؒ اور حضرت مولانا ابوالحسن
علی ندویؒ کے قلم سے علم وحکمت کی روشنی حاصل کریں… ان دو حضرات کا ہمارے زمانے کے
مسلمانوں پر بڑا احسان ہے … اللہ تعالیٰ ان کو اپنی شایان شان بدلہ عطاء فرمائے…
ہفت روزہ القلم کے اس خصوصی شمارے میں ارادہ تھا کہ حضرت لدھیانویؒ کی کتابوں کا
تعارف اپنے مضمون میں عرض کروں گا،… مگر اس وقت تمام کتابیں ساتھ نہیں ہیں… اس لئے
آج کی مجلس میں حضرتؒ کے بعض احسانات کا تذکرہ کرتا ہوں… اللہ تعالیٰ سے امید ہے
کہ قارئین کرام تک بھی ان احسانات کا اثر پہنچے گا اور جو عمل کرے گا اس کا اجر
حضرتؒ تک بھی انشاء اللہ پہنچے گا…
ایک دعاء کی رہنمائی
حضرتؒ کے ساتھ ایک بار ازبکستان کا سفر ہوا… یہ سفر ختم
نبوت کی تحریک کا حصہ تھا… اس سفر میں بخارا، سمرقند اور تاشقند کے تاریخی مقامات
کا دورہ بھی ہوا… سمرقند کی ایک تاریخی مسجد ’’جامع طلاء‘‘ کے دورے کے دوران جب
تمام رفقاء سفر مسجد وغیرہ دیکھنے میں منہمک تھے، حضرتؒ اچانک ان سے الگ ہوکر ایک
چبوترے پر آکر لیٹ گئے… بظاہر لگتا تھا کہ تھک گئے ہیں مگر شاید طبیعت پر بوجھ
آگیا تھا کہ ماضی کے مسلمانوں نے کیا کیا بنایا اور پھر غفلت زدہ لوگوں نے سب کچھ
کافروں کے ہاتھوں تباہ کروادیا… بندہ نے حضرت کو لیٹے دیکھا تو ان کے پاس آکر ان
کے پاؤں دبانے لگا… حضرتؒ آنکھیں بند کرکے مسلسل یہ دعاء پڑھ رہے تھے:
اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ خَیْرَ عُمْرِیْ آخِرَہٗ وَخَیْرَ
عَمَلِیْ خَوَاتِیْمَہٗ وَخَیْرَ اَیَّامِیْ یَوْمَ اَلْقَاکَ فِیْہِ
ترجمہ : اے میرے پروردگار میری
بہترین عمر میری آخری عمر کو بنادیجئے اور میرے بہترین اعمال میرے آخری اعمال کو
بنادیجئے اور میری زندگی کا سب سے بہترین دن وہ بنادیجئے جس دن میں آپ سے ملوں…
یعنی موت کا دن…
یہ ’’حسن خاتمہ‘‘ کی بہترین اور مسنون دعاء ہے… میں خود اس
وقت مدرسہ میں استاذ تھا مگر میری توجہ اس اہم اور ضروری دعاء کی طرف نہیں تھی…
اللہ تعالیٰ حضرتؒ کو جزائے خیر عطاء فرمائے کہ انہوں نے اس مبارک دعاء کی طرف
توجہ کرادی… آج جس طرح سے ہر طرف گمراہی پھیل رہی ہے… ہر نیک شخص یہی بتاتا ہے کہ
پہلے میں یہ اچھا عمل کرتا تھا مگر اب سستی ہوتی ہے… کئی لوگ جو بڑے بڑے مجاہد تھے
آج کابل میں امریکہ کے ملازم بنے بیٹھے ہیں… ان حالات میں اچھے انجام کی فکر رکھنا
اور اس کی دعاء کرنا کس قدر ضروری ہے، اس کا اندازہ ہر شخص خو دلگاسکتا ہے…
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی مَحبَّت
ہمارے طالبعلمی کے زمانے کراچی میں ایک خوفناک فتنہ دینی
مدارس میں سرایت کر رہا تھا… امیرالمؤمنین، محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت
علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ پر (نعوذباللہ، نعوذباللہ) کھلم کھلا تنقید کرنے والا
زبان دراز خطیب ’’شاہ بلیغ الدین‘‘ ہمارے بعض علماء کے ساتھ اسٹیجوں پر تقریریں کر
رہا تھا… کئی عجیب وغریب مؤرّخ کراچی سے لیکر ملتان تک پیدا ہوگئے تھے… ان سب کا
ظاہری نعرہ ’’شیعوں کا ردّ‘‘ تھا مگر یہ سب لوگ مسلمانوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ
سے کاٹ رہے تھے… اللہ اکبر کبیرا کیسی حماقت، اور جہالت والا فتنہ ہے… حضرت علی
رضی اللہ عنہ کا مقام تو فرشتوں سے بالاتر ہے… انہوںنے اپنی مکلف زندگی کا ایک منٹ
بھی کفر و شرک میں نہیں گزارا … پاک سراسر پاک، خوشبو کا مجموعہ اور علم وشجاعت کے
سمندر… حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ساتھ نبھایا کہ حق ادا کردیا… ہجرت
کی رات ایک سو تلواروں کے درمیان بے خوف آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر لیٹے
رہے… آج پولیس سامنے آجائے تو بڑے بڑے مجاہدین کے رفقاء اپنے امیر کی حفاظت بھول
کر اپنی فکر میں پڑ جاتے ہیں… ہجرت کی رات تو ٹکڑے ٹکڑے ہوجانے کا یقین تھا، عرب
کے اکثر قبائل اپنے بہادروں کو لے آئے تھے… بظاہر یہی امکان تھا کہ جب حضور پاک
صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پائیں گے تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ پر اپنی ساری
بھڑاس نکالیں گے… مگر علی رضی اللہ عنہ کے تو ایک ایک بال پر ایمان اور بہادری کا
نور تھا، پوری رات اس بستر پر گزاری اور پھر ساری امانتیں لوگوں کے سپرد کرکے جلد
ہی آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں جا پہنچے… تبوک کے موقع پر انہوں نے مدینہ
منورہ کے محاذ کو سنبھالا… اور پھر دامادی کا شرف اللہ اکبرکبیرا… چچا زاد بھائی …
سب سے پہلے مسلمان ہونے والے بچے … اور آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب اور
جانباز سپاہی، جن پر اللہ تعالیٰ نے علم و قضاء کے دروازے کھول دیئے تھے… حضرت
حکیم الامت تھانویؒ نشر الطیب میں لکھتے ہیں:
محبوب کے متعلقین سے محبوب کی وجہ سے محبت ہوتی ہے، خصوصاً
جب وہ متعلقین محبوب کے پسندیدہ بھی ہوں اور جب محبوب خود ان سے محبت کرنے کا حکم
بھی کرے تو ان سے محبت کرنا شرعاً محبو ب ہے۔ (ص۳۳۱)
آگے چل کر لکھتے ہیں کہ جن لوگوں کو حضور اکرم صلی اللہ
علیہ وسلم کے اہل بیت اور حضرات صحابہ کرام سے محبت اور تعلق نہیں ان کا حضور اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعویٰ بھی غلط ہے… کراچی میں یہ فتنہ ایک ’’علمی
فیشن‘‘ کے طور پر آیا تو اس نے کافی لوگوں کے ایمان کو نقصان پہنچایا… ہمارے ہاں
چونکہ طلبہ تاریخ کو زیادہ نہیں پڑھتے جبکہ اس فتنے کے خوگر تاریخ دانی کے زور پر
امام زہری اور بخاری شریف کے کئی راویوں کو اپنے گمان میں شیعہ قرار دیتے تھے تو
ان کی ایک طرح سے تاریخی دھاک بیٹھ جاتی تھی… چنانچہ اسی کا اثر ہوا کہ ہمارے
جلسوں اور اسٹیجوں پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مبارک موضوع غائب ہوگیا… شانِ
صدیقیؓ، شان فاروقیؓ، شان عثمانیؓ… اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے مبارک
موضوعات پر تو جلسے بھی ہوتے تھے اور تقریریں بھی مگرشان علویؓ کا کہیں تذکرہ نہیں
تھا… حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان اور مقام مسلّم ہے اس میں ذرہ برابر
شبہ کرنا گمراہی ہے مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مقام تو ان سے بھی بلند اور برتر
ہے… پھر کیا وجہ ہے کہ ہم نے اپنے محبوب، اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا موضوع شیعوں کے سپرد کردیا ہے… جلسوں میں حضرت امیر
معاویہ رضی اللہ عنہ کا اسم گرامی آتا ہے تو نعروں پر نعرے بلند ہوتے ہیں… اللہ
کرے تاقیامت بلند ہوتے رہیں… مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نام پر کیوں ہلچل نہیں
ہوتی… کیا فاتح خیبر رضی اللہ عنہ کی شان نعوذباللہ کچھ کم ہے؟… حضرت علی رضی اللہ
عنہ اگر دنیا سے خوارج کے فتنے کو ختم نہ کرتے تو آج اسلام پوری دنیا میں نظر نہ
آتا… انہوںنے ہر طرح کی قربانی دے کر اس خبیث فتنے کو ختم فرمایا… الغرض حضرت علی
رضی اللہ عنہ کی شان بہت بلند اور آپ کی شخصیت بے حد محبو ب ہے، بے حد محبوب…
اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطاء فرمائے حضرت لدھیانوی شہیدؒ کو
جنہوں نے اس موضوع پر بہت کام کیا اور ہم طالب علموں کو ایک بڑے فتنے … بلکہ ایک
بڑی محرومی سے بچا لیا… حضرتؒ کے ساتھ ایک بار سفر کی سعادت نصیب ہوئی، میرے شیخ
ومرشد حضرت مفتی ولی حسن صاحبؒ بھی ساتھ تھے… حضرت لدھیانویؒ نے خصوصی مجلس میں
فرمایا کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعاء کی کہ یا اللہ میرا جو سب سے بڑا گناہ ہو وہ
مجھے پتہ چل جائے تاکہ میں اس سے توبہ کرلوں اور باز رہوں… تو دل میں آیا کہ حضرت
علی رضی اللہ عنہ سے محبت میں کمی ہے اور یہی آپ کا بڑا گناہ ہے… فرمایا بس اس کے
بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت میں اضافہ ہوتا چلا گیا… اور جب میں نے غور کیا
تو معلوم ہوا کہ بعض تاریخی کتابوں کے مطالعے سے واقعی یہ کیفیت پیدا ہوگئی تھی
کہ… حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مکمل اور اونچا مقام دل ودماغ میں راسخ نہیں تھا…
حضرتؒ کی اس بات نے سوچ کا ایک دروازہ کھول دیا… اور جب
افغانستان کے جہاد میں تھوڑی سی شرکت کی توفیق ملی تو ایک دن دشمنوں کے مدّمقابل
سخت فائرنگ اور گولہ باری کے دوران … اللہ تعالیٰ نے دل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ
کی محبت پوری طرح سے پیدا فرمادی … و الحمدللہ ربّ العالمین…
بھاڑ میں جائے تاریخ اور تندور میں جلیں تاریخی حوالے …
ہمارے لئے اصل چیز قرآن وسنت ہے… اور الحمدللہ قرآن وسنت سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا
پورا پورا مقام معلوم ہوتا ہے… تاریخ صرف واقعات دیکھتی ہے ان کو سمجھتی نہیں… اس
لئے تاریخ کو قرآن وسنت کی روشنی میں دیکھنا اور پرکھنا ضروری ہوتا ہے… آج جہاد کی
دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اکثر خفیہ ہے… تاریخ کی آنکھیں خفیہ چیزوں کو تو
نہیں دیکھ سکتیں… کل جو مورّخ آج کی تاریخ لکھے گا اسے بھی یہ خفیہ باتیں نظر نہیں
آئیں گی، پس وہ نظر آنے والی چیزوں کو لکھ جائے گا اور باقی نوے فیصد حقیقی حالات
اندھیرے میں رہیں گے… آج جب یہ حال ہے تو ماضی میں بھی ایسا ہی تھا… جہاد، عزیمت اور
اخلاص کے کام بہت خفیہ چلتے ہیں… اور حالات کی چکّی میں بہت کچھ بدل جاتا ہے… اللہ
تعالیٰ حضرت لدھیانوی شہیدؒ کو جزائے خیر عطاء فرمائے… انہوں نے مسلمانوں کی اس
اہم مسئلے کی طرف توجہ کرائی… عارف باللہ حضرت قاری محمد عرفان صاحب نور اللہ
مرقدہ نے بھی ایک بار اس بات پر بہت خوشی کا اظہار فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ
عنہ کی محبت کے بارے میں مسلمانوں کے شعور کو بیدار کیا جارہا ہے… یہ موضوع بہت
تفصیل طلب ہے بس اس کا اختتام اس بات پر کرتا ہوں کہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ سے
محبت رکھیں یا نہ رکھیں، کم رکھیں یا زیادہ رکھیں، ان کے مقام کو تسلیم کریں یا نہ
کریں، حضرت علی رضی اللہ عنہ پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا… وہ بہت ہی اونچی
سعادتیں سمیٹ کر جاچکے ہیں… ہاں خود ہم پر ضرور فرق پڑے گا… اللہ پاک ہم سب کو
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، آپ کے اہل بیت اور آپ کے صحابہ کرام سے ویسی محبت
عطاء فرمائے جیسی محبت اللہ تعالیٰ کو پسند ہے… آمین یا رب العالمین… حضرت
لدھیانوی شہیدؒ کے اور بھی کئی احسانات کا تذکرہ آج کرنا تھا، مگر بات انہی دو
احسانات پر ہی لمبی ہوگئی اور مضمون کی جگہ بھی مکمل ہوگئی ہے… حضرتؒ کا ایک بڑا
احسان یہ بھی تھا کہ وہ مجاہدین کو مسلسل ’’علمِ دین‘‘ کی طرف متوجہ کرتے رہے… ان
کا یہ احسان بھی ناقابل فراموش ہے کہ بندہ کی انڈیا سے رہائی کے بعد انہوں نے
مجاہدین کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا… پھر ان کا سب سے بڑا احسان کہ انہوں نے
’’جماعت‘‘ کی تنظیم تشکیل، ترتیب اور ترقی میں بے حد تعاون فرمایا… کراچی کی بطحاء
مسجد کی جگہ بھی حضرتؒ کے توسّط سے ملی، علماء کرام کا ایک فقید المثال اجتماع
حضرتؒ نے خود خط لکھ کر اپنی مسجد میں منعقد کرایا… اور پھر ’’بیعت علی الجہاد‘‘
کے ذریعہ اپنی شفقت اور سرپرستی کو عروج کے آخری نقطے تک پہنچایا… اور پھر ہمارے
زمانے کے یہ غیر معمولی عالم دین، حکیم العصر حضرت لدھیانویؒ ’’بیعت علی الجہاد‘‘
کی رسّی تھام کر شہادت کے بلند ترین مقام پر چڑھ گئے … سلام ہو ان پر اللہ تعالیٰ
کا… اور بے شمار رحمتیں اور برکتیں … اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو قیامت تک بلندی
عطاء فرماتا رہے… اور ہمیں ان کے ساتھ وابستہ نسبت کی لاج رکھنے کی توفیق عطاء
فرمائے … آمین یا ارحم الراحمین
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ان کو غارت فرمائے ، یورپ کے شیطانوں نے پھر
’’ظلم عظیم‘‘ کا ارتکاب کیا ہے… غلیظ نسل کے یہ گندے کیڑے دنیا کو ایک ایسی جنگ کی
طرف لے جارہے ہیں جس کا کوئی اختتام نہیں ہوگا… یہ سورج کو بجھانے کی کوشش کر رہے
ہیں مگر نہیں بجھا سکیں گے، نہیں بجھا سکیں گے، ربّ کعبہ کی قسم نہیں بجھا سکیں گے
ہاں یہ لوگ خود خاک ہوجائیں گے ع
خاک ہوجاتے ہیں سورج کو بجھانے والے
قرآن پاک نے اعلان کیا ہے کہ… ہمارے محبوب، ان پر ہم اور
ہمارے ماں باپ اور اولاد فدا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اس کائنات کے
’’حقیقی سورج‘‘ ہیں…
یَا اَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّا اَرْسَلْنٰـکَ شَاہِدًا
وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًاo وَدَاعِیًا
إِلَی اللہ بِإِذْنِہٖ وَسِرَاجًا مُّنِیْرًا (الاحزاب ۴۵،۴۶)
ترجمہ: اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم نے آپ کو
بلاشبہ گواہی دینے والا اور خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے،
اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی طرف دعوت دینے والا اور روشن چراغ بنایا ہے۔
حضرت شیخ الاسلامؒ لکھتے ہیں:
پہلے جو فرمایا تھا (پچھلی آیات میں) کہ اللہ تعالیٰ کی
رحمت مومنین کو اندھیرے سے نکال کر اجالے میں لاتی ہے۔ یہاں (اس آیت میں) بتلادیا
کہ وہ اجالا اس روشن چراغ (یعنی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم) سے پھیلا ہے۔
شاید چراغ کا لفظ اس جگہ اس معنیٰ میں ہو جو سورۂ نوح میں
فرمایا: وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِیْہِنَّ نُوْرًا وَّجَعَلَ الشَّمْسَ
سِرَاجًا (اللہ تعالیٰ نے چاند کو نور اور سورج کو چراغ بنایا) یعنی آپ صلی اللہ
علیہ وسلم آفتابِ نبوت وہدایت ہیں جس کے طلوع ہونے کے بعد کسی دوسری روشنی کی
ضرورت نہیں رہی، سب روشنیاں اسی نورِاعظم میں محوو ومدغم ہوگئیں۔ (تفسیر عثمانی)
الحمدللہ، الحمدللہ… سوا چودہ سو سال گزرنے کے باوجود نبوت
اور ہدایت کا یہ سورج پوری شان سے چمک رہا ہے … منگولیا کے پہاڑوں سے لیکر افریقہ
کے جنگلات تک لاَ اِلٰہَ اِلَّا اللہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ کا کلمہ گونج رہا
ہے… سائبیریا کی برف بھی اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہ کا نعرہ سنتی
ہے… اور سینا کے صحراؤں میں بھی اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ، اَللّٰہُمَّ
صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ کا نغمہ بلند ہو رہا ہے… تم سمجھتے ہو کہ چند خاکے بنا کر
اس سورج کو بجھا دو گے نہیں رب کعبہ کی قسم نہیں… تم تو افغانستان پر لاکھوں ٹن بارود
پھینک کر بھی ’’نورمحمدی‘‘ کو نہیں بجھا سکے تم تو عراق میں سات لاکھ افراد کو قتل
کرکے بھی اس چمکتے نور کا کچھ نہیں بگاڑ سکے… یہ نور چمکتا رہے گا، اللّٰہم صلّ
علٰی سیّدنا محمّد … یہ نور پورے عالم پر غالب ہو کر رہے گا، اللّٰہم صلّ علٰی
سیّدنا محمّد …
ہم جاپانی نہیں محمدی ہیں
تم سمجھتے ہو کہ تمہاری اس طرح کی حرکتوں سے ہم اپنے محبوب
آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے کٹ جائیں گے… تم نے ہمیں جاپانی سمجھ لیا ہے کہ دو ایٹم
بم کھا کر اپنی عزت کا سودا کرلیں گے… یاد رکھنا ہم جاپانی نہیں محمدی ہیں… حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے اور پکے غلام … ہم اگر کٹ جائیں تب بھی ہمارے جسم
کے ٹکڑے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے وفادار رہتے ہیں… ہم اگر جل جائیں تو
ہماری خاک کے ذرے بھی آقا صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتے رہتے ہیں… تم نے
جاپانیوں پر دو ایٹم بم مارے تو انہوں نے اپنا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں دے دیا… مگر
ہم محمدی ہیں ہم پر لاکھ ایٹم بم مارو گے تب بھی ہمارا ہاتھ تمہاری گردنوں کی طرف
بڑھے گا… ہم تو اپنے محبوب آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مسکراہٹ کے بدلے اپنے
جسموں کو ریزہ ریزہ کرانا سعادت سمجھتے ہیں… کیونکہ ہمارا یقین ہے کہ محبوب آقا
صلی اللہ علیہ وسلم کی مسکراہٹ اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی علامت ہے…
ابوجہل کے چیلو!… خاکے اور کارٹون کیوں بناتے ہو، آؤ مردوں
کی طرح میدان میں اترو… اور پھر دیکھو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام
کیسے ہوتے ہیں…
تم نے اپنی ہلاکت کو پکارا ہے
اللہ تعالیٰ نے ہمارے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم
کو اس کائنات کا مقصود بنایا ہے… جس ظالم نے بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی
ذات مبارک پر حملہ کیا وہ تباہ وبرباد ہوگیا… کسریٰ کی عظیم سلطنت اس لئے پارہ
پارہ ہوگئی کہ انہوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خط مبارک کو پھاڑا تھا…
ایسا لگتا ہے کہ یورپ کی تباہی کا فیصلہ ’’اوپر‘‘ ہوچکا ہے… ہاں تمہارے عقیدے اور
عمل سب بگڑ چکے تھے مگر ربّ تعالیٰ برداشت فرمارہا تھا… مگر اب تمہارا وقت آگیا
ہے… تم نے دنیا کو ’’حرام کاری‘‘ اور نشے سے بھر دیا… تم نے اسلحہ بیچ بیچ کر
انسانیت کو نیم مردہ کردیا… تم نے ترقی کے نام پر انسانوں کا استحصال کیا… تم نے
اپنی عیاشی کی خاطر زمین اور فضا کو زہریلی آلودگی سے بھر دیا … پھر بھی تم بچے
رہے، تم پر عمومی عذاب اس دنیا میں نہیں آیا… مگر اب تمہارا وقت آگیا ہے… تم نے
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرکے اللہ تعالیٰ کے عظیم غضب کو
آواز دی ہے… اب تم برباد کردیئے جاؤ گے… تمہاری بربادی کیسے ہوگی؟… یہ ہم نہیں
جانتے… مگر یہ تمنا ضرور ہے کہ اللہ پاک تمہاری بربادی کیلئے جس آگ کو استعمال
فرمائے ہم اس کا ایک انگارہ ہوں… عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آگ سے دہکتا ہوا
یہ انگارہ تم پر موت بن کر گرے… پھر یہ انگارہ ٹھنڈی راکھ بن جائے… اللہ تعالیٰ اس
راکھ کو حشر کے میدان میں لے جائے… اور جب آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ
منورہ میں اپنے روضۂ اقدس سے حشر کے میدان کی طرف روانہ ہوں تو ان کے قدم مبارک
اس راکھ پر پڑیں…
اللّٰہم صلّ علٰی سیّدنا محمّد، اللّٰہم صلّ
علٰی سیّدنا محمّد
مسلمانو! امریکہ یورپ چھوڑدو
مقصود کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں
گستاخی کرنے… اور پھر بار بار کرنے … اور پھر اڑیل گدھوں کی طرح اس پر ڈٹے رہنے کے
بعد یورپ کا باقی رہنا بہت مشکل ہے… یہ لوگ تباہ وبرباد کردیئے جائیں گے… مسلمانوں
کو چاہئے کہ وہ امریکہ اور یورپ میں نہ رہیں… خصوصاً باہر سے جاکر وہاں آباد نہ
ہوں… اور وہاں کے مقامی مسلمان اپنے محلے اور کالونیاں بناکر کافروں سے الگ رہیں…
آسمانوں سے غیظ وغضب کی بارش جب اترتی ہے تو ’’عمومی عذاب‘‘ کا منظر قائم ہوجاتا
ہے… دنیا کمانے کی خاطر ان کافروں کی نوکری اور غلامی مسلمانوں کو زیب نہیں دیتی…
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والے کبھی بھی حضرت محمد صلی
اللہ علیہ وسلم کے گستاخوں کے ساتھ خوشی سے نہیں رہ سکتے… اے مسلمانو!… حوضِ کوثر
کا دربار سجنے والا ہے… قبر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سوال
ہوگا… ہماری دنیا پرستی نے ان کافروں کو اتنا دلیر کردیا ہے کہ انہوں نے آقا صلی
اللہ علیہ وسلم کی شان پر انگلی اٹھائی ہے… مسلمانو! … اپنے دین کو بچاؤ، اپنے
ایمان کو بچاؤ، اپنی قبر کو بچاؤ، اپنی غیرت کو بچاؤ… دنیا کے ڈالر، پونڈ، یورو
کچھ نہیں… رزّاق صرف اللہ تعالیٰ ہے صرف اللہ تعالیٰ…
یہ خاکے دل کا دھواں ہیں
اس زمانے کے یہود ونصاریٰ نے کتنی طاقت بنالی ہے؟… اس زمانے
کے کیمونسٹوں کے پاس کتنی طاقت ہے؟… اللہ اکبر کبیرا… ان ظالموں کی طاقت ظاہری طور
پر واقعی بہت زیادہ ہے… امریکہ کے پاس اتنے ایٹم بم، ہائیڈروجن بم ہیں کہ سات بار
اس زمین کو تباہ کرسکتا ہے… روس کے پاس تیس ہزار چھوٹے بڑے ایٹم بم ہیں جو تمام
ملکوں کو منٹوں میں ختم کرسکتے ہیں… خلائی نظام کے ذریعے یہ ممالک زمین پر چلتی
چیونٹیوں کو دیکھ سکتے ہیں… اور زمین کے اندر چلنے والے پانی کا رنگ معلوم کرسکتے
ہیں… کمپیوٹر کے نظام کو اسلحے سے جوڑ کر یہ امریکہ میں بیٹھ کر پاکستان کے کسی
بھی شہر، گھر یا مورچے کو تباہ کرسکتے ہیں… ان کے پاس دیواروں اور بینکروں کے
پیچھے دیکھنے والے آلات اور پرندوں کی طرح بے تکلف اڑنے والے جنگی طیارے ہیں… ان
کے پاس گیس اور لیزر کے ذریعے خفیہ مارکرنے کا وسیع نظام موجود ہے… الغرض ان
ظالموں کے پاس کافی طاقت موجود ہے… آپ نے مزید معلومات لینی ہوں تو کسی مغرب زدہ
دانشور سے لے لیجئے، وہ آپ کو ڈرا ڈرا کر اَدھ موا کردے گا… مجھ جیسے فقیر نے تو
کبھی ان کی طاقت اور ٹیکنالوجی پر غور ہی نہیں کیا… اب آپ تھوڑا سا غور کیجئے…
اتنی طاقت کے باوجود امریکی فوجیوں کے تابوت روزانہ عراق اور افغانستان سے امریکہ
بھیجے جارہے ہیں… سات سال ہوگئے امریکہ اور اس کے اتحادی طالبان کو ختم نہیں
کرسکے… میں خود جانتا ہوں کہ طالبان کے بڑے بڑے کمانڈروں کو ٹیکنالوجی کی ہوا تک
نہیں لگی… وہ تو موبائل فون کے بھی دو، تین بٹن جانتے ہیں اور بس… پانچ سال ہوگئے
امریکہ کی سوا لاکھ فوج، ہزاروں ٹینک اور بے شمار طیارے عراق فتح نہیں کرسکے… وہاں
آج بھی ہرگلی میں مجاہد بیٹھے ہیں… آخر یہ سب کیا ہے؟ … آپ یقین کیجئے آج جتنی
مادّی طاقت امریکہ، روس اور یورپ کے پاس ہے اس کا ہزارواں حصہ بھی حضرت عمر رضی
اللہ عنہ کے پاس نہیں تھا… مگر انہوں نے آدھی دنیا کو فتح فرمالیا تھا… اللہ اکبر
کبیرا… آپ ایک میز پر امریکہ کی جنگی طاقت کا نقشہ بنائیے اور پھر سوچئے کہ امریکہ
عراق اور افغانستان میں کیسے پھنسا ہوا ہے… آپ ایک میز پر سوویت یونین کی طاقت کا
نقشہ رکھیئے اور پھر سوچئے کہ سوویت یونین کا سامانِ جنگ خوست اور پشاور کے
بازاروں میں مال غنیمت بن کر کس طرح فروخت ہو تا رہا… آپ اپنے سامنے انڈیا کی جنگی
اور فوجی طاقت کا نقشہ رکھیئے اور پھر اسے کشمیر میں اٹھارہ سال تک پھنسے ہوئے
دیکھئے… آپ اسرائیل کی جنگی قوت کا ڈیٹا معلوم کریں اور پھر کل ہی اس کی فوجوں کو
غزّہ سے پسپا ہوتا دیکھیں… ہاں شاید آپ نے کبھی ان تمام باتوں پر غور کرنے کی زحمت
نہ کی ہو مگر یہود ونصاریٰ کے قائدین، مفکرین دن رات اس پر غور کرتے ہیں… اور
انہیں ہر جگہ اپنی ذلت اور شکست کے پیچھے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا کلمہ
نظر آتاہے… جی ہاں وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میدانوں میں لڑتا ہوا
دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں… وہ سمجھ گئے ہیں کہ عام انسان تو اتنی طاقت اور بمباری
کا مقابلہ نہیں کرسکتے… یقینا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ، آپ صلی اللہ
علیہ وسلم کا دین، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی
قوت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طاقت ان کے خلاف میدانوں میں لڑ رہی ہے… اور آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کی طاقت اور قوت کے پیچھے اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک لہ کی قوت
اور طاقت ہے… اور کافر خود کو اس طاقت کے سامنے بے بس محسوس کر رہے ہیں… انہوں نے
ہر طرح کا اسلحہ استعمال کرلیا، انہوں نے طرح طرح کی معاشی ناکہ بندی کرلی… انہوں
نے اسلامی ملکوں کے حکمران خرید لیئے… انہوں نے اسلامی ملکوں کی پوری پوری فوجیں
خرید کر ان کو استعمال کرلیا … مگر شکست جمع شکست جمع شکست ان کامقدر ہے… تب انہیں
غصہ آتا ہے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم ذات پر… اور وہ اپنے درد اور غم
میں گھٹ گھٹ کر روتے اور مرتے ہیں اور بے بسی کے ساتھ اپنے ہاتھ چباتے ہیں اور
کھسیانی بلی کی طرح خاکے اور کارٹون بناکر اپنے دل کی بھڑاس اور دھواں نکالتے ہیں…
مبارک ہو اسلام کے فدائیو! … مبارک ہو اسلام کے مجاہدو! … مبارک ہو جہاد کے
علمبردارو!… تم نے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کا حق ادا کردیا… تم نے
ہر میدان میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا گاڑ دیا… بے شک اللہ
تعالیٰ نے جب ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’سراجاً منیراً‘‘ بنایا ہے تو اس
سورج نے تو قیامت تک چمکنا ہے… جہاد بھی اسی سورج کی روشنی ہے… اور مجاہد کا جذبہ
بھی اسی سورج کا نور ہے… مبارک ہو ان مجاہدین کو جن کے سینوں میں نورِ محمدی اور
روحِ محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی روشنی چمک رہی ہے، دمک رہی ہے…
اللّٰہم صلّ علٰی سیّدنا محمّد، اللّٰہم صلّ علٰی سیّدنا
محمّد
جنگ کی تیاری
اہل یورپ نے گستاخانہ خاکے چھاپ کر جنگ کا بگل بجادیا ہے…
دشمن جب سامنے آجائے تو جہاد ’’فرض عین‘‘ ہوجاتا ہے… اب ہر مسلمان کو چاہئے کہ
اپنی طاقت کے مطابق گستاخوں کو عبرتناک سزا دے کر جامِ کوثر کا مستحق بنے… عیاش
یورپ مال کے بغیر ایک دن زندہ نہیں رہ سکتا… مسلمانوں کو چاہئے کہ ان کے ساتھ
اقتصادی جنگ بھی کریں اور میدانی بھی… ہر شخص اپنی ذمہ داری محسوس کرے اور پھر خود
کو تولے کہ میں اس جنگ میں کیا کچھ کرسکتا ہوں… افغانستان اور عراق کے مجاہدین تو
مبارکباد کے مستحق ہیں کہ وہ براہ راست ان دشمنانِ اسلام کے خلاف جنگ کر رہے ہیں…
یقینا ان کا اجر سب سے بڑھ کر ہے اور ان کا کام ہر کام سے بڑا ہے… اگر تمام
مجاہدین عقلمندی سے کام لیتے اور انہی محاذوں پر ٹھیک ٹھاک ’’محمدی جہاد‘‘ کرتے تو
دنیا کا نقشہ ہی بدل چکا ہوتا… مگر بدنصیبی کہ چھوٹے چھوٹے نعرے دن رات مجاہدین کی
طاقت کو توڑتے ہیں… اور کئی قیمتی مجاہد ویڈیو سینٹروں پر بم مارتے ہوئے اپنی جان
دے دیتے ہیں… تھوڑا سا سوچیں، اللہ تعالیٰ کے لئے سوچیں کہ اس کا کیا فائدہ ہے؟…
خیر یہ ایک الگ اور دردناک موضوع ہے… بات یہ چل رہی تھی کہ ہر مسلمان اپنا فرض ادا
کرے… کوئی یورپ میں رہنا چھوڑ دے، کوئی ان کے ساتھ تجارت چھوڑ دے… کوئی ان کی صفوں
میں انتشار ڈال دے… قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے… نرم ہوائیں جمع ہو جائیں تو آندھی چل
پڑتی ہے… بے ضرر ندی نالے اکٹھے ہوجائیں تو سیلاب بن جاتا ہے… یورپ کو ایک روپے کا
معاشی نقصان ہر مسلمان کی طرف سے پہنچے تو یورپ کے لوگ بھیک مانگنے پر مجبور
ہوجائیں… اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم اس وقت حضرت محبوب آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے
پورے وفادار بن جائیں… ہم قرآن، نماز، جہاد اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے
ساتھ مکمل رشتہ جوڑ لیں… ہم آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی جہادی سنتوں کو خاص
طور سے سمجھیں اور زندہ کریں…
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلواریں… آپ صلی اللہ علیہ وسلم
کے نیزے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جنگی اور دفاعی ہتھیار… آپ صلی اللہ علیہ وسلم
کا جنگ کے لئے چلنا… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا صفوں کو سیدھا فرمانا… آپ صلی اللہ
علیہ وسلم کا بہادری کے ساتھ لڑنا… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا میدان جہاد میں اشعار
پڑھنا… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہزاروں برستے تیروں کے درمیان مسکرا کر ڈٹے رہنا…
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جنگی دستے روانہ کرنا… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا زخمی
ہونا… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا زرہ پہننا … آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلواریں
تقسیم کرنا… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بہادروں کو انعامات سے نوازنا… آپ صلی اللہ
علیہ وسلم کا مجاہدین کو رخصت کرنا… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جنگی مشقیں منعقد
کرانا… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جنگی مشقوں میں حصہ لینا… آپ صلی اللہ علیہ وسلم
کا گلے میں تلوار لٹکا کر گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر مدینہ منورہ کے گرد حفاظتی چکّر
لگانا… صلی اللہ علی محمد، صلی اللہ علی محمد… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کس کس ادا
کا تذکرہ کروں… کیا فاتحانہ شان تھی کہ بال مبارک دراز (میں قربان) … ان پر جنگی
ٹوپی (میں قربان) … مکہ مکرمہ میں فاتحانہ داخلہ… کسی نے آکر پوچھا کہ ابن خطل
(گستاخ رسول) کعبہ کے پردوں سے چمٹا ہوا پناہ مانگ رہا ہے… آقا صلی اللہ علیہ وسلم
نے جنگی ٹوپی سر سے اتارتے ہوئے فرمایا: ’’اقتلوہ‘‘ اس کو قتل کردو… صلی اللہ علیہ
وسلم، صلی اللہ علیہ وسلم … دل چاہتا ہے کہ دوڑتا ہوا مدینہ پاک پہنچوں اور روضہ
اقدس پر جاکر عرض کروں… آقا! میں، میرے ماں باپ اور میری اولاد آپ پر قربان، ابن
خطل کے خاتمے جیسا حکم یورپ کے گستاخوں کے لئے بھی جاری فرمادیجئے…
اللہم صل علی سیدنا محمد، اللہم صل علی سیدنا محمد…
آپ کے غلام تیار ہیں… یہ آپ کا معجزہ ہے کہ زیاد بن سکن رضی
اللہ عنہ کی طرح آپ کے قدموں پر رخسار رکھ کے جان دینے والوں کی ہے آج بھی کمی
نہیں… بلکہ اس سعادت پر پوری دنیا قربان… مگر کچھ عرصہ مسلمان غافل رہے تو … یورپ
نے اپنے گرد حفاظتی حصار مضبوط بنالیا… ہمارے حکمران اور ہماری فوجیں ان کے غلام
بن گئے… اس لئے آقا آپ کے حکم کی ضرورت ہے… آپ کے حکم کے بعد تقدیر مسلمانوں پر
مہربان ہوجائے گی… کافروں کے حفاظتی حصار ٹوٹ جائیں گے… تب خاکے بنانے والے خاک
ہوجائیں گے…
اللّٰہم صلّ علٰی سیّدنا محمّد، اللّٰہم صلّ علٰی سیّدنا
محمّد … اللہم صل علی سیدنا محمد وآلہ وسلم تسلیمًا کثیرًا کثیرًا کثیرًا…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنے سب سے افضل اور محبوب نبی حضرت محمد
مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں پیدا فرمایا
ہے… الحمدللہ ، الحمدللہ
، الحمدللہ … یہ بہت عظیم الشان نعمت
ہے… اللہ تعالیٰ ہمیں اس نعمت کی قدر کرنے کی توفیق عطاء
فرمائے… اور ہمیں اس نعمت کا شکر اور حق ادا کرنے کی ہمت عطاء فرمائے… ماضی کے بڑے
بڑے انبیاء علیہم السلام کی یہ تمنا تھی کہ وہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کی اُمت میں شامل ہوں… اللہ تعالیٰ نے اپنے
محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کو بے شمار فضیلتیں عطاء فرمائی ہیں…
اس اُمت کے فضائل قرآن پاک میں بھی بیان ہوئے ہیں اور خود حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ارشاد فرمائے ہیں… یہ سب سے آخری اُمت
ہے کہ اس کے بعد کوئی اُمت نہیں… بلکہ قیامت ہے… اسی لئے ہمیں ختم کرکے کوئی بچ
جائے گا اس کا کوئی امکان نہیں ہے… بس قیامت سے کچھ عرصہ پہلے زمین پر کافر اور
شریر لوگ مکمل قابض ہوں گے اور انہیں پر قیامت ٹوٹے گی… مگر اس سے پہلے ایک بار یہ
اُمت پوری دنیا پر غالب ہوگی … اور یہ اُمت سب سے پہلی اُمت بھی ہے کیونکہ قیامت
کے دن سب سے پہلے اس کا حساب وکتاب ہوگا اور جنت میں بھی سب سے پہلے یہی اُمت داخل
ہوگی…
سورۃ
توبہ کے آخر میں بتایا گیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی
اُمت سے بہت محبت ہے، بہت پیار ہے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس اُمت
کی تکلیف تک گوارہ نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ شدید خواہش
مبارک تھی کہ آپ کی اُمت زیادہ ہو… حریص علیکم کا معنیٰ حضرت شاہ عبدالقادررحمہ
اللہ نے یہی بیان فرمایا ہے… اللہ تعالیٰ نے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمنا پوری فرمائی اور اس اُمت میں خوب برکت
عطاء فرمادی… جنت میں لوگوں کی کل ایک سو بیس صفیں ہوں گی جن میں سے باقی تمام
اُمتوں کی چالیس صفیں ہوں گی جبکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی
اُمت کی اسّی (۸۰) صفیں
ہوں گی…
اھل
الجنۃ عشرون ومائۃ صف ثمانون فیھا من ھذہ الامۃ واربعون من سائرالامم (ترمذی)
قیامت
کے دن حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت اپنی خاص علامتوں کی وجہ سے
سب اُمتوں میں ممتاز ہوگی… وضو کی برکت سے ان کے اعضاء چمک رہے ہوں گے اور ان کے
اعضاء کی اسی نورانیت سے وہ دور دور سے پہچانے جائیں گے… صحابہ کرام ڑنے ایک بار
عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کیا آپ
ہمیں قیامت کے دن پہچان لیں گے… ارشاد فرمایا جی ہاں! تمہاری ایک علاُمت ہوگی جو
اُمتوں میں سے کسی اور کو حاصل نہیں ہوگی تم میرے پاس حوض کوثر پر اس شان سے آؤگے
کہ وضو کے اثر سے تمہارے چہرے روشن اور پاؤں نورانی اور چمکدار ہوں گے …
قالوا
یا رسول اللہ اتعرفنا یومئذ؟ قال نعم لکم سیما لیست لاحد من
الامم تردون علیّ غرّا محجلین من اثر الوضو (مسلم)
امریکہ
سے لیکر ڈنمارک تک… اور اسرائیل سے لیکر ناروے تک کے کافر بہت بڑی بھول میں ہیں کہ
وہ … حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کچھ کمی کرسکیں گے یا اس
اُمت کو اپنا غلام بنالیں گے… ان کو علم نہیں ہے
کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کو چار تلواریں دیکر بھیجا … یہ چار تلواریں آج بھی قرآن مجید میں موجود ہیں…
مشرکین کے خلاف تلوار… یہود و نصاریٰ اہل کتاب کے خلاف تلوار… منافقین کے خلاف
تلوار… اور باغیوں کے خلاف تلوار…
صلی
اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم …
قال
علی بن ابی طالب ذ: بعث النبی صلی اللہ علیہ وسلم باربعۃ اسیاف (تفسیر ابن کثیر)
اسلام
کا پہلا غزوہ برپا تھا… جنگ کے آغاز میں تین بڑے مشرک سردار مقابلے کے لئے نکلے…
مسلمانوں کی طرف سے تین انصاری مجاہدین ان کے مدِ مقابل ہوئے… مشرکین نے مطالبہ
کیا کہ ہماری قوم کے لوگ مقابلے پر آئیں… تب حضرت سیّدنا حمزہ رضی اللہ
عنہ ، حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت عبیدۃ بن الحارث رضی
اللہ عنہ میدان میں تشریف لائے… حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے شیبہ کو ڈھیر کردیا،
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ولید کو ٹھکانے لگادیا… جبکہ حضرت عبیدۃ بن الحارثذ عتبہ
کو زخمی کرکے خود بھی زخمی ہوگئے… ان کو اٹھا کر حضور پاک صلی اللہ
علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا… نہ چیخ و پکار نہ شکوے شکایت بلکہ محبت اور بڑھ
گئی، جذبہ اور بھڑک اُٹھا… دنیا والو! کسی کے پاس اس کی مثال ہے؟… امریکہ کے زخمی
سپاہی بش کو وہ گالیاں دیتے ہیں کہ کان سن نہیں سکتے… مگر حضرت
عبیدۃ رضی اللہ عنہ کی پنڈلی سے خون کے آخری قطرے تک بہہ چکے تھے مگر
محبت اور وفاداری کا یہ عالم تھا کہ اپنا رخسار آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کے قدم مبارک پر رکھا ہوا ہے اور پوچھ رہے ہیں کہ یارسول اللہ !
کیا میں شہید ہوں؟… اور اس حالت میں بھی محبت اور وفاداری کے اشعار پڑھ رہے ہیں:
فان
یقطعوا رجلی فانی مسلم
ارجی
بہ عیشا من اللہ عالیا
یعنی
اگر کافروں نے میرا پاؤں کاٹ دیا تو کوئی بات
نہیں، الحمدللہ میں مسلمان ہوں اور اس تکلیف کے
بدلے اللہ تعالیٰ سے بہت اونچے عیش و آرام کا امیدوار ہوں…
والبسنی
الرحمن من فضل منّہ
لباسا
من الاسلام غطّی المساویا
اور
میرے اللہ مہربان نے مجھ پر یہ فضل واحسان فرمایا ہے کہ
مجھے اسلام کا لباس پہنایا ہے جس نے تمام برائیوں کو ڈھانک دیا ہے…
زمانے
کے کافر چاند تک تو پہنچ گئے مگر وہ اس اُمت کے قدموں کی دھول تک بھی نہیں پہنچ
سکیں گے… حضرت عبیدہ رضی اللہ عنہ شہادت کے وقت یہی تو بتا رہے ہیں کہ
مسلمان ہونا… اور اس اُمت کا فرد ہونا اتنی بڑی نعمت ہے کہ اس کی خاطر اپنا سب کچھ
قربان کرنا آسان ہے… اور اصل عزت کا لباس ’’اسلام‘‘ ہی ہے… پس جس کے پاس ’’اسلام‘‘
نہیں وہ ننگا، بے آبرو، بے عزت اور حقیرہے… یہی اشعار پڑھتے ہوئے ان کی روح جنت کی
طرف پرواز کر گئی تو آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا:
اشھد
انک شھید
میں
گواہی دیتا ہوں کہ تو شہید ہے… اللہ اکبرکبیرا
روایات
میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ماضی میں جو احکامات انبیا
علیہم السلام کو دیئے تھے وہ احکامات اس اُمت کے افراد کو عطاء فرمائے …
امرتھم
بالغسل من الجنابۃ کما امرت الانبیاء وامرتھم بالحج کما امرت الانبیاء وامرتھم
بالجھاد کما امرت الرسل (بیہقی)
یعنی
میں نے اس اُمت کو ’’غسل جنابت‘‘ کا حکم دیا جس طرح انبیاء (علیہم السلام) کو دیا
تھا اور حج کا حکم دیا جس طرح انبیاء کو دیا تھا اور جہاد کا حکم دیا جس طرح
رسولوں کو دیا تھا…
ماضی
کی تاریخ دیکھو! اللہ پاک نے اپنے عام نظام میں کئی طرح
تخصیص فرما کر اس اُمت کی حفاظت فرمائی… آگ کا کام جلانا ہے مگر صحابہ کرام رضوان
اللہ علیہم اجمعین کو وہ نہ جلا سکی جب دشمنوں نے اُن میں سے بعض کو جلانے کا
ارادہ کیا… یہ واقعہ معروف ہے… دریا اور سمندر کا کام ڈبونا ہے مگر صحابہ کرام
رضوان اللہ علیہم اجمعین اس پر سے یوں گزر گئے جس طرح ہموار میدان ہو… اور قرب
قیامت میں جب یاجوج ماجوج زمین پر قبضہ کرلیں گے اور اس اُمت کے محدود لوگ کسی جگہ
پناہ لے لیں گے تو اس وقت بھی ان کی حفاظت کے لئے اللہ پاک
خصوصی نظام قائم فرمائے گا… روایت میں آیا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین نے عرض کیا کہ یاجوج ماجوج کے قبضے کے وقت پناہ گزین مسلمانوں کے کھانے
پینے کا کیا بندوبست ہوگا؟
قالوا
فما طعام المؤمنین یومئذ؟
تو
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
قال
التسبیح والتکبیر والتھلیل (مسنداحمد)
یعنی اللہ تعالیٰ
کی تسبیح، تکبیر اور تہلیل ہی ان کی غذا بن جائے گی…
ہم
مسلمانوں نے غارثور کے خطرے سے لیکر یاجوج ماجوج تک کے خطرے سے نمٹنا ہے
اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے باقی اور غالب رہنا ہے… یہ سب
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی برکات ہیں… لوگ سمجھاتے ہیں کہ کافروں
کو زیادہ نہ بھڑکاؤ وہ ختم کردیں گے تو ہم یہی عرض کرتے ہیں کہ اس اُمت کا خاتمہ
کسی کے بس میں نہیں ہے… غارثور میں پورا اسلام موت سے تین قدم کے فاصلے پر تھا…
مشرکین مکہ کے مسلح دستے غار کے دہانے تک پہنچ چکے تھے اور حضرت صدیق اکبر رضی
اللہ عنہ ان کے پاؤں دیکھ رہے تھے… وہاں اسلام اور مسلمانوں کو کس نے بچایا؟… قرآن
پاک ایک سے زیادہ بار ہجرت کا واقعہ یاد دلا کر مسلمانوں کو سمجھاتا ہے کہ کافروں
سے ڈرنا چھوڑ و… اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا سیکھو… پھر چودہ
سو سال کے اس عرصے میں بڑے بڑے خطرے آئے مگر وہ سب خطرے خود ہی ختم ہوگئے اور ان
کا نام ونشان تک باقی نہ رہا…
آج
کوئی ہے جو ابوجہل کی تعریف میں قصیدے لکھتا ہو؟… آج کوئی ہے جو ہلاکو خان اور
چنگیز خان کی یاد میں آنسو بہاتا ہو؟… جبکہ ہر
طرف الحمدللہ محمدرسول اللہ … محمد
رسول اللہ گونج رہا ہے صلی اللہ علیہ وسلم
… صلی اللہ علیہ وسلم … ہر زمانے میں منافقین کا اصرار تھا کہ مسلمان
اپنی بقاء کے لئے طاقتور کافروں کے سامنے گردن جھکادیں، ورنہ کوئی بھی نہیں بچے
گا… مشرکین مکہ سے لڑائی تھی تو منافق کہتے تھے یہ ناقابل تسخیر ہیں ان سے لڑنا
حماقت ہے… یہودیوں سے لڑائی تھی تو منافق کہتے تھے ان کو چھیڑنا بے وقوفی اور
خودکشی ہے… رومیوں سے لڑائی تھی تو منافق کہتے تھے کہ اب مسلمانوں کا کچھ نہیں بچے
گا… یہاں تک کہ جب سوویت یونین سے لڑائی تھی تو منافق کہتے تھے کہ اب مسلمانوں کی
خیر نہیں ہے، ان پاگل مجاہدین نے پوری اُمت کو مروانے کا ارادہ کرلیا ہے… مشرکین
مکہ بھی ختم ہوگئے … یہودی بھی سمٹ گئے… رومیوں نے بھی صدیوں تک مسلمانوں کے جوتے
صاف کیے… اور سوویت یونین صفحۂ ہستی سے ہی مٹ گیا… جبکہ اسلام باقی ہے اُمت مسلمہ
باقی ہے… آج کل منافقین کا بس یہی شور ہے کہ … مجاہدین نے مسلمانوں کو مروادیا
بھلا امریکہ اور یورپ سے بھی مقابلہ ممکن ہے؟… جی ہاں ممکن ہے اور انشا
ء اللہ دنیا دیکھے گی کہ نہ امریکہ بڑی طاقت رہے گا اور نہ
یورپ کا غرور… میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت موجود رہے گی… اور
انشاء اللہ غالب ہوگی… اے مسلمانو! نہ تو یہ بڑھکیں ہیں اور
نہ حد سے بڑھی ہوئی خوش فہمی … بلکہ یہ قرآن پاک کے سمجھائے ہوئے سبق ہیں اور قرآن
پاک کے اسباق میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے… اللہ کرے
’’فتح الجوّاد فی معارف آیات الجہاد‘‘ کی دوسری جلد شائع ہوجائے… اس جلد میں جہاد
کا اصل رنگ نظر آتا ہے کیونکہ یہ جلد سورۃ انفال اور نصف سورۃ توبہ پر مشتمل ہے…
اور آپ سبھی جانتے ہیں کہ یہ دونوں سورتیں جہاد کے قطعی احکامات اور حقیقت کو بیان
کرتی ہیں … انشاء اللہ اگر یہ جلد چھپ گئی اور آپ نے پڑھ لی
تو ان شاء اللہ دنیا کی ہر طاقت کا خوف دل سے نکل جائے گا
اور جہاد کے وہ دلائل معلوم ہوں گے جو شاید آپ نے پہلے کبھی نہ سنے ہوں … تب آپ کو
بھی یہی نظر آئے گا کہ اسلام اور مسلمانوں کو کوئی بھی ختم نہیں کرسکتا اور جہاد
کے مقابلے میں دنیا کی کوئی طاقت نہیں ٹھہرسکتی…
اللہ تبارک
وتعالیٰ نے قرآن مجید میں خود اس اُمت کو سب سے افضل اور بہتر اُمت قرار دیا ہے…
کنتم
خیر امۃ اخرجت للناس…
اللہ تبارک
وتعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنے سب سے افضل اور محبوب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں شامل فرمایا ہے… اب ہم سب کو یہی
دعاء کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس نعمت کی قدر کرنے
کی توفیق عطاء فرمائے… اور اس نعمت کا حق ادا کرنے کی ہمت نصیب فرمائے…
آمین
یا ارحم الراحمین، وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیّدنا
محمد وآلہ واصحابہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا…
یا
اللہ صلّ وسلم علیٰ حبیب اللہ …
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
کی ’’رحمت‘‘ کے ہم سب محتاج ہیں… آج ہر انسان طرح طرح کی مصیبتوں میں گھرا ہوا ہے…
ان تمام مصیبتوں کا علاج اللہ تعالیٰ کی ’’رحمت‘‘ سے ہی
ہوسکتا ہے… بعض لوگ مسلمان ہونے کے بعد دوبارہ کافر ہو رہے ہیں… یہ ایک بڑی مصیبت
ہے… کچھ مسلمانوں پر نفاق کا حملہ ہے، جی ہاں منافقت جیسے خطرناک مرض کا حملہ… یہ
بھی بڑی سخت مصیبت ہے… بعض مسلمانوں کے دل و دماغ پر شہوت کا غلبہ ہے وہ رات دن بس
شرمگاہ کی فکر اور سوچ کے گرد گھومتے رہتے ہیں… یہ ایک دردناک مصیبت ہے… بعض
مسلمانوں پر مال کی خارش کا حملہ ہے وہ ہر لمحہ مال کے بارے میں سوچتے ہیں اور
پوری زندگی مال جوڑتے جوڑتے مرجاتے ہیں، مال تو یہاں رہ جاتا ہے اور وہ خالی ہاتھ
تنگ وتاریک قبر میں قید ہوجاتے ہیں… یہ بہت بڑی مصیبت ہے… بعض مسلمانوں پر قرضے کا
حملہ ہے، ایک قرض ادا کرتے ہیں دوسرا چڑھ جاتا ہے، دن رات قرضے لیتے، قرضے ٹالتے،
قرض خواہوں کے سامنے جھوٹ بولتے ان کا وقت ضائع ہوتا رہتا ہے… یہ بھی ایک مصیبت
ہے… کسی کی شادی نہیں ہو رہی اور عمر گزرتی جارہی ہے … کسی کو رہنے کی جگہ نہیں مل
رہی، مکان اور رہائش کا مسئلہ ہے… کسی سے گناہ نہیں چھوٹ رہے، صبح شام گناہوں کی
تلاش ہے اور گناہوں کی مار… کسی کو ناشکری نے ایسا گھیر لیا ہے کہ ہر وقت دل سے
آہیں اور آنکھوں سے آنسو ٹپکتے رہتے ہیں… کسی کو بے صبری نے ایسا پکڑ لیا ہے کہ
چوبیس گھنٹے بیماریوں اور مصیبتوں کا رونا ہے… کسی کو بے کاری نے ایسا جکڑ لیا ہے
کہ کوئی کام ہی نہیں ہے، ٹائم ہی نہیں گزرتا… کسی پر غیبت گوئی کا ایسا حملہ ہے کہ
ہر وقت اس کے منہ سے زندہ مسلمانوں کے خون اور گوشت کی بدبو جاری رہتی ہے… کسی کو
تکبرّ نے ایسا ذلیل کیا ہے کہ ہر وقت اپنی ناک ، اپنی عزت اور اپنی شان کے لئے
رسوا ہوتا رہتا ہے… کسی پر وساوس اور بدگمانیوں کا ایسا زور ہے کہ دل و دماغ میں
بدگمانیوں کا ایک پورا گٹر جاری ہے… کسی پر نیند کا ایسا خمار ہے کہ بستر بھی اس
کے جسم سے تھک چکا ہے اور ہر کسی کی نظروں میں وہ گر رہا ہے… کسی پر مال کی ایسی
تنگی ہے کہ روٹی پوری نہیں ہوتی… اور کسی پر بیماریوں کا ایسا حملہ ہے کہ بیماریاں
قطار لگا کر اس پر حملہ آور ہیں… کسی کے دل پر غم کا ایسا زخم ہے کہ کبھی خوشی ہی
محسوس نہیں ہوتی… اور کسی پر غفلت اور خوشی کا ایسا حملہ ہے کہ قبرستان میں بھی
جاکر گانے سنتا ہے… کوئی کسی کے عشق میں پھنس کر مچھلی کی طرح تڑپ رہا ہے تو کوئی
کسی کی دشمنی سے خوفزدہ چھپتا پھرتا ہے…
مصیبت
ہی مصیبت، آفت ہی آفت، پریشانیاں ہی پریشانیاں اور زحمت ہی زحمت … حالانکہ مجھے
بھی معلوم ہے کہ میں نے ضرور مرنا ہے اور آپ سب کو بھی معلوم ہے کہ آپ بھی مرجائیں
گے… ہم سب کا یہ بھی یقین ہے کہ آخرت کا دن یقینی اور برحق ہے… جی ہاں قیامت بالکل
یقینی ہے، بالکل برحق ہے… جبکہ دنیا تو دھوکے کا سامان ہے… قیامت کے بارے میں ہم
بہت کم سوچتے ہیں حالانکہ اصل مسئلہ وہی ہے، دنیا تو عارضی اور فانی ہے…
مرنے
کے لئے کیا تیاری کی ہے؟… قبر کے لئے کیا انتظام ہے؟… چار دن کے لئے
کسی جگہ جانا ہو تو سارا دن سوچتے ہیں اور گھنٹوں تیاری کرتے ہیں… کیا آخرت کے
یقینی سفر کی کوئی تیاری ہے؟… اللہ اکبرکبیرا … آپ یقین کریں کہ ہماری
آخرت بھی اللہ تعالی کی ’’رحمت‘‘ سے ہی کامیاب ہوسکتی ہے…
اور دنیا میں ہماری مصیبتوں کا خاتمہ بھی اللہ تعالیٰ کی
’’رحمت‘‘ ہی سے ہوسکتا ہے…
میں
ایک شخص کو جانتا ہوں، وہ مجاہد بھی ہے اور عالم بھی… ایک بار وہ قید میں پھنس گیا
اور مصیبتوں کے سیلاب نے اس کو خوب غوطے دیئے… وہ دن رات دعائیں کرتا رہا وظیفے
کرتا رہا… کئی بار روشنی اور نجات قریب آئی مگر مسئلہ حل نہ ہوا… ایک بار وہ قرآن
پاک میں سورۃ انبیاء کی تلاوت کر رہا تھا… تلاوت کرتے ہوئے اس کا دل جاگ اٹھا، اسے
نظر آیا کہ قرآن پاک میں جگہ جگہ ’’رحمت‘‘ کا لفظ استعمال ہوا
ہے… اللہ پاک کی ’’رحمت‘‘… اور بتایا گیا ہے کہ نجات
تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ملتی ہے…
بس
یہ بات سمجھنے کے بعد اس نے ایک ہی دعاء کو اپنا معمول بنالیا کہ
یا اللہ رحم فرما… یا اللہ رحمت
فرما… اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اپنے محبوب نبی حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی حکم فرمایا ہے کہ
آپ اللہ تعالیٰ سے اس کی رحمت مانگیں…
وَقُلْ
رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَیْرٌ الرَّاحِمِیْنَ (المؤمنون۱۱۸)
ترجمہ: اور
کہو اے میرے رب معاف فرما اور رحم فرما اور آپ سب سے بہتر رحم فرمانے والے ہیں۔
اس
میں یہ بھی اشارہ ہے کہ گناہوں کی وجہ سے انسان اللہ تعالیٰ
کی رحمت سے محروم ہوتا ہے… چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
لَوْلاَ
تَسْتَغْفِرُوْنَ اللہ َ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ (النمل۴۶)
ترجمہ: تم اللہ تعالیٰ
سے استغفار کیوں نہیں کرتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے… اس آیت سے پہلے کا مضمون
پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی ’’رحمت‘‘
آجاتی ہے تو ہر مصیبت دور ہوجاتی ہے اور ہر عذاب ٹل جاتا ہے…
اس
شخص نے رات دن اللہ تعالیٰ سے اسکی ’’رحمت‘‘ مانگنی شروع
کی… نماز کے بعد، تلاوت کے بعد، درود شریف کے بعد… اس دعاء سے اس کے دل کو ایک طرح
کا سکون ملنا شروع ہوگیا… کیونکہ عام طور پر مصیبت کے وقت دعاء کرنے میں غلطی
ہوجاتی ہے… کبھی انسان شکوہ کرنے لگتا ہے کہ یا اللہ یہ کام
کیوں نہیں ہورہا…کبھی انسان زیادہ جذبے میں آکر کہتا ہے کہ
یا اللہ بس یہ کام کردیجئے… ا ور کبھی انسان یہ کہتا ہے کہ
معلوم نہیں میرے کس گناہ کی وجہ سے آپ دُعا قبول نہیں فرما رہے … حالانکہ یہ سب
جملے غلط ہیں اور نعوذب اللہ گستاخی پر مبنی ہیں… دعاء تو حقیر غلاموں
کی طرح کرنی چاہئے، سر جھکا دینے چاہئیں، اپنی کھال کو نرم کرکے دعاء مانگنا
چاہئے… جس دعاء میں شکوہ، شکایت، اکڑ اور نخرے ہوں کہ میرے ساتھ یہ کیوں ہو رہا
ہے؟ تو وہ دعاء ٹھیک نہیں ہے… ہم کون ہیں اکڑنے والے؟، دعاء میں تو شکر سے بات شروع
کرنی چاہئے اور کسی وقت بھی اپنے لہجے کو سخت نہیں ہونے دینا چاہئے… خیر وہ شخص
’’رحمت‘‘ مانگتا رہا، اللہ پاک کا عجیب نظام ہے کہ اسے
مانگنے والے پسند ہیں… اور وہ مانگنے والوں کو راستہ بھی خود دیتا ہے… اب رحمت
مانگی تو رحمت بھی ملے گی انشاء اللہ اور رحمت پانے والے
اعمال کی توفیق بھی خود بخود ملتی چلی جائے گی… چند دن ہی گزرے تھے
کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ایسے آئی کہ دنیا حیران رہ گئی…
رہائی کے بعد اس شخص نے ایک بڑے عالم بزرگ کو یہ بات بتائی تو وہ بہت خوش ہوئے اور
فرمایا کہ آپ کی درست رہنمائی ہوئی … حقیقت یہ ہے
کہ اللہ تعالیٰ کی ’’رحمت‘‘ ہی ہمارے ہر مسئلے کا حل ہے… آپ
قرآن پاک میں غور فرما لیجئے قرآن پاک سمجھاتا ہے کہ مصیبتیں گناہوں کی وجہ سے آتی
ہیں… اور پھر قرآن پاک بتاتا ہے کہ گناہوں سے بچنا تبھی ممکن ہے جب اللہ تعالیٰ
کی رحمت شامل ہو…
وَمَنْ
تَقِ السَّیِّئَآتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَہٗ
ترجمہ:
(یا اللہ ) جس کو آپ نے گناہوں سے بچالیا اس پر آپ نے رحم فرمایا… بعض مفسرین
نے یومئذٍ سے قیامت کا دن مراد لیا ہے کہ قیامت کے دن کی تکلیفوں
سے حفاظت اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی سے ہوگی جبکہ دوسرے مفسرین
کے نزدیک یومئذٍ سے دنیا مراد ہے کہ دنیا میں جس کو آپ نے گناہوں سے
بچالیا تو یہ اس پر آپ کی رحمت کی دلیل ہے… حضرت شاہ عبدالقادررحمۃ اللہ علیہ
لکھتے ہیں:
یعنی
تیری (مہربانی) ہی ہو کہ برائیوں سے بچے، اپنے عمل سے کوئی نہیں بچ سکتا تھوڑی بہت
برائی سے کون خالی ہے۔ (موضح القرآن)
پھر
آپ دیکھیں ہمارا سب سے خطرناک دشمن، ہمارا اپنا ’’نفس‘‘ ہے اور نفس کے شر سے بچنا
بھی اللہ تعالیٰ کی ’’رحمت‘‘ ہی سے ممکن ہے اس کے علاوہ اور
کوئی ذریعہ نہیں…
اِنَّ
النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌ بِالسُّوْٓئِ اِلاَّ مَارَحِمَ رَبِّیْ (یوسف۵۳)
ترجمہ: بے
شک نفس تو برائی سکھاتا ہے مگر جس پر میرا رب رحم کرے… قرآن پاک بار بار بتاتا ہے
کہ جب کوئی عذاب آیا تو اس عذاب سے وہی بچا جس
کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ’’رحمت‘‘ دے کر بچالیا، اس موضوع پر
آیات مبارکہ لکھوں تو مضمون بہت طویل ہوجائے گا… اصحاب کہف جب اپنے دشمن بادشاہ کے
گھیرے میں تھے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ’’رحمت‘‘ مانگی
رَبَّناَ
اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً وَّہَیِّیْٔ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا (الکہف۱۰)
ترجمہ: اے
ہمارے رب ہم پر اپنی رحمت نازل فرما اور ہمارے اس کام کے لئے کامیابی کا سامان
کردے
یہ
تو ہوئی دشمنوں سے حفاظت، جبکہ قوت، طاقت اور دشمنوں پر غلبہ
بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ملتا ہے… ذوالقرنین نے جب یاجوج
ماجوج کے سامنے لوہے کا پہاڑ کھڑا کردیا اور انہیں مغلوب کردیا تو فوراً کہا:
قاَلَ
ہَذَا رَحْمَۃٌ مِّنْ رَّبِّیْ (الکہف۹۸)
ترجمہ: کہا
یہ میرے رب کی رحمت ہے۔
یعنی
میری یہ ساری قوت، طاقت اور غلبہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے
ہے…
خلاصہ
یہ ہوا کہ دنیا میں کام چلے گا تو اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی
سے چلے گا اور آخرت میں بھی کام بنے گا تو اللہ تعالیٰ کی
رحمت ہی سے بنے گا…
قُلْ
اِنِّیْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَْومٍ عَظِیْمٍo مَنْ یُّصْرَفْ عَنْہُ یَوْمَئِذٍ
فَقَدْ رَحِمَہٗ وَذٰلِکَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ۔ (الانعام۱۵،۱۶)
ترجمہ:
کہہ دو! اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں، جس
سے اس دن عذاب ٹل گیا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے رحم کردیا
اور یہی بڑی کامیابی ہے۔
اللہ تعالیٰ
کا فضل بھی اس کی رحمت کا ایک بڑا درجہ ہے… اللہ تعالیٰ کی
رحمت کا موضوع بہت میٹھا اور مفصل ہے، میرے سامنے اس وقت کئی آیات مبارکہ ہیں جن
کو لکھا جاسکتا ہے مگر … اللہ تعالی آپ کو توفیق دے اور رحم
فرمائے تو قرآن پاک کی ’’رحمت‘‘ والی آیات کو ایک بار ترجمے اور تفسیرکے ساتھ دیکھ
لیں… تاکہ یقین کامل ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ جو رحمن بھی ہے
اور رحیم بھی… اور ارحم الراحمین بھی، اس کی رحمت کے ہم کتنے زیادہ محتاج ہیں… اور
پھر ہم حقیقی محتاج کی طرح گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا
سوال کریں
یَاحَیُّ
یَا قَیُّوْمُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ… رَبِّ اغْفِرْ
وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَیْرٌ الرَّاحِمِیْنَ… وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْلَنَا
وَارْحَمْنَا اَنْتَ مَوْلاَنَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنَ…
رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا
لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ…
یا
رحمن رحم فرما… یا رحیم رحمت فرما… یا ارحم الراحمین رحمت فرما، رحم فرما…
یہ
تو ہوئی ایک بات… اب دوسری بات سمجھنے کی کوشش
فرمائیں… اللہ تعالیٰ کی رحمت کے کئی درجے ہیں… ایک عمومی
رحمت ہے جو دنیا میں ہر انسان، ہر جاندار اور ہر چیزپر ہے…
یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی تو ہے کہ ہر کوئی سانس لے رہا ہے
اور رزق پا رہا ہے… اور ایک اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے اور
یہ خاص رحمت اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو عطاء فرماتا ہے…
دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور آخرت میں تو رحمت کا معاملہ ایمان والوں کے
ساتھ ہی خاص ہوجائے گا… پھر اس خاص رحمت کے بھی درجات ہیں سب سے اونچا درجہ تو
انبیاء علیہم السلام اور ملائکہ عظام کو نصیب ہوا ہے… اور اس میں بھی سب سے اونچا
درجہ رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیب ہوا ہے
… اور ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہر وقت، بہت خصوصیت سے برستی رہتی
ہیں…
اِنَّ اللہ وَمَلآئِکَتَہٗ
یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ (الاحزاب ۵۶)
یعنی
بے شک اللہ تعالیٰ رحمت بھیجتا ہے اور فرشتے رحمت کی دعاء
کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے۔
صلوٰۃ
کا معنیٰ ہے خصوصی رحمت اور اس خصوصی رحمت کی بدولت نور اور ترقی کا راستہ ملتا
ہے… اور ہر طرح کے اندھیرے دور ہوجاتے ہیں، خود اللہ تعالیٰ
کا ارشاد گرامی ہے:
ہُوَ
الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْکُمْ وَمَلآئِکَتُہٗ لِیُخْرِجَکُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ
اِلَی النُّوْرِ وَکَانَ بِالْمُؤمِنِیْنَ رَحِیْمًا (الاحزاب ۴۳)
یعنی
وہ اللہ تعالیٰ تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی
تاکہ تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالے اور وہ ایمان والوں پر نہایت رحم والا
ہے…
معلوم
ہوا کہ صلوٰۃ من اللہ اللہ تعالیٰ کی وہ
رحمت ہے جس سے انسان کے دنیا و آخرت کے مسائل حل ہوتے ہیں… کیونکہ ’’نور‘‘ کا ملنا
ہی ہر اندھیرے سے نجات ہے… اور گناہ سے لیکر عذاب جہنم تک ہر مصیبت اندھیرا ہی
اندھیرا ہے… اللہ تعالیٰ کی یہ صلوٰۃ حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اتنی برسی اور اتنی برستی ہے کہ خود
آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اللہ تعالیٰ کی طرف
سے ’’رحمت‘‘ بن گئے… چنانچہ ارشاد فرمایا کہ
وَمَا
اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ…
اگر
آپ نے یہ دوسری بات بھی سمجھ لی ہے تو اب آخری اور تیسری بات
سمجھیں… اللہ تعالیٰ نے ہم مسلمانوں کو حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ’’درود و سلام‘‘ پڑھنے کا قرآن مجید میں
حکم دیا ہے اور ہمارے لئے اس درود وسلام کا بدلہ یہ مقرر فرمایا ہے کہ جب ہم ایک
بار درود پڑھیں گے تو اللہ تعالیٰ ہم پر دس ’’صلوٰۃ‘‘ یعنی
خصوصی رحمتیں نازل فرمائے گا… جبکہ بعض روایات میں ستر رحمتوں کا بھی تذکرہ ہے…
صحیح
احادیث میں بالکل واضح فرمایا گیا کہ…
من
صلّی علیّ واحدۃ صلی اللہ علیہ عشرًا
جو
کوئی مجھ پر ایک بار درود بھیجے گا اللہ تعالیٰ اس شخص پر
دس رحمتیں نازل فرمائے گا (صحیح مسلم)
اب
ہمارے لئے معاملہ آسان ہوگیا… پہلی بات یہ کہ
ہم اللہ تعالیٰ کی ’’رحمت‘‘ کے سخت محتاج ہیں آج ہر طرف
زحمت ہی زحمت نظر آرہی ہے… دوسری بات یہ کہ اللہ تعالیٰ کی
خاص رحمت کو ’’صلوٰۃ‘‘ کہتے ہیں اور اس رحمت کی برکت سے دنیا آخرت کے مسائل حل
ہوتے ہیں… اور تیسری بات یہ ہے کہ درود شریف پڑھنے سے انسان
کو اللہ تعالیٰ کی یہ ’’خاص رحمت‘‘ نصیب ہوتی ہے… توبس پھر
دیر کس بات کی ہے آج ہی سے نہایت کثرت کے ساتھ درود شریف پڑھ کر… اپنی زحمتوں،
مصیبتوں ا ور بے کاریوں کو بھگائیں اور دنیا وآخرت
میں اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت کے مزے لوٹیں… درود شریف کے
مختلف صیغے احادیث مبارکہ میں وارد ہوئے ہیں… ایک مستند
ومعتمد اللہ والے شیخ طریقت صاحب نے مجاہدین کے لئے یہ
پیغام دیا ہے کہ وہ اگر درج ذیل دو صیغوں کا بھی اہتمام کریں تو
انشاء اللہ دیگر بے شمار فوائد کے ساتھ ساتھ انہیں جہاد میں
بھی خوب ترقی اور کامیابی ملے گی…
(۱)۔
ارشادفرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ: جس
شخص کے پاس خیرات کرنے کو مال نہ ہو، وہ اپنی دعاء میں یہ درود شریف پڑھے تو اس کے
لئے باعث تزکیہ ہوگی۔
اَللّٰہُمَّ
صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ وَصَلِّ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ
وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ (ابن حبان)
(روزانہ
کم از کم ستر بار اس کا اہتمام کریں)
(۲)۔
ارشاد فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے:
’’جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ ہمارے گھرانے والوں پر درود شریف پڑھتے وقت ثواب کا
پورا پیمانہ لے تو یہ درود شریف پڑھے‘‘
اَللّٰہُمَّ
صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِنِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَاَزْوَاجِہٖ اُمَّہَاتِ
الْمُؤْمِنِیْنَ وَذُرِّیَّتِہٖ وَاَہْلِ بَیْتِہٖ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی
اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔(ابوداؤد)
(روزانہ
کم از کم اکتالیس بار اس کا اہتمام کریں)
الحمدللہ
، ثم الحمدللہ … القلم پڑھنے والے حضرات و خواتین پہلے سے ہی ایک ہزار
یا اس سے زیادہ درود شریف کا اہتمام کر رہے ہیں… اللہ رب
العزت خوب قبول فرمائے اور خوب رحمتیں عطاء فرمائے… اب اس کے ساتھ ان دو صیغوں کا
بھی اضافہ کرلیا جائے،
انشاء اللہ اللہ تعالیٰ کی اور زیادہ
رحمتیں ملیں گی… اور ہم سب اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بے حد
محتاج ہیں…
یا
ارحم الراحمین صل علی من ارسلتہ رحمۃ للعالمین وبارک وسلم تسلیما کثیراکثیرا…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
کی شان دیکھیں ’’صدرپرویز مشرف‘‘ کے عنقریب امریکہ چلے جانے کی خبریں زوروں پر
ہیں… اخبارات کے کالم نویس اس موضوع پر دل کھول کر لکھ رہے ہیں… ایک سابق جنرل نے
اعلان کیا ہے کہ چند دن بعد صدر مشرف اپنا سامان لے کر امریکہ کی ریاست ’’ورجینیا‘‘
چلے جائیں گے… اور اپنی زندگی کے باقی ایام ’’روشن خیالی‘‘ کی یاد میں بسر کریں
گے… ایک اور سابق جنرل نے خواہش ظاہر کی ہے کہ ’’پرویز مشرف صاحب‘‘ کو گرفتار
کرلینا چاہئے اور عوام اور فوجیوں کے قتل عام پر ان کے خلاف کورٹ مارشل ہونا
چاہئے…
ایک
اخبار کا دعویٰ ہے کہ جیسے ہی چاروں صوبوں کی صوبائی اسمبلیاں اپنا کام شروع کردیں
گی صدر صاحب خود ہی ’’صدارت‘‘ چھوڑ کر اپنے کسی بھی پسندیدہ ملک روانہ ہوجائیں گے…
پہلے تو ’’ترکی‘‘ ان کا پسندیدہ ملک تھا مگر اب وہاں کا ماحول بھی خراب ہوگیا ہے
کیونکہ وہاں کی حکومت نے کالج کی لڑکیوں کو دوپٹہ اوڑھنے کی اجازت دے دی ہے… اس
لئے صدر صاحب کسی خالص روشن خیال ملک کے بارے میں سوچ رہے ہیں… بعض سیاسی مبصرین
کا دعویٰ ہے کہ صدر صاحب ابھی کچھ عرصہ اور اس بدنصیب قوم پر مسلط رہیں گے… و
اللہ اعلم بالصواب…
مدینہ
منورہ میں مقیم ایک بزرگ عالم دین صدر پرویزمشرف کے اقدامات سے بہت رنجیدہ تھے… اب
تو ان کا انتقال ہوچکا ہے، اللہ تعالیٰ درجات بلند فرمائے
بہت اونچے درجے کے اللہ والے تھے اور اس فانی دنیا سے بے
رغبت تھے… صدر پرویز مشرف نے جب اپنے پر، پرزے نکالے اور دینی مدارس اور جہاد کے
خلاف کھلم کھلا بولنے لگے … اور دن رات روشن خیالی کا ورد کرنے لگے… اور انہوں نے
پورا پاکستان امریکہ کو کرائے بلکہ پٹے پر دے دیا اور امریکی جہاز پاکستانی اڈوں
سے اڑ کر افغانستان کے مسلمانوں کو برباد کرنے لگے تو
وہ اللہ والے بزرگ بہت غمگین ہوئے… انہوں نے کئی دن تک
استخارہ کیا اور دعاء مانگی تب ان کو خواب میں بتایا گیا معزولٌ او مقتولٌ … اب ان
بزرگوں کی بشارت کے مطابق صدر صاحب معزولی کے بالکل کنارے پر کھڑے ہیں… ان کے تمام
دوست، احباب ان کا ساتھ چھوڑ کر جاچکے ہیں… لاہور کے موسیقار اور فنکار اب ان کے
نام کے نغمے گانا ’’حرام‘‘ سمجھتے ہیں… پورے ملک میں ایک ہی نعرہ ہے گو مشرف گو…
اور کالم نویس بہت کھلی زبان میں صدر صاحب کو گالیاں دے رہے ہیں… پاکستان کا ہر
پتھر ان سے بیزار ہے اور عزت ان سے ہمیشہ کیلئے روٹھ گئی ہے… آگے آگے دیکھئے ہوتا
ہے کیا… ہر وہ شخص جس نے کسی بھی موقع پر صدر مشرف کا ساتھ دیا وہ آج بری طرح سے
پچھتا رہا ہے، اگر لوگوں میں عقل باقی ہے تو اب شاید کوئی بھی ان کا ساتھ دینے کی
غلطی نہیں کرے گا…
امریکہ
کے دو نائب وزراء صدر مشرف کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دینے کے لئے کئی دن تک پاکستان
کو گندا کرتے رہے… مگر ہر کسی نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ صدر مشرف کا بوجھ اٹھانا
ہمارے بس کی بات نہیں ہے… ہمارے بعض سیاسی لیڈر امریکہ کے قریبی ’’یارِنار‘‘ ہیں
مگر انہوں نے بھی ادب کے ساتھ عرض کیا کہ ہم امریکہ کی ہر خدمت کے لئے تیار ہیں،
مگر صدر مشرف کو ساتھ رکھنا ہمارے لئے ممکن نہیں ہے…
اللہ اکبر
کبیرا… جنرل مشرف کی گونجتی تقریریں، ’’میں میں ہوں‘‘ کا فخریہ نعرہ، مجاہدین کو
ننگی دھمکیاں، اور غرور سے اکڑی گردن… اور آج کا دن کہ کوئی وزیر خوشی سے ان کو
حلف دینے کے لئے تیار نہیں ہو رہا تھا… ملا محمد عمر مجاہد آج بھی کل کی طرح معزز
ہیں… بلکہ شاید ان کی عزت میں اضافہ ہوا ہے… اور آج بھی لاکھوں مسلمان ان کو اپنا
’’امیر‘‘ مانتے ہیں اور ان کے ایک اشارے پر جان سے گزر جاتے ہیں … معلوم ہوا
کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ ہے اور امریکہ کچھ بھی نہیں… ملا
محمد عمر نے امریکہ سے دشمنی کی اور اللہ تعالیٰ سے دوستی
کی… جبکہ صدر مشرف نے امریکہ سے یاری کو سب کچھ سمجھا… ملا محمد عمر مدظلہ کا نام
آج بھی دلوں میں حرارت پیدا کرتا ہے، … جبکہ صدر مشرف کے قریبی لوگ بھی ان سے دور
بھاگ رہے ہیں…
اے
مسلمانو! عبرت پکڑو امریکہ صدر مشرف کو کچھ نہ دے سکا، امریکہ ملا محمد عمر مجاہد
کا کچھ نہ بگاڑ سکا… اب تو امریکہ کی عظمت دل سے نکال پھینکو… اور یاد رکھو جب
آخرت کی اصل زندگی شروع ہوگی تو امریکہ کے یار بہت زیادہ پچھتائیں گے…
یہ
تو ہوئی ایک بات… دوسری بات یہ ہے کہ بہت سے دوست پوچھتے ہیں اب جبکہ حکومت بدل
چکی ہے تو اب کیا ہوگا؟…
ہمارا
جواب یہ ہے کہ کل بھی ’’ اللہ ‘‘ اور آج بھی ’’ اللہ ‘‘… بس اہل ایمان حکمرانوں کی
بجائے اللہ تعالیٰ ہی پر توکل رکھیں… پاکستان میں ابھی سب
کچھ وہی ہے… وہی بیوروکریسی، وہی سیاستدان، وہی پولیس، وہی خفیہ ادارے، وہی عقوبت
خانے، وہی لاقانونیت، وہی جاگیرداری، وہی مال وجاہ کی ہوس… اور وہی امریکہ کی
غلامی… اس لئے موجودہ حکومت سے زیادہ امیدیں باندھنے کی ضرورت نہیں ہے… حالات میں
جو بہتری آئے گی وہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے آئے گی… اور
حالات میں جو خرابی آئے گی وہ ہمارے ’’ترک جہاد‘‘ اور دیگر گناہوں کی وجہ سے آئے
گی…
آپ
نے دیکھا ہوگا کہ گزشتہ دو ماہ سے ہم نے ملکی سیاست پر زیادہ کچھ نہیں لکھا… وجہ
بالکل واضح ہے کہ موجودہ دور کے حکمرانوں سے امیدیں باندھنا ایک واضح غلطی ہے…
چنانچہ انتخابات کے موقع پر اور اس کے بعد ہم اور ہمارے تمام رفقاء یہی دعاء
مانگتے رہے کہ… یا اللہ ایسے حکمران عطاء فرما جو آپ کو
مانتے ہوں، آپ سے ڈرتے ہوں، آخرت کی فکر رکھتے ہوں… اور جہاد کے حامی ہوں… حضرت
شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک بہت عجیب نصیحت لکھی ہے…
وہ تحریر فرماتے ہیں:
’’مسلمان
کی انتہائی ترقی کا راز صرف ’’اسلامی تعلیمات‘‘ پر عمل کرنے میں مضمر ہے، اس کے
سوا کچھ نہیں ہے، لہذا آخری نصیحت اور وصیت کرتا ہوں کہ جہاں کسی ناجائز امر کو
دیکھو اور اس کے روکنے پر قدرت ہو اس میں دریغ نہ کرنا اور جہاں قدرت نہ ہو وہاں
نزاع وفساد پیدا نہ کرنا، یہ دو امر نہایت اہم اور دقیق ہیں۔ (الاعتدال فی مراتب
الرجال ص۲۸۸)
حضرت
رحمۃ اللہ علیہ کی اسی نصیحت کے مطابق ہم نے انتخابات وغیرہ پر نہ لکھا اس پر
لکھنا نہ لکھنا برابر تھا… بلکہ لکھنے میں یہ نقصان نظر آتا تھا کہ دینی طبقہ مزید
تقسیم کا شکار نہ ہوجائے… چنانچہ ہم مدینہ منورہ کی حسین راہوں اور یادوں سے اپنا
کالم سجاتے رہے… اور آج جب کہ نئی حکومت بن چکی ہے
تو الحمدللہ حکومت کی طرف کوئی توجہ نہیں کہ وہ ہمارے مسائل
حل کرے گی… بلکہ کل بھی ’’ اللہ ‘‘ آج بھی ’’ اللہ ‘‘… امریکہ کی خوفناک طاقت اور
صدر مشرف کی اس کے ساتھ بھرپور حمایت کے باوجود… جہاد اور مجاہدین کا کیا بگڑا
ہے؟…
آخر
کس نے ان خطرناک حالات میں جہاد اور مجاہدین کی نصرت فرمائی؟…
صرف اللہ تعالیٰ نے، جی ہاں
ایک اللہ تعالیٰ نے جو ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں… اب
موجودہ حکومت سے خوف اور امید وہی رکھے گا جس کی ٹانگ پر پاگل کتے نے کاٹا ہوگا…
موجودہ حکومت تو خود مسائل کے خوف سے تھر تھر کانپ رہی ہے… اور تو اور ہر پارٹی کی
خواہش تھی کہ ابتدائی گندگی اٹھانے کے لئے دوسری پارٹی کا وزیر اعظم بَلی (قربانی)
چڑھے… زرداری صاحب نے نواز شریف صاحب کی گردن میں گھنٹی باندھنے کی کوشش کی مگر وہ
بچ گئے… موجودہ حکومت اگر کچھ اچھا کام کرے گی تو خود اس کا اپنا فائدہ ہوگا… اور
اس کی ہر اچھائی اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہی مسلمانوں کو
نصیب ہوگی… اس لئے ہم اللہ تعالیٰ کو راضی رکھیں … اور مکمل
اسلام کو مانیں اور اس پر عمل کریں… اور یقین رکھیں کہ بغیر جہاد کے اسلام مکمل
نہیں ہوتا… اور نہ ہی وہ اسلام اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہے
جس میں جہاد کا انکار یا تحریف ہو…
موجودہ
حکومت کو اللہ تعالیٰ توفیق دے کہ وہ دین کو بھی سمجھے اور
حالات کو بھی… ماضی کے حکمرانوں نے امریکہ کی غلامی کی تو کیا حاصل کیا؟ موجودہ
حکومت اس ذلت ناک غلامی سے ملک کو نکالے… وزیرستان سے لے کر سوات تک تمام فوجی
آپریشن فی الفور بند کرے… اور جامعہ حفصہؓ کی دوبارہ تعمیر، حضرت مولانا عبدالعزیز
صاحب مدظلہ کی رہائی… اور لال مسجد میں ان کی بحالی کا اعلان کرے… ملک کے محسن
جناب ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب کو رہا کیا جائے… اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو
ان کے عہدے پر بحال کیا جائے… صدر مشرف نے غیر قانونی طور پر جن دینی جہادی
جماعتوں پر پابندی لگائی، ان پر سے پابندی ہٹائی جائے… اور امارت اسلامیہ
افغانستان کے خلاف امریکہ کا تعاون بند کیا جائے… بس یہی سادہ سے چند اقدامات پورے
ملک کو امن اور خوشحالی سے بھر سکتے ہیں… اور اگر خفیہ عقوبت خانے ختم کرکے غیر
قانونی طور پر زیر حراست تمام قیدیوں کو رہا کردیا جائے تو
انشاء اللہ اس ملک پر اللہ تعالیٰ کی
رحمتیں ہر جانب سے برسنا شروع ہوجائیں گی…
نئی
حکومت یہ سارے کام کرتی ہے یا نہیں… یہ اس کی اپنی قسمت… ہم بے گھر فقیروں کو اپنی
نظر ’’جنت کے ٹھکانے‘‘ پر رکھنی ہوگی، اور اللہ تعالیٰ سے
اس پر استقاُمت مانگنی ہوگی… ایک ایسی جماعت جو پورے دین کو مانتی ہو، پورے دین پر
حتی الوسع عمل کرتی ہو… مسلمانوں کو اپنی عظمت رفتہ کی بحالی کے لئے ایسی جماعت کی
ضرورت ہے… ایک ایسی جماعت جس میں دو لشکر ہوں، ایک لشکر غزا اور ایک لشکر دعاء…
ایک ایسی جماعت جو کفریہ طاقتوں سے بالکل مرعوب نہ ہو… ایک ایسی جماعت جس میں نماز
سے لے کر جہاد تک کا پورا نصاب موجود ہو… اور جس میں شہادت کا شوق اور تڑپ ہو… یہ
جماعت اسلام کی ضرورت ہے، یہ جماعت مسلمانوں کی ضرورت ہے، یہ جماعت ہم سب کی ضرورت
ہے…
بس
ہمارا اصل کام ایسی جماعت قائم کرنا، اس میں خود کو مٹا کر اپنا فرض ادا کرنا، اس
کے ساتھ وفادار رہنا… اور اس کی تعمیر وترقی کے لئے دن رات محنت کرنا… زمانے کی
قسم سب انسان خسارے میں ہیں… سوائے ان کے جو ایمان لائے، ایمان کے تقاضوں پر چلے،
حق پر خود بھی ڈٹے رہے اور دوسروں کو بھی اس کی طرف بلاتے رہے خود بھی مضبوطی سے
قائم رہے… اور دوسروں کو بھی مضبوط کرتے رہے… بس بھری دنیا میں یہی لوگ کامیاب
ہیں…
یا اللہ ہمیں
کامیاب لوگوں میں شامل فرما… اور ہمیں کامیابی والے کام پر لگا… باقی حالات کیا رخ
پکڑیں گے ؟ تو ہمار ایمان ہے کہ کل بھی اللہ … اور آج
بھی اللہ … بس یہی ہمارا سیاسی موقف ہے… اور یہی ہمارا سیاسی نعرہ ہے…
کل بھی اللہ … آج بھی اللہ … اور
ہمیشہ اللہ ہی اللہ …
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
ان کے درجات بلند فرمائے…وہ صاحبِ علم، صاحبِ قلم، صاحبِ بیان اور صاحبِ دل بزرگ
تھے… اللہ تعالیٰ نے ان کو ’’خیرِ کثیر‘‘ عطا فرمائی وہ
قرآن پاک کو سمجھتے تھے اور ’’علوم القرآن‘‘ کے ماہر تھے… وہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث
دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی حکمتوں کے امین اور حضرت شیخ الاسلام مولانا سیّد حسین
احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردِ رشید تھے… انہوں نے سعادت والی لمبی زندگی
پائی ۱۹۱۷ء
سے لیکر ۲۰۰۸ء
تک کا عرصہ… یہ بانوے برس کا سفر انہوں نے علم سیکھتے اور سکھاتے گزار دیا… وہ
دارلعلوم دیوبند کے نامور فاضل تھے، وہ تاریخ اسلامی کے بابرکت محقق حضرت مولانا
سرفراز صاحب صفدر مدظلہ العالی کے چھوٹے بھائی تھے، وہ پنجاب کی معروف و مستند
دینی درسگاہ جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ کے بانی تھے… انہوں نے ۱۹۵۲ء
میں اس شاندار مدرسے کی بنیاد رکھی… اللہ تعالیٰ قیامت تک
ان کے اس گلشن کو آباد رکھے… وہ کئی کتابوں کے مصنف تھے، ان کا مشہور درس قرآن
’’معالم العرفان‘‘ کے نام سے ۲۰ جلدوں
میں شائع ہو چکا ہے… انہوں نے ’’نماز مسنون‘‘ کے نام سے ایک ضخیم کتاب میں احناف
کی نماز کا عین سنت کے مطابق ہونا مضبوط دلائل سے ثابت کیا… وہ ’’علم المناظرہ‘‘
کے ماہر تھے انہوں نے امام اہلسنت حضرت مولانا عبدالشکور لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ کی
خدمت میں رہ کر اس ’’فن‘‘ کی تکمیل فرمائی تھی… وہ ’’طبیب‘‘ بھی تھے انہوں نے طبیہ
کالج حیدر آباد دکن سے طبّ کا چار سالہ کورس کیا تھا،
مگر اللہ تعالیٰ نے ان کا رخ ’’دوائیاں کوٹنے‘‘ سے قرآن
پاک پڑھانے اور سمجھانے کی طرف پھیر دیا… وہ استاذ العلماء ہونے کے ساتھ ساتھ ’’ابوالعلماء‘‘
بھی تھے ان کے ایک بیٹے تو فوت ہو گئے جبکہ باقی تینوں بیٹے
ماشاء اللہ جیّد عالم ہیں… وہ جہاد اور مجاہدین سے بہت محبت
فرماتے تھے اور مجاہدین کی عملی کارروائیاں سن کر خوش ہوتے تھے اور انہیں دعاؤں
سے نوازتے تھے… کل مورخہ ۲۸ ربیع
الاول ۱۴۲۹ھ
بروز اتوار اس دار فانی سے کوچ کر گئے…
انا
للہ وانا الیہ راجعون… ان اللہ ما اعطیٰ ولہ مااخذوکل شئی عندہ باجل
مسمّٰی… اللّٰھم لا تحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ…
چونکہ
ایسی جامع علمی شخصیات کا اٹھ جانا، پوری اُمت کیلئے صدمہ ہے اس لئے ہم… ان کے
صاحبزادوں اور عزیز و اقارب کے ساتھ ساتھ پوری اُمت مسلمہ سے بھی ’’تعزیت‘‘ کرتے
ہیں… یہ دنیا ’’عارضی متاع‘‘ اور ’’اُمتحان گاہ‘‘ ہے… ہم سب کو چاہئے کہ غفلتوں
اور دنیا پرستیوں کو چھوڑ کر اپنے وقت کو قیمتی… اور اپنی آخرت کو محفوظ بنانے کی
محنت کریں… اور اس فانی دنیا میں دل نہ لگائیں ؎
کمر
باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
بہت
آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں
نہ
چھیڑ اے نکہتِ باد بہاری راہ لگ اپنی
تجھے
اٹھکیلیاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں
اللہ تعالیٰ
حضرت شیخ التفسیررحمۃ اللہ علیہ کے درجات بلند فرمائے… اور ان کے صدقاتِ جاریہ کو
قبول فرمائے۔
ایک
مبارک تقریب
بہت
سے مسلمانوں کو پچھلے سال کا ایک دن یاد ہو گا… وہ تاریخ تھی ۲۳ ربیع
الاول ۱۴۲۸ھ
کی اور وقت تھا عشاء کے بعد کا… یعنی ۱۲ اپریل ۲۰۰۷ء
جمعۃ المبارک کی رات… اور رات کے سوا گیارہ بجے کا لمحہ… گاؤں کا نام تپّی اور
میدان کا نام تھا ’’وادی الشھداء… جی ہاں کوہاٹ شہر کے مضافات میں اہل ایمان کا
کھچاکھچ بھرا ہوا ایک میدان… جو اس لمحے تکبیر کے نعروں سے گونج رہا
تھا… اللہ اکبر، اللہ اکبر…سبیلناً
سبیلناً الجہاد ، الجہاد… یوں لگتا تھا کہ آسمان سے رحمت نازل ہو رہی ہے… ہزاروں
افراد تھے… مگر ہر کسی پر الگ رنگ تھا اور الگ کیفیت… کوئی آنسو بہا رہا تھا…
کوئی ہچکیاں لے رہا تھا… اور کوئی جوش سے بے ہوش تھا… خوشی بھی تھی اور غم
بھی…جذبات بھی تھے اور تصورات بھی… یہ بہت عجیب منظر تھا، ناقابل فراموش منظر…
انکارِ جہاد کے اس دور میں دعوت جھاد کا غلغلہ… مجمع میں موجود تھے اولیاء بھی،
علماء بھی اور شہداء کے وارث بھی… اس لمحے سب پر حال طاری تھا… اُمت مسلمہ کے
فاتحین اور مستقبل کے فدائی خود کو ’’نورانی سرور‘‘ میں تیرتا ہوا محسوس کر رہے
تھے… پنڈال میں نعرے گونج رہے تھے جبکہ اسٹیج پر ایک ’’بوڑھے بزرگ‘‘ ایک کتاب بانٹ
رہے تھے… انکارِ جھاد کے دور میں ’’آیات الجھاد‘‘ کی
کتاب… اللہ اکبر کبیرا…
کیا
آپ کو وہ منظر یاد ہے…؟… میں نے ایک صاحب سے پوچھا وہ تقریب کیسی تھی… فرمانے لگے
یوں لگتا تھا کہ جنت میں بیٹھا ہوں… خیر دنیا میں جنت کہاں؟… البتہ ایسی مبارک
مجلسیں جنت تک پہنچنے کا ذریعہ بن جاتی ہیں… اب آپ ایک اور تاریخ لکھ لیں… چند دن
بعد ہونے والے ایسے ہی ایک اجتماع کی تاریخ…مورخہ ۱۹ ربیع
الثانی ۱۴۲۹ھ
بمطابق ۲۶ اپریل ۲۰۰۸ء
ہفتہ کا دن… عشاء کی نماز کے بعد کا وقت… اور بہاولپور کی ’’مرکزی عید گاہ‘‘…
انشاء اللہ ’’فتح الجوّاد‘‘ کی دوسری جلد کا افتتاح ہو
گا…پھر اہل ایماں، اہل جنوںجمع ہونگے… پھر اللہ والے مل
بیٹھیں گے… ماشاء اللہ ، انشاء اللہ …
جو
مسلمان پچھلی تقریب میں شریک تھے وہ اس میں بھی آ جائیں … وہ جو کرایہ خرچ کریں
گے وہ بھی قیمتی… اور جو قدم اٹھائیں گے وہ بھی
قیمتی… اللہ کے بندو! جھاد کے فریضے کا احیاء کوئی معمولی
کام نہیں ہے… ربّ کعبہ کی قسم کوئی معمولی کام نہیں ہے… اور یہ تقریب بھی اسی
سلسلے کی ایک کڑی ہے…
اور
جو پچھلی تقریب میں شرکت سے رہ گئے تھے وہ آج ہی دو رکعت نماز ادا کر
کے… اللہ تعالیٰ سے شرکت کی دعا مانگیں اور ابھی سے تیاری
شروع کر دیں… ممکن ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے یہ تقریب
پچھلی تقریب سے بھی زیادہ بابرکت …اور مفید ہو… الحمدللہ … مدینہ منورہ کے پروانوں
نے ’’اجتماع‘‘ کی تیاریاں شروع کر دی ہیں… اور انہوں نے سب سے پہلے اپنے مالک کو
پکارا ہے… جی ہاں پورے ملک میں دین کے دیوانے، مدینہ پاک کے پروانے اس اجتماع کی
کامیابی کیلئے دعائیں اور وظیفے کر رہے ہیں…
میں
اپنی مسلمان ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں سے خاص طور پر دعاء کی درخواست کرتا ہوں…
ہماری جماعت کے پورے کام میں ہماری ماؤں، بہنوں کی دعاؤںکا بہت دخل ہے… انکی
مخلصانہ اور والہانہ دعائیں جماعت پر اللہ تعالیٰ کی رحمت
کے برسنے کا ذریعہ بنتی ہیں… گزشتہ آٹھ سال میں جماعت نے بہت نشیب و فراز دیکھے…
کئی لوگ ٹوٹے، ان سے زیادہ مزید لوگ جڑے، جماعت کے خلاف باتیں بھی بہت پھیلائی
گئیں… مگر آفرین اپنی غیور ماؤں، بہنوں پر جو اس پورے عرصہ میں جماعت کے ساتھ
جڑی رہیں اور غائبانہ دعاؤں سے مدد بھیجتی رہیں… اللہ پاک
ان سب کو’’اجر عظیم‘‘ عطاء فرمائے…
امید
ہے کہ اس اجتماع کے لئے بھی ماؤں، بہنوں کی طرف سے دعاؤں کا…
انشاء اللہ خاص اہتمام ہوگا…
ابھی
انیس دن باقی ہیں… ایسی مبارک تقریب، اور اتنے مفید اجتماع کے انتظار میں ایک ایک
دن بھاری ہے… ہر طرف طوفان بھی ہیں اور اندھیرے بھی… مگر ہم
نے اللہ تعالیٰ کا نام لیکر…
’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘پڑھ کر ان طوفانوں میں کشتی ڈال
دی ہے…
شب
تاریک و بیم موج و گردابے چنیں ھائل
دل
افگندیم بسم اللہ مجرٖیھا ومرسٰھا
ایک
رب کے سہارے… ایک اللہ تعالیٰ کے سہارے… بے
شک اللہ ایک ہے… اس کا کوئی شریک
نہیں…یا اللہ مدد فرما… یا اللہ مدد
فرما… یا اللہ مدد فرما…
آمین
وصل اللّٰھم علی حبیبک سیّدنا و مولانا وشفیعنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیراًکثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ رحمت فرمائے، اللہ تعالیٰ توفیق عطاء فرمائے آج چند باتیں عرض کرنی ہیں:
ایک
مبارک کتاب
آج
صبح سے میں اس بابرکت اور حیرت انگیز کتاب میں کھویا ہوا ہوں… ایک بار رکھتا ہوں
تو پھر دوبارہ اٹھا لیتا ہوں… اور پھر شوق اور بے تابی کے ساتھ کبھی کہاں سے شروع
کردیتا ہوں اور کبھی کہاں سے… اور پھر کبھی اسے چومتا ہوں اور کبھی اس پر احتیاط
سے اپنا پسندیدہ عطر لگاتا ہوں…
اس
کتاب کا ہر صفحہ خوشبودار ہے، منور ہے، معطر ہے… اس کتاب میں میرے آقا حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گیارہ سو ستتر (۱۱۷۷) اسماء مبارکہ مہک
رہے ہیں… حضرت مخدوم سیّد محمد ہاشم سندھی رحمۃ اللہ علیہ نے کمال کیا اور بڑا کام
کیا… اسی کتاب کے مرتب نے لکھا ہے کہ سخت گرمی کے موسم میں بھی حضرت مخدوم رحمۃ
اللہ علیہ کی قبر ٹھنڈی رہتی ہے… بے شک عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم
بڑی نعمت ہے… اللہ تعالیٰ مولانا نوید انور صاحب کو بہت بہت
جزائے خیر عطاء فرمائے کہ انہوں نے اور ان کے رفقاء نے اس کتاب کی ترتیب واشاعت
میں جان توڑ محنت کی ہے… ماشاء اللہ عجیب سرورق (ٹائٹل)
بنایا ہے، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر نام مبارک کو درود پاک
سے سجایا ہے… کتاب کو آرٹ پیپر پر چار رنگوں سے مزین کیا ہے… قصیدہ بردہ کا بھی
خوب ساتھ جوڑا ہے… ہر صفحے پر دلکش تصاویر کی کہکشاں بھی چمکائی ہے… اور آخر میں
بدری صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نام دے کر دعوت جہاد کی ذمہ داری بھی
ادا کی ہے… آپ یقین کریں یہ کتاب بہت نافع، بہت بابرکت اور بہت حسن والی ہے… میں
نے کل ہی کراچی سے منگوائی مگر ابھی تک اس کے ایک صفحے سے بھی آنکھیں سیر نہیں
ہوئیں… یہ تو ماشاء اللہ عجائبات کا مجموعہ ہے… کتاب کا نام
ہے ’’حدیقۃ الصفا فی اسماء النبی المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ ہمارے قارئین بھی
پتا نوٹ فرما لیں… مکتبہ رازی سلام کتب مارکیٹ، بنوری ٹاؤن
کراچی… اللہ اکبر کبیرا… زمانے کے ابوجہل اور ابولہب جب ذات
نبوت صلی اللہ علیہ وسلم پر گستاخیوں کے پتھر پھینکنے لگے تو اُمت
مسلمہ میں عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جذبہ پھیل گیا … یہ کتاب تین
سو سال پہلے لکھی گئی مگر شائع اب ہوئی… بے شک یہی اس کا بہترین وقت تھا، آج
مسلمانوں کو اس کی ضرورت ہے… جی ہاں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی
ذات مبارک سے محبت ہوگی تو دین پر چلنا آسان ہوگا… جہاد کرنا لذیذ ہوگا… اور دین
کے دشمنوں سے ٹکرانا اور انہیں مٹانا مسلمانوں کا قلبی شوق بن جائے گا… اس کتاب کے
مرتب اور ناشر سعدی فقیر کی طرف سے مبارکباد قبول فرمائیں…
اہل
کراچی ہوشیار
پیارا
شہر کراچی پھر منہ زور فتنوں کی لپیٹ میں آتا محسوس ہو رہا
ہے… اللہ تعالیٰ رحم فرمائے… صدر پرویز کے ڈوبتے اقتدار کو
اب دو ہی چیزوں کا سہارا ہے… ایک امریکہ اور دوسرا لسانیت پرست عناصر… ظلم اور بے
حیائی کی آٹھ سالہ تاریک رات مسلمانوں پر جاری رہے… یہ امریکہ کی سب سے بڑی خواہش
ہے… اور مسلمانوں کو مدینہ والے پاک عربی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے
توڑنے والے لسانیت پرست عناصر بھی امریکہ، برطانیہ کا ساتھ دے رہے ہیں…
کراچی
نے بہت ظلم دیکھا ہے… بہت ستم سہے ہیں… اللہ کرے اب کراچی
آزاد ہوجائے اور کراچی دین کا اور امن کا گہوارہ بن جائے… ملک کے حالات خراب کرنے
کے لئے قاتلوں کو اشارہ دے دیا گیا ہے… اور مظلوم لاوارث لاشوں کے لئے بوریاں تیار
کرلی گئی ہیں… کراچی والو ہوشیار رہو… یہ عذاب ٹل سکتا ہے اگر
تم اللہ تعالیٰ کو راضی کرلو، اپنے حقیقی مالک کو منالو… اس
کے لئے ایک چھوٹا سا نصاب پیش خدمت ہے:
۱۔ نماز
باجماعت کا اہتمام ہو، مساجد کی آبادی کی برکت سے شہر ویران ہوجانے سے بچ جاتے
ہیں۔
۲۔
زکوٰۃ، صدقات اور خیرات کا اہتمام ہو، خصوصاً جہاد میں مال لگائیں، اس سے مصیبتیں
ٹل جاتی ہیں… حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جہاد میں مال لگایا تو
ان کے علاقے ایسے پرامن ہوئے کہ بدامنی کا نام ونشان باقی نہ رہا اور وہ خود روم
وفارس کے خزانوں کے مالک بن گئے… سورۃ توبہ کی تفسیر میں حضرت امام رازی رحمۃ اللہ
علیہ اور دیگر مفسرین نے یہ نکتہ بیان فرمایا ہے، اہل علم ان تفاسیر میں ملاحظہ
فرمالیں…
۳۔
زنا، بدکاری اور بے حیائی سے اچانک موت کا عذاب آتا ہے، اس لئے ان گناہوں کے
سدّباب کی کوشش کی جائے… گھر سے نکلتے ہی دعاء کیا کریں کہ
یا اللہ میرے کان، آنکھیں، زبان، دل سب آپ کا دیا ہوا ہے
میں ان چیزوں کو آپ کی پناہ میں دیتا ہوں… انہیں اپنی نافرمانی سے بچائیے…
۴۔
گھروں سے ٹی وی نکال دیں یہ فتنوں کی جڑ ہے…
۵۔
گھر سے پہلا قدم باہر رکھتے ہی آیت الکرسی پڑھ لیا کریں… اور قرآن پاک کی آخری دو
سورتیں کثرت سے پڑھیں…
۶۔
درود شریف کی کثرت کریں اس سے رحمت نازل ہوگی اور زحمت ٹل جائے گی…
۷۔
استغفار کا اہتمام کریں، استغفار اس اُمت کی امان ہے…
۸۔
ہر زبان بولنے والا مسلمان اپنے ہم زبان لوگوں کو ’’لسانیت پرستی‘‘ سے بچنے کی
دعوت دے… لسانیت پرستی کا نعرہ بدبودار ہے اور یہ ذلت کاسبب ہے… اردو بولنے والے
اردو بولنے والوں کو، پشتو والے پشتو والوں کو، پنجابی والے پنجابی بولنے والوں کو
الغرض ہر قوم میں سے مدینہ منورہ کے غلام کھڑے ہوںاور لوگوں کو اس ذلت اور گناہ سے
بچنے کی دعوت دیں…
۹۔
روزانہ کی تلاوت کا اہتمام کریں، قرآن پاک کے سامنے کوئی باطل اور کوئی عذاب نہیں
ٹھہر سکتا…
۱۰۔
ہر طرح کے جھگڑوں، دنگوں، اختلافات اور نزاعات سے بچیں، مسلمانوں کا باہمی نزاع ان
پر عذاب کا ذریعہ بنتا ہے…
اللہ تعالیٰ
کراچی اور اہل کراچی پر رحم فرمائے… اور اس شہر کی حفاظت فرمائے… یہ مجاہدین،
علماء اولیاء اور دین کے خادموں کا شہر ہے…
اجتماع
کی طرف
اللہ تعالیٰ
توفیق عطاء فرمائے بہاولپور کے اجتماع میں شرکت کی ضرور کوشش کریں… پچھلے سال کے
اجتماع میں شریک کئی بہادر نوجوان کافروں اور مشرکوں سے لڑتے ہوئے شہید ہوچکے ہیں…
بس اسی سے اندازہ لگائیں کہ اس طرح کے اجتماعات میں آپ کو کن لوگوں کی صحبت نصیب
ہوتی ہے…
جی
ہاں فاتحین، مقبولین اور مستقبل کے شہداء کرام کی صحبت… ان لوگوں کی صحبت جو دین
کی خاطر اپنے جسم کا ہر ذرّہ قربان کرتے ہیں… ایسے اجتماعات میں شرکت ’’مغفرت‘‘ کا
ذریعہ بنتی ہے… اور آپ کو اُمت مسلمہ کے ساتھ اپنی آواز ملانے کا موقع دیتی ہے…
امریکہ اور نیٹو سے لڑنے والے، گستاخان رسول کے گریبانوں میں ہاتھ ڈالنے والے اور
مشرکین کی گردنیں توڑنے والے لوگ… اللہ تعالیٰ کے وہ اولیاء
ہیں جن کی زیارت بھی انشاء اللہ باعث سعادت ہے… آج ہر
مسلمان دنیا اور مال بنا رہا ہے جبکہ یہ دیوانے اپنا سب کچھ قربان کرکے دین کی
حفاظت کر رہے ہیں… آپ سب کی خدمت میں درد مندانہ گذارش ہے کہ اپنا مال اور وقت خرچ
کرکے اس اجتماع میں شرکت فرمائیں… اور اپنی شرکت کو ’’مقبول‘‘ بنانے کے لئے ان
امور کا خیال رکھیں:
۱۔ نیت
خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کی ہو اور مقصد یہ ہو
کہ اللہ تعالیٰ کے کلمے کی سربلندی والی محنت میں ہمارا حصہ
شامل ہوجائے۔
۲۔
قرآن پاک بار بار سمجھاتا ہے کہ غیر جہادی اسلام قابل قبول نہیں ہے، جہاد قرآن کا
حصہ ہے، جہاد اسلام کا حصہ ہے اور جہاد اس دین کا سب سے بلند مقام ہے، اب آپ خود
اندازہ لگائیں کہ اسلام کا یہ فریضہ مسلمانوں کو سکھانا اور سمجھانا کتنا ضروری
ہے… ورنہ دنیا بھر کے کافر اور منافق مسلمانوں کو یہی سمجھا رہے ہیں کہ اسلام میں
سے جہاد کو نکال دو یا اس کا معنیٰ بدل دو۔
۳۔
قربانی کے جذبے کے ساتھ آئیں، سفر کی تکالیف کو اجر سمجھ کر برداشت کریں، کھانے
پینے کی طرف زیادہ توجہ نہ رکھیں، ہر وقت معدہ بھرا رکھنا مومن کی شان نہیں ہے، اس
لئے کھانے پینے کے معاملے میں گزارہ کریں اور
توجہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف رکھیں، زندگی کا ایک دن
اور ایک رات اگر دین کی خاطر بھوک، پیاس اور بے آرامی میں گزرے تو سعادت ہے…
انشاء اللہ زندگی کے ایسے دن اور ایسی راتیں ہی ہمارے اصل
کام آئیں گی۔
۴۔
اپنے دماغ سے تنقید کی کیسٹ اور سی ڈی نکال کر گھر چھوڑ جائیں… یہ عادت ہمیں ہر اس
جگہ محروم رکھتی ہے جہاں ہم کچھ پا سکتے ہیں… اسلام کے احکامات بہت وسیع اور اونچے
ہیں… گھڑی کس ہاتھ میں باندھی جائے اور کیلا کیسے کھایا جائے اسلام اسی کا نام
نہیں ہے… لوگوں نے اپنے چھوٹے چھوٹے حلقے مضبوط بنانے کیلئے بعض ذوقی چیزوں کو اصل
دین بنایا ہوا ہے… ہم بار بار جو عرض کرتے ہیں کہ رسول پاک صلی اللہ
علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شمائل اور
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حالات زندگی پڑھیں… اس کا ایک مقصد یہ بھی
ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو فضول تنگ نظری سے نجات ملے… اس اجتماع میں کچھ پانے اور
حاصل کرنے کی نیت سے تشریف لائیں… راستے میں دعاء کرتے آئیں کہ
یا اللہ اس شرکت کو میری اصلاح کا ذریعہ بنا… ہر بیان سے
پہلے دعاء کریں کہ یا اللہ اس بیان میں میری اصلاح کا سامان
عطاء فرما… اور کہنے والے کی زبان سے میری غلطیوں کا علاج عطاء فرما۔
۵۔
خدمت کے جذبہ سے آئیں… خدمت کرنے والوں کے لئے فرشتے دعائیں کرتے ہیں… اپنے رفقاء
سفر کی خدمت اور اجتماع میں شریک مسلمانوں کی خدمت … یاد رکھیں دینے والا ہاتھ
لینے والے ہاتھ سے افضل ہوتا ہے… آپ یہی نیت کریں کہ میں دوسروں کی خدمت کروں گا
اور دوسروں کو فائدہ پہنچاؤں گا… تب اللہ تعالیٰ آپ کو
دوسروں کی خدمت کے اسباب اور وسائل عطاء فرمائے گا… لیکن اگر دوسروں پر بوجھ بننے
کی نیت ہو تو انسان حقیر ہوجاتا ہے… اللہ پاک حفاظت فرمائے۔
یہ
ہے اجتماع میں اپنی شرکت کو قیمتی بنانے والی ایک آسان سی ترتیب
… اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطاء فرمائے… یہ مشورہ
بھی آرہا تھا کہ خواتین کے لئے بھی شرکت کا نظام بنایا جائے، مگر دعاء اور غور و
خوض کے بعد … یہی طے ہوا ہے کہ شرعی حدود کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے یہ انتظام
کرنا اتنے مختصر سے وقت میں ممکن نہیں ہوپائے گا… اب ہماری مائیں بہنیں خود تو
اجتماع میں شریک نہیں ہوسکیں گی مگر وہ اجتماع کا پورا پورا فائدہ اٹھا سکتی ہیں…
اور خوب اجر اور برکت انشا ء اللہ حاصل کرسکتی ہیں… اور وہ
اس طریقے سے کہ
۱۔ روزانہ
اجتماع کی عند اللہ قبولیت، کامیابی اور حفاظت کی دعاء کرتی رہیں
۲۔
گھر کے مردوں کو اجتماع پر بھیجیں اور ان کا سامان اپنے ہاتھوں سے تیار کریں
۳۔
اپنے بھائی، بیٹے یا کسی غریب رشتہ دار کو اجتماع میں جانے کا کرایہ دیں
۴۔
اجتماع کے انتظامات میں اپنا حصہ ڈالیں
۵۔
اجتماع کی کیسٹیں منگوا کر سنیں
۶۔
’’فتح الجوّاد‘‘ لے کر خود بھی پڑھیں اور دوسروں تک بھی پہنچائیں
۷۔
اجتماع والی رات صلوٰۃ الحاجۃ اور درود شریف پڑھ کر خاص دعاء کا اہتمام کریں
وصلی اللہ تعالیٰ
علی خیر خلقہ سیّدنا محمد وآلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
کا بے حد احسان اور شکر ہے کہ… فتح الجوّاد کی دوسری جلد شائع ہوگئی ہے…
ماشاء اللہ پہلی جلد سے زیادہ خوبصورت اور وزنی ہے…
بہاولپور میں آج سے چار دن بعد انشاء اللہ اس کی تقریب
رونمائی ہے… سنا ہے کہ خوب تیاری ہورہی ہے اور ہر طرف ’’دعوتِ جہاد‘‘ کی بہار نظر
آرہی ہے… کراچی سے لے کر خیبر تک بسوں اور کوچوں کے قافلے بہاولپور جانے کے لئے
تیار ہیں… ماشاء اللہ لا قوۃ الا ب اللہ … ایسے وقت میں
مجھے کچھ لوگ، جی ہاں بڑے لوگ یاد آرہے ہیں… یہ ۹ھ کا زمانہ تھا
اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تیس ہزار جانثاروں کے ساتھ
غزوۂ تبوک کے لئے تشریف لے جارہے تھے مگر… کچھ لوگ رو رہے تھے، بہت زیادہ رو رہے
تھے… قافلہ جارہا تھا اور دور ہو تا جارہا تھا مگر… ان حضرات کے پاس سواریاں نہیں
تھیں کہ ساتھ جاسکیں… آئیے جہاد کی محبت میں رونے والے ان حضرات کا تھوڑا سا تذکرہ
کرلیتے ہیں… جی ہاں تفاسیر کی روشنی میں تھوڑا سا مگر بہت دلکش تذکرہ … اور پھر
آخر میں ایک چھوٹی سی بات…
کچھ
تذکرہ جہاد کے مخلص عاشقوں کا
قرآن
پاک نے سورۂ توبہ کی آیت (۹۲) میں
جہاد کے سچے عاشقوں کا عجیب تذکرہ فرمایا ہے… یہ لوگ معذور تھے، ان کے پاس سواری
نہیں تھی مگر وہ شوق جہاد میں بلک بلک کر تڑپ تڑپ کر رو رہے تھے…
۱۔ ایک
طرف منافقین تھے جو اسباب ہونے کے باوجود جھوٹے بہانے بنا رہے تھے اور ایک طرف یہ
مخلص عاشقینِ جہاد تھے کہ معذور ہونے کے باوجود غم اور بے چینی سے آنسو بہا رہے
تھے…
۲۔
لوگ مصیبتوں، تھکاوٹوں اور سختیوں سے بچنے کے لئے ہر محنت کرتے ہیں جبکہ اسلام کے
یہ بیٹے خود کو جہاد، گرمی اور سفر کی تکلیف میں ڈالنے کے لئے رو رہے تھے…
۳۔
یہ لوگ بھی کہہ سکتے تھے کہ جہاد لغت میں محنت کو کہتے ہیں اور ہم مدینہ میں رہ کر
محنت کرکے جہاد کا ثواب لے لیتے ہیں مگر وہ دین کو سمجھنے والے صحابہ کرام رضوان
اللہ علیہم اجمعین تھے ان کے پاس نہ جانے کا سچا عذر بھی تھا مگر پھر بھی ان کی
آہیں اور نالے آسمان کو ہلا رہے تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ جہاد کیا ہے اور جہاد
میں کتنی فضیلت ہے…
۴۔
ان کے آنسو سچے تھے، اللہ پاک نے ان کو اتنا پسند فرمایا کہ
ان کے آنسوؤں کا تذکرہ قرآن پاک کا حصہ بنادیا اور
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر جہاد کے دوران
انہیں یاد رکھا اور فرمایا کہ وہ ہمارے اجر میں شریک ہیں…
۵۔ اللہ تعالیٰ
ان حضرات کو پوری اُمت مسلمہ کی طرف سے جزائے خیر عطاء فرمائے کہ ان کے آنسو آج تک
جہاد کے مسئلے پر پڑنے والے ہر تحریفی غبار کو دھو کر رکھ دیتے ہیں… (و
اللہ اعلم بالصواب)
جوتے
دیدیجئے ہم پیدل دوڑتے جائیں گے
مفسرین
نے لکھا ہے کہ ان حضرات میں سے بعض نے یہاں تک عرض کیا کہ ہمیں سواری نہیں ملتی تو
کوئی حرج نہیں ہمیں چمڑے کے موزے اور جوتے مل جائیں تو ہم مجاہدین کے اونٹوں کے
ساتھ دوڑتے جائیں گے…
علامہ
آلوسی پ لکھتے ہیں:
فکانہم
قالوا: احملنا علیٰ مایتیسر او المراد احملنا ولو علی نعالنا واخفافنا۔ (روح
المعانی)
تفسیر
مظہری میں ہے:
یہ
بھی کہا گیا ہے کہ (جن لوگوں کے پاس سواریاںنہ تھیں ان) لوگوں نے یہ خواہش کی تھی
کہ ہم کو پیوند لگے موزے اور مرمت کی ہوئی جوتیاں عنایت کردیجئے تاکہ ہم آپ کے
ساتھ دوڑ سکیں۔ (مظہری)
ان
کے آنسو نہیں … گویا آنکھیں بہہ رہی تھیں
’’اعینہم
تفیض من الدمع: یہ جملہ بہت بلیغ ہے کہ اس میں آنکھ ہی کو بہتا ہوا
آنسو بنادیا گیا۔ (مفہوم ماجدی)
اللہ ، اللہ جہاد
کتنی بڑی چیز ہے، حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کو سمجھتے تھے اس
لئے اس سے محرومی کے غم کی وجہ سے ان کے آنسو اس قدر بہہ رہے تھے کہ گویا آنکھیں
ہی بہہ جائیں گی… اسی وجہ سے ان کا نام ’’البکّاؤن‘‘ یعنی بہت رونے والے پڑ گیا…
امام
قرطبی پ لکھتے ہیں:
فَسُمّوا
البکائین (القرطبی)
سات
بھائی، ساتوں صحابی، ساتوں مجاہد
امام
قرطبی پ لکھتے ہیں کہ ایک قول کے مطابق یہ آیت سات بھائیوں کے متعلق نازل ہوئی یہ
سب ’’مقرّن‘‘ کے بیٹے تھے، ان کے اسماء گرامی یہ تھے:
۱۔ نعمان ۲۔
معقل ۳۔عقیل ۴۔سوید ۵۔سنان ۶۔عبد
اللہ ۷۔عبدالرحمن
رضی اللہ عنہم اجمعین
یہ
سب ’’صحابی‘‘ تھے اور ان کے علاوہ یہ شرف کسی کو حاصل نہیں کہ سات بھائی صحابی
ہوں… انہوں نے ہجرت کی اور یہ ساتوں بھائی غزوہ خندق میں حضور اکرم صلی
اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے…
وقیل
نزلت فی بنی مقرّن وعلیٰ ہذا جمہور المفسرین ۔ وکانوا سبعۃ اخوۃ کلہم صحبوا
النبی صلی اللہ علیہ وسلم ولیس فی الصحابہ سبعۃ اخوۃ غیرہم… ہاجروا
وصحبوا الرسول صلی اللہ علیہ وسلم … وقد قیل انہم شہدوا الخندق کلہم
(القرطبی)
تنبیہ: جن
حضرات کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں ان کی تعیین میں مفسرین کے کئی اقوال ہیں
ملاحظہ فرمائیے قرطبی، ابن کثیر، مظہری، روح المعانی۔
اس
پر روتے تھے کہ قربانی سے رہ گئے
’’شدّت
درد و غم سے بے اختیار ہو کر رونے لگتے تھے۔ کس بات پر؟ اس پر کہ عیش و راحت میں
انہیں حصہ نہیں ملا؟ نہیں… اس پر کہ راہِ حق کی مصیبتوں اور قربانیوں میں شریک
ہونے سے رہ گئے۔‘‘ (ترجمان القرآن)
ان
کے آنسو آج بھی زندہ ہیں
’’
ان کے دردو غم کا یہ حال تھا کہ ’’البکّائین‘‘ کے نام سے مشہور ہوگئے تھے، یعنی
بہت رونے والے (ابن جریر)۔
سبحان اللہ
، ان چند آنسوؤں کی قدر و قیمت جو ایمان کی تپش سے بہے تھے کہ ہمیشہ کے لئے ان کا
ذکر کتاب اللہ نے محفوظ کردیا… آج بھی کہ تیرہ صدیاں گزر
چکی ہیں، ممکن نہیں، ایک مؤمن یہ آیت پڑھے اور ان آنسوؤں کی یاد میں خود اسکی آنکھیں
اشکبار نہ ہوجائیں۔‘‘ (ترجمان القرآن)
کوئی
ہے جو ایسی مثال لائے؟
حضرت
شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے
ہیں:
’’سبحان اللہ نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے
دلوں میں عشق الٰہی کا وہ نشہ پیدا کیا تھا جس کی مثال کسی قوم وملت کی تاریخ میں
موجود نہیں… مستطیع اور مقدور (یعنی استطاعت اور قدرت) رکھنے والے صحابہ (ڑ)کو
دیکھو تو جان و مال سب کچھ خدا کے راستے میں لٹانے کو تیار ہیں اور سخت سے سخت
قربانی کے وقت بڑے ولولہ اور اشتیاق سے آگے بڑھتے ہیں (اور) جن کو مقدور (یعنی
قدرت) نہیں وہ اس غم میں رو رو کر جان کھوئے لیتے ہیں کہ ہم میں اتنی استطاعت کیوں
نہ ہوئی کہ اس محبوب حقیقی کی راہ میں قربان ہونے کے لئے اپنے کو پیش کرسکتے، حدیث
صحیح میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہدین کو خطاب کرکے فرمایا کہ تم
مدینہ میں ایک ایسی قوم کو پیچھے چھوڑ آئے ہو جو ہر قدم پر تمہارے اجر میں شریک
ہے، تم جو قدم خدا کے راستے میں اٹھاتے ہو یا کوئی جنگل قطع کرتے ہویا کسی پگڈنڈی
پر چلتے ہو، وہ قوم برابر ہر موقع پر تمہارے ساتھ ساتھ ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جنہیں
واقعی مجبوریوں نے تمہارے ہمراہ چلنے سے روکا … حسن پ کے ’’مرسل‘‘ میں ہے کہ یہ
مضمون بیان فرما کر آپ نے یہ ہی آیت
ولا
علی الذین اذا ما أتوک لتحملہم قلت لا اجد الخ
تلاوت
فرمائی۔ (تفسیرعثمانی)
ایک
چھوٹی سی بات
ہم
سب نے چند بڑے لوگوں کا تذکرہ پڑھ لیا… یقینا آنکھیں بھی بھیگ گئیں… آپ نے سوچا کہ
اس ’’تذکرے‘‘ سے ہمیں کیا سبق ملا؟… یہی نا! کہ جہاد میں جانے کے لئے پور ازور
لگانا چاہئے کہ مسلمان کو جہاد میں بڑی کامیابی ملتی ہے… اور اگر نہ جا سکیں تو
پھر آنسو بہانے چاہئیں… یہ بالکل ٹھیک مگر ایک اور بات بھی تو سمجھ میں آتی ہے …
وہ یہ کہ نیت سچی ہو تو اللہ تعالیٰ کسی کو محروم نہیں
فرماتا … اس نے کسی کو سواری دی، کسی کو راستہ دیا، کسی کو طاقت دی، کسی کو امن
دیا… اور کسی کو ان چیزوں میں سے کچھ نہ دیا تو آنسو دے دیئے … انہوں نے سچے آنسو
بہائے اورسواری والوں کے ساتھ پہنچ گئے اور اجر پا گئے… بہاولپور میں
انشاء اللہ ’’فتح الجوّاد‘‘ کی تقریب ہوگی… کچھ لوگ بسوں
میں جائیں گے … قریب والے پیدل آئیں گے… زیادہ دور والے جہازوں اور ریل گاڑیوں سے
آئیں گے… مگر ہم ؟؟؟… ٹھیک ہے اگر نہ جاسکے تو آنسو تو بہالیں گے… جی ہاں دنیا کا
کوئی جبر آنسو بہانے سے تو نہیں روک سکتا… تشکر کے آنسو، استغفار کے آنسو، التجا
اور شوق کے آنسو… دعوتِ جہاد کے اجتماع میں جانے والو! مبارک ہو، بہت مبارک…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
کی رحمت اور نصرت ہوئی… الحمدللہ بھاولپور کا اجتماع بہت
مفید اور مثالی رہا… اللہ پاک اپنے فضل سے قبول فرمائے، اور
اس کے مثبت اثرات اُمت مسلمہ کو عطاء فرمائے… آج کے ’’القلم‘‘ میں آپ اجتماع کی
کارگذاری پڑھ لیں گے… حضرات علماء کرام نے احسان فرمایا کہ اتنی بڑی تعداد میں
’’اجتماع‘‘ کو رونق بخشی… کچھ حضرات باوجود خواہش کے شرکت نہ فرما سکے… مگر انہوں
نے دعاؤں اور نیک تمناؤں کے پیغامات بھیجے… اجتماع رات بھر جاری رہا اور فجر کی
اذان کے بعد ختم ہوا… جن بزرگوں اور علماء کرام کو اس طوالت سے تکلیف پہنچی ہو ان
کی خدمت میں معذرت عرض ہے… ماشاء اللہ اچھے بیانات ہوئے،
انتظامات بھی بہترین تھے… اور الحمدللہ شرکت کرنے والوں کے
تأثرات بہت ایمان افروز ہیں… ایک شہید کے والد صاحب فرما رہے تھے کہ اس اجتماع نے
تو مجھے جوان کردیا ہے… آئیے خوشی کے اس موقع پر چند باتوں کا مذاکرہ کرلیتے ہیں…
حضرت
شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی عجیب عبارت
غزوۂ
بدر میں مسلمانوں کوعجیب خوشی نصیب ہوئی… اسی خوشی کی تھکاوٹ میں تھوڑا سا اختلاف
بھی ہوگیا… حضرت شاہ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
جنگ
میں بعضے آگے بڑھے اور بعضے پشت پر رہے، جب غنیمت جمع ہوئی بڑھنے والوں نے کہا یہ
حق ہمارا ہے فتح ہم نے کی اور پشتی (یعنی پیچھے سے مدد کرنے) والوں نے کہاتم ہماری
قوت سے لڑے… حق تعالیٰ نے دونوں کو خاموش کیا کہ
فتح اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہے… زور کسی کا پیش نہیں جاتا…
(یعنی کام نہیں آتا)
سو
مالک مال کا اللہ تعالیٰ ہے اور نائب اس کا
رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے، پھر آگے بہت دور تک یہی بیان فرمایا کہ
فتح اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہے اپنی قوت سے نہ سمجھو۔(موضح
القرآن)
اس
عبارت سے دو سبق ملے پہلا یہ کہ بڑی خوشی کے بعد اختلافات کا خطرہ ہوتاہے، پس
جماعت کا ہر فرد جو اللہ تعالیٰ کو اپنا رب مانتا ہے… اور
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا اُمتی ہے… وہ
خود کو اختلاف میں پڑنے سے بچائے… اور اختلاف ڈالنے والی کوئی بات زبان سے نہ
نکالے… ورنہ اپنی زندگی بھر کے اعمال برباد کر بیٹھے گا…
اور
دوسرا سبق یہ کہ کوئی بھی اپنی ذات اور محنت پر نظر اور فخر نہ کرے… بلکہ یہی محکم
عقیدہ رکھے کہ جو کامیابی ملی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی نصرت ہی
سے ملی ہے…
اجتماع
کے فوراً بعد کا پیغام
الحمدللہ جس
وقت اجتماع کی ہر طرف دھوم مچی ہوئی تھی… اپنے اور غیر سب حیران تھے… غریب مجاہدین
عجیب خوشی اور سرشاری محسوس کر رہے تھے… اس وقت جماعت کے خادم کی طرف سے یہ پیغام
ہر طرف بھجوایا جارہا تھا…
السلام
علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
تمام
ہم جماعت ساتھیوں کے لئے رحمت الٰہی کی دعاء… اور
مبارکباد… اللہ تعالیٰ نے بہت احسان اور فضل فرمایا،
ماشاء اللہ ، بارک اللہ … اللہ پاک
قبول فرمائے، تمام ساتھی اللہ پاک کی رضا کیلئے فوراً یہ
پانچ کام کرلیں:
۱ دو
رکعت شکرانے کی نماز ادا کریں
۲ ایک
سو بار سبحان اللہ وبحمدہ
سبحان اللہ العظیم وبحمدہ استغفر اللہ پڑھیں
۳ تین
سو بار یہ استغفار پڑھیں : یا غفار اغفرلی ذنوبی
۴ ’’فتح الجواد‘‘ زیادہ سے زیادہ مسلمانوں تک
پہنچانے کی کوشش کریں آپ کا اجر بھی شامل ہوجائے گا
۵ قرآن
پاک کے دو جملے ہیں (پہلا) ’’ اللہ پاک ہی نے بدرمیں تمہاری نصرت
فرمائی جبکہ تم کمزور تھے‘‘… اس جملے کی کیفیت ہم سب پر طاری رہے۔ (دوسرا) ’’اور
حنین کے دن تمہیں اپنی کثرت پر ناز ہوا تو وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی اور کشادہ
زمین تم پر تنگ ہوگئی‘‘۔ اس جملے کے مطابق ہم عُجُب اور فخر سے بچیں… والسلام خادم
جن اللہ کے
بندوں نے سچی بیعت کی ہے … اپنے رب کو راضی کرنے اور اپنی آخرت کو کامیاب بنانے
کیلئے … انہو ں نے اس پیغام پر عمل کیا…
یوں
برکتیں محفوظ ہوگئیں… اور خوشبوئیں لافانی بن گئیں…
ماشا
ء اللہ لا قوۃ الا ب اللہ …
ایک
افواہ
ریٹائرڈ
جنرل پرویز مشرف نے بہاولپور میں ہمیشہ ایسی انتظامیہ تعینات رکھی… جو ہماری جماعت
کو ستاتی رہے، دباتی رہے… اس انتظامیہ کی کچھ ’’باقیات سیئات‘‘ اب بھی موجود ہیں…
اس بار اللہ تعالیٰ کے فضل سے شہداء کرام کے خون کی برکت
اور اُمت مسلمہ کی دعائیں رنگ لائیں اور انتظامیہ نے کوئی رکاوٹ نہ ڈالی… مگر ایک
خاص برانچ کے کچھ بدقسمت افسر مووی کیمرے لاکر ماحول کو خراب اور مشکوک بناتے رہے…
بعض لوگوں نے سمجھا کہ نعوذباللہ باقاعدہ مووی بن رہی ہے… حالانکہ
ایسا ہر گز نہیں تھا…
اب
تو لوگ دینی جلسوں کی کھلم کھلا مووی بنا رہے ہیں… اگر ہم بھی اسے ٹھیک سمجھتے تو
ضرور بنالیتے مگر نہ ٹھیک سمجھا ہے… اور نہ بنایا ہے… اسپیشل برانچ کے کچھ اہلکار
سیکورٹی کے نام پر مووی بنانے آئے تو ان کو روک دیا گیا … و
الحمدللہ رب العالمین…
نصرت
رُک نہ جائے
غزوۂ
بدر کے بعد جب حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان تھوڑا سا
اختلاف ہوا تو قرآن پاک نے خوب سمجھایا کہ… اگر ایک فتح کے بعد تم لوگ آپس میں ٹوٹ
گئے تو آئندہ کیلئے نصرت رک جائے گی… اور دشمن تم پر غالب آجائیں گے… اس لئے سارے
کام چھوڑو سب سے پہلے ’’اصلاح ذات البین‘‘ کرو… یعنی آپس کے معاملات ٹھیک کرلو…
اگر آپس کے معاملات ٹھیک ہوگئے تو دنیا وآخرت کی ہر کامیابی تمہارا مقدر بنے گی…
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تو بہت اونچے لوگ تھے ان سے تو بعض کام آئندہ
اُمت کی تعلیم کے لئے کرائے جاتے تھے… انہوں نے فوراً لبیک کہی… ہر کسی نے دوسرے
کے حق کو مانا، اپنا حق چھوڑا، ایک دوسرے کو معاف کیا تو جماعت جڑ گئی… اور پھر
کچھ عرصہ بعد روم و فارس کی فاتح بن گئی… سبق یہ ملا کہ ہر خوشی کے بعد جماعت کے
بڑوں اور چھوٹوں کو مل بیٹھنا چاہئے اور آپس کے معاملات کی مکمل اصلاح کرلینی
چاہئے… تاکہ جنت میں داخلے تک کامیابیوں کا سلسلہ جاری رہے… کیونکہ ابھی تو بہت
مرحلے باقی ہیں، بہت منزلیں باقی ہیں…
واصلحوا
ذات بینکم
غزوۂ
بدر کے فوراً بعد جو احکامات دیئے گئے ان میں سے ایک اہم سبق یہ تھا… واصلحوا ذات
بینکم اور آپس میں صلح رکھو… آپس کے تعلقات اور معاملات کو درست کرو…
امام
نسفیپ لکھتے ہیں:
یعنی
ما بینکم الاحوال تکون احوال الفۃ ومحبۃ واتفاق
’’یعنی
آپس میں الفت، محبت اور اتفاق والے حالات بناؤ‘‘(المدارک)
۲ واصلحوا
ذات بینکم یعنی آپس کے سابقہ (تعلقات اور معاملات) کو ایسا سنبھالو، سنوارو کہ
باہمی رشک ومسابقت (یعنی حسد اور ایکدوسرے کو نیچا دکھانے) کا نام و نشان نہ رہے
اور بندوں کے حقوق پوری طرح ادا کرو (ماجدی)
۳ مراد
اس سے زبان کی حفاظت ہے، امام ابن کثیرپ لکھتے ہیں:
وقال
السدی فاتقوا اللہ واصلحوا ذات بینکم ای لا تستبوا
سدّی
پ فرماتے ہیں کہ اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کو برا بھلا نہ کہو،
گالیاں نہ دو(ابن کثیر)
امام
رازی پ لکھتے ہیں:
واصلحوا
ذات بینکم من الاقوال یعنی آپس کے اقوال اور باتوں کو درست کرو۔
۴ ہر
طرح کے جھگڑوں سے بچو۔ امام ابن کثیرپ لکھتے ہیں:
واصلحوا
ذات بینکم ولا تظالموا ولاتخاصموا ولاتشاجروا
یعنی
آپس میں تعلقات درست رکھو، ایکدوسرے پر ظلم نہ کرو، ایکدوسرے سے جھگڑا نہ کرو اور
آپس میں نزاع نہ کرو (تفسیر ابن کثیر)
آپس
میں صلح وآشتی سے رہیں اور ذرا ذرا سی بات پر جھگڑے نہ ڈالیں (تفسیر عثمانی)
۵ کئی
مفسرین حضرات نے واصلحوا ذات بینکم کا مطلب یہ بیان فرمایا ہے کہ مال غنیمت پر جو
اختلاف اور کچھ کھینچا تانی ہوگئی تھی اب آپس میں صلح کرکے اور لیا ہوا مال واپس
کرکے اس کی تلافی کرو… یعنی اختلافات اور جھگڑے کے اثرات تک کو ختم کردو۔ (فتح
الجوّاد ص۲۶ج۲)
آپس
میں اصلاح اور صلح کا یہ حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو
دیا ہے… پس جو اللہ تعالیٰ کو مانتا ہے اس پر اس حکم کا
ماننا بھی لازم ہے… خصوصا ہر خوشی اور فتح کے بعد اس حکم کا مذاکرہ ضروری ہے… ورنہ
ہوتا یہ ہے کہ ہزاروں لاکھوں لوگ اجر اور بخشش کے خزانے لوٹ رہے ہوتے ہیں… جبکہ
کچھ بدنصیب اس وقت بھی محروم رہتے ہیں… اللہ پاک ہم سب پر
رحم فرمائے…
تقویٰ
کا ایک عجیب معنیٰ
غزوۂ
بدر کے بعد مسلمانوں کو فتح کی خوشی برداشت کرانے اور اختلافات سے بچانے کا جو
قرآنی نسخہ … سورۃ انفال میں نازل ہوا اس میں ایک حکم یہ ہے ۔
فاتقوا
اللہ
یعنی اللہ تعالیٰ
سے ڈرو…
امام
قرطبیپ نے لکھا ہے کہ … یہاں تقویٰ کا معنیٰ آپس کے اختلافات سے بچنا ہے …فتح
الجوّاد میں ہے:
’’ویسے
تو جہاد میں ہر قدم پر تقویٰ لازمی ہے، تاکہ کسی بھی موقع
پر اللہ تعالیٰ کی نصرت سے محرومی نہ ہو اور جہادی طاقت کا
غلط استعمال نہ ہو…
مگر
یہاں جس تقویٰ کا خاص طور پر حکم دیا گیا ہے اس کا تعلق مجاہدین کے باہمی معاملات
سے ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور آپس میں اختلاف نہ کرو اور
اختلاف سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے امیر کی اطاعت کرو…
امام
قرطبیپ لکھتے ہیں:
فاتقوا اللہ واصلحوا
ذات بینکم امر بالتقوی والاصلاح، ای کونوا مجتمعین علی
امر اللہ فی الدعاء اللہم اصلح ذات البین، ای الحال التی
یقع بہا الاجتماع الخ (القرطبی) (فتح الجوّاد ص۲۴ج۲)
اس
سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سب کو یہ دعاء کرنی چاہئے…
اَللّٰہُمَّ
اَصْلِحْ ذَاتَ اَ لْبَیْنٍ … اَللّٰہُمَّ اَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِنَا…
آپ
حیران ہوں گے
الحمدللہ ہر
طرف اجتماع کی خوشیاں ہیں… لوگ ایک دوسرے کو عجیب مبارکبادیں دے رہے ہیں… شکرانے
کے نوافل ادا کیے جا رہے ہیں… مجلسوں اور مجمعوں میں اجتماع کا تذکرہ ہے… تمام آنے
والے خیریت سے اپنے علاقوں کو پہنچ گئے ہیں… کسی نے اسے نورانی مجلس کا نام دیا ہے
تو کوئی کسی اور اچھے لقب سے یاد کر رہا
ہے… الحمدللہ ثم الحمدللہ ابھی تک
کسی منفی اثر یا تبصرے کی خبر نہیں ہے… تو پھر سعدی فقیر کیوں آج کڑوا موضوع لیکر
بیٹھ گیا ہے؟… پچھلے سال کے اجتماع پر کوہاٹ والوں کو مبارکباد دی تھی تو اس سال
اہل بہاولپور کے نام سے کالم کیوں نہیں سجایا؟…
بات
دراصل یہ ہے کہ یہ اجتماع ماشاء اللہ بہت بھاری نعمت ہے… یہ
اجتماع کوہاٹ والے اجتماع سے کافی بڑا تھا… اس میں علماء کرام نے بھی پچھلے سال سے
زیادہ شرکت فرمائی… اور علماء و اہل مدارس ہمارے سر کا تاج ہیں … بہت سے پرانے
ساتھی جو کافی عرصہ سے گھروں میں بیٹھے تھے اس اجتماع میں حاضر ہوئے اور تازہ جذبہ
لے کر گئے… الغرض یہ اجتماع ہر اعتبار سے ’’بھاری نعمت‘‘ ہے… جبکہ ہم بہت کمزور
ہیں… اور شیطان کے داؤ بہت خطرناک ہیں… اس لئے خوشی منانے کی بجائے ان باتوں کا
مذاکرہ مناسب معلوم ہوا… جو خوشی برداشت کرنے اور اسے قیمتی بنانے کی قوت پیدا
کرتی ہیں… مسلمانوں کے باہمی اختلافات نے اسلام کے ہر گلشن کو ویران کر رکھا ہے…
کہاں ہے خلافت؟… کہاں ہے قوت؟… اور کہاں ہے عزت وعظمت؟… ہمارے نزدیک تو سب سے اہم
بات یہ ہوتی ہے کہ … فلاں نے مجھے یہ کہہ دیا … اور فلاں نے میرے بارے میں یہ سوچ لیا…
یہ اجتماع بتا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اترتی ہے… اور
اتر رہی ہے… بس تم اپنے باہمی حالات ٹھیک رکھو… اللہ تعالیٰ
کے ساتھ تعلق مضبوط بناؤ… اور مدینہ منورہ سے جڑے رہو… سعادت مندی کا بازار گرم ہے
تم بھی اپنے نفس میں برداشت کا مادّہ پیدا کر کے اس بازار کے خریدار بنے رہو…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
ہم سب کی ’’نفاق‘‘ سے حفاظت فرمائے… منافق کی سب سے اہم نشانی یہ ہے کہ وہ ’’جہاد
فی سبیل اللہ ‘‘ کا مخالف ہوتا ہے… وہ خود بھی نہیں نکلتا اور دوسروں
کو بھی نکلنے سے روکتا ہے…
تفسیر
کے مشہور امام ’’ابوحیاّن الاُندلسیپ‘‘ سورۃ التوبہ آیت (۷۱) کی تفسیر ان
الفاظ میں کرتے ہیں:
وہی
الخمسۃ التی یتمیز بہا المومن علی المنافق
یعنی
اس آیت میں ایمان والوں کی وہ پانچ صفات بیان کی گئی ہیں… جن کی بدولت وہ منافقین
سے جدا اور ممتاز ہوتا ہے… آج کل ہر پارٹی لوگوں کو اپنی طرف بلا رہی ہے، ہر تنظیم
آوازیں لگا رہی ہے کہ آؤ ہمارے ساتھ شامل ہوجاؤ… اور بے شمار ادارے اور این جی اوز
قدم قدم پر موجود ہیں… کسی بھی پارٹی یا جماعت میں جانے سے پہلے خوب غور کرلیجئے
کہ ان میں ایمان والوں کی علاُمتیں ہیں یا نہیں؟… ان میں منافقین والی برائیاں تو
نہیں؟ …
امام
ابو حیان پ فرماتے ہیں… منافق میں پانچ خصلتیں پائی جاتی ہیں:
۱ … نیکی سے روکنا… جہاد بہت بڑی
نیکی ہے
۲ … برائی
کی طرف بلانا … یہ منافق کا خاص مشن ہے کہ وہ اسلامی معاشرے میں گناہ اور برائیاں
پھیلانے کی سر توڑ کوشش کرتا ہے… آج کل کی اکثر این جی اوز کو دیکھ لیجئے
۳ … وہ
نماز میں سستی کرتا ہے… اداہی نہیں کرتا یا کرتا ہے تو بہت بے دلی اور سستی سے
۴ … وہ
زکوٰۃ ادا کرنے میں بخل کرتا ہے… بے شک ہر منافق مال کا پجاری اور بے حد لالچی
ہوتا ہے… اور بہت زیادہ بخیل
۵ … وہ
جہاد میں نہیں نکلتا، جب اسے جہاد کی طرف بلایا جاتا ہے تو خود بھی نہیں جاتا اور
دوسروں کو بھی روکتا ہے
فالمنافق
یامر بالمنکر وینہیٰ عن المعروف ولا یقوم الی الصلٰوۃ الا ہو کسلان و یبخل
بالزکٰوۃ ویتخلف بنفسہ عن الجہاد واذا امرہ اللہ تثبط وثبط
غیرہ (البحر المحیط)
یہاں
ہم سب دو کام کریں … پہلا یہ کہ اپنے اندر جھانک کر دیکھیں کہ ہمارے اندر ان پانچ
منافقانہ صفات میں سے کوئی ہے تو نہیں؟ … اللہ کرے نہ ہو،
اس پر خوب شکر ادا کریں… اور دوسرا کام یہ کہ دراصل منافق کی یہ تمام صفات قرآن
پاک ہی میں بیان ہوئی ہیں… امام ابو حیان پ نے اپنی طرف سے بیان نہیں کی… سورۃ
التوبہ آیت ۶۷ میں
منافقین کا مکمل نصب العین اورمشن بیان ہوا ہے… اگر فرصت ملے تو کسی معتبر تفسیر
کی روشنی میں مطالعہ فرمالیں… وہاں صرف منافق مردوں کا نہیں بلکہ منافق عورتوں کا
بھی تذکرہ ہے… جی ہاں قرآن پاک بتاتا ہے کہ نفاق کا مرض عورتوں میں بھی ہوتا ہے
اور ان میں بھی یہ پانچ صفات پائی جاتی ہیں…
امام
ابوحیان پ آگے لکھتے ہیں:
والمومن
بضد ذلک
یعنی
مؤمن اس کے بالکل برعکس ہوتاہے وہ
۱ نیکی
کا حکم کرتا ہے
۲ برائیوں
سے روکتا ہے
۳ نماز
قائم کرتا ہے
۴ زکوٰۃ
ادا کرتا ہے
۵ جہاد
میں نکلتا ہے
والمؤ
من بضد ذلک کلہ من الامر بالمعروف والنہی عن المنکر واقام الصلٰوۃ وایتاء الزکٰوۃ
والجہاد وہو المراد فی ہذہ الآیۃ بقولہ ویطیعون اللہ ورسولہ
(البحر المحیط)
یعنی
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ
علیہ وسلم کی اطاعت سے مراد جہاد میں نکلنا ہے…
ہم
نے پانچ صفات پڑھ لیں… ہم میں سے ہر کسی نے اپنا
حساب اللہ تعالیٰ کو خود دینا ہے… ہم اپنے اندر جھانک کر
دیکھیں کہ یہ صفات موجود ہیں یا نہیں؟… اللہ کرے موجود ہوں
تو اس پر خوب شکر ادا کریں… اب آئیے اصل بات کی طرف… دراصل ایک مسلمان کو ’’حقیقی
مؤمن‘‘ بننے کے لئے خوب محنت کرنی چاہئے اور اپنی اجتماعی ’’ذمہ داریوں‘‘ کو
سمجھنا چاہئے… قرآن پاک سمجھاتا ہے کہ اسلام کے دشمن ’’منافقین‘‘ آپس میں مل کر،
ایک جماعت بنا کر مسلمانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں… تب ان کے شر سے بچنے کے لئے
مسلمان مردوں اور عورتوں کو بھی آپس میں مل کر اور جماعت بن کر ان کا مقابلہ کرنا
چاہئے… جماعت بننے سے عورتوں کا گھروں سے نکلنا اور سڑکوں پر آنا مراد نہیں… اس کی
تفصیل انشاء اللہ کچھ آگے چل کر… پہلے ’’منافقین‘‘ کی تنظیم
اور جماعت یا ’’تنظیموں‘‘ کے مقاصد، اہداف اورنصب العین پر ایک
نظر… اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
اَلْمُنٰفِقُوْنَ
وَالْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُھُمْ مِّنْمبَعْضٍ م یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْکَرِ
وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَیَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَھُمْ ط نَسُوا اللّٰہَ
فَنَسِیَھُمْ ط اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ
(ترجمہ) منافق
مرد اور عورتیں سب ایک طرح کے ہیں، برے کاموں کا حکم کرتے ہیں اور نیک کاموں سے
منع کرتے ہیں اور ہاتھ بند کیے رہتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کو
بھول گئے پس اللہ تعالیٰ نے انہیں بھلا دیا بے شک منافق وہی
ہیں نافرمان۔ (التوبہ۶۷)
منافقین
جہاد فی سبیل اللہ کے دشمن ہیں
اس
آیت کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیے یہ عبارت:
’’اتحاد
مقصد (یعنی مقصد ایک ہونے) کے اعتبار سے منافق مرد و عورت یکساں ہیں کہ دونوں کی
غرض مسلمانوں کو مرکزی قوت کی حفاظت اور فریضۂ جہاد سے روکنا
ہے، اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہوئے انہیں بڑی ہی سخت
تکلیف محسوس ہوتی ہے، انہوں نے ان فرائض کو فراموش کردیا ہے جو ان کے لئے زندگی
بخش تھے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اب ان چیزوں کو مفید سمجھ رہے ہیں جو ان کے لئے
مضرت کا باعث ہیں، انہوں نے عین ضرورت کے وقت اسلام کی مدد نہ کی
پس اللہ تعالیٰ بھی عین ضرورت کے وقت ان کی حاجت روائی نہ
کرے گا۔ جو لوگ حفاظت اسلام کا خیال ترک کردیں، جہاد فی
سبیل اللہ سے نفرت کریں اور محض زبانی دعویٰ اسلام کرتے
پھریں، ان میں اور ان لوگوں میں کوئی فرق نہیں رہتا جو اسلام کی جانب رخ تک نہ
کریں۔‘‘ (تفسیر الفرقان)
منافقین
جہاد سے روکتے ہیں
اس
آیت کی تفسیر میں صاحب تفسیر مظہری لکھتے ہیں:
وینہون
عن المعروف
اور
اچھے کاموں سے روکتے ہیں یعنی ایمان اور اللہ تعالیٰ کی
فرمانبرداری سے روکتے ہیں اور کہتے ہیں گرمی میں جہاد کو نہ نکلو۔ (تفسیر مظہری)
یعنی
جہاد میں کوئی بھی نقصان بتا کر جہاد سے روکتے ہیں جیسے غزوۂ تبوک کے موقع پر
گرمی کا بہانہ بنا کر روک رہے تھے۔
ہاتھ
بند کرنے کا ایک مطلب جہاد چھوڑنا ہے
و
یقبضون ایدیہم
وہ
منافقین اپنے ہاتھوں کو روکے رکھتے ہیں… اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ وہ جہاد میں نہیں
نکلتے
وقبض
ایدیہم عبارۃ عن ترک الجہاد (القرطبی)
یعنی
ہاتھ روکنے کا مطلب ہے جہاد چھوڑنا کہ وہ جہاد نہیں کرتے
وقال
ابن زید وعن الجہاد وحمل السلاح فی قتال الاعداء (البحر المحیط)
یعنی
ابن زیدرحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ وہ جہاد سے اور دشمنوں سے قتال میں اسلحہ
اٹھانے سے اپنے ہاتھوں کو روکے رکھتے ہیں…
ویدخل
فیہ ترک الانفاق فی الجہاد ونبّہ بذلک علی تخلفہم عن الجہاد (تفسیرکبیر)
یعنی
ہاتھ روکنے میں یہ بھی داخل ہے کہ وہ جہاد میں مال خرچ نہیں کرتے، اور اس جملہ سے
ان کے ترک جہاد کو بیان کیا گیا ہے…
جہاد
سے نفرت منافق کی اہم نشانی
ہم
نے قرآن پاک کی آیت مبارکہ پڑھ لی اور کچھ مفسرین کی عبارتیں بھی… اب ان کی روشنی
میں حکمرانوں کو دیکھیں… این جی اوز میں کام کرنے والے مردوں اور عورتوں کو
دیکھیں… اور سیاسی پارٹیوں کو دیکھیں…
منافق
کی خاص نشانی یہ ہے کہ وہ جہاد سے نفرت کرتا ہے اور جہاد کا نام سنتے ہی بدکنے
لگتا ہے… آج اس موضوع پر بس اتناہی … اسی پر غور فرمائیں … باقی باتیں
انشاء اللہ زندگی رہی تو اگلے ہفتے… والسلام
وصلی اللہ تعالیٰ
علی خیر خلقہ سیّدنا محمد وآلہ واصحابہ اجمعین
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
نے ’’القلم‘‘ کو آج ایک اور سعادت بخشی ہے… فاتح ربوہ، جرنیل ختم نبوّۃ حضرت
مولانا محمد منظور احمد چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ کا خصوصی شمارہ آپ کے سامنے ہے… یہ
شمارہ انشاء اللہ دور دور تک پہنچے گا اور دور دور تک
پہنچایا جائے گا… آپ کو معلوم ہے کہ ’’مرزائی ٹولہ‘‘ کتنا منظم ہے؟… یہ لوگ کتوں
کی طرح ہر طرف سونگھتے رہتے ہیں، جیسے ہی کوئی ان کے خلاف کچھ لکھتا ہے یہ فوراً
اپنے بڑوں کے پاس شکایت کرنے پہنچ جاتے ہیں… ان کے بڑے کون ہیں؟ یہودی، نصرانی،
ہندو اور ہر اسلام دشمن ان کا بڑا اور ان کا سرپرست ہے… یہ ہر سال ’’انسانی حقوق‘‘
کی ڈاکو تنظیموں کو بتاتے ہیں کہ اس سال ہمارے خلاف فلاں فلاں رسالے نے لکھاہے …
فلاں عالم نے تقریر کی ہے اور فلاں تنظیم نے ہمیں دھمکی دی ہے… مرزائی ٹولہ اسلام
اور مسلمانوں کا شدید ترین دشمن ہے… مسلمانوں کو عشق مصطفی صلی اللہ
علیہ وسلم کے جذبے کا واسطہ کہ… اس دجالی فتنے کو سمجھیں اور اس کے شر کو توڑنے کی
کوشش کریں… ’’شیزان‘‘ مرزائیوں کی کمپنی ہے اس کے جوس اور دیگر مصنوعات کو ہرگز
استعمال نہ کریں… یہ ہماری طرف سے ختم نبوۃ کی مقدس تحریک میں ادنیٰ سی حصہ داری
ہوگی… ورنہ کرنے کے کام تو بہت ہیں… ’’مرزائی‘‘ پاکستان کی رگوں میں گھسے ہوئے
ہیں… پاکستان بنا تو پہلا وزیر خارجہ سر ظفر اللہ مرزائی، قادیانی تھا…
اس بدقسمت سے لے کر نیلو فر بختیار تک مرزائیوں کے پاکستان پر مظالم کی ایک لمبی
تاریخ ہے… مرزائیت کسی مذہب کا نام نہیں یہ تو اسلام کے خلاف ایک گہری سازش کا نام
ہے… اہل حق نے محنت فرمائی بھٹو کے دور میں قادیانی غیر مسلم قرار پائے تب ان کی
شرارتوں نے رخ بدل لیا… وہ انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافتی اداروں اور این جی اوز
کا لبادہ اوڑھ کر کام کرنے لگے… وہ پاکستان کے ہر حکمران تک پہنچ جاتے ہیں، امریکہ
اور برطانیہ ان کو حکومت تک پہنچاتا ہے… صدر پرویز مشرف تو مسلسل ان کے ’’زیر
اثر‘‘ رہے ان کے صدارتی اور نجی عملے پر مرزائیوں کا راج تھا اور آج تک ہے… جو
عالم اس گستاخ رسول فتنے کے خلاف بولے وہ فوراً ’’فرقہ پرست‘‘ قرار دے دیا جاتا
ہے… مرزائی اپنا مذہب چھپا کر اعلیٰ سرکاری عہدوں تک پہنچتے ہیں اور قوم پرست
تنظیموں میں گھس کر اہل حق علماء کو قتل کراتے ہیں… مسیلمہ کذاب کا فتنہ بڑا سخت
تھا مگر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے خلاف تلوار لیکر
میدان میں کود پڑے… جی ہاں کوئی مسلمان حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم
کی دستارِ ختم نبوۃ پر ہاتھ ڈالنے والے گستاخوں کو برداشت کر ہی نہیں سکتا… حضرات
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بڑی قربانی دی ایک ایک دن میں قرآن پاک کے
چھ سو حفاظ صحابہ اور تابعین شہید ہوئے… الحمدللہ وہ فتنہ
ختم ہوگیا… مگر مسیلمہ پنجاب مرزا غلام قادیانی ملعون کا فتنہ ابھی تک بھڑک رہا
ہے… اور اب تک ہزاروں لوگوں کو جہنم کا ایندھن بنا چکا ہے… دراصل مسلمانوں میں
شعور اور دینی غیرت کی کمی ہوگئی ہے… اور قادیانیوں کی کئی ذیلی شاخیں مسلمانوں
میں سے جذبہ جہاد اور دینی غیرت کو ختم کرنے کی محنت کر رہی ہیں… میں کچھ عرصہ
’’روزنامہ ایکسپریس‘‘ پڑھتا رہا اس میں ایک مزاحیہ کالم نویس
’’سعد اللہ جان برق‘‘ … ہنسی مزاح کے انداز میں جہاد کی
مخالفت، اور علماء کی تحقیر کرتا ہے… تھوڑی سی تحقیق کے بعد پتا چلا کہ وہ ’’منکر
حدیث‘‘ ہے اور ڈاکٹر غلام جیلانی برق کے ’’دواسلام‘‘ مانتا ہے… مسلمان بے چارے
کہاں جائیں؟… یا اللہ اُمت مسلمہ پر رحم فرما… مرزائی اور
دوسرے گمراہ فرقے مسلمانوں کے اندر گھس کر کفر کا زہر پھیلا رہے ہیں… ان کے خلاف
کام کرنا مشکل ہے کیونکہ ان کی پیٹھ پر ملکی وغیر ملکی حکمران ہیں…
مگر اللہ ایک ہے… ہمارے لئے ڈرنے، گھبرانے اور پسپا ہونے کا
کوئی جواز نہیں ہے… مرزا اور اس کے چیلوں نے ہر زور لگالیا مگر وہ جہاد کی شمع کو
نہ بجھا سکے۔ اسلام کے فدائیوں نے مرزا کے ہر جال کو توڑ دیا… اب تو صرف بدقسمت
لوگ ہی اس کی باتوں کو مانتے ہیں… ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء
کو مرزا ہیضے کی موت مرگیا… آج ۱۲ مئی ۲۰۰۸ء
کی تاریخ ہے… سو سال ہوگئے اس ملعون کو مرے ہوئے… القلم کی سعادت ہے کہ وہ مرزا
ملعون کے سوسالہ ’’وصلِ جہنم‘‘ کے موقع پر ختم نبوۃ کے جھنڈے کو بلند کر رہا ہے…
مرزائی اس اخبار کو دور دور تک لے جائیں اور خوب شکایتیں لگائیں…
ہمیں الحمدللہ ذرّہ برابر خوف اور ڈر نہیں … ایک اخبار تو
کیا آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموس پر ہزار جانیں بھی قربان ہوں
تو سعادت ہی سعادت ہے…
فتح
الجوّاد بھی مرزا کے لئے موت ہے ’’القلم‘‘ نے اس کا پرچار کیا… اور آج ’’القلم‘‘
مدینہ منورہ کی راہوں میں چند اور پھول نچھاور کر رہا ہے… حضرت چنیوٹی رحمۃ اللہ
علیہ جو مرزائیت کے لئے ’’عذاب کا کوڑا‘‘ اور عشق رسول صلی اللہ علیہ
وسلم کے فدائی تھے، وہ آج ’’القلم‘‘ کی اس محفل کے ’’دولہا‘‘ ہیں… آج سے تقریبا
تین سال پہلے حضرت اقدس چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ کے جانشین برادرم مولانا محمد الیاس
چنیوٹی نے علماء کرام کے پاس ایک سوالنامہ بھیجا تھا… دراصل وہ حضرت چنیوٹی رحمۃ
اللہ علیہ کی مفصل سوانح حیات تیار کرنے کی کوشش میں تھے۔ یہ مفصل سوانح حیات ابھی
تک منظر عام پر نہیں آسکی، اللہ کرے جلد آجائے… ہم آج کے
کالم میں تین سال پرانا ایک زندہ مضمون نقل کر رہے ہیں… یہ مضمون ابھی تک شائع
نہیں ہوا اس لئے بالکل تازہ ہے… اس میں چند سوالات ہیں… اور ان کے جوابات
… ملاحظہ فرمائیے حضرت چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ کے سبق آموز حالات پر
مشتمل یہ تحریر…
اپنا
زمانہ آپ بناتے ہیں اہلِ دل
بسم اللہ الرحمن
الرحیم
محترم
ومکرم جناب حضرت مولانا محمد الیاس صاحب چنیوٹی زید قدرہ
السلام
علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
گرامی
نامہ موصول پایا… حضرت استاذ مکرم، سفیر ختم نبوۃ ضیغم اسلام مولانا منظور احمد
چنیوٹی نور اللہ مرقدہٗ کی جدائی کا زخم تازہ ہوا… ان کی
رحلت ملّی سانحہ ہے اور ہم سب خود کو ایک ’’نعمت ِ الٰہی‘‘ سے محروم … محسوس کر
رہے ہیں… اللہ تعالیٰ آپ کو ہمت اور توفیق عطاء فرمائے کہ ا
ن کی اونچی اور جاں سوز مسند کا رنگ پھیکا نہ پڑنے دیں… وما ذلک
علی اللہ بعزیز… حضرت کی سوانح حیات مرتب کرنے کافیصلہ بہت
مبارک، ضروری … اور مستحسن ہے… انشاء اللہ اس کے ذریعے سے
آئندہ نسلوں کے لئے دعوت وعزیمت کا ایک مثالی چراغ روشن ہوجائے گا… اور دین کے
دیوانوں کی دنیا آباد رہے گی… آپ نے جو چند سوالات بھجوائے ہیں ان کے جوابات حاضر
خدمت ہیں…
سوال: آپ
کا نام اور مکمل پتا؟
جواب: نام:
محمد مسعود ازہر۔ پتا:جامع مسجد عثمانؓ وعلیؓ ماڈل ٹاؤن بی بہاولپور
سوال: حضرت
مولانا چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ سے تعلق کی نوعیت؟
جواب: حضرت
مولانا نور اللہ مرقدہ میرے استاذ محترم تھے اور محبوب بھی۔
سوال: ان
سے تعارف کب اور کیسے ہوا؟
جواب: جامعۃ
العلوم الاسلام علامہ بنوری ٹاؤن کراچی میں جب داخلہ کی سعادت نصیب ہوئی تو… پہلے
سال ہی حضرت مولانا چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں کافی معلومات حاصل ہوگئیں…
حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ کے ایک صاحبزادے برادرم مولانا محمد ادریس صاحب بھی
اسی سال جامعہ میں داخل ہوئے تھے اور یوں ہم دونوں پورے نو سال تک ہم سبق رہے…
حضرت مولانارحمۃ اللہ علیہ کے بڑے صاحبزادے اوراب جانشین… حضرت مولانا محمد الیاس
صاحب چنیوٹی… ان دنوں جامعۃ العلوم الاسلامیہ کے ممتاز طلبہ میں شمار ہوتے تھے…
اور ان کے تقویٰ اور خطابت کا طلبہ میں خوب چرچہ تھا… اچھی
اولاد… اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم الشان نعمت ہے… حضرت مولانا
چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ تعالیٰ نے دیگر نعمتوں کے
ساتھ ساتھ… آنکھوں کو ٹھنڈا کرنے والی یہ نعمت بھی عطاء فرمائی… ان کے یہ دونوں
صاحبزادے… جامعہ میں اپنے والد کی نیک نامی میں اضافے کا باعث بنے ہوئے تھے… ان
میں اپنے والد محترم کی پاکیزگی اور سادگی کی جھلک صاف نظر آتی تھی… حضرت
مولانارحمۃ اللہ علیہ جب بھی کراچی تشریف لاتے تو جامعہ میں قیام فرماتے تھے… اس
طرح سے ان کی زیارت بچپن ہی میں نصیب ہوگئی … پھر جامعہ کے مہتمم امام اہلسنت حضرت
مولانا مفتی احمد الرحمن صاحب نور اللہ مرقدہ نے… حضرت
مولانا چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ کو جامعہ کی سالانہ چھٹیوں میں طلبہ کو ’’ردّ
قادیانیت‘‘ کا نصاب پڑھانے کی دعوت دی… تب … جامعہ کا دارالحدیث … حضرت مولانا
چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ کی طاقتور آواز سے گونجنے لگا… بندہ کو بھی حضرت مولانا
رحمۃ اللہ علیہ سے یہ نصاب پڑھنے کی سعادت ملی… بس یوں میرے اور ان کے تعلق اور
تعارف کی نوعیت… بحمد اللہ متعین ہوگئی… اور زندگی کے آخری لمحات تک
میں انہیں استاذ محترم! کہتا رہا اور وہ بھی مجھے اپنا شاگرد سمجھتے رہے… اتنے
اونچے، اتنے مقرب اور اتنے پاکیزہ انسان کے ساتھ یہ تعارف بندہ کے لئے ’’ذخیرۂ
آخرت‘‘ ہے… انشا ء اللہ …
سوال: ان
سے آپ کی ملاقاتوں کی تفصیل؟
جواب:
الحمدللہ ان کے ساتھ ملاقاتیں تو خوب رہیں… وہ چونکہ خیر الناس میں سے
تھے اس لئے ہر ملاقات دینی اعتبار سے مفید ثابت ہوئی… چند ملاقاتوں کا احوال عرض
کردیتا ہوں
٭ رمضان
المبارک کا مقدس مہینہ تھا… حضرت مولانا چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ جامعۃ العلوم
الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن تشریف لائے ہوئے تھے… بندہ جامعہ کی تشکیل پر کراچی کی
ایک مسجد میں نماز اور جمعہ پڑھاتا تھا… یہ مسجد دہلی کالونی میں واقع تھی… بندہ
نے حضرت مولانا چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ … حضرت مولانا محمد امین صاحب صفدر اوکاڑوی
رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا علامہ خالد محمود صاحب مدظلہ کو تشریف آوی کی دعوت
دی… یہ تمام حضرات مسجد میں تشریف لائے… آخری عشرے کی کوئی طاق رات تھی اور
تقریباً سارا محلہ جاگ رہا تھا… تینوں حضرات نے خطاب فرمایا… حضرت مولانا چنیوٹی
رحمۃ اللہ علیہ نے ’’اعتکاف‘‘ سے اپنی بات شروع فرمائی اور اسے مرزا قادیانی ملعون
کے گریبان تک لے گئے کہ وہ اعتکاف کا منکر ہے… پھر آپ نے ردّ قادیانیت پر گرجدار
ومدلل خطاب فرمایا… اس کے بعد ہم سب دہلی کالونی سے متصل … پنجاب کالونی گئے جہاں
کے ساتھیوں نے دعوت کا اہتمام کیا ہوا تھا… سب حضرات پر تھکاوٹ کا غلبہ تھا علامہ
خالد محمود صاحب مدظلہ نے مزاحاً یہ رائے دی کہ … امام آگے مصلے پر لیٹ جائے اور
ہم پیچھے صفوں میں لیٹ جاتے ہیں… تب حضرت مولانا چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ نے آگے بڑھ
کر تراویح کی امامت فرمائی… اس دن سفر کی وجہ سے تراویح نہیں ہوسکی تھی جو پنجاب
کالونی کراچی کے ایک گراؤنڈ میں کھلے آسمان تلے آدھی رات کے بعد ادا کی گئی…
٭ انڈیا
کی قید سے اللہ تعالیٰ نے رہائی عطاء فرمائی تو چند دن
قندھار میں قیام رہا… حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب… (قائد جمعیت) نے ملاقات کی
تاکیدی دعوت … ٹیلیفون پر دی… قندھار سے کراچی آنا ہوا تو حضرت مولانا مفتی نظام
الدین شامزی رحمۃ اللہ علیہ کے گھر دوبارہ یاد دہانی کا فون آیا… بندہ نے حاضری کا
وعدہ کرلیا… بہاولپور پہنچا تو حضرت مولانا محمد اعظم طارق شہیدرحمۃ اللہ علیہ
تشریف لے آئے… انہوں نے جھنگ حاضری کی دعوت دی… بندہ نے ڈیرہ اسماعیل خان جاتے
ہوئے راستے میں جھنگ رکنے کا وعدہ کرلیا… اس وعدہ کے مطابق جھنگ جانا ہوا… ناشتے
کا دسترخوان سجا ہوا تھا مگر مجھے ایک اور نعمت نصیب ہوگئی… میرے استاذ محترم حضرت
مولانا چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ شرف ملاقات بخشنے پہلے سے حضرت مولانا اعظم طارق
رحمۃ اللہ علیہ کی بیٹھک میں تشریف فرما تھے… یہ ملاقات بہت یادگار تھی… بہت ہی
یادگار… حضرت مولانارحمۃ اللہ علیہ کے تھپڑ تو بہت کھائے تھے… جامعہ بنوری ٹاؤن
میں تدریس کے دوران مولانا اپنی دائیں طرف بیٹھے ہوئے طالبعلم کو شفقت سے ہاتھ
مارتے رہتے تھے… ماشاء اللہ اس وقت صحت اچھی اور طاقت خوب
تھی… آپ کاہاتھ جب کمر پر پڑتا تو پورا بدن ہل جاتا تھا… آپ جوش کے ساتھ… مکمل
جذبے اور وارفتگی کے عالم میں پڑھاتے تھے… اور اس پورے عمل کو ایک مقدس عبادت کی
طرح ادا کرتے تھے… دس دن تک میں بھی ان کے دائیں طرف بیٹھ چکا تھا… اس لئے عرض کیا
کہ تھپڑ تو خوب کھائے تھے مگر محبت کے جو پھول انہوں نے مولانا اعظم طارق رحمۃ
اللہ علیہ کی بیٹھک میں نچھاور فرمائے… وہ مجھے کبھی نہیں بھول
سکتے… اللہ تعالیٰ نے انہیں کتنا بڑا دل دیا تھا… اس دن
مجھے اور زیادہ اس کا اندازہ ہوا… بے شمار لوگ ملنے کے لئے کوشش کر رہے تھے مگر
حضرت مولانارحمۃ اللہ علیہ نے اپنے شاگرد کو بس اپنے سینے سے ہی لگائے رکھا… اور
آنسو بھر کر روتے رہے… میں نے سات سال کے بعد انہیں دیکھا تھا… محسو س ہوا کہ …
بڑھاپے کے آثار بہت تیزی سے حملہ آور ہیں… حالانکہ … حضرت مولانارحمۃ اللہ علیہ
ختم نبوت کے دشمنوں پر بجلیاں گرانے کیلئے بڑھاپے کو اپنے قریب نہیں پھٹکنے دیتے
تھے… مگر کب تک؟… انسان بہت کمزور ہے… مگر دل کیسے داد نہ دے… ان عظیم ہستیوں کو …
جنہوں نے اپنی جوانی کو… اسلام اور ختم نبوت کی خدمت میں بوڑھا کیا… اور بڑھاپے کو
خود سے اس لئے دور بھگاتے رہے تا کہ… ناموس رسالت کے دشمنوں پر رعب رہے… ایسا جذبہ
اور ایسی سوچ بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔
اس
دن حضرت مولانارحمۃ اللہ علیہ کی محبت میں ناشتہ بھی یاد نہ رہا… اور یہ بھی یاد
نہیں رہا کہ کیا کیا باتیں ہوئیں… غالباً حضرت مولانارحمۃ اللہ علیہ نے اپنے دستخط
کے ساتھ اپنی ایک کتاب بھی عطاء فرمائی… اور چناب نگر کے جلسے کی دعوت بھی دی…
٭ ایک
بار فیصل آباد جانا ہوا تو پتہ چلا کہ حضرت مولانا چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ کا
آپریشن ہوا ہے… بندہ فوراً ہسپتال حاضر ہوا… آپ نے بہت خوشی اور مسرت کا اظہار
فرمایا …بہت گرمجوشی سے ملے اور پھر اپنے مشن… تحفظ ختم نبوت پر تفصیلی گفتگو میں
مگن ہوگئے… اس دوران یہ بھی فرمایا کہ کل ڈاکٹر نے کہا تھا کہ آپریشن کے بعد تین
دن تک خون آئے گا… مگر مجھے ایک ہی دن میں خون آنا بند ہوگیا… ڈاکٹر نے حیرانی کا
اظہار کیا تو میں نے کہا یہ ختم نبوت کی برکت ہے…
آپریشن
کی تکلیف، تازہ زخم… ہسپتال کا ماحول اور بڑھاپا ایسے مواقع پر مریض صرف اور صرف
’’اپنی‘‘ بات کرتا ہے… مگر میرے استاذ محترم نے اس دن بھی ’’اپنی‘‘ کوئی بات نہیں
فرمائی… عام ملاقاتوں کی طرح اس دن بھی ان کا موضوع ’’ختم نبوت‘‘ تھا… مجھے خوشی
بھی ہوئی… اور حیرت بھی… روشنی بھی ملی… اور جذبہ بھی… قربان جاؤں حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ختم نبوت پر کہ اس کے پروانے کس قدر
فدائی … اور یکسو ہیں…
٭ حضرت
مولانا چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ نے چناب نگر جلسے کی دعوت دی… بندہ پہنچ گیا… حسب
توفیق بیان ہوا… واپسی پر حضرت مولانارحمۃ اللہ علیہ کو کوہاٹ کے دورۂ تفسیر کی
دعوت دینی تھی… معلوم ہوا کہ چنیوٹ شہر میں کسی مسجد پر کچھ تنازعہ ہے وہ حل کرانے
تشریف لے گئے ہیں… وقت کم تھا ہمارا قافلہ ان کی تلاش میں نکل پڑا… بالآخر وہ مل
گئے… کچھ عمائدین کے ساتھ شہر کی ایک مسجد کا مسئلہ حل کرا رہے تھے… تب ہمارے
سامنے ان کی سماجی زندگی کا ایک پہلو بھی اجاگر ہوا… ملاقات ہوتے ہی انہوں نے
مختصر طور پر اس مسجد کی صورتحال بتائی… اور جلسے میں حاضری پر خوشی کا اظہار
فرمایا… ہم نے عرض کیا کہ… کچھ دن بعد کوہاٹ میں ہمارا دورۂ تفسیر آیات الجہاد
منعقد ہو رہا ہے… حضرت مولانا عبدالحفیظ صاحب مکی داُمت برکاتہم العالیہ بھی… دو
دن کے لئے تشریف لا رہے ہیں… پانچ دن کے اس دورے میں… پورے قرآن پاک کی سینکڑوں
آیات جہاد پڑھائی جاتی ہیں … الحمدللہ سینکڑوں علماء … اور
ہزاروں طلبہ شرکت کر رہے ہیں… آپ بھی کچھ وقت عنایت فرمائیں … تاکہ… طلبہ کو منکر
جہاد مرزا قادیانی کی ناپاک تحریک کا پتہ چلے… ہماری دعوت سن کر حضرت مولانارحمۃ
اللہ علیہ بہت خوش ہوئے… ڈائری منگواکر دورۂ تفسیر کے منتظم مولانا آصف قاسمی کے
ساتھ وقت اور سفر کی ترتیب بنائی… اور ہمیں ٹھنڈے مشروب اور دعاؤں کے ساتھ رخصت
فرمایا…
کوہاٹ
کے علاقے وادی شہداء تپی میں دورۂ تفسیر آیات الجہاد پورے زور وشور … کے ساتھ
جاری تھا… حضرت مولانارحمۃ اللہ علیہ غالباً آخری دن تشریف لائے… ہزاروں طلبہ نے
گونجدار نعروں سے آپ کا استقبال کیا… طویل سفر اور مسلسل مشغولیات کی وجہ سے حضرت
مولانارحمۃ اللہ علیہ کا گلا بیٹھا ہوا تھا… بندہ نے حضرت مولانارحمۃ اللہ علیہ کا
تعارف کرایا اور خطاب کی دعوت دی… مجمع کے ذوق وشوق اور علمی رنگ کا
… الحمدللہ اثر ہوا… اور ختم نبوۃ کا بوڑھا فدائی جرنیل …
ایک دم جوان ہوگیا…اور پھر آپ نے ایک تاریخی اور علمی مفصل خطاب فرمایا… اور طلبہ
کو دعوت دی کہ… قادیانی فتنے کے بارے میں غفلت سے کام نہ لیں… اور … ہمارے ادارے
میں آکر پندرہ روزہ ردّ قادیانیت کورس پڑھیں…
بندہ
نے واپسی پر اسٹیج سے اتر کر انہیں رخصت کیا… گاڑی میں بٹھایا … وہ سلام کرکے چلے
گئے… اور یوں … اس دنیا کی آخری ملاقات مکمل ہوگئی… پھر … ان کے انتقال کی روح
فرسا خبر ملی… اور بندہ… جنازے میں شرکت کے لئے ترستا رہ گیا…
٭ ان
چند ملاقاتوں کا تذکرہ اس لئے کیا کہ… اس میں سے ہر ملاقات حضرت مولانارحمۃ اللہ
علیہ کی عظیم صفات کے الگ الگ پہلوؤں کو نمایاں کرتی ہے… ورنہ تو بہت سے جلسوں
میں الحمدللہ … اکٹھے شرکت کی سعادت ملی… کئی اجتماعی اور
انفرادی نشستیں ہوئیں… اور کئی بار ان سے فیض حاصل کرنے کا موقع
ملا… اللہ تعالیٰ ان کے درجات عالیہ میں مزید بلندی عطاء
فرمائے…
سوال: آپ
نے ان کو کس حیثیت سے دیکھا اور کیسا پایا؟
جواب: حضرت
مولانارحمۃ اللہ علیہ ایک ’’متاثر کن‘‘ شخصیت کے حامل انسان تھے… اور اپنی بعض
صفات کے اعتبار سے’’منفرد‘‘ بھی تھے … اور اللہ تعالیٰ نے
انہیں بعض ایسی نعمتیں عطاء فرمائی تھیں جن کے باعث وہ … اپنے معاصرین اور اصاغر کے
لئے ’’قابل رشک‘‘ تھے میرے سامنے انکی زندگی کے جو چند پہلو زیادہ نمایاں ہو کر
آئے وہ درج ذیل ہیں:
۱ بہترین
استاذ
اللہ تعالیٰ
نے آپ کو ’’تفہیم‘‘ کا ایسا ملکہ عطاء فرمایا تھا کہ بہت مشکل، سنگلاخ اور ویران
موضوع کو بھی دلچسپ، آسان اور قابل قبول بنادیتے تھے… مدرّس کا کمال یہ ہے کہ وہ
طالبعلم کے دماغ اور دل کو پکڑ کر اپنے دل و دماغ سے ملا لے… اور طالبعلم کے حواس
پر چھا جائے… حضرت مولانارحمۃ اللہ علیہ کو اللہ تعالیٰ نے
یہ ملکہ خوب سخاوت کے ساتھ عطاء فرمایا تھا… بغیر کسی تنقید کے عرض ہے کہ حضرت
مولانارحمۃ اللہ علیہ سے پہلے… ہم نے… ردّ قادیانیت کورس ایک اور محترم استاذ سے
پڑھا… وہ بہت اللہ والے بزرگ تھے اور ختم نبوت پر ان کی
خدمات قابل سلام ہیں… وہ درسگاہ میں تشریف لا کر سبق شروع فرمادیتے … دلائل اور
جوابات دیتے چلے جاتے اور ایک ترتیب کے ساتھ نصاب مکمل فرمادیتے… سچی بات یہ ہے
کہ… ہمیں قادیانیت کا اصل چہرہ نظر نہ آسکا اور نہ ہم اس پر گرفت کرنے کے قابل
ہوسکے… اگلے سال حضرت مولانا چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ نے ردِّ قادیانیت کورس پڑھایا
تو انداز ہی کچھ اور تھا… آپ قادیانیت پر علمی گرفت تو کرتے ہی تھے اس کے سیاسی
عزائم بھی بے نقاب فرماتے … اہم دلیل پیش کرنے سے پہلے… طلبہ میں اس کا ایسا شوق
اور طلب پیدا کرتے کہ دلیل یاد کرنے اورقبول کرنے کی استعداد پیدا ہوجاتی…
آپ
مناظرہ بھی پڑھاتے تھے اور اپنے تجربات کی روشنی میں مناظرے کے گُر بھی سکھاتے…
چار گھنٹے کے مسلسل سبق میں نہ خود تھکتے اور نہ طلبہ کو تھکنے دیتے… لطائف،
واقعات، سوز و گداز اور انداز خطابت کے ذریعے طلبہ کو … اپنی گرفت میں رکھتے… اور
اس دوران پورا نصاب انہیں میٹھے اور لذیذ شرکت کی طرح پلا دیتے… اور خاص بات یہ کہ
غیر محسوس طریقہ پر عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جذبہ طلبہ کے دل
میں ایسا پیوست فرماتے کہ… مرزا قادیانی … اس کی ذریت اور اس کے فتنے سے صرف عقلی
ہی نہیں طبعی نفرت بھی پیدا ہوجاتی…
آپ
کی تدریس کا یہ عمدہ انداز آپ کو دارالعلوم دیوبند کی اس مسند تک لے گیا جس کے
بلاشبہ آپ حقدار تھے…
۲ صف
در مناظر
مناظرہ
ایک دینی خدمت ہے… قرآن پاک کے علوم میں سے ایک علم ’’علم المناظرہ‘‘ ہے… حضرات
علماء کرام نے علم مناظرہ کے اصول وضوابط پر کتابیں لکھی ہیں… اُمت مسلمہ کی تاریخ
کا ایک روشن باب… اُمت مسلمہ کے وہ ’’مناظرین‘‘ بھی ہیں جنہوں نے دلیل کے زور پر
باطل کا بھیجا اڑایا… اور اس کی صفوں کو درہم برہم کیا… مناظرہ میں کامیابی کے لئے
وسیع اور گہرے علم کی ضرورت پڑتی ہے… علم تو مناظر کے لئے شرط اوّل ہے مگر صرف
’’علم‘‘ سے کام نہیں چلتا… حاضر دماغی بھی ازحد ضروری ہے… اور حاضر جوابی بھی… اسی
طرح رعب اور وجاہت کا بھی مناظرے کے نتائج پر کچھ نہ کچھ اثر ضرور پڑتا ہے… مناظرے
میں اگر علمی سوال جواب کا یہ سلسلہ طویل ہو تو … عوام یہی سمجھتے ہیں کہ جناب!
دونوں طرف دلائل موجود ہیں… اس لئے مخالف کو جلد ناک آؤٹ کرنا بھی ضروری ہوتا ہے…
اور اس کے لئے علم نفسیات میں مہارت کے ساتھ ساتھ مخالف کی کمزوریوں پر گہری نظر
درکار ہوتی ہیں… مناظرہ میں اچھی اور بلند آواز کا بھی اثر پڑتا ہے… بلکہ دینی
علوم سے دوری کے اس زمانے میں تو اس کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے… پھر چونکہ علم کی
طرح تحریف کا میدان بھی کافی وسیع ہے اس لئے مناظرہ کے دوران کافی چستی اور مہارت کی
ضرورت پڑتی ہے، معلوم نہیں مخالف کہاں سے تحریف کا کوئی نیا باب کھول
دے… اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت مولانا چنیوٹی رحمۃ اللہ
علیہ کو یہ تمام مناظرانہ صفات اپنی رحمت سے عطاء فرمائی تھیں… آپ وسیع علم رکھتے
تھے… مخالف کی کمزوریوں کو سمجھتے تھے … خوب حاضر دماغ وحاضر جواب تھے… مخالف کو
خود اس کی زلف میں پھنسا نے کا فن رکھتے تھے… اور بہت جلد دشمنان ختم نبوۃ کو ناک
آؤٹ کردیتے تھے… اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو
بہترین وجاہت، بلند آواز، شاندار انداز خطابت… اور فطری رعب سے بھی نوازا تھا… آپ
کے مناظرانہ دور میں قادیانیت پر لرزہ طاری رہا… اور قادیانی مربی… اپنے شاگردوں
کو مناظرے سے بچنے کی تلقین کرتے رہے… حق یہ ہے کہ میدان مناظرہ میں آپ صف در…
یعنی صفوں کو چیرنے والے ایسے شاہسوار تھے… جن کو… زمانہ
انشاء اللہ کبھی نہیں بھلا سکے گا… بقول جگر مرحوم
جان
کر من جملۂ خاصان میخانہ مجھے
مدّتوں
رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے
۳ فخر
اُمت مسلمہ
انسان
کبھی نفس وشیطان کے ہاتھوں ایسا ڈسا جاتا ہے کہ … زندگی بھر… سر اُٹھا کر نہیں چل
سکتا… اللہ تبارک وتعالیٰ نے… حضور اکرم صلی
اللہ علیہ وسلم کی اُمت کو یہ شرف بخشا ہے کہ… اس میں … بلند کردار افراد کی کسی
زمانہ میں کمی نہیں رہی … یہی بلند کردار افراد اُمت مسلمہ کا فخر ہیں… اور انہی
کی برکت سے … یہ زمین عمومی تباہی سے بچی ہوئی ہے… مرزا قادیانی ملعون نے انگریز
کے ایماء پر جس ناپاک بیج کو بویا… اس بیج کے سبھی پھل پودے… ناپاکی اور نجاست میں
ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں… حالانکہ مرزا قادیانی ملعون کا دور ابھی تازہ ہے… مگر
ناپاکی اس کے ہر معتقد کے جسم و روح میں سرایت کرچکی ہے… جبکہ حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دور کو صدیاں گزر چکی ہیں… مگر… اس
کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے بہت سے افراد … فحاشی
اور بے حیائی کے اس دور میں بھی پاکیزہ… اور بے داغ ہیں…
مرزا
قادیانی کے بیٹے… پوتے اور خلفاء تک ناپاک اور داغدار… اور حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چودہ سو سال بعد کے اُمتی بھی پاکیزہ اور
بے داغ…
یہ
بات عقل سلیم رکھنے والے انسانوں کو… قادیانیت کی حقیقت سمجھانے کے لئے کافی ہے…
اور اس کام کے لئے اللہ پاک نے اپنے جس پاکیزہ بندے کو
منتخب فرمایا وہ تھے… حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ … جنہوں نے…
مرزا کے خاندان کے اہم افراد… اور اس کے گدّی نشینوں کو کھلے الفاظ میں مباہلہ کی
دعوت دی… اور اعلان کیا کہ… تم لوگ … ہر طرح کی ’’بے حیائی‘‘ میں مبتلا ہو…
اور اللہ پاک نے مجھے ہر طرح کی ’’بے حیائی‘‘ سے بچایا ہے …
اگر تمہیں میرے اس دعوے میں شک ہے تو میدان میں آؤ مباہلہ کرتے ہیں… اور فیصلہ
… اللہ تعالیٰ سے کراتے ہیں… پھر جو جھوٹا ہوگا اس
پر اللہ تعالیٰ کی کھلم کھلا لعنت نازل ہوجائے گی… بظاہر یہ
سادہ سی بات تھی… خود کو نعوذ ب اللہ نبی اور مسیح موعود کا جانشین
کہنے والے اگر پاکدامن ہوتے تو فوراً میدان میں اتر آتے مگر کہاں؟… ان پر تو موت
طاری ہو گئی … ان کا تو پورا دھندا ہی عیاشی اور بے حیائی کے گرد گھومتا ہے… ان
لوگوں نے جہاد کے خلاف تحریک چلانے کا ’’انگریزی مشن‘‘ اسی فانی دنیا کی مستیاں
پوری کرنے کیلئے تو اختیار کیا ہے… حضرت مولانا چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ ہر صبح اور
ہر شام … ہر قادیانی خلیفہ کو للکارتے رہے … اور انکی بدکرداری سے پردہ اٹھا کر …
مسلمانوں کو مدینہ منورہ کے پاکیزہ سائے سے قادیان کے ناپاک گڑھے میں گرنے سے
بچاتے رہے… اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہوں … اس پاکیزہ انسان پر
جس نے اپنے کردار کی خوشبو کو بھی … تحفظ ختم نبوت کے لئے وقف کر دیا…
۴ کامیاب
سیاستدان
جمہوری
سیاست کا میدان …کیچڑ اور دلدل سے بھرا پڑا ہے… لوگ اسلام کی خدمت کیلئے اس میدان
میں اترتے ہیں… اور پھر اسلام آباد کے بلیو ایریا میں گم ہو جاتے ہیں … اور اسلام
انہیں حیرت سے دیکھتا رہ جاتا ہے…کچھ عرصہ قبل ایک ایسے نوجوان سے ملاقات ہوئی جو
بہت متقی ہوا کرتے تھے… اور تلاوت کلام پاک کے شیدائی بھی … انکی
بدقسمتی کے وہ الیکشن جیت گئے اور پارلیمنٹ کے ممبر بن گئے… وہ تقریباً رو رہے تھے
اور بتا رہے تھے کہ … ایمان تباہ ہو گیا ہے … اور اب دامن میں کچھ بھی نہیں بچا …
جہاد کے بہت سے حامی اسمبلی کا ممبر بنتے ہی جہاد کو ایجنسیوں کا کھیل کہنے لگے …
اور بہت سے نمازی اسمبلی میں جا کر … بے نمازی بن گئے … سیاست کی اس کیچڑ اور دلدل
میں دینداروں کا کیا کچھ لٹ گیا… اس کی داستان بہت طویل ہے … اسی لئے تو امریکہ
سمیت کسی کو بھی علماء … اور انتہا پسندوں کے سیاست میں آنے پر کوئی اعتراض نہیں
ہے …بلکہ … مقبوضہ کشمیر میں پانچ سو انڈین فوجیوں کو قتل کرنے والا کوئی مجاہد
…اگر سیاست میں آنا چاہے تو اسے فوراً خوش آمدید کہا جاتا ہے اور اس کے تمام
جرائم ( ان کی نظر میں) کو معاف کر دیا جاتا ہے … اس دلخراش داستان کی تفصیل میں
پڑنے سے دریغ کرتے ہوئے عرض ہے کہ … اللہ تعالیٰ کے کچھ
مخلص بندے… سیاست کے اس دلدل سے بھی بحفاظت گزر گئے … اور … اس کیچڑ میں سے بھی …
طرح طرح کے دینی موتی چن لائے … ان حضرات نے جہاں ایک طرف اپنے کردار کی حفاظت کی
… وہاں انہوں نے اپنے مقاصد کو بھی پوری طرح سے یاد رکھا … اور ان حضرات کا سب سے
بڑا کارنامہ یہ ہے کہ …یہ اسمبلی ، سیاست اور اسلام آباد کے پرفریب ماحول سے
متاثر نہیں ہوئے … اور نہ انہوں نے سیاست میں ترقی ہی کو اپنا مقصد حیات بنایا …
انہوں نے سیاست کو تو اپنے ’’دینی مقصد‘‘ کیلئے استعمال کیا … مگر خود سیاست کے
ہاتھوں استعمال نہیں ہوئے… اور جب بھی … تاریخ نے ان سے سیاست یا دینی مقصد میں سے
ایک کو اختیار کرنے کا اُمتحان لیا تو انہوں نے … نفرت کے ساتھ سیاست کو پاؤں کی
ٹھوکر پر رکھا … ہم ایسے ہی سیاستدانوں کو کامیاب اور بامراد سیاستدان کہہ سکتے
ہیں… حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی بھی … اس اعتبار سے بہت کامیاب سیاستدان تھے …
وہ سیاست کی اس کیچڑ سے … ربوہ کا نام چناب نگر بدلوا آئے… جو ایک ایسا عظیم
الشان کارنامہ ہے جس پر … پوری اُمت مسلمہ کو حضرت مولانا چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ
کا ممنون اور شکرگزار ہونا چاہئے … وہ تین بار صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے …
اور ہر بار … ختم نبوت کی روح پرور خوشبو … اسمبلی کے ایوانوں میں
پھیلاتے رہے … وہ سیاست کے دلدل اور کیچڑ سے خود کو بچا بچا کر … اسلام
اور ختم نبوت کی جنگ لڑتے رہے … جو بذات خود ایک بہت بڑا مجاہدہ اور کارنامہ ہے …
اس آخری الیکشن میں … جبکہ یہ فیصلہ کیا جا چکا تھا کہ … علماء کو سیاست کے کنویں
میں ڈال کر … ختم نبوت ، جہاد… اور مجاہدین کو شکار کیا جائے … حضرت مولانا چنیوٹی
رحمۃ اللہ علیہ جیسے سیاستدان کو منتخب نہیں ہونے دیا گیا … حالانکہ … جس زمانے میں
علماء کرام کو پورے ملک سے صرف دو چار سیٹیں ملتی تھیں اس وقت بھی … حضرت مولانا
چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ الیکشن جیت جاتے تھے … مگر … جب ہر طرف دینی طبقے کا زور
تھا …اور فوجی حکومت کی خواہش بھی یہی تھی کہ زیادہ سے زیادہ علماء کرام کو …
اسمبلیوں میں نظر بند کیا جائے … تب… مولانا چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ اپنی پکی سیٹ
بھی ہار گئے … غالباً حکومت کو اندازہ تھا کہ … اس مرد حُر کو پابند نہیں کیا جا
سکتا … اور اسمبلی میں اس کے ہوتے ہوئے … ناموس رسالت… اور ختم نبوت کے خلاف کچھ
بھی پاس نہیں کیا جا سکے گا…
یوں
ہمارا یہ کامیاب سیاستدان … الیکشن ہار گیا … مگر … اپنا مقصد جیت گیا …
پاکستان
کے ستاون سالہ دور میں … اس وقت سب سے زیادہ علماء کرام اور دینی جماعتوں کے حضرات
اسمبلیوں کے رکن ہیں … ملک کی مختلف اسمبلیوں میں ڈیڑھ سو سے زائد ارکان کا تعلق …
ملک کی دینی سیاسی جماعتوں سے ہے … مگر… گزشتہ تین سالوں میں … جتنا نقصان … ختم
نبوت، جہاد، مجاہدین، مدارس اور مسئلہ ناموس رسالت کو پہنچا ہے… انتا گزشتہ باون
سالوں میں نہیں پہنچا … یقیناً یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے
… اللہ کرے دین کی حفاظت …اور خدمت کیلئے منتخب ہونے والے
یہ حضرات … اسلامی اقدار … خصوصاً ختم نبوت ، جہاد اور مدارس کی حفاظت کو … اسمبلی
رکنیت اور حکومت میں شرکت پر مقدم رکھیں … اور کسی ایسی مصلحت کا شکار نہ ہوں جو …
اسلام اور مسلمانوں کیلئے نقصان دہ ہو…
جہاد
کی غیر مشروط حمایت
حضرت
مولانا چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کا ایک اہم اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ آپ
نے ہمیشہ… جہاد فی سبیل اللہ کی غیر مشروط حمایت
اور خدمت کی … آپ کا یہ طرز عمل اس بات کی واضح دلیل ہے کہ
… اللہ تعالیٰ نے آپ کو قول و فعل کی صداقت کا اونچا مقام
عطا فرمایا تھا …یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی ملعون جہاد کا مخالف ہی
نہیں بدترین دشمن تھا … اور اس نے جہاد کے خلاف باقاعدہ تحریک چلا رکھی تھی … اور
اس تحریک کا دائرہ کار وہاں تک تھا جہاں تک انگریز کی فرمانروائی تھی … انگریز
چاہتا تھا کہ اسکا اقتدار سدا بہار رہے … اس کی خواہش کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ
اسلام کا حکم جہاد اور مسلمانوں کا جذبۂ شہادت تھا… انگریز کو مسلمانوں کے علاوہ
باقی اقوام سے یہ تجربہ تھا کہ وہ … غلامی کو قسمت یا سعادت سمجھ کر قبول کر لیتے
ہیں … جبکہ … مسلمان غلامی گوارہ نہیں کرتے اور استحصالی قوتوں کے خلاف میدان میں
اتر آتے ہیں … اس لئے اسلام کے حکم ’’جہاد‘‘ کو بدلنے اور مسلمانوں میں ’’جذبہ
شہادت‘‘ کی بجائے ’’خوئے غلامی ‘‘ پیدا کرنے کیلئے … انگریزوں نے ایک دجّالی تحریک
کا سہارا لیا … اور اس قادیانی تحریک کو اپنے وسائل کے زور پر دنیا بھر میں پھیلا
دیا … قادیانی لٹریچر اور ذہنیت کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ … اس
ناپاک تحریک کا خلاصہ ’’انکار جہاد‘‘ ہے … مرزا قادیانی ملعون نے انگریزی حکومت کی
خدمت کیلئے مسئلہ جہاد پر تحریف و تاویل کی ایسی بوچھاڑ کی کہ … اس کے ناپاک اثرات
بہت عام ہونے لگے … حتیٰ کہ مرزا قادیانی کے خلاف کام کرنے والے کئی افراد کو
دیکھا کہ جہاد کے بارے میں ان کے نظریات … مرزا قادیانی کی تحریفات سے متاثر ہیں …
حضرت
مولانا چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ تعالیٰ نے … قادیانیت
کے خلاف ایک حقیقی مجاہد کے طور پر کھڑا فرمایا تھا … چنانچہ … جہاں آپ نے
قادیانیت کا بھرپور تعاقب کیا وہاں نظریۂ جہاد کی بھی خوب خدمت کی … آپ بار ہا
افغانستان تشریف لے گئے … آپ نے تمام جہادی جماعتوں کی ہر وقت … اور ہر طرح کے
موسم میں اعانت کی… آپ رحمۃ اللہ علیہ مجاہدین کے اجتماعات اور جلسوں کے روح رواں
بنے رہے … آپ کشمیر کے جہاد کے زبردست حامی رہے… آپ نے اپنی تقاریر میں نہایت
نپے تلے علمی الفاظ کے ساتھ … جہاد کی حمایت کا سلسلہ تادم واپسیں جاری رکھا … اور
یوں آپ کی ذات … مکمل طور پر ’’رد قادیانیت‘‘ کا چلتا پھرتا نمونہ بن گئی …
پھر اللہ تعالیٰ کا آپ پر خاص فضل یہ رہا کہ آپ ’’حسد‘‘
اور ’’تنگ دلی‘‘ سے بہت دور رہے … اور آپ اکثر دینی جماعتوں اور کاموں کی بے دھڑک
تائید اور حمایت فرماتے تھے … اور اپنے سے بہت چھوٹے افراد کی بھی … بھرپور حوصلہ
افزائی کرتے تھے … حالانکہ … ہمارے اس دور میں ایسا بہت کم ہوتا ہے …
اپنے
مقصد کا جنون
حضرت
مولانا چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ کی سب سے زیادہ متاثر کن صفت … ان کا اپنے مشن اور
مقصد کے ساتھ والہانہ لگاؤ… اور جنون تھا … ہم نے ’’یکسوئی‘‘ کا لفظ بارہا سنا ہے
… مگر کوئی ’’یکسو دیوانہ‘‘ خال خال ہی دیکھنے کو ملتا ہے… لوگ کسی دینی کام کو
اپنا مقصد اور مشن بناتے ہیں … مگر پھر… دائیں بائیں پھسل جاتے ہیں … کچھ لوگ
تنگی، تنگدستی، ناقدری کی وجہ سے اپنا مشن بھول جاتے ہیں جبکہ بعض لوگ خوف اور
دباؤ کی وجہ سے راستہ بدل لیتے ہیں … کچھ لوگوں کو … کسی اور کام میں زیادہ
’’چمک‘‘ نظر آ جاتی ہے تو کچھ اپنی ذات کی مجبوریوں میں پھنس جاتے
ہیں… اللہ تعالیٰ نے حضرت مولانا چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ
کوبہت مثالی یکسوئی عطا فرمائی تھی وہ عشق رسول صلی اللہ علیہ
وسلم سے سرشار ہو کر … قادیانیوں کے تعاقب میں نکلے تو پھر … نہ جیل کی
سختی انہیں روک سکی … اور نہ ریل کی تھکاوٹ آڑے آئی… انہوں نے اپنی ذات کو اس
قدر بھلا دیا کہ … مجھے یاد نہیں کہ … انہوں نے درجنوں ملاقاتوں کے دوران اپنی ذات
کی کوئی بات کی ہو … وہ سفر کے دوران ملے یا حضر میں … صحت کی حالت میں ملے یا
بیماری میں … انہوں نے … اپنا عاشقانہ موضوع ہی دہرایا … انہوں نے تحفظ ختم نبوت
کو اپنا ذاتی مسئلہ بنا لیا … اور پھر اسی کی صدا لگاتے رہے … مجھے یاد ہے کہ
گوجرانوالہ میں جلسہ کے موقع پر … کھانے کی نشست کے دوران قومی اسمبلی کے ایک ممبر
بھی… تشریف فرما تھے … حضرت مولانا چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ نے انہیں
فرمایا جناب میرا ایک مسئلہ بھی حل کرا دیں … میں سمجھا … کوئی ذاتی
مسئلہ ہو گا … مگر انہوں نے … قادیانی املاک کو اوقاف کی ملکیت میں دینے کا مسئلہ
پوری تفصیل سے بیان کیا … اور ممبر اسمبلی صاحب سے اس کے لئے کوشش کرنے کا وعدہ
لیا … اسی طرح … موجودہ قادیانی گرو مرزا مسرور کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ …
یہ میرا ملزم ہے … اور پھر پوری تفصیل سے اس کی گرفتاری کا قصہ سناتے تھے … اپنے
مقصد کے ساتھ جنونی تعلق کا یہ عالم تھا کہ … مرزا قادیانی کے کذب کی جیتی جاگتی
نشانی … محترمہ محمدی بیگم صاحبہ کو ڈھونڈ لیا اور ان سے اس وقت مل آئے جب وہ
بڑھاپے کی آخری منزلوں پر تھیں … حضرت مولانا چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ کی ہزار صفات
اور ہزار کارنامے ایک طرف … مگر میرے نزدیک ان کی سب سے قابل تقلید اور قابل رشک
صفت ان کی یہ یکسوئی، لگن اور کڑھن تھی … انسان بہت کمزور اور مجبور ہے … ہر آدمی
کے بے شمار مخالف اور دشمن ہیں … ہر آدمی طرح طرح کی بیماریوں اور عوارض کا شکار
ہے … اس لئے وہ اپنے مقصد کے ساتھ اس قدر ’’یکسو‘‘ نہیں رہ سکتا … مگر ختم نبوت کی
شمع بہت تابناک ہے … اور اس کا یہ مخلص پروانہ بس اسی کے گرد گھومتا رہا … اپنی
جوانی، زندگی … اور راحت کو مزے لے لے کر فدا کرتا رہا … اور پھر بہت سے افراد کو
اس شمع کا پروانہ بنا کر خود … آرام کے لئے بلا لیا گیا …
سوال: ان
کے چند ایک واقعات جن سے انکی شخصیت کا کوئی پہلو نمایاں ہوتا ہو ؟
جواب
نمبر ۴ کے
ذیل میں چند واقعات عرض کر دیئے ہیں…
سوال
: انکی کوئی تحریر آپ کے پاس ہو تو اس کی صاف اور واضح فوٹو کاپی
عنایت فرمائیں۔
جواب
: حضرت مولانا چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ نے مختلف جلسوں میں دعوت دینے کیلئے … اور
بعض دوسرے حضرات کے جلسوں میں شرکت کی سفارش کیلئے … بعض خطوط تحریر فرمائے… بندہ
اپنی دربدری کی وجہ سے انہیں ڈھونڈنے اور بھجوانے سے قاصر ہے … البتہ حضرت
مولانارحمۃ اللہ علیہ نے اپنی دو کتابیں عنایت فرماتے وقت ان کے شروع میں چند
الفاظ لکھے تھے انکی فوٹو کاپی بھجوا رہا ہوں … ایسا تعمیل حکم میں کر رہا ہوں
میری گزارش ہے کہ انہیں شائع نہ کیا جائے کیونکہ بندہ ان الفاظ کا مستحق نہیں ہے …
یہ حضرت مولانا کی وسعت قلبی اور اعلیٰ ظرفی تھی کہ آپ نے اپنے ایک ادنیٰ سے
شاگرد کی حوصلہ افزائی فرمائی …
سوال
: ان کے بارے میں آپ کی ذاتی رائے
جواب: ایک
ہدایت یافتہ، فلاح یاب، کامیاب مسلمان… سچے عاشق رسول صلی اللہ علیہ
وسلم ، مجاہد اسلام، صفدر مناظر … اور اُمت مسلمہ کا فخر… جگر مرحوم کا
یہ شعر ان کی نذر …
اپنا
زمانہ آپ بناتے ہیں اہل دل
ہم
وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا
سوال: ان
کے مشن کو جاری رکھنے اور وسعت دینے کیلئے تجاویز!
جواب: اللہ تعالیٰ
حضرت مولانارحمۃ اللہ علیہ کے فاضل صاحبزادوں اور تلامذہ کو اسکی بھرپور صلاحیت
اور توفیق عطاء فرمائے … فوری طور پر حضرت مولانا کی سوانح حیات اور آپ کی تصانیف
کو وسیع پیمانے پر عام کرنے کی ضرورت ہے … المنظور کے نام سے ایک ہفت روزہ معیاری
رسالہ جاری کیا جائے … جس میں آدھا حصہ حضرت مولانا کے مواعظ، فرمودات، تصانیف،
واقعات اور مناظروں کے لئے ہو… اور باقی آدھے حصے میں حالات حاضرہ کے مطابق …
تحفظ ختم نبوت وغیرہ پر مضامین ہوں … حضرت مولانا کے ردقادیانیت پر دروس کی کیسٹ اور
سی ڈی کا معیاری سیٹ بنا کر اخبارات اور دینی رسالوں میں اسکا اشتہار دیا جائے
تاکہ لوگ گھر بیٹھ کر … اس نصاب کو حضرت مولانارحمۃ اللہ علیہ کی آواز میں سن
سکیں … اور اہم ترین کام یہ ہے کہ حضرت مولانارحمۃ اللہ علیہ نے جو کام شروع کئے …
خصوصاً … ادارہ مرکزیہ دعوت والارشاد چنیوٹ … ان کا رنگ پھیکا نہ پڑنے پائے …
اللہ تعالیٰ
ان تمام کاموں کو خوب خوب ترقی اور قبولیت عطاء فرمائے… اور ان صدقاتِ حسنہ کو
تاقیامت جاری و ساری رکھے …
وصلی اللہ تعالیٰ
علیٰ خیر خلقہ سیّدنا محمد والہ واصحابہ اجمعین
محمد
مسعود ازہر
۳ رجب
المرجب ۱۴۲۷ھ بمطابق ۹ اگست ۲۰۰۸ء
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
’’منافقین‘‘ کے شر سے امّت مسلمہ کی حفاظت فرمائے… پچھلے ہفتے ’’حضرت چنیوٹی رحمۃ
اللہ علیہ ‘‘ کے خصوصی شمارے کی وجہ سے وہ کالم مکمل نہ ہوسکا تھا جو ’’مقابلہ‘‘
کے عنوان سے شروع کیا تھا… وہ موضوع بہت اہم ہے… نفاق کا فتنہ بہت ’’طاقتور‘‘
ہوچکا ہے اور امّت مسلمہ کو اندر ہی اندر سے چاٹ رہا ہے… ابھی اسلامی دنیا کے
حکمران ’’شرم الشیخ‘‘ میں بہت بے شرمی کے ساتھ ’’بش‘‘ کی پوجا پاٹ میں لگے ہوئے
ہیں… ہر ایک بش کے قدموں میں بیٹھ کر بس یہی وعدہ کر رہا ہے کہ ہم اپنے ملکوں سے
اسلامی شدّت پسندی اور جہاد کو ختم کردیں گے… ہم اپنے ملکوں کو مغربی گناہوں کا
اڈّہ بنادیں گے… ہم مسلمان ضرور ہیں مگر اسلام سے ہمارا کوئی تعلق نہیں … ہم لبرل
ہیں، ہم سیکولر ہیں ، ہم امریکہ کے وفادار ہیں، ہم مغرب کے پرستار ہیں… کافروں
جیسا لباس، کافروں جیسی شکلیں، کافروں جیسے کرتوت، کافروں جیسی خرمستیاں… مگر نام
کے مسلمان … اللہ تعالیٰ اُمت مسلمہ پر رحم فرمائے… کسی ایک
نے بھی عراق کے مظلوم مسلمانوں کا مسئلہ نہیں اٹھایا… وہاں امریکی اژدھا آٹھ لاکھ
افراد کو نگل چکا ہے… کسی ایک نے بھی کشمیر کا مسئلہ نہیں اٹھایا کہ بش کے چہرے پر
ناراضی کی ایک شکن ان کو گوارہ نہیں… کسی ایک نے بھی افغانستان میں روزانہ ذبح
ہونے والے طالبان کی بات نہیں کی… کیونکہ طالبان کے تو یہ خود دشمن ہیں… ان کی اور
امریکی صدر کی سوچ میں کیا فرق ہے؟… کوئی نہیں… وزیر اعظم گیلانی سمیت تمام مسلمان
حکمران یہی دعویٰ کر رہے ہیں کہ ہماری اور صدر بش کی سوچ ایک ہے… انا
للہ وانا الیہ راجعون… کیا یہ مرنے کے بعد بھی صدر بش کے تابوت میں دفن
ہوں گے؟ … خیر چھوڑیں ان باتوں کو یہ باتیں تو آپ روزانہ اخبارات میں پڑھتے رہتے
ہیں… آئیے قرآن پاک سے روشنی لیں اور پوچھیں کہ
۱ نفاق
کے فتنے کا مقابلہ کیسے ہوگا؟
۲ نفاق
کے فتنے کا مقابلہ کہاں ہوگا؟
۳ نفاق
کے فتنے سے ہم خود کیسے بچ سکتے ہیں؟
ہمارے
جذباتی مسلمان جب اسلامی دنیا کے حکمرانوں کے حالات دیکھتے ہیں تو فوراً ان کیخلاف
مسلّح جہاد کا اعلان کردیتے ہیں… حالانکہ یہ اس مسئلے کا حل نہیں ہے…
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین کے خلاف جنگ
نہیں فرمائی… حالانکہ اُس زمانے کا ’’نفاقی فتنہ‘‘ بہت خطرناک تھا… انہوں نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کی سازش
کی… انہوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں علاقہ پرستی اور قوم پرستی
کا نعرہ بلند کرکے اسلام کی جڑ کاٹنے کی کوشش کی… انہوں نے کافروں کے ساتھ ہر طرح
کا خفیہ تعاون مسلمانوں کے خلاف کیا… انہوں نے کافروں کو اڈّے فراہم کیے… انہوں نے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے تک پر تہمت کی انگلیاں اٹھائیں… مگر
ان کے خلاف ’’جنگ‘‘ نہیں کی گئی… یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت بڑی
حکمت عملی تھی… اسی حکمت عملی نے اسلام کو تیس سال کے عرصے میں دنیا کا طاقتور
ترین حکمران بنادیا… آج کے مسلمان اسی حکمت عملی سے محروم ہیں… ہماری ساری
توانائیاں منافقین کے خلاف خرچ ہو رہی ہیں… اور کافر مزے سے اپنی طاقت اور اپنا
فتنہ بڑھاتے جارہے ہیں… مصر کے مجاہد حسنی مبارک کے ساتھ الجھے ہوئے ہیں… الجزائر
والے وہاں کی حکومت سے لڑ رہے ہیں… تیونس اور اردن کی تحریکیں بھی اندر ہی اندر کٹ
رہی ہیں… اور پاکستان میں بھی یہاں کی حکومت پر حملے کرنا اب سب سے بڑا جہاد سمجھا
جارہاہے… حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ
علیہم اجمعین اگر منافقین کے ساتھ اُلجھ جاتے تو دینِ اسلام مدینہ منورہ اور مکہ
مکرمہ سے باہر نہ نکل سکتا… مگر اس کا یہ مقصد نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ
علیہ وسلم نے منافقین کو ایسے ہی چھوڑ دیا… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
تو اپنی بے مثال حکمت عملی کی بدولت منافقین کے فتنے کو جڑ سے اکھاڑ دیا… اور اس
کا نام و نشان تک مٹادیا… قرآن پاک سمجھاتا ہے کہ منافقین کے ساتھ ’’مقابلہ‘‘ کرنے
کے لئے مسلمانوں کے پاس تین ہتھیار ہیں:
۱ جماعت ۲ جہاد ۳ مسجد
مسلمانوں
کو یہ تین ہتھیار بیک وقت استعمال کرنے ہوں گے تب منافقین کا فتنہ اپنی موت آپ
مرجائے گا…
اس
بات کو سمجھنے سے پہلے دو چھوٹی سی باتیں ذہن نشین کرلیں…
پہلی
بات یہ کہ منافقین ایسی حرکتیں کرتے ہیں کہ مسلمانوں کا صبر ٹوٹ جائے اور وہ ان سے
لڑنے لگیں… مدینہ منورہ کے منافقین نے ایسی بہت سی حرکتیں کیں اور صحابہ کرام
رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی ان کے خلاف تلواریں نکال لینے کا ارادہ کیا… مگر
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے صبر کو ٹوٹنے نہ دیا اور ہر موقع
پر یہی حکم دیا کہ مسلمان منافقین کے خلاف جنگ نہ کریں… یوں مسلمان ہر طرح کی خانہ
جنگی سے محفوظ رہے اور چن چن کر کافر دشمنوں کا صفایا کرتے رہے… پہلے مشرکین مکہ،
پھر یہود مدینہ، پھر عرب قبائل اور پھر شام… اور پھر عراق… اور یوں روم وفارس کی
سلطنتیں سمٹ گئیں اور اسلام ہر طرف پھیل گیا… دراصل جو شخص شیر کا شکار کرنے نکلا
ہو وہ ناک پر بار بار حملہ کرنے والی مکھی سے الجھ کر اپنی طاقت کو ضائع نہیں
کرتا… مکھی بار بار اس کے منہ پر اور اس کی ناک پر حملہ کرتی ہے اور اسے دعوت دیتی
ہے کہ شیر کو چھوڑو مجھ سے مقابلہ کرو… اب اگر یہ شخص اپنا تمام اسلحہ اور طاقت اس
مکھی کی سرکوبی پر خرچ کردے تو ’’آدم خورشیر‘‘ آزاد پھرتا رہے گا۔
دوسری
بات یہ ہے کہ منافقین ہمیشہ یہ چاہتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو کسی ’’غلط میدان‘‘ میں
مقابلے پر لے آئیں… اب ہر میدان میں تو اللہ تعالیٰ کی نصرت
نہیں اترتی… یہ نصرت تو صرف خاص اور اچھے میدانوں میں اترتی ہے… اس کو آسان سی
مثال سے سمجھیں، اگر کوئی گدھا یہ دعویٰ کردے کہ میں انسان سے افضل ہوں کیونکہ
میری آواز بہت طاقتور ہے… تو کیا انسان فوری طور پر اس میدان میں گدھے کے مقابلے
پر اتر آئے گا؟… اگر گندگی کا کیڑا دعویٰ کردے کہ میں انسان سے افضل ہوں کہ گندے
اور ناپاک پانی میں سانس لیتا ہوں جبکہ انسان ایسا نہیں کرسکتا … تو کیا انسان
اپنی فضیلت اور حقانیت ثابت کرنے کے لئے گندے پانی اور گٹر میں کیڑے کا مقابلہ
کرنے کے لئے اتر آئے گا؟… آج کل ہر طرف یہی شور ہے کہ مسلمانوں کو ’’جدید میڈیا‘‘
پر باطل کا مقابلہ کرنا چاہئے… کیا گندگی کے اس گٹر میں ہم باطل کا مقابلہ کرسکتے
ہیں؟… مدینہ منورہ کے منافقین نے بھی ایسے کئی میدان تجویز کیے اور مسلمانوں کو
مقابلے کے لئے بلایا… مگر مسلمانوں کے سروں پر آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم موجود تھے اور قرآن پاک نازل ہو رہا تھا… چنانچہ ’’ہرمیدان‘‘ میں مقابلے کا
غلط نعرہ اس زمانے میں کامیاب نہیں ہوسکا… دراصل بعض میدان تو ہوتے ہی کافروں اور
منافقوں کے ہیں… ان میدانوں میں جاکر ہم ان کا مقابلہ کس طرح سے کرسکتے ہیں؟… اگر
ہم ان میدانوں میں گئے تو ہم خود مذاق بن جائیں گے… جس طرح آج ’’ٹی وی‘‘ پر باطل
کا مقابلہ کرنے والے مذاق بنے ہوئے ہیں… پاکدامن عورتیں ’’بے حیائی‘‘ کے مقابلے
میں کہاں کامیاب ہوسکتی ہیں؟… جس طرح قرآن پاک کو ہرجگہ لے جانا جائز نہیں ہے کہ…
کوئی نعوذب اللہ ناپاک جگہ بھی اسے اٹھا کر لے جائے… اسی طرح ’’اسلام‘‘
اور ’’حق‘‘ کو ہر جگہ لے جانا بھی جائز نہیں ہے یہ شیطان کا دھوکا اور منافقین کی
سازش ہے… اور ہم میں سے بعض لوگ اس سازش کا ’’نیک نیتی‘‘ سے شکار ہو رہے ہیں… یاد
رکھیں ہم بینک بناکر، ٹی وی چینل کھول کر … اور مخلوط تعلیمی ادارے بنا کر ان کا
مقابلہ کرنے نکلے تو ہم بری طرح ناکام ہوں گے…
سرسیّد
احمد خان یہی نظریہ اُٹھا کر بہت سوں کو تباہ کر گئے… افسوس کہ آج کئی مخلص
مسلمان اسی نظریئے کا ڈھول پیٹ رہے ہیں…
ان
دو باتوں کو ذہن میں رکھ کر ہم پھر اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں کہ… منافقین سے
مقابلہ کیسے ہو اور کہاں ہو اور کس طریقے پر ہو… قرآن پاک نے تین طریقے سمجھائے
ہیں کہ بیک وقت ان تین طریقوں کو اختیار کرکے منافقین کے فتنے کو توڑا جاسکتا ہے
اور مسلمانوں کی نفاق سے حفاظت کی جاسکتی ہے…
۱ ایمان
کی بنیاد پر قائم ہونے والی جماعت
۲ اسلام
دشمن کافروں کے خلاف مسلسل جہاد
۳ مساجد
کی آبادی
منافقین
کے ساتھ مقابلہ کا یہ تین نکاتی نصاب قرآن پاک نے ’’سورۃ التوبہ‘‘ میں بیان فرمایا
ہے… یہ سورۃ دراصل منافقین کے حالات سمجھانے والی اور کرید کریدکر ان کی صفات
بتانے والی سورۃ ہے… مثال کے طور پر آپ اس زمانے میں مغرب کی شہہ پر کام کرنے والی
این جی اوز کو دیکھیں… اور پھر سورۃ التوبہ کو دیکھیں تو عقل حیران رہ جاتی ہے کہ
قرآن پاک نے کس طرح سے صدیوں سے پہلے ان فتنہ پرور اداروں کے حالات بیان فرمادیئے
ہیں… اسی طرح آپ سورۃ التوبہ کو دیکھیں اور موجودہ اسلامی دنیا کے حکمرانوں کے طرز
عمل کو دیکھیں تو آپ کا دل پکار اٹھے گا کہ بے شک قرآن
پاک اللہ رب العالمین کا کلام ہے… سورۃ التوبہ آیت (۱۰۷) کو
دیکھیں… منافقین نے اپنے مشن کی تکمیل کے لئے ایک عمارت بنائی… نام اس کا ’’مسجد‘‘
رکھا اور اعلان کیا کہ ہمارا مقصد رفاہ عامہ اور خدمت خلق ہے… اِنْ اَرَدْنَآ
اِلاَّ الْحُسْنٰی… بیمار، کمزور اور بوڑھے لوگوں کو راحت پہنچانے کے لئے ہم نے یہ
مسجد بنائی ہے… قرآن پاک بتاتا ہے کہ ان کے اصل مقاصد چار تھے:
۱ مسلمانوں
کے دینی مراکز اور مساجد کو نقصان پہنچانا
۲ مسلمانوں
کے معاشرے میں کفریہ باتوں کو پھیلانا اور کفر کو تقویت دینا
۳ مسلمانوں
کے درمیان تفرقے پیدا کرنا، ان میں جدائیاں ڈالنا
۴ اسلام
اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے والے کافروں کو اڈے فراہم کرنا، ان کے لئے خفیہ
مرکز بنانا اور ان کی امداد کرنا
دیکھئے
قرآن پاک کے الفاظ:
وَالَّذِیْنَ
اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّکُفْرًا وَّتَفْرِیْقًا م بَیْنَ
الْمُؤْمِنِیْنَ وَاِرْصَادًا لِّمَنْ
حَارَبَ اللہ وَرَسُوْلَہٗ مِنْ قَبْلُ وَلَیَحْلِفُنَّ
اِنْ اَرَدْنَآ اِلاَّ الْحُسْنٰی وَ اللہ یَشْہَدُ اِنَّہُمْ
لَکٰـذِبُوْنَ ۔ (التوبۃ۱۰۷)
ترجمہ: کچھ
منافق وہ ہیں جنہوں نے اس غرض سے ایک مسجد بنائی کہ (مسجد قباء کو اور مسلمانوں
کو) نقصان پہنچائیں اور کفر کو تقویت دیں اور ایمان والوں میں پھوٹ ڈالیں اور اس
مسجد کو اس شخص کے گھات لگانے کی جگہ بنائیں جو ایک عرصہ سے اللہ تعالیٰ
اور اس کے رسول کے خلاف برسر پیکار ہے اور وہ ضرور قسمیں کھائیں گے کہ ہمارا مقصد
تو صرف بھلائی تھی اور اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ بے شک
وہ جھوٹے ہیں…
اگر
آپ اس آیت مبارکہ کی تفسیر کو غور سے پڑھیں تو آپ کی آنکھیں کھل جائیں … اور مدارس
اور مساجد کے خلاف جو مہم چل رہی ہے اور قوم پرستی کے جو نعرے ہر طرف بلند ہو رہے
ہیں ان کی اصل وجہ سمجھ میں آجائے… انشاء اللہ اگلی نشست
میں اس آیت کی کچھ تفسیر اور منافقین سے مقابلے کے جو تین طریقے ہیں ان کے بارے
میں کچھ عرض کیا جائے گا…
وصلی اللہ تعالیٰ
علی خیر خلقہ سیّدنا محمد وآلہ وصحبہ وسلم تسلیما
اللہ تعالیٰ
ہمیں ایمان کامل عطاء فرمائے اور نفاق ومنافقین سے ہماری حفاظت فرمائے… پچھلے ہفتے
ہم نے پڑھا کہ مدینہ منورہ کے منافقین نے ’’مسجد‘‘ کے نام سے ایک عمارت بنائی… اور
مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے
افتتاح کی درخواست کی… آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ تبوک کے لئے تشریف
لے جارہے تھے… اس لئے اس معاملہ کو اپنی واپسی تک ملتوی فرمایا… واپسی کے سفر میں
ابھی مدینہ منورہ پہنچے بھی نہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سازش سے آگاہ فرمادیا اور
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند صحابہ کرؓام کو بھیج کر اس عمارت کو آگ
لگوادی… یہاں چند باتیں ذہن میں رہیں…
۱ منافقین
نے اس عمارت کا نام ’’مسجد‘‘ رکھا… معلوم ہوا منافقین دین کا لبادہ اوڑھ کر اور
دینی اصطلاحیں استعمال کرکے مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہیں
۲ انہوں
نے اعلان کیا کہ ہمارا مقصد نیک ہے… ہم ضعیف، بیمار اور کمزور مسلمانوں کو فائدہ
اور آسانی پہنچانا چاہتے ہیں… معلوم ہوا کہ منافقین یہی نعرہ لگاتے ہیں کہ ہم اُمت
مسلمہ کے خیرخواہ ہیں، ہم اُمت کی ترقی، آسانی اور حفاظت چاہتے ہیں
حضرت
مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’انوار البیان‘‘ میں مسجد ضرار
کی مثال کے طور پر مرزا قادیانی کو پیش فرمایا ہے… اور ہم اس زمانے میں دہلی کے
وحید الدین خان اور لاہور کے ’’جاوید غامدی‘‘ کو پیش کرسکتے ہیں… ان تین شخصیات کو
آپ غور سے دیکھیں تو آپ کو ’’مسجدضرار‘‘ کا پورا معاملہ سمجھ میں آجائے گا…
۱ نام
اسلامی اور دل کفر اور کافروں کی محبت سے لبریز
۲ مسلمانوں
کی خیر خواہی کا دعویٰ کہ جہاد میں ان کے لئے ہلاکت ہے اور امریکہ کی غلامی میں ان
کی نجات، ترقی اور آسانی ہے
۳ مسلمانوں
سے نفرت اور ان کی تحقیر اور کافروں کو معزز سمجھنا
۴ مسلمانوں
کے جہاد پر اعتراضات کہ ایک جان کو قتل کرنا پوری انسانیت کا قتل ہے… مگر امریکہ
اور انڈیا جتنے مسلمانوں کو قتل کردے اس کو اچھا سمجھنا اور مجاہدین کو قتل کرنے
والوں کو خوب داد دینا
۵ ہر
معاملے میں مسلمانوں کو غلط قرار دینا اور کافروں کی منہ بھر کر وکالت کرنا
اور
ان سب کی عادتیں بھی ایک جیسی ہیں…
۱ عزت
اور نام کے بھوکے … ظالم حکمرانوں کے چیلے
۲ مال
کے لالچی اور حریص
۳ واضح
دینی احکام میں تاویلیں کرنے والے
۴ امریکہ،
برطانیہ اور یورپ کے پجاری
۵ دینی
غیرت کے دشمن
۶ کافروں
کے لئے نرم اور مسلمانوں کے لئے بے حد بدزبان اور سخت
ابھی
چند دن ہوئے مجھے ’’جاوید غامدی‘‘ کے ایک چیلے کے خطوط ملے اس میں لکھا ہے:
۱ امریکہ
نے عراق اور افغانستان کے مسلمانوں کو ظلم سے نجات دلائی ہے
۲ صدر
بش نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ کر دنیا میں امن قائم کیا ہے
۳ توہین
رسالت کی سزا موت قرار دینا بہت بڑی غلطی ہے
۴ عورتوں
کی اماُمت کو غلط قرار دینا جاہل مولویوں کا کام ہے
۵ اسلام
میں عورت کا پردہ نہیں ہے
۶ جہاد
کی آیات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے
لئے تھیں
۷ اگر
کنڈوم استعمال کرکے زنا کیا جائے تو یہ اس زنا کی طرح قابل مذمت نہیں جس سے اولاد
ہوتی تھی اور اسلام نے منع کیا تھا
۸ موسیقی
حلال ہے
۹ شراب
اور جسم فروشی پر پابندی غلط ہے
۱۰ یہ
عقیدہ غلط ہے کہ صرف مسلمان ہی جنت میں جائیں گے
اس
ظالم شخص نے مسلمانوں کے خلاف، مجاہدین کے خلاف اور علماء کے خلاف ایسی گندی اور
سخت زبان استعمال کی ہے کہ … اسے نقل کرنا بھی محال ہے… اور حضرت امیر معاویہ رضی
اللہ عنہ کی شان میں بھی گستاخی بکی ہے…
آپ
وحید الدین خان، ڈاکٹر جاوید غامدی اور اس طرح کے دوسرے منحرفین کو دیکھیں ان سب
نے اپنے اور اپنے اداروں کے نام اسلامی رکھے ہوئے ہیں… یہ لوگ مسلمانوں کے درمیان
بدترین تفریق ڈالتے ہیں جبکہ ظاہری طور پر فرقہ واریت کے خلاف بولتے ہیں… یہ لوگ
’’مادّی ترقی‘‘ کو اصل کامیابی سمجھتے ہیں اور کافروں کو اس بات کی ترغیب دیتے ہیں
کہ وہ مجاہد مسلمانوں کو ختم کردیں… یہ لوگ ظاہری طور پر محبت اور رواداری کا درس
دیتے ہیں… مگر جب وہ مجاہدین اور علماء کے خلاف لکھتے یا بولتے ہیں تو ان کی
’’محبت‘‘ اور ’’رواداری‘‘ کہیں دور گم ہوجاتی ہے… یہ لوگ اسلامی معاشرے کو بے
حیائی، موسیقی اور مغرب پرستی سے بھرنا چاہتے
ہیں… اللہ تعالیٰ ان سب کے شر سے مسلمانوں کی حفاظت فرمائے…
عجیب بات ہے کہ یہ لوگ صدر پرویز کے دیوانے عاشق ہیں… اور وجہ صرف ایک ہے کہ انہوں
نے مجاہدین کو ختم کرنے کے لئے امریکہ کا ساتھ دیا ہے… بس ان کے اسی طرز عمل سے آپ
اندازہ لگالیں کہ یہ لوگ کس کے ایجنٹ اور کس کے آلہ کارہیں… اور یہ مسلمانوں سے
کتنی نفرت رکھتے ہیں…
حضرت
مولانا عاشق الٰہی صاحب رحمۃ اللہ علیہ مسجد ضرار کی مثال کے طور پر مرزا قادیانی
کو پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’یہ
منافقین کا پرانا طرز عمل ہے کہ وہ دین کا نام لیکر کفر پھیلاتے ہیں اور مسلمانوں
کو نقصان پہنچاتے ہیں، مسجد ضرار میں بھی نام ’’مسجد‘‘ کا تھا مگر حقیقت میں وہ
کفر و نفاق اور شرو فساد کا ایک اڈّہ تھا۔
انگریزوں
کو اپنے اقتدار میں یہ خوف لاحق ہوا کہ کہیں مسلمان جہاد کے لئے کھڑے نہ ہوجائیں،
اس لئے انہیں اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ اسلام ہی کی راہ سے جہاد کو منسوخ
کرائیں، جہاد اسلام کا بہت بڑا عمل ہے۔ اپنے وفادار نام نہاد علماء سے منسوخ کراتے
تو کون مانتا، اس لئے انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ ایک شخص سے نبوت کا دعویٰ
کرایا پھر اس سے جہاد منسوخ ہونے کا اعلان کرادیا، وہ سمجھتے تھے کہ اس طرح مسلمان
جہاد کو منسوخ مان لیں گے، انہیں یہ پتہ نہ تھا کہ مسلمان انگریزوں کے بنائے ہوئے
نبی کو ماننے سے انکار کردیں گے، بہرحال انہوں نے اپنا یہ حربہ استعمال کیا، یعنی
ایک شخص سے نبوت کا اعلان کراکے جہاد منسوخ کرانے کی سعی لاحاصل کی‘‘۔ (تفسیر
انوارالبیان)
جاوید
احمد نے بھی اپنے نام کے ساتھ ’’غامدی‘‘ لگا کر خود کو عربی اور علمی شخصیت قرار
دینے کی کوشش کی ہے… اس شخص کا تعلق مشرقی پنجاب سے ہے… ایک صحافی نے اس سے پوچھا
کہ آپ ’’غامدی‘‘ کیسے بن گئے… جواب دیا کہ میرا داد اصلاحی کام کرتا تھا میں نے
ارادہ کیا کہ ان کی طرف اپنی نسبت کروں… مگر ان کے پنجابی نام کی طرف نسبت کے لئے
لفظ موزوں نہیں ہو رہا تھا… پھر مجھے پتہ چلا کہ عربوں کا قبیلہ ’’بنوغامد‘‘ بھی
اصلاحی کام کرتا ہے تو میں فوراً ’’غامدی‘‘ بن گیا… اب اگر اس کا نام ’’جاوید‘‘
رہتا تو لوگ اس کی باتوں کو ’’جیدے کی چولیاں‘‘ سمجھ کر چھوڑ دیتے مگر غامدی کا
لفظ سنتے ہی یوں لگتا ہے جس طرح ماضی کا کوئی بڑا امام ہو اور کوئی بڑی علمی
شخصیت… انا للہ وانا الیہ راجعون…
اب
نفاق کے اس خوفناک فتنے کا مقابلہ کیسے ہو؟… قران پاک نے جو طریقے بتائے ہیں ان کو
سمجھنے کے لئے ملاحظہ فرمایئے سورۃ التوبہ آیت ۷۱
اللہ تعالیٰ
کا ارشاد گرامی ہے:
وَالْمُؤمِنُوْنََ
وَالْمُؤمِنَاتُ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَائُ بَعْضٍ یَأمُرُوْنَ بِا لْمَعْرُوْفِ وَ
یَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤتُوْنَ الزَّکٰوۃَ
وَیُطِیْعُوْنَ اللہ وَرَسُوْلـَہٗ اُوْلٰٓئِکَ
سَیَرْحَمُہُمُ اللہ اِنَّ اللہ عَزِیْزٌ
حَکِیْمٌ۔ (التوبۃ۷۱)
ترجمہ: اور
ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں نیکی کا حکم کرتے
ہیں اور برائی سے روکتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں
اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ
وسلم کی فرمانبرداری کرتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن
پر اللہ تعالیٰ رحم کرے گا، بے
شک اللہ تعالیٰ زبردست حکمت والا ہے۔
اس
کے بعد والی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والے مردوں اور
عورتوں کے لئے جنت کا وعدہ فرمایا ہے… حکمت اس کی یہ سمجھ آتی ہے کہ مؤمن دنیا میں
پابندی اور مشکل کی زندگی گذارتا ہے تو اس کو بتایا گیا کہ یہ پابندی اور مشکلات
تمہارے لئے بہتر ہیں… تمہاری مکمل آزادی والی زندگی آخرت میں شروع ہوگی اور تمہیں
جنت میں ہر وہ مزہ ملے گا جس کا کوئی انسان تصور بھی نہیں کرسکتا… جبکہ منافق یہ
سارے مزے اس دنیا میں حاصل کرنا چاہتا ہے… وہ نماز سے آزاد، جہاد سے آزاد، دینی
پابندیوں سے آزاد رہتا ہے تو مرتے ہی اس کے لئے جہنم اور ’’سجین‘‘ کا قید خانہ
تیارہے…
صاحب
فتح الجوّاد اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
پہلے
منافقین کی صفات بیان فرمائی گئیں، جن سے معلوم ہوا کہ یہ طبقہ اسلام اور مسلمانوں
کے لئے بے حد خطرناک ہے یہ لوگ ’’مُنْکَرْ‘‘ یعنی کفر اور برائی کو پھیلانے میں
اپنی قوت اور زور خرچ کرتے ہیں اور ’’مَعْرُوْف‘‘ یعنی اسلام کے خلاف ہر کوشش صرف
کرتے ہیں… اب سوال یہ ہے کہ آستین میں چھپے ہوئے اس خطرناک فتنے کا مقابلہ کیسے
ہوگا؟ یہ تو اندر ہی اندر سے مسلمانوں کو دیمک کی طرح چاٹ جائیں گے تو ان دو آیات
میں فرمایا گیا کہ مسلمان مرد اور عورتیں ایمان کی بنیاد پر ایک جماعت بن کر رہیں
اور ایک دوسرے کی مدد کریں اور اس جماعت کے ضروری کام یہ ہوں:
۱ امر
بالمعروف ، نہی عن المنکر
۲ اقاُمت
صلوٰۃ
۳ ایتاء
الزکوٰۃ
۴ جہاد
فی سبیل اللہ
تو
پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت آئے گی اور اس جماعت کو دنیا میں
حفاظت اور عزت ملے گی ان اللہ عزیز حکیم۔ (فتح الجوّاد)
صاحب
تفسیر الفرقان لکھتے ہیں:
مؤمن
مرد اور عورتیں آپس میں ’’جسم واحد‘‘کی طرح ہیں، حدیث میں آتا ہے :
المؤمن
للمؤمن کالبنیان یشد بعضہ بعضا وشبک بین اصابعہ (بخاری)
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں ملا کر فرمایا کہ اس طرح سے
ایک مسلمان دوسرے کی قوت کا باعث ہوتاہے۔
دوسری
روایت میں آتا ہے:
مثل
المومنین فی توادّہم وتراحمہم وتعاطفہم مثل الجسد اذا اشتکٰی منہ عضو تداعی لہ
سائر الجسد بالسہرو الحمّی (مسلم)
باہمی
محبت (اور تعاون) کے اعتبارسے مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں ایک عضو کو تکلیف پہنچتی
ہے تو اس کو تمام جسم صاف محسوس کرتا ہے۔
یہ
لوگ اصولی امور کو ہمیشہ پہلے لیتے ہیں، قرآن کی حفاظت ان کا اوّلین کام ہے، جہاد
کر کے مرکزی قوت کو کمزور ہونے سے بچاتے ہیں، اللہ تعالیٰ
ان کو دنیا میں عزت عطاء فرمائے گا اور یہ بات اس عزیز و حکیم کے نزدیک کچھ بھی
(مشکل) نہیں ہے۔ (تفسیر الفرقان)
ان
آیات کا ایک اہم مقصد یہ ہے کہ مسلمان خود کو منافقین سے الگ رکھیں اور ان کے
اثرات قبول نہ کریں، تفسیر ماجدی کے مصنّف لکھتے ہیں:
’’فقہاء
نے لکھا ہے کہ آیت کی رو سے ایک مستقل گروہ کافروں اور منافقوں کا قرار پاگیا اور
دوسرا مستقل طبقہ اہل ایمان کا، اس لئے جو سلوک ومحبت مؤمنین کے درمیان آپس میں
ثابت اور لازم ہے وہ سلوک ومحبت کفار ومنافقین سے نہیں رکھنی چاہئے اور جو سختی
اور شدّت کفار ومنافقین کے ساتھ رکھنا دینی طور پر ضروری ہے وہ سختی مسلمانوں کے
ساتھ رکھنا جائز نہیں۔ (تفسیر ماجدی)
معلوم
ہوا کہ منافقین کا مقابلہ ایک ایسی جماعت کرسکتی ہے جو ایمان اور جہاد کی بنیاد پر
قائم ہو… اور فکر آخرت سے پوری طرح سرشار ہو … اور یہ جماعت مسلمانوں کو مسجد میں
جوڑے، جمع کرے اور وہاں مسلمانوں کی تربیت کرے… یہ بات ویقیمون الصلٰوۃ سے بھی
معلوم ہوئی … اور جہاں قرآن پاک نے ’’مسجد ضرار‘‘ کا تذکرہ فرمایا ہے
وہاں بھی اس بات کی ترغیب موجود ہے کہ اہل ایمان… ان مساجد کو آباد کریں جن کی
بنیاد تقویٰ اور طہارت پر ہے… مثال کے طور پر ڈاکٹر جاوید غامدی یا وحید الدین خان
ٹی وی پر آتے ہیں… وہ کہتے ہیں موجودہ حکمرانوں کی اطاعت مسلمانوں پر فرض ہے…
سونیا گاندھی، من موہن سنگھ، پرویز مشرف… ان سب کی اطاعت قرآن و سنت کی رو سے
مسلمانوں پر فرض ہے… اور مولوی کہتے ہیں کہ قرآن وسنت میں جن حکمرانوں کی اطاعت کا
ذکر ہے وہ خلفائے راشدین یا اچھے حکمران ہیں تو ہم پوچھتے ہیں قرآن وسنت میں جہاں
والدین کی اطاعت کا حکم ہے تو کیا وہاں بھی یہی مراد ہے کہ والدین اگر صحابہ کرام
رضوان اللہ علیہم اجمعین ہوں تو ان کی اطاعت کی جائے؟… ٹی وی پر بیٹھنے والے لوگ
اس دلیل سے متاثر ہوتے ہیں … کیونکہ مسجد کا پاکیزہ ماحول موجود نہیں ہے… گناہ کے
ماحول میں گناہ کی بات ہی وزنی نظر آتی ہے… اگلے دن وحید الدین خان اور ڈاکٹر
جاوید غامدی کہتے ہیں جہاد کی آیات تو رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے لئے تھیں… نصرت کے وعدے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور صحابہ کرام
رضوان اللہ علیہم اجمعین سے تھے ان آیات کا اس زمانے میں استعمال گمراہی ہے… ٹی وی
کے سامنے بیٹھے ہوئے لوگ اس بات کو بھی مان لیتے ہیں اور انہیں گزشتہ
کل والی بات یاد نہیں رہتی کہ حکمرانوں کی اطاعت والی روایت اس زمانے کے لئے بھی
ہیں… وجہ بالکل واضح ہے… ٹی وی گانے سناتا ہے… بے حیائی دکھا تا ہے… دنیا بھر کے
گندے اور برے انسانوں کو اداکار بنا کر پیش کرتا ہے… اس گندے ماحول کے درمیان گندی
باتیں ہی اثر کریں گی… جبکہ مسجد میں اذان ہوگی، تلاوت ہوگی، نماز ہوگی… ذکر ہوگا…
دین کے حلقے ہوں گے… نظر کی حفاظت ہوگی… ایسے ماحول میں قرآن وسنت کی بات ٹھیک طرح
سے سمجھ میں آجائے گی… وحید الدین خان اور غامدی کبھی ہمت نہیں کریں گے کہ عام
مسلمانوں کی مسجدوں میں آکر شراب، بے پردگی اور امریکہ کی وکالت کرسکیں… وہ یا تو
کسی ہوٹل کے ہال میں یہ باتیں کریں گے یا ٹی وی کے اسٹوڈیو میں… ویسے بھی تمام
صحیح مساجد کعبہ شریف کی بیٹیاں ہیں اور ہدایت کعبہ شریف پر اترتی ہے اور وہاں سے
مساجد کی طرف منتقل ہو کر لوگوں میں تقسیم ہوتی ہیں… مساجد اور مساجد کا ماحول
مسلمانوں کے لئے ہوا اور آکسیجن کی طرح ضروری ہے… اگر مسلمان ایمان اور جہاد کی
بنیاد پر جماعت بناکر نہ رہے اور انہوں نے مساجد کے ماحول کو اختیار نہ کیا تو
نفاق کے فتنے سے ان کی حفاظت بہت مشکل ہوجائے
گی… اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو جماعت، جہاد… اور مساجد
کا ماحول نصیب فرمائے … اور ہم سب کی نفاق ومنافقین سے حفاظت فرمائے… اور ہمیں اس
فتنے کے مقابلے میں کامیابی نصیب فرمائے…
وصلی اللہ تعالیٰ
علیٰ خیر خلقہٖ سیّدنا محمد وآلہ واصحابہ وسلم تسلیماً
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
نے ایک ہزار فرشتے نازل فرمائے… اور بہت تیز ٹھنڈی ہوا کی آندھی بھیجی… فرشتوں نے
رعب ڈالا اور آندھی نے طوفان اٹھایا… تب اتحادیوں کا لشکر بچاؤ، بچاؤ کی آوازیں
لگاتا ہوا بھاگ گیا… بارہ ہزار جنگجو بھاگ گئے اور حضور اکرم صلی اللہ
علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے محاذِ جنگ سے
واپس مدینہ منورہ پہنچے… جسم مبارک گرد وغبار کی چادر اوڑھے ہوئے تھا… پیاری اور
لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پانی لا کر سر
مبارک دُھلانے لگیں کہ حضرت جبرئیل امین علیہ السلام تشریف لے آئے…
یارسول اللہ آپ نے ہتھیار اتار دیئے جبکہ ہم آسمان والوں نے
ابھی تک نہیں اتارے… آسمان والے مجاہدین ایک ہزار فرشتے ابھی تک اسلحہ اٹھائے ہوئے
ہیں… حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کار گذاری سناتے ہوئے فرمایا میں مشرکین کے لشکر
کو بھگاتا رہا، بھگاتا رہا اب ان کو ’’روحاء‘‘ سے آگے تک چھوڑ کر آیا ہوں… بعد میں
ابوسفیانؓ نے بتایا کہ جب ہمارا لشکر بھاگا تو اس کے پیچھے اسلحے کی جھنکار صاف
سنائی دے رہی تھی… یہاں تک کہ ہم ’’روحاء‘‘ نامی علاقے سے آگے نکل گئے، پھر یہ
آوازیں بند ہوگئیں… حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اب کیا
ارادہ ہے؟… جبرئیل علیہ السلام نے یہودِ بنی قریظہ کی طرف اشارہ کیا تو
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو فوری
طور پر ’’بنوقریظہ‘‘ سے جہاد کے لئے بھیج دیا… اور پھر خود بھی روانہ
ہوگئے… صلی اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم … یہ
سب ۵ہجری
کے واقعات ہیں… شوال ۵ ہجری
میں یہودیوں، مشرکو ں اور کافروں کے ایک اتحادی لشکر نے مدینہ منورہ پر اپنے گمان
میں ایک فیصلہ کن حملہ کردیا تھا… قرآن پاک نے احسان فرمایا کہ یہ واقعہ بہت تفصیل
کے ساتھ سورۃ الاحزاب کی آیت (۹) سے
(۲۵) تک
میں بیان فرمادیا… اب جب بھی مسلمانوں پر اتحادیوں کا حملہ ہوتا ہے تو ہم ان مبارک
آیات سے پوری پوری رہنمائی لے سکتے ہیں… قرآن پاک نے سب کچھ بتادیا… خوفناک حملہ،
گویا کہ شدید زلزلہ… خوف، پریشانی، بھوک اور ظاہری طور پر مستقبل سے مایوسی… پھر
منافقین کے زرد چہرے، لمبی زبانیں، کافروں کے ساتھ ملنے کے اشارے اور جہاد کے خلاف
سخت باتیں … مسلمانوں کی استقامت، ان کا فدائی جذبہ اور ان کی قربانیاں… قرآن پاک
نے سارے کردار کھول کھول کر بیان فرمادیئے… ہم ان آیات کو پڑھ لیں اور پھر
افغانستان پر امریکیوں کے اور نیٹو کے اتحادی حملے کو دیکھیں تو ہمیں ان آیات کی
روشنی میں ملاّ محمد عمر کا استقامت سے چمکتا ہوا غبار آلودہ چہرہ دعاء
مانگتا ہوا نظر آئے گا… اور ہم کرزئی، مشرف اور جاوید غامدی کو بھی دیکھ سکیں گے…
جی ہاں قرآن پاک کی روشنی میں سب کچھ صاف صاف نظر آتا ہے… منافق چلاّ رہے تھے کہ
ہائے ہم مارے گئے، ہم مارے گئے… ہمارے ساتھ جہاد کے نام پر دھوکا ہوا، نصرت کی
باتیں سب فراڈ ہیں… کوئی نصرت نہیں آئے گی، ابوسفیان کا لشکر ناقابل شکست ہے، اب
ایک مسلمان بھی نہیں بچے گا، ہاں ایک بھی… کسی طرح (نعوذب اللہ )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین کے حوالے
کردو تاکہ پوری قوم تو بچ جائے … نعوذب اللہ ، نعوذب اللہ … اس بار
ابوسفیان اور غطفان کی جنگی ٹیکنالوجی کے سامنے مسلمان کچھ بھی نہیں کرسکیں گے …
مشرکوں کو خط لکھو اور بتاؤ کہ ہمارا ان مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے، ہم اسلام
کا کلمہ تو پڑھتے ہیں مگر جنگ وجہاد میں ہم ان دیوانوں کے ساتھ نہیں ہیں… بچاؤ
بچاؤ ہم مارے گئے، ہم مارے گئے… ہمارے ساتھ دھوکا ہوا… قرآن پاک نے عجیب نقشہ
کھینچا ہے… سات سال پہلے جب امریکہ اور نیٹو نے افغانستان پر حملہ کیا تو منافقین
کے یہ تمام جملے میں نے اخبارات کے کالموں میں پڑھے… کئی دانشوروں نے قوم کو ڈرایا
کہ ملاّ محمد عمر نے مسلمانوں کو مروادیا… دیکھ لینا چند دن میں کچھ بھی نہیں بچے
گا، دیکھ لینا مجاہدین اور پیچھے جائیں گے… اور پیچھے… آج سات سال ہوگئے
ماشاء اللہ مجاہدین آگے ہی آگے جارہے ہیں… ایمان والوں میں
سے کچھ نے تو شہادت پاکر اپنا عہد پورا کردیا اور کچھ انتظار میں ہیں کہ کب شہادت
ملے گی… اور جہاد آگے ہی آگے جارہا ہے آگے ہی آگے… آج میں غزوۂ احزاب پر نہیں لکھ
رہا بلکہ لکھنا کچھ اور چاہتا ہوں… اور لکھا کچھ اور جارہا ہے… دراصل آج مجھے ایک
شخص یاد آرہا ہے… کچھ دن سے وہ بہت یاد آتا ہے، تھوڑی دیر آنکھوں کے سامنے رہتا ہے
اور پھر دل کو ہلا کر چلا جاتا ہے… اور دور کہیں چھپ جاتا ہے… ہاں حسن والوں کا
یہی انداز ہوتا ہے… وہ آتے ہیں، ترساتے ہیں، تڑپاتے ہیں… اور پھر گم ہوجاتے ہیں…
چند دن پہلے بی بی سی پر ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب کا انٹرویو سنا… دل بہت خوش
ہوا، ڈاکٹر صاحب بڑے آدمی ہیں… اللہ پاک نے ان کو کچھ آزادی
دی ہے تو دل کو سکون ملا ہے… مگر ان کا انٹرویو سن کر بھی مجھے وہ ’’حسین شخص‘‘
یاد آگیا… پھر بی بی سی والوں نے پاکستان کے ایک مجاہد لیڈر کا انٹرویو دیا… وہ
امریکہ کو صفائی دے رہے تھے کہ ہمارا جہاد سے کوئی تعلق نہیں ہے… ہم نے سفارتخانوں
کو اپنی صفائی کے خطوط بھی بھیج دیئے ہیں… لوگ ہم سے حسد کرتے ہیں، ہمارا جہاد سے
کوئی تعلق نہیں کوئی تعلق نہیں… یہ انٹرویو سن کر بھی مجھے ’’وہ شخص‘‘ یاد آگیا …
اللہ اکبر… اللہ تعالیٰ
نے اس کو کتنی استقاُمت عطاء فرمائی ہے… کتنا بہادر ہے وہ … بالکل صلاح الدین
ایوبیپ اور نور الدین زنگیپ جیسا لگتا ہے… اللہ تعالیٰ کی
خاطر سب کچھ چھوڑنے والا… ایک اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے
والا … اسلام کی خاطر کرسی قربان کرنے والا … اور اُمت مسلمہ کی اس زمانے میں لاج
رکھنے والا… آج ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کو بھی آزادی مل رہی
ہے… الحمدللہ … پرانے مجاہد لیڈر بھی معاشرے میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں…
صفائی دے کر… مگر وہ شخص تو بس ایک اللہ تعالیٰ کے سہارے پر
ہے… اس کے بے شمار دوست ہیں مگر وہ ان میں سے کسی کے گھر نہیں جاسکتا … اس کے بے
شمار چاہنے والے ہیں مگر وہ کسی سے مل نہیں سکتا… اس نے اسلام کو اجاگر کیا اور
خود روپوش ہوگیا… اس نے جہاد کو بلند کیا اور خود غاروں کی تاریکی میں گم ہوگیا…
ہزاروں طیارے اس پر بم برسانے کے لئے ہواؤں کے چکر کاٹ رہے ہیں… اور دنیا کے ایک
سو ملک اس کو شہید کرنے کی کوشش میں ہیں… دنیا کی چھ ایٹمی طاقتیں اس کو مٹانا
چاہتی ہیں… اور اکتیس ملکوں کی مشترکہ فوج اس کو تلاش کر رہی ہے… کوئی اور ہوتا تو
اب تک مصالحت کے لئے ہاتھ بڑھا دیتا… کیونکہ ظاہری طور پر ہر طرف اندھیرا ہی
اندھیرا ہے… مگر وہ جب بھی بولتا ہے قرآن پاک کی آواز میں بولتا ہے اور بتاتا ہے
کہ… اللہ ایک ہے، وہ ہماے ساتھ ہے تو ہمیں کسی کی پروا
نہیں… اور ہم نہیں جھکیں گے، ہم اسلام کو رُسوا نہیں کریں گے… میں اس شخص کو قریب
سے جانتا ہوں… وہ بیت المال کے اموال میں بے حد احتیاط کرنے والا سچا مسلمان ہے…
وہ جنگ اور جہاد پر اربوں روپے خرچ کرتا ہے… مگر اپنی ذات کو مشکل میں رکھتا ہے…
وہ اپنے رفقاء کو ہر راحت پہنچا سکتا ہے مگر اپنے لئے اس نے دروازے بند کر رکھے
ہیں… ایسا شخص روپوشی میں کیسے زندگی گزارتا ہوگا؟…
چار
ماہ کی نظر بندی کے بعد اپنے نظریات بدلنے والے اس بات کو نہیں سمجھ سکتے… ہاں
القلم والو! مجھے اپنا محبوب امیر حضرت ملاّ محمد عمر مجاہد یاد آرہا ہے… معلوم
نہیں وہ کس حال میں ہوں گے… بھائیو اور بہنو ان کے لئے دعاء تو کیا کرو… ان کے
بغیر تو ہر طرف بھوسہ ہی بھوسہ ہے… دنیا کی محبت، کافروں سے یاریاں، غیر ملکی
ویزے… اور بزدلی کے پہاڑ… مدینہ والا دین کس کے پاس ہے… ان کے پاس جو اپنی بیٹیوں
کی تین تین ماہ تک شادیاں کرتے ہیں… یا وہ جو کریڈٹ کارڈوں اور گرین کارڈوں کے
پیچھے پڑے ہوئے ہیں…
حضرت
امیر المؤمنین نے اللہ تعالیٰ کی خاطر سب کچھ قربان کردیا…
اور اپنے لئے دنیا کا دروازہ بند کردیا… میں سورۃ احزاب پڑھ رہا تھا… اور مجھے
امیر المؤمنین یاد آرہے تھے… یا اللہ تیرا شکر ہے کہ کوئی
تو ہے جس کو دیکھ کر ہمیں قرآن پاک کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے… کوئی تو ہے جس کو
دیکھ کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے واقعات کو سمجھنے میں روشنی ملتی
ہے…
ملاّ
محمد عمر مجاہد… اس زمانے کا سچا مسلمان،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا عاشق… ایک مہمان
کی حفاظت کے لئے حکومت قربان کردی… اور پھر اتحادیوں کے خلاف جنگ میں پہاڑ کی طرح
ڈٹ کر کھڑا ہوگیا… ملاّ محمد عمر نے ہم مسلمانوں کو بہت کچھ دیا… مگر ہم انہیں کچھ
نہ دے سکے… کئی قریبی ساتھی گھر بیٹھ گئے… کچھ روٹھ گئے… اور کچھ آئے دن شرارتیں
اور بغاوتیں کرتے ہیں… جی ہاں جن کو امن نصیب ہے وہی زیادہ نخرے کرتے ہیں… اور یہ
سوچتے تک نہیں کہ ایک عظیم انسان ان سب کو جوڑنے کے لئے موم بتی کی طرح پگھل رہا
ہے… اللہ ، اللہ ، اللہ … میں امیر المؤمنین کے
دن رات اور ان کے درد کو سوچتا ہوں تو کانپنے لگتا ہوں… تنہائی، ظاہری بے بسی اور
ہر طرف ظاہری اندھیرا… مگر پھر سوچتا ہوں کہ نہیں وہ تو مزے میں ہیں… ان کا جب
کوئی نہیں رہا تو وہ جب ’’ اللہ اللہ ‘‘ پکارتے ہوں گے تو یہ
پکار کتنی خالص ہوتی ہوگی… وہ جب ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ کہتے ہوں گے تو
یہ کلمہ کتنی سچائی کے ساتھ ان کے دل سے نکلتا ہوگا… اور جب وہ سجدے میں جاتے ہوں
گے ’’سبحان ربی الاعلیٰ‘‘ کہتے ہوں گے تو ان پر محبت کے بوسے کتنی گرمی اور پیار کے
ساتھ برستے ہوں گے… الا اللہ ، صرف اللہ ،
الا اللہ ، صرف اللہ ، الا اللہ ،
صرف اللہ …
یا اللہ امیر
المؤمنین تک ہمارا سلام پہنچا دیجئے… ان کی حفاظت فرمادیجئے… ان کو وافر رزق پہنچا
دیجئے … ان کے اہل وعیال کو اپنی امان اور کفالت میں لے لیجئے… اور اس اُمت میں ان
جیسے مخلص، سچے اور پیارے انسان اور بھی پیدا فرمادیجئے…
امیر
المؤمنین… آپ بہت یاد آرہے ہیں… آپ پر سلاُمتی
ہو، اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو… اور اس کی برکتیں…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
اُمت مسلمہ پر حملہ آور ’’اتحادی افواج‘‘ کو شکست عطاء فرمائے… حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے تیئس سالہ دور نبوّت میں قیامت تک کے لیے
ہدایات موجود ہیں… آج کل اُمت مسلمہ پر ’’اتحادی افواج‘‘ کا حملہ ہے… قرآن پاک میں
سورۃ ’’الاحزاب‘‘ موجود ہے… ’’احزاب‘‘ لشکروں کو کہتے ہیں… اُس زمانے کی اتحادی
افواج نے مدینہ منورہ پر حملہ کیا تھا… اس اتحادی لشکر میں یہودی بھی تھے اور مشرک
بھی… اور پیسوں کی خاطرلڑنے والے کرائے کے فوجی بھی… یہودیوں کا قبیلہ بنونضیر اس
حملے کا اصل محرِّک تھا… جبکہ قیادت مکہ کے مشرک قریشی کر رہے تھے… آج کی اتحادی
افواج کو بھی کھڑا کرنے والے یہودی ہیں جبکہ ان اتحادی افواج کی قیادت امریکہ کے
مشرکین کر رہے ہیں… تین خدا ماننے والے مشرک… اُس لشکر میں غطفان کا قبیلہ کھجوروں
کی لالچ میں شریک تھا جبکہ کرائے کے حبشی بھی ساتھ تھے… آج بھی ڈالروں کی خاطر،
تیل کی خاطر بہت سے کرائے کے بے ضمیر ممالک اور فوجی اس ’’عالمی اتحاد‘‘ کا حصہ
ہیں … مدینہ منورہ پر حملہ کرنے والے ’’اتحادی لشکروں‘‘ کا بھی ایک ہی اعلان تھا
کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کا مکمل خاتمہ
ہمارا مقصد ہے… آج کے اتحادی بھی اسی طرح کا نعرہ لگا رہے ہیں… اُن اتحادیوں کو
’’خندق‘‘ کی وجہ سے تیر اندازی کا سہارا لینا پڑا تھا… کیونکہ مسلمانوں نے بڑی
محنت کرکے مدینہ منورہ کے راستے پر ساڑھے تین میل لمبی اور بہت گہری خندق کھود دی
تھی… جبکہ آج کے اتحادیوں کو اپنی ’’بزدلی‘‘ کی وجہ سے بمباری کا سہارا لینا پڑ
رہا ہے… اُس لڑائی میں بھی مسلمان اندر باہر سے گھیرے میں تھے… اِس لڑائی میں بھی
مجاہدین اندر باہر سے گھیرے میں ہیں… سبحان اللہ وبحمدہ
سبحان اللہ العظیم…
قرآن
پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ وقت مسلمانوں کے لئے
بہت سخت آزمائش کا تھا… اُن کی جان اُن کے حلق میں آرہی تھی… اور
لوگ اللہ تعالیٰ پر طرح طرح کے گمان کر رہے
تھے… اللہ اکبرکبیرا … خود اندازہ لگائیے کہ جس آزمائش
کو اللہ تعالیٰ سخت آزمائش فر ما رہے ہیں اس کی شدّت اور
سختی کا کیا عالم ہوگا… بعد کے لوگوں نے تو صرف محبت کے دعوے کرنے ہوتے ہیں… جبکہ
ساتھ والوں کو ’’عملی اُمتحان‘‘ کا سامنا ہوتا ہے…
حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک نوجوان نے حضرت
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ لوگوں کا حضور اکرم صلی
اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا معاملہ تھا؟ … اگر وہ ہمارے زمانے میں ہوتے تو ہم ان
کو زمین پر پاؤں نہ رکھنے دیتے اور ان کو اپنی گردنوں پر اٹھا کر چلتے… اور جنگ
میں ان کے آگے یوں لڑتے … اور یہ کرتے اور وہ کرتے… حضرت حذیفہ رضی
اللہ عنہ نے فرمایا… بھتیجے کاش تم ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ
غزوۂ خندق کی راتوں میں دیکھ لیتے…
ایک
رات شدید سردی تھی… اور بہت اندھیرا … اتنا اندھیرا کہ کوئی شخص اپنا ہاتھ نہیں
دیکھ سکتا تھا… ہم بھوکے تھے اور تیز ہوائیں تھپیڑے مار رہی تھیں… ابوسفیان کا بہت
بڑا لشکر ہمارے سامنے تھا… اور اندر بنوقریظہ کے یہودی دشمنی پر اترے ہوئے تھے…
اُس رات میرے پاس سردی سے بچنے کے لئے کچھ بھی نہیں تھا… بس اپنی بیوی کی ایک
اوڑھنی تھی جو میں نے گھٹنوں تک باندھ رکھی تھی… اور میں سردی، بھوک اور حالات کی
سختی کی وجہ سے زمین پر گرا پڑا تھا… اس رات جیسی سردی اور اندھیرا میں نے کبھی
نہیں دیکھا تھا… ہوا کی آواز بجلی کی کڑک جیسی تھی اور اندر کے یہودیوں سے اپنے
بیوی بچوں پر حملے کا خوف بھی تھا… اِس حالت میں حضور اکرم صلی اللہ
علیہ وسلم نے مجھے پکارا… اے حذیفہ اُٹھو اور مشرکین کے لشکر میں کچھ تازہ صورتحال
پیدا ہوئی ہے وہ دیکھ کر آؤ… میں زمین کے ساتھ چپکا پڑا تھا اور آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دشمنوں کے لشکر میں بھیج رہے تھے … میں
کھڑا ہوگیا… تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دعاء دی …
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دعاء دینا تھا کہ سردی، بھوک اور خوف سب کچھ
ختم ہوگیا… اورجب میں جار ہاتھا … اور واپس آرہا تھا تو یوں لگتا تھا کہ گرم حمام
میں چل رہا ہوں… یہ قصہ بہت طویل اور دلچسپ ہے… ہم نے اس کا اختصار عرض کردیا ہے…
اندازہ لگالیں کہ اس وقت حالات کیسے تھے… امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے افغانستان
پر حملے کے وقت بھی حالات بہت عجیب تھے… اور بہت سخت … کئی عربی مجاہد شہزادے اپنی
باپردہ بیویوں اور بیٹیوں کو ساتھ لیے خون کے آنسو بہا رہے تھے… اور افغان بھائیوں
سے کہہ رہے تھے کہ ان کو کافروں کے ہاتھ نہ لگنے دینا… اس وقت ان کے نزدیک شہادت
سب سے لذیذ اور آسان راستہ تھا… خیر قربانی دینے والے تو خوش نصیب رہے اب
انشاء اللہ جنّتوں کے مزے لوٹتے ہوں گے … مگر افسوس تو بے
غیرتی دکھانے والوں پر ہے… ڈالروں کی خاطر بکنے والے… اپنے ہی کلمہ گو محمدی
بھائیوں کو مارنے والے، پکڑنے والے… اور بمباری سے بچنے کا بہانہ بنا کر اتحادی
لشکر کا ناپاک حصہ بننے والے… کاش اس عظیم گناہ سے پہلے یہ مر گئے ہوتے تو اتنا
بڑا ظلم تو نہ کرتے… مگر وہ تو اب تک کر رہے ہیں… اور ابھی تک صلیبی اتحاد کا حصہ
بنے ہوئے ہیں… انا للہ وانا الیہ راجعون…
اللہ تعالیٰ
ان کو توبہ کی توفیق عطاء فرمائے… اور ان کو سورۂ احزاب پڑھنے اور سمجھنے کی
توفیق بھی نصیب فرمائے… اور اگر ان کی قسمت میں توبہ نہیں ہے
تو اللہ تعالیٰ ان کے شر سے اُمت مسلمہ کی حفاظت فرمائے…
غزوۂ
احزاب، جس کا دوسرا نام غزوۂ خندق ہے، اس میں ہم مسلمانوں کے لیے موجودہ حالات کے
مطابق کئی اسباق موجود ہیں… اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ
احزاب کے دوران جو دعائیں مانگیں اور اپنے صحابہ کرؓام کو سکھائیں… ان دعاؤں سے
بھی آج ہمیں فائدہ اٹھانا چاہئے…
ایک
بڑی خوشخبری
چوبیس،
پچیس دن تک ’’اتحادی افواج‘‘ نے مدینہ منورہ کا محاصرہ جاری رکھا… جب مسلمانوں کی
آزمائش اور اُمتحان پورا ہوا اور وہ اللہ تعالیٰ کی خاطر
جہاد میں ثابت قدم رہے تو اللہ تعالیٰ نے غیبی نصرت بھیجی …
مشرق کی طرف سے جو ہوا چلتی ہے اس کو عربی میں ’’صبا‘‘ کہتے ہیں … اردو میں اسے
’’پرُوا ہوا‘‘ کہا جاتا ہے… حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے
لیے یہ ہوا خاص نصرت کا پیغام ہے…
غزوۂ
احزاب کے موقع پر بھی اللہ تعالیٰ نے تین نصرتیں بھیجیں:
۱ صبا
یعنی مشرقی ہوا
۲ ایک
ہزار فرشتے
۳ رُعب
فرشتوں
نے لڑائی تو نہیں کی مگر کافروں کو خوب ڈرایا… یہ فرشتے گھوڑوں پر سوار تھے اور
انہوں نے عمامے باندھ رکھے تھے اور ان کے پاس اسلحہ بھی تھا… یہ سب باتیں مستند
تفاسیر میں موجود ہیں … فرشتے مشرکین کے لشکر کے گرد تکبیر کے نعرے لگاتے تھے اور
ان کو ڈراتے تھے… جبکہ صبا تیز آندھی بن کر آئی اور اس نے اتحادیوں کے لشکر کو
اُلٹ کر رکھ دیا… جبکہ ’’رُعب‘‘ نے یہودیوں کو جکڑے رکھا وہ مدینہ منورہ کے اندر
موجود تھے اور ان کے راستے میں کوئی خندق بھی نہیں تھی… مگر وہ ’’رُعب‘‘ کی گرفت
میں رہے…
فرشتے
عمومی طور پر نظر نہیں آرہے تھے… روح المعانی میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی
روایت ہے کہ ان کو بیس فرشتے نظر آئے… جو اپنے گھوڑوں پر سوار تھے اور انہوں نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سلام عرض کیا
اور فتح کی بشارت دی… جبکہ حضرت جبرئیل علیہ السلام اِس جنگ کے بعد اگلی جنگ کی
اطلاع دینے… حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی صورت میں تشریف لائے … ان کو بعض
ازواجِ مطہرات اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی دیکھا … خلاصہ یہ کہ
’’اتحادی لشکر‘‘ بچاؤ بچاؤ کی آوازیں لگا کر بھاگ گیا… وہ بہت عجیب منظر تھا …
قرآن پاک نے تھوڑا سا نقشہ کھینچا ہے… تب اس موقع پر آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
الآن
نغزوہم ولا یغزوننا
’’اب
ہم ان سے لڑیں گے اور یہ ہم سے نہیں لڑسکیں گے‘‘
یعنی
آج کے بعد یہ ہم پر حملہ آور نہیں ہوسکیں گے، اب ہم ہی ان پر حملے کریں گے… یہ
روایت بخاری اور مسند احمد میں موجود ہے… چنانچہ ایسا ہی ہوا… اس کے بعد حالات بدل
گئے… مسلمانوں نے یہودیوں پر حملے کیے… ان کے تمام علاقے فتح کیے… بنوقریظہ اور
خیبر کی زمینیں مسلمانوں کو ملیں… اور پھر مسلمان فاتحانہ طور پر مکہ مکرمہ میں
داخل ہوئے اور مکہ مکرمہ کو فتح کرلیا… اور پھر فتوحات کا یہ سلسلہ کئی بر اعظموں
تک پھیلتا چلتا گیا… اس وقت بھی حالات ’’غزوۂ احزاب‘‘ سے ملتے جلتے ہیں… کافروں
اور مشرکوں کے اتحادی لشکر اُمت مسلمہ پر حملہ آور ہیں… اہل ایمان اپنی طاقت کے
مطابق ان کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں… غزوۂ احزاب میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ
عنہ جیسے عظیم صحابی زخمی ہوئے تھے… اور چند دن بعد وہ شہید ہوگئے … ان کے جنازے
میں ستر ہزار فرشتوں نے شرکت کی اور ان کی شہادت پر اللہ تعالیٰ
کا عرش ہل گیا یا جھوم اٹھا … حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے مضبوط انسان بھی اپنے
اوپر قابو نہ رکھ سکے، حضرت امّاں عائشہ رضی اللہ عنہا
فرماتی ہیں … میں اپنے والد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ
کے رونے کی آوازیں الگ الگ پہچان رہی تھی… یہی وہ لوگ تھے جن کو قرآن پاک نے
’’رحماء بینہم‘‘ قرار دیا تھا… آج کے اتحادی حملے میں بھی بڑے بڑے مسلمان شہید
ہوچکے ہیں… جن کی یاد آتی ہے تو آنکھیں آنسو بہاتی ہیں… غزوۂ احزاب کے موقع پر
بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا جذبہ فدائی تھا… خود قرآن پاک نے اس
بارے میں ان کو سچا قرار دیا ہے… اور آج بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین
کے بیٹے اتحادی لشکروں پر فدائی حملے کر رہے ہیں… اُس لڑائی میں بھی سخت حالات تھے
اور جان حلق میں آرہی تھی… اور آج بھی حالات بہت سخت ہیں… بس اب انتظار ہے اس لمحے
کا جب اللہ تعالیٰ کی حتمی نصرت آئے گی… مشرق کی طرف سے ایک
ہوا چلے گی… اور آسمان سے فرشتے اتریں گے… یہ پیشین گوئی نہیں بلکہ دعاء ہے… اور
دل کی آرزو ہے… کیونکہ اللہ تعالیٰ تو وہی ہے، قرآن پاک بھی
وہی ہے… اور دین بھی وہی ہے… کچھ کمزوری ہم مسلمانوں میں ہے تو اس پر ہم توبہ کرتے
ہیں اور استقاُمت اور ترقی کی دعاء کرتے ہیں… انشا ء اللہ تعالیٰ اس
بار جب یہ اتحادی لشکر ناکام ونامراد واپس لوٹیں گے تو حالات کا رُخ بدل جائے گا…
اور انشاء اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر فتوحات کا بہت بڑا دروازہ کھل جائے
گا… آج کی مجلس میں اتنا ہی … انشاء اللہ اگلی مجلس میں وہ
دعائیں عرض کی جائیں گی جو غزوۂ احزاب کے موقع پر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرات صحابہ کرؓام
کو سکھائیں… تب ہم سب بھی ان دعاؤں کو انشاء اللہ اپنا
معمول بنائیں گے… اور اپنے رب سے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے
الفاظ میں نصرت اور فتح مانگیں گے … انشاء اللہ تعالیٰ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
اہل ایمان کی نصرت فرمائے اور اُمت مسلمہ پر حملہ آور اتحادی افواج پر شکست اور
ذلت مسلط فرمائے… ویسے اللہ تعالیٰ کی نصرت کے آثار صاف نظر
آئے ہیں… طالبان نے قندھار کی جیل پر حملہ کرکے گیارہ سو قیدی آزاد کروالیے ہیں…
چھ سو مجاہدین جیل سے نکل کر اپنے گھروں اور ٹھکانوں تک پہنچ گئے… اور امریکہ اور
نیٹو کی ٹیکنالوجی اور طاقت اپنا منہ دیکھتی رہ گئی… بے
شک اللہ تعالیٰ ایک ہے اور وہ اکیلا اتنے بڑے لشکروں کو
شکست دینے پر قادر ہے…
لَا
اِلٰہَ اِلَّا اللہ وَحْدَہٗ، صَدَقَ وَعْدَہٗ، وَنَصَرَ
عَبْدَہٗ، وَاَعَزَّ جُنْدَہٗ، وَہَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہٗ، فَلاَ شَیْئَ
بَعْدَہٗ (بخاری، مسلم)
دو
دن پہلے امریکہ کے وزیر دفاع نے بیان دیا ہے کہ … اسی مہینے افغانستان میں ہمارے
مارے جانے والے فوجیوں کی تعداد عراق میں مارے جانے والے فوجیوں سے زیادہ ہے…
سبحان اللہ وبحمدہ
سبحان اللہ العظیم
گزشتہ
ہفتے وعدہ کیا تھا کہ… غزوہ احزاب کے موقع پر جو دعائیں حضور اکرم صلی
اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے
مانگیں تھیں وہ عرض کی جائیں گی… کیونکہ اس وقت پھر اُمت مسلمہ پر ’’اتحادی
لشکروں‘‘ کا حملہ ہے…
محاصرے
اور شدّت کے وقت کی خاص دعاء
’’عن
ابی سعید ذقال: قلنا یوم الخندق: یارسول اللہ ہل من شیء
نقول فقد بلغت القلوب الحناجر؟ قال صلی اللہ علیہ وسلم نعم، قولوا: اللہم استر
عوراتنا وآمن روعاتنا، قال: فضرب وجوہ اعدائہ بالریح فہزمہم بالریح وکذا رواہ
الامام احمد بن حنبلپ عن ابی عامر العقدی۔ (تفسیر ابن کثیر ص۴۴۰ ج۳)
یعنی
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ہم نے خندق کے دن عرض
کیا: ہماری جانیں حلق تک پہنچ چکی ہیں، کیا کوئی دعاء ہے جو اس وقت ہم پڑھیں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں!
آپ
لوگ یہ دعاء مانگیں:
اَللّٰہُمَّ
اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَاٰمِن رَّوْعَاتِنَا
حضرت
ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد ہوا کے تھپیڑے دشمنوں کے منہ پر پڑے
اور وہ پسپا ہوگئے۔
حضرت
کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ نے سیرت المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں مسند
احمد کے حوالے سے یہ روایت یوں بیان فرمائی ہے:
’’مسند
احمد میں ابوسعید خدریؓ سے مروی ہے کہ ہم نے حصار (یعنی محاصرے) کی شدّت اور سختی
کا ذکر کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دعاء کی
درخواست کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دعاء مانگو:
اَللّٰہُمَّ
اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَاٰمِنْ رَّوْعَاتِنَا
اے اللہ ہمارے
عیبوں کو چھپا اور ہمارے خوف کو دور فرما۔ (سیرت المصطفیٰ صلی اللہ علیہ
وسلم ص۳۲۴ ج۲)
یہ
بہت اہم اور بہت مبارک دعاء ہے… تمام مجاہدین خصوصاً اور تمام مسلمان عموماً اس
دعاء کا کثرت سے اہتمام فرمائیں… دعاء دل کی توجہ سے مانگیں اور ترجمہ ذہن میں
رکھیں… اس دعاء میں اللہ تعالی سے ’’حفاظتی پردہ‘‘ مانگا
گیا ہے اور اللہ تعالیٰ ’’ستار‘‘ ہے بہت پردہ پوشی فرمانے
والا … اور اس دعاء میں ’’امن‘‘ بھی مانگا گیا ہے
اور اللہ تعالیٰ ’’المؤمن‘‘ ہے امن اور ایمان عطاء فرمانے
والا…
دشمنوں
کو اکھاڑ دینے والی دعاء
’’وفی
الصحیحین من حدیث اسماعیل بن ابی خالد عن عبد اللہ بن ابی
اوفیٰ ذقال: دعا رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم علی الاحزاب فقال: اللہم منزل الکتاب سریع الحساب اہزم الاحزاب
اللہم اہزمہم وزلزلہم‘‘ (تفسیر ابن کثیر ص۴۴۴ج۴)
یعنی
بخاری اور مسلم کی روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ
عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
حملہ آور لشکروں کے خلاف ان الفاظ میں بددعاء فرمائی:
اَللّٰہُمَّ
مُنْزِلَ الْکِتَابِ سَرِیْعَ الْحِسَابِ اِہْزِمِ الْاَحْزَابَ اَللّٰہُمَّ
اہْزِمْہُمْ وَزَلْزِلْہُمْ
یا اللہ کتاب
کو نازل فرمانے والے، جلد حساب لینے والے، ان لشکروں کو شکست دے…
یا اللہ ان کو شکست دے اور انہیں سخت ہلا دے…
حضرت
کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ نے بخاری کے حوالے سے یہ دعاء ان الفاظ میں لکھی ہے:
اَللّٰہُمَّ
مُنْزِلَ الْکِتَابِ وَ مُجْرِیَ السَّحَابِ وَ ہَازِمَ الْاَحْزَابِ اَللّٰہُمَّ
اہْزِمْہُمْ وَانْصُرْنَا عَلَیْہِمْ
ترجمہ: یا اللہ کتاب
کے نازل فرمانے والے، بادلوں کو چلانے والے لشکروں کو شکست دینے والے، ان لشکروں
کو شکست دے اور ہمیں ان پر غلبہ عطاء فرما۔
حاشیہ
میں تحریر فرماتے ہیں:
مسند
احمد اور ابن سعد کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد
احزاب میں ہاتھ اٹھا کر اور کھڑے ہو کر دعاء مانگی اور ابو نعیم کی روایت میں ہے
کہ زوال کے بعد (یہ دعاء مانگی)۔ (سیرت المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ص۳۲۴ ج۲)
یہ
بہت مؤثر دعاء ہے… ائمہ کرام کو چاہیے کہ اس دعاء کو جمعۃ المبارک کے خطبہ کا حصہ
بنائیں… جمعہ کا دن اور خطبہ کا وقت دعاؤں کے قبول ہونے کا خاص وقت ہے… اور ان
مظلوم مسلمانوں کا ہم پر بڑا حق ہے جن پر کافروں کے اتحادی لشکروں کا براہ راست
حملہ ہے… حقیقت میں تو یہ حملہ پوری اُمت مسلمہ پر ہے اور ہم سب اس حملے کے برے
اثرات کا شکار ہیں… اس لیے سب مسلمان اس دعاء کو اپنا معمول بنائیں… جب بھی دعاء
کے لیے ہاتھ اٹھائیں تو یہ دعاء مانگ کر صلیب کے پجاری اتحادی لشکروں کی شکست کا
سوال اللہ تعالیٰ سے کریں… گھروں میں پردہ نشین مسلمان
خواتین بھی اس دعاء کو اپنا معمول بنائیں…
حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احزاب کے موقع پر یہ دعاء مانگی تھی…
حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی اس دعاء میں شریک
تھے… اللہ تعالیٰ نے یہ دعاء قبول فرمالی تو بعد میں
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی دعاء کی قبولیت کے حوالے
سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے تھے… بخاری اور مسلم کی
روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے:
لَا
اِلٰہَ اِلَّا اللہ وَحْدَہٗ، صَدَقَ وَعْدَہٗ، وَنَصَرَ
عَبْدَہٗ، وَاَعَزَّ جُنْدَہٗ، وَہَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہٗ، فَلَا شَیْئَ
بَعْدَہٗ
’’
اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے، اس نے اپنا وعدہ سچا
فرمایا اور اپنے بندے کی نصرت فرمائی اور اپنے لشکر کو عزت دی اور اکیلے تمام
لشکروں کو شکست دی، پس اللہ تعالیٰ کے بعد کچھ نہیں۔ (تفسیر
ابن کثیر ص۴۴۴ ج۴)
ہر
طرف سے حفاظت کی دعاء
حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو دشمن کے لشکروں
کا حال معلوم کرنے کے لیے بھیجا… یہ واقعہ قدرے اختصار کے ساتھ گزشتہ ہفتے بیان
ہوچکا ہے… جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو روانہ فرمایا تو ان الفاظ
سے دعاء دی…
اَللّٰہُمَّ
احْفَظْہُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ وَعَنْ یَّمِیْنِہٖ وَعَنْ
شِمَالِہٖ وَمِنْ فَوْقِہٖ وَمِنْ تَحْتِہٖ
یا اللہ اس
کی حفاظت فرما اس کے سامنے سے، پیچھے سے، دائیں طرف سے، بائیں طرف سے، اوپر سے اور
نیچے سے۔
حضرت
حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس دعاء کے بعد میرے دل سے ہر خوف نکل گیا اور
سردی بھی مجھے محسوس نہیں ہو رہی تھی… الغرض ہر چیز سے ان کی حفاظت ہوگئی… خوف سے،
دشمنوں سے، سردی سے اور تیز ہوا اور آندھی سے…
یہ
تو خیر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا مگر
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک الفاظ میں بھی تو قبولیت کی بہت بڑی
تاثیر ہے… اگر ہم نے یہ دعاء کسی اور کے لیے کرنی ہو تو اس کی نیت سے انہی الفاظ
میں کرلیں جو اوپر لکھے گئے ہیں… یا تھوڑی سی تبدیلی کرلیں مثلاً حضرت
امیرالمؤمنین کے لیے کرنی ہو تو الفاظ یوں ہوں گے:
اَللّٰہُمَّ
احْفَظْ مُلَّا مُحَمَّدْ عُمَرَ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ وَعَنْ
یَّمِیْنِہٖ وَعَنْ شِمَالِہٖ وَمِنْ فَوْقِہٖ وَمِنْ تَحْتِہٖ
اور
اگر ہم یہ دعاء اپنے لیے کریں تو الفاظ یہ ہوں گے اور یہ الفاظ ابوداؤد اور ابن
ماجہ کی روایت میں بھی آئے ہیں:
اَللّٰہُمَّ
احْفَظْنِیْ مِنْ بَیْنِ یَدَیَّ وَمِنْ خَلْفِیْ وَعَنْ یَّمِیْنِیْ وَعَنْ
شِمَالِیْ وَمِنْ فَوْقِیْ وَاَعُوْذُ بِعَظْمَتِکَ اَنْ اُغْتَالَ مِنْ تَحْتِیْ
ترجمہ: اے اللہ میرے
سامنے سے، میرے پیچھے سے، میری دائیں طرف سے اور میری بائیں طرف سے اور میرے اوپر
سے میری حفاظت فرما اور میں تیری عظمت کی پناہ میں آتا ہوں اس بات سے کہ میں اچانک
نیچے سے ہلاک کیا جاؤں۔ (ابوداؤد، ابن ماجہ)
اس
دعاء کو تمام مجاہدین… اور سب مسلمان مرد ا ور عورتیں صبح شام کم از کم تین بار
توجہ سے پڑھ لیا کریں اور ترجمہ بھی ذہن میں رکھا کریں…
مظلوموں
کی دعاء
امام
قرطبیپ لکھتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حذیفہ رضی
اللہ عنہ کو دعاء دے کر دشمنوں کے حالات دیکھنے کے لیے بھیجا… وہ اپنا اسلحہ اٹھا
کر روانہ ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
اپنے ہاتھ مبارک اٹھا کر یہ دعاء فرمائی…
یَا
صَرِیْخَ الْمَکْرُوْبِیْنَ وَیَا مُجِیْبَ الْمُضْطَرِّیْنَ اِکْشِفْ ہَمِّیْ
وَغَمِّیْ وَکَرْبِیْ فَقَدْ تَرٰی حَالِیْ وَحَالَ اَصْحَابِیْ
ترجمہ: اے
پریشان حال لوگوں کی مدد فرمانے والے ، اے مجبوروں کی پکار سننے والے، میری
پریشانی، میرے غم اور میرے رنج کو دور فرمادے، بے شک آپ میری اور میرے صحابہ کی
حالت دیکھ رہے ہیں‘‘۔
پس
اسی وقت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور
فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاء قبول کرلی ہے اور دشمنوں
کے خوف سے خود آپ کی کفایت فرمادی ہے۔
یہ
سن کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک پھیلا دیئے اور آنکھیں
جھکادیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے:
شُکْرًا
شُکْرًا کَمَا رَحِمْتَنِیْ وَرَحِمْتَ اَصْحَابِیْ
یا اللہ آپ
کا شکر ہے… یا اللہ آپ کا شکر ہے کہ آپ نے مجھ پر اور میرے
صحابہ پر رحم فرمایا (تفسیرقرطبی)
یہ
ہیں چند دعائیں جو غزوہ احزاب کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے
منقول ہیں… اللہ تعالیٰ ہمیں یہ دعائیں مانگنے کی توفیق
عطاء فرمائے… اور ہماری دعاؤں کو ہمارے حق میں اور اُمت مسلمہ کے حق میں قبول
فرمائے… دشمنوں سے حفاظت کی مسنون دعائیں اور بھی ہیں… اور جہاد کے مواقع پر پڑھی
جانے والی مسنون دعائیں مستقل ایک عمل ہے…
جہاد
کی تعلیم وتربیت کے وقت جس طرح اسلحہ سکھایا جاتا ہے… گھڑ سواری سکھائی جاتی ہے…
جسمانی ورزشیں کرائی جاتی ہیں… اسی طرح ان دعاؤں کو سکھانے اور پڑھنے کا اہتمام
بھی بہت رغبت اور شوق سے کیا جائے… حصن حصین، مناجات مقبول… اور ایمانی ہمسفر میں
یہ دعائیں مذکور ہیں… آئیے مجلس کے اختتام پر ہم سب وہ دعائیں مانگ لیں جو آج کے
کالم میں بیان کی گئی ہیں:
اَللّٰہُمَّ
اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَاٰمِنْ رَّوْعَاتِنَا
اَللّٰہُمَّ
مُنْزِلَ الْکِتَابِ سَرِیْعَ الْحِسَابِ اِہْزِمِ الْاَحْزَابَ اَللّٰہُمَّ
اہْزِمْہُمْ وَزَلْزِلْہُمْ
اَللّٰہُمَّ
مُنْزِلَ الْکِتَابِ وَ مُجْرِیَ السَّحَابِ وَ ہَازِمَ الْاَحْزَابِ اَللّٰہُمَّ
اہْزِمْہُمْ وَانْصُرْنَا عَلَیْہِمْ
اَللّٰہُمَّ
احْفَظِ الْمُجَاہِدِیْنَ مِنْ بَیْنِ اَیْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ
اَیْمَانِہِمْ وَعَنْ شَمَآئِلِہِمْ وَمِنْ فَوْقِہِمْ وَمِنْ تَحْتِہِمْ
اَللّٰہُمَّ
احْفَظْنِیْ مِنْ بَیْنِ یَدَیَّ وَمِنْ خَلْفِیْ وَعَنْ یَّمِیْنِیْ وَعَنْ
شِمَالِیْ وَمِنْ فَوْقِیْ وَاَعُوْذُ بِعَظْمَتِکَ اَنْ اُغْتَالَ مِنْ تَحْتِیْ
یَا
صَرِیْخَ الْمَکْرُوْبِیْنَ وَیَا مُجِیْبَ الْمُضْطَرِّیْنَ اِکْشِفْ ہَمِّیْ
وَغَمِّیْ وَکَرْبِیْ فَقَدْ تَرٰی حَالِیْ
آمین
یا ارحم الراحمین
لاَ
اِلٰہَ اِلَّا اللہ وَحْدَہٗ، صَدَقَ وَعْدَہٗ، وَنَصَرَ
عَبْدَہٗ، وَاَعَزَّ جُنْدَہٗ، وَہَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہٗ، فَلَا شَیْئَ
بَعْدَہٗ
وصلی اللہ تعالیٰ
علیٰ خیر خلقہ سیّدنا وحبیبنا ومولانا محمد وآلہ واصحابہ وازواجہ وبناتہ وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
نے ’’شہداء کرام‘‘ کے لیے ایک بہت عجیب نظام قائم فرمایا ہے… اس نظام میں مزے ہی
مزے ہیں، سکون ہی سکون ہے اور عزت ہی عزت ہے… ربّ کعبہ کی قسم اگر وہ نظام ہماری
سمجھ میں آجائے تو ہم ایک منٹ اس دنیا میں رہنا گوارہ نہ کریں… اس دنیا میں رکھا
ہی کیا ہے… دھوکا، جھوٹ، بیماری، پریشانی، لڑائی، جھگڑے، گناہ … اور بے چینی …
شہید سے جنت میں پوچھا جائے گا کہ کیا چاہئے ؟ وہ جواب دے گا اے میرے رب! مجھے
دنیا میں بھیج دیجئے تاکہ دوبارہ شہادت پاسکوں… جنت جیسی جگہ سے شہادت کی خاطر
واپسی… اللہ اکبر کبیرا… سونے، چاندی اور موتیوں کے محلات،
پاک، صاف حسین وجمیل حوریں، نہ غم، نہ بیماری … انبیاء علیہم السلام اور صحابہ
کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی صحبت … ہواؤں میں اڑتے ہوئے گھوڑے… بے مثال صحت
اور جوانی… اور ہر وہ چیز جس کی خواہش کوئی انسان کرسکتا ہے… نہ خوف، نہ غم … مگر
شہادت کے وقت شہید کو جو کچھ ملتا ہے اسے پانے کے لیے وہ جنت کو چھوڑنے پر بھی
تیار… آج لکھنے بیٹھا تو شہداء کرام یاد آنے لگے…
ملک
کی سیاست آج کل اس قابل نہیں کہ اس کو کریدا جائے… آج کل سیاست نہیں کھلی دہشت
گردی ہے… امریکیوں کے ٹیلیفون، پرویز مشرف کی ہٹ دھرمی اور آصف زرداری کی ذاتی
مجبوریاں… بے شک پاکستان ایک طرح کے عذاب کا شکار ہے… کافروں اور قاتلوں کا ساتھ
دینے والا ملک گناہوں کے بوجھ سے لرز رہا ہے… جامعہ حفصہؓ، باجوڑ، وزیرستان، سوات
اور کراچی سے ابھی تک ظلم کا دھواں اٹھ رہا ہے… مگر مجھے اس دھویں سے شہداء کے خون
کی خوشبو آرہی ہے… حضرت لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت
شامزیٔ رحمۃ اللہ علیہ، حضرت جمیل رحمۃ اللہ علیہ، مفتی اقبال رحمۃ
اللہ علیہ یہ سب شہدائِ کراچی… غازی عبدالرشید رحمۃ اللہ علیہ، مولانا مقصود احمد
رحمۃ اللہ علیہ اور بہت سی پیاری بہنیں اور بیٹیاں شہدائے جامعہ حفصہ(رضی اللہ
عنہا) … باجوڑ اور وزیرستان کے شہداء، پھولوں جیسے معصوم بچے اور گلاب جیسی پاکیزہ
بیٹیاں … یہ سب کس جرم میں قتل کیے گئے؟ … شکر ہے ریٹائرڈ فوجیوں کو عقل آئی ہے وہ
اچھی اچھی باتیں کر رہے ہیں… کاش حاضر سروس جرنیلوں کو بھی کوئی یاد دلا دے کہ وہ
مسلمانوں کے گھر پیدا ہوئے ہیں… بچپن میں ان کے کانوں میں اذان کی آواز گونجی ہے…
انہوں نے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھا ہے…
پھر وہ کیوں بش کے سپاہی بنے جارہے ہیں… کیا ان کو موت، قبر، مدینہ منورہ … اور
حوضِ کوثر یاد نہیں ہے… یا وہ بھی ریٹائرمنٹ کے بعد حق بولیںگے؟
کافروں
سے اللہ پاک نفرت فرماتا ہے اور ان کے کسی اچھے عمل کو بھی
قبول نہیں فرماتا… یہ بات قرآن پاک نے بار بار سمجھائی ہے… پھر کافروں سے جنگی
تعاون کرنا… ان کے ناپاک اتحاد کا حصہ بننا کہاں جائز ہے؟… یاد رکھو کافروں کا
ساتھ دینے والے بھی اللہ پاک کی نفرت اور غضب کا نشانہ بن
سکتے ہیں… اور بن رہے ہیں… ابوجہل کے لشکر میں بھی کچھ مسلمان تھے، حالات کے ساتھ
چلنے والے مسلمان … یہ لوگ مکہ مکرمہ میں رہتے تھے، جب ابوجہل اپنا لشکر لیکر نکلا
تو یہ بھی اس کے ساتھ نکل پڑے… آپس میں کہتے تھے کہ جب میدان جنگ میں آمنا سامنا
ہوگا تو ہم اس وقت حالات دیکھ کر فیصلہ کریں گے… اگر مسلمانوں میں کچھ طاقت نظر
آئی تو اپنے اسلام کا کھلم کھلا اعلان کرکے ان کے ساتھ مل جائیں گے… لیکن اگر وہاں
طاقت نظر نہ آئی تو ہم اپنی قوم یعنی مشرکین کے ساتھ جڑے رہیں گے… آخر دنیا میں
بھی تو رہنا ہے … آخر زمانے کے ساتھ بھی تو چلنا ہے… ابوجہل کا لشکر ’’بدر‘‘ کے
میدان میں پہنچ گیا… شان، شوکت، اسلحہ، طاقت، بینڈ باجے، ناچ گانے، فخر، غرور… اور
جنگی قوت… ان کے سامنے مسلمان بھی آکھڑے ہوئے … کمزور، نہتے، مسکین … پاؤں میں
جوتے نہیں، ہاتھوں میں تلواریں نہیں… چند تلواریں وہ بھی ٹوٹی پھوٹی … اور باقی کے
ہاتھ میں لاٹھیاں اور پتھر… مشرکین کے لشکر میں اونٹوں، گھوڑوں کا شور… اور
مسلمانوں کے لشکر میں دعائیں اور آہیں … تب سات آسمان لرز اٹھے… جبرئیل امین علیہ
السلام اپنے گھوڑے حیزوم پر بیٹھ کر زمین پر اتر آئے اور ان کے ساتھ فرشتوں کا
لشکر… اور شیطان ابلیس اپنے لاکھوں شیاطین کے ساتھ ابوجہل کے لشکر میں آبیٹھا…
مشرکین مکہ کے لشکر میں شامل مسلمانوں نے جب دونوں لشکروں کا حال دیکھا تو کہہ
اٹھے… مسلمان تو آج صرف مرنے کے لیے آئے ہیں… یہ چند نہتے اور کمزور … اس بڑے لشکر
کا کہاں مقابلہ کرسکتے ہیں؟ … آج جنگ نہیں ہوگی یکطرفہ کارروائی ہوگی… ابوجہل اور
اس کا لشکر چند منٹ میں مسلمانوں کاصفایا کردے گا… بقول شیخ رشید آملیٹ بنادے گا…
جی بے شک کھلی آنکھوں سے تو یہی کچھ نظر آرہا تھا… چنانچہ وہ مصلحت پسند مسلمان
مشرکین کے لشکر کا حصہ بنے رہے… جنگ شروع ہوئی تو وہ بدقسمت مارے گئے… قرآن پاک
بتاتا ہے کہ وہ سب … جہنم میں گئے، فرشتوں نے روح قبض کرتے وقت ان کو بہت مارا اور
پوچھا کہ یہ تم نے کیاکیا؟… انہوں نے جواب دیا ہم کمزور تھے اس لیے مجبوراً مشرکین
کے لشکر کا حصہ بنے رہے… فرشتوں نے یہ جواب قبول نہیں کیا اور ان کو آگ کے کوڑوں
سے مار مار کر عذاب کی طرف لے گئے… یا اللہ ! آپ کی امان… کہاں شہداء
کے مزے اور کہاں کافروں کا ساتھ دینے والوں پر یہ عذاب … ہاں مجھے آج شہداء کرام
یاد آرہے ہیں… بابری مسجد کے گرد شہید ہونے والے حذیفہپ، طلحہپ، پاملاپ … اور ان
کے بعد خون پر خون پیش کرنے والے… جنت کے دولھے … ارسلان پ، باہوپ اور ان کے
ساتھی… بابری مسجد کعبہ کی بیٹی، اسلام کی عزت… اس پر شور مچانا بھی حق تھا… کوئی
جرم نہیں… بابری مسجد پر شورمچانے کا طعنہ دینے والے لال کرشن ایڈوانی کے ہاتھ
مضبوط کر رہے ہیں… تاکہ بابری مسجد کی تحریک کمزور ہو اور ایڈوانی وہاں مندر
بنالے… اور اس مندر کے افتتاح کے لیے پاکستان کے ان خطیبوں کو لے جائے جو ہمیں
طعنہ دیتے ہیں کہ… بابری مسجد کا شور مچانے والے لال مسجد کے وقت کہاں سوگئے… لال
مسجد بھی کعبہ کی بیٹی ہے… اسے بھی کسی نے نہیں بھلایا نہ کوئی مسلمان اسے بھلا
سکتا ہے… اللہ پاک کاشکر ہے وہاں اذان بھی ہو رہی ہے اور
نماز بھی … اللہ کرے تاقیامت ہوتی رہے… اور لال مسجد کے
منبر کو پھر حضرت مولانا عبدالعزیز کی صحبت اور آواز نصیب ہو… شہید کا بیٹا، شہید
کا والد، شہید کا بھائی، شہید کا بھتیجا… حضرت مولانا عبدالعزیز
حفظہ اللہ تعالیٰ ورعاہ … دراصل بات یہ ہے کہ میں نے قرآن
پاک کی ایک سورت کا مطالعہ شروع کیا … اس سورۃ کا نام ہے ’’محمد‘‘ … اور دوسرا نام
ہے ’’سورۃ القتال‘‘ ہمارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جہاد
وقتال کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے… جو لوگ جہاد وقتال کو نہیں مانتے وہ درحقیقت حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتے… اس سورۃ میں سے جہاد کے موتی
ڈھونڈ ڈھونڈ کر جمع کر رہا تھا صرف آیت ۴ پر
پینتالیس سے زائد صفحات لکھے گئے… اس آیت میں جہاد کا حکم بھی ہے اور جنگی قیدیوں
کے احکامات بھی… اور آیت مبارکہ کے آخر میں شہداء کرام کی فضیلت ہے اور شہداء کرام
کی فضیلت کا مضمون آگے مزید دو آیتوں میں بھی ہے…
میں
مفسرین کی عبارتیں پڑھ رہا تھا… اور شہداء کرام کے مقام کو رشک کی نگاہ سے دیکھ
رہا تھا… اللہ اکبر کبیرا… شہیدوں نے بہت ہی بڑی کامیابی
حاصل کرلی ہے… مگر شہادت کا اصل مقام یا تو حضور پاک صلی اللہ علیہ
وسلم کو پتا تھا… یا پھر جو شہید ہو جاتا ہے اسے شہادت کے بعد پتا چلتا ہے کہ
شہادت کتنی بڑی اور اونچی چیز ہے… حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو
تو اللہ تعالیٰ نے یہ مقام سمجھا اور دکھا دیا تھا اس لیے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار شہید ہونے کی دنیا ہی میں تمنا
فرمادی … حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام شہداء کے مقام سے بہت
ہی بلند اور اعلیٰ ہے… دوسرے مسلمانوں کو شہید کے فضائل تو پتا ہوتے ہیں مگر اس کا
اصل مقام اور اس مقام کے عملی انعامات کا پتا شہادت کے بعد چلتا ہے… اسی لیے شہید
جنت میں جاکر واپس دنیا میں آکر شہادت کی تمنا کرے گا… میں شہداء کے فضائل پڑھ رہا
تھا… اور مجھے ان لوگوں پر ترس آرہا تھا جو جہاد کی اہمیت کم کرنے کے لیے رسالے
لکھتے ہیں… اور اپنے گمان میں مسلک حقہ کی وکالت کرتے
ہیں… الحمدللہ ’’اہل حق‘‘ خود باشعور ہیں ان کو مفت کے
وکیلوں کی حاجت نہیں ہے… افغانستان کے شہداء …
ماشاء اللہ اس زمانے میں تحریک جہاد کے بانی… دشت لیلیٰ کے
دس ہزار طالبان شہداء … یہ دس ہزار کا عدد بھی عجیب ہے… حضرت عثمان غنی رضی اللہ
عنہ کے زمانے میں جب خاقانیوں نے خراسان پر حملہ کیا تو اس لڑائی میں مسلمانوں کا
پورا لشکر شہید ہوا جس کی تعداد دس ہزار تھی… آخری زمانے میں خراسان سے مسلمانوں
کا ایک لشکر حضرت امام مہدی کی نصرت کے لیے روانہ ہوگا… اور راستے ہی میں دس ہزار
کا یہ پورا لشکر شہید ہوجائے گا… قرآن پاک تو بار بار سمجھاتا ہے
کہ… اللہ تعالیٰ کو کسی کے جہاد کی ضرورت نہیں ہے وہ چاہے
تو کافروں کو خود ہلاک کردے… مگر اس نے جہاد فرض کیا تاکہ اُمتحان لے کہ کون
مسلمان سچا ہے… اور کون نام کا مسلمان ہے… اور جہاد اس لیے فرض کیا تاکہ کچھ
مسلمانوں کو شہادت کا اونچا مقام عطاء فرمائے… آج ہر مسلمان عام ہو یا خاص وہ اپنے
گریبان میں جھانک کر دیکھے کہ اللہ تعالیٰ کے اس اُمتحان
میں وہ کس جگہ پر کھڑا ہے؟… چند دن پہلے میں ایک راستے پر پیدل جا رہا تھا… اسکول،
کالج کے چند نوجوان بہت بلند آواز سے ’’مسئلہ جہاد‘‘ پر بات کر رہے تھے… ان سب کا
لباس اور انداز مغربی تھا… وہ کہہ رہے تھے کہ اصل جہاد تو نفس کا جہاد ہے اور یہی
بڑا جہاد ہے… میں شیطان کے اس جال سے حیران رہ گیا… قرآن پاک کی پونے چھ سو آیات
نے جس جہاد کو بیان فرمایا … وہ اصل جہاد نہیں ہے بلکہ وہ تو چھوٹا جہاد ہے…
’’جہاد نفس‘‘ پر کتابیں لکھنے والے تھوڑا سا عوام میں تو گھوم پھر کر دیکھ لیتے
کہ… لوگ آج کل جس ’’جہاد نفس‘‘ کو بڑا جہاد قرار دے رہے ہیں… یہ حضرات ابراہیم
عبلہ رحمۃ اللہ علیہ، حضرت ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ، حضرت امام رازی
رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ والا … جامع جہاد
نفس نہیں ہے… بلکہ یہ تو مرزاقادیانی والا جہاد نفس ہے… جس کی آواز لگا کر اسلام
کے فریضہ جہاد فی سبیل اللہ کی اہمیت کو کمزور کیا جارہا
ہے… یقین نہ آئے تو لوگوں سے جاکر پوچھ لیں ان کو تو جہاد نفس کا وہ معنیٰ پتا ہی
نہیں جس کو بنیاد بنا کر آپ نے تحقیق کو رسوا کیا ہے…
ہاں
آج پھر شہداء کرام یاد آرہے ہیں… شہدائے کشمیر…
ماشاء اللہ مشرکین کے خلاف جہاد کرنے والے شہزادے… پورا
قرآن پاک مشرکین سے جہاد کرنے کی آیات سے منور ہے… آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم نے جہاد کا آغاز مشرکین سے فرمایا… انہی مشرکین نے اماں عائشہ صدیقہ
رضی اللہ عنہا کے خاوند حضرت محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کو مکہ مکرمہ میں ستایا… اور ان کو وہاں سے نکالا… مشرکین تو ہمارے پورے دین
کے دشمن ہیں… اور انہوں نے مسلمانوں کے زیر حکومت رہنے والی ایک بڑی زمین پر قبضہ
کر رکھا ہے… ان مشرکین نے مشرقی پنجاب میں ہزاروں مساجد کو ویران کیا ہے… اور یہ
ظالم لوگ لاکھوں مسلمانوں کے قاتل ہیں… اور شہدائے فلسطین …
سبحان اللہ یہودیوں کے خلاف لڑنے والے … اسلام کے خطرناک
ترین دشمن اسرائیل کے راستے کی رکاوٹ بننے والے… سلام ہو… ان تمام شہداء پر… اور
شہدائے عراق پر جنہوںنے حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سرزمین کی لاج رکھ
لی ہے۔
سلام
چند
دن پہلے مسلمانوں کے ایک قاتل نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ(ز) پر بم برسانے والوں
کو سلیوٹ کیا… اس کا حق ہے کہ وہ دنیا آخرت میں ساتھ رہنے والے اپنے یاروں کو
سلیوٹ کرے… ہمیں تو شہداء سے محبت ہے … بہت محبت… اسی لیے ادب سے کانپتے دل کے
ساتھ… تمام شہداء اسلام کی خدمت میں…سلام… سلام… سلام
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
نے ’’پانی‘‘ کو پیدا فرمایا… اور پھر پانی سے بہت سی چیزیں پیدا فرمائیں… آپ نے
کبھی غور کیا کہ قرآن پاک میں جب بھی ’’جنت‘‘ کا تذکرہ آتا ہے تو ساتھ ہی اکثر جگہ
’’پانی‘‘ کا ذکر بھی ہوتا ہے کہ … جنت میں نہریں بہتی ہیں… دراصل پانی بہت ہی بڑی
نعمت ہے… آج کل حکمرانوں کے ظلم کی وجہ سے مخلوق کو پانی کم ملتا ہے… بجلی چلی
جاتی ہے تو پانی کی موٹر بھی نہیں چلتی اور جب پانی ختم ہوجاتا ہے تو زندگی مشکل
میں پڑ جاتی ہے … امام رازی رحمۃ اللہ علیہ نے بہت عجیب بات لکھی ہے کہ … جنت میں
نعمتیں تو بہت زیادہ ہیں… بے شمار نعمتیں اور طرح طرح کی نعمتیں، مگر اکثر جگہ صرف
پانی کا تذکرہ کیا جاتا ہے… وجہ اس کی یہ ہے کہ ’’پانی‘‘ علاُمت ہے زندگی کی… اور
’’آگ‘‘ علاُمت ہے ہلاکت کی… اہل جنت کو زندگی ملنی ہے بہت اونچی اور بہت طاقتور
زندگی … اس لیے جنت کے تذکرے کے ساتھ نہروں اور دریاؤں کا تذکرہ آتا ہے کہ… جنت
میں زندگی ہی زندگی ہوگی… کیونکہ نہریں اور دریا ہوں گے تو درخت بھی ہوں گے… درخت
ہوں گے تو پھل بھی ہوں گے اور پھول بھی… اور جہنم کے تذکرے کے ساتھ اکثر ’’آگ‘‘ کا
ذکر آتا ہے کہ… وہاں ہلاکت ہی ہلاکت ہوگی، ایسی ہلاکت جو تکلیف تو بہت پہنچائے گی
مگر موت نہیں لائے گی… وہاں اگر کچھ پینے کے لیے ملے گا تو وہ بھی آگ کی طرح گرم
ہوگا جس کو پیتے ہی جسم کے اندر سے انتڑیاں باہر آجائیں
گی… اللہ تعالیٰ کی پناہ… اَللّٰہُمَّ اَجِرْنَا مِنَ
النَّارْ … یا اللہ ہمیں آگ سے بچا…
اللہ تعالیٰ
نے جنت کے پانی، وہاں کی نہروں اور چشموں کا قرآن پاک میں بار بار تذکرہ فرمایا
ہے… ہر جنتی کو کم از کم چار نہریں تو ضرور ملیں گی… دودھ، شہد، شراب اور پانی کی
نہریں… حضرت شاہ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ ہر جنتی کے لیے چار نہریں
تو ضرور ہوں گی… اور بعض کو زیادہ ملیں گی… یہاں ایک بات تو یہ یاد رکھیں کہ عربی
زبان میں ’’نہر‘‘ دریا کو کہتے ہیں… اس لیے ’’نہر‘‘ کا لفظ پڑھ کر پاکستان کے وہ
چھوٹے چھوٹے نالے ذہن میں نہ آجائیں… جو دنیا بھر کا کچرا اٹھائے پھرتے ہیں… دوسری
بات یہ ہے کہ جنت کے دریا دنیا کے دریاؤں کی طرح تو نہیں ہوں گے… وہ تو بہت عجیب
شان کے دریا ہوں گے… اللہ پاک نے قرآن مجید میں آسان اور عام فہم الفاظ
سے باتیں سمجھائی ہیں… دریا اور نہر کا لفظ سب کو سمجھ آتا ہے اس لیے فرمادیا کہ
جنت میں دودھ کے دریا ہوں گے… جن کا ذائقہ خراب نہیں ہوگا… اور شہد کے دریا ہوں گے
بالکل صاف شفاف شہد… اور پانی کے دریا ہوں گے جو پانی خراب نہیں ہوگا اور بہت لذت
بخش شراب کے دریا ہوں گے… مگر جنت کی نعمتوں کو تو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں… اس لیے
جو کم عقل لوگ ہیں وہ حیران ہوتے ہیں کہ دودھ اور شہد کے دریا کیسے ہوں گے؟… آج سے
سو سال پہلے کوئی جانتا تھا کہ موبائل فون کیسا ہوتا ہے؟… انٹرنیٹ کیسا ہوتا ہے؟…
جب آج کل کی حقیر سی اشیاء کو کچھ عرصہ پہلے سمجھنا اور سمجھانا مشکل تھا تو جنت
تو بہت اونچی ہے… بہت دور ہے اور ترقی کی انتہاء ہے… چنانچہ ہم پر لازم ہے کہ یقین
رکھیں کہ وہاں ان تمام چیزوں کے دریا ہیں … مگر ان کی شکل وصورت اور ترتیب کیا
ہوگی یہ تو جب انشاء اللہ جائیں گے تو دیکھیں گے… تفسیر ابن
کثیرپ میں ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں … شاید تم لوگ یہ گمان کرتے ہو
کہ جنت کے دریا زمین کھود کر بنائے گئے ہیں… ایسا نہیں ہے
… اللہ تعالیٰ کی قسم وہ تو زمین کے اوپر چلتے ہیں… ان کی
دیواریں موتیوں کے قبے ہیں… اور ان کی مٹی مشک کی ہے… آج کی اس چھوٹی سی دنیا میں
لوگوں نے کیا کیا بنا لیا ہے تو پھر جنت تو بہت بڑی جگہ ہے… خیر بات پانی کی چل
رہی تھی…
پانی
کے بارے میں ہمیں چند کام کرنے چاہئیں:
۱ پانی اللہ تعالیٰ
کی بہت بڑی نعمت ہے… اسی کے بخارات سے آسمان بنے، اسی کے جوہر سے زمین بنی … اور
اسی سے اکثر جاندار چیزوں کو بنایا گیا… ہمیں چاہیے
کہ اللہ تعالیٰ کی اس عظیم الشان نعمت کی دل و جان سے قدر
کریں
۲ ہم
پانی کو بالکل ضائع نہ کریں … وضو اور دیگر ضروریات میں ضرورت سے زیادہ پانی
استعمال نہ کریں…
۳ ہم
دوسروں کو زیادہ سے زیادہ پانی پلائیں ، انسانوں کو بھی جانوروں اور پرندوں کو بھی
۴ ہم
پانی پینے اور استعمال کرنے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے
اور سنتوں پر عمل کریں…
۵ اگر
ہماری استطاعت ہو تو ہم دوسرے لوگوں کے لیے پانی کا مستقل انتظام کریں
۶ ہم
سخت ضرورت کے علاوہ کسی بھی وقت دوسروں کو پانی لینے سے منع نہ کریں
یہ
ہے پانی کا ’’چھ نکاتی‘‘ نصاب… ہم نے اس نصاب پر عمل کیا تو
انشاء اللہ دُنیا و آخرت میں فائدہ پائیں گے…
انسانیت
کے دشمن تو پانی کو مسلسل خراب کر رہے ہیں… جانوروں کی طرح کھانے پینے اور عیاشی
کرنے کے حریص لوگوں نے فیکٹریاں لگا لگا کر کتنا پانی خراب کردیا ہے؟ … ان ظالموں
سے کوئی پوچھے کہ ایسی ترقی کا کیا فائدہ کہ انسانوں کو صاف پانی جیسی نعمت بھی نہ
ملے… ایٹمی ممالک سمندروں میں ایٹمی دھماکے کرتے ہیں … جس سے سمندروں میں زہر پھیل
جاتا ہے… مچھلیاں مرجاتی ہیں… اور پھر یہ ممالک اپنا ایٹمی فضلہ بھی پانی میں ڈال
کر پانی اور ماحول کو برباد کرتے ہیں… کوئی ہے سوچنے والا کہ دنیا میں جو کچھ
بنایا جارہا ہے انسان کو اس کی زیادہ ضرورت ہے یا تازہ ہوا اور صاف پانی کی… طرح
طرح کے برتن، طرح طرح کا فرنیچر، طرح طرح کی گاڑیاں، طرح طرح کی مشینیں … کیا یہ
سب انسان کی ضرورت ہیں؟… مال کے ساتھ کھیلنے والے لالچی مالداروں نے صرف اپنا بینک
بیلنس بڑھانے کے لیے پوری انسانیت کو برباد کر رکھا ہے… اللہ تعالیٰ
مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ کی توفیق دے … مسلمان جہاد
کریں گے تو دنیا کا نظام ٹھیک ہوگا… اللہ پاک نے پانی کا
مرکز جنت الفردوس کو بنایا ہے… وہاں سے یہ پانی پوری جنت میں تقسیم ہوتا ہے… اور
کئی احادیث سے ثابت ہے کہ … دنیا کے بعض دریا بھی جنت سے آئے ہیں… بخاری شریف کی
روایت ہے … حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
’’بلاشبہ
جنت میں سو درجے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے فی
سبیل اللہ جہاد کرنے والوں کے لیے تیار فرمایا ہے، ہر
دودرجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے کہ جتنا آسمان وزمین کے درمیان پس جب
تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو جنت الفردوس کا سوال کرو
کیونکہ وہ جنت کا سب سے افضل اور اعلیٰ درجہ ہے… اور اسی کے اوپر رحمن (جل شانہٗ)
کا عرش ہے اور اسی سے نہریں جاری ہیں… (صحیح البخاری)
اور
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
سیحان،
وجیحان ، والنیل والفرات کل من انہار الجنۃ (صحیح مسلم)
یعنی
دنیا کے یہ چار دریا جنت سے آئے ہیں، (۱)سیحون (۲)جیحون
(۳)نیل
(۴)فرات…
مجاہدین
کی بھی عجیب شان ہے… جس جگہ کو اللہ پاک نے جنت کا اور پانی
کا مرکز بنایا ہے… یعنی جنت الفردوس … اللہ پاک نے مجاہدین
کو خصوصاً عطاء فرمائی ہے… شہداء جنت الفردوس میں مز ے کرتے ہیں… ویسے بھی مجاہدین
کا ’’پانی‘‘ کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے… اہل دل فرماتے ہیں کہ سب سے افضل پانی وہ
تھا جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک انگلیوں سے چشموں کی طرح
پھوٹا تھا… یہ پانی کن کو نصیب ہوا؟ … یقینا مجاہدین کو جو آپ صلی اللہ
علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں نکلے ہوئے تھے اور پیاس کی وجہ سے سخت تکلیف میں تھے…
پھر افضل ترین پانی ’’زمزم شریف‘‘ ہے…
وہ تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک بڑی
نعمت ہے… اگر زمزم کے فضائل اور خواص لکھنے بیٹھ جاؤں تو آج کا مضمون اسی میں پورا
ہوجائے گا اور بات پھر بھی مکمل نہ ہوسکے گی… دراصل آج کل کے مشینی دور نے
مسلمانوں کے یقین کو کمزور کردیا ہے… وہ قرآن و سنت کی باتوں سے پورا فائدہ نہیں
اٹھاتے… حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جب آپ صلی اللہ
علیہ وسلم سے سنا کہ زمزم جس نیت سے پیا جائے وہ پوری ہوتی ہے… اور یہ برکت والا
پانی ہے اور اس میں شفاء ہے تو انہوں نے یقین کرلیا اور خوب فائدہ اٹھایا … مشہور
صحابی حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ چالیس دن رات کعبہ شریف میں مقیم رہے اور صرف زمزم
پیتے رہے… اس کے علاوہ نہ کچھ کھایا نہ پیا… فرماتے ہیں مجھے بالکل بھوک محسوس
نہیں ہوئی بلکہ میرا جسم پہلے سے زیادہ موٹا
ہوگیا… اللہ اکبر کبیرا… آج ہم لوگ ڈسپرین اور پیناڈول کی
گولی میں تو تأثیر مانتے ہیں مگر زمزم شریف میں ہمیں کوئی تأثیر نظر نہیں آتی…
علامہ ابن قیمپ نے زاد المعاد میں لکھا ہے کہ میں نے اپنی کئی بیماریوں کا علاج
زمزم شریف سے کیا… اور الحمدللہ مجھے شفاء ملی… یہ زمزم
شریف کعبۃ اللہ کے پاس ہے… اور مسلمانوں نے جہاد کے ذریعہ
مکہ مکرمہ، کعبۃ اللہ اور زمزم کو آزاد کرایا… ورنہ وہاں تو
مشرکین کی حکومت تھی… خلاصہ یہ ہے کہ زمزم شریف کی آزادی میں بھی مجاہدین کا حصہ
ہے… غزوۂ بدر میں اللہ تعالیٰ کی نصرت مجاہدین پر ’’پانی‘‘
کی صورت میں نازل ہوئی … قرآن پاک میں اس کا تذکرہ ہے… اور صحابہ کرام رضوان اللہ
علیہم اجمعین کے لشکر پانی پر چلتے ہوئے دشمن تک پہنچ گئے… اور پانی نے ان کو نہیں
ڈبویا… خیر یہ ایک الگ موضوع ہے… ہم سب کو پانی کی قدر کرنی چاہئے کیونکہ قیامت کے
دن پانی کے بارے میں سوال کیا جائے گا… حدیث شریف میں آیا ہے :
’’قیامت
کے دن نعمتوں میں سے اللہ تعالیٰ سب سے پہلے بندہ سے پوچھے
گا کہ کیا ہم نے تجھے جسمانی صحت نہیں دی تھی اور تجھے ٹھنڈے پانی سے سیراب نہیں
کیا تھا؟۔ (ترمذی)
بے
شک ٹھنڈا پانی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے… اور جب یہ
میٹھا بھی ہو تو سبحان اللہ
بخاری
شریف کی روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ٹھنڈے پانی میں شہد
ملا کر نوش فرماتے تھے (زاد المعاد ص۱۸۰ ج۴)
آپ صلی
اللہ علیہ وسلم نے پانی کو ضائع کرنے سے منع فرمایا … حتیٰ کہ وضو میں بھی اسراف
یعنی زیادہ پانی خرچ کرنے سے منع فرمایا … (مسند احمد)
اور
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن نیکیوں کی ترغیب دی ان میں پانی پلانے کی
نیکی بھی شامل ہے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی ترغیب کا نتیجہ تھا کہ
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ کا کنواں ’’بئر روما‘‘ ایک یہودی سے خرید
کر مسلمانوں کے لیے وقف کردیا… علامہ منذری رحمۃ اللہ علیہ نے پانی پلانے کے فوائد
پر ایک عجیب واقعہ لکھا ہے… خلاصہ اس کا یہ ہے کہ حضرت شیخ حاکم ابو عبد اللہ رحمۃ
اللہ علیہ کے چہرے پر دانے اور پھوڑے نکل آئے… انہوں نے طرح طرح کے علاج کروائے
مگر کوئی فائدہ نہ ہوا… انہوں نے شیخ ابو عثمان رحمۃ اللہ علیہ سے دعاء کی درخواست
کی… شیخ نے جمعۃ المبارک کی مجلس میں دعاء کروائی اور لوگوں نے آمین کہی… اگلے
جمعہ جب شیخ مجلس میں آئے تو ایک عورت نے ان کی طرف ایک پرچہ پھینکا اور خود اپنے
گھر چلی گئی … پرچہ میں لکھا تھا کہ میں نے پچھلے جمعہ کے بعد شیخ حاکم کے لیے خوب
دعاء کی تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
خواب میں زیارت ہوئی… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حاکم ابو عبد
اللہ کو بتاؤ کہ مسلمانوں کو خوب پانی پلائے… یہ خواب جب حاکمپ تک
پہنچا تو انہوں نے اپنے گھر کے باہر پانی کی سبیل بنوادی اور لوگوں کے لیے ٹھنڈے
پانی کا انتظام کیا … ابھی ایک ہفتہ بھی نہ گزرا تھا کہ ان کی بیماری دور ہوگئی،
چہرے کے دانے اور پھوڑے ختم ہوگئے… اور چہرہ پہلے سے زیادہ خوبصورت ہوگیا۔
(الترغیب والترہیب ص۴۳ ج۲)
اسی
طرح حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کا بھی واقعہ ہے کہ ان کے
پاس ایک شخص آیا اس کے گھٹنے میں پھوڑا تھا جس سے خون نکلتا رہتا تھا… بہت علاج کے
باوجود وہ ٹھیک نہیں ہورہا تھا… حضرت ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ نے اسے کسی ایسی
جگہ کنواں کھودنے کا مشورہ دیا جہاں لوگوں کو پانی کی ضرورت ہو… اس نے ایسا ہی کیا
تو اس کی بیماری ٹھیک ہوگئی…
یہ
دو واقعات تو اچانک سامنے آگئے… اصل بات یہ ہے کہ پانی پلانا اور پانی کا انتظام
کرنا ایک بڑی اور مقبول نیکی ہے… حدیث پاک میں آتا ہے کہ جو کوئی کنواں کھودے گا…
پھر اس کنویں سے جو جاندار بھی پانی پیئے گا اس کے
بدلے اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اجر عطاء فرمائے گا …
پانی پینے والا جاندار انسان ہو، جن ہو یا کوئی پرندہ… (ابن خزیمہ)
اس
گناہگار عورت کا واقعہ تو مشہور ہے جس نے ایک پیاسے کتے کو پانی پلایا
تو اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا… اس موضوع پر احادیث اوربھی
ہیں… خلاصہ اس پوری بات کا یہ ہوا کہ… پانی اللہ تعالیٰ کی
عظیم الشان نعمت ہے… اللہ پاک نے جنت کو پانی سے سجایا اور
آباد فرمایا ہے… ہم اس نعمت کی قدر کریں… اس کو ضائع نہ کریں، اس کو گندا اور خراب
نہ کریں… خود استعمال کریں تو شکر ادا کریں… اور دوسروں کو پلانے کی پوری کوشش
کریں… اور رات کو پینے کا پانی ڈھک دیں… کیونکہ کھلے پانی میں بیماری آجاتی ہے…
اور ہم اللہ رب العالمین سے جنت الفردوس کا سوال کریں… اور
جنت کے ایک خاص چشمے ’’تسنیم‘‘ کا سوال کریں… جو مقرب لوگوں کو پلایا جائے گا… یہ
چشمہ جنت کی اونچی فضائوں میں بہتا ہے… اللہ اکبر کبیرا…
اللہم
انا نسئلک الجنۃ جنۃ الفردوس ونعوذبک من النار…
وصلی اللہ تعالیٰ علی الحبیب النبی الکریم وآلہ وصحبہ وسلم
تسلیما کثیرا کثیرا
دلچسپ
برصغیر
کی تقسیم سے پہلے ایک بزرگ شاعر گزرے ہیں وہ ایک بار صابن کی ٹکیہ ہاتھ میں لیے
نہا رہے تھے کہ ایک پوری نظم ہوگئی… اس نظم کا آخری شعر (مقطع) یہ تھا:
کل
غسل میں تھے مصروف حسنؔ بس یونہی طبیعت آجوگئی
یہ
نظم زباں پر جاری تھی اور ہاتھ میں ٹکیہ صابن کی
اسی
طرح چار روز پہلے ہمارے علاقے کی بجلی خراب ہوئی تو ’’پانی‘‘ کی تنگی ہوئی، تب یہ
مضمون ذہن میں آگیا… اور مضمون لکھنے سے پہلے زمزم شریف پی کر دعاء کی کہ مضمون
قبول ہو اور مفید لکھا جائے اور لکھنے کے دوران سنت پر عمل کرنے کے لیے ٹھنڈے پانی
میں شہد ملا کر پیتا رہا… اگر یہ بات پڑھ کر آپ کے منہ میں ’’پانی‘‘ آگیا ہو تو
کوئی حرج نہیں کیونکہ آ ج کے کالم کا عنوان ہے ’’پانی‘‘… و الحمدللہ رب
العالمین…
٭٭٭
اَللّٰہُمَّ
بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ…
اللہ پاک
کا شکر ہے ’’رجب المحرَّم‘‘کا مہینہ شروع ہوچکا
ہے… اللہ تعالیٰ ہمارے لیے اور پوری اُمت مسلمہ کے لیے رجب
اور شعبان میں برکتیں عطاء فرمائے… اور قبولیت و مغفرت والا رمضان المبارک نصیب
فرمائے… یہ مسنون دعاء ہم سب کو دو ماہ تک پڑھتے رہنا چاہئے… آج ہم اپنے ایک
’’زندہ دوست‘‘ کا تذکرہ کر رہے ہیں… القلم کا یہ تازہ شمارہ ’’القلم‘‘ کے پہلے
مدیر کی یا دمیں چند آنسو، چند پھول … اور چند موتی لے کر حاضر خدمت ہے… ’’القلم‘‘
کا پہلا شمارہ نکلا تو وہ بھائی محمد مقصود احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ نے تیار کیا…
اور اپنی زندگی کے آخری دن وہ ’’القلم‘‘ ہی کے لیے اپنی آخری تحریر لکھ کر اپنے
مقام شہادت کی طرف روانہ ہوئے… بے شک ہمارا ’’مثالی یار‘‘ بہت باوفا تھا… اور بہت
با صفا تھا … مقصود شہیدرحمۃ اللہ علیہ کو
سمجھنے کے لیے چند بکھری ہوئی باتیں عرض کر رہا
ہوں… اللہ کرے میرے لیے اور آپ کے لیے مفید ہوں … مقصود شہیدرحمۃ اللہ علیہ نے زندگی کے آغاز میں
ایک بڑا ’’طوفان‘‘ دیکھا… موت کئی بار اس سے سینہ ٹکرا کر پیچھے ہٹ گئی… شہادت نے
اسے اپنا حسین جلوہ دکھایا اور پھر اس کی بانہوں سے نکل کر بھاگ گئی… مقصود شہیدرحمۃ اللہ علیہ اس کے پیچھے دوڑتا چلا
گیا، دوڑتا چلا گیا… یہ ہے مقصود شہیدرحمۃ
اللہ علیہ کی زندگی کا خلاصہ… ایک دوڑتا ہوا، بے چین، بے قرار انسان، جسے اس دنیا
میں ٹھہرنے اور کچھ بنانے سے غرض نہیں تھی… مقصود شہیدرحمۃ اللہ علیہ کے اندر خطاّب شہیدپ،
زرقاوی شہیدپ اور غازی علم دین رحمۃ اللہ علیہ شہید جیسی روح تھی… مگر قدرت نے اسے
’’علم و قلم‘‘ کی صلاحیت سے نوازا تھا، اس صلاحیت کی وجہ سے وہ محاذوں سے دور
پھنستا چلا گیا، پھنستا چلا گیا… جو کام اس کے ذمے تھے وہ بھی بہت اونچے اور بہت اجر
والے تھے… مگر روح کو تو تبھی چین ملتا ہے جب اسے اپنی پسند کا میدان ملے… وہ
’’کمانڈر‘‘ تھا اور کمانڈر بننا چاہتا تھا مگر حالات نے اسے داعی، قلمکار، مبلغ
اور ادیب بنادیا … وہ دین کی خاطر یہ سب کچھ نباہتا رہا… مگر اس کی روح طوفانوں کو
ڈھونڈتی رہی… جگر مرحوم نے کیا خوب فرمایا ہے:
زندگی
جس سے عبارت ہے، محبت زندہ
وہ
سکوں صرف ہے آغوش میں طوفانوں کے
چلیں
بات آگے بڑھانے سے پہلے جگر کی اسی غزل کے چند اور اشعار بھی پڑھ لیں، یوں لگتا ہے
انہوں نے ہمارے مقصود شہیدرحمۃ اللہ علیہ ہی
کے بارے میں یہ اشعار کہے ہیں:
چشم
ساقی! میں تصدُّق ترے پیمانوں کے
چند
گھونٹ اور بھی، لیکن انہی مے خانوں کے
آگ
میں پھاند پڑیں، موت سے ٹکرا جائیں
واہ!
کیا کھیل ہیں ان سوختہ سامانوں کے
موت
کیا آئے گی ہم عشق کے دیوانوں کو
موت
خود کانپتی ہے نام سے دیوانوں کے
ہر
قدم لاکھ تھپیڑے سہی طوفانوں کے
حوصلے
پست نہ ہوں گے کبھی انسانوں کے
طوفانوں
کی آغوش میں پلنے والا مقصود شہیدپ… ہر طوفان میں سینہ سپر رہا… اور بالآخر وہ
شہادت جو اسے قریب سے اپنا جلوہ دکھا کر بھاگ گئی
تھی… اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے اسے مل گئی… دو بچھڑے محبوب
ایک ہوئے، گلے ملے… اور ادھر صدا آئی کہ جیش محمد صلی اللہ علیہ وسلم
کا بانی رکن، جیش محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نشریاتی دعوت کا سربراہ …
ہمارا محبوب دوست محمد مقصود احمد شہید ہوگیا ہے… یہ تو ہوا خلاصہ … اب اگر اس
مختصر داستان کی تفصیل معلوم کرنی ہو تو پھر آپ کو … سب سے پہلے قرآن پاک کی وہ
آیات پڑھنی چاہئیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ… قتال فی
سبیل اللہ کو سمجھنے
والے اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہوتے ہیں… جی ہاں! نفاق کے
اثرات سے پاک زندہ دل ایمان والے ہی جہاد فی سبیل اللہ کو
سمجھتے ہیں…
ہمارا
پیارا ساتھی مقصود شہیدرحمۃ اللہ علیہ بھی…
انہی مخلص، زندہ دل ایمان والوں میں سے تھا جن
کو اللہ تعالیٰ نے جہاد فی
سبیل اللہ کی سمجھ عطاء فرمادی تھی… اس بارے میں قرآنی آیات
تو بہت ہیں صرف ایک آیت اور اس کی تفسیر کا ایک حوالہ عرض کرتا ہوں … اللہ تعالیٰ
کا ارشادگرامی ہے:
اَفَلاَ
یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْآنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا (محمد۲۴)
ترجمہ:
کیا یہ لوگ دھیان نہیں کرتے قرآن پر، کیا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔
حضرت
شاہ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں:
’’یعنی
منافق قرآن کو نہیں سمجھتے کہ جہاد میں کتنے فائدے ہیں اور اقرارِ ایمان سے پھرے
جاتے ہیں کہ لڑائی میں نہ جاویں گے تو دیر تک جیویں گے‘‘ (موضح القرآن)
یعنی
قرآن پاک اور جہاد کا سمجھنا آپس میں لازم وملزوم ہے… جو قرآن پاک کو سمجھتا ہے وہ
جہاد کو بھی سمجھتا ہے… پس جس کو جہاد کی سمجھ نہیں حقیقت میں اس کو قرآن پاک کی
سمجھ نہیں … تفسیر حقانی میں ہے:
’’کاش
قرآن میں غور کرکے مصالح جہاد کو سوچتے، ان کے دلوں پر مہر اور قفل ہیں (ان کو) یہ
توفیق کہاں؟ ہدایت ظاہر ہونے پر جو منہ پھیرتے ہیں ان کو شیطان نے یہ حیلہ بازی
سکھائی کہ جہاد میں یہ خرابی ہے اور اسی نے ان کو امید دلائی ہے کہ مدتوں تک جیو
گے، ابھی کیوں لڑ کر مرتے ہو۔‘‘ (حقانی)
یمن
کے ایک ذہین نوجوان نے کہا تھا… حضرت! بے شک دلوں پر تالے ہوتے
ہیں اللہ پاک ہی ان کو کھول سکتا ہے… حضرت عمر رضی اللہ عنہ
کو اس کی بات بہت پسند آئی، جب آپ خلیفہ بنے تو اس کو ڈھونڈتے تھے کہ اسے کوئی
حکومتی ذمہ داری دیں … علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ … دلوں کے اپنے
خاص تالے ہوتے ہیں یہ عام تالوں سے مختلف ہوتے ہیں… پس جس کے دل پر تالا لگ جائے
اس کو جہاد سمجھ میں آہی نہیں سکتا… اللہ پاک کی
پناہ، اللہ پاک کی پناہ… اس آیت میں منافقوں کے بارے میں یہ
سب کچھ فرمایا گیا ہے… آپ خود سوچیں قرآن پاک نے کھلم کھلا الفاظ میں قتال کا حکم
دیا… حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم خود جہاد میں نکلے، لڑے اور زخمی
ہوئے… اور ہزاروں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جہاد میں شہید ہوئے… پھر بھی
کچھ مسلمانوں کو جہاد کا خیال تک نہیں آتا کہ ہم نے اس فریضے کو ادا کرنا ہے… بلکہ
اس کا نام سن کر بدک جاتے ہیں، الٹی سیدھی باتیں کرنے لگتے ہیں … اگر ان کے دلوں
پر تالے نہ ہوتے تو کیا وہ ایسا کرسکتے تھے؟ …
اللہ پاک
نے مقصود شہیدرحمۃ اللہ علیہ پر اپنی رحمت
کی نظر فرمائی … اس کے دل کے دروازے قرآن پاک کی حقیقی سمجھ کے لیے کھولے… تب
تاریخ کی گود میں ایک اور سچے مسلمان نے اپنی حسین اور کشادہ آنکھیں کھول لیں…
ایک
سخت طوفان
مقصود شہیدرحمۃ اللہ علیہ کے جہاد کا آغاز ایک
بڑے طوفان سے ہوا… وہ طالبعلمی کے زمانے میں طالبان کے سپاہی بن کر مزار شریف
پہنچے… وہاں ایک دھوکا ہوا اور ہزاروں معصوم پھول گولیوں سے بھون ڈالے گئے … ازبک
پہلوانوں نے غدّاری کی اور دشت لیلیٰ کا صحرا طالبان شہداء کا مرقد بن گیا… مقصود شہیدرحمۃ اللہ علیہ بھی اس محاصرے میں
تھے… اللہ پاک نے ابھی ان سے اور کام لینے تھے… وہ موت کے
ساتھ کندھے ٹکراتے ٹکراتے صحیح وسالم واپس آگئے… اس سفر کے دوران انہوں نے دن رات
موت کے ساتھ آنکھ مچولی کی… بس اس وقت سے ان کی اس ’’پاکیزہ محبوبہ‘‘ سے یاری ہوگئی…
یہ پوری تفصیل معلوم کرنے کے لیے آپ ایک چھوٹی سی کتاب خرید لیجئے، اس کا نام ہے
’’خاک و خون‘‘ اور اس کے مصنف ہیں خود ہمارے بھائی مقصودشہیدپ…
تشنہ
خواہشیں
اوپر
عرض کیا کہ ان کی روح ایک ’’عسکری کمانڈر‘‘ کی روح تھی…
مگر اللہ پاک نے ان کو علم وقلم کی صلاحیتوں سے نوازا تھا…
جیش محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جس دن اعلان ہوا، مقصود شہیدرحمۃ اللہ علیہ اس دن بھی ساتھ تھے…
جیش کے اکابر کا پہلا قافلہ حضرت لدھیانوی شہید رحمۃ اللہ علیہ کی سربراہی میں
افغانستان گیا تو مقصود شہیدرحمۃ اللہ
علیہ ساتھ تھے… جیش کی شوریٰ کا پہلا اجلاس ہوا تو مقصود شہیدرحمۃ اللہ علیہ کے کاندھوں پر
رسالہ نکالنے کی ذمہ داری آپڑی… وہ تو ماشاء اللہ دل کے
تالے سے آزاد تھے اس لیے جہاد کو پوری طرح سمجھتے تھے… اسی لیے انہوں نے ہر تشکیل
کو قبول کیا… کیونکہ جہاد کی قبولیت کے لیے یہ لازم ہے … ’’جیش‘‘ ماشاء اللہ افغانستان
میں لڑ رہی تھی… اور کشمیر میں دہلی تک اس کے طاقتور بازو پھیلے ہوئے تھے… مقصود شہیدرحمۃ اللہ علیہ اگر ضد کرتے تو لاڈلے
تھے، ضدمان لی جاتی اور ان کو بھیج دیا جاتا … مگر انہوں نے اپنی خواہش کو پیاسا
رکھا اور دین کے تقاضوں پر مٹتے رہے… اس پر مجھے ایک واقعہ یاد آرہا ہے… حضرت شاہ
ولی اللہ محدّث دھلوی رحمۃ اللہ علیہ ،حجۃ اللہ البالغہ
کے صفحہ ۱۰۹ ج۱ پر
لکھتے ہیں:
حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’میں
جنت گیا تو وہاں ایک گندمی رنگ کی سرخ ہونٹوں والی لڑکی تھی، میں نے پوچھا اے
جبرئیل! یہ کون ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے
جعفرؓ بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ) کی رغبت گندمی رنگ، سرخ
ہونٹوں والی لڑکی کی طرف پائی تو ان کے لیے اسے پیدا فرمادیا۔
(حجۃ اللہ البالغہ)
اُدماء
اس رنگ والی لڑکی کو کہتے ہیں، جیسا رنگ حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا تھا…
یعنی اصل رنگ، بے انتہا حسین وجمیل… یا یوں کہیں انسانوں کا ’’اوریجنل کلر‘‘ …
حضرت جعفر رضی اللہ عنہ… حضور اکرم صلی اللہ
علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی … پیارے اور بہادر صحابی تھے… وہ غزوہ موتہ میں شہید
ہوئے… ان کے دونوں بازو کٹ گئے تو جنت میں اللہ پاک نے اڑنے
والے بازو عطاء فرمادیئے… ان کے دل میں ایک حلال خواہش
تھی، اللہ پاک نے اس خواہش کو پورا فرمانے کے لیے جنت میں
یہ لڑکی پیدا فرمادی … مجاہد کی جو حلال خواہشیں دنیا میں پوری نہیں ہوتیں ان کا
اسے بہت بڑا بدلہ ملتا ہے … آجکل مجاہدین کو بھی دنیاداری کے سانپ ڈسنے لگے ہیں کہ
وہ اپنی ہر خواہش دنیا میں پوری کرنے کی فکر میں پڑ کر ’’بے وزن‘‘ ہوتے جارہے
ہیں… اللہ تعالیٰ معاف فرمائے … خیر بات تو ایک وزنی نوجوان
کی چل رہی تھی… مقصود شہیدرحمۃ اللہ علیہ کی
قلبی خواہش محاذ کی تھی مگر وہ خوش اسلوبی کے ساتھ ہر تشکیل نباہتے رہے… مگر ان کی
بے چین روح شہادت کے پیچھے دوڑتی رہی… روح اور جسم کی اسی کشمکش میں بیمار پڑے مگر
قدرت نے ان کے ساتھ اچھا کیا… وہ محاذ پر جاتے تو اکیلے لڑتے جبکہ ان کی لکھی ہوئی
تحریروں نے سینکڑوں نوجوانوں کو محاذ کا اور شہادت کا رستہ دکھایا… وہ بہت عمدہ
کتابیں لکھ گئے … جو انشا ء اللہ مسلمانوں کی رہنمائی کرتی
رہیں گی… اور وہ سات سال تک ایک ایسی جماعت کے اجر میں برابر کے شریک رہے … جس
جماعت کو موجودہ دنیا کے فرعون بش نے خطرناک ترین جماعت قرار دیا… بش جیسے اسلام
دشمن کا ’’حماس‘‘ اور ’’جیش محمد صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ کو اپنے لیے
’’خطرناک‘‘ قرار دینا… یہ ایسی سعادت ہے جس کے پیچھے سینکڑوں شہداء کرام کے
مسکراتے چہرے ہیں… و الحمدللہ رب العالمین… معلوم ہوا کہ
’’اصلی فائدہ‘‘ اپنی خواہش پوری کرنے میں نہیں ’’اطاعت‘‘ میں ہے … محاذ کے شوق کی
وجہ سے محاذ کا اجر بھی ملتا رہا … اور ان کے قلم سے جہادی موتی بھی برابر برستے
رہے … مجاہدین کا کتب خانہ کچھ عرصہ پہلے تک ویران ویران سا تھا… ہم لوگوں نے جب
پہلے پہل جہاد سے ’’یاری‘‘ شروع کی تو اردو میں جہا دکی صرف ایک دو کتابیں ملتی
تھیں اور اب ماشاء اللہ ’’بہاریں‘‘ نظر آرہی ہیں… اور ان
بہاروں میں ہمارے مقصود شہیدرحمۃ اللہ
علیہ کا بڑا حصہ ہے… چار دن پہلے کسی عزیز دوست نے مجھے ’’پندرہ روزہ جیش محمد
صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کے دو پرانے شمارے لا کر دیئے تو میں
ان کی آب وتاب دیکھ کر حیران رہ گیا … یہ پندرہ روزہ رسالہ بھائی مقصودپ کی زیر
ادارت چھپتا تھا اور اس کی تعداد تیس پینتیس ہزار سے متجاوز تھی… میں کافی دیر تک
ان دو شماروں میں کھویا رہا اور مجھے بار بار مقصود شہیدرحمۃ اللہ علیہ یاد آتے رہے ماشا
ء اللہ کیا ذہانت تھی، کیا اطاعت تھی اور کیا سیّال نورانی
قلم تھا… ہماری جماعت نے ’’اسیران اسلام‘‘ کے مسئلے کو اپنا کام سمجھا تو مقصود شہیدرحمۃ اللہ علیہ بھی اسی رنگ میں رنگے
گئے…انہوں نے اس موضوع پر بہت لکھا اور خوب لکھا…
’’ہمارے
قیدی بھائی‘‘ کے نام سے اس موضوع پر ان کی ایک مستقل کتاب بھی موجود ہے… ہماری
جماعت میں ’’عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کا خاص
جذبہ اللہ رب العزت نے اپنے فضل سے عطاء فرمایا… چنانچہ
جماعت کا قلم ہمیشہ گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن پر تلوار
بنا رہا… مقصود شہیدرحمۃ اللہ علیہ نے اس
موضوع پر بھی اپنی جان لڑائی … امید ہے کہ بھائی مقصود شہیدرحمۃ اللہ علیہ کی کتابیں ہمارے ہر
مجاہد ساتھی کے ’’ذاتی کتب خانے‘‘ کی زینت بنیں گی… اور ان کا یہ صدقہ جاریہ
تاقیامت… انشاء اللہ جاری رہے گا…
القلم
نے بھائی مقصودشہیدپ کے مضامین اور تاریخی کالموں کو یکجا کرنے کا کام شروع کر
رکھا ہے… آپ سب دعاء فرمائیں کہ ’’نوائے مقصود‘‘ کے نام سے یہ کتاب جلد منظر عام
پر آکر اُمت مسلمہ کو فائدہ پہنچائے۔
آخری
طوفان
مقصود
شہید’’طوفانوں کی آغوش‘ ‘ میں پلا ہوا سپاہی تھا… اس نے دشت لیلیٰ کا طوفان دیکھا
… اس نے قندوز کے معرکوں کا طوفان دیکھا … اس نے جیش محمد صلی اللہ
علیہ وسلم کے قیام کا طوفانی منظر دیکھا … اس نے جیش محمد صلی اللہ
علیہ وسلم پر ہونے والے کئی طوفانی حملوں کو دیکھا اور جھیلا… وہ طوفانوں میں خوش
رہتا تھا اور خوب کھیلتا تھا… وہ ماشا ء اللہ فطری مجاہد
تھا … وہ القلم کے دفتر بیٹھاتھا کہ قریب ہی لال مسجد کی طرف سرخ طوفان کے بادل
اٹھے… جیش کی قیادت نے بن بلائے لال مسجد والوں کے موقف کی تائید کی…
اور القلم نے غیور بہنوں کے سر پر ہاتھ رکھا… تب مقصود شہیدرحمۃ اللہ علیہ کی بے چین روح ادھر
لپکنے لگی… یہ بات سچ نہیں کہ اس نے جماعت چھوڑ دی تھی اور اطاعت سے نکل گیا تھا…
یہ بات کہنے والے قیامت کے دن اپنی اس بات میں جھوٹے نکلیں گے … وہ بدھ کی صبح فجر
کی نماز کے وقت شہید ہوا… اس کی زندگی کا آخری دن منگل کا دن تھا جو اس نے القلم
کے دفتر میں کام کرتے گزارا … لال مسجد کا طوفان … بہت بڑا طوفان تھا، جس کے
تھپیڑے ابھی تک ساحلوں سے ٹکرا رہے ہیں… اللہ تعالیٰ حضرت
مولانا عبدالعزیز مدظلہ کو جلد رہائی عطاء فرمائے تو اس طوفان کے کچھ پردے دور ہوں
… لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ والے جنگ نہیں چاہتے تھے… یہ بات اب سب لوگ مان چکے
ہیں … جب وہ جنگ نہیں چاہتے تھے تو مجاہدین کو یہ طعنہ دینا کہ وہ وہاں کیوں مورچہ
بند نہیں تھے… ایک غلط طعنہ ہے… لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ پر ظلم حکومت کا ایک
گھناؤنا منصوبہ تھا جس کا مقصد امریکہ اور یورپ میں مقبولیت حاصل کرنا… اور
پاکستان میں اپنی گرتی ساکھ کو بحال کرنا تھا … لال مسجد والے مخلص تھے، دین کے
دیوانے تھے اور شریعت نافذ کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے… حکومت ان کو دہشت گرد دکھا
کر مارنا یا جھکانا چاہتی تھی… تاکہ دینی طبقے پر اپنی ہیبت کا سکہ بٹھا سکے… مگر
پرویز مشرف، شوکت عزیز اور اس خونی آپریشن کے تمام کردار ناکام ہوگئے… اور لال
مسجد اور جامعہ حفصہ(ذ) کے مظلوم شہداء کامیاب ہوگئے… ان کامیاب ہونے والوں میں
ہمارے بھائی مقصود شہیدرحمۃ اللہ علیہ بھی
تھے… ان کی بے چین روح کو قرار مل گیا… اور طوفان کا بیٹا ایک بڑے طوفان کی گود
میں سکون سے سو گیا…
زندگی
جس سے عبارت ہے، محبت زندہ
وہ
سکوں صرف ہے آغوش میں طوفانوں کے
بھائی
مقصود… بہت شکریہ، بہت شکریہ … ۴؍فروری ۲۰۰۰ء
جس دن جماعت کا اعلان ہوا تھا… اور ۴؍جولائی ۲۰۰۷ء
جب تم شہید ہوئے… طوفانوں سے گھرے ان سات سالوں میں غیر مشروط محبت اور راحت بخش
رفاقت پر بہت شکریہ… الحمدللہ اس پورے عرصے میں ایک دن بھی
دوری نہیں ہوئی… اللہ پاک اپنی رحمت اور فضل سے ’’جنت‘‘ میں
بھی اکٹھا فرمائے… یا اللہ ، یا اللہ ، یا اللہ
وصلی اللہ تعالیٰ
علیٰ خیر خلقہ سیّدنا محمد وآلہ وصحبہ وسلم تسلیما یا اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
ہر چیز پر قادر ہے… انڈیا نے افغانستان کو اپنے لیے محفوظ پناہ گاہ اور ’’مورچہ‘‘
بنالیا تھا… گذشتہ پیر کے دن مجاہدین نے اس مورچے کا سر اڑا دیا… انڈیا نے خواب
میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ’’کرزئی‘‘ کی زندگی اور امریکہ کی موجودگی میں اس کے
ساتھ ایسا ہوسکتا ہے… مگر اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے…
آئیے اس واقعہ کا تھوڑا سا جائزہ لیتے ہیں اور پھر ’’قبائلی علاقوں‘‘ پر متوقع
امریکی حملے کی بات کرتے ہیں…
انڈیا
اور طالبان
انڈیا
پر مشرکین کا قبضہ ہے اور یہ مشرکین اسلام کے سخت دشمن ہیں… افغانستان پر طالبان
نے شریعت نافذ کی تو ان کی مخالفت کرنے والوں میں انڈیا بھی شامل تھا… ان دنوں
انڈیا کا میڈیا صبح شام طالبان کیخلاف چیختا تھا… انڈیا خود بھی غزنوی پ، غوری
رحمۃ اللہ علیہ اور ابدالی رحمۃ اللہ علیہ کے ان فرزندوں سے خوف زدہ تھا… چنانچہ
اس نے بڑھ چڑھ کر ’’شمالی اتحاد‘‘ کی مدد کی… دہلی میں قائم ’’افغان سفارتخانہ‘‘
شمالی اتحاد کے حوالے کردیا … شمالی اتحاد کے کمانڈروں کو اپنے ہاں رہائش اور
عیاشی فراہم کی… لاجپت نگر دہلی کا پوش علاقہ بددین افغانوں سے بھر گیا… وہاں ان
کو سبق پڑھا یا جاتا تھا کہ طالبان کو ختم کردو اور پاکستان کو تباہ کردو… احمد
شاہ مسعود زخمی ہوا تو اس کا علاج انڈیا کے ہسپتال میں کیا گیا یہ
ہسپتال ’’دوشنبہ‘‘ میں قائم تھا… احمد شاہ مسعود نے اسی ہسپتال میں دم توڑا… الغرض
انڈیا نے افغانستان کو بدامنی اور فساد سے بھرنے میں پورا حصہ ڈالا… چنانچہ
’’طالبان‘‘ پر جو مظالم ہوئے ان میں انڈیا کا بھی ہاتھ تھا … اب اگر انڈیا کے لوگ
اور اس کے فوجی کابل میں مارے گئے ہیں تو یہ شہداء کا خون ہے جو … بدلے پر اترا
ہے… انڈیا شور اور واویلا نہ کرے… وہ طویل عرصہ سے مجاہدین کے خلاف لڑ رہا تھا اب
اگر مجاہدین نے بھی جواب دیا ہے تو شور شرابا کیسا ؟… ارے بنیے! یہ تو پھر زنانیوں
والی جنگ ہوئی…
انڈیا
اور مسلمان
ہندوستان
پر پہلے مسلمانوں کی حکومت تھی… اس وقت ہندو بھی آرام سے رہتے تھے اور مسلمان
حکمرانوں کی فیا ضی کے مزے لوٹتے تھے… ایک ہزار سال تک مسلمانوں نے اس دھرتی پر
راج کیا… پھر بدقسمتی کا دور شروع ہوا… انگریز آیا اور چھا گیا … وہ ڈیڑھ صدی تک
رہا اور مسلمانوں کو کمزور کرتا رہا… وہ جانے لگا تو برصغیر کو تقسیم کرگیا…
ہندوؤں کو بڑا ملک دے گیا اور ہم مسلمانوں کو چار حصوں میں بانٹ گیا… قرآن پاک
سمجھاتا ہے کہ کافروں سے جہاد کرو، اگر ان سے جہاد نہیں کرو گے تو وہ طاقتور
ہوجائیں گے… اور جب کافر طاقتور ہوں گے تو مسلمانوں میں ’’منافقین‘‘ پیدا ہوں گے…
انگریز طاقتور تھا اس نے مسلمانوں میں ’’منافق‘‘ پیدا کیے… نام کے مسلمان، کافروں
کے غلام، مال کے لالچی، بے انتہا بزدل… اور مسلمانوں کے قاتل… قرآن پاک سمجھاتا ہے
کہ … جب منافقوں کو حکومت ملتی ہے تو وہ کافروں کی مدد کرتے ہیں اور مسلمانوں کو
ذبح کرتے ہیں… برصغیر کے مسلمان عجیب آزمائش کا شکار ہیں… ہندوستان میں وہ مشرکین
کے غلام ہیں… اور باقی خطوں میں ان پر منافقین کی تلواریں لٹک رہی ہیں… ہندوستان
کی حکومت شروع سے مسلمانوں کی دشمن رہی… زبان میٹھی مگر دل کالا… اب تک دس ہزار سے
زائد مسلم کش فسادات ہوچکے ہیں… ولبھ بھائی پٹیل سے لیکر ایڈوانی اور نریندر مودی
تک … ابوجہل کی ٹولی مسلمانوں کو رات دن ستاتی ہے… انڈیا کا خفیہ ادارہ ’’را‘‘ صرف
مسلمانوں کے خلاف کام کرتا ہے… تمام اسلامی ملکوں میں اس کے ایجنٹ بھرے پڑے ہیں…
اور انڈیا نے سب سے زیادہ ظلم کشمیر کے مسلمانوں پر کیا جہاں ایک لاکھ مسلمان اب
تک شہید ہوچکے ہیں… انڈیا کے اسرائیل کے ساتھ گہرے رواسم ہیں… الغرض انڈیا
مسلمانوں کا بدترین دشمن ہے… اسے معلوم ہے کہ مسلمان دوبارہ اس ملک پر ضرور قبضہ
کریں گے… جس طرح فرعون کو معلوم تھا کہ بنی اسرائیل کا ایک بچہ اس کی سلطنت کو ختم
کرے گا… فرعون نے تقدیر کو ٹالنے کے لیے بچوں کے قتل کا سلسلہ شروع کیا… اسی طرح
انڈیا بھی مسلمانوں کا خون چوس رہا ہے … وہ پاکستان کو مٹانا چاہتا ہے … اور صدر
پرویز مشرف کے دور میں انڈیا کو پاکستان میں گھسنے کا پورا موقع مل گیا…
کابل
میں قائم بھارتی سفارتخانہ… مسلمانوں کے قتل کا انچارج تھا
… اللہ تعالیٰ نے مظلوموں پر رحم فرمایا… کسی ایک مجاہد نے
جاکر ایسی ایمان والی ٹکر لگائی کہ مسلمانوں کے دل خوش ہوگئے… سنا ہے کہ ’’را‘‘ کا
انچارج بھی مارا گیا… مسلمانوں پر حملے کرنے کا حکم دینے والے قونصل جنرل کی لاش
چھت پر سے ملی… اور دہلی لرز کر رہ گیا… اللہ اکبر… بے
شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے…
انڈیا
اور کرزئی
انڈیا
افغانستان سے باہر بیٹھ کر… طالبان کی لاشیں گرا رہا تھا… جب طالبان کا مبارک دور
گزر گیا اور افغانستان کے چمن میں ’’کرزئی‘‘ کا الّو بولنے لگا تو انڈیا بھی…
افغانستان میں داخل ہوگیا… اللہ اللہ … ایک وہ
افغانستان تھا جس میں نور ہی نور نظر آتا تھا… حضرت لدھیانوی شہید رحمۃ اللہ
علیہ تشریف لے گئے تو منظر دیکھ کر خوشی سے رو پڑے… فرمایا سنت ہی سنت
کا نور نظر آتا ہے… نہ سینما، نہ گانے نہ بے پردگی اور نہ ظلم… پوری دنیا کے
مجاہدین وہاں آرہے تھے… اور ظالموں کے ستائے ہوئے عرب خاندان وہاں آکر عزت اور
سکون کا سانس لے رہے تھے…
سچی
بات ہے عجیب منظر تھا… دنیا کے افضل ترین مسلمان وہاں جمع تھے… اذانیں گونجتی
تھیں، تکبیر کے نعرے بلند ہوتے تھے … اور طرح طرح کی زبانوں میں دین کی بات چلتی
تھی… قندھار میں حضرت ملا عمر… ان کے قریب ایک علاقے میں شیخ اسامہ بن لادن… اور
پھر ہر علاقے میں زمانے کے قطب ابدال … اور صدیقین … جب کہ شہداء کی تو
بس حکومت تھی… پھر منظر بدل گیا… دن چلا گیا اور رات آگئی … بے حیائی کے اڈے،
سینما، بے پردگی … اور نیٹو کے درندے اور منافقین کے
ٹولے… اللہ کرے یہ رات جلد ختم ہو… انڈیا بھی پوری بے حیائی
اور درندگی کے ساتھ افغانستان میں آیا ہوا ہے… انڈیا کے حکمرانوں کے پاس مسلمانوں
کے لیے دو ہی چیزیں ہیں… ایک بے حیائی اور دوسری درندگی … یا بے حیاء بن جا ؤیا
مارے جاؤ… یہی مسلمانوں کے لیے انڈیا کا اعلان ہے… انڈیا افغانستان میں اربوں روپے
کی سرمایہ کاری کر رہا ہے… ظاہری طور پر سڑکیں اور ہسپتال اور اندرونی طور پر
عسکری اڈے بنا رہا ہے… اور فلموں کے ذریعے خوب بے حیائی پھیلا رہا ہے… شکر ہے
کہ اللہ تعالیٰ نے افغان مجاہدین کو ان کی طرف متوجہ فرمایا
… انڈین اہلکار خوب بن ٹھن کر، مسلح پہرے داروں کی حفاظت میں … سفارتخانے کی طرف
روانہ ہوئے… ان کے دماغوں میں اسلام دشمنی کے کیڑے ابل رہے تھے اور وہ اطمینان کے
ساتھ اپنے اڈے کی طرف بڑھ رہے تھے… مگر یہ کیا ہوا… ان کی گاڑیاں جیسے ہی دروازے
میں داخل ہوئیں… اسلام کا ایک شاہین اپنی گاڑی پر ان کی طرف جھپٹا… ایک تکبیر کا
نعرہ اور ایک خوفناک دھماکہ… دشت لیلیٰ کے شہداء نے مسکرا کر دیکھا … اور کشمیر کے
پہاڑوں سے شہداء کرام نے مسرت سے جھانک کر دیکھا… قرآن پاک میں آتا ہے کہ مسلمانوں
کے خلاف لڑنے والے کافروں کی روحیں جب فرشتے لے کر جاتے ہیں تو راستے میں ان کی
خوب پٹائی کرتے جاتے ہیں… ان کو لوہے اور آگ کے کوڑوں سے مارتے ہیں… اس دن بھی
فرشتے مشرکین کو لے جارہے ہوں گے… مارتے ہوئے … اور کچھ پیاری پیاری حوریں … ایک
’’ذی شان‘‘ یعنی شان والے شہید کا ہاتھ تھامے اس کے چہرے کا غبار صاف کر رہی ہوں
گی… انشاء اللہ انشاء اللہ … ہاں مسلمانو! اللہ تعالیٰ
ہر چیز پر قادر ہے…
بیانات
اس
حملے پر انڈیا کو تو سانپ سونگھ گیا … مگر اپنے ملتان کے پیر صاحب وزیر خارجہ شاہ
محمود قریشی کو بہت دکھ ہوا… انہوں نے مذمتی بیان بہت جلد دے دیا … افغانستان میں
طالبان کی شہادت پر ان کو کوئی دکھ نہیں ہوتا… کرزئی تو غم میں ڈوب گیا… انڈین
فنکار اور بے حیائی کے ٹولے جہازوں میں بھر بھر کر انڈیا کی طرف دوڑے… ساری دنیا
میں الحمدللہ مجاہدین کی دھاک بیٹھ گئی… شام تک انڈیا نے
بھی شور اور واویلا شروع کردیا… اور الزام پاکستان پر لگایا … حالانکہ بے چارہ
پاکستان کسی کافر کو نہیں مارتا… یہاں تو صرف مسلمانوں پر گولے گرائے جاتے ہیں …
انڈیا کے ایک ترجمان نے کہا کہ ہمارا پورا ملک سوگ میں ڈوب گیا ہے… معلوم ہوا کہ …
کافی زیادہ نقصان ہوا ہے… اور الحمدللہ بڑی چوٹ لگی ہے…
کیوں نہیں قرآن پاک بار بار بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان
والوں کا مددگار ہے… اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے…
امریکی
بیڑہ
انڈین
سفارتخانے والا قصہ کافی مزیدار ہے، اس پر مزید بھی کچھ لکھنا چاہئے تھا… مگر ایک
اور موضوع بہت ضروری ہے… پورے پاکستان میں خوف پھیلا ہوا ہے کہ امریکہ عنقریب
پاکستان کے قبائلی علاقوں پر باقاعدہ حملہ کرنے والا ہے… خبر مشہور ہے کہ امریکہ
کا ایک بڑا جہاز… یعنی بحری بیڑہ، جس کا نام ’’ابراہام لنکن‘‘ ہے… بہت سے جنگی
جہاز اور بہت سے ڈیزی کٹر بم لیکر بحیرہ عرب میں داخل ہوچکا ہے… یہ بیڑہ، (
اللہ تعالیٰ اسے غرق فرمائے) افغانستان میں روتے، بلکتے، جیتے مرتے
چونتیس ہزار امریکیوں کے لیے جنگی سامان لارہا ہے… یہاں ایک دلچسپ بات سن لیں…
مجاہدین کے ساتھ ’’سلام دعاء‘‘ کرتے میری زندگی کے اٹھارہ سال گزر چکے ہیں… محاذوں
پر لڑنے والے مجاہدین کو ہمیشہ یہ شکوہ کرتے دیکھا کہ ہمارے پاس اسلحہ کم ہے،
سامان کم ہے، گاڑیاں کم ہیں… اور ان میں سے بعض کو یہ کہتے بھی سنا کہ پیچھے ہمارے
قائدین بڑی بڑی گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں اور ہمارے پاس گولہ بارود بھی پورا نہیں…
یہ پرانے زمانے کی بات ہے اب الحمدللہ مجاہدین
کافی سدھر گئے ہیں… اپنے ذمہ داروں پر الزامات تو نہیں لگاتے مگر سامان کی کمی کا
رونا روتے رہتے ہیں… ابھی چند دن پہلے میں خبریں سن رہا تھا… خبروں میں بتایا گیا
کہ … نیٹو افواج کے سربراہ نے ایک بڑے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ ہم
افغانستان میں وسائل کی کمی کا شکار ہیں… اگر ہماری حکومتوں نے ہماری مدد نہ کی تو
ہم ناکام ہوجائیں گے اور طالبان، صرف افغانستان ہی میں نہیں بلکہ پورے وسط ایشیا
پر چھا جائیں گے… یہ خبر سن کر مجھے بے حد بے حد خوشی ہوئی … اگر مجاہدین کے پاس
وسائل کم ہیں تو الحمدللہ ان کے دشمنوں کو
بھی اللہ تعالیٰ نے وسائل کی کمی میں مبتلا فرمادیا ہے…
نیٹو فوجی چاہتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک کے پاس اپنی الگ بکتر بند گاڑی، الگ ٹینک،
الگ رہائشی قلعہ ہو… ان میں سے ہر ایک کی حفاظت کے لیے پانچ طیارے فضاء میں ہر وقت
اڑتے رہیں… اور ہر نیٹو فوجی کے پاس بیس افغان باڈی گارڈ ہوں… ان سب فوجیوں کے لیے
فرانس کے ہوٹلوں سے گرم کھانا آنا چاہیے… اور افغانستان کی تمام سڑکوں کے گرد موٹی
دیواریں بنائی جائیں… تاکہ… یہ بہادر فوجی گشت
کرسکیں… اللہ اللہ تیری شان … پاکستان کے
کالم نویس کافروں کی طاقت لکھ لکھ کر نہیں تھکتے… جبکہ کافروں کے فوجی اپنی کمزوری
اور بے بسی پر رو رہے ہیں… اللہ تعالیٰ نے نہتے مجاہدین کا
رعب ان کے دلوں پر مسلط فرمادیا ہے… میرا دل چاہتا تھا کہ… نیٹو کمانڈر کی وہ
دردناک تقریر پوری اُمت مسلمہ میں تقسیم کروں تاکہ… ہر کوئی پکار اٹھے
کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے ساتھ ہے…
اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے…
بیڑے
سے نہ ڈریں
بات
دور نکل گئی… اخبارات میں شور ہے کہ امریکی بیڑہ آرہا ہے… ایک کالم نویس نے لکھا
کہ میں بزدل تو نہیں ہوں مگر مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ امریکی بیڑہ آرہا ہے… کسی طرح
اس کے حملے کو رکوایا جائے… اپنے سابق وزیر داخلہ شیر پاؤ صاحب نے بھی فرمایا ہے
کہ امریکہ حملہ کرنے آرہا ہے… یہ سب لوگ پاکستان والوں کو ڈرا رہے ہیں… میں پوچھتا
ہوں کہ اس میں ڈرنے کی کیا بات ہے؟… جس کسی نے جس دن مرنا ہوگا اسی دن مرے گا…
زلزلے سے مرے، ہارٹ اٹیک سے مرے، ایکسیڈنٹ سے مرے یا … بمباری سے مرے… پھر ڈرنے کی
کیا بات ہے… کیا موت صرف امریکی بمباری سے آتی ہے… آج پاکستان میں جو
سینکڑوں لوگ مرے ہوں گے کیا یہ امریکی بیڑے نے مارے ہیں؟ …
قرآن
پاک سمجھاتا ہے کہ … جب کافر تم پر خوب تیاری کرکے حملہ کرنے آئیں تو تم ان کے
مقابلے کے لیے اللہ تعالیٰ کو بلالینا… اور ڈرنے کی بجائے
کہنا… حسبنا اللہ ونعم
الوکیل… اللہ تعالیٰ ہمارے لیے کافی
ہے… اللہ تعالیٰ ہمارے لیے کافی
ہے… اللہ تعالیٰ ہمارے لیے کافی ہے…
اے
مسلمانو! ایمان پر زندہ رہنا سعادت… اور ایمان پر مر جانا شہادت ہے… پھر ڈرنے کی
کیا بات ہے؟ … ہاں ایک بات سب حکمران ضرور سن لیں… اگر صدر پرویز مشرف پاکستان
والوں کو اپنی اہمیت سمجھانے کے لیے یہ حملہ کروا رہے ہیں تو اس کے نتائج بہت
بھیانک ہوں گے… ابھی بھی صدر کے حامی یہی کہتے پھرتے ہیں کہ پرویز مشرف نے پاکستان
کو امریکی حملے سے بچایا ہوا تھا… خوب سن لیں اور یاد رکھیں کہ پاکستان پر امریکی
حملے کے بعد تمام بند ٹوٹ جائیں گے… سرحدوں کی لکیریں بے معنیٰ ہوجائیں گی… اور
جہاد کی فرضیت کا دائرہ بہت وسیع ہوجائے گا… پاکستانی حکمرانوں کو چاہئے کہ… پرویز
مشرف سے اپنی جان چھڑائیں اور امریکہ کو صاف صاف بتائیں کہ وہ … حملہ کرنے کی صورت
میں جوابی کارروائی کا نشانہ بنے گا… یقین جانیے کہ اگر ہمارے حکمرانوں نے کھلے
الفاظ اور سچی نیت کے ساتھ امریکہ کو یہ بات کہہ دی تو امریکہ کبھی بھی یہ حملہ
نہیں کرے گا… وہ تو پہلے ہی عراق اور افغانستان میں پچھتا رہا ہے… لیکن اگر
حکمرانوں نے غلامی کا ثبوت دیا تو شاید… ایسا حملہ ہوجائے… تب بھی مجاہدین کا اور
مسلمانوں کا کچھ نقصان نہیں ہوگا… رب کعبہ کی قسم بے غیرتی کے امریکی ڈالر کھا کر
زندہ رہنے سے امریکی بم کھاکر مرجانا کروڑوں گنا افضل ہے… مجھے اپنے مولیٰ پر یقین
ہے کہ… وہ ہر ’’دشمن اسلام‘‘ کے مقابلے میں مسلمان مجاہدین کی مدد فرمائے گا… بے
شک وہ ایک ہے اور ہر چیز پر قادر ہے…
و
اللہ علیٰ کل شیء قدیر…ان اللہ علیٰ کل شیء
قدیر… اللہم صل علیٰ سیّدنا ومولانا محمد وآلہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
نے مسلمانوں کو کافروں سے جہاد کرنے کا حکم فرمایا ہے… لوگ پوچھتے ہیں کہ کافر بھی
تو انسان ہیں… وہ بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں تو پھر ان
کو مارنے کا حکم کیسے دیا گیا؟… لوگ کہتے ہیں کہ کافر بھی اچھے کام کرتے ہیں،
غریبوں کی مدد اور رفاہ عامہ کے کام… پھر ان کے خلاف جہاد کی اجازت اور حکم کس لئے
ہے؟…
لوگ
پوچھتے ہیں کہ… جہاد میں تو قتل وغارت ہوتی ہے اور خونریزی ہوتی ہے تو پھر قرآن
پاک جیسی ’’امن‘‘ والی کتاب نے جہاد کا حکم کیسے دیا؟…
لوگ
کہتے ہیں کہ سب انسان برابر ہیں تو پھر لڑائی کیسی؟…ہر کسی کو حق دیا جائے کہ وہ
جو چاہے کرے … یہ ہیں وہ چند سوالات جن کا جواب ہمیں قرآن پاک کی ایک سورۃ جس کا
نام ’’سورۃمحمد(صلی اللہ علیہ وسلم)‘‘ ہے بہت تفصیل کے ساتھ
دیتی ہے… اور بارہ سے زائد طریقوں سے مسلمانوں کو جہاد کا مسئلہ سمجھاتی ہے… اسی
لیے اس سورۃ کا ایک نام ’’سورۃ القتال‘‘ بھی ہے… یہ سورۃ چھبیسویں پارے میں ہے اور
کل اڑتیس آیات پر مشتمل ہے… اگر کوئی مسلمان صرف ایک بار اس سورۃ مبارکہ کو سمجھ
کر پڑھ لے تو وہ بہت آسانی سے جہاد کا مسئلہ سمجھ سکتا ہے… اور دور حاضر کے بہت سے
الحادی اور تحریفی فتنوں سے بچ سکتا ہے… وحید الدین خان سے لیکر غامدی تک ہر
’’منکر جہاد‘‘ کے ہر اعتراض کا جواب اس سورۃ میں نہایت وضاحت کے ساتھ موجود ہے…
اور تو اور امام رازی رحمۃ اللہ علیہ نے اس سورۃ کی تفسیر میں ’’انسانی حقوق‘‘ کا مسئلہ
بھی اُٹھایا ہے… اور سورۃمحمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی آیات کی روشنی میں یہ بات
سمجھائی ہے کہ… دنیا کا سب سے بڑا جرم ’’کفر اور شرک‘‘ ہے… پس کافر اور مشرک چونکہ
’’انسانی فطرت‘‘ کے دشمن ہیں اس لیے ان کے بہت سے حقوق ختم ہوجاتے ہیں… لوگ
جانوروں کو روز ذبح کرتے ہیں… آخر ان میں بھی تو جان ہوتی ہے اور خون ہوتا ہے…
حکومتیں اپنے مجرموں کو سزائے موت دیتی ہیں… آخر وہ مجرم بھی تو انسان ہوتے ہیں
اور ان کے جسم میں بھی جان ہوتی ہے…
’’سورۃمحمد(
صلی اللہ علیہ وسلم )‘‘ یہ سمجھاتی ہے کہ اگر کافروں سے جہاد نہ کیا گیا تو زمین
ظلم، فساد اور خونریزی سے بھر جائے گی… ہر طرف شیطان کی پوجا ہوگی… ہر گناہ معاشرے
میں عام ہوجائے گا… اور لوگ جہنم کی طرف بے تحاشا دوڑنے لگیں گے… پس اے مسلمانو!…
کافروں کی طاقت کو جہاد کے ذریعہ کمزور کرو تا کہ کفر نہ پھیلے، نفاق نہ پھیلے،
گناہ نہ پھیلیں… اور انسان جہنم کی ناکامی میں نہ گریں… ’’سورۃمحمد( صلی اللہ علیہ
وسلم )‘‘سمجھاتی ہے کہ کافر اللہ تعالیٰ کے باغی اور دین
اسلام کے دشمن ہیں، ان کو اگر کھلی چھوٹ دے دی گئی تو یہ دنیا میں کفر اور گناہ
پھیلائیں گے… سورۃمحمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) سمجھاتی ہے کہ حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد اب کامیابی اور نجات صرف
’’دین اسلام‘‘ میں ہے… پس جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مانے گا
وہی کامیاب ہے… اور اس کے لیے گناہوں کی معافی کا دروازہ بھی کھلا ہے… اور جو حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانے گا وہ ناکام ہے حتی کہ اس کے
ظاہری طور پر نیک نظر آنے والے اعمال بھی قبول نہیں ہیں… پس کافر کی نیکی بھی
برباد اور مسلمان کے گناہ بھی معاف… یہ ہے سورۃمحمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا
بنیادی موضوع… کفر اور اسلام کا تقابل… کہ کفر اللہ تعالیٰ
کومبغوض اور ناپسند ہے… اور اسلام اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے…
اب دو باتوں کو الگ الگ کرکے سمجھتے ہیں اور پھرآخر میں ایک ’’علمی تحفہ‘‘ پیش
خدمت کیا جائے گا، انشاء اللہ تعالیٰ
معتبر
ایمان کونسا؟
سورۃمحمد(
صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اعلان کردیا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم کی بعثت کے بعد… تمام سابقہ شریعتیں اور دین منسوخ ہوچکے ہیں… اب صرف وہی دین
اور ایمان معتبر ہے جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے ہوگا…
پس جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتا وہ ’’کافر‘‘ ہے اور
کافر کے تمام اعمال (خواہ اچھے ہی کیوں نہ ہوں) اللہ تعالیٰ
نے برباد فرمادیئے ہیں، ملاحظہ فرمائیے آیت ( ۱) تا ( ۳)
کافر
دنیا وآخرت میں ناکام
سورۃ
محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ بات بہت تفصیل سے سمجھائی
ہے کہ … شرک اور کفر سب سے بڑا جرم ہے… کافر جہنم کا مستحق ہے… کافر دنیا وآخرت
میں ناکام ہے… کفر انسانیت کے لیے بہت نقصان دہ ہے… دراصل جہاد وہی مسلمان کرسکتا
ہے جس کے دل میں ایمان اور اسلام کی محبت، عظمت اور ضرورت پوری طرح سے راسخ ہو…
اور اس کے دل میں کفر کی مکمل نفرت اور بے زاری ہو… اور وہ یقین رکھتا ہو کہ کفر
ہر برائی کی اصل جڑ … اور اسلام ہر کامیابی کی اصل بنیاد ہے… اس لیے اگر کافروں کو
طاقتور ہونے دیا گیا تو یہ بات انسانیت کے لیے بہت بڑی ہلاکت کا باعث ہوگی… پس
انسانوں سے ہمدردی کا تقاضا یہ ہے کہ جہاد کیا جائے اور انسانیت کے دشمن کافروں کو
کمزور کیا جائے… حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے یہ نکتہ سمجھ لیا
اور ہم اس کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں…
ایک
ایمانی تحفہ
سورۃ
محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ایمانی اور جہادی معارف کا ایک سمندر ہے… اور اس وقت
مسلمانوں کے مکمل حالات کو سمجھانے والی ایک ’’رہبر‘‘ ہے… ملاحظہ فرمائیے سورۃ
محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے مضامین کے چند خلاصے… ان خلاصوں کی روشنی میں
انشاء اللہ تعالیٰ آپ کے لیے اس مبارک سورۃ کو سمجھنا آسان
ہوجائے گا…
سورۃ
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مضامین جہاد
۱ کافر اسلام کے
دشمن اور دینی دعوت کے راستے کی رکاوٹ ہیں، آیت (۱)
۲ معتبر دین صرف
اسلام ہے ، آیت (۲)
۳ مسلمانوں سے غلبے
کا وعدہ ، آیت(۲)
۴ کافروں کے خلاف
خوب مضبوطی سے جنگ کرو، آیت(۴)
۵ اقدامی جہاد
(یعنی خود بڑھ کر جنگ کرو) آیت(۴)
۶ کافروں کو قیدی
بنانے کی اجازت، آیت (۴)
۷ جنگی قیدی کے
احکام، آیت (۴)
۸ جہاد قیامت تک
جاری رہے گا، آیت (۴)
۹ جہاد ایمان کا
اُمتحان ہے، آیت (۴)
۱۰ شہداء کرام کی
فضیلت اور ان کے لیے عجیب وغریب انعامات، آیت (۴،۵،۶)
۱۱ مجاہدین کی فضیلت
اور انعامات، آیت (۴،۵،۶) (ایک
قرأت کے مطابق)
۱۲ جہاد میں مجاہدین
سے اللہ تعالیٰ کی نصرت کا پکا وعدہ، آیت(۷)
۱۳ مجاہدین صرف دین
کی خاطر جہاد کریں، آیت(۷)
۱۴ اللہ تعالیٰ
ایمان والوں کا مددگار ہے اور کافر بے یار ومددگار ہیں ، آیت (۱۱)
۱۵ مکہ مکرمہ فتح
ہونے کی بشارت ، آیت(۱۳)
۱۶ جہاد کی بنیاد
’’لا الہ الا اللہ ‘‘ آیت(۱۸)
۱۷ ایمان والوں کا
شوق جہاد اور منافقین کی جہاد سے نفرت ، آیت (۲۰)
۱۸ جہاد کے موقع پر
مطلوبہ طرز عمل اور منافقین کی اطاعت کی حقیقت ، آیت(۲۱)
۱۹ جہاد چھوڑوگے تو
دنیا قتل وغارت، خونریزی اور فساد سے بھر جائے گی، آیت(۲۲)
۲۰ منافقوں کو حکومت
ملے تو وہ مسلمانوں کی خونریزی کرتے ہیں، آیت(۲۲) (تفسیری قول)
۲۱ مجاہدین کو طاقت
وحکومت ملے تو فساد برپا نہ کریں، آیت (۲۳)
۲۲ منافق جہاد کی
بات نہیں سنتے اور نہ جہاد کے فوائد کو دیکھتے ہیں، آیت (۲۳)
۲۳ منافقوں کے دلوں
پر تالے ہیں اس لیے وہ جہاد کو نہیں سمجھتے، آیت (۲۴)
۲۴ شیطان نے منافقوں
کو لمبی عمر کی امیدیں دلا کر جہاد سے روکا ہے، آیت (۲۵)
۲۵ منافقوں کی یہ
حالت کافروں سے یاری رکھنے کی وجہ سے ہوئی ہے، آیت(۲۶)
۲۶ جہاد چھوڑنے والے
منافقوں کی موت کا بھیانک منظر، آیت (۲۷)
۲۷ منافقوں کو جہاد
سمیت اللہ تعالیٰ کی رضا والے ہر کام سے نفرت ہے، آیت (۲۸)
۲۸ منافق بے نقاب
ہوسکتے ہیں، آیت (۲۹)
۲۹ منافق جہاد کے
مواقع پر اپنی باتوں سے پہچانے جاتے ہیں، آیت (۳۰)
۳۰ جہاد کے ذریعہ
اُمتحان ہوتا ہے کہ کون سچا مؤمن ہے، آیت (۳۱)
۳۱ اسلام کے خلاف
کافروں کی تدبیریں اللہ تعالیٰ ناکام فرمادیتاہے، آیت (۳۲)
۳۲ مجاہدین
کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ
وسلم کے حکم کے مطابق جہاد کرنا چاہئے نہ کہ اپنی خواہش کے مطابق، آیت (۳۳)
۳۳ کافر دنیا وآخرت
میں ناکام ہے، آیت ۳۴
۳۴ جہاد میں کمزوری
اور سستی نہ کرو، کافروں کے غلبے کو تسلیم نہ کرو اور کافروں کو خود صلح کی طرف نہ
بلاؤ، آیت(۳۵)
۳۵ مسلمانوں کے غلبے
کاوعدہ، آیت(۳۵)
۳۶ ایمان والے
مجاہدین کے لیے اللہ تعالیٰ کی معیت اور نصرت کا وعدہ، آیت(۳۵)
۳۷ ایمان والوں کے
اعمال ضائع نہیں ہوں گے، آیت (۳۵)
۳۸ جہاد سے روکنے
اور صلح کی طرف جھکانے والی چیز دنیا کی محبت ہے، دنیا کی حقیقت اور بے ثباتی کا
بیان، آیت(۳۶)
۳۹ جہاد میں مال خرچ
کرنے کی ترغیب ، آیت(۳۷، ۳۸)
۴۰ مسلمان خود جہاد
کے محتاج ہیں، اللہ تعالیٰ کو ان کے جہاد کی حاجت نہیں،
جہاد میں مسلمانوں کا اپنا فائدہ اور بقاء ہے، آیت (۳۸)
۴۱ کفر اور اسلام کا
تقابل ، آیت (۱، ۲، ۳، ۸، ۹، ۱۰، ۱۱، ۱۲،۱۳،۱۴،۱۵،۳۲،۳۴)
۴۲ اسلام اور نفاق
کا تقابل، آیت (۱۶،۱۷، ۱۸، ۱۹، ۲۰، ۲۱ ، ۲۲، ۲۳، ۲۴، ۲۵، ۲۶، ۲۷، ۲۸، ۲۹، ۳۰)
مجاہدین
کے لیے بارہ نصیحتیں
سورۃ
محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں مجاہدین کے لیے اہم نصیحتیں اور احکامات ہیں اگر
وہ ان کو ملحوظ رکھ کر جہاد کریں تو ان کے جہاد میں برکت ہو… اور انہیں پوری
کامیابی نصیب ہو… خصوصاً آج کل ان نصیحتوں کو بار بار دہرانے کی زیادہ ضرورت ہے
کیونکہ جہاد کے نام پر ’’خونِ مسلم‘‘ بہانے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے…
۱ جنگ بہت قوت سے
کرو، آیت(۴)
۲ جب تک کافروں میں
لڑنے کے طاقت باقی رہے ان کے خلاف جہاد کرتے رہو، آیت (۴)
۳ جہاد
صرف اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت اور غلبے کے لیے کرو، آیت(۷)
۴ جہاد میں مقتول
ہونے سے نہ ڈرو، آیت (۴، ۵، ۶)
۵ اپنے دل میں جنت
کی نعمتوں کا شوق پیدا کرو، آیت(۱۵)
۶ اگر اللہ تعالیٰ
تمہیں قوت اور حکومت دے دے تو اس کا ناجائز استعمال نہ کرو اور مسلمانوں کی
خونریزی نہ کرو، آیت(۲۲)
۷ جہاد اللہ تعالیٰ
کے حکم اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے
طریقے کے مطابق کرو، آیت(۳۳)
۸ جنگ میں کمزوری
نہ دکھاؤ اور دنیا کی محبت میں آکر خود صلح کی طرف نہ جھکو، آیت(۳۵)
۹ کافروں کے غلبے
کو تسلیم نہ کرو، آیت(۳۵)
۱۰ دنیا سے بے رغبت
رہو، یہاں کے عیش وآرام کو اپنا مقصود نہ بناؤ، آیت (۳۶)
۱۱ جہاد میں اپنا
مال بھی خرچ کرو، آیت (۳۸)
۱۲ خود
کو اللہ تعالیٰ کا اور جہاد کا محتاج سمجھو، آیت(۳۸)
جہاد
کی دو حکمتیں
سورۃ
محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے جہاد کی حکمتیں بھی بیان فرمائی ہیں:
۱ کافروں کا زور
ٹوٹ جائے تاکہ وہ دین اسلام کے راستے میں رکاوٹ نہ بن سکیں اور لوگوں کو گمراہ نہ
کرسکیں ، آیت (۴)
۲ ایمان کا دعویٰ
کرنے والوں کا اُمتحان ہوجائے کہ کس کا دعویٰ سچا ہے اور کس کا جھوٹا، آیت (۴، ۳۱)
غزوہ
بدر اور غزوہ احد کی طرف اشارات
بعض
تفسیری اقوال کے مطابق سورۃ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی
آیت (۱) تا
(۳) میں
غزوہ بدر کے اور آیت (۵) اور
(۶) میں
غزوہ احد کے بعض واقعات کی طرف اشار ہ ہے…
بارہ
طریقوں سے جہاد کی دعوت اور ترغیب
پہلے
عرض کیا جاچکا ہے کہ اس سورۃ مبارکہ کا ایک نام ’’سورۃ القتال‘‘ بھی ہے… اس میں
مختلف طریقوں سے مسلمانوں کو جہاد کی دعوت اور ترغیب دی گئی ہے… کبھی جوش اور ہمت
دلا کر اور کبھی دنیا سے بے رغبتی دلا کر… کبھی جنت کا حسین منظر دکھا کر اور کبھی
جہنم اور نفاق سے ڈرا کر… ہم بطور خلاصہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس سورۃ مبارکہ میں
بارہ طریقوں سے مسلمانوں کو جہاد کی دعوت دی گئی ہے… اور انہیں اس فریضے کی طرف
بلایا گیا ہے…
۱ کفر کی مذمت بیان
کرکے، آیت ۔۱ (ودیگر
کئی آیات میں)
۲ مجاہدین اور
شہداء کے انعامات بیان کرکے، آیت۴۔۵ ۔۶
۳ دنیا کے فانی
ہونے کو سمجھا کے، آیت ۳۵
۴ اپنی نصرت، معیت
اور مد دکا وعدہ فرما کے، آیت ۷۔ ۱۱۔ ۳۵
۵ مجاہدین کے لیے
گناہوں کی معافی کا اعلان فرماکے، آیت ۲۔ ۴۔ ۳۵
۶ مجاہدین کو ’’
اللہ تعالیٰ کا مددگار‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے
دین کا مددگار قرار دے کر، آیت ۷
۷ یہ بیان فرما کر
کہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے جہاد کی ضرورت نہیں ، اس میں خود
تمہارا اپنا فائدہ ہے، آیت ۴۔ ۳۸
۸ یہ وعید سنا کر
کہ جہاد نہیں کرو گے تو زمین ظلم، فساد قطع رحمی سے بھر جائے گی، آیت ۲۲
۹ جنت کی نعمتوں کا
تذکرہ فرما کر اور جہنم کے عذاب سے ڈرا کر، آیت ۱۵
۱۰ جہاد کو ایمان کی
علاُمت قرار دے کر، آیت ۳۱
۱۱ حضرات صحابہ کرام
رضوان اللہ علیہم اجمعین کے شوق جہاد کو بیان فرما کر، آیت ۲۰
۱۲ اور یہ فرما کر
کہ جہاد سے نفرت منافقین کی علاُمت ہے، آیت ۲۰ ۔ (ودیگر
کئی آیات)
(جہاد
کی دعوت دینے والوں کے لیے یہ بارہ رہنما اسلوب ہیں، جبکہ دعوت جہاد کے بعض اسلوب
دوسری سورتوں میں مذکور ہیں، مثلا مظلوم مسلمانوں کا تذکرہ کرکے جہاد کی دعوت دینا
وغیرہ)
کفر
کی مذمت
سورۃمحمد(صلی اللہ علیہ
وسلم)کا ایک خاص موضوع کفر کی مذمت اور اس کی قباحتوں کو بیان ہے، ملاحظہ فرمائیے
اس موضوع کی ایک جھلک:
۱ کافر خود کو اور
دوسروں کو دین اسلام سے روکنے والے ہیں، آیت(۱)
۲ کافروں کے نیک
اعمال بھی قبول نہیں، آیت(۱)
۳ کافروں کی اسلام
کے خلاف تدبیریں ناکام، آیت(۱)
۴ کافر شیطان کے
پیروکار اور غلط راستے پر چلنے والے، آیت (۳)
۵ کافروں کی جان
ومال کی کوئی حرمت نہیں (خصوصاً جب مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لیے اتر آئیں)، آیت(۱)
۶ کافروں کے لیے
تباہی اور بربادی ہے، آیت(۸)
۷ کافر قرآن پاک کے
مخالف ہیں اور یہی ان کی ناکامی کی وجہ ہے، آیت(۹)
۸ کافر کا انجام
ناکامی ہے، آیت(۱۰)
۹ اللہ تعالیٰ
کے مقابلے میں کافروں کا کوئی مددگار نہیں، آیت(۱۱)
۱۰ کافر جانوروں کی
طرح بے کار زندگی گزارنے والے، دنیا کے عیش وآرام، سرمایہ اور کھانے پینے کو مقصد
بنانے والے ہیں، آیت (۱۲)
۱۱ کافر جہنمی ہیں،
آیت (۱۲)
۱۲ کافروں کی
طاقت اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں، آیت (۱۳)
۱۳ کافر اپنے برے
کاموں کو اچھا سمجھتے ہیں، اس لیے بہت برائی پھیلاتے ہیں، آیت(۱۴)
۱۴ کافروں کے لیے
جہنم کا کھولتا ہوا پانی ہے، آیت(۱۵)
ایک
ضروری گذارش
سورۃمحمد(صلی اللہ علیہ
وسلم)کے مضامین کی چند فہرستیں آپ کے سامنے آگئیں… آپ سب سے تاکیدی گذارش ہے کہ
اکتائے بغیر ان کو غور سے پڑھیں… قرآن پاک پر ایمان لانا ہم سب کے
لیے لازم ہے… اور اسی سورۃمحمد(صلی اللہ علیہ
وسلم) میں سمجھایا گیا ہے کہ کافروں اور منافقوں کی ناکامی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ
… قرآن پاک کی باتوں کو پسند نہیں کرتے… اس لیے آپ دلچسپی، محبت اور توجہ کے ساتھ
ان تمام فہرستوں کو پڑھیں… اور پھر ان کو سامنے رکھ کر
سورۃمحمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کو سمجھنے کی کوشش کریں… اور
اس سورۃ اور پورے قرآن کے مطابق اپنا عقیدہ بنائیں…
رہنما
تفسیریں
سورۃمحمد(
صلی اللہ علیہ وسلم ) کے مضامین کو سمجھنے کے لیے آپ مستند عربی تفاسیر کے ساتھ
ساتھ درج ذیل اردو تفاسیر سے بھی روشنی حاصل کرسکتے ہیں:
٭ موضح
قرآن… حضرت شاہ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ
٭ بیان
القرآن… حضرت حکیم الامۃ تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
٭ قرآن
عزیز محشّٰی … حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ
٭ تفسیر
عثمانی… حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ
٭ معارف
القرآن… حضرت کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ
٭ معارف
القرآن… حضرت مفتی اعظم رحمۃ اللہ علیہ
٭ انوارالبیان…
حضرت مولانا عاشق الٰہی رحمۃ اللہ علیہ
٭ معالم
العرفان… حضرت سواتی رحمۃ اللہ علیہ
٭ تفسیر
حقانی… حضرت مولانا عبدالحق حقانی رحمۃ اللہ علیہ
٭ تفسیر
مظہری… (مترجم) حضرت مولانا قاضی ثناء اللہ پانی
پتی رحمۃ اللہ علیہ
ایک
دعاء
’’فتح
الجوّاد‘‘ کی جلد ثالث میں ’’سورۃمحمد( صلی اللہ علیہ وسلم )‘‘ کی مکمل تفسیر آگئی
ہے … اور اس میں ترتیب اور حوالوں کے ساتھ یہ تمام مضامین تفصیل کے ساتھ بیان کیے
گئے ہیں… تمام حضرات وخواتین دعاء فرمادیں کہ اللہ تعالیٰ
کی توفیق سے ’’فتح الجوّاد‘‘ کی جلد ثالث جلد مکمل ہو کر شائع ہوجائے…
وما
ذلک علی اللہ بعزیز…
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیّدنا محمد وآلہ وصحبہ
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
ہی زندگی، موت، عزت، ذلت اور رزق کا مالک ہے… کاش اس بات کا یقین ہمارے دلوں میں
پوری طرح بیٹھ جائے اور اچھی طرح جم جائے… آج کل ہر طرف عجیب تماشے ہیں، کئی دنوں
کے بعد ’’اخبار‘‘ خریدا مگر ایک خبر بھی ایسی نہیں تھی جسے پڑھ کر دل کو راحت ملے…
مسلمان ایک دوسرے کو مار رہے ہیں، ایک دوسرے کو دبا رہے ہیں، ایک دوسرے کو بیچ رہے
ہیں… اور ایک دوسرے کو دھمکا رہے ہیں… ملک کے وزیر اعظم صاحب آج امریکی صدر کے
دربار میں حاضری دے رہے ہیں … گزشتہ کئی دنوں سے وہ اس ’’دل کے دورے‘‘ کی تیاری
میں تھے… صفائیاں، وضاحتیں اور مسلمانوں کو مارنے اور پکڑنے کے کارناموں کی فائلیں
تیار ہو رہی تھیں… صدر پرویز مشرف امریکہ کو اتنا کچھ بیچ چکے ہیں کہ اب موجودہ
حکومت کے پاس بیچنے کو کچھ نہیں… اور وہ امریکہ کو اتنا کچھ دے چکے ہیں کہ اب ملک
میں دینے کے لیے بھی کچھ نہیں بچا… شاید آج شام تک پاکستان کے وزیر اعظم اور
امریکہ کے صدر کی ملاقات ہوجائے گی… اللہ پاک مسلمانوں پر
رحم فرمائے رجب کے مہینے کی برکت عطاء فرمائے اور اس ملاقات کے شر سے سب مسلمانوں
کی حفاظت فرمائے… سنا ہے کہ اس ملاقات میں گیلانی صاحب، صدر بش کو ایک عاجزانہ
درخواست بھی پیش کرنے والے ہیں… وہ درخواست یہ ہے کہ آپ ہم پر پورا اعتماد کریں،
ہم مکمل روشن خیال اور لبرل ہیں… ہم جہاد اور مجاہدین کے سخت دشمن ہیں… ہم طالبان
کے آپ سے بھی زیادہ مخالف ہیں… ہمارے سروں پر آصف زرداری اور رحمن ملک جیسے آپ کے
پسندیدہ لوگوں کا سایہ ہے… ہم آپ کی ہر خدمت کے لیے دل و جان سے حاضر ہیں… بس آپ
پرویز مشرف کو اپنے پاس بلالیں… ان کی موجودگی میں ہمارے لیے کام کرنا مشکل ہوتا
ہے… اور وہ ہمارے اور آپ کے درمیان دوستی نہیں ہونے دے رہے… وہ اپنا بڑھاپا قیمتی
بنانے کے لیے آپ کو ہمارے خلاف اور ہمیں آپ کے خلاف اکساتے رہتے ہیں… دیکھیں صدر
بش اس درخواست کا کیا جواب دیتے ہیں… ممکن ہے وہ پوچھیں گے کہ اگر ہم نے صدر پرویز
کے سر سے ہاتھ ہٹالیا اور آپ لوگوں نے ان کو ہٹادیا تو … چیف جسٹس افتخار چوہدری
بحال ہوجائیں گے وہ ہمیں بالکل پسند نہیں… اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان رہا ہوجائیں
گے، ہمیں وہ بالکل اچھے نہیں لگتے… اور آپ لوگ طالبان سے مذاکرات کریں گے، جو ہمیں
بالکل گوارہ نہیں… اس پر گیلانی صاحب کچھ وضاحتیں دیں گے اور کچھ وعدے کریں گے…
مبارک ہو پاکستان والو… ہمارے فیصلے ’’غیر‘‘ کرتے ہیں اور ہم پھر بھی ’’آزاد‘‘
ہیں…انا للہ وانا الیہ راجعون…
اچھا
چھوڑیں اس کڑوی بات کو… الحمدللہ ہمارے دل آزاد ہیں… ہمارے
دماغ آزاد ہیں… اور ہمارے جسم بھی انشاء اللہ جہاد کی برکت
سے آزادی کی طرف گامزن ہیں… یہ قرآن پاک کی اور جہاد کی برکت ہے کہ ہم کمزور
لوگ الحمدللہ ’’آزاد‘‘ ہیں جبکہ… ملک کے طاقتور لوگ امریکہ
اور یورپ کے غلام ہیں…
کئی
ماہ گزر چکے ہیں کہ میں نے ایک ’’طاقتور دعاء‘‘ پر نشان لگا رکھا ہے… آپ تو جانتے
ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سکھائی ہوئی
دعائیں کتنی طاقتور ہیں… اور یہ دعاء تو بہت ہی زیادہ قوت، تاثیر اور شان والی ہے…
یعنی ایسی دواء ہے کہ جو سینکڑوں بیماریوں کا علاج ہے… کئی بار اپنے اس کالم میں
یہ ’’دعاء‘‘ لکھنے کا ارادہ لیکر بیٹھا مگر قلم کا رخ کسی اور موضوع کی طرف مڑ
گیا… آج انشاء اللہ یہ ’’دعاء‘‘ عرض کرتا ہوں… اور آخر میں
’’نظربد‘‘ کے بارے میں چند باتیں پیش کرنے کا ارادہ
ہے… اللہ تعالیٰ آسان فرمائے… قبول فرمائے…
ایک
شاندار دعاء
ابوداؤد
کی روایت سے حدیث شریف میں آیا ہے کہ:
جو
شخص یہ دعاء صبح کے وقت پڑھ لے اس نے اس دن کا شکر ادا کردیا اور جو شام کے وقت
پڑھ لے اس نے اس رات کا شکر ادا کردیا…
اَللّٰہُمَّ
مَا أَصْبَحَ بِیْ مِنْ نِّعْمَۃٍ أَوْ بِأَحَدٍ مِّنْ خَلْقِکَ فَمِنْکَ وَحْدَکَ
لاَ شَرِیْکَ لَکَ فَلَکَ الْحَمْدُ وَلَکَ الشُّکْرُ
ترجمہ: یا اللہ
! مجھ پر یا آپ کی مخلوق میں سے کسی پر صبح کے وقت جو بھی نعمت موجود ہے وہ صرف آپ
کی طرف سے ہے، آپ ایک ہیں، آپ کا کوئی شریک نہیں، پس آپ ہی کے لیے حمد ہے اور آپ
ہی کے لیے شکرہے۔
یہ
تو ہوئی ’’صبح‘‘ کی دعاء… شام کے وقت اس دعاء میں ’’اَصْبَحَ‘‘ کی جگہ اَمْسٰی
پڑھیں… یعنی اس طرح پڑھیں:
اَللّٰہُمَّ
مَا أَمْسٰی بِیْ مِنْ نِّعْمَۃٍ أَوْ بِأَحَدٍ مِّنْ خَلْقِکَ فَمِنْکَ وَحْدَکَ
لاَ شَرِیْکَ لَکَ فَلَکَ الْحَمْدُ وَلَکَ الشُّکْرُ(ابوداؤد، عمل الیوم واللیلۃ،
ابن حبان)
سبحان اللہ
! کتنی عجیب اور شاندار دعاء ہے… ہم پر اللہ تعالیٰ کی
نعمتیں بے شمار ہیں… ان تمام کا شکر ادا کرنا محال ہے، مگر آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی سکھائی ہوئی اس دعاء کی برکت سے ہم … تمام
نعمتوں کے شکر کو ادا کرتے ہیں… اور ہم سب جانتے ہیں کہ نعمتوں کے شکر کے کتنے
فوائد ہیں، مثلاً:
۱ جن نعمتوں کا شکر
ادا کیا جائے ان کے بارے میں حساب کی نرمی ہوگی، انشا ء اللہ
۲ جس نعمت کا شکر
ادا کیا جائے وہ نعمت برقرار رہتی ہے، چھینی نہیں جاتی۔
۳ نعمت کا شکر ادا
کرنے سے اس نعمت میں اور اضافہ اور برکت ہوتی ہے۔
۴ نعمتوں کا شکر
ادا کرنا اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
۵ نعمتوں کا شکر
ادا کرنے سے عذاب ٹل جاتا ہے اور انسان کی حفاظت رہتی ہے۔
اور
بھی بہت سے فوائد ہیں جو اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندوں کو
نصیب ہوتے ہیں… جبکہ اس دعاء میں ایک اور بہت بڑا فائدہ اور علاج ہے… اور وہ ہے
محرومی سے حفاظت…
محرومی
سے حفاظت
۱ آپ
جانتے ہیں کہ والدین کی مالی خدمت کرنا کتنا بڑا کام ہے؟ … بے شک یہ بہت بڑی سعادت
ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان کو مال دے اور پھر اسے اپنے
والدین پر خرچ کرنے کی توفیق دے… مگر شیطان کو یہ نیکی پسند نہیں ہے وہ اولاد کے
دل میں یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ… نعوذب اللہ تو اپنے والدین کی خدمت کر
رہا ہے، تو ان کو کھلا پلا رہا ہے… تو ان کو دے رہا ہے… پھر کبھی اس کے دل میں آتا
ہے کہ یہ سب کچھ مجھ پر بوجھ ہے… اور کبھی سوچتا ہے کہ اگر میں نہ دوں گا تو ان کا
کیا حال ہوگا… پس یہ باتیں اسے شدید محرومی کی طرف لے جاتی ہیں… یہ دعاء اس مرض کا
علاج ہے… یہ دعاء سکھاتی ہے کہ والدین کو ان کی اولاد نہیں دیتی…
بلکہ اللہ تعالیٰ دیتا ہے… ہر کسی کو جو نعمت ملتی
ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے…
اگر اللہ تعالیٰ کسی کو کسی تک رزق پہنچانے کا ’’واسطہ‘‘
بناتا ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کا اس پر احسان ہے… بیٹا اگر
نہیں بھی دے گا تو والدین کی قسمت میں جو روزی لکھی ہے وہ ان تک پہنچ کر رہے گی…
پس اس کو چاہئے کہ نخرے نہ کرے، فخر نہ کرے… بلکہ شکر ادا کرتا رہے اور ڈرتا رہے…
۲ جہاد
میں خرچ کرنا کتنی بڑی نیکی ہے؟… اللہ اکبر! قرآن پاک نے
بار بار اس کی فضیلت بیان فرمائی ہے… اور سورۂ محمد
(صلی اللہ علیہ وسلم) میں
تو اللہ تعالیٰ نے باقاعدہ ایمان والوں کو پکارا ہے کہ جہاد
میں مال خرچ کرو… احادیث میں جہاد پر مال خرچ کرنے کے اتنے فضائل آئے ہیں کہ جب
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے سنے تو سب کچھ لٹا دیا…
اور اللہ پاک نے بھی ان کو یہ سارا مال ہزاروں گنا بڑھا کر
دنیا وآخرت میں لوٹا دیا… مگر جب دل میں یہ آجائے کہ میں مجاہدین کو دے رہا ہوں…
میں مجاہدین کے لیے جمع کر رہا ہوں… میں مجاہدین کے لیے مال لا رہا ہوں… تو محرومی
کا دروازہ کھل جاتا ہے… اور انسان اتنی عظیم سعادت سے محروم ہوجاتا ہے… بلکہ ہم نے
تو یہ بھی دیکھا ہے کہ … اگر کوئی اس پر فخر کرتا ہے کہ میں مجاہدین کے لیے اتنا
چندہ کرتا ہوں تو وہ بھی محرومی کی طرف جا گرتا ہے… یہ دعاء اس مرض کا علاج کرتی
ہے کہ یا اللہ میں کچھ نہیں… جس کو بھی جو نعمت پہنچ رہی ہے وہ سب آپ
کی طرف سے ہے… آپ نے میرے مال کو قبول فرمایا… یا مجھے مال جمع کرنے کی سعادت دی
یہ بھی آپ کا احسان ہے… مجاہدین کے نصیب میں جو ہے وہ تو ان کو مل کر رہے گا… مجھے
آپ نے قبول فرمایا یہ آپ کا فضل ہے… بس اس دعاء نے محرومی سے بچالیا…
۳ یہی
حال بیوی بچوں کو کھلانے کا ہے… بعض نادان لوگ اپنی غریب بیوی کے
سامنے فخر کرتے ہیں کہ تو میرے گھر میں آئی ہے اس لیے اتنا اچھا کھا
رہی ہے… اللہ کے بندے یہ اگر تیرے گھر نہ آتی تب بھی اس کی
یہ روزی ضرور اس تک پہنچ کر رہتی… اور ممکن ہے کہ تجھے بھی اس کی برکت سے روزی
ملتی ہو… بعض نادان بیویاں اپنے غریب خاوندوں کو کچھ دے کر فخر کرتی ہیں… اور حضرت
خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے طریقے کو بھول جاتی ہیں کہ
انہوں نے دین کی خاطر سارا مال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈال
دیا اور کبھی اس پر فخر کا احساس تک نہ کیا… اسی طرح کچھ لوگ کسی مہمان کو کھلا کر
سوچتے ہیں کہ ہم نے کھلایا… حالانکہ مہمان تو اپنی روزی کھاتا ہے… الغرض یہ دعاء
ہر قدم پر ہمیں پھسلنے سے بچاتی ہے کیونکہ انسان جنت سے آیا ہے… اب واپس جنت کی
طرف چڑھ رہا ہے… اور چڑھنے کے دوران جیسے ہی یہ اکڑے گا گر جائے گا… اس کو جھک جھک
کر چڑھنا ہوگا… اللہ تعالیٰ دنیا میں کسی انسان کو دوسروں
کی روزی کا ذریعہ بنادیتے ہیں… پس ایسے انسان کو چاہئے کہ خوب شکر ادا کرے… اور
کبھی بھی دل کی تنگی کا شکار نہ ہو… یہ تو اس کے لیے سعادت ہی سعادت ہے… پس اس کو
چاہئے کہ ایک امانتدار خزانچی اور منشی کی طرح یہ روزی اس کے مستحقین تک پہنچاتا
رہے… اور کسی کو دے کر فخر نہ کرے… بینک کا کیشئر روزانہ لاکھوں روپے تقسیم کرتا
ہے مگر کبھی فخر نہیں کرتا… وہ جانتا ہے کہ یہ مال اس کا نہیں بینک کا ہے… پس
مسلمان کو بھی یقین رکھنا چاہئے کہ مال اس کا نہیں ’’ اللہ تعالیٰ‘‘ کا ہے…
اور اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ سے جو خرچ کرا رہے ہیں اس میں
اس کا فائدہ ہی فائدہ… اور اجر ہے… حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی
سکھائی ہوئی یہ دعاء اگر ہمارا معمول بن جائے … اور ہم اس کو سمجھ کر یقین کے ساتھ
پڑھیں تو انشاء اللہ بے شمار محرومیوں اور غلطیوں سے بچے
رہیں گے…
ایک
اور ضروری پہلو
روزی
کے بارے میں اوپر جو کچھ عرض کیا گیا وہ تصویر کا ایک پہلو ہے… اب صرف اسی پہلو کو
سامنے رکھا جائے تو بھی ’’شکرگزاری‘‘ کا دروازہ بند ہوسکتا ہے… اس لیے اس کا دوسرا
پہلو بھی سامنے رہے… وہ یہ ہے کہ جس مسلمان تک کسی دوسرے مسلمان کے
ذریعہ سے روزی پہنچے تو وہ اس کا شکریہ ادا کرے اور اس کو دعاء دے اور
اس کے ساتھ خیر خواہی کرے… حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی حکم
دیا گیا کہ جب مسلمان جہاد وغیرہ کے لیے ’’صدقات‘‘ لائیں تو آپ ان کو دعاء دیں…
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے لوگوں کا شکر ادا نہیں کیا اس
نے اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کیا… خود
آپ صلی اللہ علیہ وسلم خر چ کرنے والے مسلمانوں کو طرح طرح کی قیمتی
دعاؤں سے نوازتے تھے… صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے واقعات پڑھ لیں یہ
بات کھل کر آپ کے سامنے آجائے گی… خلاصہ یہ ہوا کہ
۱ جس
کو اللہ تعالیٰ دینے اور خرچ کرنے کی توفیق عطاء فرمائے وہ
اسے اپنا احسان نہ سمجھے بلکہ اسے اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کا
احسان سمجھے اور دل کی تنگی میں مبتلا نہ ہو … اور جس کو دے رہا ہو اس کو حقیر نہ
سمجھے… اور اس بات کا یقین رکھے کہ ہر کوئی اپنی روزی کھا رہا ہے…
۲ اور جس کو دیا
جارہا ہو وہ دینے والے کا شکریہ ادا کرے اور اس کو دعاء دے… مگر اپنا
دل اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رکھے
اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اپنا رازق نہ سمجھے…
اللہ تعالیٰ
مجھے اور آپ سب کو… اس دعاء کا یقین، اس کا اہتمام اور اس کے تمام فوائد نصیب
فرمائے… آج کڑوے درد ’’نظربد‘‘ کے بارے میں بھی کچھ عرض کرنا تھا مگر کالم مکمل ہو
رہا ہے… اس لیے صرف ’’نظربد‘‘ کا تھوڑا سا تعارف پیش خدمت ہے… باقی باتیں
انشاء اللہ پھر کبھی…
نظرِ
بد … کڑوا درد
۱ صحیح
حدیث ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’نظر
حق ہے‘‘ (صحیح مسلم)
۲ حضرت
انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ… حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے
’’نظرِبد‘‘ ’’بخار‘‘ اور پھوڑے پھنسی کے امراض میں جھاڑ پھونک (یعنی دم وغیرہ
کروانے) کی اجازت دی ہے۔ (صحیح مسلم)
۳ نظر
کی دو قسمیں ہیں: ۱ انسانوں
کی نظر ۲جنات
کی نظر… جنات کی نظر کافی سخت ہوتی ہے، امام حسین بن مسعودپ فرماتے ہیں کہ جنات کی
نظر نیزوں کی نوک سے بھی زیادہ تیز ہوتی ہے… حضرت ام سلمہ
رضی اللہ عنہا فرماتی ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر میں ایک
باندی دیکھی جس کے چہرے پر پھوڑے پھنسیاں تھیں (جناتی نظر کے اثر کی وجہ سے)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو دم کرو اس پر نظر کا اثر ہے۔
(بخاری، مسلم)
۴ نظر
دراصل وہ ’’تیر‘‘ ہیں جو نظر لگانے والے یا حسد کرنے والے کے مزاج اور طبیعت سے
نکلتے ہیں اور اُس کی طرف جاتے ہیں جس کو نظر لگائی ہو… پھر کبھی یہ تیر لگ جاتے
ہیں اور کبھی نہیں لگتے…
۵ حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اگر
کوئی چیز تقدیر سے آگے نکل سکتی تو وہ ’’نظر‘‘ ہوتی۔ (مسنداحمد)
یعنی
’’تقدیر‘‘ تو بہت پختہ اور یقینی چیز ہے، تقدیر کو کوئی چیز نہیں ٹال سکتی… ہاں
اگر کسی چیزمیں تقدیر کو ٹالنے کی طاقت ہوتی تو ’’نظر‘‘ اتنی طاقتور چیز ہے کہ
تقدیر کو ٹال دیتی…
یہ
تو ہوا نظربد کا تھوڑاسا تعارف… آج کل لوگ، ہر چیز کو جادو بنا کر
عاملوں کے چکر لگاتے ہیں… کئی کئی تعویذ پیتے ہیں… (شاید کاغذ اسی لیے مہنگا ہو
رہا ہے) ایک دوسرے پر شک کرتے ہیں کہ فلاں نے مجھ پر یہ کردیا وہ کردیا… اور ان کی
توجہ ’’نظربد‘‘ کی طرف نہیں جاتی… حالانکہ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نظر بد
انسان کو قتل تک کرسکتی ہے… اس لیے گزارش ہے کہ جعلی عاملوں اور پیشہ ور بابوں کے
پاس نہ جائیں… قرآن و سنت سے ’’نظربد‘‘ کا علاج کریں… اور نظر سے بچنے کی مسنون
دعاؤں کا اہتمام کریں…
لطف
اللطیف جلّ شانہٗ نامی کتاب میں ’’نظربد‘‘ کے کچھ علاج مذکور ہیں وہ دیکھ لیں… اور
زندگی رہی تو اسی کالم میں ’’نظربد‘‘ کے علاج اور حفاظت کی مسنون دعائیں عرض کردی
جائیں گی… انشاء اللہ تعالیٰ
وصلی اللہ تعالیٰ
علی خیر خلقہ سیّدنا محمد وآلہ واصحابہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
کی پناہ پکڑتا ہوں ہر حاسد کے شر سے… اور ہر نظر لگانے والے کی ’’نظربد‘‘ سے…
’’نظربد‘‘
کے بارے میں چند باتیں پچھلے کالم میں عرض کردی تھیں… آج مزید کچھ روایات اور پھر
’’نظربد‘‘ کے علاج پر ایک نظر ڈالتے ہیں…
قبر
اور ہانڈی
حدیث
شریف میں آتا ہے:
ان
العین لتدخل الرجل القبر والجمل القدر
یعنی
نظر آدمی کو قبر میں اور اونٹ کو ہانڈی (دیگ) میں پہنچادیتی ہے۔ (زادالمعاد، ابن
عدی، ابونعیم)
مطلب
واضح ہے کہ نظر انسان کی موت کا ذریعہ بن سکتی ہے اور اگر اونٹ کو لگ جائے تو وہ
گر جاتا ہے اور مالک کے لیے اس کو ذبح کرکے پکانے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں
بچتا۔
نظر
سے موت
ایک
اور حدیث مبارکہ میں ہے:
’’اکثر
من یموت بعد قضاء اللہ وقدرہ بالنفس، قال الراوی یعنی
بالعین‘‘
مقصد
اس روایت کا یہ ہے کہ بہت سے لوگ نظر کی وجہ سے مرتے ہیں۔ (البزاز بسند حسن عن
جابر رفعہ)
نظر
قتل کردیتی ہے
حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک صحابی حضرت سہل بن حنیف رضی
اللہ عنہ غسل فرما رہے تھے ان کو ایک صاحب عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا
اور ان کی جلد کی خوبصورتی کو نظر لگادی۔ (جن صحابی کو نظر لگی تھی وہ گر کر تڑپنے
لگے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عامر پر غصہ فرمایا اور ارشاد
فرمایا:
علام
یقتل احدکم اخاہ الا برکت اغتسل لہ
یعنی
تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو (نظر لگا کر) کیوں قتل کرتا ہے اور اس کے لیے
برکت کی دعاء کیوں نہیں کرتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر لگانے
والے کو حکم دیا کہ غسل کرے، تب انہوں نے غسل کیا اور اپنے غسل سے گرنے والا پانی
حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ پر بہایا تو وہ ٹھیک ہوگئے۔ (زادالمعاد، ابن حبان)
حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نظر سے پناہ مانگتے تھے
حضرت
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
ان
النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان یتعوّذ من الجانّ ومن عین الانسان
یعنی
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنات سے اور انسانوں کی نظر
سے اللہ تعالیٰ کی پناہ پکڑتے تھے۔ (ترمذی، نسائی)
آنکھوں
کا زہر
بعض
اژدھے (بڑے سانپ) ایسے ہوتے ہیں جو اگر کسی کو غصہ اور دشمنی سے دیکھ لیں تو ان کی
آنکھوں سے زہریلی شعاعیں نکلتی ہیں جو سامنے کو ہلاک یا نابینا کر دیتی ہیں…یا
حاملہ عورتوں کا حمل گرادیتی ہیں… اسی طرح حاسد کی آنکھوں سے ایک غیر محسوس زہر
نکلتا ہے… اور جس کو وہ پسند اور حسد کے ساتھ دیکھ لے اس کی طرف منتقل ہوجاتا ہے…
پھر بعض انسانوں میں یہ زہر زیادہ ہوتا ہے اور بعض میں
کم… اللہ پاک نے انسان کی روح اور جسم میں عجیب ’’تاثیرات‘‘
رکھی ہیں جن کا کوئی بھی عقلمند انسان انکار نہیں کرسکتا… پھر اصل تاثیر ’’روح‘‘
سے نکلتی ہے اور آنکھوں کے ذریعے سامنے والے پر منتقل ہوتی ہے… بات کو سمجھنے کے
لیے آسان مثال یہ ہے کہ… جس شخص کی بہت عزت دل میں ہو وہ اگر آپ کو پیار سے دیکھے
تو آپ کا چہرہ سرخ ہوجاتا ہے… کوئی ظالم کسی کمزور مظلوم کو گھور کر دیکھے تو وہ
بے چارہ پیلا پڑ جاتا ہے… اور اگر شیر کسی کو غصے سے دیکھے تو پورا جسم کانپنے
لگتا ہے… معلوم ہوا کہ تاثیر ہوتی ہے… اور اس کا انکار محض جہالت ہے… (زادالمعاد)
غیر
مرئی شعاعیں
بعض
اہل علم کا خیال ہے کہ نظر لگانے والے کی آنکھ سے … کچھ غیر مرئی شعاعیں نکلتی ہیں
جو سامنے والے کے جسم کے مساموں میں گھس جاتی ہیں اور اس کو نقصان پہنچاتی ہیں
(زادالمعاد)
نظر
کیسے لگتی ہے؟
نظر
لگنے کے لیے دیکھنا بھی ضروری نہیں… بعض لوگوں کا نفس بہت خبیث ہوتا ہے وہ اپنے
نفس اور روح کی توجہ سے بھی نظر لگادیتے ہیں… اندھے آدمی کے سامنے کسی کے اوصاف
بیان کیے جائیں… اور وہ اس پر توجہ کرکے حسد کا تیر پھینک دے تب بھی نظر لگ سکتی
ہے (زادالمعاد)
نظر
کے تیر
تیر
پھینکنے والا پہلے اپنے ’’ہدف‘‘ کو چنتا ہے… پھر تیر کو کمان میں جوڑتا ہے… اور
پھر نشانہ لیکر تیر چلا دیتا ہے… سامنے والا اگر نہتا اور کمزور ہو تو اُسے تیر لگ
جاتا ہے… اگر وہ زرہ پہنے ہوئے، چست اور بیدار ہوتو تیر سے بچ جاتا ہے… بعض اوقات
تیر واپس اپنے چلانے والے کی طرف بھی لوٹ آتا ہے… بس یہی حال نظر کا ہے… ایک شخص
کسی کو دیکھتا ہے یا کسی کی تعریف سنتا ہے تو اس کو وہ اچھا لگنے لگتا ہے… پھر اس
کے نفس کی خباثت اور حسد سے ایک تیر تیار ہوتا ہے… پھر وہ آنکھوں کے ذریعے اس تیر
یا زہر کو سامنے والے پر پھینکتا ہے… اب اگر سامنے والے نے اپنی حفاظت کا بندوبست
نہیں کر رکھا اور اس کی روح کمزور ہے تو تیر اس کو لگ جاتا ہے… اور اگر اس کی روح
مضبوط ہے اور اس نے حفاظت کا انتظام کر رکھا ہے تو اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا…
اور بعض اوقات یہ نظر خود نظر لگانے والے کو بھی واپس لوٹ کر نقصان پہنچادیتی ہے۔
اپنی
نظر بھی لگ جاتی ہے
بعض
اوقات انسان کو اپنی نظر بھی لگ جاتی ہے… حدیث شریف میں اس کا علاج ارشاد فرمایا
گیا ہے… ویسے آج کل تو ’’خودپسندی‘‘ کا زمانہ ہے ہر کوئی اپنے آپ کو ہی زیادہ پسند
کرتا ہے… اس لیے یہ نظر آج کل زیادہ نقصان پہنچا رہی ہے…
موبائل
نظر
اللہ تعالیٰ
نے انسان کی روح کو بہت قوت عطاء فرمائی ہے… انسان کی روح سے مختلف اثرات نکل کر
ہواؤں کے ذریعے دوسروں تک منتقل ہوتے ہیں… نفرت بھی منتقل ہوتی ہے اور محبت بھی…
نیکی بھی منتقل ہوتی ہے اور خباثت بھی… خیر بھی منتقل ہوتی ہے اور شر بھی… آپ
موبائل فون پر جو کچھ کہتے ہیں وہ ایک ملک سے دوسرے ملک ہواؤں کے ذریعے پہنچ جاتا
ہے… انسان کی روح موبائل کی فریکوئنسی اور ریڈیائی لہروں سے زیادہ طاقت ورہے…
آپ
ڈر تو نہیں گئے؟
پچھلے
ہفتے چند احادیث مبارکہ بیان کی تھیں کہ… نظر حق ہے، نظر بہت طاقتور ہے اور نظر
مہلک ہے… اور آج بھی چند روایات بیان کی ہیں … ان سب کو پڑھ کر آپ ڈر تو نہیں
گئے؟… ڈرنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے یہ اللہ تعالیٰ کا احسان
ہے کہ ہم حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی ہیں…
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑا… اور نہ
حشر کے میدان میں اکیلا چھوڑیں گے… آپ نے میدان جنگ میں بھی اپنی اُمت کی حفاظت
فرمائی… اور ہر شیطان، جن اور مرض سے بھی اُمت کی حفاظت کے نسخے بیان فرمائے… نظر
جتنی طاقتور ہو… قرآن پاک کے سامنے کیا چیز ہے… قرآن پاک
تو اللہ تعالیٰ کا کلام ہے…
سبحان اللہ وبحمدہ
سبحان اللہ العظیم… اور نظر جتنی بھی خبیث ہو وہ حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کے سامنے کہاں ٹھہر سکتی ہے؟… اس لیے
ڈریں نہیں، البتہ احتیاط ضرور کریں … اور ہم سب اپنی روح کو طاقتور بنائیں…
ذکر اللہ سے، تلاوت سے، آنکھوں کی حفاظت سے، کم کھانا
کھانے سے، روزے رکھنے سے… اور کسی سے حسد نہ کرنے سے انسان کی روح طاقتور ہوجاتی
ہے… آپ نے مجاہدین میں سے بعض کو نہیں دیکھا کہ بے چارے چھپے چھپے پھرتے ہیں… مگر
ان کی روح اتنی طاقتور ہے کہ اس کی شعاعوں سے بش کی نیند اڑ جاتی ہے… ڈک چینی
بینکر میں جا چھپتا ہے… ایڈوانی کے ہوش اڑ جاتے ہیں… اور کرزئی پانی سے نکلی ہوئی
مچھلی کی طرح تڑپتا ہے… اور اپنے مخلص مسلمانوں تک ان مجاہدین کی روحیں محبت، سکون
اور ہمت کے لطیف اثرات پہنچاتی ہیں … کبھی تنہائی میں یہ مجاہد یاد آجاتے ہیں تو
دل پر سکون اور ہمت کی لہریں چلنے لگتی ہیں… بے
شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور اس نے روح کو خود
بغیر کسی کے واسطے کے پیدا فرمایا ہے :
’’ونفخت
فیہ من روحی‘‘
اللہ تعالیٰ
ہم کمزور لوگوں کی روحوں کو قوت عطاء فرمائے…
دفاع
اور علاج
احادیث
مبارکہ میں نظر سے ’’دفاع‘‘ کی دعائیں بھی آئی ہیں کہ آپ ان دعاؤں کو پڑھتے رہیں…
انشاء اللہ نظر نہیں لگے گی… اور وہ دعائیں اور طریقے بھی
بیان ہوئے ہیں کہ اگر نظر لگ جائے تو اس زہر اور تیر کو جسم سے کس طرح سے نکالا
جائے… مسلمانوں کو چاہئے کہ … دونوں کا اہتمام کرلیں… دفاع بھی مضبوط رکھیں اور
کبھی کبھار نظر ختم کرنے کا علاج بھی کرلیا کریں…
ایک
ارادہ تو کرلیں
اللہ تعالیٰ
ہم سب کا مالک اور رب ہے… وہ سب کی سنتا ہے…
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سب کے نبی اور آقا
اور سب کچھ ہیں… فداہ روحی وابی و امی صلی اللہ علیہ وسلم … قرآن پاک ہم سب کے لیے
ہے… تو پھر ہم خود فائدہ کیوں نہیں اٹھاتے؟… کراچی میں عجیب رواج ہے کہ پرچی پر
بچی اور اس کی والدہ کا نام لکھ کر کسی کو دے آتے ہیں کہ… آپ استخارہ دیکھ دیں… ہر
مسلمان خود استخارہ کیوں نہیں کرتا؟… میں نے ایک صاحب سے جو لوگوں کے لیے استخارے
کرتے تھے ان کا طریقہ پوچھا … انہوں نے جو کچھ بتایا مجھے تو اس میں کوئی جان اور
وزن نظر نہیں آیا… استخارہ کے معنیٰ اللہ تعالیٰ سے خیر
مانگنا، خیر چاہنا … تو کیا ہم خود اپنے لیے خیر کی دعاء کرنے سے شرماتے ہیں؟… سنا
ہے کہ ٹی وی پر ’’استخارے‘‘ کے پروگرام چل رہے ہیں… اس میں تو بہت کچھ دھوکا معلوم
ہوتا ہے… اب نظرکے بارے میں سنا تو سب لوگ عاملوں کے پاس دوڑیں گے کہ آپ دم کردیں…
ٹھیک ہے متقی، پرہیزگار اور صاحب علم عاملوں سے دم کرانا کوئی بری بات نہیں ہے …
مگر سوال یہ ہے کہ آپ خود کو دم کیوں نہیں کرتے… ڈاکٹر دوائی لکھ دیتا ہے تو خود
کھاتے ہیں… ورزش بتاتا ہے تو خود کرتے ہیں … ایسا نہیں ہوتا کہ کسی اور کو پیسے دے
کر اپنے لیے ورزش کرالیں… اسی طرح جب علماء کرام قرآن وسنت سے کسی بیماری کا علاج
بتادیں تو خود کرنا چاہئے… اس میں بہت فائدہ ہوتا ہے… استخارہ خود کرنے
سے اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط ہوتا ہے… میں خطیبوں کی طرح
دونوںہاتھ اُٹھوا کر وعدہ تو نہیں لیتا… مگر آپ سے ’’ارادہ‘‘ ضرور لیتا ہوں کہ…
نظر بد کے علاج میں جو دعائیں عرض کی جائیں گی… آپ خود ان سے اپنا علاج کریں گے…
اور خود ان دعاؤں کو مانگا کریں گے… ارادہ فرمالیا؟
خصوصاً
خواتین سے بہت منّت کے ساتھ عرض ہے کہ وہ مرد عاملوں کے پاس نہ جایا کریں… آپ
خود اللہ تعالیٰ کی پیاری مسلمان بندیاں ہیں… آپ
خود اللہ تعالیٰ سے مانگا کریں … اس سے آپ کے ایمان ویقین
میں ترقی ہوگی… اور انشاء اللہ آپ کو سکون ملے گا
ایک
نکتہ
’’روح‘‘
کی طاقت پر چند باتیں آپ نے پڑھ لیں… اب خود سوچیں کہ اگر ایک خبیث روح، حسد کی
کمان میں ’’نظربد‘‘ کا تیر ڈال کر کسی کو زخمی کرسکتی ہے تو پھر … ایمان والوں کی
روحیں کتنی طاقتور ہوںگی… اور ان کی آنکھوں میں کتنی ’’ایمانی تاثیر‘‘ ہوگی…
پس اللہ والوں کی توجہ بڑی چیز ہے… اس کا انکار کرنا حماقت
ہے… حضرت خواجہ مجذوب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مرشد حکیم الامۃ حضرت
تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی نظر اور توجہ پر عجیب اشعار کہے ہیں… دل چاہے تو ان کے
دیوان میں ملاحظہ فرمالیں… سعدی فقیر اس موضوع پر شروع ہوا تو کہیں اور نکل جائے
گا … اور اپنے محبوب شیخ حضرت مفتی ولی حسن رحمۃ اللہ علیہ کی بلّوری
آنکھوں میں کھو جائے گا… ؎
وہ
آنکھیں نشیلی وہ پلکیں نکیلی
سنبھالو
ارے ہم گرے جا رہے ہیں
بس
آج اتنا ہی ’’عرض‘‘ ہے… انشاء اللہ اگر زندگی رہی اور مالک
الملک نے توفیق عطاء فرمائی تو اگلے ہفتے نظر بد کے کئی علاج عرض کیے جائیں گے… اس
وقت تک اگر آپ اس موذی تیر سے بچنا چاہیں تو … قرآن پاک کی آخری دو سورتوں (الفلق،
الناس) کی کثرت کریں… اور سورۃ فاتحہ، آیۃ الکرسی اور سورۃ القلم کی آخری دو آیات
خود پر دم کرلیا کریں… ان قرآنی آیات کے سامنے کوئی نظر نہیں ٹھہر سکتی… آپ یقین
سے پڑھیں گے تو بہت سکون ملے گا… انشاء اللہ تعالیٰ
وصلی اللہ علیٰ
خیر خلقہ سیّدنا و مولانا محمد وآلہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
تمہیں ’’عافیت‘‘ کے ساتھ رہائی عطاء فرمائے… یا تمہیں ’’شہادت عظمیٰ‘‘ عطاء
فرمائے… اے میری بہن عافیہ!… اے مسلمان بہن عافیہ… اے اُمت مسلمہ کی بیٹی عافیہ…
آنکھیں رو رہی ہیں، دل زخمی ہے… اور دماغ میں آندھیاں چل رہی ہیں… بہن کافروں کی
قید میں اور بھائی آزاد… عافیہ بہن تم امریکیوں کی قید میں
ہو… اللہ پاک کی قسم شرم کی وجہ سے سر اٹھانا مشکل ہے… اے
بہن! تمہیں خود کو مسلمان کہلوانے والے بے غیرتوں نے پکڑا … ہائے پرویز مشرف تو
مسلمانوں کے لیے فرعون ثابت ہوا… ایک بے غیرت اغواء کار جو ملک کی مسلمان بچیوں کو
کافروں کے ہاتھوں فروخت کرتا رہا… اور بے حیائی کے ڈالر کماتا رہا… کیا وہ بھی
مسلمان تھے جنہوں نے عافیہ بہن کو گرفتار کیا… پھر اسے امریکہ کے حوالے کیا… پھر
اس کی والدہ کو دھمکیاں دیں کہ اپنی زبان بند رکھے… بے غیرتوں اور ظالموں کی یہ
نسل معلوم نہیں کہاں پیدا ہوئی؟ … اے ظالمو! لال مسجد کی بیٹیوں کی طرح عافیہ کو
شہید ہی کر ڈالتے… مگر کہاں؟ … تم نے تو ظلم کی حد کردی … بگرام ایئر بیس کی قیدی
نمبر ۶۵۰… عافیہ بہن… اماں عائشہ صدیقہ
رضی اللہ عنہا کی روحانی بیٹی… پانچ سال کی اذیت ناک
قید… اللہ پاک جزائے خیر عطاء فرمائے … برطانیہ کی نو مسلم
بہن مریم (ایون ریڈلی) کو… اس کی پاک روح عافیہ کو ڈھونڈ لائی… ورنہ مسلمانوں کو
تو پتہ ہی نہیں تھا… عمران خان کو بھی اللہ پاک جزائے خیر
دے انہوں نے سب سے پہلے آواز اٹھائی… کیا معلوم یہی عمل بخشش کا ذریعہ بن جائے…
ہاں رب کعبہ کی قسم دین اسلام اس بارے میں بہت حساس ہے… ایک بہن کی کافروں کے
ہاتھوں ذلت کی خبریں پڑھنے کے بعد اب روٹی کے ٹکڑے ہضم کرنا مشکل ہیں… اور اب کوئی
عزت اچھی نہیں لگتی… پاکستان کے حکمرانو! اللہ تعالیٰ کے
عذاب سے ڈرو … اور مسلمان بہن کو امریکہ سے آزاد کراؤ… ایسا نہیں کر وگے تو سر سے
پاؤں تک ذلیل ہو جائو گے… اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ
السلام اور ان کی قوم کو فرعون کا انجام دکھا دیا… اور ان کی مظلوم آنکھوں کو
ٹھنڈا فرمایا… اللہ تعالیٰ عافیہ بہن اور ان کے گھر والوں
کی آنکھیں بھی ٹھنڈی فرمائے اور انہیں پرویز مشرف اور اس کے ٹولے کا عبرتناک انجام
دکھائے…
عافیہ
بہن!… میں نہ تو مسلمانوں کی بے بسی کا رونا روتا ہوں… اور نہ کسی اور پر کوئی وزن
ڈالتا ہوں … عافیہ بہن!… تم نے اسلام کی خاطر بہت بڑی قربانی دی ہے… تم نے پوری
اُمت مسلمہ میں غیرت کا ایک طوفان اٹھایا ہے… تمہارے چھوٹے چھوٹے بچے… کلمہ پڑھنے
والے پیارے پیارے مسلمان بچے تم سے جدا ہیں… اے بہن!… تم تو ٹھیک طرح سے چل بھی
نہیں سکتی، بزدل امریکیوں نے تمہارے پاؤں میں گولی ماردی ہے… ایسی بزدل اور بے
غیرت قوم کبھی دنیا پر حکومت نہیں کرسکتی… اے بہن، اے عافیہ بہن، اے مسلمان بہن!
یاد رکھنا اسلام عظمت کی طرف اور امریکہ موت کی طرف دوڑ رہا ہے… مبارک ہو اے بہن
اس میں تمہارا حصہ بھی شامل ہوگیا… کاش سب مسلمان بہنیں اسلام کی خدمتگار بن
جائیں… زیورات، مکانات، فیشن، میک اپ اور گھریلو جھگڑوں کو بھول کر اس بات کو
سوچیں کہ ان کی زندگی کا مقصد کیا ہے… عافیہ بہن! باتیں بھی بہت ہیں اور آنسو بھی…
آج ہر کوئی تمہارا نام لے کر رو رہا ہے… ہر طرف دعائیں ہی دعائیں ہیں… ہماری دعائے
قنوت میں ’’اَللّٰہُمَّ اَنْجِ أُخْتَنَا عَافِیَۃ‘‘ کی گونج ہے…
مسلمانوں
کی بے حسی اپنی جگہ… کافروں کی طاقت اپنی جگہ… مگر اے بہن تم تو غیرت مند فدائی
بھائیوں کی بہن ہو… تم تو اندھیرے میں ذبح ہوتی رہی ورنہ اب تک تو زمین آسمان کئی
بار ایک ہو چکے ہوتے… اری دُکھی بہن ہمت نہ ہارو تم لاوارث تو نہیں ہو… میں
مسلمانوں کو بھی جانتا ہوں اور کافروں کو بھی… اور قرآن پاک کی آیتوں میں بھی غور
کرتا رہتا ہوں… اس لیے اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر دو باتیں
کہتا ہوں… ہاں اپنے عزت وجلال والے رب کے بھروسے پر… اے بہن تمہارا ہمارا رشتہ
تو اللہ تعالیٰ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کی نسبت سے ہے… پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی تو تمہیں
ہماری بہن بنایا… اس لیے اے بہنا! دو باتیں یاد رکھنا پہلی یہ کہ
انشاء اللہ امریکی اب تمہیں زیادہ عرصہ قید نہیں رکھ سکیں
گے… اور دوسری بات یہ کہ… تم پر ظلم کرنے والے بہت پچھتائیں گے… وجہ اس کی یہ ہے
کہ … اللہ اکبر، اللہ تعالیٰ سب سے
بڑا ہے… وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر … اور وہ ہر چیز پر قادر ہے…
جموں
کے ڈوگرے
اگر
آپ نے ایسے سانپ دیکھنے ہوں کہ جن کے سر سے لیکر دم تک زہر ہی زہر ہو تو آپ … جموں
کے ڈوگروں، ہندوؤں کو دیکھ لیں… ان ظالموں نے ہمیشہ مسلمانوں کو سخت نقصان
پہنچایا… پونچھ کی حسین و جمیل سرزمین ڈوگروں کے مظالم سے آج بھی روتی ہے… یہاں
مسلمانوں کو درختوں سے لٹکا کر زندہ ان کی کھالیں اتاری گئیں… ڈوگروں کا یہ ظلم آج
تک جاری ہے… مقبوضہ کشمیر کی جیلوں میں ڈوگرے افسر اور سپاہی مسلمان قیدیوں کو سخت
اذیتیں پہنچاتے ہیں… ابھی تازہ صورتحال یہ ہے کہ ڈوگروں نے سری نگر اور وادی کشمیر
کی ناکہ بندی کی ہوئی ہے… اور جموں سری نگر شاہراہ کو بند کردیا ہے… ان کے اس
اقدام کی وجہ سے کشمیری مسلمانوں کے بچے بھوک سے بلک رہے ہیں… ایک روپے کی چیز سو
روپے میں بک رہی ہے… اور کشمیری تاجروں کے پھل گوداموں اور ٹرکوں میں پڑے سڑ رہے
ہیں… کشمیر میں اکثر غذائی اجناس جموں سری نگر شاہراہ کے ذریعہ سے پہنچتی ہیں… اور
یہ شاہراہ کئی دنوں سے بند ہے… ایک وقت تھا کہ پاکستان کے مسلمان کشمیر کو اپنی شہ
رگ سمجھتے تھے… اور کشمیریوں کی ہر تکلیف پر بلک پڑتے تھے مگر… پرویز مشرف کے
پرویزی دور میں کشمیر بھی ہم سے کٹ کر رہ گیا… اور انڈیا کے ساتھ
گناہوں کا تبادلہ ملکی پالیسی ٹھہرا … کُل جماعتی حریت کانفرنس اور کشمیر کے
تاجروں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے پھلوں اور میووں کو ٹرکوں میں لاد کر مظفر آباد
کی طرف کوچ کریں گے… ہم ان کے اس اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں… اور انہیں پاکستان
آنے کے لیے خوش آمدید کہتے ہیں… اور مجاہدین کشمیر سے عرض کرتے ہیں کہ… وہ اپنی
مسلح تحریک کو تیز اور وسیع کریں… جہاد کشمیر ’’غزوۃ الہند‘‘ کا ایک مبارک حصہ ہے…
یہ مشرکوں کے خلاف ایک اسلامی جہاد ہے… اور یہ جہاد برصغیر میں اسلام کے غلبے کی
ایک منزل ہے… جہاد کے شعلے وادی سے نکل کر جموں تک پہنچیں گے تو بزدل ڈوگروں کو
اپنی اوقات معلوم ہوجائے گی… جہاد کشمیر پھر سجاد افغانی رحمۃ اللہ علیہ اور غازی
بابا رحمۃ اللہ علیہ جیسے آفاقی شاہینوں کا منتظر ہے…
نظر
بد کا علاج
نظر
بد کے علاج کے بارے میں یہ چند بنیادی نکتے یاد رکھیں:
۱ ’’نظر بد‘‘ میں دو طرح کا زہر
شامل ہوتا ہے ایک شیطانی اور ایک انسانی۔ مسند احمد کی روایت ہے: العین
حق ویحضرہا الشیطان وحسد ابن آدم
یعنی
نظر حق ہے اس کے ساتھ شیطان موجود رہتا ہے اور آدمی کا حسد بھی۔ (مسند احمد عن ابی
ہریرۃ رفعہ)
اس
لیے علاج ایسا ہونا چاہئے جو شیطانی اور انسانی دونوں اثرات کو زائل کرسکے…
۲ ’’نظربد‘‘ ایک گرم زہر ہے اس لیے اس کا وہ علاج
زود اثر ہوتا ہے جس میں پانی کا استعمال ہو… پانی گرمی کو بجھا دیتا ہے اور زہر کو
دھو دیتا ہے… ویسے بھی اللہ پاک نے پانی میں زندگی کا اثر
رکھا ہے…
۳ ’’نظربد‘‘ انسان کے مساموں میں اور اس کے اعصاب
میں داخل ہوجاتی ہے… یہ سانپ کے ڈسنے کی طرح ہے… آپ جانتے ہیں کہ اس طرح کے حملے
میں اگر انسان ہمت ہار دے یا دل چھوڑ دے تو مرض اس پر چھا جاتا ہے… لیکن اگر انسان
اپنی قوت ارادی کو مضبوط رکھے تو بچ جاتا ہے… کینسر بھی یہ ایک زہر ہے… آپ نے
دیکھا ہوگا کہ جن لوگوں کو کینسر ہوتا ہے مگر ان کو پتہ نہیں چلتا کہ انہیں کینسر
ہے وہ کئی کئی سال تک جیتے پھرتے ہیں… مگر جیسے ہی کسی کو پتہ چل جائے کہ مجھے
کینسر ہے تو وہ ایک مہینے میں ہڈیوں کا ڈھانچہ بن جاتا ہے… کیونکہ وہ حوصلہ اور
ہمت ہار دیتا ہے… بالکل اسی طرح جن لوگوں کی قوت ارادی اور عقیدہ مضبوط ہوتا ہے ان
پر جادو، جن اور نظر کا زیادہ سخت اثر نہیں ہوتا… مگر جو لوگ وہمی، کمزور مزاج اور
کم حوصلہ ہوتے ہیں ان پر یہ چیزیں زیادہ اثر کرتی ہیں… اس لیے جب نظر کا علاج کریں
تو اپنے دل اور حوصلے کو بھی مضبوط رکھیں اور اس بات کا یقین رکھیں کہ… قرآن وحدیث
کے الفاظ کی تاثیر نظر لگانے والے کے زہر سے زیادہ طاقتور ہے… اب ملاحظہ فرمائیے
نظربد کے چند علاج:
اللہ پاک
کی پناہ مانگنا
ابوداؤد
کی روایت ہے:
حضرت
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ایک سیلابی علاقے سے گزرے میں نے اس میں
داخل ہو کر غسل کیا مگر باہر نکلتے ہی مجھے بخار ہوگیا،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابو ثابت سے کہو کہ وہ اعوذب
اللہ پڑھیں (یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگیں)
راوی کہتے ہیں میں نے عرض کیا اے ہمارے آقا کیا دم کرانا اچھی بات ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دم کرانا (جھاڑ پھونک کرانا)
صرف نظر، بخار اور ڈسے جانے میں ہے (زادالمعاد)
اللہ تعالیٰ
کی پناہ مانگنے کا سب سے بہترین طریقہ
قرآن
پاک کی آخری دو سورتوں (فلق اور ناس) کو کثرت سے پڑھنا، سورۃ فاتحہ اور آیۃ الکرسی
کی کثرت کرنا ہے۔ (زادالمعاد)
پس
جو مسلمان ان سورتوں کو کثرت سے پڑھتا رہے… پڑھ کر خود پر دم کرتا رہے… اور اپنے
ہاتھوں پر پھونک کے وہ ہاتھ پورے جسم پر ملتا رہے وہ
انشاء اللہ نظر بد سے محفوظ رہے گا… اور اگر نظر لگی ہوئی
ہوگی تو وہ بھی دور ہوجائے گی… ان سورتوں میں بے حد تاثیر ہے، آپ ایک بار یقین اور
توجہ سے پڑھ کر دیکھیں… اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے بھی کئی ’’تعوّذات‘‘ سکھائے ہیں، یعنی وہ دعائیں جن
میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی گئی ہے… نظر سے حفاظت کے لیے
یہ چند تعوّذات یاد کرلیں اور ان کو اپنا معمول بنالیں۔
۱ اَعُوْذُ
بِکَلِمَاتِ اللہ التَّآمَّۃِ مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ
وَّہَآمَّۃٍ وَّمِنْ کُلِّ عَیْنٍ لَآمَّۃٍ
ترجمہ: میں اللہ تعالیٰ
کے مکمل کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتا ہوں ہر شیطان اور زہریلے جانور سے اور نظر
لگانے والی آنکھ سے۔ (بخاری)
یہ
وہ مبارک اور طاقتور دعاء ہے جس کا دم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
اپنے محبوب نواسوں حضرت سیّدنا حسن اور حضرت سیّدنا حسین
رضی اللہ عنہما پر فرمایا کرتے تھے، چنانچہ بخاری کی روایت
ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ان دونواسوں کو ان کلمات کے
ذریعہ پناہ دیا کرتے تھے۔
اُعِیْذُ
کُمَا بِکَلِمَاتِ اللہ التَّآمَّۃِ مِنْ کُلِّ شَّیْطَانٍ
وَّہَآمَّۃٍ وَّمِنْ کُلِّ عَیْنٍ لَا ٓمَّۃٍ
ترجمہ: میں
تم دونوں کو ہر شیطان اور زہریلے جانور اور ہر لگ جانے والی نظر
سے اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کے ذریعہ پناہ میں دیتا ہوں۔
(بخاری)
اور
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حضرت ابراہیم
خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی انہی کلمات کے ذریعہ
حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق علیہما الصلوٰۃ والسلام کو پناہ دیتے تھے۔ (بخاری)پس
یہ دعاء صبح شام تین بار پڑھ لی جائے یا زیادہ جس قدر دل چاہے… اور اپنے بچوں کو
بھی اس کادم کیا جائے… بچوں کے لیے دعاء کے پہلے لفظ میں تبدیلی ہوگی… مثلاً ایک
بچہ ہو تو ’’اُعِیْذُکَ‘‘ … دو ہوں تو ’’اُعِیْذُ کُمَا‘‘ اور زیادہ ہوں تو
’’اُعِیْذُکُمْ‘‘ پڑھ لیں…
اور
اپنے لیے اس طرح پڑھیں جیسے اوپر درج ہوا … اَعُوْذُ
بِکَلِمَاتِ اللہ … الخ
وصلی اللہ تعالیٰ
علیٰ خلقہ سیّدنا محمد وآلہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
نے ایک اور ’’فرعون‘‘ کو غرق فرمادیا… و الحمدللہ رب العالمین…
ظاہری
طور پر ’’پرویزمشرف‘‘ زندہ ہے… مگر کیسی زندگی؟… ایک ایک لمحہ ذلت، ایک ایک لمحہ
عذاب… دنیا ہی میں سب یار، دوست ساتھ چھوڑ گئے… نہ کوئی یار رہا نہ کوئی مددگار…
اقتدار کے آخری زمانے میں اس نے کس کس کو پکارا… مگر کوئی مدد کے لیے نہ آیا۔
اب
دیکھیں ’’فرعون‘‘ کی لاش کا کیا بنتا ہے؟… مختلف باتیں ہیں اور مختلف قیاس آرائیاں
… عبرت، عبرت، عبرت… ظالموں کے لیے، کافروں کے یاروں کے لیے اور غیر
اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کے لیے… عبرت، عبرت عبرت ہے… کل جب وہ اپنے
استعفیٰ کی تقریر کر رہا تھا تو اس کے عبرتناک انجام پر دل خوف سے لرز گیا… کیسی
بے بسی تھی اور کیسی بے چارگی… اللہ پاک کا قہر اپنی ایک
جھلک دکھا رہا تھا… قیامت کے دن اس ’’قہر‘‘ کا کیا عالم ہوگا… جب ایک ہی آواز آرہی
ہوگی…
لمن
الملک الیوم… اللہ الواحد القہار… آج کس کی بادشاہت ہے؟… کسی کی نہیں …
ایک اللہ کی، ایک اللہ کی جو قہار
ہے… بہت قہر والا…
یا اللہ آپ
کے ’’قہر‘‘ سے آپ ہی کی پناہ چاہتا ہوں… اور آپ کی رحمت کا طلبگار اور بھکاری ہوں
… مبارک ہو اُمت مسلمہ کو… مبارک ہو پرویزی دور میں شہید ہونے والے مظلوموں کو…
مبارک ہو مجاہدین اسلام کو… مبارک ہو ان مظلوم قیدیوں کو جن کو بیچ دیا گیا… ہاں
بے شمار مبارک ہو… مبارک اس بات کی کہ دعائیں قبول ہوئیں ہیں،
اور اللہ تعالیٰ نے رحمت کی نظر فرمائی ہے… معلوم ہوا کہ
دعائیں اس زمانے میں بھی اوپر جاتی ہیں، اور قبولیت کا تاج پہن کر واپس آتی ہیں…
اس لیے مایوسی کی گنجائش نہیں ہے… کافروں کی طاقت کے سامنے سر جھکانے کی گنجائش
نہیں ہے…
اللہ تعالیٰ
ایمان والوں کا یار ومددگار ہے… ملا محمد عمر الحمدللہ اسی
شان سے موجود ہیں مگر ’’پرویز‘‘ کے پر ٹوٹ گئے … جہاد پہلے سے زیادہ مضبوط ہے جبکہ
جہاد کا دشمن منہ چھپانے کی جگہ ڈھونڈ رہا ہے… جیش محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کا قافلہ عشق ووفا کے راستے پر الحمدللہ مکمل وقار سے
چل رہا ہے… جبکہ اس پر پابندی لگانے والا ہر عزت اور وقار سے محروم ہوچکا ہے و
الحمدللہ رب العالمین…
بنی
قریظہ کے کٹتے سر
آج
سے چھ سا ت سال پہلے ایک ’’صاحب‘‘ مجھ سے ملنے آئے تھے… ہماری جماعت پر پابندی لگ
چکی تھی اور وہ مجھے ’’ٹھنڈا رہنے‘‘ کی تلقین کر رہے تھے… ان سے عرض کیا تھا کہ
ملک پر یہودی تنظیم ’’فری میسن‘‘ کا قبضہ ہوچکا ہے… یہ پاکستان کو ختم کرنے کا
کھیل ہے… عنقریب حکومت اور عوام کو لڑایا جائے گا… طارق عزیز (پرویز مشرف کا خاص
سیکریٹری) اور بیگم صہبا مشرف بہت مشکوک ہیں… معلوم نہیں ان میں سے ’’فری میسن‘‘
کا اصل نمائندہ کون ہے مگر پرویز مشرف اس کے ہاتھ کا کھلونا ہے… انہوں نے یہ باتیں
حیرت کے ساتھ سنیں اور شاید یقین نہیں کیا… پھر آہستہ آہستہ یہ ملک مسلمانوں کی
’’قتل گاہ‘‘ بنتا چلا گیا… وزیرستان سے جنگ شروع ہوئی اور پورے ملک میں پھیل گئی…
پاکستان کے کئی اداروں کے بڑے افسروں کو امریکہ کی باقاعدہ ملازمت میں دے دیا گیا…
سٹی بینک کے منیجر کو ملک کا وزیر اعظم بنایا گیا… اور ایٹمی تنصیبات تک کا اس سے
معائنہ کرایا گیا… انڈیا کو پاکستان میں کھلا ہاتھ دے دیا گیا… بلوچستان کو میدان
جنگ بنادیا گیا… کراچی سے لیکر لال مسجد تک راسخ العقیدہ علماء اور مسلمانوں کا
قتل عام کیا گیا … دین اسلام کو بدلنے کے لیے ’’غامدی ازم‘‘ اور ’’صوفی ازم‘‘ کا پرچار
کیا گیا… ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو زندہ درگور کیا گیا… یہ ایک لمبی فہرست ہے، میں
نے وہ چند باتیں عرض کی ہیں جو بنیادی ہیں… اور جن کی بناء پر اس ملک کو توڑا
جاسکتا تھا… ’’فری میسن‘‘ اسی طریقے سے کام کرتی ہے… اور وہ پاکستان کے خلاف ساٹھ
سال سے برسرپیکار ہے… مگر اللہ تعالیٰ موجود
ہے… اللہ تعالیٰ ایک ہے وحدہ لاشریک لہ… اس نے شہداء کرام
کے خون کی لاج رکھی اور فری میسن کے مہروں کو کمزور کردیا…
بندہ
نے یہ کالم گذشتہ کل لکھنا تھا… القلم والے کہتے ہیں کہ ہمیں ’’پیر‘‘ کے دن تک
کالم دے دیا کریں… چنانچہ وہ کل گھنٹیاں بجاتے رہے… بندہ کے لیے بھی ممکن تھا کہ
نظربد کا علاج لکھ کر بھجوادیتا… مگر حالات تیزی سے بدل رہے تھے… آج کالم لکھنے سے
پہلے کچھ دیر کے لیے سو گیا… خواب میں دیکھا کہ کچھ لوگ غزوہ بنی قریظہ کا نقشہ
پیش کر رہے ہیں… وہ اوپر کی منزل سے اڑتے ہوئے نیچے میدان میں اترتے ہیں اور وہاں
کھڑے ہوئے یہودیوں کے سر تلواروں سے اڑاتے ہیں… معلوم نہیں یہ خواب تھا یا خیال
مگر دل خوش ہوا… یہودی ’’نیوورلڈآرڈر‘‘ کے ذریعہ مسلمانوں کے مکمل خاتمے کا خواب
دیکھ رہے ہیں… جبکہ سعدی فقیر ان کی اڑتی گردنوں کو خواب میں دیکھ رہا تھا… خواب
دیکھنے سے کون روک سکتا ہے؟… پرویز مشرف کا رُسوا ہو کر جانا… یہودیوں کی گردنوں
کا اڑنا ہے… اللہ کرے اب اہل پاکستان کو اچھے حکمران نصیب
ہوجائیں… ہمارے مسلمان دن رات اپنوں کی بمباری سے شہید اور بے گھر ہو رہے ہیں…
ہماری فوج دن رات ماری جارہی ہے… ہمارے خفیہ ادارے کافروں کے ملازم اور جاسوس بنے
ہوئے ہیں… الغرض جہنم کی آگ ہے جس کے کنارے پر اس ملک کو پرویز مشرف نے لا کھڑا
کیا ہے… مسلمان کو ناحق قتل کرنا ’’جہنم‘‘ ہے… کافروں کی خاطر جاسوسی کرنا
’’جہنم‘‘ ہے… امریکی مفادات کے لیے جان قربان کرنا ’’جہنم‘‘ ہے… علاقائیت اور
لسانیت کی خاطر مرنا اور مارنا ’’جہنم‘‘ ہے… یہی وہ آگ کی لکیر ہے جس پر پرویز
مشرف نے پاکستان کو کھڑا کردیا ہے… اب اگر ہم نے اسی پالیسی پر ایک قدم بھی آگے
بڑھایا تو یہ ملک یہودیوں کی ’’نظربد‘‘ کا شکار ہوجائے
گا… اللہ پاک کی امان… فوج کو، حکمرانوں کو اور عوام کو
سوچنا چاہئے… اور جہنم کی لکیر سے پیچھے ہٹ کر ایمان، اسلام، جہاد اور جنت کی طرف
چلنا چاہئے… نواز شریف، زرداری اور دوسرے لیڈران غیر ملکی دورے کم کریں… ایسا نہ
ہو کہ وہ بھی یہودیوں کے ہاتھوں خرید لیے جائیں…
اللہ تعالیٰ
پر توکّل
اللہ تعالیٰ
نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم صرف اسی پر ’’توکّل‘‘ اور بھروسہ کریں… یہ حکم قرآن پاک
میں بار بار دیا گیا ہے… حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی فرعون اور پھر
’’جبابرہ‘‘ کے مقابلے میں بنی اسرائیل کو ’’توکّل علی اللہ ‘‘ کا حکم
دیا… حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ
علیہم اجمعین کو باقاعدہ ’’توکّل‘‘ سکھایا اور اسلام کا پہلا معرکہ ’’غزوۂ بدر‘‘
توکّل ہی کے زور پر لڑا گیا… جی ہاں نہ افرادی طاقت تھی اور نہ جنگی سازو سامان
بس اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ تھا… اور اسی کو ’’توکّل‘‘
کہتے ہیں … پرویز مشرف چلا گیا… ممکن ہے اس کے بعد حالات میں بہتری ہو… اور یہ بھی
ممکن ہے کہ حالات فی الحال پہلے جیسے رہیں… بہرحال جو صورت بھی ہو
ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ جڑے رہیں… اور ہر حال میں اسی پر
توکّل کریں… اسرائیل ہو یا فری میسن یہ سب مچھروں کی طرح کمزور ہیں… اور امریکہ
’’بے چارہ‘‘ تو موت کی طرف تیزی سے دوڑ رہا ہے… ہم زندگی میں
بھی اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں اور مرنے کے بعد
بھی اللہ تعالیٰ ہی کے محتاج ہیں… امریکہ اور اسرائیل نہ تو
دنیا میں موت، زندگی اور عزت اور ذلت کے مالک ہیں… اور نہ یہ مرنے کے بعد ہمیں
کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں… امریکہ کے تمام ایٹمی میزائل مل کر بھی عذاب قبر کے
ایک سانپ یا بچھو کو ہلاک نہیں کرسکتے۔ اس وقت دنیا میں کافروں کی جو طاقت نظر
آرہی ہے وہ ان کی طاقت نہیں بلکہ مسلمانوں کی غفلت ہے… ہم اگر آج ایمان اور جہاد
کی طرف لوٹ آئیں تو صرف تیس سال کے عرصے میں دنیا میں مسلمانوں کے علاوہ کسی کی
قابل ذکرحکومت ہی نہیں رہے گی… قرآن پاک نے ہمیں سمجھایا ہے کہ میدان جہاد میں
یہودی تمہارا مقابلہ نہیں کرسکتے… یہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے… مسلمانوں نے
میدان جہاد تو چھوڑ دیا… اور ’’معیشت‘‘ کے میدان میں یہودیوں کا مقابلہ کرنے آگئے…
یقین جانیں اس میں مسلمانوں کو شکست ہوگی… یہ جو اسلامی بینک بنا بنا کر اسلام کی
خدمت کر رہے ہیں وہ بے چارے اسلام کو کچھ نہیں دے سکیں گے… یہودیوں نے امریکہ کے
زور پر ہر جگہ مسلمانوں کو دبا یا مگر جب جہاد کا میدان آیا تو یہاں سے یہودیوں
اور امریکیوں کے تابوت ان کے ملکوں میں روانہ ہو رہے ہیں …
اور الحمدللہ شرعی جہاد میں جڑنے والے مسلمان یہودیوں کی ہر
سازش سے محفوظ رہے ہیں… ہم مسلمانوں کو چاہیے کہ پرویز مشرف کے زوال کو دیکھ کر
… اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کریں… اور اس کی قوت اور طاقت
پر دل سے ایمان لے آئیں… ایک ایسا شخص جس کے ساتھ امریکہ کی مکمل حمایت تھی… فری
میسن نے اس کو پروان چڑھایا تھا… دنیا بھر کے یہودی خزانے اس کے لیے کھلے ہوئے
تھے… درجنوں ممالک کا خونی اتحاد ’’نیٹو‘‘ جس کے ساتھ تھا… انڈیا نے جسے اپنی غیر
مشروط حمایت کا یقین دلایا ہوا تھا… اور صدر بش نے جس کے بارے میں کہا تھا کہ وہ
میرا دوست ہے… وہ شخص کس قدر ذلت اور بے بسی کے ساتھ زندہ مارا گیا
ہے… اللہ اکبر کبیرا… کیا اب بھی
ہم اللہ تعالیٰ پر توکّل نہ کریں… بے شک ایمان
والے اللہ تعالیٰ ہی پر توکّل کرتے ہیں…
یاروں
کی لڑائی
ایک
شخص اپنی ’’محبوبہ‘‘ کے ساتھ جارہا تھا… ایک اللہ والا فقیر
اپنی لاٹھی لیے وہاں گھوم رہا تھا… معلوم نہیں اس کے دل میں کیا آیا کہ اس نے زمین
پر کھڑے پانی میں اپنی لاٹھی ماری… پانی اور کیچڑ کے چھینٹے اڑے اور ’’محبوبہ‘‘ کے
کپڑے خراب ہوگئے… اس کے عاشق کو غصہ آیا اور اس نے فقیر کو دوچار تھپڑ مار دیئے…
فقیر تو تھپڑ کھا کر ایک طرف ہوگیا مگر وہ شخص جس نے تھپڑ مارے تھے زمین پر گر کر
تڑپنے لگا… اس کے سینے اور پیٹ میں سخت تکلیف ہو رہی تھی اور وہ مچھلی کی طرح تڑپ
رہا تھا… لوگ جمع ہوگئے، اس کو سنبھالنے لگے تو ایک ’’قلندر‘‘ نے آواز لگائی… ارے
لوگو! ہٹ جاؤ یہ یاروں کی لڑائی ہے اس میں نہ پڑو… لوگوں نے پوچھا وہ کس طرح؟… اس
نے کہا اس شخص کی محبوبہ پر چھینٹے پڑے تو اسے غصہ آیا اس نے فقیر کو مارا… جب
فقیر کو مار پڑی تو اس کے محبوب کو غصہ آیا اس نے اس شخص کو لٹا دیا… اس لیے یاروں
کی اس لڑائی میں تم نہ پڑو… صدر بش نے کہا پرویزمشرف میرا یار ہے… پرویز مشرف نے
اپنے یار کی خاطر طالبان کو مارا، مجاہدین کو مارا، لال مسجد والوں کو مارا کہ یہ
بش کو تکلیف کیوں دیتے ہیں؟… جب مجاہدین کو مار پڑی تو ان کے محبوب مالک کو غصہ
آیا اس نے پرویزمشرف کو زندہ مار دیا اور بے وفا بش اپنے یار کی مدد کو بھی نہ
آیا… ویسے آ بھی جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کی کیا
چلتی تھی… اللہ پاک نے ’’منافقین‘‘ کے بارے میں ارشاد
فرمایا:
قل
من ذا الذی یعصمکم من اللہ ان اراد بکم سوأً او اراد بکم
رحمۃ ولا یجدون لہم من دون اللہ ولیا ولا نصیرا۔ (الاحزاب۱۷)
اس
آیت مبارکہ کا خلاصہ یہ ہے کہ:
۱ اگر
منافقین کا یہ گمان ہے کہ ان کے قلعے، محلات یا کافروں سے یاری ان کو بچا سکتی ہے
تو ان کو بتادیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور قوت کے
سامنے کسی کی کچھ نہیں چلتی وہ اگر تمہیں قتل، شکست یاذ لت میں ڈالنا چاہے تو کوئی
اس کو روک نہیں سکتا اور اگر تم پر اپنا فضل فرمانا چاہے تو کوئی اس میں رکاوٹ
نہیں ڈال سکتا۔ یاد رکھو جو اللہ تعالیٰ سے کٹ جائے گا وہی
بے یار ومددگار رہ جائے گا۔ (فتح الجوّاد جلد سوم غیر مطبوعہ)
۲ منافقین
کا ہر دور میں یہی نعرہ ہوتا ہے کہ ہم ساری دنیا سے کٹ کر کیسے زندگی گزاریں؟ اگر
ہم جہاد کریں یا جہاد کی بات کریں تو ہم کافروں کی عالمی برادری سے کٹ جائیں گے تو
پھر ہم دنیا میں کیسے رہیں گے؟… اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے
سمجھادیا کہ ساری دنیا کے کافروں سے کٹ کر زندہ رہنا اور زندگی گزارنا ممکن ہے
مگر اللہ تعالیٰ سے کٹ کر کامیاب ہونا ناممکن ہے… موت،
زندگی، نفع، نقصان اور عزت وذلت کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے
اس لیے اللہ تعالیٰ سے جڑنے کی فکر کرو، وہی مددگار ہے، وہی
کارساز ہے… اور اللہ تعالیٰ سے کٹ کر ساری دنیا سے جڑنے کا
منافقانہ شوق دل سے نکال دو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نہ چاہے تو
ساری دنیا مل کر تمہیں کوئی نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتی… (فتح الجوّاد جلد سوم
غیر مطبوعہ)
اہل
وفا کو سلام
پرویز
مشرف نے سب سے پہلے جس جماعت کے خلاف بیان دیا وہ ’’جیش محمد
صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ تھی… اس وقت نائن الیون کا واقعہ نہیں
ہوا تھا… افغانستان پر امارت اسلامیہ قائم تھی اور ’’جیش‘‘ پر بھی کوئی پابندی نہ
تھی… ایک دن اخبار اٹھایا تو اس کی بڑی سرخی ’’پرویز مشرف‘‘ کا جیش
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بیان تھا کہ… جیش والے لڑکیوں کو نیکر
پہننے سے روکتے ہیں اور مردوں کو داڑھیاں رکھواتے ہیں… ان کا یہ طرز عمل غلط ہے…
پورا بیان تو یاد نہیں بس خلاصہ یہی ہے جو عرض کردیا… بندہ نے یہ بیان پڑھا تو
کافی غصہ آیا فوراً پرویز مشرف کے دفتر فون ملایا… وہاں اس وقت مرحوم جنرل غلام
محمد جنرل مشرف کے چیف آف اسٹاف تھے… ان سے بات ہوئی بندہ نے ان سے کہا کہ یہ
مسلمانوں کا ملک ہے جنرل صاحب کیسے الٹے بیانات دے رہے ہیں؟… انہوں نے کہا میں نے
بیان نہیں دیکھا، دیکھ کر جنرل صاحب سے بات کرتا ہوں… اور آپ کی بھی بات کراتا
ہوں… بندہ نے کہا مجھ سے بات کرانے کی ضرورت نہیں ہے بس ان کو اتنا بتادیں کہ
زیادہ دشمن نہ بنائیں اور اسلامی روایات کا خیال رکھیں…
یہ
تو تھا پہلا معرکہ… پھر وقت کے ساتھ ساتھ پرویز مشرف کی ’’جیش‘‘ کے ساتھ دشمنی
بڑھتی ہی چلی گئی… وہ جیش کی کیسٹیں منگواتے تھے ان کو سنتے تھے اور پھر سخت تبصرے
اور احکامات جاری کرتے تھے… ۲۰۰۲ء
میں انہوں نے ’’جیش‘‘ پر پابندی لگادی… اور اس کے کچھ عرصہ بعد یہ حکم جاری کیا کہ
اس جماعت کا نام ونشان مٹادیا جائے… انہیں دنوں ’’جیل‘‘ میں ایک فوجی افسر سے
ملاقات ہوئی… انہوں نے بتایا کہ اب آپ لوگوں کا کام کرنا اور باقی رہنا مشکل ہے…
ان سے عرض کیا گیا کہ انشاء اللہ پرویز مشرف بھی نہیں رہے
گا… آپ لوگ بھی چلے جائیں گے… جیش انشاء اللہ کام کرتی رہے
گی… انہوں نے حیرت سے پوچھا کہ کس طرح؟… عرض کیا کسی نے ابھی خواب دیکھا ہے کہ
مسجد نبوی شریف میں اعلان ہو رہا ہے کہ جیش کام کرتی رہے گی…
پھر الحمدللہ ایسا ہی ہوا…
صرف اللہ تعالیٰ کے بھروسے اور اس کی نصرت سے ’’جیش‘‘ گرتے
سنبھلتے آگے بڑھتی ہی رہی… پرویز مشرف نے تقریباً ہر حربہ استعمال کیا… قیادت کو
گرفتار کیا… آپس میں پھوٹ ڈلوائی… قیادت کو قتل کرنے کی کوشش ہوئی… اور بہت کچھ
ہوا، عجیب تفصیل ہے مگر یہاں بیان کرنے کی جگہ نہیں… صدر مشرف پر جب قاتلانہ حملے
شروع ہوئے تو اس کا الزام بھی انہوں نے ’’جیش‘‘ پر ڈالا… اور مزید سختی کردی… ادھر
یہ کوشش بھی رہی کہ ’’جیش‘‘ کو اس کے مقاصد سے ہٹا کر ملکی کارروائیوں میں جھونک
دیا جائے… یہ حملہ ’’غیرت‘‘ کے نام پر بار بار ہوا مگر الحمدللہ اہل
وفا اپنے شہداء کے خون کے قطروں پر آگے بڑھتے رہے… اور وہ اس ’’خط مستقیم‘‘ سے
دائیں بائیں نہیں پھسلے… اللہ تعالیٰ کے شکر کا حق ادا کرنا ممکن ہی
نہیں ہے… کیونکہ اسی پابندی کے عرصے میں ’’جیش‘‘
سے اللہ پاک نے وہ کام لیے جو حکومتی طاقت رکھنے والی
جماعتیں بھی نہیں کرسکتیں… الحمدللہ جہاد بھی مضبوط ہوا اور
نظریۂ جہاد بھی… ابھی اسی ماہ میں… پاکستان کے کئی شہروں میں سینکڑوں افراد نے
’’جیش‘‘ کے پیالے میں ’’تفسیر آیات الجہاد‘‘ کا شہد پیا ہے… ہندوستان کی جیلوں میں
دیکھا کہ اکثر قیدی وہ ہوتے ہیں جو اپنی بہوؤں کو کم جہیز لانے پر جلادیتے ہیں…
وہاں اخبار میں یہ خبر بھی چھپی تھی کہ ایک شخص نے اپنی بیٹی کے جہیز میں مٹی کے
تیل کا ایک ٹین بھی دیا… لوگوں نے وجہ پوچھی تو اس نے کہا ممکن ہے اس کے سسرال
والوں کو جہیز پسند نہ آئے تو وہ اس کو جلائیں گے… میں نے ان کی آسانی کے لیے مٹی
کا تیل بھی د یدیا ہے… آج کل جہاد کے نام پر تنظیمیں کھڑی کرنے والوں کی یہی حالت
ہے کہ وہ مجاہدین کو تو آگے بھیج دیتے ہیں… مگر ان کی شہادت یا گرفتاری کے بعد ان
کے اہل خانہ کو زندہ جلنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں… جماعتوں میں ہونے والی آئے دن کی
’’پھوٹ بازی‘‘ نے شہداء کرام کے اہل خانہ کی زندگی مشکل بنادی ہے… ’’جیش‘‘
کو اللہ تعالیٰ نے یہ سعادت بخشی کہ ہر طرح کے حالات میں…
وہ شہداء کرام اور اسیران اسلام کے اہل خانہ کے دروازے تک روٹی اور پانی پہنچاتی
رہی… دفاتر سیل ہوئے … بینک اکاؤنٹ منجمد ہوئے… چھاپوں نے دفاتر کے ریکارڈ کو درہم
برہم کیا… مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ کام جاری
رہا… اللہ پاک اپنے فضل سے آئندہ بھی جاری رکھے…
بارک اللہ
، ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ …
اسی
پابندی کے دور میں… جیش نے محاذوں کو بھی پیاسا نہیں رہنے دیا… اور کاشف شہید جیسے
زمانے کے ابطال … جن کی خون آلود لاش دیکھ کر آسمان بھی جھوم اٹھا ہوگا… میدان
جہاد کے گرجتے بادل بنے رہے…
’’جیش‘‘
نے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے… مسلمانوں کو فتح الجوّاد دی…
درجنوں مساجد دیں… دورہ تربیہ دیا… دورہ اساسیہ دیا… درجنوں مدارس دیئے… اور
پہاڑوں، صحراؤں اور وادیوں تک جہاد کی دعوت پہنچائی … یہ ایک عجیب تاریخ ہے… کوئی
انصاف کرے اور انصاف کے ساتھ غور کرے تو بے اختیار پکار اٹھے گا
کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے، اور وہ ایمان
والوں کا مولیٰ اور مددگار ہے… یہ ایک عجیب داستان ہے کوئی دل سے پڑھے تو اس کے
آنسو نہ رکیں اور وہ ’’شہداء جیش‘‘ کی کراُمت کو سلام کرے… آخر حضرت لدھیانوی شہید
رحمۃ اللہ علیہ کی فراست نے ان کو کچھ دکھایا تھا تو انہوں نے اسی جماعت کی بیعت
میں اپنی جان اللہ تعالیٰ کے سپرد فرمائی…
یہاں
دو باتیں پورے یقین کے ساتھ عرض کرتا ہوں:
۱ ’’جیش‘‘ نے جو کچھ کیا اور جو
کچھ کر رہی ہے یہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہے… اس میں کسی
کی شخصیت کا کوئی دخل نہیں ہے… ہاں بے شک جن لوگوں
کو اللہ پاک نے اس کام کے لیے چنا ہے وہ سعادت مند لوگ
ہیں… اللہ پاک ان سب کی محنتوں کو قبول فرمائے
۲ ’’جیش‘‘ کی آٹھ سالہ تاریخ اپنی جگہ… حیرت انگیز
کامیابیاں اپنی جگہ… شہداء کرام کی عجیب کرامات اپنی جگہ… ان سب
پر اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر … مگر عجیب ترین
بات اللہ تعالیٰ کا وہ احسان ہے جو اس جماعت کے ’’اہل وفا‘‘
پر ہوا… ان فقیروں، دیوانوں کو توڑنے کے لیے کون سی کوشش ہے جو نہیں ہوئی…
الزامات،تہمتیں، دھکّے اور ہر طرح کا دباؤ… ایجنسیوں کے ایجنٹ… کیش والے، جہاد کے
نام پر مال بنانے والے… اور نعوذباللہ جہاد سے منہ موڑنے والے… جھوٹی
تحریریں، فتنہ انگیز پمفلٹ، نقلی آنسو… اور جعلی جذبات کے تھپیڑے… مگر اہل وفا ڈٹے
رہے… آج الحمدللہ ان کی جھولی بھری ہوئی ہے… دشمن پسپائی کی
طرف جارہا ہے… اور انشاء اللہ حوروں کی بانہیں ان کی منتظر
ہیں… پرویز مشرف کے جانے کی مبارکباد… انہیں اہل وفا کو دیتا ہوں… خاص مبارک… جن
کی استقاُمت نے فرعون کو ذلت کے سمندر میں لا پھینکا… قاتلانہ حملوں، طرح طرح کے
فتنوں، حکومتی چھاپوں اور شیطانی مکر وفریب کے مقابلے میں … ڈٹ کر جماعت، بیعت اور
جہاد کی آبرو رکھنے والو… اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا آخرت میں
کامیابی دے، عزت دے… اور تمہیں اپنی خاص محبت عطاء فرمائے… تم
نے اللہ تعالیٰ کی خاطر اس دور میں… اسلام، جہاد، جماعت،
اور بیعت کی قدر کی… اللہ پاک تمہاری محنتوں کو قبول فرمائے
اور تمہیں دنیا، آخرت میں اتنا کچھ دے کہ تم یہاں بھی خوش رہو… اور وہاں بھی خوش
رہو… آمین یا ارحم الراحمین…
وصلی اللہ تعالیٰ
علیٰ خیر خلقہ سیّدنا محمد وآلہ واصحابہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
کے نام اور کام میں مسلمانوں کے لیے کامیابی ہے… ہم دن
رات اللہ تعالیٰ کے نام اور اس کے کام میں لگے رہیں تو
زندگی قیمتی بن جائے گی… نظربد کا علاج بھی انہیں دو چیزوں میں ہے… خوب دل کی توجہ
سے اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے… اور خوب محنت
سے اللہ تعالیٰ کا بتایا ہوا کام کیا جائے تو… ہر پریشانی
انشاء اللہ دور ہوجائے گی… کئی ہفتے سے ’’نظربد‘‘ کا مضمون
ادھورا رہ جاتا ہے… آج انشاء اللہ اس کو مکمل کرنا ہے…
ملاحظہ فرمائیے ’’نظربد‘‘ کے چند علاج…
اللہ تعالیٰ
کی پناہ
اللہ تعالیٰ
کی پناہ پکڑنا… اللہ تعالیٰ کے طاقتور کلمات کے ذریعے
سے اللہ تعالیٰ کی امان اور پناہ میں آنا یہ سب سے اہم علاج
ہے… کچھ ’’تعوُّذات‘‘ کا بیان ہوچکا تھا آج مزید دو دعائیں بیان کی جارہی ہیں… یاد
رہے کہ احادیث مبارکہ میں ’’تعوّذ‘‘ کی بہت سی دعائیں وارد ہوئی ہیں…
۱ أَعُوْذُ
بِکَلِمَاتِ اللہ التَّآمَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقْ
ترجمہ: میں اللہ تعالیٰ
کے مکمل کلمات کے ذریعہ پناہ پکڑتا ہوں اس کی تمام مخلوق کے شر سے۔ (صحیح مسلم)
یہ
دعاء صبح شام تین تین بار پڑھ لی جائے…
۲ أَعُوْذُ
بِکَلِمَاتِ اللہ التَّآمَّاتِ الَّتِیْ لَا
یُجَاوِزُہُنَّ بَرٌّ وَّلَا فَاجِرٌ مِّنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَذَرَأَ وَبَرَأَ
وَمِنْ شَرِّ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآئِ وَمِنْ شَرِّ مَا یَعْرُجُ
فِیْہَا وَمِنْ شَرِّ مَا ذَرَأَ فِیْ الاَْرْضِ وَمِنْ شَرِّ مَا یَخْرُجُ
مِنْہَا وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَمِنْ شَرِّ طَوَارِقِ
اللَّیْلِ اِلاَّ طَارِقًا یَّطْرُقُ بِخَیْرٍ یَا رَحْمٰنُ
ترجمہ: میں اللہ تعالیٰ
کے مکمل کلمات کے ساتھ جن سے کوئی نیک اور بد تجاوز نہیں کرسکتا پناہ مانگتا ہوں
ہر اس چیز کے شر سے جسے اس نے پیدا کیا ،بنایا اور پھیلادیا اور ان چیزوں کے شر سے
جو آسمان سے اترتی ہیں اور چڑھتی ہیں اور ان چیزوں کے شر سے جو زمین پر پھیلتی ہیں
اور اس سے نکلتی ہیں اور رات دن کے فتنوں کے شر سے اور رات کو آنے والوں کے شر سے
مگر وہ جو بھلائی کے ساتھ آئے، اے بڑے مہربان… (زادالمعاد ص۱۳۳)
مسند
احمد میں اس سے ملتی جلتی دعاء کے بارے میں ایک قصہ لکھا ہے کہ ایک رات شیاطین نے
پہاڑوں اور وادیوں سے نکل کر رسو ل اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم پر حملہ کردیا تھا… وہ آگ کے شعلوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم
کو تکلیف پہنچانا چاہتے تھے… اچانک حضرت جبرئیل علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لائے
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعاء سکھائی… آپ صلی اللہ
علیہ وسلم نے دعاء پڑھی تو تمام شیاطین بھاگ گئے اور ان کی آگ بجھ گئی…
علامہ
ابن قیمپ ان ’’تعوّذات‘‘ کو لکھنے کے بعد فرماتے ہیں کہ
جس
نے ان ’’تعوّذات‘‘ کا تجربہ کیا ہے وہی جانتا ہے کہ ان کے کتنے زیادہ فوائد ہیں…
اور ہم ان دعاؤں کے کتنے محتاج ہیں…
یہ
دعائیں نظربد سے حفاظت بھی کرتی ہیں… کہ ان کو پڑھنے والا نظر سے محفوظ رہتا ہے…
اور اگر نظر لگ چکی ہو تو یہ دعائیں اس کے اثر کو ختم کردیتی ہیں… ان دعاؤں کی
تأثیر میں اضافہ دعاء پڑھنے والے کی قوت ایمانی، مضبوطی، استعداد، دل کی طاقت اور
توکَل سے ہوتا ہے… کیونکہ یہ دعائیں ’’اسلحہ‘‘ کی طرح ہیں… اور اسلحہ کو چلانے
والا جس قدر ماہر، مضبوط اور طاقتور ہو اسی قدر وہ اسلحہ زیادہ مؤثر ہوجاتا ہے۔
(زاد المعاد ص۱۳۵)
پس
بہت یقین اور توجہ کے ساتھ ان تعوّذات کو اپنا معمول بنانا چاہیے۔
حضرت
جبرئیل علیہ السلام کا دم
۱ صحیح
مسلم کی روایت ہے:
حضرت
جبرئیل علیہ الصلوٰۃ والسلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س
تشریف لائے اور عرض کیا اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا
آپ تکلیف محسوس کر رہے ہیں؟
آپ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جی ہاں۔ تو حضرت جبرئیل ح نے یہ دعاء پڑھی:
بِسْمِ اللہ أَرْقِیْکَ
مِنْ کُلِّ شَیْئٍ یُؤْذِیْکَ وَمِنْ شَرِّ کُلِّ نَفْسٍ وَّعَیْنِ
حَاسِدٍ اللہ یَشْفِیْکَ
بِسْمِ اللہ اَرْقِیْکَ
ترجمہ: اللہ تعالیٰ
کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو تکلیف دے اور ہر نظر حاسد کی
نظر کے شر سے، اللہ تعالیٰ آپ کو شفاء
دے اللہ تعالیٰ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں۔
۲ صحیح
مسلم کی روایت ہے:
ام
المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ارشاد فرماتی ہیں
کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار
ہوتے تو حضرت جبرئیل علیہ السلام اس دعاء سے آپ پر دم کرتے تھے:
بِسْمِ اللہ یُبْرِیْکَ
وَمِنْ کُلِّ دَآئٍ یَشْفِیْکَ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ وَمِنْ شَرِّ
کُلِّ ذِیْ عَیْنٍ(صحیح مسلم)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ
کے نام سے مدد چاہتا ہوں، وہ آپ کو اچھا کرے گا، اور آپ کو ہر بیماری سے شفاء دے
گا اور ہر حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے اور ہر نظر لگانے والے کی نظربد سے (آپ کو
شفاء دے گا)۔
سبحان اللہ …
یہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کا ’’رُقیہ‘‘ ہے، یعنی
’’دَم‘‘ جس سے نظربد کو جھاڑا جاتا ہے… علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ نے انہیں روایات
سے یہ ثابت کیا ہے کہ دم کرنے اور کرانے میں کوئی عیب نہیں ہے…
نظر
بد کا ایک طاقتور علاج
زاد
المعاد میں ہے:
حضرت
ابوعبید اللہ الساجی رحمۃ اللہ علیہ حج یا جہاد کے سفر پر تھے ان کی
’’سواری‘‘ایک بہت عمدہ اونٹنی تھی… ان کے رفقاء سفر میں ایک نظر لگانے والا شخص
تھا… وہ جس چیز کو نظر لگاتا وہ اکثر خراب یا ختم ہوجاتی تھی… ساتھیوں نے ’’شیخ‘‘
سے کہا کہ اپنی اونٹنی کو اس شخص سے بچا کر رکھیں… شیخ نے فرمایا میری اونٹنی کا
کچھ نہیں بگاڑ سکتا… نظر لگانے والے کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ تاک میں لگ گیا کہ
شیخ اپنی اونٹنی سے کب دور ہوتے ہیں… پھر جیسے ہی اس کو موقع ملا اس نے اونٹنی کو
دیکھا تو نظر لگا دی… وہ اونٹنی تڑپ کر گرگئی… شیخ کو پتا چلا تو اس نظر لگانے کو
ڈھونڈا اور اس کے سامنے یہ دعاء پڑھی:
بِسْمِ اللہ حَبْسٌ
حَابِسٌ وَحَجَرٌ یَابِسٌ وَشِہَابٌ قَابِسٌ رَدْدْتُ عَیْنَ الْعَآئِنِ عَلَیْہِ
وَعَلٰی أحَبِّ النَّاسِ اِلَیْہِ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ہَلْ تَرٰی مِنْ فُطُوْر۔
ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْکَ الْبَصَرَ خَاسِئًا
وَہُوَ حَسِیْر۔
شیخ
کا یہ دعاء پڑھنا تھا کہ نظر لگانے والے کی آنکھیں باہر نکل پڑیں اور اونٹنی ٹھیک
ٹھاک ہو کر کھڑی ہوگئی (زادالمعاد ص۱۳۸ج۴)
نظربد
کا ایک قرآنی علاج
پاک
پانی پر سورۃ القلم کی آخری دو آیات سات بار پڑھیں اور ہر مرتبہ پڑھ کر دم کریں…
مریض اس پانی کے نو گھونٹ پیئے اور ہر گھونٹ پیتے وقت
’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ پڑھے… باقی پانی کسی بالٹی یا
برتن میں ڈال کر اس میں اور پانی ملالے اور پورے جسم پر بہالے… انشا
ء اللہ سخت سے سخت نظر بھی دور ہو جائے گی… یہ دم جانوروں
پر بھی کیا جاسکتا ہے… جن لوگوں کو زیادہ نظر لگتی ہو وہ ان آیات کو روزانہ سات
بار پڑھ لیا کریں… اور اپنے اوپر دم کرلیا کریں…
نظر
بد دور کرنے والی ایک مسنون دعاء
حصن
حصین میں ہے:
جس
کو نظر لگ جائے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
کے اس قول مبارک سے جھاڑے:
بِسْمِ اللہ اَللّٰہُمَّ
أَذْہِبُ حَرَّہَا وَبَرْدَہَا وَوَصْبَہَا
ترجمہ: اللہ تعالیٰ
کے نام پر، اے اللہ اس نظر بد کے گرم و سرد کو اور دکھ درد
کو دور کردے۔
اس
کے بعد کہے:
قُمْ
بِإِذْنِ اللہ
ترجمہ: اللہ تعالیٰ
کے حکم سے کھڑا ہوجا۔(حصن حصین ص۲۳۱)
جانور
کو نظر بد لگنے کے وقت کی دعاء
حصن
حصین میں ہے:
اگر
کسی چوپائے کو نظر بد لگی ہو تو اس کے دائیں نتھنے میں چار مرتبہ اور بائیں نتھنے
میں تین مرتبہ یہ پڑھ کر پھونکے:
لاَ
بَأْسَ أَذْہِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، إِشْفِ أَنْتَ الشَّافِیْ لاَ یَکْشِفُ
الضُّرَّ اِلاَّ أَنْتَ
ترجمہ: کوئی
ڈر نہیں، دور کردے دکھ، بیماری اے لوگوں کے پروردگار، شفاء دیدے، تو ہی شفاء دینے
والا ہے تیرے سوا کوئی دکھ تکلیف کو دور نہیں کرسکتا۔ (حصن حصین ص۲۳۱)
اپنی
نظر سے حفاظت
مسند
احمد اور دیگر کتب میں یہ حدیث شریف مذکورہے:
ترجمہ: تم
میں سے کوئی شخص جب اپنے بھائی یا اپنی ذات یا اپنے مال میں سے کوئی ایسی چیز
دیکھے جو اسے اچھی لگے تو اس کے لیے برکت کی دعاء کرے کیونکہ نظر (لگ جانا) حق ہے۔
(مسند احمد، زادالمعاد)
معلوم
ہوا کہ برکت کی دعاء کرنے سے اپنی نظر خود کو یا کسی اور کو نہیں لگتی…
علامہ
جزری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
جب
اپنی ذات اور مال وعیال کی… یا کسی دوسرے کی کوئی اچھی اور پسندیدہ حالت دیکھے تو
کہے:
اَللّٰہُمَّ
بَارِکْ فِیْہِ
یا اللہ تو
اس میں اور برکت دے۔ (حصن حصین ص۲۲۰)
جس
آدمی کو اپنی نظر لگنے کا خود یا کسی اور کو خطرہ ہو تو وہ ان الفاظ سے اپنی نظر
کے شر کو دور کرے:
اَللّٰہُمَّ
بَارِکْ عَلَیْہِ
’’یا اللہ اس
پر برکت عطاء فرما‘‘
کیونکہ
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کو
جب انہوں نے حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو نظر لگادی، فرمایا کہ تم نے ان کے
لیے برکت کی دعاء کیوں نہیں کی؟ (زادالمعاد ص۱۳۵ ج۴)
پس
جس آدمی کو مثلا اپنے ناخن خوبصورت لگیں … یا شیشہ دیکھتے ہوئے اپنا چہرہ اچھا
لگے… یا اپنی کوئی صفت یا عادت اچھی لگے تو وہ فوراً برکت کی دعاء کرے… اسی طرح
اپنی اولاد کو اور دوسرے لوگوں کی خوبیوں کو دیکھ کر بھی یہی دعاء کرے:
اَللّٰہُمَّ
بَارِکْ فِیْہِ … اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلَیْہِ
اور
اس دعاء کو مزید طاقتور بنانے کے لیے اگر یہ الفاظ بھی ساتھ ملا لے تو
انشاء اللہ بہت فائدہ ہوگا:
مَا
شَائَ اللہ لَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِ اللہ
حضرت
عروہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ جب وہ کسی ایسی چیز کو دیکھتے جو انہیں
اچھی لگتی یا اپنے باغات میں تشریف لے جاتے تو کہتے:
مَا
شَائَ اللہ لَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِ اللہ (زاد
المعاد ص۱۳۵ ج۴)
نظر
کا خاص علاج
نظر
بد کا خاص اور تیر بہدف علاج وہ ہے جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے
تلقین فرمایا کہ نظر لگانے والا غسل کرے اور اپنے غسل سے گرنے والا پانی اس پر ڈال
دے جس کو نظر لگائی ہے… علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے اس علاج کی افادیت پر بہت
تفصیل سے لکھا ہے اور فرمایا ہے کہ جو شخص اس علاج میں شک کرتاہے اس کو فائدہ نہیں
پہنچتا۔(زادالمعاد ص۱۳۶ج۴)
اس
کی ایک صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ نظر لگانے والا وضو کرے اور وضو سے گرنے والا
پانی جمع کرکے اس پر ڈال دے جس کو نظر لگی ہو…
رُقیہ
الٰہی
علامہ
ابن قیمپ نے نظربد کے علاج میں ایک مسنون دعاء لکھی ہے اور اس کو ’’رُقیہ
الٰہی‘‘یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکھایا ہوا ’’دَم‘‘ قرار
دیا ہے…
حضرت
ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم
میں سے جس کو کوئی تکلیف ہو یا اس کا بھائی کسی تکلیف میں مبتلا ہوجائے تو اسے
چاہئے کہ یہ دعاء پڑھے:
رَبَّنَا اللہ الَّذِیْ
فِیْ السَّمَآئِ تَقَدَّسَ أسْمُکَ أَمْرُکَ فِیْ السَّمَآئِ وَالأْرْضِ کَمَا
رَحْمَتُکَ فِیْ السَّمَآئِ فَاجْعَلْ رَحْمَتَکَ فِیْ الاَْرِضِ وَاغْفِرْلَنَا
حُوْبَنَا وَخَطَایَانَا اَنْتَ رَبُّ الطَّیِّبِیْنَ أَنْزِلْ رَحْمَۃً مِّنْ
رَحْمَتِکَ وَشِفَآئً مِّنْ شِفَآئِکَ عَلٰی ہَذَا الْوَجْعِ
ترجمہ: اے
ہمارے پروردگار ’’ اللہ ‘‘ جو آسمان میں ہے تیرا نام مقدس ہے تیرا حکم
آسمان اور زمین میں ہے جس طرح تیری رحمت آسمان میں ہے اسی طرح زمین میں اپنی رحمت
نازل فرما اور ہمارے گناہوں اور خطاؤں کو معاف فرمادے تو ہی پاک لوگوں کا پروردگار
ہے، اپنی طرف سے رحمت نازل فرما اور اپنی شفاء سے شفاء نازل فرما اس تکلیف پر۔
پس
یہ دعاء پڑھتے ہی اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہ مریض ٹھیک
ہوجائے گا ۔ (ابوداؤد)
کمالات
عزیزی میں ہے:
وَلَا
حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِ اللہ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ
یہ
فقرہ نظربد اور جادو کا ردّ (یعنی توڑ) کرنے میں بہت تأثیر رکھتاہے اور پڑھنے والے
کے گناہ جھاڑ دیتا ہے اور اسی امر کا اشارہ ہے کہ حدیث شریف میںہے ’’لاَ حَوْلَ
وَلاَ قُوَّ ۃَ اِلاَّ بِ اللہ ‘‘ ایک خزانہ ہے جنت کے خزانوں میں سے۔(کمالات
عزیزی ص۱۶۷)
نظربدکا
ایک اور قرآنی علاج
جس
پر نظر لگی ہو اس پر یہ آیات پڑھ کر دم کریں
انشاء اللہ نظربد جاتی رہے گی:
لَخَلْقُ
السَّمٰوٰتِ وَالاَْرْضِ اَکْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ
النَّاسِ لاَ یَعْلَمُوْنَ فَارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْکَ
الْبَصَرَ خَاسِئًا وَّہُوَحَسِیْر۔
ایک
گذارش
الحمدللہ آج
یہ موضوع ایک حدتک مکمل ہوگیا ہے… پچھلے مضامین اور اس کو ساتھ ملا کر پڑھیں گے تو
آپ کو… نظر بد کی حقیقت، اس کے برے اثرات، اس سے حفاظت کے طریقے… اور اس کے علاج
کے بارے میں انشاء اللہ کافی معلومات حاصل ہوجائیں
گی… اللہ تعالیٰ ’’نظربد‘‘ سے ہم سب کی حفاظت فرمائے اور
ہمیں اپنی پناہ نصیب فرمائے…
مقبوضہ
کشمیر کے حالات ان دنوں کافی گرم ہیں… اہل عزیمت نے پھر انگڑائی لی ہے… روزانہ
شہادتیں ہو رہی ہیں… تحریک آزادی کے ایک نامور رہنما شیخ عبدالعزیز صاحب نے بھی
قربانی دی ہے… وہ عسکری کمانڈر تھے تو بچے رہے، اب سیاست میں آئے تو مشرکین کی
گولی سے شہید ہوگئے… بے شک موت کا وقت مقرر ہے اور جہاد میں موت اپنے وقت سے پہلے
نہیں آجاتی… ادھر جموں کے مشرکین مکمل شیطنت پر اترے ہوئے ہیں… پونچھ، ڈوڈہ، اور
کشتواڑ میں ’’مسلم کش‘‘ فسادات ہو رہے ہیں… انڈیا عجیب ملک ہے وہاں حکومت کی
سرپرستی میں ’’مسلم کش‘‘ فسادات ہوتے ہیں… حالانکہ پاکستان میں اب تک ایک بھی
’’ہندوکش‘‘ فساد نہیں ہوا… القلم پڑھنے والے تمام بزرگوں، بھائیوں اور بہنوں سے
درخواست ہے کہ ’’اسلامی بیداری‘‘ اور ’’اسلامی اخوت‘‘ کا ثبوت دیتے ہوئے کشمیر کے
حالات پر نظر رکھیں… اور وہاں کے مسلمانوں اور وہاں کی تحریک جہاد کے لیے دعاء
کریں… اور خصوصاً پونچھ، کشتواڑ اور ڈوڈہ کے مظلوم مسلمانوں کے لیے خاص دعاء کریں
کہ ان پر بہت بھیانک ظلم ہو رہا ہے… جبکہ ہمارے ملک کے بے فکرے لیڈران ’’سیاست
سیاست‘‘ کے کھیل میں مگن ہیں… ان کو اپنے مظلوم بھائی یاد نہیں…
یا اللہ اہل پاکستان کو پاک اور مسلمان حکمران عطاء فرما…
آمین یا ارحم الراحمین…
وصلی اللہ تعالیٰ
علی خیر خلقہ سیّدنا محمد وآلہ واصحابہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
دل کی سختی سے میری اور آپ سب کی حفاظت فرمائے… گناہ کرنے سے، زیادہ بولنے سے اور
زیادہ کھانے سے انسان کا دل سخت ہوجاتا ہے… اور جن کے دل سخت ہوجائیں ان کے لیے
قرآن پاک نے ہلاکت اور تباہی کا اعلان فرمایا ہے… آج شعبان المعظم کی ۲۹ تاریخ
ہے… بہت امکان ہے کہ کل ’’رمضان المبارک‘‘ کا مہینہ شروع ہوجائے… اس بار ہم خوب
دعاء کرکے، خوب محنت کرکے اپنے دلوں کو ’’رمضان المبارک‘‘ میں ٹھیک کرنے کی بھرپور
کوشش کرلیں…
اندر
کی خبریں
ہم
لوگ ہمیشہ باہر کی خبروں کو معلوم کرنے میں زیادہ محنت کرتے ہیں… صدر کون بنے گا…
آصف زرداری، سعید الزمان صدیقی یا کوئی اور؟… پڑوس والے کیا کیا کرتے ہیں؟… فلاں
مرد ایسا ہے، فلاں عورت ایسی ہے… ہماری پوری زندگی باہر کی خبروں کو سننے، سمجھنے
اور جانچنے میں گزر جاتی ہے… ایک حد تک تو یہ جائز ہے… لیکن دوسروںکے حالات کا
تجسس کرنا … اور لوگوں کی برائیاں ڈھونڈنا اور ان کو بیان کرنا خطرناک ہے… کئی
اونچے اور مقرب لوگ دوسروں کے عیب ڈھونڈنے اور بیان کرنے کی وجہ سے ناکامی، خسارے
اور گناہوں میں جاگرے… اس رمضان المبارک میں ہم ’’اندر کی خبریں‘‘ تلاش کرنے کی
کوشش کریں، مثلاً:
۱ قبر
کے اندر کیا کیا ہوتا ہے؟ یہ بات تو یقینی ہے کہ ہم نے مرنا ہے اور قبر میں جانا
ہے
۲ ہمارے
دل کی حالت کیا ہے؟… نرم ہے یا سخت؟ ذکر کرتا ہے یا غافل رہتا ہے؟ … بزدل ہے یا
بہادر؟… حریص اور لالچی ہے یا صابر اور سخی؟
۳ ہمارے
اندر کون کون سی برائیاں ہیں؟
پھر
اگر اپنی قبر سنوارنے اور دل کو سیّدھا کرنے اور اپنے اندر کو پاک کرنے کی فکر
پیدا ہوجائے تو علاج آسان ہے… اللہ پاک کے سامنے سب کچھ
کھول کھول کر بیان کریں… حالانکہ وہ تو سب کچھ جانتا ہے… مگر بندہ اپنے جرم کا
اعتراف کرکے معافی مانگے تو اس کی خاص رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں…
ہم
اپنی ہر بیماری اور کمزوری کی اصلاح کے لیے… اللہ پاک سے
خوب مانگیں، خوب مانگیں… روزہ کی حالت میں تو انسان ویسے
ہی اللہ تعالیٰ کے قریب ہوجاتا ہے…
حضرت
جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
الصوم
نصف الطریقۃ
یعنی
روزہ سلوک واحسان کا آدھا حصہ ہے۔ (کشف المحجوب)
دل
کے وسوسوں کا ایک خاص علاج
ایک
یقین پختہ کرلیں کہ… اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے… ہمارے دلوں
میں جو خیالات آتے ہیں ان کو بھی اللہ تعالیٰ دیکھتا اور
جانتا ہے… اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں … قرآن پاک نے بار بار اعلان فرمایا ہے:
اِنَّ اللہ عَلِیْمٌ
بِّذَاتِ الصُّدُوْرِ (اٰل عمران)
اور
ارشاد فرمایا:
یَعْلَمُ
خَآئِنَۃَ الاَْعْیُنِ وَمَا تُخْفِیْ الصُّدُوْرُ (المؤمن)
ترجمہ:
وہ آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے راز جانتا ہے…
بصرہ
کا ایک رئیس ایک روز اپنے باغ میں گیا… اس کی نظر اپنے کسان کی عورت پر پڑی تو اس
کے حسن وجمال کا عاشق ہوگیا… چنانچہ اس کسان کو کسی کام پر بھیج دیا اور عورت سے
کہنے لگا… تمام دروازے بند کردو… عورت نے کہا باقی سب دروازے تو بند کردوں لیکن
ایک دروازہ بند کرنے کی طاقت نہیں رکھتی… اس نے پوچھا وہ کونسا دروازہ ہے؟… عورت
نے کہا وہ دروازہ جو ہمارے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہے…
یہ سن کر وہ رئیس شرمسار ہوا اور اس نے توبہ کی…
دل
میں جب برے خیالات آنے لگیں تو فوراً یہ آواز لگائیں کہ… اے بے شرم!…
دل اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے… پھر جب دوبارہ وسوسے شروع ہوں
تو اندر ہی اندر یہی آواز لگائیں… انشا ء اللہ دل پاک ہوتا
جائے گا… اور اس میں برائی کی بجائے نور آجائے گا…
اللہ ہو، اللہ ہو
، اللہ ہو
بھوک
روح کی غذاء ہے
انسان
کے جسم کو کھانے کی ضرورت ہے… جبکہ انسان کی روح بھوک سے طاقتور ہوتی ہے
الجوع
للنفس خضوع وللقلب خشوع
بھوک
نفس میں انکساری اور دل میں خشوع اور عاجزی پیدا کرتی ہے، اسی لیے فرمایا گیا ہیکہ
الجوع
طعام الصدیقین
بھوک
صدیقین کا کھانا ہے۔ (کشف المحجوب)
اسلاف
کے بارے میں آتا ہے کہ وہ رمضان المبارک کا فائدہ اٹھا کر خود کو بھوک کی لذت سے
سرشار کرتے تھے… ان حضرات کے واقعات کو پڑھا جائے تو حیرت ہوتی ہے… جبکہ ہم لوگ
رمضان المبارک شروع ہوتے ہی کھانے پینے کی فکر میں پڑ جاتے ہیں… اور یوں دل کی
اصلاح کے ایک اہم موقع کو کھو دیتے ہیں… طرح طرح کی افطاری… اور طرح طرح کی سحری…
اللہ پاک
ہماری حالت پر حم فرمائے… اور اس رمضان المبارک کو ہماری بخشش کا ذریعہ بنائے…
روزہ
مکمل ہونا چاہئے
ہمارا
روزہ تب مکمل ہوگا… جب ہم اپنے تمام ’’حواس‘‘ کو قابو میں کریں گے… خلاف شریعت نہ
بولیں گے… نہ سنیں گے، نہ ہاتھ لگائیں گے، نہ چلیں گے… بلکہ اپنے دل اور اپنے تمام
اعضاء کو اللہ تعالیٰ کی طاعت وعبادت میں لگائے رکھیں گے…
حضرت علی بن عثمان ہجویری رحمۃ اللہ علیہ (جن کے مزار کو لاہور والے داتا کا مزار
کہتے ہیں) فرماتے ہیں:
’’ہر
روزے کے لیے صحیح نیت اور سچی شرط ضروری ہے، تاہم نفس کو روکنے کی شرائط بہت سی
ہیں، چنانچہ کوئی شخص اسی وقت حقیقی روزہ دار ہوگا جب وہ اپنے پیٹ کو کھانے سے
بچائے اور اپنی آنکھ کو شہوت کی نظر سے، کان کو غیبت کے سننے سے، زبان کو بیہودہ
اور فضول گفتگو کرنے سے اور جسم کو دنیا کی تابعداری اور شریعت کی مخالفت سے محفوظ
رکھے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک
شخص سے فرمایا تھا کہ ’’جب تو روزہ رکھے تو ضروری ہے کہ تیرا کان، تیری
آنکھ، تیری زبان، تیرا ہاتھ اور تیرا ہر عضو روزہ رکھے‘‘۔ اور نیز
فرمایا: ’’بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جنہیں روزے سے بھوکا اور پیاسا
رہنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا‘‘
اور
میں نے (یعنی شیخ ہجویری رحمۃ اللہ علیہ نے) خواب میں سیّد دو عالم صلی
اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے
رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی وصیت فرمائیے تو آپ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’احبس حواسک‘‘ یعنی اپنے حواس کو قابو میں
رکھو۔‘‘ (کشف المحجوب)
دشمنوں
کی پھرتیاں
حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے آئے تھے… آپ کے صحابہ
کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کمزور تھے اور تین علاقوں میں بکھرے ہوئے تھے… مدینہ
منورہ، مکہ مکرمہ اور حبشہ… مدینہ منورہ میں حضرات مہاجرین تشریف لے آئے تو غریب
انصار نے اپنے گھر اور اپنے اموال میں ان کو برابر کا شریک کرلیا… مدینہ منورہ کی
اقتصادیات پر یہودیوں کا قبضہ تھا وہ مسلمانوں کے یہاں آنے سے خوش نہیں تھے… یہ
چھوٹی سی اسلامی جماعت سب کافروں کی آنکھوں میں کھٹک رہی تھی… مشرکین کے باہم
اجلاسات ہو رہے تھے… یہودی دن رات سر جوڑے سازشیں کر رہے تھے… منافقین کا بغض بھی
اندر ہی اندر پل رہا تھا… ان حالات میں ۲ ہجری کا
رمضان المبارک آگیا… رمضان المبارک میں اللہ تعالیٰ کی خاص
رحمتیں ایمان والوں پر اترتی ہیں… دشمنوں کی پھرتیاں زوروں پر تھیں کہ اچانک حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو
جہاد میں نکلنے کا حکم فرمادیا … تین سو تیرہ کمزور اور نہتے مسلمان ٹوٹی تلواریں،
لاٹھیاں اور پتھر اٹھا کر روانہ ہوگئے… لشکر کی قیادت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے… عجیب جوش
تھا اور عجیب ولولہ … ابوسفیان کا قافلہ بچ نکلا… ابوجہل کا طاقتور لشکر سامنے
آپڑا… شیطان اپنی پوری طاقت کے ساتھ میدان میں آبیٹھا… ابوجہل کہہ رہا تھا کہ بس
چند منٹ کی جنگ ہوگی، ان سب کو ماردیں گے اور کچھ کو باندھ کر لے جائیں گے… رات کے
آخری پہر آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گڑ گڑا رہے تھے… صدیق
اکبر رضی اللہ عنہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے… یا حی یا قیوم،
یا حی یا قیوم، یا حی یا قیوم… یہ چھوٹی سی جماعت ہلاک ہوگئی تو زمین پر تیری
عبادت کرنے والا کوئی نہ بچے گا… پھر آسمان نے مسکرا کر زمین کو دیکھا … بارش
موسلا دھار برسی… جبرئیل علیہ السلام نے جہادی وردی پہنی… ان کے ساتھ ایک ہزار مجاہد
فرشتے اترے… اور دیکھتے ہی دیکھتے منظر بدل گیا… اور ابوجہل کا غرور ایک مردار لاش
کی صورت میں بدر کے ایک اندھے کنویں میں جاگرا…
اللہ
اکبرکبیرا… وہ جماعت بچ گئی… اس نے محنت کی تو اسلام ہم تک آپہنچا… ہم میں سے کچھ
اس جماعت کی نسلی اولاد… اور کچھ روحانی اولاد ہیں… ہم بھی وہی کلمہ پڑھتے ہیں… جو
وہ پڑھتے تھے…
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اب
ہمارے خلاف دشمنوں کی پھرتیاں ہیں… بڑے بڑے بحری بیڑے اور فضائی طاقت کا غرور ہے…
ماردو، ختم کردو اور باندھ دو کی آوازیں ہیں… کشمیر پر انڈیا… فلسطین پر اسرائیل
اور باقی مسلم ممالک پر اتحادی کافروں کے حملے ہیں… ہم جو مجاہد کہلاتے ہیں، ہمیں
ہمارے حکمران ہی بیچ کر اپنی کرسیاں پکی کر رہے ہیں… ہر کوئی جہاز پر بیٹھتا ہے
اور کسی ملک میں جاکر ہمیں مارنے، پکڑنے اور دبانے کا وعدہ کر آتا ہے… اور اس کے
بدلے عہدہ اور ڈالر کما آتا ہے… پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت
پر بم، میزائل اور گولیاں برس رہی ہیں… ان حالات میں رمضان المبارک آگیا ہے… یا حی
یا قیوم ، یا حی یا قیوم، یا حی یا قیوم… ہم تیرے بندے اور تیرے محبوب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی ہیں…
ہمیں
معاف فرما… ہم پر رحم فرما… اور اس رمضان المبارک میں ’’غزوۂ بدر‘‘ جیسے مناظر اس
مظلوم اُمت کو نصیب فرما…
آمین
یا ارحم الراحمین…وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیّدنا
محمد وآلہ واصحابہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
کے ایک ولی گزرے ہیں، ان کا نام تھا ’’حضرت حاتم اصم رحمۃ اللہ علیہ ‘‘ … آج ان کی
ایک بات عرض کرنی ہے… حضرت حاتم اصم رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ
اس اُمت کے ’’لقمان حکیم‘‘ ہیں…
وکان
یقال حاتم لقمان ہذہ الامۃ
یہ
’’تبع تابعی‘‘ تھے… بہت بڑے عالم ، بزرگ اور متقی امام تھے… آپ کا شمار بلخ کے بڑے
اکابر اور مشائخ میں ہوتا ہے… حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ ان کے بارے میں
فرماتے ہیں:
’’صدّیق
زماننا حاتم اصم‘‘
کہ
ہمارے زمانے کے ’’صدّیق‘‘ حضرت حاتم اصم رحمۃ اللہ علیہ ہیں…
حضرت
حاتم اصم رحمۃ اللہ علیہ کی حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے بھی
ملاقاتیں رہی ہیں… اور آپ مجاہد بھی تھے، باقاعدہ کئی معرکوں اور جنگوں میں آپ نے
شرکت فرمائی ہے۔
یہ
تو ہوا مختصر تعارف ’’حضرت حاتم اصم رحمۃ اللہ علیہ ‘‘ کا… وہ ارشاد فرماتے ہیں:
’’ہر
صبح شیطان مجھ سے کہتا ہے کہ آج تم کیا کھاؤ گے؟ کیا پہنو گے؟ اور کہاں رہو گے؟ تو
اسے جواب دیتا ہوں میں موت کو کھاؤں گا، کفن کو پہنوںگا اور قبر میں رہوں گا…‘‘
وعن
حاتم اصمپ: ما من صباح الا ویقول الشیطان لی ماتأکل؟ وما تلبس؟ واین تسکن؟ فاقول
لہ: أکل الموت، والبس الکفن واسکن القبر (الاستعداد لیوم المعاد)
اب
آئیے حضرت حاتم اصم پکی بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں…
روٹی،
کپڑا اور مکان
یعنی
شیطان ہر صبح میرے سامنے ایک ہی نعرہ رکھتا ہے روٹی، کپڑا اور مکان… کیا کھاؤ گے؟
کیا پہنو گے؟ اور کہاں رہو گے؟ … شیطان چاہتا ہے کہ مجھے روٹی، کپڑے اور مکان کی
فکر میں ڈال کر… مجھ پر غالب اور مسلط ہوجائے… اور مجھے دین سے اور آخرت سے غافل
کردے…
ہمارے
ملک کی ’’پیپلزپارٹی‘‘ کا نعرہ بھی روٹی، کپڑا اور مکان ہے… اور ان تین چیزوں کی
فکر پیدا کرکے ’’پیپلزپارٹی‘‘ ملک کی حکومت حاصل کرلیتی ہے… حضرت حاتم اصم رحمۃ
اللہ علیہ کے واقعہ سے ہمیں معلوم ہوگیا کہ یہ نعرہ اصل میں کس نے سکھایا ہے…
اللّٰہم انا نعوذبک من الشیطان الرجیم…
بہترین
مہینے میں سیاسی باتیں
حضرت
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے پوچھا گیا کہ بہترین
مہینہ کون سا ہے؟… آپ نے ارشاد فرمایا رمضان المبارک کا مہینہ… حضرت علی
کرم اللہ وجہہ تک جب یہ جواب پہنچا تو ارشاد فرمایا کہ یہ
جواب درست ہے… مگر میں یہ کہتا ہوں کہ سب سے بہترین مہینہ وہ ہے جس میں
تم اللہ تعالیٰ کے حضور سچی توبہ کرلو…
اب
اگر کوئی شخص رمضان المبارک ہی کے مہینے میں سچی توبہ کرلے تویہ کتنی بڑی سعادت
ہوگی… اللہ پاک مجھے اور آپ کو نصیب فرمائے… رمضان المبارک
کے تقدس اور عظمت کو دیکھتے ہوئے دل نہیں چاہتا کہ… پاکستانی سیاست پر کچھ لکھا
جائے… مگر حالات سے غافل رہنا بھی درست نہیں ہے اور ۵ رمضان
المبارک کے دن ملک میں دو بڑے واقعات پیش آئے:
۱ جناب
آصف زرداری صاحب پاکستان کے بارھویں صدر منتخب ہوئے۔
۲ ملک
کے کئی حصوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
اب
آپ ہی بتائیے کہ جس واقعہ پر زمین بھی ہل کر رہ گئی ہو اس واقعہ کو کس طرح سے نظر
انداز کیا جاسکتا ہے… شیطان نے آج تک کسی کو نہ روٹی دی ہے، نہ کپڑا دیا ہے… اور
نہ مکان… وہ تو بس ان چیزوں کا نعرہ لگاتا ہے تاکہ… انسان دنیا کی فکر میں پڑ
جائے… پھر جب انسان دنیا کی فکر میں پڑ تا ہے تو شیطان اس کو پکڑ لیتا ہے… اور اس
کی ایمانی دولت لوٹ کر بھاگ جاتاہے…
شیطان
کو منہ توڑ جواب
حضرت
حاتم اصم رحمۃ اللہ علیہ کو جب شیطان روٹی، کپڑا اور مکان کی فکر میں الجھا نے
لگتا تو آپ … اسے منہ توڑ جواب دیتے کہ میں موت کو کھاؤں گا… کفن پہنوں گا… اور
قبر میں رہوں گا… اس جواب میں بہت سی حکمتیں ہیں:
۱ آخرت
کی یاد انسان کو شیطان کے وار سے بچاتی ہے، موت، کفن اور قبر کی یاد آئی تو شیطان
کا جال ٹوٹ گیا۔
۲ جو
شخص موت، قبر اور کفن کو یاد رکھے… اور اسکی تیاری میں لگا رہے اس کو روزی کی تنگی
نہیں آتی… پس شیطان کو بتا دیا کہ میں اصل منزل کی طرف جا رہا ہوں … اور اصل منزل
کے راستے میں روٹی، کپڑا اور مکان ضرورت کے مطابق خود ہی مل جایا کرتا ہے… جس طرح
حاجیوں کے راستے میں لوگ کھانے، پینے اور رہنے کا انتظام کردیا کرتے تھے…
۳ مقدر
کی روٹی، کپڑا اور مکان… ہر انسان کو مل کر رہتا ہے جبکہ مسلمان کا کام آخرت کی
تیاری ہے… پس میں طالب دنیا نہیں آخرت کا طلبگار ہوں…
اصل
بات اور ہے
اصل
بات یہ ہے کہ… جس انسان کے دل میں دنیا کی عظمت جتنی زیادہ ہوتی ہے… وہ
انسان اللہ تعالیٰ کے ہاں اتنا ہی ذلیل اور حقیر ہوتا ہے…
یوں سمجھ لیں کہ کیڑوں، مکوڑوں سے بھی زیادہ حقیر اور ذلیل ہوتا ہے … اور ہم سب
جانتے ہیں کہ کیڑوں، مکوڑوں پر سانپ اور بچھو ہی حکمران بنتے ہیں… سانپ مر گیا تو
بچھو آگیا… بچھو چلا گیا تو سانپ آگیا… ہم لوگ اللہ تعالیٰ
سے تو بہت شکوے کرتے ہیں کہ اس نے ہماری سنی نہیں… مگر اپنی حالت کو نہیں دیکھتے
کہ ہم ’’دنیا پرستی‘‘ میں کتنے غرق ہوچکے ہیں… اور تو اور کئی مجاہد اور مولوی
اپنے ہاتھ میں قیمتی موبائل پکڑ کر اکڑنے لگتے ہیں… انا للہ وانا الیہ
راجعون… قوم کے افضل لوگوں کی یہ حالت ہوجائے کہ… موبائل فون کی نمائش کرنے لگیں…
قیمتی جوتا پہن کر فخر کرنے لگیں… ٹائم دیکھنے کی گھڑی کو فخر کا زیور بنالیں تو
پھر باقی قوم کا کیا حال ہوگا… کبھی آپ نے سوچا:
۱ کیا
عزت مالداری میں ہے؟
۲ کیا
عزت قیمتی موبائل، قیمتی جوتے اور کپڑوں میں ہے؟
۳ کیا
ضرورت کی چیزوں کی فخریہ نمائش کرنا جائز ہے؟
ٹھیک
ہے مان لیتا ہوں کہ یہ معمولی باتیں ہیں… مگر ان معمولی باتوں سے یہ تو معلوم
ہوگیا کہ ہمارے دلوں میں دنیا کی کتنی عظمت ہے… اور دین کی کتنی ناقدری ہے؟… یہ تو
معلوم ہوگیا کہ ہم ’’دنیا پرست‘‘ ہیں… جب ہم ’’دنیا پرست‘‘ ہوئے تو پھر
ہم کیڑوں مکوڑوں سے بھی زیادہ حقیر ہوئے… اللہ پاک تو چاند،
سورج اور آسمانوں کا مالک ہے… اس کے نزدیک موبائل، جوتے، چشمے اور کپڑے کی کیا
حیثیت ہے؟… اس نے ہمیں منی کے قطرے سے بنایا… اور پھر ہمیں اپنے نام اور اپنے دین
سے عزت دی… اب اگر ہم دین اسلام کے علاوہ کسی چیز میں عزت، عظمت اور بڑائی مانیں
گے تو ہم حقیر ہوجائیں گے… اور حقیر کیڑے ، مکوڑوں پر یا تو سانپ حکومت کرتے ہیں
یا بچھو… ان کے اوپر اللہ کے ولی حکمران تو نہیں آتے… خیر
چھوڑیں اس بات کو… میں یہ خبر عرض کر رہا تھا کہ پاکستان میں پرویز مشرف کے بعد…
آصف زرداری صاحب صدر منتخب ہوچکے ہیں…
تین
قلعے
جو
لوگ موت کی تلاش میں رہتے ہیں ان کو ’’زندگی‘‘ ملتی ہے… اور جو لوگ ’’زندگی‘‘ کی
فکر میں رہتے ہیں وہ بار بار مرتے ہیں… حضرت حاتم اصم رحمۃ اللہ علیہ نے ہمیں
سمجھایا کہ روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والے شیطان سے بچنے کا طریقہ… موت
کی یاد اور آخرت کی تیاری ہے… پس ہمیں ڈرنے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے… دنیاکے
حکمران بے اختیار ہوتے ہیں… یہ کسی کو اپنی طرف سے نہ نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ
نقصان… پس ہم اپنے کام میں لگے رہیں… شہادت کی موت کو ڈھونڈتے رہیں… تب
انشاء اللہ کوئی بھی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا… جب موت سے
محبت اور قبر سے پیار ہوتو پھر کس بات کا ڈر؟… ڈرتے تو وہ ہیں جن کو شیطان روٹی،
کپڑا اور مکان کی فکر میں ڈال دیتا ہے… وہ مرنے سے بھی ڈرتے ہیں اور کچھ چھننے سے
بھی ڈرتے ہیں… ہم مسلمانوں نے اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک
باتوں کو بھلادیا… آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ’’زر‘‘ یعنی سونے
اور مال کی محبت میں پڑنے سے منع فرمایا… اور ہمیں سمجھایا کہ ’’زر‘‘ کی محبت ہر
آفت کی جڑ ہے… مگر ہم ’’زر‘‘ کے پیچھے بھاگتے رہے کہ ہم ’’زردار‘‘ یعنی سونے کے
مالک اور مال والے بن جائیںاب تو قوم خوش ہوجائے کہ … زرداری صاحب ان کے صدر بن
چکے ہیں…
حضرت
کعب الاحبار ؓ فرماتے ہیں کہ
مسلمانوں
کے لیے تین چیزیں حفاظتی قلعہ ہیں:
(۱)مسجد
(۲) اللہ تعالیٰ
کا ذکر (۳)قرآن
پاک کی تلاوت۔ (الاستعداد لیوم المعاد)
دعاء
میں نام بدلنا ہوگا
حکمران
کوئی بھی ہو مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارے ذمے کچھ کام ہیں… ایمان لانے کے بعد
پانچ فرائض ہیں:
۱ نماز ۲ روزہ ۳ حج ۴ زکوٰۃ ۵ جہاد
ان
فرائض کو ماننا ضروری ہے … حکومت بش کی ہو یا کسی شریف آدمی کی… اور جب شرطیں پائی
جائیں تو ان فرائض پر عمل کرنا بھی ضروری ہے… حکومت کی تبدیلی سے ان فرائض کی
فرضیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا… ہاں مسلمان حکمرانوں پر لازم ہے کہ … وہ ان فرائض کو
قائم رکھنے کی ترتیب بنائیں… اور انہیں مضبوطی اور سختی سے نافذ کریں…
کتابوں
میں لکھا ہے کہ… جو مسلمان حکمران ’’فریضۂ جہاد‘‘ کو معطل کردیں… یعنی سال میں
ایک بار بھی جہاد کے لیے لشکر نہ بھیجیں تو ایسے حکمرانوں کو معزول کردینا چاہئے…
ہم پاکستان والے تو پرانے زمانے کے بادشاہوں والی شان رکھتے ہیں… ہمارے لیے ہر چیز
باہر ملکوں سے آتی ہے… گویا ساری دنیا ہماری نوکر بنی ہوئی ہے… ہماری گاڑیاں جاپان
بناتا ہے… ہمارے صابن اور شیمپو برطانیہ والے بنا کر بھیجتے ہیں… ہمارا عام سامان
تیار کرنا چین والوں کی ذمہ داری ہے… اور ہمارے لیے حکمران بھیجنا امریکہ والوں کی
نوکری ہے… پیپلز پارٹی اور امریکہ کے درمیان جو باتیں پچھلے دو سالوں میں ہوئیں ان
کا تمام ریکارڈ اخباروں میں چھپ چکا ہے… بی بی صاحبہ نے بہت محنت کی اور امریکہ کو
راضی کیا… پھر کافی مشقت کی اور پرویز مشرف کو راضی کیا… مگر ’’بی بی‘‘ کی ساری
محنت کا پھل… زرداری صاحب کو مل گیا… اب دیکھیں ’’زرداری صاحب‘‘ کیا کرتے ہیں…
ہمارے کئی مسلمان بھائی تو باقاعدہ پریشان ہوگئے ہیں… وہ کہتے ہیں کہ زرداری صاحب
امریکی ایجنڈا پورا کریں گے… اور ماضی میں زرداری صاحب ایسے تھے اور ویسے تھے… مگر
ہم الحمدللہ مطمئن ہیں… کل بھی اللہ تعالیٰ
کے سہارے پر تھے… اور آج بھی اللہ تعالیٰ کے سہارے پر ہیں…
زرداری صاحب ٹھیک چلے تو بہت اچھا… اور اگر انہوں نے گڑبڑ کی تو ہم اپنی ایک دعاء
میں سے پرویز مشرف کا نام کاٹ کر … زرداری صاحب کا نام جوڑ دیں گے… ویسے بھی صبح
شام وہ دعاء بے ساختہ زبان پر آجاتی ہے… تب دل مسکرا کر کہتا ہے ارے بھائی بس کرو…
یہ دعاء تو کئی دن ہوئے قبول ہوچکی ۔
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
تمام ’’مقروض مسلمانوں‘‘ کے قرض ادا فرمائے…
اور اللہ تعالیٰ قرضے سے میری اور آپ سب کی حفاظت فرمائے…
’’قرضہ‘‘ بہت مشکل اُمتحان ہے … حضور اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم نے اسے ’’کفر‘‘ کے ساتھ جوڑ کر بیان فرمایا ہے، حضرت ابوسعید
خدری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کو یہ دعاء فرماتے سنا:
اَعُوْذُ
بِ اللہ مِنَ الْکُفْرِ وَالدَّیْنِ
’’یا اللہ میں
آپ کی پناہ چاہتا ہوں کفر سے ا ور قرض سے‘‘
ایک
شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کفر کو قرض کے برابر قرار دیتے ہیں
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جی ہاں! (نسائی، حاکم، الترغیب)
اور
ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’قرض‘‘ کو ذلت کا نشان قرار
دیا ہے۔
اَلدَّیْنُ
رَأیَۃُ اللہ فِیْ الاَْرْضِ فَاِذَا
اَرَادَ اللہ اَنْ یُّذِلَّ عَبْدًا وَّضَعَہٗ فِیْ
عُنُقِہٖ
یعنی
قرض زمین پر اللہ تعالیٰ کا جھنڈا (یعنی ذلت کا نشان)
ہے اللہ تعالیٰ جس کسی بندے کو ذلیل کرنا چاہتا ہے تو یہ
(ذلت کا نشان) اس کے گلے میں ڈال دیتا ہے۔ (رواہ الحاکم وقال: صحیح علی شرط مسلم)
روایات
سے ثابت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جن چیزوں کے شر سے بہت
کثرت سے پناہ مانگتے تھے ان میں سے ایک ’’قرض‘‘ بھی ہے… روایات میں آتا ہے کہ حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء بہت کثرت سے مانگتے تھے…
اَللّٰہُمَّ
اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْہَمِّ وَالْحَزْنِ وَالْعَجْزِ وَالْکَسَلِ
وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَضَلَعِ الدَّیْنِ وَغَلَبَۃِ الرِّجَالِ
اے
میرے پروردگار میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں فکر اور غم سے، عاجز ہونے اور سستی سے،
بخل اور بزدلی سے اور قرض کے چڑھ جانے اور لوگوں کے غالب آجانے سے۔(بخاری)
بندہ
کو جو خطوط آتے ہیں ان میں بعض خطوط قرض کے بارے میں بھی ہوتے ہیں… کئی پریشان حال
مسلمان لکھتے ہیں کہ ان پر ’’قرض‘‘ چڑھ گیا ہے اس کی ادائیگی کے لیے کوئی وظیفہ
بتایا جائے… بندہ ان کی خدمت میں اکثر جو وظیفہ لکھ کر بھیجتا ہے وہ یہ ہے:
۱ جمعہ
کے دن ستر بار یہ دعاء
اَللّٰہُمَّ
اکْفِنِیْ بِحَلاَ لِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ
اوّل
آخر سات بار درود شریف کے ساتھ پڑھیں… دعاء کا ترجمہ ذہن میں رکھ کر توجہ سے
پڑھیں۔
۲ جمعہ
کے دن گیارہ سو بار پڑھیں
یَا
مُغْنِیُ (جلّ شانہ)
اوّل
آخر سات سات بار درود شریف۔
الحمدللہ اس
’’وظیفے‘‘ سے بہت سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچا ہے… اگر اخلاص، اہتمام ا ور توجہ سے
یہ عمل کیا جائے تو دوسرے جمعہ سے اس کا اثر ظاہر ہونا شروع ہوجاتا ہے… جبکہ
گیارھویں جمعہ تک روزی کی مستقل ترتیب بن جاتی ہے… بے شک اللہ تعالیٰ
ہر چیز پر قادر ہے… یہ وظیفہ دراصل حدیث پاک سے مأخوذ ہے…
ترمذی
شریف کی روایت ہے کہ ایک غلام نے جس کو اپنی آزادی کے لیے مال (بدل کتابت) کی
ضرورت تھی، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مدد چاہی… آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا… میں تم
کو وہ کلمات نہ بتادوں جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے سکھائے تھے… اگر تم پر کسی پہاڑ کے برابر بھی قرضہ ہوگا
تو اللہ تعالیٰ وہ ادا فرمادے گا… (یعنی اس کی ادائیگی کی
صورت پیدا فرمادے گا) وہ کلمات یہ ہیں:
اَللّٰہُمَّ
اکْفِنِیْ بِحَلاَلِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ
ترجمہ:
اے میرے پروردگار مجھے اتنا حلال دے کہ میرے لیے کافی ہوجائے اور مجھے حرام کی
ضرورت نہ پڑے اور مجھے اپنا فضل وکرم فرما کر اپنے سوا ہر کسی سے بے نیاز فرمادے۔
(ترمذی)
بات
دراصل نیت کی ہے… جو انسان صرف سخت مجبوری کے وقت قرضہ لیتے ہیں… اور قرضہ لیتے
وقت ان کی نیت یہ ہوتی ہے کہ ہم اسے ضرور ادا کریں گے… اور پھر ادا کرنے کی کوشش
بھی کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کی اللہ پاک خاص مدد فرماتا ہے…
اور ایسے لوگوں کی دعائیں اور وظیفے بھی قبول ہوتے ہیں… مگر جو لوگ شوقیہ، یعنی
بلاضرورت قرضے اٹھاتے ہیں وہ خو د کو بہت بڑے نقصان میں ڈالتے ہیں… دنیا کا نقصان
بھی اور آخرت کا نقصان بھی… اور اگر ان کے دل میں قرضہ واپس کرنے کی نیت نہیں ہوتی
تو ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں ’’چور‘‘ لکھے جاتے ہیں… استغفر
اللہ استغفر اللہ … ملاحظہ فرمائیے ’’قرضے‘‘ کے
بارے میں چند روایات
قرضہ
’’خوف‘‘ ہے
حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
خود
کو امن کے بعد خوف میں نہ ڈالو، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا وہ
خوف کیا چیز ہے اے اللہ تعالیٰ کے رسول؟ آپ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قرضہ (احمد، ابویعلی، حاکم، الترغیب)
یعنی
جو شخص قرضے میں مبتلا ہوتا ہے وہ ’’امن‘‘ سے محروم ہوجاتا ہے… اور
’’امن‘‘ اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے… اور وہ ’’خوف‘‘ میں
جاگرتا ہے جو ایک مصیبت ہے…
قرضہ
چھوڑ کر مرنا بڑا گناہ
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
ان
کبیرہ گناہوں کے بعد جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے سب
سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی اس حال میں مرے کہ اس پر قرض ہو اور وہ اس کی ادائیگی
کا مال نہ چھوڑ گیا ہو۔(مسند احمد، ابوداؤد)
مقروض
کی روح لٹکی رہتی ہے
حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مؤمن
کی روح لٹکی رہتی ہے، جب تک اس کا قرض ادا نہ کردیا جائے… (مسند احمد، ترمذی)
یعنی
اگر کسی مسلمان کا ایمان بھی ٹھیک ہے اور اعمال بھی اچھے ہیں… اور وہ جنت میں جانے
کے قابل ہے مگر وہ مقروض مرا ہے تو جب تک اس کا قرضہ ادا نہیں کیا جائے گا وہ جنت
میں داخل نہیں ہوگا… اس کی روح اٹکی اور لٹکی رہے گی… (العیاذباللہ )
اور
ایک روایت میں آیا ہے کہ اس کی روح کو وہاں تنہائی میں روک لیا جائے گا… چنانچہ
وہ اللہ تعالیٰ سے اپنی تنہائی کی شکایت کرے گا…
سخت
ترین وعیدیں
اس
بارے میں احادیث اور بھی بہت ہیں… مگر سخت ترین وعیدیں دو ہیں:
۱ حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے مقروض کا جنازہ پڑھانے سے انکار کردیا
جو ادائیگی کا مال چھوڑ کر نہیں مرا تھا… تب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین
نے اس شخص کا قرضہ ادا کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ ادا
فرمائی۔ (بخاری)
۲ آپ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ایک شخص کئی بار شہید ہو… یعنی شہادت کے بعد پھر
زندہ کیا جائے پھر شہید ہو پھر زندہ کیا جائے پھر شہید ہو… ایسا بڑا شہید بھی اگر
مقروض حالت میں مرے گا تو اس وقت تک جنت میں داخل نہ ہوسکے گا جب تک اس کا قرض ادا
نہ ہوجائے۔(مسند احمد)
ان
تمام وعیدوں کو پڑھ کر ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ بلاضرورت قرضہ لینے سے بچے… اور
اگر سخت مجبوری میں لینا پڑے تو واپسی ادا کرنے کی نیت کرے… اور اس کے لیے دعاء
اور محنت بھی کرے… اگر اس نے واپسی کی پختہ نیت کی… اور پھر اس کے لیے محنت بھی
کی… مگر پھر بھی ادا نہ کرسکا تو ایسے انسان کے لیے بہت گنجائش موجود ہے…
مال
برباد
جو
لوگ ’’شوقیہ‘‘ قرضے اٹھاتے ہیں… یعنی انہیں کوئی سخت مجبوری نہیں ہوتی… اور پھر
واپسی کی نیت بھی نہیں رکھتے، ایسے لوگوں کے لیے احادیث وروایات میں کئی وعیدیں
آئی ہیں، مثلا:
۱ ان
کے لیے اس مال میں کوئی برکت نہیں ہوتی … بلکہ اللہ تعالیٰ
اسے ضائع فرما دیتا ہے… (بخاری)
یعنی
لوگوں سے قرضے اٹھانے اور انہیں واپس کرنے کا ارادہ نہ رکھنے والا شخص کبھی خوشحال
نہیں ہوتا… اس کے مال میں برکت نہیں ہوتی… اس کی ضروریات پوری نہیں ہوتیں… بلکہ
دوسروں کا مال اپنے مال میں شامل کرنے کی وجہ سے اپنا مال بھی خراب اور بے برکت
ہوجاتاہے…
۲ قیامت
کے دن ان کی نیکیاں ان لوگوں کو دے دی جائیں گی جن کا مال لیا تھا… پھربھی حساب
پورا نہ ہوا تو ان کے گناہ ان کے سر ڈال دیئے جائیں گے۔ (بیہقی)
۳ قیامت
کے دن ایسے لوگوں کو ’’چور‘‘ کی حیثیت سے کھڑا کیا جائے گا۔ (ابن ماجہ)
قرض
ادائیگی کی نیت کرنے والے
جو
لوگ قرض لیتے ہیں… اور ان کے دل میں پختہ نیت ہوتی ہے کہ ہم ضرور واپس کریں گے…
اور پھر اس کے لیے کوشش بھی کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کے لیے کئی طرح کی بشارتیں آئی
ہیں مثلا:
۱ رسول اللہ صلی اللہ علہ
وسلم نے ارشاد فرمایا:
جس
نے لوگوں کا مال لیا اور اس کا ارادہ ادا کرنے کا ہے
تو اللہ تعالیٰ اسے ادا کرا دیتا ہے۔ (بخاری)
۲ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
میری
اُمت میں سے کسی شخص نے قرض لیا، پھر ادا کرنے کی پوری محنت کی، پھر ادا کرنے سے
پہلے مرگیا تو میں اس کا ذمہ دار ہوں۔ (احمد، ابویعلی)
ایک
دردمندانہ گذارش
اللہ تعالیٰ
مجھے اور آپ کو ’’قرضے‘‘ سے بچائے… میری آپ سب سے دردمندانہ گذارش ہے کہ قرضہ لینے
سے بچیں… یہ بہت خوف، پریشانی، ذلت اور بے برکتی والا کام ہے… ہاں بہت سخت ضرورت
ہو تو قرضہ اٹھائیں… مگر یاد رکھیں کہ یہ آپ کا نہیں دوسرے مسلمان کا مال ہے جو آپ
کے لیے حلال نہیں ہے… اگر آپ نے واپس نہ کیا تو یہ چوری کی طرح ہوگا… اس لیے پوری
محنت کرکے واپس کریں… لوگوں کو مال کا شوق پڑ گیا ہے کہ مال آنے کے باوجود قرضہ
نہیں اتارتے … حالانکہ پیسہ ہاتھ میں آتے ہی پہلا کام یہی ہو کہ قرضہ اتار اجائے…
اے
میرے مسلمان بھائیو! دیندار طبقے کے لوگوں کو قرضے سے بہت بچنا چاہئے… قرضہ محبت
کی قینچی ہے… اور یہ انسان کی عزت کو مٹی میں ملا دینے والا کام ہے… آج دیندار
طبقے میں ’’قرضہ بازی‘‘ کی وجہ سے دینی کاموں کو بہت نقصان ہو رہا ہے… مالدار لوگ
اکثر بدقسمت ہوتے ہیں… دین سے اور جہاد سے محروم رہتے ہیں… سارا دن پیسے کے لیے بک
بک کرتے ہیں… سارا دن نوٹ گنتے ہیں… اور رات کو مال کا اور گناہوں کا بوجھ لے کر
گھر لوٹتے ہیں… وہ کھانا تو غریب لوگوں سے بھی کم کھا سکتے ہیں مگر بہت سے مال پر
سانپ بن کر دن رات پہرا دیتے ہیں… اللہ پاک ہم سب کی ایسے
دردناک عذاب سے حفاظت فرمائے…
یہ
توتھا اکثر مالداروں کا تذکرہ… مگر کچھ مالدار بہت خوش نصیب بھی ہوتے ہیں… وہ حضرت
عثمان غنیؓ اور حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کی روحانی اولاد ہوتے ہیں… وہ عزت سے مال
کماتے ہیں، اور اس مال سے آخرت اور جنت خریدتے ہیں… وہ جہاد میں بھی مال لگاتے
ہیں… اور لاکھوں مسلمانوں کی مدد بھی کرتے ہیں… ایسے خوش نصیب مالدار جب دین کے
کاموں میں آتے ہیں تو اگر دینی کاموں کے ذمہ دار ان پر قرضوں کے لیے حملہ آور ہو
جائیں تو وہ متنفر ہوکر بھاگ جاتے ہیں… دینی دعوت کا تو پہلا اصول ہی یہ ہے کہ میں
تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا… اب اگر دین کے داعی مال کے لالچی ہوں گے تو ان کی
دعوت میں اثر نہیں رہے گا… وہ لوگوں سے ذاتی فرمائشیں کریں گے… قرضے مانگیں گے تو
مالدار لوگ دین سے دور ہوجائیں گے… اس لیے دردمندانہ گذارش ہے کہ… اپنے دل کو
سنبھالیں، اس میں حرص نہ پیدا ہونے دیں… کسی مالدار کے مال پر نظر نہ
رکھیں… اللہ تعالیٰ کے خزانوں پر نگاہ رکھیں… اور قرضہ لینے
کی عادت سے بچیں…
رمضان
المبارک کا فائدہ
اگر
اب تک ہم سے یہ غلطی ہوتی رہی ہے تو… ابھی الحمدللہ توبہ
اور ازالے کا دروازہ کھلا ہے… رحمت اور بخشش والا رمضان المبارک کا مہینہ چل رہا
ہے… وضو کریں اور مسجد کے کسی کونے میں جاکر دو رکعت توبہ کی ادا کریں… اور پھر
سجدے میں گر جائیں اور ’’قرض بازی‘‘ اور حرص سے خوب سچی توبہ کریں… اور پختہ نیت
کریں کہ آئندہ بلاضرورت قرضہ نہیں لیں گے… جس جس کا قرضہ ہمارے ذمہ ہے وہ ضرور ادا
کریں گے… یا اللہ اب تک کی غلطیاں معاف فرمادے… اور ہمیں
اپنے غیب کے خزانوں سے روزی عطاء فرمادے … اور ہمیں حرام سے بچا لے اور وسعت والا
حلال رزق عطاء فرمادے… اس کے بعد وہ وظیفہ کریں جو مضمون کے شروع میں عرض کیا گیا
ہے… اور اللہ تعالیٰ پر یقین رکھیں… قرض ادا کرنے کی کوئی
بہترین صورت جلد سامنے آجائے گی… انشاء اللہ تعالیٰ
وصلّ اللہ تعالیٰ
علیٰ خیر خلقہٖ سیّدنا محمد وآلہٖ وصحبہٖ وسلم تسلیماً کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
کی شان دیکھئے کہ امریکی افواج کے سربراہ نے اعتراف کیا ہے کہ ہم افغانستان میں
جنگ نہیں جیت رہے… اللہ اکبر کبیرا… کہاں امریکہ کی فوجی
طاقت اور کہاں کمزور مجاہدین… مگر میرا رب ہر چیز پر قادر ہے… ادھر ’’صدربش‘‘ کی
آٹھ سالہ حکومت کا عبرتناک اور ناکام ’’انجام‘‘ ہونے والاہے… صرف ایک مہینہ اور
گیارہ دن باقی ہیں… بہاولپور کی ’’جامع مسجد عثمانؓ و علیؓ‘‘ میں پونے چار سو
افراد اعتکاف میں بیٹھ گئے ہیں…و الحمدللہ رب العالمین… رمضان المبارک
کا آخری عشرہ شروع ہے… آج ۲۲رمضان
المبارک کی رات ہے… آخری عشرے میں زیادہ عبادت کرنی چاہئے… مگر نفس وشیطان کی
مشترکہ سازشیں جاری ہیں اور مسلمانوں کا رخ بازاروں کی طرف زیادہ ہونے لگا ہے… انا
للہ وانا الیہ راجعون… عید کی خوشی تو یہ ہے کہ اس دن مسلمانوں
کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشش کا پروانہ مل جائے… مگر ہم
نے کھانے، پینے اور ملنے جلنے کو ہی اصل خوشی سمجھ رکھا ہے… حالانکہ یہ کام تو
پورے سال کے ہر دن اور ہر رات میں ہوسکتے ہیں… یہ ہیں وہ چند باتیں جو آج کی مجلس
میں عرض کرنے کا ارادہ ہے… اللہ پاک توفیق عطاء فرمائے…
شکست
کا اعتراف
سات
سال پہلے جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو ظاہر پرست لوگ کہتے تھے… یہ تو بس
چند دن کا کام ہے… جبکہ محتاط تجزیہ نگار کہتے تھے کہ ایک آدھ سال میں امریکہ
افغانستان کو فتح کرلے گا… ان دنوں لاہور جانا ہوا تو ’’غامدی‘‘ کے ایک شاگرد کا
کالم پڑھا… وہ افغانستان پر امریکہ کے حملے سے ایسے خوش تھا جس طرح بلی اپنی خالہ
کی شادی پر خوش ہوتی ہے… اس نے بہت زور دے کر لکھا کہ دیکھ
لینا اللہ تعالیٰ کی نصرت کی باتیں کرنے والے بیوقوفوں کو
چند دن میں پتہ چل جائے گا کہ… امریکہ سے لڑنا ناممکن ہے… اور میں پیشین گوئی کرتا
ہوں کہ ملا عمر اور دوسرے مجاہدین رہنما اب بہت پیچھے جاگریں گے اور مٹ جائیں گے…
مگر یہ کیا ہوا؟… سات سال کی جان توڑ کوشش کے باوجود امریکہ اور اس کے اتحادی ابھی
تک مار ہی کھا رہے ہیں… اور اب تو امریکی افواج کے سربراہ نے اعتراف کیا ہے کہ ہم
یہ جنگ نہیں جیت رہے… اللہ اکبر کبیرا… یہ اس صدی کا ایسا واقعہ ہے کہ
جس نے مسلمانوں کے حسین ماضیکی یاد تازہ کردی ہے… اور
انشاء اللہ اس واقعہ سے
لوگ اللہ تعالیٰ کی عظمت، اسلام کی حقانیت اور جہاد کی
کراُمت کو سمجھیں گے… اور انشاء اللہ فوج در فوج مسلمان ہوں
گے… خوفناک فضائی طاقت اور دہشت ناک زمینی قوت کے باوجود … شکست کا اعتراف … کیا
اس بات کا واضح ثبوت نہیں ہے کہ اصل طاقت اللہ تعالیٰ کی
ہے… اور اللہ تعالیٰ جہاد میں ایمان والوں کی نصرت فرماتا ہے…
سلام
ہو ان شہداء کو… جنہوں نے خون دے کر توحید کا مسئلہ سمجھایا… اور سلام ہو ان
مجاہدین کو جنہوں نے اسلام کی عظمت کا ڈنکا بجایا…
اللہم
احشرنا فی زمرتہم… یا اللہ ہمارا حشر اپنے مقبول بندوں کے
ساتھ فرما…
چار
نومبر، پکوڑے شاہ
چار
نومبر کی تاریخ… ایک تیز دھار چھری کی طرح ’’بش‘‘ کی گردن کی طرف بڑھ رہی ہے… چار
نومبر۲۰۰۸ء
امریکہ میں نئے انتخابات ہوں گے اور بش کو اپنا بوریہ بستر چند ہی دن میں وہائٹ
ہاؤس سے اٹھانا ہوگا… ایک ظالم کا عبرتناک اختتام … جی ہاں چار نومبر کے بعد
امریکہ کے طاقتور صدر بش کی حیثیت ’’پکوڑے شاہ‘‘ سے بھی کمزور ہوجائے
گی… اللہ پاک جسے چاہتا ہے حکومت دیتا ہے… اور جس سے چاہتا
ہے چھین لیتا ہے… صدر بش کے پاس کتنی طاقت تھی؟… دنیا کو تباہ کرنے والے ایٹمی
اسلحے کا بریف کیس اس کے ہاتھوں میں تھا… امریکہ کے بحری بیڑے اس کی انگلی کے
اشارے پر تھے… امریکہ کے ہزاروں جنگی جہاز اور لاکھوں فوجی اس کے ماتحت تھے… مگر
وہ ایک فقیر مسلمان کو شکست نہ دے سکا… چار نومبر کے بعد دنیا میں بش کو کوئی بھی
اپنا سربراہ نہیں مانے گا… جبکہ ملا محمد عمر کو لاکھوں مسلمان اپنا امیر تسلیم
کرتے رہیں گے… اللہ اکبرکبیرا… بش کے پاس سب کچھ تھا مگر اس کے
ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد نہیں تھی تو وہ شکست کے ہزاروں داغ اپنے چہرے
پر سجا کر جارہا ہے… اور جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد ہے
وہ زندہ رہیں یا مرجائیں ہر حال میں کامیاب اور سرفراز ہیں…بش نے چند مسلمانوں کو
اپنا ’’ہدف‘‘ قرار دیا… اور پھر ان کو مارنے اور پکڑنے کے لیے بستیوں کی بستیاں
اجاڑ دیں… ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا… اور ظلم کی آگ پوری دنیا میں بھڑکا دی…
مگر اس کی اس ’’نمرودی آگ‘‘ میں بھی خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ
والسلام کے فرزند مسکراتے رہے اور ’’ اللہ اکبر‘‘ کا نعرہ بلند کرتے رہے… بالآخر
’’بش‘‘ ہار گیا اور اب وہ جارہا ہے… ابھی چار نومبر میں کچھ دن باقی ہیں… بش اپنے
چہرے سے کچھ داغ کم کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہے… ہر طرف بمباری ہی بمباری ہے…
گھروں اور مدرسوں پر میزائل برس رہے ہیں… بش زخمی سانپ کی طرح مرنے سے پہلے اس
اُمت مسلمہ کو ڈسنا چاہتا ہے… اے مسلمانو! یہ وقت بہت نازک ہے… بش کو اپنی باقی
زندگی عزت سے گزارنے کے لیے کچھ مسلمانوں کے سروں کی ضرورت ہے… اس لیے تمام مسلمان
عموماً اور مجاہدین خصوصاً اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں…
جہادی قیادت کے لیے خاص دعاؤں کا اہتمام کریں… اور سوچ سمجھ کر جہاد کریں… ڈرنے کی
تو گنجائش نہیں ہے… کیونکہ ڈرے وہ جس نے مرنا نہ ہو… جبکہ موت ایک اٹل حقیقت ہے
اور اس کا وقت مقرر ہے… اور مسلمان کے لیے موت خوشیوں کا دروازہ ہے… اس لیے ڈرنے
کی ضرورت نہیں… اور نہ ہی کوئی مجاہدین کو ڈرائے… البتہ ایک اور فرعون ذلت کے
سمندر میں غرق ہونے والا ہے… دعاء کریں کہ اس کوکوئی بڑی کامیابی نہ ملے… اور اس
کی حسرتوں میں کوئی کمی نہ آئے… بش سوچتا ہے کہ ابھی تو میں چھوٹی عمر کا ہوں… اور
میرا باپ ابھی تک زندہ ہے… تو میں اتنی لمبی عمر شکست کے داغوں کے ساتھ کس طرح
گزاروں گا… زندگی موت کا پتہ تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے… مگر
بش اپنے سر اتنا سارا خون لیکر کس طرح سے زیادہ عرصہ زندہ رہے گا… کیامظلوموں کی
چیخیں اور آہیں اس کو آرام کرنے دیں گی؟… اور تو اور خود ان امریکیوں کی بدروحیں
بھی اس کو ستائیں گی جو اس کے جنگی جنون کا شکار ہوگئے… مظلوموں کا خون ظالم کے
جسم میں کینسر بن جاتا ہے … اور معصوم بچوں کے ٹکڑے کبھی دنیا میں ہی اپنا حساب
مانگنے لگتے ہیں…
یا اللہ آپ
کے عذاب اور برے انجام سے ہم آپ ہی کی پناہ مانگتے ہیں…
ذکر
اور اعتکاف کی بہاریں
جنوبی
پنجاب میں ایک شہر ہے… اس کا نام ’’بہاولپور‘‘ ہے… بہاولپور کے ریلوے اسٹیشن سے
کچھ فاصلے پر آج سے چند سال پہلے ایک ’’کچی مسجد‘‘ تعمیر کی گئی… نہ کوئی چندہ ہوا
اور نہ تقریب… چند افراد جمع ہوئے، انہوں نے دعاء کے لیے ہاتھ پھیلائے اور پھر خود
ہی مسجد کی تعمیر میں لگ گئے… تعمیر کرنے والوں کی کوشش تھی کہ باوضو حالت میں ذکر
کرتے ہوئے مسجد کی تعمیر کریں… الحمدللہ چند دن میں مسجد
تیار ہوگئی… ایک اللہ والے نے اس کا نام ’’جامع مسجد عثمانؓ
وعلیؓ ‘‘ تجویز فرمایا… اور بشارت دی کہ ایک سال میں اس مسجد سے خوشبو پھیل جائے
گی… پھر ایسا ہی ہوا لوگ دور دور سے اس مسجد میں آتے تھے… اور مکمل دین اسلام کو
سمجھنے کی کوشش کرتے تھے… پھر اس مسجد میں ذکر اور تلاوت کی آوازیں گونجنے لگیں
اور ہر مہینے میں سات دن کا دورہ تربیہ… مسلمانوں کے لیے سکون اور قرار کا نسخہ بن
گیا… پانچ سال پہلے ایک فقیر نے اس مسجد میں اعتکاف بیٹھنے کا ارادہ کیا… دس ساتھی
منتخب ہوئے جنہوں نے اعتکاف کی سنت ادا کرنی تھی… ابھی وہ مسجد میں بیٹھے ہی تھے
کہ اس مسجد کو گھیر لیا گیا… ہر طرف وردی والے اور بغیر وردی والے اس گلشن کو
اجاڑنے آپہنچے… اس غریب سے فقیر نے مسجد کی طرف الوداعی نگاہ ڈالی، چند آنسو بہائے
اور اپنا رومال کندھے پر ڈال کر کہیں گم ہوگیا… مسجد اس کی تو نہیں تھی کہ اجڑ
جاتی… جس کی تھی اس نے سنبھالے رکھی… جی ہاں
مسجد اللہ تعالیٰ کا گھر اور کعبہ کی بیٹی ہوتی ہے… کل پتہ
چلا کہ ماشاء اللہ اس سال اس مسجد میں پونے چار سو افراد
اعتکاف کے لیے تشریف لائے ہیں… ان سب کے لیے دل کی گہرائی سے دعاء ہے
کہ… اللہ تعالیٰ ان پر خاص رحمت نازل فرمائے، ان سب کی بخشش
فرمائے… اور ان کے قلوب کو نور اور سکون سے بھر دے… واہ میرے مالک واہ… آپ کی شان
کس قدر بلند ہے… اور دین کے کاموں کے ساتھ آپ کی نصرت کس قدر وسیع ہے…
سبحان اللہ وبحمدہ
سبحان اللہ العظیم… ماشاء اللہ لا
قوۃ الا ب اللہ ، بارک اللہ …
آخری
عشرے کے تقاضے
بعض
روایات میں آیا ہے کہ رمضان المبارک کی آخری
رات اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشش کا خاص اعلان ہوتا ہے… اسی
طرح بخاری ومسلم کی روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ
رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں… رمضان المبارک کے آخری عشرے میں
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اپنی لنگی کو مضبوط باندھ لیتے تھے، اور
راتوں کو جاگتے تھے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے تھے… معلوم ہوا کہ رمضان
المبارک کے آخری عشرے میں مسلمانوں کو زیادہ محنت اور عبادت کرنی چاہئے… مگر آجکل
ہم لوگ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں:
۱ کچھ
لوگ عید کمانے کے لیے بازاروں میں مستقل جا بیٹھتے ہیں
۲ کچھ
لوگ عید کی خریداری کے دھوکے میں اپنا وقت برباد کرتے ہیں
۳ کچھ
لوگ اپنے گاؤں اور شہروں کی طرف لمبے لمبے سفر شروع کردیتے ہیں ۔ سفر کی وجہ سے
عبادت بھی چھوٹ جاتی ہے… اور بسوں والے دل کو کالا کرنے کے لیے گانے بھی خوب سناتے
ہیں۔
۴ کئی
لوگ تراویح میں قرآن پاک ختم کرکے … آخری راتیں تراویح بھی ادا نہیں کرتے اور
تھکاوٹ اتارنے میں لگ جاتے ہیں…
اے
مسلمان بھائیو! اور بہنو… کیا یہ سب کچھ نفس اور شیطان کا دھوکا نہیں ہے؟… محنت
اور مزدوری کا اصل معاوضہ تو رمضان المبارک کے آخر میں اور عید کے دن ملتا ہے… اور
ہم جوتوں، کپڑوں اور ملاقاتوں کے شوق میں اس سے محروم رہ جاتے ہیں… اور حد تو یہ
ہے کہ عید کے دن کئی لوگ تلاوت کا ناغہ کرتے ہیں… نماز باجماعت ادا نہیں کرتے… اور
دل بھر کر گناہ کرتے ہیں… ملاحظہ فرمائیے یہ روایت:
پھر
جب عیدالفطر کی رات ہوتی ہے تو اس رات کا نام (آسمانوں پر) لیلۃ الجائزہ (انعام کی
رات) سے لیا جاتا ہے اور جب عید کی صبح ہوتی ہے تو حق تعالیٰ شانہٗ فرشتوں کو تمام
شہروں میں بھیجتے ہیں، وہ زمین پر اتر کر تمام گلیوں، راستوں کے سروں پر کھڑے
ہوجاتے ہیں اور ایسی آواز سے جس کو جنات اور انسان کے سوا ہر مخلوق سنتی ہے پکارتے
ہیں کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت اس کریم رب کی (درگاہ) کی
طرف چلو جو بہت زیادہ عطاء فرمانے والا ہے، اور بڑے سے بڑے قصور کو معاف فرمانے
والا ہے، پھر جب لوگ عیدگاہ کی طرف نکلتے ہیں تو حق تعالیٰ شانہٗ فرشتوں سے دریافت
فرماتے ہیں: کیا بدلہ ہے اس مزدور کا جو اپنا کام پورا کرچکا ہو؟ وہ عرض کرتے ہیں
کہ ہمارے معبود اور ہمارے مالک اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی مزدوری پوری پوری دے دی
جائے تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اے فرشتو! میں
تمہیں گواہ بناتا ہوں میں نے ان کو رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلہ میں اپنی
رضا اور مغفرت عطاء کردی ہے اور بندوں سے خطاب فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ اے میرے
بندو! مجھ سے مانگو، میری عزت کی قسم، میرے جلال کی قسم آج کے دن اپنے اس اجتماع
میں مجھ سے اپنی آخرت کے بارے میں جو سوال کرو گے عطاء کروں گا اور دنیا کے بارے
میں جو سوال کرو گے اس میں تمہاری مصلحت پر نظر کروں گا، میری عزت کی قسم کہ جب تک
تم میرا خیال رکھو گے میں تمہاری لغزشوں پر ستّاری کرتا رہوں گا (اور ان کو چھپاتا
رہوں گا) میری عزت کی قسم اور میرے جلال کی قسم میں تمہیں مجرموں (اور کافروں) کے
سامنے رسوا اور فضیحت نہ کروں گا، بس اب بخشے بخشائے اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ، تم نے
مجھے راضی کردیا اور میں تم سے راضی ہوگیا۔ (فضائل رمضان ص۶۴)
آپ
میرے لیے دعاء کریں… اور میں آپ کے لیے دعاء کرتا ہوں
کہ اللہ کرے ہمارا آخری عشرہ خوب گزرے … ہم دین کے کاموں
اور مقبول عبادت میں لگے رہیں… اور عید کا دن
بھی اللہ تعالیٰ کی رضاء کے مطابق گزاریں… اور اللہ تعالیٰ
ہم سب کی مغفرت اور بخشش فرمادے… آمین یا ارحم الراحمین…
وصلّ اللہ تعالیٰ
علیٰ خیر خلقہٖ سیّدنا محمد وآلہٖ واصحابہٖ وبارک وسلم تسلیماً کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
حضرت ابو الفضل محمد بن حسن الختلی رحمۃ اللہ علیہ کے درجات بلند فرمائے… آپ علم
تفسیر اور حدیث کے بڑے عالم اور بہت اللہ والے بزرگ تھے… آپ
فرمایا کرتے تھے:
الدنیا
یوم ولنا فیہا صوم
ترجمہ:
یہ دنیا ایک دن کی ہے اور ہم اس دن میں روزہ دار ہیں۔
یعنی
دنیا کی زندگی مختصر ہے اور ہم اس میں ایک روزہ دار کی طرح ہیں کہکھل نہیں رہتے …
بلکہ پابند رہتے ہیں… اور آپ فرمایا کرتے تھے:
’’جب اللہ تعالیٰ
کسی کو ولایت کا تاج اور حکومت دینے کا ارادہ فرماتے ہیں تو پہلے اس کو توبہ کی
توفیق نصیب فرماتے ہیں اور پھر اس کو اپنے کسی ’’دوست‘‘ کی خدمت میں بھیج دیتے ہیں
تاکہ اس کی یہ خدمت اس کے لیے کراُمت کا سبب بن جائے۔‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ
کے ولی بننے کے دو دروازے ہیں … پہلا دروازہ توبہ اور دوسرا
دروازہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء کی صحبت اور خدمت…
اس
مبارک تذکرے کو یہاں تھوڑا سا روکتے ہیں… آج رات مجھے حضرت ابوالفضل محمد بن حسن
رحمۃ اللہ علیہ کی ایک بات نے بہت فائدہ دیا ہے… ہوا یہ کہ ہمارے ملک کے نئے صدر
صاحب نے ابھی حال ہی میں امریکہ کا دورہ کیا ہے… اور اس دورے کے دوران انہوں نے جو
بیانات داغے ہیں ان سے دل میں کچھ رنج اور پریشانی تھی… آصف زرداری صاحب بہت شریف
آدمی ہیں اس بات کو پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے… انہوں نے امریکہ میں امریکیوں کو
خوش کرنے کے لیے کھلی کھلی باتیں کہیں… کشمیری مجاہدین کو دہشت گرد قرار دیا… ملک
سے جہاد کلچر کو بالکل مٹانے کا عزم ظاہر کیا… اور معلوم نہیں کیا کیا ارشاد
فرمایا… کسی عباسی خلیفہ کا واقعہ پڑھا تھا کہ ایک مرتبہ اس کی ایک باندی برتن
دھونے بیٹھی تو اچانک اونچی اونچی باتیں کرنے لگی… وہ برتن بھی مانجھ رہی تھی اور
جہاز بھی اڑا رہی تھی کہ میں یہ کردوں گی اور میں وہ کردوں گی… خلیفہ کو کسی نے
جاکر بتایا کہ آج یہ عجیب صورتحال پیش آئی ہے… خلیفہ عقلمند تھا اس نے کہا جس جگہ
یہ باندی بیٹھ کر برتن دھو رہی ہے، وہاں سے اسے اٹھا کر زمین کو کھودا جائے… شاہی
ملازمین نے ایسا ہی کیا… جب اس جگہ کو کھودا گیا تو وہاں سے بہت بڑا خزانہ نکلا… خلیفہ
نے کہا کہ میں سمجھ گیا تھا کہ یہ باندی کسی خزانے پر بیٹھی ہے اور اسی کا نشہ اس
کے دماغ تک پہنچ رہا ہے… آصف زرداری صاحب کے بیانات پڑھ کر یہ خیال آرہا ہے کہ
ہمارے ملک کے صدارتی محل کے نیچے کوئی خزانہ دفن ہے کہ جو بھی یہاں آکر بیٹھتا ہے
… فوراً اونچی اونچی باتیں شروع کردیتا ہے… ابھی آٹھ، نو سال صدر پرویز نے
’’میںمیں‘‘ کرکے قوم کے کان کھائے اور بالآخر ذلتوں اور ناکامیوں کا ٹوکرا سر پر
اٹھا کر چلے گئے… اور اب زرداری صاحب نے آتے ہی اپنے ملک کی آبادی کو ختم کرنے کے
اعلانات شروع کردیئے ہیں… معلوم نہیں انہوں نے کتنے روپے میں یہ ملک خرید لیا ہے…
خیر ان کے بیانات سے دل میں کچھ رنج اور پریشانی تھی کہ اچانک حضرت شیخ ابوالفضل
رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات ہوگئی… اور انہوں نے ایک بات سمجھا کر دل کو مطمئن
کردیا… سبحان اللہ … یہ اللہ والوں کی عجیب
کراُمت ہے کہ اپنی زندگی میں بھی مخلوق کو فائدہ پہنچاتے ہیں اور دنیا سے رخصت
ہونے کے بعد بھی ان کا فیض جاری رہتا ہے… اور لوگوں کو ان سے نفع پہنچتا رہتا ہے…
یہ حضرت شیخ ابو الفضل محمد بن حسن رحمۃ اللہ علیہ اس زمانے کے بزرگ
نہیں ہیں … بلکہ یہ تو حضرت ابوالحسن علی بن عثمان ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کے مرشد
ہیں… جی ہاں حضرت شیخ ہجویری جن کو لاہور والے ’’داتا گنج بخش‘‘ کہتے ہیں… یعنی ان
بزرگوں کو دنیا سے رخصت ہوئے کم و بیش ایک ہزار سال کا عرصہ گزر چکا ہے… میں یہ
سوچ رہا تھا کہ… کتنی دعاؤں سے اور کتنی مشکل سے پرویز مشرف سے جان چھوٹی …
مسلمانوں نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی… کئی لوگوں نے مٹھائیاں تقسیم کیں… شکرانے
کے نوافل ادا کیے… مگر ہوا کیا کہ ان کی جگہ زرداری صاحب آگئے… پرویز مشرف جرنیلوں
کی طرح دھمکیاں دیتے تھے جبکہ زرداری صاحب کا لہجہ وڈیروں والا ہے… پھر آخر
پاکستان کے دیندار مسلمان کہاں جائیں؟… یہی بات سوچ کر دل میں گھٹن کا احساس ہوا
تو اپنے شیخ حضرت مفتی ولی حسن صاحبپ کی کتاب ’’تذکرہ اولیاء پاک و ہند‘‘ میں ایک
واقعہ مل گیا… حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہٗ کی
یہ ایمان افروز کتاب ’’ادارہ اسلامیات لاہور‘‘ نے شائع کی ہے…
اور الحمدللہ آسانی سے مل جاتی ہے… یہ دلوں کو ایمانی تازگی
بخشنے والی کتاب ہے… قارئین القلم سے گذارش ہے کہ اس کتاب کا مطالعہ فرمالیں…
انشاء اللہ بہت فائدہ ملے گا… حضرت نے یہ واقعہ ’’کشف
المحجوب‘‘ کے حوالے سے تحریر فرمایا ہے… بندہ نے ’’کشف المحجوب‘‘ میں اس واقعہ کو
ڈھونڈا تو الحمدللہ زیادہ تفصیل کے ساتھ مل گیا…
حضرت
ہجویری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت شیخ ابوالفضل محمد بن حسن رحمۃ اللہ
علیہ کی وفات کا وقت آیا تو آپ کا سر میری گود میں تھا… اور میرے دل میں ان کی
جدائی کے خیال سے شدید اثر اور رنج تھا… آپ نے مجھ سے فرمایا:
’’بیٹا
میں تجھے اعتقاد کا ایک مسئلہ بتاتا ہوں اگر تو نے اپنے آپ کو اس کے مطابق درست
کرلیا تو ہر قسم کے رنج وغم سے آزاد ہوجائے گا۔ جان لے! کہ اچھے برے ہر طرح کے
حالات اور مقامات اللہ تعالیٰ ہی پیدا فرماتے ہیں اس لیے
تمہیں اس کے کسی فعل پر نہ تو جھگڑا کرنا چاہئے اور نہ ہی دل میں رنج کرنا
چاہئے۔‘‘
اس
کے علاوہ آپ نے کوئی لمبی وصیت نہ فرمائی اور جان دے دی۔
اللہ اکبرکبیرا…
سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے، ہم کون ہوتے ہیں کہ
اس کے کسی فعل پر اعتراض کریں کہ… ایسا کیوں ہوا؟… اور ایسا کیوں نہ ہوا؟
… اللہ تعالیٰ حکیم ہے اور اس کے ہر حکم میں کوئی حکمت ہوتی
ہے… حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ کی اس وصیت کو پڑھتے ہی مجھے کئی باتیں یاد آنے لگیں…
سب سے پہلے تو قرآن پاک کی یہ آیات ذہن میں آئیں:
وَاصْبِرْ
وَمَا صَبْرُکَ اِلاَّ بِ اللہ وَلاَ تَحْزَنْ عَلَیْہِمْ وَلاَ تَکُ
فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْکُرُوْنَO اِنَّ اللہ مَعَ
الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِیْنَ ہُمْ مُحْسِنُوْنَO(النحل ۱۲۷،۱۲۸)
ترجمہ: ’’اور
(اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) صبر کیجئے اور آپ کا صبر
کرنا اللہ تعالیٰ ہی کی توفیق سے ہے اور ان پر غم نہ کھائیے
اور ان کی سازشوں سے تنگ دل نہ ہوں۔ بے شک اللہ تعالیٰ ان
کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور جو نیکی کرتے ہیں۔‘‘
حضرت
لاہوری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
آپ
ان کی ایذاء دہی پر صبر کریں، آپ کا صبر اللہ تعالیٰ کے لیے
ہوگا اور ان کے حیلوں، بہانوں سے کبیدہ خاطر نہ
ہوں، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے پرہیزگار اور نیکوکار بندوں کا
ساتھ دیا کرتا ہے۔ (حاشیہ حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ)
مستدرک
حاکم کی ایک روایت کے مطابق یہ آیات غزوہ احد کے موقع پر نازل
ہوئیں… اللہ اکبر کبیرا… غزوہ احد جس دن پورا اسلامی منظر
نامہ خاک وخون میں تڑپ رہا تھا… آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم زخمی تھے،
خون مسلسل بہہ رہا تھا… صلی اللہ علیہ وسلم، صلی
اللہ علیہ وسلم … ستر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لاشے اس طرح پڑے تھے
کہ مشرکوں نے جسم کے اعضاء تک کاٹ ڈالے تھے… سینکڑوں مسلمان زخموں سے کراہ رہے
تھے… دار الاسلام مدینہ منورہ سخت خطرے میں تھا… مشرکین کا لشکر فتح کے نعرے بلند
کر رہا تھا… اور آسمان سے حکم آرہا تھا کہ اے نبی آپ اپنے دل میں رنج وغم نہ
لائیں… اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہے… کوئی بدعقیدہ انسان وہاں
ہوتا تو یہی کہتا کہ… اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے اس لیے ہم
زخموں اور خوف سے کراہ رہے ہیں؟ … نعوذ ب اللہ … مگر آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے دل مضبوط رکھا… آپ کے
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی حالات کے غبار کو اپنے دل پر نہ آنے
دیا… اور تھوڑی دیر بعد ان زخمی مجاہدین کا لشکر ’’حمراء الاسد‘‘ کی طرف تکبیر کے
نعرے بلند کرتا ہوا روانہ ہوا تو آسمان بھی جھوم اٹھا… اور عرش کے اوپر سے محبت
بھری آیات نازل ہونے لگ گئیں… اور مشرکین کا لشکر مدینہ منورہ پر حملہ کیے بغیر
واپس لوٹ گیا…
کیا
آج ہمارے حالات اس دن سے زیادہ سخت ہیں کہ ہم مایوس ہونے لگتے ہیں؟… حضرت شیخ رحمۃ
اللہ علیہ کی وصیت پڑھ کر ایک تو یہ آیات مبارکہ ذہن میں آئیں… اور دوسرا یہ ذہن
میں آیا ہے کہ الحمدللہ ماضی میں ہر وہ چیز جو ’’شر‘‘ نظر
آرہی تھی اللہ پاک نے اس میں خیر کے سامان پیدا فرمادیئے …
پرویز مشرف کا دور کتنا بڑا شر تھا… مگر اس دجالی زمانے میں جہاد خوب پھلا پھولا…
اور دنیا کے کئی حصوں میں پھیل گیا… امریکہ کا افغانستان پر حملہ کرنا کتنا تکلیف
دہ تھا… مگر اس غم کی کوکھ سے کئی فتوحات برآمد ہوئیں… اور امریکہ عراق میں جا
پھنسا … اور آج امریکہ کی سودی معیشت اپنی چھتوں اور دیواروں کے ساتھ زمین پر گرنے
جارہی ہے… ایمان، تقویٰ اور جہاد میں اللہ پاک نے بہت قوت
رکھی ہے… جن ایمان والوں نے پرویز مشرف کے دور میں ہار نہیں مانی وہ زرداری کو بھی
انشاء اللہ سہہ جائیں گے… جہاد کا تیر اب اپنی کمان سے نکل
چکا ہے اور وہ شخصیات کا محتاج نہیں رہا… اگر ایک ہی دن میں مجاہدین کے تمام
کمانڈروں کو قتل کردیا جائے تب بھی دوسرے دن جہاد پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر
سامنے آئے گا… ہاں شرط یہ ہے کہ مجاہدین اپنے جہاد کو شریعت کا تابع رکھیں… اور
جہاد کو فساد نہ بننے دیں… اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو قتل کرنا… اور شریعت کے
طریقے سے ہٹ کر لڑنا جہاد نہیں ہے… الحمدللہ جہاد کا نیا
دور شروع ہوئے تیس سال ہونے کو ہیں… سوویت یونین نے جہاد کو مٹانے کے لیے پورا زور
لگایا مگر وہ خود دنیا کے نقشے سے مٹ گیا… روس نے جہاد کو مٹانے کی بہت کوشش کی
مگر اب وہ مجاہدین سے اتحاد کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہا ہے… امریکہ نے
خوب زور لگالیا مگر جہاد پھیلتا اور امریکہ گرتا جارہا ہے… اسرائیل تو بنا ہی جہاد
اور مسلمانوں کے خاتمے کے لیے ہے مگر وہ مجاہدین سے اپنا ایک قیدی تک رہا نہیں
کروا سکا۔ انڈیا نے سر توڑ کر کوشش کرلی مگر اب تو سری نگر کی طرح دہلی اور جے پور
میں بھی دھماکوں کی گونج ہے… اور انڈیا کو کابل میں بھی امن نصیب نہ ہوسکا… نیٹو
اتحاد نے پورا زور لگالیا مگر افغانستان کے پہاڑ ہر دن نئے طالبان کو اس کے سامنے
کھڑا کردیتے ہیں… آج ہی بی بی سی کی خبروں میں برطانوی جنرل کا بیان تھا کہ ہمیں
افغانستان میں کبھی بھی فیصلہ کن فتح حاصل نہیں ہوسکتی…
اللہ اکبر
کبیرا… بے شک ظاہری طور پر حالات خراب ہیں مگر ہمارے
لیے اللہ تعالیٰ سے شکوہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے… وہ
حالات کو ایک خاص تدبیر سے اچھائی کی طرف لے جارہا ہے… خوش نصیب مسلمانوں کو شہادت
نصیب ہو رہی ہے… جہاد کی برکت سے گناہگاروں کی بخشش ہو رہی ہے… مسلمانوں میں
چھانٹی ہو رہی ہے… غفلت زدہ طبقے میں بیداری آرہی ہے… اور کفر کا کھوکھلا پن دنیا
پر آشکارہ ہو رہا ہے…
یا اللہ ہم
آپ کی تقدیر پر راضی ہیں… خوش ہیں … اور ایمان رکھتے ہیں… آپ ہمیں اپنی رضاء نصیب
فرمادیجئے … اور ہمارا خاتمہ ایمان اور شہادت مقبولہ پر فرما دیجئے… آمین یا ارحم
الراحمین…
وصلّی اللہ تعالیٰ
علیٰ خیر خلقہٖ سیّدنا محمد وآلہٖ وصحبہٖ وسلم تسلیماً کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
کے پیارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم… اپنے صحابہ
کراؓم کو اکثر ’’آخرت‘‘ کی یاد دلاتے رہتے تھے… جی ہاں ایک انسان کی کامیابی کے
لیے لازم ہے کہ اسے آخرت، قبر، جنت، جہنم اور حساب یہ ساری منزلیں یاد رہیں… ورنہ
تو دیندار لوگ بھی غافل ہوجاتے ہیں…
حضرت
ابوہریر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ کسی چیز
کے گرنے کی آواز سنائی دی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
جانتے ہو یہ آواز کیسی تھی؟ ہم نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ اور
اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) بہتر جانتے ہیں۔ ارشاد
فرمایا: یہ وہ پتھر ہے جو ستر سال پہلے جہنم میں لڑھکایا گیا تھا وہ آج جہنم کی
تہہ تک پہنچا ہے یہ اس کی آواز تھی۔ (صحیح مسلم)۔
اللہ
، اللہ ! بس کچھ عرصہ بعد قیامت قائم ہوگی اور بدنصیب انسانوں کو اسی
طرح جہنم میں پھینکا جائے گا… معلوم نہیں اس دن ہمارا کیا بنے گا… ہمارے
آقا صلی اللہ علیہ وسلم تو ہمارے لیے تاکید فرما گئے کہ ’’
جہنم
سے بچنے کا سامان کرلو چاہے وہ ایک کھجور کے ٹکڑے سے ہی ہو۔ (صحیح بخاری)
مگر
سامان تو وہ کرے جس کو جہنم کی فکر ہو… مرنے کا یقین ہو… ابھی چند دن بعد ہم
مرجائیں گے تب ہم اپنے ساتھ کیا لے جائیں گے… اپنا موبائل فون؟… موبائل فون نے تو
ایسی خرابی مچائی ہے کہ صرف یہی ایک ’’فون‘‘ کسی انسان کے لیے خوفناک عذاب کا باعث
بن سکتا ہے… تصویریں، موسیقی، گیمز، ناپاک دوستیاں، فضول کالیں اور قیامت کے دن
وبال بننے والی گفتگو… مسلمانوں کو پہلے ہی ’’زیادہ بولنے‘‘ نے برباد کر رکھا تھا
اور اب تو موبائل فون پر باتیں ہی باتیں ہیں… کسی کو یاد نہیں رہتا کہ ان باتوں کو
لکھا جارہا ہے… ان باتوں کو اللہ تعالیٰ سن رہا ہے… ان
کالوں پر خرچ ہونے والے مال کا بھی حساب دینا ہوگا… ہر شخص کے کئی کئی نمبر ہیں
اور ہر نمبر کے ساتھ کئی کئی شرارتیں… انڈین آرمی کے عقوبت خانے میں ہمارے ساتھ
ایک صاحب تھے ان کو زیادہ بولنے کی بیماری تھی… کئی بار سمجھایا مگر وہ مجبور تھے…
ساتھیوں کی تلاوت اور ذکر اذکار میں حرج ہو رہا تھا… بالآخر قانون بنا کہ ان کے
ساتھ کوئی گپ شپ نہ کرے… وہ بیچارے سخت پریشان ہوئے… وہاں کھانا کم ملتا تھا تو وہ
اپنا کھانا بچا کر کسی ساتھی کے پاس لے جاتے کہ یار یہ لے لو اور میرے ساتھ گپ شپ
لگاؤ… ساتھی مذاق میں کہتے کہ ہم سو روپے لیں گے تب آپ کی بات سنیں گے تو وہ اس پر
بھی راضی ہوجاتے… حالانکہ وہاں پیسوں کی بہت تنگی تھی… موبائل فون نے تو ایسے
لوگوں کی موجیں کرادی ہیں … اب وہ بہت آسانی سے اپنا وقت بھی ذبح کرتے ہیں اور
دوسروں کا بھی… حالانکہ فضول باتوں سے بچنا ایمان کی علاُمت ہے… اور
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
جس
چیز کے متعلق میں اپنی اُمت پر سب سے زیادہ ڈرتا ہوں وہ زبان ہے۔ (کشف المحجوب)
اور
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
جو
شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ خیر
کی بات کہے یا خاموش رہے۔ (بخاری، مسلم)
احادیث
مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ’’زبان‘‘ کی حفاظت اسی طرح ضروری ہے جس طرح شرمگاہ کی
حفاظت… اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اللہ تعالیٰ
کے ذکر کے علاوہ زیادہ باتیں نہ کیا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ
کے ذکر کے علاوہ زیادہ باتیں دل کو سخت کردیتی ہیں اور لوگوں
میں اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ دور وہ شخص ہے جس کا دل سخت
ہو۔ (ترمذی)
ابھی
ہم نے جہنم میں پتھر گرنے والی روایت پڑھی… اب یہ روایت بھی پڑھیں جو ہمارے بڑے
خیر خواہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے فائدے کے لیے ارشاد
فرمائی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
ایک
شخص اپنی زبان سے کوئی بات نکالتا ہے جس میں وہ غور نہیں کرتا (مگر) وہ اس بات کی
وجہ سے جہنم میں اتنی دور جاگرتا ہے جتنی دوری مشرق ومغرب کے درمیان ہے۔ (بخاری،
مسلم)
یہاں
ایک چھوٹی سی مگر ضروری بات یاد آگئی… ہم لوگ اپنی ہر بیماری کی فکر کرتے ہیں مگر
زبان کی بیماری کی اکثر ہمیں فکر نہیں رہتی… ہر آدمی بس بول رہا ہے اور خوب بول
رہا ہے… اور جس کو کم بولنے کا کہا جائے وہ ناراض ہوتا ہے… پہلے یہ غنیمت تھی کہ
موبائل فون موجود نہیں تھا تو گپ شپ کے مریضوں کو کچھ وقت خاموش رہنے کا موقع مل
جاتا تھا… مگر اب موبائل فون کی وجہ سے ان کو اتنی سہولت ہوگئی ہے کہ شاید مرنے سے
پہلے بھی آخری گپ شپ ان سے قضاء نہیں ہوگی… ہم نے کبھی سوچا کہ ہم کیا کچھ بولتے
ہیں؟
۱۔
کفر کی باتیں… ۲۔شہوت
کی باتیں… ۳۔غیبت
کی باتیں … ۴۔مسلمانوں
میں تفریق کی باتیں … ۵۔گناہ
کی باتیں… کیا ہم ان تمام باتوں کا حساب قبر اور آخرت میں دے سکیں گے؟…
حضرت
انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے ایک
صاحب وفات پاگئے تو ایک دوسرے صاحب نے فرمایا (ان کے لیے) جنت کی بشارت ہو، اس پر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہیں
کیا معلوم کہ شاید اس نے کوئی فضول بات کی ہو یا ایسی چیز میں بخل کیا ہو جو اس کے
پاس کم نہیں ہوتی تھی۔ (ترمذی)
ایسی
روایات کو پڑھ کر ہر شخص کہتا ہے کہ پھر تو زندگی بہت مشکل ہوجائے گی… اس بات کے
تین جوابات ہیں:
۱۔ایسی
روایات کا مقصد دل میں یہ فکر پیدا کرنا ہوتا ہے کہ زبان کی حفاظت کی جائے، جن
لوگوں کو اللہ پاک نے یہ فکر عطاء فرمادی… ان کے ایمان اور
اعمال میں ایسی برکت پیدا ہوگئی کہ سینکڑوں سال گزر چکے لوگ ان کے اعمال سے اب بھی
نفع حاصل کر رہے ہیں…
۲۔نیکی
کی باتیں اتنی زیادہ ہیں کہ اگر انسان ان میں لگا رہے تو اسے کسی کمی یا خشکی کا
احساس ہی نہ ہو… ماضی کے جو لوگ جہاد بھی کرتے تھے، حکومتیں بھی چلاتے تھے اور
روزانہ قرآن پاک کا مکمل ختم اور ہزاروں بار درود شریف بھی پڑھتے تھے… اس میں بڑا
دخل زبان کی حفاظت کا تھا…
۳۔فضول
باتیں بعض اوقات کسی فتنے کا ذریعہ بنتی ہیں … ریاکاری کا ذریعہ بنتی ہیں… کسی
ناجائز دوستی کا ذریعہ بنتی ہیں… اور پھر یہ فتنہ، ریاکاری اور ناجائز دوستی
ہزاروں گناہوں کا ذریعہ بن جاتی ہے…
قید
کے زمانے میں ہم چند ساتھیوں نے زبان کی حفاظت کے اسلامی احکامات اور احادیث پڑھیں
تو دل میں بہت فکر پیدا ہوئی… اور کئی ساتھیوں
کو الحمدللہ فضول گپ شپ سے نفرت ہوگئی… آپ بھی یہ احادیث
مبارکہ پڑھنا چاہیں تو مکتبہ عرفان لاہور نے ایک کتاب چھاپی ہے… اس کا نام ہے
’’یہود کی چالیس بیماریاں‘‘… اس کتاب کے صفحہ ۳۰۷ پر یہ
عنوان ہے… ’’یہودیوں کی نویں بیماری، جھوٹ اور گناہ کی عادی زبانیں‘‘… آپ یہ پورا
باب پڑھ لیں … صرف اور صرف اپنی آخرت کے لیے… کیونکہ اپنی زبان کا سب سے زیادہ
نقصان خود زبان والے کو پہنچتا ہے… اور وہ ذلیل، خوار اور ناکام ہو جاتا ہے… اس
باب کے صفحہ ۳۴۴ سے
لے کر ۳۶۵ پر
زبان کی حفاظت کے بارے میں چالیس احادیث موجود ہیں… ان کو ضرور پڑھ لیں… اور ان کی
روشنی میں اپنی زبان کی اصلاح کی کوشش کریں… یہاں یہ بات یاد رکھیں کہ ہم جب بھی
دین کی کوئی بات پڑھتے ہیں تو شیطان دو سوچیں دماغ میں ڈالتا ہے… پہلی یہ کہ فلاں
فلاں شخص تو ان باتوں پر عمل نہیں کر رہا… اور دوسرا یہ کہ میں خود تو عمل نہیں
کروں گا دوسروں کو سناؤں گا… چنانچہ خطیب مزاج لوگ جب بھی کوئی دینی بات سنتے یا
پڑھتے ہیں تو ان میں خود عمل کرنے کی نیت پیدا نہیں ہوتی بس اسی پر خوش ہوتے ہیں
کہ ہم یہ بات دوسروں کو سنائیں گے تو ہماری واہ واہ ہوگی… میں اور آپ آج ہی ان
احادیث پر خود عمل کرنے کی نیت کرلیں … تب انشاء اللہ مدینہ
منورہ کا دروازہ ہم پر کھل جائے گا… اور کعبہ شریف کی ہدایت کا نور ہم پر برسے گا…
جیل کے رفقاء میں جب اس خوفناک بیماری کے بارے میں شعور پیدا ہوا تو ہم نے… آپس
میں اپنی استطاعت کے مطابق اپنی اصلاح کے لیے کئی طریقے اختیار کیے… ہم میں زبان
کے بیمار کئی طرح کے تھے:
۱۔
زیادہ گپ شپ کرنے اور بولنے والے
۲۔
کثرت سے جھوٹ بولنے والے
۳۔
معلومات حاصل کرنے اور تجسس کے شوقین کہ ہر کسی کی ہر بات ان کو معلوم ہو
۴۔
فحش اور بے ہودہ باتیں کرنے والے
۵۔
ہر وقت فتنے اور اختلاف کی باتیں ڈھونڈنے اور کرنے والے
۶۔
سخت بولنے والے
۷۔
ادھر ادھر کی اڑانے والے، افواہیں پھیلانے والے
الغرض
یہ بہت بڑا جنگل ہے… انسان کی زبان جب سانپ بن جائے تو ایمان سمیت ہر چیز کو ڈستی
ہے… ایک ہی لفظ ادا کرنے سے نکاح جیسا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے… اور کلمہ کفر بکنے سے
سالہا سال کا ایمان اور اعمال سب ضائع ہوجاتے ہیں… ان تمام بیماریوں کی اصلاح کے
لیے جو نصاب اختیار کیے گئے ان میں سے بعض یہ ہیں:
۱۔
کچھ دن کی مکمل خاموشی اختیار کرائی جاتی تھی… اکثر رمضان المبارک کے آخری عشرے
میں یہ کام آسان ہوتا تھا… کیونکہ انسان ویسے ہی تلاوت، ذکر، تراویح اورعبادت میں
مشغول ہوتا ہے… بعض ساتھی جو بہت بولتے تھے خاموشی کے ان ایام میں ان کے چہروں پر
’’نور‘‘ صاف نظر آتا تھا… کیونکہ زیادہ بک بک سے چہرے اور آنکھوں کا نور ختم
ہوجاتا ہے… مگر بعض ساتھیوں پر یہ عمل بہت بھاری ہوتا تھاو ہ غلطی سے یا چھپ کر
اپنی پیاس بجھالیتے تھے… اس پر بعض دفعہ دلچسپ لطیفے بھی ہوجاتے تھے…
۲۔ جھوٹ
بولنے والوں کو ایک چھوٹی سی ڈائری دی جاتی تھی کہ … روزانہ جب جھوٹ بولیں اس کا
اندراج کرلیں… رات کو سوتے وقت گنیں کہ کتنے جھوٹبولے ہیں… پھر اتنی بار توبہ
کرلیں… ایک ساتھی نے یہ عمل شروع کیا پہلے دن رات کو ان کے پاس تیس جھوٹ بولنے کا
ریکارڈ تھا… مگر احساس اور استغفار کی برکت سے ان کو فائدہ ملا تو چند دن بعد بندہ
نے پوچھا تو انہوں نے بتایا آج صرف چار ہوئے ہیں…
۳۔ تجسس
کے مریضوں کا علاج مشکل تھا… وہ جن دو افراد کو آپس میں باتیں کرتا دیکھ لیتے ان
کی خواہش ہوتی کہ انہیں اس بات چیت کی پوری تفصیل معلوم ہونی چاہئے… اپنے اس شوق
کی خاطر کافی ذلت اٹھاتے اور دوسروں کی برائیوں کا گند اپنے سر لیتے… ان کو سورۃ
حجرات میں اللہ تعالیٰ کا حکم کہ تجسس نہ کرو… اور تجسس کی
بے شمار خرابیاں بتائی جاتیں… الحمدللہ کچھ فائدہ ہوجاتا
تھا… اور جس کو یہ خیال نصیب ہوجاتاکہ زیادہ معلومات میرے ایمان اور آخرت کے لیے
نقصان دہ ہیں… اور مجھے اپنا حساب دینا ہے اسی کی فکر کروں تو اس کی جان اس بیماری
سے چھوٹ جاتی…
باقی
رہی غیبت تو وہ بہت خطرناک بیماری ہے… اس کے علاج کے لیے غیبت کے بارے میں وارد
ہونے والی احادیث مبارکہ کا آپس میں مذاکرہ مفید ہے… اور ذمہ دار ساتھیوں نے باہم
یہ وعدہ کرلیا کہ جو کوئی ان کے سامنے کسی کی غیبت کرے گا وہ ان دونوں کو آمنے
سامنے کرا دینگے… الحمدللہ اس عمل سے بہت فائد ہوا… حضرت
اقدس تھانوی پ یا کسی اور بزرگ کا واقعہ ہے کہ ان کی اہلیہ نے ان کے
سامنے کسی خاتون کی غیبت کی… وہ فوراً اپنی اہلیہ کو لیکر اس خاتون کے گھر چلے گئے
اور بتایا کہ میری اہلیہ صاحبہ آپ کے بارے میں یہ بات کرتی ہیں کیا آپ نے ایسا
کہاہے؟… اس پر اہلیہ کو کافی شرمندگی ہوئی اور آئندہ کے لیے غیبت سے مکمل پرہیز
ہوگیا… خیر یہ ایک مفصل موضوع اور ایک پھیلی ہوئی بیماری ہے… بندہ نے کتاب کا نام
عرض کردیا ہے اس باب کو پڑھ لیں … اور عمل کی نیت سے پڑھیں تو
انشاء اللہ بہت فائدہ ہوگا… کم از کم اتنا تو معلوم ہوجائے
گا کہ فلاں باتیں گناہ ہیں پھر ان پر توبہ کی توفیق مل جائے گی… اگر کوئی انسان
گناہ نہیں چھوڑ سکتا تو اتنا تو کرسکتا ہے کہ گناہ کو گناہ سمجھے اور اس پر توبہ
کرتا رہے… اور اس سے نفرت رکھے…
بات
موبائل فون کی چل رہی تھی… آج کل موبائل فون کا جس قدر غلط، فضول اور حرام استعمال
ہو رہا ہے تو اگر کسی کا ایک سیٹ اور سم ہی نامہ اعمال میں رکھ دی جائے تو (نعوذب
اللہ ) بربادی کے لیے کافی ہوجائے… میں اکثر عرض کرتا ہوں کہ امریکہ اور یورپ
مجاہدین کو شکست نہیں دے سکتے… مجاہدین کو موبائل فون، کمپیوٹر اور ٹی وی شکست
دیتے ہیں… مجاہدین کی باہم نا اتفاقی، ذاتی عزت کا شوق، اجتماعی اموال میں بے
احتیاطی… اور زبان کا غلط استعمال ان کو پستیوں میں ڈال دیتاہے… کیمرے والے موبائل
سے بے دھڑک اپنے چھوٹے بچوں اور بچیوں کی تصویریں ہر کوئی بنا
رہاہے… اللہ کے بندو! اپنی بیٹی کو بھی کوئی کیمرے کے سامنے
لاتا ہے؟ … کیا غیرت کا ایسا جنازہ نکل گیا ہے کہ معصوم بچے اور بچیاں تک تصویروں
کی زد میں ہیں… ظالموں نے ایک کوشش کی اور وہ اس میں کامیاب جارہے ہیں کہ گناہ کا
احساس اور خوف مسلمانوں کے دل سے نکل جائے… پہلے بھی مسلمان گناہگار تھے مگر وہ
احساس رکھتے تھے کہ یہ کام گناہ کا ہے چنانچہ روتے بھی تھے… توبہ استغفار بھی کرتے
تھے اور اپنی اصلاح کی فکر اور دعاء بھی کرتے تھے… مگر اب نہ ٹی وی گناہ، نہ ویڈیو
گناہ، نہ کیمرہ گناہ، نہ بے پردگی گناہ… اور نہ فلم بازی اور تصویر سازی گناہ… انا
للہ وانا الیہ راجعون…
ایک
نیا فتنہ
یہودیوں
اور قادیانیوں نے امن کے حق میں بڑے بڑے اشتہار بنائے ہیں… اور ہر اخبار پیسے کے
لالچ میں ان اشتہارات کو چھاپ رہا ہے… جہاد اسلام کا ایک قطعی فریضہ ہے… اور قرآن
پاک کا حکم ہے… یہ تمام اشتہارات جہاد کے خلاف ہیں… مگر کسی اخبار کے مالک میں
جرأت نہیں کہ وہ حرام کے نوٹ ٹھکرا کر ان اشتہارات کو نہ چھاپے… اہل علم اور اہل
دل سے گزارش ہے کہ ان ناپاک اشتہارات کے خلاف محنت کریں… اور موبائل فون سمیت ہر
نئی ایجاد کے بارے میں شرعی احکامات اُمت تک پہنچائیں… تاکہ ان چیزوں
کو حلال کے دائرے میں استعمال کیا جائے… اور ہم میں سے کسی کا موبائل فون اس کے
لیے قبر کا موبائل سانپ یا آخرت کا عذاب نہ بنے… یا ارحم الراحمین معاف فرمائیے،
رحم فرمائیے، نصرت فرمائیے…
…
آمین یا ارحم الراحمین…وصلّی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہٖ
سیّدنا محمد وآلہٖ وصحبہٖ وسلم تسلیماً کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
توفیق عطاء فرمائے آج چند متفر ّق باتیں عرض کرنی ہیں…
نقصان
دینے والا علم
ایک
صاحب نے شکوہ کیا ہے کہ… آجکل اخبارات میں جہاد کے خلاف بہت کالم شائع ہو رہے ہیں…
انہوں نے کچھ کالم کاٹ کر بھی بھیجے ہیں… اور مشورہ دیا ہے کہ ہم ان کالموں کوغور
سے پڑھا کریں اور ان کے جوابات لکھا کریں… میں نے وہ کالم پڑھے تو ان میں کوئی نئی
بات نہیں تھی… جہاد اور مجاہدین کے خلاف وہی پرانے الزامات تھے جو صدیوں سے چلے
آرہے ہیں… البتہ ہر لکھنے والا اپنے مضمون میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ
نمک مرچ کا اضافہ کرتا رہتا ہے… بندہ کے خیال میں ان لوگوں کے کالم پڑھنا گناہ کا
کام ہے… کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ان لوگوں کی
مذمت فرمائی ہے جو غیر مفید اور نقصان دہ چیزوں کو پڑھتے اور سیکھتے ہیں…
ویتعلمون
ما یضرھم ولا ینـفعھم (البقرۃ۱۰۲)
ترجمہ:
وہ لوگ ایسا علم سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان دیتا ہے اور کوئی فائدہ نہیں دیتا۔
اسی
طرح حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس ’’علم‘‘ سے پناہ مانگا کرتے تھے جو نفع
نہ دے…
اللھم
انی اعوذبک من علم لا ینفع۔
یہ
کالم نویس حضرات کافروں اور منافقوں کے باقاعدہ ملازم ہیں… اور ان میں سے جو جہاد
کے خلاف جتنا زیادہ لکھتا ہے اسی قدر اس کا معاوضہ بڑھتا ہے… تو ایسے لوگوں کو
پڑھنے کی مسلمانوں کو کیا ضرورت ہے؟… یہ لوگ نہ تو ہمارے دینی پیشوا ہیں اور نہ ہی
یہ کوئی باعمل لوگ ہیں… ان میں سے ہرشخص کی زندگی دنیاداری اور عیش پرستی میں
لتھڑی ہوئی ہے… وہ حکمرانوں پر مال جمع کرنے کے اعتراضات تو کرتے ہیں مگر خود
کھانسنے کے بھی پیسے لیتے ہیں… جہاد کے خلاف لکھنا ان کی بہت بڑی بدقسمتی اور
بدبختی ہے تو ایسے لوگوں کی باتیں پڑھنے سے بدنصیبی کے سوا اور کیا ہاتھ آئے گا؟ …
ان لوگوں کے کالم پڑھنے سے جو نقصانات پہنچتے ہیں ان کی فہرست تو بہت طویل ہے… چند
موٹے موٹے نقصانات یہ ہیں:
۱۔ عقیدہ
خراب ہوتا ہے
۲۔ وقت
ضائع ہوتا ہے
۳۔ غلط
معلومات دماغ میں بیٹھ جاتی ہیں
۴۔ مایوسی
پیدا ہوتی ہے
۵۔ دنیا
کی محبت بڑھتی ہے
اور
دل و دماغ پر تاریکی چھا جاتی ہے… الحمدللہ ہمارے پاس قرآن
پاک موجود ہے… جتنا پڑھتے جائیں دل سیر نہیں ہوتا اور دل نور اور سکون سے بھر جاتا
ہے… ہمارے پاس
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال،
افعال اور سنتوں کا ذخیرہ موجودہے… اور ہمارے پاس دینی، اصلاحی اور تاریخی لٹریچر
کا اتنا بڑا ذخیرہ موجود ہے جو کسی مذہب والوں کے پاس نہیں ہے… اس لیے اچھی اور
مفید چیزیں پڑھیں… اور نقصان دہ باتوں کو نہ پڑھیں… وہ اہل علم جنہوں نے جواب
لکھنا ہو ان کے لیے تو گنجائش ہے… باقی جو بھی پڑھے گا اپنا نقصان کرے گا…
حسبنا اللہ ونعم
الوکیل
حضرات
صحابہ کرام ڑکو ڈرایا گیا کہ… کافروں نے آپ لوگوں کے خاتمے کی مکمل تیاری کرلی ہے…
اور آپ لوگوں کے خلاف تباہ کن آپریشن شروع ہونے والا ہے… اس لیے آپ لوگ ڈر جائیں…
احتیاط سے کام لیں، بہت فکر کریں، بہت فکر کریں… حضرات صحابہ کرام ڑنے جب یہ سنا
تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوگیا اور انہوں نے فرمایا:
حسبنا اللہ ونعم
الوکیل : کہ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے کافی ہے… اور
وہ بہترین کارساز ہے۔
یہ
واقعہ قرآن پاک کی سورۃ آل عمران کی آیت ۱۷۳ میں موجود
ہے… مسلمانوں میں خوف پھیلانے والے عناصر کچھ عرصہ کی چھٹی گزار کر ان دنوں پھر
سرگرم ہیں… وہ ہر کسی کو بتاتے پھر رہے ہیں کہ … اس بار مجاہدین کے خلاف بہت سخت
آپریشن ہونے والا ہے… اب کی بار کوئی نہیں بچے گا… زرداری صاحب امریکہ کو
’’پکاوعدہ‘‘ دے چکے ہیں… اور (عبد) رحمن ملک صاحب تو مکمل فہرستیں بنا چکے ہیں…
آئی ایس آئی والے بھی بدنامی کا داغ دھونے کے لیے مجاہدین کو ختم کرنے کا عزم
رکھتے ہیں… اور اس بارے میں نواز شریف صاحب کو بھی شہباز شریف کے ذریعے اعتماد میں
لیا جاچکا ہے… بس اب مجاہدین کی خیر نہیں ہے… ماضی میں کئی بار اسی طرح کی خبریں
اڑیں… لوگوں نے طرح طرح کے خواب بھی دیکھے… اور ان خوفناک خبروں کو سن کر کئی
افراد نے جہاد کو چھوڑ دیا… اور بعض نے اعلان کیا کہ ہم نے جہاد چھوڑا تو نہیں ہے
مگر ہم نے خود کو ’’فریز‘‘ کرلیا ہے… کہ جب حالات ٹھیک ہوں گے تو ہم پھر جہاد کرنے
نکل آئیں گے… اللہ ، اللہ ، اللہ … آج پھر خوف
کی ہوائیں ہیں… ہمارے لیے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا عمل
کامیابی کی ضمانت ہے… اس لیے سب دل سے پکار کر کہیں
حسبنا اللہ ونعم
الوکیل
زرداری
صاحب اور کیا کرسکتے ہیں؟… زیادہ سے زیادہ مار ہی سکتے ہیں اور جہاد کے راستے میں
مرجانا شہادت ہے… مگر مارنے والے خود کہاں جائیں گے؟… انہوں نے بھی تو مرنا ہے…
سات سال پہلے کہا گیا کہ مجاہدین کا بیج ہی ختم کردیں گے… مگر کیا ہوا؟… بیج تو
کیا ختم ہوتا مجاہدین کے جنگل اُگ گئے… بلکہ بعض جگہ تو معاملہ شرعی حدود سے بھی
آگے بڑھ گیا…
انشاء اللہ اب
بھی کچھ نہیں ہوگا… اللہ پاک جہاد اور مجاہدین کا مددگار
ہے… باقی ہر شخص نے اس دنیا کو تو چھوڑنا ہے … ممکن ہے… کچھ افراد کو شہادت نصیب
ہوجائے… مگر شرعی جہاد کو ماننے والی جماعتوں کو ختم کرنا حکومت کے بس میں نہیں
ہے… پرویز مشرف نے غلطی کی اور ان مسلمانوں کو جو افغانستان میں لڑنا چاہتے تھے
مارا اور ستایا تو پاکستان کا ایک پورا علاقہ جنگ کا شکار ہوگیا… اب اگر حکومت کی
یہ خواہش ہے کہ کشمیری مجاہدین کو بھی یہاں مصروف کیا جائے تو حکومت اپنا شوق پورا
کرلے… مجاہدین کو ڈرا کر منظم جماعتوں کو توڑنے کی کوشش کرنے والوں سے عرض ہے کہ…
ڈرا ہوا شیر زیادہ خطرناک ہوتا ہے… اسلام کا کلمہ پڑھنے
والو… اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور کافروں کے دوست اور آلہ کار
نہ بنو… ورنہ اللہ تعالیٰ کو کیا منہ دکھاؤ گے؟…
قیامت
کی علامت
حضرت
جبرئیل امین ح… ایک طالبعلم کی صورت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم کی خدمت میں تشریف لائے… انہوں نے حضرات صحابہ کرام ڑتک دین کی
بنیادی باتیں پہنچانے کے لیے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سوالات
کیے… اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ان سوالوں کے جوابات ارشاد فرمائے… ان سوالات میں سے ایک یہ بھی تھا کہ…
یارسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! مجھے قیامت کی علامات بتائیے…
قال
فاخبرنی عن امارتہا قال ان تلد الامۃ ربتہا وان تری الحفاۃ العراۃ العالۃ رعاء
الشاء یتطاولون فی البنیان
آپ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (قیامت کی علامت یہ ہے) کہ لونڈی اپنی مالکہ کو
جنے گی (آج کل کی لڑکیوں کو اپنی ماؤں پر زبان چلاتے اور غصہ کرتے دیکھ لیں)… (اور
دوسری علامت یہ ہے کہ) تم دیکھو گے کہ جن کے پاؤں میں جوتا اور جسم میں کپڑا نہیں
ہے اور جو تہی دست اور بکریاں چرانے والے ہیں وہ بڑی بڑی عمارتیں بنانے لگیں گے
اور اس میں ایک دوسرے پر سبقت (اور فخر) کریں گے… (صحیح مسلم)
ابھی
پرسوں ایک خبر دیکھی کہ… سعودیہ کا ایک شاہزادہ ’’جدّہ‘‘ میں دنیا کی سب سے اونچی
عمارت بنوا رہا ہے… یہ عمارت ایک کلو میٹر اونچی ہوگی…
انا
للہ وانا الیہ راجعون
اللہ پاک
ان شہزادوں کو ’’عقل سلیم‘‘… اور فکرآخرت عطاء فرمائے… ایک بار مکہ مکرمہ کے بازار
میں بندہ کو ایک شخص ملا… وہ عرب تھا اور مکہ مکرمہ کا رہائشی تھا… باتوں باتوں
میں پتہ چلا کہ اس نے ابھی تک حج ادا نہیں کیا تھا… جبکہ اس کی عمر چالیس برس کے
قریب تھی… یہ اللہ پاک کی تقسیم ہے کہ چاہے تو قریب والوں
کو محروم کردے اور دور والوں کو نواز دے… حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
جو دین لائے وہ تمام انسانوں اور جنات اور تمام عالم کے لیے ہے… یہی اس دین کی
حقانیت کی ایک بڑی دلیل ہے کہ… یہ کسی قوم، قبیلے تک محدود نہیں… عرب ممالک میں
ایسے شخص کو بڑا علامہ سمجھا جاتا ہے جو پوری ’’صحیح بخاری‘‘ اور ’’صحیح مسلم‘‘
پڑھ لے… جب کہ عجم میں ان کتابوں کے حفاظ موجود ہیں… قرآن پاک کے حفظ کا زیادہ
اہتمام بھی عجم میں ہے جبکہ عربوں میں حافظ بہت کم ہیں… یہ دین سب کا ہے سب کے لیے
ہے… اللہ پاک عربوں کو بھی اچھی دینی قیادت عطاء فرمائے…
بدلتی
دنیا
بالآخر اللہ پاک
کی نصرت آہی گئی… اور اب دنیا کا نظام اور نقشہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے… گذشتہ
چند ہفتوں میں لاکھوں امریکی شہری اپنے اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں… ان کو
چاہئے کہ انڈیا کے غریبوں سے ریل کی پٹڑی پر رہنے کی ٹیکنالوجی حاصل کرلیں… سات سو
ارب ڈالر کا جھٹکا تو اس معاشی زلزلے کا آغاز ہے… ’’بارک اوبامہ‘‘ اور ’’جان
مکین‘‘ پریشان ہیں کہ وہ جس امریکہ کے صدر بنیں گے وہ کیسا ہوگا؟… ایک کے بعد ایک
بینک دیوالیہ ہو رہا ہے… بیمہ کمپنیوں کا قیمہ نکل گیا ہے… اور امریکہ کا سپر پاور
رہنا اب شدید خطرے میں ہے… کاش اب بھی دنیا سمجھ لے کہ مسلمانوں کا خون زمین پر
جتنا بھی سستا کردیا جائے آسمانوں پر اس کی بہت قیمت ہے… مظلوموں اور شہیدوں کا
خون بالآخر اپنا رنگ دکھا رہا ہے… ممکن ہے کچھ عرصہ بعد ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم…
روٹی اور آٹے کے بدلے فروخت کرنے پڑیں… کیونکہ دنیا کے ان پاگلوں نے جو کچھ ایجاد
کیا اس کی انسانوں کو قطعاً ضرورت نہیں تھی… مگر وہ فضول ایجاد کرتے چلے گئے،
فیکٹریاں بناتے چلے گئے… اور ان فیکٹریوں کی آلودگی نے انسانی ضروریات کو تباہ
کرکے رکھ دیا… بے شک لوگوں کے برے اعمال نے خشکی اور سمندر ہر جگہ فساد پھیلا دیا
ہے… اے انسانو! اے مسلمانو! ایمان میں کامیابی ہے، اعمال صالحہ میں کامیابی ہے…
اور جہاد وشہادت میں کامیابی ہے…
وصلّی اللہ تعالیٰ
علیٰ خیر خلقہٖ سیدنا محمد وآلہٖ وصحبہٖ وسلم تسلیماً کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
کے پیغمبر حضرت نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لانے والے افراد بہت تھوڑے تھے…
جی ہاں مٹھی بھر… قرآن پاک نے خود بتایا ہے:
وَمَا
آمَنَ مَعَہُ اِلاَّ قَلِیْلٌ (ہود۴۰)
ترجمہ:
اور ان کے ساتھ ایمان لانے والے بہت کم تھے۔
بعض
مفسرین فرماتے ہیں کہ کم وبیش اسّی مرداور عورتیں ایمان
لائے… اللہ تعالیٰ ان مٹھی بھر لوگوں سے راضی ہوا… وہ ایک
کشتی پر بیٹھے اور عذاب سے بچ گئے… اور قیامت تک ان کی نسل جاری ہوگئی… جبکہ
’’اکثریت‘‘ کو اللہ تعالیٰ نے تباہ وبرباد کردیا… یا
اللہ ہم انہیں ’’مٹھی بھر‘‘ لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو حضرت نوح علیہ
السلام پر ایمان لائے تھے… اور اس ’’اکثریت‘‘ سے ہم بری ہیں جنہوں نے آپ کے پیغمبر
کو جھٹلایا اور آپ کے عذاب کے مستحق ہوئے۔
قرآن
پاک سمجھاتا ہے کہ فرعون نے بھی… حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام اور ان پر ایمان
لانے والوں کو یہی طعنہ دیا تھا کہ یہ ’’مٹھی بھر‘‘ لوگ ہیں… یہ اکثریت کو غلام
بنانا چاہتے ہیں… ہم طاقت کے زور پر ان کو کچل دیں گے… قرآن پاک ہمیں یہ آیات
سناتا ہے… غور سے سنیں…
فَاَرْسَلَ
فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآئِنِ حَاشِرِیْنَO اِنَّ ھٰؤُلآئِ لَشِرْذِمَۃٌ قَلِیْلُوْنَO وَاَنَّہُمْ لَنَا لَغَائِظُوْنَO وَاِنَّا لَجَمِیْعٌ حَاذِرُوْنَO (الشعراء ۵۳تا۵۶)
ترجمہ:
پھر فرعون نے شہروں میں چپڑاسی (اعلان کرنے والے) بھیجے کہ یہ ایک تھوڑی سی جماعت
ہے اور انہوں نے ہمیں بہت غصہ دلایا ہے اور ہم سارے ان سے خطرہ رکھتے ہیں۔ (یاہم
سب مسلح ہیں)
حضرت
شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
(فرعون
نے کہا) ان تھوڑے سے آدمیوں نے تم کو تنگ کر رکھا ہے حالانکہ ان کی ہستی (اور
حیثیت) کیا ہے جو تمہارے مقابلہ میں عہدہ بر آ ہوسکیں۔ یہ باتیں قوم کو غیرت اور
جوش دلانے کے لیے کہیں۔(تفسیر حقانی)
قرآن
پاک یہ بھی سمجھاتا ہے کہ فرعون اپنی قوم کو ڈرا رہا تھا کہ یہ ’’مٹھی بھر‘‘ لوگ
ملک پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں… پھر کیا ہوا؟… اللہ پاک کو یہ
’’مٹھی بھر‘‘ لوگ پسند آئے کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے
پیغمبر کی بات کو مانا تھا… اللہ تعالیٰ نے ان کو سمندر میں
رستے بنا کر نجات دے دی اور فرعون کو اس کی اکثریت کے ساتھ غرق کردیا… اے القلم کے
پڑھنے والو! سچ بتاؤ کہ آپ لوگ نجات پانے والی اقلیت کے ساتھ ہیں… یا غرق ہونے
والی اکثریت کے ساتھ؟ قیامت کے دن آپ کن کے ساتھ کھڑا ہونا پسند کرتے ہیں؟… قرآن
پاک اعلان فرماتا ہے کہ
حضرت
ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے والد اور قوم کو دعوت دی مگر اکثر لوگ ایمان
نہ لائے…
وَمَا
کَانَ اَکْثَرُہُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (الشعراء۱۰۳)
اور
ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں۔
حضرت
نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو سال قوم کو اللہ تعالیٰ کی
توحید کی طرف بلایا… مگر اکثر لوگ ایمان نہ لائے۔ (مفہوم الشعراء ۱۲۱)
حضرت
ہود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی قوم کو ایمان کی دعوت دی مگر اکثر لوگ ایمان
نہیں لائے… یہی حال حضرت لوط علیہ السلام کی روشن خیال قوم کا تھا … ان کی بھی
اکثریت ایمان نہیں لائی… اور یہی حال حضرت شعیب اور حضرت صالح علیہما السلام کی
قوموں کا رہا… قرآن پاک نے یہی سمجھایا کہ … مٹھی بھر لوگ ایمان لائے اور وہی
کامیاب ہوگئے… معلوم ہوا کامیابی کا مدار کثرت اور قلت پر نہیں ایمان… اور دین پر
ہے… مکہ مکرمہ میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ سال محنت
فرمائی… قوم کو خوب دعوت دی… مگر بہت تھوڑے لوگ ایمان لائے… ابوجہل بھی کہا کرتا
تھا کہ یہ ’’مٹھی بھر‘‘ لوگ ہیں… حتیٰ کہ غزوہ بدر میں بھی وہ مسلمانوں کے لشکر کو
’’مٹھی بھر‘‘ کہہ رہا تھا… عربی زبان میں اس کے لیے ’’اکلۃ الرأس‘‘ کا لفظ
استعمال ہوتا ہے… مگر یہ مٹھی بھر لوگ سچے تھے… ایمان والے تھے… اللہ پاک
نے ان کو کامیابی عطاء فرمائی… اور ابوجہل اپنی اکثریت کا ناز دماغ میں لیکر جہنم
میں جاگرا…
پاکستان
کے حکمرانوں کا شاید فرعون اور ابوجہل سے قریبی رابطہ رہتا ہے… ان کو بھی پاکستان
کا دیندار طبقہ ہمیشہ ’’مٹھی بھر‘‘ نظر آتا ہے…
آنجہانی
پرویز مشرف نے جب ’’روشن خیالی‘‘ کی قیادت سنبھالی تو ان کا پہلا بیان یہ تھا کہ…
پاکستان میں داڑھی اور برقع کی حمایت کرنے والے صرف ایک فیصد لوگ ہیں… اور اس ایک
فی صد طبقے کو حق نہیں ہے کہ وہ ننانوے فی صد افراد پر اپنی رائے مسلط کرے… مگر
کچھ عرصہ بعد ان کے اعداد وشمار میں تبدیلی ہوئی… اور انہوں نے فرمایا کہ یہ بنیاد
پرست لوگ پاکستان میں پندرہ فی صد ہیں… آنجہانی پرویز مشرف دنیا کے غیر مقبول ترین
انسان تھے… ان کو چند جرنیلوں نے صدر بنایا تھا… مگر پھر بھی وہ پاکستان کے دیندار
طبقے کو تھوڑا ہونے، اقلیت ہونے اور مٹھی بھر ہونے کے طعنے دیتے رہے… آج وہ اپنے
گھر میں اکیلے بیٹھے ہوئے ہیں… جبکہ پاکستان کے ہر مدرسے میں داخلہ لینے والے طلبہ
کا ہجوم ہے… اور الحمدللہ ہر دینی مرکز اور دینی کام آباد
ہے… پرویز مشرف کی پوری زندگی عبرتناک ہے… مگر وہ جاتے جاتے ایک ایسا کام کر گئے
جو شاید ان کی بدنامی کو کم کردے… ایک علاقے میں ایک ڈاکو تھا لوگ اس سے بہت تنگ
تھے… اور جھولیاں پھیلا پھیلا کر اس کے لیے بددعائیں کرتے تھے… وہ ڈاکو جب بوڑھا
ہوگیا تو اس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ مرنے کے بعد لوگ اس کی تعریف کریں…
اور اس کو اچھے الفاظ سے یاد کریں… اس نے اپنے مشیروں سے مشورہ کیا… ہر ایک نے کہا
! یہ ناممکن ہے… کیونکہ ہر گھر آپ کے ظلم سے جل رہا ہے…اور علاقے کا ہر شخص آپ سے
تنگ ہے…یہ لوگ پاگل تو نہیں کہ آپ کے مرنے کے بعد آپ کو اچھے الفاظ سے یاد رکھیں…
ڈاکو کا ایک مشیر عقلمند تھا… اس نے کہا میرے پاس تدبیر ہے… آپ مرنے سے پہلے اس
علاقے کا چارج فلاں ڈاکو کو دے جائیں… وہ اتنا لالچی، حریص اور ظالم ہے کہ لاشوں
کے اعضاء تک کاٹ کے بیچ آتا ہے… وہ جب اس علاقے میں اپنے مظالم شروع کرے گا تو لوگ
آپ کو اچھے الفاظ سے یاد کریں گے کہ… پرانا ڈاکو اچھا آدمی تھا کم از کم قتل کرنے
کے بعد لاش کو تو بے حرمت نہیں کرتا تھا… پرویز مشرف نے بھی یہی تدبیر اختیار کی
ہے… اور ان لوگوں کو اقتدار دے کر گیا ہے جنہوں نے چند دن میں… قوم کو پرویز مشرف
کی تعریف پر مجبور کردیا ہے… کھانے کے لیے آٹا نہیں، روشنی اور دیگر ضروریات کے
لیے بجلی نہیں… اور بجلی کے بل دیکھ کر دن میں تارے نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں… اور
امریکہ کی فرمانبرداری میں پورے ملک کو جنگ میں جھونکا جارہا ہے… اور اب حکومت کے
ہر فرد کی زبان پر ایک ہی بات ہے کہ… ہم ’’مٹھی بھر‘‘ لوگوں کی نہیں چلنے دیں گے…
ہم ان کو ختم کردیں گے… یہ ’’جمہوریت‘‘ بھی مسلمانوں کے لیے عجیب و غریب مصیبت بنی
ہوئی ہے… اگر بد دین طبقے کو زیادہ ووٹ مل جائیں تو وہ اپنی اکثریت کے ناز میں
دیندار مسلمانوں کو ستاتا ہے… اور اگر کسی جگہ دیندار لوگ زیادہ ووٹ حاصل کرلیں تو
فوراً فوج اقتدار سنبھال لیتی ہے… الجزائر کی اسلامی پارٹیوں نے مل کر ایک اتحاد
بنایا تھا… اور اس کا نام ’’سالویش فرنٹ‘‘ تھا… اس نے انتخابات میں پچاسی فیصد
سیٹیں جیت لیں… ان دنوں بندہ کو ’’جدہ‘‘ جانا ہوا تو اس فرنٹ کے رہنماؤں کا ایک
شور برپا تھا… برہان الدین ربانی ان دنوں مجاہد کہلاتے تھے مگر دل میں ’’رام‘‘ بسا
ہوا تھا… ایک جلسے میں فرمانے لگے کہ الجزائر والے ہمیں بھی انتخابات کے ذریعے
اسلام کے غلبے کا طریقہ سکھائیں… مگر پھر کیا ہوا؟… امریکہ کی طرف سے ایک اشارہ
آیا اور فوج نے فوراً اقتدار سنبھال کر انتخابات کو کالعدم قرار دے دیا… اور فرنٹ
کے سب لیڈر جیلوں میں ڈال دیئے گئے… پچھلے انتخابات میں ’’مجلس عمل ‘‘ نے کافی
سیٹیں جیت لیں… صوبہ سرحد میں ان کی حکومت بھی بنی… مگر کیا ہوا؟… تھانوں کے ایس
ایچ او تک صوبائی وزیروں کی بات نہیں مانتے تھے… اب پیپلز پارٹی کو ناز ہے کہ ہم
اکثریت میں ہیں… اگر آپ اکثریت میں ہیں تو عوام سے پوچھ لیں کہ وہ کیا چاہتی ہے؟…
امریکہ کی غلامی؟ مہنگائی؟ اور قومی بے عزتی؟… ہماری کرنسی کی قیمت بنگلہ دیش کی
کرنسی سے ڈھائی گنا اور افغانستان کی کرنسی سے پانچ گنا کم ہو چکی ہے… کیا ملک کی
اکثریت یہی چاہتی ہے؟… اسلامی، دینی اور جہادی جماعتوں پر پابندی اور چھاپے ہیں
جبکہ ہم نے سات سال پہلے عرض کردیا تھا کہ… یہ پابندیاں ملک کو کالی آندھی کے
حوالے کردیں گی… اس وقت نہ وزیرستان میں جنگ تھی نہ سوات میں… پرویز مشرف کی حکومت
نے امریکہ کو اپنی وفاداری دکھانے کے لیے ہر جگہ خود بڑھ کر مظالم کیے… ان مظالم
کے ردعمل میں بہت سے لوگ کھڑے ہوگئے… اور یوں ملک میں خانہ جنگی شروع ہوگئی اور
مسلمان ایک دوسرے کو ذبح کرنے لگے… اُس وقت ہم نے حکومت کے کئی بڑے اہلکاروں کو
سمجھانے کی کوشش کی تو وہ ہنس کر کہتے تھے کہ… آپ ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں ہم
حالات سے نمٹنا جانتے ہیں… ہماری جماعت پر پابندی سے چند دن پہلے بندہ کو گرفتار
کیا گیا… حکومت کے کئی بڑے اہلکار رعب ڈالنے کے لیے پہنچے… بندہ نے عرض کیا کہ آپ
شرعی جہاد پر پابندی لگائیں گے تو غیر شرعی جنگ شروع ہوگی… مجاہدین آزاد ہوجائیں
گے… ان کو کوئی سنبھالنے اور سمجھانے والا نہیں ہوگا… اور پھر آپ کے مظالم کے ردّ
عمل میں یہ بھی اسلحہ اٹھا لیں گے… اس پر ایک بڑے افسر نے کہا آپ بے فکر ہو کر قید
کاٹیں ہم حالات کو سنبھالنا جانتے ہیں… ایک اور صاحب نے فرمایاآپ شاید حکومت کو
ڈرا کر بلیک میل کرنا چاہتے ہیں… مگر پھر کیا ہوا؟… پاکستان کی داخلی جنگ میں اب
تک بیس ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں… کیا ملک کی اکثریت یہی چاہتی ہے؟…
اے
حکمرانو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو… اور کچھ فکر اپنی قبر اور
آخرت کی بھی کرو… پورا ملک جل رہا ہے اور تمہاری زبان پر صرف ’’مٹھی بھر‘‘، ’’مٹھی
بھر‘‘ کا نعرہ ہے… کیا تم نہیں جانتے کہ ایک ’’مٹھی بھر‘‘ بارود پوری عمارت کو گرا
دیتا ہے… تو پھر قوم میں امن اور محبت کی خوشبو کیوں نہیں پھیلاتے اور قرآن پاک سے
روشنی کیوں نہیں لیتے؟… اور امریکیوں سے احکامات لینا بند کیوں نہیں
کرتے؟… اس وقت دنیا اسلام کے غلبے کی طرف بڑھ رہی ہے… اور کفر کے بڑے بڑے ستون
گرنے والے ہیں… کیمونزم کے بعد اب سرمایہ دارانہ نظام کا بت بھی پاش پاش ہونے والا
ہے… اس لیے خود کو کافروں کے لشکر سے الگ کرلو… کافروں کے
لیے اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ تیار کر رکھی ہے… اور ایمان
والوں کی صفوں میں شامل ہوجاؤ اور قرآن پاک کی اس آیت کو دل میں بٹھاؤ
قاَلَ
الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّہُمْ مُّلٰقُوا اللہ کَمْ
مِّنْ فِئَۃٍ قَلِیْلَۃٍ غَلَبَتْ فِئَۃً کَثِیْرَۃً
بِاِذْنِ اللہ وَ اللہ مَعَ الصَّابِرِیْنَ۔
(البقرۃ ۲۴۹)
ترجمہ:
جن لوگوں کو خیال (یعنی یقین) تھاکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ
سے ملنا ہے وہ کہنے لگے بارہا تھوڑی جماعت غالب ہوئی ہے بڑی جماعت
پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے
اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
یاد
رکھنا! قرآن پاک جو کچھ فرماتا ہے وہ سچ ہوتا ہے… بالکل پکا سچ…
وصلّی اللہ تعالیٰ
علیٰ خیر خلقہٖ سیّدنا محمد وآلہٖ وصحبہٖ وسلم تسلیماً کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
مجھے اور آپ سب کو ’’بے ادبی‘‘ سے بچائے… سب سے بڑھ کر ’’ادب‘‘ اللہ
جلّ شانہٗ کا ہے… شیطان اس بارے میں انسانوں سے بڑی بڑی غلطیاں کراتا ہے… کافروں
اور منافقوں کو تو چھوڑیں وہ تو اپنے خالق اور رازق کو پہچان ہی نہ سکے… خود
مسلمان اس بارے میں کمزور ہوتے جارہے ہیں… بعض عبارتیں اور خطوط پڑھ کر اور بعض
باتیں سن کر تو دل زخمی ہو جاتا ہے کہ بے ادبی اور وہ
بھی اللہ تعالیٰ کی… آپس میں مذاق کر رہے ہوتے ہیں، لطیفے
سنا رہے ہوتے ہیں اور اس میں الحمدللہ ،
انشاء اللہ اور ماشاء اللہ کے الفاظ
بے تکلف استعمال کرتے ہیں… مزاح اور جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں اور اس میں ’’ الحمدللہ
‘‘ کا کلمہ استعمال کر جاتے ہیں… آپ کو معلوم ہے کہ ’’ الحمدللہ ‘‘ کتنا بڑا کلمہ
ہے؟… اللہ تعالیٰ نے اسی سے سورۃ فاتحہ کا آغاز فرمایا اور
اسی سے قرآن پاک شروع ہوتا ہے… بندہ کبھی کبھی ’’فلکیات‘‘ کی کوئی کتاب اٹھا لیتا
ہے اور پھر اپنی ذات کو دیکھتا ہے تو چیونٹی سے بھی چھوٹی اور حقیر نظر آتی
ہے… اللہ پاک نے کتنے ستارے اور سیارے پیدا فرمائے؟ … یقینا
کوئی بھی نہیں جانتا… انسان نے اپنے محدود علم سے جو کچھ دیکھ لیا ہے وہ بھی یہی
بتاتا ہے کہ ستاروں کی تعداد اربوں کھربوں میں ہے جو ہمیں نظر آرہے ہیں… اور
کائنات میں کئی ایسے تاریک گڑھے موجود ہیں کہ اگر چاند، سورج اور زمین اس میں ڈال
دیئے جائیں تو اس طرح سے گم ہوجائیں جس طرح بڑے گٹر میں چھوٹی سی گیند گم ہوجاتی
ہے… اللہ اکبر کبیرا… ان تمام چیزوں
کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا… تو پھر
خود اللہ تعالیٰ کی عظمت اور بڑائی کا کون اندازہ لگا سکتا
ہے…
کیا
ہمارے لیے جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نام بے ادبی سے لیں…
دعاء قبول نہ ہونے پر اللہ تعالیٰ سے شکوے کریں اور الٹی
سیدھی باتیں بنائیں… یا ہنسی مذاق میں اللہ تعالیٰ کا عالی
شان نام استعمال کریں… یہ تو اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس
نے ساری مخلوقات کے درمیان اس چھوٹے سے انسان کو بہت فضیلت بخشی ہے… اور کائنات کی
چیزوں کو انسان کی خدمت پر لگا دیا ہے… ارشاد فرمایا:
وَلَقَدْ
کَرَّمْنَا بَنِیْ اٰدَمَ وَحَمَلْنٰہُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنٰہُمْ
مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰہُمْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا
تَفْضِیْلاً۔ (بنی اسرائیل۷۰)
ترجمہ: اور
ہم نے آدم (علیہ الصلوٰۃالسلام) کی اولاد کو عزت دی ہے اور خشکی اور سمندر میں اسے
سوار کیا اور ہم نے انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر
انہیں فضیلت عطاء کی۔
انسان
کے ’’مخدوم‘‘ ہونے کا تو یہ حال ہے کہ ایک روٹی جب کسی انسان کے سامنے رکھی جاتی
ہے تو اس میں تین سو ساٹھ افراد کی خدمت اور محنت شامل ہوتی ہے…
سب
سے پہلے حضرت میکائیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم سے
پانی اتارتے ہیں … پھر فرشتے بادلوں کو چلاتے ہیں… اسی طرح سورج، چاند، ستارے،
افلاک، فرشتے اور زمین کی کئی مخلوقات اس میں اپنا اپنا کام کرتی ہیں… اور پھر یہ
روٹی انسان تک پہنچتی ہے… ایک چھوٹے سے بچے کی خدمت اس کے ماں باپ جس طرح سے کرتے
ہیں آپ صرف اسی کو دیکھ لیں تو کچھ اندازہ ہوجائے
کہ… اللہ پاک نے انسان کو کتنی عزت بخشی ہے… تو کیا اس
انسان کا فرض نہیں بنتا کہ وہ اپنے خالق ومالک کو پہچانے اور اس کی عظمت اور ادب
کا پورا پورا خیال رکھے۔ مگر انسان بھول جاتا ہے اور سجدے میں
بھی اللہ تعالیٰ کو یاد نہیں کرتا… بلکہ اور باتیں سوچتا
رہتا ہے… ہم نے بعض لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ دعاء کے لیے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں اور
پھر دعاء میں بھی اشارۃً دوسرے لوگوں پر طنز اور تنقید کرتے ہیں…استغفر اللہ ، استغفر
اللہ ، استغفر اللہ … دعاء میں تو انسان اللہ تعالیٰ کے
سامنے ایک عاجز بھکاری کی طرح بیٹھا فریاد کرر ہا ہوتا ہے… مگر نفس کا تکبر بعض
لوگوں کو اس حالت میں بھی ’’مسلمان‘‘ نہیں بننے دیتا… وہ ظاہری طور
پر اللہ تعالیٰ کو پکار رہے ہوتے ہیں جبکہ اصل میں اپنے دل
کا بغض اور عناد نکال رہے ہوتے ہیں… ان کو کسی کی کوئی بات بری لگتی ہے تو زور زور
سے اسی چیز کے بارے میں دعاء کرتے ہیں تاکہ سننے والوں پر طنز بھی ہوجائے… اور
اپنے دل کا غصہ بھی ٹھنڈا ہوجائے… یعنی وہ اللہ تعالیٰ کو
نعوذب اللہ اپنے برے مقصد کے لیے آڑ اور ڈھال بنا تے ہیں…
اے
دعاء کرنے والو… دعاء مانگنا بڑی خوش نصیبی ہے… ایسی خوشی نصیبی کے
وقت اللہ جل شانہ کا ادب ملحوظ رکھو… کسی پر طنز، تنقید اور نشانہ نہ
کھینچو… ایسا نہ ہو کہ یہ حرکت تمہیں بہت نیچے پھینک دے… اگر کسی کی کوئی بات بری
لگتی ہے تو اس کو صاف صاف سمجھاؤ… یا اس کے لیے چپکے سے دعاء کرو… یا اپنے دل کو
ذاتی غرض سے پاک کرکے اس برائی کے خاتمے کی اجتماعی دعاء مانگو… یہاں ایک اور بات
سمجھنا بھی ضروری ہے… دعاء کرنے والے، وعظ کرنے والے اور مضمون لکھنے والے کو
چاہئے کہ کسی پر ذاتی اشارہ نہ کرے… بلکہ اپنے دل کو ذاتی تنقید سے پاک رکھے… ورنہ
بات میں اثر نہیں رہے گا… دوسری طرف سننے اور پڑھنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ
ہر بات کو اپنے لیے اشارہ یا ذاتی تنقید نہ سمجھا کریں… یہ عادت انسان کو بہت بڑی
محرومی میں ڈال دیتی ہے… بعض لوگ اس بارے میں حد سے زیادہ حساس ہوتے ہیں… کوئی بھی
اچھی بات سن کر ان کا ذہن عمل کی طرف متوجہ ہونے کی بجائے اسی طرف گھوم جاتا ہے کہ
مجھ پر تنقید ہوئی ہے… اور کسی نے میری شکایت پہنچائی ہے…
طالبعلمی
کے زمانے میں بندہ ایک بار ’’جمعۃ المبارک‘‘ کا بیان کر رہا تھا… بیان میں اتفاقاً
یہ بات چل پڑی کہ کچھ لوگ ’’جادو‘‘ کے بارے میں وہمی ہوتے ہیں… جیسے ہی بیمار ہوتے
ہیں کہتے ہیں کہ مجھ پر فلاں نے جادو کیا… فلاں نے جادو کیا… کبھی اپنے ’’چاچا‘‘
پر الزام لگاتے ہیں تو کبھی کسی پر… حالانکہ بغیر دلیل کے کسی پر الزام لگانا جائز
نہیں ہے وغیرہ وغیرہ… بیان ختم ہوگیا … مجھے نہ تو مجمع میں سے کسی کے ذاتی حالات
کا علم تھا نہ ان میں سے کسی پر اشارہ کرنے کی ضرورت… مگر ایک عمر رسیدہ شخص نے
بیان کے بعد گھر جاکر رونا پیٹنا شروع کردیا… اور کہا کہ آج کسی نے ’’امام صاحب‘‘
کو میری شکایت کی تو انہوں نے بھرے مجمع میں میرے خلاف بیان کردیا… روتے روتے
انہوں نے اپنا دل پکڑ لیا کہ مجھے درد ہو رہا ہے… ان کے کچھ نوجوان متعلقین مجھ سے
لڑنے مسجد آگئے مگر جب سامنے ہوئے تو لڑائی سے باز رہے… بعد میں معلوم ہوا کہ وہ
صاحب غالباً اپنے رشتہ داروں پر جادو کا الزام لگاتے رہتے تھے… اور بندہ کی زبان
سے جو الفاظ نکلے تھے وہ بھی ان کے دعوؤں سے ملتے جلتے تھے… یہ واقعہ تو ایک آغاز
تھا… اس کے بعد اس طرح کی ’’مخلوق‘‘ سے اکثر واسطہ پڑتا رہتا ہے جن کو میرے بیان
یا مضمون سے یہ شبہ ہوتا ہے کہ میں ان پر طنز کر رہا ہوں… ابھی ’’موبائل فون‘‘ کے
بارے میں مضمون لکھا تو کئی افراد ’’پھیکے پھیکے‘‘ ہو رہے تھے کہ شاید ان کے بارے
میں لکھا ہے… جیل میں ہمارے ایک ساتھی تھے، ان کی زندگی کافی بے ترتیب اور بے ڈھنگ
سی تھی… بندہ نے ان کو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’آداب زندگی‘‘ پڑھنے
کے لیے دی… پوری کتاب پڑھ کر کہنے لگے… حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ کتاب
میرے خلاف لکھی ہے…
کراچی
کے ایک محلے میں بندہ کا کئی سال تک خواتین میں درس ہوتا رہا… ایک بار والدہ
محترمہ بھی کراچی تشریف لائیں تو درس میں شریک ہوئیں… ان سے کئی خواتین نے کہا کہ
آپ کے بیٹے کو ہمارے گھروں کی خبریں کون پہنچا دیتا ہے… جب بھی بیان میں آتی ہیں
تو یہ ہمارے گھروں کی کوئی نہ کوئی بات ضرور سناتے ہیں… ایسے واقعات بہت زیادہ
ہیں… حالانکہ پوری کوشش ہوتی ہے کہ بیان اور تحریر میں کسی کی طرف ذاتی اشارہ اور
تنقید نہ ہو… اور ویسے بھی اگر کسی ایک فرد کو کوئی بات کہنی ہو تو براہ راست اس
کو کہنے کی ہمت موجود ہے… تو پھر ایک فرد کے لیے مجمع میں تقریر کرنا یا لاکھوں
لوگوں کے لیے پڑھے جانے والے اخبار میں اس پر اشارۃً تنقید کرنا ایک فضول حرکت ہی
ہوسکتی ہے… اللہ تعالیٰ ایسی بے کار اور لا یعنی حرکت سے ہم سب کی
حفاظت فرمائے… پڑھنے اور سننے والوں سے عرض ہے کہ … وہ ذاتی تنقید کی بجائے ’’ذاتی
اصلاح‘‘ کی باتیں ڈھونڈا کریں… ہمارے اکابر کے ہاں یہ طریقہ رہا ہے کہ بیان کرنے
والا اور مضمون لکھنے والا یہ دعاء کرکے بیٹھتا ہے کہ
یا اللہ اپنی رضاء والا بیان اور مضمون عطاء فرما… سب سے
پہلے مجھے اس سے فائدہ عطاء فرما… اور مجمع کی ضرورت کے مطابق میرا شرح صدر فرما…
جبکہ سننے اور پڑھنے والے یہ دعاء کرکے بیٹھیں کہ
یا اللہ سب سے زیادہ اس بیان سے مجھے فائدہ عطاء فرما… جو
کمی کوتاہی میرے اندر ہو اس کے ازالے کی تدبیر مجھ تک پہنچا… اور مجھے اس بیان اور
تحریر سے اپنی رضا اور اپنا راستہ نصیب فرما… اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو ہربیان
اور ہر تحریر سے اپنے فائدے کی بات لے کر خوب نفع حاصل کرتے
ہیں… اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اس قسم کے لوگوں کا خاص
طور سے تذکرہ فرمایا ہے اور ان کو عقلمند لوگ قرار دیا ہے… ارشاد باری تعالیٰ ہے:
فَبَشِّرْ
عِبَادِO الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ
فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہُ اُوْلٰئِکَ الَّذِیْنَ
ہَدَاہُمُ اللہ وَاُوْلٰئِکَ ہُمْ اُوْلُوْ الْاَلْبَابِO (الزمر۱۷،۱۸)
ترجمہ: پس
میرے بندوں کو خوشخبری دے دو، جو توجہ سے بات کو سنتے ہیں اور پھر اچھی بات کی
پیروی کرتے ہیں یہی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت عطاء
فرمائی ہے اور یہی عقل والے ہیں۔
بات
یہ عرض ہو رہی تھی کہ دعاء کے دوران کسی کی طرف ذاتی تنقید کے اشارے نہیں کرنے
چاہئیں… یہ بات اللہ تعالیٰ کی بے ادبی والی ہے… دعاء کرنے
والا، بیان کرنے والا… اور مضمون لکھنے والا ہرشخص ان آداب کو ایک بار پڑھ لے جو
حضرت شیخ سیّد ہجویری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ’’کشف المحجوب‘‘ کے شروع میں
بیان فرمائے ہیں… کبھی موقع ملا تو انشا ء اللہ اسی کالم
میں ان اداب کا خلاصہ عرض کردیا جائے گا… ہم اللہ تعالیٰ کے
ہر قدم پر محتاج ہیں ہمیں دعاء سے پہلے بھی دعاء مانگنی چاہئے کہ
یا اللہ اپنی رضا کے مطابق ادب کے ساتھ ٹھیک ٹھیک دعاء
مانگنے کی توفیق عطاء فرما… اسی طرح ’’استخارہ‘‘ کو اپنا معمول بنانا چاہئے…
استخارہ پانچ منٹ کا عمل ہے جو انسان کو کروڑوں میل سے بھی زیادہ کی بلندی عطاء
کردیتا ہے… افسوس کہ ہمارے زمانے میں ’’استخارہ‘‘ بھی ایک پیشہ بن چکا ہے … عام
لوگ سمجھتے ہیں کہ استخارہ صرف خاص لوگ کرسکتے ہیں… اور استخارہ میں آسمان سے
باقاعدہ کوئی جواب آتا ہے… دنیا دار لوگ شادی، کاروبار اور دیگر دنیاوی معاملات کے
لیے عاملوں کے پاس جاکر استخارے کرواتے ہیں… حالانکہ استخارہ ہر مسلمان کی ذاتی
ضرورت اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم نعمت
ہے… آپ اچھی طرح وضو کریں… دو رکعت صلوٰۃ الاستخارہ کی نیت سے پڑھیں اور پھر اوّل
آخر سات سات بار درورد شریف پڑھ کر بیچ میں تین بار استخارہ کی دعاء مانگ لیں… یہ
دعاء بہت ہی لذیذ اور مزیدار ہے… اسکے پڑھتے ہی دل کو سکون ملنے لگتا ہے… اور
ہمارے آقا اور مولیٰ حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے بشارت عطاء
فرمائی ہے کہ جو استخارہ کرے گا وہ بعد میں نہیں پچھتائے گا… آپ نے سفر کرنا ہے تو
استخارہ کرلیں… رشتہ کرنا ہے تو استخارہ کرلیں… کچھ لکھنا ہے تو استخارہ کرلیں…
کوئی اہم ملاقات ہے تو استخارہ کرلیں… کوئی چیز خریدنی ہے تو استخارہ کریں…
استخارہ کے معنیٰ اللہ تعالیٰ سے خیر چاہنا … کہ
یا اللہ جو کچھ خیر ہو وہ ہوجائے اور جو کچھ شر ہو اس سے
مجھے بچالے… وہ مسلمان مرد اور عورتیں جو اپنے اکثر معاملات میں اللہ تعالیٰ
سے استخارہ کرتے ہیں ان کے پردے جلدی ہٹ جاتے ہیں اور ان کا مقام اونچا ہوجاتا ہے…
دراصل بندے اور غلام کا کام ہی یہی ہے کہ پوچھ پوچھ کر چلے، مانگ مانگ کر لے… مگر
اب ایک پرچی پر لڑکے، لڑکی کا نام لکھتے ہیں اور کسی کو دے آتے ہیں کہ آپ استخارہ
دیکھ لیں… کسی زمانے میں بندہ کے پاس بھی کافی لوگ اس کام کے لیے آتے تھے اور میرے
لیے ان کو یہ بات سمجھانا کافی مشکل ہوتا تھا کہ آپ خود استخارہ کریں… اکثر لوگ
نہیں مانتے اور پرچی لیکر کسی کے پاس پہنچ جاتے ہیں… چنانچہ بعض لوگوں کے پاس ایک
ایک دن میں دس دس استخارے جمع ہوتے ہیں… اور وہ اپنی عزت اور ناک رکھنے کے لیے
’’ہاں‘‘ یا ’’نہ‘‘ میں جواب دیتے رہتے ہیں… اور لوگ ان کے جواب کو ’’دینی مشورہ‘‘
نہیں آسمانی فیصلہ سمجھتے ہیں… بندہ کے پاس ایک بار ایک بزرگ دوست تشریف فرما تھے…
وہ ’’سفید ریش‘‘ تھے مگر ان سے بے تکلفی تھی… وہ عملیات کا بھی شوق رکھتے تھے… اسی
دوران ایک صاحب پرچی لیکر تشریف لائے کہ بچی کے لیے رشتہ آیا ہے استخارہ دیکھ دیں…
بندہ نے ان بزرگوں کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ ان سے بات کرلیں… انہوں نے بزرگوں سے
استخارہ کا کہا تو وہ مان گئے اور فرمایا کل تک دیکھ کر بتا دوں گا…
اگلے
دن وہ بزرگ میرے پاس بیٹھے تھے کہ استخارے والے صاحب بھی آگئے انہوں نے جواب پوچھا
تو بزرگ نے فرمایا:
رشتہ
تو اچھا ہے
اگر
کسی اور جگہ ہوجائے تو بہتر ہے
اور
میاں
بیوی میں چپقلش کا امکان ہے…
وہ
صاحب حیران تھے کہ جواب اتنا مفصل، مبہم اور جامع ملا ہے… اب وہ اس کی کس شق پر
عمل کریں؟…
اللہ تعالیٰ
معاف فرمائے… ہم مسلمانوں نے ہر چیز کو ’’فن نجوم‘‘ بنانا شروع کردیا ہے… نجومی
اور کاہن اتنی تفصیل سے جھوٹ نہیں بولتے… جتنی تفصیل سے ہمارے عامل حضرات اپنی قبر
اور آخرت کو بھول کر جھوٹ بولتے ہیں… یہ بات درست ہے کہ ’’اولیاء اللہ
‘‘ کو کشف ہوتا ہے… یہ بھی درست ہے کہ اللہ والوں کے
استخارے میں برکت ہوتی ہے… مگر غیب کی بات کسی کو پتہ نہیں
چلتی… اللہ والوں سے استخارہ کرانے کا طریقہ یہ ہے کہ ان سے
عرض کیا جائے… حضرت! فلاں کام میں تردّد ہے دعاء فرمائیں خیر والی صورت نصیب
ہوجائے… یا عرض کیا جائے کہ فلاں کام کا ارادہ ہے خیر کی دعاء فرمادیں… یا ان سے
مشورہ کیا جائے کہ فلاں کام میں تردّد ہے مجھے مشورہ عنایت فرمائیں… اب وہ یقینا
استخارہ کریں گے کہ یا اللہ میں کیا مشورہ دوں میرے لیے خیر
کا مشورہ دینا آسان فرمادیجئے… یا وہ اپنے ’’نورفراست‘‘ سے مشورہ دیں گے… بہرحال
بزرگوں کے ساتھ نجومیوں، کاہنوں اور دست شناسوں والا معاملہ نہ کریں اور نہ ہی غیب
کی خبروں کے پیچھے پڑیں… بات اللہ تعالیٰ کے ساتھ ’’حسن
ادب‘‘ سے چلی تھی اور بہت دور نکل گئی… اللہ پاک کے نام کا
ادب، اللہ تعالیٰ کی کتاب کا
ادب، اللہ تعالیٰ کے گھر کا
ادب، اللہ تعالیٰ کے انبیاء علیہم السلام کا
ادب… اللہ تعالیٰ کے ملائکہ کا ادب… بے شک ادب بہت بڑی چیز
ہے… دیکھیں قرآن پاک کیا سنا رہاہے:
اِنَّمَا
الْمُؤمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللہ وَجِلَتْ
قُلُوْبُہُمْ۔ (الانفال۲)
ترجمہ: ایمان
والے تو وہی ہیں کہ جن کے سامنے جب اللہ تعالیٰ کا نام آئے
تو ان کے دل ڈ ر جائیں۔‘‘
پس اللہ تعالیٰ
کے ساتھ ادب کا ایک تقاضہ یہ بھی ہے کہ دل میں جتنا
ڈر اللہ تعالیٰ کا ہو اتنا کسی کا نہ ہو… نہ براک اوبامہ کا
نہ جان مکین کا… نہ کسی کالے کا نہ کسی گورے کا… نہ امریکہ کا اور نہ یورپ کا اور
نہ ہی موت کا… آج ۳نومبر
کا دن ہے کل امریکہ میں انتخابات ہیں… بہت سے دلوں پر رعب ہے… کچھ اندیشے اور
خطرات ہیں… ایسے حالات میں مکمل ادب اور پورے توکّل کے
ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر… اور اس کی عظمت کا مراقبہ ہمیں
رعب اور پریشانی سے بچا سکتا ہے…
لا
الہ الا اللہ … لا الہ الا اللہ …لا الہ الا
اللہ محمد رسول اللہ
وصلّی اللہ تعالیٰ
علیٰ خیر خلقہٖ سیّدنا محمد وآلہٖ وصحبہٖ وسلم تسلیماً کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
’’حکیم‘‘ ہے… اللہ تعالیٰ کے ہر حکم اور فیصلے میں حکمت
ہوتی ہے… ’’کینیا‘‘ افریقہ کا ایک ملک ہے… اس میں مسلمانوں کی بہت بڑی آبادی ہے…
اس ملک کے بعض علاقوں میں عربی زبان بھی بولی جاتی ہے… حکومت اگرچہ عیسائیوں کی ہے
مگر ’’حلال گوشت‘‘آسانی سے مل جاتا ہے… کیونکہ گوشت کے کاروبار پر مسلمانوں کا
قبضہ ہے… حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے افریقہ میں اسلام پہنچایا
تو یہ ’’عظیم دین‘‘ وہاں پھیلتا ہی چلا گیا… افریقہ کی اکثر آبادی مسلمان ہوئی اور
اسلامی جہاد میں افریقہ نے بہت بڑا حصہ ڈالا… یہ ’’کالے لوگ‘‘ فطری طور پر بہت سی
خوبیوں کے مالک ہیں… یہ صابر اور قناعت پسند ہیں… مگر پھر یورپ سے استعمار کی
’’نیلی آندھی‘‘ چلی اور افریقہ بھی اس کی لپیٹ میں آگیا… گورے بندروں نے اس براعظم
میں عیسائیت، بے حیائی اور بیکاری پھیلائی… اور افریقہ کے ’’حجراسود‘‘ جیسے حسین
رنگ کو میلا کردیا… بے شمار لوگوں کو عیسائی بنایا گیا… شراب اور جوا عام کیا گیا…
اور بے شمار لوگوں کو باندھ کر بحری جہازوں میں ڈال کر یورپ اور امریکہ لے جایا
گیا اور غلام بنادیا گیا… اور آج کل ’’قادیانی‘‘ افریقہ کو فتح کرنے کی کوشش میں
ہیں… ایک بار نیروبی (جو کینیا کا دارالحکومت ہے) جاتے ہوئے بندہ کی ایک ’’قادیانی
مربی‘‘ سے بحث بھی ہوئی… وہ جہاز میں بیٹھا قادیانیت کی ’’ایڈز‘‘ پھیلا رہا تھا…
میں اپنی سیٹ سے اٹھ کر اس کے سر کے پاس کھڑا ہوگیا… اس کو سمجھایا مگر وہ دلائل
میں الجھنے لگا تو میں نے اس کی تقریر سننے والے نوجوانوں سے کہا… بھائیو! یہ آپ
لوگوں کو آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سے کاٹ رہا ہے… یہ آپ لوگوں کو
مدینہ پاک سے توڑ رہا ہے… آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی
سنتے ہی وہ چار پانچ نوجوان تڑپ اٹھے اور اٹھ کر دوسری سیٹوں پر جا بیٹھے… جہاز میں
کافی نشستیں خالی تھیں… سفر بہت لمبا تھا آٹھ نو گھنٹے کا… باقی پورا سفر اس
قادیانی پوپ نے اکیلے کاٹا … اور سعدی فقیر کو اس کی تنہائی اور بے بسی دیکھ کر
مزہ آگیا… نیروبی پہنچ کر دیکھا کہ اس کے استقبال کے لیے کئی بدنصیب جمع تھے… وہ
ان کو میری طرف اشارے کر کے کچھ بتا رہا تھا… اور وہ سب جنگلی جانوروں کی طرح مجھے
سرخ آنکھوں سے گھور رہے تھے… ف اللہ خیر حافظا وہو ارحم الراحمین … آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت وناموس پر جس موت نے کل آنا ہو وہ آج
ہی آجائے… ہاں مگر یہ موت نما زندگی قسمت والوں کو ملتی ہے… نیروبی میں قتل وغارت
عام ہے اور چوری تو دن کے اجالے میں ہوتی ہے… اسی ’’کینیا‘‘ کے ایک مسلمان باشندے
جن کا نام ’’حسین‘‘ تھا امریکہ پڑھنے آئے اور یہاں انہوں نے ایک مقامی خاتون سے
باقاعدہ شادی کرلی… جب شادی کرلی تو نتیجہ تو نکلنا ہی تھا… اور وہ نتیجہ امریکہ
کے نئے صدر باراک ابامہ کی صورت میں نکل آیا… حسین صاحب نے بچے کا نام اپنے ایک
خاندانی بزرگ کے نام پر رکھا… بڑے ’’بارک اُبامہ‘‘ کی قبر کینیا میں ہے اور وہ
مسلمان تھے… پھر حسین تو واپس کینیا چلے گئے… میاں بیوی میں طلاق ہوگئی… اکیلی
عورت اور ساتھ ایک بچے کا بوجھ بیچاری نے انڈونیشیا کے ایک مسلمان سے شادی کرلی
اور انڈونیشیا جابسی… ابامہ وہاں ایک مدرسہ میں پڑھتے رہے… پھر یہ رشتہ بھی فانی
نکلا… ماں بیٹا امریکہ واپس آگئے… ادھر حسین صاحب تو ایک ایکسیڈنٹ میں انتقال کر
گئے… جبکہ ان کا بیٹا پہلے وکیل بنا، پھر مظلوموں کے حقوق کا ترجمان… اور پھر
سینیٹر اور اب وہ ’’صدر‘‘ بن گیا ہے… روایات میں آیا ہے کہ تمہارے حکمران تمہارے
اعمال کا نتیجہ ہوتے ہیں… اور ابامہ تو ویسے بھی ایک مسلمان کے عمل کا نتیجہ ہے…
کچھ لوگ خوش ہیں کہ چلو مسلمان خود نہ سہی ان کا ایک بچہ تو امریکہ کا صدر بن گیا
ہے… کراچی کے ایک صاحب جو دیکھنے میں عالم لگتے تھے ان سے کسی نے پوچھا آپ
’’عالم‘‘ ہیں؟… فرمایا عالم کیا میں تو علماء کا باپ ہوں بعد میں پتہ چلا کہ ان کے
چند بیٹے عالم تھے… کچھ لوگ خوش ہیں کہ جو کچھ بھی ہوا دنیا میں ایک بڑی تبدیلی
آئی… اب دنیا مزید تبدیل ہوگی اور انشاء اللہ اس میں پھر
خلافت قائم ہوگی… کچھ لوگ کہتے ہیں کہ گوروں نے خود ’’کالے ابامہ‘‘ کو آگے کیا ہے
تاکہ وہ اپنی صفائی کے طور پر مسلمانوں کو زیادہ ستائے… اور امریکہ کے مالیاتی
بحران کا بوجھ بھی اس پر پڑے… ہم عرض کرتے ہیں کہ اگر ہم مسلمان ایمان، تقویٰ… اور
جہاد پر قائم رہے تو سب کچھ اچھا ہی اچھا ہے… اور
اگر اللہ نہ کرے ہم ایمان، تقویٰ اور جہاد سے محروم رہے تو
سب کچھ برا ہی برا ہے… ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں
کہ ’’بش‘‘ جارہا ہے… اس نے ۲۰۰۱ء
کی اپنی سالانہ تقریر میں بعض تنظیموں کو ختم کرنے کاعزم ظاہر کیا
تھا… اللہ پاک کی شان دیکھیں کہ وہ اسلامی تنظیمیں موجود
ہیں… ماشاء اللہ لا قوۃ الا ب اللہ ،
بارک اللہ فیہم… اور بش جارہا ہے… اگر ابامہ آرہاہے تو کیا
ہوا اللہ تعالیٰ موجود ہے… اسی نے ہمیں زندہ رکھنا ہے، اسی
نے مارنا ہے… اور مر کے ہم نے اسی کے پاس جانا ہے… پھر ہمیں کسی اور کی کیا فکر…
اور کیا پروا…
پیاسے
مسلمانوں پر ایک اور مصیبت
مسلمان
آجکل اسلام کے پیاسے ہیں… دنیا میں کسی بھی ملک میں اسلام نافذ نہیں، قرآن پاک
نافذ نہیں… اسلامی قانون اور اسلامی نظام ایک عظیم الشان نعمت ہے… اور ہم اس نعمت
سے محروم ہیں… دوسری طرف ظلم اور گناہ قوت کے ساتھ نافذ ہیں… آپ کسی کو نماز،
جہاد، داڑھی اور پردے کا سختی سے حکم نہیں کرسکتے… آپ دینی احکامات کو ذبح ہوتے
دیکھتے ہیں مگر کچھ نہیں کرسکتے… اس صورتحال نے مسلمانوں کو پریشان کردیا ہے… بے
شمار مسلمانوں کی تمنا ہے کہ اسلام نافذ ہوجائے اور سنت کا نظام قائم ہوجائے …
مسلمانوں کی اسی پیاس کو دیکھتے ہوئے اب نقلی ’’امام مہدی‘‘ ’’نقلی امام‘‘ اور
نقلی خلیفے ہر گلی میں پیدا ہونے شروع ہوگئے ہیں… اور کچھ لوگ بہت ’’کم ظرف‘‘ بھی
ہوتے ہیں… وہ دو چار دن ظاہری گناہ چھوڑ دیں تو شیطان ان کے کان میں کہتا ہے کہ…
تم کوئی بڑی چیز ہو… چنانچہ وہ ’’مہدی‘‘ یا ’’امیرالمومنین‘‘ ہونے کا دعویٰ کردیتے
ہیں… اور چند پیاسے مسلمان ’’اسلامی عظمت‘‘ کی تڑپ میں ان کے ساتھ ہوجاتے ہیں…
حقیقت میں یہ ایک بھیانک ظلم اور خطرناک مصیبت ہے… خود میرے پاس ایسے خطوط آتے ہیں
جن میں کئی لوگ اپنے بارے میں طرح طرح کے دعوے کرتے ہیں… ایک صاحب تشریف لائے اور
فرمایا میں ’’حارس الحراس‘‘ ہوں… انہوں نے ایک روایت دکھائی کہ امام مہدی سے کچھ
پہلے ایک شخص آئے گا وہ حارس الحراس ہوگا… فرمانے لگے میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتا
ہوں آپ مجھے حارس الحراس ہونے کی تصدیق لکھ دیں… بندہ نے مزاحاً عرض کیا کہ اگر آپ
حارس الحراس ہیں اور مجھ سے بیعت کر رہے ہیں تو میں کیا ہوں؟ … کچھ جید علماء کرام
میرے ساتھ تھے ان سے عرص کیا کہ ان کی تحقیق کریں… انہوں نے تحقیق کے بعد تصدیق سے
انکار فرمادیا… ایک اور صاحب آئے انہوں نے گھر کے نیچے لگے انٹرکام پر مجھ سے بات
کی اور فرمایا فوراً میرے پاس آجاؤ… عرض کیا رات کافی ہوچکی ہے کیا حکم ہے؟…
فرمایا امام مہدی آرہے ہیں اور میں نے ان کی طرف سے تمہیں ایک اہم عہدہ دینا ہے…
عرض کیا کہ آپ جاکر سوجائیں حضرت امام جب تشریف لائیں گے… ہم ان
شاء اللہ سر کے بل دوڑ کر خود ان کی خدمت میں حاضر ہونے کی
محنت کریں گے… ایک بار برطانیہ جانا ہوا وہاں کچھ عرب دوست ملنے آئے… ان کو ملاقات
کا بے حد اشتیاق تھا… فرمایا اسلامی خلافت کے بارے میں کچھ بتائیں… اس وقت طالبان
کی امارت اسلامیہ قائم نہیں ہوئی تھی… بندہ نے کچھ باتیں عرض کیں تو فرمانے لگے
عجیب بات ہے آپ کے پڑوس میں ’’خلیفۃ المسلمین‘‘ ظاہر ہوچکا ہے… اور آپ جیسے لوگوں
نے بھی ابھی تک بیعت نہیں کی… پھر انہوں نے ’’نورستان‘‘ کے ایک خلیفہ کا تعارف
کرایا اور ان کے پمفلٹ اور خطوط دکھائے اور بتایا کہ ہم نے تو ان سے بیعت کرلی ہے…
بندہ نے کاغذات دیکھے نورستانی خلیفہ نے دنیا کے تمام حکمرانوں کے نام خطوط لکھے
تھے… ان میں درج تھا کہ میں تمام مسلمانوں کا خلیفہ ہوں… تم سب پر میری اطاعت فرض
ہے… اسلموا تسلموا… اسلام لے آؤ تو بچ جاؤ گے وغیرہ وغیرہ… بندہ نے عرض کیا کہ آپ
کے خلیفہ محترم کبھی لندن تشریف لائے ہیں؟ … کہنے لگے جی ہاں ایک بار آئے تھے… عرض
کیا گھوڑے پر آئے تھے، پیدل تشریف لائے تھے یا سائیکل پر؟… وہ حیران ہوئے کہنے لگے
یا شیخ بالطائرہ بالطائرہ… کہ ہوائی جہاز پر آئے تھے… عرض کیا… انہوں نے سفر ٹیکس،
ائیرپورٹ ٹیکس، انٹری ٹیکس بھرے تھے؟… کہنے لگے وہ تو ضروری ہیں… عرض کیا کہ ہمیں
ایسے خلیفے کو کیا کرنا ہے جو کافروں کو بیس قسم کے ٹیکس دے کر سفر کرتا ہے… اور
ساری دنیا کو اپنی اطاعت کی طرف بلاتا ہے… یہ بات سنتے ہی ان کی آنکھیں کھل گئیں
اور وہ اس نئے فتنے سے تائب ہوئے… کچھ عرصہ پہلے کراچی میں ایک ’’امام مہدی‘‘ ظاہر
ہوا پھر بھاگ گیا… انا للہ وانا الیہ راجعون… بندہ نے
ایسے اللہ والوں کو دیکھاہے جن کی عبادت پر رشک آیا اور جن
کے علم کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہوا… مگر وہ خود
کو اللہ پاک کا عاجز بندہ قرار دیتے تھے… اور دیتے ہیں…
بندہ نے ایسے مجاہدین کو دیکھا جنہوں نے جہاد کے عمل میں قرونِ اولیٰ کی یادیں
تازہ کردیں مگر ان کو اللہ پاک کے خوف سے روتے ہوئے پایا…
میں نے ایسے عابدوں کو دیکھا ہے جو روزانہ قرآن پاک کا ایک ختم کرتے تھے اور کچھ
ان میں سے روزانہ پچھتر ہزار بار درود شریف پڑھتے تھے… مگر ان کو ڈر تھا کہ مرنے
کے بعد ان کا کیا ہوگا… جبکہ دوسری طرف یہ کم ظرف دعویدار کسی خواب کی بنیاد پر…
یا اپنی تھوڑی سی نیکی کے زعم میں اونچے اونچے دعوے کرتے ہیں… اور ان کو اتنی سمجھ
نہیں کہ جس اسلام کے وہ امام بن رہے ہیں اسی اسلام میں خود امارت کا دعویٰ کرنے سے
منع کیا گیاہے… حضرت امام مہدی علیہ السلام کی علامات احادیث مبارکہ میں اتنی واضح
ہیں کہ ادنیٰ علم رکھنے والا انسان بھی جانتا ہے کہ … ان کے ظاہر ہونے کی جگہ مکہ
مکرمہ ہے… اور ان کے اماُمت سنبھالتے ہی اسلام کے غلبے کا دور شروع ہوجائے گا… اور
یہ کہ وہ خود لوگوں سے چھپتے پھرتے ہوں گے زمانے
کے اللہ والے، اہل علم ان کو تلاش کریں گے… اور یہ کہ امام
صاحب جہاد کے عمل کو پوری قوت سے جاری فرمائیں گے…
حیرت
کی بات یہ ہے کہ پرویز مشرف کے دور میں کچھ روشن خیال مہدی بھی ظاہر ہوئے… جن کا
دعویٰ تھا کہ ہم جہاد کو بند کردیں گے اور امریکہ کو راضی کرکے مسلمانوں کو عزت
دلائیں گے… انا للہ وانا الیہ راجعون … سمجھ نہیں آتی کہ یہ فتنے
مسلمانوں کو مزید کتنا ستائیں گے… آج ہر شہر میں امام مہدی ہے، ہر محلے میں امیر
المؤمنین ہے… ہر علاقے میںغیب دانی کے دعویدار پروفیسر ہیں… اور اس کے باوجود کفر
کاغلبہ ہے حالانکہ … اصلی امام مہدی کے تشریف لانے کے بعد کفر کو سر چھپانے کی جگہ
تک نہیں ملے گی… اللہ تعالیٰ رحم فرمائے… اہل علم اور
مجاہدین کو چاہئے کہ مسلمانوں میں شعور پیدا کریں اور انہیں ان نقلی اماموں،
امیروں اور خلیفوں سے ہوشیار کریں… اور ان کو بتائیں کہ ان کے نقلی ہونے کی ایک
واضح نشانی یہ ہے کہ … یہ اپنے امام، امیر اور خلیفہ ہونے کا خود دعویٰ کرتے ہیں…
اور ان کو زمانے کے مستند اہل اللہ ، اہل علم اور اہل جہاد کی تائید
حاصل نہیں ہوتی… ان لوگوں نے اگر دین کی خدمت کرنی ہوتی تو خلافت، امامت اور امارت
کے دعوے کے بغیر بھی کرسکتے تھے… یا کم از کم اتنا ہی صبر کرتے کہ چند افراد مل کر
ان کو اپنا امیر مان لیتے… تب ان کی تنظیم کے نظام کو دیکھ کر یہ فیصلہ کیا جاسکتا
کہ یہ شرعی تنظیم ہے یا نہیں… مگر یہ تو خود کو خود ہی امیر منتخب کرلیتے ہیں اور
پھر چند افراد کو پھنسا کر ایک نئے فتنے کا آغاز کرتے ہیں… اللہم ارحم امۃ محمد
صلی اللہ علیہ وسلم
عازمین
’’حج بیت اللہ ‘‘ کے نام
ایک
ساتھی نے پوچھا کہ وہ اپنی والدہ محترمہ کے ساتھ حج
بیت اللہ کے لیے جارہے ہیں کچھ ایسے اعمال بتادیئے جائیں…
جن سے فائدہ ہو… ان کی خدمت میں چار اعمال عرض کیے… ممکن ہے کسی اور کو بھی فائدہ
ہو تو یہاں ان کو مختصر درج کیا جارہا ہے:
۱ مکہ
معظمہ قیام کے ایام میںطواف اور تیسرے کلمے کی کثرت کریں۔
سبحان اللہ و
الحمدللہ ولا الہ الا اللہ و
اللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم
ایک
لاکھ کا ہدف رکھیں… تاکہ کثرت سے یہ خزانہ نصیب ہوجائے…
۲ مدینہ
منورہ قیام کے ایام میں درود شریف کی کثرت کریں… ایک لاکھ کا ہدف رکھیں… اور زیادہ
ہوجائے تو بہت اچھا ہے…
ان
دو اعمال کی فضیلت اور فوائد نہیں لکھتا… جو ان پر عمل کرے گا وہ انشا
ء اللہ کھلی آنکھوں سے دیکھے گا … اور محسوس کرے گا اور
زندگی بھر محسوس کرتا رہے گا
۳ رہائش
اور کھانے پینے میں کچھ تنگی ہو تو ’’حیادار مہمان‘‘ کی طرح برداشت کریں… جنہوں نے
احسان کرکے بلایا ہے وہ جہاں رکھیں، جو کھلائیں بس شکر ہی کرتے رہیں…
۴ وہاں
رشتہ داروں کو ڈھونڈنے، عام ملاقاتیں کرنے اور دوستوں کو تلاش کرنے سے اپنی حفاظت
کریں… جنہوں نے بلایا ہے ان کی طرف متوجہ رہیں، انہیں کو ڈھونڈیں اور انہیں کی رضا
کے لیے ہرعمل کریں… بلاتشبیہ ایک مثال سے اسکو یوں سمجھیں کہ… اگر کوئی بڑی شخصیت
آپ کو ملاقات کے لیے بلائے اور آپ ان کے سامنے بیٹھ کر موبائل نکال کے ادھر ادھر
گپ شپ کرنے لگیں تو کیسا لگے گا؟…
یہ
تو چار اہم باتیں ہیں… باقی جو چیزیں ضروری ہیں ان کا خلاصہ درج ذیل ہے:
۱ حلال
مال سے حج کریں اور وہاں بھی حلال مال لے جائیں
۲ حج،
عمرے اور زیارت روضۂ اطہر (علیٰ صاحبہا الف صلوٰت وتحیات) کا طریقہ سیکھ کر جائیں
۳ نیت
درست رکھیں، صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو
۴ حضرات
اکابر کے حج، عمرے کے سفر نامے پڑھ لیں… اس سے بہت فائدہ ہوگا
انشاء اللہ
۵ جانے
سے پہلے ہر روز صلوٰۃ الحاجۃ پڑھ کر ’’حج مبرور‘‘ کی دعاء کرتے رہیں
۶ حرمین
شریفین کے آداب پڑھ لیں یا کسی سے معلوم کرلیں… وہ بہت ادب کے مقامات ہیں
۷ اپنے
قرضے اور حقوق ادا کرکے جائیں اور مالی معاملات لکھ کر کسی ’’امین‘‘ کو دے جائیں
۸ جاتے
اور آتے وقت ریا، دکھلاوے اور نام و نمود کے کاموں سے بچیں، دعوتیں اور جلسے کرنے
کی بجائے جہاد میں مال دیکر جائیں یا غریبوں کو صدقہ کردیں
۹ سفر
وغیرہ کی سہولت کے لیے رشوت نہ دیں
۱۰ خود
کو ’’حاجی‘‘ کہلوانے کے شوق میں اتنی عظیم جگہ کا سفر نہ کریں
بلکہ اللہ پاک کی رضاء کے لیے یہ سفر کریں
اللہ تعالیٰ
تمام مسلمان عازمین حج کو ’’حج مبرور‘‘ نصیب فرمائے… ہم جیسے ’’محصورین‘‘ آپ کی
دعائوں کے متمنی ہیں…
بچیوں
کا رشتہ
نکاح اللہ تعالیٰ
کی ایک بڑی نعمت ہے… آج کل بچیوں کے لیے اچھے رشتے نہیں ملتے جس کی وجہ سے ماں،
باپ اور وہ بچیاں سخت پریشانی اور اذیت کا شکار ہوجاتی ہیں… مسلمانوں کو آج کل یہ
سمجھانا تو بہت مشکل ہے کہ نکاح سادگی کے ساتھ، شریعت کے مطابق کریں… اکثر لوگ
نہیں مانتے… اللہ تعالیٰ اسلامی خلافت قائم فرمائے تو
مسلمانوں کا خلیفہ ہی مسلمانوں کے نکاح اور طلاق کے معاملات کو قانون کے زور سے
ٹھیک کرسکتا ہے… ہندوانہ رسومات اور سوچ نے برصغیر کے مسلمانوں کے نکاح اور طلاق
پر قبضہ کر رکھا ہے… و اللہ المستعان… مسلمانوں سے عرض ہے کہ جناب رسول
پاک آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے حضرات صحابہ کرام رضوان
اللہ علیہم اجمعین کے نکاح وطلاق کے واقعات کو پڑھتے رہا کریں… ممکن ہے بہت سے غلط
نظریات اور کاموں سے نجات مل جائے… بندہ کے پاس جو ڈاک آتی ہے اس میں اچھے رشتے کے
لیے دعاء اور وظائف کے تقاضے بھی ہوتے ہیں… بندہ خط پڑھنے کے فوراً بعد ایسے
خواتین اور حضرات کے لیے اچھے دیندار رشتوں کی دعاء کردیتا
ہے… اللہ تعالیٰ قبول فرمائے… آج چند وظائف بھی عرض کیے
جارہے ہیں… ان سے پہلے دو ضروری باتیں ذہن میں رکھ لیں:
۱ کسی
’’بے نمازی‘‘ مرد یا عورت کے ساتھ اپنی بیٹی یا بیٹے کا رشتہ ہر گز نہ کریں…
خصوصاً بیٹی کا رشتہ بے نمازی مرد کے ساتھ کرنے والے والدین مجرم ہوں گے… بے نمازی
کفر کے کنارے پر کھڑا ہوتا ہے کسی بھی وقت (خدانخواستہ) اس میں گر سکتا ہے… بے نمازی
اسلامی معاشرے کے لیے کینسر ہوتا ہے… اپنی بیٹی کو سونے کی زنجیر سے اس جانور کے
ساتھ نہ باندھیں…
۲ مسلمان
بیٹیاں، اخبارات، رسالے وغیرہ پڑھ کر اپنے ذہن میں کوئی رشتہ متعین نہ کریں… یہ
چیز ان کے رشتے کے لیے رکاوٹ بن جاتی ہے… اپنا دل، دماغ اور ذہن بالکل پاک صاف
رکھیں… کسی نیک آدمی کو دل میں بسانا بھی ٹھیک نہیں… کیونکہ اس دور میں فساد عام
ہوچکا ہے… بس اللہ پاک سے دعاء کرتی رہیں کہ…
یا اللہ جہاں میرے لیے دین، دنیا اور آخرت کی خیر ہو وہ
رشتہ مجھے نصیب فرما…
اگر
آپ کے ذہن میں کوئی متعین فرد نہ ہوا تو آپ کی دعاء جلد قبول ہوگی… یاد رکھیں ہر
نیک نظر آنے والا نیک نہیں ہوتا… اور ’’خیر‘‘ کس میں ہے اس
کو اللہ پاک کے سوا کوئی نہیں جانتا…
ان
دو باتوں کے بعد اب بعض وظائف درج کیے جاتے ہیں:
۱ جن
بچیوں کا وقت ہوچکا ہو اور ان کے لیے اچھا دیندار رشتہ نہ آتا ہو تو وہ روزانہ
عشاء کی نماز کے بعد قبلہ رخ تشھد کی حالت میں بیٹھ کر اکتالیس بار ’’یا فتاح‘‘
پڑھا کریں… اوّل آخر سا ت بار درود بشریف اور آخر میں اپنے مقصد کے لیے دعاء کریں…
(نماز سے ناغے کے دنوں میں بھی یہ عمل جاری رکھیں)
۲ جن
بچیوں کی شادی نہ ہو رہی ہو وہ جمعہ کے دن تین سو تیرہ بار یہ آیت مبارکہ پڑھ کر
دعاء کیا کریں:
رَبَّنَا
اِنَّکَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمِ لاَّرَیْبَ فِیْہِ
اِنَّ اللہ لاَ یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۔ (اٰل عمران۹)
۳ جن
لڑکیوں کا رشتہ نہ ہو رہا ہو وہ اکیس دن تک روزانہ ایک ہزار بار یہ آیت مبارکہ پڑھ
کر دعاء کریں، انشاء اللہ کامیابی ہوگی:
وَہُوَ
الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآئِ بَشَرًا فَجَعَلَہُ نَسَبًا وَّصِہْرًا وَّکَانَ
رَبُّکَ قَدِیْرًا۔ (الفرقان۵۴)
۴ وہ
بچیاں جن کے رشتے نہ آرہے ہوں وہ گیارہ دن تک یہ عمل کریں:
’’دو
رکعت صلوٰۃ الحاجۃ کی نیت سے ادا کریں پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد آیۃ الکرسی
اور دوسری میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورہ اخلاص پڑھیں سلام پھیر کر سو بار ’’یاہادی‘‘
اور ایک ہزار بار ’’یا اللہ ‘‘ پڑھیں اور پھر اپنے مقصد کے لیے دعاء کریں… اوّل
آخر سات سات بار درود شریف
۵ اچھے
رشتے کے لیے ایک مفید اور طاقتور عمل یہ ہے کہ دو رکعت نفل پڑھیں پہلی رکعت میں
سورہ فاتحہ کے بعد دس بار قل یا ایہا الکافرون (مکمل) اور دوسری رکعت میں سورہ
فاتحہ کے بعد قل ہو اللہ احد (مکمل) گیارہ بار پڑھیں، سلام
کے بعد سجدہ میں جائیں اور اس میں دس بار درود شریف اور دس بار تیسرا کلمہ اور دس
بار ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الآخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار پڑھیں اور اپنی
حاجت کے لیے دعاء کریں… انشاء اللہ حاجت پوری ہوگی…
یہ
پانچ عمل عرض کردیئے ہیں… کوئی بھی دعاء اور عمل بغیر درود شریف کے پورا نہیں ہوتا
اس لیے ہرعمل سے پہلے اور بعد میں زیادہ سے زیادہ درود شریف پڑھ لیا کریں… ہمارے
غیر شادی شدہ بھائی اعتراض کریں گے کہ آپ نے بچیوں کے لیے تو وظائف لکھ دیئے… اور
ہمیں فراموش کردیا تو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ آپ تو زبانی بھی پوچھ سکتے ہیں…
اور لکھ کر بھی جبکہ مسلمان بچیاں تو حیاء کا پیکر ہوتی ہیں وہ نہ کسی سے پوچھ
سکتی ہیں اور نہ لکھ سکتی ہیں… اس لیے خاص طور سے ان کے لیے وظائف عرض کردیئے ہیں…
باقی یہ وظائف خواتین کے لیے خاص نہیں ہیں… یہ تو رشتہ ملنے اور رشتہ ہونے کے
وظائف ہیں… مرد بھی کریں گے تو ان کو بھی انشاء اللہ پورا
فائدہ ہوگا…
القلم
پڑھنے والوں سے گزارش ہے کہ ان تمام مسلمان بچیوں کے لیے اچھے رشتے اور نکاح کی
دعاء کریں… جن کی شادی نہیں ہورہی… انشاء اللہ اخلاص کے
ساتھ دعاء کرنے والوں کو بہت اجر ملے گا… اور ایک مسلمان کی دوسرے مسلمان کے لیے
غائبانہ دعاء بہت قبول ہوتی ہے… اور یہ مسئلہ دنیاوی نہیں دینی ہے… اور بہت اہم
مسئلہ ہے… اللہ پاک ہمیں اس کی سمجھ اور شعور عطاء فرمائے…
ایک
عاجزانہ گذارش
خطوط
لکھنے والوں سے عاجزانہ گذارش ہے کہ… بندہ کو جب بھی خط لکھیں ’’مختصر‘‘ لکھا
کریں… یہ گذارش پہلے بھی کئی بار کی ہے مگر بعض خطوط بہت مفصل ہوتے ہیں… ایسے خطوط
کو دیکھتے ہی دل پر چوٹ لگتی ہے… ان کو اگر نہ پڑھا جائے تو خیال رہتا ہے کہ خیانت
ہوگی… اور اگر پڑھا جائے تو اتنا وقت کہاں سے لایا جائے… بعض خطوط تو بیس تا تیس
صفحات کے ہوتے ہیں… اللہ تعالیٰ نے اگر کسی کو اتنا لکھنے
کی استطاعت دی ہے تو وہ القلم، بنات عائشہ اور مسلمان بچے وغیرہا میں لکھے… میرے
پاس اس قدر مفصل خط بھیجنے کا کیا فائدہ… میں ایسے خطوط کو الگ رکھ دیتا ہوں باقی
خطوط کا جواب لکھنے کے بعد ان خطوط کو کئی دنوں میں پڑھتا ہوں… اور حیران ہوتا ہوں
کہ اکثر ان میں ایک بات بھی لکھنے یا پڑھنے والے کے کام کی نہیں ہوتی… اب ارادہ ہے
کہ وقت بچانے کے لیے زیادہ مفصل خطوط کو نہ پڑھا جائے اور نہ ہی ان کا جواب بھیجا
جائے… اس واضح اعلان کے بعد امید ہے کہ خط نہ پڑھنے کی صورت میں خیانت، حق تلفی یا
گناہ نہیں ہوگا۔ انشاء اللہ تعالیٰ
وصلّی اللہ تعالیٰ
علیٰ خیر خلقہٖ سیّدنا محمد وآلہٖ وصحبہٖ وسلم تسلیماً کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
نے
’’القلم‘‘ کو یہ سعادت بخشی ہے کہ وہ حضرت شیخ مفتی ولی حسن صاحب
نور اللہ مرقدہ پر اپنا یہ خصوصی شمارہ پیش کر رہا ہے۔
الحمدللہ الذی
بنعمتہ تتم الصالحات
’’فقیہ
الاسلام نمبر‘‘ میں حضرت الشیخ مفتی ولی حسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی حیات طیبہ کی
محض ایک جھلک پیش کی گئی ہے… آپ کی پوری زندگی ’’حسن و عشق‘‘ سے عبارت ہے… آپ کا
اسم گرامی ’’ولی حسن‘‘ تھا … اور آپ اسم با مسمّٰی تھے… بے شک آپ حسن وخوبیوں کا
مجموعہ اور اپنے زمانے میں ’’ولایت‘‘ کی آبرو تھے… ہم نے کوشش کی ہے کہ القلم کے
اس شمارے میں … آپ کی داستانِ حسن و عشق کا کچھ حصہ آجائے…
کوئی
حد ہی نہیں شاید محبت کے فسانے کی
سناتا
جارہا ہے جس کو جتنا یاد ہوتا ہے
حضرت
مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا فیض اللہ تعالیٰ نے خوب
پھیلایا… کئی جہتوں سے پھیلایا… اور دنیا کے کئی خطوں میں پھیلایا… علم حدیث کا
فیض، علم فقہ کا فیض، علم ادب اور دیگر علوم کا فیض، تحریر کا فیض، تقریر کا فیض،
سلوک واحسان کا فیض… شخصیت سازی اور دینی غیرت کا فیض… خدمت خلق اور غم انسانیت کا
فیض… اور سب سے بڑھ کر ’’عرفانِ محبت‘‘ کا فیض… اور پھر یہ فیوض عرب، عجم، امریکہ،
افریقہ… اور ایشیاء میں پھیل گئے … اور یوں میرے محبوب حضرت سکی ’’داستانِ حسن
ومحبت‘‘ دور دور تک بکھر گئی ؎
کچھ
طوطیوں کو یاد ہیں کچھ بلبلوں کو حفظ
عالم
میں ٹکڑے ٹکڑے میری داستاں کے ہیں
فقیہ
الاسلام نمبر میں آپ کو ’’حسن وعشق‘‘ کی اس داستان کے چند اوراق مل جائیں گے… اور
مزید اوراق ڈھونڈنے اور پانے کا شوق… انشاء اللہ … آپ کے دل
میں پیدا ہوجائے گا… حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے کئی تلامذہ نے اس خصوصی
شمارے کے لیے اپنے قیمتی مضامین بھجوائے ہیں… ہم ان سب کے ممنون اور شکر گزار ہیں…
خصوصاً میرے محبوب حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے جانشین مخدوم مکرم حضرت مولانا سجاد حسن
صاحب مدظلہ العالی نے ہم پر احسان فرمایا اور ’’فقیہ الاسلام نمبر‘‘ کے لیے اپنی
خصوصی تحریر ارسال فرمائی۔
فجزاہم اللہ احسن
الجزاء فی الدارین
حضرت
مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے چند نامور تلامذہ کے پرانے مضامین بھی اس
خصوصی شمارے کا حصہ ہیں… اور آپ تو جانتے ہیں کہ ’’داستانِ محبت‘‘ کبھی پرانی نہیں
ہوتی… آپ جب اس شمارے میں حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے تلامذہ کے مضامین
پڑھیں گے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ … میرے محبوب حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے فیوض اور
آپ کی محبت کس طرح سے تازہ اور تابندہ ہے… میرے حضرت بیک وقت آنسوؤں اور مسکراہٹوں
والے انسان تھے… ان کی داستان میں بھی آپ کو ہر جگہ یہ دو چیزیں ضرور ملیں
گی ؎
دلِ
عاشق بھی کیا مجموعۂ اضداد ہوتا ہے
اُدھر
آباد ہوتا ہے اِدھر برباد ہوتا ہے
میرے
محبوب حضرت رحمۃ اللہ علیہ گمنامی اور خلوت کو پسند فرماتے تھے… اسی کا
اثر ہے کہ ان کی رحلت کے بعد ان کے بارے میں زیادہ کچھ نہ لکھا گیا… حالانکہ
حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردوں میں زمانے کے بڑے محدّث، بڑے فقیہ، بڑے
مجاہد… اور بڑے اہل قلم موجود ہیں… آپ ان میں سے کسی کی مجلس میں جائیں تو انہیں
حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا دیوانہ وار تذکرہ کرتے ہوئے پائیں گے… مگر اس
کے باوجود میرے محبوب حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں زیادہ کچھ
تحریری طور پر دنیا کے سامنے نہ آسکا… یہ سب اللہ تعالیٰ کا
نظام ہے… کچھ لوگ روح اور خوشبو کی طرح ہوتے ہیں… روح جسم میں دوڑتی ہے… مگر نظر
نہیں آتی… اور یہی حال خوشبو کا ہے… آپ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے کسی بھی
شاگرد کے پاس جاکر ان سے گھنٹوں تک حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی باتیں سن
سکتے ہیں… وہ بخاری پڑھانے بیٹھتے ہیں تو حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے نکتے
دہراتے ہیں… وہ ترمذی اُٹھاتے ہیں تو حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے علمی نکات
میں گم ہوجاتے ہیں… وہ ہدایہ کا درس شروع کرتے ہیں تو بار بار
حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی فقاہت کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں… وہ جب جرأت
وعزیمت کی باتیں کرنے بیٹھتے ہیں تو حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے واقعات کو
دہراتے ہیں… تب آپ ان میں سے کسی سے کہیں کہ جناب! یہ ساری باتیں آپ لکھ کیوں نہیں
دیتے؟… تب وہ سر جھکا کر کہیں گے کہ دل تو بہت چاہتا ہے مگر… جی ہاں یہی ’’مگر؟‘‘
حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے اکثر شاگردوں کو بے بس کیے ہوئے ہے… دراصل میرے
محبوب حضرت رحمۃ اللہ علیہ’’استغناء‘‘ کے پہاڑ تھے… وہ آج
بھی اللہ تعالیٰ کے سوا ہر کسی سے مستغنی ہیں… وہ زندگی میں
بھی کم بولتے تھے… مگر بہت قیمتی بولتے تھے… سفر میں ہم گھنٹوں اس انتظار میں رہتے
کہ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے لبوں سے کوئی بات نکلے… آج بھی ان کی معطر یادوں
کا یہی عالم ہے ؎
تصور
میں ہے کچھ ایسا تری تصویر کا عاَلم
کہ
جیسے اب لبِ نازُک سے کچھ ارشاد ہوتا ہے
حضرت رحمۃ
اللہ علیہ کا درس ترمذی شہرۂ آفاق تھا… مگر ابھی تک وہ مطبوعہ شکل میں نہیں آسکا…
حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا درس بخاری بہت جامع تھا مگر وہ بھی شائع نہیں
ہوا… اور حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا درس ہدایہ تو اپنے زمانے میں خود اپنی
مثال آپ تھا… شکر ہے کہ وہ چند ماہ قبل چھپ چکا ہے… مگر صرف ہدایہ ثالث کا…
حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے ایک شاگرد نے آپ کی سوانح بھی لکھی ہے… مگر
کافی مختصر… بقول حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق صاحب اسکندر کہ یہ کتاب اس سلسلے کا
پہلا پتھر ہے…
حضرت رحمۃ
اللہ علیہ کے بعض مضامین اور مقالات پر مشتمل ایک کتاب ’’انتخاب مضامین مفتی ولی
حسن ٹونکی رحمۃ اللہ علیہ ‘‘ بھی… الحمدللہ منظر
عام پر آچکی ہے… استاذ محترم حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان رحمۃ اللہ
علیہ شہید مستقل اس کوشش میں لگے رہے کہ… میرے محبوب حضرت رحمۃ اللہ
علیہ کے افادات اور افاضات ان کی شان کے مطابق چھپ جائیں… انہوں نے کئی بار اس کا
تذکرہ بھی کیا… مگر ابھی تک میرے محبوب حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا
’’استغناء‘‘ اپنارنگ دکھا رہا ہے ؎
اب
آگے جو کچھ بھی ہو مقدّر رہے گا لیکن یہ نقش دل پر
ہم
اُن کا دامن پکڑ رہے ہیں، وہ اپنا دامن چھڑا رہے ہیں
اللہ تعالیٰ
کے ہاں ہر چیز کی ایک ’’اجل مسمّی‘‘ (وقت مقرر) ہے… حضرت مخدوم ہاشم ٹھٹھوی
نور اللہ مرقدہٗ کے علوم ان کی رحلت کے تین سو سال بعد شائع
ہونا شروع ہوئے… انشاء اللہ ایک وقت آئے گا کہ میرے محبوب
حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے علوم وفیوض بھی تحریر کی قید میں آجائیں گے…
کسی خوش نصیب کی قسمت تو جاگے گی… اور انشاء اللہ ضرور جاگے
گی…
اللہ تعالیٰ
نے میرے محبوب حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو بے پناہ محبوبیت عطاء فرمائی
تھی… آپ کی عمر گیارہ برس کی تھی کہ آپ ’’یتیم‘‘ ہوگئے… ہمارے آقا مدنی حضرت محمد
صلی اللہ علیہ وسلم کا پورا بچپن یتیمی میں گزرا… اُس وقت
سے ’’یتیمی‘‘ اِس امت کے افراد کے لیے ایک ’’اعزاز‘‘ بن گئی ہے… میرے محبوب
حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے حضرات اولیاء کرام کی سیرت پر ایک کتاب لکھی
ہے… ’’تذکرہ اولیاء پاک و ہند‘‘ آپ نے اس کتاب میں جن اولیاء کرام کا تذکرہ فرمایا
ہے ان میں سے اکثر بچپن میں یتیم ہونے والوں کی ہیں… مثلاً
۱ خواجہ
معین الدین اجمیری چشتی رحمۃ اللہ علیہ
۲ حضرت
خواجہ بختیار الدین کاکی رحمۃ اللہ علیہ
۳ حضرت
شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ
۴ حضرت
شیخ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ
۵ حضرت
شیخ نصیر الدین چراغ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ
۶ حضرت
سید محمد گیسودراز رحمۃ اللہ علیہ
۷ خواجہ
امیر خسرو دہلوی رحمۃ اللہ علیہ
۸ حضرت
شاہ محمد سلیمان تونسوی رحمۃ اللہ علیہ
ان
آٹھ یتیم اولیائے کرام کے تذکرے کے بعد جب میرے محبوب حضرت رحمۃ اللہ
علیہ نویں یتیم ولی حضرت مولانا فضل الرحمن گنج مراد آبادی رحمۃ اللہ
علیہ تک پہنچے تو آپ کے قلم سے یہ الفاظ نکلے۔
’’آپ
کی عمر مشکل سے گیارہ سال کی ہوگی کہ دیگر اولیاء کرام کی طرح آپ کے سر سے بھی
والد ماجد کا سایہ اُٹھ گیا اور آپ کی تعلیم وتربیت کی ساری ذمہ داری والدہ ماجدہ
کے سر آپڑی‘‘ (تذکرہ اولیاء ص۱۶۴)
میرے
محبوب حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے گویا کہ یہ الفاظ خود اپنے بارے میں
لکھے… آپ کے والد محترم حضرت مفتی انوارالحسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ عالم
اور مفتی تھے… حضرت رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد محترم کے پاس ہی ابتدائی
کتابیں پڑھ رہے تھے کہ… حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس
دنیا سے کوچ فرما گئے… اور یوں میرے حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو ’’یتیمی‘‘
کا اعزاز بھی نصیب ہوگیا… جو ظاہری طور پر ایک مصیبت مگر خاص لوگوں کے لیے ایک
’’کرامت‘‘ ہے… میرے محبوب حضرت رحمۃ اللہ علیہ
کو اللہ تعالیٰ نے اسلاف کی نسبتوں کا امین بنایا تھا…
زمانے کے علماء آپ میں حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت کا عکس بھی پاتے
تھے… علمی فقاہت، مالداروں سے استغناء، حکومتی عہدوں کومسترد کرنا اور اپنی والدہ
محترمہ کی مثالی خدمت کرنا اسی نسبت کا اثر تھا… آپ کو حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ
علیہ سے بھی خاص نسبت تھی… انہیں کی طرح یتیمی کی زندگی بسر کی، طبیعت میں بے حد
پاکیزگی تھی اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا غلبہ تھا…
والد محترم کا سایہ تو اٹھ گیا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ پر
نسبتوں اور محبتوں کی بارش برسادی… آپ کے والد محترم رحمۃ اللہ علیہ کے چچا حضرت
مولانا حیدر حسن ٹونکی رحمۃ اللہ علیہ…
بڑے اللہ والے اور دینی علوم کے علامہ تھے… وہ حضرت حاجی
امداد اللہ مہاجر مکی کے خلیفہ مجاز بھی تھے… ان کے شاگرد
حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’پرانے چراغ‘‘ میں
ان کا مفصل تذکرہ لکھا ہے… (ملاحظہ فرمائیے پرانے چراغ جلد اوّل ص۱۸۳ تا ۲۰۶) حضرت
مولانا حیدر حسن ٹونکی رحمۃ اللہ علیہ جب اپنے بھتیجے کے انتقال پر
تعزیت کرنے تشریف لائے تو انہوں نے… میرے محبوب حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے
چہرے پر سعادت کا نور پہچان لیا اور آپ کی دادی محترمہ سے اجازت لے کر آپ کو اپنے
ساتھ دارالعلوم ندوہ لکھنؤ لے گئے… اس وقت آپ ندوہ کے شیخ الحدیث اور مہتمم تھے…
میرے محبوب حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے کئی سال ان کی خصوصی سرپرستی میں
تعلیم حاصل کی… اور یوں ماشاء اللہ علم کی مضبوط بنیاد نصیب
ہوگئی… کچھ عرصہ بعد جب حضرت مولانا حیدر حسن ٹونکی رحمۃ اللہ علیہ …
دارالعلوم ندوہ چھوڑ کر واپس ٹونک آنے لگے تو میرے محبوب حضرت رحمۃ
اللہ علیہ کی محبوبیت نے عجیب رنگ پیدا کردیا… دارالعلوم ندوہ کے اساتذہ اصرار کر
رہے تھے کہ اس ’’دُرّ یتیم‘‘ کو یہاں چھوڑ جائیں … جبکہ حضرت مولانا حیدر حسن
ٹونکی رحمۃ اللہ علیہ فرما رہے تھے کہ نہیں! میں نے ان کو پرانے طرز کا عالم بنانا
ہے… جی ہاں اسلاف اور اکابر کی نسبتوں کا امین پرانے طرز کا عالم
… اللہ اکبر کبیرا…
اس
کے بعد میرے محبوب حضرت رحمۃ اللہ علیہ جہاں گئے… محبتیں اور نسبتیں
سمیٹتے چلے گئے… آپ کو دارالعلوم دیوبند میں حضرت شیخ الاسلام
مدنی رحمۃ اللہ علیہ اور … حضرت مولانا اعزاز علی صاحب رحمۃ
اللہ علیہ… کی خصوصی محبتیں ملیں… تعلیم کے بعد ٹونک پہنچے تو اس اسلامی ریاست کے
ایک ضلع کے مفتی وقاضی مقرر ہوئے … پاکستان بننے کے بعد ’’ہجرت‘‘ کی سعادت حاصل
ہوئی… یہاں کچھ ہی عرصہ بعد اہل علم نے پہچان لیا… پہلے حضرت مولانا نور محمد
صاحب رحمۃ اللہ علیہ آپ کو دارالعلوم لے گئے… حضرت مفتی
محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ہاتھوں ہاتھ لیا… اور پھر حضرت
بنوری رحمۃ اللہ علیہ اپنے پاس لے آئے اور اپنا علمی جانشین بنا کر
چھوڑ گئے… آپ کی محبوبیت کا یہ عالم تھا کہ طلبہ آپ کی زیارت اور درس کا بے چینی
سے انتظار کرتے تھے… اور آپ کی وقتی جدائی بھی ہر کسی پر شاق گزرتی تھی
جس
نے بچشم نکتہ چیں دیکھ لیا وہ مہہ جبیں
اُس
کی نظر میں پھر کہیں کوئی حَسیں جچا نہیں
اے
مرے ترُک نازنیں تجھ پہ ہزار آفریں
بچھ
گئی صف کی صف وہیں ہاتھ جہاں اٹھا نہیں
اللہ تعالیٰ
نے آپ کو ظاہری حسن بھی خوب دیا تھا… مگر باطن کے تو کیا کہنے… فیصلہ کرنا مشکل ہے
کہ آپ کا چہرہ زیادہ خوبصورت تھا یا آپ کا دل… یقینی بات ہے دل زیادہ خوبصورت
ہوگا… مگر چہرے پر عجیب سا نور اور کشش تھی اور آنکھیں تو ماشاء اللہ بہت
خاص تھیں… بندہ نے کبھی بھی آپ کی آنکھوں میں خفت اور پھیکا پن نہیں دیکھا… وہ ہر
وقت چمکتی تھیں اور ان کی تاب لانا بہت مشکل تھا… حضرت رحمۃ اللہ علیہ
جب کسی کو مسکراکر دیکھتے تو سامنے والا بس ایک لمحہ نظریں ملا لیتا اور پھر اس کی
نظریں خود ہی پسپا ہو کر جھک جاتیں… اللہ تعالیٰ نے آپ کی
نگاہ اور نظر میں خاص تاثیر رکھی تھی ؎
کب
وہ وہیں گرا نہیں جس کو ذرا تکا نہیں
تیری
نظر کا تیر بھی جس پہ پڑا بچا نہیں
ہو
نہ خفا تو بے سبب، ضبط نہ ہو تو کیا عجب
آنکھیں
ہی تیری ہیں غضب، دل کی مرے خطا نہیں
بعض
حضرات فرماتے ہیں کہ میرے محبوب حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے لکھنے کی
صلاحیت ہونے کے باوجود بہت کم لکھا ہے… بات دراصل یہ ہے کہ حضرت رحمۃ
اللہ علیہ قلم سے کم اور آنکھوں سے زیادہ لکھتے تھے… ان کی آنکھوں میں ایمان، علم
اور دینی غیرت کی روشنائی بھری تھی… قلم سے کتابیں لکھی جاتی ہیں جو صدیوں تک صدقہ
جاریہ رہتی ہیں… مگر آنکھوں سے ایسے افراد تیار کیے جاتے ہیں جو دنیا کا نقشہ ہی
پلٹ دیتے ہیں اور صدقات جاریہ کے انبار لگادیتے ہیں… قلم کاغذ پر لکھتا ہے جبکہ
آنکھیں دلوں پر لکھتی ہیں اور بہت گہرا لکھتی ہیں… قلم علوم کی حفاظت کرتا ہے جبکہ
آنکھوں کا لکھا ہوا حرف حیات زندگی کو جگا دیتا ہے ؎
یہ
راز ہم پر ہوا نہ افشا، کسی کی خاص اک نظر سے پہلے
کہ
تھی ہماری ہی کم نصیبی، ہمیں تھے کچھ بے خبر سے پہلے
کہاں
تھی یہ روح میں لطافت، کہاں تھی کونین میں یہ وسعت
حیات
ہی جیسے سورہی تھی، کسی کی پہلی نظر سے پہلے
میرے
محبوب حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی نشیلی، پرنور اور روشن آنکھوں سے
بہت کچھ لکھا… اور بے شمار افراد کو تیار فرمایا… آج آپ کے تلامذہ کی دینی خدمات
سے پورا عالم معطر ہے… آپ کے شاگردوں میں مدرس بھی ہیں، مجاہد بھی ہیں، مصنف بھی
ہیں اور مبلغ بھی… اور دینی غیرت کے اونچے اونچے مینار بھی… قلم سے لکھے ہوئے کو
مٹانا قدرے آسان ہے جب کہ آنکھوں کی تحریریں بہت مضبوط اور انمٹ ہوتی ہیں… اسی لیے
تو ’’اہل قلم‘‘ گھٹنے ٹیک کر ’’اہل نظر‘‘ کے قدموں میں جا بیٹھتے ہیں… مگر یہ بھی
ایک حقیقت ہے کہ آنکھوں سے لکھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے… یہ بہت مشکل کام ہے
بے حد مشکل… اس کے لیے خاص دل چاہئے اور خاص آنکھیں… میرے محبوب
حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی آنکھیں اتنی پاکیزہ تھیں کہ ان کے ساتھ چلنے
والوں کی آنکھیں بھی ٹھیک ہوجایا کرتی تھیں… بندہ نے کئی بار ان کے ہمراہ سفر کی
سعادت حاصل کی… جہازوں پر بھی بیٹھے، ائیرپورٹوں سے بھی گزرے مکہ مکرمہ بھی گئے
اور لاہور بھی… الحمدللہ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے
ساتھ چلتے ہوئے یہ پتہ بھی نہیں چلتا تھا کہ ’’بدنظری‘‘ کسے کہتے ہیں…
حضرت رحمۃ
اللہ علیہ کی فطرت بھی سلیم تھی اور آپ نے محنت بھی بہت کی تھی… چنانچہ شریعت آپ
کا مزاج بن چکی تھی… اور محبت کے چشمے آپ کے دل میں رواں تھے… آپ نے عشق کے پیمانے
نہیں پورے پورے مے خانے اپنی آنکھوں سے پی رکھے تھے… اور اب دوسروں کو پلا رہے
تھے ؎
تو
ساقیء مے خانہ ہے میں رند بلانوش
میرے
لیے مے خانہ کو پیمانہ بنادے
حضرت
مجذوب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ؎
مَے
کشو! یہ تو مَے کشی رندی ہے مَے کشی نہیں
آنکھوں
سے تم نے پی نہیں آنکھوں کی تم نے پی نہیں
اور
جگر مرحوم فرماتے ہیں ؎
شراب
آنکھوں سے ڈھل رہی ہے نظر سے مستی اُبل رہی ہے
چھلک
رہی، اُچھل رہی ہے، پیے ہوئے ہیں پلا رہے ہیں
اللہ تعالیٰ
نے میرے محبوب حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو حرص سے بچایا ہوا تھا… ان کی
آنکھوں میں ذرہ برابر حرص یا طمع کی خفت نہیں تھی… لالچ اور حرص آنکھوں کے نور کو
بجھا دیتے ہیں… یہ لالچ مال کی ہو یا عزت اور عہدے کی… میرے محبوب حضرت رحمۃ
اللہ علیہ کی نظر کسی کے مال پر نہیں تھی… اور نہ آپ لوگوں سے کسی عزت، احترام اور
عہدے کی خواہش رکھتے تھے… میرے محبوب حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی آنکھوں
میں دھوکا، خیانت اور حد سے بڑھی ہوئی چالاکی کا نام ونشان تک نہیں تھا… آپ کی
آنکھیں آپ کے دل سے جڑی ہوئی تھیں… اور دل اللہ تعالیٰ سے
جڑا ہوا تھا… اسی لیے آپ جب خوش ہوتے تو ہونٹوں سے پہلے آنکھیں مسکراتی تھیں… اور
جب آپ کے دل پر کوئی صدمہ پہنچتا تو آنکھیں فوراً آنسوؤں سے وضو کرلیتیں… کیونکہ
غم کے وقت وضو اور نماز کا حکم ہے… ہم نے آخری زمانے میں اپنے محبوب
حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو زیادہ آبدیدہ
دیکھا ؎
مری
طبیعت کو حسنِ فطرت سے ربطِ باطن نہ جانے کیا ہے
مری
نگاہیں کبھی نہ اُٹھیں طہارتِ چشم تر سے پہلے
میرے
محبوب حضرت رحمۃ اللہ علیہ اپنی ذات کو چھپاتے تھے… اور خود کو ’’چھوٹا
آدمی‘‘ کہتے تھے مگر ان کی زبان سے بعض ایسی باتیں نکلیں جن سے واضح اشارہ ملا کہ
وہ… اپنی روشن آنکھوں سے امت کے لیے افراد تیار فرما رہے ہیں… ایک بار ارشاد
فرمایا:
’’استاذ
سبق کی تقریر کرے یا نہ کرے وہ جب کتاب کا صفحہ الٹتا ہے تو اس کے دل کی نسبت
شاگردوں میں منتقل ہوتی ہے۔‘‘
یہ
بات غالباً مدینہ منورہ میں ارشاد فرمائی تھی… دراصل حضرت رحمۃ اللہ
علیہ کو اطلاع ملی کہ بعض بڑے اساتذہ کرام نے اس سال اپنے اسباق بہت اہتمام سے
’’ریکارڈ‘‘ کروالیے ہیں… اور آئندہ سال وہ خود تقریر کرنے کی بجائے طلبہ کو اپنی
کیسٹیں سنائیں گے… میرے محبوب حضرت رحمۃ اللہ علیہ اسلاف کی پرانی
نسبتوں کے امین تھے یہ خبر ان کے دل پر چوٹ بن کے لگی… انہوں نے اس کے خلاف زبانی
مہم چلائی اور بالآخر ان کی محنت کامیاب ہوئی… حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے
اسی موقع پر فرمایا کہ علم تو نسبت سے آتا ہے تو یہ طلبہ جو ٹیپ ریکارڈر سے پڑھیں
گے اپنی سندکیا بیان کریں گے… کیا وہ ’’حدّثنی ٹیپ‘‘ کہا کریںگے؟…
تدریس
کے آخری سال آپ نے بخاری اور ترمذی دونوں کتابیں پڑھائیں… اور آپ پورا سال اپنی
’’روشن آنکھوں‘‘ سے پڑھاتے رہے… طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے زیادہ تقریر نہیں فرما
سکتے تھے… ایک بار فرمایا کہ ایک عالم نے اپنے بیٹے کو دیوبند پڑھنے بھیجا اور
ساتھ یہ نصیحت فرمائی کہ حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ اب بوڑھے ہوگئے ہیں
وہ زیادہ تقریر نہیں کرسکیں گے وہ صرف ’’حدّثنا‘‘ ہی فرما سکیں گے… بس تم اسی کو
غنیمت سمجھنا کیونکہ ان کا ’’حدّثنا‘‘ فرمانا ہی تمہیں ان کی اونچی نسبت کے ساتھ
جوڑ دے گا‘‘…
میرے
محبوب حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے گویا اس واقعہ سے اپنی حالت بیان فرمائی…
آپ سبق کے لیے تشریف لاتے… کئی کئی صفحات کی عبارت پڑھی جاتی، آپ نہ ترجمہ فرماتے
نہ تقریر… بس کسی حدیث پاک کو سن کر رو پڑتے تو دارالحدیث کا رنگ ہی بدل جاتا… اور
بعض اوقات مختصر تقریر فرماتے تو طلبہ کی خوشی دیکھنے لائق ہوتی… اب ہونا تو یہ
چاہئے تھا کہ امتحان میں یہ تمام طلبہ ناکام ہوجاتے… مگر ایسا نہیں ہوا ہم میں سے
کئی طلبہ نے بخاری اور ترمذی میں پورے سو سو نمبر حاصل کیے… اور جب بھی ان دو
کتابوں کو اٹھایا تو سمجھنے میں دقّت نہیں ہوئی… اسی آخری سال کے طلبہ میں سے کئی
اب ماشا ء اللہ شیوخ الحدیث اور اساتذۃ الحدیث ہیں… یہ میرے
محبوب حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی مضبوط نسبت کا کمال ہے… اور یہ سب حضرات
میرے محبوب حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی روشن آنکھوں سے لکھی ہوئی زندہ
کتابیں ہیں… میرے محبوب حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے اگر کسی کے ہاتھ میں
تحریر کا قلم دیا تو اس قلم سے کتابوں کی کتابیں نکلتی چلی گئیں… آپ نے کسی کو
حدیث شریف پڑھانا سکھایا تو یہ مبارک علم آگے منتقل ہوتا چلا گیا… آپ نے کسی کو
فتویٰ لکھنا سکھایا تو آپ کے کئی شاگرد ’’صاحب فتاویٰ‘‘ بن گئے…
الغرض
میرے محبوب حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت میں ایک خاص برکت تھی… اس کا
اندازہ آپ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردوں کو دیکھ کر آسانی سے لگا سکتے ہیں… ہم
یہاں حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے چند شاگردوں کے اسماء گرامی تحریر کر رہے ہیں…
۱ حضرت
مولانا مفتی احمد الرحمن صاحب رحمۃ اللہ علیہ
۲ حضرت
مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختار صاحب رحمۃ اللہ
علیہ
۳ حضرت
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی
۴ حضرت
مولانا محمد رفیع عثمانی
۵ حضرت
مولانا مفتی عبدالسلام صاحب چاٹگامی
۶ حضرت
مولانا مفتی محمد نعیم صاحب
۷ حضرت
مولانا مفتی محمد جمیل خان شہید رحمۃ اللہ علیہ
۸ حضرت
مولانا مفتی عبدالسمیع شہید رحمۃ اللہ علیہ
۹ حضرت
مولانا محمد اعظم طارق شہید رحمۃ اللہ علیہ
۱۰ حضرت
مولانا مفتی زرولی خان صاحب
۱۱ حضرت
مولانا عبدالعزیز صاحب (خطیب لال مسجد اسلام آباد)
یہ
تو چند شاگردوں کے نام ہیں جن کے گرد دینی خدمات کے ادارے اور پوری پوری تحریکیں
گھوم رہی ہیں… اگر اس فہرست کو مکمل کیا جائے تو یہ حیرت انگیز ہوگی… کیونکہ جن
طلبہ نے آپ سے فیض پایا ہے ان کا تعلق دنیا کے بیس سے زائد ممالک سے ہے… اور اسے
پڑھ کر یہ اعتراض ختم ہوجائے گا کہ میرے محبوب حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے
کتابیں کم کیوں لکھیں؟… قرآنی تعلیم کا سب سے بڑا ادارہ ’’اقراء روضۃ الاطفال‘‘
میرے محبوب حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی روشن آنکھوں… اور طاقتور نسبت کا
فیض ہے… یہ ادارہ ملک کے طول و عرض میں چار سو سے زائد مدارس چلاتا ہے … میرے
محبوب حضرت رحمۃ اللہ علیہ اس ادارے کے پہلے ’’سرپرست‘‘ تھے… اور اس
ادارے کے تینوں ستون یعنی مفتی محمد جمیل خان شہیدس، مفتی خالد محمود صاحب اور
مفتی مزمل حسین کپاڈیا… حضرت کے خاص شاگردوں میں سے ہیں… ایسا لگتا ہے کہ جگر
مرحوم کا یہ شعر میرے محبوب حضرت رحمۃ اللہ علیہ ہی کے لیے
ہے ؎
اللہ اگر
توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں
فیضانِ
محبت عام سہی عرفانِ محبت عام نہیں
میرے
محبوب حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں ’’عرفان محبت‘‘ کے جام چلتے تھے… اسی
لیے آج علم کی مسندوں اور دینی غیرت کے محاذوں پر حضرت رحمۃ اللہ علیہ
کے تربیت یافتہ افراد کا غلبہ ہے… کراچی کی ایک عدالت میں میرے محبوب
حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے اسلام کی عزت اور دینی غیرت کا جو محاذ شروع
فرمایا… وہ آج جگہ جگہ پوری گرمی کے ساتھ برپا ہے
چلے
جاتے ہیں بڑھ بڑھ کر مٹے جاتے ہیں گِر گِر کر
حضور
شمع پروانوں کی نادانی نہیں جاتی
بندہ
آج بہت کچھ لکھنے کا ارادہ لیکر بیٹھا تھا… مگر جس طرح حضرت رحمۃ اللہ
علیہ… کے سامنے زبان بند ہوجاتی تھی اسی طرح اب بھی ان کے رعب کا وہی عالم ہے…
مجھے حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا سوانحی خاکہ بھی لکھنا تھا… اور آپ کے
اساتذہ کرام کا کچھ تذکرہ بھی… میرے محبوب حضرت رحمۃ اللہ علیہ
کو اللہ تعالیٰ نے ایک خاص صفت عطاء فرمائی تھی جو اس دور
میں بہت کم پائی جاتی ہے… اور وہ یہ کہ آپ دوسرے مسلمانوں کے غم سے پریشان ہوتے
تھے اور دوسروں کی پریشانیوں پر روتے تھے… اور ان پریشانیوں کو دور کرنے کی پوری
محنت کرتے تھے… ہم نے اپنے غموں اور پریشانیوں پر رونے والے تو بہت دیکھے ہیں مگر
دوسروں کے غموں اور پریشانیوں پر رونے والا بس اپنے محبوب حضرت رحمۃ
اللہ علیہ ہی کو دیکھا ہے ؎
اس
نفع وضرر کی دنیا سے میں نے یہ لیا ہے درسِ جنوں
خود
اپنا زیاں تسلیم مگر اوروں کا زیاں منظور نہیں
جب
تک کہ غمِ انساں سے جگر انسان کا دل معمور نہیں
جنت
ہی سہی دنیا لیکن جنت سے جہنم دور نہیں
اللہ تعالیٰ
توفیق دے کہ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی اس صفت پر خوب لکھا جائے تاکہ… خود
غرضی کا بت ٹوٹے اور مسلمانوں میں باہمی ایثار، اخوت اور ہمدردی کے صالح جذبات
پیدا ہوں… اسی طرح اپنے محبوب حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی ’’حساس دینی
غیرت‘‘ پر بھی لکھنے کا ارادہ تھا… اور عبادات میں آپ کی مدہوشی اور فنائیت پر بھی
کچھ عرض کرنا تھا… اللہ تعالیٰ نے میرے محبوب
حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو عجیب وغریب ’’استغناء‘‘ عطا فرمایا تھا… دنیا
میں کسی کے مال اور عہدے پر آپ کی نظر نہیں تھی… اور نہ آپ کسی کی مالداری اور
عہدے سے ذرہ برابر متاثر یا مرعوب ہوتے تھے…بلکہ آپ غریبوں کو مالداروں پر ترجیح
دیتے تھے اور غریب طلبہ سے مالدار طلبہ کی بنسبت زیادہ محبت فرماتے تھے… آجکل
علماء، مجاہدین اور دینداروں میں اس صفت کا ہونا بے حد ضروری ہے… ورنہ دنیا اور
دنیا والوں کی محبت دین والوں کو برباد کردے گی… میرے محبوب حضرت رحمۃ
اللہ علیہ کو اللہ تعالیٰ نے دین والا دل دیا اور پھر اس کی
قدر بھی نصیب فرمائی ؎
جائیے
کس واسطے اے درد مے خانہ کے بیچ
کچھ
عجب مستی ہے اپنے دل کے پیمانہ کے بیچ
اللہ تعالیٰ
اسی طرح ہر عالم، ہر مجاہد اور ہر دیندار کو دین، علم اور جہاد کی قدر نصیب
فرمائے… تاکہ ان آفاقی نعمتوں کو ذلیل دنیا کے بدلے کوئی نہ
بیچے ؎
قیمت
خود ہر دو عالم گفتہ ای
نرخ
بالا کن کہ ارزانی ہنوز
حضرت رحمۃ
اللہ علیہ کا ’’استغناء‘‘ ایک مستقل موضوع ہے جس پر ایک کتاب لکھی جاسکتی
ہے… اللہ کرے کہ لکھی جائے… خصوصی شمارے میں دیگر حضرات کے
مضامین بھی آنے ہیں، اس لیے حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا ایک عظیم ذاتی
احسان یاد کرکے اجازت چاہتا ہوں… بندہ پر حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے بے حد
احسانات ہیں، اللہ تعالیٰ معاف فرمائے کہ صحیح قدر نہ
ہوسکی… حضرت اقدس رحمۃ اللہ علیہ نے دوبار اصلاحی بیعت کی سعادت دی…
پہلی بار جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کی مسجد میں… اور دوسری بار مسجد نبوی
شریف (علیٰ صاحبہا الف صلوٰت وتحیات) میں… حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے
بخاری اور ترمذی جیسی کتابیں پڑھائیں… حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے کئی بار
سفر میں خدمت کا موقع دیا… یہ تمام احسانات بہت اونچے ہیں… مگر میرے محبوب
حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا مجھ پر ایک اور بڑا احسان ہے… ہوا یہ کہ ’’دورہ
حدیث‘‘ کے سال مجھے یہ خیال آیا کہ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو کوئی دشمن
تکلیف نہ پہنچادے… ان دنوں حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے ایک فتوے اور تحریک
سواد اعظم کی دھوم تھی… اور میرے محبوب حضرت رحمۃ اللہ علیہ اتنے
دشمنوں کے باوجود اکیلے اور پیدل گھر سے مدرسہ تشریف لاتے تھے… بندہ نے ایک روز
خلوت میں عرض کیا کہ حضرت اگر اجازت دیں تو میں ایک پستول خرید لوں اور حضرت کے
ساتھ لیکر چلا کروں… حضرت رحمۃ اللہ علیہ یہ سن کر بہت خوش
ہوئے اور اجازت مرحمت فرمائی… اس زمانے میں اسلحہ کی آج کل جیسی بھرمار نہیں تھی…
بندہ نے ابھی تک جہادی تربیت بھی حاصل نہیں کی تھی اور نہ افغانستان جانا ہوا تھا…
حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے اجازت ملنے کے بعد بندہ نے ایک افغان
طالبعلم سے چھوٹا سا پستول پندرہ سو روپے میں خرید لیا… اور اُسی سے کھولنا جوڑنا
اور چلانا بھی سیکھ لیا… اور چند دن تک یہ پستول جیب میں رکھ کر … اپنے محبوب
حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی پہرے داری کی… یہ میرے محبوب
حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی جہادی نسبت تھی… حضرت رحمۃ اللہ
علیہ کے خاندان کے بارے میں ڈاکٹر حافظ محمد عبدالمغیث لکھتے ہیں:
آپ
کے آباء و اجداد داغستان سے ہندوستان تشریف لائے اور ریاست جے پور کے ایک پر گنہ
پر بزور شمشیر قبضہ کرکے اسلامی ریاست قائم کی، جہاں کلی طور پر شرعی حدود پر عمل
کیا جاتا تھا۔ (یہ عجیب دنیاص۱۳۰)
حضرت رحمۃ
اللہ علیہ کے خاندان کے بارے میں بعض دیگر روایات بھی ہیں… مگر یہ روایت دل کو
زیادہ اس لیے لگی کہ جب کچھ عرصہ پہلے داغستان اور چیچنیا کے مجاہدین پاکستان
تشریف لائے… تو زیلم خان شہیدس اور بعض دیگر افراد کی شکل وشباہت میرے محبوب حضرت رحمۃ
اللہ علیہ سے بہت ملتی جلتی تھی… اللہ تعالیٰ میرے محبوب
حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے درجات بلند فرمائے اور ان کے صدقات جاریہ کو
تاقیامت جاری و تابندہ رکھے…
آمین
یا ارحم الراحمین
وصلّی اللہ تعالیٰ
علیٰ خیر خلقہٖ سیدنا محمد وآلہٖ وصحبہٖ وسلم تسلیماً کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
کا
بے حد شکر اور احسان ہے کہ اس نے القلم کے خصوصی شمارے ’’فقیہ الاسلام نمبر‘‘ کو
قبولیت سے نوازا… الحمدللہ ہر طرف سے خوشی، مسرت اور دعاؤں
کے پیغامات آرہے ہیں… یہ شمارہ ’’حسن و عشق‘‘ کی داستان تھی… پڑھنے والوں نے بتایا
کہ یہ داستان ان کے لیے آنکھوں کے نور اور دل کے سرور کا ذریعہ بنی…
و
الحمدللہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات
دعاء
فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ’’القلم‘‘ کے دینی، نورانی، روحانی…
اور جہادی فیض کو اور زیادہ پھیلائے اور اپنی بارگاہ عالی میں قبول فرمائے… آج کی
مجلس میں چند ضروری باتیں مختصر طور پر عرض کرنی ہیں…
ایک
خوش قسمت خاتون
ہمارے
ایک محبوب مجاہد ساتھی تھے… ان کا اصل نام تو ’’لیاقت کمبوہ‘‘ تھا مگر تمام ساتھی
اور ان کے شاگرد ان کو ’’استاذ ابوطلحہ‘‘ کے نام سے جانتے تھے… انہوں نے افغانستان
کے جہاد میں حصہ لیا اور ماشاء اللہ خوب لیا… انہوں نے
جہادی تربیت حاصل کی اور ماشاء اللہ خوب حاصل کی… پھر انہوں
نے مجاہدین کو جہادی تربیت دی اور ماشاء اللہ خوب دی… وہ
جہادی نظمیں اور ترانے بھی پڑھتے تھے اور ماشاء اللہ خوب
پڑھتے تھے … دراصل وہ ’’خوبصورت‘‘ اور ’’خوب سیرت‘‘ نوجوان تھے…
پھر اللہ پاک نے ان کو ایک بڑی مہم اور عظیم مشن کے لیے قبول
فرمایا… وہ کعبہ کی ایک بیٹی کو چھڑانے نکلے اور شہید
ہوگئے… اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے… ان کی والدہ
محترمہ اور والد صاحب نے اس صبر آزما خوشخبری کو خوشی سے قبول کیا… ان دنوں میں
بھی ان کے گھر حاضر ہوا اور والدین کا صبر دیکھ کر متاثر ہوا… ان کی والدہ نے اپنے
شہید بیٹے کی نشانی اپنی بہو کو دل سے لگائے رکھا اور کچھ عرصہ بعد خود اپنے چھوٹے
بیٹے سے اس کا نکاح کرادیا… مجھے ان کی اس ترتیب سے ان کی ایمانی فراست کا اندازہ
ہوا… ابھی چند دن ہوئے یہ خاتون انتقال فرما گئی ہیں… انا للہ وانا
الیہ راجعون… شہید کی اماں دنیا سے رخصت ہوگئی… اور پتا ہے جاتے جاتے کیا وصیت
فرما گئی؟… وہ وصیت کر گئی کہ میری سونے کی بالیاں… جماعت میں دے دی جائیں… زندگی
میں بیٹا دے دیا اور جاتے وقت سونا بھی دے گئیں… میرے پاس ان کو خراج عقیدت پیش
کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں… ہاں چند آنسو ہیں اور ڈھیروں دعائیں… شہید کی
اماں! اللہ تعالیٰ آپ کو اتنا سکون دے اتنی خوشی دے کہ آپ
راضی ہوجائیں…
مَنْ
کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الآْخِرۃِ نَزِدْ لَہٗ فِیْ حَرْثِہٖ وَمَنْ کَانَ یُرِیْدُ
حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِہٖ مِنْہَا وَمَالَہٗ فِی الآْخِرَۃِ مِنْ نَّصِیْبٍ
ترجمہ: جو
کوئی آخرت کی کھیتی کا طالب ہو ہم اس کے لیے اس کی کھیتی میں برکت دیں گے اور جو
دنیا کی کھیتی کا طالب ہو اسے (بقدر مناسب)دنیا میں دے دیں گے اور آخرت میں اس کا
کچھ حصہ نہیں ہوگا۔ (الشوریٰ۲۰)
اے
مجاہدین کرام!… خود کو دنیا کی محبت سے بچاؤ… اور دنیا کے مال، عہدے، عزت اور زیب
وزینت کو اپنا مقصود نہ بناؤ… ورنہ ایسی ماؤں کو کیا منہ دکھاؤ گے… کچھ عرصہ کام
کرنے اور قربانی دینے کے بعد اِسی دنیا میں اُس کے بدلے کی خواہش رکھنے والے … بہت
بڑے خسارے میں جاگرتے ہیں… اللہ پاک ہم سب کو اس بڑے خسارے
سے بچائے … آمین یا ارحم الراحمین
با
ادب ہوشیار
’’مسجد‘‘
پر اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمتیں برستی ہیں… مگر یہ خاص
رحمتیں ان لوگوں کو نصیب ہوتی ہیں… جو دل و جان سے ’’ادب‘‘ میں ڈوبے رہتے ہیں…
پرانے زمانے کے بادشاہوں اور اس زمانے کے جرنیلوں کو دیکھ لیں… ان کے درباری اور
فوجی کس طرح ان کے سامنے با ادب، ہوشیار ہوتے ہیں… مگر آج کل جس مسجد میں جائیں …
تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو پتا ہی نہیں کہ وہ کس کے گھر میں ہیں اور کس کے
دربار میں… حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی جو علامات بیان
فرمائی ہیں ان میں سے ایک علامت یہ ہے کہ ’’مسجدوں میں آوازیں بلند ہوں گی‘‘ …
یعنی لوگ بے ادب اور بے پرواہ ہو کر مساجد میں زور زور سے اونچی آواز میں باتیں
کریں گے… ہمیں چاہئے کہ خود کو قیامت کی بری علامت نہ بنائیں… اور مسجد کے آداب کا
بہت خیال رکھیں … علامہ ابن حجرس نے لکھا ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ
علیہ وسلم نے مسجد میں داخل ہونے والے کے لیے یہ دس آداب ارشاد فرمائے ہیں:
۱ اپنے
جوتوں یا موزوں کا خیال رکھے (یعنی ان کو حفاظت سے رکھ دے)
۲ پہلے
دایاں پاؤں مسجد میں رکھے
۳ داخل
ہوتے وقت یہ دعاء پڑھے
بِسْمِ اللہ وَسَلاَمٌ
عَلٰی رَسُوْلِ اللہ وَعَلٰی
مَلٓائِکَۃِ اللہ اَللّٰہُمَّ افْتَحْ لَنَا اَبْوَابَ
رَحْمَتِکَ اِنَّکَ اَنْتَ الْوَہَّابُ
۴ اہل
مسجد کو سلام کرے اور اگر مسجد میں کوئی نہ ہو تو یہ کہے:
اَلسَّلاَمُ
عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللہ الصَّالِحِیْنَ
۵ اور
یہ (کلمہ ) پڑھے:
اَشْہَدُ
اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ وَاَنَّ مُحَمَّدًا
رَّسُوْلُ اللہ
۶ کسی
نمازی کے آگے سے نہ گزرے
۷ کوئی
دنیاوی کام نہ کرے اور نہ دنیاوی باتیں کرے
۸ جب
تک دو رکعت ادا نہ کرلے مسجد سے نہ نکلے
۹ مسجد
میں باوضو داخل ہو
۱۰ جب
(نکلنے کے لیے) اٹھے تو کہے :
سُبْحَانَکَ
اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَشْہَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ
وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ
(الاستعداد
یوم المعاد ۱۰۸)
مسجد اللہ تعالیٰ
کی حفاظت میں آنے کا قلعہ … اور اس کی رحمتوں کو پانے کا مرکز ہے… جو مسلمان ان دس
آداب کا خیال رکھے گا وہ انشاء اللہ رحمتوں سے اپنی جھولی
بھرے گا… مسجد میں داخل ہونے کی دعاء روایات میں کئی الفاظ سے آئی ہے… جو الفاظ
یاد ہوں پڑھ لے… اور اعتکاف کی نیت کرلے… اور بدبودار کپڑے یا کوئی بدبودار ناپاک
چیز مسجد میں نہ لے جائے… اور مسجد میں اپنی آواز پست رکھے… اور اس دھیان میں رہے
کہ میں مسجد میں ہوں اور میرے دل اور جسم پر اللہ تعالیٰ کی
رحمتیں نازل ہو رہی ہیں۔
اللہ تعالیٰ
مجھے اور آپ کو مکمل آداب کے ساتھ مسجدیں آباد کرنے والا بنائے… آمین یا ارحم
الراحمین
قربانی
اور رحمت
حکمرانوں
اور مالداروں کے گناہوں نے ملک کو بدامنی اور مہنگائی سے بھر دیا
ہے… اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:
وَاِذَا
اَرَدْنَا اَنْ نُّہْلِکَ قَرْیَۃً اَمَرْنَا مُتْرَ فِیْہَا فَفَسَقُوْا فِیْہَا
فَحَقَّ عَلَیْہَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاہَا تَدْمِیْرًا (بنی اسرائیل۱۶)
حضرت
لاہوری رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیرمیں لکھتے ہیں:
’’یہ
بھی یاد رہے کہ بستیاں ہمیشہ آسودہ حال (یعنی مالداروں) کی شامت اعمال سے تباہ ہوا
کرتی ہیں‘‘
اس
موضوع پر بہت سی قرآنی آیات اور احادیث پیش کی جاسکتی ہیں… ہمارے حکمران جب ملک
میں ’’بدامنی‘‘ کا رونا روتے ہیں تو حیرانی ہوتی ہے… بدامنی تو خود ان کے اعمال
واقوال کی وجہ سے ہے… ان کی اکثریت شرابیں پیتی ہے… ان کے محلات میں رات گئے تک
ناچ گانے کی مجلسیں چلتی ہیں… دنیا کا کوئی ایسا گناہ نہیں جسے یہ فخر کے ساتھ نہ
کرتے ہوں… ملک کی دولت لوٹ کر انہوں نے غیرملکی بینکوں میں جمع کر رکھی ہے… جس سے
صرف کافروں کو فائدہ پہنچ رہا ہے… یہ لوگ کتے پالتے ہیں اور انسانوں کو مارتے
ہیں… اللہ تعالیٰ ہمیں اور انہیں ہدایت نصیب فرمائے…
اب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے… اور بدامنی اور مہنگائی کو
دور کرنے کا صرف یہی طریقہ ہے کہ ہم کثرت سے استغفار کریں… اور زیادہ سے زیادہ نیک
اور وزنی اعمال کریں… صدقات اور خیرات کی کثرت سے رزق عام ہوتا ہے اور مصیبتیں دور
ہوجاتی ہیں… اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ ہمارے لیے ’’اعمالِ
خیر‘‘ کا ایک ’’موسم‘‘ آنے والا ہے… ذوالحجہ کا چاند نکلتے ہی اعمال کی قیمت
آسمانوں تک پہنچ جاتی ہے… روزے قیمتی، نمازیں قیمتی اور قربانی تو سب سے بڑھ کر
قیمتی… ہمیں چاہئے کہ ہم اس موسم اور سیزن کی قدر کریں اور اپنی آخرت کے لیے بہت
کچھ کما لیں… اس کے لیے میں اور آپ پہلے دو کام کرلیں
۱ مکمل
اخلاص اور اہتمام کے ساتھ دو رکعت صلوٰۃ الحاجۃ ادا کرکے دعاء کریں کہ
یا اللہ ! ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں اور راتوں میں آپ نے جو برکتیں اور
رحمتیں رکھی ہیںوہ مجھے نصیب فرمادیجئے… پوری امت مسلمہ کو نصیب فرمادیجئے… اور ان
دنوں اور راتوں میں مجھے زیادہ سے زیادہ مقبول اور نیک اعمال کی توفیق عطاء فرما
دیجئے…
۲ ’’تحفۂ ذی الحجہ‘‘ کتابچے کا ایک بار مطالعہ
کرلیجئے … اگر پہلے مطالعہ کیا ہو تو دوبارہ تازہ کرلیجئے … یہ کتابچہ القلم کے اس
شمارے میں بھی شائع کیا جارہاہے…
ان
دو کاموںسے انشاء اللہ ہمارے لیے توفیق کا دروازہ کھل جائے
گا… اور ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ ہم نے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا… اپنی آخرت
کی کھیتی کو بڑھانے کے لیے آپ اس سال کی قربانی کو اور زیادہ وزنی بھی بنا سکتے
ہیں… الرحمت ٹرسٹ کے مخلص کارکن آپ کی قربانی کے گوشت کو…
ماشاء اللہ بہت دور دور تک پہنچاتے ہیں… آپ اگر ان کے ساتھ
’’اجتماعی قربانی‘‘ میں شریک ہوں گے تو آپ کو… جہاد میں خرچ کرنے، شہداء کرام کے
اہل خانہ کی کفالت کرنے… اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہجرت
کرنے والے مسلمانوں کی خدمت کرنے کا موقع مل جائے گا… اس سال اگرچہ مہنگائی زیادہ
ہے… اکثر لوگوں کے مالی حالات بھی اچھے نہیں ہیں… مگر سب مسلمان ہمت سے کام لیں
اور قربانی میں بخل یا کوتاہی نہ کریں… ہم اللہ تعالیٰ کے
لیے اپنا مال قربان کریں گے تو حالات بہتر ہوں گے… حکمرانوں اور مالداروں نے مال
کے ذخیرے جمع کیے تو دنیا فساد سے بھر گئی… خود یہ لوگ خو ف اور ذلت کی زندگی گزار
رہے ہیں… اور دوسروں کو بھی بھوکا مار رہے ہیں… اب اگر دیندار مسلمان بھی بخیل اور
کنجوس ہوجائیں گے تو پھر تباہی میں کسر نہیں رہے گی… اس لیے خوب محبت کے ساتھ
قربانی کریں… مرد بھی اور مسلمان خواتین بھی… قربانی کے لیے اگر اپنا موبائل سیٹ
بیچنا پڑے تو کوئی حرج نہیں … کیمرے والے موبائل کی قیمت میں آسانی سے قربانی
ہوجائے گی… اور کیمرے سے بھی جان چھوٹ جائے گی… اس سال بھی کچھ لوگ قربانی کے خلاف
مہم چلائیں گے… وہ آپ سے کہیں گے کہ قربانی کے پیسوں سے آپ کسی غریب کو دوا خرید
دیں… اسکول کے بچوں کو کتابیں لے دیں… یا کسی بچی کے جہیز کے لیے کپڑے خرید دیں…
ایسے لوگوں سے آپ کہیں… ہم مسلمان اللہ تعالیٰ کے حکم کے
پابند اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے
تابع ہیں… جبکہ آپ لوگ اپنی عقل اور نفس کے غلام ہیں… آپ کی ان حرکتوں سے نہ تو
مسلمانوں کی غربت دور ہوگی… اور نہ ان کے مسائل حل ہوں گے… البتہ جو آپ کی باتوں
میں آجائے گا وہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ
والسلام کی اس سنت سے محروم ہوجائے گا… جس سنت میں نور ہی نور، رحمت ہی رحمت… اور
اجر ہی اجر ہے… ہمیں، منیٰ، عرفات اور مکہ مکرمہ سے کاٹنے
والو… اللہ تعالیٰ تمہارے شر سے ہماری حفاظت فرمائے… آمین
یا ارحم الراحمین
وصلّی اللہ تعالیٰ
علیٰ خیر خلقہٖ سیدنا محمد وآلہٖ وصحبہٖ وسلم تسلیماً کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ کے ’’خلیل‘‘ حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ’’مکہ مکرمہ‘‘ کے لیے
دعائیں مانگیں… اور اللہ تعالیٰ کے ’’حبیب‘‘ سید الانبیاء
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’مدینہ منورہ‘‘ کے لیے دعائیں
مانگیں… اللہ تعالیٰ نے اپنے ’’خلیل‘‘ کی دعاؤں کو بھی قبول
فرمایا اور اپنے ’’حبیب‘‘ کی دعاؤں کو بھی قبولیت سے نواز دیا… اور یوں مکہ مکرمہ
اور مدینہ منورہ روئے زمین کے سب سے افضل شہر بن گئے… بہت پیارے شہر، نور اور سرور
سے بھرپور شہر، محبوب اور دلکش شہر… برکتوں اور رحمتوں والے شہر… حقیقت یہ ہے کہ
ان دو شہروں کی فضیلت اور مقام کی اصل کیفیت کو الفاظ سے نہیں سمجھا جاسکتا
… اللہ تعالیٰ مجھے بھی لے جائے اور آپ سب کو بھی… اور
ایمان، محبت اور ادب کے ساتھ ان شہروں کی مقبول حاضری نصیب فرمائے تو… پھر کچھ کچھ
پتا چلے گا کہ نور کے یہ سمندر کتنے پرکیف ہیں… اللہ اکبر
کبیرا… وہاں جانے کی دعاء جب بھی دل سے اٹھ کر زبان پر آتی ہے تو ایک سوال بھی
ساتھ ابھرتا ہے کہ… کیا ہم وہاں جانے کے اہل اور قابل ہیں؟ … تب سر جھک جاتا ہے
اور خوف طاری ہوجاتا ہے… ہاں مگر اللہ تعالیٰ ’’کریم‘‘ ہے…
الکریم جلّ شانہٗ الکریم جلّ شانہٗ … کریم وہ ہوتاہے جو نا اہلوں کو بھی ’’اہل‘‘
بنادیتا ہے… مدینہ منورہ کی ایک خاتون کا نکاح مدینہ منورہ سے دور کسی شہر میں
ہوگیا… وہ اپنے خاوند کے ہمراہ وہاں چلی گئیں… ایک دن اپنے گھر میں تھیں کہ کسی نے
’’مدینہ منورہ‘‘ کی یاد میں چند اشعار پڑھ دیئے… خاتون کی آنکھوں سے آنسو گرے، دل
مدینہ منورہ کے لیے ایسا تڑپا کہ دھڑکنا بھول گیا… لوگوں نے دیکھا کہ انتقال فرما
گئی ہیں… ہاں بے شک مدینہ منورہ بہت ہی پیارا ہے… وہ ’’طیبہ‘‘ اور ’’طابہ‘‘ ہے… وہ
آسمانوں سے اونچا اور جنت کا حصہ ہے… آج کل ماشاء اللہ …
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں ’’حجاج کرام‘‘ کا ہجوم جمع ہے… مشرق، مغرب اور شمال
وجنوب کے مسلمان… کالے، گورے، سانولے ہر رنگ کے … مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پہنچ
رہے ہیں… حجاج کرام کی تعداد پچاس لاکھ تک پہنچ جاتی ہے… مگر یہ دونوں شہر پوری
محبت اور فیاضی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے مہمانوں کا استقبال
کرتے ہیں… ۸ ذوالحجہ
کو تمام حجاج کرام مِنیٰ کا رخ کریں گے… اور تب ’’منیٰ‘‘ میں ایک بہت بڑا عارضی
شہر آباد ہوجائے گا… حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ
والسلام نے یہاں اپنے بیٹے کی گردن پر چھری پھیری تھی… اور شیطان کو کنکریاں ماری
تھیں… تمام ’’حجاج کرام‘‘ اخلاص والے ان اعمال کی نقل اتارتے ہیں… ۹ ذوالحجہ
کے دن میدان عرفات میں حج کا سب سے بڑا فرض ادا ہوتا ہے… کفن جیسا لباس پہنے ننگے
سر مسلمان کھلے آسمان کے نیچے کھڑے ہو کر اپنے رب کو پکارتے ہیں…
یا اللہ ، یا اللہ ، یا اللہ … آنسوؤں کے دریا اور مغفرتوں
کے سمندر ساتھ ساتھ بہتے ہیں… اور پھر مزدلفہ کی طرف واپسی … جی ہاں مزدلفہ کی
وادی میں ایک خوبصورت اور یادگار رات کا قیام اور صبح وہاں کچھ دیر کا وقوف … اور
پھر منیٰ واپسی… قربانی، حلق، جمرات… اور پھر کعبۃ اللہ کے
گرد طواف زیارت … لبیک اللّٰہم لبیک کی صدائیں… اس وقت دنیا بھر کے ائیرپورٹوں پر
بلند ہو رہی ہیں… فضاؤں میں حجاج کرام روانہ ہیں… اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ
جانے والی سڑکوں پر حجاج کرام کے لمبے لمبے قافلے ہیں… کئی ممالک کے حجاج گاڑیوں
پر آتے ہیں … اور آس پاس کے بہت سے لوگ پیدل رخت سفر باندھتے ہیں… پراگندہ بال،
غبار آلود چہرے، بہتے آنسو… اور دنیاوی تمناؤں سے پاک دل ؎
ہر
تمنا دل سے رخصت ہوگئی
اب
تو آجا اب تو خلوت ہوگئی
وہ
کونسی طاقت ہے جو اب تک مسلمانوں کے خلاف استعمال نہیں ہوئی؟… مگر
مسلمان الحمدللہ ختم نہیں ہوئے… حجاج کے قافلے چیخ چیخ کر
بتا رہے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اپنا
معبود، اللہ اور رب نہیں مانتے… وہ کونسی سازش ہے جو اسلام
کے خلاف نہیں ہوئی… مگر آج بھی الحمدللہ ہمارا ’’قبلہ‘‘ ایک
ہے… ہماری کتاب ایک ہے… ہمارے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم ایک ہیں… ہم مسلمان کمزور سہی مگر اب تک ہم نے اصولوں پر سمجھوتا نہیں
کیا… اور نہ ہی کسی میدان میں سر جھکایا ہے… اے مکہ مکرمہ جانے والو!… کعبہ شریف
کو ہمارا سلام کہہ دینا … اور بتانا کہ ہم نماز میں آپ ہی کو قبلہ بناتے ہیں …
جیسا کہ ہمارے رب نے ہمیں حکم دیا ہے… ہماری آنکھیں آپ کی زیارت کے لیے ترستی ہیں…
اور یاد میں چھلکتی ہیں… اللہ تعالیٰ آپ کی عزت وشرافت کو اور بڑھائے…
اور آپ کی عظمت کو اور اونچا کرے… آپ کے ایک کونے میں حجر اسود شریف ہے… معلوم
نہیں ہمارے ہونٹوں کو اس کا بوسہ کب نصیب ہوگا… اللہ اکبر
وہ کتنا پیارا تحفہ ہے… ایک پتھر ہے مگر جنت سے لایا گیا ہے… جی ہاں ایک پتھر ہے
مگر توحید کی دعوت دیتا ہے… تمام انبیاء علیہم السلام نے اس کو چوما ہے…
سبحان اللہ وبحمدہٖ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم
کے میٹھے ہونٹوں نے اس کا بوسہ لیا ہے… حجر اسود کے ساتھ ملتزم کا مقام ہے… ہمار
اسینہ وہاں چمٹنے کے لیے بے تاب ہے … اللہ اکبر! اسے سینے
سے لگانے کا تو عجیب لطف ہے… اے کعبہ! آپ کی ہر چیز یاد آتی ہے، ہر بات یاد آتی
ہے… کیسے یاد نہ آئے جبکہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے آپ
کا تذکرہ کیا ہے… اور آپ کو تمام جہان والوں کی ہدایت کا مرکز بنایا ہے… اور آپ
میں کھلی کھلی نشانیاں رکھی ہیں… اور مقام ابراہیم بھی آپ کے سامنے ہے… اے حجاج
کرام! کعبہ شریف کو تمام ان مسلمانوں کا سلام پہنچانا جو وہاں نہیں جاسکتے… محاذوں
پر برسرپیکار مجاہدین جو کعبہ شریف والے دین کے تحفظ اور عظمت کی جنگ لڑ رہے ہیں…
دشمنانِ اسلام کی جیلوں میں قید اسیران اسلام… اور مظلوم مسلمان مرد اور عورتیں جو
مسلمان ہونے کی وجہ سے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں…
اور
ہاں اے حجاج کرام… مدینہ منورہ کی ہر گلی، ہر پہاڑ اور ہر راستے کو ہمارا سلام عرض
کردینا… اور روضۂ اقدس پر بہت سلام عرض کرنا، بہت سلام، بہت سلام… اور نہایت ادب
سے عرض کرنا ہم آپ کے قابل تو نہیں … مگر ہیں تو صرف آپ ہی کے… اے رحمۃ للعالمین…
اے شفیع المذنبین…
اللہم
صلّ علیٰ سیدنا محمد وآلہٖ وصحبہٖ وسلم تسلیماً کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
جس
سے خیر کا ارادہ فرماتے ہیں، اُسے دین کی سمجھ عطا فرماتے ہیں… کیا ’’دین اسلام‘‘
جہاد کے بغیر مکمل ہے؟… نہیں، ہرگز نہیں… جو دین قرآن پاک ہمیں سکھاتا ہے اس میں
جہاد و قتال کا واضح حکم موجود ہے… جو دین رسولِ پاک صلی اللہ علیہ
وسلم نے اُمت تک پہنچایا اس میں جہاد کا حکم اہمیت کے ساتھ موجود ہے…
جس دین پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے عمل کرکے کامیابی حاصل کی اس میں جہاد
کا حکم نماز، روزے اور حج زکوٰۃ ، کی طرح ہے… پھر یہ کون لوگ ہیں جو
خود کو مسلمان کہتے ہیں اور جہاد کے خلاف بولتے اور لکھتے ہیں؟… بمبئی میں ایک
چھوٹا سا واقعہ ہوگیا اور ہر طرف سے جہاد کے خلاف ’’بکواسات‘‘ شروع ہو گئیں… جی
ہاں میں بالکل صاف الفاظ میں کہہ رہا ہوں کہ بمبئی کا واقعہ بہت معمولی نوعیت کا
ہے… کیا اس کاروائی کا جہاد سے تعلق ہے؟… مگر پاکستان کے حکمران اور صحافی انڈیا
کے خوف سے تھر تھر کانپنے لگے… ارے کیسے مسلمان ہو جو مشرکین سے ڈرتے ہو؟… اپنے
ناموں کے ساتھ ’’محمد‘‘ ’’علی‘‘ ’’سید‘‘ شاہ اور گیلانی جیسے اونچے القاب بھی
لکھتے ہو اور گائے کا پیشاپ پینے والوں سے ڈرتے ہو؟… بے فکر رہو انڈیا پاکستان پر
حملہ نہیں کرے گا… وہ تو بغیر لڑے پاکستان کو فتح کرتا جا رہا ہے…
پاکستان میں انڈین لابی بہت طاقتور ہو چکی ہے… انڈیا نے یہاں کے حکمرانوں کی مدد
سے کشمیر کے بارڈر پر باڑ لگائی… پاکستان کے پانیوں پر قبضہ کیا… اور تجارت اور
فنکاری کی آڑ میں اس ملک پر اپنے پنجے گاڑ دئیے… پرویز مشرف کا آٹھ
سالہ دور پاکستان پر انڈیا کے قبضے کا دور تھا… اور اب بھی وہ سلسلہ جاری ہے… وہاں
کا وزیر خارجہ ہمارے صدر کو دھمکی دیتا ہے تو اگلے دن صدر صاحب کے خفیہ ایلچی من
موہن سنگھ کے پائوں پکڑنے پہنچ جاتے ہیں ؎
حمیت
نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھرسے
ٹھیک
ہے میں مانتا ہوں کہ غلط دہشت گردی ’’اسلام‘‘ نہیں ہے… مگر یہ تو بتائو کہ بے
غیرتی اور بے عزتی کی اجازت کونسا’’اسلام‘‘ دیتا ہے… ؟
اس
وقت بھی پاکستانی حکمرانوں کے کم ازکم دو خفیہ وفد ’’انڈیا‘‘ پہنچ کر اُن کو ٹھنڈا
کرنے کی کوشش میں ہیں… اور خفیہ طور پر انڈیا کو طرح طرح کی یقین دہانیاں الگ
کرائی جارہی ہیں… آخر یہ سب کیا ہے؟… ملک کی اتنی بڑی فوج کس کام کے لئے ہے؟…
اسلحے کے اتنے ذخیرے کس لئے جمع کئے گئے ہیں؟… ملک کا ساٹھ فی صد بجٹ دفاع پر کس
لئے خرچ ہو رہا ہے؟… جب ہمارے حکمرانوں نے ہر کسی کے نیچے لگ کر رہنا ہے… غیروں کے
دبائو پر اپنوں کی گردنیں دبانی ہیںتو پھر ’’دفاع ‘‘پر اتنی رقم خرچ کرنے کی کیا
ضرورت ہے؟… کوئی ہے جو مسلمانوں کا سوچے؟… کوئی ہے جو دین ِاسلام کے بارے میں
سوچے؟… عراق میں بمبئی جیسے واقعات ہر دن میں دس بار ہوتے ہیں… اور اب تک دس لاکھ
افراد مارے جا چکے ہیں… افغانستان کے طالبان کا اس کے سوا کیا قصور تھا کہ وہ اصلی
اور سچے مسلمان تھے… آخر طالبان نے دنیا کا کیا بگاڑہ تھا کہ نائن الیون سے پہلے
بھی کوئی ملک اُن کی جائز حکومت کو تسلیم نہیں کر رہا تھا؟… امریکہ کو یہ حق کس نے
دیا کہ وہ دن رات ہمارے قبائلی علاقوں پر بمباری کر رہا ہے… انڈیا کو اس کی اجازت
کس نے دی کہ وہ افغانستان کے ہر بڑے شہر میں قونصل خانے، جاسوسی کے اڈے اور مسلمانوں
کے خلاف کیمپ قائم کر رہا ہے… دنیا تو اس وقت مسلمانوں کے خون سے بھری پڑی ہے…
کشمیر میں سیاسی احتجاج کا جواب بھی گولی سے دیا جاتا ہے… اور فلسطین کے
مسلمانوںکو زندہ رہنے کا حق تک حاصل نہیں… ہر طرف ظلم، بربریت اور دہشت ہے… ظالموں
نے پاکستان کو کھوکھلا کر دیا… اور اب بمبئی کے واقعہ کی آڑ میں اسے مزید کھوکھلا
کرنے کی کوشش جاری ہے… پاکستان کی عوام اور فوج ایک دوسرے کو مار رہی ہے… آخر
کیوں؟… یہ سب کچھ غیر ملکی کافروں کے دبائو کو قبول کرنے کا نتیجہ ہے… انہوں نے
آکر دبائو ڈالا اور ہم نے فوراً اپنے کسی فرد پر ظلم شروع کر دیا… اور پھر اس ظلم
کا بدلہ آیا… اور یوں مسلمان ایک دوسرے کے قاتل بن گئے… بمبئی کے دس حملہ آور
اگر پاکستان حکومت نے بھیجے ہوتے تو وہ اتنا ڈرتی اور گھبراتی؟… ہماری حکومت تو
انڈیا کے بدمعاشوں کے لئے اداکارہ ’’میرا‘‘ کو بھیجتی ہے… جبکہ انڈیا یہاں ’’کشمیر
سنگھ‘‘ اور ’’سربجیت سنگھ‘‘ کو بھیجتا ہے… ہر ملک کے باشندے غیر قانونی طور پر
دوسرے ملکوں میں داخل ہوتے رہتے ہیں… وہ دوسرے ملکوں میں جرائم بھی کرتے ہیں اور
سزا بھی پاتے ہیں… انڈیا کی تہاڑ جیل میں ہر وقت پانچ سو سے زیادہ غیر ملکی قیدی
ہوتے ہیں… اپنے ملک کی سرحدوں کو مضبوط رکھنا ہر ملک کی داخلی ذمہ داری ہوتی ہے…
اگر چند پاکستانی بمبئی میں گھس گئے تو انڈیا کا کام تھا کہ اُن کو روکتا… جب
انہوں نے وہاں جنگ برپا کی تو انڈیا کا کام تھا کہ اُن کا مقابلہ کرتا… انڈیا کے
ہزاروں فوجیوں نے ساٹھ گھنٹے تک بہادری کے ساتھ مقابلہ کرکے نو جنگجو مار دیئے اور
ایک پکڑ لیا… بس بات ختم ہوگئی… مگر ہمارے حکمران معلوم نہیں کس مٹی کے بنے ہیں…
فوراً ہی منّت، ترلے، وفود، پابندیاں اور صفائیاں شروع ہو گئیں… ابھی معلوم نہیںکہ
ذلت اور رسوائی کے اور کون کون سے قدم اٹھائے جائیں گے… دوماہ قبل ہندئوں کی مسلح
تنظیم ’’بجرنگ دل‘‘ نے کئی عیسائیوں کو قتل کر دیا… اور عیسائیوں کے گھرو ں کو جلا
دیا… دنیا بھر سے شور اُٹھا کہ ’’بجرنگ دل‘‘ پر پابندی لگائی جائے… انڈین حکمرانوں
نے جواب دیا کہ یہ ممکن نہیں کیونکہ یہ لوگ دیش (ملک) کے وفا دار ہیں… اٹل بہاری
واجپائی کے دور حکومت میں ایک غیر ملکی صحافی نے اعتراض اٹھایا کہ آپ فلاں شدت
پسند رہنما سے ملے ہیں… واجپائی نے کہا! میں اُس سے ملا ہوں، آئندہ بھی ملوں گا
وہ بھارتی ہے اور ہمیں اپنے لوگوں سے ملنے کا حق ہے … مگر پاکستان کے حکمران احساس
کمتری کی رسوائی میں مبتلا ہیں… یہ اول تو کسی بھی ایسے مسلمان سے ملتے نہیں جو
جہاد کو مانتا ہو اور اگر کبھی مجبوری سے مل لیں تو آخر میں درخواست کرتے ہیں کہ
یہ ملاقات میڈیا پر نہ آئے ہمیں کافروں کے سامنے جوابدہ ہونا پڑتا ہے… انڈیا اس
وقت چاروں طرف سے پاکستان کو گھیر چکا ہے… بلوچستان پر حکومتی مظالم نے وہاں کے
کئی لوگوں کو انڈیا کی گود میں ڈال دیا ہے… کراچی کا ایک بڑا طبقہ لندن سے آنے
والے ایک اشارے پر پاکستانی پرچم پھینک کر انڈین ترنگا اٹھانے کی مکمل تیاری میں
ہے… اندرون سندھ اور جنوبی پنجاب میں ہندئوں کی سرگرمیاں مکمل تیزی سے جاری ہیں…
پاکستان کے کئی صحافی انڈیا سے باقاعدہ اجرت اور تنخواہ لیتے ہیں… اسلام آباد میں
انڈین لابی بہت مضبوط ہو چکی ہے… افغانستان میں انڈیا نے جگہ جگہ اپنے عسکری اور
جاسوسی اڈے کھول لئے ہیں… کشمیر کی تحریک کو ختم کرنے کے لئے پاکستان کے حکمران
تیار بیٹھے ہیں… امریکہ کے ایک تھنک ٹینک نے اگلے بیس سال میں بھارت کے سپر پاور
بننے کی پیشین گوئی بھی کردی ہے… جی ہاں پاکستان جسے کسی زمانے میں مسلمانوں کا
اسرائیل کہا جاتاتھا اپنے نظریات سے ہٹ کر انڈیا کے گھیرے میں ہے… انڈیا کا مطالبہ
ہے کہ پاکستان اپنے بعض شہریوں کو اغوا کرکے انڈیا کے حوالے کرے… تاکہ پاکستان میں
ایک اور جنگ بھڑک اُٹھے… پاکستان کے جاگیرداروں اور پلاٹوں، پلازوں کے عاشق
آفیسروں کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اُن کے حکمران ہندو ہوں یا مسلمان…
اُنہیں بس پیسہ چاہیے اور عیاشی… جی ہاںمیں پھر کہہ رہا ہوں کہ پاکستان پوری طرح
انڈیا کے گھیرے میں آچکا ہے… بس کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ ایسا ہو… یہ لوگ جہاد کی
بات کرتے ہیں… اب انہیں لوگوں کا گلا دبایا جا رہا ہے تاکہ پاکستان پر انڈیا کے
قبضے کی آخری رکاوٹ ختم کی جاسکے… اب پاکستان میں ایسی کوئی ’’مسلم لیگ‘‘ باقی
نہیں ہے جو انڈیا کی چالوں کو سمجھتی ہو… کچھ پرانے مسلم لیگی پرانی باتیں کرتے
رہتے ہیں مگر وہ بھی جہاد کے نام سے چڑتے ہیں… جبکہ نئی مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل
مشاہد حسین اسوقت بھی بھارت کے خفیہ دورے پر ہیں… یہ وہ صورتحال ہے جو سب کو نظر
آرہی ہے… مگر یادرکھیں کہ اصل حقیقت کچھ اور ہے… خراسان کی طرف سیاہ جہادی پرچم
لہرانے کا وقت تیزی سے قریب آرہاہے… ہندوستان کی زمین پر مسلمان فاتحین کا خون
اور مسلمان اولیاء کی قبریں ہیں… یہ پورا خطہ مسلمانوں کا تھا… اور پھر انشاء اللہ
مسلمانوں کا ہو جائے گا… میں خواب نہیں دیکھ رہا حقیقت عرض کر رہا ہوں… وہ مسلمان
جن کا ایمان جہاد کی حرارت سے مضبوط ہو چکا ہے اُن کو اب زندہ رہنے کی فکر نہیں
رہی… ہر بزدلی اور ہر بے غیرتی کی بنیاد زندہ رہنے کی فکر ہے… کون سپر پاور ہے اور
کون منی پاور مجاہدین نے سب کے نقشے پھاڑ دئیے ہیں… قرآن پاک کے اوراق سے جہاد کی
آیتیں ایک نور کی طرح ساری دنیا پر چھارہی ہیں… دنیا کے ملکوں کے پاس آگ ہے اور
آگ تو پانی کا مقابلہ بھی نہیں کرسکتی چہ جائیکہ وہ جہادی نور کا مقابلہ کرسکے…
شہداء کا خون ہر اسلحے کا توڑہے … اور پوری دنیا کی ہلاکت کا سامان خود اس دنیا
میں موجود ہے… ہم نہ کسی کو دھمکی دیتے ہیں اور نہ خوف پھیلاتے ہیں… ہم تو امن کے
بھوکے اور محبت کے علمبردار ہیں… ہم ساری دنیا کو ایمان، اسلام اور استسلام کی طرف
بلاتے ہیں… ہم ساری دنیا سے کہتے ہیں کہ اس دنیا کی رحمت حضرت محمد صلی
اللہ علیہ وسلم کے دامن میں ہے… آئو اس دامن کی پناہ میں آجائو امن
اور رحمت مل جائے گی…
مگر
ہم کیا کریں ظلم و شہوت کے پجاری ہمیں زندہ رہنے ہی نہیں دیتے… سب کو بولنے کی
اجازت ہے مگر ہماری باتوں پر پابندی ہے… گدھوں اور کتوں کی طرح بدکاری کی اجازت ہے
جبکہ حیاء کی بات پر پابندی ہے… ہر چور ڈاکو اور مافیا سرغنہ آزاد ہے جبکہ ہم یا
جیلوں میں ہیں یا دربدر کی ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں…
ہم
کہتے ہیں کہ ہماری بات سنو تو جواب میں گالیاں دی جاتی ہیں… ہم کہتے ہیں کہ ہم سے
بات کرو تو گولی اور ہتھکڑی سے جواب ملتا ہے… ملا محمد عمر مجاہد کا کیا جرم تھا؟…
عرب ممالک کے شرابی حکمرانوں کے ستائے نورانی چہرہ مہاجرین کا کیا جرم تھا؟…
پابندیوں کے ستائے ہوئے اللہ اللہ پکارنے والے جیش محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کے دیوانوں کا کیا جرم تھا؟… ہاں اگر آقا مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم کے دین کی بات کرنا جرم ہے تو یہ جرم انشاء اللہ مرکر
بھی نہیں چھوڑیں گے… ہاں! اگر آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کے خیمے کی پہرے داری کرنا جرم ہے تو ہماری یہی خواہش ہے کہ اس
مبارک خیمے کی پہرے داری میں جسم ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے… شراب، ڈانس اور جاگیر کے
عاشقو تمہیں کیا پتا؟ اس پہرے داری میں کیا مزہ ہے… ہر ظلم ہم پر، ہر پابندی ہم پر
، ہر طعنہ ہم پر… تب مرنے کے سوا اور کیا کیا جائے؟… ان حالات میں اگر مجاہدین کو
موت لذیذ معلوم ہوتی ہے تو اُن کا کیا قصور ہے؟…
اُمت
ِ مسلمہ کی طرف سے دنیا بھر کے ظالموں سے ایک اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر صاف صاف
کہتا ہوں کہ… بالآخر تم ہار جائو گے اور اسلام جیت جائے گا… اسلام غالب آئے گا…
آجائو امن کی طرف… اور امن ایمان میں ہے… آجائو سلامتی کی طرف… اور سلامتی اسلام
میں ہے… آجائو محبت کی طرف… اور محبت مدینہ پاک میں ہے… بیشک دن اور رات کے آنے
جانے میں عقل والوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں۔
وصلی
اللّٰہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد واٰلہ وصحبہٖ وسلم تسلیماً کثیرا کثیرا
کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
کے تمام ’’انبیاء علیہم السلام‘‘ پر ایمان لازم ہے… کسی ایک ’’نبی‘‘ کا انکار بھی
کفر ہے… قرآن پاک نے کئی انبیاء علیہم السلام کے واقعات بیان فرمائے ہیں… یہ زندہ
واقعات ہر زمانے میں ’’اہل ایمان‘‘ کی رہنمائی فرماتے ہیں… انبیاء علیہم السلام نے
دین کی خاطرجہاد بھی فرمایا، ہجرت بھی کی، روپوشی بھی اختیار فرمائی… اور خوف والے
لمحات بھی گزارے… حضرات انبیاء علیہم السلام نے دین کی خاطر قربانی دی اور کبھی
کسی ظالم و جابر کے سامنے گردن نہیں جھکائی… ابھی موجودہ حالات میں قرآن پاک کی
کئی آیات اور حضرات انبیاء علیہم السلام کے کئی مقدس واقعات ہماری رہنمائی کرتے
ہیں… مکہ کے مشرکوں نے خاتم الانبیا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ
وسلم کو پکڑنے، جلا وطن کرنے اور شہید کرنے کی خوفناک سازش کی… قرآن
پاک نے مختصر الفاظ میں پورا منظر دکھا دیا… غزوۂ احزاب کے موقع پر مشرکین نے ایک
بڑا اتحادی لشکر لا کر مدینہ منورہ کا گھیرا کیا… اور اہل مدینہ پر دبائو ڈالا کہ
(نعوذ باللہ) حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن کے حوالے
کردیں… ورنہ پورے مدینہ کو پامال کر دیا جائے گا… قرآن پاک نے پوری سورۃ ’’الاحزاب‘‘
نازل فرمائی… ہجرت کی رات حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اور
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خطرے کی راتیں گزاریں… قرآن پاک نے پورا منظر
محفوظ کر لیا… حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خلاف گرفتاری کا حکم جاری ہوا اور پھر
گرفتاری کے بعد سزائے موت کا فیصلہ سنا کر آگ میں ڈال دیا گیا… قرآن پاک نے بار
بار یہ منظر دکھایا اور سنایا ہے… حضرت موسیٰ علیہ السلام کی گرفتاری کا فیصلہ
فرعون کے محل میں ہوا… جلّاد کی تلوار بھی تیارتھی مگر ایک خیر خواہ نے حضرت موسیٰ
علیہ السلام کو مصر سے نکل جانے کا مشورہ دیا… آپ وہاں سے نکل کر ’’مدین‘‘ تشریف
لے گئے… مصر سے آپ کی اس ہجرت اور روپوشی کا عرصہ بعض مفسرین دس سال اور بعض بیس
سال بیان فرماتے ہیں…
حضرات
انبیاء علیہم السلام کے واقعات بہت عجیب ہیں…لیکن ہم ایمان تو انبیاء علیہم السلام
پر لاتے ہیں مگر زندگی بہت ’’پر امن‘‘ گزارنا چاہتے ہیں… حقیقت یہ ہے کہ ہم گھریلو
مخلوق بن کر ہجرت، جہاد اور قربانی کا تصور ہی اپنی زندگیوں سے نکال چکے ہیں… بس
یہی وجہ ہے کہ کفر اور کافر طاقتور ہوتے جارہے ہیںاور ہم دن بدن کمزور اور مغلوب …
قرآن پاک میں انبیاء علیہم السلام کے قصے صرف مزے لینے اور آنسو بہانے کے لئے تو
نہیں ہیں… بیشک ان قصوں میں روحانی مزہ بھی ہے اور جذبات کے آنسو بھی… مگر ان
قصوں کا اصل پیغام ’’عمل‘‘ ہے… حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مفسرین نے لکھا
ہے کہ جب جوان ہوئے تو ماشاء اللہ بہت طاقتور، توانا اور بارعب نکلے۔ اللہ تعالیٰ
نے آپ کو قوت فیصلہ اور حکمت بھی عطاء فرمائی… اور علم بھی خوب دیا… حضرت موسیٰ
علیہ السلام نے دیکھا کہ مصر کے قبطی اسرائیلوں پر مظالم ڈھا رہے ہیں تو آپ نے
’’مظلوموں کی مدد‘‘ کا فیصلہ فرمالیا… جوانی میں مظلوموں کی مدد کا فیصلہ کوئی
’’جذباتی‘‘ فیصلہ نہیں… انبیاء علیہم السلام کی سنت اور ایمانی فیصلہ ہے… ایک بار
ایک قبطی کو دیکھا کہ ایک اسرائیلی کو بیگار کے لئے گھسیٹ کر لے جارہا ہے… مظلوم
نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مدد کے لئے پکارا… آپ اُسکی مدد کو پہنچے اور قبطی
کو سمجھایا، مگر وہ باز نہ آیا تو آپ نے ایک مکّا اُسے لگا دیا… وہ مرگیا اور
حضرت موسیٰ علیہ السلام پر امتحانات کا زمانہ شروع ہوگیا… جب فرعون نے آپ کی
گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تو فرعون کے محل کا ایک شخص دوڑتا ہوا حضرت موسیٰ علیہ
السلام کے پاس آیا
وَ
جَآ ئَ رَ جُلٌ مِّنْ اَقْصَاالْمَدِیْنَۃِ یَسْعٰی قَا لَ یٰمُوْ سٰٓی اِ نَّ ا
لْمَلَأَ یَاْ تَمِرُوْ نَ بِکَ لِیَقْتُلُوْکَ فَاخْرُ جْ اِ نِّیْ
لَکَ مِنَ النَّاصِحِیْنَ (القصص ۲۰)
ترجمہ:
اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا، کہا اے موسیٰ دربار میں تیرے
متعلق مشورہ کرتے ہیں کہ تجھ کو مار ڈالیں پس آپ نکل جائیں بے شک میں آپ کا خیر
خواہ ہوں…
ہجرت
کرنا، روپوشی اختیار کرنا اور ظالموں سے چھپنا اور بھاگنا آسان کام نہیں ہے…
قرآن پاک کے الفاظ بتاتے ہیں کہ یہ بہت مشکل کام ہے… خوف ، نگرانی ، نامعلوم منزل
اور تنہائی…
فَخَرَ
جَ مِنْھَا خَآ ئِفًا یَّتَرَقَّبُ قَا لَ رَ بِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْ مِ
الظّٰلِمِیْن (القصص ۲۰)
ترجمہ:
پس حضرت موسیٰ علیہ السلام وہاں سے نکلے ڈرتے ہوئے، راستہ دیکھتے ہوئے، (اور) بولے
اے میرے رب مجھے ظالم قوم سے بچا لے۔
حضرت
شاہ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ ان آیات کی تفسیر میں یہ عجیب نکتہ بیان فرماتے
ہیں۔
’’یہ
سنایا ہمارے پیغمبر کو کہ لوگ اُنکی جان لینے کی فکر کریں گے اور وہ بھی وطن سے
نکلیں گے، چنانچہ کافر سب اکٹھے ہوئے تھے کہ ان پر مل کر چوٹ کریں، اُسی رات آپ
وطن سے ہجرت کرگئے‘‘ (موضح القرآن)
تاریخ
کی کتابوں میں لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اس سفر میں اکیلے تھے، نہ آپ کے
پاس زاد راہ تھا اور نہ آپ کے ساتھ کوئی رہنما۔ اور تیز چلنے کی وجہ سے جوتا بھی
رہ گیا… برہنہ پا چلے جارہے تھے… راستے میں درختوں کے پتے کھا کر گزارہ کیا اور
ننگے پائوں چلنے کی وجہ سے پائوں کے تلووں کی کھال تک اُڑ گئی… بس اسی پریشان حالی
میں آپ ’’مدین‘‘ جا پہنچے… آزمائش کا ایک مرحلہ پورا ہوا… اللہ تعالیٰ کی نصرت
آگئی اور زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوگیا… اور پھر کئی سال بعد مصر واپسی ہوئی
تو راستے میں نبوت و پیغمبری کا تاج پہنا کر… اُس کام کی تکمیل کے لئے
بھیجے گئے جس کا آغاز نوجوانی ہی میں فرما دیا تھا…
اگر
آپ نے پورا قصہ پڑھنا ہو تو قرآن پاک کی ’’سورۂ قصص‘‘ کا کسی مستند تفسیر کے
ذریعے مطالعہ فرما لیں… مجھے تو اس وقت قرآن پاک کا ایک اور منظر اپنی طرف کھینچ
رہا ہے… اللہ تعالیٰ اپنے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ارشاد
فرماتے ہیں:
وَإِذْ
یَمْکُرُ بِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ لِیُثْبِتُوکَ أَوْ یَقْتُلُوکَ أَوْ
یُخْرِجُوکَ وَیَمْکُرُونَ وَیَمْکُرُ اللّٰہُ وَاللّٰہُ خَیْْرُ
الْمَاکِرِیْن (الانفال ۳۰)
ترجمہ:
اور (وہ وقت قابل ذکر ہے) جب کافر آپؐ کے متعلق سازش کر رہے تھے کہ آپ کو قید
کرلیں یا قتل کر دیں یا مکہ سے نکال دیں وہ اپنی سازشوں میں لگے ہوئے تھے اور اللہ
تعالیٰ اپنی تدبیر فرما رہا تھا اور اللہ تعالیٰ بہترین تدبیر کرنے والا ہے ۔
دراصل
دین اسلام کے غلبے کے لئے جہاد کی ضرورت تھی… اور جہاد بغیر ہجرت کے قائم نہیں
ہوتا، مضبوط نہیں ہوتا… تو اللہ پاک نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ
وسلم کو ہجرت کا حکم عطاء فرمایا… اُس وقت مکہ مکرمہ میں مسلمانوں کی
تعداد بہت ہی کم تھی… اکثر مسلمان حبشہ کی طرف ہجرت کر چکے تھے…
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت صدیق اکبر، حضرت علی
المرتضی اور چند صحابہ کرام رہ گئے تھے رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین… اُس وقت
مکہ مکرمہ کے مشرکین کا ایک خطرناک اجلاس ’’دارالندوہ‘‘ میں ہوا… یہ گھر سردارانِ
قریش کا ’’جنیوا‘‘ تھا اور عتبہ، شیبہ ، ابوجہل جیسے لوگ اس کے ویٹو پاور رکن تھے…
یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سازش کو حتمی شکل دی
جارہی تھی… اور بالآخر ’’قتل کرنا‘‘ طے پا گیا… آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کا محاصرہ ہوگیا… مگر آپ صلی اللہ علیہ
وسلم اس محاصرے کے درمیان سے گذر کر… پہلے اپنے ’’ صدیق ذ‘‘
کے گھر اور پھر وہاں سے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے… قرآن پاک نے اس واقعہ کے
کئی مناظر کو عجیب کیفیات کے ساتھ بیان فرمایا ہے… ہجرت کے لئے آپ صلی
اللہ علیہ وسلم کو دعا بھی اللہ تعالیٰ نے خود سکھائی
وَقُل
رَّبِّ أَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّأَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ
وَّاجْعَلْ لِّیْ مِن لَّدُنکَ سُلْطَاناً نَّصِیْراً
ترجمہ:
اور کہیے! اے میرے پروردگار مجھ کو داخل کر (مدینہ میں) اچھا داخلہ اور نکال مجھ
کو (مکہ سے) عزت کے ساتھ اور میرے لئے اپنی جانب سے زبردست نصرت و مدد عطاء
کر (بنی اسرائیل ۸۰)
اور
مشرکین مکہ کو بتایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ
مکرمہ سے تشریف لے جانا تمہاری ہلاکت کا پیغام ہوگا۔
وَإِن
کَادُوْا لَیَسْتَفِزُّونَکَ مِنَ الأَرْضِ لِیُخْرِجُوْکَ مِنْہَا وَإِذاً لاَّ
یَلْبَثُوْنَ خِلَافَکَ إِلاَّ قَلِیْلاً
ترجمہ:
اور وہ تو آپ کو اس زمین سے دھکیل دینے کو تھے تاکہ آپ کو اس سے نکال دیں پھر وہ
بھی آپ کے بعد بہت کم ہی ٹھہرتے (بنی اسرائیل ۷۶)
اور
غزوۂ تبوک کے موقع پر مسلمانوں کو آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کی ہجرت کا واقعہ ان مبارک الفاظ میں یاد دلایا…
إِلاَّ
تَنْصُرُوْہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اللّٰہُ إِذْ أَخْرَجَہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا
ثَانِیَ اثْنَیْْنِ إِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ إِذْ یَقُولُ لِصَاحِبِہِ لاَ
تَحْزَنْ إِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا فَأَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہُ عَلَیْْہِ
وَأَیَّدَہٗ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْہَا وَجَعَلَ کَلِمَۃَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا
السُّفْلٰی وَکَلِمَۃُ اللّٰہِ ہِیَ الْعُلْیَا وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ
حَکِیْمٌ (التوبہ ۴۰)
ترجمہ:
اگر تم رسول کی مدد نہیں کرو گے تو اُنکی اللہ تعالیٰ نے مدد کی ہے جس وقت انہیں
کافروں نے نکالا تھا کہ وہ دو میں سے دوسرے تھے جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ
اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے غم نہ کھائو بے شک اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے پھر اللہ
تعالیٰ نے اپنی طرف سے اُن پر تسکین اتاری اور اُن کی مدد کو وہ فوجیں بھیجیں
جنہیں تم نے نہیں دیکھا اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کی بات کو نیچے کر دیا اور بات
تو اللہ تعالیٰ ہی کی بلند ہے اور اللہ تعالیٰ زبردست (اور) حکمت والا ہے
اے
انبیاء علیہم السلام پر ایمان رکھنے والو… اے حضور پاک صلی اللہ علیہ
وسلم کے پیارے اُمتیو! تم نے ہجرت اور جہاد کو اپنی زندگی سے کیوں نکال
دیا؟… کیا آج کافروں کی بات کو نیچا دکھانے کی ضرورت نہیں ہے… حضرات انبیاء علیہم
السلام پر ایمان رکھتے ہو تو اُن کے طریقے پر چلنے کی محنت اور کوشش کرو… انبیاء
علیہم السلام میں سے بعض شہید کر دیے گئے… جیسے حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت
یحییٰ علیہ السلام… انبیاء علیہم السلام نے جیلیں کاٹیں… تنہائیاں جھیلیں، تشدّد
کا نشانہ بنے… اور دین کی خاطر سخت آزمائشوں میں ڈالے گئے… قرآن پاک میں ایک
پوری سورۃ انبیاء علیہم السلام کے نام سے ہے… سورۃ الانبیاء… اور کئی پیغمبروں کے
نام سے الگ الگ سورتیں… سورۂ محمد، سورۂ ابراہیم، سورۂ نوح، سورۂ ھود، سورۂ
یوسف… اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ تو قرآن پاک کے اٹھائیس پاروں میں موجود
ہے… آج انچاس کروڑ دیوتائوں کو سجدہ کرنے والے ’’ہندو‘‘ آخر ہمیں کیوں دھمکیاں
دے رہے ہیں… اور افسوس کہ پورا پاکستان خوف سے لرز رہا ہے… چند دن پہلے اخبارات
میں ایک ہی شور اور واویلا تھا کہ امریکی بحری بیڑہ آرہا ہے… کالم نویس خوف اور
بزدلی کی بو پھیلا رہے تھے اور حکومت کو جھکنے، دبنے اور بے غیرت بننے کے مشورے دے
رہے تھے… اور آج جس اخبار کو اٹھا ئیں ایک ہی شور ہے کہ انڈیا آرہا ہے… قرآن
پاک نے منافقین کی یہ علامت بیان فرمائی ہے کہ وہ جہاں سے شور کی آواز سنتے ہیں
تو یہی سمجھتے ہیں کہ ہم پر ہی کوئی مصیبت آنے والی ہے…
یَحْسَبُونَ
کُلَّ صَیْْحَۃٍ عَلَیْْہِمْ (المنافقون ۴)
ترجمہ:
وہ ہر آواز کو اپنے ہی اوپر خیال کرتے ہیں
حضرت
شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
یعنی
بزدل، نامرد، ڈرپوک، ذرا کہیں شور و غل ہو تو دل دہل جائیں، سمجھیں کہ ہم ہی پر
کوئی بلا آئی (تفسیر عثمانی)
اسی
طرح قرآن پاک نے منافقوں کی یہ علامت بھی بیان کی ہے کہ وہ زمانے کی مصیبتوں سے
بچنے کے لئے بھاگ بھاگ کر… یہود و نصاریٰ کے دامن میں پناہ لینے کی کوشش کرتے ہیں…
اللہ تعالیٰ ہماری حالت پر رحم فرمائے… مسلمانوں سے خلافت کیا چھنی کہ ہم یتیم
بچوں کی طرح بے سہارا ہوگئے… اب ہم میں سے بعض کافروں کو مطلوب ہیں اور بعض کافروں
کے محبوب ہیں… آخر اتنا بڑا فرق ہمارے معاشرے میں کس طرح ہوگیا؟… جو لوگ کافروں
کو ’’مطلوب‘‘ ہیں اُن کو تو مبارک ہو وہ حضرات انبیاء علیہم السلام کی سنت زندہ کر
نے کی سعادت حاصل کر رہے تھے… کل کا فرعون حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ڈھونڈ رہا
تھا… اور کل کا ابو جہل اور عقبہ بن ابی معیط آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کی تلاش میں تھا… جبکہ آج کے فرعون اور ابوجہل آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے چند افراد کو مانگ رہے
ہیں… تاکہ وہ انہیں پکڑ کر لے جائیں… اُنکی داڑھیوں پر پیشاب کریں، اُن کے جسموں
پر نیلے داغ ڈالیں… اور اُن پر اپنے کتے چھوڑیں… اور انہیں الٹا لٹکا کر پوچھیں کہ
کہاں ہیں تمہارے مسلمان بھائی؟… اور کہاں ہے تمہارا مدد کرنے والا رب؟… وہ چاہتے
ہیں کہ ان چند سر پھرے مسلمانوں کو پکڑ کر لے جائیں تاکہ اسلام کا نام نیچے ہوجائے
اور مسلمانوں میں سے آئندہ کوئی بھی دینی عزت اور غیرت کی بات نہ کرے… وہ چاہتے
ہیں کہ ان چند مسلمانوں کو پھانسی پر لٹکا دیں اور پھر پوری اُمت مسلمہ کو اپنا
غلام بنا لیں۔ اُنہیں تکلیف ہے کہ ان چند لوگوں نے اُنکی خدائی کو چیلنج کیا ہے…
اور اُنکی اکڑی ہوئی گردنوں کو بارہا جھکایا ہے… ہاں مبارک ہو اُن چند مسلمانوں کو
جو آج خوف اور خطرے کی زندگی جی رہے ہیں مگر اپنے عمل سے قرآن پاک کی آیات دنیا
کو سمجھا رہے ہیں… مگر وہ مسلمان غور کریں جو کافروں کو مطلوب نہیں بلکہ اُن کے
محبوب ہیں… یہ آخر کس منہ سے اللہ تعالیٰ کے دربار میں پیش ہوں گے…
مجھے
معلوم نہیں کہ کل کیا ہونے والا ہے مگر دل میں ایک تمنا ضرور ہے کہ … کاش ہر
مسلمان اس بات کی کوشش کرے کہ وہ کافروں کو مطلوب ملزم بن جائے… ان ظالموں نے ہم
سے سب کچھ چھین لیا… یہ ظالم ہمارے پاک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن
ہیں… اور قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کافروں کا دشمن
ہے… فَأِ نَّ اللّٰہَ عَدُوٌّ لِّلْکَافِرِیْنَ (بقرۃ ۹۸)… تو پھر ہم کیوں
نہ ان سے دشمنی کریں… اور کیوں نہ ان کو اپنا دشمن بنائیں… زندگی چند دن کی ہے، ہر
جگہ گزر جاتی ہے… مگر بے ایمانی، بے غیرتی اور بے عزتی کی ہزار سالہ زندگی… ایمان
اور دینی غیرت والی ایک دن کی زندگی کے مقابلے میں وہ حیثیت بھی نہیں رکھتی… جو
حیثیت ایک ناپاک قطرہ پاک سمندر کے مقابلے میں رکھتا ہے… یا اللہ معاف فرما دے،
رحم فرما دے، نصرت فرما دے اور ثابت قدمی عطاء فرما دے
رَّبِّ
أَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَل لِّیْ
مِن لَّدُنکَ سُلْطَاناً نَّصِیْراً
ربَّنَا
اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِیْ أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا
وانصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنَ… آمین یا ارحم الراحمین
وصلی
اللّٰہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد واٰلہ وصحبہٖ وسلم تسلیماً کثیرا کثیرا
کثیرا
٭٭٭
فلسطین
کے مسلمانوں کی خصوصی نصرت اور حفاظت فرمائے… ظالم اور بزدل یہودیوں نے ’’غزّہ‘‘
پرپھر حملہ کر دیا ہے… صرف دو دن میں مسلمانوں کی دو سو اسّی لاشیں… اور سینکڑوں
کراہتے زخمی… بھوک، خوف اور پیاس سے بلکتے پیار ے پیارے مسلمان بچے… اور دہشت زدہ
نظروں سے خلائوں کو گھورتی ہوئی پیاری پیاری مسلمان بچیاں… یہودیو! اللہ تعالیٰ
تمہیں غارت کرے تم تو بہت کمینے، رذیل اور بدبخت ہو… جہنم کے کیڑے، زمین کا کینسر،
حرام خور اور حرام کار یہودیو! تمہیں تو بہادروں کی طرح جنگ کرنے کا طریقہ بھی
نہیں آتا… ہائے کاش، ہائے کاش فلسطین تک کا راستہ کھلا ہوتا… اقوام متحدہ سے کوئی
شکوہ نہیں، اُسے مسلمانوں کے خون سے کیا غرض… عالمی برادری سے کوئی شکوہ نہیں وہ
تو خود خونِ مسلم کی پیاسی ہے… مسلمان حکمرانوں سے کوئی شکوہ نہیں اُن بے چاروں کو
امریکہ اور یورپ کی پوجا سے فرصت ہی کہاں کہ اپنے دین، اپنے ایمان اور مسلمانوں کی
فکر کرسکیں… کسی سے کوئی شکوہ نہیں… مسلمان تو مسلمانوں کو پکڑ کر انعام لے رہے
ہیں، پلاٹ خرید رہے ہیں، حرام جائیدادیں بنا رہے ہیں… اور کافروں کو خوش کر رہے
ہیں… ہاں فلسطین کے بھائیو! ہاں فلسطین کی بہنو!… کسی سے کوئی شکوہ نہیں… تم بھی
مظلوم ہو اور ہم بھی مظلوم… ایسا کرتے ہیں کہ ہم تمہارے لئے گڑگڑا کر دعائیں
مانگیں اور تم ہمارے لئے دعا مانگو… ہم نیت رکھیں اور کوشش کریں کہ تمہاری مدد کو
پہنچیں گے اور تم بھی یہی نیت اپنے دلوں میں بسالو… آئو ہم سب مل کر مظلوموں کی
اپنی ایک ’’اقوام متحدہ‘‘ بنالیں… آئو ہم تم مل کر مظلوموں کی ایک اپنی عالمی
برادری جمالیں… ظالموں کے پاس پیسہ اور تیل ہے تو… الحمدللہ ہمارے پاس ایمان ہے
اور خون ہے… ظالموں کے پاس اسلحہ ہے تو ہمارے پاس اپنے رب کا عظیم نام ہے… اور
انشاء اللہ آخری فتح تو ہماری ہی ہونی ہے… خون دینے میں کوئی حرج نہیں یہ خون رب
نے پیدا فرمایا ہے اُس کی راہ میں بہہ جائے تو پاک ہے ورنہ ناپاک رہتا ہے… جانیں
کھونے میں کوئی حرج نہیں اس لئے کہ عرش بہت بڑا ہے اور جنت بہت وسیع ہے… اور شہداء
تو فرشتوں کے ساتھ اُڑتے پھرتے رہتے ہیں…
انڈیا
کے مشرک، اسرائیل کے یہودیوں سے اتحاد کر چکے ہیں… آئو مظلومو! ہم بھی اتحاد
بنالیں… دعائوں والا اتحاد، محبتوں والا اتحاد… اور ہجرت و نصرت والا اتحاد…
فلسطین کے شہیدو! ہمارا سلام قبول کرو… فلسطین کے غازیو! ہماری دعائیں تمہاری طرف
روانہ ہیں… اور ان دعائوں کے پیچھے الحمدللہ عمل کا جذبہ بھی زندہ ہے… رنگ و نور
پڑھنے والے بھائیو! اور بہنو!… آئو جہادِ فلسطین کی بھی نیت کرلیں… اگر نیت سچی
ہوئی تو انشاء اللہ یہودیوں پر زلزلہ آجائے گا… نیت کرنے کے بعد وہاں کے مجاہدین
اور مظلوموں کے لئے دعا کرو… اور اللہ پاک سے مانگو کہ وہ راستے کھول دے… جس طرح
ظالم ایک دوسرے کی مدد کو فوراً پہنچ جاتے ہیں… ہمارا مالک ایسی نصرت فرمائے کہ ہم
مسلمان بھی ایک دوسرے کی نصرت کو پہنچ سکیں… اور اس کے لئے ہماری ایک نسل کو
قربانی دینا ہوگی… جی ہاں موجودہ ظالمانہ عالمی نظام کو توڑنے کے لئے قربانی… اے
مسلمانو! اس نظام میں ہمارے لئے کوئی جگہ نہیں ہے… اس نظا م میں خود کو فٹ کرنے کی
سوچ ختم کرو… اور ایک ہی سوچ بنالو کہ اس نظام کو توڑنا ہے… پاش پاش کرنا ہے… وہ
دیکھو! ہماری نسل کے شہداء کے ہر اول دستے نے اس نظام کی جڑوں کو کھود ڈالا ہے…
آگے بڑھو… اسی دستے کے بعد والوں میں نام لکھوا لو… بس ایک نسل کی قربانی… اور
پھر انشاء اللہ دین اسلام کی بہاریں اور قرآن پاک کی بہاریں… اللہ اکبر کبیرا…
المساجد
ڈائری
اللہ
تعالیٰ نے ایک دعاء قبول فرمائی، ایک تمنا پوری ہوئی… اور ’’مساجد اللہ‘‘ کی پکار
اپنے صفحات پر لئے ’’المساجد ڈائری‘‘ چھپ کر آچکی ہے… اور الحمدللہ اس وقت میرے
سامنے رکھی ہے…
آپ
نے کبھی ’’مسجد‘‘ کی طرف غور سے دیکھا ہے کہ وہ کیا چیز ہے؟… سبحان اللہ و بحمدہ
سبحان اللہ العظیم… آپ نے کبھی ’’مسجد‘‘ کی طرف جاتے ہوئے سوچاکہ آپ کس کے بلاوے
پر کہاں جارہے ہیں؟… رب کعبہ کی قسم ’’مسجد‘‘ جاتے وقت جو سرور ایک مسلمان پر طاری
ہوتا ہے اگر وہ اسے محسوس کرے تو عاشق لوگ محبوب کی گلیوں کا تذکرہ بھول جائیں… دل
چاہتا ہے رو رو کر چیخ چیخ کر مسلمانوں کو بتائوںکہ مسجد کتنی عظیم جگہ ہے، کتنی
رحمت والی جگہ ہے… وہاںاللہ تعالیٰ ملتا ہے یعنی اُسکی خاص رحمت نصیب ہوتی ہے…
ہسپتالوں، بازاروں، اور سڑکوں پر لوگوں کارش ہے… ہر شخص سکون کی تلاش میں بے سکون
ہو رہا ہے… اور گناہوں کی خارش بڑھتی ہی جارہی ہے… حالانکہ مسجد میںہر مسئلے کا حل
موجود ہے اور وہاں تو سکون کے دریا بہتے ہیں… ہمارا دین ’’مسجد‘‘ والا دین ہے…
ہمارے دادا حضرت سیدنا ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ’’کعبۃ اللہ‘‘ کے پاس
ہمارے خاندان کو لا بسایا… اس لئے ہم جب تک مسجد کے نزدیک رہتے ہیں آباد رہتے ہیں
اور جب مسجد سے کٹ جاتے ہیں تو برباد ہو جاتے ہیں… صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین کو مسجدوں سے ایسا عشق تھا کہ سفر کے دوران اگر مسجد نظر آجاتی تو سفر کو
بھول جاتے اور فوراً مسجد میں حاضر ہوکر… دو رکعت کی ’’ملاقات‘‘ اور ’’معراج‘‘
حاصل کر لیتے… جی ہاں جن سے پیار ہوتا ہے اُن کو اپنے ’’گھر‘‘ بلایا جاتا ہے…
مسلمانوں
کو مسجد کی طرف بلانے کے لئے یہ خیال آیا کہ… مساجد کے فضائل، احکام اور آداب پر
ایک ڈائری تیار کی جائے… اللہ تعالیٰ نے نصرت فرمائی، ساتھیوں نے محنت کی اور
الحمدللہ یہ ڈائری تیار ہوگئی… اس میں قرآنی آیات بھی ہیں وہ آیات جو مساجد،
نماز اور جہاد کے متعلق ہیں… اور بہت سی معطر احادیث بھی ہیں… یہ احادیث مساجد کی
اہمیت، حقیقت اور فضیلت سمجھاتی ہیں اور مسلمانوں کو باجماعت نماز کے لئے مسجد کی
طرف بلاتی ہیں… حضرات فقہاء کرام نے قرآن و سنت سے ’’مساجد‘‘ کے جو احکام اور
مسائل بیان فرمائے ہیں وہ بھی اس ڈائری میں موجود ہیں… اور بہت سی تاریخی مساجد کا
تعارف بھی اس ڈائری میں شامل ہے… اور ساتھ ساتھ مساجد کی تصاویر کی ایک پوری
کہکشاں اس ڈائری میں بکھری پڑی ہے… آپ اس ڈائری کا جو صفحہ بھی کھول کر پڑھ لیں
وہ آپ کے علم میں اضافہ کرتا ہے… اور آپ کو اللہ تعالیٰ سے جوڑتا ہے… میری تمام
قارئین سے گذارش ہے کہ اس ڈائری سے فائدہ اٹھائیں اور اسے زیادہ سے زیادہ مسلمانوں
تک پہنچائیں… اس ڈائری کا ناشر ’’مکتبہ عرفان‘‘ ایک وقف ادارہ ہے جو کسی کی ذاتی
ملکیت نہیں ہے… یہ ادارہ دینی کتابیں چھاپتا ہے… اگر اُسے کچھ منافع ہو تو اُس سے
مزید دینی لٹریچر چھاپا جاتا ہے یا اُس رقم کو دین کے اہم اجتماعی کاموں میں لگایا
جاتا ہے… اس ادارے کا بہت شکریہ کہ اُس نے ہمیں… اس سال یہ خوبصورت اور ایمان
افروز تحفہ دیا ہے… اس ڈائری میں محنت کرنے والے تمام رفقاء کو اللہ تعالیٰ اپنی
شایانِ شان بدلہ نصیب فرمائے…
آئیں
آخرت کی مزدوری کریں
حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے موقع پر پہلے ’’قباء‘‘ میں
فروکش ہوئے۔ آپ نے وہاں ’’مسجد قبا‘‘ تعمیر فرمائی… سورہ التوبہ میں ’’مسجد
قُبا‘‘ کا تذکرہ موجود ہے… پھر آپ صلی اللہ علیہ
وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپؐ نے سب سے پہلے ’’مسجد‘‘ کی فکر
فرمائی… جب مسجد تعمیر ہونے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے خود تعمیر میں حصہ لیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے
عشق میں جھوم جھوم کر مزدوری فرمائی… مساجد کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم
اجمعین کے عشق کا عجیب عالم تھا… حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جب اللہ تعالیٰ نے زمین
کی حکومت عطا فرمائی تو انہوں نے مشرق و مغرب میں مساجد کا نور پھیلادیا اور چار
ہزار سے زائد مساجد تعمیر فرمائیں… خیر یہ تو ایک مستقل اور الگ داستان ہے بہت
میٹھی داستان… اسوقت تو اس داستان کو سنانے کا نہیں بلکہ دہرانے کا موقع ہے… انشاء
اللہ چند دن کے بعد ’’تعمیر مساجد‘‘ مہم شروع ہونے والی ہے… اللہ اکبر کبیرا… آج
ہر شہر کی ہر گلی میں لوگ اپنے اپنے مکانات بنانے میں لگے ہوئے ہیں… مگر کچھ اللہ
تعالیٰ کے عاشق، دین کے دیوانے سروں پر رومال باندھ کر ’’اللہ تعالیٰ کا گھر‘‘
یعنی مساجد کی تعمیر کے لئے نکلنے والے ہیں… اپنا گھر آباد کرنے کے لئے تو اپنوں
ہی کو بلایا جاتا ہے… واہ میرے مالک کتنے خوش نصیب ہوں گے وہ نوجوان جو اس مہم میں
شرکت کریں گے… کچھ تو خود کو مزدوری کے لئے وقف کردیں گے اور مزدوری کی اجرت اپنے
رب سے لیں گے… وہ جب پتھر، اینٹیں اور مٹی اٹھا رہے ہوں گے اور انہیں یاد آئے گا
کہ ہمارے آقا اور محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے
بھی مسجد کی تعمیر میں خود کام کیا تھا تو اُن کو کیسی خوشی اور سرشاری نصیب ہوگی…
اور کچھ ساتھی چندہ جمع کرنے کے لئے نکلیں گے اور کچھ انتظامی کاموں میں لگ جائیں
گے… چالیس دن یا دو مہینے کی زوردار مہم اور پچیس مسجدیں… اللہ اکبر! جب اس رمضان
میں ان پچیس مساجد سے اذان کی آواز گونجے گی تو کتنا مزہ آئے گا… ہمارے خوش قسمت
ساتھیوں نے مسجدیں تو انشاء اللہ بہت بنانی ہیں… مگر فی الحال تین سو تیرہ کی نیت
کی ہے… ان میں سے کچھ بن چکی ہیں… اور پچیس انشاء اللہ اس سال بنیں گی اور باقی
انشاء اللہ آئندہ… دین اسلام کا قافلہ اسی طرح زمین پر پھولوں کو سجاتا ہوا آخرت
کی طرف چلتا ہے۔ قیامت کے دن تمام مسجدوں کو اٹھا کر کعبہ شریف کے ساتھ جوڑ دیا
جائے گا… اور پھر کعبہ شریف اور ان تمام مساجدکو جنت کا حصہ بنا دیا جائے گا… تب
محنت کرنے والے خوشیاں منائیں گے اور اُن کا حق ہوگا کہ خوب خوشیاں منائیں…
ہوشیار!
تیار! میرے پیارے بھائیو!… مہم قریب آرہی ہے…
دعا
کی درخواست ہے میری مائوں اور بہنو!… بہت دعاء کی درخواست…
ایک
مفید اور مؤثر دعاء
حضرت
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے:
حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
جو
شخص کسی مریض کی عیادت کرے اور اُس مریض پر موت کے آثار ظاہر نہ ہوئے ہوں اور
عیادت کرنے والا اُس مریض کے پاس یہ دعاء سات بار پڑھے تو اللہ تعالیٰ اُس مرض سے
اُسے ضرور شفاء عطاء فرمائے گا
أَسْئَلُ
اللّٰہَ الْعَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ أَنْ یَّشْفِیَکَ
ترجمہ:
میں اللہ تعالیٰ عظمت والے سے سوال کرتا ہوں جو عرش عظیم کا رب ہے کہ وہ تجھے شفاء
نصیب فرمائے۔ (ابو دائود)
اگر
مریض کوئی خاتون ہو تو یَشفِیَکِ پڑھے اور اگر یہ دعاء اپنی صحت کے لئے پڑھے تو
یَشْفِیَنِی پڑھ لے…
اللہ
تعالیٰ ہمیں اور تمام بیماروں کو شفاء کاملہ عاجلہ عطاء فرمائے
آمین
یا ارحم الراحمین
وصلی
اللّٰہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد واٰلہ وصحبہٖ وسلم تسلیماً کثیرا کثیرا
کثیرا
٭٭٭
پر
ایمان رکھنے والے ایک شخص نے ’’فرعون‘‘ کو سمجھایا کہ … حضرت موسیٰ علیہ السلام کو
قتل نہ کرو… پھر اُس اللہ کے بندے نے یہ بھی کہا
’’اے
میری قوم آج بے شک ملک پر تمہاری حکومت ہے اور تم غالب ہو لیکن اگر اللہ تعالیٰ
کا عذاب آگیا تو ہمیں کون بچائے گا‘‘… (المؤمن ۲۹)
قرآن
پاک نے یہ واقعہ ’’سورۃ المومن‘‘ پارہ ۲۴ میں بیان
فرمایا ہے… یہ شخص فرعون کے دربار کا کوئی اہم عہدیدار تھا… اور فرعون ہی کی قوم
سے تعلق رکھتا تھا اور خفیہ طور پر ایمان قبول کر چکا تھا… اُس نے جب دیکھا کہ
فرعون حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو شہید کرنا چاہتا ہے تو اُس نے اپنا
ایمان ظاہر کر دیا اور خوب ڈٹ کر فرعون اور اُس کی کابینہ کو سمجھانے کی کوشش کی…
مگر وہ بدنصیب لوگ نہ مانے اور الٹا اُس شخص کو مارنے پر تُل گئے… تب اللہ تعالیٰ
کی نصرت آئی اور اُس شخص کو بچا لیاگیا… یہ پورا قصہ بہت ایمان افروز ہے… اُس
اللہ والے نے فرعون اور اُس کے ساتھیوں کو سمجھانے کی پوری کوشش کی کہ یہ دنیا
فانی ہے اور اصل زندگی آخرت کی ہے… اے میری قوم میں تمہیں نجات کی طرف بلاتا ہوں
اور تم مجھے آگ اور شرک کی طرف بُلا رہے ہو… یاد رکھو ہم سب نے اللہ کی طرف لوٹ
کر جانا ہے… آخر میں اُس اللہ والے نے فرمایا
فَسَتَذْکُرُوْنَ
مَآ اَقُوْلُ لَکُمْ وَاُفَوِّضُ اَمْرِیْ اِلَی اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ
بَصِیْرٌم بِالْعِبَادِ (المومن ۴۴)
یعنی
میں نے جو باتیں کی ہیں آگے چل کر تم ان کو یاد کرو گے، میں اپنا معاملہ اللہ
تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دیکھنے والا ہے…
قرآن
پاک اگلی دو آیات میں اس قصے کا یہ انجام بیان فرماتا ہے
فَوَقٰہُ
اللّٰہُ سَیِّاٰتِ مَا مَکَرُوْا وَحَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوٓئُ الْعَذَابِO اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْھَا
غُدُوًّا وَّعَشِیًّا وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃ اَدْخِلُوٓا اٰلَ فِرْعَوْنَ
اَشَدَّ الْعَذَابِ (المومن ۴۵، ۴۶)
پس
اللہ تعالیٰ نے اُس بندے کو اُن (دشمنوں) کی سازشوں کے شر سے بچا لیا اور فرعون کے
لوگوں کو برے عذاب نے گھیر لیا۔ یہ آگ کا عذاب ہے جس میںوہ صبح شام ڈالے جاتے ہیں
اور جس دن قیامت آئے گی تو کہا جائے گا کہ فرعونیوں کو سخت عذاب میں داخل کردو…
مرنا
تو سب نے ہے ظالم نے بھی مظلوم نے بھی… مگر ظالم مرنے کے بعد سیدھا عذاب میں
جاگرتا ہے… جبکہ ایمان والے مظلوم مرنے کے بعد اللہ پاک کی نعمتوں اور رحمتوں میں
ڈوب جاتے ہیں… کیاآج کے حکمرانوں کے دربار میں کوئی اللہ کا بندہ ہے جو انہیں
سمجھا سکے کہ جہاد کے خلاف کارروائی ’’قرآن پاک‘‘ کے خلاف کارروائی ہے… اور قرآن
پاک کے دشمن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نہیں بچ سکتے… اس وقت کئی دانشور اور صحافی
حکومت کو سمجھا رہے ہیں کہ پاکستان سے جہاد کا نام و نشان ہی مٹا دو… ورنہ بھارت
کھا جائے گا، امریکہ بھی ڈالے گا… گویا کہ وہ یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ پاکستان والے
اپنے بچائو کے لئے اپنے’’کافر‘‘ ہونے کا اعلان کردیں… قرآن پاک کا منکر ہونے کا
اعلان کردیں… ایسے لوگوں سے قرآن پاک پوچھتا ہے: (مفہوم) اگر تم جہاد سے ہٹ کر
ظاہری طور پر آج بچ بھی گئے تو کتنے دن زندہ رہ لوگے… موت تو اپنے وقت پر آہی
جائے گی تب تمہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہوگا… وہاں کیا جواب دوگے… ملاحظہ
فرمائیے ان مضامین کے لئے قرآن پاک کی سورۃ الاحزاب… تعجب ہے کہ فرعون جیسے ظالم
کے دربار میں توایک ایمان والا مرد موجود تھا… جبکہ آج کے مسلمان حکمرانوں کی
پوری کابینہ میں ایک بھی ایسا شخص نہیں جو قرآن پاک کی یہ واضح باتیں اپنے
ساتھیوں اور حکمرانوں کو سمجھا سکے… اور اُن کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کی
کوشش کرے… افسوس صد افسوس کہ آج امریکہ اور انڈیا سے ڈرانے والے تو بے شمار ہیں
اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والا کوئی نہیں حالانکہ… ایک منٹ کا ’’عذاب قبر‘‘
روس اور امریکہ کے پچاس ہزار ایٹم بموں کی آگ سے زیادہ دردناک ہوگا… یا اللہ ہم
آپ کے عذاب سے ڈرتے ہیں اور آپ کے عذاب سے آپ ہی کی پناہ چاہتے ہیں…
دعوت
ِجہاد کی ایک اور کرامت
بی
بی سی لندن کو بھی یہودیوں، مشرکوں اور صلیبیوں کی طرف سے یہ ذمہ داری سونپی گئی
ہے کہ … وہ پاکستان سے جہاد کا نام و نشان مٹانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے… گذشتہ
دو دنوں میں بی بی سی کے ایک نمائندے ’’احمد رضا‘‘ (کراچی) نے پاکستان میں جہادی
تنظیموں کی کارکردگی پر ایک رپورٹ نشر کی ہے… پوری رپورٹ کا خلاصہ یہی ہے کہ حکومت
اب آخری وار کرے اور جہاد کا نام لینے والی ہر زبان کو کاٹ دے… دیکھیں بی بی سی
والوں کے دل کی یہ آرزو پوری ہوتی ہے یا نہیں… مگر دعوتِ جہاد کی ایک اور کرامت
ظاہر ہوگئی… بی بی سی نے اپنی اس رپورٹ میں کئی جہادی تقریریں اور نظمیں اور نعرے
سنا دیئے… یقین جانیں مزہ آگیا… جن آوازوں کو سنے ایک عرصہ بیت گیا تھا وہ
آسانی سے سن لیں اور لاکھوں مسلمانوں نے سن لیں… میرے رب کی قدرت عجیب ہے کہ ’’بی
بی سی‘‘ پر جہادی تقریریں، نعرے اور نظمیں گونجتی رہیں… سبحان اللہ وبحمدہ سبحان
اللہ العظیم… اس موقع پر بس اتنی سی بات عرض کرنی ہے کہ … جب تک قرآن پاک زمین پر
موجود ہے اور پڑھا جاتا ہے اور قیامت کی بڑی علامتیں ظاہر نہیں ہو جاتیں… پاکستان
تو کیا کسی بھی ملک سے جہاد کا نام اور کام ختم نہیں ہوسکتا… قرآن پاک کی ’’آیات‘‘
جہاد کی محافظ ہیں اور قرآن پاک بہت طاقتور ہے… ہمارا تجربہ ہے کہ جب سے جہاد کو
مٹانے کی کوششیں تیز اور سخت ہوئی ہیں اُسی وقت سے جہاد نے زیادہ قوت پکڑی ہے…
ہم
نے وہ دور بھی دیکھا ہے کہ مجاہدین کے جلسوں میں بہت کم لوگ ہوتے تھے، اُس وقت
جہاد پر کوئی پابندی نہیں تھی… مگر پھر جب ظلم آیا تو جہاد بھی طاقتور بن گیا…
اور مجاہدین کے اجتماعات میں ہزاروں ، لاکھوں لوگ شریک ہونے لگے… کافر مزید زور
لگا کر دیکھ لیں نتیجہ انشاء اللہ یہی نکلے گا… اس لئے ’’بی بی سی‘‘ سمیت تمام اُن
لوگوں اور اداروں سے ہم پیشگی ’’تعزیت‘‘ کرتے ہیں… جو اس بات کی آس لگائے بیٹھے
ہیں کہ وہ اپنی آنکھوں سے جہاد کا خاتمہ دیکھ لیں گے… نہیں جناب! آپ تمام
بدنصیبوں کو اپنی یہ تمنا قبر میںاپنے ساتھ لے جانا پڑے گی… اگر میری بات پر یقین
نہ آئے تو گذشتہ بیس سال میں جہاد کے عروج کی کہانی پڑھ لیجئے…
آپ
جیسے بد نصیبوں سے تعزیت ہی کی جاسکتی ہے… کیونکہ آپ سخت ’’مصیبت زدہ‘‘ ہیں…
ناکامی
سے بچنے کا نصاب
یہ
ایک چھوٹا سا نصاب ہے مگر افسوس کہ کافی عرصہ ہوا ہم مسلمان اس سے محروم ہو چکے
ہیں… اگر ہم اس نصاب پر عمل کرلیں تو انشاء اللہ ڈھائی سال کے عرصہ میں ’’خلافت‘‘
قائم ہوسکتی ہے… اور زمین پر اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہوسکتا ہے… مگر کون عمل
کرے؟…
’’جہاد
اور جماعت‘‘… یہ ہے کامیابی کا نصاب… اس وقت الحمدللہ ’’جہاد‘‘ تو چل پڑا ہے… اور
جہاد کے اس ’’احیاء‘‘ کے پیچھے بہت بڑی قربانی … اور بہت بڑی محنت ہے…
مگر
مسلمان شرعی طرز کی عالمگیر جماعت سے محروم ہیں… اگر کوئی جماعت شریعت کے مطابق
بنتی ہے تو چند دن میں ہی ترقی کر جاتی ہے بلکہ صدیوں کا فاصلہ طے کر جاتی ہے…مگر
پھر وہ جماعت یا تو ٹوٹ جاتی ہے یا شرعی نظام سے ہٹ کر… جمہوری یا اخوانی نظام کی
طرف چلی جاتی ہے… دراصل صدیوں کی شیطانی، یورپی محنتوں نے مسلمانوں کو
’’اجتماعیت‘‘ اور اُسکی ’’ برکات‘‘ سے محروم کر دیا ہے… یہ ایک بہت دردناک داستان
ہے… خصوصی طور پر مسلمانوں کو قومیتوں، زبانوں، علاقوں اور قبیلوں میں تقسیم کیا
گیا… اور پھر تقسیم کی یہ عادت ایسی پختہ ہوئی کہ اب ایک گھرانے میں بھی ’’اتفاق‘‘
ناممکن نظر آتا ہے… کل تک ’’اجتماعیت‘‘ مسلمان کے خون میں رچی ہوئی تھی… اب
’’انفرادیت‘‘ اور ’’اختلافات‘‘ ہی اس کی عادت بن چکے ہیں… حضرت امام مہدی رضی اللہ
عنہ کے آتے ہی خلافت کیوں قائم ہو جائے گی؟… حالانکہ وہ پہلے سے نہ حکمران ہوں گے
اور نہ کوئی بڑے سردار… مگر اُن کے آتے ہی مسلمان مشرق و مغرب پر چھا جائیں گے…
وجہ یہ ہوگی کہ اُنکی صورت میں مسلمانوں کو ایک متفقہ ’’امیر‘‘ مل جائے گا… جب
متفقہ امیر ملے گا تو ’’شرعی جماعت‘‘ بن جائے گی… یہ جماعت جہاد کرے گی تو فوراً
خلافت قائم ہوجائے گی… طالبان کو دیکھ لیں انہوں نے ایک سال میں نوے فیصد
افغانستان پر قبضہ کر لیا تھا… وجہ یہی تھی کہ ایک امیر تھا اور شرعی جماعت… اب
بھی طالبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نصرت کا یہ عالم ہے کہ امریکہ اور نیٹو کا
اتحاد اُن کے سامنے بے بس ہے … مگر طالبان میں بھی کئی لوگ وقتاً فوقتاً ’’امیر‘‘
کی نافرمانی پر اٹھتے رہتے ہیں… ان میں سے کوئی احتساب کا نعرہ لگاتا ہے تو کوئی
اختیارات کا… اور کسی کو شیطان اس پر کھڑا کرتا ہے کہ ’’ون مین شو‘‘ ٹھیک نہیں…
ابھی تک تو یہ عناصر کمزور اور ناکام ہیں لیکن… اگر یہ فتنے نہ اُٹھتے تو اب تک
افغانستان پر دوبارہ امارتِ اسلامیہ قائم ہوچکی ہوتی… شاید آپ کو معلوم نہ ہو کہ
دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیاں ہر سال اربوں ڈالر صرف مجاہدین کو توڑنے پر خرچ کرتی
ہیں… دراصل کافروں کو علم ہے کہ مسلمانوں کی جماعت اُن کے لئے موت ہے… ابھی کچھ
عرصہ پہلے جب ’’ریاض گوہر شاہی‘‘ کا فتنہ اٹھا تو آپ حیران ہونگے کہ امریکہ کی
طرف سے ایک ادارے نے اُسے ایک ارب ڈالر کی رقم دی… اُن کو اندازہ تھا کہ یہ شخص
مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے… کیونکہ اُس کے نظریے کی بنیاد ہی
’’جہاد کا انکار‘‘ تھا… قرآن پاک کی سورۂ ’’محمد‘‘ میں اللہ تعالیٰ نے کفر
اورایمان کے درمیان فرق کو جہاد کی وجہ ارشاد فرمایا ہے… گوہر شاہی نے اسی بنیاد
پر وار کیا تو اُسے ایک دن میں ایک ارب ڈالر مل گئے… ہم مسلمان چونکہ ’’انفرادیت‘‘
اور ’’اختلافات‘‘ کے عادی ہو چکے ہیں اس لئے ہمیں ’’اجتماعیت‘‘ بوجھ محسوس ہوتی
ہے… اس وقت پاکستان میں جہاد کو ماننے والی جماعتوں پر زمین پھر تنگ کی جارہی ہے…
ہم اللہ تعالیٰ سے نصرت کی دعائیں مانگ رہے ہیںتاکہ ملک مزید خانہ جنگی کا شکار نہ
ہوجائے… باقی الحمدللہ کسی سے کوئی ڈر نہیں ہے… ہم جانتے ہیں کہ موت کا وقت مقرر
ہے اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر اٹل ہے… پھر ڈرنے اور گھبرانے کی کیا گنجائش ہے؟… ہم
تو سارا کام اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے کر رہے ہیں… تو پھر کیا ڈر؟ کیا غم؟
اور کیا اندیشہ؟… ہمارا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے جسے پورا کرنے کی ہم فکر رکھتے
ہوں… ہمیں تو قرآن پاک نے بلایا تو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہم نے لبیک کہی…
ہماری خواہش ہے کہ دنیا میں امن قائم ہوجائے… مگر امن کی اس خواہش میں ہم ایمان سے
ہاتھ نہیں دھو سکتے… اس وقت حکومت بہت گہرے مشوروں میں ہے… کافروں کا ایک وزیر ان
سے مل کر جاتا ہے تو فوراً اُس کی جگہ کوئی گورا جرنیل ان کی آخرت برباد کرنے
پہنچ جاتا ہے… حکومت کو جو کچھ کرنا ہے وہ کرتی رہے… جہاد کے داعیوں کو چاہیے کہ
اگر کامیابی چاہتے ہیں تو… اجتماعیت کو مضبوط کریں اور کبیرہ گناہوں سے بچیں… جب
بھی حالات خراب ہونے لگتے ہیں شیطان بعض لوگوں کو پریشان اور خوفزدہ اور بعض کو
جذباتی کر دیتا ہے… یہ لوگ اسی پریشانی اور خوف میں یا تو اجتماعیت توڑتے ہیں… یا
گناہوں میں سکون ڈھونڈتے ہیں… اس وقت دنیا بھر کا تمام کفر ان مجاہدین کے خلاف
متحد ہے… یہ بات مجاہدین کے لئے بہت بڑا اعزاز اور کامیابی کا تمغہ ہے… اب اس
کامیابی کو پختہ کرنے کے لئے اپنی ’’اجتماعیت‘‘ کو شرعی بنیادوں پر مضبوط بنائیں…
اور گناہوں سے بہت بچیں… اگر گناہ ہو جائے تو سچے استغفار میں تاخیر نہ کریں… اور
خوف، پریشانی اور بددلی کو تو اپنے قریب بھی نہ آنے دیں… اگر کوئی یقینی خبر دے
کہ کل آپ کو قتل کر دیا جائے گا تو کل تک کا وقت کام ہی میں گذاریں… اور ذرہ
برابر اپنے ’’حق کام‘‘ میں سستی یا کوتاہی نہ کریں… اگر ہم اطاعت امیر میں رہے…
اجتماعیت میں رہے… اور گناہوں سے بچتے رہے تو یقین کریں کہ ہمارا کام ضائع نہیں
ہوگا… اور ہم انشاء اللہ ناکام نہیں ہوں گے… آپ قرآن و سنت میں گہرائی سے غور
کریں تو آپ بے ساختہ اس بات کی تصدیق کریں گے… دیکھو! ہمارے خیر خواہ محبوب ،
ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کیا ارشاد فرماتے ہیں
۱۔ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
میں
تمہیں پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں، امیر کا حکم سننے کا، اُسکی اطاعت کا، جماعت کے
ساتھ مل کر رہنے کا، ہجرت کا اور جہاد کا (السنن الکبریٰ ، بیہقی)
صحابہ
کرام نے ان پانچ احکامات پر عمل کیا تو دنیا پر چھا گئے… اور آخرت میں کامیاب
رہے… ہم بھی عمل کریں گے تو انشاء اللہ یہ دونوں ثمرات پائیں گے۔
۲۔ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
جماعت
رحمت ہے اور علیحدگی عذاب ہے (مسند احمد)
رحمت
ایسی چیز ہے کہ دنیا کا کوئی ایٹم بم بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا
۳۔ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
اللہ
تعالیٰ کی مدد جماعت کے ساتھ ہوتی ہے اور شیطان اُن لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو
جماعت کی مخالفت کرتے ہیں وہ ایڑ لگاتا ہے (نسائی)
یعنی
اللہ تعالیٰ جماعت کی حفاظت فرماتا ہے، اُنکی نصرت فرماتا ہے… جبکہ جماعت کی
مخالفت کرنے والوں کے ساتھ شیطان ہوتا ہے جو اُن کو اور اُکساتا ہے۔
۴۔ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’جس
شخص نے میری اطاعت کی اُس نے یقینا اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، اور جس نے میری
نافرمانی کی اُس نے یقینا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور جس نے امیر کی اطاعت کی
اُس نے یقینا میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اُس نے یقینا میری
نافرمانی کی اور امیر ڈھال ہے ‘‘ (مسلم)
یعنی
امیر کی اطاعت میں حفاظت ہے اور اُسکی نافرمانی سے دشمن غالب ہوجاتے ہیں… ڈھال
ہونے سے یہ بات واضح ہوتی ہے…
۵۔ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اے
عبدالرحمن! امارت و منصب کی طلب نہ کرنا کیونکہ اگر منصب بغیر طلب کے ملا تو اللہ
تعالیٰ کی طرف سے تمہاری مدد ہوگی اور اگر مانگ کر عہدہ لیا تو عہدہ کے حوالہ کر
دیے جائو گے (اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مدد نہیں ہوگی) (بخاری)
جماعت
میں اکثر فتنے اسی سے ہوتے ہیں کہ بعض افراد کو اپنی اطاعت کرانے اور منصب پانے کا
شوق پیدا ہوجاتا ہے تو وہ … اجتماعیت کو توڑتے ہیں…
اے
مسلمان بھائیو!… ہم کسی کے دبائو میں آکر ، یا کسی سے ڈر کر ’’ایمان‘‘ تو نہیں
چھوڑ سکتے… جہاد بھی ایمان کا حصہ ہے، کیونکہ وہ قرآن کا حصہ ہے… ہم نماز نہیں
چھوڑ سکتے کیونکہ وہ فرض ہے… تو جہاد بھی تو فرض ہے… اس لئے اپنے ایمان پر ڈٹے رہو
زندگی چند دن کی ہے، ہر حال میں گزر جاتی ہے… اصل مسئلہ آخرت کا ہے… اس دنیا کے
تھوڑے سے امن کی خاطر آخرت خراب کرنا عقلمندی نہیں ہے… مگر اسوقت اپنے جہاد کو
بچانے کیلئے لازمی ہے کہ ہم… جماعت اور تقویٰ کا التزام کریں… بیعت کے شرعی نظام
پر قائم جماعت اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے… ہم اس نعمت کی حفاظت کے لئے دعا بھی کریں…
اور جان توڑ محنت بھی…
وصلی
اللّٰہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد واٰلہ وصحبہٖ وسلم تسلیماً کثیرا کثیرا
کثیرا
٭٭٭
ہم
سب کو ’’مساجد مہم‘‘ میں شرکت کی توفیق اور سعادت نصیب فرمائے… یہ بہت ہی فائدے
والا کام ہے… آئیے پہلے ماضی کے چند حسین مناظر کو یاد کر لیتے ہیں۔
حضرت
آدم علیہ السلام اور جنت کی یاد
ہم
سب حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں… ہمارے والد حضرت آدم علیہ السلام ’’جنت‘‘
کے رہنے والے تھے… اللہ تعالیٰ نے اُن کو زمین پر اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا تو اُن
کے دل و دماغ میں جنّت کی یادیں رچی بسی ہوئی تھیں… ہمارے والد بہت ذہین تھے…
انہوں نے زمین پر ’’جنت کا نشان‘‘ حاصل کرنے کی تدبیر سوچی… جنت تو بہت بڑی ہے،
بہت اونچی ہے، اور بے مثال نعمتوں سے بھری پڑی ہے۔ اس لئے زمین پر رہتے ہوئے جنت
کی پوری حقیقت سمجھنا ایسے ہی مشکل ہے، جس طرح ماں کے پیٹ میں اس دنیا اور زمین کی
حقیقت سمجھنا مشکل ہے… مگر ہمارے والد محترم نے کمال فرمایا اور زمین پر جنت کے
سکون کا نمونہ حاصل کرنے کی ایک بہترین صورت نکال لی… حضرت شاہ عبدالعزیز رحمۃ
اللہ علیہ اپنی تفسیرمیں لکھتے ہیں:
’’حضرت
آدم علیہ السلام جب جنت سے زمین پر لائے گئے تو آپ نے التجا کی: یا اللہ آسمان
کی طرح یہاں بھی کوئی گھر ہو جہاں تسبیح و تہلیل کی گونج رہے یہ درخواست مقبول
ہوئی اور نشان دہی فرما دی گئی اور اسی نشان پر بنیاد رکھی گئی‘‘ (تفسیر عزیزی
تسہیل)
زمین
کی پہلی مسجد بن رہی ہے… نشان اللہ تعالیٰ نے لگائے، تعمیر حضرت آدم علیہ السلام
نے فرمائی… اور انسانوں کو زمین پر ’’بیت اللہ‘‘ مل گیا… کبھی مسجد میں آنکھیں
بند کرکے وہاں کے انوارات کو محسوس کریں… ہر مسجد کعبہ کی بیٹی ہے… اللہ اکبر ایسا
سکون ملتا ہے کہ الفاظ میں بیان نہیں ہوسکتا… کبھی مسجد کی طرف جاتے ہوئے سوچا
کریں کہ اللہ پاک نے اپنے گھر بلایا ہے… اور پھر کہا کریں اے میرے مالک اے میرے
اللہ! میں حاضر ہوں، میں آرہا ہوں… میں حاضرہو رہا ہوں… مسجد آباد کرنے والو
مبارک ہو، بہت مبارک ہو… تمہاری محنتوں، قدموں اور سجدوں کے نشان محفوظ رہیں گے…
قیامت کے دن سب مسجدیں کعبہ شریف کے ساتھ ملا کر جنت کا حصہ بنا دی جائیں گی…
قربانیوں
کا ثمرہ
حضرت
ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام نے بڑی قربانیاں دیں… بس یوں سمجھیں پوری زندگی
’’قربانی‘‘ اور امتحانات ہی میں گذری… قرآن پاک نے اُن کی عزیمتوں کو بیان فرمایا
ہے… آخر میں جب وہ تمام امتحانات میں کامیاب ہوگئے تو فرمایاگیا… اب آپ
کوانسانوں کی ’’امامت‘‘ کا ایک خاص مقام دیا جا رہا ہے… حضرت ابراہیم علیہ السلام
نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر ’’کعبہ شریف‘‘ کی دوبارہ
تعمیر فرمائی… آسمان سے ایک سکینہ اترا… حضرت جبریل علیہ السلام نے اُس کی مدد سے
کعبہ کے نشانات لگائے… حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے
کھدائی شروع کی… تب انہیں حضرت آدم علیہ السلام والی بنیادیں مل گئیں… پھر تعمیر
شروع ہوئی… خلیل اللہ علیہ السلام معمار تھے اور ذبیح اللہ علیہ السلام مزدور… پھر
جبریل امین حجر اسود لے آئے… کعبہ کی تعمیر کا منظر ایسا دلکش اور نور بھرا تھا
کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لبوں سے دعائیں جاری ہوگئیں… جی ہاں مسجد تعمیر
کرتے وقت دعائیں بہت قبول ہوتی ہیں… حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد میں
ایک عظیم الشان رسول بھیجنے کی دعا فرمائی… اور اللہ تعالیٰ نے دعا قبول کرلی…
ہمارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابراہیم علیہ
السلام کی اولاد میں سے ہیں… اور یوں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو قربانیوں کے
بدلے سعادتوں کا عروج مل گیا…
تعمیر
کے دوران جو پتھر کام آیا وہ ’’مقام ابراہیم‘‘ بن گیا مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت
اسماعیل علیہ السلام سہارا دیتے تھے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اوپر چڑھ کر
تعمیر فرماتے تھے مبارک ہو کعبہ شریف کی زیارت کرنے والو مبارک ہو کعبہ کی بیٹیاں
مسجدیں بنانے والو! آباد کرنے والو !بہت مبارک ہو اس کام کی عظمت کا اندازہ اس سے
لگائو کہ جبریل علیہ السلام بھی اُترے اور اتنے بڑے رسولوں نے خود محنت
فرمائی خود مزدوری فرمائی … اللہ اکبر کبیرا…
سب
سے پہلے مسجد
مسلمانوں
کو اللہ تعالیٰ نے جب پہلی آزاد زمین عطاء فرمائی تو ہمارے آقا صلی
اللہ علیہ وسلم نے پہلا کام ’’مسجد‘‘ کی تعمیر کا فرمایا… اور مدینہ
منورہ پہنچنے سے پہلے ہی اسکی ترتیب بن گئی… ’’قبا‘‘ نام کی بستی مدینہ منورہ سے
تین میل کے فاصلے پر تھی… ہجرت کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ
وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ پہنچنے سے پہلے وہاں
رکے… انصار مدینہ نے وہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا
استقبال فرمایا… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کلثوم بن ہدم کے
مکان پر رونق افروز تھے… انصار ہر طرف سے جوق درجوق آرہے تھے… ہر طرف محبت اور
عقیدت کا جوش تھا اور خوشیاں ہی خوشیاں… جی ہاں زمین و آسمان میں ہر طرف خوشیاں
تھیں… گہما گہمی کے اس ماحول میں بھی محبوب آقا صلی اللہ علیہ
وسلم کی توجہ اپنے اُس کام کی طرف تھی جس کے لئے اللہ پاک نے آپ صلی
اللہ علیہ وسلم کو بھیجا تھا… اور اُس کام کے لئے ’’مسجد‘‘ بے حد ضروری
ہے… بے حد لازمی ہے… چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فوراً وہاں ایک مسجد کی بنیاد رکھی… اس مسجد کا پہلا پتھر آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا… دوسرا پتھر حضرت صدیق
اکبررضی اللہ عنہ نے… اور تیسرا پتھر حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے…
اور پھر تعمیر شروع ہوگئی… آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کی
تھکاوٹ میں آرام فرماتے مگر کہاں؟… آپ صلی اللہ علیہ
وسلم تو ایک عظیم الشان کام کیلئے تشریف لائے تھے… چنانچہ خود پتھر
اُٹھا اُٹھا کر لاتے رہے… صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عرض کرتے کہ یارسول
اللہ! آپ رہنے دیجئے… ہم اٹھا لیں گے تو آپ صلی اللہ علیہ
وسلم اس بات کو قبول نہ فرماتے… یہ مسجد تیار ہوگئی… ماشاء اللہ اُس
وقت سے لیکر اب تک آباد ہے… قرآن پاک کی سورۃ التوبۃ میں اس کا تذکرہ ہے… حضور
پاک صلی اللہ علیہ وسلم ہفتے میںایک بار اس میں تشریف لے
جاتے تھے… حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہفتے میں دوبار اس میں اُس وقت جاتے تھے جب آپ
لاکھوں مربع میل زمین کے حکمران تھے…
اور
یہ بات تاریخ کے اوراق میں… اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نامۂ اعمال میں چمک رہی
ہے کہ آپ نے ’’مسجد قبا‘‘ میں جھاڑو دیا اور صفائی فرمائی… کہاں آج کے پروٹو کول
میں سڑے ہوئے ’’پلاسٹکی حکمران‘‘ اور کہاں حضرت سیّدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ…
آج فلسطین میں ہمارے بچے اپنی مری ہوئی مائوں کے گرد سسک رہے ہیں… اور ہمارے
حکمرانوں کو میک اپ کرانے کے لئے پورا پورا عملہ مقرر ہے… یا اللہ! حضرت فاروق
اعظم رضی اللہ عنہ کے قدموں کی دھول جیسی عزت رکھنے والا کوئی ایک حکمران مسلمانوں
کو نصیب فرما دے… ہاں! مساجد مہم میں شرکت کرنے والے سعادتمندو! حضرت فاروق اعظم
کو مساجد سے بہت عشق تھا… اے جہاد کے دیوانو! مساجد کے خادمو! تمہیں ’’نسبتِ
فاروقی‘‘ مبارک ہو…
واہ
صدیق رضی اللہ عنہ! آپ کی قسمت
مدینہ
منورہ پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ’’اونٹنی‘‘ جہاں
بیٹھی… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں مسجد تعمیر کرنے کا
فیصلہ فرما لیا… یہ جگہ ’’مِربَد‘‘ تھی یعنی کھجور خشک کرنے کا میدان… یہ انصار کے
دو یتیم بچوں کی ملکیت تھی… اُن کو بلا کر بات کی گئی تو وہ ’’سعادتمند‘‘ یہ زمین
مفت دینے پر اڑے رہے… مگر صدیق اکبرذ کی قسمت میں ایک اور بڑے موتی کا اضافہ ہونا
تھا… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جگہ خریدنے کا فیصلہ
فرمایا… اور مفت قبول کرنا مناسب نہیں سمجھا… حضرت صدیق اکبر رضی اللہ
عنہ کی طرف اشارہ ہوا… اور انہوںنے زمین کی پوری قیمت ادا فرمادی…
سبحان اللہ، سبحان اللہ… اے میرے مالک آپ بہت کریم ہیں… جسے نوازنے پر آجائیں تو
اُس کے وارے نیارے کرا دیتے ہیں… ابھی تو صدیق اکبرذ کو ہجرت میں رفاقت اور غار
والی رات ملی تھی… اور اب وہ مسجد نبوی کی زمین کا اجر بھی لوٹ گئے…
اے
ربّ کریم آپ نے حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ پر احسان فرمایا… ہم مسکینوں پر بھی
احسان فرمائیے… ہمیں بھی مساجد کے لئے جگہ خریدنے، اُن جگہوں پر مسجدیں بنانے… اور
مسجدوں کو آباد کرنے کی توفیق عطا فرما دیجئے… اے صدیق اکبرذ کے ربّ، اے ہم سب کے
ربّ… آسان فرما دیجئے قبول فرما لیجئے… تین سو تیرہ مسجدیں بنوا دینا، انہیں
آباد کروادینا اور پھر قبول فرما لینا آپ کے لئے کیا مشکل ہے… یا ارحم الراحمین…
بہت
مزید ار بوجھ
مسجد
نبوی شریف کی تعمیر شروع ہوگئی… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
کام تقسیم فرما دیئے… میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم جیسا
نظم و ضبط نہ کسی نے پہلے دیکھا اور نہ کوئی آئندہ دیکھ سکے گا…
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اینٹیں بنانے کا حکم فرمایا…
اور بعض صحابہ کرام کو گارا بنانے اور بعض کو دوسرے کاموں پر لگا دیا… تعمیر شروع
ہوگئی کائنات کی سب سے افضل ہستی… حضرت محمد صلی اللہ علیہ
وسلم خود اینٹیں اٹھا اٹھا کر لا رہے ہیں… اور یہ شعر پڑھ رہے ہیں
ھذا
الحمال لا حمال خیبر
ھذا
ابرّ ربنا و اطہر
یعنی
یہ خیبر کی کھجوروں کا بوجھ نہیں… یہ تو اے میرے رب! بہت پیارا اور پاکیزہ بوجھ
ہے… جی ہاں نیکی والا بوجھ… لوگ تو اپنے پیٹ کے لئے بوجھ اٹھاتے ہیں… میرے
آقا صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے لئے بوجھ اٹھا رہے
تھے… اور ساتھ ساتھ اسکی لذت بھی محسوس فرما رہے تھے… اللہ اکبر کبیرا!… چند دن
بعد ’’مساجد مہم‘‘ شروع ہوگی… کئی خوش قسمت نوجوان، اور بوڑھے حضرات مساجد کی
تعمیر کے لئے نکلیں گے… ان میں سے کچھ یہ بوجھ بھی اٹھائیں گے… واہ خوش بختی! واہ
خوش نصیبی!… یا اللہ ہم پر بھی رحم فرما ہمیں بھی اس سعادت میں سے حصہ عطا فرما…
اور کچھ نہیں کم از کم اتنا تو ہو کہ ایک بار تیری کسی مسجد کی اینٹیں اٹھا کر یہ
شعر پڑھ سکیں… جو تیرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد
نبوی کی اینٹیں اٹھا کر پڑھا تھا… ’’فتح الباری‘‘ میں لکھا ہے کہ اُس وقت صحابہ
کرام بھی کام کے دوران اشعار پڑھ رہے تھے… جی ہاں بہت جذبے اور خوشی کا منظر تھا…
وہ فرما رہے تھے
لئن
قعدنا والنبی یعمل
لذاک
منا العمل المضلّل
یعنی
اگر ہم بیٹھ جائیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کام
کریں تو ہمارا یہ بیٹھ جانا بہت ہی برا کام ہوگا…
صحابہ
کرام تو حضرت سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم
ڈھونڈتے تھے… آج دین کا کام مسجدوں سے ہٹ کر کرنے والوں سے اکثر عرض کیا جاتا ہے
کہ… مسجدوں کی طرف لوٹ آئو… یہی ’’نبوی ترتیب‘‘ ہے… ہوٹل، ہال، دفاترکو اہمیت نہ
دو… مگر ظلم دیکھیں! اب تو یہ شور سنائی دے رہا ہے کہ اسٹوڈیو میں جا کر دین کا
کام کرو تاکہ مقابلہ خوب جمے…
انّا
للّٰہ و انّا الیہ راجعون
محبت
بھری دل لگی
حضرات
صحابہ کرام بڑے ’’زندہ دل لوگ‘‘ تھے… وہ دین کا ہر کام ذاتی دلچسپی اور بشاشت سے
کرتے تھے… ایسے مواقع پر آپس میں کچھ ’’دل لگی‘‘ بھی ہو جاتی تھی… ہوا یہ کہ ایک
صحابی حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ طبعی طور پر زیادہ ’’نظافت پسند‘‘ تھے… وہ
بھی پورے جذبے سے اینٹیں اٹھا رہے تھے… مگر ساتھ ساتھ اپنے کپڑوں کو بھی بچا رہے
تھے… یعنی اینٹیں ذرا احتیاط سے اٹھاتے تھے کہ کپڑوں کو مٹی نہ لگے اور اگر مٹی لگ
جاتی تو اسے جھاڑ تے تھے… حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ صورتحال دیکھی تو یہ اشعار
پڑھے ؎
لا
یستوی من یعمر المساجد ا
ید
أب فیھا قائما و قاعدا
یعنی
وہ شخص جو اٹھتے بیٹھتے مسجد کی تعمیر میں لگا ہوا ہے… اور وہ شخص جو اپنے کپڑوں
کو مٹی اور غبار سے بچاتا ہے… دونوں برابر نہیں ہیں…
مطلب
یہ کہ ایسے مواقع پر جان لگا کے کام کرنا چاہیے… اور اپنے طبعی تقاضوں اور نفاستوں
کو بھلا دینا چاہیے… صفائی اور نظافت بھی اللہ تعالیٰ کے لئے ہے تو جب اللہ تعالیٰ
کے لئے غبار آلود ہونے کا وقت آجائے تو انسان کو اس میں ڈوب جانا چاہیے… ’’مساجد
مہم‘‘ میں غبار آلود ہونے والو!، تھکنے والو! بھاگ دوڑ کرنے والو! تمہیں بہت
مبارک ہو… تمہارا وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے قیمتی بنا دیا… اللہ تعالیٰ قبول
فرمائے…
ایک
عجیب صورتحال
مسجد
نبوی شریف بہت سادہ تھی… کچی اینٹوں کی دیواریں تھیں اور کھجور کے تنوں کے ستون…
اور چھت بھی کھجور کی شاخوں اور پتوں کی تھی… بعد میں اُسے گارے سے لیپ دیا گیا…
یہ تو ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ’’عمل مبارک‘‘… جبکہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مساجد کو سادہ رکھنے کی قولی
تاکید بھی فرمائی ہے… اور یہ بھی فرمایا کہ مسجدوں کے بارے میں فخر کرنا قیامت کی
علامتوں میں سے ہے… ( ابو دائود)
اور
ارشاد فرمایا
’’جب
کسی قوم کے حالات خراب ہونے لگتے ہیں تو وہ اپنی مسجدیں سجانے لگتے ہیں‘‘ (ابن
ماجہ)
اور
ارشاد فرمایا
’’
میں دیکھ رہا ہوں کہ میرے بعد تم مسجدوں کو اس طرح سجائو گے جس طرح یہود و نصاریٰ
اپنے گرجوں کو سجاتے ہیں‘‘ (ابن ماجہ)
اور
ارشاد فرمایا
عنقریب
لوگوں پر ایسا وقت آئے گاکہ… اُنکی مسجدیں (ظاہری طور پر) آباد ہوں گی مگر ہدایت
سے (خالی اور) ویران ہوں گی… (بیہقی)
ان
تمام ارشادات کو سامنے رکھتے ہوئے… ارادہ ہے کہ مساجد ظاہری طور پر سادہ تعمیر کی
جائیں… اور انہیں مسجد نبوی والے اعمال سے انشاء اللہ آباد کیا جائے… لوگ آپس کی
دیکھا دیکھی میں ظاہری طور پر شاندار اور مہنگی مسجدیں بنانے پر زور دیتے ہیں…
ماضی میں کئی بار یہ مہم شروع کرنے کی کوشش کی مگر ’’سادہ مسجد‘‘ بنانے پر کوئی
تیار نہیں ہوتا… اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کی اصلاح فرمائے… اب الحمدللہ چوبیس مساجد
بنانے کی مہم شروع ہو رہی ہے… کل خرچہ ڈھائی کروڑ روپے ہے… یعنی صرف اتنا کہ جتنا
آج کل لوگ ایک مسجد پر لگا دیتے ہیں… میں نے اندازہ لگایا کہ اگر ’’القلم‘‘ پڑھنے
والے حضرات و خواتین میں سے ہر ایک… صرف تین سو روپے اس مہم میں لگا دے تو ’’ڈھائی
کروڑ‘‘ روپے پورے ہو سکتے ہیں… دیکھیں کس کی قسمت میں کتنی سعادت لکھی ہے…
آسان
جنت
اللہ
تعالیٰ نے عورتوں کو اس اعتبار سے مردوں پر سبقت عطا فرمائی ہے کہ… ان کے لئے
کامیابی اور جنت کا نصاب بہت آسان ہے… وہ کسی بھی کام میں تھوڑ ا سا حصہ ڈال کر
مردوں کے برابر یا اُن سے زیادہ اجر کی مستحق بن جاتی ہیں… جن خواتین کو اللہ
تعالیٰ نے بڑے گھر دئیے ہیںوہ گھر کا ایک کمرہ… ’’مسجد البیت‘‘ یعنی گھر کی مسجد
بنائیں… اس کو پاک صاف رکھا کریں، وہاں خوشبو مہکایا کریں… اور وہاں نماز، تلاوت
اور ذکر کے لئے جایا کریں… اسی طرح آپ حالیہ ’’مساجد مہم‘‘ میں بھی شریک ہو سکتی
ہیں…
۱۔ مالی
تعاون کے ذریعے ۔
۲۔ اپنے
بیٹے، خاوند یا اور رشتہ داروں کو مہم میں بھیج کر۔
۳۔ دوسری
خواتین کو مہم میں تعاون کی دعوت دے کر
۴۔ اور
خوب توجہ سے دعائیں کرکے …
یا
اللہ، یا ارحم الراحمین ہم سب پر رحم فرما، اور اس مہم کی کامیابی اور قبولیت
آسان فرما… آمین یا رب المستضعفین
وصلی
اللّٰہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد واٰلہ وصحبہٖ وسلم تسلیماً کثیرا کثیرا
کثیرا
٭٭٭
نے
’’رحمت‘‘ فرمائی، بہت عظیم احسان فرمایا… اللہ تعالیٰ کا بے
حد شکر ہے کہ ’’فتح الجوّاد‘‘ کی تیسری جلد شائع ہوکر ہمارے ہاتھوںمیں آچکی ہے…
جہاد ہمیشہ مشکل حالات میں پھلتا پھولتا ہے …دشمنوں نے دشمنی تیز کی
تو اللہ تعالیٰ کی محبت اور نصرت مظلوموں کے ساتھ اتر آئی…
ان حالات میں ’’فتح الجوّاد‘‘ کا شائع ہونانہایت ہمت دلانے والی بات ہے…
دشمن’’مؤلف‘‘ کو مانگ رہے تھے، تاکہ اُسے ماردیں
جبکہ اللہ تعالیٰ نے اُسے اپنی ’’مبارک آیات‘‘ کے کام میں
بٹھادیا… بے شک جب اللہ تعالیٰ ’’خیر‘‘پہنچانے پر آئے تو
اُس کو کوئی نہیں روک سکتا… کافروں کی زبان پر ایک ہی شور ہے کہ ہمارے حوالے
کرو،ہمارے حوالے کرو… جبکہ اللہ تعالیٰ نے ایسی رحمت فرمائی
کہ’’مطلوب ملزم‘‘ کے ہاتھوں سے’’فتح الجوّاد‘‘ امت کے حوالے کروادی…
اَللّٰھُمَّ
لَامَانِعَ لِمَااَعْطَیْتَ وَلَامُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلاَ یَنْفَعُ
ذَاالْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ
موت
تو ضرور آئے گی… اور اپنے وقت پر آئے گی… اللہ کرے’’خیر‘‘
والی ہو،’’شہادت‘‘ والی ہو…گرفتاری بھی قسمت میںلکھی ہے تو اسے بھی کوئی نہیں ٹال
سکتا… اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال ہے… مگرجہاد کی محنت تو انبیاء
علیھم السلام والی محنت ہے… جہاد کا کام تو رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم والا کام ہے… اللہ تعالیٰ مرتے دم تک اس کام
میں لگائے رکھے، جوڑے رکھے… یہ تو’’دیہاڑی والی‘‘ مزدوری ہے کہ کام کرتے جاؤ،اجر
ملتا رہتا ہے… اور مرجاؤ تو کام بند نہیںہوتا اللہ تعالیٰ
دوسرے مزدوروں کو کھڑا فرما دیتا ہے… جہاد قیامت تک چلتا رہے گا یہ میرے آقا مدنی
صلی اللہ علیہ وسلمکا فرمان ہے … اس مبارک فرمان کی صداقت
کو اپنے خون سے روشن رکھنے والے لوگ بہت خوش نصیب ہوتے ہیں… اور تو اور’’دجال‘‘ کے
زمانے میں بھی جہاد بند نہیں ہوگا حالانکہ وہ بہت سخت زمانہ ہوگا… دجال تو بس ہر
اُس شخص کو قتل کرتا جائے گا جو اس کی ’’کفریہ دعوت‘‘ نہیں مانے گا… آجکل کے
’’کفار‘‘ تو دجال کے مقابلے میں بہت کمزور اور بہت مجبور ہیں…
سبحان اللہ
! میرے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے مجاہدین کی شان دیکھیں
کہ وہ دجال سے بھی ٹکرا جائیں گے… تو پھر اس زمانے کے کالے پیلے چوہے یہ کیسے سمجھ
بیٹھے ہیں کہ وہ جہاد کو روک دیں گے… تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ زندگی موت کا
معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں اور جہاد کی حمایت میں کھڑے
ہو جائیں… یاد رکھیں جہاد کی دعوت ہمارے پیارے آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم نے اپنے ’’مبارک خون‘‘ سے دی ہے… جو مسلمان اس دعوت کی طرف توجہ نہیں کرتا وہ
اپنے ایمان کو خطرے میں ڈالتا ہے…
’’فتح
الجوّاد‘‘ کی تیسری جلد بہت اہم ہے… اس میں قرآن پاک کی سو(۱۰۰) آیات کے جہادی
مضامین کا بیان ہوا ہے…گذشتہ تین سو سال میں شیطان نے اور سامراج نے جہاد کے خلاف
جتنے بھی اعتراضات گھڑے اور پھیلائے ہیں اُن تمام کا مدلل جواب اس’’تیسری جلد‘‘
میں الحمدللہ آگیا ہے… اور مجاہدین کی اصلاح کا
مکمل نصاب بھی اس میں موجود ہے… لوگ کہتے ہیں کہ جہاد سے اسلام غالب ہوتا ہے تو
موجودہ دور کا جہاد اگر شرعی ہوتا تو اسلام غالب آچکا ہوتا… حالانکہ سوچنے کی بات
یہ ہے کہ آج کتنے مسلمان جہاد کر رہے ہیں؟…یقینابہت تھوڑے بلکہ بہت ہی تھوڑے… اور
اس تھوڑے سے جہاد سے بھی الحمد اللہ بہترین نتائج سامنے آرہے ہیں…اسلام کے مقابلے
میں اٹھنے والا’’کمیونزم‘‘ کا سیلاب دم توڑ چکا ہے… اور اب سرمایہ دارانہ نظام کی
کمر بھی جھٹکے کھا رہی ہے…اگر زیادہ مسلمان جہاد پر آجائیں تو
انشاء اللہ اسلام کے ظاہری غلبے میں بھی دیر نہیں لگے گی…
اس لئے ہر مسلمان تک جہاد کی دعوت پہنچانا ضروری ہے تاکہ کوئی جہاد کا منکر نہ ہو…
حضرات مفسرین نے لکھا ہے کہ اگر کوئی مسلمان تمام عبادات کا پابند ہو… نماز با
جماعت اورتلاوت کا اہتمام کرتا ہو… تہجد اور ذکر کا شوقین ہو… گناہوں سے بچتا ہو…
مالی معاملات میں مکمل شرعی احتیاط رکھتاہو… اور نیکی کے کاموںمیں بڑھ چڑھ کر حصہ
لیتا ہو مگر… وہ ’’فریضہ ٔجہاد‘‘ یعنی قتال فی سبیل اللہ سے
بغض رکھتا ہو تو اُس کے لئے کامیابی نہیں ہے… اسے آخرت کی کامیابی تبھی مل سکتی
ہے جب وہ ’’فریضۂ جہاد‘‘ سے محبت رکھے اور اس میں شرکت کے لئے تیار ہو… اس لئے
امت مسلمہ کا ایمان بچانے کے لئے ’’دعوت ِجہاد‘‘ کو عام کرنا ضروری ہے…دشمنانِ
اسلام نے بھرپور محنت کر کے ’’مجاہدین‘‘ کو بدنام کیاہے… مگر وہ ’’قرآنی آیات‘‘
کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکتے … اس لئے ’’فتح الجوّاد‘‘ صرف قرآن پاک کی آیات کے
ذریعہ جہاد کی دعوت دیتی ہے… اوریہ بات بھی سمجھاتی ہے کہ ہر قتل و غارت کا
نام’’جہاد‘‘ نہیں ہے…
’’فتح
الجوّاد‘‘ کی تیسری جلد میں سورۃ التوبہ کی انہتر (۶۹) آیات کے جہادی
مضامین بہت آسان الفاظ میں بیان کئے گئے ہیں… پھرایک ضمیمہ ہے جس میں زکوٰۃ کے
مصرف ’’فی سبیل اللہ ‘‘ پر ایک عالم دین کی تحقیق درج ہے… اس کے
بعد’’سورۃ الحج‘‘ کا بیان شروع ہوتا ہے… پہلے سترہ(۱۷) آیات کے مضامین
جہاد کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے… اور اس کے بعد ان سترہ (۱۷)آیات کے جہادی
نکات کو قدرے تفصیل سے لایا گیا ہے… پھر’’سورۃ النور‘‘شروع ہوتی ہے… اس کے
ابتدائیہ میں چار(۴) آیات
کے مضامین جہاد کا خلاصہ ہے اور آگے ان آیات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے… اس کے
بعد ’’سورۃ الاحزاب‘‘ کی پرنور محفل شروع ہو جاتی ہے اس میں بائیس (۲۲) آیات
جہاد کا خلاصہ بھی ہے اور ان آیات کی دلنشین تشریح بھی… اور غزوہ احزاب اور غزوہ
بنی قریظہ کے دلچسپ اور سبق آموز حالات بھی… اور آخر میں ’’سورۃ
محمد‘‘(صلی اللہ علیہ وسلم) کا مفصل بیان ہے… اول تا آخر
یعنی تمام اڑتیس(۳۸) آیات
کی واضح تشریح… اور علمی نکات اور دلائل سے بھرپور ایک مفصل ابتدائیہ… ’’فتح
الجوّاد‘‘ کی تیسری جلد چار سو اڑتالیس صفحات پر مشتمل ہے اور اس
میں الحمدللہ جہاد کے تقریباً ہر پہلو کا بیان موجود ہے… وہ
مسلمان جو ابھی تک جہاد کو نہیں سمجھے ان سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ وہ ’’فتح
الجوّاد‘‘ جلد ثالث کا مطالعہ فرمالیں تاکہ مرنے سے پہلے اپنے ایمان کو ٹھیک اور
مکمل کر سکیں…
بے
شک قیامت کا دن برحق ہے اور ہم سب نے اللہ تعالیٰ کے حضور
پیش ہونا ہے… بے شک مجاہدین سے غلطیاں ہو سکتی ہیں مگرجہاد تو غلط نہیں ہے… پھر
جہاد کے انکار اور مخالفت کا کیا فائدہ ہے؟…غلطیاں تو نمازیوں سے بھی ہوتی ہیں…
مگر ہم ’’نماز‘‘ کا انکار نہیں کر سکتے…غلطیاں’’حاجیوں‘‘ سے بھی ہوتی ہیں… مگر
ہم’’حج‘‘ کا انکار نہیں کر سکتے… غلطیاں مسلمانوں سے بھی ہوتی ہیں مگرہم ’’اسلام‘‘
کا انکار نہیں کر سکتے… لیکن کیا کیا جائے… جہاد کے خلاف ہزاروں ادارے کام کر رہے
ہیں… ہزاروں این جی اوز کا ایجنڈا جہاد کی مخالفت ہے…اور ہزاروں نام نہاد مذہبی
اسکالر اور دانش ور جہاد کے خلاف سرگرم ہیں… مرزا قادیانی کی تحریک ہو یا انکار
حدیث کا فتنہ… وحیدالدین خان کا’’الرسالہ‘‘ہو یا غامدی کی تحریفات… مزار پرستوں کے
دعوے ہوں یا حقوق انسانیت کے ادارے یہ سب جہاد کے نام سے بدکتے ہیں… ان لوگوں کی
محنت کا نتیجہ ہے کہ مسلمان دن رات کمزور ہوتے جارہے ہیں… جب ’’ایمان‘‘ نہیں ہوگا
تو کمزوری تو ضرور آئے گی… اور ایمان’’جہاد‘‘ کو مانے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا…
ساری دنیا کے علماء کرام کا اتفاق ہے کہ قرآن پاک کی ایک آیت کا انکار کفر ہے…
جبکہ فریضۂ جہاد توقرآن پاک کی سینکڑوں آیات میں بیان ہوا ہے… بات نہ تو ضد کی
ہے نہ مناظر ے کی…بلکہ اس وقت مسلمانوں کے ایمان کا مسئلہ ہے… یہ جھوٹ ہے کہ جہاد
کی تحریک امریکہ نے سوویت یونین کو شکست دینے کے لئے کھڑی کی… رب کعبہ کی قسم یہ
جھوٹ ہے بالکل کالا جھوٹ…ہاں اس وقت جہاد کی یہ کرامت ظاہر ہوئی کہ امریکہ کو
مجاہدین کے ساتھ تعاون کرنا پڑا… ہاں ایسا ہوتاہے اور آئندہ بھی ہوگا… قرب قیامت
میں بھی ایک بڑی جنگ میں عیسائی، مسلمانوں کا ساتھ دیں گے… اور ماضی میں بھی کئی
بار ایسا ہو چکا ہے… اور یہ بھی جھوٹ ہے کہ جہاد غربت کی وجہ سے پھیل رہا ہے…
بالکل جھوٹ سیاہ جھوٹ… حضرت ملامحمد عمر مجاہد نے اتحادی افواج کے خلاف اس وقت
جہاد کا فیصلہ کیا جب نوے فیصد افغانستان کے خزانے ان کے پاؤں میں پڑے تھے… اور
شیخ اسامہ کو حوالے کرنے کے بدلے ان کو سونے کے قالین اور اربوں ڈالر کے خزانے مل
سکتے تھے… اوریہ بھی جھوٹ ہے کہ مجاہدین زمین پر فساد چاہتے ہیں، وہ انڈیا اور
پاکستان کو لڑانا چاہتے ہیں… اوروہ مسلمان کی ترقی کے دشمن ہیں…
نہیں
ہرگز نہیں… مجاہدین تو’’امن‘‘ چاہتے ہیں… اور ایک ایک مسلمان کے خیر خواہ… اور
پوری دنیا کے ہمدرد ہیں… ہاں وہ قرآن پاک کے راستے پر چل رہے ہیں… اس لئے ان کو
وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو قرآن پاک کو سمجھتا اور مانتا ہو… ہمارے آج کے
اکثرمسلمان قرآن پاک کو نہیں سمجھتے… وہ اسے چومتے ہیں، پڑھتے ہیں اور ادب سے
غلاف میں رکھتے ہیں… مگر ان کو معلوم نہیں کہ قرآن پاک ان سے کیا فرما رہا ہے…
’’فتح الجوّاد‘‘ نے قرآن پاک کے اس حصے کو بیان کیا ہے جسے سب سے زیادہ چھپایاجا
رہا تھا… اور جس پر تاویل اور تحریف کے پردے ڈالے جارہے تھے… الحمدللہ
’’فتح الجوّاد‘‘ کی اس ادنیٰ سی محنت نے شیطان اور سامراج کے کئی سو سالہ ’’شیطانی
جال‘‘ کو توڑ ڈالا ہے…
مجاہدین
کو چاہئے کہ وہ خود اس کتاب کا دل کی گہرائی سے مطالعہ کریں…خصوصاً ’’سورۃمحمد‘‘
اور ’’سورۃ الاحزاب‘‘ کو اپنے دل میں بٹھالیں… تب وہ اپنی زبان اور اپنے بازوؤں
میں نئی قوت اور نئی بجلیاں محسوس کریں گے… ان کے دل میں’’ایمان‘‘ کی قدر پیدا ہو
گی اور انہیں’’کفر‘‘ کی حقیقت سمجھ میں آئے گی… اور انہیں’’شرعی جہاد‘‘ کی توفیق
ملے گی انشاء اللہ … اور پھر ہر مسلمان مرد اور عورت تک اس کتاب کو
پہنچانے کی کوشش کریں… اور انہیں بتائیں کہ ٹھیک ہے آپ ہماری بات نہ مانو مگر
اپنے رب تعالیٰ کی بات تو مان لو… خواتین میں بھی انکارِ جہاد کا فتنہ بہت سخت ہے…
ان میں جو’’بددین‘‘ ہیں وہ تو کھلم کھلا جہا دکے خلاف کام کرتی ہیں… مغرب کی تمام
این جی اوز انہیں بے پردہ ، بدنصیب مسلمان عورتوں کے دم سے چل رہی ہیں جو اپنے رب
کو بھول چکی ہیں… اور دیندار عورتوںمیں بھی ہمت کی کمزوری ہے… وہ ہجرت سے گھبراتی
ہیں موت سے ڈرتی ہیں… اور طرح طرح کے فیشنوں اور رسومات میں مبتلا ہو کر مردوں کو
جہاد سے روکنے کا ذریعہ بنتی ہیں…’’حب دنیا‘‘ یعنی دنیا پرستی کی محبت میں مبتلا
کوئی عورت جہاد اور ایمان کی حقیقت کو کہاں سمجھ سکتی ہے… اُس کی تو بس یہی خواہش
ہوتی ہے کہ ُاسے خوب مال ملے… وہ دھوم دھام سے شادیاں کرے… اورکافروں کی ہر رسم کو
پورا کرے… اس کی تمنا ہوتی ہے کہ اس کی ماں اس کی خادمہ اور نوکرانی… اور اس کا
خاوند اس کاغلام بن کر رہے… جب سوچ اور فکر اتنی پست ہو گی تو دین کہاں سے سمجھ
آئے گا؟… جہاد کی محبت کہاں پیدا ہوگی…
مگر
یہ بات بھی سچ ہے کہ خواتین کو جہاد جلدی سمجھ میں آتا ہے… اور جب کوئی ’’مسلمان
عورت‘‘ جہاد کو سمجھ لیتی ہے تو پھر پورے کا پورا گھرانہ دین پر آجاتا ہے… بد
قسمتی سے آج مسلمان مردوں کی عقلیں اور جیبیں ان کی عورتوں کے قبضے میں ہیں… اس
لئے خواتین میں زیادہ محنت کی ضرورت ہے… اے مسلمان بہنو! قبر کا عذاب بہت سخت ہے…
اورآخرت کی منزلیں بہت مشکل ہیں… اس پر فخر نہ کرو کہ تمہارا خاوند تمہارا
فرمانبردار ہے… بلکہ اس پر فخر کرو کہ تم دین کی اور خاوند کی فرمانبردار ہو… اس
پر فخر نہ کرو کہ میری ماں میری ہر بات مانتی ہے… یہ خطرناک چیز ہے اور قیامت کی
نشانی ہے… ہاں اس پر شکر کرو کہ تم اپنی ماں کی ہرجائز بات مانتی ہو… اے مسلمان
بہنو! ساری امت مسلمہ عزت کی محتاج ہے… تم اپنی ذاتی ناک کو اتنا بڑا نہ بناؤ کہ
امت مسلمہ کے کسی کام ہی نہ آسکو…’’فتح الجوّاد‘‘ مردوں کی طرح مسلمان خواتین کے
لئے بھی ایمان کی حفاظت اور آخرت کی کامیابی کا تحفہ ہے… مسلمان بہنوں کو چاہئے
کہ وہ اسے خوب توجہ سے پڑھیں اور دوسروں تک بھی
پہنچائیں… الحمدللہ ’’المساجد مہم‘‘ بھی شروع ہوچکی ہے… یا
ارحم الراحمین آپ کی نعمتیں بے شمار ہیں…
ہمیں
’’شکر گزار‘‘ بنا دیجئے… قدر دان بنا دیجئے
آمین
یا رب العالمین
وصلی اللہ تعالیٰ
علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
اپنے
بندوںپر ظلم نہیں فرماتا…
وَمَآ
اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ (ق ۲۹)… خوش نصیب ہیں وہ
لوگ جو اللہ تعالیٰ کی ’’تقدیر‘‘ پر خوش اور راضی رہتے ہیں… انسان سخت بیماری اور
پریشانی کے وقت بھی اگر یہ سوچ لے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے اور اس میں میرے
لئے خیر ہے تو اُسی وقت دل سکون سے بھر جاتا ہے … بیشک جنّت تو شکر گزاروں کی جگہ
ہے… دنیا میں مسلمانوں کے حالات اچھے نہیں ہیں… مگر کفار بھی تو طرح طرح کی
پریشانیوں کا شکار ہیں… اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَلَا
تَھِنُوْا فِی ابْتِغَآئِ الْقَوْمِ اِنْ تَکُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّھُمْ
یَاْلَمُوْنَ کَمَا تَاْلَمُوْنَ وَتَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا یَرْجُوْنَ
(النساء۱۰۴)
ترجمہ:
اور ان (کافروں) کا پیچھا کرنے سے ہمت نہ ہارو اگر تم درد اٹھاتے ہو تو وہ بھی
تمہاری طرح درد اٹھاتے ہیں حالانکہ تم اللہ تعالیٰ سے جس چیز کے امیدوار ہو وہ
نہیں ہیں۔
اسی
لئے جب غزوہ اُحد میں مشرکین نے یہ نعرہ لگایا کہ… ہمارا اور تمہارا معاملہ برابر
ہوگیا، بدر میں ہمارے ستّر افراد مارے گئے تھے اور اب اُحد میں تمہارے ستّر افراد
مارے گئے ہیں… تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
کوئی برابری نہیں ہے ہمارے مقتولین جنت میں ہیں اور تمہارے مقتولین جہنم میں…
اور
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
اِنْ
یَّمْسَسْکُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُہٗ ط وَتِلْکَ
الْاَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ (آل عمران ۱۴۰)
ترجمہ
: اگر تمہیں زخم پہنچا ہے تو انہیں (یعنی کفار کو) بھی ایسا ہی زخم پہنچ چکا ہے
اور ہم یہ دن لوگوں میں باری باری بدلتے رہتے ہیں
ان
آیات سے معلوم ہوا کہ کفار کے زخموں کو گنتے اور دیکھتے رہنا چاہیے… اس سے
مسلمانوں کا حوصلہ بڑھتا ہے… اور ان میں شکر گزاری کی کیفیت پیدا ہوتی ہے… آئیے
آج کفار کے کچھ موٹے موٹے زخموں کو دیکھتے ہیں…
حسرتوں
کا قبرستان
امریکہ
کے صدر ’’بش جوتی والے‘‘ چھ دن پہلے رخصت ہوگئے… دنیا کے اس طاقتور ترین سمجھے
جانے والے شخص نے کیا پایا؟… اُس کی خواہش تھی کہ وہ افغانستان پر قبضہ کرلے اور
پھر وسط ایشیا کی ریاستوں میں چھپے خزانوں اور تیل کا مالک بن جائے… اُسکی خواہش
تھی کہ وہ عراق پر قبضہ کرکے ’’عربی تیل‘‘ کا مالک بن جائے… اُسکی خواہش تھی کہ وہ
شیخ اسامہ بن لادن کو پکڑ لے یا مار دے… اُسکی تمنا تھی کہ وہ طالبان کا نام و
نشان ہی مٹا دے… وہ چاہتا تھا کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے اٹھا کر امریکہ لے جائے…
اُسکی چاہت تھی کہ کشمیر کی تحریک ختم ہوجائے… اُس کا عزم تھا کہ وہ حماس اور جیش
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ختم کردے گا… وہ چاہتا تھا کہ
یہودیوں کے ناپاک سر پر یروشلم کا تاج رکھ دے گا… مگر کیا ہوا؟… اسکی تمام خواہشیں
حسرتوں میں تبدیل ہو گئیں… اور اُس کے دل کا کانٹا بن گئیں… ہزاروں امریکی مارے
گئے، امریکی ٹیکنالوجی کی ناک ’’سربازار‘‘ کٹ گئی… امریکی معیشت کا پیالہ الٹ
ہوگیا… اور امریکہ بھوکوں اور معذوروں سے بھر گیا… امریکہ کی یہ حالت دیکھ کر یورپ
پھر انگڑائی لے رہا ہے… اور روس نے بھی اپنی آنکھیں سرخ کرنا شروع کر دی ہیں… دنیا
اب ایک اور جنگ کے لئے تیار ہے… ایک بڑی اور عالمی جنگ جس میں یہ فیصلہ ہوگا کہ
’’سپر پاور‘‘ کون ہے… مگر جنگ کے بعد معلوم ہوگا کہ ان میں سے اب کوئی بھی سپر
پاور کہلانے کے قابل نہیں بچا… تب اپنے اور غیر سب ہی ’’اللہ اکبر‘‘ کا اقرار کریں
گے کہ … سب سے بڑی طاقت اللہ تعالیٰ کی ہے… سلام ہے اسلام کے فدائی مجاہدینپر
جنہوں نے اپنے خون کی روشنائی سے دنیا کے نقشے کا رنگ ہی بدل دیا ہے… سلامٌ علیہم
و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
خوشی
محمد کی تقریر
کراچی
ہفت روزہ ختم نبوۃ کے دفتر میں ایک کاتب صاحب تھے… وہ رسالے کی پیسٹنگ اور سرخیاں
لکھنے کے ماہر مگرتقریباً ان پڑھ تھے… اللہ تعالیٰ کی دَین ہے کہ جس کو جو صلاحیت
نصیب فرما دے… اُن کا نام ’’خوشی محمد‘‘ تھا… اُن دنوں کمپیوٹر پر کتابت شروع نہیں
ہوئی تھی،چنانچہ ہاتھ سے لکھنے والے ’’کاتبوں‘‘ کا بازار گرم تھا… ہم نے ماہنامہ
’’صدائے مجاہد‘‘ نکالا تو ہم بھی ’’خوشی محمد‘‘ کے مجبوروں میں شامل ہوگئے… اُن کے
پاس کام کا رش تھا اور وہ غوطہ دینے اور ٹرخانے کے ماہر تھے… ہم نے صدائے مجاہد کا
ایک خصوصی شمارہ ’’کمانڈر عبدالرشید شہیدس‘‘ کی یاد میں نکالنے کا اعلان کیا…
مضامین دیکھ دیکھ کر ’’خوشی محمد‘‘ کا جذبہ بھی زندہ ہوگیا… ایک دن بڑی ترنگ سے
پنجابی میں فرمانے لگے
جی
ساڈا مجمون وی لائو گے؟
یعنی
کیا آپ ہمارا مضمون بھی اس خصوصی شمارے میں لگائیں گے؟… مجھے بہت حیرت ہوئی… ایک
تو یہ کہ وہ کمانڈر شہیدس کو جانتے ہی نہیں تھے تو اُن کے بارے میں کیسے لکھیں
گے؟… اور دوسرا یہ کہ اُن کو لکھنا بالکل نہیں آتا تھا… وہ تقریباًان پڑھ تھے…
میں نے اپنے یہ اشکالات پیش کئے تو فرمانے لگے… یہ باتیں چھوڑیں مضمون لگائیں گے
یا نہیں؟… عرض کیا کہ اگر معیاری ہوا تو ضرور لگائیں گے… دو چاردن بعد ’’خوشی
محمد‘‘ نے مضمون میرے حوالے کر دیا… وہ تو بہت رقت آمیز ، مؤثر اور جاندار مضمون
تھا اور ’’خوشی محمد‘‘ نے خود اپنی قینچی سے کاٹ کر ترتیب دیا تھا… ہوا یہ کہ
انہوں نے اپنے پاس رکھے ہوئے کئی پرانے رسالوں سے وہ مضامین جمع کئے جو بڑی شخصیات
کے انتقال پر لکھے گئے تھے… پھر ان مضامین سے طرح طرح کے ادیبانہ جملے کاٹے اور
اُن کو جوڑ کر مضمون بنا لیا… بعد میں جس نے بھی یہ مضمون پڑھا وہ بہت متاثر ہوا…
اور یوں ’’خوشی محمد‘‘ اپنی ’’قینچی‘‘ کے زور پر ’’مصنف‘‘ بن گئے… بیس جنوری
امریکہ کے نئے صدر براک اُبامہ کی تقریر سن کر مجھے ’’خوشی محمد‘‘ کا مضمون یاد
آگیا… ’’اُبامہ‘‘ ایک مسلمان کا بیٹا ہے ممکن ہے بچپن میں اس کے کان میں اذان بھی
دی گئی ہو… اس لئے وہ تقریر تو اچھی کر لیتا ہے… مگر اپنی حلف برداری والی تقریر
کا اُس کے دماغ پر بہت بوجھ تھا… خبروں میں آرہا تھا کہ وہ کئی ہفتے سے تقریر
تیار کر رہا ہے… شاید امریکہ میں شریف الدین پیر زادوں کی کمی ہے… ابامہ کی حلف
برداری میں بیس لاکھ افراد شریک ہونے تھے اور دنیا بھر کے کروڑوں لوگوں نے ٹی وی
پر تقریر سننی تھی… مجمع جب اتنا بڑا تھا تو ’’مقرر‘‘ پر دبائو تو ہوناتھا … دوسری
طرف اُبامہ کے پاس کوئی بھی ’’اچھی بات‘‘ نہیں تھی… پچھلے دوسال سے امریکہ نے ترقی
کی چوٹی سے زوال کی طرف پھسلنا شروع کر دیا ہے… اُبامہ کے پاس نہ تو کوئی جنگی
کامیابی تھی نہ کوئی سیاسی… اُس کے پاس نہ تو روشن مستقبل کی کوئی نوید تھی… اور
نہ دنیا کے لئے کوئی مثبت پیغام… امریکہ تو اس وقت زخموں سے چور ہے… فلوجہ، موصل،
ہلمند، قندھار اور کابل نے امریکہ کی اصلیت کھول دی ہے… اور امریکہ کا نظام اندرونی
طور پر درہم برہم ہو رہا ہے… خود اُبامہ کا آنا اس بات کی علامت ہے کہ … امریکہ
بدل رہا ہے اور دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے… پچاس ساٹھ سال پہلے تک کوئی سیاہ
فام امریکی گوروں کی بس پر سوار نہیں ہو سکتا تھا… ’’گورے‘‘ امریکہ کے برہمن اور
’’سیاہ فام‘‘ وہاں کے ’’اچھوت‘‘ تھے… اب ایک سیاہ فام شخص امریکہ کے گوروں کی گردن
پر پائوں رکھ کر وائٹ ہائوس جا چڑھا ہے تو کیا یہ گورے سامراج کی شکست کا آغاز
نہیں ہے؟…
صدر
اُبامہ نے کئی ہفتے محنت کی… ماضی کے خطیبوں کے کئی جملے زبانی یاد کئے… کچھ
افسانوی طرز کی مبہم باتیں بھی ساتھ جوڑلیں… اور یوں خوشی محمد کا مضمون اور
اُبامہ کی تقریر تیار ہوگئی… اگر آپ کو میری بات پر شبہ ہو تو ابامہ کی تقریر
دوبارہ سن لیں… مگر اس کے باوجود اُبامہ کو یہ شبہ ہے کہ وہ بہت بڑا خطیب ہے اور
اپنی تقریروں سے دنیا کے حالات بد ل سکتا ہے… اُس نے اعلان کیا ہے کہ میں عنقریب
مصر یا انڈونیشیا کسی ایک اسلامی ملک میںتقریر جھاڑوں گا… اور میری اس تقریر سے
امریکہ کے خلاف مسلمانوں کے جذبات ٹھنڈے ہو جائیں گے… ارے اُبامہ جی! مسلمانوں میں
بڑے بڑے خطیب پڑے ہوئے ہیں، یہاں آپ کو کوئی گھاس نہیں ڈالے گا… آج بھی الحمدللہ
اسلامی دنیا میں ایسے خطباء موجود ہیں کہ اگر آپ ان کو سُن لیں تو بولنا بھول
جائیں… مدینہ منورہ میں ایک مسجد ہے… آپ مسلمان ہوتے تو اُس نور سے بھری ہوئی
مسجد میں جانے کی سعادت پاتے… اس ’’مسجد نبوی شریف‘‘ کے منبر کا فیض مسلمانوں کو
ہر زمانے میں ملتا رہتا ہے… اس لئے مسلمانوں کی تقریریں مردہ دلوں کو زندہ کرنے کا
کمال رکھتی ہیں… اور اُنکی تقریروں میں ’’قرآن پاک‘‘ کا جلال و جمال اپنا رنگ
جماتا ہے… مسلمان آپ کی تقریرسے مطمئن نہیں ہوں گے… آپ تقریرکی بجائے ’’عمل‘‘ کر
کے دکھائیں… مسلمانوں پر حملے بند کریں، مسلمانوں کا تیل لوٹنا چھوڑ دیں… اور
یہودیوں سے اپنے دامن کو آزاد کرائیں… اور مذاکرات صرف اُنہی مسلمانوں سے کریں جو
حقیقی مسلمان ہیں… انشاء اللہ مسئلہ حل ہو جائے گا… لیکن اگر ’’بش جوتی والے‘‘ کے
طریقے پر آپ نے بھی ’’اسلام دشمنی‘‘ جاری رکھی تو… حالات مزید خراب ہوجائیں گے…
اور امریکہ کے ’’گورے‘‘ کہیں گے کہ ایک ’’کالے‘‘ نے ہمارا ملک تباہ کروا دیا…
اُبامہ
جی!… کالوں کی عزت کا خیال رکھیں…
حصار
نہ توڑیں
امریکہ
کے حکمرانوں نے پاکستان کے خلاف جو ’’پلان‘‘ ترتیب دیا تھا اُس کی ترتیب کچھ یوں
تھی کہ… پاکستان کی حکومت کو مجبور کیا جائے کہ وہ ’’پاکستانی مجاہدین‘‘ کے خلاف
کارروائی کرے اور ان کو ختم کردے… اس پالیسی کا دوسرا حصہ یہ تھا کہ جب مجاہدین
ختم ہو جائیں گے تو پھر دینی مدارس پر ہاتھ ڈالا جائے گا… دینی مدارس کے بعد مذہبی
سیاسی جماعتوں کو برابر کیا جائے گا… پھر کشمیر کی تحریک کا تمام ملبہ دفن کر دیا
جائے گا… پاکستان کے حکمران جب فرمانبردار بچوں کی طرح یہ ساری خدمات سرانجام دے
دیں گے تو پھر اُن سے پوچھا جائے گا کہ … تمہیں اپنا ملک چاہیے یا ایٹم بم؟… ظاہر
بات ہے کہ ملک کے وفا دار حکمران کہیں گے کہ ہمیں تو ملک چاہیے ہم نے ایٹم بم کا
کیا کرنا ہے… تب یہ ایٹم بم نہایت حفاظت کے ساتھ امریکہ منتقل ہو جائے گا… اور پھر
پاکستان کی تھوڑی سی تقسیم کر دی جائے گی… بلوچستان الگ ملک… سرحد افغانستان میں
شامل… اور باقی ملک کے ساتھ انڈیا جو چاہے کرے… کافروں کے پاس طاقت بہت تھی… اور
یہاںبھی صدر مشرف اُن کے مکمل فرمانبردار تھے اور ہر طرح سے بااختیار تھے… اس لئے
اندازہ یہ تھا کہ صدر بش کے ہوتے ہوئے یہ سارے مرحلے طے ہو جائیں گے… امریکہ سات
آٹھ مہینے یا زیادہ سے زیادہ ایک سال میں طالبان کو ختم کر دے گا… اور پاکستانی
حکمران دو تین سال میں پاکستان کو امریکہ اور بھارت کا پسندیدہ ملک بنانے میں
کامیاب ہو جائیں گے… مگر اللہ تعالیٰ بہت بڑا ہے، بہت عظیم ہے اور وحدہ لاشریک لہ
ہے… اس پلان کو پہلے مرحلے پر ہی ایسی بریک لگی کہ دنیا بھر کے کافروں کی حسرتیں
خاک میں مل گئیں… ہمارے حکمران تو کشمیر کو بریف کیس میں اور ایٹم بم کو ڈبے میں
ڈالے بیٹھے تھے کہ ملک بچانے کے لیے کسی بھی وقت یہ دو قربانیاں دینی پڑ سکتی ہیں…
حالانکہ کشمیر اور ایٹم بم نہ رہے تو پاکستان بھی ’’مرغی کا چوزہ‘‘ بن جائے گا اور
قدموں تلے روندا جائے گا… اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے افغانستان کے طالبان
کو… جنہوں نے مثالی ہمت جرأت اور جانبازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس زمانے کا عظیم
جہاد جاری فرمایا… اور کفریہ طاقتوں کو پاکستان پر حملے سے اب تک روکے رکھا…
پاکستان
کی فوجی قیادت اور حکمران دل کی آنکھیں کھول کر حالات کا تجزیہ کریں… تب انہیں
سمجھ میں آجائے گا کہ اگر افغانستان پر ’’صلیبی کافروں‘‘ کا مکمل قبضہ ہو گیا تو
پاکستان زیادہ دن اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکے گا… افغانستان کی تحریک پاکستان
کا حفاظتی حصار ہے، اللہ کے لئے اس حصار کو نہ توڑو… یہ ٹوٹ گیا تو بہت کچھ ٹوٹ
جائے گا…
٭٭٭
کے
پیارے بندے بھی عجیب ہیں… ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں… ہر حال میں
اللہ تعالیٰ سے راضی رہتے ہیں… اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی رضا والے کاموں میں
لگے رہتے ہیں… یہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ہیں… مسجد نبوی کے محراب میں زخمی
پڑے ہوئے ہیں… خون ہے کہ رُک نہیں رہا مگر جیسے ہی ہوش آتا ہے بس یہی پوچھتے ہیں
کیا میں نے نماز ادا کر لی ہے؟… یہ سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ ہیں… اُحد کے میدان
میں زخموں سے چور پڑے ہیں… پورا جسم چھلنی ہے اور روح جسم سے جدا ہو رہی ہے مگر
اپنا کام کر رہے ہیں… اے میرے انصاری ساتھیو! اگر تم آرام سے رہو اور رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف پہنچے… ایسا کبھی
نہیں ہونا چاہیے… ہزاروں مثالیں ہیں اور لاکھوںواقعات… یہ دنیا ایسے ہی لوگوں سے
خوبصورت اور آباد ہے… ایک بزرگ گزرے ہیں حضرت بشّار بن بُردس … وہ نابینا ہوگئے…
فرمانے لگے مجھے تین چیزوں کی ضرورت تھی … اللہ پاک نے تینوں کا انتظام فرما دیا…
مجھے اجر چاہیے تھا، مجھے آخرت کے لئے کوئی نیکی چاہیے تھی… اور مجھے نظر کی
حفاظت چاہیے تھی… اب نابینا ہوگیا ہوں تو تینوں چیزیں مل گئیں ہیں… الحمدللہ… وہ
فرماتے ہیں
رأیت
العمی اجرا و ذخرا و عصمۃ
وانی
الی تلک الثلاث فقیر
یعنی
میں نے پایا کہ نابینا ہونے میں اجر ہے، آخرت کا ذخیرہ ہے اور گناہوں سے حفاظت
ہے، بے شک میں تو ان تینوں چیزوں کا محتاج تھا… حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو
پائوں میں تکلیف ہوئی تو علاج کے طور پر پنڈلی کاٹ دی گئی… اور وہ شکر ادا کر رہے
تھے کہ یااللہ دونوں ہاتھ اور ایک ٹانگ تو سلامت ہے… حضرت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ
علیہ زندگی کی آخری گھڑیاں گزار رہے تھے… حضرت ابراہیم بن جراح رحمۃ اللہ علیہ اُن
کی عیادت کے لئے آئے… امام ابو یوسف پر غشی طاری تھی… تھوڑا سا ہوش آیا تو
ابراہیم بن جراح کے ساتھ ایک فقہی مسئلے کا مذاکرہ کرنے لگے… اور پھر اسی حالت میں
اس فانی دنیا کو علم کی خوشبو پھیلاتے پھیلاتے چھوڑ گئے… آج بھی اُن کا علم زندہ
ہے … اور اجر و ثواب کے خزانے جاری ہیں… حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما
آخری عمر میں آنکھوں سے معذور ہوئے تو فرمایا
ان
یأ خذ اللّٰہ من عینی نورھما
ففی
فؤادی و قلبی منھما نور
یعنی
اگر اللہ تعالیٰ نے آنکھوں کی روشنی لے لی تو کوئی بات نہیں میرے دل میں تو روشنی
موجود ہے… بے شک دل کی روشنی بہت بڑی نعمت ہے…
دنیا
سے کامیاب کون لوگ گئے:
حضرات
انبیاء کرام… حضرات صحابہ کرام، صدیقین، شہداء… یہ سب اللہ تعالیٰ کے شکر گذار
بندے تھے… اور سب نے اپنی زندگی کو آخرت کی تیاری سے قیمتی بنایا… زندگی قیمتی
بنتی ہے اللہ تعالیٰ کا نام لینے سے… اللہ تعالیٰ کا شکر اداکرنے سے… اور اللہ
تعالیٰ کی رضا والے کاموں میں لگے رہنے سے… غزوہ اُحد میں رسول پاک صلی
اللہ علیہ وسلم خود بھی زخمی… اور صحابہ کرام بھی زخموں سے نڈھال… اور
چاروں طرف شہداء کے جسموں کے ٹکڑے… اُسوقت دربار نبوت سے اعلان ہو رہا ہے
’’میرے
پیچھے صفیں باندھ لو تاکہ میں اپنے رب کی حمد و ثناء کروں‘‘
تقدیر
میں جو لکھا ہوتا ہے وہ تو ہو کر رہتا ہے… ایسے میں انسان اگر شکر کرلے، صبر کر
لے… اور ڈٹا رہے تو اجر ہی اجر… اور اگر ہائے واویلا اور ناشکری کرنے لگے تو مصیبت
بھی آگئی… اور اجر بھی نہ ملا… کسی شخص نے ایک عالم سے پوچھا حدیث پاک میں آتا
ہے
لا
یقضی اللّٰہ للعبد قضائً الا کان خیرالہ
کہ
اللہ تعالیٰ بندے کے لئے جو مقدر فرماتا ہے اُسی میں اُس بندے کے لئے خیر ہوتی ہے
… تو کیا اگر گناہ ہو جائے تو اس میں بھی خیر ہوتی ہے؟ عالم نے فرمایا ہاں اگر اُس
کے ساتھ توبہ، استغفار، ندامت اور عاجزی نصیب ہو جائے…
حضرت
آدم علیہ السلام سے ایک لغزش ہوئی… جی ہاں لغزش، گناہ نہیں… حضرات انبیاء علیہم
السلام تو معصوم ہوتے ہیں… اُس لغزش پر حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام خوب روئے،
خوب توبہ کی اور خوب ندامت فرمائی… اس توبہ، ندامت اور انکساری کی برکت سے اُن کا
مقام پہلے سے بھی اُونچا ہوگیا… اور اُن کی اولاد میں انبیاء علیہم السلام پیدا
ہوئے… ایک انسان پر کوئی پریشانی آتی ہے … وہ دعاء کرتا ہے، بار بار دعاء کرتا
ہے… مگر دعاء قبول نہیں ہوتی… دراصل اس کو ایک بڑی نعمت ملنے والی ہوتی ہے… دعاء
کرتے کرتے جب کافی عرصہ گذر جاتا ہے تو اُسے یقین ہو جاتا ہے کہ… میرے اندر کوئی
کمی ہے جس کی وجہ سے دعاء قبول نہیں ہورہی… میرا رب تو بہت کریم، بہت رحیم اور
دعائوں کو سننے والا ہے… دراصل میں ناقص ہوں اور اس قابل نہیں کہ میری دعاء قبول
کی جائے… بس وہ توبہ استغفار کی طرف متوجہ ہوتا ہے… اور اُس کے نفس میں انکساری،
تواضع اور خود کو ناقص سمجھنے کی جو روشنی پیدا ہوتی ہے وہ اُسے بلندیوں تک لے
جاتی ہے… بے شک جو تواضع اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اُسے بلندی عطاء فرماتا ہے…
مگر شرط یہ ہے کہ لگا رہے، جُڑا رہے… اگر مایوس ہوگیا تو تباہ ہو جائے گا… حضرت
یونس علیہ الصلوٰۃ والسلام مچھلی کے پیٹ میں جاکر بھی مایوس نہیں ہوئے…
لَآ
اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّالِمِیْنَ (الانبیاء:۸۷)
اُن
کا دل اس احساس سے بھر گیا کہ قصور میرا ہے… اور اللہ تعالیٰ بہت قدرت والا ہے… تب
اللہ تعالیٰ کی نصرت سمندر کی گہرائی میں… مچھلی کے پیٹ کے اندر بھی پہنچ گئی…
ظاہری طور پر کون سا سبب موجود تھا؟… کوئی بھی نہیں، کوئی بھی نہیں… اللہ تعالیٰ
وحدہ لاشریک لہ وہ اسباب کا محتاج نہیں… اسی لئے کہتے ہیں کہ امید کا دامن ہاتھ سے
نہ چھوڑو
اذا
اشتد علیک الامر وضاق بک الکرب و جاء ک الیأس فانتظر الفرج
جب
حالات بہت سخت ہوجائیں اور پریشانی بہت بڑھ جائے اور مایوسی حملے کرنے لگے تو اُس
وقت اچھے حالات کی امید رکھو…
معلوم
نہیں لوگ سعادت کے میدانوں کو چھوڑ کر کیوں بھاگ جاتے ہیں؟… ہم اللہ تعالیٰ سے جنت
مانگتے ہیں مگر اُس جنت کی محنت نہیں کرنا چاہتے… صحابہ کرام میں سے مدینہ منورہ
کے انصار نے کچھ عرصہ ’’جہاد‘‘ سے ’’چھٹی‘‘ لے کر اپنے گھر بار کی اصلاح کا ارادہ
کیا… قرآن پاک نے کڑک کر فرمایا…
وَ
لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ (البقرۃ: ۱۹۵)
کہ
خود کو اپنے ہاتھوں سے برباد نہ کرو… جہاد چھوڑ کر گھر بار میں مشغول ہوجانا
بربادی اور ہلاکت بتایا گیا… حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم ’’عمرہ‘‘ پر تشریف لے جار ہے ہیں… خطرہ تھا کہ ’’جنگ‘‘ بھی ہوسکتی
ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے آس پاس کے
قبائل کو بھی ساتھ چلنے کی دعوت دی… مگر اُنکی قسمت نے ساتھ نہ دیا اور وہ نہ گئے…
واپسی پر انہوں نے معافی مانگی اور وجہ یہ بتائی کہ… گھر بار کی مشغولیت تھی…
پیچھے گھروں کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں تھا… قرآن پاک نے اُن سے پوچھا کہ
کیا گھروں اور گھر والوں کی قسمت تمہارے ہاتھ میں ہے؟… اگر اللہ تعالیٰ تمہیں
نقصان پہنچانا چاہے تو گھروں میں بیٹھ کر اُس سے بچ سکتے ہو؟… اور اگر اللہ تعالیٰ
تمہیں نفع پہنچانا چاہے تو تمہاری غیر موجودگی میں بھی پہنچ سکتا ہے…
تو
پھر سعادت کا راستہ چھوڑنے سے کیا ملا؟… بہت سے مجاہد لمبی چھٹی پر گئے اور پھر
چلے ہی گئے ابھی تک واپس نہیں آئے… دنیا کی قیمت اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر
کے برابر بھی نہیں… مگر دنیا جب کسی کو گھیر لیتی ہے تو پھر دانے دانے کے لئے ذلیل
کرتی ہے اور گھونٹ گھونٹ کے لئے ترساتی ہے… اُبامہ کہتا ہے کہ میں افغانستان میں
بش کی شروع کی ہوئی ’’صلیبی جنگ‘‘ کو جیتوں گا… تو پھر اُمت محمدیہ کے مجاہدین
اپنی چھٹیاں منسوخ کیوں نہیں کردیتے؟… گھر بار کے بارے میں ’’توکل علی اللہ‘‘ کیوں
نہیں کرتے… اور للکار کر جواب کیوں نہیں دیتے کہ فتح انشاء اللہ ہماری ہوگی… خوش
نصیب لوگ تو شہادت پاگئے… اور پیچھے والوں کا امتحان جاری ہے… جو ڈٹا رہے گا وہ
انشاء اللہ اونچی منزل پائے گا… اور جو اِس ملعون دنیا کے پیچھے بھاگ جائے گا… وہ
اپنے شہداء ساتھیوں کو کیا جواب دے گا… یا اللہ استقامت کا سوال ہے…
حضرت
نوح علیہ السلام کامیاب ہوئے مگر وہ ساڑھے نو سو سال تک ستائے گئے… قوم کے ظالم
اُن کو مارتے تھے یہاں تک کہ دادا بھی مارتا تھا اور اُس کا پوتا بھی… سبحان اللہ!
عزت والے رسولوں نے دین کی خاطر کیسا رویّہ برداشت فرمایا… ہاں اللہ پاک کی رضاء
کے لئے یہ سب کچھ بہت سستا ہے… حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کی تکلیفوں کو ہم
کتابوں میں پڑھتے ہیں تو آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے… ہم میں سے کوئی
ہوتا تو کتنے دن استقامت دکھاتا؟… ہم تو پلاسٹک کے بنے ہوئے لوگ ہیں، تھوڑی سی
تکلیف آئی تو ساری جرأت ختم … وہاں تو صبح و شام خوفناک تکلیفیں تھیں… عرب کا
تپتا صحراء ،دوپہر کے وقت اُسکی ریت پر گوشت رکھا جائے تو پک جاتا ہے… سیّدنا بلال
رضی اللہ عنہ وہاں روز لٹائے جاتے تھے… سینے پر پتھر ، گلے میں رسّی، لاتیں، مکّے
اور گالیاں… مگر زبان پر اَحَدٌ اَحَدٌ… اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے… اُس وقت تو اس
بات کا امکان ہی نہیں نظر آتا تھا کہ کبھی حالات ٹھیک ہوں گے… خیر اللہ پاک کی
مدد آئی حالات اچھے ہوگئے… اور بالآخردنیا سے رخصت ہوئے اللہ پاک نے جنت دکھائی
تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو اپنی تمام قربانیاں جنت کے مقابلے میں بہت کم اور
حقیر نظر آنے لگیں… سبحان اللہ جنت اتنی قیمتی ہے… معلوم نہیں ہم اپنے ساتھ کیا
لے جائیںگے، سیدنا بلال حبشیذ کے پاس تو قربانیوں اور سعادتوں کے أنبار تھے… حضرت
ابراہیم علیہ السلام کامیاب ہوئے مگر پوری زندگی اول تا آخر امتحان ہی امتحان…
آزمائشیں اور سختیاں… نمرود کی آگ اور پھر بیٹے کے گلے پر چھُری… حضرت موسیٰ
علیہ السلام کامیاب ہوئے مگر بچپن سے لیکر وفات تک امتحان ہی امتحان… حضرت عیسیٰ
علیہ السلام کامیاب ہوئے… یہودیوں نے اُن کے خلاف کیا کچھ نہیں کیا… بالآخر قتل
کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر اٹھا لیا… حضرات خلفائے راشدین کامیاب
ہوئے… ایک نظر اُن کی زندگیوں پر ڈال لیں… اللہ اکبر امتحان ہی امتحان… اور
قربانیاں ہی قربانیاں… اور ان سب سے بڑھ کر میرے آقا حضرت محمد صلی
اللہ علیہ وسلم … آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیاں اور محنتیں
تو اتنی ہیں کہ گننے والے گنتے گنتے رو پڑتے ہیں اور اُنکی آنکھیں حیرت سے پھٹنے
لگتی ہیں… مگر آقا صلی اللہ علیہ وسلم ہر موقع پر اللہ
تعالیٰ سے راضی رہے تب جواب آیا
وَلَسَوْفَ
یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی (الضحی:۵)
کہ
عنقریب آپ کارب بھی آپ کو راضی کردے گا
اور
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کام میں لگے رہے… یہی محنت اور
استقامت تھی کہ دشمن مغلوب ہوتے گئے… اور ان میں سے بہت سے آپؐ کے وفادار غلام بن
گئے… رات چھٹ گئی اور دن آگیا اور اسلام کی روشنی پورے عالم کو جگمگانے لگی… ہاں
یہ دنیا اور آخرت شکر گزاروں اور محنت کرنے والوں کی ہے… اللہ تعالیٰ ہمیں بھی
شکر گزاروں میں سے بنا دے اور ہمارے دلوں کو مضبوط فرما دے اور ہم سے بھی دین کا
مقبول کام لے لے… (آمین یا ارحم الراحمین)
شکریہ
تُرک مسلمان کا
الحمدللہ
’’ترکی‘‘ کے حالات بد ل رہے ہیں… جی ہاں’’ترکی‘‘ کمال اتاترک کے باطل نظریات سے
آہستہ آہستہ ابھر رہاہے… ’’ترکوں‘‘ نے ماضی میں اسلام کی بہت خدمت کی ہے… یہ
بہادر قوم ایک زمانے میں مسلمانوں کی جائز حکمران رہی ہے… مسلمانوں کی آخری خلافت
اسی قوم کے پاس تھی… ’’خلافت عثمانیہ‘‘ آہ خلافت عثمانیہ… جس کے ختم ہونے کے بعد
ہم مسلمان زندہ لاش کی طرح مُردار خور جانوروں کے قبضے میں ہیں… سامراج نے محنت کی
اور ترکوں کو توڑ دیا… اور یہ عظیم مسلمان قوم بکھر گئی… پھر کمال اتاترک کا عذاب
آیا جس نے اس قوم کا اسلامی تشخص چھیننے میں کافی حد تک کامیابی حاصل کی… مگر
اسلام تو اسلام ہے، اُسکی جڑیں بہت مضبوط اور گہری ہوتی ہیں… لوگ آج لینن، مارکس
اور اسٹالن کے نام تک کو بھولتے جا رہے ہیں جبکہ سرزمین فرغانہ سے لے کر چیچنیا
اور قفقاز تک… اور آگے سائبریا اور منگولیا تک اسلام کی اذان الحمدللہ پھر گونج
رہی ہے… لوگ آج کریملن کو بھول رہے ہیں جبکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر
پروانوں کی طرح گِر رہے ہیں… ترکوں کی رگوں میں بھی اسلامی فاتحین کا خون ہے… کچھ
عرصہ سے وہاں ایک نسبتاً اسلامی پارٹی کی حکومت ہے… جناب طیّب اردگان دوسری بار ملک
کے وزیر اعظم بنے ہیں… وہ اپنی بیوی اور بیٹیوں کو دوپٹہ (اسکارف) پہناتے ہیں…
ترکی میں کسی وزیر اعظم کے لئے اس کا تصور بھی محال تھا… انہوں نے اپنی ایک نظم
میں ’’جہاد‘‘ کا بھی تذکرہ کیا تھا جس کی پاداش میں اُن پر طویل مقدمہ چلا… ابھی
تازہ کارنامہ یہ ہوا کہ ایک عالمی اجلاس میں انہوں نے اسرائیل کے صدر کو تقریر کے
دوران ٹوک کر کھری کھری سنا دیں… اللہ تعالیٰ اُن کو خوب جزائے خیر عطاء فرمائے…
غزہ کے مظلوم بچوں کے حق میں اُٹھنے والی یہ آواز ایک روشن مستقبل کی طرف واضح
اشارہ ہے… ترکی کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی ہیں… اور ماضی میں یہ دونوں
ملک آپس میں بہت قریب رہے ہیں… اس لئے ترکی سے اتنے طویل عرصے بعد مسلمانوں کے حق
میں آواز کا بلند ہونا ایک ’’قابل شکر‘‘ نعمت ہے… اللہ تعالیٰ ترکوں میں دوبارہ
سلطان بایزید یلدرم رحمۃ اللہ علیہ جیسے جری جانباز پیدا فرمائے آمین یا ارحم
الراحمین
وصلی
اللّٰہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد واٰلہ وصحبہٖ وسلم تسلیماً کثیرا کثیرا
کثیرا
٭٭٭
ایمان
والوں سے راضی ہوا، جب وہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے درخت
کے نیچے بیعت کر رہے تھے … پھر اللہ تعالیٰ نے جان لیا جو
کچھ ان کے دلوں میں تھا پس اس نے ان پر اطمینان نازل فرمایا اور انعام میں ان کو
ایک قریبی فتح دی اور بہت سی غنیمتیں جن کو وہ لیں گے
اور اللہ تعالیٰ غالب، حکمت والا ہے(القرآن) …
یہ
قرآن پاک کی دو آیات کا ترجمہ ہے… سورۃ الفتح کی آیات ۱۸ اور ۱۹ کا
… اور اس میں تذکرہ ہے ایک ’’بیعت‘‘ کا… بیعت رضوان، بیعت علی الجہاد اور بیعت علی
الموت کا… اللہ اکبر کبیر!…کتنا عجیب منظر تھا… ایک درخت کے
نیچے بیعت اور اُس پر اللہ تعالیٰ کی رضا کا اعلان… اور پھر
فتوحات ہی فتوحات اور غنیمتیں ہی غنیمتیں…
آئیے
ماضی کے اس سچے واقعہ کا تھوڑا سا جائزہ لیتے ہیں… شاید ہماری قسمت بھی اچھی
ہوجائے۔
یادگار
لمحات کی منظر کشی
جب
وہ ’’درخت‘‘ کے نیچے بیعت کر رہے تھے… یہ ان یادگار لمحات کی خوبصورت منظر کشی ہے
جب راہِ حق کے مسافروں نے اپنی منزل کو پالیا… ایک مؤمن کی سب سے اونچی اور آخری
منزل اللہ تعالیٰ کی رضا ہے… وہ درخت کے نیچے بیعت کر رہے
تھے اور اعلان ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگیا…
’’بیعت علی الجہاد‘‘ کا عمل کتنا عظیم اور مبارک عمل ہے… اور دین کی خاطر اپنی جان
قربان کرنے کا عزم ایمان کا کتنا اونچا درجہ ہے
کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا ہی میں اپنی رضا کا اعلان کردیا…
سبحان اللہ وبحمدہ
سبحان اللہ العظیم…
مسلمان
کی قیمت اور طاقت
ایک
مسلمان کے خون کی قدر ومنزلت دیکھیں… حضرت سیّدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت
کی خبر سنتے ہی البیعۃ البیعۃ کا اعلان ہوگیا کہ اے مسلمانو! جلدی آؤ، بیعت کرو…
روح القدس بھی زمین پر اتر آئے ہیں… حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین تیزی
سے لپکے، بیعت شروع ہوگئی… ہم بیعت کرتے ہیں کہ مرتے دم تک لڑیں گے… ہم بیعت کرتے
ہیں کہ میدان جہاد سے پیٹھ نہیں پھیریں گے… چودہ پندرہ سو افراد
نے اللہ تعالیٰ کی خاطر مرنے کا عزم کیا تو زمین و آسمان
میں ہلچل مچ گئی… اور مشرکین مکہ اپنے گھر میں مرعوب اور خوفزدہ ہوگئے … وہ سمجھ
گئے کہ یہ مسلمان تھوڑے ہیں مگر ایک جسم ہیں، ایک جان ہیں… اور انہیں زندہ رہنے کا
شوق نہیں ہے… تب وہ خود’’صلح‘‘ کا پیغام لے کر پہنچ
گئے… اللہ اکبر کبیرا… بے شک مسلمان جب جان دینے پر آجائے
تو وہ بہت طاقتور ہوجاتا ہے… اور بہت قیمتی بن جاتا ہے… دراصل ’’بیعت علی الجہاد‘‘
کرنے والا مسلمان خود کو اللہ تعالیٰ کے پاس بیچ دیتا ہے…
وہ اللہ تعالیٰ کا ہوجاتا ہے… اور
جو اللہ تعالیٰ کا ہوجائے اس کی قوت، قیمت اور طاقت کا کون
اندازہ لگاسکتا ہے؟…
زخمی
دلوں کا سکون
اللہ تعالیٰ
راضی ہوگیا… حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زخمی دلوں کو قرار
آگیا… اللہ تعالیٰ کی رضاء ہی کے لیے ان کی تمام محنتیں
تھیں اور تمام قربانیاں… انہوں نے ماریں کھائیں، وطن سے نکالے گئے، دنیا کی ہر
گالی اور ہر ظلم نے ان پر رستہ بنایا… بھوک، پیاس، زخم، خوف اور حالات کے تھپیڑے…
ہر دن نئی آزمائش اور ہر رات نیا خوف… یہ سب کچھ کس کی خاطر تھا؟…
دنیا
کے مال و دولت کی خاطر؟… یہاں کے آرام، عیش اور عزت کی خاطر؟ نہیں ہر گز نہیں … یہ
سب کچھ تو وہ چھوڑ کر آئے تھے… بے شک ان کے جسموں اور دلوں پر جو ان گنت زخم تھے
ان کا بدلہ دنیا کی کوئی چیز بن ہی نہیں سکتی تھی… ان کے دلوں کا سکون بس یہی چیز
تھی جس کا اعلان اس آیت مبارکہ میں ہوا لقد
رضی اللہ کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی
ہوگیا… زخمی دلوں کے سکون کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی مرہم نہیں
تھا… اللہ تعالیٰ راضی ہوگیا… یہی تو ان کی آخری تمنا تھی…
یہی تو ان کی سب سے بڑی چاہت تھی اور یہی وہ منزل تھی جس کی خاطر ان کا مرنا اور
جینا تھا… اللہ تعالیٰ راضی ہوگیا… یہ اعلان اُنہیں کس موقع
پر سنایا گیا؟… ’’بیعت علی الجہاد‘‘ کے موقع پر… وہ گھر سے عمرہ کرنے نکلے تھے مگر
اب ان کو بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے جان دینی ہے… اور
ایک مسلمان کے خون کا بدلہ لینا ہے… اور مرتے دم تک لڑنے کی بیعت کرنی ہے… اس وقت
وہ ذرہ برابر نہ ہچکچائے … اور نہ کسی خوف اور شک میں مبتلا ہوئے… وہ بیعت کے لیے
کیکر کے درخت کی طرف دوڑ پڑے جہاں آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم بیعت لے
رہے تھے… انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر
اپنی قیمتی زندگیاں بیچ دیں… اور گھروں کو واپسی کا خیال ہی دل سے نکال دیا…
جب
زندہ رہنے کا خیال دل سے نکلا اور جان دینے کا عزم پختہ ہوا تو عرش سے پیغام آگیا
:
(ترجمہ)
’’بے شک اللہ تعالیٰ بیعت کرنے والوں سے راضی ہوگیا‘‘
(القرآن)
درخت
کے نیچے
قرآن
پاک کے ہر لفظ میں حکمتوں کے خزانے ہیں… کیونکہ یہ ’’رب حکیم‘‘ کا حکمت والا کلام
ہے… ارشاد فرمایا:
(ترجمہ) اللہ تعالیٰ
ایمان والوں سے راضی ہوا جب وہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے
درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے۔
سبحان اللہ
! درخت کے نیچے: ایک تو اس تذکرے میں عجیب مٹھاس ہے کہ وہ
منظر اللہ تعالیٰ کو اتنا پسند آیا کہ اس کی کیفیت تک اپنی مبارک کتاب
میں محفوظ فرمادی… محبت کے خصوصی لمحات کا تذکرہ اسی طرح ہوتا ہے کہ جگہ اور مقام
بھی یاد رکھا جاتا ہے… بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس واقعہ کی مزید تاکید کے لیے
فرمایا کہ یہ وہ بیعت ہے جو درخت کے نیچے ہوئی تھی… اور آپ صلی اللہ
علیہ وسلم نے کسی خوف کی وجہ سے نہیں… بلکہ جذبہ جہاد کے تحت یہ بیعت ایک درخت کے
نیچے کھلم کھلا لی تھی…
تحت
الشجرۃ: اشارۃ الی مزید وقع تلک المبایعۃ وانہا لم تکن عن خوف منہ علیہ
الصلوٰۃ والسلام (روح المعانی)
اللہ تعالیٰ
سے بیعت
سبحان اللہ
… ’’بیعت علی الجہاد‘‘ کرنے والوں کی قسمت ایسی جاگی
کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
(ترجمہ)
’’بے شک جو لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے بیعت کر رہے ہیں
وہ اللہ تعالیٰ ہی سے بیعت کر رہے ہیں اور ان کے ہاتھوں
پر اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے پس جو اس (بیعت اور عہد) کو توڑ
دے گا تو اس توڑنے کا وبال خود اُس پر ہوگا اور جو وہ عہد پورا کرے گا جو اس
نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے تو
عنقریب اللہ تعالیٰ اس کو اجر عظیم عطاء فرمائے گا۔‘‘
(الفتح۱۰)
حضرات
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی خوش نصیبی دیکھیں… ایک طرف تو ان کے ہاتھوں
کو آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں کا مصافحہ اس بیعت میں
نصیب ہو رہا تھا… بجائے خود یہ بہت بڑی سعادت تھی…
مگر اللہ پاک جب نوازنے پر آئے تو اس کی رحمت بہت وسیع ہے،
چنانچہ فرمایا کہ یہ بیعت خود اللہ تعالیٰ کے ساتھ
ہے… اللہ اکبر کبیرا… اس جملے کی لذت اور کیفیت کا اندازہ
لگانا بھی مشکل ہے کہ ایک انسان کو حق تعالیٰ جلّ شانہٗ سے بیعت کی سعادت مل رہی
ہے… پھر اس پر اور اضافہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ان
کے ہاتھوں پر ہے… اللہ ، اللہ ، اللہ … عجیب
فضیلت ہے اور عجیب سعادت … اللہ تعالیٰ کے ہاتھ کی کیا
کیفیت ہے یہ تو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے…
کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر مشابہت سے پاک ہے…
لیس
کمثلہ شیء :
مگر
اس جملے کی کیفیت کا خاص سرور اور مقام حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین
کو نصیب ہوا کہ… بیعت کے وقت اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت، محبت
اور نصرت ان پر متوجہ تھی… حضرات صحابہڑ کو یہ انعام بیعت علی الجہاد کے عمل کے
وقت نصیب ہوا جس سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بیعت علی الجہاد کا
عمل اللہ تعالیٰ کو کتنا محبوب ہے… دوسرے مسلمان بھی جب اس
عمل کو شرعی شرائط کے مطابق زندہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ
کی طرف سے طرح طرح کے انعامات اور فتوحات پاتے ہیں…
بیعت
علی الجہاد کے عظیم الشان فوائد
حضرات
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ’’حدیبیہ‘‘ کے موقع پر جب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر … جہاد
کی بیعت فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے انعامات کی
بارش فرمادی… ان انعامات کو تفصیل سے لکھا جائے تو ایک پوری کتاب بن جائے… جو
مسلمان اس موضوع پر دلچسپی رکھتے ہوں وہ قرآن پاک کی ’’سورۃ الفتح‘‘ کا… مستند
تفاسیر کی روشنی اور علماء کرام کی رہنمائی میں مطالعہ فرمالیں… تب انہیں اندازہ
ہوگا کہ مسلمانوں نے ’’بیعت علی الجہاد‘‘ کا عمل چھوڑ کر اپنا کتنا عظیم نقصان کیا
ہے… اس مختصر سے کالم میں ہم صرف ان انعامات کا خلاصہ عرض کر رہے ہیں جو اس بیعت
پر حضرات صحابہ کرام ڑکو عطاء فرمائے گئے…
۱ اللہ تعالیٰ
کی رضاء : لقد رضی اللہ عن المؤمنین
۲ اللہ تعالیٰ
سے بیعت کرنے کا اعزاز: انما یبایعون اللہ
۳ اللہ تعالیٰ
کی خصوصی توجہ اور نصرت: ید اللہ فوق ایدیہم
۴ اجر
عظیم یعنی جنت: فسیوتیہ اجرا عظیما
۵ ان
کے اخلاص کی قبولیت: فعلم مافی قلوبہم
۶ سیکنہ
کا نازل ہونا: فانزل السکینۃ علیہم
۷ فتوحات
ہی فتوحات: واثابہم فتحا قریبا
۸ معاشی
استحکام اور غنیمتوں کی کثرت: ومغانم کثیرۃ
۹ دشمنوں
کے دلوں پر ایسا رُعب طاری ہونا کہ وہ نقصان نہ پہنچا سکے : وکف ایدی
الناس عنکم
۱۰ صراط
مستقیم: ہدایت کے پھیلنے کا ذریعہ بننا: ویہدیکم صراطا
مستقیما ۔
امام
ابن کثیرس لکھتے ہیں کہ اس بیعت کے بعد مسلمانوں پر فتوحات، غنیمتوں اور مقامات کی
بوچھاڑ ہوگئی… سب سے پہلے تو یہ فتح ملی کہ مشرکین مکہ جنگ نہ کرسکے، صلح پر مجبور
ہوئے… پھر خیبر فتح ہوا اور مسلمان مالا مال ہوگئے پھر مکہ مکرمہ فتح ہوا… اور پھر
ملکوں کے ملک فتح ہوتے چلے گئے اور حضرات صحابہ کرام ڑکو دنیا وآخرت کے بلند
مقامات اور درجات مل گئے۔ (مفہوم تفسیر ابن کثیر۔۱)
اللہ تعالیٰ
کا دین قیامت تک کے لیے ہے… مسلمان جب بھی ’’بیعت علی الجہاد‘‘ کے عمل کو اپناتے
ہیں اور سچے دل سے بیعت کرکے اسے نباہتے ہیں تو… بے شمار فوائد اپنی آنکھوں سے
دیکھتے ہیں… اللہ تعالیٰ کی رضا سے بڑھ کر اور کیا چیز
ہوسکتی ہے… ہر مسلمان اس نعمت کا بے حد محتاج ہے اور آج امت مسلمہ کو فتوحات کی
ضرورت ہے… اللہ تعالیٰ کی نصرت کی حاجت ہے… اور معاشی
استحکام کی ضرورت ہے… ’’بیعت علی الجہاد‘‘ کا عمل قرآن پاک میں اسی لیے مذکور ہوا
کہ ہم مسلمان اسے اپنائیں… اور ان فوائد کو حاصل کریں جو اس ’’بیعت‘‘ کی صورت میں نصیب
ہوتے ہیں…
رسمی
بیعت دین کا مذاق
اللہ تعالیٰ
کا ارشاد ہے:
فعلم
مافی قلوبہم کہ اللہ تعالیٰ نے جان لیا اس کو جو اُن کے دلوں
میں تھا… یعنی صحابہ کرام ڑکی بیعت محض رسمی بیعت نہیں تھی بلکہ وہ سچے دل سے جہاد
کرنے اور دین کی خاطرجان قربان کرنے کے لیے بیعت کر رہے تھے…
۱ ان
کے دلوں میں جو سچائی، وفاداری، حکم سننے اور ماننے کا جذبہ تھا
وہ اللہ تعالیٰ نے جان لیا۔
ای
من الصدق والوفاء والسمع والطاعۃ (ابن کثیر)
۲ ان
کے دلوں میں بیعت کو نباہنے کا جو سچا جذبہ تھا کہ ہم ہرگز میدانِ جہاد سے پیٹھ
نہیں پھیریں گے وہ جذبہ اللہ تعالیٰ نے جان لیا اور پسند
فرمایا کہ وہ واقعی سچے دل سے ’’بیعت علی الجہاد‘‘ کر رہے تھے۔
وقال
ابن جریج وقتادۃ: من الرضا بأمر البیعۃ علی الا یفروا (القرطبی)
معلوم
ہوا کہ صرف اسی ’’بیعت علی الجہاد‘‘ سے اللہ تعالیٰ کی رضا
اور دیگر نعمتیں ملتی ہیں جس کو نباہنے کا سچا اور پکا جذبہ دل میں ہو… اگر ایسا
نہ ہو تو ’’بیعت‘‘ ایک مذاق بن جاتی ہے… اور دین کے کسی کام کا مذاق بنانے والے
بالآخر خود ایک بھیانک مذاق بن جاتے ہیں۔ (العیاذ باللہ )
یہودی
کانپ اٹھے
بیعت
تو حدیبیہ میں ہو رہی تھی مگر اس کے اثرات دور دور تک پہنچ رہے تھے … سب سے پہلے
جہاں اس بیعت کی روشن کرنیں پہنچیں وہ ’’خیبر‘‘ کا زرخیز اور شاداب علاقہ
تھا… اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم آچکا تھا کہ ’’خیبر‘‘ پر
حملے کے لیے صرف وہی افراد جائیں گے جنہوں نے ’’بیعت رضوان‘‘ میں حصہ لیا تھا… یہی
چودہ پندرہ سو افراد جب ’’خیبر‘‘ پہنچے تو اس زمانے کا ’’اسرائیل‘‘ ایک پکے ہوئے
پھل کی طرح ان کی گود میں آگرا… حالانکہ خیبر کے قلعے اپنی مضبوطی میں… اور وہاں
کے دس ہزار جنگجو اپنی بہادری میں ایک مثال مانے جاتے تھے… مگر ’’بیعت علی
الجہاد‘‘ اپنا رنگ دکھا رہی تھی اور یہودی بغیر لڑے اپنے قلعے چھوڑ کر بھاگ رہے
تھے… کئی مقامات پر لڑائی بھی ہوئی مگر مسلمان غالب رہے
اور اللہ پاک کے وعدوں کا پہلا حصہ ’’خیبر‘‘ کی شاندار فتح
کی صورت میں مسلمانوں کو نصیب ہوگیا… اور مسلمانوں کی معاشی تنگی دور ہوگئی… آج جب
اسرائیلی طیارے گرجتے ہیں اور ان کے گنجے حکمران مسلمانوں کی بے بسی پر قہقہے
لگاتے ہیں… اور جب غزہ کے معصوم بچوں کی گردنوں سے خون اور ماں کا دودھ ایک ساتھ
بہتا ہے تو … معلوم نہیں مجھے کیوں… غزوہ خیبر یاد آجاتا ہے… اور وہ درخت جس کے
نیچے جہاد کی بیعت ہوئی تھی…
’’
بیعت علی الجہاد … اور غزوہ خیبر میں کتنا فاصلہ تھا؟‘‘… کوئی ہے جو اس بکھری ہوئی
امت کو یہ نکتہ سمجھا سکے؟…
وصلی اللہ تعالیٰ
علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد وآلہٖ وصحبہٖ وسلم تسلیماً کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
سچّے اُمَّتِی
غنی
ہے، بے نیاز ہے… وہ نہ ہماری نماز کا محتاج ہے اور نہ صدقے کا… وہ جس کو چاہے بخش
دے اور جس کو چاہے عذاب دے… وہ جس کو چاہے روزی میں وسعت دے اور جس کو چاہے تنگی
دے… اُس سے کوئی کچھ نہیں پوچھ سکتا… یہ تو اُس کی رحمت ہے کہ اپنے بندوں کوبعض
کاموں کا حکم فرماتا ہے اوربعض کاموں سے روکتا ہے… اُس کو تو اِسکی ضرورت نہیں…
ساری دنیا نافرمان ہو جائے اُسے کیا پرواہ… اُسکی اطاعت کرنے والی مخلوق بے شمار
ہے… اتنے بڑے بڑے فرشتے اُسکی اطاعت میں لگے ہوئے ہیں کہ اگر وہ فرشتے اپنا ایک پر
پھیلا دیں تو تمام انسان اور جنات اُس کے اندر چھپ جائیں… اللہ اکبر کبیرا… یہ
فرشتے ڈر ڈر کر کانپ کانپ کر اُس کا حکم مانتے ہیں اور ذرہ برابر نافرمانی کا
تصور بھی نہیں کر سکتے… وہ جلال والا اور اکرام والا رب ہے… آسمان
زمین اور سورج، چاند ستارے سب اُس کے جلال اور غضب سے ڈرتے ہیں… اُس نے ایک بے جان
قطرے یعنی نطفے سے اتنا خوبصورت انسان بنادیا… وہ قطرہ تو ایک جیسا ہوتا ہے مگر اس
میں سے کسی سے مرد کو بنایا اور کسی سے عورت کو… اب یہ انسان اللہ تعالیٰ کے سامنے
اکڑتا ہے اور نخرے کرتا ہے… اور اپنی حیثیت کو بھول جاتا ہے… حکمرانوں کی تقریریں سنیں
تو حیرانی ہوتی ہے وہ تھوڑی سی فوج اور پولیس کے سہارے خود کو خدا سمجھ بیٹھتے
ہیں… اور پھر چند دنوں کے بعد مٹی میں مل جاتے ہیں… جو اللہ تعالیٰ کو پہچانتا ہے
وہ کبھی تکبّر میں مبتلا نہیں ہو سکتا… اور نہ ’’خودپسندی‘‘ کی بیماری اُسے برباد
کر سکتی ہے… مگر کیا کیا جائے گناہوں اور نافرمانیوں نے ہمارے دل سخت کر دیئے ہیں…
یہ دل اب نور اور روشنی کو محسوس نہیں کر سکتے… اسی لئے تو ہر طرف فساد ہی فساد
ہے… قرآن پاک نے کچھ لوگوں کا ذکر فرمایا ہے کہ اُن کے گناہوں نے اُن کو گھیر لیا
ہے… حضرت شاہ عبدالقادر صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ گناہوں کے
گھیرنے کا مطلب یہ ہے کہ گناہ کرتا ہے اور شرمندہ نہیں ہوتا… ایک مسلمان کو قتل
کرنے سے بڑا گناہ شرک و کفر کے بعد اور کونسا ہو سکتا ہے؟… آج پاکستان میں یہ
گناہ سرکاری اور مذہبی فیشن بن گیا ہے… آج پاکستان میں روز آنہ خیبر سے کراچی تک
درجنوں مسلمان بے گناہ مارے جاتے ہیں… حکومتی سطح پر تو یہ کام بہت عرصہ سے جاری
ہے… ہر حکمران ایسی خفیہ ایجنسیاں اور فورسز بناتا ہے جو اُس کے حکم پر مسلمانوں
کو قتل کرتی ہیں… ایک مسلمان کے قتل پر زمین خون اور کانٹوں سے بھر جاتی ہے… کہا
جاتا ہے کہ جب زمین پر پہلا ناحق خون ہوا تو اُس کے بعد زمین پر کانٹے اُگے اور
پھل کھٹے ہوگئے… قرآن پا ک فرماتا ہے کہ جو ناحق
کسی مسلمان کو قتل کرے گا وہ ہمیشہ جہنم میں جلے گا… مگر کسی کو اسکی پرواہ نہیں…
اور اب تو ندامت بھی نہیں… ہر غنڈہ دوسرے افراد کو قتل کی دھمکی دیتا ہے… کسی کی
کوئی بات بری لگی تو قتل… کسی کا مضمون پسند نہیں آیا تو قتل… اور کسی نے تھوڑی
سی گستاخی کردی تو قتل… اللہ اکبر! ایک مسلمان کی جان کی قیمت تو زمین و آسمان
نہیں بن سکتے… اسی لئے اللہ پاک نے اپنے خاص ایمان والوں کی جان کو جنت کے بدلے
خرید لیا ہے… آپ خود سوچیں جس چیز کا خریدار اللہ تعالیٰ ہو وہ چیز کتنی بڑی اور
کتنی قیمتی ہوتی ہے… ’’حدیبیہ‘‘ کے موقع پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اپنا قاصد بنا کر مشرکین کے
پاس بھیجا… وہاں سے خبر آگئی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہید کردئیے گئے ہیں… تب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو صحابہ کرام سے موت
اور جہاد کی بیعت لی… اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرا ہاتھ تمہارے ہاتھوں کے اوپر
ہے اور یہ بیعت خود اللہ تعالیٰ سے ہے… پھر جب بیعت ہوگئی تو مشرکین پر رعب پڑ
گیا… آج کے حکمران تو اپنے ملک کے لوگوں پر مقدمے چلا کر انڈیا کے مشرکین کو راضی
کر رہے ہیں… عجیب شرمناک اور دردناک صورتحال ہے کہ انڈیا کے مجرموں پر پاکستان میں
مقدمہ چل رہا ہے… جبکہ انڈیا میں اُن لوگوں کو تمغے اور اعزازات دیئے جاتے ہیں جو
پاکستان کے خلاف کام کرتے ہیں… پاکستان کو توڑتے ہیں اور پاکستان میں دہشت گردی کی
سرگرمیاں کرتے ہیں… دراصل جو شخص مسلمانوں کو قتل کرتا ہے اُسکی اللہ تعالیٰ کے
ہاں کوئی قیمت باقی نہیں رہتی… اور وہ ذلیل و خوار لوگوں میں لکھ دیا جاتا ہے…
ہمارے حکمران چونکہ مسلمانوں کو ناحق قتل کرتے ہیں اسی لئے انکی کسی بھی جگہ کوئی
عزت نہیں ہے… امریکہ ان کے ساتھ لونڈیوں جیسا سلوک کرتا ہے… اور انڈیا ان کو اپنے
جوتے کی نوک پر رکھتا ہے… حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے
حضرات صحابہ کرام سے ’’بیعت علی الجہاد‘‘ لی تو مشرکین خود صلح کا پیغام لے کر
آگئے… اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی چھوٹ گئے… مگر اہلِ ایمان کا خون گرم ہو
چکا تھااور وہ مکہ مکرمہ کو فتح کرنا چاہتے تھے… مشرکین میں سے بھی بعض لوگ یہی
چاہتے تھے کہ جنگ ہوجائے اُن کا گمان تھا کہ ہم اپنے گھر میں ہیںاور مسلمان اپنے
علاقے سے بہت دور ہیں… اس لئے مسلمانوں کے خاتمے کا یہ بہترین موقع ہے… تب انہوں
نے مختلف شرارتیں کرکے مسلمانوں کو بھڑکانے کی کوشش کی… مگر اہلِ اسلام کی جماعت
مضبوط تھی… وہ جانتے تھے کہ جب لڑنے کا حکم ہو تو لڑنا ایمان ہے… اور جب نہ لڑنے
کا حکم ہو تو نہ لڑنا ایمان ہے… وہ ایمان کے تقاضوں کو خوب جانتے تھے… اُس وقت
مشرکین نے اُن کے صبر اور اُنکی اطاعت کو توڑنے کی بہت کوشش کی… انہوں نے معاہدے
کی شرائط بہت سخت رکھیں جو مسلمانوں کو ناگوار تھیں… انہوں نے مکہ سے بھاگ کر آنے
والے مسلمان حضرت ابو جندل رضی اللہ عنہ کی واپسی کا مطالبہ کیا… انہوںنے صلح نامہ
میں ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ اور ’’محمد رسول اللہ‘‘ کے الفاظ کٹوائے… یہ سب
کچھ ناقابل برداشت تھامگر مسلمانوں کو بتا دیا گیا تھا کہ ابھی لڑنے کا حکم نہیں
ہے… چنانچہ مسلمان سب کچھ برداشت کرتے چلے گئے بعد میں اُن کو بتایا گیا کہ دراصل
مکہ مکرمہ میں کچھ مظلوم مسلمان ایسے تھے جن کو تم نہیں جانتے تھے… اس بار اگر جنگ
ہو جاتی تو وہ مسلمان تمہارے ہاتھوں سے پیسے جاتے… بس اُن کی حفاظت کے لئے
مسلمانوں کو اس موقع پر لڑنے کی اجازت نہیں دی گئی… تفسیر کی کتابوں میں لکھا ہے
کہ … اُن مسلمانوں کی تعداد نو یا بارہ تھی… اللہ اکبر کبیرا… نو مسلمانوں کی خاطر
اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ پر اُس وقت حملے سے روک دیا… اس روکنے میں اور بھی بہت
سی حکمتیں تھیں… مگر ایک بڑی حکمت ان چند مسلمانوں کا دفاع تھا… آج کوئی ہے جو
مسلمانوں کے خون کی قیمت کو سمجھتا ہو… کافر تو ویسے ہی دشمنی پر اُترے ہوئے ہیں…
غزہ ہو یا کشمیر، افغانستان ہویا عراق ہر جگہ مسلمان ذبح ہو رہے ہیں… مگر خود
مسلمانوں کے ہاں ایک مسلمان کے خون کی کتنی قیمت ہے؟… جس کے پاس بھی تھوڑی سی طاقت
ہے وہ ہر کسی کو قتل کی دھمکی دیتا پھرتا ہے… اور یوں مسلمانوں کے معاشرے میں سے
جان نکلتی جا رہی ہے… ہر طرف لاشیں ہی لاشیں ہیں، سر کٹی لاشیں اور لاوارث لاشیں…
اور ہر طرف قاتل ہی قاتل ہیں بے رحم اور سفّاک قاتل… اب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ
وہ قتل و غارت کا سلسلہ اور بڑھائے گی اور اپنے مخالفوں سے آکسیجن تک چھین لے گی…
یعنی کسی کو زندہ نہیں چھوڑے گی… انا للہ و انا الیہ راجعون… یہ کیسی مسلمانی ہے
اور کیسی حکمرانی… جب ایک طرف سے قتل و غارت بڑھے گی تو دوسری طرف والے بھی یہ
سلسلہ بڑھائیں گے… اور یوں ہمیں مزید لاشیں ملیں گی اور مزید قاتل… اور ہمار پورا
ملک قاتلوں اور مقتولوں سے بھر جائے گا… ہاں جس زمین پر علماء کو قتل کیا گیا ہو،
معصوم طلبہ اور طالبات کو قتل کیا گیا ہو… اسلام کے فریضے جہاد فی سبیل اللہ پر
پابندی لگا کر قرآن پاک کی بے حرمتی کی گئی ہو… جہاں لوگ سود لیتے اور دیتے وقت
نہ شرماتے ہوں… جہاں فحاشی اور عریانی کی باقاعدہ سرپرستی کی جاتی ہو… جہاں
جاگیردار،غریبوں کا خون اور عزت چوستے ہوں… وہاں ایسا ہی ہوتا ہے… بے شک اللہ
تعالیٰ نے کوئی ظلم نہیں فرمایا… اُسے ظلم کرنے کی کیا ضرورت ہے… وہ تو غنی اور بے
نیاز ہو کر بھی رحمت برساتا ہے… اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے… اُن کے صدقات
کو قبول فرماتا ہے… اگر وہ شرعی جہاد میں نکلیں تو اُن کی نصرت فرماتا ہے… وہ سچے
دل سے دعاء کرنے لگیں تو زمین کارنگ ہی بدل دیتا ہے… وہ بہت عظیم ہے وہ بہت مہربان
ہے… اگر مسلمان اپنے دل سے شیطان کو نکال دیں… اور اللہ تعالیٰ کی محبت دل میں بسا
لیں تو اُسکی رحمت آج بھی اُمت مسلمہ کے حالات بدل سکتی ہے… اگر دل میں شیطان اور
بدنیتی کا زہر نہ ہو تو بڑے سے بڑا گناہ اور بڑی سے بڑی غلطی بھی معاف ہو جاتی ہے…
اور اُلٹے کام بھی سیدھے ہو جاتے ہیں… اصل مسئلہ اور معاملہ دل کا ہے… جہاد کرنے
والے اپنے دل کو ٹٹول کر دیکھیں کہ اس میں کیا ہے؟… اگر اللہ تعالیٰ کے کلمے کو
بلند کرنے کی نیت ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضاء کا جنون ہے تو پھر وہ بے فکر ہو کر
اپنا کام کریں دنیا کی کوئی طاقت اُن کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتی… وہ زندہ رہیں گے
تب بھی کامیاب اور مر جائیں گے تو تب اُس سے بھی بڑے کامیاب… لیکن اگر دل میں
اخلاص نہیں ہے اور شیطان گھس گیا ہے… ذاتی عزت کا شوق، گاڑیوں اور باڈی گارڈوں کا
شوق… سیکرٹری رکھنے اور پروٹوکول کا شوق… لوگوں سے اپنی اطاعت کرانے کا شوق… علاقے
میں نام اور حیثیت بنانے کا شوق… رشتہ داروں میں اور معاشرے میں سرداری کا شوق… تو
ایسے لوگوں کو جہاد سے کچھ بھی نہیں ملے گا… وہ جنت اور شہد چھوڑ کر ذلت اور پیشاب
کے طلبگار ہیں… انہوں نے بہت اونچی چیز کو گھٹیا چیزوں پر برباد کر دیا … پس اُنکی
تجارت بہت گھاٹے اور خسارے والی ہے… ایسے ہی نام کے مجاہدین مسلمانوں کو ناحق قتل
کرتے ہیںاور جہادی اموال میں بھی خیانت کرتے ہیں… اللہ تعالیٰ عادل ہے، وہ غنی اور
انصاف فرمانے والا ہے… پس جو جس چیز کا طلبگار ہے اُس کو وہی چیز عطاء فرما رہا
ہے… اکثر مسلمان اگر دینی عزت اور کلمۃ اللہ کی بلندی کے طلبگار ہوتے تو اللہ پاک
زمین کی حکومت ظالموں اور فرعونوں کو عطاء نہ فرماتا…
اے
مسلمانو!… اے اللہ کے بندو!… اپنے دل سے شیطان کو نکال دو… تم قارون جتنا مال نہیں
بنا سکتے… بنا بھی لو تو قارون کونسا کامیاب مرا؟… تم فرعون جتنا پروٹوکول نہیں لے
سکتے ہو، لے بھی لو تو کیا یہی چاہتے ہو کہ فرعون جیسا انجام ہو؟… اللہ کے مجاہدو!
اپنے اندر تواضع، سادگی اور عمدہ اخلاق پیدا کرو… تم صحابہ کرام کے لشکروں کو
دیکھو اور پھر اُن جیسی صفات اپنائو… کامیابی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے
طریقے میں ہے… اپنے دل سے اپنی ذات کو اور شیطان کو نکال دو… اپنی ہستی کو دین کی
خاطر فنا کرو… اور دنیا کی بڑائی اور زیب و زینت کا شوق دل سے نکال دو… تم جانتے
ہو کہ جب لڑائی کا بگل بج جائے … اور دشمنوں کی صفیں سامنے آجائیں تو جہاد فرض
عین ہو جاتا ہے… ایسے حالات میں جو پیٹھ پھیرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کا مستحق
ہو جاتا ہے… وہ دیکھو، یہود، نصاریٰ اور مشرکین کے لشکر رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کے مبارک خیمے کی طرف بڑھ رہے ہیں… یہودیوں کے ٹینک
مسجد نبوی سے اسّی کلومیٹر کے فاصلے پر صف بنا چکے ہیں… امارتِ اسلامیہ افغانستان
زخمی زخمی کرکے گراد ی گئی… خلافت اسلامیہ کو ذبح کر کے زمین میں دفن کر دیا گیا… کشمیر
کے چناروں کی کمر فاتحین کے انتظار میں جھکنے لگی ہے… اور وہ زمینیں جہاں ہمارے
اسلاف کی اذانیں گونجتی تھیں ناپاک میوزک سے کانپ رہی ہے… ہاں امت محمدیہ کے
نوجوانو! مقابلہ شروع ہو چکا ہے… صفیں آپس میں ٹکرا چکی ہیں… اور ہماری فتح میں
صرف ایک قدم باقی ہے… اور وہ ہے دلوں کا اخلاص، مضبوط جماعت اور پہاڑوں جیسی
استقامت… آج ہی ہم سب اپنے دل ٹھیک کرلیں… اس میں سے دنیا کی ہر خواہش نکال کر
پھینک دیں… اور اللہ پاک کی رضا کا جنون اپنے دل اور خون میں بھر لیں… پھر زمین
بھی دیکھ لے گی اور آسمان بھی… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کے سچّے اُمتی کیسے ہوتے ہیں…
وصلی
اللّٰہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد واٰلہ وصحبہٖ وسلم تسلیماً کثیرا کثیرا
کثیرا
٭٭٭
رحمت
فرمائے تو گناہوں سے بچا لیتا ہے… اور اسباب نہ ہونے کے باوجود بڑے بڑے کام لے
لیتا ہے… آج کئی لوگوں کے پاس اربوں کروڑوں روپے ہیں مگر اُن کو یہ توفیق نہیں
ملتی کہ اس مال کو اپنے لئے کام کا بنا لیں… اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ
کرکے اسے اپنے لئے محفوظ کرلیں… جبکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا کیا
حال تھا… ملاحظہ فرمائیے صحیح بخاری کی اس روایت میں
حضرت
ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا تو ہم میں سے بعض لوگ بازاروں
میں جاکر باربرداری (مزدوری) کرتے تو انہیں ایک مُدّ مزدوری ملتی (اس میں سے صدقہ
کرتے) آج انہیں کے پاس لاکھ لاکھ (درہم و دینار) ہیں (بخاری)
اللہ
پاک نے اُن کے صدقات کو قبول فرمایا… اور دنیا میں بھی اُن کو بڑے بڑے خزانوں کا
مالک فرمادیا… اور اصل اجر تو آخرت کا اُن کو عطاء فرمایا… معلوم ہوا کہ اللہ
تعالیٰ کا حکم پورا کرنے کے لئے انسان کو محنت کرنی چاہیے… آج ہم مسلمانوں میں
محنت اور قربانی کا جذبہ کم ہوتا جارہا ہے… اور اکثر غریب لوگ تو اللہ تعالیٰ کے
راستے میں مال خرچ کرنے کا سوچتے ہی نہیں…
بے
چاری حکومت کی پریشانی
اُدھر
حکومت کا یہ حال ہے کہ… انہوں نے ہر کسی کے سامنے دامن پھیلا رکھا ہے… اب تو انہوں
نے امریکہ کو درخواست دے دی ہے کہ … دہشت گردی کے خلاف اُنکی کارروائیوں کا کرایہ
ہر ماہ نقد ادا کیا جائے… کیا جب قیامت کے دن پوچھا جائے گا کہ کیا کرتے تھے؟…
جواب دیں گے امریکہ کو راضی رکھنے کے لئے مسلمانوں کو مارتے تھے، مجاہدین پر حملے
کرتے تھے… پوچھا جائے گا مال کہاں سے کماتے تھے؟… جواب دیں گے مسلمانوں کو مارنے
کے بدلے امریکہ سے جو امداد ملتی تھی اُس پر گزارہ تھا… پوچھا جائے گا کہ اس مال
کو کہاںخرچ کرتے تھے؟… جواب دیں گے کہ واپس امریکہ اور یورپ کے بینکوں میں جمع کرا
آتے تھے کہ جب حکومت نہیں رہے گی تو اُس وقت کام آئے گا… کسی زمانے میں ایک مفکر
نے کہا تھا کہ اگر کسی انسان کے پاس تین سو ساٹھ روٹیاں… ایک مٹکا تیل اور ایک
ہزار چھ سو کھجور کے دانے ہوںتو دنیا کی کوئی طاقت اُس کو اپنا غلام نہیں بنا
سکتی… یعنی اگر ایک آدمی روزانہ پچاس روپے تک کما لیتا ہے تو پوری دنیا مل کر اُس
کو غلام نہیں بنا سکتی… شاید ہمارے حکمرانوں کے پاس یومیہ پچاس روپے بھی نہیں… اس
لئے غیرت اور عزت بیچ کر امریکہ سے اپنی ’’خدمات‘‘ کا صلہ مانگتے ہیں… یااللہ رحم
فرما…
سوکھی
روٹی اور پانی کی قیمت
کہتے
ہیں کوفہ کی ایک مسجد میں ایک بار دو قبیلوں میں جھگڑا ہوگیا… دونوں طرف سے
تلواریں نکل آئیں… نیزے سیدھے کر لئے گئے اور کھوپڑیاں جسموں سے الگ ہونے کے لئے
اکڑنے لگیں… کچھ لوگ چپکے سے وہاں سے کھسک گئے… اُن کا خیال تھا کہ مشہور اللہ
والے بزرگ حضرت احنف بن قیس رحمۃ اللہ علیہ ہی اس جنگ کو ٹال سکتے ہیں…
وہ اُنکی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت اپنی بکریوں کا دودھ نکال رہے تھے… کمزور سا
جسم اور معمولی سے کپڑے… مسجد کا واقعہ سن کر اطمینان سے بیٹھے رہے فرمایا انشاء
اللہ خیر ہوگی… اسی دوران اُن کے افطار کا وقت ہوگیا… گھر والوں نے خشک روٹی کا
ایک ٹکڑا، تھوڑا سا تیل اور نمک سامنے رکھ دیا… انہوں نے اللہ تعالیٰ کا نام لیکر
خوشی سے کھایا پھر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا… فرمانے لگے سبحان اللہ عراق کے
آٹے کی روٹی… شام کے زیتون کا تیل اور مرو(علاقے) کا نمک… میرے رب نے مجھے کیسی
کیسی نعمتیں کھِلا دیں… پھر اپنا عصا اٹھایا اور مسجد کی طرف روانہ ہوگئے… مجمع نے
انہیں دیکھا تو سارا فتنہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا… چلتی زبانیں خاموش ہو گئیں اور
چمکتی تلواریں نیاموں میں جا چھُپیں… انہوں نے آپس میں اتفاق کی نصیحت فرمائی تو
ہر گردن جھک گئی… اور لڑنے والے باہم دوست بن کر گھروں کو لوٹے… بے شک جس کی نظر
میں دنیا حقیر ہو… اللہ تعالیٰ اُس کو ایسا ہی رعب، قوت اور وجاہت عطاء فرماتے
ہیں… جبکہ ہمیں تو دنیا کی محبت نے رسوا کر دیا ہے… بنی اسرائیل کے ایک طبقے کو
اللہ تعالیٰ نے صرف ہفتے کے دن دنیا کمانے سے منع کیا… وہ رک تو گئے مگر مال کی
لالچ نے انہیں حیلے بہانوں پر لگا دیا… تب معلوم ہے کیا ہوا؟… اللہ پاک نے اُن کو
خنزیر اور حقیر بنا دیا… جی ہاں مال کی محبت انسان کو اتنا ذلیل اور حقیر بنا دیتی
ہے… ہم اور ہمارے حکمران اسی ذلّت کا شکار ہیں… اللہ تعالیٰ رحم فرمائے… آپ نے
کبھی جمعہ کے دن کا منظر دیکھا؟… اللہ تعالیٰ نے ہم مسلمانوں کو جمعہ کے دن چند
گھنٹے دنیا کمانے سے روکاہے مگر ہم سینہ تان کر… دکانیں کھولتے ہیں، چیزیں بیچتے
اور خریدتے ہیں اور مال میں مگن رہتے ہیں… اس لئے تو اب دلوں کی حالت خراب ہے،
چہرے انسانوں جیسے اور دل درندوں جیسے
جمعہ
کے دن کا اہتمام
کئی
ائمہ کرام کے نزدیک جمعہ کے دن کا غسل واجب ہے… صحیح بخاری میں حضرت ابو سعید خدری
رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا جمعہ کے دن کاغسل ہر بالغ پر واجب ہے… ہمارے
احناف کے ہاں ابتدائے اسلام میں واجب تھا مگر اب بھی سنت ہے اور بہت مبارک سنت ہے…
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ … اسلاف کے زمانے میںجمعہ کا وقت داخل
ہونے کے بعد مسجدوں میں جگہ نہیں ملتی تھی اور آج کل کے وقت کے مطابق گیارہ بجے
تک لوگوں کے رش سے راستے بند ہو جاتے تھے… مگر آج کیا صورتحال ہے؟… دیندار لوگ
بھی اس کی پرواہ نہیں کرتے… اور ایک بڑی خیر سے محروم ہوجاتے ہیں… کوئی ہے جو
مسلمانوں کو سمجھائے… ایک صاحب جمعہ کا وقت داخل ہوتے ہی مسجد کی طرف اللہ تعالیٰ
کے ذکر کے لئے دوڑے… مسجد پہنچے تو دروازہ بند تھااور امام صاحب اپنی گاڑی صاف
کرنے میں مگن … وہ دروازہ کھول کر اندر جانے لگے تو امام صاحب نے حیرت سے پوچھا
کیا کام ہے؟… بتایا کہ جناب وقت داخل ہو چکا ہے … تب امام صاحب کو خیال آیا اور
وہ غسل کے لئے تشریف لے گئے…
جمعہ
کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے ایک طوفانی مہم کی ضرورت ہے … ورنہ تو دجّالی فتنے
مسلمانوں کو کھاجائیں گے… اور صبح کی نیند تو ایک عذاب ہے… جس نے جسموں کو کمزور ،
دماغوں کو عاجز اور زندگیوں کو بے برکت کر دیا ہے… اس نیند کا اثر جمعہ پر بھی
پڑتا ہے… اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے… ہم پورے دین کی بات تو کرتے ہیںمگر یہ
سوچتے بھی نہیں کہ پورا دین کیا ہے؟… ہم اپنے مریدین کو بزرگوں کا یہ قول سناتے
ہیں کہ مرید اپنے شیخ کے ہاتھ میں اس طرح ہو جیسے مردہ غسل دینے والے کے ہاتھ میں
… یہ بات اپنی جگہ مگر اس میں یہ بھی تو ہے کہ پیر اپنے مرید کو اپنے لئے مردہ
سمجھے… مُردہ سے کوئی بھی کوئی فائدہ اٹھانے کا خیال نہیں رکھتا… اسی طرح سچا پیر
وہی ہوگا جسے اپنے مرید سے کسی مال، کسی ہدیے اور کسی تعظیم کی خواہش نہ ہو…
(علماء و مشائخ کے ادب و احترام کا انکار نہیں ہم اکثر اس موضوع پر عرض کرتے رہتے
ہیں)
مخلوق
سے طمع رکھنا بڑی خرابی
اگر
علماء، مشائخ اور مجاہدین کے رہنما… مخلوق سے مال، ہدیے اور تعظیم کی خواہش رکھیں
گے تو وہ دین کی دعوت کیسے دیںگے؟… وہ کسی کی اصلاح کیسے کریں گے؟… وہ جہاد کی بات
کیسے سمجھائیں گے؟… دعوت تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے
فیض سے نصیب ہوتی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا
منشور تھا… ان اجری الّا علی اللّٰہ… کہ میرا اجر تو اللہ تعالیٰ کے
پاس ہے… جس شخص کا دل حرص اور طمع سے پاک ہو اُسی کی دعوت میں جان ہوتی ہے اور
اُسی کی بات میں وزن ہوتا ہے… ایک شخص اصلاح کے لئے آیا تو یہ مُردہ ہے اصلاح
کرنے والے کا کام یہ نہیں کہ اُس کی جیب کاٹے یا اُسے صرف اپنی تعظیم کے آداب
سکھاتا رہے… آپ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اُس کو اللہ تعالیٰ سے جوڑیں… آپکی جو
عزت مقدّر ہے وہ خود اُس کے دل میں آجائے گی… لیکن اگر سار ازور ’’آداب شیخ‘‘ پر
رہا تو کچھ عرصہ بعد وہ نہ اللہ تعالیٰ کا رہے گا… اور نہ شیخ کا… بلکہ کسی سے
خلافت لوٹ کر خود اپنے شیخ بننے کا اعلان کردے گا… اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم
فرمائے… اور ہمارے دلوں کی نیتیں ٹھیک فرمائے… دراصل ’’اخلاص‘‘ ہی وہ بجلی ہے جس
سے عمل کی ہر مشین چلتی ہے… مثلاً کئی لوگ کہتے ہیں کہ… ہم نے قرض سے خلاصی کے
وظائف کئے مگر قرضہ ادا نہیں ہورہا…
قرض
ادا کرنے کا طریقہ
ایسے
حضرات کی خدمت میں عرض ہے کہ … یقینا دوباتوں کی کمی ہوگی… پہلی یہ کہ ہر وظیفہ
اور عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کیا جائے نہ کہ قرض سے چھٹکارے کے لئے… اس لئے
کہ جو عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے نہ ہو وہ بے جان ہے… تو بے جان چیز سے کیسے
فائدہ ہوگا؟… دوسرا یہ کہ اپنے دل کو ٹٹول کر دیکھیں کیا آپ کے دل میں قرض ادا
کرنے کی… سچی نیت ہے؟… کئی لوگ قرض ادا کرنے کی نیت ہی نہیں رکھتے وہ تو قرضے کو
مالِ غنیمت سمجھتے ہیں… اُن کے دل کی آواز یہ ہوتی ہے کہ کسی طرح قرضہ معاف
ہوجائے… یا اور کسی حیلے بہانے سے جان چھوٹ جائے… اُن کے پاس اگر کچھ رقم آبھی
جائے تو اُس کو قرض کی ادائیگی پر خرچ نہیں کرتے… توآپ بتائیے کیا ایسی بد نیتی
کے ہوتے ہوئے کوئی وظیفہ اثر کر سکتا ہے؟… احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ جو شخص قرض
ادا کرنے کی پکّی نیت رکھتا ہو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُس کی غیبی اعانت کی
جاتی ہے… دوسروں کا مال بغیر اُن کی اجازت کے حرام ہے… قرضہ بھی تو دوسروں کا مال
ہے جو ہم نے اُن سے واپس کرنے کا وعدہ کرکے لے لیا ہے … اب اگر ہم واپس نہیں کرنا
چاہتے تو یہ غصب، چوری اور لوٹ مار ہوگی… اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم نے بعض صحابہ کرام سے باقاعدہ اس پر بیعت لی کہ ہم لوٹ مار نہیں
کریں گے… ایک آدمی پستول دکھا کر کسی سے مال لے آئے… اور دوسرا قرضے کے نام پر
لوٹ آئے اور واپسی کی نیت نہ رکھے تو دونوں نے اپنے مسلمان بھائی کو لوٹ لیا… ایک
نے ڈرا کر اور دوسرے نے دھوکے سے… مقروض لوگ آج ہی مکمل اخلاص کے ساتھ قرضیے کی
ایک ایک پائی ادا کرنے کی سچی نیت کریں… پھر اخلاص کے ساتھ وظیفہ کریں تو انشاء
اللہ پہاڑ برابر سونے کا قرضہ بھی اتر جائے گا… مالک الملک کے خزانوں میں کیا کمی
ہے… اور نیت کے سچّا ہونے کا ثبوت یہ ہوگا کہ جیسے ہی کچھ مال آئے فوراً اس سے
قرضہ اتاریں… اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے… مجاہدین کو خاص طور سے احتیاط کرنی
چاہیے… اس وقت ایک بہت بڑی جنگ شروع ہے اور مجاہدین کے لئے بشارتیں ہی بشارتیں
ہیں… بس خود کو مال میں بے احتیاطی سے بچائیں… اگر آپ نے اجتماعی مال سے اپنا
ہاتھ آلودہ نہ کیا تو انشاء اللہ زمین کے خزانے آپ کے ہاتھوں میں ہوں گے… جو بھی
حرام مال سے… اور مال کی لالچ سے بچتا ہے اُسکی قدر و قیمت اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت
بڑھ جاتی ہے… آپ مسلمانوں کو اغوا نہ کریں… اور نہ اغوا کرکے کسی سے مال لیں…
مسلمانوں کا مال مالِ غنیمت نہیں بن سکتا… اور کسی آزاد انسان کی قیمت وصول کرنا
اسی طرح حرام ہے جس طرح جادو کر کے مال کمانا حرام ہے… بس شریعت کے مطابق جہاد
کرتے رہیں اور لوگوں کے اعتراضات کی پرواہ نہ کریں۔
ان
بحثوں میں نہ اُلجھیں
کئی
مجاہدین کہتے ہیں کہ ہم سے پوچھا جاتا ہے کہ… آپ لوگ پاکستان میں جنگ کیوں نہیں
کرتے؟… عرض کیا اُن سوال کرنے والوں سے پوچھیں آپ لوگ کشمیر، افغانستان اور عراق
میں جنگ کیوں نہیں کرتے؟جواب ملا وہ کہتے ہیں پہلے قریب کے کافروں سے لڑو اللہ
تعالیٰ کا یہی حکم ہے… عرض کیا اُن سے پوچھیں کہ عبداللہ بن ابی منافق کے کفر میں
کیا شبہ تھا؟ وہ مسجد نبوی میں پہلی صف میں بیٹھا ہوتا تھا… اور حضور
پاک صلی اللہ علیہ وسلم اُس کو اور اُس کے ساتھیوں کو چھوڑ
کر کبھی بدر جاتے تھے… کبھی مکہ مکرمہ جاتے تھے… اور کبھی خیبر اور طائف جاکر لڑتے
تھے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پاک کو زیادہ سمجھتے
تھے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریب والوں کو چھوڑ کر کئی بار
دور لڑنے تشریف لے گئے… یہودیوں کے قلعے مدینہ منورہ میں تھے مگر اُن کے ساتھ جہاد
بعدمیں ہوااور اُن سے پہلے مدینہ منورہ سے باہر کئی معرکے لڑے گئے… حدیبیہ کے مقام
پر مشرکین بیس کلومیٹر کے فاصلے پر تھے مگر حکم ملا کہ نہیں لڑنا… اور خیبر بہت
دور تھا حکم ملا کہ وہاں جا کر لڑیں… پھر خود کو مسلمان کہلانے والوں میں سے کون
کافر ہیں اور کون کافر نہیں اس کا فیصلہ بھی مشکل ہے… آپ کے نزدیک بھی چند دن
لڑنا جائز ہوتا ہے اور پھر چند دن حرام ہو جاتا ہے… اس کے باوجود ہم نے کسی پر
کوئی اعتراض نہیں کیا… قرآن پاک سے رہنمائی لے کر اور رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کے جہاد مبارک سے روشنی لے کر ہمیں جو سمجھ میں آتا ہے
کرتے ہیں… اور کوشش کرتے ہیں کہ جہاد بھی زندہ ہو اور شریعت کے مطابق بھی ہو… اللہ
تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے اور ہماری رہنمائی فرمائے… بے شک اللہ تعالیٰ رحمت
فرمائے تو گناہوں سے… اور غلطیوں سے بچا لیتا ہے اور اسباب نہ ہونے کے باوجود بڑے
بڑے کام لے لیتا ہے… ہم اللہ تعالیٰ سے اُسکی رحمت کا سوال کرتے ہیں اور اُس کے
فضل اور رضاء کے طلبگار ہیں… یا اللہ نصیب فرما… آمین یا ارحم
الراحمین
وصلی
اللّٰہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد واٰلہ وصحبہٖ وسلم تسلیماً کثیرا کثیرا
کثیرا
٭٭٭
نے
اپنے محبوب نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سات
اولادیں عطاء فرمائیں… چار بیٹیاں اور تین بیٹے… آہ! میرے آقا صلی
اللہ علیہ وسلم نے ان سات میں سے چھ کے انتقال کا صدمہ اپنی مبارک
آنکھوں سے دیکھا… اور اپنے پاک دل پر جھیلا… آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی سیرت مبارکہ کے اس پہلو پر تھوڑا سا غور فرمائیں… آپ میں سے
بیٹوں والے بھی سوچیں… اور بیٹیوں والے بھی تصور کریں… اولاد کی موت، جوان اولاد
کی میتیں… پھولوں کی طرح معصوم اولاد کے جنازے… کتنا مشکل کام ہے کتنا مشکل… مگر
میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر غم کو صبر اور رضا کے
ساتھ برداشت فرمایا… ننھے منّے پیارے اور خوبصورت بیٹے ابراہیم نے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں میں دم توڑا…
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیاری اور بڑی بیٹی زینبز
کو خود قبر میں اتارا اور قبر کی وسعت کی دعاء فرمائی… آپ صلی اللہ
علیہ وسلم کو غزوہ بدر میں عظیم فتح کی خوشی ملی، ابھی آپ واپس بھی نہ
لوٹے تھے کہ پتا چلا کہ پیاری لخت جگر حضرت سیّدہ رقیہ رضی اللہ عنہا دُنیا سے
رخصت ہو چکی ہیں… پر نور آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، گھر جانے سے پہلے بیٹی کی قبر
پر تشریف لائے… اللہ اکبر کبیرا… آہ میرے آقا صلی اللہ علیہ
وسلم نے اس دنیا میں بہت دُکھ اُٹھائے… آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی تیسری پیاری بیٹی سیّدہ اُم کلثوم ز صرف بائیس سال کی عمر میں
انتقال فرما گئیں…
میرے
آقا صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹیوں سے بہت محبت فرماتے
تھے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پاکیزہ بیٹیوں نے دین کے
راستے میں اپنے عظیم ’’بابا جان‘‘ کا پورا ساتھ نبھایا… مگر دنیا فانی ہے… یہ ایسی
جگہ نہیں کہ یہاں دل لگایا جائے… حیرانی ہوتی ہے کہ لوگوں نے آجکل ’’مشکل کشائی‘‘
کو دین سمجھ رکھا ہے… اللہ معاف فرمائے ہم مسلمانوں پر ہندئووں کا اثر ہوگیا ہے…
بس ہر مسئلہ حل ہونا چاہیے، ہر حاجت پوری ہونی چاہیے… اور ہرخواہش ملنی چاہیے…
خواہ اسکی خاطر کفر کرنا پڑے، شرک کرنا پڑے، بے عزت ہونا پڑے… ارے اللہ کے بندو
حضرت آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے روشنی لو…
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشیوں میں بھی روشنی ہے اور
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غموں میں بھی روشنی ہے… دنیا کا
کون سا دُکھ ہے اور کون سا غم ہے جو آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے برداشت نہ فرمایا ہو… ہے کسی میں ہمت کہ اُن غموں اور تکلیفوں
کی فہرست بنا سکے؟… میں لکھنا چاہتا ہوں مگر قلم ٹوٹنے لگتا ہے… اور دل پھٹنے لگتا
ہے… ہم میں سے آج جس کے عیب اللہ پاک چھپا دے اور اُسے دو چار لوگوں میں عزت عطاء
فرما دے… وہ بھرے مجمع میں اپنے چہرے پر تھپّڑ برداشت کر سکتا ہے؟… آہ، آہ، آہ
کہاں میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی اونچی اور اصلی عزت…
آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو بے عیب تھے… آج دنیا میں جس کی
بھی کچھ عزت ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ستّاری کی وجہ سے ہے… مگر آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے خود، خاص عزت سے
نوازا… بہت اونچی عزت اور بہت اعلیٰ عزت
وَرَفَعْنَا
لَکَ ذِکْرَکَ (الشرح ۴)
اور
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک چہرہ… نہ کوئی حُسن
اُس جیسا، نہ کوئی جمال اُس جیسا… جبریلؑ بھی زیارت کو حاضر ہوتے تھے… اور کہاں
ایک ناپاک مشرک عقبہ بن ابی معیط کا ہاتھ… ہاں ان ہاتھوں نے آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک چہرے کو تکلیف پہنچائی…
مگر نہ کام میں فرق آیا، نہ خیالات بدلے… نہ عبادت میں کمی ہوئی اور نہ محنت میں
کوئی خلل آیا… کوئی نہیں کرسکتا اس طرح، کوئی بھی نہیں…
ہاں
کوئی بھی نہیں… کسی ظالم نے پتھر مارے… طائف میں پتھر برسے تو آسمانوں میں آہ و
بکا کا شور اٹھا اور فرشتے اجازتیں مانگ کر زمین پر اُتر آئے کہ حکم فرمائیں… ان
پہاڑوں کو آپس میں ملا کر اُن لوگوں کا نام و نشان تک ختم کر دیا جائے جنہوں نے
یہ ظلم کیا… مگر میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم اپنے محبوب
ربّ سے جُڑے رہے… اور اُسی بات پر رہے جو رب تعالیٰ کو راضی کرنے والی تھی…
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مکہ مکرمہ میں شفقت کی ایک
چھتری تھی… چچا ابو طالب… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو
مرتے دیکھا… وہ وفا شعار، خدمت گذار، بے حد سمجھداراہلیہ حضرت سیّدہ خدیجہ رضی
اللہ عنہا … جن کے احسانات کی پوری اُمت مقروض ہے… آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے اُن کو مکہ مکرمہ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوتے دیکھا… اور
مشرکین کی گالیاں… اللہ تعالیٰ کی پناہ… مشرک تو نجاست اور گندگی کا ڈھیر ہوتا ہے…
سب کو پیدا کرنے والا رب فرماتا ہے…
اِنَّمَا
الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ (التوبہ ۲۸)
کہ
مشرک تو سراسر نجاست اور گندگی کا ڈھیر ہیں… ہاں خود مجھے مشرکین کی گالیوں کا
تجربہ ہے… یہ قوم تو ایذا پہنچانے میں بہت ماہر ہے… جب آج کے مشرکوں کا یہ عالم
ہے تو مکہ کے بڑے مشرک کیسے ہوں گے… ابو جہل ناپاک کیسا ظالم اور موذی ہوگا… اور
اُمیہ بن خلف کتنا بڑاشیطان ہوگا… آپ نے ایڈوانی کو دیکھاہے کیسے زہر اگلتا ہے…
آپ نے نجاست کے ڈھیر نریندر مودی کو دیکھا کس طرح سے غلاظت بکتا ہے… آپ نے پرناب
مکھر جی کو دیکھا، وہ اپنے قد سے بڑے حملے کرتا ہے… آپ نے کبھی اوما بھارتی کی
تقریر سنی؟… ہاں یہ سب لوگ بہت موذی، بد زبان اور زمانے کے مشرک ہیں… ان کی
حکمرانی کے خلاف جہاد… بہت بڑا جہاد ہے… جی ہاں! قرآن پاک کی اُن بہت سی آیات
والا جہاد جو مشرکین سے لڑنے کا حکم فرماتی ہیں… آپ خود سوچیں کہ ہمارے زمانے کے
مشرک ایسے ہیں تو ابو لہب کیسا ظالم ہوگا؟… اُسکی بیوی کتنی خطرناک مشرکہ ہوگی؟…
اور ان سب بھیڑیوں کے درمیان میرے آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم اکیلے… اللہ اکبر کبیرا… جموں شہر میں انڈیا کا ایک عقوبت خانہ
ہے… اُسے ’’تالاب تلّو جے آئی سی‘‘ کہا جاتاہے… مجھے یاد ہے، ہاں اچھی طرح سے یاد
ہے… آٹھ دس مشرک ایک قطار میں کھڑے ہو جاتے… پھر کسی مجاہد کو برہنہ کرتے… اور
پھر اُس کے ساتھ یوں کھیلتے، جس طرح وہ حقیر سا فٹ بال ہو… ایک تھپڑ مار کر دوسرے
کی طرف پھینکتا تو دوسرا لات مار کر تیسرے کی طرف دھکیل دیتا… کوئی گالی دیتا تو
کوئی تھوکتا… کوئی اپنے بوٹ سے جسم پر نشان ڈالتا تو کوئی داڑھی پکڑ کر گھسیٹتا…
میں نے کمانڈر سجاد خان شہید اور بہت سے مجاہدین کو… اسطرح سے تکلیف اٹھاتے دیکھا
ہے… اس لئے میرا دل اُن لوگوں سے نفرت کرنے پر مجبور ہے جو جہاد کشمیر کو ایجنسیوں
کا جہاد کہتے ہیں… حالانکہ میں اپنے دل کو ہر مسلمان کی نفرت سے پاک کرنا چاہتا ہوں…
اللہ کے بندو! خود جہاد نہیں کرسکتے ہو تو دوسروں کو تو کرنے دو… ابھی کراچی سے
ایک صاحب نے خط لکھا اُن کو الجھن ہے کہ جہاد فرض عین یا فرض کفایہ… اپنے گمان میں
بہت تحقیقی خط لکھا ہے… مگر یوں لگتا ہے کہ دل میں اللہ تعالیٰ کے اس فریضے کا ایک
تنکے برابر شوق نہیں… اللہ کے بندو! جہاد کو سنت ہی سمجھ لو، مستحب سمجھ لو مگر
نکل کر تو دیکھو… یہ عملی فریضہ ہے کتابوں سے نہیں سمجھا جاسکتا… جہاد کی اکثر
آیات دوران سفر نازل ہوئیں… کیونکہ جہاد عملی مشق سے سمجھا جاتا ہے… اللہ تعالیٰ
کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو بدر کے میدان
میں لے کر گئے تو… حضرات صحابہ کرام نے جہاد کو سمجھ لیا اور پھر زندگی کے آخری
سانس تک نہیں چھوڑا… کوئی محقق عالم اُمت پر احسان فرمائے اور حضرات صحابہ کرام کی
مبارک قبروں کے پتے اور علاقے اردو زبان میں شائع کردے… اور ساتھ یہ بھی لکھتا
جائے کہ یہ صحابی اس علاقے میں کس کام کے لئے تشریف لے گئے تھے… حضرات صحابہ کرام
نے لفظی بحثوں میں الجھے بغیر جہاد کیا… آج ایک ارب چالیس کروڑ مسلمانوں میں سے
صرف چند ہزار نے جہاد کو اپنا یا ہے تو دنیا میں بھونچال آگیا ہے… سوویت یونین
ختم ہوگیااور اب سرمایہ دارانہ نظام موت کی ہچکیاں لے رہا ہے… ایسے وقت میں الفاظ
سے کھیلنے والے لوگوں کو ان مسائل کی کیا پریشانی ہے کہ جہاد فرض عین ہے یا فرض
کفایہ؟… آپ کو یہ پریشانی تب ہوتی جب سارے مسلمان ہی جہاد میں نکل کھڑے ہوتے اور
آپ اپنے گھر میں اکیلے رہ گئے ہوتے… والدین کی اجازت ضروری ہے یا نہیں؟… آپ کو
اس مسئلے کی کیا فکر ہے؟… آجکل کی اولاد نے والدین کے اور والدین نے اولاد کے
حقوق جس طرح سے پامال کئے ہوئے ہیں اُسکی فکر کیوں نہیں کرتے؟… جہاد میں تو چند
لوگ گئے ہیں اور ان میں سے اکثرکے والدین بھی خوش ہیں… اگر سب لوگوں کے بچے اپنے
والدین کو ہسپتالوں میں اکیلا چھوڑ کر جاچکے ہوتے تو آپ اس مسئلے کی فکر کرتے…
موجودہ حالات میں تو ان مسائل کو اٹھانے کا ایک ہی مقصد ہو سکتا ہے کہ … جو تھوڑے
بہت مسلمان جہاد میں نکلے ہیں وہ بھی میدان چھوڑ کر گھر بیٹھ جائیں… اور پھر
دشمنانِ اسلام مسلمانوں کی بیٹیوں کو بازارو ں میں فروخت کریں… اور اللہ تعالیٰ کی
مساجد ویران کریں… تالاب تلّو کے مناظر میری آنکھوں کے سامنے ہیں… میں سوچتا ہوں
مکہ کے مشرک کیسے ہوں گے… یقینی بات ہے آجکل کے مشرکوں سے زیادہ سخت، زیادہ بد
زبان اور زیادہ فحش گو… تیرہ سال تک میرے محبوب آقا صلی اللہ علیہ
وسلم ان ظالموں کے نرغے میں تھے… مگر کیا صبر تھا… کیا جرأت تھی… اور
کیا حوصلہ… کہ کبھی کسی واقعہ سے نہ کام میں فرق آیانہ مزاج میں تبدیلی ہوئی… اور
نہ کبھی حالات سے مایوس ہوئے بلکہ ہر دن نیا عزم اور ہر شام ایک نئی
ہمت… صلی اللہ علیہ وسلم ، … صلی اللہ علیہ وسلم
میرے
آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے خاندانی غم دیکھے… اپنوں کے
جنازے، ہجرتیں، زخم اور محبوب گھر والی اُمّ المومنین سیّدہ عائشہز پر تہمت… میرے
آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے رفقاء کے غم دیکھے، آپ کے صدیق
نے آپ کے ساتھ ماریں کھائیں اور آپ کے یاروں نے آپ کے قدموں میں آخری ہچکیاں
لیں… میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے جسمانی غم بھی دیکھے…
دانت مبارک شہید ہوا، چہرہ اطہر و انور زخمی ہوا… بخار ہوتا تھا تو عام لوگوں سے
زیادہ سخت اور کبھی آدھے سر کا درد…غموں اور تکلیفوں بھری اس دنیا میں اپنی اُمت
کو زندہ رہنے کا طریقہ سکھلانا تھا تو ہر غم آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے سہہ کر دکھایا… ہم میں سے شاید اکثر لوگوں کو علم ہی نہیں کہ
وہ بھوک کیسی ہوتی ہے جو آدمی پر غشی اور بے ہوشی طاری کردے… ہم تو ہاضمے کی
گولیاں اور معجون کھانے والے لوگ ہیں… مگر میرے محبوب صلی اللہ علیہ
وسلم نے بارہا بھوک کی تکلیف اٹھائی… اور کام نہیں چھوڑا… پیٹ مبارک پر
دو پتھر بندھے تھے اور جہاد کا کام اس شان سے جاری تھا کہ کئی میل لمبی خندق
کھودنے میں خود مشغول تھے… آج آمدن بند تو دین کا کام بند… تھوڑی سی تکلیف تو
کام بند… تھوڑی سی مشقت تو کام بند… پیٹ پر پتھر کی نوبت تو بہت دور ہے اگلے دن
وقت پر کھانا نہ ملنے کا امکان ہو تو کام بند… اسی لئے کام میں جان نہیں… اور
تحریکوں میں برکت نہیں… جہاد اُٹھ جائے تو عزت ختم ہوجاتی ہے… اور جب مجاہدہ اُٹھ
جائے تو برکت ختم ہوجاتی ہے… میرے آقا صلی اللہ علیہ
وسلم کے تمام چچوں میں سے اُحد کے وقت صرف ایک چچا مسلمان تھے… جی ہاں
ہمارے سردار سیّدنا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ… آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کو بہت محبوب تھے… چچا تو ویسے ہی آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کے فرمان کے مطابق باپ کی جگہ ہوتا ہے… اور پھر حضرت سیّدنا حمزہ
رضی اللہ عنہ جیسا چچا… یتیمی میں پرورش پانے والے حضرت آقا مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم کی اُن سے محبت کا اندازہ آپ لوگ خود لگا سکتے ہیں…
عرب میں اُنکی بہادری ضرب المثل تھی… ابوجہل جیسے فرعون کو ایک ہاتھ پر خون آلود
کر دیا تھا… اپنے یتیم بھتیجے حضرت محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کی خاطر… اور پھر مسلمان ہوگئے تو مسلمانوں کی خوشی دیکھنے لائق
تھی… بنی عبدالمطلب میں سے وہ پہلے سردار تھے جو آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کے شریکِ سفر بنے… مگر آپ نے کتابوں میں پڑھا ہوگا کہ… اُحد کے
دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنکی لاش مبارک کے ٹکڑے تلاش
فرمائے، جمع فرمائے… اور پھر دفن فرمائے… اور زندگی بھر اُن کے پاس تشریف لاتے
رہے… ایک بڑا غم مگر وہی عزم، وہی صبر اور وہی سفر… صلی اللہ علیہ وسلم
،… صلی اللہ علیہ وسلم ،… صلی اللہ علیہ وسلم
شعب
ابی طالب کا قید خانہ… نظر بندی اور قیدِ تنہائی… طائف کا سفر اور لہو لہو واپسی…
صحابہ کرام کی آہ و بکا اور اُن پر پڑنے والے مصائب اور آقا صلی اللہ
علیہ وسلم کا یہی فرمانا… صبر کرو جنت میں بدلہ ملے گا… اور پھر ہجرت،
ترک وطن، مکان کا محاصرہ… خوف بھری راتیں اور سنگلاخ چٹانوں پر نوکیلے پتھروں کے
زخم… وہ غار ثور کی یادیں… صرف ایک غارِ ثور کا واقعہ… اسلام کو سمجھنے کے لئے
کافی ہے… آج اگر دیندار لوگوں کو تھوڑی سی تنگی آجائے تو حیران ہوتے ہیں کہ ہم
نے تو گناہ چھوڑ دئیے ابھی تک دنیا کے خزانے کیوں نہیں ملے… اللہ کے بندو
’’غارِثور‘‘ کے غم اور وہاں کی راتوں کو یاد کرو… جب صدیق اکبر جیسے صدیق بھی ایسے
تڑپے کہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَا
تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا (التوبہ ۴۰)
صدیق
غم نہ کرو، اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے… سمجھا دیا کہ ہم غار میں دو نظر آرہے ہیں
مگر ہم تین ہیں… جس کی خاطر ہم نکلے وہ موجود ہے… اور وہی حفاظت فرمارہا ہے… صدیق
اکبر رضی اللہ عنہ کا غم خوشی سے بدل گیا… اُنکی تڑپ یہ تھی کہ دشمن سر پر پہنچ
چکے ہیں اور اب وہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان
پہنچائیں گے… ہاں یہ سوچ ہی صدیق کو تڑپانے والی تھی… آج کوئی ہے، کوئی ہے جو
سوچے کہ حضرت آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو نقصان نہ
پہنچے… حضرت آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کو نقصان نہ
پہنچے… اور پھر وہ اپنا پائوں اُن سوراخوں پر رکھ دے… جہاں سے کالے کالے، زہریلے
سانپ نکل کر اُمت مسلمہ کو ڈس رہے ہیں… وہ دیکھو توپیں گولے برسا رہی ہیں… اور
مسلمان مر رہے ہیں… وہ دیکھو ٹینکوں نے ہمارے بچوں کو روند ڈالا ہے… وہ دیکھو
طیارے بم برسا رہے ہیں… اور مسلمان مر رہے ہیں… ہر طرف سانپ ہی سانپ ہیں… اور
مسلمانوں کی لاشیں… اور چند مجاہدین، زخمی، تھکے ہارے ہر طرف ڈٹے کھڑے ہیں… تھکو
نہیں یارو!… رب تعالیٰ کے طلبگار اور آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کے اُمتی تھکا نہیں کرتے، ہارا نہیں کرتے… ہمت کرو ہلکی ہلکی
روشنی تو نکل آئی ہے… اپنا پائوں زمانے کے سانپوں پر رکھے رہو… وہ دیکھو غارِ ثور
سے آواز آرہی ہے…
لَا
تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا (التوبہ ۴۰)
غم
نہ کرو اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے
وصلی
اللّٰہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد واٰلہ وصحبہٖ وسلم تسلیماً کثیرا کثیرا
کثیرا
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ غالب ہے اُس کے فیصلوں کو کوئی نہیں روک سکتا… پاکستان کی تاریخ کا ایک
’’انوکھا واقعہ‘‘ کہ جناب چیف جسٹس صاحب کی بحالی کا اعلان کر دیا گیا ہے… یہ
’’بحالی‘‘ ہوگی یا ’’بے حالی‘‘ یہ تو ابھی چند دن تک پتا چلے گا… فی الحال تو ہم
خوش ہیں کہ بہرحال ایک انوکھا واقعہ پیش آہی گیا… آئیے اس واقعہ کے چند پہلوؤں
پر ایک نظر ڈالتے ہیں…
گردن
جلد ُجھکی
صدر
آصف زرداری کے لئے حالات اتنی تیزی سے سازگار ہوتے چلے گئے… کہ خود وہ اس وہم میں
مبتلا ہوگئے کہ وہ کوئی ’’خاص چیز‘‘ ہیں… کچھ ہی عرصہ پہلے وہ ایک ملزم کے طور پر
قید تھے… اُن پر قتل، اقدام قتل، ہیرا پھیری، دھوکہ، فراڈ، منشیات فروشی جیسے کئی
مقدمات درج تھے… روز اخبارات میں آتا تھا کہ آج وہ فلاں عدالت میں حاضر… اور کل
فلاں ہسپتال میں داخل… انہوں نے جیل میں خود کشی کی بھی کوشش کی… اور تھوڑا بہت
مطالعہ بھی کیا… اور بالآخر مونچھیں چھوٹی کرائیں اور نوائے وقت والوں سے یاری
لگاکر ’’مرد حُر‘‘ کا خطاب پایا… پھندا اُنکی گردن کے قریب اور اُن کی اہلیہ اور
بچے اُن سے دور بیرون ملک تھے… وکیلوں کی ایک پوری ٹیم اُن کو سزائوں سے بچانے میں
سرگرم تھی… پھر یکایک موسم بدل گیا… اور حکومت نے اُن کو چھوڑ دیا… وہ طوفانی لیڈر
بن کر گرجنے ہی لگے تھے کہ حکومت نے پھر آنکھیں دکھائی… تب وہ پہلے دبئی اور پھر
امریکہ جا بسے… اور گوشہ نشین ہوگئے… اُدھر پرویز مشرف کی مجبوریوں اور کمزوریوں
نے اُس کو بے نظیر صاحبہ کے ساتھ مفاہمت پر لٹکا دیا… اسی مفاہمت کے تحت آصف
زرداری بھی مقدّمات سے پاک ہوتے چلے گئے… بے نظیر صاحبہ پاکستان آگئیں مگر آصف زرداری
نہ آسکے… حکومت کے لوگ اُن کو پوری طرح سے قبول کرنے پر تیار نہیں تھے… مگرپھر بے
نظیر بھٹو کو قتل کر دیا گیا… اور زرداری صاحب کو ایسا جیک لگا کہ… وہ چڑھتے چلے
گئے، چڑھتے چلے گئے… مخدوم امین فہیم سمیت اُن کے راستے کی ہر رکاوٹ ریت کی
دیوارثابت ہوئی… تب انہیں احساس ہونے لگا کہ وہ … جیل کی کوٹھڑی سے صدارت کی کرسی
پر پہنچے ہیں… یقینا وہ کوئی ’’خاص چیز‘‘ہیں… اب وہ جو چاہیں گے کریں گے… اُدھر
امریکہ اور بھارت نے بھی اُن کو اپنا پسندیدہ دوست قرار دیا… چنانچہ اُنکی ہمت
اتنی بڑھی کہ وہ لہک لہک کر بولنے لگے… اور ہر کسی پر آوازیں کھولنے لگے… اُن کا
خیال تھا کہ اب وہ جو چاہیں گے وہی ہوگا… امریکہ اُن کے ساتھ ہے، انڈیا اُن کا یار
ہے، اور کرزئی اُن کا ہمرازہے… اور ملک کی فوج بھی اُن کے ہمراہ ہے… مگر یہ کیا
ہوا؟… دو دن ہوئے اُن کا کوئی بیان ہی سامنے نہیں آرہا… یہ گردن اتنی جلدی جھکے
گی ایسا تو اُن کے دشمنوں نے بھی نہیں سوچا تھا… مگر اللہ تعالیٰ غالب ہے وہ لوہے
سے زیادہ مضبوط گردنیں بھی جھکا دیتا ہے… اُس کے سامنے کیا روس اور کیا امریکہ… وہ
’’فعّال لما یرید‘‘ ہے جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم…
انوکھا
واقعہ
ہمارے
پیارے ملک پاکستان پر … غیر ملکی جنّات اور بھوتوں کا قبضہ رہتا ہے… اس ملک میں دو
طرح کے افراد کے لئے کوئی جگہ نہیں… ایک فاتح اور دوسرا انصاف پسند…
یہاں
وہ لوگ اطمینان اور سکون کے ساتھ رہ سکتے ہیں… جو دشمنوں کے سامنے ہتھیار ڈال کر
اپنا آدھا ملک دے آئیں… ایسے لوگوں کے لئے نہ کوئی پابندی ہے نہ پریشانی… لیکن
اگر آپ نے دشمنوں کو شکست دی ہے تو پھر آپ اپنی خیر منائیں… ڈاکٹر عبدالقدیر
صاحب نے دشمنوں کو شکست دی… اب وہ اس ملک میں قیدیوں کی طرح رہتے ہیں… اور کچھ
مسلمانوں نے انڈیا کو عبرتناک شکست دی… وہ بھی اس ملک میں دربدری کی ٹھوکریں کھاتے
پھرتے ہیں… اور خطرات میں جیتے ہیں… ملک کی افسر شاہی پائوں سے لیکر سر تک کرپشن،
رشوت اور بدعنوانی میں ڈوبی ہوئی ہے… اور یہ لوگ یہاں پورے اطمینان کے ساتھ رہتے
ہیں… لیکن اگر آپ انصاف پسند ہیں، اور امانتدار ہیں تو پھر ساری زندگی دھکّے
کھائیں… چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بھی انصاف پسند آدمی ہیں… ملک کے قانون کے
مطابق اُن کو پوری زندگی دھکّے کھانے چاہئیں… مگر وہ پھر بحال ہو گئے ہیں… یقینا
یہ اس ملک کی تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے… اور اس واقعہ نے ہمارے ملک کے کئی بڑے
سیاستدانوں کی سیاست کا مستقبل ہی ختم کر دیا ہے… اور سرکاری آفیسر خوفزدہ ہیں کہ
انہیں پھر عدالت میں کھڑا ہونا پڑے گا… اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ کیا یہ واقعہ
اس ملک کی روایات بدلنے کا آغاز ثابت ہوگا۔ فی الحال تو اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ
واللہ اعلم بالصواب… مگر ایک بات تو پکّی ہے کہ … اس واقعہ سے دل کو خوشی ملی…
والحمدللہ ربّ العالمین
تبدیلیوں
کا موسم
ویسے
کوئی مانے یا نہ مانے یہ بات حقیقت ہے کہ… دنیا میں بہت تیز رفتار تبدیلی آرہی
ہے… ایک چھوٹی سی مثال سے سمجھیں… پنجاب میں مسلم لیگ ن کے ارکان یوں پھر رہے تھے
جس طرح ببر شیر جنگل میں پھرتا ہے… اچانک عدالتی فیصلہ آیا اور یکا یک سلمان
تاثیر پنجاب کا راجہ بن گیا… تب ایک ہی دن بعد جنگل کا ماحول بدل گیا… ن لیگی
روپوشی کی غاریں ڈھونڈنے لگے… اور ق لیگی مونچھوں پر تائو دیکر پورے پنجاب کے شیر
بن گئے… اور اب حالات پھر بدل رہے ہیں… اُدھر امریکہ میں گوروں کا سامراج ٹوٹا…
اور اِدھر صرف پچھلے ہفتے افغانستان میں تیرہ غیر ملکی فوجی مارے گئے… ابھی تھوڑا
سااور انتظار کریں… طالبان کا کوئی منحرف لیڈر کابل کا حکمران بن سکتا ہے… ہیلری
کلنٹن نے جال ڈال دیا ہے… کرزئی کافی پریشان ہے… اللہ تعالیٰ طالبان کی صفوں کی
حفاظت فرمائے… پس ان تیز رفتار تبدیلیوں کو دیکھ کر… یہ کہنا کوئی مشکل نہیں کہ دو
چار بٹن دبیں گے اور دنیا جہاز سے اُتر کر واپس گھوڑے اور گدھے پر آبیٹھے گی… اس
لئے ہم مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ کام کریں جو آخرت میں کام آئے… دنیا تو بس کبھی
اِدھر اور کبھی اُدھر… اگر ہم نے اسے اپنا مقصود بنا لیا تو تباہ ہو جائیں گے… یہ
عارضی مسافر خانہ ہے… آگے قبر کا اسٹیشن قریب ہے… یا اللہ ہمیں اپنی رضاء کے
کاموں میں لگادے… اور اپنی رحمت فرما کر غفلت سے بچا دے…
خطرات
بھی ہیں
حکومت
لانگ مارچ کے سامنے جھک تو گئی ہے… مگر وہ اتنا جلدی شکست نہیں مانے گی… ممکن ہے
چیف صاحب آئیں مگر اُن کی مدت ملازمت کم کر دی جائے… یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کسی
حملے کا شکار ہو جائیں… اور پھر اُنکی شہادت کا الزام مجاہدین پر ڈال کر… ایک ٹکٹ
میں دوگناہ کر لئے جائیں… پاکستان میں سرکاری قتل بہت عام ہیں… قدرت اللہ شہاب نے
اپنے ’’شہاب نامہ‘‘ میں لکھا ہے کہ … جنرل یحییٰ خان نے اُن کو قتل کرانے کی
باقاعدہ کوشش کی… اور چوہدری شجاعت صاحب برملا اعلان کر چکے ہیں کہ اُن کے والد
چوہدری ظہور الٰہی کو قتل کرنے کے لئے… بھٹو صاحب نے اکبر بگٹی کو حکم دیا مگر
بگٹی صاحب نہیں مانے… خیر بعد میں کسی اور نے یہ کام کر دیا… یہ تو دو مستند اور
زندہ مثالیں ہیں… جبکہ جو لوگ قتل ہوگئے اُن کی تعداد تو کسی کے علم میںنہیں…
قاتلوں کو بھی یاد نہیں رہتا کہ یہ کافرانہ گناہ انہوں نے کتنی بار کیا ہے… اللہ
تعالیٰ چیف صاحب کی اور تمام مسلمانوں کی حفاظت فرمائے… اور یہ بھی امکان ہے کہ
حکومت چیف صاحب کی بحالی کی ایسی شرطیں رکھ دے جن کو وہ خود منظور نہ کریں… اور
پھر حکومت ذرا تسلّی کے ساتھ وکلاء تحریک سے نمٹنے کی تیاری کر لے… اس بار تو سب
کچھ اچانک ہوگیا… اور قدرتی طور پر لوگوں کا ایک سیلاب وجود میں آگیا… نہ تو
حکومت کو اس کی توقع تھی اور نہ وکلاء اور اپوزیشن نے اس کا تصور کیا تھا… اس لئے
ممکن ہے کہ حکومت نے اس سیلاب سے بچنے کے لئے ابھی عارضی پسپائی اختیار کی ہو… اور
ایک دو روز بعد وہ دوبارہ سیاست کے میدان میں کود آئے… اور ماضی کے وعدوں کی طرح
اب بھی انکار کر دے… کوئی ہے جو ان سیاستدانوں کو اللہ تعالیٰ کی کتاب کی طرف
متوجہ کرے… کوئی ہے جو ان سیاستدانوں کو آخرت اور قبر کی یاد دلائے…
ماضی
کے بادشاہ اسی طرح سازشیں کرتے اور اپنی حکومتیں بچاتے بچاتے مرگئے… اب اُنکی
قبریں تک گم ہوچکی ہیں… اور اُن کی روحیں اب تک چین نہیں پا سکیں…
اللہ
تعالیٰ نے کتنا بڑا احسان فرمایا کہ … ہمیں عزت اور سکون والا دینِ اسلام دیا اور
ہم کتنے غافل ہیں کہ… جمہوری سیاست کے شور میں اسلام سے دور دور ہوتے جارہے ہیں…
یا اللہ رحم فرما، ہمارے دلوں کو ایمان پر ثابت قدمی نصیب فرما
آمین
یا ارحم الراحمین
وصلی
اللّٰہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد واٰلہ وصحبہٖ وسلم تسلیماً کثیرا کثیرا
کثیرا
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ معاف فرمائے… آج کا کالم ’’خیالی‘‘ ہے اور لکھنے والے ہیں خیال جی…
میری
بحالی
خیال
جی آپ کی خدمت میں حاضر ہے… بات یہ ہے کہ آج پیر کا دن ہے اور مجھے معلوم تھا کہ
آج سعدی صاحب نے کالم لکھنا ہے… میں نے اُن سے کہا کہ آج ’’دل جی‘‘ کی چھٹی
کرائیں… وہ خود بھی روتا ہے اور دوسروں کو بھی رُلاتا ہے… آپ مجھ خادم کو موقع
دیں… پچھلی بار جب چیف جسٹس صاحب بحال ہوئے تھے تو آپ نے مجھے کالم لکھنے کا موقع
دیا تھا… اب وہ دوبارہ معزول ہوکرپھر بحال ہوگئے ہیں… اور کیا پتا پھر کب معزول ہو
جائیں… انہوں نے معزولی کے دوران جو عزت دیکھی ہے وہ اُن کو چین سے تو نہیں بیٹھنے
دے گی… پھر کسی این آر او کو چھیڑیں گے… یا کسی حکمران کی مونچھ پر ہاتھ ڈالیں گے
تو معزول ہو جائیں گے… خیر فی الحال تو وہ بحال ہیں… آج خیال جی کو بھی بحال کیا
جائے تاکہ وہ القلم کے قارئین کو ’’خیالی دنیا‘‘ کی سیر کراسکے… سعدی جی مان گئے
اور اب خیال جی آپ کی خدمت میں حاضر ہے… پیار بھرا سلام قبول کریں…
ایک
مفید مشورہ
مجھے
خیال آیا کہ کالم لکھنے سے پہلے کسی ’’کالم نویس‘‘ سے مشورہ کر لوں… ممکن ہے اس
سے میرا کالم جاندار ہو جائے… القلم کے دفتر پہنچا تو ہمارے دوست قاری نوید مسعود
ہاشمی صاحب اپنی کرسی پر انگڑائیاں کھینچ رہے تھے… اور کرسی بے بسی کے ساتھ چرچرا
رہی تھی… سلام دعاء کے بعد قاری صاحب سے عرض کیا… آپ اتنے عرصہ سے کالم لکھ رہے
ہیں کوئی ایسا مشورہ دیں کہ میرا کالم بھی چمک اٹھے… فرمانے لگے! کالم کا آغاز اس
جملے سے کریں کہ اچانک میرے فون کی گھنٹی بجی… میں (یعنی خیال جی) نے عرض کیا اس
سے کیا ہوگا؟… کہنے لگے قارئین پر رعب پڑ جائے گا کہ کالم نویس کے پاس موبائل فون
بھی ہے… اور لوگ اُس کو کالیں بھی کرتے ہیں… اور سسرال والے بھی کالم پڑھیں گے تو
اُن پر بھی رعب ہوگاکہ… ہمارا داماد عام آدمی نہیں موبائل فون کا مالک ہے… اور
اُس کے فون پر گھنٹیاں بھی بجتی ہیں… ہم نے قاری صاحب کے مفید مشورے کو رومال میں
باندھا اور دفتر سے باہر نکل آئے… اور اب اپنے کمرے میں کالم لکھنا شروع کر رہے
ہیں…
ایک
نہیں دو گھنٹیاں
اچانک
ہمارے موبائل فون کی گھنٹی بجی… ہم نے باقاعدہ بٹن دبایا اور فون کو کان سے جوڑ
لیا… دوسری طرف سے بھاری آوازآئی…
آئی
ایم مسٹر اُبامہ! ہائو آر یو مسٹر خیال جی!
ہم
ابھی جواب دیا ہی چاہتے تھے کہ ہمارے دوسرے موبائل کی گھنٹی بجنے لگی… ہم نے
اُبامہ سے کہا
پلیز
ویٹ!… اور دوسرا فون کان سے لگا لیا… ایک مست سی آواز آئی…
السلام
علیکم یا خیا ل جی انا اخوکم فی اللّٰہ اُسامہ! کیف حالک؟…
اب
تو ہم باقاعدہ پریشان ہوگئے… اُبامہ سے بات کریں تو ایمان کا خطرہ اور اُسامہ سے
بات کریں تو جان کا خطرہ… ہم تو آج اُبامہ اور اُسامہ میں پھنس گئے… تب ہم نے
سوچا۔
ہم
نے سوچا
ہمارے
ساتھ جیل میں ایک ساتھی تھے انصاری صاحب… وہ پہلے سمگلر تھے پھر تائب ہوئے اور
مجاہد بنے… بہت نیک آدمی تھے مگر مفصل گفتگو کے عادی… جب کوئی واقعہ سناتے تو اس
میں ’’ہم نے سوچا‘‘ کہہ کہ بات کو بہت لمبا کردیتے اور یوں پانچ منٹ کا واقعہ ایک
گھنٹے میں پورا ہوتا… شروع شروع میں ہم نے برداشت کیا مگر کب تک؟… چنانچہ عزم کر
لیا کہ اُنکی سوچوں سے جان چھڑائی جائے… ایک بار اُن کو سپرنٹنڈنٹ نے دیوڑھی میں
بلایا… وہ واپس آئے تو واقعہ سناناشروع کیا… ہمیں آج جیل ملازم نے بُلاوے کی
پرچی لا کر دی تو ہم نے سوچا تین باتیں ہو سکتی ہیں… پروگرام کے مطابق سب ساتھیوں
نے کہا کہ انصاری صاحب وہ تینوں باتیں چھوڑیں آگے بتائیں… وہ تھوڑے شرمندہ ہوئے
اور پھر اسٹارٹ… ہم اُس کے ساتھ چل پڑے مگر ہم نے سوچا… ساتھیوں نے کہا کہ سوچ کو
گولی ماریں آگے بتائیں… انصاری صاحب نے کہاکہ ہم جیل کی دیوڑھی میں جیسے ہی داخل
ہوئے ہم نے سوچا… ساتھیوں نے کہا سوچ کو چھوڑیں آگے بتائیں… اُس دن کے بعد سے
انصاری صاحب کی کچھ اصلاح ہوگئی اور ہمارا وقت بھی اُنکی سوچوں کو سننے سے محفوظ
ہوگیا… مگر ایک ہی وقت میں ٹیلیفون کی دو کالیں آتے ہی ہم انصاری صاحب بن گئے… ہم
نے سوچا کہ آج ہمیں فون کرنے والے دونوں اپنے اپنے اعتبار سے بڑے آدمی ہیں… اُبا
مہ کی چار سال یا آٹھ سال تک بڑی عزت ہے… جبکہ اُسامہ تو مستقل عزت کے مالک ہیں…
اُبامہ کی کال نہ سنیں تو حکومت پاکستان غدار قرار دے گی… اور اُسامہ کی نہ سنیں
تو اپنا ضمیر تنگ کرے گا… ہم نے فیصلہ کر لیا کہ دونوں سے بات کرتے ہیں… مگر طریقہ
یہ نکالتے ہیں کہ اپنے سامنے چاول کی پلیٹ رکھ لیتے ہیں… اور اس کا ایک لقمہ منہ
میں ڈال کر دونوں سے کہتے ہیں کہ ہم چاول کھا رہے ہیں، اس لئے وقفے وقفے سے بات
ہوگی… اور ہم مسلسل نہیں بول پائیں گے… اور یوں ہم اُبامہ اور اُسامہ دونوں کی
کالیں ایک ساتھ نمٹا لیں گے…
بات
چیت شروع
ہم
نے اُبامہ والا فون کان سے لگایا اور کہا…
مسٹر
اُبامہ آئی ایم ویل بٹ آئی ایم ویری ویری بِزّی آئی ایم ایٹنگ رائس…
یس
اونلی رائس ، ناٹ کونڈا لیزا رائس…
اُبامہ
نے قہقہہ لگایا اور کہنے لگے… ٹھیک ہے آپ چاول بھی کھائیں اور وقفے وقفے سے مجھ
سے بات بھی کرتے رہیں… ہمارے ہاں تو لوگ قضائے حاجت کے دوران بھی برگر کھاتے رہتے
ہیں… اور کھڑے ہو کر پیشاب کرتے وقت ایک ہاتھ سے کیلا کھاتے ہیں اور دوسرے ہاتھ سے
فون کان سے لگائے رکھتے ہیں…
پھر
ہم نے اُسامہ والا فون اُٹھایا اور کہا
وعلیکم
السلام یا شیخ انا بخیر ولکن مشغولٌ جدّا جدّا انا آکل الرزّ فلا استطیع ان اکالم
متتابعًا…
شیخ
نے خوشدلی سے کہا بارک اللہ! حیّاک اللہ! آج پہلی بار رابطہ ہوا ہے آپ رک رک کر
بات کرتے رہیں…
یہاں
ایک ضروری بات یہ عرض کردیں کہ اسامہ عربی بول رہے تھے اور اُبامہ انگریزی… ہمارے
بعض قارئین کو عربی نہیں آتی اور بعض کو انگریزی… اور ہمارے کئی قارئین کو تو خیر
سے اردو بھی نہیں آتی… اس لئے اب ہم اُن دونوں کا اردو ترجمہ کرتے جائیں گے…
بہت
پریشان
ہم
نے اُبامہ سے پوچھا! سنائیے کیا حال ہے؟ ہمیں کیسے یاد کیا؟… کہنے لگا…
خیال
جی کیا بتائوں… بہت پریشان ہوں… مسائل کا ایک سمندر ہے اور ہر مسئلہ سانپ کی طرح
پھن اُٹھائے کھڑا ہے… دہشت گردی، اقتصادی بحران اور داخلی بے چینی… کچھ سمجھ نہیں
آرہاعراق سے ہم نکل رہے ہیں مگر دل کو اطمینان نہیں… اُس پورے علاقے میں ہمیں صرف
اپنے خفیہ دوست ایران کا سہارا ہے… مگر چاروں طرف عرب مجاہدین ہمارے نکلنے کا
انتظار کر رہے ہیں… اور افغانستان تو ہمارے گلے کا کانٹا بن گیا ہے… ابھی نئی
افغان پالیسی بنانے کا ارادہ ہے… پچھلی پالیسی تو طالبان نے ناکام بنا دی… کرزئی
کو چھٹی دینا چاہتے ہیں مگر اُسکی جگہ کس کو لائیں… افغانوں کا پتا ہی نہیں چلتا
کہ کون ہمارا ساتھی ہے اور کون ہمارا دشمن؟… سوچا کہ آپ سے کچھ مشورہ کرلوں… بہت
پریشانی ہے… ہمارا خوبصورت امریکہ لولے لنگڑے فوجیوں سے بھرتا جارہا ہے… سات سال
کی جنگ میں ہم نے ایک کامیابی بھی حاصل نہیں کی… آپ کچھ مشورہ دیں… ہم نے کہا
اُبامہ! میں تھوڑے سے چاول کھالوں پھر بتاتا ہوں… اُس نے کہا ’’اوکے‘‘
بہت
خوش
ہم
نے اُسامہ والا فون اُٹھایا اور پوچھا کیا حال ہے؟ کیسے آج یاد کیا؟… کہنے لگے…
الحمدللہ ربّ العالمین… مزے ہی مزے ہیں اور خوشیاں ہی خوشیاں… ہم نے کہا! کیسے
مزے؟… کہنے لگے ماضی میں بہت مصروف زندگی گزاری… اب فراغت ہی فراغت ہے… سال چھ
مہینے کے بعد بس ایک آدھ آڈیو یا ویڈیو کیسٹ بھرنی پڑتی ہے… جب دیکھتا ہوں کہ
حالات کچھ ٹھنڈے ہو رہے ہیں تو پندرہ منٹ کی تقریر کر لیتا ہوں… ہر طرف شور مچ
جاتا ہے اور میں اپنی غار میں جاکر عبادت میں مشغول ہو جاتا ہوں… وضو، نماز اور
تلاوت کے مزے ہیں… نہ کوئی شور ہے نہ شرابا… ادھر اُدھر سے جو خبریں ملتی ہیں اُن
سے حالات کا پتا بھی چل جاتا ہے… آج معمولات سے فارغ ہوا تو سوچا آپ سے بات
کرلوں اور پوچھوں کہ حالات کس رخ پر جارہے ہیں؟… آپ صحافی لوگوں کی نظر ہوتی ہے…
میں
نے کہا یا شیخ میرے چاول… کہنے لگے تھوڑے سے کھا کر پھر جواب دیں مجھے جلدی نہیں
ہے…
تعجب
کا اظہار
ہم
نے دوسرا فون اُٹھایا تو اُبامہ بے چینی سے انتظار میں تھے… ہم نے کہا… آپ کے تو
مزے ہوگئے اتنے بڑے ملک کے صدر بن گئے… کہنے لگے… بش بھی تو صدر تھا آخر جوتے کھا
کر گیا… مجھے جلدی مشورہ دو… ہم نے کہا… وہائٹ ہائوس آپ کے قدموں کے نیچے ہے…
ہزاروں افراد کا آپ کے پاس عملہ ہے… آپ کو نہلانے، دھلانے اور آپ کی ٹیوننگ
سروس کے لئے مستقل عملہ مقرر ہے… آپ کے پاس زمین کی سب سے بڑی جنگی طاقت ہے… کئی
مسلمان آپ کے ٹھاٹھ اور آپکی طاقت کو دیکھ کر ایمان سے ہاتھ دھو رہے ہیں… جبکہ
آپ کہہ رہے ہیں کہ میں بہت پریشان ہوں… اُبامہ نے کہا… میں امریکہ کا پہلا کالا
صدر ہوں… گورے میرے قابو میں نہیں آرہے… اور اگر میں بھی ناکام گیا توآئندہ سو
سال پھر کوئی کالا صدر نہیں بن سکے گا… مجھے تو وہائٹ ہائوس ایک سولی کی طرح نظر
آرہا ہے… کس کس کو سنبھالوں… روس پھر جگہ جگہ اپنے میزائل لگا رہا ہے… ہمارے ملک
کے بینک دیوالیہ ہو رہے ہیں… ہماری خفیہ ایجنسیاں جھوٹ پر جھوٹ بولتی ہیں… اور
ہماری عوام بہت بے چین ہے… آخر اس افغان مسئلے کا کچھ تو حل بتائو… ہم نے کہا
پلیز ویٹ۔
حیرت
کا دریا
ہم
نے اُسامہ والا فون اٹھایا سلام کیا… مگر کوئی جواب نہیں… البتہ کوئی آواز آرہی
تھی… ہم گھبرائے کہ کچھ ہوگیا… مگر جب غور سے سنا تو خراٹوں کی آوازتھی… ہم نے
زور سے بول بول کر شیخ کو جگایا… وہ کہنے لگے عفواً یا شیخ… آپ چاول کھا رہے تھے
مجھے نیند آگئی… بتائیے حالات کس رخ پر جا رہے ہیں… ہم نے کہا اسامہ ! آپ نے
دنیا کی نیند تو اڑائی ہوئی ہے اور خود فون پکڑ کر بھی سوجاتے ہیں؟… کیا آپ کو ڈر
نہیں لگتا؟… لاکھوں فوجی آپکی تلاش میں ہیں… کوئی بھی میزائل آپ کو کسی وقت
نقصان پہنچا سکتا ہے… کوئی بھی مخبر آپ کو پکڑوا سکتا ہے … شیخ نے قہقہہ لگایا…
اور کہنے لگے… ڈرکس کا؟… موت کا وقت میرے پیدا ہونے سے پہلے مقرر ہو چکا ہے… تقدیر
لکھنے والا قلم سارے فیصلے لکھ کر خشک ہو چکا ہے… میں ڈر کر رہوں تب بھی اپنے وقت
پر مروں گا… اور خوش رہوں تب بھی موت اپنے مقررہ وقت پر آئے گی… میں جھک کر اور
بِک کر زندگی گذاروں تب بھی… وہی رزق کھائوں گا جو مقدّر ہے… اور عزت و سربلندی سے
رہوں تب بھی میرے حصے کا لقمہ میرے منہ میں آکر ہی ٹوٹے گا… سات سال ہوگئے … کون
مجھے بچا رہا ہے؟… صرف میرا اللہ، صرف میرا اللہ… اور اللہ جب تک چاہے گا مجھے بچائے
گا… اور جب وہ بچانا نہیں چاہے گا تو میں بھی بچنے کا خیال دل سے نکال دوں گا…
غاروں، پہاڑوں، صحرائوں اور آبشاروں میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کا مزہ ہی کچھ اور
ہے… میں جب کہتا ہوں ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ تو زمین کے پتھر بھی ساتھ بول پڑتے ہیں…
کیونکہ واقعی میرا تو اللہ کے سوا کوئی ہے ہی نہیں… ہر طرف دشمن اور ایمان والوں
کے سوا ہر کوئی دشمن… میں خود کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ ایمان پر ہوں… اور مجھ سے
بڑے خوش نصیب تو امیر المومنین ملّا عمر مجاہد ہیں… جنہوں نے اسلام کی خاطر حکومت
چھوڑی، کرسی چھوڑی اور اقتدار چھوڑا… وہ قابلِ رشک ہیں… ہم نے اُسامہ سے کہا آپ
دو چار اور خراٹے لے لیںاور ہم چاول کھاتے ہیں…
نئے
منصوبے
ہم
نے اُبامہ والا فون اٹھایا تو ہیلو ہیلو کی بھاری آواز گونج رہی تھی… ہم نے کہا
!ہم تو آپ کو بعد میں مشورہ دیں گے… کیاآپ نے اپنے پرانے حکمرانوں سے مشورہ نہیں
کیا؟… وہ ہنس کر بولے… پرانے حکمران؟ جناب وہ تو پورے ملک کو آگ میں دھکیل کر
بھاگ گئے… کونڈا لیزا رائس کو ہی دیکھ لیں… اب ساری دنیا میں اپنے لئے رشتہ
ڈھونڈتی پھرتی ہے… حالانکہ پہلے ایسے بیانات دیتی تھی جیسے
کالی ماتا ہو اور وہ ساری دنیا کو کھا جائے گی … مگر اب اُس کا ایک ہی
کام ہے کہ … ہروقت شادی کے دفتروں میں فون کرتی رہتی ہے کہ کوئی رشتہ آیا؟… سنا
ہے کچھ دن پہلے پاکستان سے غلام مصطفی کھر نامی لڑکے نے اُس سے رابطہ کیا ہے… اب
بے چاری کی عمربھی کافی ہوگئی ہے… پچپن سال کی لڑکی کو آسانی سے تو رشتہ نہیں
ملتا… اور بش تو اکثر غمگین رہتا ہے… سارا دن اپنے گھر میں بطخوں کے ساتھ کھیلتا
رہتا ہے… مگر جب اُسکی نظر ’’جوتے‘‘ پر پڑتی ہے تو اپنے کمرے میں جاکر چھپ جاتا
ہے… اس لئے ہم نے نئی افغان پالیسی بنانے کا فیصلہ کیا ہے… ابھی آپ کے وزیر خارجہ
قریشی صاحب کو بلوایا تھا… وہ ہمارے لئے ملتان کا مشہور سوہن حلوہ بھی لائے تھے…
ہم نے اُن سے مشورہ مانگا تو کہنے لگے… پیسے دو پیسے دو… پھر ہم نے افغانستان سے
کرزئی کو بلوایا اُس سے مشورہ مانگا تو کہنے لگا… پیسے دو پیسے دو… پھر ہم نے چپکے
سے پاکستان کے کئی قبائلی رہنمائوں کو بلوایا اُن سے مشورہ مانگا تو کہنے لگے…
پیسہ دو پیسہ دو… اب ہم کس کس کو پیسہ دیں… کیا دنیا کی سپر پاورہونے کا مطلب یہ
ہے کہ ہم رشوت دے دے کر عزت بچاتے رہیں… پرویز مشرف کو ہم نے کتنا پیسہ دیا؟… اُس
نے چک شہزاد میں محل بنالیا اور ہمارا کام پورا نہیں کیا… کرزئی کو ہم نے کتنا
کھلایا وہ سارا پیسہ جرمنی میں جمع کرتا رہتا ہے… عجیب بات ہے کہ ملّاعمر کے پاس
پیسہ نہیں مگر کتنے مسلمان اُنکی عزت کرتے ہیں… اور ایک ہم ہیں کہ جس کو ڈالر نہ
دیں وہ ہمیں گالیاں دیتا ہے… ہائے کاش کوئی ہمارے دکھ درد کو سمجھتا کہ ہم طاقتور
ہو کر بھی بے بس ہیں… اور مالدار ہو کر بھی غریب ہیں… آج آپ سے مشورہ کرنا تھا
تو میں ڈر رہا تھا کہ آپ بھی فوراً کہہ دو گے کہ پہلے مجھے سو روپے والا جاز کارڈ
بھیجو تو جواب دیتا ہوں… مگر خیال جی آپ نے کمال کیا کہ ابھی تک مجھ سے مفت بات
کر رہے ہیں… اور ساتھ ساتھ اپنے پیسوں سے بریانی بھی کھا رہے ہیں… ورنہ کرزئی
وغیرہ کو تو چاول بھی ہمیں اپنی جیب سے کھلانے پڑتے ہیں… ہائے ہماری بے بسی… خیر
ہم نے قریشی صاحب سے وعدہ کر لیا ہے کہ آپکی امداد ہم تین گنا بڑھا رہے ہیں… وہ
بہت خوش گئے ہیں اور انہوں نے زرداری صاحب کو جب یہ خوشخبری سنائی تو اُنکی خوشی
دیکھنے لائق تھی… وہ تو اس خوشی میں چیف جسٹس اور لانگ مارچ کا غم بھی بھول گئے
ہیں… کیا خیال ہے ہمارا یہ منصوبہ کامیاب ہوگا؟… ہم نے کہا آپ تھوڑا
سا انتظار کریں… ہم پانی پی کر جواب دیتے ہیں…
پرانے
ارادے
ہم
نے اُسامہ سے کہا… شیخ جی! حالات تو آپ کے علم میں آتے رہتے ہیں… آپ اپنا
بتائیں کہ اب کیا ارادے ہیں؟ کوئی مذاکرات، مصالحت یا کوئی سمجھوتہ… شیخ نے قہقہہ
لگایا… اور کہا میرے تو وہی پرانے ارادے ہیں… اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب
عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے… مگر اُسی مجاہد کا جہاد محبت کا تمغہ حاصل کرتا ہے جو
ثابت قدم ہو اور مرتے دم تک شہادت کے پیچھے بھاگتا رہے… ہم نے کہا… شیخ جی آپ
مارے گئے تو؟… کہنے لگے شہید ہو جائوں گا، مزے کروں گا، آخرت کی روزی پائوں گا…
ہم نے کہا آپ پکڑے گئے تو؟… کہنے لگے قید ہونا انبیاء کی سنت ہے… مؤمن کے لئے
دنیا ویسے ہی قید خانہ ہے… ہم نے کہا آپ کی تحریک کا کیا بنے گا؟… شیخ نے کہا وہ
تو میری تحریک نہیں… میرے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا… مسلمانوں کی مائیں مجاہد
بچے جنتی رہیں گی… قرآن پاک کی آیتیں مسلمانوں کے خون میں جہاد کا نور بھرتی
رہیں گی… میرے جانے سے بس اتنا ہوگا کہ اب میں چھپا ہوا ہوں شہادت کے بعد سامنے
آجائوں گا… اور دشمنوں کے لئے زیادہ خطرناک بن جائوں گا… ہم نے کہا شیخ آپ ہیں
کہاں؟ اور ملا محمد عمر صاحب کہاں ہیں… آپ آہستہ سے بتادیں تاکہ فون ٹیپ نہ ہو
جائے… شیخ نے کہا… ہم دونوں اللہ تعالیٰ کے بندے ، اللہ تعالیٰ کی زمین پر ہیں…
اللہ تعالیٰ کا رزق کھاتے ہیں… اللہ تعالیٰ کے بندوں کے درمیان رہتے ہیں… اللہ
تعالیٰ پر توکّل رکھتے ہیں… اور اللہ تعالیٰ کی زمین بہت کشادہ ہے… خیال جی اسی
مٹی سے ہم پیدا ہوئے… اسی پر رہتے ہیں اورا سی میں دفن ہوکر برزخ کی وسعتوں میں گم
ہوجائیں گے… وہائٹ ہائوس والوں نے بھی مر جانا ہے اور ہم نے بھی مرنا ہے… کوئی موت
سے نہیں بچے گا… مگر ہمارے لئے انشاء اللہ آگے بہت آسانی ہے… تو پھر ہمیشہ کی
راحتوں کو سودے بازی کرکے کیوں قربان کریں… اچھا میرا کھانا آگیا ہے… وہ دیکھو!
یہاں بھی آج چاول پکے ہیں اور اوپر دنبے کا چربی والا گوشت مہک رہا ہے… خیال جی!
بہت موٹی موٹی بوٹیاں ہیں… اورساتھ دہی کی لسّی بھی ہے اور قہوے کی دو کیتلیاں…
اچھا میں تو کھانا کھانے لگا ہوں… والسَّلام علیکم…
ہم
نے اپنے منہ میں آنے والا پانی چوسا اور حیرانی سے فون ایک طرف رکھ دیا اور
اُبامہ والافون اٹھالیا…
ایسی
باتیں نہ کرو
اُبامہ
نے چھوٹتے ہی پوچھا… تو کیا ہماری نئی پالیسی کامیاب ہوگی؟… ہم نے کہا سچ بولیں تو
آپ کو بُرا لگے گا… اور جھوٹ بولیں تو اپنے منہ میں بدبو پیدا ہو جائے گی… ابامہ
نے کہا پھر سچ بولو… ہم نے کہا سچ بولیں تو غیر ملکی سفروں پر پابندی لگ جائے گی
اور جھوٹ بولیں تو اپنی قبر خراب ہوگی… ابامہ نے کہا اب سچ بول بھی دو میرے کھانے
کا وقت ہو رہا ہے پتا نہیں آج کیا پکا ہوگا؟… ہم نے کہا آپ کے ابو جی مسلمان تھے
آپ بھی مسلمان ہو جائیں تو پھر ہماری بات سمجھ سکیں گے… ورنہ آپ کو یہ باتیں
فضول کے خواب نظر آئیں گی… ابامہ نے کہا یہ بات چھوڑو! آپ کے مسلمان حکمران یہاں
آکر جس طرح میرے قدموں پر گرتے ہیں وہ دیکھ لو تو پھر اسلام کو بھول جائو گے… ہم
نے کہا وہ بیچارے تو قرآن پاک سے دور ہو گئے ہیں اس لئے ذلیل ہوتے ہیں… حقیقی
مسلمان تو کبھی بھی ایسا نہیں کرسکتے… آپ حقیقی اسلام قبول کر لو… ابامہ نے کہا…
اس بات کو چھوڑو، میری بات کا جواب دو… ہم نے کہا اُبامہ جی آپ کی پالیسی ناکام
ہوگی… اگر آپ واقعی اپنی قوم کے لئے اور پوری دنیا کے لئے امن چاہتے ہیں تو ہر
اسلامی ملک سے اپنی فوجیں نکال لیں… اور ملا عمر اور اُن جیسے مسلمانوں سے بات کریں
جو اُمت مسلمہ کے دلوں پر حکومت کرتے ہیں… ابامہ تھوڑی دیر خاموش رہے اور پھر کہا…
گڈ بائی میرا کھانا آگیا ہے… ارے خوب آج تو سور کے گوشت کا برگر … اور افریقہ کے
سانپ کے کباب اور ساتھ میں برانڈی کی بوتل بھی ہے… گڈ بائی… ہم نے فون ایک طرف
پھینکا اور بھاگ کر باتھ روم میں جاکر بیسن کے سامنے جھک کر کھڑے ہوگئے… ابامہ جی
کے کھانے کا تصور کرکے ایسی اُلٹی آئی کہ تمام بریانی باہر نکل گئی… ہمیں اپنے اس
مالی خسارے کا افسوس ہوا اور ہم وضو کرکے مصلّے پر آبیٹھے…
قرآن
پاک کی روشنی
اب
ہم نے قرآن پاک اٹھایا ہوا ہے… اور ادب کے ساتھ پوچھ رہے ہیں کہ اُبامہ نے اپنی
دولت کے خزانے کھول دئیے ہیں اب کیا ہوگا؟…
سورۃ
الانفال کی آیت ۳۶ سامنے
آگئی… اللہ ربّ العالمین فرما رہے ہیں
اِنَّ
الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ
اللّٰہِ ط فَسَیُنْفِقُوْنَھَا ثُمَّ تَکُوْنُ عَلَیْھِمْ حَسْرَۃً ثُمَّ
یُغْلَبُوْنَ ط وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی جَھَنَّمَ یُحْشَرُوْنَ۔
ترجمہ:
بے شک جو لوگ کافر ہیں وہ اپنے مال خرچ کرتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکیں
پس ابھی وہ اور بھی خرچ کریں گے پھر وہ اُن کے لئے حسرت ہوگا پھر وہ مغلوب کئے
جائیں گے اور جو کافر ہیں وہ جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے… (الانفال ۳۶)
پھر
ہم نے اسامہ کی خیالی باتیں سوچیں تو سورۃ التوبہ کی آیت ۵۱، ۵۲ سامنے
آگئی… ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قُلْ
لَّنْ یُّصِیْبَنَآ اِلَّامَاکَتَبَ اللّٰہُ لَنَا ھُوَ مَوْلٰنَا وَعَلَی اللّٰہِ
فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ o قُلْ ھَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَآ اِلَّآ اِحْدَی
الْحُسْنَیَیْنِ ط وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِکُمْ اَنْ یُّصِیْبَکُمُ اللّٰہُ
بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِہٖٓ اَوْبِاَیْدِیْنَا فَتَرَبَّصُوْآ اِنَّا
مَعَکُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ۔
ترجمہ:
کہہ دو ہمیں ہرگز نہیں پہنچے گا مگر وہی جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے لکھ دیا وہی
ہمارا کارساز ہے اور اللہ تعالیٰ ہی پرچاہیے کہ مؤمن بھروسہ کریں… کہہ دو تم
ہمارے حق میں دو بھلائیوں میں سے ایک کے منتظرہو (فتح یا شہادت) اور ہم تمہارے حق
میں اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے ہاں سے تم پر کوئی عذاب نازل کرے یا
ہمارے ہاتھوں سے… تم بھی انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتے ہیں …
(التوبہ ۵۱، ۵۲)
وصلی
اللّٰہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد واٰلہ وصحبہٖ وسلم تسلیماً کثیرا کثیرا
کثیرا
٭٭٭
نصرت
فرمائے… فوجوں سے لڑنا آسان ہے مگر سازشوں کا مقابلہ کرنا تھوڑا سا مشکل ہوتا ہے…
میدانوں میں شکست کھانے والے اب سازشوں کے جال پھینکنے کی تیاری کر رہے ہیں… مگر
اللہ تعالیٰ ’’ایک‘‘ ہے اور ایمان والوں کے ساتھ ہے… ڈرنے، گھبرانے کی ضرورت نہیں…
ڈرنے والے ہمیشہ نقصان اٹھاتے ہیں…
ایک
چالاک عورت کا واقعہ
تفسیر
حقانی کے مصنف نے ایک عجیب واقعہ لکھا ہے…
ایک
عورت اپنے سوتیلے بیٹے کو مارنا چاہتی تھی مگر مار نہیں سکتی ہے… اُس نے ایک تدبیر
سوچی کہ بچے کو ڈرا کر مار دیا جائے… ایک بار اُس لڑکے کے پیٹ میں کچھ درد اور گیس
کی گڑگڑاہٹ ہوئی… سوتیلی ماں نے اُسے گود میں لے لیا اور رونے لگی… کہا! پیارے
بیٹے چند دن پہلے تم نے جو پانی پیا تھا تو پیالے میں سانپ کا ایک چھوٹا سا بچہ
تھا… میں اُس کو نکال کر مارنے والی تھی کہ اچانک کوئی کام پڑ گیا، میں تو اُس کام
کے لئے چلی گئی… واپس آئی تو تم پانی پی چکے تھے… اب سانپ کا وہ بچہ جو پانی کے
ساتھ تمہارے پیٹ میں چلا گیا تھا… اندر ہی بڑا ہورہا ہے… اب پتا نہیں
زیادہ بڑا ہوگیا تو کیا کرے گا… ماں نے ڈر اور خوف کا تیر پھینکا جو اُس لڑکے کے
دل پر لگا… اب اُسے ہر وقت اپنے پیٹ میں سانپ محسوس ہوتا… ڈر، خوف اور اندیشے نے
اُس کو بیمار کردیا اور چند دن کے اندر ہی وہ بستر سے لگ گیا… لڑکے کا باپ اُسے
ایک دم کرنے والی عورت کے پاس لے گیا… وہ سوتیلی ماں سے بھی بڑھ کر افلاطون تھی…
وہ پوری بات سمجھ گئی اور تسلّی دی کہ بس چند دن دم کروں گی ، سانپ یا تو مر جائے
گا یا باہر نکل آئے گا… فیس طے ہوگئی، علاج شروع ہوگیا… دو چار دن بعد اُس عورت
نے سانپ کا ایک بچہ کسی جگہ سے لیا اور اُس کا زہر نکال لیا… دم کرنے کے دوران کسی
طرح وہ سانپ لڑکے کی شلوار میں چھوڑ دیا… اور پھر کچھ اداکاری کرکے دم کیا اور کہا
ایسا لگتا ہے کہ پیٹ والا سانپ نکل آیا ہے… شاید شلوار میں ہو… لڑکے نے ڈر کے
مارے شلوار اُتار دی تو اُس میں سانپ موجود تھا… جس کو مار دیا گیا… اور چند دنوں
بعد وہ لڑکا بالکل ٹھیک ٹھاک ہوگیا…
اُمت
مسلمہ کو اس وقت اُس کے سوتیلے خیر خواہوں نے کافروں سے اتنا ڈرا دیا ہے کہ … وہ
بستر سے لگی پڑی ہے… اور اب اُبامہ کی نئی پالیسی کے حوالے سے اور ڈرایا جا رہا
ہے… حالانکہ ڈرنے کی کوئی بات ہے ہی نہیں… اس اُمت مسلمہ کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ
نے وعدہ فرما رکھا ہے… اور مسلمانوں کو ختم کرنا، جہاد کو بند کرنا اور اسلام کو
مٹانا کسی کے بس میں نہیں ہے… جی ہاں دجّال کے بس میں بھی نہیں ہے… البتہ مسلمانوں
کے لئے ضروری ہے کہ وہ قرآن پاک سے سیکھیں کہ فوجوں کا مقابلہ کس طرح سے کیا جاتا
ہے… اور سازشوں کا مقابلہ کس طرح سے کیا جاتا ہے… قرآن پاک نے سب کچھ سکھا دیا
ہے… اور وہ مسلمان جو کافروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اُن کو اللہ تعالیٰ سے
بہت ڈرنا چاہیے… وہ اُس اندھیرے کنویں میں گر رہے ہیں جس کی تہہ
میں آگ کا سمندر ہے… اسلام تو دشمنانِ اسلام کے ساتھ ادنیٰ سے عسکری
تعاون کو بھی برداشت نہیں کرتا…
مالی
مفاد کی خاطر بے ضرر تعاون پر وعید
امام
قرطبیس نے اپنی شہرہ آفاق تفسیر ’’الجامع لاحکام القرآن‘ ‘میں لکھا ہے:
مدینہ
منورہ کے کچھ غریب مسلمان یہودیوں کے پاس جاتے تھے اور اُن کو مسلمانوں کی کچھ
خبریں وغیرہ بتا دیتے تھے (یہودی اس بات سے خوش ہوتے اور اُن کو مزدوری کا کام دے
دیتے) اور یوں اُن مسلمانوں کو کچھ کھجوریں وغیرہ مل جاتی تھیں اس پر قرآن پاک کی
آیت نازل ہوئی… اور اُن مسلمانوں کو اس کام سے سختی کے ساتھ روک دیا گیا… یہ ایک
بے ضرر سا تعاون تھا… اور مسلمان بھی بہت غریب اور محتاج تھے… مگر جو آیت نازل
ہوئی اُسے پڑھ کر جسم تو کیا روح بھی کانپ جاتی ہے… ملاحظہ فرمائیے سورۃ الممتحنہ
کی آخری آیت
یٰٓاَیُّھَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ قَدْ
یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَۃِ کَمَا یَئِسَ الْکُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ۔
( الممتحنہ۱۳)
ترجمہ:
اے ایمان والو! اس قوم سے دوستی نہ کرو جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوا وہ تو آخرت
سے ایسے نا اُمید ہوگئے کہ جیسے کافر اہل قبور سے ناامید ہوگئے…
آیت
مبارکہ کا جامع خلاصہ
اے
مسلمانو! کفار سے ہرگز دوستی مت رکھو… ان کفار پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوتا
ہے… جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوا اُن سے اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے کس طرح سے
دوستی کرسکتے ہیں؟ یہ کفار آخرت سے بالکل مایوس ہیں… جس طرح مر جانے والے کافر
اپنی قبروں میں آخرت کا عذاب دیکھ کر اب ہر طرح کی خیر سے مایوس ہو چکے ہیں… یا
جس طرح کفار قبروں میں دفن ہوجانے والے لوگوں کے دوبارہ زندہ ہونے سے مایوس
ہیں… (فتح الجوّاد)
آیت
مبارکہ کے پر اثر مضامین
۱ سورۃ
الممتحنہ کے شروع میں کفار سے دوستی سے منع فرمایا تھا… اور اب سورت کے آخر میں
اسی مضمون کو عجیب تاکید کے ساتھ پھر بیان فرمایا ہے…
۲ کفار
سے دوستی نہ کرو… کیونکہ اُن پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے… اور وہ آخرت کو نہیں
مانتے… اور وہ آخرت کی ہر خیر سے محروم ہیں… اور اُن کا سارا کھیل اُن کے دفن
ہونے تک کا ہے… بس جیسے ہی مر کر قبروں میں گئے تو ہر طرح کا عذاب ہمیشہ ہمیشہ کے
لئے شروع…
۳ یہ
کتنی عجیب اور پُر اثر تاکید ہے… ’’اللہ تعالیٰ کا غضب‘‘ اتنا سخت لفظ ہے کہ اسے
سن کر روح کانپ جاتی ہے… اور ایک مؤمن کو دو باتیں سوچنے پر مجبور کر تی ہے
(الف) اگر
میں اللہ تعالیٰ کا وفا دار ہوں تو اُن لوگوں کو منہ نہ لگائوں جن پر میرے محبوب
رب کا غضب ہے اور وہ اُن سے ناراض ہے
(ب) ایسے
لوگوں کی صحبت جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے مجھے بھی اس غضب کا مستحق بنا سکتی ہے
(العیاذ باللہ)
۴ پھر
فرمایا وہ کفار آخرت سے بالکل نااُمید ہیں… یہ بات سنتے ہی مؤمن کے دل میں فوری
طور پر دو باتیں آتی ہیں
(الف) اصلی
زندگی تو آخرت کی زندگی ہے… یہ کفار چونکہ اُس زندگی سے مایوس ہیں تو کہیں ایسا
نہ ہوکہ انکی دوستی مجھے بھی آخرت سے غافل کرکے دنیا پرستی میں لگادے… اور میں
ناکام ہو جائوں
(ب) جو
آخرت کو نہ مانتا ہو اس کی زندگی میں ’’انسانیت‘‘ نہیں آسکتی کیونکہ جب آگے کی
پوچھ تاچھ اور حساب کتاب کا خطرہ نہیں… تو پھر صرف وقتی مفادات ہی رہ جاتے ہیں… تو
ایسے کافروں سے دوستی بالآخر ذلّت کا باعث ہی بنے گی کیونکہ وہ اپنا مفاد حاصل کرکے
مجھے تنہا چھوڑ دیں گے…
۵ اور
آخر میں فرمایا… جس طرح قبروں میں مدفون کافر اب آخرت کی ہر خیر سے مایوس ہو چکے
ہیں… اس میں بڑی عبرت ہے کہ کافروں کی طاقت، اُنکی شان و شوکت اور اُن کے تماشے…
سب فانی ہیں… ایک مسلمان کو ان سے متاثر نہیں ہونا چاہیے… کافر جیسے ہی مرتا ہے
ہمیشہ کے عذاب میں جاگرتا ہے… تو اُس کے چند روزہ شور شرابے کو دیکھ کر اُس سے
دوستی جوڑنا کونسی عقلمندی ہے؟ (فتح الجوّاد)
نئی
پالیسی کے دو بنیادی ستون
مسلمانوں
کے خلاف اب جس نئی پالیسی کا اعلان ہوا ہے اُس کے دو بنیادی ستون ہیں…
۱ فوج
اور اسلحہ کی جگہ پیسہ استعمال کرو
۲ مسلمانوںسے
خود لڑنے کی بجائے ان کو آپس میں لڑائو…
اب
بہت سے شکاری ڈالروں کے سوٹ کیس بھر کر… مسلمانوں میں سے اپنے لئے نئے دوست اور
نئے ایجنٹ ڈھونڈنے نکل پڑے ہیں… اور حکومتِ پاکستان کو یہ ذمہ داری سونپی جارہی ہے
کہ… خون دو اور پیسہ لو… یعنی جتنے مسلمان مارو گے اتنا مال بنائو گے…
اور
اس پالیسی کا تیسرا ستون ایک نیا اتحاد ہے… جی ہاں مسلمانوں کے خلاف ایک چار رکنی
اتحاد… امریکہ، روس، بھارت اور ایران… اس اتحاد کو بنانے اور جوڑنے کے لئے ترتیب
طے کرلی گئی ہے… ظاہری طور پر یہ خطرناک پالیسی ہے… شروع شروع میں ممکن ہے چند
دنوں اس میں کامیابی ملے… کچھ بڑے بڑے مجاہدین مارے جائیں… کچھ پکڑے جائیں… اور
کچھ پرانے مجاہدین اللہ تعالیٰ کے غضب کو آواز دے کر کفار کے ساتھ مل جائیں… مگر
زیادہ سے زیادہ ایک سال بعد یہ پالیسی بش کی جنگجو یانہ پالیسی سے بھی زیادہ ناکام
ہو جائے گی… اور پیٹ والا سانپ باہر نکل آئے گا اور انشاء اللہ مارا جائے گا…
پالیسی
کیوں ناکام ہوگی
قرآن
پاک کے واضح اشارات بتارہے ہیں کہ… یہ پالیسی ناکام ہوگی… ہم نہ تو ایگزٹ پول
کراتے ہیں… اور نہ بیوقوف قسم کے تھنک ٹینک بٹھاتے ہیں… ہمارے پاس ’’قرآن پاک‘‘
موجود ہے… جو بالکل سچ سچ ہر بات بتاتا ہے… اور یہ زندہ کتاب ہر زمانے میں اپنے
ماننے والوں کی رہنمائی فرماتی ہے… میں چاہوں تو ابھی قرآن پاک کی کئی آیات
مبارکہ کی روشنی میں ’’نئی پالیسی‘‘ کا تجزیہ عرض کر سکتا ہوں… مگر یہ کام انشاء
اللہ کسی اور دن… فی الحال تو چند سوالات…
۱ جو
لوگ ابھی تک طالبان اور القاعدہ کا فرق نہیں سمجھے… وہ ان دونوں سے لڑنے کی ٹھیک
پالیسی کیسے بنا سکتے ہیں؟…
۲ اس
پالیسی کا بنیادی ہدف ’’القاعدہ‘‘ کی ’’کمر‘‘ کو قرار دیا گیا ہے… یعنی ہمارا اصل
کام القاعدہ کی کمر توڑنا ہے… اب جو چیز ہو ہی نہ اُس کو کیسے توڑیں گے؟… القاعدہ
کی کمر نہ تو افغانستان میں ہے اور نہ پاکستان میں… اگر القاعدہ کی کمر ان دوملکوں
میں ہوتی تو یہ تنظیم یہاں کی بڑی طاقت بن جاتی… حالانکہ القاعدہ کابل سے لے کر
قندھار اور تک پشاور سے لے کر کراچی تک کہیں نظر نہیں آتی… عرب شعراء میں مقابلہ
چل رہا تھا کہ اپنے محبوب کی کمر کی باریکی کو بیان کریں… ایک نے کہا… ومُھَفْھَفٍ
کَاالغُصْنِ الخ… کہ میرے محبوب کی کمر تو درخت کی شاخ اور ٹہنی کی طرح ہے… دوسرے
نے اپنی محبوبہ کی کمر کو اُسکی زلفوں سے باریک قرار دے دیا… موٹی بیویوں والے
شاعر تو پہلے ہی مقابلے سے آئوٹ ہو چکے تھے… زلفوں کے ساتھ تشبیہ نے ٹہنی اور شاخ
والوں کو بھی پریشان کر دیا… مگر مقابلہ پتا ہے کون لوٹ گیا؟… جی ہاں وہ شاعر جس
نے اعلان کیا کہ میں نے اپنے محبوب کی کمر ڈھونڈی تو وہ ملی ہی نہیں… جان ہی چھوٹی
اور مقابلہ ختم… القاعدہ کی کمر افغانستان میں ہوتی تو وہ وہاں کوئی بڑی کارروائی
کرتی… پاکستان میں ہوتی تو یہاں کوئی کارروائی کرتی… القاعدہ نے کارروائی تو
نیویارک میں کی… گیارہ ستمبر کے حملوں میں القاعدہ کی تمام تیاری اور محنت امریکہ
اوریورپ ہی میں ہوئی… اس کارروائی میں نہ تو افغانستان اور نہ پاکستان کا کوئی
مجاہد تھا… اور نہ یہاں سے ایک گولی یا ایک روپیہ بھیجا گیا…
اب
اسی سے اندازہ لگا لیں کہ القاعدہ کی کمر کہاں ہے… پھر تھوڑا سا غور کریں… عراق
میں شیخ ابو مصعب الزرقاوی نے القاعدہ میں شمولیت کا اعلان کیا تو وہاں القاعدہ
نظر آنے لگی… افغانستان میں القاعدہ کا کمانڈر کون سا ہے؟… یہ لوگ چھپ کر کبھی
بھی نہیں لڑتے ایک کاندھے پر بندوق اور دوسرے پر کیمرہ رکھتے ہیں… اورمیڈیا پر
دشمنوں کو ڈرانا اپنا فرض سمجھتے ہیں… تو پھر افغانستان میں القاعدہ کا ’’کمانڈر‘‘
ابھی تک کیوں نظر نہیں آیا؟…
۳ میں
نے ایک آدمی سے پوچھا کہ جوگی لوگ ’’کوبرا سانپ‘‘ کس طرح سے پکڑ لیتے ہیں؟… کالا
کوبرا تو بہت پھرتیلا اور طاقتور ہوتا ہے… اُس نے کہا کئی طریقے ہوتے ہیں… ایک
مؤثر طریقہ یہ ہے کہ وہ سانپ کے بالکل سامنے جاکر اُسے اپنے اوپر حملہ کرنے کے لئے
اکساتے ہیں… جب سانپ گرم ہو جاتا ہے اور غصے میں بے قابو … تو یہ اپنا ہاتھ زمین
کے قریب کرکے اُس کے نزدیک کرتے ہیں… سانپ بہت زور سے اُس پر اپنا منہ مارتا ہے تو
ہاتھ ہٹا لیتے ہیں… سانپ کا منہ پتھر سے ٹکراتا ہے اور وہ زخمی ہوجاتا ہے …
(قارئین سے عرض ہے کہ وہ ایسا تجربہ نہ کریں، یہ ماہر لوگوں کا کام ہوتا ہے… عام
لوگ تو سانپ کے سامنے جاکر اتنی چالاکی نہیں کر سکیں گے اور پھر ہم سے ناراض ہوں
گے) اب جبکہ ’’القاعدہ‘‘ کی کمر افغانستان اور پاکستان میں موجود ہی نہیں ہے… اور
امریکہ کالے کوبرے کی طرح اُسی کمر پر منہ مارنے جا رہا ہے… تو آپ ہی بتائیں کہ
نتیجہ کیا ہوگا؟…
ایسا
لگتا ہے کہ… امریکہ کے مشیروں میں طالبان کا کوئی آدمی گھسا ہوا ہے… جو امریکہ کو
پکڑ کر اس نئی کھائی میں لا رہا ہے… بندہ نے جہادی تنظیموں کے بارے میں لکھنے والے
کئی ماہرین کے کالم پڑھے ہیں… ان میں سے کسی کو بھی ’’الحمدللہ‘‘ ان تنظیموں کی
حقیقی صورتحال کا علم نہیں ہے… مگر یہ لوگ اپنی غلط معلومات کے زور پر امریکہ اور
یورپ سے کافی مال کما لیتے ہیں… یعنی جھوٹ بیچ کر ناپاک مال حاصل کرتے ہیں…
۴ تمام
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پچھلے سات سال میں طالبان اتنے مضبوط ہوئے ہیں … جتنے
وہ اپنے دورحکومت میں بھی نہیں تھے… اگر کوئی کافر انصاف کے ساتھ قرآنی وعدوں کو
دیکھے اور پھر اس صورتحال کو دیکھے تو وہ فوراً اسلام قبول کرلے… اب سوال یہ ہے کہ
صرف ایک پالیسی کے بدلنے سے ’’طالبان‘‘ کیسے ختم ہو جائیں گے؟… جبکہ اس وقت افغان
قوم سے زیادہ سمجھدار قوم شاید ہی دنیا میں کوئی ہو… یہ قوم اپنی سادگی کے لبادے
میں بڑے سے بڑے چالاک دشمن کو بری طرح سے بیوقوف بنانے کی طاقت رکھتی ہے… اگر
طالبان نے مال سے بکنا ہوتا تو بامیان کے بتوں کو کیوں گراتے؟… اُس وقت اُن کو
اربوں ڈالر مل رہے تھے… طالبان نے اگر مال کے سامنے جھکنا ہوتا تو وہ اسامہ بن
لادن کو حوالے کرکے… اپنی حکومت بھی بچا سکتے تھے اور مال بھی بنا سکتے تھے… گذشتہ
سات سالوں میں کئی بار اُن کو مذاکرات کی دعوت دی گئی مگر انہوں نے ہمیشہ اپنے
نظرئیے اور اپنی شرطوں کو مقدّم رکھا… ثابت ہوا کہ مال والی پالیسی تو کامیاب نہیں
ہوگی… باقی رہی مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑانے کی پالیسی تو اس پالیسی کے نتیجے
میں ہمیشہ مسلمانوں میں ’’عسکریت پسند‘‘ ہی زیادہ ہوتے ہیں… اسلحہ عام ہوتا ہے اور
اس لڑائی سے خالص جہادی گروپ بھی وجود میں آجاتے ہیں… اور جہاں تک چار رکنی اتحاد
کا تعلق ہے تو یہ اتحاد کوئی نئی بات نہیں ہے… روس اور بھارت پہلے ہی مسلمانوں سے
لڑنے کے نتائج بھگت رہے ہیں… اب وہ امریکہ کے ہاتھوں استعمال ہوکر بھی دیکھ لیں…
بس
ایک اندیشہ
اس
پوری پالیسی میں بس ایک بات اندیشے اور فکر والی ہے… اور وہ یہ کہ اس پالیسی میں
پاکستان کے لئے بہت بڑ اخطرہ چھپا ہوا ہے… امریکہ کی ڈیموکریٹ پارٹی ہمیشہ سے
پاکستان کی زیادہ دشمن رہی ہے… اور اب اس تازہ پالیسی میں بھی پاکستان کو میدانِ
جنگ اور امریکہ کی ڈھال بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے… آپ جانتے ہیں کہ میدان جنگ کا
کیا حال بنتا ہے… اور ڈھال کس طرح سے ماری جاتی ہے… اللہ تعالیٰ خاص رحمت فرمائے…
ہمارے ملک کے سیاسی اور فوجی حکمرانوں کے لئے بہترین موقع ہے کہ وہ امریکی امداد
پر تھوک دیں اور خود کو امریکہ کی ڈھال اور صلیبی جنگ کا میدان نہ بننے دیں… بس
تھوڑی سی ہمت اور تھوڑے سے ایمان کی ضرورت ہے… اب امریکہ میں اتنی جان نہیں کہ وہ
پاکستان پر حملہ کرسکے… البتہ ہمارے حکمرانوں میں اتنا ایمان ہونا چاہیے کہ وہ
ناپاک لقموں کو ٹھکرا سکیں… تمام اہل اسلام سے گذارش ہے کہ دعاء کریں… اس وقت ہمت
اور دعائوں کی ضرورت ہے… نئی پالیسی کا سانپ انشاء اللہ کامیاب نہیں ہو سکے گا…
وصلی
اللّٰہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد واٰلہ وصحبہٖ وسلم تسلیماً کثیرا کثیرا
کثیرا
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ ہرچیز کا علم رکھتے ہیں… جبکہ انسان کو بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے…
سوات کی ویڈیو کے مسئلے پر کافی لوگ رسوا ہور ہے ہیں… جب یہ ویڈیو آئی تو ہر کسی
نے قلم کھینچ کر لکھا… مگر اب سنا ہے کہ یہ ویڈیو جعلی تھی… ’’ویڈیو‘‘ کے مسئلے پر
اتنا زیادہ جو شور اُٹھا… اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف
شرارتیں اب اپنے عروج تک پہنچ چکی ہیں… امریکہ میں روزانہ سینکڑوں افراد قتل ہوتے
ہیں اور مردوں کے گروپ عورتوں کو گھیر کراور عورتوںکے گروپ مردوں کو گھیر کر ہر
طرح کے تشدّد کا نشانہ بناتے ہیں… برطانیہ میں میں نے خود دیکھا کہ یورپین اور
ایشین نوجوان ایک دوسرے کو گھیر گھیر کر مارتے تھے… ان واقعات میں سے بعض کی ویڈیو
بھی بنتی ہے… مگر نہ امریکہ بدنام ہوتا ہے اور نہ برطانیہ… یورپ کے سفر کے دوران
میں جب بھی گاڑی میں بیٹھتا تو میزبان فوراً اُس کا دروازہ لاک کر دیتے… اسکی وجہ
پوچھتا تو ایسے ایسے واقعات سناتے کہ عقل حیران ہو جاتی کہ… جنگل میں بھی انسان اس
سے زیادمحفوظ ہوتا ہے… ابھی یورپ کا جو تازہ واقعہ سامنے آیا ہے کہ… ایک باپ نے
تیس سال تک اپنی بیٹی کو تہہ خانے میں قید رکھا… اس عرصہ میں اُسے بدکاری اور
تشدّد کا نشانہ بنایا اور اُس سے سات بچے پید ا کروائے… اور ایک بچے کو قتل کر
دیا… اتنا بڑا واقعہ نہ تو مختاراں مائی بنا اور نہ سوات کی ویڈیو … کراچی میں
لسانی فسادات کے دوران لاشوں کے اعضاء تک کاٹے گئے… ہمارے ایک محترم استاذ کے بیٹے
کو دن دیہاڑے مار دیا گیا… وہ بے چارے حیران تھے کہ اُن کا قصور کیا ہے… ایک ایک
دن میں ساٹھ بوریاں ملتی رہیں اور ہر بوری میں لاش ہوتی تھی… ابھی چند دن پہلے
روٹیاں پکانے والے ایک شخص کو اُسی کے تندور میں جلایا گیا… مگر سوات کی ویڈیو پر
کراچی کے قاتلوں نے بھی جلوس نکالا… اور ایک صاحب نے تقریرمیں فرمایا کہ میں ان
لوگوں کو مسلمان تو کیا انسان بھی نہیں سمجھتا… ہزاروں مسلمانوں کے قاتل ایک ویڈیو
پر اتنا شور مچا رہے ہیں… معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف شرارتیں
عروج پر ہیں… اور جو چیز اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے تو اس کا زوال بھی شروع ہو
جاتا ہے…
عربی
کا ایک مقولہ ہے کہ عروج کی آخری منزل… زوال کا آغاز ہوتی ہے… دنیا میں ایک نہ
ختم ہونے والی جنگ شروع ہو چکی ہے… اس جنگ کو روکنا تو اب ناممکن نظر آتا ہے…
قدرت اور فطرت زمین والوںسے ناراض ہو چکی ہے… ہر شخص پکار پکار کر عذاب کو دعوت دے
رہا ہے… اوپر نیچے، دائیں اور بائیں ہر طرف گناہ ہی گناہ ہیں… کفر، شرک، بدعات،
سود، بے حیائی… خیانت، دھوکہ، قتل و غارت، نفس پرستی، دنیا پرستی… کیبل، نیٹ،
موبائل… اور نشے… انسانوں کے دل گناہوں کی حرص سے ایسے بھرے ہیں کہ کسی کا دل ہی
نہیں بھرتا… ایک گناہ کے بعد دوسرا گناہ اور پھر اُس سے بھی آگے… یا اللہ رحم
فرما… اب دنیا کو جنگ سے کون بچائے… حرص اور لالچ کی آگ ’’جنگ‘‘ بن کر دنیا کو
کھا رہی ہے… سرمایہ دارانہ نظام ہو یا کمیونزم سب کے پیچھے حرص ہے یا لالچ… زمین
والوں نے زمین کو گناہوں سے بھر دیا تو اب زمین پھٹنے کے لئے تیار ہو چکی ہے… پہلے
تو کافروں میں سنتے تھے اب مسلمانوں میں بھی یہ واقعات عام ہو چکے ہیں کہ بھائی کے
ہاتھ سے بہن کی… اور باپ کے ہاتھ سے بیٹی کی عصمت محفوظ نہیں ہے… ہاں اب زمین
غفلت، گناہ اور تباہی سے بھر چکی ہے… ان حالات میں تو جنگ ہوتی ہے اور وہ بھی
اندھی جنگ… اس اندھی جنگ میں یہ فیصلہ مشکل ہوتا ہے کہ کون حق پر ہے اور کون باطل
پر… جہاں بھی مسلمان آپس میں لڑ رہے ہیں وہاں دونوں طرف کے حالات کافی خراب ہیں…
کسی کو بھی شریعت کی پرواہ نہیں… بس غصّہ ہے، ضد اور انتقام… ایسا لگتا ہے کہ…
دنیا کی ایک بڑی آبادی جنگ کا شکار ہو کر ماری جائے گی… اور دورحاضر کی ٹیکنالوجی
آپس میں ٹکرا کر دم توڑ دے گی… اب ان حالات میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟… ایک مختصر
سا نصاب پیش خدمت ہے… اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو اس پر عمل کی توفیق عطاء
فرمائے…
۱۔
ایمان کی حفاظت
ہمارا
سب سے قیمتی سرمایہ ’’ایمان‘‘ ہے… ہم صبح شام اور رات دن اسکی حفاظت کی فکر کریں…
لا الہ الاللہ محمد رسول اللہ… پر کامل یقین رکھیں… اس مبارک کلمہ کے مطلب کو
سمجھیں… اس کے تقاضوں کو سمجھیں… اور اسی کلمہ کی سب سے زیادہ حفاظت کریں… اور
اپنی جان، اولاد، مکان سے بڑھ کر اس کلمے سے محبت کریں… اس کلمے کو کثرت سے پڑھیں
اور رو رو کر اللہ تعالیٰ سے اس کلمے پر ایمان اور استقامت کی دعاء مانگیں…
۲۔
جہاد فی سبیل اللہ سے وفاداری
قرآن
پاک نے ایمان کے سچا ہونے کی جو علامات بیان فرمائی ہیں… ان میں سے بڑی علامت جہاد
فی سبیل اللہ ہے… قرآن پاک بار بار بتاتا ہے کہ جہاد کے ذریعہ پتا چلتا ہے کہ کون
سچا مؤمن ہے… اور کون دنیا پرست اور منافق… جہاد فی سبیل اللہ کو قرآن پاک خود
سمجھاتا ہے… ’’فتح الجوّاد‘‘ قرآن پاک کی آیات جہاد کا ترجمہ اور تشریح کرتی ہے…
اپنی آخرت اور قبر کی خاطراُس کا ایک بار مطالعہ کرلیں… اور پھر شرعی جہاد میں جس
قدر ممکن ہو حصّہ ڈالیں… یہ عمل ایمان پر خاتمے کے لئے انشاء اللہ بہت کام آئے
گا…
۳۔
جہالت سے نجات
علم
سے روشنی ملتی ہے… اور شیطان انسان کو جہالت کے اندھیروں میں لے جاکر ذبح کرتا ہے…
بہت سے لوگ دینداروں کی شکل و شباہت تو اختیار کرلیتے ہیں… مگر انہیں دین کا علم
نہیں ہوتا… میں گذشتہ کئی سالوں سے دینداروں کی زبان سے ایسے مسائل سن رہا ہوں جن
کا دین کی کتابوں میں وجود تک نہیں ہے… مگر انہیں مسائل کی بنیاد پر انسانوں کو
قتل تک کر دیا جاتا ہے… حالانکہ مسلمان کا ناحق قتل کفر کے قریب قریب کا گناہ ہے…
ابھی چند دنوں پہلے کتابوں میں’’جاسوس کی سزا‘‘ کا مسئلہ ڈھونڈ رہا تھا… احناف میں
سے کوئی فقیہ اور امام مسلمان جاسوس کے قتل کی مطلق اجازت دینے کو تیا ر نظر نہیں
آتا… مگر آپ کسی بھی جہادی حلیے والے شخص سے پوچھ لیں اُس کو بس یہی پتا ہے کہ
جاسوس کی سزا موت ہے… حالانکہ فقہا ء کرام نے جاسوس کی تین قسمیں لکھی ہیں… (۱) حربی
جاسوس (۲) مستأمن
جاسوس (۳) مسلم
جاسوس… اور پھر ان تین قسم کے جاسوسوں کے الگ الگ احکامات بیان فرمائے ہیں… مگر
میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ اب فطرت ہمارے بد فطری کاموں کی وجہ سے ناراض ہے… اسی
وجہ سے جنگ ہی جنگ ہے اور خون ہی خون… قتل کرنے والوں کو مسائل کا بھی علم نہیں ہے
کہ کس کو مارنا ہے اور کس کو نہیں… ورنہ جہاد تو ایک عبادت ہے اور اس میں ایسی جنگ
ہوتی ہے جس میں نور ہی نور ہوتا ہے… ایسا نور جو فرشتوں کو بھی زمین پر اُتارلاتا
ہے… جہاد میں نفس پرستی کا کوئی دخل نہیں ہوتا… جہاد اس لئے کسی کو قتل نہیں کرتا
کہ اُس نے ہماری تنظیم کے لیڈر کو گالی دی … جہاد میں مسلمان ایک دوسرے پر لیڈری
نہیں چمکاتے… جبکہ آج کل تو بڑے عہدے والے چھوٹے عہدوں والوں کو انسان تک نہیں
سمجھتے… قرآن مجید نے پورا جہاد سمجھایا اور مجاہدین کو آخری سبق ’’سورۃ النصر‘‘
میں یہ دیا کہ… فتح کے بعد تکبر اور اکڑ نہیں بلکہ توبہ، عبادت اور استغفار میں لگ
جائو… اے مسلمانو!… جہاد کے بغیر ایمان کامل نہیں … مگر جہاد صرف شرعی جہاد ہو…
اور اس میں اپنے نفس کا کوئی دھوکہ نہ ہو… اس لئے دین کا ضروری علم حاصل کرنے کی
ترتیب کام کے ساتھ ساتھ جاری رہے…
۴۔
اجتماعیت کی چھت
مسلمان
اجتماعی ماحول میں ٹھیک رہتا ہے… اس لئے اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے اچھے اجتماعی
ماحول کا ہم سہارا لیتے رہیں… ریاکاری کے وسوسے سے کچھ نہیں ہوتا… انسان نیکی دیکھ
کر نیکی اور برائی دیکھ کر برائی کرتا ہے… اور جن کا تقویٰ مضبوط نہ ہو اُن کے لئے
تنہائی ایک زہر کی طرح ہوتی ہے… اس لئے اجتماعی ماحول میں جڑے رہیں… تعلیم کی
مجلس، نصیحت کی مجلس، ذکر و تلاوت کی مجلس کا اہتمام کریں… اور خود کو اور اپنے
نفس کو گناہوں کے لئے موقع نہ دیں… شیطان لاکھ کہتا رہے کہ ریاکاری ہو رہی ہے… آپ
اُسکو جواب دیں ٹھیک ہے ہوتی رہے… میں نیک اعمال اور نیک صحبت کا محتاج ہوں… اگر
آپ نے خود کو ایسی تنہائیاں دیں جن میں نفس کو گناہ کا موقع ملا تو یہ چیز سخت
نقصان دہ ہوگی… اگر اتفاقاً ایسی تنہائی ملے تو فوراً دینی کتب کے مطالعے… یا ذکرِ
قلبی میں لگ جائیں… اللہ تعالیٰ ہم سب کو غفلت کی موت سے بچائے…
۵۔
محاسبہ اور استغفار
گناہ
جب انسان کو گھیر لے تو پھر توبہ مشکل ہو تی ہے… اور گناہ انسان کو تب گھیرتا ہے
جب دل سے ندامت اور شرمندگی نکل جائے… اورندامت دل سے تب نکلتی ہے جب انسان دوسروں
سے بدگمانی کرتا ہے… وہ سوچتا ہے کہ فلاں میں بھی تو یہ گناہ ہے اگر میں نے کر لیا
تو کیا ہوا؟… حالانکہ کسی کے گناہ کرنے سے آپ کے لئے تو گناہ حلال نہیں ہوجاتا…
اور آپ کو کیا معلوم کہ فلاں نے ممکن ہے توبہ کر لی ہو… یا اُس کے نیک اعمال غالب
ہوں… اس لئے گناہ کے بارے میں صرف خود کو دیکھنا چاہیے دوسروں کو نہیں… ہمیشہ اپنا
محاسبہ کریں… اور جو گناہ نظر آئے اُس پر استغفار کریں… یہ عمل کبھی نہیں چھوڑنا
چاہیے… یہ عمل دھلائی کی طرح ہے… ہم روز برتن دھوتے ہیں… کپڑے دھوتے ہیں… گھر صاف
کرتے ہیں… اگر صرف دو مہینے تک برتن نہ دھوئیں، کپڑے نہ دھوئیں اور گھر صاف نہ
کریںتو… ہمارا پورا ماحول گندگی، بدبو اور نجاست سے بھر جائے گا… یہی حال دل کی
صفائی کا ہے اگر ہم نے اس کی دُھلائی اور صفائی چھوڑ دی تو اس میں… بدبو اور نجاست
اپنا گھر بنا لے گی… اللہ تعالیٰ ایسی حالت سے ہم سب کی حفاظت فرمائے… (آمین)
۶۔
ایک خاص فکر
ہمارا
خاتمہ ایمان پر ہو… یہ وہ فکر ہے جو ہم سب کو اپنے اوپر سوار کر لینی چاہیے… آپ
میرے لئے دعا کریں اور میں آپ کے لئے کہ یہ فکر ہم سب کے سروں پر سوار ہو جائے…
اوراس کے علاوہ ہر فکر بہت کم ہو جائے… کیونکہ جب ہم مرجائیں گے تو اگر… خاتمہ
ایمان پر ہوا تو پھر برزخ، حشر اور آخرت سب کامیاب… اور اگر خدانخواستہ کچھ اور
ہوگیا تو پھر کتے اور خنزیر بھی ہم سے اچھے رہیں گے… اُن کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے
عذاب میں تو نہیں رہنا ہوگا…
اللّٰھُمَّ
اَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِی الْاُمُوْرِ کُلِّھَا وَ اَجِرْنَا مِنْ خِزْیِ
الدُّنْیَا وَ عَذَابِ الْآخِرَۃِ
یا
ارحم الراحمین… حبّ دنیا سے بچا، فکر آخرت عطا فرما… اور ہمارا خاتمہ ایمان پر
فرما… اپنے راستے کی مقبول شہادت نصیب فرما… اسلام اور مسلمانوں کو پوری دنیا میں
غلبہ نصیب فرما… آمین یا ارحم الراحمین
وصلی
اللّٰہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد واٰلہ وصحبہٖ وسلم تسلیماً کثیرا کثیرا
کثیرا
٭٭٭
اللہ،اللہ،
اللہ… دل چاہتا ہے کہ بس یہی ایک نام لکھتا جائوں… پڑھتا جائوں… اللہ،اللہ، اللہ…
حافظ شیرازی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا… اگر میرا محبوب راضی ہو جائے تو میں اُس کے
رخسار کے تِل پر سمرقند اور بخارا قربان کردوں… دراصل حافظس سمجھا رہے ہیں کہ محبت
وہ ہوتی ہے جس میں قربانی ہو… اللہ،اللہ، اللہ… دنیا میں کیسے کیسے حسین لوگ ہیں…
تو پھر میرے ربّ کے جمال کا کیا عالم ہوگا؟… اللہ،اللہ، اللہ… اللہ پاک نے حضرت
یوسف علیہ السلام کو حُسن دیا… اور پھر حسینوں کے امام اور حُسن کی آبرو… میرے
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اللہ تعالیٰ نے بنایا…
خود اللہ تعالیٰ کے جمال کا کیا عالم ہوگا… اللہ،اللہ، اللہ… حضرت دائود علیہ
السلام کو اللہ تعالیٰ نے ایسی آواز عطاء فرمائی کہ جب… وہ اللہ تعالیٰ کا کلام
پڑھتے تو پہاڑوں میں بھی جان آجاتی… اور پتھروں میں بھی گُداز پیدا ہو جاتا… تب
پتھر بھی اُن کے ساتھ پڑھتے… اللہ،اللہ، اللہ… میں اللہ تعالیٰ کے نام پر قربان…
اِس عظیم نام کی آن پر قربان، اس کے حسن پر قربان… بخارا، سمرقند کیا! دو عالَم
قربان… محبوب مل جائے، محبوب مل جائے، محبوب مل جائے… ہاں حقیقی محبوب مل جائے…
اللہ،اللہ، اللہ… محبوب مل جائے تو سب کچھ قربان… قطرے کو دریا مل جائے تو وہ اس
میں فنا ہو جاتا ہے… سچے عاشق کو محبوب مل جائے تو وہ اپنے جسم اور اپنی جان کو
بھُلا دیتا ہے… مٹا دیتا ہے… اللہ،اللہ، اللہ…
ایک
ہی نام
ایک
ہی نام نے ہر چیز کو تھام رکھا ہے… اللہ،اللہ، اللہ… القلم پڑھنے والو… اپنے اوپر
اللہ تعالیٰ کے احسانات تو یاد کرو… آنکھیں بھیگ جائیں گی، اور دل محبوب کی یاد
میں ڈوب جائے گا… اللہ،اللہ، اللہ… رب کو کیا ضرورت تھی میری اور آپ کی… پھر بھی
ایک پانی کے قطرے سے ہمیں بنایا… ایک ایک ہڈی، ایک ایک رگ اور ایک ایک بال کو
ترتیب سے جوڑا… گوشت کے کسی ٹکڑے میں بولنے کی، کسی میں سننے کی اور کسی میں
دیکھنے کی طاقت رکھی… اور پھر ہماری کمزور سی زبان پر اپنا اتنا بڑا نام جاری
فرمادیا… اللہ،اللہ، اللہ… حسینوں کے پیچھے دوڑنے والو… اللہ تعالیٰ کی
تلاش میں نکلو… ہر حُسن اُس نے خود پیدا فرمایا ہے… سکون کی تلاش میں مارے مارے
پھرنے والو… اُس کو تلاش کرو جس کے نام میں سکون ہے… جس کی یاد میں سکون ہے… جس کے
تصور میں سکون ہے… جس کی محبت میں سکون ہے… اور جس نے سکون کو پیدا فرمایا ہے…
اللہ،اللہ، اللہ… ایک بار تو دل سے کہہ دو اللہ،اللہ، اللہ… ہاں ساری مخلوق یہی
نام پکار رہی ہے… مگر ہم اُس کے پکارنے کو نہیں سمجھتے… پانی ہوں یا پتھر… درخت
ہوں یا پودے سب کہہ رہے ہیں اللہ،اللہ، اللہ… ہم بھی اپنے دل کو زبان سے جوڑیں اور
پھر دل، دماغ، زبان اور پورے جسم سے پکاریں… اللہ،اللہ، اللہ… وہ دیکھو سات آسمان
کہہ رہے ہیں اللہ،اللہ، اللہ… اور زمین کا ایک ایک ذرہ پکار رہا ہے… اللہ،اللہ،
اللہ… ہماری روح نے اوپر جانا ہے وہ بھی پکارے اللہ،اللہ، اللہ… اور
ہمارے جسم نے مٹی میں دفن ہونا ہے وہ بھی پکارے اللہ،اللہ، اللہ… آئو آج ہر نام
بھول جاتے ہیں… ہاں تھوڑی دیرکے لئے… ’’لا الہ الّا اللّٰہ‘‘… کی کیفیت مانگتے
ہیں… اللہ کے سوا کوئی نہیں… لا موجود الاّ اللہ… الاّ اللہ، الاّاللہ… ہاں بس ایک
اللہ،اللہ، اللہ…
جان
کی جان
کہتے
ہیں ہر چیز کی ایک جان ہوتی ہے… تو پھر جان کی بھی جان ہوگی… روح کی بھی کوئی روح
ہوگی… جی ہاں ہر جان کی جان اللہ تعالیٰ کا نام ہے… اللہ،اللہ، اللہ… ہم اسی جان
سے دور ہوتے ہیں تو گِر جاتے ہیں… ایک دم جانور بن جاتے ہیں… اور جب اس جان کو پا
لیتے ہیں تو فرشتوں سے بھی آگے نکل جاتے ہیں… فرعون کا لشکر پیچھے اور پہاڑوں
جیسی موجیں اچھالتا سمندر سامنے… کون بچائے گا؟… حضرت موسی علیہ السّلام کی زبان
سے نکلا… اللہ،اللہ، اللہ… فرعون اور سمندر ایک دوسرے کے دشمن ہوگئے… اور موسیؑ
اپنی اُمت کے ساتھ پار… اللہ،اللہ، اللہ… غارثور کی تنہائیوں اور محاصرے میں…
اللہ،اللہ، اللہ… مجاہد نے اسلحہ تولا، گھوڑے پر چھلانگ لگائی… آنکھوں میں
چنگاریاں بھریں… اوردشمن پر ٹوٹ پڑا… جنت کی حوریں تڑپ اُٹھیں… اجازت لے کر زمین
پر آگئیں… مجاہد کی زیارت کے لئے… مگر مجاہد آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا… اُس کی
تلوار بجلی کی طرح چل رہی ہے… اور قدم زلزلے کی طرح بڑھ رہے ہیں… حوریں بے تاب
ہوکر سامنے آئیں تو چیخ پڑا… اے حورو! سامنے سے ہٹ جائو میں تو بس اُس کا دیدار
چاہتا ہوں… جس کی خاطر نکلا ہوں… اللہ،اللہ، اللہ… حقیقی محبوب کا دیدار، حقیقی
محبوب کا دیدار… کہاں سڑکوں پر گھومنے والی بے پردہ عورتیں… غلاظت ونجاست کا ڈھیر…
کہاں انٹرنیٹ اور موبائل کے ناپاک فوٹو… اور کہاں جنّت کی پاکیزہ اور حلال حوریںجو
صرف اُسی کے سامنے آتی ہیں جس کی ہوتی ہیں… میٹھے ہونٹ، موٹی آنکھیں، اور حُسن
کا پیکر… مگر مجاہد کی توجّہ اُنکی طرف بھی نہیں… اللہ تعالیٰ مل گیا تو سب کچھ مل
گیا… محبوب کے سامنے کسی اور کی طرف توجّہ؟؟ توبہ، توبہ… معاف فرما دے محبوب… معاف
فرما دے، اللہ،اللہ، اللہ
بلندی
اور اونچائی
ایک
بندہ ذکر کر رہا تھا… اللہ،اللہ، اللہ… اچانک آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے… وجہ
پوچھی… کہنے لگا میرا محبوب مجھے اوپر لے گیا… بلندی پر، اونچائی پر… ہاں اپنے
قریب… وہ تو ہے ہی قریب… مگر محبت والا قُرب تو ہر کسی کو نہیں ملتا… اللہ،اللہ،
اللہ… ربّ جب کسی کو اونچا لے جاتا ہے تو بہت بلندی عطاء فرما دیتا ہے… جب دل میں
سے ہر خواہش نکل جائے… اور بس ایک ہی سرمستی سوار ہو جائے کہ محبوب راضی ہو جائے…
تب سمجھ لو کہ محبوب نے بلندی عطاء فرما دی… اونچے لوگ اونچی چیزوں کے طلبگار ہوتے
ہیں… اللہ،اللہ، اللہ… جب دل میں تمنا ہو کہ… ربّ کے لئے قربان ہو جائوں… رب کے
پیغام کو پورے عالم تک لے جائوں… رب کے دین کو ہر جگہ غالب کرنے کی محنت کروں… رب
کے دشمنوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردوں… سمجھ لو کہ رب نے بلندی عطا فرمادی ہے… ورنہ انسان
جب گرتا ہے تو جانوروں سے بھی زیادہ گرتا ہے… کوئی لڑکی مجھے چھت سے جھانک کر دیکھ
لے… کوئی گندی فلم مجھے دیکھنے کو مل جائے… فلاں شخص میرا تابع ہوکر میری عزت کرے…
میرے فون پر کوئی حرام کال آجائے… استغفراللہ… رب چاہے تو فاروق اعظمذ کو شام،
عراق اور ایران فتح کرنے کی فکر دے دے… اور رب ناراض ہو تو سارا دن کسی لڑکی کو پھنسانے
پر لگادے… اے میرے محبوب مالک… ہم میں سے کوئی بھی خود کچھ نہیں… جس میں جو خیر یا
فضیلت ہے آپ کی عطا فرمودہ ہے… پھر اپنا کرم فرمائیے نا! ہمیں اپنے پاک نام کا
ذکر نصیب فرما دیجئے نا!… آپ تو غنی اور بے نیاز… مگر ہم تو ہر سانس میںآپ
کے محتاج… اللہ،اللہ، اللہ… اللہ،اللہ، اللہ…
پاکی
کا ذریعہ
یااللہ…
جس حلال جانور کو آپ کا نام لیکر ذبح کیا جائے… وہ حلال اور پاک ہو جاتا ہے… ہر
چیز کی پاکی… آپ کے نام سے ہے… جس چیز پر آپ کا نام نہیں… آپ کے غیر کا نام
آگیا… وہ حرام، ناپاک اور نجس… یا اللہ ہم اپنے دل پر آپ کا نام لیتے ہیں
اللہ،اللہ، اللہ… ہم اپنے دماغ پر آپ کا نام لیتے ہیں… اللہ،اللہ، اللہ… یا اللہ
ہم اپنی روح پر آپ کا نام لیتے ہیں اللہ،اللہ، اللہ… یا اللہ ہم اپنے جسم پر آپ
کا نام لیتے ہیں اللہ،اللہ، اللہ… یا اللہ ہم اپنے ارادوں پر آپ کا نام لیتے ہیں…
اللہ،اللہ، اللہ…
یا
اللہ ہمیں پاک فرمادیجئے… اپنے نام کی معرفت ہم پر کھول دیجئے… ہاں اسی نام کے جام
پینے میں حقیقی سرمستی ہے… اسی نام میں کھو جانا عقلمندی ہے… اسی نام پر قربان
ہونا زندگی ہے… اللہ،اللہ، اللہ… جو بھی اپنی دنیا، آخرت، قبر، حشر پاک کرنا
چاہتا ہے… اُسکو اس نام کا سہارا لینا ہوگا… پاکی کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے… یہ
نور کا دریا ہے، نور کا سمندر… دل میں نور… ش، ش… جسم میں نور ش، ش… آگے، پیچھے،
دائیں، بائیں… اوپر نیچے نور ش، ش… ش، ش… یا اللہ ہر سانس کے ساتھ جاری فرما
دیجئے… اللہ،اللہ، اللہ… فضل فرما دیجئے، کرم فرما دیجئے… اس نام سے دور جا کر ہم
بہت گرتے جارہے ہیں… تھام لیجئے یا حیّ یا قیّوم تھام لیجئے… آپکی رحمت بے حدّو
حساب… آپکی مغفرت ہمارے گناہوں سے بہت زیادہ… اور آپ تو فضل عظیم والے ہیں… فضل
فرما دیجئے… اور ہمارے دل کو اپنے ذکر کے کام پر لگا دیجئے اللہ،اللہ، اللہ…
اللہ،اللہ، اللہ
غفلت
سے توبہ
گناہوں
میں بڑا گناہ… گناہوں کا باپ… بلکہ گناہوں کا گناہ… اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غفلت
ہے… ہائے ہلاکت ہے اُن کے لئے… جن کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر سے سخت ہو چکے ہیں… یہ
قرآن پاک کا اعلان ہے… دل جب سخت ہو جاتے ہیں… پھر اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کر
سکتے… ہر وقت پیسہ، شہوت، عزت اور شرارت سوچتے ہیں… یا اللہ توبہ، یا اللہ توبہ…
اور قرآن پاک معلوم ہے کیا فرماتا ہے؟… قرآن پاک فرماتا ہے کہ جس انسان پر شیطان
غالب آجاتا ہے… اُسکو وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل کر دیتا ہے… وہ نماز جس میں
اللہ تعالیٰ کی یاد نہ ہو نماز نہیں… اور وہ جہاد جس میں اللہ تعالیٰ کی یاد نہ ہو
جہاد نہیں… اللہ تعالیٰ کی یاد ہر چیز کی جان ہے… پوجا پاٹ تو مشرک بھی کرتے ہیں…
اور لڑائی امریکی اور انڈین فوجی بھی لڑتے ہیں…
ذکر
اللہ… یعنی اللہ تعالیٰ کی یاد، اللہ تعالیٰ کی رضا کی نیت اور اللہ تعالیٰ کے
احکامات کی پیروی… یہ چیزیں ہر عبادت کو عبادت بناتی ہیں… شیطان چاہتا ہے کہ نمازی
کو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل کردے… شیطان محنت کرتا ہے کہ مجاہد کو اللہ تعالیٰ
کے ذکر سے غافل کردے… نماز اور جہاد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے نہ ہوں تو وہ کس
کام کے؟… اس لئے پہلا سبق… اور آخری سبق ہر کام میں ایک ہی ہے اور وہ ہے
اللہ،اللہ، اللہ… مگر یاد رہے کہ اللہ،اللہ، اللہ کہنا بھی… اللہ تعالیٰ کی رضا کے
لئے ہو… اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہو… تب یہ کام آئے گا… کوئی فرض نماز چھوڑ
دے اور اُس وقت اللہ،اللہ، اللہ کرنے بیٹھ جائے تو… وہ اس عظیم نام کی
توہین کر رہا ہے… نماز کے وقت نماز… جہاد کے وقت جہاد… زکوٰۃ کے وقت زکوٰۃ… حج کے
وقت حج… مگر ان سب میں جاری رہے اللہ،اللہ، اللہ… یعنی اللہ تعالیٰ کا نام… اللہ
تعالیٰ کی یاد… اُس کو راضی کرنے کی نیت… اور اُس کے احکامات کی پیروی… اللہ،اللہ،
اللہ…
ہم
راضی
اللہ،اللہ،
اللہ… ہم آپ کے ہر حکم اور ہر تقدیر پر راضی… زندہ رکھیں تب بھی راضی… مار دیں تب
بھی راضی… خوشحال رکھیں تب بھی راضی… آزمائش میں ڈالیںتب بھی راضی… ہم کون ہیں
شکوہ کرنے والے… آپ مالک ہم غلام… مالک کا کام چلانا غلام کا کام چلنا… آگ میں
ڈال دیا… ابراہیمؑ بندہ راضی… اللہ،اللہ، اللہ… چھُری کے نیچے لٹا دیا… اسماعیلؑ
بندہ راضی… اللہ،اللہ، اللہ… بیماری نے بے بس کر دیا… ایوبؑ بندہ راضی اللہ،اللہ،
اللہ… جیل خانے میں ڈال دیا… یوسفؑ بندہ راضی اللہ،اللہ، اللہ… اپنی ہی قوم نے قتل
کر ڈالا… زکریاؑ اور یحییؑ بندہ راضی… اللہ،اللہ، اللہ… یہ سب ہدایت یافتہ تھے…
اور ان سب کے امام… ہر مصیبت، ہر تکلیف کے باوجود محمدؐ بندہ راضی… اللہ،اللہ،
اللہ… قرآن پاک فرماتا ہے بس انہی کے راستے پر چلو تو ہدایت پالوگے… پھر یہ صبح
ناشکری، شام ناشکری… کس بات کی؟ رب سے ناراض وہی ہوتا ہے جو دنیا کا
طلبگار ہوتا ہے… اور دنیا کا طلبگار ہمیشہ ناکام ہوتا ہے… رب نے سمجھا دیا اور پکا
وعدہ دیا کہ تمہارے لئے دنیا نہیں آخرت ہے… تو پھر دنیا کے اترتے چڑھتے حالات کی
وجہ سے… اپنے محبوب ربّ سے ناراضی… اللہ توبہ، اللہ توبہ… اللہ،اللہ، اللہ…
اے
ہمارے مالک فضل فرمائیے… ہم محتاج ہیں… آپ غنی ہیں… ہمیںاپنی ہر تقدیر پر راضی
فرما دیجئے… اللہ،اللہ، اللہ…
ربّ
راضی
اللہ،اللہ،
اللہ… یا اللہ ہم پر آپ کا احسان ہوگیا کہ ہم آپ کا نام لے رہے ہیں… اللہ،اللہ،
اللہ… کہاں ہم اور کہاں آپ کا عظیم نام… واقعی بہت بڑا فضل ہوگیا کہ ہم آپ کا
نام لے رہے ہیں… اللہ،اللہ، اللہ… اگر آپ کرم نہ فرماتے تو ہم بھلا اتنا عظیم نام
کیسے لے سکتے تھے… معلوم ہوگیا کہ آپ نے محبت اور نظرِ کرم فرمائی ہے… اللہ،اللہ،
اللہ… اور آپ کے سچے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا ہے… بندہ جب اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے، اُسکو یاد
کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اُسکو یاد کرتے ہیں… اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر…
مالک آپ کے ہاں ہم حقیروں کا تذکرہ… قربان ہو جائوں، آپ کی چوکھٹ پر ذبح ہو
جائوں… آپ کے نام پر کٹ مروں… اللہ،اللہ، اللہ… بہت بڑا احسان، بہت بڑا فضل کہ
آپ کا نام زبان پر آگیا… اللہ،اللہ، اللہ… اسی نام کی برکت سے اور اسی نام کے
وسیلے سے ایک التجاء ہے… یا اللہ آپ اپنا نام لینے والوں کو عذاب دیں ایسا آپ کی
رحمت سے بعید ہے… بس ہم سب کو بخش دیجئے… ہم چھوٹے چھوٹے حقیر لوگوں کو عذاب سے
بچا لیجئے… آپ نے خود ارشاد فرمایا ہے… اللہ تعالیٰ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا
اگر تم ایمان لے آئو اور شکر گزار بنو… (مفہوم آیت)… یا اللہ ہم ایمان لاتے ہیں…
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اور
آپ کی ہر نعمت کا شکر ادا کرتے ہیں… اور اب تک جو ناشکری ہوگئی… اُس سے توبہ کرتے
ہیں… اب تو معاف فرما دیجئے… پیارے رب، پیارے رب، پیارے رب… اللہ،اللہ، اللہ… یا
اللہ، یا اللہ، یا اللہ… ہم پر رحم فرمائیے… آمین یا ارحم الراحمین
اللّٰھمّ
صل علیٰ حبیبک محمد واٰلہ و صحبہ وسلم یا اللّٰہ، یا اللّٰہ، یا
اللّٰہ۔
٭٭٭
کے
نیک، مقرّب اور صالح بندوں کا تذکرہ کیاجائے تو
… اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوتی ہے۔ آج کی مجلس میں
ہم اللہ تعالیٰ کے ایک خاص مقرّب بندے کا تذکرہ کریں گے…
یقینی بات ہے کہ اتنے بڑے انسان کے تذکرے کے لئے یہ چھوٹا سا مضمون ناکافی ہوگا…
بے شک اُن کا حق تو ادا نہیں ہو سکے گا مگر… ہمیں تو انشاء اللہ
’’رحمت‘‘نصیب ہو جائے گی۔ جی ہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت… جس
کے ہم سب بہت محتاج ہیں…بہت محتاج…
پیاری
امیّ جی کی ایک بات
ہم
سب مسلمانوں کی پیاری امیّ جی… ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدّیقہ
رضی اللہ عنہا کو اللہ پاک نے جتنا
اونچا مقام دیاتھا… اُتنی ہی ذہانت اور فراست بھی عطاء فرمائی تھی… اُن کو کسی نے
بتایا کہ بعض لوگ… حضرات صحابہ کرام حتی کہ حضرت صدیق اکبر
رضی اللہ عنہ اور حضرت فاروق اعظم
رضی اللہ عنہ تک پر تنقید کرتے ہیں… حضرت ام المؤمنین
رضی اللہ عنہا نے عجیب جواب ارشاد فرمایا… فرمانے لگیں…
’’اُن
حضرات کی وفات کے بعد ان کے (جسمانی) اعمال تو بند ہو گئے
مگر اللہ پاک نے چاہا کہ اُن کے اجر بڑھنے کا سلسلہ جاری
رہے‘‘…
یعنی
جب کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کی بے حرمتی کرتے ہیں
تو… اس کے بدلے اُن اللہ والوں کا اجر اور مقام اور بڑھ
جاتاہے…
یہ
سلسلہ جاری ہے… اور جاری رہے گا… لوگوں نے حضرات صحابہ کرام
رضوان اللہ علیھم اجمعین کو معاف نہیں کیا… ان قدسی صفات
ہستیوں پرذاتی حملے کئے اور تنقید کے تیر
پھینکے
تو پھر… اورکون بچ سکتا ہے…؟
غم
کی ضرورت نہیں، یہ دنیا کا نظام ہے… اللہ والوں کے درجات کی اس سے اور
بلندی ہوتی ہے… اور ایمان والوں کے دل میں ان کی محبت اور بڑھ جاتی ہے…
مثالی
شخصیت
حضرت
مولانا سیّد حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ…
ماشاء اللہ بہت بڑے آدمی تھے… استاذ محترم حضرت مولانا
مصباح اللہ شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ ’’طحاوی
شریف‘‘ کا سبق پڑھاتے ہوئے ایک بار فرمانے لگے…بھائی ہم نے حضرت
مدنی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت کی تھی… اُن کے بعد اُن جیسا اب تک کوئی
نظر نہیں آیا، اس لئے دوبارہ کسی سے بیعت نہیں کی… ان جیسا کوئی نظر آئے تو بیعت
کریں… حضرت مولانا سید مصباح اللہ شاہ صاحب رحمۃ
اللہ علیہ عالم نہیں علاّمہ تھے… بعد میں اُن کے اس فرمان کی بہت اونچی تصدیق مل
گئی… امام الاولیاء حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا… میں نے حرم
پاک میں موجود اولیاء کرام کو دل کی آنکھوں سے دیکھا تو کسی کو حضرت
مدنی رحمۃ اللہ علیہ کا ہم پلہ نہیں پایا… حضرت حاجی
امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے
حرم پاک میںہروقت تین سو ساٹھ اولیاء کرام موجود رہتے ہیں…
حضرت
مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے کمالات کو شمار کرنا بہت مشکل کام ہے… وہ بیک
وقت بڑے عالم، بڑے بزرگ، بڑے مجاہد، بڑے سیاسی رہنما… اور تاریخ ساز شخصیت تھے…
تیرہ سال تو مدینہ منورہ مقیم رہے اور مسجد نبوی شریف میں دنیا بھر سے آنے
والے طلبۂ علم کو قرآن و حدیث پڑھاتے رہے… اُس زمانے انگریزوں نے
اپنے باغیوں کے لئے ایک’’گوانتا ناموبے‘‘ بنایا تھا… اُس کا نام’’قید خانہ مالٹا‘‘
تھا… حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کئی سال تک وہاں قید رہے… اور یہ قید
صرف اپنی محبت اور وفاداری کی وجہ سے کاٹی… جی ہاں اُن کو رہا کر دیا گیاتھا مگر
وہ تیز رفتار خچر پر اڑتے ہوئے جدّہ اپنے استاذ اور شیخ حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ
علیہ کے پاس جاپہنچے… اور خود کو اُن کے ساتھ گرفتاری کے لئے پیش کردیا… حضرت شیخ
الہند رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا بھی کہ… آپ لوگ رہائی لے لیں مگر چاروں شاگردوں
نے کہا کہ جان جا سکتی ہے مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ
آپ
کا ساتھ چھوڑدیں… مالٹا کی قید بہت اذیت ناک تھی مگر حضرت مدنی رحمۃ
اللہ علیہ نے وہاں اپنے استاذ محترم کی وہ خدمت کی… جس کی اس زمانے میں مثال
ڈھونڈنا ناممکن ہے…
حضرت
مدنی رحمۃ اللہ علیہ جتنا عرصہ مدینہ منورہ میں مقیم رہے آپ وہاں دو
کام کرتے تھے… درس وتدریس اورترغیب جہاد… آپ نے جہاد کی خوب زور دار ترغیب جاری
رکھی…جس کی بدولت بہت سے رضاکار مجاہد ترکی کی خلافت عثمانیہ کو بچانے کے
لئے…میدانوں میں اُترے… آپ نے پچاس سال سے زائد عرصہ تک…مدینہ منورہ اور
دارالعلوم دیوبند میں طلبۂ کرام کو قرآن وسنت کی تعلیم دی… آپ کے اپنے بلاواسطہ
شاگردوں کی تعداد پچاس ہزار سے زائد ہے… اسی دوران گیارہ کتابیں بھی تصنیف
فرمائیں… روحانیت کے چاروں سلسلوں میں کامل تھے… بے شمار لوگوں نے بیعت کی… جن میں
ایک سو اڑسٹھ(۱۶۸) نے تکمیل کی اور آپ کے خلیفہ ہوئے… آپ انگریز
کے دور حکومت میں انگریزسے بھرپور دشمنی کرتے رہے… چنانچہ باربار جیل جاتے رہے…
زندگی کے کئی سال جیلوں میں گزرگئے… حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ نے مسلمانوں کی
آزادی اورقیام خلافت کا جو منصوبہ بنایا تھا… اس میں حضرت مدنی رحمۃ
اللہ علیہ اعلیٰ قیادت میں سے تھے… آپ خفیہ طور پر اس تحریک کے باقاعدہ’’لیفٹیننٹ
جنرل‘‘ تھے…ابھی کچھ عرصہ پہلے حکومت برطانیہ نے اپنی بعض پرانی خفیہ رپورٹیں ظاہر
کی ہیں… اُن رپورٹوں میں حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کو انگریز کا بڑا
مجرم قرار دیا گیا ہے… اور لکھا ہے کہ…مولوی حسین احمد مدنی لوگوں کو جہاد پر
بھڑکاتا ہے… حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک مایہ ناز شاگرد… جو بعد
میں خود بھی ’’شیخ الحدیث‘‘ کے منصب تک پہنچے… ان الفاظ میں حضرت رحمۃ
اللہ علیہ کی شخصیت کو سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں…
’’امام
المسلمین… امیر المؤمنین فی الحدیث… پیکر شجاعت… مجسم عبادت… میر قافلۂ زہد و
قناعت… فرنگی اقتدار کے لئے موت کا سناٹا… غیر ملکی استبداد کے لئے قیامت… جس کا
دن قال اللہ و قال الرسول سے مصروف… اوائل شب مہمانوں کی
خدمت میں… انتہا شب بحضور رب العالمین… سپیدۂ سحر انہیں مصروف بکاء پاتا… آفتاب
کی
کرنیں
طلوع کے لئے باتاب ہوتیں تو وہ خانۂ خدا میں سجدہ ریز… جمعیۃ العلماء ہند کے صدر…
دارالعلوم دیوبند کے صدر المدرسین…ہندوستان کی متعدد جیلیں اس وجود مقدس سے نکلے
ہوئے کلمۂ ہووحق کی امین… مہمان نوازی میں اُسوۂ ابراہیمؑ پر مستقیم… اعلاء کلمۃ
الحق میں جلالِ فاروقی کے مظہر… فرنگی اقتدار سے نفرت ووحشت اکابر نے اُن کے آتش
دانِ سینہ میں منتقل کردی… پھر وہ خود ہی فرنگیوں کے خلاف کوہِ آتش بن گئے…۱۹۴۷ء
میں جب وہ شباب سے نکل کر شیب(یعنی بڑھاپے) میں داخل ہوئے تو یورپ کے اقتدار کا
آفتابِ نیم روز ہمیشہ کے لئے غروب ہو گیا… اس طرح وہ اُن خوش بخت لوگوںمیں تھے
جنہوں نے اپنی’’جُہد‘‘ کی کامیابی اپنی زندگی ہی میں دیکھ لی…
پانی،
سونا اور جھاگ
قرآن
پاک نے ایک بہت عجیب اور دلکش مثال بیان فرمائی ہے… یہ مثال بہت سی باتوں کو
سمجھاتی ہے… مثال کا خلاصہ یہ ہے کہ… آسمان سے پاک صاف پانی برستا ہے… وہ پانی
زمین کے ندی نالوں میں بہتا ہے… اس بہنے کے دوران پانی میں مٹی بھی مل جاتی ہے
اورکچھ کوڑا کرکٹ بھی… جب پانی تیز چلتا ہے تو مٹی اورکوڑے سے ایک جھاگ سا بن کر
پانی کے اوپر چھا جاتا ہے… ایسے لگتا ہے کہ وہ جھاگ پانی پر غالب آگیا ہے… مگر
ایسا نہیں ہوتا… کچھ وقت بعد وہ جھاگ ختم ہوجاتاہے… اور صاف پانی باقی رہتا ہے…
اور یہ پانی لوگوں کو نفع دیتا ہے…اسی طرح سونا اور چاندی کو جب زیور بنانے اور
صاف کرنے کے لئے… آگ میں ڈالا جاتا ہے تو اس پر بھی جھاگ چھا جاتا ہے… مگر کچھ
وقت کے بعد جھاگ ختم ہوجاتا ہے… اور خالص سونا، چاندی باقی رہ جاتا ہے… قرآن پاک
فرماتا ہے کہ… یہی مثال حق اور باطل کی ہے… جب حق اور باطل ٹکراتے ہیں تو… باطل
جھاگ کی طرح چھا جاتا ہے اور دیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ بس اب حق ختم ہو گیا … اور
باطل ہی باطل رہ گیا… مگر کچھ وقت بعد باطل جھاگ کی طرح بیٹھ جاتاہے… اور حق خالص
ہو کر غالب آجاتا ہے…
یہ
کتنی عجیب مثال ہے… حضرت شاہ عبدالقادر صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
کہ اس مثال سے
جہاد
کا مسئلہ سمجھایا گیا ہے… جہاد کے آغاز میں باطل بہت قوت میں نظر آتاہے…مگر وقت
گزرنے کے ساتھ وہ جھاگ کی طرح گم ہوتا جاتا ہے… اسی طرح اس مثال سے اور بھی بہت سی
باتیں سمجھی جا سکتی ہیں… اہل حق علماء اور مجاہدین کی مثال فائدہ پہنچانے والے
پانی کی طرح ہے… اور اُن کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے جھاگ کی طرح ہیں… یہ جھاگ
پانی کے جھاگ کی طرح شروع میں تو خوب چھا جاتا ہے… مگر کچھ وقت کے بعد اُس کا نام
و نشان بھی نہیں رہتا… اور اہل حق کا نفع لوگوں تک پہنچتا رہتا ہے… میں القلم کے
قارئین سے پوچھتا ہوں… جس حکمران نے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کوآخری وقت تنگ
کیا تھا اُس کا نام کیا تھا؟… مجھے یقین ہے کہ آپ میں سے کسی کو بھی یاد نہیں ہو
گا… جبکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ آج بھی موجود ہیں… اس وقت بھی میرے قریب
بخاری شریف کانسخہ رکھا ہے… اور روزانہ ہزاروں لوگ امام بخاری کے علمی چشمے سے
پانی پیتے ہیں… اور اُن کے تحقیقی سونے سے اپنے زیور بناتے ہیں… امریکہ میں ایک
بڑے کالم نویس تھے… وہ اتنے مقبول تھے کہ… اُن کا کالم دنیا بھر کے چھ سو اخبارات
میں شائع ہوتا تھا۔ اور یہ تمام اخبارات اُن کو معاوضہ دیتے تھے… انہوں نے اپنے
آخری کالم میں لکھا کہ… میرے مرنے کے بعد زیادہ سے زیادہ تین سال تک لوگ مجھے یاد
رکھیں گے اور پھر بس… اُن کی یہ بات بالکل سچ نکلی… آج اُن کے مرنے کو تین سال گزر
چکے… اور لوگ اُن کو تقریباً بھول چکے ہیں…
قرآن
پاک سمجھاتا ہے کہ… باقی صرف وہی چیز رہتی ہے جو انسانوں کو نفع پہنچاتی ہے… حضرت
مدنی رحمۃ اللہ علیہ نے انسانوں کو نفع پہنچایا… غیر مسلموں کو اسلام
کی دعوت دی… مسلمانوں کو دین سمجھایا اور پڑھایا… اور سیاسی میدان میں مسلمانوں کی
دیندارانہ قیادت فرمائی… چنانچہ حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ اور اُن کا
فیض زندہ ہے… اس وقت کم از کم دو لاکھ علماء ایسے ہیں جو اپنی حدیث شریف کی سند
بیان کرتے ہوئے … حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کا سہارالیتے ہیں… آپ
دورنہ جائیے… اسی زمانے اور ماضی قریب میں حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے
جاری فیض کو دیکھ لیں… یقیناً آپ سمندر اور سیلاب کو بھول جائیں گے…
آپ
حضرت مفتی ولی حسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد شمار کریں… جی ہاں
میرے شیخ مفتی ولی حسنس حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد تھے… آپ
دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے بانی حضرت عبدالحق حقانی رحمۃ اللہ علیہ
کے شاگردوںکو شمار کریں… وہ بھی حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردتھے…
آپ حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب مدظلہ اور حضرت مولانا
سرفراز صاحب صفدر مدظلہ… اور حضرت مولانا صوفی عبدالحمید سواتی رحمۃ
اللہ علیہ کے شاگردوں کو شمار کریں… آپ بنگلہ دیش جائیں… وہاں آپ کو حضرت
مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی عظمت کے ایسے مینار نظر آئیں گے کہ… انہیں
دیکھتے ہوئے سر سے ٹوپی گر جاتی ہے… روس، چین، افریقہ، امریکہ، یورپ اور ایشیا…
کون سی ایسی جگہ ہے جہاں حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کا علم اور آپ کی
روحانیت نہیںپہنچی… اللہ اکبر کبیرا… اللہ تعالیٰ
جس کو نوازتا ہے خوب نوازتا ہے… ایک بار حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ سفر
فرما رہے تھے، آپ کے سیاسی مخالفین نے… کالج کے اوباش لڑکوں کو جمع کیا… انہوں نے
ایک اسٹیشن پر حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی توہین کی… آپ کی طرف انڈے
اور ٹماٹر پھینکے… آج کسی کو اُن طلبہ کا نام یاد ہے؟… جبکہ آج بھی روزانہ
ہزاروں لوگ حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے لئے دعا کرتے ہیں… اور اُن کے
علوم و معارف سے فیض یاب ہوتے ہیں… قرآن پاک فرماتا ہے کہ… جھاگ خشک ہو کر ختم ہو
جاتا ہے… جبکہ لوگوں کو نفع پہنچانے والی چیز زمین پر موجود رہتی ہے…
الحمدللہ
… حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ زمین پر موجود ہیں… جبکہ پرانے جھاگ کی طرح
نیا جھاگ بھی بیٹھ جائے گا… سوکھ جائے گا…
بڑا
کارنامہ
حضرت
مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی توہین کرنے والے طلبہ نے یقیناً اپنے ساتھیوں
کے سامنے بڑا فخرکیا ہوگا… مگر وہ سب گم ہو گئے… نہ خود کو کچھ دے سکے نہ کسی اور
کے کام آسکے… جبکہ حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کو
تو اللہ تعالیٰ نے قبر بھی ایسی دی ہے کہ وہاں جاکر دل میں
سکون اور نورانیت محسوس ہوتی ہے… ایک مکھی نے اپنی سہیلیوں کے درمیان فخر
سے
کہا… میں نے آج کمال کر دیا… سہیلیوں نے پوچھا کیا کیا؟ کہنے لگی بادشاہ کے ناک
اور منہ پر کئی بار بیٹھ کر آئی ہوں… اور میں نے اُس کے سر پربیٹھ کر اپنی غلاظت
بھی ڈال دی… یہ بات سن کر ایک سمجھدار مکھی نے کہا… بہن جی! ان تمام کارناموں کے
باوجود تم اب بھی مکھی ہو… اور وہ اب بھی بادشاہ ہے…
حضرت
مدنی رحمۃ اللہ علیہ آج بھی حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ ہیں…
شیخ العرب و العجم، محبوب اور منور … اور ایک ایسی شخصیت جن کے نام میںبھی ایک
عجیب سی کشش اور محبوبیت ہے… طلبہ علم سے درخواست ہے کہ… حضرت اقدس مولانا قاضی
زاہد الحسینی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’چراغ محمد‘‘ کا مطالعہ
کرلیں… اور اپنے ہم عمر… اور اپنے سے کم عمر علماء کرام سے عاجزانہ گزارش ہے کہ…
آج کل میڈیا ایک زہریلا سانپ ہے… اللہ کیلئے بہت احتیاط
کیجئے… اور ایک شوق تو دل سے نکال دیجئے… اگرہم نے یہ شوق دل سے نکال دیا تو
انشاء اللہ بہت سے فتنوں سے بچ جائیں گے… اور ہم پر توفیق
کے راستے کھل جائیں گے… اور یہ شوق ہے’’شہرت پسندی‘‘ کا…
شہرت
پسندی کا رسواکن شوق اگر اہل دین اور اہل علم و جہاد کے دل سے نکل گیا تو
انشاء اللہ … اس امت کے لئے بہت بڑی خیر ہو جائے گی… اور ہمیں میڈیا کا
محتاج بھی نہیں ہو نا پڑے گا… وہ میڈیا جس کی ہر خیر کے پیچھے بھی ایک سو شر چھپے
ہوتے ہیں…وما علینا الا البلاغ
وصلی اللہ تعالیٰ
علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ کی نعمتیں بے شمارہیں… جامع مسجد عثمان رضی اللہ عنہ وعلی رضی اللہ
عنہ بہاولپور میں ڈھائی سو مسلمان دورۂ تربیہ میں’’ اللہ اللہ
‘‘ کر رہے ہیں… اب ماشاء اللہ یہ دورہ ہر مہینے میں دو (۲)بارہوتا
ہے… اورہر ماہ اس میں سینکڑوں افراد شریک ہو رہے ہیں… اُدھر ’’مساجد مہم‘‘ کا کام
زوروں پر جاری ہے… ماشاء اللہ ہر ہفتے کسی نہ کسی مسجد کی
چھت یا لینٹر پڑنے کی خبر دل کو سکون پہنچاتی ہے… تقریباً تمام مساجد کا کام تیزی
سے مکمل ہو رہا ہے… اور مختلف علاقوں سے مزید مساجد بنانے کے تقاضے موصول ہو رہے
ہیں… اسی دوران علم کا نور پھیلانے کے لئے ایک چالیس روزہ تعلیمی دورے کا آغاز
ہواہے… اس دورے کا نام’’دورۂ خیر ‘‘ہے… حدیث پاک میں آتاہے
کہ اللہ تعالیٰ جس سے ’’خیر‘‘ کا ارادہ فرماتے ہیں اُسے دین
کی سمجھ عطاء فرماتے ہیں…اسی حدیث پاک سے بطور برکت ’’دورۂ خیر‘‘ کا نام رکھا گیا
ہے… ماشاء اللہ اس دورے سے کافی فائدہ پہنچ رہا ہے … چالیس
دن میں اسلامی عقائد، اسلامی اصول، اور اسلامی احکامات اور تجوید قرآن کا کافی
حصّہ پڑھایا جاتا ہے… اور آخر میں امتحان بھی ہوتا ہے… یہ دورہ دوبار مکمل ہو
چکاہے اور اب تیسری بار کی تیاری ہے…فی الحال تو اپنے ذمہ دار ساتھی کر رہے ہیں،
آگے چل کر اسے عوام کے لئے بھی انشاء اللہ جاری کردیا جائے
گا… مہینے میں ایک بار دورۂ تفسیر آیات الجہاد بھی ماشاء اللہ پابندی
سے جاری ہے… اور کافی مسلمان اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں… و الحمدللہ رب
العالمین… اُدھر شعبۂ دعوت کے جانثار، جانباز اور وفادار ساتھی ’’مساجد مہم‘‘ سے
فارغ ہو کر زمین پر’’عُشر مہم‘‘ کی برکات کے نازل ہونے کا ذریعہ بن رہے ہیں… الحمد
اللہ ہر طرف نعمتیں ہی نعمتیں ہیں…ہمیں چاہئیے
کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا
کریں… اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچیں اور خوب توبہ
استغفار کریں… اس وقت جو تازہ نعمت سامنے ہے وہ ہے’’ فتح الجوّادفی معارف آیات
الجہاد‘‘ کی چوتھی اور آخری جلد… اللہ تعالیٰ کی توفیق اور
فضل وکرم سے یہ جلد اب اشاعت کے مراحل میں ہے… اور اس جلد کے ساتھ’’فتح الجوّاد‘‘
کا کام بھی الحمدللہ مکمل ہو چکا
ہے…ماشاء اللہ لا قوۃ الا ب اللہ …ظاہری طور پر تو اس کام
کے حالات اور اسباب نظر نہیں آرہے تھے…مگر اللہ تعالیٰ نے
خاص فضل فرمایا… اور اہل اسلام کی دعائیں رنگ لائیں… چنانچہ صرف تین ماہ کے عرصہ
میں چوتھی جلد مکمل ہوگئی… اس جلد میں سورۃ الفتح سے لیکر سورۃ النصر تک کی مدنی
آیات کے معارف الجہاد کو بیان کیا گیا ہے…آج کی مجلس میں فتح الجوّاد کی آخری
جلد کی بعض خصوصیات کے بارے میں چند باتیں عرض کرنی ہیں…
کلام
برکت
اس
جلد میں کلام برکت کے عنوان سے ایک مستقل باب ہے… اس باب میں حضرت شاہ عبدالقادر
رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق کی روشنی میں چند مدنی آیات کے معارف الجہاد کو بیان کیا
گیا ہے… یہ آیات اُس فہرست سے زائد ہیں جو فتح الجوّاد میںمدنی آیات کی پیش کی
گئی ہے… اہل علم کے لئے یقیناً یہ کام کی چیز ہے…
مکی
سورتوں کے اشاراتِ جہاد
جہاد
تو مدینہ منورہ میں فرض ہوا… مگر مکی سورتوں میں ایسی آیات ملتی ہیں جن میں
مستقبل کے جہاد کی بشارت اور فتوحات کے وعدے… اور دیگر جہادی اشارات موجود ہیں…
فتح الجوّاد جلد چہارم میں ایک مستقل باب میں ترانوے (۹۳) مکی آیات کے
اشارات جہاد کو بیان کیا گیا ہے… اور ماضی کے جہادی قصوں پر مشتمل آیات کو بھی
اسی باب میں ذکر کیا گیا ہے… غالباً مکی سورتوں کے اشارات جہاد پر یہ اپنے انداز
کا ایک منفرد کام ہے… جس سے طلبۂ علم کو انشاء اللہ بہت
فائدہ پہنچے گا اور اُن کے لئے تحقیق کی راہیں کھلیں گی…
بیعت
علی الجہاد
سورۂ
الفتح میں’’بیعت علی الجہاد‘‘ اور اُس کے فوائد کا تذکرہ ہے… ’’فتح الجوّاد‘‘ میں
اس موضوع پر کافی محنت کی گئی ہے… اور دلچسپ انداز میں ’’بیعت علی الجہاد‘‘ کے
معنٰی، مفہوم، فوائد اور نتائج کو بیان کیا گیا ہے… اور عصر حاضر میں اِس کی ضرورت
پر بھی قدرے روشنی ڈالی گئی ہے… نیز بیعت رضوان اور بیعت علی الجہاد کے موضوع پر
چالیس احادیث کا ایک مجموعہ بھی پیش کیا گیا ہے…
نفاق
سے حفاظت
ویسے
تو’’فتح الجوّاد‘‘ کا اساسی موضوع’’ جہاد‘‘ ہر مسلمان کو نفاق سے بچنے کی دعوت
دیتا ہے… اورنفاق سے حفاظت کے طریقے بھی بتاتاہے… مگر جلد چہارم میں’’سورۃ
المنافقون‘‘ کے معارف الجہاد اہل ایمان کے لئے ایک تحفہ
ہیں… اللہ تعالیٰ ہم سب کی نفاق سے حفاظت فرمائے… سورۃ
المنافقون کے آخرمیں قرآنی آیات کی ایک فہرست بھی پیش کی گئی ہے… تقریباً دوسو
آیات پر مشتمل یہ فہرست اُن آیات کا پتا بتاتی ہے جو نفاق اورمنافقین کے بارے
میں نازل ہوئی ہیں…
خواتین
اور جہاد
خواتین
اگردل سے جہاد کی حامی ہوں تو اُن کے لئے کیا کیا انعامات ہیں… اورجہاد سے خواتین
کو کیا فائدے پہنچتے ہیں… سورۃ الفتح اور سورۃ الممتحنہ میں ان موضوعات پر بھی بات
کی گئی ہے۔
احادیث
مبارکہ
حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جہادی اسلحہ سے محبت فرماتے تھے… آپ صلی اللہ
علیہ وسلم نے جہاد کیلئے بہت سا اسلحہ تیار فرمایا… سورۃ الحدید میں
لوہے کی بات آئی تو جہادی اسلحے تک پہنچی… جہادی اسلحے اور
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسلحے کے
بارے میں کئی احادیث مبارکہ… اور بہت سی روایات… جلد چہارم کا حصہ ہیں…اسی طرح
جہاد اور مجاہدین کے فضائل وغیرہ پر احادیث کے مجموعے بھی اس جلد میں شامل کئے گئے
ہیں۔
کفار
سے دوستی کی ممانعت
یہ
بے حد اہم اور خاص موضوع قرآن پاک کی کئی سورتوں میں بیان ہوا ہے…فتح الجوّاد کی
آخری جلد میں اس پر بہت مفصل اورمدلّل بات کی گئی ہے… اورکفار سے دوستی اور
تعلقات کی شرعی حیثیت کو دلائل کے ساتھ واضح کیا گیا ہے…
انفاق
فی سبیل اللہ
سورۂ
الحدید کا ایک خاص موضوع جہاد میں مال خرچ کرنے کی ترغیب ہے… یہ موضوع قرآن پاک
کی اور بھی کئی سورتوں میں بیان ہوا ہے… فتح الجواد کی آخری جلداس موضوع پر
دلنشین دعوت دیتی ہے… اور یہ بات سمجھاتی ہے کہ جہاد میں مال خرچ نہ کرنے کی وجہ
سے مسلمان کن کن ذاتی اور اجتماعی نقصانات کا شکارہیں… نیزجہاد میں مال خرچ کرنے
کی فضیلت پر کئی احادیث و روایات کوبھی بیان کیا گیا ہے…
آٹھ
سو پینسٹھ آیات
فتح
الجوّاد کی آخری جلد تک کل جن آیاتِ جہاد کے معارف یااشارات بیان کئے گئے ہیں
اُن کی تعداد… آٹھ سو پینسٹھ (۸۶۵) بنتی ہے… ان میں سے چھ سو پچپن مدنی آیات اور
دوسو دس مکّی آیات ہیں… ان تمام آیات میں سے اکثر کے معارف یا اشارات ’’فتح
الجوّاد‘‘ میں آگئے ہیں… جبکہ حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کے بعض
اشارات کو ذکر نہیں کیا گیا… کیونکہ حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کا
ترجمہ اور حاشیہ الحمدللہ آسانی سے دستیاب ہے… الغرض حضرت
لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کے اشارات کو بھی شامل کر لیا جائے تو آیات کی
کل تعداد آٹھ سو پینسٹھ بن جاتی ہے…
ایک اللہ والے
کا فرمان
ہمارے
حضرت قاری محمد عرفان نور اللہ مرقدہ نے ایک بار بہت جذب اور جوش کے
ساتھ فرمایا تھا کہ قرآن پاک میں جہاد کی ایک ہزار آیات موجود ہیں یہ بات انہوں
نے آیات جہاد کی فہرست دیکھ کر فرمائی تھی اب اگر کوئی عالم دین مکی سورتوں میں
خوب تحقیق کے ساتھ غور کرے تو انشاء اللہ حضرت قاری محمد
عرفان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی بات آسانی سے پوری ہو سکتی ہے ’’فتح
الجوّاد‘‘ میں اصل محنت مدنی سورتوں پر کی گئی ہے۔
اصل
خصوصیت
فتح
الجوّاد کی آخری جلدکی اصل خصوصیت یہ ہے کہ اس میں عصر حاضر کو سامنے رکھ کر
قرآنی دعوتِ جہاد کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے اللہ کرے
یہ کوشش کامیاب ہو اورمسلمانوں کوجہاد سمجھ آجائے اور مجاہدین قرآن پاک کی روشنی
میں اپنے جہاد کو شریعت کے مطابق بنائیں… اورجاری رکھیں… نیز فتح الجوّاد جلد
چہارم میں بہت سے عسکری نکتے بھی جمع کئے گئے ہیں…
ما
شاء اللہ لا قوۃ الاب
اللہ …بارک اللہ فیہ
تیرہ
سال
’’فتح
الجوّاد‘‘ویسے تو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے بہت کم عرصہ میں
تیار ہوئی… مگر درمیان میں کام کے ناغے بہت ہوئے… اور حادثات بھی کئی پیش آئے…
فتح
الجوّاد کا کام تقریباً سواتین سال پہلے شروع کیاگیا تھااور درمیان میں یہ کام کئی
بارمکمل طور پر رک گیا بلکہ ایک مرتبہ تو پورے ایک سال تک یہ کام رکارہا ویسے
آیات جہاد کا کام تیرہ سال پہلے شروع ہواتھا اُس وقت صرف آٹھ دس دن کی مسلسل
محنت سے آیات جہاد کی پہلی فہرست اور ان آیات کا ترجمہ اور مختصر فوائد لکھنے کی
ترتیب بنی تھی اُس وقت چار سو سولہ آیات کی فہرست تیار ہوئی تھی یہ فہرست
اورآیات کاترجمہ تعلیم الجہاد حصہ چہارم کے نام سے کئی بار شائع ہوا کئی بڑے اہل
علم نے اس فہرست پر خوشی اور حیرت کا اظہار فرمایاتھاگویا کہ تیرہ سال پہلے جو کام
شروع ہوا تھا وہ ابھی چندروز قبل اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ایک کنارے تک
جا پہنچا ہے اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے اور اُمت مسلمہ کے
لئے نافع بنائے۔ ( آمین یا ارحم الراحمین)
وصلی اللہ تعالیٰ
علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا کثیرا
٭٭٭
رحم
فرمائے… تقریباً پورا پاکستان اس وقت جل رہا ہے… بمباری، آگ، موت، لاشیں اورپناہ
گزینوں کے لمبے لمبے قافلے… روزانہ سینکڑوں افراد مرتے ہیں اور ہزاروں بے گھر ہوتے
ہیں… مگر امریکہ سے ایک ہی صد اآتی ہے کہ مزید کچھ کرو، مزید مسلمان مارو، مزید
آپس میں لڑو…ڈو مور، ڈومور… نو سال پہلے ایک ناجائز، حرام اور غلط فیصلہ کیا
گیا…آج پورا ملک اُس فیصلے کی آگ میں جل رہا ہے…پاکستان کی عوام مر رہی ہے… فوج
مر رہی ہے… پولیس مر رہی ہے… جی ہاں پوراپاکستان سسک سسک کر مر رہا ہے…
آئیے’’ماضی‘‘ کے کچھ واقعات یاد کرتے ہیں… اور پھر اپنے’’حال‘‘ پر استغفار کرتے
ہیں…
امریکہ
پر حملہ
منگل
کا دن تھا اور ستمبر کی گیارہ تاریخ…۲۰۰۱ء جب امریکہ پر
عرب مسلمانوں نے حملہ کر دیا… چار جہاز اغواء ہوئے… ان میں سے دو جہاز نیویارک کے
ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے جا ٹکرائے… ایک جہاز پینٹاگون پر گرا… جبکہ چوتھا جہاز اپنے
ہدف کو نہ پا سکا… ’’القاعدہ‘‘ عرب مجاہدین کی ایک چھوٹی سی تنظیم ہے… اُس نے اس
حملے کی ذمہ داری قبول کی… اور وجہ یہ بتائی کہ امریکہ نے عرب ممالک کے وسائل پر
قبضہ کر رکھا ہے… چنانچہ انہو ں نے اپنے اسلامی ممالک کو آزاد کرانے کے لئے یہ
حملہ کیا ہے… اُنیس افراد کے اس گروپ کے ذمہ دار ایک مصری نوجوان تھے… دو افراد کا
تعلق کویت اور امارات سے تھا…جبکہ باقی تمام حضرات سعودی شہری تھے…اس حملے سے
القاعدہ نے کیا فائدہ حاصل کیا یہ تو القاعدہ والے حضرات ہی بتا سکتے ہیں… اچھا
ہوتا کہ یہ حضرات اگر امریکہ سے لڑنا چاہتے تھے تو کسی فوجی ہدف کو نشانہ بناتے…
بہرحال جو مقدّرمیں لکھا تھا وہ ہو گیا… اوردیکھتے ہی دیکھتے دنیا کا رنگ ہی بدل
گیا۔
القاعدہ
والے کہتے ہیں کہ ہم نے … اس کارروائی کے لئے سعودی علماء کرام سے فتویٰ حاصل کیا
تھا… یاد رہے کہ… جس وقت یہ کارروائی ہوئی تھی… اُس وقت افغانستان میں امارتِ
اسلامیہ قائم تھی… صدیوں بعد مسلمانوں نے اور روئے زمین نے کوئی خالص اسلامی حکومت
دیکھی تھی… عراق پر صدام حسین کا راج تھا… جبکہ پاکستان کی بدنصیبی پرویز مشرف کی
صورت میں موجود تھی…
القاعدہ
نے ٹھیک کیا یا غلط… اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے… مگر
قرآن پاک یہ ضرور سمجھاتا ہے کہ … کفار پر اس طرح کی مصیبتیں اُن کے اعمال کی
بدولت نازل ہوتی ہیں…
ارشادباری
تعالیٰ ہے:
وَلَا
یَزَالُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا تُصِیْبُھُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَۃٌ اَوْ
تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِھِمْ حَتّٰی یَأْتِیَ وَعْدُ
اللہ اِنَّ اللہ لَایُخْلِفُ الْمِیْعَادَ (
الرعد،۳۱)
ترجمہ:
اور کافروں کو اُن کے اعمال کے بدلے میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ مصیبت پہنچتی رہے گی، یا
اُن کے گھروں کے قریب اُترے گی، یہاںتک کہ اللہ تعالیٰ کا
وعدہ آپہنچے بے شک اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا…
مفسرین
نے لکھا کہ ان مصیبتوں سے مُراد… کفار پر مسلمانوں کے جہادی حملے بھی ہیں… قرآن
پاک قیامت تک کے حالات بتاتا ہے… امریکہ پر اُس کے گھر میں ایک مصیبت نازل ہوئی…
اُسے چاہئے تھا کہ عبرت پکڑتا… اللہ تعالیٰ کے سامنے جُھک
جاتا… مسلمانوں پر اپنے توسیع پسندانہ مظالم بند کر دیتا… مگرایسا نہیں ہوا… بلکہ
وہ بپھر گیا اور پورے عالم اسلام کو ختم کرنے کے لئے دجّال کی طرح نکل کھڑا ہوا…
ایک
حرام فیصلہ
پاکستان
پر پرویز مشرف کی حکومت تھی… وہ طبعی طور پر اسلام سے بیزار اور کافروں سے محبت
کرنے والا شخص تھا… وہ کتوں کا شوقین اور اتاترک کے سیکولر نظام کا عاشق تھا… اُسے
شہرت اور مقبولیت کا بے حد شوق تھا… امریکہ نے جب افغانستان پر حملے کا ارادہ
کیاتو پاکستان کو دھمکی دی… اور اُس سے ہر طرح کی مدد مانگی… پرویز مشرف تو پہلے
سے ہی مجاہدین اور امارتِ اسلامیہ کا دشمن تھا… فوجی ڈسپلن کی وجہ سے مخالفت کی
کوئی آواز بھی نہ اُٹھی… اور پاکستان نے امریکہ سے ہر طرح کے تعاون کا وعدہ کر
لیا… یہ وہ منحوس لمحہ اور حرام فیصلہ تھا جس کی سزا معلوم نہیں کتنی صدیاں اور
کتنی نسلیں بھگتیں گی…
آپ
یقین کریں پاکستان کی جگہ اگر ہندوؤں اور عیسائیوں کا کوئی ملک ہوتا تو وہ بھی
امریکہ سے اس طرح کا معاہدہ نہ کرتا… ملک کے کئی ائیر بیس امریکہ کو دے دیئے گئے…
کراچی سے کوئٹہ اور پشاورتک امریکہ کے درجنوں فوجی اورجاسوسی اڈے قائم ہو گئے…
پاکستانی اداروں کے کئی آفیسر امریکہ کی ملازمت میں دے دیئے گئے… اور امریکہ کو
اپنے ملک سے بھی زیادہ محفوظ علاقہ افغانستان پر حملے کے لئے مل گیا…
پاکستانی
حکمرانوں کا یہ فیصلہ غلط تھا… ناجائز تھا، شرعی طور پر حرام تھا اور اخلاقی طور
پر ظالمانہ تھا… آج پاکستان اسی فیصلے کے زہر سے مر رہا ہے… مگر حکمرانوں میں سے
کسی کے اندر اتنا ایمان اور جرأت نہیں کہ وہ یہ فیصلہ اب بھی واپس لے لیں… بلکہ
ہر کوئی اسی فیصلے کی دلدل میں زیادہ دھنستاجا رہا ہے…
کوئی
ہے جو سوچے
افغانستان
کی امارتِ اسلامیہ نے پاکستان کا کیا بگاڑا تھا کہ پاکستان نے اُس کے خاتمے کے
لئے… امریکہ کو ہرطرح کا تعاون فراہم کر دیا؟…کیا پاکستان کے لئے جائز تھا کہ وہ
افغان مسلمانوں کے قتل عام کے لئے امریکہ کو چند ڈالروں کے عوض اڈے فراہم کرے؟…
اُس وقت پاکستان کے کالے افسر بس یہی کہتے تھے کہ ہم پاکستان کو بچا رہے ہیں… کیا
پاکستان کو بچانے کے لئے ہزاروں افغانوں کا مظلومانہ خون درکار تھا؟…
یاد
رکھیں افغانستان میں اسلامی حکومت کے ختم ہونے کا گناہ… سینکڑوں مساجد و مدارس کی
تباہی کا وبال… اور ہزاروں مسلمانوں کے قتل کا خون… پاکستان کے سر ہے اور آج
پاکستان اسی خون کی قیمت چکا رہا ہے… لاہور سے لیکر سوات تک… اور کراچی سے لیکر
وزیرستان تک خون آلود جنازے اور یتیم ہونے والے بچوں کی سسکیاں ہیں… جبکہ امریکہ
کا دورہ کرنے والے پاکستانی حکمران… فون کر کے یہی پوچھتے ہیں کہ آج کتنے مسلمان
مارے… میری آج بہت اہم میٹنگ ہے… اور میں نے امریکہ والوں کو مطمئن کرنا ہے…
’’انا
للہ وانا الیہ راجعون‘‘
ایک
افسردہ لمحہ
امریکہ
نے امارت اسلامیہ افغانستان سے مطالبہ کیا کہ… شیخ اسامہ بن لادن کو ہمارے حوالے
کرو… حضرت امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد نے مسلمانوں کی لاج رکھی اور یہ
مطالبہ ماننے سے انکار فرما دیا… ۷،اکتوبر۲۰۰۱ء
شام کے وقت امریکہ نے افغانستان پر فضائی حملہ شروع کر دیا… اِدھر پاکستان میں
پرویز مشرف نے فوج کے اعلیٰ عہدوں پر اُن افراد کو بٹھادیا جو مکمل امریکہ نواز
تھے… امارتِ اسلامیہ افغانستان نے اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر
امریکہ کا مقابلہ شروع کیا… امریکی فوجی زمین پر آنے سے گھبرا رہے تھے انہوں نے
شمالی اتحاد کو بھاری رقومات دیکر خرید لیا… اور انہیں اپنا سپاہی بنادیا…ایک ماہ
تک امارتِ اسلامیہ کے مجاہد ڈٹے رہے… مگرکب تک؟… اِدھر پاکستان کی امریکہ کے ساتھ
اندھی امداد تھی… اور اُدھر شمالی اتحاد کے دستے تھے… بالآخر طالبان کا بڑا لشکر
قندوز میں محصور ہو گیا… دوستم نے اُنہیں دھوکہ دیا اور ہتھیار ڈالنے پر امن کی
پیشکش کی… اچھا ہوتا کہ طالبان ہتھیار نہ ڈالتے مگر وہ افسردہ لمحہ بھی مسلمانوں
کی قسمت میں تھا کہ…دوستم پر اعتماد کر کے ہتھیار ڈال دیئے گئے… اور پھر امریکہ
اور دوستم کے مظالم سے آسمان کا کنارا سرخ ہو گیا… ہزاروں مجاہدین کنٹینروں میں
بند کر کے شہید کر دیئے گئے… سینکڑوں جانباز قلعہ جنگی کے قید خانے میں بمباری کا
نشانہ بنے… اور دور حاضر کا اسلامی لشکر خاک وخون کی خوراک بن گیا… شہید ہونے والے
تو اونچا مقام پا گئے… زخمیوں نے بھی جنت کے تمغے حاصل کئے… مگر ایک روشن مستقبل
اپنی جھلک دکھا کر کہیں گم ہوگیا… دور بہت دور…
’’انا
للہ وانا الیہ راجعون‘‘
نئی
بھرتی
پاکستان
میں اُس وقت کئی جہادی تنظمیں موجود تھیں… کچھ بڑی اور کچھ چھوٹی… ان سب کی ہمدردی
امارتِ اسلامیہ افغانستان کے ساتھ تھی… چنانچہ پاکستانی مجاہد افغانستان جانے لگے…
پاکستانی حکومت کو اُس وقت عقلمندی سے کام لینا چاہئے تھا کہ وہ ان مجاہدین کو
افغانستان جانے سے نہ روکتی… مگر پاکستان تو بد نصیبی کے آخری کنارے پر کھڑا تھا…
اور امریکہ بُری طرح سے پاکستان میں گھس چکا تھا…چنانچہ حکمرانوںنے پاکستانی
مجاہدین کو بھی تنگ کرنا شروع کیا… اس وقت کسی مجاہدکے ذہن میں یہ نہیں تھا کہ وہ
پاکستان میں کارروائیاں کرے… مگر حکمرانوں کے طرز عمل نے ایسے مجاہدین بھی کھڑے کر
دیئے جنہوں نے پاکستان میں جہاد کرنے کا اعلان کر دیا… دراصل پاکستانی عقوبت خانوں
کو جو سیکورٹی اہلکار چلا رہے ہیں وہ پاکستان کے سب سے بڑے دشمن ہیں… یہ بد اخلاق،
بد شکل اور بد مزاج آفیسر قیدیوں پر ایسے مظالم کرتے ہیں… اور انہیں ایسی فحش
گالیاں دیتے ہیں کہ جن کا تصور بھی محال ہے… اب جو بھی دیندار قیدی یہ طرز عمل
دیکھتا ہے تو اُس کو یقین ہو جاتا ہے کہ … پاکستان کے حکمران کافروں سے کم نہیں
ہیں… چنانچہ اسی طرز عمل نے پاکستان میں وہ طبقہ کھڑا کردیا ہے جو پاکستان میں لڑنے
کو… زیادہ اہمیت دیتا ہے… پھر حکومت نے منظم جہادی تنظیموں پر پابندیاں لگائیں تو
اُ ن سے بھی کئی چھوٹے چھوٹے گروپ پیدا ہوئے… بعض بڑی جہادی تنظیموں کو کمزور کرنے
کے لئے حکومت نے خود بھی کئی چھوٹے گروپ ان تنظیموں سے نکالے جو بعد میں آزاد ہو
گئے… اُدھر مجاہدین پر مسلسل چھاپوں کی وجہ سے کئی افراد دربدر ہوئے اور اُن کے
لئے زندہ رہنا مشکل ہو گیا… پھر حکومت نے انڈیا سے یاریاں بڑھائیں اور جہاد کشمیر
کو کمزور کیا تو اس سے بھی کئی افراد حکومت کے خلاف لڑنے پر آمادہ ہوئے… اور
پھرحکومت نے مسجدیں گرائیں، لال مسجد والا اندوہناک حادثہ کر بلائی انداز میں پیش
آیا جس نے پورے ملک میں بے چینی کی لہردوڑا دی… خلاصہ یہ کہ حکومت ہر آئے دن اُن
لوگوں کو بھرتی کر رہی ہے جو پاکستان میں لڑنے پر مجبور ہوتے ہیں… اور یوں
افغانستان کی لڑائی پاکستان میں منتقل ہو گئی… اور یہاں کے مسلمان ایک دوسرے کو
مارنے لگے…
’’انا
للہ وانا الیہ راجعون‘‘
امریکہ
کی خواہشیں
امریکہ
دراصل پاکستان کو ہی اپنا اصل دشمن سمجھتا ہے… اور وہ پاکستان کو مکمل طور پر ختم
کرنا چاہتا ہے… اس سلسلے میں وہ بھارت کے ساتھ اور بھارت اُس کے ساتھ پورا تعاون
کر رہا ہے… اور بدقسمتی سے پاکستان کے حکمران امریکہ اور بھارت دونوں کے ساتھ
تعاون کر رہے ہیں… امریکہ چاہتا تھا کہ افغانستان میں اُس کے خلاف لڑنے کیلئے
پاکستان سے مجاہدین نہ آئیں… چنانچہ اُس نے پاکستان میں ایسے محاذ جنگ کھول دیئے
کہ اب واقعی افغانستان جا کر لڑنے والوں کی تعداد بہت کم ہو گئی ہے… اُدھر امریکہ
نے پاکستان کو اس کی خدمات کا صلہ یہ دیا کہ بلوچستان میں بلوچ مزاحمت کاروں کو…
اور سندھ میں ایم کیو ایم کو مکمل طور پر مسلّح کر دیا… بلوچستان میں تو لڑائی
شروع ہے اور وہاں پاکستان کے خلاف عمومی فضا بن چکی ہے… جبکہ ایم کیو ایم اشارے کا
انتظار کر رہی ہے… فی الحال اُس کی ذمہ داری حکومت میں رہ کر امریکہ اور بھارت کے
مفادات کا تحفظ ہے… ان حالات میں اگر حکمرانوں میں کسی کو پاکستان کی فکر ہوتی تو
وہ امریکہ سے اپنا دامن چھڑا لیتا…مگر بے فکرے حکمرانوں کو اس کی کوئی پرواہ نہیں…
انہیں جب تک موقع ملاپاکستان میں رہ کر ملک کو لوٹیں گے… اور جب حالات خراب ہوئے
تو شوکت عزیز کی طرح پاکستان سے باہر چلے جائیں گے… اِس وقت کے حکمرانوں میں سے
اکثر کے ذاتی مکانات امریکہ، برطانیہ، سوئزرلینڈ اور دبئی میںموجود ہیں… دوسری طرف
پاکستان کے دینی طبقے کا بھی فرض تھا کہ وہ افغان جہاد کی طرف زیادہ توجہ کرتا…
کیونکہ اصل مقابلہ وہاں ہے اور وہاں کی فتح اور شکست پر پوری اُمتِ مسلمہ کے
مستقبل کا فیصلہ ہونا ہے…مگر ایسا نہیں ہوا… بلکہ پاکستان کا دینی طبقہ یا تو
جمہوریت کی کیچڑ میں پھنس گیا… یا پھر اُس نے پاکستان ہی میں جنگی محاذ کھول کر…
امریکہ اور نیٹو کے لئے افغانستان کا کام آسان کر دیا… اور اُدھر انڈیا ہے کہ وہ
اندر اور باہر ہر طرف سے پاکستان کو کھاتا جا رہا ہے…
انا
للہ وانا الیہ راجعون
صرف
رحمت الٰہی کا سہارا
بظاہر
تو پاکستان کے بچنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی… حکومت کے بہت اندر تک امریکہ اور
انڈیا کے ایجنٹ گھس چکے ہیں… اور یہ لوگ اتنے بااثر ہیں کہ وہ حکومت کو کوئی بھی
سیدھا کام نہیں کرنے دیتے… ابھی سوات کا معاہدہ ہوا تو اسی بااثر طبقے نے اس
معاہدے کو ختم کرادیا… یہ لوگ ہر وقت حکومت کو اُن کارروائیوں پر اُکساتے رہتے
ہیں…جن سے ملک میں مزید انتشار پھیل سکتا ہو… آج کل اس طبقے نے یہ شور اٹھایا ہوا
ہے کہ صوبہ سرحد کے بعد جنوبی پنجاب میں مزاحمت شروع ہونے والی ہے… ان لوگوں کی
خواہش ہے کہ حکومت جیش محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور الرحمت ٹرسٹ وغیرہ
پر مظالم شروع کرے… تاکہ وہ بھی حکومت کے مظالم کے مقابلے میں ہتھیار
اٹھالیں…اوریوں چاروں صوبوں میں جنگ شروع ہو جائے…ا ب ان حالات میں پاکستان کو
صرف اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی بچا سکتی ہے… چنانچہ ہم سب اللہ تعالیٰ
کی طرف رجوع کریں… اور استغفار کر کے اللہ تعالیٰ سے اُس کی
رحمت کا سوال کریں… اور نمازوں کے بعد چند دعاؤں کا بہت اہتمام کریں(۱) گناہوں
سے معافی کی دعاء یعنی استغفار(۲) صراط
مستقیم کی رہنمائی کی دعاء کہ یا اللہ اس وقت جو کچھ حق ہو
اور آپ کو پسند ہو ہمیں اُس کی توفیق عطاء فرما(۳) اُمتِ مسلمہ کے
لئے معافی کی دعاء یعنی ساری امت کی طرف سے استغفار(۴) اُمتِ مسلمہ کے
لئے رحمت کی دعاء (۵) جہاں
جہاں شرعی جہاد ہو رہا ہے وہاں کے مجاہدین کے غلبے اور فتح کی دعاء (۶) گمراہی،فسق
و فجور اور سوء خاتمہ سے حفاظت کی دعاء (۷) پاکستان کے لئے
اچھے، ایمان والے ،صالح حکمران نصیب ہونے کی دعاء(۸) افغانستان میں
امارتِ اسلامیہ بحال ہونے کی دعاء (۹) اللہ تعالیٰ
کے راستے کی مقبول شہادت کی دعاء (۱۰) اللہ تعالیٰ
کی نعمتیں سلب ہونے سے حفاظت کی دعاء…
اللہ تعالیٰ
ہم سب پر رحم اور رحمت فرمائے آمین یا ارحم الراحمین
وصلی اللہ تعالیٰ
علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا کثیرا
٭٭٭
کی
رضاء کے لئے زکوٰۃ ادا کی جائے تو مال محفوظ ہو جاتا
ہے… اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے صدقہ دیا جائے تو بیماریاں
اور بلائیں دور ہو جاتی ہیں… اور اللہ تعالیٰ کے سامنے
عاجزی کے ساتھ گڑ گڑا کر دعاء کی جائے تو مصیبتوں سے نجات مل جاتی ہے…
سبحان اللہ و
بحمدہ سبحان اللہ العظیم…
ارشاد
فرمایا
حصّنوا
اموالکم بالزکوٰۃ
اپنے
اموال کی حفاظت کرو زکوٰۃ کے ذریعہ
و
داووَمرضاکم بالصدقۃ
اور
اپنے مریضوں کا علاج کرو صدقہ کے ذریعہ سے
واستقبلو
ا امواج البلاء بالدّعاء والتضرّع
اور
مصیبت کی موجوں کا مقابلہ کرو دعاء اورعاجزی کے ذریعہ سے
(
رواہ ابو داؤد، الطبرانی، البیہقی مرسلاً)
اس
وقت تو مسلمانوں کا کچھ بھی’’محفوظ‘‘نہیں ہے… جب سے پاکستان بنا ہے یہاں مسلمان
ایک دوسرے کو مار رہے ہیں، لوٹ رہے ہیں… مشرقی پاکستان کس طرح سے ’’بنگلہ دیش‘‘ بن
گیا … اور اب پھر لاکھوں مہاجرین کے قافلے ہیں… اور ہر قافلے میں مظلومیت کی ان
گنت د استانیں… اب تو دعائیں بھی لڑ کھڑاگئی ہیں کہ… کس کی فتح مانگیں اور کس کی
شکست…مگر ہمیں یقین ہے کہ انشاء اللہ ’’خیر‘‘ہو گی… اور
بالآخر اسلام کو غلبہ اور حکومت ملے گی… اسلام تو دنیا میں غالب ا ورنافذ ہونے کے
لئے آیا ہے… مگر صدیاں بیت گئیں کہ مسلمان مغلوب چلے آرہے ہیں… اب
انشاء اللہ حالات بدل رہے ہیں… اور بہت تیزی سے بدل رہے
ہیں… ہم مسلمان اگرچہ اس وقت پریشان ہیں… مگر یاد رکھیں کہ دشمنان ِ اسلام ہم سے
بھی زیادہ پریشان ہیں… اور اب یہ زمین آہستہ آہستہ اُن کے قدموں سے کھسک رہی ہے…
ہم مسلمانوں کو ایمان کی برکت سے یہ تو امید ہے کہ موت آتے ہی
انشاء اللہ آسانی ہو جائے گی… جب کہ کافروں کو تو اس کی
بھی کوئی امید نہیں… یہ دنیا اُن کے لئے سب کچھ ہے اور اب یہاں بھی اُن کو چین
نہیں ہے…
امریکی
نادانی
بندہ
ایک بار مسلمانوں کی ایک جیل میں قید تھا… اُن دنوں کراچی میں ایک امریکی صحافی
لاپتہ ہو گیا… اُسی کی تلاش میں امریکن خفیہ اداروں کے اہلکار مجھ سے بھی تفتیش
کرنے آئے… وہ مجھ سے بہت کچھ پوچھتے رہے مگر میں نے بھی ایک بات پوچھ لی… ’’کیا
امریکہ ساری دنیا کے مسلمانوں کو اپنا دشمن بنا کر محفوظ رہ لے گا؟‘‘… اُن کے پاس
کوئی جواب نہیں تھا… ایک افسر نے کہا ہمارے حکمران بیوقوف ہیں… میں نے کہا مرنے کے
بعد نہ کوئی امریکی رہتا ہے نہ پاکستانی… دنیا کے ممالک، یہاں کی حکومت، یہاں کی
بلڈنگیں… سب مرنے کے بعد یہیںر ہ جاتے ہیں… آپ لوگ بھی مرنے کے بعد کی زندگی کا
کچھ سوچو…یہ دنیا اُسی وقت امن او رسکون پاتی ہے جب یہاں کے رہنے والے آخرت کی
فکر رکھتے ہیں… آج امریکہ چاروں طرف سے پھنس چکا ہے… اُس کی معیشت لڑکھڑا گئی ہے…
اس کی سیاست کا رنگ بدل چکا ہے… اور اُس کا اسلحہ خود اُسے گھور رہا ہے… ہم سات
سال پہلے بھی یہی بات کہتے تھے مگر اُس وقت… اکثر لوگ نہیں مانتے تھے… مگر اب تو
ہر کوئی یہی کہہ رہا ہے کہ… امریکہ عراق اور افغانستان میں اپنی عزت اور طاقت ہار
چکا ہے… لِلّٰہِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ
بزدلی
کا انجام
سات
آٹھ سال پہلے جب امریکہ اور پاکستان نے ’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف جنگ شروع نہیں کی
تھی… اُس وقت بے چاری دہشت گردی بہت کمزور اور بہت مہذّب تھی…مگر جب اس کے خلاف
امریکہ، نیٹو اور پاکستان نے جنگ شروع کر دی تو یہ طاقتور ہوتی چلی گئی… آخر یہ
سب کچھ کیا ہے؟… سات سال پہلے وزیرستان کے ہر پتھر پر پاکستان کے پولیٹیکل ایجنٹ
کا راج تھا… سات سال پہلے سوات میں پولیس، ایف سی اور لیوی کے سپاہی دندناتے پھرتے
تھے… پورے پاکستان میں صوبہ سرحد کی پولیس اپنی بداخلاقی اور سخت رویّے کی بناء پر
بدنام تھی… وہ لوگوں کو گریبان سے پکڑ کر گاڑی سے اتارتے تھے… اور معمولی سے
معمولی بات پر پٹائی شروع کردیتے تھے… مہمند ایجنسی،خیبر ایجنسی اور پارا چنار تک
سب لوگ حکومت کی رٹ تسلیم کرتے تھے… مگر پھر کیا ہوا ؟آج سرحد پولیس کے اہلکار
اخبار میں اشتہار دیتے ہیں کہ ہمارا پولیس سے کوئی تعلق نہیں… وزیرستان میں
پولیٹیکل ایجنٹ چڑیا گھر کا جانور بن چکا ہے… اور صوبہ سرحد کے اڑتیس فیصد سے زائد
علاقے پر سے حکومتی رٹ ختم ہو چکی ہے… سات سال پہلے بندہ نے ’’کالی آندھی‘‘ کے
نام سے ایک مضمون لکھاتھا… یہ مضمون خاص طور سے حکومت کے لوگوں کو بھی پڑھایا گیا…
مگر حکومت پر بزدلی اور بہادری کا مشترکہ دورہ پڑا ہوا تھا… امریکہ کے سامنے بزدلی
اور اپنی عوام پر بہادری… چنانچہ کسی نے کچھ نہ سنا اور کالی آندھی آگئی… ہم نے
عرض کیا تھا کہ جہادی جماعتوں پر پابندی لگاؤ گے تو ’’آزادجہاد‘‘ وجود میں آئے
گا… جو کسی کے بھی قابو او ر کنٹرول میں نہیں ہو گا… مگر حکومت کے لوگ امریکہ سے
تھر تھر کانپ رہے تھے… اور اسی بزدلی میں انہوں نے اپنے ملک کا ستیاناس کر دیا…
جنگ
اور پھیلے گی
یہ
نہ کوئی دھمکی ہے اور نہ نجومیانہ پیشین گوئی… بلکہ یہ ایک یقینی اور فطر ی بات ہے
کہ… حکومت جس رُخ پر چل پڑی ہے اُ س کے نتیجے میں جنگ اور پھیلے گی… سوات کے
جنگجوؤں کی مدد کو کوئی نہیں پہنچا… اس کی وجہ خود اُن کا رویّہ ہے کہ انہوں نے
ہر کسی سے دشمنی مول لی… مگر حکومت جس انداز میں اس جنگ کو آگے بڑھا رہی ہے تو
اُس کا شدید ردّعمل ہو گا… وقتی طور پر کسی ایک جگہ حالات درست ہو بھی گئے تو
دوسری جگہ خراب ہو جائیں گے… جب لڑائی اس مسئلے کا حل ہے ہی نہیں تو پھر لڑائی سے
یہ مسئلہ کس طرح سے حل ہو سکتا ہے؟… کیا اہلِ پاکستان ہمیشہ ایک دوسرے سے لڑتے
رہیں گے؟… سوات کے بعد حکومت کسی اور علاقے پر جنگ شروع کرے گی…پھر اُس کے بعد کسی
اورعلاقے پر؟… علاقے تو بہت ہیں اور دشمنوں کا مطالبہ بھی بہت زیادہ ہے…
اللہ تعالیٰ
حکومت کے لوگوں کو ہدایت عطاء فرمائے… یا اپنی رحمت سے اس ملک کو اچھے حکمران عطاء
فرمائے…
حقیقت
کا انکار
کیا
یہ حقیقت نہیں کہ پاکستان مسلمانوں کا ملک ہے؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ پاکستان میں
دیندار مسلمان بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں؟… کیا یہ حقیقت نہیں کہ پاکستان میں
لاکھوں مساجد اور ہزاروں دینی مدرسے ہیں؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ دیندار مسلمانوں نے
دین کی خدمت اور دین کے کام بھی کرنے ہوتے ہیں… ہاں یہ سب کچھ حقیقت ہے مگر ہمارے
حکمران ان حقائق کو تسلیم نہیں کرتے…چنانچہ اسی وجہ سے ملک میں فتنہ اور فساد ہوتا
ہے… کوئی بتا سکتا ہے کہ
(۱)حکومت
نے اُن جہادی جماعتوں پر کیوں پابند ی لگائی جنہوں نے پاکستان میں کسی کو ایک پتھر
بھی نہیںمارا تھا؟
(۲) حکومت
نے جمعہ کے خطبات اور مساجد کے لاؤڈ سپیکرز پر کیوں پابندی لگائی؟… جبکہ شادی
ہالوں اور موسیقی بازوں کو کھلی چھوٹ دی
(۳) حکومت
نے سرکاری املاک کا بہانہ بنا کر مساجد کو کیوں گرانا شروع کیا؟ کیا حکمرانوں کے
لئے رہنے کی جگہ کم پڑگئی تھی؟
آج
بہت سے عسکری کمانڈر وہ ہیں جو کچھ عرصہ پہلے تک اپنی مساجد میں بیٹھے درس قرآن
دیتے تھے… مگر حکومت نے اُن کو اتنا تنگ کیا کہ وہ مسجد چھوڑ کر اسلحہ اٹھا کر
میدانوں اور پہاڑوںمیں چلے گئے…
ابھی
سوات کے متاثرین کا مسئلہ ہے… ہر مغرب زدہ این جی اوز کو اجازت ہے کہ وہ کیمپ
لگائے اور غیورمسلمانوں میں بے غیرتی پھیلائے… لیکن جیسے ہی الرحمت ٹرسٹ یا دوسرے
دینی اداروں نے خدمت کا کام شروع کیاتو حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول جائیں گے… اورپھر
نگرانیاں گرفتاریاں اور پریشانیاں… آج سوات میں لڑنے والے کئی کمانڈر وہ ہیں جو…
جیش محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ایمانی، روحانی اور اخلاقی دستور میں
جکڑے ہوئے تھے… اُن کو کسی مسلمان پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں تھی… مگر جب حکومت
نے پابندی اور بدنامی کی تلوار چلائی تو … یہ مجاہدین جماعت کے دستور سے آزاد ہو
گئے اور پھر وہ علاقائی عسکریت پسند بن گئے… حکومت کو چاہئے کہ وہ’’حقائق‘‘ کے
انکار سے باز آئے… پاکستان میں مساجد اور مدارس کے کردار کو تسلیم کرے… دین کا
کام کرنے والوں کو آزادی سے کام کرنے دے… دین کا مذاق اڑانے اور طاقت کے زور پر
گناہ پھیلانے سے پرہیز کرے…
تب
حالات تیزی سے ٹھیک ہو جائیں گے… مگر حکومت تو غیروں کی پابند ہے… وہ حالات کیوں
ٹھیک کرے گی؟…
اللہ
تعالیٰ کے سوا کسی کا ڈر نہیں
ہر
انسان کے پیدا ہونے سے پہلے اُس کی موت کا وقت لکھ دیا گیا ہے… انسان جب تک اپنی
روزی کا آخری لقمہ نہیں کھا لیتا اُس وقت تک نہیں مر سکتا… ماضی کے تمام لوگ مر
چکے ہیں… ہم نے بھی مر جاناہے… اور حکمرانوں نے بھی مرنا ہے…بزدلی اور بے ایمانی
کرنے سے زندگی کے دن نہیں بڑھتے… جب مساجد گرانے والے نہیں ڈرتے تو ہم مساجد بنانے
والے کیوں ڈریں… امریکہ کی نوکری کرنے والے نہیں ڈرتے توہم رب تعالیٰ
کے غلام رب تعالیٰ کے سوا کسی اور سے کیوں ڈریں… ہمیں ڈرایا جار ہا ہے کہ … اب
مزید پابندیاں لگیں گی… ہم کہتے ہیں کہ شوق سے لگاؤ،نقصان تمہارا ہی ہو گا… ہمیں
ڈرایا جارہا ہے کہ تمہارے مراکزا ور مساجد پر قبضہ کر لیا جائے گا…ہم کہتے ہیں کہ
شوق سے کرو انشاء اللہ ہمارا کام بند نہیں ہوگا… البتہ لال
مسجد پر حملہ کرنے والوں کی طرح تمہاری سیاست بھی ختم ہو جائے گی… ہم الحمدللہ
مسلمان ہیں… نہ مسجد سے ہٹ سکتے ہیں اور نہ شرعی جہاد سے … تم اسلام اور مسلمانوں
کے خلاف جو قدم بھی اٹھاؤ گے اُس کا وبال دنیا و آخرت میں تمہارے گلے پڑے گا… ہم
نے پاکستان کوہمیشہ مسلمانوں کاملک سمجھا… اس ملک کو اللہ تعالیٰ
کی ایک نعمت سمجھ کر اس کی قدر کی… اور ہر طرح کا ظلم برداشت کیا مگر اس ملک میں
کوئی کارروائی نہیں کی… ہم اللہ تعالیٰ سے اپنے اس موقف پر
استقامت مانگتے ہیں… دراصل ہم مسلمانوں کو اس ملک کی ضرورت ہے… ہمارے مکانات نہ تو
امریکہ میں ہیں نہ برطانیہ میں… ہماری کوٹھیاں نہ دبئی میں ہیںاور نہ سوئٹزر لینڈ
میں… ہم’’ لا الہ الا اللہ ‘‘ کا اقرار اور ’’محمدر
سول اللہ ‘‘ کا اعلان کرنے والے لوگ ہیں …اس لئے دنیا کا کوئی کافر
ہمیں پناہ بھی نہیں دے سکتا… اس ملک کی مٹی میں ہمارے اکابر کا خون اور پسینہ
مہکتا ہے… اس لئے ہم اس ملک کے خیرخواہ ہیں… مگر دوست اور دشمن سب ایک بات یاد
رکھیں کہ … ایمان سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے… کوئی چیز نہیں ہے… کوئی چیز نہیں
ہے… خدارا اس ملک کو ایمان کا دشمن اور مدّمقابل نہ بناؤ… تم لاکھ سیکولر بنو مگر
اس ملک میں اسلام اور مسلمانوں کی حقیقت تسلیم کرو… اور اُنہیں اسلام کے تقاضوں پر
عمل سے نہ روکو…
یاد
رکھو حقائق کے انکار سے ہی… فساد جنم لیتا ہے…
وصلی اللہ تعالیٰ
علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے
خود اپنی مبارک کتاب میں… ایمان والوں کو ’’خیانت‘‘ سے روکاہے… اور حرام مال کھانے
اور جمع کرنے سے منع فرمایاہے… تو پھریہ کیا بات ہے کہ مسلمان بھی چوری اور خیانت
کرتے ہیں… اور اجتماعی اموال میں بے احتیاطی کرتے ہیں… اور حرام مال کھاتے اورجمع
کرتے ہیں… آخر مسلمانوں کو کیا ہو گیا ہے؟…
کیا اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رہا… پیارے رب نے تو اپنی
کتاب میں پکّا وعدہ فرمایا ہے کہ تمہیں روزی میں دوں گا… اور ہر آدمی کی مقرر
روزی اُس تک پہنچ کر رہتی ہے… کیا مسلمان کو اللہ تعالیٰ پر
یقین نہیں؟… کیا وہ اللہ تعالیٰ کو رزّاق نہیں مانتا… پیارے
رب نے کتنے پیار سے اپنی کتاب میں وعدہ فرمایا کہ ہر جاندار کار زق ہمارے ذمّہ ہے…
پھر ایک شخص مسلمان ہو کر کیوں حرام کماتا ہے؟ کیوں خیانت کرتا ہے؟… کیوں چوری
کرتا ہے؟… اور کیوں دنیا کے چند ٹکوں کی خاطر اپنا ایمان برباد کرتا ہے؟… اور اپنے
جہا د کو ضائع کرتا ہے؟… ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ
وسلم اپنے صحابہ کرام کو بلوا کر مسجد نبوی میں جمع کر لیتے تھے… پھر
منبر پر تشریف لے جاتے اور کھڑے ہو کر اجتماعی اموال میں احتیاط کی ترغیب دیتے… اپنے
پیارے صحابہ کو خیانت سے ڈراتے اور پھر آخر میں جو ش کے ساتھ اپنا ہاتھ مبارک
بلند کر کے فرماتے… یا اللہ میں نے آپ کا پیغام آپ کے
بندوں تک پہنچا دیا ہے… آخر اتنی تاکید کیوں تھی؟… دراصل’’مال‘‘ ہی اس اُمت کا
امتحان ہے… جو مال کے معاملات ٹھیک نہیں کرتا… اُس کا تقویٰ اور اُس کا جہاد سب
کچھ مشکوک ہو جاتا ہے… مسلمان مال کے معاملے میں ٹھیک ہوتا ہے تو اللہ
تعالیٰ کے ہاں بہت قیمتی ہوتا ہے… مگر جب وہ خیانت کرنے لگتا ہے تو… بالکل ذلیل
وخوار اور بے عزت ہو جاتا ہے… تب نہ اُس کی نصرت کی جاتی ہے… اور نہ اُس کی دعاء
قبول کی جاتی ہے… گزشتہ پچیس سالوں میں ’’مجاہدین اسلام‘‘ نے کتنی قربانی
دی؟… اللہ پاک کی قسم اتنی بڑی قربانی سے تو اب تک زمین کے
اکثرحصّے پر خلافت قائم ہوجاتی… افغانستان کے شہداء کرام کی تعداد بیس لاکھ سے
زائد ہے… اللہ اکبر!بیس لاکھ شہداء… آج تو دنیا میں بعض
ممالک کی کل آبادی بیس لاکھ ہے…فلسطین کے شہداء کرام کی تعداد کئی لاکھ ہے… جبکہ
کشمیر کے شہداء کرام کی تعداد بھی ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے… غزوہ بدر میں صرف
تیرہ شہدا ء کرام کا خون گرا… اور زمین کا ایک پورا حصّہ پاک کر گیا… اُحد اور بیر
معونہ کے ستّر ستّر شہداء کرام نے زمین کی تاریخ ہی بدل ڈالی… اور یرموک اور
قادسیہ کے شہداء کا خون… دنیا کی پرانی کافرانہ تہذیبوں کو ملیا میٹ کر گیا…
مگرآج کیا ہوا؟… کیا شہداء کرام کے خون میں وہ تاثیر نہیں رہی؟… نہیں رب کعبہ کی
قسم نہیں… شہداء کرام کے خون کی تاثیر آج بھی وہی ہے… بلکہ آج کا شہید بھی بہت
نرالا بہت بہادر اور بہت البیلا ہے… اگرآپ کو حال کے بعض شہداء کرام کے واقعات
سناؤں تو آپ کے آنسو اس اخبار کو گیلا کر دیں گے… افغانستان، کشمیر اور فلسطین
کے شہداء… بہت عجیب ہیں… دنیا پرست جانوروں کو تو اُ ن کی سمجھ تک نہیں آرہی …
خود اپنی گاڑی میں اپنے ہاتھوں سے بارود بھرنا… خود گاڑی چلا کر دشمنان اسلام کی
تلاش میں نکلنا… اپنی شہادت سے چند گھنٹے پہلے مسکرا مسکرا کر باتیں کرنا… مزے
لیکر اور شکر ادا کر کے چائے پینا… محبت کے ساتھ وضو تازہ کر کے دو رکعت ’’نماز
عشق‘‘ ادا کرنا… اپنے ساتھیوں کا خود حوصلہ بڑھانا… آخری لمحات میں خوب زور سے
تکبیر کہہ کر کلمہ طیبّہ پڑھنا… اور پھر ایک بٹن دبا کر دین ِ حق کی خاطر ریزہ
ریزہ ہو جانا… اللہ اکبر کبیرا… یہ سب کچھ کہنا آسان ہے…
پھانسی پانے والے ملزم کو رات بھر نیند نہیں آتی… اور دل دھڑک کر گلے میں آجاتا
ہے… جبکہ یہ فدائی شہداء اپنی کارروائی سے چند گھنٹے پہلے اطمینان سے سو جاتے ہیں…
ہاں بے شک ایمان اسی کو کہتے ہیں… آخرت کی زندگی کا یقین اسی کو کہتے
ہیں… اللہ تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کے وعدوں پریقین اسی کو کہتے ہیں… پھر کیا وجہ ہے کہ … ایسے شہداء
کرام کے پاکیزہ خون سے بھی حالات تیزی سے نہیں بدل رہے… بات بالکل واضح ہے… ہم
مسلمان اپنے اعمال کی وجہ سے ’’خلافت‘‘ اور ’’اسلامی نظام‘‘ کے ابھی تک مستحق نہیں
بنے… صرف مال کا مسئلہ ہی لے لیں… اور دنیا داروں کو چھوڑیں صرف دین داروں کو ہی
دیکھ لیں… کہ ہم لوگوں میں کتنی دنیا پرستی آگئی ہے… اناللہ وانا الیہ
راجعون…
کہاں گئی امانت؟… ہاں وہ پیاری امانت
جو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں سکھائی… وہ پیاری امانت جو
رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے مکمل تاکید کے ساتھ سکھائی… کہاں گئی
وہ امانت؟… جس کے آتے ہی انسان کا دل ایمان سے بھر جاتاہے… اور دنیا کا کوئی شخص
ایسے انسان کو خرید نہیں سکتا… کہاں گئی وہ امانت؟… جو فقیری میں بادشاہی کا مزہ
دیتی ہے اور انسان کو ہر طرح کی غلامی سے بچاتی ہے… ہاں مسلمانو! ڈھونڈو اُس امانت
کو جو سورۃ انفال میں سکھائی گئی… اور اُ س پر عمل کر کے اُس زمانے کے مسلمان روم
و فارس کے خزانوں کے مالک بن گئے…
اے امانت! واپس آجا… مسلمانوں میں واپس آجا… مجاہدین میں
واپس آجا…اے ہماری عزت ، اے ہماری آبرو! واپس آجا…
رب کعبہ کی قسم آج اگر مجاہدین میں اجتماعیت اور امانت
واپس آجائے تو… چند دن بعد زمین کا نقشہ ہی بد ل جائے… مگر جو لوگ چند لاکھ اور
چند کروڑ روپے میں امانت کا خیال نہیں رکھتے اُن کو زمین کے خزانوں کا مالک کیسے
بنا دیا جائے؟… مجھے یہ خبر ملتی ہے کہ امریکی بحری بیڑہ مجاہدین پر حملے کے لئے
روانہ ہو چکا ہے تو میرا دل نہیں ڈوبتا… بلکہ یہی یقین ہوتاہے کہ یہ بیڑہ غرق ہو
گا… مجھے انڈیا کی سازشوں کی خبر ملتی ہے تو دل میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی…بلکہ
دل کہتا ہے حسبنا اللہ ونعم الوکیل…لیکن جب یہ خبرملتی ہے
کہ کسی مجاہد نے اجتماعی مال میں خیانت کی ہے تو دل ڈوبنے لگتا ہے… اور آنکھوں کے
سامنے مایوسی کا اندھیرا چھانے لگتا ہے… مجاہداور خیانت؟… مسلمان اور خیانت؟… یہ
کیسے ہوگیا؟… اور اب اس کا نتیجہ کتنا بھیانک نکلے گا… اور اس سے کفر کو کتنی طاقت
ملے گی… دینی جماعتوں، اسلامی مدارس اور جہادی تنظیموں کا فرض ہے کہ وہ اپنا
مالیاتی نظام شریعت کے مطابق بنائیں… اور اس میں جتنی محنت کر سکتے ہوں کریں…
کیونکہ اس کے بغیر کسی بھی دینی کام میں برکت اور قبولیت کے اثرات ظاہر نہیں ہوں
گے… الحمدللہ ایسا بھی نہیں کہ سب ہی بگڑ گئے ہیں… میں ایسے
افراد کو جانتاہوں جن کے نزدیک مال کی قیمت غلاظت کے برابر بھی نہیں…
شکر الحمدللہ مجھے ایسے افراد کی زیارت نصیب ہوئی ہے جو مال
سے نفرت رکھتے ہیں… اور حرام کا تو اُن کے نزدیک کوئی تصور بھی نہیں ہے…ہاںمیرے
کاغذات میں ایسے خطوط ہیںکہ کچھ خوش نصیب لوگوں نے اپنا تمام مال جہاد کے لئے وقف
کرنے… اور خود کو شہادت کے لئے پیش کرنے کی درخواست کی ہے…میں ایسے افراد کو
جانتاہوں جن کے تھیلوںمیں کروڑوں روپے اجتماعی مال کے موجود ہوتے ہیں… مگر وہ اپنے
گھر کے بجلی کے بل کو دیکھ کر پریشانی سے اپنی پیشانی کا پسینہ پونچھ رہے ہوتے
ہیں… جی ہاں وہ بل اُن پر بھاری پڑتا ہے کیونکہ اُن کے ذہن میں اس کا وہم تک نہیں
آتا کہ وہ اجتماعی مال میں خیانت کریں…ہاں اب بھی ایسے لوگ ہیں جو روز انہ لاکھوں
روپے اجتماعی مال کے تقسیم کرتے ہیں… اور پھر دال روٹی پر خوشی سے گزارہ کرتے
ہیں… الحمدللہ امانتدار موجود ہیں… مگر ’’امانت‘‘ کی زور
دار آواز لگانے کی ضرورت برقرارہے… دشمنان اسلام نے زندگی کو مہنگا کردیا تاکہ
مسلمان مال کے پیچھے دوڑ کر اپنے رب کو بھول
جائے… اللہ تعالیٰ کے لئے اس سازش کو سمجھیں… اور اپنی
زندگیوں کو سادہ بنائیں… قرضے لینا بند کر دیں… مہنگی شادیوں سے مکمل توبہ کرلیں…
اور مغربی اسٹائل پرلعنت بھیجیں… اپنے محبوب آقا صلی اللہ علیہ
وسلم کی زندگی اور سیرت کو پڑھیں…اور قرآن وسنت سے اجتماعی اموال کے
احکامات کویاد کریں… اِس وقت کفر اوراسلام کی جنگ اپنے آخری اور فیصلہ کن مرحلے
میں داخل ہو چکی ہے… کافروں کے پاس اگر ایٹم بم، بمبار طیارے اور میزائل ہیں تو
مجاہدین اُن کے مقابلے میں… اجتماعیت، امانت اور فداکاری کو کھڑاکردیں… یہ تین
ہتھیار کافروں کو زمین کی آخری گہرائی میں دفن کردیں گے… مجاہدین کا پلّہ آج بھی
بھاری ہے لیکن اگر اُن کی جنگ میں یہ تین بڑے ہتھیار پوری چمک دمک اور قوت کے ساتھ
آگئے تو آپ دیکھ لیں گے کہ ان شاء اللہ … جنگ کتنی تیزی
سے دشمنوں کے علاقوں میں گھستی ہے… اس وقت تو بدقسمتی سے خود ہمارے علاقے میدان
جنگ بنے ہوئے ہیں… حالانکہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے دس سال کی
مدنی زندگی میں… ایک دن بھی جنگ کو مدینہ منورہ میں نہیں گھسنے دیا… غزوہ خندق کے
موقع پر بھی سات دن کی محنت کر کے جنگ کو مدینہ منورہ کے دروازوں پرروک دیا… کبھی
بدر، کبھی اُحد، کبھی خیبر اور پھر فتح مکہ… مدینہ منورہ کے مضافات میںجنگ ہوئی…
مگر یہودیوں کی بستیوں میں اور وہ بھی اس تدبیر سے کہ لڑائی زیادہ نہ ہو… مگر آج
تو پوری دنیا میں صرف مسلمانوں کے علاقے’’میدان جنگ‘‘ بنے ہوئے ہیں… ہمیں اس وقت
پوری طاقت اس بات پر لگانی چاہئے کہ یہ جنگ دشمنان اسلام کے علاقوں میں منتقل ہو
جائے… اور ایسا بہت جلد ہو سکتا ہے… بشرطیکہ ہم مال سے اپنی گردن آزاد کرالیں…
مال کی فکر سے اپنے دل کو پاک کر لیں… اور اپنی روزی کا معاملہ مکمل یقین کے ساتھ
اپنے ربّ رزّاق جلّ شانہ کے سپر د کر دیں… ہم اجتماعی اموال میں اتنی احتیاط
کریںکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ’’امین‘‘ اور ’’امانتدار‘‘ لکھ
لئے جائیں… ہم خود کو حرام مال کے دھویں اور چھینٹوں تک سے بچائیں… ہم آج ہی
فضائل جہاد یا حدیث شریف کی کسی کتاب میں اُن وعیدوں کو پڑھیں جو خیانت کے بارے
میں وارد ہوئی ہیں… اور پھر ایک پختہ عزم اورعہد کے ساتھ آگے بڑھیں… جی ہاں اونچی
منزلیں، خوبصورت جنت… اور اچھا انجام تو ایمان والوں ہی کے لئے ہے…
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ
سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا نظام پہلے کی طرح ٹھیک
ٹھاک چل رہا ہے… سورج اب بھی اپنے مقرّرہ وقت پر نکلتا ہے اور غروب ہوتا ہے… چاند
بھی اپنے وقت پر ظاہر ہوتا ہے اور چھپتا ہے… اب بھی ہوائیں چلتی ہیں… بادل اُڑتے
ہیں اور گرجتے ہیں… بارش برستی ہے… پرندوں کو دیکھ لیں… کتنے مزے سے ہوا میں اُڑتے
اور تیرتے ہیں… مگر انسان کو کیا ہوا کہ پریشان ہے… بدحال ہے… ہر طرف خون ہے اور
خوف ہے… جب انسان اللہ تعالیٰ کے قانون اور نظام کے مطابق
رہتا تھا تو بہت خوش تھا… امن اور سکون کی حالت میں تھا…سورج اور چاند سے بھی
زیادہ اونچا تھا… ہواؤں سے زیادہ پرسکون اور بادلوں سے زیادہ نفع مند تھا… مگر اب
تو بہت بُری حالت ہے… مالدار اپنے مال کے عذاب میں جل رہا ہے… اور غریب اپنی غربت
کی آگ میں سسک رہا ہے… حکمران حفاظتی حصاروںکی قید میں ہیں… جبکہ عوام کو کچھ پتہ
نہیں کہ وہ کس طرف جائیں… حکومت والے بھی روز مر ر ہے ہیں… حکومت سے لڑنے والے بھی
مر رہے ہیں… اور وہ جنہوں نے حکومت سے نہ لڑنے کا عزم ظاہر کیا وہ بھی خون میں لت
پت ہو کر قبروں میں دفن ہو رہے ہیں… صوفی محمد صاحب کی تنظیم نے موجودہ جنگ سے خود
کو الگ رکھنے کی کوشش کی… مگر حکومت والے اُن کے رہنماؤں کو بھی مسجد سے باہر
گھسیٹ لائے… اور پھر بتایا گیا کہ وہ دونوں رہنما بم دھماکوں میں مارے گئے ہیں…
حکومت پر حاوی کچھ طبقے یہی چاہتے ہیں کہ… پاکستان میں اندرونی جنگ خوب پھیلے…
تاکہ پاکستان بھی افغانستان جیساہو جائے… اور پھر اقوام متحدہ کے جھنڈے تلے غیر
ملکی فوجیں پاکستان میں داخل ہوجائیں…اور پھر’’کرزئی‘‘ یا ’’نوری مالکی‘‘ کو
پاکستان کا حکمران بنا دیا جائے… اور یوں اسلامی دنیا کا پہلا ایٹمی ملک ختم
ہوجائے، بکھر جائے… ٹھیک ہے جیسے اللہ پاک کی مرضی… ہمیں
کیا ضرورت ہے زیادہ خون جلانے اور پریشان ہونے کی… حکومت اپنے مکمل جنون پر اُتر
آئی ہے… وہ اب ہر مسجد، ہر مدرسے اور ہر دینی جماعت پر ہاتھ ڈالناچاہتی ہے… پنجاب
حکومت نے بھی’’شرافت‘‘ کی نقلی کھال اُتار دی ہے… اور شریف برادران اپنی پرانی
اصلیت پراُتر آئے ہیں… وہاں بھی ہر داڑھی والے کو پکڑا اور ستایا جا رہا ہے… اور
اہل حق کے میناروں پر تھوکنے کی ناپاک کوشش کی جارہی ہے… کوئی ہے جو حکومت کو
سمجھائے… یاکم از کم اُس سے اتنا پوچھ لے کہ… مٹھی بھر حکومت عوام کے سمندر سے
آخر کیسے لڑ سکے گی؟… پاکستان کی پوری فوج اور پولیس سب مل کر اس ملک کے ایک ضلع
کی آبادی کے برابرنہیں ہیں… عوام کی بدقسمتی ہے کہ اس کو کوئی قیادت میسّر نہیں
ہے… بس ہر طرف چھوٹے چھوٹے ٹولے ہیں… اس لئے حکومت جب اورجس کو چاہتی ہے مارتی ہے…
لیکن اگر عوام میں تھوڑا سا بھی اتحاد ہو گیا تو مٹھی بھر حکومت کہاں جائے گی؟…بڑے
حکمران تو ملک سے بھاگ جائیں گے جبکہ باقی سارا ملک افغانستان بن جائے گا… ہاں
دشمنانِ اسلام یہی چاہتے ہیں…اور حکومت جان بوجھ کر یا نادانستہ اس جال کا شکار ہو
رہی ہے… امریکہ خوش ہے کہ عنقریب پاکستان ختم ہو جائے گا… اور باقاعدہ امریکی
کالونی بن جائے گا… انڈیا خوش ہے کہ پاکستان کا قصہ بس چند روز میں ختم… اور
اسرائیل خوش ہے کہ مسلمانوں کا ایٹمی ملک چند دنوں میں اُس کی چراگاہ بن جائے گا…
لیکن یہ تینوں پاگل بہت بڑی غلط فہمی میں ہیں …
پاکستان اگر ختم ہوا تو اس کے ہر پتھر کے نیچے سے’’جہادی
دستے‘‘ نکلیں گے… اور محاذ جنگ بخارا سمر قند… اور چیچنیا تک پھیل جائے گا… تب
انڈیا کا ہر شہر لرز اٹھے گا… اور افغانستان کی طرح پاکستان کی سرزمین بھی ملا
محمد عمر اور جلال الدینحقانی جیسے مجاہد جنے گی… دشمنانِ اسلام پاکستان کو ختم کر
کے پوری دنیا کو جنگل بنانا چاہتے ہیں… بہت شوق سے بنائیں…مسلمان تو صحراؤں،
پہاڑوں اور جنگلوں میں مضبوط ہوتے ہیں… مسلمان فطرت کے عاشق اور سختیوں کے بیٹے
ہیں… ان کو تو برگر، پیپسی، گاڑی، کوٹھی نے برباد کر رکھا ہے… غلام بنا رکھا ہے…
سوویت یونین نے افغانستان کو کھنڈر اور جنگل بنایا… اس جنگل اور کھنڈر سے لاکھوں
سچے جانباز مجاہد پیدا ہوئے… امریکہ نے عراق کوکھنڈر بنایا… تب شراب خانوں اور
نائٹ کلبوں والا عراق راتوں رات’’صلاح الدین ایوبی‘‘ والا عراق بن کر جہادی آیات
سے گونجنے لگا… عراق کی سرزمین نے دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں مجاہدین… دشمنوں کے
سامنے کھڑے کر دیئے…اور بالآخر امریکہ اور برطانیہ کو وہاں اپنی شکست تسلیم کرنی
پڑی… آصف زرداری… اور شہباز شریف اگر پاکستان کو افغانستان اور عراق بنانا چاہتے
ہیں تو شوق سے بنائیں… سورج تب بھی اپنے وقت پر نکلے گا اور غروب ہو
گا… اللہ تعالیٰ کا مقرر فرمودہ نظام پہلے بھی ٹھیک ٹھاک چل
رہا تھا اور اب بھی ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے… اب ہر انسان کی قسمت کہ وہ کہاں جاتا ہے…
جنت بھی مہک رہی ہے… اور جہنّم بھی بھڑک رہی ہے…
اے ایمان والو… اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو اپنا
دوست نہ بناؤ… اے ایمان والو!یہودو نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بناؤ…
یہ اللہ تعالیٰ کا حکم اور اُس کا قانون ہے…
اور اللہ تعالیٰ کی رِٹ اور قانون کو چیلنج کرنے والے… کبھی
کامیاب نہیں ہو سکتے… کبھی نہیں، کبھی نہیں…
خُطْبہ یا خِطْبہ
’’خُطْبہ‘‘ عربی زبان میںتقریر یا خطاب کو کہتے ہیں… جبکہ
خِطْبہ کہتے ہیں’’پیغامِ نکاح‘‘ کو… جس دن سے خطیب شعلہ بیان جناب اُبامہ علیہ ما
علیہ نے قاہرہ میں مسلمانوں کے لئے ایک خصوصی تقریر کی ہے… اُس دن سے ہم سوچ رہے
ہیں کہ… یہ تقریر خُطبہ تھی یا خِطْبہ… اُبامہ خود تو مسلمان نہیں ہے… مگر ایک
مسلمان کا بیٹا ہے… اس حیثیت سے اُسے تھوڑا بہت تو ذہین ہونا چاہئے… مگر اس تقریر
سے معلوم ہوتا ہے کہ اُسے دنیا کے مسائل کی سمجھ ہی نہیں ہے… یہ بات تو بچہ بھی
جانتا ہے کہ صلح اُس کے ساتھ کی جاتی ہے جس سے جنگ ہو… جو پہلے سے آپ کے قدموںمیں
پڑا ہواُس سے کیا صلح؟… اس وقت مسلمانوں سے کچھ لوگ امریکہ سے لڑرہے ہیں… جبکہ کچھ
مسلمان کہلانے والے لوگ امریکہ کے غلام بن کر اُس کی خاطر لڑ رہے ہیں… تو اُبامہ
کا خطاب کن سے تھا؟… وہ کہہ رہے تھے کہ مسلمان امریکہ کو اپنا دشمن نہ سمجھیں… کون
سے مسلمان؟… وہ جن پر بم برس رہے ہیں… یا وہ جن پر ڈالر برس رہے ہیں؟… ارے اُبامہ
جی! مصر کے حسنی مبارک، کویت اور امارات کے شیخ… افغانستان کے کرزئی اور پاکستان
کے حکمران تو کبھی بھی امریکہ کو اپنا دشمن نہیں سمجھتے… بلکہ اُن کے نزدیک امریکہ
سے دشمنی رکھنا کفر سے بھی بڑا گناہ ہے… یہ حضرات تو امریکہ کے دورے کوحج اور عمرے
سے زیادہ افضل اور امریکہ کی خوشنودی کو… اپنی زندگی کا اصل مقصد سمجھتے ہیں… اگر
آپ کا خطاب ان کے لئے تھا تو پھر وہ بے کار چلا گیا… اور اگر آپ اُن مسلمانوں سے
خطاب کر رہے تھے جو گوانتانا موبے میں قید ہیں… جو بگرام ائر بیس میں دن رات
امریکی مظالم میں پستے ہیں… جو قندھار اور ہلمند میں امریکی بمباری سے قیمہ بنتے
ہیں… جو ابو غریب جیل میں امریکی اخلاقیات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں… اور
جو غزّہ کی پٹی میں امریکہ کے پالتو اسرائیل کے مظالم کا نشانہ بنتے ہیں… تو سچ
بتائیے آپ نے اپنے اس خطاب میں اُن کو کیا دیا؟… آپ کی ایف بی آئی… اور سی آئی
اے کا سب سے بڑا ایجنڈہ مسلمانوں کا خاتمہ ہے… آپ نے عرب ممالک کو برائلرچوزے بنا
کر اسرائیلی خونخوار کتّے کے سامنے رکھ چھوڑا ہے… کیا آپ کی ایک تقریر
سے یہ تمام مسلمان امریکہ کو اپنا دشمن ماننا چھوڑ دیں گے؟… پھر تو آپ اپنے
میزائلوں اور بموں پر مسلمانوں سے دوستی کا پیغام لکھ دیا کریں… تاکہ اُن تک جلد
یہ پیغام پہنچ جایا کرے…ویسے ہمارا اندازہ یہی ہے کہ اُبامہ کی یہ تقریر’’خُطْبہ‘‘
نہیں بلکہ’’خِطْبہ‘‘ ہے… اور اس کا مقصد بہت سے مسلمانوں کو’’پیغام نکاح‘‘ دینا
ہے… دراصل امریکہ اب یہ چاہتا ہے کہ مسلمانوں کو خود مسلمان ہی ماریں… اور اس کام
کے لئے امریکی فوجیوں کو نہ مروانا پڑے… چنانچہ’’ابامہ‘‘ نے مسلمانوں میںسے زیادہ
سے زیادہ اپنے وفادار خریدنے کے لئے… یہ مفصل تقریر جھاڑی ہے…
یا اللہ ہم مسلمانوں کو صرف اپنا غلام اور بندہ بنا… اور ہر
ظالم، کافر کی غلامی سے بچا… مگر کچھ بد نصیب اس ’’پیغام نکاح‘‘ پر اپنے ایمان کو
قربان کر دیں گے… اور کافروں کے سپاہی بن کر مسلمانوں کو قتل کریں گے… تب بھی کوئی
پرواہ نہیں… اللہ تعالیٰ کا نظام ٹھیک ٹھاک چلتا رہے گا…
سورج اپنے وقت پر نکلے گا اور اپنے وقت پر غروب ہو گا… بارش کے قطرے پہاڑوں پر سبز
چادریں بچھاتے رہیں گے… اور پرندے ہواؤں میں تیرتے
ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا کرتے رہیں گے… ہاں یہ نظام
چلتا رہے گا… مگر جب اللہ تعالیٰ اس نظام کے خاتمے کا فیصلہ
فرمائیں گے تو پھر… سب کچھ بدل جائے گا…آسمان زمین چاند سورج… اور بڑے بڑے پہاڑ
تنکوں کی طرح بے قدر ہو جائیں گے… اور پھر ایک نیا اور مستقل نظام قائم فرما دیا
جائے گا… ضرورت اس بات کی ہے کہ اُس نظام میں اچھی جگہ کے لئے ہم سب کوشش کریں…
ذلک الیوم الحق… فمن شاء اتخذالی ربّہ مآبا…
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ
سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ درجات بلند فرمائے… حضرت
مولانا محمد امین صاحب اورکزئی بھی’’شہید‘‘ ہو گئے… جمعرات کا د ن تھا اور وہ روزے
سے تھے… پاکستان ائیرفورس کے جنگی طیّاروں نے اُن کے مدرسہ اور مسجد پر بمباری کی…
اس بمباری سے ’’جامعہ یوسفیہ‘‘ اُس کی مسجد اوراُس کے بانی سب اکٹھے شہید ہو گئے…
اہلِ علم فرماتے ہیں کہ جو شخص کثرت سے سورۂ یوسف کی تلاوت کرتا ہے اُسے شہادت کی
نعمت نصیب ہوتی ہے… حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ نے تو اپنے مدرسہ کا نام ہی’’جامعہ
یوسفیہ‘‘رکھاہوا تھا…’’یوسف‘‘ کے لفظ میں خوبصورتی بھی ہے اوراچھا انجام بھی… حضرت
مولانارحمۃ اللہ علیہ پہلے کراچی میں رہتے تھے… وہ حضرت مولانا محمد
یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کے خاص شاگرد تھے… حضرت بنوری رحمۃ اللہ
علیہ ے اُن کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے جامعہ کے ’’دارالتصنیف‘‘ میں اُن کی تشکیل
کر دی تھی… اس دارالتصنیف کے دوسرے رکن حضرت مولانا
حبیب اللہ مختار رحمۃ اللہ علیہ تھے… کئی کتابوں کے
مصنف اور ترمذی کے شارح، وہ بھی کراچی میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہید ہوئے… اور
اب اس ہفتے ’’ بنوری دارالتصنیف‘‘ کے دوسرے ستون کو بھی خاک و خون میں نہلا دیا
گیا… کراچی کا موسم حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ کو راس نہ آیا تو اپنے
علاقے’’ہنگو‘‘ میں آبیٹھے اوریہاں مدرسہ قائم فرمایا…
ماشاء اللہ بلند پایہ محدّث تھے… حدیث شریف کی مشہور و
معتمد کتاب’’طحاوی شریف‘‘ کی عربی میں شرح لکھی… اور پوری زندگی درس و تدریس میں
گزار دی… صاحب علم و قلم ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے نفس کی اصلاح کے لئے بہت فکر
مندرہتے تھے… اللہ تعالیٰ یہ فکر ہر طالبعلم او رہر عالم کو نصیب
فرمادے… حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ کا قلبی رجحان حضرت مولانا ولی احمد
سنڈاکئی بابا جی رحمۃ اللہ علیہ کے قادری سلسلے کی طرف تھا… اس سلسلے کا نور اگرچہ
دور دور تک پھیلا مگر اس کا مرکز سوات اور دیر کے علاقے ہی رہے… سوات کے
علاقے’’جورا‘‘ میں حضرت سنڈاکئی بابا جی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک قوی النسبت خلیفہ
حضرت مولانا محمد قمر صاحب رحمۃ اللہ علیہ تھے… حضرت مولانا محمد
قمر رحمۃ اللہ علیہ سے سوات کے معروف عالم دین حضرت مولانا فضل محمد
صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فیض حاصل کیا اور خلافت پائی… حضرت مولانا محمد
امین شہیدرحمۃ اللہ علیہ حضرت مولانا فضل محمد رحمۃ
اللہ علیہ کے مرید اور خلیفہ تھے… اُن کے علاوہ وہ کافی عرصہ تک ایک اور بزرگ حضرت
مولانا محمد اکرم صاحب جنگی خیل باباجی رحمۃ اللہ علیہ کے پیچھے بھی پھرتے رہے… جب
انسان کو اپنے نفس کی پاکی مقصودہو تو وہ بہت محنت کرتا ہے… اور سخت مشقت اٹھاتا
ہے…مولانا محمد اکرم باباجی رحمۃ اللہ علیہ بہت جلالی، اویسی اور تارک الدنیا بزرگ
تھے… اُن کے ہاں مروّجہ پیروں والی چمک دمک اور دنیا داری نہیں تھی… وہ اپنے دامن
میں عشق کے وہ انگارے لئے پھرتے تھے جو حبّ دنیا کو جلا کر راکھ کر دیتے ہیں…
انہوں نے بہت کم لوگوں کو بیعت کیا اور بہت مشقت کی زندگی گزاری… اُن کے نزدیک
’’ریاکاری‘‘ بہت بڑا جرم تھا… ساری زندگی اس جرم سے بچنے کے لئے اپنے اوپر پردے ڈالتے
رہے… حضرت مولانا محمد امین صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اُن سے فیض تو حاصل کیا
مگر بیعت کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے… اور پھر حضرت سنڈاکئی باباجی رحمۃ اللہ علیہ
کے خلیفہ حضرت صندل بابا جی سے بھی کثرت سے ملتے جلتے رہے… جی ہاں اصلاح نفس ایک
ایسا عمل ہے جس کی ضرورت ہر انسان کو مرتے دم تک رہتی ہے… اصلاح نفس اور تصحیح نیت
یہ وہ چیزیں ہیں جن کی ضرورت مسلمان کو ہر عمل میںپڑتی ہے… نماز میں بھی اور جہاد
میں بھی… تصحیح نیت کے بغیر نہ نماز قبول ہے اور نہ جہاد مقبول ہے… کچھ لوگوں نے
جہاد اورمجاہد ہ نفس کو چھوٹا بڑا بھائی بنا دیا ہے… حالانکہ دونوں الگ الگ چیزیں
ہیں اور دونوں میں دور دور تک کوئی ٹکراؤ نہیں ہے… جہاد کے احکامات الگ ہیں اور
مجاہدہ نفس کے احکامات الگ ہیں… جہاد کی فرضیت الگ مسئلہ ہے اورمجاہد ہ نفس کا
لازم ہونا ایک الگ مسئلہ ہے… حضرت مولانا محمد امین شہیدرحمۃ اللہ
علیہ جہاد اور مجاہدین کے بہت قدر دان تھے… بندہ کو بھی اُن سے ملاقات
کا شرف نصیب ہوا… اور بعد میں سلام و پیام کا سلسلہ بھی جاری رہا… اُن کی شہادت کی
خبر آئی تو دل مجروح اور دماغ ماؤف ہو گیا… بار بار قرآن پاک کے یہ الفاظ ذہن
میں آرہے تھے
بایّ ذنب قتلت
کہ قیامت کے دن زندہ درگور کی جانے والی بچیوں سے پوچھا
جائے گا کہ… انہیں کس جرم میں قتل کیا گیا تھا… میرا دل بھی بار بارپوچھ رہا تھا
کہ آخر حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ کو کس جرم میں قتل کیا گیا؟… ایک ساتھی
سے پوچھا کہ آخر حکومت کے پاس کہنے کی حد تک تو کوئی بناوٹی بہانہ ہو گا؟…
انہوںنے جواب دیا کہ کوئی ظاہری بہانہ بھی نظر نہیں آرہا… حضرت مولانا رحمۃ
اللہ علیہ نہ تو روپوش تھے اور نہ حکومت سے چھپ کر کہیں بیٹھے تھے… وہ نہ تو مقامی
عسکریت پسند تھے اورنہ کسی گروپ کے مزاحمت کار… وہ ایک مسجد کو آباد کئے بیٹھے
تھے اور قرآن و حدیث کا ایک مدرسہ چلا رہے تھے… وہ کھلم کھلا سفر کرتے تھے اور
بیرون ملک بھی تشریف لے جاتے تھے… تو پھر آخر کیوں اُن کو اور اُن کی مسجد و
مدرسہ کو شہید کیا گیا؟… شاید اب نئے حکومتی قانون کے مطابق… اچھا مسلمان ہونا،
عالم دین ہونا، مسجد آباد کرنا…مدرسہ چلانا اور داڑھی رکھنا وہ جرائم ہیں جن کی
سزا ایف سولہ کی بمباری ہے… کچھ سمجھ نہیں آرہا …کچھ پتہ نہیں چل رہا… ہر طرف
نمرود کی آگ ہے… فرعون کے مظالم ہیں ابوجہل جیسی ضد اورجہالت ہے… اور قارون جیسے
خزانوں کا شوق ہے… کراچی میں ظالموں نے ایک ہفتے میں پچاس افراد قتل کر دیئے… مگر
ملک کا کوئی ٹینک، کوئی طیارہ وہاں بمباری کے لئے نہیں گیا… جبکہ ہنگو کے ایک مسجد
اورمدرسہ کو مسمار کرنے کے لئے ایف سولہ طیارے پہنچ گئے… پورے ملک میں دینی طبقے
کو ستایا جارہا ہے ، مارا جارہاہے… اور ہر طرف سے گھیرا جا رہا ہے… حکمران کانوں
سے بہرے ہو چکے ہیں… اُ ن کو امریکہ کے سوا کسی کی آواز سنائی نہیں دے رہی… کاش
یہ لوگ سوچتے کہ… آج نہ نمرود ہے ، نہ فرعون اور نہ قارون… آج نہ ابو جہل ہے نہ
اُبی بن خلف… آج نہ خندقوں والا قاتل موجود ہے اور نہ تاتاری درندے… آج نہ بش کی
طاقت ہے او ر نہ پرویز مشرف کی میں میں… جبکہ سیدنا ابراہیم د ہر’’التحیات‘‘
میںموجود ہیں… حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام بچے بچے کی زبان پر ہے…
اور خندقوں والے مقتولوں کی تعریف قرآن پاک کا حصّہ ہے… پرویز مشرف نے ظلم کی
آندھی چلائی مگر ملک کے دینی طبقے کوختم نہ کر سکا… وہ آج کل لندن میں اپنے حرام
مال سے خرید ے ہوئے ایک فلیٹ میں… شطرنج کھیلتا ہے… شراب کے ناپاک گلاس میں اپنا
کالا منہ دیکھتا ہے… اور اپنے ایک ایک بال سے حسرت کی آہیں بھرتا ہے… وہ بھی خود
کو ملک کا محافظ سمجھتا تھا… مگر پھر ملک کو چھوڑ کر بھاگ گیا… اور اب موجودہ
حکمرانوں کے منہ پر ایک ہی رٹ ہے کہ وہ ملک کے محافظ ہیں…کیا حفاظت اسی طرح کی
جاتی ہے… یقین کیجئے پاکستانی فوج اور پولیس بھی ان حکمرانوں سے تنگ آچکے ہیں… یہ
اپنے محلاّت میں رات گئے تک ناچتے ہیں ، گاتے ہیں اور خرمستیاں کرتے ہیں… جبکہ
پاکستان کا دینی طبقہ اور یہاں کی فوج اور پولیس ان کی عیاشیوں پر قربان ہو رہی
ہے… آج اگر فوج اور پولیس کو اختیار دے دیا جائے تو وہ امن معاہدے شروع کر دے گی…
یہ سچ ہے کہ کئی بڑے افسر اپنی بددینی، فرقہ پرستی اور امریکی غلامی کی وجہ سے اس
لڑائی میں ذاتی دلچسپی رکھتے ہیں… پنجاب کے وزیر اعلیٰ سمیت کئی مسلم لیگی بھی
اپنے چہرے سے دینی رجحانات کے دھبے دھونے کے لئے مسلمانوں کا خون استعمال کرنے لگے
ہیں… مگر فوج ، پولیس اور عوام کی اکثریت اس موجودہ اندھی جنگ کے حق میں نہیں ہے…
یہ خالص امریکی اور صلیبی جنگ ہے جس میں دونوں طرف سے مسلمانوں کو مارا جا رہا ہے…
حضرت مولانا محمد امین صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی اس جنگ کا نشانہ بن گئے… وہ خود
کچھ عرصہ سے’’ملاقات‘‘ کی تیاری اور شوق میں تھے…جی
ہاں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی تیاری میں تھے… انہوں نے چند
دن پہلے اپنے صاحبزادے کو اپنے کفن دفن کی وصیت بھی فرما دی تھی… اور محبوب حقیقی
سے ملاقات کے شوق میں سخت گرمی کے روزے بھی رکھ رہے
تھے… اللہ تعالیٰ اُن کی شہادت قبول فرمائے… اورہم سب کو
بھی بہترین ایمان والا، شہادت والا، رحمت والا… اور بخشش والا خاتمہ نصیب فرمائے…
ہماری زندگی کا بہترین دن اُس دن کوبنائے جس دن ہم نے اپنے محبوب رب تعالیٰ جلّ
شانہ سے ملنا ہو… آمین یا ارحم الراحمین
٭٭٭
حکومت نے نیا بجٹ پیش کر دیا ہے… افغانستان پر امریکی حملے
کے وقت کہا گیا تھا کہ… ہم امریکہ کا ساتھ دیں گے تو مالامال ہو جائیں گے… ہم مالا
مال تو نہ ہو سکے خونا خون ضرور ہوگئے… اس سال بھی خسارے کا بجٹ پیش ہوا… حکومت نے
ایک بے پردہ خاتون سے بجٹ تقریر کروائی تاکہ مہنگائی کی کڑواہٹ کو گلیمر کی مٹھاس
سے دبایا جا سکے… ملٹی نیشنل کمپنیاں اسی طرح کرتی ہیں… گویاکہ ہمارا ملک بھی اب
کسی ملٹی نیشنل کمپنی کے ہاتھوں گروی رکھا جا چکا ہے… غریب لوگوں کے لئے عزت کے
ساتھ جینا بہت مشکل ہو چکا ہے… ہم سب غریبوں کو چاہئے کہ استغفار، درود شریف اور
سبحان اللہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا
سہار ا پکڑیں… استغفار کرنے سے گناہ معاف ہوں گے اور رزق میں وسعت ہو گی… درود
شریف سے رحمتیں نازل ہوں گی جو ہر مسئلے کا حل ہیں… اور
سبحان اللہ تو اس دنیا میں رہنے کا ’’ویزہ‘‘ہے… جو مسلمان
مالی تنگی کا شکار ہیں وہ ہر نماز کے بعد پوری توجہ اور درست الفاظ کے ساتھ ایک سو
بار ’’سبحان اللہ ‘‘ پڑھیں… ان شاء اللہ
چند دن میں حالات ٹھیک ہو جائیں گے… اور جو مسلمان ان چار تسبیحات کا روزانہ
اہتمام کرے گا وہ ان شاء اللہ رزق کی تنگی میں مبتلا
نہیں ہو گا
پہلا کلمہ… ایک سو
بار درودشریف…
ایک سوبار
استغفار …ایک سو
بار تیسرا
کلمہ… ایک سو بار
مگر اس میں چند شرطیں ہیں…(۱) یہ عمل رزق کی نیت سے نہ کریں
بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی نیت سے کریں(۲) مکمل توجہ سے کریں کہ ہر بارپڑھنا آپ کو یاد ہو… آٹو میٹک
مشین کی طرح نہ ہو کہ تسبیح شروع ہوئی اور پھر جب انگلی محراب سے ٹکرائی تو پتہ
چلا کہ تسبیح پوری ہو گئی ہے… لوگ فلمیں دیکھتے ہیں اور اس میں اُن کا دل، دماغ
،آنکھیں… اور تمام اعضاء پوری طرح سے متوجہ ہوتے ہیں… یہاں تک کہ کئی
لوگوں کے بال بھی بعض اوقات کھڑے ہو جاتے ہیں…ایک ناجائز کام میں اتنی توجہ… اور
نماز، تلاوت اور ذکر میں اس قدر بے توجّہی؟… اللہ تعالیٰ ہم
سب کی اصلاح فرمائے اور ہمیں مکمل اخلاص اور توجّہ اور شوق کے ساتھ نماز، جہاد،
تلاوت اور ذکر وغیرہ تمام نیک اعمال کی توفیق عطاء فرمائے… اور ہمارے ایمان اور
اعمال کو قبول فرمائے… آمین یا ارحم الراحمین
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ
سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا کثیرا
٭٭٭
اچھے حالات
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے حالات بہت اچھے
ہیں… اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کی ہر کوشش بُری طرح سے ناکام ہو رہی ہے… مسلمان
مردوں اور عورتوں میں دینداری کا جذبہ بڑھ رہا ہے… سوا چودہ سو سال گزرنے کے
باوجود قرآن پاک محفوظ ہے… دین اسلام محفوظ ہے… اور مکمل دین پر عمل کرنے والے
مسلمان آج بھی موجود ہیں… اسی لئے تو کہہ رہا ہوں کہ الحمدللہ حالات بہت اچھے جار ہے ہیں… آپ سب میرے ساتھ مل
کر ایک کلمہ پڑھیں…
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
پڑھ لیا آپ نے؟… ایک بار اور دل کی گہرائی سے پڑھیں…
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
کتنا مزہ آیا…دل چاہتا ہے کہ ابھی جان نکل جائے اورہم اس
کلمے کی جنت اور وسعت میں گم ہوجائیں… تھوڑا سا آنکھوں میں آنسو بھر کر پڑھیں…
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
کتنا عظیم کلمہ ہے… یہ کلمہ زمین اور آسمانوں سے بھی بڑا
ہے…
بے چارہ اُبامہ اس کلمے سے محروم… برطانیہ اور یورپ کے تمام
حکمران اس سے محروم… ہم کس طرح سے اپنے رب کا شکر ادا کریں کہ… اُس نے ہمیں یہ
عظیم کلمہ نصیب فرمایا… اس کلمے کے بغیر تو انسان کتّے اور خنزیر سے بھی بدتر
ہوجاتا ہے… اے میرے بھائیو… اے میری بہنو!… ابھی جسم میں جان ہے اورزبان کام کر
رہی ہے خوب دل کے یقین کے ساتھ پڑھو…
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
بے شک جس کویہ کلمہ نصیب ہو گیا اُس کے حالات اچھے ہیں…
رہنے کے لئے کوٹھی ضروری نہیں… زندگی کے چند دن ہیں جو کسی
غار اور جھونپڑی میں بھی گزر جاتے ہیں… تنکوں کی جھونپڑی میں رہنا اور
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
کا اقرار کرنا کامیابی ہے… جبکہ وہائٹ ہاؤس کا مالک بن کر
اس کلمے کا انکار کرنا ذلّت ہے، ناکامی ہے، رسوائی ہے… اور شرمندگی ہے…
طرح طرح کے کھانے ضروری نہیں ہیں… انسان کی بھوک سوکھی روٹی
اور اُبلے ہوئے چاولوں سے بھی دور ہو جاتی ہے… اور دین کی خاطر روزہ رکھنے اورفاقہ
کاٹنے میں جو مزہ ہے… اس کو وہی جانتے ہیں جو
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
کا یقین رکھتے ہیں… طرح طرح کے معاشی پیکج دنیا کا دھوکہ
ہیں… گاڑیوں کے اشتہارات اور ہاؤسنگ اسکیموں کے چکّر سب فضول کی باتیںہیں… دنیا
میں سب سے بڑی حقیقت ایک ہی کلمہ ہے… اور وہ ہے
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اس کلمے کا اقرار کرکے… ہمیں سب کچھ مل جاتا ہے… اس کلمے کے
اقرار کے بعد کوئی پرواہ نہیں کہ ہم گولی سے مریں یا بم سے… مرنے کے وقت ہماری لاش
سلامت رہے یا ٹکڑوں میں بکھر جائے… لاش کو دفن کیا جائے یا اس کو جانو ر اور کیڑے
کھالیں…جب
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
موجود ہے تو پھر کیا فکر اور کیا غم… بس آنکھ بند ہوئی اور
مہمان نوازی شروع ہوگئی… مہمان نوازی بھی اُس مہربان رب کی طرف سے جو بہت بخشنے
والا’’غفور‘‘ ہے… ارے زمین کے تمام خزانے اور آسمان کے تمام ستارے مل کر بھی
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
کی قیمت کو نہیں پہنچتے… اسی لئے تو ’’عقلمند‘‘ لوگ اس کلمے
کی خاطر اپنا سب کچھ لُٹا دیتے ہیں… تب اُنہیں اس کلمے کا مالک سب کچھ لوٹا دیتا
ہے…جسم کے بدلے بہترین جسم جو کبھی خراب اور بیمارنہیں ہوگا… دل کے بدلے بہترین دل
جوہمیشہ خوش رہے گا… اور آنکھوں کے بدلے… وہ آنکھیں جن
میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی طاقت ہو گی… اور جو آنکھیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور کے
بوسے لے سکیں گی… ارے بھائیو! اری بہنو! دیر نہ کرو… خوب توجہ سے پڑھو… بار بار
پڑھو…جھوم جھوم کر پڑھو
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
دنیا میں لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں… بمباریاں بھی کافی عرصے سے چل رہی ہیں… قتل و غارت کا
سلسلہ بھی قابیل نے شروع کیا… اپنے بھائی ہابیل کو شہید کر کے… خود ناکام ہو گیا…
بھائی کو کامیاب کر گیا…بڑے بڑے بادشاہ بھی مر گئے… نامور پہلوان بھی مر گئے… دنیا
کے عام حالات تو بس اسی طرح رہتے ہیں… کسی کو رہنے کے لئے محلات مل جاتے ہیں… مگر
دل کا سکون نہیںملتا… کسی کو مال بہت مل جاتا ہے مگر ساتھ بیماریاں بھی بارش کی
طرح برستی ہیں… کسی کو صحت اچھی ملتی ہے مگر ساتھ گھریلو پریشانیاں لگ جاتی ہیں…
پاگل ہیں وہ لوگ جو اس دنیا میںہر خوشی اور کامیابی چاہتے ہیں… یہاں کسی کو بھی
اُس کی ہر خواہش نہیںمل سکتی… ایک عورت نے ایک شخص کو دیکھا کہ خوب صحت مند اور
بہت مالدار ہے… ظاہری طور پر ہر نعمت اُس کے پاس ہے اُس نے دعا کی یا اللہ …میرے
بیٹے کو اس جیسا بنا دے… اُس شخص نے یہ دعا سنی تو تڑپ اٹھا اور کہنے لگا… بہن جی!
ایسی غلط دعاء نہ کرو میری اصل حالت تمہیں پتا چلے
تو اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگو گی… میں تو سخت اذیت اور
تکلیف کی زندگی گزار رہا ہوں…
ہاںاے مسلمانو! کلمہ طیّبہ کی قدر کر
لو… اللہ کیلئے قدر کر لو… اس کلمے کی شاخیں آسمانوں کے
اوپر اور اس کی جڑیں زمین کے نیچے تک ہیں… عزت کی چابی یہی کلمہ ہے… عزت مال میں
نہیں… اس کلمے کے بغیر مال صرف وبال ہے… عزت کوٹھی، کار ، بنگلے اورباڈی گارڈوں
میں نہیں… عزت کا معیار ایک ہی ہے… اور وہ ہے
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
کرکٹ ٹیم نے ورلڈ کپ جیتا… طبعی طور پر تو سب کو خوشی ہوئی…
مگر کسی نے عقل سے سوچا کہ مسلمانوں کو اس سے کیاملا؟… اور اگر یہ ہار جاتے جیسا
کہ ہارتے رہے ہیں تو مسلمانوں کا کیا نقصان؟… ہارون الرشیدکے دربار میں ایک شخص
آیا کہ میرے پاس ایک بڑا کمال ہے…میں ایک سوئی زمین میں گاڑ دیتا ہوں اور دوسری
سوئی دور سے پھینک کر اُس کے ناکے سے گزار لیتا ہوں…بادشاہ نے کہا اس کو دس درہم
انعام دو اور دس کوڑے لگاؤ… انعام تو اس کی محنت کا اور کوڑے اس بات کے کہ اس نے
اپنی صلاحیت کو ایک فضول کام میں خرچ کیا… ابھی تو پاکستانی ٹیم کے لئے صر ف
انعامات کا اعلان ہو رہا ہے… نہ کسی بھوکے کو کھانا ملا… نہ کسی دربدر انسان کو
چھت ملی… نہ کسی بے گھر بہن کے سرپر دوپٹہ پڑا… اور ملکی خزانے کے کروڑوں روپے چند
کھلنڈرے لڑکوں میں بانٹ دیئے گئے… افسوس کہ مسلمانوں کے دل میں ایک گندے سے ’’کپ‘‘
کی تو قدر ہے…جبکہ اُس عظیم کلمے کی سب نے قدر نہیں کی جو اُن کے لئے ہر کامیابی
کی پکی ضمانت ہے… ہر طرف کرکٹ کا شور ہے…بے حیا تصویریں ہیں… انعامات کے اعلانات
ہیں… سرکاری دعوتیں اور اعزازات ہیں… چھوڑیں ان فضول چیزوںکو آئیں کسی مسجد کے
کونے یا گھر کے کسی گوشے میں بیٹھ کر… غور کرتے ہیں کہ
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
کے تقاضے کیا ہیں… یہ کلمہ ہم سے کیا مانگتا ہے… اور ہمیں
کیا کچھ عطاء فرماتاہے… شکر الحمدللہ کہ آج بھی پورے عالم میں اس کلمے کی گونج
ہے…نفس پرستوں نے ’’توراۃ‘‘ کو بدل ڈالا… گناہ پرستوں نے انجیل کو کیا سے کیا بنا
دیا… غفلت شعاروں نے زبور کو بُھلا دیا… مگر وہ دیکھو اس کلمے والا قرآن پاک ہر
جگہ اُسی طرح موجود ہے… جس طرح نازل ہوا تھا… افغانستان سے لیکر عراق تک… کشمیر سے
لیکر فلسطین تک مشرق سے لیکر مغرب تک… ایک ہی کلمہ گونج رہا ہے، ایک ہی اذان بلند
ہور ہی ہے… اور ایک ہی قرآن پڑھا جا رہا ہے… آؤ ہم بھی پڑھتے ہیں…
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
آج اخبار میں حج کی درخواستیں جمع کرانے کا اعلان پڑھا تو
مجھے پھر’’فتح‘‘ کا احساس ہوا… میں اپنی درخواست تو جمع نہیں کراسکوںگا… مگرمیرے
کتنے کلمہ گو بھائی تو یہ درخواست جمع کرائیں گے… اور پھرا
نشاء اللہ حج پر جائیں گے… تاریخ اٹھا کر دیکھیں کہ حج کے
خلاف کتنی سازشیں ہوئی… نعوذباللہ کعبہ شریف اور مسجد نبوی پر حملوں کے منصوبے
بنے… انہیں سازشوں اور منصوبوں میں لاکھوں موذی کافر مرگئے، کھپ گئے… مگر کعبہ
شریف سینہ تان کر کھڑا مسکرا رہا ہے… میری آنکھوں کے سامنے اس وقت بھی حجر اسود
کا پر نور نظّارہ ہے… مسجد نبوی شریف اور اس کے ساتھ میرے آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کا روضہ… رشکِ جنت بنا ہر وقت نور برسا رہا ہے… میں کیوں نہ کہوں
کہ الحمدللہ حالات اچھے جار ہے ہیں… اور ہم کلمہ طیّبہ کے
جتنے قریب ہوتے جائیں گے حالات اسی قدر اچھے ہوتے جائیں گے…
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہ تعالیٰ نے زمین والوں پر احسان فرمایا… اپنے سب
سے محبوب اور آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا…
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہدایت اور دین حق لے کر آئے… آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کے کچھ عرصہ بعد… شیطان اورکافروں
کی کوشش سے’’فرقہ پرستی‘‘ کا فتنہ شروع ہوا… کئی باطل فرقے وجود میں
آئے… تب اہل حق نے اسلام کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کا کام شروع
فرمایا… اہل حق اُس زمانے سے ’’اہل سنت والجماعۃ‘‘کہلاتے ہیں… یہ نام آقا مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث مبارکہ سے لیا گیا ہے… برصغیر پاک وہند میں
اہل سنت والجماعۃ…یعنی اہل حق نے ایک دینی مرکز بنایا… یہ مرکز صوبہ یوپی کے ضلع
سہارنپور کے ایک قصبے’’دیوبند‘‘ میں قائم ہوا… تب سے اہل سنت والجماعۃ کو دیوبندی
بھی کہا جانے لگا… ’’دیو بندی‘‘ کوئی نیا فرقہ نہیں ہے… اور نہ یہ کوئی رجسٹرتنظیم
ہے… اگریہ کوئی نیا فرقہ یا رجسٹر تنظیم ہوتی تو پھر… دیو بند مدرسے سے اس کے
رکنیت فارم جاری ہوتے… وہاں کے ذمہ دار جس کو رکنیت دیتے وہ رکن ہوتا… اورجس کو
نکال دیتے وہ خارج ہوجاتا…’’دیوبند‘‘ تو اہلسنت و الجماعت والوں کی ایک علمی نسبت
ہے… افغانستان میں دیوبند کی اسی علمی نسبت کے فیض یافتہ ایک ’’مجدّد‘‘ حضرت امیر
المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد حفظہ اللہ تعالیٰ نے… صدیوں
بعد اسلامی امارت قائم فرمائی… افغانستان کے طالبان اور تھے اور پاکستان کے طالبان
اور ہیں… افغانستان کے طالبان کی عظمت وشرافت کا تو مسلمانوں کے علاوہ کافروںنے
بھی اعتراف کیا …
الحمدللہ دارالعلوم دیوبند نے
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
کے فیض کو پورے برصغیر اور امریکہ اور یورپ تک
پھیلایا… حوادث زمانہ سے خود دارالعلوم دیوبند… کئی سال پہلے انتظامی انتشار کا
شکار ہوا… بڑے اداروں میں ایسا ہوتا رہتا ہے… تب کچھ حضرات نے دارالعلوم
دیوبند(وقف) کے نام سے ایک اور ادارہ بنالیا… اب دیوبند میں دو دارالعلوم دیوبند
ہیں… ایک وہی پُرانا اور دوسرا وقف… ابھی سنا ہے کہ وقف دارالعلوم سے… دیوبندی
ہونے اور نہ ہونے کے فتوے جاری ہو رہے ہیں… آج کل اخبارات میں اس کا بڑا شور ہے…
حالانکہ پریشانی کی کوئی بات نہیں… یہ دنیا ہے اس میں ایسی فضول حرکتیں کچھ لوگ کرتے
رہتے ہیں… ہمارے سامنے تو شاملی کا میدان ہے… اس میدان میں بانی دارالعلوم دیوبند
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کی تلوار بجلی کی طرح چل رہی ہے…
امیر المجاہدین حضرت حاجی امداد اللہ مکی رحمۃ اللہ علیہ کی
آنکھوں سے جہادی نور کے شعلے برس رہے ہیں… حضرت حافظ ضامن شہیدرحمۃ
اللہ علیہ کی مسکراتی لاش پڑی ہوئی ہے… اور حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ
مردانہ وار مقابلہ کررہے ہیں… دیو بند کے یہ عظیم حضرات پوری امت کے محسن ہیں… وہ
ہمیں کوئی نیا فرقہ نہیں دے گئے… بلکہ اہلسنت والجماعت سے جوڑ گئے… آئیے ہم سب
وہی کلمہ پڑھیں… جس کلمے کی سربلندی کے لئے ان حضرات نے علم وجہاد کا پرچم بلند
کیا…
آئیے خوب یقین کے ساتھ پڑھتے ہیں
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ
سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہمیں کافروں کے لئے فتنہ نہ بنائے… موجودہ
حالات میں ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم ایک ’’نمونہ‘‘ اور ’’طریقہ‘‘ اختیار کریں اور
ایک دعاء کا بہت اہتمام کریں…
نمونہ اور طریقہ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ہے اور
دعاء بھی وہی دعاء جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اُن کے رفقاء نے مانگی تھی…یہ
دعاء بہت مؤثر، بہت پرنور اور بہت طاقتور ہے… بلکہ یوں سمجھ لیں کہ حفاظت کا قلعہ
ہے۔ قرآن پاک کے اٹھائیسویں پارے کی سورۃ الممتحنہ کی آیت ۵،۶،۷ میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم کافروں سے
تعلق کے بارے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے طریقے اور نمونے کو اپنائیں…اور
انہی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں وہ دعاء بھی سکھادی ہے جو کفر کے طوفانوں سے
مقابلے کیلئے محفوظ کشتی اور سفینے کا کام دیتی ہے۔
ملاحظہ فرمائیے ان تین مبارک آیات کا خلاصہ…اور اُن کے
مضامین کی کچھ تفصیل…
خلاصہ
اہل ایمان کے لئے لازمی تاکید اور دستور عمل کہ وہ
کفارومشرکین سے تعلق کے بارے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے رفقاء کا طرز
عمل اختیار کریں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے رفقاء نے علی الاعلان کفار
سے دشمنی، بغض اور براء ت کا اعلان کیا تھا۔ اور فرمایا تھا کہ جب تک تم ایمان
نہیں لائو گے ہمارا تم سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہم تمہیں کوئی حیثیت دیتے ہیں۔
(اصل چیز دین اور عقیدہ ہے باقی سب کچھ اس کے بعد ہے) اور حضرت ابراہیم علیہ
السلام اور ان کے رفقاء نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی کہ یا اللہ! ہم نے تمام کفار
سے قطع تعلق کرکے صرف آپ کی ذات پر بھروسہ کیا ہے اور آپ کی طرف رجوع کرتے ہیں
اور آخر آپ ہی کی طرف لوٹ کر آنا ہے۔اے ہمارے پروردگار کفار کو ہم پر غالب نہ
کیجئے کہ اس کی وجہ سے وہ فتنے میں پڑ جائیں اور خود کو برحق سمجھنے لگیں۔اور
ہمارے گناہ بخش دیجئے۔
ایمان والوں کو پھر تاکید کی جاتی ہے کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ
کو مانتے ہیں اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں تو وہ کفار سے تعلق کے بارے میں
ابراہیمی ؑ طرز عمل اختیار کریں اور یاد رکھو اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو اللہ
تعالیٰ کو بھی تمہاری پرواہ نہیںوہ غنی ہے اور خوبیوں والا ہے۔ تمہاری عبادت اور
وفاداری کا محتاج نہیں۔
بہترین نمونہ، بہترین مثال
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ کے رفقاء، کفارکے مقابلے
میں بہت کم تعداد اور کمزور تھے۔ شروع میں تو یہ کل تین افراد تھے۔ حضرت ابراہیم
علیہ السلام، آپ کی اہلیہ محترمہ اور آپ کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام۔ جبکہ
ان کے مدمقابل کفار ومشرکین بہت طاقتور تھے۔ ملک کا بادشاہ بھی مشرک تھا اور حضرت
ابراہیم علیہ السلام کی قوم کے لوگ بھی مشرک تھے۔ اتنی کمزوری کے باوجود حضرت
ابراہیم علیہ السلام نے ان تمام کافروں سے کھلی دشمنی اور براء ت کا
اعلان فرمایا۔ اور ان سب کو بے حیثیت قرار دیا (کفرنابکم) بے شک کافر ومشرک بے حیثیت
ہی ہوتا ہے۔ جس نے اپنے خالق ومالک اور معبود کو نہ مانا نہ پہچانا اس کی کیا
حیثیت؟جس نے بتوں کو اور مخلوق کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرایا اس کی
کیاحیثیت؟
دین اور عقیدے کے زور پر حضرت ابراہیم علیہ
السلام نے ساری قوم سے قطع تعلق، اور بیزاری کا اعلان فرمایا۔ اور صاف کہہ دیا کہ
جب تک اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک لہ پر ایمان نہیں لائو گے اس وقت تک تم سے ہمارے
تعلقات بحال نہیں ہوسکتے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ طرز عمل ظاہری
طور پر جنون نظر آتا ہے آخر دوچارافراد اتنی بڑی قوم کے مقابلے میں کر ہی کیا
سکتے ہیں؟ اس میں تو سوائے اپنی ہلاکت کے اور کوئی نتیجہ نظر نہیں آتا۔ مگر اللہ
تعالیٰ کو یہی طرز عمل پسند آیا۔ اور قرآن پاک بتا رہا ہے کہ یہ جنون نہیں’’توکل
علی اللہ‘‘ تھا۔ اور اسی طرح کے طرز عمل سے دنیا میں بڑی تبدیلیاں آتی ہیں۔ اگر
ایمان والے ہی ایمان کو کچھ نہ سمجھیں اور کافروں کے سامنے دبے رہیں۔ اور کافروں
کی ظاہری ترقی سے مرعوب ہوکر ان کو معزز عالمی برادری تسلیم کرلیں۔ اور اپنی کامیابی
ان کی برادری کا حصہ بننے میں سمجھتے رہیں تو پھر ان کی قدر کو کون تسلیم کرے
گا۔(واللہ اعلم بالصواب)
یہ جوانمردی قادرمطلق کے بھروسے پرتھی
’’نینویٰ اور بابل کے بادشاہ اور انکی قوم اور سرداربت پرست
تھے، صرف ابراہیم ح اور ان کے بھتیجے لوط حاور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی
ایمان لائی تھی، اس وقت اس قوم کے مقابلے میں جو ہر طرح سے قابو یافتہ (یعنی غالب)
تھی اس بے کسی کی حالت میں یہ کہہ دینا کوئی آسان بات نہ تھی، یہ جوانمردی محض اس
قادر مطلق کے بھروسے پر تھی، (اللہ تعالیٰ) مسلمانوں سے فرماتا ہے کہ تم کو بھی
ابراہیمحکی پیروی کرنی چاہئے، مشرکین تمہاراکیا کرسکتے ہیں؟ کس لئے ان سے محبت
رکھتے ہو؟ برادری اور دوستی خدا کے دشمنوں سے کیسی؟ مسلمان کے سچے ایمان اور اللہ
تعالیٰ کی پوری محبت کا یہ مقتضیٰ ہے کہ اس کے دشمنوں، بددینوں، ملحدوں سے قطع
تعلق کردے، ان سے محبت اور یکانگت اوردلی اخلاص ایمان کے ساتھ ایک دل میں جمع نہیں
ہوسکتا‘‘(حقانی)
دنیا خواہ متعصب کہے
’’یعنی تم مسلمانوں کو یا بالفاظ دیگر ان لوگوں کو جو اللہ
تعالیٰ سے ملنے اور آخرت کے قائم ہونے کے امیدوار ہیں، ابراہیم حاور ان کے رفقاء
کی چال اختیار کرنی چاہئے، دنیا خواہ تم کو کتنا ہی متعصب اورسنگدل کہے، تم اس
راستہ سے منہ نہ موڑو، جو دنیا کے مؤحد اعظم نے اپنے طرز عمل سے قائم کردیا،
مستقبل کی ابدی کامیابی اسی راستہ پر چلنے سے حاصل ہوسکتی ہے۔ اگر اس کیخلاف چلو
گے اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے دوستانہ گانٹھو گے تو خود نقصان اٹھائو گے، اللہ
تعالیٰ کو کسی کی دوستی یادشمنی کی کیا پرواہ ہے وہ توبذات خود تمام کمالات اور ہر
قسم کی خوبیوں کا مالک ہے، اس کو کچھ بھی ضرر نہیں پہنچ سکتا(عثمانی)
کافروں کے سامنے جھکنا ایمان کیخلاف ہے
’’ایمان اور کفر کی ہمیشہ سے لڑائی رہی ہے، حضرت ابراہیم
خلیل اللہ علیہ السلام کے جو اپنی قوم سے اور اپنے باپ سے مباحثے ہوئے جگہ جگہ
قرآن پاک میں مذکور ہیں۔ ان باتوں میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ ابراہیم ح اوران
کے ساتھیوں نے بغیر کسی مداہنت کے اپنی قوم کے سامنے اعلان کر دیا کہ ہم تم سے
اورتم اللہ تعالیٰ کے سوا جس کی بھی عبادت کرتے ہو اس سے بیزار ہیں، اس اعلان کے
ساتھ یہ بھی کہ ہم تمہارے منکر ہیں ،ہم تمہارے دین کو نہیں مانتے اور ہمارے تمہارے
درمیان بغض ہے اور دشمنی ہے اور یہ دشمنی ہمیشہ رہے گی۔ جب تک تم اللہ وحدہ لاشریک
لہ پر ایمان نہ لائو۔ اہل ایمان کو اس طرح کھلے طور پر اپنے ایمان کا اعلان کرنا
چاہئے، کافروں کے سامنے جھکنا اور ان سے ایسی ملاقات کرنا جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ
ان سے دوستی ہے یا یہ کہ وہ بھی دین حق پر ہیں یا یہ کہ ہمارا دین کمزور ہے۔
(العیاذباللہ) یہ سب باتیں ایمان کیخلاف ہیں ڈنکے کی چوٹ اعلان کردیں کہ ہم تم سے
نہیں اورتم ہم میں سے نہیں، کافروں سے کسی قسم کی موالات اور مداہنت کا معاملہ نہ
کریں گے‘‘ (انوار البیان)
ایک مؤثر اور جامع دعاء
طاقتور کافروں کے درمیان رہتے ہوئے ان سے کھلی دشمنی اور
براء ت کا اعلان آسان کام نہیں ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے رفقاء نے
یہ سخت مشکل کام اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر کیا اور اس موقع پر انہوں نے جس دعاء کے
ذریعے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی۔ وہ دعاء قرآن پاک میں پوری امت مسلمہ کو بھی
سکھادی گئی ہے۔
رَبَّنَاعَلَیْکَ تَوَکَّلْنَا وَاِلَیْکَ اَنَبْنَا
وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ رَبَّنَا لَاتَجْعَلْنَا فِتْنَۃً لِّلَّذِیْنَ
کَفَرُوْا وَاغْفِرْلَنَا رَبَّنَااِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ
’’یعنی اے ہمارے رب ہم نے سب کو چھوڑ کرآپ پر بھروسہ کیا
اور سب سے ٹوٹ کر آپ کی طرف رجوع ہوئے اور ہمیں یقین ہے کہ ہم سب کو آپ ہی کی
طرف لوٹ کرجانا ہے۔ اے ہمارے رب ہمیں کافروں کیلئے محل آزمائش اور تختہ مشق نہ
بنا اور ایسے حال میں مت رکھ جس کو دیکھ کر کافر خوش ہوں اوروہ اسلام اورمسلمانوں
پر آوازیں کسیں اور ہمارے مقابلے میں خود کو حق پر سمجھنے لگیں۔ اے ہمارے رب
ہمارے گناہ معاف فرما کہ اگر ان گناہوں کی سزا میں ہم پر برے حالات آئے تب بھی
کافر یہ سمجھیں گے کہ وہ حق پر ہیں اور ہم غلط راستے پر ہیں۔ اے ہمارے رب آپ غالب
ہیں، حکمت والے ہیں آپکی زبردست قوت وحکمت سے یہی توقع ہے کہ اپنے وفاداروں کو
دشمنوں کے مقابلہ میں مغلوب ومقہور نہ ہونے دیں گے(مفہوم عثمانی، مظہری وغیرہ)
ہم کو کافروں کیلئے فتنہ نہ بنا
مسلمان جب غالب ہوتو وہ کفار کے لئے ہدایت اور رحمت کا
ذریعہ بن جاتا ہے کہ کافر اس کی حالت دیکھ کر ایمان کی طرف راغب ہوتے ہیں لیکن اگر
مسلمان مغلوب اور غلام ہو تو اس کی یہ حالت کافروں کے لئے فتنہ بن جاتی ہے۔ وہ جب
اس کی کمزوری اور ظاہری ذلت دیکھتے ہیں تو انہیں اپنے کفر کی حقانیت کا یقین ہونے
لگتا ہے۔ چنانچہ وہ اپنے غلط عقیدے اور مذہب پر اور زیادہ پختہ ہوجا تے ہیں۔ جس
طرح آج کل کے اکثر کفار کی حالت ہے کہ وہ کہتے ہیں ’’ہم بہت اچھے ہیں اس لئے کہ
ہم مسلمان نہیں ‘‘(نعوذباللہ)
اس مبارک دعائِ ابراہیمی میں اللہ تعالیٰ سے یہی مانگا گیا
کہ اے ہمارے رب ہمیں کفار کے لئے فتنہ نہ بنا‘‘
حضرات مفسرین نے اس کے تین مطلب بیان فرمائے ہیں۔
(۱) یااللہ ہمیں کفار کے ہاتھوں سے عذاب نہ دے اور نہ اپنی طرف سے عذاب میں مبتلا
فرما ورنہ یہ کفار کہیں گے کہ اگر مسلمان حق پر ہوتے تو ان کی یہ حالت نہ ہوتی۔
قال مجاہد: لاتعذبنا بایدیہم ولا بعذاب من عندک
فیقولوا:لوکان ھؤلاء علی حق ما اصابہم ہذا وکذاقال الضحاک
(۲) یااللہ ان کافروں کو ہم پر غالب نہ فرما اگر یہ غالب ہوگئے تو وہ اس فتنے میں
پڑجائیں گے کہ وہ برحق ہیں اس لئے غالب ہیں۔
(۳) یااللہ انہیں ہم پر غالب نہ فرما ورنہ یہ ہمیں بہت تکلیفیں پہنچائیں گے۔ (اور
ستاستا کرکافر بننے پر مجبور کریں گے)
عن ابن عباس لاتسلطہم علینا فیفتنونا۔ (تفسیرابن کثیر)
گناہوں کی شامت سے بچا
وَاغْفِرْلَنَارَبَّنَا
اے ہمارے رب ہمیں بخش دے۔
تفسیرمظہری میں ہے:۔
کبھی اپنے گناہوں کی وجہ سے مومن مبتلائے عذاب ہو جاتے ہیں
اور کفار کا ان پر غلبہ ہوجاتا ہے اس لئے درخواست ِ مغفرت کا ذکر کیا گیا۔(مظہری)
سوچ کا فرق
ایک سوچ یہ ہے کہ:۔
’’ہم مسلمان ہیں، کمزور ہیں کفار بہت طاقتور ہیں وہ ہمیں
بہت نقصان پہنچاسکتے ہیں اس لئے ہم ان سے دوستی کر لیں، ان کے ساتھ تعاون کریں
آخر ہم نے دنیا میں تو رہنا ہے‘‘
گویا کہ کافروں کے شر سے صرف کافروں کی دوستی ہی ہمیں
بچاسکتی ہے(نعوذباللہ)
دوسری سوچ یہ ہے کہ
ہم مسلمان ہیں، اللہ تعالیٰ کے وفادار بندے ہیں، جو بھی
اللہ تعالیٰ کا دشمن کافر ہوگا ہم اس کے دشمن ہیں۔ ہم ساری دنیا کے کفار کو اسلام
کی دعوت دیتے ہیں ہم کمزور ہیں، کفار طاقتور ہیں تو وہ ہمیں نقصان پہنچا سکتے ہیں
اس لئے ہم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔ صرف وہی ہمیں ہر نقصان سے بچا سکتا ہے۔
اور ہم نے ہمیشہ دنیا میں تو نہیں رہنا اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے اس لئے دنیا
کے عارضی مفاد کی خاطر ہم کافروں سے دوستی کرکے اللہ تعالیٰ کو ناراض نہ کریں۔
سخت تاکیدی حکم
امام نسفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:۔
تاکید کا کوئی طریقہ ایسا نہیں جو ان آیات میں اختیار نہ
کیا گیا ہو یعنی قسم کے ذریعہ، ترغیب کے ذریعہ، وعید کے ذریعہ الغرض ہر طریقے سے
تاکید فرمائی کہ کافروں سے تعلق کے بارے میں صرف اور صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام
کے طریقے کو اختیار کرو۔ فلم یترک نوعا من التاکید الاجاء بہ۔(المدارک)
مجاہدین کے لئے اہم سبق
اکثر مفسرین فرماتے ہیں کہ ان آیات میں جو دعاء آئی ہے وہ
حضرت ابراہیم علیہ السلام اوران کے رفقاء کی دعاء ہے۔ جبکہ بعض مفسرین فرماتے ہیں
کہ اس دعاء سے پہلے ’’قولوا‘‘ کا لفظ مقدّر ہے۔ کہ اے مسلمانو! تم یہ دعاء مانگو۔
الغرض یہ دعاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’اسوۃ‘‘ ہو۔ تب
بھی مجاہدین کو اسے اپنا معمول بنانا چاہئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’اسوۃ‘‘
اختیار کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے
اپنے زمانے کے کافروں سے کھلی دشمنی کااعلان فرمایا اور یہ دعاء مانگتے رہے تو
اللہ تعالیٰ نے ان کو کامیابی ،غلبہ اور اپنی خصوصی رحمت عطاء فرمائی۔ ان کا کام
بھی جاری رہا اور ان کا نام بھی آج تک مبارک ہے۔
اور دوسرے قول کے مطابق اگر ایمان والوں کو اس دعاء کے
مانگنے کاحکم دیا گیا ہے تو بھی اسے معمول بنانا ضروری ہوا اور اس صورت میں ربط
واضح ہے کہ مسلمانوں کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اسوۃ اختیار کرنے
کا حکم دیا گیا جو کہ کافی مشکل کام ہے تو اس میں آسانی کے لئے یہ دعاء سکھائی
گئی کہ مسلمان یہ دعاء مانگیں اور اس دعاء کے تقاضوں پر عمل کریں(واللہ اعلم
بالصواب)
رَبَّنَا عَلَیْکَ تَوَکَّلْنَا متصل بما قبل الاستثناء وھو
من جملۃ الاسوۃ الحسنۃ وقیل معناہ قولوا ربنا فھو ابتداء امر من اللہ للمومنین بان
یقولوہ (المدارک)
رَبَّنَاعَلَیْکَ تَوَکَّلْنَا وَاِلَیْکَ اَنَبْنَا
وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ
رَبَّنَا لَاتَجْعَلْنَا فِتْنَۃً لِّلَّذِیْنَ
کَفَرُوْا وَاغْفِرْلَنَا رَبَّنَااِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ
(آمین یاارحم الراحمین)
وصلی اللہ تعالیٰ علی خیرخلقہ سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم
تسلیما کثیراکثیراکثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے محبوب اورآخری نبی حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم … قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے نبی، رسول اور ہادی
ہیں… اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ ارشاد فرمایا وہ ہم سب
کے لئے ارشاد فرمایا… چنانچہ جب بھی کوئی حدیث شریف پڑھا کریں تو… یہی خیال رکھیں
کہ آقامدنی صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ارشاد فرما رہے ہیں… لیجئے محبت
اور احترام کے ساتھ بخاری شریف سے اپنے آقاحضرت محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کی چند احادیث مبارکہ پڑھتے ہیں…
(۱)رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا:جہنم
جس نے ہم پر(یعنی مسلمانوں پر) اسلحہ اٹھایا وہ ہم
میں سے نہیں ہے۔(بخاری)
برصغیر پر جب انگریز کا قبضہ تھا تو اُس وقت… حضرات علماء
کرام نے مسلمانوں کے لئے انگریزی فوج میں بھرتی ہونے کو حرام قرار دیا تھا… اور
وجہ یہ بتائی تھی کہ ’’برٹش آرمی‘‘ کئی جگہوں پر مسلمانوں کے خلاف لڑ رہی ہے…
حالانکہ مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ دوسرے مسلمانوں کے خلاف اسلحہ
اٹھائے…حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے موقف
کے حق میں تیس سے زیادہ احادیث پیش فرمائی تھیں کہ… مسلمانوں کے لئے مسلمانوں کے
خلاف لڑنا جائز نہیں ہے…کراچی کے خالقدینا ہال کا مقدمہ بہت مشہور ہے… باقی تفصیلات
اُس مقدّمے کے ساتھ حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی کسی سوانح حیات میں پڑھ لیجئے… اس
وقت مسلمانوں کے ہاتھوں جس طرح سے دوسرے مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے… وہ بہت
افسوسناک اور درد ناک ہے… مسلمانوں کو چاہئے کہ اُن قرآنی احکامات… اور احادیث کا
آپس میں مذاکرہ کریں جو مسلمانوں کے قتل ناحق سے منع فرماتی ہیں…ممکن ہے زیادہ
مذاکرہ کرنے سے کوئی خوش قسمت مسلمان اس موذی اور مہلک گناہ سے بچ جائے…
(۲)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا:
مؤمن اپنے دین کی طرف سے ہمیشہ کشادگی میں رہتا ہے جب تک
وہ کسی کو ناحق قتل نہ کردے۔(بخاری)
یعنی جب کوئی ناحق قتل کرے تو وہ تنگی میں پڑجاتا ہے… آج
اہلِ پاکستان پر جو ہر طرح کی تنگی مسلّط ہے اُس کا بڑا سبب’’خون ناحق‘‘ ہے… اور
جوکوئی بھی ناحق خون سے اپنا دامن آلودہ کرتا ہے… اُس پر دنیا کی زندگی بھی تنگ
ہو جاتی ہے… جبکہ آخرت کے بارے میں تو قرآن پاک کا واضح فیصلہ ہے کہ:
جو شخص کسی مؤمن کو جان بوجھ کرقتل کرے گا اُس کی سزا
جہّنم ہے…(ترجمۂ آیت)
پاکستان میں جیسے جیسے ناحق خون بڑھتا جا رہا ہے… اُسی طرح
تنگی اور مصیبت بڑھتی جار ہی ہے… حکمران خوفزدہ ہیں، بیمار ہیں اور پریشان ہیں…
جبکہ عوام کے پاس نہ روٹی ہے نہ بجلی ہے اور نہ دوا… ہر طرف تنگی ہی تنگی ہے… اور
گھٹن ہی گھٹن …
(۳)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
(اے مسلمانو!) میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ تم میں سے بعض
دوسرے بعض کی گردنیں مارنے لگیں… (بخاری)
یعنی مسلمانوں کا یہ کام نہیں کہ وہ ایک دوسرے کو قتل کریں…
یہ تو کافروں کا طریقہ اور کام ہے… اورمسلمانوں کو قتل کرنا کفر کی طرح بہت بڑا
جرم اور گناہ ہے… اللہ تعالیٰ رحم فرمائے کہ آج تو
مسلمانوں کے خون کے پرنالے بہہ رہے ہیں… شاید تاتاریوں نے اتنے مسلمانوں کو قتل نہ
کیا ہو جتنا آج خود مسلمان کہلوانے والے افراد کر رہے ہیں… کوئی ہے جو ان کو
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ارشادات
سنائے اور سمجھائے…
(۴)رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا:
مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس کو قتل کرنا کفر
ہے۔(بخاری)
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
جب تم میں سے کوئی ہماری(یعنی ہم مسلمانوں کی) مسجد یا
بازار سے گزرے اور اُس کے ہاتھ میں تیر ہوں تو اسے چاہئے کہ اُن تیروں کی نوک کا
خیال رکھے(یا ارشاد فرمایا) اپنے ہاتھ سے اُن تیروں کی نوک کو تھامے رکھے تاکہ کسی
مسلمان کو اُن سے کوئی تکلیف نہ پہنچے … (بخاری)
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا:
قیامت سے پہلے ایسے دن آئیں گے جن میں علم اٹھا لیا جائے
گا اورجہالت اُتر پڑے گی اورہَرْج کی کثرت ہو گی… اورہرج کہتے ہیں قتل کو … (یعنی
قتل بہت زیادہ ہوں گے) (بخاری)
صرف ایک اخبار پڑھ لیں… صرف آدھا گھنٹہ خبریںسن لیں…آپ کو
کم از کم سو ڈیڑھ سو مسلمانوں کی لاشیں ضرور مل جائیں گی… اخبارات میں ایک طرف
دلوں میں لالچ اور حرص پیدا کرنے والے اشتہار اور دوسری طرف قتل و غارت کی خبریں…
حضرت آقامدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا:
زمانہ قریب ہوتا جائے گا، اور عمل کم ہوتاچلا جائے گا
اورلالچ (یعنی حرص) دلوں میں ڈال دیا جائے گا اور فتنے چھا جائیں گے اور ہرج بہت
زیادہ ہو جائے گا… صحابہ کرام ذ نے عرض کیا… یارسول اللہ ! یہ’’ہرج‘‘
کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قتل، قتل… (بخاری)
یہ حدیث مبارکہ تو مکمل طور پر آج کل کے حالات پر صادق نظر
آتی ہے… زمانہ بہت تیزی سے گزر رہا ہے… پتہ ہی نہیں چلتااور مہینے گزر جاتے ہیں
اور سال بیت جاتے ہیں… اور عمل اتنا کم ہو گیا کہ مسجدیں نمازیوں سے نہیں بھرتیں…
اور جمعہ کی اذان تک سے بازاروں کی رونق میں کوئی فرق نہیں رہتا… تلاوت اورذکر
اللہ بھاری معلوم ہوتے ہیں… اور صداقت ودیانت تو بس کچھ لوگوں کے پاس
رہ گئی ہے… اور حرص اور لالچ نے دلوں پر قبضہ کر رکھا ہے… ہر طرف قتل و غارت ہے
جبکہ کچھ لوگوں کی بس یہی فکر ہے کہ اُن کو زیادہ سے زیادہ ڈالر مل جائیں… غیر ملکی
بینکوں میں پیسہ پڑاپڑا گل سڑ جاتاہے… مگرلوگوں کی حرص ہے کہ کم نہیںہوتی… کوئی
پیسے کے پیچھے امریکہ بھاگ رہا ہے تو کسی کا رُخ یورپ کی طرف ہے… اور کئی لوگ دن
رات سعودیہ یا دبئی جاکر بسنے کے خواب دیکھتے ہیں… پیسہ پیسہ اور پیسہ… معدہ خراب
کرنے والے چٹ پٹے کھانے اور زیادہ سے زیادہ عیش و عشرت کا سامان… ہر طرف لاشیں اور
ہر طرف حرص اور لالچ… جانور بھی اپنے ہم جنس جانوروں کی لاش دیکھ کر کچھ دیر کے
لئے کھانا پینا بھول جاتے ہیں… مگر یہ انسان جو اشرف المخلوقات ہے… اور پھر مسلمان
جو کائنات کا مخدوم ہے… وہ کس طرح سے اتنی لاشیں دیکھ کر بھی نہیں
سدھرتا… اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایمانِ کامل نصیب فرمائے…
(۵)رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا:
جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب نازل
فرماتا ہے تو وہ عذاب قوم کے سب لوگوں پر پہنچتا ہے… لیکن وہ لوگ قیامت کے دن اپنے
اپنے اعمال پر اٹھائے جائیں گے… (بخاری)
حدیث مبارکہ میں بڑی تسلّی ہے… اگر ہم اپنا عقیدہ اور نظریہ
درست رکھیں… اوراپنے عمل کو ٹھیک رکھیں تو پھر… پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے… اسی
لئے نہ تو حالات کے ساتھ چلنے کی ضرورت ہے… اور نہ حالات سے بھاگ جانے کی ضرورت
ہے… بلکہ ہمیں چاہئے کہ ایمان پر قائم رہیں، جماعت کے ساتھ جڑے رہیں… اور اپنے فرض
کام کو شریعت کے مطابق کرتے رہیں… اس حالت میں اگر ہم کسی کے ہاتھوں ناحق قتل بھی
ہوگئے… تو ان شاء اللہ اپنے عمل پر اٹھائے جائیں گے…
ہمیں اپنے گناہوںکے علاوہ کسی اور چیز سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے… اور گناہوں کے
شر سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ ہم گناہ چھوڑ دیں… سچے دل سے استغفار کریں…اور ہمیشہ
اچھی صحبت میں رہیں… اور اس بات کو دل میں بٹھا لیں کہ … آخری فتح
اسلام اور مسلمانوں کی ہونی ہے… الحمدللہ سوویت یونین کے خلاف جہاد ہوا… اُس وقت بھی طرح
طرح کے فتنے آئے… مگر آخری فتح مسلمانوں کی ہوئی… اب دنیا کے نقشے میں سوویت
یونین موجود ہی نہیں ہے… ہیلری کلنٹن کہتی ہیں کہ ہم نے… سوویت یونین کو شکست دی…
حالانکہ یہ جھوٹ ہے… امریکہ والے تو ویت نام میں مار کھا گئے… عراق میں بری طرح
ہار گئے… اور اب افغانستان میں پہاڑوں سے سر ٹکرا رہے ہیں… امریکہ میں اتنی طاقت
ہوتی کہ وہ سوویت یونین کو توڑ سکتا تو پھر آج دنیا میں امریکہ کو کسی جگہ شکست
نہ ہوتی… سوویت یونین کو تو شہداء کرام کے خون
نے… اللہ تعالیٰ کی نصرت سے شکست دی ہے… اوراب امریکہ دیکھ
لے گا کہ… کچھ عرصہ بعد اُسے جرمن، جاپان، کورین… اور فرنچ قوموں کے شدید چیلنج کا
سامنا ہوگا… تب دنیا کے نقشے میں جو خون نظر آئے گا وہ مسلمانوںکا نہیں ہوگا… آج
ہم مسلمانوں کے حالات کچھ خراب ہیں مگر ہمارے دشمنوں کے حالات ہم سے بہت زیادہ
خراب ہیں… اسرائیل ہو یا انڈیا… امریکہ ہو یا یورپ سب کو اپنی بقاء کے لالے پڑے
ہوئے ہیں… ہمارے ملک کے وزیر داخلہ صاحب کو کون سمجھائے کہ کافروں پر اتنا بھروسہ
نہ کریں… مگر وہ تو سنبھل ہی نہیں رہے… جب بولنے پر آتے ہیں تو گناہوں میں جوانی
گزارنے والی بوڑھی عورتوں کی طرح بولتے چلے جاتے ہیں… یوں لگتا ہے کہ جناب نے
پاکستان کو دو چار لاکھ روپے میں خرید رکھا ہے… اور اب وہ اس ملک کو دین سے اور
دینداروں سے پاک کردیں گے… یہی زبان ان سے پہلے کئی وزراء داخلہ بولتے بولتے تاریخ
کا گمنام کُوڑا بن گئے… معلوم نہیں ملک صاحب کافروں کے بھروسے پر اتنے بڑے دعوے کس
منہ اور زبان سے کرتے ہیں…وہ خود تو دن رات کافروں سے بھیک مانگنے جاتے ہیں جبکہ…
جیش محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) جیسی پاکباز جماعت پر غیر ملکی امداد کے الزامات
لگاتے ہیں… آج ملک صاحب پر بہت کچھ لکھنے کا ارادہ تھا… مگر مضمون شروع کرنے سے
پہلے میری نظر صحیح بخاری شریف پر پڑی تو… میں اپنے آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کی پر نور اور معطّر مجالس میں کھو گیا… اللہ تعالیٰ
ہمیں اورہمارے حکمرانوں کو ’’ایمانِ کامل‘‘ عطا ء فرمائے۔ آمین یا ارحم الراحمین
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ
سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا کثیرا
٭٭٭
رنگ و نور لکھ کر روانہ ہی کیا تھا کہ… ڈیرہ اسماعیل خان سے
محترم قاری امان اللہ صاحب کی شہادت کی
خبرآگئی… اناللہ وانا الیہ راجعون… وہ ہمارے مخلص اور دیرینہ ساتھی
تھے… ہماری جماعت کے ڈویژنل منتظم، عملی مجاہد اور بہادرمسلمان… وہ تو شہادت کے
طلب گار تھے مگر ہمارے دل رو رہے ہیں… وہ آج کا مضمون پڑھتے تو معلوم نہیں کتنے
لوگوں کو سناتے… جی ہاں وہ جہاد اور جماعت کے داعی تھے… ان کے آٹھ(۸) بچے شہید کی اولاد بن گئے… مجھے لگتا ہے کہ جس
لمحے بندہ مسلمانوں کے خون کی حفاظت کے لئے مضمون لکھ رہاتھا اسی وقت
انسانیت کے دشمن میرے پیارے ساتھی پر بولٹ کھینچ رہے تھے… مسلمانو! آج نہیں تو کل
ضرور جیش محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ
وفاؤں کو یاد کرو گے… اور اے بد نصیب قاتلو! تم اللہ پاک
کے غضب سے نہیں بچ سکو گے… تم کتے کی موت مرو گے اور حسرت کی آہیں بھروگے… تمہاری
ان حرکتوں سے مسلمانوں کی شرعی جماعت کمزور ہو جائے گی؟ اگر تم ایسا سوچتے ہو تو
تم بڑی بھول میںہو… شہداء کے خون کو قیمتی بنانے والے رب کی قسم! اہل ایمان کو تم
نہیں جھکا سکتے… نہیں دبا سکتے… یا اللہ تیرے کمزور بندوں
کی جماعت کا ہر فرد ہاتھ اٹھا کر، دامن پھیلا کر آپ سے قاری امان اللہ
صاحب کے لئے مغفرت ، جنت اور اونچے درجات کا سوال کر رہا ہے…
یا اللہ ان کی قبر کو نور سے اور سرور سے بھر دے اور ان کے
قاتلوں کو ان کے برے انجام تک پہنچا دے… آمین یا رب العلمین
اللھم صلی علی سیدنا محمد فی العلمین
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے دنیا کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ … یہاں حالات ایک جیسے
نہیں رہتے…جی ہاں! دنیا میں حالات بدلتے رہتے ہیں… اور آج کل تو یہ تبدیلی بہت
تیز ہو گئی ہے… ابھی کچھ عرصہ پہلے آصف زرداری صاحب جیل میں تھے… پھر اچانک وہ
ملک کے صدر بن گئے…کتنی دیر لگی؟… اور آگے جو حالات تبدیل ہوں گے ان میں بھی
زیادہ دیر نہیں لگے گی… پرویز مشرف نے جناب یوسف رضا گیلانی کو سات سال کی قیدسنوا
کر جیل میں ڈال دیا تھا… وہاں انہوں نے غیر قانونی طور پر موبائل بھی رکھا ہوا تھا
اور ایک کتاب بھی لکھتے رہے… اب وہ ملک کے وزیر اعظم ہیں… تین سال پہلے تک پرویز
مشرف پاکستان کے طاقتور ترین کمانڈو صدر تھے… پھر اچانک زوال آیا اور اُن کو اٹھا
کر لندن لے گیا… اب واپسی کے دروازے بظاہر بند معلوم ہوتے ہیں… اور خاک وہاں پہنچ
گئی ہے جہاں کا خمیر تھا… دیکھا آپ نے حالات کتنی تیزی سے بدل رہے ہیں… ایک ڈیڑھ
سال پہلے تک جارج بش دنیا کا طاقتور ترین جانور تھا… مگر آج وہ بے چارہ ایک
عبرتناک کارٹون ہے… دیکھا آپ نے کہ حالات کتنی تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں… آپ
پانچ چھ سال پرانا ایک اخبار اٹھا کر پڑھیں… اور پھر آج کا اخبار پڑھیں تو آپ کو
حالات میں زمین و آسمان جتنی تبدیلی نظر آئے گی… تین چار سا ل پہلے سوات کی طرف
جانے والی درگئی کی پہاڑی پر ٹریفک جام ہو جاتی تھی… گرمی کے ستائے ہوئے اور
گناہوں کے بھوکے ہر طرح کے انسان سوات کی ٹھنڈک لینے جا رہے ہوتے تھے… مگر اس سال
اہل سوات کو اپنا ٹھنڈا علاقہ چھوڑ کر صوابی، مردان، پشاور اور پنجاب کے تندوری
موسم میں جھلسنا پڑا… چھ سات سال پہلے کی بات ہے… فوج کے ایک بڑے افسر سے اچانک
ملاقات ہو گئی… میں نے اُن سے کہا کہ حکومت کی پالیسی ٹھیک نہیں جارہی… اگر یہی
پالیسی رہی تو فوج اورپولیس کا امن ختم ہو جائے گا… آج کل تو دوران سفر فوجی اپنے
ٹرکوں میں سوئے رہتے ہیں… اور پولیس والوں کو بھی جہاں ٹکنے کی جگہ ملے وہاں امن
اور آرام سے سو جاتے ہیں… لیکن اگر حکومت اسی طرح دینی طبقے اور جہادپرمظالم کرتی
رہی تو دیکھ لینا … یہی فوجی اور پولیس والے انڈین آرمی کی طرح خوف کی حالت میں…
مکمل الرٹ ہو کر سفر کیا کریں گے… آج آپ دیکھ لیں کہ فوج اور پولیس پر کیسا خوف
سوار ہے… اسی خوف کی وجہ سے وہ اب بے گناہوں پر بھی حملہ کر دیتے ہیں… جی ہاں
حالات ایک جیسے نہیں رہتے… ایک صاحب ہمیشہ اپنے ساتھیوں سے کہا کرتے تھے کہ دوستو!
حالات ایک جیسے نہیں رہتے… ایک بار وہ شدید مالی بحران میں گھر گئے… اُن کے دوست
افسوس کرنے گئے کہ… اب تو اس بحران سے نکلنے کی کوئی صورت ہی نہیں…دوستوں نے جا کر
غم اور افسوس کا اظہا رکیا تو وہ صاحب کہنے لگے… کوئی فکر نہیں حالات ایک جیسے
نہیں رہتے…اور واقعی ایسا ہی ہوا… چند دن بعد اُن کے حالات بدل گئے… اور وہ پہلے
سے زیادہ مالدارہو گئے… اب اُن کے رفقاء اُ ن کومبارکباد دینے گئے تو انہوں نے
کہا… خوشی کی کوئی بات نہیں حالات ایک جیسے نہیں رہتے… اور واقعی ایسا ہوا چند دن
بعد وہ بیمار ہو گئے… ایسے بیمار کہ مال کا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہو گیا… اُن کے
رفقاء پھر عیادت کے لئے گئے تو انہوں نے کہا… پریشانی کی کوئی بات نہیں حالات ایک
جیسے نہیں رہتے… چنانچہ ایسا ہی ہوا… اور چند دن بعد اُن کا انتقال ہو گیا… تمام
بیماریاں اورجھگڑے ختم… اُن کے رفقاء نے اُن کی قبر پر آکر کہا…جناب اب تو حالات
تبدیل نہیں ہوں گے… اُنہیں محسوس ہوا کہ قبر سے آواز آرہی ہے… دوستو! حالات ایک
جیسے نہیں رہتے… چنانچہ ایسا ہی ہوا… پانی کا سیلاب آیا اور اُن کی قبر کو اپنے
ساتھ بہا کر لے گیا… مجھے حیرانی ہوتی ہے اُن لوگوں پر جو حالات کے سامنے سر جھکا
دیتے ہیں… کچھ اپنا دین بدل لیتے ہیں… کچھ اپنے نظریات سے ہاتھ دھو لیتے ہیں… اور
کچھ حالات کی خرابی دیکھ کر ٹھنڈی لکڑیاں بن جاتے ہیں… حالانکہ دنیا میں کوئی
بیماری ایسی نہیں جس کی دواء اللہ تعالیٰ نے پیدا نہ کی ہو…
سورج اپنی گرمی برسا رہا ہوتا ہے کہ اچانک بادل آکر اُس کو ٹھنڈا کر دیتے ہیں…
رات زور شور سے اندھیرے گرا رہی ہوتی ہے کہ صبح صادق کا نور آکر اُس کو شرمندہ کر
دیتا ہے… تعجب ہے اُن لوگوں پرجو اچھے حالات کو اپنا کمال سمجھتے ہیں… میں نے اپنی
مختصر سی زندگی میں… حالات کو اس طرح سے بدلتے دیکھا کہ… بظاہر وہ سب کچھ ناممکن
نظر آتاہے… اور دل میں اس بات کا یقین بٹھا دیتا ہے کہ…سب
کچھ اللہ پاک کی طرف سے ہوتا ہے…۱۹۹۶ء کا وہ دن بھی میں نے دیکھا کہ جب ہم دس پندرہ ساتھی زخمی
حالت میں کوٹ بھلوال جیل کے ایک دفتر میں پڑے تھے… کسی کے منہ سے خون بہہ رہاتھا
تو کسی کے سر سے… مشرکین نے وہ سرنگ پکڑ لی تھی جو جیل سے فرا ر ہونے کے لئے
مجاہدین نے بنائی تھی… کمانڈر سجاد افغانی شہیدرحمۃ اللہ علیہ ، کمانڈر
نصر اللہ منصور… اور ہم سب لاٹھیاں، ڈنڈے، آنسو گیس کے
گولے… اور لوہے کی ضربوںسے نیم جان پڑے تھے… شاید مشرکین کو بھی احساس ہو چکا تھا
کہ اب ان قیدیوں میں مزید تشدد برداشت کرنے کی طاقت نہیں رہی… مگر پھر بھی اچانک
کمرہ کھلتا اور کوئی مشرک سیدھا میرے پاس آکر ڈنڈے برسانا شروع کردیتا… ایک بار
ایک بے وردی شخص مارنے کے لئے بڑھا تو ہمارے اوپر متعین سنتری نے اُس کو منع کیا…
تب ایک اور سنتری نے کہا یار اس کو دو چار ڈنڈے مارنے دو یہ ایس پی صاحب کاباڈی
گارڈ ہے… ایس پی صاحب نے سفارش کی ہے کہ اس کو مارنے کی اجازت دی جائے… یعنی اُس
دن ہماری پٹائی کرنا ایک ’’اعزاز‘‘ تھا جس کو حاصل کرنے کے لئے انڈین سپاہی اپنے
آفیسروں سے سفارش کرارہے تھے… پھر حالات بدل گئے۱۹۹۹ء میں پاکستان آگیا…توجس جگہ بھی جاتا لوگ مصافحے کے لئے
ٹوٹ پڑتے… کراچی میں ایک صاحب کو میرے ساتھی آگے نہیں بڑھنے دے رہے تھے تو وہ
حضرت مفتی نظام الدین شامزئی شہیدرحمۃ اللہ علیہ کی سفارش
لیکر آگیا کہ… اس آدمی سے ضرور مصافحہ اور ملاقات کی جائے…
سبحان اللہ و بحمدہ
سبحان اللہ العظیم… ڈنڈے مارنے کے لئے جمّوں کے ایس پی کی
سفارش… اور مصافحہ کے لئے حضرت مفتی نظام الدین شامزئی شہیدرحمۃ اللہ
علیہ کی سفارش… جی ہاں میں سچ کہہ رہا ہوں کہ حالات ایک جیسے نہیں
رہتے… اور حالات کے اچھا ہونے میں انسان کا کوئی ذاتی کمال نہیں ہوتا کہ فخر کرنے
لگے… اور نہ حالات کے بُرا ہونے میں کوئی ایسا عذاب ہوتا ہے کہ انسان مایوس اور
بددل ہوجائے… مجھے وہ رکشہ بھی یاد ہے جس میں کمانڈر سجاد شہیدرحمۃ
اللہ علیہ اور میں نہایت بے بسی کے ساتھ گرفتار ہوئے… وہ رات ہم نے
انڈین آرمی کے آفیسروں کا تشددسہتے ہوئے گزاری… وہ شراب پی کر آتے اور طرح طرح
کی فخریہ تقریریں کرتے ہوئے ہمیںمارتے تھے… اور پھر مجھے وہ جہاز بھی یاد ہے جس
میں انڈیا کا وزیر خارجہ جسونت سنگھ سر جھکائے بیٹھا تھا… اور میں مسکراتے ہوئے
اُس کے پاس سے گزر کر طالبان کی مہمان نوازی میں آگیا… وہ رات بھی ہم نے جاگتے
ہوئے گزاری… مگر سوائے اکرام اور محبت کے کچھ نظر نہیں آرہا تھا… طالبان طرح طرح
کے کھانے کھلا رہے تھے… بڑے اہل علم اور اہل جہاد ملنے آرہے تھے… پاکستان سے محبت
بھرے ٹیلیفون موصول ہو رہے تھے… دونوں راتیں گزر گئیں… رکشے والی بھی اور جہاز
والی بھی… اسی لئے تو عرض کر رہا ہوں کہ حالات ایک جیسے نہیں رہتے… پھر مجھے کیوں
اپنے ارد گردمایوسی کا ایک طوفان نظرآرہا ہے… میںنے اپنی اس مختصر سی زندگی میں
حکمرانوں کو شیروں کی طرح گرجتے… اور پھر چند دن بعد نمک کی طرح پگھلتے دیکھا ہے…
مجاہدین کے خلاف آپریشن کا آغاز معین الدین حیدر سابق وزیر داخلہ نے کیا تھا…
آج اُس کی ملک میں کیا حیثیت ہے؟… کیا کوئی ایک آدمی بھی اُس کے حکم پر کچھ کرنے
کو تیار ہے؟… مجاہدین آج بھی الحمدللہ اپنا ایک مقام رکھتے ہیں… اُن کے
پاس اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے قوت بھی ہے اور طاقت بھی…
مگر حکمران تو برف کی طرح پانی بن کر مٹی میں مل گئے ہیں… آج کے وزیر داخلہ صاحب
کا مستقبل تو ویسے ہی کافی خراب نظر آرہا ہے… موجودہ حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ
اپنی توجّہ کھانے پینے اور پیسہ بنانے کی طرف رکھیں… اور زیادہ نظریاتی باتیں نہ
کیاکریں… ان کی باتیں سن کر تو بچوں کو بھی ہنسی آجاتی ہے… زرداری صاحب اور
اخلاقی نظریات؟… ملک صاحب اور قانون کی پاسداری؟… آپ حضرات اپنے ماضی کو دیکھیں
اور اسلام اور مسلمانوں کی باتیںنہ کیا کریں… یہ باتیں اُن لوگوں کو زیب دیتی ہیں
جن کا اسلام اور مسلمانوں سے کچھ تعلق ہو… انتخابات سے پہلے یہ تمام حضرات خود
مُلک توڑنے کی دھمکیاں دے رہے تھے… اورجب حکومت مل گئی تو اب اچانک ملک کے محافظ
بن گئے… پہلے آدھا ملک ان لوگوں نے توڑا… ملک کے اربوں روپے باہر ملکوں کے بینکوں
میں جا کر دفن کر دیئے… دنیا کا ہر جرم انہوں نے اپنا حق سمجھ کر کیا… اور اب یہ
علماء اور مجاہدین کو اخلاق اور حبّ الوطنی کاسبق پڑھا رہے ہیں… ان لوگوں کو بھی
یاد رکھنا چاہئے کہ حالات ایک جیسے نہیں رہتے… اور دن رات کی تبدیلی میں عقل والوںکے
لئے بہت سی نشانیاں ہیں… مکہ مکرمہ کی دعوت… مدینہ منورہ کا جہاد… مکہ مکرمہ کے
پتھر اور مظلومیت… طائف کے درد ناک مظالم… ہجرت کی خوفناک راتیں… اورپھر بدر کا
روشن دن… اور فتح مکہ کے دن حضرات صحابہ کرامؓ کے الگ الگ شاندار لشکر… ان تمام
باتوں میں اہل ایمان کے لئے بہت روشنی ہے… بہت روشنی…
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ
سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا کثیرا
٭٭٭
مسلمان اور خلافت
اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مدد ساتھ ہو تو
ہر منزل آسان ہو جاتی ہے…حجاج بن یوسف کتنا بڑا ظالم تھا… ایک ضدی، پاگل اور قاتل
شخص… اُس نے اپنے دورحکومت میں ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا اور ہزاروں مسلمانوں
کو قید کی مشقت میں ڈالا… اُس کے ظلم اور شر سے بچنے کے لئے بڑے بڑے ائمہ، علماء
اور اولیاء روپوش ہوگئے تھے… مثلاً
(۱) حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ
(۲) حضرت ابوعمرو بن العلاء رحمۃ اللہ علیہ
(۳) حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ
(۴) حضرت ابراہیم النخعی رحمۃ اللہ علیہ
یقینا آپ نے ان حضرات کا نام سنا ہو گا… حضرت سعید بن
جبیر رحمۃ اللہ علیہ کو تو تابعین کا سردار کہا جاتا ہے… وہ اپنے وقت میں
روئے زمین کے سب سے بڑے عالم کہلاتے تھے… اور اُن کے سینے میں حضرات صحابہ کرام کے
علوم اور معارف محفوظ تھے… باقی تینوں حضرات بھی بہت اونچے درجے کے محدّث، فقیہ
اور امام تھے… لیکن جب حکومت کی کرسی پر ایک بد دماغ انسان آبیٹھا… تو
ان حضرات کو چھپنا اور روپوش ہونا پڑا… حضرت سیدنا سعید بن جبیر رحمۃ اللہ
علیہ تو د س سال تک روپوش رہنے کے بعد گرفتار کر لئے گئے… اور بد بخت
حجاج نے اُن کو شہید کر دیا… اُن کی شہادت کا واقعہ بہت معروف ہے… وہ آخری وقت
میں بھی مسکرا رہے تھے اور قرآن پاک کی آیات پڑھ رہے تھے… اُن کی شہادت کے بعد
حجاج سخت بیمار پڑ گیا… وہ بے ہوش ہو جاتا تھا اور پھر چیخ مار کر ہوش میں آجاتا…
اورکہتا کہ سعید بن جبیرپ میرے سامنے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے ظالم تو نے مجھے
کس جرم میں قتل کیا ہے؟… اسی عذاب اور اذیت کی حالت میں حجّاج مر گیا اور مسلمانوں
کی جان چھوٹ گئی… حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے روپوشی کی حالت میں حجاج کے
مرنے کی خبر سنی… تو فوراً سجدے میں گر گئے اور اللہ تعالیٰ
کا شکر ادا کیا…
ہائے حجاج کی بد نصیبی کہ جس کے مرنے پر مسلمانوں نے شکر کے
سجدے ادا کئے… حضرت ابو عمر و بن العلاء رحمۃ اللہ علیہ بھی حجّاج سے چھپ کر یمن
جا پہنچے اور وہاں روپوش رہے… دن کو تو گھر میں بند رہتے تھے البتہ رات کو اُس
مکان کی چھت پر آبیٹھتے اور ٹھنڈی ہوا کے جھونکے لیتے… ایک دن کسی شخص نے اعلان
کیا کہ حجاج مر گیا ہے تو بہت خوش ہوئے …کہا اب آزادی کے ساتھ دین کی خدمت کا
موقع ملے گا… حجّاج بھی مرگیا اور یہ تمام حضرات بھی دنیا سے رخصت ہو گئے… آج
مشرق و مغرب کے مسلمان حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت حسن رحمۃ
اللہ علیہ اور حضرت ابراہیم النخعی رحمۃ اللہ علیہ کے علوم سے فائدہ مند ہو رہے
ہیں… روزانہ لاکھوں مسلمان ان بزرگوں کے لئے رحمت کی دعائیں کرتے ہیں… اور دین کے
معاملے میں اُن کی باتوں سے رہنمائی لیتے ہیں… جبکہ حجاج کا نام آج بھی ظلم اور
نفرت کا استعارہ ہے… اور اصل فیصلہ تو قیامت کے دن ہوگا جس میں ظالم کو اُس کے ظلم
کا اور مظلوم کو اُسکی مظلومیت کا بدلہ دیا جائے گا…
حضرت ابراہیم النخعی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں آتا ہے کہ
وہ بھی حجاج کے شر سے روپوش تھے… جب انہیں حجاج کے مرنے کی خبر ملی تو خوشی سے
رونے لگے… جی ہاں بعض خوشیاں اتنی بڑی اور بھاری ہوتی ہیں کہ انسان کو رُلا دیتی
ہیں… اللہ تعالیٰ اُمتِ مسلمہ کو اب اپنی رحمت سے ایسی ہی
خوشیاں عطاء فرمائے… حجاج کا فتنہ بہت بڑا تھا اور بہت طویل تھا… اس فتنے نے
مسلمانوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا مگر… آج پھر اُمتِ مسلمہ طرح طرح کے فتنوں کی
زدمیں ہے… ایک طرف کفار کے حملے ہیں تو دوسری طرف ظالم حکمرانوں کا راج ہے… اسلامی
دنیا کے حکمرانوں میں سے ایک بھی ایسا نہیں جو مسلمانوں سے محبت رکھتا ہو… ہاں
ترکی کے موجودہ حکمران کچھ غنیمت ہیں… اُن کی غلطیاں اپنی جگہ لیکن میں سلام پیش
کرتا ہوں ترکی کے صدر عبد اللہ گل اور وزیر اعظم رجب طیب اردگان کو… ان
دونوں نے چین کے مظلوم مسلمانوں کے لئے آواز اٹھائی ہے… ہم اُن کی آواز میں اپنی
آواز شامل کرنا اپنی اسلامی ذمہ داری سمجھتے ہیں… چین کے حکمرانوں نے چین کے
مسلمانوں پر ظلم کر کے کروڑوں مسلمانوں کے دلوں کو زخمی کیا ہے… ہماری تو یہ خواہش
ہے کہ چین، جاپان، کوریا اور جرمن قومیں مسلمانوں کے ساتھ اتحاد کر کے ظالم مغربی
استعمار کا مقابلہ کریں… لیکن کیمونزم کے منحوس اثرات کا نتیجہ ہے کہ چین نے
سنکیانگ کے مسلمانوں کو مستقل تختہ مشق بنایا ہوا ہے… اور چونکہ چین کی اکثر
اسلامی ملکوں سے دوستی ہے تو اس لئے چینی مسلمان بے چارے… بے بسی اور بے کسی کے
ساتھ مارے جارہے ہیں اور کوئی اُن کے حق میں آواز تک نہیں اٹھاتا… اور پاکستان
میں تو ایک اور لطیفہ بھی ہے… وہ یہ کہ اگر آپ پاکستان میں چین کے مظلوم مسلمانوں
کے حق میں آواز اٹھائیں تو یہاں کے حکمران اور خفیہ ایجنسیاں فوراً… یہ اعلان کر
دیتی ہیں کہ آپ کے امریکہ کے ساتھ تعلقات ہیں اور آپ امریکہ کے اشارے پر یہ بات
کہہ رہے ہیں… لاحول ولا قوۃ الا ب اللہ العلی العظیم… ہمارے حکمران جو
خود دن رات امریکہ کی پوجا پاٹ میں لگے رہتے ہیں… وہ جب کسی پر امریکہ نوازی کا
الزام لگاتے ہیں تو بہت حیرت ہوتی ہے… ہمارا موقف اس بارے میں بالکل واضح اور دو
ٹوک ہے کہ… ساری دنیا کے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں… اور مسلمانوں پر جو بھی
ظلم کرے گا وہ ضرور دوسرے مسلمانوں کی آنکھوں میں نفرت کا نشان بن جائے گا… نہ
امریکہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مسلمانوں پر ظلم کرے اور نہ اسرائیل کو… نہ بھارت
کو اس کا حق پہنچتا ہے اور نہ چائنا کو… چین کو چاہئے کہ وہ اسلامی ملکوں کے ساتھ
اپنے تعلقات کی لاج رکھتے ہوئے سنکیانگ کے مسلمانوں کو عزت اور آزادی کے ساتھ
جینے کا حق دے… اور اُن کے بنیادی حقوق غصب نہ کرے… اور نہ ہی انہیں تشدّد اورظلم
کا نشانہ بنائے… اور اس بات کو یاد رکھے کہ جس ملک نے بھی مسلمانوں پر ظلم کیا ہے
اُس ملک میں امن قائم نہیں رہ سکا… ترکی کے موجودہ حکمرانوں نے چینی مسلمانوں کے
حق میں آواز اٹھائی ہے ہم انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں… ان
شاء اللہ کبھی تو مسلمانوں کو خلافت نصیب ہو جائے گی… خلافت
مسلمانوں کے لئے اسی طرح ہوتی ہے جس طرح مرغی اپنے چوزوں کے لئے… تمام چوزے مرغی
کے پروں میں پناہ لیکر بڑے ہوتے ہیں… اسی طرح مسلمان خلافت کی آغوش میں طاقتور
ہوتے ہیں…مسلمانوں کا خلیفہ ہر مسلمان کے لئے فکر مند رہتا ہے اور وہ مسلمانوں کے
مسائل کو حل کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے… افغانستان میں جب امارتِ اسلامیہ قائم
ہوئی تو کتنے بے سہارا مسلمانوں کو امن نصیب ہوا… حضرت امیر المؤمنین نے روس کی
آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر چیچنیا کوبطور ملک تسلیم کیا… اور چیچن مسلمانوں کو
باقاعدہ سفارت خانہ کھولنے کی اجازت دی… امارتِ اسلامیہ چند سال ہی قائم رہی… لیکن
شیر کی ایک روزہ زندگی گیڈر کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ہوتی ہے… امارت ِ اسلامیہ
بھی تھوڑے دن قائم رہی مگرپوری شان کے ساتھ مسلمانوں کو خلافت کا جلوہ دکھا
گئی… اللہ والے فرماتے ہیں کہ استغفاروہ چابی ہے جس سے ہر
تالا کھولا جا سکتا ہے… اس وقت مسلمانوں کی قسمت پر اُن کے گناہوں کا جو تالا لگ
گیا ہے وہ بھی استغفار سے کھل سکتا ہے… مسلمان امارتِ اسلامیہ کے اہل نہیں تھے
تو اللہ تعالیٰ نے وہ نعمت واپس چھین لی… اب ہمیں چاہئے کہ
سچے دل سے استغفار کریں… تمام گناہ چھوڑ دیں، گناہوں سے نفرت کریں اور آئندہ گناہ
نہ کرنے کا عزم کریں تو ان شاء اللہ ہر رکاوٹ دور
ہوجائے گی… کیونکہ …
اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مدد ساتھ ہوتو ہر
منزل آسان ہو جاتی ہے…
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ
سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ بہت کریم ہے… وہ ناقص اور
نااہل بندوں پر بھی اپنا فضل فرماتاہے… میرے بالکل قریب چار جلدوں پر مشتمل ایک
کتاب رکھی ہے… فتح الجوّاد فی معارف آیات الجہاد… الحمدللہ رب العالمین، الحمدللہ رب
العالمین… کتاب کو دیکھتا ہوں تو خوشی سے آنکھیں بھیگ جاتی ہیں… اور یوں لگتا ہے
کہ کوئی خوبصورت اور حسین خواب دیکھ رہا ہوں… الحمدللہ رب العالمین… اپنی حالت دیکھتے ہوئے مجھے کبھی
اس بات کا پورا یقین نہیں آتا تھا کہ … یہ کتاب میری زندگی میںمکمل ہو گی…
مگر اللہ تعالیٰ بہت کریم ہے، بہت وھّاب ہے اور بہت رحیم
ہے… الحمدللہ رب العالمین… میرے دماغ میں کئی پرانے مناظر
تازہ ہو رہے ہیں… اور مجھے یقین دلا رہے ہیں کہ سب
کچھ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوتا ہے… انسان اگر کسی کام کو
اپنا کمال سمجھے تو یہ اُس کی غلطی ہے، بے وقوفی ہے… آئیے ماضی کے کچھ مناظر کو
یاد کر کے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں… بے شک یہ شکر
ادا کرنے کا موقع ہے…
حیرت انگیز نعمت
ہماری گاڑی خراب ہو گئی… جمعہ کا دن تھا اور بندہ نے جمعہ
کا خطبہ دینا تھا… ہم نے وقت پر پہنچنے کے لئے ایک موٹر رکشہ پکڑ لیا… تھوڑی دیر
بعد ہمارا رکشہ آرمی کے گھیرے میں آگیا… ہمارا مسلّح ساتھی تو بھاگنے میں کامیاب
ہو گیا… مگر ہم دو ساتھی پکڑے گئے… زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوا، بے بسی اور بے
کسی کا دور… ہم سے سب کچھ چھن گیا… دن کا تشدد اور راتوں کا خوف ہمارا
مقدّرٹھہرا…ہم دیکھتے ہی دیکھتے تماشہ بن گئے… کوئی مارتا، کوئی گالیاں دیتا، کوئی
فخر بگھارتا اور کوئی طنز کرتا… پہلے ایک فوجی کیمپ اور پھر وہاں سے
لاد کر دوسرے کیمپ اور پھر وہاں سے باندھ کر تیسرے کیمپ میں
ڈال دیا گیا… تیسرے کیمپ میں انہوں نے خوب بھڑاس نکالی… پھر ہم زخمی
حالت میں ایک تنگ سے سیل میں ڈال دیئے گئے… فوجی بوٹوں کی آواز جب بھی قریب سے
سنائی دیتی دل دھڑکنے لگتا… پھرایک دن اچانک زور دار بوٹوں کی آواز آئی… میں کسی
نئی آفت کے لئے خودکو تیار کرنے لگا کہ… اللہ تعالیٰ کا
فضل بارش کی طرح برسا… ایک فوجی کے ہاتھ میں قرآن پاک تھا جو اُس نے سلاخوں سے
گزار کر مجھے دے دیا… میں وضو سے تھا، قرآن پاک کو دیکھ کر عجیب حالت ہوگئی… کبھی
اُسے چومتا، کبھی چہرے پر ملتا اور کبھی سینے سے لگا لیتا… جسم کا درد اور روح کے
سارے زخم بھول گئے… وقت کی تلخی تلاوت کی مٹھاس سے بھر گئی… مجھے میرے محبوب اور
کریم مالک نے بہت سکون دہ ساتھی عطاء فرمایا… گرفتاری سے پہلے زندگی بہت مصروف
تھی… صبح اسلام آباد تو شام کراچی… دن کو لاہور تو رات کو پشاور… ایک دن جدّہ تو
اگلے دن دبئی… آج حرمین تو کل کہیں اور… صبح بہاولپور تو رات افغانستان… بس سفر
ہی سفرتھے اور خوب بھاگ دوڑ… الحمدللہ قرآن پاک کے نسخے ہر طرف موجود تھے مگرتلاوت کی
طرف توجہ کم تھی… اللہ تعالیٰ بہت معاف فرمائے… بہت معاف
فرمائے… مجھے لگا کہ قرآن پاک کا یہ نسخہ جو مجھے ٹارچر سیل میں ملا مجھ سے شکوہ
کر رہا ہے… اور میں رو رو کر اُسے منا رہا ہوں… اور پھر الحمدللہ وہ مان گیا… اور اب ہم دونوں ساتھ ساتھ رہتے
تھے… میں اُسے پڑھتا تھا اور وہ مجھے سنبھالتا تھا… میں اُسے دیکھتا تھا اور وہ
مجھے قوت دیتا تھا… بس اسی یاری کے دوران آیات جہاداُبھر اُبھر کر سامنے آنے
لگیں… کبھی چند ساتھی مل بیٹھتے تو مذاکرہ بھی ہو جاتا… مگر نہ کاغذ تھا نہ قلم…
نہ بھیجنے کی سہولت تھی نہ چھپوانے کی… مگر ایک دلربا نعمت یعنی قرآن پاک کا نسخہ
میرے پاس تھا میرے ساتھ تھا… الحمدللہ رب العالمین… دینی خدمات میں مصروف مسلمانوں سے
بھی عرض ہے کہ تلاوت کلام پاک کا بہت اہتمام کیا کریں…
عجیب و غریب نعمت
ہمیں بتایا گیا کہ اس ٹارچر سیل میں تمہیں اس وقت تک رکھا
جائے گا جب تک… کشمیر میں تحریک جہاد جاری ہے… وہ تو اسے تحریک جہاد نہیںکہتے تھے
بلکہ دہشت گردی پکارتے تھے… جی ہاںکئی مسلمانوں کی طرح…مگرہمارے لئے وہ کل بھی
تحریک جہاد تھی… اورآج بھی تحریک جہاد ہے… اُ س ٹارچر سیل میں بہت سختی تھی… ہمیں
کہا جاتا تھا کہ یہیں مر جاؤ گے یا بوڑھے ہو کر نکلو گے…
مگر اللہ تعالیٰ تو بہت کریم ہے… اُس نے چند ماہ میں ہی
ہمیں وہاں سے نکال کر ایک جیل میں پہنچا دیا… اس جیل میں کافی آزادی تھی اور ڈیڑھ
ہزار کے قریب قیدی مجاہدین تھے… تب وہاں قرآن پاک کی آیاتِ جہاد گونجنے لگیں… یہ
ایک عجیب و غریب نعمت تھی… دشمن کی جیل ، دارالحرب، سخت پہرے اور ان کے درمیان
بھرپور درسِ قرآن پاک… یہ قرآن پاک کا اعجاز تھا… درس شروع ہوا تو بارک بھر گئی
اور پھر مجمع بڑھتا ہی چلا گیا… آواز الحمدللہ بلند تھی وہ بھی کام آئی اور سینکڑوں افراد درس
میں شریک ہونے لگے… قرآن پاک کو جتنا بیان کیا جائے یہ اُتنا ہی کُھلتا جاتاہے…
آیاتِ جہاد یہا ں خوب کُھلیں…ہم قید کے دوران بھی اتنے مصروف ہوگئے کہ کھانے کا
وقت مشکل سے ملتا… مگرلکھنے اور بھجوانے کی سہولت یہاں بھی نہ
تھی… الحمدللہ کوٹ بھلوال کی اس جیل میں سورۃ انفال کا درس
مکمل تفصیل سے ہوا… آج جب یہ سطریں لکھ رہاہوں پاکستان میں آٹھ جگہ… الحمدللہ آیات جہاد کا دورہ پڑھایا جا رہا ہے… بہاولپور،
کراچی، مردان، فیصل آباد، لکی مروت، سکھر، مانسہرہ،ٹنڈو الہ یار میں ایک ہزار سے
زائد طلبہ یہ مبارک و منور دورہ پڑھ رہے ہیں… اور پچھلے ہفتے گوجرانوالہ، کوئٹہ
اور پشاور میں یہ دورہ ہو چکا ہے… اور اگلے ہفتے مظفر آباد میں ان
شاء اللہ ہونے والا ہے… الحمدللہ رب العالمین… کوٹ بھلوال جیل میں پورا دورہ تو
نہ ہوسکا تھا البتہ… ابتدائی دوپارے اور سورۃ انفال کا درس ہو گیا… الحمدللہ رب العالمین… اور پھر کچھ عرصہ کے لئے ہم پر
آزمائش اور سختی کا ایک اور دور شروع ہو گیا… اس دور میں پڑھنا پڑھانا تو ناممکن
تھا مگر سمجھنے کے لئے بہت کچھ موجود تھا… و الحمدللہ رب العالمین علیٰ کل حال…
عظیم الشان نعمت
آزمائش کے اس دور میں ہمیں بتایا گیا کہ… اب تمہیں دہلی کی
تہاڑ جیل میں بھیجا جائے گا… وہاں جیل کا عملہ اور کریمنل قیدی تمہاری چمڑی
اتاردیں گے… مگر جب ہم تہاڑ جیل میں پہنچے تو اللہ تعالیٰ
کا فضل ہم سے پہلے وہاں پہنچ چکا تھا… بے شک اللہ تعالیٰ
بہت کریم ہے… وہاں کے نامور مجرم قیدیوں پر تو اللہ تعالیٰ
نے ایسا رعب ڈالا کہ وہ… دونوںہاتھ جوڑ کرآداب کرتے تھے… اور جیل حکام
نے بھی خوف کی وجہ سے تشدّد سے گریز کیا… کچھ عرصہ ہم وہاں الگ الگ رہے… سات ماہ
بعد اکٹھے ہوئے تو قرآن پاک نے ہمیں جوڑ لیا… کچھ ساتھی تجوید اور ناظرہ ٹھیک
کرنے لگے تو کئی ساتھیوں نے ترجمہ یاد کرنا شروع کیا… ترجمے کا سبق شروع ہوا تو
آیاتِ جہاد پھر اپنی طرف بلانے لگیں… یہاں قرآن پاک کے نسخے بھی زیادہ تھے اور
دو ترجمے بھی موجود تھے… حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کا ترجمہ اور حضرت تھانوی
رحمۃ اللہ علیہ کا ترجمہ… بندہ نے اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر
آیاتِ جہاد کو جمع کرنا شروع کر دیا… کام شروع ہوا تو قرآن پاک نے اپنی طرف
کھینچ لیا… نہ دن رات میں کوئی فرق رہا اور نہ کسی اور کام میں کوئی دلچسپی… آٹھ
دس دن میں چار سوسولہ آیات جمع ہو گئیں، اُن کا آسان ترجمہ اور مختصر تشریح بھی
ہو گئی… اور اُن کو پاکستان بھی بھجوادیا گیا… اور یوں۱۹۹۶ء میں آیات ِ جہاد کا یہ پہلا کام کراچی میں مکتبۃ الخیر
نے ’’تعلیم الجہاد حصہ چہارم‘‘ کے نام سے شائع کر دیا… و الحمدللہ رب العالمین…
ناقابل یقین نعمت
اللہ تعالیٰ نے آزادی دی تو کتابیں بھی
خوب ہاتھ آئیں… الحمدللہ گھر میں ایک بڑا کمرہ کتابوں سے بھرا پڑا ہے… اس
مکتبے میں درجنوں تفاسیر ہیں اور ہر دینی عنوان کی کتابیں…مگر تہاڑ جیل کے ادھورے
کام کو پورا کرنے کا موقع نہ مل سکا… اللہ تعالیٰ نے دورہ
تفسیر آیات الجہاد کی توفیق عطاء فرمائی… مگر لکھنے کے لئے کچھ فرصت چاہئے تھی
اور کچھ تنہائی… حکمرانوں نے بہت ستایا تو گھر سے نکلنا پڑا… عجیب بات ہے کہ جن
لوگوں پر سو سو مقدّمات ہیں وہ حکومت کر رہے ہیں…اور وہ شخص جس پر ایک ایف آئی
آر بھی نہیں وہ ہجرت پرمجبور ہے… مگر اللہ تعالیٰ بہت کریم
ہے…وہ ناقص اور نااہل لوگوں پر بھی اپنا فضل فرما دیتا ہے… کچھ دن کے دھکوّں کے
بعد اللہ تعالیٰ نے پھر قرآن پاک کے ساتھ جوڑ کر بٹھادیا… کام شروع
ہوا تو معلوم پڑا کہ کافی مشکل ہے… ابتداء میں سورۃ بقرہ نے ہی وہ رنگ دکھایا کہ…
دل کے ساتھ جسم بھی کانپنے لگا… اُس وقت بس یہی تمنا تھی کہ سورۃ بقرہ ہو جائے… اس
طرح ایک طرز متعین ہو جائے گی تو… اہل علم میںسے کوئی باہمت شخص باقی کام کرلے گا…
مگر اللہ تعالیٰ بہت کریم ہے… کام بڑھتا گیا تو آسان بھی ہوتا گیا… تب
پہلی جلد آگئی… اس جلد کے بعد آنکھوں کے سامنے پھر اندھیرا چھا گیا… حضرت استاذ
مفتی محمدجمیل خان شہیدرحمۃ اللہ علیہ سے خواب میں ملاقات
ہوئی… خواب میں محسوس ہوا کہ وہ کوہاٹ میں جلد اوّل کی افتتاحی تقریب میںخطاب فرما
رہے ہیں… بندہ نے اُن کے سامنے اپنی کمزوری اور مجبوری کا ذکرکیاکہ باقی کام مشکل
ہے… انہوں نے فرمایا کہ پھر کسی اورکو سکھا دو… اُ س وقت دل میں خیال آیا کہ
نہیں ان شاء اللہ خود کوشش کروں گا… تب دوسری اور پھر
تیسری جلد بھی آگئی… اور اب یقین نہیں آرہا کہ الحمدللہ چوتھی جلد بھی آچکی ہے… اور اُس کی افتتاحی
مجلسِ شکر بھی ہو چکی ہے…
ہاں بے شک اللہ تعالیٰ بہت کریم ہے…
اور اُس کی رحمت اور اُس کا فضل بہت وسیع ہے … الحمدللہ رب العالمین
کارنامہ نہیں
یہ کتاب کوئی ’’کارنامہ ‘‘نہیں… قرآن پاک کی ایک ادنیٰ سی
خدمت ہے… اور ان شاء اللہ اب اس موضوع پر کام کے مزید
دروازے کُھل جائیں گے…ہم تو ہنگامی حالت میں جی رہے ہیں… اس لئے امت تک جلد از جلد
یہ امانت پہنچانے کے لئے بہت سی باتوں اور چیزوں کو چھوڑ دیا گیا… الحمدللہ آٹھ سو پینسٹھ(۸۶۵) آیات کے جہادی مضامین اوراشارات اس میں آگئے ہیں… کتاب کی
مختلف فہرستیں بن جاتیں تو کافی فائدہ ہوتا مگر وہ نہ بن سکیں… ان
شاء اللہ آئندہ چل کر بن جائیں گی… اسی طرح ایک مفصّل مقدّمہ
بھی زیر غور رہا جس میں اہم جہادی مباحث آجائیں … مگر وہ بھی نہ ہو سکا… اور میرے
خیال میں یہ سب کچھ ٹھیک ہوا… اس طرح خالص قرآن پاک کی دعوتِ جہاد اُمت کے سامنے
آگئی… جس میں کوئی بات بھی ہماری اپنی نہیں ہے… قرآن پاک ہم سے کیا فرما رہا
ہے؟… کتاب اللہ میں جہاد کو کس طرح سے بیان کیا
گیاہے؟… اللہ رب العالمین نے اپنے مبارک کلا م میں جہاد پر کیا فرمایا
ہے؟… فتح الجوّاد بس ان ہی سوالات کا جواب ہے…اے مسلمانو!
اے اللہ تعالیٰ کے بندو!… بے شک کسی کی بات نہ
سنو!مگر اللہ تعالیٰ کا فرمان تو سنو… آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم کا ارشاد تو سنو… ’’فتح الجوّاد‘‘
کو اللہ پاک کی رضاء کے لئے ایک بار ضرور پڑھ
لو… ان شاء اللہ بہت سے اندھیرے چھٹ جائیں گے…
اورایمان کا راستہ آسان ہو جائے گا… یا اللہ اس کتاب کو
قبول فرما… نجات کا ذریعہ بنا… آمین یا ارحم الراحمین…
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ
سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا ذِکْر اور اللہ تعالیٰ کی یاد بہت بڑی چیز
ہے۔
’’ولذکراللہ اکبر‘‘ (القرآن)
دعاء کریں اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو یہ بہت بڑی
چیز…اور بہت بڑی نعمت نصیب فرما دے۔
یہ ہماری اہم ترین ضرورت ہے
اللہ تعالیٰ کو ہمارے ذِکر کی ضرورت نہیں ہے… وہ تو غنی،
بادشاہ بے نیاز ہے… ہماری تو حیثیت ہی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذِکر کرسکیں… یہ
تو اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ وہ ہمیں اپنے ذکر کی توفیق عطاء فرماتا ہے… یاد
رکھو مسلمانو! ہم سب ’’ذکراللہ‘‘ کے بہت محتاج ہیں… اگر ہم ذکر نہیں کریں گے تو
تباہ ہوجائیں گے، ہلاک ہوجائیں گے اور گناہوں میں ڈوب جائیں گے… یاد رکھو
’’ذکراللہ‘‘ میں زندگی ہے اور ترقی ہے اور کامیابی ہے… شیطان جب کسی پر غالب
آجاتا ہے تو سب سے پہلے اُسے ’’ذکراللہ‘‘ سے غافل کرتا ہے… ’’ذکراللہ‘‘ کرنے والے
مجاہد ہمیشہ کامیاب ہوتے ہیں… اور جو مجاہد ’’ذکراللہ‘‘ نہیں کرتے وہ بالآخر جہاد
سے بھی محروم ہوجاتے ہیں… کیونکہ شیطان اُن پر غالب آجاتا ہے اور اُن کے دلوں کو
سخت کر دیتا ہے۔
شیطان کے غالب ہونے کا مطلب
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کے بارے میں فرمایا:
اِسْتَحْوَذَعَلَیْہِمْ الشَّیْطَانُ فَاَنْسٰہُمْ
ذِکْرَاللّٰہِ، اُوْلٰئِکَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ اَ لَا اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ
ہُمُ الْخَاسِرُوْنَ۔ (المجادلۃ۹۱)
ترجمہ: ان (منافقین) پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے، پس اُس نے
انہیں اللہ تعالیٰ کا ذکر بھلا دیا ہے، یہی شیطان کا گروہ ہے، بے شک شیطان کا گروہ
ہی نقصان اٹھانے والا ہے…
تھوڑا سا سوچیں کہ ہمارا بدترین دشمن شیطان سب سے پہلا کام
یہی کرتا ہے کہ … جس پر غلبہ پاتا ہے اُسے اللہ تعالیٰ کے ذِکْر سے غافل کردیتا
ہے… معلوم ہوا کہ ذکر سے غفلت کتنی نقصان دہ چیز ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ شیطان
کے کسی انسان پر غالب آجانے کی یہ علامات ہیں۔
(۱) شیطان اُسے کھانے، پینے، پہننے اور اپنا ظاہر سنوارنے میں مشغول کردے۔
(۲) اُس کے دل کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد کرنے اور اُن کا شکر ادا کرنے سے غافل
کردے۔
(۳) اُس کی زبان کو جھوٹ، غیبت اور بہتان میں لگا کر اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ہٹا
دے۔
(۴) اُس کی تمام سوچ اور فکر کو دنیا بنانے اور دنیا جمع کرنے میں مشغول کر دے۔
(تفسیرالمدارک)
تھوڑا سا غور فرمائیں
شیطان ’’منافقین‘‘ پر غالب آجاتا ہے۔ شیطان کے غالب آنے
کی چار علامات ہم نے پڑھ لیں… اب ہم دوسروں کو نہیں بلکہ خود کو دیکھیں کہ… کہیں
یہ علامات ہمارے اندر تو پیدا نہیں ہوگئیں۔ ویسے ’’ذکراللہ‘‘ سے غفلت تو بہت عام
ہوچکی ہے… مجھے جو ڈاک آتی ہے اس میں اکثر خطوط میں یہی لکھا ہوتا ہے کہ… معمولات
پورے نہیں ہوتے، تلاوت رہ جاتی ہے، وغیرہ وغیرہ… اللہ کے بندو! تلاوت کے بغیر کیا
زندگی ہے؟ اور ذکراللہ کے بغیر کیا مزہ ہے…
زندگی کا جو دن تلاوت اور ذکر کے بغیر گزر گیا وہ تو ہمارا
دشمن بن گیا… طرح طرح کے ہوٹل، طرح طرح کے کھانے… خود کو خوبصورت بنانے کی بے
وقوفانہ فکر اور اس کیلئے گھنٹوں کی محنت…ہر وقت گپ شپ اور بک بک… اور دنیا کمانے
اور بنانے کی فکر… یا اللہ حفاظت فرما… یہ سب منافقین کی علامات ہیں… ہماری اور
ہمارے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کی اِس سے حفاظت فرما…
یہ کون لوگ ہیں؟
یہ کون لوگ ہیں؟… صبح اُٹھ کر پہلی فکر ’’شیو‘‘ بنانے کی…
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو ذبح کرنے کی … اناللہ وانا الیہ
راجعون…
پھر سر کے بالوں کا سٹائل… بالکل انگریزوں جیسا، کافروں
جیسا… پھر لباس کی تراش خراش… جیب میں موسیقی بجاتے موبائل فون… اذان کی آواز
آئی مگر مسجد کا رُخ نہ کیا… جو عورت نظر آئی اُس کو خوب دیکھا اور دکھایا… نام
پوچھو تو کوئی محمد، کوئی عبداللہ… اور کوئی عبدالرحمن… جی ہاں خوبصورت اسلامی
نام… مگر اسلام سے کیا تعلق… دن اور رات کے کئی گھنٹے فلمیں دیکھنے، گانے سننے اور
کرکٹ کی کمنٹری میں برباد… اور باقی وقت کھانے، پینے، سونے، شاپنگ کرنے، دنیا
کمانے اور عشق معشوقی میں ختم… نہ دل محفوظ نہ آنکھیں… نہ کوئی جذبہ نہ کوئی
امنگ…بس ’’لائف اسٹائل‘‘ کو جدید بنانا ہے اور ہرگناہ کو کمانا ہے…
یا اللہ ہمیں اور ہماری اولادوں کو اپنا فضل فرما کر ایسا
بننے سے بچا… ان لوگوں سے تو جانوروں کی زندگی بہتر ہے… وہ اپنی ترتیب سے اللہ
تعالیٰ کا ذکر تو کرتے ہیں… جب کہ ان لوگوں کی زندگیوں میں سے… ’’اللہ تعالیٰ‘‘
نکل چکا ہے… نہ اللہ تعالیٰ کا نام… نہ اللہ تعالیٰ کی یاد… نہ اللہ تعالیٰ کی
محبت… نہ اللہ تعالیٰ کا خوف… اور نہ اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کی پرواہ… جی ہاں
شیطان غالب آجائے تو انسان کو ایسا ہی ’’ مُردار‘‘ بنا دیتا ہے… کسی نوجوان کو
میوزک کی دُھن میں مست گاڑی چلاتا دیکھیں… دل شرم اور خوف سے کانپ جاتا ہے… او!
بیوٹی پارلروں میں جاکر خوبصورت بننے کی کوشش کرنے والو… اللہ تعالیٰ کے ذکر اور
اللہ تعالیٰ کے راستے کے جہاد کو اختیار کرو… تب اللہ تعالیٰ تمہیں وہ ’’حسن‘‘
عطاء فرمائے گا جس کا کوئی مقابلہ بھی نہیں کرسکے گا…
گدھوں کی منڈی
چند دن پہلے بی بی سی پرخبر سنی کہ امریکہ اور نیٹو نے
’’اعتدال پسند طالبان‘‘ ڈھونڈنے اور اُن سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا ہے… میری
زبان سے بے ساختہ نکلا کہ ایک اور منڈی لگ گئی… اب بہت سے نام نہاد مجاہدین خود کو
بیچنے کے لئے ایک دوسرے سے بڑھ کر سبقت کریں گے… ہائے مسلمان تجھے کیا ہو گیا…
اللہ تعالیٰ کا ذکر چھوٹا تو دل سخت ہو گئے… اور دنیا کے حقیر مال کے پجاری بن
گئے… ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جو مجاہدین تلاوت، تقوٰے، نماز اور ذکر کا
اہتمام کرتے تھے وہ بہت کامیاب رہے… مگر جن کا جہاد ’’سیاسی‘‘ تھا یا صرف
’’جذباتی‘‘ وہ زیادہ دیر استقامت نہ دکھا سکے… کہاں ہے… استاد سیاف؟ کہاں گئے
برہان الدین ربانی… اور کہاں گئے پیرصبغت اللہ مجددی… یہ سب مجاہدین کے بڑے تھے
مگر آج امریکہ کی گود میں جاگرے ہیں… صرف دنیا کی خاطر، صرف عزت کی خاطر، صرف
حفاظت کی خاطر… حالانکہ یہ سب کچھ امریکہ کے ہاتھ میں نہیں ہے… جہاد کشمیر کے کئی
نامور مجاہد آج دہلی میں بیٹھ کر ہندو مشرک کی غلامی کرتے ہیں… مسلمان اگر دل سے
کلمہ پڑھے تو وہ کبھی نہیں بِک سکتا مگر جب دل ہی مسلمان نہ ہوا ہو تو صرف داڑھی
پگڑی سے کیا بنتا ہے… طالبان کے سابق وزیرخارجہ وکیل احمد متوکل صبح شام کرزئی اور
امریکہ کی انگلیوں پر ناچتے ہیں… اور اب مزید گدھے خریدنے کیلئے ایک نئی منڈی کا
اعلان ہوا ہے… اللہ تعالیٰ سب مجاہدین کے ایمان کی حفاظت فرمائے… کافروں کے ہاتھوں
فروخت ہونے کی بجائے موت آجائے تو وہ بہت بڑی نعمت ہے۔
نظامِ ذکر فرض ہے
ہمارے ایک اللہ والے بزرگ فرماتے تھے… ہر چیز محبت سے وجود
میں آتی ہے اور ذکر سے ترقی کرتی ہے اور بڑی ہوتی ہے… مجاہد بھی جہادی جماعت اللہ
تعالیٰ کی محبت میں بناتے ہیں… اسی طرح مدرسے والے مدرسہ اور دینی اداروں والے
اپنے ادارے اللہ تعالیٰ کی محبت میں بناتے ہیں… اب اگر ان میں ’’ذکراللہ‘‘ کا نظام
قائم ہو تو یہ جماعتیں، مدرسے اور ادارے ترقی کرتے ہیں اور فلاح پاتے ہیں… لیکن
اگر ان میں ذکراللہ کا نظام نہ ہو تو سب دنیاداری کے اڈے بن جاتے ہیں… نماز کا
اہتمام، تلاوت کا اہتمام، ذکر وتسبیح کا اہتمام، درودشریف اور استغفار کا اہتمام…
اور ہر کام میں سنت کا اہتمام… مسنون دعائوں کا اہتمام اور اللہ تعالیٰ کے احکامات
کی پیروی کا اہتمام… یہ سب ’’ذکراللہ‘‘ کے نظام میں داخل ہے… اور اصل چیز اللہ
تعالیٰ کی وہ محبت ہے جو اخلاص اور احسان کے مقام تک پہنچی ہوئی ہو… نماز اللہ
تعالیٰ کے لئے… جہاد اللہ تعالیٰ کے لئے… اور آپس کی دوستی اور دشمنی سب اللہ
تعالیٰ کے لئے ہو تو پھر دین کا ہرکام قبول ہوتا ہے اور ترقی کرتا ہے…
عجیب محرومی
ہمارے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو
دعائیں سکھائی ہیں ان میں بہت بڑی خیر اوربرکت پوشیدہ ہے… مگرکئی مسلمان ان دعائوں
کا اہتمام نہیں کرتے… اناللہ وانا الیہ راجعون… وجہ پوچھو تو کہتے ہیں کہ ٹائم
نہیں ملتا یا یاد نہیں رہتی… اللہ کے بندو! تمہیں کتنی دوائیوں کے نام یاد ہیں…
کتنے لوگوں کے نام یاد ہیں… اور تو اور سری لنکا کے کالے کھلاڑیوں کے مشکل نام تک
یاد ہیں… پھر مبارک دعائیں یاد کیوں نہیں ہوتی؟… کیا تمہاری زندگی رسولِ پاک صلی
اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے زیادہ ’’مصروف‘‘ ہے… اس کائنات میں سب سے
زیادہ ’’مصروف‘‘ زندگی آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے گزاری… جب آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی مصروف زندگی کے باوجود اِن دعائوں کا
اہتمام فرمایا تو پھر کسی اور کے لئے کیا عذر رہ جاتا ہے… اللہ کے بندو اور اللہ
کی بندیو! ان دعائوں کی برکت سے انسان کے وقت اور عمر میں برکت ہو جاتی ہے… اور
زندگی نور سے بھر جاتی ہے… اس لئے ان نعمتوں سے ہم سب خوب خوب فائدہ اٹھائیں…
دل اور روح کا حق
’’ذکراللہ‘‘ انسان کے دل اور روح کی خوراک اور روزی ہے… ہم
اپنے جسم کے لئے کتنی محنت کرتے ہیں تو کیا ہم پر ہماری روح اور دل کا کوئی حق
نہیں ہے؟… یاد رکھو دل مُردہ ہو گیا تو نہ گناہ سے باز آئے گا اور نہ کفر سے…
بلکہ سیدھا جہنم کی طرف لے جائے گا… اور روح مُردہ ہوگئی تو اسے بھی جہنم میں جانا
پڑے گا… اللہ کے بندو، اللہ کی بندیو… تھوڑی دیر خالص اللہ پاک کی رضا کے لئے
تنہائی میں تلاوت تو کرکے دیکھو… دل اور روح کو کتناسکون ملتا ہے؟… تھوڑی دیر
تنہائی میں اللہ پاک کی خالص رضا کے لئے اللہ اللہ کرکے دیکھو… سبحان اللہ، والحمدللہ،
اللہ اکبر، پڑھ کر دیکھو… یوں لگے گا کہ دل کے زخم مندمل ہورہے ہیں…کبھی ایک نماز
تو خالص اللہ پاک کی رضا کیلئے اور اُس کی یاد میں مشغول رہ کر ادا کرو… دل
آسمانوں سے اوپر پہنچ جائے گا… یاد رکھو ذکر میں فائدے ہی فائدے ہیں… اور
’’ذکراللہ‘‘ سے غفلت میں نقصان ہی نقصان ہے… علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے
قرآن پاک کی آیات اور احادیث مبارکہ کو سامنے رکھ کر ’’ذکراللہ‘‘ کے سو فائدے
لکھے ہیں… جس کو شوق ہو اُن کی کتاب ’’الوابل الصیّب‘‘ میں دیکھ لے… اُن سو فائدوں
میں سے چند ایک یہ ہیں…
(۱) ذکر اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ ہے۔
(۲) ذکر شیطان کو دفع کرتا ہے اور اُس کی قوت کو توڑتا ہے۔
(۳) ’’ذکراللہ‘‘ دل سے فکر وغم کو دور کرتا ہے۔
(۴) ’’ذکراللہ‘‘ بدن اور دل کو طاقت بخشتا ہے۔
(۵) ’’ذکراللہ‘‘ چہرے اور دل کو منور کرتا ہے۔
(۶) ’’ذکراللہ‘‘ رزق میں برکت کا ذریعہ ہے۔
(۷) ’’ذکراللہ‘‘ اللہ تعالیٰ کے قرب اور اُس کی معرفت کا ذریعہ
ہے۔
(۸) ’’ذکراللہ‘‘ کرنے والے کا ذکر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہوتا
ہے۔
(۹) ’’ذکراللہ‘‘ دل اور روح کی روزی ہے۔
(۰۱) ’’ذکراللہ‘‘ آدمی کی ہر ترقی کا ذریعہ ہے۔
آج سے نیت کرلیں
اب تک جو غفلت ہوگئی اُس پر استغفار کرلیا جائے… حضرت شیخ
الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’فضائل ذکر‘‘ کا ایک
بار مطالعہ کرلیا جائے… پختہ نیت کرلی جائے کہ نماز میں کوئی غفلت، سستی نہیں
ہوگی… اور نماز باجماعت توجہ سے ادا کریں گے… اور نماز میں دل اور جسم کو اللہ
تعالیٰ کی طرف متوجہ رکھیں گے… نہ ہاتھوں کو بار بار ہلائیں گے اور نہ کپڑوں سے
کھیلیں گے… تلاوت کے ناغے کا تصور بھی نہیں کریں گے (عورتیں مجبوری کے ایام میں
تلاوت کے وقت کسی اور ذکر کا اہتمام کرلیا کریں)… اور اپنے تمام معمولات اور اذکار
کو سب سے زیادہ ترجیح دے کر پورا کریں گے… یاد رکھو مسلمانو! اگر میری اور آپ کی
زندگی میں ’’ذکراللہ‘‘ آگیا تو پھر ہم ہرچیز کے مالک بن جائیں گے… کیونکہ ذکراللہ
بہت بڑی چیز ہے۔
ولذکراللہ اکبر
دعاء کریں… اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے یہ بڑی چیز اور بڑی
نعمت مجھے اور آپ کو نصیب فرمادے۔
اللہ، اللہ، اللہ
آمین برحمتک یا ارحم الراحمین
وصلی اللہ تعالیٰ علی خیرخلقہ سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم
تسلیما کثیراکثیراکثیرا
٭٭٭
دو کمزوریاں
اللّٰھم بارک لنا فی رجب و شعبان وبلّغنا رمضان…
یہ بہت قیمتی اور مبارک دعاء ہے… شعبان کے جتنے دن باقی ہیں
ان میںکثرت کے ساتھ اس دعاء کا اہتمام کیا جائے… ہم
سب اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کے محتاج ہیں… اور
رمضان المبارک کا مہینہ بالکل قریب ہے…اُ س کو ایمان کے ساتھ پانے کے لئے جس قوت
اور طاقت کی ضرورت ہے… وہ بھی اس دعاء کی برکت سے نصیب ہو سکتی ہے… دشمنانِ
اسلام اللہ تعالیٰ کے انتقام کے گھیرے میںہیں… انڈیا میں اس
سال بارشیں کم ہونے کی وجہ سے چاول کی فصل تباہ ہو گئی ہے… من موہن
سنگھ نے سخت مایوسی اور پریشانی کا اظہار کیا ہے… اور دوسری طرف امریکہ
اور نیٹو کے بعض ممالک کے درمیان اختلافات شدید ہوتے جار ہے ہیں… ایسے
حالات میں ہمیں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور برکت کی بے حد ضرورت ہے…
اللّٰھم بارک لنا فی رجب و شعبان وبلّغنا رمضان
دو کمزوریاں
ہم مسلمانوں میں کمزوریاں تو بہت سی پیدا ہو گئی ہیں… مگر
دو کمزوریاں ایسی ہیں جنہوں نے تقریباً ہر مسلمان کو جکڑ رکھا ہے… حضور اقدس صلی
اللہ علیہ وسلم کی لخت ِجگر حضرت فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنہا کے گھر
میں ایک دن مکمل فاقہ تھا… حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی
اللہ عنہانے بھوک کی حالت میں رات گزاری… صبح حضرت علی رضی اللہ
عنہ ایک معمولی سی چادر لپیٹ کر خود کو سردی سے بچاتے ہوئے ایک یہودی
کے باغ میں گئے… وہاں آپ ذنے پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچنے کی مزدوری کی… یہودی نے
اُن کو ہر ڈول کے بدلے ایک کھجور دی… اس مزدوری کی وجہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ
کے ہاتھ سوج گئے… واپس تشریف لا کر کچھ کھجوریں حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کی خدمت میں پیش کر دیں… اور باقی کھجوروں سے کائنات کے خوش قسمت
جوڑے نے اپنی بھوک کو ٹھنڈا کیا… یہ سب کچھ ہوگیا مگر نہ آہ نکلی نہ کوئی شکوہ…
وہ بھوک پیاس کی حالت میں بھی اللہ تعالیٰ سے راضی اورخوش
تھے… اور خود کو سعادت مند محسوس کر رہے تھے… وجہ یہ تھی کہ وہ نعمتوں کی قدر اور
قیمت پہچانتے تھے… ایمان کی نعمت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے خاندان سے ہونے کی نعمت… ہجرت کی نعمت… دیندار ی کی نعمت… یہ
وہ نعمتیں ہیں جن کی قیمت کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے… یہ وہ نعمتیں ہیں جن سے
فرعون، قارون اور ابو جہل محروم رہے تو باوجود حکومت، مال اور سرداری کے ذلیل و
خوار ہو گئے… آج ہم مسلمانوں میں یہ بڑی کمزوری آگئی ہے کہ
ہم اللہ تعالیٰ کی اصلی اور بڑی نعمتوں کی قیمت سے ناواقف
ہو گئے ہیں… قرآن کے حافظ رو رہے ہیں کہ اُن کے گھر میں فریج نہیں ہے…اناللہ وانا
الیہ راجعون… مجاہدین رو رہے ہیں کہ ان کے اپنے ذاتی مکان نہیں
ہیں… اناللہ وانا الیہ راجعون… دیندار آہیں بھر رہے ہیں کہ اُن کے پاس
زیاد ہ پیسہ نہیں ہے… اناللہ وانا الیہ راجعون
گویا کہ جہاد، حفظِ قرآن او ر دینداری کی نعمتیں کچھ بھی
نہیں؟ … اللہ تعالیٰ نے ایک آدمی کو کوٹھی دی اور دوسرے کو قرآن پاک
… آپ بتائیں کہ ان میں سے زیادہ احسان کس پر ہوا؟… کوٹھی تو ایک دن گر جائے گی…
اُس پر کوئی قبضہ بھی کر سکتا ہے…مگر قرآن تو ماشاء اللہ ،
سبحان اللہ … قبر میں بھی ساتھ دے گا اور حشر میںبھی… جہاد کتنی عظیم
الشان نعمت ہے؟… فضائل جہاد میں سے چند آیات اور احادیث پڑھ کر دیکھ لیں… اگر کسی
انسان کے پاس دس کروڑ روپے ہوں اور وہ ان کے بدلے جہاد کا ایک منٹ خرید لے تو… آپ
یقین جانیں اُس نے مٹی کے بدلے سونے کا پہاڑ خرید لیا… مگر یہاں یہ حالت ہے کہ جن
کو صبح و شام جہاد اور پہرے داری نصیب ہے وہ گاڑی تک کو جہاد سے بڑی نعمت سمجھ رہے
ہیں… اناللہ وانا الیہ راجعون… اللہ تعالیٰ ہم مسلمانوں کی
اس کمزوری کو دور فرمائے… یہ کمزوری دور ہو گئی تو ناشکری کی آگ ٹھنڈی ہو جائے
گی… آپس کا حسد ختم ہو جائے گا… مسلمان اصل نعمتوں کو حاصل کرنے والے بن جائیں گے
… اور گھروں اور جماعتوں کا اتفاق و اتحاد واپس لوٹ آئے گا … آج مسلمان جن چیزوں
پر ایک دوسرے سے حسد کر رہے ہیں وہ تو اصلی اور بڑی نعمتیں نہیں ہیں… مال، عہدے، گاڑیاں
ظاہری عزت… یہ تو عام سی چیزیں ہیں… کسی کے پاس جتنی بھی ہوں تو ہمیںکیا… اصل
نعمتیں تو ایمان، اسلام، دین، نماز، قرآن ، تقویٰ، صدقہ، جہاد اور شہادت وغیرہ
ہیں… ان نعمتوں کی تمنا بھی کرنی چاہئے او ر قدربھی… میری بات پر یقین نہ آئے تو
ابھی کسی قبرستان میں چلے جائیں اور مُردوں سے پوچھیں کہ… اب اُن کے پاس مال،
گاڑیاں، عہدے ہیں… یا ایمان، قرآن، جہاد اور نیکیاں… اور پھر کچھ پرانی قبروں پر
چلے جائیں اور اندازہ لگائیں کہ ان کو دنیا چھوڑے ہوئے کتنا عرصہ گزر چکا ہے… تب
آپ کو ان شاء اللہ اس بات کا یقین آجائے گا… دوسری
بڑی کمزوری ہم مسلمانوں میں… دعاء سے محرومی ہے…دل کے یقین اور قوت کے ساتھ ہم
دعائیں نہیں مانگتے … ہماری نظر اسباب اور وسائل پر زیادہ اور دعاء پر بہت کم ہے …
اسی لئے ہم پر رحمت کے بہت سے دروازے بند ہیں … ہماری نظر میں سو روپے کا نوٹ بہت
کچھ کر سکتا ہے مگر دو رکعت نماز اور دعا ء سے (نعوذباللہ) کچھ نہیں ہوتا … ہماری
اس کمزوری نے ہمیں ’’عالم قدس ‘‘ سے کاٹ کر ’’مٹی‘‘ میں ملا دیا ہے… اللہ تعالیٰ
رحم فرمائے اور ہمیں یقین والی دعائیں مانگنے کی توفیق عطا فرمائے…آمین
رمضان المبارک کا استقبال
رمضان المبارک تشریف لانے والا ہے…ہمیں ابھی سے تیاری شروع
کردینی چاہئے… کوئی بڑا معزز مہمان آرہا ہوتا ہے تو اُس کے لئے بہت کچھ کیاجاتا
ہے…رمضان المبارک تو بہت معزز مہمان ہے…ہمیں ابھی سے اپنا دل اور منہ دھوکر اس
مہمان سے ملاقات کی تیاری کرنی چاہئے… کاروباری حضرات اپنے کاروبار سمیٹ کر ایسی
ترتیب بنائیں کہ انہیں عبادت وتلاوت کا زیادہ سے زیادہ وقت مل سکے… اللہ والوں کو
محاذوں کا رُخ کرنا چاہئے کہ…رمضان غزوہ بدر اور فتح مکہ کا مہینہ ہے… یہ مہینہ
اگر جہاد یا رباط میں گزرے تو پھر کیا ہی مزے ہیں…اہل قرآن کو ابھی سے قرآن پاک
کی طرف زیادہ توجہ شروع کردینی چاہئے … اور خواتین کو خاص طور سے رمضان کی تیاری
کا اہتمام کرنا چاہئے…
٭…جن کے ذمہ زکوٰۃ باقی ہے وہ فوراً خوشدلی کے ساتھ زکوٰۃ
ادا کریں… نوٹ اور زیورات کم ہونے سے نہ گھبرائیں … بلکہ ان نوٹوں اور زیورات کو
اپنی اصل زندگی کے لئے آگے بھیجنے کی عقلمندی کریں۔
٭…جن کی نمازیں کمزور چل رہی ہیں وہ باجماعت اور باتوجہ
نماز کا ابھی سے اہتمام شروع کردیں… نماز کے بغیر ایمان اور اسلام بس نام کے ہی رہ
جاتے ہیں…اور کمزوری کے آخری درجے پر پہنچ جاتے ہیں۔
٭…جن کے ذمے کسی کاقرضہ ہے …اور ان کے پاس مال موجود ہے
توفوراً قرضہ ادا کریں… مال کو اپنے پاس رکھ کر خوش ہوتے رہنا بہت بری عادت ہے…مال
اس لئے ہوتا ہے کہ اس کے ذریعہ نیکیاں کمائی جائیں اور گناہوں سے بچا جائے… پس آپ
بھی اپنا قرضہ ادا کرکے اپنی جان چھڑائیں…قرضہ ادا ہو گا تو رزق میں برکت شروع
ہوجائے گی۔
٭… جن کی موبائل دوستیاں چل رہی ہیں…ناجائز یاریاں بڑھ رہی
ہیں وہ رمضان المبارک کے استقبال میں اپنے نمبر بدل لیں اور اللہ تعالیٰ کے نام کی
قسم کھالیں کہ… ہم اب موبائل اور کمپیوٹر کا غلط استعمال نہیں کریں گے… اللہ
تعالیٰ کے نام کی عظمت اور قسم ان شاء
اللہ ان کے ارادوں کو مضبوط کردے گی…
٭…جن کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہے وہ ابھی سے اپنے غریب
رشتہ داروں کیلئے…مجاہدین اور دینی مدارس کیلئے لفافے بنانے شروع کردیں…بہت خوشی
اورروحانی سرمستی کے عالم میں بڑے بڑے نوٹ ان لفافوں میں بھر کر…ان لفافوں کو خوشی
سے دیکھیں کہ یہ ہے میرا اصل مال جو میرے کام آئے گا…
افطار
کے لئے کھجوریں خریدیں کہ…رمضان المبارک سے پہلے تقسیم کرنی ہیں… اور کھلے دل کے
ساتھ مالی ہدایا کے ذریعے رمضان المبارک کے استقبال کی تیاری کرلیں…
٭…اہل جہاد نیت کرلیں کہ…جہاد کے حوالے سے جو کام ہمارے ذمے
لگا رمضان المبارک میں بھرپور اخلاص اور محنت کے ساتھ کریں گے… شہداء کرام کے
گھرانوں کا خصوصی خیال رکھیں گے…اپنے اسیربھائیوں کے لئے خوب اچھا سامان بھیجیں
گے… اور ان کے لئے زیادہ دعائیں مانگیں گے…
جی ہاں… اللہ تعالیٰ کا مہینہ رمضان المبارک آرہا ہے…
ہرمسلمان اپنی ہمت… شوق اور طاقت کے مطابق تیاری شروع کر دے…اللہ تعالیٰ سعدی فقیر
کو…اور آپ سب کو توفیق عطا فرمائے…
شعبہ احیائے سنت
ہماری مبارک جماعت کا شعبہ’’ احیاء سنت‘‘کافی عرصہ سے کام
کر رہا ہے…جب یہ شعبہ قائم ہوا تو اس کی ذمہ داری ہمارے محترم بزرگ قاری عمرفاروق
صاحب زیدقدرہ نے سنبھالی… ماشاء اللہ حضرت قاری صاحب نے بہت محنت فرمائی اور تھوڑے
ہی عرصہ میں اس شعبہ کو بہت پذیرائی ملی…یہ شعبہ دیندار گھرانوں کے درمیان رشتوں
کیلئے رابطہ کا کام کرتا ہے… دیندار گھرانے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے کوائف لکھ کر
بھیجتے ہیں … اورجس طرح کارشتہ مطلوب ہو اس کی تفصیلات بھی لکھتے ہیں … شعبہ احیاء
سنت ان کوائف کی روشنی میں’’مناسب جوڑ‘‘ بنا کر دونوں خاندانوں کا باہمی رابطہ
کرادیتا ہے… بس اس شعبے کا کام اتنا ہی ہے… اور ماشاء اللہ یہ بہت بڑا کام ہے… بہت
اجر والا …بہت نیکی والا… اور بہت خیر والا… شعبۂ احیاء سنت کسی کو کسی کے ہاں
رشتہ کرنے کی ترغیب نہیں دیتا… اور نہ کسی کے سامنے کسی کی سفارش کرتا ہے… یہ شعبہ
بس خاندانوں کے درمیان رابطہ کرادیتا ہے…باقی تمام کام اُن خاندانوں کو کرنے ہوتے
ہیں… وہ ایک دوسرے کودیکھیں، پسند یا ناپسند کریں … رشتہ کریں یانہ کریں…یہ سب اُن
خاندانوں کی اپنی مرضی پر موقوف ہوتا ہے… الحمدللہ اس شعبے کی برکت سے بہت سے
نوجوانوں کو اور بیٹیوں کو اچھے دینی رشتے مل گئے … اور بہت سے خاندان ایک دوسرے
سے جڑ گئے… گزشتہ دنوں بندہ نے ’’شعبہ احیاء سنت‘‘ کا تمام ریکارڈ منگوا کر دیکھا
تو حضرت قاری عمر فاروق صاحب کیلئے دل سے دعائیں نکلیں… اللہ تعالیٰ اُن کو بہت
جزائے خیر اور صحت وعافیت عطا فرمائے… انہوں نے بے شک مثالی محنت فرمائی ہے…
قارئین کو یہ پڑھ کر صدمہ ہوگا کہ حضرت قاری صاحب کچھ عرصہ سے کافی علیل ہیں…پچھلے
دنوں تو وہ کئی ہفتے تک ہسپتال میں داخل رہے… قارئین سے درخواست ہے کہ اُن کی صحت
وعافیت کیلئے دعا فرمائیں… حضرت قاری صاحب کی علالت کی وجہ سے ’’شعبہ احیاء سنت‘‘
کا کام رک گیا تھا… محترم قاری صاحب سے مشورہ کرنے کے بعد اب محترم جناب سلیس احمد
صاحب کو اس شعبے کا نیا ناظم مقرر کیا گیا ہے… اور شعبے کا دفتر رحیم یار خان سے
بہاولپور منتقل کردیا گیا ہے… اہل ایمان درج ذیل باتوں کا خیال رکھتے ہوئے اس
مبارک شعبے سے استفادہ کرسکتے ہیں…
(۱)’’نکاح‘‘ ایک پاکیزہ اور مقدس رشتہ ہے، اس کو مذاق نہ بنایا
جائے۔
(۲)شعبہ احیاء سنت سے اُسی وقت رابطہ کریں جب آپ رشتے کے بارے
میں سنجیدہ ہوں۔
(۳)شعبے پر اس بات کا بوجھ نہ ڈالیں کہ وہ رشتے کی تمام تر ذمہ
داری قبول کرے…شعبہ صرف تعارف اور رابطہ کراتا ہے… اس سے زیادہ کی ذمہ داری قبول
نہیں کرتا… اور نہ کسی کی قسمت اور تقدیر کو کوئی بدل سکتا ہے… شعبہ احیاء سنت کے
بارے میں آپ کو مزید معلومات…القلم کے اسی شمارے میں ایک مضمون اور ایک اشتہار کے
ذریعہ حاصل ہوجائیں گی… اللہ تعالیٰ اس شعبے کو مسلمانوں کے لئے خیروبرکت کا ذریعہ
بنائے… آمین یا ارحم الراحمین
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ
سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ درجات بلند فرمائے… شہادت
قبول فرمائے اور اعلیٰ علیین میں مقام نصیب فرمائے…
حضرت مولانا علّامہ علی شیر حیدری گزشتہ رات شہید کر دیئے
گئے…
اناللہ وانا الیہ راجعون
انّ لِلّٰہ ما اعطیٰ ولہ ما أَخذ وکل شیٔ عندہ باجل مسمیّٰ
ابھی تھوڑی دیر بعد چار بجے اُن کی نماز جنازہ ادا کی جائے
گی… اور پھر وہ خاک کی چادراوڑھ لیں گے… اللہ تعالیٰ اُن پر
رحمت فرمائے وہ بڑے عالم اور بلند پایہ خطیب تھے… اُن کے جانے سے اُمت کا بڑا
نقصان ہوا… ملک میں کئی جگہوں پر ہنگاموں کی خبر ہے… بہت سے مسلمان غم سے نڈھال
اور جذبات سے بے قابو ہیں… سب سے زیادہ اُداس اہلِ حق کا وہ’’اسٹیج‘‘ ہے جو آہستہ
آہستہ گُھپ ویرانی کی طرف جارہا ہے…علامہ حیدری رحمۃ اللہ علیہ دلیل سے بات کرتے
تھے اور علم کے زور پر بولتے تھے… انہوں نے حضرت تونسوی مدظلہ اور حضرت مولانا
محمد امین صاحب صفدررحمۃ اللہ علیہ سے علم مناظرہ کی تکمیل کی تھی… اور خود بھی صف
شکن مناظر تھے… اللہ تعالیٰ نے اُن کو بلند آہنگ اور اچھی آواز سے
نوازہ تھا اور جسمانی طور پر بھی خوب باوجاہت تھے… کچھ عرصہ پہلے اُن کے ’’والد
محترم‘‘ کو شہید کیا گیا تھا اور آج اُن کا خون آلود جنازہ بھی مسلمانوں کے
کندھوں پر ہے… اہل علم تیزی سے اٹھتے جارہے
ہیں… اللہ تعالیٰ اُمتِ مسلمہ پر رحمت اور رحم فرمائے…
ایک بھاری عمل
ہم سب بھی تیزی سے اپنی قبروں کی طرف دوڑ رہے ہیں… اچھا
ہوگا کہ مرنے سے پہلے ہم اپنی آخرت کے لئے اچھے اعمال کا ذخیرہ کر لیں… آخرت میں
کام آنے والے اعمال میں سے ایک بھاری عمل مسلمانوں کو معاف کرنا ہے… آپ کسی مسجد
میں چلے جائیں یا گھر ہی میں اپنے مصلّے پر کچھ نماز ادا کریں… اور پھر دل کی
سچائی کے ساتھ یہ دعاء کریں… یا اللہ جس کسی مسلمان نے مجھے ایذاء
پہنچائی ہے، کوئی تکلیف دی ہے، یا میری غیبت کی ہے… یا میری حق تلفی کی ہے… یا مجھ
پر کوئی ظلم کیا ہے… یا اللہ میں نے آج آپ کی رضا کے لئے
اُسے معاف کر دیا ہے آپ بھی اپنا فضل فرما کر اُسے معاف فرمائیں…
دعاء کے آخر میں درود شریف پڑھ لیں… اگر ہم نے دل کی سچائی
سے یہ عمل کر لیا اور آئندہ بھی کرتے رہے تو ان شاء اللہ
ہم پر اللہ تعالیٰ کے فضل کے دروازے کُھل جائیں
گے…کیونکہ
(۱) اللہ پاک اُن مسلمانوں سے محبت فرماتے ہیں
جو اپنے مسلمان بھائیوں کو معاف کر تے ہیں…
(۲) مسلمانوں کو معاف کرنے والوں کے لئے جنت میں خاص محلاّت تیار کئے گئے ہیں…
(۳) قرآن پاک میں اُن لوگوں کی تعریف فرمائی گئی ہے جو دوسروں کو معاف کرتے
ہیں والعافین عن الناس
(۴) دوسروں کو معاف کرنے سے ہم خود اللہ تعالیٰ
کی معافی کے مستحق بن جاتے ہیں…
(۵) دوسروں کو معاف کرنے سے اپنا دل بغض، کینے اور دوسری خرابیوں سے پاک ہو جاتا
ہے
(۶) دلوں کا بغض اور کینہ رزق اور برکت کے راستے کی رکاوٹ ہوتا ہے جب ہم دوسروں کو
دل سے معاف کرتے ہیں تو ہم پر روزی، بخشش اور برکت کے دروازے کُھل جاتے ہیں…
(۷) دوسروں کو معاف کرنا وہ صدقہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں
قبول فرمایا جاتا ہے…
اس بھاری عمل کے اور بھی بہت سے فوائد ہیں… اس عمل کی بدولت
اسلامی معاشرے میں اتحاد اورمحبت پیدا ہوتی ہے جو مسلمانوں کی قوت کا ذریعہ بنتی
ہے…باقی ایک بات اچھی طرح یاد رکھیں کہ… کسی کو معاف کرنا، بخش دینا… یا معافی اور
بخشش نہ دینا یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف
ہے… اللہ پاک کی مرضی کہ وہ ہماری دعاء قبول فرمائے یا قبول
نہ فرمائے… وہ ظلم، زیادتی کرنے والوں کو ہماری دعاء سے معاف فرمائے یا نہ معاف
فرمائے… ہم اپنے دل پر جبر کر کے اُسے’’معاف کرنے‘‘ کا عادی بنائیں… ان
شاء اللہ یہ چیز خود ہمارے لئے… اور اسلامی معاشرے کے لئے بہت
فائدہ مند ہو گی…
ایک ضروری عمل
صرف آج کا اخبار دیکھ لیں… کم از کم ایک سو لاشیں ضرور مل
جائیں گی… سوات میں اٹھارہ لاشیں ملیں… ان سب کو گولیاں مارنے کے علاوہ اُن کے
چہرے بھی خراب کر دیئے گئے ہیں… وزیرستان میں چودہ لاشیں ایک جگہ سے اور چار لاشیں
دوسری جگہ سے ملی ہیں… خیرپور سندھ میں تو حضرت علامہؒ اور اُن کے ڈرائیور کو شہید
کیا گیا ہے… اور چوری، ڈکیتی وغیرہ میں قتل ہونے والوں کی لاشیں بھی اخبارات میں
تصویروں کے ساتھ موجود ہیں… کیاہم نے کبھی سوچا ہے کہ کل کے اخبارات میں ہماری لاش
بھی ایک خبر بن سکتی ہے؟…موت سے ڈرنا تو اچھی بات نہیں ہے… لیکن موت کو یاد رکھنا
اور اُس کی تیاری کرنا ایک مسلمان کے لئے بے حد ضروری ہے… میں اور آپ تھوڑا سا
سوچیں کہ کیا ہم مرنے کے لئے تیار ہیں؟ … ایک بزرگ کا واقعہ پڑھا تھا کہ انہوں نے
ایک بار خلوت میں اپنے خادم سے کہا… آج الحمدللہ میں موت کے لئے
اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے لئے مکمل طور پر تیار ہوں… ہم
بھی زندگی کا ایک دن موت کی تیاری میں گزار دیں
(۱) اپنے تمام گناہوں سے پکّی توبہ کر لیں اور خوب معافی مانگیں…
(۲) اپنے مالی معاملات درست کر لیں اور جو لکھنے کے لائق ہوں وہ وصیت نامے میں لکھ
دیں
(۳) کسی کی کوئی زمین… پلاٹ یا مال پر قبضہ کر رکھا ہو تو واپس کر دیں…
(۴) جن مسلمانوں کے حقوق ضائع کئے ہوں اُن سے معافی مانگ لیں اور اگر
وہ دنیا سے گزر چکے ہیں تو اُن کے لئے ایصال ثواب کریں…
(۵) اُس دن کی تمام نمازیں اس طرح سے ادا کریں کہ گویا یہ میری آخری نمازیں ہیں…
(۶) اپنے مال میں سے جو کچھ آخرت میں ساتھ لے جانا چاہیں وہ جہاد وغیرہ دینی
کاموں میں دے دیں…
(۷) سارا دن ہرطرح کے گناہوں سے خود کو بچائیں اور سارا دن نیکی اور توبہ استغفار
میں گزاریں…
اورپھر شام کو یہ سوچ کر مسجد جا بیٹھیں کہ آج سجدے کی
حالت میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہونی ہے… اور میری روح نے
اس دنیا کو چھوڑ جانا ہے…
ہمت کریں اور صرف ایک دن ایسا گزارلیں… کیا فائدہ ہوگا؟ اس
کا جواب آـپ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے…
ایک نیا تحفہ
الحمدللہ ’’رنگ
ونور‘‘ کتاب کی چوتھی جلد تقریباً تیارہو چکی ہے…نیٹ اور موبائل کے اس دور میں
کتابوں کی اہمیت کم ہوتی جارہی ہے…مگر اللہ تعالیٰ کا شکر
ہے کہ اہل اسلام نے ’’رنگ ونور‘‘ کی پہلی تین جلدوں کو محبت کے ساتھ ہاتھوں ہاتھ
لیا… بعض حضرات نے خطوط لکھ کر اطلاع بھی دی ہے کہ الحمدللہ انہیں اس کتاب سے فائدہ ہوا ہے… کتاب کی چوتھی
جلد تقریباً پچاس مضامین پر مشتمل ہے… دعاء فرمائیں کہ یہ کتاب جلد شائع ہو جائے
اور اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہو…
ایک مفید محنت
اللہ تعالیٰ نے ہماری کامیابی اپنے پورے
دین میں رکھی ہے… اور پورا دین وہ ہو گا جس میں کلمہ بھی ہو، نماز بھی ہو… جہاد ا
ور دیگر تمام فرائض بھی ہوں… جہاد کے بغیر دین پورا نہیں ہوتا… جو لوگ یہ سمجھتے
ہیں کہ جہاد کو مانے بغیر اور جہاد میں حصہ ڈالے بغیر وہ پورے دین پر عمل کر رہے
ہیں… وہ لوگ بہت بڑی غلطی میں مبتلا ہیں… دین تو قرآن پاک میں بیان ہوا ہے… اور
قرآن پاک جہاد کو بہت تفصیل سے بیان فرماتا ہے… دین تو جناب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے
قول، فعل اور عمل سے سکھایا ہے… اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
جہاد کو بیان بھی فرمایاہے اور جہاد میں خوب شرکت بھی فرمائی ہے… جس طرح کوئی عمل
نماز کامتبادل نہیں بن سکتا… اسی طرح کوئی عمل جہاد کا متبادل بھی نہیں بن سکتا…
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کی
جو محنت فرمائی اس میں جہاد سب سے بڑی محنت تھی… اگر کسی کی نظر میں موجودہ زمانے
کی جہادی تحریکیں… شریعت کے خلاف ہیں تو اُس کا فرض بنتا ہے کہ وہ… شریعت کے مطابق
جہاد کی تحریک شروع کرے… لیکن اگر اُس نے جہاد کا ہی انکار کیا یا جہاد کا معنٰی
بدلا تو اُس کی بڑی بدنصیبی ہوگی… الحمدللہ ہمارا اخبار ’’القلم‘‘ مسلمانوں کو پورے دین کی
طرف توجہ دلاتا ہے… یہ کلمہ بھی بیان کرتا ہے اور نماز بھی… یہ زکوٰۃ کی دعوت بھی
دیتا ہے اور حج کی بھی… یہ جہاد کی طرف بھی بُلاتاہے اور تقویٰ کی طرف بھی… الغرض
یہ دین کے کسی حصّے کو نظر انداز کرنے یا تبدیل کرنے کی آواز نہیں لگاتا… بلکہ
پورے دین کی عظمت اور اہمیت دلوں میں بٹھاتا ہے… اس اخبار میں تفسیر بھی ہے اور
حدیث پاک بھی… اس میں فقہ بھی ہے اور تحقیق بھی… اس میں ایمان کی دعوت بھی ہے اور
اعمال کی بھی… اس میں ذکر کی ترغیب بھی ہے اور مجاہدے کی بھی… اور یہ اخبارامت کو
حضرات صحابہ کرامؓ اور اسلاف کے نقش قدم کی طرف کھینچتا ہے… میر ی آپ سب سے
دردمندانہ گزارش ہے کہ… یہ اخبار ایک دینی نعمت ہے آپ اس کو خوب پھیلائیں… زیادہ
سے زیادہ مسلمانوں تک پہنچائیں… اور یہ اخبار جو مقبول محنت کر رہا ہے آپ اس میں
حصّہ دار بنیں… اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو اس کی توفیق
عطا فرمائے… (آمین یا ارحم الراحمین)
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ
سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا مہینہ’’رمضان المبارک‘‘
شروع ہو چکا ہے… آپ سب مسلمانوں کو مبارک ہو بہت مبارک
رمضان مسلمانوں کا
رمضان المبارک کی ساری رحمتیں، برکتیں… اور بھلائیاں صرف
اور صرف ’’مسلمانوں‘‘ کے لئے ہیں… باقی جس کو جو کچھ ملتا ہے مسلمانوں کی برکت سے
ملتا ہے… مسلمانوں سے مُراد اللہ تعالیٰ کے وہ خوش نصیب
بندے ہیں جنہوں نے ’’دین اسلام‘‘ کو دل وجان سے قبول کیا ہے… اور وہ کلمہ
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
پر مکمل یقین رکھتے ہیں… دنیا میں جتنی بھی اچھی اور
برکت والی چیزیں ہیں وہ انہی’’ایمان والوں‘‘ کے لئے ہیں… قرآن پاک اِن کا ہے،
کعبہ شریف اِن کا ہے، روضۂ رسول صلی اللہ علیہ
وسلم اِن کا ہے… مسجد نبوی شریف ان کی ہے… مسجد اقصیٰ ان کی ہے…
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک
شریعت اور سنت ان کی ہے… نماز ان کی ہے… زکوٰۃ ان کی ہے… حج ان کا ہے… جہاد ان کا
ہے…یعنی ان عظیم الشان نعمتوں سے صرف مسلمان ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں… خلاصہ یہ کہ
مسلمانوں کے مزے ہی مزے ہیں… ہر پاک اور افضل چیز اِن کی ہے… اب رمضان المبارک میں
روزانہ جو بے شمارر حمتیں برس رہی ہیں وہ سب اِن کی ہیں… پھر عید بھی ان کی ہوگی…
مرجائیں گے تو جنت تک کھلی اور بڑی قبر اِن کی ہوگی… اور پھر آخرت میں جنت بھی
اِن کی ہو گی… سبحان اللہ وبحمدہ
سبحان اللہ العظیم…
اللہ تعالیٰ محرومی سے بچائے… کافر بے
چارے تو محروم رہ گئے… آج جھونپڑی میں بیٹھا مسلمان’’رمضان‘‘ کی رحمتوں میں غوطے
کھا رہا ہے… جبکہ وہائٹ ہاؤس میں بیٹھے کافر رمضان المبارک کی ہر رحمت اور ہر
نعمت سے محروم ہیں… اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان کی قدر نصیب
فرمائے… اے ایمان والے مسلمانو!رمضان المبارک آپ سب کو مبارک ہو… بہت مبارک
پیارا عقیدہ
شکر، الحمدللہ ہم نے رمضان المبارک اس حال میں پایا
کہ…ہم اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک لہ مانتے ہیں… الحمدللہ ،
الحمدللہ … اور ہم حضرت
محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کو اللہ تعالیٰ کا آخری رسول مانتے ہیں… الحمدللہ ، الحمدللہ … ہم تمام انبیاء پر ایمان
رکھتے ہیں… ہم اللہ تعالیٰ کی نازل فرمودہ تمام کتابوں پر
ایمان رکھتے ہیں… ہم اللہ تعالیٰ کے تمام فرشتوں پر ایمان
رکھتے ہیں… ہم تقدیر پر ایمان رکھتے ہیں کہ ہر تقدیر اللہ تعالیٰ
کی طرف سے ہوتی ہے خیر ہو یا شر… اور ہم آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں کہ… آخرت
کا دن برحق ہے… اور ہم مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر ایمان رکھتے ہیں … الحمدللہ ، الحمدللہ … ہمارا ایمان ہے کہ حضرت محمد صلی
اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد اب صرف اُن کا لایاہوا دین برحق
ہے… اور تمام انسانیت کی کامیابی اسی دین پر ہے… الحمدللہ ہم قرآن پاک پر اوّل تاآخر ایمان رکھتے ہیں…
اور اسے اللہ تعالیٰ کا کلام مانتے ہیں… الحمدللہ ، الحمدللہ … ہم پر مالک کا کتنا بڑا احسان ہے کہ
ہم نے رمضان المبارک کو اس حال میں پایا کہ ہم…
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے
افراد ہیں… ہمارا عقیدہ ہے کہ یہ اُمت سب سے افضل اور سب سے بہترین امت ہے… ہم الحمدللہ اسلام کے تمام فرائض کو دل سے مانتے ہیں … نماز
ہو یا روزہ، زکوٰۃ ہو یا حج اور جہاد… ہم اللہ تعالیٰ کے ہر فریضے کو
مانتے ہیں… اور دین کے ہر حکم کو اُسی طرح تسلیم کرتے ہیں جس طرح
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم تک
پہنچایا … الحمدللہ ہمارے دل میں دین کے
کسی حکم سے دوری، نفرت یا وحشت نہیں ہے… الحمدللہ ہمارے دل میں تمام صحابہ کرام ڑ کا مکمل احترام
ہے…حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ ہوں یا حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ
عنہ… اہل بیت کرام ہوں یا انصار و مہاجرین… ہمارے دل میں کسی سے کوئی کھوٹ نہیں…
ہم حضرات صحابہ کرام ڑ کو ہر طرح کی تنقید سے بالاتر اورکائنات کی کامیاب ترین
جماعت تسلیم کرتے ہیں…
الحمدللہ ہمارے دل میں حضرات تابعین کا پورا احترام ہے…
اور ہم دین اسلام کے خدمت گار ائمہ، فقہاء، محدّثین،مجاہدین اور صوفیاء سے محبت
رکھتے ہیں… حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ہوں یا حضرت امام مالک رحمۃ اللہ
علیہ … حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ ہو ں یا حضرت امام احمد بن
حنبل رحمۃ اللہ علیہ ہم ان سب سے محبت رکھتے ہیں… حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ
علیہ ہوں یا حضرت امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ ہم ان سب کو احترام کی نگاہ سے
دیکھتے ہیں… ہمارے دل میں ان میں سے کسی سے بھی کوئی بغض یا عداوت
نہیں… یہ ہم پر اللہ تعالیٰ کابہت بڑا احسان ہے اور بہت بڑا
فضل… اہلسنت و الجماعت کے اس مبارک اور پیارے عقیدے پر جس مسلمان نے بھی رمضان
المبارک کو پایا ہے اُسے بہت مبارک ہو… بہت مبارک…
اصل روح
رمضان المبارک میں عرش سے رحمت برستی ہے… اس مہینے کا روزہ
ہو یا تراویح… اس مہینے کے فرائض ہوں یا نوافل… سب کی قدرو قیمت بہت زیادہ بڑھ
جاتی ہے… مگر ایک بات کا ہم سب خیال رکھیں… اور بہت زیادہ خیال رکھیں… وہ یہ کہ جو
عمل بھی کریں اللہ تعالیٰ کی رضا کی نیت سے کریں… یہ اصل
روح ہے جس کے بغیر کوئی عمل بھی جاندار نہیں
ہوتا… اللہ تعالیٰ نے ہم پراحسان فرمایا کہ ہمیں ایمان کی
دولت عطاء فرمائی… اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضل فرمایا کہ ہمیں
رمضان المبارک نصیب فرمایا… تو جب سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی عطاء فرماتا
ہے تو پھر ہم اُس کے علاوہ کا خیال دل میں کیوں لائیں؟… یہاں بھی جو کچھ ملے
گا اللہ تعالیٰ سے ملے گا… اور آخرت میں بھی جو کچھ ملے
گا اللہ تعالیٰ سے ملے گا… پس ہم پر لازم ہے کہ ہم ہر عمل
صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لئے کریں… اور اس رمضان المبارک میں
ریاکاری نامی مصیبت سے چھٹکارا حاصل کر لیں… لوگ نہ عزت دے سکتے ہیں اور نہ روزی…
لوگوں کے ہاتھ میں نہ دنیا ہے نہ آخرت تو پھر…شہرت پسندی اور ریاکاری کا کیا جواز
ہے؟… روزہ، نماز،جہاد، دینی محنت اور صدقہ خیرات ہر عمل سے پہلے
ہم اللہ تعالیٰ کی خالص رضا کی نیت کر لیا کریں…پس جس کو
اخلاص نصیب ہو گیا اُسکو رمضان المبارک بہت مبارک ہو… بہت مبارک…
خود کو تھکائیں
ہم سب اس مبارک مہینے
میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے کاموں میں خود کو تھکائیں… ہم جب
عبادت اور محنت سے تھک کر گریں گے تو آسمانوں سے رحمت بارش کی طرح برسے گی… ہم
اپنے نفس کو سمجھائیں کہ اللہ کے بندے یہ بہت مبارک موسم
ہے… نیند پھر کبھی ہو جائے گی… قبر میںتو کوئی کام نہیں ہوگا… آرام پھر کبھی ہو
جائے گا… معلوم نہیں اگلا رمضان ملتا ہے یا نہیں… خوب مجاہدہ،خوب تلاوت اور خوب
نوافل… رمضان المبارک کی ایک رکعت عام دنوں کی ستر رکعت کے برابر یا اُن سے بھی
بھاری ہے… تو پھر روزانہ ساٹھ یا سو نوافل کیوں نہ ادا کریں… نوافل کے
ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب نصیب ہوتا ہے… بس خلاصہ یہ ہے کہ
رمضان المبارک کو پانے اور کمانے کی دُھن اپنے سر پر سوار کر لی جائے… اور پھر
کوئی موقع عبادت کا ضائع نہ کیا جائے… جس کو یہ کیفیت نصیب ہو گئی اُسکو رمضان
المبارک بہت مبارک ہو… بہت مبارک…
دینی محنت کرنے والے
کئی خوش قسمت لوگ رمضان المبارک میں بڑاکام کرتے ہیں…مثلاً
’’الرحمت‘‘ والوں کو ہی دیکھ لیں پورے ملک میں مسجد، مسجد…گلی ، گلی جاتے ہیں…
مسلمانوں کو ’’پورے دین‘‘ کی بات سمجھاتے ہیں… جہاد اور شہداء کے اہل خانہ کے لئے
اموال جمع کرتے ہیں… اور بڑی نیکی کماتے ہیں… ان سب کو رمضان المبارک بہت مبارک
ہو… مگر یہ تمام حضرات ایک بات یاد رکھیں… گاڑی جتنے اہم یا مقدس سفرپر ہو بغیر
پٹرول اور ایندھن کے نہیں چل سکتی… آپ حضرات بھی ایمانی قوت حاصل کرنے کے لئے
تلاوت اور نوافل کا اہتمام کریں… چلتے پھرتے زبان پر ذکر، تسبیحات، درودشریف اور
استغفار جاری رہے… اور جس قدر شوق کے ساتھ عبادت کر سکتے ہوں… کرتے رہیں… تب آپ
کے کام میں قبولیت آئے گی اور بہت برکت ہو گی… اور آپ کی محنت کے اثرات پورے
عالم میں پڑیں گے… اگر آپ نے اس بات کو سمجھ کر اپنے عمل میں شامل کر لیا تو پھر
یہ رمضان المبارک… آپ سب کو مبارک ہو… بہت مبارک…
بہت ضروری کام
گاڑی میں اے سی چلادیں مگر شیشے بند نہ کریں… گاڑی ٹھنڈی ہو
جائے گی؟… نیک اعمال کرتے رہیں مگر اپنے’’حواس‘‘ کو قابو میں نہ کریں تو نیک اعمال
کے ضائع ہونے کا خطرہ رہتا ہے… حضرت شیخ ہجویری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! مجھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں
ہدایت فرمائی کہ اپنے حواس کو قابو میں رکھو… روزے اور رمضان میں انسان کے حواس
بہت مچلتے ہیں… آنکھیں بہت کچھ دیکھنا چاہتی ہیں… زبان بہت کچھ چکھنا اور بولنا
چاہتی ہے… مگر آپ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کرفیو لگادیں…
آنکھوں کو بتادیں کہ کم دیکھو… اِدھر اُدھر تانک جھانک بند… کھڑکیوں، چھتوں سے
دیکھنا بند… راستے میں دائیں بائیں دیکھنا بند… ٹی وی وغیرہ دیکھنا بند… قرآن پاک
کو دیکھو،مساجد کو دیکھو،اور اپنے دل کے اندر جھانک کر دیکھو… زبان کو بتا دیں کہ
تیری بہت خدمت کرلی اب طرح طرح کے کھانے اور ذائقے کی فکر چھوڑ دے… رمضان میں
مؤمن کی روزی بڑھ جاتی ہے… جو کچھ حلال طریقے سے خود مل جائے وہ
بسم اللہ … مگرطرح طرح کے کھانوں کی فکر کرنا ایک فتنہ ہے جس نے
مسلمانوں کے رمضان المبارک کو پھیکا کر دیا ہے…یہ تو چند مثالیں ہیں… مطلب یہ کہ
ہم اپنے حواس کو قابو میں کر لیں اور آخرت کی لذتوں کی خاطر اپنی زندگی کے چند دن
بے لذّت بنالیں… یقین کریں اس بے لذّتی میں دل اور روح کو وہ سکون اور لذّت ملے گی
کہ… اُسے بیان کرنا مشکل ہے… جو مسلمان اس رمضان المبارک میں اپنے حواس پر قابو پا
کر… اونچے مقامات حاصل کریںگے اُن سب کو رمضان المبارک… بہت مبارک…
اخبارات
اس رمضان المبارک کو قیمتی بنانے کے لئے… عام اخبارات کا
مطالعہ یا تو بند کردیں یا بہت کم کر دیں… طرح طرح کے گمراہ کن کالم، فضول
اشتہارات، جھوٹی خبریں… اور حکمرانوں کے بیانات اور تصویریں… ان میں سے ہر چیز
دوسری سے بڑھ کر نقصان دہ ہے… روزانہ جتنا وقت اخبار میں لگاتے ہیں وہی وقت تلاوت
کرلیں… قرآن پاک کے ایک رکوع کا ترجمہ پڑھ لیں… حضرت شیخ رحمۃ اللہ
علیہ کی کتاب ’’فضائل رمضان‘‘ پڑھ لیں… آنکھیں بند کر کے مدینہ پاک پہنچ جائیں
اور دو چار تسبیح درود شریف پڑھ لیں…یا پھر سچے دل سے اللہ ، اللہ
، اللہ کے ذکر میں مشغول ہو کر عرش کے سائے کو پالیں…
اخبارات بہت مکروہ ہو چکے ہیں… اور بعض توحرام کے درجے تک جا پہنچے ہیں… رمضان
المبارک میں بس ضرورت کے مطابق ان کو استعمال کریں… اگر کوئی مسلمان اس رمضان
المبارک میں ٹی وی، کمپیوٹر، موبائل، بدنظری… اور اخبارات کے فتنے سے بچ گیا تو
اُسے رمضان المبارک… بہت مبارک…
دعاء کی درخواست
باتیں اور بھی بہت سی کرنی تھیں مگر رمضان المبارک کا مہینہ
ہے… اور آپ سب کا وقت بہت قیمتی ہے… ویسے بھی مضمون لمبا ہو جائے تو پچھلی باتیں
بھول جاتی ہیں… اللہ تعالیٰ اس رمضان المبارک میں آپ سب کی
مغفرت فرما دے… اور آپ سب کو خوب رحمتیں نصیب فرمائے… سعدی فقیر نے آپ کے لئے
دعاء کر دی … آ پ بھی اُس کے لئے یہی دعاء فرمادیں…
فجزاکم اللہ خیرا احسن الجزاء فی
الدارین…
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ
سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا بہت ہی بڑا احسان ہے کہ اُس نے ہمیں’’رمضان
المبارک‘‘ کا مہینہ نصیب فرمایا…’’رمضان‘‘ کے معنیٰ ہیں’’گناہوں کو جَلانے والا‘‘…
یعنی یہ مبارک مہینہ مسلمانوں کو گناہوں سے پاک صاف کر دیتا ہے… یاد رکھیں’’ رمضان
المبارک‘‘ صرف گناہوں کو نہیں جلاتا بلکہ گناہوں کے ساتھ ساتھ ہمارے کئی دشمنوں کو
بھی جلا کر راکھ کر دیتا ہے…
بیماریوں کو جَلانے والا
زیادہ کھانے کی وجہ سے انسان کے جسم میں کئی بیماریاں پیدا
ہوتی ہیں… خصوصاً جو لوگ انگریزوں کی طرح ہر گھنٹے یا آدھے گھنٹے بعد کچھ نہ کچھ
ضرور کھاتے ہیں اُن کے جسم میں بہت سی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں… اوراکثر
بیماریاں ایک سال کے عرصے میں جڑ پکڑ تی ہیں اور مضبوط ہوتی ہیں… رمضان المبارک کا
مہینہ آتے ہی مسلمان روزہ رکھتے ہیں… اس روزے کی وجہ سے وہ بارہ تیرہ گھنٹے بھوکے
پیاسے رہتے ہیں… اُن کے جسم میں جو بیماریاں ہوتی ہیں اُن بیماریوں کے جراثیم اور
کیڑوں کو ہر گھنٹے بعد خوراک کی ضرورت ہوتی ہے… روزے کی وجہ سے ان کیڑوں کو خوراک
نہیں ملتی تو وہ پہلے کمزور ہوتے ہیں اور پھر بالآخر مر جاتے ہیں… اوریوں مسلمان
کا جسم بہت سی بیماریوں سے پاک ہو جاتا ہے… انسان کے پاس جو مال یا زیور ہوتا ہے
اُس کو بھی بیماری لگتی ہے اور اگر ایک سال گزر جائے تو وہ بیماری پکّی ہو جاتی
ہے… اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کا نظام عطاء فرمایا… چنانچہ جس
مال کی زکوٰۃ ادا کر دی جائے وہ مال پاک اور صحت مند ہو جاتا ہے اور بہت تیزی سے
بڑھتا ہے…
اسی طرح رمضان المبارک کے روزے انسان کے جسم کی زکوٰۃ ہیں…
بہت بڑی بڑی بیماریاں ان روزوں کی برکت سے دم توڑ دیتی ہیں… ہم مسلمانوں کو چاہئے
کہ رمضان المبارک کے روزے بہت سلیقے، اہتمام اور آداب کے ساتھ رکھیں… تاکہ ہماری
روح اور ہمارا جسم بیماریوں سے پاک ہو جائے… اسی طرح ہمیں چاہئے کہ ہر مہینے میں
تین روزوں کا اہتمام کیا کریں تاکہ… ہمیں تقویٰ کی نعمت نصیب رہے…
بڑی مصیبت کو جَلانے والا
قرآن پاک کو’’حفظ‘‘ کر کے بُھلا دینا ایک بڑی اور سخت
مصیبت ہے… شیطان پورا سال مسلمانوں پر سستی اور غفلت کے پردے پھینکتا رہتا ہے تاکہ
وہ قرآن پاک سے غافل ہو جائیں… شیطان جانتاہے کہ اگر مسلمان کا قرآن پاک سے تعلق
رہے تو اس کو ناکام کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے…
’’حفظ قرآن‘‘ بہت بڑی سعادت ہے… ہم چند دن بعد مر جائیں
گے… اور پھر برزخ کی زندگی شروع ہو جائے گی… اس میں قرآن پاک بہت کام آتا ہے…
چند دن پہلے ایک مسجد میں جانے کا اتفاق ہوا… وہاں دیکھا کہ ایک بڑی عمر کے بزرگ
زبانی تلاوت فرمار ہے ہیں… پھر کچھ نوجوان اُن کو اپنی منزل سنانے لگے… وہ نابینا
بزرگ زبانی سنتے رہے… میرے دل سے آواز آئی کہ دیکھو! آنکھوں نے ان کا ساتھ چھوڑ
دیا مگر قرآن پاک نے ساتھ نہیں چھوڑا… مرنے کے بعد بھی سب کفنا دفنا کر بھاگ
جائیں گے تب قبر میں قرآن پاک تشریف لے آئے گا… اور پھر آخرت کی ابدالآباد
والی زندگی میں بھی قرآن پاک بہت کام آئے گا… مگر افسوس کہ بہت سے لوگ پورا
قرآن پاک… یا اُس کی کچھ سورتیں یاد کر کے پھر اُسے بُھلا دیتے ہیں… یہ بہت سخت
مصیبت ہے اورکئی علماء کرام نے اس کو کبیرہ گناہ لکھا ہے…
الحمدللہ رمضان المبارک آتے ہی شیطانی سُستی کے رسّے جل
جاتے ہیں… رمضان المبارک کا قرآن پاک سے عجیب تعلق ہے… اس مہینے میں قرآن پاک کو
پڑھنا اور یاد کرنا بہت آسان ہو جاتا ہے… ساری دنیا مانتی ہے کہ موسم کا اثر ہوتا
ہے… آم گرمی کے موسم میں پیدا ہوتے ہیں جبکہ مالٹے سردی کے موسم میں… پس رمضان
المبارک بھی قرآن پاک کا موسم ہے… اگر رمضان المبارک نہ آتا تو بہت سے لوگوں کے
لئے قرآن پاک یاد رکھنا مشکل ہو جاتا… تراویح کی ترتیب قرآن پاک کے حفظ کے لئے
بہت مفید ہے… سب حفاظ کو چاہئے کہ کسی سال بھی تراویح میں قرآن پاک سنانے کا ناغہ
نہ کریں… او ر جو حفاظ قرآن پاک بھول چکے ہیں وہ دل میں درد بھر کے اس رمضان
المبارک میں خوب دعاء کریں… اور آج ہی سے دوبارہ یاد کرنا شروع کردیں… دنیا کے
سارے کام بعد میں ہو جائیں گے مگر قرآن پاک رہ گیا تو بہت بڑا خسارہ ہو جائے
گا… اللہ پاک ہم سب کو قرآن پاک کے حفظ کی نعمت نصیب
فرمائے…
خباثتوں کو جلانے والا
شیطان چاہتا ہے کہ ہم سب کو اپنے ساتھ جہنم میں لے جائے…
اسی لئے وہ ہمارے نفس میں تکبر، ریاکاری، اور مال کی محبت جیسے زہر بھرتا ہے…
رمضان المبارک کی ترتیب میں ان تمام بیماریوں کا علاج موجود ہے… آپ سب جانتے ہیں
کہ ہر علاج میں تین چیزیں ہوتی ہیں(۱) دوا(۲) پرہیز(۳) مشقت یا ورزش… ہر حکیم اور ڈاکٹر مکمل علاج کے لئے کچھ دوا
دیتا ہے، کچھ پرہیز بتاتا ہے اور کچھ ورزش وغیرہ کی تلقین کرتا ہے…
رمضان المبارک میں روزہ ہے جو دواء بھی ہے اور پرہیز بھی…
اور رمضان المبارک میں تلاوت ہے جو ہر مرض کی دواء ہے… اوررمضان المبارک میں
تراویح ہے جو نفس کے لئے ایک طرح کی مشقت ہے …قرآن پاک
میں اللہ تعالیٰ نے ہرروحانی اورہر جسمانی بیماری کی شفاء
رکھی ہے… رمضان المبارک میں اگرآپ روزانہ دس پارے پڑھتے ہیں تو آپ کو اربوں
کھربوں نیکیاں تو ملتی ہیں… اُس کے ساتھ قرآنی آیات سے علاج بھی چلتا رہتا ہے…
روزے میں جب بھوک اور خستہ حالی پیدا ہوتی ہے توتکبر ٹوٹتا ہے… اور نفس
میں سے حرص اور لالچ ختم ہوتی ہے… رمضان المبارک کا مکمل نصاب ہم سب کے لئے بہت
بڑی نعمت ہے… مگر اکثر مسلمانوں کو رمضان المبارک گزارنے کا طریقہ نہیں آتا …
میری آپ سب سے درخواست ہے کہ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب رحمۃ
اللہ علیہ کا کتابچہ’’ فضائل رمضان‘‘ ایک بار پڑھ لیں… یہ فضائل اعمال کا حصّہ ہے
اور الگ بھی ملتا ہے… ان شاء اللہ رمضان المبارک کو
پانے اور کمانے کاسلیقہ معلوم ہو جائے گا… دیر نہ کیجئے رمضان المبارک کے دن تیزی
سے گزرتے جار ہے ہیں…
دشمنوں کو جَلانے والا
شیطان ہمیشہ باطل قوتوں کو مزید قوّت فراہم کرتا رہتا ہے…
لوگ کہتے ہیں کہ امریکہ کو ایٹمی ٹیکنالوجی باقاعدہ شیطان نے فراہم کی… و
اللہ اعلم بالصواب…بہر حال یہ بات تو قرآن پاک سے ثابت ہے کہ شیطا ن
کافروں کی بھرپور جنگی مدد کرتا ہے … اوراُن کو مسلمانوں سے لڑانے پر اُکساتا ہے…
مگر رمضان المبارک آتے ہی سرکش شیاطین باندھ دیئے جاتے ہیں… تب مسلمان جہاد میں
بہت بڑی کامیابی حاصل کرتے ہیں… غزوہ بدر کی فتح رمضان المبارک میں ہوئی… اُس
رمضان نے مشرکین مکہ کی بڑی طاقت کو جلاکر راکھ کر دیا… پھر مکہ مکرمہ کی ’’فتح
اعظم‘‘ بھی رمضان المبارک میں ہوئی… موسم کا بہت اثر ہوتا ہے… رمضان کا موسم اسلام
کی فتح کا موسم ہوتا ہے… ابھی تھوڑی دیر پہلے میں خبریں سن رہاتھا تو بی بی سی
والوں نے بتایا کہ… افغانستان میں نیٹو افواج کے سربراہ نے صدر اُبامہ کو لکھ دیا
ہے کہ ہم افغانستان میں ناکام ہو چکے ہیں… اُدھر امریکہ میں تازہ سروے کے مطابق
ملک کی اکثر آبادی افغانستان میں امریکی جنگ کی مخالف ہو چکی ہے… ما
شاء اللہ آٹھواں رمضان المبارک جارہا ہے… قندھار سے خوست
تک… اورجلال آباد سے کابل تک مجاہدین کے جھنڈے لہرا رہے ہیں… غیر ملکی افواج کی
تعداد ایک لاکھ سے بڑھ چکی ہے مگر اس کے باوجود نیٹو کا ہیڈ کوارٹر تک مجاہدین کے
حملوں سے محفوظ نہیں ہے… یہ سب اللہ تعالیٰ کی شان ہے اور
اس میں ایمان والوں کے لئے …اور عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں…
ایک ارادہ
ان شاء اللہ رمضان المبارک کے بعد
ارادہ ہے کہ… مرکز عثمانؓ و علیؓ بہاولپور میں اُن حفّاظ کے لئے تین ماہ کی کلاس
رکھی جائے… جو بد نصیبی سے قرآن پاک بھول چکے ہیں… آپ سب دعاء کردیں کہ … یہ
ترتیب آسان ہوجائے اور کامیاب رہے… تین ماہ کا عرصہ حفظ کی تجدید کے لئے بہت ہوتا
ہے… اور ماحول کی برکت سے مزید آسانی بھی ہوجاتی ہے…
ایک دعوت
جامع مسجد عثمانؓ و علیؓ بہاولپور میں اس سال
بھی ان شاء اللہ … آخری عشرے کا اعتکاف ہو گا… اس
اعتکاف میں اُمت مسلمہ کے غازی، فاتح اور مستقبل کے شہداء بھی شرکت فرماتے ہیں…
اوربہت سے اہل علم، اللہ والے بھی تشریف لاتے ہیں… اس
اعتکاف میں پورے دین کی بات کی جاتی ہے اور مرد ہ جذبوںکو زندگی ملتی ہے… پچھلے
سال چار سو سے زائد خوش قسمت افراد نے یہ سعادت حاصل کی… اس سال وسیع پیمانے
پرانتظام کیا جارہا ہے… اللہ تعالیٰ توفیق دے تو روشنی کے اس جزیرے پر
ضرورتشریف لائیں…
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ
سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ تمام’’اَسِیر‘‘ مجاہدین کو
رہائی عطاء فرمائے… یہ کل کی بات ہے کہ مدینہ منورہ سے ایک دوست نے رابطہ کیا… وہ
عمرہ ادا کرنے مکہ مکرمہ جارہے تھے اور پوچھ رہے تھے کہ یہ’’عمرہ‘‘ کس کی طرف سے
کروں؟… میں نے فوراً عرض کیا… شیخ جمال مندو خیل شہید رحمۃ اللہ علیہ کی طرف
سے…پھر دو قریبی ساتھیوں سے رابطہ ہوا وہ بھی عمرہ ادا کرنے جارہے تھے… اُن کو بھی
یہی کہا کہ’’جمال شہیدس‘‘ کی طرف سے ادا کریں… اور یوں الحمدللہ … کل ہمارے بھائی جمال سکی طرف سے تین
عمرے ہوگئے… اور عمرے بھی رمضان المبارک کے … جن کی فضیلت بہت زیادہ ہے… یہاں ایک
اور واقعہ سن لیں پھر ان شاء اللہ ’’جمال شہید‘‘ کی
باتیں کریں گے… سات سال پہلے رمضان المبارک میں ہم نے اپنے پنڈی کے دفتر میں کچھ
لوگوں کو افطار کی دعوت دی… کھانے کے بعد بات چیت چل پڑی اور موضوع یہ تھا کہ
ایصال ثواب جائز ہے یا نہیں؟… ایک غیر مقّلّد صاحب کا کہناتھا کہ ہر آدمی کو صرف
اُس کے اپنے اعمال کا ثواب اور گناہ ملتا ہے… کوئی اور کس طرح سے اپنے عمل کا ثواب
کسی کو بخش سکتا ہے؟… اُن کی خدمت میں کئی دلائل عرض کئے اور ایک بات یہ بھی… کہ
کسی آدمی کے مرنے کے بعد اگر کوئی اُس کے لئے کچھ ایصال ثواب کرتاہے تو حقیقت میں
یہ بھی اُس کے اپنے اچھے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے… مثال کے طور پر اگر ملک کے ظالم
حکمران مرجائیں تو کتنے لوگ ان کے ایصال ثواب کے لئے قرآن پاک اور نوافل پڑھیں
گے؟… وہ کہنے لگے کوئی بھی نہیں یا بہت کم لوگ… پھر پوچھا کہ اگر فلاں فلاں نیک
آدمی مر جائے تو؟… کہنے لگے بہت لوگ ایصال ثواب اور دعاء کریں گے… عرض کیا کہ بس
ثابت ہو گیا کہ مرنے کے بعد دوسروں کی طرف سے جو کچھ پہنچتاہے وہ اپنے اعمال کا
نتیجہ اور پھل ہوتا ہے… اور جو لوگ پیسے دے کر ’’ختم‘‘ پڑھواتے ہیں تو وہاں پڑھنے
والوں کو ہی ثواب نہیںہوتا… وہ آگے کسی کو کیا بھیجیں گے… آج ہم
جمال شہیدرحمۃ اللہ علیہ کے ایصال ثواب کے لئے جو قرآن پاک
پڑھ رہے ہیں… دعائیں اور عمرے کررہے ہیں… یہ خود اُن کے اچھے اعمال کا پھل ہے…
انہوں نے کالج اور بُرے ماحول کو چھوڑ کر جہاد کا راستہ اختیار کیا… اُنہوں نے
مالدار گھرانے کو چھوڑ کر ہجرت کا راستہ اختیار کیا… وہ اس دور میں جب لوگ قربانی
کے نام کو بھول چکے ہیں اپنی جان قربان کرنے کشمیرجا پہنچے… اورپھر گرفتار ہو گئے…
چودہ سال سے زائد عرصہ انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں… اور بالآخر
ابھی چند دن پہلے جودھ پور انڈیا کی جیل میں پیٹ کی تکلیف میں مبتلا ہو کر… انتقال
فرما گئے، شہید ہو گئے… اناللہ واناالیہ راجعون… بات آگے بڑھانے سے
پہلے ایک روایت پڑھ لیتے ہیں…
’’حمیدبن عبدالرحمن سسے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ
علیہ وسلم کے صحابہ کرام ڑ میں سے ایک صاحب کا اسم گرامی’’ حممہ ذ‘‘
تھا وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں جہاد کے لئے اصفہان تشریف لائے اور
انہوں نے دعاء کی!
اے میرے پروردگار! حممہ کو گمان ہے کہ وہ آپ سے ملاقات کو
پسند کرتا ہے، اگرحممہ اپنے گمان میں سچا ہے تو آپ اُس کے گمان کو پورا فرمادیجئے
اور اگر جھوٹا ہے تب بھی اُسے یہ(نعمت) عطاء فرمادیجئے اگرچہ وہ ناپسند کرے، اے
میرے پروردگار!حممہ کو اس سفر سے واپس نہ لوٹائیے… اس کے بعد ان کے پیٹ میں تکلیف
ہوئی اور اصفہان میں اُن کا انتقال ہو گیا… اس پر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ
عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے فرمایا اے لوگو! ہم
نے اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو
کچھ سنا ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ
وسلم کی طرف سے ہم تک پہنچا ہے اس کے مطابق حممہ کو شہادت والی موت نصیب ہوئی ہے(
اسد الغابہ، ابن مندہ)
جمال شہیدس اونچے قد کے لمبے چوڑے، صحت مند مجاہد تھے… بڑے
بڑے ہاتھ اور پاؤں… وہاں انڈیا میں اُن کے ناپ کا جوتا نہیں ملتا تھا… ہماری اُن
سے پہلی ملاقات۱۹۹۴ء میں ہوئی… انہیں بی ایس ایف یعنی انڈیا کی بارڈر سیکورٹی
فورس نے گرفتار کیا تھا… وہ بیماری کی حالت میں گرفتار ہوئے اس کے باوجود اُن کو
’’پاپا ون‘‘ اور ’’پاپا ٹو‘‘ کے عقوبت خانوں میں سخت تشدّد کا نشانہ بنایا گیا…
تشدّد تو تمام اسیر مجاہدین پر ہوا مگر جمال شہید پر شاید سب سے زیادہ ہوا… وہ جب
اپنے تشدّد کے حالات سناتے توہم سب یہ سمجھتے کہ ہم آرام سے ر ہے ہیں… زیادہ
تشدّد کی وجہ جمال شہیدس کا مزاج تھا… وہ حوصلے اور برداشت والے آدمی تھے…مار کھا
کر بے ہوش ہوجاتے مگر ہوش میں آتے ہی کوئی ایسی بات یا حرکت کرتے کہ دوبارہ تشدّد
شروع ہو جاتا… وہ زور دار قہقہہ لگا کر ہنسنے کے عادی تھے… سخت قسم کے ٹارچر سینٹر
میں بھی وہ اپنی یہ عادت پوری کر لیتے تھے… ابھی جمعہ کے دن جب محترم قاری ضرار
صاحب اور دیگر ساتھی اُن کی میت کو واہگہ بارڈر پر وصول کرنے گئے تو میں سوچ رہا
تھا … ان سب کو دیکھ کرجمال اپنا قہقہہ کس طرح سے روکے گا؟… وہ ٹارچر کے دوران بھی
انڈین افسروں کا مذاق اڑانے سے باز نہیں آتا تھا… اور اپنے بیان میں طرح طرح کی
خوفناک پشتو گالیاں لکھوا دیتا تھا… اورویسے بھی انڈین افسر اور فوجی جمال شہید کی
جسامت اور سرخ و سفید رنگ سے حسد میں مبتلا ہو جاتے تھے… جمال شہیدسکے جسم پر گُڑ
کا شربت ڈال دیا جاتا اور پھر اُنکی کی قمیص اور شلوار میں موٹے موٹے چوہے چھوڑ
دیئے جاتے تھے…۱۹۹۴ء کی کسی تاریخ کو سری نگر میں قید تمام پاکستانی اور
افغانی قیدیوں کو… مختلف عقوبت خانوںسے نکال کر ایک جگہ جمع کیا گیا… وہ ایک بڑا
سا ہال تھا جس میں تمام قیدیوں کو کرسیوں پر بٹھایا گیا تھا… ہم بارہ افراد تو
بادامی باغ کے آر آر سینٹر سے لائے گئے تھے… جبکہ جمال وغیرہ کو پاپاٹو سے لایا
گیا تھا…
ہم نے اُس دن پہلی بار اُنہیں دیکھا…وہاںایک انڈین افسر
پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر ہمارے درمیان گھوم رہا تھا… اور بہت زور دار تقریر
کر رہا تھا… لہجے سے لگتا تھا کہ کشمیری پنڈت ہے… وہ کبھی کشمیریوں کے خلاف
بولتا،کبھی پاکستان کے خلاف اور کبھی تحریک کشمیر پر… وہ کہہ رہا تھا کہ آپ لوگوں
نے اِدھر آکر غلطی کی ہے… دیکھو کس طرح سے پکڑے گئے ہو… جمال شہید نے فوراً کہا
پنڈت جی جس وقت میں پکڑا گیا میرے پاس گن نہیں تھی… اب تقریر کرنے کی بجائے مجھے
گن دو پھر دیکھو تم ہمیں کیسے پکڑتے ہو… جمال کی بات اورانداز سے فوجی پنڈت کو آگ
لگ گئی… ماشاء اللہ جمال بہت زیادہ بہادر تھا… جیل کی
لڑائیوں میں وہ پیش پیش رہتا تھا… بلکہ یوں کہیں کہ بہت خوش ہوتا تھا… ایک بار کوٹ
بھلوال جیل میں ہمارا ارادہ جیل حکام پر صرف دباؤ ڈالنے کا تھا… لڑائی کا نہیں…
چنانچہ اُسی حکمت عملی کے تحت ساتھی چھتوں پر چڑھ کر نعرہ بازی کرنے لگے…جمال بھی
بوٹ کس کر ڈنڈا اٹھائے چھت پرچڑھ گیا… اُس کے لئے تویہ عید کا موقع ہوتا تھا…
محترم سجاد شہیدس جلدی سے میرے پاس آئے اور فرمایاجمال کو اتار لیں یہ سات فٹ کا
مجاہد کسی کام میںگرانا ہے… آج یہاں ضائع نہیں کرنا… میں نے دیکھا تو جمال اپنے
قد کی وجہ سے سب ساتھیوں سے نمایاںتھا… اور لڑائی بھڑکانے کے موڈمیں تھا… میں نے
آواز دیکر نیچے بُلایا تو سر جھکا کر افسوس کے ساتھ اُتر
آیا… اللہ تعالیٰ اُس کی قبر کو سکون اور راحت سے بھر دے
اُس نے مجھ نااہل سے اصلاحی بیعت کر رکھی تھی… اور اُسی کی لاج رکھتے ہوئے ہر بات
مانتا تھا… وہ زیادہ عبادت گزار نہیں تھا مگر عبادت کا شوق ضرور رکھتا تھا… اُس کے
لئے جم کے بیٹھنا مشکل کام تھا مگر پھربھی اپنی اصلاح اور آخرت کی خاطر ’’مجلس
ذکر‘‘ میں پابندی سے بیٹھتا تھا… اُس کی طبیعت میں تیزی بھی تھی … ساتھی اُس سے
تنگ ہوتے تو میرے پاس شکایت لاتے میں سمجھا دیتا تو جمال فوراً مان لیتا… وہ قرآن
، حدیث اور اکابر کے واقعات کا بہت جلد اثر لیتا تھا…
اگرصدقے کے موضوع پر بیان ہوتا تو اپنا سب کچھ اٹھا کرصدقہ
کر دیتا اور خود ایک جوڑے کپڑوں میں گزارہ کرتا… ہر انسان کی طرح جمال رحمۃ اللہ
علیہ میں بھی بہت سی کمزوریاں اور خامیاں تھیں… مگر اُس کی ایک صفت بہت اونچی اور
بھاری تھی… وہ یہ کہ اس کو اپنی کمزوریوں اوربیماریوں کا احساس تھا… وہ ریاکاری کر
کے اپنے عیب نہیں چھپاتا تھابلکہ… اپنی کمزوریوں پر کبھی کبھار روتا تھا اور
پریشان ہوتا تھا… ایک بار میں نے اُس کو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی
کتاب ’’آداب زندگی‘‘ مطالعہ کے لئے دی… اور تاکید کر دی کہ اس پر عمل کرنا ہے… وہ
مطالعے کا بہت شوقین تھا خصوصاً جہادی واقعات کی کتابوں کا تو دیوانہ تھا… حضرت
سید احمد شہیدؒ کی تحریک کے واقعات والی کتابیں بہت شوق سے پڑھتا تھا… اور پھر
چونکہ امارت اسلامی افغانستان کا عاشق تھا اس لئے طالبان کے بارے میں آنے والی ہر
خبر، ہر تصویر اور ہر کتاب کے پیچھے پڑا رہتا تھا… وہ ’’آداب زندگی‘‘ لے گیا… اور
بہت جلد پڑھ کر واپس لے آیا اور مجھے کہنے لگا… حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے
پوری کتاب میرے خلاف لکھی ہے… یعنی اُسے اپنی کمزوریوں کا اعتراف تھا اور احساس
تھا… اور وہ میرے سامنے اس پر کئی بار رویا بھی… خصوصاً ساتھیوں سے لڑائی جھگڑا
زیادہ ہوتا تھا… ویسے الحمدللہ اخلاقی طور پر وہ بلند کردار اور پاکیزہ طبیعت
رکھتا تھا… ایک بار جمال کی شکایات زیادہ آئیں تو میں نے اُسے کہا… میرے مریدین
میں سے چند بہت ’’فراڈی‘‘ ہیں… اور آپ ان میں نمبر ایک پر ہیں… میرا دل چاہتا ہے
کہ آپ سب کو ترتیب سے نمبر… دے دوں تاکہ ایف ون سے ایف سولہ تک نام ہوجائیں… جمال
میری بات سن کر بہت خوش ہوا… یہ اُس کی طبیعت تھی… چنانچہ اُس دن کے بعد سے وہ خود
کو’’ایف ون‘‘ لکھتا تھا… گزشتہ سالوں میں میرے پاس اُس کے بہت سے خطوط آئے جو اُس
نے جیل سے لکھے تھے… کاش وہ خطوط میرے قریب ہوتے تومیں ان میں سے ایک آدھ اپنے
قارئین کے لئے یہاں نقل کردیتا… وہ اپنے خطوط میں بہت باتیں پوچھتا تھا… اُسے
اکابر علماء سے بہت محبت تھی… حضرت مفتی رشید احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو دادا جی
لکھتا تھا… اور حضرت مفتی نظام الدین شامزئی رحمۃ اللہ علیہ سے قلبی عقیدت رکھتا
تھا… اُس کے خطوط میں زیادہ سوالات ان اکابر کے بارے میں ہوتے تھے… سامان کے بارے
میں لکھتا تھا کہ مجھے کتابیں بھجوائی جائیں… اور اپنے بھائیوں، بہنوں اور اُن کی
اولاد کی دینی تربیت کے بارے فکر کا اظہار کرتا تھا… اور کہتا تھا کہ آپ ان سب کو
مدارس میں داخل کرائیں… جیل میں جن دنوں بندہ’’یہود کی چالیس بیماریاں‘‘ لکھ
رہاتھا وہ دن جمال رحمۃ اللہ علیہ پر بہت بھاری تھے… کیونکہ میں تحریری مصروفیت کی
وجہ سے کسی سے نہیں ملتا تھا… بس ایک ساتھی نے خدمت کا احسان اپنے ذمہ لیاہوا تھا…
سارے کام وہ کر دیتے تھے اور میں الگ بیٹھ کر کتاب میں مشغول رہتا تھا… جمال شہید
سچھوٹے بچے کی طرح میرے گرد منڈلاتا رہتا تھا… شاید اُسے مجھ ناکارہ سے قلبی تعلق
ہو گیا تھا… پھر دن بھر کام کی وجہ سے رات کو جلد نیند آجاتی تھی اس لئے بی بی سی
پر بھی جمال سے مجلس نہ ہوپاتی… مگرجمال بہت تیز تھا اُس نے میرے مزاج کے مطابق
ایک صورت ڈھونڈ لی… ایک شام مجھ سے کہنے لگا… آپ جو کچھ لکھتے ہیں اُس کی نقل تو
ضرور کسی سے لکھواتے ہیں… تو اس بار جو کتاب لکھ رہے ہیں…اُس کے جتنے صفحات روزانہ
لکھیں وہ مجھے دے دیا کریں میں اپنے رجسٹر پر نقل کردوں گا… دراصل جیل میں کتاب کے
گم ہونے کا خطرہ رہتا تھا… اسی طرح ڈاک میں بھی یہ اندیشہ رہتا تھا… اس لئے بندہ
جب بھی کچھ لکھتا تو کوئی ساتھی اُس کی نقل لکھ کر رکھ لیتا تاکہ … اگراصل ضائع یا
گم ہو جائے تو نقل کو پاکستان بھجوایا جا سکے… جمال رحمۃ اللہ علیہ کی اس پیشکش کو
میں نے قبول کر لیا… اور اُس نے اس بہانے ملاقات کا موقع حاصل کر لیا… وہ ہررات
مجھ سے مسوّدہ لے جاتا اور نقل کرتا… ایک رات مجھے کہنے لگا… ایک بات سچ سچ بتائیں
کیاآپ نے یہ پوری کتاب میری بیماریوں کو سامنے رکھ کر لکھی ہے؟… میں جو صفحہ بھی
کھولتاہوں تو میرے بارے میں باتیں لکھی ہوتی ہیں… یہ جمال شہیدسکی خود احتسابی اور
اصلاح کی فکر تھی کہ اُس نے یہ بات کہی… میںنے جواب میں عرض کیا…جمال! یہ کتاب میں
نے آپ کو نہیں بلکہ آئینہ سامنے رکھ کر اپنی بیماریاں دیکھ کر لکھی ہے… جمال
شہیدس کو اس کتاب سے خاص انس تھا اور اُس نے راتوں کو جاگ جاگ کراس کا مسوّدہ اپنے
رجسٹر پر نقل کیا… باتیں تو بہت ہیں سمجھ میں نہیں آرہا کہ کیا لکھوں اور کیا
چھوڑوں… ہم تقریباً تین،چار سال ایک ہی جیل میں اکٹھے رہے… صبح شام کا ملنا تھا…
اور پھر جب اللہ تعالیٰ نے مجھے رہائی دی تو جمال کے ساتھ
خط و کتابت کا رابطہ رہا… اس رابطے میں مجھ سے جو کوتاہی ہوئی اُس
پر اللہ تعالیٰ سے استغفارکرتاہوں… بندہ کی مشغولیات اس قسم
کی ہیں کہ کسی بھی محبت کرنے والے کا پورا حق ادا نہیں
کرسکتا… اللہ تعالیٰ معاف فرمائے… اوراپنی رحمت کا معاملہ
فرمائے… چند دن پہلے اچانک فجر کی نماز کے بعد شعبہ اسیران کے ناظم نے مجھ سے
رابطہ کیا اوربتایا کہ…جمال کا جودھ پور جیل میںانتقال ہو گیا ہے… میرے لئے یہ
کافی مشکل خبر تھی… اور ابھی تک مشکل ہے… مگرجمال شہیدسکے لئے تو الحمدللہ آسانی ہو گئی… وہ کھلے مزاج کا آدمی تھا اب الحمدللہ کھلی جگہ چلاگیا… شیر جنگل میں خوش رہتا ہے اسی
طرح مؤمن کو اصل خوشی مرنے کے بعدنصیب ہوتی
ہے… اللہ تعالیٰ جمال شہیدسکی اس بے بسی، بے کسی اور مسافرت
والی شہادت کو قبول فرما کر… اُسے اعلیٰ علییّن میں اونچا مقام عطاء فرمائے… اپنی
جماعت کے شعبہ اسیران کا شکریہ ادا کرتاہوں… اور انہیں دعاء دیتا ہوں کہ انہوںنے
پوری محنت کر کے… جمال شہیدس کی میّت دشمنوں اور مشرکوں سے وصول کی… اور قاری ضرار
صاحب نے اُن کی نماز جنازہ پڑھائی… جیل کے وہ ساتھی جن کو جمال شہیدس سے کچھ شکوہ
تھا یا انہیں کوئی تکلیف پہنچی… مجھے اُمید ہے کہ انہوں نے آنسوؤں کے ہدیے کے
ساتھ معاف کر دیا ہو گا… اور اب وہ اپنے اس عظیم اور مظلوم بھائی کے لئے
جھولیاںپھیلا کر دعائیں کر رہے ہوں گے… اسیر ہند مولانا ابو جندل سے تعزیت کہ
انہوں نے سجاد شہیدسکے بعد جمال شہیدس کا غم بھی جیل میں دیکھا… اور جمال
شہیدس کے خاندان کے تمام افراد سے دلی تعزیت… اللہ تعالیٰ
آپ سب کو صبر جمیل عطاء فرمائے… جمال شہیدس’’القلم‘‘ بہت اصرار سے منگواتا تھا
اور بہت شوق سے پڑھتا تھا… آج کا القلم معلوم نہیں اُسے پہنچے گا یا نہیں… شہداء
کی اپنی دنیا ہوتی ہے… بہت بڑی اور خوبصورت دنیا… اگر مجھے اس کی اُمید ہوتی کہ
القلم کا یہ پرچہ بھی جمال تک پہنچ جائے گا تو میں اُسے لکھتا… پیارے جمال! میں نے
کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ تم ہم سے پہلے چلے جاؤ گے… اورتمہارا جنازہ اُمت کے
اماموں کی طرح جیل سے اٹھے گا… اور تم ہمیں اس طرح سے رُلا جاؤگے’’ایف ون‘‘ کہیں
کے…
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ
سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ پوری دنیا میں اسلام کو غلبہ
عطاء فرمائے… اس رمضان المبارک میں دو اہم تاریخیں جمع ہو گئیں… ایک تو شمسی
تاریخ’’نائن الیون‘‘ اور دوسری قمری تاریخ’’بائیس رمضان‘‘… گزشتہ نو سال سے دنیا
میں جو کچھ ہو رہا ہے اُس سب کا بہت سا تعلق ان دو تاریخوں کے ساتھ ہے…’’نائن
الیون‘‘ یعنی گیارہ ستمبر۲۰۰۱ء عرب مجاہدین نے امریکہ پر’’جہازی حملہ ‘‘ کیا… دو جہاز
نیویارک کے ’’ورلڈ ٹریڈ سینٹر‘‘ کی دو عمارتوں سے ٹکرائے اور ایک جہاز’’پینٹاگون‘‘
پر جا پڑا… اس حملے میں تین ہزار سے زائد لوگ مارے گئے… اور پھر دنیا میں موت سستی
ہو گئی… اس واقعہ کے بعد سے اب تک ہزاروں امریکی فوجی مارے جا چکے ہیں… امریکہ کے
اتحادی ممالک کے فوجی بھی بڑی تعداد میں ہلاک ہوئے ہیں… اور مسلمان بھی کافی تعداد
میں شہید ہوئے ہیں… اس واقعہ سے پہلے تقریباً ساری دنیا اس بات پر( نعوذباللہ )
ایمان لا چکی تھی کہ امریکہ سے مقابلہ ناممکن ہے… مگر آج آٹھ سال گزرنے پر
امریکہ کا کھوکھلا پن دنیا کے سامنے واضح ہو چکا ہے… اور عالمِ کفر اس وقت شدید
صدمے میں ہے… دوسری تاریخ’’بائیس رمضان المبارک‘‘ کی ہے… نو سال پہلے۲۲ رمضان ۱۴۲۰ھ جمعہ کے دن… انڈیا کے مشرکین کو عبرتناک شکست ہوئی… قندھار کے ائیر پورٹ پر
کفر کی اس شکست کی آخری داستان لکھی گئی… مسلمانوںکو ایک بہت بڑی
فتح اللہ تعالیٰ نے عطاء فرمائی… اسی فتح کے نتیجے میں…
مجاہدین کی منظم اور بابرکت جماعت ’’جیش محمد صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ وجود میں
آئی… سترہ سو شہداء اور فدائیوں والی یہ جماعت… جی ہاں ایسی جماعت جس کی کارکردگی
دیکھ کر ’’ اللہ تعالیٰ‘‘ یاد آتاہے… دہشت ناک عسکریت،
ایمان افروز روحانیت، ناقابل تسخیر علم اور سمندروں کو شرمندہ کرنے والی طوفانی
دعوت …
بارک اللہ ،
ماشاء اللہ لاقوۃ الاب اللہ …
یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل ہے… و
الحمدللہ ربّ العالمین… اس وقت دنیا کا
’’طاغوتی نظام‘‘ نائن الیون اور ’’بائیس رمضان‘‘ کے گھیرے میں ہے… اور ان دونوں
تاریخوں کی قیادت’’امارتِ اسلامیہ افغانستان‘‘ کے پاس ہے… اور امارتِ اسلامیہ
افغانستان کی کمان اُمتِ مسلمہ کے حقیقی ولی اورسچے مسلمان’’حضرت ملا محمد عمر
مجاہد مدظلہ‘‘ کے ہاتھ میں ہے…
کفر اور اسلام کا یہ مقابلہ آٹھ ، نوسال سے جاری ہے… اور
دونوں فریق ظاہری طور پر سخت پریشان ہیں… ’’کفار‘‘ تو اس لئے پریشان ہیں کہ اُن کی
ہر تدبیر ناکام ہو رہی ہے… وہ آگے بڑھتے ہیں تو موت نظر آتی ہے اور پیچھے ہٹتے
ہیں تو موت نظر آتی ہے… بڑے بڑے عقلمندوں اور جرنیلوں کا دماغ کام کرنا چھوڑ گیا
ہے… عراق میں ایک مجاہد بھی نہیں تھا مگر جب امریکی اور اتحادی افواج وہاں پہنچیں
تو ہر گلی سے مجاہد… اور ہر گھر سے مجاہدہ نکل پڑی… افغانستان کی جنگ امریکہ کی
طاقت کے سامنے ایک مہینے کی مار تھی… مگر آج آٹھ سال ہو گئے کہ امریکہ کو سوائے
شکست کے اور کچھ نظر نہیں آرہا… گزشتہ ایک مہینے میں درجنوں غیر ملکی فوجی مارے
جا چکے ہیں اور کابل جیسے شہر میں دو خوفناک فدائی حملے ہو چکے ہیں… امریکہ وغیرہ
کے پاس جتنی بھی ٹیکنالوجی تھی وہ سب عراق اور افغانستان میں آزمائی جا چکی ہے…
اور وہ بُری طرح ناکام ہوئی ہے… اب صرف ’’ایٹم بم‘‘ اور آکسیجن بم باقی ہیں… اگر
امریکہ وہ استعمال کرتا ہے تو مسلمانوں کی طرف سے بھی امریکہ پر ایٹمی حملہ خود
امریکہ کے ہتھیاروں سے ہو جائے گا… تب دنیا کا بیشتر حصّہ تباہ و برباد ہو جائے
گا… اب کافر’’بیچارے‘‘پریشان ہیں کہ وہ کیا کریں؟… اگر وہ افغانستان چھوڑ کر جاتے
ہیں تو دوبارہ’’امارتِ اسلامیہ‘‘قائم ہوتی ہے… اور ’’عالم کفر‘‘ امارتِ اسلامیہ کو
اپنے لئے موت سمجھتا ہے… وہ کہتے ہیں کہ’’امارتِ اسلامیہ‘‘ موجود تھی تو اسی کی
وجہ سے ’’بائیس رمضان‘‘ بھی ہو گیا اور’’نائن الیون‘‘ بھی… اب اگر دوبارہ امارتِ
اسلامیہ قائم ہوئی تو معلوم نہیں کیا کچھ ہو جائے گا… پریشانی ہی پریشانی… اور
الجھن ہی الجھن… اور نئی تدبیریں اور ہر دن نئی ہزیمتیں… دوسری طرف مسلمان بھی
پریشان ہیں… اور اس پریشانی کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس زمین کا کوئی ایسا ٹکڑا
نہیں ہے جس پر وہ آزادی سے مل بیٹھیں… سوویت یونین کے خلاف جہاد کے وقت مجاہدین
کے لئے پاکستان کی صورت میں ایک ’’بیس کیمپ‘‘ موجود تھا…مجاہدین کو جب
کوئی پُرامن’’بیس کیمپ‘‘ مل جاتا ہے تو اُن کا جہاد منظم ہو جاتا ہے…
وہ اپنی فتوحات کو دیکھ سکتے ہیں اور کافروں کے زخم بھی گِن سکتے ہیں… اور یوں اُن
کا حوصلہ بلند رہتا ہے… مگر موجود ہ جہاد میں مجاہدین کے پاس کوئی پُرامن جگہ
موجود نہیں ہے… اسی لئے بڑی کامیابیوں کے باوجود وہ پریشان رہتے ہیں اور کبھی
کبھار مایوس ہو جاتے ہیں… اب عراق کی اصل صورتحال کیا ہے یہ کسی کو بھی معلوم
نہیں… افغانستان کی اصل صورتحال کیا ہے اس کا بھی کسی کو پورا علم نہیں… دنیا تک
تو صرف دُھواں پہنچتا ہے حالانکہ اس وقت جہاد کی آگ شعلے برسا رہی ہے… مگر مسلمان
اپنے اس جہاد کی خوشی نہیں منا سکتے… اور نہ اپنی فتوحات کی قیمت کو جان سکتے ہیں…
پہلے زمانوں میں حضرات انبیاء د کو ستایا جاتا تھا تو وہ حرم شریف کی طرف ہجرت
کرتے تھے… پھر حرم شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کو ستایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے’’مدینہ
پاک‘‘ کی طرف ہجرت کی… پھر بعد کے مسلمان جب ستائے جاتے تو وہ حرمین شریفین کا رُخ
کرتے تھے… مگر اب تو’’حرمین شریفین‘‘ جانا بھی آسان نہیں… وہاں کے حکمرانوں کے
ذاتی جہاز پرویز مشرف اور نواز شریف جیسے مسلمانوں کو اٹھانے کے لئے اڑتے ہیں… اگر
حالیہ عالمی جہاد کی تھوڑی سی قیادت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں ہوتی… وہ کعبہ
شریف کے سامنے بیٹھ کر حجر اسود کی طرف نظریں اٹھا کر جہاد کی منصوبہ بندی کرتی…
وہ روضۂ اقدس کی جالیوں کے سائے میں بیٹھ کر قتال فی
سبیل اللہ کی تدبیریں کرتی تو آج… حالات کچھ اور ہوتے… مگر
اس وقت تو ہجرت اور جہاد کندھا ملا کر چل رہے ہیں… اورہجرت ایسی ہے کہ اس میں
کسی’’دارالہجرۃ‘‘ کا پتہ نہیں… بس چلتے رہو چلتے رہو… سورج کی طرح نکلتے اور چھپتے
رہو… اور شہاب ثاقب کی طرح خود کو فدا کر کے حملے کرتے رہو…اس صورتحال
کی وجہ سے مسلمان بھی کچھ پریشان ہیں… انہیں کوئی کنارہ نظر نہیں آرہا… خلاصہ یہ
ہوا کہ لڑائی کے دونوں فریق پریشان ہیں تو اب فیصلہ کس کے حق میں ہو گا؟… ظاہر بات
ہے کہ مسلمانوں کی پریشانی صرف طبعی ہے… وہ دل سے پریشان نہیں ہیں… جس طرح اچھی
منزل کی طرف جانے والا مسافر لمبے راستے میں تھکتا ہے… کبھی گِر بھی جاتا ہے اور
کبھی مایوس بھی ہونے لگتا ہے… مگر اُسے منزل کا یقین پھر کھڑا کر دیتا ہے… مسلمان
بھی وقتی طور پر پریشان ہو جاتے ہیں… مگر انہیں معلوم ہے کہ ہمارے لئے شکست ہے ہی
نہیں… ہم مارے گئے تو جنت اور فاتح رہے تو جنت…جبکہ کفار کی پریشانی حقیقی ہے… وہ
دنیا میں فتح اور عیش چاہتے ہیں اور اس لڑائی نے اُن کی دنیا کو تاریک کر دیا ہے…
غزوہ ٔاُحد کے موقع پر جب ستر مسلمانوں کی لاشیں میدان میں کٹی پڑی تھیں… اور باقی
اکثر مسلمان زخموں سے نڈھال تھے تو مشرکین کے سردارنے آوازلگائی!
’’ہمارا تمہارا معاملہ برابر ہو گیا بدر میں ہمارے ستّر
مارے گئے تو آج اُن کے بدلے تمہارے ستّر کٹ گئے‘‘…
مشرکین کے سردار کی بات ظاہری طور پر معقول تھی مگر دربار
نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے مبارک آواز گونجی!
’’کوئی برابری نہیں!! ہمارے مقتولین تو جنت میں ہیں جب کہ
تمہارے مقتولین آگ میں ہیں‘‘…
’’بائیس رمضان‘‘ اور ’’نائن الیون‘‘ والے اس رمضان المبارک
میں ہم بھی عالم کفر سے کہتے ہیں!… ’’کوئی برابری نہیں تم جہنم اور شکست کی طرف
جارہے ہو اور مسلمان جنت اور فتح کی طرف رواں دواں ہیں‘‘… اور مجاہدین کی خدمت میں
عرض ہے کہ… پریشان ہونے کی ضرورت نہیں… ہم جس راستے پر چل رہے ہیں یہ راستہ ہی خود
منزل ہے… آپ سب کو اور پوری امت مسلمہ کو عید مبارک ہو… والسّلام
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ
سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں سے محبت
فرماتا ہے… حضرت ہجویری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:۔
’’مشائخ میں سے ایک بزرگ کا بیان ہے کہ میں نے ستّر مرتبہ
توبہ کی مگر ہر بار توبہ کے بعد مجھ سے گناہ ہو گیا… پھر اکہترویں مرتبہ توبہ کی
تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اُس پر استقامت عطاء فرمائی‘‘(کشف المحجوب)
حضرت ہجویری رحمۃ اللہ علیہ یہ بات بھی
سمجھاتے ہیں کہ اگر کسی نے ایک مرتبہ گناہ چھوڑنے کے پختہ ارادے کے ساتھ توبہ کی…
اور پھر اپنی توبہ پر قائم نہ رہ سکا… تب بھی اُسے اپنی گزشتہ توبہ کا اجر وثواب
ملے گا…(کشف المحجوب)
اے میرے بھائیو! اور بہنو! توبہ سے نہیں تھکناچاہئے… البتہ
گناہ سے ضرور تھک جانا چاہئے… شیطان ہمیں گناہ کرانے سے نہیں تھکتا تو ہم سچی توبہ
کرنے سے کیوں تھکیں؟…بعض لوگ گناہ کرنے کے بعد… نیک عمل چھوڑ دیتے ہیں کہ ہم اس کے
قابل نہیں رہے… یا نیک بزرگوں کی صحبت چھوڑ دیتے ہیں کہ ہم انہیں کیا منہ
دکھائیں… اللہ کے بندو! گناہ کے بعد تو نیک اعمال میں اضافہ
کر دینا چاہئے… اور نیک لوگوں کی صحبت میں زیادہ جاناچاہئے تاکہ ’’گناہ‘‘ کے بُرے
اثرات ختم ہو جائیں… ایک شخص نے گناہوں سے توبہ کی مگر کچھ دن بعد اُس کو توڑ
ڈالا… اور گناہ کر بیٹھا… اُس وقت اُس کے دل میں سخت ندامت پیدا ہوئی… اُس نے اپنے
دل میں کہا کہ اب میں کیسے اللہ تعالیٰ کے دربار میں توبہ
کے لئے حاضری دوں؟… اور کس منہ سے توبہ کروں گناہ تو چھوٹتا ہی نہیں… تب غیب سے
ایک آواز آئی:
اے ہمارے بندے! تو نے ہماری اطاعت کی… یعنی توبہ کی توہم نے
تجھے قبول کر لیا… پھر تو نے ہمیں چھوڑ دیا… یعنی گناہ کر بیٹھا تو ہم نے تجھے
مہلت دی… یعنی فوری عذاب میں گرفتار نہیں کر دیا… اب اگر تولوٹ کر ہمارے پاس آئے
گا توہم تجھے قبول کر لیں گے… جی ہاں اللہ تعالیٰ حلیم ہے،
غفور ہے، غفّار ہے اور عَفُوّ ہے… پس انسان اپنے دل
کو اللہ تعالیٰ سے ’’غافل‘‘ نہ ہونے دے بلکہ… ہر وقت یہ بات
یاد رکھے کہ میرا ایک ربّ ہے اور اُس رب کی اطاعت اور عبادت مجھ پر فرض ہے… شیطان
جب بھی بہکادے تو انسان فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑ پڑے
کہ یا اللہ ! مجھ سے غلطی ہو گئی، نافرمانی ہو گئی… اب میں واپس آگیا
ہوں مجھے قبول فرما لے… حضرات انبیاء علیھم السلام سے کوئی گناہ نہیں ہوتا تھا مگر
وہ کتنی زیادہ توبہ کرتے تھے… ہم بھی وضو کر کے تیز تیز قدم مسجد کی طرف یا محاذ
جنگ کی طرف چل پڑا کریں اور کہا کریں… اے میرے اللہ ، اے میرے مالک میں
آرہا ہوں… گناہوں سے معافی مانگنے کے لئے آرہا ہوں… اور سوچا کریں کہ میرے ساتھ
جو کچھ ہو رہا ہے وہ میرے گناہوں کی سزا سے بہت کم ہے… اگر اللہ تعالیٰ
سزا دینے پر آجائے تو ہم ایک سانس بھی نہ لے سکیں… ہم سوچتے ہیں ہم پر یہ مصیبت
ہے، یہ پریشانی ہے… حالانکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فضل ہم
پر برس رہا ہوتا ہے… حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ کی مصیبت میں فرما رہے
تھے کہ… یا اللہ جو کچھ ہوا ٹھیک ہوا، غلطی مجھ سے ہوئی آپ
تو’’سبحان‘‘ ہیں… حضرت ہجویری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیںکہ حضرت ذوالنون مصری رحمۃ
اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے… توبہ دو طرح کی ہوتی ہے… ایک ’’توبہ انابت‘‘ اور ایک
’’توبہ استحیاء‘‘… ’’توبہ انابت‘‘ تو یہ ہے کہ
انسان اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈر کر توبہ کرے… یہ توبہ بھی
بہت اونچی اوربہت بڑی ہے…مگر ’’توبہ استحیاء‘‘ یہ ہے
کہ اللہ تعالیٰ کے کرم سے شرم کرتے ہوئے توبہ کرے
کہ اللہ تعالیٰ کے مجھ پر کتنے احسانات ہیں… پس مجھے نہیں چاہئے کہ
ایسے کریم رب کی نافرمانی کروں… آپ نے کبھی غور کیا کہ ہم دن میں کتنی بار وضو
کرتے ہیں؟… جی ہاں بار بار کرتے ہیں تاکہ پاک ہو جائیں اور نماز ادا کرسکیں ،
قرآن پاک کو چُھو سکیں… اسی طرح ہمیں اپنے دل کی پاکی کے لئے بھی بار بار توبہ کا
وضو کرنا چاہئے… ہم نے کبھی غور کیا کہ ہم پر ’’بعض لوگوں‘‘ کو راضی کرنے کی کتنی
فکر سوار رہتی ہے… بس اس سے بڑھ کرہم اپنے دل
میں اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی فکر بٹھالیں اورہر غلطی کے
بعد چونک کر فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جایا کریں…
ہمارا زمانہ تو ماشاء اللہ جہاد کا زمانہ ہے… اس زمانے کے
’’ولی‘‘بہت اونچے ہیں جو نفس کی اصلاح سے بڑھ کر نفس کو قربان کرنے والے ہیں… ابھی
دو چار دن پہلے’’اٹلی‘‘ کی حکومت ماتم کر رہی تھی کہ… افغانستان میں اُس کا اب تک
کا سب سے بڑا نقصان ہوا ہے… ستائیس رمضان المبارک کے دن
ایک اللہ والے مجاہد نے اپنی گاڑی بارود سے بھر کر اٹلی کے
فوجی قافلے سے ٹکرا دی… طالبان کے ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے
کہ… اللہ تعالیٰ کے اس ولی کی عمر سترہ سال تھی… اُس نے
کابل کے وسط میں اٹلی کے فوجی قافلے کی دھجیاں بکھیر دیں… دو بکتر گاڑیاں اور آٹھ
فوجی تو موقع پر ختم ہو گئے جبکہ زخمیوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے… اُمتِ مسلمہ کا
ایک سترہ سالہ ’’بچّہ‘‘ اتنا طاقتور اور اتنا بہادر… سلام ہو اُس کے والدین پر اور
سلام ہو اُس کی ایمانی تربیت کرنے والوں پر… یقینا یہ ’’احسان اللہ ‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ کا مسلمانوں پر بہت بڑا احسان ہے کہ … ہر
زمانے میں معاذ ؓاور معوذ ؓپیدا ہوتے رہتے ہیں… سترہ سال کا یہ ولی اور شہید ہم سب
کے لئے بہت بڑا سبق چھوڑ گیاہے کہ… اے مسلمانو! کن کاموں اور گناہوں میں غرق ہو
رہے ہو… اللہ تعالیٰ کی جنت اور جنت کی حوریں تمہارے انتظار
میں ہیں جبکہ تمہیں’’توبہ‘‘ کا خیال تک نہیں… اور تم ہر
وقت اللہ تعالیٰ سے اپنی مصیبتوں کے شکوے کرتے رہتے ہو… آپ
تھوڑا سا سوچیں کہ… جب یہ نوجوان روزہ رکھ کر جان قربان کرنے کے لئے جارہا ہوگا تو
اُس کے دل میں کتنا ’’ایمان‘‘ اور کتنا’’یقین ‘‘ ہوگا… اُس پر اُن لمحات میں کتنا
نور اور سکینہ برس رہاہو گا… کیا کوئی خواب میں بھی اس کا تصور کر سکتا ہے؟… وہ نہ
تو گھبرایا اور نہ ہی دشمنوں کے بکتر بند دستے سے ڈرا… اُسے نہ دنیا کی محبت نے
روکا اور نہ زندہ رہنے کے شوق نے…وہ اطمینان سے آگے بڑھا اور امت کے فاتحین میں
اپنا نام لکھوا کر ’’شہداء کرام‘‘ میں شامل ہو گیا…
ہاں مسلمانوں ہاں!… رب تعالیٰ کا توبہ والا دروازہ
چوبیس گھنٹے کھلا ہوا ہے… رمضان المبارک کے آخری عشرے میں بندہ نے کسی سے پوچھا
کہ بہاولپور کی مسجد عثمانؓ و علیؓ میں کیا ماحول ہے؟… جواب ملا کہ یہاں تو کسی کو
سوائے رب کی رضا کے کوئی فکرہی نہیں… ہر وقت مسجد میں یا تو رونے کی آواز
آتی ہے یا تلاوت اور ذکر کی… یہاں اعتکاف میں بیٹھے ہوئے ساڑھے چار سو
کے لگ بھگ افراد اللہ تعالیٰ سے رو رو کر شہادت مانگتے ہیں…
گناہوں کی معافی مانگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ملاقات میں
شوق میں بس اُسی کا نام رٹتے رہتے ہیں… اللہ ، اللہ
، اللہ … واہ میرے مالک آپ کی شان بھی عجیب ہے کہ… اپنے پیاروں کو
اپنا نام محبت سے لینے کی توفیق عطاء فرماتا ہے… اور جس سے ناراض ہو جاتا ہے اُسے
اپنے نام اور کام سے محروم کر دیتا ہے… رمضان المبارک میں کمانے والوں نے بہت کچھ
کمایا… اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کے اعمال قبول فرمائے…
ماشاء اللہ مجاہدین نے تو بہت کمایا… محاذوں والے محاذوں پر
ڈٹے رہے جبکہ دعوت والے دیوانوں کی طرح ہرمسجد اور گلی میں’’حیّ علی الجہاد‘‘ کی
صدا لگاتے رہے… اس سال کی مہم تو
ماشاء اللہ عجیب’’پُرنور‘‘تھی… اللہ تعالیٰ
مزید ترقی ، قبولیت، ہمت اور استقامت نصیب فرمائے… رمضان المبارک کی بہاریںچلی
گئیں تو شیطان زخمی سانپ کی طرح پھنکارتا ہوا پھر میدان میں اُتر آیا ہے… وہ توبہ
کرنے کی والوں کی توبہ ختم کرانے کے لئے زور لگا رہا ہے… اور کافروں اور منافقوں
کو مجاہدین کے خلاف اُکسا رہا ہے… اسی لئے عرض کیا کہ ہم توبہ کو نہ ٹوٹنے دیں…
اور اگر ٹوٹ جائے تو دوبارہ جوڑنے میں دیر نہ لگائیں… رمضان المبارک میں تو بہت
تلاوت ہوتی تھی… اب بھی تلاوت کا ناغہ نہ کریں… نوافل کا بھی حتی الوسع اہتمام
رکھیں… اور اپنے دینی کاموں میں بغیر کسی وقفے اور چھٹی کے… خود کو اس کا محتاج
سمجھ کر… پوری طرح سے جُڑے رہیں… رمضان المبارک کے بعد پندرہ دن تک زیادہ محنت کی
ضرورت ہوتی ہے… کیونکہ نفس اور شیطان بہت زور لگاتا ہے… سنو اے مسلمانو
سنو… اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے…
قل یعبادی الذین اسرفوا علیٰ انفسھم لا تقنطوامن
رحمۃ اللہ ان اللہ یغفر الذنوب
جمیعا۔ انہ ھوالغفور الرحیم۔(الزمر ۵۳)
ترجمہ:فرما دیجئے! اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر
ظلم کیا ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے
شک اللہ تعالیٰ سب گناہ بخش دے گا بے شک وہ بخشنے والا
مہربان ہے…
حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جن مسلمانوں
کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اخلاص والا تعلق ہے… انہیں اپنے
گناہوں کی وجہ سے مغفرت سے مایوس نہیں ہونا چاہئے… حضرت شاہ عبدالقادر رحمۃ
اللہ علیہ فرماتے ہیں… یہ آیت اُن کافروں کے بارے میں نازل ہوئی جو جہاد میں
مسلمانوں کی فتوحات کے بعد نادم ہوئے کہ … ہم تو مسلمانوں کے خلاف لڑتے رہے ہیں
اور ہم نے کفر کیا ہے تو اب ہماری توبہ کہاں قبول ہو گی… تب اُن کو فرمایا گیا کہ…
موت آنے تک توبہ کا دروازہ کُھلا ہوا ہے… اللہ اکبر… اتنے
عظیم اور خطرناک گناہوں پر ایسا سخاوت والا اعلان… تو پھر جو مسلمان ہیں اُن کو
گھبرانے اور مایوس ہونے کی کیا ضرورت ہے؟… بس دل
میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور اخلاص پیدا کریں تب ہر منزل
آسان ہے… اور یاد رکھیں اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے توبہ میں
تاخیر اور سستی نہیں کرتے… ہم بھی تاخیر نہ کریں…
سبحانک اللھم وبحمدک نشھدان لا الہ انت نستغفرک ونتوب
الیک…نستغفرک ونتوب الیک… نستغفرک ونتوب الیک…
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ
سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کی محبت دل میں اُتر جائے یہ بہت بڑی نعمت ہے…
اور اسی نعمت کی بدولت اللہ تعالیٰ سے ’’ملاقات‘‘ کا شوق
پیدا ہوتا ہے… اور جس کے دل میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا
شوق ہو… اللہ تعالیٰ بھی اُس سے ملاقات کو پسند فرماتے ہیں…
اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات’’موت‘‘ کے ذریعہ ہوتی ہے…
چنانچہ اللہ تعالیٰ سے جوبھی سچّی محبت رکھتا ہے وہ
موت سے’’عشق‘‘ رکھتا ہے…
ایک نوجوان کا عجیب واقعہ
مشہور بزرگ حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے
ہیں کہ میں حج کے موقع پر’’منیٰ‘‘ میں تھا… میں نے دیکھا کہ لوگ قربانیاں کرنے میں
مصروف ہیں جب کہ ایک نوجوان آرام سے پُرسکون بیٹھا ہوا ہے… میں نے اُس پر نظر
رکھی کہ یہ کیا کرتا ہے؟… تھوڑی دیر بعد وہ جوان کہنے لگا…
یا اللہ تمام لوگ قربانیوں میں مشغول ہیں لہٰذا میں بھی
چاہتاہوں کہ تیری بارگاہ میں اپنی قربانی پیش کروں…
یا اللہ میری قربانی قبول فرمانا… یہ کہہ کر اُس نے اپنی
انگلی سے اپنی گرد ن کی طرف اشارہ کیا اور گِر پڑا… میں نے قریب جا کر غور سے
دیکھا تو اُس کا انتقال ہو چکا تھا… اللہ تعالیٰ اُس پر
رحمت نازل فرمائے’’آمین‘‘(کشف المحجوب)
جن مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کے ذکر
میں مزہ آتا ہے وہ سوچیں کہ… اللہ تعالیٰ کی ملاقات میں
کتنا مزہ ہو گا… اور یہ مزہ موت کی صورت میں آتا ہے… رب کعبہ کی قسم ! شہادت کے
مزے کا لاکھواں حصہ بھی کوئی دیکھ لے تو ایک منٹ دنیا میں رہنا گوارہ نہ
کرے… اللہ تعالیٰ سے ملاقات… ربّ کریم سے ملاقات… محبوب
مالک سے ملاقات… اللہ اکبر کبیرا…
پاگل لوگ
کچھ بے وقوف اور پاگل لوگ مجاہدین کو ڈراتے رہتے ہیں…
امریکہ کا ڈرون حملہ ہونے والا ہے… بلیک واٹر والوں نے اسلام آباد، پشاور، کراچی
، کوئٹہ ، لاہور اور بہاولپور میں اڈے قائم کر لئے ہیں… تمہارے لئے کرائے کے
قاتلوں کو اتنا پیسہ دے دیا گیا ہے… وغیرہ وغیرہ… ارے دانشمندو! اس میںڈرنے کی کیا
بات ہے؟… موت کے ہونٹ چومنے کے لئے مجاہدین اونچے اونچے پہاڑوں کا سفر کرتے ہیں…
مشکل بارڈر کراس کرتے ہیں… لاکھوں روپے خرچ کر کے میدانوں تک جاتے ہیں…اب اگر یہی
شہادت کی موت خود بن سنور کر اپنے گھر میں آجائے تو کتنی خوشی اور سعادت کی بات
ہے… میں اکثر عرض کرتا رہتا ہوں کہ ہمارا زمانہ ’’ماشاء اللہ ‘‘ بہت
بابرکت زمانہ ہے… یہ جہاد اور شہادت والا زمانہ ہے… اس میں
ہمیں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرانے کے لئے… پوری دنیا کا کفر
سرگرم ہے… مسلمان الحمدللہ نہ کسی’’ڈرون‘‘ سے ڈرتے ہیں اور نہ کسی’’ایٹم
بم‘‘ سے… قرآن پاک کا سچا اعلان ہے کہ موت نے اپنے وقت پر آنا ہے… اور شہادت کی
موت سے بڑی نعمت ایمان کے بعد اس زمانے میں اور کوئی نہیں ہے… بلیک واٹر آگئی ہے
تو خوش آمدید… مگر اتنی گزارش ضرور ہے کہ… اپنے تابوت بھی تیار رکھنا… کیونکہ
مسلمان جس طرح ’’مرنا‘‘ جانتے ہیں… اُس سے بڑھ کر’’مارنا‘‘ بھی جانتے ہیں…اوریہ
دونوں چیزیں انہیں’’قرآن پاک‘‘ نے… اورآقامدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے
سکھائی ہیں…
مزے ہی مزے
ہم میں سے جو ’’بوڑھے‘‘ ہو چکے اُن کے لئے تو شہادت… صرف
نعمت ہی نہیں’’انعام‘‘ بھی ہے کہ… پوری زندگی کا لطف بھی لے لیا… بیٹے، بیٹیاں ہی
نہیں پوتے اور نواسے بھی دیکھ لئے… خوب کھا پی لیا… ہر چیز برت لی اور آخر میں
شہادت بھی مل گئی… سبحان اللہ مزے ہی مزے… اور ہم میں سے جو
’’جوان‘‘ ہیں اُن کے لئے شہادت صرف نعمت ہی نہیں بہت بڑا’’اعزاز‘‘ ہے…
جوانی کی ملاقات بہت مبارک اور جوانی کی توبہ بہت ’’مقبول‘‘ ہے… اور جوانی کی
قربانی کا تو کیا پوچھنا… کوئی جائے اور’’شہداء بدر‘‘ سے پوچھے کہ کیا مزے ہی مزے
ہیں… سبحان اللہ وبحمدہ
سبحان اللہ العظیم… اورہم میں سے جو بچے ہیں… وہ تو ویسے ہی
جنت کے پھول ہیں… اور جب ان پھولوں پر ڈرون میزائل گرتا ہے تو… وہ کھل اٹھتے ہیں
اور اُن کی خوشبو دور دور تک پھیل جاتی ہے… نہ کوئی گناہ، نہ زندگی کی تکلیفیں…
کچھ دن بچپن کے معصوم مزے لوٹے اور اب شہادت کے مزے ہی مزے… ماں باپ ساتھ گئے
تو اللہ تعالیٰ کی مہمانی میں اُن کی گود… ورنہ جنت کی
حوروں کی پاکیزہ اور محبت بھری گود… و الحمدللہ ربّ العالمین
جتنی بھیانک اُتنی آسان
اللہ تعالیٰ کے راستے کی موت دیکھنے میں
جتنی بھیانک نظر آتی ہے… حقیقت میں اُتنی’’آسان‘‘ ہوتی ہے… بم گرا، گولی لگی اور
استقبال شروع… نہ کوئی گھبراہٹ، نہ کوئی انتظار… اور نہ کوئی ڈر اور خوف… جب کہ
ہسپتالوں کی موت سے اللہ تعالیٰ بچائے… شاندار کمرے، مٹکتی
ہوئی نرسیں، گھبرائے ہوئے ڈاکٹر، روتے ہوئے اہل خانہ، سسکتی ہوئی حسرتیں… اور ترس
ترس کر نکلنے والی روح… اللہ پاک ہم سب کا انجام ایمان پر
فرمائے…دوسری طرف بم گرا اور روح نے خوشی کی چھلانگ لگادی…
ایک شخص کا جنازہ بہت ٹھاٹھ سے سجایا جارہا ہے… مگر روح
عذاب میں تڑپ رہی ہے… جب کہ دوسرے کا جسم قیمہ بنا ہوا ہے اور روح نئے جسم میں
فرشتوں اور حوروں کے ساتھ عرش کے سجدے اور آسمانوں کی سیریں کر رہی ہے… کونسا
اچھا ہے؟… جسم سلامت رہے تو خطرہ ہے کہ جسم کے اعضاء گناہوں کی گواہی نہ دے دیں…
اور جسم بھی جل، کٹ گیاتو ان شاء اللہ نیا جسم مل
جائے گا… اُس جسم سے نہ کوئی گناہ کیا اور نہ کوئی نافرمانی… غزوہ اُحد میں حضرات
صحابہ کرامؓ کے جسم کٹے پڑے تھے… مشرکین نے اعضاء کاٹ کر ہار بنا لئے تھے… اور
کلیجوں کو چبا ڈالا تھا… جبکہ قرآن پاک بتارہاتھا کہ… یہ تمام
شہداء اللہ تعالیٰ کے قُرب میں بیٹھے مزے سے کھاپی رہے ہیں
اور خوشیاں منارہے ہیں… اور تمنا کر رہے ہیں کہ باقی مسلمان بھی شہادت سے محروم نہ
ہوں…
آواز نہیں ہاتھ اٹھائیں
بعض عجیب سے مسلمان ہر چیز کا فیصلہ’’میڈیا‘‘ کے
ذریعے کرتے ہیں… کیا وہ نہیں جانتے کہ میڈیا پر کافروں اور منافقوں کا قبضہ ہے… وہ
کہتے ہیں کہ فلاں واقعہ پر فلاںنے ’’آواز‘‘کیوں نہیں اٹھائی؟… شاید بِک گئے ہوں
گے یا حکومت کے ساتھ مل گئے ہوں گے… اللہ کے بندو! اب
’’آواز‘‘نہیں’’ہاتھ‘‘ اٹھانے کا وقت ہے… اسلام دشمن طاقتیں بھی یہی چاہتی ہیں کہ
وہ ظلم کرتے رہیں اور… مسلمان صرف آواز اٹھاتے رہیں… اس لئے وہ آواز اٹھانے
والوں کو کچھ نہیں کہتے… جب کہ جہاد کرنے والوں کو ختم کرنے کے لئے ہر حربہ
استعمال کرتے ہیں…
جی ہاں کافر اپنے دشمنوں کو پہچانتے ہیں… جب کہ ہم اپنے
’’محسنوں‘‘ کو نہیں پہچانتے… اور اُن کو ٹی وی چینلوں پر دیکھنا چاہتے ہیں… اے
مسلمانو! اے مجاہدو! مروّجہ میڈیا سے اپنی جان چھڑالو… ورنہ بہت نقصان اٹھاؤ گے
اور اب تک بہت اٹھا چکے ہو… تم ان شیطانوں کا نہیں فرشتوں
کا میڈیا استعمال کرو…وہ نہ تم سے ویڈیو مانگیں گے نہ آڈیو… بلکہ ہواؤں کے دوش
پر تمہارے کام اور پیغام کو پوری دنیا میں پھیلا دیں گے… انشاء اللہ
موت اور وقت
اپنے شیخ احمد یاسینس… صہیونیوں سے دشمنی کر کے بھی ستّر
سال تک جی گئے… اور پھر شہید ہو کر زندہ ہو گئے… اپنے امیر المؤمنین ملا محمد عمر
ماشاء اللہ پچاس سال کی زندگی گزار چکے
ہیں… اللہ پاک اور برکت عطاء فرمائے… نہ سوویت یونین اُنہیں
مارسکا اور نہ آٹھ سال ہو گئے امریکہ اور نیٹو اُن کا کچھ بگاڑ سکے… اُن کی جتنی
عمر باقی ہے وہ ضرور گزاریں گے… اپنے شیخ اُسامہ صاحب تو شاید پچپن سال کے ہو گئے…
اُن کو مارتے مارتے اب تک معلوم نہیں کتنے لوگ مر چکے ہیں… اللہ کے
بندو! یہ زمین پر کھلی نشانیاں ہیں اس بات کی کہ قرآن پاک نے… بالکل سچ فرمایا
ہے… جہاد میں موت نہیں بلکہ موت کا وقت اٹل ہے… پھر معلوم نہیں کلمہ پڑھنے والے
مسلمان موت سے اس قدر کیوں ڈر رہے ہیں… مسلمان آج اپنے دل سے موت کا ڈر نکال دیں…
اور موت کی تیاری شروع کردیں تو ان شاء اللہ بہت جلد
زمین کے حالات بدل جائیں گے…مگر
شہادت مہنگی نعمت ہے
شہادت بہت مہنگی نعمت ہے… یہ ہر کسی کو نہیں ملتی… ماضی میں
جو لوگ اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین رکھتے تھے وہ رو رو کر
شہادت مانگا کرتے تھے… اُن کے نزدیک شہادت سے محرومی بہت بڑی محرومی تھی… وہ شہادت
کے اتنے سچے طلبگار تھے کہ بستروں پر مرتے تھے مگر مقام شہادت کا پاتے تھے… کیونکہ
یہ آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا وعدہ ہے کہ… جو سچے دل سے شہادت
مانگے گا اللہ تعالیٰ اُسے شہادت کا مقام عطاء فرمائیں گے،
اگرچہ وہ اپنے بستر پر مرا ہو… شہادت تو ایک’’اعزاز‘‘ ہے
جو اللہ تعالیٰ اپنے سچے بندوں کو عطاء فرماتے ہیں… ہم سب
مسلمانوں کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ سے سچے دل کے ساتھ شہادت
کی دعاء مانگا کریں… اور یہ دعاء مانگا کریں کہ یا اللہ ہمیں اپنی
ملاقات کا سچا شوق عطاء فرما… اگرہم شہادت کے طلبگار ہیں تو ہم ’’جھوٹ‘‘ سے بچیں…
اور جہاد کا راستہ اختیار کریں… شہادت مل گئی تو ہمارے تمام مسئلے حل ہو جائیںگے…
اور آخرت کی تمام منازل ان شاء اللہ آسان ہو جائیں
گی… اللہ تعالیٰ توفیق دے تو حضرات صحابہ کرامؓ کے مَردوں
اور عورتوں کے شوق شہادت کے واقعات کو پڑھتے رہا کریں…
دلچسپ بات
جب دل میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا
شوق ہو گا… اور دل میں شہادت کی آرزو ہو گی تو پھر کسی جن،بھوت، ڈرون، انڈیا… اور
بلیک واٹر سے ڈر نہیں لگے گا… آج کل پاکستان میں ’’بلیک واٹر‘‘ کا شور ہے… کرائے
کے قاتلوں کا یہ گروہ پاکستان میں قتل و غارت کے لئے بھیجا گیا ہے… یہ بزدل چوہے
شیروں کا شکار کرنے نکلے ہیں… ہم مسلمان اپنے دل میں شہادت کا شوق بھر لیں تو
’’بلیک واٹر‘‘ کا خوف دل سے نکل جائے گا…بلکہ’’بلیک واٹر‘‘ والے آپ کو اتنے پیارے
لگیں گے کہ دل چاہے گا کہ بغیر پکائے ان کو کچّا ہی چبا جائیں…
امن کا راستہ
اسلام امن و سلامتی والا دین ہے… آج دنیا میں جتنا ظلم و
ستم اور قتل و غارت ہے یہ سب یہودیوں کی اسلام دشمنی کا نتیجہ ہے… یہودیوں نے
صدیوں تک محنت کی اور بہت کچھ بنا لیا… اب اُن کاخیال تھا کہ ہم پوری دنیا پر قبضہ
کر لیں گے اور مسلمانوں کو ختم کر دیں گے… چنانچہ انہوں نے جنگیں اور سازشیں شروع
کیں… مسلمان الحمدللہ آخری اُمت ہیں یہ دنیا دراصل اُن کی ہے… وہ
فوراً مقابلے پر آگئے اور اب ہر طرف جنازے ہیں اور تابوت… میں مسلمانوں کی طرف سے
یہ بات عرض کرتاہوںکہ… ساری دنیا کا کفر سو سال تک بھی لڑتا رہے تب بھی اسلام کو
ایک شوشے برابر نقصان نہیں پہنچا سکتا… ہم مسلمان تو شہادت کے عاشق ہیں… ضرورت تو
کافروں کو ہے کہ وہ کچھ دن زندہ رہ کر برگر کھالیں اور خرمستیاں کر لیں… اس
لئے’’اُبامہ‘‘ کو چاہئے کہ اپنی فوجیں عراق اور افغانستان سے نکال لے… یہودیوں کی
سرپرستی چھوڑ دے… اور مسلمانوں کو لبرل بنانے کا خواب دیکھنا چھوڑ دے… تب بہت ممکن
ہے کہ… کچھ امن و امان ٹھیک ہو جائے… ورنہ توحالات کا رُخ دنیا کے اکثر حصے کی
تباہی کی طرف جارہاہے… اللہ تعالیٰ اُمتِ مسلمہ پر رحم
فرمائے اور ہم سب مسلمانوں کو اپنی ملاقات کا شوق نصیب فرمائے…آمین یا ارحم
الراحمین
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ
سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ بہت معاف فرمانے والا ہے…
معافی کو پسند فرمانے والا ہے… بہت عطاء فرمانے والاہے… جو مسلمان’’سخی‘‘ ہو
وہ اللہ تعالیٰ کے بہت قریب ہے… اور جو ’’بخیل‘‘ اور کنجوس
ہو وہ اللہ تعالیٰ سے دور ہے… ہم مسلمان آج کل حد سے
زیادہ’’بخیل‘‘ لالچی اور حریص ہو گئے ہیں… اسی لئے ہر’’مصیبت‘‘ نے ہمارا دروازہ
دیکھ لیا ہے…عرب کے حکمرانوں کے پاس کتنا مال ہے؟… یہ مال مسلمانوں کیکیاکام آرہا
ہے؟… ایک عرب شہزادے نے امریکہ کی ایک کمپنی میں دو سو ارب ڈالر لگا رکھے ہیں… یہ
ایک شہزادے کی صرف ایک دولت ہے… اُس کی باقی دولت اور باقی شہزادوں کے مال کا
اندازہ لگا لیجئے… ہمارے جناب پرویز مشرف صاحب نے صرف گیارہ ارب ڈالر میں پورا
پاکستان بیچ دیا… اور اب موجودہ حکمران تین ارب ڈالر میں باقی ملک کو فروخت کرنے
کا سودا کر آئے ہیں… زرداری صاحب کے اثاثوں کی مقدار ایک ارب چھ سو ملین ڈالر ہے…
یہ وہ ہیں جو ’’نظر ‘‘آگئے ہیں… بے نظیر صاحبہ اور اُن کی اولاد کے اثاثے اس کے
علاوہ ہیں… یہ ساری دولت کس کے کام آرہی ہے؟… ہاں مسلمان بہت بخیل ہو چکے ہیں…
ایک مکان کے بعد دوسرا مکان، ایک گاڑی کے بعد دوسری گاڑی… چلیںیہ بھی منظور مگر
بُرا اور منحوس شوق یہ ہے کہ بہت سی دولت کو بلافائدہ دبا کر بیٹھ جاتے ہیں جو نہ
زندگی بھر ان کے کسی کام آتی ہے… اور نہ کسی اور کے… کروڑوں کے فضول اثاثے جن کا
آخرت میں حساب دینا ہو گا بینکوں، لاکروں اور خفیہ مقامات پر گلتے سڑتے رہتے ہیں…
مالداروں کی زبان میں اس کو’’پیسہ بنانا‘‘ یا ’’مال بنانا‘‘ کہتے ہیں… یعنی ایسا
مال جو ہر طرح کے اخراجات سے زائد بس فضول پڑارہے… مالدار لوگ اس ’’بے وقوفی‘‘ کو
بہت بڑی ’’عقلمندی‘‘ سمجھتے ہیں… وہ بھول گئے کہ’’قارون‘‘ آج بھی اپنے مال سمیت
زمین میں دھنس رہا ہے… وہ بھول گئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس
مال کو انسانوں کے فائدے کے لئے زمین پر اُتارا ہے… اور جو لوگ مال کو مخلوق میں
نہیں چلاتے وہ خزانوں کے سانپ ہوتے ہیں… اور پھر اُن کا یہ مال بھی اُن کے لئے
سانپ بن جائے گا… آج مسلمانوں کے پاس جو دولت فضول پڑی ہوئی ہے اگر تمام مالدار
اس دولت کی زکوٰۃ… یعنی چالیسواں حصہ نکال کر جہاد اور فقراء پر خرچ کر دیں تو…
اسلامی دنیا سے غلامی اور غربت ختم ہو سکتی ہے… مگر سانپوں کوکون سمجھائے؟… وہ تو
صرف تین ارب ڈالر کے بدلے سب کچھ بیچ سکتے ہیں… ہر طرف حرص اور لالچ کی آگ بھڑک
رہی ہے… ہر کسی کو’’مالدار‘‘ بننے…اور وی آئی پی کلچر حاصل کرنے کا شوق ہے… پلاٹ،
بلڈنگ، پلازے… اور پھر خستہ حال قبر… مال کی لالچ نے پوری دنیا کو’’بیمار‘‘ کر دیا
ہے… چند دن پہلے ایک قبرستان سے گزرا تولوگوں نے قبروں پر کوڑا کرکٹ ڈالا ہوا تھا…
مال جمع کرنے والے صرف پانچ منٹ بیٹھ کر سوچیں کہ… اُن سے پہلے والے’’مالدار‘‘
اپنے ساتھ کتنا مال لے گئے… سب کچھ تو یہاں رہ گیا اور وہ ساری زندگی حساب کتاب کا
عذاب جھیل کر خالی ہاتھ قبروں میں جاگرے… مال اگر خرچ کیا جائے تو اور زیادہ ہوتا
ہے اور روک دیا جائے تو اُس کی برکت اُٹھ جاتی ہے… آپ دیکھ لیں کہ آج کے کروڑ
پتی لوگ کتنی پریشانی کی زندگی گزار رہے ہیں… طرح طرح کی بیماریاں، گھریلو
پریشانیاں اورہروقت کا ذہنی انتشار… مزے کر گئے وہ لوگ جو مال
کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے کاموں میں خرچ کر گئے… آج وہ
مرنے کے بعد اس مال کے مزے لوٹ رہے ہیں… اور دنیا میں بھی اللہ پاک
نے اُن کو کسی کا محتاج نہیں فرمایا… صدیق اکبرذ نے غزوۂ تبوک میں اپنا تمام مال
حتی کہ گھر کا سوئی دھاگہ بھی دے دیا… تو کیا اللہ تعالیٰ
نے اُن کو بھیک مانگنے کا محتاج کیا؟…نہیں بلکہ اُن کو اتنا دیا کہ ساری زندگی خرچ
پر خرچ کرتے چلے گئے… اور پورے جزیرۃ العرب کا مال اُن کے قدموں میں آگرا… ہمارے
حکمران آج جس طرح سے کشکول اٹھا کر بھیک مانگتے پھر رہے ہیں اُسے دیکھ کر دل خون
کے آنسو روتا ہے… امریکہ کی طرف سے’’کیری لوگر بل‘‘ آخر کیا ہے؟… مال کے بدلے
اپنی عزت کا سودا… ہم ملک سے جہاد کا نام ختم کر دیں گے ہمیں پیسے دو… ہم ملک کے
ایٹمی اثاثے تمہارے حوالے کردیں گے ہمیں پیسے دو… ہم ملک میں سے دینداری ختم کر
دیں گے ہمیں پیسے دو…’’کیری لوگربل‘‘ پاکستان کے وجود پر ایک خنجر ہے… اور پاکستان
کا وجود پہلے سے زخمی زخمی ہے…پرویز مشرف خود ایک حریص اور لالچی انسان تھے وہ فوج
کو بھی بلڈنگیں،پلازے بنانے پر لگا گئے… اور حکومت کا رخ بھی صرف اور صرف مال کی
طرف پھیر گئے… کوئی ہے جو مسلمانوں کو سمجھائے کہ لالچی اور حریص انسان’’برائلر
مرغی‘‘ کی طرح کمزور اور بے بس ہوجاتا ہے… امام شافعیپ فرماتے ہیں کہ جس آدمی کو
ہر وقت اُن چیزوں کی فکر رہتی ہو جنہیں وہ پیٹ میں ڈال سکے تو اُس کی قدروقیمت اُس
چیز کے برابر رہ جاتی ہے جو پیٹ سے نکلتی ہے… پاکستان کی خارجہ پالیسی’’غلامانہ‘‘
اور داخلہ پالیسی ’’ظالمانہ‘‘ چلی آرہی ہے… خارجہ پالیسی کی بنیاد تو ایک قادیانی
’’سر ظفر خان‘‘ نے رکھی… وہ پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ تھا اور اُس نے اپنی باقی
عمر یورپ کی نوکری میں گزاری…
پاکستان کو بچانے کی فکر میں’’مجاہدین‘‘ کو مارنے
والا’’پرویز مشرف‘‘ اپنے محبوب پاکستان کو چھوڑ کو کیوں بھاگ گیا؟… پانچ سال تک
پاکستان کو ترقی کے خواب دکھانے والا سود خور’’شوکت عزیز‘‘ آج پاکستان آکر کیوں
نہیں رہتا؟… ملّا عبدالسلام ضعیف نے اپنی’’داستان قید‘‘ میں لکھا ہے کہ جب اُن کو
پاکستان میں گرفتار کیا جارہا تھا تو ایک کالے سے موٹے افسر نے کہا… ہم پاکستان کو
بچانا چاہتے ہیں… اور جب اُن کو امریکہ کے ہاتھوں فروخت کیا گیا تب بھی یہی بتایا
گیا کہ… ہم کیا کریں ہمیں اپنے ملک کو بچاناہے… ان تمام لوگوں نے ملک کو کتنا
بچالیا؟… جو بھی حکومت سے ہٹتا ہے یا نوکری سے ریٹائر ہوتا ہے سیدھا امریکہ یا کسی
اور ملک جا بستا ہے… ’’سر ظفر خان‘‘ بھی پاکستان کا’’وزیر خارجہ‘‘ بنا رہا … اور
جب نوکری سے فارغ ہوا تو’’ہیگ‘‘ میں یورپ کی ایک عالمی عدالت کا جج بن گیا…
اُس نے پاکستان کی’’خارجہ پالیسی‘‘ کو مکمل ’’غلامانہ‘‘
بنایا… اور پھر بعد والوں میں سے کسی کو ہمت نہ ہوئی کہ اس میں کچھ تبدیلی کر
سکیں… پرویز مشرف کو بھی وزراتِ خارجہ کے لئے جو شخص موزوں نظر آیا
وہ’’عبدالستار‘‘ تھا… ’’بلانوش‘‘ یعنی اتنی شراب پینے والا کہ مدہوشی طاری ہو
جائے…جی ہاں غلامی تو شراب اور پیشاب پی کر ہی کی جا سکتی ہے ورنہ مسلمان ماںکا
دودھ پینے والا کوئی انسان سونے میں تُل کر بھی غلامی گوارہ نہیں کر سکتا… ہمارے
مُلک کے سفارتخانے پوری دنیا میں بدنام ہیں… ان سفارتخانوں کی بھرتی موٹی رشوتوں
اور سفارشوں سے ہوتی ہے… اور پھر لالچی انسانوں کا یہ گروہ رشوت میں دیا ہوا پیسہ
واپس لینے… اور مزید پیسہ بنانے کی فکر میں ہر بُرائی کرتا ہے… ہر ملک کا
سفارتخانہ اپنے شہریوں کی’’پناہ گاہ‘‘ ہوتا ہے… جب کہ پاکستانی سفارتخانے پاکستانی
شہریوں کو بے عزت کرتے ہیں، اُن کو فروخت کرتے ہیں… اوراُن کے لئے اپنے دروازے بند
رکھتے ہیں… آپ ’’ایران‘‘ کا ریڈیو سُن لیں پچاس فیصد خبریں اور تبصرے پاکستان کے
خلاف ہوتے ہیں… مگر پاکستان کے ریڈیو پر ایران کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں
بولاجاسکتا… وجہ یہ ہے کہ یہ بھی غلامانہ خارجہ پالیسی کا ایک قانون ہے… امریکی
آپ کو ماں کی گالی دے سکتا ہے مگر آپ امر یکہ کے خلاف کچھ نہیں کہہ سکتے… یہ
ہماری خارجہ پالیسی ہے… فوج میں پھر بھی’’انڈیا‘‘ کے خلاف کچھ ذہن ہے ورنہ خارجہ
پالیسی کے مطابق… انڈیا بھی ہمارا بہترین دوست ہے…
دوسری طرف مُلک کی ’’داخلہ پالیسی‘‘… ظالمانہ ہے… اس پالیسی
کا پہلا اصول یہ ہے کہ پاکستان کا دینی طبقہ’’خطرناک‘‘اور ’’مشکوک‘‘ ہے… وجہ یہ ہے
کہ انگریزوں نے جاتے وقت جو فائلیں دی تھیں ان میں لکھا ہوا تھا کہ’’سرکار‘‘ کو سب
سے زیادہ خطرہ مذہبی لوگوں سے ہے… انگریز کی فائلیں ابھی تک چل رہی ہیں… کسی وزیر
داخلہ میں ہمت نہیں کہ وہ ان میں کوئی تبدیلی کرے اور پاکستان کے دینی طبقے کو بھی
پاکستان کا شہری تسلیم کرے… اکثر وزراء داخلہ وہ گذرے ہیں جنہیں ناچنے، گانے اور
شرابیں پینے سے فرصت ہی نہیں ملتی… اسی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان کا ایک
بہت بڑا طبقہ یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہے کہ ہمارا پاکستان میں گزارہ نہیں ہے… اور
یہ ملک ہمارا نہیں غیروں کا ہے… پاکستان کے حالات ٹھیک کرنے کے لئے ضروری ہے کہ…
ان دو وزارتوں کی پرانی فائلیں ختم کر کے ان کو اسلامی اصولوں پر مبنی پالیسی دی
جائے… مگر یہ کام کون کرے؟ پیسہ بنانے کی فکر حکمرانوں کے سروں پر سوار ہے… اسلام
آباد میں ہر کام کے’’ریٹ‘‘ مقرر ہو چکے ہیں… اور اسلام آباد کو ’’امریکہ باد‘‘
بنانے کے لئے اُن کو دھڑا دھڑ زمینیں دی جارہی ہیں… چلیں چھوڑیں ان باتوں
کو… ان شاء اللہ جہاد جس رفتار سے ترقی کر رہاہے… اس
میں بہت اُمید ہے کہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ… پوری دنیا کے حالات ان
شاء اللہ اچھائی کی طرف پھرنے والے ہیں… مجھے اور آپ کو اس وقت
اِس بات کی فکر کرنی چاہئے کہ کہیں ہمارا نفس تو لالچی اور بخیل نہیں بن گیا… کہ
ہم باہر کے پرویز مشرف پر تو تنقید کرتے رہیں جب کہ خود ہمارے اندرایک لالچی اور
حریص پرویز مشرف بیٹھا ہو… ہم روزانہ اللہ تعالیٰ سے دعاء
کیا کریں کہ وہ ہمیں بخل اور لالچ سے بچائے
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْبُخْلِ
وَالْجُبْنِ
اے میرے پروردگار مجھے بخل اور بزدلی سے اپنی پناہ عطاء
فرمائیے۔
تفسیر قرطبی میں ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ
وسلم یہ دعاء مانگا کرتے تھے
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شُحِّ نَفْسِیْ
وَاِسْرَافِھَا وَوَسَاوِسِھَا
یا اللہ میں آپ کی پناہ چاہتاہوں
اپنے نفس کی لالچ سے اور اُس کے اسراف اور وساوس سے… ایک تابعی بزرگ حضرت ابو
الھیاج اسدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے طواف کے دوران ایک شخص کو دیکھا
کہ وہ صرف ایک ہی دعاء مانگ رہے ہیں
اَللّٰھُمَّ قِنِی شُحَّ نَفْسِیْ
(یا اللہ مجھے میرے نفس کے لالچ سے
بچا لیجئے)
میں نے وجہ پوچھی تو ارشاد فرمایا!… اگر میں نفس کے لالچ سے
بچ گیا تو نہ چوری کروں گا، نہ بدکاری کروں گا اور نہ کوئی اور گناہ… بعد میںمعلوم
ہوا کہ وہ شخص جو طواف میں صرف یہی ایک دعاء مانگ رہے تھے مشہورصحابی عبدالرحمن بن
عوف ذ تھے… جن کے لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح الفاظ
میں’’جنت‘‘ کی بشارت دی ہے… حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے
روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا!
’’کسی بندے کے پیٹ میںجہاد کا غبار اور جہنم کا دھواں کبھی
جمع نہیں ہو سکتے اور کسی بندے کے دل میں لالچ اور ایمان کبھی جمع نہیں ہو
سکتے‘‘(سنن نسائی از فتح الجواد، جلد ۴)
ان روایات کو پڑھنے کے بعد کیا خیال ہے؟… ہمیںچاہئے کہ یہ
روایات پڑھتے ہی کچھ’’مال‘‘چپکے سے اللہ تعالیٰ کے راستے
میں دے دیں… یا کسی حاجت مند کو دے دیں… اور دیں اس طرح کہ کسی کو بھی خبر نہ ہو…
اور نیت یہ کریں کہ یا اللہ صرف آپ کی رضا کے لئے دے رہا ہوں اسے میرے
لئے آخرت کا ذخیرہ بنا دیجئے… مال دینے کے بعد فوراً… الحمدللہ پڑھ کر مالک الملک کا شکر ادا کریں کہ…
یا اللہ کیسی زبردست کریمی فرمائی کہ مجھ نالائق سے مال
قبول فرمالیا… الحمدللہ ، الحمدللہ ، الحمدللہ … یا اللہ مجھے
اور بھی توفیق عطاء فرما… اور پھر اس مال کے دنیا میں کسی بھی بدلے کی خواہش دل
میںنہ لائیں بلکہ اُسے آخرت کے لئے محفوظ رکھیں… یہ تو ہوا پہلاکام… اور دوسرا
کام یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
وہ احادیث مبارکہ پڑھیں جو مال اور دنیا کی محبت ختم کرنے والی ہیں… ممکن ہے کہ
آپ کو اس موضوع کی چند مبارک احادیث القلم کے اسی شمارے میں مل جائیں… ورنہ ریاض
الصالحین یا معارف الحدیث میں ضرور پڑھ لیں… اور تیسرا کام یہ ہے کہ آج کے کالم
میں جو تین دعائیں بیان ہوئی ہیں ان کو نہایت اہتمام سے معمول بنا لیں…خصوصاً نفل
نماز کے سجدے میں گڑ گڑا کر یہ دعائیں مانگنا ان شاء اللہ
بہت مفید ہو گا…
اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو معاف
فرمائے… اور مجھے اور آپ سب کو بخل، حرص، لالچ اور حُبِّ دنیا سے بچائے…
آمین یا ارحم الرحمین
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ
سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بہت تاثیر رکھی ہے… قرآنِ
مجید بہت ہی اونچی کتاب ہے… یہ کلام اللہ ہے یعنی خود اللہ جلّ شانہ کاعظیم کلام…
مکہ کے مشرک جو ضد کی وجہ سے ایمان نہیں لا رہے تھے چھپ چھپ کر قرآن مجید سنتے
تھے… نضر بن حارث، عتبہ بن ربیع اور ابوجہل یہ سب بڑے فصیح وبلیغ اور جادوبیان
تھے… مگر جب رات کو چھپ کر آتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
تلاوت سنتے تو اُن کے ہوش اُڑ جاتے… جنات کے لشکر آسمانوں پر اُڑ رہے تھے… انہوں
نے تلاوت کی آواز سنی تو زمین پر اُتر آئے… اور قرآن پاک سُن کر ایمان لے آئے…
عمر بن خطاب اپنے گھر سے تلوار لے کر نورنبوت کو بجھانے کے لئے نکلے مگر قرآن پاک
کی چند آیتیں سن کر… خود اس نور سے منور ہوکر فاروق اعظم ذبن گئے… اور بعد میں
بھی یہ حالت رہی کہ ایک بار کسی نے آپ ذکے سامنے یہ آیت پڑھی
ِانَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ، مَالَہٗ مِنْ دَافِعٍ
ترجمہ: بے شک آپ کے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے
کوئی اِس کو ٹالنے والا نہیں…
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر ایک چیخ ماری
اور بے ہوش ہو کر گر پڑے… لوگ آپ کو اُٹھا کر آپ کے گھر لے گئے اور آپ اللہ
تعالیٰ کے خوف اور ڈر سے ایک مہینہ تک بیمار پڑے رہے… وزیرستان میں فوجی آپریشن
شروع ہوچکا ہے… رات بی بی سی پر خبریں سنیں تو فوج والے مقامی طالبان کو اور مقامی
طالبان فوج والوں کو مارنے کے دعوے کررہے تھے… مجھے یہ سب کچھ اچھا نہیں لگا… دل
میں درد کی ٹیسیں اُٹھ رہی ہیں اور دماغ مسلسل جھٹکے کھا رہا ہے… امریکہ کا شاطر
سینیٹر ’’جان کیری‘‘ پاکستان آیا ہوا ہے… یہ انڈین لابی کا شرارتی شخص ہے… ہمارے
وزیرخارجہ صاحب کی اس سے گہری دوستی ہے… پاکستان کو برباد اور تباہ کرنے میں جو
کسر رہ گئی تھی وہ ’’کیری لوگر بل‘‘ کے ذریعہ پوری کی جارہی ہے… آج اخبار بھی
خریدا اس میں لاشوں کی تصویریں… اور مدارس پر چھاپوں کے فوٹو تھے… اسلام آباد کے
معروف دینی ادارے ’’جامعہ محمدیہ‘‘ میں پولیس والے گھس رہے تھے… پولیس والوں کو
نماز کا کہو تو کہتے ہیں کپڑے خراب ہیں لیکن جب چھاپے کا حکم ملے تو بوٹوں سمیت
مسجدوں اور مدرسوں میں گھس جاتے ہیں… وزیر داخلہ صاحب کے بیانات بھی تھے… کافی
مایوس کن اور تکلیف دہ… کچھ کالم بھی تھے کیری لوگربل کیخلاف… اور کچھ کالم حکومت
کو مزید سختی کرنے پر اُکسا رہے تھے… ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا کالم تھا… پڑھ کر
اندازہ ہوا کہ محترمہ کو نہ قبر یاد ہے نہ آخرت… نہ اُن کو اپنے دین سے کچھ غرض
ہے اور نہ اپنے تاریخی ورثے سے… غم اور افسوس کی اسی حالت میں وضو کرکے ’’داتا
دربار‘‘ آ بیٹھا… جی ہاں حضرت شیخ علی بن عثمان ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت
میں بیٹھا ہوا ہوں… لاہور والے اُن کو ’’داتا‘‘ کہتے ہیں… یعنی دینے والا … شاید
یہ لفظ انہوں نے ہندوئوں کے لفظ ’’دیوتا‘‘ سے اُدھار لیا ہے… مجھے حضرت کے مزار پر
حاضری کا کبھی اتفاق نہیں ہوا… مگر اُن کے ساتھ دوستی بہت قریب کی ہے… اُن کی بلند
پایہ تصنیف ’’کشف المحجوب‘‘ میرے پاس موجود ہے… اور اس کے ذریعے اُن کی صحبت میں
جا بیٹھتا ہوں… آج بہت غم کی حالت میں آکر ’’کشف المحجوب‘‘ اُٹھائی… غم تو کیا
تھوڑی دیر میں تو خود کو بھی بھول گیا… حضرت رحمۃ اللہ علیہ آج قرآن پاک پڑھنے
اور سننے کے فضائل بیان فرما رہے ہیں… میں وہی پڑھنے میں مگن تھا یاد آیا کہ
’’رنگ ونور‘‘ لکھنے کا وقت ہے… اس لئے آج آپ سب کو بھی اس محفل میں شریک کرلیا
ہے… کالم کے شروع میں قرآن پاک کے بارے میں جو باتیں عرض کی ہیں وہ اکثر حضرت شیخ
رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب میں موجود ہیں… اب میرے دل سے غم اور صدمہ کچھ ہلکا ہو رہا
ہے… حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے گویا یہ اشارہ دیا ہے کہ… مسئلے کا حل ’’قرآن
مجید‘‘ ہے… مجھے یاد ہے کہ آج سے آٹھ سال پہلے پاکستان کے اخبارات میں کسی اللہ
کے بندے نے ایک اشتہار دیا تھا… اس میں پاکستان کی افواج کو کہا گیا تھا کہ آپ
لوگ سورۃ احزاب اور سورۃ الفتح کو خوب سمجھ کر تلاوت کریں ورنہ آپ لوگوں پر اللہ
تعالیٰ کا عذاب آنے والا ہے… یہ اشتہار کسی خواب کی بنیاد پر تھا… یقینی بات ہے
کہ کسی نے توجہ نہیں کی ہوگی… اُس وقت پاکستان میں فوج کی بہت قدر تھی… میں دیکھتا
تھا کہ فوجیوں کے لمبے لمبے قافلے امن کے ساتھ سفر کرتے تھے اورفوجی جوان اپنے
ٹرکوں پر سوتے نظر آتے تھے… اگر قرآن پاک سے رہنمائی لینے کی توفیق ملتی تو وہ
امن قائم رہتا… مگر قرآن پاک سے قسمت والے لوگ ہی فائدہ اُٹھاتے ہیں… کوئی ہے جو
پاکستان کے موجودہ حکمرانوںکو قرآن پاک سنا اور سمجھا سکے؟ ظالم انگریز نے نظام
تعلیم ہی ایسا دیا کہ ’’قرآن پاک‘‘ سے محرومی رہے… اور جو لوگ تھوڑا بہت قرآن
پاک کی طرف متوجہ ہوں تو اُن کے لئے …ڈاکٹر جاوید غامدی جیسے پردہ پوش ڈاکو بیٹھے
ہیں… قرآن پاک تو لمحوں میں دل کی حالت بدل دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت کا
نور دل میں بٹھا دیتا ہے… حضرت ہجویری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں… ایک بزرگ کہتے
ہیں کہ ایک بار میں قرآن پاک کی تلاوت کررہا تھا:
وَاتَّقُوْایَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْہِ اِلَی اللّٰہِ
ترجمہ: اس دن سے ڈرو جس میں تم اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے
جائو گے…
اچانک ایک غیبی آواز آئی کہ آہستہ پڑھو… اس آیت مبارکہ
کی ہیبت سے چار ’’جنات‘‘ مر چکے ہیں…
ہمارے حکمران تو قرآن پاک سننا ہی نہیں چاہتے… سابقہ حکومت
کے وزیرداخلہ معین الدین حیدر سے میں نے ایک مجلس میں کہا تھا… آپ وقت نکالیں میں
آپ کو قرآن مجید کی آیات جہاد سناتا ہوں اس کے بعد آپ فیصلہ کریں کہ جہاد کے
بارے میں آپ کا نظریہ کیا ہونا چاہئے… مگر اُن کوتوفیق نہ ملی بلکہ مزید دشمنی پر
اُتر آئے… وہ قرآن پاک کا علم رکھنے والوں کو ’’قاعدہ پڑھانے والے جاہل‘‘ کہا
کرتے تھے…
ایک اور فوجی جرنیل سے بندہ نے کہا کہ … اگر آپ کو قرآن
پاک پڑھنا نہیں آتا اور نہ آپ اس کے احکامات کو سمجھتے ہیں تو اس زندگی اور ان
عہدوں کا کیا فائدہ؟… انہوں نے کچھ اثر لیا اور کہنے لگے ریٹائرمنٹ کے بعد میں
ضرور قرآن پاک پڑھوں گا… رات بھی بی بی سی پر ایک ریٹائر جنرل صاحب وزیرستان
آپریشن کی مخالفت کر رہے تھے… کاش حاضر ڈیوٹی آرمی چیف کو بھی قرآن پاک سے
رہنمائی لینے کی توفیق مل جائے… قرآن پاک میں ’’کیری لوگر بل‘‘ کے بارے میں پیشگی
احکامات موجود ہیں… مگر جن لوگوں نے بزرگوں کے مزاروں سے نذر نیاز ہی کمانی ہو اُن
کو کیا فرق پڑتا ہے کہ ملک غلام ہو یا آزاد… جب انگریز کی حکومت تھی تب بھی
مزاروں پر قوالیاں آزاد تھیں اور آج بھی آزاد ہیں… ہندوستان میں بھی مزاروں پر
کوئی پابندی نہیں… بلکہ کافروں کی تو یہی خواہش ہے کہ تمام مسلمان قرآن پاک کو
چھوڑ کر مزاروں کا رُخ کریں… اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر قبروں کو سجدے کریں… ملک
کے موجودہ حکمرانوں کی اکثریت وہی ہے جن کو کسی غلامی یا آزادی سے کوئی فرق نہیں
پڑتا… اس لئے وہ بار بار کہتے ہیں کہ ’’کیری لوگر بل‘‘ کی مخالفت کرنے والے احمق
ہیں… ہمیں مفت میں سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر مل رہے ہیں… حضرت ہجویریؒ فرماتے ہیں…
اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں کو ملامت فرمائی ہے جو قرآن پاک کو اس طرح
سے نہیں سنتے جس طرح اُس کو سننے کا حق ہے… یعنی کانوں سے سن کر دل تک نہیں
پہنچاتے… اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
خَتَمَ اللّٰہُ عَلیٰ قُلُوْبِہِمْ وَعَلیٰ سَمْعِہِمْ
وَعَلیٰ اَبْصَارِہِمْ غِشَاوَۃٌ
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر
مُہر لگادی ہے اور ان کے دلوں پر پردہ ہے…
اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن جہنم والے کہیں
گے
لَوْکُنَّا نَسْمَعُ اَوْنَعْقِلُ مَا کُنَّا فِیْ
اَصْحَابِ السَّعِیْرِ
ترجمہ: اگر ہم حق کے ساتھ قرآن پاک کو سنتے اور سمجھتے تو
ہم جہنم والوں میں نہ ہوتے…
اور کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ظاہری طور پر قرآن پاک
سنتے ہیں لیکن اُن کے دلوں پر پردہ… اور کانوں میں بہرہ پن ہوتا ہے پس وہ بالکل اس
کا اثر نہیں لیتے… اللہ پاک کا فرمان ہے
وَمِنْہُمْ مَنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْکَ وَجَعَلْنَا عَلیٰ
قُلُوْبِہِمْ اَکِنَّۃً اَنْ یَّفْقَہُوْہٗ وَفِیْ اَذَا نِہِمْ وَقْرًا
ترجمہ: اور ان میںسے بعض آپ کی طرف توجہ سے سنتے ہیں اور
ہم نے ان کے دلوں پر پردہ ڈال رکھا ہے کہ وہ اسے سمجھ سکیں اور ان کے کانوں میں
بوجھ ہے …
’’کیری لوگر بل‘‘ جیسے غلامی نامے‘‘ کی وکالت کرنے والوں کو
چاہئے وصیت کر جائیں کہ …اُن کے مرنے کے بعد اُن کی روح کے لئے ’’کیری لوگر بل‘‘
پڑھا جائے… قرآن پاک کا ایصال ثواب تو اُسی کو فائدہ دے سکتا ہے جو قرآن پاک کو
مانتا ہو…
کچھ عرصہ پہلے میں ایک مرحوم قاری صاحب کے حالاتِ زندگی پڑھ
رہا تھا… وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں صدر کی تقریر سے پہلے تلاوت اور اس کا ترجمہ
پیش کرتے تھے… وہ فرماتے ہیں کہ بعض آیات اور ان کے ترجمے سے ملک کے حکمران کافی
سیخ پا اور غصے ہوتے تھے اور کہتے تھے کہ (نعوذ باللہ) یہ آیات سخت ہیں آپ کوئی
اور پڑھا کریں…
ہے کوئی علاج ایسے بددماغ اور محروم لوگوں کا؟… افغانستان
میں سوویت یونین کیخلاف جہاد ہوا تو اہل پاکستان نے خوب تعاون کیا… اس نیکی کی
برکت سے اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو چار نعمتیں عطاء فرمائیں …
(۱) افغانستان کے طالبان (جو پاکستان کا مضبوط دفاع تھے)
(۲) جہاد کشمیر
(۳)ایٹم بم
(۴) مضبوط فوج
دشمنوں نے فیصلہ کیاکہ یہ چاروں چیزیں پاکستان سے کھینچ لی
جائیں… صدر مشرف کے ذریعے ’’طالبان‘‘ پرحملہ کر کے اُن کی حکومت ختم کی گئی… پرویز
مشرف نے تقریر میں کہا کہ ہم نے طالبان کیخلاف امریکہ کا تعاون اپنے ایٹمی اثاثوں
اور جہاد کشمیر کو بچانے کیلئے کیا ہے… پہلی نعمت تو اس طرح سے چھن گئی… اور
افغانستان ہمارے دشمنوں کا اڈا بن گیا…آخر ایک کھنڈر ملک میں انڈیا کو اپنے سترہ
سفارتخانے کھولنے کی کیا ضرورت ہو سکتی ہے؟… پھر دشمنوں کا ہاتھ جہاد کشمیر کی طرف
بڑھا… پرویز مشرف نے کہا میں نے کشمیر کو کیاکرنا ہے میرے لئے تو پاکستان سب کچھ
ہے… انڈیا کو بارڈر پر باڑ لگانے دی گئی اور جہادی تنظیموں کیخلاف وسیع کریک ڈائون
ہوا… اور اب ’’کیری لوگربل‘‘ کے ذریعے پاکستان کے ایٹمی اثاثے ختم کرنے کا فیصلہ
ہوا ہے…اور فوج کو ختم کرنے کیلئے اس بل میں یہ شرط لگا دی گئی ہے کہ پاکستان سے
’’جہادی کلچر‘‘ کا خاتمہ کیا جائے… فوج جب اپنے لوگوں سے لڑے گی تو بالآخر ختم ہو
جائے گی یا بہت کمزور ہوجائے گی… اس لئے کہ ’’ظلم‘‘ کسی مسلمان کو ہضم نہیں
ہوتا…حضرت شیخ ہجویری رحمۃ اللہ علیہ آج کی مجلس میں ہم سب کو قرآن پاک کی طرف
رجوع کرنے کا حکم دے رہے ہیں… ہمیں چاہئے کہ خوب توجہ سے تلاوت کرکے… وزیرستان
آپریشن اور اسی طرح کے دیگر آپریشن بند ہونے کی دعا ء کریں… قرآن پاک کی برکت
سے ان شاء اللہ دعاء قبول ہو گی… پاکستان
آرمی اور مقامی طالبان کو چاہئے کہ قرآن پاک سے رہنمائی لیں اور پہلے کی طرح
آپس میں امن اور صلح کا معاہدہ کرلیں… اور ہم سب مسلمانوں کو چاہئے کہ… روزانہ
قرآن پڑھیں… قرآن پاک پڑھنا سیکھیں، قرآن کو سمجھیں،قرآن پاک سے رہنمائی لیں…
اور قرآن پاک پر عمل کی اللہ تعالیٰ سے توفیق مانگیں… اورختم قرآن کے موقع پر جو
دعاء پڑھی جاتی ہے اُسے اپنی روزانہ کی دعائوں میں شامل کرلیں… بے شک ہم قرآن پاک
کے محتاج ہیں
اَللّٰھُمَّ اٰنِسْ وَحْشَتِیْ فِیْ قَبْرِیْ اَللّٰہُمَّ
ارْحَمْنِیْ بِالْقُرْآنِ الْعَظِیْمِ وَاجْعَلْہٗ لِیْ اِمَامًا وَّنُوْرًا
وَّہُدًی وَّرَحْمَۃً
اَللّٰھُمَّ ذَکِّرْنِیْ مِنْہٗ مَانَسِیْتُ
وَعَلِّمْنِیْ مِنْہٗ مَا جَھِلْتُ وَارْزُقْنِیْ تِلَاوَتَہٗ اٰنَائَ اللَّیْلِ
وَاٰنَائَ النَّہَارِ وَاجْعَلْہٗ لِیْ حُجَّۃً یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ
آمین یا ارحم الراحمین
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیرخلقہ سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم
تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا۔
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کبھی بھی اس زمین کو اپنے
’’دوستوں‘‘ سے خالی نہیں فرماتے… ہر زمانے میں اللہ تعالیٰ
کے ’’اولیاء‘‘ موجود رہتے ہیں… اور وہ حضرات انبیاء دکے طریقے پرہوتے
ہیں… اللہ تعالیٰ کے ’’اولیاء‘‘ کی بڑی علامت یہ ہے کہ
وہ’’ارکانِ اسلام‘‘ …یعنی اسلام کے فرائض کا بہت اہتمام کرتے ہیں… اور’’عبادت‘‘
میں بہت محنت کرتے ہیں…
عبادت کاچھوڑنا گمراہی ہے
تبع تابعین میںایک بڑے بزرگ گزرے ہیں… اُن کانام تھا حضرت
یحییٰ بن معاذ الرازی… رحمۃ اللہ علیہ … وہ بہت عبادت گزار اور اونچے حال والے ولی
تھے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی بہت ’’مضبوط امید‘‘ رکھتے
تھے… اُن سے کسی نے پوچھا! آپ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کی
رحمت کے’’امیدوار‘‘ ہیں دوسری طرف آپ کا عمل ایسا ہے کہ جیسے
آپ اللہ تعالیٰ کے سخت’’ خوف‘‘ میں مبتلا ہوں؟… حضرت یحییٰ
رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا!
’’اے بیٹے! عبادت کا چھوڑدینا گمراہی ہے، خوف اور امید
دونوں ایمان کے دوست ہیں، جب تک عبادت نہ ہو اس وقت تک نہ خوفِ الہٰی درست ہو سکتا
ہے اور نہ اُمید،لیکن جب عبادت کا درجہ حاصل ہو جائے تو خوف اور امید سب عبادت بن
جاتے ہیں‘‘
یعنی عبادت کرنے والا شخص
اگر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا امیدوار ہو تو یہ امید بھی…
مستقل عبادت بن جاتی ہے… اور اگر وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے خوف رکھتا
ہو تو اُس کا یہ خوف بھی عبادت ہے…
معمولات کیوں چھوٹ جاتے ہیں
میرے پاس آنے والے اکثر خطوط میں لکھا ہوتا ہے کہ… معمولات
میں سستی ہو رہی ہے… یا معمولات چھوٹ گئے ہیں؟… عجیب بات ہے
کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی ’’عبادت‘‘ کے لئے پیدا فرمایا…
اورہم سے تھوڑی سی عبادت بھی نہیںہوتی… ہمارے معمولات تو بہت تھوڑے ہیں… اگر یہ
بھی نہیں ہوتے تو پھر زندگی کا کیا فائدہ ہے؟… زندگی کا سارا مزہ ’’عبادت‘‘ میں
ہے… اگر عبادت نہیں کرتے تو پھر کیا کرتے ہیں؟… غیبت؟… وہ تو کبیرہ گناہ ہے… فضول
باتیں؟… وہ تو انسان کو ذلیل کر دیتی ہیں… گناہ؟ وہ تو انسان کو برباد کردیتے ہیں…
اللہ کے بندو! ہم سب کو وہ کام کرناچا ہئے
جس کے لئے ہم پیدا ہوئے ہیں اور وہ کام ہے عبادت… اور عبادت کا معنیٰ ہے’’غلامی‘‘…
اور غلام کا کام ہے اپنے مالک کے بتائے ہوئے کاموں میںلگے رہنا… اور اُن سے کبھی
غافل نہ ہونا…
دل لگے یا نہ لگے
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ تلاوت، نماز اور ذکر میں دل نہیںلگتا…
اس لئے ہم نے چھوڑدیا … بعض لوگ کہتے ہیں کہ معمولات میں پہلے مزہ آتاتھا اب نہیں
آتا… اس لئے ہم سے سستی ہو جاتی ہے… ارے اللہ کے بندو! مزہ
آئے یا نہ آئے دل لگے یا نہ لگے خود کو باندھ کر فرائض، باجماعت نماز اور
معمولات کا پابند بناؤ…باقی تمام باتیں شیطان کا دھوکہ ہیں… عبادت مزے کے لئے
نہیں کی جاتی بلکہ اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر کی جاتی ہے…
اس میں ظاہری مزہ آجائے تب بھی ٹھیک نہ آئے تب بھی ٹھیک… کوئی ملازم اپنے افسر
سے کہے کہ دفتر میں دل نہیں لگتا اس لئے میں نہیں آؤں گا… ایسے ملازم کو ملازمت
سے نکال دیا جاتا ہے… کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمیں بھی بندگی اور عبادت سے نکال دیا
جائے اور ہم ( نعوذباللہ ) شیطان کے ملازم بن جائیں… اس لئے آج سے ہی تمام فرائض
اور تمام معمولات مکمل کرنے کا عزم کر لیں… جب تک معمولات پورے نہ ہوں نیند نہ
کریں اور نہ ہی کسی دوسرے کام میں مشغول ہوں… وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور قبر منہ
پھاڑ کرقریب آرہی ہے…
ایک عجیب بات
اکثر خطوط میں لکھا ہوتا ہے کہ ایک ہزار بار ’’
اللہ اللہ ‘‘ کے معمول میں سستی ہوتی ہے…
یعنی اللہ کے بندے اور اللہ کی
بندیاں… اللہ تعالیٰ کا نام پکارنے میں سست… ان اللہ وانا
الیہ راجعون… اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیں گے تو پھر کس کا
نام لیں گے؟… اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیں گے تو دل اور روح
کو غذا کہاں سے ملے گی؟… ’’ اللہ اللہ ‘‘ کا ذکر توتمام اذکار کا
بادشاہ ہے… اس کو کبھی نہ چھوڑیں… سات آٹھ منٹ کا یہ ذکر ہمیں لاکھوں فتنوں اور
گناہوں سے بچاتا ہے… آپ ایسا کریں کہ تلاوت کے بعد معمولات میں سب سے پہلے اسی کا
اہتمام کریں…آغاز’’ اللہ اللہ ‘‘ سے ہوگا تو آگے باقی معمولات
بھی آسان ہو جائیں گے ان شاء اللہ …
عجیب فائدہ
ابھی قریب زمانے میں ایک بزرگ گزرے ہیں… بہت بلند پایہ
عالم، بہترین مدرس اور مقبول مصنف… میں نے اُن کے حالاتِ زندگی پڑھے تو حیران رہ
گیا کہ صرف تریسٹھ سال کی عمر میں وہ اتنا کام کیسے کر گئے؟… انہوں نے جتنی کتابیں
لکھیں ہیں اگر کوئی اُن کو نقل کرنے بیٹھے توپچاس سال گزر جائیں… میں نے اُن کے
صاحبزادے سے پوچھا کہ حضرت کے وقت میں اتنی برکت کیسے ہوئی؟… انہوں نے جواب دیا
کہ’’ اللہ اللہ ‘‘ کے ورد کی برکت سے اُن کے وقت اور زندگی
میں اللہ تعالیٰ نے برکت ڈال دی… بے شک درست فرمایا…
حضرت مولانا فقیر محمد پشاوری رحمۃ اللہ علیہ روزانہ تیس
ہزار بار ’’ اللہ اللہ ‘‘ کا ورد کرتے
تھے… اللہ پاک ہمیں بھی نصیب فرمائے…
یہی تو اصل وقت ہوتا ہے
بعض ساتھیوں نے لکھا ہے کہ… ہم اگر عبادت اور معمولات زیادہ
کریں تو دل بے چین ہوجاتا ہے… طبیعت بہت گھبراتی ہے… اور گناہوں کے خیالات زیادہ
آتے ہیں… پھر اگر عبادت کم کردیں تو طبیعت ٹھیک ہو جاتی ہے… یہ کیفیت بہت سی
خواتین اور مرد حضرات لکھتے ہیں… اللہ کے بندو! یہی تو
عبادت کا اصل وقت ہوتا ہے… انسان جب بھی کچھ پانے لگتا ہے… تو شیطان اس پر حملے
کرتا ہے تاکہ انسان محروم ہو جائے… آپ جب شہد کے چھتے کے قریب جائیں گے تبھی
مکھیاں آپ پر حملہ کریں گی… پھر جو مقابلہ کر کے آگے بڑھے گا وہ ’’شہد‘‘ کوپالے
گا… اور جو بھاگ جائے گا وہ وقتی آرام تو محسوس کرے گا مگر’’شہد‘‘ سے محروم رہے
گا… جب دل پر بے چینی کا حملہ ہو اور گناہوں کے لشکر جمع ہو کر حملہ کر دیں تو یہ
وہ وقت ہوتا ہے جب انسان کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت کچھ
ملنے والا ہوتا ہے… ایسے وقت میں نہایت ہمت اور حکمت سے عبادت کو جاری رکھنا
چاہئے… اور اللہ تعالیٰ کے سامنے آہ و زاری کو بڑھا دینا
چاہئے… یہ کافی مشکل ہوتا ہے…لیکن اونچی نعمتیں پانے کے لئے مشکلات کو برداشت کرنا
پڑتا ہے… جب بھی دل پر شیطانی گناہوں کا حملہ ہو تو اللہ تعالیٰ
سے عرض کریں یا اللہ ! آپ کے بندے اور غلام پر حملہ ہو گیا
ہے حفاظت فرما دیں… اور اگر گناہ ہو جائے تو فوراً توبہ کے لئے پہنچ جائیں کہ
یا اللہ پھر ظلم ہو گیا رحمت کا امیدوار ہوں… یہ مقابلہ چند
دن جاری رہتا ہے… جو گرگر کر اٹھتا اور سنبھلتا ہے وہی بڑی نعمت پالیتاہے… اور جو
گر کر مایوس ہو جاتا ہے وہ مقابلہ ہار جاتا ہے… یہ شیطان اور نفس کے ساتھ باکسنگ
کا مقابلہ ہے… اس میں حملہ بھی کرنا ہوتاہے اور دفاع بھی… عبادت حملہ ہے اور
استغفار دفاع… اور مایوس ہوجانا ناک آؤٹ ہونے کی طرح
ہے… اللہ تعالیٰ میری اور آپ کی مدد فرمائے… اس وقت ملکی
حالات کافی مایوس کن… اور خوفناک ہیں… ہمیں ان حالات میں خود کو مایوسی سے بچانے
کے لئے دعاء اور محنت سے کام لینا چاہئے… آپریشن چلتے رہتے ہیں… خوفناک بیانات
آتے رہتے ہیں… چھاپے پڑتے رہتے ہیں… مکڑیاں اپنا جال بُنتی رہتی ہیں… گیدڑ اور
کتے شور مچاتے رہتے ہیں… چوہے انسانوں کو تنگ کرتے رہتے ہیں… مگر حق، حق ہے… اور
حق نے بلند ہونا ہے… کیونکہ اللہ تعالیٰ موجود
ہے، اللہ تعالیٰ ایک ہے
اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے…
آسان راستہ
اللہ تعالیٰ کی عبادت کا راستہ آسان ہے…
جبکہ شیطان کی غلامی کرنا بہت مشکل ہے… شیطان اپنے ’’غلاموں‘‘ پر گدھے سے زیادہ
بوجھ ڈالتا ہے… کمپیوٹر اور فون پر گناہ کرنے والے اپنی نیند تک پوری نہیں کر
سکتے، شیطان چھوڑتا ہی نہیں… ناجائز عشق بازی کرنے والے آپس میں باتیں کرنے، ایک
دوسرے کو دیکھنے… اور ملنے کے لئے کتنی مصیبتیں اور تکلیفیں برداشت کرتے ہیں؟…
شیطان ایک ایک چیز کے لئے ترساتا ہے… پہلے گناہ کرواتاہے، پھر گناہ کو چھپانے کی
محنت میں ڈالتا ہے… اورپھر زندگی بھر بدنامی سے ڈرا ڈرا کر اور گناہ کرواتا ہے…
مال کی محبت والوں کو شیطان مال کی خاطر کتنا رسوا کرتاہے؟… یہ بہت لمبا موضوع ہے
آپ خود تھوڑا سا غور کرلیں کہ…شیطان کی غلامی کرنا کتنا مشکل کام ہے… پہلے سگریٹ،
پھر چرس پھر ہیروئن… مگر شیطان کسی پر بھی دل کو مطمئن نہیں ہونے دیتا… تب لوگ
سپرٹ پیتے ہیں، بوٹ پالش کھاتے ہیں اور قبرستان سے مردوں کی کھوپڑیاں نکال کر ان
میں نشہ کرتے ہیں… مگر شیطان اُس وقت تک نہیں چھوڑتا جب تک مار نہ دے… بازار میں
جا کر حرام مال کمانے والوں کو دیکھ لیں… شیطان کے حکم پر عیاشیاں کرنے والوں کو
دیکھ لیں… یا اللہ رحم فرما اور ہمیں شیطان کی بندگی سے
بچا… جبکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت بہت آسان اور شاندار ہے…
کسی فدائی مجاہد کو کارروائی سے چند دن پہلے تہجد پڑھتا دیکھ لیں…
نماز آسان، روزہ لذیذ… اورنکاح میں سکون…وضو نہیں ہے تب
بھی’’ اللہ اللہ ‘‘ کہنے کی اجازت ہے… آپ خود عبادات پر غور
کریں… ان میں آسانی ہے، نور ہے، صحت ہے، سکون ہے… اور زندگی ہے… پھر کیوں نہ
شیطان سے ہاتھ چھڑا کر ہم اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑ پڑیں… کیا
یہ مشکل ہے؟… اگرمشکل ہے تو ایک کام کر لیں… اچھی طرح وضو کر کے صرف دو رکعت نماز
ادا کر کے اللہ تعالیٰ سے مانگ لیں …
یا اللہ مجھے اپنا مؤمن اور مخلص بندہ بنا … مجھے اپنی
مقبول عبادت کی توفیق عطاء فرما… اور مجھے شیطان کی غلامی اور بندگی سے بچا…
اورہم سب سورۃ یٰس شریف کی ان آیات پر غورکریں… جب قیامت
کے دن مجرموں سے کہا جائے گا…
وَامْتَازُوْا الْیَوْمَ اَیُّھَا الْمُجْرِمُوْنَ ہ اَلَمْ
اَعْہَدْ اِلَیْکُمْ یٰبَنِیْ آدَمَ اَلَّا تَعْبُدُوْاالشَّیْطٰنَ اِنَّہُ
لَکُمْ عَدُوٌّامُبِیْنٌ ہ وَاَنِ اعْبُدُوْنِیْ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ ہ
وَلَقَدْاَضَلَّ مِنْکُمْ جِبِلًّا کَثِیْرًا اَفَلَمْ تَکُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ ہ
(یس ۵۹ تا ۶۲)
ترجمہ:’’اے مجرمو! آج الگ ہو جاؤ ۔ اے آدم کی اولاد! کیا
میں نے تمہیں تاکید نہ کر دی تھی کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا کیونکہ وہ تمہارا صریح
دشمن ہے اور یہ کہ(صرف) میری عبادت کرنا یہ سیدھا راستہ ہے۔ اور یقینا اُس شیطان
نے تم میں سے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیاتھا کیاپس تم نہیں سمجھتے‘‘…
ہمارے شیخ حضرت ہجویری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
اللہ تعالیٰ زمین کو کسی دور میں محبت کے
بغیر نہیں چھوڑتے اور اس اُمت کو ہر گز اپنے اولیاء(یعنی دوستوں) سے خالی نہیں
فرماتے…(کشف المحجوب)
بے شک اللہ تعالیٰ کی’’محبت‘‘ ہر دور
میں برستی رہتی ہے… اور اللہ تعالیٰ کے دوست اولیاء کرام ہر
زمانے میں موجود رہتے ہیں…یا اللہ اپنا فضل فرما کر ہم پر
محبت کی نظر فرما… اور اے کریم ہمیں بھی اپنے دوستوں میں شامل فرما…آمین یا ارحم
الراحمین
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیرخلقہ سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم
تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا۔
٭٭٭
اللہ تعالیٰ رحم فرمائے…پاکستان میں بہت
خون بہہ چکا ہے… اور ابھی مزید بہہ رہا ہے…پشاور کی’’پیپل منڈی‘‘ کا دھماکہ بہت
خوفناک تھا… ایک مسجد، کئی طلبہ، ڈیڑھ سو کے لگ بھگ افراد شہید ہوگئے… خبریںآرہی
ہیں کہ چار دن سے بازار کی مسجد ملبے کے نیچے خود ملبے کا ڈھیر بن چکی ہے…اس میںسے
قرآن پاک پڑھنے والے دس طلبہ کی لاشیں ابھی تک نہیں نکالی جا سکیں… اب نہ وہاں
اذان ہے اور نہ نماز… جبکہ پشاور کے تقریباً ہر محلے میں جنازے ہیں اور ہر گلی میں
آہ و پکار… ہندوستان نے افغان حکومت کی مدد سے ظلم کا یہ بازار گرمایا ہے… اُس کا
مقصد مسلمانوں کو مارنا ، پاکستان کو کمزور کرنا… اور جنوبی وزیرستان میں جاری
آپریشن پر پٹرول چھڑکنا ہے… تاکہ پاکستان کے مسلمان آپس میں اور زیادہ لڑیں، اور
زیادہ ایک دوسرے کو قتل کریں… صوبہ سرحد میںاے این پی کی حکومت ہے… یہ حضرات انڈیا
کے پُرانے یار ہیں… ماضی میں پاکستان توڑنے کی باتیں کرتے تھے اور امریکہ کے خلاف
بہت گرجتے تھے… مگراب وہ امریکہ کے دوست ہیں اور دیندار طبقے کے مرنے پر لطف اندوز
ہورہے ہیں… ہیلری کلنٹن’’کھپرے سانپ‘‘ کی طرح پاکستان کا چکر کاٹ گئی ہے… ہر جگہ
ایک ہی بات کرتی رہی کہ ہم امداددیں گے تم مسلمانوں کو مارو… حالات کافی تشویشناک
ہیں… مگر ہمیں انہی حالات میں سے اُمید کے چراغ تلاش کرنے ہیں… اور ان چراغوں سے
روشنی حاصل کرنی ہے… وجہ یہ ہے کہ ہم خود کو ’’مؤمن‘‘ یعنی ایمان والا کہتے
ہیں… اللہ تعالیٰ ہمیں ایمانِ کامل نصیب فرما دے… مؤمن کی
بڑی علامت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا ہے…
وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَشَدُّ حُبًّالِلّٰہِ ( البقرہ۔۱۶۵)
ترجمہ:’’اور ایمان والوں کو تو اللہ تعالیٰ ہی سے زیادہ
محبت ہوتی ہے‘‘
آپ جانتے ہیں ’’محبت‘‘ کسے کہتے ہیں؟… حضرت فضیل بن عیاضؒ
فرماتے ہیں… المحبۃ ھی الموافقۃ… محبت نام ہے دوست کی موافقت کا… یعنی اگر آپ کو
کسی سے محبت ہے تو پھر ہربات اور ہر چیز میں اُس کی موافقت کرتے جائیں… اور دل تک
میں مخالفت نہ لائیں…
اگر ہمیں اللہ تعالیٰ سے ’’محبت‘‘ ہے تو
پھر اللہ تعالیٰ جو بھی کرے، جو بھی فیصلہ فرمائے ہم دل سے
اُس پرراضی رہیں… اوراپنے دل کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کی
موافقت کرنے والا بنادیں… اللہ تعالیٰ کو یہی پسند ہے کہ حالات ایسے ہی
رہیں تو ہم بھی راضی ہیں… یقینا ان اندھیروں کے پیچھے بہت بڑی خیر چھپی ہو گی… اس
لئے غم اور پریشانی کا زیادہ شکار ہو کر’’کفریہ باتیں‘‘ کرنے کی ضرورت نہیں ہے…
ہمارا کام یہ ہے کہ ہم ’خیر‘‘ کی اور’’اچھے حالات‘‘ کی دعاء کریں… شرعی طور پر
ہماری جو ذمہ داری بنتی ہو وہ ادا کریں… اور اللہ تعالیٰ سے
ایک لمحہ کے لئے بھی مایوس نہ ہوں… ساری دنیا ہمارے ساتھ ہو تب بھی
ہم اللہ تعالیٰ کے وفادار رہیں… اور اگر ساری دنیا ہماری
دشمن ہو جائے تب بھی ہم اللہ تعالیٰ کے وفادار رہیں… بس جس
کو یہ’’راز‘‘ سمجھ آگیا وہی اس زمانے کا کامیاب مسلمان ہے… دنیا کے حالات جتنے
بھی خراب ہو جائیں اس کا اللہ تعالیٰ کی ’’جنت‘‘ پرکیا فرق
پڑتا ہے؟… پاکیزہ حوروں پر کیا فرق پڑتا ہے؟… جب کوئی فرق نہیں پڑتا تو مؤمن کو
مایوس ہونے کی کیا ضرورت ہے؟… وہ تو تیزی سے جنت کی طرف،اُس کی نعمتوں کی طرف… اور
اپنی حوروں کی طرف دوڑ رہا ہے… خیرالقرون کے مسلمانوں نے بھی بڑی آزمائشیں
دیکھیں… مکہ مکرمہ کی تکلیفیں…ابوجہل کی جہالت…ابو لہب اور عتبہ کے مظالم… طائف کے
پتھر… ہجرت کے کانٹے… پھر دورِ صدیق اکبرؓ میں مسیلمہ کذاب کا فتنہ… پھر پُل والا
واقعہ جس میں ہزاروں مسلمان شہید ہوئے… دور عثمانیؓ کی وہ لڑائی جس میں دس ہزار
مسلمان شہید ہوئے… اور پھر حجاج بن یوسف کے ظلم کا فتنہ… ان تمام آزمائشوں میں
کسی مخلص مسلمان نے گھبرا کر یہ نہیں کہا کہ اب کیا ہوگا؟… سب کو معلوم تھا کہ
ہم اللہ کی طرف جارہے ہیں…جنت کی طرف دوڑ رہے ہیں، تب اُنہیںمظالم
کے اندھیروں میں روشنی کے چراغ خود بخودنظر آجاتے تھے… مثال کے طور پریہ چھوٹا سا
واقعہ ملاحظہ فرمائیے…
عبدالرحمن بن ناصر اندلسی رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں ایک
مجاہد گزرے ہیں، ان کا نام’’ابو محمد س‘‘ تھا… وہ فرماتے ہیں کہ خندق والے سال میں
بھی جہاد کے لئے نکلا… لڑائی میں مسلمانوں کو شکست ہو گئی اور جو مسلمان بچ گئے وہ
مختلف اطراف میں بکھر گئے… میں بھی بچ جانے والوںمیں سے تھا اوراکیلا سفر کر رہا
تھا… دشمنوں سے بچنے کے لئے میں دن کو چھپ جاتا اور رات کو سفر کرتا… ایک رات
اچانک میں ایسے لشکر میں پہنچ گیا جو پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا… ہر طرف گھوڑے بندھے
ہوئے تھے، آگ جل رہی تھی اور جگہ جگہ تلاوتِ قرآنِ پاک کی آواز آرہی تھی… میں
نے شکر ادا کیا کہ میں مسلمانوں کے لشکر میں پہنچ چکا ہوں… وہاں میری ملاقات ایک
نوجوان سے ہوئی، اُس کا گھوڑا قریب بندھا ہوا تھا اور وہ سورۂ بنی اسرائیل کی
تلاوت کر رہا تھا… میں نے اُسے سلام کیا، اُس نے جواب دیکر پوچھا کیا آپ بچ جانے
والوں میں سے ہیں؟ میں نے کہا جی ہاں!… اُس نے مجھے بٹھا دیا اور میرے پاس بے موسم
کے انگور، دو روٹیاں اور پانی کا پیالہ لے آیا… میں نے ایسا لذیذ کھانا کبھی نہیں
کھایا تھا… کھانے کے بعد اُس نے پوچھا،کیا آپ سونا چاہتے ہیں؟… میں نے کہا جی
ہاں! اُس نے اپنی ران پر میرا سر رکھا اورمیں سو گیا… صبح اٹھا تو میدان میں کوئی
بھی نہیں تھا اورمیراسر ایک انسانی ہڈی کے اوپر تھا… میں سمجھ گیا کہ یہ شہداء
کرام کا لشکر تھا… کافی مفصل واقعہ ہے فضائل جہاد کے صفحہ ۴۴۶ پر پڑھ لیجئے… ہمیں تو یہ ہڈی نظر آتی ہے مگر اس ہڈی
کے ساتھ کیا ہو رہا ہے یہ اللہ پاک جانتا ہے… فون کے میموری
کارڈ میں کیا کچھ بھرا ہوتا ہے؟ صرف کارڈ دیکھنے سے پتا نہیں چلتا… یہ تو دنیا کی
معمولی چیز ہے… اللہ تعالیٰ کے ’’جہانوں‘‘ کو
تو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا… برزخ کا جہان کتنا
بڑاہے؟… ہم کمزور لوگ کیا جانیں… تو پھر ہم نے اسی دنیا کو ہی سب کچھ کیوں سمجھ
رکھا ہے؟… تھوڑے سے حالات خراب ہوں تو ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں اور زبانوں پر ’’
اللہ ، اللہ ‘‘ کی بجائے ایک ہی رٹ ہوتی ہے کہ اب کیا ہو گا؟… اب کیا
ہو گا؟… مجھے یاد ہے کہ ’’پرویز مشرف‘‘ کے ڈر سے بہت سے لوگوں نے شرعی جہاد تک
چھوڑ دیا تھا… اور بہت سے لوگوں نے اپنے بہترین مدرسوں کو’’کمپیوٹروں کا باڑہ‘‘بنا
دیا تھا… اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص تدبیر سے پرویز مشرف کو
دفع فرمادیا… ابھی بھارتی گجرات کے درندے’’نریندر مودی‘‘ کا حال آپ نے دیکھا؟…
اُس کو ’’سوائن فلو‘‘ کے عذاب نے آپکڑا ہے… آج کل اپنے گھر میں ابو لہب کی طرح
اکیلا پڑا ہے… کوئی ایڈوانی سے جا کر کہے کہ اپنے ’’شکاری کتے‘‘ کی عیادت تو کر
لو… ایڈوانی کبھی نہیں جائے گا… اور تو اور’’مودی‘‘ کے گھر والے بھی اُس کے قریب
نہیں جارہے… ڈاکٹر بھی جاتے ہیں تو خلائی مسافروں کی طرح حفاظتی لباس اور ماسک پہن
کر جاتے ہیں… اس میں مسلمانوں کے لئے کتنی نشانیاں ہیں… آپ بھارتی وزیر داخلہ کے
بیانات پڑھ لیں وہ مجاہدین کے خوف میں مبتلا ہے… آپ امریکہ اور نیٹو والوں کے
حالات دیکھ لیں وہ خود کو مایوسی کے جنگل میں کھڑا دیکھ رہے ہیں…
وَکَفَی اللہ الْمُوْمِنِیْنَ
الْقِتَالَ (الاحزاب۲۵)
جی ہاں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی مدد
فرمارہاہے اوراُن کے دشمنوں کو عبرتناک انجام کی طرف دھکیل رہا ہے… مسلمان اس دنیا
ہی کو سب کچھ سمجھنا چھوڑ دیں تو اُن کی مایوسی فوراً ختم ہو سکتی ہے… الحمدللہ ہم مسلمانوں کے پاس کلمہ’’لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ موجود ہے… ہمارے پاس
قرآن مجید موجود ہے… ہمارے پاس کعبہ شریف موجودہے … ہمارے پاس
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ’’روضۂ اقدس‘‘
موجود ہے…ہمارے پاس مسجد حرام موجود ہے… ہمارے پاس مسجد نبوی شریف موجود ہے… ہمارے
پاس اپنے پاک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا علم… احادیث اور فقہ کی
صورت میں موجود ہے… ہمارے پاس نماز موجود ہے… ہمارے پاس مسجدیں موجود ہیں… ہماے
پاس روزہ، زکوٰۃ اور حج موجود ہے… ہمارے پاس جہاد فی
سبیل اللہ موجود ہے… ہمارے پاس جان دینے والے شہداء اور
مجاہدین موجود ہیں… ہمارے پاس قرآن پاک کے حفاظ اور علماء موجود ہیں… مایوس وہ ہو
جو اللہ تعالیٰ سے کٹ چکا ہو… جس کا رب موجود ہے اور ہمیشہ
ہمیشہ ہے وہ کیوں مایوس ہو؟… اور رب بھی ایسا جس نے چوبیس گھنٹے توبہ کا دروازہ کھلا
رکھا ہوا ہے… اور رات کے آخری پہر تو وہ خود آواز دے کر توبہ کے لئے بلاتا ہے…
وہ ایسا کریم ہے کہ پہاڑوں جیسے بڑے بڑے گناہوں کو رحمت کی ایک نظر فرما کر نیکیوں
سے بدل دیتا ہے… فضیل بن عیاضؒ گھر سے ڈاکہ ڈالنے نکلے… جس قافلے کو
لوٹنا تھا اُس میں قرآن پاک کا ایک قاری اپنے اونٹ پربیٹھا تلاوت کر رہا تھا…
اَلَمْ یَأنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اَنْ تَخْشَعَ
قُلُوْبُھُمْ لِذِکْرِ اللہ ( الحدید۱۶)
ترجمہ: کیا ایمان والوں کے لئے وہ وقت قریب نہیں آیا کہ
اُن کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لئے گڑ گڑااٹھیں…
بس یہ آیت سنتے ہی’’فضیل‘‘ نے توبہ کے لئے سر جھکا دیا…
ربّ کریم نے اُن کو اولیاء کا سردار اور
’’عابدالحرمین‘‘بنادیا… اللہ تعالیٰ کی عظمت کے سامنے ہمارے
گناہوں کی حیثیت ہی کیا ہے؟… حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ
اپنے گھر سے ’’اپنی محبوبہ‘‘ کا دیدار کرنے نکلے… وہ’’عشق مجازی‘‘ کی مصیبت میں
مبتلا تھے… رات بھر’’محبوبہ‘‘ کے گھر کی دیوار کے نیچے کھڑے رہے یہ نیچے اور وہ
اوپر… ساری رات دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے… فجر کی اذان سنی تو دل ایک لمحے کے
لئے محبوب حقیقی کی طرف متوجہ ہوا… اپنے آپ سے کہنے لگے اے مبارک کے بیٹے! تمہیں
شرم آنی چاہئے کہ آج کی پوری رات تو نفسانی خواہش کے لئے پاؤں پر کھڑا رہا
اورپھر بھی تو عزت چاہتا ہے… لیکن اگر امام نماز میں ذرا لمبی سورۃ پڑھ لے تو
تودیوانہ ہو جاتا ہے… اس نفسانی خواہش کے دعویٰ کے ہوتے ہوئے توایمان کا دعویٰ
کیسے کر سکتا ہے؟(کشف المحجوب، حضرت ہجویری رحمۃ اللہ علیہ)
بس اتنی دیر خود کو سمجھایا
تو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالیا… اور اُن کو علماء،مجاہدین
اور اولیاء کا سرتاج بنا دیا… کیا ہم لوگ تنہائی میں تھوڑی دیرکا مراقبہ نہیں کر
سکتے؟… وہ دیکھو کلمہ طیبہ کا نور ہمارے سروں پر چمک رہا ہے… وہ دیکھو کعبہ شریف
کا جلال و جمال ہر طرف نور برسا رہا ہے… وہ دیکھو فلسطین، افغانستان، کشمیر اور
عراق کے محاذوں سے ’’محبت الہٰی‘‘ کی خوشبوآرہی ہے… وہ دیکھو قرآن پاک ہدایت کے
میٹھے سمندر کی طرح ہمارے سامنے جاری ہے… یادکرو… تھوڑی دیر تنہائی میں یاد کرو…
ہاں جلدی کرو…زبان اور آنکھیں بند کر کے یاد
کرو… اللہ تعالیٰ موجود ہے… اُس نے اب تک مجھے کون کون سی
نعمتیں دیں ہیں … پھر قرآن پاک کوسوچو… کعبہ شریف، حجراسوداور روضہ اقدس کو سوچو…
محاذوں کی خوشبو اور شہداء کے مہکتے خون کو سوچو… ہاں ان باتوں کو سوچا کرو… اسی
کو مراقبہ کہتے ہیں… گم ہوجاؤ… اپنے رب کریم کی یاد، اُس کی محبت اور اُس کی رحمت
میں گم ہوجاؤ… پھر جو مانگنا ہے مزے سے مانگو… اللہ تعالیٰ
کی فرمانبرداری کرو… اور رحمت کی ہواؤں میں اڑتے پھرو… اور وہ جو مایوسی آج کل
آئی ہوئی ہے اُسے بس پہ بٹھا کر سیدھا’’نریندر مودی‘‘ کے پاس بھیج دو… اُس
کے’’اننچاس کروڑ‘‘ جعلی دیوتا اُس کے کچھ کام نہ آئے…
یا اللہ امت مسلمہ پر رحمت فرما…
آمین یا ارحم الراحمین
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ
سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے اپنے سب سے محبوب اور
آخری نبی… حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں کے لئے’’رحمت
‘‘ بنا کربھیجا… ذرا غور سے سنیے’’رحمۃ اللعالمین‘‘ کیا ارشاد فرماتے ہیں…
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا:میرا دل چاہتا ہے کہ چند نوجوانوں سے کہوں کہ بہت سی لکڑیاں(یعنی ایندھن)
جمع کر کے لے آئیں پھر اُن لوگوں کے پاس جاؤں جو بلاعذر گھروں میں نماز پڑھ لیتے
ہیں اور جا کر اُن کے گھروں کوجلادوں‘‘۔(صحیح مسلم،ابو داؤد)
اے مسلمانو! جب آپ لوگ جماعت کی نماز چھوڑ دیتے ہیں…
خصوصاً فجر کی نماز… اور گھروںمیں نماز ادا کرتے ہیں تو
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنی تکلیف
پہنچتی ہے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کے گھروں کو آگ سے
جلانے کا ارادہ فرمایا… تو اللہ تعالیٰ نے اُن
کے گھروں میں آگ لگا دی ہے… بیماری کی آگ، پریشانی کی آگ، ذلّت کی آگ، بے
برکتی کی آگ… نااتفاقی ، اور رزق میں تنگی کی آگ… اور معلوم نہیں کہ کون کون سی
آگ… اور یہ ظلم نہیں انصاف ہے… کیونکہ’’نماز‘‘ ایک مسلمان کے لئے سب سے اہم
’’فریضہ‘‘ہے… سب سے زیادہ ضروری کام ہے ،سب سے زیادہ ضروری کام…
دن کاآغاز نافرمانی سے
تھوڑا سا سوچیں… اللہ تعالیٰ نے ہمیں
زندگی کا ایک نیا دن دیا… اس دن کے آغاز میں مسجد سے اذان کی آواز آئی…
یعنی اللہ تعالیٰ نے ہمیں نماز کے لئے بلایا… مگر ہم نہیں
گئے… ہم نے دن کا آغاز ہی نافرمانی اورگناہ سے کر ڈالا… اناللہ وانا
الیہ راجعون…
’’حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا…
سراسر ظلم ہے اور کفر ہے اور نفاق ہے اس شخص کا عمل جس
نے اللہ تعالیٰ کے منادی (یعنی مؤذن) کی آواز سنی اور
نماز کے لئے نہ گیا(احمد، طبرانی)…
صبح سورج نکلا تو اُس نے ہمیںنیند میں مست پایا… سورج اتنا
بڑاہو کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ہمت نہیںکرتا… اورہم
نے صبح صبح اتنابڑا ظلم کر ڈالا… رونے کا مقام ہے، چیخ چیخ کر رونے اور
دھاڑیںمارنے کا مقام ہے… تین ہزار کی نوکری والے اپنے وقت پر دفترپہنچ جاتے ہیں…
اور ایک مسلمان مسجد نہ جا سکا… پھر بھی مسلمان ہے اور پھر بھی بے فکر پھرتا ہے…
بہت بڑی مصیبت
بے نمازی لوگوں کی بات تو چھوڑیں… ان کے لئے تو بہت سخت
خطرہ ہے… ان کے بارے میں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کا ایمان باقی ہے یاوہ کفر کی
سرحدوں میں داخل ہو چکے ہیں… بات تو اُن مسلمان مردوں کی چل رہی ہے جو نمازیں قضا
کر دیتے ہیں… جونمازوں کو اپنے وقت پر نہیں پڑھتے… جو نمازوں کے لئے مسجدوں میں
حاضر نہیں ہوتے… حقیقت میں یہ بہت بڑی مصیبت ہے… جی ہاں فجرکی نماز… یا کوئی بھی
نماز بغیر عذر کے بے جماعت گھر میں پڑھنا… یا اپنے وقت پر ادا نہ کرنا
یہ بہت سخت مصیبت ہے… ایک مسلمان کے لئے امریکی میزائل اتنے خطرناک نہیں
جتنا کہ نماز میں سستی خطرناک ہے…
اللہ تعالیٰ نے خود قرآن پاک میں فرمایا
کہ… ایسے نمازیوں کے لئے ہلاکت ہے جو نماز کی طرف سے غافل رہتے ہیں… حضور اقدس صلی
اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ یہ کون لوگ ہیں؟… ارشاد فرمایا یہ وہ
لوگ ہیں جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کر دیتے ہیں…
ہم تھوڑا سا سوچیں کہ جس عمل کو اللہ تعالیٰ
’’ہلاکت‘‘ قرار دے… وہ عمل کتنا خطرناک ہو گا…
ہائے افسوس
فجر اور عشاء کی نماز میں سستی منافق کی علامت قرار دی گئی
ہے… روایات میں ہے کہ
(۱) ’’ہمارے اور منافقین کے درمیان (فرق کرنے والی) نشانی عشاء اور صبح کی نماز میں
حاضری ہے کہ وہ(منافقین) اس کی طاقت نہیں رکھتے‘‘۔(کنز العمال)
(۲) ’’منافقوں پر فجر اور عشاء کی نماز سے زیادہ بھاری اور کوئی نماز
نہیں ہے اگر وہ جان لیں کہ ان نمازوں میں کتنا اجر ہے تو ضرور حاضر ہوں اگرچہ
انہیں گھسٹ گھسٹ کر آنا پڑے‘‘ (بخاری ، مسلم)
اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ
وسلم نے جس کام کو منافقین کی علامت قرار دیا… اب وہی کام مسلمانوں کے
’’دیندار‘‘ طبقے میں عام ہو تا جارہا ہے… سیاسی جماعتوں کو توچھوڑئیے…دین کے کئی
طالب علم اور طالبات تک فجر کی نماز قضاء کرنے کے عادی بن گئے ہیں… کاش ہم
مسلمانوں کو احساس ہو جائے کہ یہ کتنا بڑا جرم ہے… مگر افسوس، ہائے افسوس کہ دین
کا کام کرنے والوں تک میں سے یہ احساس نکلتا جارہا ہے…
کیا ہی اچھا ہوتا
کبھی کبھار تو کسی کو بھی نیند آسکتی ہے… اورفجر کی نماز
قضاء ہو سکتی ہے… لیکن ایمان والے تب کیا کرتے ہیں؟… وہ جاگتے ہی نماز کی تیاری کے
لئے بھاگتے ہیں… اُن کے دل میں ڈر ہوتا ہے کہ اس حالت میں موت نہ آجائے… وہ فوراً
نماز ادا کرتے ہیں… اور پھر’’صلوٰۃ توبہ‘‘ ادا کر کے معافی مانگتے ہیں… اُن کی
آنکھوں کے ساتھ ان کا دل بھی روتا ہے… وہ صدقہ خیرات کرتے ہیں… سارا دن غم اور
شرمندگی میں گھلتے ہیں… کسی سے آنکھیں ملا کربات نہیں کر سکتے… ہائے میری ایک
نماز اپنے وقت سے قضاء ہو گئی… کوئی انسان کروڑوں روپے دے کر بھی اس نماز کا اجر
نہیں خرید سکتا… فجر کا حسین وقت، اُس وقت کی تلاوت اور سجدے… اور سلام پھیرتے ہی
آیۃ الکرسی… اورسید الاستغفار… سبحان اللہ … شام تک جنت محفوظ ہو گئی…
یہ سب کچھ یاد آتا ہے اور دل توبہ، استغفار میںلگارہتا ہے… ایسے لوگوں کی نماز
اگر دو چار بار قضا ء ہو جائے تو خوف سے تھر تھر کانپتے
ہیں… اللہ والوں سے وظیفے پوچھتے ہیں… نفل روزے رکھ
کر اللہ تعالیٰ کے سامنے آہ و زاری کرتے ہیں… اور سجدوں
میں گر کر کہتے ہیں یا اللہ … اس محرومی اور گناہ سے بچا،
یا اللہ مجھ پر رحم فرما…
مرض سمجھیں تو علاج ممکن ہے
لیکن کچھ لوگ اس بیماری کو ’’مرض‘‘ ہی نہیں سمجھتے… شیطان
اُن کو سمجھاتا ہے کہ کوئی بات نہیں قضا ہی سہی میں پڑھ تو لیتا ہوں… لوگ تو فلاں
فلاں گناہ کرتے ہیں… جبکہ میں تو فلاں فلاں نیکیاں کرر ہا ہوں… کبھی شیطان سمجھاتا
ہے کہ کوئی بات نہیں کچھ دن بعد باجماعت نماز شروع کر دینا… ایسے لوگ آہستہ
آہستہ غلطی میں پڑتے چلے جاتے ہیں… کئی اچھے خاصے مسلمانوں کی گمراہی کی وجہ ہی
یہی بنی کہ انہوں نے’’نماز‘‘ کا اہتمام نہیں کیا… نماز تو ستون ہے ستون ٹھیک اور
سیدھا نہیں ہو گا توباقی عمارت کیسے کھڑی ہوگی… نماز تو پہلی بنیادہے جب بنیاد ہی
کمزور ہوگی تو اخلاص کہاں سے پیدا ہو گا… حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے تو صاف
سمجھا دیا کہ جس کی نماز کامعاملہ ٹھیک نہیں اس کا کوئی بھی معاملہ ٹھیک نہیں ہو
سکتا…اس لئے مسلمان بھائیو! اور مسلمان بہنو!…ہم سب سے پہلے اپنے دل میں نماز کی
اہمیت بٹھائیں… اور نماز میں سستی کے مرض کو ’’کینسر‘‘ کی طرح خطرناک سمجھیں…
اگر اللہ پاک نے ہمارے دل میں یہ بات بٹھادی تو پھر علاج
بہت آسان ہے، بے حد آسان… اور علاج یہ ہے کہ ہم اپنی پچھلی غفلت سے سچی توبہ کر
لیں اور آئندہ کے لئے مضبوط عزم کر لیں کہ ان شاء اللہ …
ہر نماز کو تکبیر اولیٰ کی پابندی کے ساتھ مسجد میں ادا کریں گے خواہ کچھ بھی ہو
جائے… اور عورتیں یہ عزم کرلیں کہ ہم ان شاء اللہ ہر
نماز کو اُس کے اوّل وقت میں مکمل اہتمام کے ساتھ ادا کریں گی… اگر ہم نے پختہ عزم
کر لیا تو پھر معاملہ آسان ہے کیونکہ نماز… کوئی بوجھ نہیں بلکہ لذتوںاور مزوں کا
دریا ہے…
اپنی نگرانی
ہم نے عزم کر لیا کہ مرتے دم تک ہر نماز… مسجد میں باجماعت
ادا کریں گے… ان شاء اللہ یہ عزم ہی کام کر جائے گا…
آخر چوکیدار بھی تو تھوڑی سی تنخواہ کے لئے رات بھر جاگتا ہے… کیونکہ اُس نے
جاگنے کو اپنا کام سمجھ لیا ہے… پھر بھی رات کو سوتے وقت خوب دعاء کر لیں…اپنے
موبائل پر زور دارالارم لگا دیں… سورۃ الکہف کی آخری آیات پڑھ لیں… اور کسی کے
ذمہ لگادیں کہ مجھے جگا دینا… یہ سارے انتظامات کر لئے مگر شیطان نے پھر بھی سلا
دیا تو اب کیا کرنا ہے؟… جواب یہ ہے کہ شیطان کا مقابلہ کرنا ہے اور اس مردود
کو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے شکست دینی ہے…وہ ا س طرح
کہ
(۱) سارا دن توبہ، استغفار میں گذاریں اور نیت کر لیں کہ آئندہ اگر میری نماز قضا
ء ہوئی تو اُسی دن دس رکعت نوافل پڑھوں گا… ایک دن کا نفل روزہ رکھوں گا… اور اپنی
ماہانہ آمدن کا تیسواں حصہ صدقہ دوں گا…
(۲) تیسواں حصہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ… اگر آمدن تین ہزار ہے تو ایک سو روپے دے
دیں اور نفس سے کہیں!… ٹھیک ہے تو میری نماز قضا ء کرا میں روزانہ اتنا صدقہ دوں
گا تو پورے مہینے کی آمدن تیس نمازوں کا صدقہ بن جائے گی… تب تجھے بھوکا رہنا پڑے
گا…
(۳) صلوٰۃ توبہ ادا کر کے استغفار کریں… اور صلوٰۃ الحاجۃ ادا کر
کے اللہ پاک سے نماز باجماعت کی توفیق مانگیں…
اگر یہ کام کر لئے تو ان شاء اللہ
شیطان شکست کھاجائے گا… اور نماز کے لئے جاگنا آسان ہو جائے گا… یاد رکھیں کہ جن
لوگوں کے سر نماز کے وقت نیند سے بھاری ہو جاتے ہیں… اور وہ سوتے رہتے ہیں ایسے
لوگوں کے لئے سخت وعید ہے کہ قیامت کے دن فرشتے اُن کے سروں کو لوہے کے
گرزوں سے ماریں گے… اللہ پاک ہم سب کی حفاظت فرمائے…
مذاکرہ ضروری ہے
’’نماز‘‘ کے بغیر’’ایمان‘‘ قابل اعتبار نہیں ہوتا… اور نہ
ہی قوت پکڑتا ہے…ہمیں اگر اپنی ذات کے ساتھ تھوڑی سی ہمدردی ہے… اورہم خود کو قبر
اور آخرت کے عذاب سے بچانا چاہتے ہیں تو ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنی نمازوں کی خود
ہی فکر کریں… اور اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ نماز کے بارے میں جو
آیات اوراحادیث وارد ہوئی ہیں ہم اُن کا مطالعہ کریں… اور ان میں سے بعض کو یاد
کر لیں… اور پھر ہم دوسرے مسلمانوں کو نماز کی دعوت دیا کریں…
اور اللہ والوں سے نماز سیکھا کریں… میرے عزیز بھائیو! اور
بہنو! قبر سامنے تیار ہے… ہم سب کو نماز کی بہت فکر کرنی چاہئے… حضرت شیخ الحدیث
رحمۃ اللہ علیہ کے رسالے’’فضائل نماز‘‘ کا ایک بار ضرور مطالعہ کرلیں… یا رنگ و
نور جلد اوّل کے ان تین مضامین کو توجہ سے پڑھیں
(۱) اقامت صلوٰۃ مہم …رنگ ونور ج۱،ص۲۱۳
(۲) بے نمازی، بے ہدایت …رنگ ونور ج۱،ص ۲۳۲
(۳)ایک دعاء دس موتی…رنگ ونور ج۱،ص ۲۴۴
ایک گزارش
(۱) آپ میں سے اللہ تعالیٰ جس کو توفیق عطاء فرمائے وہ ان
’’تین مضامین‘‘ کو پڑھ کر ان کا خلاصہ یاد کر لے… اور پھر مسلمانوں کو یہ خلاصہ
سنایا کرے… اس سے ان شاء اللہ اپنی نماز بھی مضبوط
ہوگی… اور دوسروں کو دعوت دینے کا اجر عظیم بھی ملے گا…
(۲) ہمارے جو ساتھی جہاد پر بیان کرتے ہیں وہ… جہاد کے ساتھ ساتھ نماز کی دعوت بھی
دیا کریں… ان شاء اللہ اس سے تحریک جہاد کوبے پناہ
قوت ملے گی…
(۳) آپ میں سے جس کو اللہ تعالیٰ استطاعت عطاء فرمائے وہ
ان تین مضامین کو چھپوا کر… یا انکی فوٹو کاپی کرا کے مسلمانوں میں
تقسیم کرے…
(۴) آپ میں سے جو بھائی یا بہن نماز کی سستی میں مبتلاہو… اور آج کی محفل کے بعد
اُس نے اس جرم سے توبہ کا عزم کر لیا ہو… اور پھر مسلسل تین دن عمل بھی کیاہو تو…
میری دل سے دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ اُسے دنیا اور آخرت میں
اپنی خاص رحمت نصیب فرمائے…
آمین یا ارحم الراحمین…
وصلی اللہ تعالیٰ اعلیٰ خیر خلقہ
سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ جس کے لئے چاہتا ہے ’’رزق‘‘
زیادہ کرتا ہے… اور جس کے لئے چاہتا ہے’’رزق‘‘ تنگ کردیتا ہے… وہ اپنے بندوں کو
خوب جانتاہے اور سب دیکھتاہے… تم لوگ اپنی اولادوں کو تنگدستی کے ڈر سے قتل نہ کرو
ہم انہیں بھی رزق دیتے ہیں اور تمہیں بھی… بے شک اُن کا قتل کرنا بڑا گناہ ہے…
ایک صفحہ چار احکام
آج کالم لکھنے بیٹھا تو دل سے آوازآئی کہ قرآنِ پاک سے
رہنمائی لو… اللہ تعالیٰ کا نام لیکر قرآنِ پاک کو کھولا
تو یہ دو آیات سامنے آئیں جن کا مفہوم آپ نے اوپر پڑھ لیا ہے… آگے دیکھا تو
صرف اسی ایک صفحہ پر مسلمانوں کے ’’مال‘‘ کے بارے میں چار احکامات موجود تھے… بے
شک’’مال‘‘ کا معاملہ بہت نازک اور حسّاس ہے… اسی
لئے اللہ پاک نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ
وسلم نے بہت کھول کھول کر مال کے احکامات بیان فرمائے ہیں… تاکہ’’مال‘‘
مسلمان کے لئے’’وبال‘‘ نہ بنے… بلکہ اُس کی راحت اور سعادت کا ذریعہ بنے…
چار احکامات یہ ہیں:۔
(۱) مال کا مالک اللہ تعالیٰ ہے، وہ جسے چاہے جتنا دے…
معلوم ہوا کہ مسلمان کو اپنی ’’روزی‘‘ کے لئے
صرف اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا
چاہئے… اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کورزّاق نہیں سمجھنا چاہئے…
روزی اور مال کی خاطر اللہ تعالیٰ کو ناراض نہیں کرنا
چاہئے… نیکی کے کاموں میں خرچ کرتے وقت یہ نہیںسوچنا چاہئے کہ مال کم ہو جائے گا…
جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے کسی جگہ خرچ کرو گے
تو اللہ تعالیٰ برکت عطاء فرمائے گا…
(۲) اپنی اولاد کو بھوک اور غربت کے خوف سے قتل نہ کرو… یعنی یہ نہ سمجھو کہ تم
اپنی اولاد کو کھلاتے پلاتے ہو… جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے وہ اپنا رزق ساتھ لاتا
ہے… اسی لئے عقلمند لوگ کہتے ہیں’’زیادہ بچے خوشحال گھرانہ‘‘… روزی کم ہونے کے ڈر
سے اولاد کو قتل نہ کرو… نہ جسمانی طور پر اور نہ روحانی طور پر… جسمانی قتل تو یہ
ہے کہ اُن کو مار ڈالو… اور روحانی قتل یہ ہے کہ روزی کی خاطر انہیں دین اور دینی
تعلیم سے محروم رکھو… یہ دونوں طرح کے قتل ناجائز اور حرام ہیں…
(۳) یتیموں کا مال ناجائز طریقے سے نہ کھاؤ… یعنی وراثت کا مال ٹھیک طرح سے تقسیم
کیا کرو… یتیم بچوں کا جو حصہ بنتاہے اُسے ہڑپ کر کے جہنم کے انگارے نہ کھاؤ…
بلکہ یتیموں کے مال کی حفاظت کرو… اور یتیموں کا بہت خیال رکھا کرو…
(۴) ناپ تول میں کمی نہ کرو… ٹھیک ترازو سے تول کر دیا کرو… یعنی دھوکے اور دغا
بازی سے مال نہ کماؤ… خیانت نہ کرو… کسی کا حق نہ مارو… تجارت میںشرعی احکامات کو
ملحوظ رکھو…
یہ ہے خلاصہ اُن چار احکام کا جو قرآن پاک کے ایک صفحہ
مبارکہ پر مال کے بارے میں ہم مسلمانوں کو سمجھائے گئے ہیں…
مال کس کا ہے
قرآن پاک نے سمجھایا کہ ’’مال‘‘ کا اصل
مالک اللہ تعالیٰ ہے… اللہ تعالیٰ
ایمان والوں کو یہ مال اس لئے دیتا ہے تاکہ وہ اس کے ذریعہ… اپنی دنیا کی ضروریات
پوری کریں اور آخرت کی نعمتیں خریدیں… دنیاکی ضرورت پوری کرناتو سب کو سمجھ آتا
ہے مگر آخرت کی نعمتیں خریدنا ہر کسی کی عقل میں نہیں
آتا… اللہ تعالیٰ نے احسان فرمایا کہ قرآن پاک میں عجیب
عجیب طریقوں سے مسلمانوں کو… جہاد اور نیکی کے دوسرے راستوں میںمال خرچ کرنے کی
ترغیب دی… ایک مسلمان اگر صرف ایک بار اُن آیات اور احادیث کو پڑھ لے جو مال خرچ
کرنے کی ترغیب میں آئی ہیں تو اس کے لئے… اپنے تن کے کپڑے تک دینا آسان ہو جاتا
ہے… صرف سورۃ الحدید کو پڑھ لیں… اس میں جہاد پر مال لگانے کی عاشقانہ ترغیب
ہے… اللہ اکبر کبیرا… اللہ تعالیٰ
کتنا کریم ہے… خود مال دیتا ہے… اور پھر جب کوئی بندہ اس مال کواُس کے راستے میں
خرچ کرے تو اُسے دنیا اور آخرت کی نعمتوں سے مالا مال کر دیتا ہے… سورۃالحدید
میں اللہ تعالیٰ کتنے پیار سے سمجھاتا ہے کہ
(۱) اے مال والو! یہ مال تم سے پہلے کسی اور کے پاس تھا… اب اُس کے پاس نہیں رہا…
آگے چل کر تمہارے پاس بھی نہیں رہے گا… تمہاری زندگی ہی میں یا تمہارے مرنے کے
بعد یہ مال کسی اور کے پاس چلا جائے گا… پس تم عقلمندی کرو اور اس مال
کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کر کے اپنی آخرت کے لئے
محفوظ کر لو… سورۃ الحدید کی آیت(۷) میں اس مفہوم کی طرف اشارہ ہے…
(۲) اے مال والو! یہ مال تم نے ویسے ہی اللہ تعالیٰ کے لئے
چھوڑجانا ہے…کیونکہ سب لوگ ختم ہو جائیں گے اور اللہ تعالیٰ
ہی ہر چیز کا وارث رہ جائے گا… توپھر اپنی مرضی اور خوشی سے یہ
مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں کیوںنہیںلگاتے… یہ مفہوم آیت (۱۰) میں سمجھایا گیا ہے…
(۳) اے مال والو! تمہارا یہ مال خرچ کرنا گویا
کہ اللہ تعالیٰ کو قرض دینا ہے… اب سوچ لو کہ یہ کتنی بڑی
سعادت ہے… پھر یہ بھی وعدہ ہے کہ اس خرچ کرنے کی برکت
سے اللہ تعالیٰ تمہارے مال اور اجر کو بڑھا دیتا ہے… اور اس
کا بدلہ پاکیزہ جنت کی صورت میں عطاء فرماتاہے… یہ مفہوم آیت(۱۱) میں سمجھایا گیا ہے…
مال سعادت یا وبال
جن لوگوں نے مال اللہ تعالیٰ کی راہ
میں لگایا… وہ دنیا کے حکمران بن گئے اور آخرت کا اصل بدلہ اُن کا مقدر بن گیا…
مگر جنہوں نے حرص کی اوربخل کیا انہوں نے خود کو اور اپنے ارد گرد کو دنیا و آخرت
کی آگ سے بھر دیا… آج پاکستان میں جو درد ناک حالات ہیں ان کے پیچھے صرف اور صرف
’’ڈالر کے پجاریوں‘‘ کا ہاتھ ہے… مال کی خاطر ملک بیچنے والے حکمران… مال کی خاطر
مسلمانو ں کے سودے کرنے والے حکام… مال کی خاطر فساد پھیلانے والے صحافی… مال کی
خاطر دین سے محروم ہو جانے والے دانشمند… ان سب نے مل کر اس ملک کو مسلمانوں کی
قتل گاہ بنا دیا ہے… انہوں نے پیسہ لیکر دہشت گردی ختم کرنے کا ٹھیکہ لیا اور پھر
بالآخر انہیں دہشت گردی نظر آہی گئی… نو سال پہلے بھی اس ملک میں ’’مجاہدین‘‘
موجود تھے… بااخلاق، امن پسند اور عبادت گزار مجاہدین… انہوں نے نہ ملک میں کوئی
دھماکہ کیا اور نہ کوئی قتل… اُن کے پاس حکومتی لائسنس والی سیمی آٹو میٹک چند
رائفلیں تھیں… پولیس اُن کو روکتی تو وہ مسکراتے ہوئے رُک جاتے اور آرام سے تلاشی
دیتے… کافروں کو یہ مجاہدین کھٹکتے تھے انہوں نے ڈالروں کے پجاریوں کو نوٹ دکھائے
کہ بس ان پر شروع ہو جاؤ… صحافیوں کو خریدا کہ دہشت گردی کے خطرے کے گیت گاؤ… بے
عقل دانشمندوں کو امریکہ کے گناہ آلود چکر لگوائے کہ دہشت گردی کے خلاف کام کرو…
یہ سب اپنی فیس لیکر جہاد اور مجاہدین کے پیچھے پڑ گئے… مسجدوں پر چھاپے، مدارس پر
چھاپے… مجاہدین کی گرفتاریاں… طرح طرح کے بیہودہ تشدد… اور ہر دیندار پر شک کی
نظریں… تب اللہ پاک کا انتقام جوش میں آگیا، اب ہر کوئی مر
رہا ہے… ہرکوئی جل رہا ہے… اور ہر کوئی چیخ رہا ہے… اور ایسا لگتا ہے کہ معاملات
اب کسی کے ہاتھ میں بھی نہیں رہے… میں مکمل یقین سے کہتا ہوں کہ حکمران آج ڈالر
پرستی سے توبہ کر لیں، جہاد کے خلاف کام کرنے سے توبہ کر لیں… مساجد اور مدارس کے
مقام کو تسلیم کر لیں… زرخرید صحافیوں پرپابندی لگادیںتو صرف تین ماہ میں پاکستان
دوبارہ امن کا گہوارہ بن سکتا ہے… اس ملک میں الحمدللہ کوئی’’دہشت گرد‘‘ نہیں تھا… ڈالر کے پجاریوں نے
لوگوں کو خود دہشت گردی پرمجبور کیا ہے… اور جب تک یہ پالیسی رہے گی حالات بد سے
بدتر ہوتے جائیں گے اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے…
سخاوت میں برکت ہے
حضرت ہجویری رحمۃ اللہ علیہ نے ’’کشف المحجوب‘‘ میں مال خرچ
پر عجیب واقعات لکھے ہیں اُن میں سے چند ایک کا خلاصہ یہاں عرض کیا جاتا ہے… ممکن
ہے اُن کو پڑھ کر ہماری قسمت بھی کُھل جائے… اورہم بھی اللہ تعالیٰ کے
راستے میں مال خرچ کرنے والے بن جائیں…
(۱) سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بار اسّی ہزار
درہم لائے گئے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سب اپنی چادر پر ڈال دیئے
اور جب تک وہ سب اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کر دیئے
اپنی جگہ سے نہ اٹھے…
(۲) حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حبشہ کے بادشاہ نے
دومن’’مشک‘‘بھیجا… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام کا تمام ایک بار ہی
پانی میں ڈال دیا اور صحابہ کرام کو استعمال کروایا…
(۳) ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی
اللہ علیہ وسلم نے بکریوں کا بڑا ریوڑ پورا اُس کو عطاء فرمایا… جب وہ
اپنی قوم کے پاس گیا تو کہنے لگا… اے قوم! مسلمان ہو جاؤ کہ محمد صلی اللہ علیہ
وسلم اتنی بخشش کرتے ہیں کہ انہیں اپنی مفلسی کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی…
(۴) ایک شخص حضرت سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا اور
کہنے لگا… اے پیغمبر زادے! میرے ذمہ چار سو درہم قرض ہے… حضرت حسنؓ نے چار سو درہم
اس کودینے کا حکم دیا اور خود روتے ہوئے گھر کے اندر تشریف لے گئے… لوگوں نے پوچھا
اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے! آپ کیوں رو رہے ہیں؟ آپ ذنے
فرمایا’’اس لئے کہ میں نے اس شخص کا حال جاننے میں کوتاہی کی حتی کہ اسے
سوال کرنے کی ذلت اٹھانی پڑی …(کشف المحجوب)
دوسروں کیلئے زندہ رہنے والے
حضرت ہجویری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
ایک دن ایک شخص حضرت سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی
خدمت میں آیا اور کہنے لگا:اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے صاحبزادے! میں ایک درویش آدمی ہوں اور صاحب اولاد ہوں مجھے
آج کی رات کے کھانے کے لئے کچھ عنایت فرمایئے… حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے
اُسے فرمایا… بیٹھ جاؤ! ہمارا روزینہ ابھی راستے میں ہے،ابھی آجائے گا… تھوڑی ہی
دیر بعد لوگ آپ ذ کے پاس حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے
پانچ تھیلیاں لے کر آئے… ہر تھیلی میں ایک ہزار دینار تھے ،لوگوں نے عرض کی کہ
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ آپ سے معذرت چاہتے ہوئے کہتے تھے کہ یہ تھوڑی سی
رقم خرچ کیجئے پھر اس کے بعد اس سے بہتر پیش کی جائے گی… حضرت سیدنا حسین رضی اللہ
عنہ نے اس درویش کی طرف اشارہ کیا اور وہ پانچ تھیلیاں اُسے عطاء
فرمادیں اور اُس سے معذرت کی کہ تھوڑی دیر ہو گئی اور یہ بے قدرسا عطیہ ہے جو تجھے
ملا ہے… اگر مجھے علم ہوتا کہ یہ رقم اتنی تھوڑی ہے تو میں تمہیں انتظار کے لئے نہ
کہتا… ہمیں معذور سمجھنا کہ ہم اہل بلا ہیں… ہم دنیا کی تمام راحتوں سے دست بردار
ہو چکے ہیں اور اپنی خواہشات کو کم کر کے دوسروں کی ضرورتوں کے لئے زندہ ہیں(کشف
المحجوب)
اللہ اکبر کبیرا… کتنی عجیب بات ہے اور
کتنا میٹھا جملہ کہ… ہم دوسروں کی ضرورتوں کے لئے زندہ
ہیں… اللہ تعالیٰ جس مسلمان کو یہ کیفیت نصیب فرما دے کہ وہ
اپنے لئے نہیں دوسروں کے لئے زندہ رہے تو یہ عظیم سعادت ہے… بہت ہی عظیم سعادت…
اچھا موقع موجود ہے
اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کے واقعات بہت
زیادہ ہیں… آپ صرف ’’فضائل جہاد‘‘ کا نواں ، دسواں اور گیارہواں باب پڑھ لیں…
مجھے بہت اُمید ہے کہ جس نے توجہ کے ساتھ ان تین ابواب کو پڑھ لیا
وہ ان شاء اللہ بہت بڑی خیر کمانے کے لئے تیار ہو
جائے گا… روزی،روٹی جو قسمت میں ہوتی ہے وہ ہر کسی کو مل جاتی ہے … پرندے اور
جانور صبح بھوکے پیٹ نکلتے ہیں اور رات کو اُن کے پوٹے اور معدے غذا سے بھرے ہوتے
ہیں… سمندروں کی لاتعداد مچھلیوں کو باقاعدگی سے روزی مل رہی ہے…آزاد کشمیر میں
زلزلہ آیا تو پہاڑوں کے پھٹنے سے بڑے بڑے سانپ نکل آئے… درختوں سے بڑے ان سانپوں
کو زمین کے اندر روزی مل رہی تھی اس لئے وہ زندہ تھے…
جنگلوں کو توچھوڑیں صحراؤں میں
بھی اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو روزی پہنچاتا ہے… اِس لئے ہم
کسی کو دیں نہ دیں اُس کی روزی اُس تک پہنچ کر رہے گی… البتہ اگر ہم نے پہنچا دی
توہمارا بہت بڑا فائدہ ہو جائے گا… ساری دنیا مل کرمجاہدین کا’’چندہ‘‘ بند کرانے
پرتُلی ہوئی ہے… مگر پھر یہی دشمن لوگ کہتے ہیں کہ مجاہدین کے پاس مال بہت ہے…
بینک اکاؤنٹ سیل ہو گئے، مالدار طبقہ ڈر کر سہم گیا،دکانوں سے چندہ بکس اٹھا لئے
گئے…مگر الحمدللہ کام چل رہا ہے اور حسد کرنے والوں کی آنکھیں
پریشانی سے باہرنکل رہی ہیں… یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کا نظام
ہے جسے کوئی بدل نہیں سکتا… آج کل’’الرحمت ٹرسٹ‘‘ کے مخلص جانباز پھر میدان میں
نکلے ہوئے ہیں… وہ کہتے ہیں کہ ’’اجتماعی قربانی‘‘ میں حصہ لیں…ہم عید کے دنوں میں
اپنی خوشیاں قربان کر کے آپ کی نیکی بڑھائیں گے…شہداء کے بچوں تک آپ کی قربانی
کا گوشت پہنچائیں گے… اسیران اسلام کو بکرے اور گائے بھجوائیں گے… اور شہداء کے
بوڑھے والدین کے خشک دسترخوان تک آپ کا کھانا پہنچا آئیں گے…
ماشاء اللہ ! کیا جذبہ ہے اور کتنی بلند
سوچ… اللہ پاک ان جوانوں کی زندگی میں برکت دے… خود شہادت
کے پیچھے دوڑتے ہیں اور لوگوں میں زندگی کا احساس بانٹتے ہیں… ہر ایک دو ماہ بعد
ان کو وہ سوجھتا ہے جس میں امتِ مسلمہ کے لئے خیر ہی خیر ہوتی ہے… یہ کبھی جہاد کی
آواز لگاتے ہیں تو کبھی مساجد کی…کبھی ان پر اقامتِ صلوٰۃ کی فکر سوار ہوتی ہے تو
کبھی امتِ مسلمہ کو قرون اولیٰ سے جوڑنے کی… پچھلے کئی سالوں سے انہوں نے اجتماعی
قربانی کا سلسلہ شروع کیا ہے… اور ماشاء اللہ وہاں وہاںتک
گوشت پہنچایا ہے جہاں تک پہنچانا اللہ تعالیٰ کی خاص توفیق
کے بغیر ممکن نہیں ہے… مدارس، مساجد، غرباء، مسافر اور اُمتِ مسلمہ کی حفاظت اور
عظمت کی خاطر اپنا سب کچھ لٹانے والوں تک… آپ میں سے جس
کو اللہ تعالیٰ ہمت اور توفیق دے وہ اس سال بھی… الرحمت
ٹرسٹ کے ساتھ اجتماعی قربانی میں بھرپور حصّہ لے… اللہ تعالیٰ جتنی
استطاعت دے… ایک قربانی یا زیادہ… اگر استطاعت نہیںتو دعاء مانگیں کہ استطاعت مل
جائے… پھر بھی نہیں ملی تو دوسروں کو ترغیب دیں… آگے جہاں ہم نے جانا ہے وہاں
نیکیوں کی بہت ضرورت ہوگی… اللہ کرے ہم سب نیکیاں کمانے
والے بن جائیں…
آمین یا ارحم الراحمین
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ
سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ پھر’’خوشی‘‘ کا
دن آرہا ہے… جی ہاں’’عیدالاضحیٰ‘‘ پوری شان کے ساتھ تشریف لار ہی ہے… مرحبا، صد
مرحبا… میں کچھ لوگوں کو دیکھتا ہوں تو اُن پر’’ترس‘‘ آتا ہے… وہ بیچارے کتنی
تکلیف میں ہیں… اور دوسرے کچھ لوگوں کو دیکھتا ہوں تو ’’رشک‘‘ آتا ہے کہ ما
شاء اللہ کتنے خوش ہیں اور کتنے کامیاب… اچھا اس بات
کو یہاں روک کرماضی کی طرف چلتے ہیں… مدینہ منورہ میں کچھ لوگ تھے جن
تک ’’اسلام‘‘ تو پہنچ گیا مگر وہ اسلام تک نہ پہنچ سکے یعنی دل سے مسلمان نہ ہوئے…
بس اُن کو مجبوراً خود کو’’مسلمان‘‘ کہلوانا پڑا… اُن کے نام بھی اسلامی، خاندان
بھی اسلامی… اوراٹھنابیٹھنا بھی مسلمانوں کے ساتھ… اور مردم شماری میںبھی ان کا
شمار مسلمانوں میں… دراصل وہ’’بیچارے‘‘ پھنس گئے تھے… وہ تو اسلام کے قریب بھی نہ
آتے مگر کیا کرتے کہ اسلام خود ان تک پہنچ گیا… اب ان کی ایک ہی خواہش تھی کہ کسی
طرح اسلام سے جان چھوٹے تو وہ کافروں والی’’آزاد زندگی‘‘ گزاریں… جی ہاں لبرل
بالکل لبرل… وہ دن رات اسی فکر میں جلتے تھے کہ معلوم نہیں کب مسلمان کمزور ہوں گے
اور کب اسلام ختم ہو گا… وہ مسجد میں بھی آتے تھے… جمعہ کا خطبہ بھی سنتے تھے… بعض
اوقات مجبوراً غزوات میں بھی چل پڑتے تھے… مگر اُن کی جان عذاب میں آگئی تھی…
انہیں مسلمان اچھے نہیں لگتے تھے… پھر بھی انہیں مسلمانوں کے ساتھ رہنا پڑتا…
انہیں کافروں سے بہت پیار تھا مگر وہ کھل کر ان کے ساتھ شامل نہیں ہو سکتے تھے…
مسلمانوں کو جب کوئی فتح ملتی تو یہ لوگ ڈر کی وجہ سے سہم جاتے اور موت
انہیں آنکھوں کے سامنے نظر آتی… لیکن جب مسلمانوں پر کوئی ظاہری مصیبت پڑتی تو
وہ بہت خوش ہوتے… اور انہیں امید کی روشنی نظر آنے لگتی کہ عنقریب ہم ’’لبرل‘‘
اور آزاد زندگی گزار سکیں گے…
کئی بار تو انہیں اپنی منزل بہت قریب نظر آئی اور
انہوں نے اچھی خاصی خوشی منا ڈالی… غزوہ بدر کے موقع پر جب نہتے مسلمان ابو جہل کے
مسلح لشکر کے سامنے آئے تو اس طبقے کو خیال ہوا کہ اب جان چھوٹی… مگر
مسلمان پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر مدینہ منورہ لوٹ آئے… غزوہ اُحد کے موقع پر اس
طبقے نے خوشی کی مٹھائیاں بانٹ لیں اور مستقبل کے سہانے خواب بھی دیکھ لئے مگر
مسلمان سنبھل گئے… پھر غزوہ احزاب شروع ہوا تو ان لوگوں کی جان میں جان آئی…
اخبارات تو اُس زمانے میں تھے نہیں کہ وہ ’’کالم‘‘ لکھتے… ٹی وی چینل بھی نہیں تھے
کہ اُس پر آکر مسلمانوں کے مکمل خاتمے کی پیشین گوئیاں کرتے… ہوٹل بھی نہیںتھے کہ
وہاں سیمینار کر کے اکٹھے ناچتے… موبائل فون بھی نہیں تھے کہ وہ ابو سفیان کے لشکر
کو’’خوش آمدید‘‘ کے میسج بھیجتے… مگر اُن کے پاس زبانیں تھیں جو انہوں نے خوب
چلائیں اور مجلسیں تھیں جو انہوں نے خوب گرمائیں… آپس میں ملتے اور قہقہے لگاتے
کہ لوبھائی روم فارس فتح کرنے کی ڈینگیں مارنے والے اب امن کے ساتھ بیت الخلاء بھی
نہیں جا سکتے… ابوسفیان کا دس ہزار کا اتحادی لشکر مدینہ منورہ کے سر
پربیٹھا تھا اور مسلمان ہر طرف سے شدید محاصرے میں تھے… تب یہ ’’بیچارے ‘‘ لوگ بہت
خوش تھے… کبھی تو خط لکھ کر اتحادی لشکرکو بتاتے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں… اور کبھی
آپس میں بیٹھ کر مجلس گرماتے کہ یار… ہمیں چاہئے کہ حضرت محمد( صلی اللہ علیہ
وسلم ) کو ( نعوذباللہ ) پکڑ کر مشرکین کے حوالے کر دیں… ہم ایک شخص کی وجہ
سے اپنا شہر تو تباہ نہیں کرواسکتے… اِن کو مشرکین کے حوالے کر دیں گے
تو پھر ہم امن کے ساتھ اپنی’’لبرل‘‘ زندگی گزاریں گے… انہیں سو فیصد امید تھی کہ
اس بار اُن کا مسئلہ حل ہو جائے گا… مگر ہائے، بیچارے… چند دنوں کے بعد اُن کی
تمام امیدیں دم توڑ گئیں اوراتحادی لشکر… شکست کی کالک اپنے منہ پر سجائے واپس چلا
گیا… مگر یہ لوگ بھی اپنی ’’بدقسمتی‘‘ میں پکے تھے… انہیں امید تھی کہ چلیں آج
نہیں تو کل مسلمان ختم ہو جائیں گے… جب غزوہ تبوک کا وقت آیاتو ان کی امیدیں پھر
بیدار ہونے لگیں… اُن کے تجزیہ نگار دانشور کہنے لگے کہ رومیوں کا لشکر مسلمانوں
کو باندھ کر لے جائے گا… مگر ہائے حسرت، ہائے ناکامی… مسلمان دومۃ الجندل کی غنیمت
لے کر واپس آگئے… اور یہ طبقہ اپنی حسرتوں کو اپنے ساتھ لے کر مرکھپ
گیا…
دنیا میں بھی خسارہ اور آخرت میں تو سراسر خسارہ…
مسلمان آگے بڑھتے گئے اور دنیا کے حکمران بن گئے… پاکستان میں بھی طویل عرصہ سے
ایک طبقہ یہ اُمید لگائے بیٹھا ہے کہ… عنقریب دیندار مسلمان ختم ہو جائیںگے…
عنقریب دینی مدارس پر تالے ڈال دیئے جائیںگے… عنقریب اس ملک میں جہاد کا نام لینا
بھی ممنوع قرار پائے گا… اور عنقریب مجاہدین کی نسل تک ختم ہو جائے گی… اُن کی
تمنا ہے کہ اس ملک میں اذان کی آواز نہ گونجے… کوئی مولوی عالم نظر نہ آئے… کوئی
مجاہدیہاں تکبیر بلند نہ کرے… وہ چاہتے ہیں کہ اس ملک میں شراب آزاد ہو… ہر شہر
میں بڑے بڑے نائٹ کلب ہوں… مردوں اور عورتوں کو راستوں پرگدھوں کی طرح
آپس میں’’روشن خیالی‘‘ کرنے کی آزادی ہو… اور یہ ملک یورپ اور بھارت
کی تصویر بن جائے… پاکستان کا یہ طبقہ کافی طاقتور ہے مگر پھر بھی’’بے چارہ‘‘ ہے…
ایوب خان کے زمانے میں ان کو امید تھی کہ پاکستان مکمل’’لبرل ملک‘‘ بن جائے گا…
اور ایوب خان تمام مولویوں کو سمندر میں پھینک دے گا… مگر ہائے حسرت کہ کام نہ
بنا… ایوب خان نے اپنے کانوں سے’’ایوب کتا ہائے ہائے‘‘ کے نعرے سنے… اور پھر ایک
مولوی نے اس کی نماز جنازہ بھی پڑھا دی… ضیاء الحق کے زمانے میں یہ طبقہ کچھ مایوس
رہا… مگر پرویز مشرف کے دور میں اس کی امیدیں آسمانوں تک جا پہنچیں… پرویز مشرف
بھی چلا گیا… اب ان کی امیدیں موجودہ حکومت اور امریکہ سے وابستہ ہیں… افغانستان
پر امریکہ نے حملہ کیا تو یہ لوگ خوشی سے مرے جارہے تھے… اُن دنوں اخبارات میں ان
کے کالم قابو سے باہر نکل رہے تھے… اُن کا خیال تھا کہ امریکہ افغانستان اور
پاکستان کے تمام داڑھی، پگڑی والوں کو مار دے گا… مگر ہائے حسرت، ہائے ناکامی… آج
امریکہ مذاکرات کے لئے داڑھی، پگڑی والوں کو ڈھونڈ رہا ہے…
مجھے ترس آتا ہے اُن صحافی مردوں اور عورتوں پر جنہوں نے
یہ امید لگا رکھی ہے کہ… جہادبند ہو جائے گا، مساجد ویران ہو جائیں گی… اذان
پرمیوزک کی آواز غالب آجائے گی…ارے بدنصیبو! اگر تمہیں ہزار سال کی زندگی مل
جائے، قارون کے خزانے مل جائیں اور فرعون کی طاقت مل جائے… تب بھی تمہارے یہ خواب
پورے ہونے والے نہیں ہیں…
تم لوگ تو خواہ مخواہ کی آگ میں جل رہے ہو… اگر
تمہیں اسلام، قرآن اور جہاد سے اتنی ہی نفرت ہے تو پھر کافروں کے ملکوں میں
جابسو… وہاں خنزیر کا گوشت بھی ملتا ہے اور شراب بھی… اور سڑکوں پر ’’روشن خیالی‘‘
کی بھی اجازت ہے… ہاں اتنی پریشانی ضرور ہے کہ تمہیں وہاں بھی کسی نہ
کسی جگہ اذان کی آواز سننے کو ملے گی… تب اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لینا…
اورتمہیں داڑھی ،پگڑی والے بھی ملیں گے تب اپنا راستہ بدل لینا… ارے کم عقل لوگو!
آخرت کا تو تم نے سوچا نہیں مگر جہاد کے خلاف کام کر کے اپنی دنیا کیوں برباد کر
رہے ہو؟… یہ بھاری پتھر تم سے نہیں اٹھایا جائے گا… تم عبد اللہ بن ابی
اور ابن سبا سے زیادہ سازشی اور میر جعفر اور میر صادق سے زیادہ عیار نہیں ہو… تم
نے تو ایک ایسے گناہ کو اپنا مشن بنا لیا ہے جو گناہ تمہارے بس میں ہی نہیں ہے… تم
سمجھتے ہو کہ انگریزی اخبارات میں مجاہدین کے خلاف’’جاسوسی کالم‘‘ لکھو گے تو
تمہارے کہنے پر امریکہ والے اُن مجاہدین کو ختم کر دیں گے… عجیب بے وقوفی ہے اور
عجیب بد نصیبی… پاکستان میں کئی’’تھنک ٹینکس‘‘ بن گئے… یہ سارا دن کافروں کو بتاتے
رہتے ہیں کہ پاکستان میں فلاں مجاہد ہے… فلاں مدرسہ خطرناک ہے اور فوج میں فلاں
آفیسر دیندار ہے… پاکستان کے کئی صحافی مرد اور عورتیں باقاعدہ سی آئی اے، موساد
اور را کے لئے کام کرتے ہیں… ان سب کو یہ امید ہے کہ بس اب چند دن میں مجاہدین ختم
ہوجائیں گے… یہ اتنا بھی نہیں سوچتے کہ پچھلے نو سال میں مدارس کی تعداد بھی بڑھ
گئی ہے… اور جہاد بھی زیادہ مضبوط ہو گیا ہے… اسلام اور جہاد تو ہمیشہ مشکل حالات
میں پھلتے پھولتے ہیں… لال مسجد پرآپریشن ہوا تو ان لوگوں نے خوشی میں اپنے کپڑے
پھاڑ ڈالے… مگر نتیجہ کیا نکلا؟ لال مسجد آج بھی آباد ہے… ایک جامعہ
حفصہؓ کی جگہ کئی جامعہ حفصہ ز بن چکے ہیں… اور مسلمانوں کو
ایک اور شہید کا مزار مل گیا ہے… سوات آپریشن شروع ہوا تو ان لوگوں کی
امیدیں آسمان تک جا پہنچیں کہ اب پورے ملک سے اسلام کا خاتمہ ہوجائے
گا… پاک انڈیا مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو یہ لوگ خوشی سے چھلانگیں لگانے نکل پڑتے
ہیں… مگر پھر آخر میں سوائے حسرت کے کچھ ہاتھ نہیں آتا… آج کل پھر یہ طبقہ خوشی
اور امید میںمست ہے… ان کے دانشور کھوجی کتوں کی طرح دُم اٹھا کر حکومت کو ہر
تنظیم، ہر مدرسے اور ہرمرکز پر حملے کے لئے بلار ہے ہیں… ان کے صحافی مرد
اورعورتیں اپنے گناہوں کی ناپاکی کو سیاہی بنا کر کالم لکھ رہے ہیں… اور ان کے
بااثر لوگ امریکہ اور حکومت کو اپنا آپریشن پھیلانے کے مشورے دے رہے ہیں… ارے بے
چارو! امریکہ بھی تمہاری طرح’’بے چارہ‘‘ ہے وہ تمہارا نوکر تو نہیں کہ
تمہارے کہنے پر اپنا مزید نقصان کرے… وہ تو اب طالبان سے مذاکرات کے لئے بے چین
ہے… اور حکومت تو تمہارے مشورے مان مان کر تھک چکی ہے… اُسے بھی اب تمہارے مشوروں
سے موت کی بو آنا شروع ہو گئی ہے … وہ دیکھو! عیدالاضحیٰ پوری شان کے ساتھ آرہی
ہے… یہ کرسمس نہیں ’’عیدالاضحیٰ‘‘ ہے قربانی والی عید… ہاں قربانی والی… وہ دیکھو لاکھوں
مسلمان احرام باندھنے کی تیاری کر رہے ہیں… وہ تمہارے’’گورو‘‘ شیطان کو پتھر ماریں
گے… وہ دیکھو فلسطین کے بیٹوں اور بیٹیوں نے عید پر قربانی دینے کے
لئے اپنے ماتھوں پر کلمہ طیبہ کی پٹی باندھ کر… راکٹ اٹھا لئے ہیں… وہ
دیکھو! افغانستان میں فدائیوں کی یلغار ہے…وہ دیکھو! کشمیر پھر انگڑائی لے رہا ہے
اور بی ایس ایف کے ڈی آئی جی کی چتاجل رہی ہے…عیدالاضحی آرہی ہے…
ماشاء اللہ پوری شان کے ساتھ آرہی ہے… مجھے اُن بد نصیب
لوگوں پر ترس آرہا ہے جو حسرت اور ناکامی کی آگ میں جل رہے ہیں… اللہ تعالیٰ
اُن کو اور ناکامیاں دکھائے… اور مجھے اُن لوگوں پر رشک آرہا ہے جو اپنی جانوں کو
تکلیف میں ڈال کر… اسلام کی خدمت کر رہے ہیں… مسلمانوں کی خدمت کر رہے ہیں… جو
اسلام کے ایک ایک حکم کی پہرے داری کر رہے ہیں… جو شرعی جہاد کی شمع اپنے خون سے
جلا رہے ہیں… جو ہردن اجر وثواب کماتے ہیں… اور ہررات نیکیاں سمیٹتے
ہیں… اللہ تعالیٰ اُن پر رحمت فرما رہا ہے… اُن کا کام
بڑھتا جار ہا ہے… اور اُن کی کامیابیوں میں بھی دن رات اضافہ ہو رہا ہے… یہ وہ لوگ
ہیں جو’’ایثار‘‘ کرتے ہیں… خود کم کھاتے ہیں اپنا حصہ دوسروں کو کھلاتے
ہیں… جو مال کا ایثار بھی کرتے ہیں اور جان کا بھی…
یا اللہ ہمیں بھی قبولیت کے ساتھ ان لوگوں میں شامل فرما…
آمین یا ارحم الراحمین
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ
سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ حضرات انبیاء دکے ہاتھ
پر’’معجزے‘‘ ظاہر فرماتا ہے… اور اپنے ’’اولیاء کرام‘‘ کے ہاتھ پر’’کرامات‘‘ ظاہر
فرماتا ہے… جو چیز ظاہری طور پر ناممکن نظر آتی ہو… اورپھر وہ کسی’’نبی‘‘ کے ہاتھ
سے ہوجائے تو ’’معجزہ‘‘ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے اشارے سے چاند دوٹکڑے ہو گیا… اور اگر کوئی ناممکن چیز’’ نبی‘‘
کے علاوہ کسی ’’مؤمن‘‘ کے ہاتھ سے ہو جائے تو وہ’’ کرامت‘‘ کہلاتی ہے… جیسا کہ
حضرات صحابہ کرام ڑ کے لشکر کا پانی پر چلنا… ’’اولیاء کرام‘‘ کی کرامات ’’برحق‘‘
ہیں… اور آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں ’’کرامات‘‘ کا
سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا…ابھی امریکہ کے صدر نے افغانستان میں مزید تیس ہزار
فوج بھیجنے کا اعلان کیا ہے… جو اس بات کا کھلا اعتراف ہے کہ گذشتہ آٹھ سال میں
جو اتحادی لشکر بھیجا گیا وہ شکست کھا چکا ہے… یہ اس زمانے کے مجاہدین کی
تازہ’’کرامت‘‘ ہے… اللہ اکبر کبیرا، و الحمدللہ کثیرا، وسبحان اللہ بکرۃ
و اصیلا
عظیم الشان کرامت
کوئی نہیں مانتا تھا کہ’’ امریکہ‘‘ کا مقابلہ کرنا ممکن ہے…
کوئی نہیں مانتا تھا کہ افغانستان میں نیٹو افواج کو شکست کا منہ دیکھنا پڑے گا…
بڑے بڑے عسکری پنڈت کہتے تھے مجاہدین زیادہ سے زیادہ چھ ماہ تک لڑ سکیں گے… مگر یہ
کیا ہوا؟… آٹھ سال سے زائد کا عرصہ بیت گیا… جدید طیارے بمباری کرتے کرتے گھِس
گئے…ٹینکوں کے دھانے آگ اگل اگل کر پگھل گئے… خلائی سیارچے جاسوسی کر کرکے اندھے
ہوگئے… ٹیکنالوجی کروٹیں بدل بدل کر شرمندہ ہو گئی… مگر افغانستان آج بھی تکبیر
کے نعروں اور مجاہدین کے قدموں سے گونج رہا ہے… کیا یہ کرامت نہیں ہے؟… کیا یہ اس
بات کا ثبوت نہیں کہ’’قرآن کریم‘‘ برحق ہے، اسلام سچا دین ہے…اور جہاد ناقابل
تسخیر ہے؟… صدر ابامہ نے اپنے مختصر سے دور حکومت میں دوسری بار مزید فوج
افغانستان بھیجی ہے… اور ساتھ ہی اٹھارہ مہینے بعد اپنی فوج واپس بُلانے کا اعلان
کر دیا ہے… اللہ اکبر کبیرا… تھوڑا سا سوچیں تو
دل اللہ تعالیٰ کی عظمت سے بھر جاتا ہے… کہاں امریکہ اور
اُس کی طاقت اور کہاں مجاہدین اور اُن کی بے سروسامانی…
مگر اللہ پاک ایک ہے… اور وہ غالب،قوت والاہے…
نئی پالیسی اور خوشی
امریکہ نے افغانستان پر اپنی جس نئی پالیسی کا اعلان کیا
ہے… اس پالیسی سے کئی لوگ تو بہت خوش ہیں… مثلاً مصنوعی اعضاء بنانے والی امریکی
کمپنیاں خوشی منا رہی ہیں … اُن کو یقین ہے کہ اگلے دو سال میں اُن کا کاروبار
ترقی کرے گا… بہت سی ٹانگیں،بازو اور دیگر اعضاء فروخت ہوں گے… تابوت بنانے والی
کمپنیاں بھی کافی خوش ہیں اُن کے بہت سے تابوت فروخت ہوںگے… اور مہنگی قیمت پر
بکیں گے… امریکہ کے آس پاس کے وہ ممالک جو امریکی پالیسیوں سے تنگ ہیں وہ بھی
خوشیاںمنا رہے ہیں… اُن کا کہنا ہے کہ افغانستان میں مزید فوج بھیجنے سے امریکہ
کمزور ہو گا… اسی طرح افغانستان کے مجاہدین بھی کافی خوش ہیں… وہ لوگ امریکی
فوجیوں کو ’’قیمتی شکار‘‘ کہتے ہیں… انہیں شکایت تھی کہ’’فدائی مجاہد‘‘ اپنی گاڑی
لیکر کئی کئی دن گھومتا رہتا ہے اور اُسے امریکی نہیں ملتے… اب تازہ دم تیس ہزار
فوج کے آنے سے یہ شکایت دور ہوجائے گی… امریکی فوج اپنے ساتھ بہت سا عملہ بھی
لائے گی… اس عملے کے کئی افراد اغواء کر لئے گئے تو ’’فدیہ‘‘ میں کروڑوں ڈالر ملیں
گے… اور کئی مجاہدین جو ’’افغان آرمی‘‘ میں بھرتی ہو چکے ہیں وہ بھی شدّت کے ساتھ
غیر ملکی افواج کا انتظار کر رہے ہیں… پچھلے دنوں ایسے ہی ایک مجاہد نے سات
برطانوی فوجیوں کے تابوت برطانیہ پارسل کروا دیئے…
نئی پالیسی اور غم
امریکہ کی تازہ پالیسی سے کئی لوگ کافی غم زدہ بھی ہیں… یہ
دنیا عجیب جگہ ہے یہاں کسی چیز سے ایک آدمی خوش ہوتا ہے تو دوسرا غمگین… امریکہ
کے جو تیس ہزار فوجی افغانستان جانے ہیں وہ کافی پریشان ہیں… اسی پریشانی میں
ایک’’میجر صاحب‘‘ نے فائرنگ کر کے تیرہ فوجیوں کو ہلاک کر دیا ہے… یوں وہ تیرہ
فوجی افغانستان جانے سے بچ گئے ہیں… ان تیس ہزار فوجیوں میں کئی’’خواتین فوجنیاں‘‘
بھی ہیں… سنا ہے وہ بہت پریشان ہیں اور اکثر چھپ چھپ کر روتی رہتی ہیں… ان تیس
ہزار فوجیوں اور فوجنیوں کے اہل خانہ سخت پریشان ہیں اُن کے گھروں پر ماتم کا سماں
ہے… پاکستان کے حکمران بھی پریشان ہیں کیونکہ اُن کو بتائے بغیر اس پالیسی کا
اعلان کیا گیا ہے… اور اس پالیسی میں زیادہ’’وزن‘‘ افغانستان پر نہیںبلکہ پاکستان
پر ڈالا گیا ہے…
پالیسی اور پریشانی
صدر اُبامہ نے اپنی تازہ افغان پالیسی کا اعلان جس پریشانی
میں کیا ہے اُس کا اندازہ لگانا مشکل ہے… چھ ماہ تک انہوں نے اس مسئلے پر مشاورت
کی… آٹھ ہفتے کی محنت سے اپنی آدھے گھنٹے کی تقریر تیار کی…اور اس تقریر میں
بائیس مرتبہ پاکستان کا نام لیا… یعنی تقریر میں ہر ڈیڑھ منٹ بعد پاکستان کا نعرہ
لگایا… ابامہ کی مشکل یہ تھی کہ ایک طرف تو اُن کی پیٹھ پر امن کا نوبل انعام لدا
ہوا ہے… جبکہ دوسری طرف امریکی گوروں کا دباؤ تھا کہ کوئی کارنامہ دکھاؤ… صدر
اُبامہ کے اپنے اختیار میں ہوتا تو وہ کل صبح تک افغانستان سے فوجیں نکال لیتے مگر
وہ اگلے صدارتی انتخابات میں فتح حاصل کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کا خون
پینا چاہتے ہیں… افغانستان میں موجود امریکی اور نیٹو افواج نے اپنے حکمرانوں کو
بتادیا ہے کہ افغانستان میں فتح حاصل کرنا ناممکن ہے… امریکہ کے اڑتالیس فیصد
لوگوں نے بھی فوجیں واپس بلانے کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے… ان حالات میں
اُبامہ ’’بے چارہ‘‘ پھنس گیا… چنانچہ اُس نے درمیانی راستہ اختیار کیا… شدّت
پسندوں سے کہا خوش ہو جاؤ! میں نے مزید تیس ہزار فوج افغانستان بھیج دی ہے… اور
جنگ مخالف طبقے سے کہا کہ خوش ہو جاؤ! میں نے افغانستان سے امریکی فوجیوں کو واپس
لانے کے لئے یہ تیس ہزار فوج بھیجی ہے تاکہ… یہ اپنے بھائیوں کو بحفاظت واپس لا
سکیں… مگر خبروں میں آرہا ہے کہ اُبامہ ’’بے چارے‘‘ سے کوئی بھی خوش نہیں… شدّت
پسند کہہ رہے ہیں کہ واپسی کا اعلان کیوں کیا؟… اور جنگ مخالف کہہ رہے ہیں کہ مزید
فوجی کیوں بھیجے؟… بے شک آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت سے لڑنے
والے اسی طرح کی پریشانی اور الجھنوں میں دفن ہوتے رہتے
ہیں… اللہ اکبر کبیرا…
پالیسی کے تین رُخ
امریکہ نے افغانستان پر جس نئی پالیسی کا اعلان کیا ہے آخر
اس کی حقیقت کیا ہے؟… غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نئی پالیسی کے تین اہداف یا
مقاصد ہیں…
(۱) افغانستان میں شدید خانہ جنگی کرانا…
(۲) پاکستان کو جس قدر ممکن ہو کمزور اور برباد کرنا…
(۳) انڈیا اور ایران کو افغانستان میں طاقت دینا…
آپ حضرات جانتے ہیں کہ ’’انگریز‘‘ دنیا کی شاطر ترین قوم
ہے… انگریزوں کے ایک کرنل’’لارنس‘‘ نے عربوں کو ماضی میں جو نقصان پہنچایا وہ بھی
آپ کو معلوم ہو گا… اور لارڈ میکالے نے برصغیر کے مسلمانوں کو جس طرح سے برباد
کیا وہ بھی آپ جانتے ہیں… ابھی کچھ عرصہ پہلے امریکہ اور نیٹو افواج نے افغانستان
میں خوفناک خانہ جنگی کرانے کے لئے برطانیہ کے ایک سابق فوجی’’جنرل لیمب‘‘ کی
خدمات حاصل کی ہیں… ’’جنرل لیمب‘‘ برطانیہ کے خفیہ ادارے کے سربراہ رہ چکے ہیں…
اور انہوں نے عراق میں’’سنیّوں‘‘ کو کمزور کرنے میں خاص کردار ادا کیا ہے… اس
وقت’’جنرل لیمب‘‘ افغانوں کو اور مجاہدین کو آپس میں لڑانے کے مشن پر ہیں… امریکہ
اور اس کے اتحادی ممالک نے’’جنرل لیمب‘‘ کو اربوں ڈالر خرچ کرنے کااختیار دے رکھا
ہے… اور جنرل لیمب کا کہنا ہے کہ اُس کی محنتوں کا نتیجہ اگلے چھ ماہ میں ظاہر
ہونا شروع ہوجائے گا… گذشتہ کچھ عرصہ سے طالبان کے ساتھ جن مذاکرات کا شور ہے وہ
بھی جنرل لیمب کے اپنے طالبان ہیں… وکیل احمد متوکل اور اس طرح کے دوسرے لوگ جنرل
لیمب کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں… اور جنرل لیمب کو امید ہے کہ چند مہینوں کے بعد
افغانستان میں’’طالبان‘‘ کے ایک ایسے گروہ کا اعلان ہو جائے گا جو روشن خیال اور
اعتدال پسند کہلائے گا… پھر ان روشن خیال طالبان پر اصلی طالبان حملے کریں گے تو
افغانوں کی باہم لڑائی شروع ہو جائے گی… اور پھر اس لڑائی کی آڑ میں امریکہ وغیرہ
افغانستان سے اپنی’’عزت‘‘ بچا کر کھسک جائیں گے… اس دوران انڈیا اور ایران کو
افغانستان میں طاقتور کیا جائے گا… تاکہ وہ اُن افغانوں کی مدد کرتے رہیں… جو
اسلام اور پاکستان کے مخالف اور امریکہ کے حامی ہوں گے… اورتیسری طرف ان اٹھارہ
مہینوں میں پاکستان کاگھیرا تنگ کیا جائے گا… اور پاکستان میں جنگیں بھڑکا کر اُسے
کمزور کر دیا جائے گا…
بس آخری آرزو
ہمارے ایک سابق دوست نے اپنے علاقے کے ایک عالم کا قصہ
سنایا… وہ عالم صاحب جب نوجوان تھے تو شادی کے بارے میں کافی اونچا معیار رکھتے
تھے… انہوں نے اپنی مجوّزہ دلہن کے لئے ستائیس شرطیں لکھ رکھی تھیں… والدین جہاں
بھی رشتہ دیکھنے جاتے تو تمام ستائیس شرطیں بہرحال موجود نہیں ہوتی تھیں… اور یوں
اُن کی شادی مؤخر ہوتی گئی اور سراورداڑھی میں سفید بال چمکنے لگے… اور لوگوں نے
بھی رُخ پھیر لیا… تب انہوں نے اعلان کیا کہ بھائیو! میری شادی کرادو… اور دلہن کے
لئے بس ایک ہی شرط ہے کہ وہ ’’عورت‘‘ ہو… بالکل اسی طرح امریکہ، برطانیہ اور نیٹو
کے لشکر گھر سے نکلے تھے تو اُن کے دعوے بلند اور عزائم بہت اونچے تھے… وہ کہتے
تھے کہ ہم صلیبی جنگ میں نکلے ہیں مسلمانوں کو اچھی طرح سبق سکھائیں گے… ہم جہاد
کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے… ہم دہشت گردی کا قلع قمع کردیں گے… ہم طالبان کا نام و
نشان تک مٹا دیں گے…
مگر اب آٹھ سال بعد اُن کے عزائم شرمندہ ہو چکے ہیں… اور
تمام ستائیس شرطیں ختم ہو گئی ہیں… اب اُن کی بس اتنی سی آرزو ہے کہ کسی طرح
انہیں ایک’’شیخ اسامہ‘‘ اصلی ہو یا نقلی مل جائے… تاکہ وہ اُن کے ساتھ فوٹو کھنچوا
کر اپنی تھوڑی سی ناک بچا سکیں… پچھلے دنوں برطانوی وزیر اعظم ’’گارڈن براؤن‘‘ نے
پاکستان کو دھمکی دی کہ ہمیں اُسامہ پکڑ کر دے دو… کیونکہ ہمیں اس بات سے شرم
آرہی ہے کہ ہم آٹھ سال کی محنت کے باوجود اُسے کیوں نہیں پکڑ سکے… اسی طرح کے
کئی بیانات امریکہ کی طرف سے بھی آرہے ہیں… … اللہ تعالیٰ
کی طاقت دیکھیں… اور ایمان والوں کے ساتھ اُس کی نصرت دیکھیں کہ… دنیا میں خدائی
کا دعویٰ کرنے والے ممالک ایک ایک مسلمان کے سامنے کس طرح سے بے بس ہیں… کاش ہم سب
سچے مسلمان بن جائیں…
پالیسی اور تین مشکلات
کیا امریکہ کی نئی افغان پالیسی کامیاب ہو جائے گی؟… غور
کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پالیسی ان شاء اللہ بُری
طرح سے ناکام ہو گی… اور اس ناکامی کی موٹی موٹی وجوہات تین ہیں…
(۱) قرآن پاک سچی کتاب ہے… اپنے ہوں یا غیر سبھی مانتے ہیں کہ… قرآن پاک جو کچھ
فرماتا ہے وہ بالکل اٹل ہوتا ہے… قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ
نے یہ اعلان فرما دیا ہے کہ… اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا
مولیٰ… یعنی حامی ومددگار ہے اور کافروں کا کوئی مولیٰ نہیں… یعنی کافر’’بے چارے‘‘
ہیں… افغانستان کے مجاہدین… الحمدللہ دولت ایمان سے سر شار ہیں… افغانستان میں پہلے
بھی غیر ملکی فوجیں موجود تھیں… اب مزید آجائیں گی تو اس سے ایمان والوں کا ایمان
اور زیادہ ہو گا… اور وہ کہیں گے’’حسبنا اللہ ونعم الوکیل‘‘
اور ایمان جب بڑھے گا تو اللہ تعالیٰ کی نصرت بھی بڑھ جائے
گی…
(۲) امریکہ نے تیس ہزار فوجی بھیجنے کا اعلان کیا ہے… اگر مسلمانوں کی تیس ہزار
ماؤں نے اپنے بیٹے افغانستان میں لڑنے بھیج دیئے تو… اتحادی لشکروں پر زمین تنگ
ہو جائے گی… اور مسلمان ماؤں کے لئے ایسا کرنا مشکل نہیں ہے… وہ تو قرآن کی
تلاوت کرتے ہوئے دودھ پلاتی ہیں… اور شہادت کا شوق جگا کر اپنے بیٹوں کو سُلاتی
ہیں…
(۳) افغانستان میں جو’’طالبان‘‘ لڑ رہے ہیں… وہ صرف ایک تنظیم نہیں بلکہ تحریک بن
چکے ہیں… تنظیموں کو توڑنا آسان ہو تا ہے مگر تحریکوں کو توڑنا بہت مشکل ہوتا ہے…
اور اگرکوئی تحریک ایک امیر کی قیادت میں ہو تو پھر تنظیم کے باقی عہدیداروں کے
آنے جانے سے تحریک پر کوئی فرق نہیں پڑتا… جنرل لیمب جیسے لوگ عہدیداروں تک تو
پہنچ سکتے ہیں مگر عام مجاہدین تک اُن کا پہنچنا ناممکن ہے… اس لئے اگر چند
’’عہدیدار‘‘ بِک بھی گئے یا ٹوٹ گئے تو اس سے تحریک کمزور نہیں ہو گی پھر عراق اور
افغانستان کے حالات میں زمین وآسمان کا فرق ہے… عراق میں ’’ہنگامی جہاد‘‘ تھا
جبکہ افغانستان میں’’مستقل جہاد‘‘ہے…عراق میں بعث پارٹی نے جہاد پر پابندی لگا
رکھی تھی… جب امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تو ہنگامی بنیادوں پراچانک جہاد شروع
ہوا… اور اس جہاد میں باہر کے مجاہدین زیادہ تعداد میں شریک ہوئے… چنانچہ جنرل لیمب
جیسے لوگوں کو جزوی طور پر یہ کامیابی ملی کہ انہوں نے’’سنی قبائل‘‘ کو مجاہدین کے
خلاف کھڑا کر دیا… اس کامیاب سازش کے باوجود اب بھی عراق میں جہاد موجود ہے اور
غیر ملکی افواج نے خود اپنی شکست کا اعلان کیا ہے… مگر افغانستان میں جو لوگ لڑ
رہے ہیں وہ تو سالہاسال سے’’مجاہد‘‘ہیں… ان میں سے اکثر تو شہداء کرام کی اولاد
ہیں… اور کئی ایسے ہیں جنہوں نے آنکھیں جہادی ماحول میں کھولی ہیں… اس لئے ’’جنرل
لیمب‘‘ کو ان شاء اللہ افغانستان میں کوئی کامیابی
نہیںمل سکے گی… باقی رہا مسلمانوں کا آپس میں لڑنا تو وہ تو ویسے ہی لڑتے رہتے
ہیں… آج کل اُن کو آپس میں لڑنے کے لئے کسی سازش یا ’’جنرل لیمب‘‘ کی ضرورت نہیں
پڑتی…
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے درمیان اتفاق
عطاء فرمائے… بہر حال اُن کی آپس کی تھوڑی بہت لڑائی سے ان
شاء اللہ تحریک جہاد کمزور نہیں ہو گی…
یا اللہ امت محمدیہ( علی صاحبھا الف
صلوات وتحیات) پر رحم فرما…
آمین یا ارحم الراحمین
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ
سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ… میری زندگی
کے کتنے دن باقی ہیں… اور آپ سب کی زندگیوں کے کتنے دن باقی ہیں… نجومیوں سے
پوچھنا فضول ہے، وہ کچھ نہیںجانتے… اُن کی باتوں پر اعتماد کرنا خطرناک گناہ ہے…
یہ گناہ بعض اوقات’’ایمان‘‘ تک چھین لیتا ہے… اخبارات میں’’ یہ ہفتہ کیسے گزرے
گا‘‘ کے عنوان سے جو کچھ شائع ہوتا ہے… اُسے بالکل نہ پڑھا کریں… مجھے اور آپ کو
تو بس یہ فکر کرنی چاہئے کہ … زندگی کے جتنے دن اورلمحات باقی ہیں وہ ایمان پر
گزرجائیں… اور خاتمہ ایمان پرنصیب ہوجائے…آج صبح صبح اخبار خریدا… اس میں کئی
کالم تھے… ایک بوڑھے صحافی نے آج پھر جہاد اور مجاہدین کے خلاف زہریلا کالم لکھا
ہے… ان صاحب کی عمر تراسی سال ہے مگر دین اور جہادکے خلاف اُن کے جذبے پوری طرح سے
جوان ہیں… میں نے پورا کالم غور سے پڑھا… اکثر باتیں جھوٹی، گناہ آلود اور شر
انگیز ہیں… ایک بات بھی ایسی نہیں لکھی جو یہ ثابت کر سکے کہ اُن کا اسلام اور
مسلمانوں سے کوئی تعلق ہے… کالم پڑھ کر پہلے تو مجھے غصہ آیا… ارادہ کیا کہ آج
اسی موضوع پر لکھوں گا… وضو کرنے کے بعد نماز اداکی تو مجھ پر غصے کی جگہ خوف سوار
ہوگیا کہ آئندہ کل میرا کیا بنے گا؟… بہت سے لوگ پہلے نیک ہوتے ہیں مگر مرنے کے
قریب گمراہ ہوجاتے ہیں… العیاذ ب اللہ ، العیاذ ب اللہ … کئی صحافی جو افغان جہاد
کے ابتدائی زمانے میں جہاد کے حامی تھے… اُس وقت جہاد کی حمایت میں کوئی خطرہ نہیں
تھا… مگر جب افغان جہاد کا تیسرا دور شروع ہوا تو وہ بھی جہاد کے خلاف لکھنے لگے…
اور انہوں نے’’ایمان‘‘ کی بجائے’’جان‘‘ بچانے کو ترجیح دی… کئی لوگ جوانی کے آغاز
میں نماز کے بہت پابند ہوتے ہیں مگر شادی کے بعد سست اور پھر گمراہ ہو جاتے ہیں…
ایک صاحب کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ عالم تھے، ان کے چہرے پر داڑھی کا نور
تھا، مگرپھر دنیا کے چکروں میں پڑے تو علم سے بھی محروم ہوگئے اور داڑھی سے بھی…
اور اب ریڈیو پاکستان میں کام کرتے ہیں… کئی لوگ پہلے مجاہد تھے مگر آج کل امریکہ
کے باقاعدہ ملازم ہیں اور دن رات جہاد کے خلاف کام کرتے ہیں… کئی خواتین کے بارے
میں سنا کہ پردے کی سخت پابندتھیں… مگر اب پردے کی نعمت سے محروم ہو چکی ہیں… کئی
عورتیں تہجد گزار تھیں مگر اب فرض نماز میں بھی سستی کر کے کفر کی طرف دوڑ رہی
ہیں…ہمارے چاروں طرف اس طرح کی بے شمار خوفناک مثالیں بکھری پڑی ہیں…ہم کئی لوگوں
کو دیکھتے ہیں کہ وہ بہت اونچے تھے مگر بلندی پر جم نہ سکے اور نیچے گر پڑے… ماضی
کے کئی نامور مجاہد، کئی بڑے مبلغ، کئی متقی لوگ آج ذلّت اورگناہوں کی زندگی میں
ڈوب چکے ہیں… میں اسی خوف میں مبتلا ہو گیا کہ یا اللہ میرا
کیا بنے گا؟… نیکی کا راستہ تو بہت بلند ہے مگربلندی پر پہنچ کر چکّر آتے ہیں اور
شیطان بھی دھکّے دیتا ہے… اور جو انسان جتنی بلندی سے گرتاہے وہ اُتنا ہی زیادہ
برباد ہوتا ہے… اللہ تعالیٰ تو بے نیاز ہے … اتنے بڑے بڑے
آسمانوں کامالک اور اتنی بڑی زمینوں کا پیدا کرنے والا… ’’تراسی‘‘ سال کے ایک
بوڑھے کو اس عمر میں بھی موت یاد نہیں ہے… وہ پیسے کمانے کے لئے جھوٹ لکھ رہا ہے…
گناہ لکھ رہا ہے… اور دین کے دشمنوں کی وکالت کر رہا
ہے… اللہ تعالیٰ کو کیا پرواہ؟… اُس کے سامنے کوئی بڑا بڑا
نہیں اور کوئی طاقتور، طاقتور نہیں… ہاںہم اس بات کے محتاج ہیں کہ ہم ایمان لائیں…
اور پھر مرتے دم تک ایمان پر قائم رہیں…مگر ایمان پر کیسے قائم رہیں؟… ہر طرف سے
گناہ اور گمراہی کی دعوت ہے… ایک نوجوان کو دیکھا دین پر پختہ تھے… جہاد کا کافی
جذبہ رکھتے تھے مگرجب شادی کا وقت آیا تو پھسل گئے… داڑھی پر قینچی چلی اور دین
سے دور جا گرے… کتنے لوگ جو حلال، حرام کا بہت خیال رکھتے تھے… مگر دنیا نے تھوڑی
سی کشش دکھائی تو سودی بینکوں سے قرضے لیکر اندھیری کھائیوں میں جا گرے…
یا اللہ ہمارا کیا بنے گا؟… استاذ سیّاف پشاور میں ہوتے تھے
اور شہداء کی لاشوں پر کھڑے ہو کر اپنے بیانات سے جذبات کی آگ بھڑکاتے تھے… آج
کابل میں امریکہ کے حواری ہیں… اللہ تعالیٰ کو کیا
پرواہ؟… اللہ تعالیٰ جہاد کے لئے کسی سیّاف اور کسی ربّانی
کا محتاج نہیں… اُس نے اپنے جہاد کو زندہ رکھنے کے لئے ایسے مجاہد کھڑے فرما دیئے
جن پر ماضی کے مجاہد بھی رشک کرسکتے ہیں… کس عظمت اور ایمان کے ساتھ ایک ’’فدائی‘‘
اٹھتا ہے اور پورے عزم کے ساتھ اپنی جان قربان کرتا ہے… ان مخلصین کے سامنے اونچے
ناموں والے اور پروٹوکول والے لفافوں کی کیا حیثیت ہے؟… کیمروں اور ویڈیو نے
تو’’اخلاص‘‘ کا جنازہ نکال دیا ہے… طرح طرح کے پوز ہیں اور طرح طرح کی تصویریں… جب
سب کچھ لوگوںکو ہی دکھانا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کو کیا
دکھائیں گے؟… اللہ تعالیٰ کے پاس کیا لے جائیں گے؟… اِس
زمانے کے کافروں نے گمراہی کے لئے خزانوں کے منہ کھول دیئے ہیں… ایمان چھوڑو اور
مزے کرو… جہاد چھوڑو اور مزے کرو… نوٹ، ڈالر،لڑکیاں، فلمیں، جہاز، سیکرٹریاں… اور
ہر غلاظت… ایسے لوگ جن کے چہروں پر ایمان کا نور برستا تھا’’دنیا پرستی‘‘ میں
مبتلا ہو کر ہر نور اور ہرروشنی سے محروم ہو گئے… وہ لوگ جو صحابہ کرامؓ کی فقیری
کے واقعات مزے لے لے کر سناتے تھے اب کیمروں والے موبائل مزے لے لے کر استعمال
کرتے ہیں… اور اُن کا دل ہر وہ گناہ مانگتا ہے جن گناہوں کی خواہش ایک مسلمان نہیں
صرف’’کافر‘‘ کر سکتا ہے… یا اللہ ہمارا کیا بنے گا؟… خوفناک آزمائشیں
منہ پھاڑ کر کھڑی ہیں… کوئی چند دن جیل جاتا ہے تو واپسی پر ایمان اورجہاد سے بھاگ
جاتا ہے… کسی کوگھر چھوڑنا پڑتا ہے تو وہ گھر کی خاطر دین کی قربانی دے دیتا ہے…
کسی پر تھوڑی سی بیماری آتی ہے تو اپنی بیماری کو بڑھا چڑھا کر خود کو’’معذور‘‘
قرار دے دیتاہے… کسی پر تھوڑی سی گھریلو مشکلات آتی ہیں تو وہ دین اور جہادکو
پیٹھ کے پیچھے پھینک دیتاہے… نام تو ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کا
لیتے ہیں جو آگ میں ڈالے گئے، مگر ڈٹے رہے… قصّے ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے
سناتے ہیں جو ماں کی گود سے آزمائشوں میں رگڑے گئے… واقعات ہم حضرت بلال ذاور
حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا کے سناتے ہیں… مگر دین کی خاطر دو ڈنڈے اور چار تھپڑ
برداشت نہیں کر سکتے… اللہ نہ کرے ہم پر وہ حالات آجائیں
جو اللہ تعالیٰ کے ان مقرّب بندوں پر آئے تو معلوم نہیں ہم
کہاں تک جا گریں گے؟… دین اور جہاد میں آزمائشیں تو آتی ہیں… یہ جمہوریت کا کھیل
تو ہے نہیں کہ فوٹو کھنچوائیں، وزارتیں پائیں اور خود کو دھوکہ دیں کہ ہم نے دین
کی بہت خدمت کر لی ہے… دین پہلے اپنے دل میں اُترتاہے اور پھر اُس کی شاخیں اعمال
کی صورت میں پھیلتی ہیں… اور جب دین اور جہادپختہ ہوتے ہیں تو آزمائشیں شروع ہو
جاتی ہیں… اور یہی وقت اصل امتحان کا ہوتا ہے… کیا ہم زندگی کے اگلے یعنی آخری
دنوں میں بھی دین پر قائم رہ سکیں گے؟… یا دنیا کی ہوائیں ہمیں جہنم کی طرف جا
پھینکیں گی… یا اللہ رحم فرما… کئی لوگ تو ایسے بھی ہیںکہ
پوری زندگی بہت اچھی گزارتے ہیں مگر…عمر کے بالکل آخری حصے یعنی بڑھاپے میں وہ
گمراہ اور گناہ گار ہو جاتے ہیں… کوئی اولاد کی خاطر، کوئی تھوڑے سے امن و آرام
کی خاطر…کوئی ضد کی وجہ سے اورکوئی عزت اور مال کے شوق میں…
یا اللہ رحم فرما ہمارا کیا بنے گا؟… کتنے خوش نصیب تھے وہ
لوگ جو زندگی کے آخری سانس تک ڈٹے رہے اور ایمان پر جمے رہے… اگر ہم بھی اُنہی
لوگوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو پھر اس کا ایک راستہ ہے… اور وہ
راستہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کا ہے… ہم رو رو کر، گڑ
گڑا کر اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں کہ یا
اللہ ایمان پر ثابت قدمی نصیب فرما…
یا اللہ ہمیں ایمان کامل عطاء فرما اور اسی ایمان کامل
پرہمارا خاتمہ فرما… اس کے لئے ایک ’’دعاء‘‘ کاہم بہت اہتمام کریں…
کنزالعمال میں آیا ہے کہ حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ اس
دعاء کا اہتمام فرماتے تھے… بعض روایات میں یہ مسنون دعاء حضرت انس رضی اللہ عنہ
سے بھی مروی ہے… اور اسی حوالے سے ’’مناجات مقبول‘‘ میں مذکور ہے… طبرانی میں حضرت
انس رضی اللہ عنہ کی روایت سے معلوم ہوتاہے کہ آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ایک’’اعرابی‘‘ کو یہ دعاء مانگتے ہوئے سنا تو آپ صلی اللہ
علیہ وسلم نے اُس’’اعرابی‘‘ کو انعام و اکرام سے نوازہ… بندہ نے حضرت
مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدرحمۃ اللہ علیہ کوسفر میں دیکھا
کہ وہ اس دعاء کا بہت اہتمام فرماتے تھے… ابھی حال ہی میں پیران پیر حضرت شیخ
عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر ترکی سے شائع ہوئی ہے… اس تفسیر کے
مرتب’’شیخ محمد فاضل جیلانی‘‘نے مقدمے کا اختتام اسی دعاء پر فرمایا ہے… حیاۃ
الحیوان میں ایک شخص کا واقعہ ہے کہ وہ عرصہ دراز سے رومیوں کی قیدمیں تھا… ایک دن
بہت آہ وزاری کر کے سویا تو ایک پرندے نے اُسے دعاء سکھلائی… تین راتیں اُس دعاء
کا اہتمام کیا تو اللہ پاک نے باعزت اور حیرت انگیز رہائی
عطاء فرمائی… اُس دعاء میں یہ دعاء بھی شامل ہے جو آج ہمارا موضوع ہے…
مناجات مقبول میں طبرانی کے حوالے سے یہ دعاء اس طرح سے ہے
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ خَیْرَ عُمُرِیْ اٰخِرَہٗ وَخَیْرَ
عَمَلِیْ خَوَاتِیْمَہٗ وَ خَیْرَ اَیَّامِیْ یَوْمَ اَلْقَاکَ فِیْہِ
ترجمہ: اے میرے پروردگار! میری عمر کا بہترین حصہ اس کے
آخری پہر کو بنائیے اور میرے بہترین اعمال میرے آخری اعمال بنائیے اور میری
زندگی کا سب سے اچھا دن وہ بنائیے جس دن میں آپ سے ملوں…(مناجات ص ۳۰)
کنز العمال میں’’سنن سعید بن منصور‘‘ کے حوالے سے روایت اور
الفاظ ا س طرح سے ہیں
’’حضرت معاویہ بن قرۃ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت
ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ اپنی دعاء میں فرماتے تھے
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ خَیْرَ عُمُرِیْ اٰخِرَہٗ وَخَیْرَ
عَمَلِیْ خَوَاتِمَہٗ وَ خَیْرَ اَیَّامِیْ یَوْمَ اَلْقَاکَ (کنز العمال ص ۲۸۴،جلد۲)
ترجمہ ان الفاظ کا بھی وہی ہے البتہ دو جگہ الفاظ میں فرق
ہے… آپ کو جو الفاط یاد ہو سکیں وہ کر لیں… مناجات مقبول میں اس سے پہلے ایک اور
دعاء کو بھی جوڑا گیا ہے… وہ اس دعاء کا حصّہ نہیں بلکہ الگ دعاء ہے جو’’طبرانی‘‘
میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے…
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ اَوْسَعَ رِزْقِکَ عَلَیَّ عِنْدَ
کِبَرِسِنِّی وَانْقِطَاعِ عُمُرِیْ
جس کا مفہوم یہ ہے کہ یا اللہ میری سب سے زیادہ
کشادہ روزی مجھے بڑھاپے اور عمر کے آخری حصے میں عطاء فرمایئے…
اس دعاء کوبھی پہلی دعاء کے ساتھ جوڑ لیں تو اور زیادہ اچھا
ہو جائے گا… بڑھاپے میں انسان روزی کے بارے میں تنگدست اور محتاج نہ ہو تو اُس کے
لئے ایمان اور عمل پر قائم رہنا آسان ہو جاتا ہے… اب اس دعاء پر مختلف
پہلوؤں سے تھوڑا سا غورکریں…
(۱) یہ دعاء ہم سب کے اندر اس بات کی فکر پیدا کرتی ہے کہ ہمارا زندگی کا ہر
اگلادن… پچھلے دن سے بہتر ہونا چاہئے…ایمان یہ نہیں کہ چند دن جوش اورجذبے میں کچھ
کر لیا اورپھر ڈھیلے پڑ کر شیطان کا شکار بن گئے…
(۲) یہ دعاء ہمارے اندر’’انجام‘‘ کا خوف پیدا کرتی ہے… جو ایک مؤمن،مجاہداورعبادت
گزار مسلمان کے لئے ضروری ہے… اگرہم نے اپنے جہاد اور اپنی عبادت کو بہت کچھ سمجھ
لیا تو ہم کسی بھی وقت اس سے محروم ہو سکتے ہیں… اس لئے ہر وقت اپنے انجام اور
خاتمے کے خوف میںرہ کر پوری زندگی ایمان اور اعمال میںلگے رہنا چاہئے… اورکسی وقت
بھی اپنے آپ کو ’’ہمیشہ کے لئے کامیاب‘‘ نہیںسمجھنا چاہئے…
(۳) اپنی زندگی کے ہر دن کو تولتے رہنا چاہئے کہ یہ دن ماضی کے دنوں سے بہتر ہوا
یا نہیں؟… ہرنئے دن کا ملنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعمت
ہے…تو ہر نئے دن اپنے ایمان، اپنے اعمال اور اپنے علم و نیت میں ترقی حاصل کرنی
چاہئے…
(۴) اس دعاء میں مستقبل کی کامیابی اور حسن خاتمہ کی تڑپ ہے کہ ایک
بندہ اللہ تعالیٰ سے عرض کرتا ہے کہ… یا اللہ ! آپ ہی میری زندگی، موت
اور میرے دن رات کے مالک ہیں… شیطان مجھے ہردن گرانا چاہتا ہے آپ مجھے سنبھال
لیجئے… ہر اگلے دن مجھے ایمان میں ترقی عطاء فرمائیے… اورمیرے اعمال میں اورزیادہ
قوت عطاء فرمائیے… اور اُس دن میرے لئے ترقی کا عروج ہوجس دن مجھے موت آنی ہے…
اِس وقت ہر طرف فتنوں کی آندھیاں چل رہی ہیں… گمراہی کا
سیلاب تیزی سے بڑھ رہا ہے… اور گناہوں کی دعوت قدم قدم پر چل رہی ہے… سب سے
خطرناک’’صحافت کا میدان‘‘ ہے… اکثر صحافیوں نے اپنا ایمان اور ضمیر بیچ دیا ہے… یہ
مجاہدین کے سب سے خطرناک دشمن ہیں… یہ دوست بن کر بھی ڈستے ہیں اور دشمن بن کر بھی
وار کرتے ہیں… ان کے ذریعے ہر برائی مجاہدین تک پہنچتی ہے اور یہی کفر اور شیطان
کی نمائندگی کرتے ہیں… کراچی میں ایک بار ایک صحافی انٹرویو کے لئے آیا… یہ صحافی
ایک نیم مذہبی رسالے میں بھی لکھتا تھا اور اُس کے مضامین دینی حلقوںمیں پڑھے جاتے
تھے… انٹرویو کے دوران اُس نے ایک ایسا سوال کیا جس کا ٹھیک ٹھاک جواب دینے سے
مجاہدین کو نقصان پہنچ سکتا تھا… ظاہر بات ہے کہ جہاد میں آپ ہر وقت، ہر کسی کے
خلاف نہیں بول سکتے… آج اگر جرمن اور کورین قومیں طالبان سے معاہدہ کر لیں کہ ہم
آپ کے ساتھ مل کر نیٹو سے لڑیں گے… تو اس معاہدے کے بعد طالبان میڈیا پر کوریا یا
جرمن کے خلاف بیان تو نہیں دیں گے… اسی طرح بعض اوقات مجاہد ایک دشمن سے لڑ رہا
ہوتا ہے اور دوسرے دشمن کو اپنے خلاف نہیں بھڑکانا چاہتا توان حالات میں بھی
بیانات میں احتیاط کی جاتی ہے…جب اُس صحافی نے مجھ سے شر انگیز سوال کیا تو میں نے
اس کا ٹیپ ریکارڈر بند کر دیا اور پوچھا کہ آپ تو نیک آدمی سمجھے جاتے ہیں… پھر
آپ کیوں یہ شر انگیزی کررہے ہیں؟… وہ ہنس کر بولا… مولانا صاحب! آپ کا کیا نقصان
ہوگا اگر آپ کے دو جملوں سے مجھ غریب کو دو، چار سو ڈالر مل جائیں… مجھے اُس کی
حرص اور بے رحمی پر تعجب ہوا… یہی صحافی ڈالروں کی خاطر مجاہدین کو میڈیا پر گھسیٹ
کر لاتے ہیں… اور پھر زیادہ ڈالروں کی خاطر اُن کو کافروں سے مرواتے ہیں… یہی لوگ
مجاہدین سے اُلٹے سیدھے بیانات لیتے ہیں… اور پھر ان بیانات کو آڑ بنا کر مجاہدین
کی مخبری کرتے ہیں… ان کے دل و دماغ میں سوائے مال اور عزت کے اور کوئی خیر نہیں
ہوتی… یہ ہر ایمانی جذبے سے عاری اور آخرت کی ہر فکر سے محروم ہوتے ہیں… ابھی حال
ہی میں ڈالروں کے ایک پجاری نے’’پنجابی طالبان‘‘ کے نام سے ایک شر انگیز کتاب لکھی
ہے… اس کتاب کا مقصد حکومت پاکستان اور امریکہ کو اس پر ابھارنا ہے کہ وہ پنجاب
میں دینی طبقے کے خلاف فوری آپریشن شروع کرے… آج صبح میں نے جو اخبار
خریداس میں’’تراسی سالہ‘‘ بابے نے اسی کتاب کی شان میں کالم لکھا ہے… مجھے بہت
عبرت ہوئی کہ اگر اللہ تعالیٰ ناراض ہوجائے تو انسان کتنی
مصیبت میں جا گرتا ہے… اس تراسی سالہ شخص کی پوری زندگی ایک خوفناک عبرت ہے…
بیماریاں، ناکامیاں، نامرادیاں… زندگی کے قیمتی سال کمیونزم کی وکالت میں گزارے…
اور پھر اپنی زندگی میں کمیونزم کو ذلیل ہوتے دیکھ لیا… اب اس دین دشمن طبقے کی
تمام امیدیں’’امریکہ‘‘ سے وابستہ ہیں… حالانکہ یہ کچھ عرصہ پہلے تک مجاہدین کو
امریکہ کا ایجنٹ کہتے تھے… اللہ کی شان دیکھیں کہ آج یہ سب
خود امریکہ کے ایجنٹ بن کر موت کا انتظار کر رہے
ہیں… اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایمانِ کامل نصیب فرمائے…
اورہماری عمر کا ہر اگلا دن پچھلے دن سے بہتر بنائے… آج جس دعاء کا تذکرہ ہو ا ہے
ہم سب کو چاہئے کہ خوب توجہ … اور اخلاص سے اس دعاء کو اپنا مستقل معمول بنا لیں…
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ خَیْرَ عُمُرِیْ اٰخِرَہٗ وَخَیْرَ
عَمَلِیْ خَوَاتِیْمَہٗ وَ خَیْرَ اَیَّامِیْ یَوْمَ اَلْقَاکَ فِیْہِ
خاص طور پر وہ اوقات اورمقامات جن میں دعاء زیادہ قبول ہوتی
ہے ان میں… اور دعاؤں کے ساتھ ساتھ اس دعاء کو بھی مانگا کریں مثلاً
(۱) اذان کے وقت
(۲) جہادی سفر پرجاتے ہوئے اور محاذ جنگ پر
(۳)جہاد کی صف میں
(۴) تہجد کے وقت
(۵) سنت اور نفل نماز کے رکوع اور سجدوں میں
(۶) تلاوت قرآنِ پاک کے بعد
(۸) فجر کی سنتوں اور فرضوں کے درمیان
(۸) زمزم شریف پیتے وقت
(۹) حج اور عمرہ کے مواقع اور مقامات پر
(۱۰) جب نماز کی صف کھڑی ہوجائے
(۱۱) مسجد کی طرف نماز کے لئے جاتے وقت
(۱۲) فرض نماز کے بعد
(۱۳) اسماء الحسنیٰ کے ورد کے بعد
وغیرہ وغیرہ
اللہ تعالیٰ مجھے اورآپ کو توفیق عطاء
فرمائے… اور اس دعاء کو میرے اور آپ سب کے حق میں قبول فرمائے… کراچی سے ایک
محترم دوست نے ’’خمیری مسلماں‘‘ نام کی ایک مختصرکتاب بھیجی ہے… اس ایمان افروز
کتاب میں دو ایسی مسلمان بیٹیوں کا تذکرہ ہے جنہوں نے ہندو مذہب چھوڑکر’’دین
اسلام‘‘ قبول کیا ہے… یہ عزیمت و استقامت کی ایک ایمان بڑھانے والی داستان ہے…
قارئین عموماً اورقارئات یعنی خواتین خصوصاً اس کتاب کا مطالعہ کر لیں ان
شاء اللہ دین پر چلنے میں مدد ملے گی… جامعہ بنوریہ سائٹ کراچی
نے یہ کتاب چھاپی ہے… القلم کے اس شمارے میں اس کتاب کا خلاصہ پیش کیا جارہا
ہے… اللہ تعالیٰ قبول فرمائے…
آمین یا ارحم الراحمین
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ
سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ اس سال کو اُمت مسلمہ کے لئے فتوحات کا سال
بنائے…آمین، والحمدللہ رب العالمین…
نیا اسلامی سال شروع ہو چکا ہے… اس سال کا نام ہے سن ۱۴۳۱ہجری…اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ ہر سال میں بارہ مہینے
ہوتے ہیں…
اِنَّ عِدَّۃَ الشُّھُوْرِ عِنْدَ اللہ اثْنَا
عَشَرَ شَھْراًفِیْ کِتَابِ اللہ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضَ(التوبہ ۳۶)
ترجمہ:بے شک اللہ تعالیٰ کے ہاں مہینوں کی گنتی بارہ
مہینے ہیں،اللہ تعالیٰ کی کتا ب میں، جس دن سے اللہ تعالیٰ نے زمین
وآسمان کو پیدا فرمایا…
اس سال کے بارہ مہینوں میں سے پہلے مہینے’’محرّم الحرام‘‘
کی آج ہمارے ہاں۳ تاریخ ہے…جبکہ عرب ممالک میں ۴ تاریخ ہے…کاش پوری دنیا کے مسلمانوں کی تاریخ ایک ہو
جائے…حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا تویہی مسلک ہے…پوری دنیا کے مسلمان ایک
ہی دن عید منائیں… ایک ہی دن روزے شروع کریں…ایک ہی رات لیلۃ القدر کو پائیں…اور
ایک ہی دن اپنا نیا سال شروع کریں…افغانستان کے علماء کرام نے تو کافی پہلے
یہ’’فتویٰ‘‘ دے کر بہت سے جھگڑوں سے اپنی جان چھڑالی…چلیں چھوڑیں اس موضوع کو…اللہ
تعالیٰ نے پاکستان کو کبھی اچھے حکمران نصیب فرما دیئے تو یہ مسئلہ بھی ان شاء اللہ حل ہو جائے گا…فی الحال تو اسی طرح
گزارہ چلائیں…چینی اسّی روپے اور آٹا اٹھائیس روپے کلو خریدیں… کچھ عرصہ پہلے تک
کسی کو تین سو روپے دیتے تھے تو وہ نیا سوٹ بنا لیتاتھا اور اب گوشت تین سو روپے
کلو ہے…مسلمان خواتین تو گھر بیٹھے بیٹھے مالدار ہو گئیں…کیونکہ سونا اب پینتیس
ہزار روپے تولہ ہو چکا ہے…نیا سال شروع ہوچکا ہے…امریکہ ’’بے چارہ‘‘سخت طوفانوں کی
زد میں ہے…بارش، برفباری اور طوفانی آندھیاں … وہاں کی کئی ریاستوں میں ہنگامی
حالت کا اعلان ہو چکا ہے…ڈنمارک کے شہر ’’کوپن ہیگن‘‘میں ایک عالمی
کانفرنس ہو رہی تھی…مقصد اس ’’جلسے‘‘ کا یہ تھا کہ بڑے صنعتی ممالک زہریلی گیس کم
چھوڑیں… ورنہ یہ دنیا بہت جلد تباہ ہو جائے گی…مگر کوئی ملک بھی یہ بات ماننے کے
لئے تیار نہیں تھا…دنیا میں سب سے زیادہ زہریلی گیس’’امریکہ‘‘ چھوڑتا ہے…ساری دنیا
کے ممالک نے امریکہ کی منت سماجت کی کہ …کچھ رحم کرو…اگر اسی طرح زہریلی گیسیں فضا
میں اڑتی رہیں تو کچھ ہی عرصہ میں زمین پر سانس لینا مشکل ہو جائے گا…تمام برفانی
گلیشئر پگھل جائیں گے…درجہ حرارت اتنا بڑھ جائے گا کہ زمین تندور سے زیادہ گرم ہو
جائے گی…اور یہاں رہنے والے تمام لوگ خودبخود’’روسٹ‘‘ ہو جائیں گے…اب بھارت بھی
زیادہ زہریلی گیس چھوڑنے لگا ہے…اس کو سب ممالک نے سمجھایا تو وہ کہتا ہے کہ
مجھے’’پیسے‘‘ دو پھر میں یہ حرکت نہیں کروں گا …ملکوں اور لوگوں کی ہوس اتنی بڑھ
گئی ہے کہ کارخانوں پر کارخانے لگ رہے ہیں…جنگلات تباہ ہو چکے ہیں ،دریائوں کا
پانی زہریلا ہو رہا ہے…سمندروں میںتابکاری پھیل رہی ہے … تازہ ہوا اور
آکسیجن…اب دھوئیں میں تبدیل ہو رہی ہے…پہاڑ ختم ہو رہے ہیں…اور زمین کو مالداروں
کی ہوس نے رہنے کے قابل نہیں چھوڑا… کہاں گئے ٹیکنالوجی کے حق میں گیت گانے والے؟…
یہ کیسی ترقی ہے کہ آئندہ نسل کے لئے موت کے بیج بوئے جا رہے ہیں…طرح طرح کی
گاڑیاں …طرح طرح کے برتن،کپڑے ،فرنیچر اور طرح طرح کی فضول مشینیں…کیا انسانوں کو
دو ہزار قسم کے برتنوں کی ضرورت ہے یا تازہ ہوا اور صاف پانی کی؟… بیوقوفوں کے
نزدیک دنیا ترقی کررہی ہے اور حال یہ ہے کہ ہر شخص بیمار ہے…اسلام نے ’’پیسے‘‘ کی
اہمیت کوبہت کم اور’’انسان‘‘ کی اہمیت کو بہت اونچا کردیا تھا…مگر آج پھر ’’پیسہ‘‘
سب کچھ ہے… اور ’’پیسے‘‘ کے اس حرص نے انسان کو ذلیل ،رسوا اور غیرمحفوظ کردیا
ہے…نیا سال شروع ہو چکا ہے دنیا کو ایک نئے مرض کا سامنا ہے…اس مرض کو ’’سوائن
فلو‘‘ یا خنزیری بخار کہتے ہیں…حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ’’بُری
بیماریوں‘‘ سے پناہ مانگا کرتے تھے…آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی مبارک دعائوں میں سے ایک دعا ء یہ بھی ہے…
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْجَذَمِ
وَالْبَرَصِ وَالْجُنُوْنِ وَسَیِّئیِ الْاَسْقَامِ
یا اللہ میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں کوڑھ، برص، پاگل پن اور
ہربری بیماری سے…
ہم مسلمانوں کو اس دعاء کا اہتمام کرنا چاہیے… ویسے مسلمان
اگر اسلامی تعلیمات پر عمل کرے تو اسے اس طرح کی بیماریاں کم لگتی ہیں …غسل،وضو
اور طہارت کا اہتمام،حلال کھانا،نفل روزے رکھنا…صدقے کا اہتمام کرنا…اور اپنا حصہ
دوسروں کو کھلانا…گھڑ سواری کرنا ،تیراکی سیکھنا…تیر اندازی کی مشق کرنا…کھانا کم
کھانا…بدنظری نہ کرنا…ان تمام تعلیمات میں صحت ہی صحت ہے…مسلمان کے لئے منع ہے کہ
وہ اپنے دل میں کسی مسلمان کے لئے بغض ،کینہ اور حسد رکھے…جب دل میں بغض کینہ اور
حسد نہ ہو تو دماغی ٹینشن کم ہو تی ہے… اور اگر انسان اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر
راضی ہوتو اُس کا بلڈپریشر ٹھیک رہتا ہے…بس اللہ پاک نے جو کردیا وہ ٹھیک ہے اور
ہم اس پر خوش ہیں…یہ وہ کیفیت ہے جو بہت سی روحانی اور جسمانی بیماریوں کا علاج
ہے…پاکستان کے ایک بڑے سیاستدان کے بارے میں سنا ہے کہ جب۱۹۹۹ء میں فوج نے حکومت کا تختہ الٹا تو ان کو گرفتار کر لیا
گیا…انہیں اور تو کوئی تکلیف نہیں دی گئی بس قید تنہائی میں رکھا گیا…وہ اس ادنیٰ
سی تکلیف کو بھی برداشت نہ کر سکے…بلکہ دوسرے تیسرے دن اُن پر وحشت طاری ہو گئی
اور انہوں نے اپنے تمام کپڑے اتار پھینکے اور غلاظت کرکے اُسے کھانے لگے…تب فوج
والے اُن کو اٹھا کراپنے آفیسر کے پاس لے گئے…جہاں منٹوں میں سودا طے پا گیا اور
وہ فوجی حکومت کے ’’طاقتور دوست‘‘ بن کر ٹی وی چینلوں پر چہکنے لگے…اس کے برعکس
اگر کوئی مسلمان اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر یقین رکھتا ہو تو قید تنہائی میں اُسے
مزہ آتا ہے… وہ دیواروں اور چھتوں کو اپنے ساتھ ملا کر اللہ،اللہ کرتا ہے…اور اللہ
تعالیٰ کی محبت اُس کی تنہائی کو پُرنور محفل میں بدل دیتی ہے…باقی آزمائش کے طور
پر اور اجر بڑھانے کے لئے مسلمانوں پر بھی بیماریاں آتی ہیں…حضرات صحابہ کرام کے
زمانے میں ملک شام کی طرف’’طاعون‘‘کا مرض پھیل گیا تھا اس میںکئی بڑے
بڑے حضرات صحابہ کرام واصل بحق ہوئے اور انہوں نے ’’شہادت‘‘ کا مقام پایا…نیا سال
آرہا ہے اور اس سال میں بھارت کا بہت بُرا حال ہے…چاول کی فصل نہیں ہوئی ،ملک میں
بیمار ی اور فاقے کا دور دورہ ہے…ہندوئوں کی تنظیم’’بھارتی جنتا پارٹی‘‘ میں شدید
ٹوٹ پھوٹ جاری ہے… ایڈوانی کا آخری عہدہ بھی چھن چکا ہے اب وہ حزب اختلاف کا لیڈر
نہیں رہا…البتہ پارٹی نے اُسے خوش رکھنے کے لئے ایک نیا رسمی عہدہ گھڑا
ہے…پارلیمانی پارٹی کا چیئرمین…ہائے بے چارہ ایڈوانی…اُس کی ہر تمنا’’حسرت‘‘ میں
بدل گئی… وہ چاہتا تھا کہ بابری مسجد کی جگہ مندر بنائے…مگر ابھی تک نہ بنا…وہ
چاہتا تھا کہ ملک کا وزیراعظم (پردھان منتری) بنے مگر نہ بن سکا…وہ چاہتا تھا کہ
مرتے دم تک اپنے ’’عہدوں‘‘ پر قائم رہے مگر ہر عہدہ اُس کے سر سے پھسلتا چلا گیا…
اور اب بدنامی کا یہ عالم ہے کہ پارٹی والے اپنی ہر خرابی کی ذمہ داری اُس پر ڈال
رہے ہیں…انڈیا کی ریاست آندھرا پردیش میں سخت سیاسی بحران ہے…اور آج کل پورے انڈیا
میں اس پر بحث جاری ہے کہ دس سال پہلے بھارتی طیارے کے اغواء کے بدلے تین مجاہدین
کو رہا کرنا ٹھیک تھا یا غلط؟… جی ہاں اکتیس دسمبر کی تاریخ قریب آرہی ہے اکتیس
دسمبر۱۹۹۹ء بھارت کا ایک طیارہ اچانک اغواء ہو کر قندہار جا بیٹھا
تھا…نیا سال شروع ہو چکا ہے اور متحدہ عرب امارات کا شہر’’دبئی‘‘ سر سے پائوں تک
’’سود‘‘ کی دلدل میں پھنس گیا ہے…مسلمان کو ’’سود‘‘ کبھی ہضم نہیں ہوتا’’سود‘‘ ایک
تباہ کن لعنت ہے اور یہ مسلمانوں کے لئے ’’زہر قاتل‘‘ ہے… دبئی ایک زمانے تک مال
کے شوقین لوگوں کے لئے بہت پرکشش تھا…لوگ دھڑا دھڑ ’’دبئی‘‘ جا رہے تھے… میں نے
کراچی میں ایسے تاجروں کو بھی دیکھا جو ہر ہفتے ایک دو دن کے لئے’’دبئی‘‘ کا چکر
لگا آتے تھے…کسی بھی انسان کو ’’نوٹ‘‘ جمع کرنے کا شوق ہو جائے تو پھر’’نوٹ‘‘ اُس
کے خون تک کو چوس لیتے ہیں…نہ آرام نہ سکون بس یہی فکر کے اتنے نوٹ آگئے اور اتنے
چلے گئے…یہ ’’نوٹ‘‘اگر آخرت بنانے پر خرچ ہوں تو پھر’’مالداری‘‘ بڑی رحمت ہے…انسان
معلوم نہیں کیا کچھ کما لیتا ہے…ایک بار ملتان ائیر پورٹ پر مجھے ایک صاحب ملے
…انہوں نے بتایا کہ وہ کراچی کے ایک بڑے بزرگ عالم دین کے گھر کا تمام خرچہ پوری
زندگی دیتے رہے…مجھے اُن صاحب پر بہت رشک آیا…وہ جس عالم کا تذکرہ کررہے تھے انہوں
نے دین کا بہت کام کیا…درجنوں کتابیں لکھیں اور ہزاروں انسانوں کی ہدایت کا ذریعہ
بنے… اور علم کی تو بہت خدمت کی…اب اس عقلمند مالدار نے ماہانہ کچھ رقم خرچ کرکے
اُن عالم کے سارے دینی کام میں اپنا حصہ خرید لیا…یقینا یہ بڑی سعادت ہے… سنا ہے
کہ کراچی وغیرہ میں کچھ ایسے مالداربھی ہیں جو صرف دین پر خرچ کرنے کے لئے مال
کماتے ہیں…انہوں نے کئی ایسی فیکٹریاں اور کارخانے لگا رکھے ہیں جن کی آمدن کی ایک
پائی وہ اپنے گھر نہیں لے جاتے…بلکہ تمام آمدن دینی کاموں پر خرچ کرتے ہیں…شروع
میں جب ہماری جماعت کا اعلان ہوا تو ملک میں جہاد پر پابندی نہیں تھی…تب کئی ایسے
خوش نصیب مالداروں کو دیکھا جنہوں نے جہاد پر بہت موٹی موٹی رقمیں لگائیں…دینی
کاموں میں سب سے زیادہ اجر جہاد میں مال خرچ کرنے کا ہے…قرآن پاک کی کئی مستقل
آیات میں جہاد پر خر چ کرنے کا حکم دیا گیا ہے…احادیث میں تو جہاد پر خرچ کرنے کے
ایسے فضائل آئے ہیں کہ انہیں پڑھ کر دل چاہتا ہے کہ انسان اپنے تن کے کپڑے بھی
جہاد میں دے دے…تھوڑا سا افسوس اس بات کا ہے کہ جہاد پر خرچ کرنے کے فضائل عام طور
سے بیان نہیں کئے جاتے… اس کی وجہ سے اور کچھ حکومت کے خوف سے اب مالدار لوگ جہاد
میں دینے سے ڈرتے ہیں…حالانکہ جہاد میں مال لگانا بہت ہی اونچی سعادت ہے…بات
’’سود‘‘کی چل رہی تھی کہ مسلمانوں کو’’سود‘‘ ہضم نہیں ہوتا…بینکوں سے سودی قرضہ
لینا بہت بڑا گناہ ہے…جی ہاں’’ کبیرہ گناہ‘‘ اوراس سے تمام مال ناپاک ہو جاتا
ہے…دبئی والوں نے بھی اپنی معیشت کی بنیاد سود اور بے حیائی پر رکھی تو اب یہ
معیشت منہ کے بل گررہی ہے… لاکھوں لوگ بے روزگار ہو کر وہاں سے بھاگ گئے ہیں…اونچی
اونچی عمارتوں میں اب جن اور بھوت رہتے ہیں… اور پراپرٹی کاکام مکمل
خسارے میں جا رہا ہے…اللہ تعالیٰ وہاں کے حکمرانوں کو دین پر عمل کرنے کی توفیق
عطا ء فرمائے…نیا سال شروع ہو چکا ہے اس حوالے سے باتیں تو بہت ہیں مگر اُن سب کو
چھوڑ کر صرف یہ بات عرض کرنی ہے کہ جو لوگ’’عشق‘‘ کے راستے کو اختیار کر چکے ہیں
وہ اب ’’عقل‘‘ کی باتوں میں آکر پیچھے نہ ہٹیں…جہاد کا راستہ عشق کا راستہ ہے…بیعت
علی الجہاد کا راستہ سچے عشق کا راستہ ہے…آج جو چند مسلمان ’’شرعی جہاد‘‘ میں جڑے
ہوئے ہیں انہیں کی برکت سے ساری دنیا میں ہلچل ہے…انسان کی عقل بار بار اس راستے
میں’’بریکر‘‘ یعنی رکاوٹیں لاتی ہے…مگر سچے عاشق کبھی واپسی کا نہیں سوچتے آج دنیا
کی ساری چہل پہل کے پیچھے یہی ’’مجاہدین‘‘ ہیں…بڑے بڑے بحری بیڑے ،اونچے اونچے
قلعے،اڑتے ہوئے جہاز،خفیہ سیارچے، دن رات کی میٹنگیں،صبح شام کی سازشیں… تکبیر کے
نعرے،پہاڑوں کی سرخی،صحرائوں کی لالی…اور قوس قزح کے رنگ… مجاہدین کی تھوڑی سی
محنت نے ایک سپر پاور کو بھکاری اور دوسرے کو ناکام شکاری بنا دیا ہے…مجاہدین کی
تھوڑی سی قربانی نے قرون اولیٰ کے تمام واقعات کا رنگ اس زمانے کودکھا دیا ہے…اب
ایسے عظیم راستے سے واپسی…اللہ تعالیٰ کی پناہ… جس کے دل میں بھییہخیال آئے وہ تو
بہ استغفار کرے…اور اللہ تعالیٰ سے استقامت مانگے…کہتے ہیں کہ بخارا کے حاجیوں کا
ایک قافلہ… مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ جا رہا تھا…عشق ومحبت کے جذبات کا سیلاب تھا
کہ ابھی تھوڑی دیر بعد ہم آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ہوں
گے…اور ہمیںمسجد نبوی کے سجدے نصیب ہوں گے…راستے میں ڈاکہ پڑا…کئی حاجی مارے گئے…
باقی جو بچ گئے انہوں نے کہا راستہ خطرناک ہے ہم واپس چلتے ہیں…وہ سب واپس ہو گئے
مگر ایک ’’بخاری نوجوان‘‘ آگے ہی بڑھتا رہا… اُس نے کہا کہ وہ عشق کیسا جو موت اور
حوادث سے ڈر جائے…عشق کے راستے کی تکلیفیں تو محبت کے لذید جھٹکے ہوتے ہیں…اور اگر
عشق کے راستے میں خنجر لگے تو وہ خنجر نہیں ہوتا عید کا چاند ہوتا ہے… اقبال رحمۃ
اللہ علیہ نے اس واقعہ کوا پنے ان اشعار میں بیان کیا ہے…
قافلہ لوٹا گیا صحرا میں، اور منزل ہے دور
اس بیاباں یعنی بحرِ خشک کا ساحل ہے دور
ہم سفر میرے شکارِ دشنۂ رہزن ہوئے
بچ گئے جو ،ہو کے بے دل سوئے بیت اللہ پھرے
اس بخاری نوجواں نے کس خوشی سے جان دی
موت کے زہراب میں پائی ہے اس نے زندگی
خنجر رہزن اُسے گویا ہلال عید تھا
’’ہائے یثرب‘‘ دل میں،لب پہ نعرہ توحید تھا
خوف کہتا ہے کہ‘‘یثرب‘‘ کی طرف تنہا نہ چل
شوق کہتا ہے کہ ’’تو مسلم ہے بیباکا نہ چل‘‘
بے زیارت سوئے بیت اللہ پھر جائوں گا کیا؟
عاشقوں کو روز محشر منہ نہ دکھلائوں گا کیا؟
خوف جان رکھتا نہیں کچھ دشت پیمائے حجاز
ہجرتِ مدفون یثرب میں یہی مخفی ہے راز
گوسلامت محملِ شامی کی ہمراہی میں ہے
عشق کی لذت مگر خطروں کی جانکاہی میں ہے
کیا خوبصورت اشعار ہیں…حضور اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم کی ہجرت نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ حجاز ی قافلوں کے مسافر جان کی
پرواہ نہیں کرتے…جان کی سلامتی تو ظاہری طور پر محفوظ لوگوں کے ساتھ چلنے میں
ہے…لیکن عشق کی لذت خطروں میں کود جانے میں ہے…اس زمانے میں’’شرعی جہاد‘‘ کی شمع
روشن کرنے والے مجاہدین…رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک لشکر کے
سپاہی ہیں…کیا کسی خوف،خطرے یا حالات کی خرابی کی وجہ سے اس لشکر کو چھوڑا جا سکتا
ہے؟
یا اللہ تادم شہادت’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ پر استقامت نصیب
فرما آمین وصلی اللہ علی خیرخلقہ سیدنا محمدوالہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا
کثیراً کثیراً
٭٭٭
(گزارش: اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے
ضرورت شعری کی وجہ سے ’’مدینہ طیبہ‘‘ کو ’’یثرب‘‘ لکھا ہے، کئی اہل علم بعض روایات
کی روشنی میں مدینہ منورہ کو ’’یثرب‘‘ کہنے سے منع فرماتے ہیں، واللہ اعلم
بالصواب)
(دشنۂ یعنی خنجر)(زہراب یعنی زہرملا پانی)
اللہ اکبر کبیرا… عجیب شان ہے شہداء اسلام
کی… سال کا پہلا مہینہ’’محرم الحرام‘‘ آتا ہے تو اپنے ساتھ شہادتوں کی یادیں لاتا
ہے… حضرت امیر المؤمنین سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ
عنہ کی شہادت… حضرت امیر سیدنا حسین بن علی ر ضی اللہ عنہماکی شہادت…
اس وقت مُلک میں جو کچھ ہو رہا ہے…جی ہاں ماتمی جلوس، تعزیئے اور مجلسیں… ان سب کا
تو’’شہداء اسلام‘‘ سے کوئی تعلق نہیں… البتہ اِس وقت جو کچھ
افغانستان،کشمیر،فلسطین اور عراق وغیرہ میں ہو رہا ہے اُس کا تعلق حضرت عمررضی
اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ماضی کے تمام شہداء اسلام کے ساتھ
ہے…کشمیر میں مشرکین کے خلاف جہاد ہے… جناب رسول کریم آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم نے… بدر، اُحد، خندق، فتح مکہ، حنین اور طائف کی جنگیں مشرکین کے
خلاف لڑی تھیں… انڈیا کی بی جے پی نے اپنے ایک’’کتابچے‘‘ میں دعویٰ کیا ہے کہ مکہ کے
مشرک’’ہندو‘‘ تھے… اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے ’’کعبہ
شریف‘‘ کوچھین لیا… افغانستان میں جن کفار کے خلاف جہاد ہو رہا ہے اُن میں سے اکثر
کا تعلق’’یہودونصاریٰ‘‘ کے ساتھ ہے… کچھ ان میں بدھ مت بھی ہیں، کچھ کیمونسٹ ہیں…
اور کچھ کھلم کھلا منافقین… منافقین کی بعض قسموں کے ساتھ’’ قتال ‘‘کرنا جائز ہے…
افغانستان کے منافقین بھی اُسی قسم کے ہیں… عراق کا جہاد مجوس، نصاریٰ اور یہود کے
مشترکہ اتحاد کے خلاف ہے جبکہ …فلسطین کے جانباز یہودیوں سے لڑ رہے
ہیں… اللہ تعالیٰ’’صومالیہ‘‘ کے مجاہدین کو سلامت رکھے
انہوں نے ’’سمندری جہاد‘‘ بھی شروع کر دیا ہے… احادیث مبارکہ میں ’’سمندری جہاد‘‘
کی بہت فضیلت آئی ہے… حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی قینقاع،بنی
نضیر اور بنی قریظہ… اورپھر خیبر کی جہادی جنگیں یہودیوں کے خلاف قائم فرمائیں…
اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’تبوک‘‘ کاسفر’’نصاریٰ‘‘ سے جہاد کے لئے
فرمایا… اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’موتہ‘‘ کی طرف جو جہادی لشکر
روانہ فرمایا وہ بھی ’’نصاریٰ‘‘ کے مقابلے کے لئے تھا…پھر آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے مسلمانوں کو کئی جنگوں کی بشارتیںعطاء فرمائیں… ان بشارتوں میں
’’بحری جہاد‘‘ کی خوشخبری بھی تھی…میرا سلام اُن تمام’’مجاہدین‘‘ کوجو اِس زمانے
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارتوں کا
مصداق بنے ہوئے ہیں… دل چاہتا ہے کہ ان مجاہدین کے قدموں کی خاک جمع کر کے اُسے
اپنی آنکھوں کا سرمہ بنالوں… ویسے آپ کو ایک سچی بات اور بتاتاہوں کہ اِس زمانے
کے ’’مجاہدین‘‘ کا مقام ماشاء اللہ بہت اونچا ہے…یہ بات
تفصیل سے بیان نہیں کر سکتا کہ ’’مجاہدین‘‘ اُسے پڑھ کر’’تکبّر‘‘ میں مبتلا نہ ہو
جائیں… اور جو تکبّر میں مبتلا ہوتا ہے وہ ’’جہاد‘‘ کے اونچے مقام سے پھسل کرنیچے
گر جاتا ہے… آپ نے کبھی اس نکتے کو سوچا کہ اِس زمانے کا جہاد افغانستان میں کیوں
شروع ہوا؟…پھر افغانستان سے کشمیر کے جہاد کا چراغ کیوں جلا؟… اور پھر عراق میں
جہاد کے نعرے کیوں گونجے؟… کبھی سوچا آپ نے؟… دنیا تو بہت بڑی ہے اور مسلمان الحمدللہ ہر جگہ موجود ہیں… اور کفار کا ظلم و ستم بھی
تقریباً ہر جگہ موجود ہے… مگر افغانستان ہی سے اللہ پاک نے
اس زمانے کے جہاد کا آغاز فرمایا اس میں بڑی حکمتیں ہیں… ’’دسمبر‘‘ کے ٹھنڈے
مہینے کو ’’عالمی میڈیا‘‘والے کئی حوالوں سے یاد کرتے ہیں… اور ہر سال دسمبر میں
مزید کوئی ایسا واقعہ ہو جاتا ہے جو سالہا سال تک یاد کیا جاتا ہے… بابری مسجد کی
شہادت چھ(۶) دسمبر کو ہوئی، مسلمانوں کو اپنا یہ زخم یاد آتا ہے… انڈین
طیارے کا اغواء بھی دسمبر میں ہوا انڈیا اپنے اس زخم کو کُھجاتا ہے… آج کل پیپلز
پارٹی والے بے نظیر صاحبہ کی دوسری برسی منا رہے ہیں… عیسائی برادری اپنا کرسمس
اور پاکستانی حکومت ’’جناح ڈے‘‘ بھی دسمبر میں مناتی ہے… یہ عجیب ٹھنڈا مہینہ ہے
جو گرم گرم واقعات سے بھرا پڑا ہے… انہیں گرم واقعات میں سے ایک واقعہ تیس(۳۰) سال پہلے پیش آیا…تیئیس(۲۳)دسمبر ۱۹۷۹ء سوویت یونین کی فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں… کسی کے
وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ ’’سوویت یونین‘‘ کی موت اُسے افغانستان میں کھینچ
لائی ہے… اس سے پہلے ’’سوویت اتحاد‘‘ نے کبھی شکست کا نام تک نہیں سنا تھا…
تیمورلنگ جیسے فاتح کا شہر سمر قند… اور امام شاملپ کا قفقاز بھی’’سوویت اتحاد‘‘
کا حصہ بن چکے تھے… افغانستان میں کیمونسٹوں کی دو طاقتور مقامی پارٹیاں موجود
تھیں… ایک کا نام’’خلق‘‘ اور دوسری کا نام’’پرچم‘‘ تھا… سوویت یونین کابل میں تنہا
نہیں تھا… بلکہ سالہا سال کی محنت نے افغانستان میں مقامی کیمونسٹوں اور کامریڈوں
کا ایک پورا لشکر تیار کر دیا تھا… حفیظ اللہ امین،نورمحمد
ترکئی، ببرک کارمل… اور نجیب… یہ سب سوویت یونین کے نظریاتی اور جسمانی غلام تھے…
روس کے جنگلات میں خونخوار’’گلم جم ملیشیا‘‘ کو تیار کیا گیا تھا… اس ملیشیا کی
کمان’’عبدالرشید دوستم‘‘ کے ہاتھ میں تھی…ظاہری طور پر افغانستان… ایک ترلقمہ تھا…
مگر اللہ پاک کی شان دیکھیں کہ ’’سرخ ریچھ‘‘ بُری طرح پھنس
گیا… ہمارے’’آلودماغ‘‘ دانشور ایک ہی بات فرماتے ہیں کہ امریکہ، پاکستان اور دیگر
ممالک نے’’سوویت یونین‘‘ کو شکست دے دی… ان ممالک نے مجاہدین کی مدد کی… عرب ممالک
سے مجاہدین کوبھرتی کرکے لے آئے… ساری دنیا سے مجاہدین کے لئے’’گدھے‘‘خریدے… ان
گدھوں پر بیٹھ کر مجاہدین نے سوویت یونین کو شکست دے دی… اگر یہ بات سچی ہے تو آج
امریکہ بھی موجود ہے اور اُس کے اتحادی بھی… وہ ساری دنیا سے ’’گدھے‘‘بھی خرید
سکتے ہیں اور کرائے کے فوجی بھی بھرتی کر سکتے ہیں… تو کیا وجہ ہے کہ آٹھ سال سے
’’طالبان‘‘ کو شکست نہیں دی جا سکی؟… عجیب بات یہ ہے کہ سوویت یونین ایک بڑی ایٹمی
طاقت تھی… جبکہ’’طالبان‘‘ ظاہری طور پر ایک معمولی سی طاقت ہیں… دراصل یہ دانشور
بیچارے کچھ نہیں سمجھتے، کچھ نہیں جانتے…اصل بات یہ ہے کہ افغانستان کے مجاہدین نے
بغیر کسی بیرونی امداد کے افغانستان کا جہاد شروع کیا… یہ جہاد وہاں کی کیمونسٹ
حکومت کے خلاف تھا… حکومت نے جب مجاہدین کا زور دیکھا تو اپنے آقا سوویت یونین
کوبُلایا… تیئیس دسمبر۱۹۷۹ء کو سوویت یونین نے اپنی فوجیں افغانستان میں داخل کردیں…
سوویت یونین کا یہ لشکر’’ڈیڑھ لاکھ‘‘ فوجیوں پر مشتمل تھا… بعد میں اس میں کمی اور
زیادتی ہوتی رہی… مجاہدین نے اپنا جہاد جاری رکھا… نہ امریکہ کا تعاون تھا اور نہ
پاکستان کا… سوویت فوجوں نے جب وسیع پیمانے پر بمباری اور قتل و غارت کا بازار گرم
کیا تو’’ہجرت‘‘ شروع ہو گئی… پاکستان کو اللہ پاک سلامت
رکھے اُس نے اپنا سینہ کھول دیا… مہاجرین پاکستان آگئے تو ان کے ساتھ مجاہدین بھی
آنے جانے لگے… جب دنیا نے دیکھا کہ مجاہدین بہت باعزم، مضبوط اور جنگ آزما ہیں تو
ہر طرف سے امداد شروع ہو گئی… جہاد کے واقعات عام ہوئے اور شہداء کے خون کی خوشبو
پھیلی تو دنیا بھر سے خوش قسمت’’روحیں‘‘ جہاد کے میدان کی طرف دوڑنے لگیں… اور وہ
نام نہاد اسلامی ممالک جہاں کے حکمرانوں نے… دیندار مسلمانوں کو تنگ کر رکھا تھا
وہاں کے کئی مسلمانوں نے بھی افغانستان کارُخ کیا… افغانستان کا جہاد جب اچھی طرح
جم گیا تو امریکہ وغیرہ نے اس موقع کو اپنے لئے غنیمت سمجھا کہ اب سوویت یونین
کوسبق سکھایا جا سکتا ہے… چنانچہ انہوں نے بھی افغان مجاہدین کا تعاون کیا… یہ سب
کچھ کیا تھا؟… اللہ رب العزت کا تکوینی نظام… جی ہاں اِس
زمانے میں جہاد کے احیاء کا عالیشان انتظام… سوویت یونین کو شکست ہوگئی… اور وہ
ٹوٹتا اور بکھرتا چلا گیا… کابل میں کیمونسٹ حکومت ختم ہوئی… مگر خالص مجاہدین بھی
نہ آسکے… ایسا کیوں ہوا؟… یہ تفصیل پھر کبھی… مگر افغان جہاد کے تمام بیرونی
معاونین ہاتھ جھاڑ کر واپس چلے گئے… اگر افغان جہاد امریکہ کی جنگ ہوتی تو امریکہ
وہاں موجود رہتا… مگر امریکہ کا تو نام و نشان تک نہیں تھا… وہاں تو دو ماہ
کیلئے’’مجدّدی‘‘ اور پھر دو سال کے لئے ’’ربّانی‘‘ آئے… احمد شاہ مسعود اور حکمت
یار نے اپنے سینگ اڑائے… ہر صوبے پر الگ تنظیم نے حکومت قائم کی… اور گلم جم والے
خوب دندنائے… اُدھر سے ایران بھی گُھس آیا… حزب وحدت اور حرکتِ اسلامی کے نام سے
دو ایران نواز تنظیموں نے خوب اودھم مچایا… ہرات، بامیان اور مزار شریف کو وہ لے
اُڑے… اس افراتفری کے عالم میں شہداء کرام کے خون نے کروٹ لی اور طالبان ’’رحمتِ
حق‘‘ بن کر آئے… اور پچانوے فی صد افغانستان پر چھا گئے… اب دنیا بھر سے’’کفر
ونفاق‘‘ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا… روس، انڈیا اور ایران نے’’شمالی اتحاد‘‘بنایا
امریکہ اور یورپ نے بھی اس شمالی اتحاد کی مدد کی… یہ افغان جہاد کا دوسرا دور
تھا… طالبان اکیلے تھے اور اُن کے مقابل شمالی اتحاد تھا جسے ہرطرف سے امداد اور
گدھے مل رہے تھے… مگر اس بار امداد اور گدھے دونوں بُری طرح ہار رہے تھے… اسی
اثناء میں’’نائن الیون‘‘ کا واقعہ ہو گیا… کچھ اچھے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ واقعہ
امریکہ نے خود کرایا تاکہ طالبان پر حملہ کر سکے… یہ خیال حقائق کے مطابق نہیں ہے…
امریکہ ایک منہ زور طاقت ہے اُسے کسی پر حملہ کرنے کے لئے اس طرح کے بہانوں کی
ضرورت نہیں… اور بہانہ بھی ایسا جس نے امریکہ کی معیشت کا بھرکس نکال دیا… بہرحال
قسمت کی بات کہ’’نائن الیون‘‘ ہو گیا… اور امریکہ
کو اللہ پاک نے اُس کے بِل سے نکال دیا… تب افغان جہاد کا
تیسرا دور شروع ہو گیاجسے اب آٹھ سال ہو چکے ہیں… اس جہاد
میں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی طاقت مجاہدین کے ساتھ نہیں
ہے… وجہ بالکل واضح ہے کہ سب امریکہ سے ڈرتے ہیں…
مگر اللہ تعالیٰ کو امریکہ کا کیا
ڈر… اللہ تعالیٰ چاہے تو ایک اشارے سے زمین و آسمان کو
تباہ فرمادے… اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو اس جہاد کے لئے
کھڑا فرما دیا… اسی سے آپ اِس زمانے کے مجاہدین کا مقام سمجھ سکتے ہیں کہ
وہ اللہ تعالیٰ کو کتنے پیارے ہیں…دراصل آخری زمانہ بھی
اسلام کے پہلے زمانے کی طرح’’جہاد کا زمانہ‘‘ ہے… اور اس جہاد کا بڑا لشکر
افغانستان، پاکستان اور انڈیا میں تیار ہونا ہے… طالقان کا علاقہ افغانستان میں ہے
جہاں سے مجاہدین کے لئے ایک بڑا خزانہ نکلے گا… روایات میں اس کی بشارت موجود ہے…
حضرت امام مہدی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں خراسان سے کالے جھنڈوں والا لشکر روانہ
ہو گا… مجاہدین کا اصل راستہ کشمیر سے گزر کر ہندوستان تک پہنچتا ہے… چنانچہ کشمیر
بھی’’میدان جہاد‘‘ بن گیا… حضرت سید احمد شہیدرحمۃ اللہ
علیہ کا لشکر بھی کشمیر کی طرف روانہ تھا کہ راستے میں شہید کر دیاگیا…
روایات میں ہے کہ افغانستان سے مجاہدین کا لشکرہندوستان پہنچے گا اور وہاں کے
حکمرانوں کو زنجیروں سے باندھے گا… یہی وہ آخری زمانہ ہوگا جس میں بڑے بڑے واقعات
پیش آئیں گے… حضرت امام مہدی رضی اللہ عنہ کا آنا… حضرت عیسیٰ بن
مریم علیہ السلام کا نازل ہونا… دجّال کا نکلنا… مسلمانوں کے تین بڑے
لشکروں کا تذکرہ ملتا ہے… ملک شام والا لشکر تو جہاد فلسطین کے ذریعہ تیار ہو رہا
ہے… خراسان کا لشکر افغانستان اور کشمیرمیں جوان ہو رہا ہے… اور عراق کا لشکر جہاد
عراق سے پیدا ہو چکاہے… ساری دنیا کوگھیرنے کے لئے یہی تین لشکر کافی ہیں… اور وہ
زمانہ تیزی سے قریب آرہا ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کی بشارت کے مطابق زمین پر پھر ’’خلافت‘‘ کا عادلانہ نظام قائم ہو
گا… اور اسلام پوری دنیا پر غالب آجائے گا… جہاد کا نظریہ بہت تیزی سے مسلمانوں
میں عام ہو رہا ہے… اور کئی ممالک میں تو جہاد کی گمنام تحریکیں بھی چل رہی ہیں…
بے شک اِس زمانے کے مجاہدین مسلمانوں کے روشن مستقبل کی بنیاد بن رہے ہیں… یہاں
ایک چھوٹا سا نکتہ اور بھی سمجھ لیں… اِس زمانے کے جہاد کا ظاہری نتیجہ سامنے نہیں
آرہا…یعنی نہ افغانستان فتح ہوا، نہ کشمیر آزاد ہوااور نہ عراق میں اسلامی حکومت
قائم ہوئی… بعض لوگ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ اگر یہ جہاد شرعی ہوتا تو اسلام غالب اور
نافذ ہو جاتا… مگر کسی جگہ بھی ایسا نہیں ہوا تو ثابت ہوا کہ( نعوذباللہ ) اِس
زمانے کا جہاد غیر شرعی ہے… یہ اعتراض بالکل غلط ہے… اِس زمانے کا جہاد تو مسلمانوں
کی عظمت کے لئے بنیاد فراہم کر رہا ہے… یعنی پہلے ایک جہادی اُمت تیار ہو گی جو
آگے چل کر اسلام کو نافذ کرے گی… آج اگر فوری طور پر ان جہادی تحریکوں کا ظاہری
نتیجہ نکل آئے توجہاد کو نقصان پہنچ سکتا ہے… وجہ یہ ہے کہ جب نتیجہ نکلے گا تو
مجاہدین کی حکومت قائم ہو جائے گی… کچھ وزیر بنیں گے اور کچھ مشیر… جبکہ دنیا بھر
کی سیاست اور معیشت پر یہود ونصاریٰ کا قبضہ ہے… اب جو حکومت بھی بنے گی اُسے اپنی
کرنسی اور اپنے خارجہ معاملات کی وجہ سے کفار کا محتاج ہو نا پڑے گا… اور جہاد سے
دستبردار ہونا پڑے گا… اوریوں تحریک جہاد ختم ہو جائے گی… جبکہ موجودہ حالات میں
اگرچہ کسی جگہ اسلامی حکومت قائم نہیں ہو رہی مگر جہاد کوقوت مل رہی ہے… اُمت
مسلمہ میں مجاہدین پیدا ہو رہے ہیں… اور کفر کی طاقت آہستہ آہستہ پگھل رہی ہے…
بس یہ سلسلہ اگر کچھ عرصہ اور جاری رہا تو دنیا پر سے کفار کی’’دادا گیری‘‘ ختم ہو
جائے گی… اور مسلمانوں میں بے شمار سچے مسلمان پیدا ہو جائیں گے… اور سچا مسلمان
تو وہی ہوتا ہے جو جہاد سمیت پورے دین کو مانتا ہو… اور اس پر عمل کے لئے تیار
رہتا ہو… جہاد کی موجودہ تحریکیں دیمک کی طرح کفار کے مضبوط قلعوں کو اندر ہی اندر
سے کھاتی جارہی ہیں… آپ کو یقین نہ آئے تو صرف پندرہ بیس سالوں کی تاریخ اٹھا کر
دیکھ لیں… کچھ عرصہ پہلے تک دنیا میں کفار کو چیلنج کرنے والا کوئی بھی نہیں تھا…
چنانچہ اس مستی میں انہوں نے’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ کا اعلان کر دیا کہ اب… ساری دنیا
ہماری غلام بن چکی ہے… اور اب وہی کچھ ہو گا جو ہم چاہیں گے… مگر آج حالات بدل
چکے ہیں… ایک سپرپاور تو دنیا کے نقشے سے ہی مٹ چکی ہے… جبکہ دوسری سپر پاور اپنے
فوجیوں کے تابوت اٹھارہی ہے… اسی لئے تو میں کہتا ہوں کہ اِس زمانے کے مجاہدین کا
مقام بہت اونچا ہے… اللہ تعالیٰ تکبر، حبّ دنیا اور ریاکاری
سے بچائے اور استقامت عطاء فرمائے… ساری دنیا کے کفار کی خدمت میں گزارش ہے
کہ’’اسلام‘‘ہی سلامتی کا واحد راستہ ہے… جنگ آپ لوگوں کے بس کی بات نہیں ہے… حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمّتی جب میدانوں میں اُتر آئیں تو پھر
آسمان وزمین کے غیبی لشکر بھی اُن کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں… آپ لوگ مسلمانوں سے
نہیں لڑ سکیں گے… اور ہر آنے والا دن آپ کے لئے نئی مصیبتیں لائے گا… اس لئے
اسلام کی طرف رجوع کریں… آپ اسلام قبول کر لیں گے تو سلامتی پالیں گے اور ہمارے
معزز بھائی بن جائیں گے… بس سال کے آغاز پر مجاہدین کی طرف سے دنیا بھر کے لئے
یہی پیغام ہے… جی ہاں سلامتی کا پیغام…وَالسََّلَامُ عَلٰی مَنْ اِتَّبَعَ
الْھُدٰی
آمین یا ارحم الراحمین
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ
سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے سب سے محبوب اور آخری نبی
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ’’جہادی نبی‘‘ ہیں… انبیاء د میں سے سب
سے زیادہ ’’جہاد‘‘ رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا… سندھ کے مشہور
محدّث اور عالم حضرت مخدوم سید محمد ہاشم ٹھٹھوی رحمۃ اللہ علیہ نے رسول نبی کریم
صلی اللہ علیہ وسلم کے جو اسماء مبارکہ جمع فرمائے ہیں… ان میں یہ چند
نام مبارک بھی شامل ہیں…
(۱) ذوالجہاد صلی اللہ علیہ وسلم (جہادی نبی)
(۲) صَاحِبُ الجہاد صلی اللہ علیہ وسلم (جہاد والے
نبی)
(۳) المجاہد صلی اللہ علیہ وسلم (مجاہد نبی)
(۴) القتّال صلی اللہ علیہ وسلم (بہادر جنگجو نبی)
(۵)المقاتل فی
سبیل اللہ ( اللہ تعالیٰ کے راستے
میں قتال فرمانے والے نبی)
تھوڑا ساغور فرمائیے کہ جب ہمارے نبی صلی اللہ
علیہ وسلم خود’’جہادی‘‘ ہیں… تو پھر’’جہادی‘‘ ہونا ایک مسلمان کے لئے
جُرم کس طرح سے بن سکتا ہے؟… آج کل کئی صحافی مرد اور صحافی خواتین لفظ’’جہادی‘‘
کو گالی اور جرم بنا کر پیش کر رہے ہیں… آخر یہ لوگ کس کو گالی دینا چاہتے ہیں؟…
جہاد تو اسلام کا ایک مقدس فریضہ ہے… اور اس فریضے کا منکر… نماز،روزے کے منکر کی
طرح کافر ہے… ’’جہادی‘‘ ہونا ایک مسلمان کے لئے بہت بڑی سعاد ت ہے… بہت ہی عظیم
الشان سعادت…
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی جہادی
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام
ڑبہت زبردست … اور اونچے درجے کے ’’جہادی‘‘ تھے… قرآن پاک نے انہیں سمجھایا کہ…
جہاد اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب ترین عمل ہے… تب اُن
کے نزدیک بھی جہاد محبوب ترین عمل بن گیا… حضرات صحابہ کرام ڑ کے جہاد کی مثال نہ
پہلی امتوں میں گزری ہے… اور نہ آئندہ کوئی اُن جیسا جہاد کر سکتا ہے… حضرات
صحابہ کرام ڑ نے آخری دم تک لڑتے رہنے کی بیعت فرمائی… اور اُن کا یہ شعر بھی
مستند اور معروف ہے…
نحن الذین بایعوا
محمدا علی
الجہاد مابقینا ابدا
کہ ہم نے زندگی کے آخری سانس تک… جہاد کرنے کی بیعت حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک پر کر لی ہے… صحابہ کرامؓ
میںاونچا مقام خلفائے راشدین کا ہے… وہ چاروں’’جہادی‘‘ تھے… اصحاب بدر کا خاص مقام
ہے وہ سب’’جہادی ‘‘ تھے… اصحاب حدیبیہ کا خاص مقام ہے وہ سب بھی’’جہادی‘‘ تھے…
مہاجرین کا خاص مقام ہے… اسی طرح انصار کا بڑا مقام ہے… یہ سب ’’جہادی‘‘تھے…
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کا تو بہت
ہی اونچا مقام ہے… یہ سب اہل بیت’’جہادی‘‘ تھے… امہات المؤمنین بھی جہاد میں ساتھ
تشریف لے گئیں… اور حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہاتو اُحد کے میدان میں آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم دھو رہی تھیں…
پھر بی بی سی پر پاکستان کے صحافی… لفظِ’’جہادی‘‘ کو گالی
اورجُرم بنا کر کیوں پیش کر رہے ہیں؟… کیا اِن کی عقل ماری گئی ہے… یا یہ کافروں
اور مرزائیوں کی زبان بول رہے ہیں…
فرشتے جہادی
قرآن پاک نے بتایا ہے
کہ… اللہ تعالیٰ نے جہاد میں مسلمانوںکی نصرت کے لئے فرشتے
نازل فرمائے… قرآن پاک میں کئی جگہ اس کا تذکرہ ہے… اور یہ بھی فرمایا
کہ اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو لڑنے کا طریقہ سکھایا… صحیح
روایات میں کئی فرشتوں کا نام بھی آیا ہے… خصوصاًحضرت سیدنا
جبریل علیہ السلام، حضرت سیدنا میکایل علیہ السلام… پس فرشتوں کا
’’جہادی‘‘ ہونا بھی قرآن و احادیث سے ثابت ہو گیا…کیا معصوم فرشتے کوئی جرم کرتے
ہیں؟… نہیں تو پھر مسلمانوں کی نظر میں’’جہادی‘‘ ہونا کیوں جُرم بن رہا ہے؟… بعض
مدارس صفائیاں دے رہے ہیں کہ ہم جہاد کی تعلیم نہیں دیتے… تو کیا قرآن پاک کی
بجائے( نعوذباللہ ) گیتا پڑھانا شروع کردی ہے… ایسا بھی کیا خوف جو اسلام کی
بنیادوںسے ہٹاد ے… اور ایسی بھی کیا مصلحت جو دین کانقشہ ہی بدل دے… جہاد قرآن
مجید میں موجود ہے… اس کا تو کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا… اور دینی مدارس میں بھی
قرآن پاک کی تعلیم ہوتی ہے تو… لازمی بات ہے جہاد کی بھی ہوتی ہے… دارالعلوم
دیوبند میں تو تلوار اور لاٹھی(بنوٹ) بھی سکھائی جاتی تھی… اس میں کیا خرابی ہے؟…
جہادی ہونا توایک مسلمان کے لئے اعزاز ہے… اور مسلمان کا جہاد سے محروم ہونا ایک
فتنہ اور وبال ہے…
انبیاء د جہادی
قرآن پاک کے چوتھے پارے میںواضح طور پر فرمایا گیا ہے… بہت
سے انبیاء اور اُن انبیاء کے اللہ والے ساتھیوں
نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں’’قتال‘‘ کیا … معلوم ہوا کہ
کئی انبیاء دبھی’’جہادی‘‘ تھے… حضرت داؤد علیہ السلام کے جہاد کا بیان قرآن پاک
میں موجود ہے… حضرت سلیمان علیہ السلام کی جہادی تیاری کا تذکرہ قرآن پاک میں
موجود ہے… حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوت جہاد قرآن پاک میں موجود
ہے… تو جو کام انبیاء علیہم السلام نے کیا وہ کتنا مبارک اور محبوب کام ہوگا… پس
جو شخص بھی سچا مسلمان ہوتا ہے وہ ’’جہاد‘‘ سے محبت کرتا ہے… اور جوشخص کفر اور
نفاق کے جتنا قریب ہوتا ہے وہ اسی قدر’’جہاد‘‘ سے دور بھاگتا ہے… ایمان اور نفاق
کی یہ علامت قرآن پاک نے سمجھائی ہے… اِس زمانے کے جو’’صحافی‘‘ یہ مخبریاں کرتے
پھرتے ہیں کہ فلاں’’جہادی‘‘ ہے اس کو پکڑو… فلاں ’’جہادی‘‘ ہے اس کو مارو… یہ لوگ
اپنے ایمان کی خیر منائیں… انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ایک
فریضے کو جُرم اور گناہ قراردیا ہے جو خود بہت بڑا ظلم ہے…
ہم تو اس قابل نہ تھے
آج ایک کتاب دیکھ رہا تھا… حضرات صحابہ کرام ڑکے بعد کے
بزرگوں میں سے کون کون’’جہادی‘‘ تھے… اللہ اکبر کبیرا…
فقہاء کرام میں سے حضرت ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت عبد
اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ … اور صوفیاء کرام میں سے حضرت حاتم اصم
رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت شقیق بلخی رحمۃ
اللہ علیہ جیسے حضرات کا نام بھی’’جہادیوں‘‘ میں لکھا ہوا تھا… اگر اس تفصیل کو
مرتب کیا جائے تو کتابیں بن جائیں… جہاد اُن حضرات کو بہت محبوب اور مرغوب تھا…
حالانکہ زمانے کے خلفاء نے ہرطرف جہادی لشکر بھیج کر فرض ادا کر دیا ہوتا تھا… اور
بڑے علماء کودین کی خدمت کے لئے روکا جاتا تھا مگر پھر بھی… یہ حضرات جہاد کی طرف
کھنچے چلے جاتے تھے… کیونکہ جب آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم ’’جہادی
نبی‘‘ہیں توآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت بھی جہادی اُمت ہے… یہ تو
حبّ دنیا کی وبا چل پڑی ہے… اصل مسئلہ صرف جان بچانے کا ہوتاہے… اور یہ کہ ہمارے
ظاہری امن میں کوئی خلل نہ پڑے… باقی دلائل تودل کو بہلانے کے لئے ہوتے ہیں… جس
اُمت کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میدان جہاد میں زخمی کھڑے ہوں… اُس اُمت کو جہاد کے
معنیٰ سمجھ میں نہ آئیں یہ تو ہو ہی نہیں سکتا…ہاں جان بچانی ہو، اور دل میں ہر
کسی کا خوف سمایا ہو تو پھر نہ قرآن نظر آتا ہے… اورنہ آقامدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کی سیرت… اِس زمانے میں جو چند لوگ جہاد کے لئے نکلے ہیں یہ اُن
پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل اوراحسان ہے… یہ چند لوگ
ابھی تک جہاد کا حق ادانہیں کر سکے… مگر اُن کے دشمنوں نے خوفزدہ ہو کر گواہی دے
دی ہے کہ… یہ سب ’’جہادی‘‘ ہیں…دشمنان دین کی زبانی جب ہمیں’’جہادی‘‘ ہونے کی گالی
دی جاتی ہے تو دل بہت خوش ہوتا ہے…اور مغفرت کی اُمید بڑھ جاتی ہے… چند دن پہلے
ملعون سلمان رُشدی کو ’’انٹرنیٹ‘‘ پر دیکھا کہ وہ ہمارے خلاف بول رہاتھا… اس سے
پہلے بُش، ٹونی اور مشرف بول بول کر چُپ ہو گئے …یہ
سب اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اُس نے تھوڑے سے کام میں اتنی
قوت، برکت اور رعب رکھ دیا ہے… حقیقت میں’’جہادی‘‘ کا لفظ بہت اونچا ہے… ہم خود کو
اس کا اہل نہیںسمجھتے… اب اگر دشمنوں نے ہمارے’’جہادی‘‘ ہونے کی گواہی دے دی ہے تو
اس پر ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے
ہیں ؎
بیدار عزائم ہوتے ہیں، اسرار نمایاں ہوتے ہیں
جتنے وہ ستم فرماتے ہیں، سب عشق پہ احساں ہوتے ہیں
موت نہیں زندگی
پاکستان کے لفافہ زدہ صحافی… جب کسی کو ’’جہادی‘‘ کہتے ہیں
تو اُن کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ… اُن کا ابو امریکہ اِس شخص کو جلد مار دے… اس لئے
جس کو بھی مروانایاپکڑوانا مطلوب ہو تو اُس کو’’جہادی‘‘ مشہور کیا جاتا ہے… یعنی
اِن کے نزدیک’’جہادی‘‘ہونا اپنی موت کو دعوت دینا ہے… چنانچہ جو لوگ موت سے ڈرتے
ہیں وہ صفائی دیتے ہیں کہ… ہم جہادی نہیں ہیں… حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ… جہادی
ہونا… اُس زندگی کوپانا ہے جو ہمیشہ ہمیشہ ہوگی… بہت مزیدار اور شاندار ہوگی…
اور اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے کے ’’جہادیوں‘‘ کیلئے اُس
زندگی کا وعدہ کیا ہے… پس اے مسلمانو! اگر حقیقی زندگی چاہتے ہوتو ’’جہادی‘‘ بن
جاؤ… صرف ایک بار چند دن فارغ کر کے ’’فضائل جہاد‘‘ نامی کتاب کا مطالعہ کر لو…
بے شک زندگی پانے کا راز اور طریقہ معلوم ہو جائے گا… آج اگر کوئی ڈاکٹر یا حکیم
یہ اعلان کر دے کہ ہمارے پاس پانچ سال عمر بڑھانے کی دواء موجود ہے تو لوگوں کا
ہجوم اُن کے دروازے توڑ دے گا…حالانکہ کوئی ایک منٹ بھی کسی کی عمر نہیں بڑھا
سکتا…مگرجہاد میں تو واقعی زندگی ہی زندگی ہے… اس میں موت کا نام تک نہیں ہے… پس
اس زندگی کا راز معلوم کرنے کے لئے آپ آج سے ہی’’فضائل جہاد‘‘ کا مطالعہ شروع
کردیں…روزانہ ایک سو یا پچاس صفحے پڑھ لیں… چند دن بعد اپنے دل کی
حالت ان شاء اللہ بہت عجیب خیر والی دیکھیں گے… اور
تب آپ کو’’جہادی‘‘ ہونا ایک گالی نہیں بلکہ ایک تمغہ لگے گا… بہت عظیم الشان
تمغہ…
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ
سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو ’’ایثار‘‘ کی صفت
نصیب فرمائے… یہ وہ پیاری صفت ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے محبوب
بندوں کو عطاء فرماتا ہے…’’ایثار‘‘ کہتے ہیں اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دینا…
اپنے حصے کی چیزیں دوسروں کو دے دینا… دوسروں کی راحت کے لئے خود تکلیف برداشت
کرنا… قرآن مجید میں’’حضرات انصارِ مدینہ‘‘ کے ’’ایثار‘‘ کی خاص طور پر تعریف کی
گئی ہے… انہوں نے’’حضرات مہاجرین‘‘ کے لئے اپنے گھر اور اپنے کاروبار میں اپنے سے
بڑھ کر حِصّہ رکھا… اور اپنی چیزوں کا اُن کو مالک بنادیا… انسان میں جس قدر ایمان
بڑھتا ہے… اِس قدر ایثار بھی بڑھتا ہے… اور جس کا ایمان کمزور ہوجائے اس میں ایثار
کی جگہ’’خودغرضی‘‘ آجاتی ہے… میں، میں اور میں… میں زیادہ کھالوں… میں زیادہ پی
لوں… میں زیادہ حاصل کرلوں… ہر چیز میں میرا حِصّہ دوسروں سے زیادہ ہو… یہ عادت جب
بڑھ جائے تو انسان کو اتنا رُسوا کرتی ہے کہ… اُسے روٹی اور بوٹی تک میں الجھا
دیتی ہے… مجھے زیادہ روٹی ملے، مجھے زیادہ بوٹی ملے… حضرات صحابہ کرام ڑ میں سے
کسی کے پاس کوئی اچھی چیز آتی تو اُس کے ذہن میں پہلا خیال یہ آتا کہ یہ مجھے
اپنے بھائی، اپنے پڑوسی یا اپنے رشتہ دار کو دے دینی چاہئے… اُن کے بارے میں آتا
ہے کہ بکری کی’’سِری‘‘ کئی گھروں سے گھوم کے واپس پہلے گھر آجاتی تھی… اور میدان
جہاد میں اُن کے زخمی اپنے حصّے کا پانی دوسروںکو دے دیتے اور خود شہید ہو جاتے
تھے…یاد رکھیں جو ’’ایثار‘‘ اختیار کرتا ہے وہ خود کبھی تنگی میں نہیں رہتا… اس
لئے کہ جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی فکر رکھتاہے اُس کی
فکر اللہ تعالیٰ فرماتاہے… حضرات صحابہ کرام ڑ کے’’ایثار‘‘
کی مثال تو کوئی پیش کر ہی نہیں سکتا… البتہ ہم نے
بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہونا ہے… ہمیں چاہئے کہ پہلے
اپنے اندر’’انصاف‘‘ پیدا کریں… اور جب ’’انصاف‘‘ پیدا ہو جائے تو پھر ہمیں اپنی
آخرت بنانے کے لئے خوب خوب ’’ایثار‘‘ اختیار کرنا چاہئے… ’’انصاف‘‘ یہ ہے کہ ہم
کسی کا حق نہ ماریں… کسی اور کے حصے پر قبضہ نہ کریں… کسی دوسرے کی چیز پر اپنا حق
نہ جتلائیں… اور اپنے شرعی حق سے زیادہ کا کسی سے مطالبہ نہ کریں… ہم سب کو اپنا
محاسبہ کرنا چاہئے… کیا ہم انصاف پر قائم ہیں؟… بہت سے لوگ جائیداد کی تقسیم میں
ظلم کرتے ہیں… بہت سے لوگ بوڑھے والدین کی ملکیت پر ظلم کرتے ہیں… بہت سے لوگ
عورتوں کا حِصّہ مار لیتے ہیں… اور بہت سے لوگ اپنے شرعی حق سے زیادہ کا مطالبہ کرتے
ہیں… ہم’’خاص‘‘ لوگ ہیں ہمارا حق زیادہ ہے… اللہ کے بندو!
ظلم نہ کرو… اور خود کو خاص نہیں اللہ تعالیٰ کا عام بندہ
سمجھو… دین تو یہ ہے کہ قربانی دو… دین یہ نہیں کہ قبضے
کرو… اللہ تعالیٰ نے’’ظلم‘‘ کو حرام قراردیا ہے… جو شخص
مرتاہے اُس کی جائیداد اُس کے سب ورثاء کا حق ہوتی ہے…کچھ زور آور لوگ قبضہ کر
لیتے ہیں اور کمزوروں کو محروم کر دیتے ہیں… یہ سب کچھ جہنم کے انگارے ہیں… کراچی
کی بولٹن مارکیٹ کو کون لوگ لوٹ گئے؟… ہمارے وزیر داخلہ صاحب نے سوال نہیں اٹھایا
کہ کیا وہ لوگ مسلمان تھے؟… جی ہاں کراچی میں سب کچھ معاف ہے… روزانہ درجنوں افراد
کا قتل… اربوں روپے کی لوٹ مار… ماہانہ کروڑوں روپے کا بھتّہ… اورجگہ جگہ قاتلوں
کے خونخوار گروہ… سوات اور وزیرستان میں اتنا اسلحہ موجود نہیں ہے جتنا اسلحہ
کراچی میںجمع کیا گیا ہے… مگروزیر داخلہ کے بقول وہاں نہ فوج کی ضرورت ہے اور نہ
فوجی آپریشن کی… اللہ تعالیٰ کراچی اور اہل کراچی کو
آزادی نصیب فرمائے… یہ شہر کافی عرصہ سے عجیب وغریب غلامی اور پریشانی میں مبتلا
ہے… کراچی کے لوگ’’ایثار‘‘ کی صفت سے مالا مال ہیں… پاکستان بھر کے مدارس کے لئے
بڑا چندہ کراچی سے آتا تھا… افغانستان کے جہاد کے مختلف ادوار میں اہل کراچی نے
کافی حِصّہ ڈالا… ملک میں جاری دینی تحریکوں میں بھی اہل کراچی کا بڑا حِصّہ ہے…
اہل کراچی غریبوں، مسکینوں کو کھانا کھلانے… اور یتیموں کے سروں پر ہاتھ رکھنے
والے لوگ ہیں… افغان جہاد کے پہلے دور میں مجھے کئی بار عرب ممالک جانے کا اتفاق
ہوا… امارات میں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ وہاں کے ’’اہل خیر‘‘ افغان یتیم بچوں کی
کفالت کا مکمل ذمّہ اٹھا لیتے تھے… میں نے یہ ترتیب دیکھی تو بہت متاثرہوا… دل
چاہا کہ پاکستانی شہداء کرام کے بچوں اور اہل خانہ کے لئے بھی اسی طرح کے نظام کی
کوشش کرنی چاہئے… چنانچہ اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر کراچی
میں اس کی آواز لگائی… مجھے بہت خوشی اور حیرت ہوئی کہ لوگوں نے بہت محبت اور
جذبے کے ساتھ تعاون کیا… اُس وقت ’’شہداء کرام‘‘ کا ریکارڈ رکھنے کا نظام مرتب
نہیں تھا… حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ کفالت کرنے والوں کے لئے بہت محنت کر کے
شہیدوں کے گھرانے ڈھونڈنے پڑتے تھے…
یہ اہل کراچی کا اعزاز تھا کہ انہوں نے اتنی دور بیٹھ کر اس
مبارک کام کی بنیاد ڈالی… بعد میں الحمدللہ ملک کے دوسرے علاقے بھی اس خدمت میں شامل ہوتے
چلے گئے… پاکستان کے سب سے زیادہ اور جاندار دینی مدارس بھی کراچی میں ہیں… ان
مدارس کے فیض یافتہ علماء کرام دنیا کے کئی ممالک میںدینی خدمات سرانجام دے رہے
ہیں… کراچی والے بہادر بھی بہت ہیں… اس زمانے
میں اللہ تعالیٰ کا شیر’’کاشف شہید ؒ ‘‘ کراچی
ہی میں پلا بڑھا تھا… کاشفپ بہادری کے ساتھ ساتھ خدمت اور ایثار میں بھی خاص مقام
رکھتا تھا… محاذ پر اُس کے ایثار کا یہ عالم تھا کہ اپنا بستر دوسرے ساتھیوں کو دے
کر خود نیچے سو جاتاتھا… وہ جلدی اس دنیا سے چلا گیا آج اپنے’’ایثار‘‘ کا اجر
پاتا ہوگا… اور ان شاء اللہ مزے کرتا ہوگا… جبکہ
خودغرض انسان بس اسی فکر میں جلتا رہتا ہے کہ مجھے کیا ملا؟… مجھے کیا نہیںملا؟…
میں فلاں چیز لے لوں… اور فلاں چیز پر قبضہ کر لوں کہ کوئی دوسرا نہ لے لے… اور
پھر ایک دن یہ سب چیزیں یہاں چھوڑ کر آگے چلا جائے گا… تب اُسے پتا چلے گا کہ
دنیا تو جمع کرنے کی نہیں لٹانے کی جگہ تھی… حضرت ہجویری رحمۃ اللہ علیہ سمجھاتے
ہیں کہ… اے اللہ کے بندو! دنیا خدمت اور قربانی کی جگہ ہے…
جبکہ آخرت ثواب یعنی بدلہ پانے کی جگہ ہے… توپھر اپنے ہر کام کا بدلہ دنیا ہی میں
کیوں مانگتے ہو؟… حضرت ہجویری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب’’کشف المحجوب‘‘
میں’’ایثار‘‘ پر ایک پورا باب لکھا ہے… اس میں وہ اُن بزرگوں کا قصہ بھی لکھتے ہیں
جنہیں حاکم وقت نے قتل کرنے کے لئے جلاّد کے حوالے کیا توان میں سے ایک…اپنے
ساتھیوں سے آگے بڑھ کر اپنی گردن پیش کرنے لگا…جلاّد نے حیرانی کے ساتھ وجہ پوچھی
تو فرمایا… میں چاہتا ہوں کہ اپنی زندگی کے چند سانس اپنے ان بھائیوں کے کام میں
لگادوں… حضرت ہجویری رحمۃ اللہ علیہ نے’’ایثار‘‘ کے بارے میں اور بھی کئی واقعات
لکھے ہیں… اورآخر میں فرماتے ہیں کہ اصل ایثار تو جان کا ایثار ہے کہ… اپنی
جان اللہ تعالیٰ کے راستے میں قربان کر دی
جائے… اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایثار کا یہ اعلیٰ ترین مقام
نصیب فرمائے…آمین یا ارحم الراحمین
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ
سیدنا محمد واٰلہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ’’کامیابی‘‘ کا راستہ کھول
کھول کر بیان فرمادیا ہے…ہے کوئی سمجھنے والا؟…لوگ جادو کیوں کرتے اور کرواتے
ہیں؟…کیا آپ نے مصرکے اُن جادوگروں کا پورا واقعہ قرآنِ پاک میں پڑھا ہے جو حضرت
موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ کرنے آئے تھے…آجکل دنیا میں پھر’’جادو‘‘
کا بہت شور ہے…ابھی براعظم امریکہ کے جس ملک میں زلزلہ آیا ہے وہاں کا جادو بہت
مشہور تھا…دنیا بھر سے سیّاح جادو کرنے ،جادو کرانے اور جادو سیکھنے کے
لئے’’ہیٹی‘‘ جایا کرتے تھے…آج ’’ہیٹی‘‘ ملبے اور لاشوں سے بھرا پڑا ہے… افریقہ میں
جادو کا کافی زور ہے…پچھلے دنوں وہاں کے ایک ملک میں جادوگروں نے ایسے پچپن افراد
ذبح کرکے کاٹ دیئے ،جن کے جسموں پر ’’برص‘‘ کے سفید دھبّے تھے…جادوگروں کا عقیدہ
تھا کہ ایسے افراد کی بوٹیوں کے تعویذ بہت مفید ہوتے ہیں…اللہ تعالیٰ رحم فرمائے…
کافر تو کافر مسلمانوں میں جادو،توہم پرستی،ٹونہ بازی…اور غیر شرعی’’وظائف‘‘ عام
ہوتے جا رہے ہیں…
دل میں جس قدر ’’دنیا‘‘ کی محبت زیادہ ہوتی ہے آدمی اُسی
قدر اِن حرام چیزوں میں مبتلا ہوتا ہے… (۱)اپنے تمام مسائل حل کرانے کا شوق(۲)دوسروں کو تکلیف پہنچانے کا جذبہ (۳) غیب کی خبریں اور آئندہ کے حالات معلوم کرنے کا جنون(۴) دنیا میں ہر چیز زیادہ سے زیادہ پانے کا شوق…ہم مسلمانوں کی
نظر اگر’’حضرات انبیاء ح‘‘ کی زندگیوں پر ہو تو دل کی اصلاح ہو جائے…’’جادو‘‘ کرنے
اور کرانے والے لوگ’’ایمان‘‘ سے بہت دور ہو جاتے ہیں… اور ہر عجیب چیز اور خبر سے
متاثر ہونے والے لوگ بھی جلد گمراہ ہو جاتے ہیں…
اللہ تعالیٰ نے’’آگ‘‘ کو جلانے کی طاقت دی ہے…تو کیا ہم آگ
کو’’خدا‘‘مان لیں… اللہ تعالیٰ نے کافر اور گمراہ لوگوں کو بھی کچھ نہ کچھ طاقت دے
رکھی ہے…فرعون کے بارے میں عجیب عجیب قصے مشہور ہیں…اُس نے چار سو سال عمر
پائی،کبھی بیمار نہیں ہوا…اور پانی اُس کے پیچھے پیچھے چلتا تھا…اُس ’’بے وقو ف‘‘
کو وہم ہوگیا کہ وہ ’’خدا ‘‘ ہے…
اللہ تعالیٰ نے پرندوں کو اُڑنے کی طاقت دی ہے…اگر کوئی
انسان اُڑنے لگے تو ہم بہت زیادہ متاثرکیوں ہو جاتے ہیں؟…دجّال کے شعبدے اور اس کی
طاقت کا حال تو خود آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرما گئے ہیں…اور
ساتھ یہ بھی سمجھا گئے ہیں کہ متاثر ہونے کی ضرورت نہیں وہ’’کافر‘‘ ہے…اور اُس کو
ماننے والے ’’جہنم‘‘ میں جائیں گے…آج کی ٹیکنالوجی دیکھ کر بہت سے مسلمانوں نے
امریکہ اور یورپ کو ’’کامیاب‘‘ سمجھ رکھا ہے…آخر کیوں؟… سرسے پائوں تک محتاجیوں
میں ڈوبا ہوا انسان کس طرح سے ’’خدا‘‘ بن سکتا ہے… کھانے کی حاجت،پینے کی ضرورت
اور بیت الخلاء کے چکر…آج کوئی’’پروفیسر‘‘ مستقبل کی تھوڑی سی پیشین گوئی کردے تو
اس کے گھر کے باہر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں…کیا وزیر اور کیا فنکار سب
اُس کے سامنے ماتھا ٹیکتے ہیں کہ ہماری قسمت اچھی کردو…ہندوستان میں
ایک’’برہمچاری‘‘سادھو ابھی کچھ عرصہ پہلے گزرا ہے…وہ کافی شعبدے دکھاتا تھا…ملک کے
حکمران تک اُس کے پیچھے پھرتے تھے…حکمرانوں اور فنکاروں نے اپنی’’قسمت‘‘ بنانے کے
لئے اُس پر اتنی دولت نچھاور کی کہ وہ اپنے ذاتی جہازوں میں اڑتا تھا…اُس نے اعلان
کردیا تھا کہ وہ کم ازکم ساڑھے تین سو سال تک جوان اور تندرست رہے گا…ایک دن اپنے
جہاز پردلی سے جموں جارہا تھا کہ…قسمت کا ایک جھٹکا اُس کو جہاز سمیت خاک کا ڈھیر
بناگیا… اگر’’ترقی‘‘ انہیں چیزوں کا نام ہے جو آج امریکہ اور یورپ کے پاس ہیںتو
پھر…فرعون بہت ترقی یافتہ تھا،نمرود بہت فارورڈ تھا… شدّاد کی ترقی کا یہ عالم تھا
کہ زمین پر جنت کی تعمیر کرارہا تھا…قوم عاد کی ترقی کے آثار آج تک نہیں مٹ سکے
…امریکہ،یورپ وغیرہ تو اُن کے مقابلے میں بیچارے ہیں… بیماریاں،ایڈز،دماغی
پریشانیاں اور بے سکون زندگیاں…آج کے جدید مسلمان امریکہ اور یورپ جیسا بننا چاہتے
ہیں تو یہ…فرعون،ہامان اور شدّاد جیسا بننے کی بات کیوں نہیں کرتے؟… بل گیٹس کا
نام آتے ہی ہمارے ’’کالم نگاروں‘‘ کے منہ سے رال ٹپکنے لگتی ہے… یہ لوگ قارون کی
شان میں قصیدے کیوں نہیں لکھتے؟…تاریخ بتاتی ہے کہ ’’قارون‘‘ کی دولت ’’بل گیٹس‘‘
کے اثاثوں سے بہت زیادہ تھی…فرعون نے مصر میں ’’جادو گری‘‘ کی جو یونیورسٹی بنائی
تھی اُس کے مقابلے میں کیمرج،آکسفورڈ اور ہاروڈ کچھ بھی نہیں ہیں… آج کل کی
تعمیرات تو دو جھٹکوں میں ختم ہو جاتی ہیں…ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی دو عمارتیں صرف دو
طیاروں کے ٹکرانے سے موم بتی کی طرح پگھل گئیں… جبکہ فرعونوں کی تعمیرات کے پتھروں
کا مسالہ ابھی تک نہیں اُترا…کئی طوفان آئے،زلزلے اُٹھے اور ریت کی آگ برسی مگر
فرعونوں کے محلّات اور اُن محلّات میں پڑے تابوت اور ان تابوتوں میں پڑی لاشیں تک
خراب نہ ہوئیں…میں سوچتا ہوں کہ امریکہ کی ایک ’’یونیورسٹی’’ کے بارے میں انٹرنیٹ
پر تفصیل پڑھ کر…حضرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعنے برسانے والے
کالم نویس ’’فرعونوں‘‘ کے حق میں کالم کیوں نہیں لکھتے؟…فاتح عرب وعجم حضرت سیدنا
معاویہ رضی اللہ عنہ جن کے ’’انداز حکمرانی‘‘ نے روم کے
بادشاہوں کو احساس کمتری میں مبتلا کردیا تھا…اُ ن کا موازنہ ایک حقیر سی
’’یونیورسٹی‘‘ سے کرنابہت بڑا ظلم ہے…میں اپنے تمام قارئین کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ
’’سائنس‘‘ کے تضادات کا صرف عام اخبارات ہی میں جائزہ لے لیں…ایک دن خبر چھپتی ہے
کہ سائنسدانوں نے موٹے افراد کو گوشت کھانے کی ترغیب دی ہے…اس تحقیق پر کروڑوں
ڈالر خرچ ہوئے…کتنے ہاتھی اور بھینسیں ذبح ہوئیں کہ یہ تو بغیر گوشت کھائے موٹی ہو
جاتی ہیں…وغیرہ وغیرہ…مگر کچھ دن بعد سائنس انکشاف کرتی ہے کہ موٹے حضرات وخواتین
گوشت کو ہاتھ بھی نہ لگائیں…اب آپ بتائیں موٹے غریب کیا کریں؟…ایک تحقیق آتی ہے کہ
انسان دو کروڑ سال پُرانا ہے… پھر بتایا جاتا ہے کہ نہیں یہ تو چھ سو کروڑ سال
پہلے سمندری مچھلی سے انسان بن گیا…ایک رپورٹ آتی ہے کہ چاکلیٹ خوب کھائو یہ دل کے
لئے مفید ہے…دوسری بتاتی ہے کہ چاکلیٹ دل کے مریضوں کے لئے زہر ہے…سائنس دانوں نے
اربوں ڈالر صرف اس تحقیق پر خرچ کردیئے کہ انسان کو غصہ کیوں آتا ہے؟…ہمارے بعض
خطباء جب دین اسلام کے احکامات کی تصدیق میں سائنس کے حوالے دیتے ہیں تو میرا دل
غم سے لرزنے لگتا ہے…کل خدانخواستہ ان سائنسدانوں نے کچھ اور بک دیا تو عام لوگ
کتنا بُرا اثر لیں گے…ایک صاحب کا بیان سنا وہ گردن کے مسح پر سائنسدانوں کی تحقیق
سنا رہے تھے…مجھے اچھا نہیں لگا…کل یورپ کے کسی سائنسی انسٹیٹیوٹ نے
کسی سے رشوت لیکرگردن کے مسح کو ’’نقصان دہ‘‘ قرار دے دیا تو کیا ہم وضو سے اُسے
نکال دیں گے؟…کچھ عرصہ پہلے یورپ کے ایک بہت بڑے سائنسی ادارے نے گائے کے گوشت
کو’’زہر‘‘ قرار دیا…رپورٹ دیکھتے ہی دل نے کہا کہ ہندوئوں نے بھاری رشوت
دیکر’’گوروں‘‘ سے یہ رپورٹ تیار کرائی ہے…پورے ہندوستان میں اس رپورٹ کا بہت شور
تھا…مگر پھر کسی اور سائنسی ادارے نے اسے غلط قرار دے دیا…ہمارے حکیم حضرات بھی
گائے کے گوشت سے روکتے ہیں…ایسا بعض بیماریوں کے علاج کیلئے ہوتا ہے نہ کہ اس لئے
کہ یہ گوشت زہر ہے…گائے کا گوشت تو جسے ہضم ہو جائے وہ ’’بیل‘‘کو مقابلے کی دعوت
دے سکتا ہے… اس لئے زیادہ جسمانی محنت کرنے والوں کے لئے یہ گوشت بہت مفید ہوتا
ہے…جبکہ سست لوگ تو شلغم کھا کر بھی طوفانی ڈکاریں مارتے ہیں…میرے پیارے آقا مدنی
صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے موقع پر اپنی ’’ازواج مطہرات‘‘ کی طرف سے
گائے کی قربانی فرمائی…بس بات ہی ختم ہو گئی…اب نہ کسی رپورٹ کی ضرورت ہے اور نہ
کسی تحقیق کی… اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ مغرب والوں کا مذہب’’تجارت‘‘
ہے…گورے ہر چیز بیچتے ہیں…چنانچہ اب سائنسی رپورٹیں بھی دھڑا دھڑ فروخت کررہے
ہیں…سائنس ایک حد تک اچھی چیز ہے…مگر اس وقت تو سائنس انسانوں کی’’قاتل‘‘ بن چکی
ہے …موجودہ سائنس نے انسان کی صحت اور اُس کے سکون کو چھین لیا ہے…چلیں آپ
’’سائنس‘‘ کے قائل رہیں… مگر اُس کو ’’خدا‘‘ نہ مانیں…مصر کے جادو گراپنے وقت کے
بڑے سائنس دان تھے… بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ اُن کے پاس ’’پارے‘‘کی ٹیکنالوجی
تھی…انہوں نے اپنی رسیوں اور لاٹھیوں کو پارے سے بھر دیا تھا…اور جس میدان میں
مقابلہ ہونا تھا اس میں زیرزمین’’ہیٹنگ‘‘ یعنی گرمی پہنچانے کا نظام بنا دیا
تھا…جب انہوں نے رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر پھینکیں اور زمین کے اندر لگے ہوئے
ہیٹر چلائے تو زمین اور گرم ہوگئی اور رسیوں میں بھراہوا پارہ اچھلنے کودنے
لگا…مضبوط قول یہ ہے کہ انہوں نے دیکھنے والوں کی آنکھوں پرجادو کردیا تھا…بہر حال
یہ منظر اتنا ہیبت ناک اور متاثر کن تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی
طبعی طور پر گھبرا گئے…قرآن پاک میں اس کا تذکرہ موجود ہے…مگر پھر کیا ہوا؟…حضرت
موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک’’معجزہ‘‘ لے کر آئے اور اس ’’معجزے‘‘
نے سارے’’جادو‘‘ کو نگل لیا…جی ہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی ’’لاٹھی‘‘
پھینکی تو وہ بہت بڑا اصلی اژدھا بن گئی…اُس اژدھے نے تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو
نگل لیا… اور میدان صاف ہوگیا…اچھا ایسا کریں کہ آپ کسی مستند ترجمے والے قرآن پاک
میں ان آیات کا ترجمہ پڑھیں(۱)سورۂ الاعراف ۱۰۷ تا۱۱۲ (۲)سورۂ یونس ۷۵ تا۷۹(۳) سورۂ طٰہٰ ۵۷ تا۵۹ (۴) سورۂ شعراء ۳۸ تا۴۲ (۵) سورۂ طٰہٰ ۶۱ تا۶۴ (۶) سورۂ طٰہٰ ۶۵ تا۶۹ (۷) سورۂ الاعراف ۱۱۵ تا۱۱۹ (۸) سورۂ یونس ۸۰ تا۸۲ (۹)سورۂ طٰہٰ ۷۰(۱۰) الاعراف ۱۲۰ تا۱۲۲(۱۱) سورۂ طٰہٰ ۷۱(۱۲) سورۂ طٰہٰ ۷۲ تا۷۳ (۱۳)سورۂ الشعرا ۵۰،۵۱
ان تیرہ مقامات سے جب آپ قرآن پاک کو پڑھیں گے تو آپ کو یہ
’’ایمان افروز‘‘ واقعہ پوری ترتیب سے معلوم ہو جائے گا…
(۱) حضرت موسیٰ علیہ السلام کا فرعون کو اپنے معجزات دکھانا اور فرعون کا ان
معجزات کو ’’جادو ‘‘قرار دینا…
(۲) فرعون اور اُس کے وزراء کا یہ طے کرنا کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما
السلام) کے مقابلے کیلئے ملک بھر سے جادو گر جمع کئے جائیں…
(۳) مقابلے کے لئے اُن کی ’’عید‘‘ کا دن طے ہونا…
(۴) مقابلے کے روز ایک بڑے میدان میں فرعون،اُس کے حکام اور عوام کا جمع ہونا اور
جادوگروں کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے آنا…
(۵) میدانِ مقابلہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوت…
(۶) فرعون کا اپنے جادوگروں کے لئے فتح کی صورت میں بڑے انعامات (تمغوں) کا اعلان
…
(۷) حضرت موسیٰ علیہ السلام اور جادوگروں کی ابتدائی گفتگو اور
جادوگروں کا اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکنا…اور ان رسیوں اور لاٹھیوں کا دوڑنا…
(۸) حضرت موسیٰ علیہ السلام کا خوف محسوس فرمانا…اس سے جادو کی شدّت کا
اندازہ لگایا جا سکتا ہے
(۹) حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اللہ تعالیٰ کے حکم سے لاٹھی
پھینکنا…لاٹھی کا اژدھا بن کر تمام شعبدوں کو نگل لینا
(۱۰) جادوگروں کا سجدے
میں گر کر ’’ایمان‘‘ قبول کرنا…فرعون کااُن کو قتل کی دھمکیاں دینا…اور جادوگروں
کا صاف جواب کہ اے فرعون! تم جو کرنا چاہتے ہو کر لو ہم تو اپنے حقیقی رب پر ایمان
لا چکے ہیں…
اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے کہ آپ اس پورے قصّے کو قرآن پاک
میں ایک بار ضرور دیکھ لیں…آج ہر طرف جادو کا شور ہے اور دوسری طرف ٹیکنالوجی
بھی’’جادو‘‘ کی طرح مسلمانوں کو گمراہ کررہی ہے…لوگ جادوگروں، نجومیوں، ستارہ
شناسوں سے متاثر ہو رہے ہیں …کفار کی فوجیں جادوگروں کی رسیوں کی طرح
ہر طرف دوڑرہی ہیں…اور لوگ امریکہ اور یورپ سے اس طرح مرعوب ہیں جس طرح مصر کے لوگ
فرعون اور جادوگروں سے مرعوب تھے…اس پورے قصے کو پڑھنے سے تین باتیں تو بالکل واضح
طور پر سمجھی جا سکتی ہیں…
(۱) معجزے اور جادو میں علماء کرام نے کئی فرق بیان فرمائے ہیں…ان میں سے ایک بڑا
فرق یہ ہے کہ جب معجزے اور جادو کا مقابلہ ہوتا ہے تو جادو شکست کھا جاتا ہے…پس
معلوم ہوا کہ اگر کسی ’’مسلمان‘‘پر جادو ہو جائے تو وہ قرآن پاک کی آیات سے علاج
کرے…قرآن پاک’’معجزہ‘‘ ہے تو اس عظیم معجزے کے سامنے جادو ایک منٹ بھی نہیں ٹھہر
سکے گا…اور دوسری یہ بات معلوم ہوئی کہ کفار کی طاقت ایک طرح کا ’’جادو‘‘ ہے …جبکہ
جہاد ایک ’’معجزہ‘‘ ہے …کیونکہ قرآن پاک کا حکم ہے تو جہاد کے سامنے کفر کی طاقت
نہیں ٹھہر سکے گی…انشاء اللہ
(۲) مصر کے چوٹی کے جادو گر…حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کو دیکھ
کر کفر سے تائب ہو گئے… تو ایک مسلمان کے لئے یہ کہاں جائز ہے کہ وہ جادو اور
جادوگروں کو دیکھ کر اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے…مسلمانوں کو چاہیے کہ کسی کے
جادو،شعبدے اور ٹیکنالوجی سے متاثر نہ ہوں…ابھی تو بڑے جادوگر’’دجّال‘‘ نے آنا
ہے…اس لئے اپنے ایمان اور عقیدے کو مضبوط کریں…
(۳) جادوگر…سجدے میں گرے اور فوراً اللہ تعالیٰ کے مقرب بن گئے…یعنی پہلے سجدے ہی
میں کامل ہو گئے… یہ کیسے ہوا؟…کئی لوگ تو پچاس سال سجدے کرکے بھی نہیں سُدھرتے
…اس سوال کا جواب ان شاء اللہ کسی اور
مجلس میں …بس اتنا یاد رکھیں کہ مشکل وقت میں خود کو قربانی کے لئے پیش کرنا بڑی
چیز ہے…
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم
تسلیما کثیرا کثیراً کثیراً
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہم سب کو’’اخلاص‘‘ اور ’’ہمت‘‘ عطاء فرمائے…
استاذمحترم، قائد اہلسنت حضرت مولانا مفتی احمدالرحمن صاحب رحمۃ اللہ علیہ
کو اللہ تعالیٰ نے یہ دو صفات خوب عطاء فرمائی تھیں… انہوں
نے’’اکیاون‘‘ سال کی عمر پائی مگر ماشاء اللہ … کام اتنا کر گئے جو بعض
اوقات کوئی جماعت مل کرسو سال میں بھی نہیں کر سکتی… حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ
علیہ کی عمر بھی زیادہ نہیں تھی مگر دنیا کے کروڑوں انسان’’ان کی تقلید‘‘ کو سعادت
سمجھتے ہیں… کیا مصر اور ملائشیا، انڈونیشیا… اور تو اور کشمیرتک امام شافعی رحمۃ
اللہ علیہ کے’’مقلدین‘‘ بکھرے پڑے ہیں… امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ
کو اللہ تعالیٰ نے اخلاص عطاء فرمایا… اوربلندہمت… یہ دو نعمتیں جس کو
مل جائیں اُس کی ترقی، کامیابی اور پرواز کو کوئی نہیں روک سکتا… حضرت ناناتوی
رحمۃ اللہ علیہ کی عمر بھی کم تھی مگر اُن کا نام بھی’’حجّت‘‘ ہے اور اُن کا کام
بھی’’حجّت‘‘ ہے… اور اُن کے ’’صدقات جاریہ‘‘ پوری دنیا میں پھیلے پڑے ہیں… ہمارے
زمانے میں مخلصوں کے امام حضرت مفتی احمد الرحمن صاحب رحمۃ اللہ علیہ … اور اُن کے
مخلص رفقاء حضرت مفتی عبدالسمیع صاحب شہید رحمۃ اللہ علیہ … حضرت مفتی نظام
الدین صاحب شہید رحمۃ اللہ علیہ … اور حضرت مفتی محمد جمیل خان صاحب
شہید رحمۃ اللہ علیہ … یہ سب حضرات تقریباً ایک ہی عمر میں اس دنیا سے رخصت
ہوئے… جو لوگ بھی ’’ اللہ تعالیٰ کی رضا‘‘ کو اپنا مقصود بنا لیتے ہیں…
اُن کے ہر کام میں بہت برکت پیدا ہو جاتی ہے… اور پھر ان’’مخلصین‘‘ میں سے جو جس
قدر ’’ہمت‘‘ سے کام لیتا ہے اُسی قدر اونچی کامیابی پاتا ہے… یہاں ہم تھوڑا سا
وقفہ کرتے ہیں… اور ماضی کے واقعات کی بعض جھلکیاں دیکھتے ہیں… بدر کے میدان
میںتین سو تیرہ نہتے افراد کا مقابلہ ایک ہزار کے مسلّح لشکر کے ساتھ تھا… ظاہری
طور پر مسلمانوں کے بچنے کا کوئی امکان نہیں تھا… ان حالات میں رسول پاک صلی اللہ
علیہ وسلم نے کیا عمل فرمایا؟… تمام روایات میں یہی آتا ہے کہ اس موقع
پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے’’دعاء‘‘ مانگی… بہت زیادہ ’’دعاء‘‘
بہت والہانہ دعاء…اور پھر یہ ’’دعاء‘‘ آسمانی نصرت کو میدان بدر میں کھینچ لائی…
غور فرمائیں’’دعاء‘‘ کتنی بڑی چیز اور کتنی بڑی طاقت ہے… حضرت
موسیٰ علیہ السلام اپنی اہلیہ کے ساتھ سفر میں تھے… اُن کے پاس نہ کوئی
لشکر تھا اور نہ کوئی ظاہری طاقت… سفر کے دوران حکم ملا کہ جائیے اور فرعون
کو’’دعوت‘‘ دیجئے… فرعون بہت طاقتور اور جابر بادشاہ تھا… مصر میں حضرت موسیٰ علیہ
السلام پر قتل کا مقدمہ بھی درج تھا… فرعون خود آپ (ح)کا ذاتی دشمن اور آپ (ح)
کی تلاش میں تھا… ایک اکیلے آدمی کو اُس زمانے کی سپر پاور سے ٹکرانے کا حکم دیا
جارہا ہے… ظاہری طور پر ناممکن… بالکل ناممکن… ان حالات میں حضرت
موسیٰ علیہ السلام نے کیا عمل فرمایا؟… سب جانتے ہیں کہ انہوں نے
’’دعاء‘‘ کے لئے ہاتھ پھیلا دیا اور دعاء کے
ذریعہ اللہ تعالیٰ کی طاقت کو اپنے ساتھ لے لیا… اور دعاء
یہ فرمائی کہ یا اللہ مجھے’’شرح صدر‘‘ عطاء فرما… یعنی
مجھے’’ہمت‘‘ عطاء فرما… حضرت ایوب علیہ السلام کو حوادث اور بیماریوں نے ہر طرف سے
گھیر کر اکیلا کر دیا… انہوں نے کیا عمل کیا؟… قرآن پاک میں ہے کہ انہوں
نے’’دعاء‘‘ مانگی… اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور نوازشات کی
بوچھاڑ کر دی… حضرت زکریا علیہ السلام کی اولاد نہیں تھی… اور دین کے کام کو جاری
رکھنے کے لئے اولاد کی ضرورت تھی… انہوں نے کیا عمل فرمایا؟… قرآن پاک بتاتا ہے
کہ انہوں نے ’’دعاء‘‘ مانگی اللہ تعالیٰ نے اولاد عطا فرما
دی…
پورا قرآن مجید اس طرح کی خوبصورت جھلکیوں سے بھرا پڑا ہے…
اور یہ سب جھلکیاں ہمیں سمجھاتی ہیں کہ… ’’دعاء‘‘ بہت بڑی چیز ہے، دعاء بہت بڑی
طاقت ہے… اللہ تعالیٰ نے حضرات صحابہ کرام ڑکو ’’دعاء‘‘ کی
طاقت عطاء فرمائی… آپ تاریخ پڑھ کر دیکھ لیں… حضرات صحابہ کرام ڑکی ’’دعاؤں‘‘ کے
ایسے عجیب واقعات سامنے آتے ہیں کہ عقل حیران ہو جاتی ہے… ہمارے استاذ محترم حضرت
مفتی احمد الرحمن صاحب رحمۃ اللہ علیہ ’’صاحبِ
دعاء‘‘ اللہ والے تھے… اُن کو اُنتالیس سال کی عمر میں حضرت
بنوری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنا جانشین مقرر فرمایا… اس طرح کی ’’تقرری‘‘ سے دو فتنے
پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے… پہلا یہ کہ بعض لوگ’’کم ہمتی‘‘ کا ثبوت دیتے ہیں کہ ہم
اتنا بوجھ کیسے اٹھائیں گے… اُن کی نظر فوراً اسباب، وسائل، مشکلات اور دنیا پر
پڑتی ہے… وہ بھول جاتے ہیں کہ کام لینے والا تو ’’ اللہ تعالیٰ‘‘ ہے وہ
چاہے تو ایک ’’انسان‘‘ سے لاکھوں انسانوں کا کام لے لے… دوسرا فتنہ یہ پیدا ہوتا
ہے کہ… تقرری قبول کر کے اپنی نفسانی خواہشات پوری کرنے کا شوق دل میں بھر جاتاہے…
بس اسی کا انتظار رہتا ہے کہ مجھے یہ عہدہ کب ملے گا… کب میرے ہاتھ میں کھلا مال
اور کھلے اختیارات ہوں گے… میں اپنی تمام خواہشات پوری کروں گا… مگر’’مخلص ایمان
والے‘‘ ان دونوں فتنوں سے ’’محفوظ‘‘ رہتے ہیں… وہ ’’کم ہمتی‘‘ دکھانے کی
بجائے’’دعاء‘‘ کی طرف دوڑ پڑتے ہیں… یا اللہ ذمہ داری آگئی
ہے میری نصرت فرما،مجھ پر رحم فرما… اور دوسری طرف وہ اپنے دل سے تمام شوق، تمام
خواہشات اور تمام دنیاوی امراض نکال کر… خود کو اس دینی کام کے لئے وقف کر دیتے
ہیں… حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ذمہ داری قبول کر لی… دن
رات’’دعاء‘‘ کے عمل کو اپنا وظیفہ اور سہارابنا لیا… اور دین کے کام اور آخرت کے
فکر کے علاوہ اپنی ہر خواہش کو دل سے نکال دیا… پھر نہ انہیں یہ فکر تھی کہ… انہوں
نے’’مکان‘‘ بنانا ہے… اپنے بچوں کا’’دنیاوی مستقبل‘‘ سنوارنا ہے… اور نہ اُنہیں یہ
یاد رہا کہ اس فانی دنیا میں سے انہوں نے کتنا جمع کرنا ہے… اور یہ حقیقت ہے کہ
انسان جب تک اپنی ذاتی فکروں اور خواہشات سے آزادی نہ پائے… اُس وقت تک اُس کام
میں’’نورانیت‘‘ پیدا نہیں ہوتی… حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ
پر اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہوا… انہیں اخلاص اور ہمت کا
وہ مقام حاصل ہوا… جو اس اُمت میں اُن افراد کو نصیب ہوتا ہے جن کی جھولی میں…
حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ کی نسبت ہوتی ہے… آپ حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ کے
حالات و واقعات پڑھ لیں… اور پھر حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے حالات و واقعات
پڑھیں تو… آپ بھی بے اختیار کہہ اٹھیں گے کہ… حضرت مفتی صاحبؒ کو حضرت صدیق اکبر
رضی اللہ عنہ کی مبارک نسبت حاصل تھی… ایک طرف مزاج میں ایسی نرمی کہ ہر کسی کے
کام آرہے ہیں… اورہر کسی کے سامنے جھکے بیٹھے ہیں… اور دوسری طرف ایسی شدّت کہ
وقت کے حکمران اُن کے رعب سے لرز رہے تھے… حضرت ہجویری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی
کتاب’’کشف المحجوب‘‘ میں لکھا ہے کہ… اگرکسی نے’’صوفی‘‘ یعنی اللہ والا
بزرگ بننا ہے تو اُسے لازماً حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی صفات اختیار کرنی ہوں
گی…
انّ الصفا صفۃ الصدیق: ان اردت صوفیا علی التحقیق
یعنی اگر تم حقیقی اللہ والے بننا
چاہتے ہو تو تمہیں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی پیروی کرنی ہو گی… کیونکہ
بلاشبہ باطن کی صفائی حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ کی صفت ہے(کشف
المحجوب)
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی بڑی صفت’’اخلاص‘‘ تھی… اُن
کے ’’اخلاص‘‘ کا یہ عالم تھا کہ… رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال
مبارک کے وقت بھی اُن کی توجہ’’ اللہ تعالیٰ‘‘ سے نہ ہٹی… حالانکہ اس
عظیم صدمے نے ہر کسی کو ہلاکر رکھ دیا تھا… اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی
دوسری صفت’’ہمت‘‘ تھی… آپ ذکی نظر چونکہ اللہ تعالیٰ پر
رہتی تھی اس لئے آپ ذ کسی دینی کام کو ’’ناممکن‘‘ یا مشکل سمجھ کر نہیں چھوڑتے
تھے…آپ ذ نے خلافتِ راشدہ کی بنیاد رکھی… اور پھر اس کی مبارک روشنی پورے عالم تک
پھیل گئی… جب کسی انسان میں ’’ اخلاص‘‘ اور ’’ہمت‘‘ موجود ہو تواُس میں’’دینی
غیرت‘‘ بھی زیادہ ہوتی ہے… حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی دینی غیرت کا یہ عالم
تھا کہ… حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ جیسے بلند ہمت انسان بھی حیران رہ جاتے تھے…
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ’’مرتدین‘‘ کے خلاف جہاد فرمایا… اور مانعین زکوٰۃ
کے ساتھ جنگیں برپا فرمائیں… اوریوں خلافت راشدہ… علی منہاج النبوۃ قائم ہو گئی…
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی دعائیں، آپ رضی اللہ عنہ کی انابت، آپ رضی اللہ
عنہ کی تواضع، آپ ذ کی سادگی… آپ رضی اللہ عنہ کا زُہد،آپ رضی اللہ عنہ کی
بہادری،آپ رضی اللہ عنہ کی قرآنی اور فلاحی خدمات… اور آپ رضی اللہ عنہ کا
جہاد… اُمت مسلمہ کے لئے ’’روشن مثالیں‘‘ ہیں… حضرت ہجویری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے
ہیں کہ… حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا دل اس دھوکے باز دنیا کی محبت سے اتنا
خالی تھا کہ(غزوہ تبوک کے موقع پر) اپنا تمام مال، اسباب اور غلام اور جو کچھ بھی
آپ ذکے پاس تھا… سب کچھ ’’راہ حق‘‘ میں دے دیا اورخود ایک گدڑی پہن کر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر
ہو گئے…
اللہ تعالیٰ نے حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ
علیہ کو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی نسبت سے حصہ عطاء فرمایا… آپ رحمۃ اللہ
علیہ نے حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ کے ادارے کو سنبھال کر قرآن و سنت کی خوب خدمت
فرمائی قرآن پاک کی خدمت’’نسبت صدیقی‘‘ کا خاص اثر ہے… آپ رحمۃ اللہ علیہ ہی کے
زمانے میں یہ ادارہ پاکستان کا سب سے بڑا اور معتمد مرکز بن گیا… اور اس کی شاخیں
دور دور تک پھیل گئیں… حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بیواؤں اور
یتیموں کی دیکھ بھال کے میدان میں بھی’’نسبت صدیقی‘‘ کی لاج رکھی… اور
پھر’’جہاد فی سبیل اللہ ‘‘ کی خدمت میں لگ کر’’نسبت صدیقی‘‘ میں اونچا
مقام حاصل کیا…
حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو یہ
تمام نعمتیں’’اخلاص‘‘ اور ’’ہمت‘‘ کی برکت سے نصیب ہوئیں… اور ’’اخلاص‘‘ اور
’’ہمت‘‘ کی نعمتیں اللہ تعالیٰ نے حضرت مفتی
صاحبؒ کو ’’دعاء‘‘ کی برکت سے عطاء فرمائیں… یہ اللہ تعالیٰ
کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے عطاء فرماتا ہے… اللہ تعالیٰ
حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے درجات بلند فرمائے… اُن کے خاندان پر اپنی رحمت
فرمائے… اور اُن کے صدقات جاریہ کو تاقیامت جاری رکھے… اور اللہ تعالیٰ
ہمیں بھی’’اخلاص‘‘’’ہمت‘‘ اور’’دعاء‘‘ کی نعمتیں نصیب فرمائے…
آمین یا ارحم الراحمین
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ
سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
محبت کا نور
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی’’محبَّت‘‘ کا نور عطا
فرمائے… اللہ تعالیٰ کی ’’محبَّت‘‘بہت بڑی اور بہت میٹھی
نعمت ہے… یہ ایسی نعمت ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا
… اللہ تعالیٰ نے ہمارے ’’دلوں‘‘ کو ہمارے’’جسموں‘‘ سے سات
ہزار سال پہلے پیدا فرمایا… اور ان ’’دلوں‘‘ کو اپنے مقامِ قُرب میں رکھا…
کیاہمارے لئے جائز ہے کہ اپنا’’دل‘‘ اللہ پاک کے سوا کسی
اور کو دے دیں؟… یہ عشق نہیںظُلم ہے کہ… دل کو اللہ تعالیٰ
کے سوا کسی کی یاد میں لگایا جائے…
وساوس کا مسئلہ
وسوسے اور خیالات تو ہر کسی کو آتے ہیں… شیطان دل کے اوپر
بیٹھ کر اپنی ’’سونڈ‘‘ دل سے لگا کر اس میں بُرے خیالات کا زہر چھوڑ دیتا ہے… لیکن
جب دل’’ اللہ ، اللہ ‘‘ کر رہا ہو تو شیطان اس کے قریب بھی نہیں پھٹک
سکتا… ویسے بھی انسان دنیا میں رہتا ہے… اُس کی آنکھیں بہت کچھ دیکھتی ہیں… اُس
کے کان بہت کچھ سنتے ہیں… انسان کے اندر ’’نفس‘‘ بھی موجود ہے… انسان
کو اللہ تعالیٰ نے’’عقل‘‘ بھی دی ہے… انسان کوئی معمولی چیز
تونہیں ہے… یہ تو زمین پر اللہ تعالیٰ کا خلیفہ یعنی نائب
بنا کر بھیجا گیا ہے… اسی لئے اس میں سوچنے، سمجھنے کی طاقت ہے… سوچنے کے عمل کی
وجہ سے ’’وسوسے‘‘ اور ’’خیالات‘‘ بھی پیدا ہوتے ہیں… کبھی اچھے اور کبھی بُرے… آپ
سب سے پہلے یہ اندازہ لگائیں کہ آپ کو بُرے خیالات زیادہ آتے ہیں یا اچھے… اگر
اچھے خیالات زیادہ آتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں… اور اگر
دل و دماغ ہر وقت’’ڈش انٹینا‘‘بنا ہوا ہے کہ… ایک کے بعد دوسرا بُرا خیال چلتا
رہتا ہے تو پھر بھی… پریشان نہ ہوں بلکہ’’علاج‘‘ کی فکر کریں…
ٹریفک اور سڑک
انسان کا ’’دماغ‘‘ ایک ایسی سڑک کی طرح ہے جس پر ہر وقت
خیالات کی’’ٹریفک‘‘ چلتی رہتی ہے… سڑک پر گھوڑے، گدھے، سائیکل، گاڑی… اور ٹرک سب
کچھ چلتے ہیں… گھوڑے اور گدھے کبھی کبھار سڑک پرلید اور پیشاب بھی کر دیتے ہیں…
انسان کے دماغ میں چلنے والے خیالات اور وساوس بھی اسی طرح کے ہیں… کبھی کوئی
گدھا، گھوڑا لید اور پیشاب کر دیتا ہے… اورکبھی کوئی معطر انسان گزرتا ہے تو خوشبو
پھیل جاتی ہے…انسان کے بس میں نہیں ہے کہ وہ اس ٹریفک کو روک دے… خیالات آتے رہتے
ہیں اورآتے رہیں گے… یہ کبھی نہیں رُکتے…جو ان خیالات سے پریشان ہو جاتا ہے اُس
کو وساوس اورزیادہ آتے ہیں اور خوب ستاتے ہیں… اس لئے وساوس کو روکنے کی بجائے
انہیں’’قابو‘‘ اور کنٹرول کرنے کا طریقہ سیکھیں… یاد رکھیں جولوگ اپنے خیالات اور
وساوس کو قابوکرنے کا طریقہ سیکھ لیتے ہیں وہ بہت مزے کرتے ہیں… بہت دور دور کی
سیریں کرتے ہیں… بہت اونچا اونچا اُڑتے ہیں… اور بغیر کسی خرچے اور ٹکٹ کے ہر جگہ
ہو آتے ہیں… بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیفہ ’’انسان‘‘ کو
بہت طاقت دی ہے… اب انسان کی مرضی کے وہ بے کار ہو کر مکھیاں مارتاہے… یا اپنی
قیمت کو سمجھ کر دنیا اور آخرت کی کامیابیاں خرید لے…
اصلاح کا آسان راستہ
وہ خوش نصیب مسلمان جو’’جہاد فی سبیل اللہ ‘‘
میں نکلنے کا ارادہ کرلیتے ہیں… اُن کا کام تو کافی آسان ہو جاتا ہے… انسان کے
’’وساوس‘‘ کا تعلق دنیا کی زندگی سے زیاد ہے… اب جو آدمی اس زندگی کو قربان کرنے
کا ارادہ کر لے تو اُسے کیا وساوس آئیں گے؟… بارش ہو یا نہ ہو، پٹرول سستا ہو یا
مہنگا… پڑوس والی اچھی ہو یا بُری اس کو کیا پرواہ؟… زندگی گناہ مانگتی ہے… جب
زندگی ہی قربان تو گناہوں کے کیا خیالات آئیں گے؟… اب تو بس یہ فکر ہو گی کہ
پچھلے گناہ معاف ہو جائیں… اور یہ خوف ہوگاکہ قبر پتا نہیں کیسی ہو گی؟… دل
میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شوق ابھرے گا تو’’محبت‘‘ کا
نور شعلے برسائے گا… اور جب نور برستا ہے تو خواہشات کی آگ بُجھ جاتی ہے… ایک
آدمی یہ تک سوچتا ہے کہ بیس سال بعد میرے ساتھ کیا ہو گا؟… اور دوسرا کل کا بھی
نہیں سوچتا… بلکہ ہر آن قربانی کے لئے تیار رہتا ہے… ان دونوں کے خیالات میں بہت
فرق ہوتا ہے… اور پھر ہر ہر قدم اور ہر ہر ادا پر اجرو ثواب ملتاہے… کیونکہ دل
میں اللہ تعالیٰ کی ’’محبت‘‘ ہو تی ہے… اور محبت والوں کی
کوئی ادا ضائع نہیں جاتی…
باقی لوگ کیا کریں
محاذ کی طرف دوڑنے والوں کیلئے تو آسانی ہو گئی… مگرباقی
لوگ کیا کریں؟… پہلا کام تو یہ کر لیں کہ آپ بھی ’’جہاد‘‘ کی نیت کر لیں… اور
دوسرا کام یہ کریں کہ اپنے خیالات اور وساوس کو قابو رکھنے کے لئے تھوڑی سی محنت
کرلیں…لوگ پوچھتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے؟… جی ہاں بالکل ممکن ہے… آپ جب اپنی
کوئی پسندیدہ چیز دیکھ رہے ہوں تو اس وقت’’خیالات‘‘ کہاں چلے جاتے ہیں؟… فلموں کے
شوقین جب فلم دیکھتے ہیں تو ایسے گُم ہوجاتے ہیں کہ کسی اور چیز کا خیال تک نہیں
رہتا… یہ توہم بدنصیب ہیں کہ’’نماز‘‘ میںبھی گُم نہیں ہوتے… ورنہ لوگ تو کمپیوٹر
کی سکرین میں کھو جاتے ہیں… اور کسی کسی کو ای میل کرتے ہوئے تو اُن کے جسم کے بال
تک کھڑے ہو جاتے ہیں… اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ طاقت دی
ہے کہ وہ اپنے خیالات کوایک حد تک قابو کر سکتا ہے… پس ہمیں چاہئے کہ اپنے وساوس
اور خیالا ت کو قابو کریں… اورپھرکچھ وقت اپنے دماغ اور دل پر اچھے خیالات
کابلڈوزرچلایا کریں تاکہ… دماغ کی سڑک سے ہر ناپاکی دُور ہو جائے…
ایک آسان طریقہ
خیالات اور وساوس کو قابو کرنے کا ایک آسان طریقہ یہ ہے
کہ… کچھ دن تک پابندی سے تھوڑاسا وقت اپنے’’سانس‘‘ کی نگرانی کریں… زیادہ سے زیادہ
پانچ منٹ… زمین پر سیدھے بیٹھ جائیں… اور اپنے سانس کی طرف توجہ کریں کہ وہ اندر
جارہا ہے اور باہر آرہا ہے… ہم روزانہ لاکھوں بار سانس لیتے ہیں مگر یہ’’آٹو
میٹک‘‘ نظام خودچلتا رہتا ہے… اِس وقت آپ یہ مضمون پڑھ رہے ہیں اور آپ کا سانس
جاری ہے… مضمون پڑھنے کے بعد آپ آنکھیں بند کر کے سانس کی طرف پوری توجہ کر لیں…
تب آپ کو محسوس ہوگا کہ ابھی سانس اندر گیا اور اب باہر آیا… باقی تمام باتیں
سوچنا بند کردیں… توجہ اِدھر اُدھر بھاگے تو اُس کو پکڑ کر واپس لے آئیں اور سانس
کی طرف متوجہ رہیں… دو منٹ سے پانچ منٹ… یہ اپنے آزاد خیالات کو قابو میں کرنے کی
پہلی مشق ہوگی… پھر اتنا ہی وقت اپنے سانس سے اللہ تعالیٰ
کا ذکر کریں… سانس اندر جا رہاہے اور کہتا ہے’’ اللہ ‘‘ اور باہر آرہا ہے تب بھی
کہتا ہے’’ اللہ ‘‘… آنکھیں بندکر کے اپنے سانس کی طرف توجہ رکھیں… اور سانس کو
ذکر اللہ میں لگا دیں… نہ کوئی خیال نہ کوئی وسوسہ… تھوڑی
دیر ہم نے اپنے سانسوں کو اپنے قابو میں کر کے اُن کے مالک حقیقی کے ذکر میں لگا
دیا…
دل کی تڑپ
دل تو ’’ اللہ تعالیٰ‘‘ کا ہے… یہ بہت
عرصہ اللہ تعالیٰ کے ’’مقام قُرب‘‘ میں رہا ہے… پھر اس کو
جسم میں قید کر دیا گیا تو تب بھی اپنے پُرانے مقام کے لئے تڑپتا رہتا ہے… اسے ہر
وقت ’’ اللہ تعالیٰ‘‘ کی جستجو لگی رہتی ہے… جو لوگ اپنے دل
کو اللہ تعالیٰ کے ذکر میں لگاتے ہیں… وہ اپنے ’’دل‘‘ کی
تڑپ پوری کرتے ہیں… دل اُن سے خوش ہوتا ہے اور اُن کو دعائیں دیتا ہے… اس لئے یہ
دل ’’ اللہ والوں‘‘ کی صحبت میں بہت مسرَّت پاتا ہے… اور’’اہل دنیا‘‘ سے
گھبراتا ہے… مگر جو لوگ دل کو اُس کی ’’غذا‘‘ نہیں دیتے اُن کا دل ناراض ہوتا ہے…
وہ سخت اور داغدار ہو جاتا ہے… اور ہر وقت مُرجھایا رہتا ہے… ایسے لوگوں کو خوش
رہنے کے لئے شراب، کباب، شباب اور موسیقی کا سہارا لینا پڑتا ہے… مگر خوشی کہاں؟…
اصل خوشی تو دل کی ہوتی ہے… جب دل ہی سخت ہو جائے تو پھر حقیقی خوشی کہاںمل سکتی
ہے…
اگلا مرحلہ
سانس کی طرف توجہ کر کے… اور اُس کو ذکر میں لگا کے خیالات
کو قابو کرنے کا پہلا مرحلہ تو طے ہو گیا… اللہ کے بندو! یہ
بہت آسان ہے مگر غفلت کی وجہ سے دو چارمنٹ کا یہ کام بھی مشکل لگتا ہے… وہ مسلمان
جن کو حقیقی اللہ والوں کی صحبت مل جاتی ہے… اُن کے لئے تو
یہ سارے مرحلے آسان ہو جاتے ہیں… پانچ منٹ کیا وہ پانچ گھنٹے کے ذکر سے بھی نہیں
تھکتے… ’’رنگ و نور‘‘ کے اسی کالم میں سات منٹ کا ایک نصاب کچھ عرصہ پہلے عرض کیا
تھا… الحمدللہ کئی مسلمانوں کو اُس سے بہت فائدہ ہوا… اب یہ
دوسرا آسان سا نصاب عرض کیا جارہا ہے… اللہ تعالیٰ اسے بھی
میرے لئے… اور آپ سب کے لئے نافع بنا ئے… دراصل ہم نے اپنے خیالات کو بہت
’’آزاد‘‘ چھوڑ رکھا ہے… اور پھر ہم ہر وقت’’وساوس‘‘ کی شکایت کرتے ہیں… مجھے بہت
عجیب خطوط آتے ہیں… ہمارے بہت سے باہمت بھائی… اور بہنیں اب وساوس سے تنگ آکر
مایوس ہوتے جارہے ہیں… حالانکہ’’مایوس‘‘ ہونے کی کوئی بات ہی نہیں ہے… آپ اپنے
’’خیالات‘‘ اور’’وساوس‘‘ کو اپنے قبضے میں لے لیں… اورپھر روزانہ صرف پانچ منٹ
اچھی باتیں سوچا کریں… کبھی اللہ تعالیٰ کی محبت کو سوچیں…
کبھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو سوچیں…
کبھی اللہ تعالیٰ کی مغفرت کو سوچیں… کبھی اپنی قبر اور
آخرت کے مراحل کو سوچیں… دماغ کی سڑک پر صرف پانچ منٹ اچھی سوچوں کی ٹریفک چلادیں
تو سڑک مکمل طور پر پاک صاف ہو جائے گی… بس تھوڑی سی ہمت کریں… یہ دنیا اورپھر
آگے آخرت ہمت والوں کی جگہ ہے… اس چھوٹے سے نصاب پرایک ہفتہ عمل کریں… روزانہ
پانچ منٹ اپنے دل اور دماغ پر قرآنی آیات، احادیث… اور اچھے خیالات چلانا شروع
کردیں… باقی باتیں ان شاء اللہ اگلے ہفتے عرض کی
جائیں گی…
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ
سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے میرے اور آپ کے
’’دل‘‘ کی اصلاح فرما دے…؎
آئینہ بنتا ہے رگڑے لاکھ جب کھاتا ہے دل
کچھ نہ پوچھو دل بڑی مشکل سے بن پاتا ہے دل
ہر کسی کے سینے میں’’دل‘‘ نہیں ہوتا… جی
ہاں’’اصلی دل‘‘ جو ہر وقت’’محبوب‘‘ کی یاد میں ہو ہر کسی کے پاس نہیں ہوتا… پچھلے
ہفتے سے ہم دل کی اصلاح پر بات کررہے ہیں…آج بھی اُسی موضوع پر کچھ عرض کرنے کا
ارادہ ہے… مگر آج تو دل میں’’درد‘‘ سا محسوس ہو رہاہے… ایک ارب چالیس کروڑ
مسلمانوں کی بہن’’عافیہ صدیقی‘‘ کو امریکی عدالت نے ’’مجرم‘‘ قرار دے دیا ہے…
عافیہ بہن تو فیصلہ سن کر خوش ہو رہی تھی… اُس کی والدہ نے بھی ایمانی جرأت کا
مظاہرہ کیا اور فرمایاآج کا دن ہمارے لئے’’عید‘‘ کا دن ہے… مگر معلوم نہیں کیوں
ہمارا دل رو رہا ہے… امریکی فیصلہ ایک’’خنجر‘‘ کی طرح ہمارے دلوں کو زخمی کر گیا
ہے… ایک کمزور سی مسلمان’’بیٹی‘‘ پر سات امریکی فوجیوں پر حملہ کرنے کا الزام… جب
عدالتیں اس طرح کا ’’انصاف‘‘ کریں گی تو پھر اس دنیا میں’’فساد‘‘ ہی پھیلے گا…
غرور میں مبتلاججوں نے اتنا بھی نہیں سوچا کہ ’’عافیہ بہن‘‘ لاوارث نہیں ہے… وہ
لاکھوں، کروڑوں جوان بھائیوں کی لاڈلی بہن ہے… اُس نے عزت کے راستے کو اختیار کر
کے اپنی’’جنت‘‘ کو سجا لیا ہے… اب اُس کے کس کس بھائی کو’’مجاہد‘‘ اور ’’فدائی‘‘
بننے سے روکو گے… بے شک’’عافیہ‘‘ کی قربانی اس اُمت کو ’’عافیت‘‘ کے راستے پر لے
جانے میں مددگار ثابت ہو گی… اور یہ تو سب جانتے ہیں کہ مسلمانوں کے لئے عزت،عافیت
اور آزادی کا راستہ’’جہاد فی سبیل اللہ ‘‘ ہے…’’عافیہ بہن‘‘ تمہیں ہم
سب کی طرف سے سلام پہنچے… اور ڈھیروں آنسوؤں بھری دعائیں… اچھا پھر اپنے دل کی
اصلاح کی طرف آتے ہیں… دراصل ہم لوگ’’دل‘‘ کو پہچانتے ہی نہیں… ہم اپنی بہت سی
بُری خواہشات کو ’’دل‘‘ سمجھ لیتے ہیں…جیسے آج کل اخبارات میں آرہا ہے کہ انڈیا
میں پاکستانی کرکٹرز کی بولی نہ لگنے پر پاکستانیوں کے’’دل‘‘ دکھے ہوئے ہیں… تو بہ
توبہ! دل تو بڑی اونچی چیز ہے وہ اتنی سی بات پر کیسے ٹوٹ سکتا ہے؟… پاکستان کے
مسلمان کھلاڑی اپنے آپ کو بیچنے ’’انڈیا‘‘ گئے تھے… کیا یہ اچھا کام ہے؟…؎
طلب کرتے ہو دادِ حُسن تم پھر وہ بھی غیروں سے
مجھے تو سن کے بھی اک عار سی معلوم ہوتی ہے
وہاں کھلاڑیوں پر جس طرح کی’’بولی‘‘ لگائی جاتی ہے… اُسے سن
کر گھن آتی ہے… ایک کھلاڑی کا نام لیکر اُس کی ’’قیمت‘‘ بتائی جاتی ہے… اور پھر
انڈیا کے میراثی فنکار اپنی’’بولی‘‘ لگاتے ہیں… اور پھر سب سے زیادہ ’’بولی‘‘
لگانے والا اس کھلاڑی کو’’خرید‘‘ لیتا ہے… اُف کتنا شرمناک منظر ہے… کوئی غیرت مند
انسان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا … مگر مال کی لالچ میںہمارے کھلاڑی خود کو
بیچنے انڈیا پہنچ گئے… ہندو مشرک نے انتہائی نفرت اور حقارت سے ان سب کھلاڑیوں پر
تُھوک دیا… اس پر ہماری قوم کے ’’دل‘‘ دکھ گئے… لوگ آج کل ’’صوفیاء‘‘ کے کلام کو
بھی نہیں سمجھتے… ’’صوفیاء کرام‘‘ نے بہت تاکید سے فرمایا کہ کسی کا’’دل‘‘ نہ
توڑو… کیا ’’دل‘‘ سے مُراد نفس کی ’’خواہشیں‘‘ ہیں… ایک آدمی آپ سے آکر کہے
میرا دل چاہتا ہے کہ آپ کے گھر میں گھس جاؤں… کیا آپ اُس کا دل رکھنے کے لئے
اجازت دے دیں گے؟… کوئی آدمی آپ سے تقاضا کرے کہ میرا دل چاہتا ہے آپ بتوں کو
سجدہ کریں… اورپھر آپ کو وہ کسی صوفی شاعر کا قول سنائے کہ ہر چیز توڑ دو مگر کسی
کا دل نہ توڑو… تو کیا آپ اُس کا دل رکھنے کے لئے’’شرک‘‘ کر لیں گے؟… لوگ صرف
گناہوں کو’’حلال‘‘ کرنے کے لئے صوفیاء کی باتیں پیش کرتے ہیں… پچھلے دنوں ’’بی بی
سی‘‘ نے جہاد کے خلاف ایک پروگرام دیا… اس میں جنوبی پنجاب کے ایک صوفی شاعر کی
نظم بار بار سنائی گئی… اس سرائیکی نظم کا مفہوم یہ تھا کہ… مسجد توڑ دو، مندر توڑ
دو مگر کسی کا ’’دل ‘‘ نہ توڑو… میں نے سوچا کہ بی بی سی کے نامہ نگار سے کوئی جا
کر کہے… میرا دل چاہتا ہے کہ آپ کو پانچ تھپڑ اور دس جوتے ماروں… آپ میرا دل
رکھنے کے لئے اس کی اجازت دے دیں کیونکہ… مسجد توڑدو، مندر توڑ دو مگر کسی کا دل
نہ توڑو… اگر آپ نے مجھے اجازت نہ دی تو میرا دل ٹوٹ جائے گا… پھر دیکھیں کہ بی
بی سی کا نمائندہ کتنابڑا’’صوفی‘‘ ہے… یہ لوگ تو کسی کا دل رکھنے کے لئے دس روپے
خرچ نہیں کرتے اور باتیں کرتے ہیں حضرات صوفیاء کرام کی…حالانکہ صوفیاء کرام کے
اشعار میں مسجد کا بھی الگ معنیٰ ہے، مندر کا بھی الگ معنیٰ ہے اور ’’دل ‘‘ کا بھی
اور مطلب ہے… حضرت خواجہ مجذوب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے چند اشعار میں ’’دل‘‘ کالفظ
استعمال کیا ہے… اورکمال یہ ہے کہ ہر شعر میں دل کا مطلب الگ ہے… ملاحظہ فرمائیے
یہ اشعار
آئینہ بنتا ہے رگڑے لاکھ جب کھاتا ہے دل
کچھ نہ پوچھو دل بڑی مشکل سے بن پاتا ہے دل
عشق میں دھوکے پہ دھوکے روز کیوں کھاتا ہے دل
ان کی باتوں میں نہ جانے کیوں یہ آجاتا ہے دل
کٹ گئی اِک عُمر اِس افہام اور تفہیم میں
دل کو سمجھاتا ہوں میں اورمجھ کو سمجھاتا ہے دِل
فصل گل میں سب تو خنداں ہیں مگر گریاں ہوں میں
جب تڑپ اُٹھتی ہے بجلی یاد آجاتا ہے دل
ایک وہ دن تھے محبت سے تھا لطف زندگی
اب تو نام عشق سے بھی سخت گھبراتا ہے دل
کچھ نہ ہم کو علم رستہ کا نہ منزل کی خبر
جارہے ہیں بس جدھر ہم کو لئے جاتا ہے دل
بی بی سی والے’’بیچارے‘‘ انگریزوں کے نوکر ’’اردو‘‘ تک نہیں
سمجھتے… وہ بابا فرید شکر گنج ؒکی شاعری کیا سمجھیں گے… انہوں نے تو
مسجد گرانے کا لفظ سنا تو خوشی خوشی ان اشعار کو نقل کر دیا کہ بابا فرید(
نعوذباللہ ) سیکولر ہو گئے … کیا مسجد گرنے سے کسی کا دل نہیں دُکھتا؟… ایک بابری
مسجد گری تو لاکھوں مسلمانوں کے دل دُکھے… پھر بابا فرید رحمۃ اللہ علیہ جیسے
عبادت گزار بزرگ جن کی عبادت اور ریاضت کے تذکروں پر پوری پوری کتابیں لکھی گئی
ہیں… مسجد گرانے کی بات کس طرح کر سکتے ہیں؟… یہ حضرات تو اپنی داڑھیوں سے مسجد کی
صفائی کرنے کو سعادت سمجھتے تھے… دل ٹوٹنے کی بات آگئی تو یہ بھی سن لیجئے کہ
ہمارے جگر مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ تو اپنے دل کے ٹوٹنے کو اپنی’’فتح‘‘
قرار دیتے تھے ؎
ترے دل کے ٹوٹنے پر ہے کسی کو ناز کیا کیا
تجھے اے جگر! مبارک یہ شکستِ فاتحانہ
’’دل‘‘ کے بارے میں’’جگر رحمۃ اللہ علیہ ‘‘ کے چند
اور اشعار بھی پڑھ لیجئے… ممکن ہے’’دل‘‘ کو ’’عاشقی‘‘ کی تڑپ ہو جائے…
کیا بتائیں،دل سے مل کر کیا غضب ڈھاتا ہے دل
جس طرح آندھی کوئی آتی ہے، یوں آتا ہے دل
رہ گیا ہے اب تو بس اتنا ہی ربط اک شوخ سے
سامنا جس وقت ہو جاتا ہے، بھرآتا ہے دل
دل تو سینے ہی میں رہتا ہے مگر اُس کے حضور
جیسے اب جاتا ہے دل سینے سے، اب جاتا ہے دل
سامنے اُن کے ہمیں سے اس کی ظالم شوخیاں
وہ نہیں ہوتے، تو کیا نادان بن جاتا ہے دل
رحم بھی، غصہ بھی، کیا کیاآہ آتا ہے جگر!
خود تڑپ کر عشق میں جب مجھ کو تڑپاتا ہے دل
اپنے ایک اور شعر میں’’جگرس ‘‘ سمجھاتے ہیں کہ…
دل کی آزادی نظروں کی قید میں ہے
یہی ہے رازِ آزادی، جہاں تک یاد ہوتا ہے
کہ نظریں قید ہوتی ہے تو دل آزاد ہوتا ہے
اور عاشق کے’’دل‘‘ کا حال اس شعر میں بیان کرتے
ہیں ؎
دلِ عاشق بھی کیا مجموعۂ اضداد ہوتا ہے
اُدھر آباد ہوتا ہے، اِدھر برباد ہوتا ہے
اور جب کوئی نیم مردہ دل…کسی زندہ دل سے مل کر’’چارج‘‘
ہورہا ہو تو اُس وقت کیا کیفیت ہوتی ہے ؎
خوشی سے لبریز شش جہت ہے، زبان پر شور تہنیت ہے
یہ وقت وہ ہے جگر کے دل کو وہ اپنے دل سے ملا رہے ہیں
اس شعر کو سمجھنے کی کوشش کریں… ان
شاء اللہ بہت فائدہ ہو گا… دراصل عاشق مزاج دل… خشک مزاج دل سے
بہتر ہوتا ہے اور جلدی منزل تک پہنچ جاتا ہے… خود جگر مُراد آبادیؒ کا
دل عاشق مزاج تھا… مگر وہ شراب کے پیچھے پڑ گئے… پھر دل کی اصلیت رنگ لائی
اور اللہ تعالیٰ کی محبت کی شراب سے دل آباد ہو گیا… شراب
چھوڑنے کے بعد’’جگرؒ ‘‘ نے جو اشعار کہے وہ پڑھنے کے لائق ہیں… فرماتے
تھے کہ شراب چھوڑ کر تو میں ’’بڑا شرابی‘‘ بن گیا ہوں… اب جو’’سحری‘‘ کے وقت شراب
’’محبت‘‘ ملتی ہے اُس کا نشہ تو ایک ایک بال کو مست کر دیتا ہے…پہلے زمانے میں’’
اللہ والے‘‘ جب کسی ایسے آدمی کو دیکھتے جس کا دل’’عشق‘‘ سے خالی ہوتا
… اور ’’خود غرضی‘‘ سے بھرا ہوتا تو پہلے اس میں’’جذبہ عشق‘‘بیدار کرتے تھے… پھر
جب’’خود غرضی‘‘ ختم ہوجاتی اور ایسا ’’عشق‘‘ پیدا ہو جاتا کہ’’محبوب‘‘
کی خاطر قربانی دینے پر خوشی ہو تو پھر… اس عشق و محبت کارُخ’’محبوب حقیقی‘‘یعنی
’’ اللہ تعالیٰ‘‘ کی طرف پھیرنے کی محنت کرتے… ایک ’’خشک مزاج‘‘ شخص
ایک اللہ والے کی خدمت میں حاضر ہوا اور’’اصلاح‘‘ کی
درخواست کی… انہوں نے چند دن اپنے ساتھ رکھا تو انہیں محسوس ہوا کہ… یہ
شخص عشق اور محبت سے بالکل خالی ہے… اِسے تو بس اپنی اور اپنے نفس کی فکر ہے…
انہوں نے اُس شخص کو پہلا سبق یہ دیا کہ… تم مُراقبہ کی قوت سے اپنے دل میں
’’بھینس‘‘ کی محبت پیدا کرو… بزرگ نے ایک بھینس پال رکھی تھی اُس شخص کو
اس’’بھینس‘‘ کی خدمت پر لگا دیا… اور سمجھایا کہ اسے پیار سے دیکھا کرو… زیادہ وقت
اس کے ساتھ رہا کرو… جب اس سے دور ہو تو آنکھیں بند کر کے اسے یاد کیا کرو… اپنے
ساتھیوں کے سامنے اس کی خوبیاں بیان کیا کرووغیرہ وغیرہ… اُس شخص نے چند دن یہی
عمل کیا تو اُس کے دل میں’’حرکت‘‘پیدا ہو نے لگی… اب اُسے بھینس سے’’پیار‘‘ ہوتا
جارہا تھا… پھر یہ محبت اُسے قربانی تک لے آئی کہ اپنی روٹی تک بھینس کو کھلا
آتا… اور اپنی نیند قربان کر کے بار بار اُسے دیکھنے جاتا… اور پھر یہ محبت اُس
کے حواس پر چھا گئی کہ اُس بھینس کے لئے بے چین رہتا اور جب اُس کاتذکرہ ہوتا تو
اِس کادل دھڑکنے لگتا… تب اللہ والے بزرگ نے
اُسے’’ذکر اللہ ‘‘ میں لگا دیا… وہ عاشق مزاج تو بن چکا تھا… جلد
ہی’’محبوب حقیقی‘‘ کے عشق میں کامیاب ہو گیا… دراصل’’سوچ‘‘ اور ’’دل‘‘ کی عبادت
بہت بڑی چیز ہے… ہم سب اللہ تعالیٰ کا ذکر اپنے ’’دل‘‘ سے
کیا کریں… اور دل سے اللہ تعالیٰ کی محبت کا مراقبہ کیا
کریں… تھوڑی دیر کے لئے کسی بھی نماز کے بعد آنکھیں بند کر کے بیٹھ جائیں اور خوب
سوچیں کہ… اللہ تعالیٰ مجھ سے محبت کرتا ہے… میں اُس کا
بندہ ہوں… اُس نے مجھے ایمان کی توفیق دی… مجھے نماز اورجہاد کی توفیق دی… میرے
گناہوں پر اُس نے پردے ڈالے… میری حالت لوگوںپر ظاہر ہو جائے تو لوگ مجھ سے کتنی
نفرت کریں… اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت سے مجھے معاف کیا…
مجھے مسجد میں لایا… مجھے اپنے ذکر کی توفیق دی… اور جو تکلیف مجھ پر ہے وہ میرے
گناہوں کی سزا سے بہت کم اور خود میرے فائدے کے لئے ہے… اور اللہ تعالیٰ
کی محبت والی ’’آیات‘‘ کو سوچیں ’’یحبھم
ویحبونہ‘‘ اللہ تعالیٰ اُن سے محبت فرماتا ہے اور
وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں… محبت کا یہ مُراقبہ روز
کرتے رہیں تو ان شاء اللہ دل زندہ اور بیدار ہو جائے
گا… اور اس میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شوق پیدا ہو جائے
گا… باقی’’مُراقبہ‘‘ کسے کہتے ہیں اور اس کی کون کون سی قسمیں ہیں…
یہ ان شاء اللہ کسی اور مجلس میں عرض کیا جائے گا… اللہ تعالیٰ
مجھے اور آپ کو اپنی’’محبت‘‘کا’’نور‘‘ عطاء فرمائے…
آمین یا ارحم الراحمین
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ
سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ بارش برساتا ہے اور ’’مردہ
زمینوں‘‘ کوزندہ فرما دیتا ہے… کتنے’’دریا‘‘ ہیں جو سوکھ جاتے ہیں…مگر جب آسمان
کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی ’’رحمت‘‘ برستی ہے تو یہ دریا
پوری’’شان‘‘ کے ساتھ چلنے لگتے ہیں… قرآن پاک نے بار بار یہ بات سمجھائی ہے
کہ اللہ تعالیٰ مُردہ زمینوں کو پانی کے ذریعہ زندہ فرماتا
ہے… اور اللہ تعالیٰ ’’مُردوں‘‘ کو دوبارہ زندہ فرمائے گا…
بہتے دریا
جو مسلمان ’’قرآن پاک‘‘ حفظ کر لیتے ہیں کبھی آپ نے
اُن کی شان کا اندازہ لگایا… اللہ اکبر کبیرا… الحمد سے
والناس تک پورا قرآن پاک سینے میں محفوظ… اتنا اونچا کلام… جی
ہاں اللہ رب العالمین کا کلام… یہ کلام پہاڑوں پر اُترتا تو
اُن کو ریزہ ریزہ کر دیتا… یہ کلام جس کے ہر حرف میں اجر ہے، ہر لفظ میں ثواب ہے…
ہر نقطے میں شان ہے… اور ہر زیر زبر میں برکت ہے… یہ کلام جوہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ
رہے گا،جسے زوال کا خطرہ ہی نہیں… یہ کلام جو جبریل امین علیہ السلام لائے… اور
سید الکونین آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے پر نازل کیا… ساری
دنیا کی تمام طاقتیں اِس’’کلام‘‘ کی طاقت کے سامنے کچھ بھی نہیں… کچھ بھی نہیں…
ایسا عظیم کلام جو گرے ہوئے لوگوں کو آسمانوں سے اونچا کر دیتا ہے… اور موت کے
وقت بھی ساتھ رہتا ہے… اور قبر میں بھی جدا نہیں ہوتا… اگر کسی انسان کو قارون کا
خزانہ ملے اور وہ یہ سارا خزانہ دے کرقرآنِ پاک کی ایک آیت حاصل کر لے… اور اِس
آیت کو اپنے ساتھ ’’قبر‘‘ میں لے جائے تو… گویا کہ اُس نے ’’مٹی‘‘ دے کر ’’سونے‘‘
کا پہاڑ خرید لیا… آنکھیں بند ہیں اور زبان پر رب تعالیٰ کا کلام جاری
ہے اللہ اکبر کیسا شاندار منظر ہے… تنہائی ہے اورزبان پر
قرآن پاک کی تلاوت ہے اور آنکھوں میں آنسو… اللہ اکبر
کیسا شاندار منظر ہے… لوگ مُردے کو اٹھا کر قبرستان لے جاتے ہیں… ایک گڑھا کھودتے
ہیں اور اس میں دفن کر کے سب واپس آجاتے ہیں… اس تنہائی، وحشت اور بے بسی کے وقت
قرآن پاک قبر میں آجاتاہے تو ہر طرف خوشی، خوشبو اور نور پھیل جاتا ہے… میرے
عزیز مسلمان بھائیو!… اور بہنو!…قرآنِ پاک بہت بڑی نعمت ہے… دنیا کا کوئی علم،
کوئی ڈگری، کوئی سند… اور کوئی عہدہ قرآنِ پاک کے علم اور حفظ کے برابر نہیں ہے…
یہ وہ نعمت ہے جسے حاصل کرنے کے لئے بہت محنت کرنی چاہئے…اور بہت زور لگانا چاہئے…
بے شک قرآن پاک ہمارے تمام مسائل کا حل ہے… وہ مسائل دنیا کے ہوں، قبر کے ہوں یا
آخرت کے ہوں… قرآن پاک کی تلاوت، قرآن پاک کا حفظ، قرآن پاک کا ادب، قرآن پاک
کا علم، قرآن پاک پر عمل… اور دنیا کو قرآن پاک کی دعوت… جس مسلمان کو یہ نعمتیں
نصیب ہو جائیں وہ بادشاہ ہے، سلطان ہے، شان والا ہے… اور ایسا بہتا دریا ہے… جس
دریا کی شان کو الفاظ میں بیان ہی نہیں کیا جا سکتا… وہ دیکھو! ہلمند کی طرف
امریکہ اور اُس کے حواریوں نے ’’خوفناک‘‘ حملہ کر دیا ہے… مگریہ سب شکست کھا کر، رسوا
ہو کر واپس جائیں گے … کیونکہ اُن کا مقابلہ’’قرآن والوں‘‘ سے ہے… ارے! بہتے
دریاؤں کو کون شکست دے سکتا ہے؟… ارے! سمندروں کا راستہ کون روک سکتاہے… یہ مجاہد
رات کے تین بجے اٹھ کر… مصلّے پر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز میں ایک’’پارہ‘‘ تلاوت
کریں گے تو… تم سب کی طاقت’’پارہ پارہ‘‘ ہو جائے گی… ہاں ربّ کعبہ کی قسم! قرآن
پاک کے سامنے اور قرآن والوں کے سامنے… کوئی باطل نہیں ٹھہر سکتا…
سوکھتے دریا
جب’’مغل حکمرانوں‘‘ سے ہندوستا ن کی سلطنت چھنی تو معلوم ہے
اُ ن کا کیا حال ہوا؟… افسوسناک حال، اور عبرت انگیز احوال… یہ سب بے چارے آسمان
سے زمین پر آگرے… اور سچی بات یہ ہے کہ بے موت مارے گئے… آہ! تیموری خاندان کی
مغل شہزادیاں بازاروں میں بیچی گئیں… کتنے شہزادے اور شہزادیاں اس طرح مرے کہ نہ
کفن نصیب ہوا اور نہ دفن… جی ہاں سلطنت چھن جائے تو اکثر ایسا ہی ہوتا ہے… ’’حافظِ
قرآن‘‘ کی سلطنت تو مغل بادشاہوں کی حکومت سے بڑی ہوتی ہے… جب چاہتا ہے سورۂ
بقرہ کا سفر کرتا ہے… جب چاہتا ہے انفال اور برآۃ کی بلندیوں میں پرواز کرتا ہے…
جب چاہتا ہے طٰہٰ اور یس ٓ کے باغات میں گم ہو جاتا ہے… چلتے پھرتے، اُٹھتے بیٹھتے
قرآن پاک اُس کے ساتھ ساتھ رہتا ہے… اب اگر اس ’’حافظ‘‘ سے اُس کی سلطنت چھن
جائے… یعنی وہ قرآن پاک کو بھول جائے تو اُس کا حشر معزول ہونے والے’’مغل
شہزادوں‘‘ سے بھی بُرا ہوتا ہے… دل اُجڑ جاتا ہے، دماغ ویران ہو جاتا ہے… روح بے
چین ہو کر بدروح کی طرح بھٹکتی ہے اور ہر مصیبت اُس کے گھر کا دروازہ دیکھ لیتی
ہے… سچ پوچھیں تو ایسا آدمی بے موت مرجاتا ہے… اورایک بڑی سلطنت سے محروم ہو جاتا
ہے… یا اللہ رحم فرما، یا اللہ رحم فرما… آپ نے
دیکھا ہو گا کہ سوکھے دریاؤں میں تو بس… ریت ہوتی ہے، کیچڑہوتا ہے… خطرناک سانپ
اور بچھو ہوتے ہیں… اور نقصان ہی نقصان ہوتا ہے… بہتے دریا سے ہر کوئی فائدہ
اٹھاتا ہے… جبکہ سوکھے دریا صرف نقصان پہنچاتے ہیں… جو لوگ قرآن پاک کو یاد کر کے
بھول جاتے ہیں… جو لوگ علم کو پڑھ کر بھول جاتے ہیں… وہ لوگ سوکھے دریاؤں کی طرح
ہوتے ہیں… جھاڑیاں، کانٹے، ویرانیاں اور پریشانیاں… دین کا کوئی کام ایسا نہیں جس
میں لگ کرقرآن پاک یا علم بھول جاتا ہو… حضرات صحابہ کرامؓ کے علوم
میںبرکت’’جہاد‘‘ میں نکل کر ہوئی… جو لوگ تنظیمی مصروفیت کا بہانہ بناتے ہیں… وہ
سچ نہیں بولتے… اصل میں اپنی سستی ہوتی ہے اور اپنی محرومی… اور پھر دیکھتے ہی
دیکھتے بہتے دریا… سوکھے کھنڈر بن جاتے ہیں… یا اللہ رحم
فرما…
ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کا قولِ مبارک
مشہور زمانہ محدّث، فقیہ اور مجاہد… حضرت عبد
اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:
’’جس آدمی نے قرآن پاک کو سیکھا اور پھر اُسے بھلا دیا،
ایسے آدمی سے یقیناً کوئی گناہ ہوا ہے(جس کی سزا کے طور پر اُس کو قرآنِ پاک
بُھلا دیا گیا)… کیونکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
وَمَا اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ
اَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ
ترجمہ: اورتمہیں جو مصیبت بھی پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے کئے
ہوئے اعمال کی وجہ سے پہنچتی ہے اور بہت سے گناہوں
کو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے‘‘…
ابن مبارک سفرماتے ہیں:
قرآن پاک کا بھول جانا سب سے بڑی مصیبتوں میں سے ایک ہے…
پس معلوم ہوا کہ یہ مصیبت کسی گناہ کی وجہ سے ہی آئی ہوگی…
ہائے ہائے کتنی بڑی مصیبت کہ بیٹھے بیٹھے… قرآن پاک سے ہی
محروم ہو گئے… العیاذباللہ ، العیاذ باللہ … اتنی اونچی سلطنت سے محرومی… استغفر
اللہ ، استغفر اللہ ، استغفر اللہ …
بارش کی تاثیر
ابھی کچھ دن پہلے گندم کی فصل لگانے والے کسان… حسرت سے
آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے… کئی ایک تو مایوس ہو چلے تھے کہ اس سال یا تو بھیک
مانگیں گے یا بھوکے مریں گے… ویسے اِس وقت پاکستان عجیب’’آزمائش‘‘ کے مرحلے سے
گزر رہا ہے… نہ بجلی، نہ گیس، نہ آٹا، نہ چینی… ہر طرف غربت ہے اور بے چینی…
ہمارے حکمرانوں نے کہا تھا کہ ہم امارتِ اسلامیہ افغانستان کے خلاف امریکہ کا ساتھ
اس لئے دے رہے ہیں کہ وہ ہمیں’’امداد ‘‘ دے گا…اور ہمارا ملک مالا مال ہو جائے گا…
مگر ہم تو یہی دیکھ رہے ہیں کہ جب سے امریکی امداد شروع ہوئی ہے ملک غریب تر ہوتا
جارہاہے… حرام کے پیسے حرام خوروں کو ہی ہضم ہوتے ہوں گے… پاکستانی قوم بہرحال
مسلمان ہے وہ تو امریکی امداد آنے کے بعد سے مہنگائی اور بھوک دیکھ رہی ہے…مشہور
زمانہ اغواکار’’پرویز مشرف‘‘ نے چھ سونواسی (۶۸۹)پاکستانی اغوا کر کے امریکہ کو فروخت کئے… اُس نے اپنی کتاب
میں اپنے اِس جُرم کا فخر کے ساتھ اعتراف کیا ہے… ہماری بہن عافیہ صدیقی بھی اِن’’۶۸۹‘‘ افرادمیں سے ایک تھی… ان تمام افرادکو امریکہ کے حوالے کرنے
پر باقاعدہ’’قیمت‘‘ وصول کی گئی… مگر پاکستان ہے کہ گناہ بھی کر رہاہے اور غریب
بھی ہو رہا ہے… پھر بھی حکمرانوں کو اللہ تعالیٰ کا ڈر
نہیں… اس سال بارش نہیں ہو رہی تھی توغریب کسان رو رہے تھے…
پھر اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اب بارش خوب برس رہی ہے… اس
وقت بھی بادلوں کی گھن گرج وقفے وقفے سے سنائی دے رہی ہے… مُردہ زمینیں زندہ ہو
گئی ہیں… اور خشک ندی نالے پھر شان سے بہہ رہے ہیں… قرآن پاک کے وہ’’حافظ‘‘ جو
’’سوکھی زمین‘‘ یا’’خشک دریا‘‘ بن گئے ہیں… وہ کیوں مایوس ہو بیٹھے ہیں… دو رکعت
استخارہ کی نماز ادا کریں… مالک کے سامنے گناہ اور غلطی کا اعتراف کریں… وہ مالک
جو پانچ منٹ کی بارش سے لاکھوں مربع میل زمین کو’’زندہ‘‘ کردیتا ہے… وہ اپنی ایک
رحمت کی نظر فرما کر… ہمارے چند انچ کے دل اور دماغ کو زندہ کرنے پر قادرہے…
’’استخارہ‘‘ کی طاقت’’بجلی‘‘ سے زیادہ ہے… آج ہم مسلمان’’استخارہ‘‘ سے محروم ہو
رہے ہیں ورنہ’’استخارے‘‘ کے ذریعے تو پہاڑوںجیسے مسائل منٹوں میں حل ہو جاتے ہیں…
ہم نے’’استخارہ‘‘ کو علم نجوم کا کوئی شعبہ سمجھ رکھا ہے… حالانکہ استخارہ تو’’خیر
حاصل کرنے‘‘ کی دعاء ہے… ابھی آپ اپنے بھولے ہوئے ’’حفظ قرآن‘‘ کو دوبارہ حاصل
کرنے کے لئے مسنون استخارہ کریں… ان شاء اللہ کوئی
ترتیب اورانتظام سامنے آجائے گا… اور سوکھے دریا… پھر آن کے ساتھ بہنے لگیں گے…
پہلا قطرہ
بارش کا پہلا قطرہ زمین پر آگیا ہے… بہاولپور میں ایک
مدرسہ قائم ہوا ہے… مدرسہ کا نام ہے مدرسہ سیدنا اویس القرنی ذ… اس مدرسہ میں اُن
حضرات کو داخلہ دیا جائے گا… جو قرآن بھول چکے ہیں… اور پھر تین مہینے کی محنت سے
اُن کے حفظ کو تازہ کرایا جائے گا… تین مہینے… بہت تھوڑا سا عرصہ ہے… جو آپ
آسانی سے نکال سکتے ہیں… کراچی میں ایک مفتی صاحب
تھے… اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند
فرمائے… وہ تو ماشاء اللہ تین مہینے میں نیا حفظ کرا دیتے
تھے… حضرت قاری محمد طاہر رحیمی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب’’فضائل حفاظ
القرآن‘‘ میں پورے قرآن کو’’سورۂ فاتحہ‘‘ کی طرح حفظ کرنے کا نصاب اور طریقہ
لکھا ہے… اللہ کرے ’’مدرسہ اویس قرنی ذ‘‘ کے منتظمین اُس
نصاب سے استفادہ کریں…
کل یکم ربیع الاوّل ۱۴۳۱ھ سے ان شاء اللہ … اس ’’نورانی
مدرسے‘‘ کے داخلے شروع ہو رہے ہیں… دل بہت خوش اور شکر گزار ہے… کچھ آنسو بار بار
اُبل کر آنکھوں کی طرف دوڑتے ہیں… اس خیال کی وجہ سے کہ کاش اس مبارک مدرسہ کی
افتتاحی مجلس میں شرکت ہو جاتی… مگر اللہ تعالیٰ کی تقدیر
ہی میں خیر ہے… اور ہم اپنے مالک کی تقدیر پر خوش اور مطمئن ہیں… یہ سالہا سال
پُرانا خواب تھا… جو الحمدللہ اب پورا ہو رہا ہے… یہ آسمان کی طرف سے نازل
ہونے والی وہ رحمت ہے جو ہماری حیثیت سے بہت بڑھ کر ہے…اب ان
شاء اللہ کتنے سوکھے دریا…بہنے لگیں گے… اور کتنی خشک ندیاں… پھر
تراویح میں جولانیاں دکھائیں گی… بس ایک ہی دعاء ہے کہ… یہ
مدرسہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول ہو جائے… اور اس کے
منتظمین مکمل اخلاص اور درد کے ساتھ محنت کریں… اور اس مدرسہ کی شاخیں دیکھتے ہی
دیکھتے پوری دنیا میں پھیل جائیں… قرآن پاک بھی بھلا کوئی بھلانے کی چیز ہے…
قرآن پاک کوبھلانا سب سے بڑی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت
ہے… اللہ تعالیٰ مجھے اورآپ سب کو اس مصیبت سے بچائے…
چھوٹا نصاب
جو حضرات اس مدرسہ میں تشریف لائیں اُن سب کو’’خوش آمدید‘‘
اورڈھیروں دعائیں… اللہ کرے ہم آپ کی صحیح خدمت کر سکیں…
اور جو دور ہیں اور نہیں آسکتے وہ اپنے طور پر محنت کریں… جس کو سورۃ یاد تھی…
یاکوئی آیت یاد تھی وہ اُسے دوبارہ تازہ کرے… اور جو ’’مدرسہ اویس قرنیؓ‘‘ کا
نظام اپنے ہاں جاری کرنا چاہے وہ تین ماہ بعد’’مرکز‘‘ سے رابطہ کرے… خواتین اپنے
گھروں میں اس کی ترتیب بنائیں… آخر میں آپ سب سے… دور ہوں یا قریب… ایک چھوٹی سی
درخواست ہے… کم از کم ایک بار مکمل اخلاص کے ساتھ… اس مدرسہ اور اس نظام کی عند
اللہ قبولیت اور کامیابی کی دعاء فرمادیں… آپ دعاء کردیں گے تو آپ کا
حصہ بھی اس ’’مبارک کام‘‘ میں شامل ہو جائے گا… ان شاء اللہ
… و اللہ علی کل شی قدیر… والصلوٰۃ و السلام علی سیدنا محمد والہ وصحبہ
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا… برحمتک یا ارحم الراحمین
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے ’’دنیا‘‘ کو امتحان کی جگہ
بنایا ہے… یہاں زندگی بھی ہے اور موت بھی… خوشی بھی ہے اور غم بھی… نعمت بھی ہے
اور مصیبت بھی… مسکراہٹیں بھی ہیں اور آنسو بھی… ملاپ بھی ہے اور جدائی بھی…
ایمان والوں کو چاہئے کہ ہر ’’حالت‘‘ کے لئے تیار رہیں… اور
ہر’’حال‘‘میں اپنے ’’ایمان‘‘ کی حفاظت کریں… ابھی ابھی… جی ہاں صرف دو منٹ پہلے
خبر آئی ہے کہ’’بہاولپور‘‘ کے ٹول پلازہ پر چند گاڑیوں کا ایک قافلہ … مولانا
ابوجندل صاحب کے استقبال کے لئے موجود ہے… اور مولانا تھوڑی دیر میں بہاولپور
پہنچنے والے ہیں… اللہ اکبر کبیرا…
الحمدللہ الذی بنعمتہ تتم الصّالحات
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو… ایسی خوشیاں بار
بار نصیب فرمائے… مولانا پندرہ سال کی جیل کاٹ کر آئے ہیں… مشرکین کی قید،
اندھیرے عقوبت خانے، گندی جیلیں، خوفناک تشدّد، زہریلے طعنے، ناقص غذائیں… ماحول
کی گھٹن اور ظاہری بے بسی… کچھ دن پہلے تک یہی خبر آتی تھی کہ… مولانا جودھ پور
جیل میں ہیں… اب وہ پیشی بھگتنے جموں میں ہیں… اب وہ بیمار ہیں… اب وہ قاتلانہ
حملوں کی زد میں ہیں… اور آج یہ خبر آرہی ہے کہ… مولانا ’’بہاولپور‘‘ پہنچ رہے
ہیں… اور اُمت کے ’’فاتحین‘‘ اُن کے استقبال کے لئے آنکھوں میں آنسو لئے کھڑے
ہیں… ابھی ابھی پھر فون کی گھنٹی بجی ہے اور مجھے بتایاگیا ہے کہ ’’مولانا‘‘ پہنچ
گئے ہیں… واہ میرے مالک واہ… بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیزپر
قادر ہے… دل شکر کے ساتھ دھڑک رہا ہے… اور سرگوشیاں کر رہا ہے یا اللہ
! ہماری عافیہ بہن کب آئے گی… آپ تو ہر چیزپر قادر ہیں…
یا اللہ حضرت امیر المؤمنین مُلاّ محمد عمرمجاہد کی روپوشی
کب ختم ہو گی… یا اللہ آپ تو قادر مطلق ہیں…
یا اللہ ! کشمیر، انڈیا، افغانستان… اور پاکستان کی جیلوں میںقید
مجاہدین کب رہا ہوں گے… مالک آپ تو بہت کریم ہیں… میں بہت دور سے بہاولپور کے ٹول
پلازہ کے پاس آپ کی رحمت کے ٹھنڈے اورمیٹھے مناظر دیکھ رہاہوں… راہ حق کا ایک
تھکا ہارامسافر کس طرح سے اپنے رفقاء سے گلے مل رہا ہو گا… اور پھرتھوڑی دیر
بعد… ان شاء اللہ بہاولپور کی جامع مسجد عثمانؓ و
علیؓ… ایمانی نعروں سے گونج رہی ہو گی… شاید میرے لکھنے کے دوران ہی وہ’’مسجد‘‘
میں پہنچ جائیں… اورمیرا فون مجھے خبر دے دے… تب میں ان
شاء اللہ اپنے’’غمزدہ‘‘ قارئین کو بھی اس خوشی میں شامل کر لوں
گا… اس وقت میرے سامنے اور کئی قیدی بھائیوں کے چہرے… عجب انوارات کے ساتھ چمک رہے
ہیں… میں اُن کا نام نہیں لکھتا کہ… کسی کی رہائی میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو… مگر
اپنے’’کریم مالک‘‘ کے سامنے تو اُن کا نام لے لے کر اُن کی باعزت اور باعافیت
رہائی کی دعائیں ہم سب مانگتے ہیں… اور کتنے قابل فخر ہیں وہ’’قیدی‘‘… جو اپنے
بھائیوں کو رہا کروانے گئے اور پھر خود’’قیدی‘‘ بن گئے… اُن سب کی
عزیمت کو سلام… اور کتنے مظلوم اور عظیم ہیںوہ قیدی… جن کو خود اپنے ملک کے
حکمرانوں نے پکڑ رکھا ہے… بھائی عمر شیخ کا کیا قصور ہے؟… امریکہ کی
عدالت میں القاعدہ کے رہنما ’’خالدشیخ‘‘ نے خود اقرار کیا ہے کہ… ڈینیل پرل کو
انہوں نے مارا ہے… پھر’’عمر شیخ‘‘ کس قتل کے الزام میں جیل میں ہے… چند دن پہلے
کسی ایذاء پہنچانے والے نے مجھے خط لکھا… اللہ تعالیٰ اُسے
معاف فرمائے… وہ لکھ رہا تھا کہ( نعوذباللہ ) عمر شیخ کو آپ نے
پکڑوایا ہے… نعوذباللہ ، نعوذباللہ … مجھے اس خوفناک الزام
سے کافی تکلیف پہنچی… مسلمانوں کے خلاف کافروں کی مدد کرنا حرام ہے… اور ایسے
افراد پر’’لعنت‘‘ برستی ہے جو مسلمانوں کو اُن کے دین اور جہاد کی وجہ سے کافروں
کے حوالے کرتے ہیں… عمر شیخ جیل میں موجود ہیں خود اُن سے اُن کی گرفتاری کا حال
معلوم کیا جا سکتا ہے… کچھ عرصہ پہلے وہ حیدر آباد جیل میں تھے… پھر اُنہیں
کراچی…اور کبھی اڈیالہ منتقل کیا جاتا ہے… ڈینیل پرل کی بیوی اور دنیا بھر کی
یہودی لابی اس کوشش میں ہے کہ… اس ’’مسلمان نوجوان‘‘ کو موت کی سزا دلوائیں… ہمارے
حکمرانوں کے پاس عمر شیخ کو جیل میں رکھنے کا کوئی جوازنہیں ہے… مگر’’ڈالروں‘‘ کی
خواہش اُن سے ہر’’جرم‘‘ کروا رہی ہے… وہ دیکھیں میرے فون کی گھنٹی بجی ہے…
مولانا’’مرکز شریف‘‘ پہنچ گئے ہیں… ماشاء اللہ خوب نعروں کی
گونج ہے… اور تشکر کے آنسوؤں کی جھڑیاں… آپ سب کو خوشی کا’’لمحہ
مبارک‘‘ہو… اب ان شاء اللہ بیانات ہوں گے… اور پھر
دعاء… وہ دیکھیں میرا ٹیلی فون ایک اور خبر سنا رہا ہے… مجاہدین نے زمین پر انڈیا
کا’’ترنگا‘‘ بنایا اور مولانا اُس کو روندتے ہوئے’’مسجد‘‘ میں داخل ہوئے… ترنگا
انڈیا کے تین رنگ والے پرچم کو کہتے ہیں… یہ دراصل مستقبل کی ایک مشق ہے… اولیاء
کرام کی سرزمین’’ہند‘‘ پھر غازیوں کو بُلا رہی
ہے… اللہ والوں نے احادیث مبارکہ کی روشنی میں یہ پیشین
گوئی بھی فرمائی ہے کہ… مجاہدین کا لشکر افغانستان سے براستہ پاکستان ہندوستان میں
داخل ہو گا… یہ کوئی جذباتی باتیں نہیں ہیں… اور اگر جذباتی ہوں بھی تو کیا حرج؟…
ایک مسلمان کو دین و ایمان کے بارے میں ایمانی جذبات سے لبریز ہونا چاہئے…
اسلام’’فتح‘‘ کی طرف بڑھ رہا ہے… اور دنیا’’خلافت‘‘ کی طرف جارہی ہے… قیامت سے
پہلے’’خلافت‘‘ ضرور قائم ہو گی… مگر یہ سب کچھ ’’ قربانی‘‘ سے ملتا ہے… اس وقت
مسلمانوں پر ’’قربانی‘‘ کا زمانہ ہے… دیکھیں ابھی اور کس کس کی قربانی لگتی ہے…
زمانے کے ایک بڑے ولی حضرت مُلاّ عبدالغنی برادر اخوند… زید
قدرہ و مجدہ… کی گرفتاری کی خبر آرہی ہے… کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ خبر غلط
ہے… اللہ کرے ایسا ہی ہو… مگر بُری خبریں اکثر سچی نکلتی
ہیں… کیا کریں ہمارے اعمال ہی کچھ اس قسم کے ہیں… مُلاّ برادر صاحب! اکثر
افغانستان میں رہتے تھے… وہ حضرت امیر المؤمنین کے نائب، اُن کے معتمد اور اُن کے
قریبی رشتہ دار تھے… ممکن ہے کبھی کبھار پاکستان بھی تشریف لے آتے ہوں … اس میں
کیا حرج ہے؟… اگر بلیک واٹر کے قاتل پاکستان آسکتے ہیں تو ایک ’’افغان مؤمن‘‘ کو
بھی یہاں آنے کا حق حاصل ہے… مُلاّ برادر اللہ تعالیٰ کے
اونچے ولی ہیں… اُن کو دیکھ کر’’ اللہ ‘‘ یاد آتا ہے… آخر پاکستان والوں نے
انہیں گرفتار کیوں کیا؟… ایک ’’ولی اللہ ‘‘ کو ایذاء
پہنچانا اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دینا ہے… کتنے بدقسمت
اور بدنصیب ہیں وہ لوگ جنہوں نے زمانے کے اتنے بڑے ولی اور اتنے بڑے مجاہد کی بے
حرمتی کی… کاش وہ اتنا گھناؤنا گناہ کرنے سے پہلے مر گئے ہوتے… مُلاّ برادر صاحب
نے پاکستان کا کیا بگاڑا ہے؟… وہ دس سال تک مجاہدین کو پاکستان میں کارروائیاں
کرنے سے روکتے رہے… وہ اگر اس کی اجازت دے دیتے تو پاکستان میں ہونے والے حملوں
میں تین سو فیصد کا اضافہ ہو سکتا تھا… اس موقع پر آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کی یہ حدیث مبارک یاد آتی ہے…
عن جابرؓ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم قال: اِتَّقُوْا الْظُّلْمَ فَاِنَّ الْظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ یَوْمَ
الْقِیٰمَۃِ، وَاتَّقُوْ الْشُّحَّ فَاِنَّ الْشُّحَّ اَھْلَکَ مَنْ کَانَ
قَبْلَکُمْ حَمَلَھُمْ عَلیٰ اَنْ سَفَکُوْا دِمَائَ ھُمْ وَ اسْتَحَلُّوا
مَحَارِمَھُمْ (رواہ مسلم)
رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ظلم سے بچو! کیونکہ ظلم قیامت کے دن کے اندھیروں(یعنی
عذابوں) میں سے ہے اور حرص سے بچو! کیونکہ حرص نے تم سے پہلے والوں کو ہلاک کیا
اور انہیں اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آپس میں خون بہائیں اور حرام کو حلال کریں…
کاش کوئی جا کر حکمرانوں کو یہ حدیث مبارک سنا دے… یہ لوگ
تو ظلم اور حرص کی ہر حد کو پھلانگ چکے ہیں… امریکی امداد اور امریکی ڈالروں کی
حرص میں اپنے ملک کو ویران کر رہے ہیں… اپنے مسلمانوں کو پکڑ رہے ہیں… اپنے
مسلمانوں کو ماررہے ہیں… اور اپنے چمن کو آگ لگا رہے ہیں…اُس دن میں نے خبروں میں
جب امریکی ایلچی رچرڈ ہالبروک کی… پاکستان کے حکمرانوںسے ملاقات کا حال پڑھا تو
میرا دل نفرت اور کراہیت سے بھر گیا… یوں لگتا تھا کہ ابھی خون کی اُلٹی آئے گی…
استغفر اللہ ، استغفر اللہ … عجیب شرمناک مناظر اور بے حیائی کی باتیں… امریکی
ایلچی نے بتایا کہ ہم ہلمند میں آپریشن کر رہے ہیں… ہمارے حکمرانوں نے اس
پر’’خوشی‘‘ کا اظہار کیا… ہائے افسوس کہ صلیب کا خنجر اہل ایمان کو ذبح کر رہاہے…
اور خود کو مسلمان کہلوانے والے اس پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں…
امریکی ایلچی نے بتایا کہ یہ آپریشن فیصلہ کن ہوگا…
پاکستانی حکمرانوںنے کہا…بس اس کا خیال رہے کہ وہاں سے کوئی بھاگ کر ہماری طرف نہ
آجائے… اگر کسی انسان کے دل میں ایک رائی کے دانے کے برابر’’ایمان‘‘ ہو تو وہ اس
طرح کی باتیں نہیں کر سکتا… اگر خدانخواستہ پاکستان نے مُلاّ برادر اخوند کو
گرفتار کیا ہے تو… یاد رکھنا یہ حکومت اور پاکستان دونوں کے لئے بہت
بڑی’’بدنصیبی‘‘ کی خبر ہے… یہ عذاب اور زلزلوں کی گھنٹی ہے… کچھ لوگ آزاد ہوتے
ہیں تو بہت سے’’زلزلے‘‘قید رہتے ہیں… مگرجب وہ لوگ’’قید‘‘ کر لئے جائیں تو’’زلزلے‘‘
آزاد ہوتے ہیں… اور اس میں اصل رازیہ ہے کہ… اللہ تعالیٰ
کے بعض اولیاء… بارگاہ الٰہی میں بہت محبوب ہوتے ہیں…
جب ان اولیاء کو ایذاء پہنچائی جائے… تو زمین و
آسمان اللہ تعالیٰ کے عذاب کے خوف سے ’’لرزنے‘‘ لگتے
ہیں…میری اس بات کو’’حکمران‘‘ تو نہیں سمجھیں گے… وہ تو اسے ایک’’دھمکی‘‘ سمجھ کر
نئے آپریشنوں کے مشورے کریں گے…بہت شوق سے کریں …جن کو اللہ پاک
گمراہی میں ڈالے اُن کو کوئی’’ہدایت‘‘ نہیں دے سکتا… البتہ مسلمانوں کو میری اس
گزارش پر غور کرنا چاہئے… تمام اہل اسلام خوب استغفار کریں… جس کے پاس’’دعاء‘‘ کا
جو خزانہ ہو وہ اُسے خوب لُٹائے… اور امیر المؤمنین کی حفاظت کی دعاء…افغانستان،
کشمیر اور فلسطین کے مجاہدین کی کامیابی… اور حفاظت کی دعاء… اور مُلاّبرادر صاحب
کی عزت، ناموس، رہائی اور عافیت کی دعاء… خبر آرہی ہے کہ… مولاناابو جندل صاحب
زید قدرہ کا استقبال خوب چل رہا ہے… ما شاء اللہ ،
بارک اللہ … ہزاروں مسلمانوں نے ایمان افروز… اور پر جوش نعروں سے
انہیں’’خوش آمدید‘‘ کہا ہے… علماء کرام نے اُن کے استقبال میں نئی نظم پیش کی ہے…
اور ہمارے زمانے کے شاعرِ اسلام جناب پروفیسر انور جمیل صاحب نے بھی
اپنا نیا کلام نچھاور فرمایا ہے… اللہ تعالیٰ اس مجلس کو
اپنی رحمت سے قبول فرمائے اور خیر کا ذریعہ بنائے… دنیا کی اس زندگی میں خوشی اور
غم دونوں آتے جاتے رہتے ہیں… خود کو خوشی کا ایسا عادی نہ بنایا جائے کہ غم کے
وقت ناشکری ہونے لگے… ہماری تاریخ میں ایک طرف غزوہ بدر ہے تو دوسری طرف غزوہ
اُحد… ایک طرف مال غنیمت اور قیدیوں کے ڈھیر ہیں… تو دوسری طرف شہداء کرام کے
جسموں کے ٹکڑے… مؤمن کا کام یہ ہے کہ وہ خوشی اور فتح
کو اللہ تعالیٰ کافضل سمجھ کر’’شکر‘‘ ادا کرے… اور شکست اور
غم کو اللہ تعالیٰ کی تقدیر کا حصہ سمجھ کر’’صبر‘‘ کرے…
کامیابی نہ خوشی میں ہے نہ غم میں… نہ فتح میں ہے نہ شکست میں…
کامیابی… ایمان اور وفاداری میں ہے… اللہ تعالیٰ کے ساتھ
وفاداری… آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وفاداری… دینِ اسلام کے
ساتھ وفاداری… اسی لئے غزوہ اُحد کے شہداء اور زخمیوں سے فرمایا گیا کہ!… تم ہی
غالب اور بلند ہو… اگر تم ایمان پر ہو… حالات فیصلہ کُن موڑ پر پہنچ رہے ہیں… ہم
سب مسلمانوں کو ہر طرح کی صورتحال کے لئے تیار رہنا چاہئے… یا
اللہ ہمیں ایمانِ کامل نصیب فرما… اورہمیں ایمان پر استقامت نصیب فرما…
آمین یا ارحم الراحمین
وصلی اللہ علی النبی الامی الکریم
سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے چارسچے’’عاشقوں‘‘ کا تذکرہ
کر رہا ہوں … معلوم نہیں ہمارے حالات عشق کی یہ پرانی داستان لکھنے کی اجازت دیتے
ہیں یا نہیں… مجھے تو ان’’عاشقوں‘‘ کی یاد نے ہر طرح کے حالات اور نتائج سے بے
پروا ہ کر دیا ہے…
جا بھی اے ناصح! کہاں کا سود اور کیسا زیاں؟
عشق نے سمجھا دیا ہے عشق کا حاصل مجھے
تذکرہ ہو’’شہیدوں‘‘ کا تو پھر’’شہادت‘‘ سے کیا ڈر… تذکرہ
ہو’’ایمان والوں‘‘ کا تو پھر’’قربانی‘‘ سے کیا ڈر… آج تو دل چاہتا ہے کہ ان چار
عاشقوں کی شان میں پوری کتاب لکھ دوں… لکھتا جاؤں، لکھتا جاؤں… اور پھر اپنے قلم
کو توڑ کر وہاں چلا جاؤں…جہاں وہ چلے گئے ؎
شیشہ مست و بادہ مست و حسن مست و عشق مست
آج پینے کا مزہ پی کر بہک جانے میں ہے
وہ ہمارے بعد’’مے خانے‘‘ میں آئے… اور ہم سے زیادہ پی گئے…
ہم کھڑے منہ دیکھتے رہے اور وہ مدہوشی کے مزے اٹھاتے منزل کی طرف کوچ کر گئے…
پھربھی دل کو تسلّی ہے کہ وہ ہمارے ہی’’ہم پیالہ ‘‘ تھے… اب اُن کی یاد میں لکھنے
بیٹھا ہوں تو میرا کلام اور قلم دونوں بہک رہے ہیں…
صحبتِ رنداں سے واعظ کچھ نہ حاصل کر سکا
بہکا بہکا سا مگر طرزِ کلام آہی گیا
کچھ لوگوں پر اللہ تعالیٰ کافضل بہت زیادہ ہوتا
ہے… مالک کی مرضی جس کو چاہے جتنا دے، جس کو چاہے جتناپلا دے…
اچھا پہلے ان چار’’اولیاء‘‘ کے نام تو پڑھ لیں…
(۱) عبدالرشید
(۲) محمد عدنان
(۳) اختربلوچ
(۴) محمدکامران عثمان
میرے دل میں اس بات کا یقین ہے کہ… ان چاروں کے لئے جو دعاء
کر ے گا وہ خود اپنا بھلا کرے گا… ان چاروں کے لئے جو ایصال ثواب کرے گا وہ خود
بڑا ثواب پائے گا… انشائ اللہ ، ان شاء اللہ
، ان شاء اللہ … ہاں یہ لوگ زمانے کے خاص الخاص بزرگ تھے…
جوان بزرگ، ارے جوان کہاں بالکل نوجوان… آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کے لشکر کے شیر دل سپاہی… زندہ ولی… کل بھی زندہ… اور آج بھی
زندہ ولی… القلم پڑھنے والو!…کیا میں آپ سب کو ان کا ’’پتا‘‘ بتادوں؟… فون نمبر
دے دوں؟… اللہ پاک کی قسم یہ اس قابل ہیں کہ اُن کی زیارت
کے لئے لمبا سفر کیا جائے،بہت سا مال قربان کیا جائے… مگر اب اُن سے ملاقات آسان
نہیں، مشکل بن گئی ہے… وہ اب’’ترقی یافتہ‘‘ بڑے لوگ بن گئے ہیں…
اپنی اپنی وسعتِ فکرو یقیں کی بات ہے
جس نے جو عالم بنا ڈالا، وہ اُس کا ہو گیا
کہاں ترقی یافتہ لوگ… اور کہاں تیسری دنیا کے دھکے کھاتے ہم
لوگ …
ہم نے سینے سے لگایا، دل نہ اپنا بن سکا
مسکرا کر تم نے دیکھا، دل تمہارا ہو گیا
آپ کسی نوجوان سے کہیں کہ… اپنے موبائل سے لڑکیوں کی
تصویریں ہٹا دو… کیا وہ ہٹادے گا؟… آپ کسی نیک تاجر سے کہیں کہ اپنا آدھا
کاروبار اللہ پاک کے لئے قربان کر دو… کیا وہ ایسا کردے
گا؟… آپ کسی بزرگ آدمی سے کہیں کہ اپنی دکانوں اور مکانات میں سے
ایک اللہ پاک کے راستے میں دے دو… کیا وہ دے دے گا؟… آپ
کسی صالح آدمی سے کہیں کہ دل سے ہر تمنا نکال کر شہادت کی دعا ء مانگو… کیا وہ
مانگ لے گا؟… کئی لوگ شہادت مانگتے ہیں… مگرکچھ عرصہ بعد ملے… کئی لوگ مال لگاتے
ہیں مگر دوفی صد… یا زیادہ سے زیادہ دس فی صد… کئی لوگ خواہشات چھوڑتے ہیں… مگر
کتنی؟… ان حالات میں چند طاقتور نوجوان اٹھتے ہیں… سبحان اللہ ،
سبحان اللہ … وہ اپنے جسم پر ہر گناہ حرام کر لیتے ہیں … دل سے دنیا کی
ہر تمناکھرچ دیتے ہیں… دماغ پر’’عشق الہٰی‘‘ کا نشہ سوار کر لیتے ہیں… اور پھر خود
کو طرح طرح کی مشقتوں میں ڈال کر… قربانی کے قابل بناتے ہیں… گھنٹوں دوڑنا، پہاڑوں
کو روندنا … پانی کے سینے کو چیر کر تیرنا… بھاری
بھاری وزن اٹھانا… شادی کے لئے نہیں، تمغے اور مقابلے کے لئے نہیں… بلکہ قربان
ہونے کے لئے… دنیا میں رنگا رنگ فلمیں چل رہی ہیں…مگر اُن کے دل میںانہیں دیکھنے
کی خواہش نہیں… دنیا طرح طرح کے کھانے اور فاسٹ فوڈز تیار کر رہی ہے… مگر اُن کو
ان کھانوں کی رغبت نہیں… دنیا طرح طرح کی گاڑیاں… اور چمکدار لائف اسٹائل متعارف
کرارہی ہے… مگر اُن کے دل میں ان کی جھاڑو برابر قدر نہیں…دنیا میں ایک سے ایک
حسین لڑکی پڑی ہے… مگر اُن کے دل میں کسی کا چہرہ نہیں… دنیا میں جہاد چھوڑنے کی
ایک سے بڑھ کر ایک تاویلیں موجود ہیں… مگر اُن کو اِن تاویلوں کی پرواہ نہیں… وہ
’’ اللہ تعالیٰ‘‘ کو مانتے ہیں… اللہ تعالیٰ کی
عبادت کرتے ہیں… اللہ تعالیٰ کے دین کی عظمت چاہتے ہیں… صبح
شام اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں…
اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے
لئے اللہ تعالیٰ کے در پر ذبح ہونا چاہتے ہیں… ؎
ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی
اب تو آجا اب تو خلوت ہو گئی
وہ اونچی منزل کے پیچھے پڑے… اور چھوٹی خواہشیں انہوں نے دل
سے نکال دیں ؎
پوچھنا کیا، کتنی وسعت میرے پیمانے میں ہے
سب اُلٹ دے ساقیا! جتنی بھی مے خانے میں ہے
ایک ایسا راز بھی دل کے نہاں خانے میں ہے
لطف جس کا کچھ سمجھنے میں نہ سمجھانے میں ہے
وہ اللہ تعالیٰ سے’’ملاقات‘‘ کی
تیاری میں تھے… دنیا کی ہر لذت اور رنگینی اُن کے لئے’’مٹی‘‘ کی طرح بے قدرہو چکی
تھی کہ… اچانک ایک رات محبت کا پیغام آہی گیا…
محبت کا، بالآخر رقص بے تابانہ کام آیا
نگاہ شرمگیں اُٹھی، سلام آیا، پیام آیا
ادب اے گردش دوراں!کہ پھر گردش میں جام آیا
سنبھل اے عہد تاریکی!کہ وقتِ انتقام آیا
نہ جانے آج کس دُھن میں زباں پر کس کا نام آیا
فضانے پھول برسائے ستاروں کا سلام آیا
اٹھا تعظیم کو ساقی، جھکے شیشے ، بڑھے ساغر
نہ جانے آخرِ شب کون رندِ تشنہ کام آیا
جی ہاں… محبت کا پیغام آگیا… ان چار میں سے ایک کو خواب
میں حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی… اور حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اُسکی تشکیل
فرمادی… اللہ اکبر کبیرا، اللہ اکبر
کبیرا… لیجئے خود اُس ’’ولی‘‘ کے الفاظ میں اِس’’پیغام محبت‘‘ کو پڑھئے…
’’حضو ر اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ
کرامؓ کے ساتھ ایک گھر میں تشریف فرما ہیں، اور باہر ایک مجمع جمع ہے تو اندر سے
ایک آدمی نے دروازے میں آکر میرا نام پکارا کہ اندر آجاؤ! میں جیسے ہی داخل
ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان دو کمروں والوں کو
مار دو جن (دو کمروں) میں ایک ایک آدمی تھا میں نے حکم کے مطابق دونوں کو مار دیا
مگر پتا نہیں کس چیز سے(مارا) تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کوبتایا کہ
دونوں کو مار دیا (ہے) تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کندھے پر ہاتھ
مار کر فرمایا کہ جاؤ مجمع میں بتادو کہ میں نے ان دونوں کو ماراہے۔ میں چل پڑا
لیکن پتہ نہیں دروازے سے باہر آیا یا نہیں اتنے میں آنکھ کھل گئی‘‘…
سبحان اللہ ! آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کے ’’کاشانۂ مبارک‘‘ کے باہر ’’مجاہدین‘‘ کا مجمع جمع ہے… اندرسے
حکم دے کر خاص خاص ’’جانبازوں‘‘‘ کو بلایا جاتا ہے… اُس خوش نصیب کو بھی بُلایا
گیا… اور وہ کام سونپاگیاجو اللہ تعالیٰ کو بھی’’محبوب‘‘
ہے… اور آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی’’محبوب‘‘ ہے… آج پتہ
نہیں کیوں دل بے قرار ہو رہاہے… اندر سے بُلانے والے کس کس کا نام پکار کر اُن کو
لے گئے… معلوم نہیں کس دن قسمت چمکے گی… ہاں وہ بھی خوش نصیب ہیں جو مسلمانوں کو
پکڑپکڑ کر اس مبارک مجمع میں بٹھا رہے ہیں… گلی گلی کوچہ کوچہ الجہاد، الجہاد کی
صدائیں لگا رہے ہیں… اب آپ سب اس انتظار میں ہوں گے کہ… میں آپ کو ان
چار’’اولیاء‘‘ کا پتا بتا دوں اور آپ اُن کے دیدار سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر
سکیں… مگر کیسے بتاؤں؟… میں خود اُن سے نہیں مل سکا… جی ہاں محروم رہا…اور اپنی محرومی
پر افسردہ ہوں… ہاں میری اُن سے خط و کتابت ہوتی ہے… جی ہاں اُن میں سے ایک نے
میرے لئے عطربھی بھیجا ہے… میں وہی عطر لگا کریہ’’داستانِ محبت‘‘ لکھ رہا ہوں… یہ
عطر اُس ’’ولی ‘‘ نے بھیجا ہے جس نے وہ ’’مبارک خواب‘‘ دیکھا تھا… بہت شکریہ پیارے
بہت شکریہ!… اللہ پاک تمہیں او ر تمہارے ساتھیوں کو ہر وہ
خوشی عطاء فرمائے جو تمہارے وہم و گمان سے بھی بڑھ کر ہو… میں بھی ’’عطر‘‘ بھیج
رہا ہوں قبول فرما لینا… اور ہاں ایک احسان بھی کرنا… وہ آدمی جو دروازے پر آکر
نام پکارتاہے… اُس کو کسی’’بے نام‘‘ کا نام بھی یاد دلا دینا… خوش رہو، عاشقو! خوش
رہو!… اللہ پاک تمہارے ’’عملِ مقبول‘‘ کی برکت سے… ہمیں بھی’’ عشق
حقیقی‘‘ نصیب فرما دے… آمین یا ارحم الراحمین
اللھم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلّم
تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے توفیق عطا ء فرمائے آج ان شاء اللہ کئی باتیں عرض کرنی ہیں…اب معلوم
نہیں کہ تمام باتیں عرض ہو سکیں گی یا کچھ رہ جائیں گی…سب سے پہلے تو آپ سب کی
خدمت میں ایک تحفہ پیش کرنا ہے…یہ تحفہ ہے حضرت دائود علیہ السلام کی دعاء…اور پھر
اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک’’اللّطیف‘‘ کے بارے میں چند باتیں بیان کرنی ہیں…اور آخر
میں تذکرہ ایک خوش نصیب مسلمان کا…
حضرت دائودعلیہ السلام کی عجیب دعاء
حضرت سیدنادائود علیہ السلام …اللہ تعالیٰ کے اُن ’’انبیاء
کرام‘‘ میں سے ہیں جن کا مبارک تذکرہ قرآن پاک میں کئی مقامات پر آیا ہے…اللہ
تعالیٰ نے حضرت دائود علیہ السلام کو ’’زبور‘‘ عطاء فرمائی…اور انہیں
زمین پر خلافت وبادشاہت بھی نصیب فرمائی…حضرت دائودعلیہ السلام نے کم عمری کے
زمانے میں’’جالوت‘‘ نامی بڑے کافر کو قتل فرمایا…نادان لوگ کہتے ہیں کہ جہادوقتال
انبیاء دکا کام نہیں…حضرت دائود علیہ السلام کے ہاتھ مبارک میں یہ تاثیرتھی کہ
لوہا آپ کے ہاتھوں میں آتے ہی نرم ہو جاتا تھا اور آپ اُس لوہے سے جنگی زرہیں
بنایا کرتے تھے…اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت عجیب نورانی اور دلکش ’’آواز‘‘ عطاء
فرمائی تھی…آپ جب’’زبور‘‘ کی تلاوت فرماتے تو پہاڑ اور پرندے بھی آپ کے ساتھ اللہ
تعالیٰ کی تسبیح میں مگن ہو جاتے…جہاد اور عدل وانصاف کی برکت سے آپ کی سلطنت زمین
کے ایک بڑے حصے پر پھیل گئی تھی… شام، عراق، فلسطین، شرق اردن…خلیج عقبہ سے لیکر
فرات کے تمام علاقے اور حجاز کے کئی حصّے آپ کی سلطنت میں شامل تھے…اتنی بڑی
بادشاہت کے باوجود آپ ملکی خزانے سے ایک دانہ تک نہیں لیتے تھے…بلکہ اپنے اور اپنے
اہل وعیال کے خرچے کے لئے خود محنت کرکے رزق حلال کماتے تھے… صحیح بخاری شریف میں
روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
ترجمہ’’انسان کا بہترین رزق اس کے اپنے ہاتھ کی محنت سے
کمایا ہوا رزق ہے اور بے شک اللہ کے نبی دائودح اپنے ہاتھ کی محنت سے روزی کماتے
تھے(بخاری، کتاب التجارۃ)
بعض دوسری روایات میں مالِ غنیمت کو ’’پاکیزہ ترین‘‘رزق
قرار دیا گیا ہے…حضرت دائود علیہ السلام کے فضائل ،مناقب،خصوصیات اور قصّے بہت
زیادہ ہیں…اگر آپ نے اللہ تعالیٰ کے اس عظیم ،مقرّب اور شان والے نبی کے حالات
معلوم کرنے ہوں تو قرآن پاک کے درج ذیل مقامات کا کسی مستند تفسیر کے ذریعہ مطالعہ
کرلیں…
٭سورۃ البقرہ آیت(۱۰۲) اور(۲۵۱)
٭سورۃ النساء آیت(۱۶۳)
٭سورۃ المائدہ آیت (۷۸)
٭سورۃ الانعام آیت(۴۸ تا۹۰)
٭سورۃ الاسراء آیت(۵۵)
٭سورۃ الانبیاء آیت(۷۸ تا۸۲)
٭سورۃ النمل آیت(۱۰ تا۴۴)
٭ سورۃ سبأ آیت(۱۰) اور(۱۴)
٭سورۃ ص آیت(۱۷ تا۴۰)
ان تہتر(۷۳) آیات میں سولہ مقامات پرحضرت دائود علیہ السلام کا نام
مبارک بھی مذکور ہے…قرآن پاک نے یہ بھی بتایا ہے کہ …اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود
علیہ السلام کو پرندوں کی بولیاں بھی سکھلا دیں تھیں…اور بھی آپ کے معجزات بہت
زیادہ ہیں…آج ہمارا موضوع حضرت سیدنا دائود علیہ السلام کی سیرت مبارکہ نہیں بلکہ
ایک دعاء ہے…اور یہ دعاء حدیث شریف کی مشہور کتاب’’مصنّف ابن ابی شیبہ‘‘ کی’’ کتاب
الدّعاء‘‘ کے چالیسویں باب میں مذکور ہے…حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت
دائود علیہ السلام یہ دعاء مانگا کرتے تھے…
اَللّٰھُمَّ خَلِّصْنِیْ مِنْ کُلِّ مُصِیْبَۃٍ نَزَلَتِ
الْلَّیْلَۃَ مِنَ الْسَّمَائِ فِی الْاَرْضِ
ترجمہ:یا اللہ مجھے ہر اُس مصیبت سے بچایئے جو آج کی رات
آسمان سے زمین پر نازل ہوئی ہے…
اور یہ دعاء فرماتے :
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ لِیْ سَھْمًا فِیْ کُلِّ حَسَنَۃٍ
نَزَلَتِ الْلَّیْلَۃَ مِنَ السَّمَائِ فِی الْاَرْضِ
ترجمہ:یا اللہ مجھے اُس بھلائی(اور خیر) میں سے حصّہ عطاء
فرمایئے جو بھلائی آج کی رات آسمان سے زمین پر اُتری ہے… (مصنف ابن ابی
شیبہ کتاب الدعاء)
دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ…حضرت دائود علیہ السلام
پہلی دعاء سورج غروب ہونے کے وقت تین بار مانگتے تھے…اور دوسری دعاء صبح سورج طلوع
ہونے کے وقت تین بار فرماتے تھے…اللہ اکبر کبیرا،سبحان اللہ…یہ دونوں
دعائیں بہت نافع،بہت مفید اور بہت پُراثر ہیں…رات کے وقت آسمان سے خیر
اور شردونوں نازل ہوتے ہیں…پہلی دعاء میں ہر شر سے حفاظت مانگی گئی اور دوسری دعاء
میں ہر خیر میں سے حصّہ مانگا گیا ہے…دل چاہتا ہے کہ…یہ میٹھی اور طاقتور دعاء ہر
مسلمان یاد کر لے اور دل کی توجہ سے اس کا اہتمام کرے…
(۱)اَللّٰھُمَّ خَلِّصْنِیْ مِنْ کُلِّ مُصِیْبَۃٍ نَزَلَتِ
الْلَّیْلَۃَ مِنَ الْسَّمَائِ فِی الْاَرْضِ…(تین بار)
(۲)اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ لِیْ سَھْمًا فِیْ کُلِّ حَسَنَۃٍ
نَزَلَتِ الْلَّیْلَۃَ مِنَ السَّمَائِ فِی الْاَرْضِ…(تین بار)
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے پیارے پیارے ناموں کو ’’اسماء الحسنیٰ‘‘
کہتے ہیں…اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ…وہ اللہ تعالیٰ کو ان پیارے
پیارے ناموں سے پکاریں…اور ان ناموں کو پکار کر اللہ تعالیٰ سے دعائیں
مانگیں…’’اسماء الحسنیٰ’’میں سے سب سے مستند’’اسماء‘‘ (یعنی نام)وہ ہیں جو قرآن
پاک میں آئے ہیں…اسماء الحسنیٰ کے بارے میں آپ نے مزید تفصیلات جاننی ہوں تو
’’تحفہ سعادت‘‘نامی کتاب کا مطالعہ کریں…جبکہ عربی اور اُردو میں اس موضوع پر بہت
عمدہ کتابیں موجود ہیں…بات دراصل توفیق کی ہے…اللہ پاک کی نظرِرحمت ہو جائے تو انسان
پر…علم اور توفیق کے دروازے کُھلتے چلے جاتے ہیں…قریب کا قصہ ہے کہ ایک شخص بہت
پریشان تھا…وہ ہر طرف سے مصائب میں گِھر چکا تھا…ایک رات اُس نے خواب میں
اپنے’’شیخ‘‘کی زیارت کی…انہوں نے فرمایا کہ ’’اسماء الحسنیٰ‘‘ پڑھا کرو… آپ یقین
کریں کہ…اُس نے جیسے ہی’’اسماء الحسنیٰ‘‘ کا باقاعدہ وِرد شروع کیا تو حالات بہتر
ہوتے چلے گئے…دراصل ’’اسماء الحسنیٰ‘‘ خیر،بھلائی اور حَسَنَات کا خزانہ ہے… مالک
کی مرضی کہ جس کو اس خزانے میں سے جتنا عطاء فرمادے … حضرات صحابہ کرام تو اسماء
الحسنیٰ میں سے چندایک پڑھ کر دعاء کرتے تھے اور اپنے گھوڑے سمندروں میں ڈال دیتے
تھے…آج کل بہت سے لوگ حالات کی تنگی اور پریشانی کا شکوہ کرتے ہیں…اُن سے گزارش ہے
کہ کچھ توجہ اسماء الحسنیٰ کی طرف بھی کریں…اللہ تعالیٰ کے ’’اسماء الحسنیٰ‘‘میں
سے ایک ’’اللطیف‘‘ جلَّ شانہ ہے…اللہ تعالیٰ کا یہ مبارک’’اسم‘‘قرآن پاک کی کئی
آیات میں مذکور ہے…اور ہر آیت میں اس’’اسم مبارک‘‘ کی الگ تاثیر کی طرف واضح اشارہ
ہے…حضرت یوسف علیہ السلام کے معاملے میں بھی اللہ تعالیٰ کی’’شانِ
لطیفی‘‘پوری طرح ظاہر ہوئی …چنانچہ جب حضرت یوسف علیہ السلام اپنے والدین کو لے کر
مصر کے ’’تختِ حکمرانی‘‘ پر جلوہ افروز ہوئے…اور آپ کے والدین اور آپ کے بھائیوں
نے سجدہ کیا تو حضرت یوسف علیہ السلام بے ساختہ پکار اٹھے…اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ
لِمَایَشَائُ…بے شک میرا رب جو چاہتا ہے اُسے اپنی خفیہ تدبیر…اور مخفی طریقے سے
پورا فرمادیتا ہے…ظاہری طور پر بہت سی چیزوں میں ’’شر‘‘ نظر آرہا ہوتا ہے…مگر اللہ
تعالیٰ جو ’’لطیف‘‘ ہے وہ نہایت لُطف،لطافت،اور باریکی کے ساتھ اُن چیزوں کا انجام
بہت خیروالا بنادیتا ہے…ظاہری طور پر بھائیوں کا حسد،والدین سے جُدائی،قید
وبند،جھوٹی تہمتیں…اور دربدری ہے…مگر اللہ تعالیٰ نہایت لطافت اور باریکی کے ساتھ
انہیں راستوں سے اُن کو …نبوت،خلافت اور دنیا وآخرت کی سعادت کی طرف لے جا رہا
ہے…اگر یہ مصیبتیں نہ آتیں تو پھر اتنے اُونچے علوم اور اتنے اُونچے مقام تک
پہنچنا آسان نہ ہوتا…اسی طرح باقی انبیاء دکے حالات پڑھ لیں…ظاہری طور پر وہ
امتحانات اور مصائب میں ڈالے گئے…مگر بعد میں سب نے دیکھ لیا کہ اللہ تعالیٰ کی
مخفی تدبیر نے ہر چیز کا انجام بہترین بنا دیا…حضرات مفسرین نے ’’اللطیف‘‘ کے
بائیس(۲۲) معانی لکھے ہیں… ہم اُن میں سے بعض کو یہاں نقل کررہے
ہیں…تاکہ ہم جب اپنے رب کو ’’یا لطیف‘‘ کہہ کر پکاریں تو ہمارے ذہن میں…اس نام کی
عظمت اور زیادہ روشن ہو…
(۱) اللطیف…اپنے بندوں کے ساتھ بھلائی کرنے والا…اور اُن پر ایسے طریقے سے احسان
کرنے والا جس کا انہیں گمان تک نہ ہو
(۲) اللطیف:نہایت محبت کے ساتھ اپنے بندوں کی حاجتیں پوری فرمانے والا …
(۳) اللطیف: اپنے اُن بندوں پر لطف وکرم کی بارش برسانے والا جو مخلوق سے مایوس ہو
کر اُس پر توکل کرتے ہیں…جب وہ اُس کے سامنے گڑگڑاتے ہیں تو وہ اُن کی دعاء قبول
فرماتا ہے…اور اُن کی طرف توجہ فرماتا ہے…
(۴) اللطیف:اپنے بندوں کی خوبیاں لوگوں میں پھیلانے والا اور اُن کے گناہوں کو
لوگوں سے چھپانے والا…
(۵) اللطیف:تھوڑے کوقبول کرنے والا اور زیادہ دینے والا…
(۶) اللطیف:اپنے بندوں کو اُن کیإاہلیت سے زیادہ دینے والا اور اُن پر اُن کی طاقت
سے کم کا بوجھ ڈالنے والا…
(۷) اللطیف:وہ جو اپنی نافرمانی کرنے والوں کو جلدی نہیں پکڑتا اور اپنے سے اُمید
رکھنے والوں کو ناکام نہیں فرماتا…
(۸) اللطیف:اُن پر رحم فرمانے والا جو اپنے اوپر رحم نہیں کرتے…
(۹) اللطیف:وہ جس تک انسان کے خیالات تک نہیں پہنچ سکتے…
(۱۰) اللطیف:ہر مشکل کو
آسان فرمانے والا اور ہر نقصان کی تلافی فرمانے والا…
آپ نے اندازہ لگایا کہ…کتنا بڑاسمندرہے…جی ہاں رحمتوں کا
میٹھا سمندر… نرمی، محبت، مخفی طریقوں سے خیر پہنچانا…اور اپنے بندوں پر اُن کے حق
سے زیادہ رحمت فرمانا…آج ہم سب اللہ تعالیٰ کے لطف وکرم کے محتاج ہیں…اس لئے خوب
توجہ اور اہتمام کے ساتھ یا اللہ یا لطیف کا ورد کریں…خوب ورد کریں اور اس نام
مبارک کا خوب مراقبہ کریں…اور اللہ تعالیٰ کے لطف وکرم کے پردوں میں چُھپ جائیں
،گُم ہو جائیں…ڈوب جائیں اور نوراور سکون کے لمبے لمبے غوطے لگائیں…
اَللّٰھُمَّ یَا لَطِیْفُ،یَالَطِیْفُ،یَالَطِیْفُ اُلْطُفْ
بِنَا بِلُطْفِکَ الْخَفِیِّ یَا لَطِیْفُ اُلْطُفْ بِنَافِیْ تَیْسِیْرِ کُلِّ
عَسِیْرٍ…آمین…
اگر آپ نے اسلاف اور اکابر سے منقول ’’یالطیف‘‘ کے ورد کے
بعض طریقے معلوم کرنا ہوں تو…لطف اللطیف اور تحفہ سعادت نامی کتابوں کا مطالعہ
فرمائیں…اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو اس مبارک ’’اسم‘‘ اور تمام’’اسماء
الحسنیٰ‘‘ کی برکات دنیا وآخرت میں نصیب فرمائے…
معذرت
شروع میں تین باتیں عرض کرنے کا ارادہ لکھا تھا…مگر
‘‘کالم‘‘مکمل ہوگیا اور ایک بات رہ گئی… ان شاء اللہ اگلی کسی مجلس میں اُسے بیان
کرنے کی کوشش کی جائے گی…
اللھم صلّ علیٰ سیدنا ومولانا محمد عدد مافی علم اللہ صلوٰۃ
دائمۃ بدوام ملک اللہ عزوجلّ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے نبوت اور رسالت کا سلسلہ
حضرت ’’محمد‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل فرمایا ہے… حضرت محمد صلی
اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول
ہیں… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہ کوئی نبی آسکتا ہے اور نہ کوئی
رسول… ختم نبوت کا تاج اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ
علیہ وسلم کے سرمبارک پر رکھ دیا ہے… آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کے بعد جو کوئی بھی نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے، ملعون ہے،
کافر ہے، ناپاک ہے، مردود ہے… اور جو اس جھوٹے مدّعی نبوت کو مانے… وہ بھی کافر ،
ملعون، ناپاک اور مردود ہے… اور جو کوئی اس جھوٹے نبی کی نبوت کو تو نہ مانے مگر
اُسے یا اُس کے ماننے والوں کو مسلمان سمجھے وہ ملحد، زندیق… اور ایسا خطرناک
گمراہ ہے کہ اُس کی گمراہی پر کفر کا خطرہ ہے… آپ سب نے خبروں میں سُن لیا ہو گا
کہ کراچی میں حضرت لدھیانوی شہیدرحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ
اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما حضرت مولانا سعید احمد جلالپوری کو شہید کر دیا
گیا ہے… اُن کے ایک بیٹے اور کچھ رفقاء بھی اس گلرنگ سفر میں اُن کے ہمسفر بنے
ہیں… اللہ تعالیٰ ان سب کی شہادت قبول فرمائے… دوسری طرف
کراچی کے صاحبِ حال خطیب حضرت مولانا عبدالغفور ندیم رحمۃ اللہ علیہ اور اُن کے
صاحبزادے بھی گولیوں سے چھلنی ہو کر جام شہادت نوش فرما گئے ہیں… دونوں خبریں
پیچھے والوں کے لئے غمناک ہیں… اس لئے ہم سب پڑھتے ہیں
اناللہ وانا الیہ راجعون
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت کو خبر
فرمادی ہے کہ… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس اُمت میں تیس ایسے
دجال پیدا ہوں گے… جو سب نبوت کا دعویٰ کریں گے…
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے
سیکون فی اُمتی کذابون ثلٰثون کلھم یزعم انہ نبی… وانا خاتم
النبیین لانبی بعدی (ا بو داؤد)
’’آئندہ میری اُمت میں تیس بڑے کذّاب(جھوٹے) پیدا ہوں گے،
اُن میں سے ہر ایک اس بات کا دعویدار ہوگا کہ وہ نبی ہے… حالانکہ میں(یعنی محمد
صلی اللہ علیہ وسلم ) آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو گا‘‘…
علامہ ابن حجر س، علامہ بدرالدین عینی س… اور دیگر محدّثین
کرام نے اس حدیث پا ک کی تشریح میں لکھا ہے کہ… یہ’’ تیس کذّاب‘‘ وہ ہوںگے جن کا
فتنہ لوگوں میں پھیلے گا… ورنہ نبوت کا دعویٰ کرنے والے تو بے شمار ہوں
گے… اللہ تعالیٰ رحم فرمائے… ایک مسلمان کس طرح سے اُن
لوگوں کو برداشت کر سکتا ہے جو آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے’’تاج
ختم نبوت‘‘ کی طرف گستاخی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں… ہندوستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع
گورداس پور کے قصبے’’قادیان‘‘ میں ایک شخص پید ا ہوا… غلام احمد اُ س کا نام تھا…
باپ کا نام غلام مرتضیٰ، دادا کا نام عطاء محمد… اور پردادا کا نام گل محمد…
یہ ملعون شخص۱۸۳۹ء یا۱۸۴۰ء میں پید ا ہوا… اور ۲۶ مئی۱۹۰۸ء کو مر گیا… یعنی اسے مَرے ہوئے سو سال سے زائد کا عرصہ
گزر چکا ہے مگر اُس کا فتنہ دنیا کے کئی ملکوں میں پھیل چکا ہے… اس ظالم شخص نے
مہدی، مسیح موعود… اور پھر نبی ہونے کا دعویٰ کیا… اور اسلام کے سینے پر انگریزوں
کی صلیب گاڑنے کی کوشش کی… مجلس تحفظ ختم نبوت اسی فتنے کی سرکوبی کے لئے دنیا بھر
میں محنت کرتی ہے… حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ اسی مجلس تحفظ ختم نبوت
کے ’’امیر‘‘ تھے… حضرت مفتی احمد الرحمن صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا
محمد یوسف لدھیانوی شہیدرحمۃ اللہ علیہ کے بعد دیگرے اس مجلس کے ’’نائب امیر‘‘ رہے…
حضرت مولانا سعید احمد جلالپور رحمۃ اللہ علیہ بھی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بے
لوث خادم تھے… پاکستان میں نبوت اور رسالت کے جھوٹے مدّعی وقتاً فوقتاً سر اٹھاتے
رہتے ہیں… اسلامی خلافت نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کے لئے ہر کفر کی کھلی آزادی ہے…
آج’’مہدی‘‘ کا دعویٰ کرنے والے تو تقریباً ہر شہر میں موجود ہیں… جبکہ تجدید اور
امامت کا دعویٰ کرنے والوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے… نبوت کا دعویٰ کرنے والے کئی
ملعون توفوراً مارے گئے… جبکہ بعض نے الفاظ کے ہیر پھیر سے کام لیکر اپنے فتنے کو
لوگوں میں پھیلا دیا ہے… کچھ عرصہ پہلے’’گوہر شاہی‘‘فتنہ وجود میں آیا… یہودیوں
اورصلیبیوں نے ریاض گوہر شاہی کو فوراً پاکستان سے بحفاظت یورپ منتقل کر دیا… گوہر
شاہی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ چاند پر اُس کی منحوس تصویر ظاہر ہوئی ہے…
اور نعوذباللہ حجر اسود پر بھی اُس کی شبیہ ظاہر ہوئی ہے… یہ
ناپاک شخص ابھی اپنے دعوؤں کی پرواز میں تھا کہ موت کا فرشتہ اُس کو گھسیٹ کر لے
گیا… آج سندھ، پنجاب اور بیرون ممالک میں کئی بدقسمت لوگ اس گمراہ فتنے کا شکار
ہو چکے ہیں… حضرت لدھیانوی شہیدرحمۃ اللہ علیہ نے اپنی
زندگی کے آخری ایام میں گوہر شاہی فتنے پر کتاب جمع کرنا شروع فرمائی تھی… بعد
میں حضرت مولانا سعید احمد جلالپوری رحمۃ اللہ علیہ نے اس کتاب کو مکمل کیا… اور
اہتمام کے ساتھ شائع کیا…
قادیانی فتنہ… دراصل مسلمانوں کے خلاف ایک بڑی سیاسی سازش
ہے… پاکستان کی جڑوں میں یہ فتنہ گھسا ہوا ہے… کئی بڑے صحافی، کئی اہم بیورو کریٹ
اور کئی بڑے فوجی اور سیاستدان یاتو خود خفیہ قادیانی ہیں… یا قادیانیوں کے ہمنوا
ہیں… پاکستان کا جو ادارہ، جو عالم یا جو تنظیم’’قادیانیوں‘‘ کے خلاف کام کرے
امریکہ اور برطانیہ فوراً اُس کے خلاف اقدامات شروع کر دیتے ہیں… قادیانی چوہے اُن
علماء کرام کو دھمکی آمیز خطوط بھی لکھتے ہیںجو علماء کرام قادیانیوں کے خلاف کام
کرتے ہیں… الحمدللہ ، الحمدللہ ثم الحمدللہ اس طرح کے خطوط مجھے بھی مل چکے ہیں…
مجھے بہت خوشی ہوئی کہ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے
دشمن مجھ سے پریشان ہیں… قادیانیوں کے علاوہ پاکستان میں’’ختم نبوت‘‘ کے اور بھی
کئی دشمن اور گستاخ موجود ہیں… یہ بڑی بڑی کوٹھیوں میں رہتے ہیں اور بظاہر بہت
پڑھے لکھے اور مہذّب سمجھے جاتے ہیں… ان سب کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ… یہ اپنی
طرف سے مستقبل کے بارے میں طرح طرح کی پیشین گوئیاں کرتے رہتے ہیں… او ر لوگوں کو
اُن کے مستقبل کے حالات بتا کر اپنے جال میں پھنساتے رہتے ہیں… یہ لوگ اپنی بات
’’انسانیت‘‘ سے شروع کرتے ہیں… پھر’’روحانیت‘‘ کو اپنا موضوع بناتے ہیں… نہ دل
اسلامی، نہ گھر اسلامی، نہ شکل اسلامی، نہ لباس اسلامی، نہ کھانا پینا اسلامی…
مگر’’روحانیت‘‘ کے اونچے اونچے اشارے… یہ عجیب روحانیت ہے جو بے پردہ لڑکیوں کے
درمیان بیٹھ کر پرواز پکڑتی ہے… اور موسیقی کی دھنوں میں لشکارے مارتی ہے…
’’روحانیت‘‘ کے بعد اگلا سبق علماء کرام کی مخالفت کا ہوتا ہے…تاکہ… اپنے شکار کو
ہر روشنی سے کاٹ دیا جائے… یہ تمام مراحل جب پورے ہو جاتے ہیں تو پھر دعوؤں اور
گمراہیوں کا اصل دروازہ کھولا جاتا ہے… پاکستان میں ایسے بے شمار’’بزرگ‘‘ موجود ہیں
جن کے بقول اُن کے لئے براہ راست’’بغداد‘‘ سے احکامات آتے ہیں… یعنی حضرت شیخ
عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اُن سے ملاقاتیں کرتے ہیں ، اُن کو احکامات دیتے
ہیں… اُن کے ذریعے ملک کے بڑے اور مالدار لوگوں تک اپنے پیغامات، خطوط اور گدڑیاں
پہنچاتے ہیں… ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو صاحب کشف کہلاتے ہیں… اور انہیں کشف ہوتا
ہے کہ فلاں ایس پی کب ڈی آئی جی بنے گا… فلاں صحافی کب ترقی کرے گا… اور فلاں
سیاستدان کب حکومت پائے گا… حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ سارے امام، مجدّد، مہدی… صرف
مالداروں میں کام کرتے ہیں… اور سیاسی اثرورسوخ رکھنے والوں تک ’’روحانی
میسج‘‘پہنچاتے ہیں… غریبوں کے لئے ان کے پاس کوئی پیغام، کوئی پیشین گوئی اور کوئی
خوشخبری نہیں ہے… اللہ تعالیٰ اُمت مسلمہ پر رحم فرمائے…
اگر ہم صرف اتنی بات سمجھ لیں کہ دین میںترقی قربانی سے ہوتی ہے توہم… بہت سے
لٹیروں اور گستاخوں سے بچ سکتے ہیں… کیونکہ یہ لو گ دین کی خاطر کوئی قربانی نہیں
دیتے… بلکہ مشرکین کی طرح نعوذب اللہ اسلام کو بھی… دنیاوی حاجتیں پوری
کرنے کا ایک آستانہ سمجھتے ہیں… گمراہی کے تاریک بادل تیزی سے اندھیرا پھیلا رہے
ہیں… طرح طرح کے پروفیسر، طرح طرح کے جعلی پیر، طرح طرح کے نقلی مہدی… طرح طرح کے
خود ساختہ خلیفے اور امام… اور طرح طرح کے اسلامی سکالر… پھر ان سب کے عجیب
عجیب’’کشف‘‘ عجیب عجیب پیشین گوئیاں… اور عجیب عجیب دعوے… کہاں جہاد، کہاں قربانی،
کہاں راتوں کی بیداری… اور کہاں سجدوں کے آنسو… دنیا، دنیا اور دنیا… روحانیت کے
جھوٹے دعوے اور میڈیا کے زور پر امریکہ اور اسرائیل ختم کرنے کے ڈھکوسلے… مسلمان
تو ایک کمزور چوزے کی طرح لرز رہا ہے… اور گمراہی کی یہ’’چیلیں‘‘ جھپٹ جھپٹ
کرمسلمانوں کو نوچ رہی ہیں… اور اٹھا اٹھا کرتاریکی کے گڑھوں میں ڈال رہی ہیں…
بزدل اور وہمی سیاستدانوں نے اپنی حفاظت کے لئے طرح طرح کے ستارہ شناس… اور
پروفیسر پال رکھے ہیں… اور ان میں سے کئی ایک ختم نبوت کے منکر… اور کافروں کے یار
ہیں… ان حالات میں مسلمان کہاں جائیں… ہم مسلمانوں سے سب کچھ چھن گیا… نہ خلافت
رہی، نہ حکومت رہی… نہ کوئی اسلامی فوج اور نہ کوئی اسلامی بم… ایک زمانے تک ہم
دنیا سے ’’جزیہ‘‘ لیتے تھے مگر آج سانس لینے پر بھی کافروں کو ٹیکس دیتے ہیں… اب
توہمارے پاس ایک ہی چیز باقی ہے… اور وہ ہے جناب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت… آج اسی
نسبت کے سہارے ہم دنیا میں موجود ہیں… اور ہم میں سے خوش نصیب اسی نسبت کی برکت
سے… جہاد جیسا عظیم عمل سرانجام د ے رہے ہیں… ظالموں کی کوشش ہے کہ … وہ ہم سے یہ
نسبت چھین لیں… اے مسلمانو! اگر ہم سے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی
نسبت چھن گئی تو پھر ہماری جھولی میں کیا رہ جائے گا… کس قدر دردناک عذاب ہے کہ…
ہم آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے محروم ہو کر… کسی کذاب کی
طرف منسوب ہو کر مریں… تھوک دو ہر قادیانی پر… اور قادیانیوں سے نرمی کرنے والوں
پر… تھوک دو ہر ملعون گوہر شاہی … اورہر یوسف کذّاب پر…
مسلمانو! مرجانا، کٹ جانا اور جل جانا برداشت کر لو مگر ختم
نبوت کے تاج کی طرف اٹھنے والا کوئی ہاتھ برداشت نہ کرو… یہ ٹھیک ہے کہ… قادیانیوں
اور دوسرے اسی طرح کے فتنوں کے ساتھ امریکہ، برطانیہ، اسرائیل، انڈیا… اور کرائے
کے قاتل ہیں… مگر یہ بھی تو یاد رکھو کہ… اسلام اور تحفظ ختم نبوت پر مر مٹنے
والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہے… اور ہمارے لئے ’’
اللہ تعالیٰ‘‘ ہی کافی ہے… وہی بہترین کام بنانے والا… اور بہترین
مددگار ہے…
حسبنا اللہ و نعم الوکیل نعم المولیٰ
و نعم النصیر
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ
سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
للہ تعالیٰ اُمّت مسلمہ پر رحم فرمائے… اللہ کے بندو ! کیا
کوئی مسلمان بھی بے نمازی ہو سکتا ہے؟… وہ دیکھوبازار بھرے پڑے ہیں اور مسجد آنسو
بہا رہی ہے… یا اللہ یہ سب کچھ ہماری آنکھیں دیکھ رہی ہیں… اذان ہوگئی
مگر مسلمان نماز کے لیے نہیں آرہے۔ یہ کیسے ممکن تھا؟ مگر معاملہ تو بہت خطرناک
ہوتا جارہا ہے… مسلمان مالک اور آفیسر اپنے ملازموں کو نماز سے روک رہے ہیں… کہ
کاروبار خراب نہ ہوجائے… اسکولوں والے طلبہ کو نماز سے روک رہے ہیں… کہ تعلیم خراب
نہ ہوجائے… لعنت ہو ایسے کاروبار پر اور ایسی تعلیم پر… نماز چھوڑنا تو کُفر ہے…
جی ہاں عملی کُفر… رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے
میں منافقوںکو بھی نماز میں آنا پڑتا تھا… کیونکہ نماز کے بغیر کسی کے مسلمان
ہونے کا دعویٰ قبول نہیں کیا جاتا تھا… مشہور تابعی حضرت عبداللہ بن شقیق رحمۃ
اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نماز چھوڑنے کو
کُفرسمجھتے تھے
کان اصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لایرون شئیا من
الاعمال ترکہُ کفر غیر الصلوٰۃ ۔ (مشکوٰۃ بحوالہ ترمذی)
پھر یہ سب کچھ کیا ہے؟… حکمران بے نمازی، مگر اسلام کے
اونچے اونچے دعوے… لیڈر بے نمازی، رہنما بے نمازی، فوج اور پولیس بے نمازی… مگر ان
سب کو گمان ہے کہ وہ اونچی نسل کے مسلمان ہیں… اذان ہو جاتی ہے مگر اُسے سُن کر
’’صاحب‘‘ کی میٹنگ برخواست نہیں ہوتی… پرویز مشرف تو جان بوجھ کر جمعہ کی نماز کے
وقت اجلاس جاری رکھتا تھا… ہائے میرے مالک نماز جیسے اسلام کے ’’رکنِ اعظم‘‘ کی یہ
بے حرمتی… قرآن پاک سمجھاتا ہے کہ … شیطان تمہیں نماز سے روکنا چاہتا ہے… جی ہاں
شیطان اور اُس کے چیلے انسان ہوں یا جنّ… مسلمانوں کو نماز سے روکتے ہیں… کیونکہ
وہ جانتے ہیں کہ نماز سے ایمان نصیب ہوتا ہے… اور ایمان سے جنت اور کامیابی ملتی
ہے… جبکہ شیطان کا مشن ہی یہ ہے کہ مسلمان ناکام ہو جائے… انسان برباد ہو جائے…
اللہ کے بندو! شیطان تو پوری محنت سے اپنا کام کر رہا ہے… لوگوں کو نماز سے روک
رہا ہے… ظالم اتنا بوڑھا ہو کر بھی نہیں تھکتا… اور اپنا کام اتنا پھیلا کر بھی
آرام نہیں کرتا… تو پھر اللہ پاک کے بندے دین کی دعوت دینے میں محنت کیوں نہیں کر
رہے… وہ کیوں اتنا جلدی تھک جاتے ہیں… وہ دیکھو! میرے آقا صلی اللہ
علیہ وسلم کی اُمت میں کتنی تیزی سے کُفر اور ارتداد پھیل رہا ہے… کوئی
ہے اس دردناک صورتحال پر رونے اور تڑپنے والا؟… اللہ کے بندو! جب نماز نہیں ہوگی
تو ایمان کتنے دن سلامت رہے گا؟… بغیر ستون کے عمارت؟… بغیر سر کے جسم؟… بے نمازی
بہت جلدی کُفر کا شکار ہو جاتا ہے… العیاذ باللہ العیاذ باللہ… بے نمازی کا دل ایک
درندے کے دل سے زیادہ حریص اور زیادہ ظالم ہو جاتا ہے… بے نمازی خود کو مسلمان کہہ
کر کس بے دردی سے اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں… کس بے دردی سے مسلمانوں کو قتل کرتے
ہیںاور کس بے حیائی سے کھلم کھلّا گناہ کرتے ہیں… اللہ کے بندو! اس اُمت کو بچانا
ہے تو اسے نماز پراور جہاد پر لانا ہوگا… ورنہ کچھ پتہ نہیں چلے گا کہ کون اپنا ہے
اور کون غیروں کا ایجنٹ… آج کی بے نور عورتوں کو نماز کا نور ملے گا تو مسلمان کے
حالات میں بہتری آئے گی… ورنہ تو یہ غافل اور حریص عورتیں ہر کفر کو ہمارے گھر کے
دروازے تک لے آئیں گی…
اقامت صلوٰۃ مہم الحمدللہ شروع ہو چکی ہے… زیادہ سے زیادہ
مسلمان مَردوں اور عورتوںتک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دو… یہ پیغام رسول ِ
کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یوں نازل ہوا …
’’میرے ایمان والے بندوں سے کہہ دو کہ نماز قائم
کریں‘‘…(القرآن)
دیکھو، دیکھو رب تعالیٰ کتنے پیار سے اپنے بندوں کو نماز کا
حکم فرما رہا ہے… ذرا قرآن پاک میں نماز والی آیات تو پڑھ کر دیکھو… اور پیارے
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو آخر وقت تک اپنی اُمت
کو نماز کی طرف بلایا…
’’نماز کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو، نماز کے بارے میں
اللہ تعالیٰ سے ڈرو، نماز کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو‘‘ (الحدیث)
اے مسلمانو! اے نماز ادا کرنے والو!… آپ سب مرد اور عورتیں
اس مہم میں شامل ہو جائیں… نماز کو اپنی زندگی کا سب سے اہم کام بنا لیں… نماز کو
سنت کے مطابق خشُوع سے ادا کرنے کی پوری زندگی محنت کریں… اپنی اولاد کو نماز پر
لگائیں… کھانے پینے اور سونے کے اوقات کی ترتیب نماز کا خیال رکھ کر بنائیں… نوکری
، ملازمت، کاروبار میں نماز کو معیار بنا کر ترتیب بنائیں… رشتے دیں یا لیں نماز
کو سب سے پہلے دیکھیں… دوستی کرنی ہو یا ملازم رکھنا ہو سب سے پہلے نماز کو
دیکھیں… پوری زندگی اپنی نگرانی کریں کہ نماز کیسی جارہی ہے… جب بھی سُستی، غفلت
یا کمی محسوس ہو تو فوراً ڈر جائیں کہ بیماری لگ چکی ہے… ایمان خطرے میں ہے… تب اس
طرح محنت سے اپنا علاج کریں جس طرح کینسر کا مالدار مریض کرتا ہے… اے مسلمانو!…
نماز سے محروم ہونا کینسر سے بہت زیادہ خطرناک ہے… روزآنہ کسی نہ کسی کو نماز کی
دعوت دیں… یہ اُمت بہت اونچے کام کے لیے آئی ہے اُس کام کا اہل بننے کے لیے اسے
اپنی نماز اور اپنے جہاد کو پختہ کرنا ہوگا… اقامتِ صلوٰۃ مہم شروع ہو چکی ہے… آپ
سب ہر نماز کے بعدیہ دعا ضرور کریںکہ… اللہ تعالیٰ اس مہم کو کامیاب بنائے اور اسے
قبول فرمائے…
گرانقدر قرآنی تحفہ
اس مبارک مہم میں شرکت کے لیے سعدی فقیر نے بھی تھوڑی سی
کوشش کی ہے… اللہ تعالیٰ قبول فرمائے… قرآنِ پاک تو سب کے لیے نازل ہواہے… ہر
مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ … وہ معلوم کرے کہ قرآن پاک نے اُسے کیا سمجھایا ہے…
قرآن پاک نے نماز کا حکم بھی بہت تاکید سے دیا ہے… اور نماز کے فوائد کھول کھول
کر بیان فرمائے ہیں… بندہ نے قرآن پاک کی اکثر ’’آیاتِ صلوٰۃ‘‘ کا ایک مختصر
خُلاصہ ترتیب دیا ہے… آپ اسے پڑھ لیں گے تو قرآن پاک کے ’’حکم نماز‘‘ کا ایک
مختصر خاکہ آپ کے ذہن میں آجائے گا… اسے پڑھنے سے آپ کو ان شاء اللہ اجر و ثواب بھی ملے گا… اور عمل کی
ہمت اور حوصلہ بھی… اور طلبۂ علم کے لیے تحقیق کا دروازہ کھلے گا کہ … قرآن پاک
میں جہاں بھی نماز کا حکم آیا ہے… وہاں ’’تکرار‘‘ نہیں بلکہ ہر جگہ نئے فوائد ہیں
اور نئی حکمتیں… کیونکہ یہ ’’الحکیم جلّ شانہ‘‘ کا کلام ہے…
ہر مسلمان کو چاہیے کہ … نہایت محبت، احترام اور توجہ سے
ایک بار اس خلاصے کو پڑھ لے… یہ نماز کی تمام آیات کا خلاصہ نہیں بلکہ اکثر کا
ہے… اور خلاصہ میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ آیات کا ترجمہ نہیں… مفہوم اور مضمون
ہے… ملاحظہ فرمائیے ’’دعوتِ نماز‘‘ کا قرآنی تحفہ…
قرآنی تحفہ
۱۔ ہدایت اور تقویٰ حاصل
کرنے کے لیے نماز کی پابندی لازمی ہے… نماز کی پابندی کے بغیر ہدایت اور تقویٰ
حاصل نہیں ہوسکتے (البقرہ :۲،۳)
۲۔ نماز کا پورااہتمام
کرو اور نماز باجماعت ادا کیا کرو (البقرہ: ۴۳)
۳۔ نماز کے ذریعہ اللہ
تعالیٰ کی مدد حاصل کرو (البقرہ: ۴۵)
۴۔ نماز اُن لوگوں کے
لیے بھاری ہے جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شوق
نہیں ہے … جن کے دلوں میں یہ نعمت موجود ہے اُن کے لیے نمازہرگز بوجھ
نہیں (البقرہ: ۴۶)
۵۔ نماز وہ اہم فریضہ ہے
جس کا اللہ تعالیٰ نے ماضی میں بھی اپنے بندوں سے عہد
لیا (البقرہ: ۸۳)
۶۔ نماز آخرت میں بہت
کام آنے والا عمل ہے (البقرہ: ۱۱۰)
دشمن جب بہت ایذا پہنچائیں تو نماز اور زکوٰۃ کے ذریعہ ہمت
اور حوصلہ حاصل کرو (البقرہ: ۱۱۰)
۷۔ جہاد اور نماز کے
ذریعہ اللہ تعالیٰ سے مدد حاصل کرو، اِ ن دو اعمال کی پابندی سے دین کے سب کام
آسان ہو جاتے ہیں (البقرہ: ۱۵۳)
۸۔ نمازوں کی بہت زیادہ
حفاظت کرو، خصوصاً عصر کی نماز کا خوب اہتمام کرو (البقرہ: ۲۳۸)
۹۔ نماز میں ادب کے ساتھ
اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہواکرو (البقرہ: ۲۳۸)
۱۰۔ حالت خوف میں بھی نماز معاف نہیں، جیسے
بَن پڑے پیدل ہو یا سوار ادا کرو (البقرہ: ۲۳۹)
نکاح اور طلاق کے تذکرے میں نماز کی پابندی کا حکم ارشاد
فرمایا…پس معلوم ہوا کہ انسان کی ذاتی اور گھریلو زندگی کی اصلاح میں بھی نماز کا
بہت دخل ہے (واللہ اعلم بالصواب)
۱۱۔ ایمان والے سودی کاروبار نہیں کرتے بلکہ نماز اور
زکوٰۃ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے بہترین بدلہ پاتے ہیں، اور آخرت کے خوف اور غم سے
نجات حاصل کرتے ہیں (البقرہ: ۲۷۷)
۱۲۔ حضرت زکریا علیہ السلام کو نماز کے دوران بڑی بشارت
دی گئی… (معلوم ہوا کہ نماز خاص رحمتوں کے نزول کا ذریعہ ہے) (آل
عمران: ۳۹)
۱۳۔ نمازاللہ تعالیٰ کے فرمانبرداروں کی اہم علامت
ہے (آل عمران: ۴۳)
۱۴۔ نشے اور ناپاکی کی حالت میں نماز نہ پڑھو، بلکہ نماز
کے لیے دل، دماغ اور جسم حاضر اور پاک رکھو (النساء: ۴۳)
۱۵۔ حالتِ جنگ اور سفر میں بھی نماز معاف نہیں، البتہ
قصر اور صلوٰۃِ خوف کی اجازت ہے، حالتِ جنگ میں نماز کا ایسا طریقہ اللہ تعالیٰ نے
سکھا دیا کہ نماز بھی نہ چھوٹے اور جہاد بھی چلتا رہے (النساء: ۱۰۱، ۱۰۲)
۱۶۔ نماز فرض ہے اور اس کے اوقات اللہ تعالیٰ کی طرف سے
مقرر ہیں، جب حالتِ خوف نہ ہو تو بہت اطمینان اور تمام شرائط ، ارکان اور آداب کی
رعایت کے ساتھ نماز ادا کیا کرو (النساء: ۱۰۳)
۱۷۔ منافقین کی ایک علامت یہ ہے کہ نماز میں سست کھڑے
ہوتے ہیں (النساء: ۱۴۲)
۱۸۔ نماز کامیاب اہل ایمان کی ایک علامت
ہے (النساء: ۱۶۲)
۱۹۔ نماز کی اہمیت کہ اس کے لیے طہارت کا طریقہ اللہ
تعالیٰ نے خود سکھایا اور پانی نہ ہو تب بھی نماز معاف نہیں تیمم کرکے نمازادا
کرو (المائدہ: ۶)
۲۰۔ نماز، مریض اور مسافر کو بھی معاف نہیں،
البتہ اُن کو طہارت وغیرہ کے معاملات میں کچھ آسانیاں دی گئیں
ہیں (المائدہ: ۶)
۲۱۔ نماز اللہ تعالیٰ کی معّیت، نصرت، مغفرت اور جنت
حاصل کرنے کا ذریعہ ہے (المائدہ: ۱۲)
۲۲۔ مسلمانوں کے دوست اور خیرخواہ وہی مسلمان ہو سکتے
ہیں جو نماز اور زکوٰۃ کے پابند ہیں (المائدہ: ۵۵)
۲۳۔ کافر اذان کی آواز سے جلتے ہیں اور اُس کا مذاق
اڑاتے ہیں (المائدہ: ۵۸)
۲۴۔ شیطان چاہتا ہے کہ وہ مسلمان کو شراب، جوئے ، وغیرہ
میں لگا کر نماز سے روک دے… اے مسلمانو! ان غفلت والی چیزوں سے باز
آجائو (المائدہ: ۹۱)
۲۵۔ اللہ تعالیٰ کا اصلی حکم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ہی
مانگو، اور دعاء کی سب سے عمدہ صورت ’’نماز‘‘ ہے تو نماز کا خوب اہتمام
کرو (الانعام: ۷۲)
۲۶۔ قرآن پاک اور آخرت پر ایمان رکھنے والے نمازوں کا
بہت اہتمام کرتے ہیں (الانعام: ۹۲)
۲۷۔ فرمانبرداری کے نصاب میں پہلا عمل نماز ہے… نماز صرف
اللہ تعالیٰ کے لیے (الانعام: ۱۶۲)
۲۸۔ نمازکے لیے زینت یعنی لباس وغیرہ سے آراستہ ہو کر
آئو (الاعراف:۳۱)
۲۹۔ نماز اہلِ ایمان کی اہم علامت
ہے (الانفال:۳)
۳۰۔ کافر اگر ایمان کا دعویٰ کریں تو اُن کا
دعویٰ تب معتبر ہوگا جب وہ نماز اور زکوٰۃ کا اہتمام
کریں (التوبہ: ۵)
۳۱۔ اسلامی برادری میں شامل ہونے کے لیے ایمان قبول کرنے
کے بعد نماز اور زکوٰۃ کا اہتمام لازمی ہے (التوبہ: ۱۱)
۳۲۔ ہدایت یافتہ ہونے کے لیے نماز لازمی
ہے (التوبہ: ۱۸)
۳۳۔ منافق نماز کے معاملے میں
سُست (التوبہ: ۵۴)
۳۴۔ ایمان والی جماعت کی ایک بڑی علامت نماز کا اہتمام
ہے (التوبہ: ۷۱)
۳۵۔ منافق کی نماز جنازہ ادا نہ کی
جائے (التوبہ: ۸۴)
۳۶۔ نماز اُن مقبول اور کامیاب مجاہدین کی ایک علامت ہے
جن کی جانوں کو اللہ تعالیٰ نے جنت کے بدلے خرید لیا ہے (التوبہ: ۱۱۲)
۳۷۔ دشمنوں کے شدید غلبے کے وقت بھی نماز قائم رکھنے کا
حکم (یونس:۸۷ )
۳۸۔ نماز کی پابندی کرنے والوں کی بُرائیاں دور کر دی
جاتی ہیں (ہود:۱۱۴)
۳۹۔ اللہ کے بندوں کو یہ پیغام پہنچا دو کہ قیامت کا دن
آنے سے پہلے نماز اور مالی عبادتوں کا اہتمام کرلیں (ابراہیم:۳۱)
۴۰۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے اہل
اولاد کو حرم کے پاس ایک چٹیل میدان میں جا بسایا تاکہ وہ نماز قائم کریں
(ابراہیم:۳۷)
۴۱۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاء کہ اے میرے رب
مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد میں سے بھی نماز قائم کرنے والے
بنا (ابراہیم:۴۰)
۴۲۔ کافروں کی سازشوں، باتوں اور حرکتوں سے دل تنگ ہو تو
نماز کی طرف متوجہ ہو جائو… مرتے دم تک نماز کا اہتمام کرو (الحجر:۹۸، ۹۹)
۴۳۔ ان کافروں کی منصوبہ بازیوں کی فکر نہ کیجئے، اپنے
مالک کی یاد کے لیے نمازوں کو ٹھیک ٹھیک قائم کیجئے… تعلق مع اللہ وہ چیز ہے جو ہر
مشکل اور مصیبت کا حل ہے (بنی اسرائیل ۷۸)
۴۴۔ پانچ نمازوں کے اوقات، فجر کی نماز کی فضیلت کہ اس
میں فرشتوں کی حاضری ہوتی ہے (بنی اسرائیل:۷۸)
۴۵۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ
وسلم کے لیے تہجد کا حکم (بنی اسرائیل:۷۹)
۴۶۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو
آخری دم تک نماز اور زکوٰۃ کی پابندی کا حکم فرمایا (مریم:۳۱)
۴۷۔ حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام اپنے گھروالوں کو
نماز اور زکوٰۃ کا حکم فرماتے تھے (مریم:۵۵)
۴۸۔ نمازیں ضائع کرنا ناخلف اور گمراہ لوگوں کا طریقہ
ہے (مریم:۵۹)
۴۹۔ اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اُسکی یاد کا بڑا طریقہ نماز
قائم کرنا ہے (طٰہٰ:۱۴)
۵۰۔ دشمنانِ اسلام کی باتوں پر دھیان نہ
کریں صبر و سکون کے ساتھ عبادت میں لگے رہیں… اس میں نمازوں کے پانچ اوقات بھی
ارشاد فرمادئیے… نماز سے اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے (طٰہٰ:۱۳۰)
۵۱۔ خود بھی نماز پر مضبوط رہیں اور اپنے اہل وعیال اور
متعلقین کو بھی نماز کی تاکید فرماتے رہیں (طٰہٰ:۱۳۲)
۵۲۔ انبیاء د کو اللہ تعالیٰ نے نماز قائم رکھنے کا حکم
فرمایا (الانبیاء:۷۳)
۵۳۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل ابراہیم علیہ
السلام کو طواف کرنے والوں اور نماز ادا کرنے والوں کے لیے کعبۃ اللہ کو ہر طرح سے
پاک صاف کرنے کا حکم فرمایا (الحج:۲۶)
۵۴۔ اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع کرنے والے کامیاب لوگوں کی
ایک بڑی علامت یہ ہے کہ وہ نماز قائم رکھتے ہیں (الحج:۳۵)
بیت اللہ کی طرف حج کے لیے سفر کرنے والے سفر کی مشکلات میں
نماز سے غافل نہ ہوں
۵۵۔ ایمان والے حکمرانوں کی پہلی ذمہ داری کہ وہ حکومت
ملتے ہی نماز قائم کرتے ہیں (یعنی خود بھی اہتمام سے ادا کرتے ہیں اور مسلمان
رعایا کو بھی اس کا حکم دیتے ہیں)… اللہ تعالیٰ کے منصور اور محبوب مسلمانوں کو جب
زمین پر حکومت ملتی ہے تو وہ سب سے پہلے نماز قائم کرتے ہیں (الحج:۴۱)
۵۶۔ فلاح اور کامیابی حاصل کرنے کے لیے نماز کا اہتمام
بھی ضروری ہے (الحج:۷۷)
۵۷۔ اے مسلمانو! تم بڑے کام کے لیے کھڑے کئے گئے ہو اس
لیے نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ تعالیٰ ہی کو مضبوط پکڑے
رہو (الحج:۷۸)
بے
نمازی مسلمان ’’شہادت علی الناس‘‘ کی ذمہ داری کس طرح سے ادا کرسکتا ہے؟
۵۸۔ ایمان والوں کے لیے کامیابی اور فلاح کے نصاب میں یہ
بھی شامل ہے کہ وہ اپنی نمازیں خشوع سے ادا کریں… اور نمازوں کی بہت زیادہ حفاظت
کریں کہ… اپنے وقت پر باجماعت تمام شرائط و آداب کی رعایت سے ادا
کریں (المومنون:۲،۹)
۵۹۔ مردانِ حق کو تجارت اور دنیاوی مشاغل نماز سے غافل
نہیں کرتے یہی لوگ اللہ تعالیٰ کی مساجد کو آباد کرتے ہیں اور نور کے فیض سے
منوّر ہوتے ہیں (النور:۳۷)
۶۰۔ اگر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے حصہ لینا
چاہتے ہو تو تم بھی اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں کی روش اختیار کرو اور روش یہ ہے
نمازیں قائم کرنا، زکوٰۃ دیتے رہنا اور زندگی کے تمام شعبوں میں رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام پر
چلنا (النور:۵۶)
۶۱۔ ’’رحمن‘‘ کے مخلص بندوں (عبادالرحمن) کی ایک صفت یہ
ہے کہ وہ اپنی راتیں نماز کے رکوع، سجدوں میں گزارتے ہیں (الفرقان:۶۴)
۶۲۔ قرآن پاک ہدایت اور بشارت ہے اُن ایمان والوں کے
لیے جو نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں
(النمل:۳) یعنی قرآن پاک سے فائدہ اُٹھانے کی لازمی شرط ایمان کے بعد
نماز کی پابندی ہے…
۶۳۔ نماز بے حیائی اور بُری باتوں سے روکتی ہے… قرآن
پڑھیں اور نماز ادا کریں نماز سے تمام نقائص دور ہوجاتے ہیں، نماز اللہ تعالیٰ کے
ذکر کا ذریعہ ہے اور ذکر اللہ بہت بڑی چیز ہے (العنکبوت:۴۵)
۶۴۔ جنت چاہتے ہو تو اللہ تعالیٰ کی یاد کرو جو دل،
زبان، اعضاء سب سے ہوتی ہے نماز میں تینوں قسم کی یاد جمع کر دی گئی، پس فرض
نمازوں کے ان اوقات میں نمازوں کا خوب اہتمام کرو (الروم:۱۷، ۱۸)
۶۵۔ نماز قائم کرو اور مشرکین میں سے نہ
بنو (الروم:۳۱)
مسلمانوں کے غلبے کے لیے جو اصول بیان فرمائے ہیں ان میں سے
ایک نماز کی پابندی ہے
۶۶۔ نماز ’’محسنین‘‘ کا طریقہ ہے وہ ’’محسنین‘‘ جو قرآن
پاک سے ہدایت اور رحمت پاتے ہیں (لقمان:۴)
۶۷۔ حضرت لقمان حکیم ؑ نے اپنے بیٹے کو کامیابی اور حکمت
کے جو راز بتائے ان میں سے ایک یہ ہے کہ بیٹا نماز کا خوب اہتمام
کرو (لقمان:۱۷)
۶۸۔ اللہ تعالیٰ کی باتوں کو وہی لوگ مانتے ہیں جو سجدوں
اور نمازوں کے عاشق اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنے والے
ہیں (السجدہ:۱۶)
۶۹۔ ازواج مطہرات، اُمہات المومنین (رضی اللہ عنہن) کو
نماز کا تاکیدی حکم (الاحزاب:۳۳)
۷۰۔ رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کی دعوت سے فائدہ وہی لوگ اٹھاتے ہیں جو بن دیکھے اللہ تعالیٰ سے
ڈرتے ہیں اور نمازیں قائم رکھتے ہیں (فاطر:۱۸)
۷۱۔ ایک ایسی تجارت جس میں نقصان کا خطرہ نہیں… کتاب
اللہ کو ماننا اور پڑھنا، نماز کو قائم رکھنا، اور اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے مال
میں سے خوب خرچ کرنا (فاطر:۲۹)
۷۲۔ کیا فرمانبردار اور نافرمان دونوں برابر ہو سکتے
ہیں، ہرگز نہیں، فرمانبردار کی بڑی صفت راتوں کو نمازیں ادا کرنے
والے (الزمر:۹)
۷۳۔ آخرت کی ہمیشہ ہمیشہ والی نعمتوں میں جو لوگ عیش و
آرام کریں گے اُنکی ایک صفت یہ ہے کہ وہ نمازوں کو قائم رکھتے
ہیں (الشوریٰ:۳۸)
۷۴۔ دنیا کی کامیاب ترین جماعت ’’حضرات صحابہ کرام ڑ‘‘
کی ایک اہم صفت نمازوں کا ایسا عشق اور اہتمام کہ سجدوں کا نور اُن کے چہروں سے
عیاں تھا (الفتح:۲۹)
۷۵۔ کفار کی بیہودہ باتوں سے پریشان نہ ہوں، صبح شام اور
رات نمازوں کا اہتمام کریں (ق:۳۹، ۴۰)
۷۶۔ جنّت کے مستحق مسلمان رات کو جاگ جاگ کر نمازوں کا
اہتمام کرتے ہیں اور سحری کے وقت استغفار کرتے ہیں (الذاریات:۱۷، ۱۸)
۷۷۔ آپ صبر و استقامت کے ساتھ اپنے رب کے حکم کا انتظار
کریں جو عنقریب آپ کے اور ان کے درمیان فیصلہ کردے گا، اورا ٓپ کو مخالفین کی طرف
سے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچے گا، آپ صبر و تحمل اور اطمینان و سکون کے ساتھ اللہ
تعالیٰ کی عبادت میں لگے رہیں (الطور:۴۸، ۴۹)
۷۸۔ عقلمند کا کام نہیں کہ انجام سے غافل ہو کر نصیحت و
فہمائش کی باتوں پر ہنسے اور مذاق اڑائے، بلکہ لازم ہے کہ عبادت کی راہ اختیار
کرے… اگر نجات چاہتے ہو تو ایک اللہ تعالیٰ کا سجدہ اور اُسی کی عبادت
کرو (النجم:۶۲)
۷۹۔ نماز اور زکوٰۃ تزکیہ نفس کا بہترین ذریعہ
ہیں (المجادلہ:۱۳)
۸۰۔ جب ’’نماز جمعہ‘‘ کے لیے اذان ہو جائے
تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر نماز کے لیے دوڑو اس میں تمہارے لیے بڑی خیر
ہے (الجمعہ:۹)
۸۱۔ جمعہ کے وقت (اذان سے سلام تک) کوئی خرید و فروخت نہ
ہونے پائے، اس وقت کو یاد الہٰی میں صَرف کرنے سے جو اجر ملے گا وہ تجارت کے نفع
سے بہت بہتر ہے (الجمعہ:۱۱)
۸۲۔ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ ساق کی تجلّی فرمائے گا
تو ایمان والے سجدہ میں گر جائیں گے مگر ریا کار، منافق اور کافر سجدہ نہ کرسکیں
گے اُن کو سجدہ کے لیے بلایا جائے گا مگر وہ اسکی طاقت نہیں پائیں گے (اُنکی کمر
تختہ کر دی جائے گی) اس دن شرم کی وجہ سے اُنکی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی اور اُن
پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی، اس رسوائی کا سبب یہ ہوگا کہ اُن کو دنیا میں سجدہ کے لیے
بلایا جاتا تھا اور وہ سجدہ نہیں کرتے تھے حالانکہ اُسوقت وہ تندرست تھے اور سجدہ
کر سکتے تھے (القلم:۴۲، ۴۳)
۸۳۔ نماز کی مکمل پابندی اور پوری حفاظت کرنے والے بے
صبری اور طبیعت کے کچے پن سے محفوظ رہتے ہیں (المعارج ۲۳، ۳۴) ایسے لوگوں کی دیگر
صفات بھی اسی مقام پر مذکور ہیں
۸۴۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ
وسلم کے لیے قیام اللیل کا حکم اور اُس کے فوائد (المزمل:۱ تا۶)
۸۵۔ تہجد کی نماز کا منظر اور اُس کے بعض احکام اور
اقامتِ صلوٰۃ کا حکم (المزمل:۲۰)
۸۶۔ نماز میں اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان
کریں (المدثر:۳) اس سے دعوت الی
اللہ کے کام میں مدد ملتی ہے…
۸۷۔ جنت والے، جہنم والوں سے پوچھیں گے کہ تمہیں کس چیز
نے جہنم میں ڈالا؟ وہ کہیں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے اور مسکینوں کو کھانا
نہیں کھلاتے تھے (المدثر:۴۱ تا ۴۴)
۸۸۔ موت اور آخرت کی تیاری کے لیے نماز کا توشہ ضروری
ہے، بے نمازی کے لیے ہلاکت ہے (القیامہ:۳۱)
رب
کے پاس جا رہا ہوگا اور کافرکے پاس کوئی تیاری نہیں ہوگی نہ ایمان لایا نہ نماز
ادا کی…
۸۹۔ مضبوطی، استقامت اور کافروں کے فتنے سے حفاظت کے لیے
رات کی نماز کا اہتمام کریں… مُراد شاید مغرب و عشاء ہے یا
تہجد (الدھر:۲۶)
۹۰۔ نماز کاحکم نہ ماننا مجرموں اور کافروں
کا طریقہ ہے (المرسلات:۴۸)
۹۱۔ نماز تزکیہ نفس کا بہترین ذریعہ
ہے (الاعلیٰ:۱۴، ۱۵)
۹۲۔ نمازی کے لیے فلاح اور پاکی
ہے (الاعلیٰ: ۱۴، ۱۵)
۹۳۔ بد ترین کافر، ابوجہل جیسے مشرک ’’نماز‘‘ سے روکتے
ہیں (العلق: ۹، ۱۰)
۹۴۔ کافروں کی بات نہ مانیں بلکہ خوب سجدے
کریں (العلق:۱۹)
سرکش کفار کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ مسلمان نماز اور دیگر
عبادات سے غافل ہو جائیں مسلمان کو چاہیے کہ اُن کی باتوں اور فتنے میں نہ آئیں
اور نماز و سجدوں کا خوب اہتمام کریں
۹۵۔ نماز اور سجدہ اللہ تعالیٰ کے قُرب کا ذریعہ ہے
(العلق:۱۹)
۹۶۔ نماز ہر سچے دین کا پسندیدہ اور اہم عمل رہا
ہے (البیّنہ:۵)
۹۷۔ نماز پہلی امتوں پر بھی فرض
تھی (البیّنہ:۵)
۹۸۔ نماز میں سُستی ہلاکت ہے (الماعون :۴،۵)
۹۹۔ نماز میں ریاکاری ہلاکت
ہے (الماعون: ۶)
۱۰۰۔ شکر
ادا کرنے کا بہترین طریقہ نماز اور قربانی ہے… بدنی اور روحی عبادات میں سب سے بڑی
عبادت نماز ہے… اے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم نے آپ کو بہت زیادہ اور بڑی خیر
عطاء فرمائی ہے پس (اس کا شکر ادا کرنے کے لیے) آپ اپنے رب کے لیے نماز ادا کریں
اور قربانی کریں (الکوثر:۲)
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ
سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ رحمت و نصرت فرمائے… اور مجھے
وہ باتیں لکھنے کی توفیق عطاء فرمائے جو اُس کی ’’رضا‘‘ کے مطابق ہوں… اور ان
باتوں سے مجھے اور آپ سب کو فائدہ نصیب فرمائے… آج کئی باتیں جمع ہو گئی ہیں…
آئیے مختصر طور پر ایک ایک کو لیتے ہیں…
ایک پیاری سنت ادا کیجئے
پچھلے سال اپنے عظمت و جلال والے ربّ ’’اللہ تعالیٰ‘‘ کے
بھروسے پر چوبیس مساجد کی تعمیر کا کام شروع ہوا تھا… اللہ تعالیٰ کے بندوں نے دل
کھول کر خرچ کیا… اور اللہ تعالیٰ کے جانثاروں نے پوری محنت کی… مگر کام مکمل نہ
ہوسکا… اموال ختم ہو گئے… ’’مساجد‘‘ کی تعمیر ادھوری رہ گئی… اِدھر اُدھر سے پیسہ
جوڑ کر ان ’’مساجد‘‘ کو مکمل کیا جاسکتا تھا مگر یہ عزم تھا کہ ’’مساجد‘‘ جیسے
مقدس ترین مقامات پر ’’مساجد‘‘ کی مدّ کا پیسہ ہی لگایا جائے… چنانچہ کام روک
دیاگیا… اس پر غور و فکر جاری تھا کہ دوبارہ ’’مہم‘‘ چلا کر اِس مدّ کے اموال
فراہم کئے جائیں… یا کیا کیا جائے؟… کسی مسجد میں دو لاکھ کا کام باقی تھا تو کسی
میں آٹھ لاکھ کا… ان تمام مساجد کی تکمیل کے لیے ’’ساٹھ لاکھ‘‘ روپے کی ضرورت
تھی… اپنے ربّ عظیم و جلیل کے سامنے دعاء کر رہے تھے کہ… یا اللہ! مسجد تو آپ کا
گھر ہے… اُسکی آبادی میں ہماری نصرت فرما… ’’مہم‘‘ کے بارے میں غور جاری تھا کہ…
اللہ تعالیٰ کی عجیب نصرت نور برساتی ہوئی زمین پر اُتر آئی… اللہ تعالیٰ کے ایک
مخلص اور خوش نصیب بندے نے خود کسی ذریعے سے رابطہ کرکے… مساجد کی تعمیر کے لیے
ایک خاطر خواہ رقم دینے کی خواہش ظاہر کردی… اللہ اکبر کبیرا… اِن صاحب کو اس بات
کا علم بھی نہیں تھا کہ مساجد کی تعمیر ادھوری رہ گئی ہے… اور نہ اُن کو ہم نے خاص
طور پر کوئی ترغیب دی تھی… بس اللہ پاک نے اُن پر رحمت اور محبت کی نظر فرمائی اور
اُن کے مال کے ایک حصّے کو اپنی رضا کے لیے قبول فرما لیا… انہوں نے اتنی رقم کا
اعلان کیا جس سے ان شاء اللہ یہ تمام
مساجدبھی مکمل ہو جائیں گی… اور مدرسہ اویس قرنیذ کی مسجد بھی… انشاء اللہ… کافی
حد تک تعمیر ہو جائے گی… الرحمت ٹرسٹ کے شعبہ مساجد نے فوراً تفصیلی اجلاسات
بُلائے… تمام مساجد کے لیے نگران مقرر کئے… دو کمیٹیاں بنائی گئیں… اور آج ماشاء
اللہ یہ صورتحال ہے کہ اکثر مساجد میں کام شروع ہو چکا ہے… اور ان شاء اللہ تین ماہ میں یہ تمام مساجد اللہ
تعالیٰ کی رحمت اور نصرت سے ’’آباد‘‘ ہو جائیں گی… اس وقت جبکہ میں یہ کالم لکھ
رہا ہوں… جماعت کی دو کمیٹیاں پوری محنت، امانت اور لگن کے ساتھ مساجد کے کام میں
نکلی ہوئی ہیں… والحمد للہ ربّ العالمین… الحمد اللّٰہ الذی بنعمتہ تتمّ
الصّالحات… اللہ تعالیٰ مال تو بہت لوگوں کو عطاء فرماتاہے… مگر اس مال کو اپنے
لئے بہت کم لوگوں سے قبول فرماتا ہے… حضرات صحابہ کرام ڑ کی کامیابی کا بڑا نکتہ
یہ تھا کہ … اللہ تعالیٰ نے اُنکو سمجھا دیا کہ ’’جان‘‘ میں نے اس لیے دی ہے کہ
اسے میرے لئے قربان کرکے میری رضا حاصل کرو… اور مال میں نے اس لئے دیا ہے کہ اسے
میرے لئے خرچ کرکے ’’جنت‘‘ خرید لو… اُمت میں سے جس کو بھی یہ عقلمندی والا نکتہ
سمجھ آگیا وہ کامیاب ہوگیا… اور جس کو سمجھ نہیں آیاوہ جان اور مال دونوں کی
ذلّت اور تکلیف میں مبتلا ہوا… پلاٹ پر پلاٹ، دکان پر دکان اور مکان پر مکان… صبح
شام مال اور مال… یہ لوگ جمع کر کرکے تھکتے ہیں، گِن گِن کر مرتے ہیں… اور پھر سب
کچھ یہیں چھوڑ کر مر جاتے ہیں… حضرات صحابہ کرام ڑ نے اپنا مال اللہ تعالیٰ کی رضا
کے لئے خرچ کیا… اللہ تعالیٰ نے دنیامیں اُن کو اِس مال سے سینکڑوں گنا زیادہ عطاء
فرمایا… اور آخرت میں اُن کے لیے جنت اور اُس کے محلّات کو سجا دیا… آپ صرف حضرت
جی مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’حیاۃ الصحابہ‘‘ میں حضرات
صحابہ کرام ڑکے مال خرچ کرنے کے واقعات پڑھ لیں… رب کعبہ کی قسم دل روشن ہو جاتا ہے…
اُن کے مَرد اُن کی عورتوں سے اور اُن کی عورتیں مَردوں سے زیادہ سخی تھیں… اور
اخلاص کا یہ عالم تھا کہ اللہ پاک کی رضا اور آخرت کے اجر کے سوا کوئی نیت اُن کے
قریب نہ آتی تھی… پھر سب سے زیادہ مزے کی بات یہ تھی کہ… جب وہ خرچ کرتے تھے تو
ربّ کریم اُن کی تعریف میں قرآن پاک کی آیات نازل فرماتا تھا… اور رسول
پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور پر خوشی کی ’’بَہَار‘‘
آجاتی تھی… اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ اور جھولی
پھیلا کر اُن کو دعائیں اور بشارتیں دیتے تھے… اللہ اکبر کبیرا، اللہ اکبر کبیرا…
تعمیر مساجد میں رقم خرچ کرنے والے ہمارے بھائی کو بہت مبارک ہو… قرآن پاک کی
آیات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائوں کی برکت
آپ کو بھی نصیب ہوگئی… ہم مسافروں نے بھی آپ کے لیے قبولیت اور برکت کی دعائیں
مانگی ہیں… اور اپنے ربّ عظیم سے عاجزی کے ساتھ درخواست کی ہے کہ… وہ آپ کو اس کا
بہترین بدلہ دنیا اور آخرت میں عطاء فرمائے… پیارے بھائی! جنت کے اتنے سارے
مکانات کی خریداری مبارک ہو… اللہ پاک کی رضا کے لئے مال خرچ کرنے والوں کو ہمارے
آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم خوب دعائوں سے
نوازتے تھے… اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے اس مقبول
خرچ پر بہت خوشی کا اظہار فرماتے تھے… القلم کے پڑھنے والے تمام مسلمان مرد اور
خواتین… آج آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت مبارک
کو زندہ کریں… اور اُس مسلمان بھائی کے لئے اللہ تعالیٰ کی رحمت، مغفرت، قبولیت اور
برکت کی دعاء کردیں… جس نے اللہ تعالیٰ کے گھر ’’مساجد‘‘ کو آباد کرنے کے لئے اِس
ضرورت کے موقع پر یہ مال خرچ کیا ہے… اللہ تعالیٰ تمام دعاء کرنے والوں کو جزائے
خیر عطاء فرمائے… آمین
ویڈیو تو جعلی نکلی
کچھ عرصہ پہلے دنیا کے تمام ذرائع ابلاغ پر ایک ’’ویڈیو‘‘
کا شور تھا… کچھ ڈاڑھی والے لوگ ایک لڑکی کو بدکاری کی سزا کے طور پر کوڑے مار رہے
ہیں… کیا بی بی سی اور کیا سی این این سب نے خوب ماتم کیا… اور دل کھول کر واویلا…
ہر ٹی وی چینل پر مغرب زدہ دانشور بھونک رہے تھے… اور بے پردہ عورتوں نے آسمان سر
پر اُٹھا رکھا تھا… کراچی میں لاکھوں لوگوں کو جمع کرکے ریلی نکالی گئی جس میں
’’لندن‘‘ کے ایک انگریزی پیر نے رو رو کر بیان کیا… اور مجمع کو گن پوائنٹ پر
رُلایا… یوں لگتا تھا کہ دنیا میں بس یہی ایک مسئلہ سب سے اہم ہے… اور تو اور
عدالتوں نے بھی نوٹس لینا شروع کر دئیے تھے… اب راولپنڈی کی پولیس نے ’’اُس
ویڈیو‘‘ کے ہیرو کو پکڑ لیا ہے… موصوف ایک مغرب پال ’’این جی او‘‘ کے
معزز نمائندے ہیں… اور اُس ہیروئن کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے جس نے دو لاکھ روپے
لیکر پیٹھ پر کوڑے کھائے… تمام تفصیلات آپ نے اخبارات میں پڑھ لی ہوںگی… پوچھنا
یہ چاہتا ہوں کہ … کیا اب بھی آپ ’’میڈیا‘‘ پر اعتماد کرتے رہیں گے؟… چند دن پہلے
انڈیا کے ایک بڑے ٹی وی چینل نے ایک تحقیقی رپورٹ جاری کی ہے… اس میں نقشوں کی مدد
سے بتایا گیا ہے کہ… جیش محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کراچی
کے قریب بہاولپور میں اپنا نیا ٹریننگ سینٹر کھول لیا ہے… یہ رپورٹ اور اس کی
ویڈیو میرے پاس موجود ہے… کیا واقعی ’’بہاولپور‘‘ کراچی کے قریب ہے؟… ہمیں تو جب
کبھی کراچی سے بہاولپور جانا ہوتا ہے تو سفر سے کمر دُکھ جاتی ہے… یقین جانیںاگر
اللہ کریم جلّ شانہ کی فرض کردہ نمازیں نہ ہوتیں تو اس سفر سے کمر بالکل اکڑ جاتی…
نماز بھی عجیب تحفہ ہے… راستے میں رُکے وضو کیا، نماز ادا کی تو بالکل تروتازہ
ہوگئے… مگر اِنٹرنیشنل میڈیا بتاتا ہے کہ… ’’بہاولپور‘‘ کراچی کے قریب ہے… اب بھی
آپ رات دن اسی میڈیا پر اعتماد کرکے مایوس ہوتے رہیں گے؟… میڈیا بتا رہا ہے کہ…
ہلمند میں امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کا ’’آپریشن مشترک‘‘ بہت کامیاب جا رہا ہے…
اس آپریشن نے طالبان کی کمر توڑ دی ہے اور وہ چاروں طرف سے گھِر چکے ہیں… حالانکہ
یہ سب کچھ جھوٹ ہے… آپ ہلمندکے آپریشن سے بحفاظت نکل کر آنے والے مجاہدین کو…
افغانستان اور پاکستان کے کئی علاقوں میں بے فکری کے ساتھ گنڈیریاں چوستے دیکھ
سکتے ہیں… وہ نیٹو فورسز کو انگوٹھا دکھا کر آگئے… اور کچھ آرام کرکے پھر واپس
پہنچ جائیں گے… ارے دنیا والو! اللہ تعالیٰ بہت بڑا ہے، اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے…
اور اللہ تعالیٰ ’’ایک‘‘ ہے وحدہ لاشریک لہ… آئیے ہم سب کہہ دیں… اللہ اکبر کبیرا
فاتحین واپس آگئے
کئی ماہ سے شور تھا کہ… ’’پاک امریکہ مُذاکرات‘‘ ہونے والے
ہیں… ان مذاکرات کے نتیجے میں پاکستان کو اتنا کچھ ملے گاکہ… یہاں دودھ کی نہریں
بہنے لگیں گی… شاید امریکہ کے ’’مخبر‘‘ حسین حقانی نے حکومتِ پاکستان کو بتا دیا
ہو گا کہ… اس بار ’’اوبامہ‘‘ جیب کھول کر اور ’’ہیلری‘‘ دل کھول کر دے گی… ہمارے
وزراء ان مذاکرات کی تیاری میں کئی ماہ سے رنگ گورا کرنے والی کریمیں لگا رہے تھے…
اور سیکورٹی فورسز کو حکم تھا کہ… امریکہ کو خوش کرنے کے لئے نہ جان کی پرواہ کرو
نہ ایمان کی… حضرت ملّا برادر کی دھوکے کے ساتھ گرفتاری بھی انہیں مذاکرات کی
تیاری کا حصّہ تھی… وزیر اعظم صاحب نے کئی بار اجلاسات بُلائے اور اس پر مشورہ ہوا
کہ… امریکہ سے کیا کیا مانگنا ہے اور اِس بار امریکہ کو کس طرح سے دبانا ہے… اُن
طوائف ملکوں کے ریٹ بھی منگوائے گئے جو بہت مہنگے داموں امریکہ کو اپنی عزت بیچتے
ہیں… مثلاً مصر اور ازبکستان وغیرہ… اوراس پر افسوس کے آنسو بھی بہائے گئے کہ…
امریکہ ہماری ’’عزت‘‘ کیوں اتنی سستی خریدتا ہے… بہرحال کشکولوں، فائلوں اور
فہرستوں کے اسلحہ سے لیس ہمارا یہ وفد امریکہ پہنچا… اور واقعی پہلے دو، تین دن تو
امریکیوں کے چھکّے چھُڑا دیئے… کسی نے امریکیوں سے کہا! ہمیں فوراً پینتیس ارب
ڈالر چاہئیں… دوسرے نے کہا امریکہ جی! ڈرون ٹیکنالوجی ہمارے حوالے کردو… تیسرے نے
کہا ہمیں بھارت کی طرح ایٹمی پلانٹ لگا کر دو… چوتھے نے کہا دہشت گردی جنگ کے
بقایا جات نکالو… پانچویں نے کہا ہمارا صوبہ تباہ ہوگیا ہے تعمیر کے لئے پیسے دو…
چھٹے نے کہا جہالت کی وجہ سے دہشت گردی پھیل رہی ہے تعلیم کے لئے پیسے نکالو…
ساتویں نے کہا غربت کی وجہ سے لوگ مجاہدین بن رہے ہیں ہمیں مالدار بنائو… آٹھویں
نے کہا ملک میں خشک سالی ہے ڈیموں کے لئے پیسے دو… نویں نے کہا بیماریوں کی وجہ سے
لوگ خود کُش حملہ آور بنتے ہیں ہسپتالوں کے لئے پیسے دو… دسویں نے کہا روشن خیالی
پھیلانے کے لیے کچھ ڈالر دو… وغیرہ وغیرہ… بیس پچیس موٹے تازے وزراء نے جب پیسہ
دو، ڈالر دو کی فائرنگ کی تو امریکی بے چارے اپنے دفتروں میں جا چھُپے… یہ وقت
شاید امریکہ کے لئے ویتنام اور عراق کی شکست سے بھی زیادہ مشکل تھا… پاکستانی وفد
کے ارکان جہاں کسی امریکی وزیر، مشیر یا چپڑاسی کو دیکھتے فوراً کہتے پیسہ نکالو،
ڈالر دو… اور وہ بے چارہ عزت بچا کر بھاگ جاتا… اور اِدھر پاکستان میں حکومتی
صحافیوں نے شور ڈال دیا کہ امریکہ اب کی بار پوری طرح جھُک گیا ہے… اور چند دن تک
پاکستان میں ڈالروں کا سیلاب آجائے گا… مگر دو چار دن کی پسپائی کے بعد امریکی
سنبھل گئے… انہوں نے پُرانے سفارتکاروں کو بُلا کر پوچھا کہ پاکستانی حکومت کے اس
حملے کا کیا توڑ ہو… پُرانے لوگوں نے بتایا یہ تو بالکل آسان کام ہے… کسی کے بیٹے
کو گرین کارڈ، کسی کی بیٹی کو تعلیمی داخلہ، کسی کو امریکہ میں ایک آدھ فلیٹ… اور
کسی کو بوتل اور ٹھمکا… مشورے پر عمل ہوا… اور حالات ہی بدل گئے… آخری خبریں آنے
تک ہمارے حکمران خالی کشکول اٹھائے واپس آچکے ہیں… پینتیس ارب تو کیا پینتیس لاکھ
بھی نہیں ملے… وہ جو مسلمانوں کے خون کے ڈرم بھر کر لے گئے تھے… شاید ولائتی شراب
کی چند بوتلیں اُس کے عوض لے آئے… یا اللہ ہم پر رحم فرما… اور ہمارے حکمرانوں کو
ہدایت عطاء فرما
آمین یا ارحم الراحمین
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ
سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ بہت کریم ہے، بہت رحیم ہے اور
بہت مہربان… وہ جب چاہتا ہے تو بغیر کسی محنت کے اپنے بندوں کو بڑے بڑے انعامات
عطاء فرما دیتا ہے… جی ہاں! بعض اوقات گھر بیٹھے ایسی نعمت مل جاتی ہے کہ… انسان
خوشی، حیرت اور شُکر میں ڈوب جاتا ہے… چند دن پہلے بندہ کے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ
ہوا… میری ڈاک میں ایک بھاری بھر کم کتاب بھی تھی… پہلے دن تو ڈاک کھولنے کا موقع
ہی نہیں ملا… دوسرے دن کھولی تواُس کتاب کی زیارت نصیب ہوئی… یہ تقریباً ڈھائی
ہزار صفحات پر مشتمل ہے… ’’وقائع سیّد احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ ‘‘… اس کا نامِ نامی،
اسم گرامی ہے… چھاپنے والوں نے ایک ہی جلد میں یہ کتاب سمیٹنے کے لیے اسے بہت
باریک کاغذ پر چھاپا ہے… چنانچہ صفحہ الٹتے وقت بہت احتیاط سے کام لینا پڑتا ہے کہ
ایک کی بجائے کئی صفحے نہ الٹ جائیں… یہ کسی ایک مصنف کی تصنیف نہیں ہے بلکہ ریاست
ٹونک کے نواب صاحب مرحوم رحمۃ اللہ علیہ کے حکم پر ’’حضرت سید احمد شہید رحمۃ
اللہ علیہ ‘‘ کے رفقاء اور عزیزو اقارب کی حکایات پر مشتمل ہے… اکثر واقعات ’’حضرت
سید بادشاہ رحمۃ اللہ علیہ ‘‘ کے خادم جناب دین محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی زبانی
ہیں… یہ کتاب کئی ضخیم رجسٹروں میں لکھی ہوئی ’’تکیہ رائے بریلی‘‘
(حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے آبائی وطن) میں محفوظ تھی… اتنی بڑی کتاب کو
کون چھاپتا اور کیسے چھاپتا؟… چنانچہ جس کی قسمت جاگتی وہ ’’تکیہ شریف‘‘ جاکر کچھ
کچھ دیکھ اور پڑھ آتا تھا… مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن ندوی رحمۃ اللہ
علیہ تو خود ماشاء اللہ ’’حضرت سیّد بادشاہ رحمۃ اللہ علیہ ‘‘ کے خاندان سے تھے…
انہوں نے اس کتاب کو مکمل پڑھا اور پھر ان الفا ظ میں خراج تحسین پیش فرمایا
’’میں نے ’’وقائع احمدی‘‘ کے اس دفتر کو جوکئی ضخیم جلدوں
پر مشتمل ہے لفظ بلفظ پڑھنا شروع کیا، جو وقت اس ذخیرہ کے مطالعہ اور تلخیص میں
گزرا وہ عمر کے بیش قیمت ترین لمحات میں سے تھا، قلب پر ان حالات و واقعات کا عکس
پڑتا تھا، ان واقعات نے جو سادی پوربی اردو میں بیان کئے گئے تھے بار بار دل کے
ساز کو چھیڑا، بار بار قلب کو ایمانی حرارت بخشی، بار بار آنکھوں کو غسلِ صحت
دیا، اہل یقین و مقبولین کی صحبت کے جو اثرات بیان کئے گئے ہیں ان واقعات کے
مطالعہ اور ان کتابوں کی ورق گردانی کے دوران میں ان کا بارہا تجربہ ہوا، اور صاف
محسوس ہوا کہ یہ وقت ایک ایمانی اور روحانی ماحول میں گذر رہا ہے، معلوم نہیں کہ
ان اللہ کے بندوں کے انفاس قدسیہ اور اُن کی صحبت میں کیا تأثیر ہوگی جن کے
واقعات کے مطالعہ اور جن کے حالات کے دفتر پارینہ کی ورق گردانی میں یہ تأثیر ہے
(مقدمہ وقائع احمدی)
پھر ایسا ہواکہ … ہمارے زمانے میں حضرت سید احمد
شہید رحمۃ اللہ علیہ کے عاشق زار حضرت اقدس سید نفیس الحسینی شاہ صاحب رحمۃ
اللہ علیہ نے اس ’’نافع و مقبول‘‘ کتاب کو شائع فرما دیا… اب یہ کتاب لاہور میں
بآسانی ملتی ہے اور ہر مسلمان اپنی استعداد کے مطابق اس سے نفع حاصل کر سکتا ہے…
میرے ایک قریبی ساتھی جو ماشاء اللہ … حضرت سید نفیس الحسینی شاہ صاحب رحمۃ اللہ
علیہ کے خلیفہ مجاز بھی ہیں… انہوں نے مجھے یہ کتاب بھجوادی… اپنی گوشہ
نشینی کی وجہ سے مجھے اس کے شائع ہونے کا علم نہیں تھا… پہلے ایک دو دن تو میں
کتاب کی ’’آزاد سیر‘‘ کرتا رہا… میرا خیال تھا کہ میں اتنی ضخیم کتاب کے لئے اپنے
کاموں سے وقت نہیں نکال پائوں گا… چنانچہ مختلف مقامات سے کتاب کے کئی صفحات پڑھ
ڈالے… کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ کئی افراد کو حضرت سید احمد شہید رحمۃ اللہ
علیہ نے اصرار فرما کر اپنے پاس بُلایا اور انہیں اپنے انفاس قدسیہ سے فیض یاب
فرمایا… بعد میں وہ لوگ حضرت سید صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو پوری زندگی دعائیں دیتے
تھے… بالکل اسی طرح تیسرے دن میری توجہ بھی کتاب کے مکمل مطالعہ کی طرف خود ہی
مائل ہوگئی… اوراب تک الحمدللہ ایک تہائی سے زائد حصّہ تھوڑے ہی وقت میں ہو چکا
ہے… اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے پوری کتاب پڑھنے کی توفیق عطاء فرمائے… اور اس سے
خوب فیض یاب فرمائے (آمین)… یہ ماشاء اللہ بہت خوب کتاب ہے… آپ نے حضرت سید
ابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی رائے تو پڑھ لی… اب اُن کے بعد کسی اور کی
گواہی کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے… کتاب چونکہ حکایات پر مشتمل ہے اس لئے کئی
غیر ضروری باتیں بھی اس میں آگئی ہیں… حضرت سید صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے رفقاء کو
سلام کہ انہوں نے اُنکی ایک ایک بات کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی … ورنہ آجکل تو
اہم باتیں بھی منٹوں میں ’’ڈیلیٹ‘‘ ہو جاتی ہیں… بندہ کو تو الحمدللہ اس بابرکت
کتاب سے بہت سکون مل رہا ہے… بارک اللہ، ماشاء اللہ لاقوۃ الّا باللہ… حضرت سیّد
احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ تعالیٰ نے عجیب و غریب نعمتوں سے نوازہ… وہ
’’قطب الاقطاب‘‘ تھے… یہ اولیاء کرام کا بہت اونچا مقام ہے… حضرت سیّد صاحب رحمۃ
اللہ علیہ مستجاب الدعوات بھی تھے… ہزاروں لاکھوں لوگوں کو اُنکی دعاء سے فائدہ
پہنچا… وہ اپنا ہر معاملہ ’’دعاء‘‘ کے ذریعہ حل کرانے کے قائل تھے… جب بھی کسی کا
کوئی مسئلہ انفرادی یا اجتماعی سامنے آتا تو اپنا سر ننگا کرکے بہت آہ و زاری سے
دعاء فرماتے… اور اللہ تعالیٰ اُنکی لاج رکھتا اور دعاء قبول فرماتا… اس کتاب میں
ایسے سینکڑوں واقعات مرقوم ہیں… حضرت سید صاحب رحمۃ اللہ علیہ مسلمانوں کی اصلاح
کے لئے بہت فکر مند تھے… لوگوں کو شرک و بدعت اور گناہوں سے بچنے کی تلقین فرماتے
اور اسی بات پر ’’بیعت‘‘ لیا کرتے تھے… اُن کے ہاتھ پر کئی کافر مسلمان ہوئے… بے
شمار رافضی تائب ہو کر اہل سنت والجماعت میں شامل ہوئے… اور لاکھوں گناہگاروں نے
اُن کے ہاتھ پر توبہ کرکے خالص اسلامی زندگی گزارنے کا سچا عہد کیا… اس کتاب میں
اس طرح کے واقعات بہت پر اثر انداز میں بیان کئے گئے ہیں… دراصل حضرت سید احمد
شہید رحمۃ اللہ علیہ اپنی ذات کو بھول چکے تھے… اُن کے دل تو کیا اُن کے حواس
پر بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اُسکی محبت غالب آچکی تھی… چنانچہ وہ جدھر قدم
اٹھاتے وہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور نصرت اُن کا استقبال کرتی تھی… صرف برّصغیر
ہی نہیں بلکہ تبت، چین اور بخارا و افغانستان تک اُن کا یہ روحانی فیض اُن کی
زندگی ہی میں پھیل چکا تھا… یہاں تک کہ کئی بے حیا اور فاحشہ عورتیں اُن کی بیعت
میں آکر اللہ تعالیٰ کی ’’ولیّہ‘‘ بن گئیں… حضرت سید صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو نماز
اور مسجد کا بہت اہتمام تھا… انہوں نے کتنے ہی مسلمانوں کو ’’پکّا نمازی‘‘ بنایا
اور کتنی ہی ویران مسجدوں کو آباد فرمایا… وہ خود بہت شوق سے مسجدوں کی صفائی
کرتے، انہیں پاک صاف کرتے… اور نئی مساجد بہت اہتمام سے تعمیر اور آباد کراتے
تھے… اس کتاب میں حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کے اس پہلو پر آپ کو
کئی عجیب واقعات ملیں گے… اور بھی بہت کچھ اس کتاب میں مذکور ہے… مگر سب سے بڑھ کر
جو بات ہے وہ حضرت سید صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ سے محبت ہے…
اللہ اکبر کبیرا… حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کسی بھی عمل اور کسی بھی کیفیت کو
’’جہاد‘‘ کے برابر نہیں سمجھتے تھے… وہ ہمیشہ اچھے سے اچھے اسلحہ کی جستجو میں
رہتے تھے… اور خود بھی ہتھیار باندھتے تھے… اُن کے بعض بڑے مریدوں نے جب اس پر
اعتراض کیا تو حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بہت جلال میں اُنکو تنبیہ فرمائی…
اور انہیں بتایا کہ جہاد کے بارے میں یا جہادی اسلحے یا حُلیے کے بارے میں اگر دل
میں کوئی اعتراض لائو گے تو تمہاراسب کچھ برباد ہو جائے گا… جہاد تو وہ مبارک عمل
ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء دکو حکم فرمایا ہے… اور جہاد ہی کی برکت سے
کفار نا ہنجار کی گردن ٹوٹتی ہے اور اسلام پھیلتا ہے… حضرت سید صاحب رحمۃ اللہ
علیہ فرماتے تھے کہ لوگو! اگر جہاد نہ ہوتا تو معلوم نہیں تم اور ہم آج کس حالت
میں ہوتے… یہ جہاد کی برکت ہے کہ ہم سب مسلمان ہیں… یہ کتاب جہاد کے متعلق ایک اہم
اور مدلل دستاویز ہے… حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے کئی مقامات پر فرمایا کہ…
کوئی شخص ولی اور قطب بن جائے… مگر جہاد کا رتبہ ان سب چیزوں سے بڑھ کر ہے… حضرت
سید صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے خاص مرید اور خلیفہ حضرت حاجی عبدالرحیم صاحب رحمۃ
اللہ علیہ کے بعض جہادی اقوال بھی اس کتاب میں بہترین سند کے ساتھ مذکور ہیں… حضرت
حاجی عبدالرحیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ تمام دیوبندیوں کے شیخ حضرت حاجی امداد اللہ
مہاجر مکّی کے دادا پیر ہیں… تیرہویں صدی میں جب مسلمان غفلت، گمراہی… اورغلامی
میں بُری طرح دھنس چکے تھے… اللہ تعالیٰ نے اُنکی رہنمائی کے لئے حضرت سید احمد
شہید رحمۃ اللہ علیہ کو مجدّد بنا کر کھڑا کیا… حضرت سید صاحب رحمۃ اللہ علیہ
کے پاس علم بھی تھا، روحانیت بھی تھی… اور جہاد بھی تھا… پھر اللہ تعالیٰ نے اُن
کو خاص تأثیر اور توفیق بھی عطاء فرمائی تھی… اور وہ اسلامی احکام کی ترتیب سے
بھی واقف تھے کہ… کونسا عمل کتنا اہم ہے… اس کتاب میں ’’مجاہدین‘‘ کے لئے اصلاح
اور نظم و ضبط کا بہترین سامان موجود ہے… اور اسی طرح اُن ’’بے بنیاد عناصر‘‘ کے
لئے بھی بہت سے اسباق ہیں… جو اپنے جہاد کے لئے کوئی مضبوط رُخ متعین نہیں کرتے…
بلکہ ہر بھونکنے والے کتّے کے پیچھے پتھر لیکر بھاگ پڑتے ہیں… اور کسی بھی جماعت
کو منظّم اور مضبوط نہیں ہونے دیتے… حضرت سیّد احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ جہاد
کے شیدائی تھے… اور اتنے بڑے ’’شیخ طریقت‘‘ ہو کر بھی سلوک و احسان کو جہاد کے
تابع قرار دیتے تھے… مگر جہاد کے ساتھ اس محبت اور عشق کے باوجود انہوں نے کئی
مقامات پر اپنے ساتھیوں کو… ہتھیار تک نہیں باندھنے دئیے… اور کئی مقامات پر
مخالفین سے معاہدے کئے… اورکئی مقامات پر اپنے اندر کے جذباتی عناصر کو سختی سے
فرمایا کہ خبردار کوئی حملہ یا گڑ بڑ نہ کرے ورنہ ہم سزا دیں گے… یا اپنی جماعت سے
نکال دیں گے… ایسے مواقع پر ممکن ہے کچھ لوگ یہ کہتے ہوئے الگ ہوئے ہوںکہ… سید
صاحب سپہلے تو جہاد کی بہت باتیں کرتے تھے اب ان کی غیرت کہاں گئی؟… لیکن اس کتاب
میں اسطرح کے لوگوں کا کوئی تذکرہ نہیں ہے… البتہ بعض ایسے لوگوں کا تذکرہ ضرور ہے
جو سید صاحب سکے اچھا کھانے اور پہننے پر اعتراضات کرکے کچھ لوگوں کوجماعت سے توڑ
گئے… بے شک اُس زمانے کے لوگ خوش نصیب تھے کہ اُنکو حضرت سید
احمد شہیدرحمۃ اللہ علیہ جیسا رہنما، امام اور امیر ملا…
اور وہ لوگ سعادتمند تھے جنہوں نے اس موقع کا فائدہ اٹھا کر حضرت سید صاحب رحمۃ
اللہ علیہ کا ساتھ دیا اوراپنی آخرت بنالی… ہمیں حضرت سیّد احمد صاحب
شہید رحمۃ اللہ علیہ کا زمانہ تو نہیں ملا… مگر اُنکی لذیذ حکایتوں پر مشتمل
کتاب ’’وقائع احمدی‘‘ مل گئی ہے… ہم اس کتاب کے آئینے میں اپنا بہت کچھ سنوار
سکتے ہیں… یا اللہ توفیق عطاء فرما… آمین یا ارحم الراحمین
اللھم صل علٰی سیدناو مولانا محمد صاحب الفرق والفرقان
وجامع الورق و منزلہ من سماء القرآن وعلی اٰل محمد وسلم تسلیما کثیراً کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ حضرت سیّد احمد
شہید رحمۃ اللہ علیہ اور اُن کے اہل وعیال اور رفقائے کرام کے درجات بلند
فرمائے… حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بظاہر تھوڑی عمرپائی
مگر اللہ تعالیٰ نے اُن سے بہت کام لیا اور اُن کے کام اور
اوقات میں’’برکت‘‘ عطاء فرمائی… آپ کی ولادت’’صفر ۱۲۰۱ھ‘‘ اور شہادت’’ذوالقعدہ ۱۲۴۶ھ‘‘ میںہوئی… مطلب یہ ہوا کہ تقریباً پینتالیس(۴۵) سال عمرپائی… اس چھوٹی سی عمر میں ’’برکت‘‘ کا یہ عالم ہے
کہ آج بھی اُن کا نام اور کارنامے سُن کر بہت سے لوگ’’جہاد فی
سبیل اللہ ‘‘ کے لئے تیار ہو جاتے ہیں… حالانکہ اُن کی شہادت کو دو سو
سال کا عرصہ ہونے والا ہے… اور خود اُن کے اپنے زمانے میں اُن کی مقبولیت کا ایک
عجیب رنگ تھا…مولانا عبدالاحد صاحب لکھتے ہیں:۔
’’حضرت سیّد صاحب قدس سرہ کے ہاتھ پر چالیس ہزار سے زیادہ
ہندو وغیرہ کفار ’’مسلمان‘‘ ہوئے اور تیس لاکھ مسلمانوں نے آپ پکے ہاتھ پر بیعت
کی اور جو سلسلۂ بیعت آپ سکے خلفاء اور خلفاء کے خلفاء کے ذریعے تمام روئے زمین
پر جاری ہے۔ اس سلسلے میں تو کروڑوں آدمی آپ سکی بیعت میں داخل
ہیں (روحانی رشتے ص ۳۷)
اتنے بڑے مجاہد، قطب اور مجدّد کے ساتھ بھی کئی بدنصیب
لوگوں نے طرح طرح کی زیادتیاں کیں… کئی لوگ آپ سکو قتل کرنے آئے ان میں سے بعض
تو بعد میں تائب ہو گئے جبکہ بعض اپنی بدنصیبی پر ڈٹے رہے… پشاور کے ایک سردار نے
آپ سکے کھانے میں زہر ملا دیا… آپ رحمۃ اللہ علیہ اس زہر سے شہید تو نہ ہوئے
البتہ کئی دن تک بیمار رہے… شکر گزاری کا یہ عالم تھا کہ اس واقعہ پر بھی شکر ادا
کیا کہ ایک سنت اور پوری ہوئی… کیونکہ آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کو
بھی یہودیوں نے زہر دیا تھا… اللہ تعالیٰ نے حضرت سیّد صاحب
کو بہت عجیب فراست عطاء فرمائی تھی… ارشادفرماتے تھے کہ تین چیزوں کے پہچاننے میں
مجھ سے بہت کم غلطی ہوتی ہے(۱) گھوڑا (۲) اسلحہ(۳) آدمی… آپ سکے رفقاء تصدیق کرتے ہیں کہ واقعی اسی طرح تھا…
مگر اللہ تعالیٰ کا نظام بہت وسیع ہے… اتنی فراست کے باوجود
بہت سے بد نصیب لوگ آپ کو دھوکا اور فریب دیتے رہے… بے شک علم غیب کے خزانے صرف
اور صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں… خود حضرت سیّد صاحب رحمۃ
اللہ علیہ بھی یہی فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی! جب
چاہتا ہے اپنے بندوں کو کسی پوشیدہ بات کا الہام فرما دیتا ہے اور جب چاہتا ہے تو
پوشیدہ کو پوشیدہ ہی رہنے دیتا ہے… حضرت سیّد صاحب نے خود کو اور اپنی جان
کو اللہ تعالیٰ کے لئے وقف فرما دیا… اور یہ بات یقینی ہے
کہ جو اللہ تعالیٰ کا ہو جاتاہے
تو اللہ تعالیٰ بھی اُس کا ہو جاتا ہے… چنانچہ سیّد صاحب کی
صحبت میںعجیب قوّت اور عجیب برکت تھی… آپ سکے ایک ’’اصلاحی سفر‘‘ کا حال حضرت
ندوی رحمۃ اللہ علیہ ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں:
’’ہر ہر جگہ سینکڑوں آدمی متقی، متورّع، عابد، متبع سنّت
اور ربّانی بن گئے۔ ہزاروں فاسق صالح اور اولیاء اللہ ہو
گئے، بیسیوں آدمی قتل کے ارادے سے آئے اور جانثار بن گئے اور گھر بارچھوڑ کر آپ
سکے ساتھ ہو گئے ، یہاں تک کہ میدان جنگ میں شہید ہو گئے، جس نے ایک مرتبہ زیارت
کر لی وہ آپ سکے رنگ میں رنگ گیا اور مرتے مرتے مرگیا مگر شریعت سے ایک قدم نہ
ہٹا‘‘ (روحانی رشتے ص ۲۶)
پچھلے ہفتے کی مجلس میں عرض کیا تھا کہ… آج کل ’’وقائع
سیّد احمد شہید پ‘‘ نامی کتاب کا مطالعہ جاری
ہے… اللہ تعالیٰ کے فضل و توفیق سے گزشتہ رات اس مبارک کتاب
کا مطالعہ مکمل ہوا… تقریباً ڈھائی ہزار صفحات پر مشتمل یہ کتاب ایک دلکش تحفہ ہے…
یہ ایک ایسا سمندر ہے جس میں جہاد اور روحانیت کے موتی ہی موتی بھرے ہوئے ہیں… آپ
نے اس کتاب کا خلاصہ پڑھنا ہوتو حضرت مولانا سیّد ابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ
علیہ کی یہ تین کتابیں پڑھ لیجئے
(۱) جب ایمان کی بہار آئی
(۲) سیرت سیّد احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ
(۳) کاروانِ ایمان و عزیمت
(یا مولانا غلام رسول مہرس کی درج ذیل کتب کا مطالعہ کر
لیجئے
(۱) سیّد احمد شہیدس
(۲) جماعتِ مجاہدین
(۳) سرگزشت مجاہدین
اور اگر آپ کے پاس وقت کم ہے اور آپ ان تمام کتابوں کا
خلاصہ اور عطر پڑھنا چاہتے ہیں تو پھر حضرت سیّد نفیس الحسینی شاہ صاحب رحمۃ اللہ
علیہ کی کتاب’’روحانی رشتے‘‘ ضرور پڑھ لیجئے… اس کتاب کا پورا نام’’سیّد احمد
شہید رحمۃ اللہ علیہ سے حضرت حاجی امداد اللہ مہاجرمکی
کے روحانی رشتے‘‘ ہے… یہ کتاب صرف دو سو چالیس ۲۴۰ صفحات پر مشتمل ہے… اس کتاب میں آپ کو ان
شاء اللہ بہت کچھ مل جائے گا… آج اکثر لوگوں کاجہاد کے بارے
میں’’نظریہ‘‘ مکمل اسلامی نہیں ہے… حضرت سیّد احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کا
بڑا تجدیدی کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کو جہاد اور خلافت کا حقیقی مفہوم…
اپنے علم اور عمل دونوں سے سکھایا… اس لئے ہم جب حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے
حالاتِ زندگی پڑھتے ہیں تو ہمیں’’جہاد فی سبیل اللہ ‘‘ کا حقیقی مفہوم
پوری وضاحت کے ساتھ سمجھ آتا ہے… اور ساتھ ساتھ شہادت کا حسین انجام اور راستہ
بھی روشن دکھائی دینے لگتا ہے… حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ
کو اللہ تعالیٰ نے جو روحانی مقام عطاء فرمایا تھا اور لوگ
جس طرح سے آپ رحمۃ اللہ علیہ کی طرف رجوع کررہے تھے… اس میں حضرت سیّد صاحب رحمۃ
اللہ علیہ کے لئے ایک پرامن اور پرآرائش زندگی گزارنا بہت آسان تھا… بڑے بڑے
رئیس اور نواب آپ رحمۃ اللہ علیہ کے قدموں میں ہدیے اور نذرانے ڈھیر کرتے تھے اور
بڑے بڑے مالدار آپ رحمۃ اللہ علیہ کی توجہ حاصل کرنے کے لئے اپنا سارا مال لٹانے
کو تیار رہتے تھے… مگر حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ
نے اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے ہجرت اور جہاد کا راستہ اختیار
فرمایا… اور اسی راستے کو سب سے افضل اور بہترین جانا… بالاکوٹ کے سفر میں ایک بار
آپ سنے ارشاد فرمایا:۔
’’بھائیو! میں جو اپنے وطن سے اتنے بندگان خدا کو جابجا سے
لے کر اور طرح طرح کی سختی اور مصیبت اُٹھا کر تمہارے اس مُلک کوہستان میں آیا
ہوں فقط اس واسطے کہ تم مسلمانوں کے مُلک پر کفار غالب ہو گئے اور وہ طرح طرح کی
تم کو تکلیف اور ذلّت دیتے ہیں، اُن کو مدد الٰہی سے مار کر مغلوب کروں تا کہ تم
اپنی اپنی ریاستوں پر قابض اور متصرّف ہو اور دین اسلام قوت پکڑے اور اگر میں طالب
عیش و آرام کا ہوتا تو میرے واسطے ملک ہندوستان میں ہر طرح کی عیش و آرام تھی،
اس کوہستان میں کبھی نہ آتا سو مُراد اس گفتگو سے یہ ہے کہ تم بھی سب بھائی
حکومتِ کفار سے غیرت کرو اور جان ومال سے میری شراکت کرو اورکافروں کو مار کر یہاں
سے نکالو(وقائع ص ۲۲۰۹)
اللہ اکبر! کس قدر’’درد‘‘ ہے اور کس
قدر’’غیرت‘‘ کہ اے مسلمانو!… اس بات سے غیرت کھاؤ کہ تم پر کفار کی حکومت ہے…
حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ
اللہ تعالیٰ کی رحمت اور ہدایت کا بادل بن کر… تکیہ رائے بریلی
سے اٹھے اور بالاکوٹ کی طرف روانہ ہوئے… راستے میں آپ بہت سے شہروں سے گزرے…
موجودہ صوبہ سرحد کے ایک بڑے حصّے پر آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اسلامی حکومت بھی قائم
فرمائی… اور پشاور پر بھی قابض ہوئے… آپ رحمۃ اللہ علیہ نے دعوت جہاد کے کئی وفود
دوسری اسلامی ریاستوں میں بھی بھیجے… مگرجان، مال، عہدے اور ظاہری امن کے لالچی
حکمرانوں نے صرف تحفے تحائف بھیجنے پر ہی اکتفا کیا… اس دوران بہت سی بغاوتیں اور
شرارتیں بھی ہوئیں… کئی ظالم لوگوں نے حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو (
نعوذباللہ ) انگریزوں کا ایجنٹ بھی قرار دیا… اور کئی لوگوں نے آپ سپرکم علم ہونے
کا فتویٰ بھی صادر کیا… مگر حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنے حق کام میں لگے
رہے… پہاڑوں سے زیادہ بھاری مشکلات بھی آپ سکا راستہ اور طریقہ تبدیل نہیں کرسکیں
اور نہ ہی… لوگوں کی جہالت اور ضد دیکھ کرآپ کسی موقع پر شریعت سے نیچے اترے… آپ
سنے ہرجہالت کا جواب بُردباری اورحلم سے اور ہر ضد کا جواب شریعت پر استقامت سے
دیا… آپ سنے اپنے زیر حکومت علاقوں میں بہت محبت، نرمی اور حکمت کے ساتھ شریعت کے
احکامات نافذ فرمائے… آپ سد ین نافذ کرنے کے معاملہ میں ڈنڈے سے زیادہ ترغیب اور
دعوت کا طریقہ استعمال فرماتے تھے… آپ سنے لوگوں کوعُشر اور زکوٰۃ دینے کی ترغیب
دی اور پھر’’عُشر‘‘وصول کرنے کے لئے جابجا نمائندے بھی مقرر فرمائے… بعد میں
بدنصیب ظالموں نے ان نمائندوں میں سے کئی ایک کو بہت مظلومیت کے ساتھ شہید کر دیا…
اسی طرح حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے زیر حکومت علاقوں میں نکاح اور
شادی کے معاملے کو’’اسلامی‘‘طریقے پر لانے کی بہت محنت فرمائی… افسوس کہ آپ سکی
اس محنت سے بہت کم لوگوں نے فائدہ اٹھایا… جبکہ اکثرلوگ اپنی پرانی غیر شرعی
رسومات اورطریقوں پر ڈٹے رہے…
اس وقت حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات کو پھر
عام کرنے کی ضرورت ہے… کیونکہ بہت سے لوگ جہاد کے معنیٰ کو بدل رہے ہیں… حضرت سید
صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے خطبات اور عمل میں اس فتنے کا توڑ موجود ہے… اسی طرح کچھ
لوگوںنے’’جہاد‘‘ کو ہرطرح کی مار دھاڑ اور ہر طرح کے فساد کے معنیٰ میں لے رکھا
ہے… حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بار بار لوگوں کو سمجھایا کہ ہمارا مقصد صرف
ہلّہ گُلّہ کرنا، فساد پھیلانا اور مار دھاڑ کرنا نہیں ہے … بلکہ ہم تو شریعت اور
سنت کے مطابق’’جہاد‘‘ کا احیاء چاہتے ہیں… آج کی بہت سی نام نہاد جہادی تحریکوں
کے ذمہ دار اگرسیّد صاحبپ کے حالات، واقعات اور ارشادات کا مطالعہ کریں تو اُن کو
معلوم ہو گا کہ وہ سیدھے راستے پر نہیں جا رہے… اسی طرح ہمارے زمانے کا ایک بڑا
فتنہ’’خلافت‘‘ کے نام پر شور مچانے والے بے عمل اسکالروں کا ہے… لاہور، اسلام
آباد اور کراچی میںکئی تنظیمیں ’’خلافت‘‘ کے نام پر کام کر رہی ہیں… یہ لوگ ظاہری
طور پر’’خلافت‘‘ کے قیام کی باتیں کرتے ہیں مگر خوداُن کا عمل مسلمانوں’’ کو خلافت
راشدہ‘‘ کے پاکیزہ نظام سے دور لے جارہا ہے… خلافت کے قیام کے لئے دو چیزیں فرض کے
درجے میں ہیں… ایک ہجرت اور دوسری جہاد… مگر ان تنظیموں اور اسکالروں کے پاس نہ
ہجرت ہے اورنہ جہاد… بس ہوائی باتیں ہیں… اور خود فریبی کے ڈھکوسلے…
کیا خلافت گھر بیٹھے قائم ہو جائے گی؟… قرآن پاک کی وہ
آیات جن میں خلافت کا تذکرہ ہے اُن کو غور سے پڑھا جائے تو یہی سمجھ میں آتا ہے
کہ… خلافت کی نعمت مسلمانوں کو تب نصیب ہوتی ہے جب وہ ایمان اور اعمال صالحہ کی
قوت سے لیس ہو کر… ہجرت اورجہاد یعنی ہر طرح کی قربانی کے لئے کھڑے ہوتے ہیں… حضرت
سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے جب’’خلافت‘‘ کا مشن شروع فرمایا تو پھر تکیہ رائے
بریلی میں بیٹھ کر لیکچر نہیں دیتے رہے… بلکہ انہوںنے ہجرت اور جہاد کا راستہ
اختیار فرما کر… اُمت مسلمہ کو’’خلافت‘‘ پانے کا طریقہ اور راستہ سمجھا دیا… اور
خود بھی زمین کے ایک حصّے پر اس کا نمونہ قائم فرما دیا…مگر مسلمانوں کے مجموعی
حالات اس معیار کے نہیں تھے کہ اُن کو’’خلافت‘‘ کی نعمت نصیب ہوتی…
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو اپنے
پاس بُلالیا… اور اُن کے مخلص رفقاء کو مغفرت،سعادت اور شہادت کی نعمتوں سے مالا
مال فرما دیا… حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ جس قافلے کو لیکر چلے تھے وہ قافلہ
آج بھی الحمدللہ رواں دواں ہے… سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا
قافلہ کوئی نئی چیز یا نئی بدعت نہیں تھی… یہ وہ قافلہ ہے جو’’بدر‘‘ کے میدان سے
چلاتھا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری تک بغیرکسی وقفے کے
چلتا رہے گا… اس قافلے کے پہلے امیر حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم تھے اور آخری امیر حضرت امام مہدی رضی اللہ عنہ اور
حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے… پندرہویں صدی جاری ہے…پچھلے چودہ سو
سال میں یہ قافلہ ایک دن کے لئے بھی نہیں رکا…حضرت آقامدنی صلی اللہ علیہ
وسلم نے واضح اعلان فرمادیا ہے کہ یہ قافلہ ہر زمانے میں موجود ہوتا
ہے… اور یہ حق پر ہو گا اور اس میں چلنے والے کامیاب لوگ ہوں گے… تیرہویں صدی میں
اس قافلے کی سالاری کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت سیّد صاحب
رحمۃ اللہ علیہ کو منتخب فرمایا… اور یہ قافلہ اور اُس کے کارنامے اُمت کے سامنے
ظاہر ہوئے… بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ قافلہ گمنام چلتا رہتا ہے اور دنیا
کے دوسرے مسلمانوں کو اس کی خبر نہیں ہوتی… دنیا تو بہت بڑی ہے اور زمین اور سمندر
بہت وسیع ہیں… آج سائنسدانوں نے ساری دنیا کو ناپنے کا دعویٰ کر رکھاہے مگر ہر
چند سال کے بعد کوئی نئی جگہ سامنے آجاتی ہے… حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ
چونکہ اس اُمت کے’’مجددین‘‘ میں سے تھے اس لئے اُن کے قافلے کے حالات مسلمانوں کے
سامنے آگئے… تاکہ وہ لوگ جن کا ’’قبلہ‘‘ دائیں بائیں ہو چکا ہے وہ اس قافلے سے
روشنی لے کر’’صراط مستقیم‘‘ کی طرف گامزن ہوں… بدر اور بالاکوٹ والا قافلہ آج بھی
الحمدللہ … اپنی منزل کی طرف رواں دواں
ہے… وہ خوش نصیب مسلمان جن کی قسمت میں کامیابی اور جنت لکھی ہے وہ اس قافلے کو
ڈھونڈ لیتے ہیں… اور پھر اپنی پونجی یعنی جان و مال لگا
کر اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کے مستحق بن جاتے ہیں… میری
آپ سب سے گزارش ہے کہ… دنیا پرستی کے دھوکے میں نہ پڑیں… لوگ دھڑا دھڑ اس دنیا کو
چھوڑ کر مررہے ہیں…معلوم ہوا کہ دنیا فانی ہے یہ دل لگانے اور جان کھپانے کی جگہ
نہیں ہے… آپ سب حضرت سیّد احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کے مبارک حالاتِ زندگی اور
آپ رحمۃ اللہ علیہ کے ارشادات کو پڑھیں… سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ گویا کہ ہمارے
اپنے زمانے ہی کے آدمی ہیں… دو سوسال کا عرصہ کوئی زیادہ عرصہ نہیں ہے… اُن کے
زمانے میںتقریباً وہ تمام فتنے موجود تھے جن کا سامنا آج ہمیں بھی ہے… پھر ان
حالات میں حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور اُن کے رفقاء نے’’حق راستے‘‘ اور
کامیابی کوکیسے تلاش کیا؟… ہم سب کو اگر اپنی آخرت کی فکر ہے تو ہم سیّد صاحب سکے
قافلے سے قرآن وسنت کا کامیابی والاراستہ معلوم کر آئیں… اور پھر اپنے زمانے میں
اس قافلے کو تلا ش کریں… اور پھر مرتے دم تک اسی قافلے میں جڑے رہیں…
یا اللہ روشنی عطاء فرما، نور عطاء فرما، توفیق عطاء فرما…
آمین یا ارحم الرحمین
اللھم صل علیٰ سیّدنا ومولانا محمد عدد مافی
علم اللہ صلوٰۃ دائمۃ بدوام
ملک اللہ عزوجل وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ’’رزق‘‘ کی تنگی سے ہم سب
مسلمانوں کی حفاظت فرمائے… حضرت سیّد احمد شہیدرحمۃ اللہ
علیہ نے کئی غریب، فقیر اور پریشان حال مسلمانوں کو روزی میں برکت کے
وظیفے بتائے… اور بعض لوگوں کو روزی میں برکت کے طریقے بھی ارشاد فرمائے…
ماشاء اللہ ان تمام مسلمانوں کو ان وظیفوں اور طریقوں پر
عمل کرنے سے فائدہ ہوا… اور اللہ تعالیٰ نے اُن کی تنگی اور
پریشانی دُور فرما دی… دراصل حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو دو چیزوں کا بے حد
شوق تھا…
(۱)جہاد(۲) مخلوق کی خدمت…
حضرت ندوی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:
’’آپ پکو بچپن ہی سے مردانہ اور سپاہیانہ کھیلوں کا شوق
تھا سنّ بلوغ کو پہنچے تو خدمت خلق کا ایسا ذوق پیدا ہو اکہ اچھے اچھے بزرگ حیران
رہ گئے، ضعیفوں اور محتاجوں اور بیواؤں کی خدمت کرنے کا جذبہ، اس کے ساتھ عبادت،
ذکر الہٰی کا ذوق بہت بڑھا ہوا تھا، ورزش اور مردانہ کھیلوں کا بہت شوق تھا، پانچ
پانچ سو ڈنڈ لگاتے تھے اور تیس تیس سیر کے گرز گھماتے، تیرنے اور پانی میں دیر تک
ٹھہرنے کی مشق کرتے (جب ایمان کی بہار آئی، تسہیل)
اسلام کے اہم ترین فریضے’’جہاد فی سبیل اللہ ‘‘
کے بارے میں آپ رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات کا سلسلہ تو ابھی تک جاری ہے… اس پر بہت
کچھ لکھا جا چکا ہے اور ان شاء اللہ آئندہ بھی لکھا
جاتا رہے گا… آج کی مجلس میں حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے اُن وظائف اور
طریقوں کا تذکرہ کرتے ہیں… جو آپ پنے روزی کی تنگی اور پریشانی میں مبتلا افراد
کو تلقین فرمائے… ان وظائف سے پہلے چند ضروری باتیں…
روزی کی تنگی کی کئی قسمیں
روزی میں تنگی کی کئی قسمیں ہیں… اور ہر قسم دوسری سے زیادہ
تکلیف دہ ہے…
(۱) مال و اسباب کی اتنی کمی کہ اہم ضروریات بھی پوری نہ ہوں… یہ بھی رزق کی تنگی
ہے…
(۲) دل میں اتنی لالچ اور حرص پیدا ہو کہ جتنا بھی ملے کم محسوس ہو… یہ بھی رزق کی
تنگی ہے…
(۳) مال بہت ہو مگر اس مال سے کوئی فائدہ نہ ہو… سارا مال ایک کاروبار کے بعد
دوسرے کاروبار میں لگتا جائے… مٹی اور گارے میں ضائع ہوتا رہے… اور مال کے مالک کو
اس مال سے کوئی آرام، آسائش اور راحت نہ ہو… بلکہ الٹی تکلیف، پریشانی اور
تھکاوٹ ہو… یہ بھی رزق کی تنگی ہے…
(۴) رزق تو پورا ملے مگر اسراف، فضول خرچی اور لاپرواہی کی عادت ہو جس کی وجہ سے
قرضوں پر قرضے چڑھتے جائیں… اور انسان دوسرے انسانوں کے سامنے رسوا ہوتا رہے… یہ
بھی رزق کی تنگی ہے…
(۵) مال موجود ہو مگر دل میں اتنا بخل پیدا ہو جائے کہ… ہر روپیہ خرچ کرنے پر
تکلیف ہو… اور اس کی وجہ سے اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ضروریات تک پوری نہ کر
سکتا ہو… یہ بھی رزق میں تنگی کی ایک قسم ہے…
رزق میں تنگی کے بعض اسباب
رزق میں تنگی کے کئی اسباب ہیں مثلاً
(۱) اجتماعی اموال… یا کسی اور کے مال میں خیانت کرنا… حضرت
سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ جب نواب امیر الدولہ کے لشکر میں تھے تو آپ پکو خواب کے
ذریعہ معلوم ہوا کہ… لشکر کے ہاتھی کا جو نگران ہے وہ ہاتھی کے حق میں خیانت کرتا
ہے… یعنی نواب صاحب پاُسے ہاتھی کے لئے جتنا خرچہ دیتے تھے وہ پورا ہاتھی کو نہیں
کھلاتا تھا… کچھ حصّہ خود ہڑپ کر جاتا تھا… چنانچہ وہ جہادی ہاتھی بھوکا رہ جاتا
تھا… سیّد صاحبپ کو حکم ملا کہ اس کو سمجھائیں ورنہ وہ سخت مصیبت میں گرفتار ہو
گا… اتفاق سے اُس نگران نے حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی دعوت کی… اور درخواست
کی کہ میری روزی میں بہت تنگی ہے، کچھ پورا نہیں پڑتا آپ میرے لئے سفارش کریں…
حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا آپ اس ہاتھی کا حق پورا اس کو کھلایا
کریں ان شاء اللہ چند دن میں خوب روزی ملے گی… انہوں
نے فوراً خیانت سے توبہ کی… اور چند دن بعد ماشاء اللہ مالا
مال ہو گئے… اگر آپ نے یہ دلچسپ واقعہ پورا پڑھنا ہے تو وقائع صفحہ(۵۱)تا صفحہ (۵۳) پر ملاحظہ فرمائیں…
(۲) بعض اوقات کسی گناہ کی وجہ سے رزق میں تنگی آجاتی ہے… اس
لئے اگر استغفار کا معمول بنایاجائے… اور صدقہ وغیرہ دیا جائے تو وہ تنگی فوراً
دور ہو جاتی ہے… جس طرح کسی پائپ میں کچر ا آجائے تو پانی رُک جاتا ہے… وہ کچرا
دور کر دیا جائے تو پانی جاری ہو جاتا ہے… حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ جب نواب
امیر الدولہ مرحوم کے لشکر میں تھے تو اسلحہ کے کچھ تاجر آئے اور انہوں نے آپ
پکے پاس قیام کیا… کئی دنوں بعد انہوں نے شکایت کی کہ ہمارا اسلحہ فروخت نہیں ہو
رہا…اور کھانے پینے کا خرچ الٹا ہم پر پڑ رہا ہے… حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ
علیہ نے اُن سے کہلوایا کہ وہ اگر اپنی تیر کمانوں میں سے سب سے بہترین کما ن اور
ایک ترکش اُس مجاہد کو دے دیں جس کا ہم نام بتائیں تو ان
شاء اللہ اُن کا تمام سامان فروخت ہو جائے گا اور مزید مال بھی
ملے گا… انہوں نے اس ’’نسخہ‘‘ پر عمل کیا تو فوراً اُن کا تمام اسلحہ فروخت ہو گیا
اور نواب صاحب نے اُن کو مزید انعام بھی دیا… تاجر لوگ اگر اسی طرح جہاد میں قیمتی
مال خرچ کریں … اور غریب مسلمان بھی اپنا کچھ نہ کچھ مال جہاد میں لگایا کریں تو
اس سے اُن کے گناہ معاف ہوں گے… اور ان شاء اللہ روزی
میں بہت برکت ہو گی…
(۴) فجر کے بعد سورج نکلنے سے پہلے سونا، فجر کی نماز قضا کرنا،
قرض لیکر واپس نہ لوٹانا، اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے
مال پر نظر رکھنا کہ وہ ہمیں دے…یہ بھی رزق کی تنگی کے اہم اسباب ہیں…
اسماء الحسنیٰ کا عمل
حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو’’جہاد فی
سبیل اللہ ‘‘ کی برکت سے اتنی اونچی نسبت اور مقام حاصل تھا کہ… آپ
پکے شیخ امام المحدثین حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی اپنے
مریدوں اور رشتہ داروں کو اصلاح، دعاء اور توجّہ کے لئے حضرت سیّد صاحب کے پاس
بھیجتے تھے… ایک بار حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے کچھ رشتہ داروں نے رزق
کی تنگی کی شکایت کی تو حضرت سیّد صاحب نے اُن کو برکت والے روپے دیئے اور اُن کے
ساتھ دو افراد اورتھے اُن کو یہ وظیفہ ارشاد فرمایا:
اکتالیس دن تک ہر روز یَا مُغْنِیْ اور یَا
بَاسِطُ گیارہ گیارہ ہزار بار پڑھیں… یعنی گیارہ ہزار
بار یَا مُغْنِیْ اور گیارہ ہزار باریَا بَاسِطُ… اور اس
وظیفہ کے اوّل اورآ ٓخر میں سات سات بار درود شریف اور سورہ فاتحہ پڑھیں…
اکتالیس دن کے بعد یہ عمل بند کر دیں… اُن حضرات نے یہ عمل
کیا تو ماشاء اللہ چند دن بعد اُن کی تمام تنگی بہت عجیب
طریقہ سے دور ہو گئی… یہ پورا قصہ ’’وقائع احمدی ‘‘کے صفحہ ۱۲۹ پر مرقوم ہے…
بسم اللہ کا عمل
ایک صاحب جن کا نام’’محمد میاں‘‘تھا… انہوں نے حضرت سیّد
صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور آپ کے رفقاء کی دعوت کی… اور پھر انہوں نے اورایک دوسرے
صاحب نے آپ پکی خدمت میں اپنی پریشانی عرض کی کہ… ہماری قدیم جاگیریں انگریز
حکومت نے ضبط کر لی ہیں… جبکہ ہمارے اخراجات اپنی پُرانی طرز پر جاری ہیں جس کی
وجہ سے ہم ہمیشہ قرضدار رہتے ہیں، حضرت ہمیں ایسی دعا بتادیں کہ جس کی برکت
سے اللہ تعالیٰ قرض سے نجات بخشے اور ہماری گزر بسر خوبی سے
چلے… حضرت سیّد صاحب نے ان میں سے ایک شخص کو یہ مؤثر اور طاقتور وظیفہ ارشاد
فرمایا:
پانچ سو بار درود شریف پڑھ کر گیارہ سو
بار بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھیں اور آخر میں
پھر پانچ سو بار درود شریف پڑھیں…
اللہ تعالیٰ آپ کا مقصد پورا کر ے گا
(وقائع ص ۱۷۱)
سعدی فقیر عرض کرتا ہے کہ… یہ عمل رزق میں برکت کے علاوہ
اور بھی بہت سی پریشانیوں اور مسائل کا حل ہے… شرط یہ ہے کہ اخلاص اور توجہ سے کیا
جائے…
اللہ ُ الصَّمَدْ کا عمل
ایک شخص نے حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کی کہ میں
روزی سے بہت تنگ حال ہوں… کچھ ایسا عمل ارشاد فرمائیں کہ روزی کشادہ ہو جائے… آپ
پنے ارشاد فرمایا:
تم ہر روز گیارہ سو
مرتبہ اللہ الصَّمَدُ پڑھا کرو… اوّل آخر درود شریف (جتنی
بار ہو سکے)
اللہ تعالیٰ تمہاری روزی میں برکت کر ے
گا… ان شاء اللہ ۔ (وقائع ص ۱۴۵)
’’ اللہ الصَّمَدُ ‘‘ کا یہ عمل بہت
نافع اور مجرب ہے…
قرآنی آیت مبارکہ کا عمل
ایک شخص نے حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے رزق میں وسعت
اور برکت کا عمل پوچھا تو
آپ پنے ارشاد فرمایا:
تم گیارہ سو بار یہ آیت پڑھا کرو
اِنَّ اللہ ھُوَالْرَّزَّاقُ
ذُوالْقُوَّۃِ اَلْمَتِیْنُ
اوّل آخر درود شریف (وقائع ص ۱۴۵)
قرآنی آیت کا یہ عمل بہت مبارک، مفید اور قوی ہے…
دنیا اور آخرت دونوں کی فلاح کا عمل
’’ناگور‘‘ کے ایک میاں جی جن کا نام خدا بخش تھا… اور وہ
بچوں کو قرآن پاک پڑھاتے تھے ، حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر
ہوئے… اور عرض کی کہ آپ میرے واسطے دعاء کریں
کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے راضی ہو اور دین و دنیا میں مجھ کو
فلاح(کامیابی) دے… حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ہنس کر فرمایا کہ تم تو آپ
میاں جی ہو! اور تم کو معلوم ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ
کی نعمتوں کا خزانہ ہے، اسی میں سے کوئی آیت پڑھا کرو… انہوں نے عرض کی کہ بے شک
قرآن مجید نعمتوں کا خزانہ ہے مگر آپ جس آیت کی اجازت دیں میں پڑھا کروں… سیّد
صاحب پنے فرمایا…
ہر روز گیارہ سو بار یہ آیت پڑھا کریں
اِنَّ اللہ ھُوَالْرَّزَّاقُ
ذُوالْقُوَّۃِ اَلْمَتِیْنُ
اوّ ل آخر گیارہ گیارہ بار درود شریف…
اللہ تعالیٰ تمہارا دنیا کا مقصد پورا
فرمائے گا اور آخرت کی فلاح اور کامیابی کے لئے یہ آیت پڑھا کرو
سَلَامٌ قَوْلاً مِنْ رَبٍّ رَحِیْمٍ(وقائع ص ۶۵۳)
راوی کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ بعد میری’’میاں صاحب‘‘ سے ملاقات
ہوئی تو ماشاء اللہ بہت خوشحال… اور فارغ البال تھے…
سورہ فاتحہ اور اخلاص کا عمل
حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے قاصد’’میاں پیر محمد صاحب
پ‘‘ سے ایک غریب مسلمان نے روزی کی تنگی کی شکایت کی… اور رزق میں برکت اور وسعت
کا عمل پوچھا… میاں پیر محمد صاحب پنے فرمایا:
تم ہر روز ایک سو بار سورہ فاتحہ اور ایک سو بار سورۂ
اخلاص پڑھا کرو، اللہ تعالیٰ تمہاری روزی میں برکت دے گا
اور یہ وظیفہ مجھے میرے مرشد(حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ) نے بتایا ہے۔ (وقائع
ص ۲۲۷۹)
چند اور وظائف
آپ نے رزق میں وسعت کے وظائف ملاحظہ فرما لئے… یہ آپ سب
کے لئے حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے تحفہ ہیں… آپ میں سے جو بھی رزق
کی کسی طرح کی تنگی کا شکار ہو وہ اخلاص کے ساتھ ان وظائف سے فائدہ اٹھائے…
’’وقائع سیّد احمد شہیدرحمۃ اللہ علیہ ‘‘ میں چند اور وظیفے بھی درج
ہیں… مثلاً
(۱) کسی کے ساتھ دشمنی یا لڑائی ختم کر کے اتفاق پیدا کرنے کا عمل
تہجد
کے وقت ساٹھ دن تک تین سو اکتالیس بار ’’ اللہ الصَّمَدُ ‘‘پڑھنا
۔(ملاحظہ فرمائیے وقائع ص ۶۷۵)
(۲) جنگ اور خوف کی جگہ جاتے وقت امن اور عافیت کے لئے گیارہ بار سورۂ
القریش(لایلٰف قریش) پڑھ کر اپنے اوپر دم کرنا…
یہ
عمل کتاب میں کئی جگہ مذکورہے…
(۳) رزق میں بے حد برکت، وسعت اور پریشانیوں کے حل کے لئے سورۂ مزمّل کا چلّہ… یہ
عمل وقائع صفحہ ۱۳۰ پر مختصر اور حج کے بیان میں مکمل شرائط اور تفصیل کے
ساتھ مذکور ہے…
(۴) سمندر کے سفر میں حفاظت کے لئے
سورہ
الزخرف کا پہلا رکوع روزانہ تلاوت کیا جائے(وقائع ص ۱۰۲۷)
حج
کے سفر کے دوران حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ بحری جہاز پر… روزانہ فجر کے
بعد’’حزب البحر‘‘ پڑھتے تھے۔ (وقائع ص ۱۰۲۹)
اللہ تعالیٰ حضرت سیّد
احمد شہیدرحمۃ اللہ علیہ … اور اُن کے اہل و عیال اور رفقاء کرام کے
درجات مزید بلند فرمائے… اور ہمیں بھی اپنی رحمت سے ’’صراط مستقیم‘‘ کی ہدایت اور
استقامت نصیب فرمائے…
آمین یا ارحم الراحمین
اللھم صل علیٰ سیّدنا محمد النبی الامّی وانزلہ المقعد
المقرب عندک وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو’’پورا مسلمان‘‘ بنائے… اور
ہم سب کو ایمان ِ کامل نصیب فرمائے…آج کی محفل میںبھی حضرت سیّد
احمد شہیدرحمۃ اللہ علیہ کا بابرکت تذکرہ جاری رکھتے ہیں…
اُس سے پہلے چند تازہ خبروں پر ایک مختصر سی نظر…
(۱) پاکستان میں’’اٹھارویں ترمیم‘‘ منظور ہو گئی… یہ عام سا واقعہ ہے کیونکہ
حکمرانوں کے نزدیک ملک کا آئین ایک’’کھلونا‘‘ ہے وہ حسب خواہش اس سے کھیلتے رہتے
ہیں… کل کوئی اور آئے گا تو’’انیسویں ترمیم‘‘ بھی منظور کرا لے گا…
(۲) یورپ میں ایک آتش فشاں پہاڑ نے دھواں اُگلا تو سارا یورپ مفلوج ہو کر رہ گیا…
سات دن تک کئی ملکوں میں کوئی جہاز نہیں اُڑا… اور لاکھوں لوگ ہوائی اڈوں پر پھنس
کر رہ گئے… یہ ہے ترقی اور یہ ہے طاقت کہ… اللہ تعالیٰ کی
ایک ادنیٰ مخلوق کا مقابلہ کر نہیں سکتے اور دعوے کرتے ہیں خُدائی کے…
(۳) اُدھر امریکہ اور ایران اوپر اوپر سے ایک دوسرے پر برس رہے ہیں جبکہ اندر سے
دونوں کے مفادات ایک ہیں… مسلم دنیا میں ایران کی مقبولیت جب کم ہونے لگتی ہے تو
امریکہ اُس کے خلاف ایسا شور مچاتا ہے کہ ایران پھر’’کاغذی ہیرو‘‘ بن جاتا ہے…
افغانستان میں امریکہ اور ایران اکٹھے کھڑے ہیں…عراق میں امریکہ اور ایران ایک
ساتھ بیٹھے ہیں… بلکہ عراق میں امریکہ کو کامیابی ایران کے تعاون سے ملی ہے…
(۴) کشمیر کے معروف اور بزرگ رہنما سیّد علی گیلانی… تہاڑ جیل جا کر بھائی محمد
افضل گورو صاحب سے ملاقات کر آئے ہیں… اللہ تعالیٰ اُن کو
اس کارِ خیر پر جزائے خیر عطاء فرمائے… انہوں نے ایک جلسہ عام میں تقریر کرتے ہوئے
کہا ہے کہ… افضل گورو
صاحب سے ملاقات کر کے میرا ایمان تازہ ہوا ہے…
اورمیرے ایمانی جذبات کو ترقی نصیب ہوئی ہے… افضل گورو صاحب خوش خرّم، مطمئن اور
اپنے ایمانی نظریات پر قائم ہیں… القلم کے قارئین تو محمد افضل گورو صاحب کو جانتے
ہیں… کشمیر کا ایک بہادر اور شیر دل نوجوان جو تہاڑ جیل دہلی میں… سزائے موت وارڈ
میں ہے…ایک شخص موت کے منہ میں بیٹھا ہے… مگر اپنے ملنے والوں میں’’امیدیں‘‘ اور
’’روشنیاں‘‘ تقسیم کر رہا ہے… اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے
جذبات بانٹ رہا ہے…سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم…
اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اپنا فضل فرماتا ہے… اب آتے ہیں اپنے اصل
موضوع کی طرف… حضرت سیّد احمد شہیدرحمۃ اللہ علیہ کے تذکرے
سے خود مجھے اور قارئین کو الحمدللہ فائدہ پہنچ رہا ہے…حضرت سیّد صاحب
پر اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل تھا… حضرت شاہ عبدالعزیز محدث
دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں بخارا کے ایک عالمِ دین اصلاح، توجہ اور سلوک و
احسان کی تکمیل کے لئے حاضر ہوئے… حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اُن کو انتظار
کا حکم فرمایا… یہاںتک کہ جب حضرت سیّد احمد شہیدرحمۃ اللہ
علیہ دوبارہ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس تشریف لائے تو آپ
نے’’بخاری عالم‘‘ کو حضرت سیّد صاحب کے سپرد کیا… بخاری عالم نے جب حضرت سیّد صاحب
رحمۃ اللہ علیہ کی جہادی وضع قطع دیکھی تو دل میں سوچا کہ یہ تو مجاہد آدمی لگتے
ہیں یہ مجھے روحانی و باطنی علوم کی کیا تعلیم دیں گے… اور حضرت سیّد صاحب رحمۃ
اللہ علیہ سے پوچھنے لگے کہ آپ نے کون کون سی کتابیں اور علوم پڑھے ہیں؟… حضرت
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے ان کو ٹوک کر فرمایا کہ اس طرح کی گفتگو
سے آپ کو کیا مطلب؟ آپ یہ سمجھ لو کہ جو کچھ آپ کو میرے پاس بارہ برس میں ملے
گا ان کی خدمت میں وہ سب کچھ بارہ دن میں حاصل ہو جائے گا…(وقائع ص ۹۳)
ہم بھی حضرت سیّد احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کا تذکرہ اس لئے
کر رہے ہیں کہ… اُن پر اللہ تعالیٰ کا بہت فضل تھا… اور جن
لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے اپنا خاص فضل فرمایا ہواُن کا
تذکرہ کرنے سے بہت سی نعمتیں نصیب ہوتی ہیں… آئیے حضرت سیّد
احمد شہیدرحمۃ اللہ علیہ کی صحبت میں چلتے ہیں اور کامیابی
کی باتیں سیکھتے ہیں…
نماز کی سخت تاکید
حضرت سیّدصاحب رحمۃ اللہ علیہ نماز کی بہت تاکید فرماتے
تھے… رسالہ اشغال میں ہے:۔
’’نماز پنجگانہ(یعنی پانچ وقت کی نماز) اداکرنا فرض ہے، اور
اس کا ترک کُفر ہے، لازم ہے کہ ہر مؤمن جان و دِل
سے اللہ تعالیٰ کا حُکم بجا لائے‘‘(رسالہ اشغال، روحانی
رشتے)
ہر مسلمان کو چاہئے کہ نماز کے بارے میں یہی عقیدہ اور
نظریہ رکھے… حضرات صحابہ کرام ڑکا نماز کے بارے میں یہی عقیدہ اور نظریہ تھا… پس
ہر مسلمان خود کو اس کاپابند بنائے… اور اپنی آل،اولاد، رشتہ داروں اور اپنے
تابعداروں میں نماز کو قائم کرے… اور نماز چھوڑنے کو کافروں والا کام سمجھے…
مساجد کا ادب و احترام
بخارا کے جس عالم دین کا تذکرہ اوپر گزرا ہے… وہ چند دن
حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت میں رہے تو اپنے مقصد کو پہنچ گئے…
انہیں اللہ تعالیٰ کی معرفت کا بہت اونچا مقام نصیب ہوا…
ایک روز حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ اُن کو’’تعلیم‘‘ فرمارہے تھے کہ اچانک
اُنہیں قے(یعنی اُلٹی) آنا شروع ہو گئی…حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے مسجد کو
ناپاکی سے بچانے کے لئے پہلے مٹی کی چلمچی اُن کے آگے کی… مگر وہ چھوٹی تھی تو
باقی اپنے دامن میں لیکر آپ اور ملاّبخاری مسجد سے باہر نکلے… اور باہرآکر آپ
نے اپنے ہاتھ کپڑے وغیرہ دھو لئے… اس واقعہ کے چھ سات دن بعد آپ نے فرمایا… اُس
دن جو ملاّبخاری کی قے میںنے اپنے ہاتھ میں لی کہ مسجد نجس نہ ہو تو اس کام
سے اللہ تعالیٰ بہت راضی ہوئے
اور اللہ تعالیٰ نے اس پرمجھے بڑی نعمت عطاء فرمائی کہ اُس
کا شکرادا نہیں کرسکتا…اور فرمایا کہ تو نے ہماری مسجد کا ادب کیا ہم نے تجھ کو یہ
انعام دیا…(وقائع ص ۹۵)
اس سلسلے کا دوسرا واقعہ یہ ہے کہ… حضرت سیّد صاحب رحمۃ
اللہ علیہ حضرت شاہ عبدالقادر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی مسجد میں رہتے تھے… حضرت شاہ
عبدالقادر صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن پاک کا ترجمہ اور تفسیر’’موضح قرآن‘‘… جس
کو عام طور سے’’موضح القرآن‘‘ کہا جاتا ہے اسی مسجد میں تحریرفرمائی… حضرت سیّد
صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے خواب میں دیکھا ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ… یہ مسجد جب
سے بنی ہے اس کی چھت کو کبوتروں اور ابابیلوں کی بیٹ سے کسی نے پاک نہیں کیا… صبح
بیدار ہو کر آپ پنے تحقیق فرمائی تو یہی معلوم ہوا کہ مسجد کی چھت بہت طویل مدت
سے پاک نہیں کی گئی… مسجد کی چھت بہت اونچی تھی… آپ رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت شاہ
اسماعیل شہیدرحمۃ اللہ علیہ کو حکم دیا کہ کئی سیڑھیاں جوڑ
باندھ کراونچی سیڑھی تیار کی جائے… پھر آپپاس سیڑھی کے ذریعہ چھت پر چڑھے اور بہت
محنت سے صفائی، دُھلائی کی… اوربھی کئی لوگ اس مبارک کام میں آپ رحمۃ اللہ علیہ
کے ساتھ شریک ہو گئے… اس واقعہ کے کئی دن بعد حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ
نے فرمایا… اللہ تعالیٰ جلّ شانہ نے اس چھت کو صاف کرنے کے
بدلے مجھے بڑی نعمت عطاء فرمائی کہ اس کا شکر مجھ سے ادانہیں ہو سکتا…(وقائع ص ۱۰۴ تسہیل)
ان دو واقعات سے حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کا
ایک اور خوبصورت اور قابل تقلید پہلو ہمارے سامنے آگیا… مساجد سے محبت، مساجد کی
خدمت، مساجد کی صفائی،مساجد کا احترام… اور مساجد کے لئے محنت… حضرت سیّد صاحب
رحمۃ اللہ علیہ جہاں بھی گئے آپ پنے مسجد کو آباد فرمایا… کئی جگہوں پر نئی
مساجد تعمیر کروائیں… کئی گمراہ بدعتیوں نے جب توبہ کی تو آپ نے اُن کے امام
باڑوں کو مساجد میں تبدیل فرمادیا… ایک غریب آدمی سے آپ پنے فرمایاکہ تم… مسجد
کے پانی، روشنی اور لوٹوں وغیرہ کا بندوبست اپنے ذمہ لے لو تو اللہ تعالیٰ
تمہیں رزق کی وسعت عطاء فرمائے گا…اُس آدمی نے یہ خدمت اپنے ذمہ لے لی مگر وہ
حیران تھا کہ… اُس جیسے غریب آدمی سے یہ کام کیسے ہوپائے گا؟… اُس
نے اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر مسجد کی خدمت شروع کر دی
تو اللہ تعالیٰ نے اُس کی روزی اور رزق میں خوب برکت عطاء
فرما دی… مسجد کی تعمیر، مسجد کی آبادی اور مسجد کی خدمت یہ وہ اعمال ہیں
جو اللہ تعالیٰ کے فضل کو دعوت دیتے ہیں… ہم سب کو چاہئے
کہ… مسجد کی صفائی کیاکریں… جو مسجد ہمارے زیرِ انتظام ہو وہ شیشے کی طرح صاف شفاف
ہونی چاہئے… اگر مسجد کی چٹائی پھٹ گئی ہوتو ہم نئی خرید لائیں… مسجد میں جب جائیں
تو ادب سے جائیں… آواز بلند نہ کریں، شور شرابا نہ کریں… اور دنیا کی باتیں نہ
کریں… مسجد کی خدمت کا موضوع بہت طویل ہے آج بس اتنا ہی کافی ہے…
ہمیشہ جہاد کی تیاری
سیرت سیّد احمد شہیدرحمۃ اللہ علیہ میں ہے:
’’یوں توعبادت وسلوک کے ساتھ جہاد کی تیاری آپ ہمیشہ کرتے
رہتے تھے ، لیکن(رائے بریلی کے) اس قیام میں اس طرف سب سے زیادہ توجہ تھی…جہاد کی
ضرورت کا احساس روز بروز بڑھتا جاتاتھا اور یہ کانٹا تھا، جو آپ کو برابر بے چین
رکھتا تھا… دن رات اسی کاخیال رہتا تھا… زیادہ تر یہی مشاغل بھی رہتے(یعنی جہاد کی
تیاری، ٹریننگ وغیرہ)آپ اکثر اسلحہ لگاتے تاکہ دوسروں کو اس کی اہمیت معلوم ہو
اور شوق ہو…دوسروں کوبھی اس کی ترغیب دیتے‘‘ (روحانی رشتے ص ۶۱)
ہرمسلمان کو جہاد کی ایسی ہی فکر اور تیاری رکھنی چاہئے… یہ
اسلام کا تقاضا اور ایمان کامل کی شرط ہے…
پردے کی تاکید
حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے عورتوں کی اصلاح کے لئے
بھی بہت کام کیا… آپپجہاں بھی تشریف لے جاتے وہاں مردوں کے ساتھ عورتوں کی بیعت
بھی لیتے… اور انہیں وعظ ونصیحت فرماتے… جو عورتیں حلال مال میں سے آپ رحمۃ اللہ
علیہ کو کوئی ہدیہ پیش کرتیں تو آپ رحمۃ اللہ علیہ قبول فرماتے اور دعاء سے
نوازتے… لیکن اگر ہدیہ کسی حرام مال سے ہوتا تو آپ رحمۃ اللہ علیہ وہ واپس فرما
دیتے… اور بہت خیرخواہی کے ساتھ حرام کاموں سے بچنے کی تلقین فرماتے… عورتوں کی
اصلاح کا یہ سارا معاملہ پردے کے پیچھے سے ہوتا تھا… سفر حج کے راستے میں ایک بار
ایک بڑے رئیس نے آپ رحمۃ اللہ علیہ کی دعوت کی اور بیعت ہوئے… پھر وہ آپ کو
عورتوں کی بیعت کے لئے گھر کے اندر لے گئے… حضرت یہ سمجھ کر اُن کے ساتھ چلے گئے
کہ خواتین پردے کے پیچھے ہوں گی… مگروہاں تو خواتین سامنے بیٹھی تھیں…حضرت فوراً
باہرنکل آئے اور آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اُس رئیس کو پردے کی بہت تاکید کی اور
ارشاد فرمایا:
’’پردہ نہ کرنا کفار کا طریقہ ہے اور اس میں بڑے بڑے فساد
اور بہت قباحتیں ہیں اور اس میں سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ
یہ اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ
وسلم کی نافرمانی ہے‘‘(وقائع ص ۹۰۲ تسہیل)
پھر آپ رحمۃ اللہ علیہ صحیح پردہ کروا کے اندر تشریف لے
گئے اور عورتوں سے بیعت لی… اورآپ رحمۃ اللہ علیہ نے سر ننگا کرکے بہت عاجزی و
آہ و زاری سے اُن عورتوں کی اصلاح کی دعاء فرمائی… راوی کہتے ہیں کہ دعاء قبول
ہوئی اور اُس علاقے کی عورتوں میں بہت حیا اور دینداری عام ہوئی…
ہم سب مسلمانوں کو پردے کا خوب اہتمام کرنا چاہئے… اور
خواتین پردے کورسم یا مجبوری سمجھ کر نہیںبلکہ شان اور عبادت سمجھ کر خوشی اور
ایمانداری سے اختیارکریں…
سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی بیٹی کا صدقہ
حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ
کو اللہ تعالیٰ نے… توکّل اور سخاوت کی صفت عطاء فرمائی
تھی… آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جب سے ہوش سنبھالا کسی محتاج سائل کو حتی الامکان خالی
ہاتھ واپس نہیں فرمایا… جن دنوں آپ بالاکوٹ تشریف لے جانے کے لئے قصبہ’’راج
دواری‘‘ میں اپنے جانثار مجاہدین کے ساتھ ٹھہرے ہوئے تھے… وہاں ایک دن اشراق کے
بعد چارپائی پر لیٹے ہوئے اپنے رفقاء کو کچھ وعظ و نصیحت فرما رہے تھے… اسی وعظ
میں آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا:
’’بعض اوقات کوئی چھوٹا سا
عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں ایسا مقبول ہوتا ہے کہ نجات کا
ذریعہ بن جاتا ہے… اوربعض اوقات کوئی بڑا عمل جس میں بہت مال خرچ ہوا قبولیت کے اس
مقام تک نہیں پہنچتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ غنی ہے اس کو
تھوڑے، زیادہ کی کوئی پروانہیں… چنانچہ ایک دن کا قصہ ہے کہ میں اپنے تکیہ کی مسجد
میں بیٹھا تھا کہ ایک محتاج فقیر نے سوال کیا… اس وقت میرے پاس دینے کے لئے کچھ
نہیں تھا میں اس کو ٹھہرا کر اپنے گھر گیا اور گھر کی عورتوں سے کہا کہ اس وقت کسی
کے پاس کوئی پیسہ ہو یا کچھ کوڑیاں ہوں ہم کو دے، اللہ تعالیٰ
اس کو جنت عطاء کرے گا…سب نے جواب دیا کہ اس وقت ہمارے پاس پیسہ، کوڑی کچھ نہیں
ہے۔ اُس وقت ہماری بیٹی’’سارہ‘‘ کھیل رہی تھی اُس نے سنا تو مجھ سے کہا میاں!
چھدام کی کوڑیاں میرے پاس ہیں، اگر اتنی کوڑیوں کے دینے سے جنت ملتی ہے تو میں
لیتی ہوں، میں نے اپنے دل میں کہا کہ جس کو پروردگار جنت دیوے وہ پاوے… دیکھو تو
چھوٹی سی بچی کس طرح اس بات کو سمجھ گئی ، یہ اللہ تعالیٰ
کی عنایت ہے، پھر وہ’’کوڑیاں‘‘ سارہ سے لیکر میں مسجد میں گیا اور اس سائل کو دے
کر رخصت کیا(وقائع ،تسہیل ۲۱۸۰)
ہم سب مسلمانوں کو صدقہ، خیرات میںبڑھ چڑھ کر حصہ ڈالنا
چاہئے…اور اپنی اولاد میں بھی اس مقبول عمل کی عادت ڈالنی چاہیے…
اسلام کے پانچ اہم فرائض
رنجیت سنگھ کاایک فوجی آفیسر فرانسیسی تھا… نام اُس کا
جنرل وینٹورہ تھا… یہ جنرل دوبار حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مقابلے میں
اترا مگر دونوں بار اُسے بھاگنا پڑا… یہ کافی سمجھدار اور مذاہب کا علم رکھنے والا
شخص تھا… دوسری لڑائی سے پہلے اس نے حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے مراسلت بھی
کی اور اپنا کوئی نمائندہ بات چیت کے لئے بھیجنے کو کہا… حضرت سیّد صاحب رحمۃ
اللہ علیہ نے اپنی جماعت کے ایک صاحب علم، فہیم، بہادر اور بزرگ عالم دین حضرت
مولانا خیرالدین شیر کوٹی کو’’جنرل ونیٹورہ‘‘ کے پاس بات چیت کے لئے بھیجا حضرت
مولانا خیرالدین شیر کوٹی رحمۃ اللہ علیہ نے اس ملاقات میں حضرت سیّد
صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور اُمت مسلمہ کی بہترین ترجمانی فرمائی… اور جنرل
ونیٹورہ کو لاجواب کردیا…جنرل ونیٹورہ نے جب مولانا سے یہ پوچھا کہ… حضرت
سیّدصاحب رحمۃ اللہ علیہ کو اپنے علاقے میں بڑی عزت حاصل تھی پھر وہ یہاں کیا
کرنے آئے ہیں؟ کیا اپنے سے بہت زیادہ طاقتور دشمن کے ساتھ لڑنے کے لئے چلے آنا
کوئی دانشمندی ہے؟… تو حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا:
’’سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے آنے کا سبب یہ ہے کہ آپ کو
معلوم ہے کہ دینِ اسلام میں پانچ احکام’’فرض‘‘ کا درجہ رکھتے ہیں، جن کی ادائیگی
کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے سخت تاکید ہے اور وہ نماز ، روزہ،
زکوٰۃ، حج اور جہاد ہیں۔(جب ایمان کی بہار آئی ص ۱۶۷)
یہ تھا جہاد کے بارے میں حضرت سیّدصاحب رحمۃ اللہ علیہ اور
اُن کی جماعت کا عقیدہ… اور یہی وہ عقیدہ ہے جو قرآن پاک نے… اورجناب رسول کریم
صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا
ہے… اللہ تعالیٰ ہم سب کو اسی عقیدے پر زندہ رکھے اور اسی
پر شہادت نصیب فرمائے… آمین یا ارحم الراحمین
اللھم صل علٰی سیّدنا محمد النبی الامی بقدر علمہ وکمالہ
وحُسنہ وجمالہ وعلیٰ ال محمد وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ میری اورآپ سب کی ’’قسمت‘‘
اچھی فرمائے… اور ہم سب کو بد نصیبی سے بچائے… آمین یا ارحم الراحمین…’’ابو لہب‘‘
بدقسمت تھا حالانکہ اُس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ
پایا…صرف زمانہ ہی نہیں قریب کی رشتہ داری بھی… جی ہاں آدمی بدنصیب ہو تو اُسے
’’پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ کی رشتہ داری بھی کام نہیں دیتی… جبکہ دجّال کے
زمانے میں ایسے مسلمان ہوں گے جو سیدھے جنت میں جائیں گے… جی ہاں آدمی’’خوش
نصیب‘‘ ہو تو پھر اُسے ’’دجّال‘‘ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا… مجھے حیرت ہوتی ہے
اُن لوگوں پر جو خود کو مسلمان کہلواتے ہیں… مگر جہاد کی مخالفت کرتے ہیں… شہداء
کرام کے گرم لہو جنازے بھی اُن کی سوچ اور ہٹ دھرمی نہیں بدل سکتے… جہاد کے خلاف
وہی پرانی باتیں اور پُرانے اعتراضات… اللہ تعالیٰ بد نصیبی
سے بچائے… قرآن پاک جہاد کے تذکرے بار بار فرماتا ہے… مگر بدنصیب لوگ نہیں
سمجھتے… ان کو ’’سائنس‘‘ کی کوئی بات بتادو تو فوراً مان لیتے ہیں… مگر سورۂ
انفال اور سورۂ برأۃ کی پکار اِن کے کانوں پر اثر نہیں کرتی…بس یہی کہتے ہیں کہ
آج کا جہاد’’ بے مقصد‘‘ ہے… ان کو کون سمجھائے کہ جہاد اللہ تعالیٰ
کا حکم ہے… اور اللہ تعالیٰ کا حکم ماننا اور زندہ کرنا خود
بہت بڑا مقصد ہے…شہداء بالاکوٹ کا تذکرہ بار بار اسی لئے کیا جارہا ہے کہ… اُس
تحریک کا بھی ظاہری نتیجہ لوگوں کو نظر نہیں آیا… مگر اُس تحریک کے
مجاہدین کو جنت کی حوریں آسمان سے اُترتی ہوئی اپنی آنکھوں سے نظر آگئیں…
’’دعوتِ جہاد‘‘ دینے والے رفقاء سے بار بار یہی عرض کرتا ہوں کہ… فضول سوال و جواب
میں جہاد کے عظیم الشان فریضے کی توہین نہ ہونے دیں… بس مسلمانوں کو رو روکر
سمجھائیں کہ… جہاد اللہ تعالیٰ کا حکم ہے… اے مسلمانو! رب
تعالیٰ کے حکم کو پورا کرو… جہاد کی فرضیت، جہاد کے فضائل، جہادکے مناقب، جہاد کی
شان، شہادت کے فضائل… اور ترک جہاد کی وعیدیں بیان کرو جو خوش نصیب ہوگا وہ ایک
حدیثِ پاک سن کر ہی کھڑا ہو جائے گا… باقی آج کے جہاد کا کیا نتیجہ نکل رہا ہے؟…
مسلمانوں سے نہیں کافروں سے جا کر پوچھو کہ وہ آج کے جہاد سے کس قدر ہیبت زدہ
ہیں… اور کس طرح سے اُن کے منصوبے خود اُن کے منہ کی کالک بن رہے ہیں… ہمارے لئے
تو بس اتناہی کافی ہے کہ اللہ پاک ہمیں اپنے راستے کا
’’مجاہد‘‘ بنا دے… اور ہمارے دل میں ’’اعلاء کلمۃ اللہ ‘‘ کا جنون ہو
اور ہمارا جسم اپنے محبوب رب کے راستے میں بکھر جائے…
حضرت سیّد احمد شہیدرحمۃ اللہ
علیہ نے پوری زندگی مسلمانوں کو یہ مسئلہ سمجھایا کہ… ایمان کا سب سے
اونچا مقام جہاد فی سبیل اللہ سے حاصل ہوتا ہے… اسلام کی سب
سے بلند چوٹی جہاد فی سبیل اللہ ہے…
اور اللہ تعالیٰ سے محبت کا سب سے اہم تقاضہ جہاد فی
سبیل اللہ میں قربانی پیش کرنا ہے… پس وہ شخص جو اسلام،
ایمان اور محبت الہٰی کا دعویٰ کرتا ہے وہ جہاد فی
سبیل اللہ میں نکل کر اپنے دعوے کو سچّا ثابت کرے…
اور اللہ تعالیٰ کے ہاں کامیابی کا مقام پائے… حضرت سیّد
صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی جماعت میں چوٹی کے علماء کرام موجود تھے… خانوادۂ
ولی اللّہی کا پورا علمی نچوڑ اُن کے قافلے میں شامل تھا… آج جو لوگ جہاد فی
سبیل اللہ پر سوالات کرتے ہیں اُن کو چاہئے کہ… بدنصیبی سے
نجات حاصل کرنے کی دعاء کریں اور حضرت سیّد احمد شہیدرحمۃ اللہ علیہ کے
قافلے کے مکمل حالات پڑھیں… ان شاء اللہ نظریئے کی
اصلاح ہو جائے گی… جہاد پر اشکالات اور سوال کرنے والے لوگ کئی طرح کے ہیں…
(۱) بعض لوگوں نے اپنے دل میں یہ تہّیہ کر رکھا ہے کہ… وہ کبھی
بھی جہاد کے لئے نہیں نکلیں گے… جی ہاں ایک منٹ کے لئے بھی نہیں… ایسے لوگوں کے ہر
سوال کا جواب اگر قرآنی آیات سے بھی دے دیا جائے تب بھی… اُن پر کوئی فرق نہیں
پڑتا… وہ صرف الفاظ سے کھیلتے ہیں… کبھی کہتے ہیں ہم مطمئن ہیں اور کبھی پھر غیر
مطمئن ہونے کا اعلان کر دیتے ہیں… ان کی قسمت میں نہیں ہوتا کہ اُن کا ایک روپیہ
جہاد میں قبول ہو… یا اُن کوجنت کے زیورات یعنی جہادی اسلحہ نصیب ہو… وہ روز نئے
سوالات ڈھونڈتے ہیں… مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب ابتداء میں’’جیش محمد صلی اللہ
علیہ وسلم ‘‘ کا اعلان ہوا تو بعض لوگوںنے ایک ’’صاحب‘‘ کے بارے میں بہت اشکالات
کئے کہ… ان کو’’جیش ‘‘ میں کیوں شامل کیا گیاہے؟… چند سال بعد اُن ’’صاحب‘‘
کی’’جیش‘‘ سے علیحدگی ہو گئی توانہی لوگوں نے پھر شور مچایا کہ… ان کوکیوںنکالا
گیا ہے؟… بہرحال وہ کبھی بھی کسی بھی حال میں جہاد یا مجاہدین کی جماعت کے حامی
نہیں ہوتے… اُن کے نزدیک جہاد ایک عظیم فریضہ نہیں… بلکہ نعوذب
اللہ ایک کھلونا ہے… ایسے لوگوں سے بحث کرنے کا کیا فائدہ؟
(۲) بعض لوگ جہاد کو ایک اچھا کام سمجھتے ہیں… مگر خود کو اور
اپنے غیر جہادی کام کو جہاد سے بہت زیادہ افضل مانتے ہیں… ان کے سامنے نہ قرآن
پاک کی وہ نصّ قطعی ہے جس میںمجاہدین کی افضلیت کا صاف اعلان ہے… اور نہ ان کے
سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جہادی
فرمودات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہے… یہ لوگ چونکہ شریعت
کی ایک ترتیب کو الٹتے ہیں اس لئے یہ بھی وساوس میں غوطے کھاتے رہتے ہیں… اور جہاد
کے مبارک عمل میں دو لفظوں کی شرکت بھی ان کو نصیب نہیں ہوتی… کہ کسی مجاہد کی
حوصلہ افزائی کردیں… یا کسی مجاہد کو اخلاص کے ساتھ دعاء دے دیں… حالانکہ یہ’’ختم
نبوت‘‘ کی برکت ہے کہ… رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جہاد شروع
فرمایا تھا وہ آج بھی…تروتازہ، سرسبز اور شاندار ہے… میں آپ سب مسلمانوں کو کھلی
دعوت دیتا ہوں کہ… آج بھی شرعی جہاد کے کسی محاذ پر جا کر دیکھیں… آنے اور جانے
میں جو ایمانی کیفیات نصیب ہوتی ہیں… اُ ن کو الفاظ میں بیان ہی نہیں کیا جاسکتا …
الیکشن لڑنے والوں سے پوچھیں کہ…تیس دن کی انتخابی مہم چلانے سے’’ایمان‘‘ کی کیا
حالت بنتی ہے… تجربہ کار لوگ بتاتے ہیں کہ… ایمان، نماز، دینی کیفیات کا جنازہ نکل
جاتا ہے… یوں محسوس ہوتا ہے کہ… سینے میں دل نہیں ایک کالا پتھر رکھا ہو اہے… اب
یہی تیس دن آپ جہاد کا سفر کریں… اللہ اکبر کبیرا… زندہ
راتیں، حسین دن، جاندار نمازیں… اور عرش تک پہنچتی دعائیں… ذکر کا الگ مزہ، مراقبے
کا الگ لطف… اور دل پر رحمت اور نور کی برسات… جہاد کی تو آج بھی یہ شان ہے کہ…
کوئی مسلمان عورت اپنے ہاتھوں سے سونے کی ایک چوڑی جہاد میں دینے کے لئے اُتارتی
ہے تو اُسی وقت اُس کے دل کی حالت بدل جاتی ہے… اندھیرے اور شہوات غائب اور نور ہی
نور، نور ہی نور… اللہ نورالسمٰوٰت والارض…آج بھی کوئی
پریشان حال آدمی اچانک ’’فدائی جہاد‘‘ کی نیت کرتا ہے تو اُسی وقت سے اُس پر…
سکینہ طاری ہونا شروع ہو جاتا ہے…اور جب آدمی جہاد میں مال خرچ کرنے کے لئے اپنی
جیب یا تجوری میں ہاتھ ڈالتا ہے تو اُسی وقت اُس کی روح آسمانوں کے اوپر کی سیر
کر آتی ہے…اللہ کے بندو! جہاد بہت بڑی چیز ہے… بہت بڑی چیز ہے… یہ بات
خود اللہ تعالیٰ نے اور آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم نے سمجھائی ہے… اُمتِ مسلمہ کے جن خوش نصیب لوگوں
نے اللہ تعالیٰ اور رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی
اس بات کو سمجھا ان میں حضرت سیّد احمد شہیدرحمۃ اللہ علیہ بھی تھے…
حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں…
تمام عبادتوں کی بنیاد، تمام طاعتوں کی اصل اور تمام
سعادتوں کا مدار یہ ہے کہ بندے کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ
عبودیت یعنی بندگی کا رشتہ قائم ہو جائے… یہ رشتہ قائم ہونے کی نشانی یہ ہے
کہ اللہ تعالیٰ کی محبت تمام رشتوں اور چیزوں کی محبت سے
بڑھ کر نصیب ہو جائے… اب اس بات کا پتہ کس طرح چلے گا
کہ اللہ تعالیٰ کی محبت سب سے بڑھ کر ہے تو اس محبت کی سب
سے بڑی امتحان گاہ’’میدان جہاد‘‘ ہے…پس جہاد کے لئے قدم اٹھانا جسے حدیث شریف میں
اسلام کی چوٹی کی بلندی قرار دیا گیا ہے اس بات کی مضبوط علامت ہے
کہ اللہ تعالیٰ کی محبت تمام مخلوقات کی محبت پر غالب ہو
گئی ہے۔(سیّد احمد شہید ص ۲۵۲ تسہیل)
یہ ہے جہاد کے بارے میں صحیح اسلامی نظریہ… خوش قسمت ہیں وہ
مسلمان مرد اورعورتیں جو اس زمانے میں کسی بھی طرح… جہاد فی
سبیل اللہ کے عظیم اور مبارک عمل کے ساتھ منسلک ہیں… ان سب
کو پوری اُمت مسلمہ کی طرف سے بہت بہت مبارک… اللہ تعالیٰ
تو فیق دے تو’’فتح الجوّاد‘‘ کا مطالعہ کر لیں… ’’فضائل جہاد‘‘ کو ایک بار پڑھ
لیں… حضرت سیّد احمد شہیدرحمۃ اللہ علیہ کے متعلق حضرت مولانا سیّد
ابوالحسن ندوی رحمۃ اللہ علیہ … اور مولانا غلام رسول مہرپکی کتابیں پڑھ لیں…حضرت
سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے بیانات اور واقعات پڑھ لیں… ان شاء اللہ
آپ ضرورکہیں گے کہ… بے شک جہاد کی نعمت صرف’’سعادت مندوں‘‘ کو نصیب ہوتی
ہے… اللہ تعالیٰ میری اور آپ سب کی قسمت اچھی فرمائے اور
ہم سب کو شقاوت اور بدبختی سے بچائے… آمین یا ارحم الراحمین
وصلی اللہ علی النبی الطاہر الزکی الکریم
الہاشمی محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا… صلوٰۃ تحل بھا العقد وتفک
بھاالکُرب
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے ایک’’پتھر‘‘ پر محبت کی
نظر فرمائی تو وہ… کالا پتھر یعنی’’حجر اسود‘‘ کتنا ’’محبوب‘‘ ہوگیا…لاکھوں،
کروڑوں مسلمان اُس کی زیارت کرتے ہیں… اور لپک لپک کر اُس کے بوسے لیتے
ہیں… اللہ تعالیٰ کی محبت عجیب نعمت ہے یہ جس کو بھی نصیب
ہو جائے وہ ’’محبوب‘‘ بن جاتا ہے…
وَأَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیْ
خواہ وہ کوئی انسان ہو، پتھر ہو یا پانی ہو… ’’زمزم شریف‘‘
کتنا محبو ب ہے، حالانکہ وہ بھی پانی ہے… مگر اللہ تعالیٰ
کی ’’نظر محبت‘‘ نے اُسے کیا سے کیا بنا دیا ہے…
سبحان اللہ وبحمدہ
سبحان اللہ العظیم
حضرت سیّد احمد شہیدرحمۃ اللہ
علیہ بھی ایک ’’انسان ‘ ‘ تھے… اور ہماری طرح رسول پاک صلی اللہ علیہ
وسلم کے ایک اُمّتی تھے… وہ نہ پیغمبر تھے اور نہ صحابی…
مگر اللہ تعالیٰ نے اُن پر اپنی محبت کی نظر فرمائی… اور
اُن کو اپنی محبت والے خاص راستے یعنی ’’جہاد فی سبیل اللہ ‘‘ کے لئے
منتخب فرمایا… اللہ تعالیٰ کی اس ’’محبت‘‘ نے حضرت سیّد
صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو ایسا ’’محبوب‘‘ بنادیا کہ… مسلمان آج بھی اُن سے محبت
رکھتے ہیں، اُن سے روشنی لیتے ہیں… اور اُن کے لئے دعائیں کرنا اپنے لئے سعادت
سمجھتے ہیں…
سبحان اللہ وبحمدہ
سبحان اللہ العظیم
القلم کی شاندار محفل
جہاد، روحانیت اور محبت کے اس خوبصورت ’’سنگم‘‘ پرالقلم آج
ایک شاندار محفل سجا رہا ہے… اس میں آپ کو ایک’’مرد مجاہد‘‘ کے کارنامے… اور ایک
کامیاب مسلمان کے حالاتِ زندگی سنائے جائیں گے… آج القلم آپ کو اپنے ساتھ لیکر
ایک جانباز قافلے کے پیچھے پیچھے عقیدت کے ساتھ دوڑے گا… رائے بریلی سے دہلی…کلکتہ
سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ…تکیہ علم اللہ سے قندھار…
پشاور سے پنجتار… طورو اور مایار… سوات، ہزارہ اور پھر بالاکوٹ… ایمان اور نفاق کے
عجیب مناظر… وفا اور دغا کی انمٹ کہانیاں… جرأت اور غیرت کے مثالی شاہکار…
بالاکوٹ کے آنسو اور روشنی کے ٹوٹتے بکھرتے ذرّات… معطّر خون اور منوّر قبریں…
اور قرون اولیٰ کی یادیں تازہ کرنے والے جہادی زمزمے… واہ القلم! واہ توبھی بہت
خوش نصیب ہے… اللہ تعالیٰ نظرِ بد سے بچائے… بے شک تو… تپتے
صحراؤں میں بادل اور گھٹا ٹوپ اندھیروں میں چراغ
ہے… اللہ تعالیٰ تجھے سلامت رکھے… مسلمانوں کو سچے لوگوں کی
داستانیں سناتا جا… اور انہیں اُن کی عزت و عظمت کا آئینہ دکھاتا جا…
سبحان اللہ وبحمدہ
سبحان اللہ العظیم
ایک سوال
کیا ہر کسی کو
’’محبوبیت‘‘ اللہ تعالیٰ کی ’’نظر محبت‘‘ سے ملتی ہے؟… آج
کروڑوں لوگ ’’بتوں‘‘ کی محبت میں مبتلا ہیں… لاکھوں لوگ درختوں، پنڈتوں اور بدعتی
پیروں کے گرد جمع ہیں…کیا(نعوذب اللہ ) ان بتوں، آستانوں، اور مشرکوں
کو اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل ہے؟… نہیں ہرگز نہیں… آپ نے
مکھیوں کو دیکھا ہو گا کہ غلاظت پر جمع ہو جاتی ہیں… شیطان غلط اور ناپاک چیزوں کی
محبت… ناپاک لوگوں کے دلوں میں مزیّن کر دیتا ہے… دیکھنے میں یہ بھی محبت نظر آتی
ہے… مگر اندر جھانک کر دیکھیں تو محض’’نفسانیت‘‘ ہوتی ہے…نفس پرستی ،مفاد پرستی… اللہ تعالیٰ
جس شخص یا چیز کو اپنی محبت عطاء فرماتے ہیں… وہ’’محبت‘‘ لوگوں
کو اللہ تعالیٰ سے جوڑنے کا ذریعہ بنتی ہے… حجر اسود کو
چومنے اور دیکھنے سے توحید کا عقیدہ مضبوط ہوتا ہے…زمزم شریف پینے سے’’لا الہ الا اللہ
‘‘ پر یقین بڑھتا ہے… اب اس معیار پر آپ حضرت سیّد احمد شہیدرحمۃ اللہ
علیہ کو دیکھ لیں… آپ کو اُن کے حالات پڑھ کر توحید، سنت اور جہاد سے
محبت حاصل ہوتی ہے… شرک، بدعت، بزدلی اورحبّ دنیا سے نفرت ہوتی ہے… جو شخص لوگوں کو اللہ تعالیٰ
سے جوڑتا ہو، مسلمانوں کی آزادی کے لئے تڑپتا ہو، اسلام کے غلبے کے لئے سب کچھ
لٹاتاہو… اُس کی محبت… مقبول محبت ہوتی ہے… اللہ تعالیٰ نے
حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو ایسی مقبول محبت عطاء فرمائی کہ… زمانے کے بڑے
بڑے علماء اور اولیاء اُن کی جوتیاں اٹھانا سعادت سمجھتے تھے… ہزاروں لاکھوں لوگ آپ
کی زیارت کے لئے ترستے تھے… آپ کے قدموں کی مٹی لوگ برکت کے لئے اٹھا کر لے جاتے
تھے… آپ کی طرف مخلوق کا ہجوم دیوانہ وار دوڑ رہاتھا…مگر آپ خود اپنے محبوب رب
کے راستے میں دوڑے جارہے تھے… آپ ہر ایک کو بتار ہے تھے
کہ… اللہ تعالیٰ ایک ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں… وہی ہم سب
کا رازق ہے… وہی قادر اور مشکل کشا ہے… اے لوگو! اگر رب سے محبت کرتے ہوتو آؤ…
رب کی خاطر قربانی دو… کافروں نے مسلمانوں کے علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے… مظلوم
مسلمان ہر طرف تڑپ رہے ہیں… ہماری زندگیوں میں شعائر اسلام پر پابندی لگائی جارہی
ہے… اے مسلمانو!محبت تو غیرت سکھاتی ہے… اسلام کے لئے غیرت کرو… اور کفر کی طاقت
کو نابود کر دو…ہزاروں لوگ حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی طرف کھنچے چلے آرہے
تھے… جبکہ سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ پہاڑوں، وادیوں اورجنگلوں میں… اسلام کے لئے
عظمت اور اپنے لئے شہادت ڈھونڈتے پھر رہے تھے… اللہ اکبر
کبیرا…
آپ یہ نہ سمجھیں
آپ یہ نہ سمجھیں کہ حضرت سیّد احمد شہیدرحمۃ
اللہ علیہ کو اللہ تعالیٰ نے ’’محبوبیت‘‘ عطاء
فرمائی تو کوئی بھی اُن کا مخالف نہ تھا… حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے
مخالفین بہت زیادہ تھے… غیر تو مخالف ہوتے ہی ہیں… اپنوں نے بھی اعتراضات،الزامات
اور بہتان تراشی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی… حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ پر جو
اعتراضات کئے گئے اُ ن میں سے چند ایک یہ ہیں:۔
(۱) حضرت سیّد صاحب( نعوذباللہ ) انگریزوں کے ایجنٹ ہیں… اور جہاد کا لبادہ اوڑھ
کر درحقیقت انگریزوں کا کام آسان کر رہے ہیں… ہندوستان کے کئی پیرزادوں اور
مولویوں نے اس تہمت پر مشتمل ایک فتویٰ نامہ تیار کرا کے دور دور تک تقسیم کیا…
اور اس فتویٰ یا پمفلٹ نے بہت سے لوگوں کو حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا مخالف
بنایا…
(۲ حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس لشکر اور سازو سامان کم ہے، جبکہ
مدّ مقابل دشمن بہت طاقتور ہے… جب تک اُس دشمن جتنی طاقت مہیا نہ ہو جائے یہ جہاد
شرعاً درست نہیں ہے…
(۳ کئی بڑے بڑے لوگ سیّد صاحبپ سے بیعت کر کے… کچھ ہی عرصہ بعد منحرف ہو گئے اور
انہوں نے ’’بیعت‘‘ توڑ دی… آخر کوئی خرابی تو دیکھی ہو گی؟… جب اتنے لوگ بیعت توڑ
گئے تو باقی کا کیا پتہ کہ کب توڑ دیں… تو ایسے لشکر کا کیا اعتبار؟
(۴ جہاد فرض کفایہ ہے… چند لوگوں کے ادا کرنے سے باقی تمام کے ذمہ سے ساقط ہو
جاتا ہے… تو سیّدصاحب پعمومی طور پر اس کی دعوت کیوں دے رہے ہیں؟
(۵ جہاد کے لئے’’جامع الشروط‘‘ امام کی ضرورت ہے… یعنی ایسا امیر جس میں فلاں
فلاں شرطیں موجود ہوں… کیا سیّد صاحبپ میں یہ تمام شرطیں پائی جاتی ہیں؟
یہ اوراس طرح کے کئی فضول اور گمراہ کن اعتراضات اورشبہات…
مختلف لوگ حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور اُن کی جماعت کے متعلق پھیلا رہے
تھے… مگر حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے لشکر میں شیخ الاسلام حضرت مولانا
عبدالحی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور حجۃ الاسلام حضرت شاہ
اسماعیل شہیدرحمۃ اللہ علیہ جیسیے اہل علم موجود تھے… ان
حضرات نے تمام اعتراضات کا مدلّل جواب دیا اور مسئلہ جہاد کو خوب اجاگر فرمایا…
لیکن بدقسمتی اور ضد کا کوئی علاج نہیں ہے… ہر بزدل کو جہاد میں موت نظر آتی ہے…
مگر کئی بزدل اپنے اس اندرونی خوف کو ’’علمی پاجامہ‘‘ پہنا دیتے ہیں… کہ فلاں فلاں
دلیل کی وجہ سے جہاد ٹھیک نہیں ہور ہا… حضرت شاہ اسماعیل شہیدرحمۃ اللہ
علیہ نے ایسے ہی بدنصیب لوگوں کے بارے میں نہایت درد کے ساتھ ارشاد فرمایا:
’’سبحان اللہ ! کیا اسلام کا حق یہی ہے کہ اُس
کے ’’رُکنِ اعظم‘‘(یعنی جہاد فی سبیل اللہ ) کو جڑ سے اکھاڑا جا رہا ہو
اور جس شخص کے سینے میں ضُعف اور ناتوانی(یعنی کمزوری) کے باوجود اسلامی
حمیّت(یعنی غیرت) نے جُوش مارا، اُسے طعن وملامت (یعنی اعتراضات) کا ہدف بنایا
جائے؟ آیا یہ (اعتراض کرنے والے) لوگ نصرانی، یا یہودی یا مجوس یاہنود ہیں کہ
ملّتِ محمدیہ کے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں؟محمدیت (یعنی مسلمانی کا) مقتضا یہ تھا کہ
اگر کوئی شخص ہنسی ،مذاق میں بھی جہاد کا نام لیتا تھا تو مسلمانوں کے دل پُھول کی
طرح کھل جاتے تھے اور سنبل کی طرح تروتازہ ہو جاتے تھے اگر دور دست(یعنی بہت دور
دراز) مقامات سے بھی جہاد کا آوازہ غیرت مندانِ اسلام کے کانوں میں پہنچتا تھا تو
وہ دیوانہ وار دشت و کہسار(یعنی صحراؤں اور پہاڑوں) میں دوڑ پڑتے بلکہ شہباز کی
طرح اُڑنے لگ جاتے، آیا! جہاد کے معاملے کو، عظمتِ شان کے باوجود حیض و نفاس کے
مسائل پڑھنے پڑھانے سے بھی کم تر سمجھ لیا گیا؟‘‘(سیّد احمد شہید ص ۲۶۲)
تربیت کے مراحل
حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ
’’ماشاء اللہ ‘‘ ایک کامیاب، مقبول، محبوب اور شاندار زندگی گزار گئے…
اور اپنے پیچھے اپنے لئے’’ صدقاتِ جاریہ‘‘ کے بڑے بڑے ذخیرے چھوڑ گئے… حضرت سیّد
صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے تربیت اور ترقی کے یہ مراحل جس ترتیب سے طے
فرمائے…اُس پر ایک نظر ڈالتے ہیں…
(۱) شعوری اسلام
بچپن سے ہی اسلام کی نظریاتی تعلیم حاصل کی جائے تاکہ دل
اور دماغ کے نرم خلیوں میں بس اسلام ہی رچ بس جائے… یہ تعلیم کچھ تو گھر میں
والدین دیں اور باقی قرآنی اور دینی مکاتب سے حاصل کی جائے… حضرت سیّد صاحب رحمۃ
اللہ علیہ کو یہ مرحلہ کامیابی سے طے کرنا نصیب ہوا…
(۲) جسمانی مضبوطی
جسم کی کمزوری اور سُستی انسان کے نظریات کو کمزور اور
غلامانہ بنا سکتی ہے… حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی کامیاب زندگی کا
آغاز ’’جسمانی مضبوطی‘‘ کی محنت سے ہوا… پہلوانی، تیراکی اور دیگرمردانہ کھیلوں
میں آپ نے کمال درجہ محنت کی… ہر مسلمان کو چاہئے کہ… اپنے بچوںکو پہلوانی،
تیراکی، گھڑ سواری، بنوٹ اوراسلحہ کی تربیت دلوائے تاکہ وہ آگے چل کر’’برائلر‘‘
نہیں’’شہباز‘‘ بنیں…ان کو ویڈیو، کمپیوٹر، کرکٹ، شطرنج، کیرم اور لڈو جیسے فضول
اور گناہ خیز کھیلوں سے بچایا جائے…
(۳) نسبت، یعنی تعلق مع اللہ
حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے خاص اس مرحلے کی
تکمیل کے لئے بہت پُر مشقت سفر فرمایا اور حضرت شاہ عبدالعزیز محدّث دہلوی کے در
پر حاضری دی… حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو اپنے بھائی حضرت شاہ
عبدالقادر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے سپر دفرمایا… اور کچھ دن بعد اپنی بیعت میں بھی
قبول فرمالیا… حضرت شاہ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ قرآن پاک کے مفسّر اور
آیاتِ جہاد کے ’’عارف‘‘ تھے… اُن کی صحبت اور تربیت نے حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ
علیہ کو اسلام کے بلند ترین مقام… یعنی جہاد فی سبیل اللہ کا
سچا عاشق بنا دیا… اُدھر حضرت شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے سیّد صاحب
رحمۃ اللہ علیہ کے احوال اور مقامات دیکھ کر اُن کو’’خلافت ‘‘ سے نوازہ… پس ہر
مسلمان کو چاہئے کہ وہ تربیت اور ترقی کے اس مرحلے کو طے کرنے کے لئے… کسی ایسے
صاحب نسبت اللہ والے سے تعلق جوڑے جس کے پاس جہاد سمیت مکمل
دین کا نصاب ہو… اور جس کے ہاں عقیدہ ٔ توحید، اتباع سنت اور دین کے لئے قربانی
کاسبق ملتا ہو… اور جو معرفت ، تصحیح نیت، اخلاص اور احسان کی منزلیں طے کرنے کے
طریقے سکھاتا ہو… خبردار! کسی دنیا پرست، بدعتی، خلافِ شرع اور جہاد کے مخالف یا
منکر’’پیر‘‘ سے ہرگز بیعت نہ کریں… جو شخص دین کے کسی فریضے کا منکر یا مخالف ہو
وہ کبھی صاحب معرفت نہیں ہو سکتا… جو شخص خود دین کے لئے جان و مال کی قربانی کا
جذبہ نہ رکھتا ہو وہ لوگوں کی اصلاح نہیں کر سکتا …
(۴)عسکری تربیت
حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو اتنے بڑے شیخ سے
’’خلافت‘‘ مل چکی تھی… کئی عجیب خواب اور بشارتیں بھی آپ کو نصیب ہو چکی تھیں…
مگر آپ کسی’’گدّی‘‘ پر بیٹھنے کی بجائے… اسلام کے بلند ترین مقام کی طرف نکل پڑے…
جی ہاں آپ نے جہاد فی سبیل اللہ کو سیکھنے کے لئے نواب
امیر خاں مرحوم کے لشکر میں باقاعدہ شمولیت اختیار فرمالی… تاکہ’’فریضہ جہاد‘‘ کو
ہر پہلو سے سیکھ لیں اور اس میں عملی شرکت کاتجربہ بھی حاصل کر لیں… بے شک جو
مسلمان اللہ تعالیٰ کے ہاں محبت کا اونچامقام چاہتا ہے …
اور اُس کے دل میں اسلام کے غلبے اور مظلوم مسلمانوں کے تحفظ کا درد ہوتاہے تو وہ…
خود کو جہاد کے میدانوں کا خوگر بناتا ہے… تاکہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے کسی کام
آسکے… اور اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی جان و مال کا سودا کر
سکے… سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم…
یہ ہے پانچ نکاتی، بالکل سیدھا سادہ سا ایک نصاب… کیا ہی اچھا ہو کہ… ہم اپنی اور
اپنی اولاد کی تربیت میں اس نصاب کو بھی مدنظر رکھیں…
شرعی جہاد اور محاذ کی تلاش
ہر لڑائی اور جنگ کا نام’’جہاد‘‘ نہیں ہے… جہاد ایک اسلامی
فریضہ ہے… اور نماز، روزے اور حج کی طرح اسلام نے اُس کے احکامات کو بھی بیان
فرمایا ہے… پس جو لڑائی ان احکامات کے مطابق ہو گی وہی’’جہاد‘‘ بنے گی…بہت سے لوگ
ہر کارروائی کو ’’جہاد‘‘ سمجھ لیتے ہیں… یہ اس طرح ہے کہ جیسے کوئی ہر اُٹھک بیٹھک
کو’’نماز‘‘ کا نام دے دے… کئی لوگ جہاد کی فرضیت اور فضیلت سنتے ہیں توفوراً… اپنے
ارد گرد شکار ڈھونڈنے لگتے ہیں… لیکن حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے
جب’’احیائِ جہاد‘‘ کا ارادہ فرمایا تو اپنے آس پاس کے کافروں اور منافقوں پر فوری
حملہ شروع نہیں کر دیا… بلکہ بہت غور، فکر، تدبیر، دعاء، مشورے اور استخارے کے
بعدجہاد کے آغاز کے لئے ایک’’شرعی محاذ‘‘ کا انتخاب فرمایا… اورپھر اس محاذ تک
پہنچنے کے لئے ایسا پرمشقت سفر فرمایا کہ… اُس کے حالات پڑھ کر دانتوں کوبھی پسینہ
آجاتا ہے… حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ صاف فرماتے تھے کہ… میرا مقصد ہنگامہ
کرنا یا ہلّہ کرنا نہیں ہے… میں تو مظلوم مسلمانوں کی آزادی، اسلام کے غلبے
اورنفاذ اور کفر کی طاقت کو توڑنے کے لئے جہاد کرتا ہوں… حضرت سیّد صاحب رحمۃ
اللہ علیہ کے مختصر سے جہاد میں اتنی برکت اس لئے ہوئی کہ اُس کی ترتیب بھی شریعت
کے مطابق تھی… اور اُس کا محاذ جنگ بھی شرعی تھا… حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ
نے جب پشاور بغیر کسی جنگ اورمزاحمت کے فتح فرما لیا تو… ہر کسی نے آپ کو یہی
مشورہ دیا کہ پشاور کو اب نہ چھوڑا جائے… مگر حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ دھوکہ
کھانے والے ’’سادہ بزرگ‘‘ نہیں تھے کہ… لوگوں کی باتوں میں آکر ایک نئی اور فضول
جنگ میں اپنے رفقاء کو مرواتے… آپ نے بیعت کرنے والوں کے’’ہجوم‘‘ اور آئندہ مدد
کے وعدے کرنے والوں سے دھوکہ نہیں کھایا… بلکہ اپنی دور اندیش نگاہوں سے معاملے کی
حقیقت اور تہہ کو سمجھ لیا… کہ اگر پشاور پر قبضہ برقرار رکھا گیا تو پورا اسلامی
لشکر… اسی کے دفاع میں لگار ہے گا… ہر آئے دن مسلمانوں اور منافقوں سے جنگیں ہوں
گی اور اُدھر کافر مزے سے مسلمانوں پر مظالم ڈھاتے رہیں گے… چنانچہ سیّد صاحبپ نے
اس محاذ کو چھوڑ دیا اور سکھوں کے مقابلے کے لئے روانہ ہو گئے… اور آپ نے منافقوں
کی بجائے کافروں کے ہاتھوں شہید ہونے کو ترجیح دی… آج کے مجاہدین کوبھی اس عظیم
جہادی حکمت عملی اور شرعی ترتیب سے سبق لینا چاہئے…
جہاد سب سے بڑا کام
قرآن وسنت نے سمجھایا ہے کہ… ایک مسلمان کے لئے’’جہاد فی
سبیل اللہ ‘‘ ہی سب سے بڑا کام ہے… حضرت سیّد صاحبؒ نے یہ مسئلہ اپنے
قول اور عمل سے واضح فرمایا… آپ نے برصغیر کی سب سے بڑی خانقاہ چلاتے ہوئے…
مسلمانوں کو سمجھایا کہ سلوک و احسان سب جہاد کے تابع ہیں …اور جہاد سے بڑا کوئی
مقام نہیں ہے… بعض نادان لوگ سلوک و احسان… اور جہاد کو ایک دوسرے کا مدّمقابل بنا
کر پیش کرتے ہیں جو غلط ہے… جہاد ایک مستقل فریضہ ہے… جبکہ تزکیہ ، اخلاص اور
تصحیح نیت اس کے ہر حکم میںلازم ہے… اور ہر حکم کی جان ہے… دوسری طرف مجاہدین میں
ایک وبا صدیوں سے چلی آتی ہے کہ… کچھ لوگ خود کو’’زیادہ قیمتی‘‘ سمجھ کر… جہاد
میں کسی ’’بڑے کام‘‘ کی خواہش لے کر گھر بیٹھے رہتے ہیں… ان لوگوں کو جہاد کی دعوت
دی جائے تو کہتے ہیں… ہم سے کوئی بڑا کام لیا جائے تو ہم تیار ہیں… ماضی میں یہ
مطالبہ کچھ باصلاحیت لوگ کرتے تھے… مگر آج کل تو کمپیوٹر جیسی بے کار چیز کے ماہر
بھی خود کو بڑا قیمتی اور عقلمند سمجھ لیتے ہیں… اناللہ وانا الیہ
راجعون…
یہ’’سائبر عقلمند‘‘ عام مجاہدین کو بالکل بے وقوف اور نادان
سمجھتے ہیں… اور ہر وقت اسی خیال میں کھوئے رہتے ہیں کہ… کوئی بڑا کام ہو توہم بھی
نکلیں… اللہ کے بندو! کمپیوٹر تو اب ہر چوڑھے،چمار، بھنگی،
کافر اور منافق کوآتا ہے…اورآپ سے اچھا آتاہے… زیادہ معلومات تک رسائی انسان کو
اکثرکمزور اور معطّل کر دیتی ہے… روم و فارس کو جن صحابہ کرام ڑ نے شکست دی ان میں
سے بعض کو یہ پتا بھی نہیں تھا کہ ایک ہزار سے اوپر گنتی ہوتی ہے… آج بھی امریکہ،
نیٹو اور انڈیا کو… اُن سادہ لوح اوربھولے بھالے مجاہدین نے لوہے کی لگام دے رکھی
ہے جو… ستارے اور سیارچے کا فرق تک نہیں جانتے… حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے
سمجھایا کہ… جہاد خود بڑا کام ہے… دراصل بڑاکام وہ ہوتا ہے جس میں آدمی کا اخلاص
کامل، محنت مکمل اور قربانی پوری ہو… ان تین شرطوں کے ساتھ جہاد کا ہر کام… بڑا
کام ہے… خواہ وہ روٹی پکانے کی محنت ہو یا آگے بڑھ کر حملہ کرنے کی مشقت… خود
قرآن پاک نے غزوہ تبوک کے ضمن میں یہ مسئلہ تفصیل سے سمجھایا ہے…حضرت سیّد صاحب
رحمۃ اللہ علیہ نے اس موضوع پر خاص محنت فرمائی چنانچہ… آپ نے اپنے مجاہدین کو جس
کام اور محاذ پر لگایا انہوں نے اُسی کو بڑا سمجھ کر خوشی سے قبول کر لیا… اور
’’بڑے کام‘‘ کی خواہش میں کسی نے الگ دھڑا یا گروپ نہیں بنایا…
سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم
ایک فہرست
آج حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور اُن کی مبارک
جماعت اور تحریک کے متعلق کئی باتوں کو لکھنے کا ارادہ تھا…مگرچند باتوں میں
ہی’’کالم‘‘ مکمل ہونے کو ہے… چنانچہ اُن ’’عنوانات‘‘ کی فہرست پیش کر رہاہوں… جن
پر مذاکرے کا ارادہ تھا… شائقین خودان پر غور فرمالیں…
(۱) حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی بلند جہادی نیت اور اونچے
جہادی عزائم
(۲) حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی یہ تمنا کہ اسلام غالب اور نافذ ہو… خواہ
اُن کے ہاتھ سے ہو یا کسی اور کے ہاتھ سے
(۳) سیّد صاحبپ کی وہ کوششیں جو انہوں نے مسلمانوں اور منافقوں سے نہ لڑنے کیلئے
فرمائیں
(۴) شرعی پردے کے بارے میں حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور اُن کی جماعت کا
مسلکِ اعتدال
(۵) حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے جہادی لشکر کا ماحول… عبادت، تلاوت، ذکر
اذکار، مراقبات، دینی تعلیم و تعلّم…وہاں نہ تو دنیاداری اور بزنس کے چرچے تھے نہ
شادیوں کے ہوس انگیز تذکرے۔
(۶) حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا یہ اسلامی نظریہ کہ… جہاد میں ہماری نظر فتح
یا شکست پر نہیں… اخلاص کے ساتھ جہاد کرنا ہی مسلمانوں کی فتح اور کامیابی ہے۔
(۷) حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا شوقِ شہادت اور اس پر آپ کی عجیب ترغیبات۔
(۸) غریبوں اور مسکینوں پر حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خاص شفقت…
ایک دعاء
عجیب اتفاق ہے کہ… شہدائے بالاکوٹ سے اتنی محبت اور عقیدت
کے باوجود اُن کے بارے میںمفصل’’مطالعہ‘‘ کا موقع اب جا کر ملا…جب سے جہاد کے
ساتھ اللہ تعالیٰ نے تعلق عطاء فرمایا… زیادہ توجہ آیات
جہاد، احادیث جہاد اورعلم جہاد کی طرف رہی… اب الحمدللہ حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور اُن کی تحریک
کا تفصیلی مطالعہ بھی نصیب ہو رہا ہے… یقینا اللہ تعالیٰ کے
ہاں یہی وقت اس کے لئے مناسب ہوگا…حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور اُن کی تحریک
کو پڑھ کر… اپنے جہادی نظریات پرمزید مضبوطی اور اطمینان نصیب ہوا… اور آج کے
جہاد میں اُن کے جہاد جیسی جوخوبیاں نظر آرہی ہیں اُن کو دیکھ
کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا… اور جو کمی، کوتاہی سامنے
آئی… اُس کے ازالے کی دعاء مانگی… اللہ تعالیٰ ہم سب کو…
اور ہماری جماعت کو حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے فیوض وبرکات نصیب فرمائے…
اور خاص اپنا فضل فرما کر… ہماری ناقص محنتوں کو قبول فرمائے…
آمین یا ارحم الراحمین
اللھم صل علی سیّدنا محمد بقدر حسنہ وجمالہ ودعوتہ وجہادہ
والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہر فتنے سے ہم سب کی حفاظت فرمائے…کچھ لوگ’’ بے
کار‘‘ کا موں میں اُلجھے رہتے ہیں… اور اُن کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ… دوسرے مسلمانوں
کو بھی ان ’’فضولیات‘‘ میں اُلجھا دیں… ابھی ایک بہت ہی عزیز شخصیت نے بتایا کہ…
موبائل پر ایک میسج چل رہا ہے… اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ…’’دجّال‘‘ جاپان کے ایک
جزیرے سے نکلنے والا ہے… اور اسی سال حضرت امام مہدی رضی اللہ
عنہ ظاہر ہونے والے ہیں… جاپان کے سمندر میں ایک آتش فشاں پھٹا ہے… اُ
س سے ایک نیا جزیرہ ظاہر ہو گا… جاپان چونکہ مشرق میں ہے اور دجّال نے مشرق سے
نکلنا ہے… اس لئے وہ اس جزیرے سے نمودار ہو گا… یہ اور اس طرح کی بہت سی باتیں
اس’’میسج‘‘ میں لکھی ہوئی ہیں… کئی لوگ دھڑا دھڑ اس میسج کو ثواب سمجھ کر پھیلا
رہے ہوں گے کہ… ہم نے دجّال کا ’’ ایڈریس‘‘ معلوم کر لیا اور یہ کہ ’’دجّال‘‘ میڈ
اِن جاپان ہے… اناللہ وانا الیہ راجعون…
کیا اسلام نے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ ہم’’دجّال‘‘ کو تلاش
کرتے پھریں؟… کیا دجّال کا فتنہ کوئی معمولی چیز ہے؟… اللہ کے بندو! یہ روئے زمین کا سب سے بڑا فتنہ
ہے… آپ اس طرح کے فضول’’میسج‘‘ کی جگہ وہ دعائیں میسج کریں جو ہر نماز میں اور
نماز کے بعد’’مسیح دجّال‘‘ کے فتنے سے حفاظت کے لئے سکھائی گئی ہیں… آپ وہ
احادیث’’میسج‘‘ کریں جن میں جمعہ کے دن سورۃ الکہف کی آیات کی تلاوت کو’’مسیح
دجال‘‘ سے حفاظت کا ذریعہ فرمایا گیا ہے… دجّال کے فتنے کا مقابلہ تو جہاد فی
سبیل اللہ کے ذریعہ ہوگا… آپ مسلمانوں میں جذبہ ٔ جہاد
پیدا کریں… دجّال کا فتنہ کوئی ایسا چھوٹا یا مخفی فتنہ نہیں ہو گا کہ… جسے جاننے
اور پہچاننے کے لئے کتابیں دیکھنا پڑیں گی… یہ تو وہ عالمگیر اور خوفناک فتنہ ہے
جس سے تمام انبیاء د نے اپنی اُمتوں کو ڈرایا ہے…کچھ عرصہ پہلے ایک صاحب مجھے ملے
اور فرمایا کہ… ایک مسئلے پر بات کرنی ہے کیا آپ تحمّل سے سن سکیں گے؟… اُن سے
عرض کیا کہ ان شاء اللہ ضرور پورے تحمّل سے سنوں
گا…فرمانے لگے کہ دجّال کسی فرد یا شخص کا نام نہیں ہے… بلکہ ایک’’عمومی فتنے‘‘ کا
نام ہے… اور آج کل امریکہ اور یورپ ہی’’دجّال اکبر‘‘اور’’فتنہ مسیح الدجال‘‘ ہیں…
اس پر انہوں نے بہت لمبی چوڑی تقریر کی اور بتایا کہ… ہمیں چاہئے کہ تمام کام چھوڑ
کر اس فتنے کے بارے میں مسلمانوں کو بتائیں… بندہ نے اُن سے چند سوالات کئے… اُن
صاحب کے پاس امریکہ کی نیشنلٹی تھی… انگریزی فر فر بولتے تھے… اُن سے پوچھا کہ
دجّال اکبر نے آپ جیسے اپنے اتنے بڑے مخالف کو اپنے ملک کی نیشنلٹی کیسے دے رکھی
ہے؟… وہ گرم ہونے لگے… عرض کیا کہ تحمّل سے سنیں… دجّال کا مقابلہ صرف اور صرف
جہاد سے ہوگا… آپ کے پاس جہاد کا کیا نظام ہے؟… وہ سٹپٹا گئے… اُن سے عرض کیا کہ…
آپ کا کام صرف ’’دجّال‘‘ کاتعارف پیش کرنا ہے یا اُس کا مقابلہ کرنا؟… اگر صرف
تعارف کرانا ہے تو پھر آپ دجّال کی خدمت کررہے ہیں… اور اگر مقابلہ کرنا ہے تو
اُس کی آپ کے پاس کیا ترتیب ہے؟… وہ صاحب کافی گھبرا گئے… اور غصّے میں اٹھ کر
چلے گئے… اُن کے بھائی نے بتایا کہ کئی سال سے یہ اس موضوع پر علماء سے بات کر رہے
ہیں… مگر اِن کو اس طرح سے بھاگتے ہوئے آج دیکھا ہے… ورنہ یہ تو اپنی معلومات کے
زور پر کئی علماء کرام کو شرمندہ کر چکے ہیں…دراصل اس طرح کے لوگوں کی خواہش یہ
ہوتی ہے کہ… آپ اُن کے ساتھ بیٹھ کر دجّال کی باتیں کریں… دجّال کی طاقت کے گُن
گائیں… دجّال کے ضمن میں یہودیوں کی طاقتوں اور سازشوں پر لمبی گفتگو کریں… اُن کے
ایٹم بم شمار کریں، اُن کے طیارے گِنیں … اُن کی ٹیکنالوجی
کے ہوشربا تذکرے کریں… اور اُن کو ناقابل تسخیر قرار دے کر… جہاد کا کام حضرت
عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی ح کے ذمہ لگادیں کہ… وہ آئیں گے تو کچھ ہوگا… ہم
سے تو اس خوفناک طاقت اور فتنے کے خلاف جہاد نہیں ہو سکتا… چند دن پہلے ایک رسالے
میں دیکھا کہ… ایک خاتون صاحبہ نے پوری اُمت مسلمہ کے ذمہ یہ کام لگا دیا کہ…
انگریزی میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک کے
ساتھ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘… فلاں طریقے سے لکھیں اور جو
عام طریقے سے لکھا جاتا ہے… وہ غلط ہے اور اس کے فلاںفلاں معنیٰ ہیں… اناللہ
وانا الیہ راجعون… یہ ہے’’نیٹ‘‘ کے کھلاڑیوں کا جہاد کہ ہر لفظ میں سازش کی
’’بُو‘‘ سونگھ کر…پھر اس’’بو‘‘ کو پورے زور سے مسلمانوں میں پھیلاتے ہیں… ایک اور
خاتون اس مشن پر تھیں کہ… انگریزی میں جب’’ اللہ ‘‘ ،’’قرآن‘‘ اور’’رسول‘‘ جیسے
الفاظ لکھے جائیں تو… پہلا حرف بڑی اے، بی، سی میں لکھا جائے… ورنہ گناہ ہو گا…
اور مسلمان سازش کا شکار ہو جائیں گے… اسی طرح ہر چند روز بعد کوئی’’سائبر مفکّر‘‘
اچانک یہ اعلان چلا دیتا ہے کہ… مکہ، مدینہ وغیرہ الفاظ کو… اگر فلاں ’’اسپیلنگ‘‘
میں لکھا تو… مطلب یہ ہو جائے گا اور مسلمان ایک گمنام سازش کا شکار ہو جائیں گے…
اسی طرح یہ ’’کمپیوٹر کھلاڑی‘‘مختلف چیزوں پر گستاخی کی سازش پکڑ لیتے ہیں اور پھر
اس گستاخی کی اتنی تشہیر کرتے ہیں کہ… انسان کا دل غم سے پھٹنے لگتا ہے… حالانکہ
انسان کسی بھی مصلّے، جائے نماز، جوتے یا نقشے کو مختلف زاویوں سے دیکھے تو کئی
خیالی تصاویر اور الفاظ بن جاتے ہیں… مگر چونکہ ان بے کار لوگوں نے نہ تو جہاد
کرنا ہوتا ہے اور نہ ان کو تلاوت اور نوافل کی فکر ہوتی ہے… یہ ہر چیز کی تصاویر
اور نقشوں میں الجھے رہتے ہیں اور پھر کوئی نہ کوئی سازش اور گستاخی تلاش کر کے… مسلمانوں
کا دل مزید زخمی کرتے ہیں… اور اس کودین کی بڑی خدمت سمجھتے
ہیں… اللہ کے بندو! مسلمانوں کے خلاف اس طرح کی سازشیں اُس
وقت ہوتی تھیں جب کفار مغلوب تھے… اور وہ اپنے دل کی بھڑاس چُھپ چُھپ کر نکالتے
تھے… کہیں کوئی صلیب چھپا دی… کسی جگہ مسلمانوں کے مقدس ناموں کی چھپ کر گستاخی کر
دی… مگر اِس وقت تو وہ غالب ہیں… اور مسلمان خود بھاگ بھاگ کر اُن کی جھولی میں گر
رہے ہیں… وہ کھل کر ہمارے پاک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں
گستاخی کرتے ہیں… مگر پھر بھی اُن کے سفارتخانوں کے باہر مسلمانوں کی لمبی قطاروں
میںکوئی کمی نہیں آتی… عام لوگ تو درکنار دیندار اور صاحب علم بھی اُن کے ملکوں
میں جانا… اور اُن کے طریقوں کو اپنانا فخر کی بات سمجھتے ہیں… ہمارے ملکوں کی
سیاست پر اُن کا قبضہ ہے… ہماری معیشت اُن کے جھوٹے برتنوں کو چاٹنے کا نام ہے…
ہماری فوجیں اُن کے حکم پر مسلمانوں کی گردنیں کاٹنے کیلئے ہر وقت تیار ہیں… ان
حالات میں اُُن کو خفیہ سازشوں اور چوری چھپے وارداتوں کی کیا ضرورت ہے؟… اِس وقت
اُن کی سازشوں کے چرچے کرنا مسلمانوں میں مزید کمزوری اور بے ہمتی پھیلانے کا
ذریعہ ہیں… کیونکہ اُمتِ مسلمہ کو اس وقت الفاظ کی نہیں عمل کی ضرورت ہے… آج سے
پندرہ، بیس سال پہلے لاہور میں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی… وہ عالم نہیں تھے مگر
مطالعہ کے زور پر درس قرآن دیتے تھے… اور’’احیائے خلافت‘‘ اُن کا موضوع تھا… تین
گھنٹے کی تفصیلی بات چیت سے اُن کو فائدہ ہوا… اور وہ جہاد کے حامی ہو گئے… اُن سے
یہی بات عرض کی تھی کہ… ’’خلافت‘‘ کوئی ناراض بیوی تو نہیں ہے کہ… صرف آوازیں
دینے سے واپس آجائے گی… ہائے خلافت ، اری خلافت، آہ خلافت، پیاری خلافت…ہم جتنا
بھی پکاریں ’’خلافت‘‘ قائم نہیں ہو گی… ایک بزرگ عالم دین کا فی پہلے عراق کا سفر
کر کے واپس تشریف لائے… انہوں نے بتایا کہ عراق میں’’سامرہ‘‘ کے مقام پر ایک
غارہے… شیعہ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ اسی غار میں اُن کے بارہویں امام ’’روپوش‘‘ ہیں…
زائرین اس غار پر جاتے ہیں… وہاں موجود’’مجاوروں‘‘ کو نذرانے دیتے ہیں اور غار کے
دھانے کھڑے ہو کر… روتے پیٹتے اور پکارتے ہیں کہ امام صاحب! جلدی نکل آؤ… وہ
عالم کہتے ہیں کہ میں نے وہاں کے ایک مقامی شخص سے پوچھا …کیا واقعی امام اس غار
میں ہیں؟…وہ کہنے لگا یہ تو پتا نہیں کہ امام غار میں ہیں یا نہیں… لیکن اگر ہوئے
بھی تو کبھی نہیں نکل سکیں گے… بلکہ جب وہ نکلنے لگیں گے تو مجاور اُن کو مار
کرواپس غار میں ڈال دیں گے… کیونکہ اُن کے چلے جانے سے مجاوروں کی کروڑوں کی آمدن
بند ہو جائے گی… خلافت، خلافت کا شور کرنے والے اکثر’’مفکرین‘‘ خود خلافت کے دشمن
ہیں… کیونکہ یہ لوگوں کو’’جہاد‘‘ سے روکتے ہیں… اور بغیر جہاد کے خلافت قائم نہیں
ہو سکتی…خلاصہ یہ ہے کہ… مسلمان فضول کاموں اور بے کار تحقیقات میں وقت ضائع نہ
کریں… حضرت امام مہدیؓ کے تشریف لانے سے پہلے بھی جہاد کا حکم ہر مسلمان کے لئے
موجود ہے… بس اس حکم کو پورا کریں…اگر وہ ہماری زندگی میں تشریف لے آئے تو جہاد
کرتے ہوئے اُن کے ساتھ شامل ہونا ہمارے لئے… ان شاء اللہ
آسان ہو گا… اور اگر وہ ہماری زندگی میں تشریف نہ لائے تو بھی ہمیں عمل
جہاد کا پورا اجر ملے گا… دجّال جب آئے گا تو پوری دنیا کو پتا چل جائے گا اور
دجّال کے فتنے سے وہی لوگ محفوظ رہ سکیں گے جن کا ایمان کامل ہو گا اور وہ موت سے
نہیں ڈرتے ہوں گے… اور مال و ہوس کے پجاری نہیں ہوں گے… یہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ
السلام کے لشکر میں شامل ہو کر دجّال کا مقابلہ کریں گے… اور دجّال حضرت عیسیٰ
علیہ السلام کے ہاتھوں مارا جائے گا… چنانچہ ہم سب دجّال کا ایڈریس معلوم کرنے کی
بجائے… دجّال سے مقابلے کے لئے… جہاد کے ساتھ اپنا رشتہ مضبوط کریں…
اللھم انا نعوذبک من فتنۃ المسیح الدجال
آمین یا ارحم الراحمین
اللھم صل علیٰ سیدنا محمد صاحب الفرق والفرقان وجامع الورق
ومنزلہ من سماء القرآن وال محمد وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہر فتنے سے میری اور آپ کی
حفاظت فرمائے… اور ہم سب مسلمانوں کو’’خلافت‘‘ کی نعمت نصیب فرمائے… آج چند
باتیں’’بائیکاٹ‘‘ کے متعلق عرض کرنی ہیں…
سب کو پیتے دیکھا
بچپن سے جوانی تک پاکستان… اور دیگر کئی ممالک میں مسلمانوں
کو پیپسی، کوک، سیون اپ، مرنڈا، ٹیم… اور سپرائٹ کی بوتلیں بے تکلف پیتے دیکھا…
عام مسلمانوں کے ساتھ علماء کرام بھی خوب پیتے تھے… اور ایک دوسرے کو پلاتے تھے…
حضرت مفتی اعظم مفتی رشید احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو سیون اپ اور اپنے مرشد
مفتی اعظم مفتی ولی حسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو’’ٹیم‘‘ کی بوتلیں پیتے دیکھا …
خلاصہ یہ کہ… جس کسی کو شوگر یا کوئی اور پرہیز نہ تھا وہ یہ بوتلیں خوشی خوشی
پیتا تھا… یقیناً آپ سب نے بھی خوب پی ہوں گی… اور بعض اب تک پیتے ہوں گے…
پیپسی ،کوک تقویٰ کی علامت
اُن دنوں بعض ایسے ممالک میں بھی جانا ہوا… جہاں پیپسی
اورکوک پینا تقویٰ کی علامت سمجھا جاتا تھا… دراصل کافروں کے ان ممالک میں شراب
اور دوسری غلاظتیں کھلے عام ملتی ہیں… ماحول کے اس رگڑے میں کئی مسلمان بھی اپنا
ایمان کمزور کر بیٹھے ہیں… وہاں بازاروں اور گلیوں میں شراب کی بو ہر طرف پھیلی
پڑی ہے… ایسے ماحول میں جو مسلمان شراب نہیں پیتے بلکہ… پیپسی اور کو ک پیتے ہیں
اُن کو بہت متقی سمجھا جاتا ہے… اوران کے تعارف میں یہ بات ذکر کی جاتی ہے کہ… یہ
صاحب تو پیپسی اور کوک سے آگے نہیں بڑھتے…
بے بسی
عربی زبان میں’’پ‘‘ کا حرف نہیں ہے… چنانچہ عرب لوگوں کو
اگر مجبوراً’’پ‘‘ بولنا پڑے تو وہ اُسے’’ب‘‘ بنا کر بولتے ہیں… مکہ مکرمہ، مدینہ
منورہ… اور سعودی عرب کے دوسرے شہروں میں ’’پیپسی‘‘ خوب بکتی ہے… مگر وہ
اسے’’بیبسی‘‘ کہتے ہیں… ایک صاحب نے جگہ جگہ’’بیبسی‘‘ کے بورڈ دیکھے تو کہنے لگے
یہ ہر جگہ’’بے بسی بے بسی‘‘ کے بورڈ لگے ہوئے ہیں… مسلمانوں کی بے حسی سمجھیں یا
بے بسی کہ… اُن کے ہر ملک میں’’بے بسی‘‘بِکتی ہے… اور خوب پی جاتی ہے…
اچانک رُخ بدلا
مسلمانوں میں پیپسی، سیون اپ پینے والے بھی موجود تھے… اور
نہ پینے والے بھی… مگر اس مسئلہ پر الحمدللہ کوئی اختلاف نہیں تھا… کسی عالم دین یا مفتی
صاحب نے ان بوتلوں کو حرام یا مکروہ قرار نہیں دیا تھا… یہ بوتلیں اصل میں تو
کافروں اور یہودیوں کے ممالک کی ایجاد تھیں… مگر اسلامی ملکوں میں ان کے بنانے اور
خریدنے والے عام طور پر مسلمان تاجر تھے… کچھ حکیم حضرات ان بوتلوں کو صحت کے
منافی قرار دیتے تھے… مگر اُن کی بات زیادہ لوگ قبول نہیں کرتے تھے… پھر اچانک
مسلمانوں میں… پیپسی اور کوک کے خلاف ایک تحریک اور آواز اٹھی… اُدھر جب یورپ
گستاخی پر اترا تو… ڈنمارک، ہالینڈ اور ناروے وغیرہ کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی
آواز بھی اٹھی… دنیا بھر کے کسی ملک میں چونکہ خالص اسلامی حکومت نہیں ہے… اس
لئے’’تجارتی مقاطعہ‘‘…یعنی’’بائیکاٹ‘‘ کا یہ عمل مضبوطی کے ساتھ تو نہ چل سکا مگر
جزوی طور پر یہ کئی ممالک میں چل رہا ہے… اب بہت سے لوگ پیپسی اور سیون اپ نہیں
پیتے… بہت سی خواتین’’ہیڈ اینڈ شولڈر‘‘ شیمپو نہیں لگاتیں… بہت سے بچے’’نیسلے‘‘ کا
دودھ نہیں پیتے… او ربہت سے افراد’’ٹیلی نار‘‘ کی سم استعمال نہیں کرتے…
بات زیادہ آگے بڑھ گئی
’’بائیکاٹ‘‘ کا یہ عمل اسی قدر رہتا تو بہت اچھاتھا… لیکن
ایسا لگتا ہے کہ… مرچ مصالحہ کچھ زیادہ ہی لگ گیا… اوریہ عمل اب مسلمانوں میں ایک
نئی ’’تفریق‘‘ کی بنیاد بنتا جارہاہے…
(۱) وہ لوگ جنہوں نے ان چند چیزوں کا بائیکاٹ کر رکھا ہے خود کو بس اسی عمل کی
بدولت بڑا مسلمان اور بڑا مجاہد سمجھنے لگے ہیں…
(۲) جو مسلمان ابھی تک پیپسی، سیون اپ، ٹیلی نار وغیرہ کا بائیکاٹ نہیں کر سکے…
اُن کو بائیکاٹ کرنے والے مسلمان بہت حقیر اور گناہ گار سمجھتے ہیں…
(۳) ان چند چیزوں کے بائیکاٹ کو دینداری اور تقویٰ کا معیار سمجھ لیا گیا ہے… یعنی
جو پیپسی نہ پیئے وہ دیندار اور جو پی لے وہ گناہ گار… حتیٰ کہ کسی بڑے مفتی یا
عالم کو یہ بوتلیں پیتا دیکھ لیں تو اُن کے ایمان میں شک کرنے لگتے ہیں…
تھوڑا ساسوچو
کل تک آپ خود’’پیپسی‘‘ شوق سے پیتے تھے… شائد کئی ڈرم پی
گئے ہوںگے… اُس وقت آپ مؤمن تھے یا فاسق؟… آج بھی ممکن ہے کہ… آپ کے پاؤں کا
جوتا جرمنی کا… ہاتھ کی گھڑی سوئیزرلینڈ کی… اور سواری کی گاڑی جاپان یا امریکہ کی
ہوگی… آپ اپنے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ … ہمارے بازار غیر ملکی چیزوں سے بھرے
پڑے ہیں… عام استعمال کی پچھتر فیصد چیزیں باہر سے آتی ہیں… اب اس کافیصلہ کون
کرے گا کہ… کون سی چیز استعمال کریں اور کس کا بائیکاٹ کریں… بہت سے مسلمان اسلام
دشمنی کی وجہ سے نہیں… بلکہ اپنی سادگی اور لاعلمی کی وجہ سے ان چیزوں کو استعمال
کرتے ہیں… یہی حال علماء کرام اور مجاہدین کا بھی ہے کہ… وہ شرعی حلال حرام کے
علاوہ باقی معاملات پر بعض اوقات غور کرنے کی فرصت نہیں پاتے… اگر آپ ان تمام
باتوں کو سوچیں تو ان شاء اللہ سوچ میں ’’اعتدال‘‘
پیدا ہو گا…
ایک بات تو پکی ہے
اگر علماء کرام… اور مفتیانِ عظام، شرعی اصولوں کی روشنی
میں کسی چیز کو ’’حرام‘‘ قرار دیں تو پھر… اس میں کسی بات کی گنجائش نہیں رہتی…
تمام مسلمانوں کا فرض بنتا ہے کہ… ایسی چیزوں کو فوراً اپنی دکانوں اور گھروں سے
نکال پھینکیں اور کبھی اُن کے استعمال کا خیال تک دل میں نہ لائیں… لیکن وہ
’’اشیاء‘‘ جن کو علماء کرام نے حرام قرار نہیں دیا اُن کے بارے میں زیادہ شدّت
ہمارے ایمان کے لئے… اور مسلمانوں کے اتحاد کے لئے خطرناک ہو سکتی ہے… پہلے ہماری
بھی یہ شدید خواہش تھی کہ… مسلمان ان بوتلوں اور چیزوں کا سختی سے بائیکاٹ کریں…
مگر بعد کے کچھ حالات دیکھ کر… بائیکاٹ نہ کرنے والوں کے لئے اب دل میں نفرت نہیں
آتی… ہم مسلمان ہر بات پر آپس میں کیوں لڑیں؟… اللہ پاک
نے ارشاد فرمایا
فمالکم فی المنافقین فئتین (سورہ النساء)
کہ مسلمانو! تمہیں کیا ہوا کہ منافقوں کے بارے میں آپس میں
گروہ بندی کر رہے ہو… آج جب کہ ہر طرف سے مسلمانوں پر کفار کے حملے ہو رہے ہیں
ہم اس بات کی طاقت نہیں رکھتے کہ… پیپسی اور کوک کو حق اور باطل کا
معیار… یا غیرت کے اظہار کا واحد ذریعہ سمجھ کر… آپس میں لڑیں…
اعتدال کیسے آتا ہے
(۱) ایک بار ایک بزرگ عالم دین کی زیارت کے لئے گئے… انہوں نے
ہمارے اکرام کے لئے سیون اپ وغیرہ کی بوتلیں منگوالیں… بندہ کے ساتھ جو مجاہدین
اور حارسین تھے وہ بہت نفرت سے کبھی بوتلوںکو… اور کبھی اُن بزرگوں کو دیکھتے…
اورآپس میں کانا پھوسی بھی کرتے… وہ بزرگ بہت شرمسار ہو رہے تھے… اُن کی یہ حالت
دیکھ میں بہت شرمندہ ہوا… اور مجھے احساس ہواکہ… یہ معاملہ بائیکاٹ سے بڑھ
کر’’الحاد‘‘ تک نہ پہنچ جائے کہ ایک چیز کو شریعت مطہرہ نے ’’حرام‘‘ قرار نہیں
دیا… مگر اب کئی مسلمان اُسے حرام سے بھی بدتر سمجھ رہے ہیں… اور اسی کو دین اور
تقوے کا معیار قرار دے رہے ہیں… حالانکہ ان سب نے کچھ ہی عرصہ پہلے یہ بوتلیں پینا
چھوڑا ہے…
(۲) ان بوتلوں کے بائیکاٹ کے بعد… کئی کمپنیاں’’ حلال بوتلیں‘‘
لے کرمیدان میں اُتریں… انہوں نے اپنے تجارتی مفادات کے لئے بائیکاٹ مہم کی خوب
تشہیر کی… مگر مسلمانوں کو کوئی معیاری چیز پیش نہ کی… یہ بڑے بڑے کروڑ پتی لوگ…
دیندار بھی نہیں تھے… خود اُن کے اکاؤنٹ کافروں کے ملکوں میں کھلے پڑے تھے… اور
خود اُن کو کافروں اور یہودیوں کی کسی چیز سے پرہیز نہیں تھا… انہوں نے تو توّا
گرم دیکھا تو دھڑا دھڑ روٹیاں لگانے لگے…
(۳) بائیکاٹ کی مہم کے لئے زیادہ معلومات… وہ مسلمان بھیج رہے
ہیں جو خود کافروں کے ملکوں میں مقیم ہیں… وہی انٹرنیٹ وغیرہ کے ذریعہ کمپنیوں کے
نام اور کوڈ بھیجتے ہیں… اور وہی اس مہم کی زیادہ تشہیر کرتے ہیں… اور ان میں کئی
لوگ ایسے ہیں جو خود شریعت کے پابند نہیں ہیں بلکہ اُن کا تو اٹھنا، بیٹھنا، کھانا
پینا سب کافروں کی چیزوں پر ہے… یہ ہر ماہ بلکہ ہر ہفتے کافروں کو ٹیکس دیتے ہیں…
اور ہر چیز اُن کی بنی ہوئی استعمال کرتے ہیں… اور کسی بھی طرح کافروں کے ملکوں کو
چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں… بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں کو
عملی جہاد سے روک رہے ہیں…کیونکہ مسلمان کی دینی غیرت اُسے جہاد فی
سبیل اللہ پر کھڑا کرتی ہے… اور یہ لوگ اسی غیرت کو صرف’’
پیپسی‘‘ نہ پینے تک محدود کر رہے ہیں… چنانچہ بہت سے مسلمان بس اسی ’’غیرت‘‘ کو
کافی سمجھ کر جہاد سے محروم رہتے ہیں…
(۴) کافروں کے غلبے کو توڑے بغیر اُن کی مصنوعات سے جان چُھڑانا
کافی مشکل ہے… گاڑیاں، جہاز، گھڑیاں، فون اور تقریباً ہر چیز اُن کے ہاں سے آتی
ہے… اب ایک مسلمان اُن کے بنائے ہوئے جہاز پر حج کرآئے… اُن کی بنائی ہوئی گاڑی
پر دن رات گھومے… اُن کے بنائے ہوئے فون استعمال کرے… اُن کے تیار کردہ کپڑے پہنے…
اور پھر کسی’’پیپسی‘‘ پینے والے غریب کو… بے غیرتی کے طعنے دے تو یہ بات ایک طرح
کا ظلم لگتی ہے…
یا اُن جیسے بن جاؤ
متحدہ عرب امارات کے ایک سفر کے دوران… ’’فجیرہ‘‘ جانا ہوا…
مقامی میزبان نے بتایاکہ یہاں ساحل سمندر پر ایک شخص رہتے ہیں جو کوئی بھی جدید
چیز استعمال نہیں کرتے… نہ بجلی، نہ فون اور نہ کوئی مشینری… ایک جھونپڑی میں رہتے
ہیں… انگریزی دواء استعمال نہیں کرتے… بیمارہو جائیں تو عربوں کے خاص
طریقے’’کَیّ‘‘ یعنی داغنے کے ذریعہ اپنا علاج کرتے ہیں… فریج یا برف کا ٹھنڈاپانی
نہیں پیتے… اور اپنی جھونپڑی کو بھی… جدید اشیاء سے پاک رکھتے ہیں…وہ بزرگ واقعی
ایسے تھے… بہت شدّت کے ساتھ ’’بائیکاٹ‘‘ کرنے والے حضرات بھی اگر اُن صاحب جیسے بن
جائیں تو پھر… اُن کا حق ہے کہ پیپسی، سیون اپ پینے والوں سے نفرت کریں… لیکن خود
پچھتر فیصد چیزیں کافروں کی استعمال کریں… اور ایک دو چیزوں کو’’اسلامی غیرت‘‘ کا
معیار قرار دیں تو یہ بات دل کو نہیں لگتی…
اعتدال، اعتدال
اے مسلمانو! اعتدال اختیار کرو کیونکہ ان چیزوں کی وجہ سے
مسلمانوں میں بہت زیادہ باہمی نفرت پھیل رہی ہے…ایک مسلمان کا عقیدہ ٹھیک ہو… اور
وہ پانچوں فرائض کا پابند ہو… بس یہی بات دینداری کے لئے کافی ہے… اور اگر وہ عالم
اور مفتی ہو اُ س کا اکرام مزید بڑھ جاتا ہے… اب اُسے مزید چیزوں پر نہ تولو… گھڑی
پہنتا ہے یا نہیں… سیدھے ہاتھ میں پہنتا ہے یا اُلٹے میں… کون سی حلال بوتل پیتا
ہے… یا نہیں پیتا…آپ اپنے اپنے معیار بنا کر نہ چلیں… بلکہ مسلمانوں کی عزت اور
حرمت کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈریں… ان چیزوںکی وجہ سے
مسلمانوںسے نفرت کرنا اور اُن سے بدگمانی رکھنا جائزنہیں
ہے… اللہ کے لئے تفرقہ بازی کے نئے نئے … ذریعے نہ نکالیں…
آپ خود شو ق سے کسی چیز کا بائیکاٹ کریں… مگر کوئی مسلمان اگر کسی حلال چیز کا
بائیکاٹ نہیں کر رہا تو اُس کے ایمان اور تقوے میں شبہ نہ کریں… ایمان کے بعد پانچ
چیزوں کوماننا اور… حسب شرائط اُن پر عمل کرنا فرض ہے… نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ… اور
جہاد… اپنی طرف سے کوئی کسی نئی چیز کو فرض قرار نہ دے… اور نہ ہی کسی چیز کو اپنی
طرف سے حرام قرار دے…
آخری گزارش
بات مختصر کرتے ہیں… ہم خود’’بائیکاٹ‘‘ کے حامی ہیں اور
ماضی میں اس تحریک کی حمایت کر چکے ہیں… ہماری تو تمنا ہے کہ کفر کی طاقت اور شوکت
ہی ختم ہو جائے… اور اپنی اس تمنا کے لئے الحمدللہ عملی محنت کرتے رہتے ہیں…
٭وہ مسلمان جو پیپسی وغیرہ چھوڑ چکے ہیںوہ
اس’’کالم‘‘کوآڑبناکردوبارہ نہ شروع ہو جائیں، آپ زمزم شریف پئیں دودھ اور شہد
پئیں، تازہ پھلوں کا جوس پئیں… یا اللہ پاک کی نعمت سادہ پانی پئیں،
پیپسی وغیرہ ویسے بھی معدہ کے لئے نقصان دہ ہیں…
چند چیزوں کا بائیکاٹ کرنے والے حضرات خود کو اُن مجاہدین
کے برابرنہ سمجھیں جو اپنی جانوں کو اسلامی غیرت اورعظمت کے لئے نچھاور کررہے ہیں…
اور دن رات اپنے جسموں کے ٹکڑے کرا کے کافروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہے
ہیں…
O اگر ملک
کے اکثر علمائے کرام کسی چیز کے بائیکاٹ کا فتویٰ دے دیں تو پھر… تمام مسلمانوں کو
شدّت کے ساتھ اُس کا ’’بائیکاٹ‘‘کرنا چاہئے۔
O اور اگر
تمام یا اکثر علماء کرام فتویٰ نہ دیں اور کسی مسلمان کو یقین ہو کہ… اس چیز کی
آمدنی ’’اسلام دشمنی‘‘ کے کاموں میں لگ رہی ہے تو… وہ خود بائیکاٹ کرے اور اپنے
قریبی لوگوں کو اس کی دعوت دے… مگر اس کی وجہ سے دوسرے مسلمانوں کو حقارت یا نفرت
کا نشانہ نہ بنائے …
O ’’شیزان‘‘
کمپنی کے بائیکاٹ کا فتویٰ ملک کے تمام علماء کرام نے دے رکھا ہے… مسلمان مضبوطی
کے ساتھ اس کا بائیکاٹ کریں…
O تمام
مسلمان پوری قوت کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ میں لگ کر… کفر
کی جڑ کاٹیں… صرف پتے اور شاخیں جھاڑنے سے کام نہیں بنے گا بلکہ… اس سے مزید پتے
اور شاخیں نکل آئیں گی… اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کو
قوت و شوکت عطاء فرمائے… اور ہم سب کی ہر فتنے سے حفاظت فرمائے… آمین یا ارحم
الراحمین
اللھم صل علی سیدنا محمد بقدر علمہ و کمالہ وعلی آل محمد
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ رحم فرمائے’’ گستاخانہ
خاکوں‘‘ کا معاملہ ایک بار پھر اہل ایمان کو تڑپا رہا ہے… آئیے اس معاملے کو
سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں…
لکھنے میں تأخیر کیوں ہوئی
سب سے پہلے بی بی سی پر خبر دیکھی کہ… ’’فیس بک‘‘ کی ویب
سائٹ پر گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ چل رہا ہے…دل پر سخت چوٹ لگی اور پوری خبر پڑھنے
کی ہمت ہی نہ ہوئی… پھر پتہ چلا کہ لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان میں’’فیس بک‘‘ پر
پابندی لگا دی ہے… یہ خبر دل کو اچھی لگی… اور جب’’یو ٹیوب‘‘ پر پابندی لگی تو دل
بہت خوش ہوا… مگر زیادہ بولنے والے وزیر داخلہ خاموش نہ رہ سکے انہوں نے فوراً کہہ
دیا کہ یہ پابندی جلد اٹھالی جائے گی… پھر پتہ چلا کہ ملک بھرمیں احتجاجی مظاہرے
ہو رہے ہیں… اچھی بات ہے مسلمان عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں تڑپے
ہیں… اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطاء فرمائے… کچھ احباب نے ان مظاہروں میں
شرکت کی اجازت مانگی تو خوشی سے دے دی کہ… اُمت کو اس مسئلہ پر یک جان ہو نا
چاہئے… مگر مجھے اب تک پوری بات معلوم نہیں ہے… اور نہ میں معلوم کرنے کی ہمت
رکھتا ہوں… اور نہ میں کسی سے پوچھوں گا… کچھ دن پہلے اپنے انٹرنیٹ کے شعبے کے
نگران سے ملاقات ہوئی… خیال آیا کہ پوری بات پوچھ لوں مگر دل رونے لگا… آنکھیں
گیلی ہو گئیں… حضرت آقامدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اطہر و اقدس
میں گستاخی کی بات کیسے پوچھوں، کیسے سمجھوں، کیسے سنوں؟… بہت مشکل ہے، بلکہ
ناممکن ہے…اخبار وغیرہ پر جب اس طرح کی کوئی خبر نظر آتی ہے… میں آنکھیں پھیر
لیتا ہوں… بس اتنا معلوم ہوا کہ… برطانیہ کی ایک انگریز عورت نے اس خباثت کا آغاز
کیا… اور پھر پاگل کتے جمع ہو کر جہنّم کے انگارے جمع کرنے لگے… برباد ہو جاؤ گے
ظالمو!… دنیا میں بھی ذلت پاؤ گے… اور پھر
وَلَعَذَابُ الْاٰ خِرَۃِ اَشَدُّ وَ اَبْقٰی (طہ ۱۲۷)
اور آخرت کا عذاب بہت سخت ہے اور زیادہ باقی رہنے والا ہے…
ان سے جانور اچھے
ایک تمثیلی حکایت ہے کہ… جنگل کے جانوروں کا ایک جلسہ ہوا…
طے یہ کرنا تھا کہ کونسا جانور سب سے زیادہ’’بے حیا‘‘ بدبودار اور گندہ ہے… مختلف
جانوروں کے نام آئے اور طرح طرح کے دلائل آئے… بالآخرطے پایا گیا کہ خنزیر
یعنی’’سؤر‘‘ سب سے زیادہ بے حیا، بدبودار اور گندہ جانور ہے… صدر جلسہ جب اس
نتیجے کا اعلان کرنے کھڑا ہوا تو ایک بہت بوڑھا خنزیر کھڑا ہو گیا… اوربولنے کی
اجازت چاہی… صدر جلسہ نے اجازت دے دی… بوڑھے سؤر نے کہا جناب میں نے بچپن اور
جوانی کا اکثر حصّہ یورپ میں گزارا ہے… کچھ انگریز مجھے جنگل سے پکڑ کے لے گئے تھے
اور پھر ایک انگریز گھرانے نے مجھے پالا پوسا… جناب والا! وہاں میں نے انگریز
مردوں اور عورتوں کی جو بے حیائی، بدبو اور گندگی دیکھی… اُسے الفاظ میں بیان نہیں
کر سکتا… خود مجھے اُس گھر میں صاحب خانہ سے زیادہ حقوق حاصل تھے… مگر میں تو اس
بے حیائی اور گندگی سے تنگ آگیا… وہاں ایک دو کتے بھی تھے وہ بھی اکثر یہی شکایت
کرتے تھے… بالآخر جب معاملہ حد سے بڑھ گیا تو ایک رات میں چپکے سے بھاگ نکلا… اس
کے بعد اُس بوڑھے سورنے انگریزوں کے کچھ واقعات سنائے تو پورے جلسے میں شیم شیم
اور توبہ توبہ کی آوازیں گونجنے لگیں… اور پھر صدر جلسہ نے یہ اعلان کر دیا کہ…
دنیا میں سب سے بے حیا، بدبودار اور گندی نسل انگریزوں کی ہے… جبکہ خنزیر تو اُن
کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہیں… سنا ہے کہ… گستاخانہ خاکوں کی اس نئی مہم کا
آغاز… ایک انگریز عورت نے کیا ہے… ایک بے حیاء، بدبودار، نجس اور ناپاک عورت سے
اور کیا توقع کی جا سکتی ہے؟…
اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطاء فرمائے
دل زخمی تھا اور آنکھیں اس وحشتناک خبر سے بچنے کی کوشش
میں تھیں کہ… کابل میں ایک فدائی مجاہد نے اپنی گاڑی نیٹو فورسز کے ایک خصوصی دستے
سے ٹکرا دی… اس حملے میں کینیڈا کا ایک کرنل… اور امریکہ کے تین کرنل اور کئی فوجی
مارے گئے… اور بہت سے زخمی ہو کر اپنے ملکوں کو واپس ہوئے… یہ ایک ایسا حملہ تھا
جس میں اللہ تعالیٰ کی خاص مدد ہر پہلو سے بالکل واضح نظر
آرہی ہے… اللہ اکبر کبیرا… صرف ایک مجاہد اور پھر اُس کے
سامنے کفر کے بڑے بڑے سرداروں کی بکھری لاشیں… یہ ہے ’’احتجاج‘‘ کا درست اور مفید
طریقہ… اور یہ ہے عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بالکل صحیح اظہار…
اگر تمام مسلمان اسی راستے کو اختیار کر لیں تو خاکے بنانے والے خاک میں مل جائیں
گے… اور پھر کسی کو ہمت نہیں ہو گی کہ… وہ ایسی قیامت خیز گستاخی کا ارتکاب کر
سکے… افغانستان کے طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی
ہے… اللہ تعالیٰ اُ س مجاہد کی شہادت قبول فرمائے اور اُسے
پوری اُمتِ مسلمہ کی طرف سے بہترین جزائے خیر عطاء فرمائے… آمین…
احتجاج کریں مگر گستاخی نہ پھیلائیں
جہنّمی کیڑے ماضی میں بھی اس لرزہ خیر گناہ کا ارتکاب کر
چکے ہیں… خود رسولِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانے
میں بعض’’بدبختوں‘‘ نے گستاخی کا ارتکاب کیا… الحمدللہ ، الحمدللہ ان میں سے اکثر مارے گئے… اور کچھ نے سچی توبہ
کر لی… ہمیں سیرت اورتاریخ کی کتابوں میں…ان ناپاک لوگوں کے نام تو ملتے ہیں کہ…
کوئی’’ابن خطل‘‘ تھا کوئی کعب بن اشرف… اور کوئی عصماء یہودیہ… مگر یہ لوگ کیا
گستاخی بکتے تھے اس کا کوئی تذکرہ سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں نہیں ہے… وجہ یہ
ہے کہ کوئی مسلمان بطور نقل کے بھی اپنی زبان پر حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کی گستاخی نہیں لا سکتا…چنانچہ ان بے ہودہ لوگوں کی گستاخیوں کو
نہ کسی نے نقل کیا اور نہ پھیلایا… آج بھی مسلمانوں پر لازم ہے کہ… گستاخی کے ان
خاکوں اور باتوں کو نہ پھیلائیں… کوئی بھی ان خاکوں کو نہ دیکھے اور نہ دوسروں کو
دکھائے… اورنہ ان کا بہت زیادہ تذکرہ کیا جائے… البتہ اپنے احتجاج کو مؤثر بنانے
کے لئے’‘قربانی‘‘ دی جائے صرف رسمی جلسے، اجتماعات اور شور شرابے سے کام نہیں بنے
گا…
فیس بُک اور یو ٹیوب
انٹرنیٹ کی جن د وویب سائٹوں نے یہ ظلم کیا ہے… اُن دونوں
کو حسب استطاعت نقصان پہنچایا جائے… آسان طریقہ تو یہ ہے کہ مسلمان ان دونوں
سائٹس پر جاناہی چھوڑ دیں… جس جگہ آقا محبوب مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کی گستاخی بکی جاتی ہو ایک مسلمان اُس جگہ کس طرح جا سکتا ہے؟…بہت
سخت دینی مجبوری کے علاوہ ان سائٹس پر’’وزٹ‘‘ کرنا چھوڑ دیں… ویسے تو کمپیوٹر اور
انٹرنیٹ ہی ہم مسلمانوں کے ایمان کا دشمن ہے… فیس بک اور یوٹیوب کو اور کس کس طرح
سے نقصان پہنچایا جا سکتا ہے یہ بات… کمپیوٹر کے ماہرین اچھی طرح سمجھتے ہیں… اللہ تعالیٰ
ہمت اور توفیق عطاء فرمائے…
مسلمان حکمران؟
اسلامی ملکوں کے جتنے بھی حکمران ہیں… یہ سب اپنے آپ
کو’’بڑا مسلمان‘‘ سمجھتے ہیں… ہمارے مُلک پر تو پیروں، گدّی نشینوں اور صاحبزادوں
کی حکومت ہے… کیا ان لوگوں کا حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سے
کوئی رشتہ نہیں ہے؟… کوئی ظلم ہو، کوئی گستاخی ہو ان کے منہ بند اور زبانیں خاموش
رہتی ہیں… یہ چاہیں تو فیس بک اور اس جیسی تمام سائٹس کو اپنے ممالک میں’’بینڈ‘‘
کر دیں… مگر یہ تو صرف مجاہدین اور دینداروں کو ’’بینڈ‘‘ کرتے ہیں… ان ہی لوگوں نے
اسلامی ملکوں میں فسادات کی آگ بھڑکارکھی ہے… دو دن سے’’وزیر داخلہ‘‘ کی زبان مجاہدین
پر قینچی کی طرح چل رہی ہے… اگر اس طرح کے بیانات اور اقدامات سے امن قائم ہو سکتا
ہے تو پھر وہ کب کا قائم ہو گیا ہوتا… معین الدین حیدر اور فیصل صالح حیات بھی یہی
زبان بولتے بولتے چلے گئے… پرویز مشرف نے بھی اندھی طاقت اور گندی زبان خوب
استعمال کی… مگر حالات تو بد سے بدتر ہو تے جارہے ہیں…ہمارے لئے تو آمریت اور
جمہوریت سب ہی’’مصیبت‘‘ بن کر آتے ہیں… اللہ تعالیٰ
مسلمانوں کو ’’خلافت‘‘ کی نعمت عطاء فرمائے… جمہوریت کا تذکرہ آیا تو ایک اہم بات
یاد آگئی…
کالم نگار کی بے وقوفی
برطانیہ کے حالیہ انتخابات میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی
کوئی’’وکیلنی‘‘ پارلیمنٹ کی رکن منتخب ہو گئی ہے… یہ خاتون آج کل اپنے تیسرے
خاوند کے ساتھ برطانیہ میں مقیم ہے اور وہاں کی شہری ہے… پاکستان کے ایک کالم نویس
نے اس خاتون کی شان میں پورا ایک کالم لکھا ہے… اس کالم میں پہلے تو ’’خاتون‘‘ کے
ذاتی حالات لکھے ہیں کہ… اب تک کس کس خاوند کو طلاق دے چکی ہے … اور کون کون سے
تنازعات کا شکاررہی ہے… اس کے بعد لکھتے ہیں کہ… ذاتی کمزوریوں کے باوجود اس خاتون
نے محنت جاری رکھی اور چونکہ اُس کاراستہ’’سیدھا‘‘ تھا چنانچہ وہ اتنی عظیم منزل
تک پہنچ گئی… کاش ڈاکٹر عافیہ صدیقی بھی غلط راستہ اختیار نہ کرتیں… بلکہ اسی
خاتون کی طرح سیدھے راستے پر چلتی تو شاید وہ بھی آج امریکہ میں’’رکن
پارلیمنٹ‘‘ہوتی…
اناللہ وانا الیہ راجعون… اناللہ وانا الیہ راجعون
کتنی ظالمانہ، فاسقانہ اور فضو ل بات ہے… کہاں ایک حُور اور
کہاں ایک لنگور… کہاں فرشتہ اور کہاں شیطان… کہاں حیاء کا مقدّس آبگینہ… اور کہاں
بے پردگی کا گٹر… کہاں ایمان و عزیمت کا زندہ شاہکار… اور کہاں غلامی اور مادہ
پرستی کا انبار… محترمہ عافیہ صدیقی صاحبہ کی زندگی کا تو ایک ایک لمحہ عبادت ہے…
کیونکہ جو مسلمان دین کے راستے میں کافروں کے ہاتھوں قید ہو جاتاہے
وہ اللہ تعالیٰ کے راستے کا معتکف بن جاتا ہے… کہاں وہ
عافیہ جس کو مجبوری کی تلاشی بھی گوارہ نہیں… اورکہاں غیر مردوں کے درمیان آٹے کی
بوری کی طرح بھاگتی لڑھکتی بیرسٹر شبانہ… مگر کیا کریں آج کل ہمارے کالم نویسوں
کے دماغ پر’’مادہ پرستی‘‘ حد سے زیادہ سوار ہو چکی ہے… یہ مسلمان ہیں مگر کافروں
کے حق میں کالم لکھتے ہیں… جب دجّال آئے گا تو یہ لوگ شاید بھاگ بھاگ کر اُس کے
ساتھ شامل ہوں گے… کیونکہ دجّال تو ٹیکنالوجی اور مادہ پرستی کا بادشاہ ہو گا… آج
کی جس سائنس اور ٹیکنالوجی کو یہ کالم نویس سجدے کر رہے ہیں وہ سائنس تو کسی بوڑھے
کو جوان نہیں کر سکتی… جبکہ دجّال تو مُردوں کو زندہ کر دے گا… یہ بے چارے کالم
نویس تو بل گیٹس کی دولت پررال ٹپکاتے کالم لکھتے ہیں جبکہ… دجّال کی دولت تو کسی
گنتی اور شمار میں بھی نہیںآسکے گی… ایک کالم نویس نے… امریکہ کی ایک کافرانہ
یونیورسٹی کی تعریف میں کالم لکھا تو … پوری امت ِمسلمہ کے ’’ماموں‘‘ حضرت سیدنا
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی بک دی… میں اکثر سوچتا ہوں کہ… ان
کالم نگاروں نے ’’کامیابی‘‘ کا جو معیار مقرر کررکھا ہے… اُس کی رو سے تو فرعون،
قارون، نمرود… اور ابوجہل سب کامیاب تھے… جبکہ سیدنا ابراہیم ح سیدنا نوح ح اور
دیگر انبیاء د کی زندگیاں توبہت مشقت اور تکالیف میں گزریں… توخود کو مسلمان
کہلوانے والے یہ کالم نویس قرآن پاک کاکس طرح سے مطالعہ کرتے ہوں
گے؟… اللہ تعالیٰ ان بے رنگ لفافوں کے شر سے مسلمانوں کی
حفاظت فرمائے… ان میں بعض کالم نگار تو بہت رنگ برنگے ہیں… چار کالم مادہ پرستی کے
حق میں لکھ کر… پھر ایک اسلامی کالم لکھ مارتے ہیں… اور لوگ سمجھتے ہیں کہ ان سے
بڑا غیرت مند مسلمان اور کوئی نہیں ہے… اور تعجب کی بات یہ ہے کہ… بعض کالم نویس
مکمل انگریزی زندگی گزارتے ہیں… اور اپنے گھروں میں ہر غیر ملکی چیز استعمال کرتے
ہیں… اور پھر پیسے لے کر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے بائیکاٹ پر کالم بھی لکھتے ہیں…
حالانکہ وہ جس قلم سے کالم لکھ رہے ہوتے ہیں وہ بھی کسی ملٹی نیشنل کمپنی کا ہوتا
ہے… دراصل یہ لوگ سادہ دل مسلمانوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں… اور قوم کو بیوقوف
بنانے کی کوشش کرتے ہیں… اللہ تعالیٰ ہم سب کو’’حق‘‘ دکھائے
اور’’حق‘‘ پر چلائے … آمین
یا حقُّ یا رحمَنُ یا ارحم الراحمین
اللھم صلی علیٰ سیدنا و مولانا محمد عدد مافی
علم اللہ صلوٰۃ دائمۃ بدوام
ملک اللہ عزوجل و بارک وسلم تسلیما کثیر ا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ زیادہ توبہ کرنے والوں سے’’محبت‘‘ فرماتاہے
اِنَّ اللہ یُحِبُّ
التَّوَّابِیْنَ (البقرہ ۲۲۲)
ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ توبہ کرنے
والوں کو پسند فرماتاہے:
سبحان اللہ !گناہ گاروں کے لئے کتنی عظیم بشارت
ہے کہ… توبہ کریں اور اللہ تعالیٰ کے ’’محبوب‘‘ بن جائیں…
شیطان کہتا ہے کہ… کب تک تمہاری توبہ قبول ہو گی؟… روز توبہ توڑتے ہو… اب توبہ
کرنا چھوڑ دو، توبہ تمہارے بس کی بات نہیں ہے… گناہ تم سے نہیں چھوٹ سکتے… تم تو
ہو ہی بد نصیب… اس لئے یہ روز روز کا توبہ کرنا اور پھر اُسے توڑ کر پھر توبہ کرنا
بس کرو… میرے سامنے ہتھیار ڈالو اور خود کو بدنصیب سمجھ کر گناہوں میں ڈوب جاؤ…
یہ ہے شیطان کا سبق… مگرہمارا عظیم رب سمجھاتا ہے کہ… توبہ کرتے رہو، توبہ کرتے
رہو… تائب بنو، توّاب بنو… جتنا بڑا گناہ ہو جائے فوراً بھاگ کر میرے پاس آکر
توبہ کرو… تمہارا کوئی گناہ میری رحمت سے بڑا نہیں ہے… توبہ توڑنے کا گناہ ہو گیا
تو ا س گناہ پر بھی توبہ کرو… ایک دن میں ستّر بار توبہ ٹوٹے تو… ہر بار سچی توبہ
کرتے رہو… تم جتنی زیادہ توبہ کرو گے اُتنے میرے محبوب بنو گے…
اِنَّ اللہ یُحِبُّ
التَّوَّابِیْنَ (البقرہ ۲۲۲)
بے شک اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں
سے محبت فرماتا ہے
جب گناہ بار بار ہو … توبہ بار بار ٹوٹے تب بھی…
بندہ اللہ تعالیٰ سے نہ بھاگے بلکہ روتے روتے اُس کے سامنے
گرپڑے… وضو کر کے کسی مسجد کے کونے میں جا بیٹھے… اور نیک لوگوں کی صحبت اختیار
کرے… اللہ تعالیٰ سے بھاگ جانا’’محرومی‘‘ ہے…
اور اللہ تعالیٰ کی طرف بھاگ پڑنا سعاد ت ہے…
فَفِرُّوْٓا
اِلَی اللہ (الذاریات ۵۰)
ترجمہ: پس اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑو
یعنی گناہ ہوتے ہی اللہ تعالیٰ کی
طرف بھاگو کہ… اے عظیم مالک پھر ظلم ہو گیا… میں نے اپنی جان پر ظلم کر ڈالا… آپ
مجھے بخش دیجئے… شیطان روکے گا مگر اُس ملعون کی باتوں میں نہ آئیں…
اور اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑ پڑیں… اور اللہ تعالیٰ
کے سامنے گر پڑیں… ؎
سنبھل کر یوں تو ہم گزرے کسی کی راہ میں لیکن
کچھ ایسے بھی مقام آئے کہ گر پڑنا ہی کام آیا
قرآن پاک میں ’’توبہ‘‘ کا لفظ عام طور سے دو معنی پر آیا
ہے
(۱) کسی بندے کا گناہوں کو چھوڑ دینا
وَاِنِّیْ
لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ
اھْتَدٰے (طہ ۸۲)
ترجمہ:بے
شک میں بڑا بخشنے والاہوں اُس کو جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور اچھے کام کرے پھر
ہدایت پر قائم رہے۔
(۲ ) اللہ تعالیٰ کا بندے کی توبہ کو قبول فرمانا
اِلَّا
الَّذِیْنَ تَابُوْ ا وَاَصْلَحُوْ وَبَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِکَ اَتُوْبُ
عَلَیْھِمْ (البقرہ ۱۶۰)
ترجمہ:
مگر وہ لوگ جنہوں نے توبہ کی اور اصلاح کر لی اور( اللہ تعالیٰ کے
احکامات کو) ظاہر کر دیا پس یہی لوگ ہیں کہ میں اُن کی توبہ قبول کرتا ہوں…
جب بندہ سچے دل سے توبہ کرتا ہے… یعنی گناہ چھوڑتا ہے
تو اللہ تعالیٰ بھی اُس پر توبہ فرماتا ہے… یعنی اُس کی
واپسی کو قبول فرما لیتا ہے…
پھر دیر کس بات کی؟… ہم سب کو فوراً توبہ کے لئے اٹھ کھڑا
ہو نا چاہئے… اور معافی کے پورے یقین کے ساتھ توبہ کرنی چاہئے… ہم کیوں اپنے اوپر
’’رحمت‘‘ کے دروازے بند کریں… اور یہ سوچیں کہ میرا معاف ہونا مشکل ہے… استغفر
اللہ ، استغفر اللہ … ایسا سوچنا بہت بری بات ہے کیونکہ… اللہ تعالیٰ
کے لئے کوئی کام مشکل نہیں ہے…
میں اپنے تمام مسلمان بھائیوں اور بہنوں سے کہتا ہوں کہ…
اپنی ذات پر رحم کھائیں… جی ہاں ہم سب اپنے اوپر رحم کھائیں اور خود کو عذاب سے
بچانے کے لئے … تمام گناہوں سے توبہ کرلیں… اور پھر سب سے پہلا کام یہ کریں کہ…
اپنی نماز کو بالکل ٹھیک کر لیں… باجماعت، مکمل اہتمام، پوری محبت، مکمل توجہ… اور
لذّت و شوق کے ساتھ نمازیں ادا کریں… ارے بھائیو! نماز تو جنت کی حُور سے زیادہ
لذیذ اور میٹھی ہے… یہ کیا ہو جاتا ہے کہ مسلمان ہو کر نماز میں غفلت کرنے لگتے
ہو… اللہ کے لئے ایسانہ کرو… اللہ تعالیٰ
نے خود ہمیں پانچ وقت اپنے عالی شان دربار میں حاضر ی کے لئے بُلایا ہے…جی ہاں بہت
تاکید سے بُلایا ہے…
مسلمان اور نماز میں سستی… یہ دو باتیں کبھی جمع نہیں ہو
سکتیں… مسلمان نماز میں تب ہی سست ہوتا ہے… جب شیطان اُسے کفر کے جراثیم کا انجکشن
لگا دیتا ہے… یا اُسے نفاق کا زہر پلا دیتا ہے… مجھے جب کوئی مسلمان مرد یا عورت
یہ لکھتے ہیںکہ… ہم سے نماز میں سستی ہوتی ہے تو میرے دل پر ایک مکّا سا لگتا ہے
…مسلمان اور نماز میں سستی… ہائے یہ کیسے ہو گیا؟… نماز میں سستی تو منافق کر سکتا
ہے… مسلمان ہر گز نہیں… کیونکہ نماز دین میں اسی طرح ہے جس طرح جسم میں سر… کیا
بغیر سر کے کوئی زندہ رہ سکتا ہے؟…معلوم نہیں کیا مصیبت آئی کہ… مسلمان عورتیں
تک’’نماز‘‘ میں سستی کرتی ہیں… حالانکہ یہ بات مشہور ہے کہ… مسلمان عورتوں کوتو
نماز سے عشق ہوتا تھا… توبہ کرو میری بہنو! توبہ کرو… مسلمان عورت نماز میں سکون
اور قرار پا تی ہے اور وہ نماز میں ہر گز سستی نہیں کر سکتی… بلکہ وہ تو اپنا ہر
مسئلہ نماز کے ذریعہ حل کراتی ہے… یہ بازاروں میں جانے کی نحوست ہے… کیا آج کل کے
بازار اس قابل ہیں کہ کوئی مسلمان بہن ان میں جا سکے؟… میری
بہنو! اللہ کے لئے، اللہ کے لئے
بازار جانا چھوڑ دو… بہت ہی سخت مجبوری میں جانا پڑے تو صرف اور صرف خاوند کے ساتھ
جاؤ… نہ والد کے ساتھ نہ بھائی اور بیٹے کے ساتھ… صرف خاوند کے ساتھ… اور مسلمان
خاوندوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی بیویوں کو بازار لیکر ہی نہ جائیں… بلکہ سارا
سامان خود لاکر دیا کریں… یاد رکھیں اگر جوان عورتیں بازاروں میں جاتی رہیں تو بہت
کچھ تباہ ہو جائے گا… ہماری مسلمان بہنیں بہت اونچے مقام والی ہیں… ان کا یہ کام
نہیں ہے کہ… بازار جا کر مَردوں سے خرید و فروخت کریں… یا موبائل فون پر اپنا وقت
برباد کریں… آج کی مسلمان عورت نماز کی لذت اور طاقت سے محروم ہوئی ہے تو اس کی
بڑی وجہ… بازاروں میں جانا اور موبائل کا ناجائز یا فضول استعمال کرنا ہے… میری
بہنو! قبریں منہ پھاڑکر انتطار کر رہی ہیں… کچھ عرصہ پہلے ایک بزرگ کے پاس جانا
ہوا… وہاںمعلوم ہوا کہ کچھ دن پہلے یہ بزرگ بہت پریشان اور غمگین ہو گئے تھے… ان
کا رنگ زرد پڑ گیا تھا اور ہرو قت آنسو جاری رہتے تھے… لوگوںنے بہت پوچھا تو بالآخر
بتایا کہ… گاؤں کے قبرستان میں ایک عورت پر عذاب ہو رہا ہے… اُس کے عذاب کی شدّت
نے میری یہ حالت بنا دی ہے… پھر اُن بزرگوں نے اور تمام اہل مسجد نے خوب گڑ گڑا کر
دعائیں مانگیں… تب وہ عذاب کا سلسلہ ٹھنڈا ہوا… کہاں گئیں سجدوں میں رونے والی
عبادت گزار خواتین؟… کہاں گئیں حیاء کی پیکر وہ خواتین جنہوں نے پردے کو رب تعالیٰ
کی نعمت سمجھ کر… دل سے قبول کیا اورپھر اپنے چہرے ، کانوں اور آنکھوں کی ہرگناہ
سے حفاظت کی… اے مسلمان بہنو! نماز کا معاملہ ٹھیک کر لو…ہر برائی اور بے حیائی سے
طبیعت خود متنفر ہو جائے گی… نما زکے لئے خوب پاکی، اوقات کی پابندی… اور آداب کی
رعایت… اختیار کرو… آپ کا اپنا ہی فائدہ ہو گا… آپ کی اولاد کا فائدہ ہوگا… کل
کے دن تو کوئی کسی کے کام نہیں آسکے گا…حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ
السلام کی ’’بیویاں‘‘ جہنم میں دھکیلی جا رہی ہوں گی… اُن کو اپنی ناک، عزت، زبان
اور چالاکیوں نے برباد کر دیا… قرآن پاک پڑھنے والا ہر مسلمان اُن دو عورتوں کے
کُفر اور بُرے انجام کو بیان کرتا ہے… حالانکہ وہ سمجھتی تھیں کہ وہ بہت عقلمند
ہیں اور زمانے کے تقاضوں کا خیال رکھتی ہیں… انہوں نے اپنی قوم اور برادری کو خوش
رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ کو ناراض کیا… اپنے پیغمبر
خاوندوں کی ناقدری کی… پتہ نہیں قوم اور برادری اُن سے خوش ہوئی یا نہیں… مگریہ
بات پکّی ہے کہ وہ دونوں ہزاروں سال سے عذاب میں جل رہی ہیں… اور قیامت کے دن اُن
کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا… توبہ ، توبہ ،توبہ میرے مالک… آپ کی پناہ عذاب قبر
سے… آپ کی پناہ آخرت کے عذاب سے… مجاہدین سے خاص طور پر درخواست ہے کہ… نمازوں
کا معاملہ بہت ٹھیک کریں… باجماعت، لمبی لمبی، خشوع خضوع والی نمازیں… تب آپ کے
جہاد میں عجیب برکت ہو گی… اور اس برکت سے پوری اُمتِ مسلمہ کو فائدہ ملے گا…
نمازوں میں غفلت او ر سستی کرنے والے مجاہدین زیادہ عرصہ’’مخلص جہاد ی قافلے‘‘ کے
ساتھ نہیں چل سکتے… وہ یا تو دنیاداری کی مصیبت میں مبتلا ہو جاتے ہیں… یا پھر کسی
اور فتنے کا شکار ہو جاتے ہیں… العیاذ ب اللہ ، العیاذ ب اللہ …
توبہ دراصل’’روحانی پاکی‘‘ کا نام ہے… یہ انسان کے
اندر کی میل کچیل اور گندگیوں کو دور کر دیتی ہے… توبہ کا دروازہ چوبیس گھنٹے
کُھلا رہتاہے… جب تک موت کا ’’غرغرہ‘‘ شروع نہ ہوجائے انسان کی توبہ قبول ہوتی ہے…
توبہ کے بہت سے فائدے ہیں… مثلاً
(۱) توبہ کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی محبت نصیب ہو جاتی
ہے…
(۲) توبہ کرنے سے گناہ مٹ جاتے ہیں، اُن کے اثرات ختم ہو جاتے ہیں… اور بسا اوقات
وہ گناہ بھی نیکیاں بنا دیئے جاتے ہیں…
(۳) توبہ سے انسان کو فلاح اور کامیابی ملتی ہے…
وَ تُوْبُوْٓ ااِلَی اللہ جَمِیْعًا
اَیُّہَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ (النور ۳۱)
سچی توبہ کے لئے کچھ شرطیں ہیں… صرف زبان سے توبہ توبہ کہنا
کافی نہیں ہے… ان چند چیزوں کا لحاظ رکھ کر توبہ کریں تو وہ توبہ ان
شاء اللہ قبول ہوتی ہے…
(۱) اخلاص… یعنی توبہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کی جائے…
بہت سے لوگ صرف اس لئے توبہ کرتے ہیں کہ… دنیا میں اُن پر کوئی مصیبت نہ آجائے…
(۲) ندامت… یعنی اپنے گناہ پر نادم اور شرمندہ ہونا…
(۳) اقلاع… یعنی اُس گناہ کو چھوڑ دینا…
(۴) عزم… یعنی آئندہ گناہ نہ کرنے کی مضبوط نیت رکھنا…
(۵) وقت… یعنی موت کی سکرات شروع ہونے سے پہلے پہلے تو بہ کر لینا…
ہم سب کو چاہئے کہ… ان پانچ باتوں کا لحاظ رکھ کر اپنے تمام
گناہوں سے آج ہی توبہ کر لیں… اگر خدانخواستہ توبہ کی ہمت نہیںہو رہی تو… ہر نماز
کے بعد یہ دعاء شروع کردیں کہ… یا اللہ مجھے سچی توبہ کی
توفیق نصیب فرما… جب رو رو کر عاجزی کے ساتھ توبہ کی دعاء کریں گے
تو… ان شاء اللہ توبہ کا سکون بھرا دروازہ ہمارے لئے
کُھل جائے گا… جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو توبہ کی توفیق
دیتے ہیں… اور پھر اُس کی توبہ قبول بھی فرما لیتے ہیں تو… کچھ ایسی علامات ظاہر
ہوتی ہیں جن سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ… اس بندے کی توبہ قبول ہو چکی ہے… اور
یہ اللہ تعالیٰ کی محبت کا مستحق بن چکا ہے…
اُن علامات میں سے چند یہ ہیں…
(۱) اچھی صحبت… توبہ قبول ہونے کی بڑی علامت یہ ہے کہ… انسان کو صدیقین، مجاہدین…
اور صالحین کی صحبت نصیب ہو جاتی ہے… اور بُرے دوستوں سے جان چھوٹ جاتی ہے… یاد
رکھیں اچھی صُحبت ہزاروں نیک اعمال کو آسان بنا دیتی ہے…
(۲) نیکیوں کی رغبت… توبہ قبول ہو جائے تو دل نیکیوں کی طرف راغب ہوتا ہے اور
گناہوں سے اُسے وحشت ہو تی ہے…
(۳) حُبِّ دنیا سے چھٹکارا… توبہ قبول ہونے کے بعد انسان کا رُخ دنیا سے ہٹ کر
آخرت کی طرف ہو جاتا ہے… یعنی اُس کا اصل
مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی تیاری بن جاتا ہے…
دنیا اُس کے ہاتھ میں تو رہتی ہے مگر اُس کے دل میں اُتر کر اُس کا مقصود نہیں بن
جاتی کہ… بس اُسی کی خاطر جیتا مرتا ہو…
اے مسلمانو! توبہ کا دروازہ سب کے لئے کُھلا
ہے… اللہ تعالیٰ جو ہماراعظیم رب ہے خود ہم سب کو توبہ کے
لئے بُلا رہا ہے… کوئی ڈاکو ہو یا چور… کوئی شرابی ہو یا زانی… کوئی جھوٹا ہو یا
فریبی… کوئی خائن ہو یا قاتل… کوئی جواری ہویا نشئی
قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٓیٰ
اَنْفُسِھِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ
رَّحْمَۃِ اللہ اِنَّ اللہ یَغْفِرُ
الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا اِنَّہٗ ھُوَا لْغَفُوْرُ
الرَّحِیْمُ (الزمر ۵۳)
فرما دیجئے! اے میرے بندو! جنہوںنے اپنی جانوں پر ظلم کیا
ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے
شک اللہ تعالیٰ سب گناہ بخش دے گا بے شک وہ بخشنے والا رحم
والا ہے…
سبحان اللہ ! کسی کے لئے توبہ کا دروازہ بند
نہیں… نہ کسی مشرک کے لئے اور نہ کسی کافر کے لئے… وہ بھی توبہ کر کے ایمان قبول
کر سکتے ہیں… اور نہ کسی کبیرہ گناہ کرنے والے مسلمان کے لئے… آؤ! سارے آجاؤ…
رب کی رحمت کی طرف، رب کی مغفرت کی طرف… اور رب کی جنت کی طرف…
یا اللہ ہم سب کو سچی توبہ کی توفیق عطاء فرما… اورہم سب کی
توبہ قبول فرما… اور ہم سب کو’’توّابین‘‘ میں سے بنا… آمین یا غَفَّاْر یا
غَفُوْر یا توَّابْ یاَ عَفُوَّیاَ رؤفُ یاَ ارَحم الَراحمین… آج کی مجلس کا
اختتام کرنے سے پہلے اس آیت مبارکہ پر’’کلام برکت‘‘ بھی پڑھ لیتے ہیں… یعنی حضرت
شاہ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر… آپ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں…
’’جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غالب
کیا… جو کفار دشمنی میں لگے رہے تھے سمجھے کہ لاریب(یعنی بلاشبہ) اُس طرف’’ اللہ
‘‘ ہے… یہ سمجھ کر اپنی غلطیوں پر پچھتائے لیکن شرمندگی سے مسلمان نہ ہوئے کہ اب
ہماری مسلمانی کیا قبول ہو گی؟… دشمنی کی، لڑائیاں لڑے اور کتنے خداپرستوں کے خون
کئے، تب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ایسا گناہ کوئی نہیں
جس کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول نہ کرے، ناامید مت ہو، توبہ
کرو، اور رجوع کرو، بخشے جاؤ گے، مگر جب سر پر عذاب آیایا موت نظر آنے لگی، اُس
وقت کی توبہ قبول نہیں‘‘ (موضح ا ز تفسیر عثمانی)
ہم مسلمانوں سے شکست کھا کر جانے والے… سوویت فوجی اور
حکمران… او ر عراق اور افغانستان میں ہم مسلمانوں کے ہاتھوںشکست اور زخم کھا کر
واپس جانے والے اتحادی فوجی… اس آیت مبارکہ… سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں کہ… توبہ کر
کے ایمان قبول کر لیں… ان لوگوں نے تو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے
کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے ساتھ ہے… ورنہ اتنی خوفناک
عسکری طاقتوں کو نہتے مجاہدین کے سامنے اتنی بے بسی محسوس نہ ہوتی…
اللھم صلِ علیٰ سیّدنا محمد النبی الامی المجاہد صاحب
الغزوات وعلیٰ الہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ توفیق عطاء فرمائے… آج
چندباتیں مختصر طور پر عرض کرنی ہیں…
تبدیلی ہو سکتی ہے
پاکستان کے داخلی اور خارجی حالات کافی خراب ہوچکے ہیں… ملک
کے تمام خزانے تقریباً خالی ہیں… زرّ مبادلہ کے ذخائر تیزی سے خرچ ہو رہے ہیں…
بیرونی قرضہ اتنا ہو چکا ہے کہ اُسے ادا کرنے میں پورا ملک گروی رکھا جائے تب بھی
کام نہ بنے… حکمرانوں کو پتہ ہے کہ یہ حکومت’’فانی‘‘ ہے اس لئے وہ اندھا دُھند مال
جمع کر رہے ہیں… مہنگائی نے قوم کی گردن توڑ رکھی ہے… ملکی تجارت آزاد ہو چکی ہے،
جو چاہتا ہے مہنگائی بڑھا دیتا ہے… امریکہ کے مطالبات حد سے زیادہ بڑھ چکے ہیں… اب
اُس کا مطالبہ ہے کہ ایٹمی پروگرام ختم کرو، انڈیا سے یاری لگاؤ اور کشمیر کو
بھول جاؤ… ملک میں تین ادارے الگ الگ حکومت کر رہے ہیں… فوج، عدالت اور وفاقی
حکومت… حکمرانوں کی یہ حالت ہے کہ… امریکہ اور انڈیا سے مذاکرات کے دوران اُن کا
ہر مطالبہ قبول کر کے آجاتے ہیں… ان مطالبات کو پورا کرنے کے لئے فوج کو جگہ جگہ
لڑنا پڑتا ہے… اس لڑائی میں فوجی جوان مارے بھی جاتے ہیں … اور افسروں کے خواب بھی
چکنا چور ہوتے ہیں… فوج میںتو لوگ روشن مستقبل کے لئے بھرتی ہوتے ہیں… کوئی اپنے
ملک والوں سے لڑنے مرنے کوتو نہیں آتا… فوج اب اس صورتحال سے تنگ آچکی ہے… عدلیہ
اپنی آزادی کا زور لگا رہی ہے… مگر اُس کے مقابلے میں فوم کے گدّے ہیں جو زور دیا
جائے تو دبتے جاتے ہیں مگر جیسے ہاتھ ہٹایا جائے واپس پہلے جیسے ہوجاتے ہیں… عدلیہ
چینی سستی کرتی ہے مگر بازار میں عدلیہ کی نہیں پولیس کی چلتی ہے… اور پولیس کو
وزیر داخلہ صاحب چلاتے ہیں جن کی اپنی تین سالہ سزا ابھی صدر نے معاف کی ہے…
قانونی زبان میں سزا یافتہ آدمی کو ’’مجرم‘‘کہا جاتا ہے… اور اگرکیس چل رہاہو اور
ابھی سزا نہ ہوئی ہو تو اُسے’’ملزم‘‘ کہتے ہیں… کراچی میں ’’ٹارگٹ کلنگ‘‘ کا سلسلہ
تیزی سے چل رہا ہے… لوگ دھڑا دھڑ مارے جارہے ہیں… اور اُدھر بلوچستان میں بھی
روزانہ آٹھ دس لاشیں گرتی ہیں… ان تمام حالات کو دیکھ کر… محسوس ہوتا ہے کہ شاید
ملک میں کوئی بڑی تبدیلی ہو جائے… جب ہر طرف آپریشن چل رہے ہوں تو کچھ نہ کچھ
ضرور ہوتا ہے… دعاء کریں جو کچھ ہو خیر والا ہو… اور اگر کوئی تبدیلی ہو تو… وہ
اُمتِ مسلمہ اور اہل پاکستان کے لئے خیر کا پیغام لائے…
یا اللہ رحمت فرما…
رجب اور شعبان کی دعاء کا اہتمام
آج الحمدللہ ’’
رجب ‘‘ کی ایک تاریخ ہے… رجب اسلامی سال کا ساتواں مہینہ ہے… اور یہ حُرمت والے
چار مہینوں میں سے ایک ہے… چنانچہ آج کی ہجری اسلامی تاریخ یوںلکھی جائے گی یکم
رجب ۱۴۳۱ھ… آپ سب سے گزارش ہے کہ رجب اور شعبان کے مہینے میں اس
بابرکت مسنون دعاء کا خوب اہتمام فرمائیں…
اللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَ شَعْبَانَ
وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ
اس دعاء کی برکت سے ان شاء اللہ …
رجب اور شعبان کے مہینے کی برکات بھی نصیب ہوں گی… اور رمضان المبارک بھی اچھا
گزرے گا…
کچھ اپنی فکربھی
الحمدللہ مرکز عثمانؓ و علیؓ میں’’دورۂ تربیہ‘‘ پابندی
سے جاری ہے… اس دورۂ میں شرکت کرنے والے خوش نصیب افراد عجیب ایمان افروز تأثرات
کا اظہار کرتے ہیں… ایک صاحب نے مجھے لکھا کہ’’دورۂ تربیہ‘‘ تو
ماشاء اللہ اپنے اندر کا ’’ایکسرے‘‘ ہے… دوسرے تیسرے دن ہی
اپنی تمام برائیاں سامنے آجاتی ہیں… اور اُن کے ازالے اور اصلاح کی فکر دل میں
پیدا ہو جاتی ہے… اکثر لوگوں کے ایسے ہی تاثرات ہوتے ہیں… مگر کچھ لو گ کسی جگہ
اور کسی بھی ماحول سے فائدہ نہیں اٹھاتے… اُن کو صرف تنقید کرنے اور دوسرے کے عیب
دیکھنے کا شوق ہوتا ہے… اُن کے کان ہر وقت تنقید سننے کے لئے… اور اُن کی زبانیں
ہر کسی پر اعتراض کرنے کے لئے تیار رہتی ہیں… کراچی کے ایک صحافی اتفاقاً حج کرنے
گئے تو واپسی پر وہاں کے تمام معاملات پر ایک تنقیدی مضمون لکھ مارا… حضرت
لدھیانوی شہیدرحمۃ اللہ علیہ نے اُس مضمون کا دندان شکن
جواب تحریرفرمایا… اسی طرح کے ایک تنقیدی مزاج شخص نے دورہ ٔتربیہ میں شرکت کے بعد
… مجھے خط لکھا اور اس میں دیگر چند باتوں کے علاوہ نہایت شدّت کے ساتھ یہ مسئلہ
بھی اٹھایا کہ سالن میں شوربہ کم ہوتا ہے… اور کبھی تو بالکل نہیں ہوتا… اے اللہ کے
بندے! آپ وہاں اپنی اصلاح کے لئے گئے تھے یا شوربہ پینے کے لئے؟… آپ کو اپنی
اصلاح مطلوب تھی یا مرکز والوں کی؟… انسان کو چاہئے کہ کبھی تو اپنی فکر بھی کر
لے… ہر وقت دوسروں کے عیبوں کی فکر انسان کو برباد کر دیتی ہے… تنقیدی مزاج انسان
اکثرمحروم رہتا ہے… اُسے بار بار غیبت کرنے اور سننے کا گناہ کرنا پڑتا ہے… اوراُس
کے اپنے ذاتی حالات خراب سے خراب تر ہوتے چلے جاتے ہیں… ایسا آدمی کسی بزرگ کے
پاس جاتا ہے تو جلد بدگمان ہو جاتا ہے… ایک صاحب کسی بزرگ کے پاس بیعت کے لئے گئے
اور نماز میں انُ سے’’ضاد‘‘ کا مخرج سن کر بدگمان ہوگئے… اوربیعت کئے بغیر واپس
آگئے…
اللہ کے بندو! حضرات انبیاء ح کے علاوہ
دنیا میں کون ہے جو ’’بے عیب‘‘ ہو؟… اگر عیب دیکھتے رہو گے تو کس سے کچھ حاصل کرو
گے؟… کبھی دو منٹ کا ٹائم خود کو بھی دو اور اپنے عیب دیکھو!… ہزاروں لوگوں کو
دورۂ تربیہ سے توبہ کی توفیق ملی… مگرایک صاحب ان سات دنوں میں ’’
اللہ اللہ ‘‘ کی صدا کے دوران بھی عیب ڈھونڈتے رہے اور… دل ہی دل
میں جلتے اور کڑھتے رہے… کاش آپ آتے ہی مجھے پیغام بھیج دیتے کہ… میں ذکر کرنے،
استغفار کرنے اور اللہ والوں کی صحبت پانے کے لئے نہیں آیا
بلکہ شوربا پینے آیا ہوں تو… آپ کے لئے شوربے کی دیگ کابندوبست کر دیا جاتا…
باقی جہاد اور مجاہدے میں توقربانی لگتی ہے… اور جو جتنی قربانی پیش کرتا ہے اُتنا
ہی نفع پاتا ہے…
دورۂ تربیہ کے لئے تشریف لانے والوں سے عرض ہے کہ… صرف یہ
سات دن آپ اپنی فکر کریں… دوسروںکے عیب اور غلطیاں نہ دیکھیں… قبر میں ہر ایک نے
اکیلے جانا ہے… اور ہر ایک نے اپنے اعمال کا حساب دینا ہے… صرف ان سات دنوں کے لئے
عز م کر لیں کہ… نہ تنقید کریں گے اور نہ تنقید سوچیں گے… بس صرف اور
صرف اپنی اصلاح کی فکر کریں گے… آپ میں سے جس نے ’’دورۂ تربیہ‘‘ میں اس بات پر
عمل کیا وہ ان شاء اللہ عجیب احوال دیکھے گا…
ایک پیارا خاندان
تبع تابعین… اُن حضرات کو کہتے ہیں جنہوں نے ایمان کے ساتھ
حضرات تابعین کی صحبت پائی ہے… اور تابعین وہ ہیں جنہوں نے ایمان کے ساتھ حضرات
صحابہ کرام ذ کی صحبت پائی ہے … تبع تابعین میں ایک بڑے مجاہد گزرے ہیں… وہ حدیث
اور فقہ کے امام بھی تھے اور اولیاء اللہ کے سرداربھی… وہ
ایک سال جہاد کے لئے تشریف لے جاتے تھے… اور ایک سال حج کے لئے… اُن کا نام’’عبد
اللہ ‘‘ اور اُن کے والد محترم کا نام’’مبارک‘‘ تھا…یقینا آپ حضرات نے حضرت امام
عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کا نام نامی بار بار سنا ہو گا…
آپ ۱۱۸ھ میں پیدا ہوئے… اُس وقت ہشام بن عبدالملک کی حکومت تھی…
بنو امیہ کا دور زوال پذیر تھا اور ’’بنو عباس‘‘ کی آمد آمد تھی… حضرت عبد
اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ پیدا تو اموی دور میں ہوئے مگر آپ رحمۃ
اللہ علیہ نے عباسی دور کا عروج… یعنی ہارون الرشید کی حکومت کا زمانہ بھی پایا…
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا خاندان… امانت داری کی بنیاد پر وجود میں آیا… بے شک
’’امانت‘‘ بہت اونچی نعمت ہے… یہ نعمت جس انسان کو نصیب ہو جائے اُس
پر اللہ تعالیٰ کا بہت فضل ہو جاتا ہے… حضرت عبد اللہ رحمۃ
اللہ علیہ کے والد… جن کانام’’مبارک‘‘ تھا… ایک تاجر کے غلام تھے اور اُس کے باغ
میں کام کرتے تھے … آپ کافی عرصہ اُس باغ کی دیکھ بھال کرتے رہے… پھر ایک دن اُ ن
کا مالک باغ میں آیا اور اُس نے انہیں باغ سے میٹھے انار توڑ کر لانے کا حکم دیا…
مبارک باغ سے انار توڑ کر لائے تو وہ کھٹے نکلے… مالک بہت غصہ ہوا اور تاکید کی کہ
میٹھے انار توڑ کر لاؤ… وہ دوبارہ توڑ کر لائے تو وہ بھی کھٹے نکلے… اسی طرح
تیسری بار بھی ہوا تو مالک کو بہت غصہ آیا… وہ کہنے لگا! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ
میٹھے کون سے ہیں اور کھٹے کون سے؟… مبارک نے کہا جی مجھے معلوم نہیں… آپ نے اس
باغ کی رکھوالی کا حکم دیا تھا… چونکہ آپ نے اس میں سے کھانے کی اجازت
نہیں دی تھی اس لئے میں نے کبھی کوئی پھل نہیں چکھا… مالک نے جب تحقیق
کی تو یہ بات درست نکلی… اُس نے مبارک کو آزاد کر دیا… اور اپنی بیٹی سے اُن کا
نکاح کر دیا… یہ خاتون بہت دیندار اور اللہ والی تھیں… ان
کا نام’’ہند‘‘ تھا… ان دونوں کو … اللہ تعالیٰ نے عبد
اللہ بن مبارک جیسا بیٹا… اورکئی بیٹیاں عطاء فرمائیں… اپنی بیٹی سے
نکاح کے ساتھ ہی اُس تاجر نے مبارک کو اپنی جائیداد میں سے بھی کافی حصہ دیا… اس
میں ایک باغ بھی تھا جو مبارک نے اپنے اکلوتے بیٹے حضرت عبد اللہ بن
مبارک کو دے دیا… حضرت عبد اللہ بن مبارک جب جوان ہوئے اور وہ علماء کی
صحبت میں علم حاصل کرنے لگے تو اُن کو احساس ہو اکہ… مجھے اپنے اس باغ میں سے اپنی
بہنوں کو بھی حصّہ دینا چاہئے… وہ اپنی بہنوں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا… والد
محترم کو چاہئے تھا کہ یہ باغ ہم سب میں تقسیم فرماتے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا…
اب میں اس باغ کو والد صاحب کی وراثت قرار دے رہا ہوں… والد صاحب سے ایسا کام ہوا
جو انہیں نہیں کرنا چاہئے تھا وہ تم سب معاف کر دو اور اس باغ میں سے اپنا حصہ لے
لو… اُن کی بہنیں بھی عجیب تھیں… انہوں نے کہا ہم نے والد محترم کو معاف کیا… اور
اس باغ سے اپنا حصّہ وصول کر کے وہ آپ کو ہدیہ کر دیاحضرت عبداللہ بن مبارک نے
بہنوں کا ہدیہ قبول نہ فرمایا…پھر حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ
علیہ کا بیٹاپیدا ہوا تو… آپ رحمۃ اللہ علیہ کی بہنوں نے اُس باغ میں سے اپنا
اپنا حصّہ اُس بچے… یعنی اپنے بھتیجے کو ہدیہ کر دیا… چند دن بعد اُس بچے کا
انتقال ہو گیا تو وہ باغ واپس حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ
کے حصے میں بطور وراثت آگیا… یہ تھی اُس پیارے خاندان کی امانت، خوش اخلاقی
،ایثار… اور باہمی محبت… بھائی کو بہنوں کے حق کی فکر… اوربہنیں اپنے بھائی کی خا
طر ہر قربانی کو تیار… ایسے بابرکت خاندان نے… اُمت مسلمہ کو ایک عظیم امام دیا…
جس کا نام حضرت عبد اللہ بن مبارکؒ تھا… ان
شاء اللہ آئندہ کسی نشست میں حضرت امام عبد اللہ بن
مبارک رحمۃ اللہ علیہ کے کچھ حالات عرض کئے جائیں
گے… اللہ تعالیٰ ہم سب کے گھرانوں میں ایمان، تقویٰ، دیانت،
امانت… اور باہمی ایثار و محبت نصیب فرمائے…
آمین یا ارحم الراحمین
اللھم صل علیٰ سیدنا محمد وأَنْزِلْہُ الْمَقْعَدَ
الْمُقَّربَ عِنْدَکَ وعلی الہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے بعض بندے ایسے ہیں کہ اُن کے تذکرے
سے… اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوتی ہے… اُمت مسلمہ کے امام،
مجاہدین کے سردار حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ بھی اُنہی
شخصیات میں سے ہیں… یہ بات اُمت کے ایک اور امام حضرت نووی رحمۃ اللہ علیہ ان
الفاظ میں سمجھاتے ہیں:
حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ وہ شخصیت
ہیں جن کی امامت اور جلالت پر اُمت کا اتفاق ہے… وہ ایسے شخص ہیں جن کے تذکرے سے
رحمت نازل ہوتی ہے… اورجن سے محبت پر مغفرت کی اُمید کی جاتی ہے(تہذیب الاسماء)
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ خود بہت بڑے آدمی ہیں… انہوں نے
ماشاء اللہ بہت پرنور کتابیں لکھی ہیں… آپ نے اُن کی
کتاب’’ریاض الصالحین‘‘ تو ضرور دیکھی ہو گی… امام نووی پایک رات چراغ کی روشنی میں
لکھ رہے تھے… اچانک وہ چراغ بجھ گیاتو اللہ تعالیٰ نے اُن
کی انگلیوں میں روشنی ظاہر فرمادی… اور وہ کافی دیر تک اپنی انگلیوں کی روشنی
میںلکھتے رہے… یہ امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مبارک
رحمۃ اللہ علیہ کے تذکرے سے اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوتی
ہے… واقعی بالکل سچ فرمایا… آپ ان شاء اللہ آج ہی
اس کا تجربہ کر لیں گے… مجھے اصل میں تو حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ
اللہ علیہ کا ’’جہاد‘‘ بیان کرنا ہے… وہ اُمت کے کامیاب ترین مجاہدین میں سے تھے…
اور اُن کے جہاد کو دیکھ کر مجاہدین اپنے جہاد کو درست اور مقبول بنا سکتے ہیں…
مگر اُن کے جہاد سے پہلے اُن کی زندگی کے کچھ دیگر حالات عرض کئے جاتے ہیں… تاکہ…
آپ سب حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت اور مقام سے
کسی قدر واقف ہو جائیں… اُن کے خاندان کے بارے میں چند باتیں گزشتہ کالم میں عرض
کر دی گئیں تھیں… آج اُن کی کچھ دیگر صفات کو بیان کیا جارہا ہے…آپ حیران ہو ں
گے کہ… جب اُمت مسلمہ کے بڑے مجاہدین کا تذکرہ لکھاجاتا ہے تو ان میں حضرت عبد
اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ پہلی صف میں نظر آتے ہیں… اور جب صوفیاء
کرام کا تذکرہ لکھا جاتا ہے تو اس میں بھی حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ
اللہ علیہ پہلی صف میں موجود ہوتے ہیں… حضرت ہجویری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب
کشف المحجوب میں اُن کا تذکرہ بڑے صوفیاء کرام میں فرمایا ہے… اسی طرح جب اُمت
مسلمہ کے فقہاء، حفاظ اور محدّثین کا تذکرہ آتا ہے تو اس میں بھی حضرت عبد
اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ پہلی صف میں شمار کئے جاتے ہیں… آپ اپنی
عمر کے ابتدائی زمانے کچھ غفلت میں پڑگئے تھے… بڑے رئیس زادے تھے پیسے نے اثر
دکھایا تو لہو و لعب میں مشغول ہو گئے… مگرجب عمربیس سال کی ہوئی
تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر توبہ، محبت، معرفت، علم اور جہاد
کا دروازہ کھول دیا… آپ کی توبہ کا واقعہ بھی بہت عجیب ہے جو ان
شاء اللہ اگلی کسی مجلس میں عرض کیا جائے گا…
آج ملاحظہ فرمائیے حیات ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کے کچھ
بکھرے اوراق…
مثالی سخاوت
آپ بڑے مالدار تھے… وراثت میں کافی مال ملا تھا اور تجارت
بھی کرتے تھے تاکہ… فقراء پر خرچ کریں، مجاہدین کو کھلائیں پلائیں اور طلبۂ حدیث
کی خدمت کریں، حج کریں … اور لوگوں کو حج کروائیں اور جہاد میں اپنا اور اپنے
رفقاء کا خرچہ برداشت کریں… ایک بار مشہور تارک الدنیا بزرگ حضرت فضیل بن عباسؒ سے
ارشاد فرمایا:
اگر آپ اور آپ جیسے لوگ نہ ہوتے تو میں تجارت نہ
کرتا(تہذیب التہذیب)
یعنی آپ جیسے لوگ دنیا چھوڑ کر عبادت اور دین کے کاموں میں
لگے ہوئے ہیں… میں آپ کی خدمت کرنے کے لئے تجارت کرتا
ہوں… اللہ تعالیٰ نے حضرت عبد اللہ بن مبارک
رحمۃ اللہ علیہ کے مال میں خوب برکت عطاء فرمائی تھی… وہ خیر کے کاموں میں خرچ
کرتے جاتے تھے اور اُن کا مال اور بڑھتاجاتا تھا … تھوڑا سا اندازہ
لگائیں کہ
٭ہر سال فقراء کرام پر ایک لاکھ د رہم خرچ کرتے تھے…
٭ایک سال جہاد پر جاتے اور سارا خرچہ خود کرتے اور دوسرے
سال حج پر جاتے تب بھی اپنا اوراپنے رفقاء کا خرچہ خود اٹھاتے… جہاد میں مال غنیمت
بھی نہیں لیتے تھے اور حج پر اپنے رفقاء کو اچھے کھانے کھلاتے اور گھر والوں کے
لئے سامان بھی خرید کر دیتے تھے…
٭کبھی اکیلے کھانا نہیں کھاتے تھے، ہمیشہ علماء طلبہ
اور دیگرمہمانوں کو بُلاتے اوربڑے بڑے دستر خوان بچھا کر انہیں کھانا کھلاتے… اور
طرح طرح کے فالودے بنو ا کر انہیں پیش کرتے… انہیں اپنے والد محترم کی وراثت میں
سے جو چھ لاکھ درہم ملے ان میں سے بھی… چار لاکھ ساٹھ ہزار درہم خیر کے کاموں میں
خرچ کر دیئے… بے شک خیر کے کاموںمیں سخاوت… اللہ تعالی کی
طرف سے بہت بڑی نعمت ہے… بہت ہی عظیم نعمت …
حُسنِ اخلاق
حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ ’’حُسنِ اخلاق‘‘ میں
اپنی مثال آپ تھے… اُن کے اخلاق بناوٹی نہیں تھے کہ… لوگوںمیں شہرت اور عزت حاصل
کرنے کے لئے ہوں… بلکہ اللہ تعالیٰ نے اُن کی فطرت اور خصلت
ہی ایسی بنائی تھی کہ… ماشاء اللہ حُسنِ اخلاق کا پیکر نظر
آتے تھے … اور پھر امانتدار اور متقی والدین کی تربیت نے بھی خوب رنگ جمایا…
مشہور محدّث حضرت اسماعیل بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ فرماتے
ہیں:
روئے زمین پر عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ
جیسا(اُن کے زمانے میں) کوئی نہیں ہے… اور میرے علم کے
مطابق اللہ تعالیٰ نے خیر کی جتنی بھی عادتیں اور خصلتیں
پیدا فرمائی ہیں… اُن سب سے عبد اللہ بن مبارکؒ کو حصہ عطاء فرمایا ہے
( سیر اعلام النبلاء)
حضرت نعیم بن حماد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں… میں نے
عبدالرحمن بن مہدی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا کہ… عبد اللہ بن مبارک رحمۃ
اللہ علیہ اور سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ میں سے کون افضل ہے؟… فرمایا عبد
اللہ بن مبارک!… میں نے عرض کیا لوگ آپ کی یہ بات نہیںمانتے… ارشاد
فرمایا لوگوں نے قریب سے نہیں دیکھا… ورنہ عبد اللہ بن
مبارک رحمۃ اللہ علیہ جیسا کوئی نہیں ہے(تہذیب الاسماء)
حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ … اتنے
بلند مقام کے باوجود تواضع اختیار فرماتے تھے… اپنی گردن پر لکڑیاں لادتے… اور
ننگے پاؤں بازار سے چیز خرید لاتے… اور حضرت سفیان بن عیینہؒ جیسے بزرگوں کے
سامنے کسی کو مسئلہ بتانا بے ادبی سمجھتے تھے… ایک بار کسی نے پوچھا کہ… حضرت!
تواضع کسے کہتے ہیں؟…ارشاد فرمایا مالداروں کے سامنے تکبّر
کرنا… اللہ اکبر کبیرا… یعنی انسان مال اور دنیا کے لالچ
میں اپنے نفس کو ذلیل نہ کرے… آپ سے پوچھا گیا کہ تکبر کسے کہتے ہیں؟… ارشاد
فرمایا لوگوں کو حقیر سمجھنا…
مثالی تقویٰ
عبادت اور تقویٰ کے معاملے میں … عبد اللہ بن
مبارک رحمۃ اللہ علیہ پر اللہ تعالیٰ کا بہت فضل تھا… جہاد
میںنکل کر ساری ساری را ت عبادت کرنا… مجاہدین کے لشکر کی پہرے داری کرنا… سفر کے
دوران اپنے کجاوے میںنفل نماز کا مسلسل اہتمام کرنا… راتوں کو اپنے رفقاء کو سُلا
کر خود چھپ کر نماز ادا کرنا… سفر کے دوران اپنے رفقاء کو قیمتی حلوے کھلانا اور
خود روزے سے رہنا… اللہ تعالیٰ کے خوف سے اتنا رونا کہ
داڑھی مبارک تر ہو جاتی … اور پھر اپنے تقوے اور عبادت کو لوگوں سے چھپانا… حضرت
احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ… عبد اللہ بن مبارک
رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ تعالیٰ نے اتنا اونچا مقام اُن کی مخفی عبادت
کی وجہ سے عطاء فرمایا ہے… اور خود حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ
علیہ فرماتے تھے کہ… تم میں سے جو اللہ تعالیٰ سے جتنا ڈرتا
ہے وہ اتنا بڑا عالم ہے… آپ جب بغداد تشریف لائے تو وہاں کے حکمران کچھ ظالم تھے…
آپ کو شبہ ہوا کہ میرا اس شہر میں قیام کرنا ٹھیک ہے یا نہیں؟… چنانچہ آپ روزانہ
ایک دینار صدقہ کرتے تھے… تاکہ اس شہر میں قیام کا جو گناہ ہے اُس کاکفارہ ہو جائے…
ایک بار آپ نے ملکِ شام میں ایک شخص سے اُس کا قلم عاریۃً لیا او ر اُسے واپس
کرنا بھول گئے اور خراسان تشریف لے گئے… خراسان پہنچ کر آپ پکو یاد آیا تو… صرف
قلم واپس لوٹانے کے لئے شام کا سفر فرمایا… سفرِ وفات میںآپ کو ستّو پینے کی رغبت
ہوئی… رفقاء نے ستّو تلاش کیا تو وہ صرف ایک آدمی کے پاس تھا جو بادشاہ کے ہاں
ملازم تھا… رفقاء نے آپ کو صورتحال بتائی تو آپ نے لینے سے منع فرما دیا…اور
ستّو پئے بغیر اس دنیا سے تشریف لے گئے… جی ہاں وہ شخص نے جس نے ساری زندگی لوگوں
کو طرح طرح کے کھانے کھلائے اور مشروبات پلائے… وہ اپنی زندگی کی آخر ی گھڑیوں
میں ستّو بھی نہ پی سکا… اسے کہتے ہیں امانت اور اسے کہتے ہیں تقویٰ کہ… کسی حال
میں بھی انسان اللہ تعالیٰ کے خوف سے غافل نہ ہو… اور نہ ہی
کسی مجبوری کا بہانہ بنا کر مشتبہ چیزوں میں منہ مارے…
سبحان اللہ
!… اللہ تعالیٰ کے انعامات دیکھئے… اُمت کا امام ، فخر
المجاہدین، تارک الدنیا لوگوں کے قائد… سخی،بہادر، باحیا، عفیف، متقی، بہادر،
جانباز… بہترین گھڑسوا ر… اور زمانے کے مایہ ناز محدّث…
رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃ واسعۃ…
سرکاری عہدوں سے پرہیز
اُس زمانے کے حکّام… ہمارے دور کے حکمرانوں سے بہت نیک،
متقی اور غیرت مند تھے… وہ جہاد کے لئے خود بھی نکلتے تھے اور اسلامی لشکروں کو
بھی دور دراز علاقوں میں جہاد پر بھیجتے تھے… مگر اس کے باوجود حضرت عبد
اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ … ان حکام سے دور رہے اور انہوں نے
سرکاری عہدے قبول نہ کرنے میں… اپنے محبوب استاذ حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ کی
مکمل پیروی کی… اورآپؒ ہمیشہ حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی اس بات پر
تعریف کرتے تھے کہ انہوں نے قاضی القضاۃ کے عہدے کو ٹھکرایا… چنانچہ ارشاد فرماتے
ہیں:
میں نے ابو حنیفہپ سے زیادہ متقی کوئی نہیں دیکھا انہیں
کوڑوں اور اموال کے ذریعہ آزمایا گیا(تاریخ بغداد للخطیب)
حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ حکمرانوں
سے دور دور رہے… تو اللہ تعالیٰ نے انہیں لوگوںکے دلوں پر حکومت عطاء
فرما دی… ایک بارخلیفہ ہارون الرشید رقّہ شہر میں تھے… حضرت عبد
اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ بھی وہاں تشریف لے آئے تو لوگ اُن کی
زیارت کے لئے ٹوٹ پڑے… زیارت کرنے والوں کا اتنا مجمع تھا کہ لوگوںکے جوتے ٹوٹ گئے
اور فضاء غبار سے بھر گئی… ہارون الرشید کی ایک باندی نے خلیفہ کے محل کے بُرج سے
یہ منظر دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟… اُسے بتایا گیا کہ خراسان کے ایک
عالم جن کا نام عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ ہے’’رقّہ‘‘ تشریف
لائے ہیں… وہ کہنے لگی… اللہ کی قسم بادشاہت تو یہ ہے… اس
کے مقابلے میں ہارون الرشید کی بادشاہت کیا ہے کہ لوگوں کو پولیس کے ذریعہ جمع کیا
جاتاہے…
فقراء والی موت
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال جہاد سے واپسی پر حالت سفر
میں ہوا… جب موت کا وقت قریب آیا تو اپنے آزاد کردہ غلام ’’نصر‘‘ سے فرمایا…
میرا سر مٹی پر رکھ دو… غلام رونے لگا… ارشاد فرمایا کیوں روتے ہو؟… وہ کہنے لگا
مجھے یہ بات رُلا رہی ہے کہ آپ کیسی نازو نعمت والی زندگی میں تھے اور اب فقیری
اور مسافری کی حالت میں اس دنیا سے جارہے ہیں… ارشاد فرمایا :چپ ہو جاؤ میں
نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعاء کی تھی کہ… مجھے اغنیاء
والی زندگی اور فقراء والی موت عطاء فرمائے… پھر ارشاد فرمایا… اب مجھے کلمے کی
تلقین کرتے رہو، کوئی اور بات نہ کرو…(ابن عساکر)
جہاد سب سے افضل عمل
مشہور عابد اور محدّث حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ کے
بیٹے’’محمدپ ‘‘ فرماتے ہیں:میں نے حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ
علیہ کو خواب میں دیکھا تو پوچھا: آپ نے کس عمل کو افضل پایا؟… ارشاد فرمایا وہی
عمل جس میں لگا ہوا تھا… میں نے پوچھا یعنی رباط اور جہاد… ارشاد فرمایا جی ہاں…
میں نے عرض کیا آپ کے رب نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟…ارشاد فرمایا … میرے
رب نے مجھے پکّی مغفرت عطاء فرمادی اورمیرے ساتھ حور عین نے گفتگوکی… (صفۃ الصفوۃ)
اللہ تعالیٰ حضرت عبد اللہ بن
مبارک رحمۃ اللہ علیہ کے درجات بلند فرمائے… ہم سب مسلمانوں کو بھی اُن جیسی مبارک
صفات نصیب فرمائے … آمین یا ارحم الراحمین
اللھم صل علی سیدنا و مولانا محمد النبی الطَّاہر الزکیّ
صلوٰۃً تُحَلُّ بھا العُقَدُ وتُفَکُّ بھا الکُرَب وعلی الہ وصحبہ وسلم
تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا فضل ہو جائے تو انسان
فرشتوں سے بھی آگے نکل جاتا ہے… حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ
علیہ کو ہی دیکھ لیں کہ تریسٹھ سال کی عمر پائی… اور کتنے بڑے بڑے کام کر گئے اور
کتنا اونچا مقام پا گئے…
سبحان اللہ وبحمدہ
سبحان اللہ العظیم
کتنے لوگوں کی پوری زندگی ایک بلڈنگ بنانے پر خرچ ہو جاتی
ہے… بالآخر وہ بلڈنگ بن جاتی ہے مگر بنانے والا اس کو دوسروں کے لئے چھوڑ کر قبر
کے گڑھے میں جا گرتا ہے… یا اللہ الأمان الأمان…
کتنے لوگوں کی پوری زندگی جائیداد کے جھگڑوں میں بیت جاتی
ہے… جبکہ کئی لوگوں کی زندگی کھیل کود اور عیش و عشرت میں بسر ہو جاتی ہے… پُرانے
دور کے ایک شخص کا واقعہ پڑھا تھا اُسے شوق تھا کہ میرے پاس اتنی دولت آجائے کہ
میں رومی باندیاں خرید سکوں…
اُ س زمانے میں غلام اور باندی ہوا کرتے تھے… اور باندیوں
کو رکھنا حلال بھی تھا … جبکہ آج کل جس کو شیطان بہکاتا ہے… وہ پلاننگ کرتا ہے کہ
کوئی ایسا کام شروع کردوں جس میں بہت سی عورتوں کو ملازم رکھ لوں… بہرحال وہ شخص
رومی باندیوں کے شوق میں پیسے کماتا رہا… دن رات محنت کرتا رہا… جب اُس کی عمر
اسّی سال کی ہوئی تو وہ خوب مالدار ہو گیا اور اُس نے رومی باندیاں خرید لیں… مگر
عمر اور بیماریاں اتنی زیادہ ہو گئی تھیں کہ جب کوئی باندی اُسے ہاتھ لگاتی تو
باباجی کی چیخیں نکل جاتیں… خلاصہ یہ کہ پوری زندگی ایک خواہش میں گزار دی… اور جب
وہ خواہش پوری ہونے کا وقت آیا تو جسم میں جان اور طاقت نہ رہی… اے میرے بھائیو!
اور بہنو! یہ دنیا اپنے چاہنے والوں کے لئے حسرتوں کا قبرستان ہے… حضرت عبد
اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ پر اللہ تعالیٰ نے
اپنافضل فرمایا تو انہوں نے دنیا کی کسی چیز کو اپنا مقصد نہیں بنایا… بلکہ وہ ایک
سچے اور وفادار غلام کی طرح اس دنیا میں اپنے مالک کی رضا مندی ڈھونڈتے رہے… ہم
اپنی آج کی مجلس میں حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ سے
کامیابی کے بعض نسخے سیکھنے کی کوشش کریں گے… ان شاء اللہ
تعالیٰ…
عصر کے بعد ذکرا ﷲ
عبدہ بن سلیمان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ جب عصر
کی نماز’’جامع مسجد المصیصہ‘‘ میں ادا کر لیتے تو قبلہ رُخ بیٹھ کر
ذکر اللہ میں مشغول ہو جاتے اور مغرب تک کسی سے بات نہ
فرماتے… (الجرح و التعدیل لابن ابی حاتم)
عصر سے مغرب تک کا وقت اکثر اولیاء کرام کے نزدیک ذکر و
مناجات کے لئے بہترین وقت ہے… جس کو اللہ تعالیٰ توفیق عطاء
فرمائے وہ اس وقت کو اپنے لئے آخرت کا ذخیرہ بنائے… خصوصاًجمعہ کے دن عصر تا مغرب
کا وقت ذکر تلاوت اور مناجات میں قیمتی بنانا چاہئے… اور اگر کسی کو اس کی فرصت نہ
ملے تو عصر کی نماز کے بعد تھوڑی دیر اور سورج غروب ہونے سے کچھ دیرپہلے ذکر و
مناجات میں لگ جانا چاہئے… اور عصرکے بعد کم ازکم سورۃ’’ النباء‘‘(پارہ ۳۰) کا اور مغرب کے وقت شام کی مسنون دعاؤں کا اہتمام کر لینا
چاہئے…
ایک سال جہاد، ایک سال حج
جہاد کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ
علیہ کا تعلق بہت گہراتھا… وہ کبھی اس انتظار میںنہیں رہے کہ نفیر عام ہو تو جہاد
پر نکلیں… یاد رہے کہ نفیر عام کے وقت جہاد فرض عین ہو جاتا ہے… حضرت عبد
اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ نے دشمنوں کے حملے کے وقت بھی جہاد کیا
اور ایک ایک لڑائی میں درجنوں کافروں کو قتل فرمایا… اور جب لڑائی کا وقت نہیں
ہوتا تھا تو آپ دور دراز کی اسلامی سرحدوں پر پہرے کے لئے تشریف لے جاتے اور رباط
فی سبیل اللہ کا اجر حاصل کرتے… آپ رحمۃ اللہ علیہ کا
انتقال بھی طرسوس کے رباط سے واپسی پر ہوا… اور حدیث شریف میںآتا ہے کہ جہاد سے
واپس لوٹنا بھی جہاد میں جانے کی طرح ہے… آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی زندگی کی یہ
ترتیب بنا رکھی تھی کہ… ایک سال حج پر تشریف لے جاتے اور ایک سال جہاد پر… زندگی
کا یہ معمول آخری وقت تک جاری رہا… اور جہاد کے آخری سفر سے واپسی پرمالک حقیقی
سے ملاقات ہو گئی…
یحج سنۃ و یغزوسنۃ حتی نہایۃ عمرہ (تاریخ بغداد)
ہمیں چاہئے کہ… ہم بھی آخرت کی ہمیشہ ہمیشہ والی کامیابی
کے لئے اسی طرح جہاد اور حج سے محبت کریں… اور مکمل استقامت کے ساتھ جہاد میں ڈٹے
رہیں…
قرأت اور نماز کا اہتمام
حضرت حسن بن شقیق رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
میں نے حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ
سے زیادہ اچھی قرأت کرنے والا اور زیادہ نماز ادا کرنے والا کوئی نہیں دیکھا… آپ
سفر اور حضر میں پوری پوری رات نماز میںگزار دیتے تھے…
ہرمسلمان کے لئے لاز م ہے کہ… قرآن پاک کو تجوید سے
پڑھنا سیکھے اور پھر کبھی تلاوت کا ناغہ نہ کرے… ایک مسلمان کے لئے وہ دن بڑے
خسارے والا ہوتاہے جس میں وہ قرآن پاک کی تلاوت نہیں کرتا… اور نماز تو مؤمن کی
ترقی اور معراج ہے… جس کی نماز جتنی اچھی وہ اتنااچھا مسلمان… اور جس کی نماز جتنی
زیادہ وہ اس قدر خوش نصیب… یا اللہ ہم سب کو توفیق عطاء فرما…
خوف اور خشیت الٰہی
حضرت قاسم بن محمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
ہم نے عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ
کئی سفر کئے ، مجھے ہر سفر میں یہ خیال رہتا تھا کہ آخر اس شخص نے ہم سب پر کس
چیز کی وجہ سے فضیلت حاصل کر لی ہے… حالانکہ اگر یہ نمازیں ادا کرتے ہیں تو ہم بھی
ادا کرتے ہیں… یہ روزے رکھتے ہیں تو ہم بھی رکھتے ہیں… یہ جہاد کرتے ہیں تو ہم بھی
مجاہد ہیں… اگر یہ حج کرتے ہیں تو ہم بھی حج کرتے ہیں… اسی دوران ہم ایک سفر میں
تھے رات کو کھانے کے لئے ہم ایک گھر میں رُکے… کھانے کے دوران چراغ بجھ
گیا…ہماراایک ساتھی اُسے دوبارہ جلانے کے لئے اٹھا… اور تھوڑی ہی دیر میں جلا
کرواپس لے آیا… میر ی نظر حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کے
چہرے پرپڑی تو آپ رحمۃ اللہ علیہ کی داڑھی آنسوؤں سے بھر چکی تھی… میں نے دل
میںکہا… ان کی ہم پر فضیلت اسی خوف اور خشیت کی وجہ سے ہے کہ… تھوڑی دیر کا
اندھیرا ہواتو ان کو قیامت یا د آگئی اور یہ اللہ تعالیٰ
کے خوف سے رونے لگے… (صفۃ الصفوۃ)
بے شک اللہ تعالیٰ کاخوف اور خشیت
بہت بڑی نعمت…اور ایمان کی بڑی علامت ہے… وہ طالب علم جو مدرسے میں پڑھتے ہیں اگر
ان میں علم کے اضافے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا خوف بھی بڑھتا
جائے تو اُن کاعلم مقبول ہوتا ہے… یہی حال عبادت کا ہے اور یہی حال جہاد کا ہے…
اور جس عمل میں دل میں قساوت اور سختی آتی جائے اس عمل میں کوئی کھوٹ اور کجی
ہوتی ہے…
مشہور عابد اور محدّث حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے
ایک بار فرمایا:
ہاں میں عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ سے
محبت رکھتا ہوں… کیونکہ وہ اللہ عزوجلّ سے ڈرتے ہیں… (تاریخ
دمشق)
ظالم حکمرانوں کے مددگار بھی ظالم
حضرت ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں بغداد کے کچھ
حکام… ظالم تھے، ایک درزی اُن کے کپڑے سیتا تھا، وہ حضرت عبد اللہ بن
مبارک رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا… کیا میں ظالموں کا
مددگار تو شمار نہیں کیا جاؤں گا؟… ارشاد فرمایا نہیں!… ظالموں کے مددگار تو وہ
لوگ ہیں جو تجھے سوئی اور دھاگہ بیچتے ہیں… جبکہ تو تو خود ظالم ہے… اپنی جان پر
ظلم کرنے والا … (الغزالی)
معلوم ہوا کہ… ظالم حکمرانوں کے ساتھ کسی بھی طرح کا تعاون
نہیں کرنا چاہئے… اور اُن سے دُور رہنا چاہئے… اور ہمیشہ رزق حلال کی فکر کرنی
چاہئے… اور اپنی روزی کا جائزہ لیتے رہنا چاہئے کہ… وہ حلال ذرائع سے آرہی ہے
یانہیں…
بغیر مانگے عطاء کرنا
حضرت حسن بن حماد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
حضرت حماد بن اُسامہ رحمۃ اللہ علیہ ایک بار حضرت عبد
اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کے پاس آئے… حضرت عبد
اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے چہرے پر فقر و فاقے کے آثار
محسوس کئے … جب وہ چلے گئے تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے گھر چار ہزار درہم
بھجوا دیئے… اور ساتھ کچھ اشعار بھی لکھ کر بھیجے…(سیر اعلام النبلاء)
سخاوت یہ نہیں ہے کہ… کوئی آپ سے مانگے تو آپ اُسے دیں…
سخاوت تو یہ ہے کہ خود مستحق کو تلاش کریں… اور پھر عزت و اکرام کے ساتھ اُن کی
خدمت کریں… اصل بات یہ ہے کہ دینے والا خود اس بات کا محتاج ہے
کہ… اللہ تعالیٰ اس کے مال کو قبول فرمائے… کیونکہ
اگر اللہ تعالیٰ قبول نہ فرمائے تو مال غلط کاموں میں خرچ
ہو جاتا ہے… یا پڑا پڑا ضائع ہو جاتا ہے…اور جو
مال اللہ تعالیٰ قبول فرمائے وہ مال… انسان کے لئے محفوظ ہو
جاتا ہے اور بڑھتا رہتا ہے…
بناوٹی زُہد نہیں
حضرت عبد اللہ بن مبارک… اپنے ذاتی مال میں خوب
سخاوت کرتے مگر اجتماعی اموال اور اموال غنیمت میں بے حد احتیاط کرتے تھے… ایک
مسلمان کا یہی طرز عمل ہونا چاہئے کہ اگر اس کو اللہ تعالیٰ
نے ذاتی مال دیا ہے تو… پھر اس میں خوب سخاوت کرے… اُسے جہاد میں لگائے،غریبوں کو
دے، لوگوں کو کھانے کھلائے… لیکن اگر اللہ تعالیٰ نے ذاتی
مال زیادہ نہیں دیا تو پھر خود کو مصیبت میں نہ ڈالے…
بلکہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر کے اسی مال میں گزارہ کرے
اور اپنی استطاعت کے مطابق مہمان نوازی کرے… اور اجتماعی اموال میں تو کسی کو بھی
سخی بننے کی اجازت نہیں ہے… یہ مال تو سخت امانت ہوتا ہے… اس کو اپنی ذات کی شہرت
اور عزت کے لئے کسی کو نہ کھلائے… حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ
علیہ کے زُہد کے واقعات بھی مشہور ہیں… آپ رحمۃ اللہ علیہ روزے رکھتے تھے… اور
اتنے بڑے مالدار ہونے کے باوجود آپ رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی بہت سادہ تھی… مگر
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے زُہد میں بھی مبالغہ اورریاکاری اختیار نہیں کی… بلکہ… حلال
اور اچھی چیزوں کا استعمال فرماتے رہے… آپ رحمۃ اللہ علیہ کے دستر خوان پر بھنا
ہوا گوشت، مرغیاں… اور فالودے کثرت سے نظر آتے تھے…آپ رحمۃ اللہ علیہ خود بھی یہ
چیزیں تناول فرماتے اور دوسروں کو بھی خوب کھلاتے بے شک جس
کو اللہ تعالیٰ حلال طور پریہ چیزیں عطاء فرمائے… اور پھر
اُسے جہاد،شکر اور عبادت کی توفیق بھی دے تو یہ
بھی اللہ تعالیٰ کی پاکیزہ نعمتیں ہیں… لوگوں نے جو یہ سمجھ
رکھاہے کہ بزرگ وہی ہوتا ہے جو غریب اوربھوکا ہو تویہ بات بالکل غلط ہے…
اللہ تعالیٰ حضرت عبد اللہ بن
مبارک رحمۃ اللہ علیہ کے درجات بلند فرمائے… اور ہم سب کو اُن کے معتدل اور مبارک
نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے…
آمین یا ارحم الراحمین
اللھم صل علی سیدنا و مولانا محمد کلما ذکرہ الذاکرون وکلما
غفل عن ذکرہ الغافلون وعلی آلہ و صحبہ و بارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نشانیاں زمین پر موجود ہیں… اور ہرا
ٓئے دن ظاہر ہوتی رہتی ہیں مگر…ہر کوئی ان نشانیوں سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا …
نمرود نے اپنی آنکھوں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے معجزات دیکھے…
فرعون نے بار ہا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا مشاہدہ کیا… مگر
بدقسمتی غالب رہی… اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے صرف’’عقل‘‘ والے فائدہ
اٹھاتے ہیں… عقل والے کون ہوتے ہیں؟… حکمران بن جانا عقلمند ہونے کی علامت نہیں
ہے… بڑے بڑے بددماغ لوگ حکمران بن جاتے ہیں… عقل والے تو وہ ہوتے ہیں جو ’’
اللہ تعالیٰ‘‘ کو پہچانتے ہیں اور اُن کا رُخ آخرت کی طرف ہوتا ہے…
دنیا کی طرف نہیں… پرویز مشرف کو حکومت ملی… مگر وہ عقل اور سمجھ سے محروم انسان
تھا… اُس کی نظر میں صرف دنیا تھی… دنیا، دُنیا اور صرف دُنیا… جی ہاں وہی دنیا جو
تیزی سے اُس کے قدموں سے کھسک رہی ہے… حکومت چھن گئی، جرنیلی نے ساتھ چھوڑ دیا…
وردی اوروں کے پاس چلی گئی… کیا حاصل کیا؟ اور کیاکمایا؟… چند دن بعد ایسی قبر
یقینی ہے جہاں سے واپسی نہ ہو گی… تب کیا کام آئے گا؟… بُش اور کولن پاول کی
دوستی یاناچ گانے کی محفلیں؟… پرویز مشرف اس ملک میںایک آگ سُلگا گیا… اور اب موجودہ
حکمران اُس آگ کو مزید بھڑکاتے جارہے ہیں… لاہور میں حضرت ہجویری رحمۃ اللہ علیہ
کے مزار کے پاس ’’ظالمانہ دھماکے‘‘ ہوئے… حقیقت یہ ہے کہ دل بہت دُکھا… معلوم نہیں
کس نے یہ خونی قدم کس مقصد کے تحت اٹھایا ہے؟… پینتالیس افراد کا خون اپنے سر لینا
کوئی آسان کام نہیں ہے… خون کے تو ایک ایک قطرے کا حساب دینا ہوگا… یہ لوگ جو مار
دیئے گئے ان کا اس جنگ سے کیا تعلق تھا؟… حملہ کرنے والوں نے جو گناہ کمانا تھا
کمایا مگر پرویز مشرف بھی اس جرم میں برابر کا شریک ہے…یہ اُسی کی لگائی ہوئی آگ
ہے جس کے شُعلے کبھی کسی کو جلاتے ہیں اور کبھی کسی کو… امریکہ، برطانیہ اور انڈیا
کے اشارے پر اُس نے پاکستان کی کئی دینی جماعتوں کو ’’کالعدم‘‘ قرار دیا…آخر کس
وجہ سے؟… ان تنظیموں نے پاکستان کا کیا بگاڑا تھا؟… مگر وہ شخص اقتدار، غلامی اور
شراب کے مشترکہ نشے میں فیصلہ کرتاتھا… اُس کے حکم پر خفیہ ایجنسیاں اور پولیس
میدان میں اتر آئیں… گھروں کے دروازے ٹوٹے، مساجد کی حرمت پامال کی گئی… اورمدارس
پر چھاپے مارے گئے…اُس وقت نہ وزیرستان میں کوئی مسئلہ تھا اور نہ سوات میں… مگر
ظلم بڑھتا گیا… بڑے بڑے دریاؤں کو کاٹا گیا تو آزاد ندی نالے ہر طرف بہنے لگے…
تنظیموں کی کمان کو توڑا گیا تو… منظم جماعتیں انتقامی دستوں میں بٹتی چلی گئیں…
یہ باتیں سب کو معلوم ہیں… پرویز مشرف کے قریبی جرنیل تک کہہ رہے ہیں کہ… پرویز
مشرف کا یہ فیصلہ غلط تھا اور ہم نے اُسے سمجھانے کی کوشش کی تھی… پھر پرویز مشرف
چلا گیا… ملک پر سیاستدانوں کی حکومت آگئی… ان لوگوں نے پرویز مشرف کے کئی
اقدامات پر روک لگا دی… مگر وہ آگ… جو اُس ظالم نے لگائی تھی بدستور جل رہی ہے…
اور موجودہ حکمران اُ س آگ کی بھرپور حفاظت کر رہے ہیں… اب پھر کالعدم تنظیموں پر
کریک ڈاؤن کا فیصلہ ہے… اب پھر دروازے ٹوٹیں گے…گرفتاریاں، چھاپے اور تشدُّد…
نتیجہ کیا نکلے گا؟… جی ہاں وہی نتیجہ جو پہلے نکلا تھا… ملک میں تشدُّد کے واقعات
اور بڑھ جائیں گے… اور جن کو زندہ نہیں رہنے دیا جائے گا… وہ خود موت کی تلاش
میںنکل کھڑے ہوں گے… اور ان لوگوں کے ہتھے چڑھ جائیںگے… جو جہاد کا نام تو لیتے
ہیں مگر جہاد کے تقدس اور اس کی حقیقت کو نہیں سمجھتے…ہمیں الحمدللہ کوئی خوف نہیں… اور نہ اللہ تعالیٰ
کے سوا کسی کا ڈر ہے… ہم زمین پر اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی
نشانیاں دیکھ رہے ہیں… اور یہ نشانیاں اچھے حالات کی خبر دے رہی ہیں… کل تک تُرکی
کا کیا حال تھا… مگر اب وہاں جہاد کے نعرے گونج رہے ہیں… اور آج کی تازہ خبر کے
مطابق تُرکی نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کی دھمکی دے دی ہے… بے شک شریعت
کی حدود میں کام کرنے والوں کی محنت کبھی ضائع نہیں جاتی… ایک دن ان
شاء اللہ پاکستان کے حالات بھی بدل جائیںگے… اور یہاں بھی اسلام
اور جہاد جرم نہیں رہیں گے… سیاستدانوں کوچاہئے تھا کہ… وہ پرویز مشرف کی کالعدم
کردہ تنظیموں کا جائزہ لیتے… ان جماعتوں سے مذاکرات کرتے اور ان کے وجود کو تسلیم
کرتے… مگرانہوں نے ظالم کاراستہ اختیار کیا… ظاہر بات ہے ظُلم بونے سے
ظلم کی فصل ہی مضبوط ہوگی… پنجاب میں’’فور شیڈول‘‘ کی فہرست میں رکھے گئے بے گناہ
افراد کی گرفتاریاں شروع ہو چکی ہیں… کیااِن لوگوں نے داتا دربار پر حملہ کیا ہے؟…
اگرنہیں کیا تو پھر ان کو گرفتار کرنے کا کیا قانونی اور اخلاقی جواز ہے؟… اے
حکمرانو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو…
اور اللہ تعالیٰ کے اولیاء کو نہ ستاؤ… تم لوگوں کی حکومت
اور زندگی میں کتنے دن باقی ہیں؟… کوئی تو ایسا کام کر جاؤ جو آخرت کی ہمیشہ
ہمیشہ والی زندگی میں کام آئے… شرعی ترتیب سے دین کا کام کرنے والے’’ساتھی‘‘
موجودہ صورتحال سے بالکل نہ گھبرائیں… اللہ تعالیٰ کا شُکر
ہے کہ… آپ سب کا دامن مسلمانوں کے خون سے پاک ہے… اور آپ دین اسلام کی خاطر ہر
قربانی کا عزم کر چکے ہیں… اور اپنی جان و مال کو جنت کے بدلے بیچ چکے ہیں… دین کے
راستے میں گرفتاری اللہ تعالیٰ کا عذاب نہیں بلکہ بسا اوقات
انعام ہوتا ہے… جب کوئی تمہارے ہاتھوں میں ہتھکڑی ڈالے تو اُس ہتھکڑی کو چوم لینا…
کوئی جیل لے جائے تو اُس جیل کو دین اور نماز وجہاد سے روشن کر دینا… آپ نے
مسلمانوں کے محبوب امام حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کے
واقعات پڑھے ہوں گے… ان کا طریقہ کار یہ تھا کہ جب محاذ جنگ پر تشریف لے جاتے تو
وہاں بھی تعلیم، تربیت… اور عبادت و اصلاح کا کام جاری رکھتے… فرض تو فرض ہوتا ہے
ایک مسلمان کبھی اس سے غافل نہیں رہ سکتا… اللہ تعالیٰ آپ
سب کی حفاظت فرمائے… آپ لوگ اس دور میں حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ
اللہ علیہ ، حضرت نورالدین زنگی رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت صلاح الدین ایوبی رحمۃ
اللہ علیہ ، حضرت بایزید یلدرم رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت سید
احمد شہیدرحمۃ اللہ علیہ … اور حضرت شاہ اسماعیل شہیدرحمۃ
اللہ علیہ کے مبارک نقش قدم پر ہیں… آپ وہ لوگ ہیں جن کو اس زمانے میں
جہاد کے شرعی محاذوں کا غُبار اللہ تعالیٰ نے نصیب فرمایا
ہے… آپ تو بروہی، پاملہ، ابو طلحہ، غازی بابا، ارسلان، باہو، آفاق اور کاشف کے
ساتھی ہیں… آپ تو عدنان، اختر اور کامران کے دوست ہیں… اور آپ عمران جیسے صف شکن
فاتح کے رفیق ہیں… ارے آپ لوگوں کو ڈرنے، گھبرانے اور پریشان ہونے کی کیا ضرورت
ہے؟… آپ لوگوں کے مقبول چرچے زمین و آسمان میں گونج رہے ہیں… ابھی رات کے تین
بجے ہیں آپ کے کتنے ساتھی آنسوؤں سے اپنی جانمازوں کو… اور کتنے ساتھی قربانیوں
سے زمین کے سینے کو سیراب کررہے ہیں… یہ بیچارے حکمران کیا کرلیںگے؟… شریعت کا
تقاضہ ہے کہ ہم ان سے نہیںلڑتے… مگر یہ بھی تو اسلام کا حکم ہے کہ ہم ان سے نہ
ڈریں… الحمدللہ ایک دریا پوری شان کے
ساتھ… اللہ تعالیٰ نے جاری فرمادیا ہے… بس اس دریا کے پانی
بنے رہو… اور دریا کے پانی کی طرح آپس میں جُڑے رہو اور بغیر تھکے چلتے رہو… چلتے
دریاؤں پرڈالی جانے والی گندگی خود مٹ جاتی ہے… اسلام آباد کے پوش اور پُر اسرار
علاقے اُن لوگوں سے بھر چکے ہیں جو اسلام کے خلاف کام کرتے ہیں… ان میں سے کوئی
اسرائیل سے تنخواہ لیتا ہے تو کوئی انڈیا سے… یہ لوگ ہر حکمران کو اپنے گھیرے میں
لے لیتے ہیں اور اسے جہاد، مدرسہ اور مسجد کے خلاف سبق پڑھاتے ہیں… موجودہ حکمران
بھی اسی طبقے کے گھیرے میں ہیں… اور اپنا ملک جلانے کے لئے الٹے کام کر رہے ہیں…
ان الٹے کاموں پر انہیں امریکہ اور انڈیا سے شاباش اور تعاون بھی ملتا ہے… یہ سب
باتیں ٹھیک مگریہ تو بتاؤ… اللہ تعالیٰ کس کے ساتھ ہے؟… اب
تک آپ لوگوں کے کام کی حفاظت کس نے فرمائی ہے؟… پرویز مشرف نے تین سے زائد بار
آپ لوگوں کا نام و نشان تک مٹا دینے کے حتمی احکامات جاری کئے… مگر وہ کون تھا جو
آپ کی حفاظت کر رہا تھا… اللہ ، اللہ اور
صرف اللہ … اللہ تعالیٰ، رب عظیم… عرش عظیم کا
مالک… جو قوی ہے، قادر ہے، اور مقتدر ہے… قربان ہو جاؤں اُس عظیم اور پیارے رب کی
عظمت، محبت اور نصرت پر… اللہ اکبر کبیرا… کس طرح سے اُس نے
اِس کام کو بچایا اور آگے بڑھایا… بس ہم سب اللہ تعالیٰ سے
جڑے رہیں… اور اپنا رُخ آخرت کی طرف رکھیں… اِ س دنیا کی طرف نہیں… اور اس موقع
پر صرف اللہ تعالیٰ کو پکاریں… یا ارحم
الراحمین، یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین… یا ذاالجلال و الاکرام،یا ذاالجلال
والاکرام، یا ذاالجلال و الاکرام… ہم ہر گناہ سے توبہ کریں… دنیا کے عیش و عشرت کا
ہر خیال دل سے نکال کر… آخرت کی حسین وسعتوں میں کھو جائیں… اور اپنے رب کے شکر
اور اُس کی یاد میں ڈوب جائیں…
اللہ ، اللہ ، اللہ …
اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کی توفیق عطاء
فرمادی… تو پھر ان شاء اللہ کامیابی ہماری ہو گی…
سبحان اللہ وبحمدہ
سبحان اللہ العظیم…
آج کی مجلس کا اختتام حضرت شیخ احمد بن علی البونی رحمۃ
اللہ علیہ کے تلقین فرمودہ ایک عمل سے کرتے ہیں… حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا
ہے کہ… یہ عمل حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو عطاء ہواتھا اور
آپ رحمۃ اللہ علیہ جنگوںمیں اس عمل کے ذریعہ دعا ء مانگا کرتے تھے… یہ عمل حفاظت،
برکت اور نزول رحمت کا بہترین ذریعہ ہے… اگر کسی پر جنات، جادو یا
آسیب کااثر ہو تو اس عمل کی برکت سے وہ بھی ختم ہو جاتا ہے… یہ ایک مبارک دعاء ہے
جو قرآن پاک کے ’’حروف مقطّعات‘‘ پر مشتمل ہے… اگر صبح و شام تین تین بار اخلاص
اور توجہ کے ساتھ اس کا معمول بنا یا جائے تو ان شاء اللہ
عجیب فوائد نصیب ہوں گے… (اول آخر درود شریف)
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ بِحَقِّ الٓمّٓ وَ الٓمّٓ
وَالٓمّٓصٓ وَالٓمّٓرٓ وَالٓرٓ وَ کٓہٰیٰعٓصٓ وَطٰہٰ وَ طٰسٓمّٓ وَطٰسٓ وَ طٰسٓمّٓ
وَ یٰسٓ وَ صٓ وَحٰمٓ وَحٰمٓ وَ حٰمٓعٓسٓقٓ وَ حٰمٓ وَحٰم ٓ وَحٰم ٓ
وَحٰمٓ وَ قٓ وَ نٓ وَ یَامَنْ ھُوَ ھُوْ یَا مَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوْ
اِغْفِرْلِیْ وَانْصُرْنِیْ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْیٍٔ قَدِیْرٌ
اللہ تعالیٰ ہم سب پر اور پوری امت مسلمہ
پر رحم و رحمت فرمائے۔آمین یا ارحم الراحمین…
اللھم صل علی سیدنا محمدکلماذکرہ الذاکرون وکلما غفل عن
ذکرہ الغافلون و علی الہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیر اکثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہم سب کو’’صبر جمیل‘‘ عطاء فرمائے… ہمارے حضرتؒ
بھی چلے گئے…
انا للہ وانا الیہ راجعون…
کیا یہ خبر سچی ہے؟… سب لوگ یہی بتارہے ہیں… کوئی بتا رہا
ہے کہ ہم خود نماز جنازہ میں شریک ہوئے… کوئی بتا رہا ہے کہ میں نے مرقد مبارک پر
حاضری دی ہے… یہ سب لوگ سچ ہی کہہ رہے ہوں گے… جی ہاں، بہت کڑوا سچ… ہم سب کے لئے
کڑوا مگر میرے حضرتؒ کے لئے میٹھا…و ہ تو معلوم نہیں کب سے سامان باندھے بیٹھے
تھے… موت کا تذکرہ یوں فرماتے تھے جیسے کوئی دلہن اپنے پیا کے گھر جانے کو بے چین
ہو… لوگ اُن کے جانے کی خبریں سنا رہے ہیں… ستائیس رجب کے دن پونے چھ
بجے محبوب حقیقی کا ذکر فرماتے فرماتے اُسی کے پاس چلے گئے… اکتالیس سال بخاری
شریف کا درس دیا اور اس سال بھی اپنا نصاب پورا پڑھایا… اس سال ترمذی شریف کا درس
بھی دیا… اورعمومی وقت سے پہلے طلبہ کرام کواجازت حدیث بھی عطاء فرمادی… روزانہ
صدقہ دینے کا معمول تھا، آخری دن بھی یہ معمول نہ چھوٹا… اوربہت سے فضائل
اورمناقب… یہ ساری باتیں یہی سمجھا رہی ہیں کہ حضرت رحمۃ اللہ علیہ چلے گئے… سعدی
فقیر نہ تو اُن کے دیدار کے لئے جا سکا اور نہ اُن کے جنازے کو کندھا دے سکا… اور
نہ اُن کے مرقد پہ حاضر ہو سکا… یہی سوچا کہ زیادہ سے زیادہ ایصال ثواب کی کوشش
کروں… اور اُن کی باتوں اور یادوں کو الفاظ میں سمیٹوں…مگر کوئی کوشش کامیاب نہیں
جارہی… کل بھی کاغذ، قلم اور آنسو لے کر بیٹھا رہا… اور آج بھی کئی گھنٹوں سے
گُم سم بیٹھا ہوں… ایسا لگتا ہے کہ حضرت رحمۃ اللہ علیہ مسکراتے ہوئے سامنے آگئے
ہیں… اور بس پھر میں اُن کی یادوں میں ڈوبتا چلا جاتا ہوں…ملاقات کا محبت بھرا
دلکش انداز… حال احوال پوچھنے میں ایک عجیب سی میٹھی اپنائیت… اولیاء سلف جیسی
حقیقی تواضع…بادشاہوں سے بڑھ کر استغنا… اظہار بندگی ایسا کہ ’’عبدیت‘‘ کا معنیٰ
سمجھ میں آجائے… پھر درس قرآن کی مجلس میں علوم اورمعارف کی موسلا دھار بارش…
ایمان افروز نصائح… اور انمول علمی نکتے… اور سب سے بڑھ کر خلوت کی ملاقات… اُن
ملاقاتوں کی چاشنی تو شاید مرکر بھی نہ بھولے… ان ملاقاتوں میں بس تین ہی موضوع
ہوتے تھے…
(۱) اللہ جلّ شانہ کی محبت، معرفت، ادب
کاتذکرہ…
(۲) ذات نبوت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق
و وفا کی باتیں…
(۳) ہر طرح کے حالات پر شُکر گزاری کی نصیحت…
واقعی’’حضرت رحمۃ اللہ علیہ ‘‘ ہم سب کے
لئے اللہ تعالیٰ کا بہت بڑاانعام تھے… اورا گر یہ کہا جائے
تو مبالغہ نہ ہوگا کہ… حضرت رحمۃ اللہ علیہ اپنے زمانے میں اپنی مثال آپ
تھے… اللہ تعالیٰ نے اُن کو دوچشموں کاوارث بنایا… ایک علم
کا چشمہ جو انہیں اپنے والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور اپنے علمی خاندان سے نصیب
ہوا… مولویوں والا یہ خاندان علم دین کی آبرو ہے… اور حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے
اپنی مسند نشینی کے زمانے میں اس خاندان کے علمی رنگ کو مزید گہرا فرمایا… اور اس
کے فیض کو دور دور تک پھیلایا… ایک بار خلوت کی ملاقات میں ارشاد فرمایا… لوگوں کی
مخالفت سے پریشان اور اُداس نہ ہوا کرو… دیکھو! میری کتنی مخالفت بعض لوگوں نے کی…
مگر میں نے کسی کو جواب نہ دیا، آج اللہ تعالیٰ کا یہ
احسان ہے کہ بلوچستان کے چالیس مدرسوں کے مہتمم میرے شاگرد ہیں… آپ پکا خاندان
علوم و فنون میں ایک مثالی شہرت رکھتا ہے… مگر حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے تین علوم کو
زیادہ توجہ دی…
(۱) علم تفسیر(۲) علم حدیث(۳) علم فرائض(میراث)
آپ کاد ورۂ تفسیر اور دورۂ حدیث بہت عجیب شان کا ہوتا
تھا… بندہ نے جب بھی آپ کے کسی درس میں شرکت کی تو ہمیشہ آپ کی علمی شان سے بے
حد متاثرہوا… بیس پچیس سال کتابوں کی ورق گردانی سے ہم خود تو عالم نہیں بن سکے
مگر الحمدللہ اس کی پہچان نصیب ہو گئی ہے کہ… کون عالم ہے اور
کون صرف مدّعی… حضرت رحمۃ اللہ علیہ ماشاء اللہ بہت راسخ
العلم اور متبحّر عالم تھے… اور علم آپ کے رگ و پے میں سرایت کر چکا تھا… ابھی
تین سال سے نظر کی کمزوری کا عارضہ لاحق تھا… مگرا س کے باوجود آپ تمام اسباق
زبانی پڑھا رہے تھے… ایک ملاقات میں ارشاد فرمایا تھا … جب سبق پڑھانے بیٹھتاہوں
توجوان ہو جاتا ہوں… اور میری جوانی دیکھنے لائق ہوتی ہے… علم تفسیر کے ساتھ آپ
کو عشق تھا… آپ نے عربی میں تفسیر بدیع اور اردو میں تفسیر کوثری تصنیف
فرمائی… اللہ تعالیٰ ان تفاسیر کا فیض پورے عالم میں جاری
فرمائے… دوسرا چشمہ جس کاوارث اللہ تعالیٰ نے آپ کو بنایا
وہ ’’معرفت‘‘ کا ہے… آپ قطب الاقطاب حضرت مولانا حماد اللہ ہالیجوی
رحمۃ اللہ علیہ کے باقاعدہ خلیفہ مجاز تھے… حضرت ہالیجوی رحمۃ اللہ علیہ کے مقام
کو سمجھنے کے لئے حضرات اکابر کے چندملفوظات ملاحظہ فرمائیے:
(۱) شیخ الاسلام حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ہالیجوی رحمۃ اللہ علیہ سے
فرمایا: حضرت! اگر آپ دارالعلوم دیوبند تشریف لے آئیں تو آپ کا ہم پر بے حد
احسان ہو گا،ہم آپ سے روحانی فیض حاصل کرتے، آپ سے معرفت الہٰی اور تعلق ب
اللہ کے اسباق سیکھتے۔
(۲) حضرت علامہ بنوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
حضرت
ہالیجوی رحمۃ اللہ علیہ متقدمین صوفیاء کی صف کے فرد ہیں، تصوف میں اُن کا مقام
بہت بلند ہے۔
(۳) حضرت امیر شریعت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ
علیہ فرماتے ہیں:
حضرت ہالیجوی رحمۃ اللہ علیہ کے دل پر گناہ کا تصور بھی
نہیں آتا تھا، حضرت کا قلب مبار ک ہمیشہ ذات ِ الہٰی کی محبت میں مشغول رہتا
تھا۔(تذکرہ مشائخ سندھ ص ۵۲۱)
حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ پابندی سے حضرت ہالیجوی رحمۃ
اللہ علیہ کی خدمت میں حاضری دیتے تھے… اور اپنے جامعہ کے اساتذہ کو بھی اس کی
ترغیب دیتے تھے…ہمارے حضرتؒ نے حضرت ہالیجوی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھوں میں اپنا
ہاتھ دیا… اور پھرغلاموں کی طرح اُن کی اتباع کی…
اور اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنے کے لئے وہ محنتیں
اورمجاہدے اٹھائے کہ اس زمانہ میں اُن کا تصوربھی محال ہے… خلوت کی ملاقاتوں میں
آپ کبھی کبھار اپنے ’’سفرِمعرفت‘‘ کاتذکرہ چھیڑتے تو دل حیرت اور عقیدت میں ڈوب
جاتا… فرماتے تھے کہ … میں زمین میں گڑھا کھود کر اس میں بیٹھ جاتا اور پھر گھنٹوں
ذکر اللہ میں ڈوبا رہتا… حضرت ھالیجوی رحمۃ اللہ علیہ بہت
بلند پایہ عالم بھی تھے… انہوں نے اپنے اس وفادار اور جانثار مرید پر خصوصی توجہ
فرمائی… اور بالآخر سندکمال سے نوازہ… حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو اپنے شیخ سے فنا
درجے کا عشق تھا… شاید ہی کوئی مجلس اُن کے تذکرے سے خالی جاتی ہو… اور تو اور اگر
سندھ سے کوئی طالب علم آجاتاتو اُس کابھی بہت اکرام فرماتے کہ… یہ میرے شیخ اور
حضرت کے علاقے کا ہے… ایک ملاقات میں ارشاد فرمایا …
جب میں نے تفسیر کوثری لکھی تو بعض مخالف علماء نے بھی
اعتراف کیا کہ یہ حضرت ہالیجوی رحمۃ اللہ علیہ کا فیض ہے… ویسے تو آپ سلاسل اربعہ
میں کامل تھے… مگر زیادہ رجحان سلسلہ قادریہ کی طرف تھا… اور اسی سلسلہ کے اسباق
کی تعلیم فرمایا کرتے تھے… اللہ تعالیٰ نے آپ کوبہت سی
علمی، عملی اور روحانی خوبیوں سے وافر حصہ عطاء فرمایا تھا… آپ کو حدیث شریف کی
ایک’’قُربی سند‘‘ بھی نصیب ہوئی تھی… آپ نے اس مبارک سند کافیض عرب و عجم کے اہل
علم میں پھیلایا… آپ نے خدمتِ قرآن مجید کے لئے ایک نیا سلسلہ’’تفسیری‘‘ قائم
فرمایا… آپ اس سلسلہ کے بانی اور سرپرست تھے…آپ کا آبائی مدرسہ’’مولویاں والی
بستی‘‘ میں قائم تھا… آپ پنے دین کی اشاعت کے لئے رحیم یار خان شہر کو عزت بخشی…
اور اپنی موروثی جائیداد بیچ کر یہاں ایک مقبول اور مستند دینی ادارہ قائم فرمایا…
آپ رحمۃ اللہ علیہ فریضہ ٔ جہاد فی سبیل اللہ سے بے پناہ
محبت فرماتے تھے اور اپنی مجالس میں اپنے شوق شہادت کا والہانہ اظہار کرتے تھے…
حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا ہم پر بڑا احسان تھا کہ آپ نے ہماری جماعت کو روزِ قیام
سے اپنی محبت اور سرپرستی سے نوازہ… بہت سے اہم معاملات میں خصوصی رہنمائی فرمائی…
اور بہت سے مشکل مقامات پر اپنی توجہ اور دعاؤں سے سہارا دیا… حضرتؒ کے تشریف لے
جانے سے دل بہت غمگین اور بے چین ہے… انا للہ وانا الیہ راجعون… اللھم
لاتحرمنا اجرہ ولا تفتنابعدہ…
برادر مکرّم حضرت مولانا محمد
خلیل اللہ صاحب مدظلہ اور اُن کے بھائیوں … اور رشتہ داروں
کے غم کا ہمیں کچھ اندازہ ہے… ہم اُن سے تعزیت کرتے ہیں… اور وہ ہم سے تعزیت کریں…
اور سب مل کر حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے کام کو جاری رکھنے کی کوشش کریں…
القلم کے قارئین بھی… امام التفسیر حضرت مولانا محمد
شریف اللہ نور اللہ مرقدہ کے لئے ایصال ثواب اور
دعاء کا اہتمام فرمائیں… ان شاء اللہ جب دل کا بوجھ
ہلکاہوا توحضرت رحمۃ اللہ علیہ کی بہت سی باتیں… آپ سب تک پہنچانے کی کوشش کروں
گا… یا اللہ … یا ارحم الراحمین… ہمارے حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے درجات
بلند فرما… اُن کو فردوس اعلیٰ کا مقام نصیب فرما… اُن کے دینی ادارے، دینی خدمات…
اور اہل واولاد کی حفاظت فرما… اور ہمیں حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے فیوض سے محروم نہ
فرما…آمین یا ارحم الراحمین
اللھم صل علی سیدنا محمد النبی الامی والہ وبارک وسلم عدد
کل معلوم لک دائما ابدا…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا بے حد شُکر ہے… ہم ہر طرف اللہ تعالیٰ کے
فضل و کرم کی خوشبو پھیلی ہوئی محسوس کر رہے ہیں…
الحمدللہ رب العالمین ، الحمدللہ رب العالمین
ابھی چند دن پہلے پاکستان کے چند شہروں میں قرآن پاک کی
’’آیات جہاد‘‘ کا دورہ تفسیر ہواگوجرانوالہ، سکھر، پشاور، میر پور (آزاد کشمیر)…
حویلی لکّھاں… الحمدللہ سینکڑوں افراد نے فیض اٹھایا… اور آج جس وقت میں یہ الفاظ
لکھ رہا ہوں مُلک کے بارہ شہروں میں آیاتِ جہاد کا درس گونج رہا ہے… والحمدللہ رب
العالمین…
سب سے زیادہ افراد کراچی کے درس میں شریک ہیں… جبکہ
بہاولپور، فیصل آباد، واہ کینٹ میں بھی سینکڑوں مسلمان قرآن پاک کا نور حاصل کر
رہے ہیں… اس کے علاوہ ٹنڈوالہ یار، کوئٹہ، نواب شاہ، سرگودھا، مانسہرہ، کوہاٹ،
بنوں میں بھی آیاتِ جہاد کے دورے پوری شان سے جاری ہیں… جبکہ صوابی میں انتظامیہ
کی طرف سے شدید رکاوٹ کے باوجود یہ دورہ رات دن کی محنت سے دو دن ہی میں مکمل کر
لیا گیا… والحمد للہ رب العالمین…
مرد حضرات کے ساتھ ساتھ کئی مقامات پر خواتین اور طالبات
بھی ان دوروں میں شرکت کر رہی ہیں… کچھ عرصہ پہلے آپ نے ’’خمیری مسلمان‘‘ کے نام
سے جس نو مسلم بہن کے ایمان افروز حالات پڑھے تھے… وہ بھی اس سال ’’ٹنڈو الہ یار‘‘
کے دورہ میں شریک ہیں… والحمدللہ رب العالمین…
جہاد کو مانے بغیر نہ تو ایمان مکمل ہوتا ہے اور نہ ہی
ہدایت کامل ہوتی ہے… جہاد فی سبیل اللہ کا انکار کُفر ہے… اور جہاد کے بارے میں
الٹی بحثیں کرنا گمراہی ہے… اُمتِ مسلمہ کو کفر اور گمراہی سے بچانے کے لیے جہاد
کی دعوت بے حد ضروری ہے… خصوصاً اس وقت تو پوری دنیا کے کفار جہاد کے خلاف متحد ہو
کر تحریک چلا رہے ہیں… اور کئی نام نہاد مسلمان بھی جہاد کی مخالفت کو اپنا مشن
بنا چکے ہیں… یہ سب لوگ قرآن پاک کے دشمن ہیں… یہ قرآن پاک کی سینکڑوں آیات کو
نعوذ باللہ غلط قرار دینے کی مذموم محنت کر رہے ہیں… یہ لوگ اس بات کو ثابت کرنا
چاہتے ہیںکہ… قرآنِ پاک نعوذ باللہ ہر زمانے میں رہنمائی نہیں کر سکتا… ہمارے بہت
سے مسلمان ان باتوں کی وجہ سے جہاد کے منکر بن رہے ہیں… ایسے حالات میں آیاتِ
جہاد کے دورے منعقد ہونا اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے… ہم پر لازم ہے کہ ہم اللہ
تعالیٰ کا شکر ادا کریں… الحمدللہ جو مسلمان بھی آیاتِ جہاد کی ان مجالس میں شرکت
کرتا ہے وہ اپنے دل میں نور اور روشنی محسوس کرتا ہے… اُسے قرآن پاک کے بیان
فرمودہ فریضہ جہاد سے محبت نصیب ہوتی ہے… اور اُسے کسی بھی زمانے میں جہاد ناممکن
نظر نہیں آتا…
الحمدللہ رب العالمین، الحمدللہ رب العالمین…
اللہ تعالیٰ کا فضل دیکھیں کہ … آیاتِ جہاد کے یہ اسباق وہ
علماء کرام پڑھا رہے ہیں جو خود ماشاء اللہ عملی مجاہد ہیں… ان میں سے کئی تو ماضی
میں محاذوں کے شہسوار رہے ہیں… یہ لوگ جب جہاد کی آیات پڑھانے بیٹھتے ہیںتو… اُن
کے سامنے ناولوں اور کہانیوں والا جہاد نہیں ہوتا… بلکہ وہ جہاد کے اصلی محاذوں کو
سامنے رکھ کر بات کرتے ہیں… یہ حضرات جب شہداء کا تذکرہ قرآن پاک کی آیات میں
اٹھاتے ہیں تو اُن کے پیچھے اپنی جماعت کے سولہ سو سے زائد شہداء مسکرا رہے ہوتے
ہیں… یہ حضرات جب اللہ تعالیٰ کی نصرت والی آیات پڑھاتے ہیں تو اُن کے سامنے
اسلام دشمن کفار کی لاشوں کے وہ انبار ہوتے ہیں… جو حالیہ زمانے میں جہاد کا نتیجہ
ہیں… یہ حضرات جب جہاد کی محنتوں، مشقتوں اور زخموں کا تذکرہ کرتے ہیں تو انہیں
اپنے ہی قیدی اور زخمی ساتھیوں کی آہیں صاف سنائی دے رہی ہوتی ہیں… تفسیر کے یہ
اساتذہ… قرآن پاک کے جہادی محاذوں کاتذکرہ کرتے ہوئے افسوس سے ہاتھ نہیں ملتے کہ
… کاش آج بھی کوئی محاذ ہوتا… الحمدللہ ان کا دامن ماضی اور حال کے محاذوں سے
بھرا ہوتا ہے… وہ قرآن پاک سے بدر، اُحد، خندق، حنین اور بنی قریظہ کے تذکرے
اٹھاتے ہیں تو… اُنکی آنکھوں کے سامنے افغانستان، کشمیر، فلسطین اور عراق کے محاذ
آجاتے ہیں… خلاصہ یہ ہے کہ… قرآن پاک کی آیاتِ جہاد پڑھانے اور پڑھنے والوں کے
سامنے… گذشتہ کل کی طرح آج کا منظر بھی ہوتا ہے… اور عمل کی دعوت کے ساتھ عمل کا
میدان بھی صاف نظر آتا ہے…
الحمدللہ رب العالمین، الحمدللہ رب العالمین…
آپ تھوڑاسا سوچیں… ایک شخص دین کی باتیں کرتا ہے مگر جہاد
کا نام تک نہیں لیتا… پھر اُسے کچھ لوگ مجبور کرتے ہیں کہ جناب جہاد کی بات بھی
کرو… تب وہ خاص لوگوں کو جمع کرکے جہاد کی بات کرتا ہے… اور صاف کہہ دیتا ہے کہ …
جہاد کا انکار تو کفر ہے… مگر ہم یہ کہتے ہیں کہ … ابھی جہاد کا وقت نہیں آیا…
بہت سے لوگ اُس کی یہ ظالمانہ بات مان لیتے ہیں… استغفراللہ، استغفراللہ… حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث میں فرمایا گیا ہے
کہ… جہاد کبھی نہیں رُکے گا… جہاد ہمیشہ جاری رہے گا… مسلمانوں کی ایک جماعت تو
ضرور جہاد میں لگی رہے گی اور یہ برحق جماعت ہوگی… محدّثین کرام نے ان احادیث کی
روشنی میں لکھا ہے کہ… ایک دن کے لیے بھی روئے زمین پر جہاد نہیں رُکے گا… اور یہ
اسلام کے مسلسل اور برحق ہونے کی دلیل ہے… جہادکا عمل جاری رہے گا یہاں تک کہ اُمت
مسلمہ کے مجاہدین کی آخری جماعت دجّال کو قتل کردے گی… تب دنیا سے کفر کا خاتمہ
ہو جائے گا تو جہاد کی ضرورت نہیں رہے گی… اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ
وسلم فرماتے ہیں کہ… جہاد ہمیشہ جاری رہے گا… ایک تقریر کرنے والا کہتا
ہے کہ… آجکل جہاد کا وقت نہیں ہے… آپ بتائیے کہ ہم کس کی بات مانیں گے؟… اور یہ
شخص اُمت مسلمہ کو کس طرف لے جا رہا ہے؟… الحمدللہ ہم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھ
لیا ہے کہ … آج بھی جہاد جاری ہے اور جہاد ممکن ہے… آج بھی جہاد میں اللہ تعالیٰ
کی نصرت نازل ہورہی ہے… آج بھی الحمدللہ شہداء کرام کے خون سے مُشک اور کستوری کی
خوشبو آرہی ہے… مگر بعض لوگ بڑے بڑے مجمعوں سے دھوکے میں پڑگئے ہیںاور وہ خود کو
مسلمانوں کا خیر خواہ سمجھ رہے ہیں… وہ سمجھتے ہیں کہ جہاد کرنے سے مسلمان ختم ہو
جائیں گے اس لیے مسلمانوں کو بچانے کے لیے قرآن پاک کا انکار کردو… انا للہ وانا
الیہ راجعون… ارے اللہ کے بندو! مسلمان کی حفاظت اور ترقی اسلام کے تمام احکامات
کو ماننے اور اُن پر عمل کرنے میں ہے… آج کے کُفار تو کسی ایک محاذ پر بھی
مسلمانوں کو ختم نہیں کرسکے… اورنہ شکست دے سکے… اگر اپنی حفاظت کے لیے قرآن پاک
کا انکار کروگے تو پھر… ایسی زندگی کا کیا فائدہ؟… آیاتِ جہاد کی مجالِس میں یہی
سبق پڑھایا جاتا ہے کہ… ہر مسلمان پورے دین کو مانے… پورے قرآن کو مانے… اور اپنی
جان بچانے کے لیے کفر اختیار نہ کرے… بلکہ اپنی جان اور مال اسلام کے لیے قربان
کرے… الحمدللہ اب تک لاکھوں مسلمان اس پیغام کو سُن چکے ہیں اور اسلام کے تمام
فرائض کو ماننے کا اعلان کر چکے ہیں…
الحمدللہ رب العالمین، الحمدللہ رب العالمین
اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہوا کہ… اُس نے آیاتِ جہاد کی
طرف توجہ نصیب فرمائی… سب سے پہلے افغانستان کے ایک مرکز میں سورۂ انفال کامکمل
درس دینے کی توفیق نصیب ہوئی… پڑھانے والے کو بھی خوب لطف آیا اور پڑھنے والوں نے
بھی ایمان کی روشنی محسوس کی… اس دورے میں کئی علماء کرام بھی شریک تھے جو ان
اسباق کو پڑھ کر بہت خوش اور بے حد حیران ہوئے… ان اسباق میں ایسے ساتھی بھی شریک
تھے جن کی لہو رنگ قبریں آج تاجکستان اور افغانستان کے دور دراز علاقوں میں مہک
رہی ہیں…
پھر قسمت جیل میں لے گئی… وہاں الحمدللہ کوٹ بھلوال کی بڑی
بارک میں سورۂ انفال کا درس سینکڑوںقیدی مجاہدین کے سامنے ہوا… پھر اللہ تعالیٰ
کا فضل واپس پاکستان اُڑا لایا… کراچی میں حضرت لدھیانوی شہید کی مسجد میں سورۂ
انفال کا دورہ ہوا جو ماشاء اللہ بہت کامیاب رہا… کم وبیش تین سو علماء کرام اور
سینکڑوں طلبہ اور طالبات نے اس میں شرکت کی… تقاضا بڑھا تو مالا کنڈ میں دوبارہ یہ
دورہ رکھا گیا… ان دونوں دوروںکی کیسٹیں دور دور تک پھیل گئیں… ابھی مدینہ منورہ
سے کسی کا خط آیا ہے کہ… میں نے کراچی والے دورے کی کیسٹیں سنی ہیں… کیا یورپ اور
کیا امریکہ… کیا عرب اور کیا عجم… اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم نے ہر جگہ ان کیسٹوں
کو پھیلادیا… اچانک خیال آیا کہ پورے قرآن پاک کی آیاتِ جہاد کا دورہ ہونا
چاہیے… الحمدللہ مردان اور کوہاٹ میں دوبار اس طرح کے دورے ہوئے… اُن دوروں کی
برکت سے کئی ایسے ساتھی بھی تیار ہوگئے جو یہ دورے خود پڑھاسکیں… اب ماشاء اللہ
وہی ساتھی پڑھا رہے ہیں… اور ہم اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کو دیکھ کر شُکر اور
تشکّر میں جھوم رہے ہیں… اس سال پاکستان کے سترہ شہروں میں یہ دورے منعقد ہوئے…
اور الحمدللہ تین ہزار سے زائد مسلمان مرد و خواتین ان سے فیض یاب ہوئے…
الحمدللہ رب العالمین، الحمدللہ رب العالمین
آج مجھے خوشی اور شکر کے اس موقع پر وہ خوش نصیب افراد یاد
آرہے ہیں جنہوں نے… بالکل ابتداء میں اس مبارک جماعت کا ہاتھ بٹایا… ساتھ دیا اور
پھر آخری دم تک ڈٹے رہے… ان میں سے کئی الحمدللہ ابھی تک حیات ہیں اور اپنی پکی
ہوئی آخرت کی اس کھیتی کو دیکھ کر خوش ہو رہے ہیں… جبکہ کئی آج اس دنیا میںنہیں
ہیں… ماشاء اللہ ہر طرف خوشبو اور روشنی پھیل رہی ہے… محاذوں کو دیکھو تو آباد
ہیں… شہادت گاہوں کو دیکھو تو کیسے کیسے کڑیل سپاہی خون میں نہا گئے… اور کئی تو
عشق کے ذرّوں میں بدل گئے… سولہ سو سے زائد شہداء کرام، … جیلوں کو دیکھو تو ان کی
تلاوت اور تکبیروں سے آباد ہیں… تربیت گاہوں کو دیکھو تو دن رات خوشبودار پسینوں
میں ڈوبی ہوئی ہیں… خدمتِ قرآن پاک کو دیکھو تو… بہاریں ہی بہاریں ہیں… ابھی صرف
چند ماہ میں مدرسہ اویس قرنی ذ سے چوبیس طلبہ نے قرآن پاک مکمل کیا… قرآن پاک سے
بھاگے ہوئے یہ لوگ واپس قرآن پاک کی آغوش میں آئے… عجیب رحمت والا منظر ہے…
تجوید، تلاوت، تفسیر… اور دعوتِ قرآن کا کام زور شور سے جاری ہے… دعوتِ جہاد کو
دیکھو تو ماشاء اللہ پچھلی کئی صدیوں میں اسکی نظیر نہیں ملتی کہ … صرف ایک جماعت
نے اتنے لوگوں تک دعوتِ جہاد پہنچائی ہو… اور یہ دعوت اُن حالات میں چلی کہ… قدم
قدم پر پابندیاں، گرفتاریاں، پریشانیاں، جھوٹا پروپیگنڈہ… اور سازشیں ہیں… مگر
اللہ تعالیٰ کا فضل بہت بڑی نعمت ہے… ابھی اسی سال الحمدللہ بیس سے زائد مساجد کی
تعمیر مکمل ہوئی… کل کے چٹیل پلاٹوں پر آج نور سے معمور مساجد مسکرا رہی ہیں… جو
بھی ان مساجد کو دیکھ کر آتا ہے ماشاء اللہ ماشاء اللہ پڑھتاآتا ہے… دینی مدارس،
نماز کی دعوت… اور حرمین شریفین کے قافلے… اور ان سب سے بڑھ کر… اللہ تعالیٰ کا
ذکر… الحمدللہ ہر دن مرکز شریف اور کئی مقامات پر اللہ، اللہ ، اللہ، اللہ ہی کی
صدا آتی ہے… مسلمانوں کی رہنمائی کے لیے اخبار، رسالے، کتابیں… اور انسانی خدمت
کے نئے نئے اسلوب… ماشاء اللہ آج ہر دن پانچ ہزار سے زائد افراد… جماعت کے
دسترخوان پر کھانا کھاتے ہیں… اگر اللہ پاک کا فضل نہ ہو تو کون یہ سب کچھ کر سکتا
ہے… کتنے خوش نصیب تھے وہ لوگ… اور کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ… جنہوں نے اس جماعت
میں حصہ ڈالا… میرے سامنے بہت سے مناظر آرہے ہیںاور بہت سے چہرے… اللہ اکبر
کبیرا… کراچی ختم نبوت کے دفتر میں حضرت لدھیانوی شہیدرحمۃ اللہ
علیہ خوب مسکرا رہے تھے… خوشی کے آثار نے اُن کے حُسن کو اور بڑھا
دیاتھا… مجھے اپنی تائید کی تحریر عطاء فرمائی… اور ارشاد فرمایایہ کام بہت چلے
گا… مگر لوگ مخالفت بھی بہت کریں گے… آپ مخالفین کے پیچھے پڑنے کی بجائے کام میں
لگے رہنا… کام بہت چلے گا… وہ حضرت قاری عرفان صاحب رحمۃ اللہ علیہ … بالاکوٹ
کے ایک کمرے میں پُرجلال انداز… پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ ایک ہے…
اور اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہے… وہ حضرت شامزئی شہیدرحمۃ اللہ
علیہ جنہوں نے کراچی پریس کلب میں جماعت کا اعلان فرمایا… وہ میرے
محبوب اُستاذ مفتی جمیل خان شہیدرحمۃ اللہ علیہ … اور بہت سے لوگ… ابھی
پچھلے ہفتے آپ نے حضرت مولانا شریف اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے سانحہ
ارتحال کی خبر پڑھی… عجیب طرح سے تعاون فرمایا… کسی بھی مرحلے پر حوصلہ ٹوٹنے نہیں
دیتے تھے… یہاں تک کہ روپوشی کی مشقت آئی تو فرمایا اس میں بڑی خیر ہے… الحمدللہ
ایک خیر تو اللہ تعالیٰ نے ’’فتح الجوّاد‘‘ کی صورت میں دکھا دی… دوسری خیر وہ
اپنے فضل سے آخرت کی کامیابی کی صورت میں عطاء فرما دیں تو غریب مسافر کے مزے
ہوجائیں… اللہ ، اللہ… عجیب جانباز ساتھی، رفقاء، اور جماعت کے خُدّام… کِس کِس کا
نام لوں کِس کِس کا تذکرہ کروں… زیورات دینے والی خواتین… ہاں آج وہ خوش ہونگی…
الحمدللہ ہر طرف صدقاتِ جاریہ کے انبار لگ گئے ہیں… اور اپنے بیٹے وقف کرنے والی
مائیں… خوش قسمت عظیم مائیں… ہاں سب سے زیادہ انہوں نے کمایا… میں آج کے دوراتِ
تفسیر کی مبارک باد انہیں مائوں کو پیش کرتا ہوں… آپ سب کو مبارک… آپ سب کو سلام
اللھم صل علیٰ سیدنا محمد، وانزلہ المقعد المقرب عندک،
واجزہ افضل ماجازیت احدامِن خلقک… وبارک علیٰ سیدنا محمد والہ و صحبہ وسلّم تسلیما
کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے اُس نے مجھے اتنے پیارے ابّا جی دیئے…
الحمدللہ رب العالمین، الحمدللہ رب
العالمین…
اب اللہ تعالیٰ نے میرے ابّا جی کو
اپنے پاس بُلا لیا ہے… اناللہ وانا الیہ راجعون… اناللہ وانا الیہ
راجعون
اتنے پیارے ابّا جی کی جُدائی پر رونا تو منع نہیں ہے نا!…
ساری زندگی ابّو جی کی برکت سے ہم ہنستے رہے اور اب سات دن سے اُن کی جدائی پر
رورہے ہیں… مشہور صحابیہ حضر ت خنساء ز کے بھائی’’ صخر‘‘ انتقال فرما گئے… حضرت
خنساء رضی اللہ عنہاکو اپنے بھائی سے بہت محبت تھی… وہ صخر کی قبر پر صبح شام جا
کر زار زار روتیں اور دردناک اشعار پڑھتی تھیں… مثلاً
’’ جب سورج نکلتا ہے تو مجھے صخر کی یاد دلاتا ہے… اور جب
سورج غروب ہوتا ہے تو مجھے صخر کی یاد رُلاتی ہے…‘‘
آگے کچھ اشعار ہمارے حسب حال فرماتی ہیں:
الایا صخرا ان ابکیت عینی
فقد اضحکتنی دھرا طویلا
دفعت بک الجلیل وانت حی
ومن ذایدفع الخطب الجلیلا
’’اے صخر!اگر تو نے اب میری آنکھوں کو رُلایا ہے تو کیا
ہوا، ایک لمبے عرصے تک تو تم مجھے ہنساتے رہے، تم زندہ تھے تو تمہاری برکت سے ہم
بڑے بڑے حوادث سے بچ جاتے تھے… مگر اب ان بڑی مصیبتوں کو کون(اپنی برکت سے) دور
کرے گا۔‘‘
آنسو بھی تو نعمت ہیں… اور یہ وفاداری کی علامت ہیں… حضرت
خنساء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں
أعینیّ جودا وتجمدا ألا تبکیان
لضحر النّدی
اے میری آنکھو! خوب آنسو بہاؤ اور آنسو بہابہا کر خشک
ہو جاؤ کیا تم صخر جیسے سخی پر نہیں روؤ گی؟…
واہ ابّو جی واہ… آپ تو بہت ہنساتے تھے اوربہت خوش رکھتے
تھے… اور اب رُلا بھی تو بہت رہے ہیں… ہم ہی کیا آپ کے پیچھے آسمان
بھی رویا ہے اور زمین بھی… اور کتنے بڑے بڑے لوگ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رورہے
ہیں…
اے عزیزِ جان و دل گھر گھر ترا ماتم ہوا
روتے روتے کون تھا ایسا نہ جو بے دم ہوا
سب کو بے حد غم ہوا بیوی سے پھر بھی کم ہوا
کارخانہ ہی سب اُس کا درہم و برہم ہوا
شادو آباد اس قدر یا خانما برباد ہے
اک جہاں شیدا تھا اک دنیا تھی متوالی تری
فرد تھی جود وسخا میںہمت عالی تری
خوشہ چیں سب تھے جُھکی ہی رہتی تھی ڈالی تری
سب نے دامن بھر لئے مٹھی رہی خالی تری
قرض کا بھی غم نہ تھا جب تجھ کو دیکھا شاد ہے
جو کوئی ناکام پہنچا کام اُس کا کر دیا
دامن مقصود اک دنیا کا تو نے بھر دیا
بے زروں کو زر دیا اور بے گھروں کو گھر دیا
دل تجھے اللہ نے بہتر سے بھی بہتر
دیا
تیرے غم میں ہم تو کیا ہیں مجمع زُھّاد ہے
ابّا جی رحمۃ اللہ علیہ ہمارے خاندان اور جماعت کے بادشاہ
تھے… وہ ہماری جماعت کے لئے مقبول دعاؤں کا پرسکون بادل تھے… بادل ہٹ جائے،وہ بھی
گرمی کے موسم میں تو دھوپ بہت بے قرار کرتی ہے ؎
گئی یک بیک جو ہوا پلٹ نہیں دل کو میرے قرار ہے
کروں اس زیاں کا میں کیا بیاں مراغم سے سینہ فگار ہے
سبھی جا وہ صدمہ سخت ہے کہوں کیسی گردش بخت ہے
نہ وہ تاج ہے نہ وہ تخت ہے نہ وہ شاہ ہے نہ دیار ہے
الحمدللہ ہم آج اللہ تعالیٰ کی
تقدیر پر راضی ہیں… اُس نے چالیس سال کی عمر تک یہ عظیم نعمت ہمارے مقدّر رکھی… ہم
موت سے نفرت کرنے والے لوگ نہیں بلکہ موت کے آئینے میں’’رُخ یار‘‘ دیکھنے والے
کمزور سے مسلمان ہیں… پوری زندگی ہی ہنگاموں، طوفانوں اور حوادث میں گزری ہے…
پھرابّو جی کی جُدائی پر اتنا غم کیوں؟… اللہ رب العزت کی
قسم وہ ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت
تھے… اللہ تعالیٰ کی نعمت چھن جائے تو صدمہ ہونا یقینی بات
ہے… ان اللہ وانا الیہ راجعون… اللھم لاتحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ…
آپ تھوڑا سا اندازہ لگائیں… کتنے مشکل حالات میں ’’فتح
الجوّاد‘‘ کا کام شروع ہوا… شروع کرتے ہی اندازہ ہوا کہ یہ پتھر بہت بھاری ہے… تب
والدین نے رو رو کر دعائیں مانگیں… الحمدللہ کام چل پڑا… دو جلدیں مکمل ہوئیں تو ہمت نے جواب
دے دیا… پورا ایک سال کام بالکل بندرہا… امیدوںنے دم توڑنا شروع کردیا… تب حضر ت
ابّا جی سے ملاقات نصیب ہو گئی… بندہ نے عرض کیا تو فرمایا کہ بس اب ان
شاء اللہ شروع ہو جائے گا… بندہ نے اُن کے سامنے رجسٹر اور قلم
رکھ دیا کہ… آپ ہی شروع فرمادیں… انہوں نے قلم تھاما اور بہت خوبصورت خط میں لکھا
’’بسم اللہ الرحمن الرحیم، سورۃ
الفتح‘‘
ابّو جی کی’’بسم اللہ ‘‘ رنگ لائی… اورپھر
دیکھتے ہی دیکھتے کام مکمل ہو گیا… و الحمدللہ رب العالمین… اب میں قرآن پاک کی تفسیر لکھنا
چاہتا ہوں اور لکھ نہیں پارہا… مجھے نہ رونے کا حکم دینے والے بتائیں کہ … میں کس
سے’’بسم اللہ ‘‘ لکھواؤں؟… اناللہ وانا الیہ
راجعون، اناللہ وانا الیہ راجعون…
جا کہیو اُن سے نسیم سحر مرا چین گیا مری نیند گئی
تمہیں میر ی نہ مجھ کو تمہاری خبر مرا چین گیا مر ی نیند
گئی
اے برق تجّلٰی بہر خدا ، نہ جلا مجھے ہجر میں شمع آسا
مری زیست ہے مثل چراغ سحر میرا چین گیا مر ی نیند گئی
یہی کہتا تھا رو رو کے آج ظفر مری آہ رسا میں ہوا نہ اثر
ترے ہجر میں موت نہ آئی مگرمرا چین گیا مری نیند گئی
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے میرے ابّو جی
کو ایمان کی دولت عطاء فرمائی… ہم نے آنکھ کھولی تو انہیں پابندی سے مسجد جاتے
دیکھا… رمضان المبارک آتا تووہ اہتمام سے آخری عشرے کا اعتکاف فرماتے تھے… انہیں
مسجد سے پیار تھا… جب ہم نے گھر کے قریب مسجد بنا لی تو ابّا جی کی
خوشی دیدنی تھی… فرمایا تم لوگوں کی ساری زندگی کی خدمت ایک طرف اور یہ خدمت ایک
طرف… یہ خدمت سب پر بھاری ہے… ایمان قبول کرنے کے بعد پانچ فرائض سب سے مقدّم ہیں…
نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ… اور جہاد… اللہ تعالیٰ کا شکر ہے
ابّا جی نماز کے پابند تھے… روزہ بہت شوق سے رکھتے تھے… فرض کے علاوہ نفل روزوں کا
بھی اہتمام تھا… زکوٰۃ اُن پر اکثر واجب ہی نہیںہوئی… جوتھوڑا بہت مال ہوتا وہ
تقسیم کرتے رہتے تھے… ویسے الحمدللہ ہمارے گھر میں یکم رمضان المبارک زکوٰۃ نکالنے
کا ہر کمرے میں اعلان ہوتا ہے… حج میرے ابّو جی
کو اللہ تعالیٰ نے تین نصیب فرمائے… فرماتے تھے کہ… دل میں
بڑی تمنا ہے کہ ایک اور حج تمہارے ساتھ کروں… اور فریضۂ جہاد میں میرے ابّو جی کا
بڑا شاندار حصہ تھا… وہ طالبان سے پہلے والے جہاد میں بندہ کے ساتھ افغانستان
تشریف لے گئے… کمانڈر عبدالرشید شہید سے کافی دوستی ہوگئی…اور ابّوجی نے خوب
فائرنگ کا اجر پایا… پھر طالبان کے زمانے میں اکابر علماء کرام کے ساتھ محاذوں تک
تشریف لے گئے… اور جب ہماری جماعت بنی تو ابّو جی کی جہادی خدمات نے عروج پایا…
عجیب بات یہ ہوئی کہ … جس نے بھی ابّو جی کی خدمت
کی اللہ تعالیٰ نے اسے شہادت کا مقام نصیب فرمایا… آپ روز
اول سے جماعت کے غیر اعلانیہ سرپرست رہے ہمیشہ جماعت کی تشکیل میں رہے… جماعت کے
لئے دعائیں فرماتے رہے… جماعتی معاملات میں رہنمائی فرماتے رہے… اور جماعت کے لئے
بڑی بڑی قربانیاں پیش فرماتے رہے… یوں میرے ابّو جی کے پانچوں فرائض الحمدللہ پورے ہوئے… اور ابّو جی’’
اللہ اکبر‘‘ کہتے ہوئے ہم سے جُدا ہو گئے…ان اللہ وانا الیہ
راجعون
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے
کہ اللہ تعالیٰ نے میرے ابّو جی کو صالح والدین عطاء
فرمائے… ہمارے دادا بو صاحب نسبت بزرگ تھے… رات کا اکثر حصہ مسجد میں اکیلے گزارتے
تھے اور رزق حلال کا بہت اہتمام فرماتے تھے… ہم نے انہیں جب دیکھا اکثر عبادت و
ذکر میں دیکھا… جبکہ دادی اماں بہت صالحہ خاتون تھیں… زندگی کے آخر تک روزانہ دس
پارے تلاوت کرنے اور کثرت سے نفل روزے رکھنے کا معمول تھا… میرے ابّو جی اپنے
والدین کے بڑے بیٹے اور اُن کی آنکھوں کے تارے تھے… ابّو جی نے والدین کی بہت
خدمت کی اور انہیں ہمیشہ ادب و احترام دیا… اب کئی سال سے وہ پابندی کے ساتھ
والدین کے لئے قربانی بھی کرتے تھے… کچھ عرصہ پہلے ہم نے مساجد کی تعمیر کا کام
شروع کیا… ایک مجلس بُلائی گئی تاکہ… اس مبارک کام کا آغاز ذکر، درود شریف اور
دعاء سے کیا جائے… میرے ابّو جی اس مجلس کے’’صدر‘‘ تھے… بندہ نے مختصر بیان کے بعد
اعلان کیا کہ… مہم کا آغاز اسی مجلس میں شریک جماعت کے ساتھی اپنے مال سے کریں…
اور اس کامبارک افتتاح حضرت ابّاجی اپنے مال سے فرمائیں… یہ کہہ کر میں نے رومال
ابّو جی کے آگے پھیلا دیا… ابّو جی کے چہرے پر خوشی اور نور چمکنے لگا… پندرہ
ہزار روپے جیب سے نکالے… فرمایا پانچ پانچ ہزار میرے والدین کی طرف سے… اور پانچ
ہزار میری طرف سے…
پھر مجلس کے تمام رفقاء نے چندہ جمع کرایا… ہم نے یہ تمام
چندہ حضرت ابّا جی کے ہاتھ میں دیا کہ آپ… اپنے دست ِ مبارک سے ’’مجلس تعمیر
مساجد‘‘ کو عطاء فرمائیں… آج الحمدللہ تین سال سے کم عرصے میں کئی درجن مساجد
تعمیر ہو چکی ہیں … واہ ابّا جی واہ… اللہ تعالیٰ آپ کو
ایسی خوشیاں عطاء فرمائے کہ جن خوشیوں کے بعد بھی خوشیاں ہی خوشیاںہوں… آپ کے
احسانات اور برکات کے مناظر آج یاد آتے ہیں تو عجیب سی کمی کا احساس ہوتا ہے اور
دل بے اختیار رونے لگتا ہے… اناللہ وانا الیہ راجعون
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ…
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابّاجی کو بہادری کی صفت عطاء فرمائی… اُن کا بچپن
اور جوانی دیہات میں گزرے تھے… گاؤں دیہات کے لوگ اندھیروں، سایوں، جنوں،بھوتوں
اورکتّوں سے نہیں ڈرتے… میرے ابّو جی بہت ماہر شہسوار تھے… انہوں نے
کافی عرصہ گھڑ سواری اور شتر سواری کی… بندوق کا نشانہ بہت اچھا تھا… اور ہرن
وغیرہ کے ساتھ مچھلی کے شکار کے ماہر تھے… شکار کے بارے
میں اللہ تعالیٰ نے اُن کے ہاتھ میں عجیب برکت رکھی تھی…
ابّو جی کی یہ بہادری دین کے معاملے میںبہت کام آئی… بہادر آدمی اکثر ذاتی
انتقام نہیں لیتا… اور مسلمانوں کا بغض دل میں نہیںرکھتا… بعض عارفین نے بہادر کی
یہ تعریف لکھی ہے کہ جو دوسرے کے حقوق ادا کرتا ہے اور اُن سے اپنے حقوق ادا کرنے
کی توقع نہیں رکھتا… الحمدللہ ابّو جی بالکل ایسے ہی تھے… وہ پہلے عام سی
زندگی گزار رہے تھے کہ اچانک اُن کی زندگی کا رُخ طوفانوں کی طرف مُڑ گیا… تب
ہرکسی نے دیکھا کہ … ابّاجی نے نہایت ہمت اور بہادری سے ان طوفانوں کا مقابلہ کیا…
اپنی اولاد کی دینی معاونت میں حضرت ابّا جی کا جو کردار تھا اُس کی مثال اس زمانے
میںملنا بہت مشکل ہے… اُن کے تمام بیٹے بھی اگرجہاد پر چلے جاتے تووہ کبھی نہیں
فرماتے تھے کہ… بیٹا گھر کا کیا ہوگا؟… تمہارے بوڑھے والدین کا کیا ہو گا؟… وہ
خوشی خوشی ہر کسی کو رخصت فرماتے اور بعض اوقات گھر میں اکیلے رہ جاتے… اُن کا ایک
بیٹا گرفتارہوا… وہ ثابت قدم رہے… دوسر ابیٹا موت کے جبڑوںمیں پنجے ڈالے کھڑا تھا
تو ابّو جی دعاء دے رہے تھے… دو چھوٹے بیٹے خوفناک محاصروں میں لڑرہے تھے تو ابّو
جی کو کسی نے پریشانی کے ہاتھ ملتے نہیں دیکھا…
بہت عجیب صفت ہے، بہت ہی عجیب… ہمار ا گھر طویل عرصہ تک
پولیس اور ایجنسیوں کے گھیرے میں رہا… او ر گیارہ ماہ تک اس گھر کو سب جیل قرار دے
دیا گیا… کوئی اور ہوتا تو بیٹوں کو سمجھاتا کہ… کچھ ہلکا ہاتھ رکھو… ہمارے بڑھاپے
کا خیال کرو… مگر ابّا جی تو استقامت کی چٹان تھے… ایک لمحہ پریشانی کا اظہار نہ
فرمایا اور نہ اپنے کسی بیٹے کو عزیمت کے کسی کام سے روکا… میں جہاں گرفتار ہوتا
تو پہلی ملاقات میں ابّاجی کی زیارت ہوتی اور وہ صرف حوصلہ بڑھاتے اور محبت کے
بوسے نچھاور فرماتے… اور جب میں کسی قید سے چھوٹتا تواستقبال کے لئے سب سے آگے
حضرت ابّا جی کھڑے ہوتے… انہیں اپنی اولاد سے بہت پیار تھا… مگریہ پیار کبھی دین
کے کسی کام کی رکاوٹ نہ بنا… وہ ہمیں موت کے میدانوں میں دیکھتے توخوش
ہوتے اور اپنی عبادت اور دعاء بڑھادیتے… لیکن اگرہم میں سے کوئی نماز میں، دین کے
کام میں… یا جہاد میں سستی کرتا تو ابّو جی کو بہت تکلیف ہوتی… تب وہ دعاؤں میں
لگ جاتے اور اصلاح کے لئے کوشش فرماتے… وہ بہادرتھے دور دراز سفر سے نہیں گھبراتے
تھے… اور نہ حکومتی اہلکاروں سے ڈرتے تھے… اُن کا کئی بار جرنیلوں سے سامنا ہوا…
جرنیلوں نے انہیں کہا کہ اپنے بیٹوں کو سمجھائیں تو… ابّا جی جہاد اور جماعت کی
وکالت فرماتے اور اپنے بیٹوں کی تائید کرتے… دنیا کے کئی ممالک حضرت ابّا جی کا
نام اپنی’’ہٹ لسٹ‘‘ میں لکھ چکے تھے… مگر ابّا جی کو پروا نہیں تھی… پاکستان کے
حکمرانوں نے کئی بار اُن کو علامتی نظر بند کر کے اُن کے حوا س کا
جائزہ لیا تو الحمدللہ … حضرت ابّا جی ؒکو
بہت پرسکون پایا…سچی بات یہ ہے کہ …حضرت ابّا جی رحمۃ اللہ علیہ بہادری اور
استقلال کے اُس خاموش اور گھنے جنگل جیسے تھے کہ… جس جنگل میں مجاہدین شیروں کی
طرح گرجتے برستے پھرتے تھے… کئی بددماغ افسروں نے دھمکی کے انداز میں اُن سے کہا
کہ آپ ان مجاہدین کو سمجھائیںتو… ابّا جی فرماتے کہ میں دین کے کام سے کسی کو
نہیں روک سکتا… سات شعبان۱۴۳۱ھ منگل کے دن دوپہر کے وقت عزم وبہادری کا یہ گھنا جنگل
اچانک لڑکھڑایا… اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنے مالک حقیقی کے پاس چلا گیا… ان
اللہ وانا الیہ راجعون، اناللہ وانا الیہ راجعون…
یا اللہ ! پیچھے والوں پررحم فرما…
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ…اس نے میرے ابّو
جی کو دنیا بنانے میں نہیں لگایا… حضرت ابّا جی کے وصال کے بعد اُن کے ترکے کا
سامان جمع کیا گیا تو… سب سے قیمتی سامان وہ دنبے تھے جو ابّا جی ہر سال قربانی کے
لئے پالتے تھے… کئی سال سے معمول تھاکہ…دو یا تین دنبے منگوا لیتے اور پھر اُن کو
بہت نا زسے پالتے … ایک دنبہ تو ہر سال حضرت آقامدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کی طرف سے قربانی کا ذبح فرماتے… دو جانور اپنے والدین کی طرف سے…
اورایک قربانی اپنی طرف سے پیش کرتے… زیادہ قربانی کرنے پر بہت خوش ہوتے تھے… پلے
ہوئے دنبے اکثرالرحمت ٹرسٹ کو جمع کراتے…اور جب ہم پوچھتے کہ ابّو جی ! مزید
قربانی کرنی ہے؟ تو فرماتے کیوںنہیں… میری طرف سے الرحمت ٹرسٹ میں جمع کرادو…
میرے ابّو جی نے اپنے ترکے میں نہ مکان چھوڑا نہ گاڑی… جی
ہاں ایک سائیکل بھی نہیں… پوری زندگی میں پانچ مرلے کا ایک مکان بنایا اور وہ بھی
کافی عرصہ پہلے اپنے ایک بیٹے کو دے دیا… چند کپڑے ، کچھ کتابیں، مسنون دعاؤں کا
ایک بنڈل… اور اپنی ضرورت کاسامان…
اللہ تعالیٰ نے حضر ت ابّا جی کو جو ظاہر
ی شوکت عطاء فرمائی تھی اُسے دیکھ کر لوگ آپ کو بہت مالدار سمجھتے تھے… ویسے بھی
حضرت ابّا جی بہت باذوق تھے… اُجلا لباس، بہترین چشمہ اور قیمتی قلم آپ کو پسند
تھے… جو پیسے جیب میں آتے وہ تقسیم کرتے رہتے تھے… انداز
ماشاء اللہ بہت شاہانہ تھا… مگردنیا کی طرف ’’رُخ‘‘ نہیں
تھا… زندگی کا اکثر حصہ غربت میںگزارا مگرخوش رہے… اُن دنوں ہمارا گھر ’’جنکشن‘‘
کے نام سے مشہور تھا… یعنی ریلوے اسٹیشن کی طرح مہمانوں کا ہجوم رہتا
تھا… ابّوجی نے ایک تنخواہ پر بارہ بچے پالے انہیںعالم و حافظ بنوایا… اور اپنے
کئی بھائیوں کی بھی کفالت کی… پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں کچھ
وسعت عطاء فرمائی… اتنی وسعت کہ وہ آسانی سے گزر بسر کر سکیں… تب بھی وہ خوش اور
شاکر رہے… ہمیشہ فرماتے تھے کہ… اللہ تعالیٰ نے مجھے میری
اوقات سے زیادہ دیا ہے… عجیب منظر تھا کہ دنیا کی کئی بڑے ممالک کی آنکھوں
میںکھٹکنے والا بوڑھا مردمجاہد جب اپنی پیاری قبر میں جا سویا تو… اُس
کے ترکے کا تمام مال ایک گٹھڑی میںآسانی سے جمع کیا جا سکتا ہے… جی ہاں دنیا میں
ایک گٹھڑی… اور آخرت کے لئے ماشاء اللہ صدقات جاریہ کے
انبار… یا اللہ اُن کے تمام صدقات ِ جاریہ کو قبول فرما…
اُن کی اولادمیں سے کوئی نہیں رویا کہ ابّو جی ہمارے لئے کچھ نہیں چھوڑ گئے… ہاں
سب اس بات پر رورہے ہیںکہ ابّوجی ہمیںچھوڑ گئے … ان اللہ وانا الیہ راجعون… ان
اللہ وانا الیہ راجعون
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے
کہ اللہ تعالیٰ نے میرے ابّو جی کو اپنا ایک
بیٹا اللہ تعالیٰ کے لئے ’’وقف‘‘ کرنے کی توفیق عطاء
فرمائی… یہ واقعہ وہ بار بار سناتے تھے اور بہت خوشی سے سناتے تھے… فرماتے
تھے کہ میںنے نذرمانی تھی کہ… ایک بیٹا اللہ تعالیٰ کے لئے
وقف کردوں گا… اُس وقت ہمارے گھر کی دوڑ اسکول کی طرف تھی… ابّا جی نے نذر پوری
فرمائی اُن کا تیسرابیٹا جب بارہ سال کا ہوا تو وہ اس کے لئے مدرسہ ڈھونڈنے
نکلے… اللہ تعالیٰ نے اُن کی نذر قبول فرمائی اور اُن کے
بیٹے کو کراچی جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن پہنچا دیا… حضرت ابّا جی
کی نیت میں ایسا اخلاص تھا کہ اُن کے فیصلے نے خاندان کا رُخ اور رنگ ہی بدل
دیا… اللہ تعالیٰ کی رحمت دیکھیں کہ اس بیٹے کے بعد ابّا جی
کی تمام اولاد قرآن پاک کی حافظ اور عالم بنی… آپ کے چار بیٹے اور چار بیٹیاں
ماشاء اللہ حافظ اور پھر عالم ہوئے… اورپوری اولاد الحمدللہ دینی رنگ میں رنگی گئی… ابّا
جی اللہ تعالیٰ کی اس عنایت پر بہت شکر ادا فرماتے تھے… اس
شکر کی برکت سے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور بڑھی اور آپ کے
پوتوں، پوتیوں، نواسوں اور نواسیوں میں بھی کئی حافظ و عالم بن گئے…اور کئی بن رہے
ہیں…ابّا جی نے اس پر بہت شکراداکیاتو اللہ تعالیٰ کی رحمت
بڑھی… اور ابّا جی اپنی زندگی کے آخری سالوں میں ایک دینی مدرسے کے مہتمم بلکہ
مخلص خادم بنے رہے… آپ نے اس چھوٹے سے مدرسے کو اپنے اخلاص، محنت اور عمدہ نظم و
نسق سے بہت ترقی دی… اور اپنے دل جان اورمال سے اس مدرسے کی خدمت کی… آپ کی بڑی
تمنا تھی کہ اس مدرسہ میں دورۂ حدیث شریف شروع ہو… بالآخر اگلے سال کا طے ہوگیا
، اشتہار بھی آگیا… اساتذہ کا تقرر بھی ہوگیا… مگر ابّا جی اچانک اپنے
دفتر سے اٹھ کر آرام فرمانے چلے گئے… ان اللہ وانا الیہ راجعون… ان اللہ وانا
الیہ راجعون
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے
کہ… اللہ تعالیٰ نے میرے ابّو جی کو مثالی ذہانت عطاء
فرمائی… آپ اردو اور فارسی ادب میں ماہر تھے… اور شعر و شاعری کا اچھا ذوق رکھتے
تھے… یہ ابّوجی کی ذہانت ہی تھی کہ انہوں نے دین کے راستے کو پہچان لیا اور پھر اس
پر تمام کشتیاں جلا کر چل پڑے… ذہانت کی ایک عجیب چمک آپ کی آنکھوں میں صاف نظر
آتی تھی… طالب علمی کے زمانے میں ایک باربندہ اپنے چند ہم سبق ساتھیوں کو چھٹیوں
میں گھر لایا… اُن طلبہ کی ابّو جی سے ملاقات ہوئی تو تھوڑی ہی دیر میں وہ ابّا جی
کے ساتھ گُھل مل گئے… یہ حضرت ابّا جی کی خاص صفت تھی… مجلس جب خوشگوار
ہوئی تو ایک طالب علم نے میری طرف اشارہ کر کے ابّو جی سے کہا… چچا جی! آپ نے اس
کو ذہانت کاکون سا نسخہ کھلایا تھا، ہمیںبھی بتادیں تاکہ ہم بھی وہ استعمال کریں…
ابّا جی مسکرائے اور فرمایا بیٹا! اب دیر ہو گئی ہے … وہ نسخہ اسے نہیں کھلایا تھا
بلکہ خود میں نے کھایا تھا… سات دن ہو گئے مجھے ایسی بہت سی مجلسیں یاد آرہی ہیں
جن میں ہم خوب ہنسے تھے… مگر اب ان مجلسوں کی یاد ہنسانے کی بجائے رُلا نے پر
اُتری ہوئی ہے انا للہ واناالیہ راجعون
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے
کہ… اللہ تعالیٰ نے میرے ابّو جی کو ایک خاص’’محبوبیت‘‘
عطاء فرمائی… جو بھی آپ سے ایک بار مل لیتا آپ سے محبت کرنے لگتا… اپنوں کا
توکیا پوچھنا دور دور کے لوگ ابّا جی کو اپنا غمگسار سمجھتے تھے… میرے دادا ابّو
کے نو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں… مگر سب یہی بتاتے ہیں کہ اُن کو زیادہ محبت میرے
ابّو جی سے تھی… خود اپنے گھر میں ابّو جی کا ایک الگ مقام تھا… اسے
’’مقام محبت‘‘ کا نام ہی دیا جاسکتا ہے … ہم بھائیوں،بہنوںمیں سے کسی سے پوچھا
جائے کہ تمہیں اپنی اولاد سے زیادہ محبت ہے یا والدین سے… الحمدللہ جواب دینے میں کوئی پریشانی نہیںہوگی کہ والدین
سے زیادہ محبت ہے… اورپھر اگر ہم اپنی اولاد سے پوچھیں کہ… تمہیں ہم زیادہ اچھے
لگتے ہیں یا دادا ابّو… تو چھوٹے چھوٹے بچے صاف کہتے کہ دادا ابّو… اور سب سے
زیادہ عجیب معاملہ یہ کہ… ابّا جی کو اپنی بیٹیوںسے بہت محبت تھی… مگر ساتھ ساتھ
اُن کی تمام بہویں بھی اُن کی سگی بیٹیوں کی طرح تھیں… اُن کی کوئی بھی بہو اپنے
خاوند کی شکایت ابّاجی سے لگا کر اپنا مسئلہ حل کراسکتی تھی… بندہ نے بڑے
بڑے اللہ والے مشائخ کودیکھا کہ وہ بھی حضرت ابّا جی سے
محبت فرماتے تھے… مگر ابّاجی کو سب سے زیادہ محبت مجاہدین نے دی… بیماری سے کچھ
عرصہ پہلے تک تو حضرت ابّاجی مجاہدین کے جھرمٹ میں اُن کے دوستوں کی طرح تشریف
رکھتے تھے… آپ جیسے ہی اپنے معمولات سے فارغ ہوتے آپ کے گردمجاہدین
کا جھمگٹھا بن جاتا… ان میں سے ہر ایک آپ کو ’’ابّا جی‘‘ کہتا تھا اور آپ کی
محبت کا فیض پاتاتھا… یہ صورتحال بہت سے لوگوں کو حسد میں بھی مبتلا کردیتی تھی…
اور کئی لوگ اس طرح کی محبوبیت پانے کے لئے جعلی حرکتیں بھی کرتے تھے… مگرکہاں؟…
محبت اور محبوبیت تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصیب ہوتی ہے… اللہ تعالیٰ
نے حضرت ابّا جی کو یہ نعمت اپنے فضل سے نصیب فرمائی… اسی لئے جب اُن کے انتقال کی
خبر آئی تو ہر کوئی اپنی جگہ جام ہو کر رہ گیا… کسی کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ
کیا کرے اورکون کس سے تعزیت کرے… ان اللہ وانا الیہ راجعون …ان اللہ وانا الیہ
راجعون
اللہ تعالیٰ کا شکر
ہے کہ… اللہ تعالیٰ نے حضرت ابّا جی کو’’فتح
الجوّاد‘‘ کی چاروںجلدوں کے افتتاح کی سعادت اورخوشی
بخشی… اللہ تعالیٰ اس مبارک عمل کو اُن کے لئے آخرت کی
خوشی کا ذریعہ بھی بنائے… ’’فتح الجوّاد‘‘ جیسے ہی شروع ہوئی دل میںیہ خیال پختہ
ہوتا گیا کہ… اس کا افتتاح حضرت ابّاجی سے کراناہے… میرے ابّو جی نہ تو عالم دین
تھے اور نہ شیخ طریقت… ہمیشہ فرماتے تھے … میں گناہ گار آدمی ہوں
بس اللہ تعالیٰ نے میری لاج رکھی ہوئی ہے…مگر اس انمول کتاب
کے افتتاح کے لئے میری نظریں ابّاجی کے علاوہ کسی کی طرف نہیں اٹھیں… حافظ شیرازؒ
نے کتنا خوبصور ت شعر کہا ہے
مرادرخانہ سروے ہست کہ اندر سایۂ قدّش
فروغ از سروبستانی و شمشادِ چمن دارم
ترجمہ:’’میرے گھر میں ایسا سرو(کا درخت)ہے جس کے قد کے سایہ
میں مجھے باغ کے سرو اور چمن کے شمشاد سے بے نیازی ہے۔‘‘
دراصل میرے دل میں ایک کسک تھی کہ میری وجہ سے میرے والدین
نے بہت دُکھ جھیلے ہیں… چھ سال تو وہ میری قید سے غمگین رہے… اور رہائی کے بعد بھی
کبھی چند دن مسلسل اُن کے قدموں میں بیٹھنا نصیب نہ ہوا
مرا در منزل جاناں چہ امن وعیش چوں ہردم
جرس فریاد می دارد کہ بربندید محملھا
دل میں تمنا تھی کہ میرے والدین کوئی بڑی دینی خوشی دیکھیں…
کیونکہ انہوںنے اپنی اولاد کو دنیا میں نہیں لگایا… الحمدللہ فتح الجوّاد کی جلد اول مکمل ہوئی… کوہاٹ میں
افتتاح کا اعلان ہوا، بندہ نے جس ساتھی کو بھی بتایا کہ افتتاح ’’ابّوجی‘‘ کریں گے
تووہ خوشی سے سرشار ہو گیا… کیونکہ ابّاجی تو سب کے روحانی ابّا جی تھے… الحمدللہ افتتاح ہوا اور
ماشاء اللہ بہت خوب ہوا… افتتاح کے کچھ دن بعد حضرت ابّا جی
کی زیارت ہوئی تو انہیں بہت خوش پایا… فرمارہے تھے کہ… عجیب لمحہ تھامجھے لگا کہ
آج خوشی سے جان نکل جائے گی… حضرت ابّا جی کے ان تاثرات نے میرے بہت سے غموں کو
دور کر دیا… سبحان اللہ … لوگ دنیا کی رنگینیوں اور شادی کی دعوتوں سے
خوش ہوتے ہیں جبکہ ابّا جی کو دین کے کام سے اتنی خوشی نصیب ہوئی… الحمدللہ چاروں جلدیں مکمل ہوئیں اور چاروں کا افتتاح
حضرت ابّا جی نے فرمایا… اب ارادہ تھا کہ پورے قرآن پاک کا حاشیہ لکھنے کی سعادت
حاصل کی جائے… دیکھیں کیا بنتا ہے … میرے ابّو جی تو اب افتتاح نہیں کرسکیں گے…
ان اللہ وانا الیہ راجعون…ان اللہ وانا الیہ راجعون
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے
کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابّاجی کو مثالی تواضع نصیب فرمائی…
آپ نے اپنی اولاد تک کو کبھی نہیں فرمایاکہ… میرا ادب کرو… عجیب مٹے ہوئے انسان
تھے…حالانکہ بہادر، گھڑ سوار، شکاری اور ہزاروں افراد کے استاذ تھے… ایسے لوگوں
میں کچھ نہ کچھ اکٹر پیدا ہو جاتی ہے… مگر حضرت ابّا جی تواضع کا پیکر
تھے… اللہ تعالیٰ نے اُن کی تواضع قبول فرمائی اور اُن کو
خوب شان، عزت اور رفعت عطاء فرمائی… بعض لوگوں نے حضرت ابّاجی کو بہت ستایا مگر
مجال ہے کہ آپ نے کبھی اُن سے انتقام لینے کی بات تک کی ہو… چھ جوان بیٹوں کا باپ
اپنے مخالفین کے ساتھ کیا کچھ نہیں کر سکتا… مگر ابّا جی کے دل میں تکبّر اور انا
پرستی کاشایدخانہ ہی نہ تھا… اُن کا بڑے سے بڑا مخالف ملنے آجاتا تو ماضی کی ہر
تلخی کو فوراًبُھلا کر اُسے گلے لگا لیتے…معلو م نہیں اُن کے ان اخلاق
کریمانہ نے کتنے لوگوں کو دین سے جہاد سے اور جماعت سے جوڑے رکھا… اُن کے چلے جانے
کے بعد اِس معاملہ میں جو خلا پیدا ہو ا ہے اُس کا پُرہونا بظاہر کافی مشکل
نظرآتا ہے…
ان اللہ وانا الیہ راجعون…اللھم لاتحرمنا اجرہ ولا تفتنا
بعدہ…
اللہ تعالیٰ کا شکرہے
کہ… اللہ تعالیٰ نے میرے ابّو جی کے آخری لمحات آسان
فرمائے… اورآخری وقت اُن کی زبان پر اپنا نام مبارک جاری فرمایا… الحمدللہ ابّاجی کی نماز جنازہ میں بہت سے علماء، مجاہدین
اور صلحاء نے شرکت کی…دیکھنے والے بتاتے ہیں کہ چہرے پر دلکش مسکراہٹ تھی… حضرت
ابّاجی کو کسی کے انتظارمیں تکلیف نہیں اٹھانی پڑی… جھٹ پٹ غسل فرمایا… کفن اوڑھا
اور مدرسہ اویس قرنی ذ سے ملحق پلاٹ میں جا لیٹے… ابھی نئے گھر کا دروازہ بندہوا
ہی تھاکہ… ہر طر ف سے ایصال ثواب کے پھول برسنے لگے… بلامبالغہ دو دن میں قرآن
پاک کے ہزاروں ختم ہوئے… بہت سے لوگوںنے ایصال ثواب کیلئے عمرے اور طواف کئے…
لاہور کے ایک بڑے روحانی اور مقبول گھرانے سے پیغام آیا کہ… صرف اُن کے گھر سے قرآن
پاک کے گیارہ ختمات اور دولاکھ بار درود شریف کاایصال ثواب ہوا ہے…
حضرت ابّا جی کی میراث تیسرے دن شریعت کے مطابق تقسیم ہوگئی… غیرشرعی
اور ہندوانہ رسومات سے الحمدللہ حفاظت رہی… نہ تیجا، نہ
ساتواں، نہ رسم پگڑی اور نہ کچھ اور… اللہ تعالیٰ نے
مسلمانوں کو جو ترتیب عطاء فرمائی ہے اس میں… صبر کی قوت خود بخود آتی چلی جاتی
ہے… پہلے غسل دو، پھر کفن دو، پھر نمازجنازہ اداکرو…پھر تدفین کرو… پھر میراث
تقسیم کرو… وغیرہ وغیرہ… انسان اپنے کسی قریبی محبوب کے انتقال کے بعد جب ان مراحل
کو طے کرتاہے تو… دل میں صبر کی کیفیت آجاتی ہے… مگرجو نہ غسل دے سکا،نہ کفن پہنا
سکا…نہ اُسے نمازجنازہ میں شرکت کاموقع ملا… اور نہ اُس نے قبر میں اُترتے دیکھا…
وہ اپنے غم کا کیا کرے… انتقال کے دوسرے روز مغرب سے کچھ پہلے میں ایک مسجد میں
بیٹھا ہواتھا… حضرت ابّا جی کی یاد اس قدر شدّت سے آئی کہ آنکھوں کے سامنے
اندھیرا چھا گیا… لوگوںسے اپنے آنسو چھپا کر روتارہا… پھر اذان ہونے لگی … سوچاکہ
قبولیت اورجنت کے دروازے کُھل گئے ہیں تو اذان کے جواب کے ساتھ ساتھ حضرت ابّا جی
کی مغفرت، راحت اور رفع درجات کی دعاء بھی جاری ہوئی… مگردل کا بوجھ ہلکا نہ ہوا…امام
صاحب نے اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع کر دی…اور سورہ فاتحہ
کے بعد اُن کی زبان پر یہ آیت جاری ہوگئیں…
وَلاَ تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ
أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْیَائٌ وَّلٰکِنْ لاَّ تَشْعُرُوْنَ
وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْْء ٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ
الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِیْنَ اَلَّذِیْنَ
إِذَا أَصَابَتْہُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَالُوْا إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّـا إِلَیْْہِ
رَاجِعُوْنَ٭أُولٰـئِکَ عَلَیْْہِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّہِمْ وَرَحْمَۃٌ
وَأُولٰـئِکَ ہُمُ الْمُہْتَدُوْنَ (البقرہ)
ترجمہ: اور جو اللہ تعالیٰ کی راہ
میں مارے جائیں انہیںمرا ہو انہ کہاکرو بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تم نہیں سمجھتے،
اور ہم تمہیں کچھ خوف اور بھوک اور مالوں اور جانوں اورپھلوں کے نقصان سے ضرور
آزمائیںگے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو، وہ لوگ کہ جب انہیں کوئی مصیبت
پہنچتی ہے تو کہتے ہیں ’’ان اللہ وانا الیہ راجعون‘‘ ہم
تو اللہ تعالیٰ کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے
ہیں یہ لوگ ہیں جن پر اُن کے رب کی طرف سے مہربانیاں ہیں اور رحمت ، اوریہی ہدایت
پانے والے ہیں۔‘‘
اللہ اکبر کبیرا… قرآن پاک نے بہت سی باتیں سمجھا دیں…
یا اللہ حضرت ابّا جی کی مغفرت فرما، اُن کی قبر کو جنت کا باغ بنا،
آخرت کی تمام منزلوں میں اُن کو آسانی اورکامیابی عطاء فرما، اُنہیں بغیر حساب
وکتاب جنت الفردوس عطاء فرما…آمین یا ارحم الراحمین…
بہت سی باتیں لکھنی تھیں جو رہ گئیں… بس دو جملوںپر بات ختم
کرتا ہوں
واہ ابّا جی واہ… الحمدللہ رب العالمین
آہ ابّا جی آہ…ان اللہ وانا الیہ راجعون
اللھم صل علی سیدنا و مولانا محمد وانزلہ المقعد المقرب
عندک وعلی الہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
استقبال
اللہ تعالیٰ رحم فرمائے… پاکستان میں ہر طرف لاشیں ہی لاشیں
ہیں… کبھی دھماکے، کبھی بمباری اور اب سیلاب… لوگ گرمی سے تڑپ رہے تھے اورہر ایک
بارش مانگ رہا تھا… پھربارش آئی تو اپنے ساتھ ہزاروں مصیبتیں لے کر آئی… آج اس
وقت بھی دریائے کابل میں لاوارث لاشیں بہہ رہی ہیں… نہ اُنہیں کوئی نکالنے والاہے
اور نہ دفنانے والا… نوشہرہ کے علاقے میں لوگ اپنی میّتوں کو لے کرپھر رہے ہیں مگر
دفن کرنے کی جگہ نہیںمل رہی… جی ہاں قبرستان پانی سے بھر چکے ہیں… ہزاروں لوگ
سیلاب میں بہہ گئے… اور لاکھوں ایک دم سے بے گھر ہو گئے… اللہ تعالیٰ
توبندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے… یہ تو ہمارے اعمال کی بہت تھوڑی سی سزا ہے… اگر
پوری سزا مل جائے تو شاید کوئی بھی نہ بچے… کیا کسی نے عبرت پکڑی؟… کسی نے ان
دردناک حالات کو دیکھ کر گناہ چھوڑے؟… تاجروں نے ہر چیز کی قیمت بڑھا دی… کیا اُن
کو موت یاد نہ آئی؟… گھروں میں اُسی طرح گانے بجانے اور فلموں کی آوازیں آرہی
ہیں… کمپیوٹر اور موبائل کی سکرین اب بھی نوجوانوں کے ایمان کو کھار ہی ہے… نہ
توبہ، نہ استغفار، نہ رونے والی آنکھیں اور نہ اللہ تعالیٰ
سے ڈرنے والے دل… اللہ تعالیٰ کے عذاب کو کیا چیز روکے؟…
ہمارے ملک میں اگر اچھے حکمران آجائیں تو یہ مُلک عذاب سے بچ جائے… مگر اچھے
حکمران کہاں سے آئیں؟… ہمارے مُلک میں اگر حرام خوری اور حرام کاری رُک جائے تو
یہ مُلک عذاب سے بچ جائے… کبھی زلزلے، کبھی طوفان، کبھی سیلاب، کبھی دھماکے، کبھی
آپریشن کبھی ڈرون حملے… اور کبھی آپس کی جنگیں…
یا اللہ رحم فرما… کچھ لوگ توہمت کریں اور اپنے دلوں کو
مسلمان بنالیں… کچھ لوگ تو آگے بڑھیں اور توبہ کے دروازے کو مضبوطی سے تھام
لیں…یقینا اس مُلک میں کچھ لوگ تو ایسے موجود ہیں جن کی برکت سے پورے ملک پر عمومی
عذاب نہیں آرہا… کیا ہی اچھا ہو کہ ہم بھی دعاء، محنت اور آہ وزاری کر کے خود کو
انہیں مقبول لوگوں میں شامل کرا لیں… اوراس کے لئے ایک بہترین موقع آرہا ہے… جی
ہاں رمضان المبارک کا عظیم برکتوں والا مہینہ آرہا ہے… اس مہینے میں ایسے لوگ بھی
بخشے جاتے ہیں جو اپنے اعمال کی وجہ سے جہنم کے مستحق بن چکے ہوتے ہیں… بس چند دن
ہی رہ گئے… کتنا اچھا ہو کہ اس رمضان المبارک میںہم سب کی مغفرت ہو جائے… اور ہم
سب اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے بن جائیں… آئیے ابھی سے
رمضان المبارک کی تیاری شروع کر دیتے ہیں…
(۱) آج ہی سے اس دعاء کا اہتمام کہ… یا اللہ ! اس سال ہمیں قبولیت،
رحمت اور مغفرت والا رمضان المبارک نصیب فرما… یہ دعاء، بہت توجہ، اخلاص اور آہ و
زاری سے کی جائے… ارے بھائیو! بہت زبردست موقع آرہا
ہے… اللہ کرے ہم سب اس سے فائدہ اٹھا سکیں…
(۲) ابھی سے اپنی عبادت میں کچھ اضافہ کر دیں… ایک ہزار بار درود شریف کا معمول ہے
تو سو، دو سو بڑھادیں… فجر کی نماز جماعت سے نہیں پڑھتے تو فوراً شروع کر دیں… نما
ز سے کچھ پہلے مسجد جا کر چند نوافل ادا کر کے… اللہ پاک کا
قُرب اور محبت محسوس کریں کہ… میرے مالک نے مجھے اپنے گھر بلایا ہے… اور اپنے
سامنے چند سجدوں کا موقع دیا ہے… سبحان اللہ وبحمدہ
سبحان اللہ العظیم…
(۳) اگر کسی پر قرضہ ہے تو وہ ابھی سے سچی نیت کر لے کہ… یا اللہ !
میرے پاس جیسے ہی مال آئے گا میں فوراً یہ قرضہ ادا کروں گا… اُس مال سے نہ تو
اپنی تجارت بڑھاؤں گا اور نہ عیش وعشرت کی چیزیں خریدوں گا… میں ان
شاء اللہ پوری ایمانداری سے قرضہ ادا کروں گا…
(۴) دل میں جن مسلمانوں کے لئے بغض، عداوت اور کینہ ہے… آج ہی مسجد میں جا کر دو
رکعت نماز ادا کر کے اُن سب کو معاف کر دیں… اس طرح سے دل ان
شاء اللہ شیشے کی طرح پاک ، شفاف ہو جائے گا… قرآن پاک نے ہمیں
اسی لئے یہ دعاء سکھلائی ہے … اس دعاء کا بھی خوب اہتمام کیا کریں
رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ
سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا رَبَّنَااِنَّکَ رَؤُفٌ رَّحِیْمٌ۔(الحشر۱۰)
ترجمہ: اے ہمارے رب ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جو
ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں ایمانداروں کی طرف سے کینہ قائم نہ
ہونے پائے اے ہمارے رب بے شک تو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
ہر مسلمان مرد اور عورت کو چاہئے کہ روزانہ کم از کم ایک یا
تین بار اس دعاء کا التزام کریں… آج ہم مسلمانوں کی باہمی نفرتوں اور کدورتوں نے
ہمیں اجتماعی طور پر بے جان اور کمزور کر رکھا ہے…
(۵) دل میں جس مسلمان کے لئے حسد ہو اُس کے لئے خوب توجہ سے ترقی کی دعاء کریں… جس
کے مال پر حسد ہو دعاء کریں کہ یا اللہ اس کو مزید مالِ
حلال عطاء فرما… جس کی عزت و مقام پر حسد ہو اُس کے لئے دعا ء کریں کہ
یا اللہ اس کو اور زیادہ عزت اور مقام عطاء فرما… یاد رکھیں
حسد ایک آگ ہے جو دل میں لگتی ہے اور انسان کی تمام نیکیوں کو جلا کر راکھ کر
دیتی ہے… اللہ پاک کی مرضی وہ جس کو جو چاہے عطاء فرمائے…
ہم کون ہوتے ہیں کسی کی نعمت پرجلنے والے… مگر شیطان دل میں حسد کی آگ لگا کر
بھاگ جاتا ہے… اور اس آگ کا نقصان خود حسد کر نے والا اٹھاتا ہے…
ارے اللہ کے بندو! رمضان المبارک آرہا ہے … کسی بھی نماز
کے بعد ہاتھ اٹھا کر اللہ پاک سے عرض کر دو…
یا اللہ ! میں آپ کی تقدیر پر راضی ہوں…
آپ مالک ہیں مختار ہیں جس کو چاہیں مال دیں، جس کو چاہیں گاڑی دیں، جس کو چاہیں
عزت دیں، جس کو چاہیں حُسن دیں… یا اللہ آپ ’’حق‘‘ ہیں اور
آپ کا ہر حکم’’برحق‘‘ ہے… یا اللہ میں کسی سے حسد نہیں
کرتا… میرے دل کو حسد کی آگ سے پاک فرما… یہ دعاء کرتے ہوئے دو چار آنسو بھی
بہادیں تو… بہت اُمیدہے کہ دل ٹھنڈا ہو جائے اور آگ بجھ جائے… ورنہ میرے بھائیو!
اور بہنو! کتنا بڑا عذاب ہے کہ ہم دوسروں کی نعمتیں دیکھ کر خواہ مخواہ گُھٹ گھٹ
کر مرتے رہیں اور وہ ان نعمتوں کے مزے لوٹتے رہیں… یاد رکھو! اگر ہمارے دل سے حسد
نکل گیا تو پھر ان شاء اللہ ہم دنیا و آخرت کی
نعمتوں کے مزے لوٹیں گے…
(۶) ابھی سے فضائل رمضان المبارک کی احادیث مبارکہ پڑھنا شروع کر دیں… اس موضوع پر
آسان اور مفید کتاب تو حضرت شیخ الحدیثؒ کا رسالہ’’فضائل رمضان‘‘ ہے… آپ یقین
کریں کہ اسے پڑھتے ہی روح میں عجیب قوت آجاتی ہے… اور انسان کی روح رمضان المبارک
کی برکتوں کا سفر کر آتی ہے… آخر اتنا عظیم الشان مہینہ آرہا ہے… جہنم سے نجات
کا مہینہ… اس مہینے کے بارے میں ابھی سے معلومات لیں گے تو آغاز اچھا ہو گا… جب
کسی عمل کا آغاز اچھا ہو تو ان شاء اللہ اُس کا
اختتام بھی اچھا ہوتا ہے…
(۷) جو مسلمان انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں… وہ عموماً تین طرح کے ہیں…
ایک تو وہ نوجوان جو خالص دینی کام کے لئے اس دلدل میں کشتی
چلاتے ہیں اور پھرپوری محنت کر کے… خود کو غفلت میں ڈوبنے سے بچاتے ہیں… یہ لوگ تو
بہت مبارک اور قابل رشک مسلمان ہیں… اللہ تعالیٰ ان کے عمل
میں خوب برکت عطاء فرمائے… ایسے لوگ تو اپنا کام کرتے رہیں… دوسرے وہ لوگ جو
کھولتے تو دینی کاموں کے لئے ہیں مگر پھر… پھسلتے جاتے ہیں،بہکتے جاتے ہیں … اور
وہ اپنے ساتھ شیطان کو مفتی بنا کر بٹھا لیتے ہیں کہ اس چیز میں یہ فائدہ ہے ، اور
اُس چیز میں وہ فائدہ… اور فلاں کام تو مباح ہے، چلو مباح نہیں تو صرف مکروہ ہے
حرام تو نہیں… چلو تھوڑا سا گناہ ہے مگر میں نے اس لڑکی کو نماز کی دعوت تو دی ہے
وغیرہ وغیرہ… ایسے لوگ اگر اپنے ایمان کی سلامتی چاہتے ہیں تو … ابھی سے اپنے
کمپیوٹر کو بند کرکے رکھ دیں… موبائل چیٹنگ سے توبہ کرلیں… ورنہ رمضان المبارک
ضائع ہونے کا سخت خطرہ ہے… تیسرے وہ لوگ جو کمپیوٹر پر کھلم کھلا گناہ کرتے ہیں…
اور موبائل کو بھی ناجائز استعمال کرتے ہیں… ایسے لوگ تو فورا ًیہ کام چھوڑ دیں…
اللہ پاک کی خاطر، اللہ پاک کی خاطر… دیکھو !
بھائیو! اور بہنو! رمضان المبارک آرہا ہے… ہم سب اپنے محبوب حقیقی کی محبت میں گم
ہو جائیں… اُسی کو منائیں، اُسی کو راضی کریں اور اُسی سے باتیں کریں…
(۸) وہ لوگ جو والدین کی نافرمانی کرتے ہیں، بوڑھے والدین کی بے ادبی کرتے ہیں…
والدین کے حقوق ادا نہیں کرتے… وہ رمضان المبارک آنے سے پہلے اس معاملے کو درست
کر کے رمضان المبارک میں داخل ہوں… والدین اللہ تعالیٰ کی
ایسی نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں…والدین رحمتوں اور دعاؤں کا خزانہ ہیں…
اگر رمضان المبارک کو حاصل کرنا ہے تو پھر والدین کی دعاؤں کو تلاش کرو…
(۹) جب شعبان کی اُنتیس(۲۹) تاریخ ہو تو… مغرب سے کافی پہلے مسجد جا بیٹھیں اور قرآن
پاک کی تلاوت میں مصروف ہو جائیں… تاکہ جب قرآن پاک کامہینہ رمضان المبارک شروع
ہو تو اُس کی پہلی گھڑیاں… ہمیں اللہ تعالیٰ کے گھر
میں اللہ تعالیٰ کا کلام پڑھتے ہوئے پائیں… پھر اگر اُس دن
چاند نظر آجائے تو بہت اچھا… اور اگر نظر نہ آئے تو اگلے دن پھر اسی طرح بن ٹھن
کر خوب اچھے کپڑے، خوشبو، مسواک اور دل کے شوق کے ساتھ رمضان المبارک کے استقبال
کے لئے… مسجد آبیٹھیں… خواتین یہ عمل اپنے گھر میں اپنے مصلّے پر کر کے پورا
فائدہ حاصل کر سکتی ہیں… اور ایک بات یاد رکھیں کہ … جس طرح رمضان المبارک کا
استقبال کریں… اسی طرح اُنتیس اور تیس رمضان المبارک کو مسجد میں تلاوت کرتے ہوئے
اُسے الوداع کہیں…
(۱۰) رمضان المبارک کے
خاص اعمال روزہ، تراویح، تلاوت، قیام اللیل،جہاد، لوگوں کو افطار کرانا، غریبوں کی
مدد کرنا، صدقہ، خیرات، اعتکاف… ذکر اذکار، نوافل اور درودشریف کی کثرت… نظر اور
زبان کی حفاظت… جسم کی کمزوری روح کی تقویت… شب قدر کی تلاش… آخری عشرے کی راتوں میں
زیادہ عبادت… صلہ رحمی…
دعاء کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان
تمام مقبول اعمال میں سے مجھے اور آپ کو وافر حصہ عطاء فرمائے… اور ہم سب کو
قبولیت، رحمت اور مغفرت والا رمضان المبارک نصیب فرمائے… حضرت ابّا جی رحمۃ اللہ
علیہ رمضان المبارک کا بہت اہتمام فرماتے تھے… اس رمضان المبارک
میں اللہ تعالیٰ اُنہیں وہاں کی خاص نعمتیں، راحتیں اور
خوشیاں نصیب فرمائے… آمین یا ارحم الراحمین…
اللھم صل علی سیدنا محمد بقدر قیامہ و صیامہ و عبادتہ وعلی
آلہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ اس رمضان المبارک کی ’’رحمتیں‘‘ پوری اُمتِ
مسلمہ کو نصیب فرمائے… خصوصاً اُن مسلمانوں کو جو کسی بھی مصیبت میںمبتلاہیں…
بارش، سیلاب، ہجرت، اسارت، مظلومیت اور غُربت… ہم مسلمانوں کو ناشکری، دنیا پرستی
اور نا اتفاقی نے کھا رکھا ہے… اسی لئے ہر مصیبت اور آفت نے ہمارے گھر کا دروازہ
دیکھ لیا ہے… مصیبتوں کے ان لمحات میں رحمتوں کا مہینہ رمضان المبارک آرہا ہے تو
دل کو تسلّی ملتی ہے کہ… ایمان والوں کو مایوس نہیں ہو نا چاہئے…
آئیے پہلے اپنے اُن مسلمانوں کے لئے دعاء کر لیں جو… آج
بارش اور سیلاب کی وجہ سے تکلیف میں ہیں… جو مسلمان بارش یا سیلاب میں ڈوب گئے…
اور وہ حالت ایمان پر تھے تو انہیں… ماشاء اللہ شہادت کی
موت نصیب ہوئی… محبوب آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح الفاظ میں
اُن مسلمانوںکو’’شہید‘‘ قرار دیا ہے جو ڈوب کر مرتے ہیں… موت تو ہر کسی کو آنی
ہے… کوئی طوفان یا سیلاب کسی کو اُس کے وقت سے پہلے مار نہیں سکتا… اور جب وقت
آجائے تو کوئی ٹیکنالوجی موت سے بچا نہیں سکتی… شہادت کا اجر بڑی نعمت ہے… مبارک
ہو اُن مسلمانوں کو جنہیں اللہ تعالیٰ نے یہ نعمت نصیب
فرمادی… ڈوب کر چلے جانے والے تو اس فانی دنیا سے چلے گئے… اگر کسی میّت کی مغفرت
ہو چکی ہوتو پھر اُس کی لاش پانی میں تیرتی رہے تب بھی کوئی فرق نہیں پڑتا… او ر
اگر خدانخواستہ مغفرت نہ ہوئی تو لاش کو جتنی بھی ٹھنڈک یا عزت دی جائے مرنے والے
کو اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچتا… خیر جن مسلمانوں کا وقت آچکا تھا وہ تو چلے گئے
، اللہ تعالیٰ اُن سب کی مغفرت فرمائے… اور انہیں شہادت کا اجر نصیب
فرمائے اور اُن کے پسماندگان کو صبر جمیل عطاء فرمائے… مگر جولوگ زندہ ہیں اور
سیلاب میں گھِر چکے ہیں وہ بہت بڑی پریشانی میںہیں… باپردہ عورتوں کے ساتھ اپنے
گھر سے نکل کر دربدر کی ٹھوکریں کھانا بہت بڑا امتحان ہے… اس سیلاب میں اب تک
ساڑھے چھ لاکھ مکانات تباہ ہو چکے ہیں… مکانوں کی اتنی تباہی2005ء کے زلزلے میں
بھی نہیںہوئی تھی… اُس وقت مرنے والوں کی تعداد زیادہ تھی اور اس بار مصیبت زدہ
لوگوں کی تعداد زیادہ ہے… زندہ انسان کو تو بہرحال کھانے، پینے… اور دیگر ضروریات
کی حاجت ہوتی ہے… بہت سے لوگ سیلاب کے عین درمیان میں پھنسے ہوئے زندگی اور موت کی
کشمکش میں ہیں… ایسا وقت بہت مشکل ہوتا ہے… حالتِ امن میں بیٹھنے والا کوئی انسان
اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا… اس سیلاب نے بڑے بڑے مالداروں کو فقیر اور مضبوط
گھروں والوں کو بے گھرکر دیا ہے… ان حالات میں ریلیف کا کام بھی اپنی طاقت اور
استطاعت کے مطابق جاری ہے… مگر اصل کام یہ ہے کہ ہم اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کے غم
اور تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھیں… اُن کے لئے رو رو کر دعاؤں کا اہتمام کریں… خود
سارے گناہ چھوڑ کر توبہ استغفار کریں… کیونکہ جب ایک مسلمان گناہ چھوڑ کر توبہ
استغفار کرتا ہے تو اُس کی برکت سے بہت سی مصیبتیں ٹل جاتی ہیں… ہم اس وقت فضول
سیاسی بحثوں میںنہ الجھیں…ہمارے اکثر سیاستدان انسانی جذبوں سے عاری ایک الگ طرح
کی مخلوق ہیں… اُن کو کیا پرواہ کہ کون مر رہا ہے اور کون جل رہا ہے…اُن کو بس
حکومت چاہئے، اقتدار چاہئے، پیسہ چاہئے اور عیاشی چاہئے… یہ لوگ ملک میں ہوں یا
باہر ہوں ملکی خزانے کو خالی کرتے رہتے ہیں… ایسے دردناک حالات میں ہم ان کے
بیانات اور ان کے طرز عمل میں نہ الجھیں… بارش اور سیلاب کا یہ سلسلہ اور بھی پھیل
سکتا ہے… اور ہم بھی اس کا لقمہ بن سکتے ہیں… چاروں طرف عبرت کے نمونے بکھرے پڑے
ہیں ہم ان سے سبق لیں اور اپنی زندگی کا رخ دین اور آخرت کی طرف موڑ دیں… ہم
سیلاب اور لاشوں سے جہاد کا مسئلہ بھی سمجھنے کی کوشش کریں کہ… موت جہاد سے نہیں
آتی… اور اپنے گھروں میں بیٹھے رہنے سے بہت بہتر ہے کہ ہم جہاد فی
سبیل اللہ کی محنت میں نکلیں اور اپنی زندگی کے اوقات کو
قیمتی بنالیں… سیلاب زدگان کے ساتھ ہمیں اپنی استطاعت کے مطابق تعاون کرنا چاہئے…
اور ساتھ ساتھ ریلیف کے کاموں میں بددینی اور خیانت سے لازماً بچنا چاہئے…ریلیف کے
یورپی اداروںنے خدمت کے اس مقدّس کام کو بھی فحاشی، بے حیائی، تصویر بازی اور دنیا
پرستی سے آلودہ کر دیا ہے… ایسانہ ہو کہ جانیں بچاتے بچاتے ایمان سے ہاتھ دھو
بیٹھیں… رمضان المبارک میں اب صرف دو دن باقی ہیں… بعض روایات میں آیا ہے کہ رسول
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک میں چار کاموں…کی کثرت
کی ترغیب ارشاد فرمائی ہے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اس
ماہ میں چار کاموں کی کثرت کرو ان میں سے دو کام ایسے ہیں کہ ان کے ذریعہ تم اپنے
پروردگار کو راضی کرو گے اور دو کام ایسے ہیں جن سے تم بے نیاز نہیں ہو سکتے ہو…
وہ دو کام جن سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہوگی
(۱) ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ کاورد رکھنا
(۲) اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے رہنا… یعنی استغفار کرنا… اور
وہ دو چیزیں جن سے تم بے نیاز نہیں رہ سکتے ہو یہ ہیں
(۱) جنت کا سوال کرنا
(۲) جہنم سے پناہ مانگنا … (الترغیب والترہیب)
رمضان المبارک میںروزانہ اگر پچیس سو مرتبہ ’’لا الہ الا
اللہ ‘‘ کا معمول بنا لیں تو… اُنتیس دن میں ستّر ہزار کلمے کا نصاب بھی پورا ہو
جائے گا… بلکہ کچھ تعداد زیادہ ہو جائے گی… بہت
سے اللہ والوں نے ستّر ہزار کلمے کو مغفرت کے لئے بہت مؤثر
عمل قرار دیا ہے… اور رمضان المبارک میں تو ہر عمل کا اجر ویسے ہی ستّر گنابڑھ
جاتا ہے… ضروری نہیں کہ آپ باقاعدہ مصلے پر بیٹھ کر پڑھیں… چلتے پھرتے، کھانا
پکاتے، کپڑے دھوتے… ہرو قت زبان پر ذکر اور درودشریف جاری رکھنے کی عادت ڈالنی
چاہئے… اسی طرح استغفار روزانہ تین سو کا معمول ہو جائے… حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ
علیہ فرماتے ہیں کہ کسی چیز کی کثرت تین سو سے شروع ہوتی ہے… اور جنت کے سوال اور
جہنم سے پناہ کی دعاء بھی تین سو بار ہو جائے…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ ، اَسْتَغْفِرُ اللہ ، اَللّٰھُمَّ
اِنِّی اَسْئَلُکَ الْجَنَّۃَ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ النَّارِ
ویسے رمضان المبارک میں زیادہ توجہ قرآن پاک کی طرف دینی
چاہئے… قرآن پاک کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کریں… بھولے ہوئے حافظ زیادہ وقت قرآن
پاک کو یادکریں… روزانہ قرآن پاک کی چند آیات کا ترجمہ اور تفسیر بھی’’فتح
الجوّاد‘‘ سے دیکھ لیا کریں… اور تراویح میں قرآن پاک سننے اور سنانے کا خاص
اہتمام کریں… بارش اور سیلاب کے علاوہ بھی بہت سے مسلمان دنیا بھر میں’’تکلیف
زدہ‘‘ہیں… ان دنوں ہمارے پڑوس مقبوضہ کشمیر میں ظلم کا خوفناک بازار گرم ہے …
روزانہ نہتے شہریوں کو شہید کیا جارہا ہے… اور مسلمانوں کو مساجد میں نماز تک ادا
نہیں کرنے دی جارہی … اہل کشمیر کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں… اور اُدھر غزہ کے
مسلمان کتنے عرصہ سے محاصرے میں ہیں… اُن کے خوبصورت بچے دودھ اور بسکٹ تک سے
محروم ہو کر سوکھ رہے ہیں…اور اُن کے گھروںمیں بھوک اور خوف کی ریت اڑ رہی ہے… اہل
فلسطین کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں… بہت سے اہل ہمت مسلمان کفار کی جیلوںمیں
قید ہیں… سری نگر سے لیکر راجھستان تک… اور بگرام سے لے کر خوست تک… اور بہت دور
گوانتاناموبے تک… اور اُدھر عراق میں ابو غریب اور نامعلوم کتنی جیلیں… رمضان
المبارک آرہا ہے اپنے اسیر بھائیوں کویاد رکھیں… ابھی یہ الفاظ لکھتے ہوئے میری
آنکھوں کے سامنے کئی منوّر چہرے چمک اٹھے… کس کس کا نام لوں، کس کس کو یاد کروں…
بہت سے اُمت مسلمہ کے سالار… اور بہت سے اس امت کے جگر گوشے… اب تو اُن میں سے کئی
بوڑھے ہوگئے… اور کئی بیمار… دنیا میں مسلمانوں کا کوئی ایک ملک بھی ایسا نہیں
جہاں دین آزادہو، جہاد آزاد ہو… اور اُس ملک کی حکومت اسیر اور مظلوم مسلمانوں
کے متعلق سوچتی ہو… رمضان المبارک آرہاہے دعاء کریں کہ حالات اچھے ہوجائیں… ہم
مسلمانوں کے لئے رحمت اور خلافت کا فیصلہ آسمان سے اتر آئے… ویسے ناشکری کی کوئی
بات نہیں… ہم مظلوم ہو کر بھی الحمدللہ اس دنیا کی سب سے بڑی قوت ہیں… ساری دنیا کے
کافر اور منافق خود تسلیم کر رہے ہیں کہ… اسلام بہت بڑی قوت ہے، جہاد بہت بڑی طاقت
ہے… و الحمدللہ رب العالمین
اللھم صل علی سیدنا محمد عددمافی
علم اللہ عزّوجلّ صلوٰۃ دائمۃ بدوام
ملک اللہ عزّوجلّ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
پھر کوئی ڈر نہیں
اللہ ،اللہ ،اللہ ،رمضان المبارک آچکا ہے… اوراب تیزی سے جا رہا ہے… ہمارے
تو آج پانچ روزے پورے ہوئے جبکہ عرب ممالک میں چھ روزے ہو چکے ہیں… کبھی ایسا بھی
ہو گا کہ سب مسلمان ایک چاند پر رمضان اور عید منائیں گے؟… جی ہاں جب پوری دنیا
میں اسلامی خلافت قائم ہو جائے گی تو ایسا ضرور ہو گا… فی الحال تو ہم سب گزارہ
چلائیں … ہم اگراس طرح کے مسائل میں شدّت کریں گے تو مسلمانوں میں اور زیادہ ٹوٹ
پھوٹ ہو جائے گی… بس جہاں حکومت کی چلتی ہے وہاں رؤیت ہلال کمیٹی کے اعلان کو مان
لیا کریں… اور جہاں علماء کی مقامی کمیٹیاں فیصلہ کرتی ہیں وہاں اکثرعلماء کے
فیصلے پر عمل کر لیا کریں… ذہنی ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں… اس طرح کی رنگا رنگی سے
بھی لطف اندوز ہوا کریں… جب ہمار اکچھ بھی سیدھا نہیں توچاند کا مسئلہ کیسے سیدھا
ہو سکتا ہے؟… ہمارے حکمرانوں نے اللہ تعالیٰ کی مقرر فرمودہ
ہر’’ حد‘‘ کو توڑا ہے تو اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق’’پانی‘‘
نے بھی ہر حد کو توڑ دیا ہے… اللہ ،اللہ
،اللہ ،کیسے بڑے بڑے شہر ڈوب گئے… اوربقول حکمرانوں کے پاکستان پچاس سال پیچھے چلا
گیا…
تھوڑا سا دس پندرہ سال پہلے والے پاکستان کو یاد کریں… اور
پھر آج کے ٹوٹے، پھوٹے، ڈوبے پاکستان کو دیکھیں… اللہ ،اللہ ،اللہ … حکمرانوں نے کسی کے سمجھانے
کی پرواہ نہیںکی… اللہ والوں نے بار بار وارننگ دی مگر… کسی
نے نہیں سنی… ہم نے ایک بدبودار نعرہ لگایا اور یہ نعرہ لگاکر اپنے مسلمان پڑوسیوں
کو خاک و خون میں نہلا دیا… سب سے پہلے پاکستان… پھر زلزلے نے بھی اعلان کر دیا
کہ… سب سے پہلے پاکستان… دیکھتے ہی دیکھتے ایک لاکھ افراد لقمۂ اجل بن
گئے… بدامنی نے بھی اعلان کر دیا کہ… سب سے پہلے پاکستان… اور پھر پاکستان میں ہر
کسی کا امن چھن گیا… اور اب بارشوں اور سیلاب نے یہی اعلان کر کے جنگ کا نقارہ بجا
دیا ہے … سب سے پہلے پاکستان…
اللہ ،اللہ ،اللہ …
حکمرانوں نے کیسا عظیم جُرم کیا… صدیوں بعد زمین کے ایک چپّے پر اسلامی حکومت قائم
ہوئی تھی… اس حکومت میں عدالتی فیصلے قرآن پاک کرتا تھا… ہمارے حکمرانوں نے
ڈالروں کے لالچ میں… اور تباہی کے خوف سے کہ ہمارا آملیٹ نہ بن جائے… اسلامی
امارت کو ختم کر ادیا… اللہ ،اللہ ،اللہ …عجیب
حالات تھے… یاد آتے ہیں تو دل ڈوبنے لگتا ہے… مسلمانوںکی زمین اور فوجی اڈے
کافروں کو دے دیئے گئے… ایک اسلامی مُلک کافروں کی جنگ کا مورچہ بن گیا… کافروں کا
مورچہ، توبہ توبہ کافروں کا مورچہ… اس مورچے میں بیٹھ کر کافروں نے کتنے مسلمانوں
کو شہید کیا… کوئی ہے جو گنتی کرے؟… ہزاروں لاکھوں مسلمان اس طرح سے پناہ کی تلاش
میں پھر رہے تھے جس طرح انسان نہ ہوں بے قیمت جانوروں کے گلّے ہوں… کتنے معصوم
بچوں نے اپنی ماؤں کی گود میں دم توڑ دیا… اُن بے چاریوں کے جسم میں دودھ ہوتا تو
پلاتیں… قندھار کے چند مہمان مجاہدین رو رو کر، چیخ چیخ کر افغانوں سے کہہ رہے
تھے!… اللہ کے لئے ہماری عورتوں سے شادیاں کر لینا مگر ان
کو کافروں کے ہاتھ نہ لگنے دینا… آسمان سے کارپٹ بمباری اور زمین پر سازش کی بو…
ہمارا مُلک پہلے تھوڑا اور پھر پورا بکتا چلا گیا… چھ سو مسلمانوں کو پکڑ کر دور
افتادہ دریاؤں کے کنارے شہید کر دیا گیا… نہ جنازہ، نہ کفن… بس تصویریں کھینچ کر
امریکہ کو بھیجی گئیں… اور ان لاشوں پر انعامات وصول کئے گئے… کئی ہزار افراد کو
پکڑ کر امریکہ کے ہاتھ فروخت کر دیا گیا… ہاں انسانوں کی تجارت کا ایک بھیانک دور
ہمارے مُلک نے دیکھا… اُس وقت مُلک کے اندر کوئی شورش نہیں تھی… مگر حکمرانوں پر
انعامات پانے، ڈالر کمانے اور امریکہ کو خوش کرنے کا بھوت سوار تھا… اور امریکہ کے
منہ سے ایک ہی آواز آتی تھی… ڈو مور ڈو مور… تب خودشدّت پسندی کو کھڑا کیا جاتا
اور پھر اُسے گرا کر انعامات وصول کئے جاتے… اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے پورا مُلک
دھماکوں اور آپریشنوں سے لہو لہان ہو گیا… اللہ ،اللہ ،اللہ … مسلمان خود مسلمان
کا قاتل… مسلمان خود مسلمان کو بیچنے والا… اور مسلمان خود مسلمان کا دشمن…دریاؤں
میں سیلاب نہ آئے تو پھر کیا آئے؟… گوانتا نا موبے کے قیدی جب قنوت نازلہ میں
چیخیں اٹھاتے ہیں تو کیوبا کا سمندر بھی سانس لینا بھول جاتا ہے… کتنے مظلوموں نے
سیکورٹی والوں کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیا… جواب ملا ہم نے
مُلک بچانا ہے… قرآن پاک کا واسطہ دیا ، جواب ملا ہم نے مُلک بچانا ہے… اور آج
سب چیخ رہے ہیں کہ ہمارا مُلک ڈوب گیا، ہمارا مُلک ڈوب گیا… بلاؤ نہ امریکہ کو
کہ… وہ سیلاب کو روک دے… ان سیلابوں نے تو زمین کی جڑیں تک ہلا دی ہیں… اور اب ایک
اور خوفناک زلزلے کا خطرہ ہے… ہر دن نیا ظلم اور ہر رات نیاستم… حضرت ملّا برادر
جیسے پاکستان کے دوست کو پکڑ کر حکمرانوں نے عذاب الہٰی کو دعوت دی… اور اب اس
رمضان میں جیش محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر اسلامی تنظیموں پر
کریک ڈاؤن کی تیاری تھی… اللہ پاک کے لئے قربانیاں دینے
والے… رات دن قرآن پاک پڑھنے والے… صبح شام ذکر اللہ میں
مست… اِن مجاہدین کو ہر آئے دن جیلوں اور عقوبت خانوں میں ستایا جاتا ہے… اورجب
بھی کوئی بڑا کافر مُلک میں آتا ہے… یا ہمارے حکمران کسی کافر مُلک جاتے ہیں
تومحض عزت اور تماشے کے لئے اہل ایمان کو ستایا جاتا ہے… حکمران فخر سے بتاتے
ہیںکہ… ہم نے اتنے مسلمان مجاہدین مارے اوراتنے پکڑے… صحافی فخر سے بتاتے ہیں کہ
ہم نے قرآن، جہاد اور مدرسے کے خلاف کتنا کام کیا…لسانی لیڈر فخر سے بتاتے ہیںکہ…
ہم نے قوم کے اتنے افراد کو اسلام سے ہٹا کر کر لسانیت پرستی پر لگا دیا ہے… ان
حالات میں اگر پانی بے قابو ہو کر شہروں میں گُھس آیا ہے تو اس کا کیا قصور ہے؟…
وہ مزید کتنے مظالم دیکھے؟ اور مزید کتنے گناہوں کو جھیلے؟… اچھا تھوڑی دیر اپنی
بات کو یہاں روکتے ہیں … ایک سوال!…ظلم تو حکمرانوں نے کیا جبکہ مصیبت عوام جھیل
رہے ہیں… سیلاب میں نہ پرویز مشرف ڈوبا… اور نہ موجودہ حکمران… اُن کے اونچے بنگلے
محفوظ ہیں… جبکہ غریب کی جھونپڑی بہہ گئی… عذاب آنا تھا تو حکمرانوں پر آتا… مگر
وہ مزے میں تھے اور ہیں… سیلاب اگرزیادہ آگیا تو وہ لندن، واشنگٹن، دوبئی بھاگ
جائیں گے… جواب بالکل واضح ہے… بڑے عذاب میں تو حکمران ہی جکڑے جا چکے ہیں…
مسلمانوں کے خلاف کافروں کی مدد کرنا…سیلاب سے بڑا عذاب ہے… مسلمانوں کو قتل کرنا
اور اُن کے خون کا وبال سر پر اٹھانا… زلزلے سے بڑا عذاب ہے… اپنے دور حکومت میں
صدی کا سب سے آفت زدہ زمانہ پانا ایک مستقل عذاب ہے… کافر حکمرانوں کے سامنے دن
رات گڑ گڑانا اور ان کے مطالبات پر گردن جھکانا… طوفان سے بڑا عذاب ہے… حکومت ہونے
کے باوجود قرآن پاک کو نافذ نہ کرنے کا گناہ اٹھانا… ایک سخت ترین عذاب ہے… دن
رات اپنی حکومت کے زوال سے ڈرتے رہنا اور ہر طرف سے ملامتوںکو اٹھانا ایک درد ناک
عذاب ہے… ارے بھائیو!ہم اور آپ تو اگر ایمان پر ہیں تو ربّ تعالیٰ کی قسم مزے میں
ہیں… ہمیں نہ ہیلری کا ڈر نہ ابامہ کا خوف… اور نہ مسلمانوں کے خون سے ہمارے ہاتھ
رنگین… اور نہ ہم اپنی زمین کوڈالروں کے بدلے بیچنے والے… اور نہ ہم کسی کافر کے
سامنے جوابدہ اور نہ کسی منافق کے سامنے…ان حکمرانوں کا تو بُرا حال ہے… دن رات
وبال ہی وبال ، عذاب ہی عذاب… ویسے عوام کی بڑی تعداد بھی تو انہیں کو منتخب کرتی
ہے… پاکستان کا عمومی ماحول بھی… بے دینی کی زد میں ہے… اور قوم پرست لسانی
تنظیموں نے تو مُلک کی لٹیا ہی ڈبو رکھی ہے… اللہ ،اللہ ،اللہ … رمضان المبارک شروع ہو چکا
ہے… دن رات عجیب مناظر ہیں… وہ جو فرض نمازوں میں سستی کرتے تھے… اب
ماشاء اللہ تہجد بھی نہیں چھوڑتے… ویسے رمضان المبارک میں
تہجد سے محروم ہونا عجیب سا نہیں لگتا؟… سحری کھانے کے لئے تو اٹھنا ہی ہوتاہے…
تہجد تو عاشقوں کی نماز ہے… اور تہجد میں دعائیںزیادہ قبول ہوتی ہیں… کتنے لوگوں
کودیکھا کہ ماشاء اللہ اب باقاعدگی سے مسجد میں جارہے ہیں… اللہ ،اللہ ،اللہ … مساجد میں رش دیکھ کر تو
اتنی خوشی ہوتی ہے کہ بیان سے باہر ہے…ہر عبادت میں الگ سرور، الگ مزہ… اور اجر کے
خزانے… پہلے بھی ’’سبحان اللہ ‘‘پڑھتے تھے… مگر اب پڑھتے ہیں تو اس میں
ستر گنا زیادہ وزن اور نور آجاتا ہے… ایک سو روپے صدقہ کئے تو سیدھے
سات ہزار بن گئے… اور پھر جہاد کے اجر کو شامل کریں تو کوئی معاملہ کروڑوں سے نیچے
رکتا ہی نہیں … ویسے یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس
سے بھی زیادہ وسیع ہے…صرف زمین کے نظام شمسی میں ایسے بڑے بلیک ہول موجود ہیں کہ…
اگر امریکہ، روس سمیت ساری زمین کو اس میں ڈال دیں تو یوں غائب ہو جائے جیسے بڑے
مین ہول میں ایک چھوٹی سی گیند… یہ تو ایک زمین ہے… جبکہ قرآن پاک میں سات زمینوں
کا تذکرہ ہے… اور سات آسمان… جن کے قریب بھی ابھی تک کوئی سائنسدان نہیں پہنچ
پایا… اتنا عظیم ربّ جس نے یہ کائنات پیدافرمائی… روزے دار مسلمان سے محبت فرماتا
ہے اور ارشاد فرماتا ہے کہ… روزے کا بدلہ میں خود دوں گا… اللہ ،اللہ ،اللہ … بس مجھے اور آپ کو کوشش
کرنی چاہئے کہ … رمضان المبارک میں کوئی گھڑی ضائع نہ کریں… اگر کوئی بیمارہو جائے
تو… وہ بھی لیٹا لیٹا دعائیں کرتا رہے اور آنسو بہاتارہے… ارے بھائیو! او ربہنو!…
رمضان المبارک کی دعاؤں پر تو عرش کے فرشتے آمین کہتے ہیں… خوب دعائیں اور خوب
آہ وزاری… اور دعاؤں میں یہ بھی کہہ دیں کہ…
یا اللہ حکمرانوں کے مظالم سے ہم بری ہیں… ہم آپ کے اورآپ
کے دین کے وفادارہیں… اور ہم اسلام اور قرآن پاک کے ہر حکم کو مانتے ہیں… اور
یا اللہ ! ہم آپ کے فرض کردہ حکم جہاد کے منکر بھی نہیں ہیں… ارے بھائیو!
آپ نے کسی ناجائز عاشق کو فون پر بات کرتے دیکھا ہے؟… گھنٹوں، گھنٹوں کھوئے رہتے
ہیں… اور پتہ نہیں کیا کیا بکتے رہتے ہیں… ارے بھائیو! اور بہنو! ایمان والے تو
اللہ تعالیٰ سے بہت والہانہ محبت کرتے ہیں… پھر دعاؤں میں کھو
کیوںنہیں جاتے؟… مانگتے جاؤ، مانگتے جاؤ… محتاج اور ضرورت مند بھکاری سے بھی
زیادہ عاجزی اور آہ وزاری… مانگتے جاؤ، مانگتے جاؤ… ہر گناہ کی معافی مانگ
لو…اگر میری اور آپ کی ’’معافی‘‘ اور مغفرت ہوگئی تو پھر کوئی ڈر نہیں، سیلاب میں
ڈوب جائیں یا زلزلے میں دب جائیں… ارے تب تو ہم اپنے مالک اور محبوب کے پاس چلے
جائیں گے… وہاں نہ کوئی غم نہ خوف… نہ کمر کا درد اور نہ دل کی بے چینی… نہ کوئی
ظلم… اور نہ کوئی اندیشہ… سکون ہی سکون… مزے ہی مزے… رمضان المبارک گزر رہا ہے…
یا اللہ القلم پڑھنے والے تمام مرد اور خواتین کی مغفرت فرما…
دیکھیں میں نے آپ کے لئے دعاء مانگ لی… اب آپ بھی میرے لئے یہی دعاء مانگ لیں…
پورا رمضان میں بھی مانگتا رہوں… اور آپ بھی مانگتے رہیں… اللہ ،اللہ ،اللہ … کتنی مبارک گھڑیاںہیں… اور
کیسا مبارک مہینہ…غم کے دور میں برکتوں اورخوشیوں کا مہینہ… یا اللہ !
ہمیں اس کی قدر کرنے کی توفیق نصیب فرما… آمین یا ارحم الراحمین
اللھم صل علی سیدنا محمد بعدد کل معلوم لک دائما ابدا وعلی
الہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
قوت کا راز
اللہ تعالیٰ مجھے اورآپ سب کو اپنے پیارے ’’دین اسلام‘‘ کی
سمجھ عطاء فرمائے…
روزے کی اہمیت
حضرت شیخ الحدیث نور اللہ مرقدہ
تحریر فرماتے ہیں:
ایک حدیث میں ہے کہ اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ
’’رمضان‘‘ کیا چیز ہے تومیری اُمت یہ تمنّا کرے کہ سارا سال رمضان ہی ہو جائے… ایک
حدیث میں ارشاد ہے کہ ’’رمضان المبارک‘‘ کے روزے اور ہر مہینے میں تین روزے رکھنا
دل کے کھوٹ اور وساوس کو دُورکرتا ہے، آخر کوئی بات تو ہے کہ صحابہ کرام ڑ رمضان
کے مہینے میں جہاد کے سفر میں باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کے بار بار افطار کی اجازت فرما دینے کے روزہ کا اہتمام فرماتے
حتیٰ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حُکماً منع فرمانا پڑا… مسلم شریف
کی ایک حدیث میں ہے کہ صحابہ کرامؓ ایک غزوہ کے سفر میں ایک منزل پر اُترے گرمی
نہایت سخت تھی اور غربت کی وجہ سے اس قدر کپڑا بھی سب کے پاس نہ تھا کہ دھوپ کی
گرمی سے بچاؤ کر لیں، بہت سے لوگ اپنے ہاتھ سے آفتاب کی شعاع سے بچتے تھے، اس
حالت میں بھی بہت سے روزے دار تھے، جن سے کھڑے ہو سکنے کا تحمل نہ ہوا اور گر گئے
، صحابہ کرامؓ کی ایک جماعت گویا ہمیشہ تمام سال روزے دار ہی رہتی تھی۔(فضائل
رمضان)
حضرت ہجویری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
’’صرف کھانے اور پینے سے رُکے رہنا تو بچوں اور بوڑھی
عورتوں کا روزہ ہے، جب کہ روزہ دراصل خواہشات، لہو، لعب اور غیبت سے بچنے کا نام
ہے‘‘ (کشف المحجوب)
رمضان المبارک کا اتنا عظیم اور قیمتی مہینہ تیزی سے گزر
رہا ہے… ہم سب اپنے اوقات کو قیمتی بنائیں اور یہ یاد رکھیں کہ رمضان المبارک کی
ہر گھڑی رمضان المبارک ہے… رات ہو یا دن… صبح ہو یا شام رحمت ہی رحمت ہے اور برکت
ہی برکت ہے… چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے یہ بات یاد رکھیں کہ ہم رمضان المبارک میں
ہیں… چنانچہ خوب نیکیاں کریں، گناہوں سے بچیں… اور اپنے وقت کو فضول کاموں اور
باتوں میں ضائع نہ کریں… گپ شپ تو پھر بھی ہوتی رہے گی ابھی تو رمضان المبارک ہے
اس میں خوب تلاوت، خوب ذکر، خوب دعاء، خوب نوافل، خوب خیرات، خوب درود شریف اور
خوب عبادات کا اہتمام کریں…
اعتکاف، عشق کی آبرو
رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف بہت اہم اور عاشقانہ
عبادت ہے… حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:
’’اعتکاف کا بہت زیادہ ثواب ہے اور اس کی فضیلت اس سے زیادہ
کیا ہو گی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اس کا
اہتمام فرماتے تھے… معتکف کی مثال اس شخص کی سی ہے کہ کسی کے دَر پرجا پڑے کہ جب
تک میری درخواست قبول نہ ہو میں یہیں پڑا رہوں گا ؎
نکل جائے دم تیرے قدموں کے نیچے
یہی دل کی حسرت یہی آرزو ہے
(فضائل رمضان تسہیل)
صاحب مراقی الفلاح پکہتے ہیں کہ اعتکاف اگر اخلاص کے ساتھ
ہو تو افضل ترین اعمال میں سے ہے، اس کی خصوصیتیں شمار سے باہر ہیں کہ اس میں دل
کو دنیا و مافیھا سے یکسو کر لینا ہے اور نفس کو مولیٰ کے سپرد کردینا ہے اور آقا
کی چوکھٹ پر پڑ جانا ہے ؎
پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑا رہوں
سر زیر بار منّتِ درباں کئے ہوئے
(فضائل رمضان)
اس سال مسلمانوں پر کافی سخت حالات آئے ہوئے
ہیں… ان حالات میں اعتکاف کی ضرورت بڑھ جاتی ہے… تاکہ کئی لوگ سب کو
چھوڑکر اللہ تعالیٰ کے حضور آپڑیں اور عید کا چاند نظر
آنے تک ہر کسی سے کٹ کر صرف اللہ تعالیٰ سے جُڑے رہیں… اور
اُس کے گھر کی چوکھٹ پر پڑے رہیں… خواتین تو اپنے گھروں میں اعتکاف کا اہتمام کریں
جبکہ مرد حضرات مسجد کے اعتکاف کی فکر کریں… بہاولپور کی جامع مسجد عثمانؓ وعلیؓ
میں اس سال بھی عاشقانہ اعتکاف ہو گا… آپ سب کی خدمت میں صلائے عام ہے…جو بھی
تشریف لائے مرحبا!… ایک بار پھر گزارش ہے کہ اس سال اعتکاف کی زیادہ کوشش اور فکر
کریں… ان شاء اللہ بہت فائدہ ہو گا…
مال سے جنّت خریدی
حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرںماتے ہیں:
روح البیان میں بروایت ابن عمرذنبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کا ارشاد نقل کیا ہے کہ میری اُمّت میں ہر وقت پانچ سو
برگزیدہ(یعنی اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ) بندے اور چالیس ابدال
رہتے ہیں، جب کوئی شخص ان میں سے مرجاتا ہے تو فوراً دوسرا اس کی جگہ لے لیتا ہے،
صحابہؓ نے عرض کیا ان لوگوں کے خصوصی اعمال کیا ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ظلم کرنے والوں سے درگزر کرتے ہیں اور بُرائی
کا معاملہ کرنے والوں سے (بھی) احسان کا برتاؤ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ
کے عطاء فرمائے ہوئے رزق میں لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور غم خواری کا برتاؤ کرتے
ہیں، ایک دوسری حدیث میں نقل کیا ہے کہ جو شخص بُھوکے کو روٹی کھلائے یا ننگے کو
کپڑا پہنائے یا مُسافر کو شب باشی کی جگہ دے حق تعالیٰ شانہ قیامت کے ہُولوں(یعنی
خوفناکیوں) سے اس کو پناہ دیتے ہیں، یحییٰ برمکیپ ،حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ
پر ہر ماہ ایک ہزار درہم خرچ کرتے تھے تو حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ سجدے میں
اُن کے لئے دعاء کرتے تھے کہ یا اللہ یحییٰ نے میری دنیا کی
کفایت کی تو اپنے لطف سے اس کی آخرت کی کفایت فرما… جب یحییٰپ کا انتقال ہوا تو
لوگوں نے خواب میں اُن سے پوچھا کہ کیا گُزری؟انہوں نے کہا سُفیان پکی دعاء کی
بدولت مغفرت ہوئی(فضائل رمضان)
معلوم ہوا کہ
٭ اپنے دل کو مسلمانوں کے بغض اور کینے سے صاف رکھنا اور
مسلمانوں پر ظلم نہ کرنا یہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء اور
ابدال کا طریقہ ہے… ہر مسلمان کو چاہئے کہ یہ کیفیت حاصل کرنے کی دعاء اور کوشش
کرے
٭ اپنے مال سے غریبوں کی خیر خواہی کرتے رہنا چاہئے، مال
جمع کرنا کمال نہیں ہے… بلکہ اپنے مال سے جنت خریدنا بہت بڑی حکمت اور عقلمندی ہے…
اور اللہ تعالیٰ جسے یہ حکمت اور عقلمندی عطاء فرمادے تو
اُسے بہت بڑی خیر نصیب ہو جاتی ہے…
٭ رمضان المبارک میں خصوصی طور پر مسلمان سے اچھا برتاؤ
کرنا چاہئے… اور اپنے مال کو زیادہ سے زیادہ دینی کاموں پر اور غرباء و مساکین پر
خرچ کرنا چاہئے…
ایک مفید خط اور واقعہ
میرے ایک کرم فرما بزرگ، عالم دین… ضلع لودھراں کے رہنے
والے ہیں… آزادی کے دنوں میں اُن سے خوب ملاقاتیں رہتی تھیں… اب بھی کبھی کبھار
خط لکھتے رہتے ہیں… حال ہی میں اُن کا ایک خط آیا ہے… اس میں انہوں نے حضرت
مولانا شاہ محمد الیاس رحمۃ اللہ علیہ کا ایک واقعہ تحریر فرمایا ہے… قارئین
پہلے وہ واقعہ ملاحظہ فرمالیں پھر آخر میں چندباتیں عرض کی جائیں گی…
’’مولانا منظور احمد نعمانی نور اللہ مرقدہ نے
رئیس التبلیغ مولانا محمد الیاسپکے ملفوظات جمع فرمائے ہیں۔ فرمایا کہ بمبئی کے
اردو روزنامہ الہلال کے ایڈیٹر حافظ علی بہادر خاں بی اے حضرت کے مرض الوفات میں
ایک دن حضرت کی زیارت کے لئے تشریف لائے حضرت نے انتہائی ضعف و ناتوانی میں
تقریباً آدھ گھنٹہ دعوت تبلیغ فرمائی اور وہ حافظ صاحب اس گفتگو اور دعوت سے بہت
متاثر ہوئے اور بمبئی پہنچ کر انہوں نے الہلال کی چند اشاعتوں میں حضرت کی شخصیت
اور دینی دعوت کے متعلق اپنے تاثرات لکھے حضرت کی دعوت اصلاح و تبلیغ کی عظمت
اہمیت سنجیدگی کا اعتراف اس طرح کیا کہ جس کی توقع آج کل کے کسی ایڈیٹر اور لیڈر
سے نہیں کی جاسکتی۔ الہلال کے وہ پرچے مجھے ایک جگہ سے مل گئے، جنہیں پڑھ کر مجھے
بے حد خوشی ہوئی۔ اور میں نے ارادہ کیا کہ میں حضرت کو بھی یہ سناؤں گا چنانچہ
میں وہ پرچے ہاتھ میں لے کر مناسب وقت کی امید کے ساتھ حاضر خدمت ہوا۔ کہ ہاتھ میں
پرچے دیکھ کر حضرت خود ہی فرمائیں گے کہ یہ ہاتھ میں کیا ہے۔ تو مجھے عرض کرنے اور
مضامین سنانے کا موقعہ مل جائے گا، لیکن میری توقع اور آرزو کے خلاف حضرت نے کچھ
پوچھا ہی نہیں، دیر تک انتظار کے بعد جب میرا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا تو میں نے
خود ہی عرض کیاکہ حضرت فلاں دن بمبئی کے حافظ علی بہادر خاں صاحب جو تشریف لائے
تھے وہ الحمدللہ ہماری دعوت سے بہت ہی متاثر ہوکر گئے اور انہوں
نے اپنے اخبار میں ہمارے کام کے متعلق چند مضامین لکھے ہیں جن میں کام کی عظمت اور
اہمیت کا انہوں نے بہت اعتراف کیا ہے۔ اگر ارشاد ہو تو ایک آدھ مضمون سنا دوں؟
فرمایا مولوی صاحب جو کام ہو چکا اس کا ذکر کیا کرنا ہے۔اس میں یہ فکر کرو کہ جو
کچھ ہم نے کرنا تھا اس میں کیا کمی رہ گئی اور جو کچھ کیا جا چکا اس میں کتنی اور
کیسی کوتاہیاں ہوئیں۔ اخلاص میں کتنی کمی واقع ہوئی عظمت امر الہٰی میں کتنا قصور
واقع ہوا آداب عمل کے تفقد اور اتباع اسوۂ نبوی کی کوشش میں کتنا نقصان ہوا۔
مولوی صاحب اس فکر اور سوچ کے بغیر پچھلے کام کا ذکر و مذاکرہ اور اس پر خوش ہونا
، تو بس ایسا ہی ہے جیسے راستہ چلنے والا مسافر کھڑا ہوکر پیچھے کی جانب مڑ کر
دیکھنے لگے اور خوش ہونے لگے۔ پچھلے کام کی صرف کوتاہیاں تلاش کرو اور ان کی تلافی
کی فکر کرو اور آئندہ کے لئے سوچو کہ کیا کرنا چاہئے، بلکہ اس پر غور کرو کہ ایسے
کتنے لاکھ اور کتنے کروڑ باقی رہ گئے جن کو ہم دعوت
الی اللہ پہنچا بھی نہیں سکے اور کتنے ہیں جو واقفیت اور
اعتراف کے بعد بھی ہماری کوششوں کی کمی کی وجہ سے عمل پر نہیں پڑے۔‘‘(انتھیٰ)
حضرت مولانا محمد الیاس رحمۃ اللہ علیہ اس اُمت کے محسنین
اور مجدّدین میں سے تھے… اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل میں دین
کادردڈالا، پھر آپ کو دین کے کام کا ایک طریقہ الہام فرمایا… اور پھر آپ کے کام
کو قبولیت اور ترقی سے نوازہ… اللہ تعالیٰ تبلیغ کے کام کو
مزید قبولیت اور ترقی عطاء فرمائے… اور اسے کھیل کود، کرکٹ، شوبز اور انکار جہاد
کے فتنوں سے بچائے… اور اس عظیم کام کو حضرت مولانا محمد الیاس صاحب رحمۃ اللہ
علیہ کے بیان کردہ اصولوںکے مطابق چلانے کی موجودہ قیادت کو توفیق عطاء فرمائے… ہم
نے اوپر جو واقعہ پڑھا ہے اس سے کئی اسباق ملتے ہیں مثلاً
(۱) حضرت مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ کام کی کار گزاری
بیان کرنے کے خلاف نہیں تھے… کار گزاری کا تواُن کے ہاں بہت اہتمام تھا… اور ماضی
کی کارگزاری کے بغیر کوئی کام ترقی بھی نہیں کر سکتا… مگر یہاں کار گزاری نہیں تھی
بلکہ… ایک نیم سیاسی اخبار کی طرف سے خراج تحسین تھا… اور حضرت مولاناؒ اپنے کام
کو مروّجہ سیاست… اور عام صحافت سے بہت دور رکھنا چاہتے تھے… اور چونکہ طبیعت میں
تنقید کا مزاج نہیں تھا تو اس لئے ایک خاص حکمت سے اپنی جماعت کی توجہ اخبارات اور
صحافت سے ہٹا دی… اور ماشاء اللہ مولانا کی اس حکمت عملی کا جماعت کا
بہت فائدہوا… عام صحافی اور کالم نویس حضرات اپنی رائے اور ترجیحات بدلتے رہتے
ہیں… آج وہ کسی کے حق میں کچھ لکھتے ہیں کل اُسی کے سر پر جوتے بھی برساتے تھے…
اور یہ صحافی حضرات کسی بھی کام کی تائید کرنے کی کم سے کم قیمت یہ وصول کرتے ہیں
کہ… اُس کام کے بارے میں طرح طرح کے مشورے جھاڑنے شروع کر دیتے ہیں… حضرت مولانا
محمد الیاسؒ اپنے دینی کام کو ان فتنوں سے بچانا چاہتے تھے… چنانچہ انہوں نے اخبار
کی طرف توجہ ہی نہیں فرمائی… بلکہ اوروں کوبھی پڑھنے سے منع فرمایا… اب کوئی تعریف
لکھے یا مذمّت اُس کا اُن کے دینی کام پر کوئی اثر نہیں پڑتا… الحمدللہ اللہ تعالیٰ کی
توفیق سے ہماری جماعت کا بھی یہی طرز عمل رہا… بہت سے صحافی حضرات نے اپنی خدمات
پیش کیں… اور کئی لوگوں کی طرف سے میڈیا پر آنے کا کافی دباؤ رہا… مگر الحمدللہ مناسب دوری رہی… جس کا بہت
فائدہ اللہ تعالیٰ نے نصیب
فرمایا… اللہ کرے آئندہ بھی جماعت اپنی اس حکمت عملی پر
گامزن رہے…
(۲) حضرت مولانا محمد الیاس رحمۃ اللہ علیہ کا ایک خاص
عمل… اپنی غلطیوں کا مراقبہ تھا…یہ وہ عمل ہے کہ جس نے اُن کی جماعت کو بہت سے
عظیم فتنوں سے بچارکھا ہے… تکبّر اور عُجب سے جماعتوں کی جڑیں اکھڑ جاتی ہیں… اور
طرح طرح کے اختلافات اور فتنے جنم لیتے ہیں… لیکن اگر نظر اپنی غلطیوں اور
کوتاہیوں پر ہو تو انسان ہمیشہ استغفار کرتاہے… اوریہ قرآن پاک کا اعلان ہے کہ
استغفار سے قوت بڑھتی ہے… جہاد کا عظیم دینی کام کرنے والوں کے لئے لازمی ہے کہ وہ
اس اصول کو اپنائیں…
یا اللہ ہم سب کی غلطیاں اور
کوتاہیاں معاف فرما… اور ہماری توبہ کو قبول فرما… آمین یا ارحم الراحمین
اللھم صل علیٰ سیدنا محمد صاحب الفرق والفرقان و جامع الورق
من سماء القرآن وعلی اٰل محمد و سلّم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
مرہم
اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو اپنی ’’معرفت‘‘ نصیب فرمائے… آج اپنی بات کا
آغاز’’ذکر اللہ ‘‘ کے ایک واقعہ سے کرتے ہیں… حضرت سہل بن عبد
اللہ تستری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ایک مرید سے فرمایا کہ تم اس بات کی
کوشش کرو کہ سارا دن’ اللہ ،اللہ ،اللہ ،
یا اللہ ، یا اللہ ‘‘ کہتے ہوئے گزارا کرو… مُرید نے عمل کیا یہاں تک کہ یہ مبارک
ذکر اُس کی عادت بن گئی توآپ نے فرمایا اب راتوں کو بھی یہی ذکر شروع کر دو… اُس
نے ایسا ہی کیا یہاں تک کہ جب سوجاتا تو خواب میں یہی ذکر جاری رہتا… جب یہ حالت
اُس کی طبیعت ثانیہ بن گئی تو حضرت نے فرمایا کہ اب اس سے رُک جاؤ
اور اللہ تعالیٰ کی یاد میں مشغول ہو جاؤ… یعنی زبان سے
ذکر بند، اب دل اور دماغ سے ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یاد کیا
کرو… وہ شخص حکم کے مطابق یاد الہٰی میں مشغول ہو گیا ،یہاں تک کہ ہروقت اسی یاد
میں ڈوبا رہتا… ایک دن وہ اپنے گھر میں بیٹھا تھا کہ ایک لکڑی اُ س کے سر پر گری
جس سے سر پھٹ گیا اور خو ن بہنے لگا… دیکھنے والوں نے دیکھا کہ اُس کے خون کے جو
قطرے زمین پر گرے ان میں’’اللہ ، اللہ ،اللہ ‘‘ لکھا ہوا ظاہر ہو تا تھا…(کشف
المحجوب)
ماشاء اللہ رمضان المبارک کے انوارات
ہر طرف خوب چمک رہے ہیں… مگر کچھ لوگ ابھی تک پریشان ہیں کہ ہمارا کیا بنے گا؟… ہم
ایمان کامل چاہتے ہیں مگر ہمارا ایمان مضبوط نہیں ہوتا… ہم اخلاص چاہتے ہیں مگر
پھر بھی ریا کاری ہو جاتی ہے… ہم بہت نیک بننا چاہتے ہیں مگر پھر بھی گناہ ہو جاتے
ہیں… ہم ہر وقت اپنے محبوب حقیقی کی فرمانبرداری میں لگے رہنا چاہتے ہیں مگر نفس
اور شیطان ہمیں بہکا دیتا ہے… کیا ہم بد نصیب ہیں؟ کیا ہم شقی اور محروم ہیں؟… کیا
ہم جہنّمی ہیں؟… یہ خیالات بہت سے لوگوں کو رُلاتے ہیں اور تڑپاتے ہیں… کبھی انہیں
خیال آتا ہے کہ ہم منافق ہو گئے ہیں تب وہ سرخ آنسوؤں سے روتے ہیں اور سجدوں
میں گر کر بار بار ’’کلمۂ توحید‘‘ پڑھتے ہیں… جو مسلمان اس طرح کی کیفیت میں
مبتلا ہیں وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اُس واقعہ میں غور کریں جو بعض بزرگوں نے
اپنی کتابوں میں لکھا ہے… حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک بار اللہ
تعالیٰ سے عرض کیا… یا اللہ میں آپ کو کہاں تلاش کروں؟… ارشاد فرمایا… ہمیں ٹوٹے
ہوئے دلوں میں تلاش کرو…
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا یا اللہ
!کوئی بھی دل میرے دل سے زیادہ ٹوٹا ہوا نہیں
ہے… اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا… پس میں بھی تیرے ٹوٹے
ہوئے دل میں ہوں…(کشف المحجوب)
یعنی وہ دل جو اللہ تعالیٰ کے خوف سے
کانپتے رہتے ہیں… اور کبھی کبھی اپنی حالت سے مایوس ہو جاتے ہیں… مگر
پھربھی اللہ تعالیٰ سے ہی جڑے رہتے ہیں… انہیں ظاہری طور پر
کوئی کامیابی نظر نہیں آتی… اور نہ اپنی حالت پر اطمینان ہوتا ہے… ایسے ٹوٹے
ہوئے، خوف سے لرزتے ہو ئے دلوں میں… اللہ تعالیٰ کی محبت
اور معرفت کا نور ٹھاٹھیں مارتاہے… ارے ظاہری نتائج تو کئی انبیاء د کوبھی نظر
نہیں آئے… سالہا سال کی محنت سے کوئی ایک آدھ آدمی مسلمان ہوا… حضرت نوح علیہ
السلام ساڑھے نوسو سال کی سخت محنت کے بعد صرف ایک کشتی بھر سکے… مگر یہ سب حضرات
اعلیٰ درجے کے کامیاب تھے… مشہور عالم وبزرگ حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ کو
تو اُن کے علاقے کے لوگوں تک نے تسلیم نہ کیا… جب اُن کے انتقال کے بعد
طرح طرح کی کرامتیں ظاہر ہوئیں تو مصر کے لوگ اپنے اُن مظالم پر رو رہے تھے جو انہوں
نے … اللہ تعالیٰ کے اس مقرّب ولی پر ڈھائے تھے… حضرات
صحابہ کرامؓ میں سے کتنے تھے جو اس بات پر روتے تھے کہ کہیں ہم منافق تو نہیں ہو
گئے… ہاں یہ ٹوٹے ہوئے، لرزتے ہوئے دل بڑے کام کے ہیں… ان دلوں کو اپنے محبوب اور
مالک کی رضا کی فکر ہے… اور انہیں اپنی حالت پر ناز اور فخر نہیں… اور انہیں ہر
وقت اللہ تعالیٰ کا خوف اور اپنی آخرت کا غم نصیب رہتا ہے…
رمضان المبارک کے انوارات ماشاء اللہ ہر طرف صاف نظر آرہے
ہیں… ارے ! ہے کوئی دنیا میں جو مسلمانوں کا مقابلہ کر سکے؟… ماشاء اللہ ہر
طرف قرآن پا ک کے حافظ ہی حافظ نظر آرہے ہیں… یہودیوں میں سے کتنے ہیں جن کو
تورات یاد ہے؟… عیسائیوں میں سے کتنے ہیں جو انجیل یا بائبل کے حافظ ہیں؟… ہندوؤں
کا تو کوئی مذہب اور عقیدہ ہی نہیں… پھر بھی گیتا اور رامائن کاایک حافظ بھی
نہیں ملے گا… مگر یہاں مسلمانوں میں
ماشاء اللہ ایک سے ایک بڑھ کر حافظ… مرد تو مرد
عورتیں بھی مکمل حافظ… بچے بھی حافظ اور بوڑھے بھی حافظ… پچھلے سال میں نے ایک
نابینا بزرگ دیکھے… خود اپنے سہارے چل نہیں سکتے تھے مگر جب قرآن پاک پڑھتے تو
یوں لگتا کہ کوئی شہسوار اپنے گھوڑے کو پوری شان سے دوڑا رہا ہے… کئی کئی پارے پڑھ
جاتے مجال ہے کہ… کوئی زیر زبر کی غلطی بھی ہو جائے… مسلمانوں کے خاتمے کی باتیں
کرنے والے ذرا رمضان المبارک میں گلی کوچوں کا چکر لگائیں… ایک ایک مسجد میں کئی
کئی حافظ قرآن پاک سنا رہے ہیں… کہیں تین دن میں ختم، کہیں سات راتوں میں… اور
کہیں کچھ اور ترتیب… اب آخری عشرہ شروع ہو گا تو بعض جگہ ایک رات میں پورا قرآن
پاک مکمل کیاجاتا ہے… سبحان اللہ وبحمدہ
سبحان اللہ العظیم… آج رات کئی ملکوں میںرمضان المبارک کا
آخری عشرہ شروع ہو چکا ہے… جبکہ ہمارے ہاں ان شاء اللہ
کل سے شروع ہو گا… دیکھنا اللہ تعالیٰ کے کتنے وفاد
ار عاشق سب کوچھوڑکر… دس دن رات کے لئے اللہ تعالیٰ کے در
پر آپڑیں گے… ہے دنیا میں کسی کے پاس وفاداری کی ایسی مثال؟… یورپ میں عیسائی
اپنے چرچ فروخت کر رہے ہیں… اور یہاں ماشاء اللہ مسجدوں پر
مسجدیں تعمیر ہو رہی ہیں اور اب آخری عشرے میں یہ مسجدیں چوبیس گھنٹے آباد رہیں
گی… پاگل ہیں وہ لوگ جو سمجھتے ہیںکہ اسلام ختم ہو رہا ہے… اور مسلمان صرف نام کے
مسلمان رہ گئے ہیں… نہیں ایسا ہرگز نہیں… الحمدللہ مسلمانوں میں اب بھی دم خم ہے…
افغانستان جاگ رہا ہے… کشمیر گونج رہا ہے… فلسطین شیروں کی طرح دھاڑ رہا ہے… اور
عراق واپس جانے والے امریکی فوجیوں پر قہقہے لگا رہا
ہے… اللہ اکبر کبیرا… کتنے مجاہدین روزے کی حالت میں شہید
ہوئے… کتنوںنے روزے کی حالت میں جہاد کی ٹریننگ لی… اور کتنوں نے خشک ہونٹوںکے
باوجود گرجدار آوازمیں جہاد کی دعوت پہنچائی… یہ برگر خور کافر ایسی قوم کا
مقابلہ کس طرح کر سکتے ہیں… جس قوم کی عورتوں تک میں شہادت کاجذبہ موجزن ہے… رمضان
المبارک کے عجیب انوارات ہر طرف برس رہے ہیں… ماشاء اللہ بعض
لوگ تو بالکل اسلاف کی یاد تازہ کرتے ہیں… روزانہ ایک قرآن پاک ختم کرنا… ہزاروں
بار درود شریف پڑھنا… صبح و شام دین کی محنت میں لگے رہنا… روزانہ سینکڑوں رکعت
نوافل ادا کرنا… عجیب عجیب واقعات ہیں… ماشاء اللہ ہر کوئی
بڑھ چڑھ کر اجر کما رہا ہے… پاکستان میں آج کل لوگوں کے مالی حالات اچھے نہیں ہیں
مگر… ہر طرف سخاوت ہی سخاوت نظر آرہی ہے… اور کئی لوگوں نے تو
ماشاء اللہ رمضان المبارک کو خوب پالیا ہے… چند دن پہلے
مجھے کسی کام سے افطار کے فوراً بعد باہر نکلنا پڑا… ایک بڑا روڈ جو ہر وقت ٹریفک
سے اٹا رہتا ہے… بالکل سنسان پڑا ہو ا تھا… حالانکہ عام دنوں میں یہاں کئی پولیس
والے مل کر بھی ٹریفک کو قابو نہیں کر سکتے تھے… میں نے خوب اچھی طرح دائیں بائیں
دیکھا… نہ کوئی گاڑی اور نہ کو ئی بس… یہ منظر دیکھ کر اتنی خوشی ہوئی کہ… دل
جھومنے لگا…ش، ش ، ش… یہ ہے مسلمانوں پر اسلام کی گرفت…اور رمضان المبارک کا
کنٹرول… جی ہاں اسلام زندہ ہے اور اپنے ماننے والوں کے نزدیک بہت محبوب ہے… روزے
کے حکم کی تعمیل میں سڑکیں ویران ہیں… مزدور اینٹیں اٹھا رہے ہیں مگر روزے
سے ہیں… بے حیا، کمینی عورتیں رنگ برنگے کپڑے پہن کر نکلتی ہیں مگر
مسلمانوں کی نظریں اُن کی طرف نہیں اٹھتیں… گھروں کی فریجیں کھانے پینے کی چیزوں
سے بھری پڑی ہیں… مگر سات سال کا روزے دار بچہ بھی اُن کی طرف نگاہ اٹھا کر نہیں
دیکھتا… کیا امریکہ اور کیایورپ، کیا عرب اور کیا عجم ہر جگہ مسلمانوں کے چہروں پر
ایک خاص نور ہے… ایک خاص شرافت… ہر سخی مسلمان کا ہاتھ اپنی جیب کی طرف ہے… جب کہ
غریب مسلمانوں کا دل اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہے…
سبحان اللہ … راتوں کو تراویح کاپرسکون شور… سحری کے وقت کی خوشبو دار
گہما گہمی… اور افطار کے وقت کا نورانی منظر… واہ رمضان واہ… ہر طرف رمضان المبارک
کے انوارات چمک رہے ہیں… اللہ تعالیٰ اس رمضان المبارک میں
میری اور آپ کی مغفرت فرما دیں… آئیں !آج ہم سب اس بات کی فکر کریں کہ رمضان
المبارک کے بعد بھی ہم… ان شاء اللہ اچھے مسلمان بنے
رہیں گے… اور ان شاء اللہ مرتے دم تک… اپنے مالک و
خالق… اور محبوب حقیقی کے ساتھ جڑے رہیں گے…
اللھم صل علیٰ سیدنا محمد بقدر علمہ و کمالہ وقیامہ و صیامہ
و علیٰ الہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیر ا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں جن بڑے کافروں کو مسلمانوں کے
ہاتھوں سے ذلّت ناک شکست سے دوچار فرمایا… ان میں سے ایک ’’ٹونی بلیئر‘‘ بھی ہے…
تیز طرّار انگریز، برطانیہ کا سابق وزیر اعظم اور اسلام کا بدترین دشمن… ٹونی
بلیئر… الحمدللہ اس زمانے کا قیصر ہو یا کسریٰ، ابو جہل ہو یا
کعب بن اشرف… ابو لہب ہو یا عُقبہ… عبد اللہ بن اُبی ّ ہو یا ابو عامر
فاسق… سب کا منہ بری طرح کالاہوا… آپ کو یاد ہے؟ سانپ کی طرح پھنکارتا صدر بُش…
کتے کی طرح بھونکتا ٹونی بلیئر… بھیڑیئے کی طرح دانت نکالتا ٹومی فرینکس… خنزیر کی
طرح اکڑتا ایڈوانی… اور ابن اُبی ّ کی طرح پیچ و تاب کھاتا پرویز
مشرّف… اللہ تعالیٰ نے ان سب کو ناکام اور ذلیل فرما دیا …
اب وہ کالی حسرتوں کے کنوؤں میں پڑے سسک رہے ہیں… اللہ اکبر
کبیرا… ان سب کے دماغوں میں صیہونی سوچ تھی… ان سب کے پاس بے پناہ ظاہری طاقت تھی
اور اسلام کا مکمل خاتمہ ان سب کا ارمان تھا… مگر ایک ایک کر کے یہ سب ناکام ہوتے
گئے… بہت سے نام میں نے چھوڑ دیئے… وہ نام بہت بجتے تھے… آج اُن کو کوئی پوچھتا
ہی نہیں… یاد ہے کسی کو خونی کالی ماتا؟… کونڈالیزا رائس… چند نہتے او ربے سرو
سامان مجاہدین نے ان سب کے غرور کو توڑ دیا… اور ان سب کو ایسا رُسوا کیا کہ یہ
ہیرو سے زیرو ہو گئے… کیا اب میں مجاہدین کے نام بھی گنواؤں؟… اخلاص کے ساتھ جہاد
کرنے والے کس مجاہد کی قدروقیمت کم ہوئی؟… اور کس کے مقام میں کوئی کمی آئی؟…
چلیں چھوڑیں… کسی کا نام نہیں لکھتا… اللہ تعالیٰ اُن سب کو
سلامت رکھے اور اُن کے عمل کو قبول فرمائے… بات تو’’ٹونی بلیئر‘‘ سے شروع ہوئی
تھی… دراصل اُس نے اپنی سوانح حیات لکھ ڈالی ہے… ویسے سچ بتائیں کافی عرصہ سے تو
آپ نے اُس کا نام بھی نہیں سنا ہوگا… وہ برطانیہ کا مقبول ترین وزیر اعظم تھا جو
یکے بعد دیگرے تین بار وزیرا عظم منتخب ہوا… مگر پھر؟…مسلمانوں سے جنگ میں شکست
کھانے کی وجہ سے خود اُس کی پارٹی نے اُسے ’’وزارت عظمیٰ‘‘ کے عہدے سے ہٹا دیا… او
رپھر اس سال تو اُس کی پارٹی بھی انتخابات ہار گئی… اور سب نے یہی کیا کہ ’’ٹونی
‘‘ کی پالیسیاں پارٹی کو لے ڈوبیں…’’ٹونی‘‘ کی رگوں میں اسلام دشمنی کا خون معلوم
نہیں کہاں سے آیا… ویسے سمجھدار لوگ کہتے ہیں کہ اس زمانے میں ’’انگریز‘‘ اسلام
کا اصل دشمن ہے… گیا رہ ستمبر کے حملوں کے بعد… مسلمانوں کے خلاف جنگ شروع ہوئی
تو’’ٹونی ‘‘ آنکھیں بند کر کے اس جنگ میں کود پڑا… اور سیدھا بش کی گود میں جا
گرا… اخبارات والے اُسے بش کا پوڈل… یعنی کتا لکھتے تھے… پھر جب بُش نے عراق کا رخ
کیا تو ٹونی اس کے ساتھ اس دلدل میں جا گرا… ان دونوں کو امید تھی کہ وہ اپنی طاقت
سے مسلمانوں کو کمزور کر دیں گے… مگر ہزاروں فوجی مروا کر بھی کچھ ہاتھ نہ آیا…
مسلمان تو الحمدللہ پہلے سے زیادہ طاقتور ہو گئے… جبکہ بش اور ٹونی
کو اب کوئی پوچھتابھی نہیں… جی ہاں دونوں تاریخ کی کالک بن گئے… بُش تو
کافی عرصہ سے چپ بیٹھا ہوا ہے… جیسے اُسے جوتا سونگھ گیا ہو مگر ٹونی کو معلوم
نہیں کیا سوجھی کہ اُس نے کتاب لکھ ڈالی ہے… اور اپنی اس کتاب میں’’ریڈیکل اسلام‘‘
کو دنیا کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے… مگر نہایت بے بسی کے ساتھ یہ بھی لکھ
دیا ہے… کہ مجھے معلوم نہیں… ہم اس خطرے سے کیسے نمٹ سکتے ہیں؟…
واہ میرے اللہ واہ… آپ ہی سلطنت کے
مالک ہیں، جس کو چاہتے ہیں حکمرانی دیتے ہیں… اورجس سے چاہتے ہیں حکمرانی چھین
لیتے ہیں… آپ جس کو چاہتے ہیں عزت دیتے ہیں… اور جس سے چاہتے ہیں عزت چھین لیتے
ہیں… آپ ہی کے ہاتھ میں سب بھلائی ہے… اور آپ ہر چیز پر قادر ہیں… ٹونی بلیئر…
جو پورے برطانیہ میں جھوٹا، پوڈل اور شکست خوردہ لیڈر مشہور ہے…اسلام کے خلاف اپنی
آخری کوشش کے طور پرایک بار پھر بولا ہے… مگر جب منہ میں دانت نہ رہیں تو پوپلے
کتے کی بھونک سے کیا بنتا ہے… اسلام اللہ تعالیٰ کا محبوب
دین ہے… اور اسلام دنیا میں غالب ہونے کے لئے آیا ہے… صدیوں کی کوششوں کے بعد
کفار نے مسلمانوں سے خلافت چھین لی… مسلمانوں کے پاس کوئی ایک مرکز نہ رہا… مسلمان
قومیتوں اور زبانوںمیں بٹ گئے… چھوٹے چھوٹے مُلک اورکمزور جزیرے… مسلمانوں کے
حکمران کافروں کے غلام بن گئے… اور مسلمانوں کا سرمایہ کافروں کے قبضے میں چلا
گیا… یہ وہ حالات تھے جن میں کسی بھی قوم کو ایک جھٹکے سے ختم کیا جا سکتا ہے…
گیارہ ستمبر کے بعد دنیا بھر کے دشمنان اسلام نے فیصلہ کیا کہ… اب آخری جھٹکا دے
دینا چاہئے… آخر ہمارے مقابلے میں آئے گا کون؟… حکمران تو سب ہمارے ساتھ ہیں… اور
اُن کے مسلّح دستے بھی ہمارے معاون ہیں… ملکوں کی سرحدیں بند ہیں… ساری دنیا کے
سمندر ہمارے قبضے میں ہیں… اور فضائی طاقت میں تو کسی کے پاس ہمارا جواب ہی نہیں…
یہ تمام باتیں سوچ کر حملہ شروع کر دیا گیا… اور جنگ کو دنیا کے دو حصوں میں پھیلا
دیا گیا… خوفناک بحری بیڑے میزائلوں کی بارش کر رہے تھے… آسمان پر جنگی طیاروں کا
شور تھا… اور زمین پر بڑے بڑے ٹینک دوڑ رہے تھے… یوں لگتا تھا کہ… اب مسلمانوں کا
کچھ نہیں بچے گا… ڈیزی کٹربموں کی کارپٹ بمباری… اور کروز میزائلوں کا ہولناک
سیلاب… خوب آگ بھڑکی… ہر طرف دھول ہی دھول پھیل گئی… مگر جب دھول چھٹی تواُس کے
اندر اسلام مسکرا رہا تھا… افغانستان میں بھی… اور عراق میں بھی… کشمیر میں بھی
اور غزہ میں بھی… یا اللہ آپ کی شان… مجھے ایک اخبار نویس
کا کالم یاد ہے… اُس نے فخر سے لکھا تھا کہ بس اب چند دنوں کی بات ہے… دنیا میں
مجاہدین نام کی کوئی چیز دیکھنے اور سننے کو نہ ملے گی… تب ہم نے دھڑکتے دل اور
کانپتے ہاتھوں سے… صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی طاقت کے
بھروسے پر لکھا تھا کہ… ہرگز نہیں… اب ان شاء اللہ
اسلام اور جہاد پہلے سے زیادہ ابھریں گے… تب بہت سے اپنے بھی بغلوں میں منہ
چھپا کر ہنستے تھے کہ… آخر اس ہولناک طاقت کے سامنے کون ٹھہر سکتا ہے؟… مگر قرآن
پاک دکھا رہا تھا کہ… دور دور تک پھیلی ہوئی خوفناک آگ کے درمیان… حضرت سیدنا
ابراہیم علیہ السلام مسکرا رہے ہیں… مسلمان بھی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی
ملّت پر ہیں… ان کو ایٹم یا ہائیڈروجن کی آگ کس طرح سے جلا سکتی ہے… الحمدللہ … اللہ تعالیٰ کی نصرت زمین پر
اتری…دریائے آمو میں کفار کا خون… اور دجلہ اور فرات میں اُن کی لاشیں تیرنے
لگیں… فدائیوں کے دستے ایسی شان سے اٹھے کہ قرون اولیٰ کی خوشبو ہر طرف مہکنے لگی…
مجاہدین کے لشکر اس طرح منظم ہوئے کہ سرحدوں کا فرق مٹ گیا… اور تب کفر کی شطرنج
پر بڑے بڑے مہرے ایک کے بعد ایک منہ کے بل گرتے چلے گئے… اور آج یہ حالت آچکی ہے
کہ… انڈیا میں اسرائیل کے سفیر’’مارک سوفیر‘‘ نے حضرت خواجہ معین الدین چشتی
اجمیریؒ کے مزار پر حاضری دی ہے… اور مسلمانوں کو اپنا بھائی قرار دیا
ہے… میدان جنگ میںہارنے والے بزدل آخر میں اسی طرح کی چالوں پر اُترتے ہیں…
مسلمان خواجہ معین الدین چشتیؒ کے جذبہ جہاد سے واقف ہیں… حضرات صوفیاء کرام ہمیشہ
سے جہاد کے حامی بلکہ خود مجاہد رہے ہیں… ’’صوفی ازم‘‘ کا جو مطلب آج کل بیان کیا
جارہا ہے اس سے وہ مسلمان… کبھی دھوکا نہیں کھا سکتے جو قرآن پاک کو سمجھتے ہیں…
حضرات صوفیاء کرام کے بڑے بڑے مشائخ میدان جہاد کے… شہسوار تھے اور ان میں سے کئی
ایک کوشہادت بھی نصیب ہوئی… سلام ہو غزہ کے اہل عزیمت پر… جن کی بہادری اور قربانی
نے یہودیوں کو پینترے بدلنے پر مجبور کر دیا ہے… ٹونی بلیئر نے اپنی کتاب میں لکھا
ہے کہ… گیارہ ستمبر کا دن ’’ریڈیکل اسلام‘‘ کے لئے بڑی تبدیلی کا دن تھا کہ… اس کے
بعد عالمی طاقتوں نے اس خطرے کو محسوس کیا …اور اب اسلام کے خلاف جنگ کا آغاز ہو
چکا ہے… اور یہ جنگ ریڈیکل مسلمانوں کے خاتمے تک جاری رہے گی… ٹونی بلیئر کی حسرتیں
اپنی جگہ… مگر مسلمان تو اس سال گیارہ ستمبر کو عید منا رہے ہیں… تمام اہل اسلام
کو… عید مبارک
اللھم صل علیٰ سیدنا محمد صاحب السیف والجہاد نبی الرّحمۃ و
الملاحم وعلی آلہ و صحبہ و بارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہم سب کو دنیا اور آخرت
میں’’عافیت‘‘ نصیب فرمائے… یاد رکھیں! شہادت کی موت بھی بہت بڑی’’عافیت‘‘
ہے… رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے چچا حضرت سیدنا
عبّاس رضی اللہ عنہ سے بہت محبت تھی…ویسے بھی چچا والد کی جگہ ہوتے
ہیں… اور پھر حضرت عباس رضی اللہ
عنہ!… ماشاء اللہ بہت عظیم المرتبۃ اور اونچی شان والے
بزرگ تھے… اور اس سے بڑھ کر مقام اور سعادت کیا ہوگی کہ دو جہانوں کے سردار
حضرت امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب، مقرّب اور معتمد
صحابی اور محترم چچا ہیں… بڑے اونچے بہادر اور شاعر تھے… حضرت آقا مدنی
صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مبارک میں بھی قصیدے کہے… حضرت سیدنا
عباس رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب نے ایک بار حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کی خدمت میں عرض کیا… مجھے کوئی ایسی چیز سکھائیں جو
میں اللہ تعالیٰ سے مانگا کروں… حضور اقدس صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا… آپ اللہ تعالیٰ سے ’’عافیت‘‘ مانگا
کریں… چند دن گزرنے کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ پھر تشریف لائے اور عرض
کیا… یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے کوئی چیز
سکھا دیں جو میں اللہ تعالیٰ سے مانگا کروں… حضور اقدس
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
یا
عباس رضی اللہ عنہ! یا عم رسول اللہ ، سلوا
اللہ العافیۃ فی الدنیا والآخرۃ
ترجمہ: اے
عباس! اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا!
آپ اللہ تعالیٰ سے دنیا آخرت میں’’عافیت‘‘ کا سوال کیا
کریں۔(رواہ الترمذی)
سبحان اللہ
! جواب میں کتنی محبت ہے اور کتنی مٹھاس… اور کتنی زیادہ خیر خواہی…
’’عافیت‘‘
کے معنی، بہت وسیع ہیں… اور یہ اللہ تعالیٰ کی وہ نعمت
ہے جس کے ہم سب بہت زیادہ محتاج ہیں… آئیں مل کر دعاء کریں
اَللّٰھُمَّ
اِنَّا نَسْئَلُکَ الْعَافِیَۃَ فِیْ الدُّنْیَا وَ الْآخِرَۃِ
یا
اللہ ہمیں دنیا اور آخرت میں عافیت نصیب فرما…
ابھی
آپ نے دیکھا کہ گیارہ ستمبر کے دن کتنی بڑی ’’عافیت‘‘ ہو
گئی… اللہ اکبر کبیرا…
بہت
بڑی عافیت، بہت ہی بڑی خیر ہو گئی کہ … ہم ایک درد ناک امتحان سے بچ
گئے…سچی بات ہے کہ… آنکھوںسے نیند ہی اڑگئی تھی… اور جسم غصّے سے
کانپنے لگتا تھا… ایک حقیر اور منحوس پادری کی یہ ہمت کہ… وہ کھلے عام
قرآن پاک کی بے حرمتی کرے… رمضان المبارک کا اختتام تھا… اور عید کی
آمد آمد تھی… مگر ساری خوشیاں اور دعائیں غمناک ہچکیوں میں ڈھل رہی
تھیں… ساری دُنیا کے مسلمان یوں تڑپ رہے تھے جیسے… مچھلی کو پانی سے
باہر پھینک دیا گیا ہو… یا اللہ اپنی قوت اور حکم سے
اس ظلم کو روک دیجئے… استغفر اللہ ایسا بھیانک ظلم کہ مسلمان تو
کیا کافر بھی کانپ اٹھے… افغانستان میں تعینات امریکی جنرل نے کہا کہ اگر
قرآن پاک کی بے حرمتی ہوئی تو ہم امریکیوں کی جانیں خطرے میں پڑ جائیں
گی… نیٹو کے سربراہ نے کہا!… اگر قرآن پاک کے ساتھ امریکی پادری نے
چھیڑ چھاڑ کی تو ہمارا پورا مشن برباد ہو جائے گا… صدر اُبامہ نے کہا
!… اگر یہ واقعہ ہوا تو دنیا بھر کا امن خطرے میں پڑ جائے گا… ہمارے
حکمران تو کچھ نہ بولے…اُن کی اس بے حسی کا درد ابھی تک ہمارے دلوں میں
ہے… مگر باقی ساری دنیا چیخ پڑی… بھارت کے وزیر داخلہ نے امریکی حکومت
سے اپیل کی کہ وہ طاقت استعمال کر کے… پادری ٹیری جونز کو اس حرکت سے
روکے… اگریہ حرکت ہوئی تو ہندوستان میں بھی امن خطرے میں پڑ جائے گا… ہر
طرف عجیب سا شور مچ گیا… وہ مسلمان جو اپنی مغفرت کی دعائیں مانگ رہے
تھے… اب قرآن پاک کی حُرمت کی دعائیں مانگنے میں جڑ گئے… ربّا! اس بڑے
امتحان سے بچا لے… اور ہماری جانوں کو قرآن عظیم کی حُرمت کے لئے قبول
فرمالے… واقعی بہت مشکل لمحات تھے… اتنے مشکل کہ شاید زندگی میں اس سے
زیادہ مشکل لمحات نہ دیکھے ہوں… لالچی اور حریص صحافی… اس موقع پر زیادہ
سے زیادہ پیسہ بنانے کے چکر میں اس خبر کو خوب اچھال رہے تھے… ساری دنیا کے
حکمران پادری کی مذمت کر رہے تھے… مگرپادری گدھے کی طرح بضد تھا کہ… وہ
دنیا کے امن کو ضرور آگ میں جھونکے گا… اہل اسلام کبھی دعاء کے لئے ہاتھ
اٹھاتے، کبھی سجدے میں گر جاتے… کبھی اپنے آپ کو نوچتے… اور کبھی یہ
سوچتے کہ خدانخواستہ ایسا ہو گیا تو اس ظلم کا یوں بدلہ لیں گے… مگر نہیں
نہیں… یا اللہ یہ ظلم ہو ہی نہ … آپ ہی
ہماری نصرت فرما دیں اور ہمیںیہ منحوس لمحہ دیکھنے سے بچالیں… اسی کشمکش میں
دس ستمبر کا دن آگیا… بہت سے مسلمانوں نے رمضان المبارک کے ہاتھ چومے اور
عید کی نماز کے لئے نکل کھڑے ہوئے…عرب ممالک، افغانستان اور پاکستان کے کئی علاقوں
میں عید دس ستمبر کو ہو گئی… عید کے خطبوں میں غم کے بادل تھے اور دعاؤں میں
فلک رساآہیں تھیں… کس کو عید مبارک کہیں… اور کس سے عید مبارک
لیں… قرآن پاک پر نظرپڑتی تو آنکھیں بھیگ جاتیں… اور شرم سے جھک
جاتیں… ایک ناپاک پادری میڈیاکے زور پر پوری امُتِ مسلمہ کو تڑپا رہا
تھا… مگر جیسے ہی عید کی دعائیں ختم ہوئیں… آسمان سے نصرت اور عافیت
نازل ہوئی اورپادری نے اعلان کر دیا کہ وہ یہ ظالمانہ حرکت نہیں کرے گا…
الحمدللہ ، الحمدللہ ثم الحمدللہ …
شُکر
ہے اللہ تعالیٰ کا جس نے ہم سب کو اتنے دردناک امتحان سے
بچالیا… اور الحمدللہ اُمتِ مسلمہ کی دھاک پوری دنیا پر بٹھا
دی… اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ نے کتنا بڑا احسان کیا ہے… ورنہ
ہماری زندگیوں میں یہ ظلم ہوتا تو زندگی ہمارے لئے کتنی مشکل ہو جاتی… پادری
ٹیری جونز نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ… میں خدا سے دعاء کر رہا تھا کہ اگر
خدا چاہتا ہے کہ میں قرآن پاک کی بے حرمتی نہ کروں تو وہ مجھے اشارہ دے… اب
یہ اشارہ مجھے مل چکا ہے… اور نیویارک کے مرکزی امام نے مجھے یقین دہانی
کرائی ہے کہ… نائن الیون کے واقعہ والی جگہ مسجد تعمیر نہیں کی جائے
گی… اُدھر نیویارک کے امام نے اعلان کیا ہے کہ… انہوں نے پادری کو ایسی
کوئی یقین دہانی نہیں کرائی… بہرحال ایک عذاب اور طوفان ٹل گیا… اس
پر اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر اداکیا جائے وہ کم ہے…
پادری
ٹیری جونز کو چاہئے کہ… پوری دنیا کے سامنے معافی مانگے اور اسلام قبول کر
لے… کیونکہ بقول اُس کے… خدا نہیں چاہتا کہ قرآن پاک کی بے حرمتی کی
جائے… معلوم ہوا کہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی سچی کتاب
ہے… اور اللہ تعالیٰ اس کتاب کا محافظ ہے… اتنی
عظیم نشانی دیکھنے کے باوجود اگر ٹیری جونز مسلمان نہیں ہوتا تو یقیناً وہ بہت
بُری موت مرے گا… اور لوگ اُس کی موت سے عبرت حاصل کریں گے ان شاء
اللہ … اس المناک موقع پر دنیا بھر کے مسلمانوں نے قرآن پاک کے ساتھ
جس محبت اور تعلق کا اظہار کیا ہے… وہ قابل تحسین ہے… اے مسلمانو! قرآن
پاک بہت ہی عظیم الشان نعمت ہے… ہم سب اپنے عہد اور عزم کی تجدید کریں کہ ان شاء
اللہ ہم … قرآن پاک کی بھرپور قدر کریں گے اور قرآن پاک
سے اپنے تعلق کو اور زیادہ مضبوط بنائیں گے… دینی مدارس میں داخلے شروع
ہیں… اپنے بچوں کو اسکولوں سے نکالیں اور پہلے قرآن پاک کی مکمل تعلیم
دیں… اپنے گھروں کا جائزہ لیں کہ ہمارے گھر میں کوئی ایسا فرد تو نہیں جسے
قرآن پاک صحیح تلفظ سے پڑھنا نہ آتا ہو… جن لوگوں نے اپنے اسکول اور کالج
کھول رکھے ہیں وہ اپنے مسلمان ہونے کا حق ادا کریں… اور اسکول کے ہر بچے کو
قرآن پاک پڑھنا سکھائیں… نماز اور چند سورتیں بھی یاد کرائیں… اور اُن
کے دلوں میں قرآن پاک کی عظمت اور ادب و احترام کا بیج بوئیں… حقیقی مسلمان
کبھی بھی قرآن پاک سے نہیں کٹ سکتا… جن
کو اللہ تعالیٰ نے ذہین بچے دیئے ہیں وہ اُن کو قرآن پاک
حفظ کرائیں… اور پھر اُس کا ترجمہ اور تفسیر پڑھائیں … گھروں میں
خواتین کو سورۂ نور کی تفسیر پڑھائی جائے… تاکہ انہیں حیا کا مقام اور اُس
کی اہمیت معلوم ہو… جن مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے مال
دیا ہے وہ اپنے مال سے قرآن پاک کی خدمت کریں… یادرکھیں! اگرہم قرآن پاک سے
جُڑ گئے تو سیدھے اللہ تعالیٰ سے جُڑ جائیں گے… قرآن
پاک پر ایمان لانا… قرآن پاک کے پیغام کو سمجھنا… قرآن پاک کی تلاوت
کرنا، قرآن پاک کو یاد کرنا… قرآن پاک کے احکامات پر عمل کرنا… قرآن
پاک کی طرف لوگوں کو بلانا… قرآن پاک ساری دنیا تک پہنچانا… قرآن پاک
کو دنیا پر غالب اور نافذ کرنا… یہ ہم سب مسلمانوں کے ذمّہ سعادت والے کام
ہیں… اللہ تعالیٰ سب کو عافیت عطاء فرمائے… اور ہمیں
قرآن پاک سے وہ تعلق عطاء فرمائے… جو تعلق ہمارے لئے دارین کی فلاح کا ذریعہ
بن جائے… آمین یا ارحم الراحمین
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد النبی الامی صاحب الفرق و الفرقان و جامع الورق ومنزلہ من سماء
القرآن وعلی آل محمد و اصحابہ و بارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو’’دین اسلام‘‘ پر استقامت نصیب فرمائے… اُم
المؤمنین حضرت اُم سلمۃ رضی اللہ عنہاسے پوچھا گیا کہ… جب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتے تھے تو زیادہ کون
سی دعاء مانگا کرتے تھے… حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا: آپ
صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعاء فرماتے تھے…
یَا
مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلیٰ دِیْنِکَ (الترمذی)
ترجمہ: اے
دلوں کو الٹنے پلٹنے والے میرے دل کو اپنے دین پر جمائے رکھیے!
جی
ہاں! ایمان پر ثابت قدمی بہت بڑی نعمت ہے… اور ہماری بے حد اہم ضرورت
ہے… شیطان سیدھا انسان کے دل پر حملہ آور ہوتا ہے… اوردل خود بھی تو
بڑی عجیب چیز ہے، منٹوں میں بڑی بڑی قلابازیاں کھا جاتا ہے… ابھی کسی سے محبت
اور پھر تھوڑی دیر بعد اُسی سے نفرت… کبھی اتنی بہادری کے آسمان سے چھلانگ
لگانے پر تیار… اور کبھی اتنی بزدلی کہ ہلکی سی آواز سُن کر دھک
دھک… کبھی ایسی ہمّت کے دنیا کو فتح کرنے کا جذبہ… اور کبھی ایسی بے دلی
کے خود کشی کے منصوبے… دل بہت عجیب چیز ہے اور اس کو قابو میں رکھنا بہت مشکل
کام ہے… ہاں بس ایک ہی طریقہ ہے کہ دل، دل کے مالک کو دے دیا جائے پھر یہ
ٹھیک چلتا ہے… اور ایسی روشنی سے بھر جاتا ہے کہ… وہ روشنی ہر وقت انسان
کے ساتھ ساتھ رہتی ہے…
تھوڑا
سا اس آیت مبارکہ میں غور کریں
أَوَ
مَن کَانَ مَیْْتاً فَأَحْیَیْْنَاہُ وَجَعَلْنَا لَہُ نُوراً یَمْشِیْ بِہِ فِیْ
النَّاسِ کَمَن مَّثَلُہُ فِیْ الظُّلُمَاتِ لَیْْسَ بِخَارِجٍ مِّنْہَا کَذٰلِکَ
زُیِّنَ لِلْکَافِرِیْنَ مَا کَانُواْ یَعْمَلُون (الانعام ۱۲۲)
ترجمہ: بھلا
وہ شخص جو مُردہ تھا پھر ہم نے اُسے زندہ کر دیا اور ہم نے اُسے نوردیا کہ اُسے
لوگوں میں لئے پھرتا ہے(کیا) وہ اُس کے برابر ہو سکتا ہے جو اندھیروں میں پڑا ہو
وہاں سے نکل نہیں سکتا، اسی طرح کافروں کی نظر میں اُن کے کام خوشنما بنا دیئے
جاتے ہیں…
چند
باتیں بالکل وضاحت سے معلوم ہو گئیں
(۱) کسی انسان کا دل زندہ ہوتا ہے اور کسی کا
مُردہ… کفر،گمراہی… اور بعض بڑے گناہوں سے انسان کا دل مُردہ ہو جاتا
ہے…
(۲) دل کی زندگی اللہ تعالیٰ
کی طرف سے آتی ہے… اللہ تعالیٰ جس کو زندگی عطاء فرمانا
چاہتے ہیں اُس کے دل میں ایمان اور اپنی معرفت کی روح پھونک دیتے ہیں…
(۳) جس کا دل زندہ ہو اُس کو ایک روشنی نصیب ہو جاتی
ہے… اس روشنی کے نور میں وہ سیدھے راستے کو دیکھ لیتا ہے… اور گمراہی کے
اندھیروں سے بچ جاتا ہے… پھر جس کے دل میں جتنا ایمان اور جتنی معرفت ہوتی
ہے…اُس کی روشنی بھی اُسی قدر ہوتی ہے… بعض لوگوں کو
تو اللہ تعالیٰ ایسی روشنی عطاء فرماتے ہیں کہ…وہ بے شمار
لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر… روشنی کے راستے پر لانے کا ذریعہ بن جاتے ہیں…
(۴) کافر خوفناک اندھیروں میں بھٹکتے رہتے
ہیں… وہ اپنے اردگرد جتنی ظاہری روشنی، چمک دمک اور ٹیپ ٹاپ حاصل کرلیں
مگر… اُن کا دل مُردہ اور اُن کا راستہ اندھا ہوتا ہے…
(۵) شیطان، کافروںکو اُن کے اندھیرے اور غلطیاں
خوشنما بنا کر دکھاتا ہے… وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ٹھیک ہیں، ہم عقلمند ہیں، ہم
ترقی یافتہ ہیں، ہم مہذّب ہیں، ہم محفوظ ہیں… باقی دنیا بھی ہماری پیروی
کرے(توبہ توبہ)
چلیں
تھوڑا سا سر جھکا کر اپنے دل میں دیکھتے ہیں کہ… اس میں وہ’’نور‘‘ موجود ہے
یا نہیں جس کا تذکرہ ہم نے ابھی اپنے عظیم رب کے سچے کلام میں پڑھا ہے… دراصل
ہمارے چاروں طرف شیاطین اور اُن کے دوست احباب موجود ہیں… اور یہ سب مل کر ہم
سے ’’زندگی‘‘ کو چھیننا چاہتے ہیں… زندگی یعنی ہدایت اور
دین… اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں…
وَإِنَّ
الشَّیَاطِیْنَ لَیُوحُونَ إِلٰی أَوْلِیَآئِہِمْ لِیُجَادِلُوکُمْ وَإِنْ
أَطَعْتُمُوہُمْ إِنَّکُمْ لَمُشْرِکُون(الانعام ۱۲۱)
ترجمہ: شیاطین
اپنے دوستوں کے دلوں میں ڈالتے ہیں کہ وہ تم سے جھگڑیں اور اگر تم نے ان کا کہنا
مانا تو تم بھی مشرک ہو جاؤ گے…
آپ
نے حکمرانوں کو دیکھا کہ کس طرح جھگڑ جھگڑ کر ہمیں مجبورکرتے ہیں کہ ہم کافروںکی
فرمانبرداری کریں… آپ نے مغرب زدہ صحافیوں کو دیکھا کہ کس طرح سے قوم کو کفر
پرستی پرمجبور کرنے کے لئے زورڈالتے ہیں… کافروں کو ترقی یافتہ مان
لو… کافروں کو مہذّب مان لو… کافروں کے قوانین اور نظام کو تسلیم کر
لو… کافروں کے غلبے کو قبول کر لو… دیکھو اُن کے پاس اتنا پیسہ
ہے… اُن کے پاس فلاں فلاں مشین اور ٹیکنالوجی ہے… اُن کے کتے بھی ہم سے
اچھی زندگی گزارتے ہیں… وغیرہ وغیرہ… طرح طرح کی بکواسات… اُن کی
مالداریوں کے تذکرے… جبکہ قرآن پاک سمجھا رہا ہے کہ… یہ لوگ مُردے ہیں،
اندھیروںمیں ذلیل ہو رہے ہیں… نفس کی خواہش تو ایک کتا بھی دل کھول کر پوری
کر لیتا ہے… براک اوبامہ ہو یا بل گیٹس یہ سب ناکام ہیں، مُردے ہیں… اگر
ان کی موت کفر پر ہوئی تو جانور بھی ان کے انجام سے پناہ مانگیں گے… یہ من
موھن سنگھ ، یہ ایڈوانی… یہ چدمبرم سب ناکام، رسوا، محروم،
بدقسمت… اورشقی ہیں… ان میں سے کامیاب وہی ہوگا جو ایمان قبول کر لے
گا… اللہ تعالیٰ نے زمین میں بڑے بڑے خزانے رکھے
ہیں … کتابوں میں لکھا ہے اور بعض لوگوں کا تجربہ بھی ہے کہ کئی خزانوں
پر بڑے بڑے سانپ پہرا دیتے ہیں… گویا کہ وہ سانپ اُس خزانے کا مالک ہوتا ہے
اور وہ کسی کو بھی اُس کے قریب نہیں آنے دیتا… اب کوئی کالم نویس اس سانپ کی
شان میں مضمون لکھ مارے کہ… وہ اتنے بلین اور اتنے ٹریلین ڈالر کے برابر مال
کا اکیلا مالک ہے… آج کل کے سرمایہ داروں اور ان سانپوں میں کیا فرق
ہے؟… دنیا بھوک سے مررہی ہے اور یہ اپنے خزانوں پرکنڈلی مارے بیٹھے
ہیں… اور اپنا مال فضول عیاشیوں اور ایجادات میں برباد کر رہے ہیں… آپ
یقین کریں کہ صرف گنجوں کے سر پر بال اُگانے کی کوشش میں اب تک کھربوں ڈالر خرچ ہو
چکے ہیں… کیا انسان بغیر بالوں کے زندہ نہیں رہ سکتا؟… کیا بال ہی انسان
کے حُسن کا معیار ہیں… ماشاء اللہ بعض گنجے اتنے
خوبصورت لگتے ہیں کہ مت پوچھیے… مگرپاگلوں کے ہاتھ میں پیسہ ہے اور وہ خود
اندھیروں میں ہیں تو فضول چیزوں پر مال کو برباد کر رہے ہیں… اور دنیا کو
فضول چیزوں میں لگا رہے ہیں… حالانکہ انسان اگراپنے دل سے بالوں کی فکر نکال
دے تو اُس کی زندگی میں اچھی خاصی برکت ہو جاتی ہے… شریعت میں بالوں کے بارے
میں بہت آسان احکامات ہیں… چہرے پر داڑھی کو چمکنے دیں… مونچھوں کو
پورا یا کچھ کتر دیا کریں… بغل اور زیر ناف بال کسی بھی ذریعے سے اُڑا دیا
کریں… اورسر پر اگر بال ہوں تو کافروں کی مشابہت اختیار نہ کریں… اور
صفائی،تیل اور کنگھی سے بالوں کی آرائش کر لیا کریں… کتنا خوبصورت اور مختصر
نصاب ہے… اگر کوئی انسان اس نصاب پر عمل کرے تو اُس کی زندگی کا کتنا وقت بچ
سکتا ہے… داڑھی مونڈنے میں تو بہت وقت برباد ہوتا ہے پھر بھی کوئی مرد خودکو
عورت جیسا نہیں بنا پاتا… داڑھی کے بال ایک دو روز بعد پھر نکل آتے
ہیں… اسی طرح بالو ں کو کالا رکھنے کی فکر بھی انسان کے وقت اور وقار کو
برباد کرتی ہے… وقت تو کالک لگانے میں بربادہو تا ہے اور وقار کو اُس وقت
دھچکا لگتا ہے جب کسی عذر کی وجہ سے ہروقت کالک نہیں لگا سکتے تو چہرے پر چائنا
مرغی جیسا نقشہ بن جاتا ہے… اس کی بجائے مہندی کا مسنون خضاب
لگائیں… اگر کبھی نہیں بھی لگا سکیں گے تو چہرہ سرخ اور سفید منقش یمنی چادر
کی طرح خوبصورت نظر آئے گا…
ارے اللہ کے
بندو! اور اللہ کی بندیو!… ہمیں ظاہر پرستی کی فکر
چھوڑ کر اپنے دل کی فکر کرنی چاہیے کہ… یہ کسی طرح زندہ ہو جائے، نور سے بھر
جائے اور مرتے دم تک دین پر جما رہے … اگر یہ نعمت نصیب ہو گئی تو پھر ان شاء
اللہ جنت میں روزآنہ ستر ستر ہزار جوڑے بدلیں گے… اور طرح طرح
کے حُسن کو اپنے اندر سموئیں گے… اور اگرہمارے دل زندہ ہو گئے تو
ہمیں اللہ تعالیٰ کی معرفت کا مزہ نصیب ہو جائے
گا… ایسا مزہ کہ دنیا کی کوئی لذّت اُس کا مقابلہ نہیں کر
سکتی… اگرہمارے دل میں نور پیدا ہو گیا تو ہم خود کو بھی اندھیروں سے نکال
سکیں گے… اور بہت سے لوگ ہماری روشنی سے راستہ پائیں گے… اگر ہمارے دل
میں ایمان کا نور چمک اٹھا تو ہمیں دنیا کی حقیقت معلوم ہوجائے گی… تب ہم اس
کے دھوکے میں پھنسنے سے بچ جائیں گے… اگرہمارے دل کو ہدایت کی روشنی مل گئی تو
ہمارے دلوں سے کافروں کا رعب… اور موت کا خوف نکل جائے گا اور جہاد کی اونچی
اڑان اور منزل ہمیں نصیب ہو جائے گی… خود کو دنیا کی سپر پاور کہنے والے یہ
بزدل اس قابل نہیں ہیںکہ … ہم ان سے ڈریں… زندگی کے سانس اور ظاہری
امن ایسی قیمتی چیزیں نہیں ہیں کہ ان پر اپنے ایمان کو قربان کیا جائے… نہ
زندگی میں اضافہ ہو سکتاہے اور نہ تقدیر میں لکھی ہوئی پکی آزمائشیں ٹل سکتی
ہیں… لوگ تو ٹرکوں اور بسوں کی ٹکر سے بھی مرجاتے ہیں… تو کیا ہم ٹرک
اور بس کو سپرپاور مان لیں اور نعوذ باللہ اُس
کی پوجا کرنے لگیں؟… لوگ تو پانی میں ڈوب کر بھی مرجاتے ہیں تو کیا پھر پانی
کو ہم سب کچھ مان لیں؟… دوسروں کو ڈرون طیاروں سے مارنے والے خود بھی تو دن
رات مر رہے ہیں… پھر ایسی کونسی بات ہے کہ … جس کی وجہ سے
ہم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر امریکہ ، بھارت اور یورپ کی
غلامی کو قبول کر لیں؟… یہ سب عذاب میں پھنسے ہوئے لوگ ہیں… ایمان سے
محرومی بہت بڑا عذاب ہے، بہت بڑا… یہ سب بد نصیب لوگ ہیں… حضرت محمد
عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی سے محروم ہونا بہت بڑی بد نصیبی ہے
بہت بڑی… مسلمانو! اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا
کرو… اور دین اسلام کی قدر کرو… دیکھو! ہمارے آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کس اہتمام کے ساتھ دین پر دل کی استقامت کی دعاء فرمارہے
ہیں… یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلیٰ
دِیْنِکَ حالانکہ اُن کا دل تو ہر خطرے سے محفوظ تھا… اُن کے دل
جیسا مؤمن اور منوردل تو کسی کا بنایا ہی نہیں گیا… مگر پھر بھی وہ یہ دعاء
فرما رہے ہیں تو خود سوچیں کہ… ہم کس قدر محتاج ہیں… ہمارے دل تو معلوم
نہیں کتنی گندگیوں سے بھرے رہتے ہیں… نفاق، بزدلی، بخل، لالچ، ناجائز
شہوتیں… اور نہ معلوم کیا کیا شرارتیں… ہمارے آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم نے ہماری تعلیم کے لئے اس دعاء کی کثرت فرمائی تاکہ… ہمیں
اپنے ایمان اور اپنے دل کی فکر نصیب ہو جائے… اور ہم ہر فکر سے زیادہ اسی بات
کی فکر کریں کہ ہمارے دل کوایمان نصیب ہو جائے اور پھر اس ایمان پر استقامت بھی
نصیب ہو جائے…
جی
ہاں یہ ہمیشہ ہمیشہ… ابد الآباد کی کامیابی اور ناکامی کا مسئلہ
ہے… ایمان پر خاتمہ ہوا تو ابدالآباد کی
کامیابی… ورنہ!!!… یا اللہ رحم فرما ، حفاظت
فرما…
اَللّٰھُمَّ
یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قُلُوْبَنَا عَلیٰ دِیْنِکَ
اَللّٰھُمَّ
یَا مُصَرِّفَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قُلُوْبَنَا عَلٰی طَاعَتِکَ
آمین
یا ارحم الراحمین
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد صلوٰۃً تھدی بھا قلوبنا وعلیٰ الہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
بہت قوّت والے ہیں… وہ غالب و عزیز ہیں… قادر، مقتدر اور قوی ہیں… وہ
اس بات کی قدرت رکھتے ہیں کہ عدالتی فیصلے کے باوجود ’’عافیہ بہن‘‘ کو رہائی عطا
فرما دیں… اور بابری مسجد کی جگہ رام مندر بننے کو روک دیں… عجیب بات ہے
کہ ہمارے دشمن اب عدالتی دہشت گردی پر اُتر آئے ہیں… مگر الحمدللہ مسلمان
ابھی زندہ ہیں… اس طرح کے ہتھکنڈوں سے نہ اسلام کو روکا جا سکتا ہے اور نہ
مسلمانوں کو… امریکی عدالت نے ’’عافیہ بہن‘‘ کو طویل قید کی سزا سنا
دی… آخر کیوں؟… دراصل پورا کفر اس وقت اسلام دشمنی پر اُتر آیا
ہے… کیا جاہل اور کیا پڑھے لکھے… سب ہی مسلمانوں کے خوف سے تھر تھر کانپ
رہے ہیں… ججوں کا کام انصاف فراہم کرنا ہوتا ہے اور انصاف سے امن آتا
ہے… مگر اب تو جج بھی میدان جنگ میں اُتر آئے ہیں… اُن کے نزدیک کسی کو
سزا سنانے کے لیے اتنا کافی ہے کہ ملزم مسلمان ہے… عافیہ بہن تو کراچی سے
اغوا کی گئیں… جج نے یہ پتہ نہیں لگایا کہ وہ افغانستان کیسے پہنچیں… بس
اتنا بہت ہے کہ عافیہ مسلمان بیٹی ہے… وہ نماز اور پردے کی پابند ہے… وہ
جہاد اور مجاہدین سے محبت رکھتی ہے… اس لیے وہ مجرم ہے اور عدالت اُسے سزا
سناتی ہے… یقینا ایسے فیصلے دنیا کی رگوں سے ’’امن‘‘کو چھین لیں
گے… عافیہ بہن، مسلمان ہے اور مسلمان بیٹیاں کافروں کی قید میں رہنے کے لیے
پیدا نہیں ہوتیں… اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ وہ عافیہ بہن کو عزت و شان کے ساتھ
رہائی عطاء فرمائے… اسلامی احکامات کے مطابق ہر مسلمان کو اس بارے میں اپنی
ذمہ داری سے آگاہ ہونا چاہیے… اور آخرت کے سخت دن کی کامیابی کے لیے اپنی
اس ذمہ داری کو ادا بھی کرنا چاہیے… اُدھر ہندوستان کے صوبے یوپی (اتر پردیش)
کی ہائی کورٹ نے بابری مسجد کے مقام کو ’’رام جنم بھومی‘‘ قرار دے دیا
ہے… یعنی رام کی پیدائش کا مقام… ہندو بھی عجیب بے عقل لوگ ہیں ایک طرف
کہتے ہیں کہ رام ان کا خدا اور بھگوان ہے… اور دوسری طرف کہتے ہیں کہ رام
اجودھیا میںاُس جگہ پیدا ہوا جہاں بابری مسجد قائم تھی… کیا خدا اور بھگوان
بھی پیدا ہوتے ہیں؟… بے شک شرک ایسی نحوست ہے کہ اس سے انسان کی عقل ماری
جاتی ہے… بابری مسجد کا زمانہ کوئی بہت قدیم نہیں ہے… اگر یہ جگہ
ہندوئوں کی مقدّس پوجا گاہ ہوتی تو وہاں مسجد کس طرح سے بنتی؟… رام تو
ہندوئوں کا بھگوان نمبر ون ہے… اور ہندو اُسکی تاریخ کئی ہزار سال پہلے کی
بتاتے ہیں… کسی بھی مذہب کے لیے جو سب سے پہلی مقدّس جگہ ہوتی ہے وہ تو بہت
مشہور، معروف اور مصروف ہوتی ہے… پھربابر نے اس جگہ مسجد کس طرح سے بنا
لی؟… کیا اُس وقت ہندو قوم مر گئی تھی؟… دنیا جانتی ہے کہ مغلوں کے
زمانے میں ہندوئوں کو پورے ہندوستان میں کھلی آزادی حاصل تھی… بابر کا بیٹا
اکبر تو خود آدھا ہندو بنا بیٹھا تھا… اور اُسوقت کے ہندو مہاراجے اپنی
لڑکیاں اُس کے پاس چھوڑجاتے تھے… بابر نے اگر رام مندر گرا کر مسجد بنائی
ہوتی تو اکبر ضرور اُسے گرا دیتا… کیونکہ اکبر تو مکمل طور پر ہندوئوں کے
گھیرے میں تھا… وہ تو ہندوئوں کی خوشنودی کے لیے پورے اسلام کوہی ہندوستان
میں گرانے پر تُلا ہوا تھا… اللہ تعالیٰ اُس زمانے کے اکابر و مشائخ کو جزائے
خیر عطا فرمائے جنہوں نے تجدید دین کا بیڑہ اٹھایا… اور اکبری فتنے کا منہ
توڑ مقابلہ کیا… ان حضرات میں سب سے اونچا نام حضرت مجدّد الف ثانی یعنی شیخ
احمد سرہندیؒ کا ہے… حضرت شیخ نے اس فتنے کی سرکوبی میں ’’جہانگیر‘‘کے ہاتھوں
قید و بند کی صعوبتیں بھی اٹھائیں… مغل بادشاہوں میں سے صرف حضرت اورنگزیب
عالمگیر نوراللہ مرقدہ کے زمانہ میں… اسلام کا صحیح رنگ نظر آیا… انہوں
نے بہت سے اسلامی احکامات کو نافذ کیا اور دینداری کے ساتھ اسلام اور جہاد کی خدمت
کی… آج کے متعصب ہندو اورنگزیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے
ہی چڑتے ہیں… انہوں نے اورنگزیب کے خلاف طرح طرح کی کتابیں لکھی
ہیں… اور عجیب وغریب فلمیں اور ڈرامے بنائے ہیں… مگر بابری مسجد تو
اورنگزیب رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں نہیں بنی… بابری
مسجد کا مسئلہ تو انگریزوںکی قائم کردہ ہندو تنظیم آر ایس ایس نے
اٹھایا… انگریزوں نے برّصغیر میں اسلام کے خاتمے کے لیے جو اقدامات کئے ان
میں سے ایک یہ بھی تھا کہ… متعصب ہندوئوں کی تنظیم آر ایس ایس قائم
کی… اور مسلمانوں میں قادیانی ٹولے کو کھڑا کیا… انگریز بہت مکار
تھا… اسلام اور مسلمانوں کا بد ترین دشمن اور خوفناک زہریلا… اور گندا
سازشی… آر ایس ایس اور اُسکی ذیلی تنظیمیں انگریز کی سرپرستی میں قائم
ہوئیں… ان تنظیموں نے پورے ملک میں اکھاڑے بنائے اور مسلمانوں کے خلاف عسکری
اور فکری کام شروع کیا… لوگ سمجھتے ہیں کہ… صرف… بی جے پی میں آر
ایس ایس اور وی ایچ پی کے لوگ ہیں… حالانکہ یہ غلط ہے… کانگریس کے کئی
لیڈر اندرونی طور پر ان متعصب ہندو تنظیموں کے خفیہ رکن ہیں… ہندوستان کا
پہلا وزیر داخلہ’’ولبھ بھائی پٹیل‘‘ خود زہریلا ’’جن سنگھی‘‘ تھا اُس نے وسیع
پیمانے پر مسلمانوں کا قتل عام کیا… اور حیدرآباد اور جونا گڑھ میں مسلمانوں
کے خون سے ہولی کھیلی… آر ایس ایس کو ہندوستان کی ہر حکومت کے دور میں مکمل
آزادی سے کام کرنے کا موقع ملا… چنانچہ یہ تنظیم بہت طاقتور ہو چکی
ہے… اور اس کی ناپاک جڑیں دور دور تک پھیل چکی ہیں… پاکستان کے حکمران
تو شروع سے ہی ’’دین بیزار‘‘ ہیں… انہوں نے آج تک کسی نظریاتی اسلامی جماعت
یا تنظیم کو مضبوط نہیں ہونے دیا… آر ایس ایس گذشتہ اسّی سال سے جس آزادی
سے کام کر رہی ہے… اگر ایسی آزادی صرف دس سال کے لیے ’’جیش
محمد صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ کو مل جائے تو… ان شاء اللہ مسلمان
برّصغیر کی ناقابل تسخیر طاقت بن جائیں… مگر ہمارے حکمران تو دین اور جہاد کے
کھلم کھلّا دشمن ہیں… یہ دس سال تو درکنار دس گھنٹے بھی کسی اسلامی طاقت کو
آزادی سے سانس نہیں لینے دیتے… اسی وجہ سے نہ تو پاکستان طاقتور ہوسکا اور
نہ برّصغیر کے مسلمان کوئی باعزت مقام حاصل کرسکے… ہندو مشرک جب چاہتے ہیں
مسلمانوں کی پوری کی پوری آبادیاںاکھاڑ کر رکھ دیتے ہیں… ابھی کچھ دن پہلے
گجرات کے مسلم کش فسادات کی ایک سی ڈی دیکھی تو دل خون کے آنسو
رویا… مسلمانوں کی ایک پوری بستی آگ میں جلی ہوئی تھی… اور اس آگ کی
چنگاریاں ناقابلِ برداشت داستانیں سنا رہی تھیں… گذشتہ ساٹھ سالوں میں
ہندوستان میں تیس ہزار سے زائد اجتماعی مسلم کش فسادات ہو چکے ہیں… اور ان
میں سے ہر فساد کی داستان دوسرے سے زیادہ المناک اور دردناک ہے… جبکہ پاکستان
میں ایک بھی ہندو کش فساد نہیں ہوا… خیر یہ تو اچھا ہوا کیونکہ اسلام نہتے
لوگوں کے اس طرح قتل عام کی ہرگز اجازت نہیں دیتا… مگر ہندوستان کے ظلم و
فساد میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے… گجرات کے وزیر اعلیٰ نرنیدر مودی نے اپنی
نگرانی ہزاروں مسلمانوں کو شہید کروایا… اور ہندوستان کی سیاست پر آر ایس
ایس کی گرفت ہر آئے دن بڑھتی ہی جارہی ہے… یہ صورتحال پاکستان کے وجود کے
لیے بے حد خطرناک ہے… مگر یہاں کے مست حکمران بالکل بے فکرہیں اور اُن کے
نزدیک ہندوستان اُن کا بہترین دوست ہے… دوسری طرف ایک اور خوفناک المیہ یہ ہے
کہ پاکستان کی کئی دینی قوّتیں بھی ہندوستان کی اسلام دشمنی سے ناواقف
ہیں… وہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ دیوبند اور بریلی ہندوستان میں ہیں اس
لیے… نہ تو کشمیر کا جہاد جائز ہے اور نہ بابری مسجد کے المیے پر بات کرنا
درست ہے… ان دینی قوتوں کو چاہیے کہ ہندوستان کے حالات کا اندر سے جائزہ لیں
اور اپنے نظریات درست کریں… ہندوستان کی حکومت اور سیاست، اسرائیل سے کم
اسلام کی دشمن نہیں ہے… ابھی حال ہی میں بابری مسجد کے خلاف الہ آباد ہائی
کورٹ کے فیصلے کو ہی پڑھ لیں… رشوت خور مشرک ججوں نے اس فیصلے میں جس طرح سے
اخلاق، انصاف اور انسانی قدروں کی دھجیاں اڑائی ہیں… شاید ہی تاریخ میں اس کی
مثال ملے… اس عدالتی فیصلے کا لب و لہجہ قانونی نہیں بازاری ہے… اور اس
فیصلے نے ہندوستان میں جاری ہندو دہشت گردی کو قانونی جواز فراہم کرنے کی کوشش کی
ہے… اس فیصلے کے مطابق بابری مسجدکی زمین کو تین حصوں میں تقسیم کردیا گیا
ہے… دو حصے ہندوئوں کواور ایک حصہ مسلمانوں کو دیا گیا ہے… حالانکہ
سینکڑوں سال سے یہ زمین مسلمانوں کی ملکیت تھی… اور جب ہندوستان آزاد ہو رہا
تھا اور اُس کا آئین بن رہا تھا تب بھی اس زمین پر مسلمانوں کا قبضہ تھا… یہ
تو ۱۹۵۲ء
سے آر ایس ایس نے جھگڑا شروع کیا… مسجد شریف میں زبردستی مورتیاں رکھ دی
گئیں اور ایک مقامی عدالت نے مسجد کو تالے لگوا کر وہاں نماز بند کرا
دی… ہندوستان کے مسلمان کافی کمزور ہیں… اور اُن کو ہر آئے دن مزید
کمزور کیا جا رہا ہے… ہمارے وہاں کے اکابر نے بہت سوچ سمجھ کر وہاں کی جمہوری
سیاست سے علیحدگی اختیار کر لی… مگر بعد والے اسی سیاست کے ساتھ چپکے ہوئے
ظاہری پروٹوکول کی خاطر بے آبرو ہوتے رہتے ہیں… قادیانی، منکرینِ حدیث اور
وحید الدین خان کے فتنوں نے مسلمانوں کے اندر سے آزادی کی تڑپ تک نکال دینے کا
مشن شروع کر رکھا ہے… ہندوستان کے بیس کروڑمسلمان کسی مخلص اور گرمجوش قیادت
سے محروم ہیں… اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطاء فرمائے حضرت سید ابو الحسن علی
ندوی رحمۃ اللہ علیہ کو جنہوں نے آخری سانس تک
مسلمانوں کو زندہ اور بیداررکھنے کی انتھک محنت فرمائی… حضرت
ندوی رحمۃ اللہ علیہ بڑے یقین سے فرمایا کرتے تھے کہ
ہندوستان ہم مسلمانوں کا ہے اور ان شاء
اللہ مسلمان ہی اس کے مالک اور حکمران بنیں گے… ٹھنڈی اور مایوس قوم میں غیرت
اور حرارت پیدا کرنے کے لیے حضرت ندویؒ نے مسلم پرسنل لابورڈ کے نام سے ایک طاقتور
دینی جماعت قائم فرمائی… اور عرب ممالک کی طرف سے شہریت کی پیشکش کو ٹھکرا کر
آپ آخری دم تک ہندوستان میں مقیم رہے… مگر اُن کے انتقال پر ملال کے بعد جو
خلا پیدا ہواوہ ابھی تک پُر نہیں ہوسکا…
اللہ
تعالیٰ ساری دنیا کے مسلمانوں پر… اور ہندوستان کے مسلمانوں پر رحم
فرمائے… ہم بحیثیت مسلمان الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو انتہائی نفرت اور
حقارت سے مسترد کرتے ہیں… اور ساری دنیا کو اسلام کا یہ فیصلہ سناتے ہیںکہ
اجودھیا کی یہ زمین بابری مسجد کی ہے… یہاں بابری مسجد قائم تھی جسے ہندوئوں
نے ۶ دسمبر ۱۹۹۲ء
کے دن شہید کر دیا… اللہ تعالیٰ کی مسجد جس جگہ قائم ہوجائے وہ قیامت تک مسجد
ہی ہوتی ہے… مسجد کو شہید کرنے کا عمل ایک مجرمانہ فعل تھااور یہ جرم پوری
اُمت کے خلاف متعصب ہندوئوں نے کیا… اسلام یہ فیصلہ سناتا ہے کہ اس جگہ
دوبارہ مسجد ہی تعمیر کی جائے… اور کسی بھی صورت شرک کے اڈے مندر کو برداشت
نہ کیا جائے… ساری دنیا کے مسلمان ایک جسم اور ایک جان ہیں… ساری دنیا
کی مساجد کا تحفظ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے… اور مساجد کے تحفظ کے لیے جان
دینے والے مسلمان بہت اونچے درجے کے شہید ہوتے ہیں… ہاں یہ اسلام کا فیصلہ
ہے… اور اسلام کے ماننے والے مسلمان اس فیصلے کے پابند ہیں… اب کسی کو
اچھا لگے یا بُرا… اور ہم زندہ رہیں یا مر جائیں… ایک بات بالکل واضح
طور پر کہتے ہیں کہ… ان شاء اللہ بابری مسجد کی بحالی کی تحریک جاری رہے
گی… اور اگر وہاںرام مندربنانے کی کوشش کی گئی تو … مسلمانوں کی
طرف سے بھرپور مزاحمت ہو گی… ان شاء اللہ بھرپور، زوردار اور لرزہ انگیز
مزاحمت… حذیفہ سائیں سلام قبول کرنا… ابو طلحہ اور پاملا، اسدﷲ، سلیم،
عمر، اکرم اور ایّوبی… اور سب شہداء کرام کو سلام… یا اللہ ان پاکباز
جوانوں کے خون کی لاج رکھ لیجئے…
آمین
یا ارحم الراحمین
اللھم
صل علیٰ سیدنا و مولانا محمد النبی الامی االماحی نبی السیف والملاحم وعلیٰ آلہ و
صحبہ وبارک وسلم تسلیماً کثیراً کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
مجھے اور آپ سب کو تمام روحانی اور جسمانی بیماریوں سے شفاء نصیب
فرمائے… پہلے ایک بات سن لیںکہ بعض مسلمان بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ… بابری
مسجد جس جگہ تعمیر ہوئی تھی اُس جگہ کا نام ’’جنم استھان‘‘ یعنی پیدائش کی جگہ
تھا… یہ بات غلط ہے… اول تو یہ بات ہی ثابت نہیں کہ رام کی پیدائش
اجودھیا میںہوئی تھی… پھر جو لوگ اجودھیا میں پیدائش مانتے ہیں وہ بھی کئی
جگہیں الگ الگ بتاتے ہیں… ہندوستان تو ویسے ہی جھوٹ نگری ہے… کچھ عرصہ
قبل آر ایس ایس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ نعوذ ب اللہ ، نعوذب اللہ ’’حجر اسود‘‘
شیولنگ ہے… ویسے بھی ہندوستان کی عدالت کو سینکڑوں سال پرانے مسئلے کو حل
کرنے کا کیا حق حاصل ہے؟… خود ہندوستان کو بنے ہوئے تریسٹھ سال ہوئے
ہیں… پھر اس بات کا فیصلہ بھی ہونا چاہئے کہ اگر بابری مسجد کی جگہ رام مندر
تھا تو… رام مندر سے پہلے وہاں کیا تھا… تب اس زمین کے حقدار تو وہ ہوں
گے جو رام مندر سے پہلے اس زمین کے مالک تھے… کیا اب حضرت آدم علیہ السلام
کے زمانے کی ملکیتوں کے فیصلے بھی آج کی عدالتیں کریں گی… کچھ لوگ دراصل خود
کو منصف قرار دینے کے لئے ملی جلی باتیں کرتے رہتے ہیں… ان کو اتنا بھی خیال
نہیں کہ یہ ایک مسجد کا مسئلہ ہے… اور
مسجد اللہ تعالیٰ کا گھر اور مسلمانوں کی غیرت ہے… بُت
تو کعبۃ اللہ میں بھی پوجے جاتے تھے… جب مسلمانوں نے
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت مبارکہ میں بزور تلوار مکہ
مکرمہ فتح کیا تو کعبہ شریف میں تین سو ساٹھ بُت رکھے ہوئے تھے… مگر پھر کعبہ
کو پاک صاف کر دیا گیا… اور اب کسی کو حق اور اختیار نہیں کہ پرانی تاریخ کو
کھنگال کر کوئی فیصلہ کرے…اسلام اور کفر برابر نہیں ہیں… اہل توحید اور
مشرکین کو ایک جیسے حقوق حاصل نہیں ہیں… مسجد جب بن جاتی ہے تو وہ قیامت تک
کے لئے مسجد رہتی ہے… اور بابری مسجد تو پہلے دن سے بابری مسجد
ہے… اللہ کیلئے! مسلمانوں کے خون کو اتنا ٹھنڈا نہ کرو کہ
لوگ اُسے جوس سمجھ کر پی جائیں… اللہ کے لئے غیرت کے چراغ
کو اتنا رسوا نہ کرو کہ بے غیرتی کو لوگ دانشمندی سمجھنے لگیں… یہ بات تو کسی
پاگل نے نہیں کہی کہ مسجد کی جگہ رام مندر بننے سے اسلام خطرے میں پڑجا ئے
گا… ہاں یہ ضرور کہا ہے کہ اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو یہ اسلام اور
مسلمانوںکی توہین ہو گی… اور کوئی مسلمان جس نے واقعی اپنی ماں کا دودھ پیا
ہو اسلام کی توہین گوارہ نہیں کر سکتا…ہندو جیسا مشرک جب ایک مفروضے پر اتنی جان
لڑاسکتا ہے تو پھر مسلمان ایک حقیقت پر قربانی کیوں نہیں دے سکتا… یاد رکھنا
بابری مسجد ہندوستان کے بیس کروڑ اور برصغیر کے پچاس کروڑ مسلمانوں کے مستقبل کا
سوال ہے… ایڈوانی نے خود کہا تھا کہ ہم بابری مسجد کے بعد تین ہزار مساجد
گرائیں گے… اور پھر میڈیا پران مساجد کے نام بھی جاری کر د یئے گئے… مگر
اسلامی غیرت سے سرشار مسلمانوں نے اس ظلم اور بے غیرتی کو ٹھنڈے پیٹ سہنے سے انکا
رکر دیا… مشرق سے مغرب تک ہائے بابری مسجد، ہائے بابری مسجد کی صدا نے
مسلمانوں کے لہو کو گرم کیا تو… ایڈوانی ہندوستان کا نائب وزیراعظم بن کر بھی
رام مندر تعمیر نہ کر سکا… الحمدللہ مسلمان آج بھی زندہ ہیں اور حالات کا مقابلہ
کرنا جانتے ہیں… نہرو، گاندھی خاندان اسلام اور پاکستان کا بدترین دشمن
ہے… کانگریس نے مزید پچاس سال تک اقتدار میں رہنے کے لئے بابری مسجد کا سودا
کرنے کی ٹھانی ہے… مگر سونیا اور راھول گاندھی کو ان شاء
اللہ جلد احساس ہو جائے گا کہ یہ پتھر بہت بھاری ہے… آج اس
موضوع کو یہاں روک کر ایک اور دلچسپ بات کرتے ہیں… کالم کا آغاز’’شِفاء‘‘ کی
دعاء سے ہوا… بیمار تو ہر آدمی ہوتا ہی رہتا ہے… اور آج کل تو
بیماریوں کا میلہ لگا ہوا ہے اور ڈاکٹر صاحبان خوب کما رہے ہیں… دنیا جب سے
وجود میں آئی ہے اس میں سب سے اچھی صحت ہمارے آقامدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کی تھی… اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہترین
علاج’’الحجامہ‘‘ یعنی پچھنے لگانے کو ارشاد فرمایا… ابھی تھوڑی دیر پہلے میں
نے علامہ ابن قیمؒ کی معروف کتاب’’زادالمعاد‘‘ میں’’الحجامہ‘‘ کا باب پڑھا تو
حیران رہ گیا… سبحان اللہ وبحمدہ
سبحان اللہ العظیم… اللہ تعالیٰ نے
اس آسان سے علاج میں کتنی بے شمار بیماریوں سے شفاء رکھی ہے… علامہ ابن قیمؒ
نے بہت سی خوفناک بیماریوں کے نام گنوائے ہیں کہ وہ پچھنے لگوانے سے ٹھیک ہو جاتی
ہیں… ’’الحجامہ‘‘ کہتے ہیں جسم کے مختلف حصوں کی کھال سے تھوڑا سا خون
نکالنا… بیماریاں اسی فاسد خون کے ساتھ نکل جاتی ہیں اور جسم صحت مند اور
توانا ہو جاتا ہے… ہمارے آقاو محبوب مدنی صلی اللہ علیہ وسلم بہت
اہتمام کے ساتھ پچھنے لگواتے تھے… یہاں تک کہ روزے اور احرام کی حالت میں بھی
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے… اِدھر ہمیں دیکھیں کہ ہم
ساری زندگی اس علاج اور نعمت سے محروم رہے… کچھ دن پہلے اچانک اِس علاج کی
طرف توجہ ہوئی… حالانکہ جب سے دینی تعلیم حاصل کی ہے’’الحجامہ‘‘ کے بارے میں
پڑھتے سنتے رہے ہیں… اب اللہ تعالیٰ نے توجّہ نصیب
فرمائی تو سوچا کہ’’مرکز رُشد و انوار‘‘بہاولپور میں اس ’’سنت علاج‘‘ کا احیاء کیا
جائے… سیکھنے کے لئے چند ساتھی متعین ہوئے اور ایک ماہر استاد کا انتظام بھی
ہو گیا… صرف تین دن کے آسان سے کورس میں اب
ماشاء اللہ چار ساتھی یہ’’فن ‘‘ سیکھ چکے ہیں اور درجنوں
افراد کے جسم کو فاسد خون سے پاک کر چکے ہیں…ویسے بھی ہم لوگ کافی عرصہ سے یہی کام
کر رہے تھے… جہاد بھی تو پورے عالم کی’’الحجامہ‘‘ہے… گندے خون کو نکال
کر دنیا کو کفر، شرک، فتنے اور ظلم سے پاک کیا جاتا ہے… مکہ مکرمہ کا گندا خون
جب نکال کر بدر کے کنویں میں ڈال دیا گیا تو… مکہ مکرمہ کی صحت بحال ہونا
شروع ہوئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے مکہ مکرمہ پھر پورے عالم کا’’مرکز ہدایت‘‘ بن
گیا… خیر یہ الگ موضوع ہے … آپ میں سے بھی کئی لوگ بیمار ہوں
گے… ’’الحجامہ‘‘ کے ذریعہ جسمانی امراض کے علاوہ نظربد، عین حاسد، اور جادو
کا علاج بھی ہوجاتا ہے…ہمارے محبوب اور کریم آقا صلی اللہ علیہ
وسلم نے خود ہمیں جسم کے وہ مقامات بتا دیئے ہیں جہاں بیماریوں کے
جراثیم کا چھتّہ بنتا ہے… بس وہاں سے خون نکالیں تو تمام بیماریوں کی جڑیں کٹ
جاتی ہیں… احادیث مبارکہ میں’’الحجامہ‘‘ کے مقامات، اس کے لئے مناسب
تاریخیں… اور مناسب دنوں تک کا تذکرہ ملتا ہے… بندہ نے اپنے ایک فاضل
ساتھی سے عرض کیا کہ’’الحجامہ‘‘ کے بارے میں کچھ احادیث و روایات جمع کر
دیں… اللہ تعالیٰ اُن کو جزائے خیر نصیب فرمائے کہ انہوں نے
فوری طور پر تیس روایات جمع کر دی ہیں… آئیے ہم سب ان روایات کو پڑھیں اور
اپنے محبوب ِقلب آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مبارک کے
ایک اور پہلو کو دیکھیں…اورپھر صبح شام، دن رات آپ صلی اللہ علیہ
وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر درود و سلام
بھیجیں…
’’الحجامہ‘‘
چند احادیث مبارکہ
(۱) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا شفاء تین چیزوں میں
ہے پچھنا لگوانے، شہد پینے اورآگ سے داغنے میں، اورمیں اپنی امت کو آگ سے داغنے
سے منع کرتا ہوں۔(بخاری ص ۸۴۸ ج ۲/زاد
المعاد ص ۵۵۰ طبع
بیروت)
(۲) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی
ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک مرتبہ) پچھنا لگوایا درانحالیکہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے تھے۔(بخاری۸۴۹ ج ۲/ زادالمعاد
ص ۵۵۴ بیروت)
(۳) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے حالتِ احرام میں پچھنا لگوایا۔(بخاری ص ۸۴۹ ج ۲)
(۴) حضرت
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، آپ رضی اللہ عنہسے پچھنا
لگانے کی اجرت کے بارے پوچھا گیا( کہ جائز ہے یا نہیں؟) آپ رضی اللہ
عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے پچھنا لگوایا تھا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو
ابو طیبہ نے پچھنا لگایاتھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو صاع
اناج(اجرت) میں دیا تھا اور آپ نے ان کے آقاؤں سے گفتگو کی تو انہوں نے ان سے
وصول کی جانے والی لگان میں کمی کر دی تھی۔ اور آنحضور صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا بہترین علاج جو تم کرتے ہو پچھنا لگانا ہے… (بخاری
ص ۸۴۹ ج ۲،
مسلم ص۲۲ ج ۲،
زادالمعاد ص ۵۵۱ طبع
بیروت)
(۵) حضرت
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ مُقَنَّّع کی عیادت کے لئے تشریف
لائے۔پھر ان سے کہا جب تک تم پچھنا نہ لگوا لو گے میں یہاں سے نہیں جاؤنگا۔ میں
نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے
سنا ہے کہ اس میں شفاء ہے۔(بخاری ص ۸۴۹ ج ۲)
(۶) حضرت
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے اپنے سر مبارک میں پچھنا لگوایا۔(بخاری ص ۸۴۹ ج ۲)
(۷) حضرت
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اگر تمہاری دوائیوں میں سے کسی میں
خیر ہے تو شہد پینے میں، پچھنا لگوانے میں اور آگ سے داغنے میں ہے لیکن میں آگ
سے داغ کر علاج کرنے کو پسند نہیں کرتا۔(بخاری ص۸۵۰ ج۲)
(۸) حضرت
انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم گردن کے دونوں جانب کی رگوں اور شانوں کے درمیان پچھنے لگوایا
کرتے تھے اور یہ عمل سترہ، انیس یا اکیس تاریخ کو کیا کرتے تھے۔(ترمذی ص ۲۵ ج۲/ زادالمعاد
ص ۵۵۳ بیروت)
(۹) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے
ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شب
معراج کا قصہ سناتے ہوئے فرمایاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرشتوں کے جس
گروہ پر بھی گزرتے وہ یہی کہتا کہ اپنی امت کو پچھنے لگوانے کا حکم کیجئے
گا۔(ترمذی ص ۲۵ ج ۲)
(۱۰) حضرت
عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباسؓ کے پاس تین غلام تھے
جو پچھنے لگاتے تھے، ان میں سے دو تو اجرت پر کام کیا کرتے تھے اور ایک ان کو اور
ان کے گھر والوں کو پچھنے لگایا کرتا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل
فرماتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھنے لگانے والا
غلام کتنا بہترین ہے، خون کو لے جاتا ہے، پیٹھ کو ہلکا کر دیتا ہے اور نظر کو صاف
کر دیتا ہے۔ اور آپ ر ضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ
وسلم معراج پر تشریف لے گئے تو فرشتوں کے جس گروہ سے بھی گزر ہوا انہوں
نے یہی کہاکہ حجامت ضرور کیا کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا پچھنے لگانے کے لئے بہترین دن سترہ، انیس اور اکیس کے دن ہیں۔۔۔ اور یہ بھی
فرمایا کہ بہترین علاج سعوط لدود اور پچھنے لگانا ہے۔۔۔ (ترمذی ص۲۵ ج۲/ زادالمعاد
ص ۵۵۱ بیروت)
(۱۱) حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
کہ اگر تم لوگوں کی تمام ادویات میں سے کوئی دوا بہتر ہے تو وہ حجامت یعنی پچھنے
لگوانا ہے۔(ابوداؤد ص ۱۸۳ ج ۲)
(۱۲) رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کی خادمہ حضرت سلمیٰ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جو شخص
بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں
سردرد کی شکایت کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پچھنے لگوانے کا
فرماتے اور جو شخص پاؤں کے درد کی شکایت کرتا اسے فرماتے ان کو مہندی
لگاؤ۔۔۔۔!(ابو داؤد ص ۱۸۳ ج ۲)
(۱۳) حضرت
ابو کبشہ انماری رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ
وسلم اپنے سرمبارک کی مانگ میں اور دونوںکندھوں کے درمیان فصد لگواتے ،
اور ارشاد فرماتے جو شخص ان جگہوں کا خون نکلوائے تو اس کو کسی مرض کے لئے کوئی
دوا استعمال نہ کرنا نقصان نہیں پہنچائے گا۔ (ابو داؤد ص ۱۸۳ ج ۲/ ابن
ماجہ ص ۲۴۹)
(۱۴) حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص نے سترہ، انیس اور اکیس تاریخ کو سینگی
لگوائی اس کے لئے یہ ہر مرض سے شفاء ہو گی۔( ابو داؤد ص ۱۸۴ ج۲/ زاد
المعاد ص ۵۵۳ بیروت)
(۱۵) حضرت
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اُبی
رضی اللہ عنہ کے پاس ایک طبیب بھیجا چنانچہ اس طبیب نے (پچھنے لگانے کیلئے) ان کی
ایک رگ کاٹی۔(ابو داؤد ص ۱۸۴ ج ۲)
(۱۶) حضرت
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے اپنی ران مبارک کے بالائی حصہ پر ہڈی میں درد کی بنا پر پچھنے
لگوائے۔(ابو داؤد ص ۱۸۴ ج۲/ زادالمعاد
ص ۵۵۲ بیروت)
(۱۷) حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا جو علاج تم کرتے ہو ان میں سے اگر کسی میںبہتری
ہے تو وہ پچھنے لگانے میں ہے۔(ابن ماجہ ص ۲۴۸)
(۱۸) حضرت
ابن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا شب معراج میں فرشتوں کی جس جماعت پر بھی میرا گزر ہوا ہر ایک نے مجھے
یہی کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! پچھنے لگانے کا اہتمام کیجئے۔( ابن
ماجہ ۲۴۸)
(۱۹) حضرت
ابن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اچھا ہے پچھنے لگانے والا غلام۔ خون نکال
دیتا ہے، کمر ہلکی کر دیتا ہے اور بینائی کو روشن کر دیتا ہے۔ ( ابن ماجہ ۲۴۸)
(۲۰) حضرت
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
شب معراج میں جس جماعت پر بھی میرا گذرہوا اس نے یہی کہا اے محمد اپنی امت کو
پچھنے لگانے کا حکم فرمائیے۔(ابن ماجہ ص۲۴۸/ زادالمعاد
ص ۵۵۱)
(۲۱) حضرت
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین حضرت سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھنے لگوانے کی اجازت چاہی تو آپ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ابو طیبہ کو حکم فرمایا کہ انہیں پچھنے لگاؤ۔ راوی
کہتے ہیں کہ ابو طیبہ سیدہ ام سلمہؓ کے رضاعی بھائی تھے یا کم سن لڑکے تھے۔(ابن
ماجہ ص ۲۴۸)
(۲۲) حضرت
عبد اللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لحی جمل(نامی
مقام) میں بحالت احرام اپنے سر مبارک کے وسط میں پچھنے لگوائے۔(ابن ماجہ ص ۲۴۸/ زادالمعاد
ص ۵۵۲)
(۲۳)حضرت
علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت جبرائیل حنبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کے پاس، گردن کے دونوںجانب کی رگوں اور کندھوں کے درمیان پچھنے
لگانے کا حکم لے کر آئے۔(ابن ماجہ ص ۲۴۹/ زادالمعاد
ص ۵۵۲)
(۲۴) حضرت
انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے گردن کے دونوں جانب کی رگوں اور کندھوں کے درمیان پچھنے
لگوائے۔ (ابن ماجہ ص ۲۴۹ / زادالمعاد ص ۵۵۲)
(۲۵) حضرت
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے
گھوڑے سے کھجور کے ایک تنے پر گرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں
مبارک میں موچ آگئی۔ وکیع فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم نے ہڈی میں درد کی وجہ سے پچھنے لگوائے۔ (ابن ماجہ
ص ۲۴۹)
(۲۶) حضرت
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
جو پچھنے لگانا چاہے وہ سترہ یا انیس یا اکیس تاریخ کو لگائے تاکہ ایسا نہ ہو کہ
خون کا جوش تم میں سے کسی کو ہلاک کر دے۔(ابن ماجہ ص ۲۴۹/ زادالمعاد
ص ۵۵۳ بیروت)
(۲۷) حضرت
نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے نافع! میرے خون میں
جوش ہو گیا ہے اس لئے کوئی پچھنے لگانے والا تلاش کرو، اگرہو سکے تو نرم خو آدمی
کو لانا عمر رسیدہ ، بوڑھا یا کم سن بچہ نہ لانا۔ اس لئے کہ میں نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے
سنا نہار منہ پچھنے لگوانا بہترہے اور اس میں شفاء ہے اور برکت ہے۔ یہ عقل بڑھاتا
ہے، حافظ تیز کرتا ہے۔ اللہ برکت دے جمعرات کو پچھنے لگوایا
کرو۔ اور بدھ، جمعہ، ہفتہ اور اتوار کے روز قصدا پچھنے مت لگوایا کرو (اتفاقاً
ایسا ہو جائے تو کوئی حرج نہیں) اور پیر اورمنگل کو پچھنے لگوایا کرو اس لئے کہ
اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کو بیماری سے
شفاء عطاء فرمائی اوربدھ کے روز وہ بیمار ہوئے تھے۔ اور جذام اوربرص ظاہر ہوا تو
بدھ کے دن یا بدھ کی رات کو ظاہرہوتا ہے۔(ابن ماجہ ص ۲۴۹/ زادالمعاد
ص ۵۵۴)
(۲۸) حضرت
ابوبکررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ منگل کا دن خون کا دن ہے اس میں ایک گھڑی ایسی
آتی ہے کہ اس میں خون نہیں بند ہوتا۔( زادالمعاد ص ۵۵۴/ سنن ابی داؤد
ص ۱۴۸ ج۲)
(۲۹) نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گُدی کے اوپر کی ہڈی کے وسط
میں پچھنے ضرور لگوایا کرو اس لئے کہ یہ پانچ بیماریوں سے شفاء ہے۔(زادالمعاد
ص ۵۵۲ بیروت)
(۳۰) نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گُدی سے اوپر کے گڑھے (یعنی
ہڈی کے اوپر) میں ضرور پچھنے لگواؤ اس لئے کہ یہ بہتر(۷۲) بیماریوں سے شفاء
ہے۔ ( زادالمعاد ص ۵۵۲ بیروت)
اللھم
صل علی سیدنا و مولانا محمد النبی الطَّاہر الزکیّ صلوٰۃً تُحَلُّ بھا العُقَدُ
وتُفَکُّ بھا الکُرَب وعلی الہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو’’حرام مال‘‘ سے بچائے… اور ہم سب کو’’رزق حلال‘‘ وسعت اوربرکت کے ساتھ نصیب فرمائے… اچھا پہلے ایک بات بتائیں؟… میں اور آپ مزید کتنے دن زندہ رہیں گے؟… کچھ پتا نہیں، ہم تو ابھی بھی مر سکتے ہیں اور چند دنوں اور چند سالوں کے بعدبھی… جب ہم مر جائیں گے تو ہماری تمام چیزیں پیچھے والوں میں تقسیم ہو جائیں گی… پھر وہ بھی مر جائیں گے… مکانات کی دیواریں ہر کچھ عرصہ بعد نئے لوگوں کی شکلیں دیکھتی ہیں… اور پوچھتی ہیں کہ ہمارے بنانے والوں کا کیا بنا؟… اب تو قبروں کے نشانات بھی جلدی مٹ جاتے ہیں… زمینوں کے کاروبار نے زمین کو ظلم اور فساد سے بھر دیا ہے… لوگ قبرستانوں پر تیزی سے قبضے کر رہے ہیں… آہ! قبریں تک بِک رہی ہیں اور اُن پر پلازے کھڑے ہو رہے ہیں… دھوکے باز شیطان نے ہم سب کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے… ایک صاحب کو بڑی کوٹھی کا بہت شوق تھا… اس کی خاطر یورپ جا بسے… خوب محنت کی اور مال کمایا… جو کماتے وہ کوٹھی کو کھلا دیتے… یعنی خود تو محنت کر کر کے ختم ہو رہے تھے اور اُن کا پیسہ اور خون کوٹھی کھا کر موٹی ہو رہی تھی… پہلے زمین خریدی، پھر نقشہ بنوایا اور پھر تعمیر ہوتی رہی… کوٹھی بن گئی اس پر چار کروڑ روپے خرچ ہوئے… وہ وطن واپس آکر کوٹھی دیکھنا چاہتے تھے کہ… موت کے فرشتوں نے آواز لگائی… اپنی جان ہمارے حوالے کرو… وہ بے چارے مر گئے… رشتہ دار بڑے وفادار تھے… انہوں نے وفاداری دکھانے کے لئے میّت کو خوب رسوا کیا… پہلے تو اٹھا کر پاکستان لے آئے… وہیں یورپ میں دفن کر دیتے تو اچھا ہوتا… وہاں مسلمانوں کے الگ قبرستان موجود ہیں… مگر رشتہ داروں نے تو وفاداری دکھانی تھی… میّت کو بیرون ملک بھیجنے سے پہلے خوب کاٹا چیرا جاتا ہے… پیٹ کاٹ کر آلائش نکال دیتے ہیں کہ جناب والا بدبودار نہ ہو جائیں… آہ! اے انسان! کچھ تھوڑا تکبّر کیا کر دیکھ تو سہی تیری اصلیت کیا ہے… پھر پوسٹ مارٹم ہوتا ہے… اُس میں اکثر کھوپڑی تک توڑتے ہیں… ہتھوڑے کی زور دار ضرب سے سر کی ہڈی کے پیچ کھل جاتے ہیں… پھر کئی بیماریوں کے ٹیسٹ ہوتے ہیں… اور طرح طرح کی پاک ناپاک دوائیاں لاش میں بھری جاتی ہیں… تب کہیں میت کو جہاز پر سوار کرنے کی اجازت ملتی ہے… کوٹھی والے صاحب کو بھی رشتہ دار اٹھا کر لے آئے… پہلے ائیر پورٹ، پھر ایمبولینس کا لمباسفر… پھر میت کو کوٹھی میں لا کر رکھا گیا… اور پہیوں والے بیڈ پر لٹا کر پورے گھر میں گھمایا گیا کہ… یہ لاؤنج ہے، یہ بیڈ روم اور یہ کچن وغیرہ… اُس بیچارے کی روح کیا سوچ رہی ہو گی؟… یہی کوٹھی مجھے کھا گئی… آج وہ دوسروں کے لئے تیار ہے اور میں اسے چھوڑ کر ایک کچی کوٹھڑی میں جا رہا ہوں…کاش یہی مال دین کے کاموں پر لگایا ہوتا… سب سے افضل تو جہاد میں لگانا ہے… قرآن وسنت میں جہاد پر مال خرچ کرنے کے اتنے فضائل ہیں کہ… اگر اُن کو جمع کر دیا جائے تو ایک پوری کتاب بن جائے… میری دعاء ہے کہ ایسی کتاب ضرور بن جائے تاکہ میرا اور آپ کا بھلا ہو اور ہمارا کچھ مال ہمارے لئے قیمتی بن جائے…اسی طرح مساجد بنانا، مدارس بنانا… والدین کی خدمت کرنا… غریبوں، مسکینوں اور یتیموں پر خرچ کرنا… نیکی کے بہت سے راستے ہیں جن میں انسان اپنا مال لگا کر اس مال کو اپنے لئے محفوظ کر سکتا ہے… دنیا میں تو شاید چند دن، چند مہینے یا چند سال رہنا ہے… مگر آخرت تو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہے… پہلے معلوم نہیں کتنا عرصہ برزخ میں رہنا ہوگا اور پھر قیامت کا صُور پھونک دیا جائے گا… ہم میں سے کوئی بھی موت سے نہیں بچ سکتا… نہ کوٹھی والا، نہ کوٹھڑی والا… قابل رحم ہیں وہ لوگ جو صبح سے شام تک پیسہ کماتے ہیں… اور جب کچھ کما لیتے ہیں تو فوراً اُن کا یہ مال کوئی دوسرا کاروبار کھا جاتا ہے… یوں بلڈنگیں مضبوط ہوتی جاتی ہیں اور ان کی ہڈیاں کمزور ہوتی جاتی ہیں… اوربالآخر موت کا بُلاوا آجاتا ہے… عجیب آفت دیکھیں کہ… ایک آدمی دس کروڑ کے اثاثے چھوڑ کر مرتا ہے مگر اُس نے حج ادا نہیں کیا ہوتا… حالانکہ آج کل حج ڈھائی سے تین لاکھ کے درمیان ادا ہو جاتا ہے … اور مال کا حرص دیکھیں کہ ایک آدمی دس کروڑ کے اثاثے چھوڑ کر مرجاتا ہے… اور بعد میں پتہ چلتا ہے کہ اس پر اتنے لاکھ روپے قرضہ تھا اور وہ اس قرضے کو ادا کئے بغیر چلاگیا… کیا ایک مسلمان ہاتھ میں مال ہونے کے بعد بھی اپنے ذمّہ قرضہ چھوڑ سکتا ہے؟… یقینا ایک منٹ بھی نہیں… قرضے کے بارے میں جو وعیدیں آئی ہیں اُن کو دیکھ کر… کوئی مسلمان ایک منٹ کی تاخیر بھی برداشت نہیں کر تا… وہ چاہتا ہے کہ بس میرے ہاتھ میں پیسہ آئے اور میرا قرضہ اترے… قرضہ اترے گا توروح کو سکون ملے گا… روح کو آزادی ملے گی… مال میں برکت ہوگی، عمر اور صحت میں برکت ہوگی… اور معلوم نہیں کیا کچھ فوائد ملیں گے… ایک آدمی کے پاس کروڑوں روپے موجود ہوتے ہیں مگر وہ قرضہ نہیں اُتارتا کہ… میرے پیسے میں کمی نہ ہو جائے… بس شوق ہے کہ میرے پاس زیادہ سے زیادہ مال ہو … نہ کھانے کا، نہ پینے کا، نہ کسی اور استعمال کا… بس نوٹ زیادہ ہوں اور میں گِن گِن کر مزے لیتا رہوں… ان اللہ وانا الیہ راجعون… یا اللہ ایسی خوفناک اور شرمناک کیفیت سے میر ی اور میرے اہل خانہ اور ساتھیوں کی حفاظت فرما… اور ہر مسلمان کی اس کیفیت سے حفاظت فرما… اے اللہ کے بندو! یہ نعمت نہیں عذاب ہے… دردہے، مصیبت ہے اور خواہ مخواہ کی اذیّت ہے… اللہ پاک پیسہ دے تو آدمی اچھا کھائے، اچھا پہنے… کوئی حرج نہیں… اچھی رہائش اختیار کرے… کوئی حرج نہیں… مگر حج فرض بھی ادا کرے… والدین اور غریب اقرباء کا بھی خیال رکھے… جہاد میں ضرور مال لگائے تاکہ فرض جہاد کی مال سے ادائیگی ہوتی رہے… اور بھی نیکی کے اچھے اچھے کام کرے… کبھی کسی سے مال کی محبت دل میں کم ہونے کا علاج بھی پوچھ لیا کرے… اگرمال کی ضرورت نہ ہوتوفضول کاروبار نہ بڑھائے… اپنی عبادت اور آرام کا خیال رکھے… یہ عجیب بات ہے کہ روزآنہ دوسو روپے کمانے والا مزدور اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر ٹھاٹھ سے کھانا کھاتاہے… اور ڈکار بالجہر لے کر پورے محلّے کو لرزاتا ہے… جبکہ روزآنہ دو لاکھ کمانے والا ایک ہاتھ میں موبائل پکڑے… جلدی جلدی اپنی کُرسی پر برگر نگلنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے… اللہ کے بندو! مال کی خاطر اپنے سکون کو برباد نہ کرو… اگر آپ کی ضروریات پوری ہیں اور آپ کو ایک ایسا کاروبار مل رہا ہے جس میں روزآنہ دو لاکھ کی بچت ہو… مگراس میں آپ کی دور کعت نماز یا ایک گھنٹہ نیند کا نقصان ہو تو ایسے کاروبار کو ہاتھ بھی نہ لگاؤ… دو رکعت تو کروڑوں روپے سے قیمتی ہے… اور ایک گھنٹہ نیند سے جسم کو جو سکون ملتا ہے وہ تین لاکھ کی دوائیاں کھانے سے بھی نہیں ملتا… ہاں اگر کوئی دین کی خاطر کماتاہے اور دین پر زیادہ مال لگاتا ہے… اور نیاکاروبار بھی خالصتاً د ین کے لئے کر رہا ہے تو پھر… ایسا کاروبار دو رکعت نفل اور ایک گھنٹہ آرام سے بہت قیمتی ہے… اور ہر آدمی خود اپنی نیت کو خوب جانتا ہے… بات کچھ دور نکل گئی… ہم سب مسلمانوں پر لاز م ہے کہ ہم ’’حرام مال‘‘ سے بچیں… حرام مال دنیا ہی میں جہنم کی ٹکٹ ہے… یا اللہ ہم سب پررحم فرما… حرام مال سے نہ تو صدقہ قبول ہوتا ہے اور نہ کوئی نیکی…حرا م مال سے کوئی حج کرنے جائے تو وہ بھی قبول نہیں ہوتا… اور نہ ہی حرام مال میں کسی مسلمان کے لئے کوئی برکت ہوتی ہے… اور جو شخص مرنے کے بعد حرام مال پیچھے چھوڑ جائے گا تو وہ اُس کے لئے جہنم کا توشہ ہوگا…
مسند
احمد کی روایت ہے کہ… رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا…
’’جو
بندہ حرام مال کماتاہے پھر اس میں سے صدقہ کرتا ہے تو اُس کا صدقہ قبول نہیں
ہوتا… اور نہ اُس کے لئے اس میں برکت ہوتی ہے اور جب وہ اس مال کو اپنے پیچھے
چھوڑجاتا ہے تو وہ اس کے لئے جہنم کا توشہ ہوتا ہے‘‘…(مسند احمد، شرح السنہ)
دشمنان
اسلام نے دنیا کا معاشی نظام اس طرح کا بنا دیا ہے کہ…اس میں سود کی لعنت شامل ہو
گئی ہے… اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو جہاد کی توفیق عطاء فرمائے
تاکہ وہ کفریہ نظام کو توڑ کر اسلام کے حلال معاشی نظام کو نافذ کر سکیں… فی
الحال تو مسلمانوں کے لئے اتنا ضروری ہے کہ… وہ اپنی استطاعت کے مطابق سود
اور حرام سے بچیں اور جان بوجھ کر خود کو ان عظیم اور مہلک گناہوں میں نہ
ڈالیں… ٹی وی، نیٹ اور اخبارات کے کمرشل اشتہارات اسی لئے ہوتے
ہیںکہ… لوگوں میں مال کی لالچ، حرص اور ضرورت زیادہ ہو جائے… جب انسان
میں یہ کیفیت پیدا ہوتی ہے تو وہ زیادہ مال کی خاطر حرام میں منہ ڈالتا
ہے… اور جب کسی کے منہ کو حرام لگ جائے تو وہ جہاد کے قابل نہیں
رہتا… قرآن پاک میں بھی اس طرف اشارہ موجود ہے کہ حرام کھانے سے مسلمانوں کا
جذبہ جہاد کمزور ہوتا ہے… جب مسلمان جہاد نہیں کرتے تو کفار کو اپنی طاقت
بڑھانے اور حکومت پھیلانے کا کُھلا موقع ملتا ہے… اسی طرح دنیاداری میں زیادہ
پڑنے سے بھی انسان کا جذبہ شجاعت کمزور ہو جاتاہے… علماء کرام کو چاہئے کہ
تاجروں اور چیمبر آف کامرس کے اراکین کو جمع کر کے… انہیں ’’حبّ دنیا‘‘ کا علاج
سمجھایا کریں… یہ دنیا ملعونہ ہے اور اس سے محبت کرنے والے ہمیشہ دھوکا اور
نقصان اٹھاتے ہیں… ان تاجروں کو سمجھایاجائے کہ… موت کی فکر
کریں، اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شوق اپنے اندر
پیداکریں … اور ’’وہن‘‘ سے بچیں… ’’وہن‘‘ کے معنیٰ آقامدنی صلی
اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائے ہیں دنیا کی محبت… اور موت سے
نفرت… جو شخص دنیا سے محبت کرے گا اور موت سے نفرت رکھے گا وہ’’وہن‘‘ نامی
موذی بیماری میں مبتلا ہو جائے گا… اور جب یہ بیماری اکثر
مسلمانوں میں پھیل جائے گی تو اُن کا رعب اُن کے دشمنوں کے دلوں سے نکل جائے
گا… اور دنیا بھر کے کفار ان پر غالب ہونا شروع ہو جائیں گے… ’’حرام
مال‘‘ کئی طریقے کا ہے…ایک عام طریقہ جس نے ہمارے معاشرے میں جڑیں پکڑ لی ہیں وہ
یہ ہے کہ… میّت کی میراث ٹھیک طرح تقسیم نہیں کی
جاتی… سبحان اللہ ! جس مسئلے
پر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی کئی آیات
اُتاریں… اور جس پر عمل کرنے کی اللہ پاک نے خود ترغیب
دی… اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے اُمت کو تاکید سے فرمایا کہ… علم میراث کو سیکھ لو یہ
آدھا علم ہے… یعنی تمام علوم کو اگر دو حصوں میں تقسیم کیا جائے تو اس میں
سے آدھا علم… یہ علم میراث ہے اور دیگر تمام علوم باقی آدھا علم
ہیں… مگر افسوس کہ اکثر مسلمان میراث کے بنیادی علم سے ہی واقف نہیں
ہیں… حالانکہ یہ حلال، حرام کا مسئلہ ہے… یہ یتیموں کے مال کا مسئلہ
ہے… اوریتیموں کا مال ناحق کھانا قرآن مجید کی رو سے جہنم کی آگ کھانا
ہے… ان شاء اللہ بندہ… اپنے
اگلے کالم میں کوشش کرے گا کہ… عام فہم اور آسان الفاظ میں… اس علم کے
ضروری مسئلے آپ سب کی خدمت میں عرض کرد ے…ممکن ہے کسی کو عمل کی توفیق مل
جائے… ایک طرف شریعت کا یہ حکم ہے کہ مرنے والے کی جیب میں اگر ایک الائچی کا
دانہ ہو… اور مرنے والی عورت کی ملکیت میں ایک سوئی اور دھاگہ ہو تو اس میں
بھی میراث جاری ہو گی… یعنی ورثاء کے ذمہ لازم ہو گا کہ وہ ان چیزوں کو
شریعت کے بیان فرمودہ طریقے کے مطابق تقسیم کریں… دوسری طرف مسلمانوں میں
اتنی غفلت ہے کہ اب میراث کے شرعی مسائل کو عیب سمجھنے لگے ہیں… اگر کسی مرنے
والے کی میراث فوراً تقسیم کی جائے تو پیچھے والے کہتے ہیں … ابھی اُس
کا کفن میلا نہیں ہوا اور وارثوں نے اُس کے مال پر ہاتھ صاف کرنا شروع کر
دیئے… اسی طرح کئی لوگ میراث تقسیم کرنے کو عیب سمجھتے ہیں اور یوں حرام مال
کا ایک سلسلہ چل نکلتا ہے… یا اللہ میری اور تمام اہل
اسلام کی ’’حرام مال‘‘ سے حفاظت فرما اور ہم سب کو ’’رزق حلال‘‘ وسعت اور برکت کے
ساتھ نصیب فرما…
آمین
یا ارحم الراحمین
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد صاحب العلم والقرآن وعلی الہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا
کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
کاحُکم ایک مسلمان کی نظرمیں ہر چیز سے بڑاہوتاہے… اپنے جذبات سے بھی بڑا ،
اپنی خاندانی رسومات سے بھی بڑا… اور اپنے خیالات اور خواہشات سے بھی
بڑا … اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر… اللہ تعالیٰ
سب سے بڑا ہے…یقینا اللہ تعالیٰ کا حکم بھی سب سے بڑا
ہے… پھر آج کل ہم مسلمان اپنے مرنے والے رشتہ داروں کی
میراث اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کیوں تقسیم
نہیںکرتے؟… کیا آپ کو معلوم ہے کہ… میراث کے
احکامات اللہ تعالیٰ کی کتاب’’ قرآن مجید‘‘ میں نازل ہوئے
ہیں… کیا آپ کو معلوم ہے کہ میّت کے ورثاء کے حصّے قرآن پاک
میں اللہ تعالیٰ نے خود مقرر فرمائے ہیں… صرف یہی نہیں
بلکہ وارثوں کے حصے بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایاکہ اس تقسیم کی حکمت
کو اللہ تعالیٰ ہی جانتاہے تم لوگ پوری طرح نہیں سمجھ
سکتے… اور فرمایا کہ جو لوگ ہمارے ان احکامات کی تعمیل کریں گے ہم اُن کو جنت
میں جگہ دیں گے… اور جو لوگ ہماری بات کو نہیں مانیں گے وہ جہنم کے مستحق ہو
ں گے…
ہم
مسلمانوں کے لئے کتنی رحمت اور آسانی ہو گئی کہ… نہ کوئی جھگڑا نہ
عدالت… ہمارے عظیم رب نے خود میّت کے مال کے حصّے فرما کر… سمجھا دیا کہ
فلاں کو اتنا دے دو اورفُلاںکو اتنا… کیا ایک مسلمان اتنے محبت بھرے تاکیدی
حکم کے بعد بھی اس کی ہمت رکھتا ہے کہ… میراث کی تقسیم کے معاملے میں گڑ بڑ
کرے… مگر افسوس کہ آج کل بہت زیادہ گڑ بڑ ہو رہی ہے… اکثر مسلمانوں کو
تو میراث کے احکامات معلوم ہی نہیں… ہم برّصغیر کے مسلمانوں پر ہندوؤں کے
مزاج کا بہت منحوس اثر پڑا ہوا ہے… اس اثر کی وجہ سے ہم بہت سی اسلامی نعمتوں
اور رحمتوں سے محروم ہیں… ایک مسلمان کے لئے’’موت‘‘ نہ تو کوئی اجنبی چیز ہے
اور نہ کوئی قابل نفرت مصیبت… ’’موت‘‘ تو ایک برحق حقیقت ہے اور یہ مسلمان کے
لئے تحفہ ہے کہ… وہ دنیا کے قید خانے سے نکل کر اپنی آرام اور راحت کی جگہ
پہنچ جاتا ہے… مگر ہندوؤں کا اثر ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ موت کا تذکرہ
بھی معیوب سمجھتے ہیں… انا ﷲ وانا الیہ راجعون… ایک آدمی کے ہاتھ میں
لوگوں کی امانتیں ہوں اور اُسے کوئی کہہ دے کہ… آپ مر بھی سکتے ہیں وصیت
وغیرہ ٹھیک طرح لکھ رکھیں… تو وہ بُرا مناتاہے کہ میرے مرنے کا تذکرہ کیوں
ہوا؟… اور کیا مال کی اہمیت مجھ سے زیادہ ہے؟… آہ! مسلمان جب تو کامیاب
تھا تو موت کے آئینے میں محبوب کا دیدار ڈھونڈتا تھا… اور آج تجھے اپنی
زندگی اللہ تعالیٰ کے حکم سے بھی زیادہ قیمتی اوربڑی لگتی
ہے… قرآن مجید کی کئی آیات میں’’میراث‘‘ کے مسائل وضاحت کے ساتھ بیان
فرمائے گئے ہیں… اور قرآن پاک کے کئی اور احکامات بھی ایسے ہیں جن کا تعلق
میراث کی صحیح تقسیم سے ہے… آپ اپنے ارد گرد ایسے مسلمانوں کو دیکھیں گے
جومعمولی مسائل میںبہت شدّت کرتے ہیں… ناخن کیسے کاٹنے ہیں؟… کئی لوگ
بعض کتابوں میں لکھاہوا ایک مخصوص طریقہ یاد کر کے دوسرے لوگوں کی’’مسلمانی‘‘ کا
امتحان لیتے نظر آئیںگے…کیلا کھانے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟… بعض لوگ اتنی
شدّت کرتے ہیں کہ دل گھبرانے لگتا ہے… اسی طرح کے کئی اور مسائل جو نہ قرآن
پاک میں مذکور ہیں… اور نہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں
اُن کا صریح تذکرہ ہے… کچھ عرصہ پہلے ایک صاحب نے بتایا کہ کسی کو ’’حضرت‘‘
لکھنا شرک ہے… بندہ نے عرض کیا کہ آپ کے سلفی مسلک کی کتابوں میںصحابہ کرام
ڑا ور علماء کرام کو’’حضرت‘‘ لکھا ہوا ہم نے خود دیکھا ہے… فرمانے لگے یہ نئی
تحقیق ہے جو سندھ کے ایک عالم نے کی ہے کہ… حضرت کا معنیٰ حاضر ناظر
ہے… اب اپنی سابقہ کتابوں کا کیا کروگے؟… کیا سب مصنف مشرک تھے؟…بس لوگ
فارغ بیٹھے ہیں… نہ انہیں دنیا پر کفر کے غلبے کا غم ہے… اورنہ قرآن
پاک کو دنیا پر نافذکرنے کی فکر… نہ مظلوم مسلمانوں کی حالت زار کاکوئی افسوس
ہے… اور نہ اسیران اسلام کا کوئی درد… ہمارے بڑوں نے دنیا کو فتح کیا
اورہم نے وہی اسلامی زمینیں کافروں کو بیچ دیں… پھر بھی ہمیں اپنے علم اور
اپنی شان پرفخر ہے… انا ﷲ وانا الیہ راجعون… عربی ادب کا ایک ادنیٰ سا
طالب علم بھی جانتا ہے کہ… کسی کے ادب اور احترام کے لئے خطاب کا صیغہ
استعمال کیا جا سکتاہے… اور حضرت اسی طرح ہے جس طرح اردو میں
’’جناب‘‘ … چھوٹے چھوٹے مسائل پر لوگ الجھ رہے ہیں اور اُن مسائل کا علم
تک نہیں جو قرآن پاک میں صراحت کے ساتھ بیان ہوئے ہیں… آپ بہت سے مسلمانوں
سے پوچھیں کہ کیا مجاہدین کو زکوٰۃ لگتی ہے؟… وہ شش و پنج میں پڑ
جائیںگے…حالانکہ یہ مسئلہ قرآن مجید نے مکمل وضاحت اور صراحت کے ساتھ بیان فرما
دیا ہے… یہی حال میراث کے مسائل کا ہے کہ اکثر مسلمان اس سے واقف نہیں
ہیں… حالانکہ
(۱) سب جانتے ہیں کہ ہم نے اورہمارے عزیز و اقارب نے
ضرور بضرور مرنا ہے
(۲) جو آدمی مرتا وہ کچھ نہ کچھ مال وغیرہ چھوڑکر
مرتا ہے…
(۳) مرنے والا تو بے بس ہوتا ہے اُس کے ورثاء کے
ذمّہ لازم ہوتا ہے کہ وہ اس کے ’’ترکے‘‘ کو شریعت کے مطابق تقسیم کریں… اور
اگر وہ ٹھیک طرح تقسیم نہیں کریں گے تو گناہ اور نافرمانی کا دائرہ معلوم نہیں
کہاں تک وسیع ہو جائے گا…
(۴) کبیرہ اور مُہلک ترین گناہوں میں سے ایک گناہ
یتیم کا مال ناحق کھانا ہے… وراثت کی صحیح تقسیم نہیں ہوگی تو اس گناہ میں
مبتلا ہونے کا خطرہ ہو گا…
(۵) عورتوں کو میراث میں سے حصّہ نہ دینا ایک بدترین
اور قابل نفرت جُرم اور گناہ ہے… اورظُلم کی بڑی قسموں میں سے ایک
ہے… میراث ٹھیک تقسیم نہیں ہوگی تویہ ظُلم بھی عام ہو گا…
الغرض… میراث
کا ٹھیک طرح سے تقسیم نہ کرنا گناہوں کا ایک کارخانہ ہے … اس کارخانے سے
بڑے بڑے گناہ بنتے جائیں گے… اللہ تعالیٰ کی
نافرمانی… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
نافرمانی… ظلم، غصب، لُوٹ مار… او ر قطع رحمی… اسی لئے ہمارے محبوب
آقامدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے میراث کے احکامات کو اچھی
طرح یاد کرنے کا تاکیدی حکم فرمایا… اور اُمت کو تنبیہ فرمائی کہ یہ و ہ علم
ہے جو سب سے پہلے اس اُمت سے اٹھا لیا جائے گا… یعنی قیامت کے قریب جب دین کی
برکتیں ایک ایک کر کے اٹھنا شروع ہو ں گی تو… دین کا علم بھی آہستہ آہستہ
اٹھنے لگے گا…تب جاہل لوگ مذہبی پیشوا بن جائیں گے… وہ بغیر علم کے فتوے دیں
گے… خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے… طالب علمی
کے ابتدائی زمانے میں ایک صاحب کے جنازے پر جانا ہوا… تدفین کے بعدایک منقّش
قسم کے پیر صاحب کو لایا گیا… انہوں نے میّت کا وصیت نامہ پڑھ کر لوگوں کو
سنایا… یہ وصیت نامہ مکمل طورپر غیر شرعی اور ناجائز تھا… مگر پیر صاحب
کو کیا علم؟… وہ تو خاندانی طور پر گدّی کے وارث بن گئے… نہ دین پڑھا او
رنہ دین کو سمجھا… چنانچہ دین کی بنیادی باتوں تک کاعلم نہیں… وصیت نامہ
نافذ کر کے کافی گندم اور نذرانہ لے کر وہاں سے چلے گئے… حضرت آقا مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم نے ایسے دور کی نشاندہی فرمائی ہے کہ… علم کو اٹھا
لیا جائے گا… صاحبِ علم لوگ ایک ایک کر کے انتقال کرتے جائیں
گے… اورپیچھے جاہلوں کا تسلّط ہوتا جائے گا… اور ان دینی علوم میں سے جو
علم سب سے پہلے اٹھا یا جائے گا وہ’’فرائض‘‘ یعنی’’میراث‘‘ کاعلم ہو گا… نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے
تعلموا
الفرائض وعلموہ الناس فانہ نصف العلم وھو ینسیٰ وھو اول شیٔ ینتزع من اُمتی(ابن
ماجہ رقم ۲۷۱۹،
سنن الکبری بیہقی رقم ۱۲۱۷۵)
ترجمہ: میراث
کا علم سیکھو اور اسے لوگوں کو سکھاؤ۔ بے شک یہ آدھا علم ہے او ریہ (علم) بُھلا
دیا جاتاہے اور یہی وہ پہلی چیز ہے جو میری اُمت سے اٹھا لی جائے گی…
ایک
اور روایت میں علم میراث سیکھنے کی تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا:
’’عنقریب
علم رخصت ہو جائے گا اور فتنے ظاہر ہوں گے یہاں تک کہ دو آدمی میراث کے کسی مسئلے
میں اختلاف کریں گے(مگر) کسی ایسے شخص کو نہیں پائیں گے جو اُن کے درمیان فیصلہ
کرے‘‘…(سنن الکبریٰ بیہقی رقم ۱۲۱۷۳)
حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
تعلمو
ا الفرائض و القرآن وعلموا الناس فانی مقبوض(ترمذی رقم: ۲۰۹۱)
ترجمہ: میرا
ث کا علم اور قرآن پاک سیکھ لو بے شک میں اس دنیا سے جانے والا ہوں…
حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ان تاکیدی فرامین کو حضرات صحابہ کرام
رضوان اللہ علیہم اجمعین نے سر آنکھوں پر لیا… کچھ حضرات تو ان میں سے اس
علم کے بڑے ماہر تھے… ان میں سب سے بڑا نام حضرت زید بن ثابت رضی
اللہ عنہ کا ہے… اور خواتین میں حضرت اُم المؤمنین سیّدہ عائشہ
صدیقہ رضی اللہ عنہاکو اس مبارک علم میں خصوصی مہارت حاصل
تھی… اسی طرح حضرت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بھی اس علم
کے ماہرین میں سے تھے… حضرت امیر المؤمنین سیدنا عمربن خطاب رضی
اللہ عنہ فرماتے تھے کہ… میراث کاعلم سیکھو یہ تمہارے دین کا حصہ
ہے… اور کبھی فرماتے میراث کا علم اُسی طرح(تاکید سے) سیکھو جس طرح تم قرآن
پاک کو سیکھتے ہو… اورآپ نے اپنے گورنر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی
اللہ عنہ کو خط میں لکھا… اگر تم لوگ کھیلنا چاہو تو تیر اندازی میں لگ جایا
کرو… (کہ بہترین اجر والا جہادی کھیل ہے)
اور
جب آپس میں بات چیت اور بحث مباحثہ کروتو پھر علم میراث میں گفتگو کیا کرو…
قال
عمر رضی اللہ عنہ : تعلّموا الفرائض واللحن والسّنۃ کما تعلّمون القرآن(سنن
الکبری بیہقی رقم ۱۲۱۷۶)
قال
عمر رضی اللہ عنہ : تعلّموا الفرائض فانھا من دینکم( سنن الکبری رقم ۱۲۱۷۷)
عن
قتادہ قال کتب عمر رضی اللہ عنہ : اذالھو تم فالھوا بالرمی واذا تحدّثم فتحدّثوا
بالفرائض( سنن الکبری ۱۲۱۷۸)
چونکہ
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے تین علوم کو’’بنیادی علم‘‘ قرار دیا
ہے
(۱) آیت
محکمہ یعنی قرآن مجید(۲) سنت
قائمہ(۳) علم
میراث (ابو داؤد)
تو
اس وجہ سے حضرات صحابہ کرام اپنے شاگردوں پر ان علوم کی تعلیم میں بعض اوقات سختی
بھی فرماتے تھے…
عن
عکرمہس قال کان ابن عباس یضع الکبل فی رجلی یعلمنی القرآن والفرائض( سنن
الکبری ۱۲۱۸۳)
حضرت
عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس
رضی اللہ عنہما میرے پاؤں میں بیڑی ڈال کر مجھے قرآن مجید
اور میراث سکھاتے تھے…
اس
کا ایک مطلب تویہ ہو سکتاہے کہ… واقعی بیڑی ڈالتے تھے جبکہ یہ بھی ہو سکتا ہے
کہ بہت پابندی سے پڑھاتے ہوں…تو پابندی کو بھی عام طور پر’’بیڑی‘‘ کہہ دیا جاتا
ہے… حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے بعض تو یہاں تک فرماتے
تھے کہ میراث کا علم سیکھے بغیر کوئی قرآن پاک کو سیکھ ہی نہیں سکتا…
یہ
ساری تاکید اس لئے کہ… ہم مسلمانوں کا مرنا،جینا
سب اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہو جائے …اور ہم میراث
کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کو اپنے جذبات، اپنی
خاندانی روایات اور اپنی خواہشات سے بڑا سمجھیں… اور ہم ان احکامات پر عمل کر
کے… وہ تمام خیریں اور برکتیں حاصل
کریں… جو اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کر نے سے نصیب
ہوتی ہیں… القلم کے قارئین تک’’ترکے‘‘ اور میراث کے احکامات
پہنچانے… اور مسلمانوں میں ا س مبارک علم کو پھیلانے کے
لئے… اللہ تعالیٰ کی توفیق سے درج ذیل اقدامات کئے جارہے
ہیں…
(۱) القلم کے اسی شمارے میں ’’مسائل بہشتی زیور‘‘ سے
ایک باب کا خلاصہ پیش کیا جارہاہے… اس سے آپ کو ان شاء
اللہ میراث کے اہم احکامات کا علم ہو جائے گا… گزارش ہے کہ غور
اور توجّہ سے پڑھیں اور آپس میں اس کا مذاکرہ بھی کریں…(بندہ نے گزشتہ رنگ و نور
میں جو مسائل لکھنے کا وعدہ کیا تھا وہ تمام مسائل اس باب میں آگئے ہیں)
(۲) القلم کے اگلے شمارے سے حضرت ڈاکٹر عبدالحیٔ
عارفی نور اللہ مرقدہ کی کتاب ’’احکام میت‘‘ سے ترکے اور وراثت کے بارے
میں کچھ اہم باتیں شائع کی جائیں گی…
(۳) القلم کے قارئین اور قارئات کو’’علم میراث‘‘
سکھانے کے لئے ان شاء اللہ القلم کے اگلے شمارے سے’’تعلیم
الفرائض کورس‘‘ شروع کیا جارہاہے… ہمارے ایک فاضل ساتھی… آپ کو یہ کورس
کروائیںگے… اسی طرح عنقریب ان
شاء اللہ جامع مسجد عثمانؓ و علی
رضی اللہ عنہمامیں بھی… مستقل’’ دوراتِ میراث‘‘ کی ترتیب قائم کی جائے گی…
اللہ تعالیٰ
مجھے اورآپ سب کو اپنے احکامات کے مطابق جینے اورمرنے کی توفیق عطاء فرمائے…
آمین
یا ارحم الراحمین
اللھم
صل علٰی سیدنا ومولانا محمد بقدر علمہ و عملہ وکمالہ وعلیٰ الہ وصحبہ وبارک وسلم
تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ قیامت کے دن کا مالک ہے…
مٰلِکِ
یَوْمِ الدِّیْنِ(الفاتحہ)
قیامت
کا دن بالکل برحق ہے… قیامت کا دن تیزی سے قریب آرہاہے اور قیامت کے
دن اللہ تعالیٰ کے سواکسی کی حکومت نہیں ہو گی…
لِمَنِ
الْمُلْکُ الْیَوْمَ لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَھَّارِ(المؤمن ۱۶)
قیامت
کی بہت سی نشانیاں ظاہر ہو چکی ہیں… اور بعض بڑی نشانیاں ظاہر ہونا باقی
ہے… ہم میں سے جو مر جاتاہے اُس کی قیامت تو قائم ہو جاتی ہے… ہم بھی مر
جائیں گے تو ہماری قیامت بھی شروع ہو جائے گی… تھوڑا سا سوچیں کہ آپ کے
جاننے والے کون کون انتقال فرما چکے ہیں… کئی لوگ آپ کے ساتھ پڑھتے ہوں
گے… کئی آپ کے رشتہ دارہوںگے… اورکئی آپ کے دوست احباب… اُن سب
کی قیامت شروع ہو گئی… چھوٹا حساب کتاب تو قبر میں ہو جائے گا… اور قبر
سے ہی راحت یا عذاب کا سلسلہ شروع ہو جاتاہے … مجھے اور آپ کو شائد
قبرکی زیادہ فکر نہیں… میں کبھی کبھار ایک مسجد میں جاتاتھا وہاں ایک بوڑھے
نمازی کو دیکھتا تھا … اللہ اکبر، وہ کس طرح سے بلک
بلک کر عذاب قبر سے حفاظت کی دعا مانگتے تھے … میں نے کئی بار کان لگا
کر اُن کی دعاء کو سُنا… وہ نماز سے پہلے بھی دعاء مانگتے تھے اور نماز کے
بعد بھی… اور جب مسجد خالی ہو جاتی تو پھر خوب زیادہ دعاء مانگتے
تھے … یا اللہ عذاب قبر سے بچا،
یا اللہ عذاب قبر سے بچا،
یا اللہ عذاب قبر سے بچا… یا اللہ منکر
نکیر کے سوال جواب میں مدد فرما… یا اللہ بہت اچھی، خوبصورت قبر
عطاء فرما… یا اللہ قیامت کے دن اعمال نامہ دائیں ہاتھ
میں عطاء فرما… بس یہ اور اس طرح کی اوردعائیں… وہ آہستہ آہستہ آواز
میں دعاء مانگتے تھے مگر ساتھ بیٹھنے والا تو سن ہی لیتا … بڑھاپے میں
ویسے بھی سرگوشی بلندہوجاتی ہے… چونکہ اپنے کان کم سنتے ہیں تو انسان تھوڑا
اونچابولنے لگتاہے… فجر کے بعد وہ اشراق تک ذکر اذکار میں ڈوبے رہتے
تھے… اشراق کے نفل ادا کر کے ہاتھ اٹھا لیتے اور پھر یہی دعاء… یا
اللہ قبر کے عذاب سے بچا… آنکھوں اور ہاتھوں کے اور دل کے گناہ
معاف فرما… اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں عطاء فرما…عصر کے بعد تو وہ اکثر گھر
نہیں جاتے تھے، مسجد میں بیٹھے رہتے… ایک لمبی تسبیح اُن کے ہاتھ میں مسلسل
چلتی رہتی … مغرب کے بعد اوّابین کے نوافل ادا کر کے پھر یہی
دعاء… یا اللہ جہنم سے بچا، عذاب قبر سے بچا، اعمال
نامہ دائیں ہاتھ میں عطاء فرما… میں نے کئی بار رشک اور محبت کے ساتھ اُن کی
دعاء کو مکمل سننے کی کوشش کی… سبحان اللہ وہ صرف اصل
چیزیں مانگتے اور اصل مسئلہ کا حل چاہتے تھے… جبکہ عام طور سے لوگ عارضی
مسائل کی دعائیں زیادہ مانگتے ہیں… بوڑھے بزرگوں کو تو عارضی مسائل ویسے بھی
زیادہ لاحق ہوتے ہیں… بیٹے کہنا نہیں مانتے، بہویں بدتمیزی کرتی
ہیں… اپنی بوڑھیا بھی قابو میں نہیں آتی… طرح طرح کی بیماریاں، رزق اور
روزی کے مسائل… لوگوں کی ناقدری اور فضول طرح کی حرص اور فکریں… مگر
اس اللہ کے بندے کو اپنے اصلی گھر کی
فکرہے… یا اللہ قبر کے عذاب سے بچا… بعض اوقات تو
اُن کی دعاء سُن کر آنکھوں میں آنسو آجاتے
کہ… یا اللہ اس بزرگ کو کیسی مبارک اور اچھی فکر نصیب
ہو گئی ہے… حدیث شریف کا مفہوم ہے … جسے آخرت کی فکر نصیب
ہوجائے اللہ تعالیٰ اُسے دنیا کی فکروں سے خلاصی عطاء فرما
دیتے ہیں… آخرت کی فکر نصیب ہوجانا دراصل آخرت کی کامیابی کی ایک بڑی نشانی
ہے… ہمارے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم مسلمانوں کوحکم دیا
ہے کہ موت کو یاد کیا کرو… جو لوگ اصلاح نفس کے لئے کسی بزرگ سے بیعت ہوتے
ہیں… وہ اپنے شیخ سے’’فکر آخرت‘‘ کا تحفہ لیا کریں… آخرت بن گئی تو سب
کچھ ٹھیک ہو جائے گا… آج بڑے بڑے صاحب نسبت بزرگوں کے پاس لوگ صرف دنیا
بنانے کے لئے حاضر ہوتے ہیں… اور اُن سے وہ اصل چیز حاصل نہیں کرتے جو ہمیشہ
ہمیشہ کام آنے والی ہے… ٹھیک ہے صحت کے تعویذ بھی لیں، رزق میں برکت کے
وظیفے بھی پوچھیں… مگریہ بھی سوچیں کہ دنیا کی صحت اور رزق کتنے دن کا ہے؟
اگرہم اس اللہ والے سے آخرت کا کوئی تحفہ لے لیں تو وہ
زندگی میں بھی کام آئے گااور مرنے کے بعد بھی… مگر افسوس کہ آخرت کی فکر
بہت کم لوگوں کو ہے… ہر جگہ بس دنیا ہی کے لئے رش لگا ہوا ہے… اوردنیا
ایسی بے وفا ہے کہ کسی کو اپنے پاس ٹکنے نہیں دیتی… اور نہ خود کسی کے پاس
ٹکتی ہے… فلاں بزرگ بڑے پہنچے ہوئے ہیں، ان کی دعاء کی برکت سے میری دکان چل
پڑی ہے… فلاں بزرگ کے تو کیاکہنے بچے کو ملازمت نہیںمل رہی تھی انہوں نے
تعویذ دیا اب میرا بیٹا بینک میں منیجر لگ گیا ہے… فلاں بزرگ تو بڑے اونچے
کمال والے ہیں میری بیٹی کا داخلہ نہیں ہو رہا تھا انہوں نے عمل کیا اب بیٹی
سکالرشپ پر ھنگری میں پڑھنے گئی ہوئی ہے… بس یہی تذکرے ہیں اور یہی
چرچے… ایسے ایسے اللہ والے جو تھوڑی سی توجہ سے انسان
کا دل مدینہ پاک سے جوڑسکتے ہیں لوگ اُن کے پاس اپنے کاروبار میں برکت کی دعاء کے
لئے اصرارکررہے ہوتے ہیں… کاش اُن سے قبر کے عذاب سے حفاظت کی دعاء ہی کرالی
ہوتی… اللہ کے بندو! قبر میں تو ضرورجاناہے… اور
وہاںجانے کے بعد واپسی نہیں ہو گی… اور قبرکا عذاب اتنا سخت ہے کہ… جب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ
کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اُس کی تفصیل بیان فرمائی… توان میں سے کئی
تو روتے روتے بے ہوش ہو جاتے تھے… دنیا میں تو ارد گرد کافی لوگ موجود ہیں
قبر میں تو ہم بالکل اکیلے ہوں گے… آج اگر ہمیں کسی کے بارے میں معلوم ہو
جائے کہ یہ’’مستجاب الدعوات‘‘ ہے… یعنی اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں… تو
یہ بے وقوفی نہ کریں کہ اُس سے بیٹے کی نوکری، اچھے مکان اور پیسے کی دعائیں کرانے
لگ جائیں… دنیا کی ضروری دعائیں کرانی بھی ہوں تو آخر میںکرائیں… پہلے
اپنے اصل مسائل کی فکر کریں…حضرت دعاء کر دیں کہ’’ایمان کامل‘‘ نصیب ہو
جائے… حضرت دعاء فرمادیں کہ جہنم اور قبر کے عذاب سے حفاظت ہو جائے اور جنت
میں دخول اوّلی نصیب ہو جائے… حضرت دعاء فرما دیں کہ اخلاص نصیب ہو جائے، فکر
آخرت نصیب ہو جائے… آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع نصیب
ہو جائے… حضرت دعاء فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ کے راستے
کی مقبول شہادت نصیب ہو جائے… یہ ہیں ہمارے اصلی مسائل…اِن کی فکر کے بعد
دنیا کی جائز حاجات کی بات کریں… وہ حاجات پوری ہوں یا نہ ہوں گزارہ چل
جاتاہے… مگر آخرت کی حاجات پوری نہ ہوئیں تو عذاب برداشت کرنا بہت مشکل ہے،
بہت ہی مشکل… اصلاحی بیعت کرنے کے لئے دیکھ بھال کر’’شیخ طریقت‘‘ کی تلاش کیا
کریں… ایسانہ ہو کہ دھوکا کھا جائیں اور دین کے نام پر دنیا میں پھنس
جائیں… صاحب نسبت شیخ کی ایک بڑی علامت یہ ہے کہ اُس کی صحبت میں فکر آخرت
پیدا ہوتی ہے… اوردین کے لئے قربانی دینے کا جذبہ نصیب ہوتاہے…
حضرت
میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ … قطب الارشاد حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے
بارے میں لکھتے ہیں:
’’حضرت
اقدس گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ممتاز خلفاء کوجہاں فیضانِ سلوک و تصّوف سے
سیراب کیا وہاں جذبۂ جہاد و سرفروشی سے بھی سرشار کیا… گویا سلوک و تصوف اور
جذبۂ حریت دونوں کا تعلق نسبت باطنی ہی سے تھا‘‘(شعر الفراق ص ۷۹)
جو
شخص جہاد یعنی قتال فی سبیل اللہ کی مخالفت کرتاہو… وہ
کبھی بھی صاحب نسبت نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اُس کی صحبت سے کسی کی اصلاح ہو سکتی
ہے… ہمارے اہل حق میں اس وقت جتنے بھی سلاسل چل رہے ہیں اُن میں سے اکثرکا
تعلق حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا
رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ سے جُڑتاہے… یہ دونوں حضرات عملی اور
نظریاتی مجاہد تھے…دارالعلوم دیوبند کے بانی حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی سبھی
جانباز اور صف شکن مجاہد تھے… آپ خود سوچیں کہ ایک شخص جو اسلام کے ایک محکم
فریضے کا منکرہو وہ کس طرح سے ’’صاحب نسبت‘‘ ہو سکتا ہے… دین تو نام ہے یقین
اور قربانی کا… جو شخص موت سے ڈرتا ہے اور دین کی خاطر نہ جان کی قربانی دے
اور نہ مال کی قربانی پیش کرے وہ کس طرح اللہ والا ہو
سکتاہے… کافروں اور ظالموں کی خوشنودی کے لئے کتابیں لکھنے والے… کافروں
کے ملکوں میں جاکر اُن کی حکومتوں سے امن ایوارڈ کی بھیک مانگنے والے… جہاد
کی حُرمت کے فتوے دینے والے… کفر اور اسلام کا فرق مٹانے والے کبھی اس قابل
نہیں ہو سکتے کہ… مسلمان اُن کے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ دیں… اس مسئلے کو
ایک مثال سے سمجھیں… حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دھلوی رحمۃ اللہ علیہ بھی
ایک اللہ والے، صاحب نسبت اور بلند پایہ بزرگ تھے… جب
انگریزوں نے برصغیر پر قبضہ کیا تو حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی جان،عزت
اور امن کوخطرے میں ڈال کر… ہندوستان کے دارالحرب ہونے کا فتویٰ دیا… حضرت
شاہ صاحب سچاہتے تو خاموشی سے بیٹھے رہتے… اُس وقت برصغیر میں اُن کے شاگردوں
اور مریدوں کا بہت بڑا حلقہ موجود
تھا… مگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ نسبت کاپہلا
تقاضہ… دینی غیرت ہے… پس اسی دینی غیرت کے تحت حضرت شاہ صاحبؒ نے خود کو
مشکلات میں ڈالا… وہ جانتے تھے کہ دنیا میں قیام عارضی ہے… بزدل بن کر
جیو یا بہادربن کر… موت نے بہرحال آنا ہے… تو پھر کیوں نہ اسلامی غیرت
کا عَلَم بلندکر کے اپنی آخرت کو محفوظ اور کامیاب بنایا جائے… حضرت شاہ
صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے اس فتوے نے اُمتِ مسلمہ میں ہزاروں جانباز
مجاہدکھڑے فرما دیئے… یقیناً ان سب کے اجر میں حضرت شاہ صاحب رحمۃ
اللہ علیہ بھی پوری طرح شریک ہو گئے… دوسرے ایک اور عالم تھے… مولوی
احمدرضا خان بریلوی… وہ بھی بزرگ کہلاتے تھے، لوگوں کو مرید بناتے
تھے… اور لوگوں کی اصلاح کی بات کرتے تھے… انہوں نے حکومت برطانیہ کا
اعتماد حاصل کرنے کے لئے ایک رسالہ لکھا…’’اعلام الاعلام بان ہندوستان
دارالاسلام‘‘…یعنی انگریز کی حکومت کے باوجود ہندوستان دارالاسلام
ہے… انگریزی حکومت بہت خوش ہوئی اور انہوں نے مولوی صاحب کو اکرام و اعزاز سے
نوازا… اب ایسے لوگ کسی میں’’فکر آخرت‘‘ کیسے پیدا کریں گے… قیامت بہت
قریب ہے، قیامت تیزی سے آرہی ہے… ہم میں سے جو بھی مرجاتا ہے اُس کی قیامت
قائم ہو جاتی ہے… ہم بھی بہت جلد مرنے والے
ہیں… اللہ تعالیٰ مجھے اورآپ سب کو موت کی سختی، عذاب قبر،
فتنہ منکر نکیر اور حشر اورجہنم کے عذاب سے بچائے… اورہم سب کو جنت الفردوس
نصیب فرمائے… ’’فکر آخرت‘‘ ایک نعمت ہے اور یہ نعمت
اُن اللہ والوں کی صحبت میں نصیب ہوتی ہے… جو واقعی
صاحب نسبت ہوتے ہیں… صاحبِ نسبت بزرگ کیسے ہوتے ہیں ملاحظہ فرمائیے سوانح قطب
الارشاد کی یہ عبارت:
’’حضرت
قطب الارشاد(مولانا رشید احمد) گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ علم و عمل میں حکیم الاُمت
شاہ ولی اللہ محدّث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کےمسلک
و منہاج پر تھے، جہاد فی سبیل اللہ خانوادہ ولی اللّہی کا
طغرائے امتیاز رہا ہے، ہندوستان میں سب سے پہلے سراج الہند حضرت شاہ عبدالعزیز
قدّس سرّہ نے حکومتِ برطانیہ کے خلاف آوازبلند کی، انہوں نے فتویٰ دیا کہ
’’انگریزی اقتدار کے باعث ہندوستان اب دارالاسلام نہیں بلکہ دارالحرب ہے‘‘
اسی
بنیاد پر امام المجاہدین حضرت سید احمد شہید اور حضرت شاہ اسماعیل شہیدرحمہ اللہ
(م ۱۲۴۶) نے تحریکِ جہاد چلائی، اس کے چند ہی سال
بعد ۱۸۵۷ء
میں پورے ہندوستان میں انگریز کے خلاف جگہ جگہ جنگ آزادی شروع ہوئی… حضرت
اقدس گنگوہی قدس سرہ نے اس میں بھرپورحصّہ لیا،چنانچہ اعلیٰ حضرت حاجی
امداد اللہ مہاجر مکی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی کمان میں
تھانہ بھون کو’’دارالاسلام‘‘ قرار دے کر اعلان جہاد کر دیا گیا، حجۃ الاسلام حضرت
مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ سپہ سالار اور قطب الارشاد حضرت مولانا
رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ قاضی مقرر ہوئے، شاملی کے میدان میں گھمسان کی
جنگ ہوئی، اوّل اوّل لشکر اسلام غالب رہا… انگریزی فوج کو سخت ہزیمت اُٹھانی
پڑی، آخر میں جدید اسلحہ سے لیس انگریزی فوج کامیاب ہوگئی، حضرت ضامن صاحب رحمۃ
اللہ علیہ نے اسی جنگ میں شہادت سے سرخروئی حاصل کی، اعلیٰ حضرت حاجی صاحب رحمۃ
اللہ علیہ ، حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے وارنٹ
گرفتاری جار ی ہوئے، تینوں روپوش ہو گئے، اعلیٰ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ
علیہ نے ایک روحانی اشارے کی بناء پر حجازمقدس کو ہجرت کی، حضرت اقدس
گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ گرفتار ہوئے‘‘ … (شعر الفراق ص ۱۹)
اللھم
صل علٰی سیدنا محمد عدد من صلی من خلقک وعلٰی الہ وصحبہ و بارک سلم
تسلیماکثیراکثیرا
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ میرا اور آپ کا سفرآسان فرمائے… یہ تو پکّی بات ہے کہ ہم سب نے
’’سفر‘‘ کرنا ہے… آئیے اس ضروری سفرکی کچھ تیاری کر لیں… اور اس سفر کے
لئے کچھ خریداری…یعنی’’شاپنگ‘‘ بھی کر لیں…
سامان
کی فہرست
(۱) نہلانے کے لئے پانی کا برتن… جی ہاں ہم مر
جائیں گے تو غسل دیا جائے گا… چلیں گھر ہی میں پڑاہوا کوئی برتن کام آجائے
گا، نیا خریدنے کی ضرورت نہیں
(۲) لوٹا یا مگ… جس سے پانی بھر کر ہمارے اوپر
ڈالا جائے گا… ہم خود تو شاور کے نیچے کھڑے نہیںہو سکیں گے… اور نہ اپنے
اوپر پانی ڈال سکیں گے ،دوسرے لوگ ہی یہ کام کریں گے
(۳) غسل کا تختہ… جی بالکل بیڈ، بستر،پلنگ،صوفے
کچھ کام نہیں آئیں گے،بس ایک لکڑی کا تختہ جس پر ہمیںلٹا کر نہلایا جائے
گا… ویسے عام طورپر ہرمسجد میں موجود ہوتا ہے،خریدنے کی کیا ضرورت ہے،گھروالے
بھاگ کر جائیں گے مسجد سے اٹھا کر لے آئیں گے… لیجئے کچھ اورپیسے بچ گئے…
(۴) استنجے کے ڈھیلے، تین یا پانچ عدد… ویسے
ٹشوپیپر سے بھی کام چل جائے گا… اللہ پاک پردہ رکھے اُس وقت
تونہلانے والے ہی یہ کام کریں گے
(۵) بیری کے پتّے… نہلانے کے لئے جو پانی گرم
ہوگا اُس میں ڈالیں گے،تاکہ جسم اچھی طرح صاف ہوجائے… نہ ملیں تو کوئی حرج
نہیں، صابن سے ہی کام چل جائے گا… ہم کونسا کسی شادی یا ولیمے میں جارہے ہوں
گے… ایک کچّے گھر میں جانا ہے اور پھر کبھی واپس نہیں آنا
(۶) عطر، تین ماشہ… نہلانے کے بعد ہمیں لگایا
جائے گا
(۷) روئی،آدھی چھٹانک… یہ بھی بہت کام آتی
ہے، ناک وغیرہ کے اندر پانی اسی سے پہنچایا جاتا ہے
(۸) کافور، ۶ ماشہ… یہ
نہلانے کے بعد ہمارے سجدے والے اعضاء پر لگایا جائے گا
(۹) تہبند، دوعدد… ہمارے کپڑے تو اتار دیئے
جائیں گے،یہی تہبند پہنا کر نہلایا جائے گا
(۱۰) مرد
کے لئے ایک گز چوڑائی والا دس گز کپڑا… اور عورت کے لئے ساڑھے اکیس گز کپڑا…
عورتوں
کو کپڑوں کازیادہ شوق ہوتاہے نا؟… دیکھیں کفن کے لئے بھی اتنا ساراکپڑا وہ
بھی سفید رنگ کا لٹھا…
کل
من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام
آپ
ڈر تو نہیں گئے؟
اللہ تعالیٰ
نے قرآن پاک میں بار بار موت کی یاد دلائی ہے… ہر کسی نے موت کا مزہ چکھنا
ہے، موت کا وقت آجائے تو ایک لمحہ کے لئے نہیں ٹل سکتا… کافراورمنافق کہیں
گے کہ ہمیں دوبارہ زندگی دی جائے ہم نیک اعمال کریں گے… مگر جواب ملے گا،
کلّا… ہرگز نہیں… قرآن پاک میں جگہ جگہ موت کا بیان ہے، معلوم ہوا کہ
موت کو یاد کرنا اور اُس کی تیاری کرنا بہت اچھا کام ہے… اورہمارے آقا، محسن
اور محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ہمیں باقاعدہ موت کو یاد
کرنے کا حکم دیا ہے… اس لئے ہمیں آپس میں یہ باتیں دُھراتے رہنا چاہئیں
تاکہ… غفلت کی موت سے بچیں…
اللھم
بارک لی فی الموت وفیما بعد الموت، اللھم ھوّن علینا سکراتِ الموت
مکان
کیسا چاہئے؟
مرنے
کے بعد ہمیں ایک ’’مکان‘‘ میں بند کر کے… سب دوست احباب، نوکر ملازم اور رشتہ
دار بھاگ جائیں گے… آئیے تھوڑی سی اُس کی پلاننگ کرلیں… پہلی بات تو یہ
ہے کہ اس مکان میں ہمیں بہت لمبے عرصے تک رہنا ہوگا… معلوم نہیں سینکڑوں سال،
یاہزاروں سال یا کروڑوں سال… اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا
ہے… دوسری بات یہ ہے کہ ہم کسی کو لاکھوں، کروڑوں روپے دیں کہ وہ ہمارے ساتھ
اس گھر میں ایک رات رہ لے تو کوئی بھی نہیں مانے گا… وہ جو کہتے ہیں کہ ہم
آپ کے بغیر ایک لمحہ نہیں ر ہ سکتے… وہ دفن کر کے جلدی جلدی چلے جائیں
گے… تیسری بات یہ ہے کہ اُس گھر میں اگر راحت مل گئی تو وہ قیامت تک چلتی رہے
گی اور اگر خدانخواستہ عذاب کا فیصلہ ہو گیا تو اس جگہ کا عذاب بہت سخت اور بہت
لمبا ہے…چوتھی بات یہ ہے کہ یہ گھر روزآنہ ہمیں آوازیں دیتا رہتا ہے
کہ… میں تنہائی ،غربت اور وحشت کا گھر ہوں… اب سوچیں کہ کیا کیا
جائے؟… کوئی ایسی صورت ہو سکتی ہے کہ ہم قبر میں جائیں ہی نہ؟… ایسی تو
کوئی صورت ممکن نہیں… قبر تو ہرکسی کو ملنی ہے جس جگہ بھی لاش کو آخری قرار
ملا وہی قبر ہو گی… وہ مٹی کا گھرہو،پانی کی تہہ ہو، کسی پرندے یا جانور کا
معدہ ہو یا… کوئی بھی جگہ… معلوم ہوا کہ ہم قبر سے بچ تو نہیں
سکتے… پھر ایساکیوںنہ کریں کہ ابھی سے قبرکے بارے میں پوری معلومات لے
لیں… دنیا کے مکان کے لئے ہم کتنی معلومات لیتے ہیں… حالانکہ یہاں تو بس
چند سال یا چنددن رہنا ہوتاہے … پھر ہم اس بات کی معلومات لے لیں کہ
اچھی قبر کیسے ملتی ہے… اور قبر کے عذاب سے حفاظت کیسے ہوتی ہے… احادیث
میں آیا ہے کہ مؤمن کی قبر جنت تک کھل جاتی
ہے… سبحان اللہ اتنا بڑا بنگلہ… اور کافر ومنافق
کی قبر اتنی تنگ ہو جاتی ہے کہ انسان کی پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جاتی
ہیں … توبہ، توبہ اتنی تنگ کوٹھڑی… اور آخری کام ہم یہ کریں کہ
قبر کی روز فکرکیا کریں… اور عذاب قبر سے بہت زیادہ پناہ مانگاکریں… بس
جس آدمی کو قبر کی فکر دنیا کے مکان سے زیادہ نصیب ہو گئی اُس کے تو مزے ہو جائیں
گے ان شاء اللہ … اور جو دنیا کے مکانوں، پلاٹوں میں
الجھ کر قبر سے غافل رہا… اُس پر اللہ تعالیٰ ہی رحم
فرمائیں کہ کیسی حقیقت سے آنکھیں بند کئے بیٹھا ہے…
مکان
کا نقشہ
ہمارے
اس مکان کے جو نقشے شریعت نے پاس کئے ہیں وہ دو طرح ہیں…
(۱) لحد یعنی بغلی قبر… اس میں پہلے زمین کو
نیچے کی طرف کھودتے ہیں اور پھر قبلہ کی طرف اندر ایک خانہ بناتے ہیں، جس میں میت
کو رکھا جاتاہے… یہ نقشہ زیادہ پسندیدہ ہے مگر اس میں زمین زیادہ چاہئے ہوتی
ہے… کراچی وغیرہ بڑے شہروں میں تو کوئی اس کی تمنا ہی نہ کرے… وہاں پلاٹ
بہت مہنگے ہیں اور قبرستان بہت چھوٹے ہیں… ہر طرف عارضی اور فانی بلڈنگوں کا
حرص اورسیلاب ہے… اس لئے وہاں ایسی قبر ملنا مشکل ہے…
(۲) شق یعنی صندوقی… بس زمین کو نیچے کی طرف
کھودیں… گہرائی تو میت کے قد کے برابر ہو… لیکن اگر رشتہ دار زیادہ
’’بیزی‘‘ ہوں … اور ان کو جلدی جلدی اپنے کاروبار پرجانا ہو تو پھر میت
کے قد سے آدھا گڑھا بھی کافی ہے… یہ تو ہوئی گہرائی… باقی رہی چوڑائی
تو وہ بس میت کے آدھے قد کے برابربہت ہے…
اللھم
انی اعوذبک من فتنۃ عذاب القبر… اللھم انی اعوذبک من عذاب القبر…
لیجئے
یہ ہے نقشہ… نہ ٹی وی لاونچ، نہ کچن، نہ لان… اورنہ اٹیچ باتھ اور
گیراج… قسمت اچھی ہوئی تو یہی گڑھا… جنت کا ایسا باغیچہ بن جائے گا کہ
اُس کے مقابلے میں کیا وہائٹ ہاؤس اور کیا تاج محل… اور اگر بد نصیبی نے
گھیرلیا تو یہی کچا مکان… آگ کا تندور بن جائے
گا… یا اللہ رحم، یا اللہ رحم،
یا اللہ رحم… ویسے کبھی کبھی اپنے اس گھر کا نقشہ سوچا
کریں، بہت مزے کے آنسو نکلیں گے اور دنیا کی کئی پریشانیوں اور سوچوں کو بہا کر
لے جائیں گے…
چلیں
کلاتھ مارکیٹ ہو آئیں
جب
ہم مرجائیں گے… اور یقیناً مریں گے، دل چاہے یا نہ چاہے تو… ہمارے تمام
کپڑے قینچی سے کاٹ کر اُتار لئے جائیں گے… اور ہمیں نہلا دُھلا کر ایک تھری
پیس سوٹ پہنایا جائے گا… اچھا نہیں ہے کہ ہم اپنا تھری پیس سوٹ ابھی سے خرید
کر رکھ لیں… ہمارے حضرت قاری عرفان صاحبؒ اپنا کفن ہر وقت ساتھ رکھتے
تھے… ہم اُن سے ملنے جاتے تو دیکھتے کہ کفن ساتھ رکھاہوا ہے… یہ منظر
بہت اچھا لگتا تھا کہ… اصل سفر کی تیاری کرنے والوں کو ہی اچھا سفر نصیب
ہوتاہے… ہم اُن کو چند دن کے لئے’’مدرسہ‘‘ میں لے گئے تو انہوں نے اپنا کفن
ساتھ رکھا… لوگ کہتے ہیں … موت کی اتنی زیادہ فکر سے دنیا کے کام
خراب ہو جاتے ہیں، حالانکہ یہ غلط ہے… موت کی فکر سے تو دنیا کے کام ٹھیک
ہوتے ہیں،تیزہوتے ہیں ا ور اچھے ہوتے ہیں… جانے والا آدمی
تمام کام جلدی کرتا ہے، ایمانداری سے کرتاہے … اور ٹھیک کرتا
ہے… اچھا چھوڑیں موت کی باتوں کو ہم اپنے ’’تھری پیس ڈریس‘‘ کی بات کرتے
ہیں… مردحضرات کے لئے یہ تین کپڑے (تھری پیس) مسنون ہیں
(۱) ازار… اس کی لمبائی سر سے پاؤں تک ہو
(۲) لفافہ یا چادر… یہ ازار سے چار گرہ زیادہ
ہو
(۳) قمیص یا کفنی… یہ زبردست اسٹائل کا کُرتہ
ہوتا ہے،اس میں نہ آستین ہوتی ہے نہ کلی… بس درمیان میں سے کاٹ کر سر داخل
کرنے کی جگہ بنا دیتے ہیں… یہ گردن سے پاؤں تک لمبا ہوناچاہئے…
اچھا
ہو گاکہ ہم ابھی سے خود جا کر شاپنگ کر لیں، بعد والے کیا پتا ٹھیک خریدیں یا نہ…
اور
خواتین کا ڈریس’’فائیو سٹار‘‘… یعنی پانچ ستاروں پرمشتمل ہونا چاہئے…
(۱) ازار
(۲) لفافہ
(۳) قمیص
ان
سب کی تفصیل تو آپ نے اوپر پـڑھ لی مزید دوکپڑے اور ہوں
(۴) سینہ بند… بغل سے رانوںتک… اور چوڑا
اتنا ہو کہ بند ھ جائے
(۵) سر بند یا اوڑھنی… اسے خمار یعنی دوپٹہ بھی
کہتے ہیں… یہ تین ہاتھ لمبا ہو…
خواتین
کے پاس ویسے تو کپڑے کافی ہوتے ہیں اگر یہ ’’فائیو سٹار‘‘ سوٹ بھی خرید کر رکھ
لیں… اور کبھی کبھی اس کو دیکھا کریں تو ان شاء
اللہ بہت فائدہ ہو گا… خصوصاً جب لڑائی کا موڈ
ہو… بازارجانے کا شوق ہو، دل زیادہ پیسے مانگ رہا ہو… نماز میں سستی ہو
رہی ہو… موبائل یا کمپیوٹر کھیلنے کے لئے دل بہک رہا ہو… تب اپنا یہ
جوڑا دیکھا کریں اور اس کے بعد والے حالات کو سوچا کریں…
اللھم
اَجِرنا مِنَ النَّار، اللھم اَجِرنا مِن النَّار
ایک
اندر کی بات
ایک
راز کی بات بھی سُن لیں… دنیا میں جو کچھ ہم نے اب تک بنا لیا ہے اورمرتے دم
تک جو کچھ بنائیں گے اس میں سے کچھ بھی ہمارے ساتھ نہیں جائے گا… آپ کہیں گے
یہ کون سی رازکی بات ہے، یہ تو سب کو معلوم ہے… عرض یہ ہے کہ اگر یہ بات سب
کو معلوم ہوتی ہے تو لوگ صرف دنیا ہی کیوں بناتے… زبان سے سب کہتے ہیں مگر
اکثرلوگ دنیا ہی کی فکر میں لگے ہوئے ہیں… قبر اورآخرت کے لئے اُن کے پاس نہ
وقت ہے اورنہ پیسہ… اس لئے یہ راز کی بات خود کو بھی یاد دلا رہا ہوں اور آپ
سب کو بھی کہ… مکان، دکان، کوٹھی، کار، کپڑے، زیور… سارا سامان یہاںرہ
جائے گا… اور پیچھے والوں میں تقسیم ہو جائے گا… ہمارے ساتھ بس وہی کچھ
جائے گا جو ہم اپنی زندگی میں اپنے مالک کی رضا کے لئے خرچ کردیںگے… ہمارے
ساتھ جانے والی چیزوں کی ایک مختصر فہرست یہ ہے
(۱) صدقہ جاریہ
(۲) ایسا علم جس سے لوگ نفع اٹھا رہے ہوں
(۳) صالح اولاد کی دعائیں اور اعمال
(۴) مجاہد کی پہرے داری اور جہاد کااجر… یہ
قیامت تک قبر میں پہنچتا رہے گا
(۵) قرآن پاک… اگر اُسے یاد کیا اوراُس کے
ساتھ وفا کی
(۶) حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے
ساتھ انتہائی درجے کی خاص محبت…
اور
ہر طرح کے وہ نیک اعمال جو ہم نے اخلاص کے ساتھ کئے…
سفربہت
قریب ہے… اپنا سامان دیکھ لیںکہ ساتھ لے جانے کے لئے کیا کیا تیار کر لیا ہے…
باقی
آئندہ ان شاء اللہ
سوچا
تھا کہ آج اس سفر کی بات پوری ہو جائے گی… مگروقت بھی ختم ہو گیا اور کالم
کی گنجائش بھی… زیادہ لمبا لکھا جائے تو پڑھنے والوں کو ہر اگلی بات پڑھتے
ہوئے پچھلی بات بھول جاتی ہے… ویسے بھی بزرگوںنے لکھا ہے کہ مفید باتوں کو
کئی بار پڑھا جائے تب دل میں بیٹھتی ہیں… سفر آخرت کے موضوع پر کئی باتیں
باقی ہیں… اللہ تعالیٰ نے زندگی اور توفیق عطاء فرمائی تو ان شاء
اللہ کسی اگلی مجلس میں عرض کردی جائیں گی… میدان جہادمیں لڑنے
والے مجاہدین کا معاملہ کافی آسان ہے… اگر امانت، اطاعت اور اخلاص کے ساتھ
جہاد کریں تو… اُن کے لئے آخرت اورقبر کی منزلیں صرف آسان ہی نہیںمزیدار
بھی ہوں گی… اور اگر شہادت مل جائے پھرتو کیاکہنے؟… نہ سوال نہ جواب، نہ
پوچھ نہ تاچھ، نہ خوف نہ تنگی بس مزے ہی مزے اور اڑانیں ہی اڑانیں… ہم
سب اللہ تعالیٰ سے مقبول شہادت مانگا کریں اور خود کو شہادت کا مستحق
بنانے کے لئے نفاق کی ہرقسم سے بچاکریں… آج کا سبق توبس اتنا ہے
کہ… میں اور آپ دنیا سے زیادہ آخرت کی فکر کریں… اور دنیا سے زیادہ
آخرت کی دعائیں مانگاکریں…
ربنا
اٰتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الآخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار… ربنا اصرف عنا عذاب
جہنم ان عذابھا کان غراما…آمین یا ارحم الراحمین
اللھم
صل علیٰ محمد النبی الامی البشیر النذیر وعلی الہ و صحبہ و بارک وسلم تسلیما کثیرا
کثیرا…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
کے سامنے آسمان و زمین کی ہر چیز عاجز ہے… آج کی مجلس میں چند دلچسپ مناظر
پر بات ہو گی… آئیے پہلا منظر دیکھتے ہیں…
ایک
شخص جنگ میں کودا… اُس کے ہمراہ لاکھوں فوجی، ہزاروں ٹینک اور سینکڑوں جنگی
طیارے اورخطرناک میزائل تھے… اسباب کی حد تک فتح اُس کے قدموں میں
تھی… مگرمیدان جنگ کچھ اور ہی خبریں سنا رہا تھا… ہر دن فوجیوں کے
تابوت، گرتے ہوئے طیارے اور زمین پر بکھرتے ٹینک… قصّہ بہت طویل ہے، مختصر یہ
کہ فتح کا خواب ٹوٹ گیا اور شکست ایک بَلا کی طرح بال کھولے اس پر حملہ آور ہو
گئی… جنگ کا سردار چاہتا تو میدان میں کچھ اور عرصہ ڈٹا رہتا مگر اُس نے بچی
کھچی عزت بچا کر بھاگنے کا فیصلہ کیا… آسمان پر چمکتے سورج نے وہ حسین منظر
بھی دیکھا جب سوویت یونین کا آخری فوجی دریائے آمو سے پار جا رہا تھا… اور
سوویت فوجوں کے جرنل نے ایک بار پیچھے مڑ کر افغانستان کو دیکھا اور گردن جُھکا کر
آگے کی طرف روانہ ہو گیا… جنگ ہارنے والا سردار’’گورباچوف‘‘ یکایک ہیرو سے
زیرو ہوا… جنگ کیا ہاری کہ مُلک بھی ہار گیا اور سوویت یونین کئی
آزادریاستوں میں تقسیم ہو گیا… ’‘’گوربا چوف‘‘ کا نام ’’بدنامی‘‘ کا استعارہ
تھا یہاں تک کہ ہمارے ہاں بھی ہارنے والے شخص کو’’گوربا چوف‘‘ کا لقب دیا جاتا
تھا… دنیا میں جب کوئی کسی کو ذلیل کرنا چاہتا تو اُسے ’’گوربا چوف‘‘ کہہ کر
پکارتا…جی ہاں’’گوربا چوف‘‘ کے لفظ میں ذلّت، شکست، ناکامی
،رسوائی … اور عبرت کی کئی کہانیاں سمٹ چکی تھیں… اور یہ ہمارے
زمانے کا سب سے زیادہ بدنام لفظ بن چکا تھا… مگر پھر منظر بدل گیا… آج
کل گوربا چوف کا پھر بول بالا ہے… افغانستان میں مار کھانے والے امریکی اور
نیٹو حکام’’ گوربا چوف‘‘ کو اپنا استاد قرار دے چکے ہیں… گوربا چوف کے بیانات
سے اخبارات کی زینت ہے اور کیمروں کے فلش گوربا چوف کے شفّاف سر پر لائٹیں نچھاور
کر رہے ہیں… دیکھا آپ نے یہ دنیا کیسی عجیب جگہ ہے اور دنیا کے کفارکس قدر
بے بس ہیں… نیٹو والے گوربا چوف سے بھاگنے کا گُر سیکھ رہے ہیں… اور
گورباچوف گردن تان کر کہہ رہا ہے کہ… میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ
افغانستان کو فتح کرنا ممکن نہیں ہے… تم لوگوں کو یہاںسے نکلنا ہی ہوگا، اچھا
ہے کہ مزید نقصان اٹھانے سے پہلے نکل جاؤ…نیٹو اتحاد نے گوربا چوف کا مشورہ مان
لیا ہے اور اب انخلاء کی تیاریاں زوروں پر ہیں… واقعی عجیب منظر ہے… کل
تک یہ نعرہ گونجتا تھا…
’’شکست
خوردہ گورباچوف مُردہ باد‘‘…
اورآج
یہ نعرہ گونج رہاہے…
شکست
خوردہ اتحادی لشکروں کا خیر خواہ استاد… گوربا چوف زندہ باد…
آئیے
اب اس سے بھی زیادہ ایک اور دلچسپ منظر دیکھتے ہیں:
طالبان
کا ایک بہت اہم کمانڈر آج کل امریکہ اور نیٹو اتحاد سے مذاکرات کر رہا
ہے… یہ خبر پہلے اندر ہی اندر چلتی رہی… ایک چونکا دینے والی پر اسرار
خبر… اس خبر نے’’کرزئی‘‘ کی نیندیں اڑا دیں کہ اگر طالبان اورنیٹو میں
مذاکرات شروع ہو گئے تو میرا کیا بنے گا؟… پاکستان حکومت کے بھی چھّکے چھوٹ
گئے کہ یہ کیا ہو رہا ہے… مذاکرات شروع ہیں اور ہمیں اعتماد میں نہیں لیا
گیا… یہ خبر پہلے ہلکی تھی مگرپھر گرم اور تیز ہوتی گئی… حتیٰ کہ
مجاہدین بھی آپس میں کہتے تھے اللہ خیر کرے کون ہے جو بِک
گیا ہے… پھر یہ مذاکرات اہم دور میں داخل ہوئے تو امریکہ اور نیٹو کے جرنیل
اپنی فتح کو چھپا نہ سکے… انہوںنے میڈیا کو تفصیلات بتانا شروع کر دیں
کہ… ایک بہت بڑے طالبان کمانڈر آج کل ہمارے پاس کابل میں آ، جارہے ہیںاور
بات چیت کافی آگے بڑھ گئی ہے…جرنیلوں سے یہ رازپھسلا تو امریکی حکومت نے بھی اس
عظیم الشان فتح کو چھپانا مناسب نہ سمجھا… امریکہ کے وزیر دفاع بھی بول اٹھے
کہ جی ہاں بات چیت بہت کامیاب جارہی ہے… کئی دن تک سی این این اور بی بی سی
پر اسی خبر کا چرچہ تھا اوربرطانیہ والے تو خوش تھے کہ ان کا بُوڑھا جرنل لیمب
اپنے جال میں بڑی مچھلی پھنسا لایا ہے… مذاکرات کی کامیابی کا خطرہ محسوس
کرتے ہوئے صدر کرزئی نے امریکہ اور نیٹو کے خلاف بیانات دینا شروع کر
دیئے… کرزئی کا خیال تھا کہ اگر طالبان امریکہ کے ساتھ مل گئے تو پھر اُسے
افغانستان میں زندہ رہنے کے لئے ابھی سے’’ جہادی بیانات‘‘ شروع کر دینے چاہئیں…
بس
اسی گرما گرمی، خوشی اور پریشانی میں اچانک مذاکرات کی خبر میڈیا سے غائب ہو
گئی… میڈیا والے سمجھے کہ شاید مذاکرات کسی نازک مرحلے میں داخل ہو چکے
ہیں… اور عنقریب کوئی اہم اعلان ہونے والا ہے…مگر پھر پتا ہے کیا
ہوا؟؟… اچانک یہ خبرآئی کہ جو شخص طالبان کمانڈر بن کر نیٹو اور امریکہ سے
مذاکرات کر رہا تھا وہ ایک’’بہروپیا‘‘تھا… جی ہاں ایک بہروپیا دنیا کے
سینتالیس ملکوں کو کئی ماہ تک بیوقوف بناتا رہا… رازیہ کُھلا کہ پاکستان میں
مقیم ایک شخص نے امریکہ اور نیٹو سے رابطہ کر کے بتایاکہ وہ… مُلّا اختر
منصور ہے اور وہ امریکہ اور نیٹو سے مذاکرات کرناچاہتا ہے… ملّا اختر منصور
طالبان کے اہم کمانڈر ہیں اور حضرت ملّا برادر کی گرفتاری کے بعد وہ طالبان شوریٰ
کے انتظامی سربراہ ہیں… نیٹو… جو افغانستان میں جنگ ہار رہا ہے، فوراً
اس بہروپیے کی باتوں میں آگیا… اور پھر تو’’بہروپئے خان‘‘ کے مزے ہو
گئے… نیٹو کے خصوصی طیارے اُسے کابل پہنچاتے اور پھر وی آئی پی طیارے اُسے
واپس کوئٹہ چھوڑجاتے… اس دوران پانی خرچہ بھی خوب چلا اور بہروپئے کو مختلف
مدّات میں کروڑوں ڈالر دیئے گئے… بہروپئے نے ان مذاکرات میں نیٹو کے خوب
حوصلے بڑھائے اور اُسے سمجھایا کہ بس ہاتھ کھُلا رکھو میں اب تک اتنے لوگوںکو خرید
چکا ہوں… اور کچھ پیسے اور دو تاکہ مزید لوگوں کو خرید سکوں… اورعنقریب
کابل کے کسی بڑے اسٹیڈیم میںطالبان کے اہم کمانڈر نیٹو کے سامنے سرنڈر ہونے والے
ہیں… کئی ماہ کی لوٹ مار کر کے وہ بہروپیا امریکہ اور نیٹو کو انگوٹھا دکھا
کر بھاگ گیا اور ان کو اب پتا چلا ہے کہ… وہ ملّا اخترمنصور نہیں تھا…
واہ
ری ٹیکنالوجی… دعوے خدائی کے اور ہے تو اندھی…
آئیے
اب تیسرے منظر پر ایک نظر ڈالتے ہیں… پہلے آپ سب سے معذرت کہ اگر کسی شخص نے
اپنے بچے کو پیمپر پہنا کر اپنے سر پر بٹھایا ہواہو… اور وہ پیمپر ’’لیک‘‘ ہو
جائے یعنی تھوڑا سا پھٹ جائے تو اُس شخص کا کیا بنے گا؟… سبق یہ ملا کہ کسی
کو سر پر نہیں بٹھانا چاہئے… مگر اسلامی ملکوں کے سربراہوں کو کون
سمجھائے… انہوں نے امریکہ کو اپنے سرپر بٹھا رکھا ہے… اور اب جب کہ
امریکہ’’لیک‘‘ ہوا ہے تو ان سب کے منہ اور چہرے غلاظت سے بھر گئے ہیں… آپ
کومعلوم ہوگا کہ انٹرنیٹ کی ایک سائٹ’’وکی لیکس‘‘ نے امریکہ کی کئی لاکھ خفیہ
دستاویزات ’’لیک‘‘ کر دی ہیں… اور آج کل ہر طرف ان دستاویزات کاچرچہ
ہے… ہم نے کافی غور سے ان معلومات کو پڑھا ہے جوان دستاویزات کے ذریعہ
منظرعام پر آئی ہیں… معلوم یہ ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک منظم شرارت کا حصہ
ہے اور امریکہ خود ہی ان دستاویزات کو شائع کر رہا ہے… بات دراصل یہ ہے کہ
امریکی نظام سلطنت اس وقت کافی درہم برہم ہے… امریکہ کے گورے سامراجی ایک
کالے صدر کو برداشت نہیں کر پارہے… عراق اور افغانستان کی بے نتیجہ جنگ نے
امریکی معیشت کو گنجا کر دیا ہے… اور امریکی معاشرہ ایک خوفناک نسلی اور
مذہبی تفریق کی طرف بڑھ رہا ہے… ایسے حالات میں امریکہ نے اپنے اُن مسلمان
اتحادیوں پر اپنا غصہ نکالا ہے جو اتنا کچھ کھا کر بھی امریکہ کے کام کو آسان نہ
کر سکے… ان دستاویزات میں کرزئی کے لئے طرح طرح کی گالیاں ہیں… ہمارے
زرداری صاحب کی شان میں بھی گستاخی بکی گئی ہے… نواز شریف صاحب کو خطرناک
قرار دیاگیا ہے… سعودی شاہ عبد اللہ کے کئی راز افشا کئے گئے
ہیں… امارات اور بحرین کے حکمرانوں کے دلچسپ بیانات بھی سامنے لائے گئے
ہیں… اور سب سے بڑھ کر یہ کہ … ایران کو مسلم دنیا کا ہیرو بنانے
کی بھرپور کوشش کی گئی ہے… ان دستاویزات میں پاکستان کی آئی ایس آئی اور
فوج کو آڑے ہاتھوں لیا گیا ہے… اور سعودیہ کے ’’سُنّی کردار‘‘ کو بھی تنقید
کا نشانہ بنایا گیا ہے… امریکہ چاہتا تھا کہ یہ سب باتیں دنیا کے سامنے
آجائیں… مگر وہ اپنی زبان سے کس طرح کہتا… چنانچہ یہ ڈرامہ رچایا گیا
کہ امریکی فوج اور امریکی دفتر خارجہ کی لاکھوں دستاویزات چوری ہو گئی
ہیں… اور چورنے یہ تمام دستاویزات ویب سائٹ پر نشر کر دی ہیں…
کیا
یہ کہانی دل کو لگتی ہے؟… ایک عام سے پولیس تھانے کے کاغذات چوری کرنا آسان
کام نہیں ہوتا چہ جائیکہ اتنے بڑے ملک کے حسّاس کاغذات یوں دن دھاڑے چوری ہو
جائیں… اور عجیب بات یہ ہے کہ چور کانام پتا بھی ساری دنیا کو معلوم
ہے… اور اس سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ چور نے کئی دن پہلے دھمکی دی کہ میں
یہ معلومات انٹرنیٹ پرنشر کررہا ہوں… امریکہ چاہتاتھا تو چور کو پہلے ہی پکڑ
لیتا… اور اُس سے اپنے کاغذات برآمد کرا لیتا… انٹرنیٹ کا نظام بھی
امریکی قبضے میں ہے… امریکہ چاہتا تو پورے نیٹ نظام کو ہی جام یا ختم کر
دیتا… مگرکچھ بھی نہیں ہوا… امریکہ صرف اس ویب سائٹ کے خلاف دکھاوے کے
بیانات دیتا رہا اور ویب سائٹ نے وعدے کے مطابق تمام خفیہ دستاویز نشرکر
دیں… اور اب ہمارے ملکوں کے حکمران اپنے چہرے اور منہ دھوتے پھر رہے ہیں کہ
امریکہ بالکل اُن کے سر پر بیٹھ کر ’’لیک‘‘ ہواہے… اللہ تعالیٰ
ہم سب کو کافروں کی ذہنی اور جسمانی غلامی سے بچائے کہ اس میں… آخرت کی
ناکامی کے ساتھ ساتھ دنیا کی بھی ذلّت ہے… ہمارے حکمرانوں نے اگر اب بھی
امریکی غلامی نہ چھوڑی تو اسی طرح مزیدرُسواہوتے رہیں گے… کئی ایک دلچسپ
مناظر اور بھی بالکل سامنے ہیں… مگرآج اتنے ہی پر اکتفا کرتے ہیں… بے
شک عقل والوں کے لئے ان مناظرمیں بڑی عبرتیں ہیں…
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد النبی الامی الفاتح و علیٰ الہ وصحبہ و بارک و سلم تسلیما
کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور اُن کی اولادپر اپنی خاص
رحمت فرمائے… حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور اُن کے خاندان نے دین
اسلام کی بہت مقبول خدمت کی ہے… میرے مرشد حضرت مفتی ولی حسن صاحب رحمۃ
اللہ علیہ نے اپنے ایک بیان میں ارشاد فرمایا:
’’ہندوستان
میں مغلوں نے بڑی لمبی حکومت کی،ان میں بڑے بڑے بادشاہ کشور کُشا گزرے ہیں، قاعدہ
ہے کہ ہر عروج کو زوال ہوتا ہے تو اُن کو بھی اپنی کوتاہیوں کے سبب زوال کا سامنا
کرنا پڑا، اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ایک بڑے
روحانی اور دینی پیشوا حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کو پیدا فرمایا
جنہوں نے مسلمانوں کی اصلاح کا بیڑہ اٹھایا، اللہ تعالیٰ نے
اس خاندان سے بڑا عظیم کام لیا اور ہندوستان میں اسلام کی بقا کا ان حضرات کو سبب
بنایا… حضرت مولانا شاہ اسماعیل شہیدس بھی اسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے آپ
بڑی یگانہ روزگار (یعنی منفرد) شخصیت کے مالک تھے… سید احمد شہیدسکی تحریک
جہاد و اصلاح کے روح رواں تھے، بالاکوٹ میں حضرت سید احمد رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ
ہی شہید ہوئے، آپ س کا مزار بھی وہیں ہے…تو یہ حضرت اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ
ہیں کہ جن کے دل میں اللہ تعالیٰ نے جذبۂ جہاد اور جذبہ اصلاح و تبلیغ
کوٹ کوٹ کر بھردیا تھا… حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو قرآن مجید سے بھی ایک خاص
شغف اور تعلق تھا، پوری تقریر اور بیان، قرآن مجید کی کسی سورت کے گرد گھومتا
تھا، کبھی سورۃ کہف پر بیان ہے تو سارے مطالب بیان کر رہے ہیں، کبھی سورۃ مریم، کبھی
سورۃ آل عمران، پوری پوری سورت ایک وقت میں بیان کرتے تھے، ہماری طرح کے بیان
نہیں ہوتے تھے کہ بیان میں سب کچھ ہوتا ہے قرآن نہیں ہوتا اور عوام بھی شوقین
نہیں… تو حضرت شاہ اسماعیلؒ نے ایسا زمانہ پایاجو مغلوں کا آخری دورتھا اور
مسلم حکمرانوں کی حیثیت کاغذی شیر کی سی رہ گئی تھی،عملاً انگریزوںکا اقتدارپرقبضہ
تھا، مسلمانوں کی دینی اور ذہنی سطح پستی کا شکار تھی، ایسے حالات میں عقیدے کمزور
پڑجایا کرتے ہیں اور غیر ضروری اور بے اصل چیزیں دین کا حصّہ بنا لی جاتی ہیں اور
لوگ شعر شاعری کے چکر میں پڑجاتے ہیں،مسلمانوں کے جو اکثر نامور شعراء ہیں سب اسی
زمانے کے ہیں، دھلی کی مشہور زمانہ جامع مسجد میںاُس زمانے تبرکات کی زیارت کرائی
جاتی تھی اور ان ’’تبرکات‘‘ کی سند کاکچھ پتا نہ تھا بس خود تراشیدہ ہی
تھے… یہ نمائش خاص خاص مواقع محرم، رمضان، ذی الحجہ وغیرہا میں کرائی جاتی
تھی،بادشاہ، ملکہ ،شہزادے، شہزادیاں سب اس میں شریک ہوتے تھے، جہاںجہاں سے یہ
تبرکات لے جائے جاتے لوگ کھڑے ہو جاتے اور ان کی تعظیم کرتے کہ یہ حضورپرنور صلی
اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک ہیں، انگوٹھی ہے، کھڑاؤں ہیں، ٹوپی ہے
وغیرہ وغیرہ… یعنی جو اصل چیز ہے یعنی ایمان اور عمل وہ تو متروک اور شرک و
بدعات اور غیر ضروری رسوم دین کا حصہ بن گئیں… ایک ایسے موقع پر جبکہ شاہ
اسماعیل شہیدس جامع مسجد دھلی میں ایک حوض کے پاس وعظ فرما رہے تھے، محرم کی
ابتدائی تاریخیں تھیں اور یہ موقع تبرّکات، کی زیارت کاتھا، توعین وعظ کے دوران ان
تبرّکات کا دورہوا، شاہ صاحب سنے وعظ جاری رکھا اور ذرا التفات نہ فرمایا، نہ
رُکے، نہ کھڑے ہوئے، وعظ میںشریک لوگ بھی آپ کی اتباع میں بیٹھے رہے… یہ ایک
بڑی بات تھی جو ظاہر ہوئی تھی، بادشاہ کو خبر دی گئی اور شاہ صاحب شہیدس کی دربار
میں طلبی ہوئی، بادشاہ نے غصے کے عالم میں وضاحت طلب کی تو شاہ اسماعیل شہید صاحب
س نے بڑے سکون سے جواب دیا کہ دیکھئے میرے ہاتھ میں اس وقت قرآن مجید اور دوسرے
ہاتھ میں حدیث کی سب سے بڑی کتاب صحیح بخاری شریف ہے مگر آپ اس کی تعظیم میں کھڑے
نہ ہوئے، نہ ہی آپ نے ان کو دیکھ کر کوئی غیر معمولی کام کیا، حالانکہ حضور اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے معجزات اور تبرّکات ،قرآن و حدیث ہی
ہیں کہ اب تک ہو بہو ہمارے درمیان موجود ہیں اوران میں کوئی تغیر و تبدّل نہیں ہوا
تو یہ زیادہ لائق تعظیم ہیں نہ کہ وہ تبرکات کہ جن کی کوئی اصل اور سند آپ کے پاس
موجود نہیں، قرآن و حدیٖث کے تبرّکات ہونے پر ہمارے پاس لا تعداد دلائل قاطعہ
موجود ہیں اور جو تبرکات آپ کے پاس ہیں، اُن کی ایک سند بھی آپ کے پاس نہیں ہے،
غرض شاہ صاحب س نے بادشاہ کو لاجواب کر دیا(رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے عظیم مقاصد از حضرت مفتی ولی حسنؒ)
حضرت
شاہ ولی اللہ س کے چار بیٹے تھے اور
چاروںماشاء اللہ باکمال
(۱) حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دھلوی رحمۃ
اللہ علیہ
(۲) حضرت شاہ رفیع الدین صاحب رحمۃ اللہ
علیہ
(۳) حضرت شاہ عبدالقادر صاحب رحمۃ اللہ
علیہ
(۴) حضرت شاہ عبدالغنی صاحب رحمۃ اللہ
علیہ
حضرت
شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے کمالات پر مستقل کتابیں لکھی جا چکی
ہیں، اپنے والد گرامی کی طرح بلند پایہ محدث، مفسّر اور مصنف تھے، خواب میں حضرت
علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے بیعت کی سعادت حاصل ہوئی اور
آپ نے حضرت علی رحمۃ اللہ علیہ کے منامی حکم پر ایک کتاب بھی
لکھی… آپ کی تفسیر ’’تفسیر عزیزی‘‘ نہایت ہی مقبول خلائق ہوئی، اورآپ کی
کتاب تحفہ اثنا عشریہ اب تک فریقِ مخالف کو لاجواب کئے ہوئے ہیں… علم اور
تقویٰ کی برکت سے آپ کا روحانی مقام اس قدر بلند تھا کہ جنّات کے بادشاہ بھی حاضر
خدمت ہوتے تھے اور لوگوں کے حق میں آپ کی سفارش کو قبول کرتے تھے… جنّات کے
بارے میں آپ کے واقعات پڑھے جائیں تو عقل حیران رہ جاتی ہے… آپ کی قوّتِ
حافظہ بھی بہت مضبوط تھی اور حاضر جوابی بھی زور دارتھی…ساٹھ ستر ہزار اشعار زبانی
یاد تھے… اور بر محل اوربر موقع شعر فرماتے تھے… جہاد کے ساتھ آپ کی
محبت عروج پر تھی اللہ تعالیٰ نے برصغیر میںجہاد کے احیاء
کا کام آپ کے مرید حضرت سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ آپ کے بھتیجے
حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ اور آپ کے داماد حضرت مولانا
عبدالحیٔ رحمۃ اللہ علیہ سے لیا…
حضرت
شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ سے ایک صاحب نے کچھ سوالات کئے…
آئیے
ان سوالات کو پڑھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ مرشد المجاہدین فخر المحدّثین حضرت شاہ
عبدالعزیزؒ ان کا کیا جواب ارشاد فرماتے ہیں… ممکن ہے حضرت شاہ صاحبؒ کے
جوابات سے ہمارا بھی کوئی مسئلہ حل ہو جائے…
سوال:
کس چیز کی برکت سے گناہوں سے نفرت اور طاعت کی طرف رغبت ہوتی ہے؟
جواب:
اس مقصد کے لئے
لا
حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم
کثرت
سے پڑھنا بہت مفید ہے اور کلمۂ توحید کی نفی و اثبات اورشد و مد کے ساتھ اس کی
ضرب قلب پرلگانی… اور’’قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ‘‘ اور ’’قُلْ
اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ‘‘ صبح شام پڑھنا…(کمالاتِ عزیزی)
سعدی
فقیر عرض کرتا ہے کہ… لا حول ولا قوۃ الا باللہ پڑھنا
بھی کافی ہے اور اس کے ساتھ ’’العلی العظیم‘‘ ملا کر پڑھنا بہت اچھا
ہے… گناہوں سے نفرت اور دوری کے لئے، روزآنہ کم از کم پانچ سو بار پڑھنا
چاہئے، حضرت مفتی ولی حسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ پانچ سو کی تعداد تلقین فرماتے
تھے… اگراس تعداد کو توجہ اور اخلاص کے ساتھ پڑھا جائے، تو سخت سے سخت فاسق
دل بھی مسلمان ہو جاتاہے اور اس میں ایمان کی حلاوت آنا شروع ہو جاتی ہے…مگر یہ
تمام مقصد ایک دن میں حاصل نہیں ہوتا کم از کم چالیس دن اہتمام کے ساتھ پابندی
کرنی چاہئے… اسی طرح جوکسی مصیبت میں گرفتار ہو یا اُس کے دل پر ہموم اور
تفکرات کا بوجھ رہتا ہو تووہ روزآنہ ایک ہزار بار اسکا اہتمام کرے… کلمۂ
توحید سے مُراد ’’ لاالہ الا اللہ ‘‘ ہے ضرب لگانے کا طریقہ نہ آتا ہو
توویسے ہی توجہ سے اس کاورد کریں، حضرت مجدّد الف ثانیؒ بارہ سو بار روزآنہ کی
تلقین فرماتے تھے… یہاں تک کہ جب آپ جہانگیر کی قیدمیں تھے تب بھی وہاں سے
خطوط لکھ کر اپنی اولاد اور متعلقین کو اس کی تلقین فرمایا کرتے تھے… لا الہ
الا اللہ ہر عمل کی بنیاد ہے، اس کے بغیر تو کوئی عمل قبول
ہی نہیں ہوتا…
اہل
دل فرماتے ہیں کہ ہر نیک عمل کرنے کے بعد ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ کا ورد
کر لیا جائے تو اُس عمل کے قبول ہونے کی امید پکی ہو جاتی ہے… مثلاً نماز کے
بعد تین بار پڑھ لیں تو ان شاء اللہ نماز قبول… یہی معاملہ ہر عمل
کا ہے… مجاہدین کو خاص طور سے اس ’’ کلمہ طیبہ‘‘ کااہتمام کرنا چاہئے کیونکہ
اُن کی محنت اسی کلمے کی سربلندی کے لئے ہے
امرت
ان اقاتل الناس حتی یقولوا لا الہ الا اللہ (الحدیث)
’’لا
الہ الا اللہ ‘‘ کے ساتھ ہر بار یا ہر ننانوے کے بعد ایک
بار’’ محمد رسول اللہ ‘‘ بھی ملا لیا کریں… حضرت شاہ
صاحب رحمۃ اللہ علیہ نےآخری عمل قرآن مجید کی آخری دو
سورتوں کا بیان فرمایا کہ صبح شام سورہ الفلق اور الناس پڑھنی چاہئے… کم سے
کم مقدار تین بار ہے، درمیانی مقدار گیارہ بار ہے اور اعلیٰ مقدار ایک سو بار
ہے… ان دوسورتوں کے فضائل، مناقب، اثرات اور فوائد بہت زیادہ ہیں اور بیان سے
باہر ہیں… بس اتنا سوچ لیں کہ قرآن عظیم الشان کا اختتام ان دوسورتوں پر ہوا
ہے اور یہ اللہ رب العالمین کا کلام ہیں…
سوال: گناہوں
کی معافی اور خاتمہ بالخیر کے لئے کیا پڑھنا چاہئے؟
جواب: گناہوں
کی معافی کے لئے ’’استغفار‘‘نہایت مفید ہے اور خاتمہ بالخیر ہونے کے لئے کلمہ طیبہ
کا ذکر کرنا اور نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھنا نہایت مفید ہے۔
سوال: قبر
کے عذاب سے بچنے کے لئے کیا پڑھنا چاہئے؟
جواب: سورۃ
تبارک الذی، عشاء کی نماز کے بعد ہمیشہ سونے سے قبل پڑھنی چاہئے اورسورۃ آلم سجدہ
کی بھی عشاء کی نمازکے بعد تلاوت کرنی چاہئے۔
سوال: نفس
امّارہ اور شیطان لعین کے فریب سے بچنے کے لئے کیاپڑھنا چاہئے؟
جواب: ’’لا
حول ولا قوۃ الا باللہ ‘‘ زیادہ پڑھنا چاہئے اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ
اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ(دونوں سورتیں) صبح اور مغرب کی نماز کے بعد
گیارہ گیارہ مرتبہ ہمیشہ پڑھنی چاہئے۔
سوال: رمضان
کے علاوہ اور کس مہینہ میں روزہ رکھنا چاہئے؟
جواب: رمضان
کے علاوہ یہ روزے بہترین ہیں
* نویں
ذی الحجہ کا روزہ… اس کا بہت ثواب ہے اور اس سے دو برس کے گناہ معاف ہو جاتے
ہیں
* دسویں
محرم یعنی عاشورہ کے روزے کا بھی نہایت ثواب ہے، اور اس سے ایک برس کے گناہ معاف
ہو جاتے ہیں۔
* ہر
مہینے میں تین روزے رکھنا مسنون ہے بہتر ہے کہ یہ چاند کی تیرھویں، چودھویں،
پندرھویں تاریخ کو رکھے جائیں۔
* عشرہ
ذی الحجہ کے نو روزے، پیرکے دن کا روزہ، پندرہ شعبان کا روزہ اور شوال کے چھ روزے
بھی مستحب ہیں
سوال: کوئی
درود شریف اور استغفار ہمیشہ وظیفہ کرنے کے لئے ارشاد ہو
جواب: اگرہو
سکے تو ہر رات، ورنہ شب جمعہ ہمیشہ سو مرتبہ یہ درود شریف پڑھنا چاہئے
اَللّٰھُمَّ
صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدِنِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَاٰلِہٖ
وَبَارِکْ وَسَلِّم
اور
بہترین استغفار’’سید الاستغفار ‘‘ ہے سوتے وقت اُس کے مطلب اور معنیٰ کا لحاظ کر
کے پڑھنا چاہئے…(کمالات عزیزی)
ماشاء اللہ بہت
عمدہ نصیحتیں ہیں، اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطاء فرمائے
سوالات اور جوابات مزید بھی ہیں جو ’’کمالات عزیزی‘‘ میں مذکور ہیں، جو دیکھنا
چاہے وہاں ملاحظہ فرما لے… نیا اسلامی سال شروع ہو رہا ہے، آپ سب
کومبارک، اللہ تعالیٰ اسے اُمت مسلمہ کے لئے خیر وبرکت اور
فتوحات والا سال بنائے آمین یا ارحم الراحمین
اَللّٰھُمَّ
صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدِنِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَاٰلِہٖ
وَبَارِکْ وَسَلِّم تَسْلِیْمًا کَثَیْرًا کَثَیْرًا
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ کے ’’ انبیاء‘‘ کو تو دین کی خاطر بہت ستایا ہی گیا … مگر انبیاء
د کے علاوہ بھی جو کامیاب لوگ گزرے ہیں وہ بھی بہت سی آزمائشوں اور تکلیفوں میں
ڈالے گئے… ہم جب بھی حضرات صحابہ کرام کے واقعات پڑھتے ہیں، امت مسلمہ کے بڑے
فقہاء، محدثین ا ور ائمّہ کے حالات پڑھتے ہیں تو … آزمائشوں اور تکلیفوں
کی عجیب عجیب داستانیں سامنے آتی ہیں… مگر ان کامیاب لوگوں میں سے کوئی بھی
ایسا نہیں ہے جو کسی آزمائش میں پڑ کر اپنے راستے سے ہٹا ہو یا اُس نے اپنے برحق
مؤقف کو تبدیل کیا ہو… آج ساری دنیا کے مسلمان حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ
علیہ ، حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت امام شافعی
رحمۃ اللہ علیہ … اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ
کی تقلید کرتے ہیں اور آج تک اُن سے دین سیکھتے ہیں … آپ صرف ان
چارائمّہ کے حالات ہی پڑھ لیں تو حیران ہوں گے کہ یہ تمام جلیل القدر حضرات خود
مسلمانوں کے ہاتھوں ستائے گئے… ان حضرات کو ستانے والے تو تاریخ کا کُوڑا بن
گئے جبکہ ان حضرات کے صدقات جاریات کے چشمے آج بھی رواں دواں ہیں… حضرت امام
ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ … آپ کا نام ’’ نعمان‘‘ اور لقب ’’امام اعظم‘‘
ہے… ۸۰ھ
یا ۷۱ھ
کوفہ میں پیدا ہوئے… کوفہ وہ شہر ہے جس میں ایک ہزار پچاس صحابہ کرام نے
سکونت اختیار فرمائی… ان میں سے چوبیس ’’اصحاب بدر ‘‘تھے… حضرت امام
ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ تابعی ہیں آپ نے تقریباً چھبیس صحابہ کرام کی
زیارت کی… خاندان نبوت میں سے ’’ واقعہ کربلا‘‘ کے بعد کئی افراد نے حکومت کا
تختہ الٹنے کی کوشش کی خصوصاً محمد ذوالنفس الزکیہ رحمۃ اللہ علیہ نے
مدینہ منورہ میں اور اُن کے بھائی ابراہیم بن عبداللہ رحمۃ اللہ
علیہ نے کوفہ میں ’’ منصور‘‘ کے خلاف تحریک کھڑی کی… حضرت امام
ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے برملا اُن کی تائید کی، مشہور ہے کہ ’’
منصور‘‘ نے حضرت امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو ’’قاضی القضاۃ‘‘ بنانے کی پیشکش کی
مگر امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے انکار فرما دیا…اس کے نتیجے میں
منصورنے آپ کو۱۴۷ھ
میں قیدکرادیا… اورآپ کوکھانے میں زہردیا…جب اس زہر کا اثر حضرت امام
صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے محسوس کیا تو سجدہ کیا اور اسی حالت میں انتقال
فرمایا … یہ رجب ۱۵۰ھ
کا زمانہ تھا… آج دنیا میں ایک بھی ’’ منصوری‘‘ نہیں جبکہ …’’
احناف‘‘ کی تعداد الحمد للہ کروڑوں میں ہے… کچھ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ حضرت
امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک نعوذ باللہ حدیث کے خلاف ہے… وہ
لوگ کم علم اور نادان ہیں… حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے
علم، تقویٰ، امامت اور فقاہت کی گواہی تو امام المجاہدین حضرت عبداللہ بن
مبارک رحمۃ اللہ علیہ جیسے جلیل محدث بھی دیتے ہیں… بات آزمائش کی
چل رہی تھی… چھوٹی چھوٹی آزمائشوں پر دین بدلنے والے، راستہ چھوڑنے والے اور
جھک جانے والے لوگ کامیابی سے دور ہو جاتے ہیں… ہمیں چاہیے کہ امت مسلمہ کے
کامیاب افراد کے حالات پڑھتے رہا کریں اور اللہ تعالیٰ سے اُن جیسی استقامت مانگا
کریں… دوسرے بڑے امام حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ ہیں… آپ
کا نام مالک، والد کا نام انس اور کنیت ابوعبد اللہ ہے… آپ کا لقب امام
دارالہجرۃ ہے… امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش ۹۳ھ
مدینہ طیبہ میں ہوئی… آپ بلندپایہ محدث، فقیہ اور عاشق رسول صلی اللہ علیہ
وسلم ہیں… خاندانِ نبوت کے ایک بزرگ محمد ذوالنفس الزکیہ رحمۃ
اللہ علیہ نے جب مدینہ منورہ میں ’’ منصور‘‘ کی حکومت کے خلاف علم
بغاوت بلند کیا تو امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے اُن کا ساتھ دیا جس کے نتیجہ میں
والیٔ مدینہ جعفر بن سلیمان نے غضبناک ہو کر حضرت امام صاحب کی پشت پر ستّر کوڑے
لگوائے، ان کوڑوں نے آپ کی پیٹھ کو خون سے بھر دیا… اور دونوں ہاتھ مونڈھوں
سے اتر گئے، اس کے بعد آپ کو سوار کر کے پورے شہر میں گھومایا گیا… جی ہاں
رُسوا کرنے کے لئے … مگر امام دارالہجرۃ اُس وقت بھی ’’ کلمۂ حق‘‘ بلند
فرما رہے تھے… جعفر بن سلیمان دنیا سے چلا گیا … مگر امام
مالک رحمۃ اللہ علیہ سے آج بھی مسلمان فیض یاب ہوتے
ہیں … ہمارے غیر مقلد بھائی بہت زور لگاتے ہیں کہ اماموں کی تقلید نہ
کرو مگر آخر میں خود بھی تقلید پر مجبور ہوتے ہیں اور بہت بُری طرح ہوتے
ہیں… اللہ تعالیٰ نے اس امت کو ان چارائمّہ پر اتفاق اور اتحاد نصیب
فرمایا… اور ان ائمّہ کرام کی تحقیقات پر ساری امت مسلمہ نے اعتماد
کیا… مسلمانوں کو چاہیے کہ ان چاروں میں سے کسی ایک کے دامن سے وابستہ ہو کر
سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور جماعتِ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین
سے جُڑے رہیں… ان شاء اللہ بہت سے تفرقوں اور فتنوں سے بچے رہیں
گے… بات آزمائشوں کی چل رہی تھی… آج ماشاء اللہ امام
مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نام پر دنیا کے کئی ملکوں میں بڑے بڑے ادارے،
جامعات اور دارالتصنیف چل رہے ہیں… الجزائر اور افریقہ کے کئی ممالک میں امام
صاحب کی تقلید کی جاتی ہے… جبکہ خود یہ جلیل القدر امام پوری زندگی کرائے کے
مکان میں رہے… تیسرے بڑے امام حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ
علیہ ہیں… آپ کا نام ’’ محمد‘‘ والد کا نام ادریس اور کنیت
ابوعبداللہ ہے… آپ کا لقب ’’ ناصر السنّہ‘‘ ہے… آپ رجب ۱۵۰ھ
بمقام غَزّہ پید اہوئے اور رجب ۲۰۴ھ چوّن سال کی
عمر میں وفات پائی… اللہ تعالیٰ نے آپ کو عجیب صلاحیتوں سے نوازہ کہ اتنی
چھوٹی سی عمر میں علم فقہ اور حدیث کے مستند امام قرار پائے… آپ جوانی کے
زمانے نجران کے عامل بھی رہے مگر اپنے گورنر کو ظلم و ستم سے روکنے کی وجہ سے آپ
کو گرفتار کر لیا گیا… دراصل والیٔ یمن بہت سفاک و ظالم تھا، حضرت امام صاحب
اس کو ظلم و زیادتی اور بے انصافی سے روکتے تھے… اُس نے ناراض ہو کر ہارون
رشید کو خط لکھا کہ شافعی رحمۃ اللہ علیہ ’’ علوی سادات‘‘ کے ساتھ ہیں،
جس سے بڑا اندیشہ ہے… جب یہ خط ہارون رشید کو ملا تو وہ آپے سے باہر ہو گیا
اور والیٔ یمن کو خط لکھوا یا کہ شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور اُن کے تمام
ساتھیوں کو فوراً دارالخلافہ بھیج دو … حکم کی تعمیل ہوئی اور شافعی
رحمۃ اللہ علیہ گرفتار کر کے دربار خلافت بھیجے گئے … حضرت
امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے دربار میں جا کر اُن کو رہائی دلائی اور اُن کو اپنے
حلقۂ درس میں لے گئے جہاں دیکھتے ہی دیکھتے محمد بن ادریس رحمۃ اللہ
علیہ … امت مسلمہ کے بڑے امام ’’ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ ‘‘ بن
گئے … آج مصر، انڈونیشیا، ملائشیا، سری لنکا اور معلوم نہیں کن کن ملکوں
میں حضرت امام شافعی کے کروڑوں مقلدین ان کے لئے صدقہ جاریہ ہیں … امت
مسلمہ کے چوتھے بڑے امام حضرت امام احمد بن حنبلؒ ہیں… ربیع الاوّل ۱۶۴ھ
میں پیدا ہوئے اور ربیع الاوّل ۲۴۱ھ ستتر سال کی
عمر میں انتقال فرمایا… آپ علم، زُہد، توکّل اور استغناء میں منفرد شان رکھتے
تھے… ساری زندگی کسی بادشاہ اور خلیفہ کا عطیہ قبول نہ فرمایا… جب عباسی
خلفاء کے زمانے میں ’’ خلق قرآن‘‘ کا فتنہ سرکاری سرپرستی میں گرم ہوا تو حضرت
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اسکے مقابلے میں سینہ سپر ہو
گئے… حالانکہ اس سے پہلے آپ کے عباسی خلفاء سے اچھے تعلقات تھے، خلیفہ متوکل
آپ کا عقیدت مند اور قدر دان تھا اس کے حکم پر آپ نے چند دن اسلامی لشکر میں قیام
بھی فرمایا، اس عرصہ میں آپ شاہی مہمان تھے آپ کے لئے خلیفہ کی طرف سے روزآنہ پُر
تکلف کھانا آتا تھا جس کی قیمت کا اندازہ ایک سو بیس درہم روزانہ تھا… مگر
امام صاحب نے کبھی اس کھانے کو چکھا تک نہیں، آپ مسلسل روزے رکھتے رہے… مگر
جب عباسی خلفاء نے فتنہ خلق قرآن کی باقاعدہ سرپرستی شروع کی تو امام صاحب رحمۃ
اللہ علیہ نے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا… نتیجہ ظاہر ہے حکمران آپ کے دشمن ہو
گئے… آپ کو اٹھائیس ہفتے تک قید رکھا گیا، اس دوران آپ کو کئی بار کوڑوں سے
مارا گیا… امام بخاری سفرماتے ہیں کہ میں نے سنا کہ امام احمدس کو ایسے کوڑے
لگائے گئے کہ اگر ایک کوڑا ہاتھی کو لگتا تو چیخ مار کر بھاگتا… امام
صاحب رحمۃ اللہ علیہ کوڑوں سے لہولہان ہو جاتے مگر اپنے موقف پر ڈٹے
رہتے اور فرماتے’’ اعطونی شیئًا من کتاب اللہ وسنۃ رسولہ حتیٰ اقول
بہ‘‘… یعنی میرے سامنے کتاب اللہ یا سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے
کوئی دلیل پیش کرو تاکہ میں اس کو مان لوں … ماشاء اللہ کیا عظیم
استقامت ہے… بڑھاپے کی حالت میں اتنا تشدد… بالآخر ظلم کرنے والے ہار
گئے اور فتنہ خلق قرآن ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنی موت آپ مر گیا… دین کی خدمت
کرنی ہو اور آخرت کی کامیابی حاصل کرنی ہو تو آزمائشیں اور تکلیفیں
سہنی پڑتی ہیں… اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے…
الٓمّٓ
(۱)اَحَسِبَ
النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَھُمْ لَا
یُفْتَنُوْنَ(۲)وَلَقَدْ
فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ
صَدَقُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْکٰذِبِیْنَ(۳)
ترجمہ: کیا
لوگ خیال کرتے ہیں، یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لائے ہیں چھوڑ دیئے جائیں گے اور انکی
آزمائش نہیں کی جائے گی، اور جو لوگ ان سے پہلے گزر چکے ہیں ہم نے انہیں بھی
آزمایا تھا، پس اللہ تعالیٰ انہیں ضرور معلوم کرے گا جو سچے ہیں اور اُن کو بھی جو
جھوٹے ہیں‘‘…(سورۂ عنکبوت)
’’
یعنی زبان سے ایمان کا دعویٰ کرنا کچھ سہل ( یعنی آسان) نہیں جو دعویٰ کرے( وہ)
امتحان وابتلا کے لئے تیار ہو جائے، یہ ہی کسوٹی ہے جس پر کھرا کھوٹا کسا جاتا ہے،
حدیث میں ہے کہ سب سے سخت امتحان انبیاء کا ہے، اُن کے بعد صالحین کا ، پھر درجہ
بدرجہ اُن لوگوں کا جو اُن کے ساتھ مشابہت رکھتے ہوں، نیز امتحان آدمی کا اُس کی
دینی حیثیت کے موافق ہوتا ہے، جس قدر کوئی شخص دین میں مضبوط اور سخت ہو گا اُسی
قدر امتحان میں سختی کی جائے گی‘‘( تفسیر عثمانی)
ان
تمام باتوں کو پڑھ کر آپ ڈرنہ جائیں کہ … پھر تو سچا مسلمان بننا
کافی تکلیف دہ کام ہو گا… ایسا نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کسی پر
اس کی ہمت اور طاقت سے بڑی آزمائش نہیں ڈالتے… اور جن لوگوں کو اللہ پاک اپنے
دین کی سربلندی کے لئے منتخب فرماتے ہیں، ان کے لئے تکلیفوں کو برداشت کرنا بھی
آسان فرما دیتے ہیں… بات یہ سمجھانا مقصود ہے کہ سچے دین اور دین کے سچے کام
میں آزمائشیں اور تکلیفیں آتی ہیں… آج وبا چل پڑی ہے کہ دین کا کام تو کیا
جائے مگر امن خطرے میں نہ پڑے… اور کچھ لوگ اپنے ظاہری امن کو بہت بڑی چیز
سمجھ کر اُن اہل عزیمت پر تنقید کرتے ہیں جو آزمائشوں سے گزر چکے ہیں کچھ دن پہلے
ایک صاحب کہہ رہے تھے کہ سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ نے کیا
کیا… رائے بریلی سے اُٹھے اور بالاکوٹ میں آ کر شہید ہو گئے اور کام
ختم… اس لئے جہاد نہیں کرنا چاہیے بلکہ پر امن کام ڈھونڈنے چاہئیں… عجیب
ظالمانہ جَہالت ہے، سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کا کام تو ماشاء اللہ
آج بھی جاری ہے جبکہ اُن کی شہادت کو دو سو سال ہو رہے ہیں… کوئی مخصوص نام
تو ضروری نہیں ہے… انڈیا والوں نے کئی ناموں پر پابندی لگا دی… اب
امریکہ کو شوق چڑھا ہے کہ ہر آئے دن کسی مسلمان تنظیم یا مسلمان رہنما پر پابندی
لگا دیتا ہے… ان دنوں الرحمت ٹرسٹ اور اُس کے کئی خدّام پابندی کی زد میں
ہیں… ان سب کو مبارک کہ ماشاء اللہ آپ اس زمانے میں ظالموں، قاتلوں اور
کافروں کو کھٹک رہے ہیں… ’’ لیغیظ بہم الکفار‘‘ کہ کافر اُن سے غیظ کھاتے ہیں
یہ حضرات صحابہ کرام کی صفت ہے… اب جو بھی حضرات صحابہ کرام کے راستے کو
اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے یہ کیفیت نصیب فرماتے ہیں… ان پابندیوں سے نہ
کوئی خوف ہے اور نہ … الحمدللہ کوئی ڈر… نہ ان شاء اللہ ان کے خلاف کوئی اپیل کی جائے گی
اور نہ اُن کو ہٹانے کے لئے کوئی بھیک مانگی جائے گی… زمین تنگ ہوتی ہے تو ہو
جائے، ایک دن تو ان شاء اللہ اُس کا سینہ
کھل ہی جائے گا… مجاہدین تو ماشاء اللہ اہل عزیمت ہیں، اپنے جسموں کے ٹکڑے
کرانے کی خواہش دل میں لئے پھرتے ہیں… مجاہدین کی قیادت کو بھی عام مجاہدین
سے بڑھ کر باہمت ہونا چاہیے… یہ بالکل اچھا نہیں لگتا
کہ … ٹی وی اور میڈیا پر آ کر صفائی دی جائے کہ ہمارا جہاد سے
کوئی تعلق نہیں اور ہماری درخواست ہے کہ ہم سے پابندی ہٹا لی
جائے … زندگی کے چار سانس ہیں … ممکن ہے جھکنے اور دبنے سے
پابندی توہٹ جائے … مگر پابندی ہٹتے ہی موت آ جائے…
پاک
ہے وہ اللہ جس کے قبضے میں ہر چیز کی حکومت ہے اور ہم سب نے اُسی کی طرف لوٹ کر
جانا ہے …
وصلی اللہ تعالیٰ
علیٰ خیر خلقہ سید نا محمد وآلہ وصحبہ و بارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
کادین یقیناً غالب آئے گا… جی ہاں کسی کو شک کرنے کی ضرورت نہیں، دین اسلام
ماضی میں بھی غالب آیا اورآئندہ بھی غالب ہو گا… اورآج بھی جو مسلمان اس
دین پر پورا عمل کر رہے ہیں وہ عزت اور شان کی زندگی گزار رہے ہیں… دین کے
راستے میںآنے والی آزمائشیں اور تکلیفیں، ناکامی نہیں، کامیابی کی ضمانت ہوتی
ہیں… اچھا اپنی بات کوتھوڑا ساروک کرپہلے ایک واقعہ پڑھتے ہیں…
مکّہ
مکرمہ میں دین کی دعوت چل رہی تھی… خاموشی کے ساتھ، چپکے چپکے،اندرہی
اندر… مشرکین مکّہ اس دعوت اور محنت کے خلاف پوری طرح بیدارتھے،جسکے بارے میں
پتا چلتاہے کہ مسلمان ہوا ہے تو اُسے بہت ستاتے… مسلمان چھپ چھپ کر عبادت
کرتے تھے… خوش نصیب روحیں جمع ہو رہی تھیں، مسلمانوں کی تعداد اڑتیس تک پہنچ
چکی تھی… جی ہاںپوری دنیا میں کُل اڑتیس مسلمان… اتنی کم تعداد مگر جوش
اور حوصلہ دیکھیں کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کاایک
ہی اصرار ہے کہ … یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم اب ہمیں کُھل کر کام کرنا چاہئے… دو کم چالیس افراد کی جماعت
اور کُھل کر کام… اللہ اکبر کبیرا… بے شک انسان کے دل
سے دنیا کی خواہشات ختم ہو جائیں تو وہ بہت بہادر اور طاقتور بن جاتا
ہے… یقین نہ آئے تو تجربہ کر کے دیکھ لیں، ابھی سچے دل سے شہید ہونے کا عزم
کریں اور شہادت کا راستہ پکڑیں… پھر نہ مایوسی قریب آئے گی اور نہ کم
ہمتی… نہ کوئی غم ستائے گااور نہ کوئی پریشانی … پلاٹوںپر قبضے کے
لئے عدالتوں کے چکر لگانے والے یہ بات نہیں سمجھ سکتے… محبوبہ کو راضی کرنے
اور پھنسانے کے لئے لمبے لمبے وظیفے کرنے والوں کو اس کی سمجھ نہیں
آسکتی… لوگوں سے عزت حاصل کرنے کے لئے طرح طرح کی انگوٹھیاں، تعویذات اور
عملیات باندھنے والے بے چاروں کو کیا پتا؟… مالدار ہونے کے لئے چلّے کاٹنے
اور ویزوں، اقاموں کے پیچھے دوڑنے والوں کو کیا خبر؟… دنیا کی ہر خواہش انسان
کو کمزورکرتی ہے، پریشان کرتی ہے، اورکم ہمت بناتی ہے… وجہ یہ ہے کہ یہ دنیا
فانی ہے… آپ اپنے پسند کی بلڈنگ بنالیں مگر رہنا قبر میں ہی پڑے
گا…یا اللہ ہم سب کو سمجھ نصیب فرما… حضرت صدیق اکبر
رضی اللہ عنہ کا اصرار تھاکہ اب ہماری تعداد
ماشاء اللہ کافی ہو چکی ہے ہمیں کھلم کھلا دعوت دینی چاہئے
اورکعبہ شریف میں سب کے سامنے عبادت کرنی چاہئے… بارگاہ رسالت سے جواب
ارشادہوتا تھا:
یا
ابا بکر انا قلیلٌ
اے
ابو بکر! ابھی ہم تھوڑے ہیں
مگر
قرآنِ پاک نازل ہو رہا تھا… قرآن پاک اپنے ماننے اور سمجھنے والوں کو بہت
بہادر بنا دیتا ہے… اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کی مبارت صُحبت تھی… مکہ والے صحابہ کرام بھی کتنے خوش نصیب
اور اونچی قسمت والے تھے کہ انہیں حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کی صُحبت مبارکہ زیادہ نصیب ہوتی تھی… حضرت ابوبکر رضی اللہ
عنہ کا جذبہ اور عزم اپنی آخری حدوں کو چُھو رہا تھا… بالآخر کھلم کھلا دعوت
کی اجازت مل گئی…
اللہ اکبر
کبیرا!کیسا عجیب منظر ہو گا… ساری دنیا کفر سے سیاہ تھی اور یہ چند روشن
روحیں کعبہ شریف میں جمع ہورہی تھیں… آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم اور آپ کے اڑتیس جانثار صحابہ کعبہ شریف میں تشریف لے
آئے… مشرکین کا ہجوم تھا، حضرات صحابہ کرام بکھر بکھر کر بیٹھ
گئے… لیجئے امتِ مسلمہ کی طرف سے اسلام کا پہلا علانیہ خطبہ شروع ہو رہا
ہے… حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر تمام لوگوں
کو اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کی طرف دعوت دی… توحید اور رسالت کی دعوت… جی
ہاں سچے اسلام کی دعوت… مشرکین نے فوراً حضرت صدیق اکبر رضی اللہ
عنہ پر حملہ کر دیا… خود اُن کو اور باقی تمام مسلمانوںکو بہت
تشدّد کا نشانہ بنایا… اللہ اکبر کبیرا… کامیاب لوگ
ناکام لوگوںکے ہاتھوں سے مارے پیٹے جارہے ہیں… کوئی ہے جو اس منظر سے کامیابی
اور ناکامی کا مفہوم سمجھ سکے؟… مسجد حرام، کعبہ شریف کا پڑوس اور مسلمانوں
کی آہیں اور درد بھری سسکیاں… اُس دن مسلمانوں کو بہت سخت
ماراگیا… خصوصاً صدیق اکبر رضی اللہ عنہ … اُن پر تو مشرکین ایسے
ٹوٹے کہ اُن کو گویا کہ روند ڈالا… عتبہ بن ربیعہ نے اپنے جوتوںکے ساتھ اور
جوتے جوڑ کر اُن کوبھاری اور وزنی کر دیا اور پھر یہ جوتے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ
عنہ کے مبارک چہرے پر تابڑ توڑ برسنے لگے… وہ مشرک آپ رضی اللہ
عنہ کے پیٹ پر چڑھ کر اُچھل کود رہا تھا اور چہرے پر جوتے برسارہاتھا… صدیق
اکبرؓ کا چہرہ مبارک سوج گیا…
حتی
ما یُعرف وجہہ من انفہ
چہرہ
اتنا سوج گیا کہ ناک اور چہرہ ایک برابر ہوگئے…
رضی اللہ عنہ،
رضی اللہ عنہ،رضی اللہ عنہ…
اے
صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ! آپ کی عظمت،قربانی اور ایمان کو سلام… بے شک آپ
کے ہم سب مسلمانوں پر بہت احسانات ہیں… سیدنا ابو بکر صدیق رضی
اللہ عنہ کی قوم ’’بنو تیم‘‘ والے دوڑ کر آئے انہوں نے مشرکین کو ہٹایا اور صدیق
اکبر رضی اللہ عنہ کو چادر میں ڈال کر اُن کے گھر لے گئے… سب کو
یقین تھا کہ یہ بس چند سانسوں کے مہمان ہیں… قبیلے والے اور والد محترم اس
کوشش میں تھے کہ کسی طرح تھوڑا سا ہوش آجائے، بالآخر ہوش آگیا اور صدیق کی زبان
سے پہلا جملہ نکلا:
’’مافعل
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟
یہ
جملہ سن کر قوم والے بُرا بھلا کہنے لگے اور وہاں سے اٹھ گئے… اور اُن کی
والدہ سے کہہ گئے کہ ہم تو جاتے ہیں آپ ان کو کچھ کھلانے پلانے کی کوشش
کریں… لوگ چلے گئے… محبت کرنے والی ماں بیٹے پر جُھک پڑی کہ بیٹا کچھ تو
کھالو… چند گھونٹ تو پی لو… جواب میں بس ایک ہی جملہ کہ:
’’رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟‘‘
ماں
نے کہا بیٹا! مجھے اُن کا کچھ علم نہیں… فرمایاامی جی آپ اُم جمیل بنت خطاب
ز کے پاس جاؤ اور اُن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کا حال پوچھ لاؤ… غمزدہ ماں جلدی سے اُم جمیل ز کی طرف
نکلی،جا کر کہا ابو بکر پوچھتے ہیں کہ محمد بن عبد اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا
کیا حال ہے؟ خوف کا زمانہ تھا، احتیاط کا حُکم تھا،انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا
اور کہا اگر تم کہو تو میں تمہارے ساتھ تمہارے بیٹے کے پاس چلتی ہوں… مسلمان
بہن نے آکر دیکھا کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تو زخموں سے
روندے پڑے ہیں… خطّاب کی بیٹی ، مستقبل کے فاروق اعظم کی بہن، اُم
جمیل … جی ہاں فاطمہ بنت خطاب… جوچند دنوںبعد اپنے بھائی عمر بن
خطاب کے اسلام لانے کا ذریعہ بنیں… کیسی باہمت! مگر اپنے مسلمان بھائی کو
زخموں سے چُور دیکھ کر تڑپ اٹھیں اور بلند آواز سے مشرکین کو بددعائیں دینے
لگیں… صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے پوچھا:
’’فما
فعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘
یعنی
میری فکرچھوڑیں یہ بتائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کا کیا حال ہے؟ انہوں نے اشارے سے عرض کیا کہ آپ کی والدہ سُن
رہی ہے… ارشاد فرمایا! اِن سے کوئی خطرہ نہیں… اُم جمیل رضی اللہ
عنہ نے خوشخبری سنائی:
سالم،صالح
کہ
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم خیریت اورسلامتی کے ساتھ ہیں…
پوچھا!
کہاں تشریف رکھتے ہیں؟ عرض ہوا ’’دارالارقم ‘‘ میں… فرمایا میں
نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا ہے کہ جب تک
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں
حاضرنہیں ہوں گا ، نہ کچھ کھاؤں گا اور نہ پئوں گا… دونوں خواتین نے عرض کیا
کچھ انتظار کیجئے… اس وقت لوگ دیکھتے ہیں… جب لوگ گھروں میں دبک گئے تو
زخمی صدیق اپنی والدہ کے سہارے گھسٹتے ہوئے آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئے… حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے
اس حالت میں دیکھا تو آپ کو لپٹا لیا اور بوسے نچھاور فرمائے، باقی مسلمان بھی
محبت کے ساتھ آپ پر ٹوٹ پڑے… اللہ اکبر کبیرا… کَل
مشرک ظلم اور نفرت کے ساتھ ٹوٹ پڑے تھے… اور آج مسلمان محبت کے ساتھ نچھاور
ہورہے تھے… صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جب آقامدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کو اپنے اوپر روتے دیکھا تو عرض کیا… میرے ماں باپ آپ صلی
اللہ علیہ وسلم پر قربان یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !
مجھے کوئی تکلیف نہیں بس اُس فاسق(عتبہ بن ربیعہ) نے میرے چہرے کو تھوڑا سا زخمی
کیا ہے… یہ میری امی جان ہیں انہوں نے میرے ساتھ بہت بھلائی کی ہے… آپ
تو یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت برکت
والے ہیں… آپ ان کو اسلام کی دعوت دیجئے
اور اللہ تعالیٰ سے اِن کے لئے دعاء فرمائیے کہ وہ انہیں
آپ کی برکت سے جہنم کی آگ سے بچالے… رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعاء مانگی… اور
اپنے صدیق رضی اللہ عنہ کی والدہ کو دعوت دی تو وہ فوراً مسلمان ہو
گئیں… رضی اللہ تعالیٰ عنہا…
اس
واقعہ میں ہم سب مسلمانوں کے لئے بہت سے ’’اسباق‘‘ ہیں… مگر آج یہ مبارک
’’واقعہ‘‘ اُن اللہ والے دیوانوں کے لئے ہے جو دو چار دن
بعد اپنے ’’مرکز‘‘میں جمع ہوکر’’تجدید عہد‘‘ کریں گے… یہ کون لوگ ہیں؟…
* اس
زمانے میں پورے دین کی دعوت دینے والے… ماشاء اللہ
* جہاد
اور نماز کے احیاء کی اذان دینے والے… ما شاء اللہ
* سترہ
سو شہداء کرام کے ہم پیالہ ساتھی… ماشاء اللہ
* مسجدوں
اور جیلوں کوآباد کرنے والے دیوانے… ما شاء اللہ
* مسلمانوںکی
خدمت کرنے والے فقراء… ماشاء اللہ
* کافروں
سے جہاد کرنے والے مجاہدین… ماشاء اللہ
* غزوہ
بدر سے سبق اور مثال لینے والے اہل عزیمت… ماشاء اللہ
* غزوہ
اُحد کے زخموں میں بلندی ڈھونڈنے والے اہل ایمان… ماشاء اللہ
* حضرات
صحابہ کرام اور خلفائے راشدین کے نقش پا پر سرپٹ دوڑنے
والے… ماشاء اللہ
* حضرت
عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کی فکر
کے امین… ماشاء اللہ
* خلافت
کے قیام کے لئے اپنے لہو سے جدوجہد کرنے والے… ما شاء اللہ
* نور
الدین زنگی رحمۃ اللہ علیہ اور صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ
علیہ کی طرز اپنانے والے… ماشاء اللہ
* حضرت
سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ سے جہاد اور روحانیت سیکھنے
والے… ماشاء اللہ
* مسکینوں،
یتیموں اور اسیروں کی خدمت کرنے والے… ماشاء اللہ
یہ
ایک چھوٹا سا قافلہ ہے… ماضی کے قافلوں کی مبارک زنجیر کی ایک چھوٹی سی
کڑی… عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں جینے مرنے والا
قافلہ… اب تک اللہ تعالیٰ نے اس قافلے کی بہت نصرت
فرمائی… شاید ہی اسلام کا کوئی دشمن ایساہو جو انہیں اپنا دشمن نہ سمجھتا
ہو… الحمدللہ کفرکے ہر ایوان میں ان
کا نام دہشت کی علامت ہے…
ترھبون
بہ عدو اللہ وعدوکم…
جو
کچھ ہوا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے فضل اور نصرت سے
ہوا… آئندہ جو کچھ ہو گا اللہ تعالیٰ ہی کے فضل
اورنصرت سے ہوگا… اپنے دلوں پر دنیاکا زنگ نہ لگ جائے… شہادت کا راستہ
بھول کر دنیا پرستی کی دلدل میں نہ پھنس جائیں… اپنے گناہوں کی وجہ سے مبارک
قافلے سے محروم نہ ہو جائیں… بس انہیں باتوںکی فکر لے کر ان شاء
اللہ دیوانے جمع ہوں گے… خوب تلاوت ہوگی، پُرنوربیانات ہوں گے،
پر سوز دعائیں ہوں گی… ایمان افروز نظمیں اور نعرے ہوں گے…
ارے
خوش نصیب جوانو… تم سب کو ایسی جوانی اور ایسی جماعت مبارک ہو…
بس
ایک گزارش ہے … جب تمہارا دل تمہاری آنکھوں کو اشارہ کر دے… اور
تمہاری آنکھیں آنسوؤں کو ٹپکنے کی اجازت دے دیں… اورتمہاری دعائیں عرش کار
استہ دیکھ لیں تو اس وقت اپنے اس فقیر بھائی کو بھی یاد کر لینا… ہاں کچھ
مقبول دعائیں سعدی فقیر کو بھی دے دینا… وہ بھی تو اپنا’’کشکول‘‘اپنے رب کے
سامنے تمہارے لئے پھیلائے بیٹھا ہے… اور دعاء کر رہا ہے
کہ… یا اللہ ! اس اجتماع میں شرکت کرنے والے تمام افراد کی مغفرت
فرما… ان سب کوجہنم اور نفاق سے برأت نصیب فرما… ان سب کوایمان کامل،
جنت الفردوس… اوردنیا وآخرت کی حسنات عطاء فرما…
آمین
یا ارحم الراحمین…
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد وعلیٰ الہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ’’حق‘‘
ہے اُس کا ہر کام’’برحق‘‘ ہے… اللہ تعالیٰ ظلم سے پاک ہے وہ
اپنے بندوں پر ظلم نہیں فرماتا… آج کل سردی خوب برس رہی ہے… امریکہ
اوریورپ میں تو برف ہی برف ہے… اور انڈیا’’دُھند‘‘ میں ڈوبا ہواہے… ہزاروں
ٹن نمک سڑکوں پر ڈال کر امریکہ اور یورپ میں زندگی رواں رکھنے کی کوشش جاری
ہے… لوگ ائیر پورٹوں پر پھنسے پڑے ہیں… برف ایسی برسی ہے کہ عاشق، عشق
کو اور ظالم ظلم کو بھول کر تھراتھر کانپ رہے
ہیں… اللہ تعالیٰ’’سُبحان‘‘ ہے… ہم سب بھی دل کی
گہرائی سے پڑھ لیں…
سبحان اللہ وبحمدہ
سبحان اللہ العظیم
جس
مؤمن کی زبان اور دل پر’’سبحان اللہ ‘‘ جاری رہے، وہ روحانی خزانوں کا
مالک بن جاتا ہے… جی ہاں ’’سبحان اللہ ‘‘ آسمان و زمین کی چابیوں
میں سے ایک چابی ہے … اور یہ کلمہ اللہ تعالیٰ کو
بہت محبوب ہے… سبحان اللہ ، سبحان اللہ ،
سبحان اللہ و بحمدہ … شام ہو تو
، سبحان اللہ ، اور صبح ہو تو
سبحان اللہ …سبحان اللہ حین تمسون و حین
تصبحون… ماشاء اللہ بہاولپورمیں’’جامع مسجد
سبحان اللہ ‘‘ کا افتتاح ہو چکا
ہے …سبحان اللہ وبحمدہ
سبحان اللہ العظیم… جی ہاں اس مسجد کا نام ہے ’’جامع
مسجد سبحان اللہ ‘‘… میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا… دوکلمے ایسے ہیں جو زبان پر بہت ہلکے ہیں، اور ترازویعنی اعمال تولنے
والے ترازو میں بہت وزنی اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت
محبوب ہیں…
سبحان اللہ وبحمدہ
سبحان اللہ العظیم
روزآنہ
ایک سو بار سبحان اللہ وبحمدہ پڑھیں تو ایک ہزار نیکیاں
ملتی ہیں… اور سمندر کی جھاگ کے برابر گناہ بھی معاف ہو جاتے
ہیں… سبحان اللہ ، سبحان اللہ ،
سبحان اللہ وبحمدہ… سچ بتائیں
کہ’’سبحان اللہ ‘‘ پڑھتے وقت منہ کتنا میٹھا ہو جاتا ہے… کیا شہد
اور کیا گلاب جامن… سبحان اللہ کی مٹھاس بہت زیادہ اور
بہت لطیف ہے… ایک حدیث میں آیا ہے کہ سبحان اللہ ، الحمدللہ ،لا الہ الا اللہ
، اللہ اکبر سے گناہ ایسے جھڑتے ہیں جیسے(سردی میں) درخت سے
پتّے جھڑتے ہیں… آج کل تو ویسے ہی سخت سردی کا موسم ہے… برفانی طوفان
پچاس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے نیویارک کی طرف بڑھ رہا ہے… مشرقی امریکہ پورا
آئس کریم بنا ہو اہے… نہ جہاز اڑ رہے ہیں اورنہ گاڑیاں چل رہی ہیں… جس
کو چلنا ہو پھسل پھسل کر اور دھنس دھنس کر چلتا ہے… کوئی لاکھ سپرپاور ہونے
کا دعویٰ کر لے اللہ تعالیٰ کے سامنے تو سب مجبور اور بے بس
ہیں… اللہ تعالیٰ کی ایک ادنیٰ سی مخلوق تھوڑی سی کروٹ لیتی
ہے تو دنیا بھر کی ٹیکنالوجی فیل ہو جاتی ہے… اللہ تعالیٰ
تو سبحان ہے سبحان… ہر کمزوری،بے بسی اور عیب سے پاک…
سبحان اللہ وبحمدہ
سبحان اللہ العظیم
مشہور
صحابی سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک
مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ میں آپ کو
بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ کلام کونسا
ہے؟ میں نے عرض کیاضرور ارشاد
فرمائیں… فرمایا! اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب
کلام ’’سبحان اللہ وبحمدہ‘‘ ہے…
سبحان اللہ
، سبحان اللہ ، سبحان اللہ وبحمدہ…
القلم
پڑھنے والے بھائیو! اوربہنو! میں سبحان اللہ بار بار اس لئے
لکھ رہا ہوں تاکہ میں بھی پڑھتا رہوں اور آپ بھی پڑھتے
رہیں… سبحان اللہ وبحمدہ،
سبحان اللہ العظیم… یوںہمارے لئے بلاشبہ جنت میں درخت
لگتے جائیں گے… سبحان اللہ … اور ہمارا یہ وقت بہت
قیمتی ہو جائے گا… سبحان اللہ … بعض اوقات شیطان جب
زیادہ پریشان کرے تو فوراً سبحان اللہ وبحمدہ
سبحان اللہ العظیم… پڑھنے لگ جایا کریں… اور اُس
ملعون کو کہا کریں کہ دیکھ ظالم… میرا مالک کتنا رحیم اور مہربان ہے
کہ … اس وقت بھی اُس نے مجھے اپنے محبوب اور پسندیدہ ترین کلام کی توفیق
عطاء فرمائی ہے… پھر مجھے مایوس ہونے کی کیا ضرورت ہے…
سبحان اللہ وبحمدہ
سبحان اللہ العظیم
سُنا
ہے کہ جب’’جامع مسجد سبحان اللہ ‘‘ کی مہم کا اعلان ہو رہا تھا تو
ماشاء اللہ خوب نعرے گونجے اور جذبات کی بجلی نے سب کا خون
گرم اور تیز کر دیا…
سبحان اللہ وبحمدہ
سبحان اللہ العظیم
آٹھ
ہزار مصلوں والی مسجد… سبحان اللہ … ہر مصلے کی قیمت چھ
ہزار دو سو پچاس روپے… سبحان اللہ … اتنی سی رقم لگا کر
قیامت تک کے لئے مسجد کے ایک نمازی کا صدقہ جاریہ…
سبحان اللہ وبحمدہ
سبحان اللہ العظیم
کچھ
خوش نصیبوں نے نقد خریداری کر لی … اور اکثر وعدے کر گئے
ہیں… اللہ تعالیٰ سُبحان ہے سُبحان… وہ ہر کمی
اورکمزوری سے پاک ہے… ایسا سُبحان کہ لمحوں میں اپنے بندے اورمحبوب حضرت محمد
صلی اللہ علیہ وسلم کو زمین سے ملأ اعلیٰ… اور عرش تک لے گیا…
سبحان
الذی اسری بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد الاقصیٰ…
اب
جو’’سبحان‘‘ سے مدد مانگے گا… سبحان اللہ ،
سبحان اللہ پڑھ پڑھ کر… اُس کے لئے رزق کے اور توفیق
کے دروازے کھل جائیں گے… اورجتنے مصلوں کا وعدہ کیا ہے وہ دینا آسان ہو
جائیں گے… آپ کو تو پتا ہے کہ دل میں نیکی کا پہلا
ارادہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتاہے… اورپھر اُس ارادے
کو توڑنے کے لئے ’’شیطان‘‘ طرح طرح کے مشورے دینے لگتا ہے… مثلاً مسجد کا سنا
تو دل میں خیال آیا کہ ایک لاکھ دے دوں … میرے لئے قیمتی بن جائیں گے اور
آخرت میں کام آئیں گے… پھر فوراً دے دیئے تو ٹھیک اور اگر دیر کر دی تو
شیطان کہے گا فی الحال پچاس ہزار لگا دو… ظالم ایسے ایسے دلائل جوڑ کر مشورے
دیتا ہے جیسے سپریم کورٹ بارکونسل کا
’’صدر‘‘ہو… اللہ سبحانہ و تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو نفس
امّارہ… اورشیطان ملعون کے شر سے بچائے… شیطان ہمارا بڑا خطرناک دشمن
ہے… یہ تو بہت سے لوگوں کو’’سبحان اللہ ‘‘ بھی نہیں پڑھنے
دیتا… کئی لوگ تو گانے گنگناتے رہتے ہیں… توبہ توبہ،کتنی فضول حرکت
ہے… مردہو کر، مسلمان ہو کر ’’لتّا‘‘ جیسی گندگی کے ڈرم کے گانے گنگناتے
ہیں… اگرمیرے بس میں ہوتاتو میں اپنے سر کی ٹوپی اوررومال مسلمانوں کے قدموں
میں ڈال کر اُن کی منّت سماجت کرتا کہ… اللہ کے لئے ’’انڈین
فلمیں‘‘ نہ دیکھاکرو… فلمیں تو کوئی بھی نہ دیکھو مگر انڈین فلمیں تو انسان
کو مسلمان نہیں رہنے دیتیں… شایدہی کوئی فلم ہو جس میں یہ بھگوان کی اور اوپر
والے کی، توہین نہ کرتے ہوں… یہ ٹھیک ہے کہ اُن کے ہاں بھگوان اور اوپر والا
ایک نہیں کروڑوں ہیں… مگرفلم دیکھنے والے کے ذہن میں تو ’’خدا تعالیٰ‘‘ کا
تصور ہوتاہے… اور یہ ناپاک ، نجس، مشرک، ہر چیز میں بھگوان اور اوپر والے کو
لاکر ایسی گستاخی بکتے ہیں کہ… دیکھنے، سننے والے کا ایمان بھی غارت کر دیتے
ہیں… قرآن پاک نے اسی لئے’’مشرک‘‘ کو نجس کہا ہے کہ اس کے نزدیک، بھگوان ،
معبود یا خدا… بس حاجتیں پوری کرنے کا ایک ذریعہ ہوتا ہے… جب چاہا مان
لیا اور جب چاہا چھوڑ دیا… اور جب چاہا گستاخی بک دی… اللہ ،
اللہ ، اللہ … اللہ تعالیٰ توعظیم ہیں… جبرئیلؑ
و میکائیلؑ اللہ تعالیٰ کے خوف سے تھر تھر کانپتے
ہیں… اللہ تعالیٰ مالک الملک ہے… اُس کے بارے میں
ادنیٰ گستاخی کا دل یا زبان پر آنا… انسان کے لئے بدترین ہلاکت
ہے… مسلمانو! موت قریب ہے… انڈیا اور انڈین فلمیں ایمان کے دشمن
ہیں… اللہ کے لئے اپنی حفاظت کرو، اپنے ایمان کی حفاظت
کرو… انڈین فلموں میں جو چند نام کے’’خان، مسلمان‘‘ گھسے ہوئے ہیں وہ تو
ہندوؤں سے بڑے ہندو ہیں… بددین، بدکردار، بد شکل اور بدکار… ہندوؤں سے
اپنی بہنوں، بیٹیوں کی شادی کرتے ہیں… مندروں میں جا کر پوجا کرتے
ہیں… کیا صرف کوئی عید کی سویاں اور شیرخرما کھانے سے مسلمان ہو جاتا
ہے؟… اچھی بات یہ ہے کہ ٹی وی، سینمااور فلموں سے دور رہیں… ان فنکاروں
میراثیوں کا کچھ پتا نہیں کہ کس وقت کیا بک دیں اور سننے والا بھی اپنے ایمان کو
تباہ کر بیٹھے… آپ کو لذت اور مزے کی ضرورت ہے توپھر دل کھول کر اور آنکھیں
بند کر کے پڑھیں…
سبحان اللہ وبحمد
ہ سبحان اللہ العظیم…
اورجہاد
کی نیت سے ورزش کریں… کمیت یا ابلق گھوڑے پر بیٹھیں… بہترین اسلحہ سے
کھیلیں… اور اپنی’’بیگم‘‘ سے تعلقات خوشگوار رکھنے کی محنت کریں…
سبحان اللہ وبحمد
ہ سبحان اللہ العظیم…
بات
یہ ہے کہ ہم خود… سبحان اللہ کو پڑھنے اور حاصل کرنے
کے محتاج ہیں… اللہ تعالیٰ کو ہماری عبادت یا تسبیح کی کیا
ضرورت؟… اللہ تعالیٰ تو ہر احتیاج، ضرورت اور محتاجی سے پاک
ہے… سبحان اللہ وبحمد ہ
سبحان اللہ العظیم
آسمان
پر ایک بالشت جگہ بھی ایسی نہیں جہاں کوئی فرشتہ سجدہ کی حالت
میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید میں مشغول نہ
ہو… تسبیح کا مطلب’’سبحان اللہ
‘‘پڑھنا، اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنا …
سبحان اللہ وبحمد
ہ سبحان اللہ العظیم
حدیث
شریف میں آتا ہے جو شخص ’’سبحان اللہ وبحمدہ‘‘ ایک سو بار
پڑھے تو اُس کے نامہ اعمال میں ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی
ہیں… نیکیوں کی بھی کئی قسمیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کا
نظام بہت وسیع ہے … کوئی نیکی ایک ہزار، کوئی نیکی ایک لاکھ چوبیس
ہزار… میرے رب کے کلمات کا نظام بہت اونچا اور بہت عجیب
ہے… اور اللہ تعالیٰ کی قدرت، طاقت اور وسعت
کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی نہیں جانتا
سبحان اللہ وبحمد
ہ سبحان اللہ العظیم
تھوڑا
سا سوچیں کہ… قسمت کا معاملہ کتنا عجیب
ہے… سبحان اللہ کہنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟ تاجر لوگ
سارادن کتنا بولتے ہیں… ریڑھیوں والے سارادن کتنی آوازیں لگاتے
ہیں… آپ اپنے گھر سے دفتر اور ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک جاتے ہوئے کتنی بار
سبحان اللہ پڑھ سکتے ہیں؟ بس قسمت کی بات
ہے… اللہ پاک جس پر مہربان ہو جائے اُسے یہ سب کچھ سمجھ
آجاتا ہے اور پھر اس کی زندگی سبحان اللہ اور
ذکر اللہ سے بھر جاتی ہے… حدیث شریف میں ’’سبحان اللہ ‘‘ پڑھنے کو صدقہ قرار دیاگیا ہے… جی ہاں بغیر مال
خرچ کئے صدقہ… اور ایک حدیث میں تو آیا ہے کہ
سبحان اللہ وبحمدہ کثرت سے پڑھا کرو کہ یہ
کلام اللہ تعالیٰ کے نزدیک پہاڑ کی مقدار سونا خرچ کرنے سے
بھی زیادہ محبوب ہے… سبحان اللہ ، سبحان اللہ ، سبحان اللہ وبحمدہ… ایک
تولا سونا شاید چالیس ہزار کا ہے … پہاڑ برابر سونا… شک کرنے کی
ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ ہر کمی اور کمزوری سے پاک
ہے… یہ زمین اور اُس کے تمام خزانے اور اُس کے تمام پہاڑ اور اُس کا تمام
سونا… اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مچھرکے پرکے برابر بھی
حیثیت نہیں رکھتے… فلکیات یا سائنس کی کسی کتاب میں صرف نظام شمسی کو پڑھ کر
دیکھیں اور پھر سوچیں کہ جو کچھ ہمیں اپنی کمزور نگاہوں سے نظر آرہا وہ اتنا بڑا
ہے… تو جو کچھ نظرنہیں آرہا وہ کتنا ہو
گا… سبحان اللہ وبحمد ہ
سبحان اللہ العظیم…
ایک
حدیث شریف میں ان لوگوں کے لئے جو کم ہمت، بخیل اور بزدل ہیں… فرمایاگیا ہے
کہ… سبحان اللہ وبحمدہ کثرت سے پڑھا کریں… تاکہ
عبادت، صدقہ اور جہاد میں جو کوتاہی رہ جاتی ہے اس کا ازالہ ہو سکے… ویسے بھی
یہ کلمات عجیب تاثیر والے ہیں، انسان جس قدر ان کی کثرت کرتا ہے، اسی قدر نیک اور
بڑے اعمال اُس کے لئے آسان ہو جاتے ہیں…
سبحان اللہ وبحمد
ہ سبحان اللہ العظیم
سچی
بات یہ ہے کہ’’سبحان اللہ ‘‘ کے فضائل، فوائد اورمعارف اتنے زیادہ ہیں
کہ کوئی پوری کتاب لکھے تو شاید ایک گوشہ کا احاطہ نہ کرسکے… یہ وہ عظیم کلمہ
ہے کہ اسے پڑھنے والا کسی کا محتاج نہیں ہوتا اور نہ اسے رزق کی تنگی آتی
ہے… ہم فقیرلوگوں نے مسجد شریف کا نام’’جامع مسجد سبحان اللہ ‘‘
رکھ دیا ہے… تاکہ ’’سبحان اللہ ‘‘ کی برکت سے اس کی تعمیر
اورآبادی میں کسی کی محتاجی نہ ہو… سبحان کے خوش نصیب بندے خود ہی آکر اپنی
آخرت کے گھر کو تعمیر کرنے لگیں… اور ’’سبحان اللہ ‘‘ کی طاقت سے
وہ تمام رکاوٹیں دور ہوجائیں جو بے چینی سے زہریلی کروٹیں بدل رہی ہیں… اور
اس مسجد کے ہر خادم اور ہر نمازی کو’’سبحان اللہ ‘‘ کی برکات اور
انوارات نصیب ہو جائیں… آپ نے وہ قصہ تو سنا ہوگا کہ ایک چور نے چوری سے
توبہ کر لی مگر اُس بے چارے کی توبہ بار بار ٹوٹ جاتی تھی… تب اُس نے سوچا کہ
ایک مرتبہ کسی بڑے رئیس کے گھر چوری کر لوں، کچھ زیادہ مال ہاتھ آئے گا توپھر
چوری چھوڑدوں گا… قصہ لمبا ہے، مختصر یہ کہ اُس نے ایک بڑے رئیس کے گھر کی
’’ریکی‘‘ کی اورایک رات اُس کے گھر جا گھسا… وہ ابھی خزانے پر ہاتھ صاف کرنے
ہی لگا تھا کہ اُسے رئیس اور اُس کی بیوی کی باتیں سنائی دیں… چور نے چوری سے
ہاتھ ہٹا کر اُدھر کان لگادیئے… وہ دونوں اپنی بیٹی’’امۃ السبحان‘‘(سبحان کی
بندی) کے رشتے کی بات کر رہے تھے…
بیوی
نے کہا… سرتاج! آپ نے اُس کے رشتے کا کچھ سوچا
ماشاء اللہ جوان ہو گئی ہے… رئیس نے کہا میں خود فکر
مندہوں مگر چاہتا ہوں کہ کسی ایسے آدمی سے اُس کا نکاح کر دوں جو نہ منافق ہو، نہ
جہنمی… اب استخارہ کے بعد یہ ترتیب سوچی ہے کہ آج صبح فجر کی نماز سے مسجد
میں نظر رکھوں گا… جو آدمی چالیس دن تک تکبیر اولیٰ کا پابند نظر آئے گا
اُس سے ’’امۃ السبحان‘‘ کا نکاح کر دیں گے… حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو
مسلمان چالیس دن تکبیر اولیٰ سے نماز کا اہتمام کرے تو اللہ تعالیٰ اسے
جہنم اور نفاق سے برأت کا پروانہ عطا فرماتے ہیں… اگر ایسا آدمی مل گیا اور
وہ غریب ہوا تو بھی پروانہیں ہم خود اُسے بڑی کوٹھی اور جائیداد و تجارت دے دیں
گے…
چور
نے یہ گفتگو سنی تو سوچا! لو بھائی! حلال کا مال، حلال کی بیوی اور ایسا سُسرال مل
رہا ہے چوری چھوڑو اور چالیس دن اس ’’رئیس آدمی‘‘ کی مسجد آباد کرو… گھر جا
کر وہ نماز کا انتظار کرتا رہا… فجر سے کافی پہلے مسجد کی ’’صف اول‘‘ میں جا
بیٹھا… اور پھر ہر نماز میں یہی معمول کہ سب سے پہلے جاتا اور سب سے آخر میں
نکلتا… ادھر رئیس صاحب بھی نظر رکھے ہوئے تھے اور یہی’’چورصاحب‘‘ ان کے معیار
پر پورے جارہے تھے… چالیس دن ہونے کو تھے رئیس کی بیوی نے پوچھا کہ جناب کوئی
نظر آیا؟… رئیس صاحب نے خوشی سے بتایاکہ بالکل! ایک آدمی نظر میں ہے بس
شادی کی تیاریاں کرو، چالیس دن پورے ہوتے ہی ایک منٹ کی دیر نہیں
لگائیںگے… اکلوتی بیٹی ہے داماد کو گھر لے آئیں گے…
اُدھر
چور صاحب خوب نمازوں میں لگے ہوئے تھے… نیت تو’’امۃالسبحان‘‘ اور اُس کے مال
کی تھی… مگر مالک کے درپر آنے والے خالی ہاتھ کہاں رہتے ہیں… وہ عظیم
رب جوچالیس دن میں ناپاک نطفے کی حالت تبدیل کر کے انسان کی پیدائش کا خون بنا
دیتا ہے… اُس نے چالیس دن کے سجدوں سے اُس’’چور‘‘ کو بھی اپنا’’ولی‘‘بنا
لیا… جیسے جیسے دن گزرتے جارہے تھے اُس کی حالت اور نیت میں واضح تبدیلی
آرہی تھی… چالیس دن بعد رئیس صاحب اُس کے گھر جا پہنچے… اوراپنی پوری
بات اُس کے سامنے رکھی اور فرمایا… آج سے آپ ہمارے داماد، بیٹے اور جائیداد
کے مالک ہیں… نوجوان نے سر جھکادیا اور آنسو رواں… رئیس صاحب! میں مسجد
میں گیا تو ’’امۃ السبحان‘‘ کے لئے تھا مگر شکر ہے کہ مجھے وہاں’’سُبحان‘‘ مل
گیا… اب نہ مجھے امۃ السبحان کی خواہش ہے اور نہ آپ کے مال کی
ضرورت… اور پھر اپنی چوری اور اُس رات کی باتیں سننے والا پورا قصہ
سنایا… اور عرض کیا … جناب! آپ کوئی اور رشتہ ڈھونڈ لیں، مجھے تو الحمدللہ … اب منزل مل چکی ہے…
رئیس
صاحب بھی اللہ والے بزرگ تھے فرمایا بیٹے تجھے سبحان مل
گیا… اور مجھے اپنی ’’امۃ السبحان‘‘ کے لئے ایساہی خاوند چاہئے جسے سبحان مل
گیا ہو… اللہ تعالیٰ نے تمہاری توبہ قبول کی… اب تم یہ
رشتہ قبول کرو…
سبحان اللہ وبحمد
ہ سبحان اللہ العظیم
’’جامع
مسجد سبحان اللہ ‘‘ کے لئے دل چاہتاہے کہ کسی کو کہنا ہی نہ
پڑتا… خود اپنی جیب میں اتنے پیسے ہوتے کہ اپنے عظیم
’’سبحان‘‘ اللہ تعالیٰ کے گھر کو بنا لیتا… اور اس
احسان پر اُس کا شکرادا کرتا… مگر یہ بھی اچھا ہے کہ ایسا نہیں ہو
سکا… اللہ تعالیٰ کئی مسلمانوں کو اس سعادت میں شریک فرمانا
چاہتا ہے تو یہ بھی’’سبحان‘‘ کا احسان ہے… آواز لگ چکی ہے … اہل
سعادت تاخیر نہ کریں… ایسے موقع روز روزنہیں آتے
سبحان اللہ وبحمد
ہ سبحان اللہ العظیم
اللھم
صل علیٰ سیدنا ومولانا محمد وعلیٰٰ آلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
تینوں شہید ساتھیوں کے درجات بلند فرمائے… یہ تینوں نہ کشمیر میں شہید ہوئے
نہ عراق، فلسطین اورافغانستان میں… آپ کو پتا ہے کہ کہاں شہید
ہوئے؟… پاکستان کے سب سے بڑے شہر’’کراچی‘‘ میں… جی ہاں
کراچی… محاذِ کراچی،مقتل گاہ کراچی، مے خانۂ کراچی… کراچی کو کیا نام
دوں؟ خونخوار کراچی یا عشق گاہِ کراچی… چلیں یہی نام ٹھیک ہے’’عشق گاہِ
کراچی‘‘… شہادت سے بڑھ کر اورکونسی حسین اور خوبصورت چیزہو سکتی ہے… اگر
یہ حُسن کی حور کراچی میں ملتی ہے تو اے کراچی کی عشق گاہ
تجھے سلام! ؎
نہ
لا وسواس دل میں، جو ہیں تیرے دیکھنے والے
سر
مقتل بھی دیکھیں گے چمن اندر چمن ساقی
آج
آپ مجھے تھوڑا سا معاف کیجئے گا… میرے تصور میں تین شہداء
ہیں… ہنستے،مسکراتے دل لبھاتے شہداء… اور ہاں ان میں سے ایک کی انگلی
ایک چار سال کی بچی نے پکڑرکھی ہے… معصوم شہیدہ… وہ بھی خوب ہنس رہی
ہے… اپنی اور اپنے باپ کی قسمت پر خوشی سے مسکرارہی ہے… اور اپنے بدبخت
قاتلوں کی بدنصیبی پر قہقہہ لگا رہی ہے… یہ پھول جیسی
بچی اللہ تعالیٰ سے چار سال کی عمرہی لائی تھی… ہاں
اُس نے جلدی جلدی اپنے شہیدباباکاہاتھ پکڑ کر اللہ تعالیٰ
کی مہمانی میںجاناتھا… مجھے معاف کیجئے گا اس طرح کا منظرآنکھوں میںہو تو
میں بہکی بہکی باتیں ہی لکھ سکوں گا… چلیں کوئی بات نہیں آج آپ بھی میرے
ساتھ بہکتے جائیں ؎
عجب
کیا ہے، یہ بہکی بہکی باتیں رنگ لے آئیں
بہت
باہوش رہتا ہے مرا دیوانہ پن ساقی
کراچی
کی ایک مسجد میں زمانے کے بڑے ولی، بڑے مصنف اور فقیہ حضرت مولانا محمد یوسف
لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ نے میرا ہاتھ پکڑکر پورے یقین سے فرمایا
تھا… میں نے جہاد کی رسمی بیعت نہیں کی… دل سے بیعت کی ہے، دیکھ لینا
میں بستر پر نہیں مروں گا، ان شاء اللہ شہید ہوں گا… پھر دنیا نے
دیکھا کہ حضرت لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ … شہید کر دیئے
گئے… عشق گاہِ کراچی میں انہوں نے ایک نئے ’’مقبرۂ شہدا‘‘ کی بنیاد
رکھی… اب وہاں اُن کے ساتھ چار دیگر شہداء کی قبریں بھی ہیں… ہمارے شیخ
مفتی محمد جمیل خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ بڑے والہانہ انداز میںکہا کرتے
تھے کہ حضرت لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت کے بعد تو موت، زندگی سے
زیادہ محبوب ہو گئی ہے ؎
یاد
ایّامے کہ جب تھا ہر نَفَس اک زندگی
زندگی
اب ہر نَفَس کے ساتھ مرجانے میں ہے
ایک
کیفِ نا تمامِ درد کی لذت ہی کیا
درد
کی لذّت سراپا درد بن جانے میں ہے
شیشہ
مست و بادہ مست و حسن مست و عشق مست
آج
پینے کا مزا پی کر بہک جانے میں ہے
پوچھنا
کیا ، کتنی وسعت میرے پیمانے میں ہے
سب
اُلٹ دے ساقیا! جتنی بھی مے خانے میں ہے
آپ
کو انتظار ہو گا کہ شہداء کرام کے نام تو معلوم ہو جائیں… جی ہاں شہیدوں کے
نام میں بھی برکت ہوتی ہے اور اُن کے تذکرے میں
بھی… اللہ تعالیٰ ہر کسی کو تو بیعت علی الجہاد اور شہادت
نصیب نہیںفرماتا… لیجئے تین نئے شہداء کرام کے ناموں سے اپنی آنکھوں کو روشن
کیجئے
(۱) مولانا مدثر صاحب…کراچی میں شہید ہوئے، نماز
پڑھا کر اپنے گھر کے قریب پہنچے تھے کہ بدنصیب قاتلوں کی گولیاں اُن کے لئے پیغام
محبت بن گئیں… عالم تھے، نوجوان تھے، غیر شادی شدہ تھے…
(۲) محمدشہزاد خالد… کراچی میں شہید ہوئے، اُن
کی چار سالہ بیٹی بھی اُن کے ساتھ جام شہادت سے سرفراز ہو
ئی… ماشاء اللہ بہادر جوان تھے
(۳) محمد عمران… یہ بھی عشق گاہِ کراچی میں
شہید ہوئے، سر گرم مجاہد تھے پسماندگان میں بیوہ اور دو بچے
ہیں، اللہ تعالیٰ اُن کا کفیل و نگہبان ہو…
قسمت
کی خوبی دیکھئے کہ… ان تینوں کی زندگی تو بس اتنی ہی تھی… مگر جب ان کی
زندگی ختم ہوئی تو موت کی جگہ ایک نئی اور حسین زندگی شروع ہو گئی… ان کا
مبارک خون ان شاء اللہ بہت رنگ لائے گا
جو
طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیں
وہی
دنیا بدلتے جا رہے ہیں
نکھرتا
جا رہا ہے رنگ گلشن
خس
و خاشاک جلتے جا رہے ہیں
وہیں
میں خاک اڑتی دیکھتا ہوں
جہاں
چشمے اُبلتے جا رہے ہیں
ان
شہداء کے گھر والے یقینا غمگین ہوں گے… مگر اس غم میں اُنکے لئے شرف ہے ،
سعادت ہے،بشارت ہے اور لطف ہی لطف ہے
کون
یہ ناصح کو سمجھائے بطرز دل نشیں
عشق
صادق ہو تو غم بھی بے مزا ہوتا نہیں
اُس
مقام قُرب تک اب عشق پہنچا ہے جہاں
دیدہ
ودل کا بھی اکثر واسطہ ہوتا نہیں
اللہ
، اللہ یہ کمال ارتباط حسن وعشق
فاصلے
ہوں لاکھ، دل سے دل جُدا ہوتا نہیں
ویسے
تھوڑا سا سوچیں کہ ہم کتنے خوش نصیب دور میں جی رہے ہیں… شرابی رند کو اگر
وافر شراب مل رہی ہو تو وہ کہتا ہے یہ بہترین زمانہ ہے… ایک مؤمن کے لئے
شرابِ شہادت سے بڑھ کر مست چیز اورکیا ہو سکتی ہے؟شکر،لاکھ شکر کہ ہمارے زمانے میں
شرابِ شہادت خوب مل رہی ہے اور جام بھر بھر کر مل رہی ہے… مسلمانوںپر تو ایسے
زمانے بھی گزرے ہیں جب غلامی اوربے بسی نے شہادت کے عمومی دروازے کو کافی حد تک
بند کر دیا تھا… آپ تھوڑا سا قرآن پاک میں غورکریں کہ شہادت کیاچیز
ہے… اللہ کی قسم شہادت کی آیات پڑھ کر دل بے قرار ہو جاتا
ہے کہ… ربّا اس عظیم نعمت سے محرومی نہ ہو… آپ تھوڑا سا میدان بدر کی
سیر کرآئیں… آپ اُحد کے پہاڑ سے محبت کا ایک جام پی آئیں… آپ بئر
معونہ کے شہداء کرام کی میٹھی میٹھی باتیں پڑھ لیں… تب آپ بھی میری طرح چلّا
اٹھیں گے کہ… واقعی ہمارا زمانہ بہت اچھا ہے…یہاں تو ہر طرف مئے خانے ہی مئے
خانے سجے ہوئے ہیں… وضوکرکے نماز کے لئے جاتے ہیں اوپر سے جہاز کی آواز آتی
ہے تو دل خوشی سے اُچھلنے لگتا ہے کہ… لو بھائی! ڈرون آگیا،محبت کاجام ملنے
کو ہے… کشمیر کی طرف جائیں… مئے خانے ہی مئے خانے، افغانستان جائیں ہر
طرف چھلکتے ہوئے جام… ماشاء اللہ اب تو کراچی والے بھی
محروم نہیں… بس آنکھیں کھلی ہونی چاہئیں تو ہر طرف بہار ہی بہار نظر آرہی
ہے
پی
کے اِک جامِ شرابِ شوق آنکھیں کھل گئیں
دیکھتا
ہوں جس طرف مے خانہ ہی مے خانہ ہے
ایک
وقت تھا اللہ والے شہادت کو ترستے تھے… لوگ شہادت کے
لئے لمبے لمبے سفر کرتے تھے… عارفین راتوں کو اٹھ اٹھ کر مانگتے
تھے… مگر اب اللہ تعالیٰ کا احسان دیکھیں
کہ… زمانے کے کافروںاور اُن کے ایجنٹ منافقوں نے ہمیں الحمدللہ ’’مسلمان‘‘ تسلیم کر لیا ہے… اور
مسلمان کا بہترین انجام شہادت ہے… اورہماری شہادت کو قریب کرنے کے لئے دنیائے
کفر نے طرح طرح کے آلات اور ہتھیار تیار کر لئے ہیں… خوش ہو جاؤ عاشقو، خوش
ہو جاؤ! موسم خوشگوار ہے،شراب کے جام عام ہیں اور ہرطرف عشق کی مستی چھلک رہی ہے
ہوشیار
، او جان و دل سے چھپنے والے ہوشیار
آج
چشم شوق کا انداز بے باکانہ ہے
فیضِ
ساقی نے مجھے لبریزِ مستی کر دیا
ہر
نظر جام و سبو ہے، ہر نفس مے خانہ ہے
ہاں
بس ایک شرط ہے ؎
جس
کا جتنا ظرف ہے، اس سے سوا ملتانہیں
جلوۂ
ساقی بقدر ہمت مردانہ ہے
میرا
ارادہ تھا کہ آج کے کالم کا عنوان یہ مصرعہ ہو
’’دیکھتا
ہوں جس طرف مے خانہ ہی مے خانہ ہے‘‘
مگرپھر
جگر مُراد آبادی مرحوم کی ایک فریاد یاد آگئی، انہوںنے عشق کے نشے میں ڈوب کر یہ
فریاد کی تھی
یہ
مصرعہ کاش نقشِ ہر در و دیوار ہو جائے
جسے
جینا ہو، مرنے کے لئے تیار ہو جائے
جی
ہاں جو ’’زندگی‘‘ چاہتا ہے اُسے خود کو’’موت‘‘ کے لئے تیار کرنا ہوگا مسلمان جب
زندگی سے پیار کرتا ہے تو پھر مرجاتا ہے اور جب موت سے پیار کرتا ہے تو زندہ
ہوجاتا ہے… آج الحمدللہ موت سے پیار کرنے والے مسلمانوں کی تعداد بڑھتی
جارہی ہے اس لئے… اسلام بھی زندہ ہو رہا ہے اور مسلمان بھی زندہ ہو رہے ہیں…
شاد
باش و زندہ باش اے عشقِ خوش سودائے من
تجھ
سے پہلے اپنی عظمت بھی کہاں سمجھا تھا میں
کراچی
کے شہیدو! میرا سلام قبول کرنا… اللہ تعالیٰ تمہیں اونچے
اونچے درجات عطاء فرمائے… تمہیں بیعت علی الجہاد مبارک ہو… اور تمہیں گل
رنگ شہادت مبارک ہو… بہت مبارک ہو
اب
لفظ وبیاں سب ختم ہوئے، اب دیدہ و دل کا کام نہیں
اب
عشق ہے خود پیغام اپنا، اب عشق کا کچھ پیغام نہیں
ہاں
شہیدو! تمہارا عشق، تمہارے لہو رنگ جنازے، تمہارے مسکراتے چہرے یہ سب ہمارے لئے
بہت اہم پیغام ہیں… ان شاء اللہ تمہارا
قافلہ رُکے گا نہیں اور نہ تمہارے خون کو بھلائے گا… دیکھو! تمہارے سب بھائی
تمہیں رشک کی نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں… اورکہہ رہے ہیں
شہادت
انتقامِ عشق کی صورت بدلتی ہے
سنبھلنا،
ہاں سنبھلنا، رقص بسمل دیکھنے والے
ہائے
بیچارے کافر… آخرت تو اِن کی برباد ہو چکی اب دنیا بھی ان کے لئے کانٹوں کا
بستر بن چکی ہے… مسلمان غازیوں کا خنجر ان کے گلے پر ہے… اور امن و
آرام اِن سے روٹھ چکے ہیں… یہ سارے اسلام دشمن کافر… آسمانی آفتوں
اور مجاہدین کی یلغار کے سامنے بے بس ہیں… اب اُن کی خواہش یہ ہے کہ وہ میدان
چھوڑکر بھاگ جائیں… اور مسلمانوں میں سے منافقوں کو خرید کر انہیں مجاہدین کے
خلاف کھڑا کردیں… ان شاء اللہ ان
کی یہ سازش بھی ناکام ہو گی… اپنے تین شہداء کرام کے بد نصیب قاتلوں
کو… صاف صاف کہتا ہوں…
ظالم
نے جو چھیڑا رندوںکو،ساقی نے کہا کس طنز سے آج!
اوروں
کی وہ عظمت کیا جانیں، کم ظرف جو انساں ہوتے ہیں
تو
خوش ہے کہ تجھ کو حاصل ہیں، میںخوش کہ مرے حصّے میں نہیں
وہ
کام جو آساں ہوتے ہیں، وہ جلوے جو ارزاں ہوتے ہیں
آسودۂ
ساحل تو ہے مگر، شاید یہ تجھے معلوم نہیں
ساحل
سے بھی موجیں اٹھتیں ہیں، خاموش بھی طوفاں ہوتے ہیں
یہ
خون جو ہے مظلوموںکا، ضائع تو نہ جائے گا، لیکن
کتنے
وہ مبارک قطرے ہیں جو صرف بہاراں ہوتے ہیں
جو
حق کی خاطر جیتے ہیں، مرنے سے کہیں ڈرتے ہیں جگرؔ
جب
وقت شہادت آتا ہے، دل سینوں میں رقصاں ہوتے ہیں
جی
ہاں… کوئی دھوکے میں نہ رہے… بہت سے طوفاں خاموش ہوتے ہیں… بہت سی
بجلیاں بے آواز ہوتی ہیں…اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے لئے
جیتے اور مرتے ہیں … اُن سے دشمنی کرنے
والے اللہ تعالیٰ کو اپنا دشمن بنا لیتے ہیں…
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ و بارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
رحم فرمائے ہم پر ایسے حکمران مسلَّط ہو گئے ہیں، جن کا جینا بھی مسلمانوں کے لئے
مصیبت ہے اور اُن کا مرنا بھی مصیبت… پاکستان میں تو روزانہ سینکڑوں اور
درجنوں افراد قتل ہوتے ہیں… ان ہی میں گورنر پنجاب بھی شامل ہو گئے… کسی
بھی مُلک میں ہر شہری کا خون برابر کی قیمت رکھتا ہے… وہ شہری کوئی مزدور ہو
یا گورنر… اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں’’علماء‘‘ کے مقام
کو اونچا قراردیا ہے… پاکستان میں تو آئے دن علماء کرام بھی شہید کئے جاتے
ہیں… پھر’’گورنر پنجاب‘‘ کے قتل پر روشن خیالوں کی کالی زبانیں اتنی تیز کیوں
چل رہی ہیں؟… کراچی میں ایک غریب آدمی قتل ہوتا ہے اُس کے پیچھے گھر میں
کوئی کمانے والا تک نہیں ہوتا… اُس کی بیوہ خاوند کو الگ روتی ہے اور اس بات
کو الگ کہ کل کا چولہا کیسے جلے گا… جبکہ گورنر صاحب تو اپنے ورثاء کے لئے کم
ازکم ایک ارب ڈالر کے اثاثہ جات چھوڑ گئے ہیں… ایک پورا ٹی وی چینل، ایک چالو
اور بے حیا اخبار ٹیلیفون کی کمپنی ورلڈ کال… اور اکاؤنٹنٹ کی ایک ایسی
کمپنی جو ماہانہ کروڑوں روپے کماتی ہے… اس کے علاوہ بھی بہت کچھ… چند دن
پہلے خود بی بی سی والوں سے فرما رہے تھے کہ میرے مالی اثاثے ایک ارب ڈالر سے زائد
کے ہیں… بلوچستان میں زندہ جل جانے والے مزدور کے بچوں کو کیا پتا کہ ایک ارب
ڈالر کیا ہوتے ہیں اُن غریبوں کو تو بیس روپے کا دودھ بھی نصیب نہیں ہوتا…
روشن
خیالوں نے اس مُلک میں قتل و غارت کی آگ خود جلائی ہے… اس مُلک پر نہ تو
افغانستان کے طالبان نے حملہ کیاتھااورنہ پاکستان کی کسی جہادی جماعت نے …اس
ملک کوتوروشن خیالوں کی حرام خوری نے برباد کیا ہے… غیر مُلکی امداد اور
کافروں کی خوشنودی کے لئے اس ملک میں قتل و غارت کی آگ سب سے پہلے کس نے
بھڑکائی؟… گورنر پنجاب کے قریبی دوست پرویز مشرف نے… آج اگر کوئی یہ
کہے کہ سلمان تاثیر کا قاتل بھی پرویز مشرف ہے تو یہ بات غلط نہیں
لگتی… تھوڑا سا غور کریں… یہ روشن خیال دانشور ہمیشہ کہتے ہیں کہ جنرل
ضیاء الحق نے اس ملک میں کلاشنکوف کلچر عام کیا… مولویوںکو طاقتور
کیا… یہ توکوئی پُرانی تاریخ نہیں ہے آپ جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں تلاش
کریں کہ اُس وقت پاکستان میں روزآنہ کتنے افراد قتل ہوتے تھے؟… پھر پرویز
مشرف کا دوردیکھیں اور آج کے قتل شمار کریں تو آپ حیران رہ جائیں گے… وہ
دور تو آج کے مقابلے میں بہت پر امن تھا… وجہ یہ تھی کہ اُس وقت ہم’’جہادِ
افغانستان‘‘ کا تعاون کر رہے تھے… اور جہاد کی برکت سے مسلمانوں کو امن نصیب
ہوتا ہے… اور اب ہمارے روشن خیال حکمران مسلمانوں کے مقابلے میں کافروں کی
مدد کر رہے ہیں… نتیجہ ظاہر ہے کہ ہم امن سے محروم ہو چکے ہیں… اس
بھڑکتی آگ کی کوئی چنگاری کسی گورنر تک بھی پہنچ جاتی ہے… پھر اتنا شور
مچانے کی کیا ضرورت ہے؟… کیا روشن خیالوں کو ڈر لگنے لگا ہے یا را، موساد اور
سی آئی اے نے اپنی این جی اوز کو ہشکارہ دیا ہے کہ شاباش اچھا موقع
ہے… مدرسہ، مسجد، مولوی، مجاہد… اور دین اسلام کے خلاف خوب شور
مچاؤ…این جی اوزمیں کام کرنے والی عورتیں پریشان ہیں… ایک طرف اُن کویہ حکم
ہے کہ پورے کپڑے نہ پہنا کرو… اور اب اتنی سردی میں یہ حکم آگیا ہے کہ مسجد،
مدرسہ کے خلاف احتجاج میں نکلو… آج کل خوب چیک بانٹے جارہے ہیں… صبح
صبح گرم کافی، خستہ بسکٹ اور منرل واٹر کی بوتلیں دے کر ان کرائے کے احتجاجیوں
کومختلف جگہوں پر بھیجا جاتا ہے…کالم نویسوں پر الگ نوٹ برس رہے ہیں… اور ٹی
وی والوں کی کمائی کا بھی اچھا موقع نکل آیا ہے… ارے اگر تمہیں گورنر صاحب
سے محبت تھی تو تھوڑا سا سوچو کہ وہ تو اب قبر میں ہیں… اُن کے ایصال ثواب کے
لئے کچھ قرآن پڑھو… کچھ صدقہ خیرات دو… مگریہ بے چارے کیا
کریں… قرآن پڑھنا آتا ہی نہیں اور صدقہ خیرات کو تو جانتے ہی
نہیں… آخر یہ احتجاج کس کے خلاف کر رہے ہیں؟… قاتل تو سینہ تان کر خود
کو پولیس کے حوالے کر چکا ہے… ہمیں توآج تک حضرت لدھیانوی شہید رحمۃ اللہ
علیہ کے قاتل نہیں ملے… یہاں تو قاتل نے گولیاں مار کر بہت شرافت
سے گرفتاری دے دی… تو پھر یہ احتجاج کس کے خلاف ہو رہا ہے؟… قاتل تو خود
حکومت کا سپاہی ہے… نہ مولوی ہے اور نہ کسی مسجد کا امام اور نہ کسی جہادی
تنظیم کا رُکن… وہ تو پنجاب حکومت کی قابل فخر پولیس فورس’’ایلیٹ‘‘ کاسپاہی
ہے… بی بی سی والے سرپیٹ رہے ہیں کہ انٹرنیٹ پر’’ممتاز قادری‘‘ کے چاہنے
والوں نے قبضہ کر رکھا ہے… سر پیٹنے کی کیا ضرورت ہے؟ آپ لوگ تو ’’آزادی
اظہار‘‘ کے علمبردارہیں… اب مسلمان نوجوانوں نے فیس بُک پر’’ممتازقادری‘‘ کی
تعریف میں ہزاروں صفحات بنا دیئے ہیں تو آپ کو کیوں تکلیف ہو رہی ہے؟… آپ
کے نزدیک ہر آدمی کو اپنی پسند اور ناپسند کا اختیار ہے… قسمت کی بات ہے کہ
’’ممتاز قادری‘‘ پر وکلاء پھول نچھاور کر رہے ہیں… روشن خیال یہی محنت تو کر
رہے ہیں کہ ہر انسان کو اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے دی جائے… کوئی کپڑے
پہنے یا نہ پہنے کسی کو نہ ٹوکا جائے… کوئی کسی کو مانے یا نہ مانے کوئی
زبردستی نہ کی جائے… کوئی شراب پئے یا پیپسی… ہر آدمی کو اس کی آزادی
ہونی چاہئے… کوئی اگر کسی لڑکی سے دوستی کرے… اور بغیر نکاح کے اُس کے
ساتھ پھرے تو اُس کو نہ ٹوکا جائے… کوئی میراتھن ریس میں دوڑے تو اُس کو
دوڑنے دیا جائے… یہی دعویٰ اورمحنت ہے نا روشن خیالوں کی؟… تو پھر اگر
کوئی مدینہ والے پاک نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے غیرت والی محبت کرے تو
اُسے کیوں ٹوکتے ہو؟… کوئی اپنی مرضی سے مدرسہ پڑھے، جہاد کرے تو اُس کو کیوں
روکتے ہو؟… کوئی ممتاز قادری کو اپنا ہیرو قرار دے تو اُسے کیوں روکتے
ہو؟… کوئی کافروں کو نہ مانے تو اُس سے کیوںناراض ہوتے ہو؟… عجیب
دوغلاپن ہے کہ… کفر کے ہر کام کی آزادی چاہتے ہو اور اسلام کا صرف ’’پردہ‘‘
تک تم سے ہضم نہیںہوتا… آخر’’تحفظ ناموس رسالت‘‘ کے قانون سے تمہیں کیا
تکلیف ہے؟…کوئی تمہیں گالی دے تو برداشت نہیںکرتے ہو… حکمرانوں نے طرح طرح کی
فورسیں بنا رکھی ہیں جو اُن کے مخالفوں کو قتل کرتی ہیں… اور اُن کی ہڈی پسلی
ایک کرتی ہیں… چند دن پہلے ایک بڑے ریٹائر پولیس افسر کا مضمون نظر سے
گزرا… انہوں نے لکھا تھا کہ میں چند دن پاکستان کے ایک وزیر اعظم کی خصوصی
فورس کا افسر مقرر ہوا… ایک دن وزیراعظم نے مجھے بلایا اور آنکھیں سرخ کرکے
کہا ! فلاں مولوی اپنی تقریروں میں مجھے بُرا بھلا کہتا ہے… میں فی الحال اُس
کو قتل تو نہیں کرنا چاہتا مگر ایک دو روز کے اندر وہ ہسپتال میں ہو نا
چاہئے… کم از کم ایک پسلی ضرور ٹوٹ جائے…وہ تو وزیراعظم تھا… عام مالدار
قسم کے روشن خیالوں نے اپنے مخالفوں کو مارنے کے لئے پتا نہیں کیسے کیسے کتے اور
غنڈے پال رکھے ہیں… مگر یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں ہر آدمی کو اس کی
آزادی ہو کہ وہ آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی
بک سکے… میں یقین سے کہتا ہوں کہ اگر پاکستان میں ’’تحفظ ناموس رسالت‘‘ کا
قانون ختم ہو گیا تو یہاں قتل و غارت اور زیادہ بڑھ جائے گی… اگر روشن خیال
طبقے کافروں کی محبت میں مجبور ہیں تو پاکستان کے غریب مسلمان حضرت محمد عربی صلی
اللہ علیہ وسلم کی محبت سے سرشار ہیں… اور وہ آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کے ساتھ اپنی جان سے زیادہ محبت رکھنے کواپنے ایمان کا جزو سمجھتے
ہیں … آج مسجد، مدرسہ اور جہاد کے خلاف زبانیں چلانے والے یہ کیوں نہیں
بتاتے کہ گستاخ’’آسیہ عیسائی‘‘ کو سزائے موت کسی مولوی یا مجاہد نے سنائی
ہے؟… اُسے سزائے موت حکومت پاکستان کی ایک عدالت نے سنائی ہے… ویٹی کن
میں بیٹھے دشمن اسلام ’’پاپے‘‘ نے آسیہ کے حق میں گھنٹی بجا دی… گوروں کا
حکم کیا آنا تھا کہ پاکستان کے روشن خیالوں میں کھلبلی مچ گئی… حالانکہ یہ
ایک حکومتی اور عدالتی معاملہ تھا… حکومت اندر اندر کے ہاتھوں کو استعمال
کرکے آسیہ کو بچا سکتی تھی… ان کے نزدیک مدینہ والے آقا صلی اللہ علیہ
وسلم سے زیادی ویٹی کن والے پاپے کو خوش کرنا ضروری ہوتا
ہے… آسیہ بچ جاتی تو اِن کا ’’پاپا‘‘ اِ ن سے خوش ہو جاتا … مگریہ
تو پوری دنیائے کفر کو خوش کرنے کے چکر میں پڑ گئے اور انہوں نے موقع دیکھ کر
’’قانون‘‘ کو ہی ختم کرنے کی بات شروع کر دی… اس دوران گورنرصاحب بھی اچانک
قتل ہو گئے… معلوم نہیں اسلام آباد میں اپنے وسیع و عریض گھر کو چھوڑ کر
ریستوران میں کھانا کھانے کی کیا ضرورت تھی… کروڑوں ڈالر کے مالک تھے باہر
مُلکوں سے اپنے لئے گوری سیکیورٹی کا بندوبست کرسکتے تھے… مگرپھر بھی اس غریب
مُلک کے سپاہیوں کو ساتھ لئے پھرتے تھے… وی آئی پیز کی سیکورٹی کرنے والے
کسی بھی سپاہی سے آپ بات کریں وہ اُس ’’وی آئی پی‘‘ کو گالیاں دیتا ہوا نظر آتا
ہے… بعض تو یہاں تک کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ رہ کرہمیں بڑی بے غیرتی کرنی پڑتی
ہے… اکثر وی آئی پیز روشن خیال ہیں… اور روشن خیالوں کے نزدیک ہر کام
کی آزادی ہوتی ہے… عام پولیس والے غریب اور متوسط مسلمان گھرانوں کے افراد
ہوتے ہیں… انہوں نے جانوروں کو تو کھلم کھلا روشن خیالی کرتے دیکھا ہوتاہے
مگر انسانوں کو وہ تب دیکھتے ہیں جب کسی وی آئی پی کے سیکورٹی گارڈبنتے
ہیں… ایسے حالات میں کبھی بھی کسی کا دماغ پھر سکتا ہے اور کسی
کی انگلی سے ٹرائگر دب سکتا ہے … مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ یہ
سب کچھ جاننے اور سمجھنے کے باوجود کیوں مسجد، مدرسہ اور جہاد پر تیر برسائے جارہے
ہیں… ویسے امید ہے کہ جیسے ہی پیٹرول ختم ہو گا یہ سارے انجن بند ہوجائیں
گے… ابھی تو پاکستان کے ماحول کو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف گرمانے کے لئے
دنیا کی کئی خفیہ ایجنسیوں نے کافی سرمایہ لگا دیا ہے… اس سرمائے کا نشہ
آہستہ آہستہ اُترجائے گا… فی الحال تو سُنا ہے کہ ملک کے سارے وی آئی پیز
اپنے سیکورٹی گارڈوں کو دیکھتے ہی پسینے میں ڈوب جاتے ہیں… جی ہاں اتنی سخت
سردی میں یہ صاحب لوگ پسینہ پسینہ ہو جاتے ہیں… ایک ہی زندگی ہے یہ ختم ہو
گئی تو کیا بنے گا؟… قبر اور آخرت کا تو کبھی سوچا نہیں اس لئے وہاں جانے سے
ڈر لگتا ہے… یہ دنیا جیسے جیسے قیامت کے قریب ہو رہی ہے… اس میں قتل و
غارت بڑھتی جارہی ہے… حضرت امام مہدی رضی اللہ عنہ کے
ظہور کی علامات میں سے ایک علامت یہ بھی لکھی ہے کہ قتل و غارت بہت عام ہو جائے
گی… ایک روایت میں یہ آیا ہے کہ ہر نو(۹) میں سے سات افراد
قتل ہو جائیں گے… جبکہ ایک اور روایت ہے کہ دنیاکے ایک تہائی افرادقتل
ہوجائیں گے …ایک تہائی انتقال کرجائیں گے جبکہ ایک تہائی باقی ہوں
گے… یہ علامات تیزی سے قریب آرہی ہیں… مسلمانوں میں شہداء کے قبرستان
بڑھتے جارہے ہیں… جبکہ غیر مسلموں میں بھی قتل ہونے والوں کے انبار لگے ہوئے
ہیں… دنیا کے کئی ممالک میں جنگیں جاری ہیں… جبکہ کئی جگہوں پر جنگوں کی
تیاری ہے… مسلمانوں میں ایک دوسرے کو مارنے کا رواج کم تھا مگر اب ہر مسئلے
کا حل’’قتل‘‘ قرار دے دیا گیا ہے… وڈیروں، سرداروں، خانوں کے اپنے اپنے
فائرنگ اسکواڈ ہیں… جبکہ کئی لسانی اور سیاسی جماعتوںکے کِلنگ دستے پورے ملک
میںبکھرے پڑے ہیں… موت کا یہ جام کسی بھی وقت ہم تک پہنچ سکتا ہے… اس
لئے اچھا ہوگا کہ ہر مسلمان اپنی زندگی دین اور جہاد پر لگا کر اُسے قیمتی
بنائے… اور ہر وقت آخرت کی تیاری میں لگا رہے… اگرہمیں ’’فکر
آخرت‘‘نصیب ہو گئی اورہم آخرت کی تیاری میں لگ گئے توپھر… قتل ہوں یا موت
آئے سب کچھ ان شاء اللہ بہت اچھا ہوگا… اس فانی دنیا
میں کس نے رہنا ہے؟ یہ تو ایک ’’مسافرخانہ‘‘ ہے … کاش یہ حقیقت ہمارے
دلوں میں اُتر جائے…
اللھم
صل علیٰ سیدنا و مولانا محمد وعلیٰ الہ وصحبہ و بارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ ظَاہری اورباطِنی فِتنوں سے ہم سب کی حفاظت فرمائے…ہمارے آقااوررہبرحضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایاہے کہ:
تَعَوَّذُوابِاللّٰہِ
مِنَ الْفِتَنِ مَاظَہَرَمِنْہَا وَمَابَطَنَ
’’اللہ
تعالیٰ کی پناہ مانگوتمام ظاہری اورباطنی فتنوں سے ‘‘
صحابہ
کرام نے حکم کی فوری تعمیل کی اوردعامانگی
نَعُوْذُ
بِاللّٰہِ مِنَ الْفِتَنِ مَاظَہَرَمِنْہَاوَمَابَطَنَ
’’ہم
اللہ تعالی کی پناہ مانگتے ہیں تمام ظاہری اورباطنی فتنوں سے‘‘…
آئیے
ہم بھی یہ دعایاد کرلیں کیوں کہ ہم توچاروں طرف سے فتنوں میں گِھرے ہوئے ہیں
اورصرف اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آکرہی ہم ان فتنوں سے بچ سکتے ہیں…
نَعُوْذُ
بِاللّٰہِ مِنَ الْفِتَنِ مَاظَہَرَمِنْہَاوَمَابَطَنَ
یہ
حکم اوریہ دعاحدیث شریف کی مشہوراورمستندکتاب صحیح مسلم شریف کی روایت میں
مذکورہے…ہوایہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ’’بنی نجار‘‘ کے ایک
باغ میں سے گزررہے تھے ،آپ کی سواری اچانک راستے سے ہٹ
گئی …آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھاتووہاں کچھ قبریں
تھیں ،پوچھنے پرمعلوم ہواکہ ان میں کچھ مشرک دفن ہیں…آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا:یہ لوگ اپنی قبروں میں عذاب میں
مبتلاہیں …اگر اس بات کاڈرنہ ہوتاکہ تم لوگ خو ف کی وجہ سے اپنے مُردوں کودفن
نہ کرسکوگے تومیں اللہ تعالیٰ سے دعاء کرتا کہ قبر کے عذاب میں سے جتناکچھ میں سُن
رہاہوں وہ اس میں سے کچھ تمہیں بھی سنادے… اس کے بعدآقامدنی صلی
اللہ علیہ وسلم نے چار احکامات جاری فرمائے…القلم کے پڑھنے والے
مسلمانو!غورسے ان احکامات کوسُنو… حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشادفرمایا:
(۱)…تَعَوَّذُوْابِاللّٰہِ
مِنْ عَذَابِ النَّارِ
’’اللہ
تعالیٰ کی پناہ مانگوآگ کے عذاب سے‘‘
صحابہ
کرام نے فوراًدعاء مانگی
نَعُوْذُبِاللّٰہِ
مِنْ عَذَابِ النَّارِ
’’ہم
اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں آگ(یعنی جہنم) کے عذاب سے‘‘
پھرآپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(۲)…تَعَوَّذُوْابِاللّٰہِ
مِنْ عَذَابِ القَبْرِ
’’اللہ
تعالیٰ کی پناہ مانگوعذاب قبرسے‘‘
صحابہ
کرام نے فوراً پناہ مانگی
نَعُوْذُبِاللّٰہِ
مِنْ عَذَابِ القَبْرِ
’’ہم
اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں قبرکے عذاب سے‘‘
پھرآپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
(۳)…تَعَوَّذُوابِاللّٰہِ
مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَہَر َمِنْہَا وَ مَا بَطَنَ
’’اللہ
تعالیٰ کی پناہ مانگوتمام ظاہری اورباطنی فتنوں سے‘‘
صحابہ
کرام نے فوراً دعاء مانگی
نَعُوذُبِاللّٰہِ
مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَہَر َمِنْہَا وَ مَا بَطَنَ
’’ہم
اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہیں تمام ظاہری اورباطنی فتنوں سے‘‘
پھرآپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
(۴)…تَعَوَّذُوابِاللّٰہِ
مِنْ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ
’’اللہ
تعالیٰ کی پناہ مانگودجّال کے فتنے سے‘‘
صحابہ
کرام نے فوراً دعاء مانگی
نَعُوذُبِاللّٰہِ
مِنْ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ
’’ہم
اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں دجّال کے فتنے سے‘‘…
لیجئے
چاربہت اہم دعائیں تازہ ہوگئیں…الفاظ میں تبدیلی بھی ہوسکتی ہے مثلاً یوں
کہیں:اَللّٰہُمَّ اِنَّانَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ… اَللّٰہُمَّ
اِنَّانَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ…اَللّٰہُمَّ اِنَّانَعُوذُبِکَ مِنَ
الْفِتَنِ مَاظَہَرَمِنْہَاوَ مَا بَطَنَ…اَللّٰہُمَّ اِنَّانَعُوْذُبِکَ مِنْ
فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ …
خاص
خاص اوقات میں ان دعاؤں کازیادہ اہتمام ہو…نفل نماز کے رکوع سجدے میں بھی
گڑگڑاکریہ دعائیں مانگنی چاہئیں …اور ’’التحیات‘‘ کے اخیرمیں توان
کی پکّی ترتیب بنانے کی کوشش کرنی چاہیے…یہ دعائیں قبول ہوگئیں توہم بہت خوش نصیب
اورکامیاب ہوجائیں گے…اورفکرآخرت کی برکت سے ہمارے دنیاکے مسئلے مسائل بھی ان شاء اللہ حل ہوجائیں گے…آج توہرطرف فتنے ہی
فتنے نظر آرہے ہیں…قرآن پاک کے دوجملے اچھی طرح یاد کرلیں… ایک توجب شیطان
دل میں ناشکری ڈالے …نعوذباللہ کوئی شک، وسوسہ دل میں آئے…یہ خیال آئے کہ
میرے ساتھ توبڑاظلم ہورہاہے تو… فوراً زورسے کہاکریں…
ذٰلِکَ
بِاَنَّ اللّٰہَ ہُوَالْحَقّ
بے
شک اللہ تعالیٰ’’حق‘‘ہے…اُس کاہرفیصلہ ’’برحق‘‘ ہے … اُس نے جوکچھ کیاحق
اورٹھیک کیا…ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ہُوَالْحَقُّ یہ مبارک جملہ بار بار پڑھا کریں
، ایک دوسرے کوسنایاکریں …اور اسے دل میں بٹھا دیں اورکبھی
کہاکریں…یَااَللّٰہُ یَاحَقُّ…بے شک اللہ تعالیٰ ’’حق‘‘ہے …اَنْتَ الْہَادِی
اَنْتَ الْحَقُّ لَیْسَ الْہَادِی اِلَّاہُو …لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ
الْمَلِکُ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ…اوردوسراجملہ قیامت کے بارے میں ہے… اللہ
تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
ذٰلِکَ
الْیَوْمُ الْحَقُّ
بے
شک قیامت کادن ’’برحق‘‘ہے…اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں،کوئی شبہ ہی نہیں…دل جب
زیادہ نوٹ گننے اور مانگنے لگے…بہت مکانوں اوردکانوں کاشوق غافل کرنے لگے…یا
دنیاکی عیاشی اچھی لگنے لگے تو یہ صدااپنے دل کوسنائیں…ذلک الیوم الحق… اے
غافل دل کیوں اس فانی دنیامیں پھنس رہاہے…اُس برحق اوریقینی دن کی تیاری
کر …ہمارے آقااورمحسن صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں
کامیابی والی دعائیں سکھائی ہیں… فتنوں کودیکھیں کس طرح سے گٹر کے کیڑوں کی
طرح اُبل اُبل کرسامنے آرہے ہیں …آج کل حضرت امام مہدی رضی اللہ
عنہ کے بارے میں عجیب عجیب فتنوں کازورہے… ہرملک میں اور ہر
شہرمیں طرح طرح کے کالے پیلے لوگ ’’مہدی‘‘ ہونے کادعویٰ کررہے ہیں…گوجرانوالہ کے
نجومی جو ’’مہدی‘‘کاصحیح لفظ نہیں لکھ سکتے بلکہ ’’امام مہندی‘‘کہتے ہیں وہ بھی
طرح طرح کی پیشین گوئیاں کررہے ہیں …اُدھرکچھ لوگ امام مہدی رضی
اللہ عنہ کاانکارکرنے پر تُلے ہوئے ہیں…یہ دونوں فتنے خطرناک
ہیں… مہدی کادعویٰ کرنے والے بھی ظالم ہیں…اورامام مہدی رضی اللہ
عنہ کے ظہور کاانکارکرنے والے بھی فتنہ ہیں… احادیث وروایات میں حضرت امام
مہدی رضی اللہ عنہ کی علامات بالکل واضح
طورپرموجودہیں … مسلمانوں کو ان علامات کاعلم ہو تو پھر کسی کے دعویٰ
یاانکارکرنے سے وہ دھوکہ نہیں کھائیں گے…مسلمانوں کواس فتنے سے آگاہ کرنے کے لئے ان شاء اللہ عنقریب’’القلم‘‘ میں حضرت امام
مہدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں تحقیقی مضامین کاسلسلہ شروع
کیاجائے گا… فی الحال اتنا یاد رکھیں کہ امام مہدی رضی اللہ عنہ
نے ضرور آنا ہے… وہ حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی اولاد میں سے حسنی
اورحسینی سیدہوں گے…اُن کانام محمداوراُن کے والدکانام عبداللہ ہوگا…حضرت شاہ رفیع
الدین رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق کے مطابق اُن کی والدہ محترمہ کانام
آمنہ ہوگا…اُن کی پیدائش مدینہ منورہ میں ہوگی… اور صورت،سیرت اور اخلاق میں
اپنے ناناحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہوں
گے … احادیث وروایات پرغورکرکے حضرات علماء کرام نے اُن کی تیس سے زائد
علامات لکھی ہیں…وہ مسلمانوں کے مقبول ترین خلیفہ ہوں گے…بہادر،جنگجواورفاتح ہوں
گے…اُن کازمانہ جہاد کازمانہ ہوگا…
بڑی
بڑی جنگیں لڑیں گے اورفتوحات پائیں گے … بہت سخی ہوں گے کہ جھولیاں
بھربھرکرمال تقسیم فرمائیں گے…اُن کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کی قمیص مبارک ، تلوارمبارک اورآپ صلی اللہ علیہ
وسلم کاجھنڈاہوگا …آسمانی فرشتے اُن کے لشکرکے ساتھ چلیں گے
اوراُن کے ہاتھوں پر عجیب کرامات اورفتوحات ظاہرہوں گی… اگر کوئی مسلمان صرف
ان علامات کوہی یادرکھے توبہت سے جعلی دعوے داروں سے اُس کی جان چھوٹ جائے گی…امام
مہدی س کے بارے میں انکاری نظریات رکھنے والوں میں سے ایک کانام
’’تمناعمادی‘‘ہے … ہمارے حضرت مفتی ولی حسن صاحب رحمۃ اللہ
علیہ فرمایاکرتے تھے کہ ’’تمنا عمادی‘‘منکرحدیث ہے … ’’تمنا
عمادی‘‘ ایک مؤرّخ قسم کے لفّاظ ادیب تھے…اصل تو ’’بہار‘‘کے رہنے والے
تھے مگرپھرکراچی آبسے … بہت شوخ ،چنچل اور گستاخ قلم کے مالک مگرکافی بدنصیب
سے انسان تھے…اس سے بڑے بدنصیبی کیا ہوگی کہ جن گناہوں سے اُن کادامن آسانی سے بچ
سکتا تھاان میں بھی اپناحصّہ زبردستی ڈالتے رہے … مثلاًحجّاج بن یوسف کے
زبردست مدّاح تھے … اور اُس کی قتل وغارت کودرست بناکراُس کی خونخواری
میں اپناحصّہ شامل کرتے تھے…حضرت عمربن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے دشمن
تھے … حضرت سعیدبن جبیر رضی اللہ عنہ کے سخت مخالف تھے…حضرات
تابعین کے بڑے بڑے محدّثین اور قرّاء کرام کونعوذباللہ عجمی نسل سازشی کہتے
تھے…امام زُہری اورحدیث شریف کے کئی ائمّہ کونعوذباللہ رافضی قراردے کراُمت
کااعتماد احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اُٹھانے کی مذموم
کوشش کرتے تھے…اپنی ان تمام قباحتوں کے باوجود ’’ردّ رافضیت‘‘کالیبل لگاکراہل حق
میں گھسے رہتے تھے…انہوں نے ایک بڑاظلم یہ کیاکہ قرآن پاک کی متواترقراء توں
کاانکارکیااوراس پرایک تلبیسی کتاب لکھی…مجھے یہ دیکھ کربہت دکھ ہواکہ انٹرنیٹ
پر’’منکرین حدیث‘‘نے اس کتاب کوبڑی تشہیر کے ساتھ لگایاہواہے…اللہ تعالیٰ مسلمانوں
کی اس فتنے سے حفاظت فرمائے…بندہ کے انتہائی مشفق استاذمحترم حضرت اقدس مولاناقاری
عبدالحق صاحب نوّراللہ مرقدہ نے تمناعمادی کے ’’فتنہ انکارقرأت ‘‘ کا تعاقب
فرمایا…اُن کے جانشین اورصاحبزادے حضرت مولاناقاری ضیاء الحق صاحب مدظلہ العالی
بھی اس بارے میں فکرمندہوئے…ان دونوں حضرات کی سعی مشکورسے حضرت مولاناقاری
محمدطاہرصاحب رحیمی نوراللہ مرقدہ اس فتنے کی طرف عقابی اندازسے جھپٹے اورانہوںنے
نوسوصفحات پرمشتمل ’’دفاع قراآت‘‘ نامی کتاب تصنیف فرمائی…فجزاہم اللّٰہ احسن
الجزاء عن اُمّۃ الاسلام…
ماشاء
اللہ بہت عمدہ،علمی ،تحقیقی اورنافع کتاب ہے… حضرت مولاناقاری ضیاء الحق صاحب
کاشکریہ کہ انہوں نے اس کتاب کاایک نسخہ بندہ کوبھجوایا…آج کل یہ کتاب نایاب
ہورہی ہے…قرآن پاک کے خدّام کو اس کی اشاعت کی فکرکرنی چاہیے…ہم خود بھی ان شاء اللہ اس سعادت کے لئے تیارہیں…اس کتاب کو
دیکھنے کے بعدیہ ارادہ بھی کرلیاہے کہ … ان شاء اللہ آئندہ سال شوال سے
ہمارے جامعہ میں ’’قراآت متواترہ عشرہ‘‘کی تعلیم کاباقاعدہ نظام قائم کیاجائے
گا… اہل اسلام تمنّاعمادی اوردیگرمنکرین حدیث کے فتنے سے اپنی حفاظت
کریں…اوراس کے لئے کثرت سے یہ دعامانگاکریں
اَللّٰہُمَّ
اِنَّانَعُوْذُبِکَ مِنَ الْفِتَنِ مَاظَہَرَمِنْہَاوَمَابَطَنَ
نَعُوْذَبِاللّٰہِ
مِنَ الْفِتَنِ مَاظَہَرَمِنْہَاوَمَابَطَنَ
آمین
یاارحم الراحمین
اللّٰہم
صل علی سیدناومولانامحمدالنبی الامی وعلی آلہ وصحبہ وسلم تسلیماکثیراکثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ توفیق عطاء فرمائے آج میں اور آپ مل کر قرآن پاک پڑھتے ہیں… سبحان اللہ ، قرآن پاک، ہمارے عظیم رب کا کلام، ہدایت کا سرچشمہ… ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ ہمارے پاس’’قرآن مجید‘‘ موجود ہے، الحمدللہ ، الحمدللہ ، الحمدللہ … اللہ تعالیٰ ہمیں اس نعمت کی قدر نصیب فرمائے…
کامیابی
کا واحد راستہ
اللہ تعالیٰ
کا ارشاد گرامی ہے:
(۱) ترجمہ: دین
تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ’’اسلام‘‘ ہے۔ (ال عمران ۱۹)
(۲) ترجمہ: اور
جو شخص’’اسلام‘‘ کے سوا کسی اور دین کوچاہے وہ اُس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا
اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہو گا (ال عمران ۸۵)
(۳) ترجمہ: آج
ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور
تمہارے لئے’’اسلام‘‘ کو دین پسند کیا۔
(۴) ترجمہ: پس
جس شخص کو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہدایت بخشے اْس کا
سینہ’’اسلام‘‘ کے لئے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کا سینہ تنگ
اور گُھٹا ہوا کر دیتا ہے گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے۔( الانعام ۱۲۵)
(۵) ترجمہ: بھلا
جس شخص کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لئے کھول دیا ہے پس
وہ اپنے پروردگار کی طرف سے روشنی پر ہے( تو کیا وہ سخت دل کافر کی طرح ہو سکتا
ہے؟) (الزمر ۲۲)
(۶) ترجمہ: اور
اُس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے،
حالانکہ’’اسلام‘‘ کی طرف اُسے بلایا جارہا ہو
اور اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا(
الصّف ۷)
الحمدللہ ہم کتنے خوش نصیب ہیں
کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی عظیم الشان کتاب میں سے چھ
آیات پڑھنے کی توفیق عطاء فرمائی… قرآن مجید میں سے ان آیات کو پڑھ لیں
اور اُن کا ترجمہ بھی یاد کر لیں… اور پھر شُکر میں ڈوب جائیں
کہ… اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے فضل سے ’’اسلام‘‘ کی نعمت
عطاء فرمائی ہے… الحمدللہ ، الحمدللہ ، الحمدللہ … ان آیات سے معلوم ہوا
کہ… رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد صرف دین اسلام
ہی سچا اور مقبول دین ہے… کافر اورغیر مسلم سب کے سب ناکام ہیں، نامُراد ہیں
اور بد نصیب ہیں… خواہ وہ کسی مُلک کے صدر ہوں، بڑے مالدار ہوں، ماہر
سائنسدان ہوں، یونیورسٹیاں بنانے والے ہوں… یا بڑے بڑے کھلاڑی… یہ سب
بہت سخت عذاب اور خسارے میں ہیں… کیونکہ وہ اصل نعمت اور روشنی… یعنی
دین اسلام سے محروم ہیں… یہ عقیدہ قرآن پاک کی بہت سی آیات میں سمجھایا اور
یاد کرایا گیا ہے… مزیدتفصیل جاننی ہو تو’’فتح الجوّاد‘‘ میں ’’سورۃ
محمد‘‘… یعنی ’’سورۃ القتال‘‘ کا مطالعہ کر لیجئے… آئیے اسلام کی نعمت
ملنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں
الحمدللہ علیٰ نعمۃ
الاسلام… سبحان اللہ علیٰ نعمۃ
الاسلام… اللہ اکبر علیٰ نعمۃ الاسلام
سبحان اللہ
،و الحمدللہ و اللہ اکبر علیٰ
ماھدانا… الحمدللہ الذی ھدانا لھذا
وماکنا لنھتدی لولا ہدانا اللہ …
دعاء
کریں اور کوشش کریں کہ یہ نعمت ہمارے پاس محفوظ رہے اور مرتے وقت ہم اسلام پر
مریں…
موت
اللہ تعالیٰ
کا ارشاد گرامی ہے:
(۱) ترجمہ: ہر
جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور تمہیں قیامت کے دن پورے پورے بدلے ملیں گے پھر
جو کوئی جہنم سے دور رکھا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا پس وہ پورا کامیاب ہو گیا
اور دنیا کی زندگی سوائے دھوکے کی پونجی کے اور کچھ نہیں(ال عمران ۱۸۵)
(۲) ترجمہ: (
وہ اللہ تعالیٰ) جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ
تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کس کے عمل اچھے ہیں(المُلک ۲)
(۳) ترجمہ: اور
ہم نے ہی انسان کو پیدا کیا ہے، اورجو خیالات اس کے دل میں گذرتے ہیں ہم اُن کو
جانتے ہیں اور ہم اُس کی رگِ جان سے بھی اُس سے زیادہ قریب ہیں جب (وہ کوئی کام
کرتا ہے تو) دو لکھنے والے جو دائیں بائیں بیٹھتے ہیں لکھ لیتے ہیں، کوئی بات اس
کی زبان پر نہیں آتی مگر ایک نگہبان اُس کے پاس تیار رہتاہے اور موت کی
سکرات(یعنی بے ہوشی) تو ضرور آکر رہے گی یہی ہے وہ جس سے تو بھاگتا تھا(قٓ ۱۶ تا ۱۹)
(۴) ترجمہ: تم
جہاں کہیں ہو گے، موت تمہیں آہی پکڑے گی، اگرچہ تم مضبوط قلعوں میں ہی
ہو(النساء ۷۸)
(۵) ترجمہ: کاش
تم ان ظالم لوگوں کو اُس وقت دیکھو جب وہ موت کی سختیوں میں(مبتلا) ہوں اور فرشتے
اپنے ہاتھ بڑھا رہے ہوں کہ نکالو! اپنی جانیں آج تم کو ذلت کے عذاب کی سزا دی
جائے گی(الانعام ۹۳)
(۶) ترجمہ: (یہ
لوگ اسی طرح غفلت میں رہیں گے) یہاںتک کہ جب اُن میں سے کسی کے پاس موت آجائے گی
تو کہے گا اے پروردگار مجھے پھردنیا میںواپس بھیج دے تاکہ جسے میں چھوڑ آیا ہوں
اس میں نیک کام کر لوں… ہرگز نہیں ایک بات ہی بات ہے جسے یہ کہہ رہاہے اور ان
کے آگے ایک پردہ پڑا ہوا ہے قیامت تک( کہ اس پردے یعنی برزخ کو عبور کر کے دنیا
میںواپس نہیں آسکیں گے)(المومنون ۹۹،۱۰۰)
الحمدللہ ہم نے چھ مقامات اور پڑھ لئے… اپنے عظیم رب
کی سچی باتیں… بے شک موت نے آنا ہے، اس یقین کو دل میں بٹھائیں گے… اور
اس کی تیاری کریں گے تو ہم پکے اوراچھے مسلمان بن جائیں گے… یقین کریں ہم موت
سے نہیں بھاگ سکتے… ہاںمگر اپنی موت کو اچھا اور مزیدار بنانے کی دعاء اور
محنت کرسکتے ہیں… پھر دیر کس بات کی …آج سے ہی دعاء اور تیاری شروع ہو
جائے… اللھم بارک لی فی الموت وفیما بعد الموت
موت
نما مزیدار اورطاقتور زندگی
اللہ تعالیٰ
کا ارشاد گرامی ہے:
(۱) ترجمہ: اور
جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مرا ہوا نہ کہا
کرو، بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تم نہیں سمجھتے(البقرہ ۱۵۴)
(۲) ترجمہ: اور
اگر تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل کئے گئے یا مر گئے
تو اللہ تعالیٰ کی مغفرت اوراُس کی رحمت اُس چیز(یعنی مال و
اسباب) سے بہترہے جو لوگ جمع کرتے ہیں(ال عمران ۱۵۷)
(۳) ترجمہ: اور
جو لوگ اللہ تعالیٰ کے راستے میں مارے گئے انہیں مردے نہ
سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے ہاں سے رزق دیئے جاتے
ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جو انہیں دیا ہے اُس پر
خوش ہونے والے ہیں… الآیۃ (ال عمران ۱۶۹،۱۷۰)
(۴) ترجمہ: اور
جو شخص اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کی طرف ہجرت کر کے گھر
سے نکل جائے پھر اُس کو موت آپکڑے تو اُس کا ثواب اللہ تعالیٰ کے ذمے
ہو چکا (النساء ۱۰۰)
(۵)ترجمہ: اور
جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کی، پھر وہ قتل
کئے گئے یا مرگئے بے شک اللہ تعالیٰ اُن کو اچھی روزی دے گا
اوریقیناً اللہ تعالیٰ بہتر رزق دینے والا ہے اور اُن کو
ایسے مقام میںداخل کرے گا جسے وہ پسند کریں گے اور بے
شک اللہ تعالیٰ جاننے والا، برُدبار ہے(الحج ۵۸،۵۹)
(۶) ترجمہ: اور
جو اللہ تعالیٰ کی راہ میںمارے گئے
ہیں اللہ تعالیٰ اُن کے اعمال ضائع نہیں فرمائے گا(بلکہ)
جلدی انہیں راہ دکھلائے گا اور اُن کا حال درست کردے گا اور انہیںجنت میں داخل کرے
گا جس کی حقیقت انہیں بتا دی ہے (محمد ۴ تا ۶)
الحمدللہ ہم کتنے خوش نصیب ہیں
کہ… اللہ کریم نے ہمیںاپنی کتاب میں سے چھ مزید مقامات
پڑھنے کی توفیق عطاء فرمادی… مزے لے لے کر قرآن پاک میں سے اُن کی تلاوت
کریں پھر ترجمے کو پڑ ھیں اور سمجھیں… اور ان آیات میںموت کو شکست دینے کا
جو طریقہ لکھاہے اُسے اختیار کرلیں… جی ہاں جہاد اور ہجرت کا راستہ… بس
نیت کر لیں اور راستہ پکڑ لیں… پھر قتل ہوں یا عام موت آئے… منزل پر
پہنچیں یا راستے میں کھپ جائیں… کوئی فتح ملے یا ظاہری شکست
اُٹھائیں… کوئی نتیجہ نظر آئے یا بالکل نہ آئے… کوئی فرق نہیں، ذرہ
برابر فرق نہیں… ہاں جس کی نیت جتنی اونچی اور جس کی محنت اور قربانی جتنی
زیادہ اُس کو اُتنا زیادہ مقام ملتاہے…
عذاب
اور اُس سے بچاؤ
قرآن
پاک نے ’’عذاب‘‘ کے مسئلے کو تفصیل سے بیان فرمایاہے صرف’’العذاب‘‘ کا لفظ دو سو
چونسٹھ(۲۶۴) بار اور’’عذابا‘‘ کا لفظ اُنتالیس (۳۹) بار
قرآن مجید میں آیا ہے… جبکہ اسی لفظ کے دیگر صیغے بھی درجنوں بار استعمال
ہوئے ہیں… قرآن پاک ’’عذاب‘‘ بھی بیان فرماتا ہے اور اُس کی اقسام
بھی… اور عذاب سے حفاظت اور بچاؤ کا طریقہ
بھی… اللہ تعالیٰ کا عذاب دنیا میں بھی آتاہے،اور مرنے کے
بعد بھی… اور اصل اور زیادہ سخت عذاب قیامت قائم ہونے کے بعد اُن لوگوں پر ہو
گا جو اس عذاب کے مستحق ہوں گے… جو لوگ اللہ تعالیٰ کے
عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں وہ اکثر عذاب الٰہی سے بچ جاتے ہیں اور جو لوگ’’ عذاب
الہٰی‘‘ سے بے فکرے ہوتے ہیںوہ اکثر اس عذاب میں پکڑے جاتے ہیں… اللہ تعالیٰ
کاعذاب کب آئے گا اور کس پر آئے گا اس کا علم اللہ تعالیٰ
کے سوا کسی کو نہیں… اور کونسی چیز عذاب ہے اور کونسی چیز عذاب نہیں یہ
بھی اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے… پانی میں ڈوب مرنا فرعون کے لئے اور
کافروں، نافرمانوں کے لئے سخت عذاب ہے … جبکہ مجاہدین کیلئے حالت جہاد
میں ڈوب کر مرنا دُگنے اجر کا ذریعہ اوربڑی شہادت ہے… آگ میں جل مرنا کافروں
اورنافرمانوں کے لئے عذاب ہے جبکہ اصحاب الاخدود کے واقعہ میںجو اہل ایمان جلائے
گئے وہ سیدھے جنت کی ٹھنڈی ہواؤں میں داخل ہو گئے… ہم سب مسلمانوں کو قرآن
پاک کی اُن آیات میںغور کرنا چاہئے جو ’’عذاب‘‘ کوبیان فرماتی ہیں… اور ہم
سب کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بے حد ڈرنا چاہئے… اور
اُن طریقوں کو اختیار کرنا چاہئے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے
بچنے کا ذریعہ ہیں…
اللہ تعالیٰ
کا ارشاد گرامی ہے:
(۱) ترجمہ: کیا
تم اُس سے ڈرتے نہیں جو آسمان میں ہے کہ تمہیں زمین میں دھنسادے پس یکایک وہ زمین
لرزنے لگے،کیا تم اُس سے بے خوف ہو گئے ہو جوآسمان میں ہے کہ وہ تم پر پتھر برسا
دے پھر تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا ہے(المُلک ۱۶،۱۷)
(۲) ترجمہ: کیا
بستیوں والے بے خوف ہو چکے ہیں کہ ہماری طرف سے اُن پر رات کو عذاب آئے جب وہ
سورہے ہوں یا بستیوںوالے اس بات سے نڈر ہو چکے ہیں کہ اُن پر ہمارا عذاب دن چڑھے
آئے جب وہ کھیل رہے ہوں،کیا وہ اللہ تعالیٰ کی اچانک پکڑ
سے بے فکر ہو گئے ہیں، پس اللہ تعالیٰ کی اچانک پکڑ سے بے
فکر نہیں ہوتے مگر نقصان اٹھانے والے(الاعراف ۹۷ تا ۹۹)
(۳) ترجمہ: اور
اُن اچھی باتوں کی پیروی کرو جوتمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف نازل کی گئی ہیں اس
سے پہلے کہ تم پر ناگہاں عذاب آجائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو، کہیں کوئی نفس کہنے
لگے ہائے افسوس اُس پر جو میں نے اللہ کے حق میں کوتاہی کی
اور میں توہنسی ہی کرتا رہ گیا یا کہنے لگے اگر اللہ تعالیٰ مجھے ہدایت
کرتا تو میں پرہیز گاروں میں ہوتا یا کہنے لگے جس وقت عذاب کو دیکھے گا کہ کاش
مجھے میسر ہوتا واپس لوٹنا تو میں نیکو کاروںمیں سے ہوجاؤں… ہاںتیرے پاس
میری آیتیں آچکی تھیں پس تو نے انہیں جھٹلایا اور تو نے تکبر کیا اور تو
منکروں میں سے تھا (الزمر ۵۵ تا۵۹)
(۴) ترجمہ: اے
ایمان والو! تمہیں کیا ہوا جب تمہیں کہا جاتا ہے
کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد پر نکلو تو زمین پر گِرے
جاتے ہو، کیا تم آخرت کو چھوڑ کر دنیا کی زندگی پر خوش ہوگئے ہو، دنیا کی زندگی
کا فائدہ توآخرت کے مقابلہ میں بہت ہی کم ہے، اگر تم نہ نکلو گے
تو اللہ تعالیٰ تمہیںدرد ناک عذاب میں مبتلا کرے
گااورتمہاری جگہ اور لوگ پیدا کرے گا اور تم اُسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکو گے
اور اللہ تعالیٰ ہر چیزپر قادر ہے( التوبہ ۳۸، ۳۹)
(۵) ترجمہ: اور اللہ تعالیٰ
ایسا نہ کرے گا کہ انہیں آپ کے ہوتے ہوئے عذاب دے دے
اور اللہ تعالیٰ انہیں عذاب دینے والے نہیں اس حال میں کہ
وہ استغفار کرتے ہوں۔(الانفال ۳۳)
(۶) ترجمہ: اے
ایمان والو! کیا میں تمہیں ایسی تجارت بتاؤں جو تمہیں درد ناک عذاب سے نجات دے،
تم اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول پر ایمان لاؤ اور
تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوںسے
جہاد کرو، یہی تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو(ا لصّف ۱۰،۱۱)
الحمدللہ ہم نے مزید چھ مقامات سے قرآن پاک کو پڑھنے کی
سعادت حاصل کی… ان آیات کی تلاوت کر کے ان کا ترجمہ توجہ سے
پڑھیں… پہلے چار مقامات پر عذاب کا تذکرہ ہے اورآخری دو مقامات میں عذاب سے
حفاظت کے طریقے ارشاد فرمائے ہیں… اللہ تعالیٰ اور
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرایمان تو بنیاد
ہے… اس کے بعد جہاد اور استغفار وہ دو بڑی چیزیں ہیں جن کواختیار کر کے ہر
مسلمان اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ سکتا
ہے… اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو ان دو اعمال کی بھرپور
اور مقبول توفیق عطاء فرمائے… اور ہم سب کو اپنے عذاب سے دنیا اور آخرت میں
بچائے…
آمین
یا ارحم الراحمین
اللھم
یا ارحم الراحمین صل علی محمد ھو رحمۃ للعالمین وعلیٰ الہ وصحبہ اجمعین وبارک وسلم
تسلیما کثیر ا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
جسے چاہتا ہے حکومت عطاء فرماتا ہے اور جس سے چاہتا ہے حکومت چھین لیتا ہے…
قُلِ
اللّٰھُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآئُ وَتَنْزِعُ
الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآئُ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآئُُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآئُُ
بِیَدِکَ الْخَیْرُ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ ( اٰل عمران ۲۶)
ترجمہ: کہہ
دیجئے! یا اللہ ، سلطنت کے مالک! جسے آپ چاہتے ہیں سلطنت دیتے ہیں اور
جس سے چاہتے ہیں سلطنت چھین لیتے ہیں جسے آپ چاہتے ہیں عزت دیتے ہیں اور جسے آپ
چاہیں ذلیل کرتے ہیں سب خوبی آپ کے ہاتھ میں ہے بے شک آپ ہر چیز پر قادرہیں
تیونس
مسلمانوں کا مُلک ہے مگروہاں’’ اسلامی جماعتوں‘‘ پر پابندی تھی… آپ نے سُن
لیا ہو گا کہ تیونس میں بڑی تبدیلی آرہی ہے… مُلک کا صدر، مُلک کا سونا چُرا
کر بھاگ گیا ہے… پچیس سالہ مضبوط اقتدار عوامی مظاہروں کے سامنے مکڑی کا جالا
ثابت ہوا… اور اب تیونس ایک نئی کروٹ لے رہا ہے… مگر زیادہ حیران کن
حالات تو’’مصر‘‘ کے ہیں… ہر مسلمان’’مصر‘‘ کو خوب جانتا ہے…حضرت یوسف علیہ
السلام والا مصر جس کاتذکرہ قرآن مجید میں بار بار آیا ہے… اکابر فرماتے
ہیں کہ جس کو شہادت کا شوق ہو وہ ’’سورۂ یوسف‘‘ زیادہ پڑھا کرے ان شاء
اللہ شہادت نصیب ہو گی… ایک مسلمان بہن نے خط میں پوچھا کہ
شہادت کا بے حد شوق ہے کوئی وظیفہ بتائیں… جواب میں لکھا کہ صدق دل سے شہادت
کی دعاء کرنا، سورۂ یوسف کی زیادہ تلاوت کرنا
اور اللہ تعالیٰ کا اسم مبارک’’یا شہید‘‘ زیادہ
پڑھنا… شہادت پانے کے لئے مفیدوظائف ہیں… شہادت بہت بڑی ،بہت میٹھی، بہت
لذیذ، بہت حسین، بہت خوشبودار، بہت منّور، بہت البیلی، بہت انمول، بہت
مست… اور بہت ہی زیادہ اونچی اور مزیدار نعمت
ہے… اللہ تعالیٰ رحم فرمائے بعض لوگ شہادت سے ڈرتے بھی
ہیں… ایسا نہ ہو کہ وہ شہادت کے ڈر سے سورۂ یوسف کی تلاوت ہی
چھوڑدیں… مہربانی فرما کر ایسا ہرگز نہ کریں… سورۂ یوسف میں ’’مصر‘‘ کے
کئی عجیب احوال اور خصوصیات کاتذکرہ ہے… پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت
ہارون علیہ السلام کاواقعہ تو قرآن پاک میں بار بار آیا ہے… مصر کے
’’فرعون‘‘ کا تذکرہ بھی بہت زیادہ ہے… حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ قرآن
پاک کے تیس میں سے اٹھائیس پاروں میں موجود ہے… وہ انبیاء د جن پر قرآن پاک
میں نام لے کر’’سلام‘‘ کا تذکرہ ہے… ان میں حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی شامل
ہیں… آپ سب قارئین بھی انبیاء د پر سلام بھیجا کریں… قرآن پاک کی دو
آیات پڑھنے سے اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاء اور رسولوں تک
سلام پہنچ جاتا ہے… دیکھا کتنی بڑی خوش نصیبی ہے…
الْحَمْدُ
لِلّٰہِ وَسَلاَمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی (النمل ۵۹)
ترجمہ: سب
تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے اور اُس کے برگزیدہ بندوں پر
سلام ہے
وَسَلاَمٌ
عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (الصافات ۱۸۱)
ترجمہ: اور
رسولوں پر سلام ہو اور سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو
سارے جہان کا رب ہے
ان
دو آیات کو اپنے معمولات میں شامل کر لیں… اسی طرح جن انبیاء دکانام لے کر
سلام کا تذکرہ ہے … وہ آیات بھی پڑھا کریں…
سَلاَمٌ
عَلٰی نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ (الصافات ۷۹)
سَلاَمٌ
عَلٰٓی اِبْرٰھِیْمَ (الصافات ۱۰۹)
سَلاَمٌ
عَلٰی مُوْسٰی وَ ھٰرُوْنَ (الصافات ۱۲۰)
سَلاَمٌ
عَلٰٓی اِلْ یَاسِیْنَ (الصافات ۱۳۰)
اور
سب سے بڑھ کر اپنے آقا و محسن امام الانبیاء سید المرسلین حضرت محمد صلی اللہ
علیہ وسلم پر سلام بھیجنے کا تو اللہ تعالیٰ نے
خود قرآن پاک میں حکم فرمایا ہے
اِنَّ
اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ یٰٓاَیُّھَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا
تَسْلِیْمًا…( الاحزاب ۵۶)
ترجمہ: بے
شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درو د بھیجتے ہیں اے ایمان
والو تم بھی اس پر درود اور سلام بھیجو
التحیات
میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجنے کا طریقہ خود
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا ہے
السَّلاَمُ
عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ
وَرَحْمَۃُ اللہ وَبَرَکَاتُہٗ
ہم
جب بھی دُور سے یہ سلام پڑھتے ہیں تو فرشتے فوراً اسے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیتے
ہیں… اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا جواب ارشادفرماتے
ہیں… سبحان اللہ کتنی بڑی سعادت ہے… اسلام کے ان
الفاظ میں نہ کوئی شرک ہے نہ کوئی بدعت اورنہ اس سے حاضر و ناظر کا عقیدہ ثابت
ہوتا ہے… ہر جگہ حاضر و ناظر تو صرف اور
صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے… سلام کے یہ الفاظ خود حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائے ہیں… ویسے جودرود شریف
بھی پڑھیں اس کے ساتھ سلام کو ملا لیا کریں… ’’سلام‘‘ خوداسلام کی ایک مقبول عبادت
ہے… اور ’’السَّلام‘‘ اللہ تعالیٰ کا اسم مبارک
ہے… اورہم سب سلامتی کے محتاج ہیں… اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم پر اور تمام انبیاء علیہم السلام پر سلام بھیجنا اور پڑھنا بڑی
سعادت کی بات ہے… حضرت موسیٰ علیہ السلام ’’مصر‘‘ میں پیدا
ہوئے… آپ کی والدہ نے آپ کو قتل سے بچانے کے
لئے اللہ تعالیٰ کے حکم سے صندوق میں بند کر کے دریا میں
ڈال دیا… دریا، پانی، چشمے اور سمندر کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں
عجیب اثر ہے… اسی پانی میں تیرتے ہوئے فرعون کے محل جا پہنچے… فرعون کے
گھر آپ کی پرورش ہوئی… کمزور بچیوں کو پانی بھر کر دیا تو رہائش اور رشتہ
ملا… اور بالآخر سب سے بڑا دشمن پانی میں غرق ہو کر ڈوب مرا… اور جب
پتھر پرلاٹھی ماری تو اپنی قوم کے لئے بارہ چشمے پانی کے پُھوٹ
پڑے… اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو پانی کی قدر اور سمجھ
نصیب فرمائے… اور زیادہ سے زیادہ مخلوقات
کو اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے پانی پلانے کی توفیق عطاء
فرمائے… پانی کا تذکرہ آتے ہی’’کالم‘‘ پانی پلانے کے فضائل کی طرف پھسل رہا
ہے… ایسا پھسلنا بھی اچھا مگر ہم پھسلنے کی بجائے ’’مصر‘‘ چلتے ہیں، کیونکہ
وہاں آج کل بہت شور شرابا اور ہلچل ہے… کچھ عرصہ پہلے امارات جانا ہوا
تھا… وہاں کویت اور دبئی کے اسلامی رسائل میں مصر کے موجودہ صدر’’ حسنی
مبارک‘‘ کو ’’فرعون مصر‘‘ لکھا ہوتا تھا… اور اُس کے عجیب و غریب مظالم بھی
بیان کئے جاتے تھے… مصر کے حکمرانوں نے’’ اسلامی تحریکوں‘‘ کا ایسا گلا دبایا
کہ دور دور تک کسی شورش یا یورش کے آثار نہیں تھے… ان حکمرانوں نے ’’جامعہ
ازھر‘‘ کے توسط سے ’’اسلام‘‘ کو سرکاری تحویل میں چھپا رکھا تھا… جمال
عبدالناصر نے اخوان کی تحریک کو ایسا کُچلا کہ’’اخوان‘‘ آزادی سے دستبردار ہو کر
پارلیمنٹ کی چند سیٹوں تک محدود ہو گئے… بڑے بڑے لوگوں کوپھانسی پر لٹکا دیا
گیا… جہاد کا تو نام لینا ہی ممنوع تھا… جبکہ پورا مصر اسرائیل اور
امریکہ کی خدمت اور چوکیداری کے لئے وقف تھا… یہاں ایک مزیدار بات سُن
لیں… ہمارے سابق صدر آنجہانی پرویز مشرّف کے دل میں کبھی کبھار’’کمال اتاترک‘‘
اور’’جمال عبدالناصر‘‘ بننے کا شوق اٹھتا تھا… وہ دونوں اگرچہ اسلام کے دشمن
تھے مگر ذاتی صفات اور صلاحیتوں سے مالا مال تھے… جبکہ مشرف صاحب کے پاس
’’اسلامی دشمنی‘‘ تھی… ذاتی صفات میں گانا، ناچنا ، شراب پینا، کرکٹ
دیکھنا… اور دن رات بولتے رہنا، بولتے رہنا… اب ان صفات کا حامل شخص نہ
تو اچھا ہیرو بن سکتا ہے اور نہ بُرا… مگر پھر بھی اُن کے دل میں شوق ابھرتا
تھا کہ وہ کوئی تاریخی شخصیت بن جائیں اور پاکستان کا نقشہ ہی بدل دیں… آپ
حیران ہوں گے کہ انہوں نے پاکستان کو ترکی اور مصر بنانے کے لئے باقاعدہ ایک خفیہ
کمیشن بنایا… مصر کی انٹیلی جینس ایجنسیوں سے اسلامی تحریکوں کو دبانے،
مولویوں کو سرکاری بنانے اور جہاد کا نام و نشان مٹانے کے گُر سیکھے… آزاد
دینی مدارس کو بند کر کے سرکاری تحویل میں چلنے والے ’’ماڈل دینی مدارس‘‘ کا خاکہ
تیار کیا… اور جہاد کے معنیٰ اور مفہوم کو بگاڑنے کے لئے ’’صوفی ازم‘‘ کا
باقاعدہ منصوبہ بنایا… پرویز مشرف تو ناکام رہا مگر مصر کی حکومت فرعونی
انداز سے چلتی رہی اور کسی کے خیال میں بھی نہ تھا کہ اگلے پچاس سال تک مصر میں
کوئی آزادی کی انگڑائی بھی لے سکے گا… مصر کے وہ غیور مسلمان جو یہ بدترین
غلامی برداشت نہیں کر سکتے تھے وہ دوسرے ملکوں میں ہجرت کرجاتے تھے… اخوان
المسلمین سے کچھ لوگوں نے الگ ہو کر’’الجماعۃ الاسلامیہ‘‘ بنائی… اسی جماعت
کے ایک رُکن خالد اسلامبولی شہیدس نے انور السادات کو قتل کیا… خالد
اسلامبولی فوج میں ملازم تھے… انہوں نے پریڈ کے دوران انورالسادات کو گولی
مار دی… اسی الجماعۃ الاسلامیہ کے شیخ عمر عبدالرحمن امریکہ کی جیل میں عمر
قید کی سزا کاٹ رہے ہیں… مصر کواپنی انٹیلی جینس پر بہت ناز تھا… مگر یہ
انٹیلی جینس اُس خاموش تحریک کاپتا نہ چلا سکی جو انٹرنیٹ اور موبائل کے ذریعے
منظم ہوتی رہی… آج مصر کے باشندے سڑکوں پر ہیں… بہت طویل غلامی کے بعد
روشنی کی ایک کرن نظر آئی ہے… کئی دہائیوں کے بعد مصر کی فضاء نے پھر ایمان
اورغیرت کے نعرے سنے ہیں… مصر کے بدنام زمانہ عقوبت خانوں کی کوٹھڑیاں پھر
تکبیر کے زمزموں سے آباد ہو چکی ہیں… افغانستان، بوسنیا، اور عراق کے دور دراز
علاقوں میں مصری شہداء کی قبروں پر امیدوں کی شبنم برس رہی ہے… یہ سب کچھ ایک
اچھے مستقبل کی نوید ہے… خود کو دنیا کی سپر پاور کہنے والا استعمار کمزور
ہوا ہے تو اب اُس کے مُہرے بھی ایک ایک کر کے گر رہے ہیں… کافروںنے نیٹ اور
موبائل کومسلمان قوم کی بربادی کے لئے استعمال کیا… مگر آج اسی ہتھیار کی
دھار خود اُن کی گردنوں پر ہے… مصر کے شہر قاہرہ سے پوری عرب دنیا کو فحش ویب
سائٹس فراہم کی جاتی تھیں… مگر آج قاہرہ، اسکندریہ اور سویز میں نیٹ پر
پابندی لگ چکی ہے…یہ پابندی ’’طالبان‘‘ یا’’ مذہبی شدّت پسندوں‘‘ نے نہیں لگائی
بلکہ… خود مصر کی سیکولر اور منافق حکومت نے لگائی ہے… جی ہاں تاریخ
گواہ ہے کہ جب مسلمان اٹھ کھڑا ہو تو پھر کافروں کے تمام ہتھیار خود اُن کی طرف
اپنا رخ کر لیتے ہیں… آج وقت ہے کہ ہم’’مصر‘‘ تیونس… اور تمام اسلامی
ممالک کے لئے ’’اچھے حکمرانوں‘‘ کی دعاء مانگیں… کیا معلوم اس دعاء کی برکت
سے ہمیں بھی اچھے حکمران نصیب ہو جائیں… اورہمیں بھی کفر اور نفاق کے پیادوں
اور سواروں سے نجات مل جائے… وما ذلک علی اللہ بعزیز…
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
ہم سب کو ’’نعمتوں‘‘ کی قدر کرنے والا بنائے… نعمتیں تو بہت لوگوں کو ملتی
ہیں مگر اُن کی ’’قدر‘‘ کوئی کوئی کرتاہے… اکثر لوگ تو بڑی بڑی ’’نعمتوں‘‘ کی
ناقدری کر کے محروم ہو جاتے ہیں… تھوڑا سا سوچیں! ایک عورت کے لئے وقت کے
رسول اورنبی کی بیوی ہونے سے بڑھ کر کوئی نعمت ہوسکتی
ہے؟… اللہ اکبر کبیرا اتنی عظیم نعمت جس کی عظمت کا تصور
بھی محال ہے… نبی اور رسول کی تو چند لمحے کی زیارت ہی بہت بڑی نعمت
ہے… تو پھر دن رات کی رفاقت کا کیامقام ہوگا؟… اربوں کھربوں انسانوں میں
سے اللہ تعالیٰ نے کم وبیش صرف ایک لاکھ چند ہزار افراد کو
اپنی نبوت اور رسالت کے لئے منتخب فرمایا… اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں
رسالت اور نبوت سے اونچا کوئی مقام نہیں ہے… حضرت نوح علیہ
السلام اللہ تعالیٰ کے بڑے رسول اور نبی ہیں… آپ کا
شمار اولوالعزم پیغمبروں میں ہوتا ہے… قرآن پاک میں جابجا آپ کا مبارک
تذکرہ موجود ہے … اور ایک پوری سورۃ کا نام’’سورۃ نوح‘‘ ہے… اُس
زمانے کی ایک عورت کو یہ عظیم نعمت ملی کہ وہ حضرت نوح علیہ السلام کے نکاح میں
آئی… مگر اُس ظالم نے ’’قدر‘‘نہ کی… استغفر اللہ ، استغفر
اللہ … اتنی عظیم نعمت کی ناقدری… اُس کے گھر میں’’وحی‘‘ نازل ہو
رہی تھی… اُس کے سرتاج کی زیارت کو ملائکہ اُتر رہے تھے مگر وہ اپنی ادنیٰ
خواہشات کی اسیر بنی رہی… اُسے اپنی قوم اور برادری کا ناز اور خیال رہا اور
وہ اصل نعمت کو بُھلا بیٹھی…بالآخر کافر مری اور ہمیشہ ہمیشہ کے عذاب میں غرق ہو
گئی… بڑے خوف کا مقام ہے جی ہاں بڑے خوف کا… قرآن پاک فرماتاہے کہ
کافروں کی مثال سمجھنی ہو تو حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ
السلام کی بیویوں کودیکھو… اللہ تعالیٰ نے اُن
کو نعمت دی مگر انہوں نے ناقدری اور خیانت کی… تب انبیاء د کے ساتھ رشتے داری
بھی اُن کے کام نہ آئی…یہ رشتہ داری کیسے کام آتی؟ انہوں نے کبھی اس رشتے کی قدر
ہی نہیں کی… اُن کی نظر میں وقتی مفادات تھے… اور وہ ہمیشہ ہمیشہ والی
حقیقی زندگی کو بھول چکی تھیں… اللہ ، اللہ
، اللہ … اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو ہماری
ماؤں پر… اُمہات المؤمنین نے ایک بار خرچے میںاضافے کا مطالبہ کیا… جی
ہاں معمولی سا مطالبہ… مگر اللہ تعالیٰ کو یہ پسند نہ
آیا… کیونکہ جو نعمت اُن خوش نصیب بیبیوں کو حاصل تھی… خاتم النبیین
حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کی نعمت… اس نعمت کے
ہوتے ہوئے عام دنیاوی نعمتوں کوسوچنا بھی اچھا نہیں تھا چنانچہ اعلان ہو گیا
کہ… دو چیزوں میں سے ایک چیز اختیار کر لو… یا
تو اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ
وسلم کو اختیار کر لو… تب دنیا کی ہر خواہش اور زیب و زینت کو
بُھلا دو… یہاں کی آسائشوں کا خیال بھی نہ لاؤ… اور اگر تمہیں دنیا کی
آرائشیں چاہئیں تو پھر آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سے جدائی کے لئے
تیار ہو جاؤ… اللہ ، اللہ
، اللہ … ہماری مقدس مائیں کانپ کر رہ گئیں… رسول اقدس
صلی اللہ علیہ وسلم سے جُدائی… نہیں، نہیں، ہر گزنہیں… خرچے
کا مطالبہ بھی خواہشات کے لئے نہ تھا بس کچھ آسانی مطلوب تھی… سب نے بیک
آواز پکار کر کہا…ہم اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ
علیہ وسلم کو اختیار کرتی
ہیں… سبحان اللہ … نعمت کی قدر کی تو
ماشاء اللہ کیسامقام پایا… کچے گھروں میں کھجور اور
پانی پر گزارا کرنے والی ہماری مقدس مائیں آج کن نعمتوں میں ہیں… کیا کوئی
اس کا تصور بھی کر سکتا ہے؟… اور جنت میں بھی وہ حضرت آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم کے ساتھ ہوں گی… ایک چچاکو اللہ تعالیٰ
نے عظیم بھتیجا دیا مگر اُس نے قدر نہ کی… وہ ابو لہب آگ میں گیا… اُس
کی روح سارادن اپنے لئے ہلاکت کا اعلان سنتی ہے… تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَھَبٍ
وَّتَبَّ… دوسرے چچا نے اپنے عظیم بھتیجے کی قدر کی… وہ
سیدالشہداء سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ بن گئے… اُن کا
نام سنتے ہی انسان پر عجیب وجد طاری ہوجاتا ہے… اللہ پاک
مدینہ طیبہ لے جائے شہداء اُحد کے ہاں حاضری دیں تو جسم کے اندر خون کی گردش خود
تیز ہو جاتی ہے… سبحان اللہ ! ہر مسلمان کو شہادت کی تمنا ہے اور
شہیدوں کے سردار ہیں حضرت سیدنا حمزہ رضی اللہ
عنہ … سچی بات ہے بہت سے مسلمان آج بھی اُن کی زیارت کے لئے
تڑپتے ہیں… حضرت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے بھی قدر
فرمائی… ماشاء اللہ خود بھی اونچے تھے… خوب دراز
قد، بنی ہاشم کے سردار… اور مقام بھی کتنا اونچا پایا… جو کوئی بھی حضرت
عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ اچھاسلوک کرتا تھا وہ رسول کریم
صلی اللہ علیہ وسلم کا محبوب بن جاتا … حضرت عمر رضی اللہ
عنہ کے زمانہ میں ایک بار قحط پڑا اور لوگ بارش کو ترس گئے… حضرت عمر رضی
اللہ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو ساتھ لیا اوراُن کے
وسیلے سے بارش کی دعا… اللہ تعالیٰ سے مانگی… اُن کی
دعاکے بعدحضرت سیدناعباس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے …آپ
کی آنکھوں سے آنسو ٹک ٹک برس رہے تھے… آپ نے اپنے ہاتھ اٹھا کر دعاء
مانگی… تھوڑی ہی دیر میں منظر کچھ یوں تھا کہ لوگ بارش سے بچنے کے لئے بھاگ
بھاگ کر دیواروں کی پناہ پکڑ رہے تھے… اور حضرت
عباس رضی اللہ عنہ کے مبارک جسم کو محبت اور احترام سے
چھوتے ہوئے کہہ رہے تھے… ھنیا یا ساقی الحرمین… اے حرمین کے ساقی
مرحبا… ’’حرمین کے ساقی‘‘… مکہ مکرمہ میں حُجَّاج کرام کو زمزم پلانے کی
خدمت بھی حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے پاس تھی… اور آج مدینہ طیبہ
کے باسی بھی آپ کی دعاء کی برکت سے سیراب ہو رہے تھے…
جی
ہاں نعمت کی قدر انسان کو بہت اونچا کر دیتی ہے… اس راز کوحضرت
سیدناعباس رضی اللہ عنہ نے خوب سمجھا… علاقائی دستور
اور قبائلی رواج کے مطابق تو بھتیجے کی پیروی کرنا ٹھیک نہیں تھا… مگر جس
کو اللہ تعالیٰ عقل عطاء فرمائے وہ کبھی ان
فضولیات کی خاطر بڑی نعمتوں سے محروم نہیںہوتا… پھر آگے دیکھیں! حضرت
عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے صاحبزادے مفسر القرآن حضرت عبد
اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما کو عجیب نصیحت فرمائی… جی ہاں ایک
بڑی نعمت کی’’قدر دانی‘‘ کا طریقہ سکھلایا… ارشاد فرمایا:
’’
اے بیٹے میں دیکھ رہا ہوں کہ امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ
عنہ تمہیں بزرگ صحابہ پر بھی ترجیح دیتے ہیں پس(اس نعمت کی قدر
کے لئے) پانچ باتوں کاخوب لحاظ رکھو
(۱) اُن کاراز کسی کے سامنے افشاء نہ کرنا
(۲) اُن کے سامنے کسی کی غیبت نہ کرنا
(۳) اُن سے جھوٹ نہ بولنا
(۴) کسی معاملے میں اُن کی نافرمانی نہ کرنا
(۵) اس کا خیال رکھنا کہ وہ تم سے کوئی خیانت نہ
دیکھیں
امام
شعبی پ فرماتے ہیں کہ ان پانچوں باتوں میں سے ہر بات ہزار باتوں اور نصیحتوں پر
بھاری ہے( احیاء علوم الدین)
اللہ تعالیٰ
کسی بھی مسلمان کو اپنے کسی مقبول بندے کی صحبت، اعتماد اور قُرب عطاء فرمائے تو
وہ ان پانچ باتوں کا خیال رکھے… تب وہ اس نعمت کی قدر کرنے والا ہو
گا… اور جو کسی نعمت کی قدر کرتاہے وہ اللہ تعالیٰ کی
طرف سے بڑے بڑے انعامات اور مقامات پاتا ہے… مگر شیطان کی بھرپور کوشش یہ
ہوتی ہے کہ وہ ہمیں ناقدرا اور ناشُکرا بنادے… شیطان خبیث ہمارا دشمن ہے اور
اُسے ہماری ہر نیکی سے تکلیف ہوتی ہے… تفسیر روح البیان میںاس پر ایک عجیب
واقعہ لکھاہے … حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
فرماتے ہیں…ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی طرف تشریف لے
گئے تو آپ نے دیکھا کہ وہاں ابلیس موجودہے… آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہیں کیا چیز میری مسجد کے دروازے پر لائی
ہے؟… ابلیس نے کہا یا محمد!( صلی اللہ علیہ وسلم ) مجھے اللہ تعالیٰ
یہاں لایا ہے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کس
لئے؟… کہنے لگا! اس لئے تاکہ آپ جو چاہیں مجھ سے پوچھیں… آپ صلی اللہ
علیہ وسلم نے پہلی بات یہ پوچھی کہ… اے ملعون! تم میری امت کو
جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے کیوں روکتے ہو؟شیطان نے کہا اے محمد( صلی اللہ علیہ
وسلم ) جب آپ کی اُمت نماز کے لئے نکلتی ہے تو مجھے گرم بخار اپنی لپیٹ میں لے
لیتا ہے اور جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے یہ بخارمیری جان نہیں
چھوڑتا… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میری اُمت کو
علم اور دعاء سے کیوں روکتے ہو؟… کہنے لگا جب آپ کے اُمتی دعاء کرتے ہیں تو
میں بہرا اور اندھا ہو جاتا ہوں اور اُس وقت تک ٹھیک نہیں ہوتا جب تک وہ ہٹ نہیں
جاتے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا! تم میری اُمت
کوقرآن سے کیوں روکتے ہو؟… اُس نے کہا… جب یہ قراء ت کرتے ہیں(یعنی قرآن
پاک کی تلاوت کرتے ہیں) تو میں سیسے کی طرح پگھلنے لگتا ہوں… آپ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاتم میری امت کو جہاد سے کیوں روکتے ہو؟…شیطان
نے کہا یہ جب جہاد پر نکلتے ہیں تو میرے پاؤں میں بیڑی ڈال دی جاتی ہے اور ان کے
واپس آنے تک میں قید رہتا ہوں… اور جب یہ حج کے لئے نکلتے ہیں تو ان کے واپس
آنے تک میں زنجیروں اور طوقوں میں جکڑا رہتاہوں اور جب یہ صدقہ کا ارادہ کرتے ہیں
تو میرے سر پر آرا رکھ دیا جاتا ہے جو میرے سر کو یوں کاٹتا ہے جس طرح لکڑی کو
چیرا جاتا ہے… (روح البیان، تفسیر حدائق الروح والریحان)
اللہ تعالیٰ
کے کسی مقرب اور مقبول بندے کی صحبت اور رفاقت تو اُن تمام اعمال کا ذریعہ بنتی ہے
جن اعمال سے شیطان کو تکلیف پہنچتی ہے… اس لئے وہ پوری کوشش کرتا ہے کہ انسان
سے یہ نعمت چھن جائے… ابھی آخری زمانے میں اللہ تعالیٰ
نے حضرت سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کو اُمت مسلمہ میں ایک عظیم مصلح
اور مجدّد کی صورت میں پیدا فرمایا… اُن کے زمانے کے خوش نصیب لوگوں نے اس
نعمت کو پہچان لیا اور پھر ہر قربانی دے کر اس نعمت کی قدر کی… ان اہل وفا کی
عجیب داستان ہے… آج اہل علم اور اہل قلم جب بھی ایمان، عزیمت اور وفا کی
داستان لکھنے بیٹھتے ہیں تو انہیں حضرات کو بطور حوالہ کے پیش کرتے ہیں… حضرت
سید صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی برکت سے دنیا میں ان حضرات کو
ایمان، جہاد، جماعت اور شہادت کی نعمتیں ملیں… اور شہادت کے بعد آخرت کی
نعمتیں الگ اوردنیا میں نیکیوں اور دعاؤں کے سلسلے الگ… اور وہ لوگ جنہوں نے
وقتی مفادات کو سامنے رکھ کر اس نعمت کی ناقدری کی وہ بھی… اپنے وقت سے زیادہ
نہ جی سکے اور نہ اپنے مقدر سے زیادہ روزی پا سکے… ہاں بہت سی سعادتیں اُن کے
گھر کے آنگن میں اُتر کر پھر اُن سے روٹھ کر چلی گئیں… آج یہ سب باتیں
اچانک میرے ذہن میں … ایک خط پڑھنے کے بعد آئیں… یہ خط مجلس تحفظ
ختم نبوت کے مرکزی نائب امیر… اور اکابر کی صحبتوں سے منجھے ہوئے ایک بڑے
بزرگ عالم دین کا ہے… حضرت اقدس ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر مدظلہ
العالی… حضرت اقدس بنوری رحمۃ اللہ علیہ کے خاص شاگرد اور
معتمد… اورآج مسند بنوری رحمۃ اللہ علیہ کے
تاجدار… حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ نے اُن کو ’’عصائے بنوری ‘‘ کا لقب
دیا… نامور عربی ادیب اور دلکش ، شائستہ مزاج کے حامل، شفیق استاذ… میری
سعادت ہے کہ اُن سے نحو میر بھی پڑھی… اور پھر مشکوٰۃ شریف کا ایک حصہ
بھی… اُن کا یہ عمومی خط حضرت مولانا سعید احمد جلالپوری شہید رحمۃ اللہ علیہ
کے بارے میں مضمون لکھنے کے حکم پر مشتمل ہے… حضرت مولانا سعید احمد
جلالپوری رحمۃ اللہ علیہ کا نام پڑھا تو میرا
ذہن… نعمت اور اُس کی قدر کے موضوع پر سوچنے لگا… ہم نے مولانا سعید
احمد جلالپوری رحمۃ اللہ علیہ کو اُس زمانے میں بھی دیکھا جب
ماشاء اللہ بالکل نوجوان تھے… قسمت کی خوبی دیکھیں کہ
ان کی تشکیل حضرت لدھیانوی شہید رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ بطور معاون ہو
گئی… وہ ماہنامہ بینات کے دفتر میں حضرت لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ کے دائیں
طرف بیٹھے رہتے تھے اور حضرت جو کتاب طلب فرماتے وہ نہایت پھرتی کے ساتھ تیزی سے
اٹھا کر حضرت کو پیش کر دیتے… اُس وقت نہ وہ خود مضامین لکھتے تھے اور نہ
تصنیف و تدریس سے کوئی خاص رشتہ تھا… مگر اُن کو’’پارس‘‘ کی صحبت مل گئی
تھی… اُن کی قسمت اچھی تھی انہوں نے اس صحبت کی قدر اور حفاظت کی… اور
ہر طرح کے حالات میں حضرت سے چمٹے رہے… استقامت اور وفا بڑی چیز ہے… یہ
انسان پر ترقی کے تمام دروازے کھول دیتی ہے… حضرت لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ کی
قدر کرنے پر اللہ تعالیٰ نے حضرت مولانا سعید احمد جلالپوری
رحمۃ اللہ علیہ کو ماشاء اللہ خوب نوازا… اُن سے علمی
اور تحریری میدان میں کافی کام لیا… اوربالآخر اُن کو حضرت لدھیانوی
شہیدرحمۃ اللہ علیہ کے قائم فرمودہ ’’ادارے‘‘ مزار شہداء میں بھی جگہ مل
گئی… اللہ تعالیٰ اُن کے درجات بلند
فرمائے… اور اللہ تعالیٰ ہمیں بھی حقیقی نعمتوں کی
’’قد ردانی‘‘ نصیب فرمائے…
آمین
یا ارحم الراحمین
اللھم
صل علی سیدنا و مولانا محمد وعلی الہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ کا شُکر ہے’’ حُسنی‘‘ چلا گیا… مسلمانوں کو ’’مُبارک‘‘ ہو۔ الحمد للہ
دنیا تیزی سے بدل رہی ہے… صیہونیت کا جال ٹوٹ رہا ہے… انگریزی استعمار
کے بُرے اثرات ختم ہو رہے ہیں…اور’’مسلمان‘‘ جاگ رہا ہے… یہ سب کچھ اللہ
تعالیٰ کا فضل ہے… جو ’’جہاد‘‘ کی محنت اور شہداء کے خون کی برکت سے نازل ہو
رہا ہے… الجزائر میں بھی تحریک پُھوٹ پڑی ہے اوریمن بھی ’’ اللہ اکبر‘‘ کے
نعروں سے گونج رہا ہے… الحمد للہ ایسے حالات آرہے ہیں کہ ’’ یہودی‘‘ چلاّ
اٹھے ہیں، اسرائیل لرز رہا ہے اور کافروں کے تھنک ٹینک اپنا سر کُھجا رہے
ہیں… آپ یقین کریں یہ سب کچھ ’’ جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کی برکت سے
ظاہر ہو رہا ہے… جی ہاں مختصر سے جہاد کے نتائج اپنا رنگ دکھا رہے
ہیں… تھوڑا سا پیچھے مڑ کر دیکھیں… یوں لگتا تھا کہ ساری دنیا کافروں نے
آپس میں بانٹ لی ہے اور اب مسلمانوں کے مقدّر میں… موت ہے یا غلامی… ایک
طرف سوویت یونین تھا، جس کا فوجی اور نظریاتی سیلاب مسلمانوں کو بہالے جا رہا
تھا… کیا بخارا اور کیا سمر قند… کیا قفقاز اور کیا داغستان… کیا
ترکمانستان اور کیا تاجکستان… ہر طرف سوویت یونین کے جھنڈے لہرا رہے
تھے… کیمونزم کی درانتی نے سروں کی فصلیں کاٹیں اور کیمونسٹوں کے ہتھوڑ ے نے
مسلمانوں کو پیس ڈالا… لاکھوں، کروڑوں مسلمانوں کو شہید کیا گیا… اور
کروڑوں کو بددین بنا دیا گیا… آہ، حدیث و تفسیر کے اماموں کی
اولاد بددینی اور کفر کا شکار بن گئی… کیمونزم آدھی دنیا پر چھا گیا… اور
باقی آدھی دنیا صیہونیت اور سرمایہ داری کے استعمار میں لپیٹ لی گئی… اُس وقت
میرے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت پر عجیب حالات
تھے…
یوں
لگ رہا تھا کہ بس اس ’’اُمت‘‘ کے دن پورے ہو چلے… اور تو اور دینی رہنما بھی
غلامی پر صابر، شاکر ہو بیٹھے… مسلمانوں کے اپنے بچے کیمونسٹ بن گئے اور وہ
سرخ جھنڈے لیکر اپنے ملکوں میں سوویت یونین کے استقبال کی تیاریاں کر رہے
تھے… اُس وقت جہاد ہو تو رہا ہو گا مگر اُس کا کہیں تذکرہ نہیں
تھا… یقینا کچھ گمنام مجاہدین، حضرت امام شامل رحمۃ اللہ علیہ کی طرح اسلام
کی شمع کے گرد پروانوں کی طرح شہید ہو رہے ہوں گے… میرے آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم کا ’’وعدہ‘‘ ہے کہ جہاد کبھی بند نہیں ہو گا… جی ہاں
دجّال کے خاتمے تک یہ عظیم عمل جاری رہے گا… کتنے خوش نصیب ہیں وہ مسلمان جو
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدے کی ’’تصدیق‘‘ بنتے ہیں… یا
اللہ ہمیں اُن ہی میں زندہ رکھنا اور اُنہیں میں مارنا… مگر اُس وقت جہاد کی
عمومی فضاء نہیں تھی… گلیوں میں الجہاد، الجہاد کے نعرے نہیں تھے… دنیا
کے اکثر ممالک مسلمانوں کی گردن پر پائوں رکھ کر مطمئن بیٹھے تھے… اور
اُنہیں کسی طرح کی ’’مزاحمت‘‘ کا کوئی خطرہ نہیں تھا… اہلِ دل
مسلمان… امت مسلمہ کے ایمان کو بچانے کے لئے پُرامن دعوتی کوششوں میں لگے
ہوئے تھے… اور کفر کا سیلاب مشرق و مغرب میں تیزی سے مسلمانوں کو روندتا جا
رہا تھا… تب مدینہ منورہ سے کچھ آنسو عرش کی طرف اٹھے… قرآن پاک نے
روشنی کی ایک شعاع مشرق کی طرف برسائی… کعبۃ اللہ اور حجر اسود سے ہدایت کے
شرارے دریائے آمو کی طرف بڑھے… تب سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کر دیا
تو… اللہ پاک نے اُمت مسلمہ کو ’’ جہاد فی سبیل اللہ‘‘ عطاء
فرمادیا… اللہ اکبر کبیرا… یہ عجیب جہاد تھا… چودہ سو سال بعد
مسلمانوں نے غزوہ بدر کا ایک اور رنگ دیکھا… جگہ جگہ ’’شہداء احد‘‘ کی یاد یں
تازہ ہوئیں… اُس زمانے جب پاکستان کا آسان بارڈر عبور کر کے افغانستان میں
داخل ہوتے تھے تو ایک عجیب سی خوشبو محسوس ہوتی تھی… جس سے بھی پوچھا اس نے
تصدیق کی کہ واقعی یہ خوشبو آتی ہے… میران شاہ کی طرف سے افغانستان میں داخل
ہوتے ہی ژاور کے علاقے میں… ایک اجتماعی قبر تھی… یہ پچاس عربی مجاہدین
تھے جو سوویت بمباری سے اکٹھے ہی شہید ہوئے تھے… کوئی مصر کا تھا تو کوئی
تیونس کا… کوئی الجزائر کا تھا تو کوئی یمن کا… کوئی شام کا تھا تو کوئی
سعودیہ کا… کوئی مراکش کا تھا تو کوئی لبنان و فلسطین کا… ان کی قبروں
سے کئی لوگوں نے راتوں کو تلاوت کی آواز سنی… ویسے جو بھی وہاں سے گزرتا عجیب
سکون پاتا… اُس سے تھوڑا پہلے ایک پہاڑی کے اوپر بنگلہ دیش کے ایک مجاہد’’
مفتی ابوعبیدہ پ‘‘کی قبر تھی… وہاں سے تہجد کے وقت تلاوت کی آواز کئی لوگوں
نے بار بار سُنی… بے شک اللہ تعالیٰ شہداء کے عمل کو ضائع نہیں
فرماتا… یہ جہاد افغانستان کا پہلا مرحلہ تھا… ابتداء میں کیمونسٹ غالب
نظر آ رہے تھے۔ بستیوں کی بستیاں بمباری سے ملیا میٹ کر دی گئیں۔ غزنی کے کئی
دیہات ایسے تھے جہاں کے سب مکین شہید کر کے اجتماعی قبروں میں چُھپا دیئے
گئے… مسلمان تیزی سے مر رہے تھے… مگر اسلام زندہ ہو رہا
تھا… افغانستان کے اس مبارک جہاد میں اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا کے مسلمانوں
کو شرکت کی سعادت بخشی… شہداء کا خون بڑھتا گیا تو مجاہدین کی تعداد اور قوت
میں اضافہ ہوتا گیا… جہاد بھی عجیب عمل ہے اس میں جتنا زیادہ نقصان ہو یہ
اتنا طاقتور ہوتا چلا جاتا ہے… اُس زمانے کے پُرنور مجاہدین یاد آتے ہیں تو
دل عقیدت سے بھر جاتا ہے… میران شاہ کے تبلیغی مرکز کے قریب ایک بڑے مجاہد کی
قبر ہے… مولانا فتح اللہ حقانی شہید… ان کی شہادت کے بعد ’’ حقانی‘‘
مجاہدین کا سلسلہ ایسا مضبوط ہوا کہ افغانستان کے پانچ صوبوں سے اس نے کیمونزم کے
ہر دھبّے کو دھو ڈالا… کم عقل لوگ پوچھتے ہیں کہ جہاد کا کیا نتیجہ نکلا؟… سبحان
اللہ جہاد کے نتائج تو سورج کی روشنی سے بھی زیادہ چمک رہے ہیں… جو ربّ کریم
آنسو کے قطرے کو رائگاں نہیں فرماتاوہ اپنی خاطر بہنے والے خون کو بھی ضائع نہیں
فرماتا… یہ جہادکی برکت تھی کہ سوویت یونین ختم ہو گیا اور اُس کا خونی
انقلاب اپنی موت آپ مر گیا… اب تو آپ کسی عالم سے ’’ کیمونزم‘‘ کے خلاف بیان
نہیں سنتے… کیونکہ اس کی ضرورت ہی نہیں رہی… ورنہ بیس ، تیس سال پہلے تو
امت کا درد رکھنے والے اکابر اور علماء اس فتنے سے اتنے پریشان تھے کہ دن رات اس
کے خلاف لکھتے اور بولتے تھے… صوبہ سرحد کے شہر پشاور میں ایک بزرگ تھے وہ
اپنی خانقاہ میں بھی کیمونزم کے خلاف بیان فرماتے تھے… کیونکہ اُس وقت یہ
فتنہ مسلمانوں کے ایمان کو کھا رہا تھا… یہ جہاد کی برکت تھی کہ بخارا کی
مساجد دوبارہ کُھل گئیں، یہ جہاد کی برکت تھی کہ سمرقند میں اذانیں گونجنے
لگیں… یہ جہاد کی برکت تھی کہ کشمیری مسلمان انگڑائی لیکر کھڑے ہوئے اور
بھارت ماتا کے پجاریوں کو دن کے تارے دکھا دیئے…
افسوس
کہ مسلمانوں نے ابھی تک بھارت کے خطرے کو نہیں سمجھا… یقین کریں اسلام اور
مسلمانوں کے لئے بھارت کا خطرہ کسی بھی طرح اسرائیل، امریکہ اور نیٹو کے خطرے سے
کم نہیں ہے… مگر ہندو ’’ میٹھا زہر‘‘ ہے… ’’ میٹھا زہر‘‘ کڑوے زہر سے
زیادہ خطرناک ہوتا ہے… مگر اُس کی مٹھاس کی وجہ سے لوگ اُسے زہر نہیں
سمجھتے… بھارت کئی جنگوں میں پاکستانی حکمرانوں کو شکست دیکر اب اکھنڈ بھارت
کے خواب دیکھ رہا تھا کہ جہاد کشمیر نے اُس کے پائوں کے نیچے زمین کو ہِلا
دیا… جہاد تو مسلمانوں میں غیرت، زندگی اور حرارت پید اکرتا ہے… طالبان
کے زمانے میں جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا، اور طالبان نے ہتھیار ڈالنے کی
بجائے ’’اعلان جہاد‘‘ کر دیا تو پوری دنیا کے مسلمان غیرت سے سرشار ہو
گئے… اُن دنوں پاکستان میں انتخابات ہوئے تو لوگوں نے ہر ڈاڑھی پگڑی والے کو
بے حساب ووٹ ڈالے۔اگلے الیکشن میں وہ ماحول نہ رہا تو نتائج بھی بدل گئے۔ پچھلے
چند سالوں میں جہاد کی برکت سے لاکھوں افراد مسلمان ہوئے ہیں… پاکستان میں
مدارس کا جال بھی جہاد کی شمع روشن ہونے کے بعدوسیع ہوا…باقی کام توپہلے بھی ہورہے
تھے مگر پھربھی مدارس کم تھے… کراچی کے نامورمدارس میں دورۂ حدیث کے طلبہ کی
تعداد پچاس سے اوپرنہیں جاتی تھی… مگرجب جہادنے دینی غیرت کوجگایاتواب ہرطرف
مدارس ہی مدارس نظرآرہے ہیں …اورکئی مدارس میں صرف دورۂ حدیث کے طلبہ کی
تعدادپانچ سو سے اوپرہے… جہاد نے الحمدللہ دین کے ہرشعبے کو قوت دی…جہادنے
عالم اورمولوی کوشان دی…جہاد نے ’’طالبعلم ‘‘کے اندرخودداری اوراعتماد
پیداکیا…جہاد نے مساجداورمدارس کوجُھولی چندے سے اٹھا کرفائیواسٹار عمارتوں سے بھی
اونچا کردیا…جہاد کاہردن کفرکے لئے خسارے کااورمسلمانوں کے لئے فائدے اورترقی
کاپیغام لاتاہے…جہادجیسے جیسے طویل ہوتا جا رہا ہے اُس کے اثرات پھیلتے جارہے
ہیں…مصرکے تازہ فرعون کوغرق ہونے میں کتنے دن لگے؟…جی ہاں صرف ’’اٹھارہ دن‘‘…بی بی
سی والوں نے اعتراف کیاہے کہ مصرکانظام ٹوٹناسوویت یونین کے ٹوٹنے کی طرح
ہے… جس طرح سوویت یونین کی طاقت ناقابل شکست سمجھی جاتی تھی اسی طرح مصرکے
نظام کوبھی دُوردورتک کوئی خطرہ نہیں تھا…لوگ پوچھیں گے کہ مصرمیں کون سامسلّح
جہاد ہوا؟…کچھ لوگ اسے پرامن احتجاج کانتیجہ قراردیں گے…ان سے پوچھاجائے کہ
مسلمانوں کے خون میں غیرت اورحرارت کس عمل نے پیدا کی؟…اپنے مقصد کے لئے کٹ مرنے
کی سوچ کس محنت سے بیدار ہوئی؟…پُرامن احتجاج توبہت عرصے سے ہورہاتھا…یہ سب کچھ
جہادی محنت، اورجہادی دعوت کانتیجہ ہے…ہم توبہت پہلے سے کہتے ہیں کہ مسلمانوں
پرمسلّط منافقین کے خلاف مسلّح جہاد نہ کیاجائے بلکہ شرعی جہاد کوقوت دے کران
پرزمین تنگ کردی جائے…جب کچھ مسلمان کفارکے خلاف لڑتے ہیں اوراپناخون دیتے ہیں توپوری
قوم میں دینی غیرت اورزندگی پیدا ہوتی ہے…مبارک ہوافغانستان کے گم نام شہداء
کو…سلام ہوفلسطین اورکشمیرکے شہداء کو…آفرین ہوچیچنیا،عراق اورقفقاز کے شہداء
پر…مبارک ہوجہادی محنت میں کسی بھی طرح حصہ ڈالنے والے ہرمسلمان مرداورعورت
کو…ماشاء اللہ جس نے بھی جہاد میں جوحصہ ڈالاوہ کام آگیا…لڑنے والے بھی مبارک،زخم
کھانے والے اوراعضاء کٹوانے والے بھی مبارک…جیلیں ،قیدیں اورعقوبت خانے سہنے والے
بھی مبارک…جہادی دعوت کے لئے زبان ،قلم اورمال لگانے والے بھی مبارک…ہاں بیشک جہاد
نے مسلمانوں کومالامال کردیا…کوئی شہادت اورجنت پاگیا…اورکوئی جنت کے انتظار میں
ہے…دنیاجس ظالمانہ شکنجے میں کسی ہوئی تھی وہ شکنجہ ٹوٹ رہاہے…ابھی فی الحال کسی
جگہ اسلامی حکومت توقائم نہیں ہوگی مگرکفرکانظام بھی آزادی سے نہیں چل سکے
گا…ابھی بڑے بڑے ملک ٹوٹیں گے…ابھی کفارگھبراہٹ میں مبتلاہوکرآپس میں لڑیں گے…ابھی
توکئی مُلک چھوٹے مُلکوں کی شکل میں تقسیم ہوں گے…ابھی توافغانستان، کشمیر،عراق
اورفلسطین کے علاوہ اورکئی جگہ جہادی محاذ کُھلیں گے…ابھی تو بعض اوقات
کمزورمسلمانوں کوپھراندھیرانظرآئے گا…کیوںکہ بادلوں کازورٹوٹ بھی جائے توپھربھی
اُن کاکوئی ٹکڑاسورج کے سامنے آکرروشنی کومدہم کردیتاہے…مگریادرکھنااسلام غالب
ہونے کے لئے آیاہے…اوراسلام اپنے حتمی غلبے کی طرف بڑھ رہاہے…جہادسے دوستی کرنے
والوتمہیں بہت مبارک ہو…بس اسی جہاد پرجمے رہنا…اللہ تعالیٰ سے جان ومال
کاسوداکرنے والو…اس مبارک بازارسے بھاگ نہ جانا … تمہارا جہاد تو رب
تعالیٰ کی رضاء …اورجنت خریدنے کے لئے ہے…مگراب تودنیامیں بھی اس کے نتائج
تیزی سے ظاہرہورہے ہیں…وہ دیکھو ’’حُسنی‘‘ بھاگ گیاہے…مبارک ہو،مبارک ہو…
اللہم
صل علیٰ سیدنامحمدوآلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیماکثیراکثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
ہم سب پر’’رحم‘‘ فرمائے…دل میں شوق اٹھتا ہے کہ مسلمانوں میں تین چیزوں کی زور دار
محنت چلائی جائے(۱) کلمہ
طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ (۲) اقامتِ
نماز(۳) جہاد
فی سبیل اللہ … یہ محنت مسلمان مردوں میں بھی چلے اور عورتوں
میں بھی… مگر دل میں درد محسوس ہوتا ہے کہ کون اس عظیم محنت کو لیکر کھڑا
ہو… سچ یہ ہے کہ ان تین باتوں کواکٹھے لے کر چلنے کی ضرورت ہے… کلمہ
طیبہ ایساہو کہ دل کی گہرائی اورخون کے ذرّات تک میں گھساہوا ہو… یہ عظیم
کلمہ ہے… ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ اس دنیا کا سب سے طاقتور کلمہ
ہے… یہ اس دنیا کا سب سے بڑا سچ ہے… یہ حقیقی کلمہ ہے… ایٹم بم
وغیرہ کی طاقت اس کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے… یہ کلمہ طاقت اور قوّت کاعظیم
خزانہ ہے… جو اس کو جتنا زیادہ پڑھتا ہے، جتنا زیادہ سمجھتا ہے اور جتنا
زیادہ اس کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے وہ اُسی قدر زیادہ اس کی طاقت سے فیض یاب ہوتا
ہے… آج کل کے پُر فتن حالات میں ہر مسلمان مرد اورعورت کو روزآنہ کم از کم
بارہ سو بار…’’لا الہ الا اللہ ‘‘ کا ورد کرلینا چاہیے… اس سے
ایمان کی حلاوت نصیب ہوتی ہے اور باطن میں نور اور ایمانی قوّت پیدا ہوتی
ہے… ایک صاحب کو شوق تھا کہ ُانہیں چالیس دن تک مسجد میں تکبیر اولیٰ کے ساتھ
نماز نصیب ہو جائے… کافی کوشش کی مگر کامیاب نہیںہوتے تھے… کبھی بیس دن
بعد،کبھی اس سے زیادہ یا کم دنوں کے بعد کسی نماز کی تکبیر اولیٰ چھوٹ
جاتی… ویسے کافی صدمے اور غم کی بات ہے نا؟… مسلمان کے لئے سب سے ضروری
کام’’نماز‘‘ہے… مسلمان کے لئے سب سے اہم حکم’’نماز‘‘ ہے… مسلمان کے لئے
سب سے لازمی چیز’’نماز‘‘ ہے… پھر نماز میں سُستی کا کیا مطلب؟… دل
میںایمان ہو تو مسلمان کو نماز کا انتظار رہتاہے… حضور اقدس صلی
اللہ علیہ وسلم حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے
فرماتے تھے اے بلال نماز کے ذریعہ ہمیں راحت پہنچاؤ… نماز تو لذّت، راحت،
برکت، رحمت اور نورانیت کامجموعہ ہے… نماز میں سستی ’’نفاق‘‘ کی سب سے واضح
علامت ہے… حضرت سہل بن عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے
ہیں کہ ایمان کے سچا ہونے کی علامت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ
مؤمن کے لئے ایک فرشتہ مقرر فرما دیتا ہے جو نماز کے وقت اُسے نماز پر ابھارتاہے
اور اگر وہ سو رہا ہو تو اُسے جگا دیتا ہے… کیاایک مسلمان صرف چالیس دن بھی
اس کی پابندی نہیں کر سکتا کہ وہ تکبیر اولیٰ کے ساتھ نماز باجماعت ادا
کرے؟… یقیناً خطرے کی بات ہے ، رونے اور دھاڑیں مارنے کا مقام ہے… ہر
مسلمان غور کرے کہ اُسے اپنی زندگی میں یہ نعمت نصیب ہوئی ہے یانہیں؟… جن
کونصیب نہ ہوئی ہو اُن کو تنہائی میں رونا چاہئے اور التجا کرنی چاہئے کہ
یا اللہ ایمان نصیب فرما… بے شک نماز ’’ایمان‘‘ کی سب
سے بڑی علامت ہے… اور یہ ’’ایمان‘‘ کا سب سے پہلا تقاضاہے… جب ہم
نے’’ایمان ‘‘ کاپہلا حکم ہی ٹھیک طریقے سے نہیں مانا تو پھر ایمان کتنے دن تک
ہمارے دل میں رہے گا؟… گھر میں کوئی بہت معزز اورمحبوب مہمان آجائے اور اُس
کے آنے سے ہمارا گھر خیر اور برکت سے بھر جائے… وہ مہمان شرط رکھ دے کہ میں
اُس وقت تک یہاں رہوں گا جب تک آپ فلاںفلاںکام کریں گے… اور ان کاموں میں سب
سے اہم اور ضروری فلاں کام ہے… پھر وہ چھ سو بار تاکید کرے کہ یہ کام ضرور
کرنا ہے… مگر ہم اُسی کام میں سستی کریںتو کسی دن وہ مہمان چپکے سے گھر چھوڑ
کرچلا جائے گا… اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایمان کی دولت عطاء
فرمائی… ایمان کی برکت سے ہمارا دل روشن ہو گیا اور ہم دنیا اور آخرت
میں اللہ تعالیٰ کے مقرب بن گئے… ایمان کی برکت سے
ہمیں جہنم سے نجات کا وعدہ ملا… جنت کی نعمتوں کی بشارتیں ملیں… کعبہ
شریف ملا،مسجدیںملیں… آج دنیا کے کافروں کو دیکھیں وہ کعبہ شریف سے محروم ،
حجر اسود سے محروم، روضہ اقدس واطہر سے محروم… مسجد حرام اور مسجد نبوی سے
محروم… مسجد اقصیٰ سے محروم… رمضان اور عیدا لفطر سے محروم… حج اور
عید الاضحیٰ سے محروم… درود شریف اور استغفار سے محروم… جنت اور اس کی
حوروں سے محروم… اذانوں اور مسجدوں سے محروم… آج دنیا کے ’’ارب پتی‘‘
کافروں کی آنکھوں سے ایک منٹ کے لئے پردہ ہٹا دیا جائے اور انہیں دکھادیا جائے کہ
ایک بار ’’سبحان اللہ ‘‘کہنے سے کیا ملتا ہے تو وہ اپنی دولت کو پیشاب
کے قطرے سے بھی زیادہ حقیر سمجھنے لگ جائیں… ایمان کی برکت سے مسلمانوں کو
سبحان اللہ ، الحمدللہ ، اللہ اکبر
جیسے عظیم کلمات ملے… اب ایمان نے ہمیں چند باتوں کا حکم دیا ان میں سب سے
زیادہ تاکید’’نماز‘‘ کی فرمائی… ہم نے نماز کو ہی نہ سمجھا اور نہ اپنایا تو
پھر خطرہ ہے نا؟ کہ یہ ایمان کسی دن ہمارے دل کو چھوڑ کر چلا جائے… یا اللہ رحم،
یا اللہ رحم،یا اللہ رحم… ایمان
نہ رہا توپھر کتّے بھی ہم سے اچھے، سور اور خنزیر بھی ہم سے
اچھے… یا اللہ آپ کی پناہ، یا اللہ آپ کی
پناہ… ہوناتو یہ چاہئے کہ ہم دولت ایمان کی قدر کرتے ہوئے نماز کے ساتھ عشق
والا رشتہ بنالیں… اس کے لئے بہت زور دار محنت کی ضرورت ہے… اوریہ محنت
جہاد اور دینی غیرت کی دعوت کے ساتھ ہو تو اس میں جان پڑے گی… دینی غیرت
انسان کے ایمان کو خالص اور مضبوط کر دیتی ہے… جہاد، دینی غیرت اورقربانی کی
دعوت نہ ہو تو لوگ نمازبھی دنیاوی مقصد کے لئے بنالیتے ہیں … کہ رزق میں
وسعت ہو جائے گی، لوگوں میں عزت ہو جائے گی… زندگی آسان ہوجائے گی، کوئی
تکلیف نہیں پہنچے گی… اگرصرف یہ نیت ہوتو پھر نماز بے جان ہو جاتی
ہے… وہ بھی دکان اور کام پر جانے کی طرح ایک ڈیوٹی بن جاتی ہے… ایسی بے
جان نماز نہ گناہوں سے روکتی ہے نہ فواحش سے…ایسی کمزور’’نماز‘‘ ایمان کی کیا
حفاظت کر سکے گی؟… اس میں کوئی شک نہیں کہ نماز سے رزق میں وسعت ہوتی
ہے… اور بھی بے شمار دنیوی فوائد حاصل ہوتے ہیں مگر… نماز کااصل مقصد یہ
نہیں ہے… آپ نے کبھی سوچا کہ حضرت آقامدنی صلی اللہ علیہ
وسلم سے بڑھ کر کسی کی نماز ہو سکتی ہے؟… آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی نماز کے بارے میں لکھا ہے کہ صرف جسم مبارک دنیا میںہوتا تھا
جبکہ روح مبارک اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضرہوتی
تھی… اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جان مبارک’’ملکوت‘‘ میں ہوتی
تھی… اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جتنی راحت نماز سے ملتی
تھی اتنی کسی چیز سے نہیں… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو اپنی
آنکھوں کی ٹھنڈک فرماتے تھے… آنکھیں تو نہ گرم ہوتی ہیں نہ
ٹھنڈی… آنکھوں کی ٹھنڈک عربی زبان کا محاورہ ہے… اس کامطلب دل کی بہت
زیادہ خوشی اور جسم کی بہت زیادہ راحت ہوتا ہے… یعنی ایسا سرور جو دل سے لے
کر آنکھوں تک چھا جائے ایک خاص سرمستی اور سرشاری… اسے آنکھوں کی ٹھنڈک
کہتے ہیں… مثلاً ہم میں سے جو مال کے شوقین ہیں اور کچھ غریب بھی ہیں اُن کو
اچانک کوئی پچاس لاکھ روپے یا ایک کروڑ ھدیہ کر دے… اُس وقت دل،آنکھوں یا جسم
پر جو کیفیت ہوتی ہے اسے آپ آنکھوں کی ٹھنڈک سے تشبیہ دے سکتے ہیں…نماز آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھی…بعض اوقات آپ صلی
اللہ علیہ وسلم کی پوری رات نماز میں گزر جاتی…مگر اس کے باوجود جہاد
کے زخم بھی لگے… گھر میں فاقے بھی آئے… دشمنوں نے ستایا بھی… معلوم
ہوا کہ نماز صرف رزق اور ظاہری امن کا ذریعہ نہیں بلکہ اسلام کا لازمی حکم اور
فریضہ ہے… بہت سے ائمہ اور علماء کے نزدیک تو نماز کا ترک کرنا کفُر
ہے… قرآن پاک میں نماز کی آیات پڑھیں، احادیث مبارکہ میں نماز کے باب کو
پڑھیں تو یہی لگتا ہے کہ… اگر عقیدے کا کفر نہ بھی ہو تو عملی کفر ضرور ہوجاتاہے… اللہ پاک
رحم فرمائے… آج توہر گھر بے نمازی مردوں اور عورتوں کی نحوست سے بھرا پڑا
ہے… نمازی لوگ سارا دن کماتے ہیں اور اپنے بے نمازی بچوں کو کھلاتے
ہیں… بات ایک صاحب کی چل رہی تھی انہیں بہت تمنا تھی کہ کسی طرح چالیس دن
تکبیرا ولیٰ نہ چُھوٹے… بتاتے ہیں کہ روتے گڑ گڑاتے بھی تھے کہ
یا اللہ نفاق اور جہنم سے برأت کی یہ علامت کب نصیب
ہوگی؟… کئی بار تو بالکل قریب پہنچ کر رہ جاتے… تب انہیں یہ عمل بتایا
گیا کہ آپ روزآنہ ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ بارہ سو بار پڑھنے کا معمول
بنائیں… کلمہ طیبہ کی قوت دیکھیں کہ جیسے ہی انہوں نے شروع کیا تو فرشتہ مقرر
ہو گیا… وہ سوتے تو جگادیئے جاتے، بیمار ہوتے تو نماز کے وقت قوت آجاتی اور
پھر اُن کا یہ دینی شوق بھی پہلی جست ہی میں پورا ہوگیا کہ بغیر کسی رکاوٹ کے وہ
’’تکبیراولیٰ‘‘ کا چلّہ کرنے میںکامیاب ہو گئے… اور ماشاء اللہ اس
چلّے کی برکت یہ ہے کہ… انسان کو نماز اور تکبیراولیٰ سے خود بخود محبت پیدا
ہو جاتی ہے… اور نماز سے محبت کرنے والوں
کو اللہ تعالیٰ کی محبت نصیب ہوتی
ہے… اللہ کرے مسلمان عورتوں کو بھی نماز کا شوق نصیب
ہوجائے… وہ بھی چالیس دن کا چلّہ آسانی سے کر سکتی ہیں… طریقہ یہی ہے
کہ کلمہ طیبہ کا ورد شروع کریں… اللہ تعالیٰ سے توفیق
مانگیں… کسی کے سامنے تذکرہ نہ کریں اور نہ خود کو نیک سمجھ کر دوسروں سے
لڑائیاںکریں… نماز کانقشہ منگوائیں… ہر نماز کا اول وقت
دیکھیں… اورپھر پابندی سے ہر نماز اوّل وقت میں اہتمام سے ادا
کریں… درمیان میں کسی کا ناغہ آجائے تو فکر کی بات نہیں… جو
عذر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو وہ ناغے میں شمار
نہیںہوتا… دن گن کر رکھ لیں اور جب پھر نماز شروع کریں تو چلّے میں سے باقی
کے دن پورے کر لیں… جی ہاں… اے اللہ کی پیاری
بندیو! چالیس دن اپنے محبوب حقیقی اوراپنے مالک حقیقی کے لئے دے دو… بارہ سو
بار ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ پڑھا کرو… ہر ایک سو پورا ہونے پر مکمل
کلمہ اور درود شریف پڑھ لیا کرو… دل پرسستی کا حملہ ہو یا آزادی اور گناہوں
کی رغبت ہو تو لاحول ولاقوۃ الا ب اللہ … ایک ہزار بار پڑھ لو… قبر
کا عذاب اور جہنم بہت مشکل ہے… دل میں دنیا کی محبت پیدا ہو تو سورۃ التکاثر(
الھکم التکاثر) تین بار پڑھ کر دعاء کر لیا کرو… کوٹھی، کار… او رغلام
خاوند کاشوق ان شاء اللہ دل سے نکل جائے گا…مصیبت اور بیماری
آئے تو خود کو شیطان کے حوالے نہ کرو… ایسے مواقع پر شیطان کان میں کہتا ہے
کہ تمہاری کوئی دعاء قبول نہیںہوتی،تم بد نصیب ہو… بس اٹھو اور گناہوںمیں لگ
جاؤ… ایسا ہو تو دس بار… اعوذ باللہ من
الشیطن الرجیم…پڑھ لیا کرو… یا …اعوذ باللہ السمیع
العلیم من الشیطن الرجیم… اور میری بہنو! ایک بات یاد رکھو… وہ یہ کہ
دوسری مسلمان بہنوں کو کلمے اور نماز کی دعوت ضروردیا کرو… اور جہادی احادیث
اور واقعات بھی سنایا کرو… دعوت دینے سے اپنا ایمان مضبوط ہوتا ہے… اس
دعوت کے لئے باہر نکلنے کی ضرورت نہیں بلکہ گھر میں ہی جو مل جائے اُسے دعوت
دو… ایمان بہت قیمتی چیز ہے اُس کی حفاظت اپنے زیورات سے زیادہ
کرو… ہاں! میرے دل میں بہت درداٹھتا ہے… میں چاہتاہوں
کہ… اللہ تعالیٰ مجھے بھی کلمہ طیبہ نصیب فرماد
ے… زندگی میں بھی اورمرتے وقت بھی… اورمیری نمازیں ایسی ہوجائیں کہ نماز
کی اقامت کا حق ادا ہوجائے… اور میں جہاد فی
سبیل اللہ کو سمجھ لوں، اوراس کے ذریعہ اسلام کی بلند ترین
چوٹی تک پہنچوں… اور اللہ پاک سے شہادت کا حسین خاتمہ
پاؤں… اللہ پاک میرے لئے یہ تین کام آسان
فرمادے… اور دل میں یہ درد اٹھتا ہے کہ… سب مسلمان جی ہاں! پوری امت
مسلمہ میں ان تین کاموں کی آواز لگائی جائے… اس کیلئے زور دار محنت چلائی
جائے… اس کے لئے مخلص اور باعمل مبلغین تیار کئے جائیں… ان تین اعمال سے
ان شاء
اللہ ہمارے دل کی دنیا آباد ہو جائے گی اور ہمارے لئے پورے دین پر
چلنا… اور ہر سعادت کو پانا آسان ہو جائے گا… اور ان تین اعمال سے ان شاء
اللہ ساری دنیا کا نقشہ بھی تبدیل ہو جائے گا… اے مسلمانو! کوئی
ہے جو اس درد اور فکر میں ہمارا ساتھ دے… کوئی ہے؟ کوئی ہے؟…
اللھم
صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا…
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ ’’حُبِّ دنیا‘‘سے میری اورآپ سب کی حفاظت فرمائے…حضرت اقدس
مولانامحمدموسیٰ روحانی رحمۃ اللہ علیہ تحریرفرماتے ہیں:
’’احمدبن
عمار رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں زمانہ طالبعلمی میں دیگررفقاء
سمیت اپنے معلّم واستاذ کے ساتھ نمازجنازہ میں شرکت کے لئے قبرستان کی طرف
جارہاتھا… راستے میں ہم نے ایک مقام پردیکھاکہ بہت سے کتے جمع ہیں اوروہ ایک
دوسرے کے ساتھ محبت سے کھیل رہے ہیں ، ہمارے استاذنے ہمیں ان کتّوں کی طرف متوجہ
کرتے ہوئے فرمایاکہ دیکھوکتوں کی بعض عادتیں کتنی اچھی ہیں اوروہ ایک دوسرے کے
ساتھ کتنے اچھے طریقے سے پیش آرہے ہیں…احمدبن عمارسفرماتے ہیں کہ نمازجنازہ پڑھنے
کے بعدہم واپس اسی راستے سے آرہے تھے ،جب کتّوں والی جگہ پرہم پہنچے تودیکھاکہ
کسی نے وہاں ’’جیفہ‘‘یعنی مردہ جانورپھینک دیاہے اوروہ کتّے اس جیفے یعنی
مُردارکوکھانے کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ لڑ رہے ہیں،ایک دوسرے کوکاٹ رہے
ہیں،غصہ سے بھونک رہے ہیںاورغُرّارہے ہیں،ان میں سخت ترین جنگ جاری ہے اور ہر ایک کتّا
اس مُردار پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ہمارے اُستاذ نے جب یہ حالت دیکھی توہم
سے فرمایاکہ یہ عبرت وموعظت ونصیحت کامقام ہے اورفرمایاکہ جب یہ دنیاوی چیزان
کتّوں کے سامنے نہ تھی تواس وقت یہ کتّے ایک دوسرے سے محبت والفت کااظہارکررہے تھے
اورجب اُن کے مابین یہ دنیاوی چیز (مُردارجانور)آگئی تواب اُن کے مابین محبت کے
تمام علاقے ختم ہوگئے اورعداوت وجنگ وجدال کی نوبت آگئی…ہمارے استاذ نے فرمایاکہ
یہی حال ہے انسانوں کا…جب انسانوں کے دلوں میں’’حُبّ دنیا‘‘نہ ہوتووہ ایک دوسرے کے
بھائی ہوتے ہیں اورآپس میں الفت سے پیش آتے ہیں،اورجب دنیاوی منفعت اُن کے سامنے
آجائے تووہ ایک دوسرے سے کتّوں کی مانندلڑنے لگتے ہیں…سابقہ حکایت میں ہمارے لئے
عبرت کاعظیم سبق ہے،حُبّ دنیاخُداسے دورکرنے والی اورشیطان کے قریب کرنے والی
چیزہے…آج کل حبّ دنیاوحرصِ دنیاکی وباعام ہے،جس کانتیجہ یہ ہے کہ لوگ آفات ،
بلاؤں ،مصیبتوں اورعداوتوں کے طوفان میں گِھرے ہوئے ہیں،یہی ’’حُبّ دنیا‘‘موت کے
وقت اورقیامت کے دن مُوجب حسرت کاہوگالیکن اُس بے جاحسرت سے کوئی فائدہ حاصل نہ
ہوگا‘‘ (گلستان قناعت)
ایک
اورمقام پرتحریر فرماتے ہیں:
’’بنی
اسرائیل میں سے ایک آدمی کاانتقال ہوگیا… اُس کے دوبیٹے تھے،ان دونوں کے
مابین ایک دیوار کی تقسیم کے سلسلے میں جھگڑا ہوگیا …جب دونوں آپس میں جھگڑ
رہے تھے توانہوں نے دیوارسے ایک غیبی آواز سنی کہ تم دونوں جھگڑامت کرو…کیوں کہ
میری حقیقت یہ ہے کہ میں ایک مدت تک اس دنیامیں بادشاہ اورصاحب مملکت
رہا… پھر میرا انتقال ہوگیااورمیرے بدن کے اجزاء مٹی کے ساتھ گھل مل
گئے…پھراس مٹی سے کمہارنے مجھے گھڑے کی ٹھیکری بنادیا…ایک طویل مدت تک ٹھیکری کی
صورت میں رہنے کے بعدمجھے توڑدیاگیا…پھرایک لمبی مدت تک ٹھیکری کے ٹکڑوں کی صورت
میں رہنے کے بعد میں مٹی اورریت کی صورت میں تبدیل ہوگیا…پھرکچھ مدّت کے بعدلوگوں
نے میرے اجزائے بدن کی اس مٹی سے اینٹیں بنالیں اورتم مجھے اینٹوں
کی شکل میں دیکھ رہے ہو… لہذا ایسی مذموم اورقبیح دنیا پرکیوں
جھگڑتے ہو…والسلام…
کسی
شاعر نے کیاخوب کہاہے:
کل
پاؤں ایک کاسۂ سر پر جو جا پڑا
وہ
یکسر استخوان شکستہ سے چُور تھا
کہنے
لگا! دیکھ کہ چل راہ بے خبر
میں
بھی کبھی کسی کا سر پُر غُرور تھا
ایک
اورشاعرکہتاہے:
غرور
تھا، نمود تھی، ہٹو بچو کی تھی صدا
اورآج
تم سے کیا کہوں لحد کا بھی پتہ نہیں
آہ،آہ…یہ
دنیابڑی فریب دہندہ ہے…فانی ہونے کے باوجود یہ لوگوں کی محبوب بنی ہوئی ہے…یہ اپنی
ظاہری رنگینی اوررعنائی سے لوگوں کوگمراہ کرتے ہوئے آخرت سے غافل کرتی
ہے…‘‘(گلستان قناعت)
ایک
اورمقام پرتحریر فرماتے ہیں:
’’حضرت
حسن بن بصری رحمۃ اللہ علیہ کاقول ہے ،وہ فرماتے ہیں کہ دنیامیں پانچ
قسم کے لوگ رہتے ہیں:اول علماء ہیں جوانبیاء دکے وارث ہیں…دو م زاہدین ہیں(یعنی
تارک دنیا حضرات) یہ قوم کے رہنما ہیں… سوم غزاۃ ہیں (
مجاہدین یعنی کفارسے جنگ کرنے والے)یہ اللہ تعالیٰ کی تلواریں
ہیں…چہارم تجارت کرنے والے ہیں… یہ اللہ تعالیٰ کے امین ہیں…پنجم
بادشاہ ہیں یہ مخلوق کے نگران ہیں…پھر حسن بصری سنے فرمایا:
جب
علماء دنیاکالالچ کرنے والے بن جائیں اورمال جمع کرنے لگیں توپھر کس کی پیروی کی
جائے گی اورکون رہنماہوگا؟اورجب زاہدین،مال میں رغبت کرنے والے ہوجائیں تو پھرکس
سے رہنمائی حاصل کی جائے گی اورکون نیک ہوگا؟اورجب غازی ریاکارہوجائیں توپھردشمن
پرفتح کون حاصل کرے گا؟اورجب تاجرخیانت کرنے والے ہوجائیں تو پھر کون پسندیدہ
اورامین ہوگااورجب بادشاہ وسلاطین خود بھیڑئیے بن جائیں توپھربکریوں(یعنی رعایا)
کی حفاظت کون کرے گا؟‘‘(گلستان قناعت)
ایک
اورمقام پرلکھتے ہیں:
’’عبداللہ
بن فَرَج سفرماتے ہیں کہ کسی نے داؤدطائی سکوخواب میں دیکھا کہ وہ صحرائِ حیرہ
میں دوڑ رہے ہیں(حیرہ ایک شہرکانام ہے)تواُس نے پوچھاکہ اے داؤد!یہ کیا ماجرا ہے؟
آپ دوڑکیوں رہے ہیں؟داؤدس نے فرمایاکہ میں ابھی ابھی جیل سے رہا ہواہوں اس لئے
خوشی سے دوڑ رہا ہوں…
لوگوں
نے سوچااورغورکیاتوپتہ چلا کہ داؤدسکی وفات اسی دن ہوئی تھی جس دن انہیں خواب میں
دوڑتے ہوئے دیکھا گیاتھا…احبابِ کرام!حدیث شریف میں ہے ’’ الدنیا سجن المؤمن وجنۃ
الکافر‘‘ یعنی’’دنیامؤمن کے لئے قیدخانہ ہے اورکافرکے لئے جنت ہے‘‘…کامل
مؤمن…یعنی متّقی مسلمان،موت کے بعداُن نعمتوں اورخوشیوں سے ہم آغوش ہوتاہے
جوتصوّرسے بلندہیں…اہل اللہ کے لئے موت رحمت اورنعمت ہے… موت سے دنیوی
خواہشات،مشقتیں،جھگڑے اوربیماریاں ختم ہوکرفراغت حاصل ہوجاتی ہے،جیساکہ ایک
شاعرکہتاہے:
ہر
تمنا دل سے رخصت ہو گئی
موت
سے جینے کی صورت ہو گئی
جی
رہا ہوں موت کی امید پر
مر
ہی جاؤں گا جو صحّت ہو گئی
اب
تو میں ہوں اور شُغلِ یادِ دوست
سارے
جھگڑوں سے فراغت ہوگئی
اس
کو ہر ذرّہ ہے ایک دنیائے راز
منکشف
جس پر حقیقت ہوگئی
آپڑا
ہوں قبر میں آرام سے
آج
سب جھگڑوں سے فرصت ہوگئی
(گلستان
قناعت)
ایک
اورمقام پرتحریرفرماتے ہیں:
’’کُتب
تاریخ میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حاتم اصم رحمۃ اللہ علیہ نے جہاد کے
سفرکے لئے تیاری کی توآپ نے اپنی بیوی سے پوچھاکہ تمہارے لئے کتناراشن چھوڑجاؤں
تاکہ تمہیں میری عدم موجودگی میں کوئی تکلیف نہ ہو؟اس اللہ کی نیک بندی نے جواب
دیا کہ آپ میری زندگی بھر کے لئے راشن کابندوبست کردیں،حاتم اصم رحمۃ اللہ علیہ
فرمانے لگے کہ ارے اللہ کی بندی!تیری زندگی تومیرے اختیار میں نہیں ہے لہذا مجھے
کیامعلوم ہے کہ توکب تک زندہ رہے گی؟بیوی نے جواباً کہا کہ اگرمیری زندگی آپ کے
اختیارمیں نہیں ہے تومیری روزی آپ کے اختیار میں کیسے ہے جس کاآپ انتظام
کرناچاہتے ہیں…پس جس مالک المُلک کے قبضۂ قدرت میں کسی جاندارکی زندگی اورموت ہے
اسی کے ذمہ اس کی رزق رسانی بھی ہے،لہذاآپ اس بات کی فکر نہ کریں اوراپنے مبارک
سفرپرروانہ ہوجائیں…‘‘(گلستان قناعت)
ایک
اورمقام پرلکھتے ہیں:
’’لالچی
اورحریص شخص کے نزدیک عزت وعظمت کامدار’’مال‘‘ہوتاہے ،وہ شخص حصول مال وجاہ کواپنی
کامیابی وعزت وسعادت سمجھتاہے ،حالانکہ یہ مال ودولت فانی چیزیں ہیں…کامل مسلمان
کے نزدیک سب سے بڑی عزت تقویٰ ہے ، قناعت ہے، عبادت ہے اورذکراللہ ہے…کیوں کہ یہ
امورباقی اوردائمی ہیں اوریہ سب امورکلمۂ توحیدکے یعنی ’’لاالہ الااللہ‘‘ کے
ثمرات ہیں…مسلمانوں کے لئے سب سے بڑی عزت یہ ہے کہ انہیں’’لاالہ
الااللہ‘‘پڑھنانصیب ہواہے اوراسی کلمہ مبارکہ پرانہیں نازہے…ایک شاعرنے اس سلسلے
میں کیاخوب کہاہے:
سُنا
ہے چند مسلمان جمع تھے یک جا
خدا
پرست، خوش اَخلاق اور بلند نگاہ
کہا
کسی نے یہ اُن سے کہ یہ تو بتلاؤ
تمہاری
عزت و وقعت کا کس طرح ہے نباہ
نظر
کرو طرفِ اقتدارِ اہل فرنگ
کہ
اُن کے قبضے میں ہے ملک ومال وگنج وسپاہ
اُنہی
کاسکّہ ہے جاری یہاں سے لندن تک
انہی
کی زیرنگیں ہے ہراِک سفیدوسیاہ
کلیں
بنائی ہیں وہ وہ کہ دیکھ کرجن کو
زبانِ
خَلق سے بے ساختہ نکلتی ہے واہ
تمہارے
پاس بھی کچھ ہے کہ جس پہ تم کوہوناز
کہا
انہوں نے کہ ہاں ،لاالہ الّا اللہ
(گلستان
قناعت)
بے
شک ’’لاالہ الااللہ‘‘سب سے عظیم نعمت ہے…اللہ تعالیٰ ہمیں اس عظیم کلمے کی قدرکرنے
کی توفیق عطاء فرمائے…اس کلمے کے مقاصدکوسمجھنے اوراس کے تقاضوں پرعمل کی توفیق
عطاء فرمائے…اوراس کلمے کی عظمت اورسربلندی کے لئے جہاد فی سبیل اللہ کی توفیق
نصیب فرمائے…واقعہ یہ ہواکہ رات خواب میں اچانک پہلے حضرت ابّاجی ؒ سے اورپھرحضرت
مولانامحمدموسیٰ روحانی بازی رحمۃ اللہ علیہ سے
ملاقات نصیب ہوگئی…سعدی فقیرتنہائی کے جنگل میں پڑارہتاہے تب اللہ تعالیٰ اپنے کرم
سے کبھی کبھی اپنے پیاروں کواُس کے خوابوں میں بھیج دیتے ہیں…حضرت مولانامحمدموسیٰ
صاحب نوراللہ مرقدہ سے بھرپورملاقات ہوئی …خوب گلے لگایا دونوں طرف سے بوسوں
کا تبادلہ ہوا…اوردل حلاوت سے بھرگیا…صبح اپنے مکتبے سے اُن کی چندکتابیں
اٹھاکرلایا…اورایصال ثواب کے بعداُن کی کتاب’’گلستان قناعت‘‘ کودیکھناشروع
کیا… اوپر جو عبرت آموزواقعات اوراشعارآپ نے پڑھے وہ اُسی میں سے نقل
کردیئے تاکہ…آج رنگ ونور کی محفل میں ہم حضرتؒ سے فیض یاب ہوں…’’حُبّ
دنیا‘‘کافتنہ اُمت مسلمہ کوچاٹ رہاہے…جہادفی سبیل اللہ اس فتنے کامؤثرعلاج ہے…
ہلاکت
اورتباہی سے بچنے کے لئے بہترین نسخہ یہی ہے کہ…ہم اخلاص کے ساتھ جہادفی سبیل اللہ
میں لگے رہیں…آئیے آخرمیں حضرت مولانامحمدموسیٰ صاحبؒ کے لئے دعاء کرلیں کہ…اللہ
تعالیٰ اُن کے درجات بلندفرمائے اوراُن کے صدقات کوقیامت تک جاری رکھے…جامع
مسجد’’سبحان اللہ‘‘کے لئے عطیات دینے والے بھی قابل رشک ہیں…اُن کے لئے بھی دعاء
کریں کہ اللہ تعالیٰ اُن کے لگائے مال کوقبول فرمائے… اورانہیں اس کابہترین
اورشانداربدلہ اوراجرعطافرمائے…
آمین
یاارحم الراحمین
اللہم
صل علیٰ سیدنامحمدوآلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیماکثیراکثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
توفیق عطاء فرمائے…آج ان شاء اللہ آپ کو ایک ’’کہانی‘‘ سُنانی
ہے… مگر اس سے پہلے اپنی ’’مجلس‘‘ کو بابرکت اور پُرنور بنانے کے لئے دو
احادیث مبارکہ پڑھ لیتے ہیں… بے شک میرے آقا صلی اللہ علیہ
وسلم کی مبارک باتوں میں بے حد برکت اور نُورہے… میں نے آج ارادہ
کیا تھا کہ حدیث شریف کی کتاب کھولوں گا جو روایت سامنے آئی اُسے خود بھی عمل کی
نیت سے پڑھوں گا اور آپ کو بھی پڑھاؤںگا… شُکر میرے مالک کہ ہم خوش نصیب
ہوئے کہ آپ کے محبوب اور آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام پڑھ
رہے ہیں…
(۱) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے
روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب
کھانا تناول فرماتے تواپنی تین انگلیاں چاٹ لیا کرتے… حضرت
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’کھاتے
وقت تم میں سے کسی کا کوئی لقمہ گِر جائے تو اسے جھاڑ پونچھ کر کھا لیا کرو اور
شیطان کے لئے نہ چھوڑاکرو… اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا
بھی حکم فرمایا کہ کھانے کے برتن کو صاف کر لیا کرو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ
تمہارے کھانے کے کس حصّے میں برکت ہے‘‘(مُسلم)
معلوم
ہوا کہ انگلیاں چاٹ لینی چاہئیں… سالن اور چاول کی پلیٹ کو اچھی طرح صاف کر
لینا چاہئے یعنی اس میں جو کچھ ہو وہ کھا لیا جائے( زیادہ بچاہو اورکھانے کی
گنجائش نہ ہو تو اسے سلیقے سے ایک جگہ جمع کر کے اگلے وقت کھا لیا جائے) دستر خوان
پر روٹی، سالن کے جو ذرّات ہوں، یا لقمہ گر جائے وہ صاف کر کے کھا لیا
جائے… لبیک یا سیّدی!… ہم سب ان
شاء اللہ سعادت سمجھ کر ان تمام پر
عمل کریں گے
(۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو بھی
نبی بھی مبعوث فرمائے انہوں نے بکریاں ضرور چرائیں… صحابہ
رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا!… کیا آپ ( صلی
اللہ علیہ وسلم ) نے بھی بکریاں چرائیں… ارشاد فرمایا جی ہاں! میں نے چند
قیراط کے عوض اہل مکہ کی بکریاں چرائیں(بخاری)
اس
حدیث شریف سے تواضع، محنت، تحمل اور برداشت… حُسنِ تدبیر اور رزق حلال کے
احکامات معلوم ہوئے… ہم سب عمل کی نیت کر لیں
اور اللہ تعالیٰ سے ان تمام احکامات پر عمل کی دعاء
مانگیں… اب آتے ہیں اپنی کہانی کی طرف… اور اس کہانی کو سمجھنے کے لئے
ایک بہت عجیب اور سبق آموز واقعہ پڑھتے ہیں… حضرات انبیاء علیہم
السلام میں سے ایک نبی کا ایک عابد پر سے جو گزر ہوا… وہ عابد ایک غار میں
عبادت کے لئے رہائش پذیر تھے… وہ نبی ح اُس عابد کے پاس تشریف لے گئے اور
انہیں سلام کیا… عابد نے سلام کا جواب دیا… نبی ح نے عابد سے پوچھا: اے اللہ کے
بندے! آپ کب سے اس غار میں ہیں؟… انہوں نے عرض کیا، تین سو سال
سے… پوچھا کہ کھانے کا کیا انتظام ہے؟… عرض کیا درختوں کے پتّے کھا لیتا
ہوں… فرمایا: پینے کا کیا بندوبست ہے؟ عرض کیا چشموں کا پانی پیتا ہوں… فرمایا:
سردیوں میں کیسے گزارہ ہوتا ہے؟ عرض کیا پہاڑ کے نیچے گزارہ ہو جاتا ہے… نبی
علیہ السلام نے فرمایا… اتنے طویل عرصے تک آپ عبادت پر کیسے ڈٹے ہوئے
ہیں… ( کہ نہ تنگ ہوتے ہیں اور نہ اُکتاتے ہیں) عابد نے عرض کیا… میں
عبادت پر کیسے نہیں جما رہوں گا کہ میرے پاس تو بس ایک دن ہوتا ہے… کیونکہ
گزشتہ دن تو گزر گئے… اور آگے کے دن آئے نہیں… نبی ح عابد کی اس بات
سے بہت حیران اور خوش ہوئے کہ میرے پاس تو بس ایک دن ہوتا ہے… اور مجھے صرف
اُسی دن کی عبادت کرنی ہوتی ہے… اور ایک دن کی عبادت کوئی مشکل کام نہیں
ہے… واقعی بہت حکمت والی بات ہے… انسان آگے کے دنوں کا سوچ سوچ کر بہت
سی سعادتوں اور نیکیوں سے محروم ہو جاتا ہے… حالانکہ آگے کا پتہ نہیں کہ
اگلا دن آئے گا یا نہیں… ہماری زندگی میں تو بس ہمارے سامنے کا دن ہوتا
ہے… قرآن پاک نے قیامت کے دن کو ’’کل‘‘ کا نام دیا ہے… جی ہاں! بے شک
یہی ایک ’’کل‘‘ یقینی ہے باقی تو اگلے لمحے کا بھی پتا نہیں… انسان خود کو
اوراپنے نفس کو راضی کر لے کہ بس آج میں نے ہر نیکی کرنی ہے … ہر سعادت
حاصل کرنی ہے اور ہر گناہ سے بچنا ہے… مگرہم میں سے بہت سے لوگ مستقبل کی
تدبیریں کر کر کے اپنے ’’آج‘‘ کو اور اپنے’’حال‘‘ کو خراب کرتے رہتے
ہیں… آج کی کہانی بھی اسی واقعہ کے گِرد گھومتی ہے… آنجہانی پرویز
مشرّف نے جب دینی، جہادی جماعتوں پر پابندی لگا دی… ہمارے رسائل بند کر دیئے
گئے… دفاتر کا وجود ختم ہو گیااور ہر طرف خوف کی فضاء پھیل گئی… وہ بہت
عجیب دن تھے… حکومت کے لوگ بھیس بدل بدل کر مجاہدین کے پاس جاتے اور انہیں
تاریک مستقبل سے ڈراتے … تب بہت سے لوگ واقعی ڈر گئے… وہ کہتے تھے
کہ ہمیں فلاں کرنل نے بتایا ہے کہ اس جماعت کو نہیں چلنے دیا جائے گا… ہمیں
فلاں انسپکٹر نے کہا ہے کہ… جماعت کی قیادت بس چند دنوں میں مار دی جائے گی… وغیرہ
وغیرہ… تب یہ مستقبل پرست لوگ کھسکنے لگے… کسی نے کہا مجھے گھریلو مسئلہ
ہے، کسی نے کہا میں ابھی فریز ہو جاتا ہوں جب حالات ٹھیک ہوں گے تو دوبارہ سرگرم
ہو جاؤں گا… کسی نے کہا دین کے کام بہت ہیں جہاد کوئی ضروری تو
نہیں… ان سب کے دلوں میں دو خواہشیں تھیں… ایک ظاہری امن اور دوسرا
محفوظ مستقبل… مگر اُس وقت کچھ دیوانے یہی کہتے ہوئے میدان میں ڈٹے رہے
کہ… ہمارے پاس تو آج کا دن ہے… اور آج الحمدللہ ہم سلامت ہیں… چاروں طرف موت کی خبریں ہیں
مگر ہم آج تو زندہ ہیں… کل آنے والی موت کے ڈر سے آج کیوں مر جائیں؟ ان
لوگوں نے اپنی زندگی کا صرف ایک دن سمجھا اور اُس ایک دن میدان سے پیٹھ پھیرنے کو
خود پر حرام کر لیا… کیا صرف ظاہری امن کی خاطر شہادت کے میدان کو چھوڑ دینا
جائز ہے؟… کیا موہوم مستقبل کی خاطر اپنے آپ کو سعادتوں سے محروم کر لینا
عقلمندی ہے؟… مستقبل کے لیے اچھی تدبیر کرنے کا ہرگز انکار نہیں… وہ
اپنی جگہ اہم… مگر مستقبل بھی اُن کا ہی سنورتا ہے جو اپنے آج یعنی حال کو
درست اور قیمتی بناتے ہیں… اللہ تعالیٰ کے راستے میں نکلنے
والے یہ مُسافر آندھیوں اور طوفانوںمیں ڈٹے
رہے… تب اللہ پاک نے اُن سے صدیوں کا کام لے
لیا… ان کا ایک محاذ بند ہوتا تو وہ بھاگ کر دوسرا محاذ کھول لیتے… سچی
بات ہے کہ اگر آج کا مؤرّخ اس داستان کو لکھے تو اس کا قلم حال کو ماضی سے جوڑنے
میں شرمندہ نہیں ہوگا… اپنے ’’آج‘‘ کے فرض کو ادا کرنے والے ان عاشق دیوانوں
نے محاذوں پر ایسی محنت کی کہ… ماشاء اللہ اُن کا
جہاد… اللہ تعالیٰ کی توفیق سے عزیمت کی چوٹیوں کو چُھونے
لگا… چونکہ ان کے پاس بس ایک ’’دن‘‘ تھا اس لئے… وہ اپنے آج کے دن میں
ہر کام کرتے چلے گئے تاکہ… زندگی کا آخری دن قیمتی بن جائے… اور وہ دن
گناہ، خوف اوردنیا پرستی میں ضائع نہ ہو جائے… تب مسجدوں پر مسجدیں بنتی چلی
گئیں… الحمدللہ … مدارس پر مدارس آباد ہوتے گئے… الحمدللہ … دعوت
جہاد نے دنیا کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا… الحمدللہ … رفاہی
کاموں میں اندازے سے زائد ترقی ہوئی… الحمدللہ … ذکر و درود کی محفلیں
دور دور تک اپنا رنگ جمانے لگیں… الحمدللہ … یہ دیوانے… ہاتھ اور
زبان کے ساتھ اپنے’’قلم‘‘ سے بھی دین کی خدمت کرتے تھے… حکومت نے ان کے قلم
کو خُشک کر نے کی کوشش کی… کراچی میں اخبار کا دفتر سیل کر دیا گیا… اور
رسالے کا عملہ خوف کی فضاء میں بکھرگیا… مگر اِن دیوانوں کو اتنا یاد تھا کہ
ان کے پاس آج کے دن’’قلم‘‘ موجود ہے… چنانچہ وہ بھاگتے، دوڑتے ہوئے بھی
لکھتے اور چھاپتے رہے… کراچی روٹھا تو وہ لاہور آپڑے… ’’شمشیر‘‘ بند
ہوا تو انہوں نے ’’راہ وفا‘‘ نکال لیا… دشمن پریشان تھے کہ یہ لوگ کتنی لمبی
پلاننگ کر کے رکھتے ہیں… حالانکہ سچ یہ ہے کہ اگلے سالوں تو کیا اگلے دنوں کی
پلاننگ بھی نہیں تھی… بس یہ عزم تھا کہ… ہمارے پاس ’’آج‘‘ کا دن
ہے’’آج‘‘ تو ہم ہار نہیں مانیں گے… ایک دن کی استقامت کونسا مشکل کام
ہے… سبحان اللہ ! ہجرت اور سفر کی برکتیں ظاہر
ہوئیں… اور’’قلم‘‘ جولانیاں دکھانے لگا… یہ سب
کچھ اللہ تعالیٰ کا فضل تھا… پابندی کے بعد ان دیوانوں
کی زیادہ تصنیفات سامنے آئیں… اور ان کی تحریرمیں زیادہ عزم و ہمت کا رنگ
چھلکنے لگا… اُنہیں دنوں کا تذکرہ ہے کہ ان دیوانوں میں سے ایک میرے پاس آیا… اُس
وقت ہر طرف خوف کی خبریں تھیںکہ… بس ایک دو دن میں یہ سب لوگ مار دیئے جائیںگے… ختم
کر دیئے جائیں گے… اُس دیوانے نے مجھ سے یہ نہیں پوچھا کہ… کل ہم کیا
کریں گے؟… مرجائیں گے تو پیچھے والوں کا کیا بنے گا؟… اگر پکڑے گئے تو
کیا ہوگا؟… اُس کے پاس تو بس ایک دن تھا اور وہ اپنے اس دن کو کمانا چاہتا
تھا… سعدی جی! ہفت روزہ اخبار نکالنے کی اجازت چاہئے… مگر
شرط یہ ہے کہ آپ کا مضمون بھی ضرور ہونا چاہئے…اُن دنوں میرے مضامین کا سلسلہ بند
تھا… کچھ کتابوں پر کام بھاگتے دوڑتے جاری تھا… سب سے زیادہ شائع ہونے
والی کتاب ’’لطف اللطیف‘‘ تو معلوم نہیں کتنے شہروں میں تھوڑی تھوڑی لکھی
گئی… مجھے یہ مطالبہ سُن کر حیرانی ہوئی… اتنے سخت حالات میں ہمارے
اخبار کو کون نکلنے دے گا اور کون چلنے دے گا… مگر میرے پاس بھی زندگی کا ایک
دن تھا… میں انکار کر دیتا تو میرا وہ دن ایک اچھے کام سے محروم
ہوجاتا… میں نے ہاں کر دی… پھر نام پر بات شروع ہوئی تو وہ بھی اُسی دن
طے ہو گیا…’’القلم‘‘… سبحان اللہ … ہفت
روزہ’’القلم‘‘… نکالے گا کون؟… جواب آسان تھا کہ… اپنے ’’آج‘‘ کو
روشن اور قیمتی بنانے والے دیوانے نکالیںگے… ہم نے سب کچھ طے کر کے اپنے اُس
دن کو ’’قیمتی ‘‘بنا لیا… اور یہ نہ سوچا کہ کل یہ اخبار نکل سکے گا یا
نہیں؟…کیونکہ کل کا تو پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ آئے گا یا نہیں… ہمیں تو مالک
نے اپنے فضل سے ایک نیکی کے عزم اور ارادے کی توفیق دے دی…
الحمدللہ ’’القلم‘‘ پوری قوّت سے
نکلا… ابتداء ہی میں پچاس ، ساٹھ ہزار کی اشاعت… اور دین اسلام اور جہاد
کی بے لاگ ترجمانی… ہم نے اخبار کا نقشہ بناتے وقت یہ نہیں سوچا کہ فلاں فلاں
باتوں کو دشمن برداشت کریں گے یا نہیں؟… کیونکہ یہ تو’’کل‘‘ کی باتیں
تھیں… ہمارے پاس’’آج‘‘ تھا توہم سب نے اپنی زندگی کے آخری دن… حق بات
کہنے اور سچ لکھنے کی پابندی کرلی…ہمیں یہ ڈر نہیں تھا کہ کل ان باتوں کو پڑھ کر
فلاں ہمیں مار دے گا… یا فلاں ہمارا اخباربند کر دے گا… ہمیں اپنے
’’آج‘‘ کی فکر تھی کہ’’آج‘‘ ہم پر کیا فرض ہے… ہم بے فکری کے ساتھ’’ملا
محمد عمر مدظلہ‘‘کا بیان بڑی سرخی میں لگا دیتے… لوگ کہتے اخبار بند ہو جائے
گا… ہم عرض کرتے آج تو بندنہیں ہوا… کل پتا نہیں آئے گی یا
نہیں… ہم ایسے مشکوک ’’کل‘‘ کی خاطر اپنے ’’آج‘‘ کو کیوں’’سیاہ‘‘ کریں
کہ… پرویز مشرف کے بیان کو اخبار کی بڑی سرخی بنادیں… العیاذ باللہ ، العیاذ باللہ … ظالموں کی باتیں اہمیت کے
ساتھ چھاپنا خود ایک ظلم اور گناہ ہے…ایک صاحب نے پیغام بھیجا کہ’’القلم‘‘ زیادہ
سے زیادہ چھ ماہ چلے گا… دیوانوں نے کہا… چھ ماہ تو بہت بڑا عرصہ
ہے … ہم تو اسے آج چلانا چاہتے ہیں کہ آج یہ حق بات پہنچا دے… کیا
چھ ماہ زندہ رہنے کے لئے’’آج‘‘ جھوٹ بولنا جائزہے؟… ایک اور باخبر صاحب نے
فرمایا… القلم والے انگاروں سے کھیل رہے ہیں… کسی بھی لمحے یہ سب اندر
اور اخبار بند!!!… دیوانوں نے کہا آج تو ہم آزاد ہیں اور اخبار بھی جاری
ہے… کل کی ذمّہ داری اُن پر جو کل زندہ ہوں گے…ابھی دو چار دن پہلے ایک
دیوانے نے مجھے ایک کتاب کے چند نسخے بھیجے… میں نے کھول کر دیکھا
تو… رنگ و نور جلدپنجم… سبحان اللہ وبحمدہ
سبحان اللہ العظیم… واہ میرے عظیم مالک آپ کی قدرت
بہت عظیم ہے بہت اونچی… مجھے تو ایک جلد کی امید بھی نہ تھی… بس اپنے
آخری دن کو کام میں کھپانے کے لئے ہر پیر یا منگل کو قلم لے کر بیٹھ
جاتاتھا… کبھی بھی ذہن میں یہ نہیں آتا تھا کہ… اگلے ہفتے بھی لکھنا
ہوگا یانہیں… اب ماشاء اللہ پانچ جلدیں چھپ چکی
ہیں… یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل ہے… برادر عزیز
مولانا محمد مقصود احمد شہیدسکے مضامین بھی ان شاء
اللہ جلد چھپ کر سامنے آنے والے ہیں… برادر عزیز مولانا طلحہ
سیف کے مضامین بھی ماشاء اللہ دو جلدوں میں چھپ رہے
ہیں… اخبار میں شائع ہونے والی محترم پروفیسر انور جمیل صاحب کی نظموں کے
دومجموعے شائع ہو چکے ہیں… اخبار کے بعض مفید نمبر بھی الگ شائع ہو چکے
ہیں… اُس دن کوئی کہہ رہا تھا کہ’’القلم‘‘ تو
ماشاء اللہ پورا مدرسہ ہے… ایمان کا سبق، غیرت کا
درس… قرآن پاک کی تفسیر، سنت اور فقہ کی تعلیم… سیرت اور سوانح، نظم
اور نثر… اخبار اور واقعات… اور ہر تازہ معاملے پر امت مسلمہ کی
رہنمائی… اللہ تعالیٰ عُجب اورنظر بد سے اپنی حفاظت میں
رکھے… اور اُمتِ مسلمہ کے لئے نافع بنائے… بے شک اس میں اُن لوگوں کے
لئے عبرت ہے جو اپنے’’کل‘‘ کی خاطر اپنے ’’آج‘‘ کو محرومیوں میں دفن کر رہے
ہیں… اہل اسلام سے گزارش ہے کہ … القلم کی قدر کریں، اس سے استفادہ
کریں اور اسے زیادہ سے زیادہ مسلمانوں تک پہنچائیں… آج تو یہ اخبار آپ کے
پاس ہے … اپنے آج کو قیمتی بنائیں… کل کی نہ مجھے خبر نہ آپ کو…
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ پر یقین اور’’توکّل‘‘ رکھنے والے کبھی ناکام نہیں ہوتے… اگر
مسلمان اللہ تعالیٰ کی قدرت، قوّت اور کبریائی کا یقین
رکھے… اور اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ پر توکّل
کرے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور نصرت ہروقت اُس کے ساتھ
رہتی ہے… میرا معبود کون
ہے؟… اللہ،صرف اللہ… میرا خالق کون
ہے؟ اللہ،صرف اللہ… مجھے روزی کون دے
گا؟ اللہ،صرف اللہ…مجھے فتح کون دے گا؟
اللہ،صرف اللہ… میری مصیبتیں کون دور کرے
گا؟… اللہ،صرف اللہ… میرے گناہ کون معاف کرے
گا؟… اللہ،صرف اللہ… میری بیماری کون دور کرے
گا؟… اللہ،صرف اللہ… دشمنوں اور آفتوں کے
مقابلے میں میری مدد کون کرے
گا؟… اللہ،صرف اللہ… میں بخیل ہوں مجھے سخی کون
بنائے گا؟… اللہ،صرف اللہ…میں بُرا ہوں میری اصلاح
کون کرے گا؟… اللہ،صرف اللہ… میرے گناہ بہت
زیادہ ہیں میری مغفرت کون کرے گا؟… اللہ،صرف اللہ… میں
تو بے بس ہوں، بے کَس ہوں، بے سہارا ہوں میرا اس دنیا میں کون
ہے؟ اللہ،صرف اللہ… میں بدنصیب ہوں میری قسمت کون بدلے
گا؟ اللہ،صرف اللہ… میں تو گناہوں اور مصیبتوں میں
گِھر چکا ہوں، اب میرا بچنا اور سُدھرنا ناممکن ہے… اس ناممکن کو ممکن کون
بنائے گا؟ اللہ،صرف اللہ… مجھ پر قرضوں کا بوجھ ہے،
اتارنے کی کوئی صورت نہیں اتنے زیادہ قرضے کون اُتارے گا؟
اللہ،صرف اللہ… کفرہر طرف چھا چکا ہے، کافروں نے بے پناہ قوت حاصل
کر لی ہے، ان حالات میں اُمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو
کون بچائے گا؟ اللہ،صرف اللہ… مجھے موت کی سختی سے کون
بچا سکتا ہے؟ اللہ،صرف اللہ… مجھے قبر کی تاریکی، وحشت
اور عذاب سے کون بچا سکتا ہے؟ اللہ،صرف اللہ…مجھے پل صراط کون پار کرا
سکتا ہے؟ اللہ،صرف اللہ… مجھے جہنم سے بچا کر جنت میں
کون پہنچا سکتا ہے؟ اللہ،صرف اللہ… جی
بالکل اللہ تعالیٰ ہی سب کچھ کر سکتا ہے… اللہ، اللہ
اورصرف اللہ… لاالہ
الا اللہ … اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی
اس لائق ہی نہیں کہ ہم اُس کی بندگی کریں… لا الہ
الا اللہ … عبادت کے لائق ، اللہ، اللہ،صرف اللہ… تعریف
کے لائق… اللہ، اللہ… اور صرف اللہ… اسی لئے کہتے
ہیں الحمدللہ … پاکی کے لائق
صرف اللہ… ساری مخلوق اسی لئے کہتی ہے
سبحان اللہ … اللہ تعالیٰ سب کچھ کر سکتا
ہے… وہ ہر چیز پر قادر ہے… مزے لے کر
پڑھیں… ان اللہ علی کل شیٔ قدیر… کوئی چیز بھی
اُس کی قدرت سے باہر نہیں… جاپان آج زلزلے سے چلّا رہا ہے… امریکہ عراق
و افغانستان سے بھاگ رہا ہے… سائنسدان اپنی ہی باتوں کو جھٹلا رہے
ہیں… مگر اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے آسمانوں میں کوئی
ایک سوئی برابر بھی سوراخ نہیں کر سکا… شیطان ہمارا دشمن ہمارے دل
سے اللہ تعالیٰ کا یقین نکالتا ہے تب ہم بھی کافروں کی زبان
بولنے لگتے ہیں کہ… ہمارے حالات ٹھیک ہو ہی نہیں سکتے… مسلمان کامیاب ہو
ہی نہیں سکتے… میری اصلاح ہو ہی نہیں سکتی… قرآن پاک اعلان کرتا ہے
کہ اللہ تعالیٰ اوّل ہے ،آخر ہے، ظاہر ہے، باطن
ہے… وہ ہر چیز پر قادر ہے… اللہ تعالیٰ کو ساتھ لے کر
تو دیکھو… چھوٹا مسئلہ بھی حل ہوجاتا ہے اور بڑے مسئلے بھی ختم ہوجاتے
ہیں… وہ جو اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتے تھے… اُن
کو نہ آگ جلا سکی نہ سمندر ڈبوسکے نہ چُھری کاٹ سکی نہ درندے نگل سکے… اللہ
تعالیٰ معاف فرمائے ہمارے ایمان پر ’’شک‘‘ کے جراثیم نے حملہ کر دیا ہے… ارے
ایک بار تو دل سے اللہ تعالیٰ کے سوا سب کو باہر نکال
کر… صرف اللہ تعالیٰ کا نام بسا کر دیکھو… صرف
ایک بار وضو کر نے سے پہلے دل اور زبان سے کہو اے میرے مالک آج خالص آپ کی خوشی
اور رضا کے لئے وضو کر رہا ہوں… یقین جانیں آنکھیں بھیگ جائیں گی اور ایسی
رحمت اُترے گی کہ… جسم گناہ سے اور دل مایوسی سے پاک ہو جائے گا… اے
میرے مالک میں آپ کا غلام آپ کا بندہ آپ کوراضی کرنے مسجد آرہا ہوں… چلتے
جائیں اور باتیں کرتے جائیں… ہاں اُس عظیم رب سے جو اپنے بندوں کی سنتا
ہے… یا اللہ میں گناہوں کی معافی مانگنے آرہا
ہوں… آہا! میں کتنا خوش نصیب کہ آپ نے مجھے بُلایا ہے… مالک! میری جان
میرا جسم آپ پر فدا… معاف فرمادیجئے … آپ نے اتنے بڑے سورج کو
قابو کر رکھا ہے… میرے چھوٹے سے دل کو بھی اپنا بنا لیجئے! پیارے مالک ،عظیم
مالک… یا رحمن، یا رحیم… یا ارحم الراحمین…
رہوں
ذکر و طاعت میں ہر دم الہٰی
یہی
عمر بھر مشغلہ چاہتا ہوں
نہ
دم بھر رہوں یاد سے تیری غافل
یہ
توفیق اب اے ِالہٰ چاہتا ہوں
میں
کب تک پھروں دربدر مارا مارا
ترے
در پہ اب بیٹھنا چاہتا ہوں
جیوںگا
کسی کا میں ہو کر فدائی
بقا
بھی برنگِ فنا چاہتا ہوں
بوقت
خوشی ہو فنا کا تصوّر
مسرّت
بھی حسرت فزا چاہتا ہوں
جو
کر دے مجھے گُم خُدا کی طلب میں
میں
ایسا کوئی رہنما چاہتا ہوں
تصدُّق،
تعیُّش، تنعُّم، تجمّل
بس
اب اِک غمِ دلرُبا چاہتا ہوں
بس
اصلاحِ نفس اپنی تھک کر الہیٰ
تجھی
پر میں اب چھوڑنا چاہتا ہوں
دراصل
ہم نے اللہ تعالیٰ کی قدر نہیں کی… وما
قدرو اللہ حق قدرہ… ہم نے عظیم کلمہ ’’لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ کی قدر نہیں
کی… شیطان لعین نے ہمیں مایوسیوں کے اندھیرے میں دھکّا دیا تو ہم اپنے عظیم
نور والے رب کو بھول گئے… اللہ نور السموات
والارض… شیطان کبھی کان میں آکر اور کبھی خواب میں آکر کہتا ہے کہ… تو
تو بدنصیب بد قسمت ہے، تیری نجات اور اصلاح ممکن نہیں… تیری نماز اور تیرا
جہاد قبول نہیں… اگر تو مؤمن ہوتا تو تجھ سے گناہ کیوں ہو جاتے
ہیں؟… تیری توبہ ٹوٹ کیوں جاتی ہے؟… جھوٹ بولتا ہے یہ ملعون… اس کو
کچھ پتا نہیںکہ کون بدقسمت ہے اور کون خوش
نصیب؟… اللہ تعالیٰ جس کی چاہے اصلاح فرما سکتا
ہے… اُس نے مشرکوں کو توبہ کی توفیق دے کر اپنے آخری نبی کا ’’صحابی‘‘ بنا
دیا… سبحان اللہ ! حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین… ہدایت کی روشنی کے ستارے اور سارے کے سارے کامیاب… ابو جہل جیسے
ملعون کے بیٹے پر اللہ تعالیٰ نے رحمت کی نظر فرمائی
تو… وہ اسلام کے عظیم، جانباز سپہ سالار، محبوب صحابی اور کامیاب شہید بن
گئے… آسمانوں سے سچا اعلان آچکا ہے
کہ… ان اللہ یغفر الذنوب
جمیعا… اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو معاف فرماتا
ہے… جمیعاً کے لفظ نے کیا چھوڑ دیا کہ کوئی مایوس ہو
بیٹھے… دراصل اسلام اور مسلمانوں کے کام کا مسلمان وہی شخص بنتا ہے
جو اللہ تعالیٰ سے اچھا گمان رکھتا
ہے … اور اللہ تعالیٰ سے ’’اچھا گمان‘‘ رکھنے
والا ہی دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوتا ہے… حضرت سہیل بن
مہران رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ
علیہ کو اُن کی وفات کے بعد خواب میں دیکھا… میں نے کہا… اے ابو یحییٰ!
کاش… مجھے پتہ چل جائے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور آپ کی
پیشی کس طرح ہوئی؟… مالک بن دینار س نے فرمایا کہ میں بہت زیادہ گناہ لے
کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہوا
لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ میرے حُسنِ ظن نے میرے ان
سارے گناہوں کو مٹا دیا… حضرت مالک بن دینار بڑے محدّث، بزرگ
اور اللہ والے گزرے ہیں… اُن کے انتقال کی رات حضرت
مہدی بن میمون رحمۃ اللہ علیہ نے خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ یہ آواز لگا رہا ہے
کہ… اے لوگو! خوب سن لو کہ مالک بن دینارس اہل جنت میں شامل ہو گئے
ہیں… اللہ تعالیٰ سے’’حُسنِ ظنّ‘‘ اتناعظیم عمل ہے کہ…
اسی
نے حضرت مالک بن دنیار کے سارے گناہوں کو مٹا دیا… ابتداء میں اُن کی زندگی
بھی غفلت اور گناہ والی تھی… پھریکایک توبہ کی تو زمانے کے رہنما بن
گئے… کوئی ہے جو آج کالجوں، یونیورسٹیوںمیں پھنسے ہوئے مسلمان نوجوانوں
کو اللہ تعالیٰ کی طرف بُلائے؟… موبائل اور انٹرنیٹ،
روشن مستقبل اور فرینڈ شپ… گاڑی، کوٹھی بنگلے کے خواب… بے مقصد زندگی
اور بے فائدہ محنت… اللہ تعالیٰ اپنی طرف
بُلارہاہے… کوئی ہے جو آج کے نوجوان کو… قوم پرستی، علاقہ
پرستی… زبان پرستی… اور قبیلہ پرستی کی بدبودار دلدل سے نکال
کر… شاہ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں لے جائے… یہ
دربار اُنہی کو نصیب ہوتا ہے جو ’’لا الہ الا اللہ
‘‘ کو سمجھتے اور مانتے ہیں… اور ’’محمد
رسول اللہ ‘‘ کے طریقے سے…’’لا الہ الا اللہ ‘‘ تک پہنچتے
ہیں… اور پھر اسی کلمے پر متحد ہو کر… قومیت، وطینت، لسانیت اور قبائلیت
کے بتوں کو توڑ دیتے ہیں… اور پھر’’لا الہ الا اللہ
‘‘ کے حقیقی سچ کو دنیا پر نافذ کرنے کی محنت کرتے ہیں… اور اس
عظیم کلمے کی عظمت کے لئے جان و مال کی قربانی دیتے ہیں…کوئی ہے جو اپنی ذات کے
خُول سے باہر نکل کر… اسلام اور مسلمانوں کے لئے سوچے؟… کوئی ہے جو اپنی
خواہشات کے جال توڑکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کی اُمت کے درد کو سمجھے؟… ایک طرف دشمن ہے کہ حملوں پر حملے
کرتا جارہا ہے… اور دوسری طرف ہم ہیں کہ… شیطان نے ہمیں اپنے عظیم رب سے
کاٹ رکھا ہے… مسلمانو! اللہ تعالیٰ سے خوش گمانی کی
دعاء مانگو!… قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کی صفات کو
پڑھو… اپنے رکوع اور سجدے میں اللہ تعالیٰ کے قُرب کو
محسوس کرو… اپنے سانس اور لقموں میں اللہ تعالیٰ کی
قدرت کو دیکھو… اپنے چُھپے ہوئے گناہوں پر اللہ تعالیٰ
کے پردے محسوس کرو… اگر اللہ تعالیٰ ستّاری کا معاملہ
نہ فرمائے تو ایک دن میں دنیا کے تمام انسان ایک دوسرے کو کاٹ کر پھینک
دیں… کیا واقعی ہماری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟… کون قبول کرے
گا؟ اللہ، اللہ ، صرف اللہ… ہمارے دل سے
گناہوں کا شوق کون نکالے گا؟… اللہ، اللہ اور
صرف اللہ… کیا ہم بھی کام کے انسان بن سکتے ہیں؟… کون بنائے
گا؟ اللہ، اللہ اور صرف اللہ… حضرت سیدنا
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے لے کر زمانہ حال کے تمام فاتحین انسان
تھے… اللہ تعالیٰ سے انہوں نے اچھا گمان رکھا
کہ اللہ تعالیٰ اُن سے کام لے گا… دیکھاآپ نے مالک نے
اُن سے کیا کام لیا… طارق بن زیادس ہو یا محمد بن قاسم س… صلاح الدین
ایوبی س ہوں یا نورالدین زنگیس… اُن کے کارناموں کے اثرات آج تک جاری
ہیں… تُھوک دو مایوسی پر…آجاؤ اُس رب کی طرف جو غفور ہے، حلیم ہے، جواد ہے،
کریم ہے، رؤف ہے، رحیم ہے، رحمان ہے، حنّان ہے… جی ہاں گناہوں کو نیکیوں سے
بدلنے کی طاقت رکھنے والا ہے… زندگی تیزی سے گزر رہی ہے سعادت مند جھولیاں
بھر رہے ہیں… آؤ میں اور آپ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف
دوڑیں… کیا واقعی؟… ہم جیسوں کو اس توفیق کون دے سکتا ہے؟ اللہ، اللہ
اور صرف اللہ… یا اللہ ہم سب کو اپنا بنالے… ہم
سب کو کام کا بنادے… اور ہم سب کو کامیاب فرمادے… قبول فرما… یا
اللہ ، یا اللہ ،یا اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ و بارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
مجھے اور آپ سب کو’’نفاق‘‘ سے بچائے…(۱)… دوپاکستانی
مسلمانوں کا قاتل’’ریمنڈ ڈیوس‘‘ آزادفضاؤں میں گُھوم رہا ہے…(۲)… پاکستان
کی سرزمین سے اُڑنے والے امریکی ڈرون طیاروں نے وزیرستان کو مسلمانوں کے خون سے
رنگین کر دیا ہے… (۳)… مسلمانوں
کے مُلک’’لیبیا‘‘ پر صلیبی ظالموں نے خوفناک فضائی حملہ کر دیا ہے… بے
شک’’نفاق‘‘ بہت خطرناک مرض ہے… منافق کی بھرپور کوشش ہوتی ہے کہ مسلمانوں کو
زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچائے… مسلمانوں میں نفاق کیوں پیدا ہوتا
ہے؟… وجوہات تو بہت سی ہیں مگر موٹی موٹی تین ہیں…(۱) حرص اورلالچ…(۲) حسد
اوربُغض…(۳) آزمائشوں
سے بچنے کی فکر…
ایک
مفسّر لکھتے ہیں:
’’مخلص
اور منافق برابر نہیں ہو سکتے، ان دونوں میں آسمان وزمین کا فرق ہے… جس شخص
کے کام کی بنیاد اخلاص، تقویٰ، اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی
پرہو، وہ اچھا اور بہتر انسان ہے، اس کا عمل سرسبز ہوگا اور اچھے نتائج پیدا کرے
گا، بخلاف اس کے وہ شخص جس نے اپنے کام کی بنیاد، کفر، نفاق ،سازش اور مکروفریب پر
رکھی وہ بہت بُرا انسان ہے، اُس کا انجام بہت بُرا ہوگا اور وہ ہرگز کامیاب نہ ہوگا‘‘(حاشیہ
قرآن مجید اورنگ آبادی)
’’ریمنڈ
ڈیوس‘‘ نے توچھوٹنا ہی تھا… کیونکہ نہ وہ مسلمان تھا اور نہ
پاکستانی… پھر وہ قید میں کیوں رہتا؟… جب سے یہ مسئلہ شروع ہوا ہم نے اس
پر کچھ نہیں لکھا… کیونکہ مکمل یقین تھا کہ ہمارے حکمران زیادہ دن تک اس قاتل
کو اپنی قید میں نہیں رکھ سکیں گے… یہ بھی بہت ہمت کی بات ہے کہ تیس چالیس دن
اُس کو قید میں رکھ لیا… اسی ہمت کو دیکھ کر بہت سے لوگ غلط فہمی میںمبتلا ہو
گئے کہ شاید حکمرانوں میں کچھ ایمان، کچھ غیرت اور تھوڑی سی بہادری آگئی
ہے… یہ تو اچھا ہوا کہ پرویز مشرف کے دور میں یہ واقعہ نہیں ہوا… وہ
ہوتا تو شہید ہونے والے فہیم اور فیضان کے خلاف تقریر جھاڑتا کہ… یہ دونوں
ایک امریکی کی گاڑی کے قریب کیوں آئے تھے؟… پاکستان کے حکمران تو اب تک
امریکا نامی بُت کی چوکھٹ پر لاکھوں پاکستانیوں کو ذبح کر چکے ہیں… پھر فہیم
اور فیضان کے قاتل کو کس جُرم میں گرفتار رکھا جا سکتا تھا؟… چند دن غیرت کا
ایک نقلی ڈرامہ ہوا اور پھر قاتل کو باعزت بری کر دیا گیا… فہیم اور فیضان کی
روحیں بھی طنز سے مسکرا کر حکمرانوں اور اپنے رشتہ داروں کو دیکھ رہی ہوں
گی… ہمارے قلم نویس بھی عجیب لوگ ہیں… عقلی اور اخلاقی دلائل سے ثابت
کرتے ہیں کہ… امریکہ نے یہ غلط کیا اور فلاں نے وہ غلط
کیا… ارے اللہ کے بندو! آج کل صرف ’’طاقت‘‘ کی زبان
اور’’طاقت‘‘ کا قانون چلتا ہے… امریکہ طاقت میں تھا تو اپنے آدمی کوچُھڑا کر
لے گیا… جبکہ ہمارے حکمران… ہر طرح کی طاقت، ہمت،عزم،ارادے اور مقصد سے
محروم ہیں… کھانا، پینا، عیاشی کرنا، ناچنا… اور خزانے جمع کرنا ان کا
شوق ہے… یہ چاہیں تو … ’’لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ کی ناقابل تسخیر
طاقت کو حاصل کرلیں… مگر کہاں؟… یہ تو کفر کے جھنڈے تلے مسلمانوں کو
مارتے اور ذبح کرتے ہیں… ڈرون طیارے خودپاکستان کے ہوائی اڈوں سے اڑتے
ہیں… اورپھر پاکستانیوں کا قیمہ بناتے ہیں… کیا دنیا کے کسی اور مُلک
میں بھی ایسا ہو سکتا ہے؟… حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا کہ… میں سب سے زیادہ اپنی اُمت کے لئے جس سے ڈرتاہوں وہ باتوں کا ماہر
منافق ہے… (او کما قال مسند احمد)
قرآن
پاک نے ’’نفاق‘‘ اور’’منافق‘‘ کو بہت کھول کھول کر بیان فرمایا… اور ایسی
عجیب ترتیب سے بیان فرمایا کہ اگر کوئی توجہ سے پڑھے تو اُس کے لئے نفاق سے بچنا
آسان ہو جائے… سورہ توبہ میںدیکھیں… منافقین کا ایک
گروہ… مسلمانوں کی جماعت میں تفریق ڈالنے اور کافروں کو مدد پہنچانے کے لئے
ایک’’مسجد‘‘ بنا رہا ہے… یہ ہے نفاق کا کردار… اس کے بعد اگلی آیت
میں… وہ ایمان والے جو اپنی جان و مال اللہ تعالیٰ کو
بیچ رہے ہیں تاکہ انہیں جنت ملے…یعنی بیعت علی الجہاد… یہ ہے نفاق کا
علاج… واقعی بیعت علی الجہاد بہت عظیم ایمانی نعمت ہے… جس کو یہ نعمت
نصیب ہو وہ اس کی حفاظت کرے… اور کسی یار، دوست کی خاطر اس سے محروم نہ
ہو… الحمدللہ دنیا میں جہاد کی برکت
سے بہت تیز تبدیلی آرہی ہے… دوہفتے قبل عرض کیا تھاکہ… ابھی بہت سے
محاذ اور کُھلیں گے… اور جنگ کا دائرہ وسیع ہوگا… آپ نے دیکھا کہ
’’لیبیا‘‘ کا محاذ کُھل گیا ہے اور اب صحراؤں میں بسنے والے جفاکش عرب اور افریقی
مسلمانوں میں جہاد کی دعوت پھیلے گی… اللہ تعالیٰ کی شان
دیکھیں کہ… صدام حسین شہید ساری زندگی جہاد کی مخالفت کرتے رہے… مگر
معلوم نہیں کہ ربّ غفور کو کون سی نیکی پسندآئی کہ حالات نے ’’صدام حسین‘‘ کو
جہاد کا نعرہ لگانے پر مجبور کر دیا… اور بالآخر وہ کافروں کے ہاتھوں پھانسی
سے سرفراز ہوئے… ایسا ہی کچھ لیبیا کے صدر قذافی کے بارے میں نظر
آرہاہے… قذافی ایک انقلابی لیڈر ہے مگر اسلام کے نظریہ جہاد سے بہت
دُور… اُس کے زمانے لیبیا میں مغربی طرز کی آزادی رہی اور دینی جماعتوں
اورجہاد کی دعوت پر بہت سخت پابندی رہی… یہ ٹھیک ہے کہ وہ کبھی کبھار دوسرے
ممالک کے علماء کو طرابلس بُلاتاتھا اور سیرت اورمیلاد کے جلسے بھی سجاتاتھا مگر
خود لیبیا والوں کو اُس نے جہاد کی کبھی اجازت نہ دی… مصر، تیونس اور الجزائر
کے مجاہدین کی طرح لیبیا کے مجاہدین بھی اپنی حکومت میں معتوب تھے… صدر قذافی
کے اسلام اور قرآن کے بارے میں کئی نظریات بھی جمہور اہل سنت و الجماعت کے خلاف
تھے… قذافی کی بہادری بھی آئے دن طرح طرح کی کروٹیں بدلتی رہتی
تھی… ایک زمانے اُس کو ایٹمی طاقت بننے کا شوق ہوا تو بہت پیسہ
لگایا… اور پاکستان کے تعاون سے کافی پیش رفت بھی کرلی… مگر پھر یکایک
یوٹرن لیا اور اپنا اربوں ڈالر کا ایٹمی نظام… جہازوں میں بھر کر… اقوام
متحدہ اوریورپ کے حوالے کر دیا…
ابھی
حال میں جب’’لیبیا‘‘ میںمظاہرے شروع ہوئے تو قذافی اور اُس کے بیٹے نے اس کا
الزام… لیبیا کے’’اسلام پسندوں‘‘ پر رکھا اور اسامہ بن لادن کو ان مظاہروں کا
ذمہ قرار دیا… پچھلے چند سالوں میں’’لیبیا‘‘ نے اپنے چہرے کو سیکولر بنانے کے
لئے… فرانس، اٹلی اور یورپ کے کئی ممالک میں بے تحاشہ پیسہ خرچ کیا… مگر
گورے کافر کسی کے دوست نہیں ہوتے… وہ تو طویل عرصہ سے قذافی کی تاک
میںتھے… اور اب اُن کو ایک کھلم کھلّا بہانہ بھی مل گیا… قذافی کل تک
کیسا تھا… وہ کل گزر گئی، مگر آج وہ ’’صلیبی حملوں‘‘ کا نشانہ ہے… بہت
سے سازشی مزاج لوگ اس میں بھی کوئی سازش تلاش کریں گے کہ… قذافی کو مقبول
بنانے کے لئے یہ حملے ہو رہے ہیں… مگرہمیں تو وہی دیکھنا ہے جو کُھلی آنکھوں
سے نظر آرہاہے… جب قذافی پر صلیبی طاقتیں حملہ آور ہوںگی توعالم اسلام کی
ہمدردیاں یقینا قذافی کے ساتھ ہوں گی… ہماری دعاء اورتمنا ہے کہ… قذافی
وسعتِ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے باغیوں سے صلح کر لے… اور باغی بھی تازہ
صورتحال میںاپنی بندوقوں کا رُخ ’’کفر‘‘ کی طرف کر لیں… معلوم نہیں یہ تمنا
پوری ہوگی یا نہیں مگر ایک بات تو پکّی ہے کہ جہاد کا ایک اور محاذ کُھل گیا
ہے… اب لیبیا اور اُس کے آس پاس کے علاقوں میں آیاتِ جہاد گونجیں
گی… اور بہت سے خوش نصیب مسلمان ان آیات مبارکہ پر عمل کے لئے میدان
میںاُتریں گے… آج پوری دنیا میں کہیں بھی اسلام نافذنہیں ہے… دنیا کا
موجودہ نظام اسلام اور مسلمانوں کے لئے موت ہے… ظاہری ا من اگرایمان کے بغیر
ہوتو وہ مسلمان کے لئے جہنم کی طرح بُرا ہوتا ہے… حضرت امام
مہدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں احادیث مبارکہ اور روایات
پڑھیں تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ… ہر طرف جنگیں اور فسادات ہوں گے… ان
حالات میں اُن کا ظہور ہو گا اور اسلام کے بڑے اورحتمی غلبے کا دور شروع ہو گا… موت
تو ہر کسی پر آنی ہے… جاپانیوں پر آج کل کونسی جنگ مسلّط ہے کہ روز سینکڑوں
لوگ مررہے ہیں… اللہ کرے’’لیبیا‘‘ کے مسلمان،عراق اور
افغانستان کے مسلمانوں سے سبق لیں اور حملہ آور صلیبیوں کو خون کے دلدل میں غرق
کر دیں… مسلمانوں میں جہاد جتنا مضبوط ہوتا جائے گا… نفاق اور منافقین
اتنے کمزور ہوتے جائیں گے… ہمارے لئے اہم ترین بات یہ ہے کہ ہم قرآن و سنت
میں منافقین کی علامات پڑھیں… اور اس بات کی فکر کریں کہ یہ علامات ہمارے
اندر پیدا نہ ہونے پائیں… روایات میں آتا ہے کہ آخری زمانے میںمنافقین بہت
زیادہ ہوجائیںگے… حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما فرماتے ہیں …
’’یاتی
علی الناس زمان یجتمعون فی مساجدھم لیس فیھم مؤمن‘‘
ترجمہ: ’’لوگوں
پر ایسا وقت بھی آئے گا کہ وہ اپنی مسجدوں میں جمع ہوں گے ان میں کوئی مؤمن نہیں
ہوگا‘‘(مصنف ابن ابی شیبہ)
ہم
سب کو نفاق سے بہت ڈرتے رہنا چاہئے… حضرات صحابہ کرا م رضی اللہ
عنہم جن کو نفاق کا خطرہ تک نہیں تھا وہ بھی ہر وقت منافق ہونے سے ڈرتے
تھے اور نفاق سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تھے… اور تو اور حضرت
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جیسے عظیم الشان صحابی اور
خلیفہ راشد بھی نفاق سے ڈرتے تھے… حضرت حسن رحمۃ اللہ علیہ فرماتے
ہیں کہ… حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جب یہ سمجھ
لیا کہ نفاق ایمان کو کھا جاتاہے تو پھر اُنہیں نفاق کے سوا کوئی فکر اور غم نہیں
تھا… یعنی ہر وقت نفاق سے حفاظت کی فکر میں رہتے تھے… حضرت جبیر بن نفیر
رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ… انہوں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ
عنہ کو سنا کہ نماز میں تشہد کے بعد نفاق سے اللہ تعالیٰ کی
پناہ مانگ رہے تھے اور انہوںنے بہت کثرت سے نفاق سے پناہ مانگی… جبیرس نے اُن
سے عرض کیا… اے ابو درداء رضی اللہ عنہ ! آپ کو کیا
ہوا… کہاں آپ اور کہاں نفاق؟…(یعنی نفاق … تو آپ سے بہت بعید ہے)
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا… ہمیں معاف
رکھو! اللہ تعالیٰ کی قسم آدمی ایک ہی گھڑی میں اپنے دین
میں ایسی کروٹ کھاتا ہے کہ دین سے نکل جاتا ہے… (صفۃ المنافق للفریابی)
واقعی
’’نفاق‘‘ بہت خطرناک’’بلا‘‘ ہے… آج عالم اسلام اسی بلا کی’’وبا‘‘ میں تڑپ
رہاہے… اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو نفاق سے
بچائے… اور ہم سب کو ایمانِ خالص، ایمانِ کامل اورایمانِ دائم نصیب فرمائے…
اَللّٰھُمَّ
اِنَّا نَعُوذُبِکَ مِنَ النِّفَاقِ… اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَعُوذُبِکَ مِنَ
النِّفَاقِ…
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیماکثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
نے اپنے سب سے محبوب اور آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو
حکم فرمایاکہ… آپ جنّاتی شیطانوں اور انسانی شیطانوں کے شر
سے… اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگیں… معلوم ہوا کہ شیاطین
کی دوقسمیں ہیں (۱) انسانی
شیطان(۲) جنّاتی
شیطان… قرآن پاک میں ایک اور جگہ بھی ان دونوں قسم کے شیاطین کا تذکرہ ہے…
وَکَذٰلِکَ
جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ یُوْحِیْ
بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا (الانعام ۱۱۲)
ترجمہ: اور
اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے شرارتی آدمیوں اور جنّوں کو دشمن بنا دیاجو کہ ایک
دوسرے کو ملمع کی باتیں دھوکا دینے کے لئے سکھاتے ہیں…
آپ
نے قرآنِ پاک کی آخری سورت تو پڑھی ہو گی…’’سورۃ الناس‘‘… اس
میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ
وسلم کو حکم دیا کہ آپ… ’’الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ‘‘
سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگیں… ’’الْوَسْوَاسِ‘‘… بہت
زیادہ وسوسے ڈالنے والا…( یہ مصدر ہے مبالغہ کے
لئے)… الْخَنَّاسِ پیچھے ہٹ جانے والا، چھپ جانے والا… یعنی
وسوسہ ڈال کر غائب ہوجاتا ہے… اور پھر واپس ہو کر نئے وسوسے ڈالتا
ہے… ہر دن نیا وسوسہ، ہر گھڑی نیا شوشہ… انسان جب’’ذکر اللہ
‘‘ میں لگے تو وسوسہ ڈالنے والا بھاگ جاتا ہے… مگرجیسے ہی انسان غافل ہوتا ہے
یہ دوبارہ وسوسہ ڈالنے پہنچ جاتا ہے… اصل میں یہ کام تو شیطان کا ہے مگر کچھ
انسان بھی بدقسمتی سے’’شیطان‘‘ بن جاتے ہیں… اور بعض اوقات انسان کا اپنا نفس
بھی’’شیطان‘‘ بن جاتا ہے اور ہر وقت پلٹ پلٹ کر وسوسوں کے حملے کرتا رہتا
ہے… شیطان… خواہ وہ انسان ہو یا جنّ ان دونوں کا وسوسہ انسان کے لئے
اتنا خطرناک ہے کہ… اس کی وجہ سے انسان ہر بُرائی میں جا پڑتا ہے اور ہرسعادت
سے محروم ہوجاتا ہے… آپ دین کا کام کر رہے ہیں اور صبح و شام نیکیاں کما رہے
ہیں… اچانک کوئی جنّاتی یا انسانی شیطان آپ کو وسوسے میں ڈالتا ہے… اگر
آپ اُس کا وسوسہ قبول کر لیتے ہیں تو… فوراً دل سے تمام اطمینان ختم ہو جاتا
ہے اور انسان مایوسی اور اندھیرے کے دلدل میں غوطے کھانے لگتا ہے… جنّات کی
نظر تو سیدھی دل پر اثر کرتی ہے… دَھار والے نیزے سے بھی زیادہ
تیز… ایسی نظر لگتے ہی دل بے چین ہو جاتا ہے… اور ایسی شدید تنگی اور
الجھن ہوتی ہے کہ انسان سکون حاصل کرنے کے لئے نشے اور گناہ کی طرف بھاگنے لگتا
ہے… اور دین کا ہر کام اُسے قید اور مصیبت نظر آنے لگتا
ہے… اللہ تعالیٰ نے ہم پر بڑا احسان فرمایا کہ اس کے علاج
کے لئے قرآن پاک کی آخری سورت… سورۃ الناس نازل فرما دی اور ہمیں سکھا دیا
کہ … میں تمہارا ربّ ہوں، میں تمہارا مالک اور حکمران ہوںا اور میں
تمہارا معبود ہوں… تم فوراً میری پناہ میں آجاؤ… تم جیسے ہی میری پناہ
میں آؤ گے مکمل طور پر محفوظ ہو جاؤ گے… پھر کوئی بھی شیطان… خواہ وہ
جنّ ہو یا انسان تمہیں اپنے وسوسوں کے جال میں نہیں پھنسا سکے گا… کوئی بھی
شیطان تم سے نورِ ایمان… اوردل کے سکون کو نہیں چھین سکے گا… کسی جادوگر
کا جادو اور کسی نظر لگانے والے کی نظر تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکے
گی… اللہ اکبر
کبیرا … اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کے بعد پھر کس
کی ہمت ہے کہ… وہ ہمیں نقصان پہنچا سکے…
اس
سے پہلے سورۃ الفلق میں چار چیزوں سے پناہ مانگی گئی ہے…
(۱) تمام
مخلوق کے شر سے(۲) اندھیرے
کے شرسے جب وہ چھا جائے(۳) جادو
کرنے والی عورتوں کے شرسے (۴) حاسدین
کے شر سے جب وہ حسد پر اُتر آئیں…
قرآن
پاک کی ان دو مبارک سورتوں کو’’معوّذتَین‘‘ کہتے ہیں…
پورا
قرآن پاک جو عظیم نعمتیں ہم سب کو عطاء فرماتاہے… یہ نعمتیں کوئی دشمن ہم سے
چھین نہ لے اس کے لئے قرآن پاک کے آخرمیں… حفاظت کی یہ دوسورتیں نازل
فرمادیں… جو مسلمان ان دو سورتوں کا اہتمام کرتا ہے
وہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور پناہ میں آجاتا ہے… بعض
مفسرین نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ… ہر مسلمان ان دو سورتوں کا بے حدمحتاج
ہے… اور ان دو سورتوں کی ضرورت سانس لینے، کھانے پینے اور لباس پہننے سے بھی
زیادہ ہے… ان دو عظیم سورتوںپر تھوڑا آگے چل کر بات کریں گے اُس سے پہلے آپ
مجھے ایک سوال کا جواب دیں… کیا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے
بڑھ کر کسی کی روحانی طاقت ہو سکتی ہے؟… یقیناً آپ سب کا جواب یہی ہوگا کہ
نہیں، ہرگز نہیں… اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ روحانی طاقت
اپنے محبوب تاجدار حرمین صلی اللہ علیہ وسلم کو عطاء فرمائی
ہے… پھر تھوڑا سا اندازہ لگائیے کہ… جس جادو نے آپ صلی اللہ علیہ
وسلم پر بھی اثر کرلیا وہ کتنا خوفناک اور طاقتور جادو
ہوگا؟… یقینی بات ہے کہ اگر وہ جادو مجھ پر یا آپ میں سے کسی پر ہوجاتا تو
اُس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا … آج کل کوئی ایساجادو گر نہیں جو اتنا تیز
اور سخت جادو کر سکے… ہم سب جانتے ہیں کہ مدینہ منورہ کے ایک یہودی لبید بن
اعصم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا… یہ شخص اصل میں تو
کافر تھا مگر ظاہری طور پر خود کو مسلمان قرار دے کر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتاجاتا
تھا… قصہ طویل ہے اور آپ نے بارہا سنا ہوگا… اصل بات یہ ہے کہ اتنے سخت
جادو کے علاج کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ دوسورتیں نازل
فرمائیں… اور ان دو سورتوں نے اُس جادو کو جڑ سے کاٹ دیا… معلوم ہوا
کہ… یہ دو سورتیں سب سے سخت جادو کو بھی توڑ دیتی ہیں تو پھر آج کے مسلمان
کیوں ہر در کے دھکّے کھاتے پھرتے ہیں اور ان دو سورتوں سے فائدہ کیوں نہیں
اٹھاتے؟… دراصل یقین، توکّل اور ایمان کی کمزوری ہے…آپ کے پاس کوئی مسلمان
آئے اور بتائے کہ مجھ پر جادو ہے آپ اُسے یہ دو سورتیں بتادیں وہ فوراً مایوس ہو
جائے گا…کہ مجھے کوئی بڑا علاج ہی نہیں بتایا استغفر اللہ ، استغفر اللہ … اس
کی جگہ آپ اُس کو چند تعویذ دیں کہ ان کو یوں موم لگانا، فلاں پانی
چھڑکنا… کسی چراغ میں جلانا… پھر دور دریا میں ڈالنے جانا… وہ خوش
ہو گا کہ اب ٹھیک علاج جا رہا ہے… ان اللہ وانا الیہ
راجعون… اللہ رب العزت کا عظیم کلام تو مسلمانوں کی
نظر میں کچھ نہیں… اور الٹے سیدھے نفسیاتی شعبدوں کو وہ بہت بڑی طاقت سمجھتے
ہیں… بندہ دعوے کے ساتھ عرض کرتا ہے کہ دنیا بھر کے عاملوں کے عملیات، اُن کے
تعویذ، اُن کے چراغ اور اُن کے شعبدے، ان کے دھاگے اور فلیتے ان دو مبارک سورتوں
کی ایک آیت کے کروڑویں حصے جتنی طاقت بھی نہیں رکھتے… لوگوں کو جو ظاہری
فائدہ محسوس ہوتا ہے وہ محض نفسیاتی اور ذہنی ہوتا ہے…روحانی فائدہ تو روحانیت کے
مرکز قرآن پاک سے ہی مل سکتا ہے…
اخبار
میں جاپان کے کسی چالاک تاجر کا قصہ لکھا تھا کہ وہ اپنی بیوی کو اپنی
پسندیدہ فلم دکھانے لے گیا… دوران فلم بیوی کے سر میں شدید درد
ہوا وہ کراہنے لگی… تاجر درمیان سے اٹھ کر جانا نہیں چاہتا تھا
اُس نے فوراً عاملوں والا حربہ استعمال کیا… بیوی سے کہنے لگا میں امریکہ گیا
تھا وہاں ایک ڈاکٹر نے مجھے بہت ہی مہنگی گولی بتائی کہ… بس منہ میں ڈال کر
بیٹھ جاؤ جیسا بھی درد ہو فوراً ٹھیک ہوجاتا ہے… وہ کافی دیر اس گولی کی
اہمیت، فوائد اور قیمت بتاتا رہا اور پھر اپنی قمیص کا ایک بٹن توڑ کر بیوی کے منہ
میں ڈال دیا… دو منٹ بعدبیوی نے لمبا سانس لیا اور کہا عجیب گولی ہے، درد کا
تو نام و نشان ہی ختم کر دیا… آہ مسلمان! تیرے پاس قرآن پاک ہے پھر بھی
کبھی مزاروں کے دھکّے، کبھی عاملوں کے چکّر… کبھی دور دراز کی درگاہوں کی
ذلّت اور کبھی دھوکے بازوں کی مِنّت اور سماجت… اچھا ایک اور بات
بتائیں… حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانے کے کافر اور
منافق جتنے سخت تھے… کیا ویسے سخت کافر اور منافق کسی اور زمانے میں ہو سکتے
ہیں؟… یقیناً آپ سب کا جواب ہو گاکہ… ہرگز نہیں… وہ کافر واقعی
بہت سخت اورظالم تھے… آہ میرے محبوب آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے
رخ انور کو دیکھ کر بھی جن کا کفر اور نفاق نہ پگھلا… اُن جیسا سخت بد نصیب
اور کون ہو سکتا ہے؟…ان کافروں اور منافقوں میں بہت سے ’’الْوَسْوَاسِ
الْخَنَّاسِ‘‘ بھی تھے… جی ہاں وسوسے ڈالنے والے… اسلام کے
خلاف، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے
خلاف… اوردین کے خلاف… کبھی مسلمان ہو جاتے پھر کافر ہو جاتے تاکہ اپنے
ساتھ اوروں کو بھی گھسیٹ کر لے جائیں… صحابہ کرامؓ سے ملاقاتیں
کرکے… اپنے وسوسے اُن میں منتقل کرنے کی کوشش کرتے اور طرح طرح کے الزامات
اور طرح طرح کا روناروتے… اللہ تعالیٰ نے حضرات صحابہ کرامؓ
کو یہ دو سورتیں عطاء فرمائیں… ان دو سورتوں میں ہر طرح کی جسمانی اور روحانی
آفتوں سے حفاظت کا سامان ہے… حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے
ان مبارک سورتوں سے خوب فائدہ اٹھایا اور ہر طرح شیطان سے الحمدللہ محفوظ رہے… آج بھی تمام مسلمان کو عموماً
اور دین کا کام کرنے والوں کو خصوصاً ان دو سورتوں سے فائدہ اٹھانا چاہئے… اب
ان دو سورتوں کے بارے میں اگلی عبارت خوب غور سے پڑھیں… بلکہ کوشش کریں کہ دو
بار پڑھ لیں… مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ آپ کے
بہت سے مسائل ان شاء اللہ حل ہو جائیں گے…
’’حافظ
ابن قیمس نے معوذتین کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ان دونوں سورتوں کے منافع و برکات بے
شمار ہیں اور سب لوگوں کو ان کی حاجت و ضرورت ہے… کوئی ایک انسان بھی ان سے
مستغنی نہیں ہو سکتا…ان دونوں سورتوں کو سحر، نظر بد، آفاتِ جسمانی اور امراضِ
روحانی کے دور کرنے میں تاثیرِ عظیم ہے… اور حقیقت کو سمجھا جائے تو انسان کو
ان کی ضرورت سانس لینے، کھانے پینے اور لباس پہننے سے بھی زائدہے… یہ تو ہر
مؤمن کا عقیدہ ہے کہ دنیا و آخرت کے منافع و نقصانات
سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، بغیر اُس کی مشیّت کے کوئی
کسی کو ذرہ برابر نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان… اس لئے دنیا و آخرت کی تمام
آفات سے محفوظ رہنے کی اصل صورت یہی ہے کہ انسان اپنے آپ
کو اللہ تعالیٰ کی پناہ میں دے دے… اور اپنے عمل سے اس
کی پناہ میں آنے کے قابل بننے کی کوشش کرے… ان دو سورتوں میں سے پہلی
سورت(الفلق) میں تو دنیوی آفات سے اللہ تعالیٰ
کی پناہ مانگنے کی تعلیم ہے … اور دوسری سورت(الناس) میں اُخروی آفات
سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا طریقہ سکھایا
گیاہے… یا یہ کہیے کہ سورۂ فلق میں جسمانی شرور سے اور سورۂ ناس میں روحانی
آفات سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے… مستند احادیث میں ان دو سورتوں کے
بڑے فضائل اور برکات منقول ہیں‘‘…( درسی تفسیر ص ۴۸۵)
ان شاء
اللہ رنگ و نور کی کسی مجلس میں… ان دو سورتوں کے مسنون فضائل
اور کچھ مجرب طریقے عرض کر دیئے جائیں گے… فی الحال تو اس عظیم خزانے کی طرف
توجہ دلانا مقصود ہے کہ… مسلمان اس کی قدر و قیمت کو پہچانیں… جو لوگ
جادو، نظر یا وساوس میں مبتلا ہیں… وہ روزآنہ سو سو بار ان دو سورتوں کا
اہتمام کریں… جو اپنے دینی کاموں اور جماعت کے بارے میں وساوس میں مبتلا ہیں
وہ بھی یہ عمل پوری توجہ سے کریں… اور دونوں سورتیں ہر بار
بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ساتھ پڑھیں… اور
پہلی مرتبہ اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بھی پڑھ
لیں… فتنوں کی کثرت کیو جہ سے کم از کم صبح شام گیارہ بار، یا سات بار ان دو
سورتوں کا ہر مسلمان کو اہتمام کرنا چاہئے… ورنہ تین بار تو کبھی ناغہ نہ
کریں… ایک بات اوریاد رکھیں کہ’’عمل‘‘ وہی ہوتا ہے جسے انسان خود
کرے… بے شک دوسروں کے دم کرنے سے بھی اثر ہوتاہے مگر وہ تو اس دم کرنے والے
کا عمل ہوا… اب اگر اُس کے دل میں اخلاص ، تقویٰ اور آپ کے لئے خیر خواہی ہے
تو آپ کو بھی فائدہ پہنچے گا… اور اگر اُس کی نظر صرف آپ کی جیب پر ہے تو
ایسے عمل سے کیا مل سکتا ہے… ہمارے معاشرے میں آج کل دونوں طرح کے
عامل موجود ہیں… صاحب نسبت مخلص بھی اور محض پیشہ وَرْ بھی… لیکن جب آپ
خود پڑھیں گے تو یہ آپ کا ’’عمل‘‘ ہوگا… اور اصل ’’عمل‘‘ ہوتا ہی وہی ہے جو
انسان خود کرے… ایسا ’’عمل‘‘ ان
شاء اللہ ضرور کارگر ہوگا… آپ
سوچیں گے کہ کرکٹ کا میدان گرم ہے… اورسیمی فائنل کا میچ دشمن ملک میں ہو رہا
ہے…ہمارے وزیراعظم صاحب بھی سج دھج کر اس مقتل میں جائیں گے… اس پر تو ایک
کالم ہونا چاہئے تھا… دراصل بات یہ ہے کہ آج پیر کا دن ہے … اخبار
بُدھ کے دن شائع ہوگا اور آپ حضرات تک جمعرات یا جمعہ کو پہنچے گا… اُس وقت
تک تو ہاتھ دُھل چکے ہوں گے… ہم کرکٹ کے خلاف جتنا لکھیں، مسلمان باز نہیں
آتے… یہ کھیل بھی مستقل شیطانی وسوسہ ہے اس لئے اس کا علاج بھی یہی ہے کہ… اللہ تعالیٰ
سے پناہ مانگی جائے… بعض لوگ سوچتے ہیں کہ ہم نے تیونس اور مصر کے مظاہروں کی
حمایت کی جبکہ… بحرین کے مظاہروں پر کچھ نہیں لکھاتو ایک بات بالکل صاف صاف
عرض ہے… ہم نہ جمہوریت پسند ہیں اور نہ بادشاہت پسند… ہم تو صرف اور صرف
خلافت پسند، اسلام پسند، جہاد پسند اور توحید پرست ہیں… ہماری حمایت یا
مخالفت کا معیار کوئی طرز حکومت نہیں بلکہ اسلام ہے… جہاںہمیں اسلام کا فائدہ
قریب یا دور نظر آئے گا وہاں حمایت کریں گے… اور جہاں نقصان نظر آئے گا
وہاں مخالفت کریں گے… اندھی حمایت نہیں کہ جو بھی ڈنڈا اٹھا کر کھڑا ہو جائے
ہم اُس کے پیچھے تالی بجا دیں… ’’سوریا‘‘یعنی’’شام‘‘ میں جو مظاہرے ہو رہے
ہیں ہم دل و جان سے اُن کے حامی ہیں… اور دل کی گہرائیوں سے دعاء کرتے ہیں
کہ… اللہ تعالیٰ مُلک شام کو آزادی نصیب فرمائے… حافظ
الاسد اور اب اُس کے بیٹے بشار الاسد نے مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے ہیں وہ کسی
بھی طرح… تاتاری مظالم سے کم نہیں… اللہ کرے ان بد
عقیدہ بھیڑیوں کا اقتدارجلد ختم ہو اور مُلک شام دوبارہ عالم اسلام کی تگ و تاز کا
مرکز بن جائے… آمین یا ارحم الراحمین
اللھم
صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے قہر اور غضب کو دعوت دینے والے کتنے ’’بد نصیب‘‘مجرم
ہیں… قرآن عظیم الشان کے ایک نسخے سے اٹھنے والے آگ کے
شعلے … لاکھوں، کروڑوں مسلمانوں کے سینوں میں بھڑک اٹھے ہیں… اور
یہ بھڑکتی آگ صرف خون سے ٹھنڈی ہو گی… ہاں سُن لو! صرف خون سے… امریکہ
کے دو ناپاک چوہوں نے بہت بڑی جسارت کی ہے اور اپنی قوم کو ہلاکت کی کھائی میں
دھکیل دیا ہے… ادھر مسلمانوں میں اس واقعہ سے ایسا ولولہ اٹھا ہے
کہ… جنت بھی’’شہداء حُرمتِ قرآن‘‘ کے استقبال کے لئے سج دھج گئی
ہے… ہاں سُن لو! شُہدائِ قرآن… شہداء حُرمتِ قرآن… قرآن پاک کی
حُرمت کے لئے جان دینے والے شہزادے… ہاں یہ شہزادے قرآن کے حافظوں، قاریوں،
عالموں اور مبلّغوں سے بہت آگے ہوں گے، بہت آگے… دشمن جب میرے آقا مدنی
صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف انگلی اٹھائے گا تو… اُمتِ مسلمہ
میں’’شہداء حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ پیدا ہوں گے… اور جب
ظالموں کی انگلی’’ قرآن عظیم الشان‘‘ کی طرف اٹھے گی تو… شہداء کرام کی ایک
نئی اور البیلی قسم وجود میں آئے گی… مشکوک نسل کے ناپاک کیڑوں کو بھی معلوم
ہے کہ اسلام کوئی لاوارث دین نہیں ہے… یہ کیتھولک چرچ نہیں کہ سیکولر ازم کے
سامنے ہتھیار ڈال کر پادری کی بدبودار پینٹ تک محدود ہو جائے… یہ اسلام ہے
اسلام… غازیوں کا دین، مجاہدوں کا دین… شہداء کا
دین… اللہ تعالیٰ کا محبوب اور منتخب دین… آپ تھوڑا
سا سوچیں کہ پادری نے قرآن پاک کی بے ادبی کیوں کی؟… وہ جانتاہے کہ قرآن
پاک کے ایک دو نسخوں کی بے ادبی سے قرآن پاک کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جا
سکتا… یہ عظیم الشان کتاب لاکھوں سینوں میں محفوظ ہے… روزآنہ لاکھوں کی
تعداد میں شائع ہوتی ہے… اور روزآنہ کروڑوں لوگ اس کی تلاوت کرتے
ہیں… آپ یقین کریں دل جلے پادری نے یہ شرمناک حرکت کرکے اپنی شکست کا اعتراف
کر لیا ہے…
شکست
کا اعتراف
طاقتور
لوگ کبھی اس طرح کی حرکت نہیں کرتے… فتح پانے والوں کو اس طرح کے احتجاج کی
ضرورت پیش نہیں آتی… کھمبا تو ہمیشہ کھسیانی بلّی نوچتی ہے اور گالیاں وہی
دیتا ہے جس کا ہاتھ کمزور ہو… معلوم ہواکہ’’عالم کفر‘‘ شکست کھا رہا
ہے… اسلام کو مٹانے کے تمام خواب چکنا چور ہو چکے ہیں… دنیا پر قبضے کا
منصوبہ اپنی موت آپ مر چکا ہے… اور بھیانک ٹیکنالوجی بُری طرح سے بے آبرو
ہو چکی ہے… لوگ کہتے تھے کہ… امریکہ اور یورپ کے لئے اسلامی دنیا کو ختم
کرنا دو گھنٹے کا کھیل ہے… مگر جب میدان سجا تو قرآن عظیم الشان نے فدائیوں
کے لشکر’’عالم کفر‘‘ کے سامنے کھڑے کر دیئے… عراق میں شکست، افغانستان میں
ذلّت … اور کھربوں ڈالر کے خسارے… تب غم، غصّے اور بے بسی کی
آگ میں جلتے پادری نے… قرآنِ پاک کے نسخے کی بے ادبی کرکے اپنے دل کو سکون
دینے کی کوشش کی… وہ خبیث اور کر ہی کیا سکتا تھا… جنگ کرنا اُس بدفطرت
پادری کے بس میں نہیں تھا… مجاہدین اور فدائیوں کی یلغار روکنا اُس کی طاقت
میں نہیں تھا… تیزی سے پھیلتے ہوئے اسلام کے آگے بند باندھنا اُس کی استطاعت
میں نہیں تھا… تب اُس پاگل، ہذیانی اور مایوس شخص نے وہ حرکت کی… جس کا
خمیازہ خود اُسے اور اُس کی قوم کو ہر حال میں بھگتنا ہو گا… یاد رکھنا! اب
امریکہ کو ٹکڑوں میں بٹنے سے کوئی نہیں روک سکتا… دیکھ لینا! امریکہ آپس میں
ٹکرائے گا… گورے کالوں سے اور کالے گوروں سے لڑیں گے… اور بھی بہت کچھ
ہوگا ہاں بہت کچھ… ’’قرآن عظیم الشان‘‘ کی بے حُرمتی کا جُرم کوئی چھوٹا
گناہ نہیں ہے… یہ وہ آگ تھی جو اب چل پڑی ہے… اور بھڑک اٹھی ہے…
خطرہ
نہیں عزّت و عظمت ہے
کئی
لوگ کہتے ہیں… کیا اسلام عدم برداشت کی تعلیم دیتاہے؟… بابری مسجد گر
گئی تو اسلام خطرے میں… قرآن پاک کی بے ادبی ہو گئی تو اسلام خطرے
میں… توہین رسالت ہو گئی تو اسلام خطرے میں… مولوی لوگوں کو بھڑکاتے
ہیں… حالانکہ بات یہ نہیں ہے… ہم نے کبھی نہیں کہا کہ… ان چیزوں سے
اسلام خطرے میں پڑ جاتا ہے… اسلام کو الحمدللہ کوئی خطرہ نہیں
ہے… یہ اللہ تعالیٰ کا آخری اور محفوظ دین
ہے… اسلام ہے تو دنیا ہے، جب اسلام ختم تو یہ دنیا بھی ختم ہوجائے
گی… اسلام کو نہ تو کوئی ایٹمی طاقت نقصان پہنچا سکتی ہے… اور نہ دنیا
بھر کے منافق… مگر اللہ تعالیٰ نے اسلام کو بہت عزت
وعظمت عطاء فرمائی ہے… اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کو اور
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت عزت و عظمت عطاء فرمائی ہے… یہ
وہ آسمانی عزت اور غیرت ہے جو ان مقدس ناموں کے گرد ہر وقت پہرہ دیتی ہے… یہ
وہ آسمانی محبت ہے جو ان مقدس ناموں کو ہر وقت گھیرے میں لئے رکھتی ہے… حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرات صحابہ کرامؓ کی غیرت اور
محبت کتنی عجیب تھی… اور خود آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے
بشارت دی کہ میرے بعد مجھ سے سچی محبت کر نے والے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو مجھ پر
اپنے والدین اور بیوی بچوں کو قربان کرنا سعادت سمجھیں گے…عزت اور غیرت سے محروم
یہودی اور عیسائی اس بات کو نہیں سمجھتے… اُن کو کیا معلوم کہ عزت کیا چیز ہے
اور غیرت کیا نعمت ہے؟… اُنہی کے رنگ میں رنگے منافقوں کو بھی… اس عزّت
اور محبت کی ہوا تک نہیں لگی… ارے! عزت، محبت اور غیرت کے ان چراغوں کو جلانے
کے لئے… نہ کسی مولوی کے بھڑکانے کی ضرورت پڑتی ہے… اور نہ کسی مبلّغ کے
تقریر کرنے کی… یہ نعمت حضرات صحابہ کرام ڑکے زمانے سے چلی آتی ہے… اور
تاقیامت چلتی رہے گی… دشمنوں نے اس محبت اور غیرت کو مسلمانوں کے دلوں سے
کھرچنے کی ہر کوشش کر لی… مگر کہاں؟… یہ تو عرش سے نازل ہونے والی نعمت
ہے… سلام ہو شہدائے اسلام پر… سلام ہو شہدائے ناموس رسالت پر… سلام
ہو شہدائے ختم نبوت پر… سلام ہو شہدائے حُرمتِ قرآن پر… یہ لوگ اصلی
مسلمان ہیں… ان کو ایمان کی حلاوت، محبت اورغیرت نصیب ہے… ان کی اس محبت
کے سامنے دنیا بھر کی طاقت مفلوج ہے… اور ان کی یلغار کے سامنے ایٹمی قوتیں
بے بس ہیں… یہ عزت، محبت اور غیرت مسلمان کے لئے دنیا و آخرت میں کام آنے
والی نعمتیں ہیں… تم نے توہین رسالت کا جُرم کیا تو لاکھوں غافل
نوجوان… حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے عاشق و دیوانے بن
گئے… اب تم نے قرآن پاک کی بے ادبی کی ہے تو… سن لو!… اب ہر طرف
قرآن پاک سے تعلق اور محبت کی فضا قائم ہو گی… اور تمہارے خلاف نفرت اور
انتقام کے نہ بجھنے والے شُعلے بلند ہوں گے…
انتقام
کا طریقہ
اس
وقت ہر سچے مسلمان کے دل میں… یہی درد ہے کہ ہائے کاش وہ اپنی زندگی میں یہ
منظر نہ دیکھتا، نہ سنتا… اور اگر یہ آزمائش آہی گئی ہے تو
اب اللہ تعالیٰ اُسے ان مجرموں سے انتقام لینے کی توفیق
عطاء فرمائے… کتنے نوجوان سجدوں میں رو رہے ہیں… کتنی مائیں اور بہنیں
سسک سسک کر اپنے آنچل بھگو رہی ہیں… اور کتنے مسلمان اندر ہی اندر سے تڑپ
رہے ہیں… افغانستان والوں نے سبقت کر لی… وہ ایک طرف تو جہاد کر کے
مجرموں سے مستقل انتقام لے رہے ہیں تو دوسری طرف… پر جوش مظاہروں نے بھی کفر
کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے… مگر باقی مسلمان کیا کریں؟… کچھ ’’بے
عمل‘‘ لوگ ایسے مواقع پر دوسروں پر تنقید کرتے ہیںکہ… فُلاں نے کیا کیا؟
فُلاں نے کیا کیا؟… ایسے لوگوں سے ہمیشہ بچ کر رہیں… نماز جس طرح ہر
مسلمان پر فرض ہے اسی طرح باقی احکام بھی سب مسلمانوں کے لئے ہیں… کوئی بھی
اپنا بوجھ دوسرے کے کندھے پر نہ ڈالے… ہرکوئی اپنے ایمان اور قبر کی فکر
کرے… کچھ’’پلانر‘‘ قسم کے لوگ ایسے مواقع پر… جہادی قیادت کو خط لکھیں
گے کہ مجھے’’ٹیری جونز‘‘ اور’’وائن سلیپ‘‘ تک پہنچانے کا بندوبست کیا جائے تاکہ
میں بدلہ لے سکوں… ایسے لوگ بھی مسلمانوں کے کسی کام کے نہیں ہوتے… جہاد
تو ایک ایسے بہتے دریا کا نام ہے کہ جس کا ہر قطرہ خود پورا دریا ہوتا
ہے… دریا قطروں سے بنتا ہے اور قطرے دریا بن کر مقصد حاصل کرتے ہیں…الگ رہنے
والے تو چند دن میں گل سڑ جاتے ہیں… کچھ نفاق زدہ لوگ ایسے مواقع پر کہیں گے
کہ ہم مسلمان اگر قرآن پاک کی آیاتِ جہاد کو بیان نہ کرتے تو پادری قرآن پاک کی
بے ادبی نہ کرتا… ہمیں چاہئے کہ قرآن پاک کا امن والا پیغام سنایا
کریں… ایسے لوگ اسلام اور قرآن پاک کے دشمن ہیں… یہ نام کے مسلمان ہیں
مگر ان کے اندر’’ٹیری جونز‘‘ اور وائن سلیپ‘‘ جیسے پادری بیٹھے ہیں… یہ قرآن
پاک کی آیات کا انکار کرتے ہیں… بھلا بتائیے کہ انکار سے بڑی بے ادبی اور
کیا ہو سکتی ہے؟… یہ تو ہوئے وہ تین طبقے جن کو آپ… مسلمانوں کی جھاگ
کہہ سکتے ہیں… یہ بے ادبی کی خبر کو پھیلاتے رہیں گے اور اس پر لفظوں کی چاند
ماری کرتے رہیں گے… مگر مسلمانوں میں ایسے افراد کی بھی کمی نہیں تو اس
ناقابل معافی جُرم کا حقیقی انتقام لیں گے… وہ قرآن پاک کو ہاتھ میں لے کر
قسم کھائیں گے کہ سورہ فاتحہ سے لے کر سورہ والناس کی قسم کہ یہ قرآن
پاک اللہ تعالیٰ کا کلامِ برحق ہے… اور ہم اس کے تمام احکامات کو
تسلیم کرتے ہیں… پادری نے قرآن پاک کی بے ادبی… آیاتِ جہاد کی وجہ سے
کی تو یہ لوگ ان آیاتِ جہاد پر عمل کی قسم کھائیں گے… اور پھر میدان جہاد کا
رُخ کر لیں گے… ہاں یہی ہیں سچے لوگ… اور انہی کے خوف سے پادری چوہے
کانپ رہے ہیں… جہاد فی سبیل اللہ کی ترتیب میں
جُڑجانا… جہاد فی سبیل اللہ کی تربیت لینا… جہاد
فی سبیل اللہ میں مال خرچ کرنا… اور جہاد فی
سبیل اللہ کی خالص دعوت دینا… یہ ہے وہ انتقام جو اس
جُرم کا بدلہ بن سکتا ہے… ہاں مسلمانو! تھوڑا سا سوچو… قرآن پاک کے
اوارق جلائے گئے… کیا ہم اسے برداشت کر سکتے ہیں؟… آجاؤ قرآن مقدّس
کی طرف … آج ہی عزت، غیرت اور محبت سے سرشار ہو کر… قرآن پاک کو
اپنے سینے اور گلے سے لگا لو… جس کو پڑھنا نہیں آتا وہ پڑھنا سیکھے… جس
کو مطلب نہیں آتا تو مطلب سمجھے… اور جس کی اولاد میں… ایک بھی قرآن
کا حافظ و عالم نہیں وہ اپنی محرومی کو محسوس کرے… اور اپنی اولاد کو قرآن
پاک کی نعمت سے سرشار کرے… ایک ظالم اور ناپاک پادری نے جو کرنا تھا کر
لیا… اب مسلمانوں کی باری ہے کہ… وہ ہر سطح پر قرآن پاک اور اُس کے حکم
جہاد کے گرد… اپنے سینوں، گردنوں اور خون کی دیواریں قائم کر دیں…
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ و بارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ تمام’’آفات‘‘ اور ’’شرور‘‘ سے میری اور آپ سب کی حفاظت
فرمائے… آفات کی دو قسمیں ہیں(۱) دنیا کی آفات (۲) آخرت
کی آفات اور شرور کی بھی دو قسمیں ہیں(۱) جسمانی شرور(۲) روحانی
اور باطنی شرور…
ہم
دُنیوی آفتوں سے بھی بچ جائیں… اور اُخروی آفتوں سے بھی… اور ہم
جسمانی شروراور تکلیفوں سے بھی محفوظ رہیں… اور روحانی اور باطنی شرور سے
بھی… اس کے لئے گزشتہ ایک مجلس میں عرض کیا تھا کہ… ہم سب’’معوذتین‘‘ کا
اہتمام کریں… قرآن پاک کی آخری دو سورتیں’’معوذتین‘‘ کہلاتی ہیں…آج ان شاء
اللہ ان دو سورتوں کے کچھ فضائل اور خواص بیان کرنے کا ارادہ ہے…
دشمنوں
کی کثرت
ہمیں
نقصان پہنچانے والے دشمن بے شمار ہیں… ظالم حکمران، کفار و
منافقین… چور، ڈاکو اور شریر لوگ… جادو، حسد، نظر بد کے
ماہر… اندھیرے اور حادثات… سانپ، بچھو،کتے اور طرح طرح کی موذی
مخلوقات… شیاطین، جنّات… انسانی شکل کے شیاطین… ہمارا اپنا نفس،اُس
کاغضب، اُس کی شہوت… اور گندے گندے خیالات… بیماریاں، کمزوریاں اور طرح
طرح کے امراض… ان سب سے حفاظت کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ
ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ پکڑ
لیں… اللہ تعالیٰ شہنشاہِ اعظم واکبر ہے… اُس کی پناہ
میں آنے کے بعد کوئی چیزنقصان نہیں پہنچا
سکتی… اور اللہ تعالیٰ کی مضبوط پناہ مانگنے کا بہترین
اور افضل طریقہ قرآن پاک کی آخری دو سورتیں ہیں… سورہ الفلق، سورہ
النّاس… اسی لئے اہل علم فرماتے ہیں کہ انسان کو ان دو ’’‘سورتوں‘‘ کی ضرورت
سانس لینے، کھانے پینے اور لباس پہننے سے بھی زیادہ ہے… عجیب بات ہے کہ اتنی
عظیم اور مضبوط پناہ گاہ ہمارے اتنے قریب ہے اور ہم پھر بھی… اِدھر اُدھر
دھکّے کھا رہے ہیں…
اصل
مصیبت
بیمارہونا
بھی ایک آفت ہے… مثلاً کسی انسان کو کینسر ہو جائے … مگر یاد
رکھیں نماز میں سُست ہوجانا کینسر سے بڑی مصیبت ہے… آنکھوں کا
کمزورہوجانابھی ایک مصیبت ہے… لیکن یاد رکھیں کہ آنکھوں کا ’’بدنظری‘‘ میں
پڑجانا، اندھا ہونے سے بھی بڑی مصیبت ہے… اس میں یہ بات برابر ہے کہ مرد، غیر
عورتوں کو دیکھیں… یا عورتیں غیر مردوں کو دیکھیں… بھوک اور فاقہ بھی
ایک مصیبت ہے مگر دل میں ناشکری کا آجانا اُس سے زیادہ بڑی مصیبت ہے… بس یوں
سمجھ لیں کہ… جو چیز انسان کو اللہ تعالیٰ سے دُور کرے
اور عذاب کا مستحق بنائے وہ چیز اصل مصیبت اور اصل آفت ہے… ہم تمام انسان
کمزور ہیں… ہمیں عارضی مصیبتوں سے بھی تکلیف پہنچتی ہے اور اصل مصیبتوں سے
بھی ہم ڈرتے ہیں… تب ہمیں چاہئے کہ ہم مضبوط سہارے کوپکڑیں اور قرآن پاک کے
ذریعے اپنے مسائل کا حل تلاش کریں… قرآن پاک سے دُوری نے ہمیں کمزور، بے بس
اور نہتّا کر دیا ہے… ہم اندھیروں اور مصیبتوں میں دھکّے کھا رہے
ہیں… آجائیں! توبہ کریں اور قرآن پاک کے ساتھ جُڑ جائیں… قرآن پاک
نُور کا خزانہ ہے اورعزت و قوّت کا سرچشمہ ہے… ہم قرآن پاک پڑھیں، قرآن پاک
سیکھیں، قرآن پاک سمجھیں… قرآن پاک کا ادب کریں… قرآن پاک کی خدمت
کریں… قرآن پاک کو پھیلائیں… قرآن پاک کو نافذ کریں… قرآن پاک
کو اپنائیں… قرآن پاک کے ساتھ جیئیں اور قرآن پاک کے ساتھ مریں… ان
شاء اللہ اندھیرے روشنی میں اور
کمزوری قوت میں بدل جائے گی… لارڈ میکالے اور انگریز کا نظام تعلیم ہمیں پہلے
قرآن پاک سے کاٹتا ہے… پھر جب ہم کٹ جاتے ہیں تو وہ ہمیں شکار کرلیتا
ہے… ڈاکٹر بننا، انجینئر بننا، سائنسدان بننا کمال نہیں… قرآن عظیم
الشان کو پا لینا کمال ہے… روزی روٹی کے لئے انسان کو کوئی بھی حلال پیشہ
اپنا لینا جائز ہے … وہ تجارت ہو، مزدوری ہو، ڈاکٹری ہو، انجینئرنگ ہو
یا سائنس… مگر دنیا اور آخرت میں عزت، کمال، کامیابی… اور سکون حاصل
کرنے کے لئے ہم قرآن پاک کے محتاج ہیں… اُمتِ مسلمہ آج قرآن پاک کی طرف لوٹ
آئے تو عزت و عظمت اُس کے قدم چومے گی… حضرات صحابہ کرام ڑکے پاس’’قرآن
پاک‘‘ تھا… وہ قرآن پاک کے حکم جہاد کو لے کر چلے تو… روم و فارس کے
حکمران، اطباء، حکماء، فلاسفر، موجد… سب اُن کے غلام بن گئے… مسلمانو!
یادر کھنا گدھے کا مقابلہ گدھا بننے سے نہیں ہو سکتا… کتے کا مقابلہ کتا بننے
سے نہیں ہو سکتا… گدھے اور کتے کا مقابلہ کرنا ہے تو… مضبوط انسان بننا
ہو گا… یہ جو آج ہمیں سمجھا رہے ہیں کہ… کتّوں کا مقابلہ کرنا ہے تو
اُن سے بھی زیادہ بدبودار کتّے بن جاؤ… یہ جھوٹ بول رہے ہیں… خود بھی
دھوکہ کھا رہے ہیں اور عوام کوبھی دھوکہ دے رہے ہیں…
ایک
ضروری بات سمجھیں
وظائف
اور اذکار میں سب سے زیادہ مؤثر اورطاقتور… قرآنِ پاک کی آیات
ہیں… ان کے بعد اُن وظائف اور دعاؤں کا مقام ہے جو… رسول اقدس صلی اللہ
علیہ وسلم کی احادیث اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے
ثابت ہیں… اللہ کے لئے اس نکتے کو اچھی طرح ذہن میں
بٹھائیں… مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ… لوگ غیر مسنون وظیفوں
کو… قرآن اور سنت کے اعمال سے بھی زیادہ ترجیح دیتے ہیں … کسی نے
بتا دیا کہ … حافظے کی قوت کے لئے نماز کے بعد سر پر ہاتھ رکھ کر گیارہ
بار’’یَا قَوِیُّ‘‘ پڑھیں… اب بس جیسے ہی امام صاحب نے سلام پھیرا تو سب نے
اپنے سر پکڑے ہوئے ہیں… اور ’’یَا قَوِیُّ‘‘ پڑھ رہے
ہیں… اللہ کے بندو! یہ وظیفہ ٹھیک ہے مگر پہلے اپنے آقا
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تو پورا کر لو… نماز کے بعد
کی کم از کم ایک دو مسنون دعائیں تو پڑھ لو… بعد میں بزرگوں کے احکامات بھی
پورے کر لینا… نماز کا سلام پھیرنے کے بعد ہمارے آقا و محسن اعظم حضرت محمد
صلی اللہ علیہ وسلم کونسی دعائیں پڑھتے تھے ؟… یا آپ صلی اللہ
علیہ وسلم نے کونسی دعائیں پڑھنے کی تلقین فرمائی؟… کیا ان دعاؤں
سے بڑھ کر اس موقع پر کوئی عمل ہو سکتا ہے؟… بزرگ جو وظیفے بتاتے ہیں اُن کا
مقصدبھی یہ ہوتا ہے کہ مسنون اور سنت عمل پورا کرنے کے بعد اُن کو کیا
جائے… چنانچہ نماز کے فوراً بعد… نماز کے بعدوالی مسنون دعائیں پڑھی
جائیں… ان میں دنیا و آخرت کی بڑی خیر پوشیدہ ہے… اس کے بعد اگر کوئی
مجرّب وظیفہ کرناہے تو کر لیں… بزرگوں کے بتائے ہوئے وہ وظیفے جو شریعت کے
مطابق ہوں… وہ بھی بڑی تاثیر رکھتے ہیں… اللہ تعالیٰ
نے’’وحی‘‘ کا دروازہ تو بند فرمادیا مگر الہام اور کشف کا دروازہ قیامت تک
کُھلاہے… اللہ تعالیٰ کے مقرب مجاہدین، اولیاء اور ابدال کو
’’الہام‘‘ کے ذریعے بہت سے وظائف اور دعائیں ملتی ہیں…یہ بہت کام کی چیزیں ہوتی
ہیں مگر… نہ تو ان کی قوت قرآنی آیات کے برابر ہو سکتی ہے… اور نہ یہ
مسنون دعاؤں اور وظائف کے درجے کو پہنچ سکتی ہیں… اس لئے گزارش ہے کہ زیادہ
توجہ تو قرآن پاک کی سورتوں اور آیات کی طرف ہو… خصوصاً وہ قرآنی وظائف جن
کی فضیلت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہے… اگر
آپ کو کسی عمل کے لئے کوئی آیت بتائی جائے تو اُسکو سب سے زیادہ مؤثر
سمجھیں… اسی طرح وہ دعائیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم سے ثابت ہیں… ان میں بہت زیادہ تاثیر ہے… پس قرآنی
آیات اور مسنون اوراد کی زیادہ حرص کریں… اس کے بعد بزرگوں کے مجرب وظائف کا
درجہ ہے… اور وہ وظیفے اور اوراد جو غیر شرعی اور مشکوک الفاظ پر مشتمل ہوتے
ہیں… اُن سے پوری زندگی بچیں… یاد رکھیں شرک اور بدعت سے بچنا ہم سب کے
لئے بے حد ضروری ہے… ایسا نہ ہو کہ دنیا کے ادنی مسائل حل کرنے کی فکر میں
ایمان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھیں… العیاذ باللہ ، العیاذ باللہ …
قرآن
پاک کی دعائیں
دعاء
خود بہت اونچی عبادت ہے… بلکہ عبادت کی اصل ہے… پھر دعاؤں میں سب سے
اونچی دعائیں وہ ہیں جو قرآن پاک نے ہمیں سکھائی
ہیں… اللہ اکبر کبیرا… ان دعاؤں میں اتنی قوت، اتنی
تاثیر اور اتنی خیر ہے کہ اُسے زبان اور قلم سے بیان کرنا ممکن ہی نہیں
ہے… مثلاً حضرت یونس علیہ السلام کی دعاء…
لَآ
اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْن
(الانبیاء ۸۷)
یہ
ایسی مؤثر، جامع اور طاقتور دعاء ہے کہ… حضرات اہل علم نے اس کے فضائل اور
خواص پر باقاعدہ کتابیں لکھی ہیں… غموں، مصیبتوں اور بیماریوں کے ازالے کے
لئے… اور بڑی سے بڑی جائز حاجات کے لئے یہ دعاء عجیب تاثیر رکھتی
ہے… اسی طرح قرآن پاک کی جامع ترین دعاء…
رَبَّنَا
اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ
النَّارِ (البقرۃ ۲۰۱)
یہ
دعاء تو فضائل اور رحمت کا خزانہ ہے…وہ کونسی ضرورت ہے جو اس دعاء میں نہیں مانگی
گئی… آپ سب سے گزارش ہے کہ اس دعاء کے الفاظ اور معنیٰ میں غور کر کے اس کی
قیمت اور عظمت کو سمجھیں… اور جب بھی محسوس ہو کہ میری دعاء قبول ہو رہی ہے
تو سب سے پہلے اس دعاء کو مانگیں… خود سوچیں کہ اگر یہ دعاء قبول ہو گئی
تو… دنیا بھی اچھی، آخرت بھی اچھی… اور جہنم سے نجات بھی پکّی… تو
پھر اور کیا چاہئے؟… وہ خاوند اور بیوی جو ایک دوسرے سے لڑتے رہتے
ہیں… ایک دوسرے کی ناقدری اور حق تلفی کرتے ہیں… وہ قرآن پاک کی دعاء :
رَبَّنَا
ھَبْ لَنَامِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیَّاتِنَاقُرَّۃَ اَعْیُنٍ
وَّاجْعَلْنَالِلْمُتَّقِیْنَ اِمَاماً (الفرقان ۷۴)
صبح
شام مانگا کریں… چند دن میں عجیب حالات دیکھیں گے… کم از کم سات سات بار
توجہ اور عاجزی سے یہ دعاء مانگیں… وہ لوگ جن کا دل کمزور ہوتا ہے… جلدی
غصے میں آجاتا ہے… جلدی میلا کچیلا ہوجاتا ہے… جی ہاں ! کمزور دل کی
ایک بڑی علامت یہ ہے کہ اس میں دوسرے مسلمان کا بُغض جلدی بھر جاتاہے… ورنہ
بہادر دل والے تو پروا ہی نہیں کرتے… پرواہ کریں بھی تو جلد معاف کر دیتے
ہیں…بہرحال کمزور دل لوگوں کے لئے قرآن پاک کی دعاء…
رَبَّنَا
اغْفِرْلَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَلَا
تَجْعَلْ فِی قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَا اِنَّکَ رَؤُفٌ
رَحِیْمٌ (الحشر ۱۰)
اگریہ
دعاء کثرت سے مانگیں گے … اور ترجمہ ذہن میں رکھ کر توجہ سے مانگیں گے
تو… دل کی بیماری یعنی’’غِلّ‘‘ دور ہو جائے گا اور دل آئینے کی طرح پاک صاف
ہو جائے گا… اور جب پاک ہو گا تو مضبوط بھی ہو جائے
گا… اللہ اکبرکبیرا… قرآن پاک کی کِس کِس دعاء کا
تذکرہ کروں… عجیب عجیب خزانے ہیں…
حَسْبُنَا اللہ وَنِعْمَ
الْوَکِیْلُ (آل عمران ۱۷۳)
کو
دیکھیں…
حَسْبِیَ اللہ لَا
اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ
الْعَظِیْم (التوبۃ ۱۲۹)
کو
دیکھیں…حضرت آدم اور حواعلیہماالسلام کی دعاء دیکھیں…
رَبَّنَا
ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ
مِنَ الْخَاسِرِیْنَ (الاعراف ۲۳)
خیر
میرا مقصد توجہ دلانا تھا… اُمید ہے بہت سے مسلمانوں کی توجہ اس طرف ہوگئی ہو
گی… اُن سب کو بڑی خیر مبارک ہو…
معذرت
آپ
سب سے معافی چاہتا ہوں… آج’’معوذتین‘‘ کے فضائل اور خواص لکھنے بیٹھا
تھا… احادیث، حوالے اور وظائف لکھنے کے لئے پانچ چھ کتابیں بھی سامنے رکھی
ہیں… مگر بعض ضروری باتیں درمیان میں آگئیں… اور کالم کی جگہ پوری ہو
گئی… اللہ تعالیٰ ان باتوں سے مجھے اور آپ سب کو نفع نصیب
فرمائے… ’’غزہ‘‘ کے مسلمان یہودی بمباری کا شکار ہیں… آج بھی کئی
مسلمانوں کے شہید ہونے کی خبر ہے… اللہ تعالیٰ کے حضور
فلسطین کے مجاہدین کے لئے دعاؤں کا اہتمام کریں… اور یہودیوں کے خلاف جہاد
فی سبیل اللہ کی دل میں نیت کر یں…
اللھم
صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
میرااورآپ سب کاخاتمہ’’ایمانِ کامل‘‘پر فرمائے… آج کچھ متفرق باتیں اور کچھ
پُرانے وعدوں کوپورا کرنے کی کوشش… یا اللہ توفیق عطاء
فرما…
رِٹ
کی رَٹ
پاکستان
کا سابق صدر پرویز مشرّف… ایک بات کی ’’رَٹ‘‘ لگاتا تھا کہ جو بھی حکومت
کی’’رِٹ‘‘ کو نہیں مانے گا میں اُس کو ختم کردوں گا… چنانچہ اُس نے لال مسجد
اور جامعہ حفصہؓ پر خونی حملہ کیا اور سینکڑوں سچے مسلمانوں کو شہید کیا… وجہ
یہ بتائی کہ یہ لوگ حکومت کی’’رِٹ‘‘ کو نہیں مانتے تھے… اب موجودہ حکومت نے
پرویز مشرّف کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیئے ہیں… عدالت کئی بار یہ’’رِٹ‘‘
جاری کر چکی ہے کہ پرویز مشرّف فوری طورپر پیش ہوجائے… مگر وہ نہ تو پیش ہو
رہا ہے اور نہ حکومت کی’’رِٹ‘‘ کو تسلیم کر کے گرفتاری دے رہا ہے… وہ کہا
کرتا تھا: سب سے پہلے پاکستان… اور اب اُسی پاکستان کے قانون کو نہیں مان
رہا… اور نہ وہ سب سے پہلے پاکستان میں آرہا ہے… یہ ہے ان کی ’’روشن
خیالی‘‘ اور یہ ہے ان کی اعتدال پسندی… کوئی ہے جو اس پورے منظر نامے کو دیکھ
کر عبرت حاصل کرے؟… کوئی ہے جو اس پورے منظر نامے سے ’’روشن خیالی‘‘ کے
دعویداروں کے حالات کو سمجھے؟… کوئی ہے جو اس پورے قصے کو پڑھ
کر… اسلام، جہاد اور مجاہدین سے ٹکر لینے کے انجام کو سمجھے؟… کہاں وہ
چیختا چنگھاڑتا، مکّے لہراتا پرویز مشرّف… اور کہاں یہ ڈرتا، بھاگتا،چُھپتا
اورذلیل ہوتا پرویز مشرّف… یا اللہ بُرے انجام سے ہم
سب کی حفاظت فرما…
مُلکِ
شام کی آزادی
قرآن
پاک میں ’’مُلک شام‘‘ کا تذکرہ ہے… یہ انبیاء علیہم السلام کی سر زمین
ہے… حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ‘‘ شام‘‘ والوں کے فضائل
بیان فرمائے ہیں… اسلام کے آخری معرکے کا میدان بھی ملک شام ہو گا جہاں
دجّال قتل کیا جائے گا… دشمنانِ اسلام نے مُلک شام کو کئی حصوں میں تقسیم کر
دیا… فلسطین، لبنان، اردن اور سوریا… یہ بہت بابرکت اور سر سبز و شاداب
مُلک ہے… بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اہل
مکّہ کے لئے پھلوں اور میووں کے رزق کی دعاء فرمائی تو… فرشتوں
نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ملک شام کا ایک ٹکڑا مکہ کے قریب
لاکر رکھ دیا… یہ’’طائف‘‘ کا علاقہ ہے جہاں کے پھل کھا کر انسان شُکر کی
کیفیت میں جُھوم جاتاہے… شام کے لوگ بہت ذہین، سمجھدار اور حد درجہ خوبصورت
ہیں… کہتے ہیں کہ حُسن و جمال میں اہل یورپ بھی ملک شام کے لوگوں کا مقابلہ
نہیں کرسکتے… اہل یورپ تو ویسے ہی چُونے کی طرح بے رونق اور پھیکے
ہیں… مُلک شام نے مسلمانوں کو بڑے بڑے فاتحین، مجاہدین… محدّثین، ائمہ،
اولیاء… اور مصنّفین دیئے ہیں… یہ ’’ابدال‘‘ کی سر زمین
ہے… اللہ تعالیٰ کے بڑے اولیاء… یعنی اقطاب اور ابدال
کی سرزمین… ملک شام کا جو حصّہ ’’سوریا‘‘ کہلاتا ہے وہاں نصف صدی سے ایک
گمراہ باطنی فرقے کی حکومت ہے… حافظ الاسد نامی ایک منافق نے ہزاروں مسلمانوں
کو شہید کیا… ظلم کی حد یہ تھی کہ کوئی سنّی مسلمان بہن اگر حجاب اوڑھ کر سڑک
پر آتی تو… ’’اسد‘‘ کے نُصیری غنڈے اور غنڈیاں اُس کو سڑک پر ہی ڈنڈوں،
لاٹھیوں اور ہتھوڑوں سے مار مار کر شہید کر دیتے تھے… سوریا کے ان مظالم پر
کویت کے خطیب شیخ احمد القطان نے ایک درد ناک خطبہ دیاتھا… یہ
تقریر’’أَحداثُ السَّوریا‘‘ کے نام سے پوری عرب دنیا میں پھیل گئی… جو
مسلمان بھی ا س خطبے کو سنتا وہ غم سے سسکیاں بھرتا… اور کبھی دھاڑیں مار کر
روتا… تمام عرب حکمرانوں نے اس تقریر پر پابندی لگا دی… جو کوئی کیسٹ
بیچتے یا سنتے پکڑا جاتا اُسے سزا دی جاتی… شیخ قطان نے اس تقریر
میں… سوریا کی مظلوم بہنوں کو پکار کر کہا… یا اُختنا لِمنِ النّداء… اے
ہماری بہن تو کس کوپکار رہی ہے؟… مسلمان تو گونگی، بہری دیواروں جیسے ہو چکے
ہیں…حافظ الاسد… قرآن پاک کا حافظ نہیں تھا… بس اُس کا نام’’حافظ‘‘
تھا… شائد کفر اور نفاق کا محافظ… اُس نے مسلمانوں پر مظالم کا کوئی
موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا… مگر جب اسرائیل سے لڑائی ہوئی تو’’جولان‘‘ کے
پہاڑی سلسلے سے ہاتھ دھو بیٹھا… اور یہ اہم علاقہ اسرائیل کے قبضے میں چلا
گیا… لبنان کے مسلمانوں پر جب اُس نے تشدّد کا ہاتھ بڑھایا تو وہاں یہ جملہ
مشہور تھا…
فارٌ
فی جولان وأَسدٌ فی لبنان
جولان
میں چوہا اور ہم پر شیر… یعنی حافظ الاسد’’جولان‘‘ میں تو چوہا ثابت ہوا اور
ہم پر شیر بنا ہوا ہے… الحمدللہ گیارہ سال پہلے’’حافظ الاسد‘‘ تو مر گیا مگر پھر
اُس کے بیٹے بشار الاسد نے اقتدار سنبھال لیا… وہی باپ جیسا زہر اور باپ
جیسارنگ… ’’سوریا‘‘ میں آزادی کی کئی تحریکیں اٹھیں مگر باطنی نصیری حکومت
نے ان تحریکوں کو سختی کے ساتھ کچل دیا… اب عوامی احتجاج کی صورت میں امید کی
روشنی نظر آئی ہے… مُلک شام مظاہروں سے لرز رہا ہے اور باطنی حکومت اپنے
کالے باطن تک کانپ اٹھی ہے… سینکڑوں مسلمان شہیدہو چکے ہیں… اور ایران
اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ عوامی مظاہروں کو کچلنے کے لئے بشار الاسد کا ساتھ دے
رہا ہے… عجیب بات ہے کہ مسلمان اب تک’’ایران‘‘ کو مسلمانوں کو ہمدرد مُلک
سمجھتے ہیں… ایران صرف امریکہ کے خلاف بولتا ہے… آج تک نہ تو اُس نے
امریکہ کا کچھ بگاڑا اور نہ امریکہ نے کبھی ایران پر ایک گولی
چلائی… افغانستان میں امارت اسلامیہ کے خاتمے میں ایران نے پورا زور صرف کیا… اور
آج بھی اس کی حمایت طالبان کے خلاف امریکہ اور نیٹو کے ساتھ ہے… عراق میں
صدام حسین کی حکومت گرانے میں ایران نے امریکہ کا بھرپور ساتھ دیا… اور صدام
کے مخالفین کو ایران میں اڈے فراہم کئے… اب شام کے مظلوم مسلمان اپنی حکومت
سے چھٹکارا لینے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں تو ایران ان مسلمانوں کو بے دردی کے ساتھ
کچل رہا ہے… ایرانی ریڈیو دن، رات پاکستان اور یہاں کی دینی جماعتوں کے خلاف
ہرزہ سرائی کرتا رہتا ہے… جب کہ پاکستان میں ایران کے خلاف کچھ لکھنا اور
کہنا ’’فرقہ واریت‘‘ کے زمرے میں آتا ہے… ہائے کاش! پاکستان کی خارجہ پالیسی
کسی مسلمان پاکستانی نے بنائی ہوتی…
معوذتین
کے فضائل
گزشتہ
بعض مجالس میں… قرآنِ پاک کی آخری دو سورتوں یعنی’’معوذتین‘‘ کے بارے میں
چند باتیں عرض کی تھیں… آج ان دو سورتوں کے بعض مسنون فضائل اور طریقے بیان
کئے جارہے ہیں… ان احادیث اور روایات کو دل کی آنکھوں سے پڑھیں اور دیکھیں
کہ… آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح سے اپنے صحابہ کرامؓ
کو ان مبارک سورتوں کی طرف متوجہ فرمایا…
بے
مثال سورتیں
حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
(۱) اے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ! کیا تمہیں چند
ایسی سورتیں نہ سکھا دوں کہ ان جیسی سورتیں اللہ تعالیٰ نے
تورات، زبور، انجیل اور قرآن کسی میں بھی نازل نہیں فرمائیں اور میں ہر رات انہیں
ضرور پڑھتا ہوں… قل ھو اللہ احد… قل اعوذبرب
الفلق… اور قل اعوذ برب الناس… حضرت عقبہ بن عامرؓ فرماتے ہیں:جب سے
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان سورتوں کے پڑھنے کا حکم دیا ہے تو
مجھ پر واجب ہوگیا ہے کہ انہیں نہ چھوڑوں…(حیات الصحابہ بحوالہ، ابن عساکر و کنز)
(۲) حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی
روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا:تمہیں کچھ خبر ہے کہ آج رات اللہ تعالیٰ نے
مجھ پر ایسی آیات نازل فرمائی ہیں کہ ان کی نظیر موجود نہیں اور وہ ہیں قل
اعوذبرب الفلق اور قل اعوذبرب الناس (مسلم)
اللہ تعالیٰ
کی پناہ پکڑنے کا سب سے بہترین طریقہ
حضرت
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک سفر میں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ
تھا’’جحفہ‘‘ اور ’’ابوا‘‘ (دو مقامات) کے درمیان اچانک سخت آندھی آگئی اور سخت
اندھیری چھا گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دونوں
سورتیں پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنے لگے اور مجھ سے ارشاد فرمانے
لگے ، عقبہؓ! تم بھی یہ دو سورتیں پڑھ کر اللہ تعالیٰ کی
پناہ لو، کسی پناہ لینے والے نے ان کے مثل پناہ نہیں لی(یعنی اللہ تعالیٰ
کی پناہ پکڑنے کے لئے کوئی دعاء ایسی نہیں جو ان دو سورتوں کے مثل ہو) (ابو داؤد)
رات
کو آرام سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول
حضرت
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ ہر رات کو جب آرام فرمانے کے لئے اپنے
بستر پر تشریف لاتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو ملا لیتے اور قل
ھو اللہ احد اور قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذبرب الناس
پڑھتے، پھر ہاتھوں پر پھونکتے پھر جہاں تک ہو سکتا اپنے جسم پر اُن کو پھیرتے، سر،
چہرہ اور جسم کے سامنے حصے سے شروع فرماتے … یہ آپ تین بار کرتے…(صحیح
بخاری)
حضرت
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی
بیماری بڑھ گئی تو آپ نے مجھے حکم فرمایا کہ آپ کے ساتھ اسی طرح کروں…(کنز
العمال)
ماشاء اللہ کتنا
مبارک عمل ہے… کم از کم ہر مسلمان اسی کا اہتمام کر لیا کرے…
ہرچیز
سے کفایت
حضرت
عبد اللہ بن خبیبؓ فرماتے ہیں کہ ہم ایک بارش والی سخت اندھیری کی رات
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرنے
کے لئے نکلے تو جب ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پالیا تو آپ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا… کہو! میں نے عرض کیا کیاکہوں؟
فرمایا قل ھو اللہ احد اور معوذتین ہر صبح و شام تین تین
بار ان کو پڑھاکرو (یہ عمل )تم کو ہر چیز سے کافی ہو جائے گا(ترمذی، ابو داؤد)
محدّثین
کرام نے ہر چیز سے کافی ہونے کے دو مطلب بیان فرمائے ہیں…
تکفیک
من کل شر او من کل وِرد
یعنی
یہ سورتیں تمہارے لئے ہر شر سے حفاظت کے لئے کافی ہو جائیں گی… یا تمہیں ہر
ورد اور وظیفے سے بے نیاز کر دیں گی کہ… اگر کوئی اور وظیفہ نہ کرو تو حفاظت
کے لئے یہی عمل کافی ہو جائے گا… حضرت شیخ ابو الحسن شاذلی رحمۃ اللہ علیہ نے
اپنی نصیحتوں میں ارشاد فرمایا…
اگر
چاہتے ہو کہ بارش کی طرح روزی برسے تو قل اعوذ برب الفلق کو ہمیشہ پڑھو
اور
اگر لوگوں کے شر سے حفاظت وسلامتی کے طلبگار ہو تو قل اعوذ برب الناس کا اہتمام
کرو…
یہاں
ایک ضروری بات یاد رکھیں کہ… ان دو سورتوں کوپڑھنے کے تمام فضائل اور خواص
تبھی حاصل ہوتے ہیں جب ان کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے
اخلاص کے ساتھ پڑھا جائے… اوریہ دوسورتیں ویسے
بھی اللہ تعالیٰ کے قُرب کو پانے کا ذریعہ ہیں…
اللہ تعالیٰ
کے قُرب کا ذریعہ
حضرت
عقبہ بن عامرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں سورۂ ھود یا سورۂ
یوسف پڑھا کرتا ہوں… فرمایا تم کوئی چیز قل اعوذ برب الفلق سے
زیادہ اللہ تعالیٰ تک رسائی والی ہرگز نہیں پڑھ سکتے(احمد،
نسائی)
سفرمیں
آسانی اور کشادگی
حضرت
جبیر بن مطعمؓ فرماتے ہیں:حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے
جبیر! کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ جب تم سفر میں جایا کرو تو تمہاری حالت سب سے
اچھی اور تمہارا توشہ سب سے زیادہ ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! میرے باپ آپ پر
قربان ہوں… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم یہ پانچ
سورتیں پڑھا کرو
قل
یا ایھا الکفرون، اذا جاء نصر اللہ والفتح، قل
ھو اللہ احد، قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس ہر
سورت کے شروع میں بھی بسم اللہ الرحمن الرحیم اور آخر میں
بھی بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھو…
حضرت
جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حالانکہ میں غنی اور مالدار تھا لیکن جب
میں سفر میں جایا کرتا تھا تو میں سب سے زیادہ خستہ حالت والا اور سب سے کم توشہ
والا ہوتا تھا… تو جب مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورتیں
سکھائیں اور میں نے انہیں پڑھنا شروع کیا تو میں سب سے اچھی حالت والا اور سب سے
زیادہ توشہ والا ہو گیا اورپورے سفر میں واپسی تک میرا یہی حال رہتا ہے( حیات
الصحابہ بحوالہ ابو یعلی)
ان
دو مبارک سورتوں کے فضائل اور خواص اور بھی ہیں… آج کی مجلس میں اتنے پر ہی
اکتفا کرتے ہیں… دشمنوں، بیماریوں، وسوسوں، اور پریشانیوں سے گھِرے مسلمان
خاص طور پر ان دو سورتوں سے فائدہ اٹھائیں… الحمدللہ کئی لوگوں نے اطلاع دی ہے کہ انہوں نے ان سورتوں
کا مستقل وِرد شروع کر دیا ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ نے
عجیب و غریب فوائد سے نوازہ ہے…
و
الحمدللہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
مجھے اورآپ سب کو’’حُبِّ دنیا‘‘ اور حِرص سے بچائے… ہم میں سے ہر ایک اپنے
دل میں جھانک کر دیکھے کہ میرے دل میں حرص اور لالچ ہے یا نہیں؟… اپنی جسمانی
بیماریاں بھی تو ڈاکٹروں سے ٹیسٹ کراتے ہیں… شوگر ہے یا نہیں، بلڈپریشر کتنا
ہے؟… اگر ہم اپنے دل میں دنیا کی محبت اور اس کا حرص لیکر قبر میں چلے گئے تو
معاملہ خطرناک ہو جائے گا… یا اللہ رحم فرما… آج
چاروں طرف درد ناک مناظر ہیں… اولاد، اپنے ماں باپ کے مرنے کا انتظار کررہی
ہے… وہ مریں گے تو مکان اور جائداد پر میرا قبضہ ہو گا… انا ﷲ وانا الیہ
راجعون…
دنیا
میں ماں باپ جیسی کوئی نعمت ہے؟… ماں باپ کی دعائیں اور اُن کا سایہ ہزاروں
مکانوں اور جائدادوں سے زیادہ قیمتی ہے… مگر لالچ اور حرص تو انسان کو بھیڑیا
بنا دیتی ہے… قرآن پاک حکم فرماتا ہے کہ بوڑھے ماں باپ کے لئے رحمت کی دعاء
کرو… اُن کو جھڑکی نہ دو… انہیں تکلیف نہ
پہنچاؤ… اللہ تعالیٰ کی عبادت کے بعد ماں باپ کے ساتھ حسن
سلوک کرو… مگرحرص اور لالچ یہاں تک پہنچا دیتی ہے کہ… بیٹے اپنے ماں باپ
کے مرنے کے لئے دن گنتے ہیں… اور اس بات کو بُھول جاتے ہیں کہ ہم یہ بُری نیت
اور سوچ دل میں اٹھائے اپنے ماں باپ سے پہلے بھی مرسکتے ہیں… بیوی کا رشتہ
کتنا عجیب پیار اورمحبت والا رشتہ ہے… مگر مال کی لالچ اور حرص میں کئی لوگ
باہر ملک بھاگ جاتے ہیں… بے چاری وفادار بیویاں ہر دن راہ دیکھتی وقت کاٹتی
ہیں کہ ایک دن اچانک طلاق کا پیغام آجاتا ہے… نقلی دوائیاں، جھوٹی قسمیں اور
دھوکے بازی… اور تو اور… مال کی خاطر کیسے کیسے قیمتی انسانوں کو قتل کر
دیا جاتا ہے… آہ انسان، اشرف المخلوقات… سورج اور چاند سے افضل مگر ایک
موبائل فون اور ایک موٹر سائیکل کی خاطر اُسے گولی مار کر قتل کر دیا جاتا ہے… لوگوں
نے بس ایک بات ذہن میں بٹھا لی ہے کہ جناب اس زمانے میں مال کے بغیر کہاں گزارہ ہو
سکتا ہے؟… اس لئے اب’’دنیا کی محبت‘‘ کے خلاف کوئی بات ہی نہ
کرو… اللہ کے بندو! مال کی ضرورت اور چیز ہے اور مال کی
محبت اور چیز ہے… اسلام حلال مال سے نہیں روکتا، بلکہ مال کی حرص اور محبت سے
روکتا ہے… اسلام دنیا سے نہیں روکتا بلکہ دنیا کی محبت سے روکتا
ہے… امام غزالی س فرماتے ہیں کہ… علماء کرام نے ’’حبّ دنیا‘‘ کے خلاف
بولنا چھوڑ دیا، صرف اس ڈر سے کہ لوگ کیا سوچیں گے کہ… خود تو مال کماتے ہیں
اور ہمیں روکتے ہیں… حالانکہ اگر علماء اور دیندار لوگ ’’حبّ دنیا‘‘ کے خلاف
بولنا چھوڑدیں گے تو بہت بڑا فساد اور تباہی پھیل جائے گی… جی ہاں وہی تباہی
جو آج ہم اپنے ارد گرد دیکھ رہے ہیں… مال کا حرص، عزت کا حرص… اور شہوت
کا حرص… ان تین چکیوں میں مسلمان بُری طرح پِس رہے ہیں… اور کفار ہر طرف
غالب آتے جارہے ہیں… حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا…
’’حرص
سے بچو، کیونکہ یہ حرص(اور بخل) تم سے پہلے والوں کو ہلاک و برباد کر چکا ہے اسی
نے اُن کو قتل و غارت اور محارم کو حلال کرنے پر ابھارا‘‘(صحیح مسلم)
ہم
سب کو اس بات کی فکر کرنی چاہئے کہ… ہمارے دلوں میں دنیا کی محبت، اور دنیا
کا حرص پیدا نہ ہو… کیونکہ یہ وہ چیز ہے جو انسان کے دین کو تباہ و برباد کر
کے رکھ دیتی ہے… حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا…
’’وہ
دو بھوکے بھیڑیئے، جو بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیئے گئے ہوں،اُن بکریوں کے لئے
اتنے نقصان دہ نہیں ہیں، جتنا کہ مال اور عزت کا حرص انسان کے دین کو تباہ کرنے
والا ہے…‘‘(جامع ترمذی)
ہماری
خوش قسمتی ہے کہ … ہم نے اس دور میں ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جو’’حُبِّ
دنیا‘‘ سے سو فیصد پاک صاف ہیں… جی ہاں یہ فدائی مجاہدین
ہیں… اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین رکھنے والے… غیب پر
ایمان رکھنے والے… ایک فدائی مجاہد کہہ رہا تھا کہ… میں
نے اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھا مگر مجھے یقین ہے
کہ اللہ تعالیٰ موجود ہے… میں نے رسول کریم صلی اللہ
علیہ وسلم کو نہیں دیکھا مگرمجھے یقین ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ
وسلم نبی برحق ہیں… میں نے جنت کو نہیں دیکھا مگر مجھے یقین ہے کہ
جنت برحق ہے… میں نے اُن انعامات کو جو شہداء کے
لئے اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں اپنی آنکھوں سے نہیں
دیکھا… مگر مجھے یقین ہے کہ شہید کے ساتھ کئے گئے تمام وعدے سچے ہیں… اس
لئے میں اپنی جان اللہ تعالیٰ کو بیچنے جارہا
ہوں… سبحان اللہ ، سبحان اللہ … کیاشان والا
ایمان ہے… ہم اس طرح کے سچے اولیاء کو دیکھ کر اپنے دل کے
مرض… یعنی’’حبّ دنیا‘‘ اور’’حرص‘‘ کا علاج کر سکتے ہیں… اور ہم یہ بات
سمجھ سکتے ہیں کہ… اس زمانے میں بھی دنیا کی محبت سے بچنا ممکن ہے…
ہمارے
سیّد اور محبوب حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
جو
شخص دنیا کو اپنا محبوب بنائے گا وہ اپنی آخرت کا ضرور نقصان کرے گا اور جو کوئی
آخرت کو محبوب بنائے گا وہ اپنی دنیا کا ضرور نقصان کرے گا پس تم لوگ فنا ہو جانے
والی (دنیا) کے مقابلے میں باقی رہنے والی (آخرت) کو ترجیح دو…(مسند احمد)
مال
کمانے سے کوئی نہیں روکتا… آپ روز کروڑوں کمائیں… مگر اس مال سے محبت
نہ کریں کہ… اسے خرچ کرنا ہی آپ کے لئے مشکل ہو جائے…اور یہ آپ کے پاؤں کی
زنجیر بن جائے کہ اسے چھوڑ کر جہاد اور دین کے کسی کام پر ہی نہ نکل
سکیں … اور ہر وقت اس مال کو بڑھانے کی فکر میں لگے رہیں… تھوڑا سا
غور کریں… حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا… مفہوم یہ ہے کہ… جب مسلمان دنیا کی محبت میں مبتلا ہو جائیں
گے… اور موت سے نفرت کرنے لگیں گے تو دنیا بھر کی کافر قومیںاُن پر حملہ آور
ہو جائیں گی… مگر مسلمان کثیر تعداد میں ہونے کے باوجود سمندر کی جھاگ اور
میل و کچیل کی طرح کمزور… اور بے قدر و قیمت ہوں گے… یہ روایت آپ نے
بارہا سنی ہو گی… معلوم ہوا کہ… جہاد اور ترقی سے روکنے والی چیز ’’دنیا
کی محبت‘‘ ہے اور ترقی اور کامیابی کا راستہ… موت اور شہادت کی محبت
ہے… اب ہم اس معیار پر اپنے آپ کو دیکھ لیں… ہمارے ہاں تو اب اس
’’ملعون‘‘ دنیا کی محبت کو’’دین‘‘ بنا کر پیش کیا جاتا ہے… خوب پیسہ کماؤ،
تاکہ’’بزنس‘‘ میں کفار کا مقابلہ کر سکو… انا ﷲ وانا الیہ راجعون…
مسلمانوں
کو اگر عزت، کامیابی… اور ترقی کے راستے پر لانا ہے تو اُن کو جہاد پر کھڑا
کرنا ہو گا… اور جہاد کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ’’دنیا کی محبت‘‘
ہے… مال کا حرص جس نے انسانوں کو خونی درندے اور جانور بنا دیا ہے… عزت
کا حرص جس نے ہر طرف فساد ہی فساد برپا کر دیا ہے… اور شہوت کا حرص جس نے
ہمارے ماحول کو پلید اور ناپاک کر دیا ہے… اپنی بیوی دو باتیں زیادہ کر دے تو
سر میں درد ہونے لگے اور غیر عورتوں سے گھنٹوں تک لمبی لمبی باتیں… آہ
مسلمان تجھے کیا ہو گیا ہے…موبائل ٹاکنگ، کمپیوٹر چیٹنگ…اور کہیں دین کی دعوت کے
نام پر غیر مردوں اور عورتوں کی ہلاکت خیز گپ بازیاں… یہ حرص نہیں تو اور کیا
ہے کہ… بیوی کو اپنے خاوند کے علاوہ ہر مرد… اور خاوند کو اپنی بیوی کے
علاوہ ہر عورت پسند ہے… بے حیائی کے حرص نے طرح طرح کی شکلیں اختیار کر لی
ہیں… اسی طرح کھانے پینے کا حرص… طرح طرح کے کھانے، بڑے بڑے
ہوٹل… اور قیمتی مال اور وقت کا ضیاع… دنیا میں شائد کوئی ایسا فینسی
ہوٹل ہو جہاں تازہ کھانا ملتا ہو … ان ہوٹلوں میںہفتے بھر کا کھانا پکا
کر فریز کر لیتے ہیں…اور پھر مائکروویو یا اس طرح کی دوسری چیزوں میں گرم کر کے
پیش کرتے ہیں… بڑے بڑے قیمتی لوگ یہ باسی کھانا کھانے کے لئے گھنٹوں تک میزوں
کے سامنے بیٹھے اپنا وقت اور اپنی عزت برباد کرتے رہتے ہیں… اچھا کھانے کا
شوق زیادہ بُری بات نہیں… مگر اس کا حرص ذلت ناک ہے… نماز میں کھانے کی
سوچ، ہروقت جہاں سے بھی ملے اچھا کھانا کھانے کی فکر… پھر اگر اچھا کھانا بچ
جائے تو… اُسے سنبھالنے کی فکر کہ کوئی اور نہ کھالے… اور اگر کوئی
کھالے تو دل پر ایسا غم جیسے مشرّف کی وردی اُتر گئی ہو…مسلمان تو سخی ہوتا
ہے… اپنا حصہ بھی دوسروں کو کِھلا کر خوش ہوتا ہے… یہ کیاکہ… زائد
کھانا بھی اگلے وقت بچانے کی فکر… خلاصہ یہ کہ… دنیا کی محبت اور اس کا
حرص انسان کو ہر بُرائی میں ڈالتا ہے… اور ہر سعادت سے محروم کرتا
ہے… اور اگر اس موذی بیماری کا علاج نہ کیا جائے تو یہ عمر اور وقت کے ساتھ
بڑھتی ہی چلی جاتی ہے… اور بالآخر عذاب اور سانپ بن کر قبر میں بھی ساتھ
داخل ہو جاتی ہے… رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
آدمی
بوڑھا ہو جاتا ہے مگراس کی دو خصلتیں جوان اور طاقت ور ہوتی رہتی ہیں ایک مال کا
حرص اور دوسری لمبی عمر کا حرص( بخاری و مسلم)
اے
میرے بھائیو! اور بہنو!… ہم سب غور کریں کہ ہمارے اندر دنیا کی محبت اور حرص
ہے یا نہیں؟… دوسرا کام یہ کہ ہم اس بات کو سمجھیں کہ دنیا کی محبت ایک
خطرناک بیماری ہے جو ہمیں بہت سخت نقصان پہنچا سکتی ہے… اورتیسرا کام یہ کہ
ہم اپنے اندر سے اس بیماری کو ختم کرنے کی کوشش کریں… یاد رکھیں کہ اس زمانے
میں کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ میرے اندر یہ بیماری نہیں ہے… محاذوں
پر فدائی حملوں کے لئے جانے والے مجاہدین کے علاوہ شائد ہی کوئی مسلمان ’’حبّ
دنیا‘‘ کی بیماری سے محفوظ ہو… کسی پر مال کا حرص ہے، کسی پر عہدے اور عزت کا
حرص ہے، کسی پر کھانے پہننے کا حرص ہے، کسی پر شہوت کا حرص ہے… یہ تمام
چیزیں’’حبّ دنیا‘‘ کہلاتی ہیں… اور ہر مسلمان پر’’حُبِّ دنیا‘‘ کی کسی نہ کسی
قسم کا حملہ ضرور ہوتا ہے… پھر جو خوش قسمت مسلمان ہوتے ہیں وہ اس حملے کا
مقابلہ کرتے ہیں اور’’حبّ دنیا‘‘ کے جراثیم کو اپنے دل میں نہیں اُترنے
دیتے… ایسے لوگ مبارک باد کے مستحق ہیں… اور ان کے لئے قرآن و سنت میں
بڑے بڑے انعامات کا وعدہ ہے… ہم سب کوشش کریں کہ… ہم بھی اسی طبقے میں
سے بن جائیں… حضرات صحابہ کرامؓ میں سے کئی حضرات کروڑوںپتی تھے… بلکہ
آج کل کی پاکستانی کرنسی کے حساب سے تو ارب پتی تھے… مگر ان میں مال کا حرص
نہیں تھا… زیادہ سے زیادہ خرچ کرکے بھی انہیں ذرہ برابر تکلیف نہیں ہوتی
تھی… حضرات صحابہ کرامؓ میں سے کئی ایک نے بڑے بڑے عہدے پائے… ملکوں کے
گورنر اور حکمران بنے… مگر ان میں عہدے اور عزت کا حرص نہیں تھا… حضرات
صحابہ کرامؓ میں سے کئی نے زیادہ شادیاں فرمائیں… مگر ان میں شہوت کا حرص
نہیں تھا… حضرات صحابہ کرامؓ کو اللہ پاک نے طرح طرح
کی نعمتیں کِھلائیں اور پلائیں… مگر ان میں کھانے، پینے کا حرص نہیں
تھا… معلوم ہوا کہ… دنیا کا ملنا، برا نہیں، دنیا کا حرص بُرا
ہے… اور حرص کی علامات بالکل واضح ہیں… اور ہر آدمی اپنے اندرجھانک کر
جائزہ لے سکتا ہے… حقیقت یہ ہے کہ… آج کل حرص اور لالچ کا مرض بہت عام
ہو چکا ہے… مجاہدین کو خاص طور پر فکر کرنی چاہئے کیونکہ شیطان کو یہ گُر
معلوم ہے کہ… جہاد سے روکنے کا مضبوط طریقہ ’’حبّ دنیا‘‘ میں مبتلا کرنا
ہے… وہ کہتاہے آپ نے بہت جہاد کر لیا اب کچھ بناؤ، کماؤ، جمع کرو، آرام
کرو… اور لوگوں کو اپنے پُرانے قصے سنا کر اُن سے مال حاصل کرو… اور
اپنے پُرانے عہدے بتا بتا کر اپنی بڑائی جتلاتے پھرو… وہ مجاہدین
جو… جہاد کی نعمت پرقائم رہنا چاہتے ہیں، انہیں چاہئے کہ… اپنے دفاتر
ختم کر کے مسجدوں میں آئیں… مسجدیں بنائیں اور انہیں آباد کریں… نماز
کا تکبیر اولیٰ سے اہتمام کریں… تقویٰ اور ذکر اختیار کریں… اور حبّ
دنیا سے اپنے دل کو بچائیں… تب انہیں ان شاء
اللہ جہاد میں برکت، کامیابی اور استقامت نصیب ہوگی…
حُبّ
دنیا کا علاج
(۱) ’’حُبِّ دنیا‘‘کو خطرناک بیماری سمجھنا…
(۲) ’’حُبِّ دنیا‘‘ سے حفاظت کی ہر رات دن فکر کرنا…
(۳) روزآنہ دو رکعت صلوٰۃ الحاجۃ پڑھ کر دعاء میں
اقرار کرنا کہ یا اللہ میں حبّ دنیامیں مبتلا ہو کر حریص
اور لالچی ہو گیا ہوں اور آپ کی ملاقات کے شوق سے محروم ہو گیا
ہوں… یا اللہ مجھے حبّ دنیا سے بچا… ’’اَللّٰھُمَّ
اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ حُبِّ الدُّنِیَا‘‘
(۴) قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ میں’’حُبِّ
دنیا‘‘ کی مذمت پڑھنا، اس کی تعلیم کرانا اور دوسروں کو بھی سنانا…
(۵) صبح و شام تین تین بار سورہ’’الھٰکم التکاثر‘‘
توجہ سے پڑھ کر، حبّ دنیا سے حفاظت کی دعاء مانگنا اور کثرت سے یہ دعاء
پڑھنا… اَللّٰھُمَّ قِنِیْ شُحَّ نَفْسِی
(۶) موت کو کثرت سے یاد کرنا،حضور اقدس صلی اللہ
علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کرامؓ کے زہد کے واقعات پڑھنا… مجاہدین
اور شہداء کے واقعات پڑھنا…
(۷) ’’حُبِّ دنیا‘‘ میں سے جس چیز کا حرص زیادہ ہو،
اُس کے حلال سے بھی تھوڑا تھوڑا بچنے کی کوشش کرتے رہنا…
(۸) اُن اولیاء کرام کی صحبت میں بیٹھنا جو ’’حُبِّ
دنیا‘‘ کے مرض سے بچے ہوئے ہوں…
اور
ان سب علاجوں کا خلاصہ یہ کہ… جہاد میں نکل کر جان و مال کی قربانی
دینا… اور ہروقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑاتے رہنا
اور عاجزی کے ساتھ اس کینسر سے زیادہ موذی مرض سے حفاظت کی دعاء مانگنا…
یا اللہ مجھے
اور سب پڑھنے والوں کو ’’حُبِّ دنیا‘‘ کے مرض سے شِفاء اور نجات عطاء فرما…
آمین
یا ارحم الراحمین
وصلی اللہ تعالیٰ
علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد وآلہ وصحبہ و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
سے سچی مَحبَّت رکھنے والے مسلمان کے لئے شہادت سے بڑھ کر اور کیا بڑی نعمت ہو
سکتی ہے… سرخ خون کا جوڑا… گلرنگ زخموں سے سجا ہوا جسم… عشق کی لذت
بھری دھار سے کٹے ہوئے اعضاء… سر اور داڑھی پر مٹی کا غبار، جیسے مہندی کا
سنگار… اور فتح کے خمار سے سرشار روح… اللہ اکبر
کبیرا… رب کعبہ کی قسم شہادت بہت عظیم، بہت لذیذ اور بہت مست نعمت
ہے… حضرت شیخ اسامہ بن لادن بہت خوش نصیب تھے… وہ زندہ رہے تو مجاہد اور
فاتح بن کر… اور رخصت ہوئے تو شہید بن کر… واہ خوش نصیبی، واہ خوش
نصیبی… پھر آج’’سعدی‘‘ رو کیوں رہا ہے؟… یہ ٹپ ٹپ برستے آنسو… یہ
سینہ چیر کر نکلنے والی ہچکیاں… اور یہ کانپتا ہوا قلم… ہاں بے شک! شیخ
اسامہ بہت پیارے انسان، پورے مسلمان اور بڑے مجاہد تھے… اُن جیسوں کی جدائی
پر بھی غم نہ ہو تو پھر… کس کی جدائی پر ہوگا… اُن جیسے لوگ صدیوں بعد
پیدا ہوتے ہیں… موجودہ زمانے کے مسلمان فخر کر سکتے ہیں کہ وہ ملّا محمد عمر
مجاہد… اور شیخ اسامہ شہید کے زمانے میں پیدا ہوئے… ایمان، جرأت، غیرت
اور اسلامی فتوحات کا زمانہ… آج مسلمانوں پر جو غم اور صدمہ ہے وہ کسی شکست
کا نہیں… بلکہ ایک محبوب شخصیت کے کھونے کا ہے… اور یہ وہ غم ہے جو
مایوسی نہیں غیرت اور قربانی کی دعوت دیتا ہے… آج معلوم نہیں کتنے نوجوان
گناہوں کو چھوڑ کر… توبہ کی چوکھٹ پر آئیں گے اور اسلام کی خاطر قربانی کا
عزم کریں گے… سبحان اللہ ! شیخ اُسامہ کی قسمت تو دیکھیں
کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو سراپا جہاد بنا دیا… نام بھی
جہاد… کہ جو کافر بھی سنے تو اُس کے دل پر خنجر چلے… آواز بھی جہاد کے
جب بھی گونجے دشمنان اسلام کو نقصان پہنچائے… اور وجود بھی جہاد کہ جس کی
تلاش میں روزلاکھوں، کروڑوں ڈالر کے خسارے عالم کفر کو بھگتنے پڑے… بے شک
اخلاص بڑی چیز ہے… اور ہجرت سے توفیق کے راستے کُھلتے ہیں… عجیب بات ہے
کہ امریکہ اور یورپ میں جشن منایا جارہا ہے… یہ بھی اُن کی شکست اور کمزوری
کا ثبوت ہے…اُن کو مایوسیوں کے درمیان ایک اچھی خبر ملی ہے… حالانکہ امریکہ
اس وقت طوفانوں سے لرز رھا ہے… امریکہ کی وسطی اور جنوبی ریاستوں میں ایسا
ہولناک عذاب آیا ہے کہ درخت، کھمبے، گاڑیاں اور مکانات… ہوا میں تنکوں کی
طرح اُڑ رہے ہیں… سینکڑوں لوگ مارے جا چکے ہیں… اور کئی ریاستوں میں
ہنگامی حالت کا اعلان ہے… خود ابامہ کا کہنا تھا کہ میں نے ایسی خوفناک تباہی
پوری زندگی میں نہیں دیکھی… اُدھر کابل میں تین چار دن پہلے ایک افغان
پائلٹ’’گل احمد‘‘نے نو امریکی فوجی افسر اور ایک امریکی ٹھیکیدار کو بھون
دیا… فونکس پر فدائی حملے میں اُنتیس امریکیوں کی… اور اس تازہ واقعہ
میں دس امریکیوںکی لاشیں… امریکی عوام نے وصول پائیں… قرآن پاک کی بے
حرمتی کا وبال بری طرح سے طوفان اٹھا رہا ہے… ان حالات میں حضرت شیخ اسامہ بن
لادن کی شہادت پر جشن منایا جا رہا ہے… حالانکہ شیخ کو وہ سب کچھ مل گیا جو
وہ چاہتے تھے… اور امریکہ کے ہاتھ میں کچھ بھی نہ آیا… کل تک شیخ اسامہ
کافروں کی کمزوری اور شکست کا نشان تھے… اور آج شیخ اُسامہ اپنی فتح اور
سرفرازی کا نشان ہیں… وہ نہ تو کسی محاذ پر لڑ رہے تھے کہ اُن کی شہادت سے وہ
محاذ بندہو جائے گا… اور نہ وہ ایسی حالت میں تھے کہ مجاہدین کی تشکیلات کرتے
ہوں… وہ تو اس طرح سے تھے جس طرح کسی لشکر میں اسلامی جھنڈا ہوتا ہے…مجاہدین
اس جھنڈے کو دیکھتے ہیں تو جم کر لڑتے ہیں… اس جھنڈے میں ایک ’’ہلال‘‘ ہوتا
ہے جو اسلا م کی عظمت کا پیغام سناتا ہے… اور ایک ستارہ ہوتا ہے جو جہاد کی
دعوت دیتا ہے… مگر جب ایسی شخصیت کو شہید کر دیا جائے تو… اس جھنڈے میں
ایک اور ستارہ ابھر آتا ہے… اور یہ انتقام پر ابھارنے والا نشان بن جاتا ہے… شیخ
اسامہ شہید کے ساتھ کروڑوں مسلمانوں کی دعائیں تھیں … ان دعاؤں کے
صدقے اللہ تعالیٰ کی ایسی نصرت رہی کہ دس سال تک دنیا بھر
کی جنگی ٹیکنالوجی سر پٹختی رہی… کروڑوں ڈالر کے انعامات کا اعلان
ہوا… فضا سے سیارچوں نے زمین کے ایک ایک کونے کو کھنگال لیا… سینکڑوں
آپریشن لانچ ہوئے… صدر بش کے دو(۲) دور حکومت اسی
کوشش میں غرق ہو گئے… مخبروں اور جاسوسوں کے ٹولے بھرتی کئے گئے… گرفتار
مجاہدین کی ہڈیوں اورکھالوں کو توڑا اور کاٹا
گیا… مگر اللہ تعالیٰ کی حفاظت کے حصار کو کوئی نہ توڑ
سکا… یقیناً ان دس سالوں میں عبرت والوں کے لئے بڑی بڑی نشانیاں ہیں… سب
مسلمانوں کی خواہش تھی کہ شیخ سلامت رہیں اور جس طرح انہوں نے سوویت فوجوں کو ذلت
کے ساتھ افغانستان سے نکلتے دیکھا… اسی طرح نیٹو فوجوں کے انخلاء کو بھی
دیکھیں… مگر ہر مسلمان اور ہر مجاہد کو یہ بھی علم تھا کہ یہ جنگ ہے اور اس
میں کسی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے… حضرات صحابہ کرامؓ جہاد میں اُترے تو ان کو
جہاد کے تیسرے سال ہی یہ سبق پڑھا دیا گیا کہ… اس مبارک جہاد میں حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم بھی شہید ہو سکتے ہیں… اگر کامیابی چاہتے
ہو تو پھر اپنے دلوں کو… اتنے عظیم ترین صدمے اور حادثے کے لئے بھی تیار
رکھو… اور اگر یہ حادثہ ہو جائے تو پھر ایک قدم بھی میدان سے پیچھے نہ
ہٹنا… حضرات صحابہ کرامؓ کے لئے اس سے بڑا نقصان اور حادثہ اور کوئی نہیں ہو
سکتا تھا… قرآن پاک نے اُن کو اسی حادثے کے لئے ذہنی طور پر تیار کیا تو
پھر… کوئی حادثہ بھی اُن کے لئے مایوسی اور دل شکنی کا ذریعہ نہ بن
سکا… موجودہ جہاد میں شرکت کرنے والے مجاہدین جانتے ہیں کہ… اس طرح کے
حادثات تو لازماً ہوتے ہیں…یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ… مجاہدین تو شہادت کے جام
پیتے رہیں اور اُن کے مخلص قائدین اس عظیم نعمت سے محروم رہیں… مجاہدین اگر
شہادت کی دعاء دن میں پانچ بار کرتے ہیں تو اُن کے قائدین یہی دعاء دس بار کرتے
ہیں… جہاد میں کسی کی بھی گرفتاری ہو سکتی ہے… مگر
گرفتاری اللہ تعالیٰ کی آزمائش ہے… وہ جن افراد سے
مزید کچھ کام لینا چاہتا ہے اُن کو اس آزمائش میں ڈالتا ہے… اور جہاد میں
شہادت بھی ملتی ہے… اور شہادت اللہ تعالیٰ کا انعام
ہے… شیخ اسامہ زیادہ خوش نصیب رہے کہ… اللہ تعالیٰ کی
آزمائش سے بچ کر انعام کے مستحق ہوئے… معلوم ہوا کہ… اُن کی محنت،
مزدوری اور مشقت کا وقت ختم ہو چکا تھا … اور اب ان شاء
اللہ اُن کی راحت، اور خوشی کا وقت شروع ہو چکا ہے… افغانستان
میں جب سوویت یونین کے خلاف جہاد شروع ہوا تو … دنیا بھر سے سعادت مند
مسلمان اس جہاد میں شرکت کے لئے افغانستان پہنچے… شیخ اسامہ اُس وقت ایک
نوخیز، نوجوان تھے… سعودی عرب کے ایک مالدار یمنی نسل گھرانے سے تعلق رکھنے
والا… انجینئرنگ کا طالب علم اُسامہ جب پشاور پہنچا تو کسی کو خبر نہیں تھی
کہ… یہ شخص ایک پورے جہادی مکتب فکر کا بانی بننے والا ہے… مفکر جہاد
حضرت شیخ عبد اللہ عزام شہید نے خوست کی طرف جو پہلا دستہ روانہ
کیا… شیخ اسامہ اُسی دستے کے ایک عام مجاہد تھے… شیخ عزام نے اس دستے کا
نام… ’’کتیبۃ الغرباء‘‘ رکھا تھا… یعنی مسافروں کا ایک جہادی
دستہ… عربی زبان میں’’غریب‘‘ مسافر اور اجنبی کو کہتے ہیں… شیخ اُسامہ
اُسی وقت سے جہاد کے ہو گئے … اور جہاد اُن کا ہو گیا…پھر انہوں نے اپنی
جہادی جماعت’’القاعدہ‘‘ بنائی… پشاور میں اس جماعت کا دفتر’’ مکتب
الانصار‘‘… اور جلال آباد میں اس جماعت کا معسکر’’مأسدۃ الانصار‘‘ کھلے عام
چلتے تھے… نواز شریف کے پہلے دور اقتدار میں پاکستان میں مقیم عرب مجاہدین پر
زمین تنگ کی گئی تو… شیخ اُسامہ کچھ عرصہ کے لئے واپس سعودی عرب جا بیٹھے اور
انہوںنے’’یمن‘‘ کے محاذپر جہاد کی خدمت اور سرپرستی شروع کر دی… پاکستان کے
حالات بہتر ہوئے تو واپس آئے مگر اب یہاں پہلے جیسی آزادی نہیں
تھی… بالآخر وہ سوڈان چلے گئے… خرطوم میں اُن کا گھر تھا… اور چار
تجارتی کمپنیاں… اور درجنوں مجاہدین کے گھرانے…یہاں سے بیٹھ کر شیخ نے
صومالیہ میں پنجہ آزمایا… اور افریقہ کے مختلف ملکوں میں اپنا کام
پھیلایا… کینیا کے دارالحکومت نیروبی… اور تنزانیہ کے دارالسلام میں
امریکی سفارتخانوں پر حملے ہوئے تو… سوڈان کی حکومت نے شیخ سے سوڈان چھوڑجانے
کی درخواست کی… یہ غریب مجاہد الجزائر جا پہنچا… وہاں ایک قاتلانہ حملے
میں شیخ کو گویا نئی زندگی ملی اور اُن کارخ واپس افغانستان کی طرف ہو
گیا… جلال آباد میں گورنر حاجی عبدالقدیر خان نے اُن کو رہائش دی… تورا
بورا کا مرکز قائم ہوا… اسی اثناء میں طالبان نے افغانستان پر اسلامی امارت
قائم فرما دی… شیخ بھی قندھار جا بیٹھے… اور پھر نائن الیون، یعنی گیارہ
ستمبر ہوا… اور دنیا ایک نئی جنگ میں جُھلسْنے لگی… اور آج یہ خبر
آرہی ہے کہ … شیر اسلام بھی شہداء اسلام میں شامل ہو گئے ہیں…شیخ کے
ساتھ اللہ تعالیٰ کی حفاظت کا معاملہ عجیب تھا… کتنی
بار موت اُن کے پاس سے گزر گئی مگر وہ موت کو…للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے رہ
گئے… وہ دنیا کے سب سے مطلوب شخص تھے… مگر پھر بھی تقریباً ساٹھ سال کی
عمر جی گئے اور پھر موت کے وقت اُسے بھی شکست دیکر شہادت کی زندگی پا گئے… وہ
نازونعمت کے پلے ہوئے انسان تھے مگر دین کی خاطر اُن کا دل روتا رہا اور جسم
مشقتیں سہتارہتا… اُن کو شوگر کی تکلیف ہوئی… مگر اُن کے نظریات اور
عزائم میں کوئی فرق نہ آیا… انہیں گردوں کا شدید عارضہ لاحق ہوا… مگر
مجال ہے کہ اُن کے عزم و حوصلے میں کوئی فرق آیا ہو… جو لوگ جہاد کا کام
کرتے کرتے اکتا جاتے ہیں اُن کے لئے شیخ کی زندگی میں بڑا سبق ہے… شیخ کا
نظریہ یہ تھا کہ… زیادہ سے زیادہ لڑو، زیادہ سے زیادہ پھیلو… اور جتنا
ہو سکے زیادہ دیر تک لڑو… شیخ کی اسی محنت اور اخلاص کا نتیجہ تھا
کہ… اُن کا جہادی فیض اُن کی زندگی میں… دور دورتک پھیل گیا… عراق
کی لڑائی میں… اُن کے ایک ساتھی شیخ ابو مصعب الزرقاوی نے ایوبیؒ دور کی
یادیں تازہ کیں… چیچنیا کے جہاد میں اُن کے ایک ساتھی خطاب شہید نے قفقاز کے
پہاڑوں کو جہادی زمزموں سے گرما دیا… یمن کی تحریک میں شیخ کا بڑا حصّہ تھا… اور
صومالیہ تو اُن کے مجاہدین کا اب بھی ایک مضبوط بیس کیمپ ہے… دشمنوں نے شیخ
کو’’مطلوب‘‘ بنایا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس مسافر بندے
کو’’محبوب‘‘ بنادیا… لاکھوں مسلمانوں نے اپنے بچوں کا نام ’’اُسامہ‘‘
رکھا… اور دنیا بھر میں ’’اُسامہ‘‘ کا نام عزت وغیرت کا استعارہ بن گیا… ہم
جہاد کے میدان میں امیر المؤمنین حضرت ملا محمد عمر مجاہد
حفظہ اللہ تعالیٰ کے نظریات سے رہنمائی لیتے ہیں… مگر
اس کی وجہ سے شیخ اسامہ کے ساتھ محبت میں کوئی کمی نہیں آئی… شیخ اُسامہ کا
اپنا جہادی انداز تھا… وہ جنگ کو پھیلانے پر یقین رکھتے تھے… اور
انتقامی طرزِجنگ کو پسند کرتے تھے… شیخ کے اس طرز جہاد کو دیکھتے ہوئے یہ بات
پورے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ… شہادت کے بعد شیخ اپنے دشمنوں کے لئے زیادہ
خطرناک ہو چکے ہیں… اُن کے مجاہد ساتھی پوری دنیا میں پھیلے ہوئے
ہیں… اور اُن کی بہت سی کارروائیاں شیخ کے تحفظ کے لئے رکی ہوئی تھیں… اب
یہ دستے مزید آزاد ہو جائیں گے… اور اُن کے دلوں میں اُبلنے والے انتقام کے
شُعلے خوفناک انداز میں بھڑک اٹھیں گے… خیر دنیا کا جو بھی مقدّر… آج
تو شیخ اُسامہ بن لادن کی شادی کا دن ہے… ہاں اُن کی خوشی اور ہم مسلمانوں کے
غم کا دن… ہمارے پاس ایسے الفاظ نہیں ہیں جن سے ہم اس عظیم جہادی شہزادے کو
خراج تحسین پیش کر سکیں… وہ بے شک اسلام اور مسلمانوں کا قابل
فخر… اورباعث ِعزت سرمایہ تھے… ہم دل کی عقیدت اور محبت کے ساتھ اُن کی
پاکیزہ اور سرفراز روح کو’’سلام‘‘ پیش کرتے ہیں… اے شیر
اسلام… الوداع…سلام ہو آپ پر… اور آپ کے تمام اہل خانہ اور رفقاء
پر… جو آپ کے ساتھ ہی شہادت کا تاج پہن گئے… ہم خود راہ جہاد کے
’’غرباء‘‘ میں سے ہیں بے گھر، بے وطن… مگر پھر بھی بہت شرمندہ ہیں
کہ … شیر اسلام کی شہادت پاکستان میں ہوئی…کاش ایسا نہ ہوتا… کاش
ایسا نہ ہوتا…
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیماکثیرا کثیرا کثیرا
٭٭٭
شتعالیٰ
اپنے اُس دیوانے، فرزانے، عاشق، جانبار…بے گھر، بے در اور مسافر بندے کے درجات
بلند فرمائے… جسے ساٹھ اسلامی ملکوں کے ہوتے ہوئے زمین پر دو گز کی قبر نہ مل
سکی… یوں لگتاہے کہ شیخ اُسامہ شہیدؒ مسکرا کر مسلمانوں سے کہہ
رہے ہیں :
پھول
تربت پر مری ڈالو گے کیا
خاک
بھی تم سے نہ ڈالی جائے گی
شیخ
اُسامہؒ راہِ جہاد کے …شہزادے تھے… معلوم نہیں شہادت کے بعد چہرے اور
جسم پر’’ انوارات‘‘ کا کیا عالَم ہو گا کہ… دشمن بھی تصویریں چھپانے پر مجبور
ہے… ایک جھوٹی تصویر تو اخبارات اور میڈیا پر چل رہی ہے… وہ شیخ کی
تصویر کہاں ہے؟… کسی’’نیٹ باز‘‘ نے کمپیوٹر پر بنالی ہے… اُبامہ کا کہنا
ہے کہ تصویریں سامنے آگئیں تو لوگوں میں تشدّد یعنی جہاد کا جذبہ پھیل جائے
گا… ارے اتنا بڑا شہید تھا… قربانیوں کا خوگر شادی کے بعد تو اُس کا حسن
و جمال اور زیادہ غضب ڈھا رہا ہوگا… ہاں، ہاں پھولوں کی طرح نکھر گیا
ہوگاتبھی تو تصویروں کو چھپایا جارہا ہے…
صداقت
ہو تو دل سینوں سے کھنچنے لگتے ہیں واعظ
حقیقت
خود کو منوا لیتی ہے، مانی نہیں جاتی
بلندی
چاہیے انسان کی فطرت میں پوشیدہ
کوئی
ہو بھیس، لیکن شانِ سلطانی نہیں جاتی
ایک
زمانے اُن کو قریب سے دیکھاتھا…نائن الیون کے بعد نہ کوئی ملاقات ہوئی نہ
رابطہ…مگر اللہ تعالیٰ کے نام کی محبت بھی عجیب چیز
ہے… تھوڑی تھوڑی دیر بعد شیخ کا مسکراتا ہوا سراپا سامنے آجاتا
ہے… آنسو تو کچھ تھم گئے ہیں مگر دل میں اب بھی طوفان کی موجیں بار بار
اٹھتی ہیں…
محبت
میں اک ایسا وقت بھی دل پر گزرتا ہے
کہ
آنسو خشک ہو جاتے ہیں طغیانی نہیں جاتی
شیخ
اُسامہ کو شعر و شاعری کا لطیف ذوق تھا… اشعار سنتے وقت جھوم اٹھتے
تھے… عاشق مزاج آدمی تھے… مجنوں سے دو قدم آگے نکل گئے… مجنوں نے
لیلیٰ کے لئے گھر چھوڑا تھا… شیخ اللہ تعالیٰ کے لئے
جان سے بھی گزر گئے… آج اُن کا تذکرہ کرتے ہوئے اشعار اُبل اُبل کر سامنے
آرہے ہیں
وہ
یوں دل سے گزرتے ہیں کہ آہٹ تک نہیں ہوتی
وہ
یوں آواز دیتے ہیں کہ پہچانی نہیں جاتی
نہیں
معلوم کس عالم میں حُسن یار دیکھا تھا
کوئی
عالم ہو، لیکن دل کی حیرانی نہیں جاتی
جلے
جاتے ہیں بڑھ بڑھ کر ، مٹے جاتے گِر گِر کر
حضور
شمع پروانوں کی نادانی نہیں جاتی
شیخ
اُسامہ شہیدپ غیرتِ ایمانی کا دریا تھا… اور دریا بالآخر سمندر ہی میں اُتر
جاتے ہیں… دشمنوں نے اللہ تعالیٰ کے اس ولی کو سمندر
کے حوالے کرتے وقت یہ بھی نہ سوچا کہ… اب اس پاک جسم کی برکت سے سمندر کی
وسعتیں اُن پر تنگ ہو جائیں گی… شیخ ؒ نے اپنے سفر کا آغاز
’’صحرا‘‘ سے کیا… اور سفر کی آخری منزل ’’سمندر‘ ‘ کو بنایا… اندازہ
لگائیں کہ کتنا بڑاآدمی تھا… صحرا سے سمندر تک جس کی عزیمتوں کی داستان
بکھری پڑی ہے…
بڑی
مشکل سے پیدا اک وہ آدم زاد ہوتا ہے
جو
خود آزاد جس کا ہر نَفَس آزاد ہوتا ہے
میراعلم
تو بہت ناقص ہے… پھر بھی عرض کر رہا ہوں کہ شیخ اُسامہ شہیدؒ کی شکل و صورت
صحابی رسول حضرت سیدنا سنان بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے ملتی
جلتی تھی… حضرت سنانؓ پشاور کے علاقے’’چغرمٹی‘‘ میں شہید ہوئے… اور شیخ
اُسامہ’’ایبٹ آباد‘‘ میں شہید ہوئے… زمین اللہ تعالیٰ
کی ہے… حضرت سنانؓ بھی عرب سے تشریف لائے تھے… مسلمان دنیا میں ہر جگہ
جا سکتا ہے… ہمارے حکمران معلوم نہیں کیوں شرمندہ اور پریشان ہیں… اگر
امریکہ اُن سے کہتا ہے کہ شیخ اُسامہ پاکستان میں کیوں روپوش تھے… تو یہ جواب
میں ہاتھ جوڑ کر کہہ سکتے ہیں کہ جناب!ہم پاکستان کے عارضی حکمران ہیں، مالک تو
نہیں… یہ تو مسلمانوں کا مُلک ہے… پرویز مشرف نے اس ملک کو اپنی جاگیر
سمجھا آج وہ ایک قدم بھی یہاں نہیں رکھ سکتا… ہم اپنے ملک کو نہ ڈرون حملوں
سے بچا سکتے ہیں، نہ ہیلی کاپٹروں کے حملے سے… ہم تو بس چند دن کے لئے ہیں… مال
کے انگارے، بددعاؤں کے انبار اور ظلم کے پہاڑ جمع کرنے کے لئے… باقی ہمارا
اور کیا کام ہے… آپ پاکستان کی عوام کو سزا دیجئے… اور یہ سزا آپ دس
سالوں سے ویسے ہی دے رہے ہیں… یہی مسلمان پاکستانی اپنے گھروں میں صرف
مجاہدین کو پناہ ہی نہیں دیتے… بلکہ ان کی مائیں تو بڑے ناز کے ساتھ مجاہدین
کو پالتی ہیں… کتنا آسان سا جواب ہے… حکمران بیچارے خواہ مخواہ پریشان
ہو رہے ہیں… پریشان تو اُن مسلمانوں کو ہونا چاہئے جن سے اُن کا پیارا اسلامی
بھائی چھن گیاہے… اور وہ غم کی وجہ سے سکتے کے عالم میں ہیں… اُس دن ایک
صاحب کہہ رہے تھے کہ اسلام دشمن عناصر کا جشن دیکھ کر دل پھٹ رہا ہے… بندہ نے
اس جشن کی تفصیلات معلوم کیں تو غمزدہ دل خوشی سے اُچھلنے لگا
کہ… سبحان اللہ ایک مسلمان کی اتنی اہمیت، اتنی قوت
اور اتنی عظمت کہ… وہ اکیلا اتنے سارے کافروں کے اعصاب پر سوار تھا… پھر
اسلام اور جہاد کی عظمت دیکھئے کہ دس سال کی جنگ میں دنیا کے سینتیس(۳۷) طاقتور
ملکوں کو… اب جا کر پہلی خوشی نصیب ہوئی ہے… معلوم ہوا کہ وہ شکست اور
مایوسی کے اندھیروں میں پڑے چلاّ رہے تھے… روزآنہ لاشوں کے
تابوت… ہزاروں کی تعداد میں زخمی فوجی… اربوں کھربوں ڈالر کے
خسارے… فوجیوں کے دردناک خطوط کہ ہم موت کی ریل گاڑی میں بند ہو چکے
ہیں… ہر چند ماہ بعد جرنیلوں کی تبدیلی… اتنی طویل جنگ مگر فتح کا دور
دورتک نام و نشان نہیں… سبحان اللہ وبحمدہ
سبحان اللہ العظیم… ہے نا اسلام کی طاقت؟… ہے نا
جہاد کی کرامت؟… چند نہتے مجاہدین نے سپر پاور کہلانے والوں کو دن کے تارے
دکھا دیئے… اب یہ سارے کافر مل کر یہ منصوبہ بنارہے ہیں کہ… پاکستان کو
ختم کر دیا جائے… انڈیا کا پاکستان پر قبضہ ہو جائے… مگر یہ تدبیر بھی
الٹی پڑے گی اور ان شاء اللہ اس تدبیر کے نتیجے میں انڈیا بھی
اندر سے پھٹ جائے گا… اور جہاد کا دائرہ وسط ایشیا کے راستے یورپ
تک… اور کشمیر اور پنجاب کے راستے پورے انڈیا تک پھیل جائے گا… بات یہ
چل رہی تھی کہ کفر کے لئے ہر طرف مایوسی ہی مایوسی تھی… ایسے میں اُن کو شیخ
اُسامہ کی شہادت کی خبر ملی تواب خوشی سے ناچ رہے ہیں… مگر خود اُن کے لیڈر
کہہ رہے ہیں کہ… کام ختم نہیں ہوا اور یہ ایک وقتی کامیابی ہے… اب اُن
کی کوشش ہے کہ… اس کامیابی کی زیادہ سے زیادہ قیمت وصول کریں… ایک طرف
تو جھوٹی خبروں کے انبار ہیں… مسلمان بھی عجیب ہیں کہ وہ کافروں کی خبروں کا
اعتبار کرتے ہیں… اللہ کے بندو! کیا کبھی خفیہ ادارے بھی سچ
بولتے ہیں؟… انٹرنیٹ کے کھلاڑی ٹوئٹر، فیس بک اور دوسری ویب سائٹوں پر بیٹھے
افواہوں کی مکھیاں مار رہے ہیں… حالانکہ اس وقت تقریباً تمام خبریں جھوٹی چل
رہی ہیں… امریکہ کی کوشش ہے کہ وہ اپنی ٹیکنالوجی کا جادو پھر لوگوں کے
دماغوں پر مسلّط کر ے… یہ ٹیکنالوجی دس سال تک کیوں’’اندھی کتیا‘‘ بنی ہوئی
تھی؟… اگر یہ ٹیکنالوجی اتنی ہی طاقتور ہوتی جتنی کہ بتائی جاتی ہے تو
پھر… مجاہدین ان کے قافلوں اور چھاؤنیوں پر حملہ ہی نہ کر سکتے… جو
اپنے گھر میں کچھ بولتا فوراً پکڑا جاتا… حالانکہ مجاہدین گلا کھول کر بولتے
ہیں… بے تحاشا فون استعمال کرتے ہیں… آپس میں ایک دوسرے کو ہنس ہنس کر
کارروائیوں کے حالات سناتے ہیں… اور بعد میں خوب شور شرابے کے ماحول میں قہوہ
پیتے ہیں… ہم مسلمانوں کی شروع سے کمزوری وہ’’مخبر‘‘ہیں جو مال کی لالچ
میں… اپنا ایمان اور ضمیر بیچ دیتے ہیں… میں یقین سے کہتا ہوں کہ شیخ کے
معاملے میں بھی یہی ہوا ہو گا… اور بس… اب کوئی حالات بتانے والا تو ہے
نہیں، ا س لئے ہر کوئی منہ بھر کر جھوٹ بول رہا ہے… حالانکہ اس وقت مسلمانوں
کو ایک بڑی دینی نقصان پہنچا ہے اُن کو چاہئے
کہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں… زیادہ سے زیادہ نیک
اعمال کا اہتمام کریں… مسلمانوںکی جو جہادی قیادت باقی ہے اُس کی حفاظت کے
لئے دعائیں کریں… اپنے دل میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات
کا شوق پیدا کریں… اور اپنے دل کو مضبوط رکھیں کہ… کل اگر اس سے بھی
کوئی بڑا حادثہ ہو جائے تو ہم ان شاء اللہ ثابت قدم رہیں گے… اسی طرح
مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنی جہادی یلغا ر کا رخ کفار کی طرف رکھیں… اور اسلامی
ممالک خواہ وہ نام کے ہی اسلامی ممالک کیوں نہ ہوں اُن کو میدان جنگ نہ
بنائیں… اگر تمام مجاہدین اپنا مکمل رخ کفار کی طرف پھیر لیں اور اپنی
توانائیاں… نام کے مسلمانوں کے خلاف ختم نہ کریں تو انشا
ء اللہ غلبہ اسلام کی منزل بہت قریب آسکتی ہے… دشمنا
ن اسلام کی کوشش ہے کہ… مسلمان آپس میں لڑیں… دنیا دار مسلمان یعنی
حکمران اُن کے جال میں پھنس چکے ہیں… کم از کم دیندار مجاہدین کو تو ان کی
سازش سے ہوشیار رہنا چاہئے… لوگ کہتے ہیں کہ… شیخ اُسامہ شہیدؒ کا نام
لینا بھی جُرم ہے… اگر تم اسی طرح اُن کے لئے محبت اور عقیدت کے پھول نچھاور
کرتے رہے تو… بہت جلد تمہارا وقت بھی آجائے گا… ہم عرض کرتے ہیں
کہ… اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا وقت کل کی بجائے آج
آجائے… شیخ اُسامہ شہید پ کا انجام دیکھ کر تو منہ میں پانی آجاتا
ہے… اور دل رشک سے بھر جاتا ہے… اللہ تعالیٰ کے راستے
میں کٹ مرنا … سبحان اللہ … اور پھر گرمی کے اس
موسم میں ٹھنڈے ٹھنڈے پانی میں اترجانا سبحان اللہ !… شیخ کی
شہادت تو بزمِ عشق میں نغمۂ شوق کی طرح ہے… جس نے لاکھوں سینوں میںشہادت کا
شوق بیدار کر دیا ہے…
دل
نے کچھ ایسی دُھن میں آج نغمۂ شوق گادیا
عشق
بھی جھوم جھوم اٹھا، حُسن بھی مسکرا دیا
مجھ
کو خدائے عشق نے جو بھی دیا بجا دیا
اُتنی
ہی تاب ضبط دی، جتنا کہ غم سوا دیا
آتش
تر نے ساقیا! کچھ نہ مجھے مزا دیا
آنکھوں
میںآنکھیں ڈال کے تو نے یہ کیا پلا دیا
جذب
جنوں نے آج تو گل ہی نیا کھِلا دیا
خود
وہ گلے لپٹ گئے عشق نے واسطا دیا
سلام
اُن مسلمانوں پر…جنہوں نے علاقہ پرستی اور قوم پرستی کے اس دور میں ہجرت اور جہاد
کی شمعوں کو روشن کیا…ان دیوانوں نے اپنا سب کچھ کھو کر اسلام کی عظمت اورقرآن کی
صداقت کی گواہی دی… نہ ہجرت آسان ہے اور نہ روپوشی…نہ جہاد آسان ہے اورنہ
حق گوئی… مگر اللہ تعالیٰ کے سچے بندے ہر زمانے میں موجود رہتے
ہیں… تاکہ… کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ کہاں ہیں قرآن پر عمل کرنے
والے؟… وہ دیکھو! سمندر کی تہہ میں سکون کے ساتھ لیٹا ایک خوبصورت شہزادہ…جس
کی قربانی نے قرون اولیٰ کی یادیں تازہ کر دیں… آج ہر کوئی مالداری کے خواب
دیکھتا ہے… مگر اُس نے خوابوں جیسی مالداری کو پاؤں کی ٹھوکر پہ
رکھا… اور اللہ تعالیٰ کے راستے کا فقر اختیار
کیا… وہ دیکھو! اُس کا جسم سمندر کی زمین پر سجدے کر رہا ہے… اور اُس رب
کا شکر ادا کر رہا ہے جس نے اُس کی محنتوں کو قبول کر کے… اُسے شہادت کا تاج
پہنا دیا…
سلام
اے بَطلِ عزیمت… سلام اے شیر اسلام!
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
کا ارشاد گرامی ہے:
اَلْاَخِلَّآئُ
یَوْمَئِذٍم بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَ (الزخرف ۶۷)
ترجمہ: جتنے
دوست ہیں وہ قیامت کے دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے سوائے اُن کے
جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہیں:
’’یعنی
اُس دن دوست سے دوست بھاگے گا کہ اس کی وجہ سے کہیں میں پکڑا نہ جاؤں… دنیا
کی سب دوستیاں اور محبتیں منقطع ہو جائیں گی… آدمی پچھتائے گا کہ فلاں شریر
آدمی سے دوستی کیوں کی تھی جو اُس کے اُکسانے سے آج مصیبت میں گرفتارہونا
پڑا… اُس دن بہت گرمجوشی سے محبت کرنیوالے اپنے محبوب کی صورت دیکھنے سے
بیزار ہوںگے، البتہ جن کی محبت اور دوستی اللہ تعالیٰ کے
واسطے تھی اور اللہ تعالیٰ کے خوف پر مبنی تھی وہ کام آئے
گی‘‘(تسھیل عثمانی)
’’دوستی‘‘
بہت بڑی چیز ہے… یہ انسان کو ’’صدیق‘‘ بھی بنا دیتی ہے اور ’’شیطان‘‘
بھی… آج طرح طرح کی دوستیوں کا رواج ہے… گپ شپ والی دوستی، حرام کھانے
پینے والی دوستی، بدمعاشی اور بے حیائی والی دوستی، غیبت، جھوٹ اور بک بک والی
دوستی، موبائل دوستی، قلمی دوستی وغیرہ وغیرہ…
اللہ تعالیٰ
جس سے ناراض ہوتے ہیں وہی اس طرح کی غلط اور نقصان دہ دوستیوں میں مبتلا ہو جاتا
ہے… سب سے خطرناک تو کفار ومنافقین کے ساتھ دوستی ہے… قرآن پاک نے اُس
دوستی کے نقصانات اور انجام کو کھول کھول کر بیان فرمایا ہے… اللہ تعالیٰ
ہمارے حکمرانوں کو توفیق دے کہ وہ بھی قرآن پاک سے روشنی لیں… کتنے درد کا
مقام ہے کہ یہ مسلمان ہو کر… اسلام کے دشمنوں سے دوستی رکھتے ہیں، اُن کو
اپنی خدمات بیچتے ہیں، اُن کے ہاتھوں اپنے مُلک کے اڈے فروخت کرتے ہیں… اور
اُن کی عسکری مددکرتے ہیں…استغفر اللہ ، استغفرا ﷲ… معلوم نہیں ان کا دل کیسے
گوارہ کر لیتا ہے کہ … یہ مسلمانوں پر بمباری کرنے والے
طیاروں میں تیل بھرتے ہیں… اور کافروں کو یہ سہولت فراہم کرتے ہیں کہ وہ
مسلمانوں کا قتل عام کریں…
؎ مجھے
تو سُن کے بھی اک عار سی معلوم ہوتی ہے
کبھی
کبھی ان حکمرانوں کی یہ حالت دیکھ کر ان پر ترس بھی آتا ہے کہ… یہ کتنی بڑی
مصیبت اور ذلّت میں مبتلا ہیں… صبح شام کافروں کے جوتے اٹھاتے ہیں، ان کے
سامنے اپنی صفائیاں پیش کرتے ہیں اور قدم قدم پر اُن کے سامنے ذلیل و رسوا ہوتے
ہیں… نائن الیون کے بعد جب پاکستان کے حکمرانوں نے امریکہ اور اُس کے
اتحادیوں کو افغانستان پر حملے کے لئے لاجسٹک سپورٹ دینے کا اعلان کیا تو بہت سے
مسلمانوں نے ان حکمرانوں کو سمجھانے کی کوشش کی… مگر اُن کے دلوں پرخوف سوار
تھا کہ امریکہ ہمارا آملیٹ بنا دے گا… حکمرانوں میں سے بعض نظریاتی طور پر
مسلمانوں کے دشمن بھی ہوتے ہیں… وہ ایسے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے
ہیں… ابھی آج کل پھر یہ تمام ٹولے سرگرم ہو گئے ہیں… شیخ اُسامہ شہیدؒ
کے واقعہ کو سامنے رکھ کر پورے ملک میں آپریشن کی تیاریاں کی جارہی
ہیں… ماضی میں ایسے سینکڑوں آپریشن ہو چکے نہ ہی امریکہ ان سے خوش ہو ااور
نہ ہی یہ جہاد کو ختم کر سکے… جہاد کی حفاظت قرآن پا ک کر رہا ہے
اورقرآن پاک کا مقابلہ کرنا کسی کے بس کی بات نہیں ہے… مجاہدین موجودہ حالات
میں ہرگز نہ گھبرائیں جو بھی اُن کو ڈرائے یا ستائے تو
فوراً’’حسبنا اللہ ‘‘ کا نعرہ بلند کریں
کہ… اللہ تعالیٰ ہمارے لئے کافی
ہے… حسبنا اللہ ونعم الوکیل… دنیا میں کسی کو
اچھا لگے یا بُرا لگے ہم تو صرف اُن ہی لوگوں سے محبت کر سکتے ہیں جن سے محبت
رکھنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے… ہم اپنی
جان بچانے کے لئے کافروں اور منافقوں سے یاری نہیں کر سکتے… جو بھی اسلام کا
دشمن ہے ہم اُس کے دشمن ہیں… جو بھی قرآن کا دشمن ہے ہم اُس کے دشمن
ہیں… جو بھی حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن ہے ہم اُس
کے دشمن ہیں… اور جو اسلام، قرآن، جہاد اور آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کا یار ہے وہ ہمارا بھی یار ہے… اورہمیں اُس سے دوستی رکھنے
پر فخر ہے…
ہمارا
عقیدہ ہے کہ موت کا وقت مقرر ہے… ہمارا عقیدہ ہے کہ رزق کے دانے مقرر
ہیں… ہمارا عقیدہ ہے کہ عزت و ذلت دینے کا اختیار صرف
اورصرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے… ہمارا عقیدہ ہے کہ
کامیابی ایمان کی حفاظت میں ہے نہ کہ جان کی حفاظت میں… اور ہمارا عقید ہ ہے
کہ ساری دنیا کا کفر مل کر بھی اسلام اور مسلمانوں کو ختم نہیں کر سکتا… ہم
آخری اُمت ہیں اور ہمارے بعد قیامت ہے… ہم اُس وقت ختم ہوںگے
جب اللہ تعالیٰ اس زمین و آسمان اور کائنات کو ختم کرنے کا
فیصلہ فرمائے گا… ابھی تو بہت کچھ ہونا باقی ہے… اور قیامت سے پہلے اسلا
م نے دوبارہ ساری دنیا پر غالب ہونا ہے… اور دنیا کے ہر کچے اور پکے گھر میں
داخل ہونا ہے… خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو آج اسلام کے لئے قربانیاں دے رہے
ہیں… بات دوستی کی چل رہی تھی… حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ
عنہ … اسلام قبول کرنے سے پہلے حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کے دوست تھے… دیکھا آپ نے کہ اچھی دوستی کتنے کام آتی
ہے؟… جس شخص پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہے وہ ہمیشہ
اچھے لوگوں کو اپنا دوست بناتا ہے… اچھی دوستی ایک ایسی نیکی ہے جو لاکھوں
نیکیوں کا ذریعہ ہے… اور بری دوستی ایک ایسا گناہ ہے جو کروڑوں گناہوں کا
ذریعہ ہے… قرآنِ پاک نے سمجھایا ہے کہ اُن لوگوں سے دوستی کرو جو صبح
شام اللہ تعالیٰ کے ذکر میں لگے رہتے ہیں… اور اُن
لوگوں سے دوستی نہ کرو جن کے دل اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل
ہیں… بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ… اُن کو نیک لوگوں سے وحشت اور خشکی ہونے
لگتی ہے… اور بُرے لوگوں کے ساتھ وہ ایسے گھل مل جاتے ہیں جیسے صدیوں کا ساتھ
ہو… اللہ کے بندو! ایسی دوستیاں، ایسی مجلسیں جن میں صرف گپ شپ، کھانا
پینا اور غفلت کی باتیں ہوں… ایک مسلمان کے لئے زہر کی طرح خطرناک
ہیں… چلو میری نہ سنو قرآنِ پاک تو سچ فرماتا ہے اُس کی سُن لو اور قرآن
پاک میں دوستی اور دشمنی والی آیات کو صرف ایک بار پڑھ کر دیکھ لو… ایسے
ایسے ناکارہ لوگ جن کے پاس ادنیٰ سی صلاحیت بھی نہیں تھی صرف اچھی دوستی اور اچھے
تعلق کی وجہ سے… بڑے مجاہد، بڑے فاتح اور اللہ والے
اولیاء بن گئے… اور ایسے ایسے باصلاحیت لوگ کہ جن کی صلاحیتوں پر لوگ رشک
کرتے تھے بُری صحبت، بُری دوستی اور برے تعلقات کی وجہ سے ناکام ہو
گئے… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشادفرمایا:
ان
احب الاعمال الی اللہ تعالیٰ الحب
فی اللہ والبغض فی اللہ (ابو
داؤد)
ترجمہ: بندوں
کے اعمال میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب وہ محبت ہے
جو اللہ تعالیٰ کے لئے ہو او ر وہ بغض و عداوت ہے
جو اللہ تعالیٰ کے لئے ہو…
بعض
روایات سے تو یہاں تک معلوم ہوتا ہے کہ… جو
شخص اللہ تعالیٰ کے لئے دوستی
اور اللہ تعالیٰ کے لئے دشمنی کی صفت نہ رکھتا ہو وہ ایمان
کی خوشبو تک نہیں سونگھ سکتا…
حضرت
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر
ہوئے اور عر ض کیا… یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !
آپ کیا فرماتے ہیں اُس شخص کے بارے میں جس کو کچھ لوگوں سے محبت ہے مگر وہ اُن کے
ساتھ نہیں ہو سکا( یعنی عمل میں کمزوری کی وجہ سے اُن کے مقام تک نہیں پہنچ سکا)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جس سے محبت کرتا ہے وہ
اُس کے ساتھ ہی ہو گا(بخاری و مسلم)
المرء
مع مَنْ احب کا اصول… یعنی آدمی دنیا اور آخرت میں اُنہیں میں شمار ہوگا جن
سے وہ محبت رکھتا ہے… جب حضرات صحابہ کرام نے سنا تو بہت زیادہ خوش
ہوئے… حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں (یعنی صحابہ کرام) کو کبھی کسی بات
سے اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے
ہوئی کہ انت مع من احببت(تم جس سے محبت کرتے ہو اُسی کے ساتھ ہو)… پس میں
بحمد اللہ محبت رکھتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم سے اور ابو بکرؓ وعمرؓ سے اور امید رکھتا ہوں کہ اپنی اس
محبت ہی کی وجہ سے مجھے ان کا ساتھ نصیب ہوگا اگر چہ میرے اعمال اُن حضرات جیسے
نہیں ہیں( بخاری) اب اس روایت میں دونوں پہلو دیکھیں … اچھے لوگوں سے
محبت … اور بُرے لوگوں سے محبت… آج ہم نے دین اور دوستی دو الگ
الگ چیزیں بنا لی ہیں… حالانکہ مسلمان کی دوستی اور دشمنی دین کے تابع ہوتی
ہے… اللہ تعالیٰ نے کسی انسان کے سینے میں دو دل نہیں رکھے
کہ ایک دل تو وہ دین کو دے دے اور دوسرا دل اپنے کسی دوست کو… آج بُری
دوستیوں کے فساد نے مسلمانوں کو بہت نقصان میں مبتلا کر دیا ہے… ہر وہ شخص جس
کی صحبت اور مجلس میں بیٹھنے سے… دنیا کی محبت دل میں آتی ہو، دل پر غفلت
سوار ہوتی ہو… شہوت یا مایوسی کی آگ بھڑکتی ہو… جس کی وجہ سے حق جماعت
یا دینی کاموں سے محرومی کا سبق ملتا ہو… یا جس کی مجلس میں صرف غیبت اور
جھوٹ ہی چلتا ہو… یا جس سے باتیں کر کے نفسانی خواہش کی تکمیل ہوتی
ہو… یہ سب خطرناک دوستیاں ہیں جو ان سے بچے گا وہی اپنے دین کو سلامت پائے
گا…مسلمان لڑکے اور لڑکیاں موبائل وغیرہ پر دوستیاں کرتے ہیں…اور اگر آپس میں
ملاقات نہ ہوتو اسے نعوذبا اللہ پاکیزہ دوستی کا نام دیتے
ہیں…ان سے پوچھا جائے کہ لڑکے اپنی بہنوں سے اور لڑکیاں اپنے بھائیوں سے یہ پاکیزہ
دوستی کیوں نہیں کر لیتیں… شیطان کے پھندے بہت سخت
ہیں… اللہ تعالیٰ ہی ہم سب کی حفاظت فرمائے… آئیے آج
کی مجلس کا اختتام حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک
مبارک حدیث شریف پر کرتے ہیں… حدیث شریف پڑھنے سے پہلے ہم دل میں نیت کر لیں
کہ… ان شاء اللہ ہم سب اس پر
عمل کی پوری کوشش کریں گے…
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
(اے
مسلمانو) تم دوسرے کے متعلق بدگمانی سے بچو، کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے،
تم کسی کی کمزوریوں کی ٹوہ(یعنی تلاش) میں نہ رہا کرو، اور جاسوسوں کی طرح کسی کے
عیب معلوم کرنے کی کوشش بھی نہ کیا کرو اور نہ ایک دوسرے پر بڑھنے کی بے جا ہوس
کرو، نہ آپس میں حسد کرو، نہ بغض وکینہ رکھو اور نہ ایک دوسرے سے منہ پھیرو، بلکہ
اے اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ کے حکم
کے مطابق بھائی بھائی بن کر رہو( بخاری و مسلم)
اللھم
صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا…
٭٭٭
ا
ﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ذمّہ اپنے مسلما ن بھائیوں کے بہت سے حقوق لازم فرمائے
ہیں…
مسلمان
آپس میں بھائی بھائی ہیں… مسلمان خوشی اور غم میں ایک دوسرے کے شریک
ہیں… مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ دوسرے مسلمان کو ایذاء
پہنچائے… مشہور مفسّر حضرت مجاہدؒ فرماتے ہیں:
جہنم
والوںمیں سے بعض پر ایک’’خارش‘‘ مسلّط کی جائے گی، وہ اس کو اتنا کھجائیں گے کہ
گوشت پھٹ کر ہڈی ظاہر ہو جائے گی… تب اُسے پکارا جائے گا کہ اے فلاں شخص! کیا
تجھے یہ خارش تکلیف دے رہی ہے؟ وہ کہے گا جی ہاں! تو اُسے کہا جائے گا کہ یہ اُس
کے بدلے میں ہے جو تم مسلمانوں کو ایذا پہنچایا کرتے تھے… حدیث شریف میں تو
یہاں تک آیا ہے کہ کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کی طرف
آنکھ سے ایسا اشارہ کرے جو اُسے تکلیف اور ایذاء پہنچانے والا ہو…
مسلمان
اگر آپس میں محبت، صلح اور دوستی کے ساتھ رہیں تو اُن کا یہ عمل نفلی روزے، نماز
اور صدقہ سے بھی افضل ہے… جو شخص کسی مسلمان کے عیب کو دنیا میں چھپائے
گا اللہ تعالیٰ اُس کے عیبوں کو دنیا اورآخرت میں لوگوں سے
چھپا دے گا… ایک مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ دوسرے مسلمان کی غیبت کرے اور
اُس کے عیبوں کو تلاش کرتا پھرے… ارشاد فرمایا کہ جو کسی مسلمان کے عیب اس
لئے تلاش کرے گا تاکہ اُسے لوگوں میں رسوا کرے
تو اللہ تعالیٰ خود اُسے گھر بیٹھے رسوا فرما دے
گا… مسلمان کو حکم دیا گیا کہ وہ جب بھی کسی دوسرے مسلمان سے ملے تو اُسے
سلام کرے… یعنی سلامتی کی دعاء کرے… سلامتی کی دعاء دینے کا پہلا تقاضہ
یہی ہے کہ وہ اُس مسلمان کو اپنی زبان اور اپنے ہاتھ سے کوئی تکلیف نہ پہنچائے…
حضرت
انسؓ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے آٹھ سال رسول کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کی خدمت کی توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ارشاد
فرمایا:۔
اے
انس رضی اللہ عنہ ! وضو اچھی طرح(یعنی پورا پورا) کیا کرو اس سے تمہاری
عمر زیادہ ہو گی… (یعنی عمر میں برکت ہو گی) اور میری اُمت میں سے جس سے بھی
ملو تو اسے سلام کیا کرو اس سے تمہاری نیکیاں بڑھیں گی… اور جب اپنے گھر میں
داخل ہو تو اپنے گھر والوں کو سلام کرو اس سے تمہارے گھر کی برکت زیادہ ہو گی(مسند
ابو یعلیٰ)
روایات
میں آتا ہے کہ جب کوئی مسلمان دوسرے مسلمان سے ملتا ہے اور اسے سلام نہیں کرتا تو
اس پر فرشتے حیران ہوتے ہیں… اور جب کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کو سلام کرتا
ہے اور وہ اس سلام کا جواب دیتا ہے تو فرشتے اُس کے لئے ستر مرتبہ رحمت کی دعاء
کرتے ہیں… مسلمان جب آپس میں ملیں تو ایک دوسرے سے مصافحہ کریں… اس
مصافحہ پر اُنہیں طرح طرح کی نعمتیں اور رحمتیں ملتی ہیں… اور روایات میں
آتا ہے کہ اُن کے گناہ جھڑ جاتے ہیں… اور مصافحہ کی ابتداء کرنے والے کو
نوّے رحمتیں اور دوسرے کو دس رحمتیں نقد مل جاتی ہیں… مسلمان بیمار ہوجائے تو
دوسرے مسلمان اُس کی عیادت کریں … روایات میں آتا ہے کہ مریض کی عیادت
کرنے والا گویا کہ جنت کے باغات میں بیٹھا ہوتا ہے اور ستر ہزار فرشتے اُس کے لئے
رات تک رحمت کی دعاء کرتے ہیں… مسلمان اگر سب مسلمانوں کے لئے صبح شام تین
تین بار اصلاح، رحمت اور کشادگی کی دعاء کا معمول بنائے تو اُسے’’ابدال‘‘ کا مقام
دے دیا جاتا ہے…کسی مسلمان کا انتقال ہو جائے تو اُس کے یتیم بچوں کی کفالت دوسرے
مسلمانوں کی ذمہ داری ہے… مسند احمد کی روایت میں آیا ہے کہ اگر کوئی مسلمان
ماں باپ کے یتیم بچے کو اپنے ذمے لے لے… اور اُسے کسی کا محتاج نہ ہونے دے
بلکہ اُس کی مکمل کفایت کرے تو ضرور بضرور جنت اُس کے لئے واجب ہو جاتی
ہے… حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمانوں کا
بہترین گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اُس کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جاتا
ہو… اور مسلمانوں کا بدترین گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو جس سے بُرا سلوک
کیا جاتا ہو…(الادب المفرد للبخاری)
مسلمان
دوسرے مسلمانوں کے لئے وہی چیز پسند کرتا ہے جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے…اور جو
مسلمان کسی مسلمان کو خوشی پہنچاتا ہے تو قیامت کے دن اس کے
بدلے… اللہ تعالیٰ اُسے خوشی عطاء فرمائے گا… جو کوئی
کسی مسلمان کی حاجت پوری کرنے کے لئے رات یا دن کی ایک گھڑی چلتا ہے… وہ حاجت
پوری ہوتی ہے یا نہیں…یہ عمل اُس کے لئے دو ماہ کے اعتکاف سے افضل ہے… اور
فرمایا کہ مسلمان کے دل کو خوش کرنا اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ
ترین اعمال میں سے ہے… یہ خوشی پہنچانا اس طور ہو کہ اُس کی پریشانی دور کر
دے یا اُس کا قرضہ اُتار دے یا اُسے بھوک کی حالت میں کھانا کِھلا دے… حقوق
کا یہ سلسلہ مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے کہ مسلمان کا حق ہے کہ اُس کی نماز
جنارہ ادا کی جائے… اُسے غسل و کفن دیاجائے… اس کے جنازے کے ساتھ چلا
جائے… اُس کی تدفین میں شرکت کی جائے… امام اعمش س اپنے زمانے کا حال
بیان کرتے ہیں کہ ہم جنازوں میں جایا کرتے تھے تو پتہ نہیں چلتا تھا کہ کون کس سے
تعزیت کرے… کیونکہ سب لوگ ہی غمزدہ ہوتے تھے… جی ہاں اسلامی محبت میں
ایسا ہی ہوتا ہے… پھر یہ بھی حق ہے کہ مسلمان کی قبر پر دوسرے مسلمان جائیں… اُس
کے لئے دعاء کریں ، ایصال ثواب کریں اور خود اپنی موت کو یاد کریں… حضرت حاتم
اصمؒ فرماتے ہیں کہ جو مسلمانوں کے قبرستان سے گزرا اور اُس نے نہ اپنے بارے میں
کوئی فکر کی (کہ میں مرنے والا ہوں) اور نہ قبرستان والوں کے لئے دعاء کی تو اُس
نے اپنے ساتھ بھی خیانت کی… اور اہل قبور کے ساتھ بھی خیانت کی…
صحابی
رسول حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کا معمول تھا
کہ… قبروں کے پاس جا بیٹھتے تھے… لوگوں نے اُن سے اس کی وجہ پوچھی تو
فرمایا… میں ایسے لوگوں کے پاس بیٹھتا ہوں جو مجھے آخرت کی یاد دلاتے ہیں
اور جب میں اُن سے اٹھ کر چلا جاتا ہوں تو پیچھے میری غیبت نہیںکرتے… حضرت
سفیانؒ فرماتے ہیں کہ جو شخص قبر کو زیادہ یاد کرتا ہے وہ اپنی قبر کو جنت کا ایک
باغیچہ پائے گا اور جو قبر کی یاد سے غافل رہتا ہے وہ اُسے آگ کا ایک گڑھا پائے
گا… رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کی قبروں پر سے
گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد
فرمایا
اَلسَّلَامُ
عَلَیْکَمْ یَا اَہْلَ الْقُبُوْرِ، یَغْفِرُ اللہ لَنَا وَلَکُمْ،
اَنْتُمْ سَلَفُنَا وَنَحْنُ بِالْاَثْرِ (ترمذی)
ترجمہ: السلام
علیکم اے قبروں والوں! اللہ تعالیٰ ہماری اور تمہاری مغفرت
فرمائے تم ہم سے آگے چلے گئے اور ہم تمہارے پیچھے چلے آنے والے ہیں…
جی
ہاں! مسلمانوں کے ذمہ دوسرے مسلمانوں کے بے شمار حقوق ہیں… پیدا ہونے سے لے
کر مرنے تک… کبھی آپ نے سوچا کہ ان حقوق کا اصل مقصد کیا ہے؟…
جو
کوئی مسلمان کو دھوکہ دے گا وہ ہم میں سے نہیں ہے… وہ شخص ایمان والا نہیں جس
کے پڑوسی اُس کے شر سے محفوظ نہیں… مسلمان وہی ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے
دوسرے مسلمان محفوظ ہوں…یہ بھی نیکی ہے کہ اپنے مسلمان بھائی سے خندہ پیشانی سے
ملو… وغیرہ وغیرہ… کبھی سوچا آپ نے کہ ان حقوق کے پیچھے اصل بات کیا
ہے؟… ہم نے تو آج چند حقوق بغیر کسی ترتیب کے لکھ دیئے… قرآن پاک نے
مسلمانوں کے باہمی حقوق کو مفصّل بیان فرمایا ہے…اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کی سینکڑوں مبارک احادیث ان حقوق کے بارے میں موجود
ہیں… علماء اُمت نے ان حقوق پر مستقل کتابیں لکھی ہیں… اصل بات یہ ہے کہ
ہر مسلمان کے دل میں کلمہ طیبہ:
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
موجود
ہوتا ہے… یہ کلمہ اس مسلمان کو بہت قیمتی اور اونچا انسان بنا دیتا ہے…
اب
اس کلمے کی عظمت کا تقاضا یہ ہے کہ… اس مسلمان کو نہ تو کوئی مسلمان ایذاء
پہنچائے، نہ تکلیف دے…نہ زخمی کرے، نہ قتل کرے… نہ اس کی غیبت کرے… بلکہ
حتی الامکان اس کا اعزاز ، اکرام اور اس کی خدمت کرے…چنانچہ آپ دیکھیں گے کہ جس
مسلمان کے دل میں ایمان مضبوط ہوتا ہے وہ دوسرے مسلمان کے حقوق کا بہت خیال رکھتا
ہے… اور جس کے دل میں ایمان کمزور ہوتا ہے وہ مسلمانوں کے حقوق کو پامال کر
تا ہے … ایک دوکاندار کے پاس کوئی مسلمان خریدار آتا ہے… اب
دوکاندار کا کام یہ ہے کہ وہ اس مسلمان کے دل میں موجود کلمے کی عظمت کا لحاظ رکھتے
ہوئے نہ تو اسے دھوکا دے… اور نہ اسے لُوٹے…
لیکن
اگر دوکاندار کے دل کا ایمان کمزور ہے تو وہ… دس روپے زائد لینے کے لئے دھوکا
بھی دے گا، جھوٹ بھی بولے گا، ملاوٹ والی چیز بھی دے گا… اور اسے ذرہ برابر
یہ خیال نہیں آئے گاکہ… وہ اپنی اس حرکت سے کلمہ طیبہ کی ایک طرح سے اہانت
کر رہا ہے… اسی لئے فرمایا… ویل للمطففین… ہلاکت ہے تطفیف کرنے
والوں کے لئے… یہ وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں کے حقوق پورے ادا نہیں
کرتے… اور بعض علماء یہ عجیب ترجمہ کرتے ہیں کہ… ’’مطفِّف‘‘ وہ ہے جو
چھوٹے سے فائدے کے لئے اپنا بڑا نقصان کر رہا ہو… مثلاً ایک تاجر نے کسی
مسلمان کو دھوکا دے کر دس روپے لوٹ لئے… اب مرنے کے بعد قیامت میں اُسے اس دس
روپے کے بدلے جو عذاب ہو گا اُس عذاب سے بچنے کے لئے… پوری دنیا کی دولت اگر
اسے مل جائے اور وہ خرچ کر دے تو دس روپے کے دھوکے والا عذاب نہیں ٹل سکے
گا… کتنا بڑا خسارہ ہے کہ… ادنیٰ سے فائدے کے لئے اتنا بڑا نقصان اٹھا
لیا…مسلمان جب ایک دوسرے کے حقوق کا خیال کرتے ہیں تو… ان میں قوت، اجتماعیت
اور مضبوطی پیدا ہوتی ہے… اور بالآخر انہیں خلافت کا وہ عظیم نظام نصیب
ہوجاتا ہے… جس میں مسلمانوں کے لئے خیر ہی خیر ہے… آج مسلمانوں کی
باہمی قتل و غارت دیکھ کر یہی احساس ہوتا ہے کہ… کلمے کی عظمت اُن کے دلوں سے
نکلتی جارہی ہے…
مسلمان
ایک دوسرے کو مار رہے ہیں… کاٹ رہے ہیں… بیچ رہے ہیں، کھا رہے
ہیں… اور کافروں کے ہاتھوں اُن کو نیلام کر رہے ہیں… کتنے دُکھ کی بات
ہے کہ مشرک مضبوط ہوگئے آج انڈیا خود کو منی سپر پاور کہتا ہے… یہودی جو
مٹھی بھر ہیں وہ طاقتور ہو گئے کہ ہر جگہ مسلمانوں پر حملہ کرتے ہیں… اور
عیسائی تو آج خود کو بڑی طاقت کہہ اور سمجھ رہے ہیں… مسلمانوں کے پاس ایک
بھی ایسا ملک نہیں جہاں کلمہ طیبہ اور اسلام کی عظمت کا لحاظ کیا جاتا
ہو… مال کی حرص… اور علاقہ پرستی نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کا دشمن بنا
دیا ہے… مسلمانوں کے پاس نہ تو قوت کی کمی ہے اور نہ اسباب کی…
الحمدللہ اس قوم کے چند مجاہد لاکھوں کے
لشکر کاٹ پھینکتے ہیں… لیکن جب مسلمان خود ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں تو
پھر… تباہی کو کون روک سکتا ہے… قرآن پاک آواز دے رہا ہے… ایمان
والے بھائی بھائی ہیں… حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پکار رہے
ہیں… اے اللہ کے بندو! بھائی بھائی ہو جاؤ…
آج
جو بھی حتی الامکان… اس آواز اور پکار پر لبیک کہے گا… وہی اُمت مسلمہ
کا حقیقی خیر خواہ ہو گا…
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ میرا اور آپ سب کا’’خاتمہ ‘‘ایمان پرفرمائے…بعض اوقات انسان سے ایسی غلطی
اورگناہ سرزدہوجاتا ہے کہ …جس کی نحوست سے ’’ایمان‘‘ سلب ہوجاتا ہے…یااللہ
رحم فرما…ایک بزرگ امام محمدبن عبدالرحمن الحبیشیؒ فرماتے ہیں:
چار
گناہ ایسے ہیں جن کی وجہ سے اکثرموت کے وقت ایمان سلب ہونے کاخطرہ رہتا ہے…
(۱) …نعمتِ اسلام پرشکر ادا نہ کرنا
(۲) …اسلام کے چھن جانے کاخوف دل میں نہ ہونا
(۳) …مسلمانوں پر ظلم کرنا
(۴) …والدین کی نافرمانی کرنا
آئیں
ہم سب مل کر…دل کی گہرائی سے اس نعمت کاشکراداکریں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں
’’مسلمان‘‘ بنایا ہے …اور ہمیں کلمہ طیبہ:
لاالہ
الااللّٰہ محمدرسول اللّٰہ
کی
نعمت عطاء فرمائی ہے…
اَلْحَمْدُ
لِلّٰہِ عَلیٰ نِعْمَۃِ الْاِسْلَامِ…
یااس
طرح پڑھ لیں …زبان اوردل دونوں سے:
’’سُبْحَانَ
اللّٰہِ ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُعَلیٰ نِعْمَۃِ الْاِیْمَانِ
‘‘…
اورکبھی
کبھی اس طرح بھی کہا کریں:
اَلْحَمْدُ
لِلّٰہِ الَّذِی ھَدَانِی
تمام
تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے مجھے ہدایت دی…
اورکبھی
خوشی سے روتے ہوئے یہ پکاراکریں:
اَلْحَمْدُ
لِلّٰہِ عَلیٰ مَاھَدَانِی
اللہ
تعالیٰ کاشکر ہے اس پر کہ اُس نے مجھے ہدایت دی…
دراصل
ایمان اوراسلام سب سے بڑی نعمت ہے…اور سب سے بڑی نعمت پرشکر بھی سب سے زیادہ کرنا
چاہیے… اور باربار اس نعمت کوتازہ کرتے رہنا چاہیے … حدیث شریف میں
آتا ہے کہ اپنے ایمان کو ’’لاالہ الااللہ‘‘کے ذریعے تازہ کیاکرو…اسی طرح:
آمَنْتُ
بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ …یا آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَرُسُلِہِ
بھی
دن رات میں کم ازکم ایک بار… یاسات بار پڑھنا چاہیے …ایمان کی نعمت
کاشکر یہ ہے کہ… اسے سب سے بڑی نعمت سمجھے …اور اسے اللہ تعالیٰ کا اپنے
اوپر بہت بڑا احسان سمجھے… اور ہروقت اس بات سے ڈرتا رہے کہ… یہ نعمت
مجھ سے چھن نہ جائے … ویسے تو کوئی کبیرہ گناہ ایسا نہیں ہے جس کے کرنے
سے ایمان ختم ہوجاتا ہو…مگر ان کبیرہ گناہوں کی نحوست سے یہ خطرہ رہتا ہے
کہ … کسی بھی وقت انسان کفر کواختیار کرلے اور اسلام کی نعمت سے محروم
ہوجائے… اس لئے سب سے پہلے یہ معلوم کرنا چاہیے کہ … کبیرہ گناہ
کون کون سے ہیں …اس کے بعد پورا زورلگا کر ان گناہوں سے بچنا چاہیے …اور
جو ہوچکے ہوں اُن پرتوبہ کرنی چاہیے …احادیث میں کئی گناہوں کو’’کبیرہ ‘‘قرار
دیا گیا …اور بعض گناہوں کو ان احادیث مبارکہ پر قیاس کرتے
ہوئے … اُمت کے ائمہ کرام نے کبیرہ قرار دیا ہے … بغیر ترتیب
کے چند کبیرہ گناہوں کے نام ملاحظہ فرمائیں:
۱ ۔
کسی مسلمان کوقتل کرنا ۲۔ فرض
نماز چھوڑنا ۳۔
والدین کی نافرمانی کرنا ۴۔
میدان جہاد سے پیٹھ پھیر کربھاگنا ۵۔ جادوکرنا ۶۔
یتیم کامال کھانا ۷۔ جھوٹی
گواہی دینا… ۸۔ سودکھانا ۹۔ پاک
دامن مسلمان عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگانا… ۱۰۔ اللہ تعالیٰ کی
رحمت سے ناامید ہونا ۱۱۔
اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا ۱۲۔ اللہ
تعالیٰ کی پکڑ سے بے خوف ہونا۱۳۔
اپنے والدین کو گالی دینا ۱۴۔جھوٹی
قسم کھانا ۱۵۔چغل
خوری کرنا ۱۶۔پیشاب
سے پاکی کاخیال نہ رکھنا… ۱۷۔قرآن
پاک کے اوراق کو گندگی میں ڈالنا… ۱۸۔کسی مسلمان کو
پکڑ کر ایسے کافروں کے حوالے کرنا جو اُسے قتل کردیں… ۱۹۔کافروں کے لئے
مسلمانوں کے خلاف جاسوسی کرنا ۲۰۔ زنا
، لواطت کرنا ۲۱۔ چوری
، ڈاکہ… وغیرہ وغیرہ…
یہ
فہرست بہت طویل ہے … حضرت عمر اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے
ہیں کہ … استغفار کے ساتھ کوئی گناہ کبیرہ نہیں … اور اصرار
کے ساتھ کوئی گناہ صغیرہ نہیں … یعنی اگر سچے دل سے استغفار ہوتو کبیرہ
گناہ معاف ہوجاتے ہیں …اور اگر صغیرہ گناہوں پراصرار کیاجائے تو وہ کبیرہ بن
جاتے ہیں … اصل بات یہ ہے کہ … انسان اللہ تعالیٰ کی نافرمانی
،اللہ تعالیٰ کی پکڑ … اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتا
رہے … اور ہر وقت اس بات کی فکر کرے کہ … میرا ایمان مجھ سے
چِھن نہ جائے … اس کے لئے ضروری ہے کہ … انسان اپنے دل کی
نگرانی کرے اور دیکھتا رہے کہ وہ ایمان کی حالت میں ہے یا غفلت کی حالت
میں … اگر دل غفلت کی حالت میں نظر آئے تو فوراً … کلمہ
پڑھے… ایمان کااعلان کرے … غسل کرے اور نماز وذکر میں لگ
جائے … یا ایمان والوں کی صحبت اختیار کرے … ایسا نہ ہو کہ
موت آجائے اور دل میں ایمان موجود نہ ہو … آج بہت بڑی مصیبت یہ ہے
کہ … ہم مسلمانوں کے دل میں ایمان کی قدر نہیں ہے اور نہ اس نعمت کے چھن
جانے کاڈر ہے …ہم گاڑی ، کوٹھی ، نوکری اور مال کو نعمت سمجھتے ہیں … ہم
صحت ، قوت اور ظاہری عزت کو نعمت سمجھتے ہیں … بے شک یہ سب کچھ نعمت
ہے … مگر سب سے اصل اور بڑی نعمت ’’ایمان ‘‘ کی نعمت
ہے … ہمیں اگر کامیابی حاصل کرنی ہے تو پھر اپنے دل کی گہرائی میں یہ
بات بٹھانی ہوگی کہ … سب سے بڑی ، قیمتی اور ضروری
نعمت … ایمان کی نعمت ہے … اور کبیرہ گناہ ایمان کے دشمن ہیں … کبیرہ
گناہوں میں سے ایک سخت گناہ والدین کی نافرمانی ہے … اس کایہ مطلب نہیں
ہے کہ والدین کے ہر حکم کوماناجائے … جائز ہو یاناجائز … بلکہ
حلال چیزوں میں اُن کی اطاعت ضروری ہے …اور اُن کی نافرمانی کرنا گناہ ہے … اسی
طرح اُن کوایذاء پہنچانا … اُن کی ضرورت کو پورا نہ کرنا جبکہ وہ تقاضا
کریں اور اولاد کے پاس طاقت بھی ہو … خود پیٹ بھر کر کھانا اور اُن کو
بھوکا رکھنا … وہ اگر گالی دیں تواُن پر ہاتھ اٹھانا … اپنا
مال بچا کر رکھنا اوراُن کامال کھاجانا… اور اُن کی امانت میں خیانت
کرنا … یہ سب کچھ والدین کی نافرمانی کے زمرے میں آتا
ہے … ’’عیون الاخبار‘‘ میں یہ عجیب قصہ لکھا ہے کہ حضرت مالک بن دینارؒ
فرماتے ہیں … میں ایک بار حج کے لئے بیت اللہ شریف گیا … حج
سے فراغت کے بعد میں رات کوسوگیا… اور پھر اُٹھ کراپنے معمولات کرنے لگا… اچانک
یہ آواز میرے کانوں سے ٹکرائی … کوئی اعلان کررہاتھا
کہ … اللہ تعالیٰ نے منیٰ ، مزدلفہ اور عرفات والوں پراحسان فرمایا ہے
اور جس نے بھی حج ، عمرہ ، طواف ، سعی ، تلبیہ ،حلق ، قصر ،رمی کی
ہے … سب کو اللہ تعالیٰ نے معاف فرمادیا ہے اور ہرشخص کی بُرائی کاکفارہ
فرمادیا ہے … مگر ایک شخص جس کانام عبدالرحمن بن محمد بلخی ہے … اللہ
تعالیٰ اُس پر غضبناک اور ناراض ہے … فرماتے ہیں صبح اُٹھ کرمیں نے
معلومات کیں کہ بلخی حجاج کہاں ہیں …اُن کے پاس جاکر میں نے پوچھا کہ
عبدالرحمن بن محمدکون ہے اور اُس کے کیا حالات ہیں … انہوں نے بتایا کہ
وہ تو ایسا آدمی ہے کہ قحط کے وقت لوگ اُس کے وسیلے سے بارش کی دعاء مانگتے
ہیں…وہ عابد ، زاہد آدمی ہے، لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار … ساری
رات تلاوت کرنے والا … بیواؤں اور یتیموں کی کفالت کرنے
والا… مجاہدین کوجہاد کے لئے گھوڑے اور سواریاں دینے والا… اوربیت اللہ
کاحج کرنے والا… مالک ؒ فرماتے ہیں یہ حالات سُن کر میں نے دل میں کہا کہ رات
کوجوآواز آئی تھی وہ شیطان کی طرف سے ہوگی…اگلے سال میں پھر حج کیلئے گیا…ویسا
ہی واقعہ کہ حج سے فارغ ہونے کے بعد میں نے وہی آواز سنی…میں نے سوچا معلوم نہیں
کہ یہ آواز رحمن کی طرف سے ہے یا شیطان کی طرف سے؟ …لوگوں سے اُس آدمی کے
متعلق پوچھا تو پہلے جیسا جواب ملا …میں نے ارادہ کیا کہ خود چل کر تحقیق
کرتا ہوں… فجر کی نماز ادا کر کے میں روانہ ہوا اور چلتے چلتے بلخی حجاج کے
خیموں تک پہنچ گیا… اور اُن سے کہا کہ مجھے عبدالرحمن کا خیمہ دکھائو ۔انہوں
نے ایک خیمے کی طرف اشارہ کیا … یہ کالے بالوں کا ایک ادنیٰ سا چھوٹا سا
خیمہ تھا… میں خیمے کے دروازے پر پہنچا تو اندر سے رونے کی آواز
آئی …میں نے اندر جا کر دیکھا تو ایک جوان آدمی ہے…اُس نے اپنا دایاں ہاتھ
ایک زنجیر کے ذریعے اپنی گردن سے باندھ رکھا تھا … اور زنجیر کا ایک
سِرا ایک حبشی غلام کے ہاتھ میں دے رکھا تھا … وہ غلام اس کے پیچھے کھڑا
تھا … اور وہ غلام سے کہہ رہا تھا کہ اے غلام! اگر میں غافل ہو جائو ںتو
تم غافل نہ ہونا… میرے رخسار کو زمین کے ساتھ رگڑنا اور ساتھ یہ بھی کہنا
کہ …یہ ہے بدلہ اس شخص کا جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی … اور
اپنے والدین کی نافرمانی کی…
مالک
رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں خیمے میں داخل ہوا اور اُسے سلام کیا … طویل قصہ
ہے …مختصر یہ کہ اس نے خود مجھے بتایا کہ آپ مالک بن دینار ہیں اور مجھ سے
اُس آواز کے بارے میں پوچھنے آئے ہیں جو حج کے بعد سنائی دیتی ہے کہ وہ رحمن کی
طرف سے ہے یا شیطان کی طرف سے …اے مالک وہ آواز رحمن کی طرف سے ہے اور میں
بیس سال سے ہر حج کے موقع پر سُن رہا ہوں … میرا قصہ یہ ہے کہ میں بہت
مالدار آدمی تھا…شراب اور گناہوں کا عادی … ایک بار رمضان المبارک کی
پہلی رات میرے والد محترم نے مجھے بہت محبت اور پیار سے نماز کی دعوت دی …میں
نشے میں تھا میں نے اُن کو دھتکار دیا …وہ مجھے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور توبہ
کرنے کی دعوت دینے لگے تو میں نے اپنا یہ منحوس ہاتھ اٹھایا اور انہیں ایک تھپڑ دے
مارا جس کی وجہ سے اُن کی آنکھ اُن کے رخسار پر بہہ گئی تب میرے والد نے مجھے
بددعا دی کہ اللہ تعالیٰ تجھے نہ بخشے … اور نہ موت کے وقت تجھے کلمہ
نصیب ہو اورنہ قیامت کے دن تجھ سے راضی ہو…جب مجھے ہوش آیا تو میری والدہ نے مجھے
ساری تفصیل بتائی …اس وقت سے میں نے توبہ کر لی …شراب کی بوتلیں توڑ
دیں…عیش و عشرت کا تمام سامان چھوڑ دیا … اپنی باندیاں آزاد کر
دیں … اور اپنے نرم کپڑے صدقہ کر کے یہ سخت لباس اختیار کر لیا ۔اب میں
یتیموں بیوائوں کی کفالت کرتا ہوں …فقیروں مسکینوں کوکھاناکھلاتا ہوں…اور ہر
سال حج کرتا ہوں…مگر حج کے بعد یہی اعلان ہوتا ہے کہ میرے علاوہ سب کی مغفرت کر دی
گئی ہے…مالکؒ فرماتے ہیں کہ یہ قصہ سن کر میں نے اُسے کہا کہ مجھ سے دور رہو اور
مجھے اپنی آگ میں نہ جلائو … وہ آگ جو تم نے اپنے ہاتھوں سے اپنے اوپر
ہمیشہ کیلئے جلا لی ہے… یہ کہہ کر میں وہاں سے نکلنے لگا تو وہ سخت رونے لگا
اور کہنے لگا کہ اے مالک !کیا آپ مجھے اللہ تعالیٰ کی رحمت و بخشش سے مایوس کر رہے
ہیں… میں نے پوچھا کہ تمہارے والد زندہ ہیں …اگر وہ زندہ ہیں تو تجھے
خوشخبری ہو اور اگر انتقال کرچکے ہیں تو تیرے لئے ہلاکت ہے …اور اس ہلاکت کے
بعد ایک اوربڑی اور طویل ہلاکت ہے …اُس نے کہا وہ زندہ ہیں اور حج پر بھی
تشریف لائے ہیں …قصہ مختصر کہ مالک بن دینارس نے جا کر اُن کے والد کو راضی
کیا …اُدھر والد راضی ہوئے اور اِدھر اس جوان پر موت کا نزع شروع ہو گیا
ہے …بالآخر اس کو کلمہ نصیب ہوا ،والد نے اپنی رضا کا اعلان کیا اور اُس نے
اس دنیا فانی کو خیر باد کہہ دیا…مالکؒ فرماتے ہیں کہ اگلی رات میں نے ایک غیبی آواز
سنی …کوئی کہہ رہا تھا…لوگو !سن لو اللہ تعالیٰ نے عرفات میں حاضر تمام لوگوں
کو ایک آدمی کی برکت سے بخش دیا ہے … اس آدمی کا نام عبدالرحمن بن
محمد البلخی ہے … رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃ واسعۃ…
یہ
قصہ تو درمیان میں ضمناً آ گیا… اصل بات اور آج کا سبق یہ ہے کہ ہم ایمان
کو سب سے بڑی نعمت سمجھ کر … اُس کی قدر کریں اور اُس پر دن رات اللہ
تعالیٰ کا دل سے شکر ادا کریں …اور کبیرہ گناہوں سے دور رہیں …بلکہ ہر
گناہ سے بچنے کی کوشش کریں … خصوصاً نماز کا بہت اہتمام کریں…اپنے دل کے
ایمان کو دیکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ … اپنی نماز کو دیکھ لیں …اگر
نماز پوری ہے ،اچھی ہے ،ذوق شوق اور پابندی سے ہے تو سمجھ لیں کہ ایمان دل میں
موجود ہے… اور اگر نماز کا معاملہ خراب ہے تو سمجھ لیں کہ ایمان بہت کمزور
اور ناقص ہو چکا ہے …چنانچہ فوری طور پر اپنی نماز کے تمام معاملات کو اہتمام
کے ساتھ درست کریں … اب رہ گیا ایمان کا امتحان تو وہ جہاد فی سبیل اللہ
کے ذریعہ ہو گا … سچا اور خالص ایمان ہمیشہ جہاد کی طرف لاتا
ہے … محبوب کی خاطر جان دینا ،محبوب کی خاطر کٹ مرنا… محبوب کے دین
اور طریقے کو غالب کرنا … محبوب کے دشمنوں سے دشمنی رکھنا… اور
محبوب کے راستے میں زخم کھانا… پورے قرآن پاک کو دیکھ لیں آپ کو یہی ترتیب
نظر آئے گی کہ … ایمان خالص اور سچا ہے یا نہیں… اس کا امتحان
جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے ہوتا ہے …چنانچہ ہرمسلمان کے ذمہ ادنی درجہ میں
یہ لازم ہے کہ وہ جہاد فی سبیل اللہ سے محبت رکھے …اور بڑادرجہ یہ ہے کہ وہ
جہاد فی سبیل اللہ میں شرکت کرے۔ اور جو بد نصیب انسان جہاد فی سبیل اللہ سے بُغض
اور نفرت رکھتا ہو اس کے ایمان کا کچھ پتہ نہیں کہ… کمزوری کی کس حالت میں
سسکیاں لے رہا ہے … ہاں بے شک پھر سُن لیں اور بار بار سنیں… اور
لاکھوں بار سُنیں اور سنائیں کہ سب سے بڑی نعمت ایمان ہے ایمان… لاالہ الا
اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ… پر یقین اور اس کا اقرار۔ ایک سائنسدان اگر ایسی
مشین ایجاد کر لے… جس سے ساری دنیا کے انسانوں کو بیک وقت مفت کھانا، مفت
پانی، مفت دوائی… اور مفت بجلی ملنے لگے… اور یہ سائنسدان کلمہ ’’لاالہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ‘‘ سے محرو م ہو تو وہ اپنے گھر کی چارپائی پر معذور
پڑے ہوئے اُس شخص کے جوتے کے برابر بھی نہیں جسے لاالہ الا اللہ محمد رسول
اللہ… پر یقین اور اقرار کی دولت حاصل ہے …شکر کرو مسلمانو، شکر
کرو… بار بار، کروڑوں بار… اور پھر شکر پر بھی شکر کرو کہ اتنا عظیم
کلمہ نصیب ہو گیا…
اَلْحَمْدُ
لِلّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ،اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلیٰ نِعْمَۃِ
الْاِسْلَامِ… وَ عَلیٰ نِعْمَۃِ الْاِیْمَانِ…
اس
کلمے کو دل میں اُتارنے کے لئے نمازیں مضبوط کرو… اور پھر اس کلمے میں خود کو
سچا ثابت کرنے کیلئے جہاد فی سبیل اللہ سے تعلق پیدا کرو… اللہ پاک اس نصاب
کی مجھے بھی توفیق عطا فرمائے… اور آپ سب کو بھی…
آمین
یا ارحم الراحمین
اللھم
صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ و بارک و سلم تسلیماً کثیراً کثیراً
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
مجھے اور آپ سب کو ’’ایمان کامل‘‘ نصیب فرمائے… آج میری ایک چھوٹی سی گزارش
تو دل سے مان لیں… ان شاء اللہ بہت
فائدہ ہو گا… آج کل مسلمانوں پر’’نفاق‘‘ کا بہت سخت حملہ ہے… جی ہاں
پوری دنیا میں… اس لئے صبح شام کم از کم سات بار دل کی توجہ کے
ساتھ… نفاق سے پناہ مانگا کریں… اور جب یہ پناہ مانگ رہے ہوں تو ایسی
کیفیت سے مانگیں جیسے اپنی اہم ترین ضرورت مانگ رہے ہیں…
(۱) اللھم
انی اعوذبک من النفاق
(۲) اللھم
انی اعوذبک من الشقاق و النفاق و سُوئِ الاخلاق
ان
دونوں دعاؤں کو اپنی اہم دعاؤں میں شامل کر لیں… کوشش کریں کہ باوضو
مانگیں … اور کسی نماز کے بعد مانگیں… اول ، آخر درود شریف بھی
پڑھیں… اور دعاء کی نورانیت کو دل سے محسوس کریں… ’’نفاق‘‘
اور’’منافقت‘‘ بہت بڑا عذاب ہے… نفاق کی دو قسمیں ہیں… ایک عقیدے کا
نفاق… اور ایک عمل کا نفاق… اور ’’جھوٹ بولنا‘‘ نفاق کی سب سے بنیادی
علامت ہے… آج کل نفاق چاروں طرف سے حملہ آور ہے… ہمیں چاہئے کہ پوری
عقل مندی کے ساتھ اپنے ایمان کے دفاع کی فکر کریں…
رجب
کی دعاء
ہر
سال ان دنوں’’رجب‘‘ کی مسنون دعاء یاد دلائی جاتی ہے… اچھا ہے اس سال بھی
ناغہ نہ ہو… حکومت کے نئے بجٹ نے مہنگائی اور بے برکتی کی جو آگ بھڑکائی
ہے… اُسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی’’برکت‘‘ ہی
بجھا سکتی ہے…’’برکت‘‘ بہت بڑی نعمت ہے…چلیں پھر رجب اور شعبان کی برکت اپنے محبوب
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک الفاظ کے ذریعہ
مانگتے ہیں
اَللّٰھُمَّ
بَارِکْ لَنَا فِی رَجَبَ وَشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ
تو
آپ کے ذہن میں ہوگا… ماشاء اللہ ہرسال لکھا جاتا ہے…
اسی
طرح دودھ پیتے وقت بھی برکت کی دعاء مسنون ہے
اَللّٰھُمَّ
بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَزِدْنَامِنْہُ
اسی
طرح جب کسی نئے شہر اور بستی میں جائیں تو وہاں کی برکت کی دعاء مانگیں
اَللّٰھُمَّ
بَارِکْ لَنَا فِیْھَاوَارْزُقْنَا جَنَاھَا
یا اللہ ہمارے
لئے اس بستی میں برکت عطا فرمائیے اور ہمیں یہاں کے پھل کھلائیے…
آج
اس موضوع پر بس اتنا ہی… آئندہ کبھی موقع ملا تو ان شاء
اللہ ’’برکت‘‘ کے مطلب اور معنیٰ پر تفصیل سے گفتگو کریں گے…
مناجات
صابری
ہمارے
بہت سے بھائیوں اور بہنوں کو… شدّت کے ساتھ’’مناجات صابری‘‘ کا انتظار
ہے … مگرقسمت! کہ کتاب کا کام مؤخر ہی ہوتا جارہا ہے… ان
شاء اللہ اس تاخیر میں بڑی خیر ہو
گی کیونکہ جیسے جیسے تاخیر ہوتی جارہی ہے ویسے ویسے یہ کتاب مزید نکھرتی اور
سنورتی جارہی ہے… اب اس میں بہت عمدہ تبدیلیاں ہوئی
ہیں… ماشاء اللہ استغفار کے مسنون صیغے تو ایسے جمع
ہوئے ہیں کہ شاید ہی کسی کتاب میں اتنی تعداد میں مل سکیں… تلاوت، اذکار اور
عملیات ہر ایک کو بار بار پڑھ کر مفید اضافے اورتبدیلیاں کی گئی ہیں… بندہ
خود کئی بار کتاب کو دیکھ چکا ہے… ہر بار پڑھتے اور تصحیح کرتے ہوئے عجیب لطف
اور نورانیت محسوس ہوتی ہے… دل چاہتا ہے کہ حضرت ابا جی
نور اللہ مرقدہ کا یہ تحفہ جلد از جلد مسلمانوں تک پہنچ
جائے … مگر پھر اس میں کوئی کام نکل آتا ہے… آپ سب سے دعاء کی
خصوصی گزارش ہے…
رزق
کا ضیاع
کسی
زمانے ہم جیل میں تھے… وہاں یہ بات شدّت سے محسوس ہوئی کہ مسلمانوں کے دل سے
ایک خاص کیفیت بہت تیزی سے نکلتی جارہی ہے… آپ نے دیکھا ہو گا کہ ہمارے
گھروں، مدرسوں اور دفتروں میں کتنا’’رزق‘‘ ضائع ہوتا ہے…
انا
ﷲ وانا الیہ راجعون
دنیا
داروں کے ہاں تو رزق کو ضائع کرنا فیشن ہے… جبکہ دین دار لوگ بھی اس بارے میں
بے توجہی کا شکار ہیں… جیل میں قید ساتھی بھی’’رزق‘‘ ضائع کرتے
تھے… ویسے کبھی تو بہت تنگی کا وقت ہوتا تھا… تب تو روٹی کا ایک ٹکڑا
بھی نہیں بچتا تھا… بادامی باغ میں پرانی بریڈ کے دو پیس ناشتے میں ملتے تھے… تمام
ساتھی اُن کو ’’پیزا‘‘ یا فش برگرکی طرح مزے لے کر کھاتے تھے… مگر جب فراوانی
ہوتی تو پھر رزق ضائع ہونا شروع ہو جاتا… اللہ تعالیٰ کی
توفیق سے سب کو اس طرف توجہ دلائی گئی… نگرانی کا نظام قائم کیا گیا… تب
کچھ افراد تو دل سے عمل کرتے جبکہ بعض… صرف اُس وقت تک جب تک نگرانی رہتی…
اس
فرق کی وجہ… وہ کیفیت تھی جس کا بندہ نے اوپر تذکرہ کیا ہے…
کیفیت
کہتے ہیں دل کی سمجھ کو…یعنی دل جس چیز کو جس طرح سے سمجھ لے وہ چیز ’’کیفیت‘‘
کہلاتی ہے… ہمار ادل بکر ی کے گوشت کو اچھا سمجھتا ہے یہ ایک کیفیت
ہے… اسی کیفیت کی وجہ سے ہمیں بکری کا گوشت اچھا لگتا ہے… لیکن ہمارا دل
بلّی کے گوشت سے نفرت کرتا ہے… یہ بھی ایک کیفیت ہے… اب کوئی ہمیں د س
گھنٹے تقریر کرے کہ بلّی کے گوشت میں یہ یہ فائدے ہیں آپ بلّی کے دو کباب
کھالیں… کیا آپ کھا سکیں گے؟ہرگز نہیں… کیونکہ کیفیت بڑی مضبوط چیز
ہوتی ہے اور انسان اپنی ’’کیفیات‘‘ کے ہاتھوں مجبور ہوتا ہے…
اب’’رزق‘‘
ضائع کرنے کے مسئلے کو دیکھیں… ایک شخص کے دل میں یہ بات اُتری ہوئی ہے
کہ… اللہ تعالیٰ میرا رازق ہے… وہ میرا رب
ہے… اور بڑی محبت سے رزق دے کر مجھے پالتا ہے…وہ میرے رزق کی حفاظت فرماتا ہے
اور اسے سب سے بچا کر مجھ تک پہنچاتا ہے… اور وہ بہت عظیم رب ہے اور میں اُس
کا عاجز بندہ ہوں… اگر یہ کیفیت کسی کے دل میں ہو گی تو یقین کریں روٹی کا
ایک لقمہ تو دور کی بات وہ چاول کا ایک دانہ بھی ضائع نہیں کرے
گا… اللہ تعالیٰ تین سو ساٹھ افراد کی محنت کے بعد ایک لقمہ
اپنے بندے تک پہنچاتا ہے… زمین و آسمان کی کتنی مخلوقات کو اس لقمے کے بنانے
کی خدمت پر لگاتا ہے… آپ مُلک کے صدر کے پاس جائیں وہ بڑی محبت سے آپ کو
کوئی چیز دے… آپ اُٹھ کر اُس کے سامنے وہ چیزکوڑا دان میں ڈال دیں…کیا وہ
آپ کے اس عمل سے خوش ہو گا؟… اللہ تعالیٰ بادشاہوں کا
بادشاہ… کتنی محبت سے اپنے بندے تک رزق پہنچاتا ہے… او ر وہ دیکھتا ہے
کہ اُس کے بندے نے کیا معاملہ کیا… آپ نے نہیں دیکھا کہ کائنات کے سب سے
افضل اور اعلیٰ اور مہذّب انسان… حضرت آقامدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کھانے کے بعد اپنی مبارک انگلیاں چاٹ رہے ہیں… جی ہاں اُن کو
معلوم تھا کہ ان انگلیوں پرمیرے محبوب رب کا رزق لگا ہوا ہے وہ ضائع نہ ہو
جائے… واقعی یہ کیفیت کا مسئلہ ہے… کئی لوگوں کو آپ بار بار سمجھائیں
مگر وہ رزق ضائع کرتے ہیں… اور بعض لوگ تنہائی میں کچھ کھاتے پیتے وقت بھی
ایک دانہ، ایک قطرہ… اور ایک لقمہ ضائع نہیں کرتے وہ اُسے یا تو خود کھا لیتے
ہیں، یا سلیقے سے بچا کر کسی دوسرے انسان تک پہنچا دیتے ہیں… اب یہ معاملہ
سمجھنے سمجھانے سے تو دل میں بیٹھے گا نہیں کافی تجربہ کر لیا ہے… دعاء کریں
کہ مجھے اور آپ سب کو… اپنے رازق اور رزّاق رب کے ساتھ محبت والی کیفیت نصیب
ہو جائے…
کلمہ
طیبّہ کی محنت
اللہ تعالیٰ
کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے وہ کم ہے کہ… الحمدللہ کلمے کی محنت سے بہت عجیب فوائد حاصل ہو رہے
ہیں… کئی ایسے مسلمان جنہوں نے بارہ سو بار
’’لا
الہ الا اللہ ‘‘
کے
ورد کو پابندی سے معمول بنا لیا ہے… وہ اپنے اندر بہت سے مثبت نتائج دیکھ رہے
ہیں… دس پندرہ منٹ کا عمل… مگر فوائد اور نتائج اتنے زیادہ کہ بیان سے
باہر… بعض حضرات اور خواتین نے خطوط میں عجیب کیفیات لکھی
ہیں… اللہ تعالیٰ اُن سب کو مزید ترقی اور قبولیت عطاء
فرمائے… اُس دن تفسیر بغوی… جس کا نام’’معالم التنزیل‘‘ ہے دیکھ رہا
تھا… اس میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول تھا
کہ… بنی اسرائیل کو ملک شام میں داخل ہوتے وقت جو ’’کلمہ‘‘ پڑھنے کا حکم دیا
گیا تھا وہ
’’لا
الہ الا اللہ ‘‘
تھا…وقولوا
حطّۃ یعنی ایسا کلمہ پڑھتے جاؤ جو تمہارے گناہوں کو بالکل مٹا دے… اور یہ
کلمہ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ ہے جو گناہوں کو مکمل طور پر ختم کر دیتا
ہے… تھوڑا سا غور کریں کہ اس وقت دنیا میں ’’ایڈوانی‘‘ سے بڑا کافر بھی کو ئی
ہوگا؟… یہ انتہائی کٹر مشرک ، کافر، بت پرست، دشمن اسلام… اور ذاتی طور
پر بہت بُرا شخص ہے… یہود و نصاریٰ تو پھر بھی… پرانی کتابوں کی کوئی
ایک آدھ اچھی اور سچی بات کو مانتے ہیں … مگر ہندو، مشرک تو اُس سے بھی
محروم ہیں… لیکن اگر ایڈوانی بھی ایک بار…دل کے یقین سے
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
پڑھ
لے تو اُس کے تمام گناہ بالکل ختم ہو جائیں گے…
اس
سے آپ اندازہ لگائیں کہ… لا الہ الا اللہ کی کتنی
تاثیر ہے… ہم خواہ مخواہ مایوس ہو جاتے ہیں کہ…فلاں چیز کیسے معاف ہو گی اور
فلاں کیسے؟… ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ہر گناہ اور بُرائی کو مٹا دیتا
ہے…اسے دل کے ساتھ جوڑیں، دل میں اس کا یقین بٹھائیں اور پھر دل اور زبان کو ساتھ
ملا کر پڑھیں… اس وقت ہر طرف کفر اور نفاق کے فتنے ہیں… تمام مسلمان مرد
اور عورت کم از کم بارہ سو بار… لا الہ الا اللہ کا
ورد اپنا ایسا معمول بنالیں جو کبھی بھی نہ چھوٹے… انسان پر مختلف حالات آتے
رہتے ہیں… کبھی پڑھنے میں مزہ آئے گا اور کبھی نہیں آئے گا… کبھی دل
لگے گا اور کبھی دل نہیں لگے گا… مگرآپ اپنی دینی ڈیوٹی سمجھ کر اپنا وظیفہ
پورا کریں… اور پھر اگر اللہ تعالیٰ توفیق عطاء فرمائے
تو اس تعداد میں اضافہ بھی کر لیں… اب تو ویسے بھی عبادت کے مہینے شعبان اور
رمضان آرہے ہیں… کلمہ طیبہ… لا الہ
الا اللہ محمّد رسول اللہ … ہی میں ہم
مسلمانوں کی کامیابی ہے… اس کلمے کو خوب بیان کیا کریں تاکہ یہ مسلمانوں کے
دل میں اُتر جائے…اور مسلمانوں کو کلمے کی عزت اور مقام کا علم ہو جائے… حضرت
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے جب اس کلمے کی عزت و عظمت کو پہچانا تو
ساری دنیا کے سامنے اعلان فرما دیا کہ… ہم لوگ ذلیل قوم
تھے، اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام کے ذریعے عزت دی… اب
اگر ہم اسلام کے علاوہ کسی اور چیز میں عزت ڈھونڈیں گے
تو اللہ تعالیٰ ہمیں پھر ذلیل فرما دے گا… سبحان اللہ …یہ
ہے کلمے پر ایمان کہ… کلمے کے بغیر ہم ذلیل قوم تھے…حالانکہ عربی تھے، قریشی
تھے، بڑے خاندان کے تھے… مگرکلمے کے بغیر کسی زبان، قوم اور قبیلے میں کوئی
عزت نہیں… عزت کلمے میں ہے…آج پھر مسلمانوں کو… قومیت، لسانیت اور
وطنیت کے بدبودارنعروں کی طرف بُلایا جارہا ہے…آج پھر اپنی زبان، علاقے اور قبیلوں
کو عزت مند قرار دیا جا رہا ہے…اے مسلمانو! یہ جہالت ہے جہالت… اور عظیم کلمے
کی ناقدری… ہم مسلمانوں کے لئے بس ایک ہی نسبت عزت والی ہے… اور وہ
ہے… اسلام کی نسبت… یعنی کلمہ طیبہ کی نسبت…
لا
الہ الا اللہ محمّد رسول اللہ
اللھم
صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
مجھے اور آپ سب کو’’بُرے دن‘‘ اور’’بُری راتوں‘‘ سے بچائے… آپ کو معلوم ہے
بُرا دن کونسا ہوتا ہے؟… جی ہاں وہ دن جس میں انسان سے کوئی گناہ ہو جائے،
ظلم ہو جائے اور توبہ کی توفیق نہ ملے… ہم سمجھتے ہیں کہ جس دن ہمارے پاس
پیسے نہ ہوں یا کوئی مصیبت آجائے وہ دن بُرا ہوتا ہے… ایسا نہیں
ہے… ایک روایت میں آتا ہے:
موت
غنیمت ہے، گناہ مصیبت ہے، فقر و فاقہ راحت ہے، مالداری سزا( یعنی آزمائش) ہے،
عقل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدیہ ہے، جہالت گمراہی ہے، ظلم
ندامت ہے، اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری آنکھوں کی ٹھنڈک
ہے، اللہ تعالیٰ کے خوف سے رونا جہنم سے نجات ہے، ہنسنا بدن
کی ہلاکت ہے اور گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسا کہ وہ شخص جس کا کوئی گناہ
ہی نہ ہو۔(بیہقی)
آج
کل جون کے مہینے کی گرم راتیں چل رہی ہیں… مجھے آج سے گیارہ سال پہلے
والے’’جون‘‘ کی کچھ راتیں یاد آرہی ہیں… خوف، غم اور پریشانی سے بھرپور
راتیں… لیکن وہ بُری راتیں ہرگز نہیں
تھیں… اللہ تعالیٰ کے راستے میں خوف کی راتیں کہاں بُری ہو
سکتی ہیں… بُری راتیں تو وہ ہوتی ہیں… جو غفلت اور گناہ میں گزر
جائیں… جن میں نہ نماز ہو نہ ذکر اور نہ استغفار …بہت سے لوگ رنگین
راتوں کے خواب دیکھتے ہیں… رنگین راتیں تو بہت کالی ہوتی ہیں…لذت ختم ہو جاتی
ہے اور گناہ لازم ہو جاتا ہے… ٹی وی، فلم، شراب، کباب اور غیبت،
گناہ… اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطاء فرمائے کہ ہم اچھے اور
بُرے کو سمجھ سکیں… آج کل تو معاملہ الٹا ہے… وہ بے وقوف جو آخرت کی
حقیقی زندگی سے غافل ہو کر… دنیا کمانے اور بنانے میں لگے رہتے ہیں اور کچھ
تھوڑی سی بنا بھی لیتے ہیں لوگ اُن کو عقلمند سمجھتے ہیں… اِنَّا لِلّٰہِ وَ
اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْن… ارے پورے قرآن پاک کو پڑھ لو… میرے محبو ب
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ کو دیکھ
لو… عقلمند وہ ہے جو اس دنیا میں رہتے ہوئے اپنی آخرت بنالے… اور اُسے
خوب سجا لے…
بات
چل رہی تھی گیارہ سال پہلے والے جون کی… جب کمانڈر حافظ سجاد خان صاحب سجموں
کی ایک جیل میں شہید ہوئے تھے… وہ چند راتیں تھیں جن کی ہیبت اب بھی دل سے
نہیں جاتی… مگر غور کرتا ہوں تو یوں لگتا ہے کہ وہ شاید زندگی کی بہت اچھی
راتیں تھیں… جہاد کاراستہ بہت آزمائشوں والا ہے… یہ اسلام کی سب سے
اونچی چوٹی ہے… اسلام بہت اونچا دین ہے… ہمالیہ اور ایورسٹ سے بہت
اونچا… آپ خبروں میں سنتے ہوں گے کہ فلاں کوہ پیما نے ہمالیہ سر کر
لیا… یعنی اُس کی چوٹی تک پہنچ گیا… اور فلاں کوہ پیما ایورسٹ کی چوٹی
تک پہنچ گیا… آپ نے کبھی غور کیا کہ ایسے افراد جو ان اونچی چوٹیوں تک
پہنچتے ہیں کتنے ہوتے ہیں؟… پورے پاکستان سے گزشتہ ساٹھ سالوں میں صرف دو
افراد نے ایورسٹ کی چوٹی سر کی ہے… اتنے اونچے پہاڑوں کی چوٹیوں تک ہر کوئی
نہیں پہنچ سکتا… تو پھر اسلام کی بلند ترین چوٹی تک ہر کوئی کیسے پہنچ سکتا
ہے؟… اونچے پہاڑوں کی چوٹیاں سر کرنے والوں کو’’کوہ پیما‘‘ کہا جاتا ہے جبکہ
اسلام کی بلند چوٹی تک پہنچنے والے کو ’’مجاہد‘‘ کہتے ہیں… اور آج دنیا میں
مجاہدین کی تعداد کوہ پیماؤں سے بھی کم ہے… جہاد میں نکلنا تو پھر بھی کچھ
آسان ہے مگر مرتے دم تک اس پر ڈٹے رہنا کافی مشکل ہے…مدینہ منورہ سے لشکر روانہ
ہوا تو تعداد ایک ہزار تھی… مگرجب وہ تین میل کا سفر کر کے اُحد پہنچا تو
گنتی سے پتہ چلا کہ تعداد سات سو رہ گئی ہے… تین سو افراد اپنے نفاق کی وجہ
سے راستے ہی میں پھسل کر گر پڑے… پھر بھی بڑی بات ہے کہ سات سو افراد اسلام
کی بلند ترین چوٹی تک جا پہنچے… یہ حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کی برکت تھی… اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ … کیا تین سو
کے ٹوٹ جانے سے اسلامی لشکر کی ساکھ خراب ہو گئی؟…جواب واضح ہے کہ ہر گز نہیں!
بلکہ اُن کی ساکھ اور بہتر ہوگئی… کیونکہ’’حق جماعت‘‘ کی ایک بڑی علامت یہ ہے
کہ اُس کا نظام بُرے لوگوں کو باہر پھینکتا رہتا ہے… عمل کی کمزوری تو برداشت
ہوجاتی ہے لیکن جن کا نظریہ ہی بگڑجائے اور وہ دنیا اور مال کے پجاری بن جائیں وہ
’’مخلص جماعت‘‘ کا حصّہ نہیں رہ سکتے… تیز چلنے والا صاف پانی، میل اور کچرے
کو اپنے سے الگ کر دیتا ہے… یہ میل اور کچرا کچھ وقت ابھرا ابھرا سا نظر آتا
ہے مگرپھر سوکھ کر گُم ہو جاتا ہے… یہ مثال قرآن پاک نے پیش فرمائی ہے…
جہاد
کوئی ناممکن عمل نہیں ہے… کیونکہ اگر یہ ناممکن ہوتا
تو اللہ تعالیٰ اس کا حکم نہ فرماتے… ہاںیہ بہت اونچا
اور بڑا عمل ہے اور اس میں ہر کسی کو قبول نہیں کیا جاتا… دنیا میں کتنے
مالدار مسلمان ہیں… بعض تو ایسے ہیں کہ روزآنہ صرف گناہوں پر لاکھوں ڈالر
خرچ کرتے ہیں… اور کچھ جن کوشیطان نے گمراہ کر رکھا ہے… مزاروں پر
روزآنہ لاکھوں کے چڑھاوے چڑھاتے ہیں…قرآن پاک میں سب سے زیادہ تاکید جہاد پر مال
خرچ کرنے کی ہے… یعنی قرآن پاک نے جن جن کاموں پر مال خرچ کرنے کی ترغیب دی
ہے… ان میں سب سے زیادہ تاکیدجہاد پر مال خرچ کر نے کی ہے… اور اس کا
اجراور ثواب بھی سب سے زیادہ ہے… اگر ایک آدمی کعبہ شریف کی تعمیر میںمال
لگائے… اور دوسرا جہاد پرمال خرچ کرے تو جہاد پر مال خرچ کرنے کی فضیلت کعبہ
شریف کی تعمیر پر مال خرچ کرنے سے زیادہ ہے… یہ بات قرآن پاک نے بالکل صاف
الفاظ میں سمجھائی ہے… کیونکہ جہاد سے پورے اسلام کی حفاظت اور اُس کا بقا
ہے… آج اگر اعلان ہو جائے کہ کعبہ شریف کو ایک بار پھر تعمیر کرنا ہے اور
مسلمان اس کے لئے چندہ دیں… یقین کریں کہ لوگ سونے کی اینٹیں، سونے کی
دیواریں اور سونے کی چھتیں دینے پرتیار ہو جائیں گے… کعبہ شریف کے ساتھ
مسلمانوں کی یہ محبت بہت اچھی بات ہے… اور ہمیں چاہئے کہ اس کی مزید حوصلہ
افزائی کریں… لیکن جہاد پر مال لگانا تو کعبہ شریف کی تعمیر پر مال لگانے سے
افضل ہے اوریہ بات قرآن پاک نے سمجھائی ہے… تو پھر مسلمان جہاد پر اتنا مال
کیوں نہیں لگاتے؟… وجہ وہی ہے کہ جہاد بہت اونچا عمل ہے جان سے ہو یا مال
سے… اور اتنی اونچی چوٹی تک انسان اللہ تعالیٰ کی خاص
توفیق اور مدد سے ہی پہنچ سکتا ہے… اس کے لئے ضروری ہے کہ مسلمان قرآن پاک
کی روشنی میں ’’جہاد فی سبیل اللہ ‘‘ کوسمجھیں… اور
پھر اللہ تعالیٰ سے توفیق مانگیں
کہ اللہ تعالیٰ اُن کی جان اور مال کو جہاد کے لئے قبول
فرمائے… آپ یقین کریں کہ اگر ہم جہاد میں قبول ہو گئے تو پھر آگے کی اصل
زندگی اتنی اونچی اور مزیدار ہو جائے گی کہ اُسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا
سکتا… نہ موت کا درد، نہ قبر کا عذاب، نہ منکر نکیر کافتنہ… اور نہ حساب
کتاب کا غم… بس آنکھ بند ہوئی اور اکرام ہی اکرام، مزے ہی مزے… اور
کامیابی ہی کامیابی… جہاد میں چونکہ بڑی کامیابی اوربڑا مقام ہے ا س لئے اس
راستے میں آزمائشیں بھی بہت آتی ہیں… مگر ہر آزمائش کے بعد نئی فتوحات اور
نئی کامیابیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے… گیارہ سال پہلے جون کی راتیں بھی
آزمائش والی تھیں… اُن راتوں کا کچھ تذکرہ کرنے سے پہلے ایک ’’وظیفہ‘‘ عرض
کرناہے… ہمارے بہت سے مسلمان بھائی اور بہنیں رزق میں وسعت کا وظیفہ پوچھتے
ہیں… پچھلی ڈاک میں بھی ایسے کئی خطوط تھے… بہت سے لوگ مقروض
ہیں… اور بہت سے مہنگائی کی وجہ سے پریشان… بندہ خطوط کے جواب میں ہر
ایک کے مناسب حال جو وظیفہ یا عمل سمجھ میں آتا ہے عرض کر دیتا ہے…
الحمدللہ بہت سے افراد
کو اللہ تعالیٰ نے فائدہ بھی پہنچایا ہے… اوربعض کو یہ
نقصان بھی پہنچا کہ وہ زیادہ مالدار ہونے کے بعد بگڑگئے… انبیاء دمیں سے حضرت
داؤدعلیہ السلام خود بادشاہ اور حکمران بھی تھے مگر آپ ایسی مالداری سے
ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تھے جو سرکش کر
دے… آپ کی دعاؤں میں یہ تین دعائیں بھی مذکور ہیں:
(۱) اَللّٰھُمَّ
اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ کُلِّ فَقْرٍ یُّنْسِیْنِیِ
ترجمہ: یا اللہ میں
آپ کی پناہ مانگتا ہوں ہر ایسی غریبی اور فقر سے جو مجھے اپنا آپ بُھلا دے…
(۲) اَللّٰھُمَّ
اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ کُلِّ غِنیً یُّطْغِیْنِیِ
ترجمہ:
یا اللہ میں آپ کی پناہ پکڑتا ہوں ہر ایسی مالداری سے جو
مجھے سرکش کردے
(۳) اَللّٰھُمَّ
اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ کُلِّ عَمَلٍ یُّخْزِیْنِیِ
ترجمہ: یا اللہ میں
آپ کی پناہ چاہتا ہوں ہر ایسے کام سے جو مجھے رسوا کر دے…
خیر
اپنی اپنی قسمت… اللہ تعالیٰ میری اور آپ سب کی قسمت اچھی
بنائے… آج ایک ایسا وظیفہ عرض کر رہا ہوںکہ جو بھی… اخلاص اور توجہ کے
ساتھ کرے گا اُسے ان شاء اللہ اور بہت سے فوائد کے ساتھ ساتھ یہ
فائدہ بھی پہنچے گا کہ مالی تنگی ختم ہو جائے گی… اور ان شاء
اللہ رزق کی فراوانی ہو جائے گی… یہ ایک ایسا عمل اور وظیفہ ہے
کہ جس کے فضائل قرآن پاک میں بھی آئے ہیں… اور احادیث شریف میں
بھی… اور اس عمل کی برکت سے رزق کی تنگی دور ہونے کا پکّا وعدہ ہے… اور
بڑی بات یہ ہے کہ یہ وظیفہ خود حضرت آقامدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشادفرمایاہے…
حافظ
اسماعیل بن فضل الاصبھانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ ایک دیہاتی شخص خلیفہ
منصورعباسی کے پاس آیا اور اُس نے امداد مانگی، خلیفہ منصور نے کہا میں تمہیں مال
تو نہیں دیتا البتہ ایک حدیث سناتا ہوں… مجھے یہ حدیث میرے والد نے اپنے والد
سے اور اُن کے والد نے اپنے دادا حضرت ابن عباسؓ سے بیان فرمائی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:
جو کوئی پورا سال روزآنہ ایک ہزار بار اللہ تعالیٰ سے
استغفار کر ے گا، وہ سال ختم ہو نے سے پہلے غنی ہو جائے گا… یہ سن کر اُس
دیہاتی نے یہ عمل شروع کر دیا… جب سال کا اختتام ہونے والا تھا تو ایک دن
شدید بارش ہوئی جس میں اولے بھی برس رہے تھے… وہ اعرابی(یعنی دیہاتی) پناہ
لینے کے لئے ایک کنیسے میں جا گُھسا… اچانک اس کے سامنے کی زمین پھٹی تو وہاں
ایک مٹکا تھا جس میں چھتیں ہزاردرہم کا خطیر مال موجود تھا… یہ معاملہ منصور
عباسی تک پہنچا… وہ مدفون خزانوں سے پانچواں حِصّہ وصول کرتا تھا… مگر
اُس نے وہ بھی اس اعرابی کو معاف کر دیا…
یہ
ہے وہ وظیفہ جس کی تائید قرآن پاک کی کئی آیات اور کئی احادیث سے ہوتی
ہے… اُن سب آیات اور احادیث کو لکھوں تو مستقل ایک بڑے مضمون کی صورت بن
جائے… اس لئے آج صر ف ایک حدیث پاک پر اکتفا کرتے ہیں…
ابو
داؤد، ابن ماجہ اور مسند احمد کی روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس
رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
قال
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ لَزِمَ
الْاِسْتِغْفَارَ جَعَلَ اللہ لِہُ مِنْ کُلِّ ضَیْقٍ
مَخْرَجًا وَمِنْ کُلِّ ھَمٍّ فَرَجًا وَرَزَقَہٗ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبْ
ترجمہ: رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو استغفار کو لازم پکڑلے
تو اللہ تعالیٰ اُسے ہر تنگی اور مشکل سے نکلنے کا راستہ
عطاء فرمائے گا اور اُسے ہر پریشانی سے نجات عطاء فرمائے گا اور اُسے ایسے راستوں
سے رزق دے گا کہ جن کا اسے گمان بھی نہیں ہو گا…(مسند احمد)
اس
حدیث شریف میں تین انعامات کا تذکرہ ہے… جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایسے
طریقے سے رزق ملے گا جو اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوگا… استغفار کہتے
ہیں…گناہوں پر ندامت اور شرمندگی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے
معافی مانگنے کو… اب آپ پوچھیں گے کہ… ہم کونسا استغفار
پڑھیں… بات یہ ہے کہ صرف پڑھنا نہیں… بلکہ استغفار کرنا ہے… باقی
استغفار کے کئی الفاظ ہمارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں
سکھائے ہیں… ان میں سے کوئی بھی پڑھ لیا کریں… ہماری کتاب معمولات یومیہ
میں چند مسنون صیغے مذکور ہیں… اور اب جو ان شاء
اللہ مناجات صابری آرہی ہے اس میں تو نوے سے زائد… مسنون اور
مستند استغفار مذکور ہیں… آج قصّہ سنانا تھا گیارہ سال پہلے والے ’’جون‘‘ کی
راتوں کا …مگر بات کہیں اور نکل گئی… اللہ تعالیٰ اپنے
فضل سے اسی کو قبول فرما لے… آمین یا ارحم الراحمین
اللھم
صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ مجھے اورآپ سب کو دنیا اور آخرت کے خسارے سے بچائے…گزشتہ ہفتے جون 1999ء کی بعض ہولناک اور اُداس راتوں کا تذکرہ چھیڑا تھا… ہم دشمنوں کی قید میں تھے، نہتّے، کمزور او ربے بس… وہاں اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل فرمایا اور ہمیں ایک’’جماعت‘‘ بنا کر قوّت عطاء فرمائی… ہم ایک اندھی قید میں تھے جہاں رہائی کا دور دور تک نام و نشان تک نہیں تھا… ایسی قید انسان کو مفلوج اور مایوس کر دیتی ہے…مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت بہت بڑی ہے… اُس نے اپنے بندوں کو ایسی اندھی قید میں بھی مفلوج اور مایوس نہ ہونے دیا… رہائی کی خواہش سب کے دل میں تھی مگر اجتماعیت کو توڑ کر اور دوسروں کو عذاب میں چھوڑ کر جانے کی ہمت بھی نہیں تھی… ایک بار تین افراد بآسانی فرار ہو گئے… پیچھے رہ جانے والوں پر آفت ٹوٹا ہی چاہتی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے مضبوط جماعت کی برکت سے حفاظت کا ہاتھ عطاء فرمادیا… وہ واقعہ بھی عجیب ہے… جیل حکام ہمیں کچّا کھا جانا چاہتے تھے مگر کچھ بھی نہ کر سکے… تھوڑی بہت سختی، دھمکیاں… اور پھر وہ خود مصیبت کا شکار ہو گئے… بے شک جماعت میں بڑی برکت اور بڑی حفاظت ہے… اور یہی مسلمانوں کی’’قوّت‘‘ کا راز ہے… جو تین افراد فرار ہوئے تھے ان میں سے دو تو اپنی دنیا میں کھو گئے مگر ایک کے دل میں کچھ روشنی تھی… یہ روشنی اُس نے جیل کی مجالس ذکر اور مجالس تعلیم سے حاصل کی تھی… یہ روشنی اُس کے بہت کام آئی… اُس نے مجاہدین کے ساتھ مل کر باقی ساتھیوں کی رہائی کی فکر کی… یہ وہ چند مجاہدین تھے جو سالہا سال سے قیدیوں کی رہائی کے لئے ہر پتھر سے زور آزمائی کر رہے تھے… وہ کبھی روتے، کبھی بلکتے، کبھی اغوا کے منصوبے بناتے، کبھی جیل پر حملے کی تدبیرسجاتے… اور کبھی فضاؤں میں اڑتے طیاروں کو عقابی نظروں سے دیکھتے… جیل سے رہا ہونے والے روشن قلب دیوانے نے ان کو اندر کے سارے حالات بتا دیئے اور وہ بھی کسی حد تک ان کا ہم سفر بن گیا… اُدھر جیل میں سرنگ کھودنے کی تدبیر بنی اور جماعت اور اجتماعیت کی برکت سے یہ تدبیر آگے چل پڑی… ہم نے اُن دنوں اللہ تعالیٰ کی نصرت کے وہ مناظر دیکھے جو کبھی نہیں بُھلائے جا سکتے… جی ہاں ایسے مناظر! جو کبھی بھی ہمیں اللہ تعالیٰ سے مایوس نہیں ہونے دیتے… سرنگ کی کھدائی میں جو کچھ ہوا اگر وہ سب کچھ آج کے عسکری ماہرین کو بتایا جائے تو وہ ماننے سے انکار کر دیں گے… اور اپنا موٹا سا سر ہلا کر کہیں گے…’’اِمپاسِبل‘‘ یعنی ناممکن… اور اگر صحافیوں کو وہ سب کچھ بتا دیا جائے تو وہ فوراً کہہ دیں گے کہ یہ سب کچھ انڈیا خود کرا رہا تھا تاکہ… پاکستان کو بدنام کر سکے… اتنی سخت جیل کہ جس کی سختی ضرب المثل تھی… ایک سکھ ڈی ایس پی کہتا تھا… دودھ سے دھی بنتی ہے، دھی سے لسّی بنتی ہے… لسّی سے مکھن نکلتا ہے… اور مکھن سے گھی بنتا ہے… ہماری یہ جیل سیکورٹی میں گھی کی طرح ہے کہ… یہاں آخری درجے کے حفاظتی انتظامات موجود ہیں… ہاں!مشرک کو کیا پتا کہ اللہ تعالیٰ کی طاقت کیا چیز ہے… تالوں کی چابیاں بن گئیں… موٹی دیواروںمیں انسانوں کے نکلنے کے لئے ایسے سوراخ بن گئے کہ… جب چاہا بند کر دیا اور جب چاہا کھول لیا… کھدائی کے آلات برابر ہو گئے… اور مشرکین کی ناک کے نیچے ساری رات کھدائی ہوتی… اور مٹی بھی غائب ہو جاتی… باہر موجود مجاہدین سے رابطہ تھا… انہوں نے تمام اسیروں کی وصولی کا انتظام شروع کر دیا… اسلحہ، سواریاں… راستہ دکھانے والے… اور تمام ضروری چیزیں… تاریخ اور وقت طے ہو گیا… جس رات وہ تیار تھے اُس رات ہم نہ نکل سکے… اور جب ہم نکلنے کو تیار تھے تو انہوں نے پیغام بھیجا کہ ابھی آپ چند دن انتظار کریں…انتظار کے مسئلے پر’’جماعت‘‘ کا اتحاد لرز گیا… جو لوگ سرنگ والے حصّے میں بیٹھے تھے اُن کے لئے خطرات کی وجہ سے انتظار ناممکن تھا… اور جو کچھ دور تھے اُن کا خیال تھا کہ باہر کے انتظامات کے بغیر اتنے افراد آخر کہاں جائیں گے؟… بالآخر جماعت عارضی طور پر ٹوٹ گئی… ہرایک کو اختیار دے دیا گیا کہ… وہ اپنے لئے جو مناسب چاہے اختیار کر لے… تب کچھ دیوانے جماعت ہی سے چمٹے رہے اور انہوں نے اختیار لینے سے انکار کر دیا… اللہ تعالیٰ کی شان کہ وہ آج بھی اُسی طرح چمٹے ہوئے ہیں… اللہ تعالیٰ استقامت عطاء فرمائے… اور جنت میں سب کو اسی طرح جمع فرمائے…
بس
اسی کشمکش میں خوفناک راتیں شروع ہو گئیں… دھماکے، چیخیں ہولناک
آوازیں … زخمیوں کی آہ وپکار… خوف، لرزہ، بے بسی اور
اندھیرا… واقعی عجیب مناظر تھے… ہم حیران تھے کہ ہم زندہ کیسے
ہیں… برہمنی سامراج کے پجاری اس طرح دھاڑتے ہوئے حملہ آور ہوتے جیسے پاگل
ہاتھی کمزور پودوں کو روند ڈالتے ہیں… ساری رات لرزتے دل کے ساتھ ذکر اور
دعاء میں گزرتی… ہلکے سے کھٹکے پر دل دھڑکنے لگتے… رات کے کسی پہر میں
بیداری اورنیند کے درمیان تھا مجھے لگا کہ کمانڈر سجاد شہید میرے سیل میں داخل
ہوئے مجھے کہا… حضرت معاف کرنا میں اوپر جا رہا ہوں… میں ہڑ بڑا کر اُٹھ
بیٹھا وہاں نہ سجاد صاحب تھے نہ اُن کا کوئی نشان… ہمیں اُن کی شہادت کی
اطلاع نہیں تھی… صرف اتنا پتا تھا کہ دشمن اُن کو تشدّد کا نشانہ بناتے ہوئے
باقی گیارہ بارہ افراد کے ساتھ جیل کی دیوڑھی میں لے گئے ہیں… میری پریشانی
اور زیادہ بڑھ گئی… اور اگلے دن سہ پہر کے وقت ان کی شہادت کی خبر
آگئی… اللہ تعالیٰ اُن کے درجات بلند فرمائے… اور اُن
کو اعلیٰ علیین کا اونچا مقام عطاء فرمائے… اُن کے مبارک خون نے ایک دم حالات
بدل دیئے… خوف اور مایوسی میں پڑے قیدی انتقام کے جذبے سے زندہ ہو
گئے… جیل میں نعرے گونجے… مشرک بھیڑیئے کے دانت ایک دم غائب ہو
گئے… اور حالات میں عجیب تبدیلی آگئی… ہم نے شرط رکھی کہ ہمیں سجاد
صاحب کی زیارت کروائی جائے… تمام زخمیوں کا عمدہ علاج کیا جائے… اور
بندشیں ختم کر دی جائیں… شہید کا خون ٹھاٹھیں ما ر رہا تھا… کل تک چیخنے
دھاڑنے والے مشرک ایک دم بھیگی بلّی بن چکے تھے… حالانکہ ہم جیل میں اُن کا
کیا بگاڑ سکتے تھے… مگر انتقام اور اخوت کا جذبہ بڑی نعمت ہے… اگلے د ن
جیل حکام مجھے ہتھکڑیاں پہنا کر ہسپتال لے گئے جہاں ہجرت، جہاد اور قید کے زخموں
سے دولہا بنا ایک شہزادہ پر سکون انداز میں سو رہا تھا… چہرے پر دلکش مسکراہٹ
اور ماتھا زندہ لوگوں کی طرح گرم… میں نے اُن کے ماتھے پر ہاتھ رکھا سلام
کہا… اور بھی معلوم نہیں کیا کیا باتیں… اور کچھ تلاوت…پھر انڈیا کے اُن
سپاہیوں کی طرف متوجہ ہوا جو اتفاقاً تمام مسلمان نام کے تھے… اُن سے کہایہ
حافظ قرآن، اللہ تعالیٰ کے راستے کا سپاہی آج تمہارے پاس
ہے ان کی تجہیز و تکفین اسلامی طریقے سے کرنا… انہوں نے وعدہ کیا… میں
نے آخری نظر ڈالی اور باہر نکل آیا… ایک ڈی ایس پی، ایک انسپکٹر اور چند سپاہی
ساتھ تھے… سب ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے کہ عجیب نور تھا اور عجیب مسکراہٹ اور
عجیب سکون… بات کچھ دور نکل رہی ہے… واپس خوفناک راتوں کی طر ف آتے
ہیں… جب ہم پر یہ حالات ٹوٹے تو شیطان خوشی سے ناچ رہا تھا… ہاں
مسلمانوں پر جب کوئی ظاہری امتحان آتا ہے تو شیطان خوشی سے رقص کرتا ہے
کہ … لو! اب اسے شکار کرنا آسان ہو گیا… کبھی ایک کان میں کہتا ہے
کہاں ہے جہاد؟… کبھی پوچھتا ہے کدھر گئی نصرت؟… کبھی قہقہہ لگاتا ہے کہ
ارے تمہاری دعائیں قبول نہیں ہوتیں چھوڑو دعائیں اور عبادت… کبھی ہمدرد بن کر
آتا ہے کہ…چار دن کی زندگی ہے کچھ سکون سے گزار لو… کبھی ناصح کے روپ میں
آکر کہتا ہے کہ… بہت ہو گئی عزیمت اب اگر موقع ملے تو زندگی کچھ اچھے ڈھنگ
سے گزارنا… کھانا، پینا، عیش کرنا… اور کبھی ڈراتا ہے کہ… بس اب
تمہاری باری ختم، ناکام جئے اور ناکام مرو گے… اب کبھی روشنی اور آزادی نہ
دیکھو گے… اب تم پر مزید امتحان آئیں گے… تمہاری نمازیں، تمہارے وظیفے،
تمہارے اذکار کس کام کے… ہر دن نئی آفت ہے اور نئی مصیبت… یہ سب شیطانی
آوازیں انسان کے دل اور اعصاب پر حملہ آور ہوتی ہیں اور اُس کو بجھا کر رکھ دیتی
ہیں… اور بعض اوقات تو اُس کے دل کا نور تک چھین جاتی ہیں… جیل میں
ہماری آزادی ختم ہو چکی تھی… ہمارا سامان اور ہمارے سیلوں کے سوراخ کسی بھی
وقت پکڑے جا سکتے تھے… اور ہم پرتشدّد کا ایک نیا دورشروع ہو سکتا تھا…
مگر اللہ تعالیٰ
کا فضل اور اُ س کی نصرت بند سلاخوں کے اندر سکینہ بن کر اُتر رہی
تھی… ماشاء اللہ ساتھیوں نے اُس وقت بھی ’’جماعت‘‘ نہ
چھوڑی… جب انہوں نے جماعت نہ چھوڑی تو نصرت نے بھی اُن کا ساتھ نہ چھوڑا… دو
تین دن کی دہشت کے بعد ماحول بدل گیا… بند سیل کُھل گئے… سخت پہرے ٹل
گئے… اور دُم اٹھا کر دھمکیاں دینے والے دُم دبا کر گُم ہو
گئے… اللہ تعالیٰ کی نصرت جب آتی ہے تو اُس کے کئی رنگ
ہوتے ہیں… ہم سب پھر قرآن پاک کی طرف متوجہ ہوئے… مفصّل درس شروع ہوا
تو اللہ پاک نے قرآنی علوم کھولنا شروع فرمادیئے… اب ہر ساتھی کی
توجّہ ذکر اور قرآن کی طرف تھی… میں درس سے فارغ ہوتا تو تصنیف پر بیٹھ
جاتا… دیکھتے ہی دیکھتے ’’یہود کی چالیس بیماریاں‘‘ کتاب تیار ہو
گئی… اور پاکستان بھی پہنچ گئی… چند راتوں کے خوف کا مالک نے سب ساتھیوں
کو کیا کیا بدلہ دیا… یہ تو ہر ساتھی اپنی داستان خود ہی سنا سکتا
ہے… پھر رجب کا مہینہ شروع ہوا تو سب نے حفظ کی طرف توجہ کر لی… شعبان
میں پورا وارڈ تلاوت سے جھومتا تھا… اور پھر نصرت والا رمضان المبارک
آگیا… صبح سے رات تک تلاوت، دَور تراویح اور تعلیم وتربیت … درمیان
میں خبریں بھی سنتے تھے… ایک دن افطار کے وقت پتا چلا کہ… ایک جہاز
اغواء ہو گیا ہے… جمعہ کا دن تھا… ماحول میں امید کی خوشبو پھیل
گئی… مگر پرسکون راتوں کی جگہ بے چین اور بیدار راتوں نے لے لی…دنیا میںہر
نعمت سے پہلے کچھ تکلیف، کچھ آزمائش… اور کچھ پریشانی آتی ہے… ایک ماں
کو بیٹے کی کتنی تمنا ہوتی ہے… مگربیٹے کی ولادت سے پہلے ماں جس طرح کی راتیں
کاٹتی ہے اگر کوئی بیٹا… اُس تکلیف کا دسواں حصہ بھی سمجھ لے تو کبھی اپنی
ماں کے سامنے اونچی آواز سے نہ بولے… ایک دن کی متضاد خبروں کے بعد واضح
اعلان ہو گیا کہ… طیارہ’’مجاہدین کرام‘‘ نے اغواء کیا ہے اور اُن کا مقصد
اسیروں کی رہا ئی ہے… ہم سب کے نام میڈیا پر آرہے تھے… سجاد شہیدس کا
تذکرہ بھی زوروں پر تھا… مجاہدین نے اپنے مطالبات میں شہید کے جسم کو حوالے
کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا… جیل کی سیکورٹی سخت ہو چکی تھی… ساتھی
امید، خوشی، خوف اور بے چینی کی کیفیت میں تھے…ایسے وقت میں اجتماعی ماحول قائم
رکھنا مشکل ہوجاتا ہے… خوشی یہ ہوتی ہے کہ شاید رہائی مل جائے… خوف یہ
کہ اگر کارروائی ناکام تو دشمن کو ہاتھ چلانے کا موقع مل جاتا ہے اور تمام ایسے
افراد کو… جن کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہو دور دور کی سخت جیلوں میں بکھیر
دیا جاتاہے… اضطراب یہ کہ جنہوں نے ہماری خاطر اتنی بڑی قربانی دی ہے اُن کے
ساتھ کوئی سخت معاملہ نہ ہو جائے… ان کیفیات میں خدشہ تھا کہ… تعلیم و
تربیت کا نظام بکھر جائے گا مگر ایسا نہیں ہوا… ساتھی بے چینی کے عالم میں
بھی منزل یاد کر تے اور سناتے رہے… اور اسباق بھی باقاعدگی سے جاری
رہے… البتہ آہ و زاری اور دعاؤں میں اضافہ ہو گیا… بالآخر بائیس
رمضان جمعہ کا دن’’ فتح مبین‘‘ کی بشارت کے ساتھ طلوع ہوا… اور آج الحمدللہ وہ اکثر ساتھی رہا ہو چکے ہیں جنہوں نے وہ
خوفناک راتیں دیکھی تھیں… بے شک مایوس وہ ہو جس کا’’ربّ‘‘ نہ ہو… دشمنوں
سے خوفزدہ وہ ہو جو زندگی اور موت کا مالک اللہ تعالیٰ کے
سوا کسی کو سمجھتا ہو… اور حالات سے پریشان ہو کر کام اورجماعت سے وہ بھاگے
جو عزت و ذلت، تقدیر اور روزی کا مالک اللہ تعالیٰ کے سوا
کسی کو سمجھتا ہو… اللہ تعالیٰ ایک ہے… لا الہ
الا اللہ … وہی ہمارا معبود اور ربّ ہے … لا الہ
الا اللہ … وہی زندگی اور موت کا مالک ہے… لا الہ
الا اللہ … وہی عزت و ذلت، تقدیر اور روزی کا مالک ہے…لا الہ
الا اللہ …ہم صرف اس کی رحمت کے امیدوار ہیں… لا الہ
الا اللہ … اور ہم صرف اُسی سے مدد اور اعانت کی بھیک مانگتے
ہیں… لاالہ الا اللہ … محمد
رسول اللہ …
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ و بارک وسلیم تسلیما کثیرا کثیرا…
لا
الہ الا اللہ … لا الہ
الا اللہ … لاالہ الا اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
مجھے اور آپ سب کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کلمہ طیبّہ
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
نصیب
فرمائے… یہی عظیم کلمہ ہماری دنیا ہے اور یہی عظیم کلمہ ہماری آخرت ہے
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اچھا!آپ
بتائیں سب سے افضل ذکر کون سا ہے؟… حدیث پاک میں آتا ہے
سب
سے افضل ذکر’’لا الہ الا اللہ ‘‘
ہے… اللہ تعالیٰ کا ذکر سب سے بڑی چیز ہے
وَلَذِکْرُ اللہ اَکْبَر… اور
پھر ذکر میں سب سے بڑا ذکر’’لا الہ الا اللہ ‘‘ہے… توپھر ہم کیوں
نہ اپنی زبان سے بھی پڑھ لیں’’لا الہ الا اللہ ‘‘ … اور اپنی
روح سے بھی پڑھیں’’لا الہ الا اللہ ‘‘ … اچھا آپ بتائیں کہ
ایمان کا سب سے اونچا اور اعلیٰ شعبہ کونسا ہے؟… حدیث پاک میں آتا ہے ایمان
کے ستّر سے کچھ زائد شعبے ہیں اور ان میں سب سے اونچا اور اعلیٰ شعبہ ’’لا الہ
الا اللہ ‘‘ کہنا ہے… سبحان اللہ ! ایمان کتنی بڑی
نعمت ہے اور پھر ایمان کا سب سے اونچا شعبہ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ ہے…
اچھا
آپ یہ بتائیں کہ… ہمارے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت
کیا تھی؟… جواب تو آپ کو معلوم ہوگا… آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی دعوت تھی کہ لوگو!’’لا الہ الا اللہ ‘‘ کہہ لو
کامیاب ہو جاؤ گے… ایک بار جمعہ کے دن میں ایک مسجد میں بیٹھا ہوا
تھا… ابھی جمعہ کا خطبہ شروع نہیں ہوا تھا… اچانک ایک شخص میرے پاس آیا
اور کہنے لگا… کیا یہ سچ ہے کہ رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا ہے… جولا الہ الا اللہ کہہ دے گا وہ جنت
میں داخل ہو گا… میں نے کہا جی ہاں حدیث پاک میں بالکل صراحت کے ساتھ آیا
ہے… وہ شکرا دا کرنے لگا اور بار بار پڑھنے لگا… لا الہ
الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ،لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ …
پھر
کہنے لگا میرا دماغ ٹھیک کام نہیں کرتا… میری زبان سے گالیاں نکل جاتی ہیں
آپ دعاء کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے گالیوں سے
بچائے… وہ اٹھ کر چلا گیا… بعد میں معلوم ہوا کہ وہ ’’دیوانہ ‘‘
تھا… کبھی دماغ درست ہو جاتا تو مسجد آجاتا… سبحان اللہ !
اُس کی روح میں کلمہ طیبہ اُترا ہوا تھا…اور
ماشاء اللہ اُسے اس کلمہ کی قوّت اور تأثیر کایقین بھی
تھا… آج تو بہت سے ظاہری عقلمند…’’لا الہ الا اللہ ‘‘ کا مطلب ہی
نہیں سمجھتے اور نہ اس کی قوّت اور طاقت کو مانتے ہیں… ہائے افسوس ہر اُس
محروم پر جو’’لا الہ الا اللہ ‘‘ سے محروم ہے… جو’’محمد
رسول اللہ ‘‘ سے محروم ہے…
اچھا
آپ یہ بتائیں کہ ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا
جہاد کیا تھا؟…
جواب
بالکل واضح ہے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:۔
اُمِرْتُ
اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَقُوْلُوْا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ
مجھے
حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کرتار ہوں یہاں تک وہ ’’لا الہ
الا اللہ ‘‘ کہہ دیں… دیکھا آپ نے!’’لا الہ الا اللہ
‘‘ کا جہاد کے ساتھ تعلق کتنا مضبوط ہے… ذرا چند بار مزے لے کر اس حدیث شریف
کے الفاظ پڑھیں…یقینا ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ بھی دل میں اُترجائے
گا… اور جہاد بھی اچھی طرح سے دل میں بیٹھ جائے گا… اس لئے تو مجاہدین
کلمے کی دعوت بھی دیتے ہیں… اورجہاد کی بھی… کیونکہ ان دونوں کا رشتہ
اورتعلق آپس میں بے حد مضبوط ہے… نماز کے بعد’’لا الہ الا اللہ
‘‘ پڑھیں نماز قبول… صدقہ کے بعد ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ پڑھیں
صدقہ قبول… اور اس کلمے کو جتنا زیادہ پڑھتے چلے جائیں دل میں اُسی قدر روشنی
بڑھتی چلی جاتی ہے… او ردینِ اسلام کو سمجھنا اور اُس پر عمل کرنا آسان ہو
جاتا ہے…شکر ہے کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے بارہ سو بار ’’لا الہ الا اللہ
‘‘ کا ورد شروع کر دیا ہے… ہر ننانوے کے بعد کلمہ مکمل کیا کریں…لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ … اور درود
شریف بھی پڑھ لیا کریں… درود شریف بہت میٹھی، بہت پیاری، بہت مقبول… اور
بہت پرنور نعمت اور عبادت ہے…
اچھا
آپ یہ بتائیں کیا… یہ اتنا عظیم کلمہ ہم تک آسانی سے پہنچ
گیا؟… اللہ ، اللہ ، اللہ … اے
مسلمانو! اے کلمے کی ناقدری کرنے والو… صرف ’’غار ثور‘‘ کے اُس منظر کو یا
دکر لو جو قرآن پاک نے بیان فرمایا ہے… ہاں یہ کلمہ’’غار ثور‘‘ سے گذر کر
آیا ہے… خونخوار مشرک اُس غار کے کنارے کھڑے تھے… وہ صرف اچھی طرح نیچے
جھانک کر دیکھ لیتے تو انہیں حضرت آقامدنی صلی اللہ علیہ وسلم اور
حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ صاف نظر
آجاتے… مشرک تو خون کے پیاسے تھے… وہ ’’لا الہ الا اللہ ‘‘
کی بنیاد ہی ختم کرنا چاہتے تھے… اُن کی ساری دشمنی ’’لا الہ
الا اللہ ‘‘ سے تھی… کیسا خوف، دہشت اور غم کا منظر
تھا… زبان رسالت سے ارشاد ہوا… لَاتَحْزَنْ اِنَّ اللہ
مَعَنَا اے صدیق غم نہ کیجئے ! اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے… یہ
کلمہ ہم تک پھولوں کے باغات سے نہیں آیا… یہ تو نبی صلی اللہ علیہ
وسلم کے خون، حضرات صحابہ کرامؓ کے جسموں کے ٹکڑوں… اور بے انتہا
آزمائشوں اور قربانیوں کے راستے سے گزر کر ہم تک پہنچا ہے… ماضی کے لوگ
قربانی نہ دیتے تو میں اور آپ ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ سے محروم رہ
جاتے… اورخدانخواستہ اگر ہم نے آج قربانی نہ دی تو ہم اپنی آئندہ نسلوںکے
مجرم ہو ں گے…جی ہاں قابل نفرت مجرم جنہوں نے کلمے کی امانت… صرف جان اور امن
کے خوف سے آگے نہ پہنچائی… اس لئے لاز م ہے کہ… ہم ’’لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ کو اپنے دل میں
اُتاریں… اور اس کلمے کو اتنا پڑھیں اور ایسا پڑھیں کہ… یہ ہمارے سانس
اور روح کا حصّہ بن جائے… تب ہم اس کلمے کی امانت اٹھانے کے لائق ہو جائیں
گے… اور کلمے کی طاقت ہمیں اس کلمے کے کام پر کھڑا کر دے گی… حضرت شیخ
مفتی ولی حسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ…’’ اب فتنوں کا دور ہے اس
دور میں صرف دل والا اسلام کام دیتا ہے‘‘… ظاہری آنکھوں سے تو یہی نظر آرہا
ہے کہ کفار دنیا بھر پر حکمران ہیں… اُن کے پاس جدید ٹیکنالوجی ہے… وہ
جہاں چاہتے ہیں اُڑتے پِھرتے ہیں اور اُن کی طاقت بظاہر ناقابل شکست ہے… یہ
ظاہری باتیں جس مسلمان پر اثرکر جائیں تو وہ ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ کی
حلاوت سے محروم ہو جاتا ہے… اور اُس کے دل میں دنیا کی عظمت بیٹھ جاتی
ہے… لیکن وہ مسلمان جو دل کا مسلمان ہو… اور اُس کے دل میں ’’لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ اُترا ہوا ہو وہ
کفار کی طاقت، قوت اور مالداری سے ہرگز متاثر نہیں ہوتا…
ابھی
قریبی زمانے کے مجاہدین کو دیکھ لیں کہ… انہوں نے کس طرح سے کفر کی طاقت کا
مقابلہ کیا… دراصل ’’لا الہ الا اللہ ‘‘کی دنیا ہی اور
ہے … یہ کلمہ وہ روشنی دیتا ہے جس سے انسان کو’’حقیقت‘‘ نظر آتی
ہے… اور وہ دنیا کے دھوکے میں نہیں پڑتا… قرآن پاک نے ایک بار نہیں با
ر بار ارشاد فرمادیا ہے کہ دنیا کی زندگی محض دھوکے اور دکھلاوے کا سامان
ہے… اور ایک مسلمان کو کافروں کے اُڑنے، پھرنے اور مال بنانے سے ہر گز ہرگز
متاثر نہیں ہونا چاہئے…
وہ
تمام آیات اور اُن کا ترجمہ لکھوں تو مضمون کا موضوع بدل جائے گا… آپ
ماشاء اللہ کئی بار ان آیات کو پڑھ چکے ہوں گے… مگریہ
آیات دل میں اُتریں کیسے؟
کتنے
خوبصورت ہوٹل، بنگلے، گاڑیاں… جدید ہسپتال اور عجیب مشینیں… فضاؤں اور
خلاؤں کے سفر اور خوفناک جنگی طاقت… روز نئی ایجادات اور ہالی وڈ کی چکا
چوند لائٹیں… طرح طرح کے کھانے، عجیب و غریب لباس… اور مالداری کے
ہوشربا تذکرے… ان سب سے ایک انسان متاثر تو ہوتا ہی ہے… آپ بڑے بڑے
دینداروں کو دیکھیں گے کہ وہ کافروں کی ان چیزوں سے بُری طرح متاثر او ر مرعوب
ہیں… جبکہ قرآن پاک ان سب چیزوں کو دھوکہ ، فریب، عارضی تماشا اور غفلت سے
تعبیر کرتا ہے…
اب
آپ بتائیے کہ سچا کون ہے؟… یقینا قرآن پاک سچا ہے… اور قرآن پا ک کی
سچائی اُسی کو نظر آتی ہے جس کے دل میں ایمان ہو یعنی وہ دل کا مسلمان
ہو… اور دل کا مسلمان بننے کے لئے ایک ہی طریقہ ہے کہ…
’’لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ سے اپنے رشتے
اور تعلق کو مضبوط سے مضبوط تر کیا جائے… اچھا اگر آپ کو میری بات کا یقین
نہیں آتا تو تجربہ کر کے دیکھ لیں… چند دن اہتمام کے ساتھ… بارہ ہزار
سے زیادہ تعداد میں لا الہ الا اللہ اور ایک ہزار بار درود
شریف پڑھیں… صرف سات دن کے بعد آپ اپنے دل میں واضح تبدیلی دیکھیں
گے… اور اس دل کو کفار کی ترقی بس یوں نظر آئے گی جس طرح بعض مچھر کچھ موٹے
ہو جاتے ہیں…
اللہ تعالیٰ
کا جتنا بھی شکر ادا کریں وہ کم ہے کہ… اُس نے ہماری ادنیٰ سی جماعت کو توفیق
دی ہے کہ ہم تمام مسلمانوں کولا الہ الا اللہ کی دعوت
دیں… اور انہیں نماز پر لائیں… کیونکہ جس نے نماز کو اختیار کیا اُس نے
دین کو اختیار کیا… اور جس نے نماز کو چھوڑ دیا اُس نے دین کو چھوڑ
دیا… دین کی ساری عمارت نماز کے ستون پر کھڑی ہے… اور ہم ساری دنیا کے
مسلمانوں کو جہاد کی دعوت دیں… جی ہاں اسلام کی بلند ترین چوٹی جہاد فی
سبیل اللہ … اور ہم لا الہ الا اللہ کی خاطر دنیا
بھر کے دشمنان اسلام سے جہاد کریں… یہ ہے وہ نصاب جو اللہ پاک
نے شہداء کرام اور فدائیوں کی مثالی قربانیوں کی برکت سے عطاء فرمایا
ہے… کلمہ ، نماز… اور جہاد… مسلمان اگر ان تین چیزوں پرآئے تو ان شاء
اللہ اُن کے لئے سارے دین پر چلنا آسان ہو جائے گا… اور دنیا
سے کفرکی ہیبت ختم ہو جائے گی… ہمارے ایک سرپرست بزرگ تھے حضرت شیخ الحدیث
مولانا محمد اسحاق صاحب نور
اللہ مرقدہ… بڑے اللہ والے ربّانی عالم
تھے… حدیث کے اُستاذ، شب بیدار، ذاکر شاغل، مبلّغ اور
مجاہد… یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی عنایت
اور اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے کہ… روزتاسیس سے جماعت
کو ’’اولیاء ربّانیین‘‘ کی سرپرستی اور محبت حاصل رہی ہے… یہ تو ہو نہیں سکتا
کہ جماعت میں کام کرنے والے سب افراد مرتے دم تک جماعت سے جڑے رہیں… کئی لوگ
راستے میں ٹوٹ اور گِر بھی جاتے ہیں… کیا آپ نے قرآن پاک میں شیطان کے نیٹ
ورک کی تفصیل نہیں پڑھی؟… شیطان نے کیا قسمیں کھائیں، وہ کس طرح سے حملہ آور
ہوتا ہے… اور شیطان کے طور طریقے کیا ہیں… اللہ رب
العالمین نے ہمیں پہلے سے سب کچھ بتا دیاہے…چنانچہ کئی لوگ شیطان کا شکاربھی
ہوجاتے ہیں… اور بعض ان میں ایسے ہوتے ہیں جو مسلمانوں کی جماعت کو نقصان
پہنچانے کے لئے فتنہ بھی کرتے ہیں… ماضی میں ایک بار ایسا زور دار فتنہ آیا
کہ ہمیں دن میں تارے نظر آنے لگے… اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک
مخلص ولی حضرت قاری محمد عرفان صاحب نور اللہ مرقدہ کے ذریعہ
جماعت کی نصرت فرمائی… وہ بالاکوٹ تشریف لے گئے اور کافی عبادت اور مراقبے کے
بعد بہت جوش میں فرمایا …’’ا ﷲ ایک ہے اور وہ آپ لوگوں کے ساتھ ہے‘‘…
الحمدللہ وہ فتنہ ایسا سرد ہوا کہ ہم
حیران رہ گئے… بے شک اللہ تعالیٰ کی طاقت بہت بڑی
ہے… اللہ تعالیٰ کے یہ مقرّب اولیاء جو گھر بیٹھے کعبۃ اللہ
ا ور مدینہ منورہ سے فیض یاب ہوتے ہیں… خاموشی کے ساتھ جماعت کی سرپرستی
فرماتے رہتے ہیں… حضرت مولانا محمد اسحاق صاحبؒ بھی جماعت کے بے لوث محب اور
سرپرست تھے… انہوں نے ایک بار بندہ کو خط لکھا جس میں ارشاد فرمایا
کہ… دین کے ہر عمل کی ایک تأثیر ہوتی ہے… اور یہ تأثیر صرف اُسی عمل
سے حاصل ہوسکتی ہے کسی اور عمل سے نہیں… اور جہاد کی تأثیر یہ ہے کہ اس کی
برکت سے کفر اور کفار دونوں ذلیل اور رسوا ہوتے ہیں… حَتّٰی یُعْطُوا
الْجِزْیَۃَ عَن یَّدٍوَّھُمْ صَاغِرُوْن…
آپ
مولاناؒ کے اس فرمان پر غور کریں… آج مسلمانوں کا بڑا فتنہ یہ ہے کہ وہ کفار
سے مرعوب ہیں… اُن کو بڑا مانتے ہیں، اُن کو کامیاب سمجھتے ہیں… اُن کو
اپنے سے افضل قرار دیتے ہیں… اُن کی مثالیں اور اُن کے اقوال پیش کرتے
ہیں… اور نعوذ باللہ اُن کو نمونہ
بنا کر پیش کرتے ہیں… مسلمانوں کی اس سوچ اور صورتحال نے اُن کو کلمے اور
قرآن سے کاٹ دیا ہے… وہ کبھی اپنی شکل بدلتے ہیں،کبھی اپنا دین بدلتے
ہیں… اور معلوم نہیں کیا کیا خرافات کرتے ہیں… حقیقت یہ ہے کہ دل میں
کفار کی محبت، عظمت اور رعب کا آجانا بہت بڑی مصیبت اور بیماری ہے… جی ہاں
کینسر سے بھی زیادہ خطرناک بیماری… اللہ پاک ہم سب کی اس بیماری اور
مصیبت سے حفاظت فرمائے… مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ کفار کو ایسا مقام ملا
کیوں کہ مسلمان اُن سے متاثر ہوں؟… جواب وہی ہے جو حضرت مولاناؒ نے ارشاد
فرمایا کہ کفار کی ذلت’’جہاد‘‘میں تھی… اور مسلمانوں نے عمومی طور پر جہاد
چھوڑدیا تو کفار کی وہ ظاہری ذلّت ختم ہو گئی اور وہ اس پوزیشن میں آگئے کہ
مسلمانوں کو اپنی حالت سے گمراہ کرتے ہیں… کلمہ طیبہ کی زور دار
محنت… اپنی ذات پر … اپنے خاندان پر… اور سب مسلمانوں
پر… نماز کی زور دار محنت… اپنی ذات پر… اپنے خاندان پر… اور
سب مسلمانوں پر… دعوت ِجہاد کی زور دار محنت… اپنی ذات پر… اپنے
خاندان پر… اور سب مسلمانوں پر… اللہ تعالیٰ سے دعاء
ہے کہ وہ
لا
الہ الا اللہ محمدر سول اللہ
کی
برکت سے ہم سب کو اس مبارک نصاب کی توفیق عطاء
فرمائے… اور اللہ تعالیٰ مجھے اورآپ سب کو ہمیشہ
ہمیشہ کے لئے
لا
الہ الا اللہ محمدر سول اللہ
نصیب
فرما دے
آمین
یا ارحم الراحمین
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ ،لا الہ الا اللہ ،لا الہ
الا اللہ … محمد رسول اللہ …
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
کے سوا کوئی معبود نہیں ہے… حضرت محمد صلی اللہ علیہ
وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں…
’’لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘
اللہ تعالیٰ
جسے’’عزت‘‘ دینا چاہے ساری مخلوق مل کر اُسے ’’ذلیل‘‘ نہیں کر
سکتی… اور اللہ تعالیٰ جسے’’ذلّت‘‘ دے اُسے آسمان و
زمین کی تمام مخلوقات مل کر بھی عزت نہیں دے سکتیں
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
آج
کی مجلس میں ارادہ ہے کہ’’کلمہ طیبہ‘‘ کے دو عجیب واقعات عرض کئے جائیں… ان
شاء اللہ … دیکھیں یہ ارادہ پورا
ہوتا ہے یا نہیں… رات کے ساڑھے گیارہ بج رہے ہیں، گرمی کا موسم ہے… دل
چاہتا ہے کہ… آج کے رنگ و نور کی ہر سطر میں بسم اللہ ، کلمہ
طیبہ اور درود شریف لکھتا جاؤں…
بسم اللہ الرحمن
الرحیم…لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ … اللھم صلّ وسلّم علیٰ سیدنا محمّد…
تاکہ
لکھنے والے کو بھی فائدہ ہو… اور پڑھنے والے بھی جتنا پڑھتے جائیں اسی قدر
اجرِ عظیم اور نور کے خزانے جمع کرتے جائیں… اللہ کے بندو!
کلمہ طیبّہ کو اپنے ربّ سے حاصل کرو… ہم مسلمانوں کے گھر پید اہوئے اورہمیں
یہ ’’کلمہ طیبہ‘‘ یاد کرا دیا گیا … یہ بھی بڑی عظیم نعمت ہے… مگر
معلوم نہیں کہ ہمیں اس کلمے کی حقیقت اور اس کاشعور بھی نصیب ہوا ہے یا
نہیں… ہاں اگر سب مسلمان پورے یقین اور سمجھ کے ساتھ’’کلمہ طیبہ‘‘ پڑھ لیں تو
آج دنیا کا رنگ ہی کچھ اور ہو…کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی مسلمان موساد یا سی آئی اے
کے لئے کام کرے؟… استغفر اللہ ، استغفر اللہ … نا ممکن بالکل
ناممکن … قرآن مجید کی ایک پوری سورت اس بارے میں موجود ہے… نام
ہے سورۃ الممتحنہ…ہو سکے تو ’’فتح الجوّاد‘‘ میں اُس کی تفسیر ملاحظہ
فرمالیں… کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی مسلمان’’را‘‘ یا’’کے جی بی‘‘ کے لئے کام
کرے؟… ناممکن بالکل ناممکن حرام بالکل حرام…’’کلمہ طیبہ‘‘ پڑھنے والا کبھی اس
کا تصور بھی نہیں کر سکتا… ارے اللہ کے بندو! ’’لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ تو اتنا قیمتی کلمہ
ہے کہ یہ جس کے دل میں اُتر جائے اُسے ساری دنیا کی دولت دیکر بھی نہیں خریدا جا
سکتا… میری یہ بات محض دعویٰ نہیں … میں اس کے ثبوت میں لاکھوں
کروڑوں مثالیں پیش کرسکتا ہوں… آج کل افغانستان میں ’’مذاکرات‘‘ کا شور
شرابا ہے… ان مذاکرات میں وہی لوگ بکیں گے جو کلمے کی حقیقت اور طاقت سے
محروم ہیں… اور وہ صرف عادۃً یا رسمًا یہ کلمہ پڑھتے ہیں… حضرت
امیرالمؤمنین تواُس وقت بھی نہیں جُھکے تھے جب اُن سے اقتدار چھینا جا رہا تھا
اور وہ… ایک حکمران کی مسند سے ہٹا کر روپوشی کے غار میں دھکیلے جارہے
تھے…ہاں بے شک’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
‘‘ کی خاطر اس طرح کی قربانی دینا بہت آسان ہو جاتا ہے… آج کل پاک بھارت
مذاکرات بھی شروع ہیں… کلمے کی خوشبو سے محروم ہمارے مذاکرات
کار… مشرکوں سے لمبے لمبے وعدے کر رہے ہیں… اور مشرک ایک بار پھر خوش
ہیں کہ… ہمیں عنقریب فتح ملنے والی ہے… قرآن پاک ہم سے ایک بات پوچھتا
ہے کہ… جو لوگ تم سے پہلے گزر گئے … بڑے عیش آرام، طاقت اور ٹھاٹھ
والے… کیا آج تم اُن میں سے کسی کی ہلکی سی آواز یا آہٹ بھی کہیں سنتے
ہو؟… آہ!کتنا عجیب سوال ہے… بڑی بڑی قومیں، بڑے بڑے ملک اوربڑے بڑے
حکمران… آج مٹی ہو گئے… وہ جن کے چلنے سے زمین لرزتی تھی آج اُن کی
ایک آہٹ بھی کوئی نہیں سنتا… اور ان میں سے جو کلمے سے محروم تھے اُن کی
روحیں صدیوں سے آگ میں تڑپ رہی ہیں، سسک رہی ہیں… اور جس دنیا کو انہوں نے
بڑی محنت سے آباد کیا تھا وہ اُن کا قبرستان بن گئی ہے… کہاں ہیں چنگیز
اورہلاکو؟… اور تاتاری لشکر؟؟ خاموشی ہی خاموشی … بس پچاس سال اور
گزرنے دو… دنیا میں کہیں کسی اُبامہ، منموھن، زرداری،گیلانی کی آہٹ تک نہ ہو
گی… خزانے، گھراور کوٹھیاں یہاں رہ جائیں گی… اور ان کے بارے میں ہر
طرف… خاموشی ہی خاموشی ہو گی… اصل بات یہ ہے کہ زندگی تو
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
میں
ہے… جن کو یہ کلمہ نصیب ہو جاتا ہے وہ زندہ ہو جاتے ہیں… عزت کے ساتھ
جیتے ہیں… سکون کے ساتھ مرتے ہیں… اور مرنے کے بعد وہ عیش دیکھتے ہیں جن
کا تصور نہ کسی شدّاد نے کیا نہ کوئی فرعون کر سکا… اور نہ کوئی بل گیٹس
یادنیا کا کوئی کھرب پتی کر سکتا ہے… ہاں سچ کہتا ہوں کہ اگر عالم برزخ کا
منظر ایک منٹ کے لئے دنیا والوں کو دکھا دیا جائے تو… یہاں کے عیش و آرام
والے کافر اُسے دیکھتے ہی خوف اور غم سے جل کر راکھ ہو جائیں… آج تو یہ کہتے
ہوئے بڑا مزا آتاہے کہ… اتنے بلین فلاں بنک میں… اتنی کوٹھیاں، اتنا
بڑابزنس… مگر یہ سب کچھ خاک کا ڈھیر ہے… اصل نعمت تو…لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ کا یقین اور
اقرار ہے… مذاکرات کے تماشے چلتے رہتے ہیں ، یہ چلتے رہیں گے… جہاد نے
قیامت تک جاری رہنا ہے… ہمیں اس میں ذرہ برابر شک نہیں… کلمہ طیبہ کا
نور مسلمان کو جہاد کاراستہ دکھاتا ہے… آج اگر کلمہ طیبہ کی زور دار محنت کی
جائے تو یقینا تمام محاذ، مجاہدین سے بھر جائیں گے…یہی کلمہ طیبہ کا نور تھا جو
صحابہ کرام کو بڑھاپے کی حالت میں بھی گھر نہیں بیٹھنے دیتا تھا… کلمہ طیبہ
کبھی بھی ظاہری طاقت کے توازن کو نہیں دیکھتا…کیونکہ یہ کلمہ خود بہت عظیم طاقت
ہے… اگر کوئی ایسا ترازو بنایا جاسکے کہ جس میں سات آسمان اور سات زمینیں
رکھی جا سکیں… اور دوسرے پلڑے میں کلمہ طیبہ… لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ … رکھا
جائے تو کلمہ طیبہ والا پلڑا جُھک جائے گا… اور سات آسمان اور سات زمینیں اس
کے مقابلے میں بادام کے چھلکے کی طرح ہلکی ہو جائیں گی… زمین کتنی بڑی
ہے؟… آسمان کتنا وسیع ہے؟… ساری دنیا کے سائنسدان مل کر ابھی تک آسمان
کے قریب بھی نہیں پھٹک سکے… وہ ابھی تک زمین کے مدار میں اُڑنیوالے سیاروں سے
سر ٹکرا رہے ہیں… پھر ہر اوپر کا آسمان نیچے کے آسمان سے بڑاہے… سات
آسمان… اللہ اکبر کبیرا…
سارے
سیارے اورستارے… تمام سورج اور چاند… کلمہ طیبہ کے مقابلے میں کچھ بھی
نہیں، کچھ بھی نہیں… ذرا دل کے جذبے سے پڑھیں
لا
الہ الا اللہ ، محمد رسول اللہ
آسمان
فنا ہو جائے گا… زمین برباد کر دی جائے گی… سورج چاند ستارے ٹوٹ پھوٹ
جائیں گے… مگر یہ کلمہ باقی رہے گا اور اس کلمے کو یقین کے ساتھ پڑھنے والے
ہمیشہ کی عیش والی زندگی سے سرفراز ہو ں گے…
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
مسلمانو!
سجدے میں گر کر اللہ تعالیٰ سے دعاء مانگو کہ
یا اللہ ہمیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کلمہ طیبہ
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
نصیب
فرما دے… ہمیں اس کلمے کا دائمی ایمان عطاء فرمادے… ہمیں اس کلمے پر
جینا، مرنا نصیب فرما دے… ہمیں اس کلمے کااخلاص نصیب فرما دے… ہمیں اس
کلمے کا نور نصیب فرما دے… ہمیں اس کلمے کی قوت اور طاقت نصیب فرما
دے… ہمیں مرتے وقت اس کلمے کا ورد نصیب فرما دے… اور قبر، حشر، آخرت
اور جنت میں ہمیں اس کلمے کا ساتھ نصیب فرما دے… اور ہمیں اس کلمے کی عظمت کے
لئے جہاد فی سبیل ﷲ کی توفیق عطاء فرما دے… اور ہمیں اس کلمے پر مقبول شہادت
عطاء فرما دے… اور ہمیں اس کلمے کے تمام تقاضے سمجھنے اور پورے کرنے کی توفیق
عطاء فرما دے… اور ہماری اولاد میں نسل د ر نسل تاقیامت اس کلمے کو جاری فرما
دے…
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
درمیان
میں ایک خوشخبری بھی سُن لیں… الحمدللہ مدرسہ اویس قرنی رضی اللہ
عنہ بہاولپور سے اب تک ایک سو ایک حفاظ نے قرآن پاک کی تکمیل کر لی
ہے… اور جزوی طور پر استفادہ کرنے والوں کی تعداد تین سو چارہے… اور اس
وقت الحمدللہ اکیاون طلبہ مدرسہ میں زیر تعلیم ہیں… آپ
جانتے ہیں کہ مدرسہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ کیا ہے؟… یہ اپنی
نوعیت کا ایک منفرد مدرسہ ہے… قرآن عظیم الشان کے وہ’’حفاظ‘‘ جو قرآن پاک
بھول چکے ہیں انہیں اس مدرسے میں داخلہ دیا جاتا ہے… اور الحمدللہ تین ماہ کے عرصہ میں حفظ کی تجدید کرا دی جاتی
ہے… اس مدرسہ کو قائم ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا… آج جب مجھے مدرسے کے
ناظم صاحب کی طرف سے یہ خبر ملی کہ ماشاء اللہ ’’ایک سو ایک‘‘ حفاظ
کرام نے اس مدرسے سے حفظ کی تجدید کی ہے تو دل خوشی سے لبریز ہو کر… لا الہ
الا اللہ … پڑھنے لگا… کسی گھر کے روٹھے ہوئے لاڈلے کو
کوئی سمجھا بجھا کر اورمنا کرواپس گھر لے آئے تو گھر والے اُس سے کتنے خو ش ہوتے
ہیں… حفظ کرنے کے بعد قرآن پاک کوبُھلانے والے بھی… روٹھے ہوئے لوگ
ہیں… جی ہاں قرآن پاک سے بھاگے ہوئے، روٹھے ہوئے… شیطان کی پوری کوشش
ہوتی ہے کہ یہ واپس نہ آئیں… وہ حفظ کی تجدید کو پہاڑ بنا کر پیش کرتا
ہے… الحمدللہ مدرسہ اویس قرنی رضی
اللہ عنہ کے روحانی، اصلاحی ماحول میں یہ مشکل کام آسان ہو جاتا
ہے… رمضان المبارک قریب ہے…کچّے حفاظ سے درخواست ہے کہ… آپ جوق در جوق
اس مدرسہ میں تشریف لائیں… نہ کوئی فیس ہے، نہ ہی داخلے کی کڑی
شرائط… نہ مار، نہ پٹائی… نہ تشہیر نہ کوئی نمائش… محض ’’لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ کی نسبت سے قائم
ہونے والا ایک ادارہ… جہاں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے
لئے آپ کی خدمت کی جاتی ہے… اور آپ کے لئے حفظ قرآن کی سہولت کو مزید
آسان کیا جاتا ہے… مسلمانوں کو’’لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ ‘‘ کی برکت سے جو عظیم نعمتیں دنیا ہی میں مل گئی
ہیں… ان میں قرآن پاک بڑی نعمت ہے… اللہ تعالیٰ کا
شکر ہے !… قرآن پاک کی طرف جماعت کی توجہ شروع دن سے ہو گئی…اس وقت جماعت کے
زیر انتظام چھ مقامات پر ’’آیات جہاد‘‘ کا دورہ تفسیر جاری ہے… بلوچستان کے
دالبندین سے لے کر سرحد کے پشاور تک… راولپنڈی، مردان، کوہاٹ اورپتوکی
میں’’دورات تفسیر‘‘ جاری ہیں… اس سے پہلے’’دیر بالا‘‘ میں مردوں کا اور کراچی
میں خواتین کا ’’دورہ تفسیر‘‘ الحمدللہ بہت کامیاب رہا… یہ اپنی نوعیت کی ایک
منفرد اور قابل شکر نعمت ہے…جماعت کے زیر انتظام حفظ قرآن اور ناظرہ کے کئی مدارس
بھی چل رہے ہیں… اس سال بھی الحمدللہ
کئی خوش قسمت افراد نے حفظ قرآن کی تکمیل
کی ہے…قرآن پاک نے کلمہ طیبہ کی مثال اُس درخت سے دی ہے کہ جس کی جڑیں بہت
گہری…اورشاخیں آسمان تک بلند ہوتی ہیں… اور وہ
درخت اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہر وقت اپنا پھل دیتا رہتا
ہے… واقعی کلمہ طیبہ
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
کی
برکت ہے کہ… میدان عمل میں غزاۃ کا ہجوم ہے… میدان عمل کی تربیت پانے
والوں کی تعداد دولاکھ سے بڑھ چکی ہے… شہداء کرام سترہ سو… مساجد چالیس
کے لگ بھگ اور مدارس تیس کے قریب… نشریات کا دور دراز ملکوں تک روشنی
پھیلاتانظام اور سمندروں اور پہاڑوں سے ٹکراتی دعوت… لا الہ
الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ … اللھم صل
علیٰ سیدنا محمد… شروع میں دو واقعات عرض کرنے کا تذکرہ تھا… لا الہ
الا اللہ کی بہاروں میں قلم ایسا کھویا کہ کالم کی جگہ پوری
ہو چکی … اُن دو واقعات میں سے جو مفصل ہے اُسے چھوڑ دیتے
ہیں… دوسرا جو مختصر ہے اُس پر آج کی مجلس کا اختتام کرتے ہیں… امام
بیہقی سنے ’’الشعب‘‘ میں بکر بن عبد اللہ المزنی س سے نقل فرمایا ہے
کہ… ایک مشرک بادشاہ، اللہ تعالیٰ کا بہت سرکش باغی
تھا…( اُس نے مسلمانوں کے خلاف جنگ و قتال کی آگ بھڑکا رکھی تھی)… مسلمانوں
نے اُس کے مقابلے میں جہاد کیا اور اُسے شکست دے کر زند ہ گرفتار کر لیا… اب
آپس میں مشورہ ہوا کہ ایسے ظالم سرکش کو کس طرح سے قتل کیا جائے؟… بالآخر
اس بات پر اتفاق ہوا کہ تانبے کی ایک بڑی دیگ میں اسے ڈال دیا جائے اور اس دیگ کے
نیچے آگ جلائی جائے تاکہ… یہ تکلیف کا مزہ چکھے … چنانچہ اُسے دیگ
میں بٹھا دیا گیا… اور نیچے آگ جلا دی گئی…
اُسے
جب گرمی اور تکلیف پہنچی تو اُس نے اپنے اُن خداؤں اور دیوتاؤں کو پکارنا شروع
کیا جن کی وہ پوجا کرتا تھا… وہ ان دیوتاؤں کو پکارتا اور کہتا کہ میں نے
تمہارے لئے سجدے کئے، تمہارے لئے فلاں فلاں کام کئے… مجھے اس تکلیف اورعذاب
سے بچاؤ…دیگ گرم ہو رہی تھی اور کوئی دیوتا اُس کے کام نہیں آرہا تھا… جب
اُسے یقین ہو گیا کہ… یہ سب جعلی معبود اُس کے کسی کام کے نہیں تو اُس نے
آسمان کی طرف منہ اٹھایا اور کہا
لا
الہ الا اللہ
پھر
پورے اخلاص سے اللہ تعالیٰ سے دعاء کی اور کہا
لا
الہ الا اللہ
پس
اُسی وقت اللہ تعالیٰ نے بارش بھیج دی جس نے آگ کو بجھا
دیا… اور ایک زور دار ہوا آئی جو اُس دیگ کو اڑا کر لے گئی… اب وہ فضا
میں اڑتا جارہا تھا اور پڑھ رہا تھا
لا
الہ الا اللہ
پھر
ہوا نے اُسے کسی اجنبی قوم میں پھینک دیا جو اُسے نہیں جانتے تھے… وہ اس وقت
بھی دیگ میں پڑھ رہا تھا
لا
الہ الا اللہ
لوگوں
نے اُسے دیگ سے نکالااور پوچھا کہ تیرا کیا معاملہ ہے؟ اُس نے بتایا کہ میں فلاں
قوم کا بادشاہ ہوں… اورمیرے ساتھ یہ یہ معاملہ پیش آیا ہے…قصہ سن کر وہ پوری
قوم بھی ایمان لے آئی…
لا
الہ الا اللہ ،لا الہ الا اللہ ،لا الہ الا اللہ
دیکھا
آپ نے کلمے کی طاقت اور اُس کی تأثیر کا ایک سچا منظر…ہمیں بھی چاہئے کہ ہم اپنے
تمام مسائل اسی کلمے کی تاثیر اور طاقت کے ذریعہ حل کرائیں اور اس کلمے کو اپنی
روح اور دل میں اُتاریں
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ ، محمد رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ و بارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
مجھے اور آپ سب کو’’لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ ‘‘ پر ایمان کامل اور ’’ایمان دائم‘‘ نصیب فرمائے…
ہم
سب خوش نصیب ہیں کہ… اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے عظیم کلمے کا
تذکرہ کرنے کی توفیق عطاء فرما رہے ہیں…
الحمدللہ رب العالمین… کیا معلوم کہ یہ ہماری زندگی
کے آخری دن ہوں… اور حدیث شریف میں آیا ہے کہ جس کا آخری قول’’لا الہ
الا اللہ ‘‘ہو گا وہ جنت میں داخل ہوگا… الحمدللہ رب العالمین…
دو
واقعات عرض کرنے تھے… ایک توگذشتہ کالم میں آگیا… دوسرا واقعہ حضرت ابن
عباس رضی اللہ عنہماسے مروی ہے اور کچھ تفصیلی ہے… ہم اُس کا خلاصہ پیش کرتے
ہیں…
بنی
اسرائیل میں ایک عبادت گزار شخص تھا… لوگوں سے الگ تھلگ ایک غار میں قیام
پذیر… بنی اسرائیل اُس کی عبادت گزاری اور نیکی سے متاثر تھے، ایک بار انہوں
نے اپنے’’نبی علیہ السلام‘‘ کے سامنے اُس عابد کا تذکرہ کیا اور اُس کی
بہت تعریف کی… نبی علیہ السلام نے فرمایا… ہاں! اگر وہ شخص ایک سنت کا
تارک نہ ہوتا تو وہ ایسا ہی تھا جیسا کہ تم کہہ رہے ہو… بات عابد تک پہنچی وہ
پریشان ہو گیا کہ دن بھر روزہ رکھتا ہوں، پوری رات قیام کرتاہوں… پھر بھی
میں’’تارک ِسنّت‘‘ ہوں تو میں اپنے آپ کو کیوں تھکا رہا ہوں؟… وہ اپنی عبادت
گاہ سے اُتر آیا اور نبی علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا… سلام
دعاء کے بعد تعارف ہوا… اُس نے نبی سے پوچھا کہ آپ کا یہ فرمان مجھ تک پہنچا
ہے… نبی حنے فرمایا ہاں! تم نے شادی نہیں کی… یہ ہے تمہارا سنَّت
چھوڑنا… عابد نے کہا… بس یہی بات ہے؟ نبی نے فرمایا جی ہاں؟…عابد نے اس
بات کو کچھ ہلکا سمجھا تو نبی نے فرمایا… دیکھو! اگر تمام لوگ تمہاری طرح
نکاح کرناچھوڑدیں تو یہ نسل کس طر ح سے چلے گی؟ دشمنوں سے مسلمانوں کے بچوں کا
دفاع کون کرے گا؟ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کون کرے گا؟ عابد کو بات سمجھ
آگئی… انہوں نے عرض کیا… اے اللہ کے نبی! میں نے
نکاح کو خود پر حرام نہیں کیا بلکہ میں ایک فقیر آدمی ہوں… نکاح اور بیوی کے
اخراجات کی طاقت نہیں رکھتا… نبی نے فرمایا! میں اپنی بیٹی کا نکاح تم سے
کرتا ہوں… عابد راضی ہو گئے… نکاح ہوا اور اُن کا ایک بیٹا پید ا
ہوا… بنی اسرائیل اس لڑکے کی ولادت پر بہت زیادہ خوش ہوئے… وہ کہتے
تھے… یہ ہمارے نبی اور ہمارے عابد کا بیٹا ہے… یہ بہت اونچے مقام والا
ہو گا… مگر… جب وہ لڑکا بڑا ہوا تو مسلمانوں کو چھوڑ کر مشرکین سے جا
ملا… بہت سے لوگ بھی مرتد ہو کر اِس سے آملے …جب ان مشرکوں کی
تعداد زیادہ ہو گئی تو اُس نے ان مشرکوں سے کہا! کیا وجہ ہے کہ ہماری تعداد اتنی
زیادہ ہے پھر بھی یہ مسلمان ہم پر غالب ہیں… انہوںنے کہا! ان مسلمانوں کا
سردار اور امیر ہے…(یعنی یہ ایک جماعت کی صورت میں منظم ہیں) جبکہ ہمارا کوئی
سردار نہیں… اُس نے پوچھا کہ ان مسلمانوں کا سردار کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ
تمہارے نانا ان کے امیر ہیں… اُس نے کہا آج سے میں تمہارا سردار
ہوں… لوگ راضی ہو گئے اور وہ ان سب کا لشکر بنا کر مسلمانوں سے مقابلے کے لئے
نکلا… اُدھر مسلمانوں کو خبر ہوئی تو اس لڑکے کے نانا یعنی نبی ح اور والد
یعنی عابد بھی اپنا لشکر لے کر نکلے… انہوں نے اس نوجوان کو پیغام بھیجا
کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو، بت پرستی چھوڑو… یہ کیا ہے کہ
تم خود بھی مرتد ہوئے اور اب ان کافروں کے سردار بن کر ہم پر حملہ آور
ہو… مگر وہ نہیں مانا… دونوں لشکروں میں دو دن تک شدید جنگ
ہوئی… اس جنگ میں نبی علیہ السلام بھی شہید ہو گئے اور عابد
بھی… مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے… بہت سے شہید ہوئے اور بہت سے قیدی بنا
لئے گئے… اُس نوجوان نے کہا! میں نے عہد کیا ہے کہ ان مسلمانوں کا پیچھا کروں
گا اور پہاڑوں میں ان کو چُن چن کر ماروں گا…
باقی
ماندہ مسلمانوں نے … جب یہ صورتحال دیکھی تو ایک جگہ جمع
ہوئے… انہوں نے کہا! ہماری سلطنت ختم ہو گئی… ہمارے نبی اور عابدشہید ہو
گئے اور یہ اب بھی ہمارا پیچھا کر رہا ہے کہ ہم سب کاخاتمہ کر
دے… آؤ اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ استغفار کرتے
ہیں… تاکہ اگر ہم مارے بھی جائیں تو توبہ کی حالت میں قتل ہوں… انہوں نے
سچے دل سے توبہ کی اور اپنے میں سے ایک کو اپنا امیر مقرر کیا اور جہاد کے لئے
تیار ہوگئے… تین دن تک دونوںلشکروں میں گھمسان کی لڑائی ہوئی… جب اللہ تعالیٰ
نے انہیں ایمان او ر توبہ پر سچا اور ثابت قدم پایا تو اُن پر رحمت کی توجہ
فرمائی… اچانک ہوا چلنے لگی، مسلمانوں کے امیر نے کہا مجھے امید ہے کہ ہماری
توبہ قبول ہو گئی ہے… میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ ہوا ہماری نصرت کے لئے اُتاری
گئی ہے… اگر اللہ تعالیٰ تمہیں فتح دے تو کوشش کرنا کہ
یہ نوجوان زندہ گرفتار ہو جائے… لڑائی شروع ہوئی… دن کے آخری حصے
میں اللہ تعالیٰ کی نصرت نازل ہوئی مشرکین کو شکست
ہوئی… مسلمانوں کو اُن کا علاقہ واپس مل گیا اور وہ نوجوان زندہ گرفتار کر
لیا گیا… مسلمانوں کے بڑے جمع ہو کر اُس کے بارے میں مشورہ کرنے لگے کہ ایسے
مجرم کے ساتھ کیا کیا جائے؟… کسی نے کہا اسے آگ میں جلا دو… کسی نے کہا
اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دو… امیر نے کسی کی بات نہ مانی تو سب نے کہا آپ جو
مناسب سمجھیں کرلیں… امیر نے حکم دیا کہ اسے زندہ سولی پر لٹکا دیا
جائے… اُسے لٹکا دیا گیا… اُس کے ارد گرد سخت پہرہ مقرر تھا… وہ
تین دن تک اسی طرح بھوکا پیاسا لٹکا رہا… تین دن بعد رات کے درمیانی حصے میں
اُس کی ہمت جواب دے گئی… وہ ایک ایک کر کے اپنے بتوں کو پکارتا رہا… مگر
کوئی جواب نہ آیا… بالآخر اُس کے دل سے سارے بت نکل گئے… اور دل میں’’
لا الہ الا اللہ ‘‘ آگیا… اُس نے پکار کر
کہا… یا اللہ ! میں تکلیف میں ہوں، میں جن کی پوجا کرتا تھا اگر
ان میں کوئی خیر ہوتی تو وہ میری مدد کرتے اے میرے نانا اور والد کے رب میں آپ کے
حضور توبہ کرتا ہوں آپ مجھے اس مصیبت سے خلاصی عطاء فرمائیے… میں توبہ کرتا
ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں… پس اُسی وقت رسی کھل گئی او ر وہ زمین پر
آگیا پہرے دار اس کو پکڑ کر اپنے امیر کے پاس لائے… امیر نے کہا تمہارا اس
کے بارے میں کیا مشورہ ہے… انہوں نے کہا ایسے آدمی کے بارے میں ہم کیا مشورہ
دیںجسے اللہ پاک خلاصی عطا فرما رہاہے… چنانچہ اُسے
چھوڑ دیا گیا…
حضرت
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں… اللہ کی قسم اس کے
بعدبنی اسرائیل میں اُس سے بہتر کوئی شخص نہیں تھا… (اخرجہ البیہقی
فی’’الشعب‘‘)
دیکھا
آپ نے’’لا الہ الا اللہ ‘‘کیسے کیسے گناہوں کو مٹا دیتا ہے… اس
نوجوان کے گناہ تو شمار کریں… ایک ایک گناہ ایسا ہے کہ زمین لرز
جائے… مگرجب دل کی سچائی کے ساتھ’’لا الہ الا اللہ ‘‘پر آیا تو
سب کچھ مٹا دیا گیا…
اس
واقعہ سے کئی اہم اسباق ملتے ہیں مثلاً
(۱) نکاح
تمام انبیاء د کی سنّت ہے… نکاح سے ایمان کو قوت اورحفاظت ملتی ہے… اس
لئے شریعت کے مطابق نکاح کا اہتمام کیا جائے…
(۲) جب کوئی ایسا رشتہ مل جائے جو دین کے اعتبار سے
پسندیدہ ہو تو پھر مال وغیرہ کی فکر میں نہ پڑا جائے… بنی اسرائیل کے نبی کو
ایک ایسا شخص اپنی بچی کے لئے ملا جو اگرچہ بالکل فقیر او ر نادار تھا… مگر
اُس کی دینی حالت قابل رشک تھی تو انہوں نے خود کہہ کر رشتہ عطاء
فرمادیا… آج کل بہت سے لوگ اپنی مسلمان بیٹیوں کو صرف مال کی خاطر… سود
خور، بے نمازی، بددین اور بے ایمان لوگوں کے ساتھ باندھ دیتے ہیں… اوریوں اُس
کا اور اُس کی نسل کا پورا مستقبل برباد کر دیتے ہیں… اے ایمان والو! خود بھی
آگ سے بچو اور اپنے خاندانوں کو بھی اُس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اورپتھر
ہوں گے…
(۳) جہاد سابقہ اُمتوں میں بھی مشروع تھا اور بڑا
عمل تھا… حتیٰ کہ نکاح بھی اس لئے کیا جاتا تھا کہ جہاد کرنے کے لئے افراد
پیدا ہوں… امام بخاری س نے اس موضوع پر مستقل باب باندھا ہے کہ… کوئی
شخص اس نیت سے بیوی سے ملے کہ اللہ تعالیٰ مجھے جہاد کرنے
والا بیٹا عطاء فرمائے…
(۴) اسلامی برادری کی بنیاد’’دین‘‘ پر ہے نہ کہ
علاقہ، خاندان یا زبان پر… جب وہ لڑکا مرتد ہو گیا… اور مسلمانوں کے
خلاف لڑنے نکلا تو وقت کے نبی اور عابد اُس کے مقابلے میں جہاد کے لئے تشریف لے
گئے… خاندانی تعلق دین کے راستے کی رکاوٹ نہ بنا…
(۵) جماعت، تنظیم، نظم و ضبط اور ایک امیر کا ہونا
یہ غلبے اور کامیابی کا ذریعہ ہے… اور کامیابی کا یہ راز سب کے لئے ہے خواہ
مسلمان ہوں یا کفار… جو بھی پوری طرح متحد ہوتا ہے اُسے دنیاوی طور پر ترقی
اور فائدہ ملتا ہے… البتہ مسلمانوں کے لئے یہ اس لئے بھی لازم ہے
کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کا حکم فرمایا ہے اور جناب
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بہت زیادہ تاکید فرمائی
ہے…چنانچہ جو لوگ اپنی ذاتی اغراض… اورمفادات کے لئے جماعت کو کمزور کرتے ہیں
وہ مسلمانوں کے دشمن اور اُن کی ترقی میں رکاوٹ ہوتے ہیں…
(۶) کفر اور اسلام کے مقابلے میں… اسی طرح حق
اور باطل کے مقابلے میں کبھی کبھی کچھ وقت کے لئے کفر اور باطل کو غلبہ بھی حاصل
ہو سکتا ہے…جیسے اس واقعہ میں آپ نے پڑھا کہ… مشرکین غالب آگئے حتیٰ کہ
مسلمانوں کے نبی اور عابد بھی شہید ہو گئے اور اُن کے علاقے پر بھی کافروں کا قبضہ
ہو گیا… اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ خدانخواستہ کفر برحق تھا… بلکہ اس
طرح کے حالات میں بہت سی حکمتیں ہوتی ہیں… قرآن پاک میں غزوہ اُحد کے حالات
پڑھیں تو اس طرح کی صورتحال کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے…
(۷) جہاد
میں شہید ہونا بہت عظیم سعادت ہے… یہ محرومی، ناکامی اور ہلاکت نہیں
ہے… سابقہ اُمتوں میں کئی انبیاء د اور اُن
کے اللہ والے ساتھی جہاد کرتے ہوئے شہید ہوئے… شہادت
کی موت ایسی چیز ہے کہ اس میں مارنے والا ناکام اور مرنے والا کامیاب ہوتا
ہے… سبحان اللہ وبحمدہ
سبحان اللہ العظیم…
(۸) جب اہل اسلام پر جہاد میں مشکل وقت آئے تو وہ
اس فکر میں نہ پڑیںکہ اب ہم نے جان بچانی ہے… اور باقی زندگی کسی جگہ امن چین
سے گزارنی ہے… بلکہ اُن کوفوراً یہ فکر لاحق ہو جانی چاہئے کہ کہیں یہ تمام
حالات ہمارے گناہوں کی وجہ سے تو نہیں آئے؟… چنانچہ فوراً استغفار کی طرف
متوجہ ہوجانا چاہئے… یہی مؤمن اور منافق کا بڑا فرق ہے… جب مشکل حالات
آتے ہیں تو منافق چیخ پڑتاہے کہ’’ہائے میری جان‘‘… اور مؤمن تڑپ کر کہتا
ہے’’ہائے میرا ایمان‘‘… منافق ایسے حالات میں بھگدڑ مچا دیتے ہیں… خوف
کی باتیں کرتے ہیں اور الگ رہ کر جان بچانے کے چکر میں پڑے رہتے ہیں… جبکہ
اہل ایمان فوراً توبہ، استغفار میں لگ کر اللہ تعالیٰ کے
ساتھ اپنا معاملہ درست کرنے کی فکر کرتے ہیں…
(۹) جہاد میں اگر عارضی شکست ہو جائے تو جلد از جلد
دوبارہ حملہ کرنے کی ترتیب بنائی جائے… اس سے شکست کے بُرے اثرات دُھل جاتے
ہیں… اور فتوحات کے دروازے کُھل جاتے ہیں…
شکست
کے بعد اگرآدمی پیچھے ہٹ کر بیٹھ جائے تو وہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جاتا
ہے… لیکن اگر وہ کسی طرح دوبارہ حملہ آور ہو جائے تو اُس کے لئے کامیابی
تقریباً یقینی بن جاتی ہے… غزوہ اُحد میں ظاہری شکست کھانے والوں نے جب زخمی
حالت میں… غزوہ حمراء الاسد کا سفر کیا تو حالات کا پورا نقشہ ہی بدل
گیا… اس واقعہ میں بھی بنی اسرائیل کے بچے کھچے لوگوں نے جب نیا امیر مقررکر
کے مقابلہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی نصرت فرمائی…
(۱۰) مسلمان
کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے وابستہ رہنا
چاہئے… اور اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ جُڑا رہنا
چاہئے… بڑی اورعظیم شخصیات کا مقام بہت اونچا … مگر ہر کسی نے موت
کا مزہ چکھنا ہوتاہے… جب کوئی آدمی اپنے ایمان یا اپنے دینی کام یا اپنے
جذبے کو شخصیات کے ساتھ معلّق رکھتا ہے تو وہ ٹھوکر کھاتا ہے… اس واقعہ میں
بنی اسرائیل کے نبی شہید ہو گئے… عابد شہید ہو گئے… بے شمار مسلمان شہید
ہو گئے…مگر باقی ماندہ افراد نے یہ کہا کہ… اللہ تعالیٰ تو
موجود ہے… وہ حیٌّ قیوم ہے…ہم اُسی سے توبہ کریں اوراُسی کی خاطر
لڑیںتو… اللہ تعالیٰ نے پوری قوم کو بچالیا… جہاد کے
میدان میں امیر بھی شہید ہو سکتا ہے اور کمانڈر بھی…مسلمانوں کو چاہئے کہ ایسے
حادثات کے لئے ہر لمحہ تیار رہا کریں… اورجب ایسے حادثات ہو جائیں تو ثابت
قدم رہا کریں… یہ تو ہوئے دس اسباق… مگر سب سے اہم سبق یہ ہے کہ’’لا الہ
الا اللہ ‘‘ہر طرح کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے… خواہ و ہ گناہ
سمندروں سے بھی بڑے ہوں… مگر شرط یہ ہے کہ’’لا الہ الا اللہ ‘‘
اخلاص کے ساتھ پڑھا جائے… اخلاص کیسے پید ا ہو؟… تو اس کا بھی سب سے
مؤثر طریقہ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ کثرت سے پڑھنا ہے…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ،لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ …
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ،لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ …
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
مجھے اورآپ سب کو ’’ لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ ‘‘ کا ’’رنگ‘‘ نصیب فرمائے… اور مجھے اور آپ سب کو’’
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ کے نور سے
منوَّرفرمائے… آج بھی ان شاء اللہ ’’کلمہ طیبہ‘‘ کے بارے میں چند باتیں ہوں
گی… ان باتوں کو لکھنے اور پڑھنے سے پہلے میں اور آپ اخلاص کے ساتھ کلمہ
طیبہ پڑھ لیں…
لا
الہ الا اللہ ، لاالہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ … الحمدللہ ربّ العالمین…
ایک
صاحب نے اطلاع دی ہے کہ انہوں نے… روزآنہ دس ہزار بار ’’ لاالہ
الا اللہ ‘‘کے ورد کو اپنا معمول بنا لیا
ہے… اللہ تعالیٰ قبول فرمائے… ایک صاحب نے پوچھا ہے
!کیا میں اپنے تمام وظائف چھوڑ کر ’’ لاالہ الا اللہ ‘‘ کے وردکو ہی
اپنا معمول بنا لوں؟ … بقول اُن کے اس سے بہت فائدہ ہو رہا ہے… اُن
سے عرض کیا کہ تلاوت اور درود شریف بھی ساتھ جاری رکھیں… باقی تمام وقت بے شک
یہی عظیم کلمہ پڑھتے رہیں… لوگوں کے حالات مختلف ہوتے ہیں… الحمدللہ بہت سے لوگ کلمہ طیبہ کی طرف متوجہ ہوئے
ہیں… یہاں ایک خوشخبری بھی سُن لیں…’’جامع مسجد نور ڈسکہ‘‘ کا نام تو آپ نے
سنا ہوگا… لوگ دور دور سے اس دلکش اور حُسن کی پیکرمسجد کو دیکھنے آتے
ہیں… جی ہاں ظاہری اور باطنی دونوں طرح کی خوبصورتی، رعنائی اور
دلکشی… کلمے، نماز اور جہاد کے نور سے منوّر… آیاتِ جہاد سے مرصّع اور
منقّش… ایک بندۂ درویش کی قربانی کا روشن
نمونہ… اللہ تعالیٰ اس مسجد کو تا قیامت آباد
رکھے… میں آخری بار جب وہاں گیا تھا وہ منظر آج بھی آنکھوں میں
ہے… راستے کے دونوں طرف جہادی پرچم لہرا رہے تھے… میں اُن کی اٹھکیلیاں
دیکھ کر کچھ دیر کے لئے ’’کھو‘‘ سا گیاتھا… ہر طرف لوگ ہی لوگ تھے… سب
خوش اور پرجوش… پولیس اور خفیہ والے بھی بہت تھے… مگر وہ یوں لگ رہے تھے
جیسے اعلیٰ باسمتی کے چاولوں میں چند کالے دانے… پھر ایک جلسہ ہوا… فلک
بوس نعرے اور ایمانی جذبات… خیر وہ تو پُرانی بات ہو گئی… تازہ خبر یہ
کہ کل رات پھر وہاں رونق چمکی ہے… مسجد کے ساتھ ایک دیدہ زیب اور دلکش
’’قرآن ہال‘‘ کا افتتاح ہوا ہے… جو بھی اس عمارت کو دیکھتا ہے وہ ’’ماشائ
اللہ ‘‘ پڑھتا ہے… قرآن عظیم الشان کی خدمت کا ایک نیا اسلوب… ایک کروڑ
دس لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیرہونے والا ایک’’ ہال‘‘… جہاں صرف اور صرف
’’ اللہ رب العالمین‘‘ کا کلام پڑھاجائے گا… یاد کیا
جائے گا اور پڑھایا جائے گا… کتنے خوش نصیب ہیں وہ پتھر، اینٹیں اور
مٹی… جو صرف قرآن پاک سنیں گے… اور اُن سے بڑھ کر ہیں وہ خوش نصیب
جنہیں اس ’’کارخیر‘‘ کی توفیق ملی… کل رات گئے تک ایک پرجوش اور پرنور جلسہ
ہوتا رہا… حفاظ کی دستار بندی ہوئی اور مجاہدین کرام کے بیانات
ہوئے… میں کچھ دور بیٹھ کر اس بابرکت مجلس میں شریک رہا… رات ڈیڑھ بجے
دعاء کے ساتھ اختتام ہوا… اور یوں ہزاروں افراد تک جہاد کی دعوت
پہنچی… ہے نا شکر اور خوشی کی بات؟…
لا
الہ الا اللہ ، لاالہ الا اللہ ،لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ …
الحمدللہ رب العالمین…
حضرت
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کانام گرامی تو آپ
نے بارہا سنا ہوگا… آپ کی ولادت ۱۱۱۴ھ اور وفات
تریسٹھ سال کی عمر میں ۱۱۷۶ھ
کو ہوئی… آپ نے ایک سو سے زائد کتب تصنیف فرمائیں، ان میں سے بہت سی کتابیں
شائع ہو کر’’اُمت مسلمہ‘‘ کے نفع کا ذریعہ بنیں… ’’حجۃ اللہ
البالغہ‘‘… حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور زمانہ تصنیف ہے… حضرت
شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اس کتاب میں’’احکام شریعت‘‘ کی حکمتوں کو بیان فرمایا
ہے… اور اسلام پر کئے جانے والے عقلی اعتراضات کا دندان شکن جواب دیا
ہے… اصل کتاب عربی میں ہے مگر کئی زبانوں میں اس کا ترجمہ ہو چکا
ہے… حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنی اس مایہ ناز کتاب میں لکھتے ہیں
کہ… ’’ لاالہ الا اللہ ‘‘کے فوائد تو بہت زیادہ ہیں مگر ان
میں سے تین فائدے بہت اہم ہیں…
(۱) شرک جلی کو دور کرنا
(۲) شرک خفی… یعنی ریاکاری کو دور کرنا
(۳) اللہ تعالیٰ کی معرفت کے راستے
میں جو پردے اور حجابات آتے ہیں اُن کو دور کرنا…
مطلب
آپ سمجھ گئے ہوں گے… شرک سب سے بڑا جُرم اور گناہ ہے… قرآن پاک میں
واضح اعلان ہے کہ اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں
فرماتا… اور شرک کرنے سے انسان کے تمام اعمال بالکل ضائع اور ختم ہوجاتے
ہیں… شرک سے بچنا اتنا ضروری ہے کہ اگر اس کی خاطر دنیا کی آگ میں جلنا پڑے
تو وہ بھی خوشی سے گوارہ کر لینا چاہئے … تمام انبیاء علیہم السلام نے
اپنی قوموں کو شرک سے بچنے کا بہت تاکیدی حکم دیا … لا الہ
الا اللہ … شرک سے بچاتاہے… سبحان اللہ
! کتنی عظیم تأثیر اور فائدہ ہے… شرک کی ایک چھوٹی قسم ’’ریاکاری‘‘ ہے جسے
شرک خفی کہتے ہیں… یہ بہت موذی، ناپاک اور خطرناک بیماری ہے جو چپکے سے دل
میں داخل ہو جاتی ہے اور انسان کے اعمال کو کھا جاتی ہے… لا الہ
الا اللہ … ریاکاری سے حفاظت کا ذریعہ ہے… اور تیسرا
فائدہ یہ بتایا کہ… اللہ تعالیٰ کی معرفت اور پہچان ایک
انسان کے لئے سب سے بڑا علم ہے… مگربہت سے ایسے پردے، حجابات اور رکاوٹیں ہیں
جن کی وجہ سے انسان اللہ تعالیٰ کی معرفت، محبت اور پہچان
سے محروم رہتا ہے… لا الہ الا اللہ کی تأثیر یہ ہے کہ
وہ ان تمام پردوں اور رکاوٹوں کو دور کر کے انسان کے لئے اپنے مالک، معبود اور
خالق کو پہچاننا آسان کر دیتا ہے… سبحان اللہ وبحمدہ
سبحان اللہ العظیم…
تھوڑا
سا سوچیں کہ اگر مجھے اور آپ سب کو ’’ اللہ رب العالمین‘‘
کی معرفت نصیب ہو جائے تو ہمیں اور کیا چاہئے… آئیں اب حضرت شاہ
صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت کا ترجمہ پڑھتے ہیں…
’’ان
(اذکار) میں سے ایک ’’ لاالہ الا اللہ ‘‘ہے ، اس کے بہت سے بطون(یعنی
فائدے اور راز ہیں) پہلا بطن(یعنی فائدہ) شرک جلی کو دور کرنا ہے اور دوسرا شرک
خفی کو دور کرنا ہے اور تیسرا اللہ تعالیٰ کی معرفت تک پہنچنے سے روکنے
والے پردوں کو دور کرنا ہے اور اسی کی طرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے
اس فرمان میں اشارہ ہے ’’ لاالہ الا اللہ ‘‘کے
لئے اللہ تعالیٰ سے ورے کوئی پردہ نہیں یہاں تک کہ یہ کلمہ
سیدھا اللہ تعالیٰ تک پہنچتا ہے‘‘…(حجۃ اللہ البالغۃ،
الا ذکار وما یتعلق بھا)
حضرت
شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:
مُلّا
علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ تمام ذکروں میں
افضل اور سب سے بڑھا ہوا ذکر کلمہ طیبہ ہے کہ یہی دین کی وہ بنیاد ہے جس پر سارے
دین کی تعمیر ہے اور یہ وہ پاک کلمہ ہے کہ دین کی چکّی اسی کے گرد گھومتی ہے، اسی
وجہ سے صوفیہ اور عارفین اسی کلمہ کا اہتمام فرماتے ہیں اور سارے اذکار پر اس کو
ترجیح دیتے ہیں اور اس کی جتنی ممکن ہو کثرت کراتے ہیں، کہ تجربہ سے اس میں جس قدر
فوائد اور منافع معلوم ہوئے ہیں کسی دوسرے میں نہیں…(فضائل ذکر)
اخلاص
پیدا کرنے کے لئے بھی جس قدر مفید اس کلمہ کی کثرت ہے اتنی کوئی دوسری چیز نہیں کہ
اس کلمہ کا نام ہی’’جلاء القلوب‘‘(دلوں کی صفائی) ہے… اسی وجہ سے حضرات صوفیہ
اس کا ورد کثرت سے بتاتے ہیں اور سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کی مقدار میں روزآنہ
کا معمول تجویز کرتے ہیں…(فضائل ذکر)
ایک
مسلمان کو اور کیا چاہئے؟… اخلاص نصیب ہو جائے
سبحان اللہ … یہ بہت بڑی کامیابی اور منزل ہے… اخلاص کے
بغیر نہ نماز قبول، نہ علم قبول، نہ شہادت قبول… اور نہ سخاوت قبول…
شرک
سے حفاظت ہو جائے … یہ بڑی کامیابی ہے … شرک
سے اللہ پاک بہت نفرت فرماتے ہیں… ریاکاری سے حفاظت ہو
جائے… یہ بڑی حصول یابی ہے کہ اسکی وجہ سے اعمال ضائع ہونے سے بچ جاتے
ہیں… اللہ تعالیٰ کی معرفت نصیب ہو جائے… یہ تو بہت
اعلیٰ مقام ہے… اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو نصیب
فرمائے…
حضرت
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کا نام بھی آپ نے بارہا سنا ہو گا… انہوں نے اپنی
معروف کتاب’’احیاء العلوم‘‘ میں ’’کلمہ طیبہ‘‘ کے فضائل پر کئی احادیث اور روایات
ذکر فرمائی ہیں… اور لکھا ہے کہ کلمہ طیبہ کے کئی نام ہیں مثلاً
(۱) کلمۂ
توحید
(۲) کلمۂ
اخلاص
(۳) کلمۂ
تقویٰ
(۴) کلمۂ
طیبہ
(۵) دعوۃ
الحق(سچی پکار)
(۶) عُروۃ
الوثقی(مضبوط حلقہ)
(۷) ثمن
الجنۃ(جنت کی قیمت)
اور
خود قرآن پاک نے اس کلمہ کو ’’القول الثابت‘‘ یعنی پکّی بات اور مضبوط ترین بات
قرار دیا ہے…
لا
الہ الا اللہ ، لاالہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد
رسول اللہ … اللھم صل علیٰ سیدنا محمد… و
الحمدللہ رب العالمین
ایک
حدیث شریف میں ہمارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت
کو اس کی تلقین فرمائی ہے کہ… لا الہ الا اللہ کی کثرت
کیا کرو اس سے پہلے کہ وہ رکاوٹ آجائے جو تمہیں اس کلمہ کے پڑھنے سے روک
دے… یعنی موت آنے سے پہلے پہلے اس کلمے کو پکّا کر لیا جائے تاکہ… آگے
کی تمام منزلیں آسان ہو جائیں… حضرت فقیہ ابو اللیث ثمرقندی رحمۃ اللہ علیہ
لکھتے ہیں کہ ہر شخص کے لئے ضروری ہے کہ کثرت سے ’’لا الہ
الا اللہ ‘‘ پڑھتارہا کرے اور حق تعالیٰ شانہ سے ایمان کے باقی رہنے کی
دُعاء بھی کرتا رہے اور اپنے گناہوں سے بچتا رہے…(فضائل ذکر)
’’کلمہ
طیبہ‘‘ کے فضائل، خواص، فوائد اور تأثیریں بہت زیادہ ہیں… ان شاء اللہ ’’رنگ ونور‘‘ کی کسی محفل میں ان
تمام فوائد اور فضائل کا خلاصہ عرض کر دیا جائے گا… آج صرف ایک حدیث شریف
پڑھتے ہیں کہ ہمارے محبوب آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کس تاکید
کے ساتھ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ہاتھ اٹھوا کر کلمہ طیبہ
پڑھایا کرتے تھے… اس روایت کو پڑھ کر آپ کو بھی یہ اندازہ ہوگا کہ… رنگ
ونور میں کئی ہفتے سے ’’کلمہ طیبہ‘‘ کے موضوع کو اختیار کرنے کی وجہ کیا ہے…
’’حضرت
شدّاد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اورحضرت عُبادہ بن
صامت رضی اللہ عنہ اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ
ہم لوگ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے… حضور
صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:کوئی اجنبی (یعنی غیر مسلم) تو
مجمع میں نہیں؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کوئی نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے بند
کرنے کاحکم فرمایا… اور ارشاد فرمایا اپنے ہاتھ اٹھاؤ اور کہو’’ لا الہ
الا اللہ ‘‘ ہم نے تھوڑی دیر ہاتھ اٹھائے رکھے(اور کلمہ طیبہ پڑھتے
رہے) پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا… الحمدللہ !
یا اللہ آپ نے مجھے یہ کلمہ دے کر بھیجا ہے اور اس کلمہ پر
جنت کا وعدہ فرمایا ہے اور آپ وعدہ خلافی نہیں فرماتے اس کے بعد
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ خوش ہو جاؤ، بے
شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری مغفرت فرما دی ہے…(مسند احمد از
فضائل ذکر)
بے
شک کلمہ طیبہ بہت ہی عظیم نعمت ہے، یہ ایمان کی جڑ ہے، اسی لئے اس کی جتنی بھی
کثرت کی جائے گی اتنی ہی ایمان کی جڑ مضبوط ہوگی…
لا
الہ الا اللہ ، لاالہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ … و الحمدللہ
رب العالمین…
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ ، لاالہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ …
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
اپنا فضل فرما کر مجھ سے اور آپ سب سے اپنے دین کا مقبول کام لے… اور ہم سب
کو’’کارآمد‘‘ بنا دے… کراچی میں ایک اور ذمّہ دار ساتھی’’شہید‘‘ کر دیئے
گئے… جناب قاری سلیم صاحب شہید… اللہ تعالیٰ اُن کے
درجات بلند فرمائے، اُن کی شہادت قبول فرمائے… اور اُن کی نیکیوں کا بہترین
بدلہ انہیں عطاء فرمائے…اور اُن کے خاندان کو صبر جمیل نصیب فرمائے… انا ﷲ
وانا الیہ راجعون… کراچی کو’’کلمہ طیبہ‘‘ کی ناقدری کے عذاب نے کھا لیا…’’ لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ پڑھنے والے جب
خود کو مسلمان کہنے اور سمجھنے کی بجائے… اپنی نسبت زبانوں، قبیلوں اور
علاقوں کی طرف فخر سے کرنے لگیں تو پھر وہ… کہیں کے نہیں رہتے… جی
ہاں اللہ تعالیٰ کی غلامی سے نکلنے والے لوگ ہمیشہ ’’بدکار
ظالموں‘‘ کے غلام بن جایا کرتے ہیں… کراچی پر ظلم کا عفریت مسلّط
ہے… مگر پھر بھی بہت سے لوگ’’کلمہ طیبہ‘‘ کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں… وہ خود
کو مسلمان کہتے اور مسلمان سمجھتے ہیں… وہ گلی گلی نماز اور جہاد کی دعوت
دیتے ہیں… ایسے لوگ جب ناحق مارے جاتے ہیں تو پھر اُن کی عظمت اورشہادت میں
کیا شبہہ رہ جاتا ہے… بھائی سلیم صاحب! آپ کی روح کو ہمارا سلام پہنچے، آپ
آگے چلے گئے … ہم سب بھی آپ کے پیچھے آنے والے ہیں… ان
شاء اللہ … اللہ تعالیٰ
آپ کی مغفرت فرمائے… اور ہم سب کی بھی… موت کا وقت مقرر ہے… اور
موت سے ڈرکر دین کا کام چھوڑ دینا… اور جہاد سے بیٹھ جانا بڑی بیوقوفی اور
ناکامی ہے… لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ … و
الحمدللہ رب العالمین…ڈسکہ میں’’قرآن
محل‘‘ کی تعمیر سے دل بہت خوش ہے… محترم چوہدری صاحب اور جس جس نے اس کار خیر
میں حصہ لیا اُن سب کو مبارک… گزشتہ رات جماعت کی کارگزاری سُن رہا
تھا… الحمدللہ صرف اس سال تیس سے
زائد افراد نے حفظ قرآن مکمل کیا ہے… اور جن بُھولے ہوئے حفاظ نے دوبارہ یاد
کیا ہے اُن کی تعداد ان کے علاوہ ہے… واقعی شکر کا مقام ہے… و الحمدللہ رب العالمین… ابھی جب’’رنگ و نور‘‘ لکھنے
بیٹھا تو خبر آئی کہ الحمدللہ ’’جامع مسجد سبحان اللہ ‘‘ کی پہلی
چھت پڑ گئی ہے… سبحان اللہ وبحمدہ
سبحان اللہ العظیم… جامع مسجد
سبحان اللہ کی پہلی چھت… اللہ ، اللہ
، اللہ … کتنا مزہ آیا … مسجد
میرے اللہ کا گھر ہے… نماز، اذان اور سجدوں کی
جگہ… اسلام اور مسلمانوں کی مرکزیت کا
مقام… ماشاء اللہ اتنی بڑی چھت تھی کہ ایک سو افراد دو
تین دن تک مسلسل لگے رہے… اس خوشی کی کِس کِس کو مبارک دوں… آپ سب کو
ہی مبارک… اور سب سے بڑھ کر پیارے حضرت اباجی رحمۃ اللہ علیہ کو
مبارک… وہ جب سے ہمیں چھوڑ کر وہاں گئے ہیں… اُن کی مرقد کے ارد گرد ماشاء اللہ آبادی
ہی آبادی ہے… ایک دارالقرآن بن رہا ہے… مدرسہ اویس قرنی رضی اللہ
عنہ زوروں پر ہے… اور اب جامع مسجد
سبحان اللہ … لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ … و الحمدللہ رب العالمین
ایک
وقت تھا جب مجاہدین کے پاس اپنی مساجد نہیں تھیں… دنیا دار کمیٹیوں والے خوف
کی وجہ سے جہاد کا بیان نہیں کرنے دیتے تھے…استغفر اللہ ، استغفر
اللہ … جہاد، اللہ تعالیٰ کا محکم اور قطعی فریضہ
ہے… اس کی مخالفت کوئی سچا مسلمان کر ہی نہیں سکتا … مگر قادیانی
اثرات اور حبّ دنیا نے غضب ڈھا رکھا ہے…جہاد کی مخالفت بڑی بدقسمتی ، بڑی
نحوست… اور کسی گندے گناہ کے اثرات کی وجہ سے ہوتی
ہے… اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے… قرآن پاک کی ایک
آیت کا انکار بھی سنگین جُرم اور کفر ہے… جبکہ جہاد وقتال کی آیات سے قرآن
پاک بھرا ہو ا ہے… مساجد کی کمیٹیوں میں عام طور پر مالدار لوگوں کو رکھا
جاتا ہے… تاکہ بل اور تنخواہیں ادا کرنا آسان رہے … اور مالدار
لوگ اکثر جہاد سے محروم رہتے ہیں… سوائے اُن کے جن
پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل اور رحمت ہو… اب الحمدللہ پورے ملک میں جگہ جگہ ایسی مساجد آباد ہیں جن
میں جہاد سمیت پورے دین کو بیان کیا جا سکتا ہے… اس سال تو ہم نے مساجد کے
پلاٹ لینے میں کافی سختی کی… اکثر درخواستیں منظور نہیں کی گئیں… فی
الحال ہم اتنی استطاعت نہیں رکھتے کہ جو بھی پلاٹ دے اُس پر مسجد بنا
سکیں… اور پھر اُسے آباد بھی کریں…
صرف
مسجد بنانا ہی کافی نہیں ہوتا … اُسے مسجد نبوی شریف کے اعمال سے آباد
کرنا اصل کام اور مقصد ہے… فی الحال بیالیس مساجد میں نماز، اور جمعہ کے
علاوہ… روزآنہ کی تلاوت، روزآنہ درس قرآن…بالغ افراد کی دینی
تعلیم… اور فضائل جہاد کی تعلیم کو قائم کرنے کی محنت کامیابی کے قریب
ہے… یہ مرحلہ مکمل ہو تو ان شاء اللہ کام کو آگے بڑھایا
جائے … بہر حال کافی سختی کے باوجود کئی پلاٹوں کی درخواستیں منظور
ہوئیں… یہ اللہ پاک کا فضل اور شکر ہے کہ اُس نے
مجاہدین کو ان کاموں میں لگاکر اُن کے جہاد کو ترقی، قبولیت اور حفاظت عطاء فرمائی
ہے… ورنہ محاذوں سے آنے کے بعد مجاہدین بے کار کاموں میں اپنا وقت اور اجر
ضائع کرتے تھے… اور دفاتر کا زہریلا ماحول اُن کے ایمان کو چاٹ
لیتاتھا… اب ماشاء اللہ نئی مساجد کے پلاٹوں کا کام
جاری ہے… کاغذات وغیرہ درست ہو جائیں… اور جامع مسجد
سبحان اللہ قائم ہو جائے… تو پھر ان شاء
اللہ جلد ہی ان پلاٹوں پر مساجد کی تعمیر شروع ہوگی… واہ میرے
مالک واہ… محاذوں سے لے کر مساجد
تک اللہ اکبر، اللہ اکبر… اللہ اکبر، اللہ اکبر…
لا
الہ الا اللہ ،لا الہ الا اللہ ،لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ … اللھم صل
علیٰ سیدنا محمد…
ہم
مسلمانوں کا اذان سُن کر اتنا دل خوش ہوتا ہے کہ کیا بتائیں… لوگ بدبودار
فنکاروں کے گانے سُن کر خوش ہوتے ہیں… مگر کلمے والے اذان سُن کر ایسا لطف
لیتے ہیں کہ… اُس کے سامنے کیا موسیقی اور کیا
نغمے… اللہ اکبر، اللہ اکبر…
خطوط
میں کئی افراد نے اطلاع دی ہے کہ انہوں نے… تکبیر اولیٰ کے ساتھ چالیس دن کی
نمازوں کامبارک چلّہ پورا کیا ہے… ایک محبوب شخصیت نے بتایا کہ انہوں نے
ماشاء اللہ دو چلّے پورے کئے … ان سب کو دل کی
گہرائی سے مبارک ہو… مسلمان کی زندگی میں نماز کا آجانا… تکبیر اولیٰ
کی فکر پیدا ہونا… جماعت کے ساتھ نماز کا شعور نصیب ہونا بڑی سعادت والی بات
ہے… یہ سچ ہے کہ جس کی نماز نہیں اُس کا دین نہیں… دل چاہتا ہے کہ نماز
کے بارے میں امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے
اُس فرمان کو سونے کی روشنائی سے لکھ کر… اپنے تمام ساتھیوں کو ہر روز بھیجا
کروں… جو آپؓ نے اپنے زیر حکومت تمام صوبوں کے گورنروں کو تحریر فرمایا تھا…
انّ
اھَّم امور کم عندی الصلوٰۃ من حفظھا و حافظ علیھا حفظ دینہ ومن ضیعھا فھو لما
سواھا اضیع…
ترجمہ:
تمہارے تمام کاموں میں میرے نزدیک سب سے اہم کام نماز ہے… جس نے نماز کا مکمل
طور پر اہتمام کیا اور اس کی خوب حفاظت کی تو اُس نے اپنے پورے دین کی حفاظت کر
لی… اور جس نے نماز کو ضائع کیا وہ دین کے دوسرے کاموں کو اور زیادہ برباد
کرنے والا ہو گا…( مؤطا امام مالکؒ)
یہ
حکمنامہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے’’فارغ‘‘ افراد کو نہیں بھیجا
تھا … کہ آپ لوگ چونکہ فارغ اور بے کار ہیں اس لئے نمازوں میں لگے رہا
کریں… بلکہ یہ حکمنامہ اپنے اُن گورنروں کو بھیجا تھا… جو دن رات عوام
کی خدمت، بہبود… اور دشمنان اسلام سے جہاد میں مشغول تھے…
ان
گورنروں پر ایک طرف یہ سختی تھی کہ… ہر مظلوم کی مدد کریں… ہر حق دار تک
اُس کا حق پہنچائیں… اپنے دروازے ملنے والوں کے لئے کھلے رکھیں… اپنی
رعایا کے ایک ایک فرد کے حقوق اداکریں… اور جہاد کی تیاری اور عملی جہاد میں
لگے رہیں… اُس زمانے کا کوئی بھی شخص ان گورنروں کی شکایت امیر المؤمنین تک
پہنچا کر ان کی پیشی لگوا سکتا تھا… پھر یہ گورنر کوئی معمولی لوگ نہیں زمانے
کے افضل اور معزز ترین افراد تھے… حضرات صحابہ کرام اور حضرات
تابعین… ایسے مصروف، مشغول اور معتمد افراد کو فرمایا جارہا ہے کہ… آپ
لوگوں کے کاموں میں سب سے زیادہ اہم، سب سے زیادہ قابل اہتمام اور سب سے زیادہ
توجّہ کے لائق جو چیز ہے وہ ’’نماز ‘‘ ہے… اسی سے اندازہ لگا لیجئے… کیا
ہم اُن حضرات سے زیادہ مشغول ہیں؟… کیا ہم اُن سے زیادہ کام اور جہاد کر رہے
ہیں؟… ہر گز نہیں… تو پھر ہمیں بھی اپنی اصل کامیابی کے لئے دینِ اسلام
کے ’’سر‘‘یعنی نماز کو حاصل کرنے کی پوری محنت کرنی چاہئے… اور اسے اپنا سب
سے اہم کام بنانا چاہئے… ہماری نماز جتنی مضبوط اور طاقتور ہوتی چلی جائے
گی… اُسی قدر ہمارے ایمان اور اعمال میں قوَّتْ آتی جائے گی… اس لئے
کہ اللہ تعالیٰ نے قوت حاصل کرنے کا ذریعہ نماز اور صبر کو
بنایا ہے… اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم نماز کی زیادہ دعوت دیا کریں… اپنے
گھر والوں کو ، دوستوں کو… اور تمام مسلمانوں کو…یہاں ایک بات اورسمجھ
لیں… اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ صفت دی ہو کہ لوگ
ہماری بات سنتے ہوں تو اس نعمت کا جلد از جلد بھرپور فائدہ اٹھا لیں…جی ہاں ایسا
فائدہ جو ہمارے وہم وگمان سے بھی زیادہ ہو… ہم میں سے بعض افراد ایسے ہیں کہ
اُن کی بات آٹھ دس افراد سنتے اور مانتے ہیں… بعض ایسے ہیں کہ سو، دو سو لوگ
اُن کی بات سنتے ہیں… اور بعض کے سامنے اللہ تعالیٰ
بڑے بڑے مجمعے بٹھا دیتا ہے اور وہ پورا مجمع اُن کی بات سنتا اور اثر لیتا
ہے… بس یہی موقع ہوتا ہے ’’فائدہ‘‘کمانے اور اٹھانے
کا… اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اُس سے زیادہ اچھی اور
خوبصورت بات کس کی ہو سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف
بُلائے……سبحان اللہ … ہمیں طریقہ سمجھ
آگیا … ہم ہر اُس فرد کو جو ہماری بات مانتا ہو… اللہ
تعالیٰ کی طرف بُلائیں… یہ ایسا عظیم عمل ہے کہ اس کا فائدہ ہمارے وہم و گمان
سے بھی زیادہ ہے… کلمہ طیبہ کی دعوت، نماز کی دعوت، اور جہاد فی
سبیل اللہ کی دعوت…
چھوڑیں
اِدھر اُدھر کی باتوں کو… بھول جائیں اپنی ذات اور اُس کی عزت وذلت
کو… بس ایک شوق، ایک ولولے ایک درد اور ایک کڑھن کے
ساتھ اللہ تعالیٰ کے بندے
کو اللہ تعالیٰ کا راستہ دکھا دیں…یہ وہ بیج ہے جو آپ نے
زمین میں بو دیا… اب اس بیج سے کتنی نیکیاں نکلیں گی اس کا ہم تصور بھی نہیں
کر سکتے… بہت سے لوگ اپنی اس نعمت کوغیبت، فضول گوئی اور بد گوئی میں ضائع کر
دیتے ہیں… جو بھی اُن کی بات سنتا ہو اُسے اپنی ملکیت اور پراپرٹی بنانے کی
کوشش کرتے ہیں…بڑے بڑے پیر،بزرگ،علماء، مجاہدین اور خطباء اس معاملے میں گھاٹا کھا
گئے… انہوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں
کو اللہ تعالیٰ سے جوڑنے کی بجائے… اپنی ذات کے ساتھ
جوڑنے کی کوشش کی… اور اُن کو غلط راستے پر ڈال کر خود کو بھی نقصان
پہنچایا… اللہ تعالیٰ نقصان اور گھاٹے سے ہم سب کی حفاظت
فرمائے…ہم سب اپنے ارد گرد دیکھیں کہ… میرے پاس آخرت کا کتنا ’’کیش ‘‘
ہے… جی ہاں کتنے لوگ میری بات مانتے اور سنتے ہیں… بس پھر فوراً ان سب
کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائیں… اللہ تعالیٰ
سے جوڑیں، اللہ تعالیٰ کے فرائض پر لگائیں
اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ
وسلم کی محبت ان کے قلوب میں پیوست کرنے کی محنت کریں… اور ساتھ
ساتھ اپنے دل میں کہتے جائیں کہ یا اللہ اس محنت کی مزدوری
میں صرف آپ سے لوں گا… ان اجری اِلاّ علی اللہ … بس یہ
وہ عمل ہے جو آپ کے لئے سعادتوں اور نیکیوں کے سمندر جاری کر سکتا ہے…
بہرحال
بات اُن ساتھیوں کی چل رہی تھی… جنہوں نے تکبیر اولیٰ کا
چلّہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے پورا کر لیا ہے… ان سب
کو یہ سعادت مبارک ہو… اب اسی کو اپنا مستقل طریقہ اور معمول
بنالیں… شیطان کہتا ہے کہ… کچھ آرام کرو، کچھ آزاد زندگی
گزارو… اور کچھ ہلکے ہوجاؤ… دراصل وہ ظالم ہمیںاپنا نوکر اور غلام
بناناچاہتا ہے… آپ نے اُن لڑکوں اور لڑکیوں کودیکھا ہو گا جو موبائل اٹھائے
ہر وقت گناہ کی آگ میں جلتے رہتے ہیں… نہ دن کو چین نہ رات کو آرام… دین
کا کام تو انسان کو نہیں تھکاتا مگر جب انسان، شیطان کے ہاتھوں شکار ہو جائے تو وہ
تھکا تھکا کر مار دیتا ہے… حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں
نے حضرات صوفیاء کرام کی صحبت پائی اور اُن سے صرف یہ دو سبق سیکھے…
(۱) وقت
تلوار ہے… اگر تم اسے نہیں کاٹو گے تو یہ تمہیں کاٹ دے گا… یعنی اپنے
وقت کو اچھے کاموں سے کاٹو… ورنہ یہ تمہیں کاٹ کررکھ دے گا… یعنی ضائع
اور برباد کر دے گا…
(۲) اپنے
نفس کو حق کاموں میںمشغول رکھو… ورنہ یہ تمہیں باطل کاموں میں مشغول کر دے
گا…
کلمہ،
نماز…… اور جہاد کی محنت میں دن رات خود کو تھکانے والے جانبازو!… یہ
محنت اور تھکاوٹ تمہیں مبارک ہو!
لا
الہ الا اللہ ،لا الہ الا اللہ ،لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ …
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا…
لا
الہ الا اللہ ،لا الہ الا اللہ ،لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ …
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
مجھے اور آپ سب کو’’رمضان المبارک کی قدر‘‘ اور ’’لیلۃ القدر‘‘ ایمان اور یقین کے
ساتھ نصیب فرمائے… کیا آپ کو وہ’’رمضان المبارک‘‘ یاد ہے جب افغانستان میں
’’امارت اسلامیہ‘‘ کا سقوط ہو رہا تھا؟…وہ بھی عجیب وقت تھا… سب کچھ لرز رہا
تھا… اور لوگوں کے خیالات اور نظریات تیزی سے بدل رہے تھے… غم، مصیبت
اور شکست کو ہر کوئی برداشت نہیں کر سکتا… یہ ایمان والوں کا کام
ہے… اُن کے دل میں اگر’’ لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ ‘‘ سلامت ہو تو… اُن کے لئے کوئی غم، غم
نہیں، کوئی مصیبت، مصیبت نہیں… اور کوئی شکست، ہزیمت نہیں…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ
درمیان
میں پُرانا سبق بھی دُھرالیں کہ… رمضان المبارک میں چار چیزوں کی کثرت کا حکم
ہمارے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے…
(۱) لاالہ
الا اللہ (۲) استغفار (۳) جنت
کا سؤال (۴)جہنم
سے پناہ…
بس
اس وظیفے کو پکّا پکڑ لیں… ان شاء
اللہ بڑے بڑے خزانے ہاتھ آجائیں گے…
لَااِلٰہَ
اِلَّا اللہ ، اَسْتَغْفِرُ اللہ ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ
الْجَنَّۃَ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ النَّارِ
اٹھتے
بیٹھتے، چلتے پھرتے… صبح، شام، رات دن… دل میں خیال آیا کہ فلاں کو فون
کرو… سوچیں کہ کتنا ضروری ہے؟… ضروری نہیں تو کیوںوقت برباد کریں رمضان
المبارک کی گھڑیاں پھر پتا نہیں نصیب ہوں یانہ ہوں… فوراً پڑھنا شروع کر دیں
لَااِلٰہَ
اِلَّا اللہ ، اَسْتَغْفِرُ اللہ ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ
الْجَنَّۃَ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ النَّارِ
دل
میں مذاق سوجھا… زبان پر آہی رہا تھا کہ… خیال آیا کہ رمضان المبارک
کے ایام تشریف لائے ہوئے ہیں… رمضان، جی
ہاں اللہ تعالیٰ کا مہینہ… مذاق والی بات کو منسوخ کر
کے… لا الہ الا اللہ اور استغفار میں لگ گئے…
یہ
’’زبان‘‘ جو ہے نا یہ بڑی ظالم ہے… اس کو قابو کرنا سیکھیں ورنہ یہ برباد کر
دیتی ہے… چپ رہنا اگر اس کے بس میں نہ ہو تو… اسے ’’ لا الہ
الا اللہ ‘‘ میں لگا دیں… دنیا اور آخرت کی سب سے سچی، سب سے
پکّی بات …
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ
سچ
بول بول کر ہماری زبان… ان شاء اللہ
سچ کی عادی ہو جائے گی اورجھوٹ، غیبت اور گناہ سے بچنا اس کے لئے آسان ہو
جائے گا…
ہاں
توایک وہ ’’رمضان‘‘ تھا… دنیا بھر کی فوجیں اور لشکر مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے
تھے… بمباری، خوف، بھاگ دوڑ، پریشانی… اور اندھیرا…
لوگ
کہتے تھے اب کیا ہوگا؟… اُن کو قرآن پاک کی آیات سناتے کہ ان شاء
اللہ خیر ہو گی تو مذاق اڑایا جاتا … نہیں نہیں ان طاقتوں
سے مقابلہ ناممکن ہے… جہاد کے حامی جہاد کے مخالف بن گئے… فتح پرست طبقہ
ایک دم گُم ہو گیا… لوگ اپنی چال بھی بدل رہے تھے اور کھال بھی… مگر ’’
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ کو سمجھنے
والے… وہ دیکھ رہے تھے جسے آج ساری دنیا دیکھ رہی ہے… انخلاء، انخلاء،
انخلاء… اور خود کو ’’سپر ‘‘ کہنے والے بن گئے بیت الخلاء… اب قرآن پاک
کی بہت سی آیتیں پڑھیں یوں لگتا ہے کہ… ابھی نازل ہوئی ہیں… جی ہاں
قرآن پاک زندہ اور تازہ کتاب ہے… یہ ہر زمانے میں زندہ اور تازہ رہتی ہے… اور
ہر مسئلے کا جواب بیان فرماتی ہے…
ذرا
وہ آیات پڑھیں کہ… کفار مسلمانوں کے خلاف بہت مال خرچ کریں گے اور پھر بے حد
پچھتائیں گے اور ناکام ہوجائیں گے…
سبحان اللہ وبحمدہ
سبحان اللہ العظیم… آج ہر کوئی قلم کَس کے لکھ رہا ہے
کہ پینتالیس کھرب کا نقصان ہوا… امریکہ دیوالیہ ہونے کے قریب ہے… یہ
سب’’کلمہ طیبہ‘‘ کا کمال، قرآن پاک کا اعجاز… اور جہاد کی برکت
ہے… سوکھی روٹی کھانے والے شہداء نے اتنے بڑے ہاتھی کو اپنے خون کی دلدل میں
غرق کر دیا… اللہ اکبر کبیرا… تھوڑا سا اُن آیات کو
پڑھیں… کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو اُن کے غم، غیظ
اور غصے میں بھرا ہوا ناکام واپس لوٹا دیا… اور اُن کے ہاتھ کچھ بھی نہ
لگا… اور اللہ پاک لڑائی میں مسلمانوں کی طرف سے کافی
ہوگیا… لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ …
واقعی
آج جو کچھ نظر آرہا ہے… وہ سب بظاہر ناممکن تھا… مگردنیا کو یہ بات
سمجھ لینی چاہئے کہ… اسلام، جہاد اور مسلمانوں کو مٹانا ناممکن ہے… ہم
مسلمان آخری اُمت ہیں… اور ہمارے بعد’’قیامت ‘‘ ہے… کہاں گیا سوویت کا
سرخ ریچھ؟ اور کہاں گئے گورے، کالے، نیلے پیلے ہاتھی؟… افغانستان سے انخلاء
اس تیزی کے ساتھ ہو رہا ہے جیسے موت اِن کے تعاقب میں ہو… اس بات سے انکار
نہیں کہ سازشوں کے جال پاکستان تک بچھ چکے ہیں… یہ بھی ٹھیک ہے کہ جنگ ابھی
ختم نہیں ہوگی… یہ بھی سچ ہے کہ فوری طور پر اسلامی حکومت کے قیام کا امکان
نہیں ہے… مگر جو کچھ ہو رہا ہے اُسے غور سے دیکھیں ، اُسے قرآن پاک کے
آئینے میں سمجھیں… ان شاء اللہ اسلام
کے غلبے کا مسکراتا ہوا دور زیادہ دُور نظر نہیں آئے گا… بس ضرورت ہے کہ
مسلمان… مسلمان بن جائیں… کلمے والے ، نماز والے… اور جہاد والے…
لَااِلٰہَ
اِلَّا اللہ ، اَسْتَغْفِرُ اللہ ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ
الْجَنَّۃَ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ النَّارِ
اس
رمضان المبارک سے دو’’یاد گار‘‘ نعمتیں حاصل کرلیں… جی ہاں بہت زیادہ کام
آنی والی… اور بہت دور اور دیر تک کام آنے والی نعمتیں…
پہلی
یہ کہ اپنی قضاء نمازوں کو… اسی رمضان المبارک سے ادا کرنا شروع
کردیں… ہم اپنے ماضی کے داغ، دھبّے اور زخم دھوئیں گئے تو ہمارا حال اور
مستقبل اچھا ہو گا… شیطان ملعون کی چال دیکھیں… وہ لوگ جن کی کئی کئی
سال کی نمازیں’’قضاء‘‘ ہیں… وہ رمضان المبارک میں ’’نوافل‘‘ میں لگے رہتے
ہیں… اللہ کے بندو! ایک فرض نماز بھی معاف نہیں
ہے… اگر آپ رمضان المبارک میں ایک سو نفل پڑھتے ہیں تو… ان نوافل کی
جگہ فرض اور واجب نمازیں قضاء کر لیں… ایک سو رکعتوں میں تو
ماشاء اللہ پانچ دن کی نمازیں ادا ہو جائیں گی… اگر
روزآنہ پانچ دن کی قضا نمازیں ادا کریں تو… تیس دن میں ڈیڑھ سو دنوں کابوجھ
ہلکا اور عظیم گناہ دُھل جائے گا…
آپ
جانتے ہیں … ہر مسلمان پر روزآنہ بیس رکعتیں فرض اور واجب ہیں… فجر
کی دو، ظہر کی چار، عصر کی چار، مغرب کی تین اور عشاء کی چار رکعت… یہ سترہ
رکعتیں ہوئیں… اور تین رکعت وتر… کُل بیس… زیادہ طاقت نہیں تو ایسا
کر لیں کہ روزآنہ ہر نماز کے ساتھ ایک قضاء نماز ادا کرلیں… فجر کے ساتھ ایک
فجر… ظہر کے ساتھ ایک ظہر… اوراسی طرح ہر نماز کے ساتھ ایک
نماز… اس کی خاطر نفل چھوڑنے پڑیں تو چھوڑ دیں… سنت غیر مؤکدہ چھوڑنی
پڑیں تو چھوڑدیں… رمضان المبارک کے لئے اتنا کافی ہے کہ… روزہ رکھیں،
رات کو تراویح ادا کریں… باقی نوافل کے اوقات میں اپنی قضاء نمازیں… ادا
کریں… آپ کو معلوم ہے کہ رمضان المبارک میں ایک فرض، ستر فرائض کے برابر
وزنی ہو جاتا ہے… اورنفل عبادت کا اجر فرض کے برابر ہو جاتا ہے… وہ خوش
نصیب مسلمان جن کے ذمہ فرض نمازوں کی قضا نہیں ہے وہ… زیادہ نوافل کا اہتمام
کریں… ایسے لوگ کم ہی ہوں گے… اکثر مسلمانوں پرقضا نمازوں کی گٹھڑیاں
لدی ہوئی ہیں… اور افسوس کہ انہیں اس کی فکر تک نہیں…
ہمارے
ساتھ جیل میں فلسطین کے ایک مجاہد تھے… زندگی اور جوانی غفلت میں
گُزری… اللہ تعالیٰ کی نظر کرم ہوئی ایسی مصیبت کا شکار
ہوئے جس مصیبت میں … نور تھا، توبہ تھی… اور آخرت کا ذخیرہ
تھا… اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ عطاء فرمائے… ہم لوگ مصیبت
کے وقت بہت’’بے صبری‘‘ اور ’’بے ہمتی‘‘ دکھاتے ہیں… حالانکہ روایات میں آتا
ہے کہ… قیامت کے دن جب مصیبت زدہ مسلمانوں کو اللہ پاک
اُن کی تکلیفوں کا اجر عطاء فرمائے گا تو وہ لوگ… جن کی زندگی راحت میں گزری
ہو گی یہ تمنا کریں گے کہ… کاش دنیا میں ہمارے جسم لوہے کی قینچیوں سے کاٹے
جاتے تاکہ آج کی مستقل زندگی میں ہمیں بھی یہ اجر وثواب ملتا… آپ نے کبھی
قرآن پاک کی ’’سورہ یونس‘‘ کو غور سے پڑھا ہے… یہ عظیم
سورہ’’لقاء اللہ ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے ملاقات
کا اہم مسئلہ سمجھاتی ہے… کبھی موقع ملے تو کوئی مستند تفسیر دیکھ لیجئے
گا… اس کے بعد سورۂ ھود میں یہ راز سمجھایا گیا کہ… وہ لوگ جو مصیبت
اور تکلیف کے وقت ’’بے صبرے‘‘ اور مایوس ہو جاتے ہیں… وہ ناکام لوگ
ہیں… اسی طرح جو لوگ راحت اور خوشی کے وقت فخر اور غرور میں غافل ہوجاتے
ہیں… وہ بھی ناکام لوگ ہیں…
کامیاب
وہ ہیں جنہیں ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ کا یقین نصیب ہے… اور وہ مصیبت
کے وقت’’صبر‘‘ کرتے ہیں… اور راحت کے وقت نیک اعمال کرتے ہیں… لیجئے ان
آیات کا ترجمہ پڑھ لیں… اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے…
ترجمہ:(۱) اور
اگر ہم انسان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھا کر پھر اُس سے وہ چھین لیتے ہیں تو وہ
مایوس اور ناشکرا ہو جاتا ہے…(۲) اور
اگر ہم اُسے مصیبت پہنچنے کے بعد نعمتوں کا مزہ چکھاتے ہیں تو کہتا ہے کہ میری
سختیاں جاتی رہیں،بے شک وہ اترانے والا اور فخر کرنے والا ہے
(۳) مگر
جو لوگ صبر کرتے ہیں اور نیکیاں کرتے ہیں، اُن کے لئے مغفرت اور بڑا ثواب ہے…(ھود،۹،۱۰،۱۱)
اس’’مرض‘‘
کی وجہ کیا ہے؟… انسان یہ بھول جاتا ہے کہ اُس
نے اللہ تعالیٰ سے ملنا ہے… اللہ تعالیٰ
کی ملاقات کا یقین دل سے نکلتے ہی انسان اسی دنیا کی مصیبت اور راحت کو اصلی
سمجھنے لگتا ہے… مگر جن لوگوں کو’’لقاء اللہ ‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شوق اور یقین ہوتا ہے
وہ… ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی رہتے
ہیں… اور اُن چیزوں کو پسند کرتے ہیں جو آخرت میں زیادہ کام آنے والی
ہیں… ایک مفسر لکھتے ہیں:
’’
اس آیت میں انسان کی بڑی کمزوری کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جب کوئی نعمت اُس سے
چھین لی جاتی ہے اور اُس کو تکلیف میں مبتلا کر دیا جاتا ہے تووہ دل چھوڑدیتا ہے
ذرا بھی صبر نہیںکرتا… اور مایوس ہو کر بیٹھ جاتا ہے بلکہ پچھلی نعمت کو بھی
بھول جاتا ہے اور اُس پر اللہ تعالیٰ کا شکر نہیں کرتا، اور
اگر تنگی کے بعد اللہ تعالیٰ خوشحالی نصیب کرتا ہے تو بہت
خوشیاں مناتاہے، فخر و غرور میں مبتلا ہو جاتا ہے… لیکن ایمان والے ایسا نہیں
کرتے، وہ تو مصیبتوں پر صبر اور نعمتوں پر شُکر کرتے ہیں اور ہر حال میں نیک عملی
کی راہ پر ثابت قدم رہتے ہیں، یقیناً ایسے ہی
لوگ اللہ تعالیٰ کی بخشش اور ثوابِ عظیم کے مستحق
ہیں‘‘…(حاشیہ اورنگ آبادی)
یہاںایک
لطیفہ بھی سُن لیں… قرآن پاک نے انسان کی یہ جو بیماری بیان فرمائی ہے یہ
آج کل بہت عام ہے… اسی لئے بہت سے افراد سمجھیں گے کہ… ’’رنگ و نور‘‘
میں اُن کی طرف اشارہ ہے… حالانکہ ایسا کچھ نہیں…اپنی اور آپ سب کی
’’اصلاح‘‘ مطلوب ہے اور جوکچھ بیان ہوا ہے… وہ قرآن عظیم الشان کا فرمان
ہے… اگر ہمیں اپنے اندر یہ بیماری اور کمزوری محسوس ہو تو اصلاح کی دعاء اور
فکر کریں… تاکہ ہم سب اللہ تعالیٰ سے راضی
رہیں… اور ہر حالت میں یہی سمجھیں کہ… میرے رب نے جو فیصلہ فرمایا ہے اس
میں میرے لئے خیر ہے… وہ رب ہے، معبود ہے اور ہم بندے اور غلام
ہیں… غلام کا کام یہ ہے کہ اپنے آقا کے ہر فرمان پر راضی رہے… بات جیل
کے فلسطینی ساتھی کی چل رہی تھی… وہ درس وغیرہ میں اہتمام سے بیٹھتے
تھے… اوراردو بھی سمجھ اور بول لیتے
تھے… جب اللہ تعالیٰ نے اُن کے قلب پر نماز کی اہمیت
کا راز کھولا تو اُن کی عجیب کیفیت ہو گئی… وہ سارا دن اور بعض اوقات ساری
رات’’نماز‘‘ میں لگے رہتے … اُن پر سالہا سال کی نمازیں’’قرض ‘‘
تھیں… مگر انہوں نے ہمت نہ ہاری اور اُن نمازوں کو ادا کرنا شروع کر
دیا… ’’نماز‘‘ کا دراصل ایک خاص نصاب ہے… انسان اگر اُس نصاب تک پہنچ جائے
تو پھر نماز اُس کی روح میں اُتر جاتی ہے اور اُس کے لئے ذرہ برابر بوجھ نہیں
رہتی… بلکہ اُس کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن جاتی ہے… تب نماز ادا کرنے میں
اونچے مقامات الگ ملتے ہیں… اور لذّت الگ نصیب ہوتی
ہے… اللہ تعالیٰ یہ ’’مقام‘‘ اور درجہ مجھے اور آپ سب کو
نصیب فرمائے…
لاالہ
الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ،لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ …
یہ
تو ہوئی پہلی یاد گار نعمت… جب عید کا دن آئے گا اور رمضان المبارک ہم سے
رخصت ہو گا تو ہم ان شاء اللہ … کم از کم تیس دنوں یا ایک سو پچاس
دنوں کے بڑے قرض… اوربڑے گناہ سے پاک ہوں گے… اور اگرعادت نصیب ہو گئی
تورمضان المبارک کے بعد یہ سلسلہ جاری رکھنا آسان ہو جائے گاکہ… ہر نماز کے
ساتھ ایک قضا نماز بھی ادا کرتے رہیں… دوسرا تحفہ اور نعمت اس بار یہ حاصل
کریں کہ قرآن پاک کی چند سورتیں اس رمضان المبارک میں یاد کر لیں… رمضان
چونکہ قرآن کا مہینہ ہے اس لئے اس میں سورتیں یاد کرنا آسان ہوتا ہے… پھر
ان سورتوں کو اپنی نمازوں میں پڑھا کریں… ہم جب دنیا سے جائیں گے توکوٹھی،
کار، کاروبار، پیسہ یہاں رہ جائے گا مگر یہ سورتیں ہمارے ساتھ قبر میں جائیں
گی… اور ان شاء اللہ بہت کام آئیں گی…
لا
الہ الا اللہ ، استغفر اللہ ، اللھم انی اسئلک الجنۃ واعوذبک من النار
اللھم
صل علٰی سیدنا محمد واٰلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ …… محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
’’ایک‘‘ ہے… وحدہ لا شریک لہ… سورۂ اخلاص میں فرمایا گیا …
قُلْ
ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ
آپ
کہہ دیجئے… اللہ تعالیٰ ایک ہے… لا الہ
الا اللہ … سبحان اللہ لاحول ولا قوۃ
الا ب اللہ …
یہ
دنیا کے کمزور سے لوگوںکو دیکھو!… پانی کے بلبلے کی طرح کمزور… یہ کہتے
ہیں(نعوذ ب اللہ ) ہم سپر پاور ہیں… افغانستان کے صوبہ میدان وردک میں امریکی
ہیلی کاپٹر منہ کے بل گرا… تیس سے زائد میرین فوجی… جل کر کوئلہ ہو
گئے… مرنے کے بعد لاش کے لئے سب پاسپورٹ برابر ہوجاتے ہیں… کوئی امریکی
ہو یا غریب نیپالی… کوئی یورپین ہو یا غریب صومالی… کوئی جاپانی ہو یا
غریب افریقی… موت آئی تو بس نئی دنیا شروع … وہاں نہ کوئی امریکہ
ہے نہ انڈیا… وہاں کی کرنسی، وہاںکا پاسپورٹ اور وہاں کا عیش آرام…پتا ہے
کون سی چیز ہے؟
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ …
جو
اس کلمے سے محروم وہ مرتے ہی
ماراگیا… یا اللہ رحم،یا اللہ رحم… ہاں
سچ کہہ رہا ہوں… جو کلمے سے محروم وہ مرتے ہی ماراگیا… آگ، تنگ قبر،
بدبو اور عذاب… بڑے بڑے سانپ، موٹے موٹے بچھو… اندھیرا، خوف اور
وحشت… اس لئے دل میں ہر وقت ٹٹول کر دیکھتے رہنا چاہئے کہ… کلمہ موجود
ہے یا نہیں؟… اور جسے کلمہ نصیب ہو گیا… اور اُس نے کلمے کے حق کو ادا
کیا… وہ مرتے ہی نوازا گیا… مؤمن کی موت کا منظر… جیسے سخت گرمی
کے روزے کی افطاری… ٹھنڈا پانی ، میٹھا شربت… طرح طرح کے پھل
میوے… اور بہت کچھ…
یہ
تو بس مثال ہے… آج افطار کے وقت توجّہ رکھیے گا… کوئی مثال، اصل کے
برابر تو نہیں ہو سکتی… پہاڑ کا فوٹو پہاڑ جتنا نہیں ہوتا… بس سمجھنے کے
لئے عرض کیا کہ… گرمی کاروزہ کُھل گیا اب نعمتیں ہی نعمتیں… اسی طرح
مؤمن کی موت آگئی تو روزہ کھل گیا… اب نعمتیں ہی نعمتیں…
شہید
کو اللہ تعالیٰ کی زیارت اور جو ملاقات نصیب ہوتی
ہے… اُسے کِس مثال سے سمجھاؤں؟… میرے پاس تو ایسی کوئی مثال نہیں ہے
اور ہو بھی نہیں سکتی… دنیا بھر کے حسینوں کو حُسن دینے والے محبوب مالک کے
حُسن کا کیا منظر ہو گا… اللہ ، اللہ ، اللہ
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ …و الحمدللہ رب العالمین…
اہل
علم عجیب نکتہ بیان فرما گئے… حدیثِ پاک میںآتا ہے کہ کوئی جنّتی شخص جنّت
میں داخل ہونے کے بعد وہاں سے واپس دنیا میں آنے کی تمنا نہیں کرے گا… سوائے
شہید کے… شہید یہ تمنا کرے گا کہ اُسے بار بار دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ
بار بار شہادت پائے… اس حدیث کو ذہن میں رکھیں… اب دوسری روایت
دیکھیں… بخاری شریف کی روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم فرماتے ہیں… میں چاہتا ہوں
کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں شہید کیا جاؤں… پھر زندہ
کیا جاؤں، پھر شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر شہید کیا
جاؤں… یعنی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا ہی میں وہ تمنا
فرما دی جو عام شہید جنت میں جا کر کرے گا… اس کی کئی وجوہات ہیں ایک نکتہ یہ
ہے کہ… عام شہید کو شہادت کی حقیقت کا علم شہید ہونے کے بعد ہو گا… جبکہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہادت کی حقیقت کا
علم اللہ تعالیٰ نے دنیا ہی میں عطاء فرما دیا
تھا… سبحان اللہ !شہادت اتنی عظیم نعمت ہے کہ جب شہید ہونے والا
اس کی حقیقی لذت کو پا لیتا ہے تو پھر… جنت میں جاکر بھی اُس کی یہ خواہش
رہتی ہے کہ اسے شہادت کی لذت اورشہادت کا مقام اور اعزاز بار بار ملے… جی ہاں
محبوب کی خاطر کٹ مرنے کا مزہ ہی کچھ اور ہے… اور اس مزے کی اصل حقیقت مزہ
پانے کے بعد ہی پتا چلے گی… تو پھر مثالوں کے ذریعہ اس مسئلے کو کیسے سمجھایا
جا سکتا ہے؟… میرا سلام ہو اُن خوش نصیبوں کو جو ’’شہادت‘‘ کے لئے گھر سے نکل
چکے ہیں… جو شہادت کا راستہ پکڑ چکے ہیں… جو شہادت کے انتظار میں ایک
ایک گھڑی بے چینی سے کاٹ رہے ہیں… اور جو شہادت کے لئے یوں مچل رہے ہیں جس
طرح شیر خوار بچہ ماں کے دودھ کے لئے مچلتا ہے… ہاںمیرے دل کا سلام ان عاشقوں
کو پہنچے جو اپنے دل سے اس دنیا کو نکال چکے… یہ غافل کرنے والی دنیا، یہ
ذلیل و رسوا کرنے والی دنیا، یہ دھوکا دینے والی دنیا… سلام ہو فدایانِ اسلام
کو…
سلام
ہو دل سے کلمہ طیبہ پڑھنے والوں کو…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ …
امریکی
ہیلی کاپٹر سعید آباد کے ضلع میں گرا… مجاہدین نے گرایا یا براہ راست ربّ
المجاہدین نے… ایک ہی بات ہے… سب کچھ اللہ تعالیٰ
ہی کرتا ہے…
فَلَمْ
تَقْتُلُوْھُمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ قَتَلَھُمْ
امریکی
سپیشل فورسز کے تیس سے زیادہ فوجی ایک جھٹکے میں پار ہو گئے… خود کابل کی
کرزئی حکومت نے تصدیق کی ہے… یعنی نقصان چھپایانہیں جا سکا… ویسے کافی
بڑا نقصان ہے… جو کفر کی حالت میں مرگئے… اُن کو اب کسی ملک کی طاقت،
سیاست، معیشت اور ٹیکنالوجی کام نہیں دے گی… رمضان المبارک میں مسلمانوں کے
لئے یہ ایسی خبر ہے جسے سنتے ہی ہاتھ دعاؤں کے لئے اٹھ جاتے ہیں… آپ پوچھیں
گے کہ وہ بھلا کیسے؟… جواب قرآن پاک سے پیش ہے جب حضرت زکریا علیہ السلام نے
دیکھا… بی بی مریم کے پاس بے موسم کے پھل رکھے ہیں اور وہ چھوٹی سی معصوم بچی
ان پھلوں سے لطف اندوز ہو رہی ہیں… اور پوچھنے پر فرماتی ہیں…
ھُوَمِنْ
عِنْدِ اللہ
یہ
سب میرے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے… بس اُسی وقت حضرت
زکریا علیہ السلام کے ایمان نے ایک اور بلند منزل عبور کر لی… بے موسم کے پھل
دینے والا ربّ… مجھے بے موسم کی اولاد عطاء فرما دے… یقین تو پہلے سے
تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادرہے… مگر انبیاء ح
’’ادب‘‘ کے اونچے درجے پر فائز ہوتے ہیں… وہ دعاء کے معاملے میں بھی ادب سے
اور قانون الہٰی سے تجاوز نہیں فرماتے…عام قانون تو یہی جاری ہے کہ… اولاد کی
پیدائش کے لئے میاں بیوی کا تندرست ہونا ضروری ہے… یہاں خود بہت بوڑھے اور
اہلیہ محترمہ بانجھ… مگر جب ’’نصرتِ الہٰی‘‘ کا عجیب منظر بے موسمی پھلوں کی
صورت میں دیکھا تو… دعاء کے لئے ہاتھ اٹھ گئے…
ھُنَالِکَ
دَعَازَکَرِیَّا رَبَّہٗ…
حضرات
انبیاء د کا ایمان کامل اور مکمل ہوتا ہے… اس ایمان میں کمی نہیں
آتی… مگر اس کی قوت اور کیفیت میں ترقی ہوتی رہتی ہے… لا الہ
الا اللہ … بہت اونچا کلمہ ہے… اس کی بلندی کی آخری حد
تو کسی کو معلوم نہیں… بس جن کی قسمت اچھی ہوتی ہے وہ اس کی بلندی کی طرف
اونچے اڑتے جاتے ہیں… اوپر، اوپر اور بہت اوپر…
بلند…… مزید
بلند اور زیادہ بلند……
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ …
ہمارے
حضرت قاری عرفان صاحب نور اللہ مرقدہ مجاہدین سے فرمایا کرتے
تھے… آپ لوگ’’جہاز والی نصرت‘‘ کو یاد کر کے دعاء کیا
کریں… یا اللہ آپ نے پانچ کمزور مجاہدین کی نصرت فرما
کر انہیں پورے عالم کفر پر فتح عطاء فرمائی… یا اللہ جس
طرح آپ نے اُن کی نصرت فرمائی اور اُن پر رحم فرمایا اُسی طرح ہم پر بھی نصرت اور
رحمت فرمائیے…
دراصل
اس طرح کے واقعات سے انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ سے محبت
بڑھ جاتی ہے… ایک عجیب سی یقین اور احسان مندی والی کیفیت طاری ہو جاتی
ہے…تو ایسے وقت میں دعائیں قبول ہوتی ہیں…
جہاز
کا واقعہ… دس سال پہلے رمضان المبارک میں پیش آیا… انڈیا کا ایک
جہاز… مجاہدین کا ایسا قیدی ہواکہ… اُس کے فدیے میں… کئی مسلمان
قیدی رہا ہوئے…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ … و الحمدللہ
رب العالمین…
آج
مختصر لکھنے کا ارادہ ہے…رمضان المبارک کی قیمتی گھڑیاں ہیں… مگر بات پھربھی
لمبی ہوتی جارہی ہے… امریکی ہیلی کاپٹر کا واقعہ بھی ایسا ہے کہ اسے سنتے ہی
ہاتھ دعاؤں کے لئے اُٹھ جاتے ہیں…یا اللہ اُمتِ مسلمہ کو فتوحات اور
اسلام کو غلبہ عطاء فرما… یا اللہ اسیرانِ اسلام کو
باعزت رہائی عطاء فرما… یا اللہ !مجاہدین کرام کی ہر محاذپر نصرت فرما…
رمضان
المبارک میں اللہ تعالیٰ کی نصرت کا اتنا بڑا واقعہ دیکھ کر
دل میں امیدیں انگڑائیاں لینے لگی ہیں کہ… ان شاء اللہ اب فتوحات کا دور شروع ہو جائے
گا… وہ رمضان المبارک ہی تھا جب ’’یوم الفرقان‘‘ برپا ہوا… اسلامی
فتوحات کا سنگ بنیاد’’غزوہ بدر‘‘ …
امام
غزالی س نے لکھا ہے کہ کئی عارفین کے نزدیک ’’لیلۃ القدر‘‘ سترہ رمضان المبارک کی
رات ہے… کیونکہ اسی رات کے بعد والے دن’’غزوہ بدر‘‘ پیش آیا تھا… اور
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پوری رات دعاؤں اور
التجاؤں… اور زاریوں میں گزاری تھی… ’’لیلۃ القدر‘‘ کے بارے میں یہ ایک
قول ہے… باقی جمہور کی رائے آخری عشرے کی طاق راتوں کے بارے میں
ہے… ہاں وہ بھی رمضان المبارک تھا جب مکہ مکرمہ فتح ہوا تھا… جہاد کی
برکت سے حج اور عمرے کا دروازہ مسلمانوں کے لئے قیامت تک کُھل گیا… رمضان
المبارک کا خصوصی تعلق قرآن پاک کے ساتھ ہے… اور قرآن پاک کا خصوصی تعلق
جہاد کے ساتھ ہے… صرف’’فتح الجواد‘‘ میں جن آیات جہاد کو صراحۃً یا اشارۃً
بیان کیا گیا ہے اُن کی تعداد۸۶۵( آٹھ سو پینسٹھ) ہے…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ … و الحمدللہ
رب العالمین…
رمضان
المبارک میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی ایک عظیم نصرت کی
برکت سے… الحمدللہ ایک جماعت قائم
ہوئی… آج الحمدللہ اس جماعت کی شاخیں، اس جماعت کے شہداء کی
قبریں… اور اس جماعت کے اسیروں کی آہیں بہت دور دور تک پھیل چکی ہیں…
اس
وقت ہزاروں دیوانے صبح شام رات دن… دعوتِ جہاد میں مصروف
ہیں… ماشاء اللہ عجیب پرنور اور قابل رشک محنت
ہے… میں جب بھی ان میں سے کسی کو بھاگتے، دوڑتے،بیانات کرتے، چادریں
بچھاتے… اور گرمی میں اخلاص کے ساتھ پسینے بہاتے دیکھتا ہوں تو میری آنکھوں
سے آنسو… اور دل سے دعائیں جاری ہو جاتی ہیں… بے خوف، بے غرض اور
مخلص… اللہ تعالیٰ ان کو ایمان کامل کا بلند درجہ نصیب
فرمائے… ان کی محنتوں کو ان کے لئے ذخیرہ آخرت بنائے اور ان کی جوانیوں اور
عمروںمیں برکت عطاء فرمائے… حقیقت میںان کی محنت قابل رشک
ہے… ماشاء اللہ جہاد کے موضوع پر قرآن مجید کی روشنی
میں ایسی پنی تُلی بات کرتے ہیں کہ… سینکڑوں لوگوں کے دلوں سے نفاق کا زنگ
اُتر جاتا ہے… اپنی ناک اور عزت کو قربان کر کے مسجدوں میں چادریں پھیلا کر
چندا کرتے ہیں… تاکہ محاذوں کی گرمی اور وارثینِ شہداء کے چولہوں کی آگ
ٹھنڈی نہ ہو جائے… میں نے خود ان کے بیانات میں… جید علماء کرام کو روتے
اور آنسو بہاتے دیکھا ہے… حالانکہ بیان کرنے والا عالم نہیں ہوتا… مگر
اُس کے دل میں اُمتِ مسلمہ کی حفاظت، عظمت… اورعزت کا غم ہوتا ہے…
اور
اُس کے دل و دماغ میں اپنے شہداء اور اسیر ساتھیوں کی خوشبو بھری ہوتی
ہے… آپ قرآن پاک میں’’عذاب‘‘ کا مسئلہ غور سے پڑھ لیں… آج بہت سے لوگ
موبائلوں پر’’عذاب‘‘ سے ڈراتے اور دھمکاتے رہتے ہیں… مگر مسئلے کا حل نہیں
بتاتے… قرآن پاک اعلان فرماتا ہے کہ… جہاد چھوڑنے سے عذاب آتا ہے…
اِلَّا
تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا
اور
قرآن پاک اعلان فرماتا ہے کہ… جہاد کرنے
سے اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹل جاتا ہے…
تُنْجِیْکُمْ
مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ…
یہ’’الرحمت
ٹرسٹ‘‘ کے دیوانے مجاہدین آج مسجد مسجد، گلی گلی اور کوچہ کوچہ… ’’حی علی
الجہاد‘‘ کی صدا لگا کر پوری اُمتِ مسلمہ پر احسان کر رہے ہیں… مسلمانو! سچ
کہتا ہوں کہ یہ معمولی لوگ نہیں ہیں بلکہ… مسلمانوں کے لئے ’’رحمت‘‘
ہیں… القلم کے تمام قارئین اورقارئات ان ’’ اللہ والوں‘‘ کے لئے
دعاء کا معمول بنائیں… ان کی قدر کریں… اور ان کے ساتھ ان ہی میں شامل
ہونے کی کوشش کریں…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ … و الحمدللہ
رب العالمین
اللھم
صل علٰی سیدنا محمد واٰلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ …
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
نے مجھے اور آپ سب کو ’’بے کار‘‘پیدا نہیں فرمایا… یہ بات آپ نے کبھی
تنہائی میں بیٹھ کر سوچی؟… نہیں سوچی تو اس رمضان المبارک میں سوچ
لیں… پہلے ہم’’مٹی‘‘ تھے… پھر کتنے مراحل سے گزر کر پانی کا ایک قطرہ… پھر
خون کاایک لوتھڑا… پھر کچا پکّا گوشت… پھر جسم میں روح… بچپن،
جوانی… بڑھاپا اور موت…
کیا
یہ سب کچھ بے کار اور کھیل ہے؟… ایک بات یاد رکھیں … جس نے بھی اس
بات کو دل سے سمجھ لیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے’’بیکار‘‘پیدا
نہیں فرمایا… اُس کے لئے دنیا اور آخرت میں ترقی کا ہر دروازہ کُھل جاتا
ہے… اوپر دیکھیں آسمان ہی آسمان ہے… دن کو آٹھ بجے چمکتے سورج کو
دیکھیں… رات کو روشنی بکھیرتے گول مٹول چاند کو دیکھیں… یہ سب
کچھ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے پیدا فرمایا… اور انسان کو اپنے
لئے پیدا فرمایا… اس بات میں ذرہ برابر شک نہیں کہ مرنے کے بعد ہمیں ضرور
زندہ کیا جائے گا… قیامت حق ہے… جی ہاں قیامت برحق ہے… بس آنے ہی
والی ہے اور لوگ اس سے غفلت میں پڑے… مکانات، دکانیں، اور بلڈنگیں بنا رہے
ہیں… دعاء کریں میں اور آپ اُن لوگوں میں سے نہ ہو جن
کو اللہ تعالیٰ نے پیدا ہی جہنم کے لئے فرمایا
ہے… ہائے جہنم، ہائے جہنم… میرے رب کے غضب کی جگہ… اے رحمت والے
رب! ہم سب پر رحم فرما کر ہمیں جہنم سے بچا…
رب
تعالیٰ مالک ہے اُس کی مرضی جس کو جس چیز کے لئے پیدا فرما دے… قرآن پاک میں
اعلان فرمایا… ہم نے بہت سے جنّات اور انسانوں کو جہنم کے لئے پیدا فرمایا
ہے… ان کے دل ہیں مگر وہ سمجھتے نہیں… ان کی آنکھیں ہیں مگر وہ دیکھتے
نہیں… اُن کے کان ہیں مگر وہ سنتے نہیں… جانور بلکہ جانوروں سے بھی
بدتر… کھانا پینا مستی کرنا اور دنیا، دنیا ، دنیاکرنا…
مالک
کی مرضی جس کو خنزیر بنائے… جس کو بکری بنائے، جس کو کتا بنائے اور جس کو
انسان بنائے… اُن سے کون پوچھ سکتا ہے؟… مگر جس پر وہ اپنی رحمت کی نظر
فرماتے ہیں، اُسے اپنی رضا کی تلاش میںلگا دیتے ہیں… اور اُسے اپنا کامیابی
والا کلمہ سکھا دیتے ہیں…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ …
ایک
عام سا انسان… ہماری طرح کھانے پینے کا محتاج… ہماری طرح خون گوشت سے
بنا ہوا… ہماری طرح بیت الخلاء جانے کا محتاج… مگر
وہ اللہ تعالیٰ کا اونچا ولی کیسے بن جاتا ہے؟… سانس
لے تو خوشبو پھیلے، بولے تو پھول برسیں… اور آہ کھینچے تو عرش تک
پہنچے… یہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ… یہ امام بخاری رحمۃ اللہ
علیہ… یہ ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ… یہ فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ
علیہ… یہ سب انسان تھے… آج تک اُن کا عمل جاری ہے اور اُن کی ولایت کی
خیر تقسیم ہو رہی ہے… کبھی عبد اللہ بن مبارک رحمۃ
اللہ علیہ کی زندگی پر غور کیا؟… آج بھی اُن کا تذکرہ کسی مجلس میں ہوجائے
تو برکت محسوس ہونے لگتی ہے… اُن کو دنیا سے گئے ایک ہزار سال سے زائد کا
عرصہ بیت گیا… مگر اُن کی کوئی چیز نہ پرانی ہوئی ہے نہ گلی نہ سڑی… لوگ
بڑی بڑی جاگیریں بنانے والوں کو بھول گئے… بڑے بڑے کارخانے لگانے والے تاریخ
کے دھویں میں چھپ گئے… بڑے بڑے نامور بادشاہوں کو دیمک کے کیڑوں نے مٹا
دیا… مگر نور الدین زنگیؒ… صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ
علیہ… بایزید یلدرم رحمۃ اللہ علیہ… اورنگ زیب عالمگیررحمۃ اللہ علیہ اور
سید احمد شہیدرحمۃ اللہ علیہ سے لوگ آج بھی ملتے ہیں اور اُن سے فیض اور روشنی
پاتے ہیں… ایک بات اپنے دل میں بٹھا لیں… جس نے اپنے وقت
کو اللہ تعالیٰ کے لئے خرچ کیا اُس کا وقت قیمتی اور محفوظ
ہوگیا… جس نے اپنے مال کو اللہ تعالیٰ کے لئے خرچ کیا
اُس کا مال قیمتی اور محفوظ ہو گیا… اور جس نے خود
کو اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے وقف کر دیا تو
اللہ تعالیٰ اُس کا ہو گیا… اور
پھر اللہ تعالیٰ نے محبت کے ساتھ اُس کی جان کو اور اُس کے
مال کو اپنی رضا اور جنت کے بدلے خرید لیا… واہ جنت، واہ میرے پیارے رب کی
رضا کی جگہ…
لا
الہ الا اللہ ، استغفر اللہ ، اللھم انی اسئلک الجنۃ و أعوذبک من
النّار…
رمضان
المبارک کا مغفرت والا عشرہ جاری ہے… ہم سب کی بڑی تمنا ہے
کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ’’مغفرت‘‘ کا فضل ہو
جائے… ماشاء اللہ قضاء نمازوں کی ادائیگی ہر طرف شروع
ہے… کچھ باہمت ایسے ہیں جو قضاء نمازیں بھی ادا کر رہے ہیں… اور نوافل
بھی ادا کرتے ہیں… کچھ ہوشمند ایسے ہیں کہ انہوں نے اپنے تمام نوافل اور سنن
غیر مؤکدہ کی جگہ قضا فرض نمازیں ادا کرنا شروع کر دی ہیں… کوئی ایک دن کی
کرتا ہے اور کوئی پانچ دن کی… اور کوئی باہمت دس دن کی… جی ہاں دو سو
نوافل پڑھتے تھے… اب دو سورکعت قضاء نمازیں ادا کرتے ہیں… یوں ہر دن دس
دنوںکا بوجھ اتر جاتا ہے… ماشاء اللہ ایک مہینے میں
تقریباً ایک سال کا قرضہ اُتاردیں گے… کسی کتاب میں دیکھا
تھا … حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ
فرماتے ہیں گناہ گار کی توبہ قبول ہونے کی علامت یہ ہے کہ… وہ اپنے قضا شدہ
فرض روزے اور فرض نمازیں ادا کرنا شروع کر دے… بے شک توبہ سے گناہ معاف ہو
جاتا ہے… مگر قرضہ تو نہیں اُترتا…ماضی میں فرض نمازیں چھوڑنے کا عظیم گناہ
کیا… بہت بڑا گناہ… جی ہاں بہت ہی بڑاگناہ… بے نماز کے دین کا کوئی
اعتبار نہیں ہوتا… کئی بڑے ائمہ کے نزدیک تو فرض نماز جان بوجھ کر چھوڑنے سے
انسان کفر میں داخل ہو جاتا ہے… العیاذ باللہ ، العیاذ باللہ …
اللہ تعالیٰ
ہمیں کفر کے دھویں سے بھی بچائے… آگ، آگ، ہمیشہ کی
آگ… یا اللہ رحم… کفر نام ہی آگ کا، عذاب کا
ہے… کافر دنیا بھر کا بادشاہ بن جائے… تب بھی دنیا کے سب سے بدتر جانور
سے بھی اچھا نہیں… بلکہ بُرا ہوتا ہے… اے بھائیو! اے بہنو! کفر سے ہمیشہ
ڈرتے رہنا چاہئے کہ… کہیں یہ ہمارے دل اور ہمارے گھر میں داخل نہ
ہوجائے… اُس دن خبریں دیکھ رہاتھا ایک مولوی… عیسائی ہو گیا، کسی شادی
کے چکّر میں مرتد ہو گیا… خبر پڑھ کر خوف کی وجہ سے مجھ پر کپکپی طاری ہو
گئی… یا اللہ کلمے کی دولت نہ چھن جائے… لا الہ
الا اللہ کی عظیم نعمت نہ چھن جائے… ہر وقت ڈرتے رہنا
چاہئے اور اُن گناہوں سے بچتے رہنا چاہئے جو ایمان کی دولت کو کمزور کرتے
ہیں… بات یہ چل رہی تھی کہ… ماضی میں کسی نے فرض نماز چھوڑی… یہ
بڑا سخت جُرم کیا… اب اللہ تعالیٰ نے توبہ کی توفیق
دی… توبہ قبول ہوئی نماز چھوڑنے کا جُرم معاف ہوگیا… مگر نماز تو معاف
نہیں ہوئی… وہ ضرور ادا کرنی ہے… اور توبہ کے قبول ہونے کی علامت یہ ہے
کہ انسان کو… اپنی قضا نمازیں… اور قضا روزے ادا کرنے کی فکر اور توفیق
نصیب ہو جائے… انسان اپنی طاقت کے مطابق شروع کر دے… اورہر روز کرتا
رہے… پوری ہو گئیں تو بہت اچھا… کچھ رہ گئیں تو چونکہ ادا کرناشروع کر
دی تھیں… اس لئے ان شاء اللہ خیر کی امید کی جاسکتی
ہے… رمضان المبارک کی برکت دیکھیں
کہ… ماشاء اللہ ہزاروں مسلمان… نہایت توجہ اور
فکر کے ساتھ اپنا یہ دینی قرضہ اداکرنے لگ گئے ہیں…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ ، اللھم صل علٰی سیدنا
محمد… و الحمدللہ رب العالمین…
اپنی
زندگی کو کامیاب اور بامقصد بنانے کے لئے… اسی رمضان المبارک میں کبھی تنہائی
میں غور کریں… یا اللہ آپ نے مجھے عبث اور بے کار
پیدا نہیں فرمایا… انسان تو زمین پر اللہ تعالیٰ کا
خلیفہ بن کر آیا… اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان کی کتنی
چیزوں کو انسان کے لئے مسخّر فرما دیا… اور انسان کو عقل اور دل کی نعمت عطاء
فرمائی… اور پھر جس پر رحم کی نظر فرمائی… اُس کے دل کو… اور عقل
کو لا الہ الا اللہ … کا علم اور یقین نصیب فرما
دیا… کبھی خلوت میں عرض کریں… یا اللہ ! اے میرے مالک! آپ
نے مجھے بے کار پیدا نہیں فرمایا… یہ آپ کا ارشاد ہے اور مجھے اس پریقین
ہے … اے عظیم مالک اے میرے رب… آپ ہی میرے رب ہیں… اور میں
آپ کا بندہ ہوں… آپ مجھے اپنا بنا لیجئے… اور مجھ سے اپنی رضا والا
کام لے لیجئے… بس یہ عرض اور مناجات تنہائی میں ہوتی رہے تو کسی وقت آنسوؤں
کے درمیان رحمت چمکے گی… اور دل بول اٹھے گا
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ …
اس
کلمے کا کمال دیکھیں… کہ جو محنت اس کے ساتھ وابستہ ہو جائے وہ کامیاب ہوجاتی
ہے… اور مقبول ہوجاتی ہے… یہ الرحمت ٹرسٹ والے جو سالہا سال سے جہاد کی
دعوت دیتے پھرتے ہیں… صرف اسی کے اثرات کا کوئی اندازہ لگانے کی کوشش
کرے… دنیا نے جہاد کو روکنے اور مٹانے کے لئے ہر حربہ استعمال
کرلیا… اورہر سازش رچالی… ظاہری طور پر یہ ہونا چاہئے تھاکہ… جہاد
ایک گالی بن جاتا… اور پوری دنیا میں اس کا کوئی نام لینے والا نہ
ہوتا… میں کئی تحریکوں اور شخصیات کی مثال پیش کر سکتا ہوں… جب دنیا نے
اُن کے خلاف اپنے اسباب استعمال کئے تو وہ تحریکیں مٹ گئیں اور وہ شخصیات گالی بن
گئیں…
مگرجہاد
کے خلاف اتنی شدید محنت اور مزاحمت کے باوجود … جہاد
ماشاء اللہ اور روشن ہوگیا ہے… زیادہ ابھرا ہوا، زیادہ
خوشبو دار اور زیادہ دلکش… ساری دنیا مل کرجہاد کو نہ ہٹلر بنا سکی اور نہ
مسولینی… آج جہاد کو سمجھنے والے افراد دس سال پہلے کی تعداد سے زیادہ
ہیں… سینکڑوں کی تعداد میں فدائی مجاہدین ایک ایک
منٹ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے شوق میں گُھل رہے
ہیں… مجاہدین کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے… محاذِ جنگ پہلے سے
زیادہ آباد ہیں اور بڑھ چکے ہیں… دعوتِ جہاد میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے
اور قوت آ چکی ہے… جہادی کیسٹیں پہلے سے زیادہ… جہادی کتب پہلے سے
زیادہ… ابھی کل رات مجھے برادر عزیز مولانا طلحہ السیف
حفظہ اللہ تعالیٰ کی کتاب…’’صدائے سیف‘‘
ملی… ماشاء اللہ کیا خوب، کیا مؤثر،کیا مدلّل اور کیا
دلکش کتاب ہے… یہ سب’’دعوت جہاد‘‘ کے اثرات ہیں… اور ان شاء
اللہ یہ اثرات آئندہ نسلوں تک… اور قیامت تک جاری رہیں
گے… ساری دنیا کا میڈیا… اور ساری دنیا کے تھنک ٹینک مل کر بھی جہاد کو
ایک رتی برابرنقصان نہیں پہنچا سکے… رمضان المبارک میں ’’دعوتِ جہاد‘‘ کا رنگ
ہی کچھ اور ہوتا ہے… ایک زمانہ تھا کہ بندہ بھی مکمل جوش و خروش کے ساتھ اس
مہم میں نکلتا تھا… گزشتہ رات کئی مناظر یادآرہے تھے… بعض ایمان افروز
اور بعض دلچسپ… رمضان مہم میں شرکت کرنے والے اسے معمولی کام نہ
سمجھیں… ارے ایمان والو… یہ دین کی بہاریں تو قسمت والوں کو نصیب ہوتی
ہیں…
لا
الہ الا اللہ ، لاالہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ …
آج
ایک دو اور ضروری باتیں بھی لکھنی تھیں…مگر بجلی چلی گئی اور کاغذ کو پسینے نے
گیلا کر دیا… میںآپ کے لئے اور آپ میرے لئے دعاء کریں… قسمت رہی تو ان شاء
اللہ اگلی مجلس میں ملاقات ہوگی
لا
الہ الا اللہ ، لاالہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ …
اللھم
صل علٰی سیدنا محمد والہ وصحبہ و بارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ ، لاالہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ …
دعوت
جامع
مسجد عثمانؓ وعلیؓ… بہاولپور میں ان
شاء اللہ آخری عشرے کا
اعتکاف… اُمت مسلمہ کے مجاہدین، غزاۃ، فاتحین… اور مستقبل کے شہداء کی
ایمان افروز صحبت اور موثر اصلاحی نصاب… سعدی فقیر کی طرف سے اہل دل
کو… جو استطاعت رکھتے ہوں… شرکت کی دعوت ہے…
٭٭٭
اللہ اکبر… اللہ تعالیٰ
سب سے بڑا ہے… جب مسجد سے اذان کی آواز
آئے… اللہ اکبر، اللہ اکبر… تو
مؤمن وہ ہے جس کی نظر میں ہر چیز اللہ تعالیٰ کے بُلاوے سے
چھوٹی ہو جائے… ارے بھائی… اللہ تعالیٰ نے نماز کے لئے
بُلایا ہے… اور اللہ تعالیٰ سب سے بڑا
ہے… اللہ اکبر، اللہ اکبر… اب
کوئی کام ایسا نہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے بڑا
ہو… نہ دکان نہ فیکٹری… نہ گاہک نہ دوست احباب… اور نہ اولاد اور
گھر والے… آدمی جواب
دے… اللہ اکبر، اللہ اکبر… ہاں
ہاں بے شک میرا اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے اورمیں اُس کی عبادت
کے لئے جا رہا ہوں… سب کو چھوڑ کر، سب کچھ چھوڑکر…سجدے کرنے، رکوع کرنے اور
اپنے عظیم رب سے مناجات
کرنے… اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہ
الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ …
میرے
بھائیو اور بہنو!… بس اس بات کی کوشش کرو کہ’’کلمہ طیبہ‘‘ ہمارے دل پر نقش ہو
جائے… آپ کو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عرش پر کیا
لکھا ہوا ہے؟… کئی روایات میں آیا ہے کہ… عرش عظیم پر ’’لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ لکھا
ہواہے … اللہ اکبر کبیرا… یہ سوچتے ہی دل پر وجد
طاری ہو جاتا ہے… اور دل بے اختیار پڑھنے لگتا ہے لا الہ الا اللہ
، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ …
عرش
کتنا بڑا ہے… ہم اس کاتصور بھی نہیں کر سکتے… ہم تویہ تک نہیں جانتے کہ
آسمان کتنا بڑاہے… پھر اس آسمان کے اوپر چھ آسمان ہین… وہ اِس آسمان
سے بھی بڑے ہیں… جنت کتنی بڑی ہے… اور جہنم کتنی بڑی ہے؟…یقیناً جنت اور
جہنم تمام آسمانوںسے زیادہ بڑی ہیں… اور
پھر اللہ تعالیٰ کی
’’کُرسی‘‘… سبحان اللہ وہ تو جنت اور جہنم سے بھی بڑی
ہے… اور اللہ تعالیٰ کا
عرش اللہ تعالیٰ کی کرسی سے بھی بڑا ہے… اس چھوٹے سے
انسان کو دیکھو! کہ ایک قطرے سے پیدا ہو کر اللہ تعالیٰ کے
بارے میں نعوذ باللہ شک کرتا ہے… اور باتیں کرتا ہے… وضرب
لنا مثلاً ونسی خلقہ… اللہ تعالیٰ کاعرش اتنا بڑا، اتنا بڑا
کہ ہمارے خیال اور تصور میں بھی نہیں آسکتا… اور اس عرش پر لکھا ہوا ہے
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
تو
پھر وہ مؤمن کتنا خوش نصیب جس کو اللہ تعالیٰ یہ کلمہ نصیب
فرما دے… سبحان اللہ … اور وہ کتنا خوش نصیب جس کو اس
کلمے کی حقیقت نصیب ہو جائے… اور وہ کتنا خوش نصیب جو اس کلمے کی دعوت
دے… اور وہ تو کتنا ہی خوش نصیب جو اس کلمے کی عظمت کے لئے ٹکڑے ٹکڑے ہو
جائے… میرے بہت ہی عزیز’’ ریاض حسین‘‘ کی طرح… جن کو بچے پیار سے’’خان
بابا‘‘ کہتے تھے… یا اللہ میرا سلام اُن تک پہنچا
دیجئے… وہ کلمے کو پڑھنے والے… اور کلمے کو سمجھنے والے انسان
تھے… اور بالآخر وہ کلمے کے اونچے مقام تک پہنچ گئے… اور کلمے کی عظمت
کے لئے خوشبو کی طرح بکھر گئے…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ …
آج
سے سات سال پہلے جب بہاولپور کی ’’جامع مسجد عثمانؓ و علیؓ‘‘ میں اعتکاف شروع کرنے
کی کوشش کی تھی تو… اپنے ساتھ دس افراد کو منتخب کیا تھا… ریاض حسین اُن
میں سب سے پہلے نمبر پر تھے… مسجد اور مرکز کی تعمیر میں اُن کی دعائیں اور
پسینہ شامل تھا… اور وہ ہمارے مرکز کی رونق تھے… آج الحمدللہ جب میں یہ الفاظ لکھ رہا ہوں تو… اس وقت
مسجد عثمانؓ وعلیؓ میں ماشاء اللہ آٹھ سو کے لگ بھگ
معتکفین… اللہ تعالیٰ کے در پر اپنے گناہوں کی مغفرت کے لئے
گڑ گڑا رہے ہیں… رکوع اور سجدے کر رہے
ہیں… اللہ اللہ پکار کر نور پا رہے
ہیں… اور مستقبل کے شہداء کی صحبت میں دین اسلام کی روشنی حاصل کر رہے
ہیں… اللہ تعالیٰ ریاض حسین شہید کے درجات بلند
فرمائے… اور اُن کے باقی رفقاء کے درجات بھی بلند فرمائے… اور اُن کی
عظیم قربانی کی برکت سے اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی پیاری
ملاقات کا شوق نصیب فرمائے… لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ …
الحمدللہ دیوانوں کی محنت رنگ لا رہی ہے… اس سال
مُلک کے حالات اچھے نہیں تھے… کراچی میں آگ لگی ہوئی ہے… مہنگائی اور
لوڈ شیڈنگ نے غریبوں کی کمر توڑ دی ہے… اور ملک مختلف طاقتوں نے آپس میں
بانٹ رکھا ہے… ایسے حالات میں اعتکاف کی آواز لگائی گئی… اعتکاف بڑی
عاشقانہ عبادت ہے… بس سب کو چھوڑا اور مالک کے درپر
آپڑے… اللہ اکبر کبیرا… آج جب معتکفین کی حاضری لگی
تو تعداد ماشاء اللہ سات سو نوّے تھی… یہ تو سنت
اعتکاف والے ہیں… سنّت کا لفظ کتنا میٹھا ہے… سنّت، سبحان اللہ سنتِ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم … ارے ساری دنیا کے
نوافل مل کر ایک سنت کے برابر نہیں ہو سکتے … اور رمضان المبارک میں ہر
سنت کا اجر بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے… سنتوں کو زندہ کرنا ایمان کی علامت
ہے… اور سنت ہی وہ سیدھا راستہ ہے جو کامیابی کی طرف لے جاتا
ہے… اللہ تعالیٰ ہم سب کو’’بدعات‘‘ سے بچائے… بدعت ایک
آگ ہے… اور سنت نور ہے… میرے آقا صلی اللہ علیہ
وسلم کے خوشبودار ، معطر اور منوّر طریقے… ہائے کاش ہر مسلمان
کایقین بن جائے کہ… ہماری کامیابی صرف رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کے طریقوں میں ہے… کاش مسلمان ’’سنت‘‘ کے شیدائی
بن جائیں… اور اپنی شکل وصورت، اپنی خوشی،غمی… اور اپنے تمام معاملات
سنت کے مطابق بنائیں… حضرت آقامدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے
پیار اور کتنی تاکید سے ارشاد فرمایا
علیکم
بسنّتی
کہ
اے ایمان والو… اے کلمے والو میری سنت کو لازم پکڑلو… رمضان المبارک کے
آخری عشرے کا اعتکاف ’’سنت مؤکدہ‘‘ ہے… مگر علی الکفایۃ… یعنی اگر ہر
محلے اور علاقے سے چند لوگ یہ سنت ادا کرلیں تو کافی ہو جاتا ہے… وہ لوگ جن
کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا عشق ہوتا ہے
وہ … پورا سال رمضان المبارک کے آخری عشرے کا انتظار کرتے
ہیں کہ… کب اپنے عظیم اور محبوب مالک کے لئے سب کچھ چھوڑچھاڑ کر… مسجد
شریف جا بیٹھیں…
دل
ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
بیٹھے
رہیں تصوّر جاناں کئے ہوئے
اچھا
ایک بات سوچیں… میری اور آپ کی زندگی کے کتنے’’رمضان‘‘ باقی
ہوںگے؟… کچھ بھی علم نہیں… ممکن ہے یہ آخری رمضان ہو… پھر یہ غفلت
کیسی؟… اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہو گیا کہ ایک رات کی
عبادت چوراسی سال کی مقبول عبادت سے افضل ہے… پھر بھی شیطان بہکاتا ہے
کہ… ذرا جوس پی آؤ… ہوٹل سے کھانا کھا آؤ… ارے باقی سارے کام
تو پورا سال بھی ہو سکتے ہیں… مگر رمضان المبارک اور لیلۃ القدر پورا سال
نہیں ہوتے… شیطان اور نفس کے بچھائے ہوئے فتنوں کا بہترین علاج ’’اعتکاف ‘‘
ہے… نہ غیبت نہ گپ شپ… نہ بازار نہ بد نظری… بس اللہ ،
اللہ اور لا الہ الا اللہ کی صدائیں اور عبادت
ہی عبادت، نور ہی نور… مزے ہی مزے…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ …
سنت
اعتکاف میں شریک افراد ماشاء اللہ … آٹھ سو کے لگ بھگ
ہیں… اب میں اور آپ تو دور بیٹھے ہیں… ان اعتکاف والوں کے عمل میں شرکت
کا آسان اور مؤثر طریقہ یہ ہے کہ… ہم ان کے لئے دعاء کا معمول بنا
لیں… یا اللہ ان سب کو ایمان کامل نصیب فرما… ان
سب کو اپنی پیاری اور میٹھی ملاقات کا شوق نصیب فرما… ان سب کو دنیا اور
آخرت کی فلاح اور کامیابی نصیب فرما… اور ان سب کو اہل سعادت اور اہل جنت
میں سے بنا… سنت اعتکاف کے علاوہ نفل اعتکاف والے حضرات بھی آتے رہتے ہیں
اور آخری عشرے میں اُن کی تعداد اور زیادہ بڑھ جاتی ہے… جامع مسجد
سبحان اللہ کو اللہ تعالیٰ جلد قائم
اور آباد فرمائے… مسجد عثمانؓ وعلیؓ تو اس سال پوری نہیں
پڑرہی… اللہ تعالیٰ قادر ہے ہم اس کے سامنے’’جامع مسجد
سبحان اللہ ‘‘ کی تعمیر اور آبادی کے لئے جھولی پھیلاتے ہیں
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ …
آخر
میں ایک چھوٹی سی بات سمجھ لیں… اگر آپ پیٹ بھر کر کھانا کھائیں… اتنا
کہ پیٹ اکڑجائے اور پھول جائے… اوپر دو چار بوتلیں بھی پی لیں… اور کچھ
میٹھا بھی کھا لیں… حالت یہ ہو جائے کہ اُلٹے ڈکار اور متلی آنے
لگے… ایسے میں کوئی آپ کے سامنے کسی کھانے اور’’ڈش‘‘ کی تعریف کرے… کیا
آپ کے دل میں یہ آئے گاکہ میں ابھی جا کر وہ ’’ڈش‘‘ یا کھانا کھالوں؟… ہرگز
نہیں بلکہ غصہ آئے گا… مگر جب گرمی کا روزہ ہو… تو شام کے وقت پانی کا
خیال، شربت کا خیال… قورمے پلاؤ اور بریانی کا خیال… بلکہ کوئی دال کا
تذکرہ کرے تو وہ بھی اچھی لگتی ہے… ٹھیک بات ہے نا؟… اب اگلی بات
سمجھیں… کھانے کے خیالات اور وسوسے اُسی کو آتے ہیں جس کا روزہ ہو… اور
پیٹ خالی ہو… تو کیا ان وسوسوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟… جواب بالکل واضح
ہے … ہرگز نہیں… اب اگلی بات سمجھیں… انسان اگرگمراہی اور
گناہوں سے بھرا پڑا ہو تو… نہ اُسے زیادہ بے چینی ہوتی ہے اور نہ وسوسے آتے
ہیں… لیکن جیسے ہی آپ ایمان اور دین کا راستہ اختیار کریں تو… بس وساوس
کا دریا بہہ پڑے گا… اسی لئے علماء کرام نے لکھا ہے کہ… جس کو
ذکر اللہ کے بعد وسوسے زیادہ آئیں تو یہ اُس کے ذکر کے
قبول ہونے کی علامت ہے… اور جس کو عقائد کے بارے میں وسوسے زیادہ آئیں تو
اُس کے ایمان کی نشانی ہے… کیونکہ شیطان ’’چور‘‘ ہے اور چور وہیں حملہ کرتاہے
جہاں خزانہ موجودہو… آپ واقعات پڑھیں… حضرات انبیاء د کے بعد سب سے
اونچا، سب سے مقبول اور سب سے مضبوط ایمان حضرات صحابہ کرام ڑکا
تھا… مگر حضرات صحابہ کرام ڑکو بھی وسوسے آتے تھے… کئی مجاہدین نے
بتایا کہ… جب سے جہاد میں لگے ہیں وسوسے زیادہ آرہے ہیں… اُن سے عرض
کیا کہ… جہاد چھوڑ دوو سوسے بند ہو جائیں گے…شیطان چاہتا ہی یہی ہے کہ آپ
جہاد چھوڑ دو… اس لئے شیطان کی بات نہ مانیں… وہ ہزار نہیں لاکھ وسوسے
ڈالے بس جہاد پر ڈٹے رہو… وسوسوں کا علاج یہ ہے کہ… اُن کی طرف توجہ نہ
کی جائے اور نہ اُن کو اہمیت دی جائے… بس جیسے ہی وسوسہ آئے اُسے جھٹک
دیں… اوراعلان کر دیں… اٰمَنْتُ باللہ وَ
رُسُلِہِ…
میں
ایمان لایا اللہ تعالیٰ پر… اور اُس کے رسولوں
پر… اور پھر آنکھوں میں پانی بھر کر… دل سے پڑھنا شروع کر دیں
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ …
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ و بارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ …
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ کا دین دنیا میں’’غالب‘‘ ہونے کے لئے آیا ہے… خوش نصیب ہیں وہ
’’مسلمان‘‘ جو دین اسلام کے غلبے کی فکر اور محنت کرتے ہیں… اور اس کی خاطر
اپنا مال اور اپنی جان قربانی کے لئے پیش کرتے ہیں… آپ نے سن لیا ہو گا کہ
انڈیا کی حکومت مجاہد اسلام جناب افضل گورو صاحب کو پھانسی دینے کی تیاری کر رہی
ہے…ویسے یہ حرکت انڈیا کو بہت مہنگی پڑے گی ان شاء
اللہ … اُدھر لیبیا میں کرنل قذافی کا بیالیس سالہ اقتدار تقریباً
خاتمے پر ہے… ایک نئی خانہ جنگی اور بّراعظم افریقہ میں جہاد کی تربیت کا یہ
ایک نیا محاذ کھل گیاہے… مُلک شام کی منافق باطنی حکومت دھڑا
دھڑ مسلمانوں کو شہید کر رہی ہے… نیٹو کو وہاں بمباری کی ضرورت
محسوس نہیں ہو رہی حالانکہ وہاں کے حالات لیبیا سے زیادہ خطرناک ہیں… حضرات
انبیاء کی سرزمین پرشہداء کے سرخ جنازے ضرور اپنا رنگ دکھائیں گے… امریکہ کو
طوفانوں نے گھیر رکھا ہے… آئرین طوفان کی بلا خیز موجیں امریکی ساحلوں کو
تاراج کررہی ہیں… اور نام نہادسپرپاور کے ہوش اُڑے ہوئے ہیں… دیکھیں
قرآن پاک کیا فرما رہا ہے :
وَکَمْ
اَھْلَکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ م بَطِرَتْ مَعِیْشَتَھَا( القصص ۵۸)
ترجمہ: اور
ہم نے بہت سے شہروں کو تباہ کر دیا جنہیں اپنی معیشت پر بڑا ناز تھا…
لوگ
بھاگ رہے ہیں… شہروں کے شہر ویران پڑے ہیں… اور کوئی ٹیکنالوجی
اورمیزائل ایسا نہیں جو منہ زور ہواؤں کا رُخ بدل دے… ہمارا شہر کراچی لاشیں
اٹھا اٹھا کر ہلکان ہے… اتنے لوگ نہ وزیرستان اور نہ سوات میں مارے گئے جتنے
کراچی میں قتل کئے جارہے ہیں… پورے پاکستان میں چوروں اور ڈاکوؤں کو کھلی
آزادی ہے… رات کووہ جہاں چاہتے ہیں ناکہ لگا کر لوگوں کو لوٹتے اور قتل کرتے
ہیں… رمضان المبارک میں ہمارے جامعۃ الصابر کے ایک ہونہار طالب علم کو
شیخوپورہ میں ڈاکوؤں نے شہید کر ڈالا… حکومت کا کوئی وزیر چوروں اورڈاکوؤں
کے خلاف نہیں بولتا… کیونکہ یہ چور اورڈاکو اگرچہ قاتل ہیں مگر امریکہ اور
انڈیا ان سے ناراض نہیں… اس لئے اُن کی مرضی وہ جتنے مسلمانوں کوقتل کریں ان
تمام حالات میں پاکستان کی وزارت داخلہ اورخفیہ ادارے… ایک نئے اور بڑے
آپریشن کی تیاری کر رہے ہیں… چوروں اور ڈاکوؤں کے خلاف نہیں… کراچی کے
ٹارگٹ قاتلوں کے خلاف نہیں… لوگوں کے گُردے نکال کر فروخت کرنے والے ڈاکٹروں
کے خلاف نہیں… بھتہ خوروںاوربدعنوان آفیسروں کے خلاف نہیں… اغوا اور
بدکاری کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف نہیں… ہیروئن اور چرس کے سمگلروں کے
خلاف نہیں… بلکہ صرف اور صرف پاکستان کے دینی حلقوں کے خلاف… مساجد اور
مدارس اوردینی جماعتوںکے خلاف… یقیناً یہ آپریشن بھی مُلک کو مزید ذلّت اور
بدامنی میںمبتلا کرے گا… مگر حکمرانوں کو اس سے کیا غرض… انہیں تو امید
ہے اس ظلم اور بیوقوفی کے بدلے انہیں دو چار ارب ڈالر کی امداد مل جائے گی…یہ ہیں
چند تازہ خبریں، کوشش کریں گے کہ ان میں سے بعض پر کچھ تفصیلی بات ہو
جائے… افضل گورو، ایک کشمیری مجاہد ہیںجنہیں بھارت کی عدالتوں نے سیاسی
بنیادوں پر سزائے موت سنائی ہوئی ہے… وہ دھلی کی تہاڑجیل نمبر3 میں کئی سال سے
قید ہیں… اسی جیل میں کشمیری رہنما مقبول بٹ کو پھانسی دے کر شہید کیا
گیا… اور مزیدظلم یہ کہ اُن کو تہاڑجیل ہی میں سپرد خاک کر دیا
گیا … جمہوریت کے دعویدار عوامی احتجاج سے کس قدر ڈرتے ہیں؟… ان
دنوں بھارت کی کانگریس حکومت بدعنوانی کے الزامات سے لرز رہی ہے اور اگلے انتخابات
کا وقت قریب آرہاہے… مسلمانوں کے پاس چونکہ’’خلافت‘‘ کی نعمت نہیں ہے اس لئے
وہ دنیا بھر کے ظالموں کا نشانہ ہیں… اب کانگریس نے ووٹ لینے ہیںتو اس کے لئے
اُسے مسلمانوں کے خون کی ضرورت ہے… اس سے پہلے بی جے پی بھی مسلمانوں کو قتل
کر کے اقتدار میں آئی تھی…ایڈوانی اور اُس کی رتھ یاترا… بابری مسجد اور
مسلم کُش فسادات… تب مشرکوں نے ’’بی جے پی‘‘ کو دل کھول کر ووٹ دیئے
تھے… گجرات میں نریندر مودی تیسری بار اسی لئے وزیر اعلیٰ بنا کہ وہ دن رات
مسلمانوں کا خون پیتا ہے…مہاراشٹرمیںبال ٹھاکرے اور اُس کے بھتیجے راج ٹھاکرے کی تمام
تر قوت کا راز مسلمانوں کی خونریزی میں ہے… مسلمانوں کے پاس ایک بھی ایسا
حکمران نہیں جو’’مسلمان‘‘ کی بات کرتا ہو… ہماری قسمت میں تو مسلمانوں کو
بیچنے اور مارنے والے حکمران لکھے ہیں… ابھی پاکستان کی ایک عدالت نے پرویز
مشرف کی جائیداد ضبط کرنے کے احکامات دیئے تو ہم اُس کی جائیداد کی تفصیلات پڑھ کر
حیران رہ گئے… ایک تنخواہ دار سرکاری ملازم اتنی جائیداد آخر کہاں سے بنا
سکتا ہے؟ … یہ سب حرام کا مال مسلمانوں کو مارنے اور بیچنے کے بدلے
کمایا گیا… اور اب حکومت اس میں سے بچے کھچے کو ضبط کر رہی ہے جبکہ اصل دولت
وہ… اپنے ساتھ برطانیہ لے بھاگاہے… کانگریس حکومت خطرے میں ہے تو وہ
افضل گورو کو شہید کر کے… اپنا اقتدار بچانا چاہتی ہے… تاکہ انتخابات
میں عوام کو بتا سکے کہ ہم نے ایک مجاہد مسلمان افضل گورو کو پھانسی دی ہے اس لئے
ہمیں ووٹ دو… یہ تو معلوم نہیں کہ انڈین حکومت یہ بھاری پتھر اُٹھا سکے گی یا
نہیں… افضل گورو جیل میں استقامت کے پہاڑ بنے بیٹھے ہیں… ہروقت تلاوت،
نماز، ذکر اور درود… جو بھی اُن سے مل کر آتاہے وہ ایمان کی تازگی کا اعتراف
کرتاہے… پچھلے دنوں سید علی گیلانی اُن سے مل کر آئے توکہنے لگے! افضل گورو
کی زیارت سے میرے ایمان کو قوت اور تازگی ملی ہے… افضل گوروہر سچے مجاہد کی
طرح’’شہادت‘‘ کے بھی شوقین اور طلب گار ہیں… اور حال ہی میں انہوں نے اپنے
ایک بیان میں کہا ہے کہ… پھانسی اُن کے لئے ایک بڑا انعام ہو گی… انڈین
حکومت نے ارادہ تو باندھ لیا ہے… وہاں کی وزارت داخلہ نے’’زنانہ صدر‘‘ کو
درخواست دی ہے کہ وہ جلد سزائے موت کی توثیق کر دے…لیکن سچی بات یہ ہے
کہ… افضل گورو کوئی لاوارث انسان نہیں ہے… وہ شعلہ صفت فدائیوں کا محبوب
دوست اورساتھی ہے… اور روزآنہ ہزاروں ہاتھ اُس کے لئے دعاء کے لئے اٹھتے
ہیں… زندگی کا وقت مقرر ہے اور مؤمن دنیا کو قید خانہ سمجھ کر اس سے آزادی
کا خواہش رکھتا ہے… ممکن ہے افضل گورو کی دعائیں رنگ لے آئیں اور اسے دنیا
کے قید خانے سے تختہ دار پر رقص کرتے ہوئے آزادی مل جائے… مگر یہ انڈیا کے
لئے بہت بھاری ہوگا… جی ہاں بہت زیادہ بھاری… ہاں ساری دنیا والو! کان
کھول کر سُن لو…مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والوں کوکبھی امن نہیںمل
سکتا… کبھی بھی نہیں… کسی کا تو نام بتاؤ جو مسلمانوںسے ٹکرایا ہو اور
پھر سلامت رہا ہو… وقتی طورپر کئی قومیں مسلمانوں پرغالب آئیں مگر آج اُن
کا نام و نشان بھی نہیں جبکہ مسلمان الحمدللہ پوری دنیا میں موجود ہیں… ابھی تو صرف بارہ
یا چودہ سال انتظار کرو… ہاں جس کو تاریخ لکھنی ہو
وہ اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر آج ہی لکھ کر رکھ لے
کہ… بارہ یا چودہ سال میں اسلام کے غلبے کے مکمل آثار ان شاء
اللہ ساری دنیا دیکھ لے گی… یہ نہ تو کوئی نجومیانہ پیشین گوئی
ہے اور نہ ستاروں کا حساب… فن نجوم اور پامسٹری سے ہزاروں
بار اللہ تعالیٰ کی پناہ… اسی طرح یہ نہ تو کشف ہے
اورنہ الہام… اولیاء کرام کو کشف اورالہام ہونا برحق ہے… مگرہم تو ادنیٰ
درجے کے مسلمان ہیں… یہ بارہ اور چودہ سال کا عرصہ…جہادی رفتار ہے… جہاد
الحمدللہ ترقی کی طرف جارہا
ہے… اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ہے کہ ہم نے ’’جہاد
مبارک‘‘ کی ترقی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے… اب
ماشاء اللہ جہاد اپنے ’’فدائی دور‘‘ میںداخل ہو چکا
ہے… سائنسدان جس طرح سیاروں کی چال اور رفتار پہچانتے ہیں تو اسی
طرح… جہاد کی چاکری میں جوانی کھپانے والے مسلمان جہادکی رفتار کو پہچانتے
ہیں… اب ماشاء اللہ ’’جہاد‘‘ خلاؤں سے بھی اوپرپہنچ چکا
ہے… اب دنیا کا کوئی میزائل، کوئی بم اور کوئی جنگی جہاز ’’جہاد‘‘ کو نشانہ
نہیں بنا سکتا… اب جتنے مجاہد شہید ہوتے جائیں گے جہاد اُتنی ترقی کرتا چلا
جائے گا…بلکہ جہادی قیادت کی شہادت سے بھی جہاد کو نقصان نہیں بلکہ ترقی ہو
گی… آپ تھوڑا سا غور کریں… ایک فدائی مجاہد کی دعاؤں کا کیا مقام ہوتا
ہے؟… کیا وہ اللہ تعالیٰ سے کوٹھی اور کار
مانگتاہے؟… کیا وہ خوبصورت بیوی اور چالو فیکٹری مانگتا ہے؟… کیا وہ یہ
مانگتاہے کہ دنیا میں لوگ اُس کی عزت کریں؟… کیا وہ اپنے معدے اورجگر کی
بیماریوںکی شفاء مانگتا ہے؟… کیا وہ اپنی محبوبہ سے نکاح کی دعاء
مانگتاہے؟… کیا وہ قرضوں سے نجات اور اہل اولاد کی فرمانبرداری مانگتا
ہے؟… کیا وہ جسمانی صحت اور مردانہ قوت مانگتاہے؟…ارے اُسے ان چیزوں کی کیا
فکر… اور اُس کے نزدیک ان چیزوں کی کیا قیمت… اُس کے لئے یہ بڑے بڑے
مسائل تو مٹی کی طرح بے قیمت ہو چکے ہوتے ہیں… جی ہاں وہ مسائل جن کے لئے عام
لوگوں گھنٹوں و ظیفے کرتے ہیں… مہینوں تک چلّے کاٹتے ہیں… اور در در کی
ٹھوکریں کھاتے ہیں… آپ کسی عامل کے پاس جائیں رش ہی رش ہو گا… آپ کسی
ماہر ڈاکٹر کے پاس جائیں رش ہی رش ہو گا… اور آپ دنیا کی خاطر تعویذ دینے
والوں کے پاس جائیں ہجوم ہی ہجوم ہوگا… فدائی کے لئے یہ سب کچھ بے قیمت
ہے… اسے نہ روٹھے محبوب کو منانے کی فکر ہے… اور نہ کسی چور ڈاکو کا
ڈر… اسے نہ جادو کا خوف ہے اور نہ جنات کا ڈر… اسے نہ کسی کی تعریف کی
ضرورت ہے اور نہ کسی کی مذمت کا ڈر… اللہ اکبرکبیرا… وہ تو
خالص اللہ تعالیٰ کا ہو چکا… خالص بالکل
خالص… اپنے نفس کی ہر خواہش سے آزاد اوردنیا کے ہر غم سے بے
فکر… اللہ ، اللہ ، اللہ … عجیب نور،
عجیب مٹھاس اور عجیب حلاوت اُس کے دل میں اُتر آتی ہے… اور وہ لاکھوں
پریشانیوں اور الجھنوں سے بالکل آزادہو کر ہلکا پھلکا ہو جاتا ہے… اب ایسے
شخص کی دعاؤں اور اللہ تعالیٰ کے عرش کے درمیان کیا پردہ
رہ جاتا ہے؟… کوئی بھی نہیں… اسی لئے تو دنیابھر کے سیارچے، دوربینیں
اور جاسوسی نیٹ ورک اُسے اپنے مقام تک پہنچنے سے نہیںروک سکتے… کیونکہ وہ
خالص اللہ تعالیٰ کا ہوجاتا ہے… ایسا فدائی مجاہد اپنے
آخری دنوں میں اللہ تعالیٰ سے کیا مانگتاہے؟… اسلام
کی عظمت، اسلام کا غلبہ، مسلمانوں کی عزت وحرمت… اور اسلام کی شوکت… اور
بالآخر وہ یہی دعائیں مانگتا مانگتا ہوائوں میں بکھر کر… اونچے جہان جا
پہنچتا ہے… اور وہاں کی لذتّوں اور اکرام میں ڈوب جاتا ہے…
آپ
کیا سمجھتے ہیں کہ… ایسے خالص مؤمن کی دعائیں بے کارجاتی ہیں؟… مجھے تو
اسلام کا غلبہ ریاض حسینؒ کے سورج کی طرح چمکتے چہرے میں یوں صاف نظر آرہاہے…جس
طرح آسمان پر سورج نظر آتاہے… وہ رب تعالیٰ جو عابدوں کے آنسوضائع نہیں
فرماتا…وہ شہداء خصوصاًفدائیوں کے خون کاحقیقی قدردان ہے… تبدیلی کا عمل تیز
ہو چکا ہے… کفار اپنی کم عقلی اور بے وقوفی سے جگہ جگہ بمباریاں کر کے جہادی
مراکز کھلنے کا راستہ ہموار کر رہے ہیں… صدام حسین کے زمانے عراق میں جہاد کا
نام لینا جُرم تھا… مگر کافروں کی موت اُنہیں عراق لے گئی… اُنہوں نے
طاقت کا استعمال کیا تو صدام حسین بھی مجاہد بن گیا… اور عراق میں عربوںکی
جہادی تربیت کے سینکڑوں مراکز کُھل گئے… براعظم افریقہ تو شروع سے مجاہدین کا
مرکز رہا ہے… حضرت موسیٰ بن نصیرؒ اور حضرت طارق بن زیاد رحمۃ اللہ علیہ کے
ناموںسے کون واقف نہیں… اورابھی ماضی قریب میںسنوسی مجاہدین کی
تحریک… مگر افریقہ کا عرب علاقہ کافی عرصہ ہوا… جہاد سے کٹ گیا
تھا… مشرق کی طرف سے توصومالیہ کا چراغ کئی سالوں سے روشنی بکھیر رہا
ہے… مگر عربی افریقہ کا صحرا… سالہا سال سے جہادی اذانوںکو ترس رہا
تھا… قذافی نے اپنے دور اقتدار میں جہاد اور مجاہدین کو بہت دبا کر
رکھا… اور امریکی اداروں کے ساتھ مل کر…لیبیا کے جہاد پسند عناصر کو پوری
دنیا سے پکڑا… قذافی نے اپنے اقتدار کے آخری سالوں میں امریکہ اور یورپ سے
تعلقات بناکرچلنے کے لئے کئی ذلّتیں بھی اٹھائیں… اور اپنا ایٹمی پروگرام بھی
مکمل طورپر بندکر دیا… اُس نے لاکربی بم دھماکے کے متاثرین کو کروڑوں ڈالر
جرمانہ ادا کیا…اور یورپی ممالک کی انتخابی مہمات میں لیبیا کے مسلمانوں کا پیسہ
پانی کی طرح خرچ کیا… یہ سب کچھ کرنے کے باوجود بھی وہ یورپ کے دل کو نہ جیت
سکا… کیونکہ ایک زمانے تک وہ انقلابی لیڈرکا کردار ادا کرتا رہا
تھا… اور اب بھی اس میں اتنی اسلامی غیرت باقی تھی کہ… جب یورپ گستاخی
رسول پر اُترا تو… قذافی نے بلند آواز سے جواب دیا… وہ ایک ملی جلی
شخصیت کا حامل شخص ہے… صحرائی اونٹ کا ہمشکل اور سخت جان… ناچنے گانے والا… مگر
جمعہ کی خود امامت کرنے والا… جہاد کا مخالف… مگر عیسائیت کو للکارنے
والا…بے پردگی کا علمبردار… مگر اسلام کی دعوت دینے والا… ابھی پرسوں۲ ستمبر
کے دن اُس نے اپنے اقتدار کی بیالیسویں سالگرہ منائی تھی… مگر اقتدار
بکھرگیا… اب لیبیا کا جہاد آشنا صحرا پھر آزاد ہو رہا ہے… اگر نیٹو نے
زمینی دستے اُتارے تو طارق بن زیادس… اور امام سنوسی سکے فرزندپورے افریقہ سے
لیبیا کا رُخ کریں گے… لیبیا میں کئی جہادی دستے قائم ہو چکے ہیں جو لوگوں کو
دعوت جہاد اورتربیت دے رہے ہیں… اے کفر کے علمبردارو… تم جس قدر ظلم و
ستم بڑھاتے چلے جاؤ گے… مسلمان اسی قدراونچے ہوتے جائیں
گے…کیونکہ… کامیابی کا جو اصل راز ہے وہ مسلمانوں کے پاس ہے… اور تم اُس
سے محروم ہو… اور کامیابی کا اصل راز ہے… لا الہ الا اللہ ،
لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمدرسول اللہ …
ابتدائی
فہرست کی دو باتیں آگئیں… اور باقی سب رہ گئیں… ان شاء اللہ موقع ملا تو پھر کبھی…
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ و صحبہ وبارک وسلم تسلیماکثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمدرسول اللہ …
٭٭٭
اللّٰھم
صلِّ علیٰ سیدنا مُحَمّد… اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو
دنیا اور آخرت میں اپنے ’’عذاب‘‘ سے بچائے… ہمیں کبھی
بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بے خوف اور بے پرواہ نہیں ہونا
چاہئے… دیکھو! قرآن مجید صاف اعلان فرما رہا ہے:
اَفَاَمِنَ
اَھْلُ الْقُرٰٓی الخ( سورۃ الاعراف ۹۷ تا ۹۹)
ترجمہ: توکیا
بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے خوف ہیں کہ اُن پر ہمارا عذاب راتوں
رات آئے جب وہ پڑے سوتے ہوں… اور کیا بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے فکر
ہیں کہ اُن پر ہمارا عذاب دن چڑھے نازل ہو جب وہ کھیل کودمیں مشغول ہوں، کیا یہ
لوگ اللہ تعالیٰ کی اچانک پکڑ سے بے خوف ہیں، تو یاد
رکھو اللہ تعالیٰ کی اچانک پکڑ سے وہی لوگ بے خوف ہوتے ہیں
جو خسارہ پانے والے ہوتے ہیں…
دیکھا
آپ نے کتنی واضح آیات ہیں… موبائل ہاتھ میں ہوتاہے اور آنکھوںسے گناہ چھلک
رہے ہوتے ہیں کہ اچانک اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوئی جھٹکا
آلگتا ہے… وہ لوگ شکر کریں جنہیں ایسا چھوٹا جھٹکا لگتا ہے کہ… جان
نہیں جاتی اور توبہ کے لئے وقت مل جاتا ہے… ورنہ عذاب کے بعض جھٹکے توبہ کا
موقع بھی نہیں دیتے… اللہ ، اللہ
، اللہ … وہ دیکھو! سندھ کے شہروں اور دیہاتوں پر پانی چڑھ
آیا ہے… آہ سندھ ڈوب رہا ہے… اور ہمارے اعمال نے پانی جیسی میٹھی نعمت
کو عذاب بننے پر آمادہ کر دیا ہے… چالیس لاکھ افراد بے گھر ہوگئے… مگر
منہ زور پانی ہے کہ رکتا ہی نہیں… اور اب اُس کا رخ پنجاب کی طرف
ہے… ابھی پچھلے سال کے سیلاب کی تباہ کاریاں مندمل نہیں ہوئی تھیں
کہ… یہ نیا سیلاب ٹوٹ پڑا ہے… آہ مُلکِ پاکستان!… دس سال کے عرصے
میںا ندر باہر سے زخمی زخمی ہو گیا … کبھی زلزلے، کبھی سیلاب… کبھی
بمباریاں اور کبھی لڑائیاں… کبھی دھماکے تو کبھی آپریشن… ایک پاگل بن
مانس اس ملک کو آگ لگا کر بھاگ گیا… اور اپنے پیچھے ایسے لوگوں کو بٹھا گیا
جو… ا س آگ کو مزید بھڑکا رہے ہیں… اللہ تعالیٰ کو
چھوڑ کر ’’طاغوت‘‘ کی غلامی اختیار کرنے والوں کا یہی حشر ہوتا ہے… امریکہ نے
افغانستان پر اپنی تمام تر قوت سے حملہ کیا… مگر وہاں اتنے لوگ شہیدنہیں ہوئے
جتنے اس دوران پاکستان میں مارے جا چکے ہیں… پھر بھی حکمرانوں کو دعویٰ ہے کہ
ہم نے امریکہ کا ساتھ دیکر پاکستان کو بچالیاہے… اناللہ وانا
الیہ راجعون…
اے
مسلمان بھائیو!… اور اے مسلمان بہنو!… صرف حکمرانوں کو کوسنے سے کام
نہیں بنے گا بلکہ ہم سب کو اپنے گریبانوں میں بھی جھانکناہوگا… وہ دیکھو!
سیلاب کا پانی سر پر آپہنچا ہے اب تو غور کرو کہ… ہم دین کے معاملے میں آگے
جارہے ہیں یا پیچھے… ہمارا رُخ جنت کی طرف ہے یا جہنم کی طرف… ہمارے
ایمان میں ترقی ہو رہی ہے یا تنزّل ؟… بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ پہلے ہم فلاں
نیک کام کرتے تھے اب نہیں ہوتا… یہ تنزّل کی علامت ہے… مؤمن وہ ہے
کہ… جس کی زندگی کا ہر آنے والا دن ایمان میں پچھلے دن سے بہتر ہوتا
ہے… کیونکہ کلمہ طیبہ… لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ … جتنا پُرانا ہوتا جاتا ہے اُسی قدر اپنارنگ پختہ
کرتا جاتا ہے… اگر ہم پہلے اچھے تھے اور اب بُرے ہوگئے ہیں تو… یہ بہت
خوف کا مقام ہے کیونکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ… ہم کلمے سے کٹ گئے
ہیں… کلمے کے پاور ہاؤس سے جڑے ہوتے تو ہر دن نئی قوت ملتی… ہر دن نیا
کرنٹ ملتا… اور ہر گھڑی نئی منزل طے ہوتی… وہ دیکھو پانی سیلاب بن کر
آرہا ہے… اب تو ہم سب دل کی گہرائی سے پڑھ لیں…
لا
الہ الا اللہ ،لا الہ الا اللہ ،لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
ہمارے
آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دعاء فرمایاکرتے تھے…اللّٰھُمَّ
لَاتُؤْمِنَّا مَکْرَکَ…
یا اللہ
! ہمیں اپنی اچانک پکڑ سے بے خوف نہ فرما… ’’مَکْرُ اللہ ‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ کی پوشیدہ
تدبیر… اور اللہ تعالیٰ کی اچانک پکڑ… جب کوئی
انسان کسی گناہ کو نیکی سمجھنے لگے… یا وہ اس بات پرجری ہوجائے کہ مجھ پر
تو اللہ تعالیٰ کا عذاب آہی نہیں سکتا… میں فلاں نیکی
کرتا ہوں… اور فلاں نیک کام کرتا ہوں… اللہ ، اللہ
، اللہ … حضرات صحابہ کرام ڑکو دیکھو! اتنے اونچے اعمال کر
کے بھی وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتے تھے، لرزتے تھے اور
کانپتے تھے… ادھر ہم ہیں کہ… ریاکاری سے آلودہ دو چار نیکیاں کر
کے اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بے خوف ہوجاتے ہیں… ارے ہم
اپنے گناہوں کو تو شمار کریں… کوئی بے نمازی ہے تو کسی کی نماز سستی کی ماری
اور بے جان ہے… جھوٹ ہے کہ منہ کا ساتھ چھوڑتا نہیں… فخر، تکبر، ضد اور
ریاکاری کی گندی بوریاں ہم پر لدی ہیں… چہرے اور لباس سنت کے مطابق
نہیں… شادیاں ہر طرح سے غیر شرعی… اور بدعات، رسومات کے میلے… ہر
گھر میں فحاشی،عریانی اور بے حیائی… اور تو اور بیوی کی زبان تک میں خاوند کے
لئے پردہ نہیں… اللہ تعالیٰ نے خاوند اور بیوی کو ایک دوسرے
کا لباس اور ایک دوسرے کی عزت بنایا… مگرآج ہر گھر میں یہ لباس تار تار… اور
یہ عزت رسوا ہے… آنکھیں بے حیا، زبانیں بے حیا… چہرے بے حیا اور خیالات
تک بے حیا… تنہائی ملتے ہی ہرکوئی یہ بھول جاتا ہے کہ میر ا اللہ
تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے… رشوت، چوری، خیانت، اور سود… اجتماعی اموال
میں عیاشیاں اور بے احتیاطیاں… اور ہر کسی کو بس دنیا کی فکر… لائف
اسٹائل اور برائٹ فیوچر… اللہ ، اللہ ،
اللہ … اے مسلمان تجھے کیا ہوگیا… مال کی اتنی محبت؟ توبہ، توبہ،
توبہ… مال کی خاطر بھائی بھائی کا دشمن… اور مال کی خاطرگھر گھر میں
جھگڑا… آخر کس منہ سے اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضری
ہوگی… کوئی ہے جو آج سچے دل سے توبہ کرے اور دنیا کی محبت
سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے… کوئی ہے جو سچے دل سے
توبہ کرے’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ کی
مضبوط رسّی کو تھام لے… اللہ تعالیٰ کی رحمت، مغفرت اور
حِلْم دیکھو! کہ ہروقت توبہ کا دروازہ کُھلا ہوا ہے… کوئی آکر تو دیکھے…
حضرت
ابراہیم بن شیبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں… ہمارے ساتھ ایک بیس سالہ نوجوان
تھا… ایک بار شیطان اُس کے پاس آیا اور کہنے لگا… اے جوان آدمی تم نے
توبہ میں جلدی کرلی… ابھی کچھ دن اور دنیا کے مزے لوٹ لو توبہ تو تمہارے ہاتھ
میں ہے… کچھ جوانی ڈھلے تو توبہ کر لینا… وہ شیطان کی باتوں میں آکر
دوبارہ گناہوں میں ڈوب گیا… مگر فطرت اور قسمت اچھی تھی… چند دن کی غفلت
کے بعد اُسے ہوش آگیا… وہ تنہائی میں جا بیٹھا…اور نیکی کے دنوں کو یاد کر
کے رونے لگا کہ وہ کیسے پیارے دن تھے… اور کہنے لگا اب پتہ
نہیں اللہ تعالیٰ مجھے قبول فرمائیں گے یا
نہیں؟… اچانک اُسے آواز آئی…
اے
فُلان! تم نے ہماری عبادت کی توہم نے تمہاری قدر کی… پھر تم نے ہماری
نافرمانی کی تو ہم نے تمہیں مہلت دی… اور اب پھر تم اگر واپس آؤگے تو ہم
تمہیں قبول کر لیں گے…(بیہقی)
نسخہ
آسان ہے… دین کے معاملے میں اپنے اور اللہ تعالیٰ کے
درمیان کسی کو نہ رکھو…خالص اللہ تعالیٰ سے
محبت… خالص اللہ تعالیٰ کا خوف… اور ہر عمل
خالص اللہ تعالیٰ کے لئے… کوئی مسلمان اپنی زندگی کا
ایک دن تو اس طرح سے گزار کر دیکھے… اگر اُس کے جسم میں کلمے کانور نہ دوڑنے
لگے تو بات کرے… ہم نے اپنے دین کو لوگوں کے ساتھ لٹکا رکھا ہے… لوگ
دیکھیں تو ہم پکے مسلمان… اور جب کوئی نہ دیکھے تو پھر ہر گناہ… جب بھی
کوئی نیکی ہو تو بس اس کی فکر کہ لوگوں کوپتہ چل جائے… خواہ کسی بھی بہانے سے
ہو… اور اگر چھپ کر نیکی کی تو پھر اس کی توقع کہ لوگ میری
قدرکریں… مجھے نیکی کے بدلے عزت دیں… ایسی نیکیاں زیادہ دن ساتھ نہیں
دیتیں… یہ دنیا ہی میں چھوٹ جاتی ہیں… آخرت میں کیا کام
دیںگی… ارے بھائیو! اری بہنو! دین کا معاملہ
خالص اللہ تعالیٰ کے لئے کرلو… دیکھو! سیلاب کا پانی
گھروں کے دروازوںتک آپہنچا ہے… اگر ہمارا دین ٹھیک ہوگیا تو… پھر نہ
سیلاب کی پرواہ ہے نہ زلزلے کی… نہ جل کر مرنے میںکوئی نقصان ہے اور نہ کٹ کر
مرنے میں…لیکن اگر توبہ نصیب نہ ہوئی تو پھر خسارہ ہی خسارہ
ہے… اللہ تعالیٰ ہمارا رب ہے… وہ ہمارا خالق بہت
مہربان ہے… اُسی نے ہمیں پیدا کیا… اور ہم نے مر کر اُسی کی طرف
جاناہے…آؤ آج سے پکا عزم کرلیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کو
راضی کرنا ہے… اور اللہ تعالیٰ کا ہر حکم ماننا ہے… بس یہ
عزم جس کو نصیب ہوگیا وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے
گا… اور اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے ماضی کے گناہوں کو بھی نیکیوں
میں بدل دیتے ہیں… کتاب التوّابین میں لکھا ہے… مدینہ منورہ میں ایک
عبادت گزار خاتون تھیں… اُس خاتون کا ایک بیٹا تھا بہت غافل، بہت گناہ
گار… خاتون کو جب موقع ملتا تو اُسے سمجھاتی… اے بیٹے توبہ کر
لے… دیکھ!ماضی میں غفلت کی زندگی گزارنے والے کیسی بُری موت مرے… اور
اُن کا کتنا بُراانجام ہوا… اے بیٹے… موت کو یاد کر اور اُس کی تیاری
میں لگ جا… مگر بیٹے پر اس نصیحت کا کوئی اثر نہ ہوتا… وہ ماں کی تقریر
سن کر گانا گاتا ہوا باہر نکل جاتا… اور کہتا کہ اللہ تعالیٰ
کا فضل بہت بڑا ہے… اسی طرح دن رات گزرتے رہے… ایک بار اہل حجاز کے
مشہور دردمند واعظ حضرت ابو عامر البنانیؒ رمضان المبارک میں مدینہ منورہ تشریف
لائے… لوگوں نے اُن سے ’’بیان‘‘ کی درخواست کی… چنانچہ شب جمعہ تراویح
کی نماز کے بعد اُن کا ’بیان‘‘طے ہوا… لوگ جمع ہوگئے… قسمت کی خوبی کہ
وہ نوجوان بھی مجلس میں آبیٹھا… شیخ نے اللہ تعالیٰ
کی توفیق سے وعظ شروع فرمایا… کبھی ترغیب اور کبھی ترہیب… کبھی جنت کا
شوق تو کبھی جہنم کا خوف… سچے رب کی سچی باتیں سامنے آئیں تو مردہ دل زندہ
ہونے لگے…اُس نوجوان کا رنگ بدل گیااور نصیحت اُس کے دل میں اُتر گئی… وہ
مجلس سے اُٹھ کر اپنی والدہ کے پاس آیا اور بے ساختہ رونے لگا… اے ماں! آج
توبہ نے میرے جسم کے تالے کھول دیئے ہیں… اے ماں! رب تعالیٰ کے راستے کے حُدی
خواں کی حُدی نے شیطانی زنجیروں کو توڑ دیا ہے… اے میری ماں! میں نے بھی اس
پکار پر لبیک تو کہہ دیا ہے… مگر کیا میرا مالک مجھ جیسے بُرے انسان کو قبول
فرمالے گا؟… ہائے اگر انہوں نے مجھے قبول نہ فرمایا تو میرے لئے بہت بُرا
ہوگا… پھر وہ نوجوان عبادت میں لگ گیا… سارا دن روزہ… اور رات بھر
عبادت… اور اللہ تعالیٰ کا ذکر ایساکہ نہ زبان رُکے اور نہ جسم
تھکے… چند دن ہی گزرے تھے کہ شدید بخار ہوا… چار دن وہ بخار اور کمزوری
میں دن رات عبادت کرتا رہا… ایک دن اُس نے دعاء میں کہا…
یا
الہٰی! جب میں طاقتور تھا تو آپ کی نافرمانی کرتا رہا… جب کمزور ہوا تو
اطاعت میں لگا… جب مضبوط تھا تو آپ کو ناراض کرتا رہا… جب نحیف ہوا تو
آپ کے کام میں لگا… ہائے کاش آپ مجھے قبول فرما لیں… یہ کہتے ہوئے بے
ہوش ہو کر گر گیا… ماں نے آوازیں اور دلاسے دیکر ہوش میں لایا تو کہنے
لگا… امی جی! وہ وقت آگیا ہے جس سے آپ مجھے ڈارتی تھیں…ہائے افسوس اُن دنوں
پر جو عبادت سے خالی گزرے… مجھے ڈر ہے کہ میرے گناہوں کی وجہ سے مجھے طویل
عرصہ آگ کی قید کاٹنی پڑے گی… اے ماں! آپ کو اللہ کا
واسطہ اُٹھ کر اپناپاؤں میرے چہرے پر رکھ دیں تاکہ میری اس ذلت کو دیکھ کر میرے
رب کو مجھ پر رحم آئے… ماں نے ایسا ہی کیا کہ… اُس کا انتقال ہو
گیا… جمعہ کی رات ماں نے خواب میں دیکھا کہ اُس کے بیٹے کا چہرہ چاند کی طرح
چمک رہا ہے… اُس نے پوچھا … اے بیٹے! اللہ تعالیٰ
نے تمہارے ساتھ کیا معاملہ فرمایا اُس نے کہا… بہت اچھا معاملہ فرمایا اور
مجھے اونچا درجہ عطاء فرمایا… ماں نے پوچھا… ابو عامر کے ساتھ کیا
معاملہ ہوا؟… ابو عامر وہی واعظ جن کاوعظ سُن کر اس نوجوان کو ہدایت ملی
تھی… اور وہ بھی انتقال فرما چکے تھے… جوان نے کہا… امی
جی… کہاںہم اور کہاں ابو عامر! پھر اُس نے کچھ اشعار پڑھے جن کا مفہوم یہ ہے:
ابوعامر
کو ایسے قبّے میں رکھا گیا ہے کہ… جس کی نچلی چوبیں بھی دوسرے جنتیوں کے لئے
عرش کی طرح اونچی ہیں… وہ ایسی حوروں کے درمیان ہیں جو انہیں پیالے بھر بھر
کر پیش کرتی ہیں اور ترنم سے کہتی ہیںلیجئے، لیجئے… مبارک ہو آپ
کو اے لوگوں کو نصیحت کرنے والے…(کتاب التوابین)
اے
مسلمانو! توبہ کا دروازہ کُھلا ہوا ہے… دیکھو! کسی وقت اچانک بند نہ ہو
جائے… بس بہت ہوگئی غفلت… اور بہت ہو گئے گناہ… آج ہی
سے… بلکہ ابھی اسی وقت سے ہم دل کے یقین کے ساتھ کلمہ طیبہ پڑھیں… لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ … اپنے
تمام گناہوں سے توبہ کریں… نماز کا معاملہ درست کریں… جہاد فی
سبیل اللہ کی نیت
کریں…اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کو اپنا مقصود بنا
لیں…توبہ کا راستہ دلکش ہے، پرنور… اور پرسکون ہے…
لا
الہ الا اللہ ،لا الہ الا اللہ ،لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیماکثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ …
٭٭٭
اللہ تعالیٰ مجھے اورآپ سب کو’’سخاوت‘‘ کی صفت عطاء فرمائے… اور ہم سب کو بخل اور کنجوسی کی مصیبت سے بچائے… کبھی آپ نے غور فرمایا قرآن پاک کی پہلی آیت ہی ہمیں’’سخاوت‘‘ کا سبق سکھاتی ہے… الحمدللہ ربّ العالمین… پالنے والا’’ اللہ تعالیٰ‘‘ ہے… ہم نہ خودکو پال سکتے ہیں اور نہ اپنی اولادوں کو… سب کو اللہ تعالیٰ پالتا ہے اور سب کو اللہ تعالیٰ پالے گا… اس حقیقت پر غور کریں تو دل سے بخل اور کنجوسی کے تالے ٹوٹ گریں… ’’سخاوت‘‘ دراصل ایک درخت ہے جو اللہ تعالیٰ نے جنت میں لگایا ہے… اس درخت کی شاخیں’’زمین‘‘ پر ہیں… پس جو سخاوت کی شاخ کو پکڑ لیتا ہے تو وہ شاخ’’لفٹ‘‘ کی طرح اُسے جنت میں کھینچ کر لے جاتی ہے… یہ میری گھڑی ہوئی بات نہیں بلکہ حدیث پاک کا مفہوم ہے… اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے خوش ہوتے ہیں تو اُسے’’سخی‘‘ بنا دیتے ہیں… اور اُس کے ہاتھ سے لوگوں کی حاجتیں پوری فرماتے ہیں… جو شخص لوگوںکو کھانا کھلاتاہے اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے اُس پر فخر فرماتے ہیں… حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جنت سخی لوگوں کا گھر ہے‘‘… ایک روایت میں آیا ہے… بندوں کے لئے رزق کی چابیاں عرش کے سامنے ہیں، جس قدر کوئی بندہ خرچ کرتاہے اس قدر اللہ تعالیٰ اُس کے لئے بھیج دیتا ہے… جو زیادہ کرتا ہے اُس کے لئے زیادہ اور جو کم کرتا ہے اُس کے لئے کم… میرے بھائیو اور بہنو! ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا بخل یعنی کنجوسی’’کفر‘‘ کی صفت ہے اور’’سخاوت‘‘ ایمان کی صفت ہے… پس جس نے دل سے’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ پڑھاہے وہ کبھی کنجوس نہیں ہو سکتا … آؤ ہم سب دل کی گہرائی سے پڑھ لیں…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ …
ہمارا
رب اللہ تعالیٰ’’جوّاد‘‘ ہے… ’’جوّاد‘‘ کا مطلب بہت سخی… اور
ہمارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سخیوں کے امام اور سردار
ہیں… اور ہمارے رہبر حضرات صحابہ کرامؓ ایسے سخی تھے کہ دنیا کی کوئی قوم اُن
جیسی سخاوت کی مثال نہیں لا سکتی…پھر ہمارے دلوں میں یہ بخل اور کنجوسی کی نحوست
کہاں سے آگئی؟… حالانکہ ہم سب جانتے ہیں کہ… ’’بخل‘‘ جہنم کا درخت ہے،
جس کی شاخیں زمین پر ہیں… پس جو اس کی کوئی شاخ پکڑلیتا ہے وہ شاخ اُس کواپنے
ساتھ باندھ کر جہنم میں لے جاتی ہے… ویسے بھی آپ بخیل آدمی کو دیکھ
لیں… بندھا بندھا سا لگتا ہے… پیسہ کم نہ ہو جائے، پیسہ خرچ نہ ہو
جائے… کہیں کروڑپورا کرنے کی فکر تو کہیں لاکھ پورے کرنے کی دوڑ… کیسا
عذاب ہے کہ جان پیسے میں اٹکی ہوئی ہے… حالانکہ پیسہ اس لئے تھا کہ جان کو
فائدہ دے… مگر بخیل کا پیسہ تو اُس کو کھا جاتا ہے… صحت ختم، جوانی ختم،
سکون ختم، خوشی ختم… بس پیسہ بناؤ، پیسہ بناؤ… کوئی مانگ لے توغصے سے
دماغ گرم… کوئی چھین لے تو غم کا پہاڑ… اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مالک
ناراض… توبہ، توبہ، توبہ… ہمارا مالک اللہ تعالیٰ
ہم سے ناراض ہو گیا تو پھرکُتّا بھی ہم سے اچھا… سور، ریچھ اور گدھے بھی ہم
سے اچھے… اللہ تعالیٰ مال اس لئے دیتاہے تاکہ آدمی اس سے
اپنی جائز ضرورتیں پوری کرے… اور اس مال
کو اللہ تعالیٰ کے دین کے لئے لگائے… اوراس مال
سے اللہ تعالیٰ کے بندوں کی حاجت پوری کرے… تھوڑا سا
سوچیں… آپ ایک مالدار آدمی ہیں… آپ کسی کو اپنے مال کا ناظم بناتے
ہیں… اب اس خزانچی یا ناظم کا کام کیا ہے؟… یہی ناکہ آپ اُسے جہاں خرچ
کرنے کے لئے کہیں وہ خوشی خوشی خرچ کرتا جائے… لیکن اگر وہ آپ کے حکم کے
مطابق خرچ نہ کرے… یا خرچ کرنے میں ناک بھویں چڑھائے تو آپ اُسے کتنے دن
نوکری پر رکھیں گے؟… اور ایسا شخص ہر کسی کے نزدیک قابل نفرت
ہوگا… کیونکہ وہ اپنے نہیں دوسرے کے مال میں بھی کنجوسی کر رہا
ہے… اے اللہ کے بندو!… ہر مال کا اصل
مالک اللہ تعالیٰ ہے یہ بات قرآن مجید کی کئی آیات میں
سمجھائی گئی ہے… ویسے بھی سوچیں کہ ہم کیا ہیں؟… کل دنیا میں آئے اور
چند دن میں یہاں سے چلے جائیں گے… ہر چیز کا مالک اور
وارث اللہ تعالیٰ
ہے… اب اللہ تعالیٰ اپنا یہ مال اپنے بعض بندوں کو
دیتا ہے… اور اُن کو حکم فرماتا ہے کہ… اس میں سے زکوٰۃ ادا
کرو… فطرانہ ادا کرو… والدین، اہل وعیال اور اقربا کے حقوق ادا
کرو… اسے جہاد فی سبیل اللہ میں لگاؤ… اس میں سے
صدقہ کرو… اس سے غریبوں، یتیموں، بیواؤں کو کھلاؤ… اس سے بے آسرا
لوگوں کو سہارا دو… اس سے بے گھر لوگوں کو گھر دو… تب جو خوش نصیب ہوتے
ہیں… وہ ہر حکم پر کہتے ہیں… لبیک یاربی… لبیک یا ربی… حاضر،
حاضر میرے اللہ … مال تو آپ کا ہے… مجھے مفت کا ثواب
ملتا ہے توکیوں نہ کماؤںگا… ایسے لوگوں سے اللہ پاک
راضی ہوتا ہے… وہ اُن کو اپنا ولی بناتا ہے… وہ اُن کے مال میں عجیب
برکات دیتا ہے… وہ ان کی عمر اور صحت میں برکت ڈالتا ہے… اور اُن کو
مخلوق کا محبوب اور جنت کا مستحق بناتا ہے… اور اُن کو اولیاء ابرار کا مقام
عطاء فرماتا ہے… مگر کچھ بدنصیب آدمی کہتے ہیں کہ… یا اللہ
! میں کہاں کہاں خرچ کروں؟… ابھی کل تو صدقہ نکالا ہے… چندہ بھی
دیاہے… اور میں کیا کروں؟… یہ میرا مال ہے میں کِس کِس کو
دوں؟… چنانچہ ہر حکم پر اُس کا کلیجہ پھٹنے لگتا ہے اورہر خرچے پر اُس کا دل
غم سے مرنے لگتاہے… ایسے لوگوں سے اللہ تعالیٰ نفرت
فرماتے ہیں… اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق بھی اُن سے نفرت
کرتی ہے… اور بالآخر یہ مال اُن کے لئے دنیا اور آخرت کی مصیبت بن جاتا
ہے… کہ دنیا میں کما کما کر، جمع کر کر کے… اور حساب جوڑ جوڑ کر
تھکتے،مرتے تھے… اورآخرت میں انہیں اس مال کا حساب دینا ہوگا جو بہت مشکل
کام ہوگا… آہ! افسوس کہ… مال تو پیچھے چھوڑ آئے مگر اُس کا بوجھ اور
گند،اپنے ساتھ قبر میں اپنے اوپر لاد آئے…
یا
اللہ بخل سے بچا… بہت بڑی مصیبت ہے بہت ہی بڑی… جہانگیر کے
زمانے ایک قاضی تھا… بہت بخیل… مگرعالم بہت بڑا تھا… آہ! ایسے عمل
کا کیا فائدہ؟… اُس نے اپنے علم کی بدولت بہت مال کمایا… بے اولاد
تھا… گھر میں صرف وہ تھا اور اُس کی بیوی… اور دونوں مال کے لالچی اور
بخیل… مال زیادہ جمع ہو گیا تو پریشان ہوئے کہ کیا کیا جائے لوگ نہ دیکھ
لیں… چنانچہ گھر کے ایک کمرے میں قبریں بنا کر اُن میں مال دفن کر
دیا… لوگوں کو بتاتے کہ ہمارے بڑوں کی قبریں ہیں… بالآخر دونوں مر کھپ
گئے اور راز فاش ہوا تو بادشاہ نے وہ سب خزانہ اٹھا کر بیت المال میں جمع کر
لیا… دیکھیں بخل انسان کو کتنا رسوا کرتا ہے… بخل کے بارے میں قرآن پاک
کی آیات… اور حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث
مبارکہ لکھوں تو… آپ یقین کریں کہ دل دہل جائیں گے…آج تو بخل کو عقلمندی سمجھا
جاتا ہے… استغفر اللہ ، استغفر اللہ … یہ بھی کوئی عقلمندی ہے کہ
انسان خزانے کا سانپ بن جائے… یہی بخل جب بڑھتاہے تو… انسان کو حرام مال
پر لگاتا ہے… دوسروں کا مال بھی دبا کر رکھو… بندہ ہر ایک کوجو بھی میرے
رابطے میں ہو عرض کرتا رہتاہے کہ… قرضہ ایک دن بھی اپنے سر پر نہ
رکھو… بس جیسے ہی مال ہاتھ آئے اُسی وقت قرضہ اتار دو… شیطان کہے
گاکہ… یار کل دے دینا… مہینے بعد حساب برابر کرلینا… فلاںمال آئے
تب دے دینا… تب اُس مردود پر لعنت بھیج کر کہیں کہ… کل کا کیا پتہ زندگی
ہو گی یا نہیں… دوسروں کا مال بلاوجہ اپنے پاس پھنسا کر رکھنے سے بے برکتی
آتی ہے… طرح طرح کی آفتیں آتی ہیں… اور انسان میں مال کی حرص اور
لالچ پیدا ہوتی ہے… ضرورت سے زائد مال اپنے پاس پڑا رہے… تو کیا یہ مال
انڈے بچے دے گا؟… اللہ کے بندو! قرضہ اتارو… اور اس
مال کو اپنا بناؤ… ایک معروف بزرگ حضرت احنف بن قیس رحمۃ اللہ علیہ نے ایک
شخص کے ہاتھ سے ایک درہم لیا اور پوچھا یہ کس کا ہے؟… اُس نے کہا یہ میرا
ہے… فرمایا تیرا تو تب ہوگا جب تیرے ہاتھ سے کسی اچھی جگہ خرچ ہو جائے
گا… بخل بڑی مصیبت ہے، بخل بڑامرض ہے… بخل ایک عذاب ہے… بخل ایک
بیماری اور آفت ہے… ہم سب کو چاہئے کہ… رو رو کر
اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگا کریں… ورنہ ایسا بھی وقت آسکتاہے
کہ… بخل سے پناہ مانگنے سے بھی ڈرنے لگیں کہ… اگر ہم بخیل نہ رہے تو پھر
سخی ہوجائیں گے اور جب سخی ہو جائیں گے تو مال خرچ کرنا پڑے گا… اس لئے ہم
ایسے ہی ٹھیک ہیں… پیسہ ہمارے کام نہیں آرہا مگر ہے تو ہمارے پاس… اور
ہم کروڑ پتی ہیں… یا اللہ توبہ،
یا اللہ توبہ، یا اللہ توبہ… آئیے مل کر
بخل سے پناہ مانگتے ہیں…
اَللّٰھُمَّ
اِنَّا نَعُوْذُبِکَ مِنَ الْبُخُلِ وَالْجُبُنِ
ترجمہ: یا اللہ ہم
آپ کی پناہ پکڑتے ہیں کنجوسی اور بزدلی سے…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمدرسول اللہ …
دوسری
طرف سخاوت عجیب نعمت ہے… سخی کے مال کی تلواریں راہ جہاد میں چمکتی
ہیں… یاد رکھو ان تلواروں کے سائے تلے جنت ہے… سخی کے مال کے گھوڑے
میدان جہاد میں ہانپتے ہیں… ارے ان کے ہانپنے کی
قسمیں اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں کھاتا ہے… سخی کو
والدین کی دعائیں ملتی ہیں… اور والدین کی دعائیں جنت کی ہوائیں
ہیں… سخی کے دستر خوان پر… اللہ تعالیٰ کے بندے شکم
سیر ہو کرکھاتے ہیں… اورسخی کی چھت کے نیچے باعزت لوگ پردہ حاصل کرتے ہیں… سیدنا
ابو بکرصدیقذ سخی تھے… اُن کا مال کس کے کام آیا؟… ذرا دل تھام کر
سوچیں… سبحان اللہ ، سبحان اللہ … اُن کامال
سرور کونین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کام آیا… ہے کوئی اس
سعادت کی مثال؟… غزوہ تبوک میں اپنے گھر کا سب کچھ اُٹھا
لائے… اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا اور اُن کو مسلمانوں کے
تمام بیت المال کا متصرف بنا دیا کہ… اب جہاںچاہیں دل کھول کر مشرق و مغرب
میں خرچ کریں… کتنا مزہ آئے اگر اللہ پاک اپنے فضل سے
مجھے اور آپ کو سخی بنا دے… ارے سارا مال اللہ تعالیٰ
قبول فرمالے… اگر اس کے بدلے اُس کی محبت اور جنت مل جائے تو سودا بہت سستا
اور بہت نفع والا ہے… اسلام کے فدائیوں کو دیکھو کہ اپنے جسم کا ہر
ٹکڑا… اللہ تعالیٰ کی راہ میں نچھاور کرتے ہیں… ایسی
قربانی کے سامنے مال کی کیا حقیقت ہے… سندھ کے مسلمان سیلاب سے آفت زدہ
ہیں… آپ نے رمضان میں بہت خرچ کیا ہو تب بھی اس موقع پر فائدہ
اٹھائیں… حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: میں
نے ایک شخص جنت میں مزہ سے کروٹیں لیتا دیکھا، اس نے راستے سے ایک درخت کاٹا
تھا… جو لوگوں کو ایذاء پہنچاتا تھا…(احیاء العلوم)
آپ اللہ تعالیٰ
کے بندوں کی مدد کریں تو اللہ تعالیٰ آپ کی مدد فرمائے
گا… آپ دنیا میں مصیبت زدہ لوگوں کی تکلیفوں کو دور کریں گے
تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کی بڑی تکلیفوں کو آپ سے دور
کرے گا… ’’الرحمت ٹرسٹ‘‘ کے جانباز دیوانے سیلابی علاقوں میں خدمت کے لئے
اُتر چکے ہیں… ان کے ساتھ مل کر آپ بھی نیکی کے اس کام میں اپنا حصہ اور اجر
حاصل کریں…دیکھو! کلمہ پڑھنے والے مسلمان بارش اور سیلاب
میں اللہ تعالیٰ کو پکار رہے ہیں… مسلمانو! سخاوت کا
وقت ہے… سخی اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے… اور
صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا… اور یاد رکھنا یہ مال چھوڑ کر ہم نے کسی اور
جہان جانا ہے… اچھا ہے مال کو رحمت بنا کر اپنے ساتھ لے جائیں…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لاالہ
الا اللہ محمد رسول اللہ …
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لاالہ
الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
مجھے اور آپ سب کو اپنے علم کا’’نور‘‘ اور روشنی عطاء فر مائے… آج چند
باتیں عرض کرنی ہیں…
امریکہ
والے پریشان
وہ
جو اکڑتے ہوئے آئے تھے، اب چلاّتے ہوئے واپس جارہے ہیں… واہ
میرے اللہ تعالیٰ کی شان… امریکہ کو افغانستان میں
کیسی ذلّت ناک شکست ہوئی… اللہ اکبر کبیرا… کوئی کافر
دل سے غور کرے تو مسلمان ہو جائے… کوئی منافق آنکھیں کھولے تو نفاق سے تائب
ہو جائے… کہاںامریکہ کی ہوشر با طلسماتی طاقت اور کہاں کمزور نہتے
طالبان… دونوں کی طاقت کا موازنہ کریں اور پھر دس سالہ جنگ کے نتائج دیکھیں
تو دل بے اختیار پڑھنے لگے گا
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ … و الحمدللہ
رب العالمین…
امریکی
فوج کا سربراہ مائیک مولن… شکست کا داغ سجائے ریٹائر ہو رہا ہے… اُس کے
ہر حربے اور تدبیر کو اللہ تعالیٰ نے ناکام فرمایا… اب
وہ اس شکست کی کالک پاکستان کے منہ پر ملنا چاہتا ہے… کیا آئی ایس آئی
امریکہ سے زیادہ طاقتور ہے؟… کیا حقانی نیٹ ورک کوئی آسمانی عذاب
ہے؟… طالبان پورے افغانستان میں موجود ہیں اور ہر جگہ فاتح ہیں… کئی
علاقوں میں اُن کی باقاعدہ حکومت ہے… غیر ملکی کمپنیاں ٹھیکے لینے سے پہلے
طالبان سے اجازت لیتی ہیں… طالبان کی پرچی پر موبائل کمپنیاں اپنی سروس منقطع
یا بحال کرتی ہیں… راستوں کی راہداریاں طالبان کے کمانڈر جاری کرتے
ہیں… خوست سے لے کر غزنی اور میدان تک کے دیہات طالبان سے اٹے پڑے
ہیں… قندھار، ہلمند اور زابل میں طالبان کی غیر مرئی حکومت ہے… قلاّت کا
صحرا طالبان کی جولان گاہ ہے… قندوز میں طالبان کے اپنے مراکز ہیں… جبکہ
امریکی حکومت کے اہم ترین عہدیدار اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں… برہان
الدین ربانی اپنے گھر ہی میں مارے گئے… امریکہ اور اُس کے اتحادی ان تمام
حقائق سے آنکھیں بند کر کے… صرف ایک حملے کا شور مچا رہے ہیں… اور
حقانی نیٹ ورک کا ڈھول پیٹ رہے ہیں… اور اس کو بہانہ بنا کر پاکستان پر دباؤ
بڑھا رہے ہیں… مقصد اپنی شکست کو چھپانا… پاکستان کو مزید تباہ
کرنا… اور اپنے واپس جانے والے فوجیوں کے لئے محفوظ راہداری لینا ہے…کیونکہ
امریکہ بہت پریشان ہے… بہت ہی زیادہ پریشان…
دیکھو!
قرآن پاک کیا فرماتا ہے:
ترجمہ: اور
(اے مسلمانو!) تم اُن لوگوں کی طرح نہ ہو نا جو (مسلمانوں سے لڑنے کے لئے مسلّح ہو
کر) اکڑتے ہوئے اور لوگوں کو دکھانے کے لئے گھروں سے نکلے تھے اور وہ اللہ کی
راہ سے روکتے تھے… اور جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ
اُس کا احاطہ کرنے والا ہے… اور جس وقت شیطان نے اُن کے اعمال کو اُن کی
نظروں میں خوشنما کر دیا اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں سے کوئی ایسا نہیں جو تم
پر غالب آسکے اور میں بھی تمہارے ساتھ ہوں… پھر جب دونوں فوجیں سامنے ہوئیں
تو شیطان الٹے پاؤں بھاگا اور کہنے لگا میںتمہارے ساتھ نہیں ہوں… میںایسی
چیز دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں اللہ سے ڈرتا
ہوں…(انفال ۴۷،۴۸)
برطانیہ
والے پریشان
برطانیہ… چالاک
انگریزوں کا مُلک… اور انگریز مسلمانوں کے بدترین دشمن… افغانستان میں
انہوں نے تندور گرم دیکھا تو فوراً اپنی فوج بھی اُتار دی… تاکہ اپنی سابقہ
شکست کا بدلہ چُکا سکیں… مگر یہاں تو لینے کے دینے پڑ گئے… ایسی مار پڑی
کہ اندر باہر سے کانپ اٹھے… اور تو اور برطانیہ کی مضبوط معیشت اور سیاست بھی
لرز کر رہ گئی ہے… اللہ اکبر کبیرا… اب ایک دلچسپ بات
سنیں… طالبان کے سابق سفیر مولوی عبدالسلام ضعیف صاحب آج کل کابل میںمقیم
ہیں… اُن کا کہنا ہے کہ… وہ بھی ’’طالبان‘‘ کے ساتھ ہیں اور طالبان
قیادت سے رابطہ میں ہیں… گوانتا نا موبے سے رہائی کے بعد وہ دوبارہ میدان میں
نہیں اُتر سکے… اُن کے قریبی ذرائع کا بتانا ہے کہ… برطانیہ حکومت کے
کئی وفود نے اُن سے گزشتہ دنوںتقریبا دس بار ملاقات کی ہے… اور ملاقات کا
مقصد صرف ایک گزارش!… جی !ہم تو بیک بینی و دوگوش افغانستان سے واپس جارہے
ہیں… آپ طالبان کو سمجھائیں کہ اب ہم پر مزید حملے نہ کریں… ہمیں آرام
سے جانے دیں… کم از کم پسپائی تو سکون سے کرنے
دیں… اللہ اکبر کبیرا… دیکھا آپ نے
پریشانی… اللہ تعالیٰ چاہے تو کمزور لوگوں کے
ہاتھوں… بدمست طاقتوں کو رسوا کر دے… بے شک اللہ تعالی’’قوی‘‘
اور ’’عزیز‘‘ ہے…دیکھو قرآن پاک کیا فرماتا ہے:
ترجمہ: اور
جو’’کافر‘‘ تھے اُن کو اللہ تعالیٰ نے(غم اور) غصہ میںبھرا
ہوا واپس لوٹا دیا اور وہ کوئی کامیابی حاصل نہ کرسکے اور جنگ میں اللہ تعالیٰ
ایمان والوں کی طرف سے خود ہی کافی ہوگیا اور اللہ تعالیٰ
بڑی قوت والااور غالب ہے…(الاحزاب ۲۵)
حضرت
لاہوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
اور اللہ تعالیٰ
نے مسلمانوں کی لڑائی اپنے ’’ذمہ‘‘ لے
لی… اور اللہ تعالیٰ نے کفار کو ناکام و نامُراد واپس
فرمایا(حاشیہ لاہوریؒ)
کفار
نامُراد، ناکام پریشان… واہ میرے اللہ آپ کی شان…
لاالہ
الا اللہ ،لاالہ الا اللہ ،لاالہ
الا اللہ محمد رسول اللہ …
حکمران
پریشان
ہمارے
حکمران اس اُمید میں تھے کہ… کافروں کے لئے اتنی قربانیاں دیں اب کچھ صلہ ملے
گا… اسّی ارب ڈالر کا نقصان… پینتس(۳۵) ہزار پاکستانیوں
کی جانیں… چھ سو القاعدہ قیدیوں کی حوالگی… ہزاروںمجاہدین
لاپتہ… اور پورا مُلک جنگل ہی جنگل… نہ مسجدیں محفوظ اور نہ فوجی
بارکیں… مسلمانوں کے خلاف کافروں کی مدد کرنے کا جُرم کبھی زلزلہ بن کر ٹوٹا
تو کبھی سیلاب… اور ایک اچھا خاصّا مُلک کمزوری کی آخری حد تک جا
پہنچا… یادرکھیں!… حکمرانوں نے جس دن اس جُرم سے توبہ کر لی… اور
مسلمانوں کے خلاف کافروں کی مدد کرنا بند کر دی… پاکستان اُسی دن ان شاء
اللہ سنبھل جائے گا… مگر یہ بات کون سمجھائے… حکمران تو
خوف، بزدلی اور لالچ کے اندھیروں میں کھڑے ہیں… اور جس پالیسی نے مُلک کو
برباد کیا اُسی کو مزید آگے بڑھا رہے ہیں… اور انہیں اس پر کوئی پریشانی بھی
نہیں تھی… مگر اب پریشانی کا وقت آگیا ہے… امریکہ منہ بھر کر
پاکستانیوں کو گالیاں دے رہا ہے… اور دانت پیس کر دھمکیاں داغ رہا
ہے… اور یہ بے چارے اپنی ماضی کی وفاداریاں سنا سنا کر بھیک مانگ رہے
ہیں… اس وقت دونوں ملکوں کے حالات بے حد کشیدہ ہیں… امریکہ پاکستان کو
دباؤ میں لاکر ایک ایسی خانہ جنگی کی طرف دھکیلنا چاہتا ہے کہ جس کے
بعد… شاید کچھ بھی نہ بچے…فی الحال فوجی قیادت نے ہمت سے جواب
دیاہے… اور جمہوری انتقامی حکومت نے بھی اُس کی سُر میں آواز ملائی
ہے… مگر حکمرانوں کی پریشانی حد سے زیادہ ہے… اللہ پاک
اُن کو ایمان اور ہمت عطاء فرمائے… یہ وقت ڈرنے اور جھکنے کا نہیں بلکہ
سنبھلنے اور سمجھنے کا ہے… ہو سکے تو تھوڑا سا غور قرآن پاک کی ان آیات
مبارکہ پر کر لیں
ترجمہ: اے
ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں
اور جو کوئی تم میں سے اُن کے ساتھ دوستی کر لے تو وہ انہیں میں سے
ہے اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا… پھر آپ
اُن لوگوں کو دیکھیں گے جن کے دلوں میں (نفاق کی) بیماری ہے کہ وہ دوڑ کر اُن(یہود
ونصاریٰ) سے جا ملتے ہیں( اور اس کی وجہ بتاتے ہوئے) کہتے ہیں کہ ہمیں ڈر ہے کہ ہم
پرزمانہ کی گردش (یعنی مصیبت) نہ آجائے، پس قریب ہے
کہ اللہ تعالیٰ( مسلمانوں کے لئے) جلدی فتح ظاہر فرمادے یا
کوئی اور حکم اپنے ہاں سے ظاہر کرے پھر یہ اپنے دل کی چھپی ہوئی بات پر شرمندہ ہوں
گے(المائدہ ۱۵، ۵۲)
اللہ کرے
ہمارے حکمران بھی شرمندہ ہو کر… توبہ کر لیں اور ہلاکت خیز حرام پالیسی کو
تبدیل کردیں… دیکھیں حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ عجیب بات فرما رہے ہیں:
’’نفاق
کا خاصہ’’بزدلی‘‘ ہے… اور توحید کا خاصہ’’جرأت‘‘ ہے(حاشیہ لاہوری)
آئیے
دل کی گہرائی سے کلمہ توحید پرھتے ہیں:
لاالہ
الا اللہ ،لاالہ الا اللہ ،لاالہ
الا اللہ محمد رسول اللہ
’’وبا‘‘
میں گھرے ہوئے لوگ پریشان
پہلے
ایک مختصر مگربالکل سچا قصہ سُن لیں…
دس
صحابہ کرام ڑجن کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحت اور وضاحت کے
ساتھ یقینی طور پر’’جنت‘‘ کی بشارت عطاء فرمائی … وہ ’’عشرہ مبشرہ‘‘
کہلاتے ہیں… ان میں سے ایک حضرت سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح رضی
اللہ عنہ ہیں… آپ کا نام’’عامر‘‘ والد کا نام عبد
اللہ اور دادا کا نام الجرّاح تھا… آپ رضی اللہ عنہ
حسین و جمیل، پرنور چہرے والے بہت بہادر اور جنگوں کے ماہر تھے… دربار نبوت
سے آپ کو ’’امین الاُمت‘‘ کا لقب ملاتھا… حضرت سیدنا عمر بن
خطاب رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میںآپ ملک شام میں ایک
محاذ پر تھے… آپ کی کمان میں چھتیس ہزار مسلمانوں کا لشکر تھا… وہاں
اچانک’’طاعون‘‘ کی وبا پھوٹ پڑی … اور لوگ دھڑا دھڑ وفات پانے
لگے… ظاہری بات ہے وباء پھوٹتی ہے تو لوگ پریشان ہوتے ہیں جس طرح آج کل
’’لاہور‘‘ والے پریشان ہیں… مگر حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اس
وبا کو دیکھ کر بے حد خوش ہوئے… حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو’’ابو
عبیدہ رضی اللہ عنہ ‘‘کی قیمت اور مقام کا احساس تھا انہوں
نے… ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو فوراً واپسی کا حکم
بھیجا… اور لکھا کہ مجھے آپ سے ضروری کام ہے… حضرت ابو
عبیدہ رضی اللہ عنہ نے خط پڑھ کر فرمایا… میں امیر المؤمنین کا
کام سمجھ گیا ہوں ، وہ ایسے شخص کو بچانا چاہتے ہیں جو اب یہاں رہنے والا نہیں
ہے… اے امیر المؤمنین! آپ مجھے اپنے اس حکم سے آزاد فرما دیں، میں
مسلمانوں کے لشکر میں ہوں اور خود کو ان پر ترجیح نہیں دیتا… حضرت عمر
رضی اللہ عنہ جواب پڑھ کر رو پڑے… ( اور اپنا حکم واپس
لے لیا)… انہیں یقین ہو چکا تھا کہ اب مسلمان اپنے اس قیمتی سرمائے یعنی حضرت
ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ سے محروم ہونے والے ہیں… اُدھر
سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی مُراد پوری ہوئی… طاعون کا پھوڑا
ہاتھ کی انگلی پر نکلا… آپ اس پھوڑے کو محبت سے دیکھتے اور فرماتے یہ مجھے
سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہے… جی ہاں! محبوب حقیقی سے ملانے کا ذریعہ
ہے… یہ تو ہوا ایک سچا قصہ… سبق یہ ملا کہ… لاہوریوں کو زیادہ
پریشان نہیں ہونا چاہئے… زیادہ پریشانی ’’وبا‘‘ کو طاقتور اور مصیبت کو’’تیز
تر‘‘ کر دیتی ہے… وہ مسلمان جو اب تک ڈینگی سے محفوظ ہیں وہ یہ دو دعائیں صبح
و شام سات سات بار پڑھ لیا کریں… ان شاء
اللہ حفاظت رہے گی…
(۱) اَعُوْذُ
بِکَلِمَاتِ اللہ التَّامَّاتِ مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ
وَّھَامَّۃٍ وَّمِنْ کُلِّ عَیْنٍ لَّامَّۃٍ
(۲) اَعُوْذُ
بِکَلِمَاتِ اللہ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقْ،
بِسْمِ اللہ الَّذِیْ لَا یُضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْیٌٔ
فِیْ الْاَرْضِ وَلَا فِیْ السَّمَآئِ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ،
اَللَّھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْجُذَامِ وَالْبَرَصِ وَالْجُنُوْنِ
وَسَیِّئِی الْاَسْقَامِ…
اور
جن مسلمانوں پر’’ڈینگی‘‘ کا اثر ہو چکا ہے… وہ روزآنہ اکتالیس بار سورہ
فاتحہ پڑھ کر اپنے اوپر دم کریں… اور پانی پر دم کرکے پی لیں… چند دن
پابندی سے یہ عمل کریں تو ان شاء اللہ ٹھیک ٹھاک ہوجائیں گے… اور چند
ہفتے پہلے’’معوذتین‘‘ کے فضائل اور خواص عرض کئے تھے… وہ ہر چیز سے پناہ کا
بہترین ذریعہ ہیں…
مجذوب
خوش
آپ
نے پڑھ لیا کہ… سب پریشان ہیں مگر’’مجذوب‘‘ خوش ہے… مجذوب کی خوشی کا
راز اُس کی’’دیوانگی‘‘ ہے… اور وہ’’دیوانہ‘‘ ہے اپنے محبوب مالک کا… اُس
کا عقیدہ یہ ہے کہ میں بندہ ہوں… اور اللہ تعالیٰ مالک
ہے… بندے کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے مالک کے ہر فیصلے پر خوش اور راضی
رہے… مسلمان پریشان تب ہوتا ہے جو وہ نعوذ باللہ خود
کو’’خدا‘‘ سمجھنے لگتا ہے کہ… سب کچھ میری مرضی سے ہو… اور میں جو دعاء
مانگوں اللہ تعالیٰ ہر حال میں قبول فرمائے… استغفر
اللہ ، استغفر اللہ …
ارے
اپنی مرضی کو… مالک کے حکم اور مرضی کے مطابق بنانے والے
ہی اللہ تعالیٰ کے محبوب اور خالص بندے ہوتے ہیں… کبھی
جا کر کسی سر سبز پہاڑ پر بیٹھے… اللہ تعالیٰ کے راستے کے
فدائیوں، کو دیکھو ! تب معلوم ہوگا کہ… خوشی کسے کہتے ہیں…
خواجہ
صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
کسی
کو رات دن سرگرمِ فَریاَدُ و فُغاں پایا
کسی
کو فکرِ گونا گوں سے ہر دَم سَر گِراں پایا
کسی
کوہم نے آسودہ نہ زیر آسماں پایا
بس
اک مجذوبؔ کو اس غم کدہ میں شادماں پایا
جو
بچنا ہو غموں سے آپ کا دیوانہ ہو جائے
ارے
واہ… کیسے مزے کے اشعار ہیں…
جو
بچنا ہو غموں سے آپ کا دیوانہ ہو جائے
آئیے
محبت اور دیوانگی سے … اپنے عظیم مالک کو یاد کریں
لاالہ
الا اللہ ،لاالہ الا اللہ ،لاالہ
الا اللہ محمد رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ و بارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ’’معاف‘‘
فرمائے… آج’’خیال جی‘‘ قلم آزمائی کرنا چاہتے ہیں… آئیے خیالی باتیں
سنتے ہیں…
گرما
گرم پکوڑے
میرا
نام’’خیال جی‘‘ ہے… آج مجھے کالم لکھنے کا حکم ملا ہے تو آپ کو اپنے
دوست’’ندیم لاہوری‘‘ کی کہانی سناتا ہوں… ندیم اچانک ایک دن لاہور کے ایک
ہسپتال میں پیدا ہو گیا… اُس کا رنگ سانولا تھا مگر ماں باپ کو اچھا
لگا… ویسے ہر ماں باپ کو اپنا بچہ ہی اچھا لگتا ہے… اچھے خاصے بد شکل
بچوں کو اُن کے ماں باپ نظر لگادیتے ہیں… ہسپتال سے گھر لائے تو نام رکھنا
تھا… اُن دنوں’’ندیم‘‘ ایک ماڈرن نام تھا… چنانچہ یہی نام رکھ
دیا… بچہ بڑا ہواتو ماں باپ کو اُسے مسلمان بنانے کی فکر نہیں تھی… یہ
فکر تھی کہ ڈاکٹر، انجینئر بنے یا چور، ڈاکو… بس پیسے کمانے
والابنے… گھر کے قریب مسجد تھی، مدرسہ تھا مگر وہاںنہ بھیجا کہ کلمہ،
نماز… اور قرآن سیکھتا… گھر سے دور ایک اسکول تھا وہاں بٹھا
دیا… وردی اور فیس والا اسکول… پینٹ اور ٹائی والا اسکول… اے بی سی
والا اسکول… نہ سورۃ فاتحہ، نہ آیۃالکرسی… نہ نماز، نہ روزہ… خیر
ندیم نے میٹرک کی تو کالج میں داخلہ ملا… ایف اے کیا تھا کہ تعلیم چھوڑ
دی… گھر کے حالات خراب تھے نوکری ڈھونڈی وہ ہاتھ نہ آئی تو… کچھ پیسے
جوڑکر پکوڑوں کی ریڑھی لگا لی… اب ندیم تھا اور گرما گرم پکوڑے۔
ارے
یہ کیا ہوا
ندیم
صبح آٹھ دس بجے اٹھتا… باتھ روم جا کر داڑھی مونڈتا… انگریزی تعلیم سے
اور کچھ نہ ملا بہرحال یہ کام تو سیکھ لیا… پھر اپنے چھوٹے بھائی اور بہنوں
کے ساتھ پکوڑوں کی تیاری میں لگ جاتا … بوڑھی ماں بھی ہاتھ
بٹاتی… مسجد سے ظہر کی اذان سنائی دیتی تو وہ تھوڑی دیر کے لئے گانے کا ٹیپ
بند کر دیتا… بیسن، آلو، مصالحے، مرچیں، تیل، کڑاھی… گیس والا
چولہا… اور مزیدار چٹنی… ویسے بھی لاہوری کھانے پینے کے
شوقین… چرغے اور پائے کھانے والے… اُن کو پکوڑے کِھلانا آسان کام نہیں
تھا… اس لئے معیاری پکوڑے،سموسے کا سامان کرنے میں کافی محنت لگتی… سہ
پہر وہ ریڑھی لیکر نکل جاتا… ایک مسجد کے قریب اُس کا اڈہ تھا… نماز کو
تو وہ کبھی نہ گیا البتہ اذان سنتا تو اُس کے جسم کے بال کھڑے ہو جاتے… وہ
جلدی سے گانے بند کر دیتا… زندگی اسی طرح گزر رہی تھی کہ ایک دن… اچانک
ایک آدمی اُس کے پاس آیا… وہ ندیم کے اسٹول پر بیٹھ کر پکوڑے کھانے
لگا… پھر اُس نے ندیم سے منّت کے انداز میں کہا… بھائی! گانے سننا حرام
ہیں، مجھے سخت بھوک لگی ہے… تم یا تو ٹیپ تھوڑی دیر کے لئے بند کر دو یا میں
ایک کیسٹ دیتا ہوں وہ لگا دو… شور شرابے کا عادی’’ندیم‘‘ وہ کیسٹ لگانے پر
آمادہ ہو گیا… ارے یہ کیا؟ … کیسٹ میں کسی مجاہد کا بیان
تھا… آواز بلند اور لہجہ پرسوز… وہ آدمی تو پکوڑے کھاتار
ہا… جبکہ ندیم کے ہوش اُڑ گئے… پہلے بے چین ہوا، پھر زیادہ متوجہ
ہوا… اور پندرہ منٹ بعد پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا… ارے میری بھی کوئی زندگی
ہے؟… نہ کلمہ، نہ نماز… نہ کوئی مقصد اور نہ جہاد… نہ قبر کی تیاری
نہ آخرت کی فکر… نہ کوئی عزم نہ کوئی ولولہ… بس پیٹ کی فکر اور پیسہ،
پیسہ کی سوچ…
رُخ
بدل گیا
کہانی
لمبی ہے مختصر یہ کہ… ندیم نے وہ کیسٹ رکھ لی اور بار بار سنتا رہا… پھر
اُس آدمی سے دوستی ہوگئی… تب مسجد کا نورانی دروازہ ندیم کے لئے
کُھلا… اللہ اکبر… ایک نئی پاک صاف اور پرسکون
زندگی… اب اُس کی ریڑھی پردینی بیانات بجتے تھے… علماء سے ملنا جلنا ہوا
توسمجھ آئی کہ نماز فرض ہے… سجدے کئے تو سنت سے محبت دل میں
اُٹھی… بُرش اور کریم کو نالی میں ڈالا اور چہرے پر سنت کا نور سجا
لیا… پھر سر بھی ڈھانپ لیا… پکوڑے تولنے کا ترازو پہلے ڈنڈی مارتا تھا
مگر اب وہ بالکل سیدھا تولتا تھا… پھر اور ترقی ہوئی ’’ندیم‘‘ مجاہدین کے ایک
تربیتی مرکز سے عسکری تربیت لے آیا… اب اُس کے بال بھی سنت کے مطابق لمبے ہو
گئے… اور وہ ورزش کا بھی پابندہو گیا…پھر اُسے توفیق ملی تو ایک محاذ پر کچھ
وقت لگا آیا… اب اُس کے دل میں عزائم… اور آنکھوں میں عقابی چمک آئی… وہ
راتوں کو اُٹھ کر نمازیں پڑھتا تو اُس کی دعاؤں سے مصلّیٰ بھیگ جاتا… وہ دین
اور جہاد کی بات کرتا تو لوگ توجہ سے سنتے… اب اُسے نہ مال سے رغبت تھی اور
نہ موبائل پر ناجائز یاری دوستی… وہ ایک جہادی تنظیم کاسرگرم رکن بن
گیا… ساتھ ہی اُس نے پکوڑوں کا کام بھی جاری رکھا تاکہ اپنے گھر والوں کے لئے
روزی کا بندوبست کر سکے…
اُفتاد
مشکلہا
حافظ
شیرازؒ فرماتے ہیں… عشق شروع میں مزیدار اور آسان ہوتا ہے مگر آگے چل کر
بڑی بڑی مشکلات آجاتی ہیں… تب عشق کے سچا یا جھوٹے ہونے کا امتحان ہوتا
ہے… ندیم لاہوری… چہرے پر پرنور داڑھی، سر پر سنت جہادی
عمامہ… زبان ذکر اور تلاوت سے معمور… اورجہاد کا ذوق شوق… اس دوران
اُس نے قرآن پاک پڑھنا بھی سیکھ لیا… مگر اچانک نظر لگ گئی… نظر لگتی
ہے تو چار طرف سے آفت گھیرتی ہے… گھر والوں نے ندیم کا رشتہ دنیا دارگھرانے
میں کر دیا… منگنی ہوئی تو سسرال والوں سے ملنا جلنا شروع ہوا… وہ جہاد
کے دشمن، دین کے مخالف اور مال کے لالچی… لڑکی بھی کچھ آوارہ… کبھی
ندیم کو محبت بھرے میسج کرتی تو کبھی مس کالیں… شروع میں ندیم ڈٹا رہا، ہر
کسی کو دین اور جہاد کی دعوت دیتا رہا… مگر کب تک؟… اُدھر خفیہ پولیس کا
اہلکار روزآنہ ندیم کو آکر ڈراتا… یار اپنی جوانی پر ترس کھاؤ حکومت
آپریشن کرنے والی ہے… جوانی جیل یا ٹارچر سیل میں گزر جائے گی… یہ جہاد
کا زمانہ نہیں حلال کمانا بھی تو جہاد ہے… اب ندیم دوسری طرف سے بھی پھنس
گیا… مگر ابھی تک اُس کا ایمان سلامت تھاکہ… اچانک مُلک کے صدر نے
امریکہ کا دورہ کیا اور واپس آتے ہی مجاہدین کے خلاف آپریشن شروع… چھاپے،
گرفتاریاں، کریک ڈاؤن، خوف اور دھمکیاں… ندیم کے فون پر منگیتر کا میسج آیا
کہ… اب تو باز آجاؤ کیوں میری زندگی برباد کرتے ہو… پھر وہ خود کال کر
کے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی… کہتے ہیں بددین عورت کے آنسو شیطان کامیزائل ہوتے
ہیں… یہ میزائل جس پر گِرے اُس کے ایمان کو برباد کر دیتا ہے… سوائے اُن
کے جن کی حفاظت اللہ تعالیٰ فرمائے… ندیم نے فون بند
کیا اور سوچوں میں ڈوب گیا… اچانک نیلی آنکھوں والا ایک شخص اُس کے پاس
آیا… اور اُسے ایک کاغذ دکھا کر کہنے لگا کہ امریکہ اورانڈیا نے تمہاری
تنظیم کے جن جن لوگوں کو قتل کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے ان میںتمہارا نام سرفہرست
ہے… بس ایک دو روز بعد تمہاری لاش کسی ویرانے سے ملے گی… پھر وہ قسمیں
کھا کھا کر کہنے لگا ندیم! تم پڑھے لکھے نوجوان ہو… زندگی بہت حسین چیز ہے
میںتمہارا خیر خواہ ہوں… یہ میرا موبائل نمبر لو اور آج رات مجھ سے مل لو…
آہ!
سب کچھ چھن گیا
ندیم
نے خود کو بہت سمجھایا کہ… موت وقت سے پہلے نہیں آسکتی… دین بڑی نعمت
ہے… مگر حملہ بہت سخت تھا… منگیتر فون پر فون کر رہی تھی… گھر میں
بہنیں الگ رو رہی تھیں… اور اُف وہ نیلی آنکھوں والا… رات کو ندیم نے
اُسے فون کیا اور ہارے ہوئے جواری کی طرح بوجھل قدموں کے ساتھ اُس کی عالیشان
کوٹھی میں جاپہنچا… اُس نے ندیم کو بہت اعزاز اور اکرام سے بٹھایا… اور
طرح طرح کے مشروبات منگوا کر اُس کی تواضع کی… اور پھر اُس کی تقریر شروع ہو
گئی…اسلام ہمیں لڑنا نہیں سکھاتا، اسلام امن والاد ین ہے… آج مسلمان اس لئے
پیچھے رہ گئے کہ انہوں نے وقت کی آواز کو نہیں سمجھا اور پرانی باتوں میں پڑے
رہے… جدید تعلیم، جدید ٹیکنالوجی اور عالمی برادری سے دوستی… یہ تین کام
مسلمان کریں تو یورپ اور امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیں… ہم امریکہ سے نہیں
لڑسکتے… اپنی قوم کو مروانا کونسی عقلمندی ہے؟… امریکہ کو کیا ہے ایک
ایٹم بم اٹھا کر مارے گا اورہم سب ختم… ہمیں اپنی جان بھی بچانی ہے اور آگے
بھی بڑھناہے…
پھر
اُس نے ندیم کو بہت سے تحفے… کچھ کتابیں اور پمفلٹ دیئے اور آئندہ ملنے کا
وعدہ لیا… اُس کی کئی باتیں ندیم کے دل ودماغ میں گونج رہی تھیں… واقعی
ہم امریکہ سے نہیں لڑسکتے… دنیا میں بھی انسان کے پاس روشن مستقبل ہونا
چاہئے… ملاقاتیں جاری رہیں… اور بالآخر’’ندیم‘‘پھر تبدیل ہونے
لگا… نیلی آنکھوں والے نے لوہا گرم دیکھا تو فوراً پیشکش کر دی… میں
آپ کو اپنے ایک امریکی دوست سے ملاتا ہوں… مگر شرط یہ ہے کہ داڑھی کچھ چھوٹی
یا ختم ہو جائے… ارے سارادین داڑھی میں تو نہیں رکھا… سوٹ کے پیسے میں
دوں گا وہ تم اچھا ساخرید لینا… وہ امریکی تمہیں’’جاب‘‘ کی آفر کرے گا دس
ہزار ڈالر ماہانہ تنخواہ… لاہور میں ایک اچھا سا گھر اور کالے رنگ کی
گاڑی… باتوں میں خود کو ماڈریٹ ثابت کرنا… وغیرہ وغیرہ… پیسے کا
جادو چل چکا تھا… ندیم کی قینچی اُس کی داڑھی میں اُتری ،تھوڑی دیر تو وہ
سکتے میں آکر رونے لگا… گنبد خضریٰ اُس کی آنکھوں کے سامنے آیا… مگر
پھر ڈالر کی چمک سے منظر دھندلا ہو گیا… نیا سوٹ پہن کر وہ اپنے دوست کے ساتھ
’’ امریکی اہلکار‘‘ سے ملنے روانہ ہو گیا… ندیم نے آٹھ، دس سال دین سے جو
کچھ پایا تھا وہ سب چھن گیا…
سب
کچھ مل گیا
پکّی
عمر کے موٹے امریکی نے بہت تپاک سے استقبال کیا… نیلی آنکھوں والے نے ندیم
کا تعارف بڑھا چڑھا کر پیش کیا… یہ مجاہدین کا ایکس کمانڈر ہے… یہ جہادی
تنظیم میں ہائی پروفائل تھا اور قیادت کے بہت قریب… سر! بہت محنت سے میں نے
ان کو اپنے ساتھ کام پر تیار کیا ہے… امید ہے بلیک واٹر اپنے اس نئے اہلکار
کو قدر کی نگاہ سے دیکھے گی… امریکی نے خوشی سے سرہلایا اور عیاری سے آنکھیں
گھما کر… ندیم سے تعارف پوچھا…
مائی
نیم از ندیم لاہوری… میں کالج میں پڑھتا رہا، میرے فادر کی ڈیتھ ہوئی تو میں
نے پکوڑیز اور سموسیز کی ٹرالی جوائن کر لی… میں پٹیٹو کو کاٹ کر اُسے بیسن
میں سوئمنگ کراتا ہوں… اور پھر اُسے ڈانس کرنے کیلئے گرم کڑاھی میں چھوڑ دیتا
ہوں… میرے گاہکز یعنی کسٹومرز میںمسلمز اور نان مسلمز سبھی ہیں… میں
کوئی فرق نہیں کرتا … حتیٰ کہ لاہور کے مشہور بھنگیز بھی گٹرزکلین کر کے
میرے پاس پکوڑیز کھانے آتے تھے… میں مسلمز کی ترقی اس میں دیکھتا ہوں
کہ… وہ آپ کے ساتھ مل کر کام کریں… جدید تعلیم حاصل کریں… جدید
ٹیکنالوجی حاصل کریں… اور جنگ و جہاد کی باتیں چھوڑ کر عالمی برادری کا حصّہ
بنیں… ویل ڈن، ویل ڈن امریکی نے خوشی سے کہا… کیا تمہیں مجاہدین قیادت
کے ٹھکانے معلوم ہیں… ندیم نے اثبات میں سر ہلایا… تو امریکی نے خوشی سے
اُسے گلے لگا لیا… تھوڑی دیر میں تمام تفصیلات طے ہو گئیں… اور ندیم نے
جس دنیا کا رُخ کیا تھا اس میں اُسے سب کچھ وافر مل گیا…
چین
ہی چین
اب
نہ ریڑھی کی مشقت تھی… اور نہ گرفتاری اور چھاپے کا خطرہ… نہ مال کی کمی
تھی اور نہ سامان کی قلّت… وہ لاہور کے ایک پوش علاقے میں آبسا
تھا… اُس نے کئی مجاہدین کی مخبری کی جس پر اُسے بڑے انعامات ملے… وہ
کئی ملکوںمیں بھی گھوم آیا تھا اور اُس کے پاس ایسے کارڈ تھے جنہیں دکھا کر وہ ہر
جگہ جا سکتا تھا… اور پولیس والے ان کارڈوں کو دیکھ کر اُسے سیلوٹ کرتے
تھے…دنیا کی سب سے بڑی طاقت کا اعتماد اُس کو حاصل تھا… ندیم جب پاکستانی تھا
تو ایک شہر سے دوسرے شہر بھی اطمینان سے نہیں جا سکتا تھا… جگہ جگہ پولیس
روکتی ٹوکتی ٹٹولتی تھی… مگر جب امریکی بنا تو جہاں چاہتا اطمینان سے
جاتا… وہ ایک دن لندن میں ہوتا تو اگلی رات پیرس میں… اُس کے گرد لڑکیوں
کا جھمگٹا رہتا… اور وہ آئے دن نئی ماڈل کی کاریں بدلتا رہتا…پاکستان کے
حکمران اور ادارے سب اُس کا ادب کرتے… اورمجاہدین سے اُسے کوئی خطرہ نہیں تھا
کیونکہ… اُس کا تمام کام خفیہ تھا…
ظاہری
طور پر وہ ایک کامیاب بزنس مین کے طور پر جانا جاتا تھا کہاں وہ وقت کہ… وہ
پائی پائی کا محتاج … اور کہاں آج وہ کروڑوں ڈالر اور ایک بڑی کمپنی کا
مالک… کہاں وہ وقت کہ اُسے ملکی اورغیر ملکی ایجنسیوں سے موت کا
خوف… مگر اب وہ اتنا محفوظ کہ… اس کا نام اُن لوگوں میں شامل تھا کہ
جنہیں ملک پر کسی بھی حملے کی صورت میں… پہلے ہی امریکہ بُلالینا طے
تھا… پہلے وہ خود پکوڑے تلتا تھا اب کئی خانساماں رات دن اُس کے لئے کھانے
پکاتے تھے… وہ کبھی کبھار فخر سے سوچتا کہ… اب مجھے کس کا ڈر! میں سپر
پاور کا آدمی ہوں… میں سپر پاور کا… دوست ہوں…
پھر
بھی حملہ ہو گیا
دوسال
کی اس عیاشی اور فراخی نے اُس کا وزن بڑھا دیا… بڑے ڈاکٹروں نے اُسے واکنگ
یعنی پیدل چلنے کی تاکید کی… اور اُسے بتایا کہ آپ ابھی کم عمر ہو جلد وزن
کم کرو تاکہ صحت اچھی رہے… ندیم نے قریب کے پارک میں واکنگ شروع کر
دی… ایک دن واکنگ سے واپس آیا تو اُس کے جسم میں شدید درد ہونے
لگا… اُس کے نوکر اُسے دبانے لگے مگر درد بڑھتا گیا اور اب سر بھی سخت بھاری
ہو گیا… فوراً سپیشلسٹ ڈاکٹر بلائے گئے… ٹیسٹ ہوئے تو تپا چلا کہ ڈینگی
مچھر نے کاٹا ہے اور اس کا زہر اندر تک اثر کر گیا ہے… تھوڑی دیر میں اُسے
پرائیویٹ ہسپتال منتقل کر دیا گیا… مگر طبیعت بگڑتی چلی گئی… دو سال سے
اُس کی سوسائٹی اونچی ہو گئی تھی… اونچی سوسائٹی کے لوگوں کو کہاں ٹائم کہ
کسی کی عیادت اور دیکھ بھال کریں… سب نے فون پر عیادت شروع کی تو ندیم نے تنگ
آکر موبائل پھینک دیا… بیوی کا پوچھا تو معلوم ہوا کہ اُسے شاپنگ کرنے
اورپینٹنگز کی نمائشیں دیکھنے سے وقت نہیںملتا… اب اُس کے ارد گرد صرف ملازم
تھے… اور وہ بھی ڈر ڈر کر خدمت کرتے کہ کہیں وائرس ہمیں نہ لگ جائے… اس
صورتحال نے بیماری کو بڑھا دیا… گزشتہ رات ساتھ والے وارڈ میں ڈینگی کا ایک
مریض چل بسا تو ندیم کے ہوش اُڑ گئے… میری کوٹھی کس کو ملے گی؟… میری
تین گاڑیوں کو کون لے جائے گا؟… اور کروڑوں ڈالر؟… کیا اب مجھے لوگ مٹی
میں دفن کردیں گے؟… طبیعت بگڑتی جارہی تھی… اور اُسے درد کے ساتھ یہ
خیال آرہا تھاکہ سپر پاور کون ہے امریکہ یا ڈینگی؟… امریکہ اُسامہ کے خون کا
پیاسا تھا… مگر پھر بھی بیس سال تک اُن کو نہ مار سکا… سوڈان، الجزائر
اورافغانستان میں اُسامہ پر کئی حملے کئے… اور جب بڑی جنگ شروع ہوئی تو اسامہ
اپنی تین ایمان والی وفادار بیویوں اور اپنے پیارے بچوں کے ساتھ نو سال تک زندہ
رہے… جبکہ ڈینگی نے مجھے تین دن میں موت کے پاس کھڑا کر دیا ہے؟… کیا
میں ڈینگی کو بھی سپر پاور مان لوں؟… اس ظالم مچھر نے میری جیب میں پڑے
امریکی حفاظتی کارڈ بھی نہ دیکھے اور نہ اُن سے ڈرا… اور مجھے کاٹ
لیا… ہائے مجھے داڑھی منڈانے سے کیا ملا؟… مجھے دین اور نماز چھوڑنے سے
کیا ملا؟… مجھے جہاد سے دشمنی کر کے کیا ملا؟… مجھے مجاہدین کو نقصان
پہنچا کر کیا ملا؟… جوکچھ ملاوہ تو یہاں رہ جائے گا… اور جو کچھ مجھے
آگے ساتھ لے جانا چاہئے تھا وہ سب کچھ مجھ سے چھن گیا…کہاں ہے وہ نیلی آنکھوں
والا شیطان… کیا وہ مجھے موت سے بچا سکتا ہے؟… کہاںہے وہ موٹا امریکی
اور ان لمحات میں میری کیا مدد کر سکتا ہے؟…ہائے، ہائے، ہائے بد نصیبی…
اب
کون میرا جنازہ پڑھے گا؟… اور کون مرنے کے بعد میرے لئے کچھ ایصال ثواب کرے
گا؟… کیا مزے کی زندگی تھی… وضو، پاکی، تلاوت، نماز… اور
جہاد… اور حلال روزی… اُس حال میں بیمار ہوتا تو میرے سر کے پاس بیسیوں
حافظ قرآن پاک پڑھ رہے ہوتے… جبکہ آج یہ ملازم… آنکھیں بچا کر مجھے
گالیاں دیتے ہیں… اُس حالت میں مرتا تو… مرنے کے بعد دفن ہونے تک
سینکڑوں قرآن پاک کا ثواب مجھے بھیجا جاتا… اور خود میں سنت شکل اور نماز ،
قرآن اور جہاد کے اجر کے ساتھ دفن ہوتا… ندیم انہی سوچوں میں کبھی
روتا… اور کبھی اپنے ہاتھ کاٹتا… تب اُس نے کسی طرح اپنے اُس دوست کا
نمبر حاصل کیا جس نے اُسے کیسٹ دی تھی… بات ہوئی تو وہ دوڑا ہوا آیا اور
سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا… ندیم تم نے خود کو کیوںبرباد
کیا؟… ندیم نے کہا یار میں اپنے گناہوں کا کفارہ چاہتا ہوں… میں اپنا
سارا مال جہاد میں دے دیتا ہوں شائد میری بخشش ہو جائے… اُس نے فوراً اپنے
منیجر کو فون کیا… معلوم ہوا کہ کمپنی، گاڑی،اورگھر… ہر جگہ بیوی اور
نیلی آنکھوں والے نے قبضہ کر لیا ہے… دراصل ڈاکٹروں نے ٹیسٹ دیکھ کر اُن کو
بتا دیا تھا کہ اس کا بچنا اب ممکن نہیں ہے… ندیم نے آہ بھری اور اپنے دوست
کا ہاتھ پکڑ کر کہا… تھوڑا سا قرآن پاک سناؤ… دوست نے پرسوز آواز میں
تلاوت شروع کی… ندیم کے آنسو اُس کے تکیے کو گیلا کرنے لگے… تلاوت سُن
کر ندیم نے کہا… یار مجھ سے کلمہ سنو… پھروہ بار بار کلمہ پڑھنے
لگا… پھر اُس نے اپنے دوست سے کہا…میں تو اب جارہا ہوں… درد جس تیزی سے
دل کو لپیٹ رہا ہے اس میں میرا بچنا مشکل ہے… میرے گناہ بہت زیادہ
ہیں… پتا نہیں میرا کیا بنے گا؟… بس میراایک پیغام دنیا والوں کو پہنچا
دینا کہ…مسلمانو! صرف اور صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرو وہی زندگی
موت نفع نقصان کا مالک ہے… امریکہ اور کسی مخلوق سے نہ ڈرو… اور اے
دانشورو! مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ سے ڈراؤ… امریکہ سے
نہیں… صرف زندہ رہنا اور جان بچانا کوئی کمال نہیں… ایمان پر مرنا کمال
والی نعمت ہے… دیکھو! امریکہ کے دوست،بلیک واٹر کے افسر’’ندیم‘‘ کو ایک چھوٹے
سے مچھر نے موت کے دروازے پر لاکھڑا کیاہے… ہاں!میرا یہ پیغام سب کو پہنچا
دینا ممکن ہے کسی کا ایمان بچ جائے… پھر ندیم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے
مجاہد دوست کا ہاتھ پکڑکر…اپنے سینے پر رکھااور کہا… کچھ عرصہ پہلے لاہور سے
ایک فدائی مجاہد جارہا تھا… میں نے اُس کے لئے سامان اور کرائے کا بندوبست
کیا تو… وہ بہت خوش ہوا… تب میں نے اُس سے درخواست کی تھی کہ… دعاء
کردو مجھے آخری وقت کلمہ نصیب ہو جائے… شاید اُس کی دعاء رنگ لے آئی
ہے… ندیم نے کلمہ پڑھا… اور اُس کی گردن ایک طرف ڈھلک گئی……
خیال
جی کا افسانہ ختم… آئیے ہم سب بھی اخلاص سے کلمہ پڑھ لیں…
لاالہ
الا اللہ ،لا الہ الا اللہ ،لاالہ
الا اللہ محمد رسول اللہ …
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
راضی ہو گئے حضرت سیدنا’’علی رضی اللہ عنہ ‘‘ سے… جی ہاں! امیر
المؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ
عنہ … اللہ اکبر! کتنا میٹھا اور پیارا نام
ہے… اورکتنی عظیم اور محبوب شخصیت ہیں… حضرت سیدناعلی
المرتضیٰ رضی اللہ
عنہ … وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں اور جناب محمد
عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی محبوب… اب اس کے بعد
اُنہیں کسی اور کی محبت کی کیا ضرورت؟… ہاںہماری ضرورت اور سعادت ہے کہ ہم
اُن سے’’محبت‘‘رکھیں… اور اُن کے عظیم الشان مقام کو پہچانیں… آئیے
’’محبت‘‘ کی اسی کیفیت میں چند واقعات پڑھتے ہیں…
ہجرت
سے پہلے بُت شِکنی
حضرت
سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں:
ایک
دن ہم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے اور
’’کعبہ‘‘ کے در پر آئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹھ
جاؤ اور میرے کاندھوں پر پیر رکھ کراونچے ہوئے اور کہا کہ کھڑے ہوجاؤ، میں کھڑا
ہوا مگر میری کمزوری کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس فرما لیا،
فرمایا بیٹھ جاؤ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور مجھ سے کہا
کہ میرے کاندھوںپر سوارہو جاؤ ، جب ایسا کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ
وسلم مجھے اٹھا کر کھڑے ہو ئے تو مجھے ایسا لگا کہ میں اتنا اونچا ہو
رہا ہوں کہ آسمان کی بلندی تک پہنچ جاؤں گا… میں اس طرح ’’کعبہ‘‘ کی چھت پر
پہنچ گیا اور وہاں جو پیتل یاتانبے کا بنا ہوابُت رکھا ہوا تھا، اس کو میں دائیں،
بائیں موڑنے لگا اور آگے پیچھے جُھکانے لگا یہاں تک کہ اُسکو اپنے قابو میں لے
آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
کہ اس کو گرادو ! میں نے گرایا تو وہ ایسا چُور چُور ہو گیا جیسے شیشے کے بنے ہوئے
برتن ، پھر وہاں سے اُترا اور ہم دونوں تیز قدم چلتے ہوئے گھروں کے پیچھے آگئے کہ
کہیں کوئی ہمیں دیکھ نہ لے (المرتضیٰ بحوالہ مسند احمد والبخاری
فی التاریخ)
(۱) حضرت علی رضی اللہ
عنہ اُس وقت کم عُمر تھے… آپ نو یا دس سال کی عمر میں ایمان لائے
آپ نے کبھی بتوں کی پرستش نہیں کی… جبکہ مکہ مکرمہ سے ہی’’بت شکنی‘‘ کا کام
شروع فرمایا اور یہ پوری زندگی جاری رہا… فتح مکہ کے بعد بھی بتوں کو توڑنے
کے مبارک کام پر آپ کی تشکیل ہوئی… رضی اللہ تعالیٰ
عنہ
(۲) مکہ مکرمہ میں جہاد اپنے شرعی اور اصطلاحی
مفہوم… یعنی قتال فی سبیل اللہ کے معنیٰ میں فرض نہیں
تھا… مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ مسلمان کفر، شرک اور اُن کے مظالم کے
سامنے مستقل گرے پڑے تھے… بُت گرانے کا واقعہ آپ نے پڑھ لیا…
صحیح
روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام مکہ مکرمہ کی ایک گھاٹی میں نماز پڑھ رہے
تھے… مشرکین مکہ وہاںجا پہنچے اور مسلمانوں کو گالیاں اور طعنے دینے لگے…یہاں
تک کہ لڑائی پر اُتر آئے… تب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
نے ایک مشرک کے سرپر اونٹ کے جبڑے کی ہڈی ماری اور اُس کا سر پھاڑ دیا…یہ پہلا خون
تھا جو اسلام کے لئے بہایا گیا(سیرت ابن ہشام وغیرھا) حضرت عمر رضی اللہ
عنہ فرماتے ہیں جب مشرکین کسی مسلمان سے لڑائی کرتے تو وہ بھی جوابی
وار کرتا( تاریخ عمرؓ بن الخطاب لابن جوزی)
اور
حضرت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے اقوال اور واقعات تو آپ
کو اچھی طرح معلوم ہوں گے…
مثالی
جانثاری اور گہری نیند
مشرکین
مکہ کے سردار’’ دارالندوہ‘‘ میں جمع ہوئے اور اس تجویز پر سب متفق ہو گئے کہ ہر
قبیلہ سے ایک مضبوط اور باہمت آدمی لیا جائے اور یہ سب مل کر اس طرح
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وار کریں
کہ سب مل کر ایک ہاتھ بن جائیں اس طور پر خون کی ذمّہ داری تمام قبائل پر ہو
گی… اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ
وسلم کو اس سازش سے آگاہ فرما دیا… آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے بستر پر
سونے کا حکم دیا اور فرمایا’’آپ کو کوئی بھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا‘‘… یہ
کام آسان نہیں تھا… اور کوئی بھی اُن کی جگہ ہوتا تو اس کی پلک سے پلک نہ
لگتی… یعنی تھوڑی سی نیند بھی نہ آتی… کیونکہ اس بات کا واضح اندیشہ
تھا کہ جب مشرکین کو معلوم ہو گا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم اُن کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں تو اپنی تسکین نفس کی خاطر اُن
کی جگہ لیٹے ہوئے شخص کی بوٹی، بوٹی کردیں گے… لیکن حضرت علی رضی اللہ
عنہ ان باتوں کو خاطرمیں نہ لائے اور بستررسول صلی اللہ
علیہ وسلم پر لیٹ گئے اور گہری نیند سو گئے… یہ کام صرف وہی شخص
کر سکتا تھا جسے
* اللہ تعالیٰ
پر مضبوط ایمان نصیب ہو
* جو
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے حد محبت اور
جانثاری کا تعلق رکھتا ہو
* جو
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان مبارک پر
کامل یقین رکھتا ہو
* جو
خود کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرقربان
کرنے کا بلند جذبہ رکھتا ہو
اور
یہ چاروں صفات اس میں بہت بلند درجے کی موجود ہوں… جیسا کہ حضرت علی
رضی اللہ عنہ کو نصیب
تھیں… رضی اللہ تعالیٰ عنہ…(المرتضیٰ ص ۶۰)
قدموں
کی اونچی سعادت
حضرت
سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں:
جب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کی نیت سے
مدینہ تشریف لے گئے تو مجھے حکم فرمایا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کے بعد یہاں (مکہ میں) ٹھہرا رہوں تاکہ وہ امانتیں جو لوگوں کی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں وہ سب
اُن کے مالکوں کو پہنچا دوں… میں رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کے بعد تین روز رہا، میں لوگوں کے سامنے
آتا جاتا، میں ایک روز بھی غائب نہیں رہا… ان تین دنوںکے بعد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس راستہ سے(مدینہ
کی طرف) گئے تھے میں اس پر چلتا ہوا بنی عمرو بن عوف کے محلہ میں
پہنچا… وہاںرسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم تشریف رکھتے تھے میں بھی مکتوم بن ہدم کے مکان پرپہنچا جو
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام فرمانے کی
جگہ تھی… حضرت علی رضی اللہ عنہ (اس سفرمیں) راتوں کو چلا کرتے اور دن کو
کہیں چُھپ رہتے اس طرح مدینہ پہنچے ، آپ کے پاؤں پھٹ پھٹ گئے
تھے… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایاعلی رضی اللہ عنہ کو بلاؤ، لوگوں نے عرض کیا وہ چل نہیں سکتے،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اُن کے پاس تشریف لے گئے، گلے سے لگایا اور
اُن کے پاؤں کے ورم کو دیکھ کر رو پڑے ، پھر اُن پر لعاب دھن لگایا اور دست مبارک
اُن کے قدموں پر پھیرا، جس کا یہ اثر تھا کہ حضرت علی رضی اللہ
عنہ کی شہادت کے دن تک پھر کوئی پیروں کی تکلیف نہیں
ہوئی (المرتضیٰ ص ۶۱ بحوالہ
الکامل)
محبت
ہو تو ایسی
حضرت
علی رضی اللہ عنہ کی سعادت دیکھیں… اُن کا نکاح
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے لاڈلی
اور چھوٹی صاحبزادی…جنت کی عورتوں کی سردار حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے
ہوا… رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہاسے
ارشاد فرمایا:
میں
نے تمہارا نکاح اپنے اھل بیت کے بہترین فرد سے کر دیا ہے، پھر اُن کو دعائیں دیں
اور اُن دونوں پر پانی چھڑکا… حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
میں نے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کیا تو میرے یا اُن
کے پاس ایک مینڈھے کی کھال کے سوا کوئی بستر نہ تھا… اور ہمارے پاس کوئی خادم
نہ تھا … اس تنگدستی کے باوجود حضرت علی رضی اللہ
عنہ کو یہ فکر رہتی تھی کہ… رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کو دعوت الی اللہ اور جہاد کے
کام کے لئے زیادہ سے زیادہ راحت اور سہولت پہنچا سکیں… ابن عساکر حضرت عبد
اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت کرتے ہیں، فرمایا!۔
’’ایک
دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر فاقہ
تھا، حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ معلوم ہوا تو وہ کسی مزدوری کی تلاش
میں گھر سے نکل پڑے تاکہ اس سے اتنا مل جائے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت پوری ہو
جائے، اس تلاش میں ایک یہودی کے باغ میں پہنچے اور اس کے باغ کی سینچائی کا کام
اپنے ذمّہ لیا، مزدوری یہ تھی کہ ایک ڈول پانی کھینچنے کی اُجرت ایک کھجور، حضرت
علی رضی اللہ عنہ نے سترہ ۱۷ ڈول
کھینچے… یہودی نے انہیں اختیار دیا کہ جس قسم کی کھجوریں چاہیں لے لیں، حضر ت
علی رضی اللہ عنہ نے ’’عجوہ‘‘ کھجور کے سترہ دانے لے لئے
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں
پیش کر دیئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جناب یہ کہاں سے لائے؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا… یا
نبی اللہ ! مجھے پتہ چلا کہ آج آپ کو فاقہ درپیش ہے ، اس لئے کسی
مزدوری کی تلاش میں نکل گیا کہ کچھ کھانے کا سامان
کرسکوں… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: آپ کو اللہ اور اُس کے رسول کی محبت نے اس پر
آمادہ کیا تھا؟ عرض کیا جی ہاںیا رسول اللہ !(المرتضیٰ ص ۷۰ بحوالہ
کنز العمال)
مصیبت
کی گھڑی ، اولوالعزمی
غزوہ
اُحد میں جب مسلمانوں کے پاؤں اکھڑگئے تو حضرت علی رضی اللہ
عنہ ثابت قدم رہے… حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی
شہادت کے بعد اسلامی لشکر کا ’’عَلَم‘‘ آپ نے سنبھالا… اور اُس دن آپ نے
سخت جنگ کی… لا تعداد مشرکوں کو ٹھکانے لگایا اور
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ مبارک سے
بہتے ہوئے خون کو دھویا… جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر
مبارک پر سخت چوٹ لگی تو اُس سے خون بہنے لگا… اور آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کا نیچے کا ایک دندان مبارک بھی شہید ہو گیا… اُس وقت حضرت
علی رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو
ہاتھ کا سہارا دیا اور حضرت طلحہ بن عبد
اللہ رضی اللہ عنہ نے اٹھایا تو آپ صلی اللہ
علیہ وسلم اپنے قدموں پر کھڑے ہوگئے… حضرت سہل بن سعد رضی اللہ
عنہ فرماتے ہیں کہ… حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کے زخموں کو دھو رہی تھیں اور حضرت علی
رضی اللہ عنہ اپنی ڈھال میں پانی لا کر دے رہے
تھے… (المرتضیٰ ص ۷۳،۷۴)
ہم
نے غزوہ بدر کے واقعہ کو ذکر نہیں کیا کیونکہ… وہ بہت معروف ہے، اس میں حضرت
علی رضی اللہ عنہ اسلامی لشکر کے پہلے تین مبارزین میں سے
تھے… اور کئی مفسرین کے نزدیک قرآن پاک کی سورۂ حج کی آیات(۱۹) تا
(۲۴) میں
ان مبارزین کے اونچے مقامات اور اُن کے مدّمقابل آنے والے مشرکین کے برے انجام کو
بیان فرمایا گیا ہے… تفصیل کے لئے ملاحظہ فرمائیے’’فتح الجوّاد سورۃ الحج‘‘
اور
غزوہ خندق کے موقع پر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے
مشرکین کے سب سے بڑے تلوار باز پہلوان… عمرو بن عبدودّ کو قتل
فرمایا… اُس دن وہ ظالم چیخ چیخ کر مسلمانوں سے کہہ رہا تھا… کہاں ہے وہ
جنت جس کے متعلق تمہارا عقیدہ ہے کہ جو ’’شہید‘‘ ہوا وہ اس میں داخل ہو جائے گا؟
کسی کو میرے سامنے کیوں نہیں لاتے؟…
تب
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے میدان
میں اُتر کر اُس کو جواب دیا… اور مختصر مقابلے میں ہی اُس کا خون اور غرور
دونوں خاک میں ملا دیئے…… یہ واقعہ اور غزوہ خیبر کے موقع پر یہودی
پہلوان’’مرحب‘‘ کاقتل… حضر ت علی رضی اللہ عنہ کے
جہادی کارناموں کا سنہری حصہ ہیں… کئی سال پہلے بدقسمتی سے میں نے کراچی کے
ایک خطیب ’’شاہ بلیغ الدین‘‘ کی ایک کیسٹ سنی… وہ ان دو واقعات کا بھی مذاق
اڑا رہا تھا… اللہ تعالیٰ ایسے ظالم و جاہل لوگوں کے شر سے
اُمتِ مسلمہ کی حفاظت فرمائے…
دلوں
کا غبار دھونے والا واقعہ
حَجَّۃ
الوداع… کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’مدینہ منورہ‘‘ کی
طرف کوچ فرمایا اور آپ’’غدیر خُم‘‘ پر پہنچے تو وہاں آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ایک خطبہ دیا… ’’غدیر خُم‘‘ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے
راستے میں ایک کنویں اور مقام کا نام ہے… اس خطبہ میں آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ’’خصوصیت‘‘ اور ’’شان‘‘
کا ذکر فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا… میں جس کا
دوست اور حامی ہوں علی اُس کے دوست اور حامی ہیں، پھر دعاء فرمائی
اَللّٰھُمَّ
وَالِ مَن وَّالَاہُ وَعَادِ مَنْ عَادَاہُ
ترجمہ: یا اللہ جو
علی رضی اللہ عنہ کی حمایت کرے آپ اُس کی حمایت فرمائیں اور جو ان سے
دشمنی کرے آپ اُس سے دشمنی فرمائیں…
دراصل
بعض لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بے جا شکایت کی
تھی… اور اُن پر اعتراض اور تنقید کا اظہار کیا تھا… قصہ یہ تھا کہ جن
دنوں حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن میں تھے… بعض مقامات میں انہوں نے
انصاف کی بات کہی تھی اور صحیح طرزِ عمل اختیارکیا، لیکن کچھ لوگوں نے اس
کو’’زیادتی‘‘ ’’بخل‘‘ اور تنگی پرمحمول کیا تھا…حالانکہ حضرت علی رضی اللہ
عنہ اس معاملہ میں حق بجانب تھے
ابن
کثیرس کا بیان ہے!۔
’’جب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مناسک حج ادا فرما
چکے اور مدینہ منورہ کی طرف کوچ کیا، ۲۸ ذی الحجہ
کو ایک اہم خطبہ دیا… یہ اتوار کا دن تھا اور مقام’’غدیر خُم‘‘ کا
تھا… ایک درخت کے سایہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور
مختلف باتیں ذکرفرمائیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے
’’اوصاف حمیدہ‘‘ کا ذکر کیا، ان کی’’امانت‘‘ اور ’’عدل‘‘ کو سراہا، اورآپ صلی
اللہ علیہ وسلم کی ذات سے جو اُن کا تعلق تھا اس کو بیان
فرمایا… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تقریر سے بعض لوگوں کے دلوں
میں جو غبار تھا وہ دُھل گیا‘‘…(المرتضیٰ ص ۸۸ بحوالہ ابن
کثیر)
سبحان اللہ
! حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں دلوں پر کوئی غبار ہو تو
اسے حضرت آقامدنی صلی اللہ علیہ وسلم دور فرماتے ہیں… پس وہ لوگ
جو حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض پاتے ہیں وہ
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے بہت محبت رکھتے
ہیں… اور اُن پرتنقید کر کے اپنی زبانوں اور دلوں کوناپاک نہیں
کرتے… مگر جو لوگ’’فیض نبوی‘‘ سے محروم ہوں… اُن کاکیا
علاج… تحقیق، نئے مطالعے، اور عجمی سازشوں کو بے نقاب کرنے کے دعویدار
کئی’’ڈاکو‘‘ مسلمانوں کے ایمان پر حملہ آور ہیں… مسلمان اُن سے ہوشیار
رہیں… یہ لوگ نہ جہاد کرتے ہیں اور نہ دین کی کوئی اور خدمت… بس ہروقت
تاریخ کے دلدل سے گندا کیچڑ جمع کر کے اچھالتے رہتے ہیں… تمام ’’صحابہ کرام‘‘
سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے… اور کسی بھی ’’صحابی ‘‘ پر تنقید کرنے کا
ہمیں کوئی حق حاصل نہیں ہے… حضرات صحابہ کرام ستاروں کی طرح ہیں… اور
حضرات انبیاء کرام کی طرح ان میں سے بعض، دوسرے بعض سے افضل ہیں… سب سے زیادہ
فضیلت… حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حاصل
ہے… اُن کے بعد حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ
عنہ … اُن کے بعد حضرت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ
عنہ … اوراُن کے بعد حضرت سیدنا علی بن ابی طالب
کرم اللہ وجہہ… یہ چاروں خلفائے راشدین ہیں… اور
ان کی خلافت کا وعدہ قرآن عظیم الشان میں مذکور ہے… اپنے دلوں کو ٹٹول
کردیکھیں کہ کیا ان میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی
مَحبَّت اور مقام… کسی غبار یا جرثومے کی وجہ سے پھیکا تو نہیں ہے؟… اگر
ایسا ہے تو بڑی محرومی اور بد نصیبی کی بات ہے… اس پر توبہ، استغفار کریں اور
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک فرامین سے اپنے دلوں کا یہ غبار
دور کریں… یہ مبارک دین ہم تک حضرات صحابہ کرام کے ’’قلوب‘‘ سے گزر کر پہنچا
ہے… اگر ہم اس راستے کو ہی اپنی بدنصیبی سے گدلا کردیں گے تو… یقین کریں
صاف اور اصل دین ہم تک نہیں پہنچ سکے گا… آج کئی واقعات بیان کرنے تھے مگر
کالم پورا ہو گیا… آخر میں عربی کے ایک نامور ادیب کی ایک عبارت پرآج کی
مجلس ختم کرتے ہیں… اس عبارت میں آپ کو حضرت علی رضی اللہ
عنہ کی ایک اور بلند صفت اورشان سے واقفیت حاصل ہو گئی… استاذ
احمد حسن الزیّات’’تاریخ الادب العربی‘‘ میں لکھتے ہیں…
’’رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کے بعد گزشتہ زمانوں میں یا بعد کی آنے والی نسلوں میں
کوئی بھی حضرت علی ر رضی اللہ عنہ سے زیادہ’’فصیح البیان‘‘ ہمیں نظر نہیں آیا،
خطابت میں بھی ایسا کوئی شخص نظر نہیں آیا، جو ایسا زبان آور اور قادر الکلام
ہو، وہ حکیم تھے، حکمت کے چشمے اُن کے بیان سے پھوٹتے تھے… وہ خطیب تھے
،بلاغت کا دریا ان کی زبان سے رواں تھا، واعظ تھے قلب و نگاہ پر چھا جانے والے،
رواں و شاداب قلم جن کے دلائل بڑے قوی اور عمیق ہوتے تھے، کلام وبیان پراس درجہ
قدرت تھی کہ جس بات کو چاہتے اور جس طرح چاہتے ادا کرتے، اس پر سب کا اتفاق اور
اجماع ہے آپ مسلمانوں کے سب سے بڑے خطیب اور انشا پردازوں کے امام
تھے‘‘ (المرتضی ص ۲۸۵ بحوالہ
تاریخ الادب العربی)
کئی
اہم واقعات رہ گئے… حضرت علی ر ضی اللہ عنہ علم، جہاداور طریقت کے
ساتھ ساتھ ’’صبر‘‘ میں بھی’’امام‘‘ کا درجہ رکھتے ہیں… آپ نے بہت آزمائشیں
اور تکلیفیں جھیلیں … اوراپنے رفقاء کی طرف سے بے وفائی، بزدلی اور
ناقدری کا معاملہ بھی برداشت کیا… سیرت علی رضی اللہ عنہ میں ایک
طرف عظمتیں ہیں تو دوسری طرف آزمائشیں… ان شاء اللہ موقع ملا تو کسی اور مجلس میں ان
باتوں کا مذاکرہ کریں گے… مجلس کے اختتام سے پہلے حضرت سیدنا علی
المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک’’حدیث مبارکہ‘‘ پڑھتے ہیں…
’’حضرت
علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں! رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم جبرئیل حسے نقل کرتے ہیں
کہ اللہ عزّوَجلّ کا ارشاد ہے: میں
ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں لہٰذا میری ہی عبادت
کیا کرو… جو شخص تم میں سے اخلاص کے ساتھ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ کی
گواہی دیتا ہوا آئے گا وہ میرے قلعہ میں داخل ہو جائے گا اور جو میرے قلعہ میں
داخل ہو گا وہ میرے عذاب سے امن میں ہوگا…(فضائل ذکر بحوالہ ابو نعیم وغیرہ)
آئیے
اخلاص کے ساتھ ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ پڑھتے ہیں
لا
الہ الا اللہ ،لا الہ الا اللہ ،لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ …
(ملاحظہ)
المرتضیٰ مصَّنفہ حضرت ندوی رحمۃ اللہ علیہ سے واقعات نقل کرنے میں
عبارت کی قدرے تسہیل کی گئی ہے)
٭٭٭
اللہ
، اللہ، اللہ… عجیب منظر آنکھوں کے سامنے آتے ہیں، حالانکہ آنکھوں نے اُن
کو دیکھا نہیں مگر… سچی خبریں مشاہدے سے بھی زیادہ طاقتور ہوتی ہیں… وہ
دیکھو! سترہ رمضان المبارک، صبح سویرے کا وقت… جی ہاں! عجیب تاریخ اور عجیب
وقت… تاریخ تو وہ جس دن یوم الفرقان برپا ہوا تھا… اور فرشتے غزوہ بدر
لڑنے زمین پر اُترے تھے… اور وقت فجر کی نماز کا جس میں فرشتے خصوصی طور پر
نازل ہوتے ہیں… وہ اپنے گھر سے باوضو نکلے… پانی کا وضو الگ اور تہجد کے
آنسوئوں کا وضو الگ… جی ہاں پوری طرح باوضو اور نماز کے لیے جگانے کی پرزور،
پرسوز آواز… الصلوٰۃ، الصلوٰۃ… واہ: الصلوٰۃ الصلوٰۃ… مسلمانو!اٹھو
نماز ، نماز… گھر سے مسجد کی طرف جا رہے ہیں… اچانک بدبخت، موذی سامنے
آیا اور اُسکی تلوار کا وار سر پر اُس جگہ پڑا… جہاں آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ دے کر فرمایا تھا کہ اس
اُمت کا بدبخت شقی یہاں وار کرے گا… اس ظالم نے بہت مہنگی تلوار خریدی تھی اور
انتہائی مہلک زہر میں چھ ماہ تک بُجھائی تھی… اور اس گناہ کا عزم اُس نے کعبہ
شریف میں بیٹھ کر کیا تھا… اور اس عہد میں اُس کے ساتھ دو اور بدبخت شقی بھی
تھے… ایک نے حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کا
اور اور دوسرے نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو شہید
کرنے کا ’’حلف‘‘ اٹھایا تھا… جبکہ اس ابدی بدبخت اور بدنصیب نے حضرت سیدنا
علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پر وار کرنے کی ذمہ داری
سنبھالی… آہ کیسی عظیم بدنصیبی ہے اور کتنی بُری تشکیل… اور ظلم یہ کہ
خود کو بہت نیک ، پارسا، حق پرست غیرت مند… اور متقی سمجھتا تھا… اور
ظاہری فکر بھی بہت اونچے فریب والی کہ … اسلام کو نعوذ باللہ حضرت علی
رضی اللہ عنہ ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عمروبن العاص رضی
اللہ عنہ سے خطرہ ہے… ان کو ماردو تو اسلام ترقی کرے گا اور جہاد آگے بڑھے
گا… ایک شیطانی خیال جو اُن کا عقیدہ بن چکا تھا… وہ اُس قرآن کو پڑھ
رہے تھے… جس قرآن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان
بیان کی گئی ہے… ایک آیت میں نہیں کئی آیات میں… کوئی ہے جو حساب کے
زور پر حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب کو
شمار کر سکے؟… قرآن پاک ’’السابقون الاولون‘‘ کی فضیلت پکارتا ہے… حضرت
علیؓ اس مبارک جماعت کے بھی ہر اول تھے… قرآن مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے والوں
کی شان ابھارتا ہے… حضرت علی رضی اللہ عنہ اُن میں بھی
ایک انوکھی شان کے ساتھ شامل ہیں… قرآن پاک غزوہ بدر کو بار بار اُجاگر کرتا
ہے… حضرت علی رضی اللہ عنہ غزوہ بدر کے اسلامی مبارزین میں سے
ہیں… قرآن پاک ’’اصحاب حدیبیہ‘‘ پر ایک پوری سورت میں رضوان اور مغفرت کے
پھول نچھاور کرتا ہے…حدیبیہ کی تحریر لکھنے والے حضرت علی رضی اللہ
عنہ تھے… گذشتہ کالم میں ’’سورۂ حج‘‘ کی آیات کا حوالہ آپ پڑھ
چکے… اور ایک منظر تو ایسا ہے کہ اُسے دیکھ کر پتھر بھی محبت سے پگھل
جائیں… غزوۂ خیبر برپا تھا… سرزمین حجاز میں یہودیوں کی
آخری… اور مضبوط ترین کمین گاہ… آج بھی کسی یہودی کے سامنے خیبر کا
نام لو تو بُری طرح جَل بھُن جاتا ہے… فلسطینی مجاہدین پتھر پھینکتے وقت کبھی
یہ نعرہ اُٹھاتے ہیں
خیبر
خیبر یا یہود… جیش محمدؐ سوف یعود
یعنی
یہودیو! خیبر کو یاد کرو… ہاں خیبر کو… حضرت محمد صلی اللہ
علیہ وسلم کا لشکر عنقریب لوٹ کر آنے والا ہے…
مسلمانوں
نے کئی قلعے فتح کر لیے مگر ایک مرکزی قلعہ بار بار کے حملوں کے باوجود فتح نہ ہو
سکا… تب وہ منظر سجا جو دلوں کو محبت کی روشنی عطاء کرتا ہے… حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
’’میں
کل یہ (اسلامی) جھنڈا اُس شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ خیبر کو فتح
کرائے گا… اور وہ شخص ایسا ہے جو اللہ اور اُس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور
اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول اُس سے محبت فرماتے ہیں (بخاری و مسلم)
اللہ
اکبر کبیرا… کتنی عظیم سعادت ہے… اللہ اور رسول سے محبت کا دعویٰ تو ہر
مسلمان کر سکتا ہے… مگر یہ سعادت کہ اللہ اور رسول بھی اُس سے محبت فرماتے
ہیں… یقین جانیں بہت ہی عظیم نعمت ہے… بغیر مثال اور تمثیل کے
سوچیں… دنیا کے بڑے لوگوں سے کتنے لوگ محبت کا دعویٰ کرتے ہیں؟… مگر یہ
بڑے لوگ اگر کسی کو اپنا ’’محبوب‘‘ قرار دے دیں تو اُس کے وارے نیارے ہو جاتے
ہیں… محبت کرنا بھی مشکل ہے مگر پھر بھی انسان یہ مشکل کام کر لیتا
ہے… لیکن کسی بڑے انسان کا ’’محبوب‘‘ بننا کہ وہ بھی آپ سے محبت کرے بہت
زیادہ مشکل کام ہے… لیلیٰ کے کتنے دعوے دار تھے… مگر لیلیٰ کی جوابی
محبت صرف ’’مجنوں‘‘ کو ملی… بادشاہوں سے کروڑوں لوگ محبت کرتے ہیں… مگر
یہ بادشاہ اپنے ان محبین میں سے دو چار کو ہی اپنا ’’محبوب‘‘ بناتے ہیں… اور
یہ بھی یاد رکھیں کہ … محبت ہر کسی کی ’’قبول‘‘ نہیں ہوتی… ایک شخص
بادشاہ کی بیٹی سے محبت کرتا ہے… چلتے اٹھتے بیٹھتے اُسی کا نام لیتا
ہے… ہر وقت اُسی کے بارے میں سوچتا ہے… مگر نہ نہاتا ہے نہ دھوتا
ہے… جسم بدبو سے لبریز، دانت اور منہ گٹر کی طرح متعفن… کپڑے غلاظت سے
رنگین… ناخن جانوروں سے بڑے اور بالوں میں دنیا بھر کا گند… بس ہر وقت
بادشاہ کی بیٹی کا نام، اُس کا تذکرہ… اُس کو پانے کی آرزو اور اس سے ملنے
کا جنون… اب اس شخص پر ’’محبت‘‘ کے اثرات تو ضرور ظاہر ہوں گے… محبوبہ
کا نام سُن کر وجد اور حال آجانا… اُسی کے خیال میں ایسا کھو جانا کہ کسی
اور کا دھیان نہ رہے اور نہ دائیں بائیں کی خبر ہو…یہ سب ٹھیک لیکن کیا یہ اپنی
محبت کا جواب بھی پا سکتا ہے؟… اگر یہ بادشاہ کی بیٹی کے لیے رشتہ
بھیجے… اور وہ محبوبہ اپنے عاشق کو ایک نظردیکھ لے تو شاید خواب میں بھی ڈر
جائے اور اس کا دل نفرت سے بھر جائے… کیونکہ اس کے عاشق نے محبت کے ایک حصے
کو تو پور اکیا… مگر دوسرا حصہ چھوڑ دیا… اور وہ ہے خود کو اپنے محبوب
کے قابل بنانا… اللہ، اللہ، اللہ… مجھے بے ساختہ ریاض حسین شہید یاد
آگیا… جس نے جان توڑ محنت کرکے خود کو محبوب کی ملاقات کے ’’قابل‘‘ بنانے کی
کوشش کی… مسلسل عبادت، محنت اور ریاضت کے اثرات نے اُس کے چہرے کا رنگ اُڑا
دیا… وہ جب اصلاحی خط میں اپنے معمولات لکھتا تو مجھے رشک آتا اور حیرت
ہوتی… جو کتاب بھی اُسے بتائی… وہ چند دن میں پڑھ ڈالی… فضائل جہاد
سے فتح الجواد تک… حیاتُ الصّحابَہ سے تفسیر عثمانی تک… بہشتی زیور سے
سیرت المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تک… درود شریف کی
مہم چلی تو اُن کی مقدار سب سے زیادہ…اقامتِ صلوٰۃ میں تو وہ ویسے ہی مضبوط
تھے… اور انفاق فی سبیل اللہ کے لیے اُن کا تمام مال اور جان ہر وقت حاضر
تھی… ہر گناہ سے نفرت اور ہر نیکی کا شوق… جہاد کا بڑا درجہ ’’رباط‘‘
یعنی پہرے داری کا ہے…اور رباط میں بڑا رباط امیر جہاد کی پہرے داری ہے… ریاض
حسین نے اپنے امیر کے دروازے پر رباط کا ڈیرہ ڈالا… امیر وہاں سے چلا گیا مگر
ریاض حسین نے اپنا مورچہ نہ چھوڑا… خدمت کے بارے میں حضرت مولانا مفتی جمیل
خان شہید رحمۃ اللہ علیہ کا طرز عمل بہت متاثر کُن تھا… بے ریا خدمت، بے
ایذاء خدمت… اکثر لوگوں کی خدمت ریاکاری… یا ایذا رسانی سے برباد ہو
جاتی ہے…مفتی جمیل خان صاحب سکی خدمت ریا اور ایذاء سے محفوظ تھی… پھر ریاض
حسین شہیدس کو اُن کے نقش قدم پر پایا… بے ریا خدمت، بے ایذاء
خدمت… ریاض حسین کا آخری خط میرے پاس رکھا ہے اس میں بار بار اس ندامت کا
اظہار ہے کہ… خدمت کا حق ادا نہیں ہوا معاف کیا جائے… سبحان اللہ! یہ
ایمانی کیفیات اللہ پاک اپنے خاص بندوں کو عطاء فرماتے ہیں… جی ہاں وہ بندے
جو اللہ تعالیٰ سے محبت بھی کرتے ہیں… اور خود کو اللہ تعالیٰ کی محبت کے
قابل بھی بناتے ہیں… یہ موضوع طویل، بات زیادہ نہ پھسل جائے ہم واپس غزوہ
خیبر کے منظر کی طرف چلتے ہیں… ذرا دل کی آنکھوں سے پیارے آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک الفاظ دیکھیں…
یُحِبُّ
اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہُ وَیُحِبُّہُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ
’’یعنی
کل جس شخص کو جھنڈا عطاء کیا جائے گا… وہ اللہ اور رسول سے محبت رکھتا
ہے… اور اللہ اور رسول اُس سے محبت فرماتے ہیں۔
ظاہر
بات ہے بہت غیر معمولی… اور اونچی بشارت تھی… حضرات صحابہ کرام ذتو اسی
کی خاطر سب کچھ قربان کرچکے تھے اور کر رہے تھے… چنانچہ
’’کُلُّھُمْ
یَرْجُوْنَ اَنْ یُّعْطَاھَا‘‘
سب
کی تمنا اور امید جاگ اٹھی کہ یہ واضح بشارت اور سعادت مجھے نصیب ہو… آپ کو
معلوم ہے کون یہ ’’عظمت‘‘ لُوٹ گیااور کس کے سر پر ’’محبوبیت‘‘ کا یہ تاج
سجا؟… جی ہاں حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ
عنہ … اور اُس دن آپ کی آنکھوں کو بھی حضرت آقا مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم کا لعاب مبارک نصیب ہوا… اور آگے دیکھیں صحیح
مسلم کی روایت ہے… حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے
ہیں…
قسم
ہے اُس ذات (یعنی اللہ تعالیٰ) کی جو دانے کو پھاڑ کر پودا نکالتا ہے اور جس نے
جانداروں کو پیدا فرمایا کہ… نبی اُمّی صلی اللہ علیہ
وسلم نے مجھے خاص طور سے فرمایا کہ مجھ سے (یعنی حضرت علیؓ) سے صرف وہی
محبت کرے گا جو (سچا) مؤمن ہوگا اور مجھ سے صرف وہی شخص بغض رکھے گا جو منافق
ہوگا… (مسلم)
اللہ
تعالیٰ ’’نفاق‘‘ سے ہم سب کی حفاظت فرمائے… امید یہ ہے کہ آپ سب صبح شام کم
از کم سات بار نفاق سے پناہ کی دعا ضرور مانگتے ہوں گے… جیسا کہ پچھلی ایک
مجلس میں تاکید کے ساتھ عرض کیا گیا تھا… ٭ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ
مِنَ النِّفَاقِ… یا ٭ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ
الشِّقَاقِ وَالنِّفَاقِ وَ سُوْئِ الْاَخْلاقِ… اچھے دنوں کی بات ہے کہ ایک
بار اپنے شیخ حضرت مفتی ولی حسن صاحب نور اللہ مرقدہ کے ساتھ … کراچی سے
لاہور، رائے ونڈ اور شیخوپورہ کا سفر ملا… حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی
شہید رحمۃ اللہ علیہ نور اللہ مرقدہ… کی صحبت بھی اس سفر میں حاصل
رہی… سفر کئی دن کا تھا تو اچھی باتیں بھی دل بھر کر سننے کو ملیں… ایک
بار حضرت لدھیانوی شہیدرحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا… ایک رات میں نے اللہ تعالیٰ
سے بہت آہ و زاری کے ساتھ دعاء کی… یا اللہ مجھے میرے سب سے بڑے گناہ کا پتہ
چل جائے اور اُس سے توبہ کی توفیق بھی مل جائے… بار بار یہی دعاء ، یہی
التجا… تب دل میں آیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت دل میں
کم ہے… جی ہاں جو اُن کا مقام ہے اور جس قدر اُن سے محبت مطلوب ہے اس میں کمی
ہے… غور کیا تو بات ٹھیک نکلی… کچھ تاریخ اور کچھ بعض کتابوں کی نحوست
سے واقعی دل میں یہ عیب پیدا ہو چلا تھا… میں نے فوراً سچے دل سے توبہ کی اور
پھر میرے دل میں حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی محبت بڑھتی
گئی… بڑھتی گئی… یہاں پر ایک اور بات چھیڑنے پر دل مچل رہا ہے
کہ… محبت سے کیا کیا اور کیسے کیسے ملتا ہے؟… اور اگر کسی سے سچی محبت
ہو جائے تو اس کا فیض دل میں کس طرح سے اُترتا ہے؟… مگر چھوڑیں اس بات
کو… کوفہ کا وہ منظر… سترہ رمضان المبارک کا دن صبح کا وقت… اور
مسجد کا ہی راستہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی داڑھی مبارک خون سے
تر… قاتل پکڑا گیا… اُسے ذرہ بھر ندامت نہ تھی… منافق خارجی یہ
سمجھتا تھا کہ اُس نے اسلام اور مسلمانوں کی بڑی خدمت کی ہے… حالانکہ اُس کے
اس ظلم سے زمین بھی کانپ اُٹھی تھی… ہاں! حضرت علی رضی اللہ
عنہ کی محبت سے محروم لوگ ہمیشہ دین کا لبادہ ہی اوڑھتے ہیں… اور
اپنی اس بدنصیبی کو ’’حق پرستی‘‘ سمجھتے ہیں… کلمہ طیبہ کی محنت جاری
ہے… جہاد اور اقامتِ صلوٰۃ کی آواز لگ رہی ہے… لا الہ الا اللہ محمّد
رسول اللہ… کے مبارک انوارات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ … ہمارے دل حضرات
صحابہ کرام ڑکی محبت سے لبریز ہو جائیں…
لا
الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ صحبہ وبارک وسلم تسیلماً کثیراً کثیرا
لا
الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
اُمت مسلمہ پر’’رحم‘‘ فرمائے… ساری دنیا میں مسلمانوں کے درمیان باہمی’’خانہ
جنگی‘‘ کا بیج بویا جا رہا ہے… کفرکی طاغوتی طاقتوں نے اندازہ لگا لیا کہ وہ
خود مسلمانوں سے نہیں لڑسکتے… سوویت یونین میدان میں آیا… مگر بُری طرح
مار کھا گیا اور ابھی تک کھا رہا ہے اور باز نہ آیا تو ان شاء
اللہ مزید کھائے گا… امریکہ اور یورپ توخود کو ناقابل تسخیر
سمجھ رہے تھے مگراب اُن کی چیخیں ساری دنیا سُن رہی ہے…اور’’وال سٹریٹ ‘‘ نعروں سے
کانپ رہی ہے… کوئی پاگل بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ نیٹو افواج
کوعراق اور افغانستان میںشکستِ فاش ہوئی ہے…لڑائی کے میدان میں ہارنے والی یہ نام
نہاد طاقتیں اب مسلمانوں کو آپس میں لڑاکرمارنا چاہتی ہیں… اسی تدبیر کے تحت
پاکستان پر’’ڈومور‘‘ کا دباؤ ہے… کچھ عرصہ سے پاکستان میں دھماکے اور لڑائی
قدرے کم ہوئی تھی جو کفار کو برداشت نہیں… امریکی وزیر خارجہ چلّا چلّا کر
پاکستانی حکمرانوں کو حکم دے رہی ہے کہ… فوراً شمالی وزیرستان پر چڑھ
دوڑو… تاکہ حکمران وہاں کے مسلمانوں کو ماریں اور وہاں کے لوگ پاکستان میں
حکومت اور مسلمان عوام کو ماریں… افغانستان میں پہلے سے ہی خانہ جنگی کا
ماحول تھا مگر اب اسے باقاعدہ منظم شکل دی جارہی ہے… اس نئے انتظام کے تحت
امریکہ اور اُس کے اتحادی افغانستان سے نکل جائیں گے… البتہ اپنے دس بیس ہزار
فوجی اور جاسوس وہاں محفوظ پناہ گاہوں میں بٹھا جائیں گے… اورپھر تاجکوں اور
ازبکوں کو پختونوں کے خلاف لڑنے کیلئے چھوڑ دیا جائے گا… اور پھر انہیں
پاکستان کا راستہ دکھا یا جائے گاکہ… تمہارا اصل دشمن پاکستان ہے چنانچہ
پاکستان میں زیادہ سے زیادہ تخریبی کارروائیاں کرو… انڈیا کو اسی مقصد کے لئے
افغانستان میں جمایا جارہا ہے… وہ افغان مسلمانوں کو پاکستانی مسلمانوں کے
خلاف جنگ پر آمادہ کرے اور جھونکے… آپ تھوڑا سا غور کریں کہ’’قذافی‘‘ کی
موت نیٹو کی بمباری سے ہوئی… اُن کے فوجی قافلے پر فرانسیسی طیاروں نے
وحشیانہ بمباری کی… یہ لوگ کئی ماہ سے اس کی تاک میں تھے… قذافی کے
رفقاء اس بمباری سے شہید ہوئے اور قذافی خود زخمی ہو گئے… تب انہیں مقامی
مسلمانوں کے ہاتھوں میں دے دیا گیا… آج نیٹو والے یہ نہیں کہہ رہے کہ ہم
نے’’قذافی‘‘ کو مارا ہے بلکہ ایک بڑی خانہ جنگی کے لئے… اس خبر کو مضبوط کیا
جارہا ہے کہ قذافی کو اُن کے مخالف مسلمانوں نے قتل کیا ہے… فی الحال تو وہاں
خوف کی فضاء ہے لیکن جب ماحول کی گرد کچھ بیٹھے گی تو… قبائلی عصبیت میں جکڑے
ہوئے لیبیا میں خوفناک خانہ جنگی شروع ہوجائے گی… اور یوں مسلمان ایک دوسرے
کو گاجر، مولی کی طرح کاٹیں گے… اور اس وقت بھی وہاں مرنے والا ہر شخص ’’
مسلمان‘‘ ہی کہلاتا ہے…
اس
وقت ’’میڈیا‘‘ یا ’’صحافت‘‘ ایک دشمن کی طرح مسلمانوں پر حملہ آور ہیں… اور
افسوس یہ کہ مسلمانوں نے اس دشمن کو اپنے گھروں میں لا بٹھایا ہے… دین کا نام
لینے والے چند لوگوں نے اپنے دو چار چینل کھول کر… اوراپنے دو چار اسلامی
پروگراموں کی خاطرمیڈیا کے پورے کافرانہ نظام کو حلال قرار دے دیا ہے… یہ وہ
ظلم ہے جس کی سزاآج پوری اُمتِ مسلمہ بُھگت رہی ہے… اور میڈیا مسلمانوں کے
اتحاد اور اُن کے حوصلے کو مزید پارہ پارہ کر رہا ہے… ابھی حال ہی میں صدام
حسین س کے ایک وکیل ’’خلیل یزدانی‘‘ نے بعض اسلامی رسالوں میں بہت عجیب حقائق کا
انکشاف کیا ہے… خلیل یزدانی نے قید کے دوران صدام حسین سسے ساڑھے چار گھنٹے
کی ملاقات کی تھی… صدام حسین سکو جب انہوں نے اُن کی گرفتاری کا وہ قصہ سنایا
جو میڈیا پر ساری دنیا سے منوایا گیا تو ‘‘صدام شہید س‘‘ حیران رہ گئے… انہوں
نے کہا نہ تو میں کسی فارم ہاؤس کے زیر زمین خفیہ کمرے میں تھا اور نہ ہی مجھے
اُس حالت میں گرفتار کیا گیا جو آپ بتارہے ہیں… بلکہ میں اپنے رفقاء…(جن کی
تشکیل میرے لئے حفاظتی انتظامات کرنے پر تھی…) میں سے ایک کے گھر پر تھا… عصر
کی نماز ادا کرنے کے بعد غروب آفتاب سے کچھ پہلے میں اگلی نماز کیلئے مصلّے پر جا
بیٹھا اور قرآن پاک ہاتھ میں لے کر اُس کی تلاوت میں مشغول ہو گیا… میرا
اسلحہ مجھ سے کچھ فاصلے پر رکھا تھا… اذان سننے کے بعد میں نے قرآن پاک رکھا
اور جیسے ہی مغرب کی نماز شروع کی تو چاروںطرف سے امریکی فوجی مجھے اپنے گھیرے میں
لے چکے تھے… اب معلوم نہیں کہ میرے اسی رفیق نے غداری کی یا وہ بے چارا بھی
آزمائش میں آیا اور کسی اور ذریعہ سے امریکیوں کو میرا ٹھکانہ معلوم
ہوا… مجھے نماز کی حالت ہی میں پکڑ لیا گیا… اگر میرا اسلحہ میرے پاس
ہوتا اور مجھے کچھ موقع مل جاتا تو میں شہید ہونے کو گرفتاری پرترجیح
دیتا… یعنی حسب استطاعت دشمنوں سے لڑائی کرتا… صدام حسین رحمۃ اللہ علیہ
نے یہ بھی کہا کہ مجھے پورا اندازہ تھا کہ امریکہ اور یورپ کے لوگ فلمی کہانیوں کی
طرح… اپنے دشمنوں کو ذلیل و رسوا کر کے پیش کرتے ہیں تاکہ اُن کا رعب دنیا پر
بیٹھے اور وہ اپنے لوگوں کا حوصلہ بڑھا سکیں… مجھے گرفتاری کے بعد دو دن تک
بہیمانہ تشدّد کا نشانہ بنایاگیا جس سے میری ایک ٹانگ سخت متاثر ہوئی… اور
مجھے ذلیل کرنے کاہر حربہ استعمال کیا گیا… اور مجھے اس بات پر مجبور کیا گیا
کہ … کہ میں’’ابراہیم عزت دوری‘‘ اور اپنے اُن دیگر ساتھیوں کو پکڑوادوں
جو غیر ملکی افواج کے خلاف’’مزاحمت‘‘ کر رہے ہیں… لیکن میں نے صاف انکار کر
دیا اور کہا کہ اگر وہ لوگ میری آنکھوں میں بھی چھپے ہوئے ہوں تو میں ان کی حفاظت
کے لئے اپنی پلکوں کو ہمیشہ کے لئے بند کر لوں گا… صدام حسینس نے بتایا کہ مجھے
میرے کئی گرفتار ساتھیوں کے بارے میں وثوق سے بتایا گیا کہ… وہ اب مجھے
گالیاں دیتے ہیں مگر میں نے ان باتوںپر دھیان نہیں دیا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ
لوگ ہمارے درمیان غلط فہمیاں ڈالنا چاہتے ہیں… اس ملاقات کے دوران صدام حسین
باحوصلہ اور خوش تھے… وہ کہہ رہے تھے کہ عراقی مزاحمت سے میرا دل مطمئن
ہے… اور میں نے کبھی بھی’’حلبجۃ‘‘ پر زہریلی گیس سے حملہ نہیں کیا
تھا… اُس وقت تو میں ایران کے ساتھ جنگ میں الجھا ہوا تھا… تب ایران نے
کُردوں کو میرے خلاف منظم کرنے کے لئے ’’حلبجۃ‘‘ پر زہریلی گیس سے حملہ کیا جس کا
الزام مجھ پر لگایا گیا… حالانکہ اُس وقت تک عراق نے ایسی گیس بنائی تک نہیں
تھی… صدام حسین نے فلسطینی تحریک کا حال پوچھا اور قرآنی آیات پڑھ پڑھ کر
دعائیں دیتے رہے… اور انہیں اس بات پر تشویش تھی کہ… ایران سے پچیس لاکھ
افراد کو عراق میں بسایا گیا ہے اور ان کے نام ووٹر لسٹوں میں درج کردیئے گئے ہیں
تاکہ… انتخابات میں اہل ایران کے حامی لوگوں کی فتح یقینی بنائی
جاسکے… یہ مفصل انٹرویو بہت عجیب ، بہت عبرتناک اور بعض پہلوؤں سے بہت
دردناک ہے… ضروری نہیں کہ اُسکی تمام باتیں درست ہوں مگر کئی باتیں کھلی
آنکھوں سے یقینی لگتی ہیں… صدام حسینس کی گرفتاری کی جو ویڈیو جاری کی گئی
تھی اس میں پس منظر میں کھجوروں کے درخت دکھائی دے رہے تھے… اور اُن پر لگی
کھجوریں اُس تاریخ کی تکذیب کر رہی تھیں جس تاریخ کو گرفتاری کا اعلان کیا گیا
تھا…
خلاصہ
یہ کہ… مسلمانوں کو میڈیا سے دور رہنے اور اپنی سادہ اور سچی صحافت کو فروغ
دینے کی ضرورت ہے… آج ہرطرف جھوٹ در جھوٹ در جھوٹ پھیلاہوا ہے… اسی
میڈیا کے ذریعہ مسلمانوں کے عقائد، نظریات اور اخلاق کو برباد کرنے کی کوشش کی
جارہی ہے… ہمارے وہ اکابر دور اندیش تھے جو مسلمانوں کو ٹی وی، ڈش اورکیبل سے
روکتے تھے… اگر ہم اُن کی تعلیمات کے مطابق اپنی دعوت کو جاری رکھتے تو بہت
سے فسادات، نقصانات اور فتنوں سے بچ جاتے… مگر افسوس کہ ہم نے بہت جلد ہتھیار
ڈال دیئے اور مسلمانوں کوباندھ کر میڈیا کے موذی بھیڑیئے کے سامنے پھینک
دیا… ابھی ’’قذافی‘‘ کے بارے میں جو خبریں آرہی ہیں آپ دیکھ لیں گے کہ چار
چھ ماہ بعد ان میں سے نوے فیصد جھوٹی ثابت ہوں گی… مگر اس وقت کیا فائدہ ہو
گا؟… آج جو خبریں یقین کے ساتھ سنی جارہی ہیں وہ مسلمانوں میں خانہ جنگی کے
جنون کو تیز کر رہی ہیں… پاکستان کی وزیر خارجہ نے ہیلری کے پہلو میں بیٹھ کر
پاکستان میں ایک نئی جنگ کا اشارہ دے دیا ہے… اللہ تعالیٰ
خیر فرمائے…اگر واقعی پاکستانی فورسز نے شمالی وزیرستان اور دیگر علاقوں میں کسی
نئے فوجی آپریشن کا آغازکیاتو یہ ’’بُرا عمل‘‘ ہر مسلمان اور ہر پاکستانی کیلئے
سخت نقصان دہ ہو گا خواہ وہ عوام میں سے ہو یا افواج میں سے… اگر ہمارے
حکمرانوں میں سوچنے سمجھنے کی کچھ تھوڑی سی صلاحیت بھی ہو تو وہ… لیبیا کے
شہر’’مصراتہ‘‘ کے ایک گوشت فریز کرنے والے کارخانے میں پڑی ’’کرنل قذافی‘‘ کی لاش
سے کچھ سبق سیکھ لیں… آ پ یقین کریں کہ اگر ’’قذافی‘‘ امریکہ اور یورپ کے
سامنے وہ پسپائی اختیار نہ کرتے جو چند سالوں سے انہوں نے اپنا لی تھی تو اُن کے
ساتھ یہ سب کچھ کرنا کسی کے بس کی بات نہیں تھی… کرنل قذافی کے عقائد و
نظریات سے ہمیں ہمیشہ اختلاف تھا اور آج بھی ہے… ان کی’’الکتاب الأخضر‘‘یعنی
سبز کتاب کو ہم پہلے بھی اسلام کے مطابق نہیں سمجھتے تھے اور نہ آج سمجھتے ہیں…
قذافی
کے وہ مظالم جن کا شکار لیبیا کے ’’اسلام پسند‘‘ عناصر ہوئے ان سے ہم بری
ہیں… لیکن پھر بھی’’قذافی‘‘ ایک مسلمان حکمران تھے اور وہ عزت اور غیرت کی
بات کرتے تھے… انہوں نے مسلمانوں کو ایک قوت بنانے کا خواب بھی
دیکھا… مگر انگریزی تعلیم کی نحوست کہ وہ اپنے اس خواب کے لئے درست راہِ عمل
نہ پا سکے… سالہا سال سے امریکہ اور یورپ کی خواہش تھی کہ… وہ اس سر
پھرے مسلمان لیڈر کا خاتمہ کر دیں مگر کسی کا بس نہ چلا… یورپ نے جب
’’گستاخیٔ رسول‘‘ کا جرم عظیم کیا تو قذافی نے لاکھوں مسلمانوں کے کئی اجتماعات کر
کے یورپ کی سخت مذمت کی اور حرمتِ رسول صلی اللہ علیہ
وسلم پر مسلمانوں کے مر مٹنے کا عزم ظاہر کیا… مگر معلوم نہیں کس
دشمن نے انہیں’’طاغوت‘‘ کے سامنے ’’پسپائی‘‘ اور نام نہاد’’اعتدال پسندی‘‘ کی دلدل
میں دھکا دیا… انہوں نے سب سے بڑا جرم یہ کیا کہ… اپنے کچھ مسلمان
ساتھیوں کو پکڑکر یورپ کے حوالے کر دیا… اور اپنا ایٹمی پروگرام کنٹینروں میں
بند کر کے امریکہ کے سپرد کر دیا… شاید یہی وہ لمحہ تھا جب قدرت کے موسم نے
اپنے تیور بدل لئے… ورنہ قذافی پر یہ موسم بہت مہربان تھا… وہ طرح طرح
کے تماشے، عجوبے اور اقدامات کرتے رہے… دنیا چلتی رہی مگر لیبیا اور اُس کے
لیڈر کا کچھ نہ بگڑا… تیل کی دولت سے مالا مال یہ ملک دنیا بھر کی اقتصادی
پابندیوں کے باوجود اتنا مالدار تھاکہ… غریب ملکوں کے لوگ وہاں مزدوری کے لئے
جاتے تھے… اور قذافی خاندان کے اثاثوں اور خزانوں کے دنیا بھر میں چرچے تھے … ہرسال
کئی اسلامی ممالک کے علماء کو طرابلس بُلایا جاتا تھا… اور اُن کی دل کھول کر
خدمت کی جاتی تھی… لیکن جب قذافی کا قدم پسپائی کی کھائی میں اُترا تو وہ
گرتے ہی چلے گئے… آج باغیوں کے سب سے بڑے رہنما وہ شخص ہیں جو قذافی کو ’’سیدنا‘‘
کہتے تھے… تقدیر کے موسم نے جب یہ منظر دیکھا کہ قذافی اپنے دو ساتھیوں کو
کافروں کے حوالے کر رہا ہے… اور مسلمانوں کا اسلحہ کافروں کے سپرد کر رہا
ہے… بالکل ڈھاکہ کے اُس اسٹیڈیم کی طرح جہاں جنرل نیازی اپنا پسٹل سکھ جنرل
اروڑہ کے سپر د کر رہا تھا… تب فطرت کے موسم نے اپنا رنگ بدل لیا… لیبیا
کا ہر دل عزیز لیڈر نفرت کا ایسا نشانہ بناکہ… دیکھتے ہی دیکھتے پورا ملک اُس
کے ہاتھ سے نکل گیا… اور آج ا سکی لاش چار دن سے قبر کی گود کا انتظار کر
رہی ہے… اور پورے لیبیا میں دس افراد بھی کوئی تعزیتی اور احتجاجی جلسہ نہیں
کررہے… اللہ اکبر کبیرا… حالانکہ اسی لیبیا میں کرنل
قذافی کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے… لاکھوں لیبیائی باشندے گھنٹوں نہیں، دنوں تک
سڑکوں پر بیٹھے رہتے تھے… بے شک دنیا اور اس کی ہر چیز فانی ہے… ہمارے
ملک کے ایک ظالم اور بزدل حکمران نے امریکہ کے سامنے پسپائی اختیار کی… اپنے
ہی لوگوں کو پکڑ کر اُن کے حوالے کیا… اپنی زمین اُن کے ہاتھوں سستی فروخت
کی… اور انہیں مسلمانوں پر بم برسانے کی ہر سہولت سے نوازہ… وجہ یہ
بتائی کہ اس’’بُرے عمل‘‘ کے نتیجے میں ہم محفوظ ہو جائیںگے… ہمار اایٹمی
پروگرام محفوظ ہو جائے گا… اور مسئلہ کشمیر میں نئی جان آجائے گی… مگر
نتیجہ کیا نکلا؟… آج کوئی پاکستانی محفوظ نہیں ہے… ہمارا ایٹمی پروگرام
کفار کا سب سے پہلا ہدف ہے… اور مسئلہ کشمیر پر ہم شہداء کے سامنے شرمندہ
ہیں… جبکہ امریکہ کا پیٹ بھر کے ہی نہیں دے رہا وہ ہر دو سال بعد کہتا ہے
کہ… اب آپ لوگوں کے لئے آخری موقع ملا ہے… ہمیں صاف جواب دو کہ آپ کس
کے ساتھ ہو؟… آج پھر وہی سوال ہے کہ صاف بتاؤ تم حقانی نیٹ ورک کے ساتھ ہو
یا ہمارے ساتھ ہو؟… اگرہمارے ساتھ ہو تو اٹھو اور اسلام کے نامور سپہ سالار
جلال الدین حقانی اور اُس کے مجاہدین پر حملہ کر دو… معلوم نہیں ہمارے حکمران
اس موقع پر کیا کرتے ہیں… میری صرف اتنی سی گذارش ہے کہ… وہ پسپائی کی
طرف مزید گرنے سے پہلے…’’کرنل قذافی‘‘ سے ضرور مشورہ کر لیں کہ… دشمنان اسلام
کے سامنے پسپائی سے کیا حاصل ہوتا ہے…
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لاالہ
الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
فیصلہ کریں
اللہ تعالیٰ
کا عظیم الشان احسان… عیدِقربان… اللہ تعالیٰ پوری
اُمتِ مسلمہ کو’’قربانی‘‘ کا جذبہ نصیب فرمائے… یہ وہ جذبہ ہے جو قوموں کی
زندگی اورترقی کی ضمانت ہے… ابھی ایک دو روز سے ماشاء اللہ ہر
طرف دلکش رونق نظر آرہی ہے… موٹے تازے بکرے، پلے ہوئے دنبے… چمکتی
دوڑتی گائیں… اورلشکارے مارتی جوان بھینسیں…
فتبارک اللہ احسن
الخالقین
دنیا
میں بہت سے بے وقوف لوگ’’گوشت‘‘ نہیں کھاتے… وہ اپنے اس عمل کو بڑی پارسائی
سمجھتے ہیں کہ ہم’’جاندار‘‘ کو نہیں مارتے… جن کی عقل ماری جائے اُن کا کیا
علاج… یہ لوگ آسمانی ہدایت اور وحی کے نور سے محروم… اگر ساری دنیا اُن
کی طرح’’بے عقل‘‘ہو جاتی تو زمین کب کی تباہ ہو چکی ہوتی… تھوڑا سا سوچیں کہ
اگر روزآنہ سمندر سے لاکھوںکروڑوں مچھلیاں نہ نکالی جاتیں تو سمندر کا پانی بے
لگام ہو کر زمین پر نہیں چڑھ دوڑے گا؟… اللہ تعالیٰ نے جس
چیز کو حلال فرمایا… اُس کے حلال ہونے میں اتنے فائدے ہیں کہ انسان شمار نہیں
کر سکتا… زندگی تو درختوں میں بھی ہوتی ہے… پھر یہ لوگ پھل اور سبزیاں
کیوں کھاتے ہیں؟… زہریلے جراثیم کو کیوںمارتے ہیں؟ وہ بھی تو جاندار ہوتے
ہیں… ہم جب قیدمیں تھے تو ایک ہندو فوجی نے فخر کے ساتھ بتایا کہ میںنے پوری
زندگی میں انڈہ اور گوشت چکھاتک نہیں… قیدیوںمیںسے ایک کی زبان سے بے ساختہ
نکلا’’ خسرالدنیا والآخرۃ‘‘… یعنی دنیا میں بھی خسارہ اور آخرت میں
بھی… ویسے آپ باریکی سے غور کریں تو پنڈت، برہمن، اوربدھشٹ کا مذہب انسانیت
کا بدترین دشمن ہے… انڈہ نہیں کھاتے ساری دنیا پر احسان… گوشت اور مچھلی
نہیں کھاتے بڑی پارسائی… مگر انسانوں کو کھا جاتے ہیں اور انہیں زندگی ہی
میںشودر اور چمار قرار دے کر مُردہ سے بدتر بنا دیتے ہیں…
ساری
دنیا کان کھول کر سُن لے… ہم الحمدللہ گوشت کھاتے ہیں… اور اسے اپنے لئے نعمت،
عزت اور اکرام سمجھتے ہیں… کیونکہ ہمارے آقا حضرت محمد مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم گوشت تناول فرماتے تھے… اور ایسا
وہ اللہ تعالیٰ کے حُکم سے کرتے
تھے… اور اللہ تعالیٰ ہی جانتاہے کہ کون سی ’’چیز‘‘ ہے
اور کونسی ’’غلط‘‘… ارے پیدا کرنے والا نہیں جانے گا تو پھرکون جانے گا:
الا
یعلم من خلق وھو اللطیف الخبیر…
لا
الہ الا اللہ ،لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ …
اللہ تعالیٰ
کا’’قُرب‘‘ حاصل کرنے کے لئے’’قربانی‘‘ کا عمل اُس وقت سے موجود ہے جب سے یہ انسان
زمین پر آیا ہے… آپ سب کو یاد ہو گا کہ پہلے ہم جنت میں بستے
تھے… ہمارے والد حضرت سیدنا آدم علیہ السلام… اور ہماری امی حضرت حواء علیہا
السلام… وہاں مزے سے رہتے تھے، خوب کھاتے پیتے کھیلتے تھے… پھر اچانک
کچھ ہوا… آپ سب جانتے ہیں کہ کیا ہوا… پھر بھی عورتوں کی باتوں میں
آتے ہیں… خیر ایک واقعہ ہوا جو قرآن پاک میں مذکور ہے… اور ہم زمین پر
آگئے… یوں مرتبے اور مقام کے اعتبار سے
ہم اللہ تعالیٰ سے کچھ دُور ہو گئے… اب اس دُوری
کو’’قُرب‘‘ میں بدلنے کے لئے… اللہ تعالیٰ کے عاشق
بندے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے… اپنی محبوب چیزوںمیں
سے جو چیز بھی ’’فِدا‘‘ کرتے ہیں… اُسے عربی میں’’ قُربان‘‘ کہا جاتا
ہے… اور ہم اردو والوں نے اُسے ’’قربانی‘‘ بنا دیا ہے…
’’القُربان‘‘
ہو اسم لما یتقرب بہ الی اللہ تعالیٰ من ذبیحۃ او صدقۃ
’’قُربانی‘‘
وہ ذبح ہونے والا جانور یا صدقہ جس سے آدمی اللہ تعالیٰ
کا’’قُرب‘‘ حاصل کرتا ہے… سبحان اللہ ،
سبحان اللہ … اللہ تعالیٰ کا ’’قُرب‘‘ خوشی
سے جان نکلتی ہے، اللہ تعالیٰ کا قُرب… ارے کوئی مجازی
عاشق سے پوچھے کہ محبوب کا قُرب کیا چیز ہوتی ہے… لوگ اپنے محبوب کا قُرب
پانے کیلئے کیا کچھ لٹادیتے ہیں… امریکہ کے ایک عاشق نے اپنی گرل فرینڈ کو
تحفے میں پورا بوئنگ جہاز دے دیا تاکہ … ملاقات آسان ہو… ایک
ناپاک چیز کا قُرب پانے کے لئے پورا بوئنگ جہاز… توبہ توبہ… یا
اللہ اپنی حقیقی محبت نصیب فرما دیجئے… کہ ہم آپ کا قرب پانے کے
لئے… اپنا سب کچھ لٹانا اپنی سعادت سمجھیں… انسان زمین پر
آگیا… یہاںاُس کی چھانٹی ہو گی… پھر خوش نصیب لوگ واپس اپنے اصلی
وطن’’جنت‘‘ میں جا بسیں گے… ہمیشہ ہمیشہ کے لئے… جی ہاںہمیشہ ہمیشہ کے
لئے… یہ وہ لوگ ہیں جو زمین پر رہ کر اللہ تعالیٰ
کا’’قُرب‘‘ تلاش کرتے رہتے ہیں… اور اس کی خاطر ہر طرح کی قربانی پیش کرتے
ہیں… قرآن پاک اُس زمانے کی ’’قربانی‘‘ کا تذکرہ فرماتاہے جب ہم تازہ تازہ
جنت سے زمین پراُترے تھے… دیکھئے سورۃ المائدہ آیت(۲۷) سے شروع ہونے
والا قصہ
واتل
علیھم الایۃ
ترجمہ: آپ
ان کو آدم (ح) کے دو بیٹوں کا قصہ صحیح طور پر پڑھ کر سنا دیں… جب اُن دونوں
نے قربانی کی ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہو گئی اور دوسرے کی نہ ہوئی،
اُس(دوسرے) نے کہا میں تجھے قتل کر دوں گا اُس (پہلے) نے جواب
دیا اللہ تعالیٰ پرہیز گاروں سے ہی قبول
فرماتاہے…(المائدہ ۲۷)
یہ
حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کا قصہ ہے… ’’قابیل‘‘ بڑا بیٹا جو قاتل
بنا… ’’قابیل‘‘ اور ’’قاتل‘‘ دونوں کے شروع میں قاف… یہ علامت یاد رکھ
لیں… کئی لوگ بھول جاتے ہیں کہ قاتل کون تھا اور مقتول کون… اور ہابیل
چھوٹا بیٹا… بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی سے حسد کیا… اور پھر روئے زمین پر
گناہوں کا بیج پڑ گیا… قرآن پاک عجیب شان والی کتاب ہے… بھائیوں کی
جوڑیاں بنا بنا کر سمجھاتی ہے کہ… کونسے بھائی کامیاب اور کونسے بھائی
ناکام… آج کل کے اکثر بھائی آپس میں ہابیل، قابیل جیسا رشتہ بناتے
ہیں… العیاذ باللہ ، العیاذ باللہ … ارے
بھائی تو بھائی ہوتا ہے کتنا میٹھا نام اور کتنا میٹھا رشتہ… لعنت ہو شیطان
مردود پر کہ وہ بھائیوں میں بھی حسد ڈال دیتا ہے… یہ حسد کبھی تو اتنا سخت
ہوتا ہے کہ… توبہ تلافی کی گنجائش ہی نہیں رہتی… جیسے ہابیل علیہ
السلام… اور قابیل قاتل کا قصہ… اور کبھی یہ حسد کچھ ہلکا ہو جاتا
ہے… اس میں توبہ، تلافی کی گنجائش مل جاتی ہے جیسے حضرت سیدنا یوسف علیہ
الصلوۃ والسلام کے بھائیوں کا اُن سے حسد… مگر مثالی بھائی کونسے ہوتے
ہیں؟… جی ہاں آئیڈیل… قرآن پاک موسیٰ اور ہارون کو پیش
فرماتاہے…ج… آج ہر مؤمن، مسلمان قرآن پاک میں ان دونوں بھائیوں کی کامیاب
زندگی… اور سچی محبت کو پڑھ کر سلام بھیجتا ہے…
سلامٌ
علیٰ موسیٰ و ھارون…
یہ
موضوع بھی بڑا دلچسپ ہے… چند دن پہلے کسی کی ایک نظم پڑھی کہ… کراچی میں
ہر زبان اور قبیلے کے لوگ بستے ہیں… مگر زبان اور قبیلوں کے اختلاف کے
باوجود… وہ بھائی بھائی بن کر رہتے ہیں… جی ہاں بھائی بھائی… بالکل
ہابیل اور قابیل کی طرح… خیر ہم’’قربانی‘‘ کی طرف واپس آتے ہیں… تمام
مفسرین نے لکھا ہے کہ ہابیل ح… جو دنیا کے پہلے مظلوم شہید اور بڑے عظیم رتبے
اور مقام والے تھے… انہوںنے اپنے جانوروں میں سب سے موٹا، اونچا، قیمتی اور
پسندیدہ جانور خوشدلی سے قربانی کے لئے پیش کیا… جبکہ قابیل…جو دنیا کا پہلا
ظالم، قاتل… جس کے نامہ اعمال میں قیامت تک کے ہر مظلوم مقتول کا گناہ بھی
شامل ہوتا ہے… اُس نے اپنے کھیتوں میں سے گھٹیا قسم کے غلّے کی ایک مٹھی پیش
کی… اللہ تعالیٰ نے ہابیل کی قربانی قبول
فرمائی… اور قابیل کی قربانی ردّ فرما دی…
قصہ
بہت مفصل اور مفید ہے… بس اتنا ذہن میں رکھ لیں
کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے جانوروں کو قربان کرنے
کاعمل… بہت قدیم ہے… یہ اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ
عمل ہے… اور اللہ تعالیٰ اہل تقویٰ کی قربانی قبول
فرماتے ہیں… معلوم ہوا کہ… اتنے قدیم اور عظیم عمل کو عصر حاضر کے کم
عقل اور دانشور منسوخ نہیں کر سکتے… حالانکہ ہمارے زمانے میں تو قربانی کے
گوشت کو کھایا جاتاہے… اس کی کھال اور ہڈی کو بھی کام میں لایاجاتا ہے… جبکہ
پرانے زمانے میں اس کی اجازت نہیں تھی… آسمان سے ایک آگ آتی اور مقبول
قربانی کو جلا کھاتی… اب تھوڑا سا آگے بڑھیں… قرآن پاک کی سورۃ الحج
کھولیں… اور اس کی آیت(۳۴) کو
پڑھیں…
ولکل
اُمۃ الایۃ
ترجمہ: اور
ہر اُمت کے لئے ہم نے قربانی مقرر کر دی تھی تاکہ اللہ تعالیٰ نے جو
چوپائے(اونٹ، گائے، بکری وغیرہ) اُن کو دیئے ہیں اُن پر اللہ تعالیٰ
کا نام یاد کیا کریں… پھر تم سب کا معبود تو صرف
ایک اللہ تعالیٰ ہی ہے پس اُسی کے فرمانبردار رہو اور عاجزی
کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجئیے… (الحج،۳۴)
حضرت
لاہوری رحمۃ اللہ علیہ اس آیت پر لکھتے ہیں:
خدائے
قدّوس کے نام پر قربانی کا رواج ہر اُمت میں رہا ہے اور ایسی تواضع کرنے والوں کے
لئے بارگاہ الہٰی سے پیغام بشارت ہے…(حاشیہ لاہوریؒ)
سبحان اللہ … ارشاد
فرمایا ولکل اُمۃ یعنی ہر اُمت کے لئے… کسی ایک اُمت کا استثنا بھی
نہیں… یعنی ہر وہ دین اور شریعت جو اللہ تعالیٰ نے وحی
کے ذریعے نازل فرمائی… اس میں’’قربانی‘‘ کا عمل بھی مقرر فرمایا… تاکہ
وہ حلال جانوروں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے
لئے اللہ تعالیٰ کا نام لے کر ذبح کریں اور اس کے بدلے… بڑے بڑے
انعامات پائیں… اور ان انعامات میں سب سے بڑا انعام ’’قُرب الہٰی‘‘
ہے… اللہ اکبر کبیرا… غور فرمائیں ’’قربانی‘‘ کتنا اہم
عمل ہے… کوئی بھی شریعت ایسی نہیں جس میں یہ حکم نہ اُترا ہو… معلوم ہوا
کہ ہر انسان کو اس عمل کی ضرورت ہے… اور وہ اس کا محتاج ہے… کیا ایسا
متواتر عمل جو حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر… حضرت محمد مصطفی صلی اللہ
علیہ وسلم تک تمام انبیاء دنے اہتمام کے ساتھ جاری رکھا… غریبوں
کی مدد کے نام پر منسوخ کیا جا سکتا ہے؟… یا اللہ ! عقل و دانش کی
محرومی سے حفاظت فرمائیے… اب تھوڑا سا اورآگے بڑھیں… قربانی کا عمل
ترقی کر رہا ہے… منیٰ کے میدان میں حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی
چُھری… اللہ تعالیٰ کا نام بلند کرکے… حضر ت سیدنا اسماعیل علیہ
السلام کی گردن پر چل رہی ہے… اللہ اکبر کبیرا… بات مختصر!!!
سمجھنے والوں کے لئے اتنا ہی کافی ہے… اور پھر’’مدینہ منورہ‘‘… جہاں
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دستِ مبارک سے قربانی کے دنبے
ذبح فرمارہے ہیں…
ایک
سچے مسلمان کے لئے… قربانی کی عظمت کو سمجھنے کے لئے اور کس دلیل کی ضرورت
باقی رہی؟… الرحمت ٹرسٹ کے جانباز کارکن جو ہمہ
وقت… اللہ تعالیٰ کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار
رہتے ہیں… آپ کی قربانی کا گوشت… اُن مسلمانوں تک پہنچاتے ہیں… جن
میں سے کوئی آپ کے گھر آکر آپ کی دعوت کھائے تو آپ خود کو خوش نصیب محسوس
کریں…
امید
ہے کہ آپ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں گے… اور اب آج کی آخری بات… سُنا
ہے ایپل کے ’’ آئی فون‘‘ میں چار ہزار گانے محفوظ ہوجاتے ہیں… چار ہزار
مکروہ اورناپاک گانے… مگر قربانی کے ایک دُنبے اور بکرے کو ذبح کرنے
سے… اُس دنبے اور بکرے کے بالوں کے برابر نیکیاں محفوظ ہو جاتی
ہیں… کوئی کیلکولیٹر ہے جو ایک دُنبے اور بکرے کے بال گِن سکے؟… اب آپ
ہی فیصلہ کر لیں کہ آئی فون بڑی ایجاد ہے… یا قربانی کا عمل… اور مرنے
کے بعد اور اِس زندگی میں بھی… گانے کام آئیں گے یا نیکیاں اورحسنات…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ،لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ،لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ …
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
میری اورآپ سب کی ’’مغفرت‘‘ فرمائے…
اَسْتَغْفِرُ
اللہ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَالْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَاَتُوْبُ
اِلَیْہ
مغفرت
بہت عظیم الشان نعمت ہے… اندازہ لگائیں کہ جب قرآن مجید میں رسول پاک صلی
اللہ علیہ وسلم کے لئے’’مغفرت‘‘ کا اعلان کیا گیا توآپ صلی اللہ علیہ
وسلم بے حد خوش ہوئے… یقیناً وہی مؤمن کامیاب ہے جس کی ’’مغفرت‘‘
ہو جائے… اسی مغفرت اور معافی کو اللہ تعالیٰ سے مانگا
جائے تو اسے ’’استغفار‘‘ کہتے ہیں… اللہ تعالیٰ جس قوم کو
اپنے عذاب سے بچاناچاہتے ہیں اُسے’’ استغفار‘‘ کی توفیق اور موقع اور سمجھ عطاء
فرما دیتے ہیں… حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کا واقعہ قرآن پاک میں موجود
ہے…انسان کی دعاء اور عرش کے درمیان گناہوں کی وجہ سے جو رکاوٹیں اور پردے آجاتے
ہیں… استغفار اُن سب پردوں اور رکاوٹوں کو دور کر دیتا ہے…
حضرت
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ ایک بار سفر میں تھے… عراق کے کسی دور دراز
گاؤں میں… رات آپڑی نہ کوئی تعارف تھا اورنہ ٹھکانہ… ارادہ فرمایا کہ
مسجد میں رات گزاریں گے… مسجد گئے تو چوکیدار نے داخل ہونے سے منع کر
دیا… اُسے بہت سمجھایا مگر وہ ضد کا پکّا کسی طرح نہ مانا… امام
صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا میں پھر اسی جگہ سو جاتا ہوں، مسجد کے
باہر فرش… اُسی پر لیٹ گئے، مگر چوکیدار پیچھے پڑا تھا وہ آپ کے پاؤں پکڑ
کر گھسیٹ کر مسجد سے دور کر رہا تھا… ایک نانبائی(روٹی پکانے، بیچنے والے) نے
یہ منظر دیکھا تو امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے گذارش کر کے اُن کو اپنے گھر رات
گزارنے کے لئے لے گیا… اور آپ کا بہت اکرام کیا… پھر وہ آٹا گوندھنے
باہر نکلا… امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے دیکھا اور سنا کہ وہ چلتے، پھرتے،
آٹا گوندھتے مسلسل’’استغفار‘‘ کر رہا ہے… صبح اُس سے پوچھا تو کہنے لگا جی!
یہ میرا مستقل معمول ہے… فرمایا اس کا کوئی ظاہری فائدہ اور ثمرہ بھی
دیکھا… کہنے لگا جی ہاں! جو دعاء بھی کرتا ہوں قبول ہو جاتی ہے… اب تک
صرف ایک دعاء قبول نہیں ہوئی… پوچھا کونسی؟… کہنے لگا امام احمد بن حنبل
کی زیارت کی دعاء… فرمایا میں احمدبن حنبل ہوں، تمہاری یہ دعاء بھی قبول
ہوئی… اور مجھے گھسیٹ کر تمہارے پاس لایا گیا…
استغفار
کے فضائل، فوائد… اور اثرات بہت ہی زیادہ عجیب ہیں…مگر عام طور پر لوگوں کی
اس طرف توجہ نہیں ہوتی… یہ بھی گناہوں کی ایک نحوست ہے کہ استغفار کے اتنے
بڑے بڑے فائدے قرآن وسنت میں پڑھ کر بھی… لوگ’’استغفار‘‘ کو اختیار نہیں
کرتے… قرآن مجید میں توبہ اور استغفار کے جو فضائل اور فوائد بیان ہوئے
ہیں… آج اگر انہی کو بغیر تشریح کے لکھوں تو ’’کالم‘‘ اخبار کے آٹھ صفحات
پر پھیل جائے گا… چند دن پہلے ایک عرب عالمہ کی ایک عبارت نظروں سے
گزری… اُنہیں اللہ تعالیٰ نے استغفار کی بڑی بڑی
برکتیں اور فوائد نصیب فرمائے… وہ لکھتی ہیں… اے غموں، مصیبتوں اور
پریشانیوں میں جلنے والی مسلمان بہن… اے رو رو کر خود کو ہلاک کرنے والی
بہن… اے آزمائشوں، ناقدریوں اور تکلیفوں میں پِسی ہوئی بہن… استغفار کی
دوا کیوں نہیں استعمال کرتی… یہ ہر زخم کا مرہم اور ہر پریشانی ، غم ، فکر
اور مصیبت کا علاج ہے… یقیناً یہ تمام باتیں سچ ہیں اور استغفار کے فوائد کی
محض ایک جھلک ہے… ورنہ جو بار بار معافی مانگ کر اپنے رب کو راضی کرلے اُسے
دنیا اور آخرت کی کونسی چیز ہے جو نہیں ملے گی…
ایک
خاتون نے اپنا واقعہ لکھا ہے … وہ تیس سال کی عمر میں بیوہ ہو گئی اور
ساتھ پانچ بچے… نہ رہنے کی معقول جگہ اور نہ کھانے پینے کا کوئی مستقل
انتظام… پانچ بچے اور ایک اکیلی بیوہ عورت… غم اور پریشانی کا اندازہ
لگانا مشکل نہیں ہے… اضطراب اور قلق کے انہی ایام میں انہوں نے ریڈیو پر یہ
حدیث شریف سنی…
مَنْ
لَزِمَ الْاِسْتِغْفَارَ جَعَلَ اللہ لَہُ مِنْ کُلَّ ھَمٍّ
فَرْجًا وَّمِنْ کُلِّ ضِیْقٍ مَخْرَجًا وَّرَزَقَہٗ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبْ…
رسول
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو استغفار کو لازم
پکڑے… یعنی ہمیشہ کثرت سے کرے تو اللہ تعالیٰ اُسے ہر
پریشانی سے نجات اور ہر مصیبت سے خلاصی عطاء فرماتے ہیں اور اُسے بے گمان رزق دیتے
ہیں…
وہ
ایمان والی بندی تھی… کہنے لگی بس سارے مسئلے حل ہو گئے… اُس نے خود بھی
اور اپنے بڑے بچوں کو صبح شام استغفار میں لگا دیا… رات دن استغفار،ہزاروں
بار استغفار… ابھی چھ ماہ گزرے تھے کہ… کوئی جدّی پشتی جائیداد کے
کاغذات مل گئے…دیکھتے ہی دیکھتے اپنا گھر، لاکھوں کروڑوں روپے… اور ہر
آسودگی… سبحان اللہ ! اللہ تعالیٰ کو
معافی مانگنے والے بہت محبوب ہیں… وہ انہیں کسی دوسرے کا محتاج نہیں
فرماتا… اُس اللہ تعالیٰ کی بندی نے شکر کیا… اور
استغفار کو جاری رکھا اور بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم اور حفظ میں لگا
دیا… بندہ کو چند سال پہلے ایک بزرگ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا… وہ سخت
شرائط والے ’’ولی‘‘ تھے… بعض اللہ والے بہت نرم ہوتے
ہیں اوربعض شرعی حدود میں سخت… دونوں طرح کے بزرگوں سے مخلوق کو فائدہ پہنچتا
ہے… ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں جن
چیزوں کو ’’شفاء‘‘ فرمایا گیا ہے… ان میں’’شہد‘‘ بھی ہے
اور’’حجامہ‘‘بھی… دونوں میں اللہ تعالیٰ نے شفاء رکھی
ہے… بس اسی طرح اللہ تعالیٰ کے مقبول اولیاء ہوتے
ہیں… کوئی شہد یعنی نرمی سے علاج کرتا ہے اور کوئی حجامہ یعنی سختی
سے… وہ بزرگ سخت تھے… اکثر بیعت کے لئے آنے والوں سے بیعت منظور نہیں
فرماتے تھے… اور اگر کسی پر نرمی کرتے تو فرماتے تین دن روزے رکھو اور ان تین
دنوں میں سوا لاکھ بار استغفار پورا کرو… سبحان اللہ ! استغفار کی
کثرت کے عجیب ثمرات ظاہر ہوتے… کسی کو رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی
زیارت نصیب ہوتی تو کسی کو کوئی اور فوری نعمت ملتی… قاضی ابو علی الحسن
التنوخی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک کتاب لکھی ہے…’’کتاب الفرج بعد
الشدّۃ‘‘… یعنی سخت حالات کے بعد کشادگی اور راحت… یہ مختصر مگربہت مفید
اور مؤثر کتاب ہے… اُس میں وہ اپنا واقعہ لکھتے ہیں کہ مجھے دشمنوں نے قید
کر لیا اور اُن کا ارادہ مجھے قتل کرنے کا تھا… میں نے قید کے ان ایام میں
حضرت یونس علیہ السلام کی دعاء بہت کثرت سے پڑھی… اس دعاء میں توحید بھی ہے،
تسبیح بھی ہے اور استغفار بھی…
لَا
اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْن
فرمایا
کہ صرف نو(۹) دن
کے مسلسل ورد کی برکت سے مجھے ایسی سخت قید سے خلاصی مل گئی… ایک عرب نوجوان
نے اپنا واقعہ لکھا ہے … اور اللہ تعالیٰ کی قسم
کھائی ہے کہ میں جو کچھ لکھ رہا ہوں وہ سچ ہے… ’’میںایک غریب اور پریشان حال
شخص تھا… کوڑی کوڑی کے لئے محتاج… کسی طرح سعودیہ گیا کہ کچھ کما سکوں
مگر وہاں گرفتار ہو گیا… مجھے معلوم تھا کہ سعودیہ میں گرفتارہونے والا اگر
بے گناہ ہو تب بھی اُسے چھوٹتے چھوٹتے سال دو سال لگ ہی جاتے ہیں… میں نے
’’استغفار‘‘ کا معمول اپنایا… رات دن استغفار… روزآنہ ہزاروں بار
استغفار… تب صرف چوراسی(۸۴) دن
بعد میں چھوٹ گیا… اور اگلے دن کسی نے مجھے ساٹھ ہزار ریال ھدیہ کر
دیئے… اور پھر حالات مستقل بہتری کی طرف بڑھتے گئے‘‘… یہ بالکل سچے
واقعات ہیں اور یہ اُس سمندر کے چند قطرے ہیں… جواستغفار میں پوشیدہ
ہیں… آج میں نے آپ کے لئے کئی واقعات چھانٹ کر رکھے تھے… مگر اب اُن
کو تفصیل سے نہیں لکھتا … مثلاً
(۱) یہ ایک ڈاکٹر صاحب ہیں… ہسپتال کے پانچ
ڈاکٹروں نے ان کے خلاف سازش کر کے ان کو نوکری سے نکلوادیا… کہتے ہیں میں نے
اس مسنون استغفار کا کثرت سے ورد کیا…
اَسْتَغْفِرُ
اللہ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَالْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَاَتُوْبُ
اِلَیْہ
چند
دن ہی میں نوکری بحال ہو گئی… اور حاسدوں کا ایسا بُرا حشر ہوا
کہ اللہ تعالیٰ کی پناہ…
(۲) یہ ایک خوش نصیب جوڑا ہے… مگر بے
اولاد… دنیا کے کئی ملکوں میں علاج کرایا مگر لاحاصل… پھر قرآن پاک کی
وہ آیت سنی جس میں فرمایا گیا کہ استغفار کرو اللہ تعالیٰ
تمہیں خوب مال و اولاد عطاء فرمائے گا… سب علاج بند اور استغفار
شروع… اب ماشاء اللہ اُن کے تین بیٹے اور چار بیٹیاں
ہیں…
(۳) یہ ایک خاتون ہے… خاوند صبح شام گالیاں
بکتا ہے، مارتا ہے… اور تذلیل کرتا ہے… اس مؤمنہ بندی نے استغفار کو
اپنایا… ایک دن خاوند نے بہت مارا… یہ اُس کے جانے کے بعد استغفار کرتی
رہی… بے حد غمزدہ اور زخمی دل کے ساتھ اپنے رب سے شکوہ نہیں معافی مانگتی
رہی… اچانک دھماکہ ہوا اور گھر میں ایک جگہ سے کوئی ٹونا، تعویذ باہر نکل
آیا… معلوم ہوا خطرناک جادو تھا… اُس کو گھر سے نکال دیا… شام کو
خاوند آیا تو آتے ہی بیوی سے معافیاں مانگنے لگا… اور پھر وہ ایسا تبدیل ہوا
کہ زندگی ہی بدل گئی…
(۴) یہ ایک مسلمان بہن ہے… چاہتی ہے کہ
نیک،صالح، مجاہد… اور اللہ پاک کا ولی خاوند ملے… استغفار کا
معمول بناتی ہے… روزآنہ پندرہ سو بار
اَسْتَغْفِرُ
اللہ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَالْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَاَتُوْبُ
اِلَیْہ
اور
اس کے علاوہ چھوٹے استغفار کی کثرت
اَسْتَغْفِرُ
اللہ رَبِّیْ وَاَتُوْبُ اِلَیْہ
اب
ماشاء اللہ شادی شدہ ہے… عالم، مجاہد اور محبت کرنے
والا خاوند اُسے نصیب ہوا…
(۵) ایک عورت کو کینسر ہوا… استغفار کی کثرت
کی، جب دوبارہ ٹیسٹ کرایا تو نام و نشان ہی نہیں تھا…
(۶) ایک عورت کو شادی کے تیس سال بیت
گئے… اولاد نہیں… کسی نے استغفار کا بتایا تو دن رات اُسی میں لگ
گئی… تیس سال بعد اللہ تعالیٰ نے اولاد عطاء فرمائی…
قصے
اور واقعات بہت ہیں… اور ان کو لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ قصوں سے عمل کی ترغیب
ملتی ہے… اور ان قصوں میں کوئی مبالغہ نہیں ہے…کیونکہ ’’استغفار‘‘ پر بے شمار
نعمتوں کا وعدہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا
ہے… اور اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں فرماتے… غور
سے دیکھئے قرآن پاک سورہ ھود آیت(۳) میں
ارشاد باری تعالیٰ:
ترجمہ:
اور( اللہ تعالیٰ کا حکم) یہ(ہے) کہ تم اپنے ربّ سے استغفار
کرو(یعنی مغفرت اور معافی مانگو) پھر اسی کی طرف رجوع کرو وہ تم کو ایک وقتِ
مقرر(یعنی موت) تک(دنیا میں) خوش عیشی دے گا اور ہر زیادہ عمل کرنے والے کو زیادہ
ثواب دے گا (ھود،۳)
یعنی
اصل اجر اور نعمتیں تو آخرت کی ہیں… مگردنیا میں بھی سکون، چین اور راحت اور
طرح طرح کی نعمتیں عطاء فرمانے کا وعدہ ہے…
دوسری
جگہ ارشاد باری تعالی ہے:
ترجمہ: میں
نے کہاکہ اپنے ربّ سے ’’استغفار‘‘ کرو (یعنی معافی مانگو) وہ بڑا معاف کرنے والا
ہے، وہ تم پر آسمان سے (موسلا دھار) بارش برسائے گا اور مال اوربیٹوں سے تمہاری
مدد کرے گا اور تمہیں باغات عطاء فرمائے گا اورتمہارے لئے نہریں جاری فرمائے
گا(نوح،۱۰ تا ۱۲)
آپ
صرف ان دو آیات میں غور کریں تو معلوم ہو گاکہ… استغفار ہر نعمت اور آسانی
کی چابی ہے… اسی لئے قرآن پاک بار بار توبہ،استغفار کا حکم فرماتا
ہے… اور ہمارے آقا و محسن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک طرف
تو معصوم ہونے کے باوجود خود بہت زیادہ استغفار کا اہتمام فرماتے
تھے … ایک ایک مجلس میں سو سو بار صحابہ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کے استغفار کو سنا…اور دوسری طرف آپ نے اُمت کو اس کی بہت زیادہ
تلقین فرمائی… آپ صرف مسنون دعاؤں کو ہی دیکھ لیں اکثر دعاؤںمیں
’’استغفار‘‘ ملتا ہے… تھوڑی دیر پہلے میں وضو کر رہا تھا… وضو کی مسنون
دعاء میں بھی استغفار تھا… پھر مسجد جانے لگا تو مسجد جاتے ہوئے راستے میں
پڑھنے والی مسنون دعاء میں بھی استغفار تھا… نماز سے فارغ ہوئے تو مسنون عمل
یاد آیا… اور وہ ہے تین بار استغفار… ہمارے شفیق، رحیم اور کریم نبی
صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا زیادہ استغفار سکھایا تو خود اندازہ لگالیں
کہ اُمت کے لئے استغفار میں کتنے فائدے ہیں… ایک روایت میں آیا ہے کہ…حضرت
لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے فرمایا:
اے
میرے پیارے بیٹے! اپنی زبان کو’’اَللَّھُمَّ اغْفِرْلِیْ‘‘ کا عادی بناؤ
کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بعض اوقات ایسے ہیں جن میں وہ
کسی سائل کی دعاء رد نہیں فرماتے… دیکھیں’’مغفرت‘‘ کتنی ضروری چیز ہے کہ ہر
وقت مانگتے رہنے کا حکم فرمایا… قتادہ س فرماتے ہیں! یہ قرآن پاک تمہاری
بیماری بھی بتاتا ہے اوراُن کا علاج بھی… پس تمہاری بیماری’’گناہ‘‘ ہیں اور
تمہاری دوا ’’استغفار‘‘ ہے… ابو المنہال سفرماتے ہیں:قبر میں کسی بندے کے لئے
استغفار سے زیادہ محبوب ساتھی اور کوئی نہیں ہوگا… علامہ ابن تیمیہ سسے کسی
نے پوچھا کہ ہم تسبیح زیادہ کریںیا استغفار… فرمایا اگر کپڑے پاک صاف ہوں تو
خوشبو اچھی ہوتی ہے… اور اگر میلے کچیلے اور گندے ہوں توصابن اچھا ہوتا
ہے… اور ہم لوگ تو اکثر میلے کچیلے ہی رہتے ہیں… یعنی تسبیح خوشبو کی
طرح ہے… اور استغفار صابن کی طرح… دراصل استغفار… پاکی اور طہارت
کی وہ موسلا دھار بارش ہے… جو انسان کو اندر باہر سے پاک کر دیتی ہے… سب
سے بڑی پاکی تو یہ ہے کہ نامہ اعمال پاک ہو جاتا ہے… یہی نامہ اعمال کسی کو
دائیں ہاتھ میں اور کسی کو بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا… ایک فلم دیکھنے میں
نامہ اعمال کتنا سیاہ ہوتا ہے؟… جھوٹ بولنے سے نامہ اعمال کتنا کالا ہوتا
ہے؟… زیادہ بولنے والے تو نان سٹاپ بولتے ہیں… فرائض میں
کوتاہی… اور بدنظری… حرام خوری اور خیانت… کس کس گناہ نے آج اُمت
کو گھیرا ہوا ہے، فہرست لکھی جائے تو پوری کتاب بن جائے… اس کے مقابلے میں
توبہ کتنی ہے؟اور استغفار کتنا ہے؟… گناہ دراصل اُس چربی کی طرح ہیں جو دل کی
شریانوں میں جم جاتی ہے تو ہارٹ اٹیک ہو جاتا ہے… گناہ اُس جالے کی طرح ہیں جو
موتیا بن کر آنکھوں پر آجاتا ہے تو آنکھیں خراب ہوجاتی ہیں… گناہ اُس کچرے
کی طرح ہیں جو پانی کے پائپ میں پھنس جائے تو پانی رک جاتا ہے… گناہ اس میل
کچیل کی طرح ہیں جو کسی جگہ جمع ہو جائے تو کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں… گناہ اُس
زنگ کی طرح ہیں جو بڑی بڑی کارآمد مشینوں کو بیکار کر دیتا ہے… اور گناہ اُس
زہر کی طرح ہے جو خون یا کسی عضو پرآجائے تو کینسر ہو جاتا ہے… اور
’’استغفار‘‘ ان سب کا علاج ہے… ہمارے گناہوں نے اُن غیر مرئی پائپوں، لائنوں
اور راستوں کو بند کر رکھا ہے جن سے رحمت، سکون، قوت اور رزق حلال اترتا
ہے… اور جن سے گزر کر ہماری دعائیں اوپر عرش تک جاتی ہیں… ہم زیادہ
استغفار کر کے ہر دکھ، ہر محرومی، ہر ذلت، ہرغم، ہر بیماری، ہر صدمے… اور ہر
آفت سے بچ سکتے ہیں… اور اصل اجر اور ثواب تو آخرت کا ہے جس کے بارے میں
اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکا فرمان ہے
طوبیٰ
لمن وُجد فی صحیفتہ استغفارا کثیرا
بہت
عظیم خوشخبری…یعنی اللہ پاک کی رضا اور جنت… اُس کے
لئے ہے جس کے نامہ اعمال میں زیادہ استغفار ہوگا… کلمہ طیبہ، نماز اورجہاد کی
برکت سے’’جماعت‘‘ کو الحمدللہ کثرتِ استغفار کی طرف رہنمائی ہوئی
ہے… کلمہ طیبہ کا ورد ہرگز نہ چھوڑیں… کم از کم مقدار بارہ
سو… اللہ کیلئے بہت اہتمام کریں… تلاوت اور درود شریف
ہر گز نہ چھوڑیں… ’’عشرہ استغفار‘‘ کے دوران جو’’مکتوبات‘‘ جماعت میں جاری
ہوئے ان میں اہم نکات کی طرف اشارہ ہے… وہ آج کے اخبار میں آپ
(قربانی…استغفار) میں ملاحظہ فرمالیں گے… مجلس کا اختتام حضرت علی رضی اللہ
عنہ کے فرمان پر کرتے ہیں:
العجب
ممن یھلک و معہ النجاۃ قیل وماھی قال: ’’الاستغفار‘‘
حیرت
ہے اُس پر جو ہلاک ہوا حالانکہ اُس کے پاس نجات کا نسخہ موجود تھا… عرض کیا
گیا نجات کا نسخہ کیا ہے… فرمایا : استغفار…
اَسْتَغْفِرُ
اللہ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَالْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَاَتُوْبُ
اِلَیْہ… رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَاِسْرَافَنَا فِیْٓ اَمْرِنَا
وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ
الْکٰفِرِیْنَ… رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا
وتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ… سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ
رَبَّنَاوَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا…
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
کی بندگی اور غلامی اختیار کرنے والے کبھی ناکام نہیں ہوتے… دل کی گہرائی سے
اعلان کر دیجئے
اِیَّاکَ
نَعْبُدُوَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنَُ
یا اللہ ہم
صرف اورصرف آپ کی بندگی اور غلامی اختیار کرتے ہیں… اور صرف اور صرف آپ ہی
سے مدد مانگتے ہیں… حضرت جعفر بن محمدرحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
من
خاف اللہ ، خاف منہ کل شیٔ ومن لم
یخف اللہ اخافہ اللہ من کل شیء
یعنی
جو اللہ سے ڈرتاہے، ہر چیز اُس سے ڈرتی
ہے… اورجو اللہ تعالیٰ سے
نہیںڈرتا اللہ تعالیٰ اُسے ہر چیز سے ڈراتے ہیں… یعنی
اُس کے دل میں ہر چیز کا خوف پیدا ہو جاتاہے… دیکھا آپ نے امریکہ کے لاڈلے
’’حسین حقانی‘‘ کو…آج وہ خوف اور ذلت سے تھرتھر کانپ رہا ہے… بہت پڑھا لکھا
اور چالاک’’حسین حقانی‘‘… امریکہ اور انڈیا کا گویاکہ کھلم کھلّا
جاسوس… پاکستان کے دینی اورجہادی طبقے کاپرزور مخالف اور دشمن… امریکہ
جا کر کتاب لکھی… وہ بھی پاکستان کے مسلمانوں اور یہاںکی فوج کے
خلاف… تب امریکیوں نے اُس کو اپنا’’یار‘‘ قرارد ے دیا… اس سے بڑا عذاب
اور ذلت ایک مسلمان کے لئے اور کیا ہو سکتی ہے کہ… وہ اسلام اور مسلمانوں کے
خلاف کافروں کے لئے کام کرے… مگرقدرت ایک وقت تک ڈھیل دیتی ہے… اورجب
پکڑنے پر آتی ہے تو پھر کوئی نہیں بچاسکتا… بہت کوشش کی کہ امریکہ سے
پاکستان نہ آنا پڑے بس استعفے سے کام چل جائے… مگرکام نہیں بنا… اور اب
تفتیش ہے اور خوف… اگر کسی بندے کو یہی
خوف اللہ تعالیٰ سے نصیب ہو جائے تو اس کی بگڑی بن
جائے… حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
بنی
اسرائیل کے ایک شخص سے کوئی گناہ سرزد ہو گیا … وہ اس پر سخت غمگین ہوا
اسی غم کی حالت میں کبھی اِدھر جاتاکبھی اُدھر اور کہتا… میں اپنے رب کو کیسے
راضی کروں؟… میں اپنے رب کو کیسے راضی کروں؟… اللہ تعالیٰ نے
اُسے’’صدیقین‘‘ میں شامل فرما لیا۔(شعب الایمان للبیہقی)
دیکھا
آپ نے ندامت اور خوف نے ایک گناہ گارکو… ’’صدیق‘‘ کے مقام تک پہنچا
دیا… یقیناً توبہ اور استغفار بہت بڑی نعمت ہے… اور یہ نعمت اُن کو نصیب
ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں… کہتے ہیں کہ بنی
اسرائیل میں ایک بار بہت زور کا قحط پڑا… حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قوم میں
سے ستر(۷۰) نیک
افراد منتخب فرمائے اور ان کو لے کر توبہ،استغفار اور دعاء کے لئے باہر
نکلے… سب نے مل کر خوب آہ وزاری کی مگر… آسمان پرکوئی تبدیلی نہ آئی،
سورج سینہ تان کر گرمی برساتارہا… اور بارش و بادل کا دور دورتک کوئی نام و
نشان نہیں… حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے
التجا کی… یا اللہ ! اتنی آہ وزاری، اتنی توبہ اور اتنی فریاد کے
باوجود کوئی قبولیت نہیں… ارشاد ہواان ستر(۷۰) میں سے ایک ایسا
ہے جس نے ابھی تک توبہ نہیں کی… وہ اپنے گناہ پر ڈٹاہواہے… جب تک تم
اُسے اپنے میں سے نہیں نکالو گے… تمہاری دعاقبول نہ ہوگی… اُس کو نکال
کر دعاء کرو گے تو قبول ہو گی… حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اعلان
فرما دیا کہ… وہ شخص جو توبہ نہیں کررہا وہ نکل آئے… اُس شخص نے جب
اعلان سنا تو رسوائی کے ڈرسے دل کی حالت بدل گئی… دل
میں اللہ تعالیٰ کا خوف آیا اور اُس نے دل ہی دل میں سچی
توبہ کر لی… اسی وقت ہوائیں جھوم اٹھیں، بادل چھاگئے اور بارش موسلا
دھاربرسنے لگی… حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی… یا اللہ ! وہ شخص
ابھی نکلا نہیں اور آپ نے دعاء قبول فرمالی… ارشاد ہوا: اے موسیٰ! اُس نے
سچی توبہ کر لی ہے… عرض کیا وہ کون ساشخص ہے؟… ارشادہوا… اے موسیٰ!
وہ ہماری نافرمانی کرتا تھا توہم اُس پر پردہ ڈالتے رہے… اب وہ تائب ہو چکا
تو کیا ہم اُسے رسوا کردیں؟…
سبحان اللہ … اللہ تعالیٰ
کی رحمت بھی عجیب ہے… اپنے مجرموں کو اپنا بندہ کہہ کر بلاتے ہیں… اور
کھلی معافی کا اعلان فرماتے ہیں… اور معافی مانگنے والوں کواونچے اونچے
مقامات… اور ہر طرح کی نعمتوں سے نوازتے ہیں… کوئی ہے جو اپنے مجرم کے
ساتھ اس طرح کا معاملہ کرسکتا ہو؟… پھر بھی
ہم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کرغیروں کے سہارے ڈھونڈتے
ہیں… اور کبھی ایک لمحہ بھی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ
کے لئے خالص اور مخلص نہیں کرتے… شیطان کی پوری کوشش ہے کہ وہ ہمیں توبہ،
استغفار سے روکے… کبھی نیکی کے تکبّر میں ڈال کر… اورکبھی گناہ سے مایوس
کر کے… جب کوئی بندہ اپنے گناہوں سے مایوس ہو کر توبہ چھوڑ دیتا ہے تو شیطان
اپنی کامیابی پر خوشی مناتا ہے… اورجب کوئی بندہ اپنی نیکی کے زعم میں توبہ
نہیں کرتا تو شیطان اُسے اپنا شکار بنا لیتا ہے…
حضرت
طلق بن حبیبؒ فرماتے ہیں:
اللہ تعالیٰ
کے حقوق مکمل ادا کرنا کسی بھی بندے کے بس میں نہیں ہے… پس اسی لئے صبح بھی
توبہ کرو… اور شام بھی توبہ کرو… (البیہقی)
حضرت
ابن عمر رضی ر فرماتے ہیں:
جب
کسی بندے کو اپنا گناہ یاد کر کے دُکھ ہو… اور اُس کا دل ڈر جائے تو بس اُسی
وقت اُس کا وہ گناہ… اُس کے نامہ اعمال سے مٹا دیا جاتا ہے… یہ کیفیت کن
لوگوں کو نصیب ہوتی ہے؟… انہیں جو اللہ تعالیٰ کی عظمت
اور بڑائی کو مانتے
ہیں؟… اللہ اکبر… اللہ سب سے بڑا
ہے… آپ سورج کو دور سے دیکھیں، کتنا چھوٹا سا نظرآتاہے… بس ایک دوفٹ
کا… جی ہاں! ہمیں سورج اپنے سے بھی چھوٹا نظر آتاہے… کیونکہ ہم سورج سے
دور ہیں… اب اگر ہم سورج کی طرف سفرکریں اور اُس کے قریب ہوتے جائیں، قریب
ہوتے جائیں تو… سورج بڑاہوتا جائے گا اور ہم چھوٹے… اور گر ہم سورج کے
بالکل قریب ہوجائیں تو کیا ہوگا؟… ہم خود کواُس کے مقابلے میں ایک ذرہ کے
برابر بھی نہیں پائیںگے… کیونکہ سورج زمین سے کئی گنا بڑا ہے… اور ہم
زمین تو کیا… زمین کی چھوٹی چھوٹی چیزوں سے بھی چھوٹے ہیں… اب بغیر
تشبیہ کے سمجھیں… جو شخص اللہ تعالیٰ سے جتنا دور ہے
وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کونہیں سمجھتا… وہ خود کو اور
اپنے نفس کو بڑا سمجھتا ہے … اسی لئے
تو اللہ تعالیٰ کے حکم اور اللہ تعالیٰ
کے نام پر وہ کھڑا نہیں ہوتا… لیکن جیسے جیسے
آدمی اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا جاتا ہے… تو اس کے دل
میں اللہ تعالیٰ کی عظمت بڑھتی جاتی ہے، بڑھتی جاتی
ہے… اور اس کی عظمت کی کوئی حد ہی نہیں ہے … سورج تو بہت چھوٹا
ہے… اللہ اکبر… اللہ تعالیٰ ہر چیز
سے بڑے ہیں… اسی لئے جب عشق و محبت میں ڈوب کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے
درخواست کر دی… اے میرے رب مجھے اپنی زیارت کر ادے… ارشاد ہوا… لن
ترانی… اے موسیٰ! آپ مجھے نہیں دیکھ سکتے… دنیا کی آنکھیں تو ایک پہاڑ
کو پورا نہیں دیکھ سکتیں… ایک سمندر کا احاطہ نہیں کر
سکتیں… اور اللہ تعالیٰ کی عظمت کے سامنے یہ چیزیں کچھ
بھی نہیں… دنیا کی آنکھوں میں کہاں طاقت کہ وہ … اللہ تعالیٰ
کو دیکھ سکیں… اللہ تعالیٰ جسم سے پاک، جہت سے
پاک… اور مثال سے پاک… اُن جیسا کوئی ہے ہی نہیںکہ… اُس چیز کا
خیال لا کر اندازہ لگایاجاسکے… ہاں آخرت میں اہل جنت کو ایسی آنکھیں دی
جائیں گی جن سے وہ ’’رؤیتِ باری تعالیٰ‘‘ کی عظیم ترین نعمت حاصل کر سکیں
گے… اتنے عظیم رب کا حق کون ادا کر سکتا ہے؟… اسی لئے استغفار
ہے… اتنے عظیم رب کی نافرمانی؟… توبہ توبہ… اسی لئے توبہ
ہے… اور اُدھر اتنی عظمت کے باوجود اتنی رحمت کہ… ہرگناہ سے توبہ کا
دروازہ کُھلا ہے…بلکہ اپنے بندوں کو بُلایا جارہا ہے کہ… آجاؤ، آجاؤ… توبہ
کر لو… اور پھر معافی بھی اتنی جلدی کہ تصور سے باہر… حضرت عبد
اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں
تمہیں جو باتیں بتاتا ہوں… یا تو وہ کسی نبی کا فرمان ہوتی ہیں یا کسی
آسمانی کتاب کا فرمان… بے شک جب کوئی بندہ گناہ کرتاہے… اورپھر اُس پر
پلک جھپکنے کے برابر نادم ہوتا ہے تو… اُس کا وہ گناہ پلک جھپکنے سے بھی جلدی
معاف ہوجاتا ہے(الطبرانی)… اے مسلمانو! صبح استغفار، شام استغفار… اے
مسلمانو! بار بار توبہ، باربار استغفار… اے
مسلمانو! اللہ تعالیٰ کی عظمت کو مان کر دل کی ندامت کے
ساتھ … استغفار… آج اُمتِ مسلمہ استغفار کی بے حد محتاج
ہے… ظالم حکمرانوں نے اس اُمت کو لوٹ لیا، بربادکر دیا… کافروں نے ہر
اسلحے کا رخ مسلمانوں کی طرف پھیر دیا… ہمارا ایمان گناہوںنے لوٹ
لیا… اور ہمارا سکون دنیا کی محبت نے غارت کر دیا… ان حکمرانوں سے خیر
کی کوئی توقع نہیں… عمران خان کو ’’مسیحا‘‘ سمجھنے والے بہت بڑے مغالطے میں
ہیں…کرکٹ کا یہ کپتان کسی نہ کسی طرح کرسی تک پہنچنا چاہتا ہے… پہلے پرویز
مشرف کی چاپلوسی کی… ایسی کہ کوئی غیور انسان اُس کا تصور بھی نہیں کر
سکتا…تب کام نہ بنا… اب پھر ہرطرف انقلاب کا شور ہے… کیسا انقلاب اور کس
طرح کا انقلاب؟… وہی چہرے ہیں اور وہی کردار… نہ زرداری سے خیر کی توقع
ہے… اور نہ شریف برادران سے… نہ عمران اس قوم کا درد رکھتا ہے اور نہ
کوئی مجاور قریشی… یہ سب غیر ملکی آقاؤں کی خاطر ملک و قوم کو فروخت کرنے
والے ہیں… حسین حقانی نے… بدفطرت مائک مولن کو جو خط پہنچایا اُسے پڑھ
کر دل روتا ہے… یہ ظالم! اپنی قوم کو بیچتے ہیں اور کتنا سستا بیچتے
ہیں… منصور اعجاز جس کے بارے میں مشہور ہے کہ’’قادیانی‘‘ ہے… وہ کسی شخص
کا نہیں… ایک بھیانک کردار کا نام ہے… غلامی کے یہ دلاّل ہر حکمران کو
اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں… نواز شریف بھی اپنے دور اقتدار میں اسی طرح کے
لوگوںکے گھیرے میں تھے… اور عمران خان کی ایک کامیاب جلسے کے بعد غیر ملکی
سفیروں کے سامنے حاضری اور جی حضوری شروع ہے… معلوم نہیں کون کون اس مظلوم
قوم کو دھوکہ دیتا رہے گا… ملک میںدینی طبقے کو بالکل اُسی طرح غلام بنا کر
رکھا گیا ہے جس طرح فرعون نے بنی اسرائیل کو غلام بنایا ہوا تھا… قرآنِ پاک
نے عالمی سیاست کا یہ عجیب نکتہ بار بار سمجھایا ہے… فرعون نے اپنی ہی قوم کو
دوحصوں میں بانٹ دیاتھا… ایک حصّہ حاکم اور دوسراحصہ محکوم… سیاست کا یہ
ظالمانہ طرز زیادہ عرصہ نہیں چلتا…اور جو بھی اس فرعونی پالیسی کو اپناتا ہے اُس
کا حشر’’فرعون‘‘ جیسا ہی ہوتا ہے… پاکستانی حکمرانوں کا حشر دیکھ
لیں… توبہ، توبہ اکثر کا کیسا بُرا انجام ہوا… خود حکمران ہی نہیں اُن
کا پورا خاندان تباہ و برباد ہوا… مگر بعد والوں نے کوئی عبرت نہ
پکڑی… وہ آنکھیں بند کر کے فرعونی پالیسی کواپنائے بیٹھے ہیں… ملک کا
سیکولر طبقہ حاکم… اور دیندار طبقہ محکوم… سیکولر طبقہ معتمد… اور
دینی طبقہ مشکوک… وزارت داخلہ کی فائلوں میں آج بھی… انگریزی دور حکومت
کی طرح علماء کرام اور دیندار مسلمان… ’’نگرانی‘‘ کے خانے میں آتے
ہیں… مدارس پر شک، مساجد پر حملے، پابندیاں… اور دینی جماعتوں اور
رہبروں کے راستے بند… یہ عجیب اسلامی مُلک ہے جہاں ’’سینما‘‘بنانا
آسان… اور مسجد بنانا مشکل… یاد رکھیں! جب تک اس ملک میں دینی طبقے سے
تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو… آزادشہری کے حقوق نہیںملیںگے… یہ ملک نہ
ترقی کر سکتا ہے اور نہ یہاں امن قائم ہو سکتا ہے… فرعون کا نظام خود فرعون
کو کامیاب نہ کر سکا تو کسی اور کو کس طرح سے کامیاب بنا سکتا ہے… اے
مسلمانو! استغفار، توبہ، استغفار… صبح شام استغفار… اے مجاہدینِ کرام!
حبّ دنیا سے حفاظت کی دعاء… کلمہ طیبہ یعنی ایمان کی زور دار
محنت… اقامتِ صلوٰۃ اور جہاد فی سبیل اللہ کی انتھک
محنت… اور صبح شام استغفار
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ …
اَسْتَغْفِرُ
اللہ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَالْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَاَتُوْبُ
اِلَیْہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ و بارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
توفیق عطاء فرمائے… تین باتیںعرض کرنی ہیں…(۱) ایک قرآنی تحفہ(۲) قبل
از وقت مار کُٹائی(۳) کبھی
گدھے،کبھی انسان…
ایک
قرآنی تحفہ
قرآن
پاک کی تفسیر کا مطالعہ کرتے ہوئے… چارانتہائی مؤثر اور طاقتور’’وظائف‘‘ پر
مشتمل ایک عبارت پر نظر پڑی… آپ بھی ملاحظہ فرمائیے :
حضرت
جعفر بن محمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:۔
(۱) تعجب ہے اُس پر جو کسی مصیبت اور غم میں پھنس
چکا ہو کہ وہ یہ دعاء کیوںنہیں پڑھتا
’’لَا
اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘
کیونکہ اللہ تعالیٰ
ارشاد فرماتے ہیں:
فَاسْتَجَبْنَالَہٗ …الآیۃ
(الانبیاء،۸۸)
کہ
جب حضرت یونس علیہ السلام نے مچھلی کے پیٹ میں یہ دعاء پڑھی
’’لَا
اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘
تو
ہم نے اُن کی دعاء قبول فرمائی اور انہیں غم سے نجات دی اور اسی طرح ہم ایمان
والوں کو نجات دیتے ہیں(جب وہ ہمیں پکارتے ہیں)
(۲) تعجب ہے اُس پر جسے کسی مصیبت کااندیشہ ہو کہ
مجھ پر مصیبت آنے والی ہے تو وہ کیوں نہیں کہتا
’’حَسْبُنَااللّٰہُ
وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ‘‘
کیونکہ اللہ تعالیٰ
ارشاد فرماتے ہیں:
فَانْقَلَبُوْا
بِنِعْمَۃٍ … الآیۃ (آل عمران ،۱۷۴)
یعنی
جب حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے یہ خبر سنی کہ دشمن اُ ن کے خلاف
بھرپورتیاری کر رہا ہے اور حملہ آور ہونے والا ہے توانہوں نے کہا:۔
’’حَسْبُنَااللّٰہُ
وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ‘‘
تو
وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت اور فضل کے ساتھ خیر سے واپس لو ٹ
آئے اور انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچی…
(۳) تعجب ہے اُس پر جسے لوگوں (یعنی دشمنوں) کی
سازشوں کا ڈر ہو اور وہ یہ نہ پڑھے
’’وَاُفَوِّضُ
اَمْرِیْٓ اِلَی اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ بَصِیْرٌ بِالْعِبَادِ‘‘ (المومن ،۴۴)
کیونکہ اللہ تعالیٰ
فرماتے ہیں
فَوَقٰہُ اللہ … الآیۃ
(المومن ۴۵)
کہ
جب آل فرعون میں سے ایمان لانے والے مرد نے یہ کلمات پڑھے
’’وَاُفَوِّضُ
اَمْرِیْٓ اِلَی اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ بَصِیْرٌ بِالْعِبَادِ‘‘
تو اللہ تعالیٰ
نے اُسے فرعونیوں کی سازشوں کے شر سے بچالیا
(۴) تعجب
ہے اُس پر جو جنت کی رغبت رکھتا ہو تو وہ کیوں نہیں پڑھتا:
’’مَا
شَآئَ اللّٰہُ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ‘‘
کیونکہ اللہ تعالیٰ
کا فرمان ہے:
فَعَسیٰ
رَبِّی … الآیۃ (الکہف، ۴۰)
یعنی
ایمان والے شخص نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے
تیرے باغ سے اچھا باغ عطاء فرمائے گا… (تفسیر حدائق الروح والریحان ص ۱۷۹،ج ۱۸)
چار
وظیفے معلوم ہو گئے… ان کی طاقت اور تأثیر میں کوئی شبہ نہیں ہے… ان
چاروں وظائف کا تعلق چار قرآنی واقعات سے ہے… آپ کسی مستند اردو یا عربی
تفسیر میں یہ چاروں واقعات پڑھ لیں… تب ان
شاء اللہ تأثیر کا اندازہ ہو جائے گا… پہلا عمل تو
آیۃ کریمہ کا ہے… آیۃ کریمہ کو حضرات علماء کرام نے… اسم اعظم کی
تأثیر والی’’آیت‘‘ بتایا ہے… یہ خاص طور پر اُن حضرات و خواتین کے لئے ہے
جو کسی آفت، مصیبت، گناہ اور معصیت میں بُری طرح پھنس چکے ہیں… ایسے کہ
نکلنے کی کوئی صورت ہی نہ ہو… اندھیرا ہی اندھیرا ہو،مایوسی ہی مایوسی کا
ماحول… اُس وقت اس آیت کریمہ کے ورد میں نجات، روشنی، امید… اور خلاصی
رکھی گئی ہے…
ترجمہ: مطلب
اور مفہوم ذہن میں رکھ کر پڑھیں… دوسرا وظیفہ اُن کے لئے ہے جو مصیبت میں
آئے تو نہیں مگرانہیں کسی سخت مصیبت میں گِھر جانے کا خطرہ ہے… ایسے میں وہ
نعرہ لگائیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے لئے کافی ہے اور وہی
بہترین کارساز ہے… تیسرا عمل اُن کے لئے ہے جن کے خلاف دشمنوں نے سازشوں کے
جال بچھا دیئے ہوں… جیسا کہ فرعونیوں نے ایک ’’مرد مومن‘‘ کے خلاف بچھائے
تھے… اور چوتھا عمل دنیا اور آخرت میں نعمتوں کی ’’برقراری‘‘ اور حفاظت اور
ترقی کے لئے ہے…اہل نعمت اس کا ورد کریں تو عجیب برکات دیکھیں گے… اور کامیاب
وہی ہے جو اس پر یقین رکھے کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مرضی
سے ہوتا ہے… اور انسان جو خیر اور نعمت بھی پاتاہے
وہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور قوّت سے ملتی ہے…
قبل
از وقت مار کٹائی
پرانے
زمانے میں جب’’عرب‘‘ صحراؤں میں خانہ بدوش تھے… اُس وقت کا ایک قصہ مشہور
ہے … یہ تو آپ جانتے ہوں گے کہ عربوں کے قافلے وہاں پڑاؤ ڈالتے رہتے
تھے جہاں پانی وغیرہ ہو… پھر چند سالوں بعد وہاں سے کوچ کر جاتے… ایسے
ہی ایک پانی پر ایک بڑا قافلہ آکر ٹھہرا… وہاں قبیلہ’’طئے‘‘ کے کچھ خاندان
پہلے سے مقیم تھے…انہیں خاندانوں میں سے… ایک میاں اور بیوی آپس میں باتیں
کرتے رہتے تھے… معلوم نہیں بیوی نے کیا کھایا تھا کہ اُس کا دماغ اُڑنے
لگا… خاوند سے بولی… جب یہ قافلہ چلا جائے گا تو میں ان کے کچرے میں سے
جانوروں کے بال اور کمبلوں کے ریشے وغیرہ جمع کر لوں گی… پھر اُن سے سوت
کاتوں گی… پھر اُس سوت سے کپڑا بناؤں گی… پھر کسی طرح وہ کپڑا فلاں
علاقے میں بھیج دوں گی… وہ فروخت ہوگا تو اُن پیسوں سے اونٹ خریدوں
گی… اورپھر اونٹ پر بیٹھ کر جہاں دل چاہے گا جایا کروں گی… خاوند
بولا… نہیں تم مجھے اکیلا چھوڑ کر نہ جاؤ… اُس اونٹ پر میں گھوموں
گا… عورت نے کہا بالکل نہیں… وہ اونٹ میراہے… خاوند کو غصہ آیا
اُس نے بیوی کو مارنا شروع کیا… چیخ و پکار ہوئی تو اُس عورت کی ماں آگئی… اُس
نے پوچھا کیوں لڑتے ہو؟… جب قصہ سنا تو زور زور سے رونے لگی اور خود کو مارنے
پیٹنے لگی… لوگ جمع ہو گئے تو بُڑھیا نے کہا… دیکھو! میرے ظالم داماد کو
کہ میری بیٹی سے اُس کے ہاتھ کی کمائی کا اونٹ چھین رہا ہے اور ساتھ مار بھی رہا
ہے… لوگوں میں سے کسی عقلمند نے کہا… ابھی تو قافلہ گیا نہیں اور مستقبل
کے پلان پر اتنی بڑی لڑائی؟… پاکستان میں اس وقت حکومت کی تبدیلی اور نئے
انتخابات کا شور ہے… بعض پارٹیوں نے بڑے جلسے کر کے اپنے لیڈر کو وزیراعظم
اور خود کو مختلف عہدوں کا ذمہ دار سمجھ لیا ہے … صحافیوں کی امیدیں جاگ
اٹھی ہیں… اور وہ اپنے کالموں میں ایک دوسرے پرشدید تیراندازی کر رہے
ہیں… قافلہ گیا نہیں، دھاگہ کاتانہیں، کپڑا بُنا نہیں، چادر بکی نہیں ، اونٹ
خریدا نہیں… مگر اسی اونٹ پر ایک دوسرے سے شدید جنگ ہے… ایک صحافی کے
بارے میں لکھا ہے کہ وہ پنجاب کے گورنر ہاؤس کے گرد چکر کاٹ آیا ہے اور کہتا ہے
کہ… بس اب چند دن کی بات ہے مجھ درویش کا آشیانہ یہ کُٹیا ہوگی… کُٹیا
یعنی جھونپڑی… ہم اہل پاکستان بھی عجیب قسم کے سیاستدانوں، حکمرانوں،
صحافیوں… اور دانشوروں میں پھنس گئے ہیں… ایمان سے محروم، دل کی روشنی
سے محروم، نماز سے محروم، زکوٰہ سے محروم، جہاد سے محروم… عقل سے
محروم… ہر طرف پیشین گوئیاں کرنے والے پروفیسر بیٹھے ہیں… اور مستقبل
بتانے والے عامل… یا اللہ ہم پر اور ہماری قوم پر رحم
فرما…
کبھی
گدھے، کبھی انسان
اس
واقعہ کو لکھنے والے غالباً ’’ابن الجوزی س‘‘ ہیں… یا کوئی اور ٹھیک طرح
تحقیق نہیں… مگر ہم اپنے گردوپیش میں مسلسل یہ واقعہ دیکھ رہے
ہیں… پرانے وقتوں کی بات ہے ایک صاحب بہت بھولے بھالے اور سیدھے سادے
تھے… ایسے لوگ جن کو دائیں بائیں کی کچھ خبر نہ ہو… عربی میں اُن کو’’
مُغَفَّلْ‘‘ بھی کہتے ہیں… پس وہ مغفّل صاحب ایک بار اپنے ’’گدھے‘‘ کی رسّی
تھامے آگے آگے جارہے تھے… اور گدھا اُن کے پیچھے پیچھے… ایک چالاک ٹھگ
نے دیکھا تواپنے ساتھیوں سے کہا… دیکھو! میں اس کا گدھا اس کی آنکھوں کے
سامنے کیسے چُراتا ہوں… ساتھیوں نے کہا ممکن تو نہیں لگتا… اُس نے کہا
ابھی خود دیکھ لینا… تم لوگ میرے ساتھ آؤ… جب میں گدھے کے گلے سے رسّی
نکال لوں تو تم گدھا لیکر فرار ہو جانا… باقی سارا کام میرے ذمّے… وہ
آہستہ سے گدھے کے پاس آیا… اُس کے گلے سے رسّی نکالی اور وہ رسّی اپنی گردن
میں ڈال لی… اُس کے ساتھی گدھا لے گئے اور وہ گلے میں رسّی ڈالے’’مغفّل جی‘‘
کے پیچھے پیچھے چلتا رہا… کچھ دور جا کر اچانک رک گیا… مغفّل نے دو چار
بار زور سے کھینچا، نہیں چلا تو اُس نے پیچھے مڑ کر دیکھا…ارے یہ کیا؟ میرا گدھا
کیا ہوا؟… ٹھگ نے کہا جی میں ہی وہ گدھا ہوں… مگر تم تو انسان نظر آرہے
ہو… جی میں پہلے انسان تھا پھر میں نے اپنے والدین کی نافرمانی کی تو اُس کی
سزا میں مجھے گدھا بنا دیا گیا… آپ نے مجھے خرید لیا… ابھی میری والدہ
نے میری خطاء معاف کی ہے تو مجھے دوبارہ انسان بنا دیا گیا ہے… مغفّل نے کہا:
اوہ! تو میں پھر کیوں تمہیں باندھے پھرتارہوں، جاؤ میں نے تمہیں آزاد
کیا… مغفّل اپنے گھر خالی ہاتھ آیا تو بیوی نے گدھے کا پوچھا اُس نے پورے
درد سے واقعہ سنا دیا… وہ بھی مسز مغفّل تھی… شرمانے لگی کہ ہائے
ہائے… گھر میں پردے کا دھیان بھی نہیں رہتا اور یہ موا! گدھانہیں غیر مرد
تھا… چند دن گزرے تو بیوی نے کہا گدھے کے بغیر گزارہ نہیں… پانی اور
سامان لانا ہوتا ہے … کوئی گدھا خرید لاؤ… وہ بازار گیا جہاں گدھے
بکتے تھے… دیکھا کہ اُس کا وہی پُرانا گدھا ’’برائے فروخت‘‘ موجود
ہے… ’’مغفّل‘‘ نے اُسے دیکھا تو نہایت عقلمندی اور راز داری سے اُس کے پاس
گیا… اور اُس کے کان کے قریب اپنا منہ کر کے آہستہ سے کہا… بیوقوف!
لگتا ہے تم نے پھر اپنے والدین کی نافرمانی کر ڈالی… پاکستان میں انتخابات کی
گھنٹی بجتے ہی ماحول بالکل اسی قصے سے ملتا جلتا نظرآرہا ہے… ہمارے سیدھے
سادھے عوام کو جمہوری سیاستدان جس طرح سے چاہتے ہیں لوٹتے ہیں… جب انہیں
حکومت ملتی ہے تو امریکہ اور بھارت کے گدھے بن جاتے ہیں… اور جب انتخابات
قریب ہوں تو انسان بن کر اچھی اچھی باتیںکرنے لگتے ہیں… ماہر سیاستدان پہلے
یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ فوج کس پارٹی کے ساتھ ہے… پھر دھڑا دھڑ اُسی پارٹی
میں شامل ہو جاتے ہیں… اوراپنی پارٹی کو کرپٹ قرار دیتے ہیں… حالانکہ
خود اسی پارٹی کے سائے تلے سالہا سال تک قوم کو بیو قوف بنا چکے ہوتے
ہیں… تھوڑا سا مشکل وقت آتا ہے تو مُلک سے بھاگ جاتے ہیں… باہر ملکوں
میں ان کے اپنے گھر، اپنی کوٹھیاں اور اپنے سسرال ہیں… ان کی اولاد بھی وہاں
پڑھتی ہے اور وہیں پلتی ہے… پھر جب حالات ساز گار ہوں تو انسان بن کر پاکستان
آجاتے ہیں… اور ووٹ لیکر امریکہ اور انڈیا کی باربرداری میں لگ جاتے
ہیں… کتنے افسوس کی بات ہے کہ انڈیا کوتجارت کے لئے پسندیدہ ترین ملک قرار دے
دیا گیا ہے… نیٹو نے بمباری کر کے ملک کے چوبیس فوجی مار دیئے… مگر پھر
بھی دوستی میں فرق نہیں آرہا… یہ نظام اور یہ سیاستدان اس ملک میں تبدیلی
نہیں لاسکتے… اس ملک میں تبدیلی… اللہ تعالیٰ کے وہ
بندے ہی لائیں گے جو اللہ تعالیٰ کے وفادار… اور حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثار ہیں… اور جن کے جان و مال
دین اسلام کی خاطر ہر قربانی کے لئے وقف ہیں…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ …
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ …
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
بہت رحیم ہے،بہت رحیم… بے حد رحیم اور مہربان… اللہ ، اللہ
، اللہ …
ذرا
سا غور کریں کہ… کیسے کیسے لوگوں کو اور کیسے کیسے گناہوں
کو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا… ایک
شخص اللہ تعالیٰ کے سب سے محبوب نبی صلی اللہ
علیہ وسلم کے مقابلے میں… تلوار سے لڑ رہا ہے… حضورپاک صلی
اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان
اللہ علیہم اجمعین پر حملے کر رہا ہے… پھر اُس نے کلمہ پڑھا، توبہ کی
تو اللہ تعالیٰ نے فوراً معاف فرمادیا… اب اُن کا نام
لیں تو ساری اُمت کہتی ہے… رضی اللہ
عنہ … کہ اللہ تعالیٰ اُن سے راضی ہو گیا… گناہ
کی شدّت کا اندازہ لگائیں… اور پھر اللہ تعالیٰ کی
رحمت اور مغفرت کا اندازہ لگانے کی کوشش کریں… اب تو مان جاؤ! گناہگار
بھائیو! اور بہنو! کہ اللہ تعالیٰ رحیم ہے… پھر توبہ
اور استغفار میں دیر کیوں؟ جھجک کیوں؟…
وہ
دیکھو! سنو پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان:
اگر
تم نے گناہ کئے ، یہاں تک کہ تمہارے گناہوں سے زمین اور آسمان کے درمیان کاحصہ
بھر جائے اور تم نے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لی تو وہ
تمہیں بخش دے گا… (الحدیث)
سبحان اللہ … ہمارے
نزدیک زمین بھی بڑی اور آسمان بھی بڑا… مگر ہمارے رب کے نزدیک نہ زمین بڑی
نہ آسمان بڑا… اور نہ اُن دونوں کے درمیان کا خلا بڑا… انہوں نے تو
رحمت کی ایک نظرفرمانی ہے… اور سارے گناہ نیکیوںمیں تبدیل ہو جانے
ہیں… پھر بھی توبہ میں دیر؟… پھر بھی استغفار میں تأخیر؟…
چھوڑیں
منصور اعجاز قادیانی کو… ایک ناپاک، ظالم اور گندا دشمن… ختم نبوت کا ہر
منکر پاکستان کا دشمن ہے… اسلام اور مسلمان کا دشمن ہے… آج منصور اعجاز
یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ اپنی سازشوں سے ملک کو تباہ کر دے گا… پوری قادیانی
لابی خوشی سے تالیاں پیٹ رہی ہے… مگران نامرادوں کا یہ خواب بھی ’’نا مُراد‘‘
ہو گا… ان شاء اللہ ثم ان
شاء اللہ …
چھوڑیں
حسین حقانی کو… ایک مفاد پرست، جھوٹا اور مکّار انسان… جہاد اور مجاہدین
کا دشمن… اللہ تعالیٰ کے دین کاباغی… وطن
فروش… اور اُس جیسے کئی اور دن رات کوشش کرتے رہیںکہ… پاکستان سے اِسلام
اور جہاد کا نام مِٹ جائے… مگر نہیں مٹتا… الحمدللہ … اور کیسے
مٹے؟… قرآن پاک کا لکھا ہوا کون مٹا سکتا ہے… جہاد… قرآن پاک کا
حکم ہے… یہ کسی انسان کے ہاتھ کا فرمان نہیں… یہ’’احکم الحاکمین‘‘ کے
کلام کا انمٹ حصّہ ہے… اسے مٹانے کی کوشش کرنے والے خود روسیاہ ہو کر مٹ جاتے
ہیں… بس اللہ کرے پاکستان والے’’ لا الہ
الا اللہ ‘‘ کے ساتھ جُڑ جائیں… ’’محمد رسول اللہ ‘‘
کو اپنا لیں… نماز کے عاشق بن جائیں… اور جہاد کے دیوانے، متوالے بن
جائیں… رب کعبہ کی قسم… کوئی بھی ان کو نہیںمٹا سکے گا… دراصل
شیطان نے ہم مسلمانوں پر’’مایوسی‘‘ کا ایٹم بم دے مارا ہے… مایوسی اور وہ
بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے… توبہ، توبہ،
توبہ… ارشاد ہوتا ہے:
اللہ تعالیٰ
کی رحمت سے تو وہی مایوس ہوتے ہیں جو کافر ہیں (یوسف،۸۷)
ارے
ہمت والو! تھکو نہیں، بس کسی لمحے قبولیت کی آواز آجائے گی… حضور اقدس صلی
اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
بندہ اللہ تعالیٰ
کی رضا حاصل کرنے کیلئے برابر لگا رہتا ہے تو… اللہ تعالیٰ
جبرئیل ح سے فرماتے ہیں…
میرا
فلاںبندہ مجھے راضی کرنے کی کوشش میںلگاہوا ہے… خوب سن لو اُس پر ہماری رحمت
ہے… جبرئیل ح(یہ سن کر) فرماتے ہیں…’’رحمۃ اللہ علیٰ
فلان‘‘ یعنی اُس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے… پھر عرش
اٹھانے والے فرشتے بھی یہی کہتے ہیں… اور اُن کے ارد گرد والے یہاں تک کہ
ساتوں آسمانوں کے فرشتے… پھر یہ حکم(رحمت والا) زمین پر اُتار دیا جاتا
ہے…(مسند احمد)
وضو
کر رہے ہیں… کیوں؟ اللہ پاک راضی ہوجائے… نماز کو
دوڑ رہے ہیں… اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے… روزے رکھتے
ہیں، حج کرتے ہیں…ذکر اذکار میں لگے ہیں… جہاد میں تھک رہے ہیں… لوگ
گانے سن رہے ہیں اور یہ گانوں سے دور… فلموں سے دور… بدنظری سے
دور… کیوں؟ تاکہ اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے… صبح
شام استغفار… درود، کلمہ کا ورد… خالق کی عبادت اور مخلوق کی
خدمت… امانت ایسی کہ دل خوش ہو جائے … تواضع ایسی کہ زمین رشک
کرے… کیوں؟… تاکہ اللہ تعالیٰ راضی
ہوجائے… صبح، شام، رات دن کام ہی کام… بالآخر محبت کا یہ رقص بے تابانہ
کام آہی جاتا ہے… اور ’’س‘ ‘کی صدا سے سات آسمان گونج اٹھتے ہیں… ذرا
محبت کی آنکھیں کھولیں… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی
چنداحادیث مبارکہ پڑھتے ہیں:
(۱) جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق
کو پیدا فرمایا تو ایک بات لکھی… اور وہ اللہ تعالیٰ
کے پاس عرش کے اوپر ہے… ( وہ بات یہ ہے کہ)
’’بے
شک میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی‘‘(متفق علیہ)
اللہ ، اللہ
، اللہ … میرا رب بہت رحیم ہے… بہت رحیم ہے… بہت
رحیم… جب گناہوں کے بعد مسجد جانے کی توفیق ملے… تب سوچیںکہ… میرا
رب کتنا عظیم ہے… اور رحیم ہے کہ… اپنے مجرم کو اپنے گھر آنے کی اجازت
اور توفیق دی… لوگ تو ٹانگیں توڑ دیتے ہیں… مگریہاں مجرم کو اپنے گھر
میں اپنے سامنے سجدہ کرنے کی اجازت … اللہ ، اللہ
، اللہ …
(۲) اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک سو
’’رحمتیں‘‘ ہیں… اُن سو میں سے صرف ایک رحمت
کو اللہ تعالیٰ نے زمین پر نازل فرمایا ہے… اسی رحمت
کے سبب جنات، انسان، مویشی اور حشرات آپس میں نرمی اور محبت کرتے ہیں… اور
اسی کے سبب وحشی جانور اپنے بچوں پر شفقت کرتے ہیں… اور ننانوے
رحمتیں اللہ تعالیٰ نے مؤخر رکھی ہیں کہ ان کے
ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر قیامت کے دن رحم فرمائیں
گے…(بخاری ، مسلم)
ساری
مخلوق… زمین کی پیدائش سے لیکر قیامت تک صرف ایک’’رحمت‘‘ کے بل
بوتے… طرح طرح کی محبتوں، خدمتوں، اور تعلقات سے سرشار ہے… ہر ماں کی
بچے سے محبت… اولاد کی والدین سے محبت… خاوند بیوی کا پیار… اور
معلوم نہیں کیا کیا… یہ ہوئی ایک رحمت… اور جب قیامت کے دن ننانوے
رحمتیں ٹھاٹھیں ماریں گی تو… پھر ساری مخلوق کہہ اٹھے گی:
بے
شک اللہ تعالیٰ بہت رحیم ہیں… بہت رحیم ہیں… بہت
رحیم اورمہربان…
(۳) اگر
مؤمن اللہ تعالیٰ کی سز اکو جان لے تو کبھی جنت کی توقع نہ
کرے اور اگر کافر اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جان لے تو کبھی
اُس کی جنت سے مایوس نہ ہو(بخاری، مسلم)
کوئی
شک نہیں… عظیم مالک… شدید العقاب ہے… سخت سزا والا… سخت پکڑ
والا… قارون زمین میں دھنستا جا رہا ہے… دھنستا جا رہا
ہے… توبہ،توبہ… فرعون روز آگ میں جلایا جاتا ہے… نہ آگ ختم ہوتی
ہے، نہ درد ختم ہوتا ہے… اور نہ عذاب ختم ہوتا ہے… وہاں کے خزانے ختم
ہونے والے نہیں… مگر رحمت بھی تو ایسی کہ … اِدھر توبہ اٹھی نہیں
کہ اُدھر سے رحمت موسلا دھار برستی ہے… ایسی رحمت کہ کافر کو اُس کی حقیقت
معلوم ہو جائے تو… کفرپر مرنے کے باوجود جنت کی امید لگانے لگے… اور ہم
اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان میں پڑھ چکے
ہیں… اللہ تعالیٰ نے خود لکھ دیا ہے…
رحمتی
سبقت غضبی
کہ
میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی…
ایمان
تو نام ہی خوف اور امید کا ہے… ایسا خوف جس کے آخری سرے پر مایوسی نہیں
اُمید ہو… اور ایسی اُمید جس کے آخری سرے پر غفلت نہیں خوف ہو… جس کو
یہ کیفیت نصیب ہوجائے وہ مبارک باد کا مستحق ہے… شیطان ظالم یا تو مایوسی میں
گرا پھینکتا ہے… یا غفلت میں بھٹکا دیتا ہے… مگر شیطان اُن مسلمانوں سے
بہت تنگ ہے جو توبہ، استغفار، کسی حال میں بھی نہیںچھوڑتے…وہ اُن سے گناہ کرواتا
ہے… اور یہ توبہ کر کے اُس گناہ کو نیکیوں سے بدلوا لیتے ہیں… شیطان
سمجھاتا ہے کہ… تم گندے ہو گئے، خائن ہو گئے، ناپاک ہو گئے… اب کیسی
توبہ… بس گناہ کرو… مگر اللہ تعالیٰ کے بندے پھر
اپنے رب کے سامنے کھڑے ہو کر رونے لگتے ہیں… معافی مالک، معافی مالک، توبہ
مالک توبہ… تب شیطان روتاہے، پچھتاتا ہے کہ… کاش میں ان سے گناہ ہی نہ
کرواتا…
(۴) میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ… وہ
میری اُمت میںسے ستر ہزار افراد کو بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل
فرمائے گا… اور پھر ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار… اور تین مٹھیاں میرے رب
کی مٹھیوں میں سے…(احمد، ترمذی، ابن ماجہ)
سبحان اللہ … ہرہزار
کے ساتھ سترہزار… اور اللہ تعالیٰ کی تین
مٹھیاں… یہ سمجھانے کے لئے فرمایا… ہرآدمی اپنے ہاتھ کے تناسب سے مٹھی
بھرتا ہے… جس کا ہاتھ جتنا بڑا… اُس کی مُٹھی بھی اتنی بڑی… اللہ تعالیٰ
جسم سے اورتشبیہ سے پاک ہے… سمجھانا یہ ہے کہ… دنیا میں جب کوئی کسی سے
خوش ہوتا ہے تو اُسے مٹھی بھر بھر کے مال دیتا
ہے… اللہ تعالیٰ بھی… رحمت کے ہاتھوں سے بھر بھر کے اس
اُمت کے افراد کو جنت میں بلا حساب داخل فرمائیں گے… بلا حساب جنت… یہ
لفظ پڑھ کر دل کو وجد آجاتا ہے… یا اللہ ہمیں بھی
اپنی رحمت سے ان میں شامل فرما… اُمت محمدیہ
پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں… اس اُمت
میںشامل ہونے کا ٹکٹ
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
ہے … اور
نماز اور جہاد اس کلمے کی صداقت کی دلیل ہیں کہ… واقعی ہم نے دل سے کلمہ پڑھا
ہے … ایک روایت میں تو یہاں تک آتا ہے کہ… قیامت کے
دن اللہ تعالیٰ ہنستے ہوئے تجلّی فرمائیں گے اور ارشاد ہو
گا… اے مسلمانو! میں نے تم میں سے ہر ایک کے بدلے جہنم میں اُس کی جگہ کسی
یہودی یا نصرانی کو ڈال دیا ہے…
اللہ اکبر
کبیرا… یہ رحمت بھی اس اُمت کے افراد پر ہو گی… ہاں مگر یہ بھی احادیث
صحیحہ سے ثابت ہے کہ… اس اُمت کے کئی افراد بھی اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم
میں ڈالے جائیں گے… جہاںسزا بھگت کر پھر وہ جنت میں آئیں گے… یا اللہ
! جہنم سے آپ کی پناہ…
اللہ ، اللہ
، اللہ … رحمت یا اللہ ، رحمت
یا اللہ … جہنم بہت شدید ہے،بہت سخت ہے… بہت ہی مشکل
ہے…
اَللّٰھُمَّ
اَجِرْنَا مِنَ النَّار…
(۵) جو اللہ تعالیٰ سے اس حال
میں ملا کہ وہ دنیا میں کسی کو اللہ تعالیٰ کے برابر نہیں
سمجھتا تھا … پھر اگر اُس پرپہاڑوں کے برابر گناہ بھی ہوں گے تو اُسے
بخش دیا جائے گا…(رواہ البیہقی)
اعلان
کر دو مسلمانو! لا الہ
الا اللہ … اللہ تعالیٰ جیسا کوئی بھی
نہیں… وہ اپنی ذات میں بھی ایک… اپنی صفات میں بھی ایک… اپنی اطاعت
میں بھی ایک… نہ کوئی اُس کا شریک… نہ کوئی اُس کا مقابل اورنہ کوئی اُس
کا ہمسر…عبادت صرف اُسی کے لئے… جینا مرنا صرف اُسی کے لئے… قربانی صرف
اُسی کے لئے … صرف وہی مشکل کشا، صرف وہی حاجت روا… اور وہی محبوت
حقیقی… ہم اُسی سے ڈرتے ہیں… اُس جیسا ڈ ر کسی اور سے نہیں… ہم
اُسی سے محبت کرتے ہیں اُس جیسی محبت کسی اور سے نہیں… ہمارا دل بھی اُسی کے
لئے ،ہماری جان بھی اُسی کے لئے… اور وہ بہت رحیم ہے ، بہت رحیم ہے… بے
حد رحیم ہے… بہت مہربان…
میرے
سامنے اپنے عظیم رب کی رحمت کو بیان کرنے والی بہت سی… احادیث مبارکہ چمک رہی
ہیں… اللہ ، اللہ ، اللہ … اور اُن سے بڑھ کر
قرآن پاک کی بعض آیات جن میں بہت امید ہے … اور رحمت کا کھلا
پیغـام … مگرآج اتنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں… اے مسلمانو!
استغفاربہت بڑی نعمت ہے… یہ انسان کو ادنیٰ درجے سے اٹھاکر اونچے درجے تک لے
جاتاہے… اورگندے کاموں سے بچا کر اللہ تعالیٰ کے محبوب
اعمال میں لگاتا ہے… اور ناقص اعمال کو… کامل اعمال میں بدلتا ہے…
اللہ تعالیٰ
کی رحمت دل میں بٹھاؤ… اور استغفار کی صبح، شام رات دن اور سحری کے وقت
کثرت… ان شاء اللہ اجتماعی، اور انفرادی مسائل بھی حل
ہوں گے… اورہم اپنے عظیم رب کی رحمت کے بھی ان شاء اللہ مستحق
بن جائیں گے…
استغفر
اللہ الذی لا الہ الا ھوالحی القیوم و اتوب الیہ
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
کا ارشاد گرامی ہے:
واما
بنعمۃ ربک فَحدِّث (الضحیٰ،۱۱)
ترجمہ: اور
اپنے ربّ کی نعمتوں کا ذکر کرتے رہا کرو
حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ہے:
التحدّث
بالنعم شکرٌ وترکہ کُفرٌ
حضرت
شاہ عبدالعزیزرحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
’’اپنے
اوپر اور اپنے ساتھ وابستہ لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی جو
نعمتیں ہوں اُن کو ظاہر کرنا اور کہہ سنانا ’’سنت ‘‘ہے… مگر شرط یہ
ہے کہ نیت خالص ہو… اور وہ یہ
کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی نیت ہو اور دوسرے
لوگوںکو شکر کی ترغیب دینامقصود ہو… لیکن اگر کسی کو فخر اور خود پسندی کاڈر
ہو تو اُس کے لئے بہتر یہ ہے کہ وہ نعمت کو چھپائے اور کسی کو نہ
بتائے‘‘ (تفسیر عزیزی تسھیل)
تفسیر
عثمانی میں ہے:
’’مُحسن
کے احسانات کا بہ نیتِ شکر گزاری( نہ بقصد فخرو مباہات) چرچا کرنا
شرعاً محمود ہے‘‘ (تفسیر عثمانی)
قرآن
پاک حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ بیان فرماتے ہوئے اُن کا قول
ارشادفرماتا ہے:
وقال
یٰاَبت… الآیۃ
ترجمہ: اے
میرے ابّا جی! یہ میرے اُس پہلے خواب کی تعبیر ہے، اُسے میرے رب نے سچّا کر دکھایا
اور اُس نے مجھ پر احسان فرمایا جب مجھے جیل سے نکالا اورآپ لوگوں کو گاؤں سے
(یہاں) لے آیا، اس کے بعد کہ شیطان مجھ میں اورمیرے بھائیوں میں جھگڑا ڈال چکا
تھا… بے شک میرا رب جس کے لئے چاہتا ہے مہربانی فرماتا ہے،بے شک وہی جاننے
والا، حکمت والاہے۔ اے میرے رب! تونے مجھے حکومت دی ہے اور مجھے خوابوں کی تعبیر
کا علم سکھایا ہے۔ اے آسمانوں اور زمین کے بنانے والے! دنیا اور آخرت میں تو ہی
میرا کارساز ہے، تومجھے اسلام پر موت دے اورمجھے نیک بختوںمیںشامل کر دے(یوسف،۱۰۰،۱۱۱)
دو
دن بعد، بہاولپور کی’’ جامع مسجد عثمانؓ وعلیؓ‘‘ میں جماعت کے کارکنوں کا تربیتی
اجتماع شروع ہونے والا ہے… اللہ کرے قبول ہو، مقبول ہو اور کامیاب
رہے… ہم اپنے آپ کو جانتے ہیں… بے کار، ناکارہ، اور
نالائق… مگر اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اپنا فضل
فرماتا ہے آج سے بارہ سال پہلے یہی دسمبرکا مہینہ تھا اور رمضان المبارک کے مقدّس
ایام… تب نہ یہ جماعت تھی اور نہ اس کے مراکز… کوٹ بھلوال کی سخت جیل
تھی اور مشرکوں کی سختی… اور دور دور تک رہائی کا کوئی نام و نشان تک نہیں
تھا… جیل حکام اپنے قانون کے مطابق ہم میں سے ہر ایک کوگیارہ یا سترہ روپے کا
راشن ہر روز دیتے تھے… ہم خود لکڑیاں جلاتے، سالن بناتے اور روٹی پکاتے
تھے… صبح شام ہماری حاضری ہوتی تھی… رات کو چھوٹے چھوٹے سیلوںمیں دروازے
بند کر کے ہمیں ڈال دیا جاتا… اور صبح فجر کے بعد ایک مختصر سے صحن میں کھول
دیا جاتا… بس یہی ہماری دنیا تھی اور یہی ہماری
زمین… اللہ تعالیٰ مالک الملک ہے… جس پر چاہتا ہے زمین
کو کھول دیتا ہے اور جس پرچاہتا ہے بند فرما دیتا ہے… جیل منصوبوں اورسوچوں
کی جگہ ہے… جی ہاں! اونچی اونچی سوچیں… اور پھر اپنی بے بسی دیکھ کر دل
کاٹنے والی اُداسی… چھ سال کا عرصہ گزر چکا تھا اور ہر آنے والے دن کے ساتھ
قید کی رسیاں اور سخت ہوتی جارہی تھیں… اس عرصہ میں ہم سری نگر بھی رہے اور
اننت ناگ بھی… دہلی بھی ہو آئے اور تالاب تلوبھی… مگر ہر جگہ ہاتھوں
میں زنجیر، آنکھوں پر پٹی… اور جسم پر تشدّد… یہی دسمبر کا مہینہ رینگ
رینگ کر آگے بڑھ رہا تھا… اور سال تھا1999ء کا… ساری دنیا نئی صدی میں
داخلے کی تیاری میں تھی… جی ہاں اکیسویں صدی… اور ہم اپنے قید کے دن رات
کاٹنے کی فکر میں تھے… اچانک ایک خبر ریڈیو پر گونجی اور پھر گونجتی ہی چلی
گئی… انڈین ائر لائن کا ایک طیارہ اغواء کر لیا گیا ہے… جمال شہیدس
ریڈیو ہاتھ میںلیکر کبھی ادھر دوڑتا اور کبھی اُدھر… آہ جمال شہیدؒ! دو سال
ہوئے کہ جودھ پور کی جیل میں شہید ہو گیا… اُسے خبریں سننے، اُن پر تبصرہ
کرنے اور تبصرے لینے کا شوق تھا… خبر پہلے مبہم تھی اور پھر واضح ہوتی چلی
گئی… ہم اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کی جس نعمت کو دیکھتے
ہیں وہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہی نظر آتا ہے… اپنا
کوئی ذرہ برابر کمال ہو تو انسان سوچے… دشمن چاہتے تو اُن قیدیوں کو موت کے
گھاٹ اُتار دیتے جن کی رہائی کا مطالبہ… جہاز اغواء کرنے والے مجاہدین کر رہے
تھے… مگر اللہ تعالیٰ قوت اور قدرت والا ہے… ایک
ہفتے کی کشمکش کے بعد اکتیس دسمبرآپہنچا… مسلمانوں نے اس دن ایک اچھی خبر
سنی تھی اور ایک دوسری المناک خبر… جی ہاں! اُسی دن اسلام اور مسلمانوں کی
عظمت کا خواب بیدار رکھنے والے مسلمانوں کے مایہ نازمفکر… حضرت مولانا ابو
الحسن ندویؒ انتقال فرما گئے … اور اچھی خبر… اسلام اور مسلمانوں
کی فتح… تاریخ اسلام کا ایک روشن واقعہ کہ انڈیا نے مجاہدین کے سامنے گھٹنے
ٹیک د یئے… اور تین مسلمان قید سے رہا ہو گئے… الحمدللہ ، الحمدللہ … الحمد
للہ رب العالمین… آج بہاولپور کے اجتماع کا سوچا تو یہ پرانے مناظر اور بہت
سے منور چہرے آنکھوں کے سامنے آگئے… اللہ تعالیٰ کی کِس
کس نعمت کا شکرادا کریں… شُکر تو بڑی چیز ہے ہمارے لئے ان نعمتوں کو شمار
کرنا بھی ممکن نہیں ہے… ہاں افسوس ہے کہ بہت سی نعمتوں کی ہم قدر نہ کر
سکے… اللہ پاک نے احسان فرمایا کہ… ہمیں ایک’’جماعت‘‘
عطاء فرمائی… کراچی میں جماعت کے تین مقاصد کا اعلان ہوا اور دیکھتے ہی
دیکھتے… پاکستان اور کئی ممالک میں جماعت کا کام پھیل گیا… عجیب بات ہے
کہ… ظاہری حالات ہمیشہ ناموافق رہے… اور دنیا بھر کا کفر و نفاق ہمیشہ
مخالف رہا مگر… اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اُس کا فضل
کہ… جماعت کے مطلوبہ مقاصد حاصل ہوتے رہے… اور آج الحمدللہ سترہ سو شہداء کرام کی یہ جماعت… کلمہ،
نماز اور جہاد فی سبیل اللہ کی ایک مقبول تحریک بن چکی
ہے… گیارہ سال کے اس عرصہ میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں
کو دیکھتے ہیں تو بے اختیار زبان سے کلمہ طیبہ اور شکر ادا ہوتا ہے…
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ و
الحمدللہ رب العالمین…
اور
ان نعمتوں کے باوجود اپنی نالائقی اور نا اہلی کو دیکھتے ہیں تو دل اور زبان
استغفار میں مشغول ہوجاتے ہیں
اَسْتَغْفِرُ
اللہ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَالْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَاَتُوْبُ
اِلَیْہ…
آج
سے سات سال پہلے مجھے خیال گزرا کہ… اس بات کا اندازہ لگایا جائے کہ اب تک
جماعت نے کتنے افراد کو جہاد فی سبیل اللہ کی تربیت دی ہو
گی… دو ساتھیوں کو اس کام پر لگایا… ان میں سے ایک
کو اللہ تعالیٰ رہائی عطاء فرمائے کہ مشرکوں کی قید میں
ہے… اور دوسرے کی قربانی کو اللہ تعالیٰ قبول فرمائے
کہ… جام شہادت پی چکا ہے… ان دونوں نے رات دن محنت کر کے جو ابتدائی
فہرست تیار کی… اس کے مطابق ایک لاکھ بیس ہزار افراد کے نام سامنے
آئے… یہ سات سال پہلے کی بات ہے اور فہرست بھی مکمل نہیں بنی تھی
کہ… یہ کام روکنا پڑا… ہمارے ہاں کار گزاری محفوظ رکھنے کا رواج
نہیں… اور حالات نے بھی کبھی اس کا موقع نہیں
دیا… ورنہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھ کر بہت سے دل
ایمان کی حلاوت محسوس کرتے… شہداء کرام کا سلسلہ تو مسلسل جاری رہا…
الحمدللہ اُن کے مکمل کوائف محفوظ
ہیں… اور ان میں سے سینکڑوں کے گھروں کی کفالت کا کام بھی… گیارہ سال سے
جاری و ساری ہے… ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ … سب سے نمایاں نعمت جو اللہ تعالیٰ کے فضل
سے جماعت کو نصیب ہوئی… وہ دعوتِ دین، دعوتِ قرآن اور دعوتِ جہاد کا میدان
ہے… اس نعمت پر ہم اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کریں
کم ہے… بلامبالغہ ان گیارہ سالوں میں اللہ تعالیٰ کے
فضل و کرم سے جہاد کے موضوع پر… لاکھوں صفحات لکھے گئے، لاکھوں بیانات
ہوئے… اور بے شمار مسلمانوں تک دین ،قرآن اور جہاد کی دعوت
پہنچی… الحمدللہ ’’معرکہ‘‘ کا سفر’’ رنگ و نور‘‘ تک پہنچا… پندرہ روزہ
جیش محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے القلم تک کا سفر طے کیا… بنات
عائشہ، مسلمان بچے اور المرابطون بھی ہم رکاب رہے… فضائل جہاد سے فتح الجوّاد
تک اسلامی کتب خانے کو جہاد کے موضوع پر چالیس سے زائد مستند کتب نصیب
ہوئیں… آیات جہادکا نور ایسا چمکا کہ آنکھیں خیرہ ہو
گئیں… ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ …
آج
ہر گمراہ فرقہ… مسلمانوں کو مسجد اور مدرسہ سے کاٹ رہا ہے… پروفیسر قسم
کے نام نہاد اسلامی اسکالر… مسجد اورعلماء کے نام سے وحشت کھاتے ہیں… یہ
ٹی وی کے اسٹوڈیو، ہوٹلوں کے ہالوں اور عوامی مقامات پربیٹھ کر دین بیان کرنا پسند
کرتے ہیں… حالانکہ مسجد مسلمانوں کی’’ماں‘‘ ہے… مسلمانوں کو ہدایت سے لے
کر خلافت تک ہر نعمت مسجد ہی سے ملتی ہے… ضرورت تھی کہ جہاد کومسجد سے جوڑا
جائے اور مسلمانوں کو مسجد میں واپس لانے کی فکر کی جائے… الحمدللہ اس کے لئے اقامتِ صلوٰۃ کی مستقل دعوت
اٹھی… مساجد کی تعمیر کا اعلان ہوا… اور دیکھتے ہی دیکھتے الحمدللہ کئی مساجد آباد ہوگئیں… اور الحمدللہ ہزاروںلاکھوں مسلمانوں کا رُخ مسجد کی طرف پھر
گیا… مسلمان مسجد میںآتا ہے تو… اُسے پورا دین سمجھانا آسان ہوجاتا
ہے… آج بھی الحمدللہ ہماری دعوت کا دوسرا اہم ستون ’’اقامتِ صلوٰۃ‘‘
ہے… اے مسلمانو! نماز کو حاصل کرو… نماز نصیب ہو گئی تو نہ دنیا میں بے
سہارا رہو گے اور نہ آخرت میں… جس نے نماز قائم کی اُس نے دین کو قائم کیا
اور جس کی نماز برباد اُس کا دین اور سب کچھ برباد… الحمدللہ مسلمان اس دعوت کو سُن رہے ہیں، مان رہے ہیں اور
جوق در جوق مساجد کی طرف آرہے ہیں… بس افسوس اس کا ہے کہ محنت کرنے والوں کی
کمی ہے… دل میں تمنا تھی کہ… مسلمانوں کو قرآن پاک کی طرف بُلایا
جائے… قرآن پاک پر یقین، قرآن پاک سے محبت، قرآنِ پاک کی سمجھ… قرآن
پاک پر عمل، قرآن پاک کا ادب، قرآن پاک کی اشاعت، قرآن پاک کی دعوت… قرآن
پاک کا حفظ، قرآن پاک کا علم… قرآن پاک کا نفاذ… الحمدللہ خدمتِ قرآن کے ہر شعبے
میں اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا… اور الحمدللہ اب تک لاکھوں مسلمان قرآن پاک سے فیض یاب ہو
چکے ہیں… اور ہزاروں ہو رہے ہیں… چند دن پہلے بطور شُکر اس بات کا خیال
آیا کہ… جماعت کے اداروں سے اب تک حفظ قرآن کی سعادت حاصل کرنے والوں کی
تعداددیکھی جائے… ماشاء اللہ حیرت انگیز خوشی
ہوئی… الحمدللہ یہ تعداد سینکڑوں
میں ہے… آج الحمدللہ جہاد فی سبیل اللہ کی
برکت سے پوری دنیا میں تبدیلی کی فضا بن چکی ہے… کیمونزم ناکام ہو چکا
ہے … سرمایہ داری نظام آخری ہچکیاں لے رہا ہے… کیپٹل ازم اور
سوشلزم اپنی موت آپ مر رہے ہیں… اور مادرپدرآزاد جمہوریت اب دنیا کو قابل
قبول نہیں رہی… ہم نے اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر بہت
پہلے عرض کر دیا تھا کہ… دنیا کا نظام اور زمین کا رنگ بدل رہا ہے… اور
دنیا کا نقشہ بھی تیزی سے تبدیلی کی طرف بڑھ رہا ہے… آپ مشرق و مغرب میں
دیکھیں آپ کو زنجیریں ٹوٹتی اور کفر سسکتا نظر آئے گا… وہ جو ساری دنیا کو
غلام بنانے کا خواب دیکھ رہے تھے آج اپنی بقا کی جنگ لڑنے پر مجبور
ہیں… اللہ تعالیٰ جو عابد کی آنکھ کا آنسو ضائع نہیں
فرماتا… اُس کے نزدیک شہید کی گردن کے خون کی بہت قیمت ہے… شہداء اسلام
کا خون اقصیٰ سے حضرت بل تک دجلہ و فرات سے دریائے آموتک… اور کابل سے قفقاز
تک بہہ رہا ہے… اور مہک رہا ہے… دنیا کا طاغوتی نظام جسے ناقابل شکست
سمجھاجارہا تھا مکڑی کا جالا ثابت ہوا ہے… اب ضرورت ہے کہ مسلمان منظم ہو کر
اپنے کام کو تیز کر دیں… خود بھی کلمہ طیبہ پڑھیں اور سمجھیں… یہی کلمہ
کامیابی کا مدار اور سرفرازی کا راز ہے… اور یہی انسان کی زندگی کا حاصل اور
عمر کا بہترین سرمایہ ہے… دل سے کلمہ پڑھ کر مسلمان کلمے کا پہلا حکم نماز
زندہ کریں… نماز ہی سے کلمہ کی طاقت اور اللہ تعالیٰ
کی مدد مسلمان کو نصیب ہوتی ہے… اور پھر اس کلمے کی عظمت،سربلندی اور اشاعت
کے لئے… ہرمسلمان جان و مال کی قربانی کا عزم کرے… یاد رکھیں جان وہی
قیمتی جو اللہ تعالیٰ کے لئے لگ جائے اور مال وہی اچھا
جو اللہ تعالیٰ قبول فرما لے… آج ہی سے ہر مسلمان اس
محنت میں پوری طاقت کے ساتھ جُڑ جائے… ان شاء اللہ یہ
زمین بھی مسلمانوں کی ہے… اوردنیا اورآخرت کی کامیابی بھی… اہل ایمان کا
حصہ ہے…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا…
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ ’’ استقامت‘‘ عطاء فرمائے… شیطان پوری محنت کرتا ہے کہ… ہمارے
دلوں سے ایمان کی روشنی چھین لے… ماشاء اللہ مخلص مجاہدین کی
محنت ہر سطح پر اپنا رنگ دکھا رہی ہے… بلکہ اب تو اچھی طرح سے رنگ جما رہی
ہے… ایٹم بموں کے مالک’’مذاکرات‘‘ کے لئے غریب مجاہدین کو ڈھونڈتے پھر رہے
ہیں …اور ٹینکوں کے مالک ’’ابابیلوں‘‘ کے خوف سے کانپ رہے ہیں… ابھی تو
ان شاء اللہ دنیا بہت عجیب مناظر دیکھے گی… بہاولپور
میں’’دیوانوں‘‘ کا اجتماع ہوا… بڑے بڑے عقلمندوں کی عقلیں اُڑ
گئیں… ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ … بارک اللہ کیا
ایمان پرور مناظر تھے… ہم نے تو دور سے سنا اور محسوس کیا… وہ جو خود
شریک تھے اُن کی کیا حالت ہو گی… یقیناً انوارات اور اونچے جذبات کی بارش
تھی… جی ہاں باقاعدہ بارش… کوشش تھی کہ چار ہزار تک افراد
آجائیں… جگہ اور انتظام بھی اتنے ہی افراد کا تھا… دوہزار پہلے اجتماع
میں اور دو ہزار دوسرے میں… مگر پہلے میں ساڑھے تین ہزار اور دوسرے میں ساڑھے
چار ہزار… یعنی چار دن میں آٹھ ہزار افراد نے شرکت کی… حکومت مجاہدین
کو کھلے عوامی اجتماعات نہیں کرنے دیتی… ان آٹھ ہزار افراد کے جذبات دیکھ کر
صاف پتا چل رہا تھا کہ… اگر عمومی اور عوامی اجتماع ہو تو لاکھوں مسلمان فیض
یاب ہو سکتے ہیں… کبھی تو ان شاء اللہ ’’پابندیاں‘‘ ٹوٹیں گی اور
اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کو بھی زمین پر کوئی جگہ ملے گی… ہم الحمدللہ پُر امید ہیں، اچھے حالات کا انتظار کرنا اوراُن
کے لئے پُر امید رہنا بھی ایک عبادت ہے… گیارہ سالہ خوفناک صلیبی اور برہمنی
جنگ کو بیک وقت برداشت کرنے والے افراد…آٹھ ہزار کی تعداد میں جمع ہوئے تو ماشاء
اللہ اُن کے ایمان اور جذبے پہلے سے بھی زیادہ بلند تھے…دیکھا آپ نے
اللہ تعالیٰ کی قدرت اور شان کو… آج کل تو دو ماہ کی جنگ بڑے
بڑے لشکروں کا کچومر نکال دیتی ہے…اور چار مہینے کی پابندی بڑی سے بڑی جماعتوں کا
حُلیہ بگاڑ دیتی ہے… مگر آپ اس اجتماع کے بیانات سن لیں، نظموں کو سماعت
کریں یا نعرے سنیں… ذرہ برابر بھی محسوس نہیں ہوتا کہ یہ لوگ ایک چار رُخی
جنگ کے زخمی ہیں… وہ جو شہید ہو گئے وہ تو یوں لگتا تھا کہ اجتماع میں حاضر
ہیں… بار بار اُن کے تذکرے تھے اور اُن کے ہم ذوق نوخیز جوان ہر طرف گھوم پھر
رہے تھے… اور چند ایک ذکر و دعاء میں مشغول تھے… اوروہ جو بیٹھ گئے ان
کی کمی کسی نے محسوس نہیں کی… اللہ تعالیٰ نے ’’سورۂ محمد‘‘ کے
آخر میں اُن کا فیصلہ واضح الفاظ میں سنا دیاہے کہ… جہاد سے بیٹھنے اور
بھاگنے والوں کی کمی کبھی بھی محسوس نہیں کی جائے گی… اور یہ کہ وہ جو اُن کی
جگہ آئیں گے وہ بہت اچھے لوگ ہوں گے… پورا مسئلہ سمجھنا ہو تو قرآن پاک کے
چھبیسویں پارے کی’’سورہ محمد‘‘ کا اختتام پڑھ لیجئے… اسی خوف کی وجہ سے تو
آج کی مجلس کا آغاز’’استقامت‘‘ کی دعاء سے کیا ہے… اور آج کل پاکستان میں
جو سیاسی ماحول ہے اسے دیکھ کر مجھے تو…واقعی دین پر’’استقامت‘‘ کا بہت گہرا سبق
ملا ہے… زرداری صاحب بیمار تھے… مگر صدارت سنبھالنے واپس آگئے…اُن کو
معلوم ہے کہ یہ عہدہ عارضی ہے… آج نہیں تو کل اُن کو چھوڑنا ہی ہے… اور
یہ بھی اُنہیں معلوم ہے کہ اس عہدے کا اُنہیں آگے چل کر کبھی بھی کوئی فائدہ ملنے
والا نہیں…ہاں دنیا اور آخرت میں اس کی وجہ سے نقصان ہو سکتا ہے… دنیا میں
قید، پھانسی یا جلاوطنی… اورآخرت میں مظالم، لوٹ مار اور کتاب اللہ
نافذ نہ کرنے کی سزا… مگر پھر بھی وہ گرتے پڑتے لڑکھڑاتے واپس
آگئے… اور اب رات دن پھر ڈیوٹی دے رہے ہیں… ملاقاتیں، باتیں، صفائیاں،
دُھائیاں… پریشانیاں، بے خوابیاں… اور طرح طرح کے امراض… حالانکہ
اچھے خاصے مالدار ہیں… کچھ عرصہ پہلے اُن کے بعض اثاثوں کی تفصیل شائع ہوئی
تو میں نے اپنے کیلکولیٹر پر اُن کی زکوٰۃ کا حساب نکالا… کہ اگر کبھی اُن کو
اپنی قبر، آخرت کا دھیان آئے اور وہ زکوٰۃ نکالیں تو کتنی بنے گی… کافی دن
پہلے کی بات ہے اس لئے اچھی طرح تویاد نہیں مگر… سالانہ اربوں روپے صرف زکوٰۃ
کے بنتے تھے، یعنی مال کا چالیسواں حصّہ… اب اتنا مالدار آدمی چاہے تو زندگی
کے کچھ دن چلو آرام اور سکون سے ہی گزار دے… مگراقتدار اور عہدے کی ہوس چین
سے نہیں بیٹھنے دیتی… نہ کوئی مقصد ہے نہ کوئی مشن… نہ کوئی جذبہ ہے اور
نہ کوئی پروگرام صرف اور صرف چار دن کی چاندنی ہے… اور وہ بھی ایسی تکلیف دہ
کہ الامان الحفیظ… صبح صبح اٹھ کر بیوٹی پارلر میں… چہرے کی رگڑائی،
بالوں کی رنگائی، جُھریوں کی بھرائی اور کیا کیا… پھرسارا دن پروٹوکول کی
جکڑن… امریکہ کی رضا جوئی اور اپنی فوج اور ایجنسیوں کی منتیں اور
ترلے… رات گئے تک یہی سلسلہ… نہ آرام نہ سکون… نہ حال نہ
مستقبل… اہل دل کہتے ہیں کہ… شیطان جب کسی پر مسلّط ہوتا ہے تو اُس کے
اندر تین’’خارشیں‘‘ پیدا کر دیتا ہے… مال کی خارش، عہدے کی خارش اور نشے کی
خارش… جسے مال کی خارش ہو جائے وہ ساری زندگی مال جمع کرنے، مال بنانے، مال
کمانے ، مال گننے…اور مال بڑھانے میں لگا رہتا ہے… مگر دل پر لگی خارش کم
ہونے کا نام ہی نہیں لیتی… بلکہ مزید بڑھتی جاتی ہے اور بالآخر انسان اسی
میں مر کھپ جاتا ہے… یہی حال عہدے اور عزت کی خارش کا ہے… اس کی خاطر
لوگ اپنا سب کچھ قربان کر دیتے ہیں کہ… کسی طرح ہمیں منصب، عہدہ اور عزت مل
جائے … آرام غارت، سکون برباد اور طرح طرح کی ذلتیں… پرویز مشرف
کو دیکھ لیں اڑسٹھ سال کی عمر میں پھر اقتدار پانے کیلئے پاکستان آنا چاہتا
ہے… حالانکہ یہاں اُسے قید بھی ہو سکتی ہے اور موت بھی… اپنی مقبولیت کا
بھی اُسے پتہ ہے کہ کتنے جوتے یہاں اُس کے لئے تیار ہیں… مگر شیطان نے خارش
کا جو انجکشن لگایا ہے وہ چین سے بیٹھنے ہی نہیں دیتا… حالانکہ مسلمانوں کو
اور اُن کی زمین کو بیچ کر وہ اتنا مالدار ہو چکا ہے کہ… اپنی زندگی کے یہ
چندآخری دن دنیوی طور پر آرام سے گزار سکتا ہے … مگر گارڈ آف آنر
اور سیلوٹ کا شوق اُس کے بڑھاپے کو رسوا کرنے پرتُلا ہوا ہے…آپ یقین کریں پاکستان
کے ان تمام لیڈروںکے پاس نہ کوئی بامقصد مشن ہے… اور نہ کوئی دینی یا دنیوی
پروگرام…یہ بس اقتدار کی کرسی کا جھولا جھولنے کے مشتاق اور اپنے اثاثے
بڑھانے کے شوقین ہیں… عوام کی خدمت یا ملک کی حفاظت کا ان کے ہاں کوئی تصور
تک نہیں … ورنہ عمران خان سے لیکر نواز شریف تک یہ تمام لیڈر صرف اپنے
بڑھاپے کو ڈھانپنے کے لئے… روزآنہ جتنا پیسہ بیوٹی پارلروں میں خرچ کرتے
ہیں… اُس سے بھی سینکڑوں بھوکے افراد کو ’’روزگار‘‘ دیا جا سکتا
ہے… مُلک کی حفاطت کا ان سب کے نزدیک تصور بس اتنا ہے کہ… مُلک میں
مدرسے اور مسجدیں نہ ہوں کیونکہ ان کی وجہ سے مُلک بدنام ہوتا ہے… اوربھارت
سمیت ہرملک کے ہر مطالبے کو مان لیا جائے اور غیرت اور عزت کے نام پر پابندی لگا
دی جائے …ان سب کے بچے باہر ملکوں میں پڑھتے، پلتے اور بڑھتے ہیں… اور
یہ بھی ماہانہ بنیادوں پر باہر ممالک میں اپنی جائیداد کی دیکھ بھال کے لئے جاتے
ہیں… تیسری خارش جو شیطان اپنے غلاموں کو لگاتا ہے… وہ نشے کی خارش
ہے… شراب، چرس، ہیروئن، گانجا اور معلوم نہیں کیا کیا… ہم نے اگر دین پر
استقامت کا سبق سیکھنا ہو تو ان نشہ بازافرادکو دیکھ لیں… وہ نشے کو ہی اپنی
زندگی کا مقصد بنا لیتے ہیں اور پھر نشے میں بڑھتے جاتے ہیں بڑھتے جاتے
ہیں… اور اُن کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ نشے کی خاطر، نشے کی حالت میں جان دے
دیں… بہت عرصہ پہلے کی بات ہے ، کراچی میں مجھے ایک ہیرونچی کے ساتھ کئی
مجالس کا اتفاق ہوا… وہ ہمارے کسی دوست کا بھائی تھا اور اُس کی والدہ محترمہ
نے مجھے پیغام بھیجا کہ… آپ اس کی اصلاح کریں… وہ میری باتوں کو بہت
غور، فکر اور درد کے ساتھ سنتا مگرآخر میں… اپنا مقصد ہی حل
کراتا… جناب! آپ کی باتیں دل کو لگی ہیں مگر آج مجھے نشہ خریدنے کے پیسے دے
دیں بس اس کے بعد سچی توبہ… جناب ان باتوں نے تو میری سوچ ہی بدل دی ہے مگر
اس وقت میں ٹینشن میں ہوں کچھ پیسے دیں تاکہ… نشہ کر کے سیٹ ہو جاؤں اور آپ
کی باتوںپر غور کروں… شیطان کے یہ انجکشن بہت خطرناک ہیں… اللہ
تعالیٰ میری اور آپ سب کی ان سے حفاظت فرمائے… اور اللہ
تعالیٰ جب کسی بندے پر رحم فرماتا ہے تو اُس کے دل میں ایمان کی روشنی عطاء
فرما دیتا ہے…اور اُس کے قلب میں خدمت دین کا جذبہ پیدا فرما دیتا ہے… ایمان
اور جذبے کا یہ’’شعلہ‘‘ جس کے دل میں جس قدر روشن اور طاقتور ہوتا ہے… اُسی
قدر اُسے اپنی آخرت کے لئے محنت کی ہمت اور توفیق ملتی ہے… رسول پاک صلی
اللہ علیہ وسلم کی صحبت کی برکت سے… حضرات صحابہ
کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے قلوب میں جو شعلہ اور نور پیدا
ہوا… وہ بہت مستحکم اور مضبوط تھا… حالات بہت خطرناک اور تنگ ہو جاتے تب
بھی وہ شعلہ بلند رہتا … اورحالات بہت ہی زیادہ اچھے ہوجاتے تب بھی وہ
شعلہ سرد نہ پڑتا… حالانکہ عام عادت اس کے برخلاف ہے… جب حالات بہت تنگ
ہو جائیں تو دل کے جذبے عام طور پر مرجھا جاتے ہیں… اوراچھے خاصے لوگ دین کا
راستہ چھوڑکر امن کی راہیں ڈھونڈنے لگتے ہیں… اسی طرح جب حالات بہت کُھل
جائیں تب بھی دل کا شُعلہ ٹھنڈا پڑ جاتا ہے… مگر حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ
علیہم اجمعین کو دیکھیں… اُن پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹے… اللہ، اللہ ، اللہ… اُن
کی کس کس آزمائش کو یاد کیا جائے… یقینا ہم میں سے کوئی ایسا نہیں جو ان
آزمائشوں میں ثابت قدم رہ سکے… یہ اُن پر اللہ تعالیٰ کا خاص
انعام تھا… غزوہ اُحد کو دیکھیں… حضرت سیدنا عثمان ذی
النورین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے واقعہ کو دیکھیں… حضرت سیدنا
علی رضی اللہ عنہ پر آنے والی اُن کے دور خلافت کی آزمائشیں دیکھیں… ایسی
سخت آزمائشیں کہ پہاڑوں پر پڑیں تو اُن کو ریزہ ریزہ کر دیں… مگر حضرات
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نہ تو ایمان میں کوئی فرق آیا اور نہ اُن
کے جہاد میں اور کام میں کوئی کمزوری آئی… اب دوسری طرف آسانیوں کو
دیکھیں… ماشاء اللہ … مال کی اُن پر ایسی بوچھاڑ ہوئی کہ آج
کے حساب دان اُس مال کو شمار کرتے ہوئے پسینہ پسینہ ہو جاتے ہیں…روم کے خزانے،
فارس کے خزانے… آج کے مجاہدین کو اتنا مال مل جائے تو بعض افراد کو چھوڑ کر
دیگر کو جہاد کی خاطر تلاش کرنے کے لئے… مسجدوں کے لاؤڈ سپیکروں پر اعلان
کروانا پڑے… ایک ایک کے حصے میں سو، سو غلام… آج اگر کسی کو مل جائیں
تو کپڑے بھی خود نہ پہنے غلاموں کے ذمہ لگا دے… اُس زمانے کے غلام آج کے
نوکروں کی طرح نہیں تھے… بلکہ وہ مکمل طور پر انسان کی ملکیت ہوتے
تھے… پھر روم کی حسین و جمیل باندیاں، شرعاً بالکل حلال باندیاں… جی
ہاں! اُن کے حُسن و جمال کے تذکرے کتابوں میں ملتے ہیں… آپ کا ذہن نہ بھٹک
جائے اس لئے نہیں لکھتا… ایسی دوچار باندیاں آج کل کسی کو مل جائیں تو
وہ… ایمان، جہاد اور عبادات میں کس قدر سست ہو جائے؟… مگر آفرین ، ہزار
آفرین! حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر… اس قدر مال و دولت، اس
قدر غلام اور باندیاں اوراس قدر فراخی کے باوجود… نہ اُن کے ایمان میں کمزوری
آئی … نہ اُن کی عبادت میں کمی آئی… اور نہ اُن کے جہاد میں کوئی
رکاوٹ آئی… جب بھوک اور فاقہ کی وجہ سے اُن کے پیٹ پر پتھر بندھے تھے تب بھی
وہ مکمل جوش اور جذبے سے جہاد کرتے رہے… اور جب اُن کے تجارتی قافلے میلوں
لمبے تھے تب بھی وہ پہلے کی طرح جہاد میں لگے رہے… یہ حضرت سیدنا ابو ایوب
انصاری رضی اللہ عنہ ہیں… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم ان
کے گھر میں چھ ماہ معزز مہمان رہے ہیں… یہ چاہتے تو اسی سعادت کو اپنے گلے کا
ہار بنا کر آرام سے گھر بیٹھ جاتے… مگر وہ دیکھو! بڑھاپے کے عالم میں اسلامی
لشکر کے ساتھ ساتھ جارہے اور پھر آگے دیکھو! اُن کا جنازہ بھی لشکر کے
ساتھ ساتھ جا رہا ہے… بالآخر قسطنطنیہ کی دیوار کے پاس پہنچ کر مدفون
ہوئے… دل میں ایمان اور جذبے کا جو شعلہ تھا وہ قبر میں بھی منور
رہا… رات کو قبر سے ایسی روشنیاں اور انوارات لوگوں نے دیکھے کہ وہ پورا
علاقہ مسلمان ہو گیا… یہ حضرت مقداد بن اسودرضی اللہ عنہ ہیں… آقا مدنی
صلی اللہ علیہ وسلم کے قابل فخر شہسوار… یہ بڑھاپے میںملک شام کے
شہر’’حمص‘‘ بیٹھے جہاد میں نکلنے کا انتظار فرما رہے ہیں… یہ حضرت ابو
سفیان رضی اللہ عنہ ہیں… مکہ کے تاریخی سردار، بہت دیر سے مسلمان
ہوئے مگر ایمان اور جذبے کی جو شمع دل میں روشن ہوئی… وہ بہت مستحکم اور مضبوط
تھی… انتہائی بڑھاپے میں جب آنکھیں بھی زیادہ کام نہیں کر رہی تھی اسلامی
لشکر کے ساتھ ساتھ یرموک تک پہنچے ہوئے ہیں… ایک لڑائی میں مسلمانوں کے پاؤں
اُکھڑے تو یہی حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ بڑا سا لٹھ لیکر کھڑے ہو گئے اوربھاگنے
والوں کو مار مار کر میدان جنگ کی طرف لوٹا رہے تھے… اور یہ ہیں رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مایہ ناز خطیب… حضرت ثابت
بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ … بڑھاپے میں بے جگری سے لڑ رہے
ہیں… اورپھر زمین میں گڑھا کھود کر اس میں کھڑے ہوئے ہیں کہ میدان جہاد سے
پاؤں پیچھے نہ ہٹیں… کِس کِس کو یاد کیا جائے؟… ہرایک دوسرے سے بڑھ کر
ہے… اورتو اور نابینا سعادت مند صحابی… جن کا تذکرہ قرآن پاک میں مذکور
ہے… بڑھاپے کے عالم میں کُوفہ کی لڑائی میں اپنی لمبی زرہ باندھے… اُسے
شوق جہاد میں لشکروں کے درمیان گھسیٹتے پھر رہے تھے… ہاں میرے بھائیو! ایمان
اور جذبے کی شمع اگر دل میں مضبوط اور مستحکم ہو تو… پھر نہ کوئی تکلیف انسان
کو بے کار بناتی ہے… اور نہ مال، شادی اور کاروبار انسان کو غافل کرتے
ہیں… سیاستدانوں کو دیکھو!… ایک بے مقصد گناہ کے لئے دن رات خود کو تھکا
رہے ہیں… مالداروں کو دیکھو!…بے کار پیسے کے لئے جو پوری زندگی اُن کے کام
نہیںآتا… رات دن خود کو کھپارہے ہیں… نشہ بازوں کودیکھو!… چند منٹ
کے نقلی سکون اور خود فراموشی کے لئے… نشے کے ساتھ ہمیشہ کے لئے جڑے رہتے
ہیں… تو پھر… کلمے اور جہاد والے کیوں تھک جاتے ہیں؟… اپنے رب کی
رضا کے طالب کیوں میدان سے بھاگ جاتے ہیں؟… حورعین اور شراب طہور کے متوالے
کیوں حالات سے گھبرا کر بیٹھ جاتے ہیں؟… ارے بھائیو! اسی کام میںکامیابی
ہے… اور اسی کام میں سعادت ہے… ’’کلمہ طیبہ‘‘ سے اونچی کوئی چیز
نہیں… نماز سے اونچا کوئی کام نہیں… جہاد سے اونچا کوئی عمل
نہیں… اجتماع میں آپ نے وعدہ کیا… اب اس وعدے کو نبھائیں… مسلمان
متوجہ ہیں اور بات سُن رہے ہیں… اللہ تعالیٰ کی نصرت ہر طرف
مجاہدین کے ساتھ نظر آرہی ہے… اب اپنے دل کے شعلے کو بجھنے نہ دو… نہ
ہی بُرے حالات سے مایوس ہو کر… اور نہ ہی اچھے حالات میں غافل ہو
کر… ہاں شیطان پورا زور لگا رہاہے کہ اس روشنی کو بجھا دے… اسی لئے اپنے
رب سے ہم سب استقامت مانگیں… یا اللہ استقامت نصیب فرما…
آمین
یا ارحم الراحمین
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا…
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ میری اور آپ سب کی جادو اور جادوگروں سے… نجومیوں، دست شناسوں اور
قسمت بتانے والے عاملوں اور پروفیسروں سے حفاظت فرمائے… یہ سب ایمان کے ڈاکو
اور جہنم کے ٹریول ایجنٹ ہیں… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم نے صاف صاف سمجھا دیا ہے کہ… جو کسی کاہن، نجومی اور غیب کی
خبریں دینے والے کے پاس جائے گا تو اُس نے’’کفر‘‘ والا کام کیا… اور ایسے
آدمی کی نماز چالیس دن تک قبول نہیں ہو گی… بات آگے بڑھانے سے پہلے ایک
دلچسپ بات سن لیں… کہتے ہیں کہ پُرانے امریکہ میں آج سے پانچ ہزار ایک سو
پچیس سال پہلے اُس زمانے کے بڑے بڑے نجومی جمع ہوئے… ا نہوں نے ستاروں کی چال
ڈھال میں مغزماری کے بعد یہ پیشین گوئی کی کہ…۲۰۱۲ء میں یہ دنیا
ختم ہو جائے گی… یعنی2012ء اس زمین کی زندگی کاآخری سال ہو گا… لیجئے
کل سے2012ء شروع ہے… ہم تو نجومیوں کو اور ان کی پیشین گوئیوں کو نہیں
مانتے… جومانتے ہیں وہ اپنی زندگی کا بلکہ زمین کی زندگی کاآخری سال گزار
لیں… کر لے جو کرنا ہے آخر موت ہے… ان نجومیوں نے جوکیلنڈر بنایا تھا
وہ ’’مایا کیلنڈر‘‘کہلاتا ہے اور بازاروں سے مل جاتاہے… عجیب بات ہے کہ لوگوں
کوآگے کی خبریں جاننے کا معلوم نہیں کیوںاتنا شوق ہوتاہے… شیخ سعدی رحمۃ
اللہ علیہ نے ’’گلستان‘‘ میں قصہ لکھا ہے کہ ایک مشہور نجومی تھا لوگوں کو اُن کے
مستقبل کے حالات بتاتاتھا مگر خود اُس کی بیوی’’بدکار ‘‘تھی… ایک بار نجومی
گھر آیا توبیوی کسی کے ساتھ تھی… آواز سُن کر اُس نے اپنے’’یار‘‘ کو
چارپائی کے نیچے چھپا دیا… اور غیب کی خبریں بتانے والے نجومی کو پتا ہی
نہیںچلا… تب کسی نے ایک شعر کہا کہ… تجھے آسمان کے ستاروں کی چال کاکیا
پتا؟ تو تو یہ بھی نہیں جانتا کہ تیری چارپائی کے نیچے کون ہے؟… نجومی اور
کاہن کی کمائی بالکل حرام کی ہوتی ہے… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم نے خود اس کی حُرمت کو بیان فرمایاہے… ایسی حرام کمائی گھر
آئے گی تو بیوی اور اولاد کا کردار کیاہو گا؟… یہ بات سمجھنا مشکل نہیں
ہے… پندرہ بیس سال پہلے ’’پی آئی اے‘‘ میں ایک ملازم تھا… اُسے دعویٰ
تھا کہ ہاتھ کی لکیروں سے قسمت کا حال دیکھ لیتا ہے… کیا پائلٹ اور کیا ائیر
ہوسٹس سب اُس کے ارد گرد منڈلاتے تھے اور اپنا ہاتھ اُسے دکھاتے تھے… ایک دن
جہاز اُڑا اور پھر حادثے میں اُڑ گیا وہ صاحب بھی جہاز میں تھے… ہاتھ کی
لکیروں اور غیبی علم نے اتنا نہ بتایا کہ بابا!آج کی فلائٹ میں اڑان نہ بھرو… تھوڑا
ساسوچیں… دنیا کے سارے نجومی، عامل، کاہن اور عرّاف اپنے اپنے وقت پر مر
گئے… اکثر نے ناکام زندگیاں گزاریں… پھر اس باطل علم نے انہیں کیا فائدہ
دیا… اور پھر جادو… یا اللہ توبہ، یا اللہ
پناہ… کسی بھی دل میں ایمان اور جادو ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے… ایمان
ہوگا تو جادو نہیں رہے گا اور جادو ہو گا تو ایمان نہیں رہے گا… فرعون کے
جادوگروں کے دلوں میں’’جادو‘‘تھا تو وقت کے ’’پیغمبر‘‘ کے مقابلے میں آکھڑے
ہوئے… اور پھر جب ایمان دل میں آیا تو جادو کا ایک ذرہ بھی نہ رہا… تب
سیدھے فدائی مجاہدین بن گئے اور فرعون کو للکارنے لگے… جا! جو کچھ کرنا ہے کر
لے ہم ایمان سے ایک قدم دستبردار نہیں ہو سکتے… ہاتھ پاؤںکٹ گئے، سولیوںپر
لٹک گئے مگرایمان نہ چھوٹا… ایسے کامیاب ہوئے کہ رشک آتاہے… قرآن پاک
نے بار بار اس قصہ کو سنایا اور سمجھایا… کامیابی جادو میں ہے یا ایمان
میں؟… اس قصہ کو پڑھنے کے بعد کوئی نام کا مسلمان جادو کرتا ہے، یا جادو
کراتا ہے… یا جادو سیکھتا ہے یا جادوگروں کے پاس جاتا ہے تو پھر ایسے بد نصیب
کا کیا علاج؟… دنیا میں تکلیفیں تو ہر کسی پر آتی ہیں… اور یہ تکلیفیں
گناہوں کومعاف کراتی ہیں اور درجات کو بلند کراتی ہیں… یہ تو جائزنہیں کہ
تکلیف کو دور کرنے کیلئے انسان کفر اور شرک والے کام کرنے لگے اور ایمان جیسی عظیم
نعمت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے… آج پاکستان کی پوری سیاست نجومیوں، پروفیسروں
اور جعلی عاملوں کے زور پر کھڑی ہے… زرداری صاحب کے اپنے نجومی اور عامل
ہیں… روزانہ ایوان صدر میں کالا بکراذبح ہوتا ہے… شریف برادران کے اپنے
نجومی اور عامل ہیں جو اُن کو چھبیس سال کے لئے وزیراعظم بنانے پر تلے ہوئے
ہیں… اور عمران خان کے اپنے پروفیسر اور نجومی ہیں جو آئندہ کی پیشین گوئی
اور مستقبل کا علم رکھنے کے دعویدار ہیں… توبہ، توبہ،توبہ… کس درجہ
شرمناک کیفیت ہے کہ… مسلمان کہلانے والے بھی اللہ تعالیٰ کے
سامنے جھکنے کی بجائے ان شرکیہ توہمات میں لگے ہوئے ہیں… ان نجومیوں اور
پروفیسروں سے یہ کوئی نہیں پوچھتا کہ اگر آپ لوگوں کے پاس ایسی تأثیر ہے تو پھر
آپ خود کیوں نہیں صدر اور وزیراعظم بن جاتے… یا کسی غریب کو اس عہدے پر کیوں
نہیں لے آتے… سچ یہ ہے کہ یہ لوگ ایک کھجور کی گٹھلی بھی نہیں بنا سکتے اور
نہ ہی ان کو اپنی چارپائی کے نیچے کی خبر ہے… بس لوگوں میںحرص اور ہوس زیادہ
ہوگئی ہے اور یہ نفسیات کے ماہر اُن کو بیو قوف بناتے ہیں… دوسری طرف امریکی
سی آئی اے نے بھی کئی بزرگ اور دانشور اسلام آباد ، لاہور اور آس پاس کے
علاقوںمیں بٹھا دیئے ہیں… یہ حضرات ٹیکنالوجی کے زور پر کرامتیں دکھاتے ہیں
اور سیاستدانوں اور مالداروں کو شکار کرتے ہیں… قصہ مشہور ہے
کہ … کشمیر کے ایک پیر صاحب کو کسی نے ایک’’ٹارچ‘‘ یعنی بیٹری لادی… اُس
زمانے میں یہ چیزیں لوگوں نے نہیں دیکھی تھیں… وہ پیر صاحب نیم تاریک کمرے
میں بیٹھ کر اپنے مریدین پر توجہ ڈالتے اور پھر کسی ایک کو فرماتے… کیا آج
ہم تمہیں’’نور‘‘ دکھا دیں؟… پھر اس مرید کا سر اپنے فرن، کرتے اور جیکٹ کے
اندر اپنے سینہ پر لاتے اور اندر وہ ٹارچ جلا دیتے … روشنی دیکھ کر مرید
کا تو عجیب حال ہوجاتا اور وہ اس نور کے بارے میں ہر جگہ بتاتا پھرتا… یوں
پیر صاحب کا حلقہ وسیع تر ہوتا گیا… ایک بار تو ایک مرید نے اس نور کو دیکھ
کر زور سے نعرہ لگایا اور جان دے دی… یوں پیر صاحب کی جعلی کرامت’’قاتل‘‘ بھی
بن گئی… آج کل بھی لوگوں کے فون ٹیپ کئے جاتے ہیں… مختلف ذرائع سے اہم
شخصیات کے فون نمبر حاصل کئے جاتے ہیں… این جی اوز کی خواتین کے ذریعہ اہم
شخصیات کو کمزوریوں میں پھنسایا جاتا ہے … تب اچانک کسی دن فون کی گھنٹی
بجتی ہے کہ… بیٹا! میں فلاں پروفیسر بول رہا ہوں، آپ میں فلاں کمزوری ہے اور
آپ کو فلاں مسئلہ درپیش ہے، آپ یہ عمل کریں تو جلد ترقی ہو جائے گی… اور
فلاں پریشانی دور ہو جائے گی… وہ آدمی سر پکڑ کر رہ جاتا ہے کہ… یہ بات
تو بہت خاص اور پرائیویٹ تھی ’’حضرت‘‘ کو کیسے پتا چل گیا… اور پھر چند دن
بعد پریشانی بھی ختم کرا دی جاتی ہے اور ترقی بھی کرا دی جاتی ہے اور یوں وہ افسر
یا تاجر اُس عامل یا پروفیسر کا غلام بن جاتا ہے… آج آخرت سے غافل لوگوں کو
اور کیا چاہئے؟… پیسہ، عورت ،عہدہ اور آگے کے سہانے خواب… یہ تمام کام
سی آئی اے کی مدد سے وہ پروفیسر آسانی سے کرادیتے ہیں… جبکہ سامنے والا اسے
روحانی تصرفات سمجھتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ وہ بھی ان پروفیسروں کے کام آنے
لگتا ہے … ابھی آج ہی کی خبر پڑھ لیں… امریکی سفارتخانے نے تین
افراد پر مشتمل ایک’’سیل‘‘ قائم کیا ہے… یہ سیل پاکستان میں جہادی نظریات کے
خلاف کام کرے گا… ابتدائی طور پراُسے پچاس لاکھ ڈالر دیئے گئے ہیں اور یہ رقم
اُن اعتدال پسند علماء اور اسلامی اسکالروں کو دی جائے گی جو جہاد کے خلاف مؤثر
آواز اٹھائیں گے… دیکھا آپ نے مجاہدین اور جہاد کی برکت کو… اب پچاس
کروڑ روپے کی یہ رقم اُن کی برکت سے کئی نام نہاد پیروں، پروفیسروں اور اسکالروں
کے کام آئے گی… اور ان شاء اللہ جہاد کا کچھ نہیں بگڑے
گا… گزشتہ دس سال میں جہاد کے خلاف پانچ سو ارب ڈالر سے زائد رقم خرچ کی جا
چکی ہے… مگر جہادمزید ترقی ہی کر رہا ہے… پانچ سو ارب ڈالر کے کتنے روپے
بنیں گے آپ خود حساب کر لیں… ہماری حکومت عنقریب ایک ڈالر کی قیمت ایک سو
روپے پاکستانی مقرر کرنے کا اعلان کرنے والی ہے… ہندوستان میں تو ویسے ہی شرک
کا راج ہے… وہاں کے حکمران، سیاستدان اور فنکار تمام ہی نجومیوں اور کاہنوں
کا سہارا لیتے ہیں… اکثر سیاستدانوں نے اپنے ذاتی نجومی رکھے ہوئے ہیں جو دن
رات اُن کو قسمت کا حال سناتے بتاتے رہتے ہیں… آندھرا پردیش کا ایک سابق
فلمسٹار’’این ٹی راما راؤ‘‘ جب آندھرا پردیش کا وزیراعلیٰ بنا تو اُس کے نجومیوں
نے اُسے بتایا کہ اسمبلی ہال کا دروازہ جس سمت میں ہے وہ سمت اُس کے لئے’’منحوس‘‘
ہے…یہ سنتے ہی اُس نے حلف برداری کی تقریب منسوخ کرادی اور تیرہ لاکھ روپے خرچ کر
کے دروازے کو دوسری سمت میں لگوایا… پھر چند دن بعد اُس کے نجومیوں نے کہا کہ
آپ وزیراعلیٰ سے بڑھ کر وزیراعظم بن سکتے ہیں… مگراس کے لئے آپ کو تین ماہ
تک رات کو عورتوں والا میک اپ کرکے اور ساڑھی پہن کر سوناہوگا… وہ تین ماہ تک
یہ ذلّت ناک مشقت بھی برداشت کرتا رہا… مگر ابھی نو ماہ ہی ہوئے تھے کہ
اسمبلی میں بغاوت ہوگئی اور اُسے معزول کر دیا گیا… اور چند دن بعد وہ
مرگیا… ہمارے قریبی شہر’’لودھراں‘‘ کا ایک ہندو برہمن… کرشن لال شرما
ہندوستان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا نائب صدر تھا… اُس نے جب اپنی سترویں
سالگرہ منائی تو نجومیوں نے نامعلوم کتنی آگ ، کتنا گھی، کتنی موم بتیاںجلا کر
کوئی عمل کیا اور اُسے بتایا کہ ابھی آپ کی زندگی… اور لمبی ہو گی… مگر
اس سالگرہ کے چند دن بعد وہ مر گیا… دراصل شیطان، انسان کا کھلا دشمن
ہے… اورشیطان کا پہلا حملہ انسان کے عقیدے پر ہوتا ہے… اور انسان جب
اپنی ذاتی غرض کا غلام بن جائے تو وہ بہت جلدہر کفر، ہر گندگی اور ہر غلاظت میں
جاپڑتا ہے… حضرات انبیاء علیہم السلام بھی بیمار ہوئے… مگر
انہوں نے سمجھایا کہ بیماری کو دور کرنے کی اتنی فکر نہ کرو کہ حرام کام یا حرام
عقیدے میں جا پڑو، حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری کاتذکرہ قرآن پاک میں
ہے… ہمارے آقاحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بخار ہوا، زخم
پہنچے… سمجھایا گیا کہ یہ سب کچھ ہرانسان کے ساتھ ہوتا ہے… انسان کو
چاہئے کہ… جائز علاج ،دعا اور صدقہ کرے، اللہ تعالیٰ پرتوکل
کرے… اور صبر کرے… ان تین کاموں کے علاوہ کسی اور مصیبت میں گرفتار نہ
ہو… لیکن جن پرشیطان سوار ہو وہ اُن کی بیماری کو بھی اُن کے جہنم میں لے
جانے کا ذریعہ بنا کر دم لیتا ہے… مُرارجی ڈیسائی انڈیا کا سابق وزیراعظم بیماری
سے حفاظت کے لئے اپنا پیشاب پیتا تھا… اسی طرح نام کے مسلمان کئی افرادبھی
بیماری ختم کرنے کے لئے نہ کفر سے باز آتے ہیں نہ شرک سے…جو کچھ بھی بن پڑے بس
بیماری ختم ہونی چاہئے… ان لوگوں میں اتنی بھی عقل نہیں جتنی اُس غریب، مسکین
حبشن خاتون میں تھی جن کو مرگی کامرض تھا… وہ بے ہوش ہو کر گر پڑتی تھیں اور
جسم سے کپڑے بھی ہٹ جاتے تھے… آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سے
اپنی پریشانی عرض کی… ارشاد فرمایا: چاہو تو دعاء کرتا ہوں کہ اللہ
پاک بیماری ختم فرما دے اور چاہو تو صبرکر لو اور اس کے بدلے میں جنت ملے… سبحان
اللہ ! عقل اسے کہتے ہیں کہ ہمیشہ ہمیشہ کے فائدے کو دیکھ کر چند دن کی
تکلیف کوبرداشت کرنے کا فیصلہ کیا… بس اتنی دعاء ہو جائے کہ جب بے ہوش ہو کر
گروںتو کپڑے جسم سے نہ ہٹیں تاکہ بے پردگی نہ ہو… حضرات صحابہ کرام رضوان
اللہ علیہم اجمعین ایک دوسرے سے فرماتے تھے کہ… دنیا میں کوئی پکا جنتی
دیکھنا ہے تو اس خاتون کو دیکھ لو… آج ایک طرف علاج میں اتنا مبالغہ کیا
جاتا ہے کہ روز نیا ڈاکٹر، روز نیا حکیم … جائیدادیں بک جاتی ہیں اور
قرضوں کے لئے ہاتھ پھیلائے جاتے ہیں… چلیں علاج تو جائز ہے… مگر پھر
معاملہ کفر اور شرک تک پہنچنے لگتا ہے… نجومیوں، عاملوں، پروفیسروں کے
چکر… مزاروں کی حاضریاں اور طرح طرح کے غیر شرعی کام… اے مسلمانو! ایمان
اور توحید کا عقیدہ بہت قیمتی ہے بہت ہی زیادہ قیمتی… اگر ساری زندگی بیماری
کا دکھ جھیلنا پڑے مگر ایمان سلامت رہے تو یہ بڑی کامیابی ہے… لیکن اگر ایمان
چھن گیا تو کیا بنے گا؟… ہمیشہ ہمیشہ کا عذاب… اور عذاب بھی ایسا کہ بس
اللہ تعالیٰ کی پناہ… اللہ کیلئے اپنے ایمان اور
عقیدے کی حفاظت کرو… نفع اور نقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ
ہے… بیماری اور صحت کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے… خیر اور شر
کی تقدیر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے…کل کیا ہو گا؟ اس کی اصل حقیقت
اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا… کوئی نجومی،دست شناس اور
قسمت بتانے والا عامل سچی باتیں بھی بتائے تب بھی اُس کی بات کا اعتبار نہ
کرو… سچ تو شیطان بھی کبھی کبھار بول لیتا ہے… یہ لوگ ہواؤں میں اڑیں
یا سمندر پر چلیں تو ان سے متاثر نہ ہو… اُن لوگوں سے بہت دور رہو جو آگے کے
حالات اور مستقبل کی پیشین گوئیاں کرتے ہیں… یہ ایمان کے ڈاکو ہیں… اور
ان میں سے بہت سے شیطان اور کفار کے ایجنٹ ہیں… قرآن پاک نے ہمیں ماضی بھی
بتادیا ہے اور مستقبل بھی… اچھائی اور خیر کا راستہ بھی دکھا دیا ہے اور شر
اور برائی سے بچنے کے طریقے بھی بتا دیئے ہیں… دنیا کا کوئی جادو، کوئی کلام،
کوئی عمل قرآن پاک کے مقابلے کی طاقت نہیں رکھتا… اللہ والوں کے
کشف اور اُن کی کرامات کا انکار نہیں… مگر اللہ والے کبھی بھی
لوگوں کو آخرت سے غافل کر کے قسمت جاننے کی فکر میں نہیں لگاتے…اے مسلمانو! اس
بات کی فکر نہ کرو کہ کل کیا ہوگا… ہاں اُس کی فکر کرو کہ ہم کل بھی ایمان پر
قائم رہیں… اس بات کی فکر نہ کرو کہ اس تجارت کا کیا انجام ہو گا؟… ہاں
اس کی فکر کروکہ تجارت شریعت کے مطابق ہو اور اُسے شروع کرنے سے پہلے خود استخارہ
کرلو… اس بات کی فکر نہ کرو کہ یہ سفر کیسا ہوگا؟… ہاں اس کی فکر کرو کہ
سفر شریعت کے مطابق ہو اور سفر سے پہلے صلوٰۃ الحاجۃ اور صلوٰۃ استخارہ ادا
کرلو… یاد رکھنا موت کو کوئی نہیں ٹال سکتا اور نہ کسی کے علم میں ہے کہ موت
کس وقت آئے گی… ایک مؤمن کو بس اس کی فکر کرنی چاہئے کہ مجھے ایمان پر موت
آئے اور میرا خاتمہ اچھا ہوجائے… ارے بھائیو اور بہنو!… وہم سے نکلو،
لکیروں سے نکلو، تعویذوں سے نکلو… اور اپنے اُس عظیم رب پر توکل کرو وہ رب جو
ہر چیز پر قادر ہے… دل چاہتا تھاکہ آج وہ تمام احادیث مبارکہ لکھ دوں جو
ہمارے مہربان، محسن اور حقیقی خیر خواہ حضرت آقامدنی صلی اللہ علیہ
وسلم نے نجومیوں اور کاہنوں سے اپنی پیاری اُمت کو بچانے کے لئے ارشاد
فرمائی ہیں… ان شاء اللہ کسی ساتھی کے ذمہ لگادوںگا کہ وہ آج کے
اخبار یا اگلے ہفتے اُن احادیث مبارکہ کو لکھ دے… آج مسلمانوں کی توہم پرستی
اور مفاد پرستی دیکھ دیکھ کر دل رو رہا ہے… بس اس دنیا کے حقیر سے فائدے کے
لئے ایک مسلمان کفر اور شرک کے کاموں میں جا پڑے یہ بات ناقابل فہم ہے… مجھے
کوئی ایک مسلمان ایسا بتاؤ! جس کو کسی نجومی، یا جعلی عامل سے کوئی حقیقی فائدہ
پہنچا ہو… طرح طرح کی انگوٹھیاں، طرح طرح کے پتھر اور طرح طرح کے
دھاگے… ایک صاحب ایک بار کچھ مدد مانگنے کے لئے آئے اور ہاتھ میں کالا
دھاگہ… جس طرح ہندو اور باطل پرست باندھتے ہیں… اُن کو سمجھایا تو
انہوںنے دھاگہ اُتار دیا… اگرا س دھاگے میں کچھ ہوتا تو اُن کو مدد مانگنے کے
لئے لوگوں کے دروازے پرکیوں جانا پڑتا؟… بوڑھے بوڑھے لوگوں کو دیکھا کہ چار
چار انگوٹھیاں… ارے صاحب کس لئے؟… جی قسمت جگانے والی ہیں… اناللہ
وانا الیہ راجعون… اب جبکہ دنیا سے جانے کا وقت ہے شیطان نے قسمت کی فکر میں
پھنسا رکھا ہے… جبکہ موت کا دھیان تک نہیں… قبر میں کیا بیتے گی اس کا
خیال تک نہیں… انہیں نجومیوں اور جعلی عاملوں کی وجہ سے گھر گھر جھگڑے، گھر
گھر فسادات اور اللہ تعالیٰ کی عظیم نصرت سے محرومی… مجھے کوئی
ایک ایسا مسلمان بتائیں جسے ان نجومیوں اور جعلی عاملوں سے کوئی حقیقی فائدہ ہوا
ہو؟… جو بھی ان کے پاس جاتا ہے زندگی بھر کے لئے نجومیوں اور جعلی عاملوں کا
مستقل غلام بن جاتا ہے… حالانکہ علاج تو یہ ہے کہ ٹھیک ہو جائیں اور دوبارہ
نہ جاناپڑے، اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور دیکھو کہ… کل
قیامت کے لئے کیا اعمال بھیج چکے ہو… اے مسلمانو! کلمہ طیبہ سے تعلق مضبوط
بناؤ اس سے طاقتوروسیلہ اور ذریعہ اور کوئی نہیں… اے مسلمانو! نماز کی حفاظت
کرو، نماز کو قائم کرو… یہ اللہ تعالیٰ سے اپنا ہر مسئلہ حل
کرانے کا ذریعہ ہے… اے مسلمانو! جہاد فی سبیل اللہ کو مانو اور
جہاد میں اپنی جان لگاؤ، جہاد میں اپنا مال لگاؤ… کامیاب ہو جاؤ
گے… جی ہاں رب کعبہ کی قسم کامیاب…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا…
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو اپنا’’فضل‘‘ عطاء فرمائے… آپ نے خبر بلکہ خوشخبری
سُن لی ہو گی کہ امریکہ نے ’’ملاّ فضل‘‘ صاحب کو رہا کر دیا ہے… ایک گرفتار
امریکی فوجی کے بدلے پانچ طالبان رہنماؤں کو گوانتا نا موبے کے عقوبت خانے سے رہا
کرنا طے پایا ہے… ملّا فضل اخوند، ملّا خیر ا ﷲ خیر خواہ، ملا
نورالدّین… یہ تین حضرات رہا ہو کر ’’قطر‘‘ پہنچ چکے ہیں… و الحمدللہ رب العالمین… ملّا فضل اخوند امارتِ
اسلامیہ افغانستان کے سپہ سالار یعنی آرمی چیف تھے… مخلص، جانباز، بہادراور
صاحبِ عزیمت… سقوطِ قندوز کے وقت دوستم کی بدعہدی کا شکار ہوئے… اور
اتنے بڑے عہدے کے باوجود دوسرے عام قیدیوں کی طرح گوانتا نا موبے کے مظلوم قیدی
بنے… یہ تین حضرات تو رہا ہوچکے باقی دو مزید افراد رہا ہونے
ہیں… اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے… قرآن
پاک میں اللہ تعالیٰ نے ہمیںحکم فرمایا ہے کہ… ہم اللہ
تعالیٰ سے اُس کا ’’فضل‘‘ مانگا کریں…
وَاسْئَلُوااللّٰہَ
مِنْ فَضْلِہٖ … (النساء ،۳۲)
یعنی
اللہ تعالیٰ سے اس کا ’’فضل‘‘ مانگتے رہو۔
قرآن
پاک کی یہ آیتِ مبارکہ’’حسد‘‘ کے موذی مرض کا علاج ہے… قرآن پاک کا پانچواں
پارہ کھولیں اور سورۂ نساء کی آیت ۳۲کو سمجھ کر پڑھ
لیں… یقین کریں اگر دل میں حسد کی آگ ہو گی تو فوراً بجھ جائے گی… اور
زبان پر یہ دعاء آجائے گی:
اَللّٰھُمَّ
اِنِّی اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ
’’
یا اللہ میں آپ سے آپ کے ’’فضل‘‘ کا سوال کرتا ہوں۔‘‘
بات
بالکل آسان ہے… دنیا کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ نے کسی کومرد
بنایا ہے کسی کوعورت… کسی کو گورا بنایا ہے کسی کو کالا… کسی کو خوبصورت
بنایا کسی کو کم صورت… کسی کو باصلاحیت بنایا اور کسی کو سیدھا
سادہ… کسی کولوگوں میں مقبول بنایا اور کسی کو نہیں… کسی کو مالدار
بنایا اور کسی کو غریب… یہ پہلی بات آپ ذہن میں بٹھا لیں… اب دوسری بات
سمجھیں… جس کو جو بھی دنیاوی فضیلت ملی وہ اللہ تعالیٰ نے
دی… اور اللہ تعالیٰ کی مرضی کہ جس کو چاہے دے اور جس کو چاہے نہ
دے… اس بات کو آپ اپنے دل میں بٹھا لیں…
اب
تیسری بات سمجھیں… آخرت کی اصل اور ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی میں ان چیزوںاور
نعمتوں کی کوئی قیمت نہیں ہوگی… وہاں نہ تو عہدے دار غیر عہدے داروں سے افضل
ہوں گے اور نہ مالدار غریبوں سے اور نہ گورے کالوں سے… یہ بس دنیا کی
چیزیںہیں، اور یہیں تک ان کی شان محدود ہے… اور ان میں سے کوئی نعمت بھی اصل
کامیابی کا مدار نہیں ہے… اب چوتھی بات سمجھیں… اصل کامیابی کا مدار
ایمان اور عمل پر ہے اور ایمان اور عمل کا دروازہ ہر کسی پر کُھلا ہے… جو
چاہے جتنے خزانے جمع کر لے… کوئی عورت ہو یا مرد، کوئی گورا ہو یا کالا، کوئی
امیر ہو یا مامور، کوئی غریب ہو یا مالدار… اور اب پانچویں بات
سمجھیں… دنیا کی نعمتوں کو دیکھ کر ایک د وسرے سے حسد نہ کرو… اس حسد سے
خود تمہارا ہی نقصان ہو گا اور تمہاری طرف سے اللہ تعالیٰ پر اعترا ض
ہوگا کہ فلاں کو یہ چیز کیوںدی؟… اور مجھے کیوں نہ دی؟… اور ان چیزوں کی
تمنا بھی نہ کرو… بلکہ اصل چیز مانگو… ہاںاصل چیز اور وہ ہے اللہ
تعالیٰ کا فضل… ارے اللہ تعالیٰ کا’’فضل‘‘ مل گیا تو پھر
کامیاب ہو جاؤ گے… ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کامیاب، سرفراز، سرخرو… اور خوش
نصیب… یہ ہے اس آیتِ مبارکہ کا مختصر خلاصہ… آج بہت سی عورتیں کہتی
ہیں… کاش ہم مرد ہوتیں تو جہاد کرتیں… آپ ایسا نہ کہیں اور نہ ایسا
سوچیں… مالک نے آپ کو ’’عورت‘‘بنایا ہے اسی پر خوش خرم اور راضی
رہیں… اور عورت ہو کر ایمان اور عمل کے ذریعہ کامیابی حاصل کریں… مرد
ہونا کونسی کامیابی کا مدار ہے؟… پرویز مشّرف بھی مردہے… توبہ،
توبہ… کس قدر نجاست، غلاظت، خباثت، رذالت، جہالت، حماقت اور شرارت کا مجموعہ
ہے… آج کل لاوارث سیاستدانوں اور لالچی کالم نویسوں پر نوٹوں کی بارش کر رہا
ہے کہ… اُس کی واپسی کا راستہ صاف کریں اور وہ حکومت میںآکر اسرائیل کو
تسلیم کرنے کا اعلان کرے… لوگوں کی سوچ بھی عجیب ہے… گھر میں بیٹا
پیداہو تو خوشیاںمناتے ہیں اور بیٹیاں زیادہ ہوجائیں تو پریشان ہو جاتے
ہیں… بالکل غلط سوچ ہے… اللہ تعالیٰ نے اپنے سب سے محبوب
پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’بیٹیاں‘‘ عطاء فرمائیں… بس معاملہ
ہی ختم ہو گیا… ہاںبیٹے بھی عطاء فرمائے مگر بچپن میں واپس لے لئے… ’’رب
حکیم‘‘ کا کوئی کام ’’حکمت‘‘ سے خالی نہیں… عورتیںشکوہ کرتی ہیں کہ مرد اُن
پر ظلم کرتے ہیں… میں نے کافی غور کیا توسمجھ میں آیا کہ عورتوں پر اصل ظلم
عورتیں ہی کرتی ہیں… بیٹے کی خواہش مرد کو اتنی زیاد نہیں ہوتی جتنی عورت کو
ہوتی ہے… یعنی عورت ہی عورت کو نہیں جننا چاہتی… پھر ساس اور بہو کی
’’جنگ عظیم‘‘ یہ بھی عورتوں کے درمیان ہوتی ہے… نند اور بھابھی کی ’’جنگ عظیم
دوم‘‘ یہ بھی عورتوں کے درمیان کا معاملہ ہے… خیر چھوڑیں اس معاملہ
کو… بات یہ ہے کہ اگر آپ عورت ہیں تو بھی مردوںسے زیادہ جہاد کی خدمت کر
سکتی ہیں… اپنے بیٹے اور بھائی کو تیار کر کے، اپنے خاوند کے لئے راہ جہاد
میں آسانی کر کے… اپنا مال خرچ کر کے… اپنی دعوت، دعاؤں اور محنت کے
ذریعہ… بہرحال سعادت اور کامیابی کاراستہ… ہر عورت اور ہر مرد کے لئے
کُھلا ہے… ہر غریب اور ہر امیر کے لئے کُھلا ہے… بس دل کو دنیا کی
خواہشات سے پاک کرنے کی ضرورت ہے… یہ ٹھیک ہے کہ ہم دنیا میں قارون اوربل
گیٹس جتنی دولت جمع نہیں کر سکتے… تو پھر اس میں نقصان ہی کیا ہے؟… وہ
دونوں کونسے کامیاب ہیں؟… اور اتنی دولت کا فائدہ ہی کیا ہے؟… ہاں یہ
ہمارے لئے ممکن ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ کلمہ طیبہ … اخلاص کے ساتھ
پڑھیں… یہ اصل دولت ہے اس سے ہمیں کون روک سکتا ہے؟… ہم خوبصورت ہوں یا
نہ ہوں، ہم لوگوں میں مقبول ہوں یا نہ ہوں… کیا فرق پڑتا ہے؟… مائیکل جیکسن
لوگوں میں کتنا مقبول تھا… خبروں میں آیا ہے… مرنے سے پہلے اُس نے
برطانیہ میں جو’’شو‘‘ کرنا تھا اُس کے تمام ٹکٹ کئی ہفتہ پہلے فروخت ہو چکے
تھے… لاکھوں لوگ اُس کے دیوانے تھے… لاکھوں نہیںشائد کروڑوں… مگر
جب مرا تو قبر میں کتنے لوگ ساتھ گئے؟… پیسہ اُس کے پاس بے شمار تھا مگر اُس
کا ڈاکٹر کہتا ہے کہ… ایک لاکھ چالیس ہزار ڈالر کا ایک بل آیا اور کروڑوں کا
مالک مائیکل جیکسن سخت ذہنی دباؤ میں مبتلا ہو گیا… یہ مال کی محبت بھی عجیب
طرح کی ذلّت ہے… یا اللہ ہمیں، ہماری آل اولاد، اقرباء اور تمام
ساتھیوں کو اس ذلت سے بچائیے… مائیکل جیکسن جو اپنے ایک گانے کی فیس کروڑوں
ڈالر میں لیتا تھا صرف ایک لاکھ چالیس ہزار کے بل پر اتنے سخت ذہنی دباؤ میں
مبتلا ہو ا کہ نیند اُڑ گئی… ڈاکٹر کہتا ہے کہ جیکسن مجھ سے التجا کر رہا تھا
کہ مجھے کسی طرح چند لمحوں کے لئے سُلا دو… اور پھر سکون کی بہت طاقتور دوائی
کی پوری شیشی حلق میں انڈیلی… اور کہانی ختم…
ع
ہوئے نام ور بے نشاں کیسے کیسے
اس
لئے حکم دیا گیا کہ… ان دنیاوی چیزوں کی تمنا نہ کرو… جو عورت ہے وہ
عورت رہتے ہوئے کامیابی کا راستہ ڈھونڈے اور جو مرد ہے وہ مرد رہتے ہوئے کامیابی
کی راہ تلاش کرے… جو غریب ہے وہ مالداروں سے حسد نہ کرے… اسی غربت میں
کامیابی تلاش کرے اور غربت میں کامیابی آسان ہے… اورجو کم مقبول ہے وہ لوگوں
میں مقبولیت کی فکر نہ کرے کہ اس سے کچھ ہاتھ نہیںآتا… بلکہ اس گمنامی میں
کامیابی کا راستہ ڈھونڈے…اورکامیابی اللہ تعالیٰ کے دین میں
ہے… اور دین نام ہے ’’حکم اللہ ‘‘ اور ’’طریقۂ رسول اللہ ‘‘ کا۔
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللّٰہ
تھوڑا
سا سوچیں… اور جھوم جھوم کر اپنے رب کا کلمہ پڑھیں کہ اُس نے بے کار چیزوں
کومہنگا فرما دیا… اور کامیابی والی چیزوں کو سستا فرما دیا… پانچ کلو
سونا ایک چڑیا کی بھوک نہیں مٹا سکتا اور ایک گلاس پانی کسی بادشاہ کو بھی سیراب
اور تروتازہ کر دیتا ہے… پانچ کلو سونا مہنگا ہے یا ایک گلاس
پانی؟… گورا ہونا، خوبصورت ہونا، مقبول ہونا یہ سب کچھ کسی کام آنے والا
نہیں… مگر حُسن اور شہرت کی خاطر لوگ کیا کیا پاپٹر بیلتے ہیں… جبکہ
کلمہ طیبہ، نمازاورجہاد جیسی عظیم الشان نعمتیں… جی ہاں پہاڑوں سے
اونچی… نہیں نہیں آسمانوں سے بھی اونچی نعمتیں… اللہ پاک
نے سب کے لئے عام فرمادیں… مالدار کروڑوں کی جائیداد کے باوجود نماز سے
محروم… وہ ایک رکعت نہیں خرید سکتا… اور اپنی ساری دولت دے کر ایک تکبیر
تحریمہ کا اجر نہیں خرید سکتا… جبکہ ایک فقیر… چاہے تو ساری رات نماز ہی
نماز… نماز ہی نماز… سبحان اللہ عشق کے سجدے… واہ
نماز، آنکھوں کی ٹھنڈک… اور ہر مسئلے کا حل… جتنی مرضی پڑھو… نہ
عورتوں کے لئے رکاوٹ، نہ مردوں کے لئے رکاوٹ… نہ کالے کے لئے رکاوٹ، نہ گورے
کے لئے رکاوٹ… نہ مالدار کے لئے رکاوٹ، نہ غریب کے لئے رکاوٹ… پھر لوگ
کیوںبات بات پر اللہ تعالیٰ سے’’مایوس‘‘ ہو بیٹھتے ہیں؟… ویسے
کچھ لوگ بھی طوطے کی طرح رٹی رٹائی باتیں یاد کر لیتے ہیں اور لوگوں کو مایوس کرتے
ہیں… استغفار کی مہم چلی بہت سے لوگوں نے ماشاء اللہ بہت
کمایا… گزشتہ دوبار کی ڈاک پڑھ کر میرادل خوشی سے سرشار ہو گیا… عمل کے
میدان میں آج کل خواتین، مردوں سے آگے ہیں… ماشاء اللہ لا قوۃ
الا باللہ … مگر کچھ لوگ کہتے
ہیں… زبان سے استغفار پڑھنے سے کیا ہوتا ہے؟… پھرتصوف کی کتابوں سے
بزرگوں کے کچھ اقوال لاتے ہیں اور ثابت کرتے ہیں کہ… اس طرح استغفار سے کچھ
نہیں ملتا… ارے بھائیو! حضرات صوفیاء کے اقوال اور احوال کو سمجھنے کے لئے
بہت بڑا ظرف چاہئے… اور یہ اقوال اور احوال عمل سے روکنے کے لئے نہیں بلکہ
خواص کے معیار کو اونچا کرنے کے لئے ہوتے ہیں… کہ جب تک تمام گناہ نہ چھوڑ دو
استغفار سے کچھ نہیں ملتا… میرے بھائیو! اور بہنو!… استغفار سے بہت کچھ
ملتا ہے… اور صرف زبان سے ہی استغفار کرو تب بھی ضائع نہیں جاتا… وہ بھی
بہت سے فضول کاموں سے بہت افضل ہے… اور استغفار کے یہ قطرے بالآخر پتھروں
میں بھی شگاف ڈال دیتے ہیں… ہاں یہ سچ ہے کہ دل سے جو عمل کیا جائے اس کی قوت
اور طاقت بہت زیادہ ہے… مگر یاد رکھیں! دل بادشاہ سہی… مگرکان، آنکھ
اور زبان دل کے جاسوس ہیں… اور بادشاہ اپنے جاسوسوں کی باتیں مانتے
ہیں… زبان کلمہ پڑھتی رہے بالآخر دل بھی پڑھنے لگے لگا… زبان استغفار
پڑھتی رہے بالآخر دل بھی توبہ توبہ کرنے لگے گا… کوشش کریں کہ ہر عمل
اورعبادت دل کی توجہ سے ہو… لیکن اگر توجہ نہیں بنتی تو پریشان نہ
ہوں… اپنا ورد، اپنا وظیفہ اور اپنا عمل پورا کریں… ان شاء اللہ
بہت فائدہ ملے گا… بات شروع ہوئی تھی اللہ تعالیٰ کے فضل
سے… اس بارے میںقرآن پاک کی آیت مبارکہ تو آپ نے سمجھ لی… اب ترمذی
کی ایک روایت بھی پڑھ لیں… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا
فرمان ہے:
{سلوا
اللہ من فضلہ فان اللہ یحب ان یسئل وافضل العبادۃ انتظار
الفرج}(ترمذی ابواب الدعوات)
ترجمہ:
اللہ تعالیٰ سے اُس کے ’’فضل‘‘ کا سوال کرو بے شک اللہ
تعالیٰ اس بات کو پسند فرماتے ہیں کہ اُن سے مانگا جائے… اور افضل
عبادت کشادگی کا انتظار ہے…
حدیث
پاک میں پہلا حکم تو وہی ہے کہ… اللہ تعالیٰ سے اُس کے فضل کا
سوال کیا کرو… آئیے پہلے اس حکم کو پورا کریں…
اَللّٰھُمَّ
اِنِّا نَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ
یا
اللہ ! ہم آپ سے آپ کے فضل کا سوال کرتے ہیں…
دوسری
بات حدیث شریف میں یہ ہے کہ… اللہ تعالیٰ کو یہ بات محبوب ہے کہ
اُس کے بندے اُس سے سوال کریں… اور دعاء کریں…
اور
تیسری بات یہ ہے کہ… اچھے حالات کا انتظار افضل عبادت ہے… مطلب یہ ہے کہ
لوگ کسی چیز کی ایک دو بار دعاء مانگتے ہیں اور پھر مایوس ہو کر دعاء مانگنا بند
کر دیتے ہیں کہ قبول نہیں ہوئی… ارشاد فرمایا کہ… اچھے حالات کا انتظار
کرنا، دعاء کے قبول ہونے کا انتظار کرنا… تنگی اور مصیبت کے دور ہونے کا
انتظار کرنا … بُرے حالات کے ختم ہونے کا انتظارکرنا… اور آزمائش
کے خاتمے کا انتظار کرنا… یہ افضل عبادت ہے… یعنی جتنا عرصہ دعاء قبول
نہیں ہوگی وہ تمام عرصہ عبادت میں لکھا جائے گا… اور عبادت بھی معمولی نہیں
بلکہ افضل عبادت … اس لئے دعاء بھی مانگتے رہو کہ وہ بھی
عبادت … پھر اس کی قبولیت کا انتظار کرتے رہو کہ وہ بھی عبادت… اور
اللہ تعالیٰ سے اچھی امید رکھو کہ وہ بھی عبادت… ہمارے قابل
احترام دوست اور مسلمانوں کے محبوب مجاہد جناب ملّا فضل اخوند نے بارہ سال تک
کشادگی اور اچھے حالات کا انتظار کیا… اور بالآخر جہاد کی برکات کے پھل پکنا
شروع ہوئے… اور آج ہم نے اُن کی رہائی کی خبر بھی سن لی… اللہ
کرے یہ خبر سچی ہو… اللہ تعالیٰ تمام اسیرانِ اسلام کو باعزت
رہائی عطاء فرمائے… وہ جہاں بھی ہوں اور جس کی قیدمیں بھی ہوں… کسی کو
ان کی خبر ہو یانہ ہو… غیروں نے اُن کو پکڑ رکھاہو یا اپنوں کے ہاتھوںستم
رسیدہ ہوں… اللہ تعالیٰ اُن سب کو جانتا ہے… وہ راہِ وفا کے
بندھے ہوئے وفادار اور مسجد عشق کے معتکف ہیں… وہ ظاہری طور پر بے بس مگر
آخرت کے بادشاہ اور برکتوں کے نزول کاذریعہ ہیں… وہ اُمتِ مسلمہ کا فخر اور
راہ جہاد کا قیمتی اثاثہ ہیں…
یا
اللہ اُن سب پر اپنا’’فضل‘‘ فرما، اُن سب کو باعزت رہائی عطاء
فرما… اور اُن کے پیچھے اُن کے اہل خانہ، والدین اور اولاد و اقارب کی حفاظت،
اعانت، نصرت اور کفالت فرما… اور ان اسیران اسلام کے مثالی عمل اور قربانی کو
قبول فرما… آمین یا ارحم الراحمین……
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا…
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ ہم سب پرا پنی رحمت کی نظر فرمائے… ہوشیار! القلم پڑھنے والو!
میں سب سے بڑا نام لکھ رہا ہوں … اللہ،اللہ،اللہ … واہ کتنا مزہ
آیا آئیں پھر پڑھتے ہیں اللہ،اللہ،اللہ … ارے
بھائیو! اور بہنو! پہلے وہاں فیصلہ ہوتا ہے پھر اُن کا نام دل اور زبان پر آتا ہے
اللہ،اللہ،اللہ … اور جب ہمیں اُن کا
نام لینے کی اجازت اور توفیق ملتی ہے تو وہاں اُن کے ہاںہماراذکر ہوتا
ہے… آہ! کتنی عظیم رحمت اور کتنا عظیم احسان… آؤ! ڈوب کر
پڑھیں… اللہ،اللہ،اللہ … ایک بات دل میں بٹھا لیں کہ جس کا رُخ ’’ اللہ
تعالیٰ‘‘ کی طرف ہو گیا وہ کامیاب ہے… جی ہاں رُخ ، توجّہ یعنی
دل… جگر مرحوم نے فرمایا تھا ؎
کامل
رہبر، قاتل رہزن
دل
سا دوست نہ دل سا دشمن
دل
اگر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جائے تو پھر یہ ’’کامل رہبر‘‘
ہے… اور اگر اللہ تعالیٰ سے کٹ جائے تو ’’قاتل رہزن‘‘
ہے… واقعی دل جیسا نہ کوئی دوست، نہ کوئی دشمن… آئیے دل کی گہرائی
سے… دل کو سب سے کاٹ کر، ایک ذات سے جوڑ کر پڑھتے ہیں
اللہ
، اللہ ، اللہ … لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا
اللہ …
سب
سے بڑا نام اُس کا جو سب سے بڑا… اللہ،اللہ،اللہ … سب سے پیارا نام اُس کا جو
سب سے پیارا… اللہ،اللہ،اللہ … سب سے اونچا نام اُس کا جو سب سے
اونچا… اللہ ، اللہ ، اللہ … لاالہ الا اللہ ، لا الہ الا
اللہ …
آج
سچ سچ ایک بات بتائیں!… آپ کا ’’رُخ‘‘ کس کی طرف ہے؟…
گاڑی
کا جدھر رُخ ہوتا ہے… اُدھر ہی دوڑتی اور بھاگتی ہے… انجن بھی اُسی طرف
زور لگاتا ہے اور پہیے بھی اُسی طرف گھومتے ہیں… تھوڑا سا سوچیں کہ میرا
اورآپ کا رُخ کس طرف ہے؟… حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ساری دنیا کے کفرکو
للکار کر فرمایا تھا… میں نے اپنا رُخ اُس اللہ تعالیٰ کی طرف
پھیر لیا ہے جس نے آسمان و زمین کو پیدا فرمایا… اور میں نے اُس کے سوا ہر
طرف سے اپنا رُخ ہٹا لیاہے اور میں مشرک نہیں… تب اللہ تعالیٰ نے
اُن کی لاج رکھی… ہاں بھائیو! اور بہنو!… جس کا رُخ اللہ
تعالیٰ کی طرف ہو جائے تو اس کی ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں
ہوتا… موٹروے پر جس گاڑی کا رُخ لاہور کی طرف ہو وہ لاہور پہنچتی
ہے… اور جس کارُخ اسلام آباد کی طرف ہو وہ اسلام آباد پہنچ جاتی
ہے… آپ جانتے ہیں گاڑی کا رخ اگر منزل کی طرف ہو… پھر وہ تیز چلے یا
آہستہ… کبھی خراب ہو کبھی ٹھیک… بالآخر منزل تک پہنچ ہی جاتی
ہے… لیکن اگر رُخ ہی غلط طرف ہو گیاتو جتنا تیز چلے… کامیابی اور منزل
سے دور ہی ہوتی جائے گی…گاڑی کمزور چیز ہے… مگردل تو پہاڑوں سے زیادہ
مضبوط … صحراؤں سے زیادہ وسیع اور سمندر سے زیادہ گہرا… اور آگ
اور ہوا سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے…کب؟ جب اس کا رُخ اللہ تعالیٰ کی طرف
ہو جائے… تب اس کے لئے فاصلے سمٹ جاتے ہیں، لوہا پگھل جاتا ہے اور آگ اس کے
قابو میں آجاتی ہے…
اللہ،اللہ،اللہ
حضرات
انبیاء علیہم السلام کی محنت کا خلاصہ کیا ہے؟… بندوں کا رُخ اُن کے خالق کی
طرف ہوجائے… جی ہاں اللہ تعالیٰ کی طرف …
یہی
پہلا سبق ہے اور یہی آخری سبق … اے لوگو! لا الہ الا اللہ
کہہ دو… ہاں دل کے یقین کے ساتھ… ’’ لا الہ الا اللہ ‘‘ کہہ
دو… یعنی سب سے کٹ کر ایک اللہ تعالیٰ کی طرف اپنا
رُخ موڑ لو… کامیاب ہو جاؤ گے… اگر کسی کے دل کا رُخ اللہ
تعالیٰ سے ہٹ جائے…تو ایسا دل موم سے بھی زیادہ کمزور ہوجاتا ہے… کوئی
لڑکی پر مر رہا ہے تو کوئی لڑکے پر… توبہ ، توبہ ، توبہ…یا اللہ
پستی میں گرنے سے بچا… ارے بھائیو! اور بہنو! اپنا دل اللہ
تعالیٰ کے سوا کسی کونہ دو… کسی کو دیا تو وہ کھا جائے گا… انسان
گوشت خور ہوتے ہیں… ارے کسی کو دیا تو وہ پھینک دے گا… انسان نا قدرے
ہوتے ہیں… قرآن پاک نے سمجھا دیا کہ… جو اپنا دل ’’ اللہ
تعالیٰ‘‘ کو دیتے ہیں ، اللہ تعالیٰ اُن کو اندھیروں سے نکال
کر… نور اور روشنی میں لے آتا ہے… سکون ہی سکون… مزے ہی مزے…عزت،
غیرت اور شان… نہ کسی کی محتاجی… اورنہ آگے کا کوئی غم… ارے دنیا
بھی ہمارے ’’یار‘‘ کی اورآخرت بھی ہمارے’’یار‘‘ کی… اللہ،اللہ،اللہ … اور
اگر دل… اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو دے دیا تو وہ روشنی سے گھسیٹ
کر اندھیروں میں جا پھینکے گا… جی ہاں گھٹا ٹوپ اندھیرے… دنیا بھی ناکام
اور آخرت بھی ناکام… اس لئے آج اپنے دل سے پوچھ لیں کہ… تیرا رُخ کس
طرف ہے؟… اللہ تعالیٰ کی طرف یا دنیا کی طرف؟… محبوب حقیقی
کی طرف یا کسی فانی کی طرف؟… قرآن پاک اعلان فرماتا ہے… سب سے اچھی بات
اُس کی ہے جو ’’ اللہ تعالیٰ‘‘ کی طرف بلائے… آج میں اور آپ ،
خود اپنے ساتھ یہ اچھی بات کر ہی لیں… اور اپنے دل کو اللہ
تعالیٰ کی طرف بلائیں…
اللہ،اللہ،اللہ … لا الہ الا اللہ
، لا الہ الا اللہ …
قرآن
پاک اعلان فرماتا ہے… اے لوگو! دوڑو اللہ تعالیٰ کی
طرف …ہاںدوڑو، دوڑو اللہ تعالیٰ کی طرف… اور
اُدھر سے اعلان ہوتا ہے اے میرے بندے! تو اگر ہماری طرف چل کر آئے گا توہم تیری
طرف دوڑ کر آئیں گے… اے نبی فرما دیجئے… میرا اور میری اتباع کرنے
والوں کا راستہ یہی ہے کہ ہم ’’ اللہ تعالیٰ‘‘کی طرف بُلاتے
ہیں… اے بندو! ا پنا رُخ اللہ تعالیٰ کی طرف پھیر
لو… کامیاب ہو جاؤ گے…
پس
آج کی مجلس کو بہت قیمتی بنا لیں… اور اپنا رُخ سیدھا کر لیں… سب
سے پہلے’’ اللہ ‘‘ … سب سے اونچا’’ اللہ ‘‘… سب سے
محبوب ’’ اللہ ‘‘… اور ہمارا معبود… صرف اور صرف ’’ اللہ ‘‘… اپنی
ذات کا بُت… عزت اور شہرت کے شوق کا بُت… مال بنانے اور جوڑنے کا
بُت… اور اس دنیا میں عیش و آرام پانے کابُت… ہم میں سے کئی کا رُخ صرف
اپنی ذات کی طرف ہے… توبہ، توبہ، توبہ… ایک گندے قطرے سے پیدا ہونے والا
انسان… ہر وقت گندگی اور غلاظت کو اٹھائے پھرنے والا
انسان… غبارے کی طرح کمزور انسان… مگر پھر بھی ’’انا‘‘ کا بُت… خود
کو بڑا سمجھنا اور صرف اپنے مفادات کی نگہبانی کرنا… توبہ، توبہ،
توبہ… اور ہم میں سے بہت سوں کا رُخ دنیا کی طرف ہے… ہاںاس فانی دنیا کی
طرف… جس کے ایک ایک ذرّے سے مرُدہ لاشوں کی بو آتی ہے… بادشاہ مرگئے،
وزیرمر گئے… مالدار ، جاگیردار، بڑے بڑے سردار سب مر گئے… ہم اُن کے
جسموں کی مٹی پر چلتے ہیں… مگر پھر بھی نہ عبرت، نہ خوف… صبح
شام دنیا کی فکر… ہائے پیسہ، ہائے کوٹھی، ہائے جاگیر… اولاد، ماں باپ کی
دشمنی… وجہ، پیسہ… ماں باپ، اولاد کی دشمنی، وجہ پیسہ… بھائی،
بھائی کا قاتل وجہ مال اوردنیا…
معلوم
نہیں ہم نے کِس کِس کو اپنا رازق سمجھ رکھا ہے… فلاںروٹھ گیا تو روزی کا کیا
ہوگا؟… فلاں مر گیا تو روزی کا کیا ہوگا؟… توبہ،توبہ، توبہ… جو خود
اپنی جان کے مالک نہیں وہ ہمارے ’’رازق‘‘ کیسے بن سکتے ہیں؟… افسوس کہ
مسلمانوں کارُخ غلط طرف مُڑ گیا… ایک شخص اپنے گھر جا رہا
ہو… مگر اچانک اُس کا رُخ دشمنوں کے علاقے کی طرف ہو جائے… اس شخص کا
انجام کیا ہوگا؟… ہاں تھوڑی ہی دیر میں زمین بھی اس کا تماشہ دیکھے
گی… اور آسمان بھی اس کی چیخوں کو سنے گا… مجاہدین کا ایک گروپ مقبوضہ
کشمیر میںسفر پر تھا… ایک مجاہد تھک کر گِر پڑا اور بے ہوش ہو گیا… اُسے
اٹھانے، جگانے کی بہت کوشش کی مگرنہ اُٹھ پایا… اپنے ساتھ اٹھا کر لے جانے کا
انتظام نہ تھا… بالآخر مجبوراً اس کو چھوڑ دیا اور اسلحہ ساتھ رکھ
دیا… قافلہ چلا گیا اس اکیلے مجاہد کو ہوش آیا اور وہ اندازہ لگا کر چلنے
لگا… مگر اُس کا اندازہ غلط نکلا اور رُخ انڈین آرمی کے کیمپ کی طرف ہو
گیا… بس پھر کیا تھا؟… تھوڑی ہی دیر بعد وہ دشمنوں کے بوٹوں کے نیچے
برہنہ پڑا تھا… کوئی مارتا، کوئی گالیاں دیتا… کوئی تھوکتا تو کوئی
گھسیٹتا… آہ آج ہم مسلمانوں کا رُخ اللہ تعالیٰ سے ہٹ کر دنیا
کی طرف ہوا تو ہم بے شمار دشمنوںمیں پھنس گئے… کوئی ایمان کا ڈاکو، کوئی جان
کا ڈاکو… کوئی عزت کاڈاکو تو کوئی آزادی کا ڈاکو…
ہر
چھوٹے سے چھوٹا دشمن ہم پر طاقتور ہے… اور ہر مصیبت ہم پر حملہ آور
ہے… کافرہوں، یامنافق، موبائل ہو یا انٹرنیٹ، ٹی وی ہو یا ٹی بی… فقر و
فاقہ ہو یابیماری، ذلت ہویا مسکنت… ہر کوئی ہم پر شیر ہے… مگر ان سب کا
کیا قصور؟… ہم خود ہی چل کر ان کے گھیرے میں آئے ہیں… اب اٹھو،
مسلمانو! جلدی اٹھو اور اپنا رُخ اللہ تعالیٰ کی طرف پھیر کر دوڑ پڑو، دوڑ
پڑو… ہاں ہاں دوڑ پڑو… اللہ،اللہ،اللہ …
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ
بس
ہمت کی دیر ہے اور سب رسیاں ٹوٹ جائیں گی… اور سارے دشمن منہ دیکھتے رہ جائیں
گے… ہاں! جس دن بلکہ جس لمحے ہمارا رُخ سیدھا ہو گیا… یعنی اللہ
تعالیٰ کی طرف ہو گیا… اُس وقت سے ہمارا’’راستہ‘‘ بھی’’منزل‘‘ بن جائے
گا… اور ہمارے دکھ درد بھی میٹھے ہو جائیں گے…یاد رکھنا… اللہ
تعالیٰ کی طرف رُخ پھیرنے سے ہی ہمیں اصل اور ہمیشہ ہمیشہ کی کامیابی ملے
گی… اللہ،اللہ،اللہ … لا الہ الا اللہ
سنیں،غور
سے سنیں… جس نماز میں ہمارا رُخ اللہ تعالیٰ کی طرف
ہو… یعنی ہمارا دل اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو… وہ نماز
معراج بن جاتی ہے… اورایسی نماز ہر مسئلے کا حل ہے… جس وضو میں
ہمارارُخ اللہ تعالیٰ کی طرف ہو وہ وضو جسم کے ساتھ روح بھی دھو ڈالتا
ہے… جس جہاد میں ہمارا رُخ اللہ تعالیٰ کی طرف ہو وہی
جہاد… فرشتوں کو زمین پر اُتار لاتا ہے اور عالم کفر پر زلزلہ
طاری کر دیتا ہے… وہ صدقہ جس میں ہمارا رُخ اللہ تعالیٰ کی طرف
ہو وہ صدقہ اتنا طاقتور ہے کہ… آسمانوں کے فاصلے چیر ڈالتا ہے اور
اللہ تعالیٰ کے غضب کی آگ بجھا دیتا ہے… یہ کیسی نماز کہ کھڑے
اللہ تعالیٰ کے سامنے ہیں اور رُخ اپنی ذات کی طرف ہے کہ… ہم نیک
کہلائیں… یہ کیسا جہاد کہ نکلے اللہ تعالیٰ کی راہ میں… اور
رُخ اپنی طرف ہے کہ ہمیں یہ ملے اور ہمیں وہ ملے… یاد رکھنا… وہ ان پڑھ
آدمی جس کا رُخ اللہ تعالیٰ کی طرف ہو… اُس عالم اور علامہ سے
بہت اونچا ہے جس کا رُخ دنیا کی طرف مڑچکا ہو… یا درکھنا… وہ
کمزور اور بے صلاحیت آدمی جس کارُخ اللہ تعالیٰ کی طرف
ہو… اُس طاقتور ، باصلاحیت آدمی سے زیادہ ’’کارآمد‘‘ ہے جس کا رُخ عزت،
شہرت یا مال کی طرف ہو… حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا رُخ
اللہ تعالیٰ کی طرف تھا اس لئے ان کا ایک کھجور کا صدقہ…کسی اور کے
پہاڑ برابر سونا دینے سے بڑھ کر تھا… اللہ تعالیٰ کے ہاں کیا
کھجوراورکیا سونا؟… اُس کے ہاںتو یہ دیکھا جاتا ہے کہ بندے کا رُخ کدھر
ہے… اور بندے کی توجہ کِدھر ہے… وہ دین کا کام بھی وبال جس میں انسان کا
رُخ اللہ تعالیٰ کی طرف نہ ہو اوروہ دنیا کا کام بھی وبال جس میں
آدمی کا رُخ اللہ تعالیٰ کی طرف نہ ہو… وہ حج بے کار ہے جس میں
حاجی کا رُخ… اللہ تعالیٰ کی طرف نہ ہو… اور بیوی کے منہ
میں وہ ایک لقمہ دینا بہت ’’کارآمد‘‘ جس میں خاوند کا رُخ اللہ
تعالیٰ کی طرف ہو… حالانکہ حج پر چار لاکھ اور چالیس دن کا
خرچ ہے… اور ایک لقمے میں دوسیکنڈ اور ایک آدھ روپے کا خرچ ہے… ہاں بے
شک اللہ تعالیٰ ہی سب کچھ ہے… اوروہی باقی ہے… اورہرچیز
فانی… اُسی کے نام سے ہر چیز قیمتی ہے… اور اُسی کی مہربانی سے ہر کام
ہوتا ہے… مگر ہم اسے دیکھ نہیں سکتے… اس لئے ہماری آنکھیں ادھر اُدھر
بھٹک جاتی ہیں… اللہ تعالیٰ پرایمان… ’’ایمان بالغیب‘‘ ہے
اور اسی ایمان بالغیب میں کامیابی اور فلاح ہے… حضرات انبیاء علیہم السلام
تشریف لائے… انہوں نے اپنی دعوت اور اپنے عمل سے انسانوں کو
سمجھایاکہ… اللہ تعالیٰ کی طرف اپنا رُخ پھیر لو… حضرت
سلیمان علیہ السلام نے جب بلقیس کے تخت کو اپنے دربار میں دیکھا تو کیا عجیب منظر
ہوگا… اتنی بڑی اورعظیم فتح… مگر زبان سے کیا نکلا… فرمایا!یہ میرے
رب کا فضل ہے… سبحان اللہ !حضرت ایوب علیہ السلام مصیبت میں گِھرے تو
رُخ اللہ تعالیٰ کی طرف اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ
وسلم مکہ مکرمہ میں فاتحانہ انداز میں داخل ہوئے تو رُخ اللہ تعالیٰ
کی طرف… آج مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت
ہے… کیونکہ اجتماعی طور پر ہمارارُخ غلط راستے کی طرف مُڑ چکا ہے… سب سے
پہلے خود کو دعوت… لا الہ الا اللہ اور پھر تمام انسانوں کو دعوت
لا الہ الا اللہ … اہلِ سعادت ہمت اور تیاری باندھ لیں… اسی
سلسلے میں ایک مبارک ،پرنور… پر عزم اور پر جوش ’’مہم‘‘آرہی ہے… چالیس
روزہ’’دعوت ورکنیت مہم‘‘… باقی باتیں ان شاء اللہ اگلی مجلس
میں… آج کا سبق میرے اور آپ سب کے لئے… ہم خود کودیکھیں کہ ہمارا رُخ
کس طرف ہے؟… اور پھر اپنے مالک سے، جو دعاؤں کو سنتا اور قبول کرتا
ہے… التجا کریں کہ… ہمارا رُخ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی
طرف ہوجائے… عقیدے میں بھی، عمل میں بھی، نیت میں بھی،ارادے میں
بھی… نظریات میں بھی… اور افکار میں بھی… ہمارا
رُخ …یعنی دل کاقبلہ، دل کی توجہ… صرف اللہ ، صرف اللہ ،
صرف اللہ … اللہ،اللہ،اللہ …
لاالہ
الا اللہ محمد رسول اللہ
اِنِّیْ
وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا
وَّمَآاَناَ مِنَ الْمُشْرِکِیْن
اللھم
صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ اُن کی نصرت فرمائے جو’’دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ کی نُصرت کرتے
ہیں… اور اللہ تعالیٰ ہمیں اُن میں شامل فرمائے… اللہ
تعالیٰ اُن کو رسوا فرمائے جو’’دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘کو کمزور کرنے
کی کوشش کرتے ہیں… اور اللہ تعالیٰ ہمیں اُن میں شامل ہونے سے بچائے…
مجھے
اُمید ہے آپ سب حضرات و خواتین یہ دعاء ضرور مانگتے ہوں گے… نہیں مانگتے
تومانگا کریں بہت ضروری اور اونچی دعاء ہے… عربی الفاظ یوں ہیں:۔
اَللّٰھُمَّ
انْصُرْ مَنْ نَصَرَ دِیْنَ مُحَمَّدٍا وَاجْعَلْنَا مِنْھُمْ وَاخْذُلْ مَنْ
خَذَلَ دِیْنَ مُحَمَّدٍا وَلَا تَجْعَلْنَا مِنْھُمْ… آمین
بارہ
سال پہلے انہیں دنوں سردیوں میں جماعت کا اعلان ہو چکا تھا… دشمنوں کے لئے یہ
غیر متوقع جھٹکاتھا… وہ تو ہمیں زندہ یا کم از کم آزاد دیکھنا نہیں چاہتے
تھے… ملک کی حکومت غیر ملکی دباؤ کے نیچے ہانپ رہی تھی اور جماعت کے اعلان کو روکنے کے
لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی تھی… گرفتاریاں، چھاپے ، دھمکیاں،ترغیبیں، بُرے
نتائج کی وارننگ… کراچی پریس کلب میں جماعت کا باقاعدہ اعلان ہونا تھا مگرکلب
کو بند کر دیا گیا… پولیس، فوج، بکتربند گاڑیاں اور ناکے… مگر
وَاللّٰہُ
غَالِبٌ عَلٰٓی اَمْرِہٖ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ
بے
شک اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے… وہ غالب ہے غالب… مگر
اکثر لوگوں کو اس کی سمجھ نہیں ہے… میں اب بھی سوچتا ہوں کہ اُس دن ہم’’ پریس
کلب‘‘ کیسے پہنچے… اور پھر اعلان کس طرح ہو گیا؟… واقعی اب تک سمجھ میں
نہیںآتا کہ وہ سب کچھ کیسے ہوگیا تھا… بندہ بھی پہنچ گیا… اور حضرت
شامزئی شہیدرحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مفتی محمد جمیل شہیدرحمۃ اللہ علیہ بھی پہنچ
گئے… بندہ کے رفقاء نے دیواریںعبور کر کے اندر کا گیٹ کھول دیا… ہم اندر
ایک مسجد میں تھے کہ کراچی کا پولیس سربراہ آیا اور مجھے کہا آپ کی گرفتاری کا
حکم ہے… وہ کافی ڈرا سہما ہوا تھا… معلوم نہیں کیوں؟… اُسے مسکرا
کر جواب دیا کہ ضرور گرفتار کرنا مگر پریس کانفرنس کے بعد… کہنے لگا پریس
کانفرنس کی اجازت نہیں ہے… عرض کیا ہم بغیر اجازت کے ہی کر لیں گے… وہ
چلا گیا اور پریس کلب کی انتظامیہ کو ڈرانے لگا کہ پریس کانفرنس نہیں ہونی
چاہئے… پھر ایک اور پر اسرار قسم کے صاحب آئے اور کہنے لگے حکومت کے دو
اعلیٰ افسر آپ سے ملنا چاہتے ہیں چلیں اوپر ایک کمرے میں وہ انتظار کر رہے
ہیں… عرض کیا ان کو نیچے لے آئیں… یعنی ہرکوشش ،ہر سطح پر جاری تھی کہ
اعلان نہ ہو… حکومت کو علم تھا کہ جماعت بن چکی ہے… مگر وہ چاہتی تھی کہ
میڈیا پر اعلان نہ ہو ورنہ وہ دنیا بھر کے کافروں کو اپنا منہ وغیرہ کس طرح دکھائے
گی… اُس دن ہم نے اللہ تعالیٰ کی اُس نصرت کو اپنے سینے میں
محسوس کیا جسے قرآن پاک نے ’’سکینہ‘‘ کا نام دیا ہے… اور ’’شرح صدر‘‘ کا
مطلب بھی اُس دن اچھی طرح سمجھ میں آیا… حکومت ہر حربہ استعمال کر کے بے بس
تھی اور … چند غریب فقراء پریس کانفرنس والے کمرے سے چند قدم کے فاصلے
پر تھے… مفتی نظام الدین شامزئی رحمۃ اللہ علیہ تک تو ساتھیوں نے کسی کو
پہنچنے ہی نہیں دیا جبکہ… مفتی محمد جمیل شہید رحمۃ اللہ علیہ ہر طرح کے شدید
دباؤ کو برداشت کر رہے تھے اور توڑ رہے تھے… بالآخر ہم نے درجنوں ساتھیوں
کے ساتھ پیش قدمی شروع کی راستے کی رکاوٹیں ہٹتی اور گرتی گئیں جیسے ریت کے
گھروندے… یہ اللہ تعالیٰ کا فضل نہیں تو اور کیا ہے؟… ہمارا
اس میں کیا کمال تھا… حکومت اگر طاقت استعمال کرتی تو ہم کیا کر سکتے
تھے؟… جنگ کا حکم نہیں تھا کہ لڑتے، بس گرفتار ہو جاتے اور اعلان دب
جاتا… مگر اللہ تعالیٰ کی نصرت جب آتی ہے تو جابروں کی طاقت خود
اُن کے پاؤں کی زنجیر بن جاتی ہے… فرعون چاہتا تو اُس وقت حضرت موسیٰ علیہ
السلام کو شہید کرادیتا جب آپ اُس کے محل میں اُسے دعوت دے رہے تھے… مگر
اتنی ہیبت ناک طاقت کے باوجود وہ ایسا نہ کرسکا بلکہ الٹا اپنے پاؤں پر کلہاڑی
مار بیٹھا اور جادو گروں سے مقابلے کا چیلنج دینے لگا… اور یوں لاکھوں افراد
نے فرعون کے بُلائے ہوئے جلسے میں ’’کلیم اللہ ‘‘ کی تجلّیات ، حقانیت اور
معجزات دیکھ لئے… سخت دھکم پیل کے ساتھ جیسے ہی ہم کانفرنس والے ہال میں داخل
ہوئے تو سارا معاملہ ٹھنڈا پڑ گیا… ملکی اور غیر ملکی میڈیا کے سینکڑوں صحافی
اپنے آلات کے ہمراہ موجود تھے… پوراہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا… اور
حکومت ان کیمروں کے سامنے اب کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی… حضرت مفتی نظام الدین
شامزئی رحمۃ اللہ علیہ نے جماعت کا اعلان فرمایا… صحافیوں کے سوالات کی
بوچھاڑ بندہ پر تھی، مفتی محمد جمیل خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس بوچھاڑ کو ٹالتے
رہے مگر پھر مجبوراً مجھے جوابات دینے کے لئے کہا… جمعہ کا دن تھا اور شام تک
یہی خبر دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ پر چیخ اور چنگھاڑ رہی تھی… عالمی رہنماؤں
کے غصیلے تاثرات آرہے تھے اور حکومت پاکستان غم اور غصے کی کیفیت میں
تھی… اگلے ہی دن صبح سویرے بندہ کو اسلام آباد ائیر پورٹ سے گرفتار کر کے
نظر بند کر دیا گیا… مگر تیر اپنی کمان سے نکل چکا تھا… آج الحمدللہ لاکھوں مسلمان اس جماعت سے دینی اور جہادی فیض
حاصل کر رہے ہیں اور اپنی عاقبت اور اصل زندگی سنوار رہے ہیں… اور الحمدللہ ہر آئے دن ان میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا
ہے… ذرائع ابلاغ پر جماعت کے اعلان سے پہلے جب باقاعدہ تشکیل ہو گئی اور
جماعت بن گئی… تو اُسی وقت سے بڑے بڑے اولیاء، صدیقین اور حضرات اکابر نے دل
کی گہرائیوں سے جماعت کے لئے دعائیں فرمائیں… اوربعض نے تو باقاعدہ جماعت کی
بیعت میں شمولیت کا اعلان فرمایا… انہیں ایام میں ایک دن حضرت حکیم الاسلام
حضرت لدھیانوی شہیدرحمۃ اللہ علیہ نے ملاقات کے لئے طلب فرمایا… جامع مسجد
باب الرحمت کراچی کے دفترمیں آپ تشریف فرما تھے… بہت محبت بھری ملاقات ہوئی
اور حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے بغیر کسی تقاضے کے فرمایا ہم آپ کو ایک تحریر دیتے
ہیں اُسے اپنے رسالے میں چھاپ دیں… اس طرح ہمارا بھی حصہ ہو جائے
گا… پھر آپ نے تحریر لکھوائی… اُن دنوں ہاتھوں میں رعشہ کے عارضے کی
وجہ سے تمام تحریری کام ’’اِملا‘‘ کرایا کرتے تھے… حضرت مفتی محمد جمیل خان
شہیدرحمۃ اللہ علیہ لکھ رہے تھے اور حضرت لدھیانوی شہیدرحمۃ اللہ علیہ لکھوا رہے
تھے… اس طرح سے یہ تحریر’’ذوالشہیدین‘‘ ہے اور اس تحریر سے جس جماعت
کو’’تقویت‘‘ دینا مطلوب تھی وہ اب ’’ذوالشہداء‘‘ ہے… جی ہاں سترہ سو سے زائد
شہداء کرام کی جماعت… دل چاہتا ہے کہ القلم کے قارئین بھی یہ مبارک
تحریرپڑھیں… لیجئے ملاحظہ فرمائیے:
بسم
اللّٰہ الرحمن الرحیم
’’اس
وقت ہر طرف انتشار کی کیفیت ہے اور یہ قیامت کی علامات میں سے ہے خاص کر آپ کو اس
وقت بہت زیادہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور طرح طرح کی باتیں پھیلائی جا
رہی ہیں۔ آپ اس کی فکر نہ کریں۔ میں مکمل طور پر آپ کے ساتھ ہوں۔ آپ اپنے
ساتھیوں کو فہمائش کر دیںکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ
وسلم کی رضا مندی کے لیے کام کریں۔ مخلوق پر کوئی نظر نہ رکھیں اور نہ
ہی ریاکاری یا دکھاوے کی نیت ہو۔ کسی سے تعرض یا مجادلہ نہ کریں مثبت انداز میں
اپنا کام جاری رکھیں۔ علماء حق سے وابستہ رہیں اور وقتاً فوقتاً ان کی رہنمائی
حاصل کرتے رہیں۔ اپنے احباب کے مخلص اور ذی رائے حضرات کی ایک مجلس شوریٰ تشکیل دے
دیں اور مشاورت سے جہاد کا کام جاری رکھیں۔ میں خود بھی جلد افغانستان کی اسلامی
حکومت کے علماء کرام اور امیر المؤمنین ملا عمر کی زیارت کے لیے افغانستان کا سفر
کروں گا۔ میری دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ جیش محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو
کامیاب و کامران فرمائے۔ آمین‘‘
والسلام
اس
تحریر سے آپ اُس شرح صدر کا اندازہ لگالیں جو… وقت کے اتنے مقبول، مستند اور
عظیم مفکر اور عالم دین کو ’’جماعت‘‘ کے بارے میں عمر کے آخری حصے میں نصیب
ہوا… پھر یہی نہیں بلکہ حضرت نے بندہ کو حکم فرمایا کہ جمعہ میری مسجد میں
آپ نے پڑھانا ہے… حضرت نے اس جمعہ کے لئے علماء کرام کو خود اپنی طرف سے
دعوت نامہ جاری فرمایا… ماشاء اللہ اُس دن پوری مسجد جید علماء
کرام سے بھری ہوئی تھی… کیا صحن اور کیا چھتیں باہر تک افراد ہی افراد
تھے… اور پھر اچانک حضرت نے اٹھ کر سب کے سامنے بیعت کا اعلان کیا
تومسجد… نعروںاور جذباتی آہ و بکا سے گونج اٹھی … بس آنسو ہی
آنسو تھے اور ایمانی جذبات کا دریا تھا جو ٹھاٹھیں مار رہا تھا… اس کے چند
دن بعد ایک ملاقات میں… ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا میں نے رسمی بیعت نہیں
کی… جہاں بھیجنا چاہو بھیج دو اور دیکھنا میں بسترپر نہیں مروں گا… بے
شک انہوں نے اللہ تعالیٰ سے سچ بولا… اور اللہ
تعالیٰ نے اُن کو سچا فرمادیا… بات اگر ’’بشارتوں‘‘ کی طرف نکل گئی تو
بہت لمبی ہو جائے گی… ویسے بھی اس زمانے میںخوابوں اور بشارتوںکا معاملہ کافی
خلط ملط سا ہو گیا ہے… مگر ان حضرات اہل اللہ کا شرح صدر، نیک
تمنائیں اور مقبول دعائیں… الحمدللہ رنگ لائی ہیں… اور اللہ تعالیٰ
نے محض اپنے فضل وکرم سے اس جماعت سے ’’ نصرتِ دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ کا
مبارک کام لیا ہے… مگر یہ کام اتنا بڑا ہے کہ ہم جس قدر بھی کر لیں وہ تھوڑا
ہی رہے گا اور یہ بھی سچ ہے کہ ہمیں جس قدر محنت کرنی چاہیے تھی… اللہ
تعالیٰ معاف فرمائے ہم اُتنی محنت نہیں کرپائے… ورنہ ایک جماعت کے لئے
اس سے بڑی خوش نصیبی کیا ہو سکتی ہے کہ… اللہ تعالیٰ کے فضل و
کرم سے لوگ اُس کی بات سنتے ہوں… ہاںواقعی سنتے ہیں… جماعت کوئی بڑی
دعوت اٹھائے یا چھوٹی ماشاء اللہ لاقوۃالا باللہ …جو دعوت بھی اللہ
تعالیٰ کی خالص رضا کے لئے اٹھائی گئی اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے
قلوب کو اُس کی طرف متوجہ فرمایا… سب سے سخت اور بڑی دعوت اپنی جان شہادت کے
لئے پیش کرنے کی ہے… مسلمان ماشاء اللہ بہت والہانہ شوق کے ساتھ
اس دعوت کو قبول کر رہے ہیں… ابھی میرے سامنے جو ڈاک رکھی ہے اس میں آٹھ
خطوط ہیں تاکید کے ساتھ اس تشکیل کی درخواست ہے… درود شریف کی طرف دھیان
دلایا گیا تو الحمدللہ آج ہزاروں، لاکھوںافراد روزآنہ کم از کم ایک
ہزار بار درود شریف اپنی زندگی کا پختہ معمول بنا چکے ہیں… یہ بھی بڑا کام ہے
مگر جان دینے سے بہت آسان… آج کی ڈاک میں کسی نے اطلاع دی ہے کہ انہوں نے
ستر لاکھ درودشریف کر لیا ہے اور ایک کروڑ تک جلد پہنچنا چاہتے ہیں… اقامتِ
صلوٰۃ کی بات اٹھی تو ہزاروںمسلمانوں نے قبول کی… اُمت کے کئی قیمتی افراد جو
دیندار کہلانے کے باوجود نماز کی حقیقت اور اقامت سے محروم تھے… آج وہ نماز
کے نور سے مالا مال ہیں… اور اب ایسے افراد کی ایک بڑی تعداد سامنے ہے جو
تکبیر اولیٰ کے چلوں پر چلے کر رہی ہے… ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ … اور پھر سب سے زیادہ نفع
مسلمانوں نے کلمہ طیبہ اور استغفار مہم سے اٹھایا… یقینا ان دو مہمات سے جو
فوائد، ثمرات اور نتائج سامنے آئے ہیں… اُن کو بس اللہ تعالیٰ
کا فضل ہی کہا جا سکتا ہے… انسانی طاقت میں تو یہ سب کچھ ہو ہی نہیں
سکتا… ہمارے ہاں کار گزاری محفوظ رکھنے، سنانے اور چھاپنے کا نظام نہیں
ہے… ورنہ ان دو مہمات پر آنے والے تأثرات اگر کتابی صورت میں شائع کر دیئے
جائیں تو مزید لاکھوں مسلمانوں کو فائدہ ہو… ایک وقت تھا کہ پورے ملک
میں’’قادیانی ملعون‘‘ کا یہ جرثومہ پھیل چکا تھا کہ… جہاد کا لفظ زبان پر آتے
ہی آٹو میٹک مشین چل پڑتی تھی… جہاد کی اقسام یہ بھی جہاد ہے وہ بھی جہاد
ہے… اور یوں اس ڈھول میں میرے آقامدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے
ستائیس غزوات اورمیرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے خون مبارک کی قربانی
والا جہاد بالکل گُم کر دیا گیا تھا… لوگ’’وضو‘‘ کا معنیٰ واضح سمجھتے تھے
کہ’’وضو‘‘ کیا ہے… سنت مسواک کا مطلب واضح سمجھتے تھے کہ مسواک کسے کہتے
ہیں… حالانکہ وضو کے بارے میں قرآن پاک میں چند ایک آیات ہیں… اور
مسواک کا قرآن پاک میں تذکرہ تک نہیں… مگر وہ جہاد جسے قرآن پاک کی سینکڑوں
آیات میںصراحت اور وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے… اُس کا جب نام لیا
جاتا تو ایسی تشریح سامنے آتی کہ گویا جہاد کوئی چیز ہی نہیں ہے… یا ہر چیز
جہاد ہے… حلال کماناجہاد، روٹی کھانا جہاد، لکھنا جہاد، پڑھنا جہاد وغیرہ
وغیرہ … یوں مسلمان قرآن پاک کے اتنے بڑے حصّے اور فریضے سے ناواقف
تھے… اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو توفیق دی اور اُس نے تین لفظوں
میں جہاد کا عقیدہ اُمت کے سامنے رکھ دیا… اور ساتھ ہزاروں صفحات کے
دلائل… اور سینکڑوں بیانات کی کمک دے دی… آج ماشاء اللہ لاکھوں
مسلمان قادیانی جرثومے سے پوری طرح پاک ہو چکے ہیں… اور وہ قرآن پاک کا
انکار کرنے کے جرم عظیم سے بچ گئے ہیں… بات یہ عرض ہو رہی تھی کہ جب
اللہ تعالیٰ کے فضل سے لوگ بات سُن رہے ہیں تو پھر… محنت میں کمی
اور سستی یقینا ایک طرح کا جُرم ہے… اسی کوتاہی کے ازالے کے لئے ان شاء
اللہ چالیس دن کی مہم آرہی ہے… دعوت و رکنیت مہم… ان شاء
اللہ خوش نصیب ہوں گے وہ جو اس مہم میں پوری جان لڑا کر… دین
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت کریں گے…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد رسول
اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ نے ’’انسان‘‘ کو زمین پر اپنا’ ’خلیفہ ‘‘بنا کر بھیجا… اور اسے علم،
قوت، ہمت اور صلاحیت کے بڑے بڑے خزانے عطاء فرمائے… تھوڑا سا سوچیں ’’
اللہ تعالیٰ کا خلیفہ‘‘، اللہ تعالیٰ کا نائب اللّٰہ
اکبرکبیرا… زمین تو بہت چھوٹی سی جگہ ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو
ایسی قوت عطاء فرمائی ہے کہ یہ’’جنت‘‘ کو بھی فتح کر سکتا ہے… آپ جانتے ہیں
کہ جنت آسمانوں سے بھی اونچی اور بڑی ہے… یہاںہم حضرت مولانا ابو الحسن علی
ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی نقل فرمودہ ایک عبارت پڑھتے ہیں:
وقت
کا فاتح
’’بڑوں
بڑوں کا عذر یہ ہوتا ہے کہ وقت ساتھ نہیں دیتا اور سروسامان و اسباب کار فراہم
نہیں، لیکن وقت کا عازم و فاتح اٹھتا ہے، اورکہتا ہے کہ اگر وقت ساتھ نہیں دیتا تو
میں اُس کو ساتھ لوں گا،اگر سرو سامان نہیں تو اپنے ہاتھوں سے تیار کر لوںگا، اگر
زمین موافق نہیں، تو آسمان کو اُترنا چاہئے، اگر آدمی نہیں ملتے تو فرشتوں کو
ساتھ دینا چاہئے، اگر انسانوں کی زبانیں گونگی ہو گئی ہیں تو پتھروں کو چیخنا
چاہئے، اگر ساتھ چلنے والے نہیں تو کیا مضائقہ؟ درختوں کو دوڑنا چاہئے، اگر دشمن
بے شمار ہیں تو آسمان کی بجلیوں کی بھی کوئی گنتی نہیں، اگر رکاوٹیں اور مشکلیں
بہت ہیں تو پہاڑوں اور طوفانوں کو کیا ہو گیا کہ راہ صاف نہیں کرتے، وہ زمانہ کا
مخلوق نہیں ہوتا کہ زمانہ اُس سے اپنی چاکری کرائے، وہ وقت کا خالق اورعہد کا
پالنے والا ہوتا ہے، وہ زمانہ کے حکموں پر نہیںچلتا بلکہ زمانہ آتا ہے تاکہ اس کی
جنبشِ لب کا انتظار کرے، وہ دنیا پر اس لئے نظر نہیں ڈالتا کہ کیا ہے، جس سے دامن
بھر لوں؟ وہ یہ دیکھنے کے لئے آتا ہے کہ کیا کیا نہیں ہے، جس کو پورا کروں‘‘(
پرانے چراغ، ص۶۰ج۲)
آخری
جملے پر بار بار غور کرنے کی ضرورت ہے… میرے آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا…
اسلام
جب آیا تھا تو اجنبی مسافر کی طرح تھا… اور پھر ایسا ہو گا کہ یہ اجنبی
مسافر کی طرح ہو جائے گا پس خوشخبری ہو مسافرت کے بے کَسوں کو… ہاں بے شک
زمانے کے فتنے اسلام کی آواز لگانے والوں کو اجنبی، بے کَس مسافر بنا دیتے ہیں
مگر یاد رکھنا یہ مسافر ہار ماننے والا نہیں … اور یہ اجنبی ہمت ہارنے
والا نہیں… کچھ ہی عرصہ گزرتا ہے کہ یہ مسافر اپنے پاؤں کے چھالے سنبھالتے
ہوئے اعلان کر دیتا ہے راستہ صاف کرومسافر آرہا ہے… اورپھر اسلام کی سچی
آواز ہر سمت گونجنے لگتی ہے… بات آگے بڑھانے سے پہلے اپنے دلوں کو روشن
کرنے والا ایک منظر دیکھتے ہیں… وہ دیکھیں
مکہ
کے بازاروں میں
حضرت
طارق بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، میں(مکہ کے) بازار’’ذی المجاز‘‘
میں تھا کہ اچانک ایک نوجوان آدمی گزرا جس نے سرخ دھاریوں والا جوڑا پہنا ہوا تھا
اور وہ یہ کہہ رہا تھا اے لوگو!’’ لا الہ الا اللہ ‘‘ کہہ دو کامیاب ہو جاؤ
گے… اور اُس کے پیچھے ایک آدمی تھا جس نے اس نوجوان کی ایڑیوں اور پنڈلیوں
کو زخمی کر رکھا تھا اور وہ کہہ رہا تھا کہ اے لوگو! یہ جھوٹا ہے اس کی بات مت
مانو! میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ کسی نے کہا یہ بنی ہاشم کا نوجوان ہے جو اپنے آپ
کو ’’ رسول اللہ ‘‘ بتاتا ہے اور دوسرا آدمی اُس کا چچا عبدالعزی(ابولہب)
ہے۔
دیکھا
آپ نے ہمت کسے کہتے ہیں؟ اور آسمانی مدد زمین پر کیسے اُترتی ہے؟… کہاں وہ
مکہ کا بازار اور کہاں آج ہر چند منٹ پر لاکھوں، کروڑوں مسجدوں کے میناروں سے
بلند ہوتی ہوئی صدا …
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ …
ساری
دنیا کا نقشہ سامنے رکھیں اور پھر وقت کے فرق کو دیکھیں… اس وقت بھی یقیناً
کلمہ گونج رہا ہوگا اور اذان بلند ہو رہی ہو گی… ہاں بے شک اللہ
تعالیٰ نے انسان کو بہت قوت عطاء فرمائی ہے… پورا قرآن مجید شروع سے
لیکر آخر تک انسان کو کامیابی کی طرف بُلاتا ہے… اور’’ہمت‘‘ کا سبق پڑھاتا
ہے… یہی’’ہمت‘‘ وہ بجلی ہے جو انسان کے دل اور دماغ میں بھر جائے تو پھر دنیا
کی ہر چیز اُس کی غلام بن جاتی ہے… پہاڑ اُس کے لئے راستہ چھوڑ دیتے ہیں ،
سمندر اُس کی خاطر میدان بن جاتے ہیں، ہوائیں اُس کے حکم پر طوفان اٹھاتی ہیں اور
بادل اُس کے اشارے پر چلتے ہیں… قرآن پاک کے مناظر کو دیکھو!… یہ قصہ
آدم ح کیا ہے؟… یہ حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت اور طوفان… یہ حضرت
ابراہیم علیہ السلام اور نمرودکی بھڑکتی آگ اور پھر تعمیر کعبہ، یہ حضرت
یعقوب علیہ السلام اور یہ زندان یوسف علیہ
السلام … یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا محو پرواز تخت اور یہ حضرت
داؤدعلیہ السلام کے ہاتھ میں موم بنا لوہا… ذوالقرنین کی تسخیر عالم تک چلے
آئیے… بات ایک ہی سمجھ آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ’’انسان‘‘ کو
کوئی معمولی چیز نہیں بنایا… مگر اسی انسان کے اندر ایک آلہ لگا ہوا ہے وہ
آلہ اگر لیک ہو جائے … یعنی اس میں ایک یا کئی ایسے سوراخ ہو جائیں کہ
انسان کی توانائی ضائع ہونے لگے تب یہ انسان جانوروں سے بھی بدتر ہو جاتا
ہے… اس آلے کا نام’’نفس‘‘ ہے… اس میں چھوٹے چھوٹے سوراخ ہوجاتے
ہیں… مال کی خواہش، عزت کی خواہش، شہوات کی خواہش… جو اُن سوراخوں کوبند
کر دے اور نفس کے اندر اللہ تعالیٰ نے ’’ہمت‘‘ کی جو بجلی اور طاقت
رکھی ہے اُس کو ضائع نہ ہونے دے تو ایسا انسان… زمین کا فاتح، جنت کا مستحق
اور سعادتوں کا تاجدار بن جاتا ہے… قرآن پاک سمجھا رہا ہے… کان لگا کر
سنیں…
اَفَمَنْ
شَرَحَ اللّٰہُ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ فَھُوَ عَلٰی نُوْرٍ مِّنْ
رَّبِّہٖ (الزمر:۲۲)
ترجمہ:
بھلا جس شخص کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لئے کھول دیا ہے پس وہ
اپنے رب کی طرف سے ایک نور پر ہے۔
اللہ اکبر کبیرا… جی ہاں نور، روشنی، طاقت، پاور ، بجلی… جو بھی
نام دے دیں… بجلی بہت کمزور سی چیز ہے اسی سے اس طاقتور’’نور‘‘ اور ’’پاور‘‘
کو سمجھنے کی کوشش کریں جو اللہ تعالیٰ ایمان والے شخص کے دل میں عطاء
فرماتا ہے… بجلی آتی ہے تو بڑے بڑے کارخانے چلنے لگتے ہیں… اوربجلی بند
تو سب کچھ بند… اللہ تعالیٰ جس کو ’’شرح صدر‘‘ کی نعمت عطاء
فرمادیں اُس کے لیے کوئی کام اور کوئی منزل بھی مشکل نہیں رہتی… اللہ
تعالیٰ آپ میں سے کسی کو توفیق عطاء فرمائے تو وہ قرآن پاک میں ’’شرح
صدر‘‘ کے معنیٰ کو سمجھنے کی کوشش کرے… سورہ طٰہٰ میں دیکھیں آیت(۲۵)…
حضرت
موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے ’’شرح صدر‘‘ کی دعاء
مانگ رہے ہیں…
سبحان
اللہ ! اتنے طاقتور فرعون کے مقابلے میں… نہ فوج مانگی اور نہ ہتھیار
بلکہ’’شرح صدر‘‘ مانگا کہ… یا اللہ میرا سینہ اس کام کے لئے کھول
دے… جی ہاں میرے دل میں روشنی،قوت، ہمت، طاقت، حوصلہ اور اپنی بجلی عطاء
فرمادے… پھر دل کی یہ قوت فرعون کی طاقت کو پاش پاش کرنے کے لئے کافی
ہے… سورہ انعام دیکھیں آیت(۲۵)… اللہ تعالیٰ جسے ہدایت عطاء فرمانا
چاہتے ہیں اُس کو ’’شرح صدر‘‘ کی نعمت عطاء فرماتے ہیں… سورۂ انشراح دیکھیے
پہلی آیت… اللہ پاک اپنے پیارے محبوب پر احسان کا اعلان فرماتے
ہیں کہ کیا ہم نے آپ کو’’شرح صدر‘‘ کی نعمت عطاء نہیں فرمائی… اللہ
تعالیٰ جزائے خیر عطاء فرمائے حضرت شاہ عبدالعزیزرحمۃ اللہ علیہ کو کہ انہوں
نے ’’تفسیر عزیزی‘‘ میں ’’شرح صدر‘‘ کے معنیٰ پر کئی صفحات لکھے ہیں… آج ہم
مسلمانوں کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں ہے… کمی ہے تو اس بات کی کہ ہمارا سینہ
بندہے… ہم ہمت اور بلند جذبے سے محروم ہیں… اس لئے ہم میں سے اکثر نے
مایوسی کی رسّی اپنی گردن میں ڈال دی ہے… جی ہم کچھ نہیں کر سکتے… جی ہم
کر ہی کیا سکتے ہیں؟…
بڑے
بڑے لوگ مایوسی کا زہر اپنی تحریروں اور تقریروں میں بانٹ رہے ہیں… کافروں کے
سامنے جُھک جاؤ کہ ان کا مقابلہ اب ممکن نہیں ہے… سائنس اور ٹیکنالوجی کو
سجدہ کرو کیونکہ وہ لوگ چاند اور مریخ تک پہنچ چکے ہیں… کافروں کی دوٹکے کی
نام نہاد ترقی نے ، بہت سے لوگوں کے عقائد اور نظریات تک کو اُلٹ کر رکھ
دیا… حالانکہ کفار کی طاقت نہ کوئی چیز ہے اور نہ اُن کی
ترقی … اسلام اب بھی زندہ ہے، قرآن پاک اب بھی زندہ ہے… اور دیکھ
لینا کہ بہت کم عرصہ میں اسلام کو ظاہری عروج بھی ایسا زبردست ملنے والا ہے
کہ… کفر کے سردار مسلمانوں کے بازاروں میں فروخت ہوں گے… اس وقت
مسلمانوں کو ’’شرح صدر‘‘ کی منزل پر لانے کی ضرورت ہے… حضور اقدس صلی اللہ
علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ… ’’شرح صدر‘‘ کی علامت کیا ہے…
یعنی
اگر ایک مسلمان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے’’شرح صدر‘‘ کی نعمت نصیب ہو
جائے تو اُس کی پہچان کیا ہو گی… آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا:
(۱) الانابۃ
الی دارا لخلود
(۲) والتجافی
عن دارا لغرور
(۳) والتأھب
للموت قبل نزولہ
سبحان
اللہ … حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسئلہ ہی
حل فرما دیا… دنیا دارالغرور یعنی دھوکے کی جگہ ہے… ایک انسان اگراس
حقیقت کو سمجھ لے اور اپنا وقت دنیا کی عارضی اور فانی چیزوں کو بنانے اور سنوارنے
میں ضائع نہ کرے… اور آخرت دارالخلود ہے یعنی ہمیشہ کا گھر ہے اگر انسان اس
حقیقت کو سمجھ لے اور اپنی آخرت کے ہمیشہ ہمیشہ والے گھر کو بنانے اور سنوارنے
میں لگ جائے… اور موت آنے سے پہلے اس کی تیاری میں لگا رہے تو وہ یہ شخص ہے
جس کو شرح صدر نصیب ہو جاتا ہے… آج ساری دنیا کے فتنہ پرست کافروں کو دیکھ
لیں… ان کی پوری کوشش ہے کہ… مسلمان دنیا داری میں پھنس جائے… یہ
طرح طرح کے پیکج، یہ لائف اسٹائل اور ہر پھندا اور جال… مسلمان دنیا میں
پھنستا ہے تو کمزور بن جاتا ہے… اور طرح طرح کے گناہ اُس پر حملہ آور ہو
جاتے ہیں… اور اُس کے دل سے ہر طرح کا ایمانی جوش، ایمانی ولولہ اور اونچے
عزائم ختم ہو جاتے ہیں… اسی چیز کو حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم نے ’’الوہن‘‘ سے تعبیر فرمایا… دنیا کی محبت اور موت سے
گھبراہٹ… یہ’’وہن‘‘ جب مسلمانوں میں آجاتا ہے تو وہ دنیا بھر کی قوموں کا
غلام اور ترنوالہ بن جاتے ہیں… آج کفر کی تمام تر سیاست، معیشت، قوت اور
طاقت اسی پر صرف ہو رہی ہے… اور خود مسلمانوں میں ’’منافقین‘‘ کا وہ طبقہ
طاقتور ہو چکا ہے جو… مسلمانوں کو ’’بلند ہمتی‘‘ سے دور رکھنے کے مشن پر
ہے… ایسے وقت میں کوئی ایسی دعوت مسلمانوں کو اُن کی عظمت رفتہ واپس نہیں دلا
سکتی جس میں… قوت اور ہمت کانسخہ نہ ہو… آج الحمدللہ زمانے کی چال پر قابو پانے والا’’قافلہ‘‘ وجود
میں آچکا ہے… اس قافلے کی طاقت’’لا الہ الا اللہ محمد رسول
اللہ ‘‘ پر یقین ہے… یہی کلمہ کامیابی کا اصل راز اور وہ انسانی
فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا ہے… اقامتُ
الصلوٰۃ اس قافلے کا شعار ہے… نماز دراصل وہ عبادت ہے جو زمین وعرش کے فاصلوں
کو سمیٹ دیتی ہے اور یہ انسانوں میں انسانیت پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ
ہے… اورجہاد فی سبیل اللہ اس قافلے کا وہ راستہ
ہے … جس پر چلتے ہوئے وہ دنیا اور آخرت میں اپنی منزل تک پہنچتا
ہے… الحمدللہ آواز لگ چکی
ہے… راستہ چھوڑ دو کہ اب مسافر چل پڑے ہیں… نہ جان کی پروا نہ مال کی
فکر… نہ شکست کا ڈر اور نہ موت کی گھبراہٹ نہ کچھ چھن جانے کا خطرہ اور نہ
کچھ لُٹ جانے کا ڈر… ارے جس کو لا الہ الا اللہ محمد رسول
اللہ مل جائے اُسے اور کیا چاہئے… ہمیں حکم ہے کہ ہم اس کلمے پر
جیئیں اور اس کلمے پر مریں… دنیا کے سارے کفر نے مل کر وہ کونسا ہتھیار ایجاد
کر لیا ہے جو موت سے زیادہ کوئی سزا دے سکے… ہاں اُن کے نزدیک موت آخری سزا
ہے… جبکہ ہمارے نزدیک موت پہلا انعام ہے… اور موت ہی وہ دروازہ ہے جس سے
گزر کر ہم اپنے رب کے اصلی انعامات تک پہنچتے ہیں… اس دنیا کی حکومتیں اور
یہاں کے مال و اسباب تو مسلمانوں کے قدموں کی خاک ہیں… ماضی میں بھی ایمان و
جہاد کے قافلے نے جب اپنا سفر شروع کیا تو دنیا کے خزانے اُس کے قدموں کی دھول بن
گئے… اور اب بھی الحمدللہ ایسا ہو رہا ہے… اور آگے چل کر اس سے بھی ان شاء
اللہ بڑھ کر ہو
گا… میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
{
طوبیٰ للغرباء}
مبارک
باد ہو، خوشخبری ہو اُن اجنبی مسافروں کے لئے جو اجنبیت کے دور میں اسلام کے پیغام
کو لے کر کھڑے ہوں گے…
پس
اے بھائیو! جو زندگی گزر چکی وہ گزر چکی… اب آگے کی زندگی کا ایک لمحہ ضائع
نہ ہو… اسلام کی عظمت کے لئے اور کلمہ طیبہ ’’لا الہ الا اللہ
محمد رسول اللہ ‘‘کی سربلندی کے لئے… صبح شام، رات دن محنت ہی
محنت… مکمل یقین کے ساتھ، مکمل شرح صدر کے ساتھ اور مکمل جذبے کے
ساتھ… اے بھائیو! اس بات کا خیال دل سے نکال دو کہ ہم نے اس دنیا سے کیا لینا
ہے…بس اس کا جذبہ دل میں بھر لو کہ ہم نے اس دنیا اور زمین کو وہ سب کچھ دینا
ہے… جس کی اس کو ضرورت ہے… جی ہاں… حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ
علیہم اجمعین کے نقش قدم پر… اور اس اُمت کے کامیاب اسلاف اور فاتحین کے نقش
قدم پر… اور یاد رکھنا اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے ساتھ
ہے… اور یاد رکھنا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ نے جن کا نام خود بلند فرمایا… وہ کون ہیں؟ اللہ تعالیٰ
نے جن کی ’’محبت‘‘ کو لازم قرار دیا وہ کون ہیں؟… اللہ تعالیٰ نے
خود جن کی نعت اور تعریف اپنی عظیم کتاب میں بیان فرمائی ہے وہ کون
ہیں؟… اللہ تعالیٰ نے جن کے اسم مبارک کو کلمے، اذان، اقامت،
اطاعت اور محبت میں اپنے عظیم نام کے ساتھ جوڑ دیا وہ کون ہیں؟… اللہ
تعالیٰ نے جن کو دنیا اور آخرت کا سردار، تاجدار اور محبوب بنایا وہ کون
ہیں؟… ان سوالوں کا جواب پوچھیں… ہاں اپنے دل سے پوچھیں… زمین و
آسمان سے پوچھیں… جبریل ح میکائیل حسے پوچھیں… سورج، چاند اور ستاروں
سے پوچھیں… ایک ہی جواب ملتا ہے:
محمد
صلی اللہ علیہ وسلم …محمد صلی اللہ علیہ وسلم …محمد صلی اللہ علیہ وسلم
سبحان
اللہ ! کیسا محبوب اور میٹھا نام ہے… محمد صلی اللہ علیہ
وسلم … اے مسلمانو! اپنی خوش نصیبی پر شکر کے سجدے کرو کہ… ہم اُن
کی اُمت ہیں جن کا نام مبارک’’محمد صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ ہے… واقعی عظیم
سعادت، بہت ہی عظیم سعادت… یا اللہ قدر کرنے اور قدر سمجھنے کی
توفیق عطاء فرما… اور ہم سب کو ’’محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ کا’’جام‘‘
پلا… اے مسلمانو! یاد رکھنا، ہر عمل کی جان’’ایمان‘‘ ہے… ایمان نہیں تو
کوئی عمل قبول نہیں… آؤ اپنے ایمان کی تجدید کریں:
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اور
یاد رکھنا’’ایمان‘‘ کی جان’’محبت‘‘ ہے
محبت
محبت، محبت محبت
بڑا
لطف دیتا ہے نام محبت
ہاں
بے شک ایمان کی جان’’محبت‘‘ ہے… اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت… محبت مل گئی تو ایمان بہت
آسان… سارے اعمال آسان… اور اگر’’محبت‘‘ نصیب نہ ہوئی تو خطرہ ہی
خطرہ… زہر ہی زہر اور اندھیرا ہی اندھیرا…
شیطان
ملعون کے بارے میں کہتے ہیں کہ… ظالم کے پاس بہت علم ہے، عمل بھی بہت کرتا
تھا مگر’’محبت‘‘ سے محروم تھا… ’’محبت‘‘ تو آدمی کو ’’محبوب’’ کا غلام بے
دام بنا دیتی ہے… دُکھ ملے یا سُکھ، پسندیدہ حکم ملے یا مشکل… عاشق نے
کیا دیکھنا؟… اُس کا کام تو محبوب کو راضی کرنا ہے… وہ دیکھو! سیدنا سعد
بن ربیع ذ اُحد کے میدان میں زخموں سے چور چور پڑے ہیں… ایسے زخم کہ نام کی
محبت ہوتی تو چیخوں، شکووں اور بد گمانیوں میں بدل جاتی… مگر یہاں سچی محبت
تھی، سچا عشق تھا پوچھ رہے ہیں! ہمارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا
حال ہے؟… او انصاریو! اگر حضرت آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ
ہوا اور تم زندہ رہے تو کس منہ سے اللہ تعالیٰ کے پاس جاؤ
گے… یہ آخری الفاظ تھے… اورپھر روح نے زخمی جسم کا ساتھ چھوڑ
دیا… ؎
لب
پر درود، دل میں خیال رسول ہے
اب
میں ہوں اور کیفِ وصال رسول ہے
یہاں
ایک مبارک حدیث پڑھ لیتے ہیں… اللہ کرے دل میں اُتر
جائے… پھربات آگے بڑھاتے ہیں:
عن
انسذ قال قال رسول اللہ ا لَایُوْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ أَحَبَّ
اِلَیْہٖ مِنْ وَالِدِہِ وَوَلَدِہِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ (بخاری،
مسلم)
رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :تم میں سے کوئی
بھی اُس وقت تک ’’مؤمن‘‘ نہیں ہو سکتا جب تک کہ اُس کو اپنے ماںباپ، اپنی اولاد
اور سب لوگوں سے زیادہ میری ’’محبت‘‘ نصیب نہ ہو…
غور
فرمائیں… حضرت محبوب آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی’’محبت‘‘ کے
بغیر ’’ایمان‘‘ ہی نہیں… اور محبت بھی ایسی جو اپنی اولاد… حتی کہ اپنی
جان سے بھی زیادہ ہو… یہ حدیث اپنے دل کو یاد کرائیں… اور اپنی اولاد کو
بھی… کیونکہ قیامت آر ہی ہے… اور حضرت آقا صلی اللہ علیہ
وسلم کی ’’شفاعت‘‘ کے ہم سب بے حد محتاج ہیں… ’’محبت‘‘ کسے کہتے
ہیں؟… تھوڑا سا وقت نکال کر حضرت ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کو پڑھ
لیں… جی ہاں’’کشف المحجوب‘‘ میں ’’محبت‘‘ پر ایک پورا باب ہے… اور اس
میں محبت کے کئی ایمان افروز معانی بیان فرمائے ہیں… اسی باب میں ایک واقعہ
لائے ہیں کہ حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ… جو حضرت جنیدبغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے
مُرشد تھے ایک بار اُن پر جنون کا غلبہ تھا… کچھ لوگ ملنے آئے… فرمایا
تم کون لوگ ہو؟… جواب ملا’’احبائُ لکَ‘‘ ہم آپ سے محبت کرنے والے ہیں… شبلی
رحمۃ اللہ علیہ نے پتھر اٹھائے اور اُن کو مارنے لگے وہ بھاگ گئے… فرمایا:
{لو
کنتم احبائی لما فررتم من بلائی فاصبروا علی بلائی}
اگر
تم مجھ سے محبت کرنے والے ہوتے تو میرے تکلیف دینے پر مجھ سے نہ بھاگتے… محب
تو وہ ہوتا ہے کہ… محبوب کی طرف سے میٹھا ملے یا کڑوا… اُس کے لئے سب
میٹھا ہی میٹھا… محبوب کی طرف سے نرمی ہو یا سختی… اُس کے لئے سب کچھ
لذت ہی لذت… خیر!… جب توفیق ملے یا دل میں محبت کا شوق اٹھے تو ایک بار
کشف المحجوب دیکھ لیجئے گا… آج تو ’’القلم‘‘ کے نصیب جاگے ہیں کہ’’ذکرِ
مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ میں لگا ہے… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کا تذکرہ کرنے سے محبت میں ترقی ہوتی ہے… اور محبت بڑھتی ہے
تو اطاعت کی توفیق ملتی ہے… اور اطاعت کی وجہ سے محبت مقبول ہوتی
ہے… اورمحبت جب مقبول ہوتی ہے تو پھر فوراً جواب آتا ہے… جی ہاں اُس کے
بدلے میں انسان اللہ تعالیٰ کا’’محبوب‘‘ بن جاتا ہے… اورجب کوئی
اللہ تعالیٰ کا محبوب بنتا ہے تو وہ ساری مخلوق کا’’محبوب‘‘ خود بخود
بن جاتا ہے…
یہ
سب کچھ لکھنا اور کہنا آسان… مگر محبت پانا، محبت نبھانا اور محبت سے
محبوبیت کا سفرآسان نہیں، یا اللہ نظر کرم فرما… ہم سب کو اپنے
محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت اور وفاداری نصیب
فرما…
محبت
کے رستے میں کانٹے ہی کانٹے
مگر
اُس کی منزل بڑی ہی سہانی
زباں
سے محبت کا دم بھرنے والو
محبت
نہیں ہے فقط دُر فشانی
میرے
محبوب آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی مبارک کے آخری ایام اور
لمحات کو یاد کرنے کا آج ارادہ ہے… مگر دل پھٹتا ہے… کیا قیامت کا
حادثہ تھا… بُدھ کا دن تھا اور مہینہ’’صفر‘‘ کے آخری ایام… حضرت محبوب
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے محبوب رب کے پاس تشریف لے جانے
کی تیاری باندھ لی… آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت اٹھے اپنے
غلام کو جگایا اور فرمایا کہ… مجھے حکم ہوا ہے کہ ’’اہل بقیع‘‘ کے لئے
استغفار کروں… ’’بقیع‘‘ مدینہ منورہ کا قبرستا ن … حضرات صحابہ
کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی آرام گاہ… قبرستان سے واپسی پر طبیعت مبارک
ناساز ہو گئی… آخری حج مبارک… حجۃ الوداع کے بعد سے ہی آثار لگ رہے
تھے کہ… ہدایت کا سورج اب پردہ فرمانے کی تیاری میں ہے… قرآنی آیات
بھی اشارے دے رہی تھیں… مگر کون تھا جو اس صدمے کو برداشت کرنا تو دور کی بات
صرف سوچ ہی سکتا… صدیق اکبر ذ جیسے راز دان حضرات آثار دیکھ رہے
تھے… مگر وہ ان دردناک خیالات کو جھٹک دیتے اور دل کو تسلیاں دیتے… لیکن
فیصلہ ہر دوطرف ہوچکا تھا… محبوب رب تعالیٰ نے محبوب نبی صلی اللہ علیہ
وسلم کو اختیار دیا کہ… ہمارے پاس آجائیں یا وہاں
رہیں… میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم ’’محبت‘‘ کے جس مقام پر
تھے… اُسے کون ماپ اور ناپ سکتا ہے… فوراًہی ’’ملاقات‘‘ کے لئے تیار ہو
گئے… اپنے آنسوؤں کو وقفہ دینے کیلئے آئیے’’تفسیر عزیزی‘‘ اٹھاتے
ہیں… چوتھی جلد اور سورۃ الضحیٰ کی تفسیر… سبحان
اللہ … شاہ عبدالعزیز س عشق رسول صلی اللہ علیہ
وسلم میں مست نظرآرہے ہیں اور صفحات پر صفحات لکھ رہے ہیں… اور
جھوم جھوم کر شان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرما رہے
ہیں… ایک جھلک ہم بھی دیکھتے ہیں:
’’جو
کسی سے محبت رکھتا ہو اُسے ممتاز شان دیتا ہے… اللہ تعالیٰ نے
اپنے سب سے زیادہ محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت سے امتیازات اور
بہت سی ایسی خصوصیات عطاء فرمائیں جو کسی اور کو نصیب نہیں ہوئیں… اور وہ
خصوصیات بھی عطاء فرمائیں جو دوسرے انبیاء د کو عطاء فرمائیں…
(۱) آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کا لعاب مبارک کھارے( نمکین) پانی کو میٹھا کر دیتا
تھا… صلی اللہ علیہ وسلم
(۲) دودھ پینے والے بچے کو آپ
صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لعاب مبارک کا ایک قطرہ چکھاتے تو وہ بچہ سارا
دن پیٹ بھرا رہتا دودھ نہ مانگتا… صلی اللہ علیہ وسلم
(۳) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سامنے کی طرح
پیچھے بھی دیکھتے تھے اور روشنی کی طرح اندھیرے میں بھی آپ سب کچھ ملاحظہ فرماتے
تھے… صلی اللہ علیہ وسلم
(۴) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلیں
سفید رنگ، اُجلی شفاف تھیں اور ان میں بالکل بال نہیں تھے… صلی اللہ علیہ
وسلم
(۵) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز
مبارک اتنی دور تک جاتی تھی کہ اوروں کی آواز اُس کے دسویں حصے تک بھی نہ پہنچتی
تھی… صلی اللہ علیہ وسلم
(۶) آنحضرت صلی اللہ علیہ
وسلم کی آنکھیں سو جاتی تھیں مگر دل جاگتا رہتا تھا… صلی اللہ
علیہ وسلم
(۷) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری
عمر‘‘جمائی‘‘ نہ آئی… کبھی احتلام نہ ہوا… صلی اللہ علیہ وسلم
(۸) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ
مبارک مشک سے زیادہ خوشبودار تھا… جس راستے سے گزرتے لوگ بعد میں بھی اُس
خوشبو سے پہچان جاتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گذرے ہیں… صلی
اللہ علیہ وسلم
(۹) آنحضرت صلی اللہ علیہ
وسلم کی جب ولادت مبارک ہوئی تو بدن بالکل پاک تھا… آپ زمین پر
سجدہ فرماتے ہوئے اور شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے دنیا میں تشریف
لائے اور آپ کی ولادت کے وقت ایک نور چمکا اور ایسی روشنی ہوئی کہ آپ کی والدہ
محترمہ نے اُس روشنی میں ’’شام‘‘ کے محلات دیکھے… اور فرشتے آپ صلی اللہ
علیہ وسلم کا جھولا جھولتے اور چاند جھولے میں آپ صلی اللہ علیہ
وسلم سے باتیں کرتا تھا اور جب اشارہ فرماتے توآپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی طرف جھکتا اور بادل دھوپ کے وقت ہمیشہ آپ پر سایہ کرتے
تھے… اور جب درخت کے نیچے سے گزرتے تو اُس کا سایہ فوراً آپ کی طرف متوجہ ہو
جاتا… صلی اللہ علیہ وسلم
(۱۰) آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس مبارک پر مکھی نہ بیٹھتی تھی اور آپ اگر
جانور پرسواری فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی مدّت لید،
پیشاب نہ کرتا… صلی اللہ علیہ وسلم
(۱۱) عالم ارواح میں سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ
وسلم پیدا ہوئے، اور’’الست بربکم‘‘کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے سب سے پہلے بلٰی فرمایا… صلی اللہ علیہ وسلم
(۱۲) آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے فرشتوں کو آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کے لشکر کا حصہ بنایا گیا اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی طرف سے قتال فرمایا… صلی اللہ علیہ وسلم
(۱۳) حشر
میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو براق پر لایا جائے گا اور ستر ہزار
فرشتے اُس سواری کے چاروں طرف ہوں گے… اور آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کو ہی’’عرشِ عظیم‘‘ کے دا ہنی طرف کرسی پر بٹھایا جائے گا اور آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کو’’مقام محمود‘‘ نصیب ہوگا اور’’لواء الحمد‘‘ یعنی
حمد کا جھنڈا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہوگا… اور حضرت
آدم علیہ السلام اور اُن کی تمام اولاد اس جھنڈے تلے آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کے پیچھے چلیں گے… اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو
’’شفاعت عظمیٰ‘‘ کا منصب ملے گا… صلی اللہ علیہ وسلم
(۱۴) پل
صراط پر سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم گزریں گے اور پھر تمام
لوگوں کو حکم ہو گا کہ اپنی آنکھیں بند کر لو تاکہ آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی بیٹی حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا پل صراط سے تشریف لے
جائیں… صلی اللہ علیہ وسلم
(۱۵) آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن’’جناب الٰہی‘‘ سے قرب اور منزلت میں
ایسے ہوں گے جیسے وزیر بادشاہ کے… صلی اللہ علیہ وسلم …(تفسیر
عزیزی تسھیل و تلخیص)
او
رُشدی ملعون! تیرے جسم کو کُتے کھائیں اور تیری گردن کا خون ہمارے پیاسے خنجر
پیئیں… تو نے کس ذات اقدس کی بے ادبی کا جرم کیا ہے… لعنت ہو تجھ پر اور
تجھ جیسوں پر… او! خاکے بنانے والے گورے بندرواور سورو! زمین تم کو نگل جائے
تم نے کس آسمان کی طرف جسارت کی انگلی بڑھائی ہے… اس زمانے میں کسی ماں نے
تم جیسے ملعون اور بدنصیب نہیں جنے …
ہائے
کاش… مسلمان اپنے دلوں اوراپنے بچوں کو… وہ عشق رسول صلی اللہ علیہ
وسلم سکھائیں جو… حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو
نصیب تھا… محبوب آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت سخت ناساز
ہو گئی… اُم المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہاکے گھر کی باری تھی، ازواج
مطہرات تشریف لائیں حضرت صفیہ رضی اللہ عنہایہ تکلیف دیکھ کر بے تاب ہوئیں
فرمایا… یا اللہ میری یہ تمنا اور آرزو ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کے بدلہ یہ تکلیف مجھ کوہو جائے… بدھ سے لے کر پیر کے دن تک
آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف کے باوجود ترتیب کے مطابق ازواج مطہرات
کے گھر تشریف لے جاتے رہے… مگر پیر کے دن کے بعد سب کی خوشی اور رضامندی
سے… حضرت اماں عائشہ رضی اللہ عنہاکے گھر منتقل ہو گئے… گھر کیا تھے؟ بس
ایک ایک کچا کمرہ… ان کمروں میں اُمت مسلمہ کی مائیں خوشی خوشی رہتی تھیں… نہ
سامان نہ درہم و دینار… واہ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم … آہ
میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم …
اتنی
شدید علالت کے باوجود… دو عمل ایسے تھے جن کی طرف میرے محبوب آقا صلی اللہ
علیہ وسلم کی بہت زیادہ توجہ تھی… ایک جہاد اور ایک
نماز… معلوم نہیں محبوب دو جہان صلی اللہ علیہ وسلم کی
یہ درد مندانہ بے تابیاں اُمتِ مسلمہ نے کیسے بُھلا دیں… کاش بارہ ربیع الاول
کو جشن منانے والے اُس دن… جمع ہو کر ان دو فرائض کی سخت پابندی کا عزم کرتے
تو… گھر بیٹھے ان کو مدینہ منورہ کی خوشبوئیں، انوارات اور گنبد خضراء کے
سلام پہنچتے… وہ دیکھو! میرے محبوب آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم اتنے علیل ہیں کہ… چلنا پھرنا مشکل… دو آدمیوں کے
سہارے آتے ہیں اور پاؤں مبارک زمین پر نہیں ٹکتے… مگر نماز جاری، امامت
نماز جاری… وہ دیکھو! بدھ کی بیماری کے اگلے دن یعنی جمعرات کو میرے محبوب
آقا صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کمانڈر حضرت اُسامہ رضی اللہ
عنہ کو باوجود علالت کے اپنے دست مبارک سے جہاد کا علامتی جھنڈا بنا کر
دے رہے ہیں… اور فرما رہے ہیں:
{
اغزباسم اللہ وفی سبیل اللہ فقاتل من کفر باللہ }
ترجمہ:
اللہ تعالیٰ کے نام پر، اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرو
اور کافروں سے لڑو…
آہ!
عجیب منظر تھا… حضرت اُسامہ رضی اللہ عنہ کو حکم تھا کہ جلدی روانہ
ہوں… مگر وہ اور اہل لشکر ایک قدم آگے، ایک قدم پیچھے… بیماری اتنی سخت
نظر آرہی تھی کہ کسی کا دل گوارہ نہ کرتا تھا کہ… اپنی سب سے محبوب ہستی کو
چھوڑکر جائے… مگر اِدھر سے حکم تھاکہ جلدی جاؤ …اور لشکر میں ابو بکر،
عمر، علی اور عباس ڑبھی شامل تھے… اے مسلمانو! اُس عجیب منظر کو یاد
کرو… لشکر مدینہ منورہ سے نکل کر مقام’’جُرف‘‘ میں خیمہ زن تھا… بڑے
صحابہ کرام امیر لشکر کی اجازت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیمارداری
کے لئے مدینہ منورہ آگئے تھے… پیر کے دن… جی ہاں یوم الوصال اہل لشکر
کو خبر ملی کہ طبیعت مبارکہ اچھی ہے… لشکر کوچ کرنے لگا کہ وہ خبر آگئی جو
اُن کے لئے پہاڑوں کو سر پر اٹھانے سے زیادہ بھاری… اور تلواروں کی دھار سے
تیز تھی… اُسامہ اور اہل لشکر روتے بلکتے، گرتے پڑتے مدینہ منورہ
پہنچے… غمزدہ اُسامہ ذ کو کیا سوجھی کہ… آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک سے بنا ہوا جہادی جھنڈا آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کے حجرہ مبارک کے دروازے پر نصب کر دیا… مسلمانو! کیا تمہیں
وہ جھنڈا نظر نہیں آیا کہ… ابھی تک جہاد کو نہیں اٹھے… اے اہل علم و
دانش… میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر لگا یہ جہادی
پرچم دیکھنے کے باوجود… آپ حضرات کو جہاد سمجھ نہیں آتا؟
وہ
دیکھو! چند اور مناظر بھی دل سے آنسو کھینچ رہے ہیں:
میرے
آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت مبارکہ اتنی ناساز کہ… بولنا
بھی مشکل… اسی حالت میں حضرت اُسامہ رضی اللہ عنہ اپنے لشکر سے نکل کر عیادت
کو آگئے… میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ اٹھا اٹھا کر اشارے
سے دعائیں دیتے رہے… واہ جہاد تیری شان ! واہ مجاہد تیرا مقام… وہ
دیکھو! میرے محبوب آقا صلی اللہ علیہ وسلم بیماری کی حالت میں مسجد
نبوی کے منبر پر تشریف فرما ہوئے ہیں… حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین سراپا شوق بنے سن رہے ہیں کہ کیا حکم ہوتا ہے … ارشاد
فرمایا… اُسامہ کے لشکر کو روانہ کرو…
ایک
اور منظر دیکھیں… علالت کی حالت میں بُری خبر آئی… تین گستاخوں نے
دعویٰ نبوت کر دیا ہے… اسود عنسی، مسیلمہ کذاب اور طلیحہ اسدی… آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً صحابہ کرام کو وصیت فرمائی کہ ان مرتدین
کے خلاف جہاد کرنا ہے… اور پھر انصار کی ایک جماعت کو’’اسود عنسی‘‘ سے لڑنے
روانہ بھی فرما دیا… واہ خوش قسمتی انصار کی… آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی وفات سے ایک دن پہلے اسود عنسی کو واصل جہنم کر دیا… ایک
اور منظر دیکھیں… میرے محبوب آقا صلی اللہ علیہ وسلم پر غشی
آگئی… آنکھ مبارک کھلی افاقہ ہواتو فوراً پوچھا… لوگوں نے نماز ادا کر
لی؟… اماں عائشہ رضی اللہ عنہانے فرمایا… یا رسول اللہ ! سب آپ
کے انتظار میں ہیں… پانی منگوا کر غسل فرمایا اُٹھنے لگے کہ غشی چھا
گئی… پھر افاقہ ہوا تو وہی سوال، وہی جواب… پھر غسل فرمایا اٹھنے لگے تو
غشی ہوگئی… تب حکم ہوا… ابوبکررضی اللہ عنہ سے کہو کہ لوگوں کو نماز
پڑھائیں…
مسلمانو!
تھوڑا سا سوچوکہ… نماز کیا ہے… اور آج نماز کے ساتھ ہمارا کیا برتاؤ
ہے؟… بالکل آخری لمحات ہیں…آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو وصیت فرمائی…اس میں
ارشاد تھا…الصلوٰۃ،الصلوٰۃ… اے مسلمانو! نماز… اے مسلمانو!
نماز… علالت کے بعد آخری جمعرات کے دن مغرب کی نماز تک آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے خود امامت فرمائی… اس کے بعد یہ ذمہ داری پیر کے دن
تک… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ
عنہ… کے سپرد رہی… پیر کے دن طبیعت مبارکہ بہتر ہوئی اور حضرات صحابہ
کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار
کیا… شوق اور محبت کا ایسا ولولہ کہ قریب تھا کہ نمازیں توڑ دیتے… مگر
اشارہ ہوا کہ نماز جاری رہے… سب کے قلوب میں تسلّی آئی، غمزدہ دلوں کو اتنے
ایام کے بعد اُمید کی جھلک نظر آئی کہ… اُسی دن…آہ اُسی دن… آگے نہ
مجھے لکھنے کی تاب… نہ آپ کو پڑھنے کی…سیدہ فاطمہ ز پر کیا
بیتی … کیسے لکھوں؟… حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین … اور ازواج مطہرات ژ کی کیا حالت تھی؟ کیسے بیان
کروں؟… مگر حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اور اہل بیت کو
اللہ تعالیٰ نے حوصلہ دیا… اور انہوں نے حضرت آقا صلی اللہ علیہ
وسلم کے دین اور آپ کی محبت کو سنبھال لیا… اور اُن دو کاموں پر
خاص توجہ فرمائی جو علالت کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توجّہ
کے مستحق بنے… چنانچہ جب صدیق اکبرذ نے خلافت سنبھالی تو پہلا کام یہ کیا
کہ… اُسامہ ذکے لشکر کو روانہ فرمایا… اسی طرح جہادی لشکر پے در پے
روانہ ہوتے رہے اور پھر چند ہی سال میں وہ لوگ بھی کلمہ پڑھنے لگے جنہوں نے حضرت
محبوب آقامدنی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا اور نہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پائی تھی… جہادی لشکر
چلتے ہیں تو میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا دین بھی آگے بڑھتا
ہے… اور جب لشکر رک جاتے ہیں تو خود مسلمانوں کے گھروں سے دین نکل جاتا
ہے… اے مسلمانو! حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا
تقاضا… ایمان، نماز اور جہاد کو اپنانا… پورے دین کو
اپنانا… اورآگے دوسرے لوگوں تک پہنچانا ہے… مبارک مہم شروع ہے… اے
مدینہ پاک کے دیوانو!… دیوانہ وار محنت کرو…
حسبنا
اللہ و نعم الوکیل
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ’’أَحَد‘‘ ہے ’’واحد‘‘ ہے، ’’صمد‘‘ ہے… قل ھو اللہ احد… اللہ
الصَّمد
اللہ تعالیٰ’’ ایک ‘‘ ہے… سب اُس کے محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں
بلکہ سب سے ’’بے نیاز‘‘ ہے… انٹرنیٹ پر طرح طرح کی معلومات کے لئے وقت ضائع
کرنے والے یہی وقت اُن ضروری معلومات کو حاصل کرنے پر لگا دیں…جن کے بغیر کسی
مسلمان کا گزارہ ہی نہیں ہے… کلمہ طیبہ… لا الہ الا اللہ
محمد رسول اللہ … سات آسمانوں اور سات زمینوں سے زیادہ بڑا
قیمتی اور بھاری کلمہ… اس کلمے کا مطلب کیا ہے؟… اس کے فضائل کیا
ہیں؟… اس کلمے کے تقاضے کیا ہیں؟… اگر کوئی اعلان کر دے کہ صرف پانچ دن
کی نوکری ہے اور تنخواہ ہے پانچ کروڑ… لاکھوںلوگ اس نوکری کے لئے بھاگیں
گے… صرف پانچ کروڑ… حالانکہ زمین کے نیچے سونا ہی سونا ہے اور طرح طرح
کے خزانے… جبکہ’’لا الہ الا اللہ ‘‘… ان سب سے زیادہ قیمتی
ہے… اور پھر سات آسمان… کہتے ہیں کوئی آسمان سونے کا بنا ہے، کوئی
ہیرے کا اور کوئی چاندی کا… اللہ تعالیٰ کے نزدیک کیا سونا اور
کیا مٹی… خزانے ہی خزانے… اللہ تعالیٰ کے نزدیک بے قدر، بے
وقعت… جبکہ’’کلمہ طیبہ‘‘ کی اللہ تعالیٰ کے ہاں قدرو قیمت دنیا
اور کائنات کے تمام خزانوں سے زیادہ ہے… ارے دل کے اخلاص کے ساتھ ایک بار پڑھ
لو… اور مالک بن جاؤ ربّ کی جنّت کے…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
کوئی
شخص زمین کے تمام ملکوں کا’’بادشاہ‘‘ بن جائے… بادشاہ اس لئے لکھا کہ آج کل
’’صدر‘‘ اور وزیراعظم بے چارے تو بے اختیار ہوتے ہیں… ’’اُبامہ‘‘ بے چارے کو
دیکھیں عدالت میں جا کر اُسے اپنا’’امریکی‘‘ ہونا ثابت کرنا پڑ رہا ہے… اور
اب تو مدّتِ صدارت بھی ختم ہو رہی ہے… جن ’’طالبان‘‘ کو صفحہ ہستی سے مٹانے
کا اعلان تھا اُن سے مذاکرات کی بھیک مانگی جارہی ہے… کوئی’’وزیراعظم‘‘ بے
چارا سپریم کورٹ کے چکر کاٹ رہا ہے… اور کوئی صدر’’بے چارہ‘‘ رات کو پستول لے
کر سوتا ہے کہ فوج یا آئی ایس آئی والے گرفتار کرنے نہ آجائیں… ہائے بے
چارے نہ دنیا کے رہے نہ آخرت کے… شیش ناگ کی طرح بڑے بڑے خزانے تو انہوں نے
جمع کر لئے مگر ان خزانوں سے سکون کے دو منٹ بھی نہ خرید سکے… سوئٹزر لینڈ
والے عجیب چالاک لوگ ہیں… طرح طرح کے بینک کھولے بیٹھے ہیں اور اعلان کرتے
ہیں کہ ہر چور، ڈاکو، اسمگلر اور حاکم… الغرض ہر شیش ناگ اپنا خزانہ ہمارے
ہاں جمع کرادے،ہم حفاظت کریں گے… ساری دنیا کے کالے سانپ اور شیش ناگ اپنا
کالا دھن وہاں جمع کرا آتے ہیں… اورپھر مرجاتے ہیں… اکثرکا اکاؤنٹ
چونکہ خفیہ ہوتا ہے تو کوئی وارث بھی نہیں بنتا… یوں سارا مال بینک والے اپنے
قبضہ میں لے لیتے ہیں… دنیا بھر کے مسلم حکمران… جی ہاں کلمے، نماز،
زکوٰۃ، حج… اور جہادسے محروم… مگر نام کے مسلمان… صرف مسلمان ہی
نہیں بہت پکّے مسلمان کہ خود کو مسلمانوں کا خیر خواہ سمجھتے ہیں… یہ
سب’’سوئٹزر لینڈ‘‘ میں ضرور اپنا اکاؤنٹ کھولتے ہیں… قذافی صاحب جیسے
انقلابی لیڈر اور اُن کے روشن خیال صاحبزادے سیف الاسلام کے بھی اربوں ڈالر وہاں
رکھے ہیں… اب کس کے کام آئے؟… غریب مسلمان دو وقت کی روٹی کے محتاج ہیں
جبکہ یہ ’’ظالم ناگ‘‘ مسلمانوں کا مال کافروںکے پاس جمع کرا آتے ہیں… نہ ان
کے کام آتا ہے اور نہ کسی اور مسلمان کے… بات یہ چل رہی تھی کہ اگر کوئی شخص
’’روئے زمین‘‘… کا بادشاہ بن جائے…’’بادشاہ‘‘ بالکل مالک کی طرح ہوتے تھے
یعنی زمین کے تمام ملکوں کا مالک بن جائے… اور مرنے کے بعد زمین کے یہ تمام
خزانے اُس کے ساتھ دفن کر دیئے جائیں… اور پھر وہ یہ تمام خزانے دے کر جنت کا
ایک’’سیب‘‘… یا جنت میں ایک مرلہ زمین لینا چاہے تو نہیں ملے گی… اسی
طرح اگر وہ یہ تمام خزانے دیکر اپنا کوئی ایک گناہ معاف کرانا چاہے… یا جہنم
میں ایک گلاس ٹھنڈا پانی لینا چاہے تو نہیں خرید سکے گا… اب اس سے اندازہ
لگائیں کہ ’’ لا الہ الا اللہ ‘‘ کتنا قیمتی کلمہ ہے کہ ا س کے ذریعہ تمام
گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور جنت مل جاتی ہے… بہت بڑی جنت، نہریں، محلّات اور
نظریں جھکائے سراپاحیا، حسین و جمیل حوریں…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
مسلمان’’
کلمہ‘‘ بھول گیا… بس اسلام اور مسلمانی کا نام رہ گیا کیونکہ پیدا جو
مسلمانوں کے گھر ہو گئے… اورپھرخیر سے چند رسومات بھی ایسی ادا ہو گئیں کہ
مسلمان کہلانے لگے… نہ عقیدہ اسلام کے مطابق، نہ عمل اسلام کے مطابق، نہ مزاج
اسلام کے مطابق…نہ سوچ اور خیالات اسلام کے مطابق …اور اگر زبان سے کلمہ پڑھ
بھی لیا مگر اس کا مطلب نہیں سمجھا… اور کلمے کی حقیقت پر ایمان نہیں
لایا… تب بھی دھکّے ہی کھاتا ہے اور کافروں کی نوکری، چاکری کرتا
ہے… قبروں مزاروں کے سجدے کرتا ہے… اور اگر تھوڑا سا نیک نظر آئے تو
خود کو سجدے کرانے لگتا ہے… ابھی پنجاب میں ایک خبیث نقلی پیر پکڑا گیا
ہے… یہ ظالم شخص لوگوں کو اپنے سامنے سجدہ کراتا تھا… ہائے اُمتِ مسلمہ!
ہائے اُمتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم … کیسے کیسے ظالموں کے درمیان پھنس
گئی… کلمہ طیبہ دل میں اُتر جائے تو… انسان ہر گمراہی، ہر فتنے اور ہر
نقصان سے بچ جاتا ہے… اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ… جماعت کی
دعوت مہم میں’’کلمہ طیبہ‘‘ گونج رہا ہے… اسی کو سب سے مقدّم رکھیں… یہ
سب سے اونچا کلمہ ہے لوگ اس کو سرسری بیان کرتے ہیں اور زیادہ زور اور چیزوں پر
دیتے ہیں… بعض کم عقل لوگ تو اس کے ’’ورد‘‘ کو بھی بے کار سمجھتے
ہیں… حالانکہ اس کے عاشقانہ ورد نے اُمت مسلمہ کو باوفا جانباز عطاء کئے
ہیں… دعوت دینے والے ساتھی بھی کلمے کے ساتھ اپنے تعلق کو جتنا مضبوط بناتے
جائیں گے… اسی قدر اُن کی دعوت میں قوت اور برکت آتی جائے گی…
اب
یہ تین نکاتی نصاب ہے… کلمہ، اقامت صلوٰۃ اور جہاد فی سبیل
اللہ … یہ پورا دین نہیں، پورے دین کو تو کوئی شخص ایک تقریر،ایک
کتاب یا ایک مضمون میں بیان نہیں کر سکتا…
مسلمان
کا دین چند رسومات کا نام نہیں ہوتا… یہ دین اُس کی دنیا کے ہر کام پر حاوی
ہوتاہے… عقیدہ، عمل، معاملات، اخلاق… اور معیشت و معاشرت… آج سب
سے بڑا عذاب یہ ہے کہ… دین، مسلمانوں کے لئے اجنبی ہوتا جارہا ہے… آپ
کسی پڑھے لکھے شخص کے سامنے’’سود‘‘ کی حرمت بیان کریں… وہ پھٹی پھٹی آنکھوں
سے دیکھے گا کہ یہ کیا بات ہے؟… آپ حیران ہوں گے کہ مسلمانوں میں ایسے افراد
بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر ہیں جن کو’’وضو‘‘ کا طریقہ نہیں آتا… اللہ
معاف فرمائے… لکھتے ہوئے دل روتا ہے کہ… مسلمانوں کے گھروں میں
بہنوں کی عزت اپنے سگے بھائیوں سے محفوظ نہیں ہے… موبائل نے تو اپنی استطاعت
کے مطابق ہر شخص کو برباد کر رکھا ہے… ناجائز دوستیوں، یاریوں اور گپ شپ نے
باقاعدہ گناہوں کی انڈسٹری قائم کر دی ہے… نماز… جی ہاں اقامتِ صلوٰۃ اس
خوفناک گناہی سیلاب… بلکہ سونامی کا توڑ ہے… اس لئے نماز کی دعوت بہت
اہمیت سے دینے کی ضرورت ہے… تاکہ مسلمان کا کعبۃ اللہ اور مساجد
سے ربط ہو جائے… ماحول کی تبدیلی بہت بڑی چیز ہوتی ہے… دشمنوں کی کوشش
ہے کہ مسلمانوں کو… بازار میں ماریں… بازار بھی ضروری ہے… مگر
بازار ہی کا ہو کر رہ جانا… موت ہے موت… آپ اسے مسجد میں لے آئے… مسجد
ما شاء اللہ مسجد… خیر کا مرکز ہے… نیکیوں کا
مجموعہ… بعض بڑے بڑے عادی گناہ گار ایک بار مسجد آئے… اور پھر ایسے
بدلے کہ… صف شکن مجاہد اور عارف باللہ ولی بن گئے… سوائے اُن لوگوں کے جو
مسجد میں ’’جاسوسی‘‘ کے لئے آتے ہیں، ہر مسلمان کو’’مسجد‘‘ سے فائدہ ہوتا
ہے… مساجد میں کیا کیا رحمتیں اور فوائد ملتے ہیں یہ ایک تفصیلی موضوع
ہے… اسی طرح جو عورت’’اقامتِ صلوٰۃ‘‘ پر آجائے اُس کو بھی اپنے گھر میں
’’مسجد‘‘ نصیب ہوجاتی ہے… بے شک اقامتِ صلوٰۃ… لاکھوں برائیوں کا توڑ
اور اللہ تعالیٰ سے اپنا ہر مسئلہ حل کرانے کا ذریعہ ہے… اورنماز کی
مکمل پابندی کا اصل فائدہ اُس وقت معلوم ہوگا جب ایک زور دار جھٹکے کے
بعد… ہماری دنیا بدل جائے گی…
جی
ہاں ایک جھٹکا… جسے موت کہتے ہیں، انسان کا سب کچھ بدل دیتا ہے… پھر تو
بینک سے پیسے بھی نہیں نکلوا سکتے… تب معلوم ہوگااور قیامت کے دن معلوم ہو گا
کہ… نماز کیا چیز ہے؟… میںپورے یقین کے ساتھ عرض کرتاہوں کہ… آج
مسلمانوں میں جو رزق کی پریشانی اورتنگی کا مسئلہ ہے…اقامتِ صلوٰۃ سے یہ آسانی کے
ساتھ حل ہو سکتا ہے… نماز کی پابندی، نماز کا اہتمام… نماز کی قدر، نماز
میں حتی الامکان خشوع وخضوع… اور نماز کی فکر… الفاظِ نماز اور ارکان
نماز کی درستگی اور اُس سے پہلے ٹھیک ٹھیک طہارت… باقی رہے وسوسے تو ان سے نہ
گھبرائیں… جتنے آتے ہیں آتے رہیں… جب بہت آئیں تو شیطان سے کہا کریں
’’اے ملعون دشمن!… اس سے دس گنا زیادہ وسوسوں کے آن ائر چینل ہمارے دماغ پر
چلا… ہم نماز نہیں چھوڑیں گے ان
شاء اللہ ‘‘… وسوسوں کے علاج پر پہلے کئی بار بات ہو
چکی ہے… اور ان شاء اللہ ایک مستقل کالم بھی اس موضوع پر لکھنے کا
ارادہ ہے… فی الحال اتنا عرض ہے کہ… وسوسوں سے ڈرنے، گھبرانے اور بے چین
ہونے کی ضرورت نہیں ہے… اور ان کے بارے میں زیادہ پریشان ہو کر اعمال چھوڑنا
بہت بُری بات ہے… اللہ کے بندو! خود کو انسان سمجھو فرشتہ
نہیں… انسان کو پیشاب بھی آتا ہے، قضائے حاجت کی ضرورت بھی پڑتی ہے، خون بھی
آتا ہے… شہوت بھی ہوتی ہے، بھوک بھی لگتی ہے… اور بالکل اسی طرح وسوسے
بھی آتے ہیں…خود حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضور اقدس صلی اللہ
علیہ وسلم کی خدمت میں وسوسوں کے آنے کی شکایت عرض کی… لیجئے!
مسئلہ حل ہو گیا… اُمت میں حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے
زیادہ افضل اور بڑا کون ہو سکتا ہے؟…
اب
آخری بات… مسلمان کلمہ پڑھے، نماز ادا کرے… دیگر فرائض بھی پورے اداکرے
مگر اس میں غیرت ایمانی نہ ہو… اللہ تعالیٰ کے لئے جان دینے کا
جذبہ نہ ہو… اسلام کی خاطر مر مٹنے کی ہمت نہ ہو… اپنے گھر، ملک، ناموس
اور دین پر حملہ کرنے والوں کے مقابلے کی سوچ نہ ہو… حرمتِ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے قربان ہونے کا ولولہ نہ ہو؟… تو
کیا اس کاایمان کامل، مکمل اور محفوظ ہو سکتا ہے؟… اللہ تعالیٰ
نے مسلمانوں کو جہاد کا حکم باربار تاکید سے فرمایا ہے… اور خود اپنے محبوب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بار بار جہاد میں نکالا ہے تو… معلوم
ہوا کہ… مسلمان کی دینی اور دنیوی کامیابی میں’’جہاد‘‘ کا بڑا کردار
ہے… احادیث و روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرات
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو… حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی
صحبت کے لئے اس لئے منتخب فرمایا کہ اُن کے دل اللہ تعالیٰ نے پسندیدہ
فرمائے اور ان میں دین کی خاطر لڑنے اور قربان ہونے کا جذبہ عطاء فرمایا یعنی اگر
اُن کے قلوب میں یہ جذبہ نہ ہوتا تو انہیں یہ مقام نہ دیا جاتا ظاہر بات ہے جو لوگ
لڑنا، مرنا اور قربان ہونا نہ جانتے ہوں وہ کسی سے وفاداری کا حق زیادہ دیر تک ادا
نہیں کر سکتے… بلکہ خطرہ پڑتے ہی اُن کی وفاداری ختم ہوجاتی ہے…
جہاد
کی دعوت اس لئے ہے کہ… جہاد کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کے خالص ہونے کا
معیار قرار دیا ہے… اور یہ نفاق سے حفاظت کا بڑا ذریعہ ہے… اوریہ مبارک
عمل مسلمانوں کے اندر دین کو پختہ اور مضبوط بناتاہے… اور اُن کے لئے فتح،
غنیمت ، غلبے اور عظمت و سعادت کے دروازے کھولتا ہے… جہاد کا دوسرا
پہلو… اسلام اور مسلمانوں کے دفاع کا ہے… اُمتِ مسلمہ کی مظلومیت سب کے
سامنے ہے… اور جہاد کا تیسرا پہلو’’کلمۃ اللہ ‘‘ کے غلبے اور دین کے
نفاذ کا ہے… الغرض… جہاد ایک اہم فریضہ، ایک بڑی نعمت ایک لازمی
ضرورت… اورایک لافانی سعادت ہے… ان تین چیزوں سے ایک مسلمان ایسے ماحول،
ایسے مزاج اور ایسے حالات میں آجاتا ہے کہ اُس کے لئے… پورے دین کو ماننا
اور پورے دین پر عمل کرناآسان ہو جاتا ہے… الحمدللہ مہم کے اچھے اور مثبت اثرات سامنے آرہے
ہیں… اور یہ اثرات ہمیں مزید محنت کی دعوت دے رہے ہیں…
حسبنا
اللہ و نعم الوکیل
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
و
بارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا…
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو حقیقی مسلمان بنائے اور ہمیں خلافت اور آزادی کی نعمت
عطاء فرمائے… عجیب بات ہے کہ بعض دیندار لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ… مسلمانوں
کو نماز، روزہ، ذکر اذکار میں تو خوب لگنا چاہیے مگر حکومت اور خلافت حاصل نہیں
کرنی چاہئے… یہ بالکل غلط، ناجائز اور حرام سوچ ہے… اللہ
تعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو
دین بھی دے کر گئے اور دینی حکومت و خلافت بھی… اس لئے حضرات صحابہ کرام
رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد
پہلا کام یہ کیا کہ مسلمانوں کے لئے خلیفہ، حاکم اور حکمران کا تقرر
کیا… کبھی اللہ تعالیٰ توفیق دے تو قرآن پاک کی سورۃ النصر کو
توجہ سے پڑھ لیں…یہ تین آیات کی مختصر سی سورۃ مبارکہ آپ کی آنکھیں کھول دے
گی… مفسرین فرماتے ہیں کہ… سیدھے راستے ، سچے دین اور حق سے انسانوں کو
ہٹانے والی چار چیزیں ہیں:
(۱) شیطان
(۲) نفس(۳) کفار
جو طاقت رکھتے ہوں (۴) منافقین
اللہ
تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دین حق دے کر
بھیجا… اور آپ کو ان چاروں سے مقابلے کا الگ الگ نصاب عطاء فرمایا… آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چاروں رکاوٹوں کو توڑا اور جہاد فی سبیل
اللہ کے ذریعہ خلافت کبریٰ اور حکومت قائم فرمائی… اورجب یہ ساری
ترتیب اُمت کے حوالے فرما دی تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کو اپنے پاس بُلا لیا… اور پھر مسلمان اسی ترتیب اور نصاب کو
لے کر آگے بڑھتے گئے اورچند سالوں میں انہوں نے دنیا کے ایک بڑے حصے پر اسلامی
خلافت نافذ کر دی… زمین پر مسلمانوں کی خلافت اور حکومت صدیوں تک قائم
رہی… پھر جب یہ نصاب کمزورہونے لگا… ایمان کے قلعے میں ’’حبّ دنیا‘‘ اور
بزدلی کی دراڑیں پڑ گئیں تو کفار نے چاروں طرف سے مسلمانوں کو گھیرنا شروع
کیا… اور بالآخر مسلمانوں کا حکومتی زور ٹوٹتا چلا گیا… ملکوں کے مُلک
اور علاقوں کے علاقے اُن کے ہاتھ سے نکلتے چلے گئے… خلافت کی آخری نشانی
ترکی کی خلافت عثمانیہ ختم ہو گئی تو مسلمانوں پر… غلامی کا دور شروع ہو گیا
جو آج تک جاری ہے…
ہم
میں سے بہت سے مسلمان ان مُلکوں میں رہتے ہیں جہاں کافروں کی باقاعدہ حکومت
ہے… یہ مسلمان بھی’’غلام‘‘ مگر ایسی نشہ آور غلامی کہ خود کو غلام نہیں
سمجھتے خوش نصیب سمجھتے ہیں… ان اللہ وانا الیہ راجعون… اور وہ
مسلمان جو نام کے اسلامی ملکوں میں رہتے ہیں وہ بھی اپنے حکمرانوں کے توسّط سے
کافروں کے غلام ہیں… بلکہ زیادہ سخت غلام… مگر جمہوریت کا تماشہ کہ یہ
بھی خود کو ’’غلام‘‘ نہیں سمجھتے… بلکہ داڑھی پگڑی والے دو چار افراد اسمبلی
میں پہنچ جائیں تو اس کو بڑا کارنامہ سمجھا جاتا ہے… نہ قرآن نافذ، نہ اسلام
نافذ… نہ حدود اللہ قائم، نہ جہاد قائم… نہ قوانین اسلامی،
نہ آئین قرآنی… پھر کیسی آزادی اور کونسی آزادی؟…
کیا
آزادی اسی کا نام ہے کہ… ہمیں کسی نہ کسی طرح زندہ رہنے دیا جائے یا نماز
ادا کرنے دی جائے؟… تیس سال تک مصر پر ایک شیطان فرعون کی حکومت
تھی… حُسنی مبارک!… نام تو یہ بھی مسلمانوں جیسا ہے مگر اُس کے دور
حکومت میں کون سا کفر ہے جو وہاں آزاد نہیں تھا… ان مُلکوںمیں فوجیں
مسلمانوں کی ہیں مگروہ لڑتی ہمیشہ کافروں کے لئے ہیں… معاشی نظام بھی کافروں
کی طرف سے آتا ہے اور سیاسی و عدالتی نظام بھی انہیں کا مسلّط ہے … بہت
عجیب لگتا ہے جب کوئی دانشور کہتا ہے کہ … مسلمانوں کی
ترقی… سائنس، ٹیکنالوجی اور جدید اعلیٰ تعلیم میں ہے… کونسی ترقی اور
کیسی ترقی؟… آزادی حاصل کئے بغیر نہ سائنس سے ترقی مل سکتی ہے اور نہ جدید
ٹیکنالوجی سے اور نہ جدید تعلیم سے… ہم نہ سائنس کے مخالف ہیں اور نہ
ٹیکنالوجی کے دشمن… ہم نہ جدید تعلیم کو حرام سمجھتے ہیں اور نہ جدید چیزوں
کے استعمال کو… لیکن جب ایک قوم پوری طرح سے غلام ہو تو اُس کے سائنسدان اور
اُس کے جدید تعلیم یافتہ لوگوں سے فائدہ کون اٹھائے گا؟… آپ آج کسی جگہ صرف
پانچ پکّے مسلمان ، نماز کے پابند… اورجہاد کے ماننے والے سائنسدان بٹھا دیں
کہ وہ مسلمانوں کے لئے کوئی اسلحہ ایجاد کریں… کیا اس کو برداشت کیا جائے
گا؟… ہم میں سے تو جو بھی اعلیٰ جدید تعلیم حاصل کرتاہے… وہ انہیں
دشمنوں کا نوکر، غلام، ایجنٹ اور اثر زدہ بن جاتا ہے…کیمرج اور ھارورڈ سے تعلیم
حاصل کرنے والے کتنے مسلمانوں نے اسلام کی کوئی خدمت کی؟… ہم میں سے تو کوئی
کمپیوٹر کا ماہر پیدا ہو جائے تووہ اسے فوراً اپنے پاس اٹھا کر لے جاتے ہیں
کہ… مسلمانوں کے کسی کام نہ آئے… ٹیکنالوجی اور جدید اعلیٰ تعلیم تو وہ
جال ہیں جن میں انہوںنے مسلمانوں کی اعلیٰ صلاحیت کو بُری طرح شکار کر رکھا ہے…
اور
اُس کا طریقہ یہ ہے کہ… مسلمانوں میں ایسے دانشور بٹھا دیئے ہیں جو دن رات
یہی لکھ اوربول رہے ہیںکہ… مسلمانوں کی ترقی جدید اعلیٰ تعلیم حاصل
کرنے… اور ٹیکنالوجی سیکھنے میں ہے… اُن کے اس پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر
جو مسلمان اعلیٰ تعلیم اور ٹیکنالوجی کے لئے کافروں کے پاس جاتے ہیں وہ پھرلوٹ کر
واپس ہی نہیں آتے… بلکہ انہیں کے بن کر رہ جاتے ہیں… اور پھر ان میں سے
بعض کو حکمران بنا کر مسلمانوں پر مسلّط کر دیا جاتا ہے… اللہ
تعالیٰ مسلمانوں کو آزادی عطاء فرمائے… پھر وہ اسلامی ماحول میں ایک
طالب علم کو ضروری دینی تعلیم کے ساتھ… سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم
دیں… پھر دیکھیں کہ مسلمان کیا کیا ایجاد کرتے ہیں… اور کہاں کہاں تک
پہنچتے ہیں… اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو وہ بے پناہ صلاحیتیں عطاء
فرمائی ہیں جن کا غیر مسلم تصور بھی نہیں کر سکتے… لیکن پہلے آزادی اور پھر
باقی کام… یہی قرآن پاک کی ترتیب ہے… قرآن پاک کے اٹھائیس پاروں میں
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ ہے… جگہ جگہ فرعون کا تذکرہ ملتا
ہے… یہ واقعہ صرف اس لئے بیان نہیں ہوا کہ… لوگوں کو تاریخ اور کہانی
معلوم ہو جائے کہ ایک تھا فرعون اور ایک تھے موسیٰ ح… یہ واقعہ دراصل احکام
اور مفید اسباق سکھاتا ہے… اس میں ایک اہم ترین سبق… آزادی کی قدر
وقیمت کا ہے… اور دوسرا سبق آزادی حاصل کرنے کا نصاب… اور بھی بے شمار
اسباق جو نظر والوں کو قیامت تک حالات کے مطابق سمجھ آتے رہیں گے… بنی
اسرائیل مصر میں حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں آئے… اور پھر رفتہ رفتہ
مقامی آبادی اور قوم نے اُن کو غلام بنالیا… غلامی شروع میں بُری اور کڑوی
لگتی ہے… لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ چرس، ہیروئن اور افیون کی طرح مزہ
دینے لگتی ہے… جی ہاں وہی مزا جو ہلاک کرتا ہے، ذلیل کرتا ہے، تباہ کرتا ہے
اور ناکام کرتا ہے… ممکن ہے بنی اسرائیل نے شروع میں مزاحمت کی ہو لیکن قرآن
پاک جس جگہ سے اُن کا قصہ شروع فرماتا ہے تو اُس وقت وہ… غلامی کے اُس مرحلے
میں تھے جہاں غلامی خون میں رچ بس جاتی ہے… اورغلام قوم اسے اپنی تقدیر سمجھ
کر ہمیشہ کے لئے قبول کر لیتی ہے… فرعون اُن کے بچوں کو ذبح کر رہا
تھا… مگر مجال ہے کہ کوئی مزاحمت اٹھتی…ہر ایک نے اپنے بچے کی گردن فرعون کی
تلوار کے لئے کھول رکھی تھی… فرعون اُن کی عورتوں کو اپنے گھروں کی نوکرانیاں
بنا چکا تھا… مگر مجال ہے کہ بنی اسرائیل میں سے کسی کو اس پر کوئی غصہ آتا
ہو کہ… ان کی بہن،بیٹی اور ماں دوسروں کے گھروں میں ذلت اور مشقت سے دوچار
ہے…جب کسی قوم کے دل سے اپنی بیٹیوں اور عورتوں کا درد… اور ان کی حفاظت کا
جذبہ نکل جائے تو واقعی یہ… غلامی کی سب سے بڑی بلا کے مسلّط ہونے کی علامت
ہے… جیسے آج کل کے مسلمان… اُن کے بیٹے کفر اور ارتداد کی چھری سے ذبح
ہو رہے ہیں… اور اُن کی عورتیں کافروں کی عملی اور فکری باندیاں بنی ہوئی
ہیں… مگر کوئی غم نہیں، کوئی درد نہیں اور تحفظ کی کوئی فکر نہیں… بلکہ
اس پر خوش ہیں، اور اسے عزت اور روشن خیالی کا نام دیتے ہیں… اللہ
تعالیٰ نے جب بنی اسرائیل پر رحم فرمانے کا ارادہ کیا تو… سب سے پہلے
اُن کے لئے آزادی کی ترتیب بنائی… غلامی میں رہتے ہوئے نہ تو اُن کی مکمل
اصلاح ممکن تھی… اور نہ اُن کو پورا دین سمجھانا ممکن تھا… آپ غور
کریں… آج کے جدید تعلیم یافتہ مسلمان کو’’جہاد‘‘ سمجھانا کتنا مشکل
ہے؟… آپ اُسے لاکھ بتائیں کہ جہاد اللہ تعالیٰ کا حکم
ہے… یہ قرآن پاک کی سینکڑوں آیات میں بیان ہوا ہے… مگر اُس کی غلام
سوچ اندر سے آواز لگاتی ہے کہ… غیر مسلموں کے ایٹم بم، طیارے، سیارچے اور
عسکری طاقت… ان کے ہوتے ہوئے جہاد، خلافت اور نفاذ اسلام ناممکن ہے
ناممکن… معلوم ہوا کہ غلاموں کو اللہ تعالیٰ کی باتیں سمجھانا
بہت مشکل کام ہے… خصوصی طور پر جب غلامی دل میں اُتر چکی ہو اور نظریئے میں
شامل ہو چکی ہو… بنی اسرائیل بھی یہی سمجھتے تھے کہ فرعون کا غلام رہنا اب
اُن کا ایسا مقدّر ہے جو کبھی نہیں ٹل سکتا… اور فرعونی اقتدار کے خاتمے کا
سوچنا… پاگلوں والی بات ہے… اتنی بڑی طاقت، اتنی بڑی قوت ختم ہو جائے یہ
بالکل ناممکن ، ناممکن… ہمارے بہت سے دانشور بھی آج یہی فیصلہ سنا رہے ہیں
کہ امریکہ اوریورپ کا سورج کبھی غروب نہیں ہوگا… اس لئے اب ہماری نجات اُن کی
غلامی میں ہے… پھر قرآن پاک بنی اسرائیل کی فرعون سے آزادی کا قصہ بار بار
سناتا ہے… اور اس میں آزادی کی ترتیب بھی سمجھا دیتا ہے … اور پھر
بنی اسرائیل کے واپس اپنے وطن’’ارض مقدّس‘‘ تک پہنچنے کا قصہ اور نصاب… آپ
یقین کریں ’’مصر سے لے کر ارض مقدس تک‘‘ وہ قصہ اور نصاب ہے جو کسی بھی غلام اور
کمزور ترین قوم کو… طاقتور ترین دشمن سے آزادی حاصل کرنے کی کامیاب تدبیریں
سکھاتا ہے… اور الحمدللہ یہ پورا قصہ ہمارے پاس قرآن مجید میں موجود
ہے… یہ اسلام پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جیسا بھی غلامی کادور
آجائے قرآن پاک محفوظ رہتا ہے… جب قرآن پاک محفوظ رہتا ہے تو وہ مسلمانوں
کو پھر غلبے اور آزادی کے راستے پر لے آتا ہے… اسی لئے بڑے بڑے طوفان
آئے… بڑے خوفناک سونامی اسلام کے خلاف اٹھے… مگر جب ان طوفانوں کی گرد
ختم ہوئی تو اسلام اور مسلمان زندہ نظر آئے… اللہ تعالیٰ نے
قرآن پاک کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے اور اس وعدے میں اس بات کا اعلان ہے
کہ… اسلام اور مسلمان قیامت تک رہیں گے… کیونکہ قرآن پاک’’آب حیات‘‘
ہے… وہ پانی جو مُردوں کو زندہ کر دے… یہ وہ صُور ہے جو پھونکا جاتا ہے
تو غلامی کی قبروں میں دفن مُردے کپڑے جھاڑتے ہوئے… اُٹھ کھڑے ہوتے
ہیں… بنی اسرائیل کی آزادی کا نصاب پڑھیں… اس میں آپ کو ایمان، نماز
اور جہاد چمکتے ہوئے نظر آئیں گے… الحمدللہ مسلمانوں کے جہاد نے سوویت یونین کے سونامی کو
واپس ماسکو بھیج دیا… اور اب یہی جہاد یورپی افواج کو پسپائی کی طرف دھکیل
رہا ہے… جہاد کشمیر پر اپنوں کی چھری نہ چلتی تو اب تک برصغیر میں بھی آزادی
کا بگل بج چکا ہوتا… پھر بھی دشمن خوش نہ ہوں کشمیری تو اپنی کانگڑی کی آگ
کئی کئی دنوں تک ٹھنڈی نہیں ہونے دیتے اور بالآخر راکھ کے نیچے سے کوئی جلتا
انگارہ برآمد کر ہی لیتے ہیں… تو ایسی قوم خونِ شہداء کی گرمی کو کہاں
ٹھنڈاہونے دے گی…
الحمدللہ … ایمان، نماز اور جہاد کی
مہم… اللہ تعالیٰ کی نصرت سے کامیاب جارہی ہے… ایمان ایسا
جو ہر طرح کی ذہنی اور فکری غلامی سے آزاد کر دے… نماز ایسی کہ مؤمن کو
طاقت کا سمندر بنا دے… اورجہاد ایسا جو غلامی کے ہر پھندے اور زنجیر کو توڑ
دے…پھر وہ بات یاد رکھیں جو شروع میں عرض کی گئی… ہمارے محبوب آقا حضرت محمد
صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں دین کے ساتھ دینی خلافت… اور اسلام کے
ساتھ اسلامی حکومت بھی دے کر گئے… اسلام دنیا میں غالب ہونے کے لئے آیا ہے
اور یہ غاروں اور جنگلوں کا دین نہیں… قیصر وکسریٰ کے تخت پر حکومت کرنے والا
دین ہے… یہ بات ہم اپنے دل میں اُتاریں گے تو ہمیں… غلامی سے نفرت اور
آزادی سے محبت پیدا ہو گی… اور کسی بھی قوم کی آزادی کے لئے … یہ
پہلی شرط ہے…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
و
بارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
شاندار
اللہ
تعالیٰ قبول فرمائے… ماشاء اللہ دین کے دیوانوں نے اچھی
محنت کی ہے… ابھی مہم جاری ہے… چند دن میں ان شاء اللہ مکمل
ہو جائے گی… ایمان کی دعوت… واقعی ہر مسلمان کو تجدید ایمان کی باربار
ضرورت پڑتی ہے… قرآن پاک بھی فرماتا ہے… اے ایمان والو! ایمان لے
آؤ… اے ایمان والو! پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو جاؤ… آج کل تو
چاروںطرف زہریلا ماحول ہے… ایمان کی دعوت… اور تجدید ایمان کی دعوت بہت
بڑی نعمت ہے جس کا پہلا فائدہ خود’’داعی‘‘ کو ہوتا ہے… اہل علم نے دعوت کے
فضائل اور ثمرات پر کتابیں لکھ دی ہیں… جب قرآن پاک دعوت اور داعی کی فضیلت
بیان فرماتا ہے توپھر علماء کرام کتابیں کیسے نہیں لکھیں گے… دعوت تو جناب
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کاراستہ ہے… قرآن پاک آپ صلی اللہ
علیہ وسلم کے راستے کی پوری وضاحت فرماتا ہے… اے نبی! آپ فرما
دیجئے کہ یہ میرا راستہ ہے میں اللہ تعالیٰ کی طرف بصیرت کے ساتھ دعوت
دیتا ہوں… اور جو میری اتباع کرنے والے ہیں اُن کا بھی یہی راستہ ہے…
اللہ
تعالیٰ کی طرف دعوت… ایمان کی دعوت… پورے دین کی دعوت… کلمہ
طیبہ اور تمام فرائض کی دعوت… نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ… اور جہاد کی
دعوت… اُمتِ مسلمہ کو بیدار ہونے اور اپنے مقام کو سمجھنے کی
دعوت… مظلوم مسلمانوں کے تحفظ کی دعوت… مقبوضہ مسلم علاقوں کی آزادی کی
دعوت… شعائر اسلام کی عظمت کی دعوت… اور دین اسلام کے غلبے کی
دعوت… ماشاء اللہ پورے ملک میں آواز لگی… اور چند دن میں
یہ مبارک دعوت الحمدللہ لاکھوں افراد تک پہنچ گئی… قرآن پاک کو
دیکھئے کس طرح تاکید کے ساتھ دعوت کا حکم فرماتا ہے… اور دعوت کا طریقہ
اوراسلوب بھی سکھاتا ہے… احادیثِ مبارکہ کو دیکھئے… حضرت آقا مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ دیکھئے!
(۱) دعوت
الی اللہ ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر… اور جہاد فی سبیل
اللہ اس اُمت کو ’’خیر اُمت‘‘ کے مقام کا مستحق بناتے ہیں…
(۲) دعوت الی اللہ ، پر
اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت میں’’فلاح‘‘ یعنی کامیابی کا وعدہ
فرمایا ہے…
(۳) اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والوں
کی بات سب سے اچھی اور پسندیدہ بات ہے…
جی
ہاں! اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ…
(۴) دعوت الی اللہ کا کام کرنے والوں پر
اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت برستی ہے…
(۵) دعوت الی اللہ کا کام کرنے والوں کا
اجر وثواب جاری رہتا ہے… جو بھی اُن کے بُلانے سے دین پر آتا ہے… اُس
کے ایمان اور اعمال کا اجر’’داعی‘‘ کو بھی ملتا ہے اور خود عمل کرنیوالے کے اجر
میں کوئی کمی نہیں آتی… اور اجر و ثواب کا یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہتا ہے…
(۶) دعوت الی
اللہ … تمام انبیاء د اور جناب رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کا طریقہ ہے…
(۷) دعوت الی اللہ کی برکت سے
خود’’داعی‘‘ کو دین پر ثابت قدمی اور استقامت نصیب ہوتی ہے۔
(۸) دعوت الی اللہ … کی برکات داعی
کے اہل و عیال اور اولاد کو بھی پہنچتی ہیں…
(۹) دعوت الی اللہ
کی برکت سے… داعی کے اردگردایسا ماحول اور معاشرہ قائم ہوجاتا ہے جو
اُس کے دینی کام کی قوت کا ذریعہ بنتا ہے…
(۱۰) دعوت
الی اللہ کی برکت سے… گمراہی کی دعوت کا زور ٹوٹتا ہے…
(۱۱) دعوت الی اللہ کی برکت سے… لوگ
ایمان اور اعمال صالحہ پر آتے ہیں…
فضائل
بے شمار ہیں… اور دعوت کے نتائج اور ثمرات بے انتہا ہیں… سیدنا نوح ح کے
الفاظ قرآن پاک بیان فرماتا ہے… میں نے اپنی قوم کو رات بھی دعوت دی اور دن
بھی دعوت دی… مگر وہ بدکتے رہے… اور مزید بھاگتے رہے…
جہاد
فی سبیل اللہ کی دعوت… پورے دین کی دعوت میں شامل ہے… دین،
جہاد کے بغیر’’کامل‘‘نہیں ہوتا … عجیب بات ہے! جب دین جہاد کے بغیر
’’کامل‘‘ نہیں ہوتا تو کوئی مسلمان… بغیر جہاد کے کیسے’’کامل‘‘ ہونے کا دعویٰ
کر سکتا ہے…
بات
دور نہ نکل جائے اس لئے یہ سمجھیں کہ… جہاد کی دعوت، پورے دین کی دعوت میں
شامل ہے… جی ہاں! ’’دعوت الی اللہ ‘‘ کے معنیٰ ہیں… اللہ
تعالیٰ کی طرف اور اللہ تعالیٰ کے تمام احکامات کی طرف لوگوں کو
بُلانا… ان احکامات میں’’حکم جہاد‘‘ بھی ہے … لیکن اس کے
باوجود… جہاد کی دعوت کے لئے الگ حکم جاری فرمایا گیا … اے نبی!
آپ ایمان والوں کو قتال پر ابھاریئے… حَرِّضْ کا لفظ قرآن پاک نے استعمال
فرمایا… ایک بار نہیں دو بار… اے نبی آپ خود بھی قتال کیجئے آپ پر آپ
کے علاوہ کسی کی ذمہ داری نہیں اورایمان والوں کو بھی قتال پر ابھاریئے…
یہ
دو الگ الگ آیتیں ہیں… حَرِّضْ کے معنی، بہت زور دار، بہت جاندار
دعوت… بندہ نے اپنی کسی تحریر میں تحریض کے معنیٰ کی تحقیق بیان کر دی
ہے… خلاصہ یہ ہے کہ… ایسی دعوت جو کمزور سے کمزور انسان کو بھی’’جہاد‘‘
پر کھڑا کر دے… اسی طرح ’’نماز‘‘ کی دعوت بھی پورے دین کی دعوت میں شامل
ہے… مگر نماز کی دعوت کا الگ سے بھی حکم دیا گیا … آپ اپنے گھر
والوں کو نماز کا حکم فرمائیں اور خود بھی مضبوطی سے اسے تھامیں… ایمان تو
بنیاد ہے… نماز ستون ہے اور جہاد بلندی… اور کھرے کھوٹے کاامتحان ہے
کہ… ایمان کا دعویٰ تو سب کرتے ہیں ، مگر وہ کون ہیں جو ایمان کی
خاطر… اللہ تعالیٰ کی خاطر قربان ہونے کوتیار ہیں… آج عملِ
جہاد کے ساتھ ساتھ… دعوتِ جہاد کی بے حد ضرورت ہے… الحمدللہ اب مسلمانوں کی اس طرف توجہ ہو رہی ہے… مہم
میں چند دن باقی ہیں… زمین بہت پیاسی ہے… صرف چالیس دن سے کام چلنے والا
نہیں… یہ چالیس دن تو ایک مشق تھی اور ایک آغاز… ابھی اس مبارک مشق میں
بھی چند دن باقی ہیں… کوشش کریں کہ یہ دن بہت قیمتی بن
جائیں… آخرت کا سرمایہ اور اعمال کے ترازو کا وزن بن جائیں… مسلمانوں
پر ہر طرف سے حملہ ہے… کوئی اُن کو غلام بنا رہا ہے تو کوئی قوم
پرست… توبہ توبہ مسلمان ہو کر اسلام کے علاوہ کسی چیز پر فخر؟…
مجھے
تو سن کے بھی اک عار سی معلوم ہوتی ہے
کوئی
مسلمانوں کو کافر بنانے کے مشن پر ہے تو کوئی انہیں گمراہ کرنے کی محنت
میں… کہیں مسلمانوں پر توپوں، طیاروں اور میزائلوں سے حملہ ہے تو کہیں فضائی
چینلوں کے ذریعہ اُن کے عقیدے، اخلاق اور اعمال پر حملہ ہے… مگر نہ تو دین
اسلام ختم ہو سکتا ہے… اور نہ ہی مسلمان ختم ہو سکتے ہیں… ہم آخری اُمت
ہیں… ہمیں غوطہ دینے والے خود ڈوب مریں گے… مسلمانوں کو… لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ کے نورسے منّور ہونے کی ضرورت
ہے، بس اسی کلمے سے مسلمانوں کے تعلق کو دوبارہ جوڑنے کی محنت کریں… کچھ لوگ
اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر قبروں کے پجاری بن گئے… اُن کو قبروں سے
اٹھا کر مسجدمیں لے آئیں تاکہ وہ سجدے کی حقیقی لذت کو حاصل کریں… کچھ لوگ
جیتے جی بزدلی اور حب دنیا کی قبروں میں دفن ہو گئے ہیں… اُن کو شہداء کرام
کا معطر خون یاد دلائیں… اور آیات جہاد کے ذریعہ اُن کو قبروں سے نکال کر
زندگی کے محاذ پر لے آئیں… کچھ لوگ ختم نبوت کے عقیدے میں دراڑیں ڈالنے کی
ناپاک جسارت میں ہیں… ہر مسلمان کے خون میں عقیدہ ختم نبوت دوڑا
دیں… اللہ تعالیٰ سب کا خالق ہے، مالک ہے… اللہ
تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں… اور اللہ تعالیٰ جیسا کوئی بھی
نہیں، کوئی بھی نہیں… اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ
تعالیٰ کے بندے اور اُس کے آخری رسول ہیں… اور مخلوق میں حضرت
آقامدنی صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کوئی بھی نہیں، کوئی بھی
نہیں… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد زمانے کو نہ
کسی اور نبی کی ضرورت ہے اور نہ خواہش… اور نہ ہی قانونِ فطرت میں اس کی
گنجائش…
کام
پورا ہو چکا… روشنی مکمل ہو چکی اب بعد والوں کا کام اس روشنی کو دور دور تک
پھیلانا اور اس روشنی کی حفاظت کے لئے خود کو آ ہنی حصار بنانا ہے…
بہت
سے مسلمان… آج کفار کی قید میں ہیں… بڑے بڑے عقوبت خانے اہل اسلام کی
آہوں اور سسکیوں سے کانپ رہے ہیں… ان مظلوموں کے لئے خود مسلمانوں کو ہی بہت
کچھ سوچنا ہوگا… بہت سے مسلمان طرح طرح کے توہمات اور خرافات میں مبتلا ہو
گئے… کوئی مستقبل کا حال بتا دے، کوئی قسمت اچھی کرادے… کوئی حاجتیں
پوری کرادے… ان مسلمانوں کو ایمان، نماز اور جہاد کی قوت سے آشنا
کردیں… تاکہ وہ سمجھ جائیں کہ وہ دنیا میں ہاتھ پھیلانے کے لئے
نہیں… بلکہ ایک فیصلہ کن کردار ادا کرنے کیلئے پیدا ہوئے ہیں… قرآن
مجید اسے ’’مقام فُرقان‘‘ سے تعبیر کرتا ہے… بہت سے مسلمان کافروں کے اُکساوے
میں آکر… قوم پرستی، علاقہ پرستی اور لسانیت کی آگ میں چھلانگ لگا رہے
ہیں… ان سب کو مدنی عربی نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے
قدموں میں لاکر ایک بنانے کی محنت کریں… الغرض… کام بہت ہے، اور بہت
اونچا کام ہے… میدان وسیع ہے اور بہت شاندار میدان ہے… آپ کسی سے نہ
الجھیں نہ ہی بحث کریں، نہ کسی کی اہانت کریں نہ کسی کو طعنہ دیں… آپ کے پاس
جماعت، مفید اور شاندار نصاب ہے… کلمہ، نماز اور جہاد… بس اسی نصاب کے
ذریعے مسلمانوں کو پورے دین پر لائیں… ایک طرف محاذوں کی خوشبو ہے… تو
دوسری طرف دعوت کے زمزمے ہیں… اللہ تعالیٰ… اس محنت کو
قبول، مقبول… اور مشکور فرمائے…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ نے جہاد میں دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم کھا کر فرمایا…
’’بے
شک انسان اپنے ربّ کا بڑا نا شکرا ہے‘‘( سورۃ العادیات: ۶)
آیت
مبارکہ میں اَلْکَنُودْ کا لفظ استعمال ہوا ہے… اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّہٖ
لَکَنُوْدٌ…
اَلْکَنُودْ
کسے کہتے ہیں؟… آج کی مجلس میں ان شاء اللہ اسے سمجھنے کی کوشش
کریں گے… یوں ان شاء اللہ درس قرآن کا ثواب بھی مل جائے
گا… قرآن پا ک کا علم بھی حاصل ہوگا… اور ایک بڑی مصیبت سے بچنے کی
باہمی ترغیب بھی ہو جائے گی… سبحان اللہ ! جہادی گھوڑے…
گھوڑوںکی
قسمت جاگی… قرآن پاک میں اتنا والہانہ تذکرہ… اور احادیث مبارکہ میں تو
فضائل ہی فضائل… شرط یہ ہے کہ گھوڑا جہاد کا ہو… تب اُس کی لید اور
پیشاب بھی نیکیوں کے میزان میں تولی جائے گی… اور ان گھوڑوں کی پیشانی میں
اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن تک خیر ہی خیر رکھ دی ہے… اجر و ثواب
بھی اور مال غنیمت بھی… اس سورۃ مبارکہ میں تو جہادی گھوڑوں کی تعریف فرما
کر… انسان کو غیرت دلائی گئی ہے کہ… اے انسان! تو اپنے مالک کا ویسا
وفادار کیوں نہیں بنتا… جیسی وفاداری مجاہد کا گھوڑا اپنے مالک کے ساتھ کرتا
ہے… وہ مسلمان جن کے د ینی جذبات بالکل ٹھنڈے پڑ چکے ہیں… اور وہ جنگ،
جہاد اور قتال کے نام سے(نعوذ باللہ ) نفرت کرتے ہیں… ناک چڑھاتے ہیں… وہ
اس سورۃ مبارکہ کی ابتدائی آیات پڑھیں… شاید اُن کو’’فالج‘‘ کی ٹھنڈک سے
نجات ملے… سبحان اللہ !… تیز رفتار ہانپتے جہادی گھوڑے…
اللہ،اللہ،اللہ … ایسی طاقتور رفتار کہ ٹھنڈی زمین سے بھی غبار کا طوفان اڑا
رہے ہیں… اور ایسی زور دار ٹاپیں کہ… پتھروں سے آگ نکال رہے
ہیں… اور صبح صبح دشمنوں پر ایسا حملہ… جو اُن کے غرور اور طاقت کو غارت
کر دے… ارے افسانے نہیں… یہ میرے ربّ تعالیٰ کا محکم کلام ہے…
اللہ،اللہ،اللہ … کسی جذباتی مجاہد کی تقریر نہیں یہ اللہ تعالیٰ
کا ’’ اخلاق‘‘ سکھانے والا سچا کلام ہے… کسی نے خوب نقشہ کھینچا:
’’جہادی
گھوڑوں کو دیکھ! کس طرح مجاہدین کے اشارہ پر بے تحاشہ دوڑتے ہیں، گردو غبار اڑاتے
اور ٹاپوں سے بجلیاں گراتے ،صبح کے وقت دشمن پر ٹوٹ پڑتے ہیں… اور گھمسان کے
معرکوں میں بے دھڑک گھس جاتے ہیں… تلواروں کی بجلیوں سے وہ نہیں
گھبراتے، گولیوںکی بوچھاڑ سے وہ نہیں ڈرتے… بس وہ اپنے مالک کے حکم پرجان
قربان کرنے میں اپنی زندگی جانتے ہیں‘‘
واقعی
قرآن پاک کا عظیم کمال ہے… گھوڑے کو بطور مثال کے پیش فرمایا… اس
پرتفسیر عزیزی دیکھیں، حضرت شاہ عبدالعزیزپ… اپنی تفسیر میںجہاد کو خوب اجاگر
فرماتے ہیں: اس پورے خاندان پر اللہ تعالیٰ کا بہت فضل ہوا… حضرت
شاہ ولی اللہ محدّث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اُن
کے چاروں فرزند… علم میں بھی مثالی، مقام سلوک و تقوے میں بھی
ممتاز… اورجہاد کے بے باک ترجمان… یہ کسی عالم پر اللہ
تعالیٰ کا خاص فضل ہوتا ہے کہ… وہ فریضہ جہاد فی سبیل اللہ
کو اچھی طرح سمجھ لے اور پھر مسلمانوں کو سمجھائے… حضرت شاہ ولی
اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے چاروں فرزندوں پر… علم، معرفت اور جہاد کے بڑے
بڑے دروازے کُھلے اور علم حدیث تو ماشاء اللہ اس خاندان کا امتیازی
تاج رہا… بڑے بیٹے شاہ عبدالعزیزرحمۃ اللہ علیہ… اپنی تفسیر میں بھی
جہاد کو بغیر تاویل کے نمایاں فرماتے ہیں… اور آپ شیخ اور مرشد ہیں حضرت سید
احمد شہیدرحمۃ اللہ علیہ کے… بلکہ آپ ہی کی خاص نظر توجہ سے حضرت سید احمد
شہیدرحمۃ اللہ علیہ کو جہاد کے بہترین رفقاء ملے… اور آپ ہی کے مشورے سے سید
صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ’’احیاء جہاد‘‘ کی تحریک شروع فرمائی… دوسرے بیٹے شاہ
عبدالقادررحمۃ اللہ علیہ… سبحان اللہ ! طویل عرصہ تک مسجد میں مقیم رہے
اور قرآن پاک کی ایسی تفسیر لکھی کہ صدیوں کا سفر… دنوںمیں طے
فرمالیا… ’’تفسیر موضح قرآن‘‘… اس کو’’موضح القرآن‘‘ بھی کہتے
ہیں… دراصل یہ ابجد کے حساب سے تاریخِ تصنیف ہے… بڑے بڑے اہل علم کو
دیکھا کہ اس تفسیر کی شان میں رطب اللسان رہتے ہیں… اور آپ کا دوسرا بڑا
کارنامہ حضرت سید احمد شہیدرحمۃ اللہ علیہ کی تربیت… بڑے بھائی حضرت شاہ
عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت سید شہیدرحمۃ اللہ علیہ کو بیعت کے بعد اپنے
چھوٹے بھائی حضرت شاہ عبدالقادررحمۃ اللہ علیہ کے سپرد فرما دیا… تمام اذکار
و روحانی اسباق سید صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے وہاں پورے کئے… حضرت شاہ
عبدالقادررحمۃ اللہ علیہ ایک طرف تو جہادی تفسیر لکھ رہے تھے… اور دوسری طرف
ایک جہادی رہبر اور سچا مجاہد بھی تیار فرما رہے تھے… تیسرے بیٹے شاہ رفیع
الدین… ان کے جہادی ذوق شوق اور جذبے کا یہ عالم تھا کہ…ایک بہت قیمتی،نایاب،
دیرپا اور مضبوط تلوار بنوائی اس کو بے حد قیمتی نیام میں رکھا… حج پر ساتھ
لے گئے… کعبۃ اللہ کے متولّی سے تعلق جوڑا اور انہیں تلوار پیش
کی… کس کے لئے؟… فرمایا! آپ کا خاندان قیامت تک کعبہ کا متولّی
ہے… ازراہ کرم یہ تلوار امانت رکھ لیں اور وصیت جاری فرمادیں کہ جب امام مہدی
ذ کا ظہور ہو تو اُس وقت کا متولی یہ تلوار انہیں پیش کر دے… تاکہ اُن کے
جہاد میں میرا حصہ شامل ہو جائے… دراصل جس نے بھی قرآن پاک کو دل کی آنکھوں
سے پڑھا… اور جس نے بھی سیرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عشق
کی آنکھوں سے مطالعہ کیا… وہ اسی طرح جہاد کا شیدائی اور آرزو مند ہوتا
ہے… چوتھے بیٹے شاہ عبدالغنی پ… ان کا ماشاء اللہ جہاد میں
بڑا حصہ ہے… کیونکہ تاریخ اسلام کے ایک بڑے مجاہد حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمۃ
اللہ علیہ ان کے فرزند ارجمند ہیں… دیکھیں بات کہاں سے کہاں نکل
گئی… یوں سمجھیں کہ کالم بھی گھوڑوں پر سوار ہو کر میدان جہاد جا
پہنچا… حالانکہ ان تمام باتوں کو لکھنے کا میرا بالکل ارادہ نہیں
تھا… آج تو مبارک مہم پر شکرانے کا موقع ہے تو… اَلْکَنُودْ کے معنیٰ
عرض کرنے تھے… تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے
بنیں… اور’’ناشکری‘‘ کی مصیبت سے بچیں…
تذکرہ
شروع ہوا تھا شاہ عبدالعزیزپکا… وہ تفسیر عزیزی میں بحث فرماتے ہیں کہ سورۃ
’’العادیات‘‘ کا شان نزول کیا ہے؟… پہلے تووہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ
علیہم اجمعین کے گھڑ سوار جہادی دستے کا مشہور واقعہ سناتے ہیں… اور لکھتے
ہیں:
’’
اللہ تعالیٰ نے یہ سورۃ نازل فرمائی اور اُن صحابہ کرام کے گھوڑوں کا
اور دشمنوںمیں گُھس کر حملہ کرنے کا تذکرہ اس سورۃ میں فرمایا تاکہ مسلمانوں کو
تسلّی ہو کہ… منافقین کی خبریں جھوٹی ہیں اور مسلمانوں کا جہادی دستہ سلامت
ہے‘‘(تفسیر عزیزی تسھیل)
پھر
آگے تحریر فرماتے ہیں:( تھوڑا غور سے پڑھیں)
’’لیکن
اس شان نزول میں ایک خدشہ ہے، اس واسطے کہ یہ سورۃ مکّی ہے جبکہ لشکر بھیجنے کا
واقعہ مدینہ منورہ میں پیش آیا، پس یہ واقعہ اس سورۃ کا شان نزول نہیں ہو سکتا
اور صحیح بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب چاہا کہ اس دین
میں جہاد کا طریقہ مقرر فرمائے تو اُس کا اشارہ اس سورۃ میں منظور ہوا تاکہ
خوشخبری ہو مسلمانوں کو اس بات کی کہ اُن کو طاقت جہاد کی اور گھوڑوں اور فوج اور
لشکر کی عنایت ہوگی کہ پورا بدلہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے
لیں اور اُن کی جمعیت کو بکھیر دیں اور مال و مُلک اُن کا اپنے قبضے میں
لاویں‘‘…(تفسیر عزیزی تسھیل)
اب
آتے ہیں اَلْکَنُودْ کے معنیٰ کی طرف… حضرات مفسرین کے کئی اقوال
ہیں… اور قرآن پاک کے جامع لفظ میں ان تمام اقوال کو سمیٹنے کی گنجائش موجود
ہے…
(۱) اَلْکَنُودْ کے معنیٰ
اَلْکَفُورْ یعنی بہت ناشکری کرنے والا…
ناشکری
تین طریقے سے ہوتی ہے جو ان شاء اللہ آگے چل کر عرض کریں گے… یہ
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور دیگر جمہور کا قول ہے…
(۲) اَلْکَنُودْ کا مطلب ہے:
’’الذی
یعد المصائب وینسی النعم‘‘
یعنی
جو مصیبتوں کو تو شمار کرتا ہے جبکہ نعمتوں کو بھول جاتا ہے…(بیہقی، البغوی)
اللہ
پاک حفاظت فرمائے… بہت سے لوگوں میں یہ بُری عادت ہوتی ہے… اللہ
تعالیٰ کی ان گنت، بے شمار نعمتوں کو بھول جاتے ہیں… اور ادنیٰ سے
ادنیٰ مصیبت کو گنتے ہیں اور اُس پر واویلا کرتے ہیں… یہ حسن بصری رحمۃ اللہ
علیہ کا قول ہے…
(۳) اَلْکَنُودْ کا معنٰی ہے:
’’قلیل
الخیر‘‘… اور بخیل
یعنی
وہ جس کی’’خیر‘‘ کم ہو… لازمی بات ہے کہ خیر کم ہوگی تو شر
زیادہ ہوگا… پس ہر وہ انسان جو بخیل ہو اور اُس کی’’خیر‘‘ کم ہو
وہ اَلْکَنُودْ کہلائے گا… اور جو بہت’’خیر‘‘ پھیلانے والا ہوگا وہ اس مصیبت
سے بچ جائے گا… یہ ابو عبیدہ کا قول ہے…( تفسیر معالم التنزیل)
(۴) اَلْکَنُودْ وہ شخص ہے:
’’الذی
لایعطی فی النائبۃ مع قومہ‘‘
یعنی
جو مصیبت اور مشکل کے وقت اپنے لوگوں کا ساتھ نہیں دیتا…
حالات
اچھے ہوں تو اپنے لوگوںکے ساتھ ساتھ رہتا ہے… لیکن جب کوئی مصیبت اپنے لوگوں
پر آجائے تو اُن کا ساتھ نہیں دیتا… بھاگ جاتا ہے، یا غیر جانبداری کا
اعلان کر دیتا ہے یا دشمنوں سے جا ملتا ہے… کھانے، پینے، عزت اور نفع اٹھانے
میں ساتھی… اور پریشانی اور مصیبت کے وقت ہرجائی… یہ مشہور
تابعی مفسر حضرت عطاء رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے۔ (البغوی)
(۵) اَلْکَنُودْ
کے معنیٰ العاصی یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والا…
یہ
عربوں کے قبیلہ کندہ کی لغت ہے… اس لُغت میں نافرمان کو
’’اَلْکَنُودْ‘‘ کہا جاتا ہے… (معالم التنزیل)
ہمارے
حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسی قول کو اختیار فرمایا ہے… وہ لکھتے
ہیں:
’’انسان
اپنے ربّ کا نافرمان ہے ،اور وہ اس پر گواہ ہے ، اور نافرمانی کا باعث(یعنی
سبب) حُبّ مال ہے… (حاشیہ حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ)
ابھی
اَلْکَنُودْ پر مزید بات کریں گے ان
شاء اللہ … یہاں ایک دلچسپ نکتہ
سُن لیں… وہ کفار جو اللہ تعالیٰ کے ناشکرے بھی
ہیں… ایسے ناشکرے کہ کفر اور شرک تک میں مبتلا ہیں… اور وہ بخیل اورقلیل
الخیر بھی ہیں… مال کے انبار جمع کرتے ہیں اور انسانوںکو بھوکا مارتے
ہیں… اور وہ مال کے ایسے لالچی اور حریص ہیںکہ… اس کی خاطر نسلوں کی
نسلیں تباہ کر دیتے ہیں… تو ایسے ظالموں پر اگر جہادی گھوڑے دوڑائے جائیں اور
اُن کو ان گھوڑوں کے نیچے رونداجائے… اور انسانیت کو ان درندوں سے
نجات دلانے کے لئے گھوڑوں کے دستے ان پر حملہ آور ہوںتو… یہ تمام انسانوں کے
لئے کتنی بڑی نعمت اور نوید آزادی ہوگی… اب اس نکتے کو ذہن میں رکھ کر اس
سورۃ مبارکہ کو دوبارہ پڑھیں… آپ کی نظروں میںصدیوں کی تاریخ گھوم جائے
گی…اور بہت سے سوالات کا جواب مل جائے گا… دنیا سرمایہ داری نظام میں جکڑی
سسک رہی ہے… کمیونزم بھی سرمایہ داری کی ایک بھونڈی اور بھیانک شکل
ہے… کہیں افراد اور کہیں حکومت جب تمام وسائل پرسانپ بن بیٹھتی ہے
تو… زمین معاشی ناہمواری سے لرزنے لگتی ہے…اور اس پوری صورتحال
اور بیماری کا علاج… جہاد فی سبیل اللہ ہے… والعادیات
ضبحاً… تفسیر عزیزی میں ایک اور عجیب نکتہ بھی بیان فرمایا ہے کہ… قیامت
کے دن اللہ تعالیٰ کفار و مشرکین کو جو سزا دے گا… اُس کا نقشہ
دنیا میں… جہاد اور مجاہدین کے گھوڑے ہیں… تفصیل آپ خود پڑھ
لیں… یا اگر موقع ملا تو ان شاء اللہ اگلی نشست میں عرض کر دی جائے
گی… دعوت ورکنیت کی ’’مبارک مہم‘‘ اختتام پذیر ہوئی… اس کی کچھ
تفصیل… اور اس پر شکر گزاری کے لئے آج چند الفاظ لکھنے تھے… مگر جہادی
گھوڑے… پورے کالم پر چھا گئے… اللہ پاک مجاہدین اور اُن کے گھوڑوں
کو سلامت رکھے…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰھم
صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو نعمتوں پر شکر گزاری کی توفیق عطاء فرمائے… اور ہم
سب کوالکنود بننے سے بچائے… بات چل رہی تھی…
اِنَّ
الْاِنْسَانَ لِرَبِّہٖ لَکَنُوْد
بے
شک انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے…
حضرت
شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں نا شکری تین طرح سے ہوتی ہے…
(۱) نعمت کی نسبت اللہ
تعالیٰ کی طرف نہ کرے بلکہ اُسے اپنا کمال سمجھے یا کسی اور کی طرف منسوب
کرے… ہمیں یہ بیٹا فلاںبزرگ اور پیر نے دیا ہے… ہماری یہ بیماری فلاں نے
ختم کی ہے… قارون کہتا تھا کہ… سارا مال میں نے اپنے ہنر اور عقلمندی سے
حاصل کیا ہے…
(۲) کسی نعمت سے وہ فائدہ نہ
اٹھائے جس کے لئے وہ نعمت دی گئی ہے… بلکہ اُس سے گناہ اوربُرائی
کمائے… زبان ملی ذکر،تلاوت، دعوت اور اچھی باتوں کے لئے… اب اُسے گالی،
غیبت اور جھوٹ میں لگایا… یہ بھی ناشکری ہے…
(۳) کسی نعمت میں ایسا مشغول ہو جائے کہ نعمت دینے
والے کے حقوق سے غفلت کرنے لگے… یعنی اُس نعمت کی محبت اُس کے دل پر ایسی
غالب ہو جائے کہ اس میں غرق ہو جائے اور نعمت دینے والے کو بھول جائے… جیسے
دنیا دار لوگ کہ دُنیا کی محبت ایسی غالب ہوجاتی ہے کہ دن رات اُسی میں پھنسے رہتے
ہیں ، یہاں تک کہ اُس کی محبت میں اللہ تعالیٰ کے حکموں کو بھول جاتے
ہیں…(مفہوم مع اضافہ تفسیر عزیزی)
بات
کو مختصر کرتے ہیں… آج کی مجلس میں دو کام کرنے ہیں… ایک تو الکنود کا
معنیٰ اچھی طرح سمجھنا ہے… اور دوسرا یہ کہ ہم خود کو
دیکھیں… ہم’’کنود‘‘ ہیں یا ’’شکور‘‘… اگر خدانخواستہ کنود ہیں تو پھر
اپنی اصلاح کی فکر کریں… کیونکہ ’’کنود‘‘ ایک جہنمی صفت اور بیماری ہے…
اصل
میں الکنود کا لفظ… انکار کے معنیٰ میں آتا ہے… یعنی وہ شخص جو اس بات
کو محسوس اور تسلیم ہی نہیں کرتا کہ… اللہ تعالیٰ نے اُس پر
انعام اور احسان فرمایا ہے… یہ ایک خاص طبیعت ہے… آپ نے بعض لوگوں کو
دیکھاہوگا کہ… کسی کے احسان کو نہیں مانتے… آپ اُن کے ساتھ لاکھ اچھائی
کریں اُن کے دل میں یہ نہیں آتا کہ اُن پر کسی نے کوئی احسان یا اچھائی کی
ہے… بس یہ ہے اس بیماری کی اصل جڑ… اب اس جڑ سے کیا کیا کڑوے پھل اور
کانٹے نکلتے ہیں… وہ اُن مختلف روایات اور اقوال میں آپ پڑھ سکتے ہیں جن
میں’’الکنود‘‘ کا معنیٰ بیان کیا گیا ہے… مثلاً الکنود کا ایک معنیٰ البخیل
ہے… کنجوس… جو آدمی نہ اللہ تعالیٰ کے احسان کو مانتا
ہو… نہ اُسے یہ احساس ہو کہ اُس کے پاس جو کچھ ہے وہ اللہ تعالیٰ
کا دیا ہوا ہے… اور مخلوق کے اُس کے ذمہ حقوق ہیں… ایسا آدمی
لازماًبخیل ہوتا ہے… اوربخل کا آغاز بھی’’انکار‘‘ اور ناشکری سے ہوتا
ہے…یہاں تھوڑا سا اپنی معلومات میں اضافہ کر لیں… عربوںمیں تین افراد تین
کاموں میں ضرب المثل تھے…
(۱) حاتم طائی سخاوت
میں… اللہ تعالیٰ نے اُن کے بیٹے حضرت عدی بن
حاتم رضی اللہ عنہ کو اسلام اور صحابیت کا شرف بخشا…
(۲) ’’ابوحباب‘‘ بخل اور کنجوسی
میں… اُس کی کنجوسی کا یہ عالم تھا کہ وہ گھر میں آگ بھی اُس وقت جلاتا تھا
جب سب لوگ سو جاتے… تاکہ اُس کی آگ سے کوئی فائدہ حاصل نہ کر
لے… روشنی، گرمی وغیرہ… ویسے بخل کا ترقی یافتہ درجہ یہ ہوتا ہے
کہ… خود کسی کو فائدہ نہ پہنچائے… اور اگر کسی اور کو دیکھے کہ لوگوں کو
فائدہ پہنچا رہا ہے تو اُس پر بھی اس کا دل دُکھنے لگے… العیاذ باللہ
(۳) ’’اشعب بن جبیر‘‘… لالچ اور حرص میں… ان
کے حرص اور لالچ کے عجیب واقعات ہیں… یہ جب کسی کو گردن کُھجاتے دیکھتے تو
سمجھتے کہ یہ آدمی اپنی قمیض اُتار رہا ہے تاکہ مجھے دے دے… جب کسی گھر سے
دھواں اٹھتا دیکھتے تو سمجھتے کہ ابھی ضرور اس گھر سے میرے لئے کھانا آئے
گا… جب کسی بارات کو دیکھتے توفوراً اپنے گھر کے سامنے جھاڑو دیتے کہ ابھی
لوگ آئیں گے اور دلہن (نکاح کے بعد) میرے سپرد کر دیں گے… اُنہیں خود اپنے
حرص کا اعتراف تھا…
اللہ
تعالیٰ ہم سب کو شکر اور قناعت نصیب فرمائے… اور ناشکری اور حرص سے
بچائے… ایک روایت میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے الکنود
کا معنی ان الفاظ میں بیان فرمایا…
{الذی
یاکل وحدہ ویضرب عبدہ ویمنع رفدہ}
یعنی الکنود
وہ ہے جو اکیلے کھاتا ہو… اپنے غلام کو مارتا ہو اور کسی کو کچھ نہ دیتا
ہو… مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُس پر جن چیزوں کاانعام
فرمایا اُن میں سے کچھ بھی لوگوں کو نہ دیتا ہو… غور فرمائیں اصل جڑ اور
بنیاد’’انکار‘‘ ہی نظر آئے گا… پکی مٹی کی بنی ہوئی وہ گولچی جس میں بچے
اپنے پیسے جمع کرتے تھے… اب بھی بعض جگہ نظر آتی ہے… آپ اس میں سکے
ڈالیں یا تہہ کر کے نوٹ… سب اندر چلے جاتے ہیں… لیکن جب کچھ نکالنا
چاہیں تو… انکار… جتنا الٹا کریں، جھٹکے دیں کچھ نہیں نکلتا… ہاں
جب ٹوٹ جائے یعنی مرجائے تو… سب کچھ نکل آتا ہے…
الکنودکا
ایک ترجمہ کیا جاتا ہے لوّام لربّہ یعنی وہ شخص جو نعوذ باللہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کو ملامت
کرتا رہتا ہے… مجھے یہ کیوں نہیں دیا؟… مجھے فلاں مصیبت کیوں
دی؟… میرے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے؟… میرے ساتھ یہ کیوں ہو رہا
ہے؟… انکار، انکار، انکار… یعنی کروڑوں اربوں نعمتوں کا خیال تک دل میں
نہیں آتا… بس جو دو چار مصیبتیں یا آزمائشیں ہوں اُن پر اللہ
تعالیٰ سے شکوے کرتا رہتا ہے… یہ نہیں سوچتا کہ میں بندہ ہوں اور وہ
میرا رب ہے… میں غلام ہوں اور وہ مالک مطلق اور مختار کل ہے… بالآخر
انکار کا سلسلہ کفر، شرک اور الحاد تک چلا جاتا ہے…کوئی کافر بنتا ہے، کوئی مشرک
بنتاہے… کوئی دہریہ، ملحد اور زندیق بنتا ہے… وہ دیکھو! گھوڑا اپنے مالک
سے چار دانے کھا کر اُس کی وفاداری میں جان دے رہا ہے… اور جہاد کے میدانوں
میں ہانپ رہا ہے… جبکہ انسان جسے اللہ پاک نے پیدا
فرمایا… ماں کے پیٹ میں روزی دی… اور طرح طرح کے کروڑوں انعامات
دیئے… اپنی خود غرضی، نفس پرستی اور ناشکری کی وجہ سے… ان انعامات کو
مانتا ہی نہیں… اگر مانتا تو کبھی اپنے رب کی ناشکری نہ کرتا… مگر یہ
کفر اور نفاق میں جا پڑتا ہے… اپنی غرض کے لئے اللہ تعالیٰ کو
چھوڑ کرغیروں کے دروازوں پر گرتا اور جھکتا ہے… اور کبھی بھی اپنے رب سے راضی
نہیں ہوتا… ’’الکنود‘‘ کا ایک ترجمہ بعض مفسرین نے یہ کیا ہے:
{الذی
لا یشکر الکثیر وینسی الیسیر}
یعنی
اگر اللہ تعالیٰ اُسے کوئی چھوٹی نعمت دے تو اُسے بھول جاتا
ہے… اور اگر بڑی نعمت عطاء فرمائے تو اُس پر شکر ادا نہیں کرتا…
وہی
انکار… کسی بھی نعمت اور احسان کو احسان نہ سمجھنا… وہی خود غرضی کہ نہ
اپنا ماضی یاد رہے اور نہ اپنے مستقبل (یعنی آخرت) کی فکر ہو… بس اپنے حال
میں مغرور… کہ جو کچھ میرے پاس ہے وہ بس میرا ہے اور میں ہی اس کاحقدار
ہوں… اس سے بھی انکار کہ یہ نعمت پہلے میرے پاس نہیں تھی… اور اس سے بھی
انکار کہ میں اس نعمت پر شکر گزار اور فرمانبردار بن جاؤں… الکنود کا ایک
ترجمہ ان الفاظ میں کیا جاتا ہے:
{
الحسود الحقود}
بہت
حسد کرنے والا… بہت کینہ رکھنے والا… کسی جگہ پڑھا تھا کہ حجاج بن یوسف
میں یہی تین عیب تھے…
{الحسود،
الحقود، اللجوج}
بہت
حاسد، بہت بغض اور کینہ رکھنے والا… بہت ضدی… ایک بار خلیفہ نے اُس سے
پوچھا کہ حجاج! تم اپنے اندر کوئی عیب دیکھتے ہو… حجاج جواب سے بچنے کی کوشش
کرتا رہا… مگر جب خلیفہ نے حکم دیا تو اپنے یہی تین عیب بتائے… خلیفہ نے
کہا… حجاج! ابلیس یعنی شیطان میں بھی اس سے زیادہ کوئی شر نہیں ہے…
جڑ
وہی انکار… کسی اور کو نعمت کیوںملی؟… دل جلنے لگا… اور کوئی
کیوںباعزت اور بامقام ہوا… دل بغض اور کینے سے بھر گیا… اور ضد تو نام
ہی انکار کا ہے… انسان اگر ہر لمحہ اُن نعمتوں کو محسوس کرے اوردل سے مانے جو
اللہ تعالیٰ اُسے عطاء فرماتا ہے تو کبھی… وہ حاسد اور کینہ پرور
نہ ہو… مگر انسان الکنود ہے… یہ بات اللہ تعالیٰ نے جہادی
گھوڑوں اور اُن کے جہادی مناظر کی قسم کھا کر ارشاد فرمائی ہے… سبحان
اللہ ! ایک طرف تو عظیم رب تعالیٰ نے ان گھوڑوں کی قسم کھا کر… جہاد کی
عظمت اور مقام کوبیان فرمایا… دوسری طرف مسلمانوں کو جہاد کا بے حد شوق دلایا
کہ… ارے بندو! خود کو ایسی حالت میں لے آؤ… جس حالت کی قسم اللہ
تعالیٰ خود کھاتے ہیں… معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو ان
مناظر سے محبت ہے… تیسری طرف مسلمانوں کو… جہادی آلات، جہادی سواریاں
اور جہادی تیاری کی ترغیب دے دی کہ… یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کے
ہاں تقرب کا ذریعہ ہیں… اور چوتھی طرف ایک بڑی بیماری کا علاج بھی ارشاد فرما
دیا کہ… ناشکری اور حب دنیا کا علاج خود کوموت کے محاذوں پر لے جانا
ہے… الکنود کا ایک اور ترجمہ بعض مفسرین نے کیا ہے:
{الجاحد
للحق}
یعنی
حق کا انکار کرنے والا… یعنی انسان کے اندر’’انکار‘‘ کا آلہ ایسا الٹا ہو
جائے کہ… غلط چیزوں کی بجائے ٹھیک چیزوں کا انکار کرنے لگے… آپ جانتے
ہیں … اللہ تعالیٰ نے ہر انسان میں ماننے کا جذبہ بھی رکھا
ہے… اور انکار کرنے کا جذبہ بھی… ایمان کا آغاز انکار سے ہوتا
ہے… ’’لا الہ الا اللہ ‘‘… نہیں کوئی معبود اللہ
تعالیٰ کے سوا… پہلے انکار آیا… اُس نے جگہ صاف کی تو پھر اثبات
آیا اور دل میں بیٹھ گیا… ہاں صرف ایک اللہ ، ایک اللہ ، ایک
اللہ … لیکن کافر اور بدقسمت انسان کے دل میں لگے یہ دو آلے الٹے
کام کرتے ہیں… بری چیزوں کا اقرار… اور اچھی چیزوں کا انکار… یعنی
فطرت ہی الٹی ہو گئی… لیجئے اب ایک بار پوری سورۃ مبارکہ کا ترجمہ پڑھتے ہیں…
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
’’ان
تیز دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم جو ہانپ اٹھتے ہیں… پھر پتھروں پر ٹاپ مار کر
آگ نکالتے ہیں… پھر صبح کے وقت حملہ کرتے ہیں… پھر اس میں گرد اٹھاتے
ہیں… پھر اُس وقت(دشمنوں کی) فوج میں جا گھستے ہیں… کہ انسان اپنے رب کا
بڑا ناشکرا یعنی(احسان نہ شناس) ہے… اور وہ اس سے آگاہ بھی ہے… اور وہ
مال سے سخت محبت کرنے والا ہے… کیا وہ اُس وقت کو نہیں مانتا کہ جو قبروں میں
ہیں وہ باہر نکال لئے جائیں گے… اور جو(راز) دلوں میں ہیں وہ ظاہر کر دیئے
جائیں گے… بے شک اُن کا رب اُس روز اُن سے خوب واقف ہوگا… (العادیات)
پڑھ
لیا آپ نے گیارہ آیات کا ترجمہ… دیکھا آپ نے میرے رب کے امر جہاد اور حکم
جہاد کو… اور دیکھ لیا آپ نے کہ اللہ تعالیٰ کو ناشکری، اور مال
کی محبت کرنے والوں سے کتنی ناراضی ہے… اور دیکھ لیا آپ نے انسان کا
انجام… قبر، حشر، حساب اور آخرت… اب ضروری ہواکہ… ناشکری چھوڑیں،
حب دنیا سے توبہ کریں… جہادی گھوڑوں کی پیٹھ پر جگہ پکڑیں… اور ربّ خبیر
کی محبت حاصل کریں…پچھلے رنگ و نور میں… اور آج الکنود کے کئی معانی ہم نے
پڑھ لئے… ایمان اور جہاد کے ذریعہ اس کمزوری اور بیماری کا علاج ممکن
ہے… پکّا سچا ایمان… اور جان و مال سے جہاد… اللہ
تعالیٰ نے ’’دعوت و رکنیت مہم‘‘ کے ذریعہ ہم سب پر جو انعام اور احسان
فرمایا ہے… ہمیں چاہئے کہ ہم کنود نہیں شکور بنیں… اُس احسان کو دل سے
مانیں اور اُس کی روشنی میں اپنے رُخ کو… مستقل طور پر اللہ تعالیٰ
کی طرف پھیر لیں… اور اپنی آئندہ زندگی… اللہ تعالیٰ کے
لئے اور نصرت دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وقف کردیں…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ کا محبوب دین’’اسلام‘‘ … حضور اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم کی بشارت کے مطابق زمین کے ہر کچے پکے گھر اور خیمے میں داخل ہو
گا… عزت والوں کو عزت دے کر اور ذلیل لوگوں کو ذلت اور رسوائی دے
کر… اسلا م میں کسی کو زبردستی داخل نہیں کیا جاتا… اور نہ ہی مجبوراً
صرف زبان سے کلمہ پڑھنے والا مسلمان ہوتا ہے… جب تک کوئی اپنے دل کی خوشی اور
تصدیق کے ساتھ کلمہ نہ پڑھے وہ اسلام میں داخل نہیں ہوتا… اس لئے زور زبردستی
کی توگنجائش ہی نہیں… ہاں! قوت، طاقت اور جہاد کے ذریعے اسلام کے راستے کی
رکاوٹوں کو دور کیا جاتا ہے… ایک ابو جہل کا سر اڑا تو ہزاروں لوگوں کے لئے
اسلام کا راستہ کُھلا… ہر انسان فطری طور پر اسلام کی طرف لپکتا
ہے… لیکن کفر کی طاقت، شوکت اور ظاہری عزت وہ فتنہ ہے جو فطرت کو مسخ کر دیتا
ہے… تب نام کے مسلمان بھی کفر کی طرف لپکتے ہیں… یہی وجہ ہے
کہ… آج(نعوذ باللہ ) مسلمانوں کو تیسری دنیا کا فرد قرار دیا جاتا
ہے… حالانکہ تیسری دنیا وہ ہے جہاں ایمان نہیں، اسلام نہیں… کلمے والے
مسلمان تو پہلی اور افضل دنیا کے لوگ ہیں… وہ لوگ جو کلمے سے محروم
ہیں… بادشاہ ہوں یا وزیر، سرمایہ دار ہوں یا قارون، سائنسدان ہوں یا فضاؤں
میں اڑنے والے… وہ سب ناکام ہیں، رسوا ہیں، ذلیل ہیں… اور جانوروں سے
زیادہ حقیر ہیں… دلیل یہ ہے کہ… وہ سب مرجاتے ہیں، بوڑھے ہوتے ہیں، اُن
کا عیش و آرام اور ایجادات اُن کے کچھ کام نہیں آتیں… وہ ہمیشہ کی کامیاب
زندگی کے اصل راز سے محروم ہیں… اور وہ راز ہے … لا الہ الا
اللہ محمد رسول اللہ …
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ …
ماشاء
اللہ چالیس روزہ مہم خوب چلی… نور اور سکون کی ایک بارش تھی جو
ماشاء اللہ جم کر برسی… لاکھوں افراد نے دین اسلام کا مکمل پیغام
سنا… جی ہاں بلا مبالغہ لاکھوں افراد نے…
ان
میں سے الحمدللہ … دو لاکھ کے لگ بھگ
افراد نے جماعت کی رکنیت لی… ایک سائبان، ایک ڈھال، ایک قوت، ایک سکینہ، اور
ایک چھت… جماعت کے بارے میں احادیث رسول صلی اللہ علیہ
وسلم پڑھ لیجئے… نئے اور پرانے ’’اراکین‘‘ کے لئے امیر جماعت کی
طرف سے پہلا’’ہدایت نامہ‘‘ جاری کر دیا گیا ہے… فرد اور معاشرے دونوں کی
اصلاح کا ایک آسان نصاب… ہدایت کایہ سلسلہ اللہ تعالیٰ کی مدد
رہی تو ان شاء اللہ آگے بھی جاری رہے گا… خوش نصیب افراداس
پہلے’’ہدایت نامہ‘‘ کے ایک ایک لفظ کو دل میں اُتاریں… اس پر باقاعدہ عمل کی
ترتیب بنائیں… اور اسے اپنی زندگی پر نافذ کریں… زمین پر اچھی تبدیلی کی
باتیں کرنا آسان ہے… مگر یہ اُسی وقت ممکن ہے جب ہم خود اپنے اندر تبدیلی
لائیں… لیجئے ملاحظہ فرمائیے ضروری اور مفید ہدایات پر مشتمل’’ہدایت نامہ‘‘
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
ہدایت
نامہ برائے اراکین
اَلْحَمْدُ
لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ
۔ اِیَّاکَ نَعْبُدُوَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ۔ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ
الْمُسْتَقِیْمَ ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ
عَلَیْہِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَََلَاالضَّآ
لِّیْنََ ۔
اَللّٰھُمَّ
صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی
اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْد ۔
اَللّٰھُمَّ
بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی
اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْد۔ (بخاری)
دین
اسلام
دین
اسلام کی بنیاد کلمہ طیبہ
’’لا
الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ‘‘ پر ہے…
حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد سابقہ تمام ادیان منسوخ ہو چکے
ہیں۔ اب کامیابی صرف اور صرف دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے۔ اور
اس دین کا نام ’’دین اسلام‘‘ ہے۔ دین اسلام سب سے بڑی نعمت، اصل ہدایت اور کامیابی
کی واحد ضمانت ہے… عزت اور کامیابی صرف اسلام میں ہے… نہ کہ مال، منصب،
قوم قبیلے میں… اور نہ ہی دنیا کی ظاہری چمک دمک میں… ہم پر لازم ہے کہ
ہم اپنے اندر اور تمام مسلمانوں میںاس بات کا شعور پیدا کریں کہ اسلام ہی اصل عزت
اور کامیابی ہے… اور اسلام کے بغیر نہ کوئی عزت ہے اور نہ کامیابی…
اللہ
تبارک و تعالیٰ کا ارشاد گرامی:
(۱) اَلْیَوْمَ
اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ
لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا
ترجمہ: آج
ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور
تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا ۔ (المائدہ:۳)
(۲) اِنَّ الدِّیْنَ
عِنْدَاللّٰہِ الْاِسْلَامُ…
ترجمہ: دین
تو اللہ کے نزدیک اسلام ہے۔ (آل عمران: ۱۹)
(۳) وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ
الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ
الْخٰسِرِیْنَ
ترجمہ:اور
جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہوگا وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے
گا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا ۔ (آل عمران: ۸۵)
(۴) اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا
وَصَدُّوْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَضَلَّ اَعْمَالَھُم O وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا
الصّٰلِحٰتِ وَاٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّھُوَ الْحَقُّ مِنْ
رَّبِّھِمْ کَفَّرَعَنْھُمْ سَیِّاٰتِھِمْ وَاَصْلَحَ بَالَھُمْ۔
ترجمہ: جن
لوگوں نے کفر کیا اور (اَوروں کو) اللہ کے رستے سے روکا۔ اللہ نے ان کے اعمال
برباد کر دیئے ۔ اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور جو (کتاب) محمد صلی
اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اسے مانتے رہے اور وہ ان کے پروردگار کی
طرف سے برحق ہے ان سے ان کے گناہ دور کردیئے اور ان کی حالت سنوار دی۔(محمد:۱،۲)
(اس
موضوع پر ایمان افروز تفصیلات کے لیے ’’فتح الجوّاد‘‘ جلد۳ میںسورۂ
محمد کی ابتدائی آیات کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں)
حق
جماعت
رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مَن
یُّرِدِ اللہ بِہِ خَیْرَا یُّفَقِّہْہُ فِی الدِّیْنِ وَلَا تَزَالُ
عِصَابَۃٌ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ یُقَاتِلُونَ عَلٰی الْحَقِّ ظَاہِرِیْنَ عَلٰی
مَنْ نَاوَاہُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ۔(صحیح مسلم، رقم الحدیث ۳۵۴۹)
ترجمہ:
’’جس کے متعلق اللہ تعالیٰ خیر کا ارادہ فرماتا ہے اس کو دین کی سمجھ
عطاء فرماتا ہے اور مسلمانوں میں ایک جماعت تاقیامت ایسی رہے گی جو حق کی خاطر
جہاد کرے گی اور اپنے دشمنوں پر غالب رہے گی۔‘‘
مَن
مَّاتَ وَلَمْ یَغْزُ وَلَمْ یُحَدِّثْ بِہِ نَفْسَہُ مَاتَ عَلیٰ شُعْبَۃٍ مِّنَ
النِّفَاقِ۔
(صحیح
مسلم، رقم الحدیث ۳۵۳۳)
ترجمہ: ’’جو
شخص مرگیا اور اس نے جہاد نہ کیا اور نہ جہاد کی نیت اس کے دل میں آئی وہ شخص نفاق
کے ایک حصے پر مرے گا۔‘‘
ان
دو احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی برحق جماعت قیامت تک موجود رہے گی
اور اس کی دو علامتیں ہوں گی۔
(۱) دین کا
علم (۲) جہاد فی سبیل اللہ
اسلام
کے اہم فرائض
(۱) نماز
(۲) رمضان
المبارک کے روزے
(۳) زکوٰۃ
(۴) حج
(۵) جہاد
فی سبیل اللہ
یہ
تمام فرائض قرآن پاک سے قطعی دلائل کے ساتھ ثابت ہیں۔ ان تمام فرائض کو دینِ
اسلام کا فریضہ ماننا لازم ہے اور ان فرائض کا انکار کفر ہے۔ اور جب شرائط پوری
ہونے پر یہ کسی کے ذمہ فرض ہو جائیں تو ادا کرنا لازم اور چھوڑنا سخت گناہ ہے۔
جماعت
کے مقاصد
(۱) مکمل
دین اسلام پر ایمان لانا
(۲) دین اسلام پر عمل کرنا
(۳) دین اسلام کی دعوت دینا
(۴) دین اسلام کے غلبے کی محنت
کرنا
(۵) دین اسلام کے نفاذ کی جدوجہد
کرنا
بنیادی
دعوت
(۱) ایمان… کلمہ طیبہ لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ … اللہ تعالیٰ کے سوا
کوئی معبود نہیں، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول
ہیں… جی ہاں! تمام انبیاء کے سردار اور اللہ تعالیٰ کے آخری رسول۔
(۲) اقامت صلوٰۃ… نماز دین
اسلام میں اس طرح ہے جس طرح انسانی جسم میں سر… نماز ایک مسلمان کی زندگی کا
سب سے اہم کام بن جائے۔
(۳) جہاد فی سبیل اللہ… جہاد اسلام کی بلند
ترین چوٹی … اسلام اور مسلمانوں کی عزت، آزادی، سرفرازی اور کامیابی کی
ضمانت ہے اور جہاد سے ایمان کے کھرے یا کھوٹے کا امتحان ہوتا ہے۔
ان
تین لازمی امور کی دعوت اور ترتیب کے ذریعہ پہلے خود کو اور پھر تمام مسلمانوں اور
تمام انسانیت کو پورے دین اسلام پر لانے کی محنت کرنا…
جماعت
کے التزامات
(۱) مسلمانوں کو شعوری مسلمان
اور مؤمن بنانے کی فکر… یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے تمام درجات
کو زندہ کرنا…
(۲) قرآن پاک اور دینی تعلیم کا
فروغ… مساجد سے محبت اور مساجد کی آبادی…
(۳) فرائض اور سنتوں کا معاشرے میں احیاء…
(۴) خدمت خلق…
(۵) کفر، ظلم اور نفاق کا مقابلہ…
(۶) مظلوم مسلمانوں کی بھرپور
مدد… اور اُن کے ساتھ مکمل یکجہتی…
(۷) امانت، حیاء ، شجاعت اور ایثار کا احیاء…
(۸) اُمت مسلمہ میں اتحاد کی کوشش…
(۹) فرد اور معاشرے کی
اصلاح… تزکیہ نفس…
(۱۰) اخلاص
اور مسلسل محنت…
جماعت
کی نظریاتی بنیاد
(۱) کتا باللہ
(۲) سنت رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
مطالعاتی
نصاب…ابتدائی
(۱) تعلیم
الاسلام (مفتی محمد کفایت اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ)
(۲) حیات
الصحابہ (مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ)
(۳) دستور حیات (مولانا سید ابوالحسن علی
ندوی رحمۃ اللہ علیہ)
(۴) زادِ مجاہد (مولانا محمد مسعود ازہر
حفظہ اللہ تعالیٰ)
(۵) دروس جہاد (مولانا محمد مسعود
ازہرحفظہ اللہ تعالیٰ)
(۶) فضائل
نماز (مولانامحمدزکریاکاندہلوی رحمۃ اللہ علیہ)
(۷) سات دن روشنی کے جزیرے پر (مولانا
محمد مسعود ازہر حفظہ اللہ تعالیٰ)
مطالعاتی
نصاب… متوسط
(۱) سیرت المصطفیٰ صلی اللہ علیہ
وسلم (مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ)
(۲) تاریخ
الاسلام (مولانا محمد میاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ)
(۳) تعلیم الجہاد (مولانا محمد مسعود
ازہر حفظہ اللہ تعالیٰ)
(۴) فضائل جہاد (مولانا محمد مسعود
ازہرحفظہ اللہ تعالیٰ)
(۵) بہشتی زیور (مولانا محمد اشرف علی
تھانوی رحمۃ اللہ علیہ)
(۶) معارف الحدیث جلد ۱ تا ۷ (مولانا
محمد منظور احمد نعمانی رحمۃ اللہ علیہ)
(۷) فضائل ذکر (مولانا محمد زکریا
کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ)
مطالعاتی
نصاب…بلیغ
(۱) تفسیر
عثمانی (مولانا شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ)
(۲) ترجمہ حضرت لاہوری رحمۃ اللہ
علیہ (حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ)
(۳) فتح الجوّاد (مولانا محمد مسعود
ازہرحفظہ اللہ تعالیٰ)
(۴) سیرت سید احمد شہیدرحمۃ اللہ
علیہ (مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ)
(۵) اسلامی عقائد (مولانا ڈاکٹر
عبدالواحد صاحب)
(۶) ریاض
الصالحین (امام محی الدین نووی رحمۃ اللہ علیہ)
(۷) یہود کی چالیس بیماریاں اور دیگر تمام کتب امیرِ
جماعت…
جماعت
کا تربیتی نصاب
(۱) دورہ اساسیہ… پندرہ روز
(۲) دورہ تفسیر آیات
الجہاد… سات روز
(۳) دورہ تربیہ… سات روز
(۴) دورۂ خیر… چالیس روز
تمام
اراکین جماعت ان دوروں میں شرکت کی فوری ترتیب بنائیں۔ اور پھر ان چار دوروں کے
بعد والے ضروری دوروں میں شرکت کریں۔
معمولات
یومیہ
(۱) ایمان کی تجدید، تازگی اور
مضبوطی کے لیے روزانہ بارہ سو بار ’’لا الہ الا اللہ ‘‘کا ورد… ہر ایک
سو پر کلمہ پورا کریں لاالہ الا اللہ محمد رسول
اللہ … اور درود شریف
(۲) چار تسبیحات…
کلمہ
طیبہ مکمل … تیسرا کلمہ… درود شریف… استغفار
(۳) روزانہ قرآن پاک کی تلاوت…
(۴) اپنی قضاء نمازوں اور روزوں کی ادائیگی کی
ترتیب…
(۵) روزانہ کچھ وقت دینی مطالعہ، مطالعاتی نصاب میں
سے یا امیرِجماعت کے مشورے سے
(۶) روزانہ ایک سو بار یہ دعاء…
اَللّٰھُمَّ
اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الھُدٰی وَالتُّقٰی وَالْعَفَافَ وَالْغِنیٰ
ترجمہ:
یا اللہ میں آپ سے ہدایت، تقویٰ، پاکدامنی اور سیر چشمی کا سوال کرتا ہوں۔
(۷) موت کی یاد… اور روزانہ پچیس بار یہ دعا
اَللّٰھُمَّ
بَارِکْ لِیْ فِی الْمَوْتِ وَفِیْمَا بَعْدَ الْمَوْتِ
(۸) استغفار اور درود شریف کی جس قدر ممکن ہو کثرت
کریں۔
(۹) ہو سکے تو اسم ’’اللّٰہ‘‘ کا
ورد روزانہ ایک ہزار بار… (امیر جماعت سے اصلاحی بیعت والے حضرات و خواتین کے
ضروری معمولات میں یہ شامل ہے)
(۱۰) اپنے
نفس کا محاسبہ… نیکیوں پر شکر اور گناہوں پر استغفار… اور جو امراض نظر
آئیں ان کی اصلاح کے لیے دعاء۔
روزانہ
کا کام
(۱) نماز پانچ وقت
پابندی… باجماعت مسجد میں حاضری کے ساتھ… مساجد سے دل لگائیں، مساجد کو
آباد کریں…
(۲) ایمان، توبہ اور اپنے عہد کی
ہر دن تجدید کرنا… کوئی بھی وقت مقرر کر لیں…
(۳) روزانہ فضائل جہاد کی تعلیم کرانا… یا اس
میں شرکت کرنا… مسجد میں ہو یا گھر، دکان یا کسی بھی جگہ…
(۴) معمولاتِ یومیہ کی حتی الوسع پابندی کرنا…
(۵) جہاد فی سبیل اللہ کی نیت سے کچھ ورزش کرنا…
(۶) والدین، رشتہ داروں اور تمام
مخلوق کے شرعی حقوق کی ادائیگی…
باقی
کام
(۱) جماعت کی ہفتہ واری
مجلس… اور ماہانہ مشورے میں شرکت کرنا
(۲) جماعت کے اخبار اور دیگر
نشریات کو پڑھنا اور پھیلانا
(۳) ہر ماہ اپنی آمدن میں سے کچھ حصہ ( کم از کم
پچاس روپے) جماعت اور جہاد میں دینا
(۴) امت مسلمہ، برسرِپیکار مجاہدین اور اسیران کے
لیے دعاء کرنا
(۵) روزانہ یا ہر ہفتے چند افراد کو …کلمہ
(ایمان)… نماز اور جہاد کی دعوت دینا
اطاعت
امیر
(۱) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
یٰٓاَیُّھَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوااللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی
الْاَمْرِ مِنْکُمْ (النساء:۵۹)
ترجمہ: اے
ایمان والو! اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب
اختیار ہیں ان کی بھی ۔
(۲) حضور اقدس صلی
اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
مَنْ
اَطَاعَنِی فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ وَمَنْ
اَطَاعَ الْاَمِیْرَ فَقَدْ اَطَاعَنِیْ وَمَنْ عَصَی الْاَمِیْرَ فَقَدْ
عَصَانِیْ (بخاری)
ترجمہ:
جس شخص نے میری(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی) اطاعت کی اُس نے اللہ تعالیٰ کی
اطاعت کی اورجس نے میری (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی) نافرمانی کی
اُس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور جس نے امیرکی اطاعت کی اُس نے میری(نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی) اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اُس نے
میری(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی) نافرمانی کی۔
ایک
اہم فکر
تمام
مسلمان بھائی بھائی ہیں… تمام مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں… یہ
قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں آیا ہے… آج ہمارے مسلمان بھائی اور بہنیں
دنیا بھر میں کافروں کے ظلم و ستم کا نشانہ ہیں… مسلمانوں کے علاقے کافروں کے
قبضے میں ہیں… بہت سے مسلمان غلامی اور قید و بند کی صعوبتوں میں
ہیں… اپنے ان بھائیوں اور بہنوں کے لیے … اور مسلمانوں کے مقبوضہ
علاقوں کی آزادی کے لیے فکر مند ہونا ایمان کا تقاضہ ہے… اسی طرح حرمتِ
رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور حرمت قرآن کے لیے ہر طرح کی
قربانی کے لیے خود کو تیار کرنا بھی ایمانی غیرت کا تقاضہ ہے۔
شرح
صدر
جماعت
پر اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہوتا ہے… جماعت میں برکت اور ایمان کی حفاظت
ہے… بیعت علی الجہاد اس امت کے لیے بڑی نعمت اور سکینہ ہے… ہماری دعوت
کسی فرد، شخصیت یا نئے نظرئیے کی طرف نہیں … ہم مسلمانوں کو… اور
تمام انسانوں کو… ایمان کی طرف بلاتے ہیں… اللہ تعالیٰ… اور رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بلاتے ہیں… قرآن پاک اور سنت
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بلاتے ہیں… کلمہ طیبہ ، نماز اور
جہاد کی طرف بلاتے ہیں… ہم تمام انسانوں کو… باطل ادیان چھوڑ کر دین
اسلام کی طرف آنے کی دعوت دیتے ہیں… ہم اسلام کی سلامتی اور ایمان کے امن کی
طرف دنیا کو بلاتے ہیں… ہم انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر… ایک
اللہ کی بندگی اور غلامی میں لانے کی محنت کرتے ہیں… ہم مسلمانوں
کو… مدینہ منورہ سے جوڑنے کی جدو جہد کرتے ہیں… دین اسلام کی خاطر جینا
اور مرنا ہماری سعادت… اور دین اسلام کی خاطر جان و مال کی قربانی دینا ہماری
عزت اور کامیابی ہے… آئیے! دنیا کے ہر کچے پکے گھر… اور زمین کے ہر
کونے تک دین اسلام کی روشنی پھیلانے اور پہنچانے کی محنت میں شریک ہو جائیں…
ھُوَ
الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی
الدِّیْنِ کُلِّہٖ(الفتح:۲۸)
ترجمہ:اُسی
اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ( حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کو ہدایت اور دین حق
دے کر بھیجا تاکہ اس (دین اسلام) کو تمام دینوں پر غالب کرے۔
لا
الہ الا اللہ لا الہ الا اللہ لا الہ الا اللہ
محمد رسول اللہ
اللّٰھم
صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ ہم سب کو ایمان کامل نصیب فرمائے… ایمان کامل پر ہمارا خاتمہ
فرمائے… اور ہماری اولاد میں ایمان اور اسلام کو تا قیامت جاری
فرمائے… کل(۲) مئی
پھر آرہا ہے… پچھلے سال2011ء کے دو مئی کو سانحہ ایبٹ آباد پیش آیا، شیخ
اُسامہ بن محمد بن عوض بن لادن شہید رحمۃ اللہ علیہ … شیخ صاحب تو اُن
مسلمانوں میں سے تھے جو نہ عُرس مناتے ہیں اور نہ ہی برسی… نہ سالگرہ اور نہ
یوم وفات… دراصل اسلام میں ان دنوں کے منانے کا کوئی ثبوت نہیں… اسلام
کے اپنے’’دن‘‘ ہیں، جن کا تعلق’’دین‘‘ کے ساتھ ہے نہ کہ افراد کے
ساتھ… عیدالفطر منائیں یہ روزے کی خوشی… عیدالاضحیٰ یہ حج اور قربانی کی
خوشی… اور بس… اگر ہم’’افراد‘‘ کے دن منانا شروع کر دیں تو پھر کونسا دن
خالی رہ جائے گا؟… اوریہ کیسے فیصلہ ہوگا کہ آج جشن ہے یا ماتم؟… ایک
سال کسی دن کوئی خوشی آتی ہے اور اگلے سال اُسی دن کوئی غم… شکر یہ دین
اسلام کا!… جس نے مسلمانوں کو ہر طرح کی مشقت اور پریشانی سے
بچادیا… اور اُن کو ’’احکام الہٰی‘‘ میں مشغول کر دیا… اسی اصول کے تحت
ہمیں بھی دو مئی یاد نہیں تھا… مگر خبروں میں دیکھا تو ہر طرف کالے اور گورے
دشمنان اسلام دو مئی منانے کی تیاری میں ہیں… اخبارات ضمیمے لگا رہے ہیں اور
خبروں کے چینل دانشوروںکے میلے… ایسے ماحول میں پھر تاریخ یاد آہی جاتی
ہے…ہمیں تو زیادہ فکر شیخ کے اہل و اولاد کی تھی… اُن کا قید میںہونا ایک
صدمہ تھا اور اُن کی باعزت رہائی مستقل’’دعا‘‘ تھی… دشمن کہہ رہے ہیں کہ ایبٹ
آباد آپریشن کے لئے کئی تجاویز زیر غور آئیں… بی باون کے ذریعہ بمباری،
ڈرون حملہ یا چھوٹا مگر مہلک بم… ایسا ہو جاتا تو اُس گھر کے تمام مکین شہید
ہو جاتے مگر اللہ تعالیٰ کا نظام حفاظت بہت مستحکم ہے… دنیا کے
یہ بونے مکڑے اُس نظام حفاظت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے… چنانچہ وہ مجبور ہوئے کہ
کمانڈوز بھیجیں… کُل چار ہیلی کاپٹر تھے ان میں سے ایک صرف اس لئے تھا کہ گھر
کے افراد کو اٹھا کر لے جائے… مگر جب ایک ہیلی کاپٹر منہ کے بل گرا اور تباہ
ہو ا تو وہ اپنا مقصد پورا نہ کر سکے… سبحان اللہ ! اللہ
تعالیٰ مجاہد کے اہل و عیال کی کس طرح حفاظت فرماتے ہیں… حدیث شریف کے
امام حضرت امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ علیہکو جہاد کا خاص ذوق
تھا… لوگ لڑائی جھگڑے کے لئے’’بخاری شریف‘‘ کے رفع یدین اور فاتحہ خلف الامام
کو تو دیکھ لیتے ہیں مگر ’’بخاری شریف‘‘ کی ’’کتاب الجہاد‘‘ اور ’’کتاب المغازی‘‘
کو بھول جاتے ہیں… یہ بات دعوے کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ اگر کوئی آدمی
صرف’’بخاری شریف‘‘ کی ’’کتاب الجہاد‘‘ کو پڑھ لے… اور امام بخاری س کے مغازی
کو سمجھ لے تو پھر اُس کے لئے فریضہ جہاد کو سمجھنے میں کوئی مشکل اور کوئی اشکال
باقی نہیں رہتا… بندہ نے الحمدللہ زندگی کی بعض راتیں اور کئی دن… صحیح بخاری
کے ساتھ گزارے ہیں اور کتاب الجہاد کی بعض احادیث پر کام بھی کیا ہے… امام
بخاری س بہت شرح صدر اور بہت باریکی کے ساتھ جہاد کو بیان فرماتے ہیں… مثلاً
مجاہد کے مال کی برکت ثابت کرنے کا عجیب انداز… اپنی اولاد کو مجاہد بنانے کی
نیت کا ایمان افروز تذکرہ… ایسے عجیب نکتے دوسری کتابوں میں
نہیںملتے… مجاہد کے مال میں برکت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ… اُس کی
اولاد پر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت اور برکت کانزول ہوتا
ہے… ابھی تازہ مثال ہمارے سامنے ہے… موت کے سائے میں زندگی گزارنے والے
شیخ اُسامہ س کے اہل واولاد میں برکت اور پھر اُن کے لئے حفاظت الہٰی کا خصوصی
حصار… ابھی اسی ہفتے ماشاء اللہ اُن کے اہل خانہ اور بچے بحفاظت
سعودی عرب پہنچ چکے ہیں… اللہ تعالیٰ اُن پر رحمت فرمائے اور
انہیں ایمان پر ثابت قدمی نصیب فرمائے… آج اکثر لوگ لمبی عمر کے خواہشمند
نظر آتے ہیں… دُنیا داروں کو تو چھوڑیں… وہ چاہتے ہیں کہ کبھی بھی نہ
مریں، اسی دنیا میں کھاتے پیتے رہیں… مگر دین دار لوگ بھی زیادہ لمبی عمر کی
تمنا رکھتے ہیں… وجہ یہ بتاتے ہیں کہ… ہم زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کرنا
چاہتے ہیں… ایسے لوگوں کے لئے’’لمبی عمر‘‘ کا نسخہ یہ ہے کہ…وہ اپنی اولاد کو
نیک وصالح بنانے کی دعاء، محنت اور بھرپور کوشش کریں… کیونکہ اولاد بھی انسان
کی عمر کا حصہ ہے… اب اگر اُن کے مرنے کے بعد اولاد نیک اعمال کرتی رہے گی تو
اُس کا ثواب والدین کو ملتار ہے گا… گویا کہ والدین زندہ ہیں اور نیک اعمال
کر رہے ہیں… لیجئے بغیر کوئی دوائی کھائے اور بغیر کوئی علاج کرائے آپ کی
عمر لمبی ہوگئی… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے
ہیں:
اِنَّ
اللہ عَزَّوَجَلَّ لَیَرْفَعُ الدَّرَجَۃَ لِلْعَبْدِ الصَّالِحِ فِی
الْجَنَّۃِ فَیَقُوْلُ اَیْ رَبِّیْ! اَنّٰی لِیْ ھٰذا؟ فَیَقُولُ بِاسْتِغْفَارِ
وَلَدِکَ لَکَ (مسند احمد)
بے
شک اللہ تعالیٰ نیک آدمی کاجنت میں درجہ اونچا فرماتے ہیں تو عرض
کرتا ہے اے میرے رب! یہ کس عمل کی وجہ سے ہے؟ اللہ تعالیٰ ارشاد
فرماتے ہیں: تیرے بیٹے کے تیرے لئے استغفار کرنے کی وجہ سے…
چند
دن ہوئے کسی جگہ ایک بہت عجیب بات پڑھی… لکھا تھا ! اس بات کا حرص کرو کہ
تمہارے بیٹے اور تمہاری بیٹی کو تم سے پہلے کوئی سورہ فاتحہ نہ سکھا دے… یعنی
خود ہی جلدی جلدی سکھا دو… کیونکہ یہ بچہ اگر بڑا ہوا تو پوری زندگی اپنی ہر
فرض اور نفل نماز کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھے گا… اس لئے کوشش کرو کہ
اتنا بڑا اوراتنا وسیع اجر حاصل کرنے میں تم سے کوئی سبقت نہ لے جائے…
وہ
حدیث شریف تو آپ نے بارہاسنی ہوگی… صحیح مسلم وغیرہ حدیث کی کتب میں مروی ہے
کہ… جب کوئی آدمی مرجاتا ہے تو اُس کا عمل بند ہوجاتا ہے… مگرتین چیزیں
ایسی ہیں جن کا ثواب اُس کے لئے جاری رہتا ہے…
(۱) صدقہ
جاریہ(۲) نفع
پہنچانے والا علم (۳) صالح
اولاد جو اُس کے لئے دعاء کرتی رہے…
لیجئے
عمر کو طویل کرنے کے تین طریقے مل گئے… اگرآپ واقعی نیک اعمال کے لئے زندہ
رہنا چاہتے ہیں تو ان تین طریقوں کو… اختیار کر لیں… تب آپ صدیوں تک
بلکہ قیامت تک زندہ رہ سکتے ہیں… اور لمبی عمر کا سب سے بڑا طریقہ اور راز
شہادت ہے… شہید کے زندہ ہونے کو قرآن پاک نے تفصیل سے بیان فرمایا ہے…جو شک
کرے وہ مسلمان ہی نہیں… شہادت مل گئی تو پھر چھوٹی یا طویل عمر کا قصہ ہی
ختم … زندگی ہی زندگی… ایک کے بعد دوسری… اور ترقی ہی
ترقی… اور زندگی بھی عام نہیں بلکہ ایسی طاقتور کہ معدہ جنت کی نعمتوں کو ہضم
کرنے کی صلاحیت پالے… شیخ اسامہ شہید رحمۃ اللہ علیہ کے والد گرامی کا
نام’’محمد‘‘ تھا…یمن کے حضرمی قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے… ہماری نحو کی کتابوں
میں ایک شہر کا نام آتا ہے’’حضر موت‘‘… یہ قبیلہ وہاں آباد تھا… محمد
وہاں مزدوری کرتے تھے… بوجھ اٹھانے والے جنہیں عربی میں’’حمال‘‘ کہتے
ہیں… دل میں اچانک خیال آیا کہ رزق میں وسعت کے لئے ایک ذریعہ’’سفر‘‘
ہے… اپنے پھٹے پُرانے کپڑے ایک تھیلے میں ڈالے، گھر بیچا اور اونٹ پر سفر
کرتے جدّہ پہنچے… وہاں مزدوری مل گئی… ماہانہ آمدن تیس ریال… اور
پھر ترقی شروع ہوئی… اور دیکھتے ہی دیکھتے مالی اثاثے نو سوملین ڈالر تک جا
پہنچے… عجیب داستان ہے… اللہ تعالیٰ پر توکل اور اللہ
تعالیٰ سے وفاداری نے اس شخص کو جو لکھنا پڑھنا بھی نہیں جانتا تھا کیسی
کیسی سعادتوں سے نوازا… ستر کی دہائی میں جب مسجد اقصیٰ کی دوبارہ تعمیر ہونی
تھی تو ’’محمد‘‘ نے وہاں بھی اپنا مال لگایا… اور یوں تینوں بڑی
مساجد… مسجد حرام،مسجد نبوی او رمسجد اقصیٰ میں’’محمد‘‘ کا مال
لگا… سبحان اللہ ! اُن لوگوں پر رشک کرنا چاہئے جن کا مال اللہ
تعالیٰ اپنے راستے جہاد فی سبیل اللہ … اوراپنے گھروں
’’مساجد اللہ ‘‘ میں قبول فرماتے ہیں… ابھی ماشاء اللہ
بہاولپور کی جامع مسجد’’سبحان اللہ ‘‘ تکمیل کے قریب ہے… جوبھی
اس مسجد کو دیکھتا ہے اُس کی زبان سے بے اختیار’’سبحان اللہ ‘‘ نکلتا
ہے… کیسے خوش نصیب ہیں وہ افراد جن کا مال اللہ تعالیٰ نے اس
مسجد کے لئے قبول فرمایا… فدائیوں کی مسجد، غازیوں اور نمازیوں کی مسجد…
سبحان
اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم
مسجدکے
قریب ’’قرآن منزل‘‘ کی تعمیر تقریباً مکمل ہے… اللہ تعالیٰ
مسلمانوں کو قرآن پاک کے ساتھ… مسجد کے ساتھ اورجہاد کے ساتھ جوڑدے…
آپ
یقین کریں اسی میں مسلمانوں کی دینی اور دنیوی ترقی ہے… ہمارے ایک سابق
وزیراعظم ایک بڑا وفد لیکر سنگاپور گئے تھے… وہاں کے ایک سابق صدرسے بڑی مشکل
سے وقت لیا صرف یہ معلوم کرنے کے لئے کہ پاکستان کیسے ترقی کر سکتا ہے… آہ!
میرے اللہ … خواجہ صاحب س فرماتے ہیں ؎
طلب
کرتے ہو داد حُسن تم پھر وہ بھی غیروں سے
مجھے
تو سن کے بھی اک عار سی معلوم ہوتی ہے
سنگا
پور سے میرے ایک جاننے والے نے خط میں لکھا ہے کہ میں واپس آنا
چاہتاہوں… یہاں بدکاری یوں ہوتی ہے کہ کتے اور گدھے بھی شرما
جائیں… جانوروں سے زیادہ بے حیائی… وزیراعظم صاحب! اُس کافر کے دربار
میں سر جھکائے پاکستان کی ترقی کا راز پوچھ رہے تھے…اُس بدنصیب اور محروم نے
کہا… آپ کا ملک ترقی نہیں کر سکتا… وجہ پوچھی! کہنے لگا(نعوذ باللہ )
آپ کا مذہب ہی ایسا ہے… جب آخرت کو مقصود بناتے ہو تو دنیا میں کیسے ترقی
کر سکتے ہو؟…کیسی احمقانہ،جاہلانہ اور کافرانہ بات تھی… مگر وفد میں موجود
کسی کی غیرت ایمانی نہ بھڑکی کہ کم از کم اُس کو جھڑک ہی دیتے یا شاگردی چھوڑ کر
اٹھ جاتے… سب ہی اُس کی بکواس پر سر ہلاتے رہے… آہ! ایمان ہوتا تو اُس
کی غیرت بھی ہوتی… آنکھوں پر چربی، دل پر چربی… دنیا کے مال کو سب کچھ
سمجھنے والے ایمانی غیرت کہاں سے لائیں؟… مسلمان کا عقیدۂ آخرت… صرف
آخرت کی کامیابی کے لئے نہیں… اس عقیدے پر کامل یقین سے اُس کی دنیا بھی
سنور جاتی ہے… آج مسلمانوں پر جو بُرے حالات ہیں وہ اس لئے ہیں کہ مسلمانوں
نے اسلام پر عمل چھوڑدیا ہے… اور کفر کے طریقے اختیار کر لئے
ہیں… کافروں کے طریقے کافروں کے لئے مفید ہوسکتے ہیں مسلمانوں کے لئے وہ زہر
قاتل ہیں… انسان پانی میں ڈوب کر مرجاتا ہے… جبکہ مچھلی پانی میں ڈوب کر
زندہ رہتی ہے… اور خشکی پر تازہ ہوا سے مرجاتی ہے… کلمہ طیبہ کی اپنی
ایک فطرت ہے… اپنا ایک مزاج ہے… اپنی ایک خوراک ہے… اوراپنی ایک
ممتاز زندگی ہے… کلمے والوں کو… قرآن، نماز، مسجد… جہاد سے زندگی
اور ترقی ملتی ہے… محمد بن لادن کے پاس جب مال بڑھا تواُس نے پتا ہے کونسی
عیاشی کی؟… سنیئے! اُس نے ایک ہیلی کاپٹر خریدا تاکہ ایک دن میں تین بڑی
مساجد میں ایک ایک نماز ادا کرنے کی سعادت حاصل کرے… ایک نماز مسجد حرام میں،
دوسری مسجد نبوی اور تیسری مسجد اقصیٰ میں… اور ماشاء اللہ اُس کا
یہ شوق بھی پورا ہو گیا… ہمارے مسلمان اپنے محلے کی مسجد میں جانے کا شوق ہی
دل میں پیدا کر لیں تو ان شاء اللہ بڑی خیر ہو جائے گی…
محمد
بن لادن نے کئی شادیاں کیں… اولاد کی تعداد تریپن (۵۳) بنتی
ہے… شیخ اسامہ شہید رحمۃ اللہ علیہ محمد بن لادن کی شامی اہلیہ سے پیدا ہوئے
اور ابھی نابالغ تھے کہ… والد محترم ایک فضائی حادثے میں شہید ہو
گئے… یوں’’یتیمی‘‘ کے چند سال بھی دیکھ لئے… کہتے ہیں کہ والد کی میراث
میں سے تین سو ملین ڈالر شیخ س کے حصے میں آئے… لمبی داستان ہے… کئی
محاذ ہیں… افغانستان سے صومالیہ اور یمن تک… اور پھر شہادت گاہ ایبٹ
آباد اور پھر بحیرہ عرب کی ٹھنڈی ٹھنڈی لہروں کا وسیع سمندر… دو مئی کے
حوالے سے شور شرابے پر یہ تمام باتیں یاد آگئیں… ورنہ مجھے تو نہ کسی کی
تاریخ پیدائش یاد رہتی ہے اور نہ تاریخ شہادت اور وفات… اچھی اور صالح اولاد
اللہ تعالیٰ کا ایک بڑا انعام ہے… آپ سب سے گزارش ہے کہ اپنی
اولادکو قرآن پاک، مساجد اور جہاد سے جوڑ دیں… ان کے ’’رزق‘‘ کا مالک اور
کفیل اللہ تعالیٰ ہے آپ نہیں… اور اگر یہ دین اسلام کے کسی کام
آگئے تو ان کے بھی مزے ہوجائیںگے اور آپ کے بھی…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ مغفرت فرمائے اور درجات بلند فرمائے…اُن چار سچے عاشقوں کے… جو
آج میرے قلب و جگر پر چھائے ہوئے ہیں…آج مجھے کچھ او رلکھنا تھا… استخارہ
کا موضوع بہت اہم اور ضروری ہے… کاش مسلمانوں میں’’استخارہ‘‘ کی نعمت اور
روشنی عام ہو جائے… عجیب بات ہے لوگ ہر کسی سے رہنمائی لیتے ہیں… مگر
اپنے ربّ سے نہیں لیتے… جو علیم بھی خبیر بھی ہے…
ارے
بھائیو! اور بہنو! … استخارہ بہت اونچی چیز ہے مگرشرط یہ ہے کہ خود کیا
جائے… کسی اور سے کرانے کا کوئی فائدہ نہیں، کوئی مطلب نہیں… کئی ہفتے
سے سوچ رہا ہوں کہ اس موضوع پر تمام روایات اور ترغیبات لکھ ڈالوں… اُدھر
کابل میں طالبان نے کفر کے ایوانوں پر عجیب دن اور عجیب وقت میں پُرجوش اور خوفناک
حملہ کیا… ۲مئی
کا حملہ… اُس پر بھی لکھنے کا ارادہ تھا… اور بھی کئی باتیں دماغ میں
تھی… مگر آج دل اپنے قابو میں نہیں ہے…
فکر
منزل ہے نہ ہوش جادۂ منزل مجھے
جا
رہا ہوں، جس طرف لے جارہا ہے دل مجھے
اب
زباں بھی دے ادائے شکر کے قابل مجھے
درد
بخشا ہے اگر تو نے بجائے دل مجھے
یوں
تڑپ کر دل نے تڑپایا سر محفل مجھے
اُس
کو قاتل کہنے والے کہہ اٹھے قاتل مجھے
اب
کدھر جاؤں، بتا اے جذبۂ کامل مجھے
ہر
طرف سے آج آتی ہے صدائے دل مجھے
ہاں
واقعی… آج میرا دل تڑپ رہا ہے اور وہ مجھ سے اور آپ سے بہت سی باتیں کرنا
چاہتا ہے… میں اُس پر کچھ پابندی لگاتا ہوں مگر وہ نہیں مانتا… ہاں
بالکل نہیں مانتا…
روک
سکتی ہے تو بڑھ کر روک لے منزل مجھے
لے
اُڑی ہے ایک موج بے قرارِ دل مجھے
یہ
دیکھیں میری دائیں جانب پانچ خطوط رکھے ہوئے ہیں اگر اُن خطوط کو پورا نقل کروں تو
عشق کے کئی راز کھل جائیں گے،رازوں کو راز ہی رہنے دیں… لیجئے ایک دعاء
پڑھیں…
’’فقیر
کی خواہش ، اور دعاء ہے کہ اللہ عظیم، اس فقیر کی حقیر سی جان
کے… قرآن عظیم کے حروف، نقاط اور حرکات و سکنات کے برابر ٹکڑے کر دے اور
ہواؤں کو حکم دے کہ ان ٹکڑوں اور ذرّوں کو اڑا کر میرے محبوب صلی اللہ علیہ
وسلم کے اس راستے پر بکھیر دیں… جس پر چل کر میرے محبوب صلی اللہ
علیہ وسلم ان حقیر سے خاک آلود ذروں پر اپنے قدمین مطہرین رکھتے ہوئے
میدان محشر کی طرف تشریف لے جائیں‘‘…
اللہ
اکبرکبیرا… پڑھ لی آپ نے دعاء… اور اپنے اس عمل کے بدلے
اللہ تعالیٰ سے کیا مانگا… فرماتے ہیں… اللہ تعالیٰ
اس کے بدلے میری، میرے امیر کی اور پوری اُمت مسلمہ کی مغفرت فرمائے… اور
عافیہ بہن سمیت تمام اسیران اسلام کو رہائی عطاء فرمائے…
اللہ،اللہ،اللہ … یہ ہے ایمان اور یہ ہے
دل… اور یہ ہے عشق… اور یہ تھے ہمارے ایک محبوب ساتھی… مولانا حافظ
عطاء اللہ شہید رحمۃ اللہ علیہ …
میں
عشق ہوں مکمل، میں شوق ہوں مسلسل
گویا
تمام عالم میری ہی داستاں ہے
کوئی
نہ گھر ہے اپنا، کوئی نہ آستاں ہے
ہر
شاخ ہے نشیمن، ہر پھول آشیاں ہے
ایک
بار کسی کتاب میں’’فقیر‘‘ کی تعریف پڑھی تھی… بہت سے لوگ اپنے نام کے ساتھ
’’فقیر‘‘ لکھتے ہیں… ہمیں کسی پر کوئی اعتراض نہیں… اور آج تو شہداء
کرام کی محفل ہے… اورشہید بھی ایک نہیں… پورے چار… آقا مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا… بہترین رفقاء چار ہیں… شہداء کرام
کی مجلس میں کسی پر تنقید کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا… ’’فقیر‘‘ کی تعریف کافی
سخت تھی… فقیر وہ ہے جو مخلوق سے کسی طرح کی کوئی غرض نہ رکھتا ہو… نہ
مال کی نہ عزت کی ، نہ رشتے کی نہ اکرام کی… نہ اچھے سلوک کی اور نہ کسی
احترام کی… اور اللہ تعالیٰ سے بے حد محبت رکھتا ہو… مگر
ایسی محبت نہیں جس میں کوئی شرط ہو کہ… میری دعاء ضرور قبول ہو… میرے
ساتھ ایسا معاملہ ہو… نہیں بس ایسی محبت کہ… اللہ تعالیٰ کے
لئے سب کچھ کرنا چاہتا ہو اور کرتا ہو… اور اللہ تعالیٰ کے لئے
سب کچھ لٹانا چاہتا ہو… اور لٹا دے… کافی مفصل تعریف تھی… تب دل
میں شوق پیدا ہوا کہ کوئی ایسا ’’فقیر‘‘ اللہ تعالیٰ مجھے بھی دکھا
دے… اورتمنا بھی پیدا ہوئی کہ… اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے
مجھے بھی ایسا بنا دے… ابھی تو ہم اس کے قریب بھی نہ پھٹک سکے… پھر مجھے
ایک دن ایک خط ملا… خط کے نیچے نام لکھا تھا… فقیر عطاء
اللہ … اور پھر اُن سے ایک آنسوؤں بھری ملاقات بھی ہو
گئی… اور پھر دوسرا، اور تیسرا خط بھی ملا… اور پھر ایک گھڑی ملی جو
جاتے وقت وہ میرے لئے چھوڑ گئے … یہ فقیر واقعی فقیر تھا… قرآن
پاک کا حافظ… صرف حافظ نہیں ملازم… ارے صرف ملازم نہیں بلکہ
عاشق… ملازم اُسے کہتے ہیں جو کسی چیز کو لازم پکڑ لے… انہوں نے قرآن
پاک کو لازم پکڑ رکھا تھا… مگر عشق کا مقام اس سے بھی آگے ہے… انہیں
تلاوت قرآن کا عشق تھا… آپ میں سے بہت سوں نے انہیں اکثر قرآن پاک زبانی
پڑھتے دیکھا ہوگا… جہاں بھی رہے قرآن پاک کے ساتھ رہے… اور پھرقرآن
پاک پڑھتے ہوئے… قرآن پاک کے حروف کے برابر ذرّوں میں تبدیل ہو کر… بہت
اونچی فضاؤں میں گم ہو گئے… زندگی کے آخری دو سال’’فقیری‘‘ کا اصل مقام
پایا… کسی سے کوئی غرض نہیں… اور اپنے مالک سے ملنے کے لئے بے قرار… جی
ہاں! حد سے زیادہ بے قرار… وہ لوگوں کے درمیان رہتے تھے… مگر اُن کے
جذبات، خیالات اور تصوّرات کہیں اور کی سیر کرتے تھے…
جو
چپ بیٹھوں تو اک کوہ گراںمعلوم ہوتا ہوں
جو
لب کھولوں تو دریائے رواں معلوم ہوتا ہوں
جو
ہوں دراصل صورت سے کہاں معلوم ہوتا ہوں
بہار
بے خزاں ہوں گو خزاں معلوم ہوتا ہوں
میں
یوں تو زاہدو! اک قطرۂ ناچیز ہوں بے شک
مگر
پی لوں تو بحر بے کراں معلوم ہوتا ہوں
تصور
نے کسی کے میری دنیا ہی بدل ڈالی
کہاں
معلوم ہوتا تھا کہاں معلوم ہوتا ہوں
کسی
کی یاد نے کیا رفتہ رفتہ کر دیا مجھ کو
بس
اب اک پیکر وہم و گماں معلوم ہوتا ہوں
نیازو
ناز کی دُنیا میں جس دم جا پہنچتا ہوں
تو
آزادِ زمیں و آسماں معلوم ہوتا ہوں
دم
تیغ آزمائی کھلتے ہیں فولاد کے جوہر
میں
جو کچھ ہوں بوقت امتحاں معلوم ہوتا ہوں
اپنے
محبوب مولیٰ سے لقاء… یعنی ملاقات کے لئے انہوں نے طویل، صبر آزما انتظار
کیا… آخری ملاقات کے دوران میں نے اُن سے کہا… بھائی! محبوب کے در پر
بیٹھ کر ملاقات کا انتظار کرنا سچے عاشقوں کا شیوہ ہے تو اُن کی آنکھیں خوشی کے
انوارات برسانے لگیں… یوں لگا کہ اس جملے نے اُن کے ہجر میں زخمی دل پر مرہم
رکھ دیا ہے… بس پھر باقی دن ا نہوں نے کبھی اطمینان میں، کبھی بے قراری
میں… اور کبھی شوق میں تڑپتے بسر کئے… ؎
کسے
دیکھ کر آج ہم آرہے ہیں
کہ
آنکھوں سے انوار برسا رہے ہیں
جدھر
جذب ہم کو لیے جا رہا ہے
کئے
بند آنکھیں اُدھر جا رہے ہیں
میں
ہوں نزع میں پھر بھی دیکھو وہ کیسے
خراماں
خراماں چلے آرہے ہیں
نہیںمانتا
ہے، نہیں مانتا ہے
بہت
دل کو ہم اپنے سمجھا رہے ہیں
اچھا
میری باتیں چھوڑیں… اُن کے خط کا ایک اور حصہ پڑھتے ہیں…
’’
اللہ تعالیٰ کے بھروسہ پرفقیر کا دشمنان اسلام کو چیلنج ہے کہ قرآن
مقدس و مطہر کے ایک ایک حرف و حرکت ونقطہ کا انتقام تم سے لیا جائے گا غلامان محمد
صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ایک ایک حرف
کا انتقام نہ لے لیں گے ان شاء اللہ … اس کا واضح ثبوت رکنیت مہم
کی شاندار کامیابی ہے… اللّٰھم زد فزد… فقیر کی دعاء ہے کہ اللہ
تعالیٰ جیش کو بہت وسائل عطاء کرے، جیش کے فدائی جانباز قرآن کے انتقام کے
لئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح… دشمن اسلام پر بجلی بن کر ٹوٹ پڑیں…‘‘
آپ
نے ایک سچے مسلمان کی سچی عبارت پڑھ لی… اسے کہتے ہیں جذبہ عشق کا
کمال ؎
اللہ
، اللہ یہ کمال جذبۂ پنہانِ عشق
جو
گرا آنکھوں سے آنسو حُسن کا دریا ہوا
بڑھتے
بڑھتے آفتابِ روزِ محشر بن گیا
دل
کی خاکستر میں اک شعلہ تھا جو بھڑکا ہوا
آپ
پوچھیں گے کہ یہ تو ایک خط ہوا… باقی چار خطوط کیا فرماتے ہیں؟ ہاں!
بھائیو!… وہ خطوط بھی بہت قیمتی ہیں اور بہت اہم ہیں… کل کی ڈاک میں ایک
خط تھا… فتویٰ پوچھ رہے تھے کہ والدین کی اجازت کے بغیر جہاد میں جانا جائز
ہے یانہیں… جواب میں لکھا … جہاد تو عشق والوں کا کام
ہے… فتوے سے کوئی جہاد میں نہیں نکلتا… الٹا ایک نئی بحث چھڑجاتی
ہے… لفظوں کی جنگ اور حقیقی محبت سے محرومی… جو اللہ تعالیٰ
کی محبت میں سچے ہوتے ہیں وہ تو… ’’لقائِ یار‘‘ کے لئے تڑپتے ہیں، لڑتے
ہیں… وہ قرآن مقدس کی بے حرمتی برداشت نہیں کرتے… وہ اسلام کی ظاہری
مغلوبیت دیکھ ہی نہیں سکتے… اُن کو جہاد سمجھانے کے لئے ایک آیت، ایک حدیث
یا ایک غزوہ کافی ہوتا ہے… اور جو اسی دنیا کو مقصود بنا لیں اُن پر کسی فتوے
کا کیا اثر ہوگا… والدین بھی مسلمان ہوں تو اولاد کوجہاد سے کہاں روکتے
ہیں؟… اگر کچھ غافل ہوں تو ان کی ذہن سازی کی جاسکتی ہے… مگر ان چار
خطوط میں تو ایک الگ دنیا آباد ہے… بس جلد از جلد فدا ہونے کا شوق ہی نہیں
بلکہ جنون… کس کس کا تذکرہ کروں… ڈیرہ اسماعیل خان کے دراز قد نعمان
شہید کا؟… اُسے سب ’’عبدالرحمن‘‘ کہتے تھے… جو آخری سانس ہی نہیں بلکہ
شہادت کے بعد بھی… جہاد اور جماعت کی خدمت میں لگا ہوا ہے… وہ کیسے؟ یہ
ایک ایمان افروز داستان ہے… اُسی کا خط سب سے مختصر مگر…معنیٰ خیز اور جامع
ہے… بڑی اونچی بات… یہ چھوٹے سمجھے جانے والے مجاہد کہہ جاتے
ہیں… لکھتے ہیں… ’’یا اللہ ! جو دل سے شہادت کا طالب ہو اُسے شہادت عطاء
فرما‘‘… سبحان اللہ ! دل کی طلب… کیا صوابی کے … محمد
توفیق کا تذکرہ کروں؟… ماضی کا ماہر پینٹر… جو جہادی تاریخ میں اپنے خون
سے رنگ بھر گیا… جماعت کے ذمہ دار تو اُس کے اخلاق اور ذہانت سے متاثر
تھے… درخواست کی کہ کچھ عرصہ تشکیل تبدیل کرالیں… اور ہمارے ساتھ کام
کریں… یہ سنتے ہی توفیق کو ایک سو چار درجے کاشدید بخار ہو گیا… ارے عشق
اسے کہتے ہیں… اور وہ چھوٹا سا نوجوان… ہنستا مسکراتا رضوان… ویسے
نام تو احسان اللہ تھا مگر رضوان اُس پر جچتا تھا… غضب کا نشانے
باز اور باہمت… پشاور والے اُس پر بجا طور پر فخر کر سکتے ہیں… یہ چار
دوست تھے… لودھراں کے مولانا عطاء اللہ … سے
لیکر… رضوان تک… ایک عجیب دستہ… ہاں ان میں سے ایک کا خصوصی شکریہ
ادا کرتا ہوں… وہ شہادت سے دو روز پہلے بھی خواب میں آکر ملا… اور
شہادت کے اگلے دن بھی… ہنستا مسکراتا مجھ غریب کی تنہائی کا ساتھی بنا…
شکریہ!
سچے فقیر، سچے شہید عطاء اللہ رحمۃ اللہ علیہ کا…
دل
نے کچھ ایسی دُھن میں آج نغمۂ شوق گا دیا
عشق
بھی جھوم جھوم اٹھا، حُسن بھی مسکرا دیا
آتشِ
تر نے ساقیا! کچھ نہ مجھے مزہ دیا
آنکھوں
میں آنکھیں ڈال کے تو نے یہ کیا پلا دیا
جذب
جنوں نے آج تو گل ہی نیا کھلا دیا
خود
وہ گلے لپٹ گئے، عشق کا واسطہ دیا
خوش
رہو شہیدو! خوش رہو… اللہ تعالیٰ تمہارے درجات بلند
فرمائے… اور اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان کے ساتھ… اپنے مقام
محبت میں جمع فرمائے… میری عادت تو نہیں… مگر مجھے’’فقیرعطاء اللہ
شہید‘‘ سے حیاء آتی ہے کہ میں اُن کی وصیت کو چھپا دوں… وہ یقیناً
عارف باللہ تھے اور واصل باللہ ہوئے… صاحب ایمان تھے اور صاحب فراست
تھے انہوں نے ساتھیوں کے لئے جو کچھ لکھا وہ یقیناً ساتھیوں کی خیر خواہی ہی میں
لکھا ہوگا… اس لئے میں اُن کا مختصر وصیت نامہ نقل کر رہا ہوں…
’’میری
تمام جماعتی ساتھیوں و اراکین کو وصیت ہے کہ جیش و امیر جیش کے ساتھ وفاداری کا
ثبوت دیں اور مخلص رہیں اور اُن کی اطاعت کو لازم پکڑیں ، کسی قسم کے منافقین کے
کسی بھی پروپیگنڈے میں نہ پڑیں اوراُن کی سازشوں اورپروپیگنڈوں سے اپنے آپ کو دور
رکھیں اور جماعتی احکام و اصول کے منافی کوئی بھی سازش و بغاوت ہو تو اس کو کچل
دیں، اس کو دبادیں‘‘
والسلام
بندہ
فقیرمحمد عطاء اللہ لودھری
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو’’عقلمندی‘‘ نصیب فرمائے… محترم و مکرم قاری
عمر فاروق صاحب بھی آگے چلے گئے… بے شک ہم سب نے بھی جانا ہے…
اناللہ وانا الیہ راجعون
موت
کا آنا… اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُس کے بندوں پر کوئی ظلم
نہیں… اللہ تعالیٰ’’ظلم‘‘ سے پاک ہے… ایک بات تو یہ ہے کہ
’’موت‘‘ انسان کے سفر کا لازمی حصہ ہے… عالم ارواح سے یہ سفر شروع ہوتا
ہے … وہاں سے ماں کا پیٹ… پھر دنیا کا پیٹ… پھر قبر و برزخ کا
پیٹ اور پھر آخرت کا ہمیشہ ہمیشہ والا جہان… یا جنت یا جہنم… دوسری بات
یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم انسانوں کے لئے ایک پورا نصاب اور نظام اس
بارے میں مقرر فرما دیا ہے کہ… اگر ہم اُس پر عمل کریں تو موت ہمارے لئے راحت
اور خوشی کا ذریعہ بن جائے… اور تیسری بات یہ ہے کہ شیطان کی پوری کوشش ہوتی
ہے کہ… انسان موت سے غافل ہو جائے… ہر کوئی اپنے گریبان میں
جھانکے… طرح طرح کے مفروضوں پر بہت سے لوگ… بلکہ اکثر لوگ خود کو موت سے
مستثنیٰ سمجھتے ہیں… اور اسی خیال میں رہتے ہیں کہ ابھی میرا وقت بہت دور
ہے… کسی کو یہ خیال ہے کہ فلاںآدمی نے میرے ہاتھ کی لکیریں دیکھ کر بتا دیا
تھا کہ تمہاری عمر لمبی ہے… استغفر اللہ ، استغفر اللہ
کسی
کو یہ خیال ہے کہ ابھی تو میرے والدین بھی زندہ ہیں… میرانمبر تو اُن کے بعد
آئے گا… کسی کو یہ یقین کہ پانچ، دس روپے صدقہ کرتا ہوں… اور صدقہ سے
عمر بڑھ جاتی ہے… صدقہ کی برکت میں کوئی شک نہیں… لیکن ایسے اعمال بھی
تو ہیں جو برکت کو توڑ ڈالتے ہیں… شیطان کے عجیب جال ہیں… ابھی ایک
پروفیسر صاحب کھڑے ہوگئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ موت کا وقت مقرر نہیں… ویسے اُن
کا بھی قصور نہیں سگریٹ اور فلموں کے درمیان حاصل کئے گئے ’’تصوف‘‘سے ایسی ہی غلط
باتیں دل میں اُترتی ہیں… ویسے بھی آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کا فرمان ہے… آدمی بوڑھا ہوتا ہے تو اس میں دو چیزیں جوان
ہوجاتی ہیں
(۱) مال
کا حرص (۲) عمر
کا حرص…(صحیح مسلم)
افسوس
اس بات کا ہے کہ بہت سے لوگ اُس پروفیسر صاحب کی بات سنتے اور مانتے ہیں… فوج
اور پولیس کے بڑے افسر اُن کے مرید ہیں… اور کئی نامور پاپ گلوکار بھی اُن سے
فیض حاصل کرتے ہیں… اللہ تعالیٰ اُمتِ مسلمہ کی حفاظت
فرمائے… خلاصہ یہ ہے کہ اکثر انسان’’موت‘‘ سے غافل ہیں… موت کی سچی یاد
انسان کو ایک منٹ بھی نصیب ہو جائے تو دل نور سے بھر جاتا ہے… مگر جنہوں نے
نہ مرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے… اُن کو یہ یاد کیسے نصیب ہو؟…
ایک
بیمار آدمی کے پاس جانا ہوا… اُن کو بیماری کی شدّت سے موت کا احساس ہو رہا
تھا… رو رو کر کہنے لگے…میں مرگیا تو میرے والدین کا کیا بنے گا… میری
بیٹی کا کیا بنے گا… حالانکہ اُن کے والدین کو ا ﷲ تعالیٰ اُس وقت سے کھلا
پلا رہا ہے جب یہ صاحب پیدا بھی نہیں ہوئے تھے… اور بیٹی کا رازق بھی
اللہ تعالیٰ ہے… جو’’حیّ قیوم‘‘ ہے… معلوم ہوا کہ موت کی
یاد بیماری میں بھی نہ آئی… ورنہ یہ فکر پیدا ہوتی کہ میرا کیا بنے
گا؟… آگے اہم مراحل ہیں…
(۱) موت کی سکرات
(۲) سؤال قبر
(۳) عالم برزخ کا ثواب یا عذاب
(۴) دوبارہ زندگی
(۵) میدان حشر
(۶) پوری زندگی کا حساب کتاب
(۷) میزان اعمال
(۸) اللہ تعالیٰ کے روبرو پیشی
(۹) جسم کے اعضا اور زمین کی
گواہی…
(۱۰) پل
صراط…
اور
پھر آخری فیصلہ… امام مزنی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کہ میں امام شافعی
رحمۃ اللہ علیہ کے مرضِ وفات میں اُن کے پاس گیا… اور عرض کیا… اے ابو
عبد اللہ ! کیا حال ہے؟… امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا… بس
حال یہ ہے کہ… دنیا سے کوچ کر رہا ہوں، دوستوں بھائیوں سے جدا ہو رہا
ہوں… اپنے بُرے اعمال سے ملاقات کرنے والا ہوں، موت کا جام پینے والا ہوں اور
اپنے رب سبحانہٗ و تعالیٰ کے ہاں پیش ہونے والا ہوں… مجھے نہیںمعلوم کہ میری
روح جنت کی طرف جارہی ہے تو اُسے مبارک باد دوں… اور اگر جہنم کی طرف جارہی
ہے تو اُس کے ساتھ تعزیت کروں…
حیرانی
کی بات یہ ہے کہ… قرآن مجید میں جگہ جگہ موت کا تذکرہ ہے… ہمارے چاروں
طرف جنازے ہی جنازے ہیں… ہمارے ہر طرف قبریں ہی قبریں ہیں… مگر ہمیں نہ
موت یاد آتی ہے… اور نہ اس ضروری سفر کی تیاری کی فکر دل میں پیدا ہوتی
ہے… چوبیس گھنٹے میں صرف ایک لمحہ تو کم از کم ہر مسلمان کو پورے یقین کے
ساتھ موت کو یاد کرنا چاہئے کہ… میں ابھی مرنے والا ہوں… دعاء بھی سکھا
دی گئی…
اَللّٰھُمَّ
بَارِکْ لِیْ فی الْمَوْتِ وَ فِیْمَا بَعْدَالْمَوْتِ
معلوم
ہوا کہ… موت کوئی سزا نہیں… بلکہ یہ برکت والی چیز ہے اور اس کے بعد بھی
برکتیں ہیں… مگر اُن کے لئے جو موت کا یقین رکھتے ہیں اور موت کی تیاری کرتے
ہیں… اور اُن کا خاتمہ ایمان پر ہوتا ہے… کتنے خطرے کی بات ہے کہ اچانک
موت آجائے اور اُس وقت کسی گناہ میں مشغول ہوں… کسی بے ایمانی یا ظلم کا
ارادہ کررہے ہوں… عربوں نے انٹرنیٹ پر طرح طرح کی چیزیں لگا دی ہیں… ایک
آدمی جو محبوبہ کی یاد میں شعر پڑھتے مر گیا… ایک آدمی جو کسی عورت کے ساتھ
گناہ کی حالت میں جل مرا… ہوٹل کے کمرے کو آگ لگ گئی… ایک لڑکی جو رقص
کرتے ہوئے گری اور مر گئی اور اُس کے جسم نے کفن کو قبول نہ کیا… جب بھی کفن
پہناتے تو وہ جسم سے ہٹ جاتا اور وہ حصے کھل جاتے جن کو کھول کر وہ ناچتی
تھی… آج خواتین میں کھلے گلے اور کھلے بازوؤں والے بے پردہ لباس بُری طرح
عام ہو رہے ہیں… کفن یادہو تو لباس ٹھیک ہوجاتا ہے… مگر کفن تو ایمان
والوں کو یاد رہتا ہے… ہمارے حضرت قاری عرفان صاحب رحمۃ اللہ علیہ زندگی کے
آخری کئی سال سفر حضر میں اپنا کفن اپنے ساتھ رکھتے تھے… اور جس جگہ بھی
جاتے تو اور باتوں سے پہلے موت کے بارے میں وصیت فرماتے کہ… اگر میرا یہاں
انتقال ہو جائے تو اسی کفن میں کفنا کر جلد نماز جنازہ ادا کریں اور اسی شہر میں
دفنا دیں… وغیرہ وغیرہ…
یعنی
اُن کو اصل مسئلے کی پہلے فکر تھی… باقی دنیا کے کام کاج تو چلتے ہی رہتے
ہیں… اسلام نے موت کا کیا نصاب مقرر فرمایا… ایک چھوٹی سی جھلک پیش کرتا
ہوں… تفصیل،زندگی رہی تو پھر کبھی ان
شاء اللہ …
(۱) زندہ انسانوں کو حکم دیا گیا
کہ وہ کثرت سے موت کو یاد کرتے رہیں… صرف زبان سے موت، موت نہیں… بلکہ
دل کو یہ بات سمجھائیں کہ موت بغیر دستک دیئے آسکتی ہے تیار رہو، تیار
رہو… اور تیاری کرو… اس بارے میں قرآن پاک کی کئی آیات اور رسول کریم صلی
اللہ علیہ وسلم کی کئی احادیث موجود ہیں…
(۲) دو چیزیں جو انسان کی موت کو
خراب کرتی ہیں اُن سے نہایت تاکید کے ساتھ روکا گیا… ایک حرص اور دوسرا لمبی
لمبی دنیاوی امیدیں… تھوڑا سا غور کریں کہ یہ دو روگ کس طرح سے انسان کو
نقصان پہنچاتے ہیں… اور اُس کے خاتمے کو خراب کرتے ہیں…
(۳) عقلمندی کا معیار دو چیزوں کو قرار
دیاگیا… ایک اپنے نفس کو اپنے قابو میں لیکر شریعت کا تابع بنانا… اور
دوسرا ایسے اعمال کرنا جو مرنے کے بعد کام آئیں… یعنی دنیا مقدّر ہو چکی اور
آخرت کیلئے محنت کا حکم ہے…
(۴) ایسے اعمال اور ایسی دعائیں سکھا دی گئیں جو موت
کی سکرات کے وقت کام آئیں… موت کو شربت کی طرح میٹھا بنائیں… اور موت
کے بعد راحتوں کا دروازہ کھلوائیں… ہمیں یہ سب دعائیں یاد کرنی چاہئیں اور
دنیا کی حاجتوں سے زیادہ ان دعاؤں کو مانگنا چاہئے… حسن خاتمہ کی
دعاء… آخری وقت کلمہ طیبہ جاری ہونے کی دعاء… غفلت کی موت سے حفاظت کی
دعاء… مقبول شہادت کی دعاء… موت کے وقت آسانی کی دعاء… عذاب
قبراور منکر نکیر کے فتنے سے حفاظت کی دعاء… اور آخرت کی باقی منازل کی
دعائیں…
(۵) قبرستان جانا، صالحین کی صحبت میں
بیٹھنا… جنازوں میں شرکت کرنا… غافلوں کی صحبت سے بچنا… لمبی لمبی
امیدیں نہ باندھنا… دنیا میں جو کچھ میسر ہو اُسی کو بہت اور کافی
سمجھنا… یہ سب کام سکھائے گئے تاکہ دنیا کے شور شرابے کے درمیان موت یاد رہے…
(۶) عمر جیسے جیسے بڑھتی جائے
موت کی یادکازیادہ سے زیادہ انتظام کیا جائے…مالی معاملات سے دور رہا جائے…کیونکہ
اس عمر میں حرص کے پیدا ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے… حالانکہ خاتمے کا وقت
قریب ہوتا ہے…
یہ
ابتدائی نصاب ہے… اس کے بعدمزید کئی نصاب ہیں… وجہ یہ ہے کہ موت کا سفر
یقینی ہے… موت کا سفر لمبا اور طویل ہے… اور موت کے بعد یا بڑی راحت ہے
یا بڑا درد ہے… دنیا تو بہت چھوٹی اور معمولی سی چیز اورجگہ ہے… یہاں
کوئی انسان تنہائی برداشت نہیں کرتا… تو برزخ جیسے وسیع جہان میں تنہائی کتنی
سخت ہوگی… اللہ تعالیٰ رحم فرمائے اور ہمیں وہاں کی وحشت اور
تنہائی سے بچائے… اور وہاں قرآن پاک اور اونچی صحبت نصیب فرمائے… حضرت
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں… میں نے دیکھا کہ وفات کے وقت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پاس رکھے پیالے میں
ہاتھ ڈالتے پھر یہ پانی اپنے چہرہ مبارک پر پھیرتے… پھر فرماتے…
اَللّٰھُمَّ
اَعِنیِّ عَلیٰ غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَسَکَرَاتِ الْمَوْتِ
یا
اللہ ! موت کی شدّت اور سختی میں میری مدد فرمائیے … (ترمذی)
بخاری
اور مسلم میں… حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ آخری وقت آپ صلی
اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر یہ دعاء جاری تھی…
اَللّٰھُمَّ
اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاَلْحِقْنِیْ بِالرَّفِیْقِ الْاَعْلیٰ
یا
اللہ میری مغفرت فرمائیے اور مجھ پر رحم فرمائیے اور مجھے رفیق اعلیٰ کے
ساتھ ملائیے…
چلیں یہ
دو دعائیں یادکر لیں… ویسے اس موضوع کو ہمیں اپنی دعاؤں میں خاص اہمیت دینی
چاہئے… اگلے ہفتے ان شاء اللہ کوشش ہوگی کہ… موت اور اُس کے تمام
مراحل کی مسنون دعائیں ایک ہی کالم میں آجائیں… ہمارے مخدوم مکرم قاری عمر
فاروق صاحب س کافی عرصہ سے بیمار تھے… وہ قرآن پاک کے خادم تھے اور قرآن
پاک کے ساتھ اُن کا جینا مرنا تھا… موت کو اکثر یاد کرتے تھے… ابھی چند
ہفتے پہلے اُن کا سلام اور یہ پیغام ملا کہ مجھے انتقال کے بعد… حضرت ابّا جی
رحمۃ اللہ علیہ کے قریب دفن کیا جائے… بندہ نے جواب بھیجا کہ اللہ
تعالیٰ آپ کو لمبی عمر عطاء فرمائے… ہماری طرف سے ’’تدفین‘‘ کی وصیت
منظور ہے… مگر مٹی کا نظام بھی اوپر سے طے شدہ ہے… انسان اُسی مٹی میں
مدفون ہوتا ہے جہاں کی خاک سے وہ بنایا جاتا ہے… اس بارے عجیب روایات، حکایات
اور معارف کا ایک خزانہ کتابوں میں ملتا ہے… کہتے ہیں دو چیزیں انسان کو بہت
دور سے اپنے پاس کھینچ لیتی ہیں… ایک رزق اور ایک قبر کی مٹی… حضرت قاری
صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال اسلام آباد میں ہوا… یعنی وہ اپنے پیدائشی
علاقے ’’مری‘‘ کے قریب تھے…چنانچہ تدفین بھی مری میں ہوئی… اللہ
تعالیٰ اُن کے درجات بلند فرمائے… اور اُن کو ’’مغفرت‘‘ کا اعلیٰ مقام
نصیب فرمائے… اُن کا اور ہمارا تعلق بہت میٹھا، محبت بھرا… اور باہمی
اکرام والا تھا…
جب
اُن کے انتقال کی خبرآئی تو دل پر افسردگی چھا گئی… اور حضرت قاری صاحب رحمۃ
اللہ علیہ ساتھ گزرے ہوئے کئی مناظر دماغ میں تازہ ہو گئے… بالاکوٹ کی مسجد
خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ میں… میرے بیان کے درمیان کھڑے ہو کر اُن کا تاحیات
بیعت کا اعلان… اور پورے مجمع کی چیخیں نکلوا دینے والا جذبات سے لبریز
خطاب … وہ منظر مجھے بار بار یاد آرہا تھا… مسجد جا کر دعاء
کی… یا اللہ ! اُس دن حضرت قاری صاحب نے سب سے سبقت لی… اور
ہزاروں ٹوٹے اور زخمی دلوں پر مرہم رکھا… یا اللہ ! اب وہ آپ کے پاس
ہیں اُن کو اُس دن کے عمل کا ایسا بدلہ اور اکرام عطاء فرمائیے کہ… وہ خوش
اور راضی ہوجائیں… حضرت قاری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی جماعت کے ساتھ محبت بہت
عجیب تھی…ہمیشہ جماعت کی ترقی کے آرزو مند… اور مخالفانہ خبروں کے مقابلے
میں صابر…
ایک
زمانے بہت خوفناک فتنہ آیا… کئی لوگ صرف یہ بات پھیلانے کے لئے ہر طرف سفر
کر رہے تھے کہ… جماعت ختم ہو گئی ہے اور اب ان لوگوں کا نام لینا بھی کوئی
گوارہ نہیں کرتا… حضرت قاری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس بھی ایک وفد
یہی’’خبر‘‘ کان میں ڈالنے کے لئے پہنچا… اور ڈال آیا… وفد کے لوگ
معززتھے… لوگ اُن کی بات سن لیتے تھے… اسی طرح چند اور افراد نے بھی یہ
بات قاری صاحب س کو جا کر بتائی… حضرت قاری صاحب رحمۃ اللہ علیہ دل ہی دل میں
بہت پریشان تھے… محبت، ادب اور اکرام کی وجہ سے وہ ہمیں کبھی کوئی اعتراض نہ
بتاتے تھے اور نہ سناتے تھے … بس خود ہی دل میں کڑھتے رہے… انہیں
دنوں استاذمحترم حضرت مولانا منظور احمد نعمانی رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال
ہوا… بندہ نمازجنازہ کے لئے ’’طاہر والی‘‘ پہنچا… حضرت قاری عمر فاروق
رحمۃ اللہ علیہ بھی رحیم یار خان سے تشریف لائے… نماز جنازہ کے بعد میں اپنی
گاڑی کی طرف بڑھا تو قاری صاحب س کو بھی ساتھ لے لیا… اُسی وقت لوگ مصافحہ کے
لئے ٹوٹ پڑے… بندہ اس مجمع کے درمیان پھنس گیا… حارسین ساتھی بڑی مشکل
سے حصار بنا کر بندہ کو گاڑی تک لائے… تب مجمع نے گاڑی کو گھیر لیا… مگر
میں گاڑی میں بیٹھ چکا تھا اور شیشے نیچے کر کے مصافحہ کر رہا تھا…ہمارے لئے یہ
روز مرہ کا معمول تھا… اسی لئے نہ تنگی محسوس ہوتی تھی اور نہ دل میں کوئی
بڑائی… اور نہ ہی یہ کوئی عجیب معاملہ لگتا تھا… کچھ لوگوں سے مصافحہ
اور باقی مجمع سے بچ کر بھاگنے میں ہمارا قافلہ تاک ہو چکا تھا… مگر یہ
کیا؟… مجھے گاڑی کی پچھلی سیٹ سے زور زور سے بولنے اور تقریر کرنے کی آواز
آرہی تھی… اُدھر توجہ کی تو معلوم ہوا حضرت قاری صاحب رحمۃ اللہ علیہ نہایت
جذب اور جذبے کی حالت میں دونوں ہاتھ لہرا لہرا کر… کچھ لوگوں کے نام لیکر
پکار رہے تھے… او فلاں! اوفلانے… آؤ، مرجاؤ، یہاں دیکھو! تم کہتے ہو
ان کا نام لینے والا کوئی نہیں… یہاں لوگ مصافحہ کے لئے پروانوں کی طرح گر
رہے ہیں… اوفلانے، او فلانے… ایٹم بم مار دو پھر بھی ان کی محبت لوگوں
کے دلوں سے نہیں نکال سکتے… حضرت قاری صاحب رحمۃ اللہ علیہ پر رقت طاری تھی
اور وہ اپنے قابو میں نہیں تھے… اور جن کا وہ نام لے رہے تھے وہ سب اُن سے
سینکڑوں میل دور تھے… بندہ نے ارادہ کیا کہ قاری صاحب سسے عرض کروں کہ وہ لوگ
تو بہت دور ہیں… مگر حضرت قاری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی حالت دیکھ کر میں نے
ہمت نہ کی… اور گاڑی چلنے کے بعد بھی کافی دیر اُن کی یہی حالت
رہی… دراصل اُن کا دل زخمی اور بے تاب تھا اور بار بار ایک ہی بات سن کر اُن
کو بھی اُس کی صداقت کا خیال ہو چکا تھا… اب جب دل پر مرہم لگا تو خوشی اور
جذبات سے مغلوب ہوگئے…
کون
کون سا واقعہ لکھوں… حضرت قاری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں بارعب اور پروقار
جلسے… اُن کی اخلاص بھری دعوتیں… اُن کے ساتھ خوشگوار اسفار… اور
اُن کی بے لوث خدمات… جماعت میں شعبہ احیاء سنت قائم ہوا تو… نظامت کے
لئے اُنہیں پر نظر پڑی… وہ دل اور آنکھوں میں’’حیا‘‘ کی عجیب نعمت رکھتے
تھے… ماشاء اللہ انہوں نے یہ شعبہ خوب چلایا… اور اس وقت تک
چلاتے رہے جب تک اُن کی صحت نے انہیں کام کرنے کی اجازت دی… اُدھر کل کراچی
سے یہ افسوسناک خبر ملی کہ حضرت مولانا محمد اسلم شیخوپوری رحمۃ اللہ علیہ کو بھی
شہید کر دیا گیا… حضرت مولانا مفسر قرآن اور داعی اسلام تھے… کئی
کتابوں کے مصنف اور کامیاب دینی مدرس… ایک زمانے تک اُن کے ساتھ
بہت… کریمانہ اور خوشگوار مراسم رہے… درس قرآن سے واپس آرہے تھے
کہ… گمنام اور شقی قاتلوں نے اُن پر حملہ کر دیا… اللہ
تعالیٰ مولانا مرحوم کی مغفرت فرمائے اوراُن کے درجات بلند فرمائے… اور
اللہ تعالیٰ مجھے اورآپ سب کو موت یاد رکھنے، اور موت کی تیاری کرنے
کی توفیق عطاء فرمائے… اور ہم سب کو’’حُسن خاتمہ‘‘ نصیب فرمائے…
آمین
یا ارحم الراحمین
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا
اللہ محمد رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو اپنے فضل سے’’حسن خاتمہ‘‘ نصیب فرمائے… آج
باتیں بہت سی ہیں اور دعائیں بھی… اس لئے مختصر شذرے بناتے ہیں
تاکہ… یاد رکھنے میں آسانی ہو…
موت
کو زیادہ یاد کرو
رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لذتوں کو ختم
کرنے والی چیز(یعنی موت) کا زیادہ تذکرہ کیا کرو…(ترمذی)
حضرت
آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان آگیا… لبیک، لبیک… آج ہم
موت کا زیادہ تذکرہ کریں گے… اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم
مانیں گے… آج بھی آئندہ بھی… خلوت میں بھی، جلوت میں بھی… ان
شاء اللہ
مسلمان
مرو
اللہ
تعالیٰ نے ہمیں تاکید کے ساتھ حکم فرمایا ہے کہ… ہم مسلمان مریں…یعنی
ایسی محنت، کوشش، فکر اور دعاء کریںکہ… جب موت آئے تو ہم ایمان پر
ہوں… اسلام پر ہوں… اور ہمارا خاتمہ اچھا ہو جائے… ارشاد باری
تعالیٰ ہے:
ترجمہ:
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس طرح اُس سے ڈرنے کا حق ہے اور
تم صرف اسلام ہی پر مرو…(یعنی تمہارا خاتمہ اسلام پر ہونا چاہئے)(آل عمران ۱۰۲)
محنت
مرتے دم تک ہے
مسلمان
کو عبادت کا حکم ہے… عبادت کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے احکامات کو
پورا کرنا… جی ہاں! سارے احکامات… عقائد بھی فرائض بھی… محنت بھی،
قربانی بھی… اور اس میں کامیابی یہ ہے کہ… انسان مرتے دم تک لگا
رہے… ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اور
اپنے رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ تمہاری موت آجائے…(الحجر ۹۹)
اعتبار
تو صرف خاتمے کا ہے
بالکل
واضح سمجھا دیاگیا کہ… اصل اعتبار خاتمے کا ہے… دیکھیں بخاری شریف کی یہ
روایت:
حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
اِنَّمَا
الْاَعْمَالُ بِالْخَوَاتِیْم…
ترجمہ:
اعمال کا دارومدار تو اُن کے انجام پر ہے…(صحیح بخاری)
ایک
آدمی اچھے اعمال کرتے کرتے جنت کے دروازے تک جا پہنچتا ہے… اچانک ایسا عمل
کر بیٹھتا ہے کہ سیدھا جہنم میں جا گرتا ہے… اور دوسرا بُرے اعمال کرتے کرتے
جہنم کے دروازے تک پہنچ جاتا ہے اور پھر… ایسا عمل کر گزرتا ہے کہ سیدھا جنت
میں چلا جاتا ہے… اسی لئے جن کے دلوں میں ایمان ہوتا ہے اُن کو سب سے زیادہ
فکر… ایمان پر خاتمے کی ہوتی ہے… ایک ایک گھڑی ایک ایک لمحہ وہ اسی فکر
میں رہتے ہیں کہ… آخری وقت اچھا ہو… ایمان پر ہو…
انبیاء
دکی وصیت
حضرت
ابراہیم علیہ السلام… اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی اولاد کو کیا وصیت
فرمائی؟… ہمیں بھی اس کو پڑھ سمجھ کر اپنی اولاد کے لئے ایسا ہی مستقبل
ڈھونڈنا اور سوچنا چاہئے… دیکھئے قرآن پاک… اللہ تعالیٰ کا فرمان
ہے:
ترجمہ:
اور ابراہیم علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام نے اپنی اولاد کو اسی
دین کی وصیت کی( اور کہا) اے میرے بیٹو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے
دین(اسلام ) کو پسند فرمایا ہے اس لئے تم صرف دین اسلام ہی پر مرنا…(البقرہ ۱۳۲)
یہ
ہے اپنی اولاد کے لئے ایک مسلمان کی حقیقی فکر… کہ وہ دین پر رہیں اور دین پر
مریں… رہائش کی فکر، کھانے کی فکر، نوکری کی فکر فضول ہے… لیجئے اب دو
کام ہو گئے… اپنے حسن خاتمہ کی فکر اور محنت بھی کرنی ہے… اور اپنی
اولاد کے حسن خاتمہ اور محنت کی فکر بھی کرنی ہے… وجہ یہ ہے کہ بس ایک لمحہ
اچھا ہو گیا توآگے کروڑوں اربوں سال سے بھی زیادہ مدت… یعنی ہمیشہ ہمیشہ
آرام، عیش اور راحت… اور اگر ایک لمحہ بُرا ہو گیا تو آگے ہمیشہ ہمیشہ کی
تکلیف، عذاب اور دردناک مشقت… ایک لمحہ کونسا ہے؟… جی ہاں! خاتمے کا
لمحہ… جب روح کو جسم سے الگ کیا جاتا ہے… اور یہ لمحہ ہر جاندار پرضرور
آناہے…
ایک
دعاء سمجھ لیں اور یاد کر لیں
اوپر
جو بات عرض کی… ایک لمحہ والی… اس کو رسول پاک صلی اللہ علیہ
وسلم کی سکھلائی ہوئی اس دعاء میں سمجھنے کی کوشش کریں… یہ دیکھیں
حدیث شریف کی مشہور کتاب صحیح مسلم… حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کی مبارک دعاء…
اَللّٰھُمَّ
اَصْلِحْ لِیْ دِیْنِیَ الَّذِیْ ہُوَ عِصْمَۃُ اَمْرِیْ وَاَصْلِحْ لِیْ
دُنْیَایَ الَّتِیْ فِیْھَا مَعَاشِیْ وَاَصْلِحْ لِیْ آخِرَتِیَ الَّتِیْ
فِیْھَا مَعَادِیْ، وَاجْعَلِ الْحَیَاۃَ زِیَادَۃً لِیْ فِیْ کُلِّ خَیْرٍ
وَّاجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَۃً لِّیْ مِنْ کُلِّ شَرٍّ (مسلم حدیث رقم: ۲۷۲۰)
ترجمہ:
یا اللہ ! میرے اُس دین کو درست فرما دیجئے جو میرا بچاؤ ہے… اور میری
اُس دنیا کو درست کر دیجئے جس میں میرا معاش ہے، اور میری اُس آخرت کو درست
فرمادیجئے جس میں مجھے لوٹ کر جانا ہے اور زندگی کو میرے لئے ہر خیر میں اضافے کا
ذریعہ بنا دیجئے اور موت کو میرے لئے ہرشر سے راحت کا ذریعہ بنا دیجئے…
ماشاء
اللہ !… کیسی جامع اور زبردست دعاء ہے… دین بھی سیدھا ہو
جائے… دنیا بھی سیدھی ہو جائے… آخرت بھی اچھی ہو جائے… اور زندگی
قیمتی بن جائے اور موت راحت بن جائے… معلوم ہوا کہ… اچھے خاتمے والی موت
راحت ہی راحت ہے… اور آزادی ہی آزادی… بلکہ مزے ہی مزے… اس پر
ایک واقعہ پڑھ لیں…
ایک
واقعہ
امام
غزالی س نے احیاء العلوم کی چوتھی جلد میں… اچھے اور برے خاتمے پر تفصیلی بات
کی ہے… اس میں وہ یہ واقعہ بھی لکھتے ہیں:
’’
اپنے خاتمے کے بارے میں ڈرنے والے ایک شخص نے اپنے کسی بھائی کو وصیت کی کہ جب میں
مرنے لگوں میرے سرہانے بیٹھنا، اگر دیکھو کہ میرا خاتمہ توحید پر ہوا تو میرا تمام
مال لے کر اس کے بادام اور شکر خرید کر شہر کے بچوں میں تقسیم کرنا اور کہنا کہ
ایک شخص قید سے آزاد ہوا ہے یہ اُس کی شیرینی ہے اور اگر میرا خاتمہ توحید پر نہ
ہو تو لوگوں کو خبر دینا کہ یہ شخص توحید پر نہیں مرا‘‘…الخ،(احیاء العلوم)
حضرت
سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی موت کا وقت آیا تورونے لگے اور بہت ڈرے ہوئے تھے
لوگوں نے ان سے کہا آپ کو امید کرنی چاہئے، اللہ تعالیٰ کی معافی آپ
کے گناہوں سے بڑی ہے… حضرت سفیان رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: میں گناہوں کی
وجہ سے نہیں روتا اگر مجھے یہ معلوم ہو جائے کہ خاتمہ توحید پر ہوگا تو مجھے کچھ
پرواہ نہیں اگرچہ میرے ساتھ پہاڑوں کے برابر گناہ جائیں…(احیاء العلوم)
بعض
صحابہ کرام سے یہ بات مروی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ… جو شخص موت کے وقت ایمان
چھن جانے سے ڈرتا ہے اس کے لئے خیر ہے… اور جو اس خوف سے بے فکر رہتا ہے اس
کا ایمان چھن جانے کا خطرہ رہتا ہے…یعنی جو ڈرتے ہیں…… وہی بچتے ہیں…
وجہ
کیا ہے؟
صحیح
بخاری میں حضرت ابن ملیکہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے… میں تیس صحابہ کرام سے
ملا وہ سب اپنے بارے میں نفاق سے ڈرتے تھے… بُرے خاتمہ کا خوف ہمارے سب اسلاف
پر طاری رہا… لوگوں نے اس پر صفحات کے صفحات لکھے ہیں… دراصل انسان کے
اندر جو حالت پختہ ہوتی ہے وہ موت کے وقت ظاہر ہوجاتی ہے… عام زندگی میں تو
لوگ رکھ رکھاؤ سے بہت کچھ چھپا لیتے ہیں… دوسری بات یہ کہ… شیطان اُس
وقت بہت زور لگاتا ہے اور اپنے تمام لشکروں اور آلات کے ساتھ حملہ آور ہوتا
ہے… اور انسان کی کمزوریوں کے راستے اُس کے حواس پر قبضہ کرتا ہے
تاکہ… موت کے وقت اُسے غافل کر دے… کسی کو مال میں، کسی کو حرص میں، کسی
کوعشق میں… کسی کو اپنی عزت و شہوت میں… بس بھائیو! اور بہنو!…بڑا مشکل
وقت ہوتا ہے… اللہ تعالیٰ ہی اپنا فضل فرمائے… ہمیں کوشش
کرنی چاہئے کہ اپنے اندر دین کو مضبوط کریں… ایمان اور تقوے کو مضبوط
کریں… اور ساتھ ساتھ نہایت آہ وزاری اور اہتمام کے ساتھ حسن خاتمہ کی دعاء
بھی مانگتے رہیں…
عقلمند
لوگ حسن خاتمہ کی دعاء مانگتے ہیں
قرآن
پاک کی سورۃ آل عمران میں… اللہ تعالیٰ نے اپنے بعض بندوں
کو’’اولی الالباب‘‘… کا لقب عطاء فرمایا ہے… یعنی عقل والے… جن کو
اللہ تعالیٰ عقلمند فرمائے اُن سے بڑھ کر عاقل کون ہو سکتا ہے؟…پورا
تذکرہ آپ سورۃ آل عمران کے آخری رکوع میں پڑھ لیجئے… یہاں صرف یہ عرض کرنا
ہے کہ… ان عقلمندوں کی ایک صفت اور علامت یہ بھی ہے کہ… وہ حسن خاتمہ کی
فکر کرتے ہیں اور اس کے لئے مسلسل دعاء مانگتے ہیں… دعاء یہ ہے…
’’رَبَّنَا
فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَکَفِّرْعَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ
الْاَبْرَار‘‘
ترجمہ:
اے ہمارے رب!ہمارے گناہ معاف فرما، ہم سے ہماری برائیاںدور فرما اور ہم کو نیک
لوگوں کے ساتھ موت دے…(آل عمران۱۹۳)
لیجئے
بات بھی سمجھ آگئی… اور ایک قرآنی دعاء بھی مل گئی…
اس
دعاء کو یاد کر لیاجائے… توجہ سے مانگی جائے اور معمولات کا حصہ بنائی
جائے… اس میں’’استغفار‘‘ بھی ہے اور’’حسن خاتمہ‘‘ کی دعاء بھی…
مقبول
تائبین اور حسن خاتمہ کی فکر
قصہ
آپ نے بارہا سنا ہوگا… رنگ ونور میں بھی آچکا… وہ بڑے خوش نصیب جو
پہلے فرعون کے جادو گر تھے…مگر اللہ تعالیٰ کا ایسافضل ہوا کہ حضرت
موسیٰ علیہ السلام کے صحابی… اور شہداء کرام بن گئے… اُن کے
بارے میں قرآن پاک فرماتا ہے کہ … ایک طرف انہوں نے فرعون کو للکارا کہ
ہم ایمان لا چکے ہیں جو کرنا ہے کر لے تو اسی لمحے دوسری طرف انہوں
نے… اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر حسن خاتمہ کی درخواست پیش کر
دی… اور وہ قبول ہو گئی…
قرآن
پاک اُن کی دعاء بیان فرماتا ہے…
رَبَّنَآ
اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّتَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ…(الاعراف ۱۲۶)
اے
ہمارے پروردگار! ہمیں استقامت نصیب فرما اور ہمیں اسلام پر موت دے…
لیجئے
مل گئی ایک اور دعاء حسن خاتمہ کی… اس میں صبرو استقامت کی دعاء بھی
ہے… اور ایمان پر خاتمے کی بھی… الفاظ بھی قرآن پاک کے ہیں… اور
جنہوں نے مانگی تھی اُن کو حسن خاتمہ نصیب بھی ہوا… پس اسے بھی یاد کر لیجئے…
اب
کیا کریں؟
آج
جو باتیں لکھنی تھیں… ان میں سے آدھی ہو چکیں اور آدھی باقی ہیں… بعض
بہت اہم دعائیں بھی باقی ہیں…ساری آج لکھ دوں توآپ پر بوجھ ہوگا… اس لئے ان شاء
اللہ اگلے ہفتے اس موضوع کو
مکمل کرنے کی کوشش کریں گے… آج کی آخری بات سن لیں… امام غزالی پنے
لکھا ہے: بُرے خاتمہ سے حفاظت کی سب سے محفوظ صورت یہ ہے کہ… کسی انسان کو
اللہ تعالیٰ شہادت کی نعمت نصیب فرما دیں… پس ہمیں چاہئے کہ دل
کے اخلاص کے ساتھ ہر خوف نکال کر… شہادت کی دعاء مانگا کریں… اور خود کو
شہادت کا اہل بنانے کی فکر اور محنت بھی کیا کریں…
آپ
میں سے جو بھی یہ کالم پڑھے یا سنے… میری اُس کیلئے دعاء ہے کہ…
یا
اللہ ، یا کریم! اُسے حسن خاتمہ… ایمان کامل پر نصیب فرما… اور
میری آپ سب سے گزارش ہے کہ… آپ میرے لئے حسن خاتمہ ایمان کامل… اور
شہادت پر ہونے کی دعاء مانگ لیں…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم سلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو وہ ’’آنسو‘‘ نصیب فرمائے… جو تنہائی میں
صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے خوف اور خشیت سے ٹپکا ہو… یہ دیکھیں!
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم فرما رہے ہیں…
’’میرے
لئے اللہ تعالیٰ کے خوف سے ایک آنسو بہانا ہزار دینار صدقہ کرنے سے
زیادہ محبوب ہے‘‘
جی
ہاں! حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدہ فرما لیا ہے
کہ… دو آنکھوں کو جہنم کی آگ نہیںچھوئے گی… ایک وہ آنکھ جو جہاد کی
پہرے داری میں جاگی ہو… اور دوسری وہ آنکھ جو اللہ تعالیٰ کے خوف سے
روئی ہو… پچھلے ہفتے والے موضوع کو مکمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں…تاکہ میرے اور
آپ سب کے دل میں’’حسن خاتمہ‘‘ کی فکر پیدا ہو جائے… کھانے پینے سے بھی
زیادہ، مکان، دکان سے بھی زیادہ… علاج اور صحت کی فکر سے بھی
زیادہ… شہرت اور عزت کی فکر سے بھی زیادہ… خاوند اور بیوی کی ایک دوسرے
کو قبضے میں لینے کی فکر سے بھی زیادہ… زیادہ جینے اور زیادہ مال بنانے کی
فکر سے بھی زیادہ… یہ فکر کہ ہمارا خاتمہ اچھا ہوجائے… ایمان پر ہو
جائے…
حضرت
حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے ایک بار ایک حدیث بیان فرمائی جس میں اُس آدمی کا
تذکرہ تھا جو ایک ہزار سال تک جہنم میں رہے گا… پھر وہاں سے نکال کر جنت میں
بسایا جائے گا… فرمانے لگے کاش میں ہی وہ آدمی ہو جاؤں… کیونکہ سزا
کاٹ کر سہی اُس کا جنت میں جانا تو یقینی ہے… جبکہ میرا پتہ نہیں
کہ… موت ایمان پر آئے گی یا نہیں… خدانخواستہ ایمان پر نہ آئی تو پھر
ہمیشہ ہمیشہ کا عذاب ہو گا… یا اللہ امان! یا اللہ
امان…
آہ!
کتنے لوگ عین موت کے وقت ایمان پر نہ رہے… اور اُن پر وہ فکر سوار ہو گئی جو
انہوں نے دنیا میں اپنی اصل فکر بنائی… اُسی کے لئے جیتے مرتے رہے… کاش
ہم ایمان کی قدر سمجھیں… کاش ہم ایمان کو ہی سب سے بڑی دولت ، سب سے بڑی نعمت
سمجھیں… امام غزالیؒ نے عجیب حکایت لکھی ہے… انبیاء د میں سے ایک نبی پر
بہت آزمائشیں آئیں… ایسی سخت آزمائشیں کہ اُن کا تصور بھی مشکل
ہے… بھوک، فاقہ، افلاس اور ہر تکلیف… بالآخر انہوں نے اللہ
تعالیٰ سے اپنا شکوہ عرض کیا… جواب آیا: اے ہمارے بندے! کیا تمہارے
لئے ہماری یہ نعمت کافی نہیں کہ ہم نے تمہیں کفر سے بچایا ہوا ہے… یہ سنتے ہی
وہ سجدے میں گر گئے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے لگے
کہ… واقعی اتنی عظیم نعمت مجھے نصیب ہے کہ … ایمان پر ہوں اور کفر
سے محفوظ ہوں… آج تو اللہ تعالیٰ معاف فرمائے… ’’حبّ
دنیا‘‘ نے دلوں کی دنیا ہی ویران کر دی ہے… ہر گندی سے گندی چیز کی قدر دل
میں ہے… اگر قدر نہیں تو ایمان کی نہیں… ہر چیز کی فکر میں روتے ہیں،
مرتے ہیں، اور کیا کیا پاپڑ بیلتے ہیں… اگر فکر نہیں تو ایمان پر خاتمے کی
نہیں… یا اللہ ! ہم پر رحم فرما…
حضرت
یوسف علیہ السلام کی فکر… اور دعاء
مصیبت
کے وقت بہت سے لوگ’’موت‘‘ کو یاد کرتے ہیں… موت کی باتیں کرتے
ہیں… مرجانے کی دھمکیاں دیتے ہیں… مگر جب انسان نعمتوں کے عروج پر ہو
اُس وقت وہ موت کو یاد رکھے اور اچھی موت… یعنی حسن خاتمہ کی فکر
کرے… یہ حضرات انبیاء علیہم السلام کا طریقہ ہے… یہ دیکھیں! میرے سامنے
سورۃ یوسف کے انوارات ہیں… اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام
کی ساری آزمائشیں ختم فرما دیں… جیل سے رہائی ملی… مصر کی حکومت اور
خزانے ملے… زمین پر شاندار تمکین ملی! ایسی کہ جہاں چاہیں گھر
بسائیں… والدین کی جدائی ختم ہوئی… خواب کی تعبیر پوری ہوئی… بھائیوں
کا ظلم اورحسد… ایک دم محبت اور اطاعت میں تبدیل ہوگیا… الغرض وہ سب کچھ
مل گیا جو کسی انسان کو اس دنیا میں بہت مشکل سے ہی ملتا ہے… ایسے حالات میں
حضرت یوسف علیہ السلام ان نعمتوں میں کھو جانے کی بجائے… اللہ تعالیٰ
کا قُرب اور حسن خاتمہ کی دعاء فرما رہے ہیں… پوری بات تو آپ کو تب سمجھ
آئے گی جب آپ سورہ یوسف کی آیات(۹۹) تا
(۱۰۱) دیکھیں گے… فی الحال ایک آیت کا ترجمہ
دیکھیں:
’’(حضرت
یوسف علیہ السلام نے ان نعمتوں کے تذکرے کے بعد دعاء فرمائی) اے میرے
رب! آپ نے مجھے حکومت عطاء کی اور مجھے خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا… اے
آسمانوں اور زمین کے پیدا فرمانے والے! آپ ہی دنیا اور آخرت میں میرے کار ساز
ہیں، مجھے اسلام پر موت دیجئے اورنیک بندوں میں شامل فرمائیے‘‘(یوسف، ۱۰۱)
اس
میں جو دعاء سکھائی گئی اُس کے الفاظ یاد کر لیں…
{فَاطِرَ
السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَنْتَ وَلِیِّ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ تَوَفَّنِیْ
مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ}
اس
دعاء کو بھی معمولات میں شامل کیا جائے… اور دنیوی دعاؤں کے مقابلے میں
زیادہ فکر ، توجہ اور اہمیت سے مانگی جائے… مفسرین کرام نے لکھا ہے:
حضرت
یوسف علیہ السلام کی اس دعاء سے نصیحت حاصل ہوتی ہے کہ ایک مسلمان کے دل میںہمیشہ
یہ تمنا بیدار رہنی چاہیے کہ اسلام اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر اُس کا خاتمہ
ہو… اور آخرت میں انبیاء، شہداء، اولیا، اور صالحین کی رفاقت نصیب
ہو… اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایمان پر خاتمہ سب سے بڑی سعادت ہے…
لیجئے
حسن خاتمہ کے بارے میں قرآن پاک کی تین دعائیں آپ تک پہنچ گئیں… دو گزشتہ
کالم میں اور ایک یہ حضرت یوسف علیہ السلام کی دعاء…
حدیث
پاک سے ایک دعاء
طبرانی،
مسند احمد وغیرہ میں… رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کی تعلیم فرمودہ ایک بڑی جامع دعا ہے… اور اس دعاء کے بارے
میں فرمایا ہے…
{من
کان ذلک دعائہ مات قبل ان یصیبہ البلاء}
یعنی
جو اس دعاء کو اپنائے گا اس کی موت ابتلاء سے انشاء اللہ محفوظ ہوگی… دعاء کے
الفاظ یہ ہیں:
{اَللّٰھُمَّ
أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِی الْاُ مُوْرِ کُلِّھَا وَاَجِرْنَا مِنْ خِزْیِ
الدُّنْیَا وَعَذَابِ الْآخِرَۃِ}
ترجمہ:
یا اللہ میرے تمام کاموں کاانجام اچھا فرما دیجئے اورمجھے دنیا کی
رسوائی اور آخرت کے عذاب سے بچا لیجئے…
اسی
طرح یہ دعاء بھی مسنون ہے:ـ
{یَا
وَلِیَّ الْاِسْلاَمِ وَاَھْلِہٖ ثَبِّتْنِیْ بِہٖ حَتّٰی اَلْقَاکَ}
ترجمہ:
اے اسلام اور اہل اسلام کے مولیٰ! آپ مجھے اسلام پر اس وقت تک ثابت قدم رکھیں
یہاں تک کہ مجھے آپ سے ملاقات کا شرف حاصل ہو جائے… یعنی میری موت آجائے…
اسی
طرح یہ مسنون دعاء بہت اہم اور مفید ہے:
{اَللّٰھُمَّ
لَقِّنِیْ حُجَّۃَ الْاِیْمَانِ عِنْدَ الْمَمَاتِ}
یا
اللہ مجھے مرتے وقت ایمان کی حجت ( یعنی کلمہ طیبہ) کی تلقین نصیب
فرمائیے…
ایک
مضبوط نصاب
یہ
موضوع بہت طویل ہے… حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ’’حسن خاتمہ‘‘
کی فکر میں… اللہ تعالیٰ کی خشیت سے اتنا روتے تھے کہ… بعض
کے چہروں پر آنسوؤں نے نشانات بنا دیئے تھے… اُن کو اپنے چہرے سنوارنے، بال
سجانے اور خود کو خوبصورت دکھانے کی فضول فکریں نہیں تھیں… وہ تو اس غم میں
روتے تھے اور اپنے حسین چہروں کو سجدوں اور آنسوؤں کے داغوں سے سجاتے تھے
کہ… خاتمہ ایمان پر ہو جائے… اور اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹ کر
جانا ہے… یہ پیشی آسان ہو جائے… بات دراصل عقل کی ہے اور سمجھنے کی
ہے… قرآن پاک کی کتنی آیات میں… ایمان والوں کی صفت بیان ہوئی کہ وہ
اللہ تعالیٰ کے خوف سے ’’لرزتے‘‘ ہیں، کانپتے ہیں… اپنا سب کچھ
اس کی راہ میں لٹا کر بھی ڈرتے رہتے ہیں کہ… ہم نے اُس کے سامنے پیش ہونا
ہے…کوئی مالک اپنے غلام کو بازار بھیجے کہ فلاں کام کر آؤ اور فلاں فلاں نہ
کرنا… اور مالک غلام پرنگرانی بھی رکھے… اور واپس آکر غلام نے سارا
حساب کتاب بھی دینا ہو… تو اندازہ لگائیں کہ وہ اپنے مالک کے احکامات کی کس
قدر پابندی کرے گا… اللہ تعالیٰ نے ہمیں دنیا میں بھیجا
ہے… کچھ کام ارشاد فرمائے ہیں… نگرانی کا ایسا انتظام ہے کہ دل کے بھید بھی
اُس سے پوشیدہ نہیں… اور پھر واپسی بھی اللہ تعالیٰ کے پاس ہے
جہاں دنیا کا حساب کتاب دینا ہے… تو کیا ایک بندے کو زیب دیتا ہے کہ وہ دنیا
کے بازار میں آکر… اپنے مالک کے احکامات کو بھول جائے… اور اسی بازار
میں اپنے لئے دکانیں اور مٹی گارا خریدتا رہے… اور جب واپس جائے تو سب کچھ
یہیں چھوڑ جائے… اور مالک کے سامنے جواب دینے کے قابل بھی نہ ہو… مجھے
ایک بابا جی کی بات دل کو لگی… جس مسجد میں نماز کو جاتا تھا وہاں دو بڑی عمر
کے نمازی تھے… دونوں باہم دوست… چند دن تک ایک ’’باباجی‘‘ غیر حاضر
رہے… چار پانچ دن بعد آئے تو دوسرے بزرگ نے خیریت پوچھی… میں ساتھ
بیٹھا سن رہا تھا … ’’بابا‘‘ نے بتایا کہ سخت بیمار
تھا… دوسرے’’بابا‘‘ نے صحت کی دعاء دی اور فرمایا: ایک بات یاد
رکھنا… موت کا وقت مقرر ہے اللہ کرے خیر والی آئے… علاج
میں زیادہ نہ الجھنا… اپنی اولاد پر علاج کا زیادہ بوجھ نہ ڈالنا… موت
تو ٹلتی نہیں، اپنا اور اولاد کا بہت کچھ برباد ہوجاتا ہے… سبحان اللہ
! ایک ان پڑھ سے آدمی کو مسجد کی پہلی صف نے معرفت کا کیسا راز سمجھا
دیا… آج کل علاج ہی علاج میں دین، دنیا اور معلوم نہیں کیا کچھ برباد ہوجاتا
ہے… صحت تو ایک فانی چیز ہے… یہ ضرور کمزور ہوتی ہے اوراکثر چھن بھی
جاتی ہے… پھر نہ ڈاکٹر یہ واپس لا سکتے ہیں، نہ حکیم اور نہ عامل… ہر
علاج مزید بیماریاں لاتا ہے… ہسپتالوں کا ماحول ایمان کا دشمن ہے… علاج
کی مشینیں کروڑوں روپے کی ہیں… ڈاکٹروں نے وہ قیمت نفع کے ساتھ پوری کرنی
ہوتی ہے… ڈاکٹروں میں دینداری اور ایمانداری بہت کم ہے… اور ہر ڈاکٹر کی
رائے دوسروں سے مختلف ہے… لوگ علماء کے اختلاف پر چیختے چنگھاڑتے
ہیں… کبھی ڈاکٹروں کی ایک دوسرے کے بارے میں رائے سنیں تو حیران رہ جائیں… بیماری
کا علاج سنت ہے جبکہ بیماری پر صبر کا بدلہ جنت ہے… علاج میں زیادہ فکر اور
مبالغہ انسان کو اللہ تعالیٰ سے غافل اور شاکی کر دیتا ہے… اور
شیطان انسان کو اُس کے جسم اور صحت کے بارے میں ہر وقت ناشکری میں ڈالتا
ہے… تاکہ علاج کی فکر میں مرتے رہیں… موٹوں کو کمزورہونے کی… اور
کمزوروں کو موٹا ہونے کی فکر ہے… ایسی ایسی بیماریوں کا علاج آچکا ہے
کہ… اُن کا علاج شریعت میں جائز ہی نہیں… انسانوں کو چاہئے کہ اپنی صحت
کے بارے میں شکر کریں… اپنے سے زیادہ کمزور لوگوں کو دیکھیں… میں ایک
بار پیدل جا رہا تھا، ٹانگ میں شدید درد نے دل میں تھوڑا سا غم پیدا
کیا… اچانک سامنے دیکھا ایک شخص آرہا تھا اس کے دونوں پاؤں الٹے مڑے ہوئے
تھے… میں شرم اورشکر میں ڈوبا ہی تھا کہ کھٹ کھٹ کی آواز پر سر اٹھایا ایک
صاحب بغیر ٹانگ کے بیساکھیوں پر آرہے تھے… تب مجھے اپنی سوچ سے نفرت اور
اپنے درد سے پیار محسوس ہونے لگا… اللہ کے بندو! دنیا میں ہم جان
اور صحت بنانے کے لئے نہیں بھیجے گئے… ایمان اور ایمان کے تقاضوں کے لئے آئے
ہیں… شکر، صبر اور اعتدال میں رہتے ہوئے علاج… اور بعض بیماریوں پر
صبر… یہ بہترین نسخہ ہے… ایسا نہ ہو کہ… صحت کی زیادہ فکر سوار ہو
جائے اور موت کے وقت بھی کلمہ طیبہ کی بجائے ڈاکٹر ، نرسیں اور دوائیاں یاد آرہی
ہوں… بندہ نے کئی افراد کو … جو ہروقت علاج، صحت اور دوائیوں کی
فکرمیں لگے رہتے تھے یہ بات سمجھائی… اُن میں سے بعض کے دل میں اُتر گئی اب
وہ اللہ تعالیٰ کاشکر ادا کرتے ہیں… اور بندہ کو بھی دعائیں دیتے
ہیں کہ… کیسی فضول آفت سے نجات ملی… یہ مرض آج کل بہت عام ہے اس لئے
معلوم نہیں کتنے افراد میری ان باتوں کو اپنی طرف اشارہ سمجھیں گے… ارے
بھائیو! میں موت اور حسن خاتمہ کے غمناک موضوع میں کسی مسلمان بھائی پر تنقید کیوں
کروں گا؟… پھر کسی کی اس عادت سے میرا کیا نقصان ہے کہ میں اُس پر طنز کرنے
لگوں… اور خود میرے عیب کونسے کم ہیں کہ میں اُن کو بھلا کر دوسروں کے عیب
دیکھنے لگوں؟… اللہ تعالیٰ اس فانی دنیا کی کوئی بھی
فکر… میرے اور آپ کے دل پر ایسی سوار نہ کرے… کہ ہمارا نقصان
ہوجائے… ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء فرماتے تھے…
{اَللّٰھُمَّ
لَا تَجْعَلِ الدُّنْیَا اَکْبَرَھَمِّنَا وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا}
یا
اللہ ! دنیا کو ہمارے لئے بڑی فکر اور ہمارے علم کا مبلغ نہ بنائیے…
مال،
عہدے، منصب، مکانات… جائیداد، شادیاں، صحت، جسامت… یہ سب دنیا کی فکریں
ہیں… جو صرف ایک حد تک جائز ہیں… بات چل رہی تھی… حسن خاتمہ کے لئے
ایک مضبوط نصاب کی… تو سنیئے! بہت غور وفکر کے بعد نہایت مضبوط سند کے
ساتھ… دو روایات ملتی ہیں… ایک تو سید الاستغفار کے بارے میں… صحیح
بخاری میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا پکا وعدہ ہے کہ… جو صبح
پڑھ لے شام تک مرے گا تو جنت میں جائے گا… اور شام کو پڑھ لے تو صبح تک اگر
مرے گا تو جنت میں جائے گا… شرط یہ ہے کہ ’’یقین‘‘ کے ساتھ پڑھے…
بھائیو!
اور بہنو! یہ بہت بڑی ضمانت… استغفار کی بہت بڑی فضیلت ہے… اور جناب
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے امت کے لئے بہت بڑا تحفہ اور
احسان ہے…
حدیث
پاک کے الفاظ دیکھیں:
{من
قالھا من النھار موقنا بھا فمات من یومہ قبل ان یمسی فھو من اھل الجنۃ ومن قالھا
من اللیل وھو مؤقن بھا فمات قبل ان یصبح فھو من اھل الجنۃ (رواہ البخاری)}
یعنی
’’جو صبح یقین سے پڑھ لے پھر اُس دن شام سے پہلے مرجائے تو وہ جنتی ہے اور جو رات
کو یقین سے پڑھ لے پھر اُسی رات صبح ہونے سے پہلے مرجائے وہ جنتی ہے‘‘…
جب
حضرت آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان آگیا… اور
اتنی مضبوط سند سے آگیا توہمیں شک کرنے کی ضرورت نہیں… البتہ اہتمام ایسا ہو
کہ صبح صادق طلوع ہوتے ہی یہ استغفار پڑھیں… اور شام سورج غروب ہوتے ہی یہ
استغفار یقین کے ساتھ پڑھیں… اس استغفار کو خود رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ’’سید الاستغفار‘‘ یعنی استغفار کا سردار قرار دیا
ہے… الفاظ یہ ہیں…
{اَللّٰھْمَّ
اَنْتَ رَبِّیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَاَنَا عَبْدُکَ وَاَنَا
عَلٰی عَہْدِکَ وَ وَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ
اَبُوْئُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ وَاَبُوْئُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ
فَاِنَّہٗ لَایَغْفِرُالذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ}
ترجمہ:
یا اللہ ! آپ میرے رب ہیں، آ پ کے سوا کوئی معبود نہیں، آپ نے مجھے پیدا
فرمایا… اور میں آپ کا بندہ ہوں… اور میں اپنی استطاعت کے مطابق آپ کے
عہد اور وعدے پر قائم ہوں… (یعنی ایمان اور فرمانبرداری پر) میں اپنے کردار
سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں… میں اپنے اوپر آپ کی نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں
اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں پس آپ میرے گناہوں کو بخش دیجئے… بے شک
آپ ہی گناہوں کوبخشنے والے ہیں…
درست
الفاظ… اورالفاظ کے ساتھ ترجمہ سمجھ کر اسے پورے شوق اور یقین کے ساتھ اپنا
معمول بنالیا جائے… اس قسم کی دعاؤں کی برکت سے انسان کا عقیدہ، عمل اور بہت
سے کام سیدھے ہونے لگتے ہیں…
اور
دوسرامضبوط عمل آیۃ الکرسی کا ہے… ہر نما زکے بعد نہایت توجہ سے ایک بار پڑھ
لی جائے… اس کی تفصیل پھر کبھی ان
شاء اللہ … ویسے بھی آپ حضرات
اس عظیم آیت کے فضائل و مناقب سنتے رہتے ہیں…
تحفہ
عزیزی
حضرت
شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ… جو ہمارے جہادی شیخ حضرت
سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کے مرشدتھے… اُن کے فرامین کو ان کے بھتیجے
حضرت مولوی ظہیر الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے جمع فرمایا ہے… حضرت شاہ صاحب
رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا:… موت کے وقت جو سکرات اور تکلیف ہوتی ہے اس
سے حفاظت کے لئے کچھ ارشاد ہو… جواب میں فرمایا:
’’روایت
سے ثابت ہے کہ سکرات الموت آسان ہونے کے لئے ہمیشہ آیۃ الکرسی اور سورۃ الاخلاص
پڑھنی چاہئے… اور یہ بھی حدیث میں آیا ہے کہ عذاب قبر دفع ہونے کے لئے ہمیشہ
سورۃ ’’تبارک الذی‘‘ عشاء کے بعد سونے سے قبل پڑھنی چاہئے، اور ایسا ہی سورۃ
’’الدخان ‘‘پڑھنے کے بارہ میں روایت ہے…(کمالات عزیزی۔ ص:۵۳)
کسی
نے پوچھا! گناہوں کی معافی اور خاتمہ بالخیر کے لئے کیا پڑھنا چاہئے!…ارشاد
فرمایا: گناہوں کی معافی کے لئے استغفار نہایت مفید ہے اور خاتمہ بالخیر ہونے کے
لئے کلمہ طیبہ کا ذکر کرنا اور نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھنا نہایت مفید
ہے…(کمالات عزیزی:ص ۵۱)
آخری
گزارش
صحیح
حدیث سے ثابت ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے سچے دل کے ساتھ شہادت کی
دعاء مانگے… اللہ تعالیٰ اسے شہادت کا مقام عطاء فرماتے ہیں خواہ
وہ اپنے بستر پر ہی کیوں نہ مرا ہو… یہ حسن خاتمہ کا بہترین نسخہ
ہے… شہادت… یعنی اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر اللہ
تعالیٰ کے راستے میں مقتول ہونا… یہ بڑی عظیم الشان نعمت ہے… اس
کی دعاء اور تمنا ایمان والوں کو نصیب ہوتی ہے… اور وہ اللہ
تعالیٰ کی محبت، اس سے ملاقات کے شوق… اور اس کے دین اور کلمے کی غیرت
میں شہادت کی تمنا رکھتے ہیں… مصیبتوں سے گھبرا کر نہیں… لوگوں سے تنگ
آکر نہیں… بوڑھے ہونے کے بعد کی شرط کے ساتھ نہیں… بس شہادت
ملے… ابھی ملے یا جب بھی مالک عطاء فرمائے… کوئی شرط نہیں، کوئی خوف اور
الجھن نہیں… بس شوق اور دل کی آرزو… جس طرح مجنوں کو لیلیٰ
کی… اور کسی عاشق کو اپنی محبوبہ کی… جن کو اللہ تعالیٰ
توفیق عطاء فرمائے وہ دل کی صداقت کے ساتھ مانگیں… دل ساتھ نہ دے تو دل کی
اصلاح کی دعاء مانگیں… حسن خاتمہ کے لئے کلمہ طیبہ پکا کرنا چاہئے… یقین
بھی اور ورد بھی… استغفار کی کثرت کرنی چاہئے… تلاوت اور درود شریف کا
اہتمام کرنا چاہئے… اموال میں خیانت اور حرص سے بہت بچنا چاہئے… ناجائز
دوستیوں اور غلط دوستوں سے دور رہنا چاہئے… جہاد اور ذکر کے ماحول کو اپنانا
چاہئے… عہدوں اور مناصب کی خواہشات سے پاک رہنا چاہئے… دین کا کام جنونی
محنت کے ساتھ کرنا چاہئے… اپنے ذمہ جو قرضے اور حقوق ہوں اُن کو لکھ کر کسی
کے پاس رکھوانا چاہئے… اور اپنی تمام فکروں پر… حسن خاتمہ کی فکر کو
غالب کرناچاہئے… اللہ تعالیٰ سے خوف، خشیت، امید اور حسن ظن
رکھناچاہئے…
اعتراف
عجز
بندہ
کو اعتراف ہے کہ… تین قسطوں کے باوجود اس موضوع کا حق ادا نہ ہو
سکا… کئی کتابیں پاس رکھی تھیں مگر اُن میں سے کچھ نہ لکھ سکا…کئی مزید
دعائیں بھی لکھنے کا ارادہ تھا… جو تحریر میں نہ آسکیں… یہ ایک بے حد
اہم موضوع ہے کیونکہ موت ہم سب پر لازماً آنی ہے… اور ہم سب اس سے غافل
ہیں… عجیب عجیب اور فضول فکریں ہمارے دل و دماغ پر سوار ہیں… آنسو
ہیںمگر خوف اور خشیت کے نہیں… ناشکری اور شکوے کے… وظیفے اور دعائیں ہیں
ساری کی ساری اس فانی دنیا کے لئے… اسی دنیا کے پیچھے دوڑتے دوڑتے ہم ایک دم
قبر میں جاگرتے ہیں اور تب پتہ چلتا ہے کہ… اپنے ساتھ کچھ بھی نہ
لاسکے… ایسے ماحول میں اس موضوع کو جتنا پھیلایاجائے مفید ہے… کم از کم
دل میں فکر تو پیدا ہو جائے… کم از کم ایک آنسو تو سچی خشیت والا ٹپک
پڑے… کم از کم کسی تنہائی میں ایک بار تو اللہ تعالیٰ سے عرض
کریں کہ… مالک آپ کے پاس آنا ہے اور دامن خالی ہے… حسن خاتمہ نصیب
فرما دیجئے… بس یہ فکر دل میں پیدا ہوتے ہی انسان کام والا بن جاتا
ہے… مخلص، محنتی اور نہ تھکنے والا… اور دنیوی اغراض پر نہ گرنے
والا… یہ فکر مؤمن کو چست اور متحرک بناتی ہے اور اُس کی زندگی کو سکون، نور
اور خوشبو سے بھر دیتی ہے… یہ وہ فکر نہیں ہے جو انسان کو گھر بٹھا
دے… یہ تو وہ فکر ہے کہ کٹی ٹانگ کے ساتھ بھی جہاد میں آگے چلاتی ہے
کہ… میں نے اپنے مالک سے ملنا ہے اس کو زیادہ سے زیادہ کوشش
کرکے… قربانی دے کر راضی کروں… اللہ تعالیٰ مجھے بھی یہ
پاکیزہ اور معطر فکر نصیب فرمائے… اورآپ سب کو بھی… اللہ
تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو ایمان والا… اطاعت و اسلام والا حسن خاتمہ
نصیب فرمائے…
آمین
یا ارحم الراحمین
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ،لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ مجھے اورآپ سب کو’’جہاد فی سبیل اللہ ‘‘ کی سمجھ عطاء
فرمائے… کتنا عظیم اور کتنا واضح’’فریضہ‘‘ ہے… اللہ تعالیٰ نے بار
بار حکم فرمایا’’قاتلوا‘‘… مسلمانو! قتال کرو… اور رسول کریم صلی اللہ
علیہ وسلم تلوار لیکر زرہ باندھ کر میدان میں تشریف لے گئے… ڈٹ کر
قتال فرمایا، کافر کو قتل فرمایا… خود زخم کھائے… اب بتائیے! مزید کسی
دلیل کی کیا ضرورت ہے؟… ایک بات یاد رکھیں… جو کوئی بھی’’قتال فی سبیل
اللہ ‘‘ کی عظمت کو کم کرتا ہے… اپنے بیان کے ذریعہ… کسی ضعیف
روایت یا واقعہ کے ذریعہ… کسی ایس ایم ایس کے ذریعہ… وہ قرآن پاک کا
مجرم ہے… قرآن پاک ’’قتال فی سبیل اللہ ‘‘ کی عظمت کو بڑھاتا ہے،
سمجھاتا ہے…ایک بار نہیں، باربار… سینکڑوں بار… بالکل واضح الفاظ
میں… سورتوں کی سورتیں… کیوں؟… تاکہ مسلمان’’قتال فی سبیل
اللہ ‘‘ کی عظمت کو سمجھیں… اور مانیں… بغیر کسی تنقید کے عرض
کرتا ہوں کہ… وہ لوگ مرنے سے پہلے پہلے توبہ کر لیں جو اپنے کسی قول، عمل،
تحریر… یا تقریر کے ذریعہ’’قتال فی سبیل اللہ ‘‘ کی عظمت اور اہمیت کو
گھٹاتے ہیں… فائدہ خود اُن کا اپنا ہو گا… قرآن پاک کی شکایت اور فریاد
سے بچ جائیں گے… یہ بات اس لئے بطور خیر خواہی عرض کردی کہ… ڈاک میں ایک
خط تھا کہ ایک صاحب… کوئی میسج چلا کر لوگوں کو سمجھا رہے ہیں کہ… نعوذ باللہ ’’قتال فی سبیل اللہ ‘‘ چھوٹا اور اصغر
عمل ہے… استغفر اللہ ، استغفر اللہ ، استغفر اللہ … جس عمل کو
اللہ تعالیٰ نے ’’فوز عظیم‘‘ قرار دیا… جس عمل کو اللہ
تعالیٰ نے ایمان کی علامت قرار دیا… جس عمل کو اللہ تعالیٰ
نے افضل ترین قرار دیا… اُس کے بارے میں ایسی بات پھیلانے کا مقصد… اُس
کی عظمت اور اہمیت کو گھٹانے کی کوشش کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے؟… عربی سے
ناواقف لوگ نہ اکبر کا معنیٰ سمجھتے ہیں اور نہ اصغر کا… نہ اُن کو اسم تفضیل
کا استعمال معلوم ہے اور نہ روایات کا سیاق و سباق… خیریہ تو ہوئی ایک
بات… آج ارادہ تھا کہ چند چھوٹی چھوٹی دلچسپ اور مفید باتیں عرض کی
جائیں… آئیے اللہ تعالیٰ کے نام سے شروع کرتے ہیں… باتیں
تو پانچ ہیں… دیکھیں کتنی کو جگہ ملتی ہے…
قادیانی
کو تعویذ
عالم
کفر کے لاڈلے، اسلام کے بدترین دشمن’’قادیانی‘‘… جہاد اور مجاہدین کے خلاف
ہمیشہ سرگرم رہتے ہیں… یہ بڑا، منحوس، ظالم اور گہرا فتنہ ہے… سنا ہے
آج کل یہ لوگ مسلمانوں میں ’’ایڈز‘‘ پھیلانے کے مشن پرہیں… کمپیوٹر اور فون
کے چیٹنگ اور دوستی فورمز پر یہ نوجوانوں کو پھنساتے ہیں… اور پھر انہیں
بدکاری پر لے آتے ہیں اور ’’ایڈز زدہ‘‘ عورتوں سے ملاتے ہیں… اللہ
تعالیٰ اُمت مسلمہ پر رحم فرمائے… کوشش کیا کریں کہ نوجوانوں کو فون
اور نیٹ کی دوستیوں سے بچائیں… بات یہ عرض کرنی تھی کہ جب ہم’’جموں‘‘ کی کوٹ
بھلوال جیل میں تھے تو وہاں انڈین پولیس کا ایک اہلکار’’قادیانی‘‘ تھا… پورا
زہریلا… جیسا کہ ہر قادیانی ہوتا ہے… اور پکا منافق جیسا کہ ہر مرزائی
ہوتا ہے… مجاہدین کو میٹھی چھری سے ذبح کرتا تھا… کچھ عرصہ ہمارے وارڈ
میں اُس کی ڈیوٹی لگی… ہم سب کی نفرت سے وہ گھبراتا تھا مگر وہاں مجبوری کا
ماحول تھا… ایک بار اُس نے میری بہت منت کی کہ میرے دو بیٹے بیمار ہیں آپ
اُن کے لئے ’’تعویذ‘‘ دے دیں… جیل میں ہماری’’عملیات‘‘ کے عجیب چرچے خواہ
مخواہ پھیلے ہوئے تھے… وہ بھی ان چرچوں سے متاثر تھا… ایک بے ہودہ،
کانے، مخبوط الحواس اور پاگل شخص کو(نعوذ باللہ )
نبی ماننے والا شخص… اپنی غرض کے لئے ہر کسی کے سامنے جھک سکتا ہے… ارے
یہ تو حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات عالی مقام ہے
کہ… اُن کی غلامی میں آنے والا پھر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے
سامنے نہیں جھکتا… اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطاء فرمائے حضرت حافظ
شیراز کو… ایسا شعر کہا کہ جب میں اسے پڑھتا ہوں تو پڑھتا ہی رہ جاتا
ہوں… فرماتے ہیں:
گرم
صدلشکراز خوباں بقصد دل کمیں سازند
بحمد
اللہ والمنہ بتے لشکر شکن دارم
ارے
اگر حسینوں کے ایک سو لشکر میرے دل پر قبضہ کرنے کے لئے… اپنے تمام حسن اور
ناز و انداز کے ساتھ میرے دل پر حملہ کریں تووہ ناکام ہو جائیں
گے… کیوں؟… اس لئے کہ میں نے یہ دل جس محبوب کو دیا ہوا ہے وہ حسینوں کے
ہزاروں لشکروں کو شکست دے دیتا ہے… یعنی کسی کا حسن اُس کے حسن کے سامنے اس
قابل ہی نہیں رہتا کہ دل اُس کی طرف متوجہ ہو…
سبحان
اللہ ، سبحان اللہ
مدینے
والے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و جمال… اور شان و
کمال کو دل میں اُتارنے والے… پھر کسی قارون، فرعون، بش… اوبامہ ، روم ،
فارس… اور کسی نام نہاد سپر پاور کے سامنے نہیں جھکتے…
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد… اللھم صل علیٰ سیدنا محمد
آپ
بتائیں ایسا ہے یا نہیں؟… رب کعبہ کی قسم! واشنگٹن اور یورپ کی
رنگینیاں …مدینہ پاک کی خاک مبارک کے سامنے غلاظت کا ڈھیر نظر آتی
ہیں… اسی لئے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دیوانے
غلام… سوویت یونین سے ٹکرا گئے… اُس وقت ظاہر پرست لوگ سوویت یونین کا
کلمہ پڑھتے تھے… پھریہی دیوانے امریکہ اورنیٹو سے ٹکرا گئے… ارے جن کی
آنکھوں میں… مدینہ پاک کا نورہو… اُن کے نزدیک کیا امریکہ، کیا
انڈیا… اور کیا نیٹو…
بحمد
اللہ والمنّہ بتے لشکر شکن دارم
مگر
قادیانی… منحوس، بدنصیب اور بے چارے… ہاں’’بے چارے‘‘ ہی ہیں… نہ
دنیا نہ آخرت… نہ گھر نہ گھاٹ… کتوں اور خنزیروں سے بھی بدتر… یہ
مدینہ پاک سے کیا کٹے کہ اب ہر کسی کے سامنے جھکتے ہیں… امریکہ، برطانیہ ،
اسرائیل… اور انڈیا ان کے باپ… یعنی’’گاڈ فادر‘‘ بنے ہوئے ہیں… اُس
انڈین قادیانی سپاہی نے تعویذ کے لئے میری منت کی… طبیعت میں بہت جوش اور غصہ
آیا… مگرمیں وہاں ساتھیوں کا ذمہ دار تھا… میری لڑائی میں سب کود پڑتے
تھے… اس لئے احتیاط سے لڑنا پڑتا تھا… الحمدللہ بہت لڑے… مگر کس کس سے لڑتے… ہر طرف
دشمن ہی تو تھے… اچانک مجھے ایک عجیب بات سوجھی میں نے اندرونی جذبات پر قابو
پا کر کہا… کل آنا بہترین اور مؤثر تعویذ دوں گا… وہ چلا گیا او رمیں
نے تعویذ تیار کیا… سفید کاغذ پر عربی میں ایک عبارت لکھی جس کا ترجمہ یہ
تھا…
’’
اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو ہر اُس شخص پر جو میرے آقا اور محبوب حضرت
سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے… اور
لعنت ہو اُن تمام لوگوں پر جوکسی ایسے جھوٹے مدعی کی پیروی کریں‘‘
لیجئے
دو تعویذ تیار… اگلے دن اُس کو دے دیئے… کہ دونوں بچوں کے گلوں میں ڈال
دو… سبحان اللہ ! قادیانی کے بیٹوں کی گردن میں ’’عقیدہ ختم نبوت‘‘ کے
تعویذ… دو چار دن بعد وہ آیا تو بہت خوش تھا کہ تعویذوں سے بہت فائدہ ہوا
ہے… بے شک سچی بات کا فائدہ تو ہونا تھا… ممکن ہے بعض قارئین یہ سوچتے
ہوںکہ… میں جب بھی قادیانیوں کا تذکرہ کرتا ہوں تو … الفاظ کافی
سخت ہو جاتے ہیں… جبکہ مجھے ہمیشہ یہ ندامت رہتی ہے کہ… الفاظ کچھ ہلکے
رہ گئے… کیونکہ سخت الفاظ لکھنے کی عادت نہیں… جبکہ قادیانیوں کے لئے
جتنی بڑی گالی بھی لکھی جائے وہ چھوٹی محسوس ہوتی ہے… یہاں ایک اور دلچسپ بات
سنیں… قادیانیوں نے ایک ادارہ بنایا ہوا ہے وہ ہر مہینے ایک رپورٹ مرتب کرتا
ہے کہ… کس کس اخبار، رسالے یا عالم دین نے اُن کے خلاف کچھ لکھا یا چھاپا
ہے… پھر یہ رپورٹ پوری دنیا میں … قادیانی اپنے ماموں، چاچوں کو
بھیجتے ہیں … اور شور مچاتے ہیں کہ دیکھو! ہم تو پاکستان میں ’’مختاراں
مائی‘‘ بنے ہوئے ہیں… فلاں نے یہ کیا، فلاں نے یہ لکھا… ہر مہینہ
باقاعدگی سے یہ رپورٹ بنتی اور چلتی ہے… یہ ظالم اتنا نہیں سوچتے کہ جس مذہب
کی بنیاد ہی… یہود، نصاریٰ اور مشرکین سے بھیک مانگنے پر ہے… وہ مذہب
تمہیں مرنے کے بعد کیا کام آئے گا… ایک مذہبی رہبر… جو تمہیں ایسا مذہب
نہ دے سکا جو تمہیں عزت، غیرت اور خود استقلالی نصیب کرتا… وہ تمہارا خیر
خواہ کس طرح ہو سکتا ہے… مرزا قادیانی خود بھی انگریزوں کے جوتے پالش کرتا
مرا… اوراپنے بدنصیب پیروکاروں کو بھی کافروں کی غلامی پر لگا گیا… اگر
کسی قادیانی میں تھوڑی سی بھی عقل ہو تو وہ ایسے ناجائز اور بے غیرت مذہب پر تھوک
دے… مگر شیطان نے بھی اپنے ساتھ جہنم کے ساتھی جمع کرنے ہیں… دعاء کریں
کہ اللہ تعالیٰ قادیانیوں… اور تمام دشمنان اسلام کے شر سے اُمت
مسلمہ کی حفاظت فرمائے…
عجیب
خیر خواہ
ایک
صاحب بہت سخت ’’کالم‘‘ لکھتے ہیں… یہ سختی کسی کافر کے خلاف نہیں
’’مسلمانوں‘‘ کے خلاف ہوتی ہے… مسلمانوں نے بجلی کیوں ایجاد نہیں
کی؟… بلب کیوں نہیں بنایا؟… مسلمانوں کو یہ تک پتہ نہیں کہ بجلی کے موجد
کا نام کیا تھا؟… وغیرہ وغیرہ… طعنے دینے کا یہ انداز بالکل یوں ہوتا ہے
جیسے کسی مالدار شخص کا بدزبان لاڈلا بیٹا… کسی غریب آدمی کے لڑکے کو طعنے
دے کہ… میرے ابو کے پاس گاڑی ہے… بنگلہ ہے… تم جاہل، اجڈ، گندے،
پلید، غریب… نکمے کے باپ کے پاس کیا ہے؟… میں نے کافی غور کیا کہ ان
باتوں کا مقصد کیا ہو سکتا ہے؟… کچھ سمجھ نہیں آیا… پھر سوچا کہ یہ
صاحب خود بڑے باکمال سائنسدان ہوں گے… روزآنہ کوئی نئی ایجاد… کوئی نئی
دریافت… اللہ تعالیٰ کا انتقام دیکھیں کہ اُس دن اُن کا قلم پھسل
گیا اور ایک سچی نگری میں جا پہنچا… انہوں نے لکھا… مجھے موبائل استعمال
کرنا نہیں آتا… بہت کوشش کی… مگر آن اور آف کے دو بٹنوں کے علاوہ میں
اپنے موبائل کا کوئی بٹن نہیں سمجھتا… پھر لکھا کہ رات کو بھوک لگی گھر والے
کسی تقریب میں گئے تھے… اٹھ کر ’’مائیکروویو‘‘ پر سالن گرم کرنے لگا تو طریقہ
معلوم نہیں… کئی بٹن دبا ڈالے تب ’’مائیکروویو‘‘ میں پٹاخے اور دھماکے ہونے
لگے… اور فرمایا:… اپنی گاڑی کے آٹو میٹک بٹن بھی نہیں
سمجھتا… سردیوں میں غلط بٹن دبا کر پیچھے کا شیشہ کھول لیتا ہوں… وغیرہ
وغیرہ…لیجئے! یہ صاحب ساری دنیا کے مسلمانوں سے ناراض ہیں کہ… ان میں کوئی
سائنسدان کیوں نہیں؟… اور غیر ملکی سائنسدانوں کا یوں فخر سے تذکرہ کرتے ہیں
کہ نعوذ باللہ … مسلمانوں کو
اپنی حقارت کا احساس ہونے لگے… استغفر اللہ ، استغفر اللہ ، استغفر
اللہ … اب لیجئے ایک اورصاحب کو!… یہ اچھے کالم لکھتے ہیں…کبھی
دینی اور کبھی جذباتی… کبھی کبھی فارسی کے اشعار بھی لکھ ڈالتے ہیں مگر…فارسی
اتنی سمجھتے ہیںکہ…
شامت
اعمال ما … صورت نادر گرفت
کاترجمہ
یوں کرتے ہیں… ہمارے اعمال کی شامت نادر شاہ کی گرفت کی صورت میں ہم پر
آگئی… اس ترجمے پر فارسی سمجھنے والے… یقینا اتنا ہنس رہے ہوں گے کہ
’’القلم‘‘ اُن کے ہاتھ سے چھوٹ رہا ہوگا… تھوڑا مضبوطی سے سنبھالیںگرنے نہ
دیں… چند دن پہلے میری شامت اعمال کہ اُن کے ایک کالم کی گرفت میں
آگیا… دراصل اپنے ایک پرانے دوست اور بزرگ عالم دین کی شہادت پر افسردہ تھا
اور اُن کے بارے میں لکھے گئے کالم ڈھونڈ رہا تھا… انہوں نے ’’عالم صاحب‘‘ کا
تذکرہ تو چند حرفی کیا… مگر اپنے درد دل کی داستان کو بہت طول
دیا… فرمایا فلاں جامعہ کے صحن میں جب بھی کھڑا ہوتا ہوں… حسرت سے یہی
خیال آتا ہے کہ… یہاں ایک میڈیکل کالج بھی ہونا چاہئے… یا اللہ
رحم!… قرآن پاک کی تعلیم کو اتنا چھوٹا اور حقیر سمجھنا… دینی
تعلیم کے چند ہی خالص ادارے ہیں اُن کو برباد کرنے کی فکر میں گھلنا… کبھی
کسی کالج یا یونیورسٹی میں جا کر نہ رونا کہ یہاں دارالقرآن
نہیں… دارالتفسیر نہیں… دارالحدیث نہیں…
صرف
مدارس ہی کو… جدید بنانے کی فضول اور بے کار فکر… اور پھر شیطان نے یہ
فکر ان کے قلوب میں ایسی مزین کر دی کہ… اسے نیکی سمجھتے ہیں… معلوم ہوا
کہ دینی تعلیم کی قدرو قیمت کو نہیں جانتے… معاشرے کے مجموعی مزاج کو بھی
نہیں سمجھتے… دنیاکو اصل سمجھتے ہیں اور دین کو اُس کا تابع… اسی لئے
روحانی مراکز کو اجاڑنے اور علماء کو خالص دنیا دار بنانے کی فکر میں رہتے
ہیں… اللہ تعالیٰ اہل دین… اور اہل جہاد کی ایسے خیر خواہوں
سے حفاظت فرمائے… اس موضوع پر ان
شاء اللہ کسی اور مجلس میں تفصیل سے عرض کروں گا…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادرہے ’’ان اللہ علی کل شیٔ قدیر‘‘
اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو خوابوں کی تعبیر
کا کامِل علم عطاء فرمایا… یہ نعمت اُن کے لئے آسانی کا ذریعہ بن گئی اُسے
بھی کہتے ہیں’’علم نافع‘‘ یعنی نفع دینے والا علم… بعض نعمتیں آزمائش کا
ذریعہ بنتی ہیں… جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کی ’’محبوبیت‘‘ اور حسن و
جمال… ’’محبوبیت‘‘ کے معنیٰ آپ سمجھتے ہیں؟… یعنی محبوب ہونا کہ لوگ
محبت کرنے لگیں… حضرت یوسف علیہ السلام کو یہ نعمت حاصل ہوئی مگر
اپنے ساتھ آزمائشیں لائی… پہلے پھوپھی صاحبہ کو اتنی محبت ہوگئی کہ جدائی
گوارہ نہیں… بالآخر چوری کا الزام لگا کر اپنے ساتھ لے گئیں… اس وقت
چور کی یہ سزا ہوتی تھی کہ وہ جس کا مال چوری کرے وہ اسے کچھ عرصہ غلام بنا کر
اپنے پاس رکھتا تھا… والد محترم کو بھی بے حد محبت تھی جس کی وجہ سے باقی بھائی
حسد میں مبتلا ہو گئے… اور کنویں میں پھینک آئے… پھر عزیز مصر کی بیگم
محبت کرنے لگی جس کے نتیجے میں جیل جانا پڑا… مگر جیل سے رہائی کس نعمت کی
وجہ سے ملی؟… خوابوں کی تعبیر کے علم کی وجہ سے… وہاں دو قیدیوں کے
خوابوں کی تعبیر ارشاد فرمائی… دونوں تعبیریں لفظ بہ لفظ پوری ہوئیں… ان
میں سے ایک قیدی مصر کے بادشاہ کا ساقی تھا… پھر بادشاہ نے ایک خواب
دیکھا… مصر جیسے بڑے ملک کا سارا علم اُس خواب کو نہ سمجھ سکا… وہ
’’ساقی‘‘ جیل جا پہنچا اور حضرت یوسف علیہ السلام سے تعبیر پوچھ
آیا… اوریوں رہائی اور آسانی کا ذریعہ ہو گیا… خوابوں کی تعبیر کا علم
بہت مفید مگر مشکل علم ہے… قرآن و حدیث میں اس علم کے بنیادی قوانین موجود
ہیں… سب سے پہلے یہ سمجھنا کہ کونسا خواب اصلی خواب ہے… اور کونسا
شیطانی ڈرامہ؟… یہ بھی بہت مشکل کام ہے… اورپھر خوابوں کا نظام اتنا
پیچیدہ ہے کہ… اصل تعبیر تک پہنچنا آسان کام نہیں… بس اللہ
تعالیٰ جسے یہ روشنی اپنے فضل سے عطاء فرما دے… اس علم کے ذریعہ صرف
خواب دیکھنے والا ہی نہیں بلکہ پورا ملک اور پوری قوم بہت سی آفتوں سے بچ جاتے
ہیں… آپ غور فرمائیں… مصر کے بادشاہ کے خواب کی اگر صحیح تعبیر سامنے
نہ آتی تو… لاکھوں انسان، جانور، پرندے اور دوسری مخلوقات سخت تکلیف میں
مبتلا ہوجاتیں… مگر خواب کی تعبیر معلوم ہوگئی تو قحط کے سات سال ایسے گزر
گئے کہ کسی کو ادنیٰ سی مشقت بھی نہ ہوئی… دراصل قرآن و سنت کا حقیقی اور
گہرا علم ہی انسانوں کی دنیوی اور اخروی ترقی کا ضامن ہے… دوسری طرف اگر
خوابوں کی درست تعبیر معلوم نہ ہو تو کئی بڑے بڑے نقصانات ہوجاتے ہیں… ایک
نقصان تو یہ کہ انسان خوشی کے خواب کو بُرا خواب سمجھ کر سخت پریشان ہوتا ہے، روتا
چیختا ہے اور بعض اوقات کوئی غلط کام بھی کر گزرتا ہے… مثلاً خواب میں دیکھا
کہ ہاتھوں میں ہتھکڑی پڑی ہے… یا پاؤں میں بیڑی… یہ بہت اچھا خواب
ہے… مگر لوگ پریشان ہوجاتے ہیں… اسی طرح اگر کوئی خواب میں دیکھے کہ اُس
کا بیٹا مر گیا ہے تو صبح کو… وہ روتا پھرتا ہے… حالانکہ اس کی تعبیر یہ
ہے کہ بہت اچھا اور اہم کام اس کے ہاتھوں پورا ہونے والا ہے… اسی طرح کوئی
خواب میں دیکھتا ہے کہ اُس کا بھائی انتقال کر گیا ہے تو بس… پریشانی ہی
پریشانی… حالانکہ یہ خوشخبری ہوتی ہے کہ الجھا ہوا کام درست ہوجائے
گا… اور پریشانی دور ہوجائے گی ان
شاء اللہ … ہم لوگ چونکہ
اجتماعی طور پر’’حب دنیا‘‘ کے مریض ہیں اس لئے… ہم موت کو مصیبت سمجھتے
ہیں… حالانکہ ہر موت مصیبت نہیں ہوتی… بلکہ بعض موتیں تو زندگی سے زیادہ
لذیذ ہوتی ہیں… چونکہ خواب کی دنیا’’ حقائق‘‘ پر مبنی ہے… اس لئے وہاں
کے ضابطے الگ ہیں… ہمیںجیسے ہی نیند آتی ہے تو ہماری ایک روح سفر پر روانہ
ہوجاتی ہے… اور معلوم نہیں کہاں کہاں گھوم آتی ہے اور کیا کچھ پڑھ اور دیکھ
آتی ہے…بہت آگے یعنی مستقبل کے بہت سے حالات اور مناظر ہماری روح دیکھ آتی
ہے… مگر اُس کی زبان ہم نہیں سمجھتے… حضرت یوسف علیہ السلام نے بادشاہ
کا خواب سنا تو فوراً سمجھ گئے…گائے سے مُراد سال… دبلے اور موٹے سے مُراد
خوشحالی اور تنگدستی… اور ’’سنابل‘‘ سے غلے کی فراوانی اور قحط کو سمجھ لیا…
احادیث
مبارکہ میں خوابوں کے بہت عجیب و غریب واقعات آتے ہیں کہ… حضرت آقا مدنی
صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح سے بعض خوابوں کی تعبیر ارشاد
فرمائی… خوابوں کا یہ سلسلہ قیامت تک چلتا رہے گا… جھوٹے خواب گھڑنا
اوربیان کرنا ہماری شریعت میں سخت جرم اور گناہ ہے… جو شخص جھوٹا خواب گھڑے
گا اور بتائے گا اُسے قیامت کے دن حساب کتاب سے بھی پہلے دردناک سزا اور مصیبت میں
مبتلا ہونا پڑے گا… معلوم نہیں اتنی سخت وعیدوں کے باوجود بعض لوگ کس طرح سے
جھوٹے خواب بنانے کی ہمت کرتے ہیں… ایسے لوگوں کی وجہ سے علم کا یہ روشن اور
منور سلسلہ مدہم ہوجاتا ہے… کیونکہ پتہ نہیں چلتا کہ کونسا خواب سچا ہے اور
کونسا گھڑا ہوا… اسی طرح بعض لوگ امراض معدہ میں مبتلا ہوتے ہیں… اوربعض
کو دماغی مالیخولیا ہوتا ہے… معدے کے مریض تو ہررات پچاس ساٹھ خواب آسانی سے
دیکھ لیتے ہیں… کیونکہ اُن کا سفر تیز رفتار گیس پر ہوتا ہے… گیس ایسی
چیز ہے کہ… بڑے بڑے جہازوں کو سینکڑوں سواریوں سمیت تیس ہزار فٹ کی بلندی پر
اڑاتی ہے… گیس کے مریض بھی جہازی رفتار سے خواب دیکھتے ہیں… اور ستم یہ
ہے کہ ان خوابوں کو سناتے بھی ہیں… دوسری طرف دماغی سودا کے مریض… ان بے
چاروں کو اچھا خواب بہت کم نصیب ہوتا ہے… بس ہر وقت ڈراؤنے خواب اور پریشان
خیالات… خوفناک اور ڈراؤنے خوابوں کا تو بہترین علاج یہ ہے کہ وہ کبھی بھی
کسی کو نہ بتائے جائیں… بس بائیں طرف تھوک دیں… کچھ صدقہ دے
دیں… اور اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگ لیں… اُس خواب کے شر
سے… اچھا چھوڑیں خوابوں کو… بات جو کہنی تھی وہ ابھی تک لکھی
نہیں… اور کالم کی آدھی جگہ چٹ ہو گئی… آپ کو معلوم ہے کہ آج کل
المؤمنات مہم کا دوسرا مرحلہ جاری ہے… جماعت کے دو’’دعوتی وفد‘‘ سفر پر ہیں… ایک
وفد نے کراچی، سکھر، رحیم یار خان… اور بہاولپور میں اجتماعات کرنے ہیں… اور
دوسرے وفد نے ڈیرہ غازی خان، لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد… اور پشاور میں
خواتین کے اصلاحی اجتماعات کرنے ہیں… کل نوشہر، دو جماعتیں، دس
اجتماعات… اور چھ دن… ہدف یہ ہے کہ…بلاواسطہ اور بلواسطہ ایک لاکھ
مسلمان خواتین تک چار نکاتی نصاب کی دعوت پہنچ جائے…چار نکاتی نصاب یہ ہے…
(۱) ایمان ، کلمہ طیبہ…
(۲) اقامتِ صلوٰۃ…
(۳) معاونت جہاد…
(۴) حیاء، پردہ…
ماشاء
اللہ پانچ اجتماعات ہوچکے ہیں… چھٹا ابھی اس وقت جبکہ میں یہ
الفاظ لکھ رہا ہوں جاری ہے… اور اگلے تین دنوں میں ان شاء
اللہ باقی چار اجتماعات
ہوجائیںگے… اب تک کے پانچ اجتماعات میں الحمدللہ تیرہ ہزار سے زائد خواتین… اور بہت سے مرد
حضرات نے براہ راست شرکت کی ہے… کلمہ، نماز، جہاد… اور پردے پر ایمان
افروز بیانات ہوئے ہیں اور ہر طرف سے اچھے اثرات اور نتائج کی حوصلہ افزاء خبریں
آرہی ہیں… آپ پوچھیں گے کہ… خوابوں کا اس بات سے کیا تعلق؟… بات
دراصل یہ ہے کہ بندہ کو تو اچھے خواب بہت کم آتے ہیں… دوسرے لوگوں کے اچھے
اچھے اور اونچے اونچے خواب سن کر رشک آتا ہے کہ… کبھی کوئی اچھا خواب راستہ
بھٹک کر ادھر بھی آجائے… ناشکری نہ ہو… الحمدللہ بعض اچھے خواب بھی آئے… اللہ
کرے سچے ہوں… مگر ذہن چونکہ ہر وقت مشغول، سرگرم اور زیر حوادث رہتا ہے
اس لئے… خوابوں کا معاملہ بھی نیند کی طرح دربدر ہی رہتا ہے… دوسری طرف
خوابوں کے معاملے میں دل بہت خوفزدہ رہتا ہے کہ کوئی غلط بیانی نہ ہو جائے…کیونکہ
یہ بدترین جھوٹ اور سخت سزا والا جرم ہے… اس لئے اپنے اچھے خواب بھی سنانے کی
ہمت نہیں ہوتی… جہاں تک دوسروں کے خوابوں کا تعلق ہے تو ہر مسلمان سے یہ حسن
ظن ہے کہ وہ ان شاء اللہ جھوٹ نہیں بولتا ہوگا… مگر اس کے
باوجود لوگوں نے جماعت اوربندہ کے بارے میں جو خواب اب تک سنائے یا لکھے ہیں ہماری
طرف سے ان کو عام نہیں کیا گیا… ہماری جماعت کے بارے میں ماشاء اللہ
کئی بزرگوں، ساتھیوں اور خواتین نے عجیب بشارات دیکھیں… لیکن ہم نے نہ
تو ان کو چھاپا، نہ نشر کیا، نہ ہی جماعت کے ماحول کو خوابوں، بشارتوں کے حوالے
کیا… وجہ یہ ہیکہ… جب اس قسم کاماحول بن جائے تو بہت نقصان ہوتا ہے…اصل
بنیاد کمزور ہوجاتی ہے… اور دھوکہ باز لوگوں کے لئے فتنے داخل کرنے کاراستہ
کھل جاتا ہے… ہر دن نیا خواب اور اُس کے ساتھ نیا فتنہ… اورکئی خوابی
مزاج لوگ… نعوذ باللہ خوابوں
پر قرآن وسنت سے بھی زیادہ اعتبار کرنے لگتے ہیں… اس لئے جب کوئی اچھا اور
بشارت والا خواب سامنے آتا ہے… تو اس کو سن اور پڑھ لیتے ہیں… اس پر
شکر ادا کرتے ہیں… اپنی کوتاہیوں پر استغفار کرتے ہیں… اور اُس خواب کو
عموماً نشر نہیں کرتے … بہت عرصہ پہلے کی بات ہے… یہ تو یاد نہیں
کہ کتنے سال ہو گئے… غالباً جامعہ میں تعلیم کا آخری سال تھا… اور بندہ
ایک مسجد میں جمعہ کا بیان بھی کرتا تھا… ایک بار جمعہ کے بیان میں ایک بڑی
عمر کے صاحب سامنے بیٹھے تھے اوربیان میں مسلسل رو رہے تھے… بعض اوقات اُن کے
رونے کی آواز کچھ زیادہ بلند بھی ہوجاتی تھی… نمازکے بعد انہوںنے الگ ملاقات
کی خواہش ظاہر کی… اس ملاقات میں انہوں نے بندہ سے متعلق اپنا کوئی مفصل خواب
سنایا… اور یہ خواب انہوں نے مدینہ منورہ میں دیکھا تھا… خواب لکھنا تو
مناسب معلوم نہیں ہوتا کیونکہ اس میں… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کا تذکرہ مبارکہ ہے… اتنا طویل عرصہ گزرنے کے بعد پوری طرح
سے اُن کے الفاظ بھی یاد نہیں… اورخواب میں بندہ کے بارے میں جو کچھ ہے بندہ
خود کو اس کے قریب بھی نہیں پاتا… اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مغفرت
فرمائے… بہرحال اس خواب میں خواتین میں وسیع پیمانے پر دینی کام کے بارے میں
کوئی بشارت تھی… بندہ اس وقت کم عمر تھا… اٹھارہ یا اُنیس برس کا
نوجوان…ابھی تعلیم بھی جاری تھی… کوئی تنظیم یا جماعت بھی نہیں تھی اور نہ
کوئی تعارف… بس خواب سن لیا اور زیادہ تر یہ سوچا کہ ان صاحب کو آدمی
پہچاننے میں غلطی ہوگئی ہوگی… ممکن ہے انہوں نے خواب میں میرے علاوہ کسی کو
دیکھا ہو اور پھر کسی مشابہت کی بنا پر مجھے وہی سمجھ لیا ہو… مگر اس خواب کے
بعد قدرتی طور پر خواتین اسلام میں دینی کام کے بعض راستے کھل گئے… ایک دوست
کے گھر ہفتے میں دو بیانات کا سلسلہ کئی سال تک چلتا رہا… ہر مہینے خواتین کے
کچھ باپردہ جلسے مختلف مقامات پر ہوجاتے تھے… پھر باہر ملکوں میں جانا
ہوا… عرب ممالک سے لیکر برطانیہ تک خواتین کے بڑے بڑے اجتماعات میں بیانات
ہوئے… بعض کیسٹیں بھی جاری ہوئیں… پھر انڈیا سے رہائی کے بعد ماہنامہ
بنات عائشہز کا اجراء ہوا… ملک میں خواتین کے کئی ایمان افروز بڑے اجتماعات
ہوئے… پھر بہاولپور میں پندرہ روزہ نشست کا الحمدللہ کامیاب اجراء ہوا… اور پھر المؤمنات مہم
کا پہلا… اور اب یہ دوسرا مرحلہ… بات تو بالکل واضح ہے… دین اسلام
جس طرح مردوں کے لئے ہے اُسی طرح عورتوں کے لئے بھی ہے… صرف بعض احکامات میں
فرق ہے… اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو… خواہ وہ مرد ہوں
یا عورتیں… اپنی عبادت کے لئے پیدا فرمایا ہے… عورتوں کی تخلیق بے کار
یا عبث نہیں ہوئی… ان کے ذمے بھی دین کی نسبت سے بہت بڑے بڑے کام
ہیں… اور یہ بھی واضح ہے کہ… عورتوں کے مخلصانہ تعاون کے بغیر اکیلے
مرد… نصرت دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا حق ادا نہیں کر
سکتے… مسلمان بہن! کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھنا ہوگا… اسے بھی میک اپ
،فیشن، ساس بہو کے جھگڑے اور روزروز کی بیماریوں سے اوپر اُٹھ کر اپنی آخرت کے
لئے… اور دین اسلام کے لئے محنت کرنا ہوگی… اسے بھی اپنے گھر، ماحول اور
پردے میں رہتے ہوئے اس جنگ میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا جو… پوری دنیا میں
کفر و اسلام کے درمیان برپا ہے…
الحمدللہ … اصلاح اور بیداری کی مہم بہت
کامیاب جارہی ہے… اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم
سے … بہت عمدہ نتائج سامنے آرہے ہیں… اللہ تعالیٰ خاص
فضل فرمائے اور ہماری تمام مسلمان عورتوں کو… ’’المؤمنات‘‘ بنا دے… آج
اسی محنت کے بارے میں سوچتے ہوئے اچانک وہ خواب والا واقعہ یاد آگیا… اور دل
سے دعا نکلی کہ اللہ کرے وہ خواب سچا ہو اور یہ دینی کام وسیع پیمانے
پر جاری ہو جائے… اور اللہ تعالیٰ کے ہاںقبول اور مقبول ہو
جائے…آمین
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰھم
صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ میری ، آپ سب کی… اور تمام ایمان والوں کی مغفرت فرمائے…
بات
چل رہی تھی… دوسروں کے لئے استغفار کرنے… اوردوسروں سے اپنے لئے استغفار
کرانے کی… یہ بہت اہم اور فضیلت والا عمل ہے… اور آج یہ عمل مسلمانوں
میں دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے… آج’’قرآن عظیم الشان‘‘ کو لیتے
ہیں… اور کوشش کرتے ہیں کہ ایک ہی مجلس میں اس موضوع کی تمام آیات مبارکات
سامنے آجائیں…
دیکھیں کتنا
بڑا تحفہ… اور اللہ تعالیٰ کا فضل کہ ایک مختصر سے مضمون
میں… قرآن پاک کے ایک پورے موضوع کا خلاصہ آجائے… چلیںپہلے دل کے
اخلاص کے ساتھ کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اب
آئیں… اپنے تمام کبیرہ صغیرہ گناہوں سے توبہ کرتے ہیں…
{اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ
الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَ اَتُوْبُ اِلَیْہِ}
اب
اپنے والدین اور تمام مسلمانوں کے لئے استغفار کرتے ہیں…
{اَللّٰھُمَّ
اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤمِنِیْنَ وَالْمُؤمِنَاتِ اَلْاَحْیَائِ
مِنْھُمْ وَالْاَمْوَاتِ}
اب
اخلاص کے ساتھ درود شریف پڑھتے ہیں… تاکہ قبولیت ساتھ ہوجائے…
{اللھم
صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا}
اب
سنیں! قرآن پاک میں دوسروں کے لئے استغفار کی آیات دو طرح کی ہیں… ایک وہ
جن میں دوسروں کے لئے استغفار کی ترغیب ہے… یعنی کوئی مسلمان… اپنے
علاوہ دوسروں کے لئے بھی… اللہ تعالیٰ سے مغفرت، اور معافی
مانگے… اور دوسر ی وہ آیات جن میں بعض لوگوں کے لئے ’’استغفار‘‘ کرنے کی
ممانعت آئی ہے… یعنی زمین پر کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے لئے نہ اللہ
تعالیٰ کے فرشتے’’استغفار‘‘ کرتے ہیں… اور نہ مسلمانوں کو اجازت ہے کہ
ُان کے لئے استغفار کریں…
یہ
بد نصیب لوگ… مشرکین،کفار اور منافقین ہیں… پہلے ان آیات کو پڑھ لیتے
ہیں تاکہ… وہ لوگ معلوم ہو جائیں جن کے لئے ہم استغفار نہیں کر
سکتے… دیکھئے یہ ہے دسواں پارہ، سورۃالتوبہ آیت(۸۰)
ترجمہ:
(اے نبی) چاہے آپ ان کے لئے استغفار کریںیا نہ کریں(دونوں برابر ہیں) اگر آپ ان
کے لئے ستر بار بھی استغفار کریں گے تب بھی ا ﷲ تعالیٰ ان کو ہرگز معاف نہیں
فرمائے گا، یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کے
ساتھ کفر کیا اور اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں
دیتا…(التوبہ ،۸۰)
یہ
منافقین کے بارے میں نازل ہوئی… جو زبان سے اسلام لائے تھے اور دل سے کافر
تھے… جب جہاد کا حکم ملا تو اُن کا’’نفاق‘‘ کھل گیا… ایسے لوگوں کو نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے استغفار سے بھی فائدہ نہیں ہوتا…
دوسری
آیت دیکھیں! یہ گیارھواں پارہ ہے سورۃ التوبہ آیت(۱۱۳)
ترجمہ:
نبی( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اور مسلمانوں کو جائزنہیں کہ مشرکوں کے لئے استغفار
کریں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں اس بات کے واضح ہو جانے کے بعد کہ وہ لوگ
جہنمی ہیں… (التوبہ ۱۱۳)
اس
آیت میں تمام مشرکوں اور کافروں کے لئے… استغفار کرنے کی ممانعت
آگئی… خودنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کے نزول کے بعد
اپنے چچا’’ابو طالب‘‘ کے لئے ’’استغفار‘‘ کرنا چھوڑدیا… ہاں زندہ مشرکوں اور
کافروں کے لئے ہدایت کی دعاء کرنا جائز ہے…
یہ
دو واضح آیات سامنے آگئیں… مزید یہ مسئلہ جن آیات میں بیان ہوا ہے ان
کاحوالہ عرض کیا جارہا ہے تاکہ آپ قرآن مجید میں دیکھ لیں…
(۱) سورۃ التوبہ آیت (۱۱۴)
(۲) سورۃ الفتح آیت (۱۱)
(۳) سورۃ الممتحنہ آیت (۴)
(۴) سورۃ المنافقون آیت (۶)
ان
آیات میں دو طرح کے منافقین کا تذکرہ ہے… ایک وہ جو اوپر اوپر سے ہی سہی مگر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استغفار کی درخواست کرتے
تھے… اور دوسرے وہ موذی، متکبر اور گھمنڈی منافق… جو رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے لئے استغفار کرانا ہی نہیں چاہتے
تھے… اللہ تعالیٰ میری اورآپ سب کی ’’نفاق‘‘ سے حفاظت
فرمائے… آئیں! اخلاص کے ساتھ ایمان تازہ کر لیں
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
ایک
بات مکمل ہو گئی کہ… ہم کسی مشرک ، کافر اور عقیدے کے منافق کے لئے استغفار
نہیں کر سکتے… اب آتے ہیں دوسرے اور اصل موضوع کی طرف… قرآن پاک میں
دوسروں کے لئے استغفار کے جو احکامات ہیں ہم ان کو درج ذیل عنوانات سے سمجھ سکتے
ہیں…
(۱) فرشتوں کا عمل کہ وہ زمین پر
موجود ایمان والوں اورتوبہ کرنے والوں کے لئے استغفار کرتے ہیں… معلوم ہوا کہ
دوسروں کے لئے استغفار کرنا اللہ تعالیٰ کو اتنا محبوب ہے
کہ… عرش اٹھانے والے مقرب فرشتوں اور دیگر بے شمار ملائکہ کو اس عبادت میں لگا
دیا ہے…
سبحان
اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم…
(۲) کسی مسلمان کا تمام مؤمنین
اور مؤمنات کے لئے استغفار کرنا…
(۳) اپنے والدین کے لئے استغفار کرنا
(۴) والدین کا اپنی اولاد کے لئے استغفار کرنا
(۵) کسی مسلمان کا اپنے بھائی…یا بھائیوں کے لئے
استغفار کرنا
(۶) بڑوں کا اپنے چھوٹوں کے لئے
استغفار کرنا
(۷) چھوٹوں کا اور بعد میں آنے والوں کا… اپنے
بڑوں اور اپنے سابقین کے لئے استغفار کرنا
(۸) توبہ کے لئے آنے والی خواتین کے لئے استغفار
کرنا…
(۹) جو کسی واقعی سچے عذر کی وجہ
سے کسی فضیلت یا سعادت سے محروم ہوئے ہوں… اُن کے لئے استغفارکرنا
(۱۰) جو
گناہ گارلو گ اللہ تعالیٰ سے توبہ اور معافی مانگتے ہوں اُن کے لئے
استغفار کرنا…
اب
ان تمام عنوانات کو… بغیر ترتیب کے آگے چلاتے ہیں…
حضرت
موسیٰ علیہ السلام… اپنے بھائی حضرت ہارون ح پر ناراض ہوئے
کہ… قوم گمراہ ہو گئی آپ نے سمجھایا تک نہیں… اسی ناراضی میں بال بھی
پکڑ لئے… بھائی نے صورتحال بتائی تو فوراً حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے
اور اپنے بھائی کے لئے استغفار کے ہاتھ پھیلا دیئے…
دیکھئے:سورۃ
الاعراف آیت ۱۵۱…
ترجمہ:(حضرت
موسیٰ علیہ السلام نے دعاء کی) اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو
معاف فرما اور ہم دونوں کو اپنی رحمت میں داخل فرما اور آپ سب سے بڑھ کر رحم کرنے
والے ہیں( الاعراف ۱۵۱)
دوسرا
واقعہ سورۃ یوسف میں ہے… جہاں حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے
بھائیوں کے لئے استغفار فرمایا:
ترجمہ:(حضرت
یوسف علیہ السلام نے) کہا کہ آج کے دن (میری طرف سے) تم پر کوئی سزا
نہیں اللہ تعالیٰ تم کو معاف کرے اور وہ سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر
رحم فرمانے والا ہے…(یوسف ۹۲)
نکتہ:
بھائیوں کے ایک دوسرے کے لئے استغفار میں… دونوں جگہ اللہ تعالیٰ
کا اسم مبارک’’ارحم الراحمین‘‘ استعمال ہوا ہے…
اپنی
اولاد کے لئے استغفار کا مسئلہ بھی سورۃ یوسف میں ہے… حضرت
یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے اپنے والد محترم حضرت
یعقوب علیہ السلام سے اپنے لئے ’’استغفار‘‘ کی درخواست کی… والد
محترم نے درخواست قبول فرمائی کہ عنقریب تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے
استغفار کروں گا…
ترجمہ:
بیٹوں نے کہا اے ہمارے ابو جی! ہمارے گناہوں کی معافی کے لئے ہمارے لئے استغفار
کیجئے، بلاشبہ ہم خطا کار تھے،(حضرت یعقوب علیہ السلام نے) کہا: عنقریب
میں اپنے رب سے تمہارے لئے ’’استغفار‘‘ کروں گا بلاشبہ وہ بخشنے والا اور مہربان
ہے۔ (یوسف ۹۶،۹۷)
ایک
بات بتائیں، بالکل سچ سچ… کیا آپ نے کبھی اپنے والدین سے اپنے لئے استغفار
کرایا؟… آہ! کتنوں کے والدین تو چلے گئے… مگر جن کے پاس یہ انمول نعمت
موجود ہے، انہوں نے کب اس سے یہ عظیم فائدہ اٹھایا… ارے بھائیو! اور بہنو!
والدین کا ’’استغفار‘‘ بڑی سعادت ہے… رعب اور رسم کے انداز میں
نہیں… ندامت اور التجا کے انداز میں… اپنی ضرورت سمجھ کر والدین سے اپنے
لئے استغفار کرالیں… اور کراتے رہیں… ارے بھائیو! اور بہنو! والدین کے
سامنے تواضع اختیار کرو… اونچا بھی نہ بولا کرو… اور اُن پر رعب جھاڑنا
تو بیو قوفی ہے اور بدفطری… ہاں بالکل بدفطری… یا اللہ ہم
سب کی حفاظت فرما… ہم سب کو معاف فرما… آئیں اخلاص کے ساتھ ایمان تازہ
کر لیں…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
قرآن
پاک کی سورۃ الممتحنہ کے آخر میں… عورتوں کی ’’بیعت اسلام‘‘ کا تذکرہ
ہے… خواتین کی اصلاح کے لئے یہ آیت مبارکہ… بنیاد کی حیثیت رکھتی
ہے… ہر مسلمان عورت کو لازمی چاہئے کہ اس آیت مبارکہ کو ترجمے کے ساتھ پڑھے،
سمجھے ، مانے… اور اس پر پوری مضبوطی سے عمل کرے… اس آیت مبارکہ کے
آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ
تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ… جو عورتیں یہ چند شرطیں جو آیت میں مذکور
ہیں قبول کرلیں تو آپ ان کو بیعت فرما لیجئے اور اُن کے لئے استغفار
فرمائیے… دیکھئے اٹھائیسواں پارہ…سورۃ الممتحنہ آیت۱۲…
معلوم
ہوا کہ… امیر،شیخ،استاذ اور دیگر اہل رُتبہ اپنے مریدین اور استفادہ کرنے
والی خواتین اسلام کے لئے استغفار کیا کریں… اب آتے ہیں والدین کے لئے
استغفار کی طرف… یعنی اولاد اپنے والدین کے لئے استغفار کرے…یہ عمل
اللہ تعالیٰ کے محبوب انبیاء د نے اختیار فرمایا… اور اُن کا
اپنے والدین کے لئے استغفار کرنا قرآن پاک کی آیات بنا… حضرت ابراہیم ح کا
عمل… اگرچہ ان کو بعد میں اس عمل سے روک دیا گیا کیونکہ اُن کے
والد… مسلمان نہیں ہوئے تھے… اسی طرح حضرت نوح علیہ السلام کا
عمل… دیکھئے انتیسواں پارہ، سورہ نوح کی آخری آیت…
ترجمہ:(پھر
حضرت نوح علیہ السلام نے دعاء کی) اے میرے رب! مجھے بخش دیجئے اور میرے
والدین کو اورجو ایمان قبول کر کے میرے گھر آئے… اور تمام ایمان والے مردوں
اور ایمان والی عورتوں کو… اور ظالموں کے لئے اور زیادہ تباہی بڑھا دیجئے(نوح ۲۸)
اس
موضوع پر مزید یہ آیات دیکھئے…
(۱) سورۃ
ابراہیم آیت ۴۱ (۲) سورۃ مریم آیت ۴۷(۳) سورۃ الشعراء
آیت ۸۶
اور
والدین کے لئے استغفار کی ایک دعاء قرآن پاک نے خود سکھا دی ہے…
رَبَّنَا
اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَاب
اے
ہمارے رب! میرے، میرے والدین کی اور تمام ایمان والوں کی حساب کے دن مغفرت
فرما…(سورۃ ابراہیم ۴۱)
اب
آتے ہیں …ایمان والوں کے لئے ملائکۃ اللہ کے استغفار کی
طرف… یہ قرآن پاک میں دو جگہ پر ہے… پارہ چوبیس سورۃ المومن آیت۷… اس
میں’’حملۃ العرش‘‘ یعنی عرش کو اٹھانے والے عظیم الشان اور مقرب فرشتوں کا تذکرہ
ہے کہ… وہ ایمان والوں کے لئے استغفار کرتے ہیں… اب آپ خود اندازہ لگا
لیں کہ… یہ عمل اللہ تعالیٰ کو کس قدر محبوب ہے… پھر دیر
کیسی آپ بھی آج سے یہ عمل شروع کردیں کہ… بہت توجہ اور خشوع کے ساتھ تمام
ایمان والوں کے لئے… زندہ ہوں یا اموات… روزآنہ صبح شام استغفار کیا
کریں… جتنا زیادہ ہو سکے اچھا ہے… ورنہ کم از کم ستائیس بار
روزآنہ… جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے… اور اسی طرح پارہ پچیس سورۃ
الشوریٰ آیت (۵) میں
فرمایا گیا ہے کہ… فرشتے اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید بھی کرتے
ہیں اور زمین والوں کے لئے استغفار بھی کرتے ہیں… ان دونوں آیات کا ترجمہ
ایک بار ضرور پڑھ لیں تاکہ… اس موضوع کی اہمیت دل میں اُتر جائے…اسی موضوع کو
آگے بڑھاتے ہیں… ا ﷲ تعالیٰ نے اپنے سب سے محبوب اور آخری نبی حضرت محمد
صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرمایا کہ… آپ ایمان والوں کے لئے
استغفارفرمایا کریں… دیکھئے چھبیسواں پارہ سورۃ محمد آیت (۱۹)…
ترجمہ:
(اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی
عبادت کے لائق نہیں اور اپنے اور مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کے گناہوں کی
معافی مانگئے (یعنی استغفار کرتے رہیں) (محمد،۱۹)
یہ
امت کو بڑی مفید تعلیم ہو گئی کہ… لا الہ الا اللہ … پر
استقامت اور ترقی کے لئے اپنے لئے بھی خوب استغفار کریں… اور سب مؤمنین اور
مؤمنات کے لئے بھی استغفار کواپنا معمول بنائیں… معلوم ہوا کہ بہت ہی اہم
اورعظیم عمل ہے…
اب
رہا اپنے رفقاء کے لئے… اور اپنے چھوٹوں کے لئے استغفار کا حکم… تو دو
مقامات دیکھ لیجئے… ایک تو سورۃ آل عمران کی آیت (۱۵۹)… اور دوسرا سورۃ
النور کی آیت (۶۲)… پہلی آیت غزوہ اُحد کے تناظر میں ہے… ظاہر
بات عجیب پریشانی اور افراتفری کا وقت تھا… لشکر اسلام غموں سے چور چور
تھا… اور ساتھ اس بات کا دکھ بھی کہ ہم سے حضرت آقا صلی اللہ
علیہ وسلم کی نافرمانی ہوئی ہے… تب رسول کریم صلی اللہ علیہ
وسلم سے فرمایا گیا کہ!!!…
ان
کومعاف فرمائیے اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے استغفار کیجئے اور اپنے
کاموں میں ان سے مشورہ لیجئے…(آل عمران، ۱۵۹)
دوسری
آیت میں… دو بڑے سبق ہیں… اجتماعی کاموں سے چھٹی لینے کی ترتیب… کوئی
بھی بغیر اجازت اجتماعی کاموں سے غائب نہ ہو… اور جو آپ صلی اللہ علیہ
وسلم سے چھٹی یا رخصت اپنے کسی عذر کی وجہ سے مانگے تو آپ صلی اللہ
علیہ وسلم … جسے چاہیں رخصت دیں… اب چونکہ رخصت پرجانے والا شخص
معذور ہے… مگر اجتماعی عمل کی سعادت سے محروم ہوا… تو چونکہ وہ عذر کی
وجہ سے گیا ہے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم اُس کے لئے استغفار
فرمائیں… معلوم ہوا کہ استغفار کی برکت سے بہت سے کاموں کی تلافی بھی ہو جاتی
ہے… دیکھئے سورۃالنور آیت (۶۲)…
معلوم
ہوا کہ… جو کسی مُلک، جماعت، ادارے… یا خاندان کا بڑاہو وہ اپنے ماتحتوں
اور مأمورین کے لئے استغفار کیا کرے… آج کوئی کرتا ہے؟… ارے بھائیو!
اور بہنو! سعادت کے راستوں کو سمجھواور اختیار کرو… آج بڑوں نے چھوٹوںکو
حقیر بنا رکھا ہے… اور چھوٹوںنے بڑوں کو بوجھ اور مذاق… جبکہ ہر دو طرف
کے لئے استغفار جیسے تحفے اور عمل کا حکم ہے… چھوٹوں کی طرف سے بڑوں کے لئے
استغفار کا حکم اٹھائیسویں پارے کی سورۃ الحشر کی آیت (۱۰) میں بہت عجیب
ترتیب اور شان کے ساتھ آیا ہے… ملاحظہ کیجئے!
مال
فئے کے مصارف بیان ہورہے ہیں… دشمنان اسلام اگر ہتھیار ڈال دیں تو جو مال اُن
سے مسلمانوں کو ملتا ہے… بغیر لڑائی اور جنگ کے… صرف اسلامی لشکر کے رعب
کی برکت سے… اُس کو ’’مال فئے‘‘ کہتے ہیں… حکم قرآن پاک میں موجود ہے
مگر آج کے مسلمانوں نے یہ مال چکھا تک نہیں… یہ ترک جہاد کا وبال
ہے… خیر مال فئے کا حصہ بیان فرماتے ہوئے اُن لوگوں کو بھی شریک کیا گیا جو
بعد میں ایمان لائے… مگر وہ اپنے پہلے والوں کے ایسے خیر خواہ ہیںکہ اُن کے
لئے استغفارکرتے ہیں…
ترجمہ:
اور(مال فئے) ان کے لئے بھی ہے جو مہاجرین کے بعد آئے اور دعاء مانگا کرتے ہیں کہ
اے ہمارے رب! ہماری اور ہمارے اُن بھائیوں کی مغفرت فرما جو ہم سے پہلے ایمان لائے
ہیں اور ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے لئے کینہ قائم نہ ہونے پائے اے ہمارے رب!
بے شک تو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے…(الحشر ۱۰)
بعد
میں آنے والے اور چھوٹے… اپنے بڑوں کے لئے استغفار کر رہے ہیں… اور
اللہ تعالیٰ اس عمل کو پسند فرما رہے ہیں… کیا آج کے بعد والے
اور چھوٹے بھی یہ مبارک عمل زندہ کریں گے؟… ارے بھائیو! استغفار عجیب نعمت
ہے… بندے کو رب سے تو جوڑتی ہی ہے خود مسلمانوں میں بھی باہمی اتفاق اور محبت
پیدا کر دیتی ہے…
بس
یہ موضوع… کسی حد تک مکمل ہوا اور اس میں ایک آیت مبارکہ رہ گئی… اُ س
آیت مبارکہ سے استغفار کے کئی مسائل اور مقامات معلوم ہوتے ہیں… اس لئے اچھا
ہے کہ پہلے آیت مبارکہ ہی پڑھ لیں… یہ دیکھیں! پانچواں پارہ سورۃ النساء
آیت (۶۴)
ترجمہ:
اور جب انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا (تو) آپ کے پاس آتے پھر اللہ
تعالیٰ سے معافی مانگتے اور رسول بھی اُن کے لئے استغفار کرتے تو وہ یقینا
اللہ تعالیٰ کو توبہ قبول فرمانے والا، رحم کرنے والا
پاتے…(النساء ۶۴)
آپ
اس آیت کی مکمل تفسیر پڑھیں تو کئی احکامات معلوم ہوں… بس اتنا
سمجھ لیں کہ… جب کوئی بڑا گناہ ہو جائے تو انسان فوراً خود بھی استغفار کرے
اور پھر اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں سے بھی اپنے لئے استغفار کرائے…
اسی
طرح جو دین کے پیشوا ہیں اُن کے پاس اگر گناہ گار لوگ… استغفار کرتے ہوئے
آئیں… اور اُن سے اپنے لئے استغفار کی درخواست کریں تو وہ اُن کے لئے
استغفار کر لیں یعنی اللہ تعالیٰ سے اُن کے لئے معافی مانگیں… یہ
دو مسئلے تو بالکل واضح معلوم ہو گئے…
استغفار
کی درخواست کرنے والوں کے لئے ضروری نہیں کہ وہ … اپنا گناہ بھی
بتائیں… خصوصاً آج کل جبکہ فساد عام ہے اپنا گناہ نہ بتائیں صرف استغفار کی
درخواست کریں… کیونکہ معلوم نہیں کہ… سامنے والا کتنے ظرف کا
ہے… بعض لوگ اتنے کم ظرف ہوتے ہیں کہ اُن کو اگر کسی کا ایک گناہ بھی معلوم
ہو جائے تو زندگی بھر اپنا دل اُس سے صاف نہیں کر سکتے… خواہ وہ توبہ کر کے
صدیقین کے مقام تک پہنچ چکا ہو اور اس کا وہ گناہ بھی نامۂ اعمال میں نیکی بن چکا
ہو… اسی طرح اگر آپ کے پاس کوئی استغفار کی درخواست لے کر آئے
کہ… میرے لئے اللہ تعالیٰ سے استغفار کریں تو آپ اُس
سے اُس کا گناہ نہ پوچھیں… اور نہ ہی اس ٹوہ میں پڑیں کہ یہ کون کون سے گناہ
کرتا ہے… بلکہ یہ سوچیں کہ کتنا اچھا مسلمان ہے جو… اللہ
تعالیٰ کے خوف سے استغفار کرانے آیا ہے… اور میں کتنا ناقص ہوں کہ
مجھے اپنے گناہوں کی معافی کی فکر ہی نہیں… الحمدللہ … اس موضوع کا
خلاصہ مکمل ہوا… قرآن پاک کے کسی ایک موضوع کا احاطہ بھی ممکن نہیں… بس
اپنی سی کوشش ہوتی ہے … اللہ تعالیٰ قبول فرمائے… اور نافع
بنائے… اگر کسی مسلمان بھائی یا بہن کو اس سے فائدہ ہو تو وہ بندہ کے لئے ایمان
کامل اور حسن خاتمہ کی دعاء اور استغفار کردے… احسان ہو گا…
اَللّٰھُمَّ
اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَاب
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ کی نعمتیں’’بے شمار‘‘ ہیں… الحمدللہ رب العالمین… اور ہماری غفلتیں، گناہ اور
ناقدریاں بہت زیادہ ہیں… استغفر اللہ ربی… بس ایک مؤمن کی
زندگی… الحمدللہ اور استغفر اللہ
کے درمیان گزرے تو بہت اچھا ہے… اللہ تعالیٰ کی نعمتیں
دیکھے، محسوس کرے اور اُن کی قدر کرے اور کہے… الحمدللہ رب العالمین… کیا آپ ایک سوال کا جواب دے
سکتے ہیں؟ حدیث شریف میں آیا ہے… سب سے افضل دعاء’’ الحمدللہ ‘‘ ہے… ’’
الحمدللہ ‘‘ کا معنیٰ ہے… تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے
ہیں… تو یہ جملہ دعاء کیسے بن گیا؟… اور عام دعاء بھی نہیں بلکہ افضل
ترین دعاء… دل کو دماغ کو جوڑ کر سوچیں تو زندگی کا ایک عظیم راز معلوم
ہوجائے گا… فرمایا افضل ترین ذکر’’لا الہ الا اللہ ‘‘
ہے … بے شک سب سے افضل اور اونچا ذکر… ماشاء اللہ
دیوانوں نے چالیس دن محنت کی اب الحمدللہ … لاکھوں مسلمان روزآنہ بارہ سو
بار’’لا الہ الا اللہ ‘‘کا ورد کرتے ہیں… اور یہ ایسا کلمہ ہے جس کی
تأثیر ضرور ظاہرہوتی ہے… اس کلمے اور عرش کے درمیان کوئی پردہ
نہیں… عرش بہت دور ہے… بہت دور… چاند ستارے سورج تو ہمارے پڑوسی
ہیں… یہ کرۂ زمین کے خدمت گارہیں… مگر ان کے آگے جہاں اور بھی
ہیں… آسمان … اورہر آسمان کے بعد دوسراآسمان… کل سات
آسمان… عرش اُن سے بھی بہت اونچا… مگرلا الہ الا اللہ
فوراً عرش تک پہنچتا ہے… جیسے کسی کو ملک کے صدر کا موبائل نمبر معلوم
ہو جائے… ہو گاوہ بھی عام ہندسوں کا… صفر، آٹھ، پانچ وغیرہ… مگر
ترتیب سے بڑا فرق پڑتا ہے… انہیں ہندسوں کو ایک ترتیب سے ملائیں گے تو صدر کا
نمبر بن جائے گا… اور آپ کی آواز سیدھی ایوان صدر میں جا پہنچے
گی… اور یہی ہندے کسی اور ترتیب سے ملائیں گے تو کسی بھنگی کا نمبر بن جائے
گا… آپ گھر کا گٹر صاف کرانے کے لئے رابطہ فرمالیں… اب تو موبائل ہر
کسی کے پاس ہے… کوئی صدر ہو یا مزدور… بعض لوگ اپنے دینی معمولات اور
دینی مشغولیات کی وجہ سے موبائل نہیں رکھتے… یہ اچھی بات ہے… کافی
پرسکون زندگی ہو گی ایسے حضرات کی… مگر بعض لوگ’’تکبر‘‘ کی وجہ سے نہیں
رکھتے… اور تکبر بڑا موذی مرض ہے… یہ گناہوں کی بنیاد اور جڑ
ہے… ایک صاحب قصہ سنا رہے تھے کہ… کراچی کے ایک سیٹھ صاحب موبائل نہیں
رکھتے… ان سے وجہ پوچھی گئی تو کہنے لگے… ایک بار کہیں جا رہا
تھا… دو بھنگی گٹرصاف کر رہے تھے… جو گٹر کے اندر تھا… وہ موبائل
فون پر باہر والے کوہدایات دے رہا تھا کہ… صفائی والا بانس اس طرح
مارو… میں نے یہ منظر دیکھا توموبائل استعمال کرنا چھوڑ دیا… بندہ کو یہ
قصہ بُرا اور قابل نفرت لگا… سیٹھ جی نے موبائل تو چھوڑ دیا کہ… یہ
بھنگیوں کے پاس بھی ہوتاہے… مگر ابھی تک اپنی آنکھیں، ناک، کان وغیرہ نہیں
چھوڑے… حالانکہ یہ بھی تمام غریبوں کے پاس ہوتے ہیں… اور بھی سارے
اعضاء… یعنی اُن کے نزدیک ’’موبائل‘‘ مالداری اور تکبر کی علامت
تھی… بڑائی کا استعارہ… توبہ،توبہ… ایک انسان… اور بڑائی،
توبہ توبہ… صبح شام گند، غلاظت… پیشاب، بیت الخلاء… بیماریاں،
تھوک، بلغم ، خون… گند ہی گند… پھر کس بات پر بڑائی… ابھی گندگی کر
کے نکلتے ہیں اور دوسروں کو حقارت سے گالی دیتے ہیں… او پنجابی! او
پٹھان… او مہاجر… استغفر اللہ ، استغفر اللہ … اے آدم کے
بیٹو! … سب ایک جیسے ہو… بالکل ایک جیسے… پھر پنجابی قابل
نفرت کیوں؟… کونسی چیز تم میں اُن سے زیادہ ہے…پٹھان قابل نفرت کیوں؟…کون سی
چیز اُن میں تم سے کم ہے… مہاجر قابل نفرت کیوں؟… کون سی کمی مالک نے
اُن میں رکھی ہے؟…
رب
کعبہ کی قسم! جس نے مٹی اور نطفے سے انسان کو پیدا فرمایا… وہ لوگ مسلمانوں
کے بدترین دشمن ہیں جو انہیں قوم پرستی اور علاقہ پرستی پر لگا رہے ہیں۔ کوئی
پنجابی ہو، یا بلوچی، کوئی پختون ہو یا سرائیکی، کوئی اردو بولنے والا ہو یا
سندھی… سب مسلمان ایک جسم کے ٹکڑے… اور ایک جان کے حصے ہیں… کلمہ
طیبہ… لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ … سب کو
بلندی عطاء کرتا ہے… مُلک کے صدر کا موبائل نمبر ملائیں تو… اتناہی خرچہ
ہوتا ہے جتنا کسی غریب آدمی کا نمبر ملانے پر ہوتا ہے… مگر ہندسوں کی ترتیب
نے ایسا کرشمہ دکھایا کہ… وہی پانچ، آٹھ،سات… یا تو آپ کو ایوان صدر
میں لے جاتے ہیں… یا کسی چرس خانے میں…’’لا الہ الا اللہ ‘‘ کا کلمہ
بھی حروف تہجی سے بنا ہے… اور نعوذ باللہ کوئی کفر کا کلمہ ہو وہ بھی حروف تہجی سے
بنتا ہے…
دیکھا
آپ نے کہ ترتیب کے فرق سے… کتنی تبدیلی آجاتی ہے… لا الہ الا
اللہ … جب عرش تک پہنچتا ہے تو دل پر بھی اثر کرتا ہے… اس
لئے جو کہتے ہیں کہ… طوطے کی طرح رٹا لگانے سے کیا ہوتا ہے وہ سمجھدار لوگ
نہیں ہیں… اچھا تو یہی ہے کہ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ کا ذکر توجہ سے اور
دل لگا کر کیا جائے… لیکن اگر کسی کوخیالات کا عارضہ ہو اور اسے توجہ نصیب نہ
ہو تو بھی… پابندی سے ذکرکرتا رہے… ان شاء اللہ کسی دن یہ ذکر دل کے تمام گوشوں کو منور
کر دے گا… حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے کارناموں سے کتابوں کی
کتابیں بھری پڑی ہیں… پورے پورے ادارے اُن کے مکتوبات اور ملفوظات پر کام کر
رہے ہیں… کئی بڑے مصنفین نے اپنے قلم… حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت
پر وقف کر دیئے ہیں… مگر آپ دیکھیں کہ خود حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ کے
زمانے میں اُن کا کام اتنا وسیع نظر نہیں آتا … برصغیر کا بادشاہ اُن
سے ناراض تھا اور اُس نے انہیں قید میں بھی رکھا… حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ
نے بادشاہ کے خلاف بغاوت نہیں کی… اور اپنے مریدین کو بھی روکا… آپ ایک
چھوٹے سے قصبے’’سرہند‘‘ میں مقیم رہے…نہ کوئی زیادہ مجمع اور نہ زیادہ
اسفار… پھر یکایک دنیا نے دیکھا کہ اکبری فتنے کانام و نشان ہی غائب
ہوگیا… اور حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ کانام اور کام پوری اسلامی
دنیا میں گونجنے لگا… اور اُن کے کام کی جو دوسری ، تیسری فصل سامنے آئی تو
موسم ہی بدل گیا… یہ سب کیا تھا؟… اتنا بڑا حکومتی فتنہ بالکل
غائب… اور ایک غریب درویش کا طریقہ اور مسلک ہر طرف رائج… یہ’’لا الہ
الا اللہ ‘‘ کی برکات کا واضح ظہور تھا… حضرت مجدد رحمۃ اللہ
علیہ نے مسلمانوں کو اس کلمے کی طرف متوجہ کیا… مسلمان جب بھی
پوری قلبی توجہ کے ساتھ اس مبارک کلمے کی طرف آتاہے تو… خود اُس کے اور پھر
زمین کے حالات یوں بدل جاتے ہیں کہ… جہاں اکبر کا کفرستان تھا وہیں اسی تخت
پر اورنگ زیب کا مضبوط اسلامستان قائم ہوگیا… یونہی نہیں فرمایا گیا کہ یہ
کلمہ زمین اور آسمانوں سے بھاری ہے… یہ مبالغے والی افسانوی باتیںنہیں
ہیں… مسلمان دراصل اس کلمے سے کٹ جاتے ہیں تو پھر کٹی ہوئی پتنگ کی طرح رسوا
ہوتے ہیں…کلمے سے کٹ جاتے ہیں تو پھر نہ انہیں جہاد نصیب ہوتا ہے اور نہ سچی
نماز… حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ جب جیل میں تھے… یہ ایک فوجی چھاؤنی
تھی … جہانگیر کی لشکر گاہ… حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ اسی میں نظر
بند تھے اس قید کے دوران آپ جب بھی اپنے گھر والوں کو کوئی خط یا پیغام بھیجتے تو
اس میں تاکید فرماتے کہ… بارہ سو بار’’ لاالہ الا اللہ ‘‘ کے ورد کا
اہتمام کریں… الحمدللہ چالیس دن کی
رکنیت مہم کے بعد اب ہزاروں، لاکھوں مسلمان کلمہ طیبہ کی طرف متوجہ ہوئے
ہیں… اس محنت کے اثرات ان شاء اللہ بہت دور دور تک جائیں گے… اورکئی زمانوں تک
چلیں گے… ان شاء اللہ محنت کرنے والوں کے لئے… صدقات جاریہ
کے انبار بنتے جائیں گے… ابھی صرف جون کے مہینے میں جو مبارک اثرات سامنے
آئے ہیں وہ حیرت انگیز ہیں… پچاس ہزار سے زائدافراد تک ایمان، نماز اور جہاد
فی سبیل اللہ … اور دین کامل کی دعوت پہنچی… پورے ملک میں
تین ہزار سے زائد افراد نے اسی ایک مہینے میں آیات جہاد کا دورہ تفسیر
پڑھا… ہزاروں مائیں، بہنیں ، بیٹیاں دینی دعوت اور دینی جذبے سے مستفید
ہوئیں… الحمدللہ ، الحمدللہ …
الحمدللہ رب العالمین… شعبان کا
مبارک مہینہ شروع ہوا … صرف ابتدائی سات دنوں میں جماعت کے مختلف
اجتماعات میں شریک ہونے والے افراد کی تعداد چھبیس ہزار سے متجاوز تھی…
الحمدللہ رب العالمین… دوسری طرف
اپنے حالات، اپنی کوتاہیاں… اور اپنی غفلتیں دیکھیں تو…
{استغفر
اللہ الذی لا الہ الا ھو الحی القیوم واتوب الیہ}
بس
ایک مؤمن کی زندگی… الحمدللہ اور
استغفر اللہ کے درمیان رہتی ہے… اور رہنی بھی چاہئے… اللہ
تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں ہیں… الحمدللہ … اور ہماری بہت زیادہ
غفلتیں… استغفر اللہ … اللہ تعالیٰ ہمیں شکر بھی نصیب
فرمائے… اور استغفار بھی… تسبیح بھی نصیب فرمائے… اور استغفار بھی…
{لا
الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین}
حضرت
عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ… جناب رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
میرے
بھائی یونس (ح) کی دعاء عجیب تھی… اس کی ابتداء تہلیل(یعنی لا الہ الا
اللہ ) ہے… درمیانی حصہ تسبیح اور آخری حصہ گناہ کااقرار…
لا
الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین
جو
پریشان حال، غمزدہ، مصیبت زدہ اور مقروض روزآنہ تین بار ان کلمات کے ذریعہ دعاء
کرے تو اس کی دعاء ضرور قبول کی جاتی ہے(الدیلمی، کنز العمال)
لیجئے!
وظیفہ مل گیا… اب دل کی گہرائی سے یہ آیت کریمہ اور دعاء پڑھ کر دعاء کریں
کہ… پینتالیس دن کی مہم… جو پندرہ شعبان سے یکم شوال تک چلنی
ہے… ایماندار ہو، شاندارہو، جاندار ہو… اور عند اللہ قبول اور
مقبول ہو…
لا
الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین…
لا
الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین…
لا
الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
والحمد
ﷲ رب العالمین
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ’’ظالموں‘‘ کو ہدایت عطاء نہیں فرماتا… آہ افسوس! پاکستان کی سڑکوں سے
ظالموں کی سپلائی بحال ہو گئی… اناللہ وانا الیہ راجعون… جس دن یہ
سپلائی بند ہوئی تھی اُسی دن اندازہ تھا کہ بہت جلد بحال ہو جائے گی… جن
حکمرانوں کے مہنگے گھر امریکہ اور برطانیہ میں ہیں… جن کے بچے وہاں پڑھ رہے
ہیں… اور خرمستیاں کر رہے ہیں… جن کے قلوب ایمان اور اسلام کی حلاوت سے
خالی ہیں… اُن سے یہ توقع رکھنا کہ وہ’’عزیمت‘‘ کا کوئی قدم اٹھائیں گے خود
بیوقوفی ہے… کتنے شرم، عاراورنفرت والی بات ہے کہ ہماری سرزمین اور ہماری
صلاحیت مسلمانوں کے قتل عام کے لئے استعمال ہو رہی ہے…ایسے عظیم گناہ سے تو موت
بہت بہتر ہے…اور ہمارے حکمران مُردوں سے بھی زیادہ بے کار اور کمزور ہیں… شام
کے’’بشار الاسد‘‘ کو دیکھو! کس بے دردی سے مسلمانوں کو ذبح کر رہا ہے… اس کے
باپ’’حافظ الاسد‘‘ نے بھی یہی کچھ کیا… لیکن جب ان کا مقابلہ اسرائیل سے ہوتا
ہے تو… چوہوں کی طرح بھاگتے ہیں… جولان کی پہاڑیاں اسرائیل کے ہاتھوں
گنوادیں… مگر اپنے ملک کے لوگوں کو مارنے میں ان کی بہادری حد سے بڑھی ہوئی
ہے… تقریباً یہی حال تمام اسلامی ملکوں کے حکمرانوں کا ہے… کتنے درد اور
افسوس کی بات ہے کہ… کسی بھی ایک اسلامی ملک کی کسی ایک فوج کے پاس ایک بھی
ایسی’’فتح‘‘نہیں… جسے وہ عزت اور فخر سے بیان کر سکے… شکست ہی
شکست… عار ہی عار اور فرار ہی فرار… مگر ان کی اکڑ دیکھو! تو پورے فرعون
لگتے ہیں… شاید فرعون سے بھی دو گز آگے… تکبر، غرور، ظلم، اور
پروٹوکول… اپنے ملک کی کوئی مسجد گرانی ہو تو یہ بہادر… اپنے ملک کا
کوئی مدرسہ بندکرنا ہو تویہ جرأت مند… اپنے ملک کے دینی طبقے کو مارنایا
ستانا ہوتو یہ ماہر نشانہ باز…اپنے ملک کے نہتے لوگوں کو قتل کرنا ہو تو یہ جانباز
جیالے… لیکن جب کفر سے لڑنا ہو یا کفار سے آنکھیں ملانی ہوں تو… یہ
گیدڑ، بزدل، بھکاری اور مفرور بھگوڑے… نہ قرآن پاک ان کے دل پر اثر کرتا
ہے… اور نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک
فرامین… ان کی آنکھیں ہیں مگر بصیرت اور حقیقی بصارت سے محروم… ان کے
کان ہیں مگر حق، سچ سننے سے محروم … ان کے دل ہیںمگر زنگ آلودہ تالوں
اور زنجیروںمیں جکڑے ہوئے… کچھ بھی سمجھنے سے محروم… ان میں عقل ہوتی
تو… صدر نجیب اللہ کے انجام سے عبرت پکڑتے… قذافی کے آخری
لمحات کو دیکھتے… پرویز مشرف کے کالے انجام کو سمجھتے… جیل میں تڑپ تڑپ
کر مرنے والے اژدھے حسنی مبارک کے انجام کو دیکھتے… مگر کہاں!… یہ تو
کافروں کی ایجاد کردہ مشینیں ہیں… جو کافروں کا ہر کام کرتی ہیں… اپنے
گندے مفادات حاصل کرتی ہیں… اور پھر موت کے بھیانک گڑھے میں جا گرتی
ہیں… ساری دنیا میں شور تھاکہ… قذافی کا جانشین کون ہوگا؟… خود اس
بیچارے نے بھی کئی بار گھنٹوں سوچا ہوگا… معلوم نہیں اس معاملے پر کتنے بچے،
بھائی خوش اور کتنے ناخوش ہوئے ہونگے… معلوم نہیں اس کی خاطر کتنا وقت اور
سرمایہ برباد کیا ہوگا کہ… جانشین کون ہوگا؟… مگر سب نے دیکھا کہ
نہ’’جا‘‘ رہی نہ اس کا کوئی ’’نشین‘‘ رہا… ’’جا‘‘ کہتے ہیں جگہ اور منصب
کو… اور ’’نشین‘‘… بیٹھنے والے کے معنیٰ میں آتا ہے… (جب کسی اسم
کے بعد ہو)… یعنی اس کے بعد اس کی جگہ پر کون بیٹھے گا؟… اللہ
اکبر کبیرا… وہ مالک الملک جسے چاہتا ہے اختیار دیتا ہے اور جسے چاہتا
ہے محروم فرما دیتا ہے… اتنی پکی حکومت تھی کہ… اگلی کئی نسلوں میں جاری
رہنے کا سب کو یقین تھا… اسی لئے بعض اوقات دعوے بہت اونچے ہوجاتے
تھے… اللہ کے بندو!… اگر کوئی تمہاری بات مانے تو اس پرفخر
نہ کیا کرو… یہ عارضی معاملہ ہے…فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف جھک
جایا کرو… بڑائی اور خدائی کے دعوے اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں
ہیں… تھوڑا سوچیں! قذافی کو اس کا کون سا عمل کھا گیا؟… ظالموں کی
مدد… جی ہاں’’ظالموں کی مدد کرنا‘‘ ایک ایسا عمل ہے جو انسان کو بالکل برباد
کر دتیا ہے… بالکل برباد…
نیٹو
کی افواج کو کھانا، پینا، اسلحہ، شرابیں… اور دیگر سامان
پہنچانا… ظالموں کی مدد کرنا ہے… بلکہ خود ظلم میں شریک ہونا
ہے… ہمارے آقا اور رہبر… تمام انسانیت کے معلّم اور رسول…ہادی
عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو بار بار… اس
مہلک گناہ سے بچنے کی تاکید فرمائی… کہ ظالموں کی مدد نہ کرنا… وجہ یہ
کہ… اس گناہ کی نحوست سے… اللہ تعالیٰ کی امان اٹھ جاتی
ہے… اور انسان ذلت، ہلاکت اور مصیبت کا شکار ہو جاتا ہے… اور پوری قوم
عمومی عذاب کی لپیٹ میں آجاتی ہے… احادیث مبارکہ پر غور فرمائیں… جو
بھی کسی ظالم کی مدد کرتاہے… وہ کئی طرح کے عذابوں اور سزاؤں… کی لپیٹ
میں آجاتا ہے… مثلاً
(۱) لعنت… ایسے لوگوں پر
رحمت نہیں لعنت برستی ہے… جو ظالموں کی مدد کرتے ہیں…
(۲) اللہ تعالیٰ اور
اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایسے لوگوں سے اعلان براء ت فرماتے
ہیں… توبہ،توبہ، استغفر اللہ … جب اللہ تعالیٰ ہی کسی
کو اکیلا چھوڑ دے… تو پھر اُسے ہلاکت سے کون بچا سکتا ہے؟
(۳) جب تک ظالموں کی مدد بند نہیں کرو گے… اللہ
تعالیٰ کے غصے اور ناراضی میں رہوگے…
(۴) ظالموں کی مددکرو گے تو اُن کے ظلم اور گناہ میں
تم بھی برابر کے شریک ہو جاؤ گے…
ہمارے
حکمرانوں کو بھی دعویٰ ہے کہ… وہ حضرت آقامدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کے اُمّتی ہیں… اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو
مانتے ہیں… تو پھر یہ ان فرامین پر غور کیوں نہیں کرتے؟… ایک طرف یہ بار
بار کہتے ہیں… کہ ہم اپنی سرزمین… کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے
دیں گے… اور دوسری طرف خود اپنی سرزمین… مسلمانوں کے خلاف استعمال کرتے
ہیں… افغانستان کے طالبان… اور افغانستان کے عوام نے پاکستان کا کیا
بگاڑا ہے؟… وہ سب کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں…
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اُ
ن کے خلاف ایک کافرانہ صلیبی جنگ برپا ہے… وہ بلاشبہ مسلمان اور بلاشبہ مظلوم
ہیں… پھراُن کے خلاف صلیبیوں کی مدد کرنے کا کیا جواز ہے؟… ہم نے ماضی
میں بھی اس’’ظلم‘‘ کا وبال بھگتا… آسمانوں سے عذاب اترے، زلزلوں نے نیچے کی
زمین اوپر کر دی اور پہاڑوں کو زمین میں دھنسا دیا… بڑے بڑے گلیشیئر ہواؤں
میں اڑتے ہوئے گرے… شاید ہی اتنا بڑا بم کوئی دشمن گراسکے… پورا ملک طرح
طرح کی قتل و غارت میں لہو لہو ہوا… ملک میں سے امن نام کی نعمت مکمل طور
پرختم ہوگئی… اب نئی نسل کو تو امن کا مطلب ہی معلوم نہیں… معاشی طور پر
ہم اندھے کنویں میں جا گرے… حالانکہ معاشی استحکام کے نام پر ہی یہ کفر کیا
جارہا ہے… ارے جسم فروشی سے حاصل کیا ہوا پیسہ جب نجس اور حرام ہے تو ایمان
فروشی سے حاصل کیا ہوا پیسہ کتنا زہریلا اور خطرناک ہوگا… آج پورا ملک اس
زہر کی شدت سے تڑپ اور سسک رہا ہے… اور ملک کا دفاع ناقابل یقین حد تک کمزور
ہوا… بھارت تیزی سے ہم پر چڑھا آرہا ہے… اور ملک کی کوئی سرحد بھی
محفوظ نہیں ہے… اور پورا ملک غیر ملکی جاسوسوں کا اڈہ بن کر رہ گیا
ہے… ایک کافر مزاج، کم عقل… بلکہ پاگل شخص نے… اپنے ملک کو
بیچا… اور وجہ یہ بتائی کہ اس سے ہمیں معاشی استحکام ملے گا… اور ہم
دفاعی طور پر ناقابل شکست ہوجائیں گے… مگر نتیجہ کیا نکلا؟…بارہ سال کا تجربہ
کافی نہیں تھا کہ اپنی پالیسی بدل لی جاتی؟… ماضی میں جس پالیسی نے ملک کو
’’آگ‘‘ دی وہ پالیسی مستقبل میں کیسے ’’پھول‘‘ اُگا سکتی ہے؟… پاکستان سے
نیٹو کی سپلائی بحال ہو چکی ہے… ملک کے سینے پر شکست کا ایک اور تمغہ لٹکا
دیا گیا ہے… وہ حکمران جن کے گھر اور دل باہر ملکوں میں ہیں… وہ خوش
ہیں… اُن کے لئے نیٹو سپلائی کے بند ہونے کے دن بہت بھاری تھے… بڑے بڑے
ٹرک مسلمانوں کے قتل کا سامان ظالموں کے ہاتھوں تک پہنچانے کے لئے… دھڑا دھڑ
روانہ ہو رہے ہیں… مسلمانوں کے ٹیکس سے تنخواہیں لینے والے اسلحہ
بردار… ان ٹرکوں کی حفاظت کر رہے ہیں… امریکی اور انڈین حکومتیں پاکستان
کی بے بسی سے لطف اندوز ہو رہی ہیں… حکمرانوں کے محلّات میں جشن کا سماں ہے
کہ… اب وہ کافروں کومنہ وغیرہ دکھانے کے قابل ہو چکے ہیں… امریکی
سفارتخانے… اور سی آئی اے کو پاکستانی حکمرانوں کے رابطے دھڑا دھڑ جارہے
ہیں… ہر کوئی بتا رہا ہے کہ یہ میرا کارنامہ ہے… آگے میرا خیال رکھا
جائے تاکہ میں آپ کی مزیدخدمت کر سکوں… حرام خور تاجر خوش ہیں کہ اب اُن کی
روزی… پھر بحال ہوگئی… انہیں نوٹ ملنے چاہئیں خواہ کفر کر کے
ملیں… ہاں ہر طرف… ٹرکوں کا شور ہے… بدنما، ناخوشگوار
شور… مگر… اصل فیصلے یہاں نہیں… کسی اور جگہ ہوتے ہیں… اور
وہاں… معلوم نہیں کیا فیصلہ ہوا ہو گا… وہاں تو سب کی سنی جاتی
ہیں… اُن کمزوروں کی بھی… جو ٹرکوں کے اس شور کو سن کر… کسی مسجد
کے کونے میں بیٹھے… چپکے چپکے آنسوبہارہے ہیں… ان کی بھی جو راتوں کے
اندھیرے میں انصاف مانگنے کے لئے سجدوں میں گرے پڑے ہیں… ہاں! اُن کی بھی جن
کی دنیا میں کوئی نہیں سنتا… حکمرانو!… تم نے بہت بُرا فیصلہ کیا…
ان شاء اللہ اس کا عبرتناک انجام آسمانوں سے تمہارے
لئے اترے گا… اور جب سخت پکڑ والا پکڑنے پر آجائے تو دنیا میں کوئی بچانے
والا نہیں رہتا… یہ بڑے بڑے ایٹم بردار ملک اُس کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر
بھی نہیں… تم نے مظلوم مسلمانوں کے خلاف کافروں کی مدد کا فیصلہ کرکے کلمہ
طیبہ کی اہانت کی ہے… اور تم نے اپنی جانوں پر… اور پورے ملک پرظلم عظیم
کیا ہے … یہ پیارا ملک… یہ سرسبز ملک… یہ اذانوں سے گونجنے
والا ملک… یہ مہاجروں کے خون اور مجاہدین کے عزم سے آباد ملک… تم نے
اپنی ہوس پرستی کے لئے برباد کر دیا ہے…تمہیں طاقت ملی مگر وہ تم نے دین کے خلاف
استعمال کی… تمہیں اسباب ملے مگر اُن سے تم نے کوئی خیر نہ کمائی… تمہیں
اختیارات ملے مگرتم اپنے نفس اور شیطان کو پالتے رہے… پھر چند دن کے وقفے کے
بعد… تم نے ظالموں کی بھرپور مدد پھر شروع کر دی… صرف اتنا بتاؤ!… اس
فیصلے کے خلاف لانگ مارچ تم روک لو گے… جلسے جلوس تم روک لو گے… مگر عرش
سے جو لعنت، عذاب اور پکڑ آئے گی… اُس کو تم کیسے روکو گے؟؟؟…
اللھم
اغفرلنا ذنوبنا واسرافنا فی امرنا وثبت اقدامنا
وانصرنا
علی القوم الکافرین
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ کا عظیم احسان… رمضان المبارک کی نعمت… سبحان اللہ !
روزہ… جہنم کی آگ کے لئے مضبوط ڈھال… سبحان
اللہ … تراویح، قرآن… اور مغفرت کے خزانے… یا
اللہ ! آپ کے احسانات بے شمار… اوران احسانات میں سے ایک بڑا
احسان… رمضان المبارک ہے… شکر کا حق ہم کہاں ادا کر سکتے ہیں؟… آپ
توفیق دے دیجئے کہ ہم… رمضان المبارک کی صحیح قدر کریں… اور یہ مہینہ
ہمارے لئے… مغفرت، رحمت اور جہنّم سے نجات کا’’موسم بہار‘‘ بن
جائے… ایک’’عالم دین‘‘ نے عجیب قصہ لکھا ہے… اُن کی ملاقات ایک ’’نو
مسلم‘‘ سے ہوئی… بہت پکّا ، نیک اور سچا مسلمان… پوچھا! اسلام کی توفیق
کیسے ملی؟… کہنے لگا… ہمارے گاؤں میں ایک دن شام کے وقت میں نے
مسلمانوں کو دیکھا کہ… جمع ہو کر آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں… ان کی
آنکھوں میں ایسی چمک تھی اور ایسا شوق کہ میں حیران رہ گیا… یوں لگتا تھا کہ
آسمان سے کوئی بہت بڑا خزانہ اترنے والا ہے اور یہ اس پر جھپٹنے کے لئے بیتاب
ہیں… اچانک ایک مسلمان نے چیخ کر کہا… ھلال ، ھلال… باقی تمام
مسلمانوں نے خوشی سے نعرہ تکبیر بلند کیا… اور مسرّت سے ان کی آنکھیں آنسو
بہانے لگیں… میرے لئے یہ پورامنظر حیران کن تھا… میں نے ایک مسلمان سے تفصیل
پوچھی، اس نے بتایا کہ… رمضان المبارک کا چاند نظر آگیا ہے… اور اسی کی
خوشی میں سرشار ہیں… رمضان المبارک میں کیا ہو گا؟… میں نے
پوچھا… مسلمان نے بتایا کہ روزہ رکھیںگے … تراویح پڑھیں
گے… روزہ کیا چیز ہے؟… بتایا کہ بارہ پندرہ گھنٹے روزآنہ بھوکے پیاسے،
بیوی سے دور… اور تراویح رات کو ڈیڑھ دو گھنٹے کھڑے ہو کر اللہ
تعالیٰ کا کلام سننا… میری حیرت حد سے بڑھ گئی… ساری دنیا کھانے
پینے اور شہوت پوری کرنے کے لئے مر رہی ہے، آپس میں لڑ رہی ہے… انہیں چیزوں
کو پانے کے لئے لاکھوں افراد قتل کئے جاتے ہیں… اور دن رات محنت کی جاتی
ہے… مگر یہ مسلمان… انہیں چیزوں کو پورا مہینہ چھوڑے رکھیں گے… اور
اس پر وہ خوشیاں بھی منار ہے ہیں… بھائی اس پر تمہیں کیا ملے گا… جواب
آیا… اللہ تعالیٰ ملے گا، اس کی مغفرت ، رحمت ملے گی… جنتِ
فردوس ملے گی… دل کو سکون ملے گا… مسلمان کی باتوں نے میرے دل پر دستک
دی… اور میں نے ارادہ کر لیا کہ… کل سے میں بھی مسلمانوں کے ساتھ روزہ
رکھوں گا… اور تراویح ادا کروں گا… ابھی اسلام قبول نہیں کیا… روزے
کا طریقہ سیکھا… صبح سحری کھا تا اور مغرب کی اذان کے ساتھ افطار
کرتا… رات کو تراویح میں شامل ہو جاتا…کچھ آتا جاتا تھا نہیں… قیام،
رکوع سجدے مسلمانوں کو دیکھ کر اُن کے ساتھ کرتا رہتا… مگر یہ
کیا؟… میرے دل کی حالت بدلنا شروع ہو گئی… ہر روزے کے ساتھ نئی
قوت… اور ہر تراویح کے ساتھ نیا سکون… چند ہی دن میں میری دنیا ہی بدل
گئی… میرے اندر ایسی کیفیت سکون اور اطمینان کی پیدا ہوئی کہ… جس کا میں
نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا… کیا ایک انسان اتنا پُر سکون بھی ہو سکتا
ہے؟… پندرہ دن گزر گئے… ایک دن امام صاحب نے مجھے دیکھ لیا… اُن کو
اجنبیت محسوس ہوئی تو مجھے بُلا کر تعارف پوچھا… میں نے ساری کہانی سُنا
دی… امام صاحب بے حد خوش ہوئے اور پوچھا اب کیا ارادہ ہے؟… میں نے کہا
اسلام… انہوں نے مسلمانوں کو جمع کیا اور ساری تفصیل بتائی تو پوری مسجد
تکبیر کے نعروں سے گونجنے لگی… میں نے کلمہ طیبہ پڑھا… اور مسلمان ہو
گیا… مسلمانوں نے مجھے کہا… آپ کو رمضان المبارک نے مسلمان کیا
ہے… اس لئے آپ کا نام’’رمضان‘‘ رکھ دیتے ہیں…
سبحان
اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم
رمضان
المبارک کی برکت سے’’کلمہ طیبہ‘‘ جیسی عظیم دولت ہاتھ آگئی… کیا خیال
ہے؟… اس رمضان المبارک میں ہم بھی اپنے ’’دل‘‘ کو کلمہ طیبہ پڑھا
دیں؟… ظالم کبھی کہاں بھٹکتا ہے اور کبھی کہاں؟… اللہ
تعالیٰ میرے اور آپ سب کے دل کو کلمہ طیبہ کی حقیقت نصیب فرمائے… حضرت
مجدّد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
’’
اللہ تعالیٰ کے غضب کو ٹھنڈاکرنے والی اس کلمہ سے زیادہ کوئی چیز نفع
بخش نہیں‘‘… یعنی ہمارے بُرے اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا جو
غضب آتا ہے اُسے سب سے زیادہ ٹھنڈا کرنے والی چیز یہی کلمہ طیبہ ہے…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
آگے
ایک عجیب نکتہ لکھتے ہیں… دل سے پڑھیں تو حال طاری ہو جائے… فرماتے ہیں:
’’یہ
فقیر اس کلمہ طیبہ کو رحمت کے اُن ننانوے خزانوں کی کنجی محسوس کرتا ہے جن کو
آخرت کے لئے ذخیرہ کیا گیا ہے‘‘
سبحان
اللہ ! اللہ تعالیٰ نے ایک رحمت زمین پر اتاری… اسی رحمت
کی بدولت ماں بیٹے سے اور تمام مخلوقات ایک دوسرے سے ہمدردی کرتے ہیں… جبکہ
ننانوے رحمتیں اللہ تعالیٰ نے آخرت کے لئے ذخیرہ فرما دیں… حضرت
رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ اُن ننانوے رحمتوں کو حاصل کرنے کی کنجی’’لا الہ الا
اللہ ‘‘ ہے…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
آگے
تحریر فرماتے ہیں:
’’نیز
اس کلمے کے فضائل میں سے بھی کچھ سنو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا :
{من
قال لا الہ الا اللہ دخل الجنۃ(مشکوٰۃ) }
جس
نے (صدق دل سے) لا الہ الا اللہ کہا وہ جنت میں داخل ہو
گیا… کوتاہ نظر تعجب کرتے ہیں کہ صرف ایک مرتبہلا الہ الا اللہ
کہنے سے کس طرح جنت میں داخلہ میسّر ہو جائے گا، لیکن وہ لوگ اس کلمہ طیبہ
کی برکات سے واقف نہیں… اس فقیر کو محسوس ہوا ہے کہ اگر تمام عالم کو بھی صرف
ایک مرتبہ کلمہ طیبہ(صدق دل سے) پڑھ لینے پر بخش دیں اور جنت میں بھیج دیں تو بھی
گنجائش ہے… اور یہ بھی نظر آتا ہے کہ اس مقدس کلمہ کی برکات کو اگر تمام
عالَم پر تقسیم کر دیں… تو ہمیشہ کے لئے سب کو کافی ہوں گی… اور سب کو
سیراب کر دیں گی‘‘…(مکتوبات تسھیل)
سبحان
اللہ … رمضان المبارک آرہا ہے… بھائیو! او ربہنو! ہم سب
کلمہ طیبہ حاصل کر لیں… زیادہ سے زیادہ اس کلمہ کا ذکر کریں… اسے اپنے
دل میں بٹھائیں… اور زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو اس کی طرف متوجہ
کریں… اور اس کلمہ طیبہ کی عزت و عظمت کے لئے جہاد فی سبیل اللہ
میں زیادہ محنت کریں… کسی نے بہت عجیب نکتہ لکھا ہے…
فرماتے
ہیں… بعض لوگوں کا خیال ہے کہ روزہ کمزور کرتا ہے… حالانکہ مسلمانوں کی
اہم ترین فتوحات رمضان المبارک میں ہوئیں… معلوم ہوا کہ روزہ انسانوں کو
طاقتور کرتا ہے… ان کی روح بھی طاقتور ہو جاتی ہے… اور جسم بھی طرح طرح
کی بیماریوں اور آلائشوں سے پاک ہو جاتاہے… تیونس کا نام تو آپ نے سنا
ہوگا؟… یہ ایک اسلامی ملک ہے… عرب ممالک میں جو عوامی احتجاجی تحریکیں
شروع ہوئیں… اُن کا آغاز تیونس سے ہوا… اور عوام کا احتجاج کامیاب
رہا… تیونس کے سابق حکمران بھی… پاکستانی حکمرانوں کی طرح دین میں
مداخلت کرتے رہتے تھے… ایک حکمران نے باقاعدہ علماء کی ایک شوریٰ بنائی اور
اس کے ذمہ یہ کام لگایا کہ … رمضان المبارک کے روزے منسوخ کر دیئے
جائیں… وجہ یہ ہے کہ گرمی زیادہ ہوتی ہے… دن لمبے ہوتے ہیں… اور
روزہ رکھ کر سرکاری ملازم دفتری کام کاج کا حق ادا نہیں کر سکتے… جبکہ دفتری
کام بے حد ضروری ہوتا ہے… علماء کہلانے والوں میں بھی طرح طرح کے لوگ ہوتے
ہیں… کچھ غامدی جیسے… کچھ وحید الدین جیسے… کچھ ذاکر نائیک
جیسے… اس طرح کے کچھ علماء بھی حکومت کی تائید کرنے لگے کہ… دین اسلام
آسانی والا دین ہے جبکہ روزہ مشکل ہے… دنیا کے حالات اور موسم تبدیل ہوچکے
ہیں… چنانچہ روزہ منسوخ کر کے کچھ تھوڑا بہت فدیہ مقرر کر دیا جائے…
الحمدللہ روئے زمین پر حقیقی علماء،
مجاہدین اور اہلِ عزیمت کی کمی نہیں ہے… تیونس کے مشہور عالم الشیخ طاہر نے
اس فتنے کا مقابلہ کیا… اور جب حکومت نے انہیں ٹی وی پر روزے کی منسوخی کا
فتویٰ دینے کے لئے بٹھایا تو… انہوں نے قرآن پاک میں سے روزے کی فرضیت والی
آیت پڑھی… اور فرمایا اللہ تعالیٰ سچ فرماتے ہیں اور ہمارے
حکمران جھوٹے ہیں… بس اسی وقت اس فتنے کا دروازہ بند ہو گیا… یاد
رکھیں!… رمضان المبارک کی اصل عبادت روزہ ہے… اور روزہ ایسا مقبول عمل
ہے جس کا بدلہ اللہ تعالیٰ خود عطاء فرمائیں گے… اس وقت اسلام
آباد میں کچھ لوگ اس موضوع پر لیکچر دیتے پھر رہے ہیں کہ… روزہ کی جگہ فدیہ
دے دو… کوئی مسلمان اُن کی باتوں میں نہ آئے… یہ لوگ مسلمانوں کو اسلام
سے کاٹنا چاہتے ہیں… اور انہیں کمزوری کی آخری حد میں پھینکنا چاہتے
ہیں… یہ لوگ دعویٰ’’تصوف‘‘ کا کرتے ہیں جبکہ مسلمانوں کو
کبھی … روز ے سے روکتے ہیں… کبھی حج سے روکتے ہیں… کبھی
قربانی کے خلاف اکساتے ہیں… اور کبھی جہاد کے خلاف اُن کی ذہن سازی کرتے
ہیں… روزہ ایک ایسی طاقتور عبادت ہے جو مسلسل چودہ پندرہ گھنٹے جاری رہتی ہے… اور
اس دوران روزے دار کی زندگی کا ہر منٹ اور ہر سیکنڈ عبادت میں شمار کیا جاتا
ہے… روزے دار سے اللہ تعالیٰ کی محبت کا یہ عالم ہے کہ ارشاد
فرماتے ہیں… روزہ میرے لئے ہے… سبحان اللہ ! فرمایا روزہ میرے لئے
ہے… اور میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا… یا میں خود ہی اس کا بدلہ ہوں… یعنی
روزے دار کو اللہ تعالیٰ مل جاتا ہے… رمضان المبارک کی اصل اور
بڑی عبادت’’روزہ‘‘ ہے… اس لئے اپنے روزے کو بہترسے بہتر بنانے کی محنت کرنی
چاہئے جس کے کچھ طریقے ہیں…
(۱) روزے کے فضائل معلوم
کریں… ان شاء اللہ القلم اس سلسلے میں آپ کے ساتھ تعاون کرے
گا… اور روزے کے فضائل پر مضامین آتے رہیں گے…
(۲) روزے کے لئے رزق حلال کا
اہتمام کریں…
(۳) روزے کے مسائل معلوم کریں تاکہ کسی غلطی کی وجہ
سے یہ عظیم المرتبت عبادت خراب نہ ہو جائے…
(۴) سحری تأخیر سے کرنے اور افطاری جلدی کرنے کا
اہتمام کریں…
(۵) روزے میں اپنے تمام اعضاء اور حواس کو بھی روزہ
رکھوائیں خصوصاً زبان… آنکھ… کان… اوردل کی خاص حفاظت رکھیں…
(۶) کھانے پینے میں اعتدال سے
کام لیں… زیادہ کھانے سے روزہ اور رمضان دونوں متأثر ہوجاتے ہیں…
آج
رمضان المبارک کی’’خصوصیات‘‘ پر کچھ لکھنا تھا… مگر جگہ پوری ہو
گئی… اور موقع نہ ملا… مبارک ہو ان مسلمانوں کو جو رمضان المبارک
میں… ایک مبارک ایمانی مہم میں محنت کرکے اپنی آخرت کے لئے… بڑا ذخیرہ
جمع کر رہے ہیں…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰھم
صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ کی رحمتیں رمضان المبارک میں موسلا دھار برستی ہیں… ماشاء
اللہ اس سال بھی خوب برس رہی ہیں… آج رنگ و نور کی تیاری میں
تھا کہ… اپنے مرشد اورشیخ سحضرت مفتی ولی حسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے علمی
اور روحانی ملاقات نصیب ہو گئی… کسی زمانے حضرت شیخ کے ساتھ رمضان المبارک کے
چند دن مکہ مکرمہ… اور چند دن مدینہ منورہ میں گذارنے کی توفیق ملی
تھی… حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں پیری مریدی کا نظام عام خانقاہوں سے بالکل
مختلف تھا… نہ دعوے نہ کشف… نہ خواب نہ خیالات… حضرت رحمۃ اللہ
علیہ کا کوئی مرید جب کسی دوسرے بزرگ کے ہاں جاتا تو بعض اوقات احساس کمتری کا
شکار ہو جاتا… دعوے، خواب ،مکاشفات اور معلوم نہیں کیا کیا… حضرت رحمۃ
اللہ علیہ تو اکثر خاموش رہتے تھے… اورجب بھی اپنے بارے میں کچھ فرماتے تو اس
میں دعویٰ تو دور کی بات ا پنی کمزوری اور تواضع ہی ہوتی تھی… ایک صوفی صاحب
کو حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی دعاء سے فائدہ ہوا، اٹھارہ سال بعد… حضرت رحمۃ
اللہ علیہ کے دم کئے ہوئے انڈے استعمال کئے تو اللہ تعالیٰ نے اولاد
عطاء فرمادی… بڑی بات تھی اس لئے اُن کو عقیدت ہو گئی… سفر میں ساتھ ہو
لئے اور پھر دل پکڑ کر بیٹھ گئے کہ یہ کیا؟… سادگی ہی سادگی… نہ بات بات
پر ٹوکنا اور نہ اپنے فضائل بولنا… صوفی جی کا فی بدمزہ ہوئے… حضرت رحمۃ
اللہ علیہ مزا ح بھی فرماتے تھے… کبھی کوئی علمی لطیفہ بھی سنا دیتے
تھے… اور مجلس میں چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر ٹوکنے کی بالکل عادت نہیں تھی… صوفی
صاحب! شائد ان جگہوں کے عادی تھے کہ… جہاں داخل ہوتے ہی احکامات اور آداب کی
بارش برس پڑتی ہے… سلام کریں تو فوراً اصلاح کہ اس طرح
نہیں… یوں کرتے ہیں… پھر بیٹھیں تو فوراً حکم کہ اس طرح نہیں بیٹھتے،
یوں بیٹھتے ہیں… پھرمصافحہ کریں تو فوراً گرفت کہ یہ کیا؟… مصافحہ کا
طریقہ بھی نہیں آتا؟… ایک لمبا درس اور مصافحہ کے آداب پر سیر حاصل
گفتگو… معلوم نہیں یہ طریقہ اچھا ہے یا نہیں… مگر میرے حضرت رحمۃ اللہ
علیہ کے ہاں بالکل نہیں تھا…
کافی
عرصہ پہلے ایک بار دبئی جانا ہوا… وہاںایک صوفی صاحب کو ہم سے کچھ عقیدت
ہوگئی… کھانے پر اپنے گھر لے گئے… کھانے سے پہلے’’ہمارے‘‘ ایمان
کاامتحان لینے کے لئے کیلے لے آئے کہ… یہ سنت کے مطابق کھاتے ہیں یا
نہیں؟… ہم نے بھی جان بوجھ کر صوفی صاحب کے پسندیدہ طریقے کے برخلاف
کھائے… بس پھر کیا تھا… غم، افسوس اور درد کی وجہ سے اُن کے چہرے کا رنگ
ہی بدل گیا… بات کرتے تو آواز گلے میں دھنس جاتی… عجیب بے کلی، بے تابی
اور بے چینی میں کروٹیں بدل رہے تھے کہ… ہماری اصلاح کس طرح
کریں… بالآخر اپنی چھوٹی سی بچی کو اٹھا کر لائے اور کہا بیٹی! سنت کے مطابق
کیلا کھا کر دکھاؤ… اُس بچی نے باپ کی سنت کے مطابق کھایا… تب ہم نے
صوفی صاحب کی کلاس لے لی… عرض کیا… آپ نے جہاد میں کچھ وقت گزارہ
ہے؟… اللہ تعالیٰ کے راستے کا غبار آپ کو نصیب ہوا ہے؟ کشمیر
میں ہزاروںمسلمان شہید ہوئے کبھی آپ کو اس طرح کی بے کلی، بے چینی اور غم اُن پر
بھی پہنچا؟… عجیب لوگ ہیں… چھوٹی چھوٹی باتوں کو دین کی بنیاد سمجھ رکھا
ہے… اور لوگوں کی زندگی عذاب میں ڈال رکھی ہے… کسی بزرگ کو کوئی لفظ
پسند نہیں تو… اُن کے مرید وہ لفظ بولنے پر بڑے بڑے علماء اور مجاہدین کو ٹوک
دیتے ہیں… بہت محبت سے کسی کی کتاب اٹھائیں گے… اس میں’’انقلاب‘‘کا لفظ
آتے ہی کتاب پھینک دیں گے… ارے اللہ کے بندو!… کسی کو
انقلاب کا لفظ پسند نہیں… تو نہ ہو… اچھی بات ہے مگر یہ لفظ حرام کیسے
ہو گیا؟… اور حق اور باطل کا معیار کیسے بن گیا؟…
اسلام
میں سلام کرنے اور ملاقات کرنے کے بارے میں بہت وسعت ہے… دو ہاتھ کامصافحہ
بھی آیا ہے… امام بخاری سنے باقاعدہ باب باندھا ہے… اور ایک ہاتھ سے
مصافحہ کی بھی گنجائش ہے… باقاعدہ روایت موجود ہے… ملنے جلنے کے لئے بھی
کئی طرح کے الفاظ آئے ہیں… آنے اور رخصت ہونے کے لئے بھی کئی طرح
کے طریقے مختلف حالات میں وارد ہوئے ہیں… خلاصہ یہ کہ… بہت
گنجائش والا مسئلہ ہے… مگر آپ بعض لوگوں کو دیکھیں گے کہ اس معاملے
پر… اچھے خاصے لوگوںکی برسر عام بے عزتی کر دیتے ہیں… اور پھر نعوذ
باللہ اسے اپنا کارنامہ سمجھتے
ہیں… اسلام کے فرائض… اور محکم عقائد کا لوگوںکو پتا نہیں… اور ان
حضرات نے اپنے ’’ذوق‘‘ اور اپنے ’’ آداب‘‘ کو دین بنا دیا ہے… ایک بار
افریقہ جانا ہوا… ایک بزرگ نے حال پوچھا تو عرض کیا الحمدللہ خیریت ہے… یہ سنتے ہی وہ اصلاح فرمانے لگے
کہ… مدینہ منورہ میں ایک بزرگ ہیں انہوں نے منع فرمایا ہے کہ… خیریت
ہے… کے الفاظ نہ کہا کرو… اس زمانے میں کہاں خیریت ہے؟… ہمارے ساتھ
ایک عالم دین تھے مشکوٰۃ تک کتابیں پڑھاتے تھے انہوں نے اصلاح کرنے والے
بزرگ… اور اُن کے پیچھے جو بزرگ تھے دونوں کی کلاس لے لی کہ… کیسی فضول
اور جاہلانہ بات آپ لوگ اتنے ڈنکے کی چوٹ پر پھیلا رہے ہیں… کئی احادیث میں
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ… میری امت
اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک فلاں کام کرتی رہے
گی… ایسے کئی کام الحمدللہ آج بھی اُمت میں موجود ہیں… سعودی
عرب میں ایک بیان کے خطبے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کے لئے’’سندنا‘‘… کے الفاظ ادا کر دیئے…
شیخ
البانی سکے ایک مرید بیان کے بعد الگ لے گئے اور اصلاح کرنے لگے… اُن کی
توجہ’’مسند احمد‘‘ کتاب کے نام تک نہیں تھی مگر… اپنے شیخ کا ذوق نافذ کرنے
کی ان کو فکر تھی… ویسے عربوں میں اب بیان کرنے والوں کو… بڑی سہولت
ہوگئی ہے… کوئی بھی روایت بیان کر کے کہہ دیں… صححہ الالبانی… بس
پھر نہ امام بخاری سکے نام کی ضرورت… اور نہ امام ذہبی سکی توثیق
کی… بات دور نکل گئی… حضرت شیخ مفتی ولی حسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے
ہاں… مجالس میں زیادہ روک ٹوک کی ترتیب نہیں تھی… وہ صوفی صاحب جو عقیدت
میں ساتھ چل پڑتے تھے ان کی نظر سحری اور افطاری کی پلیٹوں پرہوتی تھی… بڑا
دسترخوان لگتا تھا اور حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ اس دسترخوان کے منتظم
ہوتے تھے… ان کی قیادت میں دستر خوان لگتا… اور پھر وہ اور چند دیگر ہم
جیسے چھوٹے آخر میں دستر خوان پرکھانا بھی کھاتے اور صفائی بھی کردیتے… صوفی
جی! سب کچھ بھول گئے… حضرت مفتی ولی حسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا علم،
تقویٰ… فتویٰ میں مثالی مہارت… سالہا سال سے بخاری اور ترمذی کا درس
حدیث… پاکدامن اور عفیف زندگی… مال کی محبت سے بے حد دوری… تصنع
اور بناوٹ سے نفرت… اور بہت سے خصائل حمیدہ… خاص طور پر دنیا کے ایک بڑے
خطے پر پھیلا ہوا دینی کام… حقیقت میں سچا پیر اور مرشد برحق وہی ہوتا ہے
کہ… جس سے بیعت کرنے کے بعد خدمت دین کے دروازے کھلنا شروع ہو
جائیں… ساری دنیا کے انسان خسارے میں ہیں… مگر وہ لوگ خسارے سے بچ جاتے
ہیں… جو ایمان و عمل پر بھی ہیں… اور دین کی بھرپور ، قربانی والی خدمت
اور کام بھی کر رہے ہیں… سورۃ العصر پر غور فرما لیجئے… مگر صوفی جی کے
ہاں حضرتؒ کے نیک ہونے کے لئے ضروری تھا کہ… آپ دستر خوان پر بیٹھ کر اپنے
رفقاء کے لقمے ٹھیک کراتے رہیں… اُن کے منہ کی آواز پر سلینسر دباتے
رہیں… اور آخرمیں ایک ایک کو ٹوک کر پلیٹیں چمکاتے رہیں… کھانے کی
سنتوں… اور ان سنتوں کے اہم ہونے سے قطعاً انکار نہیں… ہر مسلمان کو
بھرپور اہتمام کرنا چاہئے… مگر ہر چیز کی دعوت کا الگ مقام اور موقع ہوتا
ہے… اور اصلاح کے طریقے الگ الگ ہوتے ہیں… صوفی جی نے بالآخر درد
و غم میں تڑپ کر بندہ کے سامنے شکوہ کر ہی دیا… کہ حضرت کے ہوتے ہوئے یہ منظر
بہت بُرا لگتاہے… اس کے بعد جو کچھ ہوا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ… صوفی جی
یہ بات کر کے کافی پچھتائے… کیوں؟… یہ آپ خود سوچ لیں… رمضان
المبارک کے بارے میں… حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا ذوق کیا تھا… اسے سمجھنے
کے لئے حضرتؒ کامضمون… رمضان اور قرآن… پڑھ لیجئے… ان شاء اللہ دل کی آنکھیں کھل جائیں گی… آج کی
مجلس میں اس مضمون کے چند اقتباسات سے روشنی حاصل کرتے ہیں …
حضرت
رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:
’’حضرت
ابن عباس رضی اللہ عنہماکی روایت ہے:
رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی
تھے… اور رمضان میں سب سے زیادہ سخی ہو جاتے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ
وسلم سے جبرئیل ملتے تھے… وہ آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کے پاس رمضان کی ہررات آتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ
وسلم سے قرآن کا دور کرتے تھے… رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم بادبہاری سے زیادہ خلق اللہ کی نفع رسانی میں
سخی تھے‘‘…(یعنی ہوا سے بھی زیادہ سخاوت فرماتے)
حافظ
ابن حجرس عسقلانی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:
قرآن
کریم کا دور آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں غناء نفسی زیادہ کر دیا کرتا
تھا…(یعنی دل کا غناء اور سخاوت) اور غناء نفسی ہی جودو سخا کا سبب ہوتا
ہے… علاوہ ازیں رمضان کامبارک مہینہ اللہ تعالیٰ کی خیر رسانی کا
زمانہ ہے… (یعنی اس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو زیادہ خیریں
عطاء فرماتے ہیں) کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اپنے بندوںپر اس مہینہ
میں بہت زیادہ ہوتی ہیں ، اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم اللہ تعالیٰ کی اس سنت(یعنی طریقے) کا اتباع کرتے تھے، غرض یہ سب
چیزیں آپ کو سخی سے سخی تر بنا دیتی تھیں…
اس
حدیث سے بہت سے فوائد حاصل ہوئے جن میں چند درج ہیں:
(۱) مسلمانوں
کوہر زمانہ میں سخاوت اختیار کرنی چاہئے(۲) رمضان میں سب سے
زیادہ سخی ہونا چاہئے(۳)اہل
صلاح اور تقویٰ سے ملاقات کا فائدہ بھی حاصل کرنا چاہئے کہ ان کی ملاقات
سے اچھے اخلاق میں اضافہ ہو(۴) رمضان میں قرآن
کریم کی سب سے زیادہ تلاوت کرنی چاہئے(۵) قرآن کریم سب سے
افضل ذکر ہے کیونکہ اگر اس سے افضل کوئی ذکر ہوتا تو رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم اس کو اختیار فرماتے۔(رمضان اور قرآن تسھیل)
تحریر
فرماتے ہیں:
’’رمضان
کی وجہ تسمیہ کے بارے میں امام رازی سنے چار قول نقل کئے ہیں، ہم صرف دوپر اکتفا
کرتے ہیں…
(۱) خلیل بن احمد نحوی نے کہا کہ
یہ’’رمضا‘‘ سے بنا ہے،’’رمضا‘‘ وہ بارش ہے جو موسم خریف سے پہلے ہوتی ہے اور زمین
کو غبار سے پاک و صاف کر دیتی ہے اسی طرح رمضان کا بابرکت مہینہ جسم و روح کو پاک
و صاف کر دیتا ہے۔
(۲) بعض نے کہا کہ رمضان اصل میں
اللہ تعالیٰ کا نام ہے اور اسی پر اس مہینہ کا نام رکھا
گیا… مطلب یہ ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سامنے گناہ
گاروں کے گناہ جل کر ختم ہوجاتے ہیں، اسی طرح اس مہینہ کی برکتوں کی وجہ سے گناہ
گاروں کے گناہ جل جاتے ہیں…(رمضان اورقرآن)
اللہ
تعالیٰ توفیق دے تو پورا مضمون پڑھ لیں… ان شاء اللہ ایمان کو قوت اور تازگی نصیب
ہوگی… رحمتوں والا مہینہ… اللہ تعالیٰ کی بے حد سخاوت والا
مہینہ… رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیادہ سخاوت والا
مہینہ… نوافل کو فرضوں جیسا قیمتی اور فرائض کو ستر گنا طاقتور کرنے والا
مہینہ… مسلمانوں کی مغفرت اور جہنم سے نجات کا مہینہ… اسلام کی عزت،
عظمت اور فتوحات والا مہینہ… رمضان المبارک تیزی سے جارہا ہے… تین روزے
گذر گئے اور چوتھے کی رات جاری ہے… دن بھی رحمت اور رات بھی رحمت… انفاق
فی سبیل اللہ کی مہم… ان رحمتوں کو لوٹنے کا بہترین ذریعہ ہے… یا
اللہ اس مہم پر خصوصی رحمت، نور اورسکینہ نازل فرمائیے… اور اس
مہم میں شریک ہر فرد کو اپنی خاص رحمت، نور، نصرت ، مغفرت اور سکینہ عطاء فرمائیے…
آمین
یا ارحم الراحمین
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ مجھے اورآپ سب کو اس رمضان المبارک میں… اپنی رحمت اور مغفرت
عطاء فرمائے… رمضان المبارک کو جو لوگ جانتے تھے اور سمجھتے تھے… ان کی
کوشش ہوتی تھی کہ رمضان المبارک میں تین کاموں کا زیادہ اہتمام کریں… (۱) جہاد
فی سبیل اللہ …(۲) تلاوت
قرآن کریم(۳) اللہ
تعالیٰ کے راستے میں زیادہ سے زیادہ مال خرچ کرنا…
ہم
جیسے کم سمجھ لوگ تو جانتے ہی نہیں کہ رمضان المبارک کا کیا مقام ہے؟… پھر
بھی ہمیں اپنے سمجھدار اسلاف کی نقل اتارنی چاہئے… کیا بعید کہ کسی دن ہمیں
بھی رمضان المبارک کی حقیقت معلوم ہو جائے… ایک اورستر(۷۰) کے درمیان کتنا
فرق ہوتا ہے؟… اگر کسی بڑی مارکیٹ میں اعلان ہو جائے کہ آج یہاں ستر روپے
والی چیز ایک روپے کی ملے گی… اور ہر سامان ستر گنا سستا ملے گا تو اندازہ
لگائیں کہ… وہاںکتنی مخلوق ٹوٹ پڑے گی؟… ستر لاکھ والی گاڑی ایک لاکھ
میں… پانچ سو روپے والا کپڑا صرف چھ روپے میں… سترروپے کلو والا پھل ایک
روپے میں… رمضان المبارک کا عام دنوں کے ساتھ نفع کا فرق کم از کم سترگنا
ہے… عام دنوں میں ستر روپے خرچ کرنے پر جو اجر ملتا ہے وہ رمضان المبارک میں
ایک روپیہ خرچ کرنے پر مل جاتا ہے… آپ سوچیں کہ فرض اور نفل کے درمیان کتنا
بڑا فرق ہے؟… کہتے ہیں کہ ساری دنیا کے نوافل مل کر ایک فرض کے برابر نہیں ہو
سکتے… مگر رمضان المبارک میں نفل کو فرض والا اجر عطاء کر دیا جاتا
ہے… میرے عظیم رب کی سخاوت بھی بے اندازہ ہے… اچھا یہ بتائیں کہ ایک اور
تیس ہزار میں کتنا فرق ہے؟… اگر کوئی تاجر اعلان کر دے کہ میرے کاروبار میں
ایک روپیہ لگاؤ میں اس ایک روپے کو… تیس ہزار بنا دوں گا… دو روپے
لگاؤ تو ساٹھ ہزار بنا کر واپس کروں گا… ممکن ہے کوئی اس کی بات کا یقین ہی
نہ کرے… کہاں ایک روپیہ اور کہاں تیس ہزار؟… یہاں گوجرانوالہ میں
ایک’’ڈبل شاہ‘‘ تھا… بعد میں حکومت نے پکڑ لیا اس کا دعویٰ تھا کہ وہ رقم کو
دگنا یعنی ڈبل کر دیتا ہے… یعنی ایک روپیہ کے دو روپے… لوگوں کی بھیڑ اس
پر ٹوٹ پڑی… کتنے لوگوں نے صرف ڈبل کے لالچ میں لاکھوں کروڑوں روپے گنوا
دیئے… مگر رمضان المبارک میں… ایک سے تیس ہزار بنانے کا سچا اعلان
ہے… پھر بھی ہم اس مہینے کو غفلت اور سستی میں ضائع کرتے
ہیں… اللہ تعالیٰ مجھ پر اور آپ سب پر رحم فرمائے… فرمایا
لیلۃ القدر ایک ہزار مہینوں سے افضل ہے… ایک ہزار مہینوں میں تیس ہزار راتیں
ہوتی ہیں … تو ایک رات کا اجر و ثواب… تیس ہزار راتوں سے
زیادہ… ہماری بڑی کمزوری یہ ہے کہ… ہم اپنی ذات کا فائدہ کم سوچتے
ہیں… ہمیں ہروقت دوسروں کی فکر لگی رہتی ہے… اپنی ذات کا فائدہ یہ ہے
کہ… ہم اپنی ذات کو جہنّم اور گرم عذاب سے بچانے کیلئے زیادہ محنت
کریں… زیادہ خرچ کریں… اور زیادہ قربانی دیں… ہم جو مال بچا بچا کر
رکھتے ہیں یہ تو ہمارا نہیں ہے… ہماری ذات کو اس سے کیا فائدہ؟… سورہ
محمد میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں… اے لوگو! تمہیں اللہ
تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کے لئے بلایا جاتا ہے… پھر تم میں سے کچھ
لوگ بخل کرتے ہیں… اور جو بخل کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی پر بخل کرتا
ہے… یعنی اپنے آپ سے کنجوسی… کیونکہ اگر خرچ کر دیتے تو اپنا فائدہ
ہوجاتا، اپنی ذات کا بھلا ہو جاتا… خرچ نہیں کیا تو یہ مال یا ورثاء کھا
جائیں گے یا چور،ڈاکو اور ڈاکٹر… اوراپنی ذات کا نقصان ہوا کہ خرچ کرنے سے
اسے آخرت کی جوراحت ملنی تھی وہ نہ ملی… حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ بہت
اونچی اور عجیب باتیں فرمایا کرتے تھے… اُن کے ایک فرمان کا مفہوم
سنیں!… تمہارے ما ل کے پیچھے کئی چیزیں لگی ہوئی ہیں… یہ چیزیں تمہارا
ہر طرح کا مال جھپٹنے کے لئے تیار رہتی ہیں… وہ مال قیمتی ہو یا
گھٹیا… پہلی چیز تقدیر ہے…اچانک چوری ہو گئی… ڈاکہ پڑ گیا… مال گم
ہو گیا… کوئی ایسی بیماری آئی کہ علاج پر سب کچھ لگ گیا… مال جل گیا یا
ڈوب گیا… وغیرہ وغیرہ… تقدیر کے یہ فیصلے جب آتے ہیں تو ہر طرح کا مال
سمیٹ کر لے جاتے ہیں…
دوسری
چیز موت ہے… موت اچانک آتی ہے اور سارا مال چھین لے جاتی ہے… بڑے سے
بڑے بادشاہ اور سیٹھ موت کے ایک جھٹکے سے ایسے فقیر ہوتے ہیں کہ… ایک پیسہ ان
کی ملکیت میں نہیں رہتا… تیسری چیز ورثاء… وہ غیرمحسوس طریقے پر مال کے
پیچھے ہوتے ہیں… موت آتے ہی آپ کا مال فوراً ان کی ملکیت میں چلا جاتا
ہے… یہ تین چیزیں… ہر طرح کا مال لے جاتی ہیں… مگر اے انسان ایک
چوتھی چیز بھی ہے… وہ ہے جہاد میں خرچ کرنا… صدقہ خیرات کرنا… یہ
وہ مال ہے جو تیرااپنا ہے… یہ وہ مال ہے جو تم سے کوئی بھی نہیں چھین
سکتا… یہ وہ مال ہے جو تمہاری ذات کے کام آئے گا… مگر ہوتا کیا
ہے؟… اسی مال میں انسان کوشش کرتا ہے کہ کم سے کم دے… گھٹیا سے گھٹیا
دے… اوربہت تھوڑا دے…جیب سے نوٹ نکالتے ہیں… پانچ ہزار،ایک ہزار، پانچ
سو والوں سے تیزی سے گزر کر دس اور پانچ والے نوٹوںتک پہنچتے ہیں اور پھر ایک
پرانا سا نوٹ نکال کر دیتے ہیں… اسے کہتے ہیں اپنی ذات کے ساتھ بخل اور اپنی
جان کے ساتھ زیادتی… بیماری بڑے نوٹ کھا جاتی ہے… ڈاکو بڑے نوٹ لوٹ جاتے
ہیں… ڈاکٹر بڑے نوٹ مانگتے ہیں… موت سارے نوٹ کھینچ جاتی ہے… ورثاء
سارے نوٹ قبضے میں لیتے ہیں… مگر اپنی ذات، اپنی قبر اور اپنی آخرت کے لئے
سب سے چھوٹا نوٹ… ہے نا نقصان والی بات؟… آج رمضان المبارک کا دسواں دن
ہے… بھائیو! اوربہنو! اس مہینے کی ہر گھڑی رمضان ہے… رمضان المبارک کی
قیمت اور مقام بہت زیادہ اونچا ہے… ہم سب دعاء اور کوشش کریں کہ باقی دن اور
باقی راتیں قیمتی ہو جائیں… امت کے کامیاب لوگ رمضان المبارک میں… جہاد
کا رخ کرتے تھے… اسلام کا سب سے نمایاں، سب سے کامیاب، سب سے بڑا
غزوہ… غزوہ بدر اسی مہینے میں ہوا… بعض اہل دل کا قول ہے کہ لیلۃ
القدر بھی سترہ رمضان المبارک کی رات ہے… کیونکہ اسی رات اور اسی
دن کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کے سب سے بڑے اور افضل معرکے کے لئے منتخب
فرمایا… لیلۃ القدر کے بارے میں زیادہ مضبوط اقوال تو… آخری عشرے کے
ہیں… مگر سترہ رمضان کا بھی ایک قول ہے… پھر غزوہ بدر سے جس جہادی تحریک
کا آغاز ہوا تھا اس کا عروج… فتح مکہ کی صورت میں رمضان المبارک ہی میں
ہوا… حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں آتا ہے
کہ… رمضان المبارک کے معرکوں میں خوب بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے… اُن کا
وہ مشہور واقعہ جو آپ نے بارہا پڑھا اور سنا ہو گاکہ… اپنا چہرہ چھپا کر ایک
بڑے جنگجو مبارز کافر کو قتل فرمایا… اُس واقعہ کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے
کہ رمضان المبارک میں پیش آیا… جہاد فی سبیل اللہ بلا شبہ افضل
ترین عمل اور عبادت ہے… اور کوئی عمل جہاد فی سبیل اللہ کے برابر
نہیں ہے… اسی طرح رمضان المبارک افضل ترین زمانہ ہے… اور کوئی زمانہ اور
مہینہ رمضان المبارک کے برابر نہیں… جب افضل ترین وقت میں افضل ترین عمل کیا
جائے تو اس کے اجر و ثواب اور مقام کا اندازہ لگانا کسی انسان کے بس میں نہیں
ہے… اور اس عمل کے جو اثرات ظاہر ہوتے ہیں وہ بھی بہت گہرے اور نمایاں ہوتے
ہیں… الحمدللہ ثم الحمدللہ ہماری جماعت کا آغاز بھی رمضان المبارک
میں … رمضان المبارک کے جہاد کی برکت سے ہوا… اور الحمدللہ اس کے اثرات اور نتائج بھی پوری دنیا نے
دیکھے… آج رمضان المبارک میں اس جماعت کے ہزاروں کارکن… جہاد، دعوت،
عبادت اور خدمت کے کام میں مگن ہیں… سب مسلمانوں کو چاہئے کہ… ان کے
ساتھ اس مبارک کام میں شریک ہوں… اور انہیں اپنی دعاؤں سے
نوازیں… رمضان المبارک کا دوسرا بڑا عمل… تلاوت قرآن پاک ہے… حضرت
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں آتا ہے کہ… رمضان المبارک
شروع ہوتے ہی کتاب بند کر دیتے اور فرماتے… ھذا شہر القرآن…کہ یہ قرآن
مجیدکا مہینہ ہے… امام مالک س کے بارے میں آتا ہے کہ… رمضان المبارک
آتے ہی افتا اور تدریس بند کردیتے اور فرماتے… ھذا شہر
القرآن حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ رمضان المبارک میں… ساٹھ
بار قرآن مجیدکا ختم کرتے… یعنی ہر دن رات میں دو ختم… تلاوت اور ذکر
کی ایک عجیب شان ہے اسے جو انسان جتنا بڑھاتا جائے اسی قدر اس کے وقت میں وسعت اور
برکت ہوتی چلی جاتی ہے… اور اسے جس قدر گھٹایا جائے تو وقت بھی اتنا کم اور
بے برکت ہو جاتا ہے… چنانچہ کئی لوگ ساری دن رات میں چند تسبیحات بھی بہت
مشکل سے کرتے ہیں… اسلاف میں سے ایک بزرگ کے بارے میں آتا ہے کہ جب اُن کی
موت کا وقت آیا… تو ان کے بیٹے ان کے پاس بیٹھے رو رہے تھے… فرمایا
رونے کی ضرورت نہیں… میں اس مسجد میں ہر رمضان… مسجد کے ہر ستون کے پاس
دس قرآن پاک ختم کرتا رہا ہوں… مسجد کے کل چار ستون تھے… یعنی ہر رمضان
المبارک میں چالیس ختم…
سبحان
اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم
مہم
میں شریک ساتھی پوچھتے ہیں کہ… ہم زیادہ تلاوت کس طرح کریں؟… اول تو یہ
ہے کہ محنت کر کے وقت نکالیں… نیند،کھانے اور دیگر ضروریات سے وقت
بچائیں… سعادت حاصل کرنے کے لئے قربانی دینی پڑتی ہے… دوسرا یہ کہ جو
حافظ نہیں ہیں وہ دوران سفر قرآن پاک کی سورتیں پڑھتے رہا کریں… سورۃ یٰس تو
یاد ہوگی… پانچ بار پڑھی تو ایک پارہ کے برابر تلاوت ہو گئی… بس ذوق اور
رغبت ہو تو راستے خود مل جاتے ہیں… جبکہ حفاظ کرام کے لئے آسانی ہی آسانی
ہے… چلتے جائیں پڑھتے جائیں پڑھتے جائیں پڑھتے جائیں… تیسرا عمل رمضان
المبارک میں زیادہ مال خرچ کرنا ہے… سب سے افضل تو قرآن پاک کی رو سے جہاد
فی سبیل اللہ میں مال لگانا ہے… اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ
لیں… احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ
وسلم رمضان المبارک میں بے حد سخاوت فرماتے تھے… یہاں تک کہ ایک
بار ایک صاحب نے آپ سے وہ چادر مانگ لی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
اوڑھی ہوئی تھی… اس زمانے میں چادر سے قمیص کا کام بھی لیا جاتا
تھا… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً اتار کر مسکراتے ہوئے اُن
کو دے دی… حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اُن صاحب پر غصہ
کیا… وہ کہنے لگے اللہ کی قسم یہ چادرمیں نے اپنے کفن کے لئے
مانگی ہے… اور میں اس سے بہتر کوئی اور کفن نہیں پاتا کہ اس میں سے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو آتی ہے… رمضان
المبارک میں غریبوں، مسکینوں کا خاص خیال رکھیں… اپنے دستر خوان کو کھلا
رکھیں… اور دین کے ہرکام پر مال لگائیں… یہی مال آپ کا اپنا
ہوگا… الرحمت ٹرسٹ کے جانباز اہل ایمان آپ کے پاس پہنچیں تو اُن کے ذریعہ
سے… اپنے مال کو قیمتی بنائیں
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ مغفرت اور رحمت فرمائے… محترم سید سلیس احمد صاحب س برصغیر کی
تقسیم سے پہلے ’’قاضی پور‘‘ میں پیدا ہوئے… اب یہ علاقہ ہندوستان کا حصہ ہے
اور وہاں کی ریاست ’’اترپردیش‘‘ میں واقع ہے… پاکستان وجود میں آیا تو سید
صاحب کی عمر سات سال تھی… اس چھوٹی سی عمر میں ’’ہجرت‘‘ کا کٹھن سفر طے کیا
اور پشاور میں مقیم ہوئے… معاش کے سلسلے میں سرکاری ملازمت کی، جلد سازی میں
مہارت رکھتے تھے اور یہی آپ کی ڈیوٹی تھی… زندگی کے آخری سالوں میں دینی
تشکیل کے تحت بہاولپور منتقل ہو گئے… اور ابھی دس رمضان المبارک کا روزہ افطار
کر کے جام شہادت نوش کر گئے… اور بہاولپور ہی میں جامع مسجد سبحان اللہ
کے پڑوس میں مدفون ہوئے…
اناللہ و انا الیہ راجعون
دورہ
تفسیر کا شوق
ان
کو پہلی مرتبہ کراچی میں دیکھا… بندہ کے پاس دورہ تفسیر آیات الانفال پڑھنے
کے لئے آئے تھے… اس دورہ میں سینکڑوں افراد شریک تھے، مگر اُن کے ذوق، شوق
اور اہتمام کی وجہ سے وہ نظروں میں آگئے… مختصر ملاقات اور تعارف
ہوا… اگلا دورہ تفسیر سرحد میں تھا وہاں بھی موجود تھے… سبق لکھنے، غور
سے سننے اور آگے آگے بیٹھنے کا اہتمام تھا… بندہ نے پہچان لیا اور ملاقات
کے لئے بلایا تو عجیب والہانہ انداز میں لپکے… وہ منظر اب بھی یاد
ہے… تیزی سے معانقہ کرتے ہوئے تقریباً گرگئے اور پہچاننے پر بے حد خوش
ہوئے… بندہ نے اُن کی رہائش وغیرہ کا الگ اور بہتر انتظام کرا دیا… اس
پران کی خوشی دیکھنے کے لائق تھی…ویسے ہی ماشاء اللہ شکر
گزار… طبیعت کے مالک تھے… ہروقت خوش باش اور شکر میں ڈوبے نظر آتے
تھے… شکر گزاری اللہ تعالیٰ کی بڑی عظیم نعمت ہے…
شکر
گزار طبیعت
شکر
کون ادا کرتا ہے؟… وہی جو اللہ تعالیٰ کی محبت اور نعمتوں کو
محسوس کرتا ہے… اور دنیا میں اپنی امیدیں بہت کم اور محدود رکھتا
ہے… آپ بڑے بڑے حکمرانوں سے ملیں… سیاستدانوں سے ملیں… بڑے کامیاب
فنکاروں اور اداکاروں سے ملیں… سب ہی روتے اور حسرتیں پیٹتے نظر آئیں
گے… دل کا سکون نہیں… دل خوش نہیں… حسرتیں پوری نہیں
ہوئیں… دنیا کے کتنے نامور لوگوں نے خودکشیاں کر لیں… خواہشات پوری
نہیںہوئیں… امیدیں بہت زیادہ اور خواہشات بے انتہا… اس دنیا میں کیسے
پوری ہوں؟… ایک بڑے نامور انسان کا ریڈیو پر انٹرویوسنا… دل عبرت سے لرز
گیا… بس صرف رو ہی رہے تھے کہ میری بڑی ناقدری ہوئی… میری بہت سی امیدیں
اور حسرتیں پوری نہیں ہوئیں… حالانکہ بڑے مشہور نام کے مالک تھے… چاہنے
والوں کی کوئی کمی نہیں تھی… کروڑوںروپے کے مالک اور کاروں کوٹھیوں والے
تھے… مگر چاہتے تھے کہ بیماری کا علاج حکومت کرائے… میری جیب سے کچھ خرچ
نہ ہو…
انسان
جب ناشکری، لمبی امیدوں اور خواہشات میں پڑجائے تو کبھی خوش اور مطمئن نہیں
ہوتا… دنیا اطمینان کی جگہ ہے ہی نہیں… یہاں تو صرف وہ مطمئن ہوتا ہے جو
یہاں مسافر بن کر رہے… اور اپنی خواہشات اور امیدیں زیادہ نہ
بڑھائے… اسی طرح وہ لوگ بھی کبھی شکر گزار نہیں ہوتے جو خود کو اللہ
تعالیٰ کی نعمتوں سے بڑا سمجھتے ہیں… ایسے لوگ کسی نعمت کو محسوس ہی
نہیں کرتے… رزق آسانی سے مل رہا ہے… تو کیا ہوا؟… رہنے کی جگہ
میسّر ہے… تو کیا ہوا؟… ارے آپ کی صحت اچھی ہے… تو کیا
ہوا؟… ایسے لوگ نعمتوں کی ناقدری کرتے ہیں… اور اپنی ذات کے تکبر میں
مبتلا ہوتے ہیں… اسی طرح جس انسان کی نظر اپنے گناہوں اور کوتاہیوں پر نہ ہو
وہ بھی شکر گزار نہیں ہوتا … بس جیسے ہی کوئی تکلیف آئی تو ساری نعمتوں
کو بھول گیا… اور یہ نہ سوچا کہ میرے گناہوں کی سزا تو اس تکلیف سے بہت بڑی
تھی مگر… اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور گناہ کے مطابق سزانہیں
دی، بس تھوڑی سی تکلیف آئی ہے… جو ان شاء
اللہ دور ہو جائے
گی… اور دور نہ ہوئی تو میں صبر کرلوں گا… اسی طرح وہ انسان بھی شکر
گزار نہیں ہو سکتا جو نعمتوں کی ترتیب اور مقام کو نہیں سمجھتا کہ… کونسی
نعمت بڑی ہے اور کونسی چھوٹی… کون سی نعمت ضروری ہے اور کون سی ضروری
نہیں… ایسے انسان کا دل بعض اوقات کسی چھوٹی یا فانی چیز کو اصل نعمت سمجھ
لیتا ہے… اور جب تک اسے وہ نعمت نہ ملے باقی تمام نعمتوں کی ناقدری اور
ناشکری کرتا رہتا ہے… اور جس نعمت کو وہ مقصود بناتا ہے وہ اس کی قسمت میں
ہوتی نہیں… اس طرح اس کی پوری زندگی ناشکری میں گذر جاتی ہے… اصل اور
بڑی نعمت ایمان ہے… اسی طرح قرآن پاک بڑی اور اصل نعمت ہے… اسی طرح
فرائض کی ادائیگی کی توفیق بڑی عظیم نعمت ہے… اسی طرح دین کے کام کی توفیق
ملنا بڑی عظیم نعمت ہے… اسی طرح اچھا ماحول اور گناہوں سے پاک مقام نصیب ہونا
بڑی نعمت ہے… ایک آدمی کو یہ ساری نعمتیں نصیب ہوں تو اگر اس کے پاس دنیا کی
فانی نعمتوں میں سے کوئی بھی نہ ہو تو وہ فائدے، فوز، کامیابی اور نفع میں
ہے… لیکن اگر وہ دنیا کی کسی عارضی نعمت کو اپنا اصل مقصد بنا لے اور پھر اسی
کے لئے آہیںبھرتا رہے تو اسے… شکر گزاری کہاں نصیب ہو سکتی ہے؟… یہ ایک
طویل موضوع ہے… مختصر یہ کہ شکر گزاری ایک ایسی صفت ہے جو بہت سی صفات کی
جامع ہے… اور یہ صفت ایمان والے مخلص بندوں کو نصیب ہوتی ہے… قرآن پاک
میں اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے کہ… میرے شکر گزار بندے تھوڑے
ہیں… الحمدللہ ہمارے محترم سید سلیس
احمد صاحب… اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے تھے… اور شکر
گزاری کی بدولت مسلسل ترقی کی طرف گامزن تھے… اللہ تعالیٰ نے ان
کو جہاد کا راستہ دکھلایا… جماعت میں اُن کو مقام عطا فرمایا… اُن سے
بڑھاپے میں دین کے بڑے بڑے کام لئے… زندگی کے آخری حصے میں ان کو مثالی عزت
عطاء فرمائی… ان کی زندگی کا آخری دور مسجد کے ماحول میں گزرا… اور ان
کی زندگی کا آخری عمل یہ کہ… وہ ایمان وجہاد کے کام میں نکلے ہوئے
تھے… اور بالآخر اُن کو شہادت کا بلند مقام… ماشاء
اللہ … نصیب ہوا… اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو
مزید بلندی عطاء فرمائے…
ایمان
افروز خطوط
سید
صاحب سبیعت کے بعد بڑی پابندی سے اصلاحی خطوط بھیجتے تھے… اُ ن کا لفافہ الگ
طرز کا ہوتا تھا… وہ کاغذ سے خود ہی لفافے تیار کر لیتے تھے… لکھائی بہت
صاف، نستعلیق اور خوبصورت تھی… اُن کے ہرخط سے مجھے فائدہ ہوا اور کبھی کسی
خط سے کوئی الجھن نہیں ہوئی… خط زیادہ مفصل اور غیر ضروری باتوں پر مشتمل ہو
تو پریشانی ہوتی ہے… کئی لوگ خط کی جگہ پوری کتاب لکھ بھیجتے
ہیں… سیدصاحب س کا ہر خط ایک صفحے پر ہوتا تھا اور اُن کے معمولات کی پابندی
اور شوق دیکھ کر مجھے رشک آتا تھا… ابتداء میں معمولات کا پورا پرچہ فوٹو
کاپی کرا کے ساتھ بھیجتے اور ہر معمول پر لکھاہوتا…’’مکمل ربط ہے‘‘…
یعنی
میرا اس پر پابندی سے عمل ہے… پھر رنگ و نور میں کوئی دعاء آتی یا درود
شریف، کلمہ اور استغفار کی کوئی مہم چلتی تو وہ بھی ان کے معمولات میں شامل ہو
جاتی… تہجد کا بڑا ذوق تھا… کمزوری اور بڑھاپے میں نہایت شوق کے ساتھ
سورہ بقرہ یاد کر لی تھی تاکہ… تہجد میں پوری پڑھ سکیں… سورۃ بقرہ بڑی
سورت ہے… بار بار بھولتے اور پھر پڑھتے اور یوں اپنی رات کو قیمتی بنا
لیتے… کلمہ طیبہ، استغفار اور درود شریف کا خاص ذوق پیدا ہو گیاتھا… کسی
خانقاہ میں ہوتے تو ضرور’’خلافت‘‘ پاتے… مگر جماعت میں تو دین کا کام ہی
خلافت ہے… اور ماشاء اللہ اُن کو کام کا پوراجنون پیدا ہو گیا
تھا… دعوت و رکنیت مہم میں جان لڑا کر محنت کی… اور اب انفاق فی سبیل
اللہ مہم میں پورے جذبے سے نکلے ہوئے تھے کہ… پندرہ دن ہی میں
پرچہ حل کر لیا… امتحان پورا ہوا اور ملاقات کا پیغام آگیا…
کام
اور دام
غالباً
شعبان یا رجب میں… کمر توڑ مہنگائی کو دیکھتے ہوئے ساتھیوں کے وظائف میں کچھ
اضافہ کیا گیا… سید صاحب سجب تشکیل میں آئے تھے تو وظیفہ نہیں لیتے
تھے… بندہ نے ملاقات میں پوچھا تو بادشاہی استغناء کے ساتھ کہنے
لگے… جناب! پنشن ملتی ہے اور ہم دونوں میاں بیوی مل کر ختم نہیں کر
سکتے… اور پیسے کیا کریں گے؟… پھر جب گھر بھی مرکز میں منتقل ہوا تو
معمولی سا وظیفہ لیتے تھے… یہ بھی ایک دینی سعادت ہے… عار کی بات
ہرگزنہیں… حضرات خلفاء راشدین کے دور میں اس کی بہترین مثالیں ملتی
ہیں… خیر جب وظائف میں اضافہ ہواتو سید صاحب سکا بہت دلچسپ پیغام
ملا… فرما رہے تھے… جناب! سوچا تھا کہ اب آپ کی طرف سے ہمیں مزید کام
ملے گا… مگر یہ کیا… کام تو مزید ملا نہیں اور دام مل گئے… بندہ نے
جواب عرض کیا کہ یہ کام کے دام نہیں… اللہ تعالیٰ کا رزق ہے جس
سے کوئی نہیں بھاگ سکتا… اور باقی رہا کام تو وہ آپ پہلے بھی خوب کر رہے ہیں
اور ان شاء اللہ مزید بھی ملے گا… اندازہ
لگائیں!… چوھتر سال کی عمر،بڑھاپا… عبادت کی مسلسل مشقت… مگر اس کے
باوجود نہ بیماری اور علاج کی باتیں… نہ اپنی حسرتوں کا رونا… بلکہ مزید
کام کرنے کا جذبہ اور جنون… حالانکہ وہ جماعت کے ایک پورے شعبے کو سنبھالے
ہوئے تھے… اور یہ واحد شعبہ تھا جس میں ان کے علاوہ کوئی اور عملہ بھی نہیں
تھا… شعبہ احیاء سنت… جب حضرت قاری عمر فاروق صاحب رحمۃ اللہ علیہ سخت
بیمارہو گئے تو اس شعبہ کا کام سید صاحب سکے سپرد کیا گیا تھا… بندہ نے مختصر
طور پر اس کام کے فضائل عرض کئے… اور کہا: جناب! ہر رشتہ اس طرح کرانا ہے جس
طرح اپنی سگی بیٹی ہو… سید صاحب س کی آنکھوں میںعجیب نورانی چمک اٹھی اور
کہنے لگے… ضرور ضرور آپ دعاء کر دیجئے ان شاء
اللہ اسی طرح ہوگا… اور
ماشاء اللہ بالکل اسی طرح ہوا اور انہوں نے کئی سال تک یہ شعبہ جماعت
کی توقعات سے بھی بڑھ کر چلایا… کار گزاری سناتے وقت بعض اوقات رو پڑتے تھے
کہ… ہماری آخرت کا کچھ سامان اس شعبے کی خدمت سے ہوجائے… سید صاحب سکے
ذمہ اور بھی کئی کام تھے… اُن کاموں کے لئے تو افراد ذہن میں ہیں… مگر
شعبہ احیائے سنت کو کون اتنی لگن، محنت ، اخلاص، حیاء، عفت اور پاکیزگی سے چلائے
گا… یہ سوچ کر آنکھیںدعاء کے لئے اوپر کی طرف اٹھ جاتی ہیں… اللہ
تعالیٰ اپنا فضل اور رحمت فرما کر بہترین انتظام فرمائے…
قیمتی
ہدیہ
سید
صاحب س’’مکتوبات خادم‘‘ بہت توجہ اور شوق سے پڑھتے تھے…وہ پابندی، حکم اور مصروفیت
کو سعادت سمجھنے والے انسان تھے… اس لئے جو گزارش بھی اُن تک پہنچی تو عمل کے
لئے کمر کس لیتے… انہوں نے ایک ڈائری بھی بنا رکھی تھی ہر تازہ مکتوب اس میں
نقل کر لیتے تھے… شہادت سے پہلے عصر کے بعد آخری مکتوب اپنی ڈائری میں منتقل
کیا… استغفار کے سلسلہ میں جاری ہونے والے ایک مکتوب میں … خادم نے
یہ لکھا تھا کہ میرا حق تو نہیں کہ آپ سے کچھ مانگوں… مگر پھر بھی آپ سب سے
اپنے لئے استغفار اور دعاء کی درخواست کرتا ہوں… یہ مکتوب پڑھ کر سید صاحب س
تڑپ اٹھے… فرمایا آپ نے یہ کیا لکھ دیا کہ… آپ کا کوئی حق
نہیں… جناب آپ کے تو ہم پر اتنے حقوق ہیں کہ ادا کرنے کا تصور بھی نہیں
پاتے…خیر آپ نے استغفار کا فرمایا ہے تو آج سے… روزآنہ ایک ہزار استغفار
کا ہدیہ پیش ہے… بندہ نے عرض کیا… آپ نے ماشاء اللہ بہت
قیمتی ہدیہ دیا ہے… جزاکم اللہ خیرا… اس کے بعد سے سید صاحب
س روزآنہ بندہ کے لئے ایک ہزار بار استغفار کا اہتمام فرماتے تھے… الحمدللہ
استغفار مہم کی برکات… خود ہماری
جماعت نے بھی خوب اٹھائیں… اور دیگر جماعتوں اور طبقوں میں بھی الحمدللہ اس مہم کی برکت سے’’استغفار‘‘ کا شعور اجاگر ہوا
ہے… اور اب مسلمان اپنے لئے اور دوسرے مسلمانوں کے لئے استغفار کی طرف متوجہ
ہور ہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی بڑی رحمت ہے… سید صاحب س ہماری
جماعت کے رکن شوریٰ تھے… وہ اس زمانے کے عبادت گزاروں کی زینت… اور جہاد
فی سبیل اللہ کے جانباز پروانے تھے… انہوں نے جماعت سے خوب دینی
اوراخروی فائدہ اٹھایا… اور جماعت کو اپنی محنت اور اخلاص سے بہت فائدہ
پہنچایا… موجودہ’’انفاق فی سبیل اللہ مہم‘‘ ان کے خون سے رنگین
ہوئی… ابھی چند دن باقی ہیں… تمام ساتھی ایمانی جذبے کے ساتھ… اپنی
آخرت کی کھیتی تیار کریں…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو ’’عذابِ قبر‘‘ اور ’’عذاب جہنم‘‘ سے اپنی پناہ
عطاء فرمائے… ’’عذاب قبر‘‘ بڑی سخت چیز ہے … حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک فرمان کا مفہوم ہے
کہ …اگر اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ تم لوگ خوف کی وجہ سے اپنے مُردوں کو دفن
کرنا چھوڑ دو گے تو تمہیں عذاب قبر دکھا اور سنا دیا جاتا… اللہ
رحم، اللہ رحم یا رحیم یا کریم رحم!… یعنی اگر لوگوں کو
عذاب قبر دکھا اور سنا دیا جائے تو وہ اپنے مُردوں کو دفن کرنا چھوڑ دیں… اور
عذاب قبر سے زیادہ سخت عذاب ’’جہنم‘‘ کا ہے… الامان، الامان… قرآن پاک نے
جہنم کے عجیب عجیب نام گنوائے ہیں… ان میں سے جس کو بھی سمجھ کر پڑھیں تو خوف
سے جسم لرزنے لگتا ہے… النار، الجحیم…سقر، الحطمہ… وغیرہ
وغیرہ… رمضان المبارک بھی کتنی تیزی سے جارہا ہے… آج پچیسویں رات
ہے… آخری عشرے کے صرف پانچ دن رہ گئے… اگلے ہفتے اخبار کا ناغہ
ہوگا …اس لئے بہت سی باتیں ہیں … کونسی لکھی جائے اور کونسی چھوڑی
جائے؟… ماشاء اللہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں کتنے لوگوں کو
جہنم سے نجات عطاء فرمائی جاتی ہے … اللہ تعالیٰ مجھے اور
آپ کو بھی ان میں شامل فرمائے… ہم کمزور لوگ دنیا کی معمولی سی لوڈشیڈنگ سے
لرز اٹھتے ہیں … جہنم کی آگ تو دنیا کی آگ سے ستر گنا زیادہ سخت
ہے… دنیا کی فی الحال خطرناک ترین آگ وہ ہے جو ایٹمی اور کلسٹر بموں میں بند
ہوتی ہے… امریکہ نے افغانستان پر بے شمار ڈیزی کٹر بم برسائے… ان بموں
سے بھی زمین پر آگ لگ جاتی ہے … اور آکسیجن سمیت ہر چیز کو کھا جاتی
ہے … اس حقیر دنیا کی آگ کا یہ حال تو جہنم کی آگ کیسی ہوگی… بس اس
عشرے میں زیادہ سے زیادہ جہنم کی آگ سے پناہ کی دعا کی جائے … اور ایسے
اعمال کئے جائیں جن سے یہ آگ ٹھنڈی پڑتی ہے… یعنی ان اعمال کو کرنے والا اس
آگ سے بچ جاتا ہے … اس وقت ’’انکار جہاد‘‘ کا فتنہ جتنا تیزی سے سرگرم
ہے اسے دیکھ کر دل بہت پریشان ہوتا ہے… عجیب عجیب باتیں
ہیں … بالکل مرزا قادیانی کی مکمل ترجمانی … بعض لوگوں نے تو
نعوذ باللہ … جہاد کے انکار یا جہاد کے معنیٰ
تبدیل کرنے کو اپنی زندگی کا مشن بنا لیا ہے… ہر وہ روایت جس سے جہاد فی سبیل
اللہ کی اہمیت کچھ کم کی جاسکتی ہو … خوب مزے لے کر بیان کی
جاتی ہے … ایسے میں نہ قبر کی زنجیریں یاد آتی ہیں…اور نہ جہنم کا
عذاب… دوصحابی تھے… ایک شہید ہوگئے دوسرے ایک سال بعد وفات پا
گئے …کسی صحابیذ نے خواب میں دیکھا کہ دوسرے صحابی جنہوں نے وفات پائی تھی
پہلے جنت میں داخل ہوگئے …یہ روایت اب ہر کسی کو یاد ہے … حالانکہ
پوری روایت پڑھیں تو جہاد ہی کی عظمت اور اہمیت اجاگر ہوتی ہے …
حضرات
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اس واقعہ پر حیران ہونا کس وجہ سے
تھا؟… معلوم ہوا کہ ان کو قرآن مجید نے اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کی مبارک صحبت نے جو ’’علم‘‘ عطا فرمایا تھا اس کی روشنی میں جہاد
اور شہادت کے برابر کوئی عمل نہیں تھا … ہم بھی یہی عرض کرتے ہیں کہ
مسلمانوں کو حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین والا نظریہ اور حضرات صحابہ
کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین والی سوچ اپنانی چاہئے… باقی جزوی واقعات سے
دین کے کئی مسائل سمجھائے جاتے ہیں … اس روایت میں بھی سمجھایا گیا
کہ … شہادت کی فضیلت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ … کوئی بھی زندہ
رہنا گوارہ نہ کرے… مسلمان کی زندگی کا ہر لمحہ اور ہر عمل اس کے درجات کو
بڑھانے کا ذریعہ ہوتے ہیں… اس روایت میں یہ کہیں مذکور نہیں
کہ … دوسرے صحابی نے کبھی جہاد میں شرکت نہیں کی… یا اُن کے دل میں
شہادت کی امنگ اور تمنا نہیں تھی … یا انہوں نے شہادت کی دعا نہیں مانگی
تھی… جو اخلاص سے شہادت کی دعا مانگے اس کو بھی شہادت کا مقام ملتا
ہے … اور ایک سال کے فرض، سنت اور نفل اعمال ان کے پاس زائد تھے اور اس
روایت میں یہ بھی کہیں مذکور نہیں کہ… وہ صحابی تمام شہداء سے افضل ہوگئے اور
تمام شہداء سے پہلے جنت میں گئے … جس طرح انبیاء اور صحابہ کے درجات
ہیں … بعض بعض سے افضل ہوتے ہیں … اس طرح شہداء کے بھی درجات
ہیں … کوئی اعلیٰ درجے کا شہید کوئی اس کے بعد کا… جبکہ ہمارے پاس
صحیح حدیث موجود ہے کہ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے اپنے لئے شہادت کی تمنا فرمائی … بات ہی
ختم … شہادت کا عام موت سے افضل ہونا قرآن پاک سے بھی ثابت
ہے … اور احادیث مبارکہ سے بھی … کوئی ہے جو ایک دلیل اس کے
برخلاف پیش کرسکے؟ … ہاں بعض جزوی واقعات میں … بعض وفات پانے
والے افراد اگر شہید سے افضل ہو جائیں تو یہ ممکن ہے … مجھے ایک بزرگ نے
فرمایا، صدیق کا مقام شہید سے افضل ہے… پھر حضرت صدیق اکبررضی اللہ
عنہ کا تذکرہ فرمایا … بندہ نے عرض کیا … حضرت!
کیا ایسا شخص جو اللہ تعالیٰ کے لئے جان قربان نہ کرنا چاہتا ہو… وہ
صدیق کا مقام پاسکتا ہے؟ … ہمیں تو صدیقوں کے ’’صدیق
اکبرذ ‘‘ خود بدر، احد میں لڑتے نظر آتے ہیں … حضرت! مجھے
صدیق کے ہاتھ میں تلوار نظر آرہی ہے … وہ بہت خوش ہوئے اور کافی دیر تک
واہ، واہ فرماتے رہے … واقعی جو اللہ تعالیٰ کے لئے قربانی
دینے کا جذبہ نہیں رکھتا وہ صدیق کا مقام کیسے پاسکتا
ہے؟ … بزدلی … اور صداقت؟ … جان سے
پیار … اور ولایت؟ … قرآن پاک کھول کر دیکھو! وہ صادق اور
صدیق کن کو قرار دے رہا ہے…
{من
المؤمنین رجال صدقوا ماعاھدوا اللہ علیہ اولئک ہم الصادقون}
پھر
ایک اور عجیب فتنہ … آپ نے بہت سے اعمال کی فضیلت پڑھی ہوگی
کہ … اگر فلاں عمل کریں تو سو نوافل نماز کا ثواب ملتا
ہے … فلاں عمل کریں تو ہزاررکعت نوافل کا اجر ملتا ہے… فلاں عمل
کریں تو ساری رات نماز پڑھنے کا ثواب ملتا ہے … فلاں عمل کریں تو اتنے
سال نماز پڑھنے کا اجر ملتا ہے … اب کوئی آدمی سائوتھ افریقہ کے پرتعیش
ماحول میں بیٹھ کر … اپنے چند شاگردوں کو ایسی تمام روایات جمع کرنے پر
لگا دے … اور علمی رعب ڈالنے کے لئے ہر روایت کے نیچے … کئی
کئی کتابوں کے حوالے دے… اور نتیجہ یہ نکالے کہ اب پانچ نمازوں کی ضرورت نہیں
ہے … جیسے ایک سنت زندہ کرنے پر سو شہیدوں کا اجر ملنے والی روایت سنا
کر … یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ بس سنتیں زندہ کرو … جہاد کی
حاجت اور ضرورت نہیں ہے… جہاد میں تو صرف ایک شہادت ملتی ہے … جبکہ
سنت زندہ کرنے پر سو شہادتیں … اسی طرح کوئی ’’محقق‘‘ کہے کہ فلاں عمل
کرنے سے تو کئی سال کی نماز کا اجر ملتا ہے… پھر روزآنہ پانچ نمازوں کی کیا
ضرورت ہے؟ … نعوذ باللہ ، استغفر اللہ …
معلوم
نہیں لوگوں کو کیا ہوگیاہے؟ … حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین
دن رات سنتوں کو زندہ کررہے تھے … پھر بھی شہادت کے لئے تڑپتے اور روتے
تھے … حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے کتنی سنتیں زندہ
کیں؟ کتنی سنتوں کو قیامت تک کے لئے مضبوط فرمایا؟ … مگر دعا
کیا ہے؟ یا اللہ شہادت نصیب فرما اور مدینہ منورہ میں نصیب
فرما … حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ذوق اور نظریہ
دیکھیں کہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی اس دعاء پر حضرت ام
المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہانے سوال اُٹھایا … شہادت بھی اور مدینہ
میں یہ کیسے ممکن ہے؟… دیکھیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کے گھر مبارک اور آپ کے صحابہ کرام کے نزدیک جہاد اور شہادت کا
معنیٰ کتنا واضح تھا؟ … سوال کا مطلب یہ تھا کہ شہادت تو محاذ جنگ پر
ملتی ہے اور اب محاذ جنگ مدینہ منورہ سے بہت دور منتقل ہوگئے ہیں … اور
کافروں میں سے کسی کی ہمت نہیں بچی کہ مدینہ منورہ پر چڑھ آئے تو
پھر … آپ کو مدینہ منورہ میں کیسے شہادت مل سکتی ہے؟ … حضرت
عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے کاموں
پر غالب ہے … وہ ان دونوں کو جمع فرما سکتا ہے… آپ کا جواب درست
نکلا اور مدینہ منورہ میں شہادت کا انتظام ہوگیا … شہادت کوئی معمولی
چیز ہوتی تو حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے مانگتے؟ … آپ
نے تو شہادت کی خاطر یہاں تک انتظام کررکھا تھا کہ … اپنی ذات اور مدینہ
منورہ کو مجاہدین کی چھائونی قرار دے دیا تھا… اور اس کی شرعی حیثیت کا اعلان
تمام اسلامی لشکروں میں ہوچکا تھا کہ … تم میں سے جو پلٹ کر آنا چاہے تو
میں اس کی چھائونی ہوں … یہ دراصل ایک شرعی مسئلہ ہے جو سورۃ انفال میں
تاکید سے بیان ہوا ہے … کبھی موقع ہوا تو ان شاء
اللہ تفصیل سے عرض کردیا
جائے گا… حضرت عمررضی اللہ عنہ کو تمام صحابہ کرام رضوان اللہ
علیہم اجمعین… اور اہل شوریٰ نے محاذ پر جانے سے روک رکھا
تھا … ایک بار آپ اسلامی لشکر کے ساتھ نکل گئے تو مدینہ منورہ کے بڑے
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ کو واپس لے آئے … امیر مومنین کو
مجاہدین کے جہاد کا پورا اجر و ثواب ملتا ہے… مگر اس کے بعد جہاد میں مزید
شمولیت کے لئے آپ نے اعلان فرما دیا کہ … انا فئتکم
اب
ایک شخص مجاہدین کی پہلی چھائونی میں ہو … اور وہاں اسے ایک مشرک خنجر
سے قتل کردے تو… یہ محاذ ہی کی شہادت ہوئی … کیونکہ محاذ جنگ پہلی
چھائونی سے شروع ہوکر … خطِ اوّل تک ہوتا ہے … کیا حضرت
عمررضی اللہ عنہ کو سنت زندہ کرنے والی روایت معلوم نہیں تھی؟ … کیا
حضرت عمر عنہ کو دو صحابیوں کا واقعہ معلوم نہیں تھا کہ … بعد میں وفات
پانے والے آگے نکل گئے … یقیناً سب کچھ معلوم تھا … مگر وہ
جانتے تھے کہ … ان روایات کا مقصد سنت اور اعمال کی فضیلت سمجھانا ہے نہ
کہ … جہاد اور شہادت کے رتبے کو کم کرنا …
چکوال
کے ایک جلسے میں ایک بزرگ نے بیان کے دوران سو شہیدوں کے اجر والی روایت
پوچھی… بندہ نے عرض کیا … جناب! اگر آج اعلان ہو جائے کہ جو شخص
فلاں کام کرے گا اسے سو وزرائِ اعظم کی تنخواہ دی جائے گی … ایک
وزیراعظم کی تنخواہ ایک لاکھ ہے تو … اس آدمی کو فلاں کام پر سو لاکھ
یعنی ایک کروڑ دیا جائے گا… اس آدمی نے وہ کام کرلیا اسے ایک کروڑ بھی مل
گئے … لیکن کیا اس کو وزیراعظم والا مقام، رتبہ اور اختیارات بھی حاصل
ہوں گے؟… جواب صاف ہے کہ بالکل نہیں… عرض کیا! … حدیث پاک میں
اجر کا لفظ آیا ہے … یعنی سو شہیدوں کا اجر … جو یقیناً اس کو
ملے گا… مگر شہید کا رتبہ اور مقام الگ چیز ہے جو بہت ہی اونچی
ہے … آپ یقین کریں … شہید کے فضائل پڑھ کر انسان کے دل پر وجد
طاری ہو جاتا ہے … اور بعض اوقات تو دل کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا
ہے … مثلاً ترمذی کی روایت ! … آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے
فرمایا … اللہ تعالیٰ جس سے بھی بات فرماتے ہیں پردے میں
فرماتے ہیں… مگر تمہارے والد سے بالکل سامنے بات فرمائی … اللہ،اللہ،اللہ …سوچیں
تو دل کی دھڑکن تیز ہو جائے … اللہ جلّ جلالہ وعزّشانہ
کا بغیر پردے کے آمنے سامنے کلام فرمانا … حضرت عبد اللہ
بن حرام رضی اللہ عنہ… احد کے دن شہید ہوئے تھے … اور
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث مبارک ان کی شہادت کے
بارے ہی میں ارشاد فرمائی ہے… اب ان لوگوں کا کیا بنے گا جو صبح شام ، رات
دن… جہاد اور شہادت کے مقام کو گرانے کے لئے… دو چار روایات یاد کئے
پھرتے ہیں … کیا ان کو اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں
آتا؟ … یا اللہ ! امت مسلمہ پر رحم فرما … آج عذاب قبر،
حسن خاتمہ … اور جہنم سے نجات کے موضوع پر لکھناتھا مگر … قلم
کا رخ کہیں اور ہوگیا … بس آخری بات آج کی مجلس میں … اپنے
اور آپ سب کے لئے عرض کرتا ہوں کہ … ہمارے مسائل بے شمار
ہیں … ایمان کامل کیسے نصیب ہو؟… ایمان پر استقامت کیسے
ملے؟…گناہوں سے کیسے جان چھوٹے؟… توبہ کیسے پکی ہو اور قبول ہو… موت کی
سختی سے کیسے حفاظت ہو… عذاب قبر سے کیسے نجات ملے … آگے پل
صراط … حساب کتاب، میزان، نامہ اعمال … اور پھر جہنم سے کیسے
نجات ملے؟… ہمیں ان تمام مسائل کے لئے بہت دعاء مانگنی چاہئے… بہت محنت
کرنی چاہئے … خصوصاً رمضان المبارک کے آخری ایام اور اوقات میں خاص دعائوں
کا اہتمام رہے … مگر… ایک چیز ایسی ہے جو اگر ہمیں مل جائے تو ان شاء
اللہ یہ تمام بڑے بڑے
مسائل … جی ہاں! پہاڑوں سے بھی بڑے مسائل خود حل ہو جائیں گے… وہ
چیز ہے’’شہادت‘‘ … شہادت اگر نصیب ہو جائے تو پھر کوئی بھی مسئلہ مشکل
نہیں … سب جگہ راحت ہی راحت اور اکرام ہی اکرام ہے… آپ سے گزارش ہے
قرآن و سنت میں شہادت کو پڑھیں، شہادت کو سمجھیں … فضائل جہاد فتح
الجواد اور جمال جمیل نامی کتابوں میں آپ کو مستند مواد مل سکتا ہے … جب
شہادت سمجھ آجائے تو پھر سچے دل سے اس کا سوال کریں … ان شاء اللہ بہت سی فوری اور اگلی تمام منزلوں میں
آسانی اور رحمت ہو جائے گی…
لاالہ
الا اللہ ،لاالہ الا اللہ ،لاالہ الا اللہ محمد رسول
اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
و
بارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لاالہ
الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو دین اسلام پر’’شرح صدر‘‘ نصیب فرمائے… ارشاد
فرمایا:
اللہ
تعالیٰ جس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتے ہیں وہ اپنے رب کے نور کو پالیتا
ہے…
نور،
روشنی، سکون… اطمینان اور توفیق… یعنی سب کچھ ٹھیک ٹھیک نظر آتا
ہے… کیا صحیح ہے اور کیا غلط؟… کیا حق ہے اور کیا باطل؟…کیا اچھا ہے اور
کیا بُرا… نور اور روشنی ہوتی ہے تو راستہ روشن رہتا ہے اور منزل
صاف… مجھے اور آپ سب کو اللہ تعالیٰ سے’’شرح صدر‘‘ کی دعاء
مانگتے رہنا چاہئے… آج کچھ ضروری باتیں ہیں،توجہ اور غور سے پڑھنے سے ان شاء
اللہ فائدہ ہوگا…
٭
دین کامل کی دعوت… پورے دین کی دعوت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے
، جو الحمدللہ جماعت کو محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے
نصیب ہوئی ہے… ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ دعوت امت مسلمہ کے ہر طبقے تک
پہنچے… امت مسلمہ کا ایک اہم طبقہ’’بزرگ اکابر‘‘ ہیں… یعنی بوڑھے مسلمان
مرد اور عورتیں… یہ امت کا وہ طبقہ ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ
نے’’برکت‘‘ کو لازم فرما دیا ہے… اسلام میں ایک مومن کے لیے بڑھاپا مہر و
برکت کا تحفہ ہے… جہاں بوڑھے مسلمان ہوںگے وہاں برکت اور ترقی ضرور ہو گی…
٭
اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ ہرمسلمان’’فطرت‘‘ کے مطابق چلے… اور
اللہ تعالیٰ کی تقسیم کو قبول کرے… اللہ تعالیٰ نے
کسی کو بڑا بنایا کسی کو چھوٹا… کسی کو مالدار بنایا کسی کو غریب… کسی
کو عقلمند بنایا کسی کو سادہ… کسی کو منصب اور اختیار دیا اور کسی کو بے
اختیار رکھا… حکم یہ ہے کہ حسد نہ کیا جائے بلکہ جس کو اللہ
تعالیٰ نے جو مقام دیا وہ قبول کیا جائے… فطرت کے مطابق گھر میں ماں
اور باپ بڑے ہیں… اور اولاد چھوٹی… مگر جدید تعلیم اور جدید معاشرے کی
ڈسی ہوئی اولاد اس فطری نظام کو بدلتی ہے… آج گھروںمیں اولا دبڑی ہے اور ماں
باپ چھوٹے… یہ ظلم ہے، بدفطرتی ہے… اور ایسا عمل ہے جس نے گھروںسے برکت
اور سکون کو چھین لیا ہے… ہر مسلمان اپنے گھر پر غور کرے اور اس خلاف فطرت
عمل کو روکے…
٭
اولاد ماں باپ کی نافرمانی کرتی ہے… یہ عذاب اور لعنت والا عمل ہے… عذاب
اور لعنت بھی معمولی نہیں… بلکہ جبرئیل امین ح کی بددعاء اور حضرت محمد صلی
اللہ علیہ وسلم کی آمین والی…ایسا عذاب کہ جس کو نہ رمضان المبارک توڑ
سکتا ہے اور نہ لیلۃ القدر… ایسی لعنت کہ عید کے دن جب رحمت ہی رحمت ہو یہ
لعنت اُس اولاد پر برستی رہتی ہے جو اپنے ماں باپ کی نافرمانی کرتی ہے… سب
بخشے جاتے ہیں اور وہ رہ جاتے ہیں…
٭
ماں باپ کی نافرمانی… قرآن پاک کی نافرمانی ہے… اور قرآن پاک کے
نافرمان کبھی کامیاب نہیں ہوتے… مسلمانوں کی اجتماعی ہلاکت میں اس گناہ کا
بہت دخل ہے… لیکن تھوڑا سا غور کریں… ہم اولاد کو سمجھاتے رہتے ہیں کہ
وہ ’’والدین‘‘ کی نافرمانی کا جرم اورکبیرہ گناہ نہ کرے… لیکن کوئی ماں باپ
کو بھی سمجھانے والا ہے کہ اس جرم اور گناہ میں ساٹھ سے ستر فیصد خود ان کا قصور
ہے… اول تو اولاد کی بنیاد ڈالتے وقت بسم اللہ اور مسنون دعاؤں
کا اہتما م نہیں… چنانچہ ابتداء سے ہی شیطانی حصہ شامل ہوجاتا ہے… پھر
اولاد کی دینی تعلیم و تربیت کا اہتما م نہیں… سیدھا ان کو بددینی میں جھونک
دیتے ہیں… اپنی اولاد کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر کھلی چھوٹ
دیتے ہیں اور اپنی نافرمانی پر جھولیاں اٹھا کر بددعائیں دیتے ہیں… اپنے گھر
میں ٹی وی، نیٹ اور دیگر شیطانی آلات کی روک تھام نہیں کرتے… اولاد کو’’حبّ
دنیا‘‘ میں پھنساتے ہیں اور’’حبّ دنیا‘‘ کا لازمی نتیجہ’’خود غرضی ‘‘ہوتا ہے ، یہی
خود غرضی اُن کووالدین کے خلاف کھڑا کرتی ہے… اپنی اولاد کو موت کے ڈر سے کئی
اہم فرائض سے روکتے ہیں… اب ایسی اولاد کس طرح سے والدین کی فرمانبردار ہو
سکتی ہے؟… لیکن اگر ایک آدمی ان تمام امور کا خیال رکھے… بنیاد ڈالتے
وقت اللہ تعالیٰ کانام بھی لے… اولاد کو قرآن پاک اور دین کی
تعلیم بھی دے… اولاد کو شیطانی آلات بھی مہیانہ کرے… مگر پھر بھی اولاد
نافرمان ہو جائے تو اب کیا کرے؟… جواب یہ ہے کہ اب ناراض ہونے، بددعائیں
دینے… اپنے ادب و احترام پر لیکچر دینے کی بجائے… اپنی خواہشات کو محدود
کر لے… عبادت میں زیادہ وقت لگائے… دعاء کو وسیلہ بنائے اور اللہ
تعالیٰ کے درپر جا پڑے… ان شاء
اللہ یا تو مسئلہ حل ہو جائے
گا… یا کم از کم ’’عذاب‘‘ عام نہیں ہو گا…
کیا
امت مسلمہ کے بزرگوں کو یہ بات سمجھانے اور سکھانے کا کوئی انتظام ہے؟
٭ غزوہ
بدر میں نوجوان مجاہد بھی تھے… اور بزرگ بوڑھے مجاہد بھی… مال غنیمت
آیا تو دونوں طبقوں میں ایک خوشگوار بحث ہوئی… آپ سورۂ انفال کا شان نزول
پڑھ لیجئے… نماز میں امامت کا معاملہ آیا تو ایک ترجیح ’’عمر‘‘ کی رکھی گئی
کہ بڑی عمر والا امامت کا زیادہ مستحق ہے… اسلامی اخلاق کی ترتیب بنی تو
مسلمان ہونے کی اخلاقی نشانی میں سب سے پہلا درجہ بزرگوں کے اکرام کا
آیا… جو بزرگوں کا اکرام نہ کرے، چھوٹوں پر شفقت نہ کرے، علماء کی عزت نہ
کرے وہ ہم میں سے نہیں… سفر میں قافلے کا امیرکون ہو؟… مجلس میںجماعت کا
ترجمان کون ہو؟… ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر جگہ بوڑھوں
کو جوانوں پر ترجیح عطاء فرمائی… ان تمام احکامات کو پڑھ کر… ایک سچے
مسلمان کے دل میں… بوڑھوں، بزرگوں، سفید داڑھی والوں کی ایک عجیب سی عزت،
تعظیم اور تکریم دل میں بیٹھ جاتی ہے… اور ان کے جو بڑھاپے کے عیوب، مزاج اور
بیماریاں ہوتی ہیں ان کی طرف توجہ بھی نہیں جاتی… یہ اسلام کا حُسن
ہے… یہ فطرت کی اتباع ہے… اور یہی عمل کسی معاشرے کوقوت عطاء کرتا ہے…
٭
اسلام نے بزرگوں کے لئے کئی الگ احکامات بھی جاری فرمائے ہیں… ہر بزرگ مسلمان
کو وہ معلوم ہونے چاہئیں… بزرگوں کے لئے الگ سے مفید دعائیں بھی ارشاد
فرمائیں یہ بزرگوں کو یاد ہونی چاہئیں… بڑھاپے میں کئی طرح کے عذر آجاتے
ہیں… اکثر بزرگوں کو مسائل معلوم نہیں ہوتے… ان میں سے بعض خوامخواہ کی
مشقت اٹھاتے رہتے ہیں… ایک ایک نماز کے لئے کئی کئی وضو… اوربعض تھک ہار
کر عبادت چھوڑ دیتے ہیں کہ جی! پاکی نہیں رہتی… حالانکہ احکامات معلوم ہوں تو
ان کے لئے کتنی آسانی ہو جائے…ہمارے ہاں بچوں کے لئے مدارس ہیں… نوجوانوں کے
لئے مدارس ہیں… مگر بزرگوں کا کوئی مدرسہ نہیں جہاں چھ، نو ماہ میں اُن
کواسلام کے تمام ضروری احکامات سکھا دیئے جائیں… اور ان میں عبادت، تقوے اور
جہاد کا ذوق پید اکیا جائے…
٭
ہمارے معاشرے میں… بدقسمتی سے ’’بزرگوں‘‘ کی قدروقیمت کم ہوتی جارہی
ہے… نعوذ باللہ … برکت کے ان خزینوں کو لوگوں نے بوجھ سمجھ لیا
ہے… گھروں میں ان کے رہنے کا بااکرام انتظام نہیں ہوتا… جوان اولاد کمرے
بانٹ لیتی ہے… اور ما ں جیسی مقدس ہستی اور باپ جیسا برکت کا منبع برآمدوں
میں آہیں بھرتے رہتے ہیں… اس ناقدری نے بزرگوں کو بھی چڑ چڑا
بنادیا… ان میں بھی کئی طرح کی اخلاقی کمزوریاں پیدا ہو گئیں
ہیں… ناقدری ایک ایسی آزمائش ہے جو اچھے بھلے انسان کو ہر خوبی سے محروم کر
سکتی ہے…ہونا یہ چاہئے تھا کہ بزرگوں کے تجربات، ان کی پختہ عقل… اور ان کی
برکت سے مسلمان فائدہ اٹھاتے مگر ایسا نہ ہوا… بلکہ اُن کو بوجھ قرار دے
کر…اُن پر گھر کے ادنیٰ اور حقیر کاموں کا بوجھ ڈالا جاتا ہے… جس کی وجہ سے
اُن کا تجربہ، عقل اور برکت… سب کچھ ناشکری کی دھول میں دفن ہوجاتا
ہے… کوئی ہے جو مسلمانوں کے اس قابل رحم طبقے کے بارے میں کچھ
سوچے؟… ظالم کافروں نے تو ’’اولڈ ہاؤسسز‘‘ بنا ڈالے… مسلمانوں میں سے
کسی کو توفیق نہ ہوئی کہ… چند دن کے لئے ہی سہی ان بزرگوں کو کسی بااکرام
ماحول میں لا کر ان کی گردجھاڑے… ان کو اُن کے مقام پر کھڑا کرے… ان کو
عبادت اور دعاؤں کے ہتھیاروں سے لیس کرے… ان کو وقار اور تقویٰ کے ایسے گُر
سکھائے کہ… وہ بڑھاپے میں نوٹ گن گن کر چھپانے کی بجائے… دین کے
کام… اور دین کی دعوت… اور طاقت ہوتو جہاد پر نکل کھڑے ہوں…
٭
کسی بھی کام کا نتیجہ اس دنیا میں سو فیصد نہیں نکلتا… کوئی بھی کام بغیر کسی
الجھن اور پریشانی کے نہیں ہوتا… کسی بھی کام میں… خواہ نیت کتنی اچھی
کیوں نہ ہو… کچھ نہ کچھ کمزوریاں رہ جاتی ہیں… اور کچھ نقصانات بھی
سامنے آتے ہیں… مگر ان چیزوں کو مدنظر رکھ کر کام ہی نہ کرنا یہ محرومی والی
بات ہے… بزرگوں کی تعلیم و تربیت کے کام میں بھی الجھن، پریشانی آسکتی
ہے… مگر یہ کام مسلمان کے لئے بے حد ضروری ہے…
٭ مسجد
سے ملحق ایک مدرسہ… نام جامعۃ الصابر للشیوخ…
دو
نصاب… ایک چھ ماہ کا اور ایک نو ماہ کا… نصاب میں کچھ تفسیر، کچھ عقائد،
کچھ حدیث… اور کچھ فقہ… اور باقی فضائل… معمولات یومیہ کا جاندار
نصاب اور نظام… کھانے، پینے علاج، معالجہ کی مکمل سہولت… یکم محرم سے
تعلیم شروع ہو اور رمضان کے آخری عشرے کا مرکزمیں اعتکاف… آخری سبق
ہو… پھر جو تشریف لے جانا چاہیں… علم، عمل یقین کی دولت ساتھ لیکر گھروں
کو جائیں… اور جو کام میں جڑنا چاہیں تو کام میں لگ جائیں… بس یہ ہے
ابتدائی خاکہ اور سالہا سال سے دل میں رچا بسا ایک خواب… ایک سو سفید داڑھی
والے مسلمان بزرگ جن کی داڑھی کلمے کے ساتھ سفید ہوئی… جب کسی جگہ جمع ہو کر
دعاء کے لئے ہاتھ اٹھائیں… سبحان اللہ !… یہ منظر دیکھنے کی دل
میں تمنا ہے… یہ ادارہ کھولنے کا ارادہ توکر لیا ہے… ان شاء اللہ … اب اللہ تعالیٰ
کا فضل ہوا… اور حضرت امی جی حفظہا اللہ تعالیٰ کی
دعائیں مل گئیں تو یہ کام بھی ان شاء اللہ … پورا ہو جائے گا… اور
بہت امید ہے کہ دیگر دینی جماعتیں بھی اس کے بعد ایسے ادارے ضرور کھولیں
گی… اور اگرمیری اور میرے ساتھیوں کی قسمت میں یہ کام نہ ہوا تب بھی…
الحمدللہ … اللہ تعالیٰ سے کوئی شکوہ نہیں… ایک اچھی سوچ
تھی جو آج آگے بڑھا دی ہے… اچھی سوچ وہ ہوتی ہے جس میں اپنی ذات کا کوئی
دنیوی فائدہ مطلوب نہ ہو… صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور امت مسلمہ
کی خدمت اور مفاد مقصود ہو… اچھی سوچ کی مثال آسمان سے اترنے والی بارش کی
طرح ہوتی ہے… یہ بارش تین طرح کی زمینوں پر اترتی ہے… ایک وہ زرخیز اور
باصلاحیت زمین جو بارش کو جذب کر کے… کھیتیاں، پھول،پودے اگا دیتی
ہے… دوسری وہ چٹیل زمین جو کچھ اگا تو نہیں سکتی پانی کو آگے چلا دیتی
ہے… اور کہیں نہ کہیں یہ پانی پھل، پھول اگا دیتا ہے… اور تیسری وہ زمین
جس پر پانی پڑ کر ضائع ہوجاتا ہے… کچھ گندے پودے اور کانٹے دار جھاڑیاں اگتی
ہیں… ان شاء اللہ ارادہ ہے کہ… اس اچھی سوچ پر خود عمل
کریں… کراچی، ڈسکہ، پنڈی یا بہاولپور میں یہ ادارہ قائم ہو جائے… اہل
علم کی نگرانی میں نصاب مرتب ہوجائے… کیا بعید کہ کئی باہمت بزرگ… اس
نصاب کے بعد باقاعدہ مکمل عالم بننے کے لئے داخلے لے لیں… بندہ نے طالب علمی
کے زمانے میں ایک بزرگ ریٹائرڈ میجر صاحب کو کئی کتابیں پڑھائیں… ان کی
عمرپینسٹھ(۶۵) سال
سے اوپر تھی… ماشا ء اللہ صالح اور عبادت گزار تھے… مسجد
میں آجاتے ہمارے ساتھ سبق میں شریک ہوتے … اور سبق کے بعد بندہ سے
باقاعدہ کتابیں پڑھتے… ’’اصول الشاشی‘‘ تو ان کو خو ب اچھی طرح سمجھا کر
پڑھائی تھی… کچھ وقت بچتا تو فوج کے قصے بھی سناتے… اگر ہم خود یہ کام
نہ کر سکے… ہماری بے بسی اور بے کسی کو اللہ رب العالمین جانتے
ہیں تو… ہم نے چٹیل زمین کی طرح پانی آگے چلا دیا ہے… بعض دینی مدارس
میں بزرگوں کا شعبہ قائم ہے مگر وہ صرف غیر ملکی بزرگوں کو… فیس پر رکھتے
ہیں… جبکہ ہمارا مقصد… بزرگوں کو دین کی تعلیم دینا… دینی ماحول
دینا… اور ان کی خدمت اور اکرام کرنا ہے… اس طرز پر ابھی تک کام شروع
نہیں ہوا… تو ان شاء اللہ کسی نہ کسی کو توفیق مل ہی جائے گی…
الحمدللہ ماضی میں بھی… کئی ایسے
کاموں کا اعلان ہوا جن پر بہت دور کے مسلمانوں نے عمل کر دکھایا… جماعت کے
اصل کام کو مضبوط، منظم، اور مستقل بنیادیں فراہم کرنے کے لئے… کئی ترتیبات
کی ضرورت ہے… اللہ تعالیٰ ہی توفیق دینے والا اور مدد فرمانے
والا ہے…
و
اللہ المستعان و علیہ التکلان
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
بعض
ناگزیر وجوہات کی بناء پر تازہ رنگ و نور اس بار شائع نہیں ہورہا۔ افادۂ قارئین
کے لیے سابقہ مضامین کے شذرات پر مشتمل یہ تحفہ پیش کیا جا رہا ہے۔ (ادارہ)
استغفار
کسے کہتے ہیں؟
اللہ
تعالیٰ میری اورآپ سب کی ’’مغفرت‘‘ فرمائے…
{اَسْتَغْفِرُ
اللہ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَالْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَاَتُوْبُ
اِلَیْہ}
مغفرت
بہت عظیم الشان نعمت ہے… اندازہ لگائیں کہ جب قرآن مجید میں رسول پاک صلی
اللہ علیہ وسلم کے لئے’’مغفرت‘‘ کا اعلان کیا گیا توآپ صلی اللہ علیہ
وسلم بے حد خوش ہوئے… یقیناً وہی مؤمن کامیاب ہے جس کی ’’مغفرت‘‘
ہو جائے… اسی مغفرت اور معافی کو اللہ تعالیٰ سے مانگا جائے تو
اسے ’’استغفار‘‘ کہتے ہیں… اللہ تعالیٰ جس قوم کو اپنے عذاب سے
بچاناچاہتے ہیں اُسے’’ استغفار‘‘ کی توفیق اور موقع اور سمجھ عطاء فرما دیتے
ہیں… حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کا واقعہ قرآن پاک میںموجود
ہے…انسان کی دعاء اور عرش کے درمیان گناہوں کی وجہ سے جو رکاوٹیں اور پردے آجاتے
ہیں… استغفار اُن سب پردوں اور رکاوٹوں کو دور کر دیتا ہے…(کنجی… رنگ و
نور 323)
سچی
توبہ کی شرائط
سچی
توبہ کے لئے کچھ شرطیں ہیں… صرف زبان سے توبہ توبہ کہنا کافی نہیں ہے… ان
چند چیزوں کا لحاظ رکھ کر توبہ کریں تو وہ توبہ ان شاء
اللہ قبول ہوتی ہے…
(۱) اخلاص… یعنی توبہ
اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کی جائے… بہت سے لوگ صرف اس لئے توبہ
کرتے ہیں کہ… دنیا میں اُن پر کوئی مصیبت نہ آجائے…
(۲) ندامت… یعنی اپنے گناہ
پر نادم اور شرمندہ ہونا…
(۳) اقلاع… یعنی اُس گناہ کو چھوڑ دینا…
(۴) عزم… یعنی آئندہ گناہ نہ کرنے کی مضبوط
نیت رکھنا…
(۵) وقت… یعنی موت کی سکرات شروع ہونے سے پہلے
پہلے تو بہ کر لینا…
ہم
سب کو چاہئے کہ… ان پانچ باتوں کا لحاظ رکھ کر اپنے تمام گناہوں سے آج ہی
توبہ کر لیں…(دروازہ سب کے لیے کھلا ہے…رنگ و نور 252)
استغفار
پر انعامات
’’استغفار‘‘
پر بے شمار نعمتوں کا وعدہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے… اور
اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں فرماتے… غور سے دیکھئے قرآن پاک
سورہ ھود آیت(۳) میں
ارشاد باری تعالیٰ:
ترجمہ:
اور( اللہ تعالیٰ کا حکم) یہ(ہے) کہ تم اپنے ربّ سے استغفار کرو(یعنی
مغفرت اور معافی مانگو) پھر اسی کی طرف رجوع کرو وہ تم کو ایک وقتِ مقرر(یعنی موت)
تک(دنیا میں) خوش عیشی دے گا اور ہر زیادہ عمل کرنے والے کو زیادہ ثواب دے گا
(ھود،۳)
یعنی
اصل اجر اور نعمتیں تو آخرت کی ہیں… مگردنیا میں بھی سکون، چین اور راحت اور
طرح طرح کی نعمتیں عطاء فرمانے کا وعدہ ہے…
دوسری
جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ:
میں نے کہاکہ اپنے ربّ سے ’’استغفار‘‘ کرو (یعنی معافی مانگو) وہ بڑا معاف کرنے
والا ہے، وہ تم پر آسمان سے (موسلا دھار) بارش برسائے گا اور مال اوربیٹوں سے
تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں باغات عطاء فرمائے گا اورتمہارے لئے نہریں جاری
فرمائے گا(نوح،۱۰ تا ۱۲)
آپ
صرف ان دو آیات میں غور کریں تو معلوم ہو گاکہ… استغفار ہر نعمت اور آسانی
کی چابی ہے… (کنجی… رنگ و نور 323)
استغفار
کریں یا تسبیح؟
علامہ
ابن تیمیہ سسے کسی نے پوچھا کہ ہم تسبیح زیادہ کریںیا استغفار… فرمایا اگر
کپڑے پاک صاف ہوں تو خوشبو اچھی ہوتی ہے… اور اگر میلے کچیلے اور گندے ہوں
توصابن اچھا ہوتا ہے… اور ہم لوگ تو اکثر میلے کچیلے ہی رہتے ہیں… یعنی
تسبیح خوشبو کی طرح ہے… اور استغفار صابن کی طرح… دراصل
استغفار… پاکی اور طہارت کی وہ موسلا دھار بارش ہے… جو انسان کو اندر
باہر سے پاک کر دیتی ہے… سب سے بڑی پاکی تو یہ ہے کہ نامہ اعمال پاک ہو جاتا
ہے… (کنجی…رنگ و نور ۳۲۳)
استغفار
اور کشادہ رزق
یہ
ہے وہ وظیفہ جس کی تائید قرآن پاک کی کئی آیات اور کئی احادیث سے ہوتی
ہے… اُن سب آیات اور احادیث کو لکھوں تو مستقل ایک بڑے مضمون کی صورت بن
جائے… اس لئے آج صر ف ایک حدیث پاک پر اکتفا کرتے ہیں…
ابو
داؤد، ابن ماجہ اور مسند احمد کی روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی
اللہ عنہما فرماتے ہیں:
{قال
رسول اللہ امَنْ لَزِمَ الْاِسْتِغْفَارَ جَعَلَ اللہ لَہٗ مِنْ
کُلِّ ضَیْقٍ مَخْرَجًا وَمِنْ کُلِّ ھَمٍّ فَرَجًا وَرَزَقَہٗ مِنْ حَیْثُ لَا
یَحْتَسِبْ}
ترجمہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو استغفار
کو لازم پکڑلے تو اللہ تعالیٰ اُسے ہر تنگی اور مشکل سے نکلنے کا
راستہ عطاء فرمائے گا اور اُسے ہر پریشانی سے نجات عطاء فرمائے گا اور اُسے ایسے
راستوں سے رزق دے گا کہ جن کا اسے گمان بھی نہیں ہو گا…(مسند احمد)
اس
حدیث شریف میں تین انعامات کا تذکرہ ہے… جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایسے
طریقے سے رزق ملے گا جو اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوگا… (چند راتیں: رنگ
و نور ۳۰۳)
کثرتِ
استغفار کے فوائد
ایک
بات اچھی طرح دل اور دماغ میں بٹھا لیں کہ… توبہ،استغفار بہت ہی بڑی اور عظیم
نعمت ہے… مگرافسوس کہ… ہم اس نعمت سے غافل… اوراس کے ثمرات سے
محروم ہیں… یقین کریں کہ… اگرمجاہدین میں کثرت سے توبہ، استغفار آجائے
تو تمام محاذوں پر اُن کی طاقت بے پناہ بڑھ جائے… اور دشمنوں کوبھاگنے کا
راستہ نہ ملے… یقین کریں کہ… اگرعلماء کرام میں کثرت سے توبہ ، استغفار
کا عمل جاری ہو جائے تو اُن کے علوم میں بے پناہ برکت ہو جائے… اور اُن کے
قلم اور زبانوں پر وہ نصرت نازل ہو جو اسلاف پر نازل ہوئی… اللہ
تعالیٰ تو وہی ہے… جو پہلے تھا… وہ اول بھی ہے اور آخر
بھی… ظاہر بھی ہے اور باطن بھی… اسلاف کا ’’ اللہ ‘‘ بھی
وہی… اور اب موجودہ لوگوں کا ’’ اللہ ‘‘ بھی وہی…
آپ
یقین کریں کہ… اگر امت مسلمہ کی عورتوں میں استغفار اور توبہ کی کثرت ہو جائے
تو زمین پراسلام کے غلبے کا راستہ ہموارہو جائے… عورتیں جب صدقہ اور استغفار
کی کثرت کرتی ہیں تو وہ جہنم کے راستے اور کاموں سے ہٹ کر جنت کی راہوں اور کاموں
پر آجاتی ہیں… تب وہ دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے
’’انصار‘‘ بناتی ہیں… میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے
عورتوں کو حکم فرمایا کہ… صدقہ اور استغفار کی کثرت کریں…
آپ
یقین کریں کہ… اگر مصیبت زدہ، بیمار، پریشان حال، مقروض اور بدحال مسلمانوں
میں… کثرت سے توبہ، استغفار آجائے تو ان کی حالت تیزی سے درست ہو
جائے… اور وہ ایسی تبدیلی دیکھیں کہ اپنی آنکھیں بھی اعتبار نہ
کریں… آپ یقین کریں کہ… ان باتوں میں کوئی مبالغہ یا لفاظی
نہیں… بلکہ قرآن پاک کی آیات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کی احادیث مبارکہ… اس سے بڑھ کر توبہ، استغفار کے فوائد ،
خواص… اور اثرات بیان فرماتی ہیں…
اس
لیے جو کچھ عرض کیا گیا وہ مبالغہ تو کیا… محض ناقص ترجمانی ہے…
آپ
صرف چالیس دن… پوری توجہ، اخلاص اور کثرت کے ساتھ توبہ، استغفار کا روزآنہ
ہزاروں بار اہتمام کریں… تب آپ سسکیاں بھریں گے کہ… ماضی میں اس نعمت
کی محرومی سے ہم نے معلوم نہیں کیا کچھ کھو دیا…(مقام فراموش …رنگ و نور
شمارہ۳۵۳)
استغفار
کے بارے میں ایک غلط سوچ
غورکریں
بھائیو! اس میں اور اُس بندے میں بہت فرق ہے جویہ سوچ کر گناہ کرتا ہے
کہ… اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے… اس لئے میں گناہ کر لیتا ہوں
وہ معاف فرما دے گا…یہ غلط سوچ اور بُری حرکت ہے… اور اپنے مالک سے کھلی بے
وفائی ہے… ارے اُن کے غفور رحیم ہونے کا تقاضا تو یہ ہے کہ انسان اللہ
تعالیٰ کے احسان سے اتنا شرمندہ ہوکہ… اُسے گناہوں کے خیال سے بھی نفرت
ہو جائے… مگر جس بندے کاحدیث پاک میں تذکرہ ہے… وہ گناہ نہیں کرتا مگر
اس سے گناہ ہو جاتا ہے… وہ خود کو گناہوں کا حقدار نہیں سمجھتا بلکہ گناہوں
سے بچنا چاہتا ہے… وہ گناہوں پرجرأت نہیں کرتا مگرگناہ اس پر چڑھ دوڑتے
ہیں… تب وہ سچی توبہ کولازم پکڑ لیتا ہے… اور’’توّاب‘‘ بن
جاتاہے … بار بار توبہ ، ندامت، رونا دھونا… مگر مایوسی
نہیں… بلکہ توبہ… دل چھوڑنا نہیں… توبہ، توبہ، اورتوبہ… تب وہ
اُن اولیاء کے برابر پہنچ جاتا ہے…جو اکثر گناہوں سے محفوظ رہتے ہیں… اورپھر
جب وہ ’’ محبت الہٰی‘‘ کے مقام پر جا بیٹھتا ہے تو بہت سے گناہوں سے بچ جاتا
ہے… (مقام فراموش، رنگ و نور شمارہ۳۵۳)
دوسروں
کے لیے استغفار
اب
سنیں! قرآن پاک میں دوسروں کے لئے استغفار کی آیات دو طرح کی ہیں… ایک وہ
جن میں دوسروں کے لئے استغفار کی ترغیب ہے… یعنی کوئی مسلمان… اپنے
علاوہ دوسروں کے لئے بھی… اللہ تعالیٰ سے مغفرت، اور معافی
مانگے… اور دوسر ی وہ آیات جن میں بعض لوگوں کے لئے ’’استغفار‘‘ کرنے کی
ممانعت آئی ہے… یعنی زمین پر کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے لئے نہ اللہ
تعالیٰ کے فرشتے’’استغفار‘‘ کرتے ہیں… اور نہ مسلمانوں کو اجازت ہے کہ
ُان کے لئے استغفار کریں…یہ بد نصیب لوگ… مشرکین،کفار اور منافقین ہیں…
ایک
بات مکمل ہو گئی کہ… ہم کسی مشرک ، کافر اور عقیدے کے منافق کے لئے استغفار
نہیں کر سکتے… اب آتے ہیں دوسرے اور اصل موضوع کی طرف… قرآن پاک میں
دوسروں کے لئے استغفار کے جو احکامات ہیں ہم ان کو درج ذیل عنوانات سے سمجھ سکتے
ہیں…
(۱) فرشتوں کا عمل کہ وہ زمین پر
موجود ایمان والوں اورتوبہ کرنے والوں کے لئے استغفار کرتے ہیں معلوم ہوا کہ
دوسروں کے لئے استغفار کرنا اللہ تعالیٰ کو اتنا محبوب ہے کہ عرش
اٹھانے والے مقرب فرشتوں اور دیگر بے شمار ملائکہ کو اس عبادت میں لگا دیا ہے…
سبحان
اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم
(۲) کسی مسلمان کا تمام مؤمنین
اور مؤمنات کے لئے استغفار کرنا…
(۳) اپنے والدین کے لئے استغفار کرنا…
(۴) والدین کا اپنی اولاد کے لئے استغفار کرنا…
(۵) کسی مسلمان کا اپنے بھائی…یا بھائیوں کے لئے
استغفار کرنا…
(۶) بڑوں کا اپنے چھوٹوں کے لئے
استغفار کرنا…
(۷) چھوٹوں کا اور بعد میں آنے والوں کا… اپنے
بڑوں اور اپنے سابقین… کے لئے استغفار کرنا…
(۸) توبہ کے لئے آنے والی خواتین کے لئے استغفار
کرنا…
(۹) جو کسی واقعی سچے عذر کی وجہ
سے کسی فضیلت یا سعادت سے محروم ہوئے ہوں… اُن کے لئے استغفارکرنا…
(۱۰) جو
گناہ گارلو گ اللہ تعالیٰ سے توبہ اور معافی مانگتے ہوں اُن کے لئے
استغفار کرنا…
(مفید
سبق …رنگ و نور شمارہ۳۵۴)
قبولیت
توبہ کی علامات
جب
اللہ تعالیٰ کسی بندے کو توبہ کی توفیق دیتے ہیں… اور پھر اُس کی
توبہ قبول بھی فرما لیتے ہیں تو… کچھ ایسی علامات ظاہر ہوتی ہیں جن سے اندازہ
ہوجاتا ہے کہ… اس بندے کی توبہ قبول ہو چکی ہے… اور یہ اللہ
تعالیٰ کی محبت کا مستحق بن چکا ہے…
اُن
علامات میں سے چند یہ ہیں…
(۱) اچھی صحبت… توبہ قبول
ہونے کی بڑی علامت یہ ہے کہ… انسان کو صدیقین، مجاہدین… اور صالحین کی
صحبت نصیب ہو جاتی ہے… اور بُرے دوستوں سے جان چھوٹ جاتی ہے… یاد رکھیں
اچھی صُحبت ہزاروں نیک اعمال کو آسان بنا دیتی ہے…
(۲) نیکیوں کی رغبت… توبہ
قبول ہو جائے تو دل نیکیوں کی طرف راغب ہوتا ہے اور گناہوں سے اُسے وحشت ہو تی ہے…
(۳) حُبِّ دنیا سے چھٹکارا… توبہ قبول ہونے کے
بعد انسان کا رُخ دنیا سے ہٹ کر آخرت کی طرف ہو جاتا ہے… یعنی اُس کا اصل
مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی تیاری بن جاتا ہے… دنیا
اُس کے ہاتھ میں تو رہتی ہے مگر اُس کے دل میں اُتر کر اُس کا مقصود نہیں بن جاتی
کہ… بس اُسی کی خاطر جیتا مرتا ہو…
اے
مسلمانو! توبہ کا دروازہ سب کے لئے کُھلا ہے… اللہ تعالیٰ جو
ہماراعظیم رب ہے خود ہم سب کو توبہ کے لئے بُلا رہا ہے…
(دروازہ
سب کے لیے کھلا ہے…رنگ و نور 252)
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ کی حمد اور بے شمار شکر کہ… اُس نے ہم مسلمانوں کو قرآنِ مجید
اور سورۃ بقرہ عطاء فرمائی ہے…
اَلْحَمْدُ
لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
ایک
آدمی کو مار دیا گیا… قوم میں اختلاف پڑگیا کہ کس نے قتل کیا ہے؟… کئی
فریق تھے ہر ایک دوسرے پر الزام تھونپ رہا تھا… معاملہ اللہ
تعالیٰ کے نبی اور کلیم حضرت موسیٰ علیہ السلام تک
پہنچا… انہوں نے اللہ تعالیٰ سے مدد چاہی… حکم آیا کہ
ایک’’بقرہ‘‘ لاؤ… اُس’’بقرہ‘‘ کو ذبح کرو اور اس کا ایک ٹکڑا مقتول کو
لگاؤ…’’بقرہ ‘‘عربی میں گائے کو کہتے ہیں… بنی اسرائیل اطاعت کے
کمزورتھے… طرح طرح کے سؤالات کرنے لگے… تب حکم ملا کہ ایسی’’بقرہ‘‘ ذبح
کرو… جو نہ بچھیا ہو اور نہ بڈھی… رنگ تانبے کی طرح خوب چمکتا ہوا
زرد… جو دیکھے بس دیکھتا رہ جائے… کسی کے استعمال میں نہ رہی
ہو… بڑی مشکل سے وہ گائے ملی… بہت مہنگی… اُسے ذبح کیا گیا اور
جیسے ہی اُس کا گوشت مُردے کے جسم سے ٹکرایا… مُردہ فوراً زندہ ہو گیا…
سبحان
اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم… قاتل کا نام اُس نے
خود بتا دیا… ایک بڑا مسئلہ حل ہو گیا… ایک عظیم بحران جو قوم کو توڑ
رہا تھا ختم ہو گیا… اور یہ عقیدہ کہ… مرنے کے بعد زندہ ہونا برحق
ہے… اور اللہ تعالیٰ کے لئے آسان ہے… سب لوگوں پرو اضح ہو
گیا… یہی وہ عقیدہ ہے جو کسی بھی انسان کو نصیب ہو جائے تو اُس کے لئے ایمان
کی ہر منزل… اور دین کا ہر کام آسان ہو جاتا ہے… تھوڑا سا
سوچئے… ’’سورۃ البقرہ‘‘ میں جس’’بقرہ‘‘ کا تذکرہ ہے اس میں اللہ
تعالیٰ نے یہ تأثیر رکھی تھی کہ… کئی دن کا مرا ہوا انسان اُس کے چھونے
سے زندہ ہو گیا… اب آپ اندازہ لگالیں کہ… خود’’سورۃ البقرہ‘‘ میں
اللہ تعالیٰ نے کتنی تأثیر رکھی ہو گی… ایک انسان اگر اندرونی
طور پر مر چکا ہو… زیادہ گناہوں کی وجہ سے… کسی کالے سفلی جادو کی وجہ
سے… شیطانی نحوست کی وجہ سے… غموں اور فکروں کی کثرت کی وجہ
سے… ہاں بالکل اندر سے ٹوٹ پھوٹ چکا ہو… بس مایوسی کے آخری گڑھے میں
گرنے کو ہو… وہ اگر’’سورۃ البقرہ‘‘ کو پکڑ لے تو آپ یقین کریں… اُسے
ایک نئی زندگی مل جاتی ہے… بالکل تروتازہ زندگی… آپ نے کبھی غور
فرمایا!… برکت کسے کہتے ہیں اور نحوست کسے؟… ایک آدمی کوئی بھی کام
کرتا ہے… اُسے اس میں کامیابی نہیں ملتی… جو بھی دعا کرتا ہے قبول نہیں
ہوتی… جس کام میں ہاتھ ڈالتا ہے بعد میں پچھتاتا ہے…علم پڑھتا ہے تو یاد
نہیںہوتا… یاد ہو جائے تو آگے نہیں چلتا دین کا کام کرتا ہے تو شرح صدر نہیں
ہوتا… جتنی محنت کرتا ہے نتیجہ کچھ نہیں نکلتا… جو بیماری لگتی ہے وہ
جانے کا نام نہیں لیتی… ہر کام بیچ میں ادھورا چھوڑنا پڑتا ہے… نہ دین
کا نہ دنیا کا… معلوم ہوا برکت سے محروم ہے… ہمارے آقا صلی
اللہ علیہ وسلم سورۃ البقرہ کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں:
اِقْرَئُ
وْا سُوْرَۃَ الْبَقَرَۃِ فَاِنَّ اَخْذَھَا بَرَکَۃٌ وَتَرْکَھَا حَسْرَۃٌ وَ لَا
تَسْتَطِیْعُھَا الْبَطَلَۃُ
ترجمہ:
سورۃ بقرہ پڑھا کرو کیونکہ اس سورۃ کو پکڑنا’’برکت ‘‘ ہے اور اُس کو چھوڑنا’’حسرت
‘‘ ہے اور جادو گر لوگ اس سورۃ کی طاقت نہیں رکھتے… یعنی نہ پڑھ سکتے ہیں اور
نہ اس کا مقابلہ کر سکتے ہیں… یہ روایت کسی چھوٹی کتاب کی نہیں… صحیح
مسلم شریف کی ہے… یقینا ، بلاشبہ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے
سچ فرمایا… سورۃ بقرہ کو پڑھنے والے، یاد کرنے والے، اس کو سمجھنے
والے… اور اس کو اپنانے والے… ’’برکت‘‘ کا راز اور خزانہ پالیتے
ہیں… اُن کا دین بھی بابرکت ہو جاتا ہے اور اُن کی دنیا بھی بابرکت… اُن
کے وقت میں بھی برکت ہو جاتی ہے اور اُن کے کام بھی برکت… اُن کے اعمال میں
بھی برکت آجاتی ہے اور اُن کے احوال میں بھی برکت… اُن کے اقوال میں بھی
برکت ہو جاتی ہے اوراُن کے افعال میں بھی برکت… اوروہ افسوس اور حسرت سے بچ
جاتے ہیں… اور کوئی جادوگر اور شیطان’’سورۃ بقرہ‘‘ کے سامنے نہیں ٹھہر
سکتا… وہ جادو گر سامری ہو یا افریقی… مشرک ہو یا عیسائی… صحرائی
ہو یا بنگالی… جادو کرنے والا یہ جادو کسی مردہ کی کھوپڑی کے ذریعہ
کرے… یا کسی کو کچھ کھلا پلا کر… یہ جادو آگ ،پانی ، مٹی اور ہوا کے ذریعہ
سے ہو یا جنات کے ذریعہ سے… اس جادو کو کسی اندھے کنویں میں دفن کیا گیا ہویا
کسی مردہ انسان کے منہ میں تعویذ بنا کر اُسے دفنا دیاگیا ہو… یہ جادو ہلاکت
کے لئے ہو یا تفریق کے لئے… ’’سورۃ البقرہ‘‘ اللہ تعالیٰ کے حکم
سے ہر جادوگر کے ہر جادو کو تہس نہس کر دیتی ہے… اور اگر پڑھنے والا توجہ اور
پابندی سے پڑھتا رہے تو وہ جادو… خود جادوگر کی موت بن کر واپس لوٹ جاتا
ہے… وجہ کیا ہے؟… جادو ’’شیطانی کلام‘‘ ہے… اور قرآن پاک
اللہ تعالی کا ’’کلام‘‘ ہے… اور قرآن پاک’’سیّد الکلام‘‘
ہے… تمام کلاموں کا بادشاہ… اورسورۃ البقرہ’’سید القرآن‘‘
ہے… یعنی قرآن پاک کی بادشاہ… اور سردار… اور آیۃ
الکرسی… سورۃ بقرہ کی سردار اور بادشاہ ہے… پھر کسی جادو کی کیا مجال کہ
سورۃ البقرہ کے سامنے ٹھہر سکے… حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا
فرمان ہے:
سَیّدُ
الْکَلَامِ الْقُرْآنُ، وَسَیّدُ الْقُرْآنِ الْبَقَرَۃُ وَسَیّدُ الْبَقَرَۃِ
آیَۃُ الْکُرْسِیِّ (مسند الفردوس للدیلمی)
اب
ایک دلچسپ اور ایمان افروز نکتہ سنیں:
حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ البقرہ کو… ’’سَنَام القرآن‘‘
ارشاد فرمایا…
سنام
کہتے ہیں اونٹ کے کوھان… ہر چیز کے بلند ترین مقام اور قوم کے سب سے معزز
ترین فرد کو۔ ترمذی کی روایت ہے… حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا
ارشاد گرامی ہے:
لِکُلِّ
شَیْیٍٔ سَنَامٌ وَسَنَامُ الْقُرْآنِ سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃِ وَفِیْھَا اٰیَۃٌ
ھِیَ سَیِّدَۃُ اٰیِ الْقُرْآنِ اٰیَۃُ الْکُرْسِیِّ( ترمذی)
ترجمہ:
ہر چیز کی کوئی چوٹی ہوتی ہے اور قرآن کی چوٹی سورۃ بقرہ ہے اور اس میں ایک آیت
تمام قرآنی آیات کی سردار ہے… وہ ہے آیۃ الکرسی…
ایک
اور حدیث میں ارشاد فرمایا:
اَلْبَقَرَۃُ
سَنَامُ الْقُرْآنِ وَ ذُرْوَتُہٗ نَزَلَ مَعَ کُلِّ اٰیَۃٍ مِّنْھَا ثَمَانُوْنَ
مَلَکًا
یعنی
’’سورۃ البقرہ‘‘ قرآن پاک کی چوٹی اور بلندی ہے اس کی ہر آیت کے ساتھ اسّی فرشتے
نازل ہوئے ہیں…
علماء
کرام نے بحث فرمائی ہے کہ… سورۃ البقرہ کو قرآن پاک کا بادشاہ، سردار، سب سے
بلند اور سب سے اعلیٰ درجے کی سورۃ کس وجہ سے فرمایا گیا… کئی دلچسپ اقوال
ہیں… مگر علامہ ابن الأثیرپ فرماتے ہیں کہ… اس مبارک سورۃ میں جہاد کی
فرضیت نازل ہوئی… اور جہاد اسلامی احکامات کی بلندترین چوٹی ہے… جہاد کے
بارے میں بعینہ یہی لفظ ’’سنام‘‘ وارد ہوا ہے کہ… اسلام کی بلندی کا آخری
اور سب سے اونچا مقام جہاد فی سبیل اللہ ہے… سورۃ البقرہ
میں… جہاد کی فرضیت کا حکم نازل ہوا اور ایسے الفاظ میں نازل ہوا
کہ … نہ کوئی اس کی تأویل کر سکتا ہے اور نہ اُس کے معنیٰ کو پھیلا
سکتا ہے… ارشادفرمایا…
کُتِبَ
عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَھُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ (سورۃ بقرہ:۲۱۶)
تم
پر جہاد فرض کر دیا گیا… اور وہ تمہیں بھاری لگتا ہے… القتال کا لفظ
استعمال فرما کر… ہر تحریف اور تأویل کا دروازہ ہی بند فرمادیا… بعض
اہل علم کا قول ہے… سورۃ بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے پانچ سو حکمتیں
اور پندرہ مثالیں بیان فرمائی ہیں… جبکہ کچھ اور اہل علم فرماتے
ہیں … سورۃ البقرہ میں ایک ہزار اوامر، ایک ہزار نواھی، ایک ہزار حکمتیں
اور ایک ہزار خیر یں بیان فرمائی گئی ہیں… اس سورۃ کے ’’معارف‘‘ تو بے شمار
ہیں… آپ نے اُن کی ایک ادنیٰ سی جھلک دیکھنی ہو تو بندہ کی تألیف…’’یہود کی
چالیس بیماریاں‘‘ کا ایک بار مطالعہ فرمالیں… اس بار کی ڈاک میں بھی بعض
افراد نے لکھا ہے کہ اس کتاب کے مطالعہ سے اُن کی زندگی میں بہت صالح
تبدیلی… اور اپنی اصلاح کی فکر پیدا ہوئی ہے… یہ کتاب سورۃ البقرہ کے
سینکڑوں موضوعات میں سے صرف ایک موضوع کے چوتھے حصے پر مشتمل ہے… ابھی آٹھ
دس دن ہوئے دوبارہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ بقرہ کی طرف توجہ عطاء فر
مائی… غور و فکر کے دوران اور مطالعہ سے جو کچھ سامنے آیا تو اُس کے اشارات
لکھ لئے کہ… رنگ و نور میں پیش کئے جائیں گے … مگر یہ اشارات ہی
اتنے زیادہ ہو گئے ہیں کہ پوری کتاب کا مواد تیار ہو چکا ہے… سب سے بڑی بات
آپ دیکھیں… دنیا میں سب سے خطرناک دشمن’’شیطان‘‘ ہے… قرآن پاک نے ہمیں
بتادیا ہے کہ… شیطان تمہارا دشمن ہے اور تم بھی اس سے دشمنی کرو… شیطان
ایک تجربہ کار، بڈھا، ملعون، طاقتوراور کمینہ دشمن ہے… وہ ہماری رگوں میں خون
کی طرح دوڑتا ہے… اس کی بے شمار اولاد ہے… وہ ہمارے تمام عیوب اور
کمزوریوں سے واقف ہے کہ… اس شخص کو کس راستے سے ڈسا جا سکتا
ہے … شیطان کو مرنے کا بھی خوف نہیں اسے قیامت تک زندگی کا پرمٹ ملا ہوا
ہے… اس کے پاس کئی طرح کے لشکر ہیں… پیادوں کا الگ، سواروں کا
الگ… تین طرح کی فوجیں بری، فضائی اور بحری… وہ خود سمندر میں رہتا
ہے… اور بڑے بڑے سانپ اُس کا پہرہ دیتے ہیں… شیطان کے پاس کئی طرح کے
ماہر وزراء اور ایکسپرٹ ہیں… مثلاً عابدوں کو گمراہ کرنے کے لئے اُس کا ایک
جنرل’’الشیطان الابیض‘‘ ہے… دینی قوتوں کو توڑنے کیلئے اُس کے پاس ایک ماہر
سائنسدان…’’الشیطان الأعور ‘‘ہے… ’’اعور‘‘ کہتے ہیں کانے کو… ایک شیطان
آنکھوں پر اٹیک کرتاہے… دل اور سر کی آنکھیں… تب اچھا بُر ا لگنے لگتا
ہے اور بُر ا اچھا… جو خیر خواہ ہو وہ دشمن نظر آنے لگتا ہے… اور جو
دشمن ہو وہ دوست دکھائی دینے لگتا ہے… جو خیرہو وہ شر نظر آتا ہے… اور
جو شر ہو وہ خیر…مسلمانوں کے بڑے بڑے لشکروں میں پھوٹ ڈالنا… بڑی مقبول
جماعتوں کو توڑنا… مضبوط خاندانوں میں فساد ڈالنا اس شیطان کی مہارت
ہے… وہ کام جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہو وہ شیطان کے لئے موت
کی طرح کڑوا ہوتا ہے… اُس کو بگاڑنے کے لئے وہ اپنے خاص چیلے کو بھیجتا
ہے… خیر یہ ایک الگ اور طویل موضوع ہے اور مقصد یہ نہیں کہ ہم شیطان سے ڈر
جائیں… بلکہ مقصد سورۃ بقرہ کے خواص بیان کرنا ہے… سورۃ بقرہ کی ایک بڑی
خاصیت یہ ہے کہ شیطان اور اس کے تما م جرنیل اور لشکر مل کر بھی سورۃ بقرہ کا
مقابلہ نہیں کر سکتے… اسی لئے بعض محدّثین نے ’ـ’البطلہ‘‘ کا ترجمہ شیاطین سے
کیا ہے… جبکہ مزید کئی واضح احادیث موجود ہیں کہ… جو شخص سورۃ بقرہ پڑھے
شیطان اُ س کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتا … اور جس گھر میں یہ مبارک سورۃ
پڑھی جائے شیطان اس میں داخل نہیں ہو سکتا … شیطان طرح طرح کے وساوس،
گندگیاں، گناہ اور پریشانیاں ہمارے دلوں اور گھروں پر ڈالتا ہے… تب کئی
گھرقبرستان اور کئی دل’’خرابے‘‘ بن جاتے ہیں… اللہ تعالیٰ نے
ہمیں شیطان سے بچنے اور شیطان سے لڑنے کے لئے بہت سے ہتھیار عطاء فرمائے
ہیں… ان میں سے سب سے مؤثر ہتھیار سورۃ البقرہ ہے…حضرت آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم کے حکیمانہ الفاظ پر غور کریں… فرمایا:
اپنے
گھروں کو قبرستان نہ بناؤ بے شک شیطان اُس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورۃ بقرہ
پڑھی جاتی ہے…(مسلم)
آج
مسلمانوں کے کتنے گھر قبرستان بنے ہوئے ہیں…صفحات پورے ہورہے ہیں اور بہت سی اہم
باتیں باقی ہیں… چلیں خلاصہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں…(جگہ کی کمی کی وجہ سے
خلاصے کا بھی خلاصہ پیش کیا جارہا ہے جس میں کئی اہم باتیں رہ گئی ہیں)
(۱) سورۃ البقرہ کے فضائل پر جو
احادیث ہیں وہ ایک بار توجہ سے پڑھ لیں، ان شاء
اللہ القلم اُن کو شائع کرے
گا
(۲) سورۃ بقرہ میں کئی خاص آیات
ہیں ، مثلا ً آیۃ الکرسی، آیت اسم اعظم، آیت سکینہ، آیت دس قاف، آیت مفتاح
العلم ، آیت علاج سحر اور خواتیم وغیرہ…
(۳) سورۃ بقرہ میں پانچوں فرائض… نماز، روزہ،
حج، زکوٰۃ اور جہاد کا بیان ہے اور جہاد کا بیان زیادہ مفصل ہے…
(۴) سورۃ بقرہ میں انسان کی تخلیق کا تذکرہ بھی ہے
اور اُس کے انجام کا بھی…
(۵) غلام قومیں کیسے آزادی حاصل کریں… دینی
اور جہادی جماعتیں کیسے کامیاب ہوں، مسلمان کا رزق کس طرح تنگی سے آزاد
ہو… مسلمانوں کا معاشی نظام کیا ہو؟… مسلمانوں کاعائلی نظام کیا
ہو؟… ان تمام سوالات کے جواب سورۃ البقرہ میں موجود ہیں…
(۶) سورۃ البقرہ کا ا ٓغاز
اللہ تعالیٰ کی حاکمیت سے ہوتا ہے… اور اس کا اختتام فتح کی دعاء
پراور فتح اور شکست جہاد میں ہوتی ہے… معلوم ہوا کہ عالَم پر کتاب اللہ
کے نفاذ کے لئے جہاد کا راستہ ہے…
(۷) حیات دوچیزوں میں ہے ایک شہادت اور دوسرا قصاص…
اب
آتے ہیں سورۃ البقرہ کے ظاہری فوائد کی طرف… اُن کا خلاصہ یہ ہے…
(۱) جس حاجت کے لئے پڑھی جائے وہ
پوری ہوتی ہے…
(۲) جادو، جنات اور مسّ شیطانی
اور نظر کا تیر بہدف علاج ہے…
(۳) وساوس ،غم، بے چینی ، بددلی اور تمام بیماریوں
کا علاج ہے…
(۴) میاں بیوی کی باہمی گھریلو زندگی میں جتنی بھی
مشکلات ہوں ان کا بہترین حل ہے…
(۵) کنواری عورتوں کے لئے بہترین رشتہ ملنے کا سب سے
مؤثر وظیفہ ہے…
(۶) رکے ہوئے کام چل پڑیں،
کاروبارمیں برکت ہو، لوگوں میں عزت سلامت رہے، اس کے لئے یہ بہترین وظیفہ ہے…
(۷) دینی اور دنیوی کاموں میں برکت اور کامیابی
کاذریعہ ہے…
(۸) خونی بواسیر، پیٹ کے تمام امراض اور کینسر کا
علاج ہے…
(۹) دفن شدہ جادو
نکالنے… کھایا ہوا جادو ختم کرنے… سانپ بچھو کے کاٹنے کا بہترین علاج
ہے…
(۱۰) دماغ
کے امراض… مثلاً مرگی، حافظہ کی کمزوری اور سینے کے امراض مثلاً بلغم اور دل
کی کمزوری کا مؤثر علاج ہے… خواتین کو ماہواری میں بے قاعدگی… اور
تکلیف کا علاج ہے…
اب
ایک خلاصہ سورۃ بقرہ کے بڑے فوائد کا…
(۱) دل کی اصلاح ہوتی ہے…
(۲) اللہ تعالیٰ کی
رحمت نازل ہوتی ہے…
(۳) برکت نصیب ہوتی ہے…
(۴) قیامت کے دن حشر کے میدان میں یہ سورۃ سر پر
سایہ کر کے ساری دھوپ،غم اور خوف دور کر دے گی…
(۵) شیطان سے مقابلے کا مؤثر ترین ہتھیار ہے…دینی
کاموں کی زیادہ توفیق ملنے، علم نافع نصیب ہونے اور نعمتوں کی بقاء کا ذریعہ ہے…
اب
ایک خلاصہ اس کے پڑھنے کے طریقوں کا…
(۱) سات دن روزآنہ دن کو ایک
بار اور رات کو ایک بار پڑھیں…پڑھ کر اپنے اوپر دم کریں… اور پانی پر دم کر
کے پی لیں… ایسے عجیب فوائد ملیں گے ان شاء
اللہ جو بیان سے باہر ہے(اگر
کوئی کمزور ہو تو دن رات میں ایک بار پڑھ لے مگر ایک ہی مجلس میں)
(۲) تین دن پڑھیں… مگر
روزآنہ ایک ہی مجلس میں دو بار
(۳) چالیس دن پڑھیں… روزآنہ ایک بار… وہ
خواتین و حضرات جن پر جادو، ٹونے، پریشانیوں، گناہوں کا مسلسل حملہ ہو… وہ
ایک چلہ یا تین چلّے اس کا اہتمام کر لیں…
(۴) زبانی یاد کر لیں اور تہجد کی دو یا چار رکعت
میں پڑھا کریں اس کے فوائد بے شمار ہیں…
جماعت
کے ساتھیوں سے خصوصی گذارش ہے کہ…سات دن والے معمول کو جلد ہی کر لیں… دیکھنے
میں بھاری لگتا ہے… مگر جب شروع کر دیں گے تو تیسرے دن دل خود اس کی طرف لپکے
گا… اور یاد رکھیں وقت میں اتنی برکت ہو گی کہ آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں
گے… شیطان کا مقابلہ کرنا… اور اللہ تعالیٰ کی رحمت، نصرت
اور برکت کو ساتھ لینے کی محنت کرنا… خود ہمارے ہی اعلیٰ مفاد میں
ہے… ماضی کے جتنے، فاتحین اور مقبول مجاہدین گذرے ہیں اُن کا قرآن پاک سے
بڑا خاص تعلق تھا… اور اس تعلق نے انہیں فتنوں سے حفاظت… اور ترقی کے
راستے پر ڈالا… ایسے بھی گذرے ہیں جو گھوڑے کی پشت پر کئی کئی پارے پڑھتے
تھے… ایسے بھی گذرے ہیں جو روزآنہ مکمل قرآن پاک ختم کرتے تھے… اگر
مجاہدین پورے دین پر عمل کریں… اور پورے دین کی قدر کریں… تو اُن کے
جہاد سے زمین پر انسانو ں کو… رحمت اور خلافت نصیب ہوتی ہے…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ اُن تمام مسلمانوں کو عالی شان جزائے خیر عطاء فرمائے… جو’’عشق
محمد‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم میں سرمت ہو کر جہاد فی سبیل اللہ
کر رہے ہیں… اور اُن کو بھی جو’’حرمتِ ناموسِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم
‘‘ کی راہ میں جدوجہد کر رہے ہیں… آج کچھ متفرق باتوں کا مذاکرہ کرتے ہیں…
عشقِ
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کااعجاز
سائنس
اور ٹیکنالوجی ذلیل ہو گئی… ناکام ہوگئی… افغانستان کے صوبہ ہلمند میں
نیٹو کا ایک فوجی اڈہ کھلے صحراء کے بیچ قائم ہے… ہر طرح کے جدید اور حسّاس
آلات اس اڈے کی تمام اطراف سے نگرانی کرتے ہیں… اگر کوئی صحرائی خرگوش یا
گلہری بھی اس کیمپ کی طرف بڑھے تو دیکھ لی جاتی ہے… مگر کل رات دس بجے کئی
درجن مجاہدین کھلے صحراء سے گزرکر اس چھاؤنی تک پہنچے… نہ کوئی آنکھ اُن کو
دیکھ سکی اور نہ کوئی حسّاس دوربین… انہوں نے چھاؤنی کی دیوار
توڑی… تکبیر کے نعرے اور چھاؤنی کارنگ ہی بدل گیا… کئی جہاز، ہیلی
کاپٹرز تباہ… کئی فوجی واصل بالنّاراور ایک شاندار جنگ… دنیا حیران اور
ششدر ہے…مجاہدین کے ترجمان سے پوچھا گیا تو راز کُھلا… ایک یہودی ملعون
اورایک صلیبی مردود نے امریکہ میں… گستاخانہ فلم بنائی… مجاہدین عشق
رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں بے چین ہو کر تڑپے… تب
عشق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اعجاز ظاہر ہوا… دیکھتی آنکھیں
اندھی ہوگئیں… تمام باریک بین آلات ناکام ہو گئے… اور گستاخوں کے لئے
تابوت بھیجنے کا بہترین انتظام ہو گیا… ارے ظالمو! تمہارے آباؤ اجداد حضرت
سیدنا آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ لڑ سکے… اُن کے صحابہ
سے نہ لڑ سکے… تمہارا روم اور قیصر ملیا میٹ ہو گیا… تمہاری سلطنت ویٹی
کن میں جا سمٹی… اب تم نے نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ
چھیڑی ہے… تم نے ناموس محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ چھیڑی
ہے… اس جنگ میں تمہارا حشر اصحاب فیل کے ہاتھیوں سے بھی بدتر ہو گا… تم
کیا جانو… نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو… مگر اب
جان لو گے… اللہ تعالیٰ کی سچی کتاب اعلان فرما رہی ہے…
ورفعنا
لک ذکرک
اللہ
تعالیٰ نے نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بے حد بلندی اور رفعت
عطاء فرمائی ہے… یہ نام مبارک دلوں پر حکومت کرتاہے… دیکھو! ساری دنیا
میں غلامان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح سے بپھرے ہوئے شیروں کی طرح
نکل آئے ہیں… اور تم چوہوں کی طرح لرزرہے ہو… اس جرم عظیم سے باز
آجاؤ… ورنہ زمین تمہیں نگل لے گی اور آسمان تم پر آگ برسا دے
گا… اور ساری مخلوق تمہارے خلاف جنگ میں کود پڑے گی… کیونکہ ہمارے آقا
سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان سب کے محسن… ان سب کے
محبوب… اور ان سب کے سرور ہیں… صلی اللہ علیہ وسلم ، صلی اللہ
علیہ وسلم …
فٹ
پاتھوں پر
احساس
کمتری کا شکار ’’دانشور‘‘ مسلمانوں کو… امریکہ اور یورپ کے سامنے جھک جانے کا
مشورہ دیتے نہیں تھکتے… یہ دیکھیں تازہ اور سچی رپورٹ آگئی ہے… وہ
امریکی جن کے پاس رہنے کو مکان نہیں… اور وہ فٹ پاتھوں پررہتے ہیں… ان
میں بیس فیصد تعداد اُن فوجیوں کی ہے جو عراق اورافغانستان کی جنگ سے واپس آئے
ہیں… بے چاروں کی آخرت تو تھی نہیں دنیا بھی اجڑگئی… تفصیلات بہت حیران
کن ہیں… جیلوں میں جو امریکی قیدی منشیات استعمال کرنے اور بیچنے کے جرم میں
سزا کاٹ رہے ہیں… ان میں سے آٹھ فیصد تعداد عراق اور افغانستان کی جنگ سے
واپس آنے والے فوجیوں کی ہے… پاگل پن اور دماغی امراض کے سروے کے
مطابق… جنگ سے واپس آنے والے فوجیوں میں سے اکثر طرح طرح کے دماغی امراض کا
شکار ہیں… اور حکومت کے پاس اتنا پیسہ نہیں ہے کہ… مسلسل اُن کا علاج
کراسکے… چنانچہ یہ فوجی یا تو منشیات میں غرق رہتے ہیں… یا سڑکوںپر
جرائم کرتے ہیں… یا پھر خود کشی کر لیتے ہیں… گزشتہ خود کشی کرنے والوں
کی تعداد میں پچیس فیصد اضافہ ہواہے… ذرا قرآن پاک کھول کر
دیکھیں… مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے؟… ہائے
کاش مسلمان جہاد کو سمجھیں،جہاد کواپنائیں اور جہاد سے محبت کریں تو وہ زمین کے
حاکم اور جنت کے وارث بن جائیں… جہاد فی سبیل اللہ کے مقابلے میں
کوئی کفریہ طاقت اور اس کی سائنسی اور جنگی ٹیکنالوجی نہیں ٹھہر سکتی… اب تو
یہ حقیقت ساری دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لی ہے… اڑتیس ملکوں کی طاقتورفوجیں
شکست کی زنجیر گلے میں ڈالے بوریا بستر باندھ رہی ہیں… اور اب گذارہ صرف
ناپاک کارٹون، خاکے اور فلمیں بنانے پر ہے… مرجاؤ اپنے غیظ، غصے اور غم میں
گُھٹ گُھٹ کر…
اخلاق
کا نیا ترجمہ
افغانستان
میں آئے روز… ’’افغان فوجی‘‘ کوئی نہ کوئی کارنامہ دکھا دیتے
ہیں… حالانکہ یہ فوجی نہ مجاہدین ہیں اور نہ طالبان… مگر دل میں
چھپاکلمہ طیبہ جب نور کی ایک شعاع برساتا ہے تو… امریکہ اور نیٹو سے تنخواہ
لینے والے یہ فوجی اور سپاہی ایک دم ’’مجاہد‘‘ بن جاتے ہیں… کل رات بھی ایک
پولیس والے نے چار نیٹو فوجی پھڑکا دیئے… ہفتے کے دن ایک افغان پولیس افسرنے
دو برطانوی فوجی مار دیئے… رمضان المبارک میں تو ایک افغان فوجی نے چھ نیٹو
فوجیوں کو مار کر سحری کی… صرف اسی سال اس طرح کے دوستانہ حملوں میں مرنے
والے امریکی اورنیٹو فوجیوں کی تعداد پچاس سے زائد ہے… روز روز کے ان واقعات
نے امریکہ اور نیٹو کو لرزا کر رکھ دیاہے… اور اُن کے فوجی ہر وقت ذہنی اذیت
میں رہتے ہیںکہ… کب کون انہیں بھون ڈالے … اس صورتحال کے سدّباب کے
لئے کرزئی کی نامور حکومت نے… افغان فوجیوں کے لئے ایک نیا ضابطۂ اخلاق تیار
کیا ہے… یہ ضابطہ اخلاق زبانی بھی تعلیم کرایا جاتا ہے اور اسے بڑی تعداد میں
چھاپ کر فوجیوں میں تقسیم بھی کیا جارہاہے… اس ضابطہ اخلاق میں افغان فوجیوں
کو سمجھایا گیا ہے کہ… اگر کوئی امریکی یا نیٹو فوجی… نہانے کے بعد غسل
خانے سے بالکل برہنہ باہر نکل آئے تو آپ لوگ بُرا نہ مانیں… یہ کوئی ایسی
بری بات نہیں کہ آپ طیش میں آجائیں… اسی طرح اگر کوئی نیٹو فوجی آپ سے
گفتگو کے دوران آپ کی بیوی کا نام پوچھے… آپ سے اس کا فوٹو مانگے تو ناراض
نہ ہوں… یہ بھی کوئی غیر اخلاقی بات نہیں… اس ضابطہ اخلاق کی تفصیل بہت
ہوش ربا ہے… بس انہی دو شقوں پر غور کریں… یہ ہے اخلاق کا تازہ
ترجمہ… مہذب دنیا اور کرزئی حکومت کے نزدیک…
بن
غازی کے غازی
لیبیا
پر’’قذافی‘‘ کی حکومت تھی تو وہاں امریکی محفوظ تھے… قذافی کا جذبہ انقلاب
آخری سالوں میں سرد پڑ چکا تھا… اس کا بیٹا سیف الاسلام… اپنے باپ اور
خاندان کو روشن خیال ثابت کرنے کیلئے اربوںڈالر پانی کی طرح بہا رہاتھا… اپنے
ہی لیبیائی مسلمانوں کو پکڑ کر یورپ کے حوالے بھی کیا گیا تاکہ… قذافی کو
باہر گھومنے پھرنے کی آزادی ملے… مگر امریکہ اور یورپ نے قذافی کے ماضی کو
فراموش نہ کیا اور اس کی حکومت اور جان کا تختہ کر دیا… ہم نے اس وقت عرض کیا
تھا کہ اب عرب افریقہ کے اس صحراء میں… جہاد کا ایک نیا محاذ کھلے
گا… وہ محاذ کھل چکا…گستاخانہ فلم کی رسید کے طور پر بن غازی کے غازیوں نے
چار بڑے قیمتی تابوت… ملعون ٹیری جونز کے لئے روانہ کئے ہیں… ایک
توامریکی سفیر تھا ، ایک اہم دفاعی اتاشی… ایک نیوی کا سیل… اور شائد
ایک جاسوس… امریکہ نے بھی اپنے دو بحری جہاز لیبیا روانہ کر دیئے
ہیں… دیکھیں بات کہاں تک جاتی ہے… لیبیا کا یہ خطہ… ماضی قریب میں
درمیان کے پچاس ساٹھ سال چھوڑ کر… جہاد کا مرکز رہا ہے… اور امام سنوسی
سکی جہادی تحریک اسی خطے میں پروان چڑھی تھی… جہاد کی محنت کبھی ضائع نہیں
جاتی… کچھ عرصہ چھپ بھی جائے تو جلد ہی واپس اپنا محاذ سنبھال لیتی
ہے… اسی لئے مجاہد اور مرابط کا عمل قیامت تک کے لئے جاری فرمادیاگیا
ہے… ویسے بھی مجاہد اور مرابط اسلام کی حفاظت کے لئے لڑتے ہیں… تو جب تک
اسلام رہے گا ان کا عمل اور ثواب بھی جاری رہتا ہے… مبارک ہو اے اہل جہاد!!…
آگ
کی طرف
قرآن
پاک کی سورہ بقرہ میں… مشرکین کے ساتھ مسلمانوں کی شادی کو حرام قرار دیا
گیاہے… اور اس کی وجہ یہ ارشاد فرمائی ہے:
اولئک
یدعون الی النّار
یہ
مشرکین آگ کی طرف… جہنم اور ناکامی کی طرف بلانے والے ہیں… جوان سے
تعلق اور ربط جوڑتا ہے… وہ آگ،ناکامی اور جہنم کی طرف بے ساختہ لڑھکنے لگتا
ہے… شرک سب سے بڑا گناہ، سب سے بڑی ہلاکت اور سب سے بڑی ناکامی ہے… مشرک
کبھی بھی مسلمانوں کے دوست اور خیر خواہ نہیں ہوتے… وہ صرف مسلمانوں کو دنیا
اور آخرت کی آگ میں جلانے کے لئے… دوستی، محبت اور پیار کی پینگیں بڑھاتے
ہیں… ہماری زنانہ وزیر خارجہ… انڈیا کے بے ہودہ وزیر خارجہ کے ساتھ چہک
رہی تھی تومجھے بار بار سورہ بقرہ کی یہی آیت یاد آئی کہ… بد نصیبی
دیکھو!… آج کی دنیا میں دو ملکوں کے درمیان تعلقات کوئی بُری بات
نہیں… مگر انڈیا کی دشمنی کو بُھلا دنیا اور چھلانگیں لگا کر اس دشمن کے
قدموںمیں گرنا… ناقابل فہم ہے… ایسا وہی کر سکتا ہے جو آگ میں کودنے
اور جلنے کا شوقین ہو… کشمیر کے شہداء… جموں اور پونچھ کے شہداء… سانحہ
مشرقی پاکستان… کراچی میں آئے دن کی ٹارگٹ کلنگ… بلوچستان میں خوفناک
جنگ اوربے چینی… خشک دریاؤں سے بنجر ہوتا پاکستان… اور دوسری طرف کرشنا
اور حنا ربانی کے قہقہے… کچھ سمجھ نہیں آتا… کچھ بھی نہیں…
سورۂ
بقرہ کے انوارات
گزشتہ
رنگ و نور میں…سورہ بقرہ کے کچھ مختصر فضائل اور خواص کا تذکرہ ہوا تھا…
الحمدللہ بہت مثبت حالات اور خبریں موصول
ہوئیں… ابھی تازہ ڈاک آئے گی تو مزید تفصیلات معلوم ہونگی… انٹرنیٹ پر
عربی زبان میں ’’سورہ بقرہ‘‘ پر کئی ویب سائٹس اور صفحات موجود ہیں… نیٹ کے
کھلاڑی اس طرح کی چیزوں سے استفادہ کیا کریں… کئی صفحات تو صرف اُن لوگوں کے
تجربات پر مشتمل ہیں جنہوں نے ’‘’سورہ بقرہ‘‘ کے وردکا فائدہ اٹھایا… واقعی
حیران کن واقعات ہیں… کئی ایسی خواتین جن کی عمریں تیس سال سے اوپر ہوچکی
تھیں اور گھر والوں نے انہیں بوڑھیا کا لقب دینا شروع کر دیا تھا… وہ جب سورہ
بقرہ کی طرف متوجہ ہوئیں تو… گرے پڑے نہیں بہترین رشتے انہیں مل
گئے… کئی لوگوں کے گھر پوری طرح بیماریوں، نحوستوں اور آفتوں سے قبرستان بن
چکے تھے… انہیں سورۂ بقرہ کی برکت سے نئی زندگی ملی… ایسے
جوڑے جن کو ڈاکٹروں نے اولاد سے مایوس قراردے دیا تھا… ان کی گود ہری بھری ہو
گئی… کئی لوگوں کے گھروں میں درخت خود گر گئے اور اس کے نیچے چھپا ہواجادو
اور طلسم باہر نکل آیا… کئی لوگ کام کاج اور کاروبار سے بالکل معطل ہو چکے
تھے… اُن کا سب کچھ بحال ہو گیا… تین فائدے تو سب نے لکھے ہیں…
(۱) نعمتوں میں برکت…
(۲) اچھی حالت کی حفاظت…
(۳) لوگوںمیں عزت کی حفاظت…
یہ
تو عام دنیوی فوائد ہیں… جب کہ اصل فوائد… ایمان کی حفاظت، دل کی
اصلاح… شیطان سے حفاظت، آخرت کا سایہ… اور اللہ تعالیٰ کی
خاص رحمت وغیرہ… وہ اصل ہیں… سورۃ بقرہ دراصل برکت اور قوت کا خزانہ
ہے… اس سورۃ مبارکہ کی بکثرت تلاوت سے انسان کی روح اور نفس مطمئنہ کو ایک
عجیب سی قوت اور طاقت نصیب ہو جاتی ہے… احادیث مبارکہ میںسورۃ بقرہ کے جو
فضائل، مناقب اور خواص بیان ہوئے ہیں وہ آپ القلم کے اس شمارے میں… صفحہ
ہدایت پر پڑھ لیں… موقعہ ملاتو ان
شاء اللہ … اس موضوع پر رنگ و
نور میں بھی مزید تفصیل عرض کی جائے گی…
واعف
عنا، واغفرلنا، وارحمنا، انت مولانا فانصرنا علی القوم الکافرین
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللّٰھم
صل علیٰ محمّد وعلی اٰل محمّد کما صلیت علیٰ ابراہیم وعلی اٰل ابراہیم انک حمید
مجید… اللّٰھم بارک علیٰ محمّد وعلیٰ اٰل محمّد کما بارکت علیٰ ابراہیم و
علیٰ اٰلِ ابراہیم انک حمید مجید…
اللہ
تعالیٰ کا شکر ہے… اللہ تعالیٰ کے مبارک نام اور حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم پر’’صلوٰۃ‘‘ سے آج کی مجلس کا آغاز نصیب
فرمایا…
مولایَ
صلّ وسلم دائما ابدا
علیٰ
حبیبک خیر الخلق کلھم
ہم
سب کو مستقل دعاء مانگنی چاہئے کہ… ہمیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم سے’’سچی محبت‘‘ نصیب ہو جائے… آج کوشش کرتے ہیں کہ ’’سچی
محبت‘‘ کو سمجھنے کی طرف قدم بڑھائیں…یہ ’’سچی محبت ‘‘ اگر نصیب نہ ہو تو ’’ایمان
کامل ‘‘نصیب نہیں ہوتا…
کیا
محبت… محبوب کے ادب و احترام کا نام ہے؟… یہ ہے پہلا سوال…
کیا
محبت… محبوب کے لئے غیرت اختیار کرنے کا نام ہے؟ یہ ہوا دوسرا سوال…
کیا
محبت… محبوب کی غیر مشروط اطاعت کا نام ہے؟… یہ ہے آخری سوال…
جہاں
تک معاملہ ہے ادب اور احترام کا… تو لوگ بغیر محبت کے بھی بہت سے افراد کا
ادب کرتے ہیں… احترام کرتے ہیں… فوجیوں کو دیکھ لیں اپنے افسر کے سامنے
کیسے باادب رہتے ہیں… اور ان کے احترام میں کتنی مشقت برداشت کرتے
ہیں… جہاں تک غیرت کا سوال ہے تو غیرت کے اسباب مختلف ہیں… کبھی غیرت
اپنی ناک کے لئے ہوتی ہے اور کبھی کسی کی محبت میں… اور کبھی نفس کے تقاضے
سے… جہاں تک اطاعت کا سؤال ہے تو… اطاعت بھی بغیر محبت کے ہو سکتی ہے
اور دنیا بھر میں ہو رہی ہے… ایماندار ملازم اپنے مالک کی اطاعت کرتے
ہیں… پولیس اور فوج والے اپنے آفیسروں کی اطاعت کرتے ہیں… چھوٹے غنڈے
اپنے بڑے سردار کی اطاعت کرتے ہیں… بااصول ملازموں کی اطاعت دیکھ کر تو
حیرانی ہوتی ہے کہ… کس طرح سے خود کو ہر تکلیف میں ڈال کر اپنے مالک کا حکم
پورا کرتے ہیں… لیکن کیا وہ اپنے مالک اور آفیسر سے محبت بھی کرتے
ہیں؟… جواب یہ ہے کہ اکثر ایسا نہیں ہوتا… وہ ریٹائرڈ فوجی افسر جن کے
حکم پر اُن کے ماتحت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی بھی دھڑلّے سے کر ڈالتے
تھے… آج ملک میں واپس آکر ان ملازموں کو کوئی حکم دے کر دیکھیں… محبت
کا صاف پتا چل جائے گا… ان تین باتوں کو یاد رکھیں… درمیان میں ایمان
تازہ کرنے والا ایک نکتہ… جنت کتنی خوبصورت ہے؟… سبحان اللہ ،
سبحان اللہ … ایک عالم نے کتاب لکھی ہے… حادی الارواح الی
بلاد الافراح… اس میں جنت کے حسن اور جمال کی دلکشی کو قرآن و سنت اور
روایات سے بیان کیا ہے… کتاب پڑھتے ہوئے انسان کی روح سرمستی میں مدہوش ہو
جاتی ہے… قرآن پاک میں ہی… سورۃ الرحمن میں جنت کا حسن پڑھ
لیں… جنت اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے… اور مخلوقات میں
اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ حسن، مقام، شان، دلکشی ، دلبری اور
محبوبیت… ہمارے آقا حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطاء
فرمائی ہے… جی ہاں… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم جنت
الفردوس سے بھی زیادہ حسین، زیادہ وجیہ، زیادہ دلکش اور زیادہ خوبصورت اور معطّر و
منور ہیں… صلی اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ
وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم
اب
ایک اور سوال… لوگ’’عاطفت‘‘ کو محبت سمجھتے ہیں… عاطفت کہتے ہیں’’دل لگی
‘‘ کو… کسی کی طرف دل کا مائل ہونا… دل کا مشتاق ہونا… دل کا متوجہ
ہونا… انسان کا دل…شکاری بھی ہے اور شکار بھی… کبھی کسی کو شکا ر کرتا
ہے … اور کبھی خود کسی کے ہاتھوں شکار ہو جاتا ہے… دل کا صرف کسی
چیز کی طرف مائل اور متوجہ ہونا’’محبت‘‘ نہیں ہے… کئی لوگوں کا دل کسی
’’بلّی‘‘ کی طرف مائل ہوجاتا ہے… کوئی کسی اور جانور سے اُنس رکھتا
ہے… ہر وقت ساتھ رکھنا، اُس کے کھانے پینے کی فکر کرنا… اُسے کچھ ہو
جائے تو غمزدہ ہو جانا… وہ نظر نہ آئے تو بے قرار ہونا… لیکن یہ
’’عاطفت‘‘ اُس وقت تک ہوتی ہے جب تک وہ چیز آپ کی فرمانبرداری کرے… آپ کے
ناز اٹھائے اور آپ کو خوش رکھے… جہاں وہ اس شرط سے نیچے گری وہاں عاطفت
ختم… کئی لوگ اپنے کتے سے بہت اُنس رکھتے تھے… ہر وقت وہ ان کے قدموں میں
یا اُن کے پیچھے… حد سے زیادہ تعلق… مگر اچانک کتا بدل گیا… حکم
دینے پر آتا نہیں… بلانے پر دم نہیں ہلاتا… بلاوجہ بھونکتا
ہے… مہمانوں کو کاٹتا ہے… تو کچھ ہی دن میں ’’عاطفت‘‘ ختم اور پھر اپنے
ہاتھوں سے اُسی کتے کو گولی مار دیتے ہیں… یا زہر دے دیتے ہیں… اور بہت
زیادہ احسان کریں تو کسی کے ہاتھ بیچ دیتے ہیں… کیا یہ ’’محبت‘‘
تھی؟… ہر گز نہیں… بس نفس کی ایک خواہش تھی جسے ’’ محبت ‘‘ سمجھ لیا
تھا… وہ خواہش ٹوٹی تو محبت کا نام بھی کہیں نظر نہ آیا… آج کل اکثر
لوگ جس چیز کو’’محبت‘‘ کہتے ہیں وہ محبت نہیں… ’’عاطفت‘‘ اور ’’ہوا‘‘
ہے… ’’ہوا‘‘ یعنی خواہش… محبت میں صرف دینا ہوتا ہے… جہاں کچھ لینے
اور پانے کی بات آجائے و ہ محبت نہیں رہتی… اب ہمیں چار باتوں کے جوابات
معلوم ہو گئے…
(۱) صرف
ادب اور احترام کا نام’’محبت‘‘ نہیں…
(۲) صرف
غیرت کھانے کا نام’’محبت ‘‘ نہیں…
(۳) صرف
اطاعت کا نام’’محبت‘‘ نہیں…
(۴) صرف
دل کے شوق اور میلان کا نام’’محبت‘‘ نہیں…
ان
چار باتوں کو یاد رکھیں… درمیان میں پھر اپنے ایمان کو روشنی کی ایک شعاع
دیتے ہیں… مسجد نبوی شریف کی دیواروں پر احادیث مبارکہ لکھی ہوئی
ہیں… ایک بار حاضری ہوئی ریاض الجنۃ کے بالکل سامنے قبلہ والی دیوار پر نظر
ایک حدیث شریف پر جا رکی… ارشاد فرمایا:
’’شفاعتی
لاھل الکبائر من اُمتی‘‘
میری
شفاعت میری اُمت کے اُن افراد کے لئے(بھی) ہو گی جو کبیرہ گناہوں میں مبتلا
ہیں… سبحان اللہ وبحمدہ… ایسی رحمت، ایسی شفقت ، ایسی محبت،
ایسی رأفت… صرف حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی حاصل
ہوئی… اتنے بڑے مجرموں کو بھی اپنی شفاعت سے محروم نہیں فرمایا …
صلی
اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم
عزیز
بھائیو! اور بہنو!… حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت حاصل
کرنا اور اس کو پانا ہمارے لئے سانس لینے سے بھی زیادہ ضروری اور اہم
ہے… کھانے پینے اور مکان کپڑے سے بھی زیادہ لازمی ہے… ہم اگر انسان بننا
چاہتے ہیں تو اسی’’محبت‘‘ سے بن سکتے ہیں… ہم اگر پاک ہونا چاہتے ہیں تو اسی
’’محبت ‘‘سے ہو سکتے ہیں… ہم اگر کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اسی ’’محبت ‘‘سے
ہو سکتے ہیں…
یہ
سچی محبت جب دل میں اُترتی ہے تو… دل کی دنیا ہی بدل ڈالتی ہے… یہ سچی
محبت جب خون میں چڑھتی ہے… تو خون کی حیثیت ہی بدل دیتی ہے… یہ سچی محبت
جب روح میں اُترتی ہے تو روح کو عرش کے نیچے سجدہ کرانے لے جاتی ہے… اس سچی
محبت کے بغیر نہ کسی کو انسانیت نصیب ہو سکتی ہے… نہ اسلام اور ایمان کی
حقیقت نصیب ہو سکتی ہے… اسی لئے فرما دیا کہ جب تک میری محبت تمہیں اپنی
اولاد ، اپنے والدین اور تمام لوگوں سے زیادہ نہ ہو تم ایمان والے نہیں ہو
سکتے… اور حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے فرمادیا گیا کہ
جب تک اپنی جان سے بھی زیادہ… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم سے محبت نہ ہو… ایمان پورا نہیں ہوتا…
صلی
اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم
اب
دو باتوں کو سمجھنا ہے…(۱) محبت
کسے کہتے ہیں؟…(۲) یہ
محبت ہمیں کس طرح سے حاصل ہو سکتی ہے… یا نصیب ہو سکتی ہے؟… ان دو
سؤالوں کا مختصر اور آسان جواب حاصل کرنے سے پہلے اپنے ایمان کو مدینہ منورہ کی
معطر خوشبو سے ایک خوشگوار جھونکا دیتے ہیں… ہمارے پاس سب سے بڑی دولت’’لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ ہے… یہ دولت ہمیں کس کی
برکت اور واسطے سے ملی؟… ہمیںنماز جیسی عبادت کس کے ذریعے سے نصیب
ہوئی؟… ہمیں جہاد جیسا عمل کس کے واسطے سے نصیب ہوا؟… ہمیںکعبہ شریف کس
کی برکت سے ملا؟… ہمیں مسلمان ہونے اور مؤمن ہونے کا اعزاز کس کی برکت سے
ملا؟… ہمیں وضو اور غسل کی پاکیزگی کس کے واسطے سے
ملی؟… ہمیں’’خیراُمت‘‘ کا عظیم لقب کس کے طفیل ملا؟… ہمیں حیاء، امانت،
دیانت اور صداقت جیسی نعمتیں کس کے دربارسے ملیں؟… ہمیں جنت کا راستہ کس نے
دکھایا؟… ہمیں جہنم سے کس نے ڈرایا؟… ہمیں رمضان المبارک، روزے اور حج
کے انعامات کس کی برکت سے ملے؟… ہاں! یہ درست ہے کہ سب کچھ اللہ
تعالیٰ کی طرف سے ملا… مگر اللہ تعالیٰ نے ان تمام نعمتوں
کو ہم تک پہنچانے کا ذریعہ… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی
ذات اقدس کو بنایا… آج سورہ بقرہ کی تلاوت کرتے ہوئے بار بار یہی خیال آرہا
تھا کہ… اتنی عظیم سورۃ… اتنا عظیم قرآن… حضرت آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم نے ہم تک پہنچایا… آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کے صرف اسی ایک احسان کو بھی یاد کریں تو… ایک جان
کیا… لاکھوں جانیں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت
و ناموس پر قربان کردیں تو احسان کا بدلہ نہ ہو پائے…
صلی
اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم
محبت
کی بات کو پھیلایا جائے تو… آسان تعبیر یہ ہے کہ… محبت ان چار چیزوں کے
جمع ہو جانے کا نام ہے…(۱) ادب
و احترام(۲) محبوب
کے لئے غیرت(۳) محبوت
کی اطاعت(۴) دل
کا شوق اور میلان… یعنی یہ چار چیزیں جمع ہو جائیں تو ’’محبت‘‘ بن جاتی
ہے … اور اگر مختصر الفاظ میں سمجھنا ہو تو… محبت دو چیزوں کا نام
ہے(۱) عشق(۲) غلامی… غلامی
بھی بے دام… کچھ زمانہ پہلے مالک غلام کو خریدتا تھا تو غلام اس کے حکم کو
ماننا اپنی پہلی اور آخری ذمہ داری سمجھتا تھا… مالک اپنے غلام کو گھنٹوں
کھڑا رکھے یا سونے دے… غلام، غلام ہی رہتا تھا… کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ
غلامی کے بغیر کوئی چارہ نہیں…غلامی ایسی چیز ہے کہ مشکل حالات میں چھوڑی نہیں جا
سکتی… کوئی قانون اور ضابطہ اس کی اجازت نہیں دیتا… پہلی چیز
عشق… یعنی دل سے ادب، احترام… دل کا میلان اور شوق… دل میں قدر و
منزلت… دل میں اُس کے لئے غیرت… دل میں اُس کے لئے حددرجہ وفاداری کا
جذبہ… اور دوسری چیز غلامی… یعنی دل دے کر اب اطاعت بھی کرنی
ہے… حالات جیسے بھی ہوں غلاموں کی طرح جڑے رہنا ہے… اور اسی کی اطاعت
میں جینا اور مرنا ہے… سبحان اللہ وبحمدہ… قرآن پاک نے
’’سچی محبت‘‘ کا یہ منظر کس سورۃ میں بیان فرمایا ہے؟… اہل علم بہتر سمجھتے
ہوں گے… بندہ جیسے کم علم لوگوں کو … سورۃ الفتح میں ’’سچی محبت‘‘
پوری طرح ٹھاٹھیں مارتی نظر آتی ہے… اور جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کو ایسے صحابہ اور ایسی جماعت مل گئی جو واقعی… آپ صلی اللہ
علیہ وسلم سے سچی محبت رکھتے تھے تو… عرش سے مبارک باد کاپیغام
آگیا…
اِنَّا
فَتَحْنَالَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا
اے
نبی… آپ کو ہم نے کھلی فتح دے دی ہے… یعنی اب آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کے دین کو دنیا میں بڑھنے، چلنے اور فتح پانے سے کوئی بھی نہیں
روک سکتا… کوئی بھی نہیں…
صلی
اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم
غزوہ
حدیبیہ کا پورا سفر امتحان تھا… بہت سخت اور کڑا امتحان… بلکہ امتحانات
کا ایک پورا نصاب تھا… اور اس نصاب میں ہر امتحان دوسرے امتحان کے بالکل خلاف
اور متضاد تھا… یعنی اعصاب شکن امتحانات کا ایک پورا سلسلہ… اگر حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی شان نبوت اور شان تربیت کی صداقت کے لئے
صرف غزوہ حدیبیہ کو پیش کیا جائے تو دنیا کا ہر عقلمند انسان ’’مسلمان‘‘ ہو
کر… اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اللہ تعالیٰ کے رسول
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آجائے اس غزوہ میں حضرات
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جس طرح سے عشق اور غلامی کے امتحانات کو
نبھایا… جب سے دنیا قائم ہوئی ہے کوئی اس کی مثال پیش نہیں کر
سکتا… اللہ تعالیٰ کے سچے، آخری اور سب سے افضل نبی ہی کسی
جماعت کی ایسی تربیت کر سکتے ہیں ورنہ اور کسی کے بس کی یہ بات نہیں
ہے… چنانچہ یہی سورۃ… غزوہ حدیبیہ کے واقعات کو بیان کر کے اعلان کرتی
ہے
مُحَمَّدٌ
رَّسُوْلُ اللّٰہ
محمّد
واقعی اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں…اور اُن کی رسالت کی کھلی دلیل اُن کے
رفقاء اور ساتھی ہیں…
وَالَّذِیْنَ
مَعَہٗٓ اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَھُمْ
صلی
اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم
’’سورۃ
الفتح‘‘ کی تفصیلات بہت زیادہ ہیں… صرف ایک نکتہ سمجھ لیں تو ان شاء
اللہ بات واضح ہوجائے
گی… جب ہندسوں میں ایک ہزار لکھا جاتا ہے تو اس میں تین صفر ہوتے
ہیں… 1000… ان تین صفر کے ساتھ جب(۱) لگتا ہے تو ہزار
بن جاتا ہے اور اگر اس(۱) کو
ہٹا دیں تو… تینوں صفر بے قیمت رہ جاتے ہیں… محبت میں جو چار چیزیں ہیں…
(۱) ادب
، احترام(۲) دل
کا شوق اور میلان(۳) غیرت…… یہ
تینوں قیمتی صفروں کی طرح ہیں… ان کے ساتھ اطاعت کا (۱) جڑتا ہے تو یہ
ہزار پورا ہوجاتا ہے… اگر اطاعت کا(۱) نہ لگے تو باقی
تین’’صفر‘‘ ہی رہ جاتے ہیں… وجہ کیا ہے؟… دراصل مشرکین اور مؤمنین کی
محبت کا فرق ہی یہی ہے… آپ جب کسی کو دل کا پیار دیتے ہیں… اس کا ادب و
احترام کرتے ہیں… اس کے نام پر غیر ت کھاتے ہیں تو… دل کہتا ہے
کہ… آپ نے محبوب پر احسان کیا… اب محبوب کا نمبر ہے کہ وہ آپ کو یہ دے
اور وہ دے… مشرکین اپنے بتوں اور معبودوں سے اسی طرح کی ’’محبت‘‘ رکھتے
ہیں… حالانکہ یہ محبت نہیں… عاطفت، خود غرضی اور ہوا پرستی
ہے… جبکہ مؤمن… اپنا دل اپنی چاہت، ادب ، احترام اور غیرت سب کچھ دیکر
یہ کہتا ہے کہ محبوب میں آپ کا احسان مند ہوں… میرا کوئی احسان
نہیں… یہ سب میری ضرورت اور میری ذمہ داری اور میری سعادت ہے اور اب میری
غلامی اور اطاعت آپ کے لئے حاضر ہے… غزوہ حدیبیہ میں… اطاعت کا امتحان
تھا… عمرہ کے لئے چلو، لڑنا نہیں ہے… جی حاضر… حالانکہ ہزاروں
سؤالات کئے جا سکتے تھے، مشرکین مکہ سے خونی دشمنی تھی… چاروں طرف سے حملے
شروع ہو گئے… حکم ملا… لڑنا نہیں ہے، صرف پکڑنا ہے… جی
حاضر… حالانکہ ہزاروں سؤالات ہو سکتے تھے… بات نہیں بن رہی، حضرت عثمان
غنی رضی اللہ عنہ روک لئے گئے… اب لڑنا ہے اور موت تک لڑنا ہے،
موت پر بیعت کرو… جی حاضر… حالانکہ سینکڑوں اعتراضات مچل سکتے
تھے… معاہدہ شروع ہو گیا، کچھ انتظار کرو… جی حاضر… معاہدے کے
دوران مشرکین کھلی شرارت اور بدمعاشی کر رہے ہیں… مگر صبرکرو… جی
حاضر… زنجیروںمیں جکڑے ہوئے ابو جندل ذ روتے کراہتے زخمی حالت میں
آپہنچے… حکم ملا ان کو واپس کر دو… جی حاضر… خیموں کے اندر سے
رونے اور چیخنے کی آوازیں تھیں… جذبات ابل ابل کر سیلاب بن رہے
تھے… اور ابو جندل ذ زنجیریں گھسیٹتے واپس قید میں جارہے تھے… معاہدہ ہو
چکا تما م شرطیں مسلمانوں کے خلاف ہیں… یہ معاہدہ قبول کرو… جی
حاضر… مشرکین عمرہ کی اجازت نہیں دے رہے… چلو اگلے سال آجائیں
گے… سب احرام کھول دو… جی حاضر… یہ وہ مشکل مرحلہ تھا جب آسمان
اور زمین کے حواس بھی گم ہو چکے تھے اور ہوائیں سانس لینا بھول چکی
تھیں… دنیا کی کوئی بھی جماعت ہوتی ا س موقع پرضرورٹوٹ جاتی… دنیا
کاکوئی بھی ’’محبوب ترین‘‘ انسان ہوتا اسے اس موقع پر نافرمانی اور بغاوت کا لازمی
سامنا کرنا پڑتا… مگر میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی
سچی محبت حضرات صحابہ کرام کو حاصل ہو چکی تھی… ایک فرد بھی نہ ٹوٹا… ہر
لمحہ امتحان… ہر لمحہ بدلتے فیصلے… ہر لمحہ جذبات پر برستے
کوڑے… قافلہ واپس لوٹا تو عرش سے اعلان آگیا کہ… اے میرے نبی آپ کو
فتح مبارک ہو… جب آپ کی تربیت کا یہ رنگ ہے… اور جب آپ کی محبت کا یہ
عروج ہے تو پھر آپ کے دین کا کون کچھ بگاڑ سکتا ہے… قافلہ کے اونٹ واپس
جارہے تھے اور عرش سے یکے بعد دیگرے انعامات کا اعلان ہو رہا تھا … فتح
مبارک، مغفرت مبارک… خیبر کی فتح عنقریب… مکہ کی فتح بہت جلدی…غنائم کے
ڈھیر…آپ کے رفقاء کے لئے رحمت، سکینہ، مغفرت، اجر عظیم اور فتوحات… اوربہت
کچھ…اعصاب شکن قیادت کے بعد عرش سے یہ رحمت برسی تو حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کا سر مبارک شکر سے جھک گیا… فرمایا یہ سورۃ مجھے تمام چیزوں
سے زیادہ محبوب ہے…
صلی
اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم
بات
کچھ لمبی ہو گئی… تین چار بہت اہم باتیں رہ گئیں… کیا کریں ایک مضمون
اتنے بڑے موضوع کو کیسے سنبھالے؟… بس آخر میں محبت پانے کا طریقہ…
(۱) درود
شریف کی کثرت(۲) حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو سمجھنے کی کوشش(۳) حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات کو یاد کرنا(۴) مجاہدین اور اہل
محبت کی صحبت اختیار کرنا(۵) حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی تکالیف، جہاد اور مجاہد ے کے تذکرے کرنا(۶) حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو معلوم کرنا اور اپنانا(۷) حضو
ر اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ معزز، محترم، ترقی یافتہ،
کامیاب اور اپنے لئے سب سے بڑی مثال سمجھنا(۸) حضور اقدس صلی
اللہ علیہ وسلم کے طریقوں کی عظمت دل میں بٹھانا کہ یہی عزت، کامرانی
اور کامیابی کے طریقے ہیں(۹) احادیث
مبارکہ کو ادب و احترام سے پڑھنا اور خود کو بطور امتی اُن کا مخاطب سمجھنا(۱۰) حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے سخت بغض، نفرت اور عداوت رکھنا،
اُن پر لعنت بھیجنا… ان میں جو گستاخ ہیں اُن کو قتل کرنے کی پوری کوشش
کرنا… اور گستاخی والی کسی بات یا چیز کو نہ دیکھنا، نہ سننا…
بس
یہ ہے مختصر سا نصاب…جلدی میںلکھنے کی وجہ سے نمبرات میں تقدیم تأخیر ہوئی
ہے… یہ تمام چیزیں ایک دوسرے سے بڑھ کرہیں… وہ اہم باتیں جو رہ گئیں وہ
یہ ہیں…(۱) حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کی علامات … دعوی تو ہر
کوئی کرتا ہے… مگر قرآن پاک نے علامات بیان فرما دی ہیں کہ کس کا دعویٰ سچا
ہے…(۲) حضور
اقدس کی سچی محبت پر دنیا میں ملنے والے انعامات(۳) حضور اقدس صلی
اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت پر آخرت میں ملنے والے انعامات…… اور
ایک چھوٹی سی وضاحت… جن لوگوں کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا
ادب، احترام نصیب ہے… ان کو بھی مبارک… یہ اگرچہ مکمل محبت نہیں مگر
محبت کا ایک لازمی حصہ اور جزو تو ہے… جن لوگوں کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم سے قلبی تعلق، اشتیاق، میلان اور لگاؤ نصیب ہے… ان کو بھی
مبارک… یہ بھی محبت کا ایک اہم جزو ہے… وہ لوگ جن کو حضور اقدس صلی اللہ
علیہ وسلم کی ذات، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام اور ناموس
سے غیرت نصیب ہے اُن کو بے حد مبارک… یہ ایسی نعمت ہے کہ اگر اس میں قربانی
لگ جائے تو اہل اطاعت سے بھی آگے بڑھا دیتی ہے… او ر اگر کسی خوش نصیب
مسلمان کو… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ چاروں چیزیں نصیب
ہوں… ادب و احترام، قلبی تعلق، غیرت اور اطاعت… تو اسے بہت، بہت، بہت
مبارک… ہمارا سلام اُسے پہنچے… سبحان اللہ ! عاشقی
بھی… غلامی بھی… سبحان اللہ ، سبحان اللہ ، سبحان
اللہ … یہ وہ نعمت ہے جو ہمیں اپنے دل کی گہرائی سے… اپنی
دعاؤں میں مانگنی چاہئے…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللّٰھم
صل علیٰ محمّد وعلی اٰل محمّد کما صلیت علیٰ ابراہیم وعلی ال ابراہیم انک حمید
مجید… اللّٰھم بارک علیٰ محمّد وعلیٰ اٰل محمّد کما بارکت علیٰ ابراہیم و
علیٰ اٰلِ ابراہیم انک حمید مجید…
اللہ تعالیٰ قبول فرمائے… آج بھی’’محبت‘‘ کی ’’محبت بھری‘‘ مجلس سجاتے
ہیں…
حُبّ
النّبی صلی اللہ علیہ وسلم … حضرت آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کی محبت…
گذشتہ
کالم میں ہم نے محبت کے معنیٰ سمجھے… آج اُسی بات کو آگے بڑھاتے
ہیں… اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو… اپنے محبوب نبی صلی
اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت نصیب فرما دے…
آمین
یا ارحم الراحمین… یا رب محمد صلی اللہ علیہ وسلم …
مشکل
ایمان
اللہ
تعالیٰ کی کروڑوں رحمتیں ہوں… حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین پر… انبیاء د کے بعد اُن جیسا نہ کوئی تھا… اور نہ
کوئی ہو سکتا ہے… حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ایمان بہت
اونچا تھا… اور بہت مشکل… یعنی اُن کے لئے ’’ایمان‘‘ لانا، ایمان قبول
کرنا… اور یقین پر رہنا ایک انتہائی مشکل کام تھا… انہوں نے اللہ
تعالیٰ کی توفیق سے اُن مشکلات کا مقابلہ کیا اورکامیاب رہے… مثال
لیجئے… آج بھی تمام باتیں سورۃ الفتح کی روشنی میں عرض کی جارہی
ہیں… حضرات صحابہ کرام کو خواب سنایا جاتا ہے کہ ہم کعبہ شریف گئے… امن
واطمینان سے عمرہ کیا اور طواف کئے… اور خیر خوبی سے واپس آگئے… کون
کون عمرہ کے لئے تیار ہے؟… ماشاء اللہ پورا لشکر تیار ہو
گیا… کسی نے نہ پوچھا کہ مشرکین مکہ کی دشمنی کا کیا بنے گا؟… اس قافلے
کو حدیبیہ جا کر رکنا پڑا… مشرکین کے ساتھ ایک’’معاہدہ‘‘ ہوا… اس معاہدے
کی ہر شرط ظاہری طور پر مسلمانوں کے لئے ’’عار‘‘ کا باعث تھی… موت کی بیعت
ہوئی کہ لڑنا ہے… مگر لڑنے بھی نہیں دیا گیا… معاہدہ نامے پر نام مبارک
بھی’’محمد رسول اللہ ‘‘ کاٹ کر…’’محمد بن عبد اللہ ‘‘ لکھنا پڑا… یعنی
نہ عمرہ ہوا نہ خواب پورا ہوا… نہ جنگ کی اجازت ملی نہ اپنے قیدی بھائی کو
ساتھ لے جانے کی… بلکہ آئندہ کے لئے بھی مکہ مکرمہ میں محبوس مسلمانوں کے
لئے ہجرت کادروازہ اس معاہدے نے بند کر دیا… قربانی کے جانور ساتھ تھے وہ بھی
مکہ کی قربان گاہ سے دور ذبح کرنے پڑے… حلق اور قصر ہوا مگر بغیر طواف اور
سعی کے… گویا ظاہری طور پر ناکامی، شکست… اور آگے کے دروازے بھی
بند… ایسے مواقع پر تو شیاطین کو دلوں پر حملے کا کھلا موقع مل جاتا
ہے… مگر حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے قلوب محفوظ قلعے تھے… یہ
تھکا ماندہ قافلہ بغیر کسی ظاہری کامیابی اور خوشی کے واپس جارہا تھا کہ… عرش
سے آواز آئی…
اِنَّا
فَتَحْنَالَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا
بے
شک ہم نے آپ کو کھلی فتح دے دی…
آپ
خود سوچیں اُس وقت اس آیت پر ایمان لانا کتنا بڑا ایمان… اور کتنا بڑا
امتحان تھا… کونسی فتح؟… کونسی کھلی اور واضح فتح؟…
مجھ
تک اور آپ تک تو یہ آیت اُس وقت پہنچی ہے جب بعد کی تمام فتوحات اور وعدے پورے
ہو چکے… مگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سامنے یہ آیت اس وقت
آئی جب کسی فتح کا نام و نشان بھی نہیں تھا… مگر سب نے فوراً یقین کر لیا
اور اس آیت پر دل سے ایمان لے آئے… اور آپس میں مبارک بادیں دینے
لگے… اسے کہتے ہیں ایمان کامل… اسے کہتے ہیں ایمان بالغیب… اسے
کہتے ہیں تصدیق قلبی… قافلہ مدینہ منورہ پہنچا اور سورۃ الفتح کے وعدے پورے
ہونا شروع ہو ئے اور دو سال میں پورے جزیرۃ العرب کا منظر نامہ بھی بدل
گیا… مگر جب وعدے پورے ہوئے تو کسی نے نہیں کہا کہ… مجھے اُن آیات پر
دل میں کچھ خلجان تھا وہ اب دور ہوا ہے… بالکل نہیں… جب خالی ہاتھ واپسی
کو رب تعالیٰ اور اُس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح قرار دیا تو سب
نے دل سے قبول کر لیا… کیا حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے
علاوہ یہ کمال کوئی اور دکھا سکتا ہے؟… بہت سے لوگ اپنی عبادت اور عقلمندی کے
زعم میں کہہ دیتے ہیں کہ کاش ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے زمانے میں پیدا ہوتے… ارے! ہم میں سے کوئی اتنے بڑے اور
اونچے دل والا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اسے حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کے زمانے میں پیدا فرما دیتے… وہ زمانہ تو بڑے کڑے امتحانات
کا تھا ہم اپنے دل کو دیکھیں تو وہ ان امتحانات کو سن کر ہی لرز جاتا
ہے… غزوہ احد میں ستر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ٹکڑے بکھرے پڑے
تھے… مشرکین لات عزی اور ھبل کے نعرے لگا کر فاتحانہ واپس جارہے
تھے… حضرت سالار قافلہ صلی اللہ علیہ وسلم زخموں سے
چور تھے اور قرآن پاک فرما رہا تھا…
اَنْتُمُ
الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ
اگر
تم ایمان پر ہو تو تم ہی غالب ہو…
ظاہری
طور پر کون سا غلبہ یہاں نظر آرہا تھا؟… مگر واقعی حقیقت میں بہت بڑا غلبہ
تھا… اور اس حقیقت پر اُس وقت ایمان لانا… حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ
علیہم اجمعین ہی کا کام تھا …رضی اللہ عنھم و
رضواعنہ… میرے بھائیو! اور بہنو!…ہم سب حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ
علیہم اجمعین سے محبت کریں… اور اُن سے حب النبی صلی اللہ علیہ
وسلم …یعنی حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا طریقہ
سکھیں…
صلی
اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم
مشکل
محبت
گذشتہ
کالم میں ہم نے دلائل کے ساتھ پڑھ لیا کہ… حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین کی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت… بالکل اعلیٰ درجے
کی سچی محبت تھی… مگر یاد رکھیں! یہ محبت آسان نہیں تھی… اس میں قدم
قدم پر بے حد مشکلات تھیں… حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے بعد کے کچھ لوگوں نے
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال پوچھے… اورکہنے
لگے… کاش ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت اور صحبت نصیب
ہوتی تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یوں یوں اعزاز اور اکرام کرتے
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں مبارک زمین پر نہ پڑنے
دیتے… حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ… جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کے خادم، آپ کے راز دان اور آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کے خصوصی مہم جو تھے… فرمانے لگے… بیٹو! وہ آسان کام
نہیں تھا… اس کے بعد آپ نے غزوہ خندق کا واقعہ سنایا کہ… کیسی بھوک،
کیسا خوف، کیسی سردی… اور کیسی طویل آزمائش تھی کہ… ہم آواز مبارک تو
سنتے تھے مگر جسم میں اتنی بھی جان نہیں تھی کہ جواب عرض کر سکیں…یہ واقعہ سنا کر
اشارہ فرمایا کہ… وہ عظیم محبت ایسی آسان نہ تھی کہ ہر شخص اُس کا اہل ہو
سکتا… مگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اُن کڑے حالات میں جب انسان
کے حواس بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں… محبت کے تمام تقاضے نبھائے… بھائیو!
اور بہنو!… مجھے اور آپ کو شکر کرنا چاہئے کہ دین ہم تک آسانی سے پہنچ
گیا… اور حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بھی آسان ہو
گئی… اب بھی کوئی اس نعمت سے محروم رہے… ایسا نہیں ہونا چاہیئے…
ایک
عجیب نکتہ
مؤمن
کی اصل ’’محبت‘‘ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے… اُس محبت میں کوئی شریک
نہیں ہونا چاہئے… اس کے بعد مؤمن کی اصل محبت… حضرت آقامحمدمدنی صلی
اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے… اور اس محبت میں مخلوق میں سے کوئی
بھی شریک نہیں ہونا چاہئے… یعنی جیسی محبت ہمیں رسول پاک صلی اللہ علیہ
وسلم سے ہو… ایسی کسی اور سے نہ ہو… نہ امیر سے نہ پیر
سے… نہ ماں باپ سے نہ اولاد سے… نہ مال سے نہ حکام سے… اندازہ
لگائیں کہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس اہم ’’نکتے‘‘ کی کیسی
حفاظت فرمائی… حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ جب خلیفہ بنے تو آپ نے یہ اعلان
نہیں فرمایا کہ لوگ مجھ سے… ویسی محبت کریں جیسے رسول پاک صلی اللہ علیہ
وسلم سے کرتے تھے… بلکہ جب آپ کو کسی ایسے فیصلے کا کہا جاتا جو
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حکم مبارک کے خلاف
ہوتا تو آپ فرماتے: ابن ابی قحافہ کی کیا مجال کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کے کسی حکم کو تبدیل کرے… ایک بار کسی شخص نے حضرت صدیق
اکبررضی اللہ عنہ کو ان کی خلافت کے زمانہ میں بہت بُرابھلا کہا… یعنی حددرجہ
بدزبانی… ایک محبت کرنے والے ساتھی اُسے قتل کرنے کے لئے اٹھے توصدیق اکبررضی
اللہ عنہ نے روک دیا… اور فرمایا یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کی شان مبارک تھی کہ… آپ کے گستاخ کو قتل کرنا لازم تھا
ہماری یہ شان نہیں ہے… آج حیرانی ہوتی ہے اور دل دکھتا ہے جب کوئی کسی عہدے،
منصب اور مقام کے نشے میں… لوگوں کو اپنی ویسی اطاعت کا حکم دیتا ہے جیسے
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تھی… توبہ ، توبہ،
توبہ… ایک پیر کی تقریر سنی وہ اسی بات کو ثابت کر رہا تھا… بالآخر
گمراہ ہوا اور مارا گیا… ایک صحیح العقیدہ شخص نے بھی ایک بار یہی کہا کہ
میرے شیخ کی اطاعت اس طرح کرو جس طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے تھے… کئی
امراء کو بھی یہی نشہ چڑھ جاتا ہے… بہت دکھ، خوف اور توبہ کا مقام
ہے… جس آدمی کے دل میں یہ خیال آئے کہ لوگ اس کی اطاعت اُس طرح کریں جس طرح
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تھی… یا اُس
سے اُسی طرح کی محبت کریں تو… اُسے چاہئے کہ تنہائی میں بیٹھ کر ایمانداری سے
اپنا محاسبہ کرے… ممکن ہے دل حق بات سوچ لے… تب اُسے اپنی ذات سے بھی
گِھن اور نفرت ہونے لگے لگی… مدینہ منورہ میں ایک خاندان صدیوں سے چلا آرہا
ہے… یہ بلالی رنگت والے حضرات حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے
روضہ اطہر کی خدمت پر مأمور ہیں… اندر مرقد مبارک پر جھاڑو کی سعادت بھی
انہیں نصیب ہوتی ہے… آپ میں سے جن کو وہاں حاضری کی سعادت ملی ہو ممکن ہے
انہوں نے ریاض الجنہ یا صفہ پر ان حضرات کو دیکھاہو… سفید کپڑے اور کمر میں
سبز پٹکا اور سر پر عمامہ ہوتا ہے…حضرت مفتی محمد حسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ بانی
جامعہ اشرفیہ لاہور… بڑے جید عالم اور حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ
تھے… وہ فرماتے ہیں میری ملاقات اس خاندان کے ایک فرد سے ہوئی مصافحہ کرتے
ہوئے انہوں نے فرمایا میں ساٹھ سال سے روضہ اطہر پر جھاڑو دیتا ہوں… حضرت
مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ سنتے ہی مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی اور
مجھے یوں لگا کہ میں گندگی کا ایک ڈھیر ہوں اور میرے ہاتھوں نے… ان پاک
ہاتھوں کو گندا کر دیا ہے جو روضہ اطہر پر جھاڑو کی سعادت رکھتے ہیں…
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد
صلی
اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم
محبت
کی طاقت
’’محبت‘‘
خود ایک طاقتور چیز ہے… بے حد طاقتور… اس لئے’’محبت‘‘ کو خواہشات، شہوات
اور وقتی مفادات پر نہیں لگانا چاہئے… بلکہ اس طاقت کو حاصل کر
کے… اونچی پرواز اور بڑی منزل پانی چاہئے…
مجنوں
کی لیلیٰ سے محبت…سچی تھی… مگربے کار… پھر بھی طاقت دیکھیں کہ آج تک ہر
زبان پر اُس کا تذکرہ ہے… ایک بے کار’’محبت‘‘ نے مجنوں اور لیلیٰ کو
’’یادگار‘‘ کردار بنا دیا ہے…بہت دعاء کرنی چاہئے کہ ہماری’’محبت‘‘ کا رخ کسی غلط
طرف نہ ہوجائے… شیخ شبلیس کی محبت ایک عیسائی لڑکی کی طرف چل پڑی… ایسی
طاقتور کہ ایمان، نسبت، علم کے پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر گئی… پھر توبہ ہوئی
اور’’محبت‘‘ کا رخ محبوب حقیقی کی طرف پھرا… تو ایسی طاقت کہ… سب کچھ
کھویا ہوا واپس آگیا…انسان کو اپنے ’’محبوب‘‘ کا فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر… اور
اللہ تعالیٰ سے مانگ مانگ کر کرنا چاہئے… کیونکہ ’’محبت‘‘ کے
ذریعہ محبوب کے اثرات… ریڈیائی لہروں سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ محب کی طرف
منتقل ہوتے ہیں… ظاہری طورپر محبت کرنے والا سب کچھ لٹا تا ہے مگر حقیقت میں
وہی سب کچھ پاتا ہے… محبوب اچھا ہوتو اچھائی پاتاہے… اور محبوب بُرا ہو
تو برائی پاتا ہے… حضرت شیخ ادریس رحمۃ اللہ علیہ نے ’’بینات‘‘ کے ایک مضمون
میں یہ مسئلہ خوب سمجھایا ہے… اور مثال یہ دی کہ… حضرت شیخ انور شاہ
کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے بہت شاگرد تھے… بعض شاگرد سالہا سال آپ کی صحبت
میں رہے… مگر حضرت کشمیری رحمۃ اللہ علیہ سے جو کچھ حضرت بنوری رحمۃ اللہ
علیہ نے پایا وہ کوئی اور شاگرد نہ پا سکا حالانکہ حضرت نبوری رحمۃ اللہ علیہ
آخری زمانے میں آئے اور تھوڑا عرصہ ساتھ رہے… دراصل حضرت بنوری رحمۃ اللہ
علیہ کو حضرت کاشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے سچی محبت حاصل تھی… اس محبت نے استاذ
کے علوم کھینچ کر شاگرد کے سینے میں بھر دیئے… معلوم ہوا کہ محبت میں قوت
جاذبہ بھی ہے اور قوت پرواز بھی… یہ دومتضاد قوتیں اور کسی چیزمیں نہیں
ہیں… اچھی طرح یاد رکھیں… لوہے سے زیادہ طاقت آگ میں ہے اور آگ سے
زیادہ پانی میں اور پانی سے زیادہ ہوا میں… اور ہوا سے زیادہ؟… جی ہاں
اخلاص میں… اخلاص کیا ہے؟… محبت ہی کی ایک ادا ہے… سورۃ الفتح عجیب
باتیں سناتی ہے… حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو… رسول
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت ملی تو پھر اس محبت کی طاقت نے
کیا کیا کرشمے دکھائے… قرآن اور عربی سمجھنے والے صرف اس ایک جملے میں غور
فرمائیں تو… روح بھی عش عش کر اٹھے…
لَقَدْ
رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃ
سبحان
اللہ !… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت
کی بدولت… اللہ تعالیٰ کی محبت اور رضاء مل گئی… کالم کی
جگہ پوری ہورہی ہے… محبت بھری داستان کو روکتے ہیں… سب سے پہلے اور سب
سے زیادہ محبت… اللہ تعالیٰ کے ساتھ… پھر سب سے زیادہ محبت
حضرت آقا محمدمدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ… اورپھر انبیاء ،
ملائکہ اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ… اور پھر اُن
کے ساتھ… جن سے محبت کا حکم اللہ تعالیٰ اور جناب رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے… اور پھر
بس… پکا تالا… مگر اس ظالم تالے کا کیا ہو جو سچی محبت کو دل میں داخل
ہونے ہی نہیں دیتا… بے محبت دل… بنجر اور شور زمینوں جیسے… یا اللہ
یہ تالا کھول دیجئے…
اَللّٰھُمَّ
افْتَحْ اَقْفَالَ قُلُوْبِنَا…
تالا
کھلے گا… ذکر سے، رو رو کر دعاء کرنے سے ، رسول پاک صلی اللہ علیہ
وسلم پر کثرت سے درود بھیجنے سے… اور خوب استغفار کرنے سے…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللّٰھم
صل علیٰ محمّد وعلی اٰل محمّد کما صلیت علیٰ ابراہیم وعلی ال ابراہیم انک حمید
مجید… اللّٰھم بارک علیٰ محمّد وعلیٰ اٰل محمّد کما بارکت علیٰ ابراہیم و
علیٰ اٰلِ ابراہیم انک حمید مجید…
اللہ تعالیٰ قبول فرمائے… آج بھی میٹھے عشق کی عاشقا نہ مجلس سجاتے
ہیں… اپنے آقا مدنی… حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت
اور عشق کی باتیں… شاعر نے کہاتھا:
بڑا
لطف دیتا ہے نام محبت
میں
عرض کرتا ہوں:
بڑا
لطف دیتا ہے نام محمد
صلی
اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم
دل
بہت زخمی ہو اور پریشان…دل سے قطرے خون کے ٹپک رہے ہوں، غم،بے چینی الجھن… یا
گناہوں کے ناپاک وساوس کے چھینٹے دل کو گندا کرنے کے لئے برس رہے ہوں… چپکے
سے اٹھیں وضو یا غسل کریں… مسجد میں یا گھرکے کسی خلوت مقام میں جا
بیٹھیں… روح کو عشق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا خوشبودار جھونکا
دیں… اور شروع ہو جائیں درود و سلام پڑھنے میں…
آدھے
گھنٹے میں روح معطر، زبان خوشبودار… اور دل باغ باغ… وہ جو گرتا جا رہا
تھا اب ایسا اٹھے گا کہ آپ خود سے حیران ہوں گے… رب کعبہ کی
قسم… اللہ تعالیٰ کے پاک نام کے بعد جس نام میں سب سے زیادہ
تأثیر ہے ، خوشبو ہے، نورہے، سکون ہے وہ ہے نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم …
بڑا
چین دیتا ہے نام محمد
صلی
اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم
ایک
بار درود شریف… یعنی صلوٰۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فوری
بدلہ… اللہ تعالیٰ اُس بندے پر دس صلوٰت یعنی رحمتیں نقد نازل
فرما دیتے ہیں…
پہلے
الحمدللہ ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کا بیان کئی کالموں میں ہوا… اور اب الحمدللہ … ’’محمد رسول اللہ ‘‘ کو
بیان کرنے کی توفیق مل رہی ہے… مؤمن کے دل میں دونوں ضروری…’’ لا الہ الا
اللہ ‘‘ بھی اور ’’محمد رسول اللہ ‘‘ بھی…لوح محفوظ پر بھی
دونوں ساتھ ساتھ لکھے ہوئے ہیں… اور اللہ تعالیٰ کے ’’عرش عظیم‘‘
پر بھی… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے
بعد… اب اگر کوئی پوری زندگی لا الہ الا اللہ پڑھے… اس پر
پورا یقین رکھے… ہزار سال عبادت کرے… دنیا کا سارا مال صدقہ
کرے… لیکن وہ …’’محمد رسول اللہ ‘‘ کو نہ مانے… تو وہ کافر
ہے، جہنمی ہے… اور ناکام ہے… یہ اللہ تعالیٰ کا اٹل فیصلہ
ہے اور قرآن پاک کا واضح اعلان ہے… اور اب موذیوں نے جو فلم بنا ڈالی
تو… عشق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نور اور بھی دل میں چمکا
ہے… اور حبّ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو مزید مچل اٹھی ہے…
بڑا
پیارا لگتا ہے نام محمد
صلی
اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم
اُس
پلید فلم کو دیکھنا حرام… اس کی اسٹوری سننا حرام… وہ کسی اور کو دکھانا
اور سنانا بھی حرام… وہ فلم اور اس کے تمام ذمہ دار… بہت جلد مٹ جائیں
گے، فنا ہو جائیں گے… رب تعالیٰ کا پکا وعدہ ہے… اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ
الْاَبْتَرُ… اے میرے محبوب! آپ کے دشمن بے نام و نشان ہو جائیں
گے… ماضی کے دشمن ہو چکے اور’’حال‘‘ کے دشمنوںکو ان شاء
اللہ مجاہدین
محمد صلی اللہ علیہ وسلم ’’بے حال‘‘ کردیں گے…
بڑی
شان رکھتا ہے نام محمد
صلی
اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم
باتیں
توبہت ہیں… میرے عظیم آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان
پر… اب تک کروڑوں صفحات لکھے جا چکے… مگر عشق کی پیاس ہے کہ بجھتی
نہیں… تذکرے سے مزید بھڑکتی ہے… خود ربّ جلیل نے… قرآن عظیم میں
ہمارے آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی جوشان بیان فرمائی
ہے… بلا مبالغہ… اُن آیات کی تفسیر اور تشریح پرلاکھوں صفحات لکھے جا
چکے ہیں… اور کمال یہ ہے کہ… ہر لکھنے والا آخر میں دل سے اعتراف کرتا
ہے کہ حق ادا نہیں ہوا… حضرت شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے سورۃ’’الم
نشرح‘‘ کی تفسیر میں یہاں تک لکھ دیا ہے کہ… حضور اقدس کی حقیقی شان سمجھنا
اور لکھنا کسی انسان کے بس میں ہے ہی نہیں… کون اتنا اونچا کہ اُن تک اُس کی
نظر پہنچ سکے…
بڑی
آن رکھتا ہے نام محمد
صلی
اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم
عرض
یہ کی تھی کہ باتیں بہت ہیں… آج صرف ایک قرآنی معجزے کا تذکرہ اور پھر حوض
کوثر پر… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں سے
نصیب ہونے والے جام کے لئے پیاسے ہونٹوں پر زبان پھیر کر… درود پاک…
کوئی
حد ہی نہیں شاید محبت کے فسانے کی
سناتا
جا رہا ہے جس کو جنتا یاد ہوتا ہے
قرآن
پاک میں… اللہ رب العالمین اعلان فرماتے ہیں…
وَرَفَعْنَا
لَکَ ذِکْرَکَ
اے
نبی!… ہم نے آپ کے لئے آپ کا ذکر بلند کر دیا ہے…
حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ’’ذکر مبارک‘‘… آپ کے نام مبارک اور
آپ کے مبارک تذکرے کی بلندی کا… الٰہی وعدہ… یہ آیت مکہ مکرمہ میں
نازل ہوئی… سورۃ ’’الانشراح‘‘ کی چوتھی آیت… سب جانتے ہیں کہ پوری سورۃ
مکی ہے… اس وقت صرف چند لوگ حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کو
مانتے تھے… اور بس… جبکہ وعدہ اتنا اونچا…
کوئی
مسلمان ہو یا کافر!… دل پر ہاتھ رکھ کر بتائے کہ یہ وعدہ پورا ہوا یا
نہیں؟… اُس وقت سے لیکر… آج تک… دنیا میں، ملأ اعلیٰ
میں… حکام میں ، عوام میں…انسانوں میں، جنات میں… ملائکہ میں، حملۃ
العرش میں… جو نام اللہ تعالی کے نام کے بعد سب سے اونچا
ہے… وہ نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے…
بڑی
پہنچ رکھتا ہے نام محمد
صلی
اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم
ابھی
ہجرت کو چند سال ہی ہوئے تھے… حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ جو اُس
وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے ایک تجارتی سفر پر تھے… روم کے فرمانروا’’ہرقل‘‘ نے
اُن کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں معلومات لینے کے
لئے… اپنے دربار میں بلایا… روایت بخاری اور مسلم میں موجود
ہے… ابو سفیان کا تجزیہ یہ تھا… حیرت ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کا معاملہ روم کے بادشاہ تک بھی پہنچ گیا ہے…
انہ
یخافہ ملک بنی الأصفر
کہ
رومیوں کا بادشاہ بھی اُن سے ڈرتا ہے… یہ ابھی’’مدنی جہاد‘‘ کا آغاز تھا اور
تجزیہ کرنے والے خود بڑے دشمن تھے… رومی بادشاہ بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ
وسلم سے ڈرتا ہے… ہاں وہ ڈرتا تھا… اور آج تک کے کافر
بادشاہ میرے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سے ڈرتے ہیں… کونسا ملک
ہے جس کے صدر ، بادشاہ نے’’ناپاک فلم‘‘ سے لاتعلقی کا اعلان نہیں کیا؟… سب
کہہ رہے ہیں کہ ہمارا اس فلم سے کوئی تعلق نہیں… ایٹم بموں اور خلائی طاقتوں
کے مالک تھر تھر کانپ کر… معذرتیں کر رہے ہیں… ہے نا! نام مبارک کا
رعب… نام مبارک کی شان… اور ذکر حبیب صلی اللہ علیہ
وسلم کی بلندی؟؟…
بڑا
رُعب رکھتا ہے نام محمد
صلی
اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم
اس
آیت مبارکہ کی تفسیر پر… حضرات مفسرین کے جملے بڑے ایمان افروز
ہیں… کئی احادیث مبارکہ بھی…’’وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ‘‘ کے مفہوم کو بیان
فرماتی ہیں…
ان
کاتذکرہ پھر کبھی…
آج
ہمارا موضوع یہ ہے کہ… یہ آیت مبارکہ ایک کھلا معجزہ ہے… آنکھوں والے
غور کریں تو دل بھی زندہ ہو جائے… مکہ مکرمہ میں آیت مبارکہ اتری… اس
کے بعد نور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بجھانے اور مکہ ہی میں سمیٹ کر
ختم کرنے کی ہر کوشش مشرکین نے کر ڈالی… قتل کے لئے گھر کے باہر جمع ہو
گئے… ہجرت کے سارے راستے کو خونخوار جنگجوؤں نے چھان ڈالا… بار بار
مدینہ منورہ کی طرف چڑھائی کی… مگر ذکر محمد صلی اللہ علیہ
وسلم ایک نور بن کر پھیلتا چلا گیا… پھیلتا چلا گیا… نہ
وسائل تھے اور نہ کوئی مادی سلطنت… مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ… مدینہ
منورہ سے آس پاس کے قبائل… اور پھر پورا جزیرۃ العرب اور پھر شمال، جنوب،
مشرق، مغرب… ہر جگہ ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
‘‘ … گونجنے لگا… ہر جگہ اذانیں للکارنے لگیں… مجاہدین محمد
صلی اللہ علیہ وسلم کے دستے خشکی اور سمندر کو سمیٹتے چلے
گئے… دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم پورے عالم میں پھیل
گیا… نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم … دنیا کا سب سے مقبول اور محبوب
نام بن گیا… کئی یورپی ممالک نے سروے کروائے… سب سے زیادہ آبادی کا نام
محمد… دنیا میں سب سے زیادہ جس نام کے افراد بستے ہیں… وہ نام ہے
محمد… دنیا میں جس نام کی اللہ تعالیٰ کے نام کے بعد سب سے زیادہ
تعظیم و تکریم کی جاتی ہے… وہ ہے نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم …
بڑا
پیار دیتا ہے نام محمد
صلی
اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم
تھوڑا
سا اندازہ لگائیں… ’’عالم کفر‘‘ نے مسلمانوں پر کتنی محنت کی… تاکہ
مسلمانوں کے نزدیک سب سے بڑی چیز’’پیسہ‘‘ بن جائے… اتنی محنت، اتنی محنت کہ
حیرانی ہوتی ہے… اس محنت میں ان کو خاصی کامیابی ملی بہت سے مسلمان ’’پیسے‘‘
کو سب سے بڑی چیز سمجھنے لگ گئے… طرح طرح کے فرقے کھڑے کئے گئے تاکہ کچھ اور
نام مسلمانوں کے نزدیک بڑے ہوجائیں… اس کوشش کا بھی کئی مسلمان شکار ہو
گئے… حددرجہ عسکری طاقت بنائی گئی تاکہ اس کے خوف سے مسلمانوں کے حواس ختم
ہوجائیں اوروہ ان طاقتوں کو ہی سب سے بڑا سمجھیں… اور ان سے ٹکرانے کا خیال
بھی اُن کے دل میں نہ آئے… اسلامی ملکوں کے حکومتی نظام کو اپنے قبضے میں
لیا گیا تاکہ مسلمانوں پر… منافقین کو مسلط کر دیا جائے جو ان کے ایمانی
جذبات کو پگھلا کر رکھ دیں… جدید کلچر، طرح طرح کے فیشن، ننگی فحاشی اور کھلی
بے حیائی کو باقاعدہ عام کیا گیا تاکہ مسلمانوں کی ترجیحات ہمیشہ کے لئے بدل
جائیں… یہ سب کچھ کرنے کے بعد… اُن کا خیال تھا کہ اب مسلمان راکھ کا
ڈھیر ہو چکے ہیں اب ان کی شہہ رگ کاٹی جائے… یعنی ان کو… حضرت سرکار دو
عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے جذباتی طور پر کاٹ دیا جائے… اسی کوشش
میں جب ایک ناپاک فلم سامنے آئی تو… عشق محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کی ایسی تلاطم خیز موجیں اٹھیں کہ ’’عالم کفر‘‘ تھر تھر کانپ
اٹھا… نہ کسی نے پیسہ دیکھا اور نہ فرقہ… نہ حکومت کی کسی نے پروا کی
اور نہ منافق دانشوروں کے سمجھانے کی… نہ کسی کو ایٹم بم سے کوئی خوف محسوس
ہوا اور نہ کوئی میزائلوں سے ڈرا… لاکھوں مسلمان دیوانہ وار تڑپتے ہوئے اٹھے
کہ… نہیں نہیں،نہیںنہیں… آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں
گستاخی برداشت نہیں… ہرگز نہیں… کٹ مریں گے اور کاٹ ڈالیںگے… جل
جائیں گے اور دنیا کو جلا ڈالیں گے… مگر یہ حرکت برداشت نہیں کریں
گے… سبحان اللہ !… سالہا سال کی محنت اور… بڑے بڑے ایٹمی
لشکروں کا رعب … شان محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے شکست کھا
گیا… اور نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بلندی کے سامنے سرنگوں
ہو گیا…
بڑا
کام کرتا ہے نام محمد
صلی
اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم
اے
کافرو!… اب اصل بات سنو… تم نے اب شان محمد صلی اللہ علیہ
وسلم سے جنگ چھیڑی ہے… تم نے اب’’نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘
کی طرف ناپاک انگلی اٹھائی ہے… اب تمہیں زمین جگہ دے گی اور نہ آسمان
سایہ… ’’نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ کی گستاخی نے مسلمانوں کو مسئلہ جہاد
سمجھا دیا ہے… اور جہاد تمہاری موت ہے… وہ دیکھو!… جیشِ محمد صلی
اللہ علیہ وسلم … انصارِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم … مجاہدین
محمد صلی اللہ علیہ وسلم … دیکھو!… کیسے شہادت کے لئے مچل رہے
ہیں… اُن کے لئے زندہ رہنا اب دنیا کا مشکل ترین کام ہے… محبوب کی گستاخی
برداشت کر کے جینا ان کی لغت میں نہیں ہے… تم عراق سے بھا گ گئے… ہار
گئے نا؟… تم افغانستان سے بھاگنے والے ہو… شکست کھا گئے نہ؟… وہ
دیکھو! اسلام تمہارے گلی کوچوں میں… اللہ تعالیٰ کی توحید اور
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سنا رہا ہے… نیلسن منڈیلا
کا قریبی رشتہ دار سابق عیسائی پادری اور پر جوش مشنری ’’سیلی‘‘… اب ابراہیم
بنا ہوا… ایک ایک دروازے پر جا کر اسلام کی دعوت دے رہا ہے… وہ روتے
ہوئے بتاتا ہے کہ… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں
زیارت نصیب فرمائی… اور مجھے’’ابراہیم‘‘ کا نام دے دیا… اُس کے کپڑے پھٹ
جاتے ہیں مگر… اسے فرصت نہیں کہ انہیں سی لے یا بدل لے… وہ عاشقِ محمد
صلی اللہ علیہ وسلم بن چکا ہے… وہ دیکھو! ٹونی بلیئر کی
سالی… حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھ کر… دین محمد
صلی اللہ علیہ وسلم میں داخل ہو چکی ہے… نائن الیون کے
بعد… مجاہدین کے کارنامے دیکھ کر مسلمان ہونے والوں کی تعداد… پچاس لاکھ
سے بڑھ چکی ہے… وہ دیکھو!… عبد اللہ ! ماضی کا یہودی… اور اب اسلام
کا داعی امریکہ کے ایک ایک شخص تک محمد عربی صلی اللہ علیہ
وسلم کا دین پہنچا رہا ہے… اسے کس نے مسلمان کیا؟… اسے اس کے
اُس امریکی فوجی بھائی نے اسلام کی دعوت دی… جو فوجی طالبان کی قید میں آیا
تو چند ہی دن میں… حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام اور
سپاہی بن گیا… ارے ظالمو!… زمین تمہارے قدموں کے نیچے سے کھسک رہی
ہے… تمہاری گستاخیوں اور بے ادبیوں نے زمین و آسمان کے تیور بدل دیئے
ہیں… ایک طرف مجاہدین اسلام کی یلغار ہے… تو دوسری طرف داعیان اسلام کے
زمزمے ہیں… کہاں جاؤگے؟ کہاں جاؤ گے؟ آجاؤ! آجاؤ!… حضرت آقا مدنی
صلی اللہ علیہ وسلم کے محبت، شفقت اور کامیابی والے سائے
میں… آجاؤ اور اقرار کر لو …
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اسی
میں تمہاری کامیابی ہے… اور اگر تم نہ آئے… تو برباد اور ناکام ہو جاؤ
گے… سورج کے خلاف فلمیں بنا کر… تم سورج کو ایک انچ نیچے نہیں کر
سکتے… آسمان کے خاکے اڑا کر… تم آسمان کو آدھا انچ اپنی جگہ سے نہیں
ہٹا سکتے… تو پھر… حضرت آقامدنی صلی اللہ علیہ وسلم ؟… ارے وہ تو
سورج سے اونچے، آسمانوں سے اونچے… ساری مخلوق سے اونچے… تمہاری فلموں
نے ان کی شان میں کوئی کمی نہیں کی… اور نہ کر سکتی ہیں… ہاں! اُن کے
عشق و محبت کی خوشبو اور مہک اٹھی ہے… اور امت مسلمہ کو بیدار فرما رہی ہے…
بڑا
زور رکھتا ہے نام محمد
صلی
اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ کا کتنا عظیم احسان ہے کہ… اُس نے ہمیں’’حضرت محمد صلی اللہ
علیہ وسلم ‘‘ عطاء فرمائے… کبھی اللہ تعالیٰ موقع دے تو اس عظیم
نعمت اور احسان پر غو ر کریں… دل باغ باغ ہو جائے گا اورایمان کی روشنی اور
محبت کی خوشبو سے چھلکنے لگے گا… اس وقت ہم مسلمانوں کے لئے سب سے اہم موضوع
یہی ہے کہ ہم… حبُّ النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بات
کریں… عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دلوں میں تازہ اور
مضبوط کریں… اور اپنے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت
کے تذکرے اور چرچے کریں… ممکن ہے کوئی سوچتا ہو کہ حالات حاضرہ پر کافی دن سے
کچھ نہیں لکھا گیا… صحافتی اور عوامی زبان میں ’’کرنٹ افیئر‘‘… یعنی
تازہ ترین موضوع… بس عشق و محبت کے تذکرے ہیں… بات یہ ہے بھائیو! کہ
ہمارے نزدیک یہی تازہ ترین موضوع ہے… اور یہی’’کرنٹ افیئر‘‘ … اس
وقت اربوں ڈالر کی سیاست اور سازش چل رہی ہے کہ… مسلمانوں کو اس موضوع سے
جلدکاٹ دیا جائے… پہلے یہ شور مچایا گیا کہ مظاہروں میں تشدد کیوں
ہوا؟… خوب مذمتی بیانات آئے تاکہ ’’خوشبوے مدینہ‘‘ کو پھیلنے سے روکا
جائے… اور اب ایک اور فضول ساموضوع پورے میڈیا پر چڑھا دیا گیا ہے… تاکہ
مسلمانوں کی توجہ’’عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ سے ہٹ
جائے… حالانکہ گستاخانہ فلم ابھی تک کمپیوٹر پر موجود ہے… فلم کے ذمہ
داروں کو کوئی سزا نہیں دی گئی… سلمان رشدی سے لیکر ملعون ٹیری جونز
تک… ہر کمینے دجّال کی بھرپور حفاظت کی جارہی ہے… گستاخی بھرا مواد وقفے
وقفے سے جاری کرنے کی سازش مکمل تیار ہے… زمین کا بدترین جُرم… حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی… اس جُرم کے
ردعمل میں عشق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جذبہ پیدا ہوا جس نے مسلمانوں
کو کھڑا کر دیا… اب قریب تھا کہ… زمین ان گستاخوں پر تنگ پڑ جاتی اور
الجہاد الجہاد کے نعرے پورے عالم میں گونجتے تب بڑی چالاکی اور عیاری سے میڈیا اور
ذہنوں پر… دوسرے مسائل کا دھاوا بول دیا گیا … ایک بات اچھی طرح
یادرکھیں… گستاخی کا یہ ناپاک جرم ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے… بلکہ خود
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی یہ جُرم
ہوا… یہ اللہ تعالیٰ کا تکوینی نظام ہے… حضور اقدس صلی اللہ
علیہ وسلم کا دور مبارک مسلمانوں کے لئے قیامت تک کا نمونہ ہے… اس
لئے اُس زمانے میں بھی گستاخی کا جرم ہوا تاکہ مسلمانوں کو معلوم ہو جائے
کہ… حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضوان
اللہ علیہم اجمعین نے اس جُرم کا مقابلہ کس طرح سے فرمایا… دوکام کرنے کے اور
ایک کام نہ کرنے کا… یہ ہے اس خبیث جُرم کے مقابلے کا نصاب…
جو
دو کام کرنے کے ہیں…
(۱) حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کی مدح، ثنا اور شان کو ایسے موقع پر خوب کُھل کر بیان کیا
جائے … اور زیادہ سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم
فضائل اور مناقب کا تذکرہ کیا جائے… آپ حضرت حسّان رضی اللہ عنہ کے
اشعار پڑھ لیجئے… جب کوئی گستاخ جانور بھونکتا تو حضرت حسان رضی اللہ
عنہ کی زبان اور قلم تلوار بن جاتے… اور آپ رضی اللہ عنہ فصاحت و
بلاغت کے ساتھ اُس مردود کی گستاخی کو تہس نہس فرما دیتے… اور ایسے موقع پر
اللہ تعالیٰ اُن کی مدد کے لئے حضرت روح
القدس… جبرئیل علیہ السلام کو بھیجتے… اور حضرت حسان رضی
اللہ عنہ کو یہ سعادت ملتی کہ وہ… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کے منبر مبارک پربیٹھ کر عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ
وسلم اور مناقب مصطفی صلی اللہ علیہ
وسلم بیان فرماتے…
ہمارے
اکثر قارئین عربی زبان نہیں سمجھتے… ورنہ آج کے کالم میں حضرت سیدنا
حسّان رضی اللہ عنہ کے بعض اشعار پیش کر دیئے جاتے… عربی سے اردو
میں ترجمہ کیا جائے تو… عربی جذبات کی گرمی ٹوٹ جاتی ہے… یہ صرف ایک
مثال ہے… اس سے ثابت ہوا کہ… جب کائنات کے ملعون اور مردود ترین
افراد… مدینہ طیبہ کی طرف منہ کر کے بھونکنے لگیں تو… مسلمانوں کو چاہئے
کہ… حبُّ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، عشق نبی صلی اللہ علیہ
وسلم … فضائل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ سے
زیادہ بیان کریں… وجہ بالکل واضح ہے… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی
گستاخی اور بے ادبی… انسانیت پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت
دیتی ہے… تب ضروری ہوتا ہے کہ انسانیت کو اللہ تعالیٰ کے عمومی
عذاب سے بچانے کے لئے… اللہ تعالیٰ کی محبوب ترین ہستی کا تذکرہ
کیا جائے… محبوب کا تذکرہ سن کر غصہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے… اور غضب، رحمت
میں بدل جاتا ہے… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک تذکرے
سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتے ہیں، راضی ہوتے ہیں… اور رحمتیں نازل
فرماتے ہیں… یہ ہوا کرنے والا پہلا کام…
(۲)… گستاخی
کرنے والے ملعون… مرد ہو ںیا عورتیں… مسلمان کہلاتے ہوں یا غیر
مسلم… اُن کے عذابی وجود سے زمین کو پاک کرنے کی کوشش کی جائے… ایڈز کے
مریض خطرناک… مگر گستاخی کے مریض اُن سے ہزار گنا زیادہ… انسانیت، زمین،
امن… اور شرافت کے لئے خطرہ ہیں… یہ وہ ہیں جن کو قرآن حکیم
نے’’ملعونین‘‘ فرمایا…یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دھتکارے
ہوئے… جن پر اللہ تعالیٰ کی لعنت صبح شام نازل ہوتی
ہے… ایسے لوگوں کو دیکھنا بھی نقصان دہ… ان کے ساتھ بیٹھنا بھی لعنت کا
موجب… اور اُن کا وجود ہر وقت عذاب کا خطرہ… دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ
لے گی کہ… امریکہ اور یورپ کیسے تباہ ہوتے ہیں… خود ان کی سائنس ایسی
غلطیاں کرے گی کہ… ملکوں کے نام و نشان تک مٹ جائیں گے…بس دھواں ہو
گا… آگ ہوگی اور پانی ہی پانی… یہ ہے کرنے کا دوسرا کام… آپ دور
نبوت میں دیکھ لیجئے…کعب بن اشرف سے لیکر ابن خطل تک… کئی ملعون گستاخوں کے
سر اُن کے جسموں سے الگ کر دیئے گئے… اور یوں جزیرہ عرب کو روشنی، پاکی، امن،
خوشحالی… اور ترقی نصیب ہوئی…
تیسرا
کام جو نہ کرنے والا ہے وہ یہ کہ… گستاخی کے الفاظ… گستاخی کے
مواد… اور گستاخی پر مبنی چیزوں کو… ہر گز عام نہ کیا جائے… نہ
بطور خبر، نہ بطور معلومات، یہ تو غلاظت اور ناپاکی ہوتی ہے… اور ایسی نجس
اور گندی چیزوں کو… نہ دیکھا جاتا ہے اور نہ سونگھا جاتا ہے… یہ بیماری
کے جراثیم ہوتے ہیں… یہ مردار خنزیر کے گلے سڑے اعضاء ہوتے ہیں… ان کو
چھپایا جاتا ہے، دفنایا جاتا ہے… اور انسانوں سے بہت دور پھینکا جاتا
ہے… سیرت اور تاریخ کی کتابیں پڑھ لیں… آپ کو یہ تو معلوم ہو گا
کہ… کعب بن اشرف نے گستاخی بکی تھی… مگراُس نے کیا بھونکا تھا… یہ
کسی کتاب میں مذکور نہیں… اور مذکور ہونا بھی نہیںچاہئے… حضور اقدس صلی
اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک… ہر عیب سے پاک ہے… آپ صلی
اللہ علیہ وسلم کی ہر صفت… بشری طور پر کمالات کے سب سے اونچے درجے
پر ہے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے… دین کے معاملے میں تو دور
کی بات… اپنے گھر کے اندرونی معاملات میں بھی… کوئی ادنیٰ سی خطاء نہیں
ہوئی… آپ کا ہر عمل نور ہے… آپ کاہر قول روشنی ہے… کوئی لاکھ
کوشش کرے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم اور تحقیق کی بنیاد پر
تنقید کا نشانہ بنا ہی نہیں سکتا… ایک پڑھے لکھے غیر مسلم کے ان الفاظ پر غور
کیجئے…
’’میں
حضرت محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو دنیا کا سب سے بڑ اکامل انسان تسلیم کرتا
ہوں… وجہ اُس کی یہ ہے کہ مجھ کو ان کی زندگی میں بیک وقت اس قدر متضاد اور
متنوع اوصاف نظر آتے ہیں جو کسی ایک انسان میں تاریخ نے کبھی یکجا نہیں
دیکھے… بادشاہ ایسا کہ پورا مُلک اس کی مٹھی میں اور بے بس ایسا کہ… خود
اپنے کو بھی اپنے قبضہ میں نہ جانتا ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ
میں… دولت مند ایسا کہ خزانے کے خزانے اونٹوں پر لدے ہوئے اُس کے دارالحکومت
میں آرہے ہوں… اور فقیر ایسا کہ مہینوں اُس کے گھر چولہا نہ جلتا
ہو… اور کئی کئی وقت اُس پر فاقے سے گذر جاتے ہوں… سپہ سالار ایسا کہ
مٹھی بھر نہتے افراد کو لیکر ہزاروں کے غرق آہن مسلح لشکر کو شکست دے رہا
ہو… اور صلح پسند ایسا کہ پُرجوش جانثاروں کی ہمرکابی کے باوجود صلح کے کاغذ
پر بے چون و چرا دستخط کر دیتا ہو… شجاع اور بہادر ایسا کہ ہزاروں کے مقابلہ
میں تن تنہا ڈٹا کھڑا ہو… اور نرم دل ایسا کہ جانوروں پر بھی رحم کھاتا
ہو…(طویل مضمون میں سے ایک اقتباس)
عرض
کرنے کا مقصد یہ ہے کہ… رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کی ذات مبارک پر کوئی علمی یا تحقیقی تنقید ہو ہی نہیں
سکتی… کہ اُ س کو پڑھا جائے… یہ تو محض اپنے دل کی جلن… کفر کا
بدترین اظہار… اور دشمنی کی انتہا ہوتی ہے… اس
لئے… گستاخ … اور اس کی گستاخی دونوں کو زمین کے نیچے بہت گہرا
دفنا دینا چاہئے…
بات
کچھ دور نکل گئی آئیے اپنی مجلس کو رحمت سے بھرنے کے لئے درود شریف پڑھتے ہیں…
اللّٰھم
صل علیٰ محمّد وعلی اٰل محمّد کما صلیت علیٰ ابراہیم وعلی ال ابراہیم انک حمید
مجید… اللّٰھم بارک علیٰ محمّد وعلیٰ اٰل محمّد کما بارکت علیٰ ابراہیم و
علیٰ اٰلِ ابراہیم انک حمید مجید…
آج
بھی عشق و محبت کی محفل سجانے کا ارادہ تھا… مگر اس کی وجہ بتاتے بتاتے جگہ
پوری ہو گئی… پھر بھی چند بہت اہم باتیں پیش خدمت ہیں…
(۱) حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم سے محبت رکھنا… عبادت ہے… جی ہاں! ایسی عبادت جس کے
ذریعہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرتے ہیں… وجہ
یہ ہے کہ… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنے
کا حکم خود اللہ تعالیٰ نے دیا ہے… اورعبادت کا مطلب اللہ
تعالیٰ کے احکامات کو پورا کرنا… قرآن پاک میں اللہ
تعالیٰ کا ارشاد ہے:
النبی
اولیٰ بالمؤمنین من انفسھم
دلائل
اور بھی ہیں… غورکریں تو سینہ کھل جائے گا ان شاء
اللہ …
(۲) حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم سے محبت کا حکم’’اختیاری‘‘ نہیں ہے کہ… جو چاہے عمل کرے اور
جو چاہے عمل نہ کرے… یہ لازمی حکم ہے… بے حد لازمی…
اس
لئے کئی روایات اور احادیث صحیحہ میںسمجھا دیا گیا کہ… جب تک رسول کریم صلی
اللہ علیہ وسلم کی محبت… کسی مسلمان کے دل میں… اس کی اولاد،
والدین اور جان و مال سے بڑھ کر نہ ہو… وہ ایمان والا نہیں ہو سکتا… اس
لئے بہت دعاء… محنت اور کوشش سے دین کی اس ضروری بنیاد کو حاصل کیا جائے…
(۳) یہ بات تو ہم سب جانتے ہیں کہ… اللہ
تعالیٰ… اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے’’محبت‘‘ فرماتے
ہیں… عام نہیں بہت خاص محبت… اپنی تمام مخلوق میں سب سے زیادہ
محبت… اسی لئے آپ کو افضل ترین کتاب عطاء فرمائی… اپنا خاص قرب نصیب
فرمایا… آپ پر نبوت اور رسالت کو مکمل فرمایا… اپنی کتاب میں آپ صلی
اللہ علیہ وسلم کی وہ تعریف فرمائی جو کسی اور کی نہیں
فرمائی… خلاصہ یہ کہ… اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ
محبت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے ہیں بس اسی سے ثابت ہوا
کہ… ایمان کی قبولیت کے لئے… حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کی محبت شرط ہے… کوئی آدمی اگر یہ دعویٰ کرے کہ میں
اللہ تعالیٰ کو مانتا ہوں… اور اللہ تعالیٰ سے محبت
رکھتا ہوں… تو پھر اس کے لئے لازمی ہے کہ… وہ اللہ تعالیٰ
کے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی محبت رکھے… کیونکہ محبت
کا لازمی قرینہ یہ ہے کہ محبوب کا محبوب… محبوب ہوتا ہے… اگر ہمیں
اللہ تعالیٰ سے محبت ہے تو پھر اللہ تعالیٰ جن سے محبت
فرماتے ہیں… وہ بھی ہمارے محبوب ہونے چاہئیں…اگر ایسا نہ ہوا تو اللہ
تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ بھی جھوٹا ہوگا… عشق کے اس پیارے نکتے کو سمجھنا ہو
تو… سورۃ الاحزاب کھولئے… اور وہ آیت پڑھ لیجئے جس میں اللہ
تعالیٰ ایمان والوں کو حکم فرما رہے ہیںکہ اے ایمان والو! تم رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوٰۃ وسلام بھیجا کرو! اس حکم
کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے پہلے اپنی صلوٰۃ کا ذکر فرمایاہے…
یا
اللہ ! ہم سب کو اپنی اور اپنے محبوب نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کی سچی محبت نصیب فرما دیجئے…
آمین
یا ارحم الراحمین
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ کا ایک اور عظیم احسان… عیدِ قربان، عیدِ قربان…
اے
انسانو! اے جنّات !!… اللہ تعالیٰ کی کِس کس نعمت کا انکار کرو
گے؟…
فَبِاَیِّ
اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبانِ
بے
شمار فضائل
آج
کل جو دن اور راتیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں نصیب فرمائے ہیں… یہ بہت
اونچے دن اور راتیں ہیں… ذوالحجہ کے مہینہ کے دس دن… سبحان
اللہ … ہر دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر… اور ہررات
کی عبادت لیلۃ القدر جیسی… اور پھر قربانی کا دن…بعض اہل علم فرماتے
ہیں… یہ روئے زمین کا سب سے افضل دن ہے… اپنے رب تعالیٰ کو راضی اور خوش
کرنے کا دن… اور پھر ایام تشریق… اللہ اکبر
کبیرا… اللہ تعالیٰ کی عظمت اور بڑائی بیان کرنے کے دن…قرآن
مجید جیسی کتاب میں ان دنوں کا بھی تذکرہ ہے اور ان راتوں کا
بھی… فرمایا…وَاذْکُرُوا اللّٰہَ فِیْٓ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ…اور
فرمایا وَالْفَجْرِوَلَیَالٍ عَشْرٍ… اللہ اکبر، اللہ
اکبر لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر اللہ اکبر
وﷲ الحمد…
عرفہ
کے دن کا روزہ
خوش
نصیب ہوئے وہ جنہوں نے… پورے’’نو‘‘ روزے رکھے… یکم ذی الحجہ سے نو ذی
الحجہ تک… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا مستقل معمول
مبارک تھا…
کان
رسول اللہ ا یصوم تسع ذی الحجہ ویوم عاشوراء و ثلاثۃ من کل شھر(احمد،
داؤد، نسائی)
یعنی
حضرت آقامدنی صلی اللہ علیہ وسلم … ذوالحجہ کے نو روزے، عاشوراء یعنی
دس محرم کا روزہ اور ہر مہینے کے تین روزے رکھتے تھے… جنہوں نے رکھ لئے اُن
کو مبارک جو نہ رکھ سکے… وہ عرفہ کے دن کا روزہ رکھ لیں… ہمارے ہاں عرفہ
کا دن’’جمعہ‘‘ کو پڑیگا… اس دن کا روزہ… بڑا جاندار
ہے… فرمایا… ایک سال پچھلے اور ایک سال اگلے کے گناہ معاف… (صحیح
مسلم)
سبحان
اللہ ! اور کیا چاہئے؟… سردیوں کے دن ہیں… عید کے دن اللہ
تعالیٰ کی طرف سے دعوت ہوتی ہے… پاکیزہ حلال گوشت اور تکبیرات و اذکار
کی خوشیاں… اس دعوت سے پہلے اپنے مولیٰ کریم کے لئے بھوکے پیاسے رہیں گے تو ان شاء
اللہ … خوشیاں دوبالا ہوجائیں گی…
اللہ
اکبر، اللہ اکبر لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر
اللہ اکبر وﷲ الحمد…
پیارا
جھگڑا
اہل
علم میں ایک مسئلے پر جھگڑا ہے… بہت مزیدار اور پیارا جھگڑا… جی ہاں!
کبھی اختلاف بھی رحمت کا باعث بن جاتا ہے… جب مقصد اونچا ہو اور نفس کی شرارت
سے پاک ہو… سب سے افضل دن کونسا ہے؟… یوم نحر… قربانی کادن یعنی دس
ذی الحجہ… یا یوم عرفہ یعنی نو ذی الحجہ؟… دونوں طرف بڑے خوبصورت دلائل
ہیں… ایک قربانی کا دن ہے… جسے حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم نے ’’اعظم الایام عند اللہ ‘‘ فرمایا ہے… اللہ
تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑا دن… اور دوسری طرف حج اکبر کا دن… یوم
عرفہ ہے… جس دن کاروزہ دو سالوں کے گناہوںکا کفارہ… جس دن سب سے زیادہ
لوگوں کو جہنم سے آزادی کا پروانہ ملتا ہے اور جس دن اللہ تعالیٰ
اپنے بندوں کو اپنا خاص قرب عطاء فرماتے ہیں… اور فرشتوں کے سامنے اُن پر فخر
فرماتے ہیں… دونوں دن بڑے قیمتی… کوشش کریں کہ دونوںکو حاصل کر لیا
جائے… عرفہ کے دن روزہ… اور نحر کے دن قربانی… اور دونوں دنوں
میں… اللہ تعالیٰ کا خوب ذکر… خوب تسبیح… اور خوب لا
الہ الا اللہ کا ورد… یعنی تہلیل… حضرت آقا مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم نے ان تمام دنوں کے بارے میں سمجھا دیا کہ
اکثروا
فیھن من التھلیل والتکبیر والتحمید…( رواہ الطبرانی)
ان
دنوں میں تہلیل(لا الہ الا اللہ ) تکبیر( اللہ اکبر کبیرا) اور تحمید(
الحمدللہ ) کی کثرت کیا کرو…
اللہ
اکبر، اللہ اکبر لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر
اللہ اکبر وﷲ الحمد…
اعمال
کی ترتیب
ایک
طرف ذوالحجہ کے پہلے دس دن ہیں… ان کی مستقل فضیلت… ان دنوں کے اعمال
اللہ تعالیٰ کو بہت پسند… پھر ایام تشریق ہیں… اُن دنوں کے
اعمال بھی بہت قیمتی اور پسندیدہ… کل نصاب چودہ دن کا ہے… یکم ذوالحجہ
سے لیکر تیرہ ذی الحجہ کی عصر تک… ان میں سب سے بڑا دن دس ذی الحجہ کا
ہے… ارشاد فرمایا:
ان
اعظم الایام عند اللہ تبارک و تعالیٰ یوم النحر(ابو داؤد)
اللہ
تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑا دن قربانی والا دن ہے… یعنی دس ذی الحجہ کا
دن… ان تمام چودہ دنوں کے اعمال میں… سب سے افضل عمل’’حج بیت اللہ
‘‘ ہے… اسلام کا عاشقانہ فریضہ… حجاج کرام کو مبارک ہو… پھر بڑا
عمل’’قربانی‘‘ ہے… جن کو اللہ تعالیٰ نے استطاعت عطاء
فرمائی… بہت عمدہ، اعلیٰ اور اچھی قربانی کریں… قربانی کے
پیسے … کسی بھی بڑے سے بڑے فلاحی کام میں لگادیں… کچھ ہاتھ نہ آئے
گا… ایک واجب چھوٹے گا… امت میں رخنہ پڑے گا… ملت ابراہیمی سے دوری
اور محرومی ہو گی… عقل کو دین پر غالب کرنے کا گناہ ملے گا… سنت متواترہ
کی نافرمانی ہو گی…اورایک بُری رسم کا اجراء ہو گا… اللہ تعالیٰ
توفیق عطاء فرمائے… پورا سال غریبوں کو کھانا کھلائیں… ثواب ہی
ثواب… برکت ہی برکت… فقیروں کی روزآنہ مدد کریں… دن کو بھی رات کو
بھی… ہر طرح کے فلاحی کام کریں… انسانوں کے لئے بھی جانوروں کے لئے
بھی… بلکہ ہر ذی روح کے لئے… اسلام ترغیب دیتا ہے… اسلام کا مزاج
ہی فلاحی ہے…مگر قربانی کے دن صرف قربانی… مزید استطاعت ہو تو الگ مال سے
غریبوں اور فقیروں کی خدمت کریں…کوئی نہیں روکتا… مگر قربانی کے پیسے اِدھر
اُدھر لگا کر بد نصیبی کو آواز نہ دیں… آج کل کے دانشور، دانش سے محروم
ہیں… غریبوں اور فقیروں کے نام پر لوگوں کو ’’قربانی‘‘ سے کاٹنے
والے… ایسے صاحب کردار… نہیں کہ ان کی باتوں پر دھیان دیا جائے… یہ
خود مال اور پیسے کے پجاری اور بڑی بڑی حرام جائیدادوں کے مالک ہیں… وہ صرف
مسلمانوں سے ایک’’ نعمت‘‘ چھیننا چاہتے ہیں… قربانی کی نعمت… بہت رغبت
اور دل کی خوشی سے قربانی کریں… گھر کے سامان میں سے کچھ بیچنا پڑے تو کوئی
حرج نہیں… سعادت ہے… قربانی تو ہوتی ہی وہی ہے… جس میں
کچھ’’قربان‘‘ ہو…
یہ
ہوئے دو عمل… تیسرا عمل تکبیرات اور روزے ہیں… اور چوتھا عمل… ان
دنوں زیادہ سے زیادہ نیک اعمال… اور ذکر و تہلیل… باقی شکر ہے کہ… مسلمان’’عید‘‘
کی نماز کا اہتمام کرتے ہیں… اللہ کرے اور زیادہ کرتے
رہیں… اور عید کی طرح روزآنہ کی پانچ فرض نمازوں کا بھی اہتمام کرنے والے بن
جائیں…
اللہ
اکبر، اللہ اکبر لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر
اللہ اکبر وﷲ الحمد…
رنگ
لاتی قربانیاں
حضرت
ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی قربانی پیش کی… وہ قربانی
رنگ لائی اور انسانوں کو… اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ایک عمل نصیب
ہوا… جس کسی کے دل میں’’قربانی‘‘ کے بارے کوئی خلش ہو… وہ رسالہ’’تحفہ
ذی الحجہ‘‘ میں ’’قربانی‘‘ کے بارے میں چالیس احادیث پڑھ لے… سب سے افضل
قربانی تو اپنی جان کی ہے… اور پھر کسی جانور کی… کوئی قربانی ضائع نہیں
جاتی… دنیا کا نقشہ اپنے سامنے رکھیں… پچھلے سال کی عید اور اس سال کی
عید میں کتنا فرق ہے… مصر میں دیندار مسلمان… پچھلی عید پر معتوب تھے
اور دبے دبے… چالیس سال کا ظلم، پابندیاں اور نگرانیاں انہوں نے
جھیلیں… اس سال وہاں حالات یکسر بدلتے دکھائی دے رہے ہیں… وہ جو چھپ چھپ
کر جیتے تھے… آج کُھل کُھل کر دین کی بات کرتے ہیں… اور وہ جو فرعون
بنے دندناتے تھے… اب جیلوں میں سسکتے اور گلیوں میں چھپتے ہیں… سبحان
اللہ ، اللہ اکبر… یہی حال تیونس کا ہے… ایک مذہبی
رہنما کو پورے چھبیس سال بعد ملک میں داخل ہوتے دیکھا تو دل میں امیدوں کے چراغ
اور زیادہ روشن ہو گئے… مراکش والوں نے خود ہی سخت قوانین نرم کر
دیئے… اوریمن میں بھی حالات تیزی سے بدلتے ہیں… لیبیا میں عجیب ظلم
تھا… اب وہاں جہادی دندناتے پھرتے ہیں… ملک شام کی آزمائش تاحال جاری
ہے… قرب قیامت کے حالات کے مطابق مجاہدین کا اُدھر رخ ہے… فی الحال ان
کی یہ ’’عید‘‘ قربانیوں سے رنگین ہے… ان پر زیادہ ظلم ایرانی غنڈے… اور
پاسداران انقلاب کر رہے ہیں… اگر داستان کُھل کر سناؤں تو آپ کا کلیجہ منہ
کو آئے… صرف بیس ماہ میں اٹھائیس ہزار سنی مسلمانوں کو… بے دردی سے ذبح
کر دیا گیا… مگر ظلم کا یہ کالا دور کب تک؟… دل دعاء مانگتا ہے کہ اگلی
عید شامی بھائیوں کو… خوشی اور آزادی کی نصیب ہو… پوری دنیا’’قربانی‘‘
کے انوارات اور اثرات سے جگمگا رہی ہے… کبھی پاکستان کی قسمت بھی اللہ
کرے جاگے گی… اور باقی رہے محاذ جنگ… فدائیوں کی مبارک قربان
گاہیں… فلسطین، کشمیر، افغانستان… عراق… وہاں کے مجاہدین
کوسلام… ان شاء اللہ قیمتی قربانی… ضرور رنگ دکھائے گی
بلکہ… سچ کہتا ہوں… ان شاء
اللہ رنگ جمائے گی…
اللہ
اکبر، اللہ اکبر لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر
اللہ اکبر وﷲ الحمد…
خوشی
کا مطلب
عید
کے دن نئے کپڑے نہ ضروری ہیں… نہ مسنون اور نہ کوئی ثواب والا
کام… مؤمنات بہنوں سے خاص طور پر گذارش ہے … اس عمل کو اتنا ضروری
قرار نہ دیں کہ گناہ اور نا شکری کے کالے دروازے کُھل جائیں… موریطانیہ میں
بیوی نے بچوں کے لئے عید کے کپڑوں پر ضد کی… رونا دھونااور ناشکری… بے
وقوف خاوند نے بچوں کو قتل کر ڈالا… استغفر اللہ ، استغفر
اللہ … اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے صاحب استطاعت لوگوں کو بھی چاہئے
کہ… نئے کپڑوں کا التزام چھوڑ دیں… عید الفطر پر نئے کپڑوں کے التزام
سے… ہزاروں گناہوں نے جنم لے لیا ہے… درزیوں کی دکانیں سینماؤں کا منظر
پیش کرتی… اور رمضان کی راتوں کو اجاڑتی ہیں… مالدار لوگ اگر نئے کپڑے
نہ پہنیں… بس صاف ستھرے اچھے لباس سے سنت پوری کر لیں تو غریبوں کو
بھی… آہیں اور شکوے بھرنے کا موقع نہیں ملے گا… کئی لوگوں کے پاس توبہت
پیسہ ہوتا ہے وہ چاہیں تو روز نیا جوڑا پہن پھینکیں… عید کے دن کی خوشی
مسلمانوں کے لئے یہ ہے کہ… اللہ تعالیٰ راضی ہو جائیں… اور
بس… حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:… ہم عید کے دن کا آغاز
اپنی نظروں کی حفاظت سے کرتے ہیں… یعنی پہلا کام یہ کہ… آج خوشی کا بڑا
اور مبارک دن ہے… ہم اس دن کوئی گناہ اور نافرمانی نہیں کریں گے… ایک
اللہ والے کا فرمان ہے… مؤمن کی خوشی اُس کے رب کے ساتھ جڑی
ہوئی ہے… اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہی… اس کی خوشی اور
عیاشی ہوتی ہے… وہ مسلمان جن کے پاس قربانی کی استطاعت نہیں… وہ بھی خوش
رہیں… اُن کی غربت خود ایک ’’تقرب الی اللہ ‘‘ والا عمل ہے… وہ
جانور ذبح نہیں کر سکتے… مگر تکبیر سے انہیں کون روک سکتا ہے… تہلیل اور
تسبیح سے کونسی چیز مانع ہے… وہ ذکر اللہ اور اعمال صالحہ کی
کثرت کر کے… مالداروں سے بھی آگے نکل جائیں…
آخری
گذارش!!! الرحمت ٹرسٹ نے… اس سال بھی… آپ کی قربانی کو اور زیادہ قیمتی
اور مفید بنانے کا انتظام کیا ہے… اس ایمانی ترتیب سے فائدہ
اٹھائیں… اللہ تعالیٰ اس عید پر… مجھے، آپ سب… اور
پوری امت مسلمہ کو… ایمانی، روحانی، قلبی…… اور حقیقی خوشیاں… اپنی
رضا، محبت اور رحمت کی صورت میں نصیب فرمائے…
اللہ
اکبر، اللہ اکبر لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر
اللہ اکبر وﷲ الحمد
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ کا بے حد’’شکر‘‘ کہ اس نے اپنے بندوں کو ’’دعاء‘‘ کی نعمت عطا
فرمائی… مسلمان کا ہر مسئلہ ’’دعاء‘‘ سے حل ہو جاتا ہے … مسئلہ
دنیا کا ہو یا آخرت کا… بس شرط یہ ہے کہ ’’دعاء‘‘ عاجزی اور توجہ کے ساتھ
ہو …مسلسل ہو اور دل کے یقین کے ساتھ ہو… ہمارے ’’برمی بھائیوں‘‘ کے
ساتھ کیا بیت رہی ہے؟ … عیدالاضحیٰ کی خوشی کے دن انہوں نے موت، غم، خوف
اور دہشت کے سائے میں گزارے … بدھ مت کے پجاریوں نے اُن پر وہ مظالم
ڈھائے کہ انسانیت کی تاریخ کو شرمندہ کردیا… افغانستان میں ’’بدھا‘‘ کے بے
جان مجسّمے گرے تو ان ’’ظالموں‘‘ کو بہت دکھ ہوا تھا… مگر اب قیمتی جانوں کے
ضیاع پر ان کی ’’امن پسندی‘‘ ان کی ناپاک دھوتیوں میں گم ہوگئی ہے …’’بدھا‘‘
کے ماننے والوں کا دعویٰ تھا کہ وہ …امن کے داعی ہیں… نہ گوشت
کھاتے ہیں نہ مچھلی … پرندوں کو خرید کر آزاد کرتے ہیں… اور گھاس
سبزی کھا کر جیتے ہیں… مگر برما میں ان کا اصلی چہرہ دنیا کے سامنے آگیا ہے۔
کاش آٹھ، دس فدائی … اور دو تین بارود کے ٹرک … دل روتا ہے
اور جلتا ہے۔ کس طرح سے میرے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمّتی … اور
ہمارے ’’کلمہ طیبہ‘‘ کے رشتہ دار بھائی اور بہنیں … مارے اور جلائے جارہے
ہیں … عید کے دن ساری دنیا میں ’’قربانی‘‘ کی خوشی تھی جبکہ… برما
کے مسلمان … لاشیں اٹھا رہے تھے، خوف سے ہجرت کررہے تھے … اور
ٹھنڈے دریا کی بے رحم موجوں پر تھے… کاش ان دنوں بنگلہ دیش میں کوئی اچھی
حکومت ہوتی … کاش کسی اسلامی ملک کی فوج یا خفیہ ادارہ … کلمہ
طیبہ کی لاج رکھتا …برمی حکومت تو دو جھٹکوں کی مار ہے … مسلمانو!
دعاء کے لئے ہاتھ اٹھائو… جھولی اور دامن پھیلائو…برما کے مسئلے کا حل صرف دو
نکاتی ہے …
(۱) رجوع الی اللہ
بصورت استغفار (۲ ) دہشت
ناک قسم کی عسکریت … یعنی جہاد فی سبیل اللہ
سورۃ
بقرہ میں بنی اسرائیل کا واقعہ مذکور ہے … جالوت کے اندوہناک
مظالم … عورتوں، بچوں کا قتل عام اور جلائو گھیرائو … بالکل
برما جیسے حالات …مظلوم قوم نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع
کیا… ایک امیر کا انتخاب ہوا … جہاد کا اعلان ہوا … بہت
مختصر سی لڑائی میں اتنا طاقتور دشمن مارا گیا… آزادی بھی
ملی … اور بھی بہت کچھ مل گیا…
اے
مسلمانو!… اللہ تعالیٰ کے لئے مرنے پر تیار ہو جائو… زندگی
مل جاتی ہے زندگی … وہ لوگ جو مرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے زندہ رہ کر
بھی … زندگی کو ترستے ہیں … اور جو مرنے پر اتر
آئیں… زندگی اُن کے قدموں میں گرتی ہے … بھاگ بھاگ کر… گُھٹ
گُھٹ کر اور بچ بچ کرمرنے کی بجائے … سینہ تان کر مرنے کا اعلان کردیا
جائے … برما کا موذی صدر جو آج بات نہیں سنتا … اگر چند افراد
نے قربانی دے دی تو … خود مذاکرات کے لئے پیچھے دوڑے گا… آج پوری
امت مسلمہ کو … برما اور شام کے مسلمانوں کے لئے ’’دعاء‘‘ کو اپنا مستقل
معمول بنانا چاہیے … آخر ہم سب ایک خاندان سے ہیں … اور ہم سب
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام
ہیں … ہمارا دین، ہمارا قبلہ اور ہمارا جینا مرنا ایک
ہے … دور سے بیٹھ کر مشورے دینا آسان کام ہے … مگر جن پر
گزرتی ہے وہی جانتے ہیں کہ … اصل حالات کیا ہیں … برما کے
مسلمانوں کو جس طرح کے تعاون کی ضرورت ہو وہ ’’تعاون‘‘ انہیں ہر مسلمان پیش
کرے… نہایت عزت، تکریم اور اعزاز کے ساتھ … افسوس کہ آج ہجرت جیسے
اعزاز کو (نعوذ باللہ ) حقارت کا عنوان سمجھا جاتا
ہے … استغفر اللہ ، استغفر اللہ … ارے ہجرت کا لفظ تو اسلام
میں ولایت کے لفظ سے بھی بہت اونچا ہے … کیا کوئی کسی ’’ولی‘‘ کو حقیر
سمجھ سکتا ہے؟ … تو پھر ’’مہاجر‘‘ کو کیوں چھوٹا سمجھا جاتا
ہے … مہاجر ہونا تو عظیم منصب ، عظیم سعادت اور عظیم عبادت
ہے … برما سے ہجرت کرکے آنے والے مسلمانوں کا… ساری دنیا کے مسلمان
عزت، تکریم اور اعزاز کے ساتھ استقبال کریں … برما کے مجاہد صفت
مسلمان … اگر اللہ تعالیٰ پر توکل کرکے جہاد فی سبیل
اللہ شروع کریں گے تو … ان شاء اللہ ہمیں اپنے ساتھ پائیں گے۔ دنیا الحمد ﷲ
تیزی سے اچھے حالات کی طرف بڑھ رہی ہے … مگر حالات کی اس تیز رفتار کی
وجہ سے ہمیں مایوسی اور پریشانی کے چکّر آرہے ہیں…’’محترم سینڈی طوفان صاحب‘‘ نے
آئندہ کے حالات کا اشارہ دے دیا ہے… سُبْحَانَ مَنْ تَعَزَّزَ بِالْقُدْرَۃِ
وَقَھَرَ الْعِبَادَ بِالْمَوْت…
کیا
دہشت تھی سینڈی کی … خبریں سن سن کر مزہ آرہا تھا … نام نہاد
سپر پاور کے ہوش اُڑے ہوئے تھے … اور ٹیری جونز کا نیویارک کسی نئی بیوہ
کے مکان کی طرح اُجڑا پڑا تھا… 20 ہزار جہاز، جنگی طیارے بے بس تھے… 6
ہزار ہیلی کاپٹر کچھ نہیں کر پا رہے تھے … اور سینڈی جی پوری شان کے
ساتھ امریکہ کے ساحلوں کی طرف بڑھ رہے تھے … کئی سالوں سے شور ہے کہ
امریکی اور یورپی سائنسدانوں نے … موسمی ٹیکنالوجی حاصل کرلی
ہے… شعاعوں کے ذریعہ ہوا اور پانی کا رخ موڑنا … سمندر کے اندر
شگاف ڈال کر سیلاب برپا کرنا … اور آنے والے سیلاب کو کسی اور کی طرف
بہا دینا… مگر سینڈی جی نے سب کچھ فیل کردیا … سنا ہے کہ ہوا اور
بادلوں کو ماپنے والی تمام مشینوں کی سوئیاں دس کے آخری ہندسے سے ٹکرا
رہی تھیں … اور سائنسدانوں کے دماغ مائوف ہوچکے تھے… پھر جو طوفانی
ہوائیں اٹھیں تو قوم عاد کے زمانے کو یاد دلا دیا … بڑے بڑے درخت جڑوں
سے اُکھڑ کر اُڑنے لگے اور زمین ہی کیا فضاء کے راستے بھی بجلیوں سے بھر
گئے … سترہ ہزار سے زائد پروازیں منسوخ ہوئیں … اربوں ڈالرکا
نقصان ہوا …اور لاکھوں لوگ بے گھر … طوفان بالکل اندھا
تھا … منہ زور اور ناقابل فہم … ایک مشہور امریکی سائنسدان
کہہ رہے تھے کہ … اس طوفان نے ہمارے پچھلے تمام اندازے غلط ثابت
کردیئے … اور اب ہمیں اگلے کئی سال تک اس طوفان کو سمجھنے کی کوشش کرنا
ہوگی … ارے ظالمو! جاہلو! تم کیا سمجھو گے… میرے رب کی تو ہر دن
ایک نئی شان ہے …
کُلَّ
یَوْمٍ ھُوَ فِیْ شَأن (الرحمن)
عرش
کے اوپر سے نئے نئے فیصلے آتے ہیں … اور عجیب مربوط نظام …یہ فیصلے
ہمارے لئے نئے ہوتے ہیں… سائنس نے بعض غلط جگہوں پر قدم رکھ دیا
ہے … اور اب یہ قدم ان سائنسی ملکوں کو لے ڈوبے گا… کائنات کے
سردار حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مبارک اور
نام مبارک سے جنگ چھیڑ کر … ان بدنصیبوں نے کائنات کی ہر چیز کو اپنا
دشمن بنا لیا ہے … سینڈی تو بس ایک اشارہ تھا بلکہ ایک
استعارہ … وہ ان کی ناکامیوں کا صرف اعلان تھا … اور ابتدائی
امتحان… ابھی آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا… قرآن پاک میں کفر کی جس حالت
کو…’’فتنہ‘‘ قرار دیا گیا ہے… اس کے مطابق اس وقت ’’فتنہ‘‘ کے
بنیادی مرکز تین ہیں:
(۱ ) اسرائیل…
(۲ ) امریکہ…
(۳) انڈیا…
باقی
سب ان کے تابع… یا فی الحال مصلحت کے تحت مقام فتنہ پر نہیں
آئے … یہی تین طاقتیں… اس وقت ’’انسانیت‘‘ کی اصل دشمن
ہیں… انسانیت کو اپنی فلاح کے لئے …لاالہ ال اللہ کی ضرورت
ہے… اور انسانیت کو اپنی نجات کے لئے … محمد رسول اللہ
کی ضرورت ہے… یہی تین طاقتیں … اس مبارک
کلمے … یعنی کامیابی کے راز تک پوری انسانیت کو نہیں پہنچنے دے
رہیں… آپ آج کل اخبارات کے کالم پڑھ لیں … مسلمان کہلانے والے کالم
نویس کفر اور کافروں کی تعریف کے قصیدے پڑھ رہے ہیں …کیوں؟… صرف امریکہ
وغیرہ کی ظاہری شوکت اور ترقی کی وجہ سے … بس یہی وہ حالت ہے جو
’’فتنہ‘‘ کہلاتی ہے… اب آپ بتائیے کہ سینڈی طوفان سے تباہ حال ’’فتنے‘‘
کو … ایک دینی جماعت کی طرف سے امداد دینے کی پیشکش
جائز ہے؟… افسوس، صد افسوس … نہ عراق کے چھ لاکھ مسلمان
یاد آئے جن کو … امریکہ نے کاٹ اور جلا ڈالا… اور نہ افغانستان کے
لاکھوں مظلوم مسلمان … بس خود کو روشن خیال دکھانے کے لئے… امداد
کا اعلان کر ڈالا تاکہ … اس فانی دنیا میں کچھ آسانیاں ہو
جائیں … امریکہ نے تو حقارت کے ساتھ اس پیشکش کو ٹھکرا
دیا … مگر پیشکش کرنے والوں نے جو کچھ کھو دیا اسے واپس حاصل کرنے میں
وقت لگے گا… اللہ تعالیٰ ہم سب کے ایمان کی حفاظت
فرمائے … بھائیو اور بہنو!… یاد رہے اس ہفتے کا سبق… برما اور
شام کے مظلوم مسلمانوں کے لئے … خصوصی دعا کا اہتمام …
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ میرے اور آپ سب کے لئے ’’دعا‘‘ کا دروازہ کھول دے … بندے
کا کام ہے اپنے مالک سے مانگنا… اور مانگتے رہنا … اور مالک بھی
ایسا جو ہر چیز پر قادر … اور جو خود مانگنے کا حکم فرماتا
ہے … اور مانگنے پر خوش ہوتا ہے … اور مانگنے والوں کو نوازتا
ہے…
وَقَالَ
رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ…
آپ
نے سن لیا ہوگا کہ … دشمنان اسلام میں سے ایک بڑا اور نمایاں
موذی… بال ٹھاکرے موت کے شکنجے میں تڑپ رہا ہے … آج بمبئی،
مہاراشٹر اور پورے ہندوستان کے مسلمانوں کو انتظار تھا کہ … بال ٹھاکرے
کی خوشخبری آجائے گی … خس کم جہاں پاک … یہ تو خس ہی نہیں
خسیس ہے … سینکڑوں مسلمانوں کا قاتل… مگر ایسے لوگوں کی روح آسانی
سے کہاں نکلتی ہے … تڑپاتی ہے تڑپاتی … اللہ
تعالیٰ کی پناہ … عرب دنیا کے ایک مشہور ڈاکٹر جو ٹی وی کے
اینکرپرسن بھی ہیں … بُری صحبت اور غلط مطالعے سے مغلوب ہوکر ’’ملحد‘‘
ہوگئے تھے… سیکولر ، بددین … بس کفر کے قریب قریب … آج
پاکستان میں بھی ریفرنڈم ہو رہا ہے کہ … سیکولر پاکستان چاہئے یا
مذہبی؟… اللہ تعالیٰ کی پناہ … اس ملک پر فتنے کالی
رات کے اندھیروں کی طرح ٹوٹ پڑے ہیں … کوئی کلمہ گو مسلمان… اس
بدبودار ریفرنڈم میں حصہ نہ لے … یہ سب سی آئی اے اور را کاکھیل
ہے … دشمنان اسلام کی بے چینیاں عروج پر ہیں اور وہ پریشانی کی دلدل میں
ہاتھ پائوں مار رہے ہیں … مگر اسلام پھیلتا جارہا ہے، پھیلتا جارہا
ہے … آپ کو معلوم ہے ’’ویٹی کن‘‘ میں کیا ہوا؟ … عیسائیوں کے
سالانہ مرکزی جلسے میں ’’کارڈنیل‘‘ آپس میں لڑ پڑے… گتھم گتھا، مکے
گھونسے…پوپ نے بڑی مشکل سے اجلاس سنبھالا… ’’کارڈنیل‘‘ عیسائیوں کے سب سے بڑے
درجے کے پادریوں کو کہتے ہیں… پادری اور عیسائیوں کے
فادر … کارڈنیل بننے تک ’’بڈھے‘‘ ہوجاتے ہیں … یہی ’’کارڈنیل
‘‘ نئے پوپ کا انتخاب کرتے ہیں … اور ساری دنیا میں عیسائیت کی تبلیغ کا
کام سنبھالتے ہیں … یہ ہر سال اپنا ایک سالانہ مرکزی اجلاس کرتے ہیں، جس
میں اگلے سال کی مکمل حکمت عملی طے کی جاتی ہے… اس سال اجلاس میں کسی نے وہ
فلم چلا دی، جس میں دکھایا گیا ہے کہ یورپ میں اسلام کس تیزی سے پھیل رہا
ہے … سنا ہے یہ ’’ڈاکومنٹری‘‘ یعنی دستاویزی فلم ’’یوٹیوب‘‘ پر موجود
ہے… یقیناً آپ میں سے بہت سوں نے دیکھ رکھی ہوگی … ہم نے نہیں
دیکھی… دنیا کے وہ ممالک جن میں اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے ان میں امریکہ،
فرانس اور سری لنکا نمایاں ہیں … پادری یہ فلم دیکھ کر بھڑک اٹھے… کسی
نے سوال اٹھایا کہ آخر ہمارا دل جلانے کو یہ فلم کیوں دکھائی گئی؟ … بات
تو تو، میں میں سے بڑھی … اور میدان ’’جوتا برسائی‘‘ کا محاذ بن
گیا… بس اسی غم اور بے چینی میں … دشمنان اسلام اپنی شکست کو روکنے
کے لئے طرح طرح کے حربے آزما رہے ہیں … پاکستان کو سیکولر قرار دینے کا
ریفرنڈم بھی اسی کا حصہ ہے … اور یہ لوگ لاکھ ریفرنڈم کرلیں زمینی حقائق
کو نہیں بدل سکتے … شاندار مساجد،گرجدار اذانیں، خوشبودار مدارس، رعب
دار محاذِ جہاد… اور قرآن عظیم الشان کے پُرنور زمزمے… جاری
ہیں … اور شان رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی پُر
بہار ہوائوں نے تو … دنیا کا انداز ہی بدل دیا ہے… ابھی ماشاء
اللہ حج بیت اللہ کا فریضہ ادا ہوا … کیا شان
تھی اور کیا گرم بازار عشق… چالیس لاکھ مسلمان … ایک لباس، ایک
آواز… اور ایک ہی رخ…
لَبَّیْک
اَللّٰھُمَّ لَبَّیْک …
وہ
عربی ڈاکٹر… بری صحبت اور غلط مطالعے کی نحوست سے ’’ایمان‘‘ کھو
بیٹھے… جو لوگ ہر وقت کافروں کی ظاہری ترقی دیکھ دیکھ کر مرعوب ہوتے رہتے
ہیں۔ ان کا انجام یہی ہوتا ہے … کوئی نہیں سوچتا کہ … حضرت
ابراہیم علیہ السلام کے مقابلے میں جو ’’نمرود‘‘ بادشاہ تھا وہ کتنا ترقی یافتہ
تھا … حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کے بت توڑ
ڈالے … آج کل کی دانش کیا فرماتی ہے ؟…قوم کی ترقی کے لئے ’’نمرود‘‘ کا
ساتھ دینا چاہئے تھا یا … بتوں کو توڑنے کا عمل … جو نعوذ باللہ دانشوروں کی نظر میں ’’تخریب کاری‘‘
کہلاتا ہے… بدنامی، بدنامی … اور بدنامی … استغفر اللہ ،
استغفر اللہ ، استغفر اللہ … فرعون بھی ترقی یافتہ تھا… دریائوں کے
رخ تک بدل دیتا تھا … اور میڈیکل سائنس میں اتنا ماہر
کہ … چار سو سال کی عمر تک کبھی بیمار نہیں پڑا … آج کی دانش
کیا فرماتی ہے؟ … اگر امریکہ اور یورپ اپنی ظاہری ترقی کی وجہ سے حق پر
ہیں تو فرعون میں کیا کمی تھی؟…
مسلمانو!
اللہ کے لئے اپنی آنکھوں کا قرآن مجید سے علاج کروا لو… قرآن پاک
دنیا کو ایک فانی کھیل تماشا قرار دیتا ہے … اور ہم نے دیکھ لیا کہ چاند
پر قدم رکھنے والا بھی آج زمین کی گہرائی میں دفن ہے… یہ کیا ترقی ہے جو پچاس
ساٹھ سال میں انسان کا ساتھ چھوڑ جاتی ہے… اصل ترقی تو وہ ہے جو کبھی بھی
انسان کا ساتھ نہ چھوڑے… اور وہ ترقی ہے ایمان…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
وہ
عربی ڈاکٹر ملحد ہوا اور ٹی وی پر اپنے ’’الحاد‘‘ کا پرچار بھی کرنے لگا… مگر
اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی غلطی اور جرم پر درگزر کا فیصلہ
تھا… یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ … کسی کو ماضی میں
ایسے عمل کی توفیق مل جاتی ہے جو آگے چل کر توبہ کا ذریعہ بن جاتا ہے… یہ
ڈاکٹر ایک ہسپتال میں پریکٹس بھی کرتا تھا… ایک بار ایک مریض نے اسے چیخ چیخ
کر بلایا… اور کہنے لگا کہ … ابھی کچھ لوگ میرے کمرے میں گھس کر
مجھے مار رہے ہیں … کوئی چہرے پر مارتا ہے اور کوئی پیٹھ
پر … وہ دیکھو وہ دروازے کے پیچھے … وہ دیکھو دائیں
طرف … وہ دیکھو پھر مارنے آرہے ہیں …
یہ
پرائیویٹ کمرہ تھا … ڈاکٹر حیرانی سے دائیں بائیں دیکھتا… کوئی بھی
نہیں تھا مگر مریض برابر چیخ رہا تھا … دردناک چیخیں … اور
ساتھ ساتھ بتا بھی رہا تھا … اور پھر اسی حالت میں جان نکل
گئی … قرآن پاک کی آیت مبارکہ … اہل کفر کو موت کے وقت فرشتے
مارتے ہیں … اس ڈاکٹر کو یاد آئی … ترقی، ترقی کی عینک آنکھوں
سے گری اور آخرت کی منازل میں ذہن اترا تو ایمان واپس آگیا …
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اب
وہ ماشاء اللہ اسلام کے بے لاگ مبلغ ہیں … اور مسلمانوں کو
ایمان اوردین کی طرف بلاتے ہیں … اور ترقی کا نام ہی نہیں لیتے کہ اس کی
حقیقت انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لی ہے… جبکہ پہلے کہتے تھے
کہ … علماء نے مسلمانوں کو جنت، جہنم ، فرشتوں اور حوروں میں الجھا رکھا
ہے اور امریکہ، یورپ چاند تک جا پہنچے ہیں… اب الحمدللہ ان کو چاند سے آگے کی دنیا نظر آگئی
ہے … اور ان کی زندگی کا رُخ سیدھی طرف ہوچکا ہے … اب معلوم
نہیں بال ٹھاکرے کی کتنے دن پٹائی ہوتی ہے … آج وہ تشویشناک حالت میں
پڑا ہے اور اس کے بے جان بتوں کو اس کی حالت کا کچھ علم نہیں
ہے … بہرحال وہ ابھی مرتا ہے یا چند دن بعد … ہندوستان کے
مسلمانوں کو … اس خوشی کے موقع پر پیشگی مبارک … ابوجہل کے
مرنے پر حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشی اور مسرت
کا اظہار فرمایا تھا تو … اس وقت سے یہ سنت ٹھہری کہ اللہ
تعالیٰ کے دشمنوں کے زمین سے ’’سجّین‘‘ کی طرف دفع ہونے پر خوشی اور مسرت
محسوس کی جائے … جیسا کہ عراق اور افغانستان کے مسلمان سی آئی اے کے
سربراہ … جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کے ذلت ناک انجام پر خوش ہورہے
ہیں… قصہ تو آپ کو معلوم ہوگا کہ … ساٹھ سالہ جنگجو بابا… ایک
شادی شدہ عورت کے شکنجے میں کئی سال سے پھنسا ہوا تھا … سی
آئی اے ساری دنیا کے لوگوں کو پھنساتی ہے… جبکہ خود اس کا سربراہ ایک یہودی
لاک میں پھنسا پڑا تھا … اب بیچارے اوبامہ کو… جسے امریکیوں نے
مزید چار سال کے لئے اپنا ’’صدر‘‘ رکھ لیا ہے… اپنی مایہ ناز خفیہ ایجنسی کے
لئے نیا سربراہ ڈھونڈنا ہے … اُدھر سمندری اور موسمی طوفان ہیں کہ ایک
جاتا ہے اور دوسرا آتا ہے … مسلمانوں کو ’’دعاء‘‘ کی طرف خاص توجہ دینی
چاہئے …اور کبھی بھی مایوس ہوکر ’’دعاء‘‘ سے محروم نہیں ہونا
چاہئے … قرآن پاک کے تمام وعدے سچے ثابت ہو رہے ہیں … اور
اسلام الحمدللہ ہر طرف ’’جیت‘‘ رہا ہے … آخر میں دعاء
کی قوت کا ایک واقعہ …روض الافکار میں مرقوم ہے … حضرت فضیل بن
فضالہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں … مجھ پر قرضہ چڑھ گیا … قرض
بڑی خوفناک مصیبت ہے … اللہ تعالیٰ ہم سب کی اس آفت سے
حفاظت فرمائے… احادیث مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کے نام
مبارک …’’ذوالجلال و الاکرام‘‘ کی بہت فضیلت آئی ہے … کبھی موقع
ملا تو ان شاء اللہ رنگ و نور میں عرض کی جائے گی …حضرت
فضیل رحمۃ اللہ علیہ کے پاس قرض اتارنے کی کوئی سبیل نہیں تھی … انہوں
نے اسی اسم مبارک ’’ذوالجلال والاکرام‘‘ کو لازم پکڑ لیا … وہ نہایت آہ
و التجا کے ساتھ دعاء میں یہ الفاظ کہتے تھے…
یَا
ذَاالْجَلالِ وَالْاِکْرَامِ (تین بار) بِحُرْمَۃِ وَجْھِکَ الَقَدِیْمِ اِقْضِ
عَنِّیْ دَیْنِیْ
اے
جلال و اکرام والے رب … اپنے وجہ قدیم کی برکت و حرمت سے میرا قرضہ اتار
دیجئے… چند دن گزرے تھے کہ خواب میں ایک شخص نے آکر کہا … اے فضیل!
اتنے بڑے نام کو لیکر اتنے چھوٹے سے مسئلے پر اتنی آہ و زاری … جائو
فلاں جگہ اتنا مال پڑا ہے وہ لے لو اور قرضہ اتار دو … صبح جاگ کر وہاں
پہنچے تو مال موجود تھا فوراً قرضہ اتارا اور روح کو آزاد کرالیا … ہر
مسلمان کو یہی چاہئے کہ جیسے ہی اس کے پاس مال آئے تو پہلے اپنا قرضہ
اتارے … ایک دن کی تاخیر بھی نہ کرے … ورنہ اپنی جان اور روح
پر ظلم کرنے والا ہوگا …
حضرت
فضیل رحمۃ اللہ علیہ نے یہ قصہ اپنے دوستوں کو سنایا تو … اُن کے ایک
صاحب معرفت دوست نے اسی اسم مبارک سے ایک جامع دعاء بنا کر … اپنا معمول
بنالی …
یَا
ذَاالْجَلالِ وَالْاِکْرَامِ (تین بار) بِحُرْمَۃِ وَجْھِکَ الَقَدِیْمِ
اَعْطِنِیْ صِحَّۃً فِیْ تَقْویٰ وَ طُوْلَ عُمُرٍ فِیْ حُسْنِ عَمَلٍ وَسِعَۃَ
رِزْقٍ وَلَا تُعَذِّبْنِیْ عَلَیْہ
یعنی
اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک کا واسطہ دیکر تین چیزیں مانگیں…
(۱) صحت … تقویٰ کے
ساتھ
(۲ ) لمبی عمر … اچھے
اعمال کے ساتھ
(۳) وسعت رزق … مگر ایسا رزق جس پر قیامت
کے دن سوال اور عذاب نہ ہو۔
لوگوں
نے دیکھا کہ … ان بزرگوں کی یہ تمام دعائیں قبول ہوئیں …قرضہ کے
بارے میں تو… الحمد ﷲ ہم نے بھی اس دعاء کا سو فیصد اثر دیکھا ہے …
والحمد
للہ رب العالمین … ماشاء اللہ لاقوۃ الا باللہ
بہرحال… مقصد
یہ ہے کہ شیطان … مسلمانوں کو دعاء سے روکتا ہے … جبکہ
اللہ تعالیٰ بار بار دعاء مانگنے … اور اسماء الحسنیٰ کے
ذریعے دعاء مانگنے کی تاکید فرماتے ہیں …دعاء کو حاصل کریں … اور
مجاہدین، امت مسلمہ اور مظلوم مسلمانوں کو بھی اپنی دعائوں میں یاد رکھیں…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ کا تحفہ… نیا سال … اللہ تعالیٰ توفیق
عطاء فرمائے کہ… ہم اپنے وقت کی زیادہ سے زیادہ قدر کریں… اور ہر لمحہ
نیکی کمانے، آخرت بنانے… اور اپنے ’’ترازو‘‘ کوبھاری کرنے کی فکر کریں…پچھلا
سال کیسا گزرا؟… کیا کھویا، کیا پایا… ہمارا ہر جانے والا دن کہتا
ہے… میں چلا گیا اب کبھی بھی لوٹ کر نہ آؤں گا…۱۴۳۳ھ کا پورا سال
گزر گیا… ضرورت ہے کہ استغفار کے ذریعہ اپنے ’’نامہ اعمال‘‘ کی صفائی کرتے
رہیں… سوچیں پچھلے سال کیا کیا گناہ کئے؟… کتنے فرائض چھوٹے؟… رمضان
المبارک ٹھیک گذارا یا غفلت میں جھونک دیا؟…روحانی عید کتنے دن ملی؟… آپ
سوچتے ہوں گے کہ روحانی عید کونسی؟… کسی نے خوب فرمایا… ایک مسلمان کے
لئے تین دن عید کی طرح ہیں… (۱) پہلا
وہ دن جس میں وہ اپنے تمام فرائض ادا کرلے… اور گناہوں سے محفوظ رہے…(۲) دوسرا
وہ دن جس میںوہ سچی توبہ کر کے اپنے کسی موذی گناہ سے مستقل جان چھڑالے… (۳) تیسرا
وہ دن جس میں وہ حُسن خاتمہ اورعمل مقبول کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے
ملے… یعنی موت کا دن… لقاء محبوب کا دن… آپ نے ہمارے سید سلیس
صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا؟… ماشاء اللہ رمضان المبارک میں
روزہ افطار کر کے… جہاد کا کام کرتے کرتے چلے گئے… اور ہمارے نوجوان
بھائی… مولانا محمد یوسف طاہر رحمۃ اللہ علیہ … القلم چلاتے چلاتے
خود ہی چلے گئے… القلم میں کیا ہوتا ہے؟… تفسیر، سنت، حدیث، دین کامل کی
دعوت… جہاد کا پیغام… اور کامیاب لوگوں کے تذکرے… وہ خود بھی حافظ
تھے اور اُن کے والد گرامی بھی حافظ… دورہ حدیث خیر المدارس ملتان سے
کیا… جماعت کے نظریاتی مجاہد، بہترین داعی… اور انتھک مبلغ
تھے… جمعہ کے دن اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شرف ملا… کسی
بدنصیب مردود نے گولی ماری… پچھلے سال اور بھی کئی ساتھی آگے اور اوپر چلے
گئے… سب یاد آتے ہیں اور دعاؤں میں مہکتے ہیں … وہ
عبدالماجد… وہ محمد امین… وہ یاسر… وہ شہزاد اور صخیم… اُن سے
پہلے… مولانا فقیر عطاء اللہ … عبدالرحمن… توفیق اور
احسان ش… کچھ ساتھی کشمیر اور جیلوں کی طرف … اورکچھ کراچی کی
شہادت گاہ میں… ظالموں نے دینی مدارس کے طلبہ کو بھی نہیں چھوڑا… جامعہ
احسن العلوم کے کئی طلبہ جام شہادت نوش فرما گئے… قاتلوں کا کوئی سراغ نہیں … ہمارے
ایک قریبی ساتھی کے گھر کراچی سے دو جوان جنازے ایک ساتھ اٹھے… اللہ
تعالیٰ ان سب شہداء کرام کے درجات بلند فرمائے… ویسے آج تو کئی
مسلمان… بال ٹھاکرے کی خوشی منا رہے ہیں… کئی جگہوں سے مبارک باد کا
پیغام آچکا ہے… اللہ تعالیٰ اس سال مسلمانوں کو ایسی بہت سی
خوشیاں عطاء فرمائے… فی الحال’’غزہ‘‘ کے واقعات کی وجہ سے عالم اسلام غم میں
ڈوبا ہوا ہے… فلسطین کے مسلمان ایک پنجرے میں بند ہیں اور اُن پر مسلسل
بمباری جاری ہے… حماس کے عسکری قائد… شیخ احمد جابری پاور اُن کے نائب
کو اسرائیل نے شہید کر دیا… حماس والے کب خاموش بیٹھتے تھے…یہ دنیا کی واحد
اسلامی تنظیم ہے جو جہاد بھی کرتی ہے اور دینی سیاست بھی… دشمنوں سے لڑتی بھی
ہے اور اپنوں کی خدمت میں بھی پیش پیش ہے… لبنان کی ’’حزب اللہ ‘‘ نے
بھی یہی نظام قائم کیا ہے مگر وہ یہودیوں سے زیادہ مسلمانوں کو مارناپسندکرتی
ہے… اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اندرونی طور پر امریکہ سے اس کے گہرے روابط
ہیں… ابھی حال ہی میں ایک محقق نے امریکہ، ایران کے باہمی تعلقات پر سے بھی
کئی پردے چاک کئے ہیں…
صدام
حسین کے پاس کوئی جوہری کیمیاوی ہتھیار نہیں تھا… مگر ایک جھوٹا بہانہ بنا کر
عراق کو روند ڈالا گیا… جبکہ ایران خود اپنے ہتھیاروں کا اعلان کرتا
ہے… مگر ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے… یہی دیکھ رہے ہیں کہ یہ دونوں ملک
ایک دوسرے کو صرف دھمکیاں ہی دیتے رہتے ہیں… اور بس…ایک ہی وقت میں کامیابی
کے ساتھ… جہاد اور دینی سیاست کو اکٹھا لے کر چلنا مشکل اور محنت طلب کام
ہے… مگر جن پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہو جائے اُن کے لئے کوئی
مشکل … مشکل نہیں رہتی… شیخ احمد یسین شہید رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی
نیت سچی کی … اپنے آپ کو ایک عظیم مقصد کے لئے وقف کیا… اور
اللہ تعالیٰ پرتوکل اور اعتماد کیا… اگر حماس وجود میں نہ آتی
تو… وہی ہوتا جو دنیا میں اکثر ہو رہا ہے کہ… مجاہد قربانیاں دیتے ہیں
اور جب ان کی قربانیوں سے زمین پر جگہ نصیب ہوتی ہے تو… بددین، سیکولر قسم کے
سیاستدان حکومت بناتے ہیں… فلسطین میں’’الفتح‘‘ موجود تھی… وہ تقریباً
بددین یا بے دین لوگوں پر مشتمل ہے…اُن کاموجودہ سربراہ محمود عباس تو مسلمانوں کے
لئے کافی خطرناک… ایک مذہبی گروہ سے تعلق رکھتا ہے… یاسر عرفات اس سے کچھ
بہتر تھے… اس لئے قتل کر دیئے گئے… اب جو تھوڑا سا فلسطین مسلمانوں کے
پاس ہے اس کے بھی دو حصے ہو گئے… غزہ کی طرف حماس کا قبضہ ہے اور دوسری
طرف… محمود عباس اورالفتح کا… اسرائیل، حماس کو اپنے لئے ’’خطرۂ جان‘‘
سمجھتا ہے… حماس نے اپنے دونوں کاموں کو… باقاعدہ ترتیب کے ساتھ تقسیم
کر رکھا ہے… چنانچہ جیسے ہی شیخ احمد الجابری پپر حملہ ہوا تو حماسی ابابیلیں
اپنے چھوٹے چھوٹے راکٹ لیکر… حملہ آور ہو گئیں… تین یہودی پہلی قسط میں
مارے گئے… اور کئی زخمی… دعاء کریں کہ… اللہ تعالیٰ
اہل فلسطین، اہل غزہ اور حماس کی حفاظت فرمائے… اوران کی نصرت کے لئے ملائکہ
اور ہواؤں کو… نازل فرمائے… ہم عید کے تین دنوں کی بات کر رہے تھے اب
دیکھنا یہ ہے کہ… روحانی عید کے جو تین دن ہوتے ہیں… ان میں سے ایک تو
موت کے وقت نصیب ہو گا… اللہ کرے وہ واقعی خوشی اور عید کا دن
ہو…ہمیں اس دن کی خاص تیاری کرنی چاہئے … کبھی جہاد کو نکلیں تو دل سے
کہا کریں… یا اللہ ! اس عمل کا اجر اور فضل اسی لمحے عطاء
فرمائیے… جب آپ سے ملاقات نصیب ہو… مجھے اور کوئی بدلہ اس کا نہیں
چاہئے… اسی طرح جب کوئی اچھا اور بھاری صدقہ کریں تو… یہی الفاظ دل ہی
دل میں… دل کے یقین کے ساتھ کہہ لیا کریں… بھائیو! اور
بہنو!… انسان کبھی نیکی میں ہوتا ہے اور کبھی گناہ میں… کبھی دل ایسا
زندہ اور بیدار کہ عرش سے باتیں کرتا ہے اور کبھی ایسا غافل ، گندا اور
مردارکہ… غلاظتوں کو ہی سوچتا ہے… اب معلوم نہیں کہ… موت کس حالت
میں آتی ہے؟… کوئی انسان ہر وقت چوبیس گھنٹے… اچھی حالت اور کیفیت پر
نہیں رہ سکتا… اس لئے بہت التجاء، بہت اصرار… بہت عاجزی اور بہت آہ
وزاری کے ساتھ… حسن خاتمہ کی دعاء مانگنی چاہئے کہ… اللہ
پاک فضل فرمائے کہ اس وقت ملاقات کا لمحہ آئے جب دل اچھا ہو اور ایمان پر
ہو…اور ہم کسی اچھے کام میں ہوں… عید کا یہ دن… زندگی کے آخر میں بس
ایک بار ہی آتاہے مگر باقی دو دن… ایک وہ جس میں فرائض پورے اور گناہوں سے
حفاظت رہے… اور دوسرا جس میں کسی گناہ سے سچی توبہ اور خلاصی نصیب
ہو… ایسے دن پچھلے سال ہمیں کتنی بار نصیب ہوئے؟… سوچیں! یاد
کریں!… اگر نصیب ہوئے تو دل کی گہرائی سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا
کریں… اور عزم کریں کہ… ان شاء اللہ اس سال کا ہر
دن… عید جیسا گزارنا ہے… گناہوں سے حفاظت کا ایک نسخہ یہ بھی ہے
کہ… انسان اپنے کسی گناہ کو چھوٹا اور حقیر نہ سمجھے… اور دوسروںکے گناہوں
کو بالکل نہ دیکھے… جو لوگ دوسروں کے گناہ دیکھتے ہیں وہ خود بہت موذی گناہوں
میں مبتلا ہو جاتے ہیں… خصوصاً کسی مسلمان کے ننگے گناہوں کا تو کبھی کسی
مجلس میںتذکرہ نہ کریں … خواہ دشمن ہی کیوں نہ
ہوں… ننگے… یعنی جنسی گناہوں کے تذکرے اور غیبت بالکل نہ
کریں… ایسا کرنے سے اپنا خاتمہ خطرے میں پڑ جاتا ہے… ایک شخص نے چالیس
سال تک مفت دین کی خدمت کی… مگرمرتے وقت کفر میں چلا گیا… وجہ یہ معلوم
ہوئی کہ ننگے گناہوں کی ٹوہ میں رہتا تھا… کس کا کس سے تعلق ہے؟… کون
کیا کرتا ہے؟…اور پھر اُن کا تذکرہ اور غیبت… اللہ تعالیٰ حفاظت
فرمائے… ہر دن… زندگی کا آخری دن ہو سکتا ہے… اور ہررات زندگی کی
آخری رات… اس لئے احتیاط کے ساتھ وقت گزارنے کی ضرورت ہے… آج ۲ محرم۱۴۳۴ھ
کی تاریخ ہے… ہم اپنی زندگی میں ایک نئے سال کا دوسرا دن دیکھ رہے
ہیں… کیا ہی اچھا ہوتا کہ… مسلمانوں کے سال کاآغاز… عبادت، ذکر
،امن اور باہمی محبت سے ہوتا… مگر ظالم دشمنان اسلام نے ایسی سازش رچی
کہ…مسلمانوں کے سال کا آغاز… خوف، دہشت ، بدامنی… اور قتل و غازت سے
ہونے لگاہے حالانکہ اسلام کی پوری تاریخ شہادتوں سے بھری پڑی ہے… حضرت فاروق
اعظم شہیدرضی اللہ عنہ ہوئے… حضرت عثمان ذی النورین شہید رضی اللہ عنہ
ہوئے… حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے… بدر میں تیرہ اور احد
اور بیئر معونہ میں ستر ستر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شہید
ہوئے… مگر کسی کی شہادت پر نہ کتاب اللہ نے جلوس اور ماتم کا حکم
فرمایا… اورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے… دنیا کا کوئی بھی مذہب ایسا نہیں جس کی عبادت… جلوس
نکالنا اور گالیاں دینا ہو… پھر مسلمانوں پر یہ منحوس طریقے کیوں مسلّط کئے
گئے؟… اہل بیت کی محبت سے الحمدللہ ہمارا دل سرشار ہے… اور شہداء کربلا کے
زخموں کی کسک ہر مسلمان کے دل میں ہے… مگر… شہادت ایک اعزاز ہے تعزیہ
نہیں… شہادت ایک مقام ہے جلوس نہیں…اور شہادت ایک سعادت ہے ماتم
نہیں… جب ایک غلط اور بری رسم مسلمانوں میں جاری کی گئی تو… اس کے بُرے
اثرات بھی ہر طرف پھیل گئے… اور دیکھتے ہی دیکھتے اسلامی سال کا مبارک آغاز
خوف، دہشت اور بدامنی کی نذر ہو گیا…
اناللہ وانا الیہ راجعون
ہماری
حکومتیں محرم الحرام میں… امن و امان کے نام پر مسلمانوں کا جینا دوبھر کر
دیتی ہیں… مگر اُن سے اتنا نہیں ہوسکتا کہ… کچھ لوگوں کو پابند کردیں کہ
آپ نے اپنی جو عبادت، پوجا اور رسم کرنی ہے… اپنے عبادت خانوں میں
کرو… خود ان کی مذہبی کتابوں میں… کسی جلوس اور ہنگامے کا حکم نہیں
ملتا… بس ایک سیاست ہے اور ایک نحوست… ہم جب بھی مسلمانوں کی اس بد
نصیبی کو یاد کرتے ہیں کہ… اُن کے سال کا آغاز کتنا خوفناک، دہشت ناک اور
پریشان کن ہوتا ہے تو… یقین کریں کہ دل رونے لگتا ہے…سال کا آغاز ہو
تو… مسلمان ایک دوسرے کے لئے سلامتی کا پیغام بنیں… ایک دوسرے کی
مددکریں… ہر طرف عبادت کے انوارات… اور امن کی ہوائیں نظر
آئیں… مگر یہ کیا… اب کوئی اپنے گھر سے بھی نہیں نکل سکتا… بس ہر
طرف… پکڑ دھکڑ اور بدامنی ہی بدامنی ہے…
اللھم
ارحم اُمۃ محمدا
بہرحال…کبھی
تو ان شاء اللہ وہ وقت بھی آئے گا جب یہ بلا بھی… مسلمانوں کے
سرسے ٹل جائے گی… ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے
ہوئے… کلمہ شہادت کے ساتھ ۱۴۳۴ھ کو خوش آمدید
کہتے ہیں…
نشھدان
لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ
و
نشھدان سیدنا محمدا عبدہ و رسولہ
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ’’اُمتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ پر رحم فرمائے… تازہ خبر آپ
نے سن لی ہو گی… سندھ کے ضلع’’تھر‘‘ کا ایک ہندو ٹھاکر… جو مسلمانوں کا
اور پاکستان کا سخت دشمن تھا… اور سندھ میں بیٹھ کر انڈین فوج کی جاسوسی اور
مدد کرتا تھا… وہ1977ء میں انڈیا جا بسا تھا… بمبئی کے حملوں کے سلسلے
میں جب’’اجمل قصاب شہید‘‘ کا مقدمہ چلا تو اس کی بڑی خواہش تھی کہ اجمل کو پھانسی
لگے… اکیس نومبر کے دن بھارتی حکومت نے ’’اجمل قصاب‘‘ کو پھانسی دیکر قتل کر
دیا تو یہ بڑا خوش تھا… بہت خوش مگر… دو دن بعد موت کے فرشتے نے خود اس
کو پھانسی دے دی… خس کم جہاں پاک… یہ۱۴۳۴ھ کا سال بھی
عجیب شروع ہوا ہے… ابھی گیارہ دن ہی گذرے ہیں کہ… کئی نامور اور
مشہورلوگ اس دنیا کو چھوڑ گئے… اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ… مشہور اور
نامور افرادکو اپنا بوریا بسترباندھ کر رکھنا چاہئے… ان میںجو مسلمان ہیں وہ
اپنے وصیت نامے بھی لکھ دیں… اگرکسی کا کچھ لین دین ہو… بال ٹھاکرے مر
گیا… الحمدللہ … اردشیر کاؤس جی مر گیا… الحمدللہ … دو چار
بڑے فلمی اور ٹی وی فنکار بھی پچھلے پانچ دن میں رخصت ہوگئے… ’’کاؤس جی‘‘
کراچی کا پارسی تھا…
پارسی
یعنی آتش پرست… آگ کے پجاری… یہ فرقہ دنیا سے بہت تیزی کے ساتھ ختم
ہورہا ہے… کراچی اور بمبئی میں ان کی آبادی موجود ہے… عجیب بدنصیب اور
واہیات قسم کے لوگ ہیں… ہمارے سابق وزیراعظم شوکت
عزیز… سودخور… اگرچہ مسلمان کہلاتے تھے مگر’’عدی‘‘ نام کے ایک پارسی
پروفیسر کے خاص الخاص شاگرد تھے… اور اُس آتش پرست استاد سے فیض لیتے رہتے
تھے… اندراگاندھی کے زمانے میں انڈین آرمی کا ایک چیف’’جنرل مانک شاہ‘‘ بھی
پارسی گذرا ہے… دنیا بھر میں موجود ان تھوڑے سے ’’پارسیوں‘‘ میں سب سے
زیادہ… خطرناک، بدزبان، متعصب اور دشمن ملّت… یہی’’کاؤس جی‘‘ تھا
جو… دو روزہوئے زمین کی جان چھوڑ گیا… ڈان اخبار میں کالم لکھتاتھا اور
اس ’’بے وقوفانہ کالم‘‘ کا اردو ترجمہ… کئی اخبار چھاپتے تھے… ایک بار
میں نے پاکستان کے ایک اردو اخبار کے مدیر کو جیل سے خط بھی لکھا کہ… اس ظالم
کے کالم چھاپ کر آپ اپنی اُس ’’والدہ‘‘ پر ظلم کرتے ہو جس نے چودہ حج کر رکھے
ہیں… والدہ پر ظلم کا کیا مطلب؟… یہ ایک مشکل داستان ہے… میرے لئے
لکھنا ممکن نہیں… آپ سمجھ گئے ہیں تو اچھی بات ہے… نہیں سمجھے تو اُس
سے بھی زیادہ اچھی بات ہے… اس ’’محرم الحرام‘‘ میںجو مشہور اور نامور لوگ
دنیا سے چلے گئے ان میں… اجمل قصاب بھی تھے… ہم نے اُن کا نام ’’میڈیا‘‘
پر سنا… نہ پہلے کوئی تعارف تھا نہ بعد میں… انڈیا نے الزام لگایاکہ وہ
بمبئی پر حملہ کرنے والے دس افراد میں سے ایک تھے… آپ سوچتے ہوں گے
کہ… یہ لفظ بمبئی ہے یا مُمبئی… یہ لفظ دراصل صدیوں سے’’بمبئی‘‘ ہی تھا
پھر بال ٹھاکرے نے ہندو مذہبی بنیاد پر… اس کا نام’’مُمبئی‘‘ کرا
دیا… یہ ابھی چند سال پہلے کی بات ہے… اسی طرح مدراس جیسے تاریخی شہر کو
بھی ایک گندا نام’’چِنّئی‘‘ دے دیاگیا ہے… بی جے پی کی حکومت کے یہ سب
کارنامے ہیں… مزید بھی کئی شہروں کے نام بدل رہے تھے کہ حکومت کا وقت ختم ہو
گیا… چار سال پہلے بمبئی پر حملے ہوئے تھے… عوامی مقامات پر عام انسانوں
کو مارنا… اسلام اور جہاد کا سبق نہیں ہے… اس لئے ہم اُن حملوں پر خاموش
رہے… نہ تائید کی کہ… جہادی شان نظر نہیں آرہی تھی…اور نہ تردید کی
کہ… ہمارا کیا واسطہ… انڈیا ہرو قت الٹی حرکتیں کرتا رہتا ہے… ہمیں
کیا پڑی کہ ایک لاکھ کشمیری مسلمانوں کے ’’قاتل‘‘ سے کوئی دکھ اور تعزیت یا اظہار
افسوس کرتے… ان حملوں کے فوراً بعد جو نام سب سے زیادہ مشہور ہوا وہ اجمل
قصاب کا تھا… انڈیا کا دعویٰ ہے کہ وہ حملہ آوروں میں سے تھے… اور یکے
بعددیگرے تمام عدالتوں نے… انہیں موت کی سزا سنائی…
ہم
نے انڈیا کے عدالتی نظام کو بہت قریب سے دیکھا اور بھگتا ہے… اس لئے اُن کے
کسی دعوے پر’’اعتبار‘‘ کی گنجائش نہیں پاتے… مگر ایک بات تو بالکل پکی ہے
کہ… انڈیا کا عدالتی نظام بہت طویل، پیچ دار اور سست ہے… تہاڑ جیل دہلی
میں ایک نامی گرامی مجرم سے ملاقات ہوئی وہ گیارہ سال سے ایک ایسے جرم میں عدالتی
ٹرائل بھگت رہے تھے… جس جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا دو سال بنتی ہے… اُن
کا کہنا تھا کہ میں بیس سال تک یہ مقدمہ لمبا کھینچوں گا تاکہ… تھائی لینڈ کی
حکومت اُن کو نہ لے جا سکے… اور تھائی لینڈ میں بیس سال گذرنے پر مقدمہ ٹھنڈا
پڑ جاتا ہے… ایک نہیں درجنوںمثالیں ہمارے سامنے ہیں… ابھی ایک متعصب
ہندو تنظیم کے بعض رہنماؤں نے اعتراف کر لیا ہے کہ… سمجھوتہ ٹرین کے دھماکے
انہوں نے کئے تھے… جبکہ انڈین حکومت نے اس دھماکے کی مد میں کئی مسلمانوں کو
سالہاسال سے پکڑ رکھا ہے… اور اب بھی اُن کو صرف ضمانت پر رہا کیا گیا
ہے… خلیل چشتی صاحب کا معاملہ سب کے سامنے ہے وہ بیس سال سے ایک مقدمے کی
پیشیاں بھگت رہے ہیں… تاحال فیصلہ نہیں ہوا… اُدھر راجیو گاندھی کے قتل
کا مقدمہ بھی تاحال… مکمل نہیں ہوا… حالانکہ راجیو گاندھی جب قتل ہوا
تھا تو ہم بچے تھے…ابھی کچھ دن پہلے ایک پاکستانی فوجی کو انڈیا کی جیل سے رہائی
ملی… ظالموں نے اس کی زبان تک کاٹ دی ہے… یہ فوجی1971ء میں گرفتار ہوئے
تھے… آپ ذرا انگلیوں پر گنیں کہ کتنے سال بنے…1971ء تا 2012ء اب اندازہ
لگائیں کہ… اسی انڈیا میں اجمل قصاب کا مقدمہ چار سال میں نمٹا دیا
گیا… اور پھانسی بھی دے دی گئی…اسے کہتے ہیں مسلمانوں سے دشمنی… پاکستان
سے دشمنی… اور بے غیرتی کی حد تک بڑھا ہوا ظلم… بھارتی صدر کے پاس سزائے
موت کے خلاف رحم کی ایک سو درخواستیں موجود ہیں… اور قانون کے مطابق ہر
درخواست کو ایک نمبر دیا جاتا ہے… اور بھارتی صدر اسی نمبر کی ترتیب سے ان
درخواستوں پر فیصلہ کرتا ہے… جناب افضل گورو(حفظہ اللہ تعالیٰ
ورعاہ و نجّاہ) کی درخواست کا نمبر ساٹھ کے بعد آتا ہے… جبکہ اجمل قصاب کا
نمبر آنے تک تو بھارت کے کم از کم پانچ صدر مزید گزر سکتے تھے… مگرایوان صدر
نے بھی پھرتی دکھائی… اورایک مسلمان کو پھانسی پر لٹکانے میں کوئی دیر نہیں
کی… ہم نہیں جانتے کہ… اجمل قصاب کا کیا قصور تھا… مگراتنا معلوم
ہے کہ وہ مسلمان تھے… اور ہمیں ان کی پھانسی پر قلبی دکھ اور رنج پہنچا ہے… اور
پاکستانی حکمرانوں نے… اس واقعہ پر جو ردعمل پیش کیا ہے اُس پر بھی بہت افسوس
ہوا ہے… چاہئے تو یہ تھا کہ… اجمل قصاب کی پھانسی کے اگلے
دن… میانوالی جیل میں بھارتی قاتل اور جاسوس’’سربجیت سنگھ‘‘ کو پھانسی دے دی
جاتی… سپریم کورٹ اس کو پھانسی کی سزا سنا چکی ہے اور نظرثانی کی درخواست بھی
مسترد ہو چکی ہے… اور اس کی رحم کی اپیل ہمارے ایوان صدر میں پڑی ہے…مگر
غیرت
نام تھی جس کا گئی تیمور کے گھر سے
آج
ارادہ تھا کہ محرم الحرام… اور عاشوراء کی فضیلت پر کچھ باتیں عرض کی جائیں
گی… مگر قلم ایک غریب الدیار کی مرقد پر پھول نچھاور کرنے
لگا… اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی قربانیاں قبول فرمائے… کہاں
کہاں قبریں بن رہی ہیں… نہ کوئی میت اٹھانے والا… نہ کوئی غسل کفن دینے
والا… نہ قبر کا کوئی نشان اور نہ تعزیت کے دو حروف… کوئی سمندر میں
ڈالا جارہا ہے تو کوئی گمنام اجتماعی قبروں میں گم کر دیا جاتا ہے… بوسنیا کے
مسلمانوں کی قبریں… فلسطین کے مسلمانوں کے جنازے… اور کشمیر کے گمنام
اجتماعی مقبرے… ہاں عشق اسی طرح ہوتا ہے… بے پرواہ، بے نیاز اور بے
ساختہ… 1990ء میںپہلے پہل افغانستان جانا ہوا تو… ژاور کے علاقے میں
ایک ابھری ہوئی جگہ دکھائی گئی… معلوم ہوا کہ پچاس عرب مجاہدین آرام فرماتے
ہیں… آرام کیا عیش فرماتے ہوں گے… سوویت بمباری نے اُن کے لئے شہادت
اور مقبرہ دونوں کا انتظام بیک وقت کر دیا تھا… کئی لوگوں نے وہاں سے تلاوت
کی آوازیں سنیں… اُن سننے والوں کو ہم نے خود دیکھا… بالکل جھوٹے نہیں
لگتے تھے… اجمل قصاب کے واقعہ پر بہت ڈھونڈا کہ کسی خبر یا کالم میں کوئی ایک
لفظ ہمدردی کا… یا دو آنسو تعلق کے مل جائیں… مسلسل دو دن کی تلاش کے
باوجود ناکامی ہوئی… سوچا لوگوں نے اس دنیا میں جینا ہے یہاں کون کسی
کا… مرثیہ سنا کر اپنی زندگی تنگ کرے گا… اس لئے بات کا رخ… محرم
الحرام سے دوسری طرف پھر گیا… چلیں ابھی کچھ جگہ باقی ہے… دو چار
باتیں’’محرم الحرام‘‘ کی کر لیتے ہیں… یاد رکھیں یہ مہینہ… اللہ
تعالیٰ کے نزدیک عزت ، مقام اور بڑی آبرو والا ہے…ہم پرلازم ہے کہ… ہم
اپنے رب کی اطاعت بھی کریں اور جیسے وہ چاہیں ہم اُسی کے
موافق… چلیں… انہوں نے جن مقامات کو فضیلت دی… ہم ان کی تعظیم
واکرام کریں… کعبۃ اللہ ، روضۂ اطہر… مسجد
نبوی… منیٰ،عرفات، مزدلفہ وغیرہ… اسی طرح انہوں نے جن مہینوں اور دنوں
کو افضلیت اور اعزاز بخشا ہم بھی… انہیں افضل مانیں اور ان کا اعزاز
کریں… محرم الحرام کے فضائل پر اہل علم نے باقاعدہ کتابیں لکھی ہیں… اور
سب سے بڑی بات یہ ہے کہ… رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس
مہینے کو’’شہر اللہ ‘‘… یعنی اللہ تعالیٰ کا مہینہ قرار دیا
ہے… مہینے تو سارے ہی اللہ تعالیٰ کے ہیں مگر… یہ وہ خاص
مہینہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسانیت کو عطاء فرمایا ہے… اور اس مہینے
کا ایک دن… ’’ایام اللہ ‘‘ میں سے ہے…’’ایام اللہ ‘‘ اللہ
تعالیٰ کے دن… یعنی وہ دن جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کسی
خاص قدرت، نعمت اور شان کو ظاہر فرمایا… عاشوراء…(اس کو عاشورہ لکھنا غلط
ہے)… اُن ’’ایام اللہ ‘‘ میں سے ہے جس کا تذکرہ… قرآن پاک میں سب
سے زیادہ آیا ہے… حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا گیا کہ… بنی
اسرائیل کو… ’’ایام اللہ ‘‘ کی یاد دہانی کراتے رہیں…
وَذَکِّرْھُمْ
بِاَیَّامِ اللہ …(ابراہیم:۵)
ان
’’ایام اللہ ‘‘ میں… سب سے اہم دن وہ تھا جس میں فرعون غرق ہوا اور
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو آزادی اور نجات نصیب ہوئی… آپ
قرآن پاک میں شمار کرتے جائیں کہ… یہ واقعہ کتنی بار مذکور ہوا ہے؟… تب
اس واقعہ کے ضمن میں… ’’عاشوراء‘‘ بھی آجاتا ہے… اسی طرح یہ بھی یاد
رہے کہ… موجودہ نسل انسانی کی بقاء میں بھی… ’’عاشوراء‘‘ کی برکت شامل
ہے… کیونکہ مسند احمد کی روایت کے مطابق اسی دن… حضرت
نوح علیہ السلام کی کشتی… جودی پہاڑ پر لنگرانداز ہوئی… اور
اس کشتی کے مسافروں کی نجات سے آگے کی انسانی نسل چلی… چنانچہ روایات میں
آتا ہے کہ… حضرت نوح علیہ السلام نے بھی ’’عاشوراء‘‘ کا روزہ
رکھا… قریش مکہ’’عاشوراء‘‘ کا روزہ رکھتے تھے اور اسی دن کعبہ شریف کو پردہ
پہناتے تھے… اس سے معلوم ہوتا ہے کہ… عاشوراء کا روزہ… حضرت
ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی رکھتے تھے…کیو
نکہ قریش مکہ میں جو بھی اچھی عادت باقی تھی وہ ملت ابراہیمی سے آئی
تھی… عاشوراء کے روزہ کی جس طرح سے اسلام میں فضیلت آئی ہے… اس کے پیش
نظر اس اُمت کے اسلاف اور اخیار… اس روزے کا بہت اہتمام فرماتے
تھے… حتیٰ کہ کئی حضرات تو سفر میں بھی اس کا ناغہ گوارہ نہ کرتے
تھے… یہ موضوع بہت مفصل ہے… ان شاء
اللہ کسی اور مجلس میں
سمیٹیں گے… آخر میں ایک اہم بات عرض ہے… کیا وہ مہینہ منحوس ہو گیا جس
میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دنیا سے پردہ
فرمایا؟… کتنا عظیم غم اور صدمہ تھا حضرت سیّدہ فاطمہ رضی اللہ
عنہا سے پوچھ لیں… کیا وہ مہینہ منحوس ہو گیا جس میں خلفائے
راشدین… ازواج مطہرات اوربنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت
یا وفات پائی؟… یقینا جواب نفی میں ہوگا… پھر محرم کومنحوس سمجھنا کیا
یہ… اللہ تعالیٰ سے کھلی بغاوت اور مخالفت نہیں
ہے؟… اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کو حرمت… یعنی عزت، مقام،درجہ
اور آبرو عطاء فرمائی…حتی کہ اہل علم کی رائے یہ ہے کہ… حرمت و عزت والے چار
مہینوں میں سب سے افضل مہینہ محرم ہے… اور روایات سے ثابت ہے کہ رمضان
المبارک کے بعد افضل مہینہ محرم ہے… کئی محققین کے نزدیک… رسول کریم صلی
اللہ علیہ وسلم کی سب سے لاڈلی صاحبزادی… حضرت فاطمۃ
الزھراء رضی اللہ عنہا کا نکاح’’محرم‘‘ میں ہوا… جبکہ زیادہ مشہور
قول’’صفر‘‘کا ہے… محرم الحرام کومنحوس سمجھنا… اس مہینے میں نکاح کو غلط
سمجھنا… فطرت کے خلاف ہے… اور ترتیب الٰہی کی مخالفت ہے…مسلمانوں کو اس
بارے میں اپنا طرز عمل درست کرنا چاہئے…اب آخری بات… مصیبت کا وقت مقرر ہوتا
ہے… کس نے کب مرنا ہے یہ بات طئے شدہ ہے… مگربعض اوقات کوئی مصیبت کسی
نیکی اور عبادت کے ساتھ آجاتی ہے… مثلاً کسی نے کوئی عبادت یا بڑی نیکی
کی… اور اسی وقت اس پر کوئی دنیوی آزمائش یا مصیبت آگئی… تب شیطان کو
اور برے لوگوں کو موقع مل جاتا ہے کہ… وہ اس مصیبت کو اُس نیکی کے ساتھ
جوڑدیتے ہیں اور وسوسہ ڈالتے ہیں کہ… لوبھائی! آئندہ ایسی نیکی نہ کرنا ورنہ
تمہارے ساتھ یہی ہوگا… ایک آدمی گناہوں میں ہوتا ہے اور بالکل ٹھیک
ٹھاک… مگر جیسے ہی نیکی میں لگتا ہے تو کوئی پریشانی آجاتی ہے… تب یہ
وسوسہ آتا ہے کہ نیکی چھوڑو… کراچی میں ہمارے ایک قریبی ساتھی نے ماشاء
اللہ محرّم میں اپنے دو صاحبزادوں کی شادیاں کیں… اورنکاح
بھی’’جہادی علماء‘‘ سے پڑھوائے… ماشاء اللہ قابل رشکی نیکی
ہے… مگر کیا ہوا؟… ولیمہ کے دن جب کھانا تیار تھا خاندان میں حادثہ ہوا
اور بھابھی صاحبہ چل بسیں… اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت
فرمائیں… قارئین سے بھی دعاء اور ایصال ثواب کی درخواست ہے… اب ولیمہ
کیا ہوتا… شریعت میں تین دن کا سوگ ہے اور یہ تو پہلا دن تھا… چنانچہ
سارا خاندان ہی صدمے میں ڈوب گیا اور کھانا ایک دینی مدرسہ میں بھجوا دیا
گیا… اب اگر کسی کمزور عقیدے کے آدمی کو یہ واقعہ سنائیں تو وہ حادثے کو
محرم کی شادی کے ساتھ جوڑ دے گا… نعوذ باللہ ،
استغفر اللہ …
حادثہ
تو ہونا تھا… خاتون کی زندگی اتنی ہی تھی… مگر یہ حادثہ ایک نیکی کے
ساتھ جڑ کر آگیا… اب قرآن پاک سمجھاتا ہے کہ… ایسے مواقع پر نیکی نہ
چھوڑو… اور نہ ہی یہ خیال دل میں لاؤکہ… ایسا نیکی کی وجہ سے ہوا
ہے… سورہ حج میں تفصیل مذکورہے… بلکہ یہ دیکھنا چاہئے کہ… اس حادثے
میں کیا کیا خیر پوشیدہ ہے… خیر ولیمہ بھی ہو گیا مگر کیسا؟… تمام کھانا
علماء، طلبہ اور مہمانان رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے
کھایا… اور خوشی کی غفلت کی بجائے… سارے خاندان نے ذکر، تلاوت ،
آنسوؤں… اور فکر آخرت کے ساتھ عاشوراء پایا… شادیاں نہ بھی ہوتیں تو
جانے والی نے اسی دن… اور اسی لمحے جانا تھا… وقت تو سب کا مقرر
ہے… بس یہ ایک مثال تھی… ہر مسلمان کوچاہئے کہ… دین، جہاد،عبادت
اور نیکی کو دنیا کے نفع،نقصان کے ساتھ نہ جوڑے… بلکہ جیسے بھی حالات آئیں
استقامت کے ساتھ… اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے… دین اور دین
کے کاموں پر ڈٹے رہنا چاہئے…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ ہر چیز کے خالق ہیں…
اللّٰہُ
خَالِقُ کُلِّ شَیْء (القرآن)
’’جسم
بھی اللہ تعالیٰ نے بنایا … اور ’’روح‘‘ کا خالق بھی
اللہ تعالیٰ ہے… یہ ہوئی پہلی بات … کوئی ’’روح‘‘ اچھی
ہوتی ہے … اور کوئی روح بُری یعنی خبیث … آپ نے ’’بد روح‘‘ کا
لفظ تو بار بار سنا ہوگا … بد روح یعنی بُری روح … دنیا میں
اچھی روح… اپنے ہی جیسی اچھی ارواح کی طرف کھنچتی ہے … اور بُری
روح… اپنے ہی جیسی بُری ارواح کی طرف بھاگتی ہے… مکہ مکرمہ میں ایک عورت
تھی… مزّاحہ یعنی بہت ہنسی مزاح کرنے والی … وہ سفر فرما کر مدینہ
طیبہ آئی اور سیدھی ایک مدنی خاتون کے گھر جا پہنچی … نہ کسی سے پوچھا
اور نہ کسی نے بتایا… خود ہی بالکل سیدھی وہاں پہنچ گئی… معلوم ہوا کہ
وہ بھی بہت ہنسی مزاح کی عادی ہیں… حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو
قصہ پہنچا کہ … مکی مزّاحہ سیدھی مدنی مزّاحہ کے گھر پہنچ گئی
ہے … نہ پہلے سے کوئی تعارف اور نہ جان پہچان … حضرت
سیدہ رضی اللہ عنہانے فرمایا: بے شک میرے محبوب صلی اللہ
علیہ وسلم نے سچ فرمایا:
{الارواح
جنود مجندۃ}
کہ
روحیں ایسے لشکر ہیں جن کو ترتیب کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے … اچھی روحوں
کا الگ لشکر … بُری روحوں کا الگ لشکر… پھر اچھی ارواح میں مختلف
اچھائیوں کے اعتبار سے الگ الگ دستے… اور بُری ارواح میں برائیوں کے اعتبار
سے الگ الگ دستے … جیل میں عجیب بات دیکھی … چرس اور نشے سے
تعلق رکھنے والے افراد منٹوں میں ایک دوسرے کو پہچان لیتے … اور فوراً
ان میں دوستی ہو جاتی… نشہ مل جاتا تو باہم شریک اور نہ ملتا تو مل بیٹھ کر
زبانی نشہ سے تسکین پاتے … یعنی پرانی داستانیں ایک دوسرے کو
سناتے … حالانکہ کئی حضرات سالہاسال سے نشہ چھوڑ چکے تھے اور پکے تائب
تھے اور اُن کے چہرے مہرے سے نشہ کے اثرات اور کھنڈرات بھی زائل ہوچکے
تھے… مگر جیسے ہی وہ کسی نئی جیل شفٹ ہوتے … یا ان کی جیل میں کوئی
نیا نشئی آتا تو فوراً دوستی ہو جاتی… زیادہ حیرت انگیز بات یہ دیکھی
کہ … سچی توبہ کرنے والے نشئی بھی … صرف انہی افراد کو اپنا
دوست بناتے تھے جو ماضی میں نشئی رہے ہوں اور اب تائب ہوچکے ہوں، لیجئے! حضرت
سیدنا عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ بہت عجیب نکتہ ارشاد فرماتے ہیں…
’’اگر
ایک کھلے اور بڑے چٹیل صحرا میں بے شمار لوگوں کو جمع کردیا جائے اور وہ سب مؤمن
ہوںاور ان میں صرف دو افراد کافر ہوں … تو یہ دو کافر ضرور ایک دوسرے کے
ساتھ جاملیں گے…‘‘
یعنی
خود بخود … روح کی مقناطیسی کشش ان دو کافروں کو آپس میں جوڑ دے
گی … آپ اندازہ لگائیں … ایک شخص کراچی کے کافر آتش پرست
خاندان میں پیدا ہوا … اور دوسرا چکوال کے ایک مسلمان گھرانے
میں … آتش پرست تو کفر ہی میں پلا بڑھا… مگر چکوال والے کا تعلق
چونکہ مسلمان گھرانے سے تھا اس لئے … اس نے بچپن میں قرآن پاک بھی
پڑھا … پھر فوج میں بھرتی ہوا … پھر اچانک کسی دن اسے کراچی
کے آتش پرست نے خود ہی فون کرکے ملنے کی دعوت دی … ملاقات ہوتے ہی یوں
لگا کہ دو قریبی روحیں سالہاسال کی جدائی کاٹ کر اکٹھی ہوگئی ہیں…بس پھر کیا تھا؟ دونوں
کفر گوئی سے لے کر بادہ خواہی تک یک جان ہوگئے … پچھلے رنگ و نور میں جب
’’اردشیر کائوس جی‘‘ کے بارے میں لکھ رہا تھا تو … ایک جملہ بار بار قلم
کی نوک پر آتا اور میں اسے جھٹک دیتا کہ … کسی مسلمان کی توہین نہ
ہو… وہ جملہ یہ تھا … آج کل ’’ایاز امیر‘‘ نے اپنے کالموں میں
’’کائوس جی‘‘ کی کمی پوری کردی ہے… قرآن پاک کا مذاق … نعوذ باللہ … احادیث نبویہ کا
مذاق … نعوذ باللہ … جہاد
اور مقدس حوروں و غلماں پر بازاری جملہ بازی استغفر اللہ … اور اسی طرح
کی ڈھیروں بکواسات… بڑی مشکل سے قلم پر قابو پایا اور ’’ایاز امیر‘‘ کا تذکرہ
کالم میں نہیں کیا … مگر اگلے ہی دن ’’ایاز امیر‘‘ کا کالم اخبارات میں
چھپا اور راز فاش ہوگیا کہ … اس کی اور ’’کائوس جی‘‘ کی کتنی گہری دوستی
تھی اور اس نے کائوس جی سے کون کون سے ’’بدکام‘‘ سیکھے… واقعی …
الارواح
جنود مجندۃ…
’’ایاز
امیر‘‘ کا کالم پڑھ کر تکلیف تو بہت ہوئی مگر … جب اس نے ’’کائوس جی‘‘
کو نعوذ باللہ مرنے کے بعد سنہرے باغات میں داخل کیا تو
مجھے حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث مبارک
کی سمجھ آگئی … وہ حدیث کونسی ہے اور اس میں کیا بات سمجھ آئی یہ ان شاء
اللہ پھر
کبھی … کئی سال ہوچکے تھے کہ حدیث شریف کا وہ حصہ سمجھ نہیں آرہا
تھا … اب آگیا … و الحمدللہ رب العالمین … یہاں ایک اور دلچسپ بات
بھی سن لیں… برصغیر پر انگریزوں کے قبضے کے دوران ایک انگریز گورنر کی بیوی
ہندوستان آئی … وہ ہر وقت سانپوں کو ڈھونڈتی رہتی تھی… ایک بڑا سا
کالا سانپ ہر وقت اس کے ساتھ رہتا تھا… انگلینڈ واپس گئی تو اس سانپ کو ساتھ
لے گئی … وہ خاوند سے زیادہ سانپ سے اُنس پاتی تھی… بالآخر خاوند
نے طلاق دے دی تو وہ مطمئن رہی کہ سانپ اس کے ساتھ تھا … اور اس سے طلاق
کا کوئی خطرہ نہیں… اپنی بوڑھی ملازمہ اور اس سانپ کے ساتھ رہتی تھی اور جب
طبیعت اداس ہوتی تو … چڑیا گھروں میں جاکر سانپوں کو دودھ پلاتی اور خوش
ہو جاتی … اللہ پاک حفاظت فرمائے… اس کی روح کا تعلق
انسانوں سے کم اور سانپوں سے زیادہ تھا… علامہ ابن جوزیؒ نے بہت کام کی بات
لکھی ہے … شاید اسی طرح کا کوئی واقعہ دیکھ کر ان کی روح کانپی تو
دوسروں کو بھی سمجھا گئے … فرمایا! جب تمہاری روح میں ان لوگوں کے لئے
نفرت پیدا ہو جو دینی طور پر صاحب فضیلت اور صاحب صلاح ہیں تو فوراً
اپنا محاسبہ کرو کہ … تم سے کیا گناہ یا کیا غلطی سرزد ہورہی ہے جس کی
وجہ سے تمہاری روح اچھے لوگوں سے متنفر ہورہی ہے… چنانچہ فوراً اپنا علاج
کرو … چلیں حضرت سیدناعبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہاکی بات کو
آگے بڑھاتے ہیں …فرمایا!
اگر
ایک میدان میں بے شمار لوگوں کو جمع کردیا جائے اور ان میں صرف دو مؤمن
ہوں … اور باقی سب کافر … تو یہ دو مؤمن خود بخود ایک دوسرے
سے آ ملیں گے … سبحان اللہ !
دو
مؤمن … دور دور رہتے ہیں اور پھر کیسے ایک دوسرے کی طرف آکھنچتے
ہیں… اور پھر کیسے ایک ہی مقام پر دونوں فائز ہوتے ہیں… بس یہی وہ تازہ
داستان ہے جس نے آج کا یہ کالم لکھوا دیا… کہاں لودھراں … اور کہاں
بہاولنگر؟… جی ہاں … فقیر عطاء اللہ کا
دوست … اسعد ایوب مدنی ان سے جاملا… ہمارے لئے…
ان
للہ وانا الیہ راجعون
اور
ان کے لئے ان شاء اللہ …
فَرِحِیْنَ
بِمَآاٰتٰھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ (آل عمران: ۱۷۰)
کیا
عجیب دوستی تھی اور مثالی محبت… پہلے جانے والے کی وصیت یہ تھی کہ میرے بعد
ان کا نمبر جلد لگایا جائے … کم از کم دو خطوط صرف اسی تڑپ میں
لکھے… یہ فدائی ارواح بھی … ایک مستقل ’’روحانی جماعت‘‘ اور
’’روحانی دستہ‘‘ ہیں… ایک جیسی عادتیں … ایک جیسے انداز… اور
ایک جیسی ادائیں …
میرے
خیال میں… دورحاضر کی سب سے بامقام ارواح… سب سے باسعادت ارواح اور سب
سے افضل اور پاکیزہ ارواح… یہ دور دور ہوتے ہیں پھر اچانک اکٹھے ہو جاتے
ہیں … اور پھر بہت تیزی سے اپنے جسموں کی قید سے آزاد ہوکر خالص روح کی
دنیا میں جااترتے ہیں… شہداء کی کمان مدینہ طیبہ میں ہے اس لیے ہم ان کی
ارواح کو ’’مدنی ارواح‘‘ کہہ سکتے ہیں… روح دراصل اس دنیا میں ’’پردیسی‘‘
ہے … اور جن ارواح کا آگے اچھا ٹھکانہ ہو وہ اس دنیا میں بے چین رہتی
ہیں… جیسے کسی بادشاہ کو بڑے محلات سے نکال کر پنجرے میں ڈال دیا گیا ہو
تو … اس کی سدا تمنا واپس اپنے محلات میں جانے کی ہوتی ہے…اور وہ پنجرے
میں کبھی چین نہیں پاتا… ہاں مگر! جن اروح نے آگے چل کر آگ میں جانا
ہو … وہ دنیا کے اس پنجرے میں بہت خوش رہتی ہیں … اور ہمیشہ
سدا اسی پنجرہ میں رہنا چاہتی ہیں… کچھ دن پہلے ایک لفافہ پاس رکھا
تھا… از طرف فقیر عطاء اللہ … اور آج ایک لفافہ دائیںطرف
پڑا ہے … از طرف محمد اسعد ایوب مدنی … ہاں دونوں
یار چلے گئے… محمد اسعد ایوب نے اپنا تمام مال جہاد کے لئے وقف کردیا اور پھر
جان بھی لٹا دی … واقعی ’’اسعد‘‘ یعنی زیادہ سعادت مند
نکلا … خط بھی جاتے ہوئے بہت عجیب لکھا … اس کے خط کے چند
جملے نقل کرنے ہیں مگر … پہلے حضرت ابن مسعودرضی اللہ عنہا کا فرمان
مکمل ہو جائے… ارشاد فرمایا!
اگر
کوئی مؤمن کسی مسجد میں داخل ہو اور اس مسجد میں ایک سو افراد ایسے موجود ہوں جن
میں مؤمن صرف ایک ہو… (باقی منافق ہوں) تو یہ مؤمن سیدھا اُسی ایک مؤمن کے
پاس آکر بیٹھے گا… اور اگر کوئی منافق کسی مسجد میں داخل ہو اور اس میں ایک
سو افراد موجود ہوں اور ان میں صرف ایک منافق ہو… (باقی سب مؤمن ہوں) تو یہ
منافق خودبخود اسی منافق کے پاس آ بیٹھے گا (انتہی)… یہ ہے روحانی
مقناطیسی کشش جو اپنے جیسے افراد کو اپنی طرف کھینچتی ہے … سبق یہ
ملتاہے کہ … اپنی روح کو اچھی ارواح کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتے رہنا
چاہئے … محنت، مجاہدہ اور دعاء سے بہت کچھ تبدیل ہو جاتا ہے… اگر
کسی کی روح ہمیشہ برے افراد کی طرف مائل ہوتی ہو تو وہ … محنت کرے،
مجاہدہ اختیار کرے اور بہت زیادہ دعا کرے تاکہ … روح کو پاکیزگی اور
سیدھا راستہ نصیب ہو… اور روح صراط مستقیم پر چلتے ہوئے … انبیاء،
صدیقین، شہداء اور صالحین کی مبارک ارواح کے ساتھ جا ملے … محترم شہید
محمد اسعد ایوب مدنی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
’’اے
دشمن اسلام! پہلے تم امت مسلمہ کی چیخ و پکار سنا کرتے تھے… لیکن اب تمہاری
چیخیں مسلمان سنا کریں گے ان شاء اللہ تعالیٰ… اے دشمنو! اب تم رویا کرو گے
اور مسلمان خوشیاں منائیں گے… اللہ مجیب سے دعاء کریں کہ بندہ
ناچیز کی ایک حقیر سی جان کو قبول و مقبول فرمائے … اور یہ کام بندہ، اس
کے ساتھیوں اور تمام اراکین کی طرف سے گستاخانہ خاکوں اور حرمت قرآن، حرمت مساجد
اور تمام مظلوم مسلمانوں کابدلہ ہوگا‘‘…
یہ
ایمان افروز خط تین بڑے صفحات پر مشتمل ہے … ہاں! شہید نے دو خواہشیں
بھی ظاہر کی ہیں… اُن سے شہید کی فکر کا اندازہ لگائیں … پہلی
خواہش یہ ہے کہ … فضائل جہاد کتاب کا چینی زبان میں ترجمہ شائع کیا
جائے … اور دوسری خواہش یہ ہے کہ … شہید کے علاقے اور گائوں
میں جماعت کا کام تیز کیا جائے… آفرین اے پاکیزہ روح … آفرین…
لاالہ
الا اللہ ،لاالہ الا اللہ ،لاالہ الا اللہ محمد رسول
اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
و
بارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لاالہ
الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو قوّت عطاء فرمائے… توفیق عطاء فرمائے…
(۱) ذکر اللہ
کی… (۲) شکر کی… (۳) مقبول عبادت کی…
ایک
دن حضرت آقامدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مُعاذ بن جبل رضی اللہ
عنہ کا ہاتھ پکڑا…
سبحان
اللہ !… کیا خوش نصیبی اور محبت کا منظر ہے… ارشاد
فرمایا… اے مُعاذ! انہوں نے عرض کیا… لبیّک… میں حاضر ہوں… یا
رسول اللہ ! جی یا رسول اللہ ! ارشاد فرمایا…
{انیّ
أُحبّک}
میں
تم سے محبت رکھتا ہوں…!!… اللہ،اللہ،اللہ … کیا مقام تھا صحابہ کرام
رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اور کیا عظیم سعادت… محبوب دو جہاں صلی اللہ علیہ
وسلم خود حضرت مُعاذ رضی اللہ عنہ سے اپنی مَحبت کا اظہار فرما رہے
ہیں… جواب میں سچے غلام نے عرض کیا:
{وانا
و اللہ أُحبک}
یا
رسول اللہ … میں بھی اللہ کی قسم آپ سے محبت رکھتا
ہوں…
ادب
تھا، رعب تھا… اور سراج منیر کی کرنیں… دل میں کیا کیا طوفان ہوگا مگر
کیسے بولتے؟… بس ادب کے ساتھ اتنا ہی عرض کر سکے… اور بات چونکہ سچی تھی
تو کافی رہی… محبت تو اُن حضرات کے ایک ایک قول اور عمل سے چھلکتی
تھی… فدائی محبت جی ہاں!… فدائی محبت… ارشاد فرمایا! کیا میں تمہیں
ایسے’’کلمات‘‘ نہ سکھا دوں جو تم ہر نماز کے بعد کہا کرو… عرض کیا… جی
یا رسول اللہ ! ارشاد فرمایا… یہ کلمات کہا کرو…
اَللّٰھُمَّ
اَعِنِّیْ عَلیٰ ذِکْرِکَ وَ شُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکْ
یا
اللہ ! مجھے طاقت دیجئے… میری اعانت فرمائیے… مجھے توفیق دیجئے
ذکر اللہ کی… شکر کی… اور مقبول عبادت کی…
سبحان
اللہ !… محبت کا اظہارفرمایا اور ایسی جامع دعاء تعلیم فرما
دی… اب اگر ہم اس دعاء کو’’دعاء محبت‘‘ کا نام دیں تو غلط نہ ہو
گا… معلوم ہوا کہ سچی محبت کا تحفہ اسی طرح کا ہوتا ہے… ذکر اللہ
! کتنی عظیم چیز ہے… ہر عمل کی جان! نماز ہو یا جہاد… کامیابی اور
قبولیت ذکر سے ہے… اللہ تعالیٰ کی یاد… اللہ
تعالیٰ کی محبت… لوگ پوچھتے ہیں! اخلاص کے کیا معنیٰ ہیں؟… اور
اخلاص کیسے پیداہو؟… ایک عام سے آدمی نے سادہ سے الفاظ میں بات سمجھا
دی… ارے ہر عمل اللہ تعالیٰ کی محبت میں کیا کرو… بس یہی ہے
اخلاص… ابھی کالم پڑھتے ہوئے تجربہ کر لیں… اللہ تعالیٰ کی
محبت میں ڈوب کر کہیں’’سبحان اللہ ‘‘…ایک بار آیۃ الکرسی پڑھ لیں
کہ… اللہ تعالیٰ کی محبت میں پڑھتاہوں… نہ بوجھ، نہ پریشانی
نہ کوئی اور غرض… بس وہ مالک ہیں ان کی یاد میں ڈوب کر… اُن کا احسان
مان کر… عمل کریں… دوسری چیز شکر… شکر بڑی نعمت ہے… ہر نعمت
کی حفاظت کا ذریعہ … اور شیطان کا مکمل توڑ… شیطان خود بھی
ناشکرا… اور وہ’’ناشکری‘‘ کی چُھری سے ہمارے ایمان کو ذبح کرتاہے… اور مقبول
عبادت!… یعنی ہر عبادت مکمل سنت کے حُسن سے مزین ہو… بس جس کسی سے محبت
ہو تو دل چاہے کہ اس کو یہ تین نعمتیں نصیب ہو جائیں… ذکر، شکر اور مقبول
عبادت… اور خود اپنے بارے میں بھی یہی فکر ہو کہ… مجھے بھی یہ تین
نعمتیں حاصل ہو جائیں… یہ جو اوپر حدیث شریف نقل کی ہے یہ امام بخاری پکی
کتاب’’الادب المفرد‘‘ سے لکھی ہے… ویسے ابو داؤد، نسائی اور مسند احمد میں
بھی موجود ہے… حضرت امام بخاری رضی اللہ عنہ نے ’’الادب المفرد‘‘ بہت کمال کی
کتاب لکھی ہے… اللہ تعالیٰ اُن کو پوری امت کی طرف سے جزائے خیر
عطاء فرمائے… انڈیا کی قید کے زمانے سے اس کتاب کے ترجمے اور ہلکی سی تشریح
کا ارادہ کر رکھا ہے… مگر ابھی تک صرف ارادے کا ثواب ہی کمایا
ہے … تصنیفات کے لئے اور بھی اس طرح کے کئی ارادے دل میں پالے ہوئے
ہیں… اللہ تعالیٰ ہی توفیق عطاء فرماتے ہیں… دمشق کے’’دار
ابن کثیر‘‘ نے ’’الادب المفرد‘‘ کا ایک نسخہ جناب محمد الیاس بارہ بنکوی کی تحقیق
کے ساتھ شائع کیا ہے… ایک دوست نے بھیج دیا جزاہ اللہ
خیرا… دیکھ کر دل بہت خوش ہوا… آج دراصل تین باتیں عرض کرنے کے
لئے قلم تھاما تھا…(۱) بابری
مسجد پر ایک نئی کتاب(۲) پچھلے
رنگ و نور میں ایک حدیث شریف کو سمجھنے کا تذکرہ آیا تھا اس کی کچھ تفصیل(۳) یا
ذاالجلال والاکرام…
ابھی
دو روز ہوئے کہ… بابری مسجد کی شہادت کو بیس سال پورے ہو گئے… ۶ دسمبر۱۹۹۲ء
اس دلخراش واقعہ کی تاریخ ہے… مسلمان جو روئے زمین کی سب سے بڑی آبادی ہیں
اورپچاس سے زائد ملکوں کے حکمران ہیں… ان کی موجودگی میں’’بابری مسجد‘‘ کی
المناک شہادت ہوئی… اس سال انڈیا میں کئی ہندو تنظیموں نے چھ دسمبر کو’’یوم
جشن‘‘ منایا… دلّی اور یوپی کے کئی علاقوں میں بندر اور خنزیر جمع ہوئے اور
دل کھول کر آتش بازی کی… آخر اسی آتش ہی میں ان کوجانا اورجلنا
ہے… مسلمان تنظیموں نے’’یوم سوگ‘‘ منایا اور بابری مسجد کے شہداء کے وارثوں
نے… یوم آنسو… ہندو تنظیمیں تو شائد اپنی خفّت مٹانے کی کوشش میں تھیں… بیس
سال ہو چکے وہ اپنا ’’رام مندر‘‘ تعمیر نہیں کر سکے جسے وہ اپنے’’مذہب‘‘ کا
’’کعبہ‘‘ قرار دے چکے ہیں… اُن کے بقول اُن کا بھگوان’’رام‘‘ اسی جگہ پیدا
ہوا تھا… چنانچہ اس کی’’جنم بھومی‘‘ پر مندر ہونا چاہئے… بابری مسجد کئی
سو سال سے آباد تھی… میں نے ایسے افراد سے بھی ملاقات کی ہے جنہوں نے بابری
مسجد کی اذان خود سنی ہے… اور اس میں جمعہ کی نماز ادا کی ہے… یاد رہے
کہ…۱۹۵۲ء
سے یہ’’مسجد شریف‘‘ بند ہے اور اس میں اذان، نماز، جمعہ کی پابندی تھی…۱۹۴۹ء
میں ہندوؤں نے اس مسجد پررات کی تاریکی میں حملہ کیا تھا… مؤذن صاحب کو مار
کر بھگا دیا گیا اور مسجد میں’’رام‘‘ کی مورتی یعنی بت رکھ دیا گیا… اور صبح
پورے ملک میں پوسٹر تقسیم ہو گئے کہ رات کو ایک ’’کرشمہ‘‘ ہوا ہے کہ… رام کا
بُت خود بخود بابری مسجد میں آبیٹھا ہے… بے جان مورتی، بے حس بُت، ناپاک نجس
مجسَّمہ خود بخود مسجد میں؟ بس اس وقت سے تنازعہ شروع ہوا اور پھر کچھ عرصہ بعد
مسجد شریف کو سیل کر دیا گیا… یہاں تک کہ۱۹۹۲ء میں اسے
باقاعدہ شہید کر دیا گیا… ہندوؤں کا خیال تھا کہ… ایک آدھ سال میں
مندر تعمیر ہو جائے گا… پوری دنیا کے مشرکین نے چندے کئے… افریقہ سے
سونے کی اینٹیں تک آئیں… عمارت کا مکمل ڈھانچہ مختلف فیکٹریوں میں اس طرح
تیار کیا گیا کہ… بس چند دنوں میں اسے نصب کیا جا سکے… مگر بابری مسجد
کے وارث تڑپ اٹھے… بابری مسجد کے بیٹے بے قرار ہو کر دیوانگی پر اُتر
آئے… اور اسّی کروڑ ہندو مل کر بھی بیس سال میں اپنا مرکزی مندر نہ بنا
سکے… اس دوران دو بار ہندوستان پر بی جے پی کی حکومت آئی… بی جے پی ہی
مسجد کی شہادت کی اصل ذمہ دار تھی اور اس کا نعرہ تھا کہ… مندر ضرور بنے
گا… مگر اٹل بہاری واجپائی اور ایڈوانی اسی خواب میں کھوکھلے
ہوگئے… واجپائی بستر مرگ پر ہے او رایڈوانی اپنی رسو ازندگی کے آخری گڑھے
میں ہاتھ پاؤں مار رہا ہے… پرم راج ھنس اسی خواہش کو لے کر چتا پر راکھ ہو
گیا… بابری مسجد شہید کرنے والے حملہ آوروں میں سے ڈیڑھ سو سے زائد
افراد’’مسلمان‘‘ ہو چکے ہیں… اور وہ جو سب سے پہلے’’گنبد شریف‘‘ پر چڑھا تھا
اب مسلمان ہو کردو سو سے زائد مساجد آباد کر چکا ہے… اور اس کی بھی بڑی
تمنا… ہماری طرح بابری مسجد کے میناروں سے اذان سننے کی ہے… بابری مسجد
میں اذان دینے… اور اللہ اکبر کہنے کے لئے بہت دور دور سے بہت
پاکیزہ اور کڑیل ’’مسلمان بیٹے‘‘ بھی گئے… مگر ’’ اللہ اکبر‘‘ کہہ کر
قربان ہو گئے…بابری مسجد کی آہوں نے ہزاروں مسلمانوںکو جہاد کا مقدس اور منور راستہ
دکھایا… اور بابری مسجد ’’دعوتِ جہاد‘‘ کا ایک اہم ستون بن گئی… ہاں!
قرضہ ابھی تک نہیں اترا… مسئلہ تاحال ماضی کی طرح سنگین ہے… اوراسے
فراموش کر دینے کا کوئی شرعی جواز مسلمانوں کے پاس موجود نہیں ہے… ہر کلمہ گو
مسلمان کو… بابری مسجد کی دوبارہ تعمیر اور آبادی کے لئے اپنی ہمت اور طاقت
کے مطابق کردار ادا کرنا چاہئے… ’’دعاء‘‘ سے لیکر’’غَزَا‘‘ تک… پیازی
آنسو سے لیکر سرخ خون تک… مال سے لیکرجان تک… بابری مسجد سے ہمارا
رشتہ… لا الہ الا اللہ کا ہے… کوئی سیاسی
نہیں… بابری مسجد سے ہمارا تعلق… محمد رسول اللہ کا
ہے… کوئی وقتی نہیں… بابری مسجد سے ہماری محبت… اللہ
تعالیٰ کی خاطرہے… اور ان
شاء اللہ رہے گی… یہ ایک مسلط کردہ’’جنگ‘‘
ہے… اور مسلمان ’’جنگ‘‘ سے پیٹھ پھیر کر اللہ تعالیٰ کے غضب کو
دعوت نہیںدیتا…یہ ایک’’چیلنج‘‘ ہے اور مسلمان ہر’’چیلنج‘‘ کی دھجیاں بکھیرنا اپنا
منصب سمجھتا ہے… بابری مسجد کے حوالے سے ابھی ایک’’تازہ کتاب‘‘ منظر عام
پرآنے کو ہے… انڈیا کے ایک بڑے اخبار نے اس کتاب کے اقتباسات شائع کر دیئے
ہیں… کتاب کا نام…’’ایودھیا، دی ڈارک نائٹ‘‘ ہے… کتاب کے مصنف دو افراد
ہیں… کرشنا جھا اور دھریندرجھا… اس کتاب میں بیان کردہ
حقائق… ’’بابری مسجد شہید‘‘ کی ایک زندہ کرامت ہیں… ناقابل تردید ثبوت،
عینی شاہدین اور مستند حوالہ جات سے اس کتاب میں یہ ثابت کیا گیا ہے
کہ… بابری مسجد میں کوئی کرشمہ ظاہر نہیں ہوا تھا… ہندوؤں نے ایک منظم
سازش کے تحت… اس کرشمے کا’’ڈھونگ‘‘ رچا تھا… اس سازش میں شریک افراد کے
کام تین حصوںپر تقسیم تھے… ایک گروہ نے رات کی تاریکی میں ’’بابری مسجد‘‘ میں
مورتی رکھنی تھی… دوسرے گروہ نے اس واقعہ کی ملکی سطح پر تشہیر کرنی
تھی… چنانچہ انہوں پہلے سے پوسٹر تیار کروا لئے تھے… اور تیسرے گروہ نے
قانونی مددفراہم کرتے ہوئے مسجد پر سیل اور تالے لگوانے تھے… ان دونوں مصنفین
کا ایک قریبی رشتہ دار خود اس گروہ میں شامل تھا جس نے رات کو مسجد میں مورتی رکھی
تھی… سبحان اللہ ! میرے مالک کا نظام بھی کتنا اونچا اورعظیم
ہے… مصر کا ایک شیر خوار بچہ… حضرت یوسف علیہ السلام کی
پاکدامنی کی گواہی دے رہا ہے… سازش میں شریک مصر کی کافر
عورتیں… بالآخر خود اعلان کر رہی ہیں…
حَاشَ
لِلّٰہِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْہَ مِنْ سُوٓئٍ…(یوسف:۵۱)
یعنی
حضرت یوسف علیہ السلام پاکدامن اوربے قصور ہیں…
ایسی
گواہیوں کے کتنے واقعات… ماضی کی تاریخ میں ہمارے سامنے موجود
ہیں… اللہ تعالیٰ نے کفار کے ذریعہ… گواہی دلوا کر اہل
ایمان کی حقانیت کو اُن کے دشمنوں پر واضح فرمایا… اور اب دو ہندو
مصنف… بابری مسجد کے لئے گواہی دینے میدان میں اتر آئے ہیں… اس سے آپ
مسجد کی شان، مقام… اور عند اللہ حیثیت کا اندازہ لگائیں… اور
بابری مسجد کے معاملے کی اہمیت کو بھی سمجھیں… اور اس قوم کے مکرو فریب کو
بھی دیکھیں جو… اپنے’’بھگوان‘‘ کے ساتھ بھی دھوکہ بازی… اور چارسو بیسی
سے باز نہیں آتی… وہ مسلمانوں کی کب خیرخواہ ہو سکتی ہے؟…
کوئی
اپنے ’’معبود‘‘ کے ساتھ بھی ایسی حرکت کرتاہے؟… رام کی بے بسی کا اندازہ اسی
سے لگائیںکہ… اس کی مورتیاں خود ہندوؤں نے رکھ دیں اور نسبت رام کی طرف کر
دی کہ وہ… خود اپنا’’بُت‘‘ یہاں رکھ گیا ہے… ایسے بے بس معبود… کیا
اس قابل ہیں کہ ان کی عبادت کی جائے… واقعی… شرک سب سے بڑا جرم، سب سے
بڑاظلم اور سب سے بڑی گندگی ہے… حکمت کے بادشاہ ،حضرت
سیدنالقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو جو سب سے بڑی حکمت سمجھائی وہ
یہی تھی کہ…
اِنَّ
الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ (لقمان:۱۳)
اے
بیٹے شرک بالکل نہ کرنا… بے شک شرک ہی سب سے بڑا ظلم ہے…ہر مسلمان کو چاہئے
کہ… شرک سے بے حد نفرت کرے اور شرک کی ہر شکل سے بچنے کی بھرپور محنت
کرے… اپنے پیروں، مرشدوں کی تصویریں سامنے رکھ کر… اُن کے مراقبے
کرنا… ان کی بے جان تصویروں میں نور ڈھونڈنا… قبروںپر جا کر سجدے
اورنذرانے پیش کرنا… اے مسلمانو!… اے ایک اللہ کے
عابدو!… یہ سب کچھ بہت خطرناک ہے،بہت خطرناک… اور ریا کاری ان سب سے
زیادہ خطرناک ہے… اپنی دعاؤں میں… شرک اورریاکاری سے حفاظت کی دعاء کو
اہمیت کے ساتھ مقدم رکھیں…
{اَللّٰھُمَّ
اِنِّی اَعُوْذُبِکَ مِنْ أَنْ اُشْرِکَ بِکَ شَیْئًا وَّاَنَا اَعْلَمُ
بِہٖ… وَاَسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَا اَعْلَمُ بِہٖ}
یا
اللہ جان بوجھ کر شرک کرنے سے… آپ کی پناہ پکڑتا ہوں… اور
جو کچھ لاعلمی اور غلطی سے ہو جائے اس پر معافی چاہتا ہوں…
سورۃ
اخلاص کو… پڑھیں، سمجھیں، دل میں بٹھائیں… اور اپنا ورد
بنائیں… معذرت چاہتاہوں جگہ پوری ہوگئی… اور دو باتیں رہ گئیں… یا
اللہ معاف فرما …
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو’’موت‘‘ کی یاد نصیب فرمائے… موت کی تیاری کی
توفیق عطاء فرمائے… اور اُن اعمال کی توفیق عطاء فرمائے جو مرنے کے بعد کام
آئیں… اورہم سب کو اپنے فضل سے بہت اچھی موت عطاء فرمائے… ایک
اللہ والے بزرگ حضرت مولانا عبدالرحیم متالی صاحب… انتقال فرما
گئے ہیں… انڈیا کے صوبہ گجرات کے ضلع سورت میں ولادت ہوئی… دین کا علم
پایا… خوشخطی سیکھی، حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب رحمۃ
اللہ علیہ سے بیعت ہوئے… آپ کے کاتب رہے… خلافت پائی اور افریقہ کے
ملک’’زیمبیا‘‘ تشریف لے گئے… چپاٹا نامی شہر میں ایک بڑا دینی مدرسہ’’معہد
الرشید‘‘ قائم فرمایا… ان کی حسنات میں سے ایک بھاری نیکی یہ بھی تھی
کہ… جہاد فی سبیل اللہ سے محبت رکھتے تھے اورحسب استطاعت تعلق
قلبی بھی… اچھے مدرس اور شیخ طریقت تھے… عملیات میں بھی مہارت تھی… دینی
وجاہت کا یہ عالم تھا کہ… وہاں کے لوگ انہیں کنگ یعنی ’’بادشاہ‘‘ کہتے
تھے… افریقہ کے مدارس وغیرہ میں انگریزی زبان ہی چلتی ہے… زبان کوئی
اچھی یا بری نہیں ہوتی… صرف’’عربی‘‘ کو فضیلت حاصل ہے… باقی سب زبانیں
برابر ہیں… ان زبانوں میں اچھا کام کرو تو اچھا ہے… بُرا کام کرو تو
بُرا ہے… بلکہ کوئی عربی میں کفر والحاد بکے… اور دوسرا انگریزی میں دین
کی دعوت دے تو یہاں انگریزی والا ہی کامیاب ہوا… حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ
کو جب ہم نے دیکھا تھا تو ماشاء اللہ کمزوری اور بڑھاپے سے بہت دور
تھے… روزآنہ ورزش اور چہل قدمی کا معمول تھا… ہاتھ اور دل کے سخی اور
بڑے دسترخوان والے مہمان نواز تھے… ذکر اللہ بہت سوز اور توجہ سے کرتے
تھے… انتقال کی خبر ملی تو دکھ ہوا… عمر کی تحقیق کی تو اڑسٹھ سال معلوم
ہوئی… ماشاء اللہ اچھی عمر ہے اور ساری دین اور دین کے ماحول میں
گزری… اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے…قارئین سے
بھی اُن کے لئے… دعاء اور ایصال ثواب کی درخواست ہے… آج کل تو ہمارے
چاروں طرف بس موت ہی کا رقص نظر آرہا ہے…ہمارے مہربان اور محبوب آقا حضرت مدنی
صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کثرت کے ساتھ موت کو یاد کرنے کا حکم فرمایا
ہے… ایک ’’امام‘‘ فرماتے ہیں!موت کو کثرت سے یاد کیا کرو… تین انعامات
ملیں گے:
(۱) جلدی اور سچی توبہ…
(۲) دل کی قناعت… یعنی دنیا
میں جو کچھ ہے وہی کافی ہے… مزید کی حرص نہیں…
(۳) عبادت میں نشاط… یعنی دل لگنا…
اور
جو موت کو بھول جاتا ہے اُسے تین سزائیں ملتی ہیں…
(۱) توبہ میں سستی… ٹال
مٹول… یعنی یہ خیال کہ کچھ عرصہ بعد کر لیں گے…
(۲) قناعت سے محرومی یعنی ہروقت
مزید بنانے… مزید پانے اور مزید حاصل کرنے کی فکر اور پریشانی…
(۳) عبادت میں سستی…
اللہ
تعالیٰ نے موت بھی عجیب چیز بنائی ہے… بالکل حتمی، بالکل یقینی اور
بالکل اجنبی… بس ایک جھٹکا لگتا ہے… اور قصور(یعنی محلّات) کے بسنے والے
قبور میں جا گرتے ہیں… وہ جوسب کچھ کھاپی رہے تھے اب خود کیڑوں کی خوراک بنے
پڑے ہیں… وہ جو خوب بن سنور رہے تھے اب مٹی میں آلودہ اور بارش ہو توکیچڑ
میںلت پت ہیں…
وہ
جو حسین بدنوں کے ساتھ کھیلنے کی فکر میں گھلتے تھے… اب بدنما سانپ ان کے بدن
سے کھیل رہے ہیں… اور زمین کے اندرونی جانور ان کی حسین آنکھیں نکال کر کھا
رہے ہیں…
{سبحان
من تعزَّز بالقدرۃ وقھر العباد بالموت}
یہ
دنیا بھی… بڑی غفلت کی جگہ ہے… انسان کو چاہئے تو یہ تھا کہ… اپنی
موت کو یاد کرے… اپنی موت کو سامنے رکھے تب وہ بہت سی غلطیوں … اور
گمراہیوں سے بچ جاتا ہے… مگرغفلت دیکھیں! لوگ دوسروں کی موت سے اپنی زندگی کو
سجانا چاہتے ہیں…فلاں مر جائے تو میرا یہ فائدہ… فلاں مر جائے تومجھے یہ
آزادی… فلاں مر جائے تو مجھے یہ سہولت… کبھی کبھار قدرت اس طرح کی سوچ
رکھنے والوں کو ڈھیل بھی دیتی ہے… اورپھر جب رسّی کھینچتی ہے تو کچھ بھی
نہیںبچتا… آگے بھی اندھیرا اور پیچھے بھی اندھیرا… شدّاد کو ڈھیل ملی
کہ… جنت بناتا جائے، بناتا جائے… اپنی ہر خواہش جمع کرتا جائے، کرتا
جائے… سب کچھ تیار ہو گیا تو قدرت نے رسّی کھینچ لی… اسی طرح بعض اوقات
حُبّ دنیا کے مریضوں کے لئے… ان کی راہ میں رکاوٹ تمام افراد مرجاتے
تھے… مکمل اختیارات، مکمل آزادی اور مکمل سہولتیں… مگر اچانک رسی کھینچ
لی جاتی ہے… تب مرنے کے بعد پہلا افسوس یہ ہوتا ہے کہ دوسروں کے مرنے کا
انتظار کرنے کی بجائے… اپنی موت کو مدنظر رکھ کر زندگی گزارتا تو کتنااچھا
ہوتا…تب اُن چیزوں کی خواہش ہی پیدا نہ ہوتی… جن کو پانے کی خاطر دوسروں کی
موت چاہتا رہا… تھوڑا سا سوچیں… ایک شخص کسی جہاز میں ہو… تیس ہزار
فٹ کی بلندی پر… اچانک اس کی سیٹ کے نیچے سوراخ ہو جائے اور وہ گر
پڑے… کیسا منظر ہوگا؟… آنکھیں بند کر کے اندازہ لگائیں… کیا اس کے
ہوش وحواس سلامت رہیں گے؟… حالانکہ یہ شخص ضروری نہیں کہ مرجائے… بچ بھی
سکتا ہے… اور بلندی بھی تیس ہزار فٹ کی ہے… مگر جوموت کا اصلی جھٹکا لگے
گا… وہ ایک عالَم یعنی جہان سے دوسرے جہان میں گرنا ہوگا… اور بچنے کا
کوئی امکان نہیں…بتائیے! اس وقت کیا حالت ہوتی ہوگی… اسی لئے تو موت کے وقت
آنکھیں پتھرا جاتی ہیں… ان حالات میں کلمہ طیبہ یاد رہے… اللہ
تعالیٰ کا ذکر یاد رہے… اس کے لئے محنت کی ضرورت ہے… اور کلمہ کو
دل میں بٹھانے اور جمانے کی ضرورت ہے… ایک اورمثال دیکھیں… کسی الگ تھلگ
صحرا میں رات کی شدید تاریکی میں… آپ اکیلے جارہے ہیں… اچانک کوئی بہت
بڑا سانپ یا جن بالکل سامنے آکر… آنکھوں میں آنکھیں ڈال دے… یا
شیرحملہ کر دے… ہوش سلامت رہے گا؟… حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین کو ہم سے زیادہ’’شہادت‘‘ کے فضائل معلوم تھے… اوروہ ہم سے زیادہ شہادت
کے طلب گار اور مستحق تھے… اور ان کے اعمال ہمارے اعمال سے بہت زیادہ اونچے
اور امید افزا تھے… مگروہ موت کو یاد کرتے تو روتے روتے ہچکیاں بندھ جاتی
تھیں… قبروں پر جاتے تو روتے روتے داڑھیاں تر ہوجاتی تھیں…اور موت کا تذکرہ
کرتے تو اس جہان کی ہر چیز اُن کو مٹی سے بھی کمتر لگنے لگتی… وجہ کیا
تھی؟… وہ موت کو جانتے تھے… دنیا کی سب سے بڑی
مصیبت… موت… قرآن پاک فرماتا ہے…
فَاَصَابَتْکُمْ
مُّصِیْبَۃُ الْمَوْتِ (مائدۃ:۱۰۶)
دنیا
کی سب سے بڑی ہیبت ناک خبر… موت… اوردنیا کا سب سے خوفناک منظر
موت… یہی وہ امتحان کا وقت ہے کہ… جس میں کامیابی ہمیشہ کی کامیابی
ہے… اور جس میں ناکامی ہمیشہ کی ناکامی ہے… یہی ساری زندگی کی محنت کا
حاصل ہے کہ… انجام کیسا ہوتا ہے؟… اچھا ہو جائے تو… موت خیر
ہے،موت’’حیاۃ‘‘ہے… موت سعادت ہے… اورموت راحت ہے… اور
اگرخدانخواستہ بُرا ہو جائے تو موت واقعی… عظیم ترین مصیبت ہے… اس لئے
ضروری ہے کہ جب بھی کوئی نیک عمل کریں… موت کو یاد رکھیں… اور اچھی موت
کی دعاء مانگنا نہ بھولیں… کسی مقبول بندے سے دعاء کرانے کا موقع ملے تو حسن
خاتمہ اوراچھی موت… خصوصاً شہادت کی دعاء پہلے کرائیں…دنیا کے مکان اورمسائل
کی بعد میں… اپنے پاس کوئی امانت ہو تو موت کو یاد کر کے اس کی ادائیگی کی
فکر کریں کہ… میرے مرنے کے بعد یہ میرے لئے وبال نہ بن جائے… کسی امانت
یا اجتماعی چیز کو ایک منٹ کے لئے بھی نہ چھپائیں… کیا پتہ اسی وقت موت
آجائے… معلوم نہیں اس چیز کو استعمال کون کرے گا؟… مگر اس کا عذاب
چھپانے والے کو بھگتنا پڑے گا… بہت غصہ آئے تو… اسے نافذ کرنے سے پہلے
سوچ لیں کہ… میں نے مرنا ہے… بہت تفکرات پیدا ہوں تو… یقین کریں کہ
میں نے مرجانا ہے ان میں سے کونسی فکر ٹھیک ہے اور کونسی غلط؟… لوگ صدیوں کی
فکروں میں اپنا وقت اور اپنا دین ، ایمان برباد کرتے رہتے ہیں… اولاد تو
اولاد پوتوں، نواسوں کے لئے بھی… حرام جمع کرنے سے دریغ نہیں کرتے…
زمین
غافل انسان پر آواز لگاتی ہے…
او
میری پیٹھ پر چلنے والے… کل تو میرے پیٹ کے اندر ہو گا…
اے
میری پیٹھ پر ہنسنے والے… عنقریب تو میرے پیٹ میں روئے گا…
اے
میری پیٹھ پر خوشیاں منانے والے… عنقریب تو میرے پیٹ میں بہت غم دیکھے
گا… اے میری پیٹھ پر گناہ کرنے والے… عنقریب تو میرے پیٹ میں عذاب پائے
گا… آج چاروں طرف موت کا رقص ہے… مگر موت کویاد کرنے والے… یعنی
دل کی گہرائی سے اس بات کا یقین کرنے والے کہ… ہم کسی بھی لمحے مر سکتے
ہیں… تواس کے لئے کچھ تیاری کریں… بہت کم لوگ ہیں… اسی لئے ظلم،
فساد اور گناہ عام ہیں… موت کی یاد انسان کو ترقی دیتی ہے… انسان کو
پاکیزہ بناتی ہے… انسان کے اخلاق کو اچھا کرتی ہے… اور انسان کو انصاف
پر لا کر ظلم سے بچاتی ہے… امریکہ میں ایک نوجوان شخص نے… اسکول میں گھس
کر بیس چھوٹے چھوٹے بچوں کو قتل کر دیا… سات دیگر افراد کے ساتھ اپنی ماں کو
بھی قتل کردیا… بڑا بھیانک واقعہ ہے… پاکستان میںہوتا اور خدانخواستہ
کسی مسلمان کے ہاتھ سے ہوتا تو میڈیا کے واہیات شور سے کان پھٹتے… مدارس پر
تنقید ہوتی… اسلام کا مذاق اڑایا جاتا… اقوام متحدہ کے ریلے
چلتے… طرح طرح کے فنڈ اور ایوارڈ قائم ہوتے… اسلام، جہاد اور مسلمانوں
کو ہر گالی دی جاتی… انگریزی، عصری تعلیم کو عام کرنے پر لمبے لمبے لیکچر
ہوتے… اسلامی معاشرے کی وحشت اور مغربی معاشرے کی امن پسندی پر کالموں کی
برسات ٹرٹراتی… اور سب سے زیادہ ہدف جہاد فی سبیل اللہ کو بنایا
جاتا… مگر اب ایک مہیب سی خاموشی ہے… کیونکہ قاتل مسلمان نہیں عیسائی
تھا… کسی مدرسے کا طالب علم نہیں… جدید تعلیم یافتہ تھا… کسی
قبائلی معاشرے کا نہیں… امریکی شہری تھا… اس لئے نہ سؤالات ہیں نہ
خدشات … نہ تعلیم کو کوئی خطرہ ہے نہ تہذیب کو… نہ تجزیئے ہیں اور
نہ ناپاک مشورے… بس تھوڑا سا افسوس ہے جو چند دن میں ختم ہو جائے
گا… چھوٹے بچوں کا قتل کسی کے لئے بھی قابل قبول نہیں ہے… لاشیں دیکھ کر
ہمارا دل بھی بھر آتا ہے کہ… بچہ بہرحال بچہ ہوتا ہے … الفت، معصومیت
اور محبت کا حسین استعارہ… کاش امریکہ والے اس واقعہ سے سبق حاصل
کریں… موت کے اس پیغام کو سمجھیں… اور دنیا بھر میں مسلمان بچوں کے
لئے… انہوں نے جو مذبح خانے کھولے ہیں ان کو بند کر دیں…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ نے’’علم‘‘ اور’’علماء‘‘ کو بہت اونچا مقام عطاء فرمایا ہے…
یَرْفَعِ
اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ
(مجادلہ:۱۱)
لوگ’’مُردہ‘‘
ہیں جبکہ اہل علم’’زندہ‘‘ ہیں… عالم کا مقام دوسرے ایمان والوں سے سات سو
درجے اونچا ہے… علماء آسمان کے ستاروں کی طرح ہیں، جن سے لوگ روشنی اور
راستہ پاتے ہیں… اللہ تعالیٰ جس انسان کو اپنی’’خیر‘‘ اور ’’مہربانی‘‘
عطاء فرمانا چاہتے ہیں… اُسے دین کا مضبوط علم عطاء فرما دیتے
ہیں… مخلوق میں سب سے افضل حضرات انبیاء علیہم السلام ہیں… اورحضرات
انبیاء کے وارث’’علماء‘‘ ہیں… یہ بہت اونچا اور وجد آفرین جملہ ہے
کہ…’’علماء‘‘ انبیاء دکے وارث ہیں… آج اگر کسی کو ’’بل گیٹس‘‘ یا دنیا کے
کسی اور ارب پتی کا وارث بنا دیا جائے تو… سارے دنیا پر ست اُس پر رشک کرنے
لگیں… حالانکہ فانی مال کے چند قطرے… وہ بھی چند دنوں کے لئے… جبکہ
حضرات انبیاء علیہم السلام کی ’’وراثت‘‘ میں جو کچھ ملتا ہے… وہ فناء ہونے
والا نہیں… ہمیشہ ہمیشہ کام آنے والا ہے… علم کااٹھ جانا
اور جَہالت کا غلبہ پالینا علاماتِ قیامت میں سے ہے…
ان
من اشراط الساعۃ ان یرفع علم ویثبت الجھل(بخاری، مسلم)
اورعلم
اٹھتا ہے… علماء کرام کے اٹھ جانے سے… ارشاد فرمایا:
ولکن
یقبض العلم بقبض العلماء(بخاری)
کہ
علم ایک دم زمین سے اچک نہیں لیا جائے گا… بلکہ علماء کے اٹھنے سے یہ علم
اٹھا لیا جائے گا… اور لوگ’’جاہلوں‘‘ کواپنا سردار بنا لیں گے… امام
غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے روایت لائی ہے کہ… ایک پورے قبیلے کا مرجانا ایک
عالم کے مرنے سے بہت ہلکا ہے… یعنی کم نقصان دہ ہے…
احیاء
العلوم میں روایت نقل فرمائی ہے کہ:
درجہ
نبوت کے زیادہ قریب اہل علم اور اہل جہاد ہیں… (احیاء العلوم)
علم
اللہ تعالیٰ کی صفت ہے… اللہ تعالیٰ نے حضرت
ابراہیم علیہ السلام پر وحی بھیجی کہ اے ابراہیم! میں’’علیم‘‘
ہوں… اور ہر علم والے کو دوست رکھتا ہوں…(احیاء العلوم)
اہلِ
علم… اس اُمت کے تاج ہیں، مینار ہیں… اور محسن ہیں…آسمان کے فرشتوں سے
لے کر سمندر کی مچھلیوں… بلوں کی چیونٹیاں اور تمام حیوانات تک علماء کے مقام
کو محسوس کرتے ہیں… اور اُن کے لئے ’’استغفار‘‘ کرنے کو سعادت سمجھتے
ہیں… دنیا کی کوئی ایسی چیز نہیں جس کے بارے میں حکم دیا گیا ہو کہ… اس
میںمزید اضافہ مانگو… صرف علم کے بارے میں فرمایا گیا…
{وَقُلْ
رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا}
اے
نبی دعا مانگئے کہ… اے میرے رب میرے علم کوبڑھا دیجئے… علم کے فضائل بے
شمار ہیں… قرآن پاک کی آیات… رسول کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کی احادیث… حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین
اوراسلاف کے اقوال… علم اور علماء کی فضیلت کو کھول کھول کر بیان کرتے
ہیں… روئے زمین پر… اصلی اور حقیقی علماء… بہت کم رہ گئے
ہیں… اور وہ بھی ایک ایک کرکے اٹھتے جارہے ہیں… حضرت مولانا عبدالستار
صاحب تونسوی رحمۃ اللہ علیہ … اُن ’’علماء‘‘ میں سے تھے جن کے پاس واقعی
دین کا مضبوط اور راسخ علم تھا… علم کے فضائل انہی جیسے ’’علماء کرام‘‘ کے
لئے ہیں… اُن کی وفات کو دو روز بیت گئے… دل میںہوک سی اٹھتی ہے اوربہت
سے مناظر تازہ ہو جاتے ہیں… ساری امت کے لئے صدمے کا مقام ہے…
اناللہ وانا الیہ راجعون…
بچپن
میں اُن کا ایک جلسہ سنا… ماشاء اللہ کیارعب تھا اور کیا
آواز… شیروںجیسی گرج… اُس زمانے علماء کرام کے پاس اسلحہ نہیں ہوتا
تھا… حضرت اسٹیج پر تشریف لائے تو… اُن کے جسم پر پستول سجا ہوا
تھا… یہ منظر دل کو اچھا لگا… پھر سامنے میز پر کتابیں سجائی گئیں…بیان
شروع ہوا تو یوں لگا کہ… دریا کا بند کھول دیا گیا ہے… بلند موجیں اور
اونچی لہریں… یہاں ایک عجیب بات سنیں… حضرت علّامہ تونسوی رحمۃ اللہ
علیہ حقیقت میں’’جہیر الصوت‘‘ تھے… بہت خوبصورت اونچی، گرجدار اور بلند آواز
کے مالک… مگرعام گفتگو میں اتنا نرم اور آہستہ بولتے تھے کہ… کوئی
اندازہ ہی نہ لگا سکے کہ ان کی آواز اس قدر بلند اور گرجدار ہو گی… بیان میں
کتابوں کے حوالے دیتے… صفحہ نمبر اور سطر نمبر زبانی سناتے اور پھر وہ کتاب
اٹھا کر… اس کا رخ مجمع کی طرف کرتے… سبحان اللہ !… عجیب علم
تھا… باطل فرقے کے تمام علماء کو چیلنج فرماتے کہ… روئے زمین کا کوئی
عالم اس بات کا جواب دے دے تو میری سزا پھانسی اور حکومت کے لئے میرا خون
معاف… حضرت کے یہ ولولے اور چیلنج محض خطابت نہیںتھے… اللہ
تعالیٰ نے آپ پر خاص فضل فرمایا تھا اور علم وتحقیق کے دروازے آپ کے سینے
پر کھول دیئے تھے… بندہ نے خود ان کو… بڑھاپے کی حالت میں باادب بیٹھ کر
گھنٹوں مطالعہ میں گُم دیکھا… کتابوں کی کتابیں ازبر یاد تھیں… اور علم
دین کی ہر صنف پر مکمل عبور رکھتے تھے… زمانے کے بڑے بڑے اساطین علم ان کی
صحبت میں بچوں کی طرح بیٹھ کر استفادہ کرتے تھے… حضرت چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ
جیسے مشہور زمانہ عالمی مبلغ… حضرت تونسوی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد تھے اور
اپنے اس تعلق کو بیان کرنا اپنی سعادت سمجھتے تھے… حضرت مولانا محمد یوسف
لدھیانوی شہید رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت علّامہ تونسوی رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے دو
زانو بیٹھتے تھے… ایک بار اپنے گھر پر دعوت کی… معزز مہمان کو حضرت شہید
رحمۃ اللہ علیہ کے گھر لانا میرے ذمہ لگا… اس پوری دعوت میں… حضرت
لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ … علّامہ تونسوی رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے مکمل
باادب رہے اور آخر میں جب ہدیہ پیش کیا تو وہ بھی لفافہ میں بند اور دونوں ہاتھوں
سے…
جامعۃ
العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں… حضرت مفتی احمد الرحمن صاحب رحمۃ
اللہ علیہ کا زمانہ اہتمام تھا… شعبان کی چھٹیوں میں ملک بھر کے ’’جبال
العلم‘‘ جامعہ میں جمع ہوجاتے تھے… واقعی عجیب منظر… جامعہ کی مسجد کے
دوبلند مینار… اور نیچے جامعہ میں علم و تحقیق کے بلند مَنارے… یہ چالیس
دن کا ’’مناظرہ کورس‘‘ تھا جو بہت اہتمام سے ہر سال منعقد کیا جاتا تھا… دورہ
حدیث کا امتحان دینے والے طلبہ کے لئے اس میں شرکت لازمی تھی جبکہ باقی طلبہ کے
لئے اختیاری… علم و فضل کے اُن’’میناروں‘‘ میں جو سب سے بلند مینار جامعہ کو
شرف بخشتاتھا… وہ حضرت تونسوی رحمۃ اللہ علیہ تھے… اپنی نادر کتابوں کے
کئی بکسوں کے ساتھ تشریف لاتے… اور بہت محبت اور لگن سے طلبہ کرام کو پڑھاتے
باقی حضرات میں…رد عیسائیت کے لئے… حضرت مولانا عبدالرحیم منہاج رحمۃ اللہ
علیہ ،… حضرت مولانا بشیر احمد شورکوٹی رحمۃ اللہ علیہ … ردّ
مرزائیت حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر رحمۃ اللہ علیہ … اور حضرت مولانا
منظور احمد چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ ، ردّ غیر مقلدیت کے لئے حضرت مولانا محمد امین
صاحب صفدر اکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ … اور عمومی چومکھی کے لئے حضرت علامہ
خالد محمود صاحب مدظلہ العالی…
آج
ان حضرات میں سے… صرف حضرت علامہ خالد محمود صاحب مدظلہ العالی حیات
ہیں… اللہ تعالیٰ اُن کے علم و عمر میں برکت عطاء
فرمائے… بلاشبہ وہ ’’جبل من جبال العلم‘‘ ہیں… باقی تمام حضرات چلے گئے،
جانا تو سب نے ہے… علم دین اس اُمت کی ضرورت ہے… اہم ترین ضرورت…
حضرت
امام بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:علم کی ضرورت کھانے پینے کی اشیاء سے بھی
زیادہ ہے… کیونکہ کھانے پینے کا انسان دن میں ایک دو بار محتاج ہوتا
ہے… جبکہ علم کی ضرورت ہر سانس کے ساتھ پڑتی ہے… معاشرے میں اگر راسخ
علم والے علماء کرام موجود ہوں… اور ان علماء کرام کی قدر کی جاتی ہو
تو… فرقہ واریت کا اژدھا اتنا طاقتور نہیں ہوتا،جتنا کہ آج ہر طرف نظر آرہا
ہے… فرقے ہی فرقے ہیں… اورہر شخص کا الگ فرقہ ہے… افغانستان کے
علماء کرام… اپنے علم میں راسخ تھے… وہاں جب تک کسی کو تمام مروّجہ دینی
علوم میں مہارت حاصل نہ ہوتی وہ خود کو ’’مولوی‘‘ کہلانا حرام سمجھتا
تھا… چودہ سے بیس سال تک علم پڑھنے اور دس پندرہ سال علم پڑھانے کے بعد کسی
کو’’مولوی‘‘ کا لقب ملتا تھا… باقی سب’’مُلّا‘‘ کہلاتے تھے… ’’ملّا‘‘
وہاں چھوٹے عالم یا آخری درجے کے طالب علم کو کہا جاتا ہے… افغانستان میں
’’علماء کرام‘‘ کی قدرو منزلت بھی تھی اس لئے وہ بے شمار مسائل اور فرقوں سے محفوظ
رہے… صرف’’چاند‘‘ کا مسئلہ ہی لے لیں… وہاں پورے ملک میںایک
عید… ایک رمضان اور ایک اسلامی تاریخ چلتی ہے… احناف کا اصول ہے
کہ… چاند کے ’’مطالع‘‘ کے اختلاف کا اعتبار نہیں… یہ اصول افغان علماء
کرام نے اپنا لیا… اور تواتر کی حد تک پہنچنے والی خبر کو گواہی کے طور پر
منظور کر لیا… اب جیسے ہی عرب دنیا میںچاند نکلتا ہے تو… مسلمانوں کا
چاند ایک… کے اصول کے تحت افغانستان میں بھی… رمضان و عید کا اعلان ہو
جاتا ہے… نہ رؤیت ہلال کمیٹی، نہ اصلی اور جعلی گواہ… اور نہ الگ الگ
عیدیں… بات دل کو لگتی ہے… مثال کے طور پر آج اگر… حضور اقدس صلی
اللہ علیہ وسلم کا مبارک زمانہ ہوتا اوراسلام پاکستان افغانستان تک
پہنچ چکا ہوتا … خبر ملتی کہ مدینہ منورہ میں چاند ہو گیا ہے اور حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے ہیں… آپ بتائیں! اس وقت
دنیا بھر کے مسلمانوں کا کیا طرز عمل ہوتا؟… وہ روزہ رکھتے یا دوربینیں اٹھا
کر اپنا اپنا چاند تلاش کرنے میں لگ جاتے ؟… خیر یہ ایک مثال تھی… ویسے
بھی افغانستان میں مذہبی فرقہ بندی بہت کم تھی… کیونکہ علماء کا علم راسخ تھا
اور معاشرے میں ان کی قدرو منزلت تھی… چنانچہ نہ وہاں سوویت یونین قبضہ کر
سکا… اور نہ امریکہ، نیٹو اور اُن کے حواری اپنے لئے وہاں کوئی جائے پناہ
دیکھتے ہیں… علم کی برکات بہت زیادہ ہیں… شرط یہ ہے کہ… علم پختہ
ہو، فقہ اور سمجھ کے ساتھ ہو… علم والے خود اپنے علم پرعمل کرتے
ہوں… اور ان کے قلوب دنیا اور دنیا داروں کے رعب سے پاک… اور اللہ
تعالیٰ کی خشیت سے لبریز ہوں… اسلام اور مسلمانوں کے لئے ایسے خالص
علماء کرام… اسی طرح ضروری ہیں جس طرح جسم کو زندگی کے لئے روح کی ضرورت ہوتی
ہے… علماء کے علم کے بغیر… ملک ویران ہوجاتے ہیں… جہاد، فساد بن
جاتا ہے… سیاست، خباثت میں تبدیل ہو جاتی ہے… اور زمین اندھیرے سے بھر
جاتی ہے…ہمارے جو دانشور اور قلم کار ہر وقت علماء کرام کو’’جدید‘‘ بنانے کی فکر
میںگھلتے رہتے ہیں… یہ حضرات نادانستہ طور پر دین دشمنی کے جرم میں مبتلا
ہوتے ہیں… ان سے ادب کے ساتھ درخواست ہے کہ… آپ کسانوں اور کاشتکاروں
کے پاس جائیں اور ان کو لیکچر دیں کہ… کیا کھیتی باڑی میں لگے ہوئے
ہو… لوگ چاند تک جا پہنچے ہیں اور اب مریخ پر اترنے والے ہیں… چھوڑو
کھیتی باڑی… سائنس پڑھو، ٹیکنالوجی پڑھو… اور چاند پرجاؤ… اگر یہ
لیکچر کامیاب ہو گیا تو… یقیناً تمام انسان بھوکے مرجائیں گے… کوئی بم ،
جہاز، برتن اور بجلی کھا کر نہیں جی سکتا…سب امیر اور غریب اب تک آٹا، چاول، اناج
، سبزی اور پھل کھا کر جیتے ہیں… معلوم ہوا کہ کچھ کسانوں اور کاشتکاروں کی
بھی… دنیا کو ضرورت ہے… یہ نہ رہے تو دنیا اپنی ظاہری ترقی کے
باوجود… سسک سسک کر مر جائے گی… کیک اور برگر بھی مشینوں سے نہیں نکلتے
ان میں بھی آٹا، اناج گندم وغیرہ استعمال ہوتی ہے… کاشتکاری میں جدید
ٹیکنالوجی کا استعمال صرف اسی حد تک ہی ہے کہ… جیسے کوئی عالم گاڑی میں بیٹھ
کر مدرسہ چلا جائے… اتنے استعمال کا کوئی مخالف نہیں… بات صرف یہ ہے کہ
انسانیت کو باقی رہنے کے لئے… زیادہ نہ سہی آبادی کے تناسب سے خالص علماء
کرام کی ضرورت ہے… اور سچ یہ ہے کہ جتنے علماء کی ضرورت ہے اتنے موجود نہیں
ہیں… علّامہ مولانا اور مفتی کہلانا کافی نہیں… علم ایک بڑی اور الگ چیز
ہے…اب اگر چند ادارے امت مسلمہ کی یہ ضرورت پوری کرنے کی محنت کر رہے ہیں
تو… آپ اُن کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہیں؟… کیا صرف انہی چند افراد کے
سائنس پڑھ لینے سے… مسلمان اور پاکستان ترقی کر جائیں گے؟… یہ مدارس نہ
تو اسکول کے طلبہ کو اغوا کر کے لاتے ہیں اور نہ کالج، یونیورسٹی پر دھاوا بولتے
ہیں… اسکول اور کالج عصری طلبہ سے بھرے پڑے ہیں… یونیورسٹیوں میں داخلہ
نہیں ملتا کہ اتنا رش ہے… پھر وہاں سے’’ترقی‘‘ کی ہوائیں اور بادل کیوں نہیں
اٹھ رہے؟… سائنس اور ٹیکنالوجی کے بے شمار تعلیمی ادارے ملک میں ہیں پھر ملک
کیوں ترقی نہیں کر رہا؟… کیا وہاں کے طلبہ کو بھی مدارس والے جا کر مدرسوں
میں اٹھا لاتے ہیں؟… بس فضول باتیں ہیں اور بے کار فلسفے… جو دانشور
کھلم کھلا ملحد اورسیکولرہیںاُن کی باتوں سے تو کوئی دکھ نہیں ہوتا… مگر جو
دین دار کہلاتے ہیں وہ جب اس موضوع پر لکھتے اور بولتے ہیں تو دل دکھتا
ہے… باقی رہی’’انتہا پسندی‘‘ تو مدارس میں اس کا کوئی وجود نہیں… مدارس
تو دور کی بات… جو جہادی تنظیمیں اہلِ علم کی باقاعدہ اطاعت میں چل رہی
ہیں… ان میں بھی دور دور تک کسی انتہا پسندی کا نام و نشان نہیں
ہے… حضرت علامہ مولانا عبدالستار تونسوی رحمۃ اللہ علیہ چلے
گئے…ان کے حوالے سے کئی واقعات ذہن میں تھے جو نہ لکھے جا سکے… وہ بندہ کے
استاذ محترم بھی تھے… اللہ تعالیٰ اُن کے درجات بلند
فرمائے… آج کا کالم پڑھ کر… ان شاء
اللہ جو مسلمان اپنے بچوں کو
خالص عالم دین اور مجاہد فی سبیل اللہ بنانے کی … نیت کریں
گے اس کا ثواب اللہ تعالیٰ حضرت الاستاذ تونسوی رحمۃ اللہ علیہ کی روح
کو عطاء فرمائے… قارئین سے حضرت علّامہ رحمۃ اللہ علیہ کے لئے دعاء اور ایصال
ثواب کی درخواست ہے…
ان
للہ ما اعطیٰ ولہ ما أَخذ وکل شی عندہ باجل مسمٰی
اللّٰھم
لاتحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ میری اور آپ سب کی… شرک، کفر، تکبر، حبّ جاہ، حبّ دنیا اور ریا
کاری سے حفاظت فرمائے… آج کل پاکستان کے عوام نے سب کو خوش کرنے کی ٹھان
رکھی ہے… جو بھی جلسہ ہو یا اجتماع… جس کا بھی ہو اور جیسا بھی… ہر
طرف مجمع ہی مجمع ہے… مجمع ہی مجمع… اب یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ لوگ کس
کے ساتھ ہیں؟… جو بھی کھڑا ہو جائے اور جہاں بھی کھڑا ہو جائے… ہزاروں
لاکھوں افراد جمع ہوجاتے ہیں… اور لیڈروں کی روح کو اندر تک خوش کر دیتے
ہیں… تب ہر لیڈر خود کو بہت مقبول سمجھ کر طرح طرح کی حرکتیںکرنے لگتا
ہے… مینارپاکستان کو ہی لے لیں… پچھلے کچھ عرصہ میں وہاں کس کا جلسہ
ناکام ہوا ہے؟… کپتان جی کا جلسہ کامیاب رہا… ایسا کامیاب کہ وہ فوراً
خود کو وزیراعظم سمجھنے لگے… اس جلسے کے چند دن بعد اخبار میں ایک کالم پڑھا
کہ… ایک صاحب’’کپتان جی‘‘ کی منّت سماجت کر رہے تھے کہ… آپ نے اپنے
مخالفین سے کوئی حکومتی انتقام نہیں لینا… کپتان جی نے کافی سوچ بچار اور لیت
ولعل کے بعد کہا… چلو جی!ٹھیک ہے !! کسی سے بدلہ شدلہ نہیں لیں گے… دفاع
پاکستان کونسل والے آئے ان کا جلسہ بھی کامیاب رہا… گلوکار ابرار نے جلسہ
کیا… وہ بھی کامیاب رہا… اور اب’’شیخ جی‘‘ نے بھی بڑا جلسہ کر ڈالا
ہے… اور مجمع دیکھ کر وہ بھی وزیراعظم سے کم کسی عہدے کے لئے خود کو مناسب
نہیں سمجھ رہے… اُدھر کراچی میں مزارجناح کے قریب چوپال سجا… کپتان
جی… دفاع پاکستان… جمعیۃ علماء… اور پھر خواتین کا جلسہ… سب
ہی زور دار رہے اور عوام نے ہر کسی کو خوب نوازہ اور مغالطے میں ڈالا… عجیب
بات یہ ہے کہ کسی کا جلسہ کسی سے کم نہیں تھا… البتہ ہر ایک کا دوسرے سے بڑا
تھا… اور تو اور پرویز مشرف کا جلسہ بھی وہاں ایسا کامیاب رہا کہ… اُس
نے دھوکا کھا کر فوراً واپسی کی تاریخ دے ڈالی… آج اس تاریخ کو سال سے زیادہ
گزر چکا ہے… پاکستان کے شہر تو درکنار… کسی نالی یا گٹر میں بھی پرویز
مشرف نامی جرثومہ دریافت نہیں ہو سکا… لیکن اس بے بسی اور بے کسی کے باوجود
آج اگر وہ کہیں جلسہ رکھے توپھر… مجمع ہی مجمع ہوگا… کیونکہ عوام نے ہر
جلسے میں جانے، ہر لیڈر اور پارٹی کو بے وقوف بنانے… اور ہر کسی کو دھوکے میں
ڈالنے کا پکا فیصلہ کر رکھا ہے… حالانکہ کچھ عرصہ پہلے تک یہ صورتحال نہیں
تھی… لوگ بہت کم اور بہت سوچ سمجھ کر جلسوں میں جاتے تھے… دوسری طرف
میڈیا ہے کہ… اُس نے بھی ہر کسی کو کیمرے کی روشنی میں نہلا دیا
ہے… یہاں تھوڑا سا سوچیں… مجمع بہت ہے… اور کیمرے بھی ان گنت
ہیں… مگر زمینی صورتحال یہ ہے کہ نہ مجمع کسی کے کچھ کام آرہا ہے اور نہ
میڈیا پر مقبولیت سے کسی کا کوئی مسئلہ حل ہو رہا ہے… دفاع پاکستان والوں کا
بارعب مجمع… اپنے پہلے مطالبے کو نہ منواسکا…نیٹو سپلائی کے ٹرک دھڑا دھڑ
پاکستان سے گزر کر… صلیبی فوجیوں کو چارج کر رہے ہیں… شراب سے لے کر
پیمپر تک… خنزیر کے گوشت سے لے کر اسلحے تک… تیل اور ڈیزل سے لے کر چائے
کافی تک… ہر چیز اُن تک پاکستان کے راستے جار ہی ہے… جلسوں میں گھوڑے
بھی دوڑے… نعرے بھی گرجے، دھمکیاں بھی چمکیں… اور مجمع اتنا کہ شیخ رشید
اور اعجاز الحق نے کبھی خواب میں بھی نہ سوچا ہو گا…
مگر
مسئلہ ابھی تک ایک بھی حل نہیں ہوا… مقصد تنقید نہیں ہے…ہمیں تو دیندار لوگوں
کا مجمع اچھا لگتا ہے… بتانا یہ مطلوب ہے کہ ہر طرف مجمع بہت ہے مگر سمندر کی
جھاگ ہے… کپتان نے ڈرون حملوں کے خلاف مارچ چلایا… لانگ مارچ… پتا
نہیں کہاں کہاں سے جن، بھوت ،پریاں بلوائیں… چلو لوگ کسی طرح تو جمع
ہوجائیں… میڈیا پر بہت دھوم دار مہم چلی…واقعی لوگ جمع ہوئے… پچیس ہزار
گاڑیاں اور ہزاروں افراد… نتیجہ کیا ملا؟… ڈرون حملوں میں مزید شدّت
آگئی… اب کپتان اگر اسی مجمع سے یہ امید لگائے بیٹھا ہے کہ… وہ اُسے
وزیراعظم بنا ڈالے گا تو اس غلط فہمی کا کیا علاج کیا جا سکتا ہے؟… حید
رآباد میں نئے پیر پگاڑا صاحب نے جلسہ بلایا… ہر طرف مجمع ہی مجمع
تھا… کہتے ہیں کہ پانچ لاکھ افراد جمع تھے…نتیجہ کیا نکلا؟… پنجاب میں
پیرجی کا رہنما بھاگ کر دوسری پارٹی کے تیر پر اڑتا ہوا لاہور کے گورنر ہاؤس میں
جا گرا… ہم خوش نصیب پاکستانیوں کا نیا لیڈر… بلاول بھٹو زرداری ،
برطانیہ سے پڑھ لکھ کر واپس آیا ہے… پہلے جلسے میں ہر طرف مجمع ہی مجمع
تھا… اور اس مجمع میں ایک ولایتی بچہ لکھی ہوئی تقریر سناتا رہا… مجمع
سنتا رہا،جھومتا رہا، داد دیتا رہا… اُدھرنون لیگ والوں کے جلسے
دیکھیں… وزیراعلیٰ پنجاب نے قومی ترانے کے لئے دسیوں ہزار کا مجمع جوڑ
کر… عالمی ریکارڈ تہس نہس کر دیا… خلاصہ یہ ہے کہ کسی کے پاس آج کل
مجمع کی کمی نہیں ہے… ہر لیڈر خوش ہے، ہر پارٹی مطمئن ہے… ہرخطیب کا سر
بلند ہے… اور ہر شہرت پسند کی باچھیں کِھلی ہوئی ہیں… اخلاص کے ساتھ
اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت کرنے والے نہ مجمع کی سوچتے ہیں اور نہ
شہرت کی… وہ تو اپنا سب کچھ لُٹا کر اور اپنا سب کچھ مٹا کر دین کو چمکانا
چاہتے ہیں… میڈیا پر کسی کا نام سن کر اُن کے منہ سے رال نہیں ٹپکتی کہ یار!
ہم تو رہ گئے… فلاں بڑا آدمی ہوگیا… استغفر اللہ … میڈیا پر
نام آنے سے کوئی بڑا ہوتا تو… نعوذ باللہ ! کیسے گندے اور ناپاک گلوکار، فنکار بڑے لوگ
ہوجاتے… کسی کی ظاہری شہرت دیکھ کر دل میں حسرت یا لالچ کا آنا… بدترین
ریاکاری اور بہت بُری ناکامی ہے… نام تو مجرموں کے بھی خوب اچھلتے ہیں…دنیا
کا مال و اسباب اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے پاس… اللہ
تعالیٰ کے دوستوں سے زیادہ ہے… جب روم و فارس کے بادشاہ… ریشم کے
بستروں اور سونے کے تخت پر تھے تو… سب سے بڑے انسان… حضرت سیدنا محمد
صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھردری چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے… اور جناب
عمر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر
چٹائی کے نشانات دیکھ کر رو رہے تھے… تب انہیں تنبیہ فرمائی گئی
کہ… ایسا سوچنا درست نہیں ہے… وہ کافر ناکام … اُن کو چار دن
کا عیش یہیں دنیا میں مل گیا ہے… اور پھرہمیشہ ہمیشہ کی ناکامی، عذاب اور آگ
ہے… کیا ایسے عارضی عیش و آرام کو کامیابی سمجھا جا سکتا ہے؟… حضرت عمر
بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ایک خط میں عجیب بات تحریر
فرمائی… لکھتے ہیں:
یہ
دنیا اللہ تعالیٰ کے اولیاء کی بھی دشمن ہے… اور اللہ
تعالیٰ کے اعداء(یعنی باغیوں) کی بھی دشمن ہے… یہ اللہ
تعالیٰ کے اولیاء کو رنج پہنچاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں
کو مغالطہ(دھوکہ) دیتی ہے…(احیاء العلوم)
واقعی
اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو… دنیا میں اپنی کامیابیاں اور ترقی
دیکھ کر دھوکہ ہونے لگتا ہے کہ… وہ برحق ہیں… وہ کامیاب ہیں اور اُن کا
طریقہ ٹھیک ہے… لیکن مرتے ہی پتا چلتا ہے کہ سب کچھ دھوکہ تھا خالی
دھوکہ… یہاں کی کوئی بھی ظاہری ترقی آگے ساتھ نہ جا سکی… مسلمان تو
کبھی بھی شہرت اور مال کا پجاری نہیں تھا… خصوصاً مجاہدین اور دیندار
لوگ… ہمیشہ خود کو مٹاتے رہے… اپنے عمل کو چھپاتے رہے… مگر اب
میڈیا پر مقابلہ ہے اور شہرت پسندی کے وہ مناظر ہیں کہ دل افسوس کے ساتھ روتا ہے
کہ… اے مسلمان! تجھے کیا ہو گیا ہے؟… یاد رکھیں! میڈیا اس وقت اسلام اور
مسلمانوں کا سب سے خطرناک دشمن ہے… یہ ایسا سانپ ہے کہ جس کی دُم کی طرف بھی
مُنہ ہے… بہت زہریلا، بہت خطرناک… اگر کسی نے اپنے جہاد، اپنے دین اور
اپنے عمل کو بچانا ہے تو… اُسے میڈیا سے کچھ فاصلہ رکھنا ہو گا… اور
اپنے خالص اسلامی ذرائع ابلاغ پر انحصار کرنا ہو گا… باقی جب آپ کا کام
مضبوط اور رخ سیدھاہو گا تو… میڈیا مجبور ہو کر خودآپ کو نمایاں کرے
گا… مگر اس وقت بھی کسی چکر میں پھنسنے کی حاجت نہیں… رشک کے قابل یہ
بات نہیں کہ فلاں کا اتنا نام آگیا… رشک کے قابل تو یہ ہے کہ فلاں نے اتنی
بڑی قربانی دے دی اور اس کا نام تک کہیں نہیں آیا… ہاں! وہ عقلمند اپنا سارا
عمل ہی اپنے لئے بچا کر لے گیا… رشک کے قابل یہ نہیںکہ فلاں کے پاس اتنے
اسباب، اتنے اختیارات… اور اتنا پروٹوکول ہے… سب عارضی، سب
فانی… سب پانی کے بلبلے کی طرح وقتی… رشک کے قابل تو یہ بات ہے کہ فلاں
نے دین کا کتنا کام کیا؟… ہم بھی کچھ اخلاص اور قربانی کے ساتھ کر کے اپنے رب
تعالیٰ سے ملاقات کا منظر اور لمحہ حسین بنائیں… حضرات صحابہ کرام اور اسلافِ
اُمت کو جب اللہ تعالیٰ نے دین کے مقبول کام… اور بڑی بڑی
قربانیوں کے بعد لوگوں میں عزت اور شہرت عطا فرما دی تو وہ… اور زیادہ خوفزدہ
رہنے لگے… اور زیادہ عبادت کرنے لگے… اور زیادہ اللہ تعالیٰ
کے سامنے رونے اور گڑ گڑانے لگے… یا اللہ !… ہمارے اعمال کا بدلہ
اسی دنیا میں ہمیں نہ دے دیجئے… یہ تو کل ختم ہو جائے گی… یا اللہ
! لوگوں کی شہرت اور عزت سے ہمیں شیطان کسی دھوکے، فریب اور غفلت میں نہ ڈال
دے… یا اللہ !… لوگوں کی محبت اور اطاعت ہمیں ظالم نہ بنا دے
کہ… اپنے ماتحتوں پر ظلم کرنے لگیں… یا اللہ ! لوگوں کی محبت اور
اطاعت کو ہم اصل نعمت سمجھ کر اسی میں الجھ کر نہ رہ جائیں کہ… ہر وقت اسی کو
بچانے اور بڑھانے کی فکر میں گُھلتے رہیں… اور اپنی ناک، عزت اور عہدے کی
خاطر ناحق خون بہائیں… حرمتوں کو پامال کریں… اور اپنی آخرت کو ویران
کریں… ایک بزرگ نے اپنے ایک مرید اور شاگرد کو دیکھا کہ… لوگوںمیںبہت
مقبول اور محبوب ہو چکا ہے… ہر کوئی اس کی خدمت اور اطاعت میں لگا ہوا
ہے… انہوں نے فرمایا…بیٹا! تمہارے لئے حالات خطرناک ہو چکے
ہیں … تواضع کے لئے ایک نسخہ بتایا کہ روزآنہ یہ کام کیا کرو… مگر
مرید کی ناک بڑی ہو چکی تھی اور اس کے لئے لوگوں کی عزت گلے کی رسّی بن چکی
تھی… وہ سمجھا شیخ صاحب! کو حسد ہو گیا ہے … اُن سے میرا مقام
برداشت نہیں ہو رہا… اب مجھے رسوا کرنا چاہتے ہیں… چنانچہ نسخہ پرعمل سے
انکار کر دیا… کچھ عرصہ بعد زمین نے کروٹ بدلی… اوربڑھاپے کی حالت میں
وہ لوگوں کے دروازے پر بھیک مانگ مانگ کر کھانے پر مجبور ہو گیا… ہمیںمجمعوں
کی گونج اور میڈیا کی چمک کے دوران کبھی… کسی اداس شام قبرستان بھی جانا
چاہئے تاکہ پتا چلے کہ… انسان نے اپنے ساتھ کیا لے جانا ہے… حالانکہ لوگ
مال، ناک اور عزت کی خاطر قتل جیسا عظیم گناہ تک کر ڈالتے ہیں… حضرت عمر بن
عبدالعزیزؒ نے اپنے عاملوں… یعنی گورنروں اور عہدیداروں کو تحریر فرمایا:
’’تم کو آج لوگوں پر ظلم کرنے کی قدرت حاصل ہے… مگر جب کسی پر ظلم کا ارادہ
کرو تو یادرکھنا کہ تمہارے اوپر بھی اللہ تعالیٰ قادرہے… اور اس
بات کو خوب سمجھ لینا کہ جو کچھ ظلم و ستم تم لوگوں پر کرو گے وہ اُن پر گذر جائے
گا مگر تم پر باقی رہے گا اور یہ بھی جان لو کہ اللہ تعالیٰ مظلوموں
کے انتقام میں ظالموں کو پکڑے گا‘‘…(احیاء العلوم)
طاہر
القادری صاحب کو سب سے پہلے حرم شریف میںدیکھا تھا… مسجد حرام کی تیسری چھت
پر… اس وقت وہ جوان تھے سیاہ اور پوری ڈاڑھی… تازہ تازہ ٹی وی پر آئے
تھے…تو حرم میں بھی لوگوں نے پہچان لیا اور کئی لوگ مصافحہ کو آئے… بندہ اُن
کے ساتھ بیٹھا تھا مگر مصافحہ کی سعادت حاصل نہ کی… حرم شریف میںلوگوں سے
ملنے ملانے کی طرف توجہ کم ہی جانی چاہئے… اُس وقت وہ مبلغ اور خطیب تھے پھر
سب نے دیکھا کہ انہوں نے کیا کیا روپ بدلے… اُس دن مینار پاکستان پر اُن کے
جلسے کی تصویر آئی تو ایک نئے روپ میں نظر آئے اور داڑھی برائے نام ہی رہ گئی
ہے… امریکہ کے ایک مسلمان صحافی نے بہت عجیب حالات لکھ کر بھیجے ہیں
کہ… گذشتہ دو ڈھائی سال میں طاہر القادری صاحب کو امریکہ میں کس طرح سے
مسلمانوں کے خلاف قابل استعمال بنایا گیا ہے… انہوں نے اُن امریکی عہدیداروں
کے باقاعدہ نام دیئے ہیں جو قادری صاحب کے سرپرست ہیں… جہاد اورمجاہدین کے
خلاف لکھ اوربول کر… باسٹھ سال کی عمر میں دشمنان اسلام کے ہاتھوںاس طرح
کھیلنا؟… دل واقعی لرزتا ہے… پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں جو اکثر فضول
کاموں میں لگی رہتی ہیں اُن کو چاہئے کہ… قادری صاحب سے تفتیش کریں
تاکہ… پاکستان غیر ملکیوں کے ناپاک عزائم کی چراگاہ نہ بنا رہے… قادری
صاحب سے بھی گزارش ہے کہ… زندگی کے کتنے دن باقی ہوں گے؟… اب اللہ
تعالیٰ کے لئے بس کریں… کیا کوئی مسلمان اس طرح سے کافروں کے ہاتھوں کا
کھلونا بن سکتا ہے؟… پاکستان میں امکان ہے کہ عنقریب ایک نگران حکومت قائم کر
دی جائے… قادری صاحب کو اگر اس حکومت میں لیا گیا تو یہ بات مسلمانوں کے
لئے… اور اہل پاکستان کے لئے انتہائی خطرناک ہوگی… اللہ کرے
پاکستان کو اچھے، ایماندار اور دیندار حکمران نصیب ہو جائیں… آپ یقین
کریں… یہاں پر اگر اچھی حکومت آگئی تو ایک ہفتہ میں امن قائم ہو سکتا
ہے… آخر میں یہ افسوسناک خبر کہ… منبر و محراب کی بلند قامت شخصیت حضرت
مولانا محمد امیر بجلی گھر صاحب رحمۃ اللہ علیہ … آج وفات پاگئے ہیں…
{
اناللہ وانا الیہ راجعون}
چند
دن پہلے علم، تحقیق اورمناظرہ کے بلند مینار حضرت تونسوی رحمۃ اللہ علیہ کا سانحہ
ارتحال ہوا… اور اب تبلیغ و خطابت کے سدا بہار شاہکار مولانا بجلی گھر رحمۃ
اللہ علیہ بھی چلے گئے… مولانا کی تقاریر میں… ظرافت اور مزاح کا رنگ
غالب تھا… اور اُن کے لئے اُس زمانہ میں سننے والے بڑے ’’مجمع‘‘ کی کمی نہیں
تھی… جب لوگ ہر کسی کی تقریر میں نہیں جاتے تھے… اور خطباء بڑے مجمع کو
ترستے تھے…ہمارے طالب علمی کے زمانہ میں وہ ایک بار کراچی تشریف لائے تو… اُن
کے جلسہ کا ’’مجمع‘‘ دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے… وہ ہنساتے تھے اور ہنسی کے
لبادے میں دین کی بات سمجھاتے تھے… اخلاص کا یہ عالم تھا کہ بڑھاپے میں بھی
افغانستان سے مجاہد قیدیوں کو… اپنے اثر و رسوخ سے چھڑا کر لائے اور کسی سے
داد تک وصول نہ فرمائی… معروف اوربڑے لوگوں کے جانے کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے
آج ہی کراچی میںمعروف عالم دین اور کراچی کی صاحب خیر’’عالمگیر مسجد‘‘ کے
امام… قاری رفیق الخلیل صاحب کو گولیاںبرسا کر شہید کر دیا گیا ہے… دین
کی خاطر محنت اور قربانی والے لوگوں کے لئے آگے کا جہان اس دنیا سے بہتر
ہے… مگر صدمہ تو ہوتا ہے… خلا بھی محسوس ہوتا ہے… اور دکھ بھی
رُلاتا ہے… حضرت مولانا بجلی گھر رحمۃ اللہ علیہ کے اہل خانہ اور پسماندگان
ہماری طرف سے… تعزیت قبول فرمائیں…
اللہ
تعالیٰ آپ سب کو صبر جمیل … اور مولانا مرحوم کے فیوض و برکات
عطاء فرمائے… محترم قاری رفیق الخلیل صاحب کے اہل خانہ اور پسماندگان
بھی… شہادت کی مبارک اور جدائی کی تعزیت قبول فرمائیں…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ رحمن ہے… ا ﷲ تعالیٰ رحیم ہے… اللہ تعالیٰ
ارحم الرحمین ہے… یا اللہ رحم، یا اللہ رحم، یا اللہ
رحم… بات شروع کرنے سے پہلے ایک مفید و ظیفہ سیکھ لیتے ہیں… قرآن
مجید کی ایک آیت مبارکہ ہے… یہ آیت نازل ہوئی تو شیطان بہت رویا،بہت
چیخا… اس نے اپنے سر پر خاک ڈالی اور چیخ چیخ کر اپنے تمام چیلوں کو جمع کر
لیا… جو سمندر میں تھے وہ بھی جمع ہوئے اور جو خشکی میں تھے وہ بھی
آگئے… بس پھر کیا تھا لاکھوں کروڑوں کا مجمع… مجمع ہی مجمع… آپ
کو معلوم ہے وہ کونسی آیت مبارکہ ہے؟… پوری روایت مصنَّف عبدالرزاق میںموجود
ہے… جی ہاں! یہ وہ آیت ہے جس کے بارے میں اس اُمت کے بہت بڑے
فقیہ… حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا…
اللہ
تعالیٰ نے ہمیں ایک ایسی ’’آیت‘‘ عطاء فرمائی ہے جو میرے نزدیک دنیا و
مافیھا سے زیادہ محبوب ہے… (ابن المنذر)
لیجئے
یہ ہے سورۃ آل عمران کی آیت رقم (۱۳۵)… قرآن مجید لیکر چوتھا پارہ کھولیں…
وَالَّذِیْنَ
اِذَافَعَلُوْا فَاحِشَۃً اَوْظَلَمُوْٓااَنْفُسَھُمْ ذَکَرُوااللّٰہَ
فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ وَمَنْ یَّغْفِرُالذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰہُ
وَلَمْ یُصِرُّوْا عَلٰی مَا فَعَلُوْا وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ
مفہوم
اس آیت مبارکہ کا یہ ہے کہ… اللہ تعالیٰ کے متقی بندوں کی ایک
صفت یہ ہے کہ جب اُن سے کوئی کھلایاچھپا… چھوٹا یا بڑا گناہ ہو جاتا ہے…کوئی
بے حیائی والا کام ہو جاتا ہے… تو وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے
ہیں اور اپنے گناہ پر توبہ اور استغفار کرتے ہیں… اور وہ جانتے ہیںکہ
اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی گناہوں کومعاف نہیں کر سکتا … وہ اپنے
گناہ اور غلطی پر اڑے اور جمے نہیں رہتے… ایسے لوگوں کے لئے اگلی آیت میں
اللہ تعالیٰ نے مغفرت کا وعدہ فرمایا ہے…
اچھا
ہوگا کہ قرآن مجید کھول کر یہ آیت (۱۳۵) آج ہی یاد کر
لیں… اس کے ساتھ ایک اور آیت بھی ہے… اُن دونوںکوملانے سے ایک شاندار
وظیفہ اور جاندار عمل بنتا ہے… وہ دوسری آیت ابھی آتی ہے… پہلے ایک
بات سن لیں… ’’مغفرت‘‘… اللہ تعالیٰ کی بہت ہی عظیم نعمت
ہے… مغفرت کا مطلب یہ ہے کہ ایمان قبول ہو گیا اور اعمال قبول فرما لئے
گئے… سبحان اللہ ! اور کیا چاہئے؟… ایمان کا دعویٰ تو بہت لوگ
کرتے ہیں… سورۃ بقرہ کے دوسرے رکوع کے شروع میں دیکھیں… کچھ لوگ کہتے
ہیں، ہم ایمان لے آئے… حالانکہ وہ’’مؤمن‘‘ نہیں ہیں… اسی طرح اعمال
بہت لوگ کرتے ہیں… مگر کتنے ایسے بد نصیب ہوتے ہیں جن کے اعمال اللہ
تعالیٰ کے ہاںمقبول نہیں ہوتے… ’’مغفرت‘‘ وہ نعمت ہے کہ جسے بھی
اللہ تعالیٰ یہ نصیب فرما دیتے ہیں… اُس کابیٹرہ پارہوجاتا
ہے… اُس کا ایمان بھی قبول… اُس کے اعمال بھی قبول… اسی لئے تو جب
’’سورۃ الفتح‘‘ کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری اور محبوب
ترین نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے’’مغفرت‘‘ کا اعلان
فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی دیکھنے کے لائق
تھی… ہمارے ہاں لوگ’’ مغفرت‘‘ کو چھوٹی چیز سمجھتے ہیں… کسی بزرگ کے
انتقال پر اگر اُن کے لئے’’مغفرت‘‘ کی دعاء کر دیں تو… اُن کے معتقد اور
چاہنے والے ناراض ہو جاتے ہیں کہ… کیا ہمارے شیخ گناہ گار تھے؟… اس لئے
درجات کی بلندی کی دعاء دی جاتی ہے… حالانکہ کسی کے لئے مغفرت کا دروازہ کھلے
گا تو اُسے درجات ملیں گے… مغفرت نہ ملی تو کونسے درجات اور کونسی بلندی؟…
حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لئے’’مغفرت‘‘ کے اعلان پر خوشی
فرمائیں… اورہمیں یہ لفظ چھوٹا لگے… واقعی جہالت کی بات ہے… دراصل
’’مغفرت‘‘ کے معنیٰ اور مغفرت کی حقیقت کو اکثر لوگ نہیں سمجھتے… چند دن پہلے
اللہ تعالیٰ نے توفیق عطاء فرمائی کہ قرآن پاک کی آیات مغفرت،
استغفار ، توبہ اور کفارہ کو دیکھا جائے… ایک عالم و حافظ ساتھی مل
گئے… کسی زمانے اُن کے ساتھ بیٹھ کر’’ آیات جہاد‘‘ کو جمع کیا تھا، اب انہیں
کے ساتھ دو طرفہ تلاوت کی ترتیب بنی… وہ پڑھتے تھے میں سنتا اور میں پڑھتا تو
وہ سنتے… ساتھ ساتھ نشانات بھی لگاتے گئے… فہرست میرے سامنے رکھی
ہے… دو سو سے زائد آیات میں یہ مسئلہ قرآن مجید نے سمجھایا ہے… اب
سمجھ نہیں آرہی کہ ان سب آیات کا ترجمہ لکھا جائے یا خلاصہ… تشریح کی جائے
یا اجمال سے کام چلایا جائے؟… سبحان اللہ ! استغفار عجیب نعمت
ہے… اور توبہ اس سے بھی بڑھ کر… الحمدللہ مسلمان کافی تعداد میں… توبہ اور استغفار
کی طرف متوجہ ہوئے ہیں اور خوب نفع اور فائدہ جمع کر رہے ہیں… اکثر رفقاء اور
اہل تعلق نے ایک ہزار بار استغفار کواپنا معمول بنا لیا ہے… بارہ سو بار کلمہ
طیبہ… ایک ہزار درود شریف اور ایک ہزار بار استغفار… اور تلاوت کلام پاک
یہ چار معمولات بنیادی ہو گئے… مگرعاشقوں کو’’ اللہ اللہ ‘‘ کے
ورد سے بھی شغف رہتا ہے… اور تسبیح… یعنی سبحان اللہ والے
اذکار… ایک بات یاد رکھیںجہاں تسبیح اور استغفار مل جائیں وہاں عجیب رحمتیں
اور نعمتیں نازل ہوتی ہیں… آخری پارے میں سورۃ النصر کی تفسیر پڑھ لیں پوری
بات سمجھ آجائے گی… فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہ…
اس
آیت مبارکہ کے نزول کے بعد… میرے آقا صلی اللہ علیہ
وسلم نے تسبیح اور استغفار کو جن الفاظ سے جمع فرمایا اُن کو پڑھیں
تودل… حلاوت، نور اور مٹھاس سے بھرجاتا ہے… مثلاً
سُبْحَانَکَ
اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ… (بخاری)
اب
ایک اور بات سمجھیں… اگر کلمہ طیبہ، تسبیح اور استغفار تینوں کسی دعاء میں
جمع ہوجائیں تو اس میں…’’اسم اعظم‘‘ کی تأثیر آجاتی ہے… ایسا اسم اعظم کہ
سمندر کی گہرائی میں مچھلی کے پیٹ سے پکارا جائے تو… سیدھا عرش تک جا
پہنچے… حضرت سیدنا یونس علیہ السلام کی ’’دعاء‘‘ جو انہوں نے
مچھلی کے پیٹ میں مانگی… اس میں تینوں چیزیں ہیں… لا الہ الا
انت… یہ ہوا کلمہ مبارکہ… یاد رکھیں کلمہ طیبہ کئی طرح سے پڑھا جاتا ہے
لا
الہ الا اللہ … لا الہ الا انت… لا الہ الاّ ہو…
مگر
جب صرف کلمہ کا ذکر کریں تو’’لا الہ الا اللہ ‘‘ کے الفاظ سے
کریں… ’’سبحانک‘‘ کے الفاظ میں تسبیح آگئی… اور’’انی کنت من الظالمین‘‘
کے الفاظ سے استغفار ہو گیا…
لَّا
اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ۔ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ
کلمہ
بھی، تسبیح بھی… اوراستغفار بھی… اس لئے اس مبارک دعاء میں اسم اعظم کی
تأثیر آگئی ہے… قرآن مجید کی آیات توبہ، آیات استغفار، آیات مغفرت اور
آیات کفّارہ کو ایک بار پڑھ لیں تو ’’مغفرت‘‘ کی ایسی عظمت دل میں بیٹھ جائے
کہ… پھر ہر موقع پر تڑپ تڑپ کر اللہ تعالیٰ سے مغفرت
مانگیں… مقبولیت کے جتنے مقامات ہیں اور جتنے اوقات… میدان جنگ میں جہاد
کی لڑائی کا وقت… حج کے ارکان… اذان و اقامت کے اوقات…ہر موقع پر
اللہ تعالیٰ سے ’’مغفرت‘‘ مانگنی چاہئے… ارے کوئی ہے جو اتنے
عظیم مالک کا حق ادا کر سکے؟… کل سورج کے بارے میں سوچا کہ اس میں اتنی روشنی
ہے، اتنی گرمی ہے تو اسے ’’چارج‘‘ کون کرتا ہے؟… کتنی صدیوں سے وہ چمک
رہاہے… اور معلوم نہیں کب تک وہ روشنی اور حرارت بکھیرتا رہے گا… آج کل
بجلی نہیں ہوتی تو ’’چارج‘‘ ہونیوالے آلات سے کام چلاتے ہیں… آج کے کالم کا
آغاز بھی اسی طرح کی چارج شدہ روشنی میں ہوا… تب سورج کا خیال آتا ہے کہ اس
کی چارجنگ ختم ہی نہیں ہوتی… سبحان اللہ !… میرے مالک کی ایک
ادنیٰ سی مخلوق کی یہ شان اور قوت ہے… تو خود اللہ تعالیٰ کی شان
اور قوت کیا ہوگی؟… کیا ایسے عظیم مالک کا حق ہم ادا کرسکتے ہیں؟… بالکل
نہیں… بس یہی صورت ہے کہ اُن کے احکامات پورے کریں اور ساتھ ساتھ معافی بھی
مانگتے جائیں… استغفار کرتے جائیں… ان کی نظر کرم سے جس کو’’مغفرت‘‘ اور
معافی مل گئی بس وہ کامیاب ہو گا… باقی سب ناکام… اچھا اب اپنے
’’وظیفہ‘‘ کی طرف واپس آتے ہیں…
یہ
وظیفہ اس اُمت کے عظیم فقیہ اور محسن حضرت سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ
عنہ نے بیان فرمایا ہے اور حدیث شریف کی کئی کتابوں میں موجود ہے… مثلاً مصنف
ابن ابی شیبہ،طبرانی اوربہیقی وغیرہ…
’’حضرت
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
قرآن
مجید میں دو آیتیں ایسی ہیں کہ اگر کسی بندے نے گناہ کیا اور پھر ان دو آیات کو
پڑھا اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا تو اسے (ضرور) ’’مغفرت‘‘ عطاء کر
دی جاتی ہے… یعنی اُس کا گناہ معاف کر دیا جاتا ہے …پہلی آیت تو وہی
سورۃ آل عمران(۱۳۵) اور دوسری آیت سورۃ النساء(۱۱۰)
وَمَنْ
یَّعْمَلْ سُوْٓئً ا اَوْیَظْلِمْ نَفْسَہٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِاللّٰہَ
یَجِدِاللّٰہَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا
ترجمہ:
اور جو کوئی بُرائی کرے یا اپنے نفس پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے
استغفار کرے… (یعنی اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور معافی
مانگے… تووہ اللہ تعالیٰ کوبخشنے والا مہربان پائے گا…‘‘
سبحان
اللہ !… کتنا آسان وظیفہ ہے… آج ہی کوشش کر کے دونوں آیات کو
ترجمے کے ساتھ یاد کر لیں… جب بھی گناہ اور غلطی ہووضو کر کے نماز ادا
کرکے… ان دو آیات کو توجہ سے پڑھیں اور پھر سچے دل سے استغفار
کریں… اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور معافی کی پکی امید رکھیں…
ویسے
بھی استغفار سے پہلے ان دو آیات کو پڑھ لیا کریں تو… ان شاء اللہ
استغفار میںزیادہ تأثیر آجائے گی… اور وضو کرنا اور نماز ادا کرنا
بھی کچھ ضروری نہیں مگر بہت بہتر ہے… یہ آیت مبارکہ آئی تو ایک اور بات
سامنے آگئی… ہمارے حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ نے سورۃ النساء کی اس آیت(۱۱۰) کو
بھی بطور مثال کے ’’جہادی مفہوم‘‘ کے ساتھ بیان فرمایا ہے… وہ فرماتے ہیں کہ
من یعمل سوئً ا کہ جو شخص کوئی بُرا کام کرے… تو اس بُرے کام کی مثال یہ دی
کہ مثلاً جہاد کی فرضیت کا انکار کرے… اور او یظلم نفسہ یا اپنے نفس پر ظلم
کرے… کی مثال یہ دی ہے کہ نماز باجماعت ادا نہ کرے… ایسے آدمی کے لئے
ضروری ہے کہ وہ توبہ استغفار کرے… اگر وہ سچے دل سے استغفار کریگا تو
اللہ تعالیٰ نے معافی اور مغفرت کا وعدہ فرمایا ہے… حضرت لاہوری رحمۃ
اللہ علیہ لکھتے ہیں:
’’قرآن
شریف کی تعلیم میں رخنہ ڈالنے کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں، ایک یہ کہ ’’روحِ تعلیم‘‘
اڑا دی جائے… مثلاً جہاد فرض قرار دیا گیا ہے… ایک جماعت پیدا ہو کہ وہ
جہاد کی فرضیت کو اڑا دے تو یہ یعمل سوئً ا میں داخل ہوگا… اور دوسری صورت یہ
ہے کہ حکم کی صورت کو توڑ دیا جائے تو یہ یظلم نفسہ ہوگا… مثلاًکوئی شخص
باجماعت نماز پڑھنے میں نقص(یعنی کمی کوتاہی) پیدا کردے… ان(دو) جرموں کا
مرتکب بھی اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے گا… تو اللہ
تعالیٰ اُسے معاف فرما دے گا۔‘‘
(
حاشیہ لاہوری تفسیر آیت (۱۱۰) سورۃ
النساء)
آج
کا اصل موضوع آیا ہی نہیں اور جگہ پوری ہورہی ہے… آج دراصل’’وقت مقیّد‘‘ پر
بات کرنی تھی کہ… انسان اپنے جس وقت کو پابند، قید اور مقیّد کردے وہی وقت
قیمتی بن جاتا ہے… علم ہو یا سعادت سب’’وقت مقیّد‘‘ ہی سے حاصل ہوتے
ہیں… جبکہ ’’آزاد وقت‘‘ ایک خسارہ اور عذاب ہے… یہ کافی اہم اور ضروری
موضوع ہے… قسمت کی بات کہ آج قلم کی نوک پر آکر رہ گیا… ان شاء
اللہ پر کبھی… آج کی مجلس بھی… چونکہ مجلس استغفار بن گئی
ہے… اس لئے اس کا اختتام استغفار کی ایک مبارک حدیث پر کرتے ہیں… حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
{اربعۃ
فی حدیقۃ قدس الجنۃ}
چار
طرح کے افراد جنت کے خاص مقدس باغیچے میں ہوں گے…
(۱) لا الہ الا اللہ ، کو
مضبوطی سے تھامنے والا جو اس میں شک نہ کریں…
(۲) وہ شخص جو نیکی کرے… تو
اسے خوشی ہو… اور وہ اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد کرے… یعنی
شکر ادا کرے…
(۳) اور وہ شخص جو گناہ کرے… تو اسے بُرا لگے
اور اس پر اللہ تعالیٰ سے استغفارکرے… (یعنی مغفرت مانگے)
(۴) اور وہ جسے کوئی مصیبت پہنچے تو وہ ’’اِنَّا
لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ راجِعُوْنَ‘‘ کہے…
(البہیقی
عن ابی ہریرۃ ذ)
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو اپنی’’عُمر‘‘ قیمتی بنانے کی فکراور توفیق عطاء
فرمائے… کسی ’’ اللہ والے‘‘ کا فرمان ہے… ضیاع الوقت أَشدّ من
الموت… وقت کا ضائع کرنا موت سے زیادہ سخت ہے…کیونکہ وقت ضائع کرنے
والے… اللہ تعالیٰ سے کٹ جاتے ہیں، اُن کے دل سخت اور دماغ کمزور
ہو جاتے ہیں… اور ان کی آخرت خسارے میں چلی جاتی ہے…اچھا ایک بات
بتائیں… ایک شخص ساٹھ سال کی عمر پاتاہے… ان ساٹھ سالوںمیں وہ کتنے سال
نیند میں گزار دیتا ہے؟… تھوڑا سا سوچیں! جی ہاں کم ازکم بیس سال تو نیند میں
گزر جاتے ہیں… بلکہ کچھ زیادہ… ہائے افسوس…اور کتنا وقت بیت الخلاء میں
گذر جاتاہے؟… اور کتنا وقت گپ شپ میں؟… انسان زمین پر اللہ
تعالیٰ کا خلیفہ ہے… اس کی عمر کا وقت اتنا قیمتی کہ… اللہ
تعالیٰ قرآن مجید میں اُس کی قسم کھاتے ہیں… جی ہاں انسان کی عمر کے
زمانے کی قسم… والعصر… اور آگے کیا ہوگا؟… ترمذی میں حضرت عبد
اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے … کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: انسان کے قدم میدان حشر سے
اُس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک اُس سے چارچیزوں کاحساب نہیں لے لیا جائے
گا… پہلی چیز… عن عمرہ فیما افناہ… کہ اپنی عمر کو کس کام میں فناء
کیا؟… تھوڑا سا رک کر ایک عقلمند انسان کی قابل رشک قیمتی زندگی دیکھتے ہیںیہ
ہیں امام ابو حامد غزالی پ، آپ نے بارہا اُن کا نام سنا ہوگا… اُن کی کل عمر
پچپن برس سے کچھ کم بنتی ہے…یہ بھی قمری حساب سے… اگر شمسی حساب لگائیںتو صرف
تریپن سال… مگر اُن کی تصانیف کی تعداد اُن کی عمر کے سالوں سے تقریبا
دُگنی(یعنی ڈبل) ہے… یعنی عمر کے ہر ایک سال میں دو تصانیف… آپ جانتے
ہیں کہ کوئی شخص پیدا ہوتے ہی کتابیں لکھنا شروع نہیں کر دیتا… اور کتابیں
بھی قینچی والی نہیں… بہت بلند پایہ اورعلمی… چھوٹی چھوٹی بھی نہیں…بلکہ
ہرکتاب کافی ضخیم اور کئی تو بڑی بڑی جلدوںوالی… امام صاحب نے تصنیف کا کام
بیس سال کی عمر میں شروع فرمایا… یعنی تیئس سال کے عرصے میں یہ سب کتابیں
لکھیں… اور اس تیئس سال کے زمانے میں بھی دس یا بارہ سال سفر اور اپنی اصلاح
کے لئے خاک گردی میں گزارے… قرآن مجید اور دین اسلام کے علاوہ آپ نے عمر کا
ایک حصہ تورات اور انجیل کے مطالعہ اور تحقیق پر بھی صرف کیا تاکہ… اسلام کی
حقانیت کو خوب مدلّل بیان کر سکیں… پھر عبادت اور معمولات بھی روزآنہ کئی
گھنٹوں کے تھے… تو پھر اتنی زیادہ تصانیف کیسے ہو گئیں؟… بے شک جو اپنی
عمر کو قیمتی بنانے کی فکر، دعاء اور محنت کرتا ہے… اللہ تعالیٰ
اُس کے اوقات کو قیمتی اور بابرکت بنا دیتے ہیں… ایک بات یہ بھی سن لیں
کہ… امام غزالیؒ کا نام’’محمد‘‘ ہے… آپ کے والد محترم کا نام بھی
محمد… اور دادا جی کا نام بھی محمد گویا نسب نامہ یوں بنا…محمد بن محمد بن
محمد… واقعی نام’’محمد‘‘ میں بڑی تأثیر اور عجیب برکت ہے… امام صاحب کی
کامیاب زندگی کا اختتام پتا ہے کیسے ہوا؟… سبحان اللہ ! یہ جمادی
الآخر۵۰۵ھ
پیر کا دن تھا… امام صاحب صبح کے وقت بستر سے اٹھے، وضو کیا، نماز ادا کی پھر
فرمایا… میرا کفن لے آؤ… کفن آیا تو اسے آنکھوں سے لگاتے ہوئے
فرمایا… آقا کا حکم سر آنکھوں پر… یہ کہہ کر پاؤںپھیلا
دیئے… لوگوں نے دیکھا تو انتقال فرماچکے تھے…
اللہ
تعالیٰ اُن کے درجات بلند فرمائے… احیاء العلوم جیسی کتاب لکھ کر پوری
اُمت مسلمہ پر احسان فرمایا… ہو سکے تو احیاء العلوم کا مطالعہ کریں، اردو
ترجمہ ہو چکا ہے اور چار جلدوں میں ملتاہے… اگر وہ مشکل لگے تو امام صاحب نے
خود ہی اُس کا خلاصہ ’’کیمیائے سعادت‘‘ کے نام سے کیا تھا…وہ پڑھ لیں، آنکھیں
روشن ہو جائیں گی… کیمیائے سعادت کا ترجمہ بھی بازار میں آسانی سے مل جاتا
ہے… اگر کیمیائے سعادت کا مطالعہ بھی نہ کر سکیں تو کم از کم… منہاج
العابدین پڑھ لیں… یہ زیادہ بڑی کتاب نہیں بس دوڈھائی سو صفحات کی
ہے… اور ماشاء اللہ لاجواب ہے، کچھ عرصہ پہلے ایک کالم نویس’’حسن
نثار‘‘ نے حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کے خلاف لکھا تو پڑھ کر دل کو سخت تکلیف
ہوئی، مفتی اعظم ہند حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے
کہ اہل کشف نے حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کے مقام کو دیکھا کہ وہ اللہ
تعالیٰ سے مغفرت کا انعام پا گئے… سبحان اللہ ! مغفرت کا
انعام… یعنی سب کچھ قبول اور مقبول… استغفار کے معنیٰ بھی مغفرت مانگنے
کے آتے ہیں… جو اللہ تعالیٰ سے ہر وقت معافی اور مغفرت کی بھیک
مانگتے رہتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے بہت مقرب بندے بن جاتے
ہیں… اور اللہ تعالیٰ ان پر اپنے خاص انعامات کے دروازے دنیا ہی
میں کھول دیتے ہیں… امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے احیاء العلوم اور کیمیائے
سعادت میں استغفار اور توبہ پر عجیب اور مفید صفحات لکھے ہیں… ان کی بعض
بحثیں آج کل کے اعتبار سے مشکل اور طویل ہیں… الحمدللہ … اللہ
تعالیٰ کی توفیق سے بندہ نے اُن کا خلاصہ اور تسہیل لکھ دی ہے… ان شاء
اللہ جلد قارئین کے سامنے آجائے گی… استغفار کی بات آئی تو
اُمت مسلمہ کے ایک اور قیمتی عمر والے بزرگ کا تحفہ بھی لے لیں… یہ ہیںامام
جلال الدین سیوطی پ… نوجوانی میں قرآن حکیم کی ایسی تفسیر لکھنے والے
کہ… صدیاںگزر گئیں بوڑھے علماء کرام بھی… اس نوجوان کی تفسیر پڑھا کر
خوش ہوتے ہیں… اللہ تعالیٰ کی دَین ہے جس کو اپنے فضل سے جو عطاء
فرما دے… اور بھی کئی حضرات ہیں جنہوں نے بظاہر چھوٹی عمر پائی مگر صدیوں
کاکام کر گئے… امام شافعیپ کو دیکھ لیجئے… امام شامی پکو لے
لیجئے… ہمارے شیخ حضرت سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھ
لیجئے… پیتالیس سال کی عمر میں شہید ہوئے… مگر آج بھی یوںلگتا ہے
کہ… کبھی افغانستان کے محاذ پر ہوتے ہیں تو کبھی کشمیر کے محاذ پر… دو
صدیاں گذر گئیں نہ اُن کا جہاد پُراناہوا اورنہ ان کے تذکرے میں کوئی بوسیدگی
آئی… اُسی طرح جذبات سے لبریز اور ایمان سے منوّر… اللہ
تعالیٰ کے دین کی سربلندی… اورجہاد فی سبیل اللہ کے فریضہ
کے احیاء کیلئے کیسا ایمان افروز ’’لانگ مارچ‘‘ فرمایا… لکھنؤ سے پنجتار تک
اور پنجتار سے بالاکوٹ تک… ہر قدم پر نئے ایمانی نقوش… اور ہر منزل پر
جہاد کا نیا جذبہ… اُس مبارک ’’لانگ مارچ‘‘ میں ایمان تھا، جہاد
تھا… قربانی تھی… اور اعلیٰ مقاصد… اب تک ہزاروں صفحات اُس عظیم
سفر پر لکھے جاچکے… بے شک ایک مؤمن کے لئے جہاد سے زیادہ قیمتی کام اور کوئی
نہیں… شرط یہ ہے کہ جہاد شرعی ہو… قربانی والا ہو اور اچھی نیت والا
ہو… آج کل بھی ایک منحوس لانگ مارچ جاری ہے…امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ کے
حکم پر… ڈھول باجے، بے پردگی اور جھوٹے خوابوں والا لانگ مارچ… مسلمانوں
کو اِس لانگ مارچ سے کیا ملے گا؟… اور کونسی تاریخ اس حرام ڈرامے کو یاد رکھے
گی؟… اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں انسانوں کو کامیابی کی
جو’’تعلیم‘‘ دی ہے… اس تعلیم کی ایک روح ہے… اور ایک صورت… یہ
دونوں ضروری ہیں… اور روح زیادہ ضروری ہے… جہاد کی فرضیت کوماننا اس
تعلیم کی روح کا حصہ ہے… حالیہ لانگ مارچ کا لیڈر… جہاد فی سبیل
اللہ کا منکر ہے… اندازہ لگائیں کتنی بڑی بد نصیبی ہے… کتنی
عظیم بد نصیبی… ابھی چند دن پہلے اُس نے’’جہاد کشمیر‘‘ کے خلاف فتویٰ
دیا … اور جہاد کے خلاف کتاب لکھ کر غیر ملکی ’’شہریت ‘‘حاصل
کی… یا اللہ ! اُس کے شر سے اُمتِ مسلمہ کی حفاظت فرما، بات علامہ جلال
الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کی چل رہی تھی انہوں نے استغفار کا ایک عمل لکھا ہے
آج القلم کے قارئین یہ تحفہ قبول فرمائیں، علامہ سیوطی پفرماتے ہیں: جو کوئی
روزآنہ نماز فجر کے بعد تین مرتبہ ان الفاظ کے ساتھ استغفار کرے… تو اسے تین
فائدے… ان شاء اللہ نصیب ہوتے ہیں…
(۱) علم کی فہم اور سمجھ
(۲) مال کی کثرت
(۳) رزق میں وسعت
استغفار
کے الفاظ یہ ہیں:
{اَسْتَغْفِرُ
اللہ الْعَظِیْمَ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ
بَدِیْعُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا مِنْ جَمِیْعِ جُرْمِیْ وَ
اِسْرَافِیْ عَلیٰ نَفْسِیْ وَ اَتُوْبُ اِلَیْہٖ}
اس
کا ترجمہ کسی عالم سے پوچھ لیں اور معمولات کا حصہ بنا لیں… اوپر کے تین
فائدے شائد آپ کو کھٹکے ہوںکہ… مال کی کثرت اوررزق میں وسعت توایک ہی بات
ہوئی… نہیں جناب! ایک بات نہیں… دونوںالگ الگ ہیں… ہر مال رزق نہیں
بنتا… بہت سا مال انسان کوملتا ہے اور وہ ضائع ہو جاتا ہے… بہت سا مال
انسان کا رزق تو دورکی بات الٹا وبال بن جاتا ہے… اور بہت سا مال انسان کے
کسی کام نہیں آتا بلکہ وہ اپنی یہ ساری محنت اور دولت چھوڑ کر مر جاتا
ہے… نہ خود اس سے کوئی فائدہ اٹھاتاہے… اور نہ اپنی زندگی میں اور کسی
کو اس سے فائدہ اٹھانے دیتا ہے بس کالے سانپ کی طرح اس مال پر کنڈلی جما کر بیٹھا
رہتا ہے، اللہ تعالیٰ ایسی حالت سے حفاظت فرمائے… حضرات تبع
تابعین میں سے ایک بڑے بزرگ گزرے ہیں… حضرت احمد بن الحواری رحمۃ اللہ علیہ
وہ فرماتے ہیں:
’’دنیا
گندگی کا ڈھیر اور کتوں کے جمع ہونے کی جگہ ہے اور وہ آدمی تو کتوں سے بھی کم
درجہ کا ہے جو ہر وقت اس دنیا پر گرا رہتا ہے اس لئے کہ کتا تو گندگی کے ڈھیر سے
اپنی ضرورت پوری کر کے واپس لوٹ جاتا ہے لیکن دنیا سے محبت کرنے والا ہر وقت اس سے
چمٹا رہتا ہے اور کسی حال میں بھی اس کو نہیں چھوڑتا‘‘ (کشف المحجوب)
اب
آپ پوچھیں گے کہ پھر ایسا وظیفہ کیوں لکھا جس سے مال میں کثرت ہوتی
ہے؟… جواب یہ ہے کہ حقیقی مؤمن کے لئے زیادہ مال بڑی نعمت ہے… اُس کے
مال سے دین کو فائدہ پہنچتا ہے اوردکھی انسانیت سکون پاتی ہے… اُس کے مال سے
محاذوں کا جہاد گرم ہوتا ہے… اسیران اسلام کو رہائی ملتی ہے… شہداء کے
خوش قسمت بچوں کی کفالت ہوتی ہے… جہادی گھوڑے اور اسلحہ کی کثرت ہوتی
ہے … غریبوں، یتیموں اور مسکینوں کی مدد ہوتی ہے… مساجد پر مساجد
تعمیر ہوتی ہیں… بھوکے کھانا کھاتے ہیں، پیاسے پانی پیتے ہیں…مقروضوں کے قرض
اتارے جاتے ہیں، علم دین اور خدمت خلق کے ادارے قائم ہوتے ہیں… اور خیر کے
چشمے پھوٹتے ہیں… کیا خیال ہے؟… یہ مال جو لانگ مارچ کے فضول تماشے پر
لگ رہا ہے… اگر یہ کسی مؤمن کامل کے ہاتھ میں ہوتا تو… دین کے کتنے
شعبے مضبوط ہوتے اور خیر کے کتنے نئے کام کھڑے ہوتے… چلیں واپس اپنے اصل
موضوع کی طرف لوٹتے ہیں جبکہ… کاغذ کا صرف آدھا صفحہ باقی ہے… انسان
اگر اپنا مال ضائع کرے یہ بھی ظلم… اگر اپنا گھر جلا دے تو یہ بھی
ظلم… لیکن سب سے بڑاظلم جو انسان اپنی ذات کے ساتھ کرتا ہے وہ یہ ہے
کہ… اپنے وقت اور اپنی عمر کو ضائع کردے… اس میں سوائے تباہی اور خسارے
کے کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا… پہلی بات تو یہ ہے کہ اپنے اندر اس چیز کا شعور
اور فکر پیدا کی جائے کہ…وقت ضائع نہیں کرنا، عمر کو برباد نہیں
کرنا… دوسرایہ کہ… اپنے وقت کو نظم و ضبط کی چھری سے کاٹ کاٹ کر مقید
کرتے جائیں تو… آخرت اور دنیا دونوں میں کامیابی کاراستہ بنتاہے… وقت
دراصل ایک تلوار ہے… اگرآپ اس کو نہیں کاٹیں گے تو وہ آپ کوکاٹ دے
گا… ایک بڑا حلال جانور جو خطرناک ہو چکا ہو… اس سے فائدہ اٹھانے کا
طریقہ یہ ہے کہ آپ اسے ذبح کر دیں… اور ٹکڑے ٹکڑے کر کے اس سے مزے
اڑائیں… اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو وہ آپ کو دو ٹکّروں سے ہلاک کر دے
گا… روزآنہ ایک گھنٹہ قید کر کے اگر حفظ شروع کیا جائے تو انسان ایک دو
سالوں میں… ابدالآباد کے لئے قرآن مجید کو پالیتا ہے… دراصل’’مقید
وقت‘‘ ہی انسان کے کام آتا ہے… اب اس میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں… ایک
تووہ خوش نصیب جن کے اوقات کو اللہ تعالیٰ خود اپنے نظام سے مقید فرما
دیتے ہیں… اُن کے سروں پر ایسے خیر خواہ سرپرست ہوتے ہیں جن کی اطاعت لازماً
کرنی ہی پڑتی ہے… یا اُن کے شاگرد… یا ان کی معاشی مجبوری… ان کے
اوقات کو مقید کر دیتی ہے… بہرحال ان کی زندگی پوری طرح دین کے کاموں کے لئے
قید ہوجاتی ہے… تب وہ سعادتوں پر سعادتیں پائے جاتے ہیں… مگر کچھ لوگ وہ
ہوتے ہیں جن کو مجبور اور پابند کرنیوالا کوئی نہیں ہوتا… ان پر معاشی مجبوری
بھی ایسی نہیں آتی کہ اپنے وقت کو قید کر دیں… اُن کے پاس ایسے شاگرد یا
مأمورین بھی نہیں ہوتے جنہیں مقرر وقت دینا اُن پر ہر حال میں لازمی ہو…ایسے
افراد بہرحال ایک طرح کی آزمائش میں ہوتے ہیں… وہ اگر اپنے مالک
حقیقی… اپنی آخرت اور دین اسلام کی خاطر اپنے اوقات کو… ایسا مقید
کردیں کہ… کوئی ایماندار ملازم بھی اتنی پابندی نہ کرتا ہوتو… ایسے
افراد سے خیر کے تاقیامت جاری رہنے والے چشمے پھوٹتے ہیں… بہرحال یہ ایک طویل
اور ضروری موضوع ہے… آج چند باتیں ہو گئیں… اللہ کرے میں
بھی عمل کروںاور آپ بھی… کبھی موقع ملا تو ان شاء اللہ اس کو
تفصیل سے بیان کیا جائے گا…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ’’رحمن‘‘ ہیں… رحیم ہیں اور ارحم الراحمین ہیں… سبحان
اللہ ! رحمت ہی رحمت… ہمارا رب رحمت کاخالق، رحمت کا مالک اور رحمت کو
نازل فرمانے والا…
اورہمارے
آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم … رحمۃ للعالمین ہیں… جی ہاں!
تمام مخلوق کے لئے اللہ تعالیٰ کی رحمت… سب سے بڑی رحمت سراپا
رحمت… بے شک رحمت ہی رحمت …
صلی
اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم
اللہ
تعالیٰ کی رحمت ہے کہ آج حضرت رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ
وسلم … کی رحمت والی ذات کا رحمت والا تذکرہ کرنے کی توفیق مل رہی
ہے… الحمدللہ رب
العالمین… اچھا ایسا کرتے ہیںکہ بات شروع کرنے سے پہلے ایک درود شریف پڑھ
لیتے ہیں… جب آج کے کالم کی تیاری میں لگا تو درودشریف کے یہ میٹھے الفاظ
خود بخود ذہن میں… اور پھر زبان پر آگئے… آئیے آپ بھی پڑھ لیجئے:
اَللّٰھُمَّ
یَا رَحْمٰنُ یَا رَحِیْمُ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْن… صَلِّ عَلیٰ مَنْ
اَرْسَلْتَہُ رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْن…
یا
اللہ ! اے رحمن یا رحیم… یاارحم الراحمین… رحمت نازل
فرمائیے اُن پرجنہیں آپ نے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا… سبحان اللہ !
رحمت ہی رحمت…
بھائیو!
اور بہنو!… ہم سب رحمت کے بے حد محتاج… دنیا میں بھی، مرتے وقت بھی، قبر
میں بھی… اور حشر میں بھی… جہاں ہمیں’’رحمت‘‘ مل جاتی ہے، ہم کامیاب
ہوجاتے ہیں… اورجہاںرحمت سے محرومی… وہاںعذاب ہی عذاب، زحمت ہی
زحمت… یا اللہ رحم فرما… قرآن مجید میں ’’اصحاب کہف‘‘ کا
قصہ آپ نے پڑھا ہے؟… چند نوجوان ساری قوم سے باغی ہوکر اللہ
تعالیٰ کے وفادار بن گئے… بس پھر کیاتھا… دشمنی، نفرت اوربالآخر
قتل کافیصلہ… انہوں نے ہجرت کی… مگرکہاں جاتے؟… دور دور تک دشمن ہی
دشمن تھے… آہ! عجیب امتحان… قریب کوئی اپنا ہمدرد مُلک ہو…اپنی ہم
عقیدہ قوم ہو تو ہجرت کسی قدر آسان ہو جاتی ہے… مگر جہاں ہر طرف مگرمچھ منہ
پھاڑے کھڑے ہوں تو ہجرت کرنے والا کہاں پناہ لے؟… اصحاب کہف کی ہجرت بہت سخت
اور بہت مشکل تھی کیونکہ انہیں پناہ دینے والا کوئی نہیں تھا… مگر وہ
اللہ تعالیٰ کے سہارے نکل پڑے، عارف لوگ تھے… اندر کی باتیں
جانتے تھے… اور اندر کی بات یہ ہے کہ جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ
کی’’رحمت‘‘ ہو جائے اسے کسی سہارے کی ضرورت نہیں رہتی… وہ ایک غار میں جا
چھپے… پھرانہوں نے اپنے رب کو درخواست پیش کر دی… سبحان اللہ !
غور کیجئے… دل تھامئے! وہ نوجوان تھے مگر بڑے ذہین اور بڑے
عقلمند… انہوں نے پتا ہے کیا مانگا؟… اے ہمارے رب ہمیں اپنی’’رحمت‘‘ دے
دیجئے… اللہ اکبر کبیرا… وہ رحمت کو سمجھتے تھے… وہ
رحمت کو جانتے تھے… انہوں نے نہ پناہ گاہ مانگی… اورنہ پناہ دینے والے لوگ… انہوں
نے نہ مدد گار مانگے اور نہ کوئی محفوظ منزل اورمقام… بس
رَبَّنَآ
اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً (کہف:۱۰)
اے
ہمارے رب ہمیں اپنی طرف سے’’رحمت‘‘ عطاء فرمائیے… رب تعالیٰ نے رحم فرمایا
اور رحمت آگئی… تین سو نو سال تک وہ بحفاظت سوتے رہے… نہ کھانے کی حاجت
نہ پینے کی ضرورت… نہ محافظ گارڈ نہ کوئی دروازہ اور آڑ… ’’رحمت‘‘ جو
آگئی تھی تو اب کسی اور چیز کی کیا ضرورت؟… سارے کام اسی’’رحمت‘‘ سے خود ہو
تے گئے… ان کو حفاظت کی ضرورت تھی… رحمت الہٰی ان کی حفاظت کرتی
رہی… دشمنوں کا ملک تھا… مگر کوئی فوجی ، کوئی دستہ، کوئی مخبر ان تک نہ
پہنچ سکا… ان کو آرام اور سکون کی ضرورت تھی… رحمت نے بندوبست کر دیا
کہ مزے سے سوتے رہو… بہت خوف دیکھا، بہت تھکاوٹ جھیلی… اے اللہ
کے شیرو! اب رحمت کی آغوش میں آرام سے لمبی نیند لوٹو… کھانے پینے کی
ضرورت تھی تو’’رحمت‘‘ ان کی خوراک بن گئی، ان کی غذا بن گئی… اب بھلا
جو’’رحمت‘‘ جیسی لطیف ،پاکیزہ اور روحانی غذا کھا رہا ہو…اس کا جسم کہاںگل سڑ سکتا
ہے؟… ان کو پیشاب یا قضائے حاجت کی ضرورت کہاں ہو سکتی ہے؟… اُن کو امن
کی ضرورت تھی رحمت الٰہی اُن کاامن بن گئی… ایک تو اس قصے پر غور کریں تاکہ
’’رحمت‘‘ کے معنیٰ سمجھ آجائیں… اور دوسرا حضرت یوسف علیہ السلام
کے قصے پر غور کریں کہ… نفس امّارہ کی شرارتوں سے کوئی نہیں بچ سکتا مگر جسے
اللہ تعالیٰ کی’’رحمت‘‘ مل جائے…
اِنَّ
النَّفْسَ لَاَ مَّارَۃٌ م بِالسُّوْٓئِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ… (یوسف:۵۳)
نفس
کے ظالم دھوکے ، تباہ کن حملے… اور ہلاکت خیز شرارتیں… بھائیو! اور
بہنو! انسان کا نفس امّارہ بڑا سخت جان دشمن ہے… توبہ توبہ، بہت ہی ظالم
دشمن… کس طرح سے رسوائیوں میں ڈالتا ہے… اورکس طرح سے اعمال برباد
کرتاہے… کبھی غصے میں ڈالے تو پاگل کر دے… شہوت میں ڈالے تو جانور بنا
دے… حرص میں ڈالے تو ذلیل کر دے… مایوسی میں ڈالے تو اندھا کر
دے… مگر جس کو اللہ تعالیٰ کی ’’رحمت‘‘ نصیب ہو جائے… اس کا
نفس… نفس مطمئنہ بن جاتا ہے… جی ہاں! مسلمان نفس ، مؤمن نفس… رحمت
کا یہ معنیٰ بھی ذہن میں رکھیں اور اب دیکھیں قرآن پاک ہمارے لئے… ایک عظیم
رحمت کا اعلان فرما رہا ہے…
وَمَآ
اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ (انبیاء:۱۰۷)
اے
نبی محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم نے آپ کو تمام جہان کے لئے رحمت بنا کر بھیجا
ہے…
بات
ذہن میں آئی؟… ہم سب دنیا اور آخرت میں’’رحمت‘‘ کے محتاج
ہیں … اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا… اور
آخرت میں اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی’’رحمت‘‘ ہیں… تو اگر ہم آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کو پالیں تو پھر رحمت ہمیں مل جائے گی بہت بڑی رحمت
بس رحمت ہی رحمت…
صلی
اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم
رحمت
کے معنیٰ بہت وسیع ہیں… قرآن مجید میں’’رحمت‘‘ کا تذکرہ سینکڑوں آیات میں
ہے… صرف’’رحمۃ‘‘ لفظ اناسی(۸۹) یعنی
ایک کم اسّی بار آیا ہے… حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ’’رحمت
الٰہی‘‘ ہونا بھی کئی آیات میں مذکور ہے… اللہ تعالیٰ کا
نام’’الرحمن‘‘ قرآن مجید میں چھپن(۵۶) مقامات
پر آیا ہے…الرحیم(رحیم) چورانوے(۹۴) بار…’’رحیماً‘‘
بیس بار اور ارحم الراحمین چار بار…
قرآن
مجید میں اللہ تعالیٰ نے… حضرت آقامدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کو کسی جگہ’’رحمۃ‘‘ قرار دیا… اور کسی جگہ’’رؤف‘‘
اور’’رحیم‘‘ فرمایا… اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین
کو… ’’رحماء بینھم‘‘ کا لقب عطاء فرمایا… یہ ساری تفصیل لکھنے کا مقصد
یہ ہے کہ یہ رحمت والا موضوع بہت طویل ہے… سچی بات ہے بہت لذیذ موضوع
ہے… اوربہت وسیع بھی…
ہمارے
کالم میں گنجائش تھوڑی ہے اس بڑے موضوع کو… آسان الفاظ میں سمیٹنے کی کوشش
کرتے ہیں… چلیں دل کی محبت سے درود شریف پڑھیں:
اَللّٰھُمَّ
یَا رَحْمٰنُ یَا رَحِیْمُ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْن… صَلِّ عَلیٰ مَنْ
اَرْسَلْتَہُ رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْن…
(۱) پہلی بات ہم یہ سمجھیں
کہ… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کو’’رحمت‘‘ ماننا فرض
ہے… اس میں شک کرنا کفر ہے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات
بھی رحمت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات بھی رحمت… آپ صلی
اللہ علیہ وسلم کے اقوال بھی رحمت اور آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کے افعال بھی رحمت… آپ صلی اللہ علیہ وسلم موجود
تھے تب بھی رحمت اور اب پردہ فرما گئے تب بھی رحمت…’’رحمت‘‘ حضرت آقا مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم کی لازمی صفت… اور آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی پہچان ہے… اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر
عمل رحمت ہے…
صلی
اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم
(۲) حضرت آقا محمد مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم صرف’’رحمت‘‘ ہی نہیں… بلکہ ’’رحمۃ للعالمین‘‘
ہیں… یعنی تمام جہان والوں کے لئے رحمت… وہ انسان ہوں یا
جنات… حیوانات ہوں یا نباتات… سمندر ہوں یا جمادات… وہ زمین ہوں یا
آسمان… آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سب کے لئے’’رحمت‘‘
ہیں… اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی رحمت… آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کا نام بھی’’رحمت‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین
بھی ’’رحمت‘‘… جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جتنا قریب وہ اسی قدر
زیادہ رحمت کا مستحق… اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جتنا دور
اور محروم وہ رحمت سے اسی قدر محروم… ارے جس کو رحمت پانی ہو وہ حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آجائے…
صلی
اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم
(۳) رحمتِ الٰہی دو طرح کی ہے… ایک رحمتِ
رحمانی… اورایک رحمتِ رحیمی… ’’رحمت رحمانی‘‘ کا مطلب ہے’’عام رحمت‘‘ جو
سب کے لئے ہے… کوئی مسلمان ہو یا کافر… کوئی ماننے والا ہو یا
دشمن… اللہ تعالیٰ روزی سب کو دیتے ہیں… ہوا پانی سب کو
دیتے ہیں… ظاہری آرام اور دنیوی اسباب سب کو دیتے ہیں… اس رحمت
کو… رحمانی رحمت کہتے ہیں… اوردوسری رحمت ہے…بڑی خاص… وہ صرف ایمان
والوں کو ملتی ہے… ماننے والوں کو ملتی ہیں… جیسے جنت، حوض
کوثر… ہمیشہ ہمیشہ کی خوشیاں اور کامیابیاں… اس رحمت کو’’رحیمی رحمت‘‘
کہتے ہیں… اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ
وسلم کو رحمت بنا کر بھیجا تو… آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کو’’رحمت رحمانی‘‘ بھی بنایا… اوررحمت رحیمی بھی
بنایا… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عام رحمت ہونا سب کے لئے
ہے… کوئی کافر ہو یا مسلمان… کوئی اپنا ہو یا دشمن… یہ سب میرے
آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے احسان تلے ہیں… حضرت ابن عباس رضی
اللہ عنہما فرماتے ہیں…وہ لوگ جو ایمان نہیں لائے ان کو بھی… آپ صلی اللہ
علیہ وسلم کا رحمت ہونا… بڑے بڑے دنیوی عذابوں سے بچاتا
ہے… یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت ہے کہ… آپ صلی اللہ
علیہ وسلم کے مبعوث ہونے کے بعد… مکمل خاتمے والے عذاب بند ہو
گئے… حضرت نوح علیہ السلام کی قوم پر کیسا تباہ کن عذاب
آیا… ایک کافر نہ بچا… حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر کیسا
درد ناک عذاب آیا کہ… ایک خبیث بھی زندہ نہ بچا… مگر آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی تشریف آوری نے… ایسے عذابوں کاراستہ روک
دیا… اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم ’’رحمت رحیمی‘‘ بھی ہیں
کہ… جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے گا ہمیشہ ہمیشہ
کے لئے کامیابی اور جنت پائے گا… جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا
محبت سے نام لے گا فوراً رحمتوں کے سمندر میں غوطہ زن ہو جائے گا… جو آپ صلی
اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو اپنائے گا… وہ رحمتوں سے اپنی
جھولیاں … دنیا اورآخرت میں بھر جائے گا…
صلی
اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم
(۴) رحمت کی پھر دو قسمیں ہیں… ایک رحمت
فوری… اور ایک رحمت دائمی… میرے آقا حضرت محمد مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم … فوری رحمت میں بھی کامل… اوردائمی رحمت میں بھی
کامل… دراصل کسی جگہ فوری رحمدلی، ہمدردی اور مدد کی ضرورت ہوتی ہے… اور
کسی جگہ مستقل ہمدردی اور رحمت کی حاجت پڑتی ہے… حضرت آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ پڑھ لیں… رحمت ہی رحمت نظر آتی
ہے… انسانوںپر رحمت، جانوروں پر رحمت، پرندوں پررحمت… پہاڑوں پر
رحمت… کھجور کے تنے پر رحمت… ماحولیات کے لئے رحمت… بوڑھوں کے لئے
رحمت… بچوں کے لئے رحمت… کمزوروںکے لئے رحمت…
اللہ
تعالیٰ… اہل علم کو جزائے خیرعطاء فرمائے انہوں نے وہ تمام احادیث اور
واقعات جمع کر دیئے ہیں جن میں… میرے آقا صلی اللہ علیہ
وسلم کی’’شانِ رحمت‘‘ موسلا دھار بارش کی طرح…ہر ایک پر برس رہی
ہے… اور رحمت کے ان واقعات نے… انسانی معاشرے کو رحمدلی اور ہمدردی کے
مبارک ماحول کا تحفہ دیا ہے… اور دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ
وسلم … اللہ تعالیٰ کی ’’دائمی رحمت‘‘ بن کر تشریف
لائے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعثت سے لیکر اب تک اربوں
انسانوں… اور جنات کو… کفر کے اندھیرے سے نکال کر ایمان کی روشنی کا
راستہ دکھایا… بے شمار انسان جہنم سے بچ گئے… اور اللہ
تعالیٰ کی دائمی رحمتوں کے مستحق بن گئے…
صلی
اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم
(۵) رحمت کی اقسام ابھی چل رہی ہیں… موقع ملا
تو ان شاء اللہ پانچ قسمیں بیان کی جائیں گی… یہاں
ایک ضروری بات … اپنوں کے ساتھ رحمدلی اور ہمدردی ہر کوئی کر
سکتاہے… اورکرتا ہے… مگر دشمنوں کے ساتھ رحمدلی اور ہمدردی کرنا ہر کسی
کے بس میں نہیں ہوتا… حضرت آقامدنی صلی اللہ علیہ وسلم ’’رحمت‘‘
ہیں… اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی رحمت… آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کے دشمن مشرکین، کفار، منافقین اور یہود و نصاریٰ تھے… ان سب
کے لئے ایک لفظ بولا جائے تو’’کفار‘‘ کا لفظ سب پر ٹھیک بیٹھتا ہے…آپ صلی اللہ
علیہ وسلم اپنے ان جانی اور سخت دشمنوں کے لئے بھی ’’رحمت‘‘ بنا کر
بھیجے گئے… اوراہلِ علم نے اس رحمت کو دس مناظر میںتقسیم کیا ہے…جگہ کم
ہے… ہم صرف ایک منظر کو آج بیان کر سکتے ہیں… وہ یہ کہ آپ صلی اللہ
علیہ وسلم کا اللہ تعالیٰ کے راستے میں’’جہاد‘‘
فرمانا… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کے
لئے… بڑی’’رحمت‘‘ تھی… لوگ حیران ہوں گے کہ جہاد یعنی قتال فی سبیل
اللہ … کافروں کے لئے کیسے رحمت؟… جواب یہ ہے کہ بے شک
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جہاد… کافروں کے
لئے’’رحمت‘‘ بنا… وہ اس طرح کہ اسی جہاد سے ان کی قوت و طاقت ٹوٹی توان میں
سے بے شمار لوگ مسلمان ہوئے… اسی جہاد کی برکت سے کفار کو… ظالمانہ نظاموںسے
چھٹکارا ملا اور خلافت کا عدل و انصاف والا نظام نصیب ہوا… جہاں کفر و شرک کی
حکومت اور غلبہ ہو وہاں لعنت نازل ہوتی ہے… اسی جہاد کی وجہ سے بہت سے کافر
مارے گئے… وہ مزید زندہ رہتے تو اور گناہ کرتے اور اُن کا عذاب اور زیادہ
بڑھتا… بھائیو! اور بہنو!… دو روایات آپ پڑھ لیں… یقینا آپ حیران
ہوں گے … روایات کسی معمولی کتاب کی نہیں… صحیح بخاری شریف کی
ہیں… لیجئے دل کی محبت اور توجہ سے رحمت والے آقا صلی اللہ علیہ
وسلم کا رحمت والا کلام پڑھیں…
حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشادفرمایا:
اللہ
تعالیٰ (زیادہ) خوش ہوں گے ایسے لوگوں پر جو زنجیروں میں بندھے ہوئے جنت میں
داخل ہوں گے…(صحیح بخاری، حدیث ۳۰۱۰)
زنجیروںمیں
بندھے ہوئے جنت میں داخل ہونے کا کیا مطلب ہے؟… اگلی روایت میں دیکھتے
ہیں… اور ساتھ ایک بڑا تحفہ کہ اُس روایت سے ہمیں قرآن مجید کی ایک آیت
مبارکہ کا حقیقی مفہوم بھی معلوم ہو جائے گا…
لیجئے
یہ ہے بخاری شریف کی روایت نمبر چار ہزار پانچ سو ستاون…
حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے … اللہ
تعالیٰ کا فرمان:
کُنْتُمْ
خَیْرَاُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ(آل عمران:۱۱۰)
کہ
تم بہترین اُمت ہو جسے لوگوں کے لئے نکالا گیا ہے… فرمایا… تم لوگوں میں
بہترین ہو(اُن) لوگوں کے لئے کہ تم اُن کی گردنوں میں زنجیریں ڈال کر انہیں لاتے
ہو… یہاں تک کہ وہ اسلام قبول کر لیتے ہیں…سبحان اللہ !… دونوں
روایات کا تعلق جہاد فی سبیل اللہ سے ہے… اور یہ بھی ثابت ہو گیا
کہ اس اُمت کے بہترین اور افضل ہونے کی وجہ… جہاد فی سبیل اللہ
ہے… کیونکہ جہاد فی سبیل اللہ امر بالمعروف اور نہی عن
المنکر کا سب سے اونچا درجہ ہے… اور یہ بھی ثابت ہوا کہ جہاد کی برکت سے بے
شمار لوگ اسلام میں داخل ہوتے ہیں… وہ جہاد کی برکت سے جنت میں جانے والے اور
جہنم سے بچنے والے بنتے ہیں… اسی کو زنجیروں میں باندھ کر جنت میں جانے سے
تعبیر کیا… مطلب یہ نہیں کہ انہیں زبردستی کلمہ پڑھوایا جاتا
ہے… زبردستی کلمہ پڑھنے سے نہ کوئی مسلمان… ہوتا ہے اور نہ جنتی بنتا
ہے… بلکہ مطلب یہ ہے کہ… مسلمانوں نے انہیں جہاد میں قید کیا… وہ
قیدی بن کر لائے گئے اورپھر اہلِ اسلام کے اخلاق دیکھ کر مسلمان ہوگئے… جہاد
نہ ہوتا تو یہ دین پر کیسے آتے… یا جہاد کی وجہ سے ان کا غلبہ ٹوٹا وہ
مسلمانوں کے محکوم بنے اور پھر ابتداء میں اوپر اوپر سے مجبوراً مسلمان ہوئے کہ اس
کے بغیر چارہ نہیں تھا… مگر پھر ماحول میں آکر اُن کا رنگ بدل گیا اور وہ
مخلص مؤمن بن گئے… میرے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سراپا رحمت
ہیں… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جہاد بھی رحمت اور آپ صلی اللہ
علیہ وسلم کا لایا ہوا ’’نظام‘‘ بھی رحمت… صرف جہاد کے رحمت ہونے
کو بیان کیا جائے تو مکمل کتاب لکھی جا سکتی ہے… آہ! کاش مسلمان اپنے رحمت
والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت والی سیرت کوپڑھیں، سمجھیں اور
اپنائیں تو… دنیا اور آخرت میں رحمتیں ہی رحمتیں پائیں…
صلی
اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم
بہت
سی باتیں رہ گئیں… بہت معذرت… آپ سب کو مبارک، بے حد مبارک کہ ہم سب بن
مانگے اس عظیم نعمت اور رحمت کے دائرے میں آگئے کہ… حضرت رحمۃ للعالمین صلی
اللہ علیہ وسلم کے امتی بن گئے… تمام امتوں سے افضل… شکر
کریں، قدرکریں… اور حضرت آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی غلامی
اور اتباع ہم سب اختیار کریں…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ …
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ اُمت مسلمہ پر رحم فرمائے… کراچی کے حالات دیکھ کر دل غم سے
پگھلتا اور درد سے کراہتا ہے…’’مرکزِ علم‘‘ جامعۃ العلوم الاسلامیہ علّامہ بنوری
ٹاؤن کے ’’صدر مفتی‘‘ اور ’’معاون مفتی‘‘ گولیوں کا نشانہ بن گئے… آہ!
لوگوں کو کیا پتہ کہ’’مفتی‘‘ کون ہوتا ہے؟…ایک حقیقی اور جیّد مفتی بننے کے لئے کم
از کم پچیس سال کی کمر توڑ محنت درکار ہوتی ہے… مگر جانوروں سے بدتر قاتلوں
کے لئے’’مفتی‘‘ بس ایک آسان شکار… دین کی سمجھ رکھنے والے علماء کرام کی
تعداد پہلے ہی کافی کم ہے… مدرسہ سے فاضل ہونے والا ہر شخص’’عالم دین‘‘ نہیں
ہوتا… علم ایک اونچی اور مشکل منزل ہے اس تک خاص لوگ ہی پہنچتے ہیں… بہت
محنتی، مستقل مزاج، مخلص اور اللہ تعالیٰ کا خوف رکھنے والے…علم کا
کوئی ایک چراغ بجھتا ہے تو دور دور تک تاریکی محسوس ہوتی ہے اور تمام مخلوقات اس
کی جدائی کا صدمہ محسوس کرتی ہیں…’’القول الجمیل‘‘ میں حضرت شاہ ولی اللہ
محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے… ’’عالم ربّانی‘‘ کے لئے پانچ
شرطیں لکھی ہیں… فرماتے ہیں جو ان پانچ امور کا مکمل التزام کرتاہو… وہی
عالم ربانی ہے اور ایسے علماء ہی حضرات انبیاء اور رسولوں کے وارث ہیں… اور
اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق اُن کے لئے دعاء کرتی ہے… حتیٰ کہ
سمندر کی تہہ میں مچھلیاں بھی… ایسے اہل علم کا وجود اور ان کی
صحبت… ’’الکبریت الأحمر‘‘ ہے… یعنی مٹی کو سونا اور لوہے کو ہیرا بنانے
والی… ’’جامعۃ العلوم الاسلامیہ‘‘ روئے زمین کے چند بڑے علمی مراکز میں سے
ایک ہے… یہ ادارہ ایک’’ اللہ والے‘‘ کے اخلاص اور جان توڑ محنت کا ثمرہ
ہے…عام دینی مدرسے ابتدائی کتابوں کی تعلیم سے شروع ہوتے ہیں… یہ شائد دنیا
کا واحد علمی ادارہ ہے جس کا آغاز’’تخصص‘‘ سے ہوا… یعنی آخری تکمیلی درجے
سے… کل دو اساتذہ تھے اور دس طلبہ… رہائش کے لئے کوئی کمرہ، نہ آسانی
کے لئے کوئی انتظام… بس ایک مسجد تھی… اس میں نہ غسل خانہ، نہ بیت
الخلاء… صرف وضو کے لئے چند عارضی ٹوٹیاں تھیں… اور بس… طلبہ مسجد
ہی میں رہتے، وہیں پڑھتے اور وہیں سوتے… جو تھوڑا بہت سامان تھا وہ بھی مسجد
میں رکھتے…اور یہ سامان بھی بسا اوقات چوری ہوجاتا تھا… حضرت مولانا محمد
یوسف بنوریؒ اور حضرت مولانا لطف اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ یہ دو
اساتذہ بھی طلبہ کے ساتھ رہتے… اور بلند دینی وجاہت اور غیر معمولی علمی مقام
کے باوجود… نہ کوئی رہائش اور نہ بچوں کو ساتھ رکھنے کا انتظام… دن بھر
طلبہ کے ساتھ رہتے اور رات کو ایک دوست کے گھر عارضی قیام… اور دن کو بھی وضو
وغیرہ کی حاجت کے لئے اسی دوست کے گھر جانا پڑتا… آپ سوچتے ہوں گے کہ شائد
ان دو اساتذہ کو پڑھانے کے لئے کوئی اچھی جگہ نہیںملی ہوگی تو مجبوراً… یہ سب
کچھ جھیلتے ہوں گے… نہیں جناب!… حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ کے لئے ہر
طرف سے دعوتیں اور بلاوے تھے… حتیٰ کہ ڈابھیل جیسے عالمی شہرت یافتہ جامعہ کے
شیخ الحدیث کے منصب… بھاری تنخواہ، اور پُر آسائش رہائش گاہ کی پیشکش موجود
تھی… مگر بڑے کام بڑی آزمائشوں سے ہی وجود میں آتے ہیں… اور جنت کو
فتح کرنے کے لئے ’’مکروہات‘‘… یعنی مشکلات کے خار دار جنگل میں قدم لہو لہو
کرانے پڑتے ہیں… حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ ایک عجیب جملہ ارشاد فرمایا کرتے
تھے…
’’بھائی
اگر دینی مدرسہ دنیا کے لئے بنانا ہے تو یہ آخرت کا سب سے بڑا عذاب ہے اور اگر
آخرت کے لئے بنانا ہے تو دنیا کا سب سے بڑا عذاب ہے‘‘…
حضرت
بنوری رحمۃ اللہ علیہ آخرت کی کامیابی کے لئے… اپنی دنیا کو کڑوا بناتے
رہے…تھوڑا ساسوچیں… خود کراچی میں تھے اور گھر والے اور بچے ٹنڈو الہیار
میں… گھر میں کوئی مرد بھی نہیں تھا صرف عورتیں تھیں اور بچے… ایک جان
پہچان والے عالم دین نے خدمت کا اجر کمایا، وہ گھر کا سودا سلف پہنچا
دیتے… اور خود حضرت مہینہ میں ایک بار تشریف لے جاتے…اُس وقت پہلے کراچی سے
حیدر آباد جانا پڑتا پھر وہاں سے دوسری ٹرین پر ٹنڈو الہیار…اس سفر میں جو مشقتیں
اس عالم جلیل نے دیکھیں اُن کو صرف لکھنا اور پڑھنا آسان ہے… مگر جھیلنا ہر
کسی کے بس میں نہیں… ایک رات اسٹیشن پر بجلی نہ تھی، کوئی قلی بھی نہ
ملا… اُدھر سردی، بارش اور اندھیرا… معارف السنن کا مصنف اپنے سر پر ایک
من وزن کا سامان اٹھائے… ٹھوکریں کھاتا ہوا گھر کی طرف پیدل جارہا
تھا… اللہ تعالیٰ نے اسی رات کو آزمائش کی آخری گھڑی بنا
دیا… فقیر کے ہاتھ اٹھے اور غنی کی طرف سے رحمت ٹوٹ برسی اور کراچی میں رہائش
کا بندوبست ہو گیا لوگ کیا جانیں! عرب و عجم کے علماء حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ
کی زیارت کو ترستے تھے… ایک بار ہمارے سامنے امام کعبہ حضرت شیخ عبد اللہ
بن سبیل رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ کی قبر کی طرف اشارہ
کرتے ہوئے فرمایا…یہ عالم دین حدیث کے پہاڑ تھے… آج عرب دنیا سے چھپنے والی
کتنی ہی کتابوں میں حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ کی ’’معارف السنن‘‘ کا حوالہ ملتا
ہے… اور آپ کے شاگرد… اور اُن شاگردوں کے شاگرد پورے عالم اسلام میں
علم وجہاد کی خدمت میں ہمہ تن مشغول ہیں… اور خود جامعۃ العلوم الاسلامیہ جس
کا آغاز میں ایک کمرہ بھی نہ تھا… پھرٹین کی چھت کا کمرہ بنا… آج وہ
اور اس کی شاخوں کی عمارتیں… کئی کئی ایکٹر پر پھیلی ہوئی ہیں… حضرت بنوری
رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ تعالیٰ نے زیادہ بیٹیاں عطاء فرمائی
تھیں… اور بیٹے صرف دو… ان دو میں سے بھی ایک کی پیدائش وفات سے صرف تین
سال پہلے ہوئی… بات یہ بتانی ہے کہ آپ کی لاڈلی صاحبزادی’’فاطمہ‘‘ کی بینائی
بھی انہیں آزمائشوں کی نذر ہو گئی… حضرت کراچی میں تھے اور بیٹی ٹنڈو الہیار
میں … آنکھوں کی تکلیف شروع ہوئی… مگر کون علاج کراتا؟… جب
کراچی میں علاج کی سہولت ملی تو ڈاکٹروں نے جواب دے دیا… حضرت کو اسی بیٹی سے
بہت محبت تھی… دعاء میں رو رو کر فرماتے تھے… اس دینی مدرسہ کے لئے ہم
نے اپنی عزیزہ لخت جگر کو بھی قربان کر دیا، اللہ تعالیٰ ہماری قربانی
قبول فرمائے… اور جس عظیم مقصد کے لئے ہم نے اپنے آپ کو، اہل و عیال کو
قربان کیا ہے، اپنی رحمت سے اس مقصد میں ہمیں کامیاب فرمائے… حضرت رحمۃ اللہ
علیہ کی دعاء بھی قبول ہوئی اور قربانی بھی… جامعہ نے اتنی تیزی سے حیرت
انگیز ترقی کی کہ… اسے نہ الفاظ میں سمویا جا سکتا ہے اور نہ کسی مشین پر
پرکھا جا سکتا ہے… وہ مدرسہ جو قرض پر شروع ہوا تھا دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرح
کے اسباب ووسائل سے مالا مال ہو گیا اور جو اس کامقصد تھا… علم دین کی حفاظت،
فروغ اور ترویج اس میں اسے کراماتی کامیابی ملی… ایک قابل قدر عرصہ تک یہ
جامعہ پورے ملک کے مدارس میں تعلیمی معیار… طلبہ کے رجوع اور دین کے ہر شعبہ
کی خدمت کے لحاظ سے… تمام مدارس میں پہلے نمبر پر رہا… جامعہ کی بات
آگے بڑھانے سے پہلے درمیان میں…تھوڑا سا وقت حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کے
ساتھ گذارتے ہیں… ابھی آپ نے پڑھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت بنوری
رحمۃ اللہ علیہ کو بیٹیاں زیادہ… اور بیٹے کم عطاء فرمائے تھے اس پر امام
غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک عبارت یاد آگئی… امید ہے کہ ہر مسلمان کو اس
عبارت سے فائدہ ہو گا… آج روز روز خبریں آرہی ہیں کہ… مسلمان عورتیں
نعوذ باللہ … الٹرا ساؤنڈ کے ذریعہ معلومات لیکر بیٹی والے حمل کو
ضائع کرا دیتی ہیں… وہ چاہتی ہیں کہ بیٹے پیدا ہوں… یعنی عورتیں ہی
عورتوں کی دشمن اور قاتل… چین میں اس رجحان کی وجہ سے اب خواتین کی تعداد
مردوں سے کم ہوگئی ہے… ہندوستان میں ہندو معاشرہ پوجا تو ’’دیوی‘‘ کی کرتا ہے
مگر گھر میں بیٹی پیدا ہو توماتم برپا ہوجاتا ہے… وہاں بھی کئی بیٹیوں کو
پیدا ہونے سے پہلے مار دیا جاتا ہے… انسانیت کا یہ شیطانی مرض چونکہ ہمیشہ
رہناتھا اس لئے قرآن حکیم نے اس معاملہ کو نہایت تاکید کے ساتھ بیان فرمایا
ہے… بہرحال کافر جو چاہیں کریں کہ وہ آگ کی طرف دوڑتے ہیں مگر مسلمانوں کو
کیا ہوا؟… لیجئے حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی یہ عبارت
پڑھیں… ممکن ہے بہت سے دلوں کا مرض دور ہو جائے… فرماتے ہیں:’’ اور
چاہئے کہ لڑکی کی ولادت پر کراہیت(یعنی ناپسندیدگی) کا اظہار نہ کرے اور نہ ہی
لڑکے کی پیدائش پر حد سے زیادہ مسرّت و شادمانی کے جشن منائے جائیں…کون جانتا ہے
کہ ’’خیر‘‘ کس کی ولادت میں ہے؟… اور لڑکی کی ولادت مبارک تر ہے اور اس کا
ثواب زیادہ ہوتا ہے… اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا جس شخص کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں اور وہ ان کی خاطر
رنج و مشقت برداشت کرے اور اُن کے کام بنائے سنوارے تو اس کے عوض اللہ
تعالیٰ اس پر رحمت کرتا ہے… کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! اگر دو
ہی ہوں تو؟… فرمایا… تب بھی… ایک اور(صاحب) نے کہا اگر ایک ہی ہو
تو؟… فرمایا… تب بھی…(رحمت نازل ہوتی ہے)اور فرمایا… جس شخص کی ایک
بیٹی ہو وہ رنجور ہے… جس کی دو بیٹیاں ہوں وہ گرانبار ہے اور جس کی تین ہوں،
اس کی تو اے مسلمانو! مدد کرو کہ وہ میرے ساتھ جنت میں ہے، جیسے کہ دو
انگلیاں… یعنی وہ میرے بہت قریب ہے… اور فرمایا!جو شخص بازار سے نیا
میوہ(پھل وغیرہ) خرید کر گھر لے جائے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے کہ کوئی صدقہ
دے… اور چاہیے کہ اس شئے کو تقسیم کرتے وقت بیٹی کو پہلے دے اور بعدمیں بیٹے
کو… کیونکہ جو شخص بیٹی کو خوش کرتا ہے، وہ ایسا ہی ہے گویا اللہ
تعالیٰ کے خوف سے رویا ہو اور حق تعالیٰ کے خوف سے رونے والے پر جہنم کی آگ
حرام ہوجاتی ہے‘‘…(کیمیائے سعادت)
حضرت
بنوری رحمۃ اللہ علیہ کے بعد… اُن کے اس دینی، علمی اور روحانی مرکز کی قیادت
حضرتؒ کے داماد حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے سنبھالی وہ
اپنے استاذ اور شیخ حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ کی محبت اور اطاعت میں
فناتھے… ان کے بارے میں یہاں تک مشہور تھا کہ… انہیں حضرت بنوری رحمۃ
اللہ علیہ سے اس قدر محبت اور موافقت حاصل ہے کہ… اگر حضرت رحمۃ اللہ علیہ دن
کو رات فرمائیں تو مفتی احمدالرحمن صاحب کو اس میں بھی شک نہیں ہوگا حضرت مفتی
احمد الرحمن صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی جوانی، اور زندگی ایک شمع کی طرح گھُلا
اور پگھلا کر… حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ کے دینی کام اور مرکز کی خدمت
کی… انہوں نے اپنی ذات کو ہمیشہ پیچھے رکھا اور حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے کام
کومقدّم رکھ کر… جان توڑ محنت فرمائی… حضرت مفتی احمد الرحمن رحمۃ اللہ
علیہ کادور اہتمام… جامعہ کے مثالی عروج کا زمانہ تھا… سبحان اللہ
! جامعہ کا کیا رعب تھا اور کیا مقام… کیا دبدبہ تھا اور کیا معیار… دین
کے ہرشعبے کی قیادت گویا کہ جامعہ کی گود میں تھی… اور عزیمتوں کے ہر خط
راستے پر جامعۃکامیابی کے ساتھ گامزن تھا… پھر اچانک مفتی صاحب رحمۃ اللہ
علیہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ جتنی عمر پاکر… رفیق اعلیٰ کو چلے
گئے… اُن کے کچھ عرصہ بعد جامعہ… طرح طرح کی آزمائشوں سے دوچار ہو
گیا… جامعہ کے مہتمم اور اہم اساتذہ… شہید کر دیئے گئے… پھر حضرت
لدھیانوی پھر حضرت شامزئی، حضرت مفتی جمیل، مولانا جلالپوری اور اب حضرت مفتی دین
پوری رحمۃ اللہ علیہ ،جامعہ لہو لہو… جامعہ زخموں سے چوراور جامعہ
اشکبار… مگر یقین ہے کہ اخلاص اور تقویٰ پر جس عمارت کی بنیاد ہو وہ کبھی
نہیں گرتی… کبھی نہیں جھکتی… دل چاہتا ہے… اپنے غمزدہ جامعہ کی
چوکھٹ کا ایک بوسہ لوں… تعزیت کروں… اور جامعہ کے دشمنوں کو
بتاؤںکہ… یہ سمندر بہت گہرا ہے… تم ذلتوں میں فنا ہو جاؤ گے…اور جامعہ
کے بلند میناروں سے سدا… ’’ اللہ اکبر‘‘ کی اذان بلند ہوتی رہے
گی… اے محبوب مادر علمی!… تجھے عقیدت بھرا سلام…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ، بھائی محمد افضل گورورحمۃ اللہ علیہ کی شہادت قبول فرمائے اور اُن کے قاتلوں کو
عبرتناک سزا عطاء فرمائے… آمین…
آج
کچھ ٹوٹی پھوٹی، بکھری بکھری بے ربط سی باتیں ہیں…
دل
غمزدہ کیوں؟
بھائی
محمد افضل گورو رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت
پر دل غمزدہ ہے… اُن کے ساتھ ہمارے بہت سے رشتے تھے… اللہ
تعالیٰ نے انہیں ہمارا بھائی بنایا…
’’اِنَّمَا
الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ‘‘ (سورۃ الحجرات:۱۰)
حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہمارے جسم کا حصہ فرمایا…
’’المسلمون
کجسد واحد‘‘
جماعت
کی نسبت سے ہم اور وہ ایک روحانی لشکر کا حصہ تھے… الارواح جنود
مجنّدۃ… وہ مجاہد تھے، اسیر ہند تھے، مظلوم تھے، بہادر تھے… وہ’’لا الہ
الا اللہ ‘‘ کی اذان دینے والے اور’’محمدرسول اللہ ‘‘ کا اقرار کرنے
والے تھے…وہ ہم سے تھے، ہم اُن سے تھے… ایک کلمہ،ایک عقیدہ، ایک قبلہ، ایک
روح، ایک جسم… بتوں کے پجاریوں نے ان کی گردن میں پھندا ڈالا، اُن کو تو نہ
درد ہوا اور نہ تکلیف… وہ پھندا اُن کے لئے حور کا حسین بازو تھا جو ناز کے
ساتھ گلے سے لپٹ جائے… مگر اس پھندے کا درد ہماری گردن سے نہیں جارہا، اس کی
جلن ہمارے سینے سے جدا نہیں ہورہی… معلوم نہیں یہ درد کب تک… یہ درد کب
تک؟… ارے افضل میاں! اپنی کچھ مٹھاس اِدھر بھی…
انڈیا
مشرک
شرک
سب سے بڑا جرم، سب سے بڑا گناہ، سب سے بڑی گندگی اور سب سے بڑی بدبو
ہے… افسوس کہ مسلمانوں کی غفلت سے’’اسلامی ہند‘‘ مشرکوں کے قبضے میں چلا گیا
اور وہ’’بھارت‘‘ بن گیا، انڈیا بن گیا… یہ جھوٹ ہے کہ انڈیا سیکولر ملک ہے،
نہیں! وہ مشرک ملک ہے… راجیو گاندھی کے قاتل ہندو تھے…سالہا سال بیت گئے
انہیں ابھی تک پھانسی نہ ہو سکی… حالانکہ تمام قانونی تقاضے پورے
ہیں… بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ ’’بے انت سنگھ‘‘ کے قاتل کو پھانسی نہ ہو
سکی… مگر ہمارا بھائی محمد افضل پھانسی پا گیا… ہندوستان کی زمین مظلوم
مسلمانوں کی لاشوں سے پھٹنے کو ہے… کبھی مُسلم کُش فسادات ، کبھی جلتی ہوئی
ریل گاڑیاں… کبھی سولیاں ، کبھی پھانسیاں… ایک ہزار سال تک ہمارے غلام
رہنے والے مشرکوں کو چار دن کی حکومت ملی تو انہوں نے… اہل توحید کا جینا
دوبھر کر دیا… ہمیں مشرکوں سے کوئی شکوہ نہیں، اُن کو یہی کرنا تھا جو وہ کر
رہے ہیں… ان کی تاریخ قرآن مجید میں موجود ہے، ان کی فطرت کا بیان
اللہ تعالیٰ نے خود فرمادیا ہے… وہ نہ دل رکھتے ہیں نہ
دماغ… بس ظلم، کمینگی، گندگی اور موقع پر ستی… وہ کمزور ہوں تو پُرامن اور
طاقتور ہوںتو درندے… شکوہ مسلمانوں سے ہے کہ انہوں نے مشرکوں کے ساتھ وہ نہیں
کیا جو انہیںکرنا چاہئے… اسی لئے مظلوم لاشیں لٹک رہی ہیں، اور تندروں
میںجلتے بچے اللہ ، اللہ پکارتے دم توڑ رہے ہیں… مسلمانو!
اب تو اپنی حالت پر رحم کرو… دیکھو! رب تعالیٰ فرما رہے ہیں…
ان
تمام مشرکوںسے اسی طرح لڑو جس طرح وہ تم سب سے لڑ رہے ہیں… او! پیارے بھائی
افضل تم لڑتے لڑتے کٹ گئے… یاد رکھنا تمہاری قبر کی طرف فدائیوں کے دستے ضرور
پیش قدمی کریں گے… ہاں! کوئی نہیں روک سکے گا، کوئی نہیں…
انڈیا
نجس ، ناپاک
جو
کچھ اللہ تعالیٰ فرما دے وہی حق ہے، وہی سچ ہے… جو اللہ
تعالیٰ کے فرمان کو’’گالی‘‘ کہے وہ بے عقل ہے… انڈیا مشرک ہے اور میرے
رب نے فرمادیا ہے کہ… مشرک نجس ہیں… اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ
نَجَسٌ(سورۃ التوبہ:۲۸)… ناپاک غلاظت کو دھو کر ختم نہ کیاجائے تو گندگی
پھیل جاتی ہے… آج یہ گندگی دور دور تک پھیل گئی ہے… انڈین نجاست کی
گندی بو نے ہزاروں لاکھوں لوگوں کو ایمان کی خوشبو سے محروم کر رکھا
ہے… انڈین فحاشی بھی نجاست، انڈین فلمیں بھی نجاست… انڈین طاقت بھی
نجاست… انڈین گانے بھی نجاست… جو شخص ان کی ایک فلم دیکھ لے اُس کا دل
اور دماغ غلیظ اورناپاک گندگی سے بھر جاتا ہے… وہ گندگی جو کتے کے پیٹ سے
نکلتی ہے… مسلمانوں کو(نعوذ باللہ )… فلموں کا چسکا پڑ گیا ہے تو مشرکوں نے
فلموں کے ذریعہ کفر اور شرک کو پھیلانا شروع کر دیا ہے… محمد افضل گورو شہید
رحمۃ اللہ علیہ ایک زبردست نظریاتی مجاہد تھے… انڈیا نے اپنی فلموں کے ذریعہ
پہلے اُن کے چہرے کو بگاڑا… خوبصورت افضل کا کردار مکروہ شکل کے مشرکوں نے
اداکیا… اور افضل کو ایک لالچی انسان دکھایا… ایسا نوجوان جو پیسے کے
لئے بہک گیا… او ظالمو! اگر ایسا ہوتا تو تم اسے پھانسی کیوں دیتے؟… وہ
تو اپنے ایمان، اپنے نظریہ اور اپنی عزیمت کی وجہ سے تمہارے گلے کی پھانس
تھا…ہاںتم چونکہ خود مال اور پیٹ کے پجاری ہو… مال کی خاطر اپنی بہنوں اور
بیٹیوں کو اکبر بادشاہ اور دوسرے بادشاہوں کے محلّات میںبٹھا آتے تھے…ساری دنیا
میں مال کی خاطر جسم فروشی کا کاروبار تم سے ہی آباد ہے… مال کی خاطرتم اپنی
ہر چیز بیچ سکتے ہو… اس لئے مال سے آگے تمہارا ذہن کام ہی نہیں
کرتا… محمد افضل گوروشہید رحمۃ اللہ علیہ نے مشرکین کے خلاف جہاد
کیا… اے مسلمانو! جو بھی مشرکین کے خلاف جہاد کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ
کا محبوب بن جاتا ہے… وہ اپنے پاک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے
زخموں کا انتقام لینے والا خوش نصیب بن جاتا ہے… وہ زمین کو نجاست سے پاک
کرنے والا انسانیت کا محسن بن جاتا ہے… وہ غزوۃ الہند کا سپاہی بن
جاتا ہے… اور غزوۃ الہند کے مجاہدین کے لئے جہنم سے نجات
ہے… محمد افضل وہ نہیں تھا جسے انڈین فلموں نے دکھایا… مت دیکھیں وہ
فلمیں… محمد افضل وہ ہے جسے مشرکوں نے پھانسی پر لٹکایا… محمد افضل وہ
ہے جس نے مجھے خط میں لکھا کہ میں نے بھارتی صدر سے رحم کی کبھی اپیل نہیں
کی… میرے بارے میں جتنے بیانات آرہے ہیں سب جھوٹ ہیں، میں تو
شہادت کالمحہ لمحہ گن کر انتظار کر رہا ہوں…
واہ
بھائی افضل، آپ کا انتظار تو ختم ہوا… مگر ہم کب تک انتظار کرتے رہیں!
انڈیا
بزدل، کمینہ
مشرکوں
کو ہماری بدقسمتی نے اتنا بڑا ملک دلوادیا، مگر دل اُن کا وہی گیدڑ والا
بزدل… ملک بڑا ہو گیا مگر دل بڑا نہ ہو سکا… کیسے بڑا ہو؟
لاکھوں کی پوجا کرنے والا دل… اپنے مالک وحدہ لاشریک لہ کا باغی اور مجرم
دل… شرک کی پیپ سے بھرا ہوا بیمار دل… انڈین پارلیمنٹ پر حملہ ہو اتو
انڈیا کے ہوش و حواس اڑ گئے… حملہ کرنے والے تمام شاہین ان کی قید میں نہ
آئے… اپنا کام کر کے پرواز کر گئے… جب انڈیا کے حواس بحال ہوئے تو اپنی
خفت ،ذلّت اور شکست کا داغ مٹانے کے لئے کشمیری مسلمانوں کو پکڑ لیا… ایک
جھوٹی داستان میڈیا اور فلموں کے ذریعہ عام کی گئی… اور بالآخر ایک کشمیری
مسلمان کو شہید کر کے اپنے دل کا بغض اور کینہ نکالاگیا… مگر اس کمینگی کے
ساتھ بزدلی بھی کہ… شہید کی میت ورثا کے حوالے نہیں کی گئی کہ تکبیر کے نعروں
سے مشرک کی جان جاتی ہے… گھر والوں کی آخری ملاقات بھی نہیں کرائی گئی کہ
کہیں خبر عام نہ ہوجائے… بس اچانک ایک رات کے آخری حصے میں ایک بے بس قیدی
کو پکڑ کر پھانسی دے دی گئی… کیا اس وقت دنیا میں اس سے بڑی کمینگی اور بزدلی
اور کوئی ہوگی؟؟… مسلمانو! بھائی محمد افضل تمہارے کیا لگتے تھے؟… کیا
وہ اللہ وحدہ لاشریک لہ کو ماننے والے نہیں تھے؟… کیا وہ حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے تمہارے بھائی نہیں
تھے؟… کیا انہیں اللہ تعالیٰ کو وحدہ لا شریک لہ نہ ماننے والوں
نے قتل نہیں کیا؟… جواب دو نوجوانو! جواب دو… کیا تم پر اپنے بھائی کے
قاتلوں سے بدلہ لینا لازمی نہیں ہے؟… کب تک خون معاف کرتے رہو گے… معاف
کرتے کرتے ہمارا خون پانی سے سستا ہو گیا… او نوجوانو! افضل پوچھ رہا
ہے… ہاںمحمد افضل پوچھ رہا ہے…
انڈیا
بے غیرت، ذلیل
لوگ
کہتے ہیں کہ اگر انڈیا سے جہاد کرو گے تو وہاںرہنے والے مسلمانوں کا کیا بنے
گا؟… بھائیو! ایک بات بتاؤ… کیا انڈیا کے مسلمان کرائے کے مکان میںرہتے
ہیں؟… کیا انڈیا واجپائی اورکالے چوہے پرناب مکھر جی کے باپ کی جاگیر
ہے؟… کیا انڈیا ایڈوانی اور نریندر مودی کی ملکیت ہے؟… کیا انڈیا کے
مسلمان کسی اور ملک سے آکر وہاںآباد ہوئے ہیں؟… ارے نہیں… انڈیا کے
مسلمان انڈیا کے مالک ہیں… وہ اس زمین کے وارث ہیں… وہ ہزار سال تک پورے
ہند کے حکمران رہے… پھر بداعمالی کی نحوست کہ وہاںغلیظ انگریز
آگئے… انگریز روئے زمین پر مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں… انہوں نے
اپنے دور حکومت میںمسلمانوں کو دبایا اور مشرکوں کو اٹھایا اور جاتے جاتے ایسا
انتظام کر گئے کہ … ہم مسلمان صبح بھی مرتے ہیں اور شام بھی مرتے
ہیں… ہمارا خون پورے برصغیرمیں سستا ہوگیا… انڈیا ہو یا کشمیر، بنگلہ
دیش ہو یا پاکستان… ہمیں کاٹ کاٹ کر کھایا جاتا ہے… انگریز ہمارے لئے یا
پھانسی کے پھندے چھوڑ گیا یا اپنے کتوں کی طرح پالتو نام کے مسلمان جاگیردار اور
جدّت پسند حکمران… اب برصغیر میں ہم مسلمانوں کے لئے اگر کوئی خیراور نجات کی
چیز ہے تو وہ جہاد افغانستان ہے، جہاد کشمیر ہے، دینی مدارس ہیں، مساجد ہیں اور
تبلیغ کا کام ہے… اور بس… باقی سب کچھ ہماری ہلاکت کے لئے تیار کئے ہوئے
پھندے اور تندور ہیں…ہم جہاد میںلگیں گے تو برصغیر کی نحوست ٹلے گی… نجاست سے
جان چھوٹے گی اور ہماری عظمت رفتہ بحال ہوگی… یاد رکھنا مسلمانو! اس وقت
انڈیا مسلمانوں کا خطرناک ترین دشمن ہے… مگر چونکہ مشرک بے غیرت
بھی ہوتا ہے اور ذلیل بھی… اس لئے وہ اپنی اداؤں، اپنے حسن اور اپنی چالاکی
سے دوستی کا جال بچھاتا ہے…آپ انڈین فلموں… اور انڈین وفود سے نظریں ہٹا کر
کبھی گجرات کی کسی مسلمان بہن کو بھی دیکھ لو… سینکڑوں مشرک جب اسے گھیر کر
بے عصمت کرتے ہیں اور پھربے جان کر کے بھی نہیں چھوڑتے…آپ شاہ رخ،سلمان اور دوسرے
خبیثوں سے نظر ہٹا کر کبھی… جموں کے ہسپتال میں سجاد شہید کا زخموں سے بھرا
جسم بھی دیکھ لو… آپ دوستی دوستی اور امن کی آشا کے نعرے لگانے والے
شرابیوں سے نظریں ہٹا کر کبھی تہاڑ جیل نمبر3کے ایک وارڈ میں… محمد افضل
اورمقبول بٹ جیسے شہداء کی قبریں بھی دیکھ لو… میں نے ایک بار گجرات کے چند
جلے مکان دیکھے… تو دل تڑپ تڑپ کر رونے لگا…اور ایک بار اپنی آنکھوں سے
بابری مسجد کے اندر ہونے والی بت پرستی… اور اشک بہاتا ہوا بابری مسجد کا
ملبہ دیکھا… اُس وقت سے زندگی جیلوں،دھکّوںا ور بربادیوں میں گزر رہی
ہے… مگردل کی آگ ہے کہ کسی طرح نہیں بجھتی…بھائیو! کوئی ذاتی انتقام
نہیں… سوچو، خود سوچو کہ آخر ہمارے آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم نے مشرکین کے خلاف جہاد کس لئے فرمایا؟… آہ! میرے
آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم… آہ! میرے آقا صلی
اللہ علیہ وسلم کا مبارک خون… آہ! محمد افضل گورو کی تنہائیوں
اور بے بسی میں لٹکی لاش…
آہ!
مسلمانو!… آہ! توحید کے علمبردارو…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ نے موت کو پیدا فرمایا اورحیات کو بھی… اور وہ خود حیٌّ قیوم
ہے…
یہ
سال کیا شروع ہوا کہ بس رنگ و نور میں… جانے والے محبوبوں کا تذکرہ ہی جگہ
پاتا ہے… ارادہ تھا کہ گذشتہ کالم کے موضوع کو آگے بڑھائیں گے کہ کراچی سے
غمناک خبر آگئی… حضرت استاذ محترم مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمۃ اللہ علیہ
وفات پاگئے…
اناللہ وانا الیہ راجعون…
وہ
حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمۃ اللہ علیہ کے… ’’سلسلہ‘‘ سے
تھے… جی ہاں حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز… اور حضرت شیخ رحمۃ
اللہ علیہ کے سلسلے میں دو کام بنیادی ہیں…
(۱) ذکر اللہ کی
کثرت…
(۲) موت کی یاد…
یہ
حضرات موت کو اتنا یاد کرتے ہیں کہ موت ایک محبوبہ نظر آنے لگتی ہے… مگر
محبوبہ بھی منکوحہ جو غیروں کے ساتھ مشغول نہیں ہونے دیتی… حضرت مولانا محمد
یحییٰ مدنی رحمۃ اللہ علیہ کافی عرصہ اپنے شیخ کی صحبت میں رہے اور خوب رنگ
پایا… مدینہ منورہ میں قیام تھا اور شیخ رحمۃ اللہ علیہ مہاجر مدنی تھے
سہارنپور اور کاندھلہ چھوڑ کر مدینہ منورہ جا بسے اور اب وہیں آسودہ ہیں، جنت
البقیع میں محل مل گیا…
اللہ
تعالیٰ مغفرت کا اعلیٰ مقام نصیب فرمائے… یہاں ایک قیمتی بات سن لیں…
اللہ
تعالیٰ کے مقرب بندوں، اولیاء کرام… اور حضرات شہداء کرام کے لئے مغفرت
کی دعاء کرتے رہنا چاہئے… اس سے انسان کو بڑا فائدہ ملتا ہے… تفصیل کا
تو مقام نہیں بس ایک روایت سے خود اندازہ لگالیں… یہ روایت حضرت امام بخاری
رحمۃ اللہ علیہ نے نقل فرمائی ہے… واقعہ یہ ہے کہ حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی
اللہ عنہ اپنی والدہ محترمہ سے بہت محبت فرماتے تھے… ان کی والدہ عیسائی
تھیں…مگر حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء مبارک کی برکت سے
مسلمان ہوگئیں… ماشا ء اللہ ! صحابیہ کا مقام…
سبحان
اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم
حضرت
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حاضر ہو کر حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کو خوشخبری سنائی کہ والدہ محترمہ نے اسلام قبول کر لیا ہے اور
ساتھ درخواست پیش کر دی…
{ادع
اللہ لی ولاُِمّی}
’’حضرت!
میرے لئے اور میری امی کے لئے دعاء فرما دیجئے!‘‘
حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعاء فرما دی:
{اللّٰھم
عَبْدِکَ ابو ھریرۃ و اُمُہ أَحِبَّھما اِلی النّاسِ}
یا
اللہ ! آپ کا بندہ… ابو ہریرہ اور ان کی والدہ ان دونوں
کو’’محبوبیت‘‘ عطاء فرما دیجئے۔(الادب المفرد للبخاری)
سبحان
اللہ …! دعاء کی تأثیر دیکھیں کہ ہر جگہ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی
اللہ عنہ کا نام مہکتا ہے… آپ نے کوئی ایسی دینی کتاب دیکھی جس میں اُن
کااسم گرامی نہ ہو؟…
حضرت
آقامدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماں، بیٹے کو محبوبیت کی دعاء سے نوازہ
تو خود ان دونوں کی باہمی محبت بھی لوگ کھلی آنکھوں سے دیکھتے تھے…
حضرت
ابوہریرہ ذرضی اللہ عنہ جب بھی کام پر جانے لگتے تو پہلے والدہ کے پاس حاضر ہوتے
اور آواز لگاتے:
{السلام
علیک یا اُمَّتَاہ ورحمۃ اللہ و برکاتہ}
یعنی
اے پیاری امی… السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ…
وہ
جواب میں فرماتیں:
{وعلیک
یا بُنَیَّ ورحمۃ اللہ و برکاتہ}
اے
پیارے بیٹے… آپ پر بھی سلامتی اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور برکت
ہو…
پھر
دونوں ایک دوسرے کو دعاء دیتے… حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہا فرماتے:
{رحمک
اللہ کما رَبّیتَنی صغیرا}
اللہ تعالیٰ آپ پر رحمت فرمائے جیسے آپ نے بچپن میں مجھے پالا…
وہ
ارشاد فرماتیں:
{رَحِمَک
اللہ کما بَرَرتَنی کبیرا}
اللہ
تعالیٰ کی آپ پر رحمت ہو جیسے آپ نے بڑے ہو کر میرے ساتھ نیکی کی…
اور
کبھی فرماتیں:
{فجزاک
اللہ خیراً ورضی اللہ عنکَ کما بررتنی کبیرا}
اے
بیٹے! اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر دے اور تجھ سے راضی ہو جائے جیسے
تم نے بڑے ہو کر میرے ساتھ بھلائی کی… (الادب المفرد للبخاری)
اب
آئیے اصل بات کی طرف… والدہ کے انتقال کے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ
اُن کے لئے استغفار فرماتے تھے… یعنی مغفرت کی دعاء… اور پھر اس دعاء
میں ایک ایسی’’دعاء‘‘ شامل کر دی… کہ قیامت تک اپنی والدہ کے لئے دعاؤں کا
راستہ کھول گئے… اب ہم سب اُن کی والدہ کے لئے استغفار کرتے ہیں… وہ کس
طرح؟… حضرت محمد بن سیرین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں… کہ ہم ایک رات حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے… انہوں نے یہ دعاء مانگی…
{اللّٰھم
اغفر لابی ھریرۃ، ولاُِمّی ولمن استغفرلھما}
’’یا
اللہ میری اور میری والدہ کی مغفرت فرما دیجئے اور جو بھی میرے لئے
اورمیری والدہ کے لئے استغفار کرے اس کی مغفرت فرما دیجئے‘‘…
حضرت
محمد بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اب ہم اُن دونوں کے لئے استغفار کرتے
ہیں… یعنی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ان کی والدہ کے لئے تاکہ ہم حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی دعاء میں داخل ہوجائیں… (الادب المفرد للبخاری)
آج
بھی اگر کوئی چاہے کہ عظیم اور مقبول صحابی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی دعاء
میں شامل ہو تو وہ ان الفاظ سے استغفار کرے…
{اَللّٰھُمَّ
اغْفِرْلِاَبِی ھُرَیْرَۃَ وَِلاُِمّہٖ}
یا
اللہ ! حضرت ابوہریرہ اور ان کی والدہ کی مغفرت فرما دیجئے…
آپ
ابھی یہ دعاء دل کی توجہ سے چند بار پڑھ لیں عجیب سی خوشی دل میں محسوس ہوتی
ہے… کہ ہم حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی دعاء میں شامل
ہوگئے… کیونکہ جو بھی ان کیلئے اور ا ن کی والدہ کے لئے مغفرت
مانگتا ہے… اس کی مغفرت کی دعاء حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پہلے ہی فرما
دی ہے…
حضرت
شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ کے خلفاء کرام کی تعداد ایک سو سے کچھ زیادہ
ہے… حضرت مولانا یحییٰ مدنی رحمۃ اللہ علیہ بھی ان میں شامل ہیں… عرض
کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس سلسلے میں چونکہ موت کو ہمیشہ یاد رکھنے کی بار بار
تاکید کی جاتی ہے… اس لئے ’’موت‘‘ کو کسی حادثے کی صورت نہیں لیاجاتا، چنانچہ
اسی نسبت کا رنگ تھا کہ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے اپنے والد گرامی کے
انتقال پر غمزدہ تو بہت تھے مگر… دین اور صبر کا دامن اُن کے ہاتھ سے نہ
چھوٹا… ماشاء اللہ ! تمام صاحبزادے صاحب علم اور صاحب عمل ہیں اور دینی
خدمات میں مشغول ہیں… جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کا ادارہ
حضرات اولیاء کا مرکز رہا ہے… اپنے طالب علمی کے زمانہ میں وہاں یہ عجیب بات
دیکھی کہ بڑے بڑے صاحب علم اور صاحب نسبت اساتذہ کرام چھوٹی اور ابتدائی کتب بھی
پڑھاتے تھے… بعد میں یہ سمجھ میں آیا کہ اصل علمی اور روحانی تربیت کا وقت
تو بچپن اور ابتدائی جوانی کا ہوتا ہے… اس وقت اگر انسان کو باطنی روشنی اور
روحانی قوت مل جائے تو دل میںدین کی مضبوط بنیاد پڑجاتی ہے جو آگے چل
کر… مزید طاقتور اور وسیع ہوتی چلی جاتی ہے… اور اگر ابتدائی بلوغت میں
کھوٹ رہ جائے تو آگے چل کر اس کی تلافی میں بہت محنت درکار ہوتی ہے… بنوری
ٹاؤن میں بڑے بڑے اساتذہ چھوٹے درجات کی ابتدائی کتابیں پڑھاتے تھے تو… بچوں
اور نوجوانوں کے قلوب میں دین کی جڑیں جگہ پکڑ لیتی تھیں… درجہ اولیٰ اور
ثانیہ میں حضرت اقدس مولانا بدیع الزماں صاحب رحمۃ اللہ علیہ … حضرت
اقدس مفتی احمد الرحمن صاحب، حضرت اقدس مولانا سید مصباح اللہ شاہ
صاحب، حضرت اقدس مولانا محمد یحییٰ مدنی… اور حضرت اقدس مفتی محمد جمیل خان
شہیدرحمہم اللہ وغیرہم جیسے اکابر حضرات کے اسباق تھے، عربی لغت کی’’بسم
اللہ ‘‘ حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمۃ اللہ علیہ سے ہوئی… الطریقۃ
العصریہ اور الطریقۃ الجدیدہ… اور ماشاء اللہ اس’’بسم اللہ
‘‘ میں بڑی برکت ہوئی کہ آگے چل کر عربی بول چال میں کافی آسانی
رہی… اورعربی میں تدریس کا موقع بھی اللہ تعالیٰ نے عطاء فرما
یا… پھر فقہ کی دو ابتدائی کتابیں ، نورالایضاح اور قدوری بھی حضرت رحمۃ اللہ
علیہ سے پڑھنے کی سعادت ملی… یہ سلسلہ شاید آگے بھی چلتا مگر حضرت رحمۃ اللہ
علیہ نے بہادر آبادکراچی میں اپنا دینی ادارہ… معہد الخلیل الاسلامی اور
اپنے شیخ کی محبت میں مکتبہ الشیخ قائم فرمایا اور اسی میں مشغول ہو گئے… طالب
علمی کے زمانے تو ان کا رعب ان کی شفقت پر غالب رہا، ذی وجاہت تھے… اور کم
وقت کے لئے جامعہ تشریف لاتے تھے… سبق کے دوران اصلاحی گفتگو میں زیادہ زور
معاملات کی صفائی پر دیتے تھے… ترغیب اور واقعات کے ذریعے طلبہ کے دل میں مال
حرام کی نفرت، خیانت کی نفرت اور مال حلال کے التزام کا بیج بوتے تھے… حضرت
شیخ ہجویری رحمۃ اللہ علیہ نے کشف المحجوب میں لکھا ہے:
مہنہ
گاؤں میں ایک بار حضرت شیخ ابو سعید رحمۃ اللہ علیہ کی قبر کے سرہانے اپنی عادت
کے مطابق تنہا بیٹھا تھا کہ میں نے ایک سفید کبوتر کو دیکھا کہ وہ آیا اور اس
کپڑے میں چھپ گیا جو قبر پر پڑا ہواتھا، میں سمجھا کہ شاید کسی کے ہاتھ سے چھوٹ کر
آیا ہوگا کہ یہاں چھپ گیا… لیکن میں نے کپڑا ہٹا کر دیکھا تو کوئی چیز وہاں
موجود نہ تھی۔ دوسرے اور پھر تیسرے روز بھی اسی طرح مجھے دیکھنے کا اتفاق
ہوا… ایک رات میں نے حضرت ابو سعید رحمۃ اللہ علیہ کو خواب میں دیکھا تو وہ
واقعہ ان سے پوچھا، انہوں نے فرمایا:
وہ
کبوتر میرے معاملہ کی صفائی ہے… جو ہر روز قبر میں میرے ساتھ مصاحبت کرتا
ہے… (کشف المحجوب)
مالی
معاملات میں احتیاط، امانت کے التزام اور خیانت سے مکمل پرہیز کے بغیرکوئی انسان
ولی اور مجاہد تو درکنار… ایک اچھا مسلمان بھی نہیں بن سکتا… ’’خیانت‘‘
منافق کی سب سے بڑی علامت ہے اور شیطان اندر ہی اندر دل میں’’نفاق‘‘ کی خندق
کھودتاہے اور طرح طرح کی تاویلیں بتا کر انسان کو خیانت پر لاتا ہے… اور جب
کوئی انسان خیانت پر آجائے تو پھر شیطان اس سے بے فکر ہوجاتا ہے… طالب علمی
کے بعد حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا، آپ پابندی کے ساتھ
جامعہ کے دارالحدیث میں جمعہ کی مجلس ذکر میں تشریف لاتے تھے… اور خود آپ کے
علمی ادارے میں بھی حضرات مشائخ کا آنا جانا لگا رہتاتھا… انڈیا کی قید سے
رہائی کے بعد… کراچی واپسی ہوئی تو حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو ایک نئے انداز میں
پایا… جہاد فی سبیل اللہ کے شیدائی، دونوں ہاتھ کھول کر انفاق فی
سبیل اللہ کرنے والے… اپنی دعاؤں اور نصائح سے مجاہدین کو
نوازنے والے، مظلوم مسلمانوں کا بے انتہا درد رکھنے والے، کفریہ طاقتوں کی ریشہ
دوانیوں کو سمجھنے والے اور مجاہدین کی حددرجہ حوصلہ افزائی کرنے والے… ایک
بار تنہائی کی ایک مجلس میں اپنے شوق شہادت کا ایسانقشہ کھینچا کہ دل بھر
آیا… حدیث شریف کے مصداق جو بھی صدقِ دل سے شہادت کا متلاشی ہوتا ہے
اللہ تعالیٰ اسے شہادت کا مقام عطاء فرماتے ہیں، خواہ اس کا انتقال اپنے
بستر پر ہی کیوں نہ ہواہو… اُن دنوں جب بھی کراچی جانا ہوتا، حضرت رحمۃ اللہ
علیہ ایسی شفقت اور محبت کا معاملہ فرماتے کہ دل ان کی خورد نوازی پر بے حد شرمندہ
ہوتا… وہ صاف دل، پاک زبان اور صاف معاملہ رکھنے کے عادی تھے اور ان کی کوئی
بھی مجلس نفع سے خالی نہ ہوتی تھی…
اللہ تعالیٰ اُن کو اُن کے احسانات کا بہترین بدلہ عطاء فرمائے… انہیں
اپنے جوار میں مغفرت اور رحمت کا مقام نصیب فرمائے…
{اللّٰھم
لا تحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ}
اللہ
تعالیٰ انہیں دار آخرت کی ہر خوشی نصیب فرمائے… اور وہاں کی ہرتنگی سے
اُن کی حفاظت فرمائے… اور ان کی آل اولاد میں دین کامل اور اس کی خدمات کو
جاری و ساری فرمائے…
آمین
یا ارحم الراحمین
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ میری اور آپ سب کی مغفرت فرمائے… آج ایک مہکتے گلاب کی
مہکتی باتیں عرض کرنی ہیں… آئیے پہلے اُن کے لئے استغفار کر لیں…
{اَللّٰھُمَّ
اغْفِرْ لِعَبْدِکَ مُحَمَّدْ اَفْضَل}
یا
اللہ ! اپنے بندے محمد افضل گوروشہید رحمۃ اللہ علیہ کو مغفرت
عطاء فرما دیجئے…
سنت
سیدنا خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ
حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جیش… یعنی لشکر کے ایک سپاہی حضرت
سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کو مشرکین نے سولی پر لٹکا کر شہید
کیا… وہ’’جیشِ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ کے سولی پانے والے پہلے مجاہد
تھے… قصہ آپ نے بارہا سنا ہو گا… یہ ۴ھ کا واقعہ
ہے… ۴ھ
میں حضرت سیدنا خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کو ’’مشرکین مکہ‘‘ نے سولی پر
شہید کیا… اور۱۴۳۴ھ
میں بھائی محمد افضل گوروشہید ذ کو’’مشرکین ہند‘‘ نے سولی دے کر شہید
کیا… حضرت سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ نے شہادت سے پہلے دو رکعت نماز
کی مہلت مانگی جو مل گئی… حضرت کاندھلوی ذلکھتے ہیں:
حضرت
خبیب رضی اللہ عنہ سولی پر لٹکائے گئے اور شہید ہو ئے ذ اور آئندہ کے
لئے یہ سنت قائم فرما گئے کہ جو شخص قتل ہو وہ دو رکعت نماز ادا کرے (سیرت
المصطفیٰ بحوالہ زرقانی)
ہمارے
بھائی محمد افضل گورو شہید رحمۃ اللہ علیہ نے بھی پھانسی
سے پہلے نماز ادا کی… مقصد یہ واقعہ لکھنا نہیں بلکہ یہ عرض کرنا
ہے کہ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے سولی پر جاتے ہوئے مشرکین پر ایک دعاء
فرمائی:
{اَللّٰھُمَّ
اَحْصِھِمْ عَدَداً وَاقْتُلْھُمْ بَدَداً وَلَا تُبْقِ مِنْھُمْ أَحَداً}
یا
اللہ اُن کو چن چن کر ہلاک فرما دیجئے اور ان میں سے کسی
کو زندہ نہ چھوڑیئے…
کیا
بھائی افضل شہید پنے بھی یہ دعاء کی تھی؟… ویسے وہ کافی پڑھے لکھے، صاحب
مطالعہ اور شعر و ادب کا ذوق رکھنے والے مسلمان تھے… تصوف اور تاریخ پر بھی
اُن کا مطالعہ وسیع تھا… ان کو حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کا واقعہ
اور دعاء بھی یقینا معلوم ہو گی… اور وہ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ اللہ
تعالیٰ کے دشمنوں کے لئے بددعاء کرنا ایک محبوب عبادت اور حضرت آقا مدنی
صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک سنت ہے… اب دیکھیں! نو(۹) فروری
ہفتہ کے دن بھائی محمد افضل گورو رحمۃ اللہ علیہ کو شہید کیا گیا اور اس کے ٹھیک
بارہ دن بعد قدرت کا انتقام دیکھئے انڈیا پر موت کا پہلا جھٹکا برسا… جی ہاں
حیدر آباد دکن دھماکوں سے لرز اٹھا، بہت سے لوگ مارے گئے اور سینکڑوں زخمی
ہوئے… افضل شہید رحمۃ اللہ علیہ کی خوشیاں منانے والوں کے چہرے غم اور خوف سے
کالے ہو گئے… بھائیو! بات یہ ہے کہ شہید کا اللہ تعالیٰ کے ہاں
مقام بڑا اونچا ہے، خصوصاً اگرکوئی مظلوم شہید ہو تو اس کی طاقت اور قوت کو
اللہ تعالیٰ بہت بڑھا دیتے ہیں اس پر واقعات لکھوں تو کئی صفحے اسی
میںصرف ہو جائیں گے، بھائی محمد افضل گورو شہید رحمۃ اللہ علیہ تھے اور وہ بھی
مظلوم، ہاں! ایسے مظلوم کہ ابھی بھی اُن کے آخری لمحات کا سوچ کر دل غم سے پگھلنے
لگتا ہے…
چاروں
طرف دشمن ہی دشمن… کوئی بھی اپنا نہیں، کوئی بھی شناسا نہیں… کافروں اور
مشرکوں کے مکروہ چہرے، ان کی گندی آوازیں، اُن کے بدبودار قہقہے، ان کی متعفن
باتیں… وارڈ کا اداس کمرہ، قرآن مجید کو الوداعی بوسہ… دور دور تک کوئی
آواز سننے والا نہیں… دروازہ کھلنے کی چیختی آواز اور کالے بوٹوں کی
دھمک… خوبصورت ہاتھ پیچھے باندھ دیئے گئے اور چہرے پر موٹی سیاہ
ٹوپی… ایک ارب ساٹھ کروڑ مسلمانوں کا بھائی اور یہ بے بسی… ایک جہادی
لشکر کا سپاہی اوریہ بے کسی… ہاں بھائیو! جو اللہ تعالیٰ کے
راستے میں جتنا بے بس بنایا جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اسی قدر
اونچا، مقرَّب اور طاقتور ہو جاتا ہے… اس کی اپنے رب تعالیٰ کے ساتھ ملاقات
بڑی میٹھی اور خالص ہوتی ہے… وہ غیروں کے نرغے سے نکل کر اپنے محبوب سے جا
ملتا ہے…اس کے آخری لمحات کی دعائیں آسمانوں اور پہاڑوں کو لرزا دیتی
ہیں… وہ اس وقت اپنی زندگی نہیں مانگتا… کیونکہ وہ اصل زندگی کی طرف جا
رہا ہوتا ہے… وہ تو اس وقت اُمت کے لئے مانگتا ہے، مسلمانوں کے لئے مانگتا
ہے… اور دشمنان اسلام کے لئے موت کا سوال کرتا ہے… بھائی محمد افضل گورو
شہید رحمۃ اللہ علیہ کی مانگی دعائیں رنگ لا رہی ہیں… بے شک ابھی اور رنگ
لائیں گی… ان شاء اللہ بہت گہرا رنگ…لوگو! ایک بات یاد رکھنا
بھائی محمد افضل گورو شہید رحمۃ اللہ علیہ کے پھانسی نامے پر دستخط کرنے
والا… ناپاک چوھا پرنب مکھر جی ان شاء اللہ بہت درد ناک موت مرے
گا، بہت عبرتناک، بہت اذیت ناک…
اجڑتے
باغ کا فدائی بلبل
ایک
باغ تھا بڑا حسین، بہت خوبصورت… پھلوں اور پھولوں سے بھرا ہوا، لاکھوں
انسانوں اور پرندوں کی زندگی اسی سے تھی… وہ اچانک زرد پڑنے لگا، مرجھانے
لگا… باغ کے مالیوں نے بڑا زور لگایا، طرح طرح کے وظیفے، دعائیں اور طرح طرح
کی دوائیں… مگرباغ تیزی سے سوکھ رہا تھا اور اس کے سوکھنے کے ساتھ ہزاروں
زندگیاں موت کی طرف بڑھ رہی تھیں… ایک وقت تھا کہ باغ میں خوشیوں کے
قہقہے اور خوشبوؤں کا ڈیرا تھا… اور اب یہ حالت صرف سسکیاں تھیں،
خوف تھا اور گہری اداسیاں… ہر اگلے دن کچھ مزید درخت سوکھ جاتے، پودے زمین پر
سر جھکا دیتے اور سبزے کی جگہ پیلاہٹ کا راج ہوجاتا… سارے مالی سر جوڑ کر
بیٹھے، ہر ایک کی آنکھوں میں آنسو… طویل مشورہ ہوا آخر طئے پایا کہ پرانے
بوڑھے مالی کو منا کر لایا جائے وہی اس باغ کے مزاج کو جانتا ہے وہی تشخیص کر سکتا
ہے کہ… آخر باغ کو کیا بیماری اور مرض لگا اور علاج کیا ہے… سارے دوڑ
کر گئے پرانے مالی کو منا لائے جس نے اپنے ہاتھوں سے باغ لگایا تھا… وہ آیا
تو زرد باغ کو دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا، ارے یہ کیا؟… اب ہزاروں لاکھوں
زندگیوں کا کیا بنے گا؟… بابا! رونے کا وقت نہیں علاج اور مرض
بتاؤ… مالی بابا ایک طرف دوڑا، وہاں گلاب کا ایک پرانا پودا تھا اور اُس پر
ایک ہی گلاب کا پھول کھلتاتھا… جا کر دیکھاتو سرخ گلاب کا پھول سوکھ رہا
تھا… مالی نے کہا! بھائیو! یہ پھول اس باغ کی جان ہے، یہ سرخ ہو تو پورا باغ
زندہ رہتا ہے اور یہ مرجھا جائے تو باغ بھی مرجھا جاتا ہے… ابھی یہ پھول
گرانہیں… یاد رکھو! جس دن یہ گر گیاباغ پورا خاک کا ڈھیر بن جائے گا… یہ
کہہ کر بوڑھا مالی پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا اور سارے مالی حیران کہ… اتنے
بڑے باغ کی زندگی کا راز صرف اس ایک پھول میں ہے؟… بابا! یہ پھول کیسے سرخ
ہوگا؟… ہم اس کے پودے کو پانی لگاتے ہیں… کوئی پانی لگانے لگا اور کوئی
کھاد دینے لگا… اسی پھول کے گردسب نے گھیرا ڈال رکھا تھا… مگر ہر تدبیر
کے ساتھ پھول مزید مرجھا جاتا… شام کے سائے پھیل گئے… مالی بابا نے گلاب
کو دیکھا! ایک زور دار سسکی بھری اور کہا! بس ایک رات ، ایک دن… ہاں! اگر آج
رات یا صبح تک گلاب سرخ نہ ہوا تو گر جائے گا… اور گلاب کیا گرے گا کہ پورا
باغ ہی جل گرے گا… سب مالی اور بابا وہیں بیٹھے فکر میں روتے رہے… کیا
کریں؟ کیا نہ کریں؟… دیررات سب کو نیند آگئی… صبح اُن کے کانوں میں پرندوںکا
شور گونجا تو جاگ اٹھے… اُجڑے باغ میں پرندوں کا شور؟… انہوں نے دائیں
بائیں دیکھا تو حیران رہ گئے… تمام درخت اور پودے ہرے بھرے تھے اور پورا باغ
زندگی اور خوشبو سے آباد تھا… بابا نے بڑھ کر گلاب کو دیکھا تو وہ
پہلے سے زیادہ سرخ ، گردن تانے مسکرا رہا تھا… اور اس کی مسکراہٹ
پورے باغ کو زندگی تقسیم کر رہی تھی… وہ خوش بھی تھا اور حیران بھی کہ یہ ایک
رات میں ایسا کیا ہوا کہ گلاب جی اٹھا اور باغ بھی زندہ ہو گیا… اچانک اُس کے
کان میں رونے کی آواز آئی… اس نے دیکھا کہ ایک بلبل رو رہا ہے… پرانا
مالی اسے پہچانتا تھا… جا کر پوچھا کہ اے خوش آواز بلبل… یہ آج رونا
کیسا، آج تو سب خوشیاں منا رہے ہیں… بلبل نے پودے کے نیچے دیکھنے کا اشارہ
کیا ، مالی نے دیکھا تو وہاں اس بلبل کا ساتھی… مُردہ پڑا تھا… قصہ یہ
ہوا کہ جب سب مالی سو گئے تو… ایک بلبل گلاب کو منانے آیا… اے گلاب! تو
کیسے سرخ ہوگا… گلاب نے افسردہ لہجے میں کہا! آج زندگی کی آخری
رات ہے اور پھر میرے ساتھ یہ ساراباغ بھی ختم ہو جائے گا… بلبل نے غور سے
گلاب کو دیکھا ، آنکھوں سے ایک آنسو ٹپکایا اور ایک جذبے کے ساتھ جا کر گلاب کے
ساتھ لگے کانٹے کو اپنے سینے سے بھینچ لیا… بلبل نے زور لگا کروہ کانٹا اپنے
سینے میں اُتارا اور اپنے دل سے پار کر دیا… دل میں موجود خون کا قطرہ اُس
کانٹے کے ذریعہ گلاب تک پہنچا تو… گلاب ایک دم جی اٹھا… ہاں!گلاب جی
اٹھا… اُس کے جینے سے سارا باغ جی اٹھا… اور باغ کے جینے سے لاکھوں لوگ
جی اٹھے… مگر بلبل کی لاش کسی نے نہ دیکھی کہ وہ اسی پودے کے نیچے پڑی
تھی… جہاد کشمیر کا باغ، غزوہ ہند کا باغ… ہاں بہت مرجھایا ہوا
باغ… آج ایک نئی زندگی محسوس کر رہا ہے… خوشبو تیزی سے مہک رہی
ہے… اور ہر طرف حرارت دوڑ رہی ہے… ہاں! مگر یہ بھی تو دیکھ لو کہ… اس
درخت کے نیچے میرے بھائی افضل شہید رحمۃ اللہ علیہ کی لاش پڑی ہے…
سلام
اے شہید اسلام… سلام، سلام، سلام
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ کی’’محبت‘‘ تمام مقامات سے اونچا مقام ہے… اور ہر مسلمان پر فرض
ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے’’محبت‘‘ رکھے… بھائیو! آج ’’محبت‘‘ کی
باتیں ہونگی… مجھے چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں
لکھوں… اور آپ کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں پڑھیں…
اللہ…اللہ…اللہ…اللہ
حضرت
عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ اعمال میں افضل ترین عمل کون سا ہے؟
فرمایا اللہ تعالیٰ کی محبت… اور اس کی رضا پر راضی
رہنا…(کیمیائے سعادت)
امام
غزالی پبھی بڑے عجیب اللہ والے ہیں… محبت الہٰی پر لکھتے ہی چلے
گئے، درجنوں صفحات لکھ ڈالے… بہت اچھا کیا، بہت اچھا کیا… مگر’’محبت‘‘
تب سمجھ آتی ہے جب انسان کسی سچے عاشق کو دیکھ لے… قریب سے دیکھ لے یا دور
سے دیکھ لے… بس عاشق سچا ہو… بالکل سچی محبت رکھنے والا اُسے دیکھتے ہی
محبت سمجھ میں آجاتی ہے اور دل میںاُتر جاتی ہے… امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے
بھی محبت کے باب میںلکھتے لکھتے آخر میں… عاشقوں کے قصے ہی لکھ ڈالے، اُن
قصوں کو پڑھ کر دل میں زندگی محسوس ہوتی ہے… اللہ تعالیٰ کے
دیدار کا شوق… آہ!محبوب حقیقی کا دیدار…
سبحان
اللہ ، سبحان اللہ … اللہ تعالیٰ کا دیدار…
وُجُوْہٌ
یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ ٭ اِلٰی رَبِّھَا نَاظِرَۃٌ ٭ (القیامۃ۲۲،۲۳)
ارے
جب تک اللہ تعالیٰ کا دیدار نہ ہوگا… جنت کی نعمتوں کا بھی حقیقی
مزہ نہیں آئے گا… ابھی ہم اپنے زمانے کے ایک سچے عاشق کو دیکھ رہے
ہیں… محترم جناب بھائی محمد افضل گورو شہید رحمۃ اللہ علیہ … آپ
نے القلم کے گذشتہ شمارے میں اُن کا خط پڑھا؟… سچی بات ہے اُس خط کوپڑھنا بھی
مشکل ہے آنکھیں سمندر میں ڈوبنے لگتی ہیں اور دل ہچکولے کھانے لگتا
ہے… پھانسی کے پھندے سے دس گز کے فاصلے پر اپنی موت سے صرف ایک گھنٹے
دور… سبحان اللہ ! کیسی محبت اور شکر میں ڈوبی تحریر ہے… کیسی
جاندار، کیسی باوقار اور کیسی پر شکوہ…
آپ
سب سے درخواست ہے کہ اس مبارک تحریر کو فریم کرا کے اپنے کمرے میں لگا
لیں… پلاٹوں، مکانوںپر شکر کرنے والے بہت، سواریوں پر شکر کرنے والے
بہت… صحت اور مالداری پر شکر کرنے والے بہت…
ان
نعمتوںپر بھی شکر ادا کرنا چاہئے… ضرور کرناچا ہئے مگر… پھانسی پر شکر،
اپنی بے بسی اور بے کسی پر شکر… تنہائی میں دشمنوں کے ہاتھوںقتل ہونے پر
شکر… ہاں! یہ وہی ادا کر سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ سے سچی محبت کے
مقام پر فائز ہو… جس کا قلب مطمئن ہو، جس کا نفس، نفس مطمئنہ ہو اور جو اپنے
محبوب سے ملنے جارہا ہو… محبت کے یقین کے ساتھ…
جان
دے دی ہم نے اُن کے نام پر
عشق
نے سوچا نہ کچھ انجام پر
آج
سے چودہ سو تیس سال پہلے… اسلام کی خاطر سولی پانے والے حضرت سیدنا
خبیب رضی اللہ عنہ کے اشعار پڑھیں، جو انہوں نے سولی پر جاتے ہوئے
ارشاد فرمائے اور پھر بھائی محمد افضل گورو رحمۃ اللہ علیہ کی تحریر
پڑھیں… سبحان اللہ ! کیسے ملتے جلتے جذبات ہیں…
وہ
فرما رہے تھے:
لَسْتُ
اُبَالِی حِیْنَ اُقْتَلُ مُسْلِماً
عَلٰی
اَیِّ شِقٍّ کَانَ لِلّٰہِ مَصْرَعِیْ
مجھے
کچھ پرواہ نہیں کہ جبکہ میں مسلمان ماراجاؤں، خواہ کسی بھی کروٹ پر
مروں… جبکہ میرا قتل ہو کر گرناخالص اللہ تعالیٰ کے لئے
ہو… تھوڑا سا غور کریں… نعمت اسلام کا کیسا والہانہ شکرا دا کیا جارہا
ہے… مظلو میت کی حالت میں جو مرنے جارہا ہو اس کے دل میں تو شکوہ ہوتا ہے کہ
یہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟… میرے لئے اللہ تعالیٰ کی مدد کیوں
نہیں اُتری؟… میری حفاظت کے لئے فرشتے کیوں نہیں آئے؟… میرے ساتھی،
رفقا میری جماعت والے کہاں مر گئے؟… میری زندگی ضائع ہو گئی؟… وغیرہ
وغیرہ… طرح طرح کے شیطانی وساوس… میں نے کیا پایا؟… میرا تو سب کچھ
لُٹ گیا… مگر اللہ تعالیٰ سے محبت کے مقام پر فائز دیوانے ان
وسوسوں سے محفوظ رہتے ہیں… اور وہ شکر ادا کرتے ہیں کہ محبوب نے اپنے عاشق کو
قربانی کے لئے چُنا اور اب چند لمحات بعد…وصال ہی وصال… دیدار ہی دیدار…
محترم
بھائی محمد افضل شہید رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
’’
اللہ پاک کا لاکھ شکریہ کہ اس نے مجھے اس مقام کے لئے چنا‘‘
اچھا
بھائیو!… محبت کے ساتھ ایک حدیث پڑھتے ہیں پھر بات آگے بڑھاتے ہیں… جب
موضوع ہی محبت،… عشق اور دیوانگی کا ہے تو الفاظ میں کیا ربط اور مضمون میں
کیا سلیقہ… لیجئے حدیث مبارک میںڈوب جائیے… بھائی محمد افضل گورو رحمۃ
اللہ علیہ نے… اسی حدیث شریف سے’’محبت‘‘ کا راستہ معلوم کیا تھا…
حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
{جَاھِدُوا
الْمُشْرِکِیْنَ بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ وَاَلْسِنَتِکُمْ} (ابو داؤد)
جہاد
کرو مشرکین کے خلاف اپنی جان سے، اپنے مال سے اور اپنی زبانوں سے…
یہ
ہے محبت کا وسیع ترین میدان… جی ہاں! میدان جہاد اور وہ بھی مشرکین کے
خلاف… اور اس میں بھی اتنی وسعت کہ جان بھی لگا دو، مال بھی لگا دواور زبانوں
کو بھی خوب استعمال کرو… یعنی زبان سے بھرپور دعوت جہاد دو… ان کی شدید
مذمت کرو… اور ایسی باتیں کرو جن سے انہیں تکلیف ہو… اور مسلمانوں کواُن
کے خلاف قتال پر اُبھارو… جوش دلاؤ اور اُن کے لئے زمین تنگ کرو… محبت
کا اعلیٰ مقام حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے… سولی کی طرف بڑھتے ہوئے
سمجھا دیا…
وَذٰلِکَ
فِی ذَاتِ الْاِلٰہِ وَاِنْ یَشَاْء
یُبَارِکْ
عَلٰی اَوْصَالِ شِلْوٍ مُّمَزَّعٍ
اللہ
تعالیٰ مظلوم شہداء کے جسموں پر بھی برکت نازل فرماتے ہیں… حتیٰ کہ اُن
کا نام لینے اور اُن کا تذکرہ کرنے سے بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل
ہوتی ہے… تہاڑجیل کے ایک تاریک وارڈ میں آسودۂ خاک’’عاشق‘‘ کا پیغام آج
پوری دنیا میں گونج رہا ہے… کشمیری مسلمانوں میں ایک نیا جذبہ دوڑ رہا
ہے… مجاہدین کے فدائی دستے صف بندیاں کر رہے ہیں… کیا مشرق اور کیا
مغرب… حتیٰ کہ برطانیہ اور امریکہ میں بھی افضل گورو شہید رحمۃ اللہ علیہ کے
نعرے گونج رہے ہیں… وہ جو انڈیا کے سحر میں مبتلا تھے وہ بھی دل بھر کر
مشرکین کو گالیاں دے رہے ہیں… اوربھائی افضل شہید رحمۃ اللہ علیہ اسی طرح
مسکرا رہے ہیں جس طرح وہ ہتھکڑیاں پہن کر مسکرایا کرتے تھے… یہاں ایک اہم بات
پوری توجہ سے سمجھ لیں… قتال فی سبیل اللہ ،یعنی اللہ
تعالیٰ کی رضاء کے لئے… اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑنا،
جنگ کرنا… یہ اسلام کا قطعی فریضہ ہے… اور اللہ تعالیٰ نے
اپنے محبوب نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرمایا
کہ… آپ ایمان والوں کو قتال پر اُبھاریں… اب کسی مسلمان کے لئے جائز
نہیں کہ وہ… کوئی ایسی بات کہے یا لکھے جس سے ’’قتال فی سبیل اللہ ‘‘
کی اہمیت کم ہوتی ہو… یا اس سے جہاد پر ابھارنے کی بجائے، جہاد سے بٹھانے کا
ماحول بنتا ہو… یاد رکھیں جس مسلمان نے بھی اپنی زندگی میںیہ گناہ کیا ہو
اُسے چاہئے کہ… مرنے سے پہلے پہلے توبہ کر لے… اللہ تعالیٰ
کا فرمان ہے
یٰٓاَیُّھَا
النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَی الْقِتَال (الانفال۶۵)
اے
نبی! آپ ایمان والوں کو جہاد پرابھارئیے…
اس
میں’’تحریض‘‘ کالفظ استعمال ہوا ہے… یعنی قتال کی دعوت بہت پر زور ہو، بہت
مؤثر ہو ، بہت واضح ہو… اور بہت جاندارہو … حَرْضٌ کہتے ہیں ایسی
کمزوری کوجو ہلاکت میں ڈالنے والی ہو… اس اعتبار سے تحریض کا معنیٰ(سلب
مأخذکے قانون سے) یہ ہوگا کہ قتال کی ایسی دعوت دیجئے جو دل سے ہر طرح کی کمزوری
کو دور کر دے… اور ایک مسلمان کو شوق کی ہواؤں میں اڑاتی ہوئی… میدان
جہاد کی طرف لے جائے… چند دن پہلے حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی
کتاب’’الادب المفرد‘‘ پر ایک ہندوستانی عالم کی تحقیق دیکھی… پہلے وہ حدیث
شریف آئی کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ترین اعمال یہ ہیں
(۱) نماز اپنے وقت پر ادا کرنا…
(۲) والدین کے ساتھ حسن سلوک
کرنا…
(۳ ) جہادفی سبیل اللہ کرنا…
انہوں
نے نہ توصلوٰۃ یعنی نماز کے لغوی معنیٰ اور اس کے مقاصد بیان
کئے… نہ برالوالدین کی لغوی تحقیق کی… مگر جہاد فی سبیل
اللہ پر دونوں ہاتھ کھول کر پل پڑے… جہاد کے لغوی
معنیٰ… فلاں چیز بھی جہاد، فلاں چیز بھی جہاد… اور آخر میں یہاں تک ستم
کہ جہاد کا مقصد کیا ہے؟… یہ مقصد دیگر اعمال سے بھی حاصل ہو سکتا
ہے… بالکل وہی دلیل جو نماز کا منکر ذکری فرقہ دیتا ہے کہ’’نماز‘‘ کا مقصد
ذکر ہے… تو اصل مقصد حاصل کرو نماز کی ضرورت نہیں… جیسے بھی بن پڑے ذکر
میں لگے رہو… بندہ نے ‘’جہاد فی سبیل اللہ ‘‘ پر اُن کی یہ ساری تحقیق
پڑھ کر سوچا کہ دو صفحے کی اس عبارت کو پڑھنے کے بعد… کون سا ایسا مسلمان ہو
گا جو جہاد میں جانا گوارہ کرے گا؟… ایک طرف اللہ تعالیٰ کا حکم
ہے کہ قتال پر اُبھارو… اور دوسری طرف اس طرح کی تحقیقات ہیں کہ جن کو پڑھ کر
قتال پر جانا تو دور کی بات کبھی زندگی میں قتال فی سبیل اللہ کا خیال
تک دل میں نہ آئے… پھر ستم دیکھئے کہ اسی کتاب میں چند صفحات بعد ایک روایت
آئی… ایک صحابی نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد کی
اجازت مانگی… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے والدین کی
خدمت میںرہنے کا حکم فرمایا… بندہ نے سوچا کہ محقق صاحب یہاں بھی ’’جہاد‘‘ کے
لغوی معنیٰ بیان فرمائیں گے… جہاد کے وسیع مفہوم کو اجاگر فرمائیں
گے… جہاد اکبر اور اصغر کے مسئلے کو چھیڑیں گے کہ… والدین کی اجازت کے
بغیر کوئی بھی جہاد جائز نہیں… مگریہاں وہ خاموش رہے اور یہی اشارہ دیا کہ
یہاں… جہاد کا معنیٰ قتال فی سبیل اللہ ہے…یعنی مقصد صرف اور
صرف… اسلام کے محکم فریضے’’قتال فی سبیل اللہ ‘‘ کی اہمیت کو کم کرنا
ہے… اللہ تعالیٰ ایسے افراد کو ہدایت عطاء فرمائے…
کاش
یہ غزوہ بدر کو دیکھیں… کاش یہ غزوہ اُحد کو دیکھیں… کاش یہ آیات جہاد
کو دیکھیں اور جہاد میں حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے بہنے
والے مبارک خون کو دیکھیں… یہ حضرات خود جہاد میں نہیں نکل سکتے تو نہ
نکلیں… مگر دوسروں کو روکنا، قتال کی اہمیت کو کم کرنا… اور تحریف کے
راستے کو اپنانا کسی بھی طرح خود ان کے اپنے مفادمیں بھی نہیں ہے… زمانے کا
رنگ تیزی سے بدل رہا ہے اور اب پوری دنیا میں عمومی جہاد کا دور شروع ہونے والا
ہے… ہر ٹھنڈے اور گرم علاقے تک جہاد کی دعوت پہنچ چکی ہے… ہر پہاڑی اور
صحرائی ملک میں جہاد انگڑائی لے رہا ہے… میدانوں اور سمندروں میں جہادی دستے
منظم ہو رہے ہیں… شہداء کی لاشیں کہیں سولیوں پر… کہیں ٹکڑوںمیں اور
کہیں سمندروں میں قرون اولیٰ کی حکایتیں زندہ کر رہی ہیں… مغرب بعید سے لیکر
مشرق اقصیٰ تک کے علاقے فدائیوں کی یلغار میں ہیں… شائد اب تک دنیا کے کئی
ملکوں میں مجاہد مسلمانوں کی حکومتیں بھی قائم ہو چکی ہوتیں… مگر مجاہدین میں
چند صفات کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ… مکمل غلبہ حاصل نہیں کر پا
رہے … ایک امیر کی اطاعت… کسی بھی جماعت اور لشکر کو ناقابل شکست
بنا دیتی ہے… اسی طرح ذکر اللہ کی کثرت… اورشریعت کا التزام
جہاد کی رفتار کو تیز اورمضبوط بنانے کے ذریعے ہیں… ایک مجاہد کے لئے یہ سب
کچھ آسان ہو جاتا ہے… اگر اسے اللہ تعالیٰ کی ’’محبت‘‘ نصیب
ہو… اور اس کا ہر عمل … اللہ تعالیٰ کی محبت میں
ہو… بے شک! اللہ تعالیٰ کی محبت تمام مقامات سے اونچا
مقام… اور تمام نعمتوں سے میٹھی نعمت ہے…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
مبارک کلمہ
اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہی ہر نیکی ممکن ہے…
لَا
حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللہ
اللہ
تعالیٰ قوت عطاء فرمائے تو انسان گناہوں اور برائیوں سے بچ سکتا ہے…ورنہ
نہیں
لَا
حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللہ
کوئی
انسان چاہے کہ اس کی ’’حالت‘‘بدل جائے… بری حالت، اچھی حالت میں تبدیل
ہوجائے… تو یہ صرف اللہ تعالیٰ کے حکم اور قوّت سے ہی ممکن ہے…
لَا
حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللہ
نفس
بہت طاقتور ہے… کوئی چاہے کہ اپنے نفس کے سرکش گھوڑے کو لگام ڈال کر اپنے
قابو میں کر لے تو کوئی انسان خود اس کی طاقت نہیں رکھتا… ہاں! اللہ
تعالیٰ کسی کو اس کی قوت عطاء فرمائے تو نفس کو قابو کرنا بھی ممکن ہے…
لَا
حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللہ
شیطان
بہت موذی، مکار اور تجربہ کار دشمن ہے… شیطان کے شر سے بچنا اسی کے لئے ممکن
ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے اس کی قوت عطاء فرمائے…
لَا
حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللہ
دو
عجیب قسم کی بیماریاں انسان کو لگ جاتی ہیں… ایک کا نام ہے’’غمّ‘‘ اور دوسری
کا نام ہے’’ ھمّ‘‘… ’’غمّ‘‘ انگاروں سے بھرے ہوئے تندور میں قید کر دیتا
ہے… اور’’ھمّ‘‘ انسان کا اندر ہی اندر سے خون چوس لیتا ہے…’’غمّ‘‘ کا ترجمہ
اردو میں گھٹن کر سکتے ہیں اور’’ھمّ‘‘ کا مطلب فکر اور پریشانی… ان
دونوں بیماریوں کی دنیا میں کوئی’’حِسّی دواء‘‘ دستیاب نہیں
ہے… بس اللہ تعالیٰ قوت اور ہمت عطاء فرمائے تو انسان ان دونوں
کے شر سے بچ سکتا ہے…
لَا
حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللہ
اللہ
تعالیٰ کا شکر ہے کہ آج رنگ و نور کی ساتویں جلد مکمل ہو رہی ہے… آج
کا کالم’’ساتویں جلد‘‘ کا آخری مضمون ہے… الحمدللہ چھ جلدیں شائع ہو چکی ہیں اور ان شاء اللہ
ساتویں جلد ایک دو ماہ میں آجائے گی… اوریوں’’رنگ و نور‘‘ کے نام سے
جاری یہ کتاب ان شاء اللہ مکمل ہو جائے گی… یہ سب کچھ اللہ
تعالیٰ ہی کی توفیق سے ہے…
مَا
شَائَ اللہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللہ
اس
کو ناواقفیت کہا جائے یا جہالت… ہمارے ہاں’’لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللہ ‘‘ کا مبارک کلمہ پریشانی اور حیرت کے اظہار کے
لئے پڑھاجاتا ہے… بعض لوگ تو مذاق میں بھی پڑھتے ہیں حالانکہ ایسا ہرگز درست
نہیں… یاد رکھیں جس کلمے میں’’ اللہ تعالیٰ‘‘ کا نام مبارک ہو اسے
مزاح، مذاق اور طنز میں بالکل استعمال نہ کریں… آج کل کے کالم نویس’’ماشاء
اللہ ‘‘ کے کلمے کو بطور طنز استعمال کرتے ہیں…حالانکہ’’ماشاء اللہ ‘‘
قرآن مجید میں وارد ہونے والا بہت طاقتور اور بابرکت کلمہ ہے… ارے
بھائیو!’’لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللہ ‘‘ کا مبارک کلمہ… اسلام
اوراستسلام والا کلمہ ہے… یہ رحمت کو زمین پر کھینچ لانے والا کلمہ
ہے… یہ بندے کی طرف سے اپنے رب تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور تواضع ظاہر کرنے
والا کلمہ ہے… یہ حیرت اور غم والاکلمہ نہیں… بلکہ حیرت اورغم کو دور
کرنے والا کلمہ ہے… اسے سمجھ کراور پڑھ کر تو دیکھیں تب پتا چلے گا کہ اس کا
مقام کتنا اونچا ہے…
لَا
حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللہ
آپ
سوچیں گے کہ’’لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللہ ‘‘ اگراتنا اونچا کلمہ ہے تو اکثر مسلمان اسے
کیوں نہیں سمجھتے اور کیوں نہیں اپناتے… جواب یہ ہے کہ یہ کلمہ عرش کے خزانوں
میں سے ایک ہے… جی ہاں! عرش کے نیچے جنت کا ایک عظیم خزانہ ہے، اس خزانے سے
یہ کلمہ’’لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللہ ‘‘ زمین پر اتاراگیا اور بندوں کو
عطاء فرمایا گیا…
غور
فرمائیں… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے’’کنز الجنۃ‘‘ کا
لفظ ارشاد فرمایا…’’کنز‘‘ کہتے ہیں خزانے کو… کیا خزانے کو ہر ایک
پالیتاہے؟… زمین میں کتنے’’کنوز‘‘ ہیں… سونے، چاندی، ہیرے اور معدنیات
کے’’کنوز‘‘… ہر ایرا غیرا ان’’کنوز‘‘ اور ان خزانوں کو نہیں پاسکتا… پس
حدیث شریف میں اشارہ مل گیا کہ یہ قیمتی کلمہ بھی قسمت والوں کو نصیب ہوتا
ہے… اور جنہیں نصیب ہوتا ہے وہ خزانے کے مالک بن جاتے ہیں…
لَا
حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللہ
اللہ
تعالیٰ کی توفیق سے جہاد کے بابرکت موضوع پر لکھنے کا کام جب شروع کیا تو اس
موضوع پر لکھنے والے بہت کم تھے… یوں کہیں کمیاب یا تقریباً
نایاب… اللہ تعالیٰ نے توفیق عطاء فرمائی تو ایک جہادی رسالہ
نکالا… رسالے اوراخبار کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ یہ کسی ایک موضوع پر لکھنے
والوں کو ایک جگہ کھینچ لاتے ہیں…صدائے مجاہد کراچی سے نکلا تو جہاد پر لکھنے والے
اس میں جمع ہونے لگے… زمانے کے اکابر اس رسالے کو محبت سے پڑھتے اور پسند
فرماتے تھے… کئی لکھنے والوں نے جہاد پر لکھنا شروع کیا تو عجیب عجیب باتیں
لکھ بھیجتے… معلوم ہوا کہ جہاد کی سمجھ رکھنے والے افراد کم ہیں کیونکہ اس
موضوع پر… مستقل اور واضح تحریریں موجود نہیں تھیں… تب الحمدللہ جہادی کتب اور رسائل کا سلسلہ شروع
ہوا… اور اب ماشاء اللہ جہاد کے موضوع پر لکھنے والوں
کی… ایک پوری کھیپ بلکہ یوں کہیں کہ پورا لشکر موجود ہے… بالکل
واضح… صاف اور درست ترجمانی کرنے والا قلمی لشکر… مگر پھر بھی جہادی کتب
خانے کو مزید مدلل اور باوقار بنانے کے لئے مزید کم از کم بیس کتابوں کی ضرورت
ہے… اللہ تعالیٰ اس موضوع پر لکھنے والوں کی خاص مدد فرمائے
کہ… اس کی توفیق اور طاقت کے بغیر… ایک درست سطر لکھنا بھی ممکن نہیں…
لَا
حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللہ ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللہ
حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیاری امت کے لئے اللہ
تعالیٰ سے جو بڑے بڑے تحفے لئے ان میں سے ایک… لا حول ولا قوۃ الا باللہ بھی ہے… احادیث مبارکہ میں اس کلمے
کے بہت سے فضائل بیان فرمائے گئے ہیں… مثلاً
(۱) یہ کلمہ جنت کے خزانوں میں
سے ہے…
(۲) یہ کلمہ عرش کے نیچے سے آیا
ہے…
(۳) یہ ننانوے بیماریوں کی دواء ہے… جن میں
ادنیٰ بیماری ’’ھمّ‘‘ اورغم یعنی فکر و پریشانی اور گھٹن ہے…
(۴) جب کوئی بندہ یہ کلمہ پڑھتا ہے تو اللہ
تعالیٰ فرماتے ہیں’’اسلم عبدی واستسلم‘‘ کہ میرے بندے نے میرے سامنے اپنی
فرمانبرداری اور خود سپردگی کا اعلان کر دیا ہے…
(۵) یہ کلمہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے…
(۶) یہ کلمۂ کفایت
ہے… یعنی جو اسے پڑھے اس کے لئے تمام معاملات میں کفایت اور آسانی ہوجاتی
ہے…
(۷) یہ شیطان کو بھگانے والا کلمہ ہے…
(۸) یہ گناہوں کو معاف کرانے
والا کلمہ ہے…
(۹) یہ قید سے آزادی دلانے والا
کلمہ ہے…
(۱۰) یہ
وہ کلمہ ہے جس کے بارے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض
صحابہ کو ’’اکثروا‘‘ کا حکم فرمایا کہ اسے کثرت سے پڑھو…
لَا
حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللہ ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللہ
برصغیر
میں مرزا قادیانی اور عرب ممالک میں کئی ملحد اور مستشرق مصنفین نے جہاد کے معاملے
کو بگاڑنے کے لئے کتابیں لکھیں… مرزا قادیانی ملعون نے دعویٰ کیا ہے کہ اُس
نے جہاد کے خلاف اتنی کتابیں لکھی ہیں کہ اُن سے پچاس الماریاں بھر
جائیں… اور ان کتابوں کا دوسری زبان میں ترجمہ بھی کیا ہے… انگریزوں کے
عروج کے زمانے برطانیہ کی خفیہ ایجنسیوں میں جہاد کے بارے میں باقاعدہ سیل قائم
تھے… ان اداروں کا کام جہاد کے خلاف مسلمانوں کی ذہن سازی کرنا، جہاد کے
معنیٰ کو بدلنا… اور مسلمانوں کو جہاد سے دور اور متنفر کرنا تھا… آج
بھی دنیا کے بڑے بڑے جاسوسی اداروں میں سب سے اہم مسئلہ… جہاد فی سبیل
اللہ سے نمٹنا درج ہے… ابھی چند دن پہلے اسلام آباد میں قائم
کئی غیر ملکی سفارتخانوں میں جہاد مخالف سیل موجود ہونے کا انکشاف ہوا
ہے… اور یہ سیل اُن مذہبی رہنماؤں کی بھرپور مالی معاونت کرتے ہیں جو جہادکے
خلاف لکھتے، بولتے ہوں…یا قتال فی سبیل اللہ کی اہمیت مسلمانوں کے
دلوں سے گھٹاتے ہوں…
خلاصہ
یہ کہ جہاد فی سبیل اللہ کے خلاف بہت وسیع پیمانے پر محنت جاری ہے اور
اس محنت کے لئے خود مسلمانوں کی زبانوں اور قلموں کو خریدا اور استعمال کیاجارہا
ہے… اس لئے امت مسلمہ کا درد رکھنے والے اہل علم اور اہل قلم کی ذمہ داری ہے
کہ… وہ جہاد فی سبیل اللہ پر زیادہ سے زیادہ لکھیں اور بہت واضح
لکھیں… اورایسا لکھیں جس میں’’تحریض‘‘ کی شان ہو نہ کہ’’تثبیط‘‘ کی…
یعنی
جہاد پر ابھارنا ہو نہ کہ جہاد سے بٹھانا… جہاد کی دعوت بہت فضیلت والا عمل
ہے کیونکہ جہاد ہی سب سے بڑا صدقہ جاریہ ہے… اہل قلم کو چاہئے کہ اللہ
تعالیٰ سے توفیق مانگ کر اسی کی مدد سے… خالص اسی کی رضاء کے لئے جہاد
کے موضوع پر زیادہ سے زیادہ لکھیں
لَا
حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللہ ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللہ
الحمدللہ ’’رنگ ونور‘‘ کی سات جلدیں مکمل ہو رہی
ہیں… اگر آگے بھی ان شاء اللہ یہ کالم لکھنے کا سلسلہ چلتا رہا تو اگلا
مجموعہ کسی اور نام سے شائع کیا جائے گا… رنگ ونور میں جہاد فی سبیل
اللہ کے علاوہ کئی باتوں کو اہمیت سے بیان کیا گیا… الحمدللہ مسلمانوں میں ان باتوں کی اہمیت کا شعور بیدار
ہوا… کئی ہفتے سے ارادہ تھا کہ’’لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللہ ‘‘ پر کم از کم دو کالم آجائیں… ویسے خطوط
میں تو کافی عرصہ سے مسلمانوں کو اس کی طرف متوجہ کرنے کا سلسلہ شروع
ہے… بندہ کے استاذ اور شیخ محترم حضرت مفتی ولی حسن صاحب رحمۃ اللہ
علیہ لوگوں کو’’لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللہ ‘‘ پڑھنے کی طرف متوجہ فرماتے تھے…خصوصاً وہ لوگ
جن سے گناہ نہیں چھوٹتے اور ان کا دل گناہوں اور گمراہیوں میں ہروقت بھٹکتا رہتا
ہے… اسی طرح وہ لوگ جن کی بری حالت بدلتی ہی نہیں… مثلاً بیمار ہیں تو
صحت نہیں پاتے… تنگدست ہیں تو کشادگی نہیںپاتے… کنوارے ہیں تو شادی نہیں
کر سکتے… غم اورٹینشن میں مبتلا ہیں تو کبھی خوشی اور سکون نہیں
پاتے… گمراہی ، تکبر اور عجب میں مبتلا ہیں تو روشنی کی طرف نہیں
آتے… بس ایک ہی حالت پر ہیں اور وہ اچھی حالت نہیں ہے تو… حول یعنی
حالت بدلنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے قوت مانگنا کام آتا ہے… اور
اس کا وظیفہ ہے… لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللہ … زیادہ فائدہ کے لئے کم از کم
مقدار روزآنہ پانچ سو بار… باوضو اور باتوجہ پڑھیں اور اول آخر درود شریف
کا زیادہ اہتمام کریں تو ان شاء اللہ بہت فائدہ ہوگا مگر ایک ہزار بار روزآنہ
پڑھنا اور چالیس دن تک ناغہ نہ کرنا انسان کی بُری حالت خواہ وہ کوئی بھی ہو کی
اچھی تبدیلی کے لئے بے حد مفید ہے… آپ نے قصہ پڑھاہو گا کہ ایک صحابی کو
روزآنہ ایک ہزار بار’’لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللہ ‘‘ پڑھنے پر دشمنوں کی قید سے رہائی
ملی… اوریہ وظیفہ خود حضرت آقامدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا…
اسے
کہتے ہیں حالت کی تبدیلی کہ قید اور مفلسی سے آزادی اور’’غِنیٰ‘‘ نصیب ہوگیا…
لَا
حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللہ ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللہ
کئی
بار اس موضوع پر لکھنے کا ارادہ باندھامگر… دیگر تازہ موضوعات جگہ پکڑتے
گئے… اب جبکہ’’رنگ و نور‘‘ کتاب ہی کا اختتام ہو رہا ہے تو سوچا کہ آخری
کالم میں اس کی طرف کچھ توجہ دلا دی جائے… اللہ تعالیٰ کی توفیق
سے چند اشارے عرض کر دیئے… پھر جب توفیق ملی تو ان شاء
اللہ مزید بھی لکھا جائے گا…
بس
اتنا ہم سب یاد رکھیں کہ…’’لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللہ ‘‘ ایک بہت ہی قیمتی اور نفیس خزانہ
ہے … اور اسے پڑھنے اور برتنے کا ثواب انسان کے لیے ’’جنت‘‘ میں ذخیرہ
ہوجاتا ہے… اور اس کی کثرت سے انسان کے دل، اعمال اوراخلاق کی ایسی اصلاح
ہوتی ہے کہ وہ تنگی اور پریشانی سے نکل کر…جنت کے وسیع دروازے کے انوارات محسوس
کرتا ہے… اور اس کی زندگی کا رخ جہنم سے ہٹ کر جنت کی طرف
ہوجاتاہے… کیونکہ’’لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللہ ‘‘ جنت کے خزانوں میں سے ایک
خزانہ … اور جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے…
لَا
حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللہ …
لَا
حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللہ …
لَا
حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللہ …
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
مجھے اور آپ سب کو’’امانت داری‘‘ نصیب فرمائے، حضرت عبد اللہ بن عمرو
رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ…
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے یہ دعاء
فرمایا کرتے تھے:
’’اَللّٰھُمَّ
اِنِّی اَسْئَلُکَ الصِحَّۃَ وَالْعِفَّۃَ وَالْاَمَانَۃَ وَحُسْنَ الْخُلُقِ
وَالرِّضَا بِالْقَدْر‘‘
’’یا اللہ
! میں آپ سے سؤال کرتا ہوں… صحت، عفت، امانت،حُسن اخلاق اور تقدیر پر راضی ہونے
کا…‘‘(بخاری فی الادب)
حضرت
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں:
کسی
آدمی کا ظاہری رعب اور طنطنہ تمہیں متاثر نہ کرے… اصلی’’مرد‘‘ وہ ہے جو امانت دار
ہو اور لوگوں کی عزت میں پڑنے سے خود کو روکتا ہو…
یعنی
اُس کے دل، ہاتھ اور زبان میں امانت ہو… اور مسلمانوں کو ذلیل ورسوا نہ کرتا ہو…
وہ واقعی بہادر اور پسندیدہ انسان ہے…
حضرت
علی رضی اللہ عنہ بڑے علم وحکمت والے خلیفہ راشد تھے… انہوں
نے صرف مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ تمام روئے زمین پر بسنے والے انسانوں کو… معاشی
ترقی کا راز ایک جملے میں سمجھا دیا… جو انسان ذاتی طور پر اس نصیحت کو پکڑے اسے
بھی رزق کی تنگی کبھی نہیں آتی اور اگر کوئی ملک اور معاشرہ اس نصیحت پر عمل کرے
تووہ سالوں میں نہیں دنوں میں خوشحال ہو سکتا ہے… ارشاد فرمایا:
’’اداء
الأ مانۃمفتاح الرزق‘‘
امانت
داری رزق کی کنجی اورچابی ہے…
یعنی
امانت داری کو مضبوطی سے اختیار کر لو تورزق کے خزانے خود بخود کُھل جاتے ہیں… پھر
خود بھی کھاؤ، آگے بھی بانٹو اور اپنے لئے آگے بھی بھیجو…
’’خیانت‘‘
دراصل منافق کی علامت ہے اور’’امانت‘‘ مؤمن کی فطرت اور طریقہ ہے… آج مسلمانوں
کے ممالک میں جو معاشی تنگی ہے اس کی ایک بڑی وجہ ’’خیانت‘‘ ہے… آپ کسی بھی خائن
کو خوشحال نہیں دیکھیں گے وہ ہر وقت مال اور رزق کی فکر اور پریشانی میں رہتا ہے…
اُس کے پاس جتنا بھی آجائے کبھی پورا نہیں پڑتا اور کبھی اُسے خوشی اور آسودگی
نہیں ملتی… مسلمانوں کے ممالک میں’’منافقین‘‘ بہت طاقتور ہو چکے ہیں، اس
لئے’’خیانت‘‘ بھی طاقتور ہے… اور جب ’’خیانت‘‘ طاقتور ہوتی ہے تو وہ اپنے ساتھ ذلت
اور معاشی تنگی کو لاتی ہے…
حضرت
ہشام بن عمر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’مجھے
کسی آدمی کی نماز اور اس کے روزے دھوکا میں نہیں ڈالتے… کوئی چاہے جتنی بھی نماز
پڑھے، جتنے بھی روزے رکھے، اصل بات یہ ہے کہ جو امانت سے محروم ہے وہ دین سے محروم
ہے‘‘…
امانت
دار انسان کی اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑی قیمت ہے… مسلمانوں کے
ہاں امانت دار کا بڑا مقام ہے… ’’امانت‘‘ انسان کے لئے کامیابی اور رزق کے دروازے
کھول دیتی ہے…
خود
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’لا
ایمان لمن لا امانۃ لہ‘‘
جس
شخص کے پاس امانت نہیں ، اُس کا ایمان نہیں…
ایک
دوسری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کو ذاتی ترقی کا
راز سمجھایا کہ… چار صفات اپنے اندر پیدا کر لو… تب دنیا میں تم کسی عہدے پر ہو یا
نہ ہو… یا تمہیں کسی عہدے سے معزول کیا جائے… یا تم سے ساری دنیا چھین لی جائے تب
بھی ان چار صفات کے ہوتے ہوئے تمہارا کوئی نقصان نہیں ہوگا:
١ امانت
داری… ٢ سچ
بولنا…
٣ اچھے
اخلاق… ٤ پاک
اور حلال کھانا…
بے
شک جس انسان کو یہ چار نعمتیں حاصل ہو جائیں اسے کوئی کیا نقصان پہنچا سکتا ہے؟…
ایسے آدمی کے قدموں پر خود کامیابیاں گرتی ہیں… رزق اور روزی کے انبار اُس کے
پیچھے پیچھے دوڑتے ہیں… اور وہ کسی عہدے اور منصب کا محتاج نہیں رہتا، بلکہ عہدے
اور منصب اُس جیسے افراد کے پاؤں پکڑتے ہیں کہ ہمیں قبول کر لو… شیطان پتا ہے کیا
کرتا ہے؟… وہ آدمی کو فقر و فاقے سے ڈرا کر ’’خائن‘‘ بناتاہے… صدقات سے روکتا ہے
اور امانت سے دور پھینکتا ہے… وہ آدمی کو ڈراتا ہے کہ تم سے یہ چیز نہ چھن جائے
وہ چیز نہ چھن جائے… آہ!انسان… کاش انسان اپنی قیمت کو سمجھے، اپنے مقام کو
پہچانے… انسان اس زمین پر اللہ تعالیٰ کا خلیفہ ہے… وہ
کائنات میں اور مخلوق میں سب سے افضل ہے… اس کو اللہ تعالیٰ
نے بڑی قوت عطاء فرمائی ہے… مگر انسان کی قوت کا راز امانت اور ہمت میں ہے… امانت
ایسی کہ سات پردوں کے پیچھے بھی چمکتی رہے… اور اُسے ’’خیانت‘‘ کے تصور سے بھی
نفرت ہو… اور ہمت ایسی کہ خود کو کسی علاقے، کسی عہدے، کسی مقام اور کسی انسان کا
محتاج نہ سمجھے… وہ ہر لمحہ ہجرت کے لئے تیار ہو… وہ سارے عالم کو اپنا وطن قرار
دے… وہ کسی منزل کو اپنی آخری منزل سمجھ کر اُس کے ساتھ چپک کر نہ بیٹھ جائے…
بلکہ آگے بڑھے اور آگے بڑھے… اپنے رب پر توکل رکھے کہ اُس کے رب نے نہ تو اُسے
بے کار پیدا فرمایا ہے اور نہ اُسے کسی کا محتاج بنایا ہے…
وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے علاوہ کسی چیز کومقصود نہ بنائے…
ایسا
انسان… حقیقت میں انسان ہوتا ہے… مگر شیطان بڑا ملعون ہے وہ انسان کو چھوٹی چھوٹی
چیزوںمیں الجھا دیتا ہے… اور ہر وقت ڈراتا رہتا ہے کہ… تم اس وقت جس مقام پر ہو یہ
نہ چھن جائے… تمہارے پاس اس وقت جو کچھ ہے وہ نہ چھن جائے… تب انسان اپنی خواہشات
اور ایک محدود دائرے میں قید ہوجاتا ہے… ’’امانت‘‘ کاموضوع بڑا مفصل اور دلکش ہے
اور امانت خود اُس سے بھی زیادہ حسین اور خوبصورت نعمت ہے… یہ آدمی کو قابل
اعتبار بنا دیتی ہے اور حقیقت میں ’’ اللہ والا‘‘ بنا دیتی ہے… دین کے
معاملہ میں امانت… فرائض کی ادائیگی میں امانت… جو عہدہ یا ذمہ داری ملی ہو اس کے
بارے میں امانت… اجتماعی اموال اوردوسروں کی چیزوں میں امانت… خاوند کے لئے بیوی
اوربیوی کے لئے خاوند کے حالات میں امانت… اپنے دوستوں اور مخلوق کے
رازوںمیںامانت… خرید و فروخت،ناپ تول اورتجارت میں امانت… بیت المال میں امانت…
ہاں! ایک مؤمن امانت کا پیکر ہوتا ہے… وہ جانتا ہے کہ امانت… ایمان کی علامت ہے
اور میں نے اسے ہر حال میں اختیار کرنا ہے… اورخیانت… نفاق کی علامت ہے اور میں نے
ہر حال میں اُس سے بچنا ہے… وہ دل کی گہرائی سے مانتا ہے کہ امانت جنت میں لے جانے
والی ہے… اور خیانت جہنم کی آگ ہے… تب وہ دل میں عزم کرتا ہے کہ… میں نے امانت کو
حاصل کرنا ہے اور اس کے ذریعہ اپنے رب کو پانا ہے… پھر وہ رو رو کر بلک بلک کر،
امانت داری کی دعاء مانگتا ہے… اور لاپرواہی چھوڑ دیتا ہے… جی ہاں! لاپرواہی…
خیانت کی پہلی سیڑھی ہے کہ… چھوڑو کچھ نہیں ہوتا… اتنا تقویٰ ہم کہاں سے
لائیں؟…بس!گذارہ چلاؤ دین میں اتنی سختی نہیں ہے…وہ دیکھو! فلاں یہ کرتا ہے، فلاں
وہ کرتا ہے چلو ہم اُن سے تو اچھے ہیں… ہم مجبور ہیں چلو آج خرچ کر لیتے ہیں بعد
میں مالدار ہوں گے تو سارے حساب برابر کر دیں گے… وغیرہ وغیرہ… ایسا کرنے والا
انسان… آہستہ آہستہ ’’خیانت‘‘ کے گڑھے میں گرنے لگتا ہے اور بالآخر ایک رات وہ
سوتا ہے پھر جب صبح اٹھتا ہے تو… اُس کے دل سے امانت نکل چکی ہوتی ہے… بس تھوڑا سا
احساس باقی رہتا ہے… اور پھر ایک رات وہ سوتا ہے تو جب صبح اٹھتا ہے تو اُس کے دل
سے یہ احساس بھی ختم ہو چکا ہوتا ہے… یا اللہ ! امان… یا حفیظ! امان…
یامؤمن! امان…
یہ
سب کچھ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے… اور اُمت کو ڈرایا
ہے کہ امانت اٹھا لی جائے گی… تب امانت پر قائم رہنے والوں کے لئے بڑی مشکل زندگی
ہوگی… جی ہاں! ایسی مشکل جیسے ہاتھ پر جلتا انگارہ رکھا ہو… مگر آخرت کی آگ، قبر
کے عذاب اور جہنم کے شعلوں سے بچنے کے لئے… ایمان والوں کو دنیا کی مشکلات برداشت
کرنی چاہئیں… اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے مالی معاملات
کو’’امانت‘‘ پر لانے کے لئے قرآن مجید میں… آیتوں پر آیتیں اتاریں… مجاہدین کے
زیادہ پھسلنے کا خطرہ ہوتا ہے… دووجہ سے… ایک یہ کہ وہ روئے زمین کے سب سے افضل
اور مقبول بندے ہوتے ہیں تو شیطان اُن پر زیادہ زورمارتاہے… اور دوسرا اس لئے کہ
یہ خیال دل میں جگہ پکڑتا ہے کہ جہاد میں ترقی کے لئے ڈنڈی مارنے میں کوئی حرج
نہیں… قرآن مجید میں جہادکے حکم کے ساتھ… جوئے اور شراب کی بُرائی کا مسئلہ ذکر
فرمادیا… اب جہاد کا جوئے اور شراب سے کیا تعلق؟… حضرت لاہوری رحمۃ
اللہ علیہ نے سمجھایا کہ جہاد کرنے والے یہ سوچ سکتے ہیں کہ جہاد کے لئے اموال کی
بہت ضرورت ہوتی ہے… مال کی کمی کی وجہ سے کہیں ہمارا جہاد بند نہ ہوجائے تو
ہم’’جوئے‘‘ کے ذریعہ مال حاصل کر لیتے ہیں… جوئے، لاٹری اور اس طرح کے ذرائع سے
موٹی رقمیں حاصل ہوتی ہیں… اسی طرح اگر عین لڑائی کے وقت شراب پینے کی کچھ اجازت
ہو جائے تو… جم کر لڑنے میں آسانی ہو گی… شراب کا نشہ حواس کی لطافت
کو کم کر دیتا ہے کہ… ہر دیکھی سنی چیز کا انسان اثر نہیں
لیتا توبہادری سے لڑسکتا ہے… جواب دیا گیا کہ… جہاد تمہارا ذاتی کام نہیں ہے کہ ہر
حال میں ہر حرام اور حلال ذریعے سے تم نے ضرور کرنا ہے… یہ جہاد
تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور اللہ تعالیٰ کا
حکم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ
وسلم کے طریقے سے ہی کرنا ہو گا… تب قبول ہو گا… اللہ تعالیٰ
نے مجاہدین کے مالی معاملات کو امانت پر لانے کے لئے… سورۃ انفال نازل فرمائی اور
بہت سخت تنبیہ فرمائی… غزوۂ احد کے موقع پر ایسی شدید ڈانٹ پلائی کہ آئندہ کے
لئے مال ہمیشہ اُن کے قدموں میں رہا کبھی اُن کے دل میں نہیں آیا… اور وہ سمجھ
گئے کہ مال ہماری مجبوری نہیں ہے… مال ہو یا نہ ہو جہاد چلتا ہے اور خوب چلتا ہے…
مگر جب خیانت ہو یا حرام مال ہو توجہاد… جہاد ہی نہیں رہتا… بس اس بارے میں امانت
اُن کا حتمی شعار بن گئی… اور امانت رزق کے خزانوں کی چابی ہے… تب روم و فارس کے
خزانے اُن کے قدموںمیں بے وقعت پڑے ہوئے تھے…’’امانت‘‘ رزق کی چابی کس طرح سے ہے؟…
اس پر اہل علم نے دلنشین، دلچسپ اور سچے واقعات کا روشن انبار جمع فرمایا ہے…
حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے واقعات، حضرت
زبیر رضی اللہ عنہ کے مال میں برکت کا واقعہ امام نووی رحمۃ اللہ
علیہ جیسے محدث نے ’’اداء الامانۃ‘‘ کے باب میں ذکر فرمایا ہے…
حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے والد محترم کا واقعہ…
حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کے والد
محترم کا واقعہ… اہل علم فرماتے ہیں کہ… اُمت مسلمہ کو یہ دو عظیم ہستیاں یعنی
حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ
’’امانت داری‘‘ کی برکت سے نصیب ہوئی ہیں… الغرض! ایسے بے شمار واقعات کہ جس نے
بھی’’امانت داری‘‘ کو مضبوطی سے اپنی صفت
بنایا، اللہ تعالیٰ نے اُس پر فتوحات اور رزق کے دروازے
کھول دیئے… ان دنوں حکومتی، سرکاری اور سیاسی عہدیدار… جس طرح سے ’’امانت‘‘ کو ذبح
کر رہے ہیں اُن خبروں کو پڑھ کر… یہ موضوع قلم کی نوک پر
آگیا… اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اہل حکومت اور اہل سیاست
کے کارناموں کا تذکرہ کئے بغیر… چند باتیں لکھی گئیں… ہم سب کو اپنی اصلاح اور
آخرت کی فکر کرنی چاہئے… اس وقت چاروں طرف سے ایسا گمراہ کن ماحول ہے کہ ہاتھیوں
کو بھی پھسلا دے… ہم سب کو چاہئے کہ امانت کے فضائل اور خیانت کے نقصانات کو بار
بار پڑھتے رہا کریں، آپس میں اُن کا مذاکرہ کیا کریں، ایک دوسرے کو اس کی ترغیب
دیا کریں اور امانت حاصل کرنے اور امانت پر استقامت کے لئے… راتوں کی تاریکی میں
سجدوں میں گر کر دعاء مانگا کریں…دعاء بڑی چیز ہے… مسلمان جس چیز کی دعاء دل کی
طلب، توجہ اور سنجیدگی سے مانگتے ہیں… وہ نعمت جلد حاصل ہوجاتی ہے… ان
شاء اللہ
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ
وصحبہ
وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
اُمت مسلمہ کو’’قوّت‘‘ اور غلبہ عطاء فرمائے… مسلمانوں کی بے بسی اورکمزوری دیکھ
کر دل روتا ہے… آئیے اسی بارے میں آج مل جل کر سوچتے ہیں، مشورہ کرتے ہیں اور
چند ایسے آنسو بہاتے ہیں جو گردو غبار کو جھاڑ دیں…
یہ
ایک منظر دیکھیں… ایک کلمہ پڑھنے والا مسلمان زنجیروں میں بندھا ہوا ہے… جسم پر
تشدد کے سرخ سرخ داغ اور داڑھی، بال بکھرے بکھرے… اب اس کے ہاتھوں سے زنجیر کھولی
جارہی ہے اور پھر اس کے جسم کے تمام کپڑے نوچ کر دور پھینک دیئے گئے… ایک منحوس نے
اُس کے گلے میں کتے کو پہنانے والا پٹا ڈالا… اور رسی کو زور سے کھینچا… تو میرا
کتا ہے، تم مسلمان سارے کتے ہو… گالیوںکا ایک طوفان ساتھ لاتیں، مُکّے، تھپّڑ… چل
میرے کُتّے چل… وہ مظلوم جوان دل میں کلمہ پڑھتا ہے… آسمان کی طرف نظر اٹھاتا ہے
… اور اس کی آنکھوں سے پہلا قطرہ زمین پر گِر پڑتاہے… گوانتا نا موبے، ابو غریب،
کوٹ بھلوال… اور تہاڑ جیل… اور قریب ہی بگرام، پُل چرخی… دعاء کرو
بھائیو! اللہ تعالیٰ اُمت مسلمہ کو قوت اور غلبہ عطاء
فرمائے…
یہ
ایک اور لمحہ دیکھیں… زعفرانی رنگ کی چادریں پہنے منحوس، موٹے بدھ بھکشو… مسلمانوں
کی ایک بستی پر اچانک حملہ… وہ دیکھو مسجد سے آگ اٹھ رہی ہے اور قرآن پاک کے
اوراق سے دھواںاٹھ رہا ہے… بوڑھی مائیں لنگڑا لنگڑا کر دوڑ رہی ہیں… اور عفت مآب
بہنیں موت، موت پکار رہی ہیں… تلواریں، کلہاڑیاں اور خنجر… ایمان والوں کے جسموں
سے خون پی رہے ہیں… لاشوںپر تیل چھڑک کر جلایا جارہا ہے… اور ندیاں، دریا مسلمانوں
کی بے بسی پر روتے ہیں اور ان میں سے ڈوب جانے والوں کی لاشوں کو کندھا دیتے ہیں…
ہاں! دریا ہی کندھا دے سکتے ہیں… اور کون دے؟… بستی قاتلوں سے بھر گئی… آگ نے سب
کچھ بھسم کر ڈالا… بھاگ کر کہاں جائیں؟… آگے موت، پیچھے موت… ہجرت کرنے والوں کو
غلاموں کی طرح تھائی لینڈ کے جزیروںمیں فروخت کیا جارہاہے… خود کو مسلمان کہنے
والی حسینہ واجد نے سرحد پر مسلّح دستے کھڑے کر دیئے ہیں کہ کوئی مسلمان امن کا سایہ
پانے اِدھر نہ آنکلے… ہاں یہ برما ہے یہ رنگون ہے… یہ اسی زمین کا ایک ملک ہے جس
زمین پر سب سے زیادہ مال، مسلمانوں کے پاس ہے… دور بینکوں میں اتنا پیسہ پڑا ہے کہ
دنیا کے سارے انسان کھائیں تو ختم نہ ہو… مگر برما کی مسلمان بہن کو… اپنے شِیر
خواربچے کے لئے دودھ کا ایک گھونٹ دستیاب نہیں… بھائیو! اور بہنو! دعاء کرو
کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو’’قوت‘‘ اور غلبہ عطاء فرمائے…
اور سوچو کہ ہم کب اپنی ذات اور نفس کے تقاضوں سے اوپر اٹھ کر… مسلمانوں کے لئے
کچھ سوچیں گے…
ایک
اور منظر دیکھیں!… تمہاری پھانسی کا بلیک وارنٹ جاری ہو چکا ہے… صبح چھ بجے تمہیں
پھانسی دے دی جائے گی… ہمیں افسوس ہے مگر کیا کریں اوپر سرکار کا حکم ہے… مگر!مگر!
میرے گھر والوں کو اطلاع تو دی جاتی… وہ ہم نے آج ڈاک سے بھیج دی ہے… مگر؟ آخری
ملاقات تو ہر قیدی کا بین الاقوامی حق ہے؟… ہاں وہ تو ہے… مگر تم مسلمان ہو… میرے
وکیل کو اطلاع ہو گئی؟… نہیں اس کی ضرورت نہیں… تمہاری کوئی آخری خواہش؟… مجھے
قرآن مجید دے دیا جائے… مشکل ہے مگر کوشش کرتے ہیں… چلو یہ لو! کیا یاد کرو گے کہ
ہم مسلمانوں کے ساتھ کتنا اچھا سلوک کرتے ہیں… قرآن پاک ہاتھ میں… اور آنسو کا
آخری قطرہ اس کی مبارک جلد کا بوسہ لینے کے لئے… خوبصورت آنکھوں سے چھلک پڑا…
بھائیو! اور بہنو دعاء کرو! اللہ تعالیٰ اُمت مسلمہ کو قوت
اور غلبہ عطاء فرمائے… اور سوچو کہ ہم اپنی اس مختصر سی زندگی میں اس کے لئے کیا
کر سکتے ہیں؟…
مناظر
بہت زیادہ ہیں اور ہر طرف ہیں… بس آج کی مجلس کا آخری منظر دیکھنے کی ہمت کرتے
ہیں۔
وہ
ہاتھوں میں قرآن پاک لئے تلاوت کررہی ہے… حضرت یوسف علیہ
السلام کا قصہ آگیا… ترجمہ تو وہ خوب سمجھتی ہے… حضرت
یعقوب علیہ السلام کا غم پڑھتے ہی اس کے قلبی زخموں کے
ٹانکے کھل گئے… بڑی بچی کہاں ہوگی؟ اور چھوٹی کس کے پاس؟… وہ میرا احمد کتنابڑا ہو
گیا ہو گا؟… آنسو ٹپ ٹپ برستے ہیں… قرآن کی آیتوں میںسیّدنا
یعقوب علیہ السلام رو رہے ہیں… اور ان آیتوں کی تلاوت میں
عافیہ بہن رو رہی ہے… آنسوؤں کا دور چل رہا ہے… سورۂ یوسف میں اب غم ختم ہونے کی
داستان جاری ہے… پڑھتے پڑھتے آواز بھرّا کر بلند ہوتی ہے تو اسے گُھونٹ لیتی ہے
کہ… کوئی غیر محرم نہ سُن لے… باہر بوٹوں کی مکروہ آواز قریب آتی ہے تو وہ اپنے
سر کی چادر نیچے چہرے پر لٹکا لیتی ہے… قرآن مجید اُسے سنا رہا ہے کہ وہ دیکھو!
اب غم ختم ہو رہے ہیں…
’’وَکَذٰلِکَ
مَکَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ‘‘
وہ
دیکھو! بچھڑا خاندان مل کر شکر کے سجدے میں گِر رہا ہے… تب اس کی آنکھوں میں چمک
ابھرتی ہے… ذہین چہرے کی جھریوں میں امید کا رنگ دوڑتا ہے اور قرآن مجید کو
ہاتھوں میں لے کر اپنا چہرہ آسمان کی طرف اٹھاتی ہے… اے میرے اللہ !
آپ تو وہی ہیں… زمانہ آپ کا ہے… کل بھی آپ کا تھا اور آج بھی آپ کا ہے… پھر
جیل میں بوٹوں اور سلوٹوں کا شور اٹھتا ہے وہ جلدی سے قرآن مجید کو اوپر رکھ دیتی
ہے… کتنے سال بیت گئے… اور کتنے سال باقی ہیں؟… معلوم نہیں اُس کا کونسا آنسو
پہلا ہوتا ہے… اور کونسا آخری؟… بھائیو! اوربہنو! دعاء کرو… اللہ تعالیٰ
اُمت مسلمہ کو ’’قوت‘‘ اور’’غلبہ‘‘ عطاء فرمائے… اورسوچو کہ ہم نے اب تک’’ امت
مسلمہ‘‘ کے لئے کیا کیا ہے… اور ہم آئندہ کیا کر سکتے ہیں؟؟؟…
مسلمانوں
کے مسائل بہت زیادہ ہیں… جی ہاں! مسائل کا ایک جنگل ہے… ہمارے حکمران… ہمارے نہیں
غیروں کے ہیں… ایسے لالچی اور بزدل جیسے غلاظت کے مینار ہوں… مال جمع کرنا، نقلی
احترام اور پروٹوکول پر مرنا، دل کی جگہ معدے سے فیصلے لینا… دماغ کی جگہ پیٹ سے
سوچنا… اور غلاموں سے بڑھ کر کافروں کی غلامی کرنا… یہ مستقل ایک مسئلہ ہے…
مسلمانوںکے درمیان چھوٹے چھوٹے سطحی مسائل پر اختلاف… حد سے بڑھی ہوئی تنگ نظری…
تقسیم شدہ قوت… طرح طرح کے فرقے اور فتنے… دین کا نام لے کر ایمانوں پر ڈاکے ڈالنے
والے بہروپئے… اور مستحبات اور آداب پر جھگڑنے والے کم ظرف… یہ ایک مستقل مسئلہ
ہے… مسلمانوںکی فکر میں گُھلنے والے مغرب زدہ دانشور… ناپاک دل ، ناپاک زبانیں اور
حد سے بڑھے ہوئے گمراہ… یہ سب ایک ہی ڈھول بجا رہے ہیں کہ مغرب’’ترقی‘‘ کر گیا
اورہم پیچھے رہ گئے… اور ہماری ترقی کا راز’’ جدید تعلیم‘‘ میں ہے… یہ بد نصیب لوگ
مسلمانوں کو حقارت کا نشانہ بناتے ہیں… اورکافروں کی باقاعدہ پوجا کرتے ہیں… اُن
کے نزدیک جانوروں جیسی آزاد زندگی ہی’’ترقی‘‘ کہلاتی ہے… وہ مسلمانوں کو ذلت اور
غریبی کے طعنے دیتے ہیں اور انہیں تیسرے درجے کی مخلوق قرار دیتے ہیں… اللہ تعالیٰ
ان ظالموں کی زبانوں کو جلا دے…ان کے قلموں کو آگ لگا دے اور اُن کے ناپاک مال کو
ان سے چھین کر انہیں سڑکوں کا بھکاری بنا دے… یہ ظالم چند ایجادات اور چند
سائنسدانوں کا نام لے لے کر… میرے محبوب آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی
اُمت کی توہین کرتے ہیں… کوئی ان سے پوچھے کہ بجلی تمہارے باپ نے ایجاد کی تھی؟…
انجن تمہارے چاچا نے بنایاتھا؟… اور جب بجلی نہیں تھی تو کیا انسان مر گئے تھے؟…
ارے
ظالمو! آج کے دور میں جتنی بدامنی ہے… یہ ماضی میں کبھی نہ تھی… آج کے دور میں
جتنا ظلم ہے یہ ماضی میں کبھی نہ تھا… آج کے دور میں جتنی قتل و غارت ہے یہ دنیا
میں کبھی نہ تھی… آج کے دور میں جتنی بے حیائی ہے اس کا تو جانوروں نے بھی کبھی
تصور نہیں کیا تھا… آج کے دور میں جتنی بے سکونی، ٹینشن اور بیماریاں ہیں ماضی
میں کوئی ان کے نام سے بھی واقف نہیں تھا… تمہاری بیوقوفی کی حد نہیں کہ ’’ایڈز‘‘
کے دور کو ترقی کادور کہتے ہو… کینسر کے زمانے کو بہترین زمانہ قرار دیتے ہو… دنیا
کے ہر دوسرے انسان کے بیمارہونے کے زمانے کو انسانی ارتقاء کا دور کہتے ہو… آج جب
کہ ہرطرف قوم لوط کی بستیاںآباد ہیں اسے تم تہذیب کہتے ہو… آج جب کہ مال پر دنیا
کے چند اژدھے قابض ہیں اسے تم شائستگی اور انصاف کا دور کہتے ہو… اور چند ایجادات
کا نام رٹ کر مسلمانوں کو گالیاں دیتے ہو… آخر یہ تو بتاؤ کہ تمہارا اسلام سے
کیا تعلق ہے؟… کلمہ تمہیں نہیں آتا… قرآن پاک پڑھنے کو تم سطحیت اور وقت کا ضیاع
سمجھتے ہو… فقہ کے مسائل سے تمہیں چڑ ہے… اسلامی سزاؤں کو تم ظالمانہ کہتے ہو… تو
پھر تمہیں کیا حق حاصل ہے کہ… مسلمانوں کی ترقی کے نسخے تجویز کرو؟… تم جس تعلیم
کی بات کرتے ہو اس نے اب تک مسلمانوں کو کیا دیا ہے؟…وہ حکمران جو مسلمانوں کا خون
چوستے ہیں… وہ لبرل فاشسٹ جو دن رات مسلمانوں پر بھونکتے ہیں… وہ ڈاکٹر جو مریضوں
کے گُردے بیچتے ہیں… وہ سائنسدان جو فوراً کافروں کی ملازمت میں چلے جاتے ہیں… وہ
انجینئر جو ناقص عمارتیں اور نقلی سامان بناتے ہیں… وہ سرکاری آفیسر جن میں سے
اکثریت کو ’’انسان‘‘ کہنے کے لئے ’’انسان‘‘ کا معنی ہی بدلنا ہوگا… اور وہ صحافی
جن کے شر، جن کے حرص اور جن کے لالچ سے جانور بھی شرماتے ہیں…
یاد
رکھو! تعلیم کا کوئی انکار نہیں کرتا… مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ
علیہ سے لیکر آج کے زمانے کے کسی عالم نے عصری تعلیم سے انکار نہیں
کیا… مگر کیا دین کی بنیادی تعلیم ہر مسلمان کے لئے فرض نہیں ہے؟… ہم سمجھتے ہیں
کہ آج بھی اگر حکومت اور قوت دین کا علم اور دین کی سمجھ رکھنے والے مسلمانوں کو
مل گئی … تو ملک کا ہر شہری مرد ہو یا عورت… تعلیم یافتہ ہوگا… سائنس ایسی ترقی
کرے گی کہ یورپ یہاں بھیک مانگنے آئے گا… ان کی سائنس تو اسلام دشمنی اور ہوس
پرستی پر مبنی ہے… وہ انسانوںکو کمزور کر رہے ہیں اور ایسی چیزیں ایجاد کررہے ہیں
جن کا نقصان اُن کے نفع سے بہت زیادہ ہے… بات کچھ دور نکل گئی… خلاصہ یہ ہے کہ اس
قسم کے لبرل لفافے بھی مستقل ایک مسئلہ ہیں… الغرض… مسلمانوں کے لئے ہر طرف مسائل
ہی مسائل ہیں… اور دوسری طرف کفر مسلسل اپنی طاقت بڑھا رہا ہے… اُن کی فوجیں ، اُن
کا اسلحہ، اُن کی خفیہ ایجنسیاں اور اُن کے آلات، سب اسلام اور مسلمانوں کے خلاف
یکسو ہیں… ایسے وقت میں مسلمانوں میں دو باتوں کی محنت ضروری ہے… ایک تو ان میں اس
بات کا شعور اور احساس پیدا کیا جائے کہ وہ بے مقصد پیدا نہیں ہوئے… وہ مال جمع
کرنے اور عورتوں مردوں کی غلامی کے لئے دنیا میں نہیں آئے… وہ فیشن، میک اپ، اچھے
دستر خوان، عمدہ گاڑی ،بہترین بنگلے… اور زندہ باد مُردہ باد کے لئے پیدا نہیں
ہوئے… وہ زمین کے سب سے افضل دین کے پیروکار ہیں… وہ سب سے افضل کتاب کے حامل ہیں…
وہ سب سے افضل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں… اور وہ قوموں میں
سب سے افضل اور اعلیٰ ہیں…اور ان کی زندگی کا مقصد… ذاتی ترقی، ذاتی عزت اور ذاتی
آرائش و نمائش نہیں… بلکہ زمین پر اللہ تعالیٰ کی حاکمیت
قائم و نافذ کرنا اُن کا کام ہے… اور وہ اسلام اور مسلمانوں کو قوت اورغلبے کے لئے
بہت کچھ کر سکتے ہیں… شرط یہ ہے کہ وہ ذاتی مفادات سے دستبردار ہو جائیں… اور اپنے
ذاتی معاملات اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں… وہی رزاق ہے اور وہی
عزت و زندگی کا مالک ہے… جان بچانے کی فکر انسان کو مار دیتی ہے… اور مال بنانے کی
فکر انسان کو،انسان ہی نہیں رہنے دیتی… مسلمانوں میں یہ شعور بیدار ہو کہ… کفرنے
جو طاقت بنائی ہے وہ ناقابل تسخیر نہیں… اور جو نام نہاد ترقی حاصل کی ہے… وہ ہرگز
ترقی نہیں… اور ہم… اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے قوت بھی
حاصل کر سکتے ہیں… اور حقیقی ترقی بھی… مسلمان کے دل میں جب یہ درد اور شعور پیدا
ہو جائے کہ مسلمان کمزور ہیں اور اُن کا طاقتور ہونا چاہئے… اور کفار طاقت میں ہیں
اور انہیں کمزور ہونا چاہئے… تو وہ سجدوں اور اندھیروں
میں اللہ تعالیٰ سے مسلمانوں کے لئے طاقت مانگتاہے… اور اس
کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتا ہے… یہ مرحلہ مکمل ہوتو آگے راستے خود کُھل جاتے
ہیں… مضبوط ایمان… کلمہ طیبہ اس کی بنیاد ہے… اسلام کے ساتھ ترجیحی تعلق…نماز اس
کا ثبوت ہے… اور اسلام کے ساتھ عاشقانہ وفاداری… جس کا میدان… جہاد فی
سبیل اللہ ہے…بس یہ تین نکاتی نصاب… یقیناً اس اُمت کی اہم
ترین ضرورت ہے… یہ ایسا نصاب ہے … جو محنت اور قربانی مانگتا ہے… اور قوت ،
کامیابی اور غلبہ دلاتا ہے… آج نہیں تو کل ان شاء اللہ سب
اس حقیقت کو تسلیم کر لیں گے… دعاء کریں… اللہ تعالیٰ اُمت
مسلمہ کو’’قوت‘‘ اور’’غلبہ‘‘ عطاء فرمائے… اور دل کی گہرائی سے سوچیں کہ ہم اس کے
لئے کیا کر سکتے ہیں؟
لا
الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
جس کو چاہتے ہیں ’’حکومت ‘‘ عطاء فرماتے ہیں… اور پھر اُس کے بُرے اعمال کی وجہ سے
اسی حکومت کو اس کے لئے ذلت، رسوائی اور جہنم کا ذریعہ بنا دیتے ہیں… دل نہیں
چاہتا کہ ’’پرویز مشرف‘‘ پر کچھ لکھا جائے… ایک ’’اژدھا‘‘ جو اب ’’مینڈک‘‘ بن چکا
اُس پر کچھ لکھنا’’قلم‘‘ کو پسند نہیں… ماضی میں جب وہ ایک بااختیار، خوفناک،
منتقم مزاج، خونخوار اور ظالم حاکم تھا تو اُس پر الحمدللہ دل کھول کر لکھا… انسانی مزاج کے ماہرین کہتے
ہیں کہ بزدل انسان زیادہ ظالم ہوتا ہے… یعنی اگر بزدل کے ہاتھ میں طاقت، قوت اور
اختیار آجائے تو وہ ظلم کی انتہا کر دیتا ہے… جبکہ بہادر آدمی اگر ظالم بھی ہو
تو اس کا ظلم بہت گھٹیا درجے تک نہیں پہنچتا… بہرحال ظلم ہر حال میں بُرا اور حرام
عمل ہے… کوئی بزدل ظلم کرے یا کوئی بہادر… اللہ تعالیٰ
ظالموں سے نفرت فرماتے ہیں… حجاج بن یوسف کے بارے میں آتا ہے کہ بے انتہا بزدل
تھا… چنانچہ جب حکومت ملی تو بے انتہا ظالم بنا… بہت قابلِ نفرت ظالم… یہی حال
پرویز مشرف کا تھا… اس نے پاکستان کا نقشہ اور رنگ ہی بدل دیا اور ملک کو ایک ایسی
کھائی کی طرف لڑھکا دیا کہ… اب یہ ملک ہر آئے دن پستی کی طرف گرتا ہی جارہا ہے…
پہلا سبق آج اپنے اور آپ کے لئے یہ ہے کہ ہم’’بزدلی‘‘ سے بچنے کی بہت دعاء اور
کوشش کریں…
’’اَللّٰھُمَّ
اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْجُبُنِ وَ الْبُخُل‘‘
یا اللہ
! بزدلی اور بخل سے آپ کی پناہ…
اندازہ
لگائیں کہ حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء اپنے صحابہ کرام
رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اس طرح سکھاتے تھے جس طرح قرآن پاک کی
کوئی آیت مبارکہ سکھائی جاتی ہے…
بزدلی
اور بخل دراصل بُرے اخلاق کا حصہ ہیں… اگر ہم بہت اہتمام سے اچھے اخلاق… یعنی
’’اخلاق حسنہ‘‘ کی اللہ تعالیٰ سے دعاء مانگا کریں اور اس
بات کی فکر کیا کریں کہ ہمارے اخلاق اچھے ہو جائیں تو ان شاء
اللہ زندگی میں بہت مثبت تبدیلی
محسوس ہو گی… بہادری، سخاوت،تحمل، برداشت… اور خدمت یہ سب اچھے اخلاق کا حصہ ہیں…
یہ دیکھیں اُمت مسلمہ کی ایک محسنہ حضرت اُم الدرداء رضی اللہ
عنہا ہمیں کیسا عجیب قصہ سنا رہی ہیں… فرماتی ہیں میں نے اپنے
خاوند حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ایک رات
اُٹھ کر نماز شروع فرمائی اور رو رو کر یہ دعاء مانگنے لگے
’’اَللّٰھُمَّ
اَحْسَنْتَ خَلْقِیْ فَحَسِّنْ خُلُقِی‘‘
’’یا
اللہ آپ نے میری خلقت اچھی بنائی ہے،آپ میرے اخلاق کو بھی اچھا بنا
دیجئے‘‘…
اسی
طرح ساری رات روتے رہے اور یہی دعاء مانگتے رہے… صبح میں نے عرض کیا! اے ابو
درداء! آج پوری رات اچھے اخلاق مانگنے میں آپ نے گزار دی؟… یعنی کوئی اور دعاء
نہیں مانگی… فرمانے لگے اے اُم درداء! ایک مسلمان اپنے اخلاق کو اچھا بناتے بناتے
اس مقام تک پہنچ جاتا ہے کہ اس کے اچھے اخلاق اُسے جنت میں پہنچا دیتے ہیں… اور
ایک مسلمان اپنے اخلاق کو بُرا بناتے بناتے یہاں تک پہنچ جاتا ہے کہ اُس کے بُرے
اخلاق اسے جہنم میں پھینک دیتے ہیں…(الادب المفرد للبخاری)
اچھے
اخلاق یعنی اخلاق حسنہ کسے کہتے ہیں؟ اخلاق کریمہ اور اخلاق عظیمہ کونسے ہیں؟… یہ
بڑا اہم موضوع ہے… فی الحال تو اچھے اخلاق حاصل کرنے کی فکر اور دعاء کا تذکرہ
ممکن ہے… یہاں ایک عجیب بات سن لیں… اچھے اخلاق کی دعاء اگر زیادہ فکر اور توجہ سے
مانگی جائے… جس طرح ابھی ہم نے پڑھا کہ عظیم المرتبت صحابی حضرت ابو الدرداء رضی
اللہ عنہ پوری رات… حُسن اخلاق کی دعاء رو رو کر مانگتے رہے…
’’فجعل
یبکی ویقول: اللّٰھم اَحْسَنْتَ خَلْقِی فَحَسِّنْ خُلُقی‘‘(الادب المفرد)
معلوم
ہوا کہ اس دعاء کی اہمیت دل میں تھی اور خود کو اس کا محتاج سمجھتے تھے… اور اچھے
اخلاق کو اپنے لئے بے حد ضروری سمجھتے تھے… اگر ہم بھی اسی طرح یہ دعاء مانگیں تو
اپنے اندر واضح اوراچھی تبدیلیاں پائیں گے… جی ہاں! ایسی تبدیلیاں کہ آپ خود
حیران ہوں گے… ایک صاحب نے بتایا کہ اس دعاء کو فکر سے مانگنے کے بعد حالت یہ ہو
گئی ہے کہ پہلے جن باتوں کی وجہ سے مسلمانوں پر غصہ آتاتھا اب انہیں باتوں پر دل
خوش ہوجاتا ہے اور مسکرانے لگتا ہے… بلکہ شکر ادا کرتا ہے… جبکہ پہلے غم اور غصے
سے کوئلہ بن جاتا تھا… ہاں! بے شک مسلمان کی دعاء ضائع اور رائیگاں نہیں جاتی… اگر
ہم بزدلی سے نفرت کریں گے، پناہ مانگیں گے… اور اچھے اخلاق کی فکر اور دعاء کریں
گے تو ان شاء اللہ جب
ہاتھ میں… قوت، طاقت اور اختیار آئے گا تو ظلم جیسے گندے گناہ سے بھی بچ سکیں گے…
دیکھیں حدیث قُدسی… ہمارے خالق، مالک رب تعالیٰ خود فرما رہے ہیں…
’’یا
عبادی انی حرمت الظلم علیٰ نفسی وجعلتہ بینکم محرما فلا تظالمو!‘‘
اے
میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنی ذات پر حرام کر دیا ہے اور اسے تم پر بھی حرام کیا
ہے پس آپس میں ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ (صحیح مسلم)
اور
روایت میں آتا ہے:
’’ان
ﷲ لیملی للظالم فاذا اخذہ لم یفلتہ‘‘ (بخاری، مسلم)
’’بے
شک اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتے رہتے ہیں، مگر جب پکڑتے
ہیں تو پھر نہیں چھوڑتے۔‘‘
یہاں
ایک عجیب، ایمان افروز اور مختصر واقعہ پڑھ لیں… خصوصاً وہ لوگ جو کسی درجے میں
’’صاحب اختیار‘‘ یا ’’صاحب منصب‘‘ ہیں…
یہ
ایک مشہور صحابی ہیں، حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ : وہ ارشاد فرماتے
ہیں کہ ایک دن میں اپنے غلام کی پٹائی کر رہا تھا… یعنی غلام نے کوئی غلطی کی تو
اسے بطور تنبیہ کے مار رہے ہوں گے… فرماتے ہیں کہ اچانک میں نے اپنے پیچھے سے
آواز سنی…
’’اعلم
ابا مسعود! للہ أَقدَرْ علیک منک علیہ‘‘
اے
ابو مسعود، خوب جان لو… جتنی قدرت تمہیں اپنے اس غلام پر حاصل ہے اُس سے زیادہ
قدرت اللہ تعالیٰ کو تم پر حاصل ہے…
میں
نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو… حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم موجود تھے اور آپ ہی نے یہ الفاظ ارشادفرمائے
تھے… میں نے فوراً عرض کیا! یا رسول اللہ ! میں اس غلام
کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے آزاد کرتاہوں… یعنی یہ اب
آزاد ہے… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اگر
تم ایسا نہ کرتے تو جہنم کی آگ تمہیں لپیٹ لیتی۔ (الادب المفرد)
اپنی
جماعت کے ناظمین حضرات کو یہی بات کی جاتی ہے کہ اپنے شعبوں میں حاکم بن کر نہیں
خادم بن کر کام کریں… وہ کمزور اور بے بس لوگ جن کا دنیا میں کوئی نہیں
ہوتا… اللہ تعالیٰ اُن کا حامی اور مددگار ہوتا ہے… دوسرا
سبق اپنے اور آپ کے لئے یہ ہے کہ ہم’’ظلم‘‘ کرنے سے بچیں اور ڈریں اور ظلم کرنے
سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگیں…
’’اَللّٰھُمَّ
اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ أَنْ أَظْلِمَ اَوْ أُظلَمَ‘‘
یا
اللہ ! ظلم کرنے اور مظلوم ہونے سے آپ کی پناہ!…
حضرت
سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں… اگر
تم اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملو کہ تم نے ایسے ستر گناہ
کر رکھے ہوں جو تمہارے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہوں تو یہ
اتنے خطرے کی بات نہیں… جتناخطرہ اس میں ہے کہ تم صرف ایک ایسا گناہ لے کر حاضر ہو
جو تمہارے اور بندوں کے درمیان ہو… یعنی ظلم، زیادتی، غیبت، چوری وغیرہ…
حضرت
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ ، امام بھی تھے اور شاعر بھی… وہ اس بات کو
ایک قافیہ جوڑکر سمجھاتے ہیں… فرمایا:
بئس
الزاد الی المعاد
*
العدوان
علی العباد
قیامت
کے دن کا بدترین توشہ، بندوں پر ظلم کرنا ہے…
ہمارے
اعمال کی شامت کہ آٹھ سال تک ہم پر ایک بزدل، اورظالم حاکم کی حکومت رہی… سلام ہو
اُن کو جنہوں نے اُس کے تاریک دور میں بھی دین، جہاد اور جرأت کی شمعیں جلائی
رکھیں… وہ ظالم ہمارے ملک میں خونی آگ لگا کر… کچھ بُرے لوگوں کو اقتدار دیکر
اپنے آقاؤں کی آغوش میں چلا گیا… اُس کا خیال یہ تھا کہ جن لوگوں کو میں نے
اقتدار سونپا ہے یہ ملک کو ایسا لوٹیں گے کہ… عوام خود ہی پکار پکار کر مجھے واپس
بلائیں گے… ملک واقعی لُٹ گیا مگر اُس ظالم کو کسی نے نہیں پکارا… ہاں! خود اس کی
ذلت نے اُسے آوازدی اور وہ سرکس کا تماشہ بن کر واپس آگیا… بڑھاپے کے ایام اور
بُرے انجام میں گھرا ہوا ایک بے بس ظالم… ہاں! بھائیو! عبرت کا مقام
ہے… اللہ تعالیٰ ہم میں سے جسے بھی قوت اور اسباب دے وہ عزم کرے کہ اس
قوت اور ان اسباب کو… اللہ تعالیٰ کے دین کی عظمت، خدمت اور انسانیت کی
فلاح کے لئے استعمال کروں گا… دنیا کے تماشے فانی ہیں ہلاک ہو گیا وہ شخص جس نے
دنیا کے مال، اسباب اورشہرت کو اپنا مقصود بنا لیا… لوگ پرویز مشرف کو جوتے ماررہے
ہیں… کالم نویس اُس کے جرائم کی فہرستیں دوبارہ شائع کر رہے ہیں… موقع پرست لوگ
نوچ نوچ کر اُس کا حرام مال کھارہے ہیں… پریس اور میڈیا والے اس کو دونوں ہاتھوں
سے لُوٹ رہے ہیں… ماضی میں اپنے اختیارات کی یاد اُس کے لئے ایک ایسا عذاب ہے جو
ہر لمحے اسے جلاتاہے… میں ایسا تھا، میں ویسا تھا…فلاں میری یوں مانتاتھا اور فلاں
میرے سامنے یوں کانپتا تھا… بس تکلیف دہ اور حسرت میں ڈالنے والی یادیں… دل نہیں
چاہتا تھا کہ اس کے بارے میں کچھ لکھا جائے اور اُسے اہمیت دی جائے… مگر جن پر اُس
نے ظلم ڈھایا اُن شہید مظلوموں کی یادنے چند الفاظ لکھوادیئے… کس کس کو یاد کروں؟…
سلام پیارے مقصود شہید رحمۃ اللہ علیہ ! آج تم ہوتے تو کیسازبردست
کالم لکھتے!
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
کا’’ذکر‘‘ بہت بڑی چیز ہے،بہت اونچی، بہت قیمتی اور بے حد عالی شان نعمت…
وَلَذِکْرُ
اللّٰہِ اَکْبَرُ…
* ہمارے
ملک میں انتخابات کی تیاری ہے… سیاسی کارکن اپنے لیڈروں کی تصویریں اور بُت جگہ
جگہ لٹکا رہے ہیں… لڑائیوں کے لئے غنڈے بھرتی کئے جارہے ہیں… حرام مال کی تجوریاں
کھل رہی ہیں ووٹ اور وفاداریاں خریدی جارہی ہیں… جھوٹ، دھوکہ، فریب اور ظلم کے
تمام کام سرگرمی سے کئے جارہے ہیں… دھاندلی، دھونس اور رشوت کے راستے ڈھونڈے جارہے
ہیں… بدنصیب نوجوان کارکن اپنے لیڈروں کو کامیاب کرانے کے لئے اپنی زندگی کے قیمتی
ترین اوقات ضائع کر رہے ہیں… یعنی وہ سب کچھ ہو رہا
ہے،جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دینے والا ہے… اگر
خدانخواستہ اس زمین نے کبھی دھنسنا ہوا تو شاید الیکشن کے زمانے میں ہی دھنسے گی…
ابھی جب الیکشن مہم شروع ہو گی تو’’ نعوذباللہ ‘‘ کئی نمازی… مسجدوں سے دورہو جائیں گے اور کئی
مسلمان ذکر اللہ سے محروم… بس گناہ اور بھاگ دوڑ… بلکہ
گناہوں کی بھاگ دوڑ… ان حالات میں… اللہ تعالیٰ کا فضل
دیکھیں کہ کراچی میں’’دورہ تربیہ‘‘ شروع ہورہا ہے… جماعت کے مخلص کارکن لوگوں
کو اللہ تعالیٰ کی طرف بُلا رہے ہیں…
ذکر اللہ اور مسجد کی طرف بُلا رہے ہیں… اور مسلمانوں کو
’’ایمان کامل‘‘ کی طرف بُلا رہے ہیں…
وہ
دیکھو! سب سے سچی کتاب، سب سے اونچی کتاب، سب سے ترقی یافتہ کتاب فرما رہی ہے…
فَفِرُّوْٓا اِلَی اللّٰہِ… پس دوڑو اللہ تعالیٰ کی طرف… پس
دوڑو اللہ تعالیٰ کی طرف… اسی میں کامیابی ہے، اسی میں ترقی
ہے اور اسی میں نجات ہے… کراچی والو! مبارک ہو… دورہ تربیہ، ایمان اورذکر کی
بہاریں لئے آپ کے شہر میں آرہا ہے… تاریخ یاد رہے: جمعہ بارہ اپریل2013ء ان
شاء اللہ
* ہمارے
جسم کا انجن ہمارا’’دل‘‘ ہے… دل ٹھیک تو سب کچھ ٹھیک، دل خراب تو سب کچھ خراب… دل
کا خالق اور دل کا مالک اللہ تعالیٰ ہے…
اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دلوں پر زنگ لگ جاتا ہے…
کبھی کبھار دلوں پرتالے لگ جاتے ہیں… اور کچھ دلوں پرپردے پڑ جاتے ہیں… اور کچھ دل
سختی اور قساوت کا شکار ہو جاتے ہیں… اورکچھ دل بے سمجھ ہوجاتے ہیں… اور کچھ دلوں
میں بیماری لگ جاتی ہے… دل کے ان تمام امراض کا تذکرہ قرآن مجید میں موجود ہے…
اور ہم اپنے اندر جھانک کر اور ارد گرد دیکھ کر دلوں کی بیماریوں کے خوفناک نتائج
خود اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں… حدیث پاک میں آتا ہے کچھ لوگوں کے دل بھیڑیوں
کے دلوں جیسے ہوتے ہیں… ظالم اور خونخوار… ہاں بھائیو! اور بہنو! قرآن پاک ہمارے
اندر یہ فکر پیدا کرتا ہے کہ ہم اپنے ’’دل‘‘ کو ٹھیک کریں، ورنہ برباد ہو جائیں
گے…
یہ
کون لوگ ہیں جو روز مال کی خاطر… مسلمانوں کو قتل کرتے ہیں… اپنی حکومت کی خاطر
لوگوں کا خون بہاتے ہیں… اپنی نوکری کی خاطر گولیاں چلاتے ہیں… یہ ڈاکے ڈالنے
والے، یہ اغواء کار… یہ معصوم بچوں کو اٹھا کر لے جانے والے اور پھر ان کے اعضا کو
توڑ کر ان سے بھیک منگوانے والے… یہ انسانی اعضاء فروخت کرنے والے… یہ قبرستانوں
کے مُردے نکال کر اُن کے جسموں سے نشہ بنا کر بیچنے والے… یہ بڑے بڑے کارخانے بنا
کر ان میں نقلی دوائیاں بنانے والے… کیا ان کے سینے میں کسی انسان کا دل ہے؟… آپ
مغربی تہذیب میں پوری طرح رنگے ہوئے کسی افسر، کسی جج، کسی صحافی یاکسی بزنس مین
کے ساتھ بیٹھ جائیں… آپ کو اُس کے خیالات سُن کر گِھن اور الٹی آئے گی… بس دنیا
میں ترقی کرو، بس مال بناؤ، بس لائف اسٹائل اونچا کرو، بس یورپ کے پیچھے دوڑو… ان
کے ہاں نہ اللہ ، نہ رسول، نہ قبر نہ آخرت… نہ انسانیت نہ صداقت… کیا
ان کے سینے میں کسی انسان کا دل ہے؟… یہ دین پر ہنستے ہیں ، مسجدوں پر آوازیں
کستے ہیں اور کلمہ طیبہ سے محروم لوگوں کو’’ترقی یافتہ‘‘ سمجھتے ہیں… بھائیو! دل
پر ہاتھ رکھ کر بتاؤ، جو انسان’’کلمہ طیبہ‘‘ سے محروم ہے… کیا وہ کامیاب یا ترقی یافتہ
ہو سکتا ہے؟… زندگی کا اصل راز کلمہ طیبہ، کامیابی کی اصل کنجی کلمہ طیبہ، فطرت کا
پہلا تقاضا کلمہ طیبہ… ارے جو فطرت سے محروم ہو اُس پر تو جانور بھی تھوکتے ہیں…
خیر چھوڑیں، اس داستانِ درد کو…
آئیے
اپنے سینے میں جھانک کر دیکھتے ہیں کہ… ہمارے اپنے ’’دل صاحب‘‘ کس حالت میں ہیں؟…
زندہ ہیں یا مُردہ؟ انسان ہیں یا جانور؟ لالچی ہیں یا قناعت پسند… کھلے ہیں یا
تنگ؟صاف ہیں یا زنگ سے اٹے ہوئے؟… پُرامید ہیں یا مایوسی میں دفن؟… دھوکے کھاتے
ہیں یا سمجھدار؟… اپنے خالق و مالک کو پہچانتے ہیںیا بے سمجھ اور اندھے؟… ہمت والے
شاہین ہیں یا ہر مُردار پر گرنے والے گِدھ؟… ذاکر ہیں یا غافل؟… اس دنیاسے آگے
دیکھنے کی آنکھیں رکھتے ہیں یا اندھے ہیں؟… حق کی آوازوں کو سنتے ہیں یا بہرے
ہیں؟… ہم نے تو اپنے دل کا حساب دینا ہے کسی اور کے دل کا نہیں… دل میں ریا کاری
کا سوراخ ہو تو ساری نیکیاں بہہ جاتی ہیں… دل میں تنگی، بخل اورحرص ہو تو انسان
کبھی بھی چین، سکون اور اونچی منزل کی طرف نہیں چل سکتا… یہ دل اتنا طاقتور ہے کہ
ایک لمحے میں عرش تک… بلکہ اس سے بھی اوپراپنی آواز اور اپنا محبت بھرا تذکرہ
پہنچا سکتا ہے… اور یہ دل اتنا کمزور ہے کہ روٹی کے ایک لقمے پر نیلام ہو جاتا ہے…
ہمارے
محسن، ہمارے رہبر اور ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھایا کہ بس
دل ٹھیک کر لو… باقی سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا… دورہ تربیہ کا مقصد اپنے دل تک
پہنچنا، اپنے دل کو دیکھنا اور اپنے دل کو ٹھیک کرنا ہے… بہت سے لوگوں نے بتایا کہ
دورہ تربیہ کے دوران زندگی میں پہلی بار پتا چلا کہ ہمارا دل کیسا ہے؟…صالحین اور
ذاکرین کی صحبت، مسجدکا ماحول… اور دل اور روح کی اصلی غذائیں… دورہ تربیہ واقعی
ایک نعمت ہے… کراچی والو! مبارک ہو کہ آپ کے مکرّم شہداء کی برکت سے… دورہ تربیہ
آپ کے شہر کی طرف روانہ ہے… تاریخ یاد رہے: بارہ اپریل ، جمعہ کا دن… جامعہ نور
کراچی…
* ہم
اپنے محبوب کو یاد کریںیہ بھی بڑی بات… لیکن اگر عظیم محبوب ہمیں یاد فرمائے تو اس
سعادت کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے… کسی مجازی عاشق سے پوچھ لیں کہ اُسے جب یہ
خبر ملے کہ محبوب کے ہاں بس تمہارا ہی تذکرہ چل رہا تھا تو خوشی سے وہ پاگل ہونے
لگتا ہے… بندہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتاہے
تو اللہ تعالیٰ اُس کا ذکر فرماتے ہیں… یہ جملہ انسان کے دل
کو وجد اور رقص میں لے آتاہے… اور یہ جملہ کسی واعظ کا نہیں… خود قرآن مجید میں
محبوب حقیقی کا فرمان ہے…
’’فَاذْکُرُوْنِیْ
اَذْکُرْکُمْ‘‘
اور
بالکل صحیح حدیث قدسی کہ بندہ جب مجھے یاد کرتا ہے تو میں اُس کے ساتھ ہوتا ہوں…
اور جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اُسے یاد فرماتا
ہوں… اللہ والے ایک تابعی حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ
علیہ … یہ اُن بزرگو ں میں سے ہیں جن کے تذکرہ پر
بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوتی ہے… یہ کبھی کبھی وجد کی
حالت میں کسی مسجد کے باہر تشریف لے جاتے اور پکار پکار کر فرماتے… اے نافرمان
بندو! واپس لوٹ آؤ اپنے مالک کی طرف… اے غافل بندو! بھاگ آؤ اپنے مالک کی طرف…
اے اپنے رب سے منہ موڑنے والو! واپس آجاؤ اپنے اُس مالک کی طرف…جو صبح شام تمہیں
پکار رہا ہے اور فرماتا ہے… تم ایک بالشت میری طرف آتے ہو تو میں ایک ہاتھ تمہاری
طرف آتا ہوں… تم ایک ہاتھ میری طرف آتے ہو تو میں ایک گز تمہاری طرف آتاہوں…
اور تم اگر میری طرف چل کر آتے ہو تومیں تمہاری طرف دوڑ کر آتا ہوں… کراچی والے
بھائیو! چل پڑو اپنے رب کی طرف اور کہتے جاؤ اے محبوب مالک! میں آرہا ہوں… معافی
مانگنے آرہا ہوں، توبہ کرنے آرہا ہوں، تلافی کرنے آرہا ہوں… سب کو چھوڑ کر آپ
کو پانے آرہا ہوں…؎
ہر
تمنا دل سے رخصت ہو گئی
اب
تو آجا اب تو خلوت ہو گئی
تاریخ
یاد رہے، زیادہ دور نہیں، آج پیر کا دن ہے… اور یہ اخبار آپ کو بدھ یا جمعرات کے
دن ملے گا… دیوانے آوازیں تو لگا ہی رہے ہوں گے، ان کو اورکیاکام ہے؟ نہ اپنے
لیڈروں کے بت سجانے ہیں اور نہ زندہ باد، مردہ باد کے نعرے لگانے ہیں… وہ خود
بھی اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑ دوڑ کر قربان ہو رہے ہیں… اور
اُمت مسلمہ کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف بُلا رہے ہیں… بارہ
اپریل جمعہ کے دن… تھوڑا سا سامان ساتھ… اور دل میں شوق، ارے کچھ دن تو بس اپنے
خالق، مالک اور محبوب کے ذکر میں ہی مست ہو جائیں… صبح ش، شام ش، اور ہرسانس کے
ساتھ اللہ ھو اللہ
… اللہ ھو اللہ
* ایک
بات دل میں بٹھا لیں، کوئی لاکھ کوشش کرے کہ آپ اس بات سے ہٹ جائیں تو ہرگز نہ
ہٹیں… مؤمن کا ہر کام’’ذکر اللہ ‘‘ سے ترقی کرتا ہے… اور
ذکر اللہ سے ہی کامیاب ہوتا ہے… ہرعمل کا وجود اخلاص سے،
ترقی ذکر سے اور اس کے بعد مسلسل محنت… یعنی استقامت… یہ بات قرآن مجید
میں اللہ تعالیٰ نے بار بار سمجھائی ہے… نماز کی کامیابی
اور ترقی بھی’’ذکر اللہ ‘‘ سے ہے… اور جہاد میں کامیابی اور ترقی بھی’’ذکر اللہ
‘‘ سے ہے… منافق کی ایک بڑی علامت یہ ہے کہ اسے’’ذکر اللہ ‘‘ سے الجھن
ہوتی ہے… جبکہ مؤمن’’ذکر اللہ ‘‘ میں یوں سکون پاتا ہے جیسے کوئی
معصوم بچہ اپنی ماں کی گود میں… یامچھلی پانی میں…
ذکر اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کا ذکر دو
طرح کا ہے… ایک’’قلبی‘‘ یعنی دل ہر وقت اور ہر کام
میں اللہ تعالیٰ کی رضا کویاد
رکھے… اللہ تعالیٰ کے حکم کو یاد رکھے…
اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ڈرتا رہے… اور دوسرا
ذکر’’جسمانی‘‘ جو عبادات کے ذریعہ ہوتا ہے ، زبان سے اور دوسرے اعضاء سے…
رسول
کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جانثار صحابی حضرت
سعد رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
’’اے
سعد! اللہ کا ذکر کرو…
یعنی اللہ تعالیٰ کو یاد رکھو اپنے ارادے کے وقت، جب کسی
کام کا ارادہ کرو… اور اپنے ہاتھ اور اختیار کے وقت جب کچھ تقسیم کرو اوراپنے
فیصلے کے وقت جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو…‘‘
دین
تو دین ہے، مؤمن کی دنیا کے کام بھی’’ذکر اللہ ‘‘ سے ترقی پاتے ہیں
اور کامیاب ہوتے ہیں… یہ بڑا مفصل اور دلکش موضوع ہے… کسی وقت کوئی پیچ یا پرزہ نہ
کُھل رہا ہو تو وہ آیت پڑھ کر دیکھ لیں جوغزوۂ خندق میں رسول کریم صلی اللہ علیہ
وسلم نے چٹان توڑتے وقت تلاوت فرمائی تھی…مجھے یقین ہے کہ جب کسی جگہ
اسلامی حکومت قائم ہوگی اور اس حکومت کے
سائنسدان… اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ ’’ایجادات‘‘ کریں گے
تو یورپ اور امریکہ کے دجّال اُن کے سامنے سرکس کے ’’بونے‘‘ نظر آئیں گے… ہمارے
جو’’کالم نویس‘‘سائنس کی چند ایجادات اور اُن کے موجدوں کے نام گنواکر نعوذباللہ مسلمانوں کو’’حقیر‘‘ قرار
دیتے ہیں… آپ ان سے پوچھا کریں کہ تم نے خود کیا ایجاد کیا ہے؟… تمہیں سائنس
پڑھنے، ایجادات کرنے اور آگے بڑھنے سے کس مولوی،کس مدرسے یا کس مجاہد نے روک رکھا
ہے کہ تم مسلمانوں کی پسماندگی کا ذمہ دار… علماء اور مجاہدین کو قرار دیتے ہو؟…
چلیں چھوڑیں! اصل بات کی طرف آتے ہیں کہ جب مسلمانوںکے قلوب زندہ ہوں گے، اُن کو
ایمان کامل نصیب ہوگا… اور وہ ذکر اللہ کو حاصل کریں گے تو…
اُن کا ہر عمل کامیاب اور مقبول ہو گا… اس لئے ضروری ہے کہ ’’مجاہدین‘‘ بھی ذکر اللہ میں
مضبوط ہوں… کیونکہ وہ اسلام کے غلبے اور مسلمانوںکے تحفظ کی عظیم محنت کر رہے ہیں…
خلاصہ یہ کہ مسلمان کے اعمال کی کامیابی اور ترقی… ’’ذکر اللہ ‘‘ میں
ہے… اور’’ذکر اللہ ‘‘ کی بہاریں لئے’’دورہ تربیہ‘‘ کراچی کے دروازے پر
چل آیا ہے… ان شاء اللہ اب یہ سلسلہ چلتا رہے گا اور یہ
کراچی کے حالات کو فسادسے امن کی طرف… اور فسق سے ایمان کی طرف لانے کا ذریعہ بنے
گا… مگر آغاز توآغاز ہوتا ہے، بنیاد کی اپنی حیثیت ہوتی ہے… اور کسی کام میں روز
اول سے حصہ ڈالنے کا اجر بہت بڑا ہوتا ہے…
اس
لئے وقت نکالیں، الیکشن کے فساد زدہ ماحول سے جان چھڑائیں… اور زیادہ سے زیادہ
تعداد میں… پہلے’’دورہ تربیہ‘‘ میں شرکت کریں…
دورہ
تربیہ کے بارے میں’’باتیں‘‘ بہت تھیں مگر صفحات پورے ہوگئے اور کئی اہم باتیں رہ
گئیں… ویسے سچ یہ ہے کہ’’دورہ تربیہ‘‘ باتوں سے نہیں عمل اور تجربے سے سمجھ آتا
ہے… پھر دیر کیسی؟جمعہ کا دن بارہ اپریل 2013ء… جامعہ نور مفتی ولی
حسن رحمۃ اللہ علیہ ٹاؤن گڈاپ کراچی…
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللّٰھم
صل علیٰ سیّدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
جو چاہتے ہیں وہ کرتے ہیں… فرمایا!
’’فَعَّالٌ
لِّمَا يُرِيْدُ‘‘
اگر
کوئی شخص یہ چاہے کہ سب کچھ اُس کی مرضی اورپسند کے مطابق ہو تو وہ سن لے اورسمجھ
لے کہ دنیا میں ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا… ایسے لوگ ہمیشہ غم اور پریشانی بلکہ حسرت
میں رہتے ہیں… ہاں! جو اپنی مرضی کو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے
تابع کر لے وہ مطمئن رہتاہے… یاد رکھیں! صرف ایک نکتہ ہماری ہزاروں پریشانیوں کا
علاج ہے… وہ یہ کہ ہم دنیا میں ہیں، جنت میں نہیں… اور دنیا میں وہی کچھ ہوتا ہے
جو ہو رہا ہے… ہمارا کام یہاں اپنی مرضی چلانا نہیں… بلکہ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم
’’تقدیر‘‘ پر راضی رہیں اور اُس کام میں لگے رہیں جس کے لئے ہمیں اس دنیا میں
بھیجا گیا… تھوڑا سا ماضی کی طرف جھانکیں… اور ایک نظر موجودہ زمانے پر ڈالیں… جس
نے بھی دنیا میں اپنی تمام خواہشات کو پانے کی کوشش کی اور اسے مقصدبنایا وہ ناکام
ہو گیا، ذلیل ہو گیا… کچھ لوگ حکومت اور اقتدار کے پیچھے پڑے کہ یہ ہمیں ہمیشہ ہمیشہ
کے لئے مل جائے… کیا انہیں مل گیا؟…
گزشتہ
چند سالوں میں ہی کتنے لوگوں کے تاج اُتر گئے… کتنوں کے تخت چھن گئے… ہمارے ملک
میں ایک شخص وزیراعظم تھا… پانچ منٹ بعد وہ قیدی تھا اور ایک سال بعد جلا وطن… مگر
عبرت نہ ہوئی اب پھر اقتدار کے پیچھے دوڑ رہا ہے… اور ایک شخص جہاز میں بیٹھا
بیٹھا معزول ہوا… سب کچھ چھن گیا، مگر آدھے گھنٹے بعد پورے ملک کا حکمران بن گیا…
پھر آٹھ سال اُس نے اقتدار کو خوب رسوا کیا پھر ایک دن اچانک اُسے صدارتی محل سے
نکلنا پڑا… پھر جلا وطن ہوا اور اب دوبارہ ذلّت کا نشان بنا پاکستان میں بیٹھا ہے…
یہ کل پرسوں کی داستانیں ہیں… ماضی میں غوطہ لگائیں تو ہر طرف عبرت ہی عبرت…
ویرانی، رسوائی، پرانی ہڈیاں… چند دن کا عیش اور پھر ذلّت… یہ سب کچھ دیکھ کر بھی
کوئی اقتدار، عہدے یا منصب کو اپنا مقصود بنا سکتا ہے؟… جی ہاں! دنیا دھوکے کی جگہ
ہے، لوگ اقتدار اور عہدے کو بہت کچھ سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ کچھ بھی نہیں… ایک
پانی کا بلبلہ ہے جو ابھرتا ہے اور پھر پھٹ جاتا ہے… کچھ لوگوں نے دنیا میں صحت
مند زندگی کو اپنا مقصود بنایا… صحت اچھی چیز ہے مگر یہ ہمیشہ نہیں رہتی… طرح طرح
کے علاج، طرح طرح کی دوائیاں… اور طرح طرح کے چلّے… مگر صحت کسی کے قابو میں نہ آئی…
ارے جب اللہ تعالیٰ کے پاک انبیاء علیہم
السلام بیمار ہوئے تو… دنیا میں کون ہے جو بیماریوں سے بچنے کا حتمی
طریقہ ڈھونڈ سکے… پرہیز اچھی چیز ہے، صحت کا مناسب خیال رکھنا اچھی بات ہے… علاج
کرانا بھی سنت ہے… لیکن’’صحت‘‘ ہی کو اپنا مقصود بنا لینا؟… یقینا خسارے کا سودا
ہے… ایک عباسی خلیفہ کو شوق چرایا کہ مردانہ قوت بے مثال ہو… اسی شوق میں بہت بُری
موت مرگیا… ایک گرم دوائی کھانے سے جسم پر ایسے پھوڑے نکلے کہ آگ کے بہت قریب
ڈالا جاتا تو کچھ سکون پاتا… بڑھی ہوئی خواہشات کا انجام ایسا ہی ہوتا ہے… بالآخر
چیختے سسکتے مر گیا… یوگا کے ماہر لوگ اپنے جسم کو تھوڑا لچکدار اور اچھا بنا لیتے
ہیں مگر اُن کے منتر اور بُرا ماحول ان کی روح اور دماغ میں عجیب بیماریاں لگا
دیتی ہیں… صحت کی زیادہ فکر میں لوگ نعوذباللہ … کفر اورشرک تک جا پہنچتے
ہیں… اللہ تعالیٰ کی پناہ! ایسے عامل آگئے ہیں جو سب سے
پہلے ایمان پر ڈاکہ ڈالتے ہیں… انسا ن یہ کیوں نہیں سوچتا کہ یہ دنیا ہے اور
یہاںبیماری آتی ہے… اور میرا جسم فانی ہے، اس نے بالآخر کمزور ہی ہونا ہے… کچھ
بیماریوں کو انسان برداشت کر لے… کچھ کا مناسب علاج کر لے… اور اس معاملے کو زندگی
کی سب سے اہم سوچ اورفکر نہ بنائے… آج میڈیکل کے شعبے میں جتنا خرچہ، جتنا اسراف
اور جتنی ذلت ہو رہی ہے… وہ یقینا اس زمانے میں بڑا المیہ ہے…ٹیسٹ، ٹیسٹ اور ٹیسٹ…
پیشاب سے لے کر ہر بلا ٹیسٹ… کروڑوں کی مشینیں اور ہر مشین کے ٹیسٹ کا نتیجہ یعنی
رزلٹ الگ… انسانی جسم میں کروڑوں اربوں کی تعداد میں پرزے ہیں… انسانی جسم میں
کبھی سردی، کبھی گرمی، کبھی آندھی، کبھی طوفان… کبھی مٹھاس، کبھی کڑواہٹ… ہر منٹ
میں یہ نظام بدلتا ہے… اور ہر گھنٹے میں جسم کے اندر ڈیوٹیاں تبدیل ہوتی ہیں… ان
حالات میں کسی ٹیسٹ سے حتمی حالت ہمیشہ کہاں معلوم ہو سکتی ہے؟… چنانچہ کبھی تشخیص
ٹھیک، کبھی غلط … مسلمانوں کے پاس’’حجامہ‘‘ جیسا مفید ، جامع اور اعلیٰ’’علاج‘‘
موجود ہے… افسوس، صدا فسوس کہ مسلمان اس مسنون او ر حیرت انگیز علاج سے محروم اور
غافل ہیں… سالہا سال سے جو زہر انسان کے جسم میں بنتا ہے حجامہ کا ایک کپ اُس سارے
زہر کو پانچ منٹ میں باہر نکال پھینکتا ہے… اللہ تعالیٰ کے
مقرب فرشتے حجامہ کی ترغیب دیتے رہے اور حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم نے اسے افضل ترین علاج قرار دیا… مگر لوگ علاج کے لئے یورپ بھاگتے
ہیں اور خوب د ل پھاڑ کر اپنی صحت کے لئے مال برباد کرتے ہیں… مگر صحت ہے کہ قابو
میں نہیں آتی… کوئی ہے جو ا س بارے میں اپنی فکر کا رُخ تبدیل کرے اور سوچے کہ یہ
دنیا ہے جنت نہیں… یہاں بیمار ہونا بسا اوقات خود ہمارے مفاد میں ہے… کچھ اور لوگ
ہیں جنہوں نے دنیا میں، مال، جاگیر، پلاٹ اور جائیداد بنانے کو اپنی سب سے اہم فکر
بنا رکھا ہے… وہ اسی کی خاطر مرتے ہیں ا ور اسی کی خاطر جیتے ہیں… اور وہ اس کی
خاطر سب کچھ کر گزرتے ہیں خواہ جائز ہو یا حرام… اُن کے نزدیک انسان کی ترقی یہی
ہے کہ اُس کے پاس بہت پیسہ ہو اور بہت جائیداد ہو… انسانوں کا یہ طبقہ سب سے زیادہ
پریشان حال، سب سے زیادہ خطرناک اور سب سے زیادہ ہلاکت میں پڑنے والا ہے… انہوں نے
ایسی چیز پر اپنی زندگی کھپائی جو اُن کے کسی کام کی نہیں… بڑے بڑے پلازے بنانے
والوں کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہیں؟… کبھی کراچی اور لاہورجائیں… ایک ایک پلازے
اورایک ایک محل کی داستان عبرت سنیں تو آپ کو’’جانور‘‘ ان لوگوں سے زیادہ اچھے
محسوس ہوں گے… اکثر لوگ مر گئے… پیچھے والوں نے اُن کے ساتھ کیا کیا… یہ الگ عبرت
کی داستان ہے… یہ دنیا دھوکے کی جگہ ہے ورنہ تو کسی ایک سیٹھ کی قبر لوگوں کی
آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہوتی… کئی کئی مکان بنا کر اُن کو دے دیئے جو زندگی
میں جوتے مارتے ہیں… اور اپنی آخرت کے لئے ایک مسجد تک نہ بنائی… ہے نہ حسرت اور
ناکامی کی بات؟… پیسہ بناتے رہے، گنتے رہے، اس کے آنے جا نے کا غم سہتے رہے…
بھاری ٹیکس ادا کرتے رہے، طرح طرح کی رشوتیں دیکر اپنا مال بچاتے رہے… اور پھر ایک
دن اچانک سب کچھ دوسروں کے لئے چھوڑ کر خالی ہاتھ قبر میں جا گرے… ہے نہ افسوسناک
صورتحال…
یا
اللہ ! دنیا کے فریب اور دھوکے سے ہم سب کی حفاظت فرما…
آج
کل پاکستان میں انتخابات کا موسم ہے… اللہ تعالیٰ ملک کو
اچھے اور مسلمان حکمران عطاء فرمائے… بظاہر تو ایسا نہیں لگتا کہ انتخابات کے
ذریعہ کوئی اچھا حکمران اُس ملک کو نصیب ہوجائے… کوئی عارضی نظام نہ کفر ہوتا ہے
نہ اسلام… جمہوریت کے بارے میں کافی افراط تفریط نظر آرہی ہے… ہم خود جمہوریت کے
حامی نہیں اور نہ ہی اسے کوئی اچھا اور مفید نظام سمجھتے ہیں… مگر یہ فتویٰ دے
دینا کہ’’جمہوریت‘‘ کفر ہے… یہ بھی ہرگز درست نہیں… ایک زمانے تک کچھ متشدّد قسم
کے عرب مصنفین پشاور میں مقیم رہے، ان حضرات کا تعلق مصر کی ایک تنظیم سے تھا جو
ہجرت اور تکفیر کا نعرہ لگاتی تھی… انہوں نے سب سے پہلے یہ فتویٰ جھاڑا کہ جمہوریت
کفر ہے… مجاہدین میں سے بھی کئی افراد نے بغیر سمجھے بوجھے اس فتوے کی تشہیر شروع
کردی… ایک بار سفر کے دوران بندہ نے ایک بزرگ عالم دین کے سامنے اس فتوے کا تذکرہ
کیا تو انہوں نے حیرت سے پوچھا … ایک’’ انتظام‘‘ کس طرح سے کفریا اسلام ہو سکتا
ہے؟… بس اُن کے اس جملے نے عقل کی گرھیں کھول دیں… جمہوریت کی خرابیاں اپنی جگہ
اور اس کے مفاسد بھی بے شمار… مگر اسے خالص کفر قرار دینا بھی ایک بڑی غلطی ہے… اس
میں فیصلہ ہر جگہ کی’’جمہوریت‘‘ کے قوانین پر ہوگا… جہاں حاکمیت اعلیٰ عوام کو دی
جائے وہاں کفر اور جہاں ایسا نہ ہو بلکہ صرف… اکثریت کے ذریعہ انتخاب کا معاملہ ہو
وہاںفتویٰ الگ… جمہوریت کے بارے میں اعتدال پر مبنی رائے حاصل کرنے کے لئے آپ
حضرت لدھیانوی شہید رحمۃ اللہ علیہ کا وہ مضمون پڑھیں جو…
چند ہفتے قبل القلم کے اسی صفحے پر ’’کلمہ حق‘‘ میں شائع ہو چکا ہے… اسی طرح حضرت
مفتی رشید احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بھی احسن الفتاوی
میں اس پر بہت عمدہ بحث فرمائی ہے… یہ سب کچھ اپنی جگہ مگر وہ لوگ بھی قابل رحم
ہیں جنہوں نے جمہوریت کی بحالی کو ہی اپنی زندگی کا مشن او ر مقصد بنا رکھاہے…
خصوصاً دینی طبقوں سے تعلق رکھنے والے وہ افراد جو دن رات جمہوریت، جمہوریت کی رَٹ
لگاتے ہیں… اور نعوذ باللہ اس میں شرکت کو جہاد سے بھی افضل قرار دیتے
ہیں… ایسے لوگ اس قابل ہیں کہ ان کی ہدایت کے لئے دعاء مانگی جائے کہ… اُن کی
قیمتی زندگیاں اس دنیا میں کیسے فضول کام پر برباد ہو رہی ہیں اگر وہ اپنا یہی وقت
جہاد فی سبیل اللہ ، عبادات… او ر خدمت خلق پر لگائیں تو اُن کے لئے
کتنا اچھا ہو جائے… آج کل مصر وغیرہ میں اخوان المسلمون کی حکومت دیکھ کر ہمارے
دینی طبقوں کے منہ میں بھی پانی بھر آیا ہے کہ… ہم بھی ووٹ کے ذریعہ انقلاب لائیں
گے… حالانکہ’’اخوان المسلمون‘‘ نے بہت قربانیاں دی ہیں… اُن کی پوری بنیادی قیادت
سولیوں اور پھانسیوں پر شہید ہوئی ہے… اُن کے لاکھوں کارکنوں نے بڑی بڑی قیدیں
کاٹی ہیں… اور انہوں نے رات دن ایک کر کے درس قرآن، خدمت خلق او ر فروغ تعلیم کے
ذریعہ عوام کے دلوں کو جیتا ہے… انہوں نے جمہوریت کوکبھی اپنا مطلوب، مقصود اور
اصل کام قرار نہیں دیا… اور نہ ہی کبھی آمروں کے ساتھ کسی طرح کا کوئی اتحاد
بنایا ہے…اُن کے کئی کاموں سے اختلافات کے باوجود ہم انہیں اس اعتبار سے مسلمانوں
کے لئے ایک روشن مثال سمجھتے ہیں کہ… انہوں نے سال کے کسی دن، اور رات دن کے کسی
منٹ اپنے کام کا وقفہ نہیں کیا… دن رات محنت، مسلسل محنت… انہوں نے آہستہ آہستہ
انتظامی اداروں میں اپنے افراد داخل کئے… اور ہمیشہ ایک دوسرے کو عزیمت اور قربانی
کی دعوت دی… وہ خود اگرچہ مسلح جہاد سے محروم رہے مگرانہوںنے دعوت جہاد… اور جگہ
جگہ مجاہدین کی نصرت اور اعانت کرنے سے کبھی اپنارخ نہیں موڑا… ان سارے کاموں کے
باوجود… آج وہ اپنی حکومتیں چلانے میں مکمل آزاد نہیں ہیں… بلکہ انہیں قدم قدم
پر رکاوٹوں کا سامنا ہے… خلاصہ یہ ہے کہ… پاکستان میں جمہوریت کا فی الحال و ہ
مستقبل ہرگز نہیں جو مصر اور تیونس میں ظاہر ہوا… اس لئے یہاں اس بارے میں جو محنت
کی جارہی ہے وہ … دین اور اسلام کی کوئی خاص خدمت نہیں… بس بھائیو! میں بھی یاد
رکھوں اور آ پ بھی کہ یہ دنیا ہے… اور دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے… اُس سے زیادہ
متاثر نہ ہوں… بلکہ یہ عظیم نکتہ یاد رکھیں کہ… دنیا کے تمام انسان خسارے میں ہیں…
مگر وہ جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک اعمال کئے … اور وہ حق کی دعوت دیتے
ہیں… اور حق پر استقامت کی ایک دوسرے کو تلقین کرتے ہیں…
معلوم
ہوا کہ خود بھی ٹھیک ہونا ہے… اور دوسروں کو ٹھیک کرنے کی فکربھی کرنی ہے… تب
خسارے سے نجات ہے… اور اس کے لئے ہمارے پاس دور حاضر کے حالات کے مطابق بہترین
نصاب موجود ہے… یعنی کلمہ(ایمان)، نماز اور جہاد فی
سبیل اللہ کی محنت…
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
ہمارے لئے کافی ہے… یعنی ہمارا ہر مسئلہ حل فرمانے والا ہے اوردشمنوں کے مقابلے پر
ہمار ا مددگارہے…
حَسْبُنَا
ﷲ
اور
وہ بہترین کار ساز ہے… یعنی کام بنانے والا ہے…
وَنِعْمَ
الْوَکِیْل
اب
ان دونوں جملوں کو ملا کر پڑھیں!
حَسْبُنَا
اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْل
یہ
دعاء بھی ہے اور قرآن مجید کی آیت مبارکہ بھی… اور ایک ایسا طاقتور قرآنی وظیفہ
یا کوڈ جس کے سامنے کوئی ظالم نہیں ٹھہر سکتا…
حضرت
سیّدنا ابراہیم خلیل علیہ السلام کو جب آگ میں ڈالا گیا… بڑی
بھیانک اور خوفناک آگ تھی… تب انہوں نے فرمایا:
حَسْبِیَ
اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْل
میری
مدد کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ بہت
ہے، اللہ تعالیٰ کافی ہے اور وہی بہترین’’وکیل‘‘ ہے… اسی
وقت حکم آیا کہ… اے آگ ٹھنڈی ہوجا! مگرمٹھاس اور سکون والی ٹھنڈک ہو… جی ہاں!
سلامتی والی…
حضرت
اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو… ان کی زندگی کی سب سے اذیت ناک خبر
پہنچی کہ ظالموں نے آپ کے فرشتوں جیسے دامن پر تہمت لگادی ہے… اور یہ’’تہمت‘‘ بہت
مضبوطی کے ساتھ پھیلائی جارہی ہے… اللہ ، اللہ ! حضرت سیدہ
عائشہ رضی رضی اللہ عنہا کے دل پر کیا گزری ہو گی مگر فوراً فرمایا!
حَسْبِیَ
اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْل
میرا اللہ موجود
ہے، وہی میرا ہے ، وہی میرا ہے… اور وہ کافی ہے اور وہ ہر بگڑی بنانے پر قادر ہے…
دلوں کا بھی وہی مالک اور زبانوں کا بھی وہی خالق…
اَمّی
جی نے جب اپنا ’’وکیل‘‘ اللہ تعالیٰ کو بنا لیا اور اپنا
معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد فرما دیا تو… حضرت جبریل
امین علیہ السلام عرش سے’’سورہ نور‘‘ لے کر اُترے اور قیامت تک اعلان
ہو گیا…
’’
سُبْحَانَکَ ھٰذا بُہْتَانٌ عَظِیْم‘‘
غزوہ
اُحد کا زخمی لشکر… غمزدہ ، ٹوٹا پھوٹا، زخموں سے چور لشکر ابھی سنبھلا نہ تھا…
اللہ اللہ! غزوہ اُحد کا درد اور اُس واقعہ کے زخم بہت گہرے تھے… ایسی کمزوری کی
حالت میں تو انسان’’ہمت‘‘ سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے… تب اطلاع آگئی … بہت پکی خبر کہ
ایک بہت بڑا لشکر پھر واپس پلٹ کر حملہ آ ور ہونے کو ہے… حضرات صحابہ کرام رضوان
اللہ علیہم اجمعین نے فقیرانہ شان سے کہا…
’’حَسْبُنَا
اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْل‘‘
لشکر
آرہاہے تو کیا ہوا؟ اللہ تعالیٰ موجود ہے… اور وہ ہمارا
ہے، ہاں وہ ہمارا ہے… کیا کوئی لشکر اس سے طاقتور ہو سکتا ہے؟… وہ آسمان و زمین
کو ایک کلمہ سے پیدا فرمانے والا ہمارا’‘وکیل‘‘ ہے… زخموں سے چور چور لشکر نے
جب اللہ تعالیٰ کو اپنا ’’وکیل’’ بنا لیا تو طاقتور دشمنوں
کے دل خوف اوررعب سے بھر گئے… زمین کے تمام قرینے بدل گئے… کائنات کے مالک نے
عمومی قوانین کو وقتی طو پر تبدیل فرما دیا… اور غزوہ حمراء الاسد کے زخمی مجاہدین
خوشیوں، نعمتوں اور رحمتوں سے مالا مال ہو کر واپس مدینہ پہنچ گئے… اس واقعہ کی
تفصیل بڑی شاندار ہے، دل چاہتا ہے بار بار لکھی جائے، پڑھی جائے اور سنی جائے… اور
پھر ہر مجاہد کے دل میں یہ دوکلمے ایسے بیٹھ جائیں کہ… ساری دنیا کے کافر لرز
اٹھیں…
حَسْبُنَا
اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْل
مگر
آج اس داستان کو چھوڑتے ہیں… اور انہی دو کلموں میں آگے بڑھتے ہیں… مگر پہلے آپ
ایک بات بتائیں!… اگر اللہ تعالیٰ کسی انسان کو کوئی خوشی
دے تو اسے محسوس کرنا چاہئے یا نہیں؟…
شکرانے
کے نوافل، شکرانے کے الفاظ، تشکر کے آنسو اور دل میں اپنے رحیم و کریم مالک کی
محبت… عربی زبان کا ایک مقولہ ہے…
’’یَا
ظالم! لَکَ یومٌ‘‘
اے
ظالم! تیرے لئے بھی ایک دن ہے…
یعنی
ظلم پائیدار نہیں ہوتا، ایک دن ختم ہوجاتا ہے… اورپھرظالم کی طرف ہمیشہ ہمیشہ کے
لئے لوٹ جاتا ہے… اے ظالم! تیرے لئے بھی ایک ایسا دن آنے والا ہے جب یہ ظلم واپس
تجھ پر لوٹے گا… اچھا چھوڑیں اس بات کو آپ سب لوگ خبریں پڑھتے اور سنتے ہیں… یہ
بتائیں کہ پرویز مشرف آج کہاں ہے؟… اور وہ آج کیا ہے؟… وہ جس کی’’ میں میں‘‘ نہ
تھمتی تھی … وہ جو جیلیں بھرنے کاعادی تھا… وہ جس کے کالے دور کے آپریشنوں سے شہر
جلتے تھے… وہ جو’’کالعدم‘‘ قرار دینے کا شوقین تھا… وہ جو بسے بسائے گھروں کو’’سب
جیل‘‘ قرار دے کر آہیںکماتاتھا… آج وہ کہاں ہے؟…
’’یَا
ظالم! لَکَ یومٌ‘‘
وہ
آج ’’کالعدم‘‘ ہو چکا… ملک کے کسی بھی حلقے سے انتخابات لڑنے کے لئے نااہل اور
کالعدم… وہ آج خود آپریشن کی زد میں ہے… وہ آج دھمکیاں نہیں صفائیاں دے رہا ہے…
مگر کوئی نہیں سنتا… اُس کا شاندار محل آج ایک’’سب جیل‘‘ ہے… اور جیل پولیس کے
حوالدار آج اُس کے’’سر‘‘ ہیں… وہ فرعون کی طرح’’غرق‘‘ ہو جاتا یہ بھی اچھا تھا
مگر فرعون نے اپنی زندگی میں اپنی ذلت صرف چند لمحات دیکھی… اور پھر برزخ کی آگ
میں جا گرا…وہ ابو جہل کی طرح مارا جاتا تب بھی بہت اچھا تھا… مگر ابو جہل نے اپنی
ذلّت کا منظر اپنی زندگی میں تھوڑی دیر دیکھا جب وہ زخمی ہو کر گرا… اورسیدنا عبد
اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اُس کے سینے پر جا بیٹھے…
مگر’’پرویز مشرف‘‘ اپنی زندگی میں رات، دن ذلت دیکھ رہا ہے… نہ حکومت رہی نہ
اقتدار، نہ فوج رہی نہ پولیس… نہ’’میں میں‘‘ رہی اور نہ آرڈر آرڈر… ساری دنیا کا
کفر آج بھی اُس کے ساتھ ہے مگر کوئی بھی اُسے ذلت سے نہیں نکال پا رہا… اب نکال
بھی لیں تو کیا فائدہ؟ممکن ہے وہ اُسے بھگا کر لے جائیں مگر قدرت نے تو آنکھوں
والوں کے لئے عبرت کی مثال قائم فرما دی ہے… پرویز مشرف نے اس زمانے میں روئے زمین
کی واحد اسلامی حکومت کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا… محض اپنی بزدلی اور اپنے
حرص کی تکمیل کے لئے… آہ! امارتِ اسلامیہ، آہ! امارتِ اسلامیہ… پرویز کا یہ جُرم
اُس کے تمام جرائم سے بھاری ہے…اس جرم کی تفصیل لکھوں تو قلم اور کاغذ بھی رو
پڑیں… آہ!امارتِ اسلامیہ… بیس لاکھ شہداء کرام کے خون سے قائم ہونے والی دنیا کی
وہ واحد حکومت جہاں قرآن مجید کی روشنی میں فیصلے ہوتے تھے… وہ خوشبودار وہ امن و
امان اور انوارات والی حکومت… قندھار سے کابل تک گاڑی دوڑاتے تھے نہ خوف نہ کوئی
خطرہ… ڈرائیور بھی اونگھتے رہتے تھے کہ فضائیں بھی ایمان والوں کے ساتھ تھیں… وہ
بت شکن اسلامی حکومت، وہ مسلمانوں کے لئے پرسکون گہوارہ… ہاں! ماں کی گود جیسی
اسلامی حکومت…وہ مہمان نواز… وہ غیرت مند… وہ بہادر اسلامی حکومت…
سبحان اللہ
! ملک کے حکمران، عوام کے خادم اور نوکر تھے… اور امیر المؤمنین ہر طرح کے ظلم،
حرص، لالچ او رگندگی سے پاک اسلام اور مسلمانوں کے مخلص خادم! صدیوں بعد مسلمانوں
نے وہ مناظر دیکھے ، جنہیں دیکھنے کے لئے چار سو سال سے آنکھیںترستی ترستی روتی
بلکتی… بند ہوجاتی تھیں… شیخ موسیٰ روحانی رحمۃ اللہ علیہ جیسے
زندہ دل ولی نے ایک نظر امارتِ اسلامیہ کو دیکھا تو بے اختیار پکار اٹھے… ارے یہ
تو خلافت راشدہ کے دور کا نمونہ ہمارے زمانے میں رب کریم نے عطاء فرما دیا ہے… ہم
قندھار کے ایک مکان میں بیٹھے تھے کہ ایک گاڑی اندر آکر رُکی… گاڑی میںصرف ایک
آدمی تھا وہی خود ڈرائیور!وہ گاڑی سے اُتر کر ہماری طرف آیا، کسی نے کان میں
بتایا کہ ملکِ افغانستان کا ’’چیف جسٹس‘‘ ہے… سبحان اللہ ! تھوڑی دیر
بعد اُس خوش جمال، خوش خصال قاضی کو دیکھا کہ دو زانوں بیٹھا علماء سے درخواست کر
رہا ہے کہ … اسلامی عدالتی نظام کے بارے میں میری مزید رہنمائی فرمائیں تاکہ اس
ملک میں ہر فیصلہ اللہ تعالیٰ اور اُس کے
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق ہو… سات سال کی
حکومت میں ڈاکو گم ہو گئے، لٹیرے غائب ہو گئے یا شاید تائب ہوگئے… قتل و غارت بند
ہوگئی… اور چور اچکے ڈھونڈنے سے بھی نہ ملتے… آہ! وہ عید کا پُرشکوہ اجتماع… تاحد
نظر پھیلے عماموں والے اونچے سر… آہ! وہ اسلام کی قوت اور شوکت کے عجیب مناظر…
ہمارے بڑوں نے چار صدیاں ایسے مناظر دیکھنے کے لئے طرح طرح کی محنتیں کیں… وہ
بامیان کے بتوں کا ایک دھماکے کے ساتھ اُڑجانا… وہ قندھار کے ایئر پورٹ پرمشرک
جسونت سنگھ کا سرنگوں ہونا… وہ دنیا بھرکی سعید روحوں کا کھنچ کھنچ کر افغانستان
کی طرف آنا… پرویز مشرف نے ایک ٹیلیفون پر غلامی کی کالک منہ پر ملی اور امارتِ
اسلامیہ کے پاکیزہ عمامے کو خاک و خون میں تڑپا دیا… اور جب وہاں سے آہیں بلند
ہوئیں تو ان کی گرمی سے پاکستان کا امن و سکون بھی جل کر راکھ ہو گیا… آج پاکستان
میں جتنی بدامنی اور قتل و غارت ہے یہ سب اُسی گناہ کی نحوست ہے… خونخوار بزدل
پرویز مشرف نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ پاکستان کو… اسلام سے محروم کرنے کے لئے
اُس نے بڑے بڑے ظالمانہ اقدامات کئے… آہ ! لال مسجد، آہ! جامعہ حفصہk!… ایک ایسی داستان جو نئے پرانے سارے زخموں
کے منہ کھول دیتی ہے… اور پھر جاتے جاتے ایسے افراد کے ہاتھوں میں حکومت دے گیا
جنہوں نے اُس کے ہر ظلم اور ہر گناہ کو جاری رکھا… آج پرویز مشرف قدرت کے انتقام
میں ہے… یقینا زخمی دل مسلمان خوش ہیں… کوئی مٹھائی بانٹتاہے تو کوئی شکرانے کے
نوافل پڑھتا ہے… ہاں! مسلمانوں کو خوش ہونا چاہئے… خواہ یہ خوشی چند دن کی عارضی
ہی کیوں نہ ہو…مشرف کے ظلم سے تڑپنے والے کتنے مسلمان اس وقت کہتے تھے…
حَسْبُنَا
اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْل
اور
آج اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی
کیسی مدد فرمائی… وہ جو زمین کا مالک بنتا تھا آج زمین اُس پر تنگ ہے… اور وہ جن
پر زمین تنگ کر دی گئی تھی وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر طرف
پھیلتے جارہے ہیں…
سبحان اللہ
! ابھی کراچی میں ماشاء اللہ کیسا شاندار دورہ تربیہ ہوا…
شعبے کو چاہئے کہ دورہ ٔتربیہ میں شریک افراد کے تأثرات کو شائع کرے تاکہ خوشبو
مزید پھیلے… مجھ تک جو حالات پہنچے ہیں وہ شکر کی کیفیت پیدا کرنے والے ہیں… دینی
مدارس کے خطباء طلبہ نے ایک ایسے موضوع پر کتابیں کھنگالی … اور بیانات کئے جو اس
سے پہلے کسی نے نہیںچھیڑا…حضرات محدّثین اور جہاد فی سبیل اللہ …
ماشاء اللہ دعوت جہاد… ہر زبان، ہر رنگ، ہر لہجے اور مختلف
علمی جہات کے ساتھ… بڑھتی ہی جارہی ہے… مَاشَآءَ اللہ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ
… اَللّٰھُمَّ بَارِکْ وَزِدْ وَتَقَبَّل… اچھا! اب آج کی آخری بات… وہ مسلمان
جن کو دشمنوں سے خطرہ ہے… وہ مسلمان جو کسی طرف سے ظلم و زیادتی کا شکار ہیں… وہ
مسلمان جن کے دشمن اُن سے بہت زیادہ طاقتور ہیں… وہ مسلمان جو لوگوں کی طرف سے
تہمتوں اور بدنامیوں کا شکار ہیں… وہ مسلمان جنہیں حالات کی آندھیوں نے تنہائیوں
میں جا پھینکا ہے… وہ مسلمان جن کے دشمن اُن پر پلٹ پلٹ کر وار کرتے رہتے ہیں… وہ
مسلمان جو جعلی مقدمات میں پھنسے ہوئے ہیں… وہ مسلمان جو کسی بھی تنگی کا شکار
ہیں… وہ دل کی گہرائی اور کامل یقین سے مان لیں اور کہہ دیں:
حَسْبُنَا
اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْل
اگر
ہر نماز کے بعد ایک سو مرتبہ… اور تہجد کی نماز کے بعد ایک سو مرتبہ… چند دن اس
کامعمول بنائیں تو اپنی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کی قدرت،
طاقت اور نصرت کے حیرت انگیز مناظر دیکھیں گے…اس قرآنی وظیفے اور طاقتور کوڈ کی
تفصیل دیکھنی ہو تو سورۂ آل عمران آیت:۱۷۳… اور احادیث کی
کتابوںمیں دیکھ لیں… ہاں! وظیفے کی قبولیت کے لئے شرط یہی ہے کہ دل بھی مان لے کہ…
حَسْبُنَا
اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْل
اللہ تعالیٰ
ہی ہمارے لئے کافی ہے… اور وہ بہترین کارساز ہے…
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
مجھے اور آپ سب کو’’اخلاقِ حسنہ‘‘ نصیب فرمائے…
رسول
کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا:
یا
رسول اللہ ! انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو
چیزیں عطاء کی جاتی ہیں ان میں سب سے خیر والی چیز کونسی ہے؟ ارشاد فرمایا:
’’خُلُقٌ
حَسَنٌ‘‘
یعنی
اچھے اخلاق۔(الادب المفرد للبخاری)
ایک
بار پوچھا گیا: نیکی کیا ہے؟ ارشاد فرمایا: حُسن الخلق… یعنی اچھے اخلاق…
اور
ارشاد فرمایا کہ … قیامت کے دن اعمال کے ترازو میں سب سے بھاری چیز’’اچھے اخلاق‘‘
ہوں گے… اورقیامت کے دن حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ
قریب وہ لوگ ہوں گے جن کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں گے…
اموال
کی تقسیم
اللہ تعالیٰ
نے زمین پر رزق بھی تقسیم فرمایا… اوراس میں یہ قانون رکھا کہ جس سے محبت فرمائی
اس کو بھی دیا… اور جس سے ناراض ہوئے اس کو بھی دیا…
بلکہ
بعض اوقات اُن کو زیادہ دیا جن سے ناراض ہوئے…
ارشاد
فرمایا:
ان
ﷲ یعطِی المال من أَحبَّ ومن لا یُحبّ
اللہ تعالیٰ
مال عطاء فرماتے ہیں اُن کوجن سے محبت فرماتے ہیں اور ان کو بھی جن سے محبت نہیں
فرماتے…
یہ
ہوئی ایک تقسیم… مگر یہاں ایک اور تقسیم بھی موجود ہے جو زیادہ اہم ہے وہ ہے:
اَخلاق
کی تقسیم
اللہ تعالیٰ
نے ’’اخلاق‘‘بھی اپنے بندوں میں تقسیم فرمائے… کسی کو اچھے اور اعلیٰ اخلاق عطاء
فرمائے اور کسی کو بُرے اور ادنیٰ اخلاق دیئے:
’’ان
ﷲ تعالٰی قسم بینکم اخلاقکم کما قسم بینکم ارزاقکم‘‘
’’
یعنی اللہ تعالیٰ نے بندوں میں’’اخلاق‘‘ کو بھی ویسے تقسیم
فرمایا جس طرح رزق اور مال کو تقسیم فرمایا ہے… ‘‘
مگر
یہاں صرف انہی افراد کو اچھے اخلاق کی بنیاد عطاء فرمائی جن
سے اللہ تعالیٰ محبت فرماتے ہیں…
اچھے
اخلاق کی بنیاد کیا ہے؟ ایمان، ایمان اور ایمان…
اور اللہ تعالیٰ
ایمان صرف اپنے محبوب افراد کو عطاء فرماتے ہیں:
’’ولا
یعطی الایمان الا من یحب‘‘ (الادب المفرد)
عجیب
اعزاز
اگر
ایمان موجود ہو مگر باقی اچھے اخلاق میں سے بعض میں کچھ کمزوری ہو تو…تلافی اور
اصلاح کی گنجائش موجود ہے… اسلام نے ایسے اعمال سکھا دیئے ہیں جن اعمال کو کرکے
انسان اُن کمزوریوں کی تلافی کر سکتا ہے…
مثلاً
بہادری اچھے اخلاق میں سے ہے… مگر کوئی مسلمان’’بہادر‘‘ نہیں ہے… سخاوت اچھے اخلاق
میں سے ہے مگر کوئی مسلمان ایسا ہے کہ اس کا سینہ ابھی تک سخاوت کے لئے تنگ ہے…
نیندسے مغلوب نہ ہونا بلکہ رات کو جاگ کر کچھ نفلی عبادت کرنا اچھے اخلاق میں سے
ایک اہم چیز ہے… یہ انسان کی زبان اور نفس کی اصلاح کرتی ہے… مگر کوئی مسلمان نیند
کے سامنے بے بس اور کمزور ہے… مگرایمان موجود ہے تو ان تمام کوتاہیوں کی تلافی ہو
سکتی ہے… اور وہ یہ کہ ان چار کلمات کوکثرت سے پڑھا کرے…
١…لا
الہ الا
ﷲ ٢…سبحان
ﷲ
٣…
الحمدللہ ٤…ﷲ
اکبر
ان
کلمات کو صرف پڑھنے کا نہیں فرمایا بلکہ کثرت کا فرمایا… اور کثرت کی کم سے کم
مقدار تین سو بار ہے… یعنی روزآنہ یا صبح و شام تین تین سو بار کم از
کم… یہ نسخہ حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے…
معلوم ہوا کہ اس کے نافع ہونے میں کوئی شک نہیں… اور نہ حیران ہونے کی ضرورت ہے
کہ… سخاوت، بہادری اور رات کے قیام جیسے اونچے اخلاق اور عادات کی تلافی صرف چند
کلمات پڑھنے سے کیسے ہو جائے گی؟… جس کو اللہ تعالیٰ نے
اپنے اندر جھانکنے والی آنکھیں عطاء فرمائی ہوں وہ خود کو دیکھے… اگر واقعی سخاوت
میں کمی ہے… بہادری میں کمی ہے، رات کے قیام میں کمی ہے تو پھر اس نسخہ کو اپنائے…
یقین کریں تلافی بھی ہو جائے گی اور علاج بھی… تلافی یہ کہ قیامت کے دن اپنی ان
بُری عادات پر پکڑا نہیں جائے گا… اور علاج یہ کہ ان
شاء اللہ اگر لگا رہا تو ان کلمات کی تأثیر اس کے اخلاق
میں قوت اور اچھائی بھر دے گی… اورایک ایسا وقت آئے گا کہ اسے بخل، بزدلی اور
سستی جیسے بُرے اخلاق سے ان شاء اللہ آزادی مل جائے گی…
آپ یقین کریں کہ… لا الہ الا اللہ : بہت طاقتور ہے یہ سات زمینوں کے
نیچے سے اٹھا کر سات آسمانوں کے اوپر پہنچانے کی طاقت رکھتا ہے…
اور’’سبحان اللہ ‘‘ کی طاقت کا کیا کہنا… سبحان اللہ ! علم
اور پرواز کی تیز رفتار اڑان ہے… صرف ان دوآیتوں میں کوئی آنکھوں والا غور کر
لے…
١ سُبْحٰــنَكَ
لَاعِلْمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ۭ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِيْمُ
الْحَكِيْمُ (البقرۃ:۳۲)
٢ سُبْحٰنَ
الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى
الْمَسْجِدِ الْاَقْصیٰ(الاسراء:۱)
ایمان
کے بغیر اخلاقِ حسنہ؟
تمام
اچھے اخلاق کی بنیاد’’ایمان‘‘ ہے… تمام اچھے اخلاق کی شاخیں ایمان سے پھوٹتی ہیں…
ایمان کے بغیر اچھے اخلاق حاصل نہیں ہوتے… اور اگرکچھ اچھی عادتیں حاصل کر بھی لی
جائیں تو اُن کا دور رس فائدہ یا اچھا انجام حاصل نہیں ہوتا… یہاں ایک
اہم نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے…
١ کیمونزم
نے’’مساوات‘‘ کا نعرہ لگایا… ’’مساوات‘‘ یعنی برابری ایک حد تک اچھی چیز ہے (ایک
حد تک اس لیے کہا کہ معیشت میں مکمل مساوات ایک غیر انسانی اور غیر فطری نعرہ ہے…
اسلام حق ملکیت کو تسلیم کرتا ہے)… انسانوں کے درمیان اتنا بڑا فرق کہ کسی کے کتے
مکھن کھائیں اور کسی کے بچے روٹی کو ترسیں یقینا اچھا نہیں ہے… دولت کا کچھ افراد
کے پاس مرتکز ہوجانا یعنی رُک جانا… اورکچھ افراد کا دولت کے لئے ’’مرکز‘‘ بن جانا
کہ ہر کسی کی دولت بہہ کر اُن کے پاس پہنچے… اور وہی دولت کی قدرو قیمت مقرر کرنے
کے مالک بن جائیں… یہ بھی بہت بُرا ہے… سرمایہ داری کے اس نظام یا بداخلاقی کو
توڑنے کا نعرہ کیمونسٹوں نے اٹھایا تو بہت مقبول ہوا… مگر کیمونسٹ ایمان سے محروم
تھے تو’’مساوات‘‘ کی حقیقت کو نہ پا سکے اور ان کے ہاں حکومت اور سرکار نے وہ
ظالمانہ اختیارات حاصل کر لئے کہ… انسانوں کی اکثریت کمزور اورذلیل ہوگئی…اور
بالآخر لینن، مارکس کے نظریات کریملن ہی میں اوندھے منہ گرے… معلوم ہوا کہ ایمان
اور اسلام کی بنیاد کے بغیر کوئی اچھا قانون، اچھا اخلاق یا اچھا نعرہ حقیقی اور
پائیدار نہیں ہوتا…
٢ سرمایہ
داری پرمبنی نظام’’سود‘‘ کی لعنت سے لت پت اور ہر طرح کی اخلاقی قدروں سے محروم
ہے… مگر چونکہ اس نظام کے حامیوں کے پاس حکومتی اور عسکری طاقت بے پناہ ہے، اس لئے
انہوں نے اپنے ’’نظام‘‘ کو ’’ترقی یافتہ‘‘ قرار دے دیا ہے… وہ غریب ممالک کو چند
سکّے امداد دیتے ہیں تو لوگ ان کو’’سخی‘‘ سمجھنے لگتے ہیں… حالانکہ وہ پوری دُنیا
کا خون نچوڑ کر پی رہے ہیں…
٣ مسلمان
ترقی کر سکتے ہیں اور ان شاء اللہ ضرورکریں گے… بلکہ ترقی
کا سفر شروع ہو چکا ہے… مگر اس میں کامیابی کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ امریکہ
اور یورپ کو ’’ترقی یافتہ‘‘ نہ سمجھیں… کیونکہ اگر دشمن کو ہی اپنی ’’منزل‘‘ سمجھ
کر سفر کیا جائے تو اُس سفر کا اختتام دشمن کے قدموں پر ہی ہوگا… وہ ایمان سے
محروم ہیں، وہ اخلاق حسنہ سے محروم ہیں… وہ بہتر مستقبل سے محروم ہیں… وہ قرآن
مجید کی روشنی اور کعبہ شریف کی درست سمت سے محروم ہیں… پھر وہ ترقی یافتہ کیسے؟…
اگر ہم ان جیسے بن کر ہی ترقی یافتہ ہوں گے تو یہ اسلام سے کفر کی طرف لڑھکنا ہو
گا… ہماری ترقی یہ ہے کہ ہمیں ایمان کامل نصیب ہو، ہمارے معاشرے میں اخلاق حسنہ کا
فروغ ہو… ہمارے پاس بے پناہ، عسکری طاقت اوربلند ایمانی جذبہ ہو… ہم دنیا کے حقیر
مفادات سے اوپر اٹھ کر ساری دنیا کے انسانوں کو آزادی دلانے کے لئے اٹھیں… اور ہم
ہر طرح کی نفسانی خواہشات سے آزاد ہو کر انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر
ایک اللہ تعالیٰ کی بندگی میں لائیں… ہم ظالمانہ نظاموں کی
بیڑیوں سے انسانیت کو چھٹکارا دلائیں… یاد رکھیں انسان کی کامیابی زیادہ
سامان،زیادہ مال، زیادہ چمک اور اونچی بلڈنگوں میں نہیں ہے… بلکہ انسان کی کامیابی
اس میں ہے کہ ہر انسان… حقیقی انسان بن جائے… حرص، لالچ، خود غرضی، بخل، ذخیرہ
اندوزی اور ظلم سے پاک انسان… دوسروں کو نفع پہنچانے والا انسان… اپنوں اور غیروں
کے ساتھ انصاف کرنے والا انسان… اللہ تعالیٰ کی حلال نعمتوں
کو کافی سمجھنے والا اور دوسرے انسانوں تک اللہ تعالیٰ کی
نعمتیں پہنچانے والا انسان… ہمارے وہ دانشور جو صبح شام ایک ہی راگ
سناتے ہیں کہ مسلمانوں کی ترقی جدید تعلیم میں ہے… وہ دراصل ترقی نہیں بلکہ
مسلمانوں کو یورپ اور امریکہ کا غلام… اور انہی جیسا جانور بنانا چاہتے ہیںکیونکہ
ان کے سوچ کی پہلی کڑی ہی غلط ہے کہ وہ امریکہ اور یورپ کو’’ترقی یافتہ‘‘ سمجھتے
ہیں… ایمان کے بغیر کونسی ترقی؟ کیسی ترقی؟ اور کتنے دن کی ترقی؟
صرف
ایک نظر ڈالیں
کیا
ترقی یہی ہے کہ انسان کے پاس بہت پیسہ ہو، بڑی بلڈنگ ہو، بہت سے نوکر ہوں… اور طرح
طرح کے آلات ہوں… وہ ایک ناکارہ بت کی طرح ہاتھ میں ریموٹ لیکر لیٹا رہے اور اس
کے سارے کام مشینیں اور ملازم کرتے رہیں… آپ بتائیں یہ ہوس پرستی ہے یا ترقی؟…
ترقی کی اس تعریف میں آپ حضرات ’’انبیاء علیہم السلام ‘‘ کو کس جگہ پر رکھیں گے؟…
وہ ترقی یافتہ تھے یا( نعوذباللہ ) غیر
ترقی یافتہ؟…
اگرکسی
انسان کو دنیا کی ساری دولت مل جائے، ہر آلہ اور مشین اس کے پاس آجائے اور اس کی
ہر عیاشی پوری ہو جائے… مگر سؤال یہ ہے کہ وہ کتنے دن ان تمام چیزوں سے فائدہ
اٹھا سکتا ہے؟… جسم کمزور ہوجاتا ہے،عیاشیاں، بیماریاں بن جاتی ہیں… اور مال خود
ہی ڈسنے، کاٹنے لگتا ہے… پھر یہ کیسی ترقی ہے؟…اے
مسلمانو! اللہ کے لئے اُن آیات اور احادیث کو پڑھو جو دنیا
کی حقیقت کو بیان فرماتی ہیں… ٹھیک ہے کافر تو اندھے ہیں اور اندھیروں میں پڑے
ہیںمگر تمہارے پاس تو عرش کے اوپر سے آنے والی روشنی موجود ہے… اس روشنی کی
موجودگی میں بھی اگر تم دنیا کے مال، سامان اور عیاشیوں کو ترقی سمجھتے ہو تو بہت
افسوس کا مقام ہے… معلوم ہوا کہ تم اس روشنی سے فائدہ نہیں اٹھا رہے…
دنیا فانی ہے، دنیا دھوکے کی جگہ ہے… دنیا عبرت کا مقام ہے… دنیا عمل
کی جگہ ہے، یہاں اپنے اعمال کا بدلہ تلاش نہ کرو…حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ
علیہم اجمعین میں سے جن حضرات کو آخری عمرمیں دنیا کی نعمتیں زیادہ مل
گئیں وہ خوف سے روتے اور کانپتے تھے کہ یا اللہ !ہمارے اعمال کا بدلہ
ہمیں اسی دنیا میں نہ مل جائے… آج جس تیزی سے مسلمانوں کی زندگیاں اور صلاحیتیں…
اس فانی دنیا کی محبت پر ضائع ہو رہی ہیں… اور حرص، لالچ جیسے بُرے اخلاق تیزی سے
عام ہو رہے ہیں… وہ یقیناً خطرناک ہے… اے مسلمانو! صرف ایک نظر قرآن و سنت میں
دنیا کی حقیقت پر ڈال لو… اورصرف ایک نظر دو قدم آگے منہ پھاڑے اُس قبر پر ڈال لو
جو ہمارا انتظارکر رہی ہے…
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللّٰھم
صل علیٰ سیّدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
کے ہاں محبوب ترین کلام’’سُبْحَانَ ﷲِ وَبِحَمْدِہٖ ‘‘ ہے…
آئیے
ہم اپنے محبوب رب کو راضی کرنے کے لئے دل کی گہرائی سے پڑھیں:
سُبْحَانَ
ﷲِ وَبِحَمْدِہٖ ……سُبْحَانَ ﷲِ وَبِحَمْدِہٖ ……سُبْحَانَ ﷲِ وَبِحَمْدِہٖ
آج
کل ہر طرف سیاہی اور تاریکی بکھری ہوئی ہے… الیکشن کی دھوم دھام ہے… کسی من چلے نے
مسجد کے سامنے والی دیوار پر انتخابی پوسٹر لگا دیا… پوسٹر پر دو زندہ تصویریں،
مکروہ اور دلخراش… آج کل کھڑکیاں کھلی ہوتی ہیں، نماز میں کھڑے ہوتے تو اپنے
سامنے یہ پوسٹر نظر آتا… یا اللہ رحم… تصویر پرستی کا کیسا
خوفناک طوفان مسلمانوںپر مسلّط ہے… دائیں بائیں، آگے پیچھے ہر طرف فوٹو ہی فوٹو،
بت ہی بت، تصویریں ہی تصویریں… یہ سب دیکھ کر گِھن آتی ہے اور طبیعت متلانے لگتی
ہے… کسی زمانے ہندوستان جانا ہوا تھا وہاں ہر طرف بُت، تصویریں، اور مجسمے دیکھ کر
متلی آتی تھی… آج پاکستان میں وہی منظر ہے… کسی نے سوچاکہ ان تصویروں کا کیا
فائدہ ہے؟… احادیث مبارکہ میں تصویروں پر کتنی سخت وعیدیں آئی ہیں؟… بعض اہل علم
نے فوٹو کو تصویر قرار نہیں دیا مگر… ان فوٹووں اور تصویروں پر اتنا مال خرچ کرنا،
گلی کوچوں اور مسجدوں پر ان کو لگانا… سینوں اور پیشانیوں پر ان کو سجانا اس کے
جواز کا تو شائد کوئی’’جدیدیا‘‘ بھی قائل نہ ہو… شرک کا آغاز تصویروں سے ہوا اور
آج بددینی کا پورا طوفان تصویروں کے سیلاب پر سوار ہے… چلیں چھوڑیں، دل کو پاک
کرتے ہیں پوری توجہ سے پڑھیں:
سُبْحَانَ
ﷲِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ ﷲِ الْعَظِیْم
میرے
آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
سبحان اللہ اور الحمدللہ یہ زمین سے آسمان تک کے خلا کو اَجر وثواب سے
بھر دیتے ہیں… یعنی جب دل سے پڑھا’’سبحان اللہ ‘‘ اس پر اتنا ثواب ملا
کہ زمین سے آسمان تک کی فضا بھر گئی… اور یہی ثواب الحمدللہ کہنے پر ہے… سبحان اللہ و
الحمدللہ …
یہ
صحیح مسلم کی روایت ہے … ارے حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے
فرمان میں کیا شک… تصویروں کے طوفان نے دلوں کا سکون غارت کر دیا ہے… پہلے کوئی
نوجوان توبہ کرتا تھا تو سب سے پہلے ٹی وی توڑتا، تصویریں جلاتا… آج ہر دیندار کے
موبائل میں تصویروں اور ویڈیو کے سینکڑوں کیڑے کلبلا رہے ہوتے ہیں… شرم تب آتی ہے
جب نوجوان مجاہدین کی ویڈیو ہماری باپردہ خواتین دیکھتی ہیں… ان کو سمجھایا جائے
اور پوچھا جائے تو جواب یہ ہوتا ہے کہ… یہ میرے مجاہد بھائی ہیں… بے شک کیا شبہ…
مجاہد بھائی ضرور مگر حقیقی بھائی تو نہیں… دینی بھائی سے پردہ ہے… کل خدانخواستہ
یہ نہ ہونے لگے کہ مجاہدین بھی اپنی دینی بہنوں کی ویڈیو بنا کر دیکھنا جائز قرار
دے دیں… شریعت میں بالکل ایک حکم ہے… کوئی مرد، غیر عورت کو دیکھے یا کوئی عورت
غیر مرد کو دیکھے… قرآن پاک کی سورۂ نور پڑھ لیں… دونوں حکم کندھا ملا کر ساتھ
ساتھ کھڑے ہیں… ایمان والے مردوں سے فرما دیجئے کہ آنکھیں نیچی رکھیں… اور آگے
ساتھ ہی فرما دیا… اور ایمان والی عورتوں سے فرما دیجئے کہ وہ بھی آنکھیں نیچی
رکھیں… گناہوں کی ویڈیو دیکھنے والے نادم بھی ہوجاتے ہیں اور توبہ بھی کر لیتے ہیں
مگر نیکی کے نام پر بننے والی ویڈیو کے ذریعہ جو بے پردگی ہوتی ہے اس پر کون توبہ
کرتا ہے؟… وہ روایت یاد آجاتی ہے کہ شیطان نے کہا ! لوگوں نے’’لاالہ الااللہ‘‘
اور استغفار کے ذریعہ میری کمر توڑ دی تب میں نے اُن کو ’’اھواء‘‘ میں لگا دیا…
’’اھواء‘‘ یعنی وہ گناہ جن کو انسان نیکی سمجھ کر کرتا ہے… آپ کوئی بھی باتصویر
ویڈیو دیکھ لیں، دل میں عجیب سی سختی، قساوت، غفلت اور خرابی آجاتی ہے… ان ویڈیوز
کے ذریعہ جو جذبات بنتے ہیں وہ صرف وقتی ہوتے ہیں… اوراُن کے کوئی دور رس مثبت
نتائج نہیں نکلتے… آخرمیرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی وعیدیں جو
بیان فرمائی ہیں تو اُن سے بڑھ کر ہمارا کون خیر خواہ ہو سکتا ہے؟… چلیں چھوڑیں اس
داستان درد کو، آج ان باتوں کو کون سنتا اور مانتا ہے… آئیں جنّت میں درخت لگاتے
ہیں، وہاں جا کر اس کے نیچے ان شاء اللہ اپنے رب تعالیٰ کا
شکر ادا کریں گے… پڑھیے!!
سُبْحَانَ
ﷲِ وَبِحَمْدِہٖ ……سُبْحَانَ ﷲِ وَبِحَمْدِہٖ ……سُبْحَانَ ﷲِ وَبِحَمْدِہٖ
معلوم
ہے کتنے درخت لگ گئے؟… ماشاء اللہ پورے تین… حضرت آقا مدنی
صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں…
من
قال سبحان ﷲ وبحمدہ غرست لہ نخلۃ فی الجنۃ (ترمذی)
’’جو
کہے ’’سُبْحَانَ ﷲِ وَبِحَمْدِہٖ‘‘ اُس کے لئے جنت میں ایک درخت
لگا دیا جاتا ہے‘‘
حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
الااخبرک
باحب الکلام الی ﷲ؟ ان احب الکلام الی ﷲ’’سُبْحَانَ ﷲِ وَبِحَمْدِہٖ‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ
کے نزدیک زیادہ پسندیدہ اور محبوب کلام’’سُبْحَانَ ﷲِ
وَبِحَمْدِہٖ‘‘ ہے۔(مسلم)
گیارہ
مئی کا دن نزدیک ہے… معلوم نہیں انتخابات ہوتے ہیں یا نہیں… اگر ہوتے ہیں تو کون
آتا ہے؟… ہر حلقے سے اتنے امیدوار کھڑے ہیں کہ بیلٹ پیپر شائد کئی کئی گز کے ہوں
گے… آج کل سیاسی لیڈر ایک دوسرے کے خفیہ راز کھول کھول کر بیان کر رہے ہیں… سنا
ہے کہ انٹرنیٹ پر ایک دوسرے کے خلاف شرمناک شواہد پر مبنی ویڈیوز لگائی جارہی ہیں…
اے ایمان والو! ایسی کوئی ویڈیو دیکھنا جس میں کسی معروف شخص کے فحش گناہوں کو
دکھایا یا سنایا گیا ہو… بہت خطرناک گناہ ہے… ایسا نہ ہو کہ معلومات کے شوق میں
ایسی ویڈیوز دیکھنے لگ جائیں… پہلے تو یہ سوچیں کہ دوسروں کی کالک اپنی آنکھوں
اور دل پر ملنے کا کیا فائدہ؟… دوسرا یہ سنیں کہ اس طرح کے گناہوں کی سزا موت کے
وقت ملنے کا خطرہ ہوتا ہے… یا اللہ امان… اور تیسرا یہ کہ
اگر اللہ تعالیٰ کے غضب کو جوش آیا اور کل آپ کے عیبوں پر
سے اُس نے پردہ ہٹا لیا تو کیا بنے گا؟… ایسے گناہ جن پر شرعی ’’حد‘‘ یعنی مقررہ
سزا جاری ہوتی ہے… ان کو روکنا چاہئے، حکومت ملے تو اُن پر سزائیں جاری کرنی
چاہئیں… مگر اُن گناہوں سے لطف اندوز ہونا اور محض معلومات کے لئے اپنے دل اور
دماغ کی میموری میں ایسے غلیظ اور ناپاک وائرس جمع کرنا اپنی جان پر ظلم کرنا ہے…
جس کسی سے بھی یہ گناہ ہوا ہو وہ سچے دل سے توبہ کر لے کہ… الحمدللہ توبہ کا دروازہ ہمارے رحیم مالک نے چوبیس گھنٹے
کھلا رکھا ہے… چلیں گناہ مٹانے کا ایک وظیفہ مدینہ پاک سے لیتے ہیں… پہلے دل کی
توجہ سے پڑھیں…
سُبْحَانَ
ﷲِ وَبِحَمْدِہٖ، سُبْحَانَ ﷲِ وَبِحَمْدِہٖ، سُبْحَانَ ﷲِ وَبِحَمْدِہٖ
جناب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
من
قال’’سُبْحَانَ ﷲِ وَبِحَمْدِہٖ‘‘ فی یوم مائۃ مرّۃ حطت خطایاہ وان کانت مثل زبد
البحر(بخاری، مسلم)
یعنی
جو شخص روزآنہ سو بار کہے’’سُبْحَانَ ﷲِ وَبِحَمْدِہٖ‘‘ تو اس کی
خطائیں معاف کر دی جائیں گی اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں… یعنی بہت زیادہ
ہوں…
سُبْحَانَ
ﷲِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ ﷲِ الْعَظِیْم
ابھی
یہ تو معلوم نہیں کون جیتے گا مگر چند کام بہت بُرے ہو رہے ہیں مثلاً
ایک انتخابی امیدوار نے اپنے پوسٹر پر ایک طرف اپنی تصویر اور دوسری طرف قرآن
مجید، فرقان حمید کی آیت چھاپ دی… اندازہ لگائیں کہ اقتدار کے شوق میں کیسی
بھونڈی اور ظالمانہ حرکت ہے… ایک طرف اپنی غیرشرعی تصویر اور ساتھ قرآن پاک کی
آیت… یہ پوسٹر جہاں دیکھا دل بہت رویا کہ کافروں سے ہم قرآن مجید کی بے ادبی پر
لڑتے ہیں… یہاں مسلمان کہلانے والوں کا یہ حال ہے… اول تو تصویر کے ساتھ آیت… اور
پھر جگہ جگہ اسے لگانا… نہ ادب نہ احترام اور پوسٹر تو چند دن بعد گر جاتے ہیں…
دوسری بڑی خرابی تحریک انصاف اور چند دیگر پارٹیوں کا گھروں پر دھاوا بولنا… مرد
تو مرد عورتیں بھی طرح طرح کے بے پردہ لباس اور فیشنی برقعے پہن کر گھروں میں گُھس
رہی ہیں… ان بے چاروں کو پتا نہیں کس نے سمجھا دیا ہے کہ ’’کپتان‘‘ کوئی مسیحا ہے…
اور وہ پاکستان میں دودھ اور شہد کی نہریں جاری کر دے گا… کپتان بھی زرداری اور
نواز شریف جیسا ہی ہے… اور اس ملک کا نظام حکومت ایسا پیچیدہ ہے کہ نیک سے نیک شخص
بھی آجائے تو زمین پر کوئی تبدیلی نہیں ہوگی… جب تک کہ نظام حکومت کو اسلام کے
سچے اور آفاقی قانون کے ذریعہ درست نہیں کیا جاتا… پیپلز پارٹی بھی ظالم، نون لیگ
بھی خطرناک اور کپتان بھی ڈبل خطرہ… یا اللہ ! مسلمان کہاں جائیں… آپ
ہی رحم فرمائیں… ہاں! ہم مسلمان الحمدللہ مایوس نہیں ہیں…مجاہدین کی قربانیاں اور اہل دل
کی محنتیں ان شاء اللہ رنگ لائیں گی اور ایک دن اس مُلک میں
بھی ان شاء اللہ ایمان اور امن کی حکومت ہو گی…
آئیے اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کو مضبوط کریں… دل کی محبت
اور مٹھاس کے ساتھ پڑھیں…
سُبْحَانَ
ﷲِ وَبِحَمْدِہٖ، سُبْحَانَ ﷲِ وَبِحَمْدِہٖ، سُبْحَانَ ﷲِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ
ﷲِ الْعَظِیْم
دیکھیں!
ہمارے مہربان آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کتنا اونچا وظیفہ ارشاد
فرما رہے ہیں کہ… جو شخص صبح اور شام سو سو بار ’’سُبْحَانَ ﷲِ وَبِحَمْدِہٖ‘‘
پڑھے گا تو قیامت کے دن اُس سے زیادہ افضل عمل والا اور کوئی نہیں ہو گا… ہاں وہ
شخص جو اتنی بار یا اس سے زیادہ یہی عمل لے کر آئے گا…(مسلم شریف)
سُبْحَانَ
ﷲِ وَبِحَمْدِہٖ، سُبْحَانَ ﷲِ وَبِحَمْدِہٖ، سُبْحَانَ ﷲِ وَبِحَمْدِہٖ
آج
ارادہ بڑا اونچا تھا کہ ’’سُبْحَانَ ﷲِ وَبِحَمْدِہٖ‘‘ کے فضائل،مناقب اور خواص کا
جامع خلاصہ آجائے… اکثر مسلمان آج رزق کی تنگی سے پریشان ہیں… سیاسی جماعتیں
روزی، روٹی اور مکان کے دھوکے دے کر اُن کو لوٹ رہی ہیں… تو ہم نے سوچا کہ اس شور
شرابے میں اپنی آواز بھی لگا دیں اور مسلمانوں کو رزق اورروزی میں حیرت انگیز
برکت کا شرعی عمل عرض کر دیں… ایسا عمل جو ایک طرف دل کو سکون اور پاکی عطاء کرتا
ہے، دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی خاص محبت کو پانے کا ذریعہ
ہے… اورتیسری طرف وہ رزق میں برکت کے حیران کن مناظر دکھاتا ہے… یہ عملہے:
’’سُبْحَانَﷲِ
وَبِحَمْدِہٖ‘‘
ہر
نماز کے بعد پوری توجہ سے ایک سو بار سُبْحَانَ ﷲِ وَبِحَمْدِہٖ… اور سورج نکلنے
سے پہلے ایک سو بار اور سورج غروب ہونے سے پہلے ایک سو بار… لیکن اگر ہر نماز کے
بعد ہی اہتمام کر لیا جائے تو غروب و طلوع والا کام بھی نکل آتا ہے… کیونکہ فجر
کی نماز سورج طلوع ہونے سے پہلے ہے اور عصر کی نماز سورج غروب ہونے سے پہلے…
دراصل
اس طاقت ور عمل کے مقام کو سمجھنے کے لئے قرآن مجید کی بعض آیات… اور کئی احادیث
کو سمجھنا ضروری ہے… صرف اشارہ لے لیجئے کہ اس بارے میں ایک بنیادی
آیت ’’سورہ طٰہٰ‘‘ میں موجود ہے… ملاحظہ کیجئے آیت رقم(۱۳۰) سورۂ طٰہٰ…
اور
مزید چند آیات… اور روایت میں حضرت لقمان علیہ السلام کا
یہ فرمان کہ ’’سُبْحَانَﷲِ وَبِحَمْدِہٖ‘‘ وہ کلمہ ہے جس کی برکت سے تمام مخلوق کو
رزق ملتا ہے… اور مزید چند احادیث… بھائیو! اور بہنو! وہ سب کچھ نہ آسکا مگر
وظیفہ تو آگیا… اللہ تعالیٰ’’تسبیح‘‘یعنی
سبحان اللہ کہنے کی قوت اور برکت مجھے اور آپ سب کو نصیب
فرمائے…
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
دو
کلمے زبان پر ہلکے(یعنی آسان) اعمال کے ترازو میں بھاری…
اللہ تعالیٰ
کے نزدیک محبوب…
سُبْحَانَ
ﷲِ وَبِحَمْدِہٖ ، سُبْحَانَ ﷲِ الْعَظِیْم (متفق علیہ)
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ’’بہت
مہربان‘‘ بہت رحم فرمانے والے ہیں… رحیم بھی، رحمٰن بھی اور ارحم الراحمین بھی…
یا اللہ ہم پر اور پوری اُمتِ مسلمہ پر’’رحم ‘‘ فرما…
بے
وفا مکان
پاکستان
کے شہر اسلام آباد میں ایک’’مکان‘‘ ہے،بڑا بے وفا… مگر پر کشش ایسا کہ اچھے خاصے
عقلمندوں کو پاگل کر دیتا ہے… کونسا ہے وہ مکان؟… ابھی پچھلے چند سالوں میں ہم نے
دیکھا کہ پہلے وہاں ظفر اللہ جمالی آئے… کچھ عرصہ بعد نکال
دیئے گئے اور چوہدری شجاعت آبسے… وہ دو ماہ بھی نہ ٹکے کہ شوکت عزیز آگیا… وہ
گیا تو محمد میاں سومرو سامان لے آئے… وہ گئے تو ملتان والے گیلانی صاحب خاندان
سمیت آگئے… اُن کو نکالا گیاتو راجہ پرویز اشرف نے یہاں دھوم مچائی… اُن کی گھنٹی
بجی تو بابا جی میر ہزار کھوسو اپنا سامان لے آئے… اب وہ جانے والے
ہیں اور ایک نیا’’مکین‘‘ اپنی قسمت کے بُرے دن کاٹنے اس ’’مکان‘‘ میں
آنے والا ہے… اب جس کے آنے کا زیادہ امکان ہے وہ یہاں باعزت طریقے سے داخل ہو
کر… نہایت ذلّت کے ساتھ پہلے بھی نکالا جا چکا ہے… ایک بار نہیں دو بار… اب وہ
کافی احتیاط کے ساتھ آرہا ہے مگر’’بے وفا مکان‘‘ قہقہے لگا کر کہہ رہا ہے… میں
وہی ہوں، میں وہی ہوں… بد نصیب مکین کو بے وفا مکان میں جانے دیں… آئیے ہم اپنے
اصل اور وفادار گھر کے لئے کچھ سامان برابر کر لیں…
ارشادفرمایا
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے:
جو
شخص’’سبحان اللہ وبحمدہ‘‘ ایک سو بار پڑھتا ہے، اُس کے لئے
ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھ لی جاتی ہیں۔ (رواہ الحاکم وقال صحیح الاسناد)
سبحان
اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم
منحوس
مکان
اللہ تعالیٰ
نے انسان کے اعمال میں بڑی طاقت اورتاثیر رکھی ہے… انسان جس زمین پر نیکی کرے وہ
زمین برکت سے بھردی جاتی ہے اور انسان جس زمین
پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور ظلم کرے تو وہ’’زمین‘‘
نحوست اور عذاب کا گھر بن جاتی ہے… یہ بات قرآن مجید سے بھی ثابت ہے اور احادیث
مبارکہ سے بھی… اس پر بڑے بڑے عجیب واقعات بھی ہمارے سامنے ہیں… جس زمین
پر اللہ تعالیٰ کے لئے مسجد بنائی جاتی ہے، تو زمین کا وہ
حصہ اتنا بابرکت ہوجاتا ہے گویا کہ جنت کا باغ… اور زمین کے اس حصے کو فرشتے اٹھا
کر لے جائیں گے اور جنت میں شامل کر دیں گے… بابرکت زمینوں کا تذکرہ کروںتوپوری
کتاب بن جائے… مسجد نبوی میں زمین کا ایک حصہ ہے اس کو… ریاض الجنۃ یعنی جنت کا
باغ کہتے ہیں… جس زمین پر کعبہ شریف ہے اُس کی برکت تو اتنی اونچی کہ تمام اطراف
میں جو بھی ہدایت کا نور چمکتا ہے وہ اسی زمین سے آتا ہے… اب دوسری طرف دیکھیں
چند منافقین نے مدینہ منورہ کے مضافات میں ایک’’ خفیہ اڈہ‘‘ مسلمانوں کے خلاف
بنایا اور اُسے مسجد کا نام دیا… اُن کے اس گناہ کا زمین کے اس حصے پر ایسا خوفناک
اثرہوا کہ بعد میں بھی سالہا سال تک اس میں سے دھواںنکلتا تھا… اور وہاں جو بستا تھا
اس کی اولاد نہیں ہوتی تھی… غزوہ تبوک کو جاتے ہوئے جب مسلمانوں کا لشکر قوم ثمود
کی بستی سے گزرا تو صدیاں بیت جانے کے باوجود وہاں نحوست اور عذاب کے اثرات بھڑک
رہے تھے… عذاب آور ہوائیں چل رہی تھیں… اور وہاں کے پانی تک میں عذاب اور نحوست
کے اثرات تھے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر جب وہاں سے گزرا تو آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ مبارک پر کپڑا لٹکا دیا، اُونٹنی کوتیز
فرمادیا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تاکید فرمائی کہ کوئی شخص ان
ظالموں کے مکانات میں داخل نہ ہو اور نہ یہاں کا پانی پئے یہاں سے سر جھکاتے ہوئے
گزرو…بعض حضرات نے اس جگہ کے پانی کو لاعلمی میں لے لیا تھا تو فرمایا کہ وہ پانی
گرادو اور اس پانی سے جو آٹا گوندھا ہے وہ جانوروں کو کھلادو… اسلام آباد کا
وزیراعظم ہاؤس… روئے زمین کے عذاب زدہ مقامات میں سے ایک ہے… یہاں کے بسنے والوں
کے گناہوں، نافرمانیوں اور مظالم نے اس مکان کو نحوست اور عذاب کی سنسان حویلی بنا
دیا ہے… کونسا ظلم ہے جو یہاں نہیں ہوا، کونسا گناہ ہے جو یہاں نہیںپلا… اسلام کے
لئے بننے والے ملک میں اسلام کے خلاف زیادہ سازشیں اسی مکان میں ہوئیں… عوام کے
پیسے سے بننے والا یہ مکان ہمیشہ عوام کو لوٹنے کا مورچہ بنا رہا… یہاں سے بے
گناہوں کے قتل کے فیصلے صادر ہوئے… یہاں سے سود کے تحفظ کے فرمان نکلے… یہاں سے
مساجد گرانے کے حکم نامے جاری ہوئے… اسی مکان میں ایک آزاد ملک کو غیروں کا غلام
بنانے کے طریقے ایجاد ہوئے… اتنے گناہ، اتنا ظلم اور اتنی سرکشی نے اس مکان
کو’’نحوست خانہ‘‘ بنا دیا ہے… اب جو بھی یہاں آکر رہتا ہے وہ عزت، سکون اور
آزادی سے محروم ہوجاتا ہے… اور وہ اچھے انجام سے بہت دور پھینک دیا
جاتا ہے… دور،بہت دور… یقین نہ آئے توگڑھی خدا بخش کے قبرستان میں دو قبروں سے
کچھ حال پوچھ آؤ… یا ملتان اور گوجر خان میں ذلّت کے دو تازہ کھنڈرات
دیکھ آؤ… اب ایک نیا مکین بہت خوش خوش اس’’نحوست خانے‘‘ میں چلا
آرہا ہے…نہ اُس کے پاس مال کی کمی تھی اور نہ عیش وآرام کی… مگر بُری قسمت اُسے
گھسیٹ کر اس محل نما قید خانے میں لارہی ہے… وہ کون ہے؟ بس آج کل ہی میں فیصلہ
ہونے والا ہے… اُس کو وہاں جانے دیں… آئیں ہم صدارتی محل سے بھی زیادہ قیمتی چیز
پالیں اور وہ کلام پڑھیں جو ہمارے محبوب آقاحضرت محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کو بے حد محبوب ہے…
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
وہ
تمام چیزیں جن پر سورج کی کرنیں پڑتی ہیں مجھے اُن سب (کوپانے )سے زیادہ پسند یہ
ہے کہ میں سبحان اللہ، والحمدللہ، ولا الہ الا اللہ، واللہ اکبر
پڑھوں۔ (مسلم، ترمذی)
پوری
محبت اور عظمت سے پڑھیں:
’’سبحان
اللہ، والحمدللہ، ولا الہ الا اللہ، واللہ اکبر‘‘
دیکھا
کیسی افضل اور بابرکت نعمت مل گئی… وَالْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ…
فریبی
مکان
بعض
آئینے ایسے ملتے ہیں جن میں اپنی شکل زیادہ خوبصورت نظر آتی ہے… یار لوگ ایسے
فریبی آئینوں کے سامنے بہت خوش ہوتے ہیں… پرانے زمانے میں فریبی طلسم ہوتے تھے…
ان میں پانچ فٹ کا آدمی خود کو پچاس فٹ کا محسوس کرتا تھا… ان میں انسان خود
کو’’شیر‘‘ دیکھتے تھے اور موٹے لوگ ان میں خود کو اڑتا محسوس کرتے تھے…یہ ہوشر با
مناظر تھوڑی دیر رہتے پھر جب طلسم سے باہر نکلتے تو پرانا قد بھی پورا نظر نہ
آتا… اسلام آباد کا وزیراعظم ہاؤس ایک فریبی مکان ہے… اس میں جو بھی داخل ہوتا
ہے اس کی گردن فوراً لوہے کی بن جاتی ہے… جی ہاں! بے حد اکڑی ہوئی… اس میں داخل
ہونے والا خود کو سب سے بڑا عقلمند سمجھنے لگتا ہے… اور اسے اپنی ذات کی وہ خوبیاں
بھی نظر آنے لگتی ہیں جو کبھی اُس کے باپ دادا کے قریب سے بھی نہیں پھٹکیں… وہ
زمین پر دیکھنے سے محروم ہو جاتا ہے اور اس کے کان صرف غیر ملکی آقاؤں کے فرمان
سنتے ہیں…
یہ
عجیب فریبی مکان ہے… ہرآنے والے کو یہ فریب دیتا ہے کہ تم زیادہ سے زیادہ بلکہ
ہمیشہ میرے اندر رہو گے… مگر اس کے لئے تمہیں کچھ گناہ کرنے ہوں گے، کچھ ظلم ڈھانے
ہوںگے… اور کچھ دھوکے دینے ہوں گے…بتاؤ تم تیار ہو؟ ہر کوئی’’ہاں‘‘ میں جواب دیتا
ہے… پھر وہ ان سے کفر کراتا ہے، شرک کراتا ہے… ظلم اور گناہ کرواتا ہے… اور چند دن
بعد سب کچھ چھین کر کان سے پکڑ کر باہر نکال دیتا ہے…یہاں مستقل رہنے کے لئے جادو
گر بلائے جاتے ہیں کہ وہ منترکریں… نجومی بلائے جاتے ہیں کہ وہ ستاروں کو قابو میں
رکھیں… عامل بلوائے جاتے ہیں کہ بکرے مرغے کاٹ کاٹ کر بلاؤں کا منہ بند رکھیں…
بُرے مشیر بلائے جاتے ہیں کہ وہ کافروں کو راضی رکھنے کے ذلت آمیز طریقے سکھائیں…
فریب نگری کے باسی یہاں ہمیشہ رہنے کی فکر میں ہر بُرائی کرتے ہیں مگر اچانک گھنٹی
بجتی ہے… اور بعض اوقات تو سامان سمیٹنے اور اٹھانے کا وقت بھی نہیں ملتا… ہاں بے
شک! جس مکان میں رب ذوالجلال کے بندوں پر ظلم کے فیصلے ہوتے ہوں… وہ مکان ایسا ہی
ہوتا ہے… بالکل ایسا ہی… چھوڑیں اس مکان کو آئیں ہم عرش عظیم تک اپنا پکا معافی
نامہ پہنچائیں تاکہ… اصل اور باقی زندگی میں کام آئے…
’’رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
سبحان
اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم، استغفراللہ و اتوب الیہ
یہ
کلمات جو شخص پڑھے تو جیسے اُس نے پڑھے ویسے ہی لکھ دیئے جاتے ہیں پھر عرش سے لٹکا
دیئے جاتے ہیں، اور قیامت تک اس کے پڑھنے والے کا کوئی گناہ اس کو مٹا نہیں سکتا،
یہاں تک کہ قیامت کے دن جب اس کی اللہ تعالیٰ سے
ملاقات ہوگی تو یہ کلمات اسی طرح مہر لگے محفوظ ہوں گے… (بزاز)
سبحان اللہ
! ان مبارک کلمات میں تسبیح،حمد اور توبہ استغفار ہے…جیسے ہی اخلاص اور توجہ سے
پڑھے تو محفوظ ہو گئے…اور اب یہ کسی گناہ کی وجہ سے ضائع نہیں ہوںگے،بلکہ قیامت کے
دن تک محفوظ رہیں گے اور وہاں کام آئیں گے… لیجئے پڑھئے:
سبحان
اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم ، استغفراللہ واتوب الیہ
موذی
مکان
اگر اللہ تعالیٰ
نے آپ کو رہنے کے لئے بڑا مکان دیا ہو،وافر روزی عطاء فرمائی ہو اور ہر طرح سے
مالا مال کیا ہو… پھر آپ مسجد میں جا کر نماز کے بعد کھڑے ہو کر لوگوں سے بھیک
مانگیں کہ مجھے روٹی کھلاؤ… یہ اچھا لگتا ہے؟… ہمارے ملک کے تمام ’’وزراء اعظم‘‘
اچھے خاصے مالدار ہیں… کم از کم کروڑوں پتی ورنہ اربوں پتی… پھر بھی وہ وزیراعظم
ہاؤس میں عوام کے پیسے کی روٹی کھاتے ہیں… ہے نا عجیب بات؟… مکان عوام کا، کھانا
عوام کا، گاڑیاں عوام کی اور تمام خرچے عوام کے مال سے… آخر ان کا اپنا ذاتی مال
کس لئے ہوتا ہے؟ جب ان کی حکومت کا آغاز ہی عوام کا خون پینے سے ہوتا ہے تو آگے
چل کر یہ عوام کی کیا خدمت کریں گے؟… مسلمانوں کے حاکم اور خلیفہ کے لئے ’’بیت
المال‘‘ سے وظیفہ یا خرچہ لینا جائز ہے اگر وہ ضرورت مند ہو… اور خرچہ بھی ایک حد
تک ہے مگر یہ لوگ توخود اربوں پتی ہو کر بیت المال سے بغیر کسی حد کے عیش اڑاتے
ہیں… وزیراعظم ہاؤس کے صرف باورچی خانے کا ماہانہ خرچہ کروڑوں میں ہوتا ہے… کیا
کوئی خوش نصیب آدمی’’حرام‘‘ مال کھا سکتا ہے؟… نہیں بھائیو! حرام مال اُنہیں کو
نصیب ہوتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں… اسلام
آباد کے ’’وزیراعظم ہاؤس‘‘ میں کئی خفیہ غیر مرئی(یعنی نظر نہ آنے والی) سرنگیں
ہیں…ان سرنگوں سے اسلام دشمن اور گناہ پرست چوہے اس مکان میں داخل ہو کر ہر
وزیراعظم کو گمراہ کرتے ہیں… یہ طاغوتی چوہے اسلام آباد میں اسی انتظار میں رہتے
ہیں کہ کب انہیں وزیراعظم ہاؤس میں داخل ہونے کا موقع ملے تو وہ… نئے وزیراعظم کو
گمراہی اور گناہوں میں دھکا دے سکیں … آپ اسے مزاح نہ سمجھیں یہ بڑی دلخراش اور
عبرتناک داستان ہے… آپ ملک کے ہر صدر اوروزیراعظم کے ساتھ اس کی تقرری کے دوماہ
بعد… چند نئے قریبی ساتھی دیکھیں گے… آپ نے ان کا نام پہلے کبھی نہیں سنا ہوگا
اور نہ کبھی ان کو پہلے کہیں دیکھا ہوگا… مگر وہ صدر اور وزیراعظم کے اتنے قریب
نظر آتے ہیں جیسے بچپن کے ساتھی ہوں… پرویز مشرف کے ساتھ لگے ہوئے’’طارق عزیز‘‘
کا آپ نے پہلے کبھی نام سنا تھا؟… یہ شخص اچانک آیا اور پرویز مشرف کو اُس نے
اپنی مٹھی میں لے لیا اور ملک کے سفید وسیاہ کا مالک بن گیا… وہ پرویز مشرف کو طرح
طرح کی خرمستیوں میں مصروف کر کے اپنی مرضی سے ملک کو چلاتا رہا… اسلام آباد کے
یہ چوہے جو دراصل غیر ملکی لابیوں اور اسلام دشمن تنظیموں کے باقاعدہ ایجنٹ ہیں…
ہر نئے سربراہ مملکت تک پہنچ جاتے ہیں…موذی مکان کے یہ چوہے… ہر وزیراعظم کو ایک
ہی سبق پڑھاتے ہیں کہ ملک کی ترقی کیلئے سب سے بڑی رکاوٹ’’اسلام‘‘ اور ’’اسلامی
طبقہ‘‘ ہے…چنانچہ ہر صدر یا وزیراعظم پھر صرف اسی کام میں لگ جاتا ہے… اور ملک کے
عوام مہنگائی، بدامنی، فساد اور کرپشن کی چکی میں پستے رہتے ہیں… خلاصہ یہ کہ موذی
مکان میں جو بھی آتا ہے… وہ ملک کے دینداروں کو سب سے زیادہ ایذاء پہنچاتاہے…
عوام کوستاتاہے… اور پھر خود’’ایذاء‘‘ کا شکار بن جاتا ہے… ہم نے جب شوکت عزیز کے
وزیراعظم بننے کی خبر سنی تھی تو دل مٹھی میں آگیا تھا… غیر ملکی ملازم، فری میسن
یا اسی طرح کی کسی اور تنظیم کا باقاعدہ رکن اور مسلمانوں کا دشمن ملک کا
وزیراعظم؟؟؟… پھردل نے صدا لگائی:
حسبنا
اللہ ونعم الوکیل
تب
اطمینان ہوگیا بے شک… اللہ تعالیٰ ہی مالک
ہے، اللہ تعالیٰ ایک ہے، اللہ تعالیٰ
کی شہنشاہی ہے… اللہ تعالیٰ ہی کافی
ہے… اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز پر قادر ہے اور ہم سب
نے اللہ تعالیٰ کے حضور میں پیش ہونا ہے… وہی اس قوم اور
ملک کا مالک و خالق ہے… اور وہی اس اُمت کا نگہبان ومحافظ ہے…
حسبنااللہ
و نعم الوکیل… اللّٰھم یا مالک الملک ارحم اُمۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم
سبحان
اللہ وبحمدہ،سبحان اللہ العظیم
لا
الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللھم
صل علٰی سیّدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
سے ایک خوش نصیب خاتون نے’’مکان‘‘ مانگا…اُ س کا یہ
مانگنا اللہ تعالیٰ کو ایسا محبوب ہوا کہ اُسے قرآن پاک کی
آیت مبارکہ بنا دیا…
یہ
خوش نصیب عورت، یہ عقلمند خاتون… یہ کامل و مکمل مؤمنہ کون تھیں؟…
سورۃ
التحریم کی آیت١١ دیکھیں… یہ فرعون کی بیوی، حضرت سیدہ آسیہ بنت مزاحم علیہا
السلام ہیں… انہوں نے دنیا کے صدارتی محل اور شاہی مکان کی قربانی دی… ایک عورت
اور اتنے بڑے عظیم الشان مکان کی قربانی؟… جی ہاں ایسا ہوا… تفسیر کی کتابیں
کھولیں اور جھوم جھوم کر اس خوش قسمت خاتون کا تذکرہ پڑھیں…
وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئیں اور فرعون سے انہوں نے
براء ت کا اعلان فرما دیا… بڑاہی مشکل کام تھا… فرعون اُس زمانے کا امریکہ،
اسرائیل اور انڈیا تھا… وہ اپنے گمان میں سپر پاور اور نعوذباللہ ’’ربّ اعلیٰ‘‘ تھا… ایک کمزور سی عورت نے اُس کے
سامنے سر جھکانے سے انکار کر دیا… حالانکہ نہ مقابلے کی طاقت تھی اور نہ زمین پر
کوئی پناہ گاہ… تب آسمان کے دروازے’’ رب تعالیٰ‘‘ نے اُس پر کھول دیئے… فرشتے
اترتے اور اُس پر سایہ کرتے… فاصلے سمیٹ دیئے گئے اور اُسے جنت کا اپنا مکان پوری
آب وتاب سے نظر آنے لگا… جسم اُس کا زخمی تھا مگر روح اونچی اونچی پروازوں پر
تھی… بے شک جتنی قربانی اتنا بدلہ… قربانی بہت بڑی تھی تو بدلہ بھی بہت اونچا ملا…
مفسرین حضرات نے لکھا ہے کہ اس خاتون کا’’حسن ذوق‘‘ ملاحظہ فرمائیں کہ…
اختارت
الجار قبل الدار
یعنی
گھر مانگنے سے پہلے پڑوسی مانگا… پہلے پڑوسی پھر مکان…
رَبِّ
ابْنِ لِیْ عِنْدَکَ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ (التحریم)
اے
میرے رب میرے لئے بنا دیجئے’’اپنے پاس‘‘ ایک گھر جنت میں…
اپنے
پاس، سبحان اللہ ، اپنے پاس یا اللہ ! اپنے قرب میں مکان
دے دیجئے… اللہ تعالیٰ تو شہہ رگ سے بھی زیادہ
قریب … مگر یہاں ’’قُرب‘‘ سے مُراد محبت اور رحمت والا’’قُرب‘‘ ہے… واقعی بہت
باذوق، بہت باایمان اور بہت عقلمند خاتون تھیں… علیہا السلام… گذشتہ ’’رنگ و
نور‘‘ میں ایک ’’مکان‘‘ کا تذکرہ ہوا تھا… بات’’مکان‘‘ اور ’’گھر ‘‘ کی
آئی تو کئی مکان یاد آگئے… کہاں ایک عذاب زدہ ،بے وفا حویلی… اور
کہاں اللہ تعالیٰ کے قُرب میں ایک دائمی اور ہمیشہ ہمیشہ کا
مکان… اے بھائیو! اے بہنو! مجھے اور آپ کو بھی اسی مکان کی فکر کرنی چاہئے جیسا
مکان حضرت آسیہ علیہا السلام نے مانگا تھا… مکان کی بات آگے بڑھانے سے پہلے دل
کو ’’تسبیح‘‘ کی غذا دیتے ہیں…
حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
جو
شخص صبح کے وقت ایک ہزار مرتبہ ’’سبحان ﷲ وبحمدہ‘‘ پڑھتا ہے تو وہ اپنی
جان، اللہ تعالیٰ کو بیچ دیتا ہے اور
وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جہنم سے آزاد کیا ہوا بن جاتا
ہے… (الطبرانی فی الاوسط)
سبحان
ﷲ وبحمدہ، سبحان ﷲ وبحمدہ، سبحان ﷲ وبحمدہ سبحان ﷲ العظیم
اسلام
آباد کے آفت زدہ مکان… یعنی وزیراعظم ہاؤس میں نئے مکینوں کے لئے تیاری زور شور
سے جاری ہے… سنا ہے کہ کراکری یعنی برتن تک غیر ملکوں سے منگوائے جاتے
ہیں… شاید مہنگے برتنوں میں کھانا زیادہ لذیذ ہوجاتاہوگا… ایک سابقہ
وزیراعظم کے لئے کمبل وغیرہ یورپ سے لاکر یہاں ڈالے گئے تھے…مگر آج وہ لٹھے کے
کفن میں زمین کے نیچے ہیں… ایک وزیراعظم کے لئے کھانا یورپ کے ایک دور دراز ملک سے
جہاز پر اس ترتیب سے لایا جاتا تھاکہ گرم اور تازہ رہے… ہمیشہ نہیں، البتہ کبھی
کبھار عوام کے مال سے یہ بچگانہ خواہش پوری کی جاتی تھی… آج کل وہ قبر میں خود
کسی کی خوراک ہیں… اس وزیراعظم ہاؤس کے قصے اورداستانیں ایسی بدبودار ہیں کہ
انہیں لکھنے اور پڑھنے سے بھی طبیعت بھاری ہوجاتی ہے… ابھی جو آنے والے ہیں ان کی
خوش خوراکی کے چرچے چار دانگ عالم میں پھیلے ہوئے ہیں… دیکھیں کیا بنتا ہے…ویسے مکان
اور گھر ہر انسان کی ایک لازمی ضرورت ہے… اور کئی جانور اور پرندے بھی مکان اور
گھر بناتے ہیں… قرآن مجید میں کئی گھروں اور مکانات کا عجیب سبق آموز تذکرہ
ہے…بیسواں پارہ دیکھیں، سورۃ القصص کے آخری دو رکوع میں دو مکانات کا تذکرہ ہے…
ایک مکان وہ جو زمین میں دھنس گیا اور دھنستا جا رہا ہے اور بالآخر جہنم میں جا
شامل ہو گا… وہ مکان اکیلا نہیں دھنسا، بلکہ اپنے ساتھ اپنے زمانے کے سب سے بڑے
مالدار کو لے ڈوبا… وہ اتنا بڑا سرمایہ دار تھا کہ آج اگر موجود ہوتا تو’’ٹائم
میگزین‘‘ کے ٹائٹل پر اس کی تصویر سب سے اوپر چھپتی… ایک اور میگزین ہے مجھے اس کا
نام یادنہیں آرہا، اس میں ہر سال دنیا کے ارب پتی افراد کو درجہ بندی دی جاتی ہے…
بڑا سخت مقابلہ ہوتا ہے اور پوری دنیا سے ایک سو افراد… اور ان ایک سو میں سے دس
افراد کو منتخب کیا جاتا ہے… اور ان کی تصویر اس میگزین کے ٹائٹل پر آتی ہے… یہ
دنیا داروں کے ہاں ایسا اعزاز ہے کہ اس کی خواہش میں ان کی جان نکلتی ہے… سورۃ
القصص کی آیت٨١ میں جس مکان کے زمین میں دھنس جانے کا تذکرہ ہے… اس مکان کا مالک
آج موجود ہوتا تو وہ دنیا میں پہلے نمبر پر آتا… اُسے مسٹر قارون کہا جاتا… وہ
ہمارے دانشوروں کا آئیڈیل ہوتا… کیونکہ اُس کے پاس بے تحاشہ مال تھا… اور
دانشوروں کے نزدیک کامیابی کا معیار’’مال‘‘ ہے… اور اس کا دعویٰ تھا کہ… یہ مال
اُس نے اپنے ’’علم‘‘ یعنی اپنے ہنر، اپنی ٹیکنالوجی او راپنی تعلیم کے ذریعہ بنایا
ہے…
اِنَّمَآ
اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ (القصص:۷۸)
ہمارے
دانشور بھی یہی’’قارونی پیغام‘‘ دن رات سناتے ہیں کہ مسلمان تعلیم حاصل کریں تاکہ
مالدار بنیں… اور کامیاب ہو جائیں… اللہ تعالیٰ
فرماتے ہیں کہ ہم نے اُسے اُس کے مکان سمیت زمین میں دھنسا دیا… اور پھر ایک آیت
بعد ایک ا ور مکان کا تذکرہ فرماتے ہیں… اس مکان کا نام ہے… دارالآخرۃ… یعنی
آخرت کا دائمی اور حقیقی نعمتوں والا گھر… ارشاد فرمایا:
تِلْکَ
الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ … الایۃ(القصص:۸۳)
ترجمہ:
یہ آخرت کا گھر ہم نے ان لوگوں کے لئے بنایاہے جو زمین میں بڑائی نہیں چاہتے اور
نہ ہی فساد پھیلاتے ہیںاو ر اچھا انجام اُن کا ہے جو متقی ہیں…
لیجئے
دو مکان سامنے آگئے…زمین میں دھنستا ہوا گھر… اور جنت کی بلندیوں والا گھر…آئیے
تسبیح پڑھتے اور سمجھتے ہیں تاکہ آخرت کے گھر کا کچھ سامان ہو جائے…
حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ حضرت نوح علیہ
السلام نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے میرے
پیارے بیٹے! میں تجھے مختصر سی نصیحت کرناچاہتا ہوں تاکہ تو اُسے بُھلا نہ دے میں
تجھے دو کام کرنے کی نصیحت کرتا ہوں اور دو کاموں سے روکتا ہوں، جن دو کاموں کے
کرنے کی نصیحت کرتا ہوں ان میں سے ایک کام ایسا ہے جسے میں نے
اکثر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول ہو کر پہنچتے دیکھا
ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی اس کام سے خوش
ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندے بھی… وہ کام یہ ذکر ہے
’’ سبحا ن ﷲ وبحمدہ‘‘
کیونکہ
یہی عمل اور یہی ذکر تمام مخلوق کی عبادت ہے اور اسی ذکر کے طفیل تمام مخلوق کو
رزق دیا جاتا ہے۔(کتاب الزہد)
سبحان
ﷲ وبحمدہ،سبحان ﷲ وبحمدہ، سبحان ﷲ وبحمدہ سبحان ﷲ العظیم
اسلام
آباد کے نحوست زدہ مکان… وزیراعظم ہاؤس میں جو صاحب پوری شان و شوکت سے آرہے
ہیں… اللہ تعالیٰ اُن کو فکر آخرت عطاء فرمائے… ماضی میں
اسی ’’‘مکان‘‘ میں بیٹھ کر جو فیصلے انہوں نے کئے ان کے تھپیڑے آج تک پوری قوم
کھا رہی ہے… ایک غیر سنجیدہ سیاسی ماحول میں… حد سے زیادہ سنجیدہ فیصلے کرنا ہمیشہ
نقصان دہ ہوتا ہے… یا تو خود انسان کا اپنا عمل بہت اونچا ہو… وہ جو منہ میں سونے
کا چمچہ لیکر پیدا ہوئے اور جنہوں نے کبھی بھوک، پیاس کا نام تک نہیں سنا
وہ’’جذباتی فیصلے‘‘ کرتے ہوئے ٹھوکر کھا جاتے ہیں… کامیاب حکومت کے دو طریقے ہیں
پہلا یہ کہ حکمران خود ریاضت اور مجاہدہ برداشت کرے… اور دوسرا یہ کہ اگر وہ ریاضت
اور مجاہدہ برداشت نہیں کرتا… ہر وقت اس کا پیٹ ،معدہ اور بینک بھرا رہتا ہے تو وہ
زیادہ سنجیدگی اور سختی کرنے کی بجائے… بس گزارہ چلائے اور حتی الامکان خدمت کرے…
ماضی میں زیادہ اختیار ات کے سنجیدہ شوق نے تباہی مچائی…پرویز مشرف جیسے شخص کو
بغیر استحقاق آرمی چیف بنایا گیا… اور پھر جب وہ فضا میں تھا تو اس کو برطرف
کیاگیا… جس کے نتیجے میں وہ برسر اقتدار آگیا اور ملک اندھیروں میں ڈوب گیا… اوّل
اُس کو عہدہ دینا غلط تھا… اور پھر عہدہ واپس لینے کا طریقہ کار تو بہت ہی غلط
تھا… واجپائی کو بس پر بٹھا کر لاہور لانا بھی کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی تھی…
اور بھی بہت سے غلیظ فیصلے… اب دیکھیں کیا بنتا
ہے… اللہ تعالیٰ سے خیر اور مدد مانگتے ہیں… حسبنا ﷲ ونعم الوکیل…
قرآن مجید میں جن گھروں اور مکانات کا تذکرہ ہے… ہمیں چاہئے کہ اُن کو غور سے
پڑھیں اور سمجھیں… تاکہ مکان اور گھر کے بارے میں ہمیں خوش قسمتی کا راستہ معلوم
ہو…
قرآن
مجید میں ایک گھر کا تذکرہ ہے… نجات والاگھر… جب زمین و آسمان سے عذاب
کا پانی ابل رہا تھا…بڑے بڑے پہاڑ پانی میں گم ہو رہے تھے اور آسمانی غضب ہر طرف
چنگھاڑ رہا تھا… تب ایک کچا سا، پرانا سا مکان امن اورنجات کی جگہ بنا ہواتھا…
یہاں جو آجاتا وہ سیلاب، سمندر اور سینکڑوں فٹ اونچی لہروں سے بچ جاتا… اور اسے
نجات کی سواری بھی مل جاتی… یہ پیغمبر حضرت نوح علیہ
السلام کا مکان تھا جس کا تذکرہ آپ سورۂ نوح کی آیت٢٨ میں پڑھ سکتے
ہیں… قرآن پاک کے مکانات میں قوم عاد اور ثمود کے مکانات کا بھی تذکر ہ ہے… کیسے
مضبوط اور شاندار محل بناتے تھے اور مکانات تراشتے تھے… پھر یہ سب کچھ تباہ ہو
گیا… قرآن مجید مکڑی کے گھر اور مکان کا تذکرہ بھی فرماتا ہے… اور اُن لوگوں کو
سمجھاتا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا
سہارا بناتے ہیں… جو طاغوت کی ظاہری طاقت کو سجدے کرتے ہیں… اُن کے گھر، عہدے اور
منصب مکڑی کے جالے کی طرح کمزور ہوتے ہیں… بات کو تازہ مثال سے سمجھنا ہو تو اسلام
آباد میں’’چک شہزاد‘‘ کے ایک مکان میں آہیں بھرتے’’پرویز مشرف‘‘ کو دیکھ لیں…
کتنی شان و شوکت تھی اس کی… مگر مکڑی کے جالے کی طرح بکھر گئی، ٹوٹ گئی…
قرآن پاک کے مکانات میں… وہ گرے ہوئے گھر بھی شامل ہیں جن کا تذکرہ سورۂ نمل کی
آیت٥٢ میں ہے… اور وہ اونچے گھر بھی شامل ہیں جن سے دل لگانے والے بہت اونچے
ہوجاتے ہیں… ان گھروں کا تذکرۃ سورۃ النور آیت٣٦ میں ہے… آج میں نے تھوڑی سی
کوشش کر کے قرآن مجید میں مذکورہ گھروں اور مکانات کی فہرست جمع کی ہے… مگرکالم
کی جگہ ختم ہورہی ہے… اور مکانات بہت سے باقی ہیں… مثلاً شہد کی مکھی کامکان،
مہاجر فی سبیل اللہ کا مکان، مظلوم اور روپوش ایمان والوں
کے مکانات، مکینوں کے ہاتھوں گرتے ہوئے مکانات… وغیرہ وغیرہ… اُن سب کو چھوڑ دیتے
ہیں… بس اُ ن مکانات کے تذکرے سے دل روشن کرتے ہیں… جنہیں سورۃ الاحزاب میں
’’مکانات‘‘ اور سورۃ حجرات میں’’حجرے‘‘ فرمایا گیا ہے… دراصل وہ تھے تو چھوٹے
چھوٹے حجرے… مگر ہر حجرہ ایک الگ مکان تھا… اور اس مکان کے مکین اس میں بہت خوش
اور راضی تھے…بلکہ وہ ہمیشہ اپنی قسمت پر شکرا دا کرتے تھے… یہ مکانات اور حجرے…
میری اور آپ کی ماؤں کے تھے… امہات المؤمنین… روئے زمین کی خوش نصیب ترین
ہستیاں… اونچے نام، اونچا مقام، میرے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے
اہل بیت یعنی گھر والے… مسجد نبوی شریف کے ساتھ یہ چھوٹے چھوٹے حجرے بنے ہوئے تھے…
سبحان اللہ ! ان حجروں میں وحی نازل ہوتی تھی… اور ان حجروں میں روئے
زمین کا سب سے بڑا دین مدوّن ہوتا تھا…ان حجروں میں کامیابی کے اصول… اور ترقی کے
قوانین کا فیصلہ ہوتا تھا… حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے الادب
المفرد میں ان حجروں کا حجم اور سائز تک بیان فرما دیا ہے… سبحان اللہ
! اتنے چھوٹے گھر اور اتنا عالی شان مقام… بس مکان کہانی کو… ان مبارک حجروں اور
مکانات کے تذکرے پر ختم کرتے ہیں… کیونکہ دنیا کے کسی بھی مکان نے کامیابی اور
برکت پانی ہو تو اُسے… ان مبارک حجروں سے ہی فیض پانا ہوگا… اسلام
آباد کا آسیب زدہ وزیراعظم ہاؤس بھی پاک، صاف اور بابرکت ہو سکتا ہے… اگر وہ
مسجد نبوی کے حجروں سے روشنی اور خوشبولے آئے… مسلمانوں نے دنیا کو فتح کیا تو
بڑی بڑی منحوس جگہیں اُن کے قبضے میں آئیں… مگر وہ ان جگہوں کو بابرکت اور
باسعادت بنانے کا طریقہ اور گُر جانتے تھے… اور یوں زمین پاک ہوتی چلی گئی… وہ
طریقے اپنی پوری تأثیر کے ساتھ آج بھی موجود ہیں… مگر صرف قسمت والے ہی اُن سے
فائدہ اٹھاتے ہیں …ہاں!صرف قسمت والے… ورنہ اسلام آباد کے وزیراعظم ہاؤس کے
باسیوں کا انجام بہت لرزہ خیز ہوتا ہے…بہت ہی بھیانک…
آئیے
تسبیح میںگُم ہوجاتے ہیں…
نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اللہ تعالیٰ
نے کلام میں سے چار(کلمات) کو (خاص طور پر) منتخب فرمایا ہے:
سبحان
ﷲ، والحمدللہ، ولا الہ الا ﷲ وﷲ اکبر
جو
سبحان اللہ پڑھے اس کے لئے بیس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور
بیس گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اور جو اللہ اکبر پڑھے اس
کیلئے بھی یہی ثواب ہے اور جو لا الہ الا ﷲ پڑھے اس کے لئے بھی یہی ثواب ہے اور جو
الحمدللہ رب العالمین پڑھے اس کے لئے تیس نیکیاں لکھ دی
جاتی ہیں اور اُس کے تیس گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں…(احمد، نسائی)
سبحان
ﷲ والحمدللہ، ولا الہ الا ﷲ وﷲ اکبر
ولا
حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
کی’’کرسی‘‘ نے سب آسمانوں اور زمین کو اپنے اندر لے رکھا ہے…
وَسِعَ
كُرْسِـيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ (البقرۃ:۲۵۵)
سبحان اللہ
! اللہ تعالیٰ کی
’’کُرسی‘‘… اللہ تعالیٰ کی بادشاہی
اور اللہ تعالیٰ کا عرش…
ذرا
جھوم کر پڑھیں:
وَسِعَ
كُرْسِـيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ (البقرۃ:۲۵۵)
حضرت
شاہ عبدالقادر صاحب رحمۃ اللہ علیہ ترجمہ فرماتے ہیں
کہ… اللہ تعالیٰ کی کرسی میں گنجائش ہے آسمانوں کے لئے اور
زمین کے لئے… یعنی سات آسمان اور زمین اگر اللہ تعالیٰ کی
کرسی پر رکھ دیئے جائیں تو آرام سے اس میں سما جائیں گے… زمین سے لیکر آسمان تک
کتنا فاصلہ ہے؟… پھر ایک آسمان کا دوسرے آسمان سے کتنا فاصلہ ہے؟… اور ہر آسمان
کتنا بڑاہے؟ مگر یہ سب اللہ تعالیٰ کی کرسی میں اس طرح
آجاتے ہیں جس طرح ایک بڑے صحرا میں ایک چھوٹی سی انگوٹھی…
اور اللہ تعالیٰ کی کُرسی سے
بڑا اللہ تعالیٰ کا عرش ہے… جی ہاں! عرش عظیم یعنی بہت عظیم
عرش…
اس
عرش کو اللہ تعالیٰ کے چار فرشتوں نے اٹھایا ہوا ہے… قیامت
کے دن آٹھ فرشتے اس عرش کو اٹھائیں گے… یہ فرشتے بہت مقرّب اور بہت قوت و طاقت
والے ہیں… قرآن مجید میں ان کا تذکرہ ہے… حملۃ العرش… یہ فرشتے بھی’’سبحان ﷲ
وبحمدہ‘‘ پڑھتے ہیں… خود قرآن مجید نے بتایا ہے۔
یُسَبِّحُوْنَ
بِحَمْدِرَبِّھِمْ (الغافر:۷)
حمد
کے ساتھ تسبیح، یعنی تعریف کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتے ہیں ان کی تسبیح
کے مختلف الفاظ روایات میں آئے ہیں…
تین
ہفتے ہوئے کہ’’تسبیح‘‘ کا بیان چل رہا ہے…ساتھ ساتھ حالات حاضرہ پر بھی بات ہو رہی
ہے… آج اسی میں کرسی کا تذکرہ آگیا کہ ملک میں کرسی کی جنگ جاری ہے… ایک عارضی
اور فانی کُرسی… ایک کمزور اور ناپائیدار کُرسی… مگر یہ کُرسی اہل دنیا کو بے حد
محبوب اور مرغوب ہے…
ایک
سیاستدان کے بارے میں یہ لطیفہ بھی مشہور ہوا تھا کہ اُن کے ہاتھ میں اکثر باریک
دانوں والی ایک مالا گھومتی رہتی تھی… کسی نے پوچھا! آ پ کیا وظیفہ کرتے ہیں؟ـ…
کہنے لگے پیر صاحب نے آیۃ الکرسی بتائی تھی… مگر مجھے پوری آیۃ الکرسی یاد نہیں
ہوتی تو میں بس کُرسی کُرسی کُرسی پڑھتا رہتا ہوں…
ابھی
حال ہی میں کچھ لوگ کرسی کے پیچھے دوڑتے دوڑتے گر پڑے اور کچھ کے نیچے سے کرسی بے
رحمی کے ساتھ کھسک گئی… اور کچھ چند دن اس کرسی کے جھولے کھا کر دوچار دن میں جانے
والے ہیں… اور کچھ اگلے چند دن بعد اس کرسی پر بیٹھنے والے ہیں… مگر ہمیشہ کے لئے
نہیں… بس چند دن یا چند مہینے یا سال… کاش اس فانی کُرسی پر بیٹھنے والے… اصل
کُرسی کے مالک کی فرمانبرداری کریں تو کتنا اونچا مقام پالیں… یاد رکھیں قیامت کے
دن ہر جنّتی مسلمان کو جنت میں بڑی کرسی اور بڑی بادشاہت ملے گی… ارشا د فرمایا:
وَّمُلْکًا
کَبِیْرًا (الدھر:۲۰)
یعنی
اہل جنت کے لئے بڑی بادشاہت ہوگی
آئیے
اپنی جنت کو یقین کے ساتھ آباد کریں…
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
شب
معراج میں جب میری ملاقات حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوئی
تو انہوں نے فرمایا کہ: اپنی اُمت کو میرا سلام کہیں اور بتائیں کہ جنت
کی مٹی عمدہ پاکیزہ اور پانی میٹھا ہے مگر وہ جنت بالکل خالی میدان ہے اور اس کے
پودے (یعنی درخت اور آبادی)
سبحان
ﷲ، والحمدللہ، لا الہ ال اللہ اور ﷲ اکبر ہے۔ (ترمذی)
ایک
روایت میں ’’لاحول ولا قوۃ الا باللہ ‘‘ بھی ہے۔(ترمذی)
سبحان
ﷲ، والحمدللہ ولاالہ الا ﷲ وﷲ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ
تسبیح
کے فضائل بہت زیاد ہ ہیں… کاش ہر مسلمان کو’’تسبیح‘‘ کی توفیق نصیب ہو جائے… دراصل
’’تسبیح‘‘ سے پاکی اور قوت ملتی ہے… ایمانی قوت، دینی قوت، روحانی قوت ، اُخروی
قوت، دنیوی قوت… جسمانی قوت… قرآن مجید میں غور کریں، جہاں بھی
سبحان اللہ یا تسبیح کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں وہاں کسی
ایسی چیز کا تذکرہ ہے… جس چیز کی طاقت نہ انسانوں کے بس میں کل تھی اور نہ آج ہے
اورنہ آئندہ کبھی ہو گی…
سُبْحٰنَ
الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا (الاسراء:۱)
والی
آیت دیکھ لیں اس میں معراج کا واقعہ بیان فرمایا… رات کے ایک حصے میں اتنی بڑی
اورلمبی سیر… مکہ مکرمہ سے بیت المقدس… وہاں سے آسمانوں پر اور پھر آسمانوں سے
بہت آگے، بہت آگے… سائنس دان ابھی تک زمین کے مدار میں گھومنے والے سیاروں تک
پہنچنے کی کوشش میں ہیں… سبحان ہے وہ ذات جس نے رات کے ایک حصہ میں اتنا بڑا سفر
پورا کروایا… فاصلے اور زمانے سب سمیٹ دیئے… صدیوں کو سیکنڈوں میں بند فرما دیا…
اور ہزاروں کروڑوں سالوں کی مسافت کو منٹوںمیں طے فرما دیا…
سبحان
ﷲ وبحمدہ، سبحان ﷲ وبحمدہ، سبحان ﷲ وبحمدہ سبحان ﷲ العظیم
اسی
طرح ایک ایک آیت کو لیتے جائیں اور غور کرتے جائیںتو آپ کے دل پر تسبیح…
یعنی اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنے…
سبحان اللہ پڑھنے کی حقیقت اور طاقت کھلتی جائے گی…
آسمانوں کے اوپر فرشتوں کا یہ کہنا…
سُبْحٰنَکَ
لَاعِلْمَ لَنَآ اِلَّامَا عَلَّمْتَنَا (البقرۃ:۳۲)
اورسمندروںکہ
تہہ میں مچھلی کے پیٹ میں سیدنا یونس علیہ السلام کا یہ
فرمانا:
لَّآ
اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْن (سورۃ
الانبیاء:۸۷)
دنیا
کے تمام اصولوں اور سائنس کے تمام قوانین کو مدنظر رکھ کر دیکھیںکہ… حضر ت یونس
علیہ السلام کا زندہ رہنا ممکن تھا؟… سمندر میں چھلانگ لگانا…
مچھلی کا نگل لینا… کئی دن یا کئی گھڑیاں مچھلی کے پیٹ میں رہنا… اور
وہاں اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرنا… عقل تسلیم نہیں کرتی…
سائنس کے قوانین ہرگز نہیں مانتے… مگر سبحان ذات کے لئے کچھ ناممکن نہیں…
’’سبحانک‘‘ پکارا تو ایسی مدد آئی کہ زندہ سلامت سمندر کے ساحل پر آگئے…
سبحان ﷲوبحمدہ
سبحان ﷲ العظیم
اچھا
ایک اور کمال دیکھیں… مشرکین مکہ کتنے طاقتو ر تھے؟… خونخوار، مسلّح ، بدزبان…
بلکہ زبان دراز اور ہر طرح کی قوت سے لیس… وہ منہ بھر کر بکتے تھے اور دل کھول کر
دشمنی نکالتے تھے… صرف ایک نظر مکہ مکرمہ کے ماحول پر ڈالیں کہ… کس طرح ہمارے آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم ان خونخوار بھیڑیوں کے درمیان بالکل اکیلے
کھڑے تھے…پورے مکہ میں سب سے زیادہ مظلوم… کیا بچنا ممکن تھا؟… فرمایا گیا:
آپ
ان کی باتوں پر صبر کریں… سورج کے نکلنے اورغروب ہونے سے پہلے ا ﷲ تعالیٰ کی حمد
کے ساتھ تسبیح کریں… اور دن اور رات کے کچھ حصوںمیں بھی یہی عمل کریں… تب آپ کے
لئے ایسا ماحول آجائے گاکہ آپ راضی ہوجائیںگے… اب کاغذ پلٹیں آٹھ سال بعد یہی
مکہ تھا… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد آپ کے دس ہزار جانباز وفادار
صحابہ تلواریںلئے کھڑے تھے… اور مکہ کے بچے کھچے مشرک کعبہ کے پردوں سے لٹکے ہوئے
اپنی جان کی بھیک مانگ رہے تھے … کل کے مظلوم آج مکہ کے حاکم تھے… یقینا یہ سب
کچھ… سبحان ذات، اللہ سبحانہ کی طاقت اور قوت سے ہوا…
سبحان
ﷲ وبحمدہ، سبحان ﷲ وبحمدہ، سبحان ﷲ وبحمدہ ،سبحان ﷲ العظیم
اچھا
اور دیکھیں… آج تسبیح کے میٹھے جام بھر بھر کر پئیں… سو رہ یٰسین میں دو جگہ
’’سبحان ‘‘ کا تذکرہ ہے… دونوں پرغور کریںتو دل بھی عش عش کر کے…
سبحان اللہ ، سبحان اللہ پڑھنے لگے… پہلے
فرمایا کہ سبحان ہے وہ ذات جس نے ہر چیز کے جوڑے بنائے… نر اور مادہ کا
نظام… انسانوں میں، جانوروں میں، پودوں میں، حشرات میں، پرندوں میں… اور اُن چیزوں
میں جس میں ہم نہیں جانتے … کیا کسی کے بس میں ہے کہ ایسا محکم نظام بنا سکے؟…
ایسا لطیف اور آٹو میٹک نظام کہ ہر جوڑا ایک پورا کارخانہ جس میں راحت بھی ہے اور
نسل کا بقا بھی… اب تک کی سائنس نے جوڑوں کی جو تفصیل حاصل کی ہے اسے پڑھ کر لوگ
حیران ہو کر سائنس کے مرید ہوجاتے ہیں… اوریہ نہیں سوچتے کہ جس ا ﷲ تعالیٰ نے
جوڑوں کا یہ نظام بنایا ہے ہم اس کی شان اور عظمت کو مان کر اس کی عبادت اور اطاعت
میں لگ جائیں… بہت ہی عجیب، بہت ہی محکم اور بہت ہی شاندار نظام… ہر چیز کی
کامیابی جوڑے سے… اس آیت مبارکہ سے صوفیاء نے بہت کچھ سمجھا… اور مجاہدین کے لئے
بھی اس میں بڑے اسباق ہیں کہ… انسان کی کامیابی کا یہ بڑا اہم راز
ہے… سورہ یٰسین کی دوسری آیت میں فرمایا… سبحان ہے وہ ذات جس کے قبضے میں
ہر چیز کی حکومت ہے… آپ بتائیے کہ کسی انسان کے لئے ممکن ہے کہ وہ صرف اپنے بدن
کی تمام چیزوں کی حکومت حاصل کر لے؟… ہر چیز تو بہت دور کی بات ہے… دنیا کے کسی
بادشاہ کو یا کسی سائنسدان کو اپنے پیٹ میں موجود… گردے اور معدے پر بھی حکومت
حاصل نہیں ہوتی… ہر چیز پر مکمل حکومت اور اختیار صرف اسی ذات کا ہے… جو سبحان ہے،
پاک ہے …
سبحان
ﷲ وبحمدہ، سبحان ﷲ وبحمدہ، سبحان ﷲ وبحمدہ، سبحان ﷲ العظیم
اچھا
یہ بتائیں کہ… اگر کوئی شخص سورج کے بہت قریب چلا جائے تو کیا کوئی ایسا لباس ہے
جو اسے جلنے اور راکھ ہونے سے بچا سکے… سورج کی گرمی… جہنم کی گرمی سے ستر گنا یا
اس سے بھی کمزور ہے… مگر سبحان اللہ کے کلمہ میں ا ﷲ تعالیٰ
نے یہ طاقت رکھی ہے کہ یہ جہنم سے ڈھال بن جاتا ہے… یہ طاقت بعض دیگر کلمات اور
اعمال میں بھی ہے…
رسول
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اپنی
ڈھال لے لو…(یعنی اپنی حفاظت کا سامان کر لو) صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین نے عرض کیا: یا رسول اللہ ( صلی اللہ
علیہ وسلم )! کسی حاضر دشمن کے حملہ سے؟ ارشاد فرمایا: نہیں! بلکہ جہنم سے بچنے کی
ڈھال لے لو… اور وہ
سبحان
ﷲ، والحمدللہ ولا الہ الا ﷲ وﷲ اکبر
کا
پڑھنا ہے… یہ کلمات قیامت کے دن اس حال میں آئیں گے کہ… اپنے پڑھنے والوں کو آگے
بڑھانے والے… اور ان کی حفاظت کرنے والے ہوں گے اور یہ کلمات باقی رہنے والی
نیکیاں ہیں…(یعنی الباقیات الصالحات) (نسائی)
اندازہ
لگائیں… سبحان اللہ کی قوت کا کہ دنیا کی مضبوط سے مضبوط
چیز گل سڑ جاتی ہے… ختم یا خراب ہوجاتی ہے، ٹوٹ کر فنا ہوجاتی ہے… مگر ایک بار کا
’’سبحان ﷲ‘‘ کہنا… نہ کبھی ختم ہو گااور نہ کبھی مٹے گا… یہ ہمیشہ باقی رہے گا…
اورپڑھنے والے کے کام آتا رہے گا…
سبحان
ﷲ وبحمدہ ،سبحان ﷲ العظیم
تسبیح
کا موضوع بہت میٹھا اور لذیذ ہے… دل میں بہت سی باتیں ابھی مچل رہی ہیں… بڑی خواہش
ہے کہ مجاہدین اور تمام دینی بھائیوں اور بہنوں کو دیگر نعمتوں کے ساتھ
ساتھ’’تسبیح‘‘ کا ذوق،تسبیح کی حلاوت اور تسبیح کی قوت بھی مل جائے… آج کی مجلس
پر… فی الحال اس موضوع کو ختم کرتے ہیں…
سبحان
ﷲ وبحمدہ ،سبحان ﷲ العظیم…… لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول اللہ
اللّٰھم
صل علٰی سیّدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
نے حضرات’’صحابہ کرام‘‘ کو بہت اُونچا مقام عطاء فرمایا ہے…
رضی
ﷲ تعالٰی عنہم اجمعین…
حضرات
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت رکھنا اور ان کی راہ پر
چلنا ہر مسلمان کے لئے لازمی ہے…
دل
کی موت
اہل
علم فرماتے ہیں کہ جس نے بھی حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین پر زبان درازی کی… یا کسی ایک صحابی رضی اللہ عنہ پر
بھی طعنہ زنی کی تو اللہ تعالیٰ موت سے پہلے اُس کے دل کو
مُردہ کر دیتے ہیں… اور دل کی موت گویا کہ ایمان سے محرومی کا ایک درجہ ہے…
اورایسے افراد’’حُسن خاتمہ‘‘سے محروم رہتے ہیں… وجہ یہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان
اللہ علیہم اجمعین پر طعنہ زنی کرنا… رسول کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کو ایذاء پہنچانا ہے… اور رسول کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کو ایذاء پہنچانا ایمان سے محرومی کا ذریعہ بن جاتا ہے… تمام
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سچے ہیں، عادل ہیں، جنتی ہیں،
کامیاب ہیں، اونچے اور روشن ستارے ہیں… اور تمام دنیا کے سارے صدیقین، قطب،
مجاہدین، شہداء… اور اولیاء کسی ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے قدموں کی
اُس خاک کے برابر بھی نہیں ہو سکتے جو خاک اُن کے قدموں پر… جناب رسول کریم صلی
اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے لگی ہے… اور جو خاک اُن کے
قدموں پر اسلام قبول کرنے کے بعد کسی بھی عمل میں لگی ہے… یا اللہ !
گواہ رہنا ہم آپ کے محبوب نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کے تمام اہل بیت اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین سے محبت رکھتے ہیں… اور ان میں سے کسی کے لئے اپنے دل میں کوئی
بغض، کینہ یا تنگی نہیں رکھتے… ہمارا عقیدہ ہے…
’’رضی اللہ عنہم‘‘
کہ اللہ تعالیٰ اُن سے راضی ہے…
رجب
اور دو شخصیات
اس
سال جب سے رجب کا مہینہ شروع ہوا ہے اوراب اختتام کے قریب ہے… دل میں دو بڑی
شخصیات کے بارے میں لکھنے کا داعیہ پیدا ہوا… ایک تو حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی
اللہ عنہ … اور دوسرے خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ
علیہ … ان دونوں حضرات کا انتقال رجب کے مہینہ میں ہوا ہے… اگرچہ
دونوں کے مرتبہ میں بڑا فرق ہے… ایک جلیل القدر صحابی رضی اللہ
عنہ ہیں… اور دوسرے اس اُمت مسلمہ کے ایک مقبول مجاہد اور ولی… دراصل
خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کا عُرس جس انداز میں
منایا جارہا تھا… اُن کے مزار اور اس کی انتظامیہ کے بارے میں جوخبریں آرہی تھیں
وہ کافی تکلیف دہ تھیں… اُن کو پڑھ پڑھ کر کلیجہ زخمی ہوتا تھا تو سوچا کہ اُن کی
مبارک زندگی کے کچھ حالات لکھے جائیں تاکہ… مسلمانوں کو معلوم ہو کہ وہ کون تھے
اور آج اُن کو کیا بنا کر پیش کیا جارہا ہے… آج کل اجمیر شریف کے گدی نشین’’زین
العابدین‘‘… اپنی’’انڈیا پرستی‘‘ میں نامور ہیں… انہوں نے خواجہ کی نگری کو باطل
اور فضول چیزوں سے بھر ڈالا ہے…شرکیہ جملے اور ناپاک سیاسی بیانات اُس عظیم ہستی
کے مزار سے جاری کئے جارہے ہیں جنہوں نے… مشرکین سے جہاد کیا اور اُن کے سب سے
قابل فخر سورما کو ختم کروایا… خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ
علیہ کے شیخ اور مرشد خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ
علیہ کے وجد آفرین اشعار اکثر ہماری زبان پر آجاتے ہیں:
بیا
جاناں تماشا کن کہ در انبوہ جانبازاں
بصد
سامانِ رسوائی سرِ بازار می رقصم
نمی
دانم کہ آخر چوں دم دیدار می رقصم
مگر
نازم بہ ایں شوقی کہ پیش یار می رقصم
اللہ تعالیٰ
نے موقع، توفیق اور ہمت عطاء فرمائی تو ان شاء اللہ کسی دن
’’رنگ و نور‘‘ میں خواجہ جی رحمۃ اللہ علیہ کی محفل سجائیں گے… اور ان
اشعار کے مست جام بھی بھر بھر کر پئیں گے…مگر آج الحمدللہ قسمت اچھی لگ رہی ہے کہ… جلیل القدر عظیم
المرتبۃ صحابی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں چند الفاظ
لکھنے کی سعادت مل رہی ہے… واہ میرے مالک واہ! کتنا بڑا احسان ہورہا ہے ،کتنا بڑا
فضل ہو رہا ہے…
اَلْحَمْدُ
لِلهِ اَلْحَمْدُ لِلهِ وَاَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ
الْعٰلَمِيْنَ
خلاصۂ
کمالات
اتنے
بڑے انسان کے بارے میں ایک چھوٹا سا کالم؟… دل حیران ہے کہ کیا لکھے اور کیا
چھوڑے؟… چلیں’’بسم اللہ ‘‘ کرتے ہیں… حضرت سیدنا امیر
معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل اور کمالات کی فہرست بہت طویل
ہے… ایسے کمالات کہ اگر ان میں سے صرف ایک بھی کسی انسان کو مل جائے تو اس کی عظمت
کے لئے کافی ہو جائے… ایک نظر ڈالیں…
١ رسول
رب العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ… قرابت یعنی رشتہ داری… نسبی
بھی سسرالی بھی…
سبحان
ﷲ وبحمدہ سبحان ﷲ العظیم
حضرت
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ … قریشی اموی ہیں، رسول نبی کریم صلی اللہ
علیہ وسلم سے آپ کا نسب ’’عبد مناف‘‘ میں ایک ہوجاتا ہے… اور آپ حضرت
اُم المؤمنین اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کے سگے بھائی ہیں…
٢ رسول
کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقربّ صحابی رضی اللہ عنہ … حضرات صحابہ
کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے تمام فضائل آپ کو حاصل ہو گئے۔
٣ رسول
کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین اور غزوہ تبوک میں شرکت
فرمانے والے مجاہد…
سبحان
ﷲ وبحمدہ سبحان ﷲ العظیم
٤ رب
العالمین کی وحی کے کاتب… آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت
میں حاضر رہتے، وحی الٰہی اورخطوط مبارکہ کی کتابت فرماتے… ایسا نازک کام صرف
معتمد ترین اہل امانت سے ہی لیا جا سکتا ہے…
٥ بخاری
وغیرہ مستند کتب میں روایت ہے کہ… رسول کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اس اُمت کے’’بحری
مجاہدین‘‘ دکھائے… انہیں دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے
اور فرمایا کہ ان کے لئے جنت واجب ہوگئی… حضرت معاویہ رضی اللہ
عنہ کو اللہ تعالیٰ نے اس جہاد کی توفیق
عطاء فرمائی…
٦ مرتد
اعظم مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد یمامہ میں آپ نے شرکت فرمائی اور خوب جم کر مقابلہ
فرمایا… اور بعض مؤرخین کے نزدیک آپ مسیلمہ کذاب کے قتل میں بھی شامل تھے…
سبحان
اللہ وبحمدہ سبحان ﷲ العظیم
٧ آپ
رضی اللہ عنہ نے امت مسلمہ تک حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کی کئی مبارک احادیث پہنچائیں… آپ حدیث رسول صلی اللہ
علیہ وسلم کے راوی تھے… اور آپ کی روایات بخاری، مسلم اور حدیث کی
دیگر کتب میں موجود ہیں…
٨ آپ
رضی اللہ عنہ اُن صحابہ کرام میں سے ہیں جن کو رسول کریم صلی
اللہ علیہ وسلم نے کئی مخصوص دعاؤں سے نوازا… حضرت سیدنا امیر
معاویہ رضی اللہ عنہ کو جو قیمتی دعائیں ملیں وہ حدیث شریف
کی کتابوں میں صحیح سند کے ساتھ موجود ہیں…
٩ آپ
اُن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں شامل ہیں جن کے قلوب پر
سکینہ الہٰی کے نزول کا تذکرہ قرآن مجید میں موجود ہے۔
١٠ آپ
رضی اللہ عنہ نے لاکھوں مربع میل… خشکی اور سمندر میں اسلامی
حکومت قائم فرمائی… جس کی بدولت لاکھوں افراد اسلام میں داخل ہوئے… اور زمین کا
ایک بڑا حصہ ایمان وا سلام کی روشنی سے جگمگا اٹھا…
خلاصۂ
سیرۃ
آپ
کا اسم گرامی’’معاویہ‘‘، کنیت’’ابو عبدالرحمن‘‘… والد محترم کا نام حضرت ابو سفیان
رضی اللہ عنہ (اصل نام: صخر بن حرب)…ولادت نبی کریم صلی اللہ
علیہ وسلم کی بعثت سے تقریبا پانچ سال پہلے(کچھ اور اقوال بھی ہیں)…
وفات:
نصف رجب ۶۰ھ
، عمر مبارک اٹھتر(۷۸) سال،
نماز جنازہ حضرت ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ نے پڑھائی…
حلیہ:
بہت حسین و جمیل، دراز قد، سفید رنگت، باوقار، ذہین، بردبار اور بہادر…
خصوصی
صفات سب سے خاص صفت’’حلم‘‘ یعنی بردباری تھی، صبر اور برداشت کے گویا مینار تھے،
اپنے دشمنوں کو معاف کرنا، لوگوں سے درگذر رکھنا اور مخالفین کے لئے اپنا سینہ
کھلا رکھنا آپ کے لئے آسان تھا… مدبر، عقلمند اور صاحب فراست تھے،دینی سیاست میں
امام تھے اس صفت میں بہت فائق تھے… اور آپ کی سخاوت بھی بہت مشہور تھی… حضرت
سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ نے جب آپ سے بیعت کرلی تو اُس کے
بعد پوری اسلامی دنیا کی حکومت انیس سال تین مہینے ستائیس دن تک بہت خوبی اور
مثالی انتظام سے چلائی… زمین کے ہرطرف فتوحات کا جال بچھا دیا… اور سمندروں پر
اسلامی سلطنت قائم فرمادی… رضی اللہ تعالی عنہ…
مقبول
دعائیں
رسول
کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا معاویہ رضی اللہ
عنہ کے سینے میں چھپی صلاحیتیوں کا اندازہ فرما لیا تھا… حضرت ندوی
رحمۃ اللہ علیہ نے ’’المرتضیٰ‘‘ میں دو ایسی روایات ذکر فرمائی ہیں جن
سے معلوم ہوتا ہے کہ… رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت
معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت کی پیشن گوئی فرمائی
تھی… حضرت ندوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
١ دیلمی
سے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے انہوں نے فرمایا
میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ وہ
فرماتے تھے کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم فرماتے تھے دن رات کے تسلسل کا سلسلہ ختم نہ ہوگا کہ معاویہ رضی
اللہ عنہ برسر حکومت آجائیں گے…
٢ آجری
کتاب الشریعہ میں عبدالملک بن عمیر سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت
معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
جب
سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ
کہتے ہوئے سنا کہ اے معاویہ! اگر تم کو حکومت مل جائے تو اچھی طرح حکومت کرنا، اس
وقت سے مجھے خلافت کے حصول کی تمنا تھی… (المرتضیٰ ،ص:۳۲۳)
تمنا
اس لئے ہو گی تاکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم مبارک کو پورا
فرمائیں…
رسول
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاویہ رضی اللہ
عنہ کو کئی قیمتی دعائیںدیں…ارشاد فرمایا:
اللّٰھم
اجعلہ ھادیا مھدیا واھدبہ۔ (ترمذی، وبخاری فی التاریخ)
یا اللہ ان
کو رہنما بنا، ہدایت یافتہ بنا اور ان کے ذریعہ ہدایت کو عام فرما…
ایک
اور روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے لئے دعاء فرمائی…
اللھم
علمہ الکتاب والحساب وقہ العذاب۔ (مسند احمد)
یا اللہ
! انہیں کتاب اللہ کا علم اور حساب کی سمجھ عطاء فرما اور
انہیں اپنے عذاب سے بچا…
ایک
دعا ء ایک وظیفہ
لیجئے!
آج حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بابرکت تذکرہ کی برکت سے
ایک طاقتور وظیفہ بھی لے لیجئے…حضرت امیر معاویہ رضی اللہ
عنہ کے بڑے بھائی حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ
عنہ بڑے بہادر، جنگ آزما، نامور سپہ سالار تھے… حضرت ابو بکر
صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کی تشکیل پہلے جنگ یمامہ اور پھر
شام کی طرف فرما دی تھی… شام میں ایک سرحد پر اُن کا وصال ہو گیا… حضرت
عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی جگہ حضرت معاویہ رضی
اللہ عنہ کو مسلمانوں کے لشکر کا امیر بنا دیا… حضرت امیر معاویہ رضی
اللہ عنہ کے جہاد اور فتوحات کی داستان بہت طویل اور لذیذ ہے… آپ
چالیس سال تک مختلف ذمہ داریوں پر رہے اور آپ کی فتوحات میں مسلسل اضافہ ہی ہوتا
رہا… وہ لوگ جو حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کچھ
کینہ رکھتے ہیں وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے جہاد اور
آپ کی فتوحات کی صرف ایک فہرست پڑھ لیں تو شائد اُن کا دماغ ٹھکانے آجائے اور وہ
طعن و تنقید کے گناہ سے باز آجائیں… خیر آج صرف ایک واقعہ!!!
حضرت
عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ
عنہ کو خط لکھا:
اما
بعد! میں نے آپ کو’’قیساریہ‘‘ کا ذمہ دار بنا دیا ہے، پس آپ اس کی طرف کوچ کریں
اور اُن کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں اور کثرت
سے یہ پڑھیں:
’’لَاحَوْلَ
وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم، اَللہُ رَبُّنَا، اَللہُ
ثِقَتُنَا وَمَوْلَانَا فَنِعْمَ الْمَوْلٰی وَ نِعْمَ النَّصِیْر‘‘
ہر
طاقت اور ہر قوت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے جو بلند عظمت
والے ہیں، اللہ ہمارے ربّ
ہیں، اللہ تعالیٰ ہی ہمارا سہارا اور ہمارے مددگار ہیں وہ
بہترین حامی اور بہترین نصرت فرمانے والے ہیں…
قیساریہ
شام کا آخری علاقہ تھا جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فتح
فرمالیا… حضرت عمر رضی اللہ عنہ کسی کو عہدہ دینے کے معاملہ
میں بہت محتاط اور باریک بین تھے… انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ
عنہ کو عہدہ دیا اور انہیں اس پر قائم رکھا… یہ بھی حضرت معاویہ رضی
اللہ عنہ کی امانت، صداقت، حسن تدبیر اور حسن سیاست کی ایک بڑی
دلیل ہے…
مر ؔشد
کا فرمان
اس
اُمت کے مجاہدین کے ایک بڑے مرشد، حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ
علیہ فرماتے ہیں کہ ہم نے کسی کا امتحان لینا ہو کہ یہ شخص حضرات صحابہ
کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت رکھتا ہے یا نہیں تو اس کے لئے…
کسوٹی اور پرکھنے کا مقام حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہیں… پس
جو اُن پر زبان درازی کرتا ہے ہم سمجھ لیتے ہیں کہ وہ’’حبِ صحابہ‘‘ سے محروم ہے…
ایک اور محدث کا قول ہے کہ جس نے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین کے ناموس پر ہاتھ ڈالنا ہووہ آغاز حضرت معاویہ رضی اللہ
عنہ سے کرتا ہے… حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ
علیہ سے پوچھا گیا کہ… حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ افضل
ہیں یا حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ …ارشاد
فرمایا: اللہ کی قسم!وہ غبار جو حضرت معاویہ رضی اللہ
عنہ کے ناک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے داخل ہوا وہ عمر بن عبدالعزیز سے ہزار گنا
افضل ہے ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ
علیہ وسلم کے پیچھے نمازیں ادا کیں آپ صلی اللہ علیہ
وسلم فرماتے :
’’سمع
اللہ لمن حمدہ ‘‘
تو
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے:
’’ربنا
ولک الحمد‘‘
اب
بتاؤ اس کے بعد اور کیا چاہئے۔ (ابنِ عساکر)
ایک
دلچسپ واقعہ
حضرت
عمر بن العزیز رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے کسی
انسان کو نہیں پیٹا… صرف ایک آدمی کو کوڑوں سے پیٹا ،یہ وہ شخص تھا جس نے حضرت
معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی بکی تھی… حضرت عمر بن
عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کاوہ خواب بھی بہت مشہور ہے جس میں انہوں نے
قیامت اور جنت کے مناظر دیکھے ان میں ایک منظر یہ تھا کہ… حضرت سیّدنا علی
المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ
عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے خیمے میں لے جایا گیا… پہلے وہاں سے حضرت علی رضی
اللہ عنہ خو ش خوش نکلے وہ فرما رہے تھے … قَدْ حُکِمَ لِیْ… کہ میرے
حق میں فیصلہ فرما دیا گیا… اُن کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ خوش
خوش نکلے اوروہ فرما رہے تھے… قَدْ غُفِرَلِیْ کہ مجھے معاف فرما دیا
گیا:
چند
ایمان افروز عبارتیں
آج
کل اسلام آباد میں جو سیاسی ماحول ہے، اُسے دیکھ کر اور پڑھ کر دل اور دم گُھٹتا
ہے… ایسے گُھٹن زدہ ماحول میں ایک عظیم المرتبۃ شخصیت کا تذکرہ بہت سکون بخش ہے…
مجھے لکھتے ہوئے مزہ آرہا ہے اور دل چاہتا ہے کہ لکھتا ہی چلا جاؤں… ابھی تو
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں گویا کچھ بھی
نہیں آیا… میں نے جو اشارات لکھ کر رکھے تھے وہ آدھے بھی نہیں آئے… مگر کالم کی
جگہ پوری ہو چکی… حضرت ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی چند عبارات پر آج کی
مجلس مکمل کرتے ہیں…
١ یہ
امر فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ
عنہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی
جماعت کے ایک ممتاز فرد ہیں… ان کے مناقب میں حدیثیں وارد ہوئی ہیں… جو لوگ اُن پر
’’زبان طعن‘‘ دراز کرتے ہیں… اور اُن کے سلسلہ میں بے باکی و زبان درازی سے کام
لیتے ہیں… ان کو اس امر کا پاس و لحاظ ہونا چاہئے… کہ وہ ایک ایسے صحابی رضی اللہ
عنہ ہیں جن کو قرابت کا شرف بھی حاصل ہے… (المرتضیٰ، ص:۳۲۲)
٢ یہ
بات ثابت ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کاتب
بنایا تھا اور آپ اپنا کاتب اسی کو بناتے تھے جو عدل وامانت کی صفات سے متصف
ہو…(المرتضیٰ: ۳۲۳)
٣ مشہور
مؤرخ مسعودی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ
عنہ کے(زمانہ امارت) کے روزانہ کے معمول کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
اُن
کے یہاں دن رات میں پانچ مرتبہ اذنِ عام(یعنی ملاقات کی عام اجازت کا نظام) تھا وہ
صبح نمازِ فجر سے فارغ ہوتے تھے تو بیٹھ جاتے اور پچھلے حوادث و واقعات کی داستان
سنتے، پھر دولت خانہ تشریف لے جاتے اور قرآن مجید کے ایک پارہ کی تلاوت کرتے، پھر
مکان پر جا کر انتظامی ہدایات دیتے، پھر چار رکعت پڑھتے اور خواص الخواص کو آنے
کی اجازت ہوتی اور اُن سے تبادلۂ خیالات کرتے، پھر مشیرانِ سلطنت حاضر ہوتے اور
اُس دن کے کرنے والے کاموں کی اطلاع دیتے، پھر کچھ ناشتہ فرماتے، پھر ایک بار گھر
جا کر باہر تشریف لے آتے، مسجد میں کُرسی لگا دی جاتی اور آپ کے پاس کمزور،
بادیہ(یعنی دیہات) کا رہنے والا اعرابی، بچہ ، عورت اور بے کس ولاوارث آدمی آتا
آپ فرماتے اس کے معاملہ کی تحقیق کرو جب کوئی باقی نہ رہتا تو مجلس سے اٹھتے،
چارپائی پر بیٹھ جاتے اور فرماتے: لوگوں کو ان کی حیثیت کے مطابق آنے دو، جب سب
بیٹھ جاتے تو فرماتے کہ صاحبو! اُن لوگوں کی ضروریات و مسائل کو ہم تک پہنچایا کرو
جو خود نہیں پہنچ سکتے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تم کو اعزاز
بخشا ہے، پھر ہر ایک کے معاملہ اور ضرورت کے مطابق ہدایات دیتے روزآنہ کا یہی
معمول تھا…
خال
المؤمنین
حضرت
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا ایک بہت میٹھا لقب اور رشتہ ہم سب
مسلمانوں سے ہے… وہ ’’خال المؤمنین‘‘ یعنی ایمان والوں کے محبوب اور محترم ماموں
جان ہیں… حضرات ائمہ اور محدثین اُن کو اسی لقب سے یاد کرتے ہیں… وہ ہماری امّاں
جی حضرت سیّدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ہیں… حضرت اُم
حبیبہ رضی اللہ عنہا کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں
ہماری’’اماں جی‘‘ قرار دیا ہے… یوں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ہم
سب مسلمانوں کے ’’ماموں جان‘‘ ہوگئے… آخر میں صرف دو باتیں…
١ مسندِ
احمد میں ہے کہ… اپنے زمانہ امارت میں آپ دمشق کی جامع مسجد میں خطبہ دے رہے تھے
اور آپ کے کپڑوں پر پیوندلگے ہوئے تھے…
سبحان اللہ
! یہ حالت تھی لاکھوں مربع میل پر حکومت کرنے والے عظیم انسان کی…
٢ آپ
رضی اللہ عنہ کو نماز اور قرآن پاک کے ساتھ بہت شغف اور تعلق تھا اور آپ کی نماز
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بہت مشابہ تھی…
رضی
ﷲ تعالیٰ عنہ وارضاہ
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللّٰھم
صل علٰی سیّدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
آج
رجب المرجب۱۴۳۴ھ کی
آخری رات ہے… کل مغرب سے ان شاء اللہ ’’شعبان المعظم‘‘ کا
مہینہ شروع ہو جائے گا… رجب اور شعبان کے مہینوں سے رمضان المبارک کی خوشبو آتی
ہے… اُمت مسلمہ اچھے کی آس اور امید میں ہے… ان
شاء اللہ یہ اُمید ضرور پوری ہوگی… برما کے حالات پڑھنا،
سننا اور لکھنا بے حد مشکل ہے… ظلم،بہت ہی بڑا ظلم، اُن کے لئے دل دعائیں مانگتا
ہے اور بازو کچھ کر گزرنے کو مچلتے ہیں… شام کے حالات بھی انتہائی دردناک ہیں…
ایران اور حزب اللہ نے مظالم کی حد کر دی ہے… اور بشار
الاسد تو ہے قاتل ابن قاتل… اللہ تعالیٰ اس قاتل کو مقتول
بنائے کہ مسلمانوں کو راحت ملے… باتیں اور بھی بہت ہیں… مگر آج اپنے ایک مرحوم
دوست اور ایک مرحوم بزرگ کا تذکرہ… ڈاکٹر جمیل کاشف صاحب ہماری جماعت کا قیمتی
اثاثہ تھے… الحمدللہ کئی مسلمانوں نے جماعت سے فائدہ اٹھایا… بعض تو
ایسے ہیں جو کسی عہدے پر نہیں… مگر ابتداء سے لے کر اب تک جماعت کی تمام کتابیں،
تمام مضامین اور تمام مکتوبات انہوں نے پڑھے… ہر مہم میں پورا حصہ لیا… ہردعوت پر
لبیک کہی… اور ہر پیغام کو قبول کیا… یہ وہ حضرات و خواتین ہیں جو اس بات کو سمجھ
چکے ہیں کہ جماعت ایک دینی نعمت ہے، ایک دینی کام ہے… اور جماعت اُن کے لئے خیر
اور نیکی کی رہنما ہے… اُن کو اس بات کی کوئی پرواہ کبھی نہیں رہی کہ جماعت میں
کون آیا اور کون گیا… وہ جانتے ہیں کہ بیعت صرف ایک سے ہوتی ہے اور بیعت کا مطلب
کیا ہے… ایسے لوگ ہمیشہ خوش، مطمئن اور آسودہ رہتے ہیں اور جماعت کے ذریعہ ملنے
والی نعمتوں سے جھولیاں اور نامہ اعمال بھرتے رہتے ہیں… کلمہ کی آواز لگی تو
انہوں نے اُس دن کے بعد سے ایک دن بھی بارہ سو بار کلمہ کا ناغہ نہ کیا… نمازکی
آواز لگی تو انہوں نے تکبیرِ اولیٰ کے چلّوں سے اپنا نامہ اعمال وزنی کرنا شروع
کر دیا… رنگ و نور میں جو دعاء بھی شائع ہوئی انہوں نے لپک کر سینے سے لگالی اور
اپنے اعمال میں سجا لی… انفاق فی سبیل اللہ کی آواز لگی تو
انہوں نے عطیات، صدقات اور خیرات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا… اور جہاد تو الحمدللہ جماعت کی بنیادی دعوت ہے جس کے ساتھ یہ حضرات و
خواتین ایمانی جذبے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں… اللہ تعالیٰ اس
گلشن کی حفاظت فرمائے اور اسے ایمان اور تقویٰ کی بنیادوں پر قائم رکھے… ڈاکٹر
جمیل کاشف صاحب بھی ایسے افراد میں شامل تھے جن کے نزدیک جماعت، دنیا نہیں آخرت
کے لئے تھی… وہ پہلی ملاقات ہی میں آنکھوں کو بھا گئے اور پھر تیرہ سال تک کبھی
آپس میں کوئی رنج و شکوہ نہیں ہوا… وہ آخری سانس تک کام سے جڑے رہے اور الحمدللہ انہیں آخری وقت بہترین انداز میں’’ کلمہ طیبہ‘‘
نصیب ہوا… اُن کو بہت شوق تھا کہ میرے درد کمر کا اپنے ہاتھوں سے علاج کریں… بار
بار کئی ذرائع سے انہوں نے پیغام بھیجا… اُن کی بے چینی سے یوں لگتا تھا کہ درد
مجھے نہیں اُنہیں ہے… انتقال سے محض چار پانچ دن پہلے پھر اصرار کیا… مگر بندہ
مسافر و مجبور، اپنے محبت کرنے والے دوستوں کو دعائیںہی دے سکتا ہے… اُن کے اچانک
انتقال کی خبر سے بہت صدمہ ہوا… آج الحمدللہ پورے ملک کے تمام ساتھیوں نے اُن کے ایصال ثواب
کی مجالس قائم کی ہیں… عجیب خوش نصیبی ہے کہ… جو بھی ڈاکٹر صاحب کا تذکرہ کرتا ہے
تو اُن کے احسانات کو یاد کرتا ہے… ابھی پیغام ملا کہ جب ڈاکٹر صاحب رحمۃ اللہ
علیہ کو ہسپتال لیجایا جارہا تھا تو انتقال سے چند لمحات پہلے انہوں نے
اپنے مال میں سے جماعت کے لئے وصیت کی… حالانکہ نہ مالدار تھے نہ تاجر و سرمایہ
دار… اور پیچھے چھوٹے چھوٹے بچے… مگر دین اور جماعت کی محبت اور نیکی کرنے کا جذبہ
اُس وقت بھی قائم تھا جب لوگ سب کچھ بھول جاتے ہیں… اور موت کی گرمی اُن کو پگھلا
رہی ہوتی ہے… اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ بہت مغفرت،
اکرام اور رحمت والا معاملہ فرمائے… مجھے الحمدللہ حقیقت میں اُن سے محبت
فی اللہ تھی… اُن کے گھر والے اور بچے غمزدہ تو بہت ہیں مگر
اُن کو اپنے مستقبل کے حوالے سے ہرگز تشویش نہیں رکھنی چاہئے… ایسے صالح اور
ولی اللہ مسلمانوں کے بچوں کی کفالت، حفاظت اور
تربیت… اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت اکرام کے ساتھ ہوتی ہے…
ڈاکٹر صاحب نے مال نہیں بنایا، اللہ تعالیٰ سے دوستی بنائی
اور اللہ تعالیٰ ہی سب کے رزاق، کفیل، وکیل اور ربّ
العالمین ہیں…
ڈاکٹر
صاحب! آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی اوررحمت
ہو… اللہ تعالیٰ ہماری اور آپ کی مغفرت فرمائے… آپ آگے
چلے گئے ہم ان شاء اللہ پیچھے آتے ہیں ہم
سب اللہ تعالیٰ کے ہیں… اور ہم سب
نے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے…
انا
للہ وانا الیہ راجعون… اللّٰھم اجرنی فی مصیبتی واخلف لی خیرا منھا
اب
تذکرہ مرحوم بزرگ ہستی کا… جی ہاں! حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب
نور اللہ مرقدہٗ اُن کے ساتھ وابستہ یادوں کو
ایک کالم میں سمیٹنا بہت مشکل ہے… کئی سال تک اُن سے بہت قریبی تعلق رہا… آٹھ دن
تک ایک سفر میں بھی رفاقت رہی… اس سفر کا روٹ کچھ یوں تھا کہ کراچی سے پشاور،
پشاور سے بنوں، بنوں سے میران شاہ… میران شاہ سے افغانستان کا سرحدی علاقہ ژاور…
ژاور سے خوست، خوست سے گردیز… اور پھر اسی روٹ سے کراچی تک واپسی… ایسا دلکش اور
ہرا بھرا سفر کہ واپسی پر بندہ نے اس کی مفصّل روئیداد لکھی جو ماہنامہ صدائے
مجاہد میں شائع ہوئی… اس سفر کی چند دلچسپ جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں…
ذہن
سازی شروع ہو گئی
کراچی
سے پشاورکی پرواز علی الصبح تھی… فجر کی نماز ائیرپورٹ کے لاؤنچ کی مسجد میں ادا
کی… امامت کے لئے حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے بندہ کو آگے دھکیل دیا… بندہ
نے دونوں رکعتوں میںجہادی مضامین کی آیات پڑھیں… سلام پھیرتے ہی حضرت بہت گہرا
مسکرائے اور تمام حاضرین کو مخاطب کر کے فرمایا… لو بھائی! ائیر پورٹ سے ہی ہماری
ذہن سازی شروع کر دی گئی ہے… حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی گہری مسکراہٹ وہ
ہوتی تھیں جن میں حضرت کی آنکھیں اُن کے ہونٹوں سے بھی زیادہ مسکراتی تھیں…
بعدما
أماتنا
پشاور
سے بنوں کا سفر پی آئی اے کہ ایک پرانے فوکر پر تھا… راستے کا موسم بھی خراب تھا…
فوکر نے خوب قلابازیاں کھائیں…کبھی بادلوں سے الجھ جاتا تو کبھی دھڑام سے کچھ نیچے
ہوجاتا… حضرت رحمۃ اللہ علیہ ذکر میں مشغول رہے… بالآخر فوکر
بنوں پر اُتر گیا، جیسے ہی وہ رکا تو حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی آواز
گونجی
الحمدللہ
الذی أحیانا بعد ما أماتنا
’’تمام
تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں، جس نے ہمیں موت کے بعد
زندگی عطاء فرمائی‘‘
یہ
دعاء سنتے ہی جہاز کے اندر ماحول خوشگوار ہوگیا… اور کئی افراد جو زیادہ خوفزدہ
تھے اب زور زور سے ہنس رہے تھے…
ھدایا
کا ذوق
کراچی
سے پشاورکی پرواز میں حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے بندہ کو اپنے ساتھ والی
سیٹ پر بٹھا لیا… اور خادم خاص کچھ فاصلے پر چلے گئے… فرمایا: ہمیں مولانا! سے کچھ
کام ہیں… ماشا ء اللہ اس سفر میں ایسی دلچسپ گفتگو ہوئی کہ
معلوم ہی نہ ہوا اور دو گھنٹے گذر گئے… ایک تو اختیاری مال کا مسئلہ سنایا… فرمایا
:ہمارے کچھ دوستوں نے ہم کو کچھ رقم دی ہے اور اختیار دیا ہے کہ ہم جس کو چاہیں دے
دیں… اب ہم اس رقم کے بارے میں آزاد ہیں کہ اپنی ذات کے علاوہ جس کو چاہیں دے
سکتے ہیں… جہاد میں تو بہت لوگ دیتے ہیں مگر مجاہدین کے جو ذمہ دار ہوتے ہیں، جن
سے سارا کام چلتا ہے آخر اُن کے بھی تو کچھ اخراجات ہوتے ہیں… کبھی چھت ٹپک گئی،
کبھی گھر میں کوئی بیمار پڑ گیا… اب اگر اُن کے پاس حلال مال نہیں ہوگا تو جو
کمزور ہیں وہ خیانت کر بیٹھیں گے جس سے اُن کا جہاد خراب ہو جائے گا… اور جو عزم
والے ہیں وہ تکلیف اٹھائیں گے… اس لئے ہم تو یہ ساری رقم مجاہدین کے ذمہ داروں کو
دیں گے… آپ نام بتاتے جائیں ہم لفافے بناتے جائیں گے… پھر کئی لفافے بنائے اُن پر
خود نام تحریر فرمائے… پھر خوب گہرا مسکرا کر فرمایا اب ایک اہم لفافہ آرہا ہے…
ایک لفافے میں پانچ ہزار روپے ڈالے اور اس پر لکھا… برائے نکاح حضرت مولانا………یعنی
آگے بندہ کا نام… فرمایا اب نکاح بھی ہوجائے گا…
اپنے
مرشد کا تذکرہ
حضرت
شیخ مولاناعبدالغنی پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ سے حضرت حکیم صاحب رحمۃ
اللہ علیہ کا عجیب تعلق تھا… شائد ہی کسی مرید نے اپنے شیخ کے ساتھ اس
زمانے میں ایسی محبت یا وفا کی ہو جو حضرت حکیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے
حضرت پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ سے کی… مسلسل سولہ سال ان کی خدمت میں
ایک غلام اور نوکر کی طرح رہے… اور خو د کو ایسا مٹایا کہ پھر اس مٹانے پر یہ شان
پائی کہ آپ کا جنازہ دیکھ کر حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ
علیہ کے جنازے کی یادیں تازہ ہو گئیں… سفر جہاد کے دوران بھی حضرت
پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ کا تذکرہ… مسلسل جاری رہا، خصوصی طور پر اُن
کے شوق جہاد اور ان کی حربی مہارت کا والہانہ تذکرہ فرما کر دلوں کو گرماتے رہے…
بس
آج اس سفر کی یہ چند جھلکیاں کافی ہیں… دراصل ا للہ تعالیٰ نے ہم پر یہ احسان
فرمایا کہ اُن دنوں حضرت حکیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ قُرب اور
تعلق عطا ء فرمایا جن دنوں اُن کے گرد زیادہ رش اور بھیڑ نہیں تھی… الحمدللہ
گھنٹوں کے حساب سے کھلا وقت ملتا… کئی دفعہ بندہ کے ساتھ خانقاہ سے مدرسہ بھی
تشریف لے جاتے … اُن دنوں بندہ کے پاس ایک وقف گاڑی ہوتی تھی… سارا راستہ علمی اور
روحانی نکتے اور مفید مزاح کا سلسلہ جاری رہتا… ایک بار دہلی کالونی بھی تشریف
لائے… شمیم مسجد میں ہونے والے اس بیان کو لوگوں نے بہت شوق، خوشی اور حیرت سے
سنا…حیرت اس پر کہ ماشاء اللہ بہت عمدہ بیان فرماتے تھے… الفاظ کو قافیہ بندی اور
تسلسل کے ساتھ جوڑنا، ہر مضمون کو ایک خلاصے میں قید کر لینا… برموقع اشعار پڑھنا…
ایک لمحہ ایسا لطیفہ کے قہقہے ہی قہقہے اور دووسرے لمحے خود حضرت کی آنکھوں کے
آنسو داڑھی کی طرف رواں… اور مجمع کے سر بھی گھٹنوں میں… بندہ ایک بار ایک مفتی
صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں لے
کر گیا… وہ غالباً پہلی بار آئے تھے… حضرت نے دومضامین بیان فرمائے… وہ مفتی صاحب
میرے کان میں کہنے لگے… یہ ہیں متکلم، بالکل متکلم اسلام… کوئی بولے تو ایسا بولے…
اس
پر ایک لطیفہ یاد آگیا… کئی بار ایسا ہوتا کہ ملاقات کے دوران کھانے کا وقت ہو
جاتا تو حضرت رحمۃ اللہ علیہ کھانا منگوالیتے… صفائی، سلیقہ، طب، حکمت
اورطرح طرح کی نعمتیں اُن کے دسترخوان پر نظر آتی تھیں… ایک بڑی عمر کے بزرگ بھی
ایک ڈونگے کو احتیاط سے تھامے ہوئے کھانے میں شریک ہوجا تے تھے… وہ اُس ڈونگے کو
حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے رکھ کر کھول دیتے… ایک بار حضرت خوب
مسکرائے اور فرمایا!ہم الحمدللہ ہر مضمون بیان کرلیتے ہیں مگر ایک مضمون ہم سے
ٹھیک طرح بیان نہیں ہو پاتا… معلوم ہے وہ کونسا مضمون ہے؟ پھر خود فرمایا!وہ مضمون
یہ ہے کہ یہ صاحب جو پکوان اس برتن میں لاتے ہیں وہ صرف ہمارے لئے ’’خاص ‘‘ ہوتا
ہے… ہم نے بہت کوشش کی مگر ایسے الفاظ اور دلائل نہیں مل پاتے کہ یہ مضمون سمجھا
سکیں…سب حاضرین ہنسنے لگے حضرت نے اُس پکوان میں سے ایک ایک چمچ سب کو تقسیم کیا…
وہ ان باباجی کا کوئی طبّی قیمتی پکوان تھا…جو بڑی محنت اور خرچے سے تیار ہوتا تھا
اور صحت کے لئے نافع تھا… ا للہ تعالیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو بہت
جزائے خیر عطاء فرمائے انہوں نے بہت شفقتیں فرمائیں… اور بہت کچھ سمجھایا اور
سکھایا… الحمد للہ اُمت مسلمہ کو حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی ذات سے بہت
فائدہ پہنچا… اُن کے مواعظ، اُن کی تصنیفات اور اُن کی مجالس سے بے شمار انسانوں
کور وشنی ملی… حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی یادوں اور باتوں کا ایک پورا
ذخیرہ الحمدللہ بندہ کے دل و دماغ میں محفوظ ہے… بندہ نے ابتداء میں جو
’’رسائل‘‘لکھے ان میں مصنف کے نام کے ساتھ ’’مولانا‘‘ نہیں لکھا جاتا تھا… ایک بار
حضرت نے بلوایا اُن کے ہاتھ میں چند رسائل تھے… پہلے تو اُن کی تعریف اور بندہ کی
حوصلہ افزائی فرمائی… پھر فرمایا کہ آپ سے تعارف سے پہلے ہم نے یہ پڑھ لئے تھے،
بہت پسند آئے مگر ہم ڈرتے رہے کہ لکھنے والا کوئی مستند عالم ہے یا کوئی بابو؟…
آپ اپنے نام کے ساتھ مولانا لکھا کریں… اُن کے حکم پر اگلے ایڈیشن میںمولانا کا
اضافہ کر دیا گیا… حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے ہمیں تو’’مولانا‘‘ بنا دیا
مگر ہم سے ایک بار یہ غلطی ہوئی کہ صدائے مجاہد کے سرورق پر اُن کے نام کے ساتھ
’’مولانا‘‘ نہیں لکھا… تب حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے تو کچھ نہیں فرمایا
البتہ اُن کے خادم خاص جناب میر صاحب نے خوب احتجاج کیا… اور فرمایا! ہمارے شیخ
جاہل صوفی نہیں بلکہ الحمدللہ عالم ہیں… میر صاحب کی بات بالکل ٹھیک تھی… حضرت حکیم
صاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنے اکابر کی محبت میں منجھے ہوئے مستند عالم دین
تھے… وہ عربی عبارات بہت سلیقے سے پڑھا کرتے تھے… فتاویٰ کے معاملے میں ان کی شرط
تھی کہ مفتی بھی ہو اور متقی بھی ہو… ایک بار کچھ عربی مہمانوں کوحضرت رحمۃ اللہ
علیہ کے پاس لے کر گیا تو ماشاء اللہ بہت عمدہ عربی میں اُن سے گفتگو
فرمائی…
آہ!
حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی چلے گئے…
اللّٰھم
لا تحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ
سب
نے جانا ہے… سب ہی چلے جائیں گے… ا للہ تعالیٰ ہم سب کو ایمان کامل کے ساتھ حسن
خاتمہ نصیب فرمائے… آمین
سبحان
ﷲ والحمدللہ، ولا الہ الا ﷲ وﷲ اکبر
ولا
حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
ایک ہے، اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے، نہ کوئی اُن سے پیدا ہوا
اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوئے… اور کوئی بھی اُن جیسا یا اُن کے برابر نہیں…
سبحان
ﷲ، والحمدللہ، لاالہ الا ﷲ، وﷲ اکبر
شیطان
شکن نعرہ
شیطان
بڑی محنت سے انسان کے دل میں بہت بُرے وساوس ڈالتا ہے… کبھی کفریہ وسوسے، کبھی
مایوسی کے وسوسے اورکبھی خطرناک گناہوں کے… ایسے وسوسے کہ انسان اوندھا گر جاتا ہے
کہ میں کتنا ناکام انسان ہوں کہ ایسی باتیں سوچتا ہوں… حضرت آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم نے سمجھایا کہ اللہ کے بندو! ایسے
وسوسے تو اس بات کی علامت ہیں کہ تم ایمان والے ہو… پس خوشی میں نعرہ لگاؤ اور وہ
بھی تین مرتبہ… اللہ اکبر.....اللہ اکبر.....اللہ اکبر .....
حضرت
شہر بن حوشب فرماتے ہیں کہ میں اپنے ماموں کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ
عنہاکی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا… ہم میں سے کسی کے دل میں ایسی بات آتی ہے
کہ اگر وہ اُسے کہہ دے تو اس کی آخرت برباد ہو جائے اور اگر وہ بات(لوگوں کے
سامنے) ظاہر ہو جائے تو اس کی وجہ سے قتل کر دیا جائے… یہ سن کر حضرت عائشہ
صدیقہ رضی اللہ عنہانے تین بار تکبیر کہی… اللہ اکبر.....اللہ
اکبر.....اللہ اکبر .....
پھر
فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی
بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اگر
تم میں سے کسی کو ایسی صورت پیش آئے تو وہ تین بار تکبیر کہے کیونکہ ایسے خیالات
صرف ایمان والوں کو ہی آتے ہیں۔ (الادب المفرد)
لیجئے!
وساوس کا علاج مدینہ منورہ سے آگیا…
تین
بار پورے ایمان کے ساتھ اللہ اکبر.....اللہ اکبر.....اللہ اکبر ...… علاج اور بھی
کئی ارشاد فرمائے ہیں… ایک روایت میں فرمایا: اٰمنت باللہ ورسلہ کہہ دو… یعنی جیسے
ہی شیطان نے وسوسے کا تیر دل پر چلایا فوراً کہہ دو
اٰمَنْتُ
بِاللہِ وَرُسُلِہ
کہ
میں ایمان لایا اللہ تعالیٰ پر
اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں پر…
ایک
اور حدیث میں سمجھایا کہ وسوسہ کا حملہ ہو تو فوراً کہو
قُلْ
ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ اَللٰہُ الصَّمَدُ
پوری
سورۃ ہی پڑھ لیں اور بائیں طرف تھوک دیں اور اللہ تعالیٰ کی
پناہ مانگیں…
اَعُوْذُ
بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم
یاد
رکھیں!وسوسے سے نہ وضو ٹوٹتا ہے، نہ روزہ ٹوٹتا ہے، نہ کوئی حد یا سزا جاری ہوتی
ہے… نہ ایمان ختم ہوتا ہے اور نہ دین میں فرق پڑتا ہے… لیکن اگر وسوسے کو پکا دل
میں بٹھالیا… یا اپنا عمل بنا لیا یا اپنی کم علمی کی وجہ سے وسوسے کو الہام سمجھ
کر دھوکے میں پڑ گئے تو پھر خطرناک ہے بہت خطرناک… اس لئے ضرورت ہے کہ کلمہ طیبہ
پکا کریں… دین کا علم سیکھیں اور خود کو بے کار اور فارغ نہ چھوڑیں…
ماشاء اللہ رمضان المبارک کا کمائی والا مہینہ آرہا ہے…
پیشگی
تیاری
ایک
آسان سی بات سمجھیں… انسان کو دُنیا میں ’’عبادت‘‘ کے لئے بھیجا گیا…
وَمَا
خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ
عبادت
کا معنیٰ… اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری، تابعداری… جو حکم
بھی اللہ تعالیٰ نے دیا اُسے بجا لانا… انسان
کو اللہ تعالیٰ نے ایک محدود سی عمر دی ہے… بالغ ہونے کے
بعد کی عُمر میں جوٹھیک ٹھیک’’عبادت‘‘ کر لے گا وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کامیاب ہو
جائے گا… کسی کے پاس دس سال ہیں کسی کے پاس بیس سال… اور کسی کے پاس
کچھ کم ، کچھ زیادہ… ایمان بھی عبادت، نماز بھی عبادت، روزہ، حج، جہاد بھی عبادت…
حرام سے بچنا بھی عبادت… وغیرہ وغیرہ…اب جو انسان مرجاتا ہے اُس کا نامۂ اعمال
بند ہوجاتا ہے… مگر کچھ عقلمند انسان ایسے ہیں جو ایسی نیکیاں کر جاتے ہیں کہ… وہ
خود تو مر جاتے ہیں مگر ان کی ’’عبادت‘‘ جاری رہتی ہے… سبحان اللہ !
زندہ تھے تب بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت… اور مر گئے اب بھی
عبادت جاری ہے… ایسے لوگ بڑی کامیابی پاجاتے ہیں…
اسے
ایک حکایت کی روشنی میں سمجھیں… کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ایک نبی علیہ
السلام کی خدمت میں ایک چھوٹا سا بچہ حاضر ہوا اور کہنے لگا…
حضرت! میرے لئے مالداری کی دعاء فرما دیجئے… یعنی میں ’’مالدار‘‘ بن جاؤں…
نبی علیہ السلام نے بچے کا امتحان لینے کے لئے پوچھا کہ… تم
اپنی زندگی کے پہلے تیس سال مالدار ہوناچاہتے ہو یا آخری تیس سال؟… بچہ بہت ذہین
تھا کہنے لگا حضرت سوچ کر عرض کرتا ہوں… واقعی سوچنے کی بات تھی کیونکہ جوانی میں
مال انسان کے بہت کام آتا ہے… مگر بڑھاپے میں انسان مال کا زیادہ محتاج ہوتا ہے…
جوانی میں مال حاصل کرنے کی استعداد اور صلاحیت انسان میں ہوتی ہے… جبکہ بڑھاپے
میں یہ صلاحیت موجود نہیں رہتی… جوانی میں انسان کے پاس ما ل نہ ہو تو زندگی کی
ساری اُ منگیںادھوری رہ جاتی ہیں… لیکن اگر بڑھاپے میں انسان کے پاس مال نہ ہو تو
اپنی اولاد بھی پہچاننے سے انکار کر دیتی ہے… الغرض دونوں طرف کے دلائل موجود تھے
اور زیادہ دلائل اس بات کے تھے کہ زندگی کے آخری حصے میں انسان کے پاس مال ہو تو
آسانی رہتی ہے… کیونکہ بڑھاپا اور غربت دو عذاب اکٹھے ہو کر انسان کو توڑ دیتے
ہیں… لو گ یہی سمجھ رہے تھے کہ بچہ ذہین ہے اور وہ زندگی کے آخری تیس سالوں کے
لئے ’’مالداری‘‘ کی دعاء کرائے گا… اگلے دن بچہ حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ حضرت!
زندگی کے پہلے تیس سالوں کے لئے مالداری کی دعاء فرمادیں… سب لوگ حیران رہ گئے کہ
اس نادان نے اپنے بڑھاپے کو خرا ب کر دیا… جبکہ بچے کی دلیل یہ تھی کہ پیسہ تو
جوانی ہی میں کام آتا ہے… اور یہ بھی معلوم نہیں کہ عمر کتنی ہے… مگر اصل بات اُس
بچے کے دل میں پوشیدہ تھی… لوگوں نے تاریخ لکھ لی کہ تیس سال بعد اس بچے کو دیکھیں
گے کہ… غربت و فقیری میں کہاں تک گرتا ہے… تیس سال گزر گئے… لوگوں نے جا کر دیکھا
تو وہ پہلے سے بھی زیادہ مالدار، خوشحال اور ہشاش بشاش تھا… لوگوں نے
پیغمبر علیہ السلام کو جا کر بتایا انہوں
نے اللہ تعالیٰ سے دعاء مانگی کہ… یاا ﷲ! آپ نے تیس سال
مالداری کا وعدہ فرمایا تھا مگر وہ اس کے بعد بھی مالدار ہے… جواب آیا کہ جا کر
پتا کریں کہ اُس نے مالداری والے تیس سال کیسے گزارے؟… پیغمبر علیہ
السلام نے تحقیق فرمائی تو معلوم ہوا کہ وہ شخص جیسے ہی مالدارہوا اُس
نے نیکی اور سخاوت کے دونوں ہاتھ پوری طرح کھول دیئے… وہ صرف غریبوں کی مدد ہی
نہیں کرتا تھا بلکہ غریبوں کو پورے پورے کاروبار کرا کے دے دیتا… یتیموں کی کفالت
کرتا، یتیم بچیوں کی شادیاں کراتا… اور عبادت اور نیکی کے کاموں میں خرچ کرنے میں
تو اس کی کوئی حد ہی نہیں تھی…بس خیر اور نیکی نظر آتے ہی بے تحاشا مال خرچ کرتا…
گویا اس نے اپنے مالداری کے ایام میں ایسی انویسٹمنٹ کر لی تھی کہ…
آسمانی خزانوں کے دروازے بھی اُس کے لئے کھل گئے… اب تیس سال تو کیا وہ مزید جتنا
بھی زندہ رہتا اس کے لئے کمی کاکوئی اندیشہ نہیں تھا… اور اس کی آخرت بھی سنور
گئی… یہی حال انسان کی عمر کا ہے… زندگی کے اوقات کو اگر قیمتی بنایا جائے ، سستی
اور غفلت میں عمر ضائع نہ کی جائے تو یہ عمر اتنی لمبی ہوجاتی ہے کہ انسان کے مرنے
کے بعد بھی… اُس کا اصل کام(یعنی ’’عبادت‘‘ کا عمل) جاری رہتاہے… اور قیامت تک اُس
کے نامۂ اعمال میں نیکیاں جمع ہوتی رہتی ہیں… ایسے اعمال کو’’صدقہ جاریہ‘‘ کہا
جاتا ہے… حدیث شریف میں کئی اعمال کو ’’صدقہ جاریہ‘‘ قرار دیا گیا ہے… علامہ عبد
الباقی الخلیلی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے پانچ اشعار میں چند ایسے اعمال
شمار کئے ہیں…
اذا
مات ابن آدم جاء یجری
*
علیہ
الأجر عدّ ثلاث عشر
وراثۃ
مصحف ورباط ثِغر
*
وحفر
البئر أو اجراء نھر
وبیت
للغریب بناہ یأوی
*
الیہ
اوبناء محل ذکر
و
تعلیم لقرآن کریم
*
شہید
للقتال لأجر بتر
کذا
من سنّ صالحۃ لینفضی
*
فخذھا
من أحادیث بشعر
یعنی
جب انسان مرجاتا ہے تو یہ چند اعمال ایسے ہیں جن کا اجر اُس کے لئے جاری رہتا ہے…
١ وراثت
میں قرآن کریم کا نسخہ چھوڑ جانا… یعنی قرآن مجید کی کتابت کی اور وہ چھوڑ گیا…
یا اپنی اولاد یا کسی کو قرآن مجید کا نسخہ دے گیا۔
٢ اسلامی
سرحد کی جہادی پہرے داری کرنا… جہاد میں رباط یعنی پہرے داری کی بہت فضیلت ہے
کیونکہ یہ بہت مشکل ، صبر آزما اور محنت طلب کام ہے… اور اس کے فوائد بے شمار
ہیں… جہاد میں پہرے داری کرنے والا چونکہ پورے اسلام کی حفاظت کرتا ہے اس لئے اُسے
دنیا بھر میں ہونے والے تمام نیک اعمال کا اجر ملتار ہتا ہے… اور مرنے کے بعد بھی
جاری رہتا ہے… یعنی جب تک اسلام رہے گا اس کا عمل جاری رہے گا…
٣ کنواں
کھودنا اورجاری کرنا…
٤ نہر
جاری کرنا…
٥ مسافروں
کے لئے گھر بنانا جہاں وہ رہا کریں…
٦ ذکر اللہ کے
لئے کوئی جگہ بنانا یعنی مسجد، مدرسہ وغیرہ…
٧ قرآن
مجید کی کسی کو تعلیم دینا…
٨ جہاد
میں سچی نیت سے شہید ہونا…
٩ نیکی
کا کوئی کام جاری کر جانا وغیرہ وغیرہ…
یہ
فہرست کافی طویل ہے… اللہ کرے مسلمان سورہ بقرہ کو سمجھیں
اس میں کامیابی کے بڑے بڑے راز چھپے ہوئے ہیں بار بار تلاوت، بار بار پڑھنے اور
پڑھانے سے اور دعاء مانگنے سے وہ راز کھلتے جاتے ہیں… انسان جو مال بھی دل کی خوشی
سے کسی اچھے کام میں خرچ کرتا ہے وہ مال اُسے ضرور واپس لوٹایا جاتا ہے… اصل اجر
تو آخرت میں ملے گا، دنیا میں بھی تنگی نہیں آتی… یہ راز بہت سلیقے سے سورہ بقرہ
نے سمجھایا… اب اگر دنیا بھر کے مسلمان اس راز کو سمجھ کر اس پر عمل کریں تو کیا
مجاہدین کو چندہ مانگنا پڑے گا؟… مساجد کے لئے جھولیاں پھیلانی پڑیں گی؟… مدارس کے
لئے مالداروں کے دروازوں پر جانا پڑے گا؟… ہر گز نہیں… مسلمانوں کے پاس کھربوںڈالر
ہیں… وہ یہ لگا دیں تو دنیا میں اُن کو کئی گنا زیادہ ملے گا… اور آخرت میں بے
شمار… دنیا میں جو ملے اُسے وہ پھر لگا دیں… یہی سلسلہ چلتا رہے تو ہر طرف کتنی
خیر و برکت نظر آئے… مگر چونکہ یہ راز ہے اس لئے لوگ نہیں سمجھتے اور جمع کرنے کی
فکر میں پڑے رہتے ہیں… خیر… رمضان المبارک آرہا ہے… کچھ پیشگی تیاری کر لی جائے…
سب سے پہلے نمازوں کا معاملہ درست ہو جائے… ابھی سے تکبیر اولیٰ کی پابندی… تلاوت
میں قابل قدر اضافہ ہو جائے… شعبان میں چند روزے رکھ کر اپنے بدن کو تیاری کا کہہ
دیا جائے… عید کی خریداری شعبان میں کر لی جائے تاکہ رمضا ن المبارک کے آخری عشرے
کے قیمتی اوقات ضائع نہ ہوں… اور ر مضان المبارک میں جہاد فی سبیل اللہ
… اور دیگر دینی کاموں میں زیادہ سے زیادہ مال لگانے کی ابھی سے ترتیب بنالی جائے…
اَللّٰھُمَّ
بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَ شَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَان
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
جسے چاہتے ہیں’’ہدایت‘‘ عطاء فرماتے ہیں…
یا
اللہ یا ھادی اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ
ہدایت
کی دعاء ہم روز مانگتے ہیں… ایک بار نہیں بلکہ بار بار… نماز کی ہر رکعت میں سورۂ
فاتحہ کے ذریعہ’’ہدایت‘‘ کی دعاء ہر مسلمان مانگتا ہے…
اِھْدِنَا
الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ
کیا
ہر کسی کو’’ہدایت‘‘ مل جاتی ہے؟… بڑے بڑے گمراہ لوگ، جن کی گمراہی میں شک کرنا بھی
گناہ ہے… وہ بھی عمر بھر کہتے رہے… اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ…
کعبہ
شریف جیسی مقدس جگہ… خیر القرون جیسا بہترین زمانہ اور حضرات صحابہ کرام رضوان
اللہ علیہم اجمعین جیسے ہدایت کے ستارے جس وقت چاروں طرف جگمگا رہے تھے… اس وقت
تین افراد کعبہ شریف میں بیٹھ کر قرآن عظیم جیسی کتاب پر حلف لے رہے تھے کہ… ہم
نے حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو قتل کرنا ہے… اس وقت
اسلام اور مسلمانوں کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ نعوذباللہ حضرت علی رضی
اللہ عنہ ہیں…تینوں خبیث مجرم باوضو تھے، قرآن کے قاری تھے اور بہت
عبادت گزار بھی…مگر مشورہ یہ چل رہا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ
عنہ کو شہید کرنا ہے… حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو
شہید کرنا ہے… ان میں سے کسی کو ایک رائی کے دانے برابر بھی اپنی حقانیت میںشک
نہیں تھا… انہیں یقین کامل تھاکہ وہ حق پر ہیں، وہ سچے ہیں اور وہ اسلام کی ایک
بڑی تاریخی خدمت کرنے جارہے ہیں…
میرے
آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہی خبر ارشاد فرما دی تھی کہ سابقہ
امتوں میں بڑا بدبخت اور شقی انسان وہ تھا جس نے حضرت صالح علیہ
السلام کی اونٹنی کو قتل کیا تھا… اور اس اُمت کا بڑا بدبخت اور
شقی وہ ہو گا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سر کے خون سے ان
کی داڑھی کو تر کرے گا… مگر اس شقی، بدبخت اور ناکام انسان کو مکمل یقین تھا کہ وہ
’’برحق ‘‘ ہے… وہ ہدایت یافتہ ہے اور وہ بڑا نیک انسان ہے… اس بدنصیب نے زندگی بھر
عبادت کی مشقت بھی اٹھائی اور پھر ایسا بھیانک جرم کر کے مرا کہ جھلستی آگ نے اُس
کا استقبال کیا… کیا وہ سورہ فاتحہ نہیں پڑھتا تھا؟… کیا وہ دن اور رات میں کئی
بار یہ دعا ء نہیں مانگتا تھا کہ…اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ…
ہاں
وہ سورہ فاتحہ پڑھتا تھا… ’’اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ‘‘ کی دعاء بھی
مانگتا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اس کی دعاء قبول نہیں
فرمائی… اس کی ہر دعاء واپس اُس کے منہ پر مار دی گئی … مرزا قادیانی بھی سورہ
فاتحہ پڑھتا تھا… اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ کی دعاء بھی مانگتا تھا
مگر نہ اس کی فاتحہ قبول ہوئی اورنہ اسکی دعاء قبول کی گئی…
آخر
کیوں؟… ایک وجہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مالک ہے، خالق ہے،
غنی اور صمد ہے… بے نیاز بادشاہ… بہت بڑا، بہت عظیم اور عرش عظیم کا مالک شہنشاہ
ہے… وہ جو چاہے کرتا ہے کوئی اُس سے پوچھ نہیں سکتا کہ ایسا کیوں کیا؟… او ر کوئی
اُسے یہ کہہ نہیںسکتا کہ ایسا کیوں نہیں کیا؟… وہ چاہے تو روئے زمین کے سب سے
متکبر کافر فرعون کی بیوی کے دل تک ہدایت کا نور پہنچا دے… اور چاہے توروئے زمین
کے سب سے پُرسوز اور محنتی ترین داعی حضرت نوح علیہ السلام کے
بیٹے کو محروم فرما دے قرآن پاک میں فرما دیا کہ وہ… فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ
ہے… جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے… لَایُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ… اُس سے پوچھنے کی کسی
کو مجال نہیں…انسانوں کے دعوے اور تکبر تو پانی کے بلبلوں کی طرح ہے…بڑے زبان دراز
لوگ جو اپنی دلیلوں کے زور سے اللہ تعالیٰ پر اعتراضات کر
کے محفلیں جماتے ہیں… چند ہی دن میں مرجاتے ہیں… جلنے والے بدبودار دھویں میں راکھ
ہوجاتے ہیں اور جو دفنائے جاتے ہیں… دفن کے چوبیس گھنٹے کے اندر اُن کے پیٹ اور
شرم گاہ میں ایسی بدبو پیدا ہوجاتی ہے کہ جانور بھی برداشت نہ کر سکیں… دو دن بعد
چہرہ پھول جاتا ہے… سات دن میں جسم کا رنگ سبز ہوجاتا ہے اور پورا جسم ایک خاص قسم
کے کیڑوں سے بھرجاتا ہے…کل پچیس سال میں… پورا انسان ریزہ ریزہ ہو کر غائب ہو جاتا
ہے … صرف ایک چھوٹی سی ہڈی باقی رہ جاتی ہے…
میں،
میں اور میں کرنے والوں میں سے ایک بھی زندہ نہیں اور جو زندہ ہیں وہ بھی سب
مرجائیں گے… اور ایک دن ایسا ہوگا کہ… سالہا سال تک زمین وآسمان اور کون ومکان
میں ایک ہی صدا گونج رہی ہو گی:
لِمَنِ
الْمُلْکُ الْیَوم
آج
کس کی بادشاہی ہے؟… آج کون ہے جو’’میں‘‘ کہہ سکے…
کوئی
نہیں، کوئی نہیں صرف:
لِلہِ
الْوَاحِدِ الْقَہَّار
صرف
ایک اللہ ، صرف ایک اللہ ، صرف ایک اللہ …
اللہ تعالیٰ
کی مرضی جب چاہے جس کی دعاء قبول فرما لے… اور جب چاہے جس کی دعا ردّ فرما دے… ایک
جواب تو یہ ہوا اور اس جواب سے یہ بات سمجھ آئی کہ… ہر انسان
کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا
چاہئے… اللہ تعالیٰ کاخوف بڑی نعمت ہے جو سعادت والوں کو
ملتی ہے… اللہ تعالیٰ کی عظمت اور بڑائی بیان کرنا… ہر
مسلمان کے ذمہ لازم ہے…
وَرَبَّکَ
فَکَبِّر
اور
اپنے رب کی بڑائی اور عظمت بیان کرو… اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبرکبیرا سب سے
پہلے اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت بٹھائی جائے… تب دل
سے اپنی ذات کا تکبر اور عجب نکلے گا… تھوڑی سی نیکی کر کے پھول جانا… تھوڑی سی
عبادت کرکے نخرے میں آجانا، اور تھوڑی سی قربانی دیکر آسمان کو سر پر اٹھانا یہ
انسان کو زیب نہیں دیتا … قرآن مجید دلوں کا علاج کرتا ہے وہ دکھاتا ہے کہ حضرات
انبیاء علیہم السلام اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑ
گڑا رہے ہیں… اور حضرات ملائکہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے تھر
تھر کانپ رہے ہیں… اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اتنی
محنت اور عبادت کے باوجود… یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ
اللہِ… اللہ تعالیٰ کے فضل کے اُمیدوار ہیں… ’’فضل‘‘ کا
مطلب یہ کہ ہمارا حق تو نہیں بنتا آپ احسان فرما کر رحمت فرمادیں… ہر وہ عبادت،
ہر وہ جہاد اور ہر وہ قربانی جو دل میں بڑائی پیدا کرے… وہ خطرناک ہے… وہ عبادت
نہیں زہر ہے جو روح تک اُتر جاتا ہے…ایسے لوگ چونکہ’’عبدیت‘‘ کے مقام سے ہٹ جاتے
ہیں… تو اس لئے نہ ان کی سورہ فاتحہ اوپر جاتی ہے… اور نہ ’’اِھْدِنَا الصِّرَاطَ
الْمُسْتَـقِيْمَ‘‘ کی دعاء… اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم
فرمانے والے نہیں ہیں… اللہ تعالیٰ سمیع الدعاء… اور مجیب
الدعوات ہیں… وہ خود فرماتے ہیں کہ مانگو میں عطاء فرمائوں گا… وہ لوگ جو اپنی
’’حقانیت‘‘ کے زعم میں مبتلا ہوتے ہیں وہ کہاں مانگتے ہیں؟… وہ تو نعوذباللہ خود کو ایسا سمجھتے ہیں
کہ جیسے دعاء نہ کر رہے ہوں نعوذباللہ حکم
دے رہے ہوں…ارے دعاء تو یہ ہوتی ہے کہ… مانگنے والا خود کو غلام سمجھے بندہ سمجھے…
خود کومحتاج اور مجبور سمجھے… اور اپنی روح میں تواضع اور انکساری بھرے… اُس کے
اندر تک اس بات کا یقین اُترا ہوا ہو کہ… میں غلام ہوں، بندہ ہوں، عاجز ہوں، خطا
کار ہوں… مجبور ہوں، لاچار ہوں… اور میں جس کے سامنے بیٹھا ہوں، اُن کے سامنے ایک
ذرّہ کے برابر بھی نہیں ہوں… میرا کوئی حق نہیں… وہ دیں تو اُن کا فضل وہ نہ دیں
تو اُن کا حق… میرا کام مانگنا ہے… اب ذرا اسی کیفیت میں ڈوب کر کہیں:
اِھْدِنَا
الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ
ارے
بھائیو اور بہنو! ایسی دعاء ان شاء اللہ ردّ نہیں ہوتی… آج
کسی بھی نماز کے بعد… اپنی روح میں عاجزی، مسکینی، تواضع اور محتاجی بھر
کر اللہ تعالیٰ کے حضو ر پانچ منٹ دعاء کر کے دیکھیں… ان
شاء اللہ آسمانوں کے دروازے بھی کھلتے محسوس ہو
گے…کوئی اللہ تعالیٰ کے سامنے حقیقی’’منگتا‘‘ یعنی بھکاری
بن کر تو دیکھے…لیکن جب روح میں تکبر بھراہو، خود پسندی بھری ہو… اپنی ذات کا غرور
بھرا ہو… اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر شکوے اور شکایتیں بھری
ہوں… دوسروں کے لئے حقارت اور نفرت بھری ہو… اللہ تعالیٰ کی
مخلوق کے لئے بُرائی اور فساد بھرا ہو… اپنے اعمال کاتکبر اور عجب بھرا ہو تو پھر
صرف زبان ہلانے اور الفاظ ادا کرنے سے تو کوئی چیز’’دعاء‘‘ نہیں بن جاتی…ایک واقعی
شریف آدمی جس نے زندگی میں کبھی بھیک نہ مانگی ہو… اچانک ایسا محتاج ہو جائے کہ
گھر میں بچے بھوک سے نڈھال ہوں…تب وہ کسی کے پاس زندگی میں پہلی بار کچھ مانگنے
جائے… اس کی کیا حالت ہوگی؟… حالانکہ وہ بھی انسان اور جس سے مانگ رہا ہے وہ بھی
انسان… مگر یہ اپنے نفس میںکس قدر عاجزی اور مسکینی محسوس کرتا ہے … بھائیو! ہم
مالک الملک کے سامنے ہاتھ اٹھا کر بھی اپنی ذات اور نفس میں عاجزی اور مسکینی
محسوس نہ کریں تو اندازہ لگالیں کہ…ہمار ا نفس کتنا بیمار ہے…کتنا موذی اور خراب
ہے… حالانکہ ہم ہدایت کے اُ س سے زیادہ محتاج ہیں جتنا وہ شخص اپنے بچوں کے لئے
روٹی کا ضرورت مند ہے… ہم خود کو محتاج اور فقیر سمجھ کر اگر دل سے گڑ گڑا کر
مانگیں:
اِھْدِنَا
الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ
تو
ان شاء اللہ ہدایت کا دروازہ کھل جائے گا…
اپنی
حقانیت کے زعم میں مبتلا … متکبر اور بدنصیب’’ابن ملجم‘‘ نے زبان سے ضرور کہا…
اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ… مگر یہ دعاء نہیں تھی… محض الفاظ تھے… محض
ایک آواز تھی…( ہم نے کالم کے آغاز میں اسے جو ’’دعاء‘‘ لکھا تو بطور محاورہ اور
صورت کے اسے دعاء کہا جاتا ہے)… یہی حال مرزا قادیانی کے … اِھْدِنَا الصِّرَاطَ
الْمُسْتَـقِيْمَ کہنے کا تھا… محض ناپاک منہ سے نکلے ہوئے غیر ارادی الفاظ… اب
ایسے الفاظ اگرقبول نہ ہوں تو… کون کہہ سکتا ہے کہ دعاء قبول نہیں ہوئی… ارے حقیقی
دعاء ہوتی تو قبول ہوتی… فریاد ہوتی تو سنی جاتی… کوئی زمین ہو تو اُسپر پانی برس
کرپودے نکالے… فوم کے گدوں پر بارش سے فصل نہیں اُگتی… بے
شک اللہ تعالیٰ دعاء سنتے ہیں، دعاء قبول فرماتے ہیں… دعاء
سے تقدیر کو بدل دیتے ہیں … دعاء کرنے والوں سے محبت فرماتے ہیں… دعاء کرنے والوں
کے لئے راستے کھولتے ہیں… دعاء کرنے والوں کوبڑے مقامات عطاء فرماتے ہیں… بس شرط
یہی ہے کہ… دعاء، حقیقی دعاء ہو… یا اللہ ہم سب کو مقبول’’دعاء‘‘ نصیب
فرما اور ہم سب کو صرف اپنا ’’منگتا‘‘ بنا… آمین یا ارحم الراحمین
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
جسے چاہتے ہیں’’عزت‘‘ عطاء فرماتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں’’ذلّت‘‘ دیتے ہیں،
وَ
تُعِزُّ مَنْ تَشَآئُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآئُ
’’عزت‘‘
کا مطلب ہے ایمان کی دولت… اور ذلّت کا مطلب ہے کفر، نفاق اور ہمیشہ کی ناکامی…
ہندو مذہب میں’’حکومت‘‘ عزت کی سب سے بڑی علامت ہے… یعنی جس کو حکومت مل جائے
وہ’’عزت والا‘‘ ہے… دیوتاؤں کا پسندیدہ اور مقرب ہے… اور جسے مال مل جائے وہ بھی
بڑی ’’عزت‘‘ والا ہے وہ بھی بھگوان کے ہاں بہت مقرب ہے…قرآن مجیداس غلط اور
مشرکانہ سوچ کی نفی فرماتاہے… وہ ناکام، ذلیل اوربُرے لوگوں کی فہرست میں فرعون،
ہامان اور قارون کا تذکرہ فرماتا ہے… حالانکہ ان کے پاس حکومت، اختیارات اور مال
وافر تھا… آج کل مسلمانوں میں جو فتنہ… ڈاکٹر جاوید غامدی اور وحید الدین خان کے
ذریعہ سے برپا ہے اس کی بنیاد بھی یہی مشرکانہ اور کافرانہ ذہنیت ہے کہ جس کے پاس
حکومت ہے وہ معزز ہے، جس کے پاس مال ہے وہ کامیاب ہے… اس لئے ان کے نزدیک بش بھی
کامیاب، اُبامہ بھی کامیاب، گاندھی بھی کامیاب اور ایڈوانی بھی کامیاب… جبکہ
مسلمانوں کو یہ لوگ تیسری دنیا کی حقیر کمیونٹی قرار دیتے ہیں… اگر یہ فتنہ کسی
دلیل پر قائم ہو تا تو ان کے ساتھ بات کی جا سکتی تھی مگر دلیل نام کی کوئی چیز ان
کے پاس سرے سے ہے ہی نہیں… یہ لوگ چڑھتے سورج کے پجاری، حبّ دنیا کے مریض اور نفس
پرست مفکر ہیں… نائن الیون کے بعد مغربی طاقتوں نے ان مفکرین کو ہر طرح کی مالی
اور سیاسی مدد دے کر کافی نمایاں کیا ہے… ٹی وی چینلوں پر ان کا قبضہ ہے… اور مسلم
دنیا کے حکمرانوں کو حکم ہے کہ ان لفافے مفکرین کی بات سب کو سنوائیں… میری تمام
مسلمانوں سے درد مندانہ گذارش ہے کہ وہ خود کو اور دوسرے مسلمانوں کو اس شیطانی
فتنے سے بچانے کی بھرپور کوشش کریں… ہم نے اپنا رخ کعبہ شریف کی طرف رکھنا ہے،
جدیدیت کی طرف نہیں… ہمیں اپنا تعلق مدینہ پاک سے جوڑے رکھنا ہے اور کسی سے نہیں…
ہمارا نظریہ لا الہ الا اللہ ہے…اور ہمارا راستہ اور عمل’’محمد
رسول اللہ ‘‘ میں ہے… میرے آقا صلی اللہ علیہ
وسلم جس وقت کھجور کی چٹائی پر آرام فرما تے تھے اس وقت روم و فارس
میں کافروں کی بڑی بڑی سلطنتیں قائم تھیں… مگر عزت اور کامیابی میرے آقا صلی اللہ
علیہ وسلم کے قدموں میں تھی اورآج بھی ہے… بے غیرتی کو عزت سمجھنا،
چار دن کی عیاشی کو عزت سمجھنا، گاڑیوں اور بنگلوں کو عزت سمجھنا… یہ کسی مشرک کا
عقیدہ تو ہو سکتا ہے مسلمان کا ہرگز نہیں… عزت صرف اسلام میں ہے، عزت صرف ایمان
میں ہے، عزت صرف دین برحق میں ہے… قرآن پاک یہی نکتہ بار بار سمجھتاتا ہے… بار
بار سناتا ہے…
دفتر
کُھل گیا
قطر
کے دارالحکومت’’دوحہ‘‘ میں امارت اسلامی افغانستان کا دفتر کھل گیا… یہ کیسے
مسکراتے الفاظ اور کیسی مسکراتی خبر ہے… ساری دنیا نے جن کو مٹانے کی کوشش کی…
غامدی اور وحیدالدین پارٹی نے دس سال پہلے خوب شور مچایا اور پیشن گوئیاں داغیں
کہ… بس چند دنوں بعد’’طالبان‘‘ نام کی کوئی چیز دنیا میںموجود نہیں ہوگی… مگر آج
ساری دنیا کا کفر… طالبان کے وجود کو تسلیم کر رہا ہے… اُن سے اپنے قیدی چھڑانے کے
لئے مذاکرات کر رہا ہے… اُن سے اپنی افواج کی واپسی کے لئے پُر امن راستہ مانگ رہا
ہے… اور دوحہ کی ایک عمارت پر جھومتا ہوا مست پرچم دیکھ رہا ہے… ارے اب تو مان لو
کہ… جہاد ایک حقیقت ہے اور شہداء کا خون بہت بڑی طاقت ہے… بے
شک اللہ تعالیٰ شہداء کرام کے اعمال کو ضائع نہیں فرماتے…
وَالَّذِیْنَ
قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَھُمْ
قطر
میں کھلنے والا دفتر محض ایک’’علامت‘‘ ہے… یہ دفتر کھلا رہا تب بھی اچھاہے… اور
بند کر دیا گیا تب بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا… کیونکہ اصل محاذ جنگ… اسلام کی فتح
کی ہر دن گواہی دے رہا ہے…
مسکراتی
تحریر
اوپر
عرض کیا کہ… اللہ تعالیٰ شہداء کرام کے اعمال کو ضائع نہیں
فرماتے… بلکہ اُن کی حفاظت فرماتے ہیں… اُن کو مزید نکھارتے ہیں اور اُن میں برکت
و قبولیت عطاء فرماتے ہیں… یہ قرآن مجید کا اعلان ہے…
وَالَّذِیْنَ
قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَھُمْ
ابھی
اس کی ایک اور تازہ مثال ہمارے سامنے آئی ہے… بے حد ایمان افروز مثال… شہید غزوۃ
الہند… جناب بھائی محمد افضل گورو شہید رحمۃ اللہ علیہ نے تہاڑ جیل کے
پھانسی گھاٹ میں ایک کتاب لکھی… تقریباً تین سال پہلے… قربانیوں میں گوندھا ہوا
ایک باضمیر، روشن فکر… اور بہادر نوجوان رات کی تاریکیوں میں یہ کتاب لکھتا رہا…
اور کسی طرح سے لکھ لکھ کر چھپاتا اور جمع کرتا رہا… کتاب کیا ہے؟ بس یوں کہیں کہ
موتیوں کا خزانہ… اور حکمت کا خزینہ ہے… ایک باعمل انسان… موت سے دوگز کے فاصلے پر
بیٹھ کر جو کچھ سیکھتا گیا… اُسے کاغذ پر منتقل کرتا گیا… کتاب مکمل ہوئی تو بھائی
افضلؒ نے کسی ذریعہ سے بھجوا دی… ان کی خواہش تھی کہ یہ کتاب ان کی زندگی ہی میں
شائع ہو جائے… اور دوسری خواہش یہ تھی کہ اس کتاب کا مقدمہ… بندہ کے قلم سے تحریر
ہو…انہوں نے اس کتاب کے شروع میں بندہ کے نام ایک خط بھی تحریر کیا… اس خط کے چند
الفاظ ملاحظہ فرمائیں…
السلام
علیکم!
’’یہ
کتاب مصنف کے اپنے اصلی نام سے شائع ہو، راقم کے دل سے کفر کے تمام خدشات و
خطرات اللہ کے کرم و فضل سے نکل چکے ہیں اور نکل رہے ہیں۔
یہاں پر(وادی میں) اس کتاب کا شائع ہونا میرے لئے دشوار ہے ،کیونکہ کوئی معتبر اور
ہمت والا ذریعہ و اسباب نہیں ہے، میری دلی خواہش ہے کہ یہ کتاب جلد از جلد Print ہو کے وادی کے عام لوگوں تک پہنچ جائے،
یہ کام کس طرح انجام پائے اس بارے میں آپ حضرت خود ہی فیصلہ کریں، میرے اختیارات
چار دیواری کے اندر بند ہیں مگر میرے جذبے اور ارادے ان
شاء اللہ وہیں ہیں جہاں پر شہید غازی بابا رحمۃ اللہ علیہ نے
چھوڑا تھا… یہ کتاب میں نے2010ء میںتیار کی تھی ، تب سے اب تک کوئی معتبر Source کے نہ ملنے کی وجہ سے یہیں پڑی تھی‘‘…
(فقط)
افسوس
کہ یہ کتاب بھائی افضل شہید رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی میں ہم تک نہ پہنچ
سکی… مگر اس کی اطلاع پہنچ چکی تھی کہ انہوں نے کوئی کتاب لکھی اور بھجوائی ہے… ان
کی شہادت کے بعد شہید کے ایمانی، روحانی اور نظریاتی وارثوں نے کتاب کی تلاش شروع
کی اور الحمدللہ … ابھی چند دن پہلے یہ
معطر اور پرُسوز کتاب بہت لمبا سفر کر کے ہم تک پہنچ گئی
ہے… اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اپنے بندے افضل کے اس عمل
کی حفاظت فرمائی… اب دعاء ہے کہ یہ کتاب جلد از جلد شائع ہو کر… مسلمانوں کے
ہاتھوں میں پہنچے… خصوصاً جموں وکشمیر کے مسلمان اور ہندوستان کے مسلمان اس کتاب
سے زیادہ استفادہ کریں… آج کل یہ کتاب میرے پاس رکھی رہتی ہے… اور معلوم نہیں
کیوں بہت گہرا مسکرا کر مجھے آبدیدہ کرتی رہتی ہے… ع
کہ
لب پر زخم کے بھی تو ہنسی معلوم ہوتی ہے
حسد
نہیں مسکراہٹ
مسکرانا
میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی حسین سنت ہے… حضرات محدثین نے حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی دلکش مسکراہٹ پر ابواب باندھے ہیں…
زیادہ زور سے ہنسنا، فلک شگاف قہقہے لگانا… اور غفلت سے ہنسنا تو اچھی بات نہیں
ہے…مگر مسکراہٹ ایک بڑی نعمت ہے… اس میں شکر بھی ہے اور صحت بھی… اخلاق بھی ہیں
اور محبت بھی… جبکہ’’حسد‘‘ کرنا شیطان کا کام ہے… وہ حسد اور تکبر میں مبتلا ہو کر
جنت سے نکالا گیا… اور پھر اس نے بنی آدم سے انتقام لینے کیلئے ان کے دلوں میں
حسد اور تکبر کا زہر بونا شروع کر دیا… روئے زمین پر پہلا بڑا گناہ… قتل، حسد کی
وجہ سے ہوا… حاسد شخص نہ کسی کی عزت دیکھ سکتا ہے، نہ کسی کی خوشی… اُسے نہ کسی کی
خوشحالی اچھی لگتی ہے اور نہ کسی کی صحت… حسد ایک زہر ہے جو آنکھوں میں گُھس کر
’’نظر‘‘ بن جاتا ہے…’’نظر بد‘‘ بہت خطرناک چیز ہے… اس کے بارے میں پہلے بھی کئی بار
لکھا جا چکا ہے… بات دراصل یہ ہے کہ پہلے زمانوں میں لوگ حسد کو بُرا سمجھتے تھے…
جس آدمی کو محسوس ہوتا کہ میرے اندر’’حسد‘‘ ہے تو وہ یوں گھبرا جاتا جسے آج کل
کینسر کا پتہ چلنے پر مریض گھبراتا ہے… اور ہرطرح سے علاج کراتا ہے… حسد کی بیماری
کینسر سے زیادہ خطرناک ہے… کیونکہ حاسد آدمی کے تمام اعمال ضائع ہوجاتے ہیں حتیٰ
کہ رمضان المبارک میں بھی اس کی مغفرت نہیں ہوتی… اور حاسد آدمی کا دین… بہت
کمزور ہوجاتا ہے…کینسر قبر تک لے جاتا ہے… جبکہ حسد جہنم میں ڈالتا ہے… چنانچہ ہر
مسلمان اس بات کی فکر کرتا تھا کہ… حسد کا یہ زہر اس کے دل سے کیسے نکلے…
دعاء،علاج، اچھی صحبت اور ہر کوشش… اس لئے اُس زمانے میں ’’نظربد‘‘ بھی کم تھی…
مگر آج کے مسلمان حسد کوبُرا نہیں سمجھتے… وہ حسد کے زہر کو اپنے اندر خوب پالتے
ہیں جس طرح کہ سپیرے سانپوں کو پالتے ہیں… آج کل حسد کو فن اور چالاکی سمجھا جاتا
ہے کہ کس طرح سے دوسروں کو نقصان پہنچایا جائے اور کس طرح سے دوسروں کو نیچا دکھلا
کر آگے بڑھا جائے… حسد کی اس کثرت کی وجہ سے آنکھوں میں زہر بھی زیادہ ہے… اور
یہ زہر نظر کی صورت دوسروں پر پھینکا جاتا ہے… ایک بات یاد رکھیں’’نظر‘‘ جادو سے
زیادہ خطرناک اور سخت چیز ہے… اور دوسری بات یہ یاد رکھیں کہ نظر ہی آج کل بہت سے
لوگوں کے مرنے کا ذریعہ بنتی ہے… اور ایسا بعض روایات سے بھی ثابت ہے… موت تو خیر
آنی ہے، اس کا ذریعہ اور سبب کچھ بھی ہو… مگر نظر کے دوسرے نقصانات بھی بہت زیادہ
ہیں…اچھے خاصے لوگ نظر کا شکار ہو کر غافل، بیمار اور سست پڑ جاتے ہیں… اور طرح
طرح کے فتنوں اور مصیبتوں کا شکار ہوجاتے ہیں…
لوگوں
کی ناواقفیت دیکھیں کہ… جادو کے علاج کے لئے طرح طرح کے عاملوں کے پاس دھکے کھاتے
ہیں… جبکہ نظر کو کچھ بھی نہیں سمجھتے… عرض کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ آپ وہم کا
شکار ہو جائیں… بلکہ دو مقصد ہیں… پہلا یہ کہ خود کو حسد سے بچائیں…
کسی سے حسد نہ کریں بلکہ دوسروں کو فائدہ اور ترقی پہنچائیںاور دوسرا یہ کہ خود
کوحاسدوںکی نظر سے بچانے کے لئے… معوذتین اور سورہ قلم کی آخری دو آیات کا بہت
اہتمام کریں… جس پر سخت نظر ہو وہ صرف ایک ہفتہ محنت کرے کہ روزآنہ چالیس منٹ
معوذتین… اور دس منٹ سورہ قلم کی آخری دو آیات توجہ سے پڑھ کر خود کو دم کرے اور
پانی پر دم کر کے پی لے اور جسم پربہالے…
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
رمضان المبارک میں’’جنّت‘‘ کے تمام دروازے کھول دیتے ہیں… ایک دروازہ بھی بند نہیں
رہتا… سبحان اللہ ! اور جہنم کے تمام دروازے بند فرما دیتے ہیں… ایک
دروازہ بھی کھلا نہیں رہتا… سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم… رمضان المبارک
تشریف لانے والا ہے… بس دو، تین دن باقی ہیں…
کیا
ہم رحمت، برکت، مغفرت اور نجات والے اس عظیم مہینے کے استقبال کے لئے تیار ہیں؟…
گزشتہ کئی سالوں سے’’رمضان المبارک‘‘ کے موقع پر بعض ضروری اعمال کی طرف توجہ
دلائی جاتی ہے… اور رمضان المبارک کو پانے کا نصاب بھی عرض کیا جاتا ہے…
الحمدللہ کئی مسلمانوں کی قضاء نمازوں کی طرف توجہ ہوئی…
کئی حضرات و خواتین نے محنت کر کے اپنا یہ بھاری قرضہ اتار دیا… اور کئی اُتارنے
میں لگے ہوئے ہیں… اللہ تعالیٰ ہماری اور ان کی نصرت فرمائے…قرآن پاک
کی طرف بھی بہت سے مسلمان متوجہ ہوئے اور ماشاء اللہ تلاوت
میں مقابلے کا ماحول بن جاتا ہے… اور رمضان المبارک کی نیکیوں میں ایک دوسرے سے
مقابلہ کرنا اللہ تعالیٰ کو پسند ہے… اس رمضان المبارک کے
لئے تین بہت ہی ضروری اور آسان کاموں کو ہم سب اپنا ہدف بنا لیں… جی ہاں! صرف تین
کام… اُن تین کاموں کا تذکرہ کرنے سے پہلے دو آنسو’’مصر‘‘ کے لئے… قرآن پاک میں
ملکِ ’’مِصْر‘‘ کا تذکرہ ہے… چار بڑ ے انبیاء کرام کے حوالے سے… حضرت یعقوب، حضرت
یوسف، حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہم السلام… قرآن پاک نے جس قصے کو
سب سے ’’احسن‘‘ اور عمدہ قصہ قرار دیا ہے… وہ بھی’’مصر‘‘ کے گرد گھومتا ہے… مصر کا
ملک خلافت راشدہ کے ابتدائی زمانے اسلام میں داخل ہوا… اور پھر یہ اسلامی علوم،
اسلامی تہذیب اور اسلامی فتوحات کا مرکز بن گیا…
دین
اسلام کا کوئی ایسا شعبہ نہیں کہ جس میں مصر کے باسیوں کا بڑا حصہ نہ ہو… حدیث ہو
یا فقہ، تفسیر ہو یا بلاغت… جہاد ہو یاشہادت… مصر نے ہر میدان میں بڑے بڑے لوگ
پیدا کئے… ابھی طویل عرصہ تک مصر پر دوبارہ چھوٹے فرعونوں کی حکومت قائم تھی… جمال
عبدالناصر، انورالسادات اور حسنی مبارک… ساٹھ سال کا عرصہ یہ تین فرعون چاٹ گئے
اور مصر کو ناقابل بیان پستیوں میں دھکیل گئے… فحاشی، عریانی ، الحاد، زندقہ…
اوردین اسلام پر فرعونی بدزبانی… راکھ کے اس ڈھیر میں اسلام کی روشنی اور چنگاری
سخت دباؤ کے باوجود جلتی اور چمکتی رہی… اسلام مٹنے کے لئے تو آیا نہیں کہ کسی
فرعون کے جبر سے مٹ جائے… مصر کے مخلص مسلمان… خوف، تشدد اور بربریت کے ماحول میں
اسلام کی خدمت کرتے رہے… بالآخر حسنی مبارک کو زوال آیا، ملک میں انتخابات ہوئے
اور ایک باوقار شخص ’’محمد مرسی‘‘ مصر کا صدر بن گیا… قرآن مجید کا حافظ اور نماز
کا پابند… چوری اور کرپشن سے پاک اور پروٹوکول کی لعنت سے دور… چہرے پر کچھ کچھ
داڑھی اور صدر ہونے کے باوجود جمعہ نماز کے لئے جامع مسجد میں حاضری… وہ مدرسہ کا
فاضل نہیں تھا بلکہ امریکہ سے’’ڈاکٹریٹ‘‘ تھا مگر دل میں ایمان رکھتا تھا… اُس نے مشائخ
کے سامنے دو زانو بیٹھ کر دین کا علم پایا… اور برُے ماحول میں آہستہ آہستہ
اسلام کے نفاذ کی طرف بڑھنے لگا… ہمیں اندازہ تھا کہ اُسے نہیں چلنے دیا جائے گا…
ہمیں اندازہ تھا کہ جمہوریت کے ذریعہ اسلام کا غلبہ نہیں ہو سکتا… ہمیں اندازہ تھا
کہ یہ عقلمند اورباوقار شخص ہر کافر اور ہر منافق کی نظروں میں کانٹے کی طرح کھٹک
رہا ہے… بس صرف ایک سال اُسے برداشت کیا گیا… اور پھر ایک بیہودہ بہانے کی آڑ میں
اُسے گرا دیا گیا… مگر وہ گِر کر بھی اونچا ہے… وہ قید ہو کر بھی آزاد ہے… کل مصر
کے ایک بڑے دانشور نے صاف کہہ دیا کہ… اب ہم اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ جمہوریت کے
ذریعہ اسلام نافذنہیں کیا جا سکتا…
رمضان
المبارک کی آمد ہے… اور مصر میں خون اور گرمی ہے… پرسوں ایک خاتون کو… ہاں! ایک
باپردہ باحجاب بہن کو شہید کر دیا گیا… وہ گِر رہی تھی اور پکار رہی تھی… فوجی
بغاوت نامنظور… فوجی بغاوت گرے گی، گرے گی… اسلام آئے گا، آئے گا… اس کے ساتھ
ہزاروں مسلمان آواز ملا رہے تھے… اور پھر ہماری وہ بہن گِر کر شہید ہوگئی… ہم
مسلمانوں کے ملکوں میں یہ خونی دریا بہانے والے… ان
شاء اللہ خود بھی امن سے نہیں بیٹھ سکیں گے… ان ظالموں سے
چھوٹی سی داڑھی والا محمد مرسی… جو کوٹ، ٹائی اور سوٹ پہنتا تھا برداشت نہیں ہوا…
اب ان شاء اللہ انہیں مصر سے کسی پوری داڑھی والے… صلاح
الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند کا سامناہو گا… ہاں! ضرور ہوگا…
ہماری باپردہ بہنوں کے لاشے گرانے والو… سرخ آندھی تمہارے ملکوں کا رخ کر چکی ہے…
بچ سکتے ہو تو بچ جاؤ مگر تم نہیں بچ سکو گے… معلوم نہیں کیوں! مجھے’’محمد مرسی‘‘
اچھے لگتے تھے… اور اچھے لگتے ہیں… مجھے اُن کے چہرے کی ذہانت اور وقار بہت بھاتے
تھے… اُن کی حکومت کا گرنا دل پر صدمے کی چُھری چلا
گیا… اللہ تعالیٰ ان کی اور اُن کے اہل خانہ کی حفاظت
فرمائے… ہمارے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم ہم سب مسلمانوں کوبھائی
بھائی بنا کر گئے ہیں… اور محمد مرسی کے انداز میں عشق رسول صلی اللہ علیہ
وسلم چھلکتا تھا… اللہ تعالیٰ اُن کا حامی و
ناصر ہو… شاید اُن کی قربانی سے… اخوان والے بھی سمجھ جائیں اب سیاست نہیں صرف
جہاد، الجہاد،الجہاد…
رمضان
المبارک اور تین کام
رمضان
المبارک کا سب سے آسان نصاب یہ ہے… روزہ، فرض نمازوں اور تراویح کی پابندی… اور
تمام گناہوں سے سختی کے ساتھ حفاظت…
یہ
لازمی نصاب ہے… جو زیادہ تلاوت نہیں کر سکتے، زیادہ اذکار اور صدقات نہیں دے سکتے…
وہ بس اسی نصاب کو لازم پکڑ لیں ان شاء اللہ رمضان المبارک
کو پالیں گے… روزہ دو چیزوں کا نام ہے… پہلی چیز صیام… اور دوسری چیز صوم… صیام کا
مطلب… صبح سے شام تک کھانے پینے اوربیوی سے پرہیز… اور صوم کا مطلب زبان کی مکمل
حفاظت کہ اس سے کوئی بھی غلطی اور گناہ نہ ہو… روزہ میں پورے جسم اور روح کی عبادت
ہے… اور چودہ گھنٹے کا ہر منٹ اور ہر لمحہ عبادت میں آجاتا ہے… جو مسلمان رمضان
المبارک میں یہ تین کام بھی نہ کر سکے وہ خسارے میں رہتا ہے… خسارہ بھی معمولی
نہیں… تمام فرشتوں کے سردار حضرت جبرئیل علیہ السلام کی بددعا ء
ہے کہ جس نے رمضان المبارک پایا اور اس کی مغفرت نہ ہوئی وہ ہلاک ہو جائے اور اس
دعاء پر تمام مخلوق کے سردار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے آمین
فرمائی… اس لئے اس لازمی نصاب کے لئے ہم سب دعاء اور بھرپور محنت کریں… اس لازمی
نصاب کے ساتھ ساتھ دیگرکئی اعمال ہیں جو ہمارے رمضان المبارک کو قیمتی اور ہمارے
نامہ اعمال کو وزنی بنا سکتے ہیں… ان اعمال کو جاننے کے لئے آپ دو کام کرلیں…
پہلایہ کہ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی رحمۃ اللہ
علیہ کا رسالہ ’’فضائل رمضان‘‘ مطالعہ کر لیں… اچھا ہوگا کہ گھروں میں اس کی تعلیم
ہوجائے… یہ رسالہ رمضان المبارک میں ’’پیغامِ مدینہ‘‘ ہے… اور پیغام مدینہ میں
ہماری کامیابی ہے… بہت آسانی کے ساتھ دو ، تین دنوں میں اس کا مطالعہ کیا جا سکتا
ہے… دوسرا یہ کہ گزشتہ سات سالوںمیں رمضان المبارک کے موقع پر جو رنگ و نورشائع
کئے گئے ان کو ایک نظر دیکھ لیں… ان
شاء اللہ
بہت فائدہ اور اعمال میں بہت آسانی ہو جائے گی… اس سال ارادہ تھا کہ رمضان
المبارک سے پہلے ان تمام مضامین کو کتابی شکل میں شائع کر دیا جائے… مگر ایسا نہ
ہو سکا… اب آپ رنگ و نور کی جلدوں میں ان کامطالعہ کر سکتے ہیں… اب آتے ہیں اس
رمضان المبارک میں اپنے تین مبارک اہداف کی طرف …
١ اس
رمضان المبارک میں… مسلمانوں کے لئے دعاء کو اپنا اہم معمول بنا لیں… ہر نماز کے
بعد اور افطاری سے پہلے او رسحری کے وقت سر جھکا لیں، ہاتھ پھیلا دیں ، روح کو
عاجزی و انکساری سے بھر لیں اور خود کو فارغ کر کے دعاء میں لگ جائیں… مظلوم
مسلمانوں کے لئے، بیمار مسلمانوں کے لئے، گناہ گار مسلمانوں کی ہدایت و توبہ کے
لیے… مجاہد مسلمانوں کے لئے، دین کا کام کرنے والوں کے لئے… اسیران اسلام کے
لئے…مقروض مسلمانوں کے لئے، پریشان حال اور دکھی مسلمانوں کے لئے… خوب رو رو کر،
تفصیل کے ساتھ… اپنی حاجت سمجھ کر اُن کے لئے دعاء کریں…
آج
کل مائک اور مجمع سامنے ہو تو لوگ مسلمانوں کے لئے دعاء کرتے ہیں مگر جب اکیلے ہوں
تو یہ نیکی بہت کم لوگ کرتے ہیں… آپ اخلاص کے ساتھ یہ عمل شروع کر دیں … ان
نشاء اللہ ا س کے فوائد اور برکات آپ اپنی آنکھوں سے
دیکھیں گے… خود سوچیں کہ اللہ تعالیٰ کتنے خوش ہوں گے کہ
آپ ان کے بندوں کے لئے مانگ رہے ہیں… حضرت آقامدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کتنے خوش ہوں گے کہ آپ اُن کے امتیوں کے لئے مانگ رہے ہیں… پھر
آپ جو کچھ دوسروں کے لئے مانگیں گے وہی سب کچھ فرشتے آپ کے لئے مانگیں گے… اور
پھر جب آپ دوسروں کے لئے دعاء استغفار اور ہمدردی کا یہ عمل جاری رکھیں گے تو…
آپ اُمت کے لئے مفید اور کام کے آدمی بن جائیں گے… اور آپ کے دل میں مسلمانوں
کے لئے ہمدردی، محبت اور احترام کے جذبات پیدا ہوں گے… اور آپ کا دل حسد، بغض اور
کینے سے پاک ہو گا… ارے بھائیو! اور بہنو! مجھ جیسے بے کار لوگ جو کسی کے کچھ کام
نہیں آسکتے وہ مسلمانوں کے اتنے کام تو آجائیں کہ اُن کے لئے مستقل دعائیں کرتے
رہیں، استغفار کرتے رہیں… اور دعاء آپ سب جانتے ہیں کہ ضائع نہیں ہوتی… یہ تو ہوا
پہلا کام… دوسرا کام اس رمضان المبارک میں ہم یہ کریں کہ… ہمارے مال سے زیادہ سے
زیاد ہ لقمے مسلمانوں کے منہ میں جائیں… ارے بھائیو! اور بہنو! سب
کو اللہ تعالیٰ کھلاتے اور پلاتے ہیں… کوئی کسی کا رازق
نہیں،سب کے رازق اللہ تعالیٰ ہیں مگر جو لوگ مخلوق کے لئے
کھانے کا بندوبست کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کو بہت پیارے
ہوتے ہیں… ہر وقت اپنا منہ اور پیٹ بھرنے کی فکر نہیں بلکہ یہ فکر کہ میرے ذریعہ
سے کتنے مسلمانوں کے منہ میں تر لقمہ اور ان کے معدے میں اچھا کھانا پہنچ سکتا ہے…
یہ ایک ایسا عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کے غصے اور غضب کو ٹھنڈا
کر تا ہے، اور بڑے بڑے گناہوں کی معافی کا ذریعہ بنتا ہے… یہ ایسا عمل ہے جس کی
فضیلت میں قرآن مجید کی آیات اُتری ہیں… ایک نہیں کئی آیات… عرب کہتے ہیں کہ
لقمے کھلاؤ اور قدرت کے انتقام سے بچو… یعنی لقمہ انسان کونِقمہ سے بچاتا ہے… مگر
یہ سب کچھ دل کی خوشی سے ہو، سامنے والے کے احترام کے ساتھ ہو… اور کسی پر نہ
احسان جتایا جائے اور نہ اسے اپنا احسان سمجھا جائے…یہ ہوا دوسر اکام…
اور
تیسرا اور سب سے اہم کام یہ ہے کہ ہم اس رمضان المبارک میں’’تقویٰ‘‘ حاصل کریں…
رمضان المبارک کے روزے آتے ہی اس لئے ہیں کہ… ہم متقی بنیں…
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
رمضان
المبارک تم پر آچکا ہے، یہ برکت والا مہینہ ہے، اس مہینے
میں اللہ تعالیٰ تمہیں ڈھانپ لیتے ہیں پس رحمت نازل ہوتی ہے
اور خطائیں معاف کی جاتی ہیں… اوراس میں دعائیں قبول کی جاتی ہیں… اس مہینے میں
نیکیوں میں تمہارے مقابلے کو اللہ تعالیٰ دیکھتے ہیں… پس ا
ﷲ تعالیٰ کو اپنی طرف سے اچھے اعمال دکھاؤ… بے شک شقی(یعنی بدنصیب) وہ ہے جو اس
مہینہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہو جائے… (الہیثمی)
تقویٰ،
جنت کا اور ایمان کا سب سے اونچا درجہ ہے… اور تقویٰ کا خلاصہ یہ ہے کہ اپنے نفس
کو انسان پہچان لے اور اس کی اصلاح کی فکر کرے اور گناہوں سے بچے…
میمون
بن مہران سے روایت ہے کہ… کوئی شخص اُس وقت تک متقی نہیں ہو سکتا جب تک اپنے نفس
کا سخت محاسبہ نہ کرتا رہے، جیسا کہ کوئی اپنے شریک کا محاسبہ کرتا ہے… نفس کا
محاسبہ کرے تاکہ جان لے کہ میرا کھانا حلا ل ہے یا حرام، میرا پہننا حرام ہے یا
حلال…(تفسیرعزیزی)
بس
اس رمضان المبارک کے یہ تین ہدف ہوئے…
١ مسلمانوں
کے لئے مستقل اور خوب زیادہ دعاء…
٢ زیادہ
سے زیادہ لقمے اپنی استطاعت کے مطابق عزت و احترام کے ساتھ دوسروں کو کھلانا…
٣ تقویٰ
حاصل کرنے کی بھرپور دعاء اور محنت کرنا…بس بھائیو! مقابلہ شروع… مقابلہ شروع…
اللہ تعالیٰ
دیکھ رہے ہیں، پیار اور محبت سے دیکھ رہے ہیں… ہاں! بے
شک اللہ تعالیٰ د یکھ رہے ہیں…
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو’’جنت‘‘ عطاء فرمائے… بغیر حساب کتاب،جنت الفردوس الاعلیٰ… اور جہنم سے ہم سب کو بچائے… آمین…
رمضان
المبارک کے بارے میں یہ فرمان’’مدینہ منورہ ‘‘ سے اٹھا کہ…چار کام اس مہینے میں
زیادہ کیا کرو… دو وہ جن سے تم اپنے رب کو راضی کرتے ہو… ایک کلمہ طیبہ کی کثرت
اور دوسر ا استغفار اور دو وہ جن کے بغیر تمہارے لئے کوئی چارہ نہیں… ایک یہ کہ
جنت کا سؤال کرو… اور دوسرا یہ کہ جہنم سے پناہ مانگو… یہ دراصل ایک مؤمن کی
ترجیحات طئے فرمادیں… تمہاری ترجیح دنیا کا آرام، عیش، مال اور عہدہ نہ ہو… بلکہ
جنت کو پانا اور جہنم سے بچنا تمہاری ترجیح بن جائے…
الحمدللہ کلمہ طیبہ کی محنت سے… ہزاروں لاکھوں مسلمان
کثرت کے ساتھ کلمہ کا ورد کرنے پر آگئے ہیں… الحمدللہ رب العالمین… اُمید ہے کہ رمضان المبارک میں بھی
یہ معمول جاری رہے گا تو پہلا کام بارہ سو بار کلمہ طیبہ کے ورد سے پورا ہو گیا…
کیونکہ کثرت کا حکم فرمایا اورکثرت کی کم سے کم مقدار تین سو ہے… بعض حضرات و
خواتین نے لکھا ہے کہ وہ رمضان المبارک میں کلمہ طیبہ کی تعداد بڑھا دیتے ہیں… اُن
کے لئے بہت مبارک ہو… ذکر کے برابر کوئی عمل نہیں… اور کلمہ طیبہ کا ورد سب سے
افضل ذکر ہے…
الحمدللہ استغفار کی محنت بھی دو سال سے چل رہی ہے… کئی
مسلمان ایک ہزار کی تعداد اپنا چکے ہیں… ما شاء اللہ عجیب و
غریب تأثرات لکھتے ہیں… بعض پانچ سو پر ہیں اور بعض تین سو پر… یوں الحمدللہ دوسرا کام بھی معمول کا حصہ بن چکا ہے… باقی رہ
گئے دو کام… اہتمام تو کرنا ہے کہ ہمارے سب سے بڑے خیر خواہ آقا اور محبوب کا حکم
ہے… اور اس میں ہمارے لئے فائدہ ہی فائدہ ہے… مگر اکثر لوگ بھول جاتے ہیں… حالانکہ
دعاء بہت آسان اور جاندار ہے…
اَللّٰھُمَّ
اِنِّی اَسْئَلُکَ الْجَنَّۃ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ النَّار
یا
اسی معنیٰ کے کوئی بھی الفاظ… تو ایسا کر لیں کہ سنتوںاور نوافل کے رکوع، قومہ،
سجدہ اور جلسہ میں… یہ دعاء مانگ لیا کریں… اگر ایک ایک بار بھی مانگیں… تو ہر
رکعت میںپانچ بار ہو جائے گی… ایک بار رکوع میں… دوسری بار قومہ میں، اسی طرح ہر
سجدہ ا ور سجدہ کے درمیانی جلسے میں… یوں ان شاء اللہ یہ
دعاء رات دن میں تین سو بار ہو جائے گی… اس میں ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ نماز میں
دعاء زیادہ قبول ہوتی ہے… دوسرا فائدہ یہ ہو گا کہ دعاء کی فکر سے نماز میں توجہ
رہے گی… اور آٹو میٹک نماز کی بجائے خشوع اور توجہ والی نماز نصیب ہوگی… تیسرا
فائدہ یہ ہوگا کہ ہم نے نماز میں دعاء مانگنے کا جو طریقہ ترک کر دیا ہے وہ زندہ
ہو جائے گا… چوتھا فائدہ یہ ہو گا کہ نماز میں دعاء کی برکت سے جنت کی رغبت اور
جہنم کا خوف پیدا ہوگا جو ایک مومن کے لیے ضروری مطلوب ہے… بس اس طرح سے یہ چار کا
م ان شاء اللہ بہت آسانی سے پورے ہو جائیں گے… استغفار میں
ایک کام یہ کیا کریں کہ ایک آدھ تسبیح… ایسے استغفار کی پڑھیں اور مانگیں کہ جس
میں سب مسلمان شامل ہو جائیں… مثلاً
رَبِّ
اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَاب
یا
اَللّٰھُمَّ
اغْفِرْلِیْ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَات وَالْمُسْلِمِیْنَ
وَالْمُسْلِمَات
یا
رَبَّنَا
اغْفِرْلَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا
تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّکَ رَئُ
وْفٌ رَّحِیْمٌ
یا
اَللّٰھُمَّ
اغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِیْلَکَ وَقِھِمْ عَذَابَ
الْجَحِیْمِ
یا
أَعَلْمُ
اَنَّہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَسْتَغْفِرُاللہَ لِذَنْبِیْ
وَلِلْمُؤمِنِیْنَ وَالْمُؤمِنَاتِ
بہرحال
کوئی بھی الفاظ ہوں… بس توجہ رہے اور یہ فکر کریں کہ میں نے اپنے لئے، اپنے والدین
کے لئے اور سب مسلمانوں کے لئے مغفرت مانگنی ہے…
باقی
رمضان المبارک کا سب سے بڑا عمل… قرآن مجید ہے…
شَھْرُ
رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ
رمضان
اور قرآن کا باہمی ربط بہت گہر اہے… اور قرآن پاک میں خیر ہی خیر، نور ہی نور
اور رحمت ہی رحمت ہے… مسلمانوں کی اکثریت قرآن مجید سے دور ہو چکی ہے… اور قرآن
مجید کے ساتھ بے وفائی اور ترک تعلق نے ہماری زندگیوں کو پریشانیوں ، ناکامیوں اور
میل کچیل سے بھر دیا ہے… یاد رکھیں ہم جیسا معاملہ قرآن عظیم الشان کے ساتھ کریں
گے، اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ویسا ہی معاملہ فرمائیں گے…
ہمیں تو قرآن پاک میں ڈوب جانا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے
اتنی بڑی نعمت ہمیں عطاء فرمائی ہے… مگر ہم نے قرآن پاک کو نعوذباللہ پیٹھ پیچھے رکھ لیا ہے…
استغفرﷲ،
استغفرﷲ، استغفرﷲ
کتنے
حافظ قرآن مجید بھول گئے … آہ افسوس… کیسا خزانہ پا کر محروم بیٹھے ہیں… کتنے
مسلمان ایسے ہیں کہ انہیں قرآن پاک پڑھنا تک نہیں آتا… آہ افسوس… مسلمان اور
قرآن پاک کی درست تلاوت سے محروم… بے شمار مسلمان ایسے ہیں جن کو معلوم نہیں کہ…
قرآن پاک ان سے کیا فرماتا ہے اور کیا کیا باتیں کرتا ہے… ایک بزرگ جو تنہا رہتے
تھے ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ کو تنہائی سے وحشت نہیں ہوتی؟… فرمایا بالکل
نہیں… اللہ تعالیٰ میرے ساتھ ہیں… مجھے جب ان کی بات سننی
ہوتی ہے تو تلاوت شروع کر دیتا ہوں… قرآن مجید
میں اللہ تعالیٰ مجھ سے باتیں فرماتے ہیں… بے شک قرآن
مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے… اور جو شخص قرآن مجید کی ہر
آیت خود کو مخاطب سمجھ کر پڑھے کہ… یہ آیت مجھ سے خطاب فرما رہی ہے تو اسے اسکی
حقیقی لذت محسوس ہوتی ہے… اور فرمایا کہ جب مجھے اللہ تعالیٰ
سے باتیں کرنی ہوتی ہیں تو میں نماز شروع کر دیتا ہوں… نماز میں
بندہ اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوتا ہے… اِیَّاکَ
نَعْبُدُوَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ… اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ…
عربستان
میں ایک بوڑھی خاتون سخت بیمار ہو گئیں… ان کو ہسپتال میں داخل کرادیا گیا… بیماری
سخت اور لمبی تھی ان کو ایک سال ہسپتال میں رہنا پڑا … مگر اس ایک سال میں ہسپتال
والوں نے عجیب منظر دیکھا… اس خاتون کے پاس ہر وقت ملنے والوں کا ہجوم رہتا… ایک
بیٹا آرہا ہے تودوسرا جا رہا ہے… ایک پڑوسن آرہی ہے تو دوسری جارہی ہے… رشتے
داروں کا بھی ہر وقت تانتا بندھا رہتا… نہ دوائیوں کی کمی، نہ غذا اور خوراک کی
کمی اور نہ خون دینے والوں کی… ہسپتال والوں کو کئی بار مجبوراً لوگوں کو روکنا
پڑتا… مگر جیسے ہی اجازت ملتی رش لگ جاتا… چیزیں اور ہدایا اتنے آتے کہ ہسپتال
والے بھی کھا کھا کر تھکتے… پورا سال اس حالت میں کوئی فرق نہ آیا… آخر ایک
خاتون ڈاکٹر نے اُس بوڑھی عورت سے پوچھ لیا کہ… اماں جی! یہ کیا معاملہ ہے ؟… ہم
تو ہسپتال میںدن رات انسانیت کو سسکتا دیکھتے ہیں… یہاں تو مریض اکیلے پڑے موت
مانگتے ہیں اور دو چار دن سے زیادہ کسی کو رہنا پڑے تو گھر سے کھانا لانے والابھی
کوئی نہیں ہوتا… جبکہ آپ کا تو سال پورا ہو رہا ہے مگر خدمت اور دیکھ بھال کرنے
والوں میں ذرا بھی تھکاوٹ یا اکتاہٹ نہیں ہے… خاتون نے فرمایا میرا اور تو کوئی
عمل نہیں ہے مگر میں قرآن پاک کی تلاوت زیادہ کرتی ہوں… اور قرآن پاک کے کسی
نسخے کو فارغ نہیں پڑا رہنے دیتی… میرے گھر میں قرآن مجید کے جتنے بھی نسخے ہیں
میں ان سب میں تلاوت کرتی ہوں… اگرچہ کسی میں ایک دو آیات ہی پڑھوں مگر میں… کسی
نسخے کو مہجور نہیں چھوڑتی… اسی طرح جب مسجد جاتی ہوں…( عرب ممالک کی مساجد میں
خواتین کے لئے الگ جگہ مختص ہوتی ہے)… تو الماری میں موجود ہر قرآن پاک میں تھوڑی
تھوڑی تلاوت کرتی ہوں… خصوصا ً وہ نسخے جو ضعیف ہونے کی وجہ سے الگ رکھے رہتے ہیں،
ان کو صاف کر کے تلاوت کرتی ہوں… شائد اللہ تعالیٰ کو یہی
عمل پسند آیا کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب کا اکرام کیا…
اور کسی نسخے کو فارغ نہیں چھوڑا تو میرے مالک نے … میری اس کمزوری،بڑھاپے اور
بیماری میں مجھے اکیلا اور تنہا نہیں چھوڑا اور اولاد، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے
قلو ب میں میرے لئے وافر محبت ڈال دی… یہ ایک ادنیٰ سی مثال ہے… قرآن مجید توایسی
باوفا کتاب ہے کہ… موت کے وقت انسان کے سینے پر ایک ہمدرد مونس بن کر کفن کے اندر
آجاتی ہے… اور مرنے والے کو موت کی سختی اور وحشت نہیں ہوتی… قرآن پاک کی ہر
خدمت سعادت ہے اور قرآن پاک کی ہر تعظیم، توقیر اور تعلیم میں انسان کے لئے بڑی
بڑی سعادتیں ہیں… قرآن مجید پر ایمان لانا، قرآن مجید کا ادب کرنا، قرآن مجید
کو درست پڑھنا…قرآن مجید کو پڑھانا، قرآن مجید کو دیکھنا ، قرآن مجید پر عمل
کرنا… اور مسلمانوں کو قرآن مجید کی طرف متوجہ کرنا یہ سب بڑے اعمال ہیں… حضرت
سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں: باپ پر بیٹے کا یہ حق
ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے، اچھی تربیت کرے اور قرآن مجید پڑھائے(المرتضیٰ
،ص: ۳۳۴)
رمضان
المبارک میں قلوب نرم ہوتے ہیں… ہر شخص خود سوچے کہ میں نے اب تک قرآن مجید کے
حقو ق میں کیا کیا کوتاہی کی ہے؟… توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور رمضان المبارک مغفرت
کا مہینہ ہے ان سب غلطیوں سے معافی مانگیں، توبہ کریں… کبھی قرآن پاک کی بے حرمتی
کی ہو، بے وضو ہاتھ لگایا ہو، کبھی مذاق، مزاح یا لطیفے میں قرآن پاک کی مبارک
آیات کو استعمال کیا ہو تو صدقہ دیکر بہت ندامت سے توبہ کریں… رمضان المبارک میں
دعائیں قبول ہوتی ہیں، رات دن، صبح شام یہ دعاء کریں کہ
یا اللہ ہمیں قرآن مجید رحمت کے ساتھ نصیب فرما… جن کو درست
تلفظ کے ساتھ پڑھنا نہیں آتا وہ اسی رمضان المبارک سے ’’بسم اللہ ‘‘
کریں… جو حفظ چاہتے ہیں وہ اسی رمضان المبارک سے آغاز کریں… جو سمجھنا چاہتے ہیں
وہ اسی رمضان المبارک سے چند سورتوں کا ترجمہ یاد کر کے ابتداء کردیں… اور جن کو
طاقت ہو وہ اچھے اچھے نسخے خرید کر مساجد میں رکھیں… طلبہ اور علماء کو ہدیہ دیں…
اور جن کو قرآن پاک کا مکتب یا مدرسہ کھولنے کی طاقت ہو وہ اس نیکی میں دیر نہ
کریں… الغرض… دل قرآن پاک سے جڑ جائے، اسے پانے کا جنون سوار ہو جائے اور اس کی
خدمت اور توقیر کا جذبہ دل میں پختہ ہوجائے… رمضان المبارک کا ایک اہم عمل جہاد فی
سبیل اللہ ہے… اسلام کا ایک قطعی اور محکم اور آج کل کے
لحاظ سے ایک مظلوم فریضہ… اسلام کے اہم ترین معرکے رمضان المبارک میں ہوئے… رمضان
المبارک کے ان معرکوں نے مسلمانوں کو جہاد کے دو بڑے طریقے سکھائے…
١ فدائی
جہاد… یعنی اعلیٰ درجے کی سرفروشی اور قربانی سے جنگ لڑنا… یہ غزوہ بدرنے سکھایا
جو رمضان المبارک میں پیش آیا…
٢ حکیمانہ
جہاد… یعنی مضبوط قوت ، رازداری اور اعلیٰ حکمت عملی سے ایسی جنگ کرنا کہ دشمن بے
بس ہو کر ہتھیار ڈال دے… اورلڑنے کی مہلت نہ پائے یہ فتح مکہ نے سکھایا… جو رمضان
المبارک میں پیش آیا…
ہر
مسلمان کے لئے لازم ہے کہ وہ رمضان المبارک کے موقع پرجہاد فی
سبیل اللہ کو بھی یاد رکھے… کیونکہ رمضان، قرآن اور جہاد
ان کا آپس میں بہت گہر اتعلق ہے اور یہ تینوں نعمتیں مسلمانوں کی کامیابی کی
ضمانت ہیں… جہاد فی سبیل اللہ کو بغیرتأویل او ر تحریف کے
ماننا… جہاد فی سبیل اللہ کی تیاری کرنا… جہاد فی
سبیل اللہ کی دل میں پختہ نیت رکھنا… جہاد فی
سبیل اللہ میں اپنی جان اور اپنا مال لگانا… یہ ہے مختصر سا
نصاب… الرحمت ٹرسٹ کے مخلص دیوانے سخت گرمی میں شہر شہر، گلی گلی دینِ کامل اور
جہاد کی آوازیں لگاتے پھر رہے ہیں… ان کے ذریعہ سے آپ جہاد فی
سبیل اللہ میں بہت آسانی کے ساتھ مالی شرکت کا اعزاز حاصل
کر سکتے ہیں…
یا اللہ
! ہم سب کو جنت الفردوس عطاء فرما… اورہم سب کو جہنم کے عذاب سے بچا… آمین… یا
ارحم الراحمین…
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
نے اس اُمت کو جو خاص نعمتیں عطاء فرمائی ہیں… وہ کسی اور اُمت کو نہیں ملیں…
قرآن مجید جیسی کتاب کسی کے پاس نہیں… نور ہی نور، روشنی ہی روشنی اور سکون ہی
سکون… صرف’’سورۂ یوسف‘‘ کو ہی دیکھ لیں… کون ساغم اور کون سی پریشانی ہے جس کا
علاج اس میں نہ ہو… ایک عالم دین کا طریقہ تھا کہ اُن کے پاس کوئی بھی پریشان حال
آدمی آتا اور اپنے مسئلے کا حل پوچھتا تو وہ فرماتے روزآنہ دوبار سورۂ یوسف
پڑھ لیا کرو…پریشانی گھریلو قسم کی ہو یا خاندانی… کوئی مالی پریشانی ہو یا سیاسی…
کسی کی جدائی کا غم ہو یاکوئی محبوب بچھڑ گیا ہو…راستے بند ہوگئے ہوں یا مایوسی
چھا گئی ہو… روتے روتے آنکھیں بہہ گئی ہوں یا جیل کی سلاخیں بہت موٹی ہو گئی ہوں…
واقعی عجیب سورت مبارکہ ہے… اس میں ایک تاریک کنواں ہے اور پھر اس سے نجات بھی… ہم
میں سے کتنے لوگ طرح طرح کے اندھے کنوؤں میں گرے پڑے ہیں … اس سورۃ میں جیل بھی
ہے اور پھر ٹاٹھ اور شان والی رہائی بھی… آج بھی ظالمانہ جیلوں میں گمنام جوانیاں
سسک رہی ہیں… پرسوں مصر کے صدر محمد مرسی یاد آئے تو دل رو پڑا…کیا جرم اور قصور
ہے اس مسلمان شخص کا؟… عافیہ بہن بھی جیل میں… اور ہر طرف جیلیں ہی جیلیں… سورۂ یوسف،
جیل کے اندر کا ماحول بھی دکھاتی ہے… اور بے قصور قیدیوں کے حالات بھی سناتی
ہے…ویسے دنیا بھی توجیل خانہ ہے… درد، غم، گھٹن،بیماری اور پریشانی کی جگہ…
دھوکہ،فریب، جھوٹ اور مکاری کا گھر… حضرت یوسف علیہ السلام کو
جیل سے رہائی ملی تو سیدھے بادشاہ کے مقرب بنے… کیونکہ جیل میں بے قصور تھے… اسی
طرح جو دنیا کے قید خانے میںجرائم نہیں کرے گا… مالک کو راضی رکھے گا وہ یہاں سے
رہائی پاتے ہی شہنشاہِ حقیقی کا مقرب مہمان بن جائے گا…
اچھا
ایک بات بتائیں… سورہ یوسف کب نازل ہوئی؟ اور اس سورۃ کی سب سے بڑی تأثیر کیا
ہے؟… جواب بالکل آسان… یہ سورہ مبارکہ’’عام الحزن‘‘ کے موقع پر نازل ہوئی… غموں
کا سال… میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بڑے غموں کا سال… جب ہر
طرف دشمن ہی دشمن تھے… جان کے دشمن، عزت وآبرو کے دشمن اوردین کے دشمن… تب دوسایہ
دار درخت اس کڑی دھوپ میں میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو راحت
پہنچاتے تھے… ایک تو حضرت امّی جان سیّدہ خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا …
سبحان اللہ ! کس شان اور مقام کی خاتون تھیں… قیامت تک کی عورتیں اُن
پر بجا طور پر فخر کر سکتی ہیں… مجھے ایک مسلمان مصنفہ کا یہ جملہ بہت پسند آیا
کہ… ہم عورتوں کے پاس سیدہ خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا… ہیں… ہمیں اور کیا
چاہئے؟… سبحان اللہ !کس طرح سے حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کی خدمت فرمائی ، کس طرح سے دلجوئی کی اور کس طرح سے آپ صلی اللہ
علیہ وسلم کی تسلّی دی… اور کیسا شاندار ساتھ نبھایا… یہ سب کچھ آسان
کام نہیں تھا، بہت مشکل تھا ، بے حد مشکل… مگر وہ کائنات کی افضل ترین عورتوں میں
سے ایک تھیں… ما شاء اللہ بہت اونچی شان والی… اُن کا
انتقال ہو گیا… میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کڑکتی دھوپ میں جو
سایہ دار درخت تھا وہ جنت البقیع میں جا سویا… اور پیچھے چار بچیاں… پہلے ہی سارے
جہاں کا بوجھ… چار وں طرف دشمن اور اب گھر میں چار بیٹیاں اکیلی… اور دوسرے چچا
ابوطالب… وہ ایک ناقابل شکست ڈھال کی طرح آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی حفاظت میں لگے ہوئے تھے… وہ بھی رخصت ہو گئے… ایک ہی سال میں
یہ دو بڑے حادثے… ان حادثوں کی شدّت کو ہر کوئی نہیں سمجھ سکتا… اتنے عظیم کا م کا
بوجھ، اتنی بھاری ذمہ داری، زمین پر ہر طرف دشمنی ہی دشمنی… اور حمایت کرنے والوں
کی مظلومیت اور کمزوری… ایسے وقت میں یہ دو شخصیات بھی وفات پا گئیں… تب عرش سے
تسلی اور مرہم لئے سورۂ یوسف اُتری…سبحان اللہ! اول تا آخر تسلی ہی تسلی… مرہم
ہی مرہم… اور کچھ ایسے اٹل قوانین جن کے ہوتے
ہوئے اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے کبھی مایوس نہیں ہو سکتے…
سورہ یوسف کی سب سے اہم تأثیر ہی یہی ہے کہ… وہ مایوسی کو توڑتی ہے… اور اعلان
فرماتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا صرف کافروں
کا کا م ہے مسلمانوں کا نہیں… سورۃ کا آغاز ہی ایک عجیب منظر سے ہوتا ہے… ہم اسے
’’منظر محبت‘‘ کہہ سکتے ہیں… بیٹا کتنے لاڈ سے اپنے ابا جی کو خواب سنا رہا ہے…
اور ابا جی خواب سنتے ہی دو متضاد کیفیتوں میں… ایک تو بے انتہا خوشی کہ محبو ب
بیٹا بھی بڑے مقام والا ہے جو خواب میں دکھایا گیا ہے… اور دوسرا ایک دم پریشانی
کہ یہ با مقام بیٹا کہیں حسد اور حادثات کے تیروں کا شکار نہ ہو جائے…
پہلا
منظر… محبت کا ہے… اور دوسرا منظر جدائی، فراق، غم اور صدمے کا ہے… ایک دم بچھڑ
گیا نہ بیٹے کوباپ کی خبر اور نہ باپ کو بیٹے کی… بھائیو اور بہنو! اندازہ لگاؤ ،
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشی پہنچے تب بھی اُمت کو فائدہ
پہنچاتے ہیں… اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غم پہنچے تو آپ صلی
اللہ علیہ وسلم کے غم کے واسطے سے بھی اُمت کو فائدہ ملتا ہے… بے شک
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ’’رحمۃ للعالمین‘‘ ہیں… آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کے غم کے وقت سورہ یوسف نازل ہوئی… اور اس سورت نے قیامت تک کے
انسانوں کے بے شما رغموں اور بیماریوں کا علاج بتا دیا… دنیا میں شائد کسی کو گناہ
کا ایسا موقع ملا ہو جیسا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو ملا… آپ اپنے
وطن اورخاندان سے دور تھے اور بالکل گمنام تھے…یعنی جب’’نام‘‘ ہی نہیں تھا تو
بدنامی کا کیا خطرہ؟… گناہ کی طرف بلانے والی معمولی عورت نہیں تھی بلکہ حسب نسب
اور جمال و رعنائی میں اپنی مثال آپ تھی… وہ آپ کے پیچھے دیوانہ وار دوڑ رہی
تھی… گھر بند تھا، دیکھنے والا کوئی نہ تھا… وہ عورت جس مقام پر تھی، ایسے مقام
والے لوگ کبھی اپنے گناہوں کو ظاہر نہیں کرتے… الغرض گناہ کے لئے ہر سہولت، ہر کشش
اور ہر حفاظت موجود تھی… ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ کے حکم
پر مضبوطی سے عمل کرنا… انسان کے لئے کامیابی کا ہر دروازہ کھول دیتا ہے… اوریہی
ہے وہ’’اخلاص‘‘ جو کامیابی اور قبولیت کی چابی ہے… آج اُمت مسلمہ نے خود کو’’بے
بس‘‘ سمجھ کر ہر گناہ اور ہر غلامی کو گلے لگالیا ہے… حضرت یوسف علیہ
السلام ایک خریدے ہوئے غلام اپنی مالکن کے سامنے ’’بے بس‘‘ نہیں
ہوئے… حالانکہ غلام سے بڑا بے بس کون ہو سکتا ہے؟… آ پ بالکل اکیلے تھے نہ خاندان
ساتھ تھا اور نہ قوم… خود اسی گھر میں پلے بڑھے تھے اور اُن کے ممنون تھے…مگر خود
کو بے بس نہیں سمجھا… گناہ سے بھاگ سکنے کی جتنی طاقت تھی وہ استعمال فرمائی
تو… اللہ تعالیٰ نے کائنات کے قرینے اور قانون تک اُن کے
لئے بدل دیئے… اور ایک شیر خوار بچے کو اُن کا گواہ بنا دیا… اسی طرح جب جیل میں
تھے، اور آپ نے بادشاہ کے خواب کی تعبیر ارشاد فرمائی تو بادشاہ نے آپ کو بلا
بھیجا… ایک قیدی سے زیادہ کون بے بس ہوتا ہے؟… اورقیدی بھی ایسا کہ جسے ملک کے زور
آور وزیر نے اپنے خاص حکم سے قید کر رکھا ہو … ایسا قیدی جس سے ملنے کے لئے آنے
والا بھی کوئی نہیں تھا… اور نہ پورے ملک میں اُس کا کوئی سفارشی تھا… ایسا قیدی
جس کی قید اندھی تھی، یعنی یہ تک معلوم نہیں تھا کہ کس وجہ سے قید ہیں اور کب تک
اس جیل خانے میں رہیں گے… آپ بتائیں! ایسے قیدی کو رہائی کا پروانہ ملے اور وہ
بھی بادشاہ کی طرف سے تووہ کس طرح سے رہائی کی طرف دوڑے گا… مگر حضرت
یوسف علیہ السلام نے یہاں بھی کوئی بے بسی محسوس نہیں
فرمائی… اور رہائی کا پروانہ واپس بھیج دیا اور فرمایا کہ پہلے اُس تہمت کی تحقیق
کی جائے جو میرے ارد گرد گھوم رہی ہے…
سبحان اللہ
! پوری سورت تربیت ہی تربیت ہے… اور حکمت ہی حکمت…
کیسا
دلکش منظر ہوگا… جب حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ سورت نازل
ہو رہی ہو گی… آپ صلی اللہ علیہ وسلم غمگین تھے… سورت نے حضرت
یعقوب علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ
السلام کے غم کا تذکرہ چھیڑاہوگا… میرے آقا صلی اللہ علیہ
وسلم کے دل مبارک پر مرہم لگا ہو گا… اور پھر آخر میں سورت نے
سنایاہوگا کہ پورا خاندان آپس میں مل گیا… بھائی معافیاں مانگ رہے تھے اور حضرت
یوسف علیہ السلام فرما رہے تھے …لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ
الْیَوْم… آج کھلی معافی ہے، کوئی بدلہ نہیں،کوئی سزا نہیں… اور پھر۸ ہجری
کے رمضان المبارک میں… میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے اپنی
قومی بھائیوں کے سامنے… یہی اعلان فرما رہے تھے کہ…
لَا
تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْم
آج
کھلی معافی ہے، کوئی بدلہ نہیں، کوئی سزا نہیں
سورۂ
یوسف کے معارف بہت زیادہ ہیں… ابھی تو ان میں سے چند کی طرف اشارہ ہوا ہے… ایک
مختصر ساکالم کہاں ان سب باتوں کو سمیٹ سکتا ہے… رمضان المبارک میں مسلمان سورۂ
یوسف کو توجہ سے دیکھیں… ان شاء اللہ عجیب و غریب فوائد
پائیں گے… حسد اور اس کا انجام، محبت اور اس کے طریقے، ظلم اور ظالم… ظلم اور
مظلوم… اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُس کے بعض بندوں کو ملنے
والے خصوصی علوم… انسان کی زندگی اور پورے معاشرے پر خوابوں کے اثرات… سچے خوابوں
کی ملک گیر تأثیرات… عورتیں اور اُن کا مزاج… دعوت اور اس کے ثمرات… اصل اعتبار
انجام کا ہوتا ہے، اس کی شاندار تفصیلات…زمین کا تنگ ہونا اور کُھلنا… حسنِ خاتمہ
کی فکر، تڑپ اور دعاء… نظرِ بد سے حفاظت کی تدبیر… نفسِ امّارہ اور اس کا علاج…
رازداری کی اہمیت… جھوٹے آنسو، سچے آنسو … دنیاوی ترقی کا راز… اخروی ترقی کی
فضیلت… اور بہت کچھ…
اس
سورۃ مبارکہ کے اختتام پر بہت عجیب بات ارشاد فرمائی گئی… وہ یہ کہ بعض
اوقات اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں پر حالات اتنے تنگ ہو جاتے
ہیں کہ… اُن کو بس اندھیرا ہی اندھیرا نظر آتا ہے… اور حالات کے درست ہونے کی
کوئی امیدنظر نہیں آتی… اُن کے دشمن اتنے طاقتوراور زور آور ہو جاتے ہیں کہ اُن
کے ختم ہونے کا ظاہری امکان تک باقی نہیں رہتا… ایسے سخت حالات
میں اللہ تعالیٰ کے انتہائی مقرب بندے بھی مایوسی کے قریب
پہنچنے لگتے ہیں… انہیں بھی یہ خیال آنے لگتا ہے کہ شائد ہم غلط ہیں، شائد ہم حق
پر نہیں ہیں… بشری کمزوری کی وجہ سے خیال کی حد تک وہ یہ سوچتے ہیں… مگر اُن کا
یقین ٹھیک ہوتا ہے… ایسے سخت اور دردناک حالات میں اچانک اللہ تعالیٰ
کی نصر ت آجاتی ہے… ایمان والوں کوحفاظت ملتی ہے، غلبہ ملتا ہے اور اُن کے دشمن
ذلیل و رسوا ہوتے ہیں… کیا خیال ہے؟ آج کل مسلمانوں پر ایسے حالات نہیں ہیں؟ بے
شک بہت سخت حالات ہیں… اور بہت سے لوگ نعوذ باللہ شک میں جاگرے ہیں… سورۂ یوسف
ہمیں سنبھالتی ہے، مسکرا مسکرا کر ہمیںاٹھاتی ہے … حسین و جمیل پیغمبر حضرت
یوسف علیہ السلام کا میٹھا قصہ سناتی ہے کہ کہاںایک اندھا
کنواں… اور کہاں پورے ملک مصر کے مالک… اور غم میں نڈھال حضرت سیّدنا
یعقوب علیہ السلام کا فرمان سناتی ہے… اے میرے بیٹو! جاؤ
یوسف اور اس کے دونوں بھائیوں کو تلاش کرو اور اللہ تعالیٰ
کی رحمت سے مایوس نہ ہو… اللہ تعالیٰ کی رحمت سے تو صرف
کافر مایوس ہوتے ہیں (یوسف)… اٹھو مسلمانو، اٹھو… جاؤ اسلام کے غلبے اور مسلمانوں
کے لئے عزت کو تلاش کرو… یوسف جیسے حسین و جمیل مستقبل کو تلاش کرو … اٹھو! گندی
زندگیاں چھوڑو اور اسلام کے رنگ میں رنگی ہوئی حسین زندگی اور یوسف جیسی حسین
شہادت تلاش کرو… اور اللہ تعالیٰ کی ر حمت سے ہرگزمایوس نہ
ہو ا ﷲ تعالیٰ کی رحمت سے تو صرف کافر مایوس ہوتے ہیں…
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
’’غفور‘‘ ہیں، غفار ہیں، عفوّ ہیں، توّاب ہیں، رحیم ہیں…
یَا
غَفَّارْ اِغْفِرْ جَمِیْعَ ذُنُوْبِنَا
اے
غفار!ہمارے سارے گناہ بخش دیجئے…
مغفرت،
مغفرت اور مغفرت… ہم مسلمانوں کے لئے جان سے بھی زیادہ
اہم اور مال سے بھی زیادہ ضروری… مغفرت، مغفرت، مغفرت…
رمضان
المبارک کا’’مغفرت‘‘ والا عشرہ بھی جارہا ہے آج اٹھارہ رمضان کی رات ہے… ہمارے
پاس ایسی چار رکعت بھی نہیں جو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کر
سکیں کہ مکمل توجہ اور خشوع سے ادا کی ہوں… مغفرت میرے مالک مغفرت ! معافی میرے
مالک معافی!… کبھی ہم نے سوچا کہ ہمارا’’ایمان‘‘ کیسا ہے؟ ٹھیک ہے یا ملاوٹی؟… ہم
نے کبھی سوچا کہ ہمارے عقائد کیسے ہیں؟ درست ہیں یا گمراہی سے لبریز؟… ہم نے کبھی
سوچا کہ ہمارے فرائض کیسے ہیں؟ پورے یا ادھورے؟… ہم نے کبھی سوچا کہ ہمارے اخلاق
کیسے ہیں؟ اخلاق نبوی یا عاداتِ حیوانی؟… معافی میرے مالک معافی!…
مغفرت میرے مالک مغفرت!… آپ اپنے فضل سے مغفرت فرمادیں تو کام بن جائے ورنہ دامن
تو بس خالی خالی ہے… رمضان المبارک ایک رحمت والے معزز مہمان خصوصی کی طرح آتا ہے
تاکہ ہمارا رُخ سیدھا کر دے… ہم میں سے اکثر الٹی طرف جارہے ہیں… جی
ہاں! جہنم کی طرف، ناکامی کی طرف… یا اللہ ! مغفرت کی التجا ہے… کتنی
تیزی سے رمضان المبارک گزر رہا ہے… پتا ہی نہیں چلا اور سترہ روزے بیت
گئے…اگرچہ گرمی سخت ہے اور لوڈشیڈنگ بھی جمہوریت کے انتقام والی… مگر رمضان
المبارک کی خوشبو اور اُٹھان ان چیزوں سے ماند نہیں پڑتی… ماشاء اللہ خوب
مہک رہا ہے اور کمانے والے جھولیاں بھربھر کر کمارہے ہیں… اب آخری عشرہ شروع ہونے
کو ہے… کوئی محاذوں کا رخ کر رہا ہے اور کوئی اعتکاف کے انتظار میں گھڑیاں گن رہا
ہے…
بے
شک جن کا رُخ سیدھا ہے وہ تو بس نیکیوں کی تلاش اور جستجو میں رہتے ہیں… کتنے لوگ
چپکے سے روتے ہوئے مانگتے ہیں کہ یا اللہ ! رمضان المبارک میں جمعہ کے
دن کی شہادت عطاء فرما…
سبحان اللہ
! ایک توشہادت، پھر رمضان المبارک کا مہینہ اور پھر جمعہ کا دن… غزوہ بدر کے شہداء
کو یہ تینوں نعمتیں اکٹھی نصیب ہو گئیں…
بے
شک وہ ان نعمتوں کے مستحق تھے… سترہ رمضان المبارک جمعہ کے دن اسلام کا یہ عظیم
الشان معرکہ پیش آیا اوراس نے دنیا کے رنگ کو ہی بدل ڈالا… ہاں بے شک! دنیاکا رنگ
تبھی بدلتا ہے جب مسلمان کا رخ
سیدھا اللہ تعالیٰ کی طرف ہو جاتا ہے… اور
وہ اللہ تعالیٰ کے لئے مر مٹنے کو ہی زندگی سمجھتا ہے… اور
وہ اسلام کے لئے اپنا سب کچھ لٹا دینا اپنی کامیابی سمجھتا ہے… غزوہ بدر یہی تو
تھا… مکہ مکرمہ اور پورے عرب پر مشرکین کا ایسا سکّہ جما ہو اتھا جس طرح آج کل
دنیا پر امریکہ، ورلڈ بینک اور یورپ کا دجّالی سکّہ جما ہوا ہے…
عربوں
کے ’’ورلڈ بینک‘‘ کا تجارتی قافلہ ملک شام سے مکہ مکرمہ کی طرف جا
رہا تھا تو مسلمانوں نے… حضرت آقامدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کی قیادت میں شرک کی جڑ کاٹنے کا عزم کر لیا… اور بھوکے، پیاسے
میدان بدر کی طرف دوڑ پڑے… نشانہ’’ورلڈ بینک‘‘ تھا مگر شکار’’سپر پاور‘‘ ہو گئی…
بے شک مؤمن اخلاص پر آئے تو زمین و آسمان سب اُس کے ہو جاتے ہیں… ابھی چند دن
پہلے یہودیوں کے قائم کردہ ورلڈ بینک کی بعض تفصیلات پڑھیں تو اس بات کا یقین اور
پختہ ہوگیا کہ دنیا کا رنگ جہاد سے ہی بدلا جاتا ہے… ورلڈ بینک کا مالک ایک یہودی
خاندان ہے… دنیا کے کسی گمنام جزیرے میں رہتا ہے… یہ جزیرہ انہوںنے اربوں ڈالر سے
آباد کیا ہے… بالکل خفیہ اور ہر طرح سے محفوظ…
مگر اللہ تعالیٰ سے خفیہ نہیں…
اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے بھی محفوظ نہیں… موت، بیماری
اور خوف وہاں بھی پہنچتے ہیں… دنیا کی تمام دولت کا چھٹا حصہ ان چوہوں کے پاس ہے…
وہ بٹن دبا کر سونے کو مٹی اور مٹی کو سونا بناتے ہیں… یعنی دجال کے انڈے بچے ہیں
اور اپنی شاطرانہ چالوں سے دنیا کی کرنسی کو کنٹرول کرتے ہیں… اور ہر طرف صہیونیت
کا جال پھیلانے اور مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لئے سرمایہ کاری کرتے ہیں… کئی
ممالک کے صدر اور وزراء اعظم اس خاندان کے بالواسطہ یا بلاواسطہ ملازم ہیں…اُن کی
عیاشی، اُن کے تعلقات اور اُن کی طاقت کی بہت ہوشربا داستان اس رپورٹ میں تھی… مگر
ہم نے جب پڑھی تو یوں لگا کہ چند کالے زہریلے چوہے… ایک بے کار کام میں خود کو
کھپا رہے ہیں… صہیونیت کے لئے سب کچھ کیا جارہا ہے مگر صہیونیت ایک چھوٹے سے خطے
میں پڑی کانپ رہی ہے… اور اُس کا گذارہ دوسروں کے کندھوں اور مکاریوں پر ہے… اسلام
کے خلاف سب کچھ کیا جارہا ہے مگر اسلام ہے کہ پھیلتا ہی جارہا ہے ، پھیلتا ہی
جارہا ہے… کیا یورپ اور کیا امریکہ… کیا انڈیا اور کیا روس ہر طرف لوگ جوق در جوق
مسلمان ہور ہے ہیں… گوری عورتیں مکمل حجاب اوڑھ کر یورپ کی گلیوں میں… لا الہ الا
اللہ کی آوازیں لگاتی پھرتی ہیں… اور دشمنوں کے فوجی کھلم کھلا لا الہ الا اللہ
محمد رسول اللہ کی غلامی میں آرہے ہیں… ورلڈ بینک کا مالک خاندان ایک گمنام جزیرے
میں چھپنے پر مجبور ہے… ارے! اُس کو وہ میٹھا ٹھنڈا شربت اور وہ لذیذ کھانے کہاں
ملتے ہوں گے… جو آج مغرب کی اذان کے ساتھ ہی کروڑوں مسلمانوں کا مقدر بن جاتے
ہیں… سبحان اللہ! ایسا لذیذ شربت، ایسا لذیذ پانی اورایسا عمدہ کھانا… یہ میرے آقا صلی
اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں اور محنت کی برکت ہے کہ… افطاری اور سحری کا
کھانا قدرتی طور پر ایسا لذیذ ہوجاتا ہے کہ… دنیا بھر کے کافر اس کی لذت کا تصور
بھی نہیں کر سکتے… کیا فائیو سٹار ہوٹلوں کے کھانے اور کیا جنک فوڈ کے بدبودار بھبھکے…
افطاری اور سحری سادہ ہو یا پُرتکلف… ایسی لذید، ایسی بابرکت اورایسی صحت افزاء
ہوتی ہے کہ جسم کا ایک ایک بال لذت محسوس کرتا ہے… اور پھر ساتھ گرم گرم آنسو…
سبحان
اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم
ویسے
بھی رمضان المبارک میں ایمان والوں کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے… غریب سے غریب مسلمان
کو بھی اللہ تعالیٰ سحر اور افظار میں طرح طرح کی نعمتیں پہنچاتے ہیں… مجھے بادامی
باغ سرینگر کے ٹارچر سینٹر میں افطاری کے وقت ملنے والا ایک سموسہ کبھی نہیں
بھولتا… وہاں بہت سخت پابندی تھی… مگر وہ سموسہ ساری حدود اورپابندیاںتوڑ کر
ہاتھوں میں آبیٹھا… تب شکر اور تشکر کی ایسی کیفیت آئی کہ دل کہاں سے کہاں تک
جاپہنچا… رزق میں برکت کا ایک معنیٰ یہ ہے کہ… کھانے پینے اور مال اسباب میں اضافہ
ہو… دوسرا معنیٰ یہ ہے کہ… نیک اور مقبول اعمال کی زیادہ توفیق ملے… آپ تلاوت
کریں یہ بھی رزق ہے… نماز زیادہ پڑھیں یہ بھی رزق میں برکت ہے… دین اور جہاد کی
دعوت کا موقع ملے یہ بھی رزق ہے… صدقہ خیرات قبول ہو یہ بھی رزق ہے… کوئی اچھی بات
سنیں یہ بھی رزق ہے… دین کا کام زیادہ کریں یہ بھی رزق ہے… الغرض ہر نعمت کا ملنا،
ہر مقبول عمل کی توفیق پا نا یہ’’رزق‘‘ ہے اسی لئے کئی بظاہر غریب لوگ… بڑے رزق
والے ہوتے ہیں کہ اُن کو نیکیوں کا رزق وافر ملتا ہے… رمضان المبارک میں مؤمن کے
لئے ہر طرح کے رزق میں برکت ہی برکت ہوجاتی ہے… وہ جو آدھا پارہ مشکل سے پڑھتے
تھے اب پانچ پاروں پر بھی بریک نہیںلگاتے… وہ جو چار رکعت نفل پڑھ کر کمر کو پکڑ
لیتے تھے اب بیس رکعات کے بعد بھی مزید کی خواہش رکھتے ہیں… اور وہ
جوبیان کرنے سے پہلے طرح طرح کے قہوے، سوپ پی کر خود کو چارج کرتے تھے اور پھر بھی
آدھے بیان میں تھک جاتے تھے… اب ماشاء اللہ بھوکے پیاسے روزآنہ چار پانچ بیان
مکمل جذبے سے کر لیتے ہیں… ہمارے محترم قاری عالمگیر صاحب رحمۃ اللہ
علیہ لاہور والے جو اس رمضان المبارک سے پہلے انتقال فرما گئے وہ کراچی
میں حضرت لدھیانوی شہید رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ اعتکاف بیٹھا کرتے تھے
اوربسا اوقات ایک ایک رکعت میں دس پارے کھڑے ہو کر پڑھ لیتے تھے اور بعض اوقات
پندرہ پارے… اور حضرت لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ پیرانہ سالی اور
بیماری کے باوجود اُن کے پیچھے کھڑے رہتے اور کبھی کبھارتھوڑی دیر کے لئے بیٹھ
جاتے… بات غزوۂ بدر کی چل رہی تھی کہ مسلمانوںنے عرب کے ورلڈ بینک کو اکھاڑنے کے
لئے رمضان المبارک میں جہاد کے لئے کوچ کیا… آپ سورہ انفال میں یہ سارا منظر پڑھ
سکتے ہیں… اللہ تعالیٰ مجاہدین سے محبت فرماتے ہیں اور اہل بدر تو مجاہدین کے امام
ہیں… قرآن مجید نے کس طرح سے تفصیل کے ساتھ اس غزوہ کو بیان فرمایا… اور تو اور
محاذ جنگ کا پورا نقشہ قرآن مجید میں مذکور ہے… مشرکین مکہ جو عرب کی نام نہاد
سپر پاور اور ظاہری طور پر ناقابل شکست تھے… جب انہوں نے دیکھا کہ’’ورلڈ بینک‘‘ ہی
جاتا ہے تو وہ سب لڑنے کے لئے نکل آئے… بے شک مشرکین کی جان ان کے مال میں ہوتی
ہے… اور ورلڈ بینک مکہ کی مشرک حکومت کے لئے شہہ رگ کی طرح تھا… وہ سب اس کے تحفظ
کے لئے نکل آئے…قرآن پاک اُن کے نکلنے کا منظر بھی دکھاتا ہے کہ… کیسا غرور تھا،
کیسا فخر اور کیسی جنگی تیاری… اُدھر شیطان نے صورتحال پر گہری نظر رکھی ہوئی تھی…
عرب میں شیطانیت کا مکمل نیٹ ورک خطرے میں نظر آیا تو شیطان بھی اپنے لشکروں کے
ساتھ میدان میں نکل آیا… سبحان اللہ ! تین سو تیرہ نہتے فدائی مسلمان…
کسی کے پاؤں میں جوتا اور کسی نے کپڑے کے چیتھڑے پاؤں سے لپیٹ رکھے تھے… چند کے
پاس تلواریں اور باقی سب کے پاس لاٹھیاں، پتھر اور کھجوروں کی ٹہیناں… یہ تین سو
تیرہ نکلے تو ہر طرف بھونچال آگیا… شیطان اور اس کے لشکر… ابوجہل اور اس کا لشکر
اور اہل مکہ کے نامور سردار… سب جنگجو اور جنگ آزما میدان میں آپڑے… مقابلہ ہوا
اور اپنے ورلڈبینک کو بچانے کی کوشش کرنے والوں کی اپنی دنیا یعنی ورلڈ ہی ڈوب
گئی… آج اگر مسلمانوں کو غزوہ بدر دیکھ کر بھی جہاد سمجھ نہیں آتا تو بہت افسوس
کا مقام ہے… چند مسلمان شہید ہوئے وہ آج بھی میدان بدر میں آسودہ
ہیں… آج ان شہداء بدر کے مبارک تذکرے کے خوشبودار ماحول میں… ہم بھی اللہ تعالیٰ
سے شہادت مانگ لیں… مغفرت مانگ لیں… مغفرت والا عشرہ جا رہا ہے…
یا اللہ ، یا غفور، یا غفار… ہم سب کو اپنی مغفرت عطاء فرما… ہر مسلمان
مرد اور عورت کو اپنی مغفرت نصیب فرما…
آمین
یا ارحم الراحمین
آخر
میں مغفرت اور استغفار کی ایک دعاء یاد کر لیں جو حضرت احمد بن حنبل رحمۃ اللہ
علیہ اور اُن کے استاذ حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ سے
منسوب ہے…
یَا
رَبَّ کُلِّ شَیْیٍٔ بِقُدْرَتِکَ عَلیٰ کُلِّ شَیْیٍٔ اِغْفِرْلِیْ کُلَّ شَیْیٍٔ
حَتّٰی لَا تَسْئَلْنِیْ عَنْ شَیْیٍٔ
اے
ہر چیز کے رب، ہر چیز پر اپنی قدرت کے واسطے میری ہر خطاء معاف فرمادیجئے اور مجھ
سے کسی چیز کا(قیامت کے دن) حساب نہ فرمائیے۔
بابرکت
اور معززمہمان خصوصی… رمضان المبارک تیزی سے جارہا ہے… اے مسلمانو! اس کی قدر کر
لو…
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللّٰھم
صل علیٰ سیّدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے مہاجر، مجاہد، مسافر بندے ’’شاہ محمد اسماعیل‘‘ کی مغفرت فرمائے… اُنکی شہادت کو قبول فرمائے… اور اُن کو مثالی درجات عالیہ میں مزید ترقی عطاء فرمائے… (آمین)
خلاصہ
ٔحیات
نام: شاہ
محمد اسماعیل رحمۃ اللہ علیہ …
والد
محترم کا نام:حضرت شاہ عبدالغنی رحمۃ اللہ علیہ ابن حضرت شاہ ولی اللہ
محدث دھلوی رحمۃ اللہ علیہ …
ولادت: ۱۲ ربیع
الثانی ۱۱۹۳ ھ
بمطابق ۲۹ ؍
اپریل ۱۷۷۹ء
…
شہادت: ۲۴؍
ذوالقعدہ ۱۲۴۶ھ
اعزازات: یتیمی
، راسخ اور نافع علم، مثالی خطیب ، بہادر ، جنگجو ، سپہ سالار ، شہید…
سرمایہ: اخلاص،
امت مسلمہ کی ہدایت اور اسلام کے غلبے کی حقیقی کڑھن ، ہجرت ، جہاد فی سبیل اللہ
اور اطاعت امیر …
تصانیف: ٭ایضاح
الحق… ٭ منصب امامت… ٭ عبقات… ٭ تقویۃ الایمان ٭اصول فقہ… ٭ صراط
مستقیم و غیرھا …
کتنا
اچھا لگتا ہے
کتنی
خوش نصیبی ، خوش بختی اور اللہ تعالیٰ کا فضل کہ … ایک مسلمان کی سوانح حیات میں
ایک خانہ ولادت کا ہو کہ کب اور کہاں پیدا ہوئے … اور آخری خانہ شہادت کا ہو کہ
کب اور کہاں شہید ہوئے خود سوچیں کہ یہ کتنا اچھا لگتا ہے… ’’شہادت‘‘
کا مطلب بہترین اور اعلیٰ درجے کا ’’حسن خاتمہ ‘‘ … حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمۃ
اللہ علیہ پھلت مظفر نگر میں پیدا ہوئے یہ علاقہ آج کل ہندوستان کے
قبضہ میں ہے، اور آپ کی شہادت ’’ بالاکوٹ‘‘ میں ہوئی … ’’بالاکوٹ‘‘ پاکستان کے
صوبہ سرحد میں واقع ہے اور اس کی وجہ شہرت … حضرت سیّد احمد شہید رحمۃ اللہ
علیہ کا قافلہ ٔ جہاد و شہادت ہے … اور حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمۃ
اللہ علیہ اسی قافلے اور تحریک کے روح رواں اور ہمسفر تھے ۔
عجیب
تو نہیں لگا ؟
مضمون
کے آغاز میں حضرت شاہ محمد اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ کے لئے جو دعائیں مانگی
گئی ہیںوہ آپ کو عجیب تو نہیں لگیں؟… اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ کی مغفرت بڑی
نعمت ہے … اور اللہ تعالیٰ کے مقرب اولیاء کے لئے ’’ مغفرت ‘‘ کی دعا مانگنا بڑا
مقبول عمل ہے … حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بڑھ کر
امت میں کس کا مقام ہے ؟… وہ حضرات ایک دوسرے کے لئے اور اپنے صحابی والدین کے لیے
’’مغفرت‘‘ کی دعا مانگتے تھے … اللہ تعالیٰ استغفار اور توبہ کرنے والوں سے محبت
فرماتے ہیں … ہمیں چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کے لئے بھی استغفار کیا
کریں … استغفار کے معنی ہیں ، مغفرت کی دعا کرنا ‘ مغفرت کا سوال کرنا …
کچھ
غلط افواہیں
بڑے
لوگوں کے دشمن بھی زیادہ ہوتے ہیں، حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ
علیہ اس امت کے بڑے اور مقبول لوگوں میں سے تھے ‘ جس طرح حضرت شاہ صاحب
رحمۃ اللہ علیہ کی نیکیاں تھمنے کا نام نہیں لیتیں اسی طرح اُن کے
’’دشمن‘‘ بھی رکنے کا نام نہیں لیتے … دشمنوں کی دو قسمیں معروف ہیں ‘ ایک وہ جو
کھلے دشمن ہوتے ہیں اور دوسرے وہ ظاہری خیر خواہ جو دشمنوں کی طرح نقصان پہنچاتے
ہیں … حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ کے کھلے دشمن اب تک اُن کے
خلاف لکھتے ہیں ‘ منہ بھر کر بولتے ہیں اور انہیں نعوذ باللہ ایک گستاخ کے روپ میں
پیش کرتے ہیں … جبکہ کچھ دوسرے خیر خواہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ … وہ لشکر جہاد میں
اپنی الگ رائے رکھتے تھے، ہر وقت اپنے امیر کو ٹوکتے تھے ‘ اپنے شیخ اور امیر سے
بات بات پر اختلاف کرتے تھے اور کشیدگی کے ماحول میں رہتے تھے … یقینایہ ایک خالص
جھوٹ ‘ افتراء اور بہتان ہے … حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ
علیہ ’’اطاعت امیر ‘‘ کے اُس مقام پر فائز تھے جو صرف قسمت والوں کو ہی
نصیب ہوتا ہے … ’’اطاعت امیر‘‘ ایک مشکل اور صبر آزما کام ہے … اور اس میں صرف
وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہو اور وہ اخلاص کے بلند
مقام پر فائز ہوں … ’’اطاعت امیر ‘‘ دراصل کسی ایک شخص کی اطاعت نہیں … بلکہ یہ
اللہ تعالیٰ کا حکم اور اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا
تاکیدی فرمان ہے …
بے
کار لوگوں کا کام ؟
کیا
جہاد فی سبیل اللہ بے کار لوگوں کا کام ہے؟… وہ طالبعلم جو پڑھائی میں ناکارہ اور
علم میں کمزور ہوں وہی جہاد پر نکلیں ؟… وہ علماء جو نہ پڑھا سکتے ہوں اور نہ
تقریر کر سکتے ہوں وہی جہاد کے راستے کو اختیار کریں ؟…
یہ
بہت غور طلب موضوع ہے … بلکہ یوں کہیں عصر حاضر کی ایک روحانی اور دماغی بیماری
ہے… ایک صاحب جو کسی مدرسہ میں درجہ رابعہ تک کی کتب پڑھاتے تھے ، کسی
کی ترغیب سے جہادی تشکیل میں آگئے … وہ اکثر فخر کرتے اور بیانات تک میں کہہ دیتے
کہ میں بڑی قربانی کر کے آیا ہوں … میں کامیاب مدرس تھا بے کار آدمی نہیں … اُن
کے اسی احساس نے اُن کو ’’جہاد ‘‘ کے حسین راستے پر نہ جمنے دیا وہ بالاخر چلے گئے
… عصر حاضر کی اس مروج بیماری کا علاج پانا ہو تو صرف ایک نظر ’’قافلہ سیّد
بادشاہ‘‘ کے چند علماء کرام کے علمی مقام پر ڈالیں … خصوصاً حضرت شاہ اسماعیل شہید
رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا عبدالحی رحمۃ اللہ علیہ کے
علمی مقام کو دیکھیں … سبحان اللہ ! کیا علمی شان تھی … اہل علم جانتے ہیں کہ حضرت
شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ پندرہ سولہ سال کی عمر میں جید عالم دین اور
کامیاب مدرس بن چکے تھے … علوم نقلیہ اور علوم عقلیہ میں آپ کی بصیرت مجتہد انہ
تھی … مشکل سے مشکل کتابوں کو منٹوں میں حل فرماتے تھے … دوران مطالعہ کتابوں پر
علمی حاشیے تحریر فرماتے تھے …
حضرت
ندوی رحمۃ اللہ علیہ جیسے انصاف پسند بزرگ لکھتے ہیں :
آپ
( حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ ) مجتہدانہ دماغ کے آدمی تھے
اور اس میں ذرا مبالغہ نہیں کہ بہت سی درسی کتابوں کے مصنفین و شراح سے زیادہ
ذکاوت اور علمی مناسبت رکھتے تھے ‘ اگر آپ کو اشتغال اور تصنیف و تالیف و درس و
تدریس کا موقع ملتا تو آپ اپنے بہت سے پیشر و اور معاصر علماء سے بہت آگے ہوتے
اور بہت سے فنون میں امام یا مجدد کا منصب آپ کو دیا جاتا۔ (کاروانِ ایمان و
عزیمت)
مولوی
فضل حق خیر آبادی کی حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ سے علمی
کشمکش بہت معروف ہے اس کے باوجود جب مولوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو حضرت
شاہ اسماعیل رحمۃ اللہ علیہ کے شہید ہونے کی خبر ملی تو اس وقت طلبہ کو
سبق پڑھا رہے تھے ‘ خبر سنتے ہی کتاب بند کر دی ‘ گھنٹوںبیٹھے روتے رہے ‘ اس کے
بعد کہا کہ اسماعیل کو ہم مولوی نہ جانتے تھے ، وہ امت محمدیہ کا ’’حکیم‘‘ تھا
کوئی شے نہ تھی جس کی ’’انّیت‘ ‘اور لمیّت اس کے ذہن میں نہ ہو ۔ (جماعتِ مجاہدین)
حضرت
شاہ شہید رحمۃ اللہ علیہ کے علمی مراتب کی داستان بہت حیرت انگیز اور دلچسپ ہے،
طلبہ کرام کو اللہ تعالیٰ توفیق دے کہ وہ کم از کم حضرت ندوی رحمۃ اللہ
علیہ اور مولانا غلام رسول مہر رحمۃ اللہ علیہ کی کتابوں
میں ہی اس ’’داستان ہوشر با ‘‘کو پڑھ لیں … مگر اس بلند پایہ علمی مقام کے باوجود
حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ نے ’’جہاد فی سبیل اللہ ‘‘ کے
راستے کو اختیار کیا … اور آج تک اہل علم میں سے کسی کو یہ کہنے کی جرأت نہیں
ہوئی کہ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا یہ فیصلہ غلط تھا اور
انہوں نے اپنی علمی صلاحیتوں کو ضائع کیا… بلکہ تمام اہل حق ہی لکھتے اور یہی کہتے
ہیں کہ … حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے یہ فیصلہ کر کے اپنے علم کا
حق ادا کیا… اور یہ کہ اُن کے پاس جو علم تھا وہ ’’علم نافع ‘‘ تھا جس نے انہیں
کامیابی اور عظمت کا راستہ دکھایا … اور انہوں نے جہاد اور شہادت کے راستے کو
اختیار کر کے ’’جماعت علماء‘‘ میں بلند اور منفرد مقام حاصل کر لیا ہے …
واقعی
قابل رشک کمال
معلوم
نہیں کیا وجہ ہے کہ ’’ بندئہ بے علم ‘‘ کے دل میں حضرت شاہ عبدالقادر صاحب رحمۃ
اللہ علیہ کے لئے ایک عجیب سی عقیدت… محبت اور احترام ہے … عجیب سی
کالفظ اس لئے لکھا کہ یہ عقیدت و محبت ایک مثالی صورت پکڑ کر دل میں ایسی اتری ہے
کہ میں خیالات میں اُن کو دیکھتا ہوں اور بہت سے اہل علم پر اُنہیں فضیلت دیتا ہوں
… اور جب اُن کا کام یا تذکرہ سنتا یا پڑھتا ہوں تو دل میں مٹھاس بھر جاتی ہے …
اور کبھی کبھار یہ جذبہ دل میں ابھرتا ہے کہ کچھ عرصہ سارے کام کاج چھوڑ کر حضرت
شا ہ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر ’’ موضح قرآن‘‘ پر کام کروں … آپ طلبہ
بھائی ! حضرت شاہ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ کمال دیکھیں کہ ایک مسجد
میں خود کو قید کر کے ایسی لا جواب تفسیر تحریر فرمائی … سبحان اللہ ! کیا ترجمہ
ہے اور کیا حاشیہ … اور جہاد فی سبیل اللہ کی ایسی ترجمانی کہ روح بھی عش عش کر
اٹھتی ہے … پھر اگلا کمال دیکھیں کہ قلم سے جہادی تفسیر ’’موضح قرآن ‘‘ تحریر
فرمائی اور اپنے عمل اور روحانی قوت سے صدیوں پر بھاری تین افراد تیار کئے … یہ
تین افراد گویا کہ ’’موضح قرآن‘‘ کی عملی تفسیر تھے … اب ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ
’’موضح قرآن‘‘ ایک جلد میں ہے … اور اس تفسیر کی عملی تفسیر تین جلدوں میں ہے …
پہلی اور مرکزی جلد… حضرت سیّد احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ ، دوسری اور
تیسری جلد … حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا
عبدالحی رحمۃ اللہ علیہ … میری اس مبہم سی بات کو سمجھنے کے لیے دو باتوں کی ضرورت
ہے …
١ حضرت
سیّد احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ
علیہ اور حضرت مولانا عبدالحی رحمۃ اللہ علیہ کے حالات
زندگی کا مطالعہ …
٢ ان
تینوں حضرات کے حضرت شاہ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ سے تعلق کی نوعیت
اور کیفیت…
آج
کا مضمون چونکہ حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں ہے
اس لئے اتنا عرض ہے کہ… حضرت شاہ اسماعیل رحمۃ اللہ علیہ دس سال کی عمر
میں یتیم ہو گئے تھے … اُن کے والد گرامی حضرت شاہ عبدالغنی رحمۃ اللہ
علیہ کا ۱۲۰۳ھ
میں انتقال ہو گیا تو آپ کے عم محترم (یعنی چچا ) حضرت شاہ عبدالقادر نے آپ کو
اپنے دامن تربیت میں لے لیا … حضرت شاہ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ کی
نرینہ اولاد نہیں تھی، آپ کی صرف ایک صاحبزادی تھی جن کا نام ’’زینب تھا ‘‘ …
چنانچہ حضرت شاہ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے یتیم بھتیجے کی اپنے
سگے بیٹے کی طرح پرورش اور تربیت فرمائی اور پھر اپنی نواسی سے اُن کا نکاح بھی کر
دیا … اور اپنی جائیداد میں سے بھی شرعی ورثا ء کی اجازت سے اُن کو کچھ حصہ عطا
فرمایا …
چنانچہ
حضرت شاہ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ کے قابل رشک اعمال اور صدقات جاریہ میں جہاں
ایک طرف ’’تفسیر موضح قرآن‘‘ ہے تو دوسری طرف … حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ
علیہ بھی آپ کا ’’صدقہ جاریہ‘‘ ہیں … دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ یہ حضرت شاہ
عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ پر اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑ ا فضل اور
احسان ہے … واقعی ہے نہ بڑا کمال ؟…
آج
بس اتنا ہی
حضرت
شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ کے کمالات اور حالات کو ایک مضمون میں
سمیٹنا ممکن نہیں ہے … آج کی مجلس کا اختتام حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ
علیہ کی ’’حیات معطرہ‘‘ کے ایک بہت قیمتی اور انمول پہلو کی چند
جھلکیوں پر کرتے ہیں…
* حضرت
شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ نے جب حضرت سید احمد شہید رحمۃ اللہ
علیہ سے بیعت کر لی تو بیعت کے بعد آپ کا یہ حال تھا کہ سیّد صاحب
رحمۃ اللہ علیہ کی جو تیاں اٹھاتے ، پالکی کے پیچھے پیدل چلتے ، رکاب
تھامتے، شکار بند پکڑ کر چلتے ، مولوی محمد حسین رحمۃ اللہ
علیہ صاحب لکھتے ہیں:
’’
راستہ میں حضرت (سیّد صاحب ) فرماتے کہ مولانا ! خدا نے سواری دی ہے ، سوار ہو لو،
بس جا کر سوار ہو جاتے ، بیس قدم چل کر پھر اتر پڑتے اور شکار بند آکر پکڑلیتے
پھر حضرت فرماتے مولانا ! منزل تک سوار ہو چلو، ہاتھ باندھ کر عرض کرتے کہ حضرت!
اسماعیل کو اتنی بھی مفارقت (یعنی آپ کی جدائی ) گوارا نہیں ‘‘۔( کاروان ایمان و
عزیمت )
* ایک
شخص نے شاہ صاحب سے کہا : حضرت آپ کی عمر اور سیّد صاحب کی (عمر) ایک ہے (یعنی وہ
اور آپ ہم عمر ہیں پھر اتنا احترام ؟) فرمایا کہ عمر سیّد صاحب رحمۃ
اللہ علیہ کی ہے ‘ میری کیا عمر ‘ میں اُن کا غلام ہوں ۔ اس لفظ کو مکرر (یعنی بار
بار) کہتے رہے۔ (کاروان ایمان و عزیمت )
* جس
تاریخ سے یہ دونوں بزرگ (حضرت مولانا عبدالحی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت
شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ ) داخل خدام ہوئے ( یعنی سیّد صاحب رحمۃ اللہ
علیہ سے بیعت ہوئے ) اس تاریخ سے تا مرگ بلا کسی دینی ضرورت کے آپ کی
خدمت بابرکت سے ایک امر بھی علیحدہ نہیں ہوئے اور حق تو یہ ہے کہ ان بزرگوں نے سید
صاحب کو خوب پہچانا تھا … ان کی جاں نثاری او ر فرمانبرداری ضرب المثل ہے، یہ
دونوں بزرگ آپ کی پالکی کے ساتھ ننگے پائوں دوڑنے کو فخر دارین جانتے تھے اور ان
دونوں سر تاج علماء دہلی نے جن کی تعظیم بادشاہ دہلی تک کرتے تھے، اپنے تئیں بالکل
مٹا دیا تھا …
(
کاروان ایمان وعزیمت )
* سید
صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت کے بعد ( حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ
علیہ ) کا زیادہ وقت انہیں کی معیت میں گذرا‘ جہاد کے لئے تبلیغ و
تنظیمات کا کام سب سے بڑھ کر انہوں نے انجام دیا ، سیّد صاحب رحمۃ اللہ
علیہ کے ساتھ حج کیا، اس وقت ان کی والدہ ماجدہ زند ہ تھیں، حج کے لئے
ساتھ گئیں، مکہ معظمہ میں انہوں نے سیّد صاحب کی بیعت کی، وہاں وفات پائی اور جنت
المعلّٰی میں دفن ہوئیں۔(جماعتِ مجاہدین)
* (حضرت
شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ )بعض اوقات بیماری کی تکلیف میں دو دو
دن تک سو نہ سکتے یہاں تک کہ اٹھنے بیٹھنے کی طاقت بھی نہ رہتی ‘ تاہم سید صاحبؒ
کی طرف سے کسی جنگی مہم کے انتظام کا حکم پہنچ جاتا تو بے توقف ، ہتھیار سنبھال کر
شیر کی طرح مسلمانوں کے معاملات کی درستی میں مصروف ہو جاتے ۔ (جماعت مجاہدین)
* آپ
سید صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے حکم سے پہلی مرتبہ بالاکوٹ آئے تھے تو
سکھوں پر شبخون (یعنی حملے) کا فیصلہ کر لیا تھا ، عین آخری وقت میں تاکیدی حکم
آیا کہ شاہ صاحب خود ’’ سچوں‘‘ آجائیں اور بالاکوٹ کی حفاظت کا کام حبیب اللہ
خان گڑھی والے کے حوالے کر دیا جائے ، شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے یہ
فرمان پاتے ہی شبخون کا ارادہ ملتوی کر دیا اور ’’سچوں‘‘ جانے کی تیاری کر لی۔
(جماعت مجاہدین)
* تکیہ
( رائے بریلی) کے قیام میں یہ فاضل بے بدل ( یعنی حضرت شاہ اسماعیل رحمۃ اللہ علیہ
) سید صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے فرمائے ہوئے مضمون کو تختی پر لکھتا اور
سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو سناتا … سیّد صاحب رحمۃ اللہ
علیہ کبھی کبھی پانچ پانچ مرتبہ دھلواتے اور لکھواتے (یعنی کئی بار
مٹانے اور نیا لکھنے کا حکم فرماتے) تو آپ کی پیشانی پر شکن نہ آتی ۔
’’
صراط مستقیم‘‘ میں تین تین چار چار سطروں کے القاب میں سیّد صاحب کا نام لیتے ہیں
۔
(کاروان
ایمان و عزیمت)
* بیعت
کے بعد سفرو حضر میں مولانا عبدالحیٔ رحمۃ اللہ علیہ و مولانا محمد
اسماعیل رحمۃ اللہ علیہ دونوں بزرگ سید صاحب رحمۃ اللہ
علیہ کے ساتھ رہے ‘ رائے بریلی کے مقام میں ہر حال میں شریکِ حال رہے ‘
فاقے کئے ، لکڑیاں کاٹیں ، گھاس چھیلی ، اینٹیں تھاپیں ، مکانات اور مسجدیں
بنائیں۔ (کاروان ایمان و عزیمت )
٭…حضرت
شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ اپنے ایک خط میں تحریر فرماتے ہیں :
اگر
سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ مجھے اس مبارک لشکر سے نہایت سختی اور ذلت و
اہانت کے ساتھ نکال دیں اور باہر کر دیں تو بھی ہر گز ہرگز اس فرشتہ صفت لشکر سے
جدا نہیں ہو سکتا، سو تدبیریں کر کے پھر اُن کے خدّام میں شامل ہو جائوں گا ۔
(کاروان ایمان و عزیمت)
خلاصہ
یہ کہ حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے راسخ علم کی روشنی
میں دیکھا کہ خدمت اسلام اور نجات اخروی کا بہترین راستہ ’’ جہاد فی سبیل اللہ ‘‘
ہے … چنانچہ وہ سب کچھ چھوڑ کر اس راستے پر چل پڑے … اور وہ جانتے تھے کہ ’’جہاد
فی سبیل اللہ ‘‘ کی قبولیت اور کامیابی کے لئے ’’ اطاعت امیر ‘‘ لازم ہے تو اس میں
انہوں نے حد درجہ محنت کی … اور بالآخر اپنی اونچی منزل کو پا گئے …
اللّٰھم
صل علی سیدنا محمد و الہ و صحبہ
و
بارک وسلم تسلیماً کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
کا نظام برحق ہے…
ذٰلِکَ
بِاَنَّ اللہَ ھُوَ الْحَقُّ
اللہ تعالیٰ
کے نظام کو اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے ہی سمجھتے ہیں… شیطان
بڑے بڑے دھوکے اور مغالطے ڈالتا ہے… مسلمان غالب کیوں نہیں ہو رہے؟… دیندار مسلمان
ہر جگہ مظلوم کیوں ہیں؟ ہر جگہ مار کیوں کھا رہے ہیں؟…
کبھی
آپ نے قرآن مجید کی ’’عدالت‘‘ دیکھی ہے… ایک ’’نبی‘‘ کا قصہ سنایا جاتا ہے… یہ
نوح ہیں، یہ ابراہیم ہیں، یہ ھود ہے، یہ صالح ہیں، یہ لوط ہیں، یہ شعیب علیہم
السلام ہیں… انہوں نے اپنی اپنی قوم کو دعوت دی، خوب محنت فرمائی…
نتیجہ کیا نکلا؟ قرآن فرماتا ہے:
وَمَا
کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (الشعراء:۸)
قوم
کے اکثر لوگ ایمان نہیں لائے… جمہور نے ان انبیاء علیہم السلام کی دعوت
کو ردّ کر دیا… انہوں نے ان انبیاء علیہم السلام کو بے حد ستایا، بہت
زبان درازی، بہت مذاق اڑایا… اب قرآن پاک فیصلہ سناتا ہے کہ…
’’انبیاء علیہم
السلام کامیاب ہو گئے‘‘
دوسرا
فیصلہ سناتا ہے…!!!
جنہوں
نے انبیاء علیہم السلام کا ساتھ دیا وہ نجات پا گئے یعنی وہ بھی
کامیاب…
اور
جمہور ناکام ہو گئے، ذلیل ہو گئے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مر گئے بلکہ مارے گئے…
سبحان اللہ
!… ہے نا عجیب فیصلہ؟
اس
فیصلے کی دلیل کیا ہے؟… بار بار فرمایا!
اِنَّ
رَبَّکَ لَھُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمِ (الشعرآء:۹)
’’بے
شک آپ کا رب عزیز ہے، غالب ہے اور رحمت والا ہے‘‘
زور
آور مخالفوں نے چند دن بہت دھوم اڑائی… مگر انہوں
نے اللہ تعالیٰ کا کیا
بگاڑا؟… اللہ تعالیٰ کے نظام کا کیا بگاڑا؟…
سورج
اسی طرح نکل رہا ہے، غروب ہو رہا ہے… حتی کہ چڑیا اور مکھی تک کا نظام اسی طرح چل
رہا ہے… یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں آئے تھے تو
انہوں نے کون سی کامیابی حاصل کر لی؟… زندگی کا نظام وہی اور موت کا نظام وہی…
سارے فرعون، قارون، ہامان مر گئے… دجّال بھی مر جائے گا… شیطان بھی مر جائے
گا… اللہ تعالیٰ عزیز ہے، اسی کی عزت اور غلبہ
دائمی ہے… مگر وہ حکیم ہے… اس کی حکمت کا انداز عجیب ہے…کسی کو غالب کر کے آزماتا
ہے اور کسی کو مغلوب کر کے آزماتا ہے… اور کامیابی اسی کو دیتا ہے…
جو اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکا رہے، عاجز رہے
اور اللہ تعالیٰ سے حُسن ظن رکھے… اس کی لاش کے ٹکڑے کتے
کھا رہے ہوں تب بھی وہ کامیاب ہے… وہ ہر طرح سے بے بس اور مجبور کسی چشمے کے کنارے
پڑا کراہ رہا ہو وہ کامیاب ہے…وہ بیماریوں سے چور چور ہلنے جلنے سے عاجز ہو وہ
کامیاب ہے… وہ بھوک پیاس سے نڈھال کہیں اکیلا پڑا ہانپ رہا ہو وہ کامیاب… وہ کسی
جیل میں الٹا لٹکا ماریں کھا رہا ہو وہ کامیاب… وہ کسی سولی کے پھندے پر جھول رہا
ہو اس کی آنکھیں اور زبان باہر نکل آئی ہیں… وہ کامیاب…
ایسے
کامیاب لوگ… اللہ تعالیٰ کے نزدیک سورج سے بھی قیمتی، چاند
سے بھی قیمتی… آسمان اور زمین سے بھی قیمتی…حالانکہ دیکھنے میں وہ ’’ناکام‘‘ نظر
آتے ہیں مگر… فرشتے اُن پر رشک کرتے ہیں اور حوریں اُن کے شوق میں شرماتی ہیں…
دوسری طرف دجّال ساری دنیا کا بادشاہ ہو کر… ہر طرح کے اختیارات سے مالا مال ہو کر
بھی ناکام … ایسے لوگوں کی قدر خنزیر برابر بھی نہیں…
یہ
سب کچھ قرآن پاک سکھاتا ہے، ہر ہر آیت میں سمجھاتا ہے… مگرپھر بھی لوگوں کو
مایوسیاں بانٹنے کا شوق ہے… ابھی مصر میں حالات خراب ہوئے تو مایوسیاں ہی
مایوسیاں… اسلام کہیں نافذ نہیں ہو سکتا؟… مزاحمت کا کوئی فائدہ نہیں؟ ارے مصر میں
جو مر رہے ہیں وہ کامیاب جارہے ہیں… ان کو اپنے وقت پر ہی مرناتھا… سیلاب سے مرتے
یا زلزلے سے … ایکسیڈنٹ سے مرتے یا سانپ کے کاٹنے سے… کینسر سے مرتے یا دم گھٹنے
سے… مکان گرنے سے مرتے یا بد ہضمی سے … مگر شان تو دیکھو کہ اسلام کے نعرے لگاتے،
سینے میں گولیاں کھاتے… بغیر کسی درد کے مررہے ہیں… کیا مرنا کوئی ناکامی ہے؟… اگر
مرنا ناکامی ہے تو دنیا میں کون کامیاب ہے؟… کیا اُبامہ نہیں مرے گا؟ کیا بش نہیں
مرے گا؟… کیا بل گیٹس نہیں مرے گا؟… کیا ورلڈ بنک کے مالک یہودی نہیں مریں گے؟ سب
ہی مر رہے ہیں، اورسب ہی مرجائیں گے… کیا دنیا میں کوئی ایسا آدمی ہے
جس کا پچھلے دن کا عیش اُس کے ساتھ ہو؟… جو دن گذر گیا وہ گذر گیا… عیش میں گذرا
یا مشکل میں…
ارے
مسلمانو! اللہ تعالیٰ کے نظام کو سمجھو
اور اللہ تعالیٰ کے دین میں شک نہ کرو… ارشاد فرمادیا کہ:
’’اگر
تم ایمان پر ہو تو تم ہی غالب ہو‘‘
کالم
میں زیادہ آیات نہیں لکھتا کہ… اخبار پڑھنے والے ہمیشہ وضو کی حالت میں نہیں
ہوتے… ترجمے پر بے وضو ہاتھ لگ جائے تو کوئی حرج نہیں… مشرکین مکہ کا لشکر فتح اور
شادمانی کے ڈنکے بجاتا مکہ کی طرف لوٹ رہا تھا… اور مسلمان… غم پر غم، صدمے پر
صدمہ اور زخم پر زخم… بس یوں کہیں کہ بالکل چور چور تھے ٹوٹے پھوٹے تھے… قائد لشکر
حضرت آقامدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے زخموں سے خون رُک نہیں رہا تھا…
شہداء کے لئے کفن کا کپڑا دستیاب نہیں تھا… منافقین کی لمبی زبانیں طعنے دینے سے
نہیں رک رہی تھیں… اسلامی لشکر کا تقریبا ہر سپاہی زخمی تھا… اور مذاق اڑانے والوں
کے قہقہے ان زخموں پر نمک بن کر گر رہے تھے… تب قرآن کی عدالت سے سچا فیصلہ آیا
کہ… اپنے دلوں میں دیکھو! اگر ایمان موجود ہے تو تم ہی غالب ہو… بظاہر بہت عجیب
فیصلہ ہے… مگر بالکل برحق فیصلہ تھا… اللہ تعالیٰ فتح دے تو
ہم اللہ تعالیٰ سے خوش… اور
اگر اللہ تعالیٰ شکست دے تو
ہم اللہ تعالیٰ سے ناراض… یہ ایمان تو نہ ہوا… یہ وفاداری
تو نہ ہوئی… یہ عبدیت تو نہ ہوئی… یہ تو خود غرضی ہوئی اور اپنی ذات کا تکبر… جو
بندہ اللہ تعالیٰ کو یہ حق بھی نہیں دیتا
کہ اللہ تعالیٰ اُسے اس کی غلطی پر سزا دے، یا اپنے پیاروں
کے پیار کا قربانی سے امتحان لے… تو وہ کیسا بندہ ہے؟… ارشاد فرمایا:
’’اگر
تم ایمان پر ہو تو تم ہی غالب ہو‘‘
حضرات
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایمان پر تھے… اُس وقت جس غلبے کا
اعلان ہوا وہ اگرچہ کہیں نظر نہیں آرہا تھا… مگر
وہ اللہ تعالیٰ کے نظام میں موجود تھا… اور پھر کچھ عرصہ
بعد وہ غلبہ ہر کسی نے دیکھ لیا… مشرکین کا نام و نشان مٹ گیا اور اُحد کے زخمی
دنیا کے حاکم بن گئے… اور ہمیشہ ہمیشہ والی اصل زندگی میں بھی کامیاب ہو گئے… بات
سمجھ آگئی کہ ایک مسلمان کو… نتائج سے بالکل بے پرواہ ہو کر دو باتوں کی فکر کرنی
چاہئے…پہلی یہ کہ اُس کے دل میں ایمان کی جو شمع جل رہی ہے وہ کبھی نہ بجھے، کبھی
نہ بجھے… اور دوسرا یہ کہ اُس کا راستہ سیدھا رہے… منزل ملے یا نہ ملے… یہ راستہ
ہی خود منزل ہے… اس لئے سورہ فاتحہ میں راستہ مانگا گیا… منزل نہیں مانگی
گئی…مسلمان غالب ہو جائے تب بھی ایمان پر رہے اور راستے پر رہے…مسلمان مغلوب ہو
جائے تب بھی ایمان پر رہے اور راستے پر رہے… دونوں آنکھیں چھن جائیں تب بھی ایمان
پر رہے… اللہ تعالیٰ سے ناراض نہ ہو… دنوں بازو اور
دونوںٹانگیں چھن جائیں… تب بھی ایمان پر رہے… اللہ تعالیٰ سے بدگمان نہ
ہو… مال اور حکومت مل جائے تب بھی ایمان پر رہے تکبر اور غفلت میں مبتلا نہ ہو…
فقر اور بھوک ملے تب بھی ایمان پر رہے… مایوس نہ ہو… بس یہی ہے، اسلام… یعنی خود
کو سپرد کر دینا… اور یہی ہے ایمان…یعنی اللہ تعالیٰ پر
پورا اعتماد رکھنا…
کبھی
کبھی سجدے میں گر جایا کریں… اور کہا کریں…
یَا
رَبِّ اَنَا الذَّلِیْلُ الْمُفْتَقِرْ
یا اللہ
! میں آپ کے سامنے ذلیل ہوں… دل اور جان سے مطیع اور جھکا ہوا ہوں… اور میں آپ
کا ہی محتاج ہوں… بار بار پڑھتے رہیں… بار بار پڑھتے رہیں… پھر کہیں…
اَللّٰھُمَّ
اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْکَرِیْم
یا اللہ
! آپ عزت وغلبے والے اور کرم و احسان فرمانے والے ہیں… آج ہم مسلمانوں کا بڑا
مسئلہ نہ امریکہ کی طاقت ہے اور نہ انڈیا کی بدمعاشی… یہ سب تو میرے مالک کے سامنے
مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں… مسلمانوں کا اصل مسئلہ اُن کے دل میں ایمان کی
کمزوری ہے… کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کٹ گئے…
وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ذلیل اور محتاج بن کر پیش نہیں
ہوتے… تو ساری دنیا میں ذلیل و محتاج ہوتے ہیں…
وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ذلیل و محتاج بنتے تو ساری دنیا پر
حکومت کرتے… اپنے دل کے ایمان کی فکر مسلمانوں سے نکل گئی… ہر شخص کسی نہ کسی فانی
یا فسادی فکر میں مبتلا ہے… اس کے پاس وقت ہی نہیں کہ… اپنے دل کو دیکھے کہ اس میں
ایمان کہاں کھڑا ہے؟… اور اُس کے دل کا اللہ تعالیٰ سے تعلق
کتنا ہے؟… دنیا دیکھے گی کہ… جہاد کی طاقت کی برکت سے دنیا کے تمام موجودہ فرعون
ذلیل و رسوا ہو جائیں گے… جہاد میں یہ طاقت اللہ تعالیٰ نے
ہی رکھی ہے… مجاہدین کو چاہئے کہ… اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے
تعلق کو مضبوط تر کریں… ایمان کے ذریعہ،امانت کے ذریعہ، عبادت،اتباع سنت وذکر کے
ذریعہ، اطاعت امیر کے ذریعہ اور اچھے اخلاق کے ذریعہ… غیبت بالکل بند… خیانت سے اس
طرح نفرت جس طرح خنزیر کے گوشت سے… فساد اور ذاتی برتری اور عہدوں کا شوق دل سے
نکالیں… خود کو مٹاکر آگے بڑھیں کیونکہ جنت بہت اونچی ہے… اور ناک و عزت کا بوجھ
انسان کو اڑنے نہیں دیتا… اپنی مجالس کو غیبت اور فتنہ وفساد سے پاک رکھیں…
اوراپنے دل کے نور کو نہ بجھنے دیں… جب فکر گھر کی، کھانے کی، عہد ے کی، منصب کی…
اور اپنی ذات کی پڑجائے تو دل کا نور بجھ جاتا ہے… اور اونچے عزائم… جلی ہوئی
لکڑیوں کی طرح دھواں دینے لگتے ہیں…عہدوں کا ایسا شوق کہ… اپنی ذرہ سی معزولی یا
تبدیلی کا خطرہ محسوس ہو تو… فوراً غیبت کا طوفان کھڑا ہو جائے… اور دل فساد کی
طرف مائل ہو جائے تو… ایسے عہدے ایمان کے لئے زہر قاتل ہیں (یہ خاص کسی کی طرف
اشارہ نہیں، یہ ایک عمومی مہلک مرض ہے جس میں شیطان مبتلا کرتا ہے… اور یہ ایک
مسلمان کے دین کے لیے اُس سے بھی زیادہ خطرناک ہے جتنا ایک بھوکا خونخوار بھیڑیا بکریوں
کے لیے جیسا کہ حدیثِ پاک میں آیا ہے… پس جس میں یہ بیماری ہو وہ اپنی نجات کے
لیے اس کا علاج کرے)… مُردہ وہ نہیں جس میں جان نہ ہو… مُردہ تو وہ ہے
جس کے دل کا نور بجھ چکا ہو… اللہ تعالیٰ ہی عزت دینے والا
ہے… اللہ تعالیٰ ہی ذلت سے بچانے والاہے… اسی کی ذات سے
محبت اسی کی ذات پر اعتماد… اور اسی پر توکل کر کے… قربانی، محنت اور دیانت سے
جہاد کا کام کرنے والوں کو… کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا… وہ کامیاب ہی رہتے ہیں…
جس حالت میں بھی ہوں… ان کی کامیابی نظر آتی ہو یا نہ آتی
ہو… اللہ تعالیٰ کے محکم نظام میں کامیاب ہیں… یہود و نصاری
اور دشمنان اسلام نے ایک منظم ترتیب کے ساتھ’’مصر‘‘ میں خون مسلم کی ہولی کھیلی
ہے… اب اُن کا رخ’’پاکستان‘‘ کی طرف ہے… وہ یہاں بھی وہی تجربہ آزمانے کے لئے
اپنے تمام مہروں کو سرگرم کر چکے ہیں… مسلمان، مسلمان سے لڑے… مسلمان، مسلمان کو مارے…
مسلمانوں کے ہر گھر میں یتیم بچے اور بیوائیں ہوں… مسلمانوں کا خون ہر طرف بہتا
نظر آئے…یہ ان کی خواہش ہے… اور اس خواہش کی تکمیل کے لئے وہ منافقین کو پالتے
ہیں… اورپھر ان منافقین کے ذریعہ اپنے مقاصد حاصل کرتے ہیں… پاکستان
میں… مصرکا ماحول بنانے کی تیاریاں مجھے زور و شور سے ہوتی نظر آرہی ہیں… قتل و
غارت اور خونریزی کا ایک طوفان تیار کیا جارہا ہے…ہماری تو کوئی سنتا نہیں کہ اس
طوفان کو روکنے کے لئے تجاویز دیں… پرویز مشرف کے ابتدائی دور میں جب ایساطوفان
اٹھانے کی تیاریاں تھیں تو… ’’کالی آندھی‘‘ کے نام سے ایک مضمون لکھ کر… ہر طرف
پھیلایا، ہر کسی تک پہنچایا… کچھ لوگوں نے مان
لیا، اللہ تعالیٰ نے اُن سے دس سال کلمے اور جہاد کی محنت
کا اونچا کام لیا… اللہ کرے وہ اس کام کی حفاظت کر کے اسے اپنے ساتھ
آخرت میں لے جائیں… مگر حکومت اور کچھ طبقوں نے اُس مضمون کو دھمکی اور بزدلی
قرار دے کر پھینک دیا… تب کچھ ہی عرصہ بعد وہ کالی آندھی آئی جو ابھی تک نہیں
تھمی… اور ہزاروں افراد کا خون کر گئی… اور مستقبل کا جو منظر نامہ اس مضمون میں
بیان کیا گیا تھا وہ ہر کسی نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا… اب اُس سے زیادہ ایک بڑی
آندھی کفر کے ایوانوں سے تیار کر کے… پاکستان بھیجی جا چکی ہے… خیبر سے کراچی تک
جنگ ہی جنگ اور خون ہی خون… افغانستان میں قائم انڈین سفارتخانے اس آندھی کو تیز
کرنے کے لئے پوری طرح سرگرم ہیں…ہم اللہ تعالیٰ سے خیر کی
دعاء مانگتے ہیں… اورکہتے ہیں…
حَسْبُنَااللّٰہُ
وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ
اللہ
تعالیٰ سب کی سنتے ہیں ہم انہیں کے حضور التجاء اور دعا کرتے ہیں کہ وہ اس طوفان
کو روک دیں… اور فریقین کو عقلِ سلیم عطاء فرمائیں…
باقی
رہاڈر اور خوف… تو یاد رکھیں! دنیا میں کوئی ایسانہیں جس سے ڈرنے یا خوف کھانے کی
گنجائش ہو… یہ لوگ مار ہی سکتے ہیں… اور موت نے ہر حال میں آنا ہے… خوف اور ڈر
صرف اللہ تعالیٰ کا… اور اس بات کا کہ… دل سے ایمان نہ نکل
جائے… اور سیدھے راستے سے پاؤں نہ پھسل جائے… اور دل میں جو دین کے کام کی فکر
روشن ہے وہ… دنیا کے دھندوں میں نہ بجھ جائے…بس بھائیو! اور بہنو…
ایمان
کی حفاظت، سیدھے راستے پر قائم رہنے کی فکر… اور اپنی فکر کو روشن رکھنے کی آرزو…
اور کچھ نہیں، اور کچھ نہیں…
ہاں
سنو! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں!
تم
ہی غالب ہو، اگر تم ایمان پر ہو…
اَللّٰھُمَّ
یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قُلُوْبَنَا عَلیٰ دِیْنِک
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ’’شکر‘‘
کی توفیق عطاء فرمائے… ایسی توفیق کہ ہم دل سے پکار اٹھیں:
اَلْحَمْدُ
لِلهِ،اَلْحَمْدُ لِلهِ، اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
ایک
بار دبئی میں ایک تاجر کو دیکھا،وہ ہم مہمانوں کو بھی نمٹا رہاتھا اور ساتھ ساتھ
اپنے فون کے ذریعہ کاروبار بھی چلا رہا تھا…موبائل کا دور آیا نہیں تھا، تار والا
فون تھا اور وہ حیرت انگیز تیزی سے نمبر ملاتا تھا… پھر
ایک اللہ والے کو دیکھا وہ ہم مہمانوں کو بھی نمٹا رہے تھے،
مکہ مکرمہ کے ایک چھوٹے سے ہوٹل کا کمرہ تھا… وہ بہت اچھی اچھی باتیں فرماتے اور
ہماری بھی سنتے مگر جیسے ہی ان کی بات پوری ہوتی تو ان کی زبان اُن کے تالو سے
ٹکرانے لگتی:
اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ
نہ
ہاتھ میں تسبیح اور نہ ذکر کا اظہار، بس چپکے چپکے اپنا کاروبار چلا رہے تھے اور
آخرت کا نفع کما رہے تھے… پھر ایک اور بزرگ سے ملاقات ہوئی وہ مہمانوں کو یوں
نمٹاتے کہ ساتھ ساتھ اُن کا ’’کاروبار‘‘ بھی چلتا رہتا… ملتے ہی فرماتے…
دیکھونا! اللہ سائیں
نے ملا دیا… الحمدللہ ، الحمدللہ … اکثر جملوں کے ساتھ دو بار الحمدللہ ، الحمدللہ … جو لوگ ’’الحمدللہ‘‘ کا معنیٰ اور
مقام سمجھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس مبارک اور اونچے کلمے کو پڑھنا کتنی نفع بخش
تجارت ہے…
آئیں
ہم بھی پڑھ لیں…
اَلْحَمْدُ
لِلهِ،اَلْحَمْدُ لِلهِ، اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
کسی
نے بہت پہنچی ہوئی بات کہی کہ… الحمدللہ پڑھنے سے بنددروازے کھلتے جاتے ہیں… مالک حقیقی
نے خود فرمایا… تم شکر کرو گے تو میں زیادہ دوں گا… دنیا میں اس وقت پانچ ارب سے
زائد انسان’’کلمہ طیبہ‘‘ سے محروم ہیں… اور اللہ تعالیٰ نے
ہمیں اپنے فضل سے یہ مبارک کلمہ’’لاالہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ‘‘ نصیب فرما دیا… اس
عظیم اور انمول نعمت پر تو پڑھ لیں…
اَلْحَمْدُ
لِلهِ،اَلْحَمْدُ لِلهِ، اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
صرف
تین بار الحمدللہ پڑھنے سے … عام نہیں خاص الخاص قسم کی نوے
نیکیاں ملتی ہیں… اور پھر الحمدللہ قرآن پاک کی آیت مبارکہ بھی ہے… اور قرآن پاک
کے ہر حرف کوپڑھنے پر دس نیکیاںملتی ہیں… اور صرف’’الحمد‘‘ میں پانچ حرف ہیں اور
پھر بڑی اونچی بات یہ ہے کہ… سب سے افضل دعاء’’ الحمدللہ ‘‘ ہے اور دعاء… تمام
عبادتوں کا اصل اور مغز ہے… پڑھیں! پڑھیں! شکر میں ڈوب کر پڑھیں…!
اَلْحَمْدُ
لِلهِ،اَلْحَمْدُ لِلهِ، اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
مجھے
معلوم ہے کہ آپ سب دکھی ہیں اور غمگین… شام کے مسلمانوں پر کیمیاوی ہتھیاروں سے
حملہ ہوا…مصر کا خون دریائے نیل کو سرخ کر رہا ہے… اور امت مسلمہ لہو لہو ہے…مگر
ہم مسلمانوں کے پاس اپنے رب کی ایسی ایسی نعمتیں ہیں کہ انتہائی دُکھی حالات میں
بھی وہ… ہمیں مایوس نہیں ہونے دیتیں… کیا آج آپ نے فرض نمازیں اداکیں؟… فرض
نمازیں اتنی بڑی، اتنی اعلیٰ اور اتنی قیمتی نعمت ہے کہ مرتے ہی ہر انسان کو اس
نعمت کی قدر آجائے گی… جب جہنمی کہہ رہے ہوں گے ہمیں اس لئے یہ آگ جلا رہی ہے
کہ… ہم نمازیں نہیں پڑھتے تھے، ہم مسکینوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے…
لَمْ
نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ…
تب
نماز کی نعمت پانے والے کہیں گے…
اَلْحَمْدُ
لِلهِ،اَلْحَمْدُ لِلهِ، اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
عشاء
کے بعد مصلے پر بیٹھ جائیں، آنکھیں بندکر لیں اور دل میں کہیں
یا اللہ آپ نے آج فجر کی نماز نصیب فرمائی… الحمدللہ ، الحمدللہ ، الحمدللہ … آپ نے ظہر کی نماز نصیب
فرمائی… الحمدللہ ، الحمدللہ ، الحمدللہ …اسی طرح ہر نماز کو یاد
کرتے جائیں اور الحمدللہ ، الحمدللہ ،
الحمدللہ پڑھتے جائیں…
پانچ
نمازوں پر پندرہ بار الحمدللہ … یہ شکر
بھی ہو گیا، دعاء بھی ہوگئی اور آگے کی نمازیں بھی آسان… جو آج کی نمازوں پر
شکرادا کرے گا اُس کے لئے کل کی نمازیں پھولوں کی خوشبو کی طرح آسان ہوجائیں
گی…کہتے ہیں کہ فجر میں نہیں اُٹھا جاتا… عشاء کے بعد عشاء کی نماز کا شکر ادا
کریں… الحمدللہ ، الحمدللہ ، الحمدللہ …
دل کی گہرائی سے… تب ان شاء اللہ فرشتے آپ کو فجر میں اٹھا
کر مسجد کی پہلی صف میں جا بٹھائیں گے…
اَلْحَمْدُ
لِلهِ،اَلْحَمْدُ لِلهِ، اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
آج
آپ اپنے گھر پر ہیں؟… اگر گھر پر ہیں تو شکر ادا کریں…
اَلْحَمْدُ
لِلهِ،اَلْحَمْدُ لِلهِ، اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
دنیا
کے کئی ملین انسان جیلوں میں ہیں… اُن کو اپنے گھر کی شکل تک بھول گئی… دنیا کے
کئی کروڑ انسان ہسپتالوں میں ہیںوہ گھر جانے کو ترستے ہیں… اوردنیا کے کروڑوںانسان
ایسے ہیں کہ اُن کے پاس گھر ہی نہیں… اورپھر گھر بیٹھنے سے بھی زیادہ بہتر اور
افضل اللہ تعالیٰ کے راستے کا سفر ہے… جہاد کا سفر، طلبِ
علم کا سفر اور احیائِ دین کا سفر، جنہیں یہ سفر نصیب ہو جائے وہ دل کی گہرائی سے
کہیں:
اَلْحَمْدُ
لِلهِ،اَلْحَمْدُ لِلهِ، اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
جہاد
کاسفر فرشتوں کو زمین پر لے آتاہے… اور جہاد کے راستے کی مٹی جنت کا مُشک بن جاتی
ہے… ایک ہے جہاد…وہ شروع ہوتا ہے دشمنوں کے مقابلے سے… یعنی محاذ جنگ سے… اُس کا
مقام بہت اونچا اور نرالاہے… اور دوسرا ہے جہاد کا کام… وہ بہت وسیع ہے… اور اس
میں دور قریب کا کوئی فرق نہیں… کوئی مجاہدین کیلئے اموال جمع کرے، کوئی مجاہدین
کے لئے افراد تیار کرے… کوئی مجاہدین کی مضبوطی اور دعوت جہاد کیلئے مساجد و مراکز
آباد کرے… کوئی مجاہدین کو جسمانی اور سلاحی تربیت دے، کوئی مجاہدین کو دینی اور
روحانی تربیت دے… کوئی مجاہدین کے اموال کی حفاظت کر ے اور حساب رکھے، کوئی
مجاہدین کی دعوت اور کام کو پھیلانے کیلئے لکھے، پڑھے اور چھاپے… کوئی مجاہدین کو
آخری وقت رخصت کرے اور کوئی مجاہدین کے گھروں کی حفاظت اور دیکھ بھال کرے… یہ سب
جہاد کے مبارک کام ہیں… اس میں عسکری کی چمک اور غیر عسکری کی حقارت والی تقسیم
غلط ہے اور شیطانی فتنہ ہے… اس میں جس کی جتنی محنت، جس کا جتنا اِخلاص اور جس کی
جتنی قربانی ہو گی اُسے اُسی قدر اجر ملے گا… ان میں سے کوئی کام ایسا نہیں کہ جس
کے بغیرمنظم اور شرعی جہاد چل سکے اور آگے بڑھ سکے… پس یہ سب کچھ جہاد کا حصہ ہے…
جس کو اس میں سے کچھ بھی اخلاص کے ساتھ نصیب ہو جائے وہ دل کی گہرائی سے شکر ادا
کرے:
اَلْحَمْدُ
لِلهِ،اَلْحَمْدُ لِلهِ، اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
اگر
ان کاموں میں سے بعض کو جہاد کہیں اوربعض کو غیر جہاد… بعض کو عسکریت کہہ کر
چمکایا جائے اور بعض کو غیر عسکریت کہہ کر گرایا جائے تو… جہاد کا پورا نظام ہی
فنا ہو جائے گا… کیا بغیر مال کے جہاد چلتاہے؟… کیا بغیر دعوت کے جہاد بڑھتاہے؟
کیا بغیر تعلیم و تربیت کے جہاد پنپتاہے؟… تب تو’’امیر‘‘ ظالم ہوگا کہ اُس نے اپنے
بعض مأمورین کو جہاد میں لگایا… اور دوسرے بعض کو جہاد سے محروم کر دیا حالانکہ
سب نے جہاد کی بیعت کی تھی… آج اسلامی حکومتیںموجودنہیں ہیں کہ شہداء
کرام کے گھروں کی کفالت کریں… اُمت میں جہاد کا درد زندہ رکھیں تاکہ افراد کی کمی
نہ ہو… مجاہدین کے لئے تعلیم و تربیت کا بندوبست کریں تاکہ جہاد، فتنہ اور فساد
میں تبدیل نہ ہو… علم، پیسے اور تقوے کی کمی مجاہدین کو اغواکاری اورفساد میں
ڈالتی ہے… اگر اسلامی حکومتیں موجود ہوتیں تو باقی سارے کام وہ کرتیں اور مجاہدین
صرف محاذوں پر لڑتے… مگر اب اسلام کے اس قطعی اور محکم فریضے کو… شرعی بنیادوں پر
زندہ رکھنے کے لئے… جہاد اورمعاونت جہاد… یہ دونوں کام مجاہدین کو کرنے ہیں… اور
ان میں سے ہر کام کی تشکیل کے لئے ہر مجاہدکو تیار رہنا چاہئے… جن
کو اللہ تعالیٰ نے ان میں سے کسی بھی کام کی توفیق عطاء
فرمائی ہے وہ شکر اداکریں اور مایوسی میں نہ گریں… دل سے پکاریں…
اَلْحَمْدُ
لِلهِ،اَلْحَمْدُ لِلهِ، اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
کسی
مسلمان کا جہاد قبول ہو جائے یا اس کی جہادی محنت قبول ہو جائے
تووہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے حُسن خاتمہ کو پالیتا ہے… یعنی
پکا ٹھکا کامیاب ہو جاتا ہے… یہاں ایک ضروری نکتہ سمجھ لیں… ممکن ہے آج کل اسے نہ
سمجھا جائے مگر ہم نے اور آپ نے تو مرجانا ہے… ان
شاء اللہ اگلی نسلیں ان باتوں سے فائدہ اٹھالیںگی… جہاد کی
قبولیت کے لئے امیر کی اطاعت شرط ہے… امیر کا راضی ہونا شرط نہیں… ایک شخص امیر کی
اطاعت کرے اور اس کی تشکیل میں چلے مگر امیر اس سے راضی نہ ہو یہ شخص اور اس کا
جہاد کامیاب ہے…اور ایک شخص امیر کی نافرمانی کرے مگر امیر اس سے راضی ہو تو امیر
کاراضی ہونا اُس کے جہاد کو مقبول نہیں بنا سکتا…امیر بنانے کا
حکم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ
وسلم نے دیا ہے… امیر کی بیعت کا حکم شریعت اسلامیہ نے دیا ہے… امیر کی
اطاعت کا حکم اللہ تعالیٰ نے اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ
وسلم نے دیا ہے… امیر کی اطاعت کی جائے تو جماعت
پر اللہ تعالیٰ کا ہاتھ رہتا ہے اور دلوں پر
سکینہ نازل ہوتا ہے… امیر کی نافرمانی کی جائے تو اللہ تعالیٰ
کا ہاتھ اٹھ جاتا ہے اور دلوں کا اطمینان جاتارہتاہے…
امیر
کی اطاعت کے لئے شریعت نے بہت عمدہ الفاظ فرمائے ہیں کہ… سنو اور اطاعت
کرو(اَلسَّمْعُ وَ الطَّاعَۃْ) … دیکھنا شرط نہیں، جانچنا شرط نہیں… بس ایک ہی شرط
ہے کہ اُس کا حکم… اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ
علیہ وسلم کے حکم کے خلاف نہ ہو… ایسے حکم کو سنو اور اطاعت کرو…وہ
تمہیں آگے رکھے تو آگے رہو، وہ تمہیں پیچھے دھکیلے تو پیچھے آجاؤ…تب تمہارے
جہاد میں نور ہوگا، برکت ہوگی اور تمہارے دل میںروشنی ہوگی… امیر کو راضی کرنا شرط
نہیں… ایک مجاہد مکمل اخلاص سے اطاعت کرتا ہے اور حکم کے مطابق کوئی کام کرتا ہے… مگر
قسمت کی بات کہ مطلوبہ نتائج نہیں نکلتے… امیر بھی انسان ہے وہ اس پر ناراض ہو
سکتا ہے…امیر کو کیا معلوم کہ مأ مور نے پوری محنت یا اطاعت کی یا نہیں… تو ایسی
ناراضی کوئی نقصان دہ نہیں… یاد رکھیں والدین اور امیر کی ڈانٹ، تنبیہ ایک مسلمان
کے لئے اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے… جبکہ ایک اور مجاہد جھوٹ،
دھوکے اور فریب سے امیر کو خوش اور راضی کر لیتا ہے… مگر نہ اطاعت کرتا ہے اور نہ
بات مانتا ہے… ایسے شخص کو امیر کاراضی ہونا فائدہ نہیں دے سکتا… آج چودہ صدیوں
بعد جس صدی کے مجاہد ہیں، امیر بھی اسی صدی کا انسان ہو گا… جبکہ حضرت آقامدنی
صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے بارے میں فرمادیا کہ(مفہوم)… دو آدمی
میرے پاس کوئی فیصلہ کرانے آتے ہیں ان میں سے ایک چرب زبان ہے وہ اپنی زبان کے
زور پر فیصلہ اپنے حق میں کرالیتا ہے… مگرحقیقت میں وہ جھوٹا ہوتا ہے تو میرا اس
کے حق میں فیصلہ کر دینا قیامت کے دن اُس کے کسی کام نہیں آئے گا… میرے فیصلے سے
اُس کے لئے کوئی حرام چیز حلال نہیں ہوگی… جہاد کا ملنا ایک بڑی نعمت ہے… جہاد
والی جماعت کا ملنا ایک بڑی نعمت ہے… اور امیر جہاد کا ملنا ایک بڑی نعمت ہے… جن
کو اس زمانے میں یہ نعمتیں نصیب ہوں… وہ دل کی گہرائی سے کہیں…
اَلْحَمْدُ
لِلهِ،اَلْحَمْدُ لِلهِ، اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
کیا
آپ کو دو وقت کی روٹی نصیب ہے؟… اگر نصیب ہے تو شکر ادا کریں…
اَلْحَمْدُ
لِلهِ،اَلْحَمْدُ لِلهِ، اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
دنیا
کے کروڑوں انسانوں کو… دو وقت کی پوری غذا نہیںملتی… آپ کی ٹانگیںسلامت ہیں؟…
شکرادا کریں… آپ کے بازو کام کرتے ہیں؟ شکر ادا کریں؟… آپ کو قرآن مجید پڑھنا
آتا ہے؟… شکر ادا کریں…
بھائیو!
اور بہنو!
ہر
طرف نعمتیں ہی نعمتیں… پھر یہ ناشکری کیوں؟…
کہتے
ہیں اصل شکر تو تب ادا ہوتا ہے جب… آپ کے چاروں طرف موجود ہر شخص آپ کو مایوسی
کی طرف دھکیل رہا ہو… کسی سے کوئی امید باقی نہ رہے… تب اپنے دل کو یاد دلائیں کہ…
اے دل!جس نے تجھے پیدا فرمایا وہ کہتا ہے… لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللہِ…
اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو… ارے جب تم سے سب کچھ چھن جائے تو
یہ سوچو کہ مالک نے جس کے ہاتھوں میں پہلے سے زیادہ قیمتی چیز دینی ہو تو پہلے اس
کے ہاتھ پرانی چیزوں سے خالی کرادیتا ہے… تاکہ وہ بڑی نعمتوں کو اچھی طرح سنبھال
سکے… اللہ ایک ہے، اللہ قادر
ہے… اللہ تعالیٰ رحیم ہے کریم ہے… وہ ہمارا رب ہے… وہ ہمارا
رب ہے… وہ ہمارا رب ہے…
اَلْحَمْدُ
لِلهِ،اَلْحَمْدُ لِلهِ، اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
نے ’’دُنیا‘‘ کو’’عمل‘‘ کی جگہ بنایاہے… بدلے کی جگہ نہیں…
انسان
کی گمراہی کا آغاز اسی سے ہوتا ہے کہ… وہ اپنے نیک اعمال کا بدلہ اسی دنیا میں
لینے اور پانے کا خواہش مند ہو جاتا ہے… یہ بڑا اہم نکتہ ہے اسے یہاں روک کر
چنداور باتیں…امریکہ آج کل’’شام‘‘ پر حملے کے لئے پر تول رہا ہے… عراق پر حملے کے
لئے اُس نے سوچنے کا تردّد بھی نہ کیا، فوراً چڑھ دوڑا… جبکہ ایران پر حملے کی صرف
دھمکیاں ہی چلتی رہتی ہیں… کیا وجہ ہے؟… لیبیا پر اتنی تیزی سے حملہ کیا گیا کہ
دنیا حیران رہ گئی… جبکہ شام پر صرف حملے کی باتیں ہی چل رہی ہیں… حالانکہ شام میں
لیبیا سے چار گنا زیادہ افراد جنگ کا لقمہ بن چکے ہیں… آخر کیا وجہ ہے؟… قارئین
یہ نہ سمجھیں کہ ہم دیگر صحافیوں کی طرح امریکہ سے انصاف مانگ رہے ہیں یا اُسے
آئینہ دکھا رہے ہیں… ہر گز نہیں! ہمارے نزدیک یہ مکروہ ترین موضوع ہے… جن کی
دشمنی واضح ہے اُن سے کیا انصاف مانگنا، اُن کو کیا آئینہ دکھانا اور انہیں کیا
اخلاق اور قانون یاد دلانا؟… مقصد یہ ہے کہ دنیا میں دوستوں اور دشمنوں کی ایک نئی
صف بندی ہور ہی ہے تو ان سوالات کو ذہن میں رکھ کر مسلمان یہ دیکھیں کہ… اُن کا
دوست کون ہے اور اُن کا دشمن کون ہے؟… ایک بات سوچیں کہ… آج کل عراق میں صدام کے
زمانہ سے زیادہ بدامنی، زیادہ قتل و غارت اور زیادہ خونریزی ہے… تو پھر امریکہ اور
نیٹو وہاں امن قائم کرنے کیوں نہیں جار ہے؟… جواب واضح ہے کہ انہوں نے وہاں صدام
کی حکومت ہٹانی تھی اور ایران کی حامی حکومت بٹھانی تھی… وہ بٹھا دی…اب وہاں کوئی
مَرے یا جئے اس سے ان کو کیا غرض؟…
امریکہ
بلوچستان سے لیکر اسرائیل تک… ایک ایسا محفوظ حصار بنانا چاہتا ہے …جو اسرائیل کی
حفاظت کر سکے…
اب
دیکھیں کہ شام میں مسلمان شہید ہوتے رہے… شام کے ان آزادی پسند مسلمانوں کے خلاف
بارہ سے زائد ممالک اورتنظیموں نے جنگ لڑی… مثلاً…
١ بشار
الاسد کی فوج
٢ ایران
کے پاسداران انقلاب
٣ لبنان
کی حزب اللہ
٤ یمن
کے علوی قبائل
٥ کویت
اور بحرین کے وہ لوگ جو مسلکاً ایرانی ہیں…
اور
عالمی طاقتوں میں سے روس اور چین نے بشار الاسد کا پورا ساتھ دیا… برطانیہ نے بشار
الاسد کی خفیہ حمایت کی… امریکہ صرف دھمکیاں دیتا رہا… اور پھر ابھی دو ہفتے
قبل’’بشار‘‘ نے’’طنجہ‘‘ کے مسلمانوں پر کیمیاوی ہتھیار تک استعمال کر ڈالے… اس
حملے میں شہید ہونے والے صرف معصوم بچوں کی تعداد پندرہ سو سے زائد ہے… صورتحال یہ
ہے کہ شام کا’’جبھۃ النصر‘‘ اور دیگر مجاہد اور آزادی پسند تنظیمیں شام کے ستر
فیصد حصے پر قبضہ کر چکے ہیں… اس وقت وہ سمندروں کی طرف پیش قدمی کر رہی ہیں…جبھۃ
النصر کی اسلامی شناخت سے اسرائیل لرز رہا ہے کہ… بالکل اُس کے پڑوس میں مجاہدین
کی حکومت اُس کے لئے موت کا پیغام بن سکتی ہے… ایسے میں اب امریکہ نے حملے کی
ٹھانی ہے تو اس کا اہم مقصد’’جبھۃ النصر‘‘ کی پیش قدمی کو بھی روکنا ہے… اور بشار
الاسد کے بعد شام میں کوئی ایسی سیکولر حکومت قائم کرنا ہے جو اسرائیل کے لئے
بالکل کوئی خطرہ نہ ہو… دوسری طرف اس بات کا بھی امکان ہے کہ’’بشار الاسد‘‘ کے
ذریعہ ایک دو میزائل سعودی عرب، لبنان اور اردن کی طرف پھینکوا دیئے جائیں… اور
پھر ان ملکوں میں امریکہ اور نیٹو کی فوجیں جا بیٹھیں… یوں قبضہ بھی مضبوط ہو گا
اور ان ملکوں کی دولت لوٹ کر اپنے ممالک کی ڈوبتی معیشت کو بھی بحال کیا جا سکے
گا…
یہ
تو زمینی حقائق ہیں… مگر’’زمین‘‘ ایک چھوٹا سا’’سیارہ‘‘
ہے اللہ تعالیٰ کی قوت اور تدبیر بہت بڑی ہے… وہاں سے جو
فیصلہ آتا ہے وہی زمین پر نافذ ہوجاتا ہے… دشمنان اسلام کے پاؤں کے نیچے سے ریت
کھسکنا شروع ہو چکی ہے… دنیا کے حالات اتنی تیزی سے بدل رہے ہیں کہ بڑے بڑے
عقلمندوں کی عقل نے کام کرنے سے معذرت کر لی ہے… جہاد کی ایک چھوٹی سی تحریک کو
کچلنے کے لئے دنیا کے سارے ہاتھی جمع ہو کر چڑھ دوڑے… مگر جہاد پھیلتا چلا گیا،
پھیلتا چلا گیا… دس سال پہلے کسی نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ لیبیا میں جہاد
کے نعرے گونجیں گے… اور شام، تحریک جہاد کا مرکز بنے گا… دنیا میں بس جہاد کے دو
محاذ تھے… ایک فلسطین اور دوسرا افغانستان… مگر آج اتنے محاذ ہیں کہ ان کو شمار
کرنا بھی ممکن نہیں… افغانستان اور فلسطین کے گمنام شہداء کا خون آج پوری دنیا
میں دوڑ رہا ہے… دنیا کے ہر براعظم میں جہادی تحریکیں اٹھ کھڑی ہوئی ہیں… کفر کا
فارمولا نمبر١ ناکام ہوگیا کہ… طاقت اور ٹیکنالوجی کے ذریعہ جہاد کا نام و نشان
مٹا دیاجائے… نام و نشان تو کیا مٹتا خود امریکی فوج کے ایک مسلمان میجر نے تیرہ
آفیسر مارڈالے… مرنے والے تمام فوجی کرنل اور میجر رینک کے تھے… اب عدالت نے اس
’’مجاہد‘‘ کو موت کی سزا سنا دی ہے… اخبارات میں آیا ہے کہ
وہ اللہ کا بندہ بڑے اشتیاق سے شہادت کا انتظار کر رہا ہے…
معلوم ہوا کہ… جہاد میں کام کرنے والوں کی محنت ضائع نہیں گئی بلکہ اس کی شاخیں
دور دور تک پھیل گئی ہیں… یہ تو دنیا کے نتائج ہیں… آخرت کا بدلہ کتنا اونچا
ہوگا؟…
یہاں
ایک اور بات یاد آگئی… معراج کی رات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو
آسمانوں پر بلایا گیا، جنت دکھائی گی… اور آسمانوں کے اوپر عرش تک کا ایک عجیب
سفر… اس سفر کی کئی خاص باتیں ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ… آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کو اچھے اور بُرے اعمال کی تأثیریں دکھائی گئیں… ان اعمال میں جس
عمل کی تأثیر سب سے زیادہ تیز دکھائی گئی وہ ’’جہاد فی سبیل اللہ ‘‘
ہے…کچھ لوگ صبح بیج کاشت کر رہے ہیں اور شام کو فصل کاٹ رہے ہیں…
سبحان اللہ ! جہاد کے ثمرات، نتائج، فضائل… اور اجر بہت بڑا ، بہت تیز
اور بہت وسیع ہے… بس اشارہ عرض کردیا اب آپ حدیث معراج میں یہ مقام نکال کر غور
کریں تو آپ پر حیرت کا دروازہ کھلتا چلا جائے گا… شروع میں افغانستان جانا ہوا تو
وہاں ہمارے ساتھ شام کے ایک مجاہد تھے… اُن کا نام’’زکریا‘‘ تھا… آج کل جب ملک
شام سے جہاد کے زمزمے سنائی دیتے ہیں تو مجھے… زکریا شہید یاد آجاتے ہیں… وہ
بظاہر خوست کے مضافات کی ایک قبر میں گمنام جا لیٹے… مگر آج شام میں
کتنے’’زکریا‘‘ کھڑے ہو گئے ہیں… بات یہ چل رہی تھی کہ فارمولا
نمبر١ ناکام ہوگیا… اور دشمنان اسلام اپنے زخموں کو چاٹ رہے ہیں… اب
دوسرا فارمولا زیر عمل ہے کہ مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑایا جائے… آپ کہیں گے کہ
یہ فارمولا تو صدیوں سے چل رہا ہے… عرض یہ ہے کہ پہلے ’’کفار‘‘ خود بھی فوجی
مداخلت کرتے تھے… اب اُن کا ارادہ اپنی تمام تر صلاحیتیں اس بات پر لگانے میں ہے
کہ مسلمانوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں سے ہی ختم کرایا جائے… ویسے ہم مسلمانوں کو
آپس میں لڑانے کے لئے کسی سازش کی کم ہی ضرورت پڑتی ہے… ہمارے اندر آپس میں لڑنے
کا جوہر بہت وافر مقدار میں موجود ہے…
وجہ
یہ ہے کہ ہم میں سے کچھ لوگ اپنے تمام اعمال کا بدلہ اسی دنیا میں چاہتے ہیں… اور
وہ ثواب آخرت سے غافل ہو جاتے ہیں… وہ اسی دنیا کو ہی سب کچھ سمجھنے لگتے ہیں…
اور پھر یہاں کے مال، یہاں کے عیش اور یہاں کی عزت اور عہدوں… کے لئے
لڑنے مرنے پر اُتر آتے ہیں… ہم مسلمانوں کی آپس کی لڑائیاں… کسی اصول یا ضابطے
پر بہت کم ہوتی ہیں… یہ لڑائیاں اکثر حب مال، حب جاہ اور حب شہوات پر ہوتی ہیں…
ابھی چند دن پہلے اچانک جماعت کے وہ ساتھی یاد آگئے جو بہت زور شور سے جماعت کو
چھوڑ گئے… زور شورکا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے سخت دھوم مچائی، بہت بدنام کیا اور
اپنے ساتھ کچھ افراد بھی توڑ گئے… جماعت چھوڑنے کی جو وجوہات ان لوگوں نے بتائیں…
چند دن کے بعد وہ خود اُن وجوہات کا بُری طرح شکار ہو گئے… مثلاً کچھ لوگ نکلے کہ…
ہم نے ملک میں کارروائیاں کرنی ہیں… مگر چند دن بعد اُن کے ہاتھوں میں’’دفاع
پاکستان‘‘ کے جھنڈے ساری دنیا نے دیکھے… کچھ لوگ نکلے کہ ہم نے حکومت سے مرتے دم
تک لڑنا ہے ، بدلہ اور انتقام لینا ہے… آج اخبارات میں انہیں کے بیانات آرہے ہیں
کہ ہم نے حکومت سے امن مذاکرات کرنے ہیں… حالانکہ ملک کا آئین آج بھی وہی ہے جو
ان کے اعلان جنگ کے وقت تھا… کچھ لوگ نکلے کہ جماعت کا کوئی دستور اور آئین نہیں
ہے… آج خود اُن کا دستور اور آئین یہ ہے کہ… کبھی سیاسی لیڈر بن جاتے ہیں، کبھی
مجاہد بن جاتے ہیں… اور کبھی مرشدان طریقت… جبکہ جماعت الحمدللہ جس کام کے لئے
اٹھی تھی… آج بھی ماشاء اللہ مکمل یکسوئی کے ساتھ اُسی کام میں لگی ہوئی ہے… مقصد
اُن لوگوں پر اعتراض کرنا نہیں ہے… جو گیا اُس کے جانے سے جماعت کو الحمدللہ فائدہ
ہی ہوا… اور لاکھوں مسلمانوں نے جماعت سے دین، جہاد اور قرآن سیکھا… اور لاکھوں
مسلمانوں کی زندگیوں میں جماعت کی برکت سے ایمان، جہاد اور اعمال کی بہاریں آئیں…
اللہ تعالیٰ یہ سب کچھ اپنے فضل سے قبول فرمائے… مسلمانوں کی باہمی جنگیں مکمل طور
پر تو ختم نہیں ہو سکتیں… مگر ہم یہ کوشش ضرور کر سکتے ہیں اورہمیں یہ کوشش کرنی
بھی چاہئے کہ… ہم ان جنگوں میں مبتلا ہونے سے بچیں… ایک انسان اُس وقت تک اللہ
تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل اور مہلت پاتا ہے جب تک وہ ’’خون مسلم‘‘ سے اپنے ہاتھ نہ
رنگ لے… اللہ تعالیٰ اُس کے گناہ معاف فرماتے ہیں، اس کے عیبوں پر پردہ ڈالتے ہیں
… اُس کے لئے توفیق کے دروازے کھولتے ہیں… اور اُس کے بڑے بڑے گناہوں سے در گزر
فرماتے ہیں… لیکن جیسے ہی وہ ’’قتل مسلم‘‘ کے گناہ میں مبتلا ہوتا ہے تو اللہ
تعالیٰ اُس پر سے اپنی مہلت اور عیب پوشی کا پردہ ہٹا دیتے ہیں… اور پھر وہ گرتا
ہی چلا جاتا ہے، گرتا ہی چلا جاتا ہے… ہم اگر’’دنیا‘‘ کو ہی سب کچھ نہ سمجھیں اور
’’آخرت‘‘ کی کامیابی کو اپنا مقصود بنا کر چلیں تو ان شاء اللہ… اس جرم عظیم سے
حفاظت رہے گی…بے شک اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کو مقصود بناناہی محفوظ راستہ
ہے…یا اللہ! قتل مسلم کے بھیانک جرم سے ہم سب کی حفاظت فرما…آمین یا ارحم
الراحمین…
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
مجھے اورآپ سب کو’’بہترین انجام‘‘ اور’’عمدہ اختتام‘‘ نصیب فرمائے…
الحمدللہ ڈاک کا سلسلہ رمضان المبارک کے بعد سے شروع ہو
چکا ہے… غالباً چوتھی ڈاک جانے کو تیار ہے… خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ مجاہدین کرام
میں’’شہادت‘‘ اور جلد ملاقات کا شوق کافی بڑھ چکا ہے…
ما
شاء اللہ بہت مبارک شوق ہے… مگر اس جذبہ اور شوق کے لئے
شریعت کے کچھ قوانین ہیں… ہم مسلمان ہیں… ہمارا مرنا اور جینا اسلام کے مطابق ہونا
چاہئے… ایک عزیز نے لکھا ہے کہ میں اس دنیا میں نہیں رہنا چاہتا اس لئے میری آگے
کی ترتیب جلد بنا دی جائے… مجھے احساس ہوا کہ اسلام کے ان لاڈلے سپاہیوں کی دینی
تربیت میں مزید بہتری لانی چاہئے… شہادت کا جذبہ اس لئے دل میں آئے کہ ’’دنیا
سے‘‘ تنگ ہوں… یہ کوئی اچھی بات اور پسندیدہ سوچ نہیں ہے… مؤمن کو ہر قربانی، ہر
عبادت اور ہر عمل اللہ تعالیٰ کی محبت میں کرنا چاہئے…
بعض اللہ والے صدیقین دنیا کو چھوڑ کر جنگلات میں جا بسے تو
کچھ عرصہ بعد انہیں حکم دیا گیا کہ… یہ دینِ محمد صلی اللہ علیہ
وسلم ہے، جا کر مخلوق میں رہو اور اُن کی اذیتوں اور تکلیفوں کو برداشت
کرو…
اچھا
ہوگا کہ جماعت کے اہل علم ساتھی… ایسے مضامین اور ایسے بیانات عام کریں جن میں…
شوق شہادت کے ساتھ اس مبارک ترین شوق کے آداب بھی ہوں…’’فتح الجوّاد‘‘ اور
’’فضائل جہاد‘‘ میں اس بارے میں کافی مواد موجود ہے… کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک
عرب بدّو یعنی’’أعرابی‘‘ ایام حج سے کچھ پہلے احرام باندھ کر دوڑتا ہوا حرم شریف
جا پہنچا اور کعبہ شریف سے چمٹ کر رونے لگا… وہ کہتا تھا!
یا اللہ ابھی آپ کے پاس لوگوں کا رش زیادہ ہو جائے گا اس
لئے مجھے پہلے ہی بخش دیجئے… چھوٹے سے دماغ نے اللہ تعالیٰ
کی قدرت، رحمت اور بخشش کی وسعت کو نہ سمجھا… اسی سے ملتا جلتا ایک واقعہ جناب
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی پیش آیا جب ایک…
اعرابی رضی اللہ عنہ نے ایسی ہی دعاء مانگی… انہیں سمجھایا گیا
کہ… آپ نے اپنی دعاء میں بڑی وسیع رحمت کو تنگ اور چھوٹا سمجھ لیا… بے
شک اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت اتنی وسیع ہے کہ اگر کوئی
اس کی ایک جھلک بھی دیکھ لے تو اُسے کسی پر عذاب کا اندیشہ تک نہ رہے… مگر دوسری
طرف اللہ تعالیٰ کا غضب اور عذاب بھی بہت سخت ہے… بس انسان
کو امید اور خوف کے درمیان رہنا چاہئے… لیکن دنیا سے تنگ آکر، گناہوں سے تنگ آکر
اور آئندہ گناہ ہونے کے خطرے سے گھبرا کر… شہادت کے فیصلے کرنا یہ اہل دل، اہل
محبت اور اہل عزیمت کا کام نہیں… مزہ تو تب ہے کہ حالات بہترین ہوں… ہر طرف دودھ
اور شہد نظر آرہا ہو… کسی طرح کی تنگی نہ ہو… دینی اور دنیوی دونوں طرح کے مزے ہی
مزے ہوں، تب انسان شہادت کی طرف لپکے… مشکل حالات میںصبر، استقامت اور شہادت ان
تینوں کی دعاء کرنی چاہئے اور ان تینوں کوحاصل کرنے کے طریقے اختیار کرنے چاہئیں…
آج کل کے ماحول میں بہت اچھے حالات تو قسمت سے ہی ہو سکتے ہیں… فقیر
عطاء اللہ شہید رحمۃ اللہ علیہ کے حالات بہت
اچھے تھے… انہیں قرآن پاک حفظ تھا اور حفظ بھی محفوظ، دین کا علم تھا اور علم بھی
باعمل… مالی طور پر مستحکم تھے اور مال بھی تجارت کا…طبعاً خوش مزاجی تھی اور خوش
مزاجی بھی طبعی… بہت افسوس ہوتا ہے جب کوئی ساتھی جماعتی تشکیل کو مجبوری بنا
کر’’قرآن مجید‘‘ بھول جاتا ہے… ایسے ہی حضرات کے لئے مدرسہ سیّدنا اویس قرنی رضی
اللہ عنہ قائم کیا گیا ہے… آج بھی جماعت کے سب ساتھیوں کے لئے کھلا
اعلان ہے کہ جو ’’حفاظ قرآن‘‘ جماعتی تشکیل میں ہیں اور قرآن مجید بھول چکے ہیں
وہ ’’مدرسہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ ‘‘ آجائیں… ان کی تشکیل اور دیگر مراعات مکمل
طور پر باقی اور جاری رہیں گی… اُن کے کاموں پر عارضی ساتھی لگا دیئے جائیں گے اور
وہ خود اپنا قرآن مجید واپس حاصل کریں… مولانا فقیر
عطاء اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے تشکیل میں آکر
قرآن پاک سے رشتہ اور زیادہ مضبوط کر لیا… وہ ان لوگوں میں سے تھے جو اپنے تمام
معمولات کو’’تلاوت قرآن مجید‘‘ میں ضم کر لیتے ہیں… تب انہیں تمام معمولات کا اجر
پورا بلکہ زیادہ ملتا ہے… زمین کا سینہ کبھی بھی’’اولیاء اللہ ‘‘ سے
خالی نہیں ہوتا… اللہ تعالیٰ کے یار ختم نہیں ہوتے… اس
زمانے میں جس نے دیکھنے ہوں وہ شہیدی تشکیلات کے لئے روتے تڑپتے،
دعائیں مانگتے نوجوانوں کو دیکھ لے… بات یہ چل رہی تھی کہ حالات اچھے اوردل خوش ہو
ایسے وقت میں شہادت کی طرف لپکنا بڑے مقام کا کام ہے… لیکن اگرحالات اچھے نہیں
ہوتے تب اپنے اندر کے حالات اچھے کر لینے چاہئیں اور اللہ تعالیٰ
سے ’’غلامی‘‘ اور ’’یاری‘‘ والا تعلق بنا لینا چاہئے… اور شہادت کی طرف، صرف اور
صرف اللہ تعالیٰ کی
محبت، اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے شوق… اسلام کے غلبے اور دین
کی حفاظت کے لئے لپکنا چاہئے… دنیا اور گناہوں سے تنگ آنے کی وجہ سے نہیں… خلاصہ
یہ ہے کہ… محبوب سے ملاقات کا شوق محبوب سے محبت کی وجہ سے ہو، محبوب کی بنائی
ہوئی دنیا سے تنگ آنے کی وجہ سے نہیں…ہم فرشتے نہیں ہیں کہ ہم سے گناہ نہ ہوں…
ہاں! اس بات کا ہمیں ضرور حکم ہے کہ ہم شیطان نہ بنیں کہ… گناہوں کو حلال سمجھنے
لگیں… دوسروں کو بھی گناہوں کی طرف بُلانے لگیں… آخرت کے حساب سے بے فکر ہوجائیں…
اور توبہ استغفار بھی چھوڑ دیں… بات ڈاک سے شروع ہوئی تھی ایک تو پھر یہ یاد دہانی
ہے کہ خط مختصر لکھا کریں… بعض خطوط پوری کتاب ہوتے ہیں… بندہ کا سالہا سال سے
طریقہ ہے کہ خطوط’’سلام‘‘ سے پڑھنا شروع کرتا ہے… سلام سے پہلے کس نے کیا القاب
لکھے… القاب لکھے یا گالیاں لکھیں… اُن کو پڑھنے کا معمول نہیں ہے… اچٹتی ہوئی نظر
پڑجائے توالگ بات ہے…زیادہ القاب پڑھ کر دل بیٹھنے لگ جاتا ہے… بہت پہلے کراچی میں
ایک صاحب نے خط میں کچھ اعتراضات لکھے اور ساتھ یہ بھی کہ… آپ کو میرا خط پڑھ کر
اس بات سے دکھ پہنچا ہو گا کہ میں نے آپ کو زیادہ القاب نہیں لکھے… حالانکہ القاب
پڑھنے اور دیکھنے کا معمول ہی نہیں تھا… کئی ساتھی ’’مجدد الجہاد‘‘ لکھتے تھے، ان
کو منع کیا… اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطاء فرمائے کہ وہ مان
گئے…دراصل اس طرح کی باتوں سے’’ دعوت جہاد‘‘ کو نقصان پہنچتا ہے… اور ایک ’’فرض
دعوت‘‘ متنازع بن کر رہ جاتی ہے… اسی لئے اب تک کئی علماء حضرات کو اس بات سے روک
چکا ہوں کہ وہ میری سوانح حیات لکھیں… حالانکہ ان میں سے بعض کا مصمم ارادہ اور
اصرار تھا… ایک قریبی صاحب علم ساتھی کو اصلاحی خط میں مشورہ لکھا تھا کہ… آپ
حضرت سیّد احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کی سیرت کا بغور مطالعہ کریں اور
پھر اس بارے میں مضامین لکھیں… وہ سمجھے میری غرض یہ ہے کہ وہ حضرت سیّد صاحب رحمۃ
اللہ علیہ کے حالات پڑھ کر بندہ کو اُن کے ساتھ ملانے یا اُن جیسا قرار
دینے کے لئے مضمون لکھیں… انہوں نے اگلے خط میں لکھا کہ… مجھے آپ کے ذاتی حالات
کا چونکہ علم نہیں ہے اس لئے شاید میں زیادہ بہتر نہ لکھ سکوں… بندہ کو ان کی بات
سے سخت دھچکا لگا… دراصل حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت بہت
گہری ہے… وہ کوئی عام انسان، عام بزرگ یا عام مجاہد نہیں تھے…
وہ اللہ تعالیٰ کے خاص اور مخلص بندے تھے… اس لئے ان کی
شخصیت کو محض سطحی مطالعہ سے نہیں سمجھا جا سکتا… سطحی مطالعہ تو یہی دکھاتا ہے کہ
وہ لوگوں کو دم کر رہے ہیں، کھانے میں برکت کے وظیفے کر رہے ہیں… جہاد پر کچھ
لوگوں کو لے کر نکلے… پانچ چھ سال میں دو تین لڑائیاں لڑیں اور شہید ہو گئے… اسی
لئے تو کسی ظاہر بین نے کہہ دیا کہ… تحریک سیّد احمد شہید رحمۃ اللہ
علیہ کیا تھی… لکھنؤ سے چلے، پشاور سے گزرے، بالاکوٹ پہنچے اور پانچ
چھ سال میں قصہ ختم… بڑی ظالمانہ بات… بلکہ کوئی ناراض نہ ہو تو بڑی جاہلانہ بات
ہے… سیّد احمدشہید رحمۃ اللہ علیہ روئے زمین
پر اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھے… اور وہ
دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کی چلتی پھرتی دلیل تھے… ان کی
شہادت کو دو سو سال ہو چکے… ابھی تک اُن کا لہو تازہ ہے، کام بھی تازہ، پیغام بھی
تازہ، نام بھی تازہ… اور قافلہ بھی تازہ ہے… خیر، عرض یہ کر رہا تھا کہ محض سرسری
اور سطحی مطالعہ سے ان کی شخصیت کو سمجھنا مشکل ہے تو اس لئے اپنے علماء دوستوں کو
عرض کر دیتا ہوں کہ… آپ نے اُن کے بارے میں مضمون بھی لکھنا ہے… مقصد یہ ہوتا ہے
کہ لکھنے کی فکر میں زیادہ غور سے پڑھیں گے… زیادہ گہرائی میں اتریں
گے… اور جتنی زیادہ گہرائی میں اتریں گے اُسی قدر فائدہ پائیں گے… کیونکہ سیّد
صاحب رحمۃ اللہ علیہ ’’شہید‘‘ ہیں… اور شہید زندہ ہوتا ہے… اور زندہ پیر سے مریدوں
کو روحانی فائدہ خوب ملتا ہے… بس صرف یہی مقصد ہوتا ہے ، باقی بندہ کو کبھی یہ وہم
نہیں ہوا کہ میں حضرت سیّد احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ جیسا ہوں…
جی
ہاں! وہم بھی نہیں، یقین اور گمان تو دور کے درجے ہیں… بندہ نے الحمدللہ راتوں کو جاگ کر سید صاحب رحمۃ اللہ
علیہ کو سمجھنے اور دیکھنے کی کوشش کی ہے… میں ان کو پہچان سکا یا
نہیں… البتہ جتنا پہچانا اس میں بھی ان کو بہت اونچا پایا… اور کبھی دل میں یہ شوق
نہیں ابھرا کہ اپنا اُن سے تقابل کروں… خاک کو کیا مجال کہ آسمان و فلک کے ساتھ
اپنا قد ملائے… باقی رہی تحریک تو اسلام ایک ہے، قرآن ایک ہے، کامیابی کے نسخے
ایک ہیں… سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے پہلے بھی جہادی تحریکیں اٹھیں،
اُن کے بعد بھی جہادی تحریکیں برپا ہوئیں… اور قیامت تک ان
شاء اللہ جہاد کا مئے خانہ آباد رہے گا… اور کامیابی کے
لئے… ان سب تحریکوں کے لئے اسلام کے قوانین یکساں ہیں… تحریک آٹھ سو سال پرانی
ہو… یا آج کی… ان سب کو ایک ہی رنگ میں آنا ہوگا… اگر کامیابی مطلوب ہے… پچھلی
ڈاک میں ایک طالب علم بھائی نے دلائل، قرائن اور شواہد کا انبار لگا کر یہ پیشین
گوئی کی تھی کہ… حضرت امام مہدی رضی اللہ عنہ بس آج
کل میں آتے ہیں… اس پر انہوں نے بندہ کی رائے مانگی تھی… ان کو مختصر جواب لکھ
دیا تھا اورآج کے کالم میں اسی مختصر جواب کی کچھ تفصیل لکھنے بیٹھا تھا… اسی لئے
بات ڈاک سے شروع کی تھی… مگر اور باتیں آگئیں اور اصل بات رہ گئی…
قدر
ﷲ ماشاء وفعل… واَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اَللّٰھُمَّ
بَارِکْ لِیْ فِی الْمَوْتِ وَفِیْمَا بَعْدَ الْمَوْت
یا اللہ میرے
لئے موت میں برکت عطاء فرمائیے اور موت کے بعد والی زندگی میں بھی برکت عطاء
فرمائیے…
حیرانی
ہوئی؟؟
موت
میں برکت؟ کیا آپ کو حیرت ہوئی؟… موت سے تو سب کچھ ختم ہوجاتا ہے… حیرانی کی کوئی
بات نہیں… برکت والی موت اللہ تعالیٰ سے مانگا کریں، یقین
کریں اگر یہ موت ہمیں مل گئی توہم کہیں گے کہ دنیا میں ہم نے بڑی مشکل، پھیکی اور
بے مزہ زندگی گزاری… مزے تو اب ہیں، جی ہاںمرنے کے بعد… برکت کی دعاء بہت بڑی دعاء
ہے اپنے لئے بھی کیا کریں اور دوسروں کو بھی کہا کریں… بارک اللہ
… اللہ تعالیٰ برکت دے… برکت والا ایمان، برکت والے اعمال،
برکت والی عافیت، برکت والا رزق… برکت والے اوقات، برکت والی صحت… اور آخر میں
برکت والی موت…
اَللّٰھُمَّ
بَارِکْ لِیْ فِی الْمَوْتِ وَفِیْمَا بَعْدَ الْمَوْت
امید
ہے کہ آپ سب یہ مسنون دعاء روزآنہ پچیس بار پڑھتے ہوں گے نہیں پڑھتے تو بہت رغبت
سے شروع کردیں… وہ دیکھیں موت تشریف لا رہی ہے… اللہ کرے
مسکراتی ہوئی آئے اور اپنے آگے پیچھے خیر ہی خیر لائے…
کیا
لکھیں؟
گذشتہ
کالم میں حضرت امام مہدی رضی اللہ عنہ کا ذکر خیر آیا تھا،
آج اسی موضوع پر کچھ موٹی موٹی باتیں لکھنی ہیں… ویسے آج حالات حاضرہ پر بھی ایک
نظر ڈالی تھی مگر کوئی خبر تبصرے کے قابل نظر نہ آئی… حکومت پاکستان اور مقامی
طالبان مذاکرات کی طرف بڑھ رہے ہیں… یہ ایسا موضوع ہے کہ اسے چھیڑا تو تین ہفتے
میں کچھ کچھ پورا ہو گا… امریکہ شام پر حملہ نہیں کررہا، بہت پہلے سے اس کا امکان
تھا… ایران کے دوست پر امریکا کیسے حملہ کرے؟… اللہ تعالیٰ
شامی مجاہدین کو اپنی غیبی اورخاص نصرت عطاء فرمائے… آج کل مجاہدین میں ہر جگہ
سلفی اور غیر سلفی کا جھگڑا کھڑا کیا جارہا ہے… یہ اچھی صورتحال نہیں ہے… بھائی
محمد افضل گورو شہید رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنے خط میں شکوہ فرمایا
تھا کہ سلفی حضرات لوگوں کو فروعی مسائل میں الجھا رہے ہیں… رفع الیدین، فاتحہ خلف
الامام اور آمین بالجہر… وغیرہ… اور وہ مسلمانوں کے پسندیدہ بزرگان دین کی عزت
بھی نہیں کرتے… اس سے جہاد ی تحریکات کو نقصان ہوتا ہے…
ہندوستان
میں بی جے پی نے بزدل قاتل’’نریندر مودی‘‘ کو وزارت عظمیٰ کا امیدوار نامزد کر دیا
ہے… امید تو نہیں ہے کہ وہ وزیراعظم بنے… لیکن اگر بنا تو بُری موت مارا جائے گا…
بس یہی چند تازہ خبریں نظر آرہی ہیں… ان کو چھوڑ کر آج حضرت امام مہدی رضی
اللہ عنہ کی تلاش میں نکلتے ہیں…
مختصر
تعارف
حضرت
امام مہدی رضی اللہ عنہ … کوئی نبی یا فرشتہ نہیں… بلکہ اُمت کی نسبت
سے ہمارے ایک خلیفہ، امیر اور مسلمان بھائی ہیں…
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے ہوں
گے… نام’’محمد‘‘ ہوگا… وہ قیامت کی اچھی علامات میں سے ہیں… وہ مسلمانوں کے امیر
ہوں گے… امیر جہاد اور امیر المؤمنین… اُن کا زمانہ، جہاد کا زمانہ ہوگا… انہیں
کے زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہو گا… حضرت
امام مہدی رضی اللہ عنہ کی تشریف آوری اور امارت اتنی واضح
ہو گی کہ… دوست، دشمن سب پہچان جائیں گے… اور آسمانوں سے آنے والی آوازیں ان کی
خلافت کا اعلان کریں گی… اور ان کی جہادی فتوحات، ساری دنیا کھلی آنکھوں سے دیکھے
گی… حضرت امام مہدی رضی اللہ عنہ کو اس بات کا
دعویٰ کرنے کی ضرورت بھی پیش نہیں آئے گی کہ وہ ’’مہدی‘‘ ہیں… مسلمانوں کے اہل
دل، اہل علم حضرات اُن کو خودڈھونڈ لیں گے… اور اُن کی واضح علامات سے اُن کو
پہچان لیں گے… حضرت امام مہدی رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے
خلیفہ اور حکمران ہوں گے… اور اُن کی موجودگی میںمسلمانوں میں سے کسی اور کا
حکمران رہنا ممکن نہیں ہوگا…
ایک
باطل نظریہ
اوپر
کے مختصر سے تعارف میں کئی بڑے سؤالات کے جوابات آگئے… حضرت امام
مہدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کئی غلط نظریات بھی لوگوں
میں رائج ہیں… ایک تو’’اثنا عشریہ امامیہ‘‘ کا عقیدہ کہ امام مہدی موجود ہیں وہ
بارہویں امام ہیں اور ایک غار میںروپوش ہیں… یہ نظریہ غلط اور باطل ہے… دوسرا غلط
نظریہ اہلسنت کے بعض طبقوں کا ہے کہ… امام مہدی رضی اللہ
عنہ کوئی مخصوص شخصیت نہیں ہیں جو قرب قیامت میں ظاہر ہوں…
دائرۃ
المعارف الاسلامی کے مؤلفین نے بھی یہی رائے اختیار کی ہے… اور وہ کہتے ہیں کہ
سنّیوں میں یہ نظریہ شیعوں سے منتقل ہو گیا ہے… ورنہ امام مہدی سے مُراد آخری
زمانے کا ہر وہ مسلمان حاکم ہے جو جہاد و خلافت کا احیاء کرے… یہ نظریہ بھی غلط
ہے… اور اس نظریہ سے کئی احادیث مبارکہ کا انکار لازم آتا ہے … ممکن ہے کہ منکرین
حدیث نے یہ نظریہ عام کیا ہو… اہلسنت و الجماعت کا برحق نظریہ یہ ہے کہ امام
مہدی رضی اللہ عنہ … ایک مخصوص شخصیت ہیں اور ان کی علامات احادیث
نبویہ میں موجود ہیں… اور قرب قیامت میں ان کی خلافت قائم ہو گی
اور اللہ تعالیٰ اُن کے ہاتھوں اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ
عطاء فرمائیں گے…
ایک
دلچسپ حقیقت
مسلمانوں
میں طرح طرح کے مزاج والے افراد موجود ہیں… ہمارے دور میں بھی کئی لوگ امام
مہدی رضی اللہ عنہ کے انتظار میں بیٹھے ہیں… گذشتہ صدی بلکہ
صدیوں پہلے بھی… ایسے مصنفین اور ایسے خوش فہم افراد موجود تھے جن کے نزدیک حضرت
امام مہدی رضی اللہ عنہ … چند دنوں یا مہینوں میں آنے والے تھے… ہم ایسے لوگوں
کو… فرقہ انتظاریہ، خوش فہم پارٹی، جماعۃ الاستبشار… یا تحریک غلبہ اسلام بلا
محنتِ ذاتی… وغیرہ کوئی بھی نام دے سکتے ہیں… یہ دراصل کئی طرح کے لوگ ہیں مثلاً
١ وہ
افرادجن کی شدید قلبی خواہش یہ ہوتی ہے کہ پوری دنیا میں اسلام غالب آجائے… کفر
کا سارا نظام ٹوٹ جائے… مگر یہ لوگ خود عمل اور قربانی کے میدان میں نہیں اُترتے…
بس یہ چاہتے ہیں کہ… امام مہدی آجائیں اور وہ اپنے جہاد کے ذریعہ ان حضرات کو
اسلام غالب کر کے دے دیں…
٢ وہ
مایوس حضرات جو یہ سمجھتے ہیں کہ … دنیا پر کفر کا غلبہ مکمل ہو چکا ہے… اس غلبے
کو اب کسی بھی صورت نہیں توڑا جا سکتا… اور اس زمانے کے طاقتور کفر کے خلاف جہاد
کرنا بس اپنا ہی سر پھاڑنا ہے… پھر مایوسی کے اس عالم میں ان کی نظریں جب ایسے
دلائل پر پڑتی ہیں کہ اسلام ضرور غالب ہوگا… تو اُن کو اس کی ایک ہی امکانی شکل
نظر آتی ہے کہ امام مہدی رضی اللہ عنہ تشریف لے
آئیں… تب وہ امام مہدی رضی اللہ عنہ کی علامات اور زمانے
کا مطالعہ کرتے ہیں اور مختلف تخمینے لگا کر اُن کے جلد از جلد ظاہر ہونے کی پیشین
گوئیاں کرتے ہیں…
٣ وہ
حضرات جو اپنی ذات کے بارے میں اس خوش فہمی کا شکار ہوتے ہیں کہ…’’ میں کوئی عام
آدمی نہیں ہوں‘‘… شیطان انہیں بہکاتا ہے کہ تمہارے اندر فلاں صفت ایسی ہے جو کسی
اور میں نہیں… اور تم میں فلاں صلاحیت ایسی ہے جو عام لوگوںمیںنہیں پائی جاتی …
اور تو اور ایسے افراد جب بیت الخلاء میں بیٹھے زندگی کے مشکل اور بدبودار ترین
لمحات گذار رہے ہوتے ہیں تب بھی وہ اپنی خصوصیات اور اعلیٰ صفات پر غور فرما رہے
ہوتے ہیں… ایسے افراد میں سے بعض تو( نعوذباللہ ) گمراہ ہو جاتے ہیں اور امام
مہدی رضی اللہ عنہ کا انتظار کرتے کرتے خود’’مہدی‘‘ ہونے کا
یا کچھ اور ہونے کا دعویٰ کر دیتے ہیں… لیکن جو گمراہ نہیں ہوتے وہ اس فکر میں
رہتے ہیں کہ… امام مہدی رضی اللہ عنہ تشریف
لائیں تو یہ اُن کے ساتھ مل کر کام کریں… اور اپنی شان کے مطابق کوئی بڑا کام
کریں… کیونکہ انہیں اپنے ارد گرد کے تمام افراد اور کام چھوٹے نظر آتے ہیں…
چنانچہ وہ بڑا کام کرنے کی فکر میں زندگی پگھلا دیتے ہیں…
٤ کچھ
صوفی،صافی قسم کے سادہ مزاج افراد… مراقبوں اور خیالی پروازوں میں گم… جہاد کے
عملی کام سے بہت دور… اپنے’’شیخ‘‘ کو بہت ہی اونچا سمجھنے والے… یہ حضرات سوچتے
ہیں کہ اگر امام مہدی رضی اللہ عنہ ہمارے شیخ کے دور میں نہ
آئے تو پھر کب آئیں گے؟ اور اگر ہمارے شیخ امام مہدی رضی اللہ
عنہ کو نہ لا سکے تو پھر اُن کو کون لا سکے گا؟؟… چنانچہ وہ
امام مہدی رضی اللہ عنہ کی تلاش میں گھومتے پھرتے، پوچھتے، جھانکتے
پھرتے ہیں…
٥ وہ
افراد جن کا دل ایک طرف… اور دماغ دوسری طرف ہوتا ہے… مثلاً دل پر سستی، غفلت،
شہوات اور آرام پرستی کا مکمل غلبہ ہوتا ہے … جبکہ دماغ دین کی خدمت، دین کے
غلبے… اور دین کی خاطر کچھ کر گزرنے کے لئے گرم رہتا ہے… دل اور دماغ کی اس جنگ
میں فتح چونکہ دل کی ہوتی ہے کیونکہ دل زیادہ مضبوط پہلوان ہے… اس لئے ایسے افراد
عملی طور پر تو سستی، غفلت اور آرام پرستی ہی کی زندگی گذارتے ہیں… مگراپنے دماغی
مشن کی تکمیل کے لئے یہ طئے کر لیتے ہیں کہ… جب امام
مہدی رضی اللہ عنہ آئیں گے تو ہم اُن کے ساتھ مل کر جہاد کریں
گے…
٦ وہ
درد مند، فکر مند اللہ والے… جو ایک لمحہ کے لئے
مسلمانوں کی مغلوبیت نہیں دیکھ سکتے… اسلام کا غلبہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی
خواہش ہوتا ہے… وہ اسلام کی عظمت اور غلبے کے لئے ہر وقت خلوت و جلوت میں روتے اور
کڑھتے ہیں… بڑی عبادت اور لمبے سجدے کر کے دعائیں مانگتے ہیں… مگر وہ خود کچھ بھی
نہیں کر سکتے… معذوری، بیماری، بڑھاپا یا بے بسی… وہ سب کچھ کرنا چاہتے ہیں… مگر
ان کو راستہ نہیں ملتا… وہ برحق تحریکوں سے بھی واقف نہیں یا اُن سے رابطہ
میںنہیں… ایسے افراد بہت اخلاص اور بہت درد سے امام مہدی رضی اللہ
عنہ کا انتظار کرتے ہیں اور اُن کے زمانے کے قرب کی خواہش کرتے ہیں…
معذرت
ابھی
بہت سی باتیں باقی ہیں کہ کالم کی جگہ ختم ہو گئی… وعدہ نہیں ہے بس ارادہ ہے کہ
موقع ملا تو ان شاء اللہ اگلے ہفتے اس موضوع کو مکمل کرنے
کی کوشش کریں گے… لیکن اگر موقع نہ ملا تو بس یہ خلاصہ یاد رکھ لیں…
١ ہر
مسلمان کو یہ عقیدہ رکھنا چاہئے کہ امام مہدی رضی اللہ
عنہ تشریف لائیں گے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے اہل بیت اور اُمتی ہوں گے…وہ مسلمانوں کے خلیفہ اور امیر ہوں
گے اور اُن کے زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول
ہوگا…
٢ کوئی
مسلمان حضرت امام مہدی رضی اللہ عنہ کے انتظار میں نہ
بیٹھے، بلکہ اپنے فرائض خود ادا کرے اور اپنے حصہ کا کام خود کر جائے…
٣ کوئی
مسلمان اس موضوع کو اپنی زندگی کا حاصل نہ بنالے بلکہ خود وہ کام کرے جس کام کے
لئے امام مہدی رضی اللہ عنہ تشریف لائیں گے… یعنی جہاد فی
سبیل اللہ اور اسلام کے غلبے کی محنت…
٤ ہر
مسلمان اپنے زمانے کے مسلمانوں کو، اپنے زمانے کے امیر جہاد کو اور اپنے زمانے کے
جہاد کو غنیمت اور نعمت سمجھے… اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے
آپ کو اس زمانہ میں پیدا فرمایا ہے…
٥ ہر
مسلمان اپنی ذاتی، اجتماعی اور خانگی زندگی اس طرح گزارے کہ اگر اُس کے
زمانے میں امام مہدی رضی اللہ عنہ تشریف لے آئیں تو وہ اُن
کے ساتھ مل کر جہاد کر سکے… ایسا نہ ہو کہ اُن کے انتظار میں بیٹھا رہے اور جب وہ
آجائیں تو اپنے گھر،مکان اور تجارت میں پھنس جائے…
٦ وہ
افراد جو اپنے زمانے میں جہاد کی ٹوٹی پھوٹی محنت کر رہے ہیں وہ اُن افراد سے بہت
افضل، عقلمند اور سمجھدار ہیں جو جہاد نہیں کرتے اور اس انتظار میں رہتے ہیں کہ جب
امام مہدی رضی اللہ عنہ تشریف لائیں گے تو وہ اُن کے ساتھ
مل کر جہادکریں گے…(انتہیٰ)
آئیے
آخر میں پھر وہی دعاء مانگتے ہیں جو کالم کے آغاز میں مانگی تھی:
اَللّٰھُمَّ
بَارِکْ لِیْ فِی الْمَوْتِ وَفِیْمَا بَعْدَ الْمَوْت
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اَللهُ
الصَّمَدُ… اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے… تھوڑا سا دل
لگا کر پڑھیں
اَللهُ
الصَّمَدُ…
’’الصمد‘‘
وہ ذات جس کے سب محتاج اور وہ کسی کا محتاج نہیں… تھوڑا سا ڈوب کر پڑھیں…
اَللهُ
الصَّمَدُ
کافی
عرصہ پہلے کی بات ہے کراچی میں قیام تھا… سمندر کے کافی قریب… اچانک ایک حاجت پیش
آگئی… ظاہری اسباب مہیا نہیں تھے کہ کوئی امکان نظر آتا… دل میں کچھ تنگی آئی…
مگر پھر اپنی سواری سمندر کی طرف دوڑا دی اور زبان پر ایک ہی ورد
اَللهُ
الصَّمَدُ،اَللهُ الصَّمَدُ،اَللهُ الصَّمَدُ……
پڑھتے
پڑھتے جوش آگیا، دل خوش ہو گیا اور سامنے سمندر کی دلکش لہریں… واپسی ہوئی
تو’’الصمد جل شانہ‘‘ نے…حاجت پوری فرما دی…
اَللّٰهُ
الصَّمَدُ،اَللّٰهُ الصَّمَدُ،اَللّٰهُ الصَّمَدُ……
عربی
بہت وسیع زبان ہے… اردو میںایسے الفاظ نہیں ملتے کہ عربی لفظ کے پورے
مطلب کو اپنے اندر سمو سکیں…’’الصّمد‘‘ اللہ تعالیٰ کا نام
ہے اوراس کا ایک مطلب یہ ہے:
الذی
یقصد الیہ فی قضاء الحوائج
وہ
ذات کہ جس کی طرف اپنی حاجتیں پوری کرانے کے لئے رجوع کیا جاتا ہے…
جی
ہاں! ہر حاجت کے لئے جس کے در کا قصد کیا جائے… ہر ضرورت کے لئے جس کو پکارا جائے
اور وہ حاجت اورضرورت پوری فرما دے… اُس کے خزانوں میں کیا کمی… توجہ سے پڑھیں:
اَللهُ
الصَّمَدُ،اَللهُ الصَّمَدُ،اَللهُ الصَّمَدُ……
کبھی
دل میں ایک دم شوق اٹھتا ہے کہ…’’ﷲ الصّمد‘‘ کے معنیٰ ، مطلب اور خواص پر ایک
چھوٹی سی کتاب لکھ دوں… مگر آہ! افسوس کہ لکھنے لکھانے کا بازار اب بہت ٹھنڈا
ہوتا جارہا ہے… چلیں کتاب کی کیاضرورت،ذکر اللہ کے لئے تو یقین اور عشق
کی ضرورت ہوتی ہے… یقین اور عشق میں ڈوب کر پڑھیں:
اَللهُ
الصَّمَدُ،اَللهُ الصَّمَدُ،اَللهُ الصَّمَدُ……
اللہ تعالیٰ
کی ’’الصمد‘‘ والی شان دیکھیں… حضرت ملّا برادر مدظلہ کل رہا ہو گئے… وہ ذکر
اللہ سے عشق رکھنے والے… اور جہاد کی حقیقت کو سمجھنے والے،
اولیا اللہ میں سے ہیں… ہم نے ان کی گرفتاری اور اسیری کا
مرثیہ بھی لکھا تھا اور آج اُن کی رہائی کی تبریک بھی لکھ رہے
ہیں… اللہ تعالیٰ حالات بدلنے پر قادر ہیں… چند گھنٹوں میں
صدیوں کی تبدیلی آجاتی ہے… اور دیکھنے والے دیکھتے رہ جاتے ہیں…
اَللهُ
الصَّمَدُ،اَللهُ الصَّمَدُ،اَللهُ الصَّمَدُ……
حالات
کی تبدیلی کا اندازہ اُس خبر سے لگائیں جو آج کل’’گرم‘‘ ہے… امریکہ کا ایک جوہری
بم1961ء میں پھٹتے پھٹتے رہ گیا… نالائق کہیں کا… لکھا ہے کہ یہ بم’’ہیروشیما‘‘
پر پھینکے جانے والے بم سے ڈھائی سو گنا زیادہ طاقتور تھا… یہ بم پھٹ جاتا تو
امریکہ کا بہت بڑا حصہ نیست و نابود ہو جاتا… یہ خبر پڑھتے ہی ایک مجلس یاد آگئی…
ایک صاحب نے فرمائش کی تھی کہ چند باتیں علیحدگی میں کرنی ہیں… مجلس سے اُٹھ کر
کمرے کے ایک کونے میں ان کے ساتھ جا بیٹھا… فرمانے لگے آپ کے نزدیک حضرت امام
مہدی رضی اللہ عنہ کب تشریف لاتے ہیں؟… عرض کیا… اس بارے میں
کوئی علم نہیں… جب بھی تشریف لائیں سر آنکھوں
پر… اللہ تعالیٰ ہی اُن کے آنے کا وقت جانتے ہیں… انہوں نے
فرمایا: سن لیجئے! امام مہدی اگلے کئی سو سال بلکہ کئی ہزار سال تک آنے والے نہیں
ہیں… وہ اتنے یقین اور وثوق سے فرما رہے تھے جیسے انہیں اس بات کا قطعی علم ہو…
عرض کیا! آپ کس بنیاد پر یہ فرماتے ہیں؟… انہوں نے چند دلائل دیئے جو دل کو بالکل
نہ لگے… عرض کیا!… دلائل میں زور نہیں تو وہ بڑے تھے ناراض ہونے لگے… تب موضوع بدل
دیا گیا کہ اس جھگڑے کا ابھی کیا فائدہ؟ تھوڑا سا سوچیں کہ کیا فائدہ؟؟… اُن کے
دلائل میں ایک بات آج کل کی سائنسی ترقی بھی تھی کہ… ابھی انسان نے اور آگے جانا
ہے… ہمارے نزدیک تو انسان پیچھے جارہا ہے… خیر وہ آگے جانا سمجھیں تو کوئی حرج
نہیں… مگر ایک بات سوچیں کہ… بی باون طیارے سے گرنے والا ہائیڈروجن بم پھٹ جاتا…
وہ اپنے ساتھ اپنے جیسے چند اور بم بھی پھوڑ دیتا… تب دنیا کہاں کھڑی ہوتی؟… آج
کل جس چیز کو ترقی کہا جارہا ہے… اس کی بنیادیں بہت کمزور ستونوں پر کھڑی ہیں…
کوئی ایک ستون بھی گرا تو لوگ واپس جہاز سے گھوڑے پر … گاڑی سے گدھے پر اور ٹرین
سے اونٹ پر آکر گریں گے… اس لئے سائنسی اکتشافات پڑھ کر یہ نہ سمجھا جائے کہ
زمانہ اب ایسے ہی رہے گا… نہیں جی!… رات دن کا آنا جانا اور حالات کا بدلنا یہ
جاری رہے گا… کبھی تیزی سے اور کبھی آہستہ آہستہ… بس ایک ذات ہے جو قائم ہے ،
باقی ہے اور قادر ہے…
اَللهُ
الصَّمَدُ،اَللهُ الصَّمَدُ،اَللهُ الصَّمَدُ……
حضرت
امام مہدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ نظریہ بھی درست
معلوم نہیں ہوتا کہ اُن کے تشریف لانے میں… ابھی ہزاروں، لاکھوں سال باقی ہیں… اصل
بات یہ ہے کہ اس ٹوہ اور تلاش میں لگنے… اوراُن کے جلد یا بدیر آنے کے تخمینے
لگانے میں آخر فائدہ کیا ہے؟… دین اسلام الحمد ﷲ مکمل ہو گیا… اب نہ اس میں کوئی
کمی ہوگی نہ اضافہ…ہر مسلمان کو اس کی ذمہ داریاں بتا دی گئیں کہ… تم پر کیا فرض
ہے اور کیا حرام؟… جو مسلمان جس زمانے میں بھی دین پر عمل کرے وہ کامیاب ہے… خواہ
وہ قرون اولیٰ کا زمانہ ہو… فتنے کا دور ہو… فتوحات کا زمانہ ہو… یا آزمائش اور
مغلوبیت کا دور… فرما دیا گیا کہ… اپنا کام کرو اور کامیاب ہو جاؤ… اپنی ذمہ داری
پوری کرو اور نتائج کی فکر نہ کرو… پھر تلاش، جستجو، تخمینے اور جھگڑے بحثیں کس
لئے؟؟؟ ہاں اگر کوئی مسلمان اپنے دل میں اس کی تمنا رکھے کہ حضرت امام مہدی رضی
اللہ عنہ تشریف لے آئیں اور میں اُن کی قیادت میں جہاد کروں… پھر اس
کی دعاء بھی کرے… اور خود کو جہاد کے لئے قلبی، ذہنی اور جسمانی طور پر تیار بھی
کرے… اور اپنے زمانہ کے عملی جہاد میں بھی شریک رہے… تو ایسا کرنے میں کوئی حرج
نہیں… بلکہ یہ اُس کی عالی ہمتی کی دلیل ہو گی…
اور اللہ پاک بعض انسانوں کو اونچی اورمضبوط ہمت عطاء
فرماتے ہیں… وہ جتنا بھی کام کرلیں اُسے تھوڑا سمجھتے ہیں اور مزید کام، مزید ترقی
اور مزید دینی ترقی کی جستجو میں رہتے ہیں… لیکن جو مسلمان کمزور ہیں… اُن کے لئے
تو یہی اچھا ہے کہ وہ امام مہدی رضی اللہ عنہ کی رفاقت کی
تمنا سے پہلے… خود کو تھوڑا ساتول لیا کریں کہ… آیا ہم اس قابل ہیں بھی یا نہیں؟…
اُن جیسے عالی مقام اور عظیم الشان’’امیر‘‘ کی نہ تو رفاقت آسان ہو گی
اور نہ اطاعت… اور ان کی نافرمانی کی سزا دنیا اورآخرت میں بہت سخت ہو گی… اور یہ
سزا کھلی آنکھوں سے نظر آئے گی… ہاں! ثقہ اہلِ علم کو چاہیے کہ ہر زمانہ میں
حضرت امام مہدی رضی اللہ عنہ اور ان کی برحق علامات کا
تذکرہ زندہ رکھیں… اس کے فوائد بے شمار ہیں…
اس
لئے اچھا ہوگا کہ… اس موضوع کو چھوڑ دیں اور اللہ تعالیٰ کا
ذکر کریں اور پوری محنت اور ایمان داری سے اپنے فرائض ادا کریں… پڑھیں توجہ سے
پڑھیں…
اَللهُ
الصَّمَدُ،اَللهُ الصَّمَدُ،اَللهُ الصَّمَدُ……
اللہ الصمد
کے کچھ خواص لطف اللطیف میں لکھے گئے ہیں… الحمدللہ ’’لطف اللطیف جل شانہ‘‘ کتاب کافی چل
رہی ہے… اس کا پشتو ترجمہ بھی آچکا ہے… بس یہ خواہش رہتی ہے کہ وہ ’’فضائل جہاد‘‘
سے زیادہ نہ چلے… عملیات کی طرف لوگوں کا رجوع کچھ زیادہ ہی ہوتا جارہا ہے…’’لطف
اللطیف‘‘ کے بارے میں طرح طرح کے خطوط آتے ہیں… اور لوگ اس کی ’’اجازت‘‘ مانگتے
ہیں… کتاب کا لکھنا اور چھاپنا اسی لئے تو ہوتا ہے کہ… مسلمان اس سے
استفادہ کریں… ویسے برکت کے لئے جو اجازت درکارہوتی ہے وہ کتاب کے تعارف میں لکھ
دی ہے… خصوصی اجازت بعض خاص طرح کے وظائف میں ہوتی ہے، ہر وظیفے اور عمل میں نہیں…
اور
خاص طرح کے وظائف وہ ہوتے ہیں جن کو کرنے والے… پھر ساری زندگی’’وظیفے‘‘ ہی کرتے
رہتے ہیں مزید کوئی کام نہیں کرتے…کیونکہ ایمان اور طبائع کمزورہیں اور
سخت وظائف کو برداشت کرنا ہر کسی کے بس میں نہیں ہے… آپ’’جنات‘‘ قابو
کرنے کی بجائے اپنے نفس کو قابو کرلیں… تب آپ کو’’جنات‘‘ کی ضرورت ہی پیش نہیں
آئے گی…
اس
پر ایک لطیفہ یاد آگیا… جیل میں ایک’’قیدی مجاہد‘‘ جنات کو قابو کرنے کا عمل کر
رہے تھے… کسی نے ان سے کہا!آج کل ’’جنات‘‘ کے لئے اپنے بچوںکو بہلانا بہت آسان
ہو گیا ہو گا؟… انہوں نے پوچھا وہ کیسے؟… کہنے لگا! جب جنات کے بچے روتے یا تنگ
کرتے ہوں گے تو اُن کے بڑے انہیں کہتے ہوں گے کہ آؤ تمہیں چڑیا گھر لے کر جا کر
وہ پاگل دکھاتے ہیں… جو خود پنجرے میں بیٹھا ہے اور ہمیںقید کرنے کے وظیفے کررہا
ہے… بھائیو! اور بہنو! زیادہ وظیفے، عملیات اور طرح طرح کے نام نہاد روحانی علاج
چھوڑو… قرآن پاک سے نور اورقوت لو… اور مسنون اذکار… کلمہ طیبہ، استغفار، تسبیح
اور درود شریف سے اپنی روحانی طاقت کو چٹانوں سے مضبوط بنا لو…
ابھی
حال ہی میں ایک صاحب کا واقعہ پڑھا… اُن کے کچھ دوست کسی بات پر اُن کے دشمن ہو
گئے… انہوں نے بہت ماہر اور مہنگے جادوگروں کی خدمات حاصل کیں… تاکہ اُن صاحب کو
سحر میں جکڑ کر برباد کردیں… جادوگروں نے بہت زور مارا مگر وہ اُن کا کچھ بھی نہ
بگاڑ سکے… قصہ طویل ہے… مختصر یہ کہ یہ صاحب صبح شام مسنون کلمہ…
لَا
اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ
الْحَمْدُوَھُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیْیٍٔ قَدِیْر
پابندی
سے سو بار پڑھتے تھے… اب جادو اتنے طاقتور مسنون عمل کو کہاں پار کر سکتا تھا؟…
اَللهُ
الصَّمَدُ،اَللهُ الصَّمَدُ،اَللهُ الصَّمَدُ
لَا
اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
سبحان
ﷲ، والحمدللہ، ولا الہ الا ﷲ وﷲ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلیٰ العظیم
استغفرﷲ
العظیم الذی لا الہ الا ھو الحی القیوم و اتوب الیہ
لَا
اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ
الْحَمْدُوَھُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیْیٍٔ قَدِیْر
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لَا
اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
مجھے اور آپ سب کو دنیا اور آخرت میں’’عافیت‘‘ عطاء فرمائے…
اللّٰھم
اِنَّا نَسْئَلُکَ الْعَافِیَۃَ فِیْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃ
بہت
سی ضروری باتیں جمع ہیں… بلوچستان میں ہلاکت خیز زلزلہ آیا ہے، زمین لرز اُٹھی،
پانی پھٹ گیا، نئے جزیرے نکل آئے اور زمین پر عذاب کے مناظر ہر طرف بکھر گئے…
زلزلے
کا شکار ہونے والے بھائیوں سے… قلبی تعزیت ہے… ہم سب کو’’استغفار‘‘ کی طرف متوجہ
ہونا چائے… اللہ تعالیٰ کی پکڑ بہت سخت ہے اور وہ
غفوراوررحیم ہے… اہل پاکستان سے گذارش ہے کہ آگے بڑھیں… یہ مصیبت کسی پر بھی
آسکتی ہے… دل کھول کر زلزلہ زدگان کی امداد کریں… اور تعاون کا ہاتھ مضبوط
بنائیں… جماعت کی طرف سے بھی امدادی کام کا آغاز کیا جارہا
ہے… اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور اس میں برکت عطاء فرمائے…
ملاقات
بالکل
اسی وقت جب یہ الفاظ لکھے جارہے ہیں… پاکستان اور بھارت کے وزراء اعظم امریکہ میں
باہم مل رہے ہیں… ایک طرف سے بے تابی ہے اور دوسری طرف سے بے رخی… ایک طرف سے
اشتیاق کا عالم ہے اور دوسری طرف سے سرد مہری… بھارتی وزیراعظم نے امریکہ پہنچتے
ہی پاکستان کے خلاف پٹاخے چھوڑنا شروع کر دیئے… جبکہ پاکستان کے حکمران… انڈیا کی
طرف پھول ہی پھول برسا رہے ہیں… معلوم نہیں اتنے زیادہ پھول ان کے پاس کہاں سے
آگئے ہیں؟…بھارتی وزیراعظم نے امریکی صدر سے ملاقات میں… پاکستان کو دہشت گردی کا
مرکز اور دہشت گردی کی بنیاد قرار دیا ہے… مقصد یہ تھا کہ امریکہ اور بھارت ساتھ
مل کر پاکستان کا قصہ ختم کر دیں… ویسے کوشش تو دونوں نے بھرپور کر لی ہے…
مگرپاکستان کو’’ اللہ تعالیٰ‘‘ چلا رہے ہیں… اور ابھی تک بچا رہے ہیں…
یہاں اکثریت ہم جیسے ہی سہی مگر کچھ لوگ اللہ تعالیٰ
کے بہت وفادار ہیں، بہت پیارے ہیں… بھارت سرکاری طور پر پاکستان میں دہشت گردی
کرتا ہے… یہ اس کا قومی اور حتمی ایجنڈا ہے… جبکہ پاکستان کے حکمران… کبھی بھی
پاکستان کے بارے میں’’نظریاتی‘‘ واقع نہیں ہوئے… وہ ہمیشہ انڈیا سے دوستی کے لئے
مرتے ہیں… اور اسی دوستی میں ملک کا نقصان کرتے ہیں… آج کی ملاقات میں کیا ہوگا؟…
بھارت اپنے مطالبات کی فہرست پورے رعب داب کے ساتھ پاکستانی وزیراعظم کے ہاتھ میں
تھما دے گا… اور پاکستانی حکمران… ڈھیلے، بھیگے اور پھیکے لہجے میں دوستی اور اچھے
تعلقات کی بھیک مانگتا رہ جائے گا… اور ساتھ اپنی مجبوریاں کہ… ہم تو آپ کی خاطر
سب کچھ کر گزرنا چاہتے ہیں… مگر کچھ مجبوریاں ہیں… آپ سر پرستی کریں، تعاون کریں،
کچھ وقت دیں تو ہم… آپ کا ہر مطالبہ پورا کر دیں گے… مسلمانوں
کو اللہ تعالیٰ نے…مشرکین پر کھلی فضیلت عطاء فرمائی ہے…
مگر معلوم نہیں ہمارے حکمران… اس ’’فضیلت‘‘ سے کیوں محروم نظر آتے ہیں… بھارت کو
پاکستان کا وجود ہی کبھی تسلیم نہیں… تو پھر اسے کہاں تک خوش کریں گے؟… کب تک راضی
رکھیں گے؟… اور اس کی خوشی کے لئے اپنا کتنا نقصان کریں گے؟… سوچ لیں، اچھی طرح
سوچ لیں…
پرانا
واقعہ
1995ء
کو کتنے سال ہو گئے؟… اٹھارہ سال پہلے تہاڑ جیل میں کچھ وقت گزرا… وہاں ایک نامی
گرامی مجرم سے اس لئے دوستی ہوئی کہ شاید وہ ’’اسلام‘‘ قبول کر لے… ویسے’’دوستی‘‘
بھی نہیں… بس پڑوس کا تعلق… اسلام نے پڑوسی کے ساتھ اچھے سلوک کا حکم دیا ہے…
بشرطیکہ پڑوسی جنگ نہ چھیڑے… جہاد میں پہلا حق’’پڑوسی‘‘ کا ہے… اگر پڑوسی ملک
کافر، اسلام دشمن اور جنگجو ہو… پہلے اس سے قتال کیا جائے گا… قرآن مجید میں واضح
حکم موجود ہے…
اس
شخص نے کہا کہ … آپ لوگ کیوں لڑتے ہیں؟… ٹوٹی پھوٹی لغت میں اسے جہاد اور جہادی
تحریکوں کے بارے میں سمجھایا… اس نے درخواست کی کہ اس بارے میں آپ کتاب لکھیں…
میں اس کا انگریزی، فرانسیسی ترجمہ کراؤں گا… کاغذ،قلم اس نے مہیا کئے… ڈیڑھ سال
بعد قلم،ہاتھ میں آیا تو فرّاٹے بھرنے لگا… دو تین دن میں فل اسکیپ کے دوسو کاغذ
لکھ دیئے…
اس
وقت جہاد کا’’کام‘‘ کافی محدود تھا…بس چند محاذ تھے… افغانستان، کشمیر،
فلسطین،تاجکستان وغیرہ… مگر پھر بھی ہر طرف شورتھا کہ…دنیا کو اسلامی اتنہا پسندی
اور بنیاد پرستی سے خطرہ ہے…اُن دو سو اوراق میں یہ بات زور دے کر لکھی تھی کہ…
چند ایک جائز اسلامی تحریکوں کو جس سختی کے ساتھ روکنے کی کوشش کی جارہی ہے… اس کے
نتیجے میں’’جہاد‘‘ بے قابو ہو جائے گا… اور جنگ پوری دنیا میں پھیل جائے گی… اور
دنیا تب اپنی آنکھوں سے اصل’’شدّت پسندی‘‘ دیکھے گی… فی الحال تو میٹھا میٹھا سا
جہاد ہے… اصولوں اور قواعد میں بندھا ہوا اور مخصوص علاقوں تک سمٹا ہوا… مگر اسے
بہت بے رحمی سے ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے… یہ کوشش کامیاب نہیں ہو گی… اور
ساری دنیا جنگ کی لپیٹ میں آجائے گی…
ضروری
بات
آج
دنیا بھر میں جہاد کے پھیل جانے کی دلچسپ کہانی سنانے بیٹھا ہوں… مگر ایک بات جو
کافی عرصہ سے لکھنے کی کوشش ہے مگر وہ رہ جاتی ہے… اس کا کچھ تذکرہ ہو جائے…
مجاہدین کو جن چیزوں نے سخت نقصان پہنچایا ہے… ان میں سے ایک یہ ہے کہ… جہاد شروع
کرتے ہی اسلام نافذ کرنے کی بہت جلدی کی جاتی ہے… اور اسلام کے بھی صرف وہ احکامات
نافذ کرنے میں تیزی دکھائی جاتی ہے جو فرائض کے درجہ میں نہیں آتے… اسلام میں سب
سے پہلے کلمہ طیبہ… یعنی ایمان اور عقیدہ کی اہمیت ہے… اس کے بعد فرائض کا درجہ
آتا ہے… اقامت صلوٰۃ، زکوٰۃ، حج، رمضان المبارک کے روزے… اور جہاد فی
سبیل اللہ … اگر کوئی مسلمان ان دو میں پختہ ہو جائے یعنی کلمہ اور
فرائض… تو پھر اس کے لئے باقی احکام پر عمل آسان ہو جاتا ہے… مگر دیکھا یہ گیا
کہ… اسلام نافذ کرنے کا کام نائیوں، حجاموں کی دکانوں پر بم پھاڑنے، یا ویڈیو کی
دکانوں کو اڑانے سے ہوتا ہے… اگر آپ عوام کے ساتھ جوڑ، محبت اور حسن سلوک کے ساتھ
پیش نہیں آتے تو پھر آپ کا جہاد زمین پر نہیں جم سکتا… کچھ کم علم لوگ جن کو دین
کی بنیادی باتوں کو بھی علم نہیں ہے… وہ جو مسئلہ بھی سنتے ہیں بس وہی ان کے نزدیک
دین اور علم کی ’’انتہا‘‘ ہوتا ہے… داڑھی کا سنا تو اب داڑھی منڈانے والوں کے لئے
گولی… پردے کا سنا تو اب بے پردہ عورتوں کے لئے تیزاب… فلموں کا سنا تو اب ویڈیو
والوں کے لئے سزائے موت… یہ بہت خطرناک صورتحال ہے… اسی طرح مال غنیمت کے مسائل
میں بھی بہت غلطی ہے… لوگوں سے زبردستی چندہ، تاوان، یا زکوٰۃ وصول کرنے سے جہاد
کو بے حد نقصان پہنچا ہے… ایک زمانہ کشمیر کے ہر پہاڑ پر ایک’’امیر المؤمنین‘‘
بیٹھا تھا… بکروال اپنے ریوڑ لیکر نکلتے تو ہر پہاڑ پر بیٹھایہ’’حاکم‘‘ بکریاں گن
کر’’زکوٰۃ‘‘ نکال لیتا… اور یوں جہاد کے اہم ترین معاونین ’’بکروال برادری‘‘
مجاہدین سے بدظن ہو گئی… بے شک داڑھی منڈانا گناہ ہے… بے شک ویڈیو کی دکانیں
اسلامی معاشرے کے لئے خطرناک ہیں… بے شک اسلام میں پردہ کا حکم ہے… لیکن یہ وہ
احکامات نہیں ہیں کہ جن سے… نفاذ اسلام کا آغاز کیا جائے اور انہی مسائل کو سب
کچھ سمجھا جائے… اورا ن غلطیوں پر قتل جیسے بھیانک فیصلے کئے جائیں… یا اسکولوں کو
اڑانا ہی جہاد سمجھا جائے… مجاہدین کو چاہئے دین کا پختہ علم حاصل کریں یا پختہ
علم والے علماء کرام کی اتباع کریں… اپنی توجہ جنگ پر رکھیں ان احکامات کو نافذ
کرنے کا وقت بعد میں آئے گا… اپنے اعمال کا بھی محاسبہ کریں کہ دوسروں کو جن
چھوٹی باتوں پر قتل کرتے ہیں کہیںخود اُن سے بڑی غلطیوں میں تو مبتلا نہیں… اور یہ
مسئلہ بھی یاد رکھیں کہ زمین پر غلبہ قائم ہونے کے بعد احکامات کو قوت سے نافذ کیا
جا سکتا ہے… یہ نہیں کہ جہاد شروع کرتے ہی عوام پر قوت آزمانا شروع کر دیں… اور
یہ کہ عوام کے دلوں کو جیتنے اور ان کی دینی اصلاح کرنے کی کوشش کریں نہ کہ اُن کے
خلاف جنگ چھیڑ دیں… یہ بہت اہم موضوع ہے بس بطور اشارہ چند باتیں عرض
کر دی ہیں…
آج
جنگ ہی جنگ ہے
اٹھارہ
سال پہلے جو باتیں اُن صفحات پر لکھی تھیں وہ آہستہ آہستہ زمین پر نمودار ہوتی
گئیں… نائن الیون کا واقعہ پیش آیا اور پھر جنگ دنیا بھر میں پھیل گئی اور اب
مزید پھیلتی جارہی ہے… اور یہ بات یاد رکھیں کہ یہ جنگ اب اور زیادہ پھیلے گی…
کیونکہ دنیا میں اس وقت جو ’’طاقتور‘‘ ممالک اور لوگ ہیں وہ مسلسل اسی راستے کی
طرف جارہے ہیں جس میں جنگ ہی جنگ ہے… ان سب کا ایک ہی مؤقف ہے کہ…
١ اسلامی
شدت پسندی کو سختی سے کچل دیا جائے…
٢ اسلامی
جہاد کا نام و نشان مٹا دیا جائے…
٣ اسلامی
بنیاد پرستی کی جڑ ہی کاٹ دی جائے…
٤ مجاہدین
کی کمر ہمیشہ کے لئے توڑ دی جائے…
یہ
ہے چار نکاتی فارمولہ… آ ج کل اقوام متحدہ کا اجلاس گرم ہے… ساری دنیا کے انسان
غربت، بھوک، ایڈز، کینسر اور کرپشن سے مررہے ہیں… مگر دنیا بھر کے حکمران… صرف اسی
ایک’’صفر‘‘ پر کھڑے ہیں کہ دنیا سے اسلامی انتہا پسندی اور جہاد کا خاتمہ کیسے
ہو؟… ان سب کی یہی فکر مندی… اوراس فکر مندی سے پھوٹنے والے ظالمانہ اقدامات ہی
دنیا بھر میں’’جنگ‘‘ کا سب سے بڑا سبب ہیں… چنانچہ یہ اس سمت میں جتنا
بھی آگے بڑھیں گے دنیا اسی قدر جنگ کی لپیٹ میں آتی جائے گی… یہ لوگ نہ تو اسلام
کے مزاج سے واقف ہیں… اور نہ ہی یہ حقیقی مسلمانوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں… چنانچہ
یہ ’’ظلم‘‘ میں تیزی کرتے ہیں… اور ظلم میں تیزی کے جواب میں جہاد اور زیادہ
مضبوط، مستحکم اور وسیع ہوتا ہے… ان شاء اللہ اگلے
کالم میں اس چار نکاتی عالمی فارمولے پر بات ہوگی کہ… یہ فارمولہ دنیا
میں کیا گُل کھلائے گا… بس اتنی بات یاد رکھیں کہ… جہاد کو اللہ تعالیٰ نے ایسی
جگہ لکھ دیا ہے جہاں سے اسے مٹانا ممکن نہیں… جی ہاں! ممکن ہی نہیں…
بھولیں
نہ
ذوالحجہ
کا چاند نظر آتے ہی… ہوشیار ہو جائیں… ذوالحجہ کے پہلے دس دن دنیا کے ایام میں…
سب سے افضل اور بہترین دن ہیں… یہ وہ دن ہیں کہ جن کی راتوں کی
قسم اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کھائی ہے… ان دنوں کے
اعمال اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت پسندیدہ اور مقرب ہیں…
معلوم نہیں قرآن وسنت میں اتنے زیادہ فضائل کے باوجود مسلمان ان دنوں کی فضیلت سے
کیوں غافل رہتے ہیں؟… ان ایام کوہم سب قیمتی بنائیں… توبہ،استغفار، روزے،
عبادت،تقویٰ… اور پھر قربانی… یا اللہ توفیق عطاء فرما… آمین
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللّٰھم
صل علیٰ سیّدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
توفیق عطاء فرمائے… آج دو ضروری موضوع ہیں، کوشش کرتے ہیں دونوں کو ساتھ ساتھ لے
کر چلیں… ایک تو وہی گزشتہ کالم والا کہ دنیا بھر کے حکمران اور طاقتور طبقے جہاد
اور دیندار مسلمانوں کو ختم کرنے کی کوشش میں ہیں… ان کوششوں کا کیا بنے گا؟…
اور
دوسرا عشرہ ذی الحجہ… یعنی ماہ ذی الحجہ کے پہلے دس دنوں کی فضیلت…
ہر
منٹ میں اڑتیس ٣٨نئے مسلمان
ایک
سچی اور دلچسپ رپورٹ شائع ہوئی ہے… پچھلے سال یعنی2012ء میںدنیا بھر میں جن نئے
خوش نصیب افراد نے اسلام قبول کیا ان کی تعداد کئی ملین ہے… اورحساب لگانے سے
معلوم ہوا کہ گذشتہ سال اوسطاً ہر منٹ میں اڑتیس نئے افراد نے اسلام قبول
کیا… اللہ اکبر کبیرا…
والحمدللہ
رب العالمین
اب
اُس دعوے کو مدنظررکھیں کہ…جہاد سے( نعوذباللہ ) اسلام بدنام ہو رہا ہے… استغفر اللہ ، استغفر
اللہ … کیسا فضول اور ناجائز دعویٰ ہے… یہ جہادی دور کی برکات ہیں کہ… اب اسلام
اتنی تیزی سے پھیل رہا ہے… کیونکہ اپنا خون دے کر مجاہدین نے اسلام کے’’وجود‘‘ کو
منوایا ہے… جہاد کے اس مبارک پھیلاؤ نے اسلام کو، دیندار مسلمانوں کو، دینی مدارس
کو، علماء اور دینی جماعتوں کو طاقت دی ہے… بیس پچیس سال پہلے اسلام اتنی تیزی سے
نہیں پھیل رہا تھا جس قدر تیزی سے آج پھیل رہا ہے… اور الحمدللہ ہر دینی شعبہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوا ہے…بے شک
جہاد اسلام کا محکم اور قطعی فریضہ ہے اور اس میں مسلمانوں کے لئے خیر ہی خیر ہے…
ذٰلِکُمْ
خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْن
بڑے
قیمتی دس دن
ذو
الحجہ کے پہلے دس دن اتنے اونچے اور قیمتی ہیں کہ قرآن مجید میں دو جگہ خاص طور
پر ان کا تذکرہ ہے… سورۃ الفجر میں تو اللہ تعالیٰ نے ان
دنوں کی دس راتوںکی قسم کھائی ہے… اور سورۃ حج میں انہیں ’’ایام معلومات‘‘ قرار
دیا ہے… ان دونوں آیات سے آپ ان دنوں کی قیمت کا اندازہ لگا سکتے ہیں… ہمارے
صاحب بصیرت اسلاف پورے سال میں تین عشروں کا خاص اہتمام فرماتے تھے…
١ رمضان
المبارک کا آخری عشرہ…
٢ ذوالحجہ
کا پہلا عشرہ…
٣ محرم
الحرام کا پہلا عشرہ…
ان
تین عشروں کی عبادت انسان کو بہت کچھ عطاء فرماتی ہے…
جہاد
کی وافر غذاء
جس
چیز کو بھی وافر غذا ملے وہ صحت مند اور طاقتور ہوجاتی ہے… جہاد کی غذا… کافروں
اور ظالموں کا ظلم ہے… وہ جس قدر ظلم بڑھاتے جاتے ہیں جہاد اسی قدر طاقتور ہوتا
چلا جاتا ہے… یہ بات محض کوئی کھوکھلا دعویٰ نہیں… قرآن مجید میں’’اسباب جہاد‘‘
کا مطالعہ کریں… کن اسباب کے پیدا ہونے سے جہاد کا حکم متوجہ ہوتا ہے؟… اور جہاد
کے اہداف کیا ہیں؟… جب دشمنان اسلام کھلی دشمنی پر اترتے ہیں،جب وہ مسلمانوں پر
مظالم ڈھاتے ہیں… جب وہ مسلمانوں کی عزتوں اور عصمتوں پر ہاتھ ڈالتے ہیں… جب وہ
مسلمانوں کی مساجد گراتے ہیں… جب وہ مسلمانوں کو قیدی بناتے ہیں… جب وہ اللہ
تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھلم کھلادشمنی،
عداوت اور بے ادبی کا اعلان کرتے ہیں… جب وہ اسلامی زمینوں پر قبضے کرتے ہیں تو
قرآن پاک کے’’جہادی انوارات‘‘ غازیوں کو… ایک خاص سگنل دیتے ہیں… جس طرح اونچے
پہاڑوں کے درخت بادلوں اور ہواؤں کو سگنل دیتے ہیں… قرآن پاک کی طرف سے اشارے
ملتے ہیں… خوش نصیب جنَّتی اور مدنی ارواح… جہاد کی طرف دوڑنے لگتی ہیں…
بس
آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ… آج جہاد کو ختم کرنے کی جتنی کوششیں جاری ہیں
وہ سب جہاد کو مضبوط اور مستحکم کرنے کا ذریعہ ہیں…
یا
جدید الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ… ہالی وڈ اور بالی وڈ سے تو جہاد اور مسلمانوں کا
کچھ نقصان کیا جا سکتا ہے… مگر پینٹا گون اور را، موساد کے ذریعہ جہاد کا کچھ بھی
نہیں بگاڑا جا سکتا… اور پھر کرامت دیکھئے کہ جو مسلمان جہاد پر آجائے اور پکا
آجائے تو پھر ہالی وڈ اور بالی وڈ بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے… راحت، آرام اور
عیش پرستی… مسلمان کے لئے ہلاکت ہے… جبکہ امتحان، مشقت اور سخت حالات مسلمانوں کو
پکا مؤمن بنا دیتے ہیں… ابھی مصر کی ایک نومسلمہ نے عجیب داستان لکھی ہے… وہ قبطی
عیسائی تھی اور کالج میں ایک مسلمان لڑکے سے محبت کرتی تھی… وہ لڑکا نام کا مسلمان
تھا، نہ نمازاور نہ دین… عیسائی لڑکی کی کوشش تھی کہ وہ لڑکا عیسائی ہو جائے تاکہ
شادی آسان ہو … اس نے گمنام ذریعہ سے ایک پادری کی چند’’ویڈیوز‘‘ اس تک پہنچائیں…
اب وہ انتظار میں تھی کہ کب پادری کا جادو چلتا ہے مگر یہ کیا… اس نے
دیکھا کہ لڑکے نے داڑھی رکھ لی، نماز شروع کر دی… تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ پادری
نے اپنے بیانات میں اسلام اور مسلمانوں کو بار بار ’’چیلنج‘‘ کیا تھا…یہ’’چیلنج‘‘
سن کر لڑکے کے اندر سوئی ہوئی غیرت جاگ اٹھی کہ ایک پادری کی یہ ہمت کہ… مسلمانوں
کو چیلنج دے… بس اُس نے پادری کو جواب دینے کے لئے اسلام کا مطالعہ
شروع کیا، علماء سے ملنا شروع کیا اور دیندار مسلمان بن گیا… بعد میں اسی کی باحیا
اور مدلل محنت سے وہ عیسائی لڑکی بھی مسلمان ہو گئی…
دُنیا
کے دنوں میں افضل ترین
حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
دنیا
کے ایام میں سب سے افضل دن ذوالحجہ کے پہلے دس دن ہیں… عرض کیا گیا… کیا جہاد میں
گذرے ہوئے دن بھی ان دنوں کے برابر نہیں؟ ارشاد فرمایا… جہاد میں گذرے ہوئے دن بھی
ان دنوں کے برابر نہیں مگر یہ کہ جہاد میں جانے والے کا چہرہ مٹی میں جاملے۔(یعنی
وہ شہید ہو جائے)… (البزاز، ابن حبان، صحیح)
ان
دس ایام میں عبادت کی فضیلت کا ا ندازہ لگائیں کہ… وہ مجاہد جو اپنی جان واپس لے
آئے یعنی غازی بن کر لوٹ آئے… ان دس دنوں کی عبادت اُس کے عمل سے بھی افضل ہے…
سبحان اللہ اگر کوئی خوش نصیب شخص یہ دس دن جہاد
اور جہادی محنت میں گزار دے تو اس کا اجر کتنا بڑا ہوگا…
یہ
اُلٹی کوشش
کفار
اور منافقین میں سے جو زیادہ عقلمند اور تھنک ٹینک ہیں… اُن کی سوچ یہ ہے کہ…
مسلمانوں پر ایسے حالات لائے جائیں کہ ان میں سے جو لڑنے والا طبقہ ہے وہ کھل کر
سامنے آجائے… پھر اس طبقے کو طاقت کے ذریعہ ختم کر دیا جائے… پیچھے صرف جھاگ اور
چھلکے قسم کے مسلمان رہ جائیں گے اور ہم آرام سے دنیا پر حکومت کریں گے… قرآن
مجید کے اوراق کی بے حرمتی، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اطہر
میں گستاخی… گندی گستاخانہ فلمیں اور خاکے… یہ سب اس لئے لائے جاتے ہیں کہ
مسلمانوں میں اشتعال اور حرکت پیدا ہو… اور اُن مسلمانوں کاپتہ چل جائے جو لڑ سکتے
ہیں… تب ان کو گھیر گھار کر مار دیا جائے… کفار اور منافقین کی یہ سازش بہت مضبوط
تھی اور یہ کامیاب بھی ہو جاتی اگر… مسلمان بھی دوسرے مذاہب والوں کی طرح ہوتے…
مگر’’مسلمان‘‘ بالکل ایک الگ، انمول، انوکھی اور منفرد ’’مخلوق‘‘ ہیں… اللہ تعالیٰ
کی سب سے پسندیدہ مخلوق… ان کے پاس زندہ قرآن، زندہ کعبہ ،زندہ مدینہ، زندہ مکہ…
زندہ سیرت اور زندہ علم ہے… یہ اس کنویں اورچشمے کی طرح ہیں کہ جس میں سے جتنا
پانی نکال لیا جائے اسی قدر مزید پانی بلکہ اس سے بھی زیادہ صاف پانی اس میں
آجاتا ہے… پھر قرآن پاک کے صرف ایک لفظ پر غور کریں…’’ بَلْ اَحْیَاءٌ‘‘ شہید
مردہ نہیں بلکہ زندہ ہیں… زندگی کا ایک بڑا مطلب یہ ہے کہ… شہید کا خون بیج بن
جاتا ہے جس سے مزید پودے اورپھل، پھول نکلتے رہتے ہیں… اور شہید کا کام
زندہ رہتا ہے…جہاں تک ان کوششوں کے پہلے حصے کا تعلق ہے کہ گستاخی اور ظلم کے ان
مناظر کو دیکھ کر مسلمانوں میں سے لڑنے والا طبقہ سامنے آجاتا ہے… یہاں تک توٹھیک
ہے… مگراس لڑنے والے طبقے کو بالکل ختم کر دیا جائے گا… یہ غلط ہے… کیونکہ یہ
طبقہ…’’ بَلْ اَحْیَاءٌ‘‘ ایک خاص اور دائمی زندگی پاجاتا
ہے… اب تک جو نتائج سامنے آئے ہیں اُن کو ملاحظہ کریں تو آپ میری اس
بات کی تصدیق کریں گے…
فضائل
ہی فضائل
ذوالحجہ
کے پہلے عشرہ کے فضائل کا ایک مختصر منظر دیکھیں…
١ اسی
عشرے میں حج ادا ہوتا ہے… جی ہاں اتنا بڑا فریضہ ان دنوں کے علاوہ کبھی ادا نہیں
ہو سکتا…
٢ اسی
عشرے میں’’یوم عرفہ‘‘ ہے… اور یوم عرفہ کے فضائل بے شمار ہیں اور یوم عرفہ کا روزہ
دو سالوں کے گناہوں کا کفارہ ہے… یوم عرفہ مغفرت اور جہنم سے نجات کا دن ہے… اور
یہی’’حج اکبر‘‘ کا دن ہے…
٣ اسی
عشرہ میں’’یوم نحر‘‘ یعنی قربانی والا دن بھی ہے… جس کے بارے میں حضرت آقا مدنی
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اعظم
الأیام عنداللہ یوم النحر(ابو داؤد، نسائی)
اللہ تعالیٰ
کے نزدیک سب سے عظمت والا دن’’یوم النحر‘‘ یعنی دس ذوالحجہ کا دن ہے…
٤ اسی
عشرے کے نیک اعمال اللہ تعالیٰ کے نزدیک باقی تمام دنوں کے
اعمال سے زیادہ محبوب ہیں… (بخاری)
٥ اس
عشرے میں تہلیل، تکبیر اور تحمید زیادہ کرو…
لا
الہ الا اللہ… اللہ اکبر کبیرا… والحمدللہ
ان
دنوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کو بہت ہی محبوب ہیں… (خلاصہ
روایۃ احمد)
حج،
عمرہ، جہاد، روزے، صدقہ، تہلیل و تکبیر… گناہوں سے بچنا… اور دل کی خوشی سے کھلی
قربانی کرنا… یہ ہے مختصر نصاب…
بے
بسی
دو
موضوع ساتھ ساتھ چلائے… نہ ایک پورا ہوا نہ دوسرا… اور جگہ ختم ہوگئی… ابھی بہت سی
اہم باتیں باقی ہیں… بس جتنی ہو گئیں… اسی پر شکر ادا کرتے ہیں… و الحمدللہ رب العالمین…
لا
الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
متاثرنہ ہوں
اللہ تعالیٰ
کے سواکوئی عبادت کے لائق نہیں…
لا
الہ الا ﷲ
حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں…
مُحمَّد
رسول ﷲ
بس
یہی ہے کامیابی کاراز… یہی ہے سب سے بڑی عزت اور یہی ہے سب سے بڑی دولت
لا
الہ الا ﷲ مُحمَّد رسول اللہ
جس
نے یہ’’کلمہ‘‘ پالیا… وہ عزت والا ہے… اور جو اس’’کلمہ‘‘ سے محروم ہے وہ ذلت میں
ہے…
امریکہ
کے صدر’’ابامہ‘‘ نے ’’کلمہ‘‘ سنا، آذان سُنی… بچپن میں قرآن پاک پڑھا مگر وہ
’’کلمہ طیبہ‘‘ کو نہ پا سکا… محروم، محروم، محروم… بد نصیبی کی انتہا…
اللہ تعالیٰ
ہم سب کو محرومی اور بد نصیبی سے بچائے…
جن
کے دل میں ’’کلمہ طیبہ‘‘ ہے… وہ نہ سورج کی پوجا کرتے ہیں، نہ ستاروں سے متاثر
ہوتے ہیں… نہ چاند پر جانے والوں کو بڑا سمجھتے ہیں… اور نہ کسی کوٹھی، کار اور
عیاشی سے متاثر ہوتے ہیں… کیونکہ’’کلمہ طیبہ‘‘ کی شاخیں آسمانوں سے اونچی ہیں… یہ
کلمہ انسان کو اتنا بلند کر دیتا ہے کہ اُسے ساری دنیا کی بادشاہت… اور مال و دولت
مچھر کے پر کے برابر نظر آتا ہے…
لاالہ
الا ﷲ محمد رسول ﷲ
وہ
لوگ جو’’ابامہ‘‘ سے ملنا’’اعزاز‘‘ سمجھتے ہیں… وہ بے چارے نا سمجھ ہیں، نا بالغ
ہیں… قابل رحم ہیں… اُن کو دیکھ کر وہ دعاء پڑھنی چاہئے جو کسی معذور
کو دیکھ کر پڑھی جاتی ہے:
اَلْحَمْدُلِلہِ
الَّذِی عَافَانِی مِمَّا ابْتَلاکَ بِہٖ وَفَضَّلَنِیْ عَلیٰ کَثِیْرٍ مِّمَّنْ
خَلَقَ تَفْضِیْلَا
آج
کی دنیا کتنی سمجھدار اور دانشمندہے اس کا اندازہ صرف اس بات سے لگائیں کہ سوات کی
ایک سولہ سالہ بچی… دنیا کی بڑی مفکر اور بڑی دانشور بنی ہوئی ہے… وہ کتاب بھی لکھ
چکی… اور اس کتاب کی پیشگی اجرت… کئی کروڑ روپے بھی وصول کر چکی ہے… چند
دن پہلے وہ ابامہ سے جا ملی اور آج اس نے ملکہ الزبتھ کے چرنوں میں
حاضری دینی ہے…
اقوام
متحدہ کا سٹیج ایسا بے وقار کہ…وہاں اُسے تقریر کے لئے کھڑا کیا گیا… اُس نے کونسی
دانش کی بات کی؟… اللہ تعالیٰ کسی کوکمسنی میں ہی مثالی عقل و دانش سے نواز دے… یہ
ممکن ہے… ماضی میں ایسا ہو چکا اور آئندہ بھی خوش نصیب افراد کو یہ نعمت ملتی رہے
گی … مگر یہاں تو عقل و دانش نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی… بس بولنے والا ایک
کھلونا ہے جس کے ذریعے اسلام اور پاکستان کی عزت کے ساتھ کھلواڑ کی کوشش کی جا رہی
ہے…
میں
تعلیم عام کروں گی… میںگولی سے نہیں ڈرتی… دنیا میں امن ہونا چاہئے اور یہ امن قلم
اور کتاب سے آئے گا… تالیاں، تالیاں…
یہ
ہے آج کی نام نہاد مہذب دنیا کی دانش… آج جتنا فساد پڑھے لکھے لوگ پھیلا رہے ہیں
اتنا ان پڑھ لوگوں نے کبھی نہیں پھیلایا…
مجھے
خطرہ ہے کہ… سوات کی یہ بے عقل سی بچی گولی سے تو بچ گئی… مگر، کہیں… اپنے
ایوارڈوں کی رقم گنتے گنتے نہ مر جائے…
دراصل
اُسے مسلمانوں کی ’’قیادت‘‘ کے لئے تیار کی جارہا ہے… تاکہ غلامی کی تاریک رات کو…
مسلمانوں پر مزید طویل کیا جا سکے… سکول سے واپس آتے ہوئے اُس پر گولی چلائی گئی…
یا چلوائی گئی… جو کچھ بھی ہوا تھا ہمیں اچھا نہیں لگا تھا…
مسلمانوں
کو اپنی بندوقوں کا رخ… کفار، دشمنان اسلام کی طرف رکھنا چاہئے… کفر کمزور ہوتا ہے
تو ’’نفاق‘‘ اپنی موت آپ مر جاتا ہے… کیونکہ’’منافق‘‘ صرف اپنے مفادات کا اور وقت
کی طاقت کا پجاری ہوتا ہے…
آپ’’غامدی‘‘
اور ’’وحید الدین خان‘‘ کے فتنے کا جائزہ لے لیں… اُن کا یہی نظریہ ہے کہ… جو
حکمران ہے وہی ٹھیک ہے… جو طاقتور ہے وہی برحق ہے… اور جودنیا میں مضبوط ہے بس اسی
کا ساتھ دو… یہ خالص’’منافقانہ‘‘ سوچ ہے مگر یہ ہر زمانے میں پائی جاتی ہے…
اورہمارے زمانے میں یہ اپنے عروج پر ہے… یہ لوگ کہتے ہیں…
’’ہم
دریا کی مچھلیاں ہیں… پس جو ہمارے دریا کا مگرمچھ ہے اُس سے بنا کر رکھو… اس کی
غلامی کرو… اور اس غلامی پر فخر کرو اور اسے دانشمندی سمجھو‘‘…
قرآن
پاک بار بار اس سوچ کی نفی فرماتا ہے… ایک پوری سورۃ’’المنافقون‘‘ اس موضوع پر
نازل ہوئی ہے… وہ سورۃ آج کے غامدی، ملالی… اور بلاولی فتنوں کا مکمل نقشہ
کھینچتی ہے… آپ اس سورۃ کو پڑھیں گے تو یوں لگے گا کہ…
آپ
کسی کرزئی، کسی پرویز مشرف، کسی زرداری… کسی سواتی بچی کے حالات پڑھ رہے ہیں…
قرآن پاک اس سورۃ کے آخر میں نفاقی فتنے سے بچنے کا علاج بھی بیان فرماتاہے کہ…
دنیا
کی چمک، عزت اور مال سے متاثر ہونا چھوڑ دو…
یہ
محض خلاصہ ہے… علاج کی تفصیلات پڑھنی ہیں تو’’فتح الجواد‘‘ کی طرف رجوع کریں… ایک
مجاہد ساری دنیا کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف لپکتا ہے
تو… فدائی اور شہید بن جاتا ہے… اور دوسرا
مجاہد… اللہ تعالیٰ سے غافل ہو کر… دنیا کی طرف لپکتا ہے…
روشن مستقبل، پروٹوکول، طرح طرح کے ملبوسات شاہانہ دستر خوان… اور ضرورت سے زیادہ
مال کی فراوانی… تو وہ ذلیل اور رسوا ہو جاتا ہے… اور راستے سے ہٹا کر حکمرانوں یا
میڈیا کے ہاتھ کا کھلونا بن جاتا ہے…
اَللّٰھُمَّ
اَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِی الْاُمُوْرِ کُلِّھَا وَاَجِرْنَا مِنْ خِزْیِ
الدُّنْیَا وَعَذَابِ الْآخِرَۃ
ایک
دعاء بہت محتاجی اور عاجزی سے مانگنی چاہئے…
اَللّٰھُمَّ
اجْعَلْ خَیْرَ عُمُرِیْ اٰخِرَہٗ وَخَیْرَ عَمَلِیْ خَوَاتِیْمَہٗ وَخَیْرَ
اَیَّامِیْ یَوْمَ اَلْقَاکَ فِیْہ
او
کلمے والے مسلمانو!… او! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے
امتیو!… دنیا کی کسی چمک سے متاثر نہ ہونا… اگرچہ وہ چمک دینی شکل و صورت میں ہی
کیوں نہ ہو… میڈیا پر آناکوئی فخر اور عزت نہیں… سانپ، بچھو ، بندر اور خنزیر رات
دن میڈیا پر دکھائی دیتے ہیں… کسی کے اڑنے سے متاثر نہ ہونا مکھیاں رات دن اڑتی
رہتی ہیں… بس اس فکر میں رہو کہ… کلمہ دل میں پکاہو جائے… اخلاص والی نماز نصیب ہو
جائے… اور زیادہ سے زیادہ جہاد فی سبیل اللہ میں
محنت اور قربانی کی توفیق ملے… یہی عزت ہے، یہی ترقی ہے یہی کامیابی ہے… اور یہی
فلاح کا راستہ ہے…
ایک
جامع نصاب… کلمہ، نماز اور جہاد فی سبیل اللہ …
جی
ہاں! کلمہ، نماز… اور جہاد فی سبیل اللہ …
جو
مسلمان اس نصاب کو یقین اور اخلاص کے ساتھ پا لیتا ہے … اسے ساری دنیا کی چمک دمک
اور دولت متاثر نہیں کر سکتی…
وہ
جب کسی کو’’اُبامہ‘‘ کے ساتھ بیٹھا دیکھتا ہے تو اُسے رشک نہیں آتا… گِھن آتی
ہے…
نقلی
عزت، عارضی چمک دمک… دھوکہ ہی دھوکہ… بناوٹ ہی بناوٹ… ہر شخص تصنع، دکھلاوے اور
بناوٹ میں جکڑا ہوا ہے… اور پھر دنیا کے پیچھے بھاگتے بھاگتے… اچانک موت اور قبر
کا گڑھا… میں نے انصاف کے ساتھ غور کیا کہ سوات کی بچی کے بیانات میں کوئی ایسی
بات ہو… جس سے دنیا کے کسی ایک انسان کا بھی بھلا ہو جائے… مگر کوئی بات نہ ملی…
آپ ڈھونڈ لیں اگر مل جائے تو مجھے بتا دیں… جہاں تک تعلیم کا تعلق ہے تو اس بچی
کے پیدا ہونے سے پہلے… پاکستان کی خواتین تعلیم حاصل کر رہی ہیں… اسلام میں خواتین
کی تعلیم پر کوئی پابندی نہیں… بلکہ’’خواتین‘‘ کے لئے بھی ضروری علم… اُسی طرح
فرض اور لازم ہے جس طرح مردوں کے لئے… مگر ایک موٹی سی بات دنیا کے بے
عقل لوگوں کو کیوں سمجھ نہیں آتی کہ… عورت، عورت ہے اور مرد، مرد
ہے… اللہ تعالیٰ نے دونوں کو جب الگ طرح کا بنایا ہے تو
یقیناً اُن کے کاموں اور ذمہ داریوں میں بھی فرق ہو گا… سوات کی دانشور بچی… عالمی
ایوارڈوں کی مالک مفکرہ… اقوام متحدہ کی خطیبہ نے فرمایا کہ…’’میں عام عورت کی طرح
بچے پیدا کرنے والی نہیں بننا چاہتی‘‘… کاش اُس کی والدہ بھی یہی فیصلہ کر لیتی تو
آج ہمیں دن رات اُس کے بیانات کی اذیت نہ جھیلنی پڑتی… اگر عورت بچے پیدا نہیں
کرے گی تو کیا یہ کام مردوں کے ذمہ لگایا جائے گا؟… کیا بچہ پیدا کرنے سے کوئی
عورت ’’عام عورت‘‘ بن جاتی ہے ؟… دنیا کے جتنے بھی خاص اور بڑے لوگ ہیں اُن کو
عورت نے ہی جنم دیا ہے… مگر سر میں ایک گولی اُتروا کر جسے دانش کی ڈگری دے دی
جائے اُسے کون سمجھائے؟… ارے تعلیم اتنی ہی ضروری ہے تو خود اُس بچی کو چاہئے کہ
پہلے ضروری کام یعنی تعلیم حاصل کرے… اُس کے بعد تقریریں کرے ، کتابیں لکھے… خود
تو ابھی اُس نے دنیا کا سب سے ضروری کام… یعنی’’حصول تعلیم‘‘ پورا نہیں کیا…اور
شور ساری دنیا میں تعلیم تعلیم کا مچاتی پھرتی ہے… پھر ایک سؤال ہے… جب وہ سوات
میں تھی توبی بی سی کی جو ڈائری اس سے لکھوائی جاتی تھی… اس میں وہ اسکول کے ناغے
اور اسکول کے بند ہونے کا بہت رونا روتی تھی… مگر اب روز اپنے اسکول سے چھٹی کر کے
کبھی ابامہ سے ملنے بھاگ جاتی ہے … کبھی ملکہ برطانیہ کے پاس جا بیٹھتی ہے… کبھی
اٹلی ایوارڈ لینے چلی جاتی ہے… کبھی جنیوا میں تقریر جھاڑنے جا پہنچتی ہے… کبھی
فرانس میں تمغے پہننے اڑی جاتی ہے… اگر اسے واقعی تعلیم کا شوق ہوتا تو وہ کہہ
دیتی کہ بابا بس… اب مجھے پڑھنے دو… میرے لئے اہم کام’’ابامہ‘‘ سے ملنا نہیں بلکہ
تعلیم حاصل کرنا ہے…… اوپر خواتین کی تعلیم کی بات چلی تھی جسے مکمل ادھورا چھوڑنا
خطرناک ہے…اس لئے مختصراً عرض ہے کہ اسلام خواتین کو تعلیم سے نہیں روکتا… البتہ
دیگر احکامات کی طرح اس میں بھی اسلام کا اپنا قانون ہے… عورت کو اسی قانون اور
اسلام کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہ کر تعلیم حاصل کرنا ہوگی… مخلوط تعلیم، دین سے
مکمل جاہل رہ کر صرف دنیوی تعلیم… اور اپنی شرعی ذمہ داریوں سے ہٹانے والی تعلیم
عورت کے لئے زہر قاتل ہے… ہم مسلمان تو الحمدللہ دن رات… حدیث کی کتابوں میں اُن عورتوں سے تعلیم
حاصل کرتے ہیں… جو’’امہات المؤمنین‘‘ اور ’’صحابیات راضیات‘‘ ہیں… ہم اپنی اُن
ماؤں کے شاگرد ہو کر اپنی ’’بیٹیوں‘‘ کو کس طرح تعلیم سے محروم رکھ سکتے ہیں؟؟…
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ نے ’’اصحاب کہف‘‘ کو تین سو نو سال کی گہری نیند کے بعد ’’بیداری‘‘ عطاء
فرمائی…بات سمجھ آ گئی!!
* ہمارا
سویا ہوا ’’مقدر‘‘ اور ’’نصیب‘‘ کسی بھی وقت جاگ سکتا ہے…مایوس ہونے کی گنجائش
نہیں۔
* ہماری
سوئی ہوئی ’’قوم‘‘ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کسی بھی وقت جاگ سکتی ہے…تب صدیوں کی
غفلت کے سارے اثرات یوں گم ہو جائیں گے کہ…دنیا میں قرون اولیٰ کی یادیں تازہ ہو
جائیں گی…تین سو نو سال کی نیند اصحاب کہف کا کچھ نہ بگاڑ سکی کیونکہ وہ اللہ
تعالیٰ کی حفاظت میں تھے…اسلام بھی اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہے۔ وَرَضِیْتُ
لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا… اس لئے مایوس ہونے کی گنجائش نہیں۔
* کبھی
زمین والوں کی قسمت میں’’خیر‘‘نہیں ہوتی…کیونکہ وہ خیر کے قابل نہیں ہوتے…تب ’’خیر
والوں‘‘ کو کچھ دور انکی خیر سمیت نیند سلا دیا جاتا ہے… اور جب زمین والوں کے
حالات اس قابل ہو جاتے ہیں کہ…اُن پر’’خیر‘‘برسائی جائے تو ’’خیروالوں‘‘کو جگا کر
واپس اُن میں بھیج دیا جاتا ہے…اہل شر کا غلبہ اور ان کو ملی ہوئی کھلی چھوٹ دیکھ
کر مایوس ہونے کی گنجائش نہیں…
یہ
ہوئے تین سبق… دراصل پورا قرآن مجید اور سورۃ الکہف طرح طرح کے ایسے اسباق سے
بھرے ہوئے ہیں…جن میں امید ہے،زندگی ہے اور روشنی ہے…آپ سب سے دردمندانہ گزارش ہے
کہ…جمعہ کے دن پوری سورۃ الکہف اہتمام کے ساتھ پڑھ لیا کریں…اور اس سورت کی پہلی
اور آخری دس آیات ہر مسلمان حفظ کر لے… اور جن کا دماغ تروتازہ ہو…وہ پوری سورۃ
الکہف زبانی یاد کر لیں…
ابھی
ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے کہ…انسانی دماغ میں کتنی معلومات سما سکتی ہیں؟…کہتے
ہیں کہ انسانی دماغ کی میموری اتنی بڑی اور وسیع ہے کہ ساری دنیا کی معلومات اگر
اس میں ڈال دی جائیں تو ان سے اس کا صرف چوتھائی حصہ بھرے گا…
واقعی
ایسا ممکن ہے…جن لوگوں نے ہمت کی اور اپنے دماغ کو گندگی سے بچایا تو انہوں نے
لاکھوں روایات،مسائل اور احکامات یاد کر لئے اور ان کا دماغ گرم تک نہیں ہوا…
زیادہ
کھانا،زیادہ سونا،زیادہ باتیں کرنا…کھٹی چیزیں کھانا…زیادہ جاگنا…اور پڑھائی
لکھائی سے دور رہنا…یہ دماغ کو کمزور کرنے کے موٹے موٹے اسباب ہیں…زہریلا گوشت
کھانے سے دماغ بالکل ختم ہونے کے قریب ہو جاتا ہے…زہریلا یعنی مردار گوشت کھانے کا
مطلب ہے’’غیبت‘‘کرنا…
اَنْ
یَّاْ کُلَ لَحْمَ اَخِیْہِ مَیْتًا
آج
بھی ایسے افراد موجود ہیں جن کو قرآن مجید بھی یاد ہے اور کتابوں کی کتابیں ازبر
ہیں…اور کبھی ان کے دماغ نے ’’میموری فل‘‘کا سگنل دیکر معذرت نہیں کی…دماغ کو آپ
جتنا کام میں لگائیں گے یہ اتنا طاقتور ہوتا چلا جائے گا…اور جتنا سوچوں میں
پگھلائیں یہ اتنا کمزور ہو جائے گا…خیر بات چلی رہی تھی سورۃ الکہف کی…آجکل فتنے
بہت زیادہ ہیں…اور اہل حق کے لئے اس زمانے کا سب سے بڑا فتنہ…مایوسی اور بے چینی
ہے…جو بھی حق پر ہے وہ پریشان ہے…اور موت،موت سوچتا پھر رہا ہے…کیونکہ ایسے لوگوں
پہ شیطان بڑی قوت سے حملہ آور ہوتا ہے…آج چاروں طرف کفر،نفاق اور گناہ کھلم کھلا
ننگے ناچ رہے ہیں…بظاہر ان کے لئے ڈھیل ہی ڈھیل ہے…انکی طاقت ہر آنکھ کو ناقابل
تسخیر نظر آ رہی ہے…اور ان کی چمک دمک ہر آنکھ کو اچھی لگ رہی ہے…ایسے وقت میں
’’اہل حق‘‘ کس چیز سے حوصلہ پائیں؟…کس چیز میں اُمید کی روشنی دیکھیں؟… ایک جہادی
تحریک اٹھتی ہے…اور پھر بیٹھ جاتی ہے…کہیں زوردارجہاد اٹھتا ہے مگر آخر میں کوئی
سیکولر حکومت آ جاتی ہے…کافر اڑتے پھر رہے ہیں…منافقوں کے نخرے سنبھالے نہیں
سنبھل رہے…اہل حق کی دعائیں ان کے آنسوؤں میں بھیگ کر گم ہو جاتی ہیں تو…شیطان ان
کے دل پر وساوس کے تابڑ توڑ حملے کرتا ہے…اندھیرا ہی اندھیرا…دور دور تک اندھیرا…
تب
نمازیں بے لذت،وظائف بے اثر…اور تنظیمیں اور جماعتیں منتشر منتشر…بس زور لگا کر
خود کو اتنا سنبھال لیتے ہیں کہ ہم جلدی مر جائیں…تاکہ گمراہ نہ ہو جائیں…
آپ
جانتے ہیں کہ…شیطان کے پاس ’’عملہ‘‘بہت ہے اور اکثر لوگ خود ہی گمراہی کے راستے پر
چل رہے ہیں…اس لئے شیطان اپنے تمام لشکروں کے ساتھ انہیں چند افراد پر حملے کرتا
ہے…پھر کیسے بچا جائے؟…جواب یہ ہے کہ دو چیزیں اختیار کرنے سے…ان شاء اللہ شیطان
کے ان حملوں سے بچا جا سکتا ہے…پہلی چیز ہے’’انابت‘‘…اور دوسری چیز ہے اللہ تعالیٰ
سے ’’حسن ظن‘‘…
انابت
کا معنیٰ یہ ہے کہ…مکمل توجہ،عاجزی اور یقین کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع
کریں…اور اللہ تعالیٰ سے مانگیں…
اس
کی ایک مثال عرض کرتا ہوں…ہر آدمی کو اس بات کا یقین ہے کہ وہ ’’حق‘‘پر
ہے…حالانکہ ایسا نہیں ہوتا…جو لوگ غلطی پر ہوتے ہیں ان کو بھی شیطان یہی سمجھاتا
ہے کہ تم حق پر ہو…اب یہاں ’’انابت‘‘کا مطلب دیکھیں…آپ خالص اللہ تعالیٰ کی رضا
کے لئے وضو کر کے مسجد گئے…اچھی طرح نماز ادا کی…پھر آنکھیںبند کر کے اپنے گناہوں
کو یاد کیا تو یوں لگا کہ…ہم تو برباد ہو گئے، اتنے خطرناک گناہ؟…اب آہستہ آہستہ
اللہ تعالیٰ کو پکارنا شروع کیا…دائیں بائیں کی کوئی خبر نہیں…روٹی،پیسے،عہدے کسی
چیز کا خیال نہیں…بس یہ کہ گناہ بہت ہو گئے عذاب قریب ہے میں اپنے مالک سے معافی
مانگ لوں…ایک ایک گناہ کو یاد کر رہے ہیں معافی مانگ رہے ہیں… آج بس یہی آخری
موقع ہے تھوڑی دیر بعد موت آنے والی ہے…ہر فکر ختم…بچے وہ پال لے گا جس نے ان کو
پیدا کیا…بیوی کو وہ رزق دے گا جو شادی سے پہلے اور ماں کے پیٹ میں اسے دیتا تھا…
دُنیا کے سارے کام میرے بغیر چلتے رہیں گے…ہر فکر ختم…بس خالص ایک فکر کہ ابھی
اللہ تعالیٰ کے پاس جانا ہے…اتنے سارے گناہ کیسے معاف ہوں…پکارے جا رہا ہے،پکارے
جا رہا ہے…مسجد خالی ہو گئی…اب اس نے مزید سر جھکا لیا…یا اللہ مجھے صرف آپ
چاہئیں…مجھے صرف آپ کی رضا چاہیے…یا اللہ اگر میرا کوئی عقیدہ غلط ہے تو میں اسے
آپ کی رضا کے لئے چھوڑنے پر تیار ہوں…یا اللہ جو عقیدہ آپ کو پسند ہے مجھے وہی
عطا فرما دیجیے… یا اللہ اگر میرا مسلک غلط ہے تو آپ کی رضا کے لئے اسے چھوڑنے پر
تیار ہوں یا اللہ مجھے صراط مستقیم پر چلا دیجیے…وہی راستہ وہی مسلک جو آپ کو
پسند ہے…یا اللہ میں جس جماعت میں ہوں اگر ’’غلط‘‘ ہے تو میں اسے آپکی خاطر
چھوڑنے پر تیار ہوں…مجھے اپنی پسند والی جماعت میں شامل فرما دیجیے…یا اللہ میرے
اخلاق غلط ہیں اور آپ کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں تو میں انہیں چھوڑنے کے لئے تیار
ہوں…مجھے اپنی پسند والے اخلاق حسنہ عطاء فرما دیجیے…بس اسی طرح روتا جائے،بلکتا
جائے اور دعا میںکسی طرح کے تناؤ اور ’’میں میں‘‘کا شکار نہ ہو پس عاجزی،خود
سپردگی اور مالک کے سامنے مکمل رضا اور تسلیم…یہ ہے انابت کی ایک مثال…
دوسری
چیز ہے…اللہ تعالیٰ کے ساتھ’’حسن ظن‘‘…یہ بڑا اونچا کام ہے اور آج کے حالات میں
تھوڑا سا مشکل بھی…
دراصل…باطل
پر ڈٹے ہوئے لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں زیادہ بے فکر ہوتے ہیں…وہ سمجھتے ہیں کہ
اللہ تعالیٰ انہیں ضرور بخشیں گے…
یٰٓااَیُّھَا
الْاِنْسَانُ مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ
اے
انسان تجھے کسی چیز نے اپنے کریم رب کے بارے میں دھوکے میں ڈال رکھا ہے…یعنی نہ
صحیح ایمان،نہ فرائض کی ادائیگی،نہ حرام سے بچنا…نہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کا
احترام…اور پھر مکمل یقین کہ…اللہ تعالیٰ ہمیں ضرور بخشیں گے…
یہ
ہے خالص دھوکہ اور نقصان…جبکہ’’حسن ظن‘‘بالکل ایک الگ اور نرالی چیز ہے…ایک مسلمان
ہمیشہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی فکر میں رہے…اپنی طرف سے جو کچھ کر سکتا ہو
پورا کرے…اللہ تعالیٰ سے سچی محبت رکھے…گناہ ہونے پر توبہ میں دیر نہ کرے…اور ساتھ
یہ حسن ظن رکھے کہ اللہ تعالیٰ بڑے شکور یعنی قدر دان…بڑے فضل والے اور بڑے رحیم و
کریم ہیں…میری عبادات تو کچھ نہیں…مگر ان کا فضل اور احسان سب کچھ ہے…وہ مجھے
بخشیں گے…وہ میرے ساتھ خیر فرمائیں گے…وہ مجھے ضائع نہیں فرمائیں گے…مجھ پر جو
مشکلات ہیں یہ میرے مالک کا مجھ پر ظلم نہیں بلکہ ان میں میرا ہی کوئی نفع پوشیدہ
ہے…میں نا اہل مگر وہ ایسے کریم اور قادر کہ نااہل کو اہل بنا دیتے ہیں…اسے کہتے
ہیں’’حسن ظن‘‘…یہ سچی محبت کا وہ رشتہ ہے جو تنگیوں اور تاریکیوں میں …خوب چمکتا
ہے…
یہی
نور تھا جو آگ کے الاؤ میں گرتے وقت…سیدنا ابراہیم علیہ
السلام کے دل میں تھا…یہی نور تھا جو مچھلی کے پیٹ میں حضرت
یونس علیہ السلام کو تسلی دے رہا تھا…یہی نور تھا جو خوفناک محاصرے میں
غار ثور کے اندر مہک رہا تھا،مسکرا رہا تھا…حسن ظن کا یہ نور…انسان کو گناہوں میں
نہیں لگاتا…بلکہ نیکیوں سے تھکنے نہیں دیتا…اکتانے نہیں دیتا…اور برے حالات میں
مایوس نہیں ہونے دیتا…یہ نور ہمیشہ ایک ہی آواز لگاتا ہے…آ جاؤ! آجاؤ!
رحیم،کریم مالک کا دروازہ کھلا ہے…تم جیسے بھی ہو آ جاؤ…غفور و منان رب کا
دروازہ کھلا ہے…اور وہ سمیع ہے سنتا ہے…اور قریب ہے بہت قریب…
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللّٰھم
صل علیٰ سیّدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
ہی کے لئے تمام تعریفیں ہیں:
اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ
الْعَالَمِیْنَ
آج
کی کچھ مختصر باتیں!
مذاکرات
کا لہو
مسلمانوں
میں باہمی خونریزی کو جاری رکھنا… یہ دشمنان اسلام کا اہم ترین ہدف ہے… حکومت
اورمقامی طالبان کے درمیان’’ امن مذاکرات‘‘ کا معاملہ ویسے بھی کافی مشکل تھا… مگر
پھر بھی سب دعاء گو تھے کہ یہ مذاکرات شروع ہو جائیں اور اچھے نتائج کے ساتھ
کامیاب ہوں… ملک کے اکابر علماء کرام نے اس بارے کافی محنت فرمائی… ان کی محنت کے
نتیجہ میںمذاکرات کچھ قریب ہوئے تھے کہ… ڈرون حملہ ہو گیا… اور مسلمانوں کے درمیان
باہمی امن کی ایک مثبت کوشش میرانشاہ کے ایک گمنام قبرستان میں’’دفن‘‘ہو گئی…
اب
کون کس پر اعتبار کرے گا؟… پرویز مشرف نے ایک حرام اور ظالمانہ جنگ پاکستان پر
مسلّط کی… ایک اسلامی ملک نے مسلمانوں کو برباد کرنے کے لئے ’’ظالم‘‘ کوکندھے
فراہم کئے… اور سچی بات ہے…
’’جو
ظالم کی مدد کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اُس پر اسی ظالم کو مسلّط
فرما دیتے ہیں‘‘
جب
تک ملک کے حکمران اس حرام فیصلے کو واپس نہیں لیتے… جب تک ہمارا ملک اس ظالمانہ
جنگ سے باہر نہیں آتا… آگ جلتی رہے گی… پہلے لہو میدان جنگ میں بہتا تھا مگر…
آج مذاکرات کا لاشہ بھی لہو میں تڑپ رہا ہے… مایوس ہونے کی حاجت نہیں… انسان
دراصل’’جنت‘‘ کا باشندہ ہے زمین کے چھوٹے سے’’سیارے‘‘ پر اس کو بطور امتحان کے
بھیجا گیا ہے… یہ ادنیٰ اور چھوٹا سا’’سیارہ‘‘ ہمارا مستقل مسکن اورہماری منزل
نہیں ہے… اس لئے یہاں کے بارے میں زیادہ پریشان ہونا اچھا نہیں… اصل
فکر یہ ہو کہ واپس اپنے اصلی اور بڑے سیارے’’جنت‘‘ پر کیسے جائیں… جہاں نہ دکھ ہے
نہ غم، نہ موت ہے نہ بیماری… نہ تنگی ہے نہ پریشانی… نہ خسارہ ہے نہ زوال… یاد
رکھیں…
انسانوں
کے ’’والدین‘‘ تو جنت سے آگئے مگر ان کی ساری اولاد واپس جنت میں نہ جا سکے گی…
بہت سے انسان جہنم نامی سیارے میں ڈالے جائیں گے جو سورج سے زیادہ گرم
ہے اور بہت خوفناک…
’’سیارہ‘‘
کا لفظ ویسے ہی لکھ دیا… اللہ تعالیٰ ہی اپنی مخلوق کے
رازوں کو جانتے ہیں… اس لئے کوئی نئی بحث نہ چھڑ جائے… بہرحال زمین بہت چھوٹی،
انسان بہت کمزور اور دنیا کی زندگی دھوکے اورفریب کی جگہ ہے… قرآن پاک دل کی
آنکھیں کھولتا ہے یہ آنکھیں کُھل جائیں تو عجیب عجیب مناظر انسان کو دکھائی دیتے
ہیں… ایک مظلوم شخص محاصرے میں ہے… چالیس دن سے پانی تک بند ہے… باہر زور
آورلوگوں کا غلبہ ہے وہ خود کو حق پرست سمجھتے ہیں… اور بالآخر وہ شخص قتل کر
دیا گیا… جس کے احسانات تلے پوری امت دبی ہوئی تھی… سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ
کی شہادت کا قصہ پڑھنا اور سننا بہت دل گُردے کا کام ہے… مگر دل والوں کی آنکھوں
نے انہیں مسکراتے ہوئے ’’جنت‘‘ کی طرف پرواز میں دیکھا… اور اُن کے زور آور
قاتلوں کو… جہنم کی طرف لڑھکتے دیکھا…
فتنہ
بے نقاب
کچھ
دن پہلے تک سوات سے اٹھنے والا سولہ سالہ فتنہ… پورے ملک میں مقبول اور محبوب تھا…
کوئی کالم نگار یا قلمکار اس کی ہمت نہیں رکھتا تھا کہ اس فتنہ کے بارے کھلم کھلا
لکھے یا بولے… گویا کہ پورا ملک اس زہریلے فتنے کے سامنے بے بس نظر آرہا تھا…
دوسری طرف حوصلہ ایسا بڑھا کہ وہ ’’وزیراعظم‘‘ بننے کے اعلانات کرنے لگی… مگر اب الحمدللہ چند دن سے اس فتنے کے خلاف ہر طرف آوازیں اٹھنا
شروع ہو گئی ہیں… اور بڑے عجیب سؤالات بھی سر اٹھا رہے ہیں… جھوٹ اور ملال سے
بھری ہوئی اُس کی کتاب کس نے لکھی؟… کوئی کہتا ہے اُس کے باپ نے… اور کوئی کہتا ہے
کرسٹینا لیمب نے… اور پھر بعض لوگوں کی یہ تحقیق( و اللہ اعلم) کہ
جو اُس کا باپ بنا ہوا ہے وہ حقیقی باپ نہیں… اور یہ لڑکی دراصل پولینڈ
سے لاکر یہاں اُگائی گئی ہے… ملعون سلمان رشدی کی وکالت… اور پاکستان پر تابڑ توڑ
حملے… خلاصہ یہ کہ… الحمدللہ ، فتنہ بے
نقاب ہو گیا ہے… اور اب ہر دن اُس کے زوال میں اضافہ ہو گا… اور وزیراعظم بننے کا
خواب… ان شاء اللہ ایک ڈراؤنا خیال بن کر رہ جائے گا…
مقبول
ترین نام
ایک
تازہ سروے کے مطابق اس وقت دنیا کا سب سے مقبول ترین نام ’’محمد‘‘ ہے…
مقبول ترین کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں یہ نام سب سے زیادہ رکھا
جارہا ہے… اب تک’’محمد‘‘ نام کے رجسٹر ہونے والے افراد کی تعداد…
ماشاء اللہ … پندرہ کروڑ سے زائد ہو چکی ہے… یعنی دنیا کے کسی بڑے ملک
کی پوری آبادی کے برابر… سروے کرنے والوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ… پندرہ
کروڑ کی یہ تعداد حتمی نہیں ہے بلکہ… ’’محمد‘‘ نام کے افراد کی تعداد پندرہ کروڑ
سے بہت زیادہ ہے… مگر کئی وجوہات کی وجہ سے سب کو رجسٹر کرنا ممکن نہیںہے… دیکھا
آپ نے کتنی اچھی خبر ہے…آئیے اپنے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ
وسلم پر دل کی محبت سے درود پڑھ لیں…
صلی
اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم
یاد
رکھیں’’محمد‘‘ جب حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی ہو
گا تو جب پڑھیں یا سنیں تو درود شریف پڑھیں… لیکن جب’’محمد‘‘ کسی اور مسلمان کا
نام ہوگا تو اس وقت یہ حکم نہیں ہے… الحمد ﷲ ’’عشق محمد صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ کی
شمع خوب دمک رہی ہے اور مسلمان اپنے بیٹوں کا نام بڑے فخر اور بڑی
سعادت سے ’’محمد‘‘ رکھ رہے ہیں… اور وہ جو حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کی گستاخیاں کر کے خوش تھے اب انہیں ہر طرف… محمد، محمد، محمد نام
کے مسلمان نظر آرہے ہیں… جو انہیں بتا رہے ہیں کہ تمہاری گستاخیوں سے کچھ نہیں بگڑا…
بلکہ اُن کی محبت دلوں میں اور زیادہ بڑھ گئی ہے… اب تم اپنے غم اور غیظ میں
مرجاؤ… وہ مسلمان جو اپنے بیٹے کا نام’’محمد‘‘ رکھ چکے ہیں… اور وہ جو آئندہ اس
کی تمنا رکھتے ہیں… وہ اپنے ’’محمد‘‘ کو… حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کاسچا اور متبع غلام بنانے کے لئے بہت دعاء اور محنت کریں اور اس
نام مبارک کے… ادب کو حتی الوسع ملحوظ رکھیں…
بڑی
شان والا ہے نام محمد
صلی
اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم
مفید
نسخہ
اللہ تعالیٰ
تمام بیمار مسلمانوں کو’’شفاء کاملہ‘‘ عطاء فرمائے… اور ہر طرح کے شرور و امراض سے
امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے… صبح شام کی مسنون دعاؤں اور تعوّذات کا اہتمام کریں…
آج کل’’مچھر‘‘ خاص طور سے’’ڈینگی‘‘ ایک ’’وبال‘‘ کی شکل اختیار کرتے جارہے ہیں…
ان دنوں تازہ پودینہ ہر جگہ آسانی سے مل جاتا ہے… آپ سبز پودینے کی چند گڈیاں
لیکر اپنے کمرے میں مختلف جگہوں میں رکھ دیں… خاص طور پر اپنے تکیہ کے قریب… ان
شاء اللہ مچھر اور ڈینگی دونوں بھاگ جائیں گے… پودینہ جسے
عربی میں’’ النعناع‘‘ کہتے ہیں بڑی تأثیر والا پودا ہے… محبوب صلی اللہ علیہ
وسلم کے شہر مدینہ منورہ میں کھجور کے بعد پودینہ بڑی کثرت سے پیدا
ہوتا ہے… مچھر وغیرہ حشرات سبز پودوںپر زیادہ آتے ہیں مگر پودینہ سے یہ دور
بھاگتے ہیں… پودینہ کھانا اور اس کا رس پینا بھی کئی امراض کا علاج ہے…
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ ال اللہ ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللھم
صل علٰی سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہر عیب سے، ہر کمزوری سے اور ہر ظلم سے پاک ہے:
سبحان
ﷲ وبحمدہ سبحان ﷲ العظیم
ایک
شخص نے ایک بزرگ سے پوچھا: اس وقت وہ سب سے افضل عمل کونسا ہے جو
میں اللہ تعالیٰ کی رضاء کیلئے کر سکتا ہوں؟
ارشاد
فرمایا: اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے فضل کو محسوس کریں…
سبحان
ﷲ وبحمدہ سبحان ﷲ العظیم
افضل
عمل کی بحث بھی بڑی عجیب ہے… نماز سب سے افضل عمل ہے یا جہاد فی
سبیل اللہ ؟ علمی طورپر اس کی تحقیق کرنا بہت اچھا ہے… احادیث مبارکہ
کو پڑھنے، پڑھانے، سننے اور سنانے سے رحمت نازل ہوتی ہے اور گناہ معاف ہوتے ہیں…
روزآنہ مدینہ منورہ کے ساتھ اپنے رابطے کو تازہ اور مضبوط کرنے کیلئے… کچھ احادیث
مبارکہ پڑھا کریں، سنا اور سنایاکریں… اور پورے یقین کے ساتھ یہ سمجھا کریں کہ…
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے خطاب فرما رہے
ہیں… نماز سب سے افضل عمل ہے یا جہاد فی سبیل اللہ ؟ دونوں
ہو سکتے ہیں… یہ بحث دراصل ہر شخص کے ذاتی حالات سے تعلق رکھتی ہے… ورنہ نماز بھی
ضروری اور جہاد بھی ضروری… کوئی دن رات نماز ادا کرے مگر جب جہاد فرض ہو جائے تو
اُسے جہاد میں بھی جانا ہوگا… اور کوئی بہت اونچا جہاد کرے مگر جب نماز کا وقت
داخل ہوگا اُسے نماز ادا کرنا ہوگی… کسی نے انٹرنیٹ کے ’’بحث‘‘ والے صفحہ پر وہ
روایت لگا دی کہ… ایک صحابی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد
میں جانے کی اجازت نہیں دی بلکہ انہیں حکم دیا کہ اپنے والدین کی خدمت کریں… ایک
دوسری روایت میں اپنی والدہ کی خدمت کریں… اسی صفحہ پر ایک عالم دین نے ایک سؤال
لکھ کر لگا دیا… وہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جو
جہاد پر نکلے کیا اُن میں سے کسی کے والدین زندہ نہیں تھے؟… جہاد پر نکلتے وقت جب
رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری چھانٹی فرماتے تو اس وقت کبھی
یہ اعلان نہیں ہوا کہ جس کے والدین زندہ ہیں وہ واپس چلا جائے… چھوٹے بچوں کو ضرور
واپس بھیجا گیا… معذور افراد کو بھی رخصت عطاء فرمائی گئی…مگر والدین کا معاملہ
کبھی نہیں اٹھا… اکثر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے والدین
حیات تھے… معلوم ہوا کہ جن صحابی کو روکا گیا تھا اُن کے لئے والدین کی خدمت ازحد
ضروری ہوگی… کسی کسی کے ایسے حالات ہوجاتے ہیں… جہاد اور نماز دونوں فرض ہیں…
دونوں کے درمیان نہ کوئی ضد ہے نہ کوئی ٹکراؤ… بلکہ دونوں ایک دوسرے کے معاون
ہیں…اور ہم مجاہدین، الحمدللہ لاکھوں
افراد کو یہ بات یاد کراچکے ہیں کہ… نماز کو اپنی زندگی کا سب سے اہم کام بنانا
اور سمجھنا ہر مسلمان کے لئے لازم ہے… عرب ممالک کے بعض اہل علم نے تو یہاں تک
فتویٰ دے دیا ہے کہ…بے نمازی مرد کے ساتھ کسی نمازی عورت کی شادی جائز ہی نہیں…
اسی طرح بے نمازی عورت کے ساتھ کسی نمازی مرد کی شادی جائز نہیں… یہ فتویٰ اگرچہ
قابل نظر ہے لیکن یہ بھی تو سچ ہے کہ بے نمازی کے ایمان کا کچھ پتا نہیں ہوتا کہ
باقی ہے یا نہیں… ایک مؤمن اور کافر کے درمیان فرق کرنے والی چیز’’نماز‘‘ ہے… دوسری
طرف جہاد کے افضل ترین عمل ہونے پر… قرآن مجید میں صریح آیات موجود ہیں اور کئی
احادیث مبارکہ بھی…خلاصہ یہ کہ کوئی ٹکراؤ نہیں… آپ نماز کو افضل مانیں یا جہاد
کو… نماز ہر حال میں ادا کرنی ہے اور جہاد بھی اسلام کا محکم اور قطعی فریضہ ہے…
اس لئے دین کو اس طرح بیان نہ کریں کہ… اعمال کے درمیان’’کُشتی‘‘ مقابلے اور
’’ریسلنگ‘‘ کا ماحول بن جائے… نماز اور جہاد تو فرائض میں سے ہیں کسی سنت کی اہمیت
کو بھی کم کرنا یا نعوذباللہ اسے
حقیر بنا کر پیش کرنا جائز نہیں ہے…
جہاد
کو ہمیشہ اس طرح سے بیان کریں کہ… کسی اور عمل پر تنقید نہ ہو… اور ایسی روایات کو
خندہ پیشانی سے قبول کریں جن میں بظاہر دیگر اعمال کی فضیلت کو بیان کیا گیا ہے…
کیونکہ کسی عمل کا’’ٹھیکیدار‘‘ بن جانا اچھا کام نہیں…اور کامیابی پورے دین میں
ہے… اور پورے دین میں نماز بھی ہے جہاد بھی ہے… امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے
جہاد سے نیچے والے درجے بھی ہیں… یعنی گناہ کو زبان سے روکنا… دل میں بُرا جاننا
وغیرہ… وہ شخص جس نے کسی بزرگ سے پوچھا کہ… اس وقت میرے لئے سب سے افضل
عمل کونسا ہے؟… اُس کے حالات اس قسم کے ہوں گے کہ طبیعت پر’’ناشکری‘‘ کا غلبہ
ہوگا… اُس کا دل اللہ تعالیٰ سے شکوہ کرتا رہتا ہوگا… وہ
خود کو دنیا کا سب سے بڑا مصیبت زدہ انسان سمجھتا ہوگا…دراصل انسان کی اس دنیا کے
بارے میں خواہشات جتنی زیادہ ہوتی ہیں… وہ اسی قدر ناشکرا ہوتا چلا جاتا ہے… وہ
چاہتا ہے کہ بس سب کچھ اس کو یہاں مل جائے… وہ نیکی بھی اس لئے کرتاہے کہ دنیا
اچھی ہو جائے… اب آپ بتائیں! بھلا دنیا میں بھی کسی کی سب خواہشات پوری ہو سکتی
ہیں؟… ایک شخص رو رہا ہے کہ روٹی نہیں… دوسرا رو رہا ہے کہ گاڑی نہیں… تیسرا رو
رہا ہے کہ بلڈنگ نہیں… کوئی رو رہا ہے کہ بہت ناقدری ہے کوئی پوچھتا نہیں ہے…
دوسرا رو رہا ہے کہ ہر کوئی بس میرے پیچھے پڑا ہے اور مجھ سے مانگ رہا ہے، اب کس
کس کو دوں؟… کوئی رو رہا ہے کہ اولاد نافرمان ہے …اور کوئی رو رہا ہے کہ اولاد
نہیں ہے… اور کوئی رو رہا ہے کہ اولاد توٹھیک ہے مگراُن کا کام دھندا نہیں لگ رہا…
اورکوئی رو رہا ہے کہ اولاد تو خوش ہے مگر پوتوں اورنواسوں کی پریشانی ہے…مسجد کے
ایک کونے میں ایک شخص مانگ رہا ہے… یا اللہ پچاس روپے مل
جائیں تو کام بن جائے… دوسرا سر جھکائے پچاس ہزار کی درخواست کر رہا ہے… تیسرا
پیچھے بیٹھا ہوا التجا کر رہا ہے یا اللہ ! صرف پانچ لاکھ دے دیں… آپ
کے خزانوں میں کیا کمی… اور چوتھا سجدے میں کہہ رہا ہے
یا اللہ ساتھ والی دوکان بک رہی ہے صرف پانچ کروڑ کی ہے… مل
جائے تو میرے بیٹے کا مسئلہ حل ہو جائے… دعاء مانگنے پر اعتراض نہیں ، دعاء خوب
مانگنی چاہئے، جو دعاء میں اللہ تعالیٰ سے حلال پیسے مانگتے
ہیں بہت اچھا کرتے ہیں ان کی مرضی جتنے بھی مانگیں… یہاں عرض کرنے کا مقصد یہ ہے
کہ انسانی خواہشات اور ضروریات کی کوئی حد نہیں ہے…دنیا دھوکے، حرص اور فنا کی جگہ
ہے یہاں صرف وہی خوش رہتا ہے جو اپنی دنیوی خواہشات کو کم اور محدود کر لے
اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی ہوجائے… سؤال کرنے والا
شخص’’ناشکری‘‘ کے مرض میں مبتلا ہوگا… اس لئے بزرگ نے اسے یہ معطر نصیحت فرمائی
کہ… سب سے افضل عمل یہ ہے کہ اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے فضل
کو محسوس کرو…
سبحان
ﷲ وبحمدہ سبحان ﷲ العظیم
دو
چیزیں انسان کو بُری طرح مار دیتی ہیں…ایک ناشکری اور دوسرا عُجب… ناشکری کا علاج
بھی یہی ہے کہ اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے فضل کو محسوس کرو…
جب اپنی طرح طرح کی مصیبتیں اور پریشانیاں یاد آنے لگیں کہ دیکھو! تم کتنی تکلیف
میں ہو… شیطان ایک پوری سی ڈی دماغ میںچلا دیتا ہے اور دل غم سے پگھلنے لگتا ہے…
فلاں نے تمہارے ساتھ یہ کیا … فلاںمسئلے میں تم نے کتنی دعاء مانگی ذرا بھی قبول
نہ ہوئی… فلاں کو دیکھو کتنے مزے اور آرام میں ہے اور تم کتنی پریشانی
میں ہو… ایسے وقت میں شیطان کی یہ ڈاکومنٹری… ایک ڈاکو کی طرح دل سے ایمان کو
چھینتی ہے… اور انسان اپنے رحیم اور کریم رب سے بھی نعوذ باللہ بدگمان ہونے لگتا ہے کہ… کیا
ملتا ہے عبادت سے؟کیا ملتا ہے دعاء میں؟ اس کا علاج یہی ہے کہ جلدی سے شیطانی’’سی
ڈی‘‘ بند کریں اور یاد کریں کہ مجھ پر اس وقت اور
پہلے اللہ تعالیٰ کا کتنا فضل جاری ہے… میرے کیسے کیسے گناہ
چھپا دیئے گئے… صرف وہی ظاہر ہو جاتے تو میرا کیا بنتا؟… بہت سے لوگوں
کے ایسے گناہ بھی اللہ تعالیٰ نے چھپا دیئے اور اُن پر توبہ
کی توفیق عطاء فرما دی کہ… اگر وہ گناہ ظاہر ہو جاتے تو ان کی سزا موت تھی… ایمان
کا مل جانا، کلمہ طیبہ کا نصیب ہونا اور رزق کا ملنا… ابھی چند دن پہلے نائیجیریا
سے خبر آئی کہ ایک صحرا میں ایک سو افراد پیاس سے جاں بحق ہو گئے… بڑی درد ناک
داستان تھی کہ سفر کے دوران وہ کس طرح سے پانی کے ایک گھونٹ کو ترستے رہے اور ایک
دوسرے کے سامنے پیاس میں گُھل کر مرتے رہے…اگر ہمیں اس وقت پانی میسر ہے تو
یہ اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا فضل ہے… حضرت سیدنا یوسف علیہ
السلام جیل میں بیٹھے تھے… اپنے خاندان سے دور، طرح طرح کی
آزمائشوں… اور تنہائیوں میں… مگروہ اپنے اوپر اللہ تعالیٰ
کے فضل کو محسوس فرما رہے تھے:
ذلک
من فضل ﷲ علینا
کہ
ہمارے پاس جو ایمان موجود ہے یہ ہم پر اللہ تعالیٰ کا بڑا
فضل ہے… مگر اکثر لوگ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے…
آج کے کئی ارب پتی مالدار… کلمہ اور ایمان کی دولت سے محروم ہیں… کیا فائدہ ایسے
اربوں ڈالر کا جو جہنم کی آگ سے نہ بچا سکیں… ایک بار ایک مسجد میں ایک دیوانے کو
دیکھا… معلوم ہوا کہ مکمل دیوانہ ہے جسے ہمارے عرف میں پاگل کہتے ہیں… عجیب طریقے
سے نماز ادا کر رہا تھا… لوگ چلے گئے تو اس نے سر جھکا کر اپنی توتلی زبان میں
کہا…
یا اللہ
! جہنم کی آگ سے بچا…
اُس
کا یہ جملہ سن کر جسم میں سنسنی دوڑ گئی اور آنسو ابلنے لگے کہ… جس کے لئے جہنم
کی آگ ہے ہی نہیں وہ اس سے بچنے کا اتنا درد اور اتنی فکر رکھتاہے… جبکہ ہم جو
عقلمند اور مکلف کہلاتے ہیں جہنم کی آگ سے کتنے بے فکر ہیں؟… دنیا کی حاجتیں
مانگتے ہوئے بلک بلک کر روتے ہیں… اپنی اولاد بیمار ہوجائے تو دعاء میں آنسو
گراتے ہیں… مگر جہنم کی آگ سے بچنے کی دعاء میں اب تک ہم نے کتنے آنسو خرچ کئے
ہیں؟؟… جہنم کوئی مذاق تو نہیں… ہمارا رحیم اور کریم مالک قرآن پاک میں بار بار
اور جگہ جگہ جہنم کی آگ کی شدّت کو بیان فرماتا ہے تاکہ ہم… اس سے بچنے کی فکر
کریں…
اَللّٰھُمَّ
اَجِرْنَا مِنَ النَّار… سُبْحَانَ ﷲِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ ﷲِ الْعَظِیْم
دوسری
خطرناک چیز’‘عجب‘‘ ہے… اپنے اچھے حالات کو اپنا کمال سمجھنا… اپنے اعمال پر فخر
میں مبتلا ہونا… خود کو دوسروں سے افضل سمجھنا… دوسروں کو حقیر سمجھ کر اُن پر
طعنے بازی کرنا… اس کا علاج بھی یہی ہے کہ انسان اپنے
اوپر اللہ تعالیٰ کے فضل کو محسوس کرے… فضل وہ ہوتا ہے جو
کسی عمل کے بدلے میں نہیں ہوتا… بلکہ خالص اللہ تعالیٰ کی
طرف سے بغیر کسی عمل کے بدلے میں جو رحمت ملتی ہے…
وہ اللہ تعالیٰ کا فضل کہلاتی ہے… چنانچہ جب بھی نظر اپنی
ذات، اپنے کمالات اور اپنے فضائل پر جانے لگے تو…انسان یہ سوچے کہ میرااس میں کچھ
کمال نہیں… یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملا ہے… پس
مجھے فخر نہیں شکر اداکرنا چاہئے…
سُبْحَانَ
ﷲِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ ﷲِ الْعَظِیْم
اَللّٰھُمَّ
اِنَّا نَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ وَ رَحْمَتِک
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ
اکبر … اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے …
جی
ہاں! ہمارے اُن غموں سے بھی بڑا ہے، جن غموں نے آج ہمارا خون چوس رکھا ہے… وہ ان
غموں کو مٹانے پر قادر ہے…اللہ اکبر…
اللہ
تعالیٰ ہمارے اُن مسائل سے بھی بڑا ہے ، جن مسائل نے ہماری کمر توڑ رکھی ہے… وہ
اُن مسائل کو حل فرمانے پر قادر ہے… یقین کی قوت کے ساتھ کہیں: اللہ اکبر…
اذان
کا پہلا سبق:
اللہ
اکبر ، اللہ اکبر
نماز
کا پہلا سبق… اللہ اکبر
یہ
سبق دل میں اُتر جائے تو زندگی بھی آسان ، مرنا بھی آسان اور مرنے کے بعد کے
مراحل بھی آسان … اور عبادت ایسی مزیدار کہ کیا کہنے اور دعاء میں ایسی لذت کہ
بیان سے باہر…
اللہ
اکبر ، اللہ اکبر
ہم
نے اپنے دل میں معلوم نہیں کن کن چیزوں کو بڑا بنا رکھا ہے… اللہ تعالیٰ کو سب سے
بڑا کہتے ہیں…مگر دل سے بڑا نہیں سمجھتے…اس لیے نہ شوق سے عبادت اور نہ ذوق کے
ساتھ دعاء … ہر فکر بڑی ، ہر مسئلہ بڑا ، ہر آفت بڑی ، ہر دشمن بڑا…ہر دنیا پرست
بڑا ، ہر افسر بڑا ، ہر طاقتور بڑا…ہم نے اپنے دل پر اتنے سارے ’’بڑوں ‘‘ کو بٹھا
رکھا ہے تو دل بے چارہ وزن سے دب گیا ہے… وہ بوجھ سے لرز رہا ہے… وہ غموں سے چور
چور ہے… آج جب اذان کی آواز سنیں…
اللہ
اکبر ، اللہ اکبر
تو
پورے یقین کے ساتھ جواب دیں…
اللہ
اکبر ، اللہ اکبر
اور
پھر مسجد کی طرف لپک کر جائیں کہ میں تو بس اُسی کا بن کر رہوں گا… جو سب سے
طاقتور او ر عظیم ہے … نماز میں یہی خیال رہے کہ سب سے بڑے کے سامنے حاضری ہے اور
سجدے میں یہ خیال کہ…میں خوش نصیب اب اللہ تعالیٰ کے بہت قریب ہوں…اور جب دعاء کو
ہاتھ اُٹھائیں،تو ہر مسئلہ پیش کرتے وقت یقین کہ…اللہ تعالیٰ اس مسئلے سے بڑے ہیں…
اور وہ اسے حل کرنے پر قادر ہیں…
اللہ
اکبر ، اللہ اکبر ،لاالہ الا اللہ ، واللہ اکبر ،اللہ اکبر وللہ الحمد
اللہ
تعالیٰ کی عظمت اور کبریائی… کسی دلیل کی محتاج نہیں… ہمارے ہر طرف ایسے دلائل
بکھرے پڑے ہیں، جن کو دیکھ کر ہم مان سکتے ہیں کہ…
اللہ
اکبر ، اللہ اکبر
اللہ
تعالیٰ ہی سب سے بڑے ہیں… اور اصل طاقت اُنہی کی طاقت ہے…دراصل دنیا سے دل لگا کر
، ہر مسئلے کو بڑا سمجھ کر اور اُسے دل پر بٹھا کر ہمارے دل سخت ہو گئے ہیں… جو دل
دنیا سے جڑ جائے وہ سخت ہو جاتا ہے… اللہ تعالیٰ اُس دل میں نہیں آتے… اورجو دل
دنیا سے ٹوٹ جائے… ایسے ٹوٹے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت کا نور جگمگاتا ہے …
اللہ
اکبر ، اللہ اکبر
ہمارے
دو رکے مثالی مجاہد… حضرت مولانا جلال الدین حقانی نے اپنے تیسرے بیٹے کی شہادت کا
غم بھی جھیل لیا… عصر حاضر کا قابل رشک جرنیل… جلال الدین حقانی… جس کے ایک ایک
سانس میں ایمان اور جہاد بستا ہے… انہوں نے سوویت یونین کے خلاف جہاد لڑا… سوویت
ریچھ اُس کا کچھ نہ بگاڑ سکا… کیونکہ ’’جلال الدین ‘‘ کے نزدیک اللہ سب سے بڑا ہے…
یہ یقین اُس کی نسوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے… سابقہ جہادی دور میں ہم اُنہیں
کراچی لے گئے تھے، تاکہ اہل کراچی… ایک حقیقی مجاہد کی زیارت سے فیض یاب ہوں…
بنوری ٹاؤن کی جامع مسجد میں بہت بڑا جلسہ ہوا اور ’’حضرت حقانی‘‘ کا ایمان افروز
خطاب…اور بھی کئی مقامات پر پُررونق اور بھرپور اجتماعات ہوئے… کئی جلسوں سے خطاب
کے بعد رات کو قیام گاہ تشریف لائے تو طلبہ کرام نے گھیر لیا… طلبہ کے ساتھ بہت
خوش ہوئے… کوئی اُن کے سر کی مالش کر رہا تھا تو کوئی کندھے دبا رہا تھا… ایک
طالبعلم نے اپنی ڈائری پیش کر دی کہ کچھ تحریر فرما دیں… بہت خوشی سے قلم تھاما
اور لکھ دیا:
ایمانکم جھادکم
، جھادکم ایمانکم
تمہارا
ایمان، تمہارا جہاد ہے اور تمہارا جہاد، تمہارا ایمان ہے۔
یعنی
ایمان اور جہاد لازم ملزوم ہیں… فرمایا:یہ روایت کنزالعمال میں موجود ہے… پھر کافی
دیر تک طلبہ کو احادیث سناتے رہے اور اُن سے احادیث سنتے رہے… سابقہ جہادی دور میں
اُن کا جہاد بہت زوردار تھا… وہ پکتیا، پکتیکا،غزنی،وردک اور میدان… ان پانچ صوبوں
کے گویا بادشاہ تھے… بہت سلیقے سے جہاد کرتے تھے اور بہت حکمت عملی سے جنگ لڑا
کرتے تھے… انہوں نے ہمیشہ اپنی عسکریت کا رخ ’’محاذی دشمن‘‘کی طرف رکھا اور باقی
سب سے جوڑ اور دوستی بنائی… اس طرح اپنے محاذ کی طرف مکمل یکسوئی اور اطمینان…یہ
نہیں کہ جہاں سے جذبات کا بادل گرجا ، اپنا محاذ چھوڑ کر اُس طرف لپک پڑے… اُن
دنوں ہمارا بھی افغانستان آنا جانا لگا رہتا تھا… آج کل جب اخبارات میں اُن کے
بیٹے ’’نصیرالدین‘‘ کی شہادت کی خبریں نظر سے گذرتی ہیں تو… شیخ حقانی کے ساتھ
گذرے ہوئے یادگار اور قیمتی لمحات آنکھوں میں گھومنے لگتے ہیں… قربانی ہی قربانی
اور محنت ہی محنت… جوانی اور کہولت کے ایام محاذوں پر اور جہاد کو منظم کرنے پر
صرف ہو گئے… اور اب بڑھاپا ’’روپوشی‘‘ کی ظاہری گھٹن میں گزر رہا ہے… اور ہر کچھ
عرصے بعد ایک بیٹے کا خون آلود جنازہ اُن کی ’’عزیمت‘‘ کو اور اونچا کر دیتا ہے… طالبان
کے دورمیں وہ امارت اسلامی کا حصہ رہے… اور اپنے مقام سے کافی چھوٹی وزارت کو
انہوں نے قبول کر لیا… آس پاس والوں نے بھڑکانے ،غیرت دلانے اور ماضی کے مقامات
یاد دلانے کی بہت کوشش کی… مگر ’’حضرت حقانی‘‘ نے اپنے جہاد کو اس فانی دنیا کے…
فانی پروٹوکول کی چوکھٹ پر ذبح نہ فرمایا… وہ خاموشی کے ساتھ ’’امارت اسلامیہ‘‘ کا
حصہ بنے رہے… پھر جب امریکہ اور نیٹو نے افغانستان پر حملہ کر دیا تو… کمانڈروں کی
بڑی اونچی بولیاں لگیں… وہ جو طالبان سے شاکی تھے اُن کو دل کی بھڑاس نکالنے… اور
اس فانی دنیا میں اپنے اَرمان پورا کرنے کا موقع مل گیا… ماضی کے بڑے بڑے مجاہد
امریکی چادر کے نیچے جا بیٹھے… کابل کے شاندار مکانات اور محلات سابقہ جہادی دور
کے کمانڈروں سے بھر گئے… ’’حضرت حقانی‘‘کو بھی بار بار پیش کش ہوئی… اُنکی طاقت
اور اثرو رسوخ کے باعث وہ چاہتے تو سیاف اور صبغت اللہ مجددی سے زیادہ قیمت پر بک
جاتے… مگر انہوں نے اپنے عمل اور جہاد کو… دنیا کی چند روزہ راحت پر قربان نہ کیا
اور امریکہ کے خلاف جہاد کا اعلان فرما دیا… جہاد کا یہ مرحلہ اُن کے لیے اس لیے
مشکل تھا کہ… اُن کاسارا کام پاکستان کے قبائلی علاقے سے چلتا تھا… میرانشاہ میں اُن
کا ایک بڑاشاندار مدرسہ ’’منبع ا لعلوم‘‘قائم تھا… اور میرانشاہ کے مضافات میں اُن
کے مضبوط ٹھکانے تھے…پاکستان نے اس جنگ میں امریکہ کاساتھ دیا اور یوں بظاہر
’’حضرت حقانی‘‘ کے لیے پاؤں رکھنے کی جگہ بھی نہ رہی… مگر…
اللہ
اکبر ، اللہ اکبر
اللہ
سب سے بڑاہے … آج بارہ سال کا عرصہ گذر چکا… حضرت حقانی کا جہاد جاری ہے… اور وہ
بھی الحمدللہ حیات ہیں… اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کے سروں پر اُن کا سایہ تا دیر قائم
رکھے… کسی نے بتایا کہ مسلسل روپوشی اور تنگ مکانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا یہ
شیر… مختلف اَمراض کا شکار ہے… اللہ تعالیٰ اُنہیں صحت وعافیت عطاء فرمائے… پچھتر
سال کی عمر میں یہ جذبہ ، یہ عزیمت اور یہ قربانیاں… بے شک وہی دے سکتا ہے جس کے
دل میں… اللّٰہ اکبر کا سبق پختہ ہو… اللہ تعالیٰ کی عظمت اور بڑائی دل میں ہو تو
اُس کی خاطربیٹوں کی قربانی بھی آسان… اُس کی خاطر اپنی آزادی کی قربانی بھی
آسان… اور اُس کی خاطر ساری دنیا سے ٹکرانا بھی آسان…
حضرت
حقانی کے پیارے لخت جگر… ذہین وجانباز نوجوان نصیرالدین حقانی کو… دیار غربت میں
سرخ ’’شہادت‘‘ مبارک ہو… اللہ تعالیٰ مغفرت اور شہادت کا اعلیٰ مقام نصیب فرمائے…
اور حضرت حقانی کے لیے اس صدمے پر ’’تعزیت‘‘ اور اس ’’اعزاز‘‘ پر ہدیۂ تبریک ہے …
اللہ
اکبر ، اللہ اکبر ،لاالہ الا اللہ ، واللہ اکبر ،اللہ اکبر وللہ الحمد
حکومت
پاکستان نے امریکہ کو بڑا مان کر…اُس کے ہاتھوں میں اپنی گردن دے دی تو اب ہر دن
اس ملک پر…نئی مصیبت نازل ہوتی ہے…ابھی دو روز پہلے پیش آنے والے ’’سانحہ
راولپنڈی ‘‘ کو ہی دیکھ لیں… معلوم نہیں کہ فرقہ واریت کے خلاف منہ سے جھاگ نکال
نکال کر…حضرات علماء کو گالیاں دینے والے اب کیوں خاموش ہیں ؟… کس طرح سے ایک مسجد
اور مدرسہ کی حرمت کو روندا گیا…کس طرح سے قرآن پڑھنے والے معصوم بچوں کو ذبح کیا
گیا…کس طرح سے مسجد کے امام کو خون میں تڑپایا گیا… یقینا یہ دلوں کا وہ بغض ہے جو
ایران ،عراق سے لے کر شام تک پھن اٹھائے پھنکار رہا ہے…یہ فرقہ واریت نہیں بلکہ
اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کھلی جارحیت ہے…اسی لیے تو امریکہ نے بشارالاسد پر
حملہ نہیں کیا…اسی لیے تو ایران کے ایٹمی پروگرام کو پروان چڑھایا جا رہا ہے…اور
زبانی دھمکیوں اور جمع خرچ سے آگے کچھ معاملہ نہیں بڑھتا…راولپنڈی میں مدرسہ
تعلیم القرآن میں جو کچھ ہوا…اگر اس کا بروقت سدباب نہ کیا گیا…اور اس واقعہ کے
مجرموں کو کیفرکردار تک نہ پہنچایا گیا تو یہ آگ پورے ملک کو… جوکہ پہلے ہی جل
رہا ہے ، مزید تباہی میں دھکیل دے گی…مسلمانوں کے مسائل بہت زیادہ ہیں… مگر
اللہ
اکبر ، اللہ اکبر
اللہ
تعالیٰ ان مسائل کو حل فرمانے پر قادر ہے…مسلمانوں کی بے چارگی بہت زیادہ ہے… مگر
اللہ تعالیٰ نے ہر امتحان کے نیچے ایک خزانہ چھپا رکھاہے…عرب کہتے ہیں۔تحت کل
محنٍۃ منحۃ…
ہر
آزمائش کے نیچے انعام ہے… بس ہمت کے ساتھ آزمائش کی چٹان کو کھود ڈالو…نیچے
خزانہ مل جائے گا…ہر مسلمان اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کو مضبوط اور میٹھا
بنائے…اللہ تعالیٰ پر یقین اور حسن ظن رکھے…دنیا میں زیادہ جینے کا شوق دل سے
نکالے…اور مایوسی کو ایک طرف پھینک کر…دین کی خاطر اپنے حصے کا کام کر جائے اور
یقین رکھے کہ…
اللہ
اکبر ، اللہ اکبر،لا الہ الاللہ
لا
الہ الاللّٰہ ، لا الہ الا للہ ،لا الہ الاللہ محمد رسول اللہ
اللّٰھم
صل علٰی سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الااللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ تمام مجاہدین،مہاجرین، اسیران اسلام کو… باعزت و عافیت رہائی عطا فرمائے…
سجن
یا جیل
عربی
میں اسے ’’سجن‘‘ کہتے ہیں اور انگریزی میں جیل اور اردو میں بھی جیل یا قید خانہ
اور فارسی میں زندان…یہ ایک عمارت ہوتی ہے،بہت پُراسرار…جہاں زندگی کو زنگ لگتا
ہے،چلتی گھڑیاں رک جاتی ہیں…جہاں لوھا پگھل جاتا ہے،ہڈیاں گل جاتی ہیں اور
احساسات،بے حس ہونا شروع ہو جاتے ہیں…یا اُن کی حسّاسیت مزید بڑھ جاتی ہے…قید خانے
دنیا کی قبر ہوتے ہیں…ایسی قبریں جہاں زندہ افراد کو دفن کر دیا جاتا ہے…اور وہ اس
ہنستے بستے جہاں سے کٹ کر ایک ایسی تنگ دنیا میں جا بستے ہیں…جہاں کے دستور بالکل
الگ ہوتے ہیں…
ظالم
حکومتوں کے تین سہارے
دنیا
میں ظلم کی تاریخ بہت طویل ہے…ظلم جب حکمران بنا تو اس نے جیل بھی بنا ڈالی…بس یوں
سمجھ لیں کہ جب دنیا میں پہلا ظالم، حکمران بنا تو اسی دن جیل بھی ایجاد ہو
گئی…ظالم حکمران کو اپنی حکومت چلانے کے لئے تین سہارے درکار ہوتے ہیں…
١ فوج
یا پولیس یا یوں کہیں افرادی طاقت…
٢ ایسے
قید خانے جن میں پھانسی کا بھی انتظام ہو…
٣ اور
ایسی عدالتیں جو حاکم کے اشارے پر فیصلے کرتی ہوں…
بس
یہ تین ہتھیار ہاتھ میں ہوں تو حکومت چل جاتی ہے…عوام بھوکی ہو یا بیمار…کوئی مر
رہا ہو یا جی رہا ہو…ملک میں کوئی اچھا نظام ہو یا نہ ہو…خزانہ بھرا ہوا ہو یا
خالی ہو…بس اتنا مال ضروری ہے جس سے ان تین سہاروں کو پالا پوسا جا سکے…
تاریخ
میں تلاش کیا جائے تو شاید’’جیل‘‘ کے یوم ولادت کا کچھ پتا چل جائے…مگر قرآن مجید
میں جس جیل کا تذکرہ ہے وہ بھی بہت پرانی ہے…یہ مصر کی جیل تھی جس میں…حضرت سیّدنا
ابراہیم علیہ السلام کے پڑپوتے حضرت سیّدنا
یوسف علیہ السلام کو قید کیا گیا تھا…اور وہ اس جیل (واللہ
اعلم) میں کم و بیش بارہ سال، نو سال یا آٹھ سال تک رہے…قرآ ن پاک نے یہ تذکرہ
چھیڑا ہے کیونکہ ’’جیلوں‘‘ نے قائم رہنا ہے اور کئی بے گناہوں نے جیلوں میں جانا
ہے تو انہیں طریقہ معلوم ہو جائے کہ…جیل میں اپنے ایمان،عقیدے اور جذبات کو…زنگ
لگنے سے کیسے بچانا ہے…جیل میں وقت کس طرح گزارنا ہے…اور جیل میں رہتے ہوئے قید کے
برے اثرات سے کس طرح بچنا ہے…سبحان اللہ!
جیل
کی بدشکل عمارت میں جب خوش شکل،حسین و جمیل یوسف پہنچے تو قیدیوں کو…جیل میں بھی
حسن پانے،حسن حاصل کرنے اور حسن بڑھانے کا طریقہ معلوم ہو گیا…
سبحان
اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم
اسلام
اور جیل
اسلامی
سزاؤں پر غور کریں تو ان میں لمبی قید،طویل جیل اور عمر قید جیسے الفاظ نہیں
ملتے…اسلام چونکہ انسانوں کی تعمیر اور ترقی چاہتا ہے اور انسانیت کی قدر کرتا ہے
اس لئے اس میں…انسانوں کو ذلیل کرنے اور انسانوں کو حیوان بنانے والی’’قید‘‘ کا
کوئی تصور نہیں…
قرآن
مجید کی سورۃ انفال نے ’’قیدیوں‘‘ کا معاملہ چھیڑا ہے…اور احادیث مبارکہ میں
قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید ہے…لمبی قید اور مجرموں کی صحبت چونکہ انسانوں
کو…مجرم بنا سکتی ہے اس لئے اسلام فوری اور جلدی سزا دے کر ختم فرما دیتا
ہے…اسلامی احکامات پر عمل کیا جائے تو جرم بھی ختم ہو جاتا ہے اور مجرم بھی…مجرم
یوں ختم ہوتا ہے کہ یا تو اسے قصاص وغیرہ میں انصاف کے مطابق مار دیا جاتا ہے…یا
ایسی سزا دی جاتی ہے جس سے اسے تنبیہ ہو جاتی ہے…یوں وہ جیلوں میں لمبا عرصہ رہ کر
مزید جرائم نہیں سیکھتا اور نہ ہی اسکی اچھی صلاحیتیں زنگ آلود ہوتی ہیں…
آج
کل کی جیلوں کے لرزہ خیز حالات
آج
کل ساری دنیا جیلوں سے بھری پڑی ہے…اور ہر جیل قیدیوں سے بھری پڑی ہے… دُنیا کے
کئی ملین افراد اس وقت جیلوں میں ہیں…مگر جرائم ہیں کہ ختم ہی نہیں ہوتے…بلکہ جیسے
جیسے جیلیں اور قیدی بڑھتے جا رہے ہیں اسی قدر جرائم میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا
ہے…آج کے حکمران اگر’’انسانیت‘‘ کے خیر خواہ ہوتے تو وہ ضرور اس نکتے پر غور کرتے
کہ …جیلوں کے موجودہ نظام سے انسانیت کو کتنا فائدہ پہنچ رہا ہے…اور کتنا نقصان؟…
مگر
کون غور کرے…جمہوریت میں ہر کسی نے اپنی باری کے پانچ سال لوٹنے ہوتے ہیں…اپنے
مخالفوں کو جیلوں میں ڈالنا ہوتا ہے…اور اپنے لئے اگلے پانچ سال کی روزی روٹی کے
پیسے جمع کرنے ہوتے ہیں…ابھی چند دن پہلے مصر کے ایک ’’ڈاکٹرصاحب‘‘ نے عدالت میں
ایسا بیان پڑھا کہ جج زاروقطار رونے لگا…بیان طویل ہے…خلاصہ یہ کہ اخوان المسلمین
سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکٹر صاحب جو قرآن پاک کے حافظ ہیں آج کل جیل کاٹ رہے
ہیں…بلا وجہ،بلا سبب اور بے گناہ…انہیں عدالت لایا گیا تو انہوں نے وکیل کو روک کر
خود بیان شروع کر دیا…اس میں یہ بھی کہا کہ ہمارے سترہ سولہ سال کے بچوں کو جیلوں
میں مجرموں کے ساتھ رکھا گیا ہے…جہاں وہ سارا دن نشے،جرائم اور خباثت کے طریقے
سنتے اور سیکھتے ہیں…انہوں نے جب جیلوں کے حالات پر بات کی تو تمام کمرۂ عدالت
سسکیوں اورآنسوؤں سے بھیگنے لگا…اور جج بھی رو پڑا…
چند
سال پہلے ایک جماعت دینی تبلیغ کے لئے چین گئی…انہوں نے واپسی پر کارگذاری میں
بتایا کہ ہم نے وہاں بعض ایسے علماء اور بزرگوں کو دیکھا ہے وہ چند منٹ سیدھے نہیں
بیٹھ سکتے…ہر دو چار منٹ کے بعد زور دار جھرجھری لے کر رخ بدلتے ہیں اور کانپنے
لگتے ہیں…معلوم ہوا کہ ان میں سے کسی نے بیس سال اور کسی نے اس سے بھی زیادہ عرصہ
جیلوں میں گزارا ہے…جیلوں کے خوفناک حالات ان کے حواس پہ سوار ہیں…اچانک پیچھے سے
کمر پر فوجی بوٹ کا پڑنا…لمبی ٹھنڈی راتیں جاگ جاگ کر گزارنا …اور مسلسل تشدد اور
بے یقینی نے ان کو نفسیاتی مریض بنا دیا ہے…اب یہ زندہ اور آزاد ہیں مگر بہت مشکل
زندگی گزار رہے ہیں…قید سے تو یہ رہا ہو گئے مگر قید کے حالات اب تک ان پر مسلط
ہیں…ساری دنیا جانتی ہے کہ کئی بے گناہ لوگ چند دن کے لئے جیل جاتے ہیں اور پھر وہ
ماہر مجرم بن کر نکلتے ہیں…یا کسی مجرم گینگ کا مستقل حصہ بن جاتے ہیں…
غلاموں
کی جیلیں
برطانیہ
منحوس…زمین کے جس حصے کا بھی حکمران بنا اسے ہر طرح سے برباد کر گیا…انگریز کسی
قوم یا انسان کا نام نہیں…بلکہ یہ ایک موذی،غلیظ،ناپاک اور ظالم وائرس ہے…جی ہاں!
جرثومہ…بس انکے رنگ گورے ہیں باقی کوئی چیز سفید نہیں…افریقہ سے لے کر ایشیا تک جس
ملک کی بد قسمتی سے یہ ’’وائرس‘‘وہاں کا حکمران ہوا…وہاں کے لوگوں کو ہر طرح کی
اخلاقی پستی،رسوائی اور جرائم میں ڈال آیا…برصغیر پاک و ہند پر بھی ڈیڑھ سو سال
سے زائد عرصہ تک اس ’’وائرس‘‘ کا اٹیک رہا…آج کے کم عقل دانش ور برصغیر کے لوگوں
کی پستی،بد نظمی پر بات کرتے ہیں…اور اس کا حل یہ بتاتے ہیں کہ انگریزی تعلیم حاصل
کی جائے…حالانکہ یہاں کے لوگوں کی ہر گراوٹ کا سبب’’غلامی‘‘ ہے…ڈیڑھ سو سال تک ایک
ناپاک جرثومے کی غلامی…چنانچہ جو کوئی خود کو…قرآن پاک سے جوڑ کر اس ذہنی غلامی
سے نجات پا لیتا ہے وہ خودبخود ترقی اور کامیابی کی راہ پر چل پڑتا ہے…خیر چھوڑیں
یہ ایک الگ اور طویل موضوع ہے…بات جیلوں کی چل رہی تھی…انگریز نے اپنے محکوم ملکوں
میں بڑی بڑی جیلیں تعمیر کیں اور اپنے دور حکومت میں ان جیلوں کو آباد رکھا…انہوں
نے ان جیلوں کے لئے انتہائی ظالمانہ دستور،قانون اور مینوئل بنایا…انگریز نے خود
تو ان جیلوں میں رہنا نہیں تھا اور نہ ہی انگریزوں کو ڈالنا تھا…اس نے یہ جیلیں
اپنے غلاموں، دشمنوں اور محکوموں کے لئے بنائی تھیں تو ان جیلوں کا قانون اور نظام
ایسا بنایا جو…انسانیت کے سر کو شرم سے جھکا دیتا ہے…چکر چیف، نمبردار، چکی،
اڑتی،پھانسی گھاٹ،معائنہ وغیرہ غیر انسانی اصطلاحات انگریز کے زمانہ سے چل رہی
ہیں…جب برصغیر آزاد ہوا تو حکمرانوں کو چاہیے تھا کہ جیل کے نظام کو بدل دیتے
کیونکہ…اب یہاں انگریزوں کے غلام نہیں بلکہ اپنے ملک کے باشندوں نے رہنا ہے…مگر
مجال ہے کہ ایک قانون بھی بدلا گیا ہو…آج بھی ایک سو دس سالہ پرانا نظام جیلوں
میں…انسانیت کی تذلیل کر رہا ہے…اور حکمران اس نظام کو مزید سخت کرتے جا رہے
ہیں…ہمارے ملک میں جرائم کی کثرت کی ایک بڑی وجہ…یہاں کی جیلیں اور ان جیلوں کا
نظام ہے…
دہلی
کی تہاڑ جیل
دلی
انگریزوں کا دارالحکومت تھا…یہ شہر ہمارے مسلمان مغل بادشاہوں نے آباد کیا تھا
مگر آج دلی پر مسلمانوں کی دشمن حکومت قائم ہے…دلی کے مضافات میں ایک قصبے کا نام
تہاڑ ہے…اس میں ایک بہت بڑی جیل ہے جسے’’تہاڑ جیل‘‘ کہا جاتا ہے…یہ جیل ہمارے
پیارے بھائی محمد افضل گورو شہید رحمۃ اللہ علیہ کا ’’مزار‘‘
ہے…انگریزوں نے جب ’’دلی‘‘ پر قبضہ کیا تو وہاں کے مسلمان حکمران’’بہادر شاہ
ظفر‘‘کو قید کر کے ’’رنگون‘‘ جلا وطن کر دیا…بہادر شاہ ظفر خوش شکل،خوش کلام، خوش
خوراک…اور قدرے نیک حکمران تھا…افسوس کہ وہ انگریزوں سے نہ لڑ سکا…کیونکہ حکومت
کی’’اجتماعیت‘‘ختم ہو چکی تھی…اور مسلمانوں کی ساری طاقت ’’اجتماعیت‘‘ میں ہوتی
ہے…جب الگ الگ جزیرے بن جائیں تو پھر مسلمانوں کے لشکر جھاگ کی طرح مٹتے چلے جاتے
ہیں…بہادر شاہ ظفر بہت اچھا شاعر تھا اور ’’داغ‘‘جیسے صاحب طرز’’استاذ‘‘ کا شاعری
میں شاگرد تھا…وہ برما کے شہر رنگون میں جلا وطنی کے دن اور راتیں کاٹتے وقت
’’دلی‘‘کو بہت یاد کرتا تھا…آپ نے وہ درد انگیز اشعار پڑھنے ہوں تو ’’دیوان ظفر‘‘
میں ملاحظہ فرما لیں…سنگدل انسان بھی پڑھے تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں…
’’ظفر‘‘
کی بڑی تمنا تھی کہ کسی طرح ’’دلی‘‘ واپس مل جائے اور اگر دلی نہیں ملتا تو کم از
کم وہاں ’’قبر‘‘ہی مل جائے…وہ کہتا ہے ؎
کتنا
ہے بدنصیب ظفر قبر کے لئے
دو
گز زمیں بھی نہ مل سکی کوئے یار میں
مگر
ہمارا بھائی محمد افضل گورو…دلی میں دو گز زمین حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا…اس
میں بالکل واضح اشارہ ہے کہ…دلی ان شاء اللہ مسلمانوں کو ضرور ملے گا…اور آج کے
مجاہدین یا انکے مجاہد بیٹے…ان شاء اللہ محمد افضل گورو شہید رحمۃ اللہ
علیہ کے مزار پر حاضر ہو کر …ان کی قبر کے سرہانے ’’فتح اسلام‘‘کا پرچم
نصیب کریں گے…تب پیارا افضل…جو شہید ہے،زندہ ہے، بہت مسکرائے گا…ہاں! بہت گہرا
مسکرائے گا…
اے
مجاہدو!… اپنے بیٹوں کو مجاہد بنانا…اور انہیں دلی میں افضل گورو کا…جموں میں سجاد
افغانی کا…اور سری نگر میں غازی بابا کا ایڈریس اچھی طرح یاد کرا دینا…اور انہیں
تاکید کرنا کہ فیض آباد جا کر اپنے پیارے چچوں بروہی،پاملا،اور ابو طلحہ کو بھی
سلام کہہ آئیں…
یہ
ساری باتیں کیوں؟
آپ
سوچتے ہوں گے کہ آج سعدی فقیرکو جیلوں کے تذکرے کیوں یاد آ گئے؟…
بات
یہ ہے کہ…میں نے حال ہی میں پوری ایک رات اور ایک دن محمد افضل گورو شہید رحمۃ
اللہ علیہ کی کتاب کے ساتھ گذارا ہے…مجھے خوشی ہوئی،رشک آیا،تسلی ملی
اور میرے دل نے کہا کہ…جیلیں جتنی بھیانک کیوں نہ ہوں…قید جتنی لمبی کیوں نہ
ہو…پھانسی کا پھندا جتنا سخت کیوں نہ ہو…یہ سب کسی مخلص،مومن مجاہد کا کچھ نہیں
بگاڑ سکتے…سبحان اللہ! کیسی دلکش اور جراتمندانہ کتاب لکھی ہے …ایمان کے انوارات
سے بھری ہوئی…یقین کے نور سے جگمگاتی ہوئی…دعوت جہاد کی کرنوں سے چمکتی ہوئی… اور
سکون و اطمینان کی خوشبو سے مہکتی ہوئی…
افضل
بھائی! اللہ تعالیٰ آپ کی روح کو اپنی عظیم شان کے مطابق جزائے خیر عطا فرمائے
اور آپ کو سابقین اولین مجاہدین کے ساتھ اپنے سچے قرب میں ٹھکانا عطا فرمائے…
آمین یا ارحم الراحمین
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول اللہ
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو…دنیا و آخرت کی رسوائی سے بچائے…
آج
بھی’’جیل‘‘ اور قید خانے کی بات کرتے ہیں…یہ وہ موضوع ہے جو قرآن پاک نے اٹھایا
ہے اور’’قرآن مجید‘‘میں ’’ اَلسِّجْنْ‘‘ یعنی جیل کا لفظ چھ ٦ بار آیا ہے…
اس
لئے کم از کم چھ کالم اس موضوع پر لکھنے چاہئیں…فی الحال دو پر اکتفاء کرتے
ہیں…کوشش ہو گی کہ آج ان شاء اللہ یہ موضوع سمٹ جائے…
وحشت
ناک سزائیں
یورپ
کے دو ٹانگوں والے حیوانات نے یہ شور مچا رکھا ہے کہ…اسلامی سزائیں وحشت ناک
ہیں…جبکہ’’جیلوں‘‘کا موجودہ نظام انسانی حقوق کے عین مطابق ہے…
استغفر
اللّٰہ، استغفر اللّٰہ، استغفر اللّٰہ
اب
سنئے! ایک شخص نے چوری کی…کیا چوری کرنا وحشت ناک عمل نہیں ہے؟
اسلامی
حکم کے مطابق اس شخص کو پکڑا گیا،چند دن الزام کی تحقیق کے لئے اسے ’’قید‘‘رکھا
گیا، الزام ثابت ہوا اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا اور اسے چھوڑ دیا گیا…کیا یہ وحشت
ناک عمل ہے؟یہ شخص اپنے اس ہاتھ سے تو ضرور محروم ہوا جو ہاتھ ’’خائن‘‘ہو چکا
تھا…ایسا ہاتھ سلامت رہتا تو معلوم نہیں کتنے گھر اجاڑ دیتا،کتنے عزتم مندوں کو
رسوا کر دیتا، کتنی معصوم بیٹیوں کو بھکاری بنا دیتا…ہاتھ کٹ گیا خود اس کے لئے
بھی عبرت کا سامان ہوا اور دیکھنے والوں کے لئے بھی…اب کوئی چوری کرنے سے پہلے سو
بار سوچے گا…اور یہ شخص واپس اپنے بیوی بچوں میں آ گیا…ایک شرمندگی اس کے ساتھ
ضرور لگی ہے لیکن اگر وہ اپنی حالت بدل لے تو لوگ اس کے کٹے ہاتھ کو بھی
چومیں…کتنے بڑے بڑے گناہگاروں نے جب سچی توبہ کر لی تو مخلوق کے ’’محبوب‘‘بن
گئے…اب یہ شخص اپنے گھر والوں اور بچوں کی دیکھ بھال کر سکتا ہے…ان کی تعلیم و
تربیت اور روزی کا بندوبست کر سکتا ہے…اور یوں درجنوں افراد بے آسرا اور بے سہارا
ہونے سے بچ گئے…
اب
دوسرا منظر دیکھیں…اس چور کو پکڑ لیا گیا اور جیل میں ڈال دیا گیا…چار پانچ سال اس
کا کیس ٹرائل ہو گا…یہ چور اس دوران جیل میں کئی دیگر افراد کو چوری کا فن سکھادے
گا…مقدمہ لڑنے اور وکیلوں کی فیس دینے کے لئے اس کے گھر والے یا تو زیور بیچیں گے
یا مکان فروخت کریں گے یاکسی جرم کے ذریعے پیسہ کمائیں گے…وہ آٹھ دس سال جیل میں
گذارے گا…اس دوران اگر اس کے گھر کا ماحول دینی اور خاندان کا نظام مستحکم نہیں تو
اس کے زیر کفالت افراد طرح طرح کے جرائم اور برائیوں میں مبتلا ہو جائیں گے…اس کے
بچے معاشرے میں مجرم بن جائیں گے…اور یوں چوری کے ایک جرم سے ہزار جرائم جیل کے
اندر اور باہر جنم لیتے جائیں گے…ہاں!جب دین فطرت سے ہٹ کر حیوانی طریقوں کو
’’انسانی حقوق‘‘ سمجھ لیا جائے تو یہی نتیجہ نکلتا ہے اور آج ساری دنیا اسی طرح
کے نتائج کو بھگت رہی ہے…اور چوری اتنی عام ہو گئی کہ کئی حکمران تک چور بن گئے
ہیں…کیا یہ سب کچھ خوفناک اور وحشت ناک نہیں ہے؟…
پہلی
جیل
ہمارے
اسلامی مورخین اور فقہاء کرام کے ہاں یہ مسئلہ زیر بحث رہا ہے کہ اسلام
میں’’جیل‘‘کا تصور ہے یا نہیں؟…اور اگر ہے تو کسی انسان کو زیادہ سے زیادہ کتنا
عرصہ قید میں رکھا جا سکتا ہے؟…سبحان اللہ! کیسا پیارا دین ہے… زیادہ سے زیادہ ایک
دو ماہ یا جب بھی مجرم توبہ کر لے…
ترمذی
کی روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو
کسی الزام میں روک لیا اور پھر اسے چھوڑ دیا…بس اتنی سی قید…علامہ ابن الہمام رحمۃ
اللہ علیہ نے’’فتح القدیر‘‘میں تحقیق فرمائی ہے کہ… رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور حضرت صدیق
اکبر رضی اللہ عنہ کے دور میں’’جیل‘‘نہیں تھی…سیّدنا حضرت
عمر رضی اللہ عنہ نے مکہ مکرمہ میں صفوان بن امیہ کا گھر چار ہزار درہم
میں خرید کر اسے ’’قیدخانہ‘‘بنایا…کچھ دن کے لئے بعض جرائم پر کسی انسان کو کسی
جگہ روک لینا یا پابند کر دینا…یہ اسلام میں منع نہیں ہے…مثلاً کسی پر الزام
لگا…اب الزام کی جلد تحقیق تک اسے پابند کرنا…کسی نے قرضہ لیا اور اب ادا نہیں کر
رہا حالانکہ ادائیگی کی طاقت رکھتا ہے…ایسے شخص کو چند دن کے لئے یا قرض کی
ادائیگی تک ’’بند‘‘ کر دینا…کوئی شخص فتنہ فساد اور گمراہی پھیلا رہا ہے،اسے چند
دن بطور تنبیہ’’بند‘‘کر دینا…
حضرت
عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شاعر’’حطیئۃ‘‘ کو اس کے غلط اشعار
پر تنبیہ کے لئے ’’بند‘‘ فرما دیا…شاعر جی کا دماغ فوراً ٹھیک ہو گیا،چند اشعار
لکھ کر حضرت کی خدمت میں بھیجے…مفہوم یہ تھا کہ…حضرت ! اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت
رکھے،ان چھوٹے چھوٹے چوزوں کا کیا بنے گا،جن کے پاس نہ خوراک ہے،نہ پانی اور ان کا
کھلانے پلانے والا بند کر دیا گیا ہے…یعنی اس نے اپنے بچوں کا رونا رویا اور حضرت
عمر رضی اللہ عنہ نے اسے فوراً رہا فرما دیا…
دوسری
جیل
کہتے
ہیں کہ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے ایک جگہ بطور وقتی
قید خانہ تعمیر کروائی…بالکل کھلی،روشنی والی اور ہر طرح سے با سہولت…اور اس کا
نام ’’النافع‘‘رکھا یعنی نفع پہنچانے والی جگہ…کیونکہ مقصد قیدیوں کی اصلاح
تھا…خلافت راشدہ کے دور میں بس یہی نظام چلتا رہا…حضور پاک صلی اللہ
علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے
زمانہ میں…کسی کی وقتی قید کے لئے کوئی خاص جگہ نہیں تھی…
بعض
افراد کو مسجد میں بند کر دیا جاتا تھا…اسلام میں ’’مسجد‘‘کا بہت وسیع نظام ہے…ایک
بزرگ نے اس پر بہت تفصیلی کتاب لکھی ہے…اسلام کا نظام مساجد از قلم مفتی ظفیر
الدین صاحب… حیرت ہے ان مسلمانوں پر جو مسجد میں اپنی مخصوص اجارہ داری قائم کر کے
لوگوں کو عبادات سے روکتے ہیں…درس شروع ہو گیا تو اب ہر کوئی ذکر چھوڑے،نماز بند
کرے،تلاوت روک دے اور درس میں حاضر ہو…کیا کوئی درس فرض کے درجے تک جا پہنچا
ہے؟؟…تعلیم شروع ہوئی تو اب نہ کوئی نماز پڑھے،نہ ذکر و تلاوت کرے…کیا تعلیم فرض
ہے؟…یاد رکھیں! کسی بھی عمل کی اہمیت اس کی شرعی حدود سے بڑھانا’’الحاد‘‘ اور بد
دینی ہے…رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد
نبوی شریف میں کوئی نماز میں لگا رہتا،کوئی ذکر میں گم ہوتا،کوئی تعلیم و تعلم کا
حلقہ سجاتا اور کوئی تلاوت میں مست رہتا…کوئی بھی کسی کو نہیں روکتا تھا…اور مسجد
کی شان یہی ہے کہ اس میں جہادی تشکیلات سمیت یہ تمام اعمال زندہ رہیں…کسی پانچ وقت
کے پختہ نمازی کو اس لئے حقیر سمجھنا یا طعنہ زنی کا نشان بنانا کہ وہ
’’تعلیم‘‘میں نہیں بیٹھتا…یہ خود ایک خطرناک جرم ہے…اور ایسا کرنے والے
لوگ’’مساجد‘‘ پر ظلم کرتے ہیں…مسجد اللہ تعالیٰ کا گھر ہے اور مساجد پر ظلم کرنا
بہت ہی برا عمل ہے…آپ درس دیتے ہیں،یا تعلیم کراتے ہیں تو بہت اچھا…آپ لوگوں کو
مثبت ترغیب دیں کہ وہ آپ کے ساتھ بیٹھیں… کوئی نہیں بیٹھتا اور دوسری عبادات میں
لگا رہتا ہے تو آپ اسے تنگ نہ کریں اور نہ ہی اسے اپنے سے کم تر سمجھیں… یاد
رکھیں اگر آپ کی ناجائز شدت کی وجہ سے کوئی ایک شخص بھی مسجد سے محروم ہوا تو یہ
جرم آپ کے سارے نیک اعمال کو کھانے کے لئے کافی ہے…اسی طرح آپ مسجد میں کوئی
ایسا عمل نہ کریں جس سے نمازیوںکو تکلیف ہو یا ان کی نمازوں میں خلل ہو…تلاوت
آہستہ آواز سے کریں…ذکر میں بھی آواز ایسی بلند نہ کریں کہ نمازیوں کی نماز
خراب ہو…گندے اور بدبودار لباس کے ساتھ مسجد نہ جائیں…کوئی سخت کراہیت آمیز
بیماری لگی ہو…ایسی بیماری جس سے لوگ گھن کھاتے ہیں تو آپ گھر میں ہی نماز ادا کر
لیں مسجد نہ جائیں…آپ کا یہ عمل مسجد آباد کرنے کے ثواب میں لکھا جائے
گا،حالانکہ آپ نے نماز اپنے گھر میں ادا کی ہے…لیکن اگر اس بیماری کے ساتھ مسجد
گئے اور آپ کی وجہ سے کچھ لوگ مسجد آنا بند ہو گئے تو آپ نے مسجد کو ویران کرنے
والا عمل کر ڈالا…بھائیو! مساجد سے دل جوڑو،مساجد سے رشتہ بناؤ،مساجد سے محبت
کرو،مساجد کو آباد کرو اور مساجد کی ہر طرح سے خدمت کرو…عارضی قیدیوں کو رکھنے کا
ایک طریقہ تو یہی تھا کہ مساجد میں رکھ لیا جاتا تھا…دوسرا طریقہ گھروں کی دہلیز
میں رکھنے کا تھا…اس زمانے گھر کے دروازے اور صحن کے درمیان کچھ جگہ ہوتی تھی اسے
’’دہلیز‘‘ کہتے تھے…تیسرا طریقہ اپنے گھر میں نظربندی کا تھا جس کا تذکرہ سورۃ
النساء میں موجود ہے…اور ایک طریقہ ترسیم کا تھا…اس میں دائرہ بنایا جاتا تھا…اور
ایک طریقہ لزوم کا تھا کہ حقدار کو مسلسل اس کے پیچھے لگا دیا جاتا تھا…یہ بس
مختصر خاکہ ہے تفصیل آپ تاریخ اور فقہ کی کتابوں میں دیکھ سکتے ہیں…
اسلامی
قید خانوں کا اصل دستور…حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ کے دور
میں بطور’’دیوانی قانون‘‘جاری کیا گیا…اس کے چند اہم نکات یہ تھے…
١ قیدیوں
کو ان کے جرم کے مطابق الگ الگ رکھا جائے…مثلاً قرض ادا نہ کرنے والوں کو چوری
کرنے والوں کے ساتھ ہرگز خلط نہ کیا جائے۔
٢ تمام
قیدیوں کو گرمی اور سردی کی الگ غذا اور ان موسموں کے موافق لباس دیا جائے۔
٣ بیمار
قیدیوں کا خاص خیال رکھا جائے، ان کے علاج وغیرہ کی ترتیب رہے۔
٤ کسی
قیدی کو اس طرح سے نہ قید کیا جائے کہ اسے ’’اقامت صلوۃ‘‘میں دشواری یا تنگی
ہو…وغیرہ
خوفناک
جیلیں
آپ
نے پڑھ لیا کہ…اسلا م میں لمبی قید اور آج کل جیسی جیلوں کا کوئی تصور نہیں…بس
کسی شخص کو بہت تھوڑے اور محدود وقت کے لئے’’بند‘‘رکھا جا سکتا ہے، پہلے اس کے لئے
کوئی جگہ مخصوص نہیں تھی…مگر بعد میں افراد اور آبادی کے اضافے کی وجہ سے بعض
جگہیں مخصوص کی گئیں…ہم ایسی جگہوں کو ’’سجن‘‘کی جگہ’’محبس‘‘ کہہ سکتے ہیں…اور
اسلام میں ان جرائم کی تعداد بہت محدود ہے جن میں کسی کو تھوڑے عرصے کے لئے بھی
بند رکھا جا سکے…کسی نے کل تین جرائم لکھے ہیں اور کسی نے پانچ سات…حضرت امام احمد
بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے بعض مجرموں کو قید کرنے کی اجازت کا فتوی
مانگا گیا تو انکار فرما دیا…لوگوں نے وجہ پوچھی تو فرمایا: ان کے گھروں میں ان کی
بہنیں اور بیٹیاں ہیں…
یہ
تو ہے اصل اسلام…لیکن خود کو مسلمان کہنے والے بعض حکمرانوں نے بڑی خوفناک جیلیں
بنائیں…حجاج بن یوسف کے مظالم میں سے ایک ظلم اس کی وہ’’جیل‘‘ بھی ہے جس میں وہ
ہزاروں مسلمانوں کو بند رکھتا تھا اور ان قیدیوں کی تسبیح اور آہ و بکا سے پورا
شہر لرزتا تھا…مصر پر جب رافضیوں کے فرقے’’فاطمیہ‘‘کی حکومت آئی تو انہوں نے بڑی
دہشت ناک جیلیں بنائیں لوگ ان جیلوں کو ’’سرخ جہنم‘‘کہتے تھے…گوانتاناموبے اور ابو
غریب جیسی…وہاں قیدیوں کو بڑے دردناک حالات میں رکھا جاتا تھا اور ان سے سخت مشقت
لی جاتی تھی…شام میں بشار الاسد نے آج کل ایسی ہی جیلیں قائم کر رکھی ہیں…
قصہ
مختصر
یہ
سب ہوئی عام باتیں…اصل یہ کہ ہم میں سے ہر ایک کے لئے ان تفصیلات میں کیا سبق ہے؟…
لیجیے ایک مختصر نصاب:
١ ہم
پر لازم ہے کہ ہم دنیا بھر میں موجود جیلوں کے موجودہ ’’غیر انسانی‘‘نظام سے نفرت
کریں…گناہ اور برائی سے نفرت کرنا ایمان کا تقاضا ہے۔
٢ ہم
خصوصی طور پر اسیر مجاہدینِ اسلام کی باعزت رہائی کے لئے دعاء کو اپنے معمولات کا
حصہ بنائیں…کوئی دن ایسا نہ گزرے جس میں ہم نے’’اسیران اسلام‘‘کے لئے دعاء نہ کی
ہو…اسی طرح تمام بے گناہ قیدیوں کی رہائی کی دعاء بھی کرتے رہیں…اور اسیران اسلام
کی رہائی کے لئے…جہادی اور مالی طور پر جو کچھ کر سکتے ہوں کر گزریں…اس عظیم عمل
کے فضائل آپ… فضائل جہاد میں پڑھ سکتے ہیں…
٣ اسیرانِ
اسلام…اور مسلمان قیدیوں کے گھر والوں اور بچوں کا حرمت اور احترام کے ساتھ خیال
رکھیں…جس طرح کہ ہم اپنے بچوں کا خیال رکھتے ہیں…آج اس بارے میں مسلمانوں میں بہت
کوتاہی پائی جاتی ہے۔
٤ ہم
جیل،ہتھکڑی اور کوڑوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگا کریں جیسا کہ حضرت
علی رضی اللہ عنہ کی دعا ہے:
اَللّٰھُمَّ
اِنِّیْ اَعُوذُ بِکَ مِنَ السِّجْنِ وَالْقَیْدِ وَالسَّوْطِ
’’یا
اللہ! میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں قید خانے ،ہتھکڑی اور کوڑے سے‘‘
٥ ہم
جیل اور قید کا خوف اپنے دل میں نہ بٹھائیں…حضرت سیّدنا یوسف علیہ
السلام نے جیل کاٹی،حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین نے قیدیں کاٹیں…امت کے ائمہ کرام جیلوں میں بند رہے…ان سب کے
ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ فضل اور رحمت والا تھا…معلوم ہوا کہ بعض اوقات یہ بھی
اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت کا ایک رنگ ہوتا ہے کہ انسان جیل چلا جائے…اس لئے جیل
اور قید کے خوف سے دین کا کام چھوڑنا،جہاد فی سبیل اللہ سے محروم ہونا یا حق کے
بارے میں مداہنت اختیار کرنا درست نہیں…
٦ کبھی
جیل جانا پڑے تو’’حسنِ یوسف‘‘ سے روشنی لیں…حضرت سیّدنا یوسف علیہ
السلام نے خود ’’جیل‘‘مانگی…کیونکہ گناہ اور بد دینی میں مبتلا ہونے سے
جیل جانا بہتر ہے…اور جیل میں دین کی دعوت کو انہوں نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنا
لیا…
بس
جیل کو خوبصورت بنانے اور اپنی قید کو ’’اعتبارافزا‘‘بنانے کا ایک نکاتی نصاب
’’دین کی دعوت‘‘ ہے…جو یہ کر لے جیل اُس کے لئے نعمت…اور جو یہ نہ کرے جیل اُس کے
لئے بڑی مصیبت… سورۃ یوسف میں غور فرمائیں یہ نکتہ اچھی طرح سمجھ میں آ جائے
گا…ان شاء اللہ
٧ آپ
میں سے اللہ تعالیٰ کسی کو کبھی حکومت یا اقتدار دے تو اپنے زیر انتظام علاقے میں
جیلوں کے موجودہ غیر انسانی نظام کو ختم کرنے اور اسلام کا پاکیزہ نظام مقرر کرنے
کے اقدامات کرے…
اللّٰہ
اکبر ، اللّٰہ اکبر،لا الہ الااللّٰہ
لا
الہ الااللّٰہ ، لا الہ الااللّٰہ ،لا الہ الااللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
اللھم
صل علٰی سیّدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الااللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ امت مسلمہ کو ہر ’’سنّت‘‘ اور ہر نعمت نصیب فرمائے… اور کسی سنّت اور نعمت
سے محروم نہ فرمائے… یاد رکھیں ہر سنت… بڑی نعمت ہے، بے حد خوشبو دار نعمت…
آج
بات چلانی ہے ’’الحجامۃ‘‘ کی… ’’الحجامۃ‘‘ ایک علاج ہے، روحانی بھی اور جسمانی
بھی… نفسیاتی بھی اور قلبی بھی… یہ وہ مبارک علاج ہے جو سید البشر صلی اللہ علیہ
وسلم نے اختیار فرمایا، بار بار کروایا، اسے پسند فرمایا، اپنے صحابہ
کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اس کا حکم فرمایا، اپنی اُمت کو اس کی
ترغیب دی… اور خود اس علاج کے فوائد کو بیان فرمایا…
اللہ
تعالیٰ فرماتے ہیں… ’’تمہیں جو کچھ رسول صلی اللہ علیہ
وسلم دیں اُسے لے لواور جس چیز سے منع فرمائیں اُس سے رک جائو‘‘…
مَآ
اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ…(سورۃ الحشر:۷)
ہمارے
آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں… علاج کے طور پر ’’الحجامۃ‘‘ عطا
فرمایا اور بالکل واضح فرما دیا کہ یہ ہر بیماری کا علاج ہے… اور یہ بھی فرما دیا
کہ اس علاج میں برکت ہے اور یہ بھی کہ یہ علاج انسان کو زیادہ عقلمند بناتا ہے…
اُس کی عقل کو بڑھاتا ہے… ظاہر بات ہے رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم جو کچھ ارشاد فرماتے ہیں وہ ’’وحی‘‘ ہوتا ہے… جی ہاں وحی الٰہی…
وَمَا
یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی(النجم:۳۔۴)
اسی
لیے زاد المعاد میں لکھا ہے کہ… طبِ نبوی عام طب نہیں ہوتی بلکہ یہ طب قطعی اور طب
الٰہی ہوتی ہے…
’’حجامہ‘‘
کی عظیم الشان سنت آہستہ آہستہ امت میں مٹتی چلی گئی… مسلمان غیروں کے غلام بنے
تو اُن سے بہت سی نعمتیں ’’چھن‘‘ گئیںان نعمتوں میں ایک ’’الحجامہ‘‘ بھی تھی… اب
الحمدللہ پھر امت مسلمہ جاگ رہی ہے، ہر طرف مجاہدین اسلام کا مبارک خون چمک رہا
ہے، مہک رہا ہے تو الحمدللہ بہت سی نعمتیں واپس ملنا شروع ہو گئی ہیں… ان نعمتوں
میں ایک ’’الحجامۃ‘‘ بھی ہے، جو ماشاء اللہ اب بہت تیزی کے ساتھ پوری دنیا میں
پھیل رہی ہے… ہمارے ہاں! یہ علاج ابھی تک اجنبی ہے اور اس کے ’’احیاء‘‘ کی محنت
ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے… لیکن عرب ممالک میں یہ محنت اب ایک منظم تحریک کی صورت
اختیار کر چکی ہے… چند دن پہلے میں نے ایک عرب خطیب صاحب کا ’’خطبہ جمعہ‘‘ پڑھا جو
پورا … ’’الحجامہ‘‘ کے موضوع پر تھا… ہمارے لوگوں نے ہر کسی کے لیے ایک الگ
’’شان‘‘ کا پنجرہ بنا رکھا ہے… کسی عالم کو بازار میں خریداری کرتا دیکھیں تو کہتے
ہیں… یہ علماء کی شان نہیں… کسی مجاہد کو دین کا کوئی اور کام کرتا دیکھ لیں تو
کئی دوسرے مجاہدین پکار اُٹھتے ہیں کہ یہ کام مجاہدین کو نہیں جچتا حالانکہ ہم سب
مسلمانوں کی بس ایک ہی شان ہے… اور وہ ہے ’’محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی
غلامی‘‘… جس کو یہ شان نصیب ہے وہ شان والا ہے اور جس کو یہ نصیب نہیں وہ حقیقی
عزّت سے محروم ہے… ہمارے ہاں کوئی عالمِ دین اگرجمعہ کا خطبہ ’’الحجامہ‘‘ کے بارے
میں دے دے تو لوگ کیا کہیں گے؟… یقینا طرح طرح کی باتیں… کوئی کہے گا مسجد اور
منبر دین کی باتوں کے لیے ہوتے ہیں… ان باتوں کے لیے نہیں… کوئی مغرب زدہ جرثومہ
کہے گامولویوں کو ڈاکٹری کے معاملات میں منہ نہیں مارنا چاہیے… اور کوئی کہے گا
باتیں اگرچہ ٹھیک ہیں مگر علماء کی شان کے مطابق نہیں… آپ خود سوچیں کس قدر
’’جہالت‘‘ ہے… جو باتیں حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے
تاکید کے ساتھ ارشاد فرمائیں… اُن باتوں کو نقل کرنا کسی عالم یا مجاہد کی شان کے
خلاف کس طرح ہوگیا؟… حجامہ کے بارے میں روایات بخاری میں موجود ہیں، مسلم میں
موجود ہیں… حدیث شریف کی ہر کتاب میں موجود ہیں… عربوں میں چونکہ ’’الحجامہ‘‘ کا
احیاء اب تیزی سے ہو رہا ہے تو وہاں اس موضوع پر کتابیں اور رسائل بھی کثرت سے
آنا شروع ہو گئے ہیں… وہاں بھی ابتداء میں کئی علماء اس بارے میں ہچکچا رہے تھے…
اور کئی تو مخالف بھی تھے… مگر جب انہوں نے احادیثِ مبارکہ اور سیرت طیبہ میں غور
کیا تو اُن کا سینہ کھلتا چلا گیا اور اب ’’الحجامہ‘‘ کے موضوع پر کئی عمدہ، علمی
اور تحقیقی کتابیں سامنے آچکی ہیں… ایک عالمِ دین نے حجامہ پر ۷۰ سے
زائد احادیث کی تخریج کی ہے اور تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ ان میں سے چالیس سے کچھ
زائد احادیث سند کے اعتبار سے ’’صحیح‘‘ اور باقی تیس کے لگ بھگ ضعیف ہیں… ہم
مسلمانوں کے لیے ایک حدیثِ صحیح بھی کافی ہوتی ہے… جبکہ حجامہ پر چالیس سے زائد
احادیثِ صحیحہ کا ذخیرہ موجود ہے… دوسرے کچھ عرب علماء نے الحجامہ کو جدید سائنس
کے اصولوں پر پرکھا ہے اور اس بارے کئی اہم کتابیں اور رسائل لکھے ہیں… ظاہر بات
ہے کہ آج کل مسلمان اُن باتوں کی طرف جلدی متوجہ ہوتے ہیں جن میں سائنس کا حوالہ
دیا گیا ہو… ذہنی اور فکری غلامی اور مرعوبیت کا ایک اثر یہ بھی ہے کہ … نعوذ
باللہ، نعوذباللہ حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے
فرمان پر اتنا یقین نہیں رکھتے… جتنا ایک سائنس دان کی بات پر رکھتے ہیں…
عرب
ممالک میں’’الحجامہ‘‘ کے بارے میں بیداری اب اس حد تک بڑھ رہی ہے کہ ایک ’’اماراتی
نوجوان‘‘ نے ’’موبائل حجامہ ہسپتال‘‘ شروع کیا ہے… یہ ایک بڑی سی گاڑی ہے جسے اندر
سے دو تین کمروں میں تقسیم کرکے… ہر طرح کی سہولیات سے آراستہ کر دیا گیا ہے… یہ
گاڑی مختلف شہروں اور ریاستوں میں گھومتی رہتی ہے… اور اس میںتلاوت کی آواز کے
دوران ’’الحجامہ‘‘ کیا جاتا ہے… اسی طرح ایک خاتون ڈاکٹر نے حجامہ کلینک کھولا ہے
اس میں خواتین کا علاج ہوتا ہے… اسی کلینک سے ایک کتاب بھی جاری کی گئی ہے جس میں
اُن خواتین نے اپنے تأثرات کا اظہار کیا ہے جن کو… الحجامہ کی برکت سے بڑے بڑے
موذی اور پرانے امراض سے اللہ تعالیٰ نے شفاء عطاء فرمائی ہے… لیبیا کے شہر بن
غازی میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا… ایک خاتون کا حجامہ کیا گیا تو ’’حجامہ کپ‘‘
میں خون کے ساتھ ایک بڑی سی سوئی بھی نکلی… وہاں کے مسلمانوںنے اُس کپ اور سوئی کی
تصویریں انٹرنیٹ پر لگا دی ہیں… اور اس پر بہت ایمان افروز تبصرے لکھے ہیں… یہ اُن
لوگوں کا جواب ہے جو یہ کہتے ہیں کہ حجامہ تو کھال پر ہوتا ہے… جبکہ بیماریاں اندر
دل، گردے وغیرہ میں ہوتی ہیں… وہ شاید نہیں جانتے کہ انسان کا سارا بدن کھال کے
ساتھ ٹانکا گیاہے، اور خون پورے جسم میں دوڑتا ہے… کسی تالاب سے پانی نہ نکالا
جائے تو چند روز بعد اُس میں بدبو اور بیماری پیدا ہوجاتی ہے… کنویں سے پانی نہ
نکالیں تو وہ سوکھ جاتا ہے… یہی حال انسان کے بدن کا ہے اگر حجامہ کے ذریعہ فاسد
اور زہریلا خون نہ نکالا جائے تو جسم میں طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں…
زہر کے لفظ سے ایک اور بات یاد آگئی… ایک یہودی عورت نے حضور نبی کریم صلی اللہ
علیہ وسلم کو بکری کے گوشت میں زہر دیا… آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ اسی زہر سے شہید ہو گئے خود
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لقمہ واپس تھوک دیا تھا مگر دہن
مبارک میں لقمہ لینے کی وجہ سے زہر کا کچھ اثر اند رپہنچ گیا… روایات میں آیا ہے
کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس زہر کی تکلیف محسوس ہوتی تو
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ’’حجامہ‘‘ کروا لیتے تھے… اس واقعہ
سے دو باتیں معلوم ہوئیں…
١ حجامہ
زہر خوری کا علاج ہے…
٢ یہودیوں
کا کام زہر تقسیم کرنا اور انسانوں کو زہر دے کر مارنا ہے…
آج
ہمارے ہر طرف زہریلی غذائوں کا جال بچھا ہوا ہے… مکھیوں کی آلائش میں لٹکا ہوا
گوشت… بیکری اور جنک فوڈ کے زہر آلود تحفے اور سب سے بڑھ کر بوتلیں یعنی سافٹ
ڈرنکس… کچھ عرصہ پہلے ایک تحقیق سامنے آئی کہ کوک، پیپسی وغیرہ دنیا
کا زہر نمبر ٧ ہیں… یعنی دھیما زہر جو آہستہ آہستہ اثر کرتا ہے، جسے سلو پوائزن
کہا جاتا ہے… یہ سارا زہریہودی کمپنیاں انسانوں میں بانٹتی ہیں… یہودی کی فطرت اور
خصلت سانپ کی طرح ’’زہریلی‘‘ ہوتی ہے… یہ نہ مسلمانوں کے دوست ہیں نہ عیسائیوں کے…
مگر عیسائیوں کو انہوں نے دوستی کا جھوٹا جھانسہ دے کر اپنے کام میں لگایا ہوا ہے…
دنیا کا کوئی ڈاکٹر، حکیم یا عقلمند شخص کوکا کولا اور پیپسی وغیرہ کا ایک بھی
’’فائدہ‘‘ آج تک نہیں بتا سکا… ہاں! نقصانات سب بتاتے ہیں… مگر پیتے بھی سب ہیں…
اور یہ زہر رگوں میں جا کر بیماریوں کی شکل اختیار کرتا ہے… پھر آج کل کی نام
نہاد ترقی میں پانی بھی آلودہ، ہوا بھی آلودہ… ہر انسان روزانہ کئی کلو زہریلا
دھواں پینے پر مجبور ہے… زہریلی ہوا، زہریلا پانی، زہریلی بوتلیں… زہریلے کھانے
اور پھر زہر سے بھری ہوئی دوائیں… ایسے حالات میں ’’الحجامہ‘‘کتنی بڑی نعمت ہے جو
حتمی طور پر زہر کا علاج ہے… یہ خون اور جسم سے ہر زہر کو باہر نکال پھینکتا ہے…
اور انسان کو ہر طرح سے پاک اور صاف کر دیتا ہے… دمشق کے تیس ڈاکٹرحضرات نے کئی
سال تک ’’حجامہ‘‘ پر ریسرچ کی اور بالآخر یہی بتایا کہ… واقعی! یہ کینسر سے لے کر
گردے فیل ہونے تک کی ہر مہلک بیماری کا علاج ہے… یہ ڈاکٹر حضرات تو آج مشینوں پر
دیکھ کر کہہ رہے ہیں جبکہ حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے
ہی سمجھا دیا کہ الحجامہ ہر بیماری کا علاج ہے… اگر اس کا اچھی طرح فائدہ لینا
چاہتے ہو تو ہر قمری یعنی چاند والے مہینے کی ۱۷، ۱۹ اور ۲۱ تاریخ
کو حجامہ کروا لو… روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ… حجامہ کے بعض مقامات حضرت
جبرائیل علیہ السلام نے حضور نبی کریم صلی اللہ
علیہ وسلم کو بتائے اور حضرت جبرائیل علیہ السلام اور دیگر
فرشتوں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ صلی اللہ
علیہ وسلم حجامہ ضرور کروایا کریں اور اپنی امت کو بھی اس کا حکم دیں…
ان روایات میں غور کرنے سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ’’الحجامہ‘‘ صرف
جسمانی علاج نہیں، بلکہ یہ روحانی اور نفسیاتی علاج بھی ہے… جادو، جن، آسیب ان سب
کا تعلق ’’عالمِ سفلی‘‘ سے ہے جبکہ ملائکہ ’’عالمِ علوی‘‘ یا ’’عالمِ ملکوت‘‘ کی
مخلوق ہیں… انسان کوئی معمولی چیز نہیں… زمین پر اللہ تعالیٰ کا خلیفہ ہے… ہر
انسان کے ساتھ کئی کئی ملائکہ اور فرشتوں کی ڈیوٹی ہوتی ہے… اور انسان کے تمام
اقوال اور اعمال کے ساتھ بھی فرشتوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے… اور انسان کی روح
کا ’’کنٹرول ٹاور‘‘ عرش الٰہی کے نیچے ہے… اسی طرح شیاطین جو انسان کے دشمن ہیں وہ
بھی انسانی جسم اور انسانی روح پر قبضہ کرنے کی فکر میں رہتے ہیں… اور انسانی خون
میں دوڑتے رہتے ہیں تاکہ اس خون کو ناپاک، گندہ، شہوت سے آلودہ بنا دیں… ملائکہ
کا انسان کے ساتھ ہونا قرآن و حدیث سے ثابت ہے… اور شیطانوں کا انسان کے خون میں
دوڑنا اور انسان پر مسلط ہونے کی کوشش کرنا اور انسان کے ساتھ ان کا لگے رہنا بھی
قرآن و حدیث سے ثابت ہے… تلاوت، درود شریف اور دیگر اذکار کے وقت فرشتوں کا ہجوم
انسان کے ہر طرف آجاتا ہے… جبکہ گانا اور موسیقی کے دوران شیاطین ننگے ہو کر
انسان کے گرد ناچتے ہیں اور اُن کے جسموں کی گندی لہریں انسان کے اندر داخل ہوتی
ہیں… حیرت ہے اُن لوگوں پر جو آج کل کمپیوٹر کے ’’جراثیم‘‘ تو مانتے ہیں مگر
فرشتوں کی پاکیزہ لہروں اور شیاطین کے ناپاک اثرات کا انکار کرتے ہیں… حجامہ میں
اللہ تعالیٰ نے جس طرح یہ تاثیر رکھی ہے کہ وہ گندے اور فاسد خون کو چوس لیتا ہے…
اسی طرح اس میں یہ تاثیر بھی ہے کہ وہ شیطانی اثرات سے آلودہ خون کو بھی چوس لیتا
ہے… اور یوں انسان کا بدن جادو ، سفلی، نظر اور آسیب وغیرہ کے اثرات سے پاک
ہوجاتاہے… ہمارے ہاں’’الحجامہ‘‘ ابھی نیا نیا آیا ہے… بہت سے لوگ حسد اور کئی لوگ
ناواقفیت کی وجہ سے مخالفت بھی کریں گے… ڈاکٹر حضرات میں سے کئی طیش میں بھی آئیں
گے… مگر الحمدللہ عمومی فضاء یہی بتا رہی ہے کہ ’’حجامہ‘‘ کی نعمت یہاں کے مسلمانوں
کو واپس ملنے کا فیصلہ ہو چکا ہے… وہ افراد جن کی عمر چالیس سال سے کم ہے وہ اس
بارے میں زیادہ خوش نصیب ہیں… وہ اگر کچھ عرصہ ہر چالیس دن بعد ’’حجامہ‘‘ کرواتے
رہیں تو ان شاء اللہ صحت کی عجیب نعمت دیکھیں گے… اور جن کی عمر
چالیس سال سے اُوپر ہے اُن کے لیے بھی ’’حجامہ‘‘ بے حد مفید ہے… ہمارا یہ دعویٰ
ہرگز نہیں کہ پاکستان میں ’’حجامہ‘‘ہم لائے ہیں… نہیں! یہ سعادت کچھ اور مسلمانوں
نے حاصل کی، اللہ تعالیٰ اُن کو جزائے خیر عطاء فرمائے… ہماری توجہ جب حجامہ کی
طرف ہوئی تو ہم نے اُنہی حضرات سے استفادہ کیا… مگر پاکستان میں حجامہ کو عام کرنے
کا شرف اللہ تعالیٰ نے ــ’’مجاہدینِ کرام‘‘ کو عطاء فرمایا ہے… مجاہدین کا یہ کام
نہیں ہے… اور نہ ہی کسی مجاہد کے لیے مناسب ہے کہ وہ مستقل جہاد چھوڑ کر اس کام میں
خود کو لگا دے… لیکن ایک سچے مجاہد کو حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین کی اتباع میں… ’’اشداء علیٰ الکفار‘‘ کے ساتھ ’’رحماء بینھم‘‘کا
کردار بھی نبھانا ہوتا ہے… چنانچہ جہاد کے کام کے ساتھ ساتھ ایسے کام بھی بعض
اوقات شروع کر دئیے جاتے ہیں… اور اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ان میں برکت ہو جاتی
ہے اور جہاد کے کام کو مزید قوت مل جاتی ہے… ہم نے کوشش کی کہ… ’’حجامہ‘‘ کا تعارف
کرائیں، صالح اور متقی افراد کو حجامہ کرنے پر لگائیں… اور ’’حجامہ‘‘ کو سستا
رکھیں… اور مسلمانوں کو اپنے پاک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پسندیدہ
علاج پر لائیں یعنی اصل نیت ’’احیاء سنت‘‘ اور خدمتِ امت کی تھی … کئی لوگوں نے
’’حجامہ‘‘ کو بہت مہنگا کر دیا ہے… وہ ایک پوائنٹ کے دو سو، چھ سو اور ایک ہزار تک
لیتے ہیں… اُن کی دلیل یہ ہے کہ جب تک زیادہ پیسہ نہ نکالیں لوگوں پر علاج کا اثر
نہیں ہوتا… یہ دلیل درست نہیں… حجامہ ایسی چیز ہے جو اپنا اثر خود دکھاتی ہے… اس
میں علاج باللّسان یعنی زبان سے فضائل بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کرنے پڑتے… بعض لوگ
کہتے ہیں سنت کو سستا کرو تو لوگ قدر نہیں کرتے… شکر ہے اُن حضرات کے ہاتھ مسواک
کا کاروبار نہیں لگا ورنہ یہ ایک مسواک پانچ سو سے پانچ ہزار کا بیچتے کہ اگر سستا
بیچیں تو لوگ سنت کی قدر نہیں کریں گے… ارے بھائیو! جو چیز انسان کے لیے قیمتی اور
ضروری ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ نے یا مفت رکھی ہے یا سستی جیسے ہوا اور پانی… اور
جن چیزوں کی ضرورت نہیں ہوتی وہ مہنگی کر دی جاتی ہیںجیسے سونا اور چاندی… دنیا کا
ہر انسان ’’سنت‘‘ کا محتاج ہے… کیونکہ ’’سنت‘‘ انسانی فطرت کا نام ہے… اور سنت وہ
طریقہ ہے جس پر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دیکھنا پسند فرماتے ہیں… دراصل کئی
مسلمانوں کے اندر ایک دھوتی والا’’بنیا‘‘ بیٹھا ہوتا ہے جو اُنہیں مہنگی سوداگری
کے گُر سکھاتا رہتا ہے… سچی بات ہے کہ دین دار لوگ مہنگائی پھیلاتے ہوئے بالکل
اچھے نہیں لگتے… اور یہ بھی افسوس ناک ہے کہ آج دیندار کہلانے والے لوگ عام
دوکانداروں سے زیادہ مہنگائی پھیلاتے ہیں… ہائے کاش ہم میں سے ہر شخص اپنے اندر
چھپے ہوئے ’’بنیے‘‘ کو باہر نکال دے… اُسے باہر نکالنا آسان ہے مگر مال کی ظالم
کشش ہمیں ہمت نہیں کرنے دیتی… ’’حجامہ‘‘ کی جو فیس لی جاتی ہے اس میں مہنگائی کرنا
اس لیے بھی بُرا ہے کہ… حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ
علیہ اور بعض دیگر آئمہ کے نزدیک حجامہ کے معالج کو اُس سے
زیادہ ’’فیس‘‘ لینا جائز نہیں ہے جتنی اُجرت حضوراکرم صلی اللہ علیہ
وسلم نے اپنے ’’حجام‘‘ کو عطاء فرمائی تھی… وہ اُجرت زیادہ نہیں بہت کم
تھی، آپ حدیث شریف کی کتابوں میں دیکھ لیں… حجامہ کے بارے میں باتیں بہت ہیں جبکہ
کالم کی جگہ مکمل ہو چکی ہے… حجامہ کے لیے سب سے اچھا موسم اپریل اور مئی کا مہینہ
ہوتا ہے… مگر مہم دسمبر میں آگئی ہے، ان شاء اللہ اس مبارک سنت کی طرف اہلِ اسلام
متوجہ ہوں گے… کیمپ لگانے والوں کو چاہیے کہ حجامہ کو مفید بنانے کے لیے اپنے
کیمپوں میں ہیٹر یا آگ کا بندوبست رکھیں اور جہاں کپ لگائیں اُس جگہ کو خاص طور
پر تھوڑاسا گرم کر لیں… حضرت علی المرتضیٰ رحمۃ اللہ علیہ کی روایت
مصنف ابن ابی شیبہ میں دیکھی تھی کہ… آیت الکرسی کی تلاوت حجامہ کو بہت مؤثر بنا
دیتی ہے… مریض سے بھی پڑھوائیں اور خود بھی پڑھیں… کسی ایسے مریض کا حجامہ نہ کریں
جس نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا ہوا ہو… حجامہ کے ایام میں بھی اپنی نمازوں کا
اہتمام کریں، باجماعت تکبیر ِ اولیٰ کے ساتھ… اور اپنی اصل دعوت کو نہ بھولیں…
کلمہ طیبہ یعنی ایمان، اقامتِ صلوٰۃ اور جہاد فی سبیل اللہ…
لا
الہ الااللّٰہ ، لا الہ الااللّٰہ ،لا الہ الااللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
اللّٰھم
صل علٰی سیّدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الااللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
کی رضا کیلئے ایک دعا یاد کرلیں…اور پڑھ لیں
بِسْمِ
ﷲِ تَوَکَّلْتُ عَلَی ﷲِ وَلَا حَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ
اس
دعاء کے بارے میں چند باتیں عرض کرنی ہیں …مگر ایک اور قیمتی تحفہ یاد کرلیں
…اوروہ ہے حضرت محمد آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مبارک حدیث …
یاد رکھیں !حدیث پاک جب زبان پر آتی ہے تو زبان کی بیماریاں دور ہوتی
ہیں… اللہ تعالیٰ معاف فرمائے ہم سب زبان کے مریض ہیں… اور
حدیث پاک جب یاد ہو کر دماغ میں جاتی ہے تو دماغ کے اَمراض دور ہوتے ہیں…
اللہ تعالیٰ معاف فرمائے ہم سب دماغی مریض ہیں۔ لیجئے حدیث شریف یاد
کیجئے:
اَلْجَمَاعَۃُ
رَحْمَۃٌ ، وَالْفُرْقَۃُ عَذَابٌ
’’جماعت
رحمت ہے اور تفرقہ عذاب ہے ‘‘
یہ
مبارک الفاظ ہم سب بار بار دہرائیں تاکہ ہماری دنیا اور آخرت ’’رحمتوں‘‘سے بھر
جائے اور ہم سب ’’عذاب‘‘ سے نجات پائیں۔
یہ
حدیث حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی روایت سے سند صحیح
کے ساتھ ہم تک پہنچی ہے۔
اَلْجَمَاعَۃُ
رَحْمَۃٌ ، وَالْفُرْقَۃُ عَذَابٌ
جماعت
اور اجتماع میں بڑا فرق ہے۔ اجتماع گندی مکھیوں کا بھی کسی گندی چیز پر ہو جاتا
ہے… پھر وہ سب اپنااپنا حصہ کھا کر الگ ہو جاتی ہیں… جبکہ جماعت وہ ہوتی ہے جس میں
سب کا ’’مقصد‘‘ ایک ، ’’فکر‘‘ ایک ، راستہ ایک ، منزل ایک اور’’امیر‘‘ ایک
ہو… اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ’’جماعت‘‘ کی برکت سے الحمدللہ ’’الحجامہ‘‘ مہم بہت اچھی جارہی ہے… اب بہت امید
ہے کہ ان شاء اللہ یہ مسنون ، مفید اور سستا علاج پاکستان
میں اجنبی نہیں رہے گا… ویسے ایک بات ہم سب کو دل میں بٹھانی چاہئے … وہ یہ کہ آج
ہم نے نعوذ باللہ ’’علاج‘‘ کو
تمام فرائض سے بڑا فرض اور تمام کاموں میں سب سے اہم کام سمجھ لیا ہے… یہ کافی غلط
اور نقصان دہ سوچ ہے…
ڈاکٹروں
کے پاس لوگوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں … ہسپتالوں پر عوام کا ہجوم ہے۔ مشہور حکیموں
اور عاملوں کے پاس کئی کئی مہینوں کے لئے مریضوں کی بکنگ ہے … اور میڈیکل کی
دکانوں کا کاروبار… آسمان سے باتیں کررہاہے… اگر ہم اپنے دین کو پڑھیں اور سمجھیں
تو یہ رجحان کافی غلط لگتا ہے… بیماری کا علاج سنت ہے، فرض نہیں… بیماری پر صبر کا
بڑا درجہ ہے …کئی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور صحابیات نے
علاج کرانے سے انکار فرما دیا اور بیماری کو اللہ تعالیٰ کی
ایک نعمت سمجھا… ایک صحابیہ کے بارے میں آتا ہے کہ لوگ کہا کرتے تھے، جس نے دنیا
میں کسی ’’جنتی‘‘کو دیکھنا ہو وہ اِن کو دیکھ لے… ان صحابیہ محترمہk کو ایک بیماری تھی… حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اختیارملا کہ …شفاء کی
دعا کرالیں یا بیماری پر صبر کرکے جنت پالیں… انہوں نے بڑی عقلمندی کا فیصلہ
فرمایا کہ بیماری پر جنت کو خرید لیا… دنیا تو جیسی بھی ہو کٹ جاتی ہے …چند دن
پہلے ایک ’’باباجی‘‘ ملے وہ کافی بیمار تھے…فرمایا!نوے سال کا ہوگیاہوں اور اپنی
پچھلی تمام زندگی یوں لگتی ہے ، جیسے بس ایک دن گذارا ہو…دُکھ والے دن بھی گذر گئے
اور سکھ والے دن بھی نہیں رُکے۔ مشکل راتیں بھی کٹ گئیں اور اچھی راتیں بھی آج
ساتھ نہیں ہیں … اللہ تعالیٰ کی رحمت بس اُس پر ہے جس کو ہمیشہ کی
اُخروی زندگی کے لئے …اِس فانی زندگی میں تیاری کا موقع مل جائے… دنیا کے عہدے،
مال اور اختیارات کی یہ حالت ہے کہ …اُنیس تاریخ کو ایک شخص پورے پاکستان میں سب
سے طاقتور تھا… اُس کے اشارے پر لاکھوں بندوقیں چلتی اور بند ہوتی تھیں… صحافی اس
کا قرب پانے کے لئے بے چین تھے… اور حکمران اس کے ڈر سے اس کی خوشامد پر مجبور
تھے…مگر اگلے دن یعنی بیس نومبر کو وہ ایسا تھا کہ …کسی ایک آدمی پر بھی اُس کا
اختیار باقی نہ رہا… پہلے لوگ اُس سے ملاقات کا وقت مانگتے تھے… اب وہ اپنا وقت
گذارنے کی فکر میں ہے …وہ اچھا تھا یا بُرا یہ آج ہمارا موضوع نہیں… پاکستان
آرمی کا سربراہ …بالآخر ریٹائر ہو گیا … یہی منظر نومبر کے بعد پھر دسمبر میں
ہمیں دکھایا گیا… بارہ دسمبر تک ایک شخص پورے ملک میں سب سے زیادہ مشہور اور
باوقار تھا… وہ حکمرانوں کے تاج اُڑاتا اور وردی والوں کو اپنے سامنے کھڑا رکھتا…
اُس کے منہ سے نکلا ہوا ہر لفظ ’’فیصلہ‘‘ تھا… اور اس کے ہر بیان کے لئے اخبارات
کی بڑی سرخیاں وقف تھیں … مگر تیرہ دسمبر کو وہ اچانک ایسا عام انسان بن گیا کہ اب
کسی چپڑاسی کو بھی طلب نہیں کرسکتا… وہ اچھا تھا یا بُرا یہ آج ہمارا موضوع نہیں…
سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بالآخر ریٹائر ہوگیا …بس یہی حال دنیا کے ہر عہدے اور ہر
چمک کا ہے… افسوس ہے اُس انسان پر جو اِن عہدوں اور چمک کی خاطر اپنی آخرت برباد
کردے…
صحابیہ
محترمہ! شفاء پاجاتیں تب بھی دنیا سے جانا تھا… اس بیماری کے علاوہ کوئی اور مرض
بھی لگ سکتا تھا… چنانچہ انہوںنے بیماری کے ساتھ رہنا برداشت کیا اور اپنی بیماری
کو قیمتی بنا لیا… ایسی بیماری جس کے بدلے میں یقینی جنت مل جائے بے شک دنیا بھر
کی دولت اور صحت سے زیادہ قیمتی ہے… لیکن آج تو معاملہ اس قدر سنگین ہے کہ …
مسلمانوں کی دولت کا ایک بڑا حصہ ’’علاج‘‘ پر خرچ ہو رہا ہے …امریکہ اور یورپ کے
کئی طبّی ادارے اور ہسپتال صرف عرب مسلمانوں اور ہمارے حکمرانوں سے سالانہ اَربوں
ڈالر کما رہے ہیں … آج کے مسلمان جتنا پیسہ اپنے علاج پر لگاتے ہیں اگر اس کا
دسواں حصہ بھی جہاد پر لگا دیں تو ساری دنیا کے خزانوں کے مالک بن جائیں …
مسلمانوں نے ’’علاج‘‘ کو اپنی کمزوری اور مجبوری بنایا تو دشمنانِ اسلام نے انہیں
بیمار کرنے کے لئے الگ طریقے اور اُن کا علاج کرنے کے لئے الگ طریقے ایجاد کرلئے …
پہلے وہ زہریلی خوراک ، زہریلی دواؤں اور زہریلے ماحول سے بیماری پھیلاتے ہیں …
اور پھر مارکیٹ میں اس کا علاج حاضر کردیتے ہیں … تاکہ مسلمان اُن سے بیماری بھی
خریدیں اور علاج بھی خریدیں … طرح طرح کی مشینیں ، طرح طرح کے ٹیسٹ ، طرح طرح کے
آپریشن اور طرح طرح کے علاج …اور حیرت یہ ہے کہ … دنیا بھر میں علاج کے اتنے
مہنگے اور سائنسی طریقے آنے کے باوجود بیماریاں پہلے سے زیادہ پھیل رہی ہیں … صرف
برطانیہ میں ’’کینسر‘‘ کا مرض سالانہ سو فیصد کی رفتار سے بڑھ رہا ہے… امریکی لوگ
موٹاپے اور ڈپریشن سے دبے جارہے ہیں … دماغی اَمراض کے اضافے کی توکوئی حد ہی نہیں
… اور ایڈز سے گذشتہ دس سال میںکروڑوں انسان مرچکے ہیں…
ہم
مسلمانوں کو چاہئے کہ … اس معاملہ پر غور کریں اور علاج ہی کو اپنی زندگی کا مقصد
نہ بنا لیں… بیماری پر صبر کرنا سیکھیں… ہر وقت صحت کی فکر میں نہ گھلیں اور مہنگے
مہنگے علاجوں پر اپنا مال برباد نہ کریں… ہم اپنی صحت قرآن پاک میں تلاش کریں…
جہاد والی سادہ اور پُرمشقت زندگی اختیارکریں تو بے شمار بیماریاں خود بھاگ جائیں
گی … اللہ تعالیٰ سے شفاء، صحت اور عافیت مانگیں … اور’’ الحجامہ‘‘ کے
مسنون علاج کو اختیار کریں … انسان کے جسم پر ہر وقت تبدیلیوں اور تغیرات کا سلسلہ
جاری رہتا ہے… آپ آدھے گھنٹے میں اپنا وزن چند بار کریں تو مختلف نتائج سامنے
آئیں گے … ایک ہی انسان خوشی اور غم کی حالت میں الگ الگ دنیا میں ہوتا ہے … اس
لئے ضروری نہیں کہ کسی چیز کے ٹیسٹ کے وقت جو بیماری سامنے آرہی ہے وہ ’’پکی‘‘ ہو
… جس قدر ممکن ہو طرح طرح کے ٹیسٹ کرانے سے بچیں … اور اُن دعاؤں کا اہتمام کریں
جو صحت و شفاء کے لئے ہمارے آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم نے سکھائی ہیں … آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے
زمانہ میں ایک ’’حکیم صاحب‘‘ نے مدینہ منورہ قیام کی اجازت مانگی کہ … لوگوں کا
علاج کریں گے … اُن کو اجازت دے دی گئی … چند ہی دن بعد وہ واپس جانے لگے اور وجہ
یہ بتائی کہ اتنے دن یہاں قیام رہا مگر ایک مریض بھی نہ آیا… اس سے آپ علاج کے
بارے میں … حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی دلچسپی کا
اندازہ لگا سکتے ہیں… دوسری طرف ہم ہیں کہ … ہر ڈاکٹر، ہر معالج، ہر عامل کے پاس
ہجوم ہی ہجوم ہے … اور افسوس یہ کہ ہمارے ہاں ہر دوسرا آدمی ڈاکٹر اور معالج ہے…
آپ رکشے والے کو بتائیں کہ مجھے فلاں بیماری ہے تو وہ فوراً آپ کے لئے علاج
تجویز کردے گا اور پورے دعوے کے ساتھ سینے پر ہاتھ مارتے ہوئے علاج بتائے گا… آپ
حجام کی خدمت میں بال کٹوانے حاضر ہوں تو اگر غلطی سے کسی بیماری کا تذکرہ کردیں
تو آپ کو فخر محسوس ہوگا کہ آپ کا حجام معمولی آدمی نہیں… اس زمانے کا مسیح
الملک، اور حاذق حکیم ہے… وہ دواؤں کے ناموں کا ڈھیر آپ کے سر پر رکھتا جائے گا…
اور تو اور آپ بیماری سے کراہتے ہوئے کسی شخص کی عیادت کے لئے جائیں اور وہاں اُن
کو پتا چل جائے کہ آپ کو بھی کوئی بیماری ہے تو وہ تھوڑی دیر کے لئے کراہنا بند
کرکے …آپ کو ضرور آٹھ دس علاج بتا دے گا… آپ حیران ہوں گے کہ آج ہم مسلمان
اپنے علاج پر اتنا مال خرچ کرتے ہیں کہ … بعض افراد اگر اپنے علاج کی رقم کو شمار
کریں تو وہ کروڑوں میں نکلے گی … مگر کیا اس کے باوجود صحت مل گئی؟؟… ہائے کاش ہم
صدقہ کرتے … ہم جہاد میں مال لگاتے، ہم مساجد تعمیر کراتے، ہم غریبوں کو کھانا
کھلاتے … ایک صاحب جن کو آخرت کی فکر نصیب تھی اُن کے گھر والے انہیں ڈاکٹر صاحب
کے پاس لے گئے … چند ٹیسٹ ہوئے اور حکم آگیا کہ فوری آپریشن کرائیں ورنہ مر
جائیں گے… انہوں نے پوچھا آپریشن پر کتنا خرچہ ہوگا؟؟… ڈاکٹروں نے چند لاکھ بتائے
… انہوں نے گھر آکر آپریشن کے خرچ جتنی رقم نکالی اور جاکر صدقہ کردی … اور خود
توکل اور صبر کرکے بیٹھ گئے…
اللہ تعالیٰ
کی شان ! چند دن میں بیماری بالکل ٹھیک ہوگئی … ایسے واقعات بے شمار ہیں… مگر
افسوس کہ آج اگر کسی کو اس بارے میں تھوڑا سا بھی سمجھایا جائے تو سامنے والا
باقاعدہ گرم آنسوؤں سے رونے لگتا ہے … کیونکہ اُس کا ذہن یہ بن چکا ہے کہ بس
علاج ضروری ہے… خواہ ساری دنیا کا مال ہی اس پر لگ جائے تب بھی یہ اُس کا اخلاقی
اور شرعی حق ہے کہ وہ ضرور علاج کرائے … بھائیو! اور بہنو! ہم کسی علاج سے نہیں
روکتے… آپ بقدر ضرورت علاج کرائیں مگر یہ بھی یاد رکھیں کہ موت چند قدم کے فاصلے
پر کھڑی ہے… اُمت مسلمہ غموں اور مظالم سے تڑپ رہی ہے … اور ہم اپنے جسم کے ایک
ایک بال اور ایک ایک عضو پر بے تحاشا مال خرچ کررہے ہیں … اور یہ نہیں سوچتے کہ اس
جسم نے بالآخر ایک دن گل سڑ کر ختم ہی ہونا ہے…
ایک
مسلمان کے لئے ’’توکل‘‘ … یعنی اللہ تعالیٰ پر
بھروسہ کرنا، اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور یقین رکھنا… بہت
بڑی نعمت ہے … تھوڑا سا دل کے یقین کے ساتھ پڑھ لیں۔
بِسْمِ
ﷲِ تَوَکَّلْتُ عَلَی ﷲِ وَلَا حَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ
اللہ تعالیٰ
کے نام کے ساتھ … میں نے اللہ تعالیٰ پر توکل کیا… ہر توفیق
اور حفاظت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ملتی ہے…
یہ
دعاء حدیث شریف میں آئی ہے اور یہ بہت عجیب اور سکون آور دعاء ہے… بس جیسے ہی دل
میں کوئی غم اور پریشانی اُٹھے تو … اللہ تعالیٰ کا نام لے کر اُسی پر
’’اعتماد‘‘ کا اعلان کردیا جائے …حتیٰ کہ عام گھریلو کاموں میں …یا جماعت او جہاد
کے کاموں میں جہاں ذرا سی اُلجھن ہو تو مستانہ وار یقین کے ساتھ پڑھتے جائیں…
بِسْمِ
ﷲِ تَوَکَّلْتُ عَلَی ﷲِ وَلَا حَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ
آج
اس دعاء اور اس کے فضائل و مناقب پر بات کرنی تھی … وہ سب کچھ رہ گیا مگر چند ایسے
اشارے آگئے کہ … امید ہے غمزدہ اور پریشان حال مسلمانوں کی توجہ اس دعاء کی طرف
ہو جائے گی… تب وہ خود اس کے فوائد محسوس کرلیں گے۔
لاالہ
ال اللہ ، لاالہ ال اللہ ، لاالہ ال اللہ محمد رسول ﷲ
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد و الہ و صحبہ
و
بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ ال اللہ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
پر ’’اعتماد‘‘ اور’’توکل‘‘ کرنے والے ہمیشہ کامیاب رہتے ہیں…
بِسْمِ
اللہِ تَوَکَّلْتُ عَلٰی اللہِ وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ
دنیا
میں سب اپنے اپنے کاموںمیں لگے ہوئے ہیں… اور اکثرلوگ ناکامی کی طرف دوڑ رہے ہیں…
وہ دیکھیں! بنگلہ دیش کی حسینہ واجد نے اپنی قوم کے بزرگ کو قتل کرڈالا… پینسٹھ
سالہ بزرگ پھانسی پرجھول گئے… اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت
فرمائے… آج پوری دنیا میں اسلام سے تعلق رکھنے والوں کو اسی طرح مارا اور ستایا
جارہا ہے…
بِسْمِ
اللہِ تَوَکَّلْتُ عَلٰی اللہِ وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ
ہمارے
ہاں! دیکھیں… ملک کے سرمایہ دارحکمران، سابق صدر پرویزمشرف پر غداری کا مقدمہ چلا
رہے ہیں… ان حکمرانوں نے پرویز مشرف کے کسی غلط اقدام کا خاتمہ نہ کیا… وہ جو گندے
انڈے چھوڑ گیا یہ اُنہیں انڈوں پر بیٹھے ہیں… نہ اُس کے ظالمانہ قوانین کو ختم
کیا… نہ اُس کی جلائی ہوئی آگ کو بجھایا… نہ اُس کی کالعدم قرار دی گئی جماعتوں
کو سانس لینے دیا… نہ اُس کی بنائی ہوئی خارجہ پالیسی کو توڑا…ان میں اورپرویزمشرف
میں کیا فرق ہے؟… وہ بھی امریکہ کاغلام یہ بھی امریکہ کے غلام… وہ بھی انڈیا کا
یار یہ بھی انڈیا کے یار… وہ بھی دیندار مسلمانوںکا دشمن یہ بھی دیندار مسلمانوں
کے دشمن… اُس کے زمانے میں جو کالعدم اِن کے دور میں بھی کالعدم… وہ بھی غیروں کی
جنگ میں اپنوں کو مارتا تھا یہ بھی غیروں کی جنگ میں اپنوں کو مار رہے
ہیں… اُس کے تمام جرائم کو انہوں نے اپنے گلے کا ہار بنایا ہوا ہے اور اب اُس کو
’’غدار‘‘ قرار دے رہے ہیں، صرف اس جرم میں کہ اُس نے ان کے ساتھ زیادتی کی تھی… وہ
تو اپنے اعمال کا انجام دیکھ رہا ہے مگر پاکستان کے مسلمانوں کے لئے… کل بھی
اندھیرا تھا اور آج بھی اندھیرا ہے… وہ فوجی آمر تھا اور یہ جمہوری آمر ہیں… وہ
اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے… اور یہ بھی اگر اسی طرح چلتے رہے تو جلد اپنے انجام کو
پالیں گے… ایمان والوں کے لئے کل بھی’’ اللہ ‘‘ تھا اور آج بھی’’ اللہ ‘‘ ہے…
حَسْبِیَ
اللہُ،بِسْمِ اللہِ تَوَکَّلْتُ عَلٰی اللہِ وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا
بِاللہ
دنیا
بھر میں اگر کوئی ’’کالعدم‘‘ ہے تو وہ اسلامی جماعتیں ہیں… ابھی مصر نے پھر’’اخوان
المسلمون‘‘ کو کالعدم قرار دے دیا ہے… وہ پہلے بھی کئی عشروں تک کالعدم رہے… پھر
اچانک اقتدار میں آگئے… کسی جلد باز نے فوراً کتاب لکھ ڈالی…
’’من
المحظورۃ الی المحظوظۃ‘‘
یعنی
اخوان المسلمین کی تاریخ… کالعدم سے بانصیب ہونے تک… پابندی سے اقتدار تک…
مگر’’محظوظ‘‘ ہونے کا یہ عمل صرف ایک سال رہا اور اب پھر کالعدم… ہم لوگ بھی اپنے
ملک میں ’’کالعدم‘‘… اور اخوان والے بھی اپنے ملک میں ’’کالعدم‘‘… ’’کالعدم‘‘ کی
فہرست میں جب کوئی نیا نام آتا ہے تو اپنی آبادی بڑھنے کا احساس ہوتا ہے ؎
آ
عندلیب مل کر کریں آہ و زاریاں
تو
ہائے گل پکار میں چلاؤں ہائے دل
ہمارے
اسلامی ممالک تو شاید چندغلاموں کی ذاتی جاگیر بن گئے ہیں وہ رہتے امریکہ اور یورپ
میںہیں… وہ ہمارے ملکوں کا سرمایہ لوٹ کر اپنے آقاؤں کو دیتے ہیں… وہ انہیں کی
بولی بولتے ہیں اور انہیں کے اشاروں پر ناچتے ہیں… مگر وہ خود کو ہمارے ملکوں کا
مالک سمجھتے ہیں… ابھی آپ بلاول زرداری کے بیانات پڑھ لیں… وہ ٹویٹر پر ہر دوسرے
دن پاکستان کے بارے میںنیا فیصلہ صادر کرتا ہے… چند دن پہلے اُس نے ملالہ کو
وزیراعظم بنادیا… مگر شاید وہاں بات نہیں بنی اب اُس نے پاکستان کا وزیراعظم کسی
عیسائی کو نامزد کر دیا ہے… ہائے یہ بیچارے! کیا کیا حسرتیں ہیں ان کے دلوں میں…
مگر ان شاء اللہ اُن کی یہ حسرتیں خود انہیں کے ساتھ
دفن ہو جائیں گی… پاکستان میں اذان گونجتی رہے گی، تکبیر بلند ہوتی رہے
گی اور جہاد کے مینار سر اٹھاتے رہیں گے… یہ شہداء، غازیوں اور فقیروں کا ملک ہے…
حَسْبُنَاللہُ،
بِسْمِ اللہِ تَوَکَّلْتُ عَلٰی اللہِ وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ
یہ
دعا جو آج میں بار بار دُھرا رہا ہوں… یہ’’مذاکرہ‘‘ اس لئے تاکہ یہ میرے دل میں
بھی اُتر جائے اور آپ کے دل میں بھی… ہمیں آج کل صبح سے شام تک اور شام سے صبح
تک بار بار اس دعاء کی ضرورت پڑتی ہے… اس دعاء کے
ساتھ اللہ تعالیٰ نے تین انعامات باندھ دیئے
ہیں…
١ ہدایت
یعنی رہنمائی…
٢ کفایت،
یعنی اللہ تعالیٰ کی پوری مدد…
٣ وقایت
یعنی اللہ تعالیٰ کی حفاظت…
جب
کوئی مسلمان ایمان اور یقین کے ساتھ یہ دعاء پڑھتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے…
ھُدِیْتَ،
وکُفِیْتَ ووُقِیْتَ
اے، اللہ تعالیٰ
پر توکل کا اعلان کرنے والے! تجھے ہدایت، کفایت اور وقایت عطاء کر دی گئی ہے… اور
اس وقت شیطان اس سے دور بھاگ جاتا ہے… دوسرا شیطان اس سے پوچھتا ہے کہ
اب ایسے شخص پر تیرا کیا بس چلے گا جسے ہدایت، کفایت اور وقایت مل چکی ہے…
بِسْمِ
اللہِ تَوَکَّلْتُ عَلٰی اللہِ وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ
ترجمہ: اللہ تعالیٰ
کے نام کے ساتھ، میںنے اللہ تعالیٰ پر توکل کیا اور ہر توفیق اور ہر
حفاظت اللہ تعالیٰ سے ہی ملتی ہے…
آج
ہم مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ نہ امریکہ ہے نہ اسرائیل… نہ انڈیا ہے نہ یورپ… نہ
مہنگائی ہے اور نہ منافق حکمران… ہمارا سب سے بڑا مسئلہ … مایوسی ہے، جی
ہاں! اللہ تعالیٰ کی رحمت سے
مایوسی، اللہ تعالیٰ کی نصرت سے
مایوسی، اللہ تعالیٰ کی مدد سے
مایوسی، اللہ تعالیٰ کی محبت سے
مایوسی، اللہ تعالیٰ کی مغفرت سے مایوسی… ہم مایوسی چھوڑ
دیں اور اللہ تعالیٰ پر اعتماد کریں تو پھر ساری دنیا اوراس
کے تمام مسائل بہت چھوٹے ہیں، بہت چھوٹے… یا اللہ ! دنیا کو
ہماری نظروں میں چھوٹا بنا دے…
اَللّٰھُمَّ
صَغِّرِ الدُّنْیَا بِاَعْیُنِنَا
یا اللہ
! اپنے جلال اور اپنی قدرت کو ہمارے دلوں میں بڑا بنا دے…
وَعَظِّمْ
جَلَالَکَ فِیْ قُلُوْبِنَا
چلیںیہ
پوری دعاء ہی پڑھ لیں، سمجھ لیں اور سیکھ لیں
اَللّٰھُمَّ
صَغِّرِ الدُّنْیَا بِاَعْیُنِنَا، وَعَظِّمْ جَلَالَکَ فِیْ قُلُوْبِنَا،
اَللّٰھُمَّ وَفِّقْنَا لِمَرْضَاتِکَ وَثَبِّتْنَا عَلٰی دِیْنِکَ وَ طَاعَتِکْ
یا اللہ
! دُنیا کو ہماری آنکھوں میں چھوٹا بنا دیجئے، اور اپنے جلال کو ہمارے دلوں میں
بڑا بنا دیجئے، یا اللہ ! ہمیں اپنے پسند والے اعمال کی توفیق دیجئے
اور ہمیں اپنے دین اور اپنی عبادت پر ثابت قدمی عطاء فرما دیجئے…
سبحان اللہ
! بہت عجیب دعاء ہے… ترجمہ ذہن میں رکھ کر اگر سجدے میں پڑھیں اور روزآنہ کم از
کم تیرہ بار کامعمول بنا لیں تو دل روشنی سے بھر جائے…تب نہ دنیا کے دشمن بڑے لگیں
نہ دنیا کی بیماریاں… نہ دنیا کے مسائل پہاڑوں جیسے نظر آئیں اور نہ دنیا کے غم…
بے
شک ’’ اللہ ‘‘ ایک ہے، ’’ اللہ ‘‘ سب سے بڑا ہے، ’’ اللہ ‘‘ ہمارا ہے،’’ اللہ ‘‘
ہر چیز پر قادر ہے…ہم’’ اللہ ‘‘ کے اور’’ اللہ ‘‘ ہمارا…
بِسْمِ
اللہِ تَوَکَّلْتُ عَلٰی اللہِ وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ
روایات میں
آیا ہے کہ جب ہم اپنے گھرسے نکلتے ہیں تو فرشتے اپنا نورانی جھنڈا لے کر… اور
شیاطین اپنا شیطانی جھنڈا لے کر ہمارے منتظر ہوتے ہیں… واقعی بھائیو! انسان
کو اللہ تعالیٰ نے بڑی قدر و قیمت عطاء فرمائی ہے… اگر ہم
نے گھر سے نکلتے ہی یہ دعا پڑھ لی۔
بِسْمِ
اللہِ تَوَکَّلْتُ عَلٰی اللہِ وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ
توشیاطین
اپنے جھنڈوں سمیت بھاگ جاتے ہیں … اور فرشتے اپنے جھنڈے دعاء پڑھنے والے پرتان کر
اُس کے ساتھ ہو جاتے ہیں… بس دل میں یقین شرط ہے… اور گھر سے اچھے کام کے لئے
نکلنے کی نیت بھی ضروری ہے…ویسے آج کل شیطانی جھنڈوں کا ہر طرف زور ہے… ڈرنے
گھبرانے کی ضرورت نہیں… مقابلہ کرنا چاہئے مقابلہ… کسی نے حضرت
بصری رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا! اے ابو سعید! ایک شخص گناہ کرتا ہے پھر
توبہ کرلیتاہے،پھر گناہ کرتا ہے پھر توبہ کرلیتا ہے پھر اُس سے گناہ ہوجاتا ہے؟
آخر کب تک؟؟؟
ارشاد
فرمایا! اُس وقت تک جب تک کہ شیطان اُس سے مایوس نہ ہو جائے… یعنی توبہ کا سلسلہ
جاری رہے، جاری رہے… یہاں تک کہ شیطان تھک ہار کر مایوس ہو جائے کہ… اس بندے سے
گناہ کروانے کا کوئی فائدہ نہیں… بلکہ اُلٹا نقصان ہے … کیونکہ سچی توبہ گناہوں کو
بھی نیکی بنا دیتی ہے…
بِسْمِ
اللہِ تَوَکَّلْتُ عَلٰی اللہِ وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ
آج
کل ہم خبریں پڑھنے لگتے ہیں توبار بار دل میں ہوک اٹھتی ہے… اگر یہ دعاء اپنے پاس
ہو تو کام آتی ہے… جیسے ہی بُری خبر پڑھی اللہ تعالیٰ کی
طاقت اور قوت کا اعلان کر دیا اور دل پُرسکون ہو گیا… ارے یہ دنیا کے مچھر اسلام
کا اور مسلمانوں کا کیا بگاڑ لیں گے…
بِسْمِ
اللہِ تَوَکَّلْتُ عَلٰی اللہِ وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ
حیرانی
ہم سب مسلمانوںپر ہے کہ… ہمارے پاس قرآن عظیم الشان موجود ہے مگر ہم پھر بھی
مایوس ہوتے ہیں اور دنیا کے کافروں اور دنیا کے مسائل کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہیں…
قرآن پاک ہمیںدکھاتا ہے کہ فرعون ڈوب رہا ہے… قرآن پاک ہمیں دکھاتاہے کہ قوم عاد
کی طاقت اوندھے منہ گری پڑی ہے… قرآن ہمیں دکھاتا ہے کہ قوم لوط علیہ السلام منے
بالآخر بہت اوپر جا کر نیچے گرنا ہے… آج کل کے کفار بھی بہت اوپر جانے کی فکر
میں ہیں اور یہ بہت گہرا گریں گے… قرآن پاک ہمیں میٹھے میٹھے قصے سناتا ہے… وہ
دیکھو! یوسف علیہ السلام کے بھائی اُن کے قتل کی تدبیر کر رہے ہیں… مگر
یوسف علیہ السلام زندہ رہے… وہ انہیں بے نام و نشان کرنے کی فکر میں
مگر اُن کی شان اونچی ہو گئی… وہ انہیں باپ کے دل سے نکالنا چاہتے ہیںمگر باپ کے
دل میں محبت اور بڑھ گئی…
وہ
دیکھو! اُن کو بیچا جارہا ہے تاکہ وہ مملوک بنیں… مگر وہ پورے ملک کے مالک بن گئے…
کیوں؟ اس لئے کہ حضرت یوسف علیہ السلام ، اللہ تعالیٰ کے پیارے تھے اور
وہ اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور توکل رکھتے تھے… پس اسی طرح
دین اسلام بھی اللہ تعالیٰ کو پیاراہے… اور مسلمان
بھی اللہ تعالیٰ کو پیارے ہیں… اگر
وہ اللہ تعالیٰ پرا عتماد اوریقین رکھیں تو… انہیںمارنے
والے، انہیں مٹانے والے اور انہیں بیچنے والے سب ناکام ہوجائیں گے…
بِسْمِ
اللہِ تَوَکَّلْتُ عَلٰی اللہِ وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ
الحمدللہ … اللہ تعالیٰ
کی نصرت اور فضل سے ’’الحجامہ مہم‘‘ کامیاب ہو گئی… اور اب ان
شاء اللہ 26جنوری کا’’اجتماع‘‘ آتاہے… دعاء کریں، فکر
کریں، محنت کریں… اور پورے یقین کے ساتھ یہ کہتے ہوئے میدان میں کود پڑیں:
بِسْمِ
اللہِ تَوَکَّلْتُ عَلٰی اللہِ وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ
لا
الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
اپنے فضل سے 26جنوری کے ’’اجتماع‘‘ کو قبولیت اور کامیابی عطاء فرمائے… اجتماعات
ہوتے رہتے ہیں اور ہوتے رہیں گے… اور اللہ کرے مفید
اجتماعات ہوتے رہیں… مگر ہمارے بھائی محمد افضل گورو شہید کا اجتماع… ان
شاء اللہ ’’ منفرد اجتماع‘‘ ہوگا… زندہ اجتماع، زندگی سے بھرپور
اجتماع… آپ سوچیں گے اس جملے کا کیا مطلب؟ زندہ اجتماع، زندگی سے بھرپور اجتماع…
مطلب کچھ زیادہ مشکل نہیں… بس آپ ایک بار بھائی افضل شہید کی کتاب’’ آئینہ‘‘ پڑھ
لیجئے… اور26جنوری کے اجتماع میں شرکت کر لیجئے… مطلب خود معلوم ہو جائے گا…
صاحب
کرامت شہید
اللہ تعالیٰ
نے قرآن مجید میں یہ مسئلہ اچھی طرح سمجھا دیا کہ… تمام’’رسول‘‘ برحق ہیں… اور
بعض رسولوں کو اللہ تعالیٰ نے دوسرے بعض پر
فضیلت عطاء فرمائی ہے:
تِلْکَ
الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْض
اسی
قرآنی اصول کے تحت… ’’صدیقین کرام‘‘ تمام کے تمام اونچے مقام والے ہیں…مگر ان میں
بھی بعض دوسرے بعض سے افضل ہیں…اور صدیقین کے امام اور سردار حضرت صدیق
اکبر رضی اللہ عنہ ہیں… اسی طرح شہداء کرام سب کے سب اونچے
مقام والے… مگر شہداء میں بھی بعض دوسرے بعض سے افضل ہوتے ہیں… اور
شہداء کرام کے امام اور سردار حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے
پیارے چچاجان حضرت حمزہ رضی اللہ
عنہ ہیں… اللہ تعالیٰ نے ہمارے زمانے
کویہ اعزاز بخشا ہے کہ اس میں جہاد اور شہادت کی نعمت وافرمقدار میں زمین پر اُتری
ہوئی ہے… و الحمدللہ رب العالمین…اس زمانے
کے شہداء روئے زمین کے تقریباً ہر حصے سے اٹھے ہیں… اونچے پہاڑوں پر بھی اور دور
ریگزاروںمیں بھی… ٹھنڈے علاقوں میں بھی اور گرم میدانوںمیں بھی…
ماشاء اللہ جہاد اپنے جوبن کی طرف بڑھ رہا ہے اور شہادت
کا’’آب حیات‘‘ اپنی تمام تر شیرینی کے ساتھ اُبل رہاہے… اور خوش نصیب مسلمان اسے
پی،پی کرحقیقی زندگی پارہے ہیں… جس مسلمان کی
شہادت اللہ تعالیٰ کے ہاںقبول ہو جائے وہ’’شہید‘‘ زندہ
ہوتاہے… اور اُس کی زندگی میں شک کرنا کفر ہے… قرآن مجید نے زور دے کر فرما دیا:
’’بل
أحیائٌ‘‘
یہاں
اس ’’بل‘‘ کا اصل مفہوم یہ ہے کہ… شہید بالکل زندہ،شہید بالکل زندہ، شہید بالکل
زندہ… ارے سمجھو یانہ سمجھو مگردل سے مان لو کہ شہداء بالکل زندہ ہیں… شہادت کی
نعمت مل جانا ہی بڑی سعادت ہے اور پھر اگر کسی کو شہادت میںبھی
خاص مقام ملا ہو تویہ اللہ تعالیٰ کا بڑافضل
ہے…ہمارے زمانے کے شہداء کرام میں اللہ تعالیٰ سے امید ہے
کہ بھائی محمد افضل گورو رحمۃ اللہ علیہ ایک خاص مقام رکھتے ہیں… منفرد
شان والا مسکراتا ہوا مقام… اُن کی شہادت مظلومانہ ہوئی… دنیا میں جو جتنے دکھ اور
ظلم سہتا ہے آخرت میںاسی قدر اونچا مقام پاتا ہے… شہادت سے پہلے طویل عرصہ انہوں
نے قید کاٹی… اور اسی قید میں انہوں نے ایک خاص روشنی پائی… یاد رکھیں جو قیدی فی
سبیل اللہ … اپنے دل سے رہائی کا شوق نکال
کر اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی ہو جائے… وہ معرفت کا
اونچا مقام پا لیتا ہے… بھائی محمد افضل گورو شہید رحمۃ اللہ علیہ نے…
اُسی روشنی کی شعاعیں ایک ’’آئینے‘‘ میں محفوظ کر لیں تاکہ… اُمت مسلمہ اس روشنی
سے فیض یاب ہو سکے… انہوں نے اس کتاب میں زور دے کرلکھا کہ… اگر دعوت
کے پیچھے قربانی ہو تو وہ دعوت بہت مؤثر ہو جاتی ہے… انہوں نے اپنی
شہادت سے تین سال پہلے یہ کتاب بھیجنے کی بار بار کوشش کی مگر کتاب اُن کے دوستوں
تک نہ پہنچ سکی… پھر محمد افضل شہید رحمۃ اللہ علیہ خود’’قربان‘‘
ہوگئے… جب قربانی نے اُن کی دعوت کو بے حد مؤثر بنادیا تو… اُن کی کتاب بھی باہر
پہنچ گئی… اور اب ماشاء اللہ چھپ کر تیار ہے… یہ وہ کتاب ہے
جس پر سب سے پہلے اُس کے مصنف نے حرف بحرف عمل کیا ہے… بھائی محمد افضل شہید رحمۃ
اللہ علیہ کی شہادت کے بعد اُن کی بہت سی کرامات ظاہر ہوئیں… اس کتاب
کا بحفاظت پہنچ جانا، اتناعمدہ شائع ہونا اور کتاب کے بارے میں مصنف کی ہرتمنا اور
فرمائش کا پورا ہونا یہ بھی بھائی محمد افضلؒکی واضح کرامت ہے… بھائیو اوربہنو!
آج ہی نیت کر لو کہ یہ کتاب ضرور خریدنی ہے… ضرور پڑھنی ہے اور دوسرے مسلمانوں تک
پہنچانی ہے…بس اسی کتاب کی تقریب رونمائی کے لئے’’26 جنوری‘‘ کا اجتماع سجایا
جارہا ہے…افضل شہید رحمۃ اللہ علیہ کی طاقتور زندگی کے اثرات دیکھیں
کہ… آج ہزاروں دیوانے اُن کے اجتماع کی محنت میں لگے ہوئے ہیں… درجنوں اہل دعاء
ہردن جھولیاں پھیلا کر اجتماع کے لئے دعائیں مانگ رہے ہیں… اور کتاب کے بارے میں
جس کے ذمہ جو کام لگا اُس نے یوںمحنت کی کہ… کوئی اپنی ذاتی تصنیف پر بھی ایسی عرق
ریزی نہ کر سکتا ہو آج جماعت میں ایک روحانی جوش ہے…
ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ …
یہی نہیں بلکہ اب تک چھ کڑیل مؤمن نوجوان… بھائی افضل شہید رحمۃ اللہ
علیہ کے لہو کے قطروںپر دوڑتے ہوئے زندگی کی منزل پا چکے ہیں… اور مزید
نجانے کتنے اس تمنا میں تڑپ رہے ہیں… بھائی افضل رحمۃ اللہ علیہ کو
شہید کرنے والی کانگریسی حکومت شدید زوال کا شکار ہے… اور مقبوضہ کشمیر کی تحریک
میں ایک نئی جان ہرکوئی محسوس کر رہاہے… فیس بک اور ٹویٹر تک کے فسادی ماحول
میں’’افضل شہید رحمۃ اللہ علیہ ‘‘ کے نام پر صفحات قائم ہو چکے ہیں اور دہلی جہاں
پر افضل شہید رحمۃ اللہ علیہ کا مزار ہے تیزی سے کروٹ بدل
رہاہے… اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: شہید کو مُردہ مت سمجھو
’’بَلْ
اَحْیَآء‘‘
وہ
بالکل زندہ ہے، بالکل زندہ ہے… ہاں! انڈیا والو! سن لو افضل شہید بالکل زندہ ہے…
یقین نہ آئے تو26 جنوری کو مظفرآباد میں آکر دیکھ لینا… جہاں افضل شہید کی
زندگی… گرجے گی، برسے گی، کڑکے گی… اور افضل شہیدکا آئینہ… چمکے گا…
ان
شاء اللہ … ان شاء اللہ … ان شاء اللہ
زندگی
جان میں نہیں
بھائی
افضل شہید رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں یہ کہنا درست ہے!
عاش
سعیدا و مات شہیدا
کہ
اُس نے زندگی خوش نصیبوں والی… اور انجام شہیدوں والا پایا
ہاں!
جس کے اندر سچی طلب ہو اُسے راستہ بھی مل جاتا ہے اور منزل بھی… بلکہ یوںکہنا
چاہئے کہ… لوگ راستے اور منزل کی تلاش میں ہوتے ہیں… لیکن جس کی طلب سچی ہو… منزل
خود اس کی تلاش میں ہوتی ہے… افضل شہید رحمۃ اللہ علیہ کی طلب سچی تھی
تو اُسے… ایک خیر کے بعد دوسری خیر خود ہی ملتی چلی گئی… اُسے غازی بابا شہید رحمۃ
اللہ علیہ جیسا رہنما ملا… اُسے آفاق شہید رحمۃ اللہ
علیہ جیسا دوست ملا… اُسے ارسلان اور حیدر جیسے رفقاء ملے… اُسے جیش
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جیسی جماعت ملی…
اُسے اللہ تعالیٰ کے راستے کا جہاد ملا… اُسے جہاد کی بلند
کارروائیاں ملیں…
اُسے اللہ تعالیٰ
کے راستے کا اعتکاف… یعنی قید تنہائی ملی… اُسے روشن دماغ اور رواں روشن قلم ملا…
اُسے شعور کی پختگی ملی… اور بالآخر یہ سارے پہاڑ، جنگل، ریگستان طئے کرتے کرتے
وہ ایک بڑے خزانے تک جا پہنچا… اُس نے خزانے کا پتھر اٹھایا اندر اسے ایک بڑا راز
مل گیا… یہ راز بے شمار خزانوں کی چابی ہے… اس راز کے الفاظ سب جانتے ہیں مگروہ اس
کی حقیقت کو نہیں پہچانتے… اس لئے اس راز میں پوشیدہ خزانوں سے محروم رہتے ہیں …
راز کے الفاظ یہ ہیں:
’’زندگی
جان میں نہیں ایمان میں ہے!‘‘
افضل
شہید نے راز دل میں بٹھایا… جان کی فکر دل سے نکالی اور ایمان کو سینے سے لگا لیا…
تب اس آبلہ پا مجنوں کو اُس کی منزل لیلیٰ کی طرح بانہیں پھیلا کر…بلانے لگی… وہ
دوڑپڑا اور اُس نے لیلیٰ کے بازو اپنے گلے میں ڈال کر… زندگی کی طرف چھلانگ لگا
دی… دشمن سمجھے دیوانہ پھانسی پر مر گیا… مگر دیوانہ رقص کرتے ہوئے مسکرایا
کہ…پھانسی پر موت مر گئی اور زندگی جیت گئی:
بیا
جاناں تماشا کن کہ در انبوہ جاں بازاں
بصد
سامان رسوائی سر بازار می رقصم
منم
عثمان ہارونی کہ یار خواجہ منصورم
ملامت
می کند خلقی ومن بردار می رقصم
بھائیو!
اور بہنو! آپ تو ماشاء اللہ اہل یقین ہیں… اگر کوئی شک
کرنے والا ہو تو وہ بھائی افضل گورو شہید رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب صرف
ہاتھ میں لیکر چند صفحات پڑھ لے… وہ اجتماع کے لئے دعاء کرنے والے اہل دل کو جامع
مسجد عثمان و علی رضی اللہ عنہما میں روتا گڑ گڑاتا دیکھ لے… وہ
اجتماع کی محنت میں بھاگ دوڑ کرتے دیوانوں کو دیکھ لے… وہ اجتماع میں اپنے جذبات
کا اظہار کرنے کی تیاری میں لگے معصوم بچوں کو دیکھ لے… وہ افضل شہید رحمۃ اللہ
علیہ کے انتقام کے لئے بے چین مضبوط بازئووں والے غازیوں کو دیکھ لے…
ہاں! وہ اگر آنکھیں رکھتاہو تو کشمیر کے کہساروں پر اُترتی روشن کرنوں کو دیکھ لے
وہ بے ساختہ بول اٹھے گا کہ…
بے
شک شہید زندہ ہے… ہاں بالکل شہید زندہ ہے…
اجتماع
میں شرکت کے درجات
آپ
سب حضرات و خواتین پہلا کام یہ کریںکہ… جیسے ہی بھائی افضل شہید رحمۃ اللہ
علیہ کی کتاب مکتبوں پر آئے… فوراً خرید لیں… آپ جانتے ہیں کہ ہمارے
مکتبوں کے کوئی تجارتی مقاصد نہیں… ہمارے ہاں تو مصنفین کو بھی کوئی رائلٹی،
معاوضہ اجرت نہیں دی جاتی… سب فی سبیل اللہ لکھتے
ہیں…اورمکتبے کا نفع دینی کاموں میں خرچ ہوتا ہے… جن مسلمانوں
کو اللہ تعالیٰ نے استطاعت دی ہے وہ کم از کم پانچ کتابیں
خرید کر تقسیم کریں… اپنے اُس مظلوم شہید کی آواز اُمت تک پہنچانا ہم سب پر لازم
ہے… جسے جیل کی کال کوٹھڑی ہی میں شہید کر کے دفن کر دیا گیا… انٹرنیٹ، فیس بک اور
ٹویٹر کے کھلاڑی وہاں اس کتاب کی تشہیر کریں… اور اس کتاب کوزیادہ سے زیادہ تعداد
میں کشمیراور انڈیا تک پہنچانے کی… بھرپور کوشش
خالص اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے کریں… باقی رہی اجتماع میں
شرکت تو اُس کے تین درجے ہیں… وہ ان شاء اللہ آئندہ ہفتے
عرض کئے جائیں گے…
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللّٰھم
صل علٰی سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
کی خاطرجو لوگ تکلیفیں برداشت کرتے ہیں… اللہ تعالیٰ اُن پر
اپنے راستے کھول دیتے ہیں… ہمارے بھائی محمد افضل گورو شہید رحمۃ اللہ
علیہ نے بہت تکلیفیں برداشت کیں… وہ ’’مجاہدۂ نفس‘‘ کے اُس مقام پر پہنچے،
جس کا تصور بھی عام انسانوں کے لئے مشکل ہے…انڈیا کے مشرک… دنیا کی غیر مہذب ترین
قوم ہیں… آپ یقین کریں، انتہائی بدترین قوم… نہ اخلاق، نہ حیا، نہ غیرت اورنہ
کوئی اصول… بس جانوروں کی طرح مفاد پرست، ہرطرح سے آزاد… اور ہر طرح کے انسانی
جذبوں سے عاری… وہ اپنے قیدیوں کے ساتھ ایسا بُرا سلوک کرتے ہیں، جس کا کسی اور
ملک یا قوم میں رواج نہیں… بھائی محمد افضل رحمۃ اللہ علیہ نے ایسے
ظالموں کی قید میں مسلسل تیرہ سال کاٹے… بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ’’جیل‘‘ کی
آزمائش’’اضطراری‘‘ ہوتی ہے… یعنی جبراً انسان پر مسلّط ہوجاتی ہے، کوئی اپنی مرضی
سے توجیل جاتانہیں… اس لئے اسے’’مجاہدۂ نفس‘‘ نہیں کہا جا سکتا… کیونکہ
یہ’’مجاہدہ‘‘ اپنے اختیاراور اپنی مرضی سے نہیں کیا جاتا…لوگوں کی یہ سوچ غلط ہے…
اول توایسے راستے کو اختیار کرنا جس میں قید اور جیل آسکتی ہو یہ انسان کے اپنے
اختیار سے ہوتا ہے… دوسرا یہ کہ جیل جانے کے بعد انسان کے لئے آرام اور راحت حاصل
کرنے کے کئی راستے کھلے رہتے ہیں… جموںکشمیر میں انڈین حکمرانوں نے ایک ایسی جیل
بھی بنا رکھی ہے جہاں کی سہولتیں بعض معاملات میں آزادی سے بھی زیادہ ہیں… جو کچے
افراد جہاد میں آجاتے ہیں اور پھرتھوڑی سی تکلیف اورمجاہدہ بھی برداشت نہیں کر
سکتے بلکہ گرفتار ہوتے ہی دشمن کے قدموںمیں گر جاتے ہیں… اور اُن کے لئے اپنی
خدمات پیش کر دیتے ہیں ایسے افراد کو اُس جیل میں رکھا جاتاہے… اور وہاںاُن کے
اخلاق اورعادات کومزید بگاڑاجاتا ہے… جیلوں میں بیٹھ کر کئی افراد نے بڑی بڑی
جائیدادیں بنائیں اور ہر وہ ناجائز لذت حاصل کی جو بہت سے آزاد افرادکو بھی
آسانی سے میسّر نہیں آتی… اس لئے دشمن کی جیل میں اپنے ایمان اور جہاد پر ثابت
قدم رہنا… وہ عمل ہے جو انسان کو بہت سے ’’مجاہدات‘‘اور تکلیفوں میں ڈالنے کا
ذریعہ بنتا ہے… اسی طرح جیل میں اپنے دینی اعمال پر ثابت قدم رہنا بھی آسان کام
نہیں ہوتا… وہاں کوئی نہیں پوچھتا کہ آپ نے نماز پڑھی یا نہیں… وقت پر پڑھی یاقضا
کردی… صبح دس بجے اٹھے یاچار بجے… وہاں معمولات کے بارے میں پوچھنے والا بھی کوئی
نہیں ہوتا… اور دشمن کی جیل میں یہ دعوت چلانے والے شیاطین بکثرت پائے
جاتے ہیں کہ… خود کو’’سیکولر‘‘ بنا کر رکھو تاکہ آزادی مل سکے اورجیل میں زیادہ
سختی نہ ہو… بہت سے باریش افراد اسی پھندے میں پھنس کر داڑھی سے محروم ہوئے…کئی نے
نمازیں ترک کر دیں اورکئی نے دینی اعمال اور اچھے کردار سے ہاتھ دھولئے… آپ اپنے
ملک میں چاروں طرف نظر دوڑائیں آپ کو ایسی کئی شخصیات نظر آجائیں گی… جنہوں نے
محض چارچھ ماہ کی قید میں ہی اپنے’’نظریات‘‘ بدل لئے… بھائی محمد افضل شہید رحمۃ
اللہ علیہ تیرہ سال تک ایسے ظالم اور موذی دشمن کی قید میں رہے… مگر
اُن کے نظریات میں ذرہ برابر تبدیلی نہ آئی… بلکہ اُن کے عزم اورشرح صدر میںمزید
اضافہ ہی ہوتا چلا گیا… وہ شادی شدہ تھے اور شادی شدہ افراد کے لئے جیل کاٹنا
کنوارے افراد کی بنسبت کافی مشکل ہوتا ہے… اُن کا ایک معصوم پھول جیساپیارا بیٹا
تھا… اس بچے نے جب سے شعور کی آنکھیں کھولیں اپنے والدکو سلاخوں کے پیچھے ہی دیکھا…
مگر اُسے یہ بات کبھی نہیں بھولے گی کہ اُس نے اپنے باپ کو ہمیشہ مسکراتے ہی
دیکھا… اُن کی اہلیہ کو اپنے خاوند کی قید کے دوران سوپور سے دہلی تک ڈھائی ہزار
بار سفر کرنا پڑا… کوئی اور ہوتا تو اپیلیں، فریادیں، انسانی حقوق کی دھائیاں اور
حکمرانوں کی منت سماجت کے راستے ڈھونڈتا… مگر یہاں
ماشاء اللہ ہر منظر ایمان اور زندگی سے بھرپور ہے… لوگ
جیلوں میں بیٹھ کر لمبی لمبی درخواستیں لکھتے ہیں… اپنی رہائی کے لئے بااثرافراد
کو خطوط لکھواتے ہیں… مگر بھائی محمد افضل رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ میں
جب قلم آیا تو وہ آفاق شہید رحمۃ اللہ علیہ کی داستان لکھنے بیٹھ
گئے… انہوں نے کشمیر کے نوجوانوں کو سمجھایا کہ پتھر چھوڑو بندوق اٹھاؤ… انہوں نے
گاندھی واد اور عدم تشدد کا پرچارکرنے والے لیڈروں کے مکر کا پردہ چاک کیا… اور
مسلمانوں کو ایمان اور جہاد کی طرف کھینچنے والا ایک ’’آئینہ‘‘ تیار کر ڈالا… ایک
بات یاد رکھیں دنیا میں کسی انسان کی دنیاوی خواہش مکمل پوری نہیں ہوتی… جو میاں
بیوی ساتھ رہتے ہیں وہ بھی بالآخر ایک دن جدا ہوجاتے ہیں… بیس سال دودھ اور شہد
کی طرح محبت میں ساتھ رہنے والے میاں بیوی کے درمیان جب اچانک نفرت کی لکیر آتی
ہے تو انہیں آپس میں ایک ساتھ گزارا ہوا ایک دن بھی یاد نہیں رہتا… انسان ساری
زندگی شاہانہ کھانے کھائے صرف ایک دن معدے کا درد اٹھے تو یہ تک یاد نہیںرہتا کہ
پوری زندگی بکرے کھائے یا دال… بس ہر چیز بری لگنے لگتی ہے… انسان دنیا میںجتنی
بھی دنیوی عزت پالے پھر بھی اُس کے اندر کا احساس تنہائی ختم نہیں ہوتا… کیونکہ
نفس پرست انسانوں کا نفس … نعوذباللہ خدائی
کا دعویدارہوتا ہے اور وہ سب کچھ اپنی مرضی کے مطابق چاہتا ہے… اورپھر جب سب کچھ
اپنی مرضی کے مطابق نہیں ہوتا ہے تو انسان…محرومی کے احساس میں تڑپنے لگتا ہے…
اس
لئے یہ سوچنا کہ جس کو دنیا میں کچھ نہیں ملا… وہ ناکام ہے… یہ بڑی غلط سوچ ہے…
دنیا میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کیا ملا؟… آج
اُن کے نام پر ویٹی کن میں سونے کی ریاست قائم ہے… مگر سیدنا
عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی غریبی، مسکینی اور مظالم سہتے
ہوئے گزری… اور بالآخر اُن کے دشمنوں نے انہیں اپنے گمان میں سولی پر قتل کر دیا…
تب اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ سلامت اسی دنیوی زندگی کے
ساتھ آسمانوں پر اٹھا لیا… حضرت عیسیٰ علیہ السلام کامیاب
رہے، اُن کی کامیابی میں شک کرنا بھی کفر ہے… مگر اپنی زندگی میں انہوں نے اس دنیا
میں کیا پایا؟… معلوم ہوگیا کہ جو دنیا میں اپنے مجاہدات اور تکلیفوں کا دنیوی
بدلہ نہ پائے وہ زیادہ بڑا کامیاب ہوتا ہے… ابھی کچھ دن پہلے جب لاہور والے’’داتا
جی‘‘ کا عرس منا رہے تھے، پورا لاہور بند تھا… اربوں پتی حکمران پھول چڑھانے مزار
پر جارہے تھے… کروڑوں نہیں اربوں روپے اس عرس میں اِدھر اُدھر ہورہے تھے… ہر طرف
دیگیں ہی دیگیں پک رہی تھیں… تب مجھے خود حضرت ہجویری رحمۃ اللہ
علیہ کی زندگی کے مجاہدات اور تکلیفیں یاد آئیں کہ… لاہوریوں نے اُن
کی زندگی میں اُن کے ساتھ کیا معاملہ کیا… اور اب اُن کے وصال کے بعد کیا معاملہ
کر رہے ہیں… حضرت ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کا اسم گرامی’’علی‘‘ اور والد
محترم کا نام’’عثمان‘‘ ہے… آپ کی کنیت ابوالحسن تھی اور قبیلہ سادات کے چشم و
چراغ تھے… ان سب چیزوں کو جوڑیں تو پورا نام یوں بنتا ہے…
سید
ابوالحسن علی بن عثمان ہجویری رحمۃ اللہ علیہ
آپ
لاہور کے رہنے والے نہیں تھے… بلکہ افغانی تھے یعنی غزنی کے رہنے والے تھے… لاہور
میں آپ جب اپنی مایہ ناز کتاب’’کشف المحجوب‘‘ لکھ رہے تھے تو آپ نے افسوس کے
ساتھ فرمایا کہ… میں یہاں لاہور میں اپنے ناجنسوں… یعنی غیر مانوس لوگوں کے درمیان
ہوں اور میرا کتب خانہ غزنی میں رکھا ہے… اللہ تعالیٰ کے اس
مقبول ولی کی پوری زندگی اسفار اور مجاہدات میں گزری… اور دنیا میں ناقدری کے ایسے
واقعات پیش آئے کہ آج کے بزرگ اُن کا تحمل نہیں کر سکتے…
مگر
آج ساری دنیا مانتی ہے کہ… حضرت ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کامیاب تھے اور
اُن کا فیض آج تک جاری ہے… مصر کے معروف زمانہ ولی حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ
علیہ کےبارے میں آتا ہے کہ… اُن کے شہر اور محلے کے لوگ تک اُن کو
نہیں پہچانتے تھے… جبکہ آج ہماری یہ حالت ہے کہ کوئی دکاندار ہمیں زیادہ رعایت نہ
دے تو ہمیںخطرہ لگنے لگتا ہے کہ… شاید ہماری نماز قبول نہیں ہوئی ہو گی… کیونکہ
اگر نماز قبول ہوتی تو یہ دکاندار ہمیں زیادہ رعایت دیتا اور ہمارا زیادہ اکرام
کرتا…
اَسْتَغْفِرُﷲ،
اَسْتَغْفِرُﷲ، اَسْتَغْفِرُﷲ
کتنے
خسارے کی بات ہے کہ… ہر نیکی کا بدلہ دنیا ہی میں پانے کی خواہش انسان کے دل پر
سوار ہوجائے…
بھائی
محمد افضل گورو رحمۃ اللہ علیہ نے جیل میں بھرپور’’مجاہدہ‘‘پایا… ایسے
’’مجاہدہ‘‘ سے انسان کے اندر کی آنکھیں کھل جاتی ہیں… اور اُسے ’’حقائق‘‘ کا
مشاہدہ ہونے لگتا ہے… اس کو ایک مثال سے سمجھیں… چار پانچ سال کے ایک بچے کو بتایا
جائے کہ ہم آپ کو… اسم اعظم سکھا دیں گے… یہ وہ اسم ہے کہ جس کو پڑھ کر آپ جو
کچھ مانگیں گے… وہ فوراًمل جائے گا… اب وہ بچہ کیا مانگے گا… بہت سی چاکلیٹ،
ٹافیوں کے بھرے ہوئے پیکٹ… اوریہ کہ میری امی مجھے دودھ کا فیڈر لبالب بھر کر دیا
کرے… آپ اس بچے کو لاکھ سمجھائیں کہ بیٹا آپ وزارت عظمٰی مانگیں،لندن میں فلیٹ
مانگیں، امریکہ کا گرین کارڈ مانگیں… خوبصورت دلہن مانگیں… مگر وہ نہیں سمجھے
گا،بلکہ ڈرے گاکہ دلہن آگئی تو آدھی ٹافیاں وہ کھا جائے گی… اب دوسرا منظر آپ
کسی بالغ عمر کے شخص کو اسم اعظم بتائیں… کیا وہ بھی ٹافیاں اور چاکلیٹ مانگے گا؟…
بلکہ اگر اُسے کہا جائے کہ اسم اعظم کے ذریعہ دعاء کر کے ٹافیاں مانگو تو اُسے
ہنسی آئے گی اور یہ سب کچھ مذاق معلوم ہوگا…
بس
یہی حال اُن لوگوں کا ہے جن کو ’’مشاہدہ‘‘ نصیب ہو… یعنی دیکھنے کی طاقت… اُن کو
دنیا کی یہ پوری زندگی ایک ٹافی جیسی لگتی ہے… یہاںکی حکومت، یہاں کی عزت، یہاںکی
شہوات، یہاں کی خواہشات… بس ایک ٹافی کے برابر… اور آخرت ہمیشہ ہمیشہ کی دائمی
لذت… چنانچہ وہ باوجود اسم اعظم رکھنے کے کبھی دنیانہیں مانگتے… بلکہ دنیا کی
ناقدری اور دنیا کے دکھ درد پر صبر کر لیتے ہیں… اور یوں کامیاب ہو جاتے ہیں…
ایک اللہ والے بزرگ نے کسی کو بتایا کہ… میرا ہمیشہ تہجد کا
معمول ہے…اوراب یہ حالت ہے کہ تہجد کے وقت مجھے پوری دنیا ایک چھوٹے سے خوبصورت
گلدستے کی طرح نظر آتی ہے… اوروہ گلدستہ میرے سامنے رکھا ہوتاہے… سننے والے نے
تڑپ کر کہا! پھر آپ اس گلدستے کے کسی حصے پر اپنا ہاتھ کیوں نہیں رکھ دیتے؟ یعنی
دنیا میں سے وافر حصہ لے کیوںنہیں لیتے؟… وہ فرمانے لگے کہ ! اگرمیں تہجد کی نماز
کے بدلے اتنی چھوٹی سی دنیا لے لوں تو اس سے بڑا خسارے والا سودا اور کیا ہوگا؟…
انڈین حکومت اپنی پارلیمنٹ پر حملے کی وجہ سے سخت شرمندگی، ذلت اور غصے کا شکار
تھی اور اُس کے ہاتھ میں… یہ سارے بوجھ اتارنے کے لئے ایک ہی مظلوم جان تھی… اور
وہ تھے ہمارے پیارے بھائی محمد افضل گورو شہید رحمۃ اللہ علیہ … انڈیا غصے اور غم
سے پھٹ رہا تھا جبکہ… پُرسکون ’’افضل‘‘ جیل میں ’’مشاہدے‘‘ کی اونچی منزلیں طے
کررہا تھا… بالآخر اُس کا ’’شرح صدر‘‘ ایک خاص مقام تک پہنچا تو…’’آئینہ‘‘ نامی
کتاب قلم سے کاغذ پر اُتر آئی… الحمدللہ یہ کتاب شائع ہو چکی ہے… ہمارا پہلا ہدف کتاب کے
ایک لاکھ نسخے مسلمانوںتک پہنچانے کا ہے… آپ سب اس مبارک کام میں اپنا حصہ
ڈالیں…ایک زندہ، ایک شہید اور ایک مقبول انسان کے دینی کام کو ہم آگے بڑھائیں گے
تو… ان شاء اللہ ہمیں بھی زندگی اور قبولیت ملے گی…
بندہ
نے چند نسخے خرید کر تقسیم کرنے کی نیت کر لی ہے… آپ بھی کرلیں اور جلد اپنی نیت
کو عمل تک پہنچائیں… الحمدللہ پورے ملک سے کتاب کے لئے ’’آرڈر‘‘ مکتبہ کو
موصول ہو رہے ہیں اور اہل مکتبہ کے پریشانی سے ہاتھ پاؤںپھول رہے ہیں… اسی لئے تو
ہم کہتے ہیں کہ… بلاشبہ شہید زندہ ہے…
26جنوری۲۰۱۴ء
اتوار کے دن… مظفر آباد میں اس کتاب کی تقریب افتتاح کا اجتماع ہے… اجتماع میں
شرکت کے تین درجے ہیں… پہلا یہ کہ… اپنا مال اور اپنا وقت لگا کر خود اجتماع میں
شریک ہوں… ایسے مواقع زندگی میں روز نہیں آتے…
دوسرا
درجہ یہ کہ… اجتماع کے اخراجات میں مالی تعاون کریں اور تیسرا درجہ یہ کہ… دل کے
مکمل اخلاص کے ساتھ اجتماع کی کامیابی اورقبولیت کی مستقل دعاء اجتماع مکمل ہونے
تک کرتے رہیں…
وَمَا
تَوْفِیْقِیْ اِلّا بِاللہ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَاِلَیْہِ اُنِیْب
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللّٰھم
صل علیٰ سیّدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
کا شکر ہے’’ جہاد فی سبیل اللہ ‘‘ کی دعوت اور ’’جہاد فی
سبیل اللہ ‘‘ کا عمل… یہ دونوں بہت تیزی سے ساری دُنیا میں پھیل رہے
ہیں…
آج
سے چند سال پہلے پاکستان میں ایک طاقتور حکمران نے اعلان کیا تھا کہ… اب اس ملک
میں صرف’’روشن خیالی‘‘چلے گی… اور جہاد ’’انتہا پسندی‘‘ ہے اور ہم’’انتہا پسندی‘‘
کا مکمل خاتمہ کردیں گے… اُن دنوں اُس حکمران نے جہاد کے خلاف ایسی سختی اٹھائی
کہ… لوگ مجاہدین کو’’مساجد‘‘ میں بیان تک نہ کرنے دیتے… اور کئی مدارس
نے’’مجاہدین‘‘ کا داخلہ بند کر دیا… سنا ہے وہ’’روشن خیالی‘‘ آجکل پنڈی کے ایک
فوجی ہسپتال میں’’زیر علاج‘‘ ہے…
اُس
بے چاری کو سات بڑی بڑی ’’بیماریاں‘‘ لپیٹے پڑی ہیں… اُس کے دل کی بعض شریانیں بند
ہیں… کندھوں میں درد اور سر میں ڈپریشن کی تکلیف ہے… گردے ٹھیک کام نہیں کر رہے
اور مثانہ بُری طرح سے سوزش کا شکار ہے… یہ روشن خیالی اٹھتے بیٹھتے ایک ہی نعرہ
لگاتی تھی… سب سے پہلے پاکستان… مگر آج کل وہ فرماتی ہے!!… سب سے پہلے امریکہ
میںعلاج… روشن خیالی کی بیماری آئی ہی امریکہ سے تھی… اورپھر وہ امریکہ کی خاطر
ہی بیمار پڑی… اب علاج بھی امریکہ میں ہوگا… بھائیو دل سے کہہ دو
’’ﷲ
اکبر کبیرا‘‘
یاد
تو کرو آٹھ دس سال پہلے کے حالات… اور پھر اپنے عظیم رب تعالیٰ کی قوت، نصرت اور
تدبیر کو یاد کرو… ماشاء اللہ جہاد زندہ ہے، خوب زندہ ہے،
بلکہ زندگی بانٹ رہا ہے… اور ہر طرف تیزی سے پھیل رہا ہے… ان شاء اللہ
26 جنوری ۲۰۱۴ء
ایک مثالی مجاہد کا اجتماع… مظفر آباد میں برپا ہوگا… معلوم نہیں اُس دن روشن
خیالی کہاں ہوگی؟ پاکستان میں یا امریکہ میں… اچھا اس بات کو تھوڑا سا روک کر ایک
چھوٹی سی وضاحت… ربیع الاوّل کا مہینہ گذررہا ہے اور اس بار’’ رنگ ونور‘‘ میں سیرت
طیبہ کے موضوع پر کچھ نہیں آیا… بات دراصل یہ ہے کہ حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کے ساتھ ہم غلاموں کا رشتہ کسی خاص مہینے یا خاص دن تک محدود نہیں
ہے… ہم عیسائی نہیں… وہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سال
میں’’کرسمس‘‘ کے دن یاد کرتے ہیں… یا کبھی کبھار اتوار کے دن… جبکہ ہم مسلمان!
ہر
ایک شام و سحر سے پہلے
میں
تجھ پہ آقا درود بھیجوں
الحمدللہ کافی عرصہ سے معمولات کی ترتیب کچھ یوں ہے
کہ…صبح اور شام کے تمام معمولات کا آغاز درود شریف سے ہوتا ہے…
اَللّٰھُمَّ
صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہِ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ فِیْ اَوَّلِ
کَلَامِنَا
اَللّٰھُمَّ
صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہِ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ فِیْ اَوْسَطِ
کَلَامِنَا
اَللّٰھُمَّ
صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہِ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ فِیْ آخِرِ
کَلَامِنَا
ترجمہ
اس درود شریف کا مختصر طور پریہ ہے کہ… ہمارے ہر کلام کے شروع، درمیان اوراخیر
میں… ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل پر
درودو سلام ہو…
’’آل‘‘
کے ہم وہ معنیٰ لیتے ہیں جن میں… رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے اہل خانہ، اہل بیت اور حضرات صحابہ کرام تمام شامل ہوتے ہیں…
اِس سال جب ربیع الاول شروع ہوا تو ارادہ بنا کہ مسلمانوں کے نام ایک سؤالنامہ
بھیجا جائے تاکہ وہ اُس پر خود غور کریں… اس سؤالنامے کے چند سؤال یہ تھے؟
١ رسول
کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ میں… بارہ ربیع الاول کا جلوس
مدینہ منورہ میں کس مقام سے نکلتا تھا اور اس کا اختتام کہاں ہوتا تھا؟
٢ اس
جلوس کے شرکاء نے کس رنگ کا لباس پہنا ہوتاتھا اور وہ جلوس کے راستے میں کیا پڑھتے
تھے؟
٣ حضرت
صدیق اکبر رضی اللہ عنہ … جو سب سے بڑے عاشق رسول صلی اللہ علیہ
وسلم تھے اُن کے دو سالہ دور خلافت میں… بارہ ربیع الاول کے مرکزی جلوس
کی قیادت خود حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے یا
آپ کا کوئی مقرر کردہ نائب؟…
٤ حضرت
صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں… یکم ربیع الاول
سے بارہ ربیع الاول تک مدینہ منورہ کے کن کن مقامات پر چراغاں ہوتاتھا… مکہ مکرمہ
میں عید میلاد کا جلوس کس کی قیادت میں نکلتا تھا… اور عید میلاد کا مرکزی جلسہ
اُن دنوں مکہ مکرمہ میں ہوتاتھا یا مدینہ منورہ میں؟؟…
یہ
ہیں چار سؤال… اس طرح کے کل دس سوالات تھے آپ سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں ان
کے ’’جوابات‘‘ تلاش کریں… آپ کہیں گے کہ ہم نے بہت تلاش کیا… اُن دنوں تو کوئی
جلوس نکلتا ہی نہیں تھا… نہ کوئی محفل برپا ہوتی تھی… اور نہ چراغاں… پھر سؤال یہ
ہے کہ اگراُن دنوں یہ سب کچھ نہیں ہوتا تھا تو اب یہ سب کچھ کیوں لازم ہو چکا؟
دراصل غیروں کے ساتھ ساتھ بہت سا قصور اپنوں کا بھی ہے… ہم مسلمانوں کے لئے سال کا
ہر دن عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دن ہے…
اَللّٰھُمَّ
صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہِ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ کُلَّمَا
ذَکَرَہُ الذَّاکِرُونَ وَکُلَّمَا غَفَلَ عَنْ ذِکْرِہِ الْغَافِلُونْ
بات
واپس جہاد اور اجتماع پر لاتے ہیں… ابتداء میں جہاد کے موضوع پر جب بعض مختصر
رسالے لکھنے کی توفیق ملی تو… ایک سال کے اندر ہی اُن رسالوں کا انگریزی ترجمہ
ہونے لگا… اُس وقت یہ محض ایک اتفاق لگتا تھا…برطانیہ کے کچھ مخلص دوست خود بخود
متوجہ ہوئے… اور انہوں نے بڑے سلیقے سے ترجمہ کیا اور ان کتابچوں کو برطانیہ ہی سے
شائع کر دیا… اُن دنوں برطانیہ اور یورپ کے مسلمانوں میں’’مجاہدین‘‘ بہت ہی کم
تھے… انہیں صرف’’ بوسنیا‘‘ کا محاذ میسر تھا اور یہ محاذ بھی بہت جلد بند ہوگیا…
جبکہ بعض مجاہدین نے افغانستان اور کشمیر کارخ کیا… یہ تمام افراد بس اتنے تھے کہ
انہیں آسانی سے انگلیوں پر شمار کیا جا سکتا تھا… مگر جب انڈیا سے رہائی پر واپسی
ہوئی تو دیکھا کہ افغانستان اور کشمیر دونوں طرف… یورپی مجاہدین جنہیں آپ’’پونڈ
اینڈ یورو کمانڈوز‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں… کافی تعداد میں محاذوں پر موجود ہیں… کل
رات ایک پرانی کتاب کی ورق گردانی کرتے ہوئے اپنے قلم سے لکھا ہوا وہ مضمون سامنے
آگیا جو برطانیہ کے ایک مجاہد… بلال شہید رحمۃ اللہ علیہ کی یاد میں
تھا…
مقام
کرگس وشاہیں ہے اپنے ظرف کی بازی
جو
ٹھکرا دے صراحی کو اُسے مے خانہ ملتا ہے
اُس
مضمون میں لکھا تھا کہ… آج کل کتنے لوگ برطانیہ کے پاسپورٹ کے لئے اپنی زمین سے
لیکر اپنے ضمیر تک کیا کچھ بیچ ڈالتے ہیں… جبکہ بلال شہید رحمۃ اللہ
علیہ کے پاس یہ پاسپورٹ پیدائشی طور پر موجود تھا… مگر اُس نے ادنی اور
حقیر چیزکو چھوڑ کر… اعلیٰ خیر یعنی شہادت کو پالیا… پھر نائن الیون شروع
ہوگیا…برطانیہ، یورپ اور امریکہ کے مجاہدین کے لئے افغانستان اور کشمیر جاناممکن
نہ رہا… مگر پھر اچانک عراق سے لیکر شام تک اور لیبیا سے لیکر مالی تک محاذ ہی
محاذ کھلتے چلے گئے… پچھلے دنوں خبر آئی کہ صومالیہ میں کئی ہزار امریکی اور
یورپی مجاہدین موجود ہیں… اب خبرآرہی ہے کہ عراق اور شام میں کئی ہزار برطانوی
اور یورپی مجاہدین موجود ہیں… اوریہ بھی بتایا جارہا ہے کہ… صرف مرد ہی نہیں بلکہ
بہت سی خواتین بھی امریکہ، برطانیہ اور یورپ سے ہجرت کر کے… جہادی محاذوں تک جا
پہنچی ہیں اور وہ باقاعدہ جنگ میں حصہ لے رہی ہیں…
ماضی
میں عربوں کے لئے صرف ایک محاذ تھا… مگر اب’’عرب مجاہدین‘‘ کے لئے دنیا میں کم
ازکم آٹھ یا نو بالکل کھلے محاذ موجود ہیں اور ان محاذوں پر… عرب مجاہدین کی
تعداد سینکڑوں میں نہیں بلکہ ہزاروں میں ہے… مسلمانوں میں بعض قومیں جہادی حوالے
سے بہت اونچی تاریخ رکھتی ہیں… مثلاً کُرد قوم… آپ جانتے ہوں گے کہ نامور مسلمان
فاتح حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ ’’کُرد‘‘ تھے… مگر
دشمنان اسلام کی طرف سے اس قوم کے خلاف سخت محنت کی گئی اور ان میں… علاقائی اور
لسانی قوم پرستی کے جراثیم پھیلائے گئے تاکہ یہ قوم اپنی جنگی صلاحیتوں کو اسلام
کے لئے استعمال نہ کر سکے…دوسری طرف انہیں جغرافیائی طور پر کئی ملکوں میں تقسیم
کر دیا گیا… کچھ عراق، کچھ ترکی اور کچھ شام میں پھنس گئے… مگر الحمدللہ تحریک جہاد کی برکت سے اب کُردوں میں بھی اسلامی
اور جہادی رجحانات بڑھ رہے ہیں… اور عراق کے بہت سے کُرد حریت پسند… اب ما
شاء اللہ باقاعدہ ’’مجاہد‘‘ بن چکے ہیں… جہاد اورمجاہدین کے
خلاف’’میڈیا‘‘ پر آج کل کافی منفی خبریں آرہی ہیں… مثلاً شام کے مجاہدین آپس
میں لڑ پڑے ہیں وغیرہ…
یہ
تمام خبریں بناوٹی،جھوٹی اور مبالغہ پر مبنی ہیں… امریکہ اور یورپ نے ’’بشار
الاسد‘‘ کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ دیاہے بس اسی ہاتھ رکھنے سے… یہ تمام خبریں جنم لینے
لگی ہیں… مجاہدین میں تھوڑے بہت اختلافات چلتے رہتے ہیں… کبھی کبھار لڑائی جھگڑا
بھی ہوجاتا ہے…پونڈ اوریورو کے نوٹ جہاں پہنچیں اور وہاں جھگڑا نہ ہو یہ ممکن نہیں
ہے… مجاہدین بھی سارے’’برحق‘‘ نہیں ہوتے، بہت سے دشمن بھی’’مجاہدین‘‘ کا روپ دھار
کر انہیں بدنام کرتے ہیں… سب’’مجاہدین‘‘ کا ظرف بھی ایک جیسا نہیں ہوتا… کچھ صبر
اور بلند مقام والے ہوتے ہیں… جبکہ کچھ تھوڑی سی فتوحات دیکھ کر بہک جاتے ہیں…
قرآن
و حدیث نے پہلے سے یہ سب کچھ ہمیں بتا دیا ہے… اس لئے الحمدللہ ہم اس طرح کی خبروں سے مایوس نہیں ہوتے…اول تو
یہ خبریں جھوٹی اور مبالغہ آمیز ہیں… اگر شامی مجاہدین آپس میں اتنی سخت جنگ لڑ
رہے ہوتے جو خبروں میں آرہی ہے تو ’’بشارالاسد‘‘ کی حکومت اُن کا کچومر نکال
دیتی… جبکہ حال یہ ہے کہ کل ہی شامی وزیر خارجہ نے مجاہدین سے قیدیوں کے تبادلے
اور بعض علاقوںمیںجنگ بندی کی بھیک مانگی ہے… دوسری بات یہ ہے کہ اگر مجاہدین کے
درمیان جنگ کی یہ خبریں سچی ہیں تو … سوچنے کی بات یہ ہے کہ مجاہدین اب کس قدر
طاقتور ہو چکے کہ ایک ہی وقت میں دشمنوں سے بھی لڑ رہے ہیں اور آپس میں بھی لڑ
رہے ہیں… کیونکہ اب تک یہ تو کسی نے نہیں سنا کہ شامی حکومت نے کوئی علاقہ مجاہدین
سے خالی کرالیاہے…
دراصل
اس وقت مسلمانوں کے دوطبقے ہیں… ایک وہ طبقہ جو اپنے دین کی خاطر لڑ سکتا ہے، لڑنا
چاہتا ہے،یا لڑنے والوں کے ساتھ تعاون اور محبت کا تعلق رکھتا ہے… اور دوسراوہ
طبقہ جو اپنے دین کی خاطر نہیں لڑ سکتا اور نہ ہی لڑنا چاہتا ہے… اور نہ ہی دین کی
خاطر لڑی جانے والی کسی جنگ میں تعاون کرتا ہے… اب سے کچھ عرصہ پہلے تک
مسلمانوںمیں پہلا طبقہ آٹے میں نمک برابر بھی نہیں تھا… حالانکہ تمام کے تمام
حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اسی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں…
تمام برحق صوفیاء کرام بھی اسی طبقے سے تھے… قرآن مجید اول تا آخر… اور رسول
کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اول تا آخر مسلمانوں کو اسی
طبقے میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں… جبکہ دشمنان اسلام کی ہمیشہ سے یہ محنت ہے
کہ… مسلمان یا تو کافر بن جائیں اور اگر کافر نہیں بنتے تو دوسرے طبقے والے مسلمان
بن جائیں تاکہ… انہیں اور ان کی نسلوں کو غلام بنا کر رکھا جا سکے… الحمدللہ گذشتہ پچیس تیس سال کے جہاد کا یہ کھلا ثمرہ اور
نتیجہ سامنے آیا ہے کہ… مسلمانوں کے پہلے طبقے میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے… اور
یہ طبقہ جوں جوںبڑھتا جائے گا کفر اوراس کی طاقت اسی قدر کمزور ہوتی چلی جائے گی…
مقصد یہ کہ دور حاضر کی جہادی تحریک کے نتائج اور ثمرات بہت وسیع اورمثالی ہیں…
مبارک ہو شہداء اسلام کو… بے شک اُن کا خون رائیگاں نہیںگیا…مبارک ہو غازیان اسلام
کو کہ… اُن کا جہاد بے کار نہیں گیا… مبارک ہو جہاد میں ایک لمحہ، ایک پیسہ یاایک
پسینے کا قطرہ لگانے والوں کو کہ… ان کی کوئی قربانی نہ اس دنیا میں رائیگاں گئی
اور نہ ہی ان شاء اللہ آخرت میں ضائع ہو گی… بے شک انسان
اپنی سوچ کے مطابق مانگتا ہے… مگر اللہ تعالیٰ
قربانی دینے والوں کو ان کی سوچ سے بہت زیادہ… اپنی شان کے مطابق عطاء فرماتے ہیں…
وہ دیکھو!
فریضہ
جہاد کی فصل زمین کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک… اور دنیا سے لیکر جنت تک… جھوم
جھوم کر لہلہا رہی ہے…
محمد
افضل گورو شہید رحمۃ اللہ علیہ کانفرنس کے شرکاء کو… دل کی گہرائیوں سے
خوش آمدید
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ قبول فرمائے… الحمدللہ بھائی محمد افضل گورو شہید رحمۃ اللہ علیہ کا اجتماع واقعی ایک منفرد، مثالی اور زندہ اجتماع تھا…
الحمدللہ
الذی بنعمتہ تتم الصّالحات
اجتماع
کا آنکھوں دیکھا حال تو وہ احباب ان شاء اللہ بیان کریں
گے… جن کی خوش نصیب آنکھوں نے یہ اجتماع دیکھا… بندہ نے اس حوالے سے چند باتیں
عرض کرنی ہیں… مگر پہلے ایک امانت…
پہلے
ایک شہید کی امانت
میرے
تھیلے میں ایک باوفا’’شہید‘‘ کا خط ہے، انہوں نے آپ بھائیوں اور بہنوں کے لئے ایک
قیمتی پیغام دیا ہے… انہیں کے سادہ اور پر تأثیر الفاظ میں پڑھ لیجئے تاکہ مجھے
یہ امانت حرف بحرف پہنچانے کا ثواب مل جائے… بھائی محمد مسرور احمد
شہید رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:
’’حضرت
ایک عرض ہے کہ اگر ہو سکے تو جماعت کے روزآنہ کے معمولات(میں) ایک دعاء کا اضافہ
فرمائیں
’’اللھم
اغفر للمؤمنین والمؤمنات‘‘
تاکہ(ہر)
ساتھی روزآنہ امت کے لئے دعاء کر سکے…‘‘
سبحان اللہ
! شہداء کرام بھی عجیب لوگ ہیں… اپنے ساتھیوں کے اعمال بڑھانے کی فکر، انہیں غیبت
سے بچانے کی فکر، اور پوری امت مسلمہ کے لئے مغفرت کی فکر…
انہوں
نے جس عمل کی طرف اشارہ فرمایا ہے، اس پر پہلے بھی تفصیل سے لکھ چکا ہوں اور اب
اپنے ایک لاڈلے بھائی کی فرمائش پر ان شاء اللہ رنگ ونور یا
مکتوب کے ذریعہ ایک بار پھر تفصیل سے توجہ دلانے کا ارادہ ہے… آج صرف اتنا ہی کہ
یہ بڑا قیمتی عمل ہے… جو مسلمان بھی اپنے تمام مسلمان بھائیوں کے لئے روزآنہ
ستائیس بار استغفار کرتا ہے، اُسے تین نقد انعامات دیئے جاتے ہیں:
١ تمام
مسلمانوں کی تعداد کے برابر نیکیاں اُس کے نامہ اعمال میں لکھ دی جاتی ہیں…
٢ اُسے’’مستجاب
الدعوات‘‘ بنا دیا جاتا ہے… یعنی اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں…
٣ اس
کی برکت سے بہت سے افراد کو روزی عطاء فرمائی جاتی ہے…
یہ
باقاعدہ مسنون عمل اور حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اور فرشتوں کا وظیفہ ہے…
الفاظ کوئی بھی ہوں مقصد یہ کہ دل کی توجہ کے
ساتھ اللہ تعالیٰ سے تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کے لئے
مغفرت کی دعاء مانگی جائے…
رَبِّ
اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَاب
یا
اَللّٰھُمَّ
اغْفِرْلِیْ وَلِلْمُؤمِنِیْنَ وَالْمُؤمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ
وَالْمُسْلِمَاتِ اَلْاَحْیَائِ مِنْھُمْ وَالْاَمْوَاتِ…
یا
وہ
الفاظ جو شہید ساتھی نے لکھے ہیں…
کم
سے کم مقدار ستائیس بار روزآنہ… اور زیادہ جس قدر بھی ہو سکے… اب واپس آتے ہیں
اجتماع کی طرف…
ایک
شعر، دل کی آواز
بابری
مسجد کی شہادت کے بعد جس اجتماعی غم نے دل کو بہت رُلایا… اور اپنی زندگی میں بعض
تبدیلیوں پر مجبور کیا… وہ بھائی محمد افضل گورو رحمۃ اللہ علیہ کی
شہادت ہے… اس غم پر دل کی جو حالت تھی وہ ہمارے بھائی وامق انصاری کے اس شعر میں
کچھ کچھ آگئی ہے:
اُٹھا
اس شان سے تو چاہنے والوں کی محفل سے
کلیجہ
چیر ڈالا چشم کو تر کر دیا تو نے
مجھے
یہ نظم بہت پسند آئی… اس کے چند اشعار بہت گہرے اور دل کی آواز ہیں… فوراً یہ
خواہش ابھری کہ اس نظم کو خوبصورت آواز مل جائے، محنت شروع ہوئی تو بھائی محمد
افضل شہید رحمۃ اللہ علیہ کی ایک اور کرامت ظاہر ہوئی اور سید عزیز
الرحمن شاہ صاحب کی آواز میں نظم کو مزید شان مل گئی… نظم کے بارے میں اتنی محنت
اُس کے’’مقطع‘‘ یعنی آخری شعر کی وجہ سے ہرگز نہیں تھی… بلکہ جب یہ نظم پڑھنی
شروع کی تو پانچویں شعر پر ہی دل کے زخم آنکھوں سے بہنے لگے… اور تمنا ہوئی کہ اس
درد کوترنم ملے تاکہ دور دور تک بھائی محمد افضل شہید رحمۃ اللہ
علیہ کا پیغام پہنچے… عجیب بات ہے!بھائی محمد افضل گورو شہید رحمۃ اللہ
علیہ کی’’زندہ کرامات‘‘ ان کی شہادت کے بعد سے مسلسل ظاہر ہو رہی ہیں…
بے شک اللہ تعالیٰ اپنے ’’شہداء‘‘ کا بہت اکرام فرماتے ہیں…
کتاب کا بحفاظت پہنچ جانا، کتاب پر اتنا عمدہ کام ہونا، کتاب کا بروقت شائع ہونا…
اجتماع کا فیصلہ… دور دور سے مسلمانوں کا مظفر آباد کھنچے چلے آنا… مجاہدین کا
فدائی جذبے سے محنت کرنا… بیانات پر انوارات کا برسنا… اور بہت کچھ…
جماعت
والے یہ سب کچھ نہ کرتے تو کوئی پوچھنے ٹوکنے والا نہیں تھا… ساتھی روز شہید ہوتے
ہیں… جہادی جماعت میں’’شہادت‘‘ کوئی نئی بات نہیں ہے… بھائی افضل کا کوئی خونی
نسبی رشتہ دار بھی یہاں موجود نہیں جو طعنہ دیتا کہ آپ نے اپنے شہید کو بُھلا
دیا… مگر ان تمام باتوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے کس طرح سے
ہزاروں افراد کو… اپنے ایک’’شہید‘‘ کے کام پر لگا دیا… نہ کسی کو گھر یاد رہا نہ
کوئی اور کام لکھنے والوں کے قلم خودبخود’’شہید‘‘ کی یاد اور تعریف میں جولانیاں
بھرنے لگے… کیا یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ’’محمد افضل
گورو شہید رحمۃ اللہ علیہ ‘‘ کا اکرام نہیں؟… یہ مناظر دیکھ کر تو ہر مسلمان
کادل’’شہادت‘‘ کے لئے مچلنے لگتا ہے… لوگوں میں’’مقبولیت‘‘ دیکھ کر
نہیں، اللہ تعالیٰ کے ہاں’’قبولیت‘‘ کے علامات دیکھ کر…
لوگوں میں ’’مقبولیت‘‘ کا کسی شہید کو کیا فائدہ؟…
ہاں اللہ تعالیٰ کے ہاں’’قبولیت‘‘ کی بعد جو مقبولیت ملتی
ہے… اُس کا ہر شہید کو فائدہ پہنچتا ہے… بے شمار دعائیں، استغفار، ایصال ثواب… اور
سب سے بڑھ کر جس کام پر جان دی اُس کام کا ترقی پانا… آپ نے وہ قصہ تو بارہا سنا
ہوگا کہ حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم جب ایک شہید کو اپنے مبارک
ہاتھوں میں اٹھا کر اور سینہ اطہر سے لگا کر دفن فرما رہے تھے تو… کئی صحابہ کرام
رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کہا! کاش ان کی جگہ ہم ہوتے…
دورِستے
ہوئے زخم
بعض
واقعات بظاہر دیکھنے میں بالکل عام سے لگتے ہیں… مگر اُن کے پیچھے بہت بڑے طوفان
چھپے ہوتے ہیں… اُس وقت اہل ایمان بیدار ہوجائیںاور اپنی طاقت کے مطابق اپنا فرض
ادا کردیں تو اللہ تعالیٰ کی مدد آجاتی ہے اور طوفان رک
جاتے ہیں… اہل مکہ نے ’’غزوۂ حدیبیہ‘‘ کے موقع پر جب حضرت سیّدنا
عثمان رضی اللہ عنہ کو روک لیا اور ان کی شہادت کی خبر اڑا
دی… یہ بظاہر عام واقعہ تھا… مسلمان شہادتوں کے عادی تھے… بڑے بڑے صحابہ کرام
رضوان اللہ علیہم اجمعین بدر، احد اورخندق وغیرہ کی جنگوں میں شہید ہو
چکے تھے… مگر حقیقت میں یہ عام واقعہ نہیں تھا… مشرکین مکہ دراصل یہ اندازہ لگا
رہے تھے کہ مسلمان کیا کرتے ہیں… اگر مسلمان انتقام کا فیصلہ نہ کرتے اور کہتے کہ
ہم بعد میں نمٹ لیں گے تو مشرکین مکہ بھرپور قوت کے ساتھ… اسلامی قافلے پر حملہ
آور ہو جاتے… وہ اپنے گھر کے قریب تھے اور چاروں طرف کے قبائل اُن کے ساتھ تھے…
لیکن جب حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’انتقام‘‘ کاحتمی فیصلہ
فرما دیا اور موت پر بیعت شروع ہوئی تو… سارے
طوفان اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور طاقت سے موڑ دیئے…
بابری مسجد کی شہادت ہندوستان میں بظاہر کوئی نیا واقعہ نہیں تھا… وہاں مشرقی
پنجاب، مغربی بنگال اور کئی علاقوںمیں اب تک سینکڑوں مسجدیں شہید کی جا چکی ہیں…
مگر ’’بابری مسجد‘‘ کی شہادت کے پیچھے’’راشٹریہ سیوک سنگھ‘‘ کی مسلسل ستر سالہ
محنت کار فرما تھی… یہ ایک ’’امتحان‘‘ تھا کہ مسلمان کیا کرتے ہیں؟… اور مسلمانوں
کی خاموشی کی صورت میں تین ہزار مساجد کی فہرست تیارتھی جو چھ ماہ میں شہید کر دی
جاتیں… لوگوں کو دراصل’’سنگھ پریوار‘‘ کی سیاست اور محنت کا علم نہیںہے… اور نہ ہی
وہ یہ جانتے ہیں کہ یہ ابوجہلی تنظیم ہندوستان کے ہر مسلمان کو ہندو بنانا یا اُسے
قتل کر دینا اپنا مشن سمجھتی ہے… اس تنظیم کی سیاسی شاخ’’ بی جے پی‘‘ ہے اور
شیوسینا… اور اس کی نظریاتی شاخ’’وشواہندو پریشد‘‘… اور اس کی عسکری شاخ’’بجرنگ
دل‘‘ ہے…اس تنظیم کے مالی اثاثے اربوں ڈالر کے ہیں اور ان کا نیٹ ورک دنیا کے کئی
ممالک میں پھیلا ہوا ہے… یہ نام، شکل اور انداز بدلنے میں ماہر ہیں… بالی وڈ کے
کئی فنکار، انڈین کرکٹ کے کئی کھلاڑی… اور دنیا کے کئی ارب پتی ان کے باقاعدہ
نظریاتی ممبر ہیں… میں اُن کے کام کے طریقوں کی تفصیل میں نہیں جاتا… عرض یہ کرنا
ہے کہ ستر سال کی جان توڑ محنت کے بعد انہوں نے… ہندوستان کی مساجد اور مسلمانوں
پر بڑا ہاتھ ڈالنے کی طاقت بنالی… اور اس طاقت کا امتحان تھا ’’بابری مسجد‘‘ کا
واقعہ… مگر اللہ تعالیٰ غالب ہے، یہ مشرکین مکہ کے گندے
انڈے اللہ تعالیٰ کی طاقت کو نہیں جانتے … انہوں نے بس اپنی
اور مسلمانوں کی طاقت کو تولا… آس پاس کے سیاسی ماحول کو دیکھا، دنیا کے حالات کو
اپنا موافق پایا تو بابری مسجد پر چڑھ دوڑے… اس کے بعد انہوں نے اصل طوفان اٹھانا
تھا… مگر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دلوں کو بابری مسجد کے
درد سے زندہ فرما دیا… بندہ اس وقت کراچی میں مقیم تھا جب یہ واقعہ ہوا تودل بے
قرار اور زخمی ہوگیا… الحمدللہ مسلمانوں کی طرف سے ایسا ردّ عمل آیا کہ…
مشرکین کواپنے ارادے بدلنے پڑے…جب بابری مسجد گرانے کا سب سے بڑا مجرم اور رام
مندر کا سب سے بڑا داعی ’’پرم راج ہنس سنگھ‘‘ اپنی آخری بھوک ہڑتال پر بیٹھا تو
دل کو ہلکا سا قرار آیا… اس نے کہا ہم نے’’بی بے پی‘‘ کو حکومت دلوائی کہ وہ’’رام
مندر‘‘ بنا دے مگر وہ بھی نہیں بنا رہی تو اب میرے جینے کا کیا فائدہ میں نے مرنے
کا ارادہ کر لیا ہے… وہ طاقتور رہنما تھا اورمنٹوں میں بی جے پی حکومت کو گرا سکتا
تھا… تب’’بی جے پی‘‘ کے واجپائی اور ایڈوانی اُس کے قدموں میں گرے، اپنی مجبوریاں
بتائیں، کچھ دن مزید انتظار کا کہا اور بھوک ہڑتال ختم کرادی… مگر وہ چند دن بعد
اپنی حسرتوں کے ساتھ مر گیا… دل کو کچھ خوشی ہوئی کہ ہم اگر بابری مسجد کو دوبارہ
تعمیر شدہ نہیں دیکھ سکے تو الحمدللہ …
مشرک لیڈر بھی رام مندر دیکھنے کی حسرت لئے مرگیا ہے…یہ خوشی ایک پہلو سے تھی… اصل
درد دل میں باقی ہے… اللہ تعالیٰ اتنی قوت دے کہ ہم دوبارہ
بابری مسجد کو اس کے اصل مقام پر دیکھ سکیں… بس ایک بار خواب میں تعمیر شدہ بابری
مسجد کی زیارت ہوئی کہ بندہ اور جماعت کے چندساتھی اس میں نماز ادا کر رہے
ہیں… اللہ کرے مجاہدین کبھی بابری مسجد کو نہ بھولیں… یہ
زخم دل میں موجود تھا کہ دوسرا زخم بھائی محمد افضل گورو کی شہادت نے لگا دیا…
جماعت کے شہداء کی تعداد دو ہزار کے لگ بھگ ہے… مگر یہ عام واقعہ نہیں ہے… یہ
مشرکوں کی طرف سے مجاہدین پر آخری وار کرنے کا پہلا امتحان ہے… اوراس کے لئے
انہوں نے بہت محنت اور بہت انتظار کیا ہے… وہ جوناگڑھ اور حیدر آباد کی طرح
کشمیریوں کا قتل عام کرنا چاہتے ہیں… وہ مشرقی پنجاب کے سکھ حریت پسندوں کی طرح
کشمیری مسلمانوں کا بھی لوہے کے رولروںمیں قیمہ بنانا چاہتے ہیں… انہیں پاکستان کی
طرف سے کافی اطمینان ہے کہ… یہاں کے حکمران اب روٹی، پیسے، تجارت اور عیاشی کے چکر
میں ہیں… انہوں نے بارڈر پر باڑھ بھی لگا دی ہے… انہوں نے اجمل قصاب کو شہید کیا
تو کوئی اس کا وارث بننے کو تیار نہ ہوا تب اس نے’’بھائی محمد افضل گورو ‘‘ کو
شہید کر دیا… وہ ہمارے ساتھی تھے، ہم انہیں بارہ سال تک رہا نہ کروا سکے… ہم نے
مشرکوں پر جو دباؤ بنا رکھا تھا اس میں بھی کمی آئی… یوں مشرک کا حوصلہ بڑھا اور
اس نے ایک بڑے طوفان کو مسلمانوں پر اٹھانے کا فیصلہ کرلیا… انڈیا پاکستان کے وجود
کو تسلیم نہیں کرتا وہ اکھنڈ بھارت بنانا چاہتا ہے…بنگلہ دیش عملاً اُس کے قبضے
میں ہے… کشمیر اس کی فوجوں کے نرغے میں ہے… اور پاکستان کے حکمران کسی خطرے کا
ادراک کرنے سے قاصر ہیں… ایسے وقت میں یہ بھائی محمد افضل گورو کی ’’شہادت‘‘ بالکل
کوئی عام واقعہ نہیں… اس وقت اگر ہم نہ جاگے اورہم نے اپنی طاقت کے مطابق قدم نہ
اٹھایا تو… برصغیر ایک دوسرا’’اسپین‘‘ بننے کو تیار ہے… مگر بھائی محمد افضل گورو
شہید رحمۃ اللہ علیہ کے درد نے مسلمانوں کو جھنجھوڑ دیا ہے… الحمدللہ عملی میدانوں سے لے کر… دعوتی میدانوں تک ایک
نئی زندگی محسوس کی جارہی ہے… سینکڑوں نوجوان بھائی محمد افضل گورو شہید رحمۃ اللہ
علیہ کاانتقام لینے کے لئے بے چین اور تیار ہیں… مظفر آباد کا اجتماع
اسی سلسلے میں اللہ تعالیٰ کی نصرت کا ایک منظر تھا… اب ہم
نے اپنے زخمی دلوں کے ساتھ اس کام کو ان شاء اللہ آگے
بڑھانا ہے… ہندوستان نے ہمیں ختم کرنے کے لئے یہ’’امتحانی قدم‘‘ اٹھایا مگر الحمدللہ حالات کے تیور خود اس کے خلاف جارہے ہیں…
بھائیو! یہ ایمان اور کفر کی جنگ ہے… یہ خالص اسلامی جہاد ہے… یہ برصغیر کے ساٹھ
کروڑ سے زائد مسلمانوں کے ایمان کو بچانے کی لڑائی ہے… پیچھے نہ ہٹو، سستی اور کم
ہمتی نہ دکھاؤ… اگر تم نے اس موقع پر ایمان کا مطالبہ پورا کیا تو ان
شاء اللہ تم ہی غالب رہو گے…
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللّٰھم
صل علٰی سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
سے دنیا اور آخرت میں عافیت کا سؤال ہے:
اَللّٰھُمَّ
اِنَّا نَسْئَلُکَ الْعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃ
حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم … اللہ تعالیٰ سے’’عافیت‘‘ کا
سؤال فرماتے تھے اور آپ نے مسلمانوں کو بھی تاکید فرمائی کہ
وہ اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگا کریں… اور آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے اپنے محبوب چچا حضرت سیّدنا عباس رضی اللہ
عنہ کو بار بار اس بات کی ترغیب دی کہ اے میرے
چچا! اللہ تعالیٰ سے’’عافیت‘‘ مانگا کریں…
ایک
ہے’’معافی‘‘ اورایک ہے’’عافیت‘‘ دونوں کا کیا مطلب ہے اور دونوں میں کیا فرق ہے؟
ایک
بہت اونچی دعاء جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سب سے عزیز اہلیہ
محترمہ حضرت سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو سکھائی…
اَللّٰھُمَّ
اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی
اس
میں’’معافی‘‘ کا سوال ہے… یا اللہ آپ معاف فرمانے والے
ہیں، معافی کو پسند کرتے ہیں، مجھے معاف فرمائیں…
لوگ
سمجھتے ہیں کہ یہ’’دعاء‘‘ صرف رمضان المبارک کے آخری عشرے میں مانگی جاتی ہے… یہ
بڑی غلطی ہے… روز مانگا کریں اور بار بار مانگا کریں… آج جب یہ کالم پڑھیں تو فرض
کے علاوہ اپنی باقی نمازوں کے رکوع، سجدے، قومے اور جلسے میں دل کی توجہ سے یہ
دونوں نعمتیں مانگیں…معافی بھی… اور عافیت بھی، آپ عجیب سکون اور لطف پائیں گے…
معافی
سے گناہ ایسے مٹ جاتے ہیں کہ کسی بھی جگہ اُن کا نام و نشان تک باقی نہیں رہتا اور
عافیت سے گناہوں کی سزائیں، نعمتوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں…
معافی
اور عافیت کا مطلب اور ان دونوںمیں فرق پھر کبھی ان شاء اللہ … آج کچھ
باتیں حالات حاضرہ پر عرض کرنی ہیں…
مذاکرات
کے بارے ہمارا مؤقف
حکومت
اور مقامی طالبان کے درمیان مذاکرات کا ماحول بن رہا ہے… اس بارے میں جو خبریں
آرہی ہیں، اُن کو دھرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ مجھے یقین ہے کہ آپ سب میڈیا پر
مجھ سے زیادہ اپنا وقت ضائع کرتے ہیں… اس لئے لازمی بات ہے کہ آپ کے علم
میں’’خبریں‘‘ بھی مجھ سے زیادہ ہوں گی… ہمارے رفقاء اس بارے ’’جماعت‘‘ کا موقف
پوچھتے ہیں… جماعت کا موقف یہ ہے کہ ہم مذاکرات کے حامی ہیں، پاکستان میں ایمان
اور امن دیکھنا چاہتے ہیں اور مذاکرات کے بارے میں نیک تمنائیں رکھتے ہیں…
امکانات
ہمارا
موقف تو وہی ہے جو اوپر آپ نے پڑھ لیا… اب آتے ہیں ان مذاکرات کے نتائج اور
امکانات کی طرف تو نہایت افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ اب تک جو اقدامات
فریقین کی طرف سے ہوئے ہیں ان میں ان مذاکرات کی کامیابی کا امکان صرف پانچ فیصد
ہے… یعنی نہ ہونے کے برابر…
وجوہات
مذاکرات
کے کامیاب نہ ہونے کی کئی وجوہات ہیں، جن میں سے چند اہم وجوہات یہ ہیں…
١ مذاکرات
میں’’میڈیا‘‘ کا حد سے زیادہ عمل دخل… میڈیا غیروں کے قبضے میں ہے درجنوں چینل ہیں
جن کو اپنا پیٹ بھرنے کے لئے خبروں کی ضرورت رہتی ہے… خبریں نہ ملیں تو افواہوں سے
کام چلتا ہے…میڈیا شہرت پسندی کے جراثیم پھیلا رہا ہے حالانکہ مسئلہ خون کا ہے،
جانوں کا ہے، ملک کی بقا کا ہے… او رایسے مسائل کے حل کے لئے’’اخلاص‘‘ شرط اول ہے…
شہرت پسندی مزید خون خرابے کا باعث بنتی ہے…
٢ دونوںطرف
کی کمیٹیاں مؤثرنہیں ہیں… کمیٹیوں میں اگرچہ بعض قابل احترام شخصیات شامل ہیں…
مگر بندوقوں کے ٹریگر ان کے قبضے میں نہیں ہیں… مذاکرات صرف اور صرف اسی وقت
کامیاب ہو سکتے ہیں جب اس میں ایک طرف مقامی طالبان کے عسکری کمانڈر ہوں اور دوسری
طرف پاکستانی افواج کے عسکری کمانڈر… اللہ تعالیٰ کو جب پاکستان’’امن‘‘
کے قابل نظر آئے گا تو ساری دنیا دیکھے گی کہ حقیقی اور واقعاتی مذاکرات انہیں دو
فریقوں کے درمیان ہوں گے…
٣ پاکستان
میں بدامنی کے بنیادی اسباب کی طرف توجہ نہیں دی جارہی… پاکستان میں بدامنی کے
بنیادی اسباب دو ہیں…
(الف) پاکستان
کا اس صلیبی جنگ میں صلیبیوں کے ساتھ تعاون
(ب) پاکستانی
حکمرانوں کی سیکولر انتہا پسندی
ہم
اس بارے میں پہلے بھی کئی بار تفصیل سے عرض کر چکے ہیں کہ ایک حرام فیصلے کی آگ
سے ہمارا ملک جل رہا ہے… دوسری طرف پاکستان کے حکمران مشرف کے دور سے سیکولر ازم
یا بد دینی میں مکمل انتہا پسند بن چکے ہیں… یہ ایسا پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں جس
میں’’دینداری‘‘ ممنوع ہو… حضرات صوفیاء کرام کے وہ اشعار جن میں ’’مسجد گرادو مگر
کسی کا دل نہ توڑو‘‘ کے الفاظ ہوں… انہیں بغیر سمجھے بہت پسند آتے ہیں… کیونکہ ان
میں مسجد گرانے کا تذکرہ ہوتا ہے… کیا مسجد گرانے سے کسی کا دل نہیں ٹوٹتا؟…
جس اللہ والے بزرگ کے یہ اشعار ہیں ان کی پوری زندگی مسجد
ہی میں گذری ہے… جب کہ ہمارے حکمرانوں کو روڈ کے کنارے بنی ہوئی مسجد دیکھ کر بخار
آجاتا ہے… بددینی جب اپنی اس’’انتہا‘‘ کو پہنچ چکی ہو تو پھر اس کا ردعمل بھی
’’انتہا پسندی‘‘ کی شکل میں آتا ہے… یاد رکھیں جب تک ملک کے حکمرانوں کے دلوں سے
بددینی کی انتہا پسندی نہیں نکلتی… یا ملک کواچھے اور باایمان حکمران نصیب نہیں
ہوجاتے یہ ملک اسی طرح( نعوذباللہ )
آفتوں کی زد میں رہے گا… کیونکہ اس ملک کی جڑوں میں لاکھوں شہداء کا خون ہے… اور
ان شہداء نے یہ قربانی’’اسلام‘‘ اور’’لا الہ الا اللہ ‘‘ کے لئے دی ہے
تو جب حکمران اس خون سے غداری کریں گے تو ملک میں خون ہی ابلتا اور بہتا رہے گا…
پرویز مشرف سے پہلے کے حکمران بھی دیندار نہیں تھے… مگر وہ کھلم کھلا بددینی کی
ہمت بھی نہ رکھتے تھے، چنانچہ ملک میں امن تھا… مگر اس منحوس دجال نے حکمرانوں کے
لئے بددین انتہا پسندی کو آسان بنا دیا… وہ چلا گیا مگر اس کے بعد جو بھی آرہا
ہے وہ اسی کے نقش قدم پر چل رہا ہے… اور تو اور اب تو سرکاری تبادلوں اور ترقیوںتک
میں’’دینداری‘‘ سب سے بڑا جرم ہے…مقامی طالبان نے تو حکومت کے ساتھ جنگ کی لیکن جن
مجاہدین نے حکومت کے ساتھ جنگ نہیں کی، حکومت نے اُن کو کب چین کا سانس لینے دیا؟
مشرف نے ملک میں بددینی کی جو خبیث عمارت کھڑی کی اب ہر آنے والا حکمران اس عمارت
کو مزید مضبوط کر رہا ہے… یہ ملک کافروں کا ہوتا تو اس میں بددینی سے
ترقی آتی مگر یہ مسلمانوں کا ملک ہے اس لئے اس میں’’بددینی‘‘ سے کوئی
ترقی نہیں آسکتی صرف بدامنی اور خونریزی ہی آسکتی ہے… اور وہ آچکی ہے…
٤ مذاکرات
کامیاب نہ ہونے کی چوتھی وجہ… فریقین کا انتشار ہے… حکومت کو بھی ملک کے تمام
اداروںپر کنٹرول حاصل نہیں… اور طالبان قیادت کو بھی اپنے تمام افراد پر قابو
نہیں… ہمارے وزیراعظم صاحب ہر کسی کے کام میں اپنی بے بسی کارونا روتے رہتے ہیں…
اور چپکے سے یہ بتانا نہیں بھولتے کہ فلاںفلاں ادارے بہت گڑ بڑ کر رہے ہیں میں
انہیں قابو کرنے کی کوشش میں ہوں… اور دوسری طرف مقامی طالبان کے بھی ان گنت دھڑے
ہیں…اور اکثر عسکری کمانڈر اپنے فیصلوںمیں خود مختار ہیں…
٥ مذاکرات
کامیاب نہ ہونے کی پانچویں اہم وجہ… ملکی معاملات میں غیر ملکیوں کا عمل دخل ہے…
پرویز مشرف کی صدارت اور حسین حقانی کی سفارت سے فائدہ اٹھا کر صہیونیوں، صلیبیوں،
مشرکوں اور دیگر اسلام دشمن قوتوں نے ملک میں اپنے اڈے مضبوط بنالئے ہیں اور
ریاستی مشینری میں اپنے افراد داخل کر لئے ہیں… پنجاب کے سابق مقتول گورنر سلمان
تأثیر کے بارے میں یہ خبر فاش ہو گئی تھی کہ وہ… برطانوی خفیہ ایجنسی کا باقاعدہ
اہلکارہے… وہ تو چلو مارا گیا مگراس جیسے اور کتنے افراد اہم عہدوں پرہوں گے… حال
ہی میں پاکستانی فوج کے ایک سابق جنرل نے کتاب لکھی ہے … وہ مشرف کے زمانے اہم
عہدوں پر رہے ہیں… انہوں نے لکھا ہے کہ امریکی خفیہ اداروں نے انہیں اپنے کام کے
لئے بھرتی ہونے کی پیشکش کی تھی… اللہ تعالیٰ کا شکر ہے
انہوں نے پیشکش ٹھکرا دی… لیکن کیا سب میں اتنا ایمان اور ہمت ہے کہ ایسی بھاری
پیشکش ٹھکرا دیں؟… جب دنیا ہی مطلوب اور مقصود بن چکی ہے اور دینداری جرم کے درجے
میں داخل ہو چکی ہے تو ماہانہ لاکھوں ڈالر کی تنخواہ پر بکنے والوں کی کیا کمی
ہوگی؟… کیا ایسے لوگ جو غیروں کے لئے کام کر رہے ہیں، اس ملک میں امن دیکھنا گوارہ
کر لیں گے؟… چند وجوہات اور بھی ہیں مگر آج انہیں پانچ پر اکتفا کرتے ہیں…
پھر
کیا ہوگا؟
پہلے
عرض کر دیا کہ… ہم مذاکرات کے حامی ہیں اور ملک میں ایمان اور امن دیکھنے کی شدید
خواہش رکھتے ہیں… ہمیں بھی حکومت کی طرف سے بہت ستایا گیا اور بندوق اٹھانے پر بہت
اکسایا گیا مگر ہم نے… حکومت پاکستان اور یہاں کی فورسز کے خلاف ایک کارروائی بھی
نہیں کی… اس کی وجہ سے ہمیں طرح طرح کے طعنوں کا سامنا ہے… کوئی ہمیں ایجنسی کا
ایجنٹ کہتا ہے تو کوئی بزدلی کے طعنے دیتاہے… لیکن ہم نے کسی کی پرواہ نہیں کی اور
دینی علم کی روشنی میں جو کچھ اپنے ایمان اور اپنے جہاد کے لئے مناسب سمجھا وہی
کیا… ہم نے حکومت کے خلاف جنگ نہ کر کے کوئی مراعات نہیں لیں اور نہ کبھی اپنے اس
عمل کا واسطہ دے کر حکومت سے کوئی بھیک مانگی… ہم
نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ایک مؤقف شعوری طور پر
اختیار کیا ہے… ہم نے اپنے ہاتھ مسلمانوں کے لہو سے پاک رکھنے کی جان توڑ اور مشکل
محنت کی ہے… اور اپنا رُخ اُن محاذوں کی طرف رکھا ہے جہاں کفار، مسلمانوں پر حملہ
آور ہیں… ہم نے یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لئے کیا، اپنے
دین، ایمان اور جہاد کے لئے اسے بہتر سمجھا اس لئے ہم اس پر دنیا میں کسی صلے یا
اجر کے امیدوار نہیں ہیں… ہماری یہ خواہش بھی نہیں ہے کہ… حکومت اور مقامی طالبان
کے درمیان مذاکرات ناکام ہو جائیں… اور کل ہم لوگوں سے کہہ سکیں کہ دیکھو! ہمارا
تجزیہ بالکل ٹھیک نکلا… ایسا بالکل نہیں بلکہ یہ خواہش ہے کہ ہمارا تجزیہ غلط نکلے
اور ملک میں ایمان اورامن قائم ہو جائے… لیکن جو کچھ کھلی آنکھوں سے نظرآرہا ہے
اسے بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا…پاکستان میں حالات واقعی خطرناک حدتک خراب ہو
چکے ہیں…لیکن ہم مسلمان… کبھی بھی امید کا دامن اپنے ہاتھ سے نہیں
چھوڑتے… اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اوروہ اپنے بندوں پر
مہربان ہے… الحمدللہ جہاد کی برکت سے عالم کفر کو شکست ہوئی ہے اور
ہمارے پڑوس سے…’’مغضوب علیھم‘‘… اور’’ضالین‘‘ کے قافلے اس سال کے آخر تک اپنے
ملکوں کو لوٹ رہے ہیں… ’’مغضوب علیھم‘‘ وہ جن
پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوتا ہے…
اور اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا غضب یہ ہے کہ کسی کافر کو
اپنے کفر پر اطمینان ہو جائے اوروہ اسی کفر میں مرے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم
کا ایندھن بن جائے… اور ضالین وہ گمراہ لوگ جو صراط مستقیم سے بھٹک گئے اور انہوں
نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنالیا… ہمارے پڑوس میں اتنے گندے اور برے لوگوں کا
اجتماع… ایک بڑی نحوست ہے اور افسوس کہ اس نحوست کو ہمارے حکمران پالتے رہے… اب الحمدللہ وہ سب واپس جارہے ہیں… اُن کے واپس جانے سے بھی
ان شاء اللہ اس خطے پر بہت فرق پڑے گا… انسانوں کے اعمال کا
زمین پر بڑا اثر پڑتا ہے…
صلیبی
افواج نے افغانستان میں وہ گندے اعمال کئے کہ جنہیں سننا بھی محال ہے… یہ کالم
ہماری مسلمان بہنیں اور بچیاں بھی پڑھتی ہیں… اس لئے تفصیل لکھنے کی ہمت نہیں… یہ
انسانیت کے لئے کینسر جیسے افراد جب افغانستان سے چلے جائیں گے تو ان
شاء اللہ وہاں اور یہاں اچھی تبدیلیاں شروع ہو جائیں گی…اس
لئے مایوسی، ناامیدی اور پریشانی کی بات نہیں ہے … بلکہ سر اونچا کرنے کا وقت ہے
کہ حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں نے… اپنے
آقا کی غلامی کا حق ادا کیا اور ایسی سرفروشانہ جنگ کی کہ… دنیا بھر کی عسکری
ٹیکنالوجی کو مکڑی کے جالے کی طرح روند ڈالا… سلام ہو فدایان اسلام کو… سلام ہو
فقیرعطاء اللہ شہید رحمۃ اللہ علیہ اور اُن کے
رفقاء کو… آج مجھے صبح سے وہ یاد آرہے ہیں… سلام ہو استقامت کے ساتھ جہاد پر ڈٹے
رہنے والوں کو… اور سلام ہو قابل فخر اُمت محمدیہ، اُمت مسلمہ کو… بس اے بھائیو!
اور بہنو! سلامتی کاراستہ کھلا ہے…
١ ایمان…’’لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ کو دل میں
بٹھانا اور اس پر کامل یقین رکھنا اور اس کا خوب ورد کرنا…
٢ نماز…
زندگی کا سب سے اہم اور میٹھا کام نماز… اللہ تعالیٰ سے ہر
نعمت پانے کا ذریعہ نماز
٣ جہاد
فی سبیل اللہ … مغفرت، عزت،غلبے، کامیابی، سعادت، حسنِ خاتمہ، آزادی…
اور شہادت جیسی اونچی نعمتیں حاصل کرنے کا ذریعہ… جہاد فی سبیل اللہ …
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللّٰھم
صل علٰی سیّدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
اور اس کے پیارے بندوں کے درمیان ایک خاص اور خفیہ تعلق ہوتا ہے… اُس خاص تعلق کا
نام ہے’’اخلاص‘‘…
سُبْحَانَ
ﷲِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ ﷲِ الْعَظِیْم
بس
بھائیو اور بہنو! بڑا خوش نصیب ہے وہ مسلمان جسے’’اخلاص‘‘ کی دولت نصیب ہو جائے…
اچھا یہاں ایک دعاء یاد کر لیں… جی ہاں! ریاکاری سے حفاظت کی دعاء… صبح شام اہتمام
سے پڑھ لیا کریں…
اَللّٰھُمَّ
اِنِّیْ اَعُوْذُبِکِ مِنْ اَنْ اُشْرِکَ بِکَ شَیْئًا وَّاَنَا اَعْلَمُ بِہٖ وَ
اَسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَا اَعْلَمُ بِہ
آسان
ترجمہ یہ کہ… یا اللہ جان بوجھ کر شرک اور ریاکاری کرنے سے
آپ کی پناہ چاہتا ہوں اور جو بھولے چوکے سے بے علمی میں ہو جائے اُس پر معافی
مانگتاہوں…
برادر
محترم جناب محمد افضل گوروشہید رحمۃ اللہ علیہ کی مؤقر کتاب’’
آئینہ‘‘ ماشاء اللہ خوب چل رہی
ہے… اللہ تعالیٰ اُن سب کو جزائے خیر عطاء فرمائے جو اپنے
مظلوم اور قابل فخر شہید بھائی کاپیغام مسلمانوں تک پہنچانے کی محنت کر رہے
ہیں…’’آئینہ‘‘ کی تقریب رونمائی کی شعاعیں بھی… الحمدللہ دور دورتک پھیل رہی ہیں…
اجتماع
کو اگرچہ کئی دن گزر چکے مگر ماشاء اللہ اجتماع کے بیانات
گونج رہے ہیں… اورنظمیں لہک رہی ہیں… جب زمین پر بارش برستی ہے
وہاں پھل پھول اُگ آتے ہیں… سبزہ بھی ہر طرف نگاہوں کو خوش کرتا ہے…
مگر اس کے ساتھ کیڑے مکوڑے اور زہریلے سانپ بھی باہر آجاتے ہیں… افضل شہید رحمۃ
اللہ علیہ کا اجتماع بھی بارش کی طرح تھا… بہت سے مسلمانوں نے جہاد کو
سمجھا،بہت سے بانصیب افراد نے جہاد کا عزم کیا… اور بہت سے افراد جہاد
میں نکلنے کے لئے مکمل تیار ہو گئے… اجتماع نے تحریک کشمیر میں ایک نیا جذبہ
اٹھایا ہے… ان تمام مثبت نتائج کے ساتھ… زہریلے سانپ اور کیڑے مکوڑے بھی تیزی سے
نمودار ہونا شروع ہو گئے ہیں… لاہور سے لے کر دہلی تک کالے سانپ ایک ہی سُر میں
پھنکار رہے ہیں… اور دشمنان اسلام کی صفوںمیں کھلبلی مچ گئی ہے… پہلے ایک انگریزی
اخبار نے جہاد اور جماعت کے خلاف زہر اگلا… اور پھر امن کی آشا والے اخبار نے بھی
اپنا ’’ترشول‘‘ بلند کر دیا… صحافت اور میڈیا کے بارے میں ہمارا مؤقف الحمدللہ ’’اعتدال‘‘ پر مبنی ہے… اور وہ یہ کہ ان لوگوں
سے نہ دوستی نہ دشمنی… ہم ان کے ذریعہ اپنا پیغام اُمت تک پہنچانے کے قائل نہیں
ہیں اور نہ ہی… آج تک ہم نے ایک پیسہ ان حضرات کی ناز برداری پر خرچ کیا ہے… ہم
چھوٹے لوگ ہیں… مگر چھوٹے اپنے بڑوں سے ہی سیکھتے ہیں، اس لئے بڑوں کا حوالہ دینے
میںکوئی حرج نہیں… اور نہ ہی اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ ہم خود کو بڑوں
کے برابر سمجھتے ہیں… حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا ایک
خاص مقولہ ہے:
’’اسمعت
من ناجیت‘‘
’’یعنی
میں تو اُس کو سناتا ہوں جس کے لئے میں عمل کرتا ہوں‘‘
جہاد
کا کام بھی اللہ تعالیٰ کے لئے ہے… اور وہی جہاد مقبول ہوتا
ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے لئے ہو اور اعلاء
کلمۃ اللہ کے لئے ہو… آج کل کی’’صحافت‘‘ ایک انتہائی غلط
رخ پر چل پڑی ہے…
میڈیا
اور صحافت کا اصل کام یہ تھا کہ وہ سچی خبریں ڈھونڈتے… اور پھر ان میں سے وہ خبریں
جو انسانیت کے لئے مفید ہوتی اُن کو چھاپتے… قرآن مجید نے اس بارے میں کئی بہت
اونچے اصول تلقین فرمائے ہیں… آپ قرآن مجید میں غور کریں گے تو آپ کو جا بجا
مثبت صحافت کے کئی اصول چمکتے دمکتے نظر آئیں گے… سورہ نور کو لے لیجئے… وہ لوگ
جو انسانوں میں فحاشی اور بے حیائی پھیلاتے ہیں اُن کو سخت تنبیہ کی گئی… آج
کونسا اخبار اس انسانی اور اخلاقی جرم سے خالی ہے؟… فنکاروں اوراداکاروں اور
بدکاروں کی رنگین تصاویر اور اُن کی خبریں اور اُن کے برے اعمال کی تشہیر آخر کس
مقصد سے کی جاتی ہے؟… خیر یہ ایک تفصیلی موضوع ہے اور آج اسے چھیڑنے کا ارادہ
نہیں ہے… آج کی صحافت ذاتی تشہیر اور تجارت کا ذریعہ بن چکی ہے… صحافی ہر اچھی
اور بری خبر کے پیچھے پڑے رہتے ہیں… اور ایسی خبریں نمایاں طور پر شائع کرتے ہیں
جن کی وجہ سے معاشرے میںطرح طرح کی بیماریاں جنم لیتی ہیں… اکثر صحافی پیسے کے
پیچھے اس قدر تیزی سے دوڑ رہے ہیں کہ… اُن کے نزدیک اسلام اور کفر تک میں کوئی فرق
نہیں رہتا… وہ ایسی خبروں کی تلاش میں رہتے ہیں جن سے عالم کفر خوش ہو اور پھر وہ
ان صحافیوں کو طرح طرح کے انعامات اور اپنے ملکوں میں اقامت کے ویزے دے…کافی پہلے
کی بات ہے… میں ایک ایسی مجلس میں پھنس گیا جہاں بہت سے صحافی تھے… ان میں سے بعض
ایک زبردستی مجھ سے ایسا بیان دلوانا چاہتے تھے جس میں بلاوجہ بعض کفریہ ممالک کے
لئے دھمکی ہو… اس پر میں نے ایک صحافی سے کہا کہ آپ بار بار کیوں اصرار کر رہے
ہیں کہ میں فلاںملک کو ضرور دھمکی دوں؟… وہ کہنے لگا مولانا! آپ کا کیا جاتا ہے؟
آپ دھمکی دیں گے تویہ بیان دور دور تک چلے گا اور بکے گا اور ہمیں اپنے بچوں کے
لئے چند سو ڈالر مل جائیں گے… ہمارے ملک کے بعض صحافی خود مجاہدین کو چھیڑتے ہیں،
تنگ کرتے ہیں اور اُن کے خلاف طرح طرح کی جھوٹی رپورٹیں لگاتے ہیں… مقصد یہ ہوتا
ہے کہ اس طرح سے وہ امریکہ، انڈیا اور دیگر ممالک کی خوشنودی حاصل کریں گے… اسلام
کے خلاف کام کرنے والے تھنک ٹینکس کو اپنی طرف متوجہ کر کے اُن سے مال بٹوریں گے…
اور اگر مجاہدین نے انہیں کوئی دھمکی یا جواب دیا تو اسے ٹیپ کر کے فوراً یورپ کے
کسی ملک کو پناہ کی درخواست دے دیں گے کہ… ہماری جان کو سخت خطرہ ہے… دوسری طرف
ہمارے لیڈروں نے صحافت اور صحافیوں کو اپنی مجبوری بنا لیا ہے… ہر مشہور شخص اپنے
لئے ایک پریس سیکرٹری رکھتا ہے… بڑی پارٹیاں اپنے لئے کالم نگار خریدتی ہیں… جلسوں
اور جلوسوں کی کوریج کے لئے ٹی وی چینلوں کی منتیں کی جاتی ہیں اور اُن کے ناز
اٹھائے جاتے ہیں… سیاسی پارٹیاں یہ سب کچھ کرتیں تو اتنا بُرا نہ سمجھا جاتا مگر
اب تو دین کا کام کرنے والے… اور جہاد کی بات کرنے والے بھی ہروقت صحافیوں کی
منتیں ترلے کرتے نظر آتے ہیں… آخر یہ سب کچھ کرنے سے کیا ملتا ہے؟… آپ کام کریں
آپ کا کام مضبوط ہوگا تو میڈیا خود ہی مجبور ہو کر آپ کی خبریں لگائے گا… ایسی
جماعتیں جو میڈیا سے دور رہتی ہیں اُن کی خبریں کئی کئی دنوںتک ذرائع ابلاغ پر
چھائی رہتی ہیں… اور اگر خبریں نہ بھی آئیں اور کام ہوتا رہے تو اس میں آخرت کا
بھی بھلا ہے اور دنیا کا بھی… اور اگر خبریں آتی رہیں اور کام کچھ نہ ہو تو اس سے
کسی کو دنیا اور آخرت میں کیا ملے گا؟… ٹی وی یا میڈیا پر نام آنا تو کوئی عزت اور
کمال کی بات نہیں ہے… ایسے ایسے گندے اور غلیظ لوگ میڈیا پر بھرپور کوریج پاتے ہیں
جن کے ساتھ کوئی مسلمان اپنا نام لکھنا بھی کبھی گوارہ نہیں کر سکتا… یاد رکھیں…
آج کا مروجہ میڈیا عالم کفر اور صہیونیت کے قبضے میں ہے… آج کے صحافی بے عقیدہ،
بے عمل اور غیروں کے لئے کام کرنے والے افراد ہیں… آج کا میڈیا جہاد کو مٹانے اور
ختم کرنے کے مشن پر گامزن ہے… اس لئے دین کی سلامتی اسی میں ہے کہ میڈیا سے دور
رہا جائے… میڈیا سے بے پرواہ رہا جائے… میڈیا کو کم سے کم دیکھا، سنا اور پڑھا
جائے… اور خالص اسلامی صحافت کو اپنے حلقوں میں فروغ دیا جائے… اردو اخبارات میں
کالم لکھنے والے اکثر لوگ گمراہ اور بدعمل ہیں… اور ان میں سے کئی ایک باقاعدہ بکے
ہوئے لوگ ہیں… ان کے کالم پڑھنے سے دل پر سیاہی، مایوسی اور کفر کے دھبے لگنے کا
خطرہ ہوتا ہے… میری آپ سب سے عاجزانہ درخواست ہے کہ اپنے ایمان کی قدر جانیں اور
اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے میڈیا، کالم نگاروں اور میڈیائی دانشوروں سے دور رہیں…
باقی رہا ہمارے خلاف میڈیا کا لکھنا تو الحمدللہ ایک رتی کے دانے برابر نہ کوئی فکر ہے اور نہ اس
کا کچھ غم… اگر کوئی صحافی ہمارے خلاف کوئی رپورٹ چلا کر اس انتظار میں ہے کہ ہم
اسے دھمکی دیں گے تو وہ اس سے مایوس ہو جائے… اور اگر کوئی اس انتظار میں ہے کہ ہم
اسی اخبار میں تردیدی بیان جاری کریں گے تو وہ بھی اپنا انتظار ختم کر کے نئی
رپورٹ تیار کرے… ہم الحمدللہ اپنے کام سے مطمئن ہیں اور مکمل شرح صدر کے ساتھ
یہ کام کر رہے ہیں… ہمارے دشمنوں نے ہمیں پھانسیاں دیںتو الحمدللہ کام نہیں رکا آپ کی رپورٹیں پھانسیوں سے زیادہ
سخت نہیں ہیں… نوائے وقت اور دی نیشن جیسے اخبارات پر تھوڑا سا افسوس ضرور ہوتا ہے
کہ ایک طرف نظریہ پاکستان کے بلند بانگ دعوے، جہاد اکبر کے غلغلے… انڈیا تک ٹینک
لے جانے کا عزم… اور دوسری طرف انڈیا کے مقاصد پورے کرنے کے لئے ان مجاہدین کے
خلاف پروپیگنڈہ جن سے انڈیا… آپ کی بنسبت زیادہ خوف کھاتا ہے… آپ تو معلوم نہیں
کس دن ٹینک پر بیٹھ کر انڈیا جائیں گے یہ مجاہدین ہتھیار اٹھاکر انڈیا جاتے ہیں
اور الحمدللہ فاتح بن کر واپس آتے ہیں یا جام شہادت پی جاتے
ہیں… و الحمدللہ رب العالمین
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
جو چاہے تو ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی مددکے سوا کوئی طاقت
نہیں
مَا
شَائَ اللہُ لَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہ
جہاد
کا نیا محاذ
اوپر
جو آپ نے پڑھا وہ قرآن مجید کی ایک آیت مبارکہ کا حصہ اور مفہوم ہے، ایک بار
پھر محبت سے پڑھ لیں:
مَا
شَاء اللہُ لَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہ
ایک
تصویر پر اچانک نظر پڑی اور پھر نظر بھیگ گئی… ایک شخص اپنے ہاتھ میں ایک کٹی ہوئی
انسانی پنڈلی لے کر اُسے اپنے دانتوں سے نوچ رہا تھا… میڈیا والے دھڑا دھڑ فوٹو
کھینچ رہے تھے وہ پنڈلی کا گوشت کھاتے ہوئے کہہ رہا تھا… میں پاگل کتا ہوں، میں
اسی طرح مسلمانوں کا گوشت کھاؤں گا… منظر وسطی افریقہ کا تھا، پنڈلی ہمارے ایک
مسلمان محمدی بھائی کی تھی… اور اُسے نوچنے چبانے والا ویٹی کن کے پاپا کا مُرید
ایک کالا صلیبی، عیسائی تھا… آہ امتِ مسلمہ!!! آہ ہمارے مظلوم مسلمان بھائی اور
بہنیں!… ویٹی کن کا پاپا امن امن کے جھوٹے گیت گاتا پھرتا ہے، مغربی دنیا مسلمانوں
کو دہشت گرد کہتی ہے… اور پھر یہی لوگ ہمارے مسلمان بھائیوں کو مارتے ہیں، کاٹتے
ہیں، جلاتے ہیں… اور اب کھاتے بھی ہیں…
ان
شاء اللہ اب وسطی افریقہ پر بادل گرجیں گے، بجلیاں کڑکیں
گی، موت برسے گی اورالجہاد، الجہاد کے دلکش نعرے گونجیں گے… ہاں! کسی کو ا س بات
میں شک نہیںہونا چاہئے کہ… مسلمانوں کے ساتھ جب یہ سلوک کیا جائے گا تو ساری
دنیا’’امن‘‘ کو ترسے گی…اے مسلمانو! مظلومیت اور بے کسی کی موت مرنے کی بجائے…
بہادروں اور فدائیوں والی موت کے گلے میں بانہیں ڈال دو… ہم کب تک مرثیے روتے رہیں
گے… وہ دیکھو! مکہ میں حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم … مکمل مسلح جنگی لباس
میں فاتحانہ داخل ہو رہے ہیں… ارے کبھی تو اپنے محبوب آقا صلی اللہ علیہ
وسلم کا یہ لباس بھی پہن لیا کرو…
مَا
شَاءَ اللہُ لَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہ
دل
میں اُتاریں
یہ
جو قرآن پاک کے روشن الفاظ ہیں، ان کو دل میں اتاریں
مَا شَاءَ اللہُ لَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہ
یہ الفاظ دل میں اُتریں گے تو روشنی ہوجائے گی… خوف کے چوہے، بزدلی کے گیدڑ اور حرص و لالچ کے کتے دل سے بھاگ جائیں گے… پھر وجد کے ساتھ پڑھیں:
مَا شَاءَ اللہُ لَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہ
یہ سورۃ الکہف کی آیت ۳۹ کا ایک حصہ ہے… اس کے تین ترجمے ملاحظہ فرمائیں
ترجمہ
لاہوری:حضرت مولانااحمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ یوں
ترجمہ کرتے ہیں!
١ جو اللہ تعالیٰ
چاہے تو ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے سوا کوئی طاقت
نہیں
ترجمہ
محمودی: حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ اس طرح سے ترجمہ
فرماتے ہیں!
٢ جو
چاہے اللہ ، سو ہو، طاقت نہیں مگر جو دے اللہ
ترجمہ
شاہی: آخر میں اردو ترجموں کا امام… حضرت شاہ عبدالقادر رحمۃ اللہ
علیہ کا ترجمہ!
٣ جو
چاہا اللہ کا، کچھ زور نہیں مگر
دیا اللہ کا
اب
ترجمہ ذہن میں رکھ کر یقین کے ساتھ پڑھیں:
مَا شَاءَ اللہُ لَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہ
حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو شخص اپنی کوئی بھی نعمت دیکھ کرپڑھے:
مَا شَاءَ اللہُ لَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہ
تو موت کے سوا کوئی آفت اس نعمت کو اس سے نہیں چھین سکتی
مَا شَاءَ اللہُ لَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہ
بس طاقت صرف’’ اللہ ‘‘ کی ہے اور اللہ تعالیٰ جسے طاقت دے وہی طاقت والا ہے… اے مسلمانو! اسے دل میں بٹھا لو… امریکہ، انڈیا، اسرائیل، سائنس، ٹیکنالوجی اور ایٹم بم کا خوف دل سے نکال دو… اللہ تعالیٰ جو چاہے وہی ہوتا ہے…
یہ
سب بے بس، بے کس اور بے چارے ہیں… ان میں تو اتنی بھی’’طاقت‘‘ نہیں کہ سچا کلمہ
پڑھ سکیں… ان میں تو اتنی قوت بھی نہیں کہ اپنے رب اور مالک کو پہچان سکیں…
ان
میں اتنی سی صلاحیت بھی نہیںکہ چاند یا سورج کا رخ موڑ سکیں یا اُن کے طلوع و غروب
کے اوقات بدل سکیں… ان میں تو اتنی طاقت بھی نہیں کہ پانی کا ایک قطرہ بنا سکیں…
ان میں تو اتنا زور نہیں کہ مردہ کو زندہ کر سکیں…
یا اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کسی زندہ کو مُردہ کر سکیں…
یہ جن کو مارنا چاہتے ہیں وہ بھرپور زندگی جی رہے ہیں اور یہ جن کو بچانا چاہتے
ہیں اُن کے تابوت روز اٹھ رہے ہیں…
مَا شَاءَ اللہُ لَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہ
آیتِ مبارکہ کا ورد
بات
آگے بڑھانے سے پہلے یہ گزارش ہے کہ اس آیت مبارکہ کو بھی اپنا ورد بنا لیں
مَا شَاءَ اللہُ لَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہ
اہل علم فرماتے ہیں کہ یہ قرآنی الفاظ:
’’مفتاح
زیادۃ الخیر فی الدنیا و دوام النعمۃ فیھا‘‘
دنیا
میں زیادہ خیر پانے کی چابی اور نعمتوں کے برقرار رہنے کا ذریعہ ہیں…
ہم
روز اپنے بُرے اعمال کی وجہ سے طرح طرح کی نعمتوں سے محروم ہوتے جارہے ہیں… کتنے
زندہ دل، مُردہ ہو گئے، کتنے شب بیدار غافل ہو گئے… کتنے بہادرمجاہد دنیا کی
حقارتوں میں پھنس گئے… کتنے شان والی نمازی، سجدوں کی حلاوت کھو بیٹھے، کیسے
پُرنور ذاکر گناہوں کی دلدل میں دھنس گئے… کتنے خوش خرام چہرے، غموں اور اداسیوں
میں ڈھل گئے، کیسی قابل رشک صحتیں بیماریوں میں روندی گئیں… کیسے متحرک دین کے
کارکن ادنی دھندوں میں گم ہو گئے… ہائے کاش ہم اپنی ہر نعمت کودیکھ کر فوراً ان
نعمتوں کے دینے والے کو یاد کر لیا کریں اور اس کا بہترین طریقہ ہے:
مَا شَاءَ اللہُ لَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہ،
جہاد
آگے
آج
کا اصل عنوان ہے… افریقہ کا جہاد کہ وہاں ظلم بہت بھونک رہا ہے… یاد رکھیں ایک
زمانے تک جہاد اُمت مسلمہ کے آگے آگے تھا… قرآن مجید کی روشن آیات نے ہمیں
سمجھایا اور حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں… خون میں اپنا
مقدس چہرہ تر کر کے سکھایا کہ ہم مسلمان جہاد فی
سبیل اللہ کو اپنے آگے آگے رکھیں… یوں اُمت مسلمہ کمزوری
سے اور مسلمان ظلم سے بچے رہیں گے… ہمیں حکم دیا گیاکہ ہم اپنے گھروں میں نہ
بیٹھیں بلکہ کلمہ طیبہ:
’’لاالہ
الا ﷲ محمد رسول ﷲ‘‘
کی
دعوت لیکر دنیا بھر میں پھیل جائیں… ہم یہ دعوت لیکر جب جائیں تو’’مسلّح‘‘ جائیں
اور اس سب سے قیمتی کلمے کو اپنی سب سے قیمتی چیز یعنی ’’جان‘‘ پر رکھ کر جائیں…
پھر
جو مان لے اور دل کے یقین کے ساتھ پڑھ لے:
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
وہ
ہمارا بھائی ہے… وہ گورا ہو یا کالا، مشرقی ہو یا مغربی… اور جو نہ مانے اُس کے
لئے جزیہ ہے یا قتال… ہم زبردستی کسی کو مسلمان نہیں بناتے مگر اسلام کے دشمنوں کو
طاقتور بھی نہیں رہنے دیتے… اور کفر کو ایسا پُرکشش نہیں بننے دیتے کہ لوگ بھاگ
بھاگ کر کافر بننے لگیں…یہ ہے اصل ترتیب جو قرآن پاک لیکر آیا ہے:
کُنْتُمْ
خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاس
مگر
ہم آج اپنی نااہلی کی وجہ سے اس ترتیب سے محروم ہیں… ہم خود نکل پڑتے تو یوں ہر
جگہ سے دھتکار کر نہ نکالے جاتے، ہم خود لڑ پڑتے تو یوں ہم پر لڑائیاں گرائی نہ
جاتیں… ہم کلمہ کو جان پر رکھ کر آگے بڑھتے تو کلمہ خود ہمارے دل اورجان میں اُتر
جاتا… اور زمین و آسمان کی ساری مخلوق ہماری نصرت کے لئے مسخر کر دی جاتی… یہ اصل
ترتیب ان شاء اللہ پھر لوٹے گی… مگر افسوس کہ آج ہم اس سے
محروم ہیں
اِنَّا
لِلہِ وَاِنَّا اِلَیْہٖ رَاجِعُون…وَلَا حَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہ
جہاد
پیچھے
وہ
دیکھو! اُحد کے میدان میں حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا خون
مبارک رخسار سے بہہ کر داڑھی مبارک کو سرخ کر رہا ہے… اس مقدس خون پر ہم سب کا خون
فدا…اے مسلمانو! اس منظر کے بعد کیا جہاد کو کسی اوردلیل کی ضرورت ہے؟؟ دل پر ہاتھ
رکھ کر بتاؤ کیا یہ منظر سوچ کر بھی جہاد سمجھ میں نہیں آتا؟… یاد رکھیں!اسلام
کے پہلے غزوہ کے بعد سے لیکر آج تک جہاد ایک دن کے لئے بھی نہیں رکا…ہاں!جس جہاد
کو حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لہو مبارک دیا ہے اُسے
کوئی نہیں روک سکتا… اس لئے جہاد ہر زمانے میں جاری رہا… تاریخ کے اوراق اُسے
محفوظ رکھ سکے یا نہیں… اس تحقیق کی کوئی ضرورت نہیں… مجاہدین ہر دور میں موجود
رہے… جہاد کی دعوت، جہاد کی تیاری، اور کارروائیوں کا تعاقب کہ جیسے ہی موقع ملے
جنگ شروع… یہ ہیں جہاد کے جاری رہنے کی صورتیں… ہاں! کسی زمانے جہاد زیادہ وسیع
اور طاقتور رہا اور کسی زمانے بہت کم مسلمان اس سعادت سے ہمکنار ہوئے… ہم تاریخ
میں جھانکے بغیر اپنے زمانے پر آتے ہیں… اور اس میں پہلے اس نعمت کا شکر ادا کرتے
ہیں کہ الحمدللہ ہمارے زمانے میں جہاد فی
سبیل اللہ موجود ہے، ممکن ہے، میسر ہے، مؤثر ہے اور فاتح
ہے…
مَا شَاءَ اللہُ لَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہ وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن
مگر
یہ جہاد ابھی آگے آگے نہیں، پیچھے پیچھے ہے… پیچھے کا مطلب یہ کہ آج جہاں بھی
ظلم بھونکتا ہے، جہاد وہاں للکارتا ہواپہنچ جاتاہے… آج کل ظلم کا پاگل کتا وسطی
افریقہ اور برما میں دانت دکھا رہا ہے… ان شاء اللہ دنیا
دیکھ لے گی کہ اُمت مسلمہ کی کلمے والی ماؤں کے حلال بیٹے… ضرور ان علاقوں میں
جہاد فی سبیل اللہ کی آسمانی بجلیاں بن کر گریں گے…
مَا شَاءَ اللہُ لَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہ
بچپن سے اب تک
ہم
جب چھوٹے تھے تو اپنے بڑوں سے… اوراپنی مساجد میں یہ دعاء سنتے تھے:
’’یا
اللہ ! فلسطین کے مسلمانوں کی مدد فرما‘‘
پھر
جب تھوڑے بڑے ہوئے تو فلسطین کے ساتھ افغانستان بھی جڑ گیا…
’’یا اللہ
! فلسطین اور افغانستان کے مسلمانوں کی مدد فرما‘‘
پھر
آگے چل کر اس دعاء کی فہرست میں ناموں کا اضافہ ہوتا چلا گیا…
بوسنیا،
تاجکستان، کشمیر، چیچنیا… پھر عراق، شام، لیبیا اور اب وسطی افریقہ اور برما…
فہرست طویل ہوتی جارہی ہے… اور اگر ہمیں حالات کا مکمل ادراک ہو تو یہ فہرست اور
بھی لمبی ہوجائے… تھائی لینڈ، فلپائن،ایتھوپیا، صومالیہ، اریٹریا، سنکیانگ… اور
معلوم نہیں کہاں کہاں کے کلمہ گو مسلمان مظلوم ہیں… مسلمان اگر واقعی سچا مسلمان
ہو تو وہ نہ دعاء سے تھکتا ہے اور نہ جہاد سے اکتاتا ہے…
مسلمان
کے دل میں کلمہ طیبہ:
لا
الہ ال اللہ محمد رسول ﷲ
کا
تروتازہ درخت قائم ہوتا ہے… اور اس درخت کے بارے میں قرآن مجید کا یہ فیصلہ ہے کہ
یہ درخت ہر آن نئے پھل دیتا رہتا ہے…
اللہ تعالیٰ
کا مسلمانوں پر انعام دیکھیں کہ…دشمنان اسلام جہاں بھی ظلم کا نیا اڈہ کھولتے ہیں،
انہیں وہاں چند ہی دن بعد جہاد کے تھپڑوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے… اور پھر وہ چیخنے
چلانے لگتے ہیں کہ… دہشت گرد آگئے، ارھابی آگئے، انتہا پسند آگئے… وہ دیکھو!
کہاں کہاں سے آگئے…
مَا شَاءَ اللہُ لَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہ
مَا شَاءَ اللہُ لَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہ
شکر ادا کریں
مجاہدین
نہ آسمان سے گرتے ہیں اور نہ زمین سے اگتے ہیں…
یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے جہاد کی مسلسل محنت کو
جاری فرما دیا ہے… جہاد کی یہ مسلسل محنت ہر طرف اپنا رنگ دکھا رہی ہے… حیرانی اس
پر ہوتی ہے کہ جہاد کی عالی شان محنت کرنے والے افراد ہر وقت بجھے بجھے اور پریشان
نظر آتے ہیں… جبکہ جمہوریت وغیرہ کی لاحاصل اور فضول محنتوں میں خود کو کھپانے
والے اپنی کامیابیوں پر ناز کرتے ہیں… حالانکہ جہاد کی محنت نے الحمدللہ زمین کا رنگ اور اس کا نقشہ بدل دیا ہے… اور اب
روزآنہ ہزاروں افراد کفر چھوڑ کر اسلام میں داخل ہورہے ہیں… اور دنیا مسلمانوں کے
وجود کو تسلیم کرنے پر مجبور ہے…
جہادی
محنت کرنے والے افراد اگرچہ اپنے تھانے کے ایس ایچ او کو فون کر کے… فخر محسوس
نہیں کر سکتے… مگر ان کی مسلسل محنت ہی دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کو عزت اور
غلبے کے راستے پر لاتی ہے… تب وہ برائلر مرغی کی طرح مرنے کی بجائے شیر بن کر لڑتے
اور جیتے ہیں… اور یہی مسلسل محنت دور دراز علاقوں تک جہادی محاذ کھلواتی ہے…
جہادی محنت کا اصل بدلہ تو ان شاء اللہ ’’جنت‘‘ ہے… مگر اس
کے ثمرات دنیا میں بھی ہر طرف نظر آرہے ہیں… پھر مایوسی کیوں؟ پریشانی کیوں؟ عدم
تحفظ جیسی فضول بات کیوں؟… کہاں شہادت کا شوق اور کہاں’’عدم تحفظ‘‘ جیسا بزدلانہ
لفظ… ارے بھائیو! اگر تمہیں اپنی اس مبارک محنت کی حقیقت نظر آجائے تو پھر اپنی
زندگی کے اس وقت سے نفرت ہونے لگے جو نیند اور گپ شپ میں ضائع ہو جاتا ہے… قرآن
مجید کو دیکھو، حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے لہو مبارک کو
دیکھو! اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین رکھو… اور اس محنت کی
قدر کرکے اس پر شکر اداکرو…
وَالْحَمْدُلِلہِ
رَبِّ الْعَالَمِیْن، مَا شَائَ اللہُ لَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہ
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول اللہ
اللّٰھم
صل علیٰ سیّدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
اپنا فضل فرما کرہم سب کے دلوں سے دنیا کی محبت دور فرما دے…
اَللّٰھُمّ
زَھِّدْنَا فِی الدُّنْیَا وَأَحْسِنْ خَاتِمَتَنَا
تعجب
ہے اُن لوگوںپر
ایک
روایت میں آیا ہے:
اُن
لوگوںپر تعجب ہے جو ہمیشہ باقی رہنے والے گھر…یعنی آخرت کو مانتے ہیں مگر محنت
اور بھاگ دوڑ فنا ہونے والے گھر یعنی دنیا کے لئے کرتے ہیں…
ہاں!
بے شک دنیا وہی جمع کرتا ہے جو عقل سے محروم ہے، اور دنیا کی خاطر وہی دشمنی کرتا
ہے جو علم سے خالی ہے اور دنیا کے بارے میں ایک دوسرے سے وہی حسد کرتے ہیں جو
ناسمجھ ہیں اور دنیا کی خاطر وہی محنت کرتے ہیں جو یقین سے محروم ہیں…
الحمدللہ رب العالمین
کئی
ہفتے سے جمعۃ المبارک کے اعمال کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے… جمعرات کو’’مکتوب‘‘
جاری ہوتا ہے اور مسلمانوں کو پکارتا ہے کہ’’سیّد الایام‘‘ دنوں کے امام یعنی جمعہ
کے دن کو سمجھو اور قیمتی بناؤ…درود شریف کی کثرت، جمعہ نماز کے لئے جلد مسجد
پہنچنا، سورۃ الکہف کی تلاوت اور دیگر سنتیں… اس دوران ایک مقابلہ بھی منعقد ہوتا
ہے جسے ’’مقابلہ حُسن‘‘ کا نام دیا گیا ہے… بے شک درود شریف اور سلام شریف کی کثرت
سے مسلمان کو ہر چیز میں’’حسن‘‘ نصیب ہوتا ہے… ایمان میں بھی مزید حُسن آجاتا ہے
اور اعمال میں بھی… اور درود شریف کی خوشبو سے روح کی بدبو اور کثافت دور ہوجاتی
ہے… الحمدللہ یہ مقابلہ خوب جارہا ہے… کئی افراد
ماشاء اللہ بیس ہزار سے زائد درود وسلام کی اطلاع بھیجتے
ہیں تودل بہت خوش ہوتا ہے… جمعۃ المبارک کی نماز کے لئے جلدی مسجد پہنچنے کی بھی
کئی حضرات ہمت کر رہے ہیں… آج کل فتنے ہی فتنے ہیں… ان فتنوں کی حفاظت کے
لئے اللہ تعالیٰ نے جمعۃ المبارک کے دن اور جمعۃ المبارک کے
اعمال میںخاص تأثیر رکھی ہے… دنیا اور مال کی محبت انسان کو بے عقل اور بے وقوف
بنا دیتی ہے… جو مال سے محبت رکھتاہو اس کی عقل میں اندھیراچھا جاتاہے… الحمدللہ درود شریف کی محنت سے جو روشنی اور خوشبو دل و
دماغ اور ارواح میں آرہی ہے اُس کی موجودگی میں’’حبّ دنیا‘‘ کے فتنے کو سمجھنا
آسان ہوجاتا ہے… ان شاء اللہ
بڑا
فتنہ، بڑا گناہ
ارشاد
فرمایا:
ہر
اُمت کے لئے ایک فتنہ ہے اور میری اُمت کا فتنہ مال ہے…(ترمذی)
فتنہ…
یعنی سخت آزمائش میں ڈالنے والی چیز… یہ کوئی معمولی لفظ نہیں فتنہ ایسی چیز ہے
جس کے خوف سے حضرات انبیاء علیہم السلام بھی روتے اور پناہ مانگتے تھے
حالانکہ انہیں کسی فتنہ سے کوئی خطرہ نہیں تھا… مال ہماری اس اُمت کا کڑا امتحان
ہے… ہم اپنے اندر جھانکیں اور دائیں بائیں دیکھیں تو مال کا فتنہ سانپ کی طرح پھن
اٹھائے پھنکار رہا ہے…اکثر لوگ کسی نہ کسی طرح اس فتنے کی زد میں آکر اپنا دین
اور اپنی آخرت برباد کر رہے ہیں… مال، مال، مال، پیسہ ، پیسہ، پیسہ بس یہی سوچ
ہے، یہی فکر ہے، یہی کامیابی کا معیار، یہی محبت اور دوستی کا معیار ہے… اسی کی
خاطر جینا ہے، اسی کی خاطر مرنا ہے… نہ حلال، حرام کا فرق نہ چاروں طرف اٹھتے ہوئے
جنازوں پر نظر… عزت بھی مال کی اورغیرت بھی مال کی… وہ چیز جسے حضرت آقامدنی صلی
اللہ علیہ وسلم نے گندگی اور غلاظت سے بدتر قرار دیا وہ آج ہمارے سروں
کاتاج ہے… دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر سے بھی
زیادہ گھٹیا ہے… جب کوئی انسان اس دنیا سے محبت کرتا ہے تو وہ بھی بے وقعت، بے عزت
اور گھٹیا ہو جاتا ہے… جو شخص صبح اس حال میں اٹھے کہ اس کے دل میں دنیا کی فکر ہو
تو اُس پر چار مصیبتیں مسلط کر دی جاتی ہیں… وہ سارا دن پریشانی، غم اور بے
اطمینانی میں گذارتا ہے… اور اس کا دل ہر طرح کے نور اور قوّت سے محروم رہتا ہے…
حملہ
بار بار ہوتا ہے
لوگ
سمجھتے ہیں کہ ہم نے نماز ادا کرلی، زکوٰۃ دے دی، جہاد کر لیا، روزہ رکھ لیا اور
وظائف کر لئے تو اب شیطان ہم پر دنیا کی محبت کا زہریلا حملہ نہیں کرے گا… ایسا
نہیں ہے… نیک لوگوںپر’’حبّ دنیا‘‘ کا حملہ زیادہ ہوتا ہے اور بار بار ہوتا ہے… اور
شیطان اس کوشش میں لگا رہتا ہے کہ ان’’سعادت مندوں‘‘ یعنی خوش نصیبوں کو’’شقی‘‘
یعنی بدبخت، بدنصیب اور جہنمی بنا دے… جب انسان کے دل میں دنیا کی محبت آتی ہے
تووہ لمبے لمبے اور دور دور کے منصوبے بناتا ہے… جب دور دور کے منصوبے بنتے ہیں
توموت کی یاد بھول جاتی ہے… جب موت کی یاد بھولتی ہے تو دل سخت ہو جاتا ہے… اور جب
دل سخت ہوجاتا ہے تو آنکھیں خشک ہوجاتی ہیں… وہ اللہ تعالیٰ کے خوف اور اللہ
تعالیٰ کی یاد سے نہیں روتیں… اور آنکھوں کا خشک ہونا شقاوت یعنی محرومی اور
بدنصیبی کی علامت ہے…
’’یا
اللہ! شقاوت سے ہم سب کی حفاظت فرما‘‘
دنیا
کی محبَّت کا حملہ ہر نیک مسلمان پر روز ہوتا ہے اور بار بار ہوتا ہے… اور یہ حملہ
معمولی نہیں ہوتا بلکہ ماہر ترین جادوگروں کے جادو سے بھی زیادہ تیز اور خطرناک
ہوتا ہے… اور جیسے جیسے انسان موت کے قریب ہوتا ہے یہ حملہ سخت ہوتا جاتا ہے کہ…
اب کچھ تو اپنی دنیا کا بھی سوچو، کچھ تو اپنی زندگی بھی سنوار لو، کچھ تو اپنے
بچوں کے لئے بھی بنا جاؤ… ایک جادوگر گذرا ہے’’سامری‘‘ جس کا تذکرہ قرآن مجید
میں ہے… ایسا خطرناک جادو گر کہ جس نے ایک حملے سے بنی اسرائیل کو ایمان سے شرک پر
گرا دیا… اور ایسا گناہ کروایا کہ ستر ہزار افراد کے خون سے وہ گناہ دُھل پایا…
اس
اُمت پر’’حب دنیا‘‘ کا حملہ سامری کے جادو سے بھی زیادہ خطرناک اور تیز ہوتا ہے…
اس لئے کبھی اس بات سے مطمئن نہ ہوںکہ اب مجھ پر ’’حبّ دنیا‘‘ کا حملہ نہیں ہوگا…
ہم سب اپنے دل کا ہمیشہ جائزہ لیں کہ اس میں دنیا کی محبت گھس تو نہیں گئی… اور ہر
دن اور ہر نماز اور ہر عمل کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعاء مانگا کریں کہ… یا اللہ!
اپنے فضل سے ہمیں حبّ دنیا اور حبّ مال سے بچائیے… خوب محتاج بن کر دعاء کریں… صبح
شام سورۂ ’’اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُ‘‘ کم از کم تین بار پڑھیں…
یَاخَبِیْرُیَا آخِر کا زیادہ ورد کریں… دنیا پرستوں کی صحبت سے دور رہیں موت کو
یوں یاد کریں کہ بس ابھی آئی… اور مال کے بارے میں شریعت کے احکامات معلوم کریں
اور اُن کو سختی سے اپنے عمل میں لائیں… مجاہدین خاص طور پر اس کی فکر کریں کیونکہ
اُن پر حب دنیا کا حملہ عام نیک لوگوں سے بھی زیادہ ہوتا ہے…
آج
کل دبئی میں کچھ لوگ اپنے مثالی مرکز سے کٹ کر کرزئی حکومت سے مذاکرات کر رہے
ہیں…اُن کا ماضی اور اب اُن کا حال دیکھ کر دل خوف سے کانپنے لگتا ہے… یا اللہ!
زندگی کے آخری دن پچھلے دنوں سے اچھے بنا دیجئے… اور ایمان پر خاتمہ نصیب فرما
دیجئے…
سخت
ترین گناہ
قرآن
مجید اول تا آخر… حبّ دنیا کی مذّمت سے بھرا ہوا ہے… پوری پوری سورتیں صرف یہی
مسئلہ سمجھاتی ہیں کہ… دنیا کے دھوکے میں نہ پھنسو اورآخرت کی فکر اور محنت کرو…
سورۃ الکہف جو جمعہ کے دن پڑھی جائے تو اگلے جمعہ تک دل کو نور سے بھر دیتی ہے… وہ
عجیب عجیب طریقوں سے دنیا کی محبت سے روکتی ہے… وہ ہمیں سکھاتی ہے کہ تمہاری ٹوٹی
ہوئی کشتی تمہارے لئے بہتر ہے کہ وہ تمہیں قزاقوں سے بچاتی ہے… نئی کشتی کی فکر
میں نہ پڑو ورنہ مارے جاؤ گے… وہ ہمیں سمجھاتی ہے کہ اولاد کی وجہ سے دنیا کی
محبت میں نہ پڑو بعض اولاد ایسی ہوتی ہے جو تمہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم کا
مستحق بنا سکتی ہے… اور نیکی کر کے اس کا معاوضہ طلب نہ کرو… اور نیکی کرنے والوں
کی اولاد کے لئے اللہ پاک رزق کی حفاظت کا خود بندوبست فرماتے ہیں… سورۃ الکہف
ہمیں جلتے اور اجڑتے ہوئے باغات دکھاتی ہے… اوراصحاب کہف کی ہجرت کے قصے سناتی ہے…
وہ نوجوان جنہوں نے دنیا کی ترقی اور اُس کے عیش و آرام کو چھوڑا تو کیسی عظیم
الشان نعمتوں اور کامیابیوں کے مستحق بن گئے… الغرض یہ قرآن پا ک کا خاص موضوع
ہے… وہ ہمیں قارون کا انجام اور فرعون و ہامان کی تباہی بھی دکھاتا ہے… اورقوم عاد
کی سائنسی ترقی کو برباد ہوتے ہوئے بھی دکھاتا ہے… دراصل’’حبّ دنیا‘‘ دل میں ہو تو
نہ ایمان مضبوط جگہ پکڑتا ہے… اور نہ جہاد کی ٹھیک توفیق ملتی ہے… اور نہ انسان کے
ارادے بلند ہو سکتے ہیں… ایک حکایت میں تو یہاں تک آیا ہے کہ حضرت
موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا گیا:
’’اے
موسیٰ! دنیا کی محبت پر مائل نہ ہوں،کیونکہ دنیا کی محبت سے بڑا کبیرہ گناہ اور
کوئی نہیں ہے ‘‘
حضرت
فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ بڑے ولی اور صاحب علم گزرے
ہیں، وہ فرماتے ہیں:
تمام
شرور کو ایک گھر میں بند فرما دیا گیا ہے اور اُس گھر کی چابی دنیا کی محبت ہے…
یعنی جسے دنیا کی محبت کا مرض لگ گیا اب وہ ہر شر میں مبتلا ہو جائے گا… اور تمام
خیروں کو ایک گھر میں بند کر دیا گیا ہے اور اس گھر کی چابی ’’زُہد‘‘ ہے… یعنی
دنیا سے بے رغبتی… پس جو دنیا سے بے رغبت ہو جائے گا اُسے ان شاء اللہ ہر خیر مل
جائے گی…
آج
اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ… قرآن پاک کی وہ آیات جو’’حبّ دنیا‘‘ کی مذمت کرتی
ہیں… انہیں ہم خود بھی بار بار پڑھیں، اپنے اہل اولاد کو بھی سنائیں اور مسلمانوں
تک بھی… اُن کی روشنی پہنچائیں… کیونکہ مال کی محبت کا سیلاب ایک خطرناک سونامی کی
شکل میں مسلمانوں کو تباہ اور کمزور کررہا ہے… اور دشمنان اسلام کی تین کوششیں
ہیں:
١ مال
کی ضرورت بہت بڑھا دی جائے
٢ مالداروں
کو پُرکشش بنا کر لوگوں کا آئیڈیل بنا دیا جائے
٣ حلال
حرام کا فرق مٹا دیا جائے… مسلمان حرام کھائے گا تو کسی کام کا نہیں رہے گا
آپ
باریکی سے غور کریں کہ ان تین چیزوں پر کس طرح سے محنت کی جارہی ہے… چنانچہ آج
انسان کی ضروریات اتنی بڑھا دی گئی ہیں کہ ہر انسان مزید مال کا خود کو محتاج
سمجھتا ہے… پھر وہ مال اُسے بھیک مانگ کرملے، سؤال کر کے ملے یا حرام طریقے سے
ملے وہ خود کو مجبور سمجھتا ہے کہ میں اور کیا کروں؟مثلاً مہنگا علاج تو میں نے
ضرور کرانا ہے… یا بچوں کے ولیمے اور شادی کی دعوتیں میں نے ضرور کرنی ہیں…
ایسے
حالات میں جب کہ مسلمان مال کے پیچھے اندھا دھند دوڑ رہے ہیں انہیں قرآن پاک کے
احکامات… اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث
مبارکہ اور سیرت طیبہ سنانے کی ضرورت ہے… اور جہاد کی دعوت اس کا سب سے بہترین
علاج ہے… بشرطیکہ دعوت دینے والے خود اس عظیم فتنے سے دور ہوں…
کم
از کم حفاظت کا درجہ
اللہ
تعالیٰ نے دنیا میں کوئی ایسا’’فتنہ‘‘ پیدا نہیں فرمایا جس سے بچنا ناممکن ہو…’’
حبّ دنیا‘‘ سے بھی بچا جا سکتا ہے، بس فکر کی ضرورت ہے… اور اس میں کم ازکم درجہ
یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا نام کسی کو لوٹنے اور مال بٹورنے کے لئے استعمال نہ
کریں… دینداری کے لبادے میں، جہاد کے لبادے میں، علم دین کے لبادے میں لوگوں کو
لوٹنا ایسا جرم ہے، جس کی شدّت بہت سخت ہے…
آج
کئی لوگوں نے دینی بھیس اپنا کر لوگوں کو’’مضاربت‘‘ میں لوٹ لیا… ہائے کاش وہ اللہ
تعالیٰ کے نام اور دینی نسبت کی اس قدر گستاخی کی جرأت نہ کرتے… اسی طرح جو مال
دین کے نام پر، اللہ تعالیٰ کے نام پر اجتماعی طور پر جمع کیا گیا ہو اس میں ہر گز
خیانت نہ کریں اور اُسے کبھی اپنے ذاتی مقاصد کے لئے خرچ نہ کریں…مجاہد کسی سے
چندہ لینے جائے… اور پھر بعد میں اُسی فرد سے اپنی ذاتی حاجات کے لئے سؤال کرے…
یہ کتنا بُرا عمل ہے؟ اے مسلمانو!رزق مقدرہوچکا اور اس میں کسی حیلے بہانے اور
تعارف سے نہ کمی ہو سکتی ہے نہ زیادتی… ایک آدمی بھیک مانگے اور کہے اے لوگو!
میری مدد کرو… یہ اگر ضرورت مند نہیں ہے تو گناہ گارہوگا… اور دوسرآدمی بھیک
مانگے… اس میں بار بار اللہ رب العزت کا نام لے کہ… اللہ گواہ ہے میری یہ حالت ہے
وہ حالت ہے… یہ اگر ضرورت مند نہیں تو بڑا مجرم ہے اس نے سؤال کا گناہ بھی کیا
اور اللہ رب العالمین کے عظیم نام کو بھی غلط استعمال کرنے کی گستاخی کی…
بھائیو!
اور بہنو! ہم کسی سے بھی سؤال نہ کریں… نہ کسی مالدار سے، نہ کسی جماعت سے، نہ
کسی ٹرسٹ سے… ہم صرف اللہ تعالیٰ سے مانگا کریں تو ہمارے ایمان میں بہار اور نکھار
آجائے… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
دنیا
کی محبت ہر برائی کی جڑ ہے…
یا
اللہ! امان، یا اللہ! امان، یا اللہ! حب دُنیا سے امان…
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللّٰھم
صل علیٰ سیّدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
دنیا کی محبت، دنیا کے فتنے اور دنیا کی تنگی سے میری اور آپ سب کی حفاظت فرمائے…
آمین…
١ دنیا
کی محبت بھی خطرناک… دل کو مُردہ کرنے والی…
٢ دنیا
کا فتنہ بھی خطرناک… دل کو غافل کرنے والا…
٣ دنیا
کی تنگی بھی خطرناک… دل کو لوگوں کا محتاج بنانے والی…
ایک
قصّہ
ایک
نیک اور مالدار شخص نے اپنا قصہ لکھا ہے کہ… ایک دن میرا دل بہت بے چین ہوا… ہر
چند کوشش کی کہ دل بہل جائے، پریشانی کا بوجھ اُترے اور بے چینی کم ہو، مگر وہ
بڑھتی ہی گئی… بالآخر تنگ آکر باہر نکل گیا اور بے مقصد اِدھر اُدھر گھومنے لگا،
اسی دوران ایک مسجد کے پاس سے گذراتو دیکھا کہ دروازہ کھلا ہے… فرض نمازوں میں سے
کسی کا وقت نہیں تھا، میں بے ساختہ مسجد میں داخل ہوا کہ وضو کر کے دو چار رکعت
نماز ادا کرتاہوں، ممکن ہے دل کو راحت ملے… وضو کے بعد مسجد میں داخل ہوا تو ایک
صاحب کو دیکھا… خوب رو رو کر گڑ گڑا کر دعاء مانگ رہے ہیں اور کافی بے قرار ہیں…
غور سے ان کی دعاء سنی تو قرضہ اتارنے کی فریاد میں تھے… اُن کو سلام کیا، مصافحہ
ہوا، قرضہ کا پوچھا… بتانے لگے کہ آج ادا کرنے کی آخری تاریخ ہے اپنے مالک سے
مانگ رہا ہوں… اُن کاقرضہ چند ہزار روپے کا تھا وہ میں نے جیب سے نکال کر دے دیئے…
ان کی آنکھوں سے آنسوچھلک پڑے…اور میرے دل کی بے چینی سکون میں تبدیل ہو گئی…
میں نے اپنا وزیٹنگ کارڈ نکال کر پیش کیا کہ آئندہ جب ضرورت ہو مجھے فون کر لیں…
یہ میرا پتا ہے اور یہ میرا فون نمبر… انہوں نے بغیر دیکھے کارڈ واپس کر دیا اور فرمایا…
نہ جناب! یہ نہیں… میرے پاس اُن کا پتا موجود ہے جنہوں نے آج آپ کو بھیجا ہے…
میں کسی اور کا پتا جیب میں رکھ کر اُن کو ناراض نہیں کر سکتا…
سُبْحَانَ
اللہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیْم
تھوڑا
سا غور فرمائیں
اللہ
تعالیٰ ہی ہمارے اور تمام جہان کے رب ہیں… یعنی پالنے والے ہیں… وہی سب کے رزّاق
ہیں، وہی معطی ہیں یعنی عطاء فرمانے والے… ہم ماں کے پیٹ میں تھے تواللہ تعالیٰ نے
ہمیں روزی دی… ہم چلنے پھرنے سے معذور معصوم بچے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں روزی
دی… ہم نے مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہے… مگرہم یہ سب کچھ کتنا
جلدی بھول جاتے ہیں… کوئی ہمیں کچھ مال دے توہم اس کا نام پتا بہت احتیاط سے محفوظ
کرلیتے ہیں… اور اپنی کئی توقعات اُس سے وابستہ کر لیتے ہیں… ہمارادل بھکاری کے
پیالے کی طرح دنیا داروں کے سامنے منہ کھولے رہتا ہے کہ فلاں ہمیں یہ دے اور
فلاںہمیں وہ دے… حالانکہ دنیاکے انسان فانی ہیں، آج ہیں کل نہیں ہوں گے… اُن کا
دل بھی چھوٹا اورہاتھ بھی تنگ… ہم جب کسی سے مانگیں گے تو وہ ہم سے نفرت کرے گا…
ہم اللہ تعالیٰ سے مانگیں گے تو وہ ہم سے محبت فرمائے گا… ہم جب دنیا والوں سے یہ
توقع رکھیں گے کہ وہ ہمیں دیںتو وہ لوگ ہم سے ڈریں گے، ہم سے بھاگیں گے اور ہم سے
چھپیں گے… لیکن اگر ہم اللہ تعالیٰ سے امید اور توقع رکھیں گے تو اللہ تعالیٰ ہمیں
اپنا پیار عطاء فرمائے گا اور ہمارے دل کو اپنے اور زیادہ قریب فرمالے گا… جو کہتا
ہے یا اللہ! میں صرف آپ کا فقیر… اللہ تعالیٰ اُسے کسی اور کا فقیر اور محتاج
نہیں بناتے حضرت سیّدنا موسیٰ علیہ السلام نے دو بچیوں کے
جانوروں کو پانی پلایا… پھر؟
ثُمَّ
تَوَلّٰی اِلَی الظِّلِّ
پھر
پیٹھ پھیر کر ایک درخت کے نیچے جا بیٹھے… ہاں!جب کسی پر احسان کرو تو پھر اپنا
چہرہ بھی اس کی طرف اس امید میں نہ کرو کہ وہ شکریہ ادا کرے، وہ بدلہ دے، وہ دعاء
دے بس فوراً اُس سے پیٹھ اور دل پھیر کر اپنے رب کے پاس آبیٹھو:
رَبِّ
اِنِّیْ لِمَآ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْر
موسیٰ
علیہ السلام فرما رہے ہیں… یا اللہ! آپ کی طرف سے آنے والی خیر کا
فقیر اور محتاج ہوں…
دل
جب خالص اللہ تعالیٰ سے جڑا ہو… اور کسی کی طرف خیال نہ ہو تو پھر ایک خیر نہیں
ہزاروں خیریں خود چل کر آتی ہیں…
فَجَآئَ
تْہُ اِحْدٰھُمَا تَمْشِیْ عَلَی اسْتِحْیَآئٍ
خیر
خود آگئی… کھانا، ٹھکانا، شادی، انصار اور بہترین معاشرہ سب کچھ ایک آن میں مل
گیا… اسی لئے تو آج جب سے کالم لکھنے کا ارادہ کیا یہ الفاظ زبان پر بار بار
آرہے ہیں:
معطی
بھی وہی، رزاق بھی وہ
بھائیو!
اور بہنو!… کسی سے سؤال نہیں، کسی سے توقع اور غرض نہیں، کسی کا پتا اور فون نمبر
نہیں… بس ایک اللہ، بس ایک اللہ، بس ایک اللہ…
اَلْمُعْطِی
ھُوَاللّٰہ، اَلرَّزَاقُ ھُوَاللّٰہ، اَلرَّبُّ ھُوَاللّٰہ
حضرت
علی رضی اللہ عنہ کا فرمان
وہ
شخص جس نے مالدار آدمی کا کارڈ واپس کر دیا کتنا عقلمند تھا؟ اُس نے اپنے اور
اپنے رب کے درمیان پردہ آنا گوارہ نہ کیا… جب ضرورت پڑے توجہ کسی مالدار کی طرف
چلی جائے اور اللہ تعالیٰ کی طرف نہ جائے… یہ کتنی محرومی کی بات ہے… مالدار کا
فون کبھی کھلا کبھی بند… جبکہ اللہ تعالیٰ کا رابطہ ہروقت کھلا اور وہ ہماری شہہ
رگ سے بھی زیادہ قریب… مالدار کا موڈ کبھی ٹھیک کبھی خراب، جبکہ اللہ تعالیٰ کا
ہاتھ ہمیشہ کھلا:
بَلْ
یَدٰہُ مَبْسُوْطَتٰنِ
مالدار
مر گیا تو اب فون ملانے سے کیا ہوگا جبکہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ حیٌّ اور قیوم
ارے
بھائیو! ایمان والے کو تو حاجت پیش آتی ہی اس لئے ہے کہ وہ بار بار
’’یا
ربِّ، یا ربِّ، یا ربِّ‘‘
پکارے…
اس کی حاجت پوری ہونے میں بعض اوقات تأخیر اس لئے ہوتی ہے کہ اُس کے نامۂ اعمال
میں مزید دعاء اورمزید آہ وزاری لکھی جائے… ورنہ مالک کے خزانوں میں کیا کمی ہے…
مگر جب بندہ مانگ رہا ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کو اچھا لگتا ہے… اور یہ مانگنا اُس
بندے کے لئے آخرت کا سرمایہ بن جاتا ہے… ہم کسی مالدار سے مانگیں گے تو ہمارا
چہرہ بگڑ جائے گا اور ہم اللہ تعالیٰ سے مانگیں گے تو ہماراچہرہ روشن ہو جائے گا…
مالدارلوگوں
کی عادت ہوتی ہے کہ وہ آپ سے کہہ دیں گے… جناب! جب ضرورت ہو مجھے بتادیجئے گا…
حالانکہ وہ ہماری ہر ضرورت پوری نہیں کر سکتے… اگر ہم خدانخواستہ اُن کو اپنی
ضرورت بتانے لگیں تو وہ دو چار بار کے بعد اپنا فون نمبر ہی بدل لیں گے… آخر وہ
بھی انسان ہیں، اُن کو اپنے مال سے محبت ہوتی ہے… اُن کی بھی اپنی ضرورتیں ہوتی
ہیں… اُن سے اور بھی بہت سے لینے والے ہوتے ہیں… توپھر اُن کے ایک جملے سے… ہماری
توقعات کا رُخ اللہ ربّ العالمین سے ہٹ کر اُن کی طرف کیوں مُڑ جاتا ہے؟… جبکہ
اللہ ربّ العالمین نے ہمیں فرمایا ہے کہ مجھ سے جب چاہو مانگو… میرے خزانے بے شمار
ہیں… اور اللہ تعالیٰ جس کو جتنا بھی دیں اُن کے ہاں کمی نہیں آتی… آج سے ایک
معمول بنا لیں… ضرورت کے وقت جب ہماری توجہ اللہ تعالیٰ سے ہٹ کر کسی انسان کی طرف
جائے تو ہم فوراً اپنے لئے اور اس انسان کے لئے استغفار شروع کردیں…
اَللّٰھُمَّ
اغْفِرْلِیْ وَلَہٗ
یااللہ!
میری بھی مغفرت فرما،اس کی بھی مغفرت فرما… یا اللہ! مجھے بھی معاف فرما اور اُسے
بھی معاف فرما… ان شاء اللہ اس عمل کی برکت سے ہم ’’ اِشراف‘‘ کے گناہ سے بچ جائیں
گے… مالدار بے چارے تو مصیبت میں ہوتے ہیں وہ کسی کو دس بار دیں مگرگیارہویں بار
نہ دے سکیں تو سامنے والا اُن سے ناراض ہوجاتا ہے… اُن کو بددعائیں دیتا ہے… اُن
کے دس بار دیئے ہوئے کو بھول کر اُن سے نفرت کرنے لگتاہے کیونکہ’’حبّ دنیا‘‘ نے
لوگوں کو اندھا کر دیا ہے… ایسے اندھیرے ماحول میں ہم یہ روشنی پالیں کہ جو ہم پر
احسان کرے ہم اُس کے لئے دعاء کریں، آئندہ اُس سے مزید کی توقع نہ رکھیں اور اگر
دل میں توقع آئے تو ہم اُس کے لئے استغفار کا ہدیہ بھیجیں یوں ہم اُسے دینے والے
بن جائیں گے… اور اللہ تعالیٰ کو اُوپر کا ہاتھ… یعنی دینے والا ہاتھ نیچے والے
ہاتھ سے زیادہ پسند ہے…
حضرت
علی رضی اللہ عنہ … زاہدوں کے امام ہیں، آج اُن کے کئی مبارک فرامین
نقل کرنے تھے مگر کالم کی جگہ مختصر ہے تو بس ایک ہی فرمان پر اکتفا کرتے ہیں…
اللہ کرے وہ میرے اور آپ سب کے دل میں اُتر جائے…
حضرت
ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کشف المحجوب میں لکھتے ہیں:
ایک
شخص حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ
اے امیر المؤمنین! مجھے کوئی وصیت کیجئے، آپ نے فرمایا:
تم
اپنے اہل و اولاد میں مشغول ہونے کو(یعنی ان کی خاطر دنیا جمع کرنے کو) اپنا سب سے
بڑا اور اہم کام نہ بناؤ… کیونکہ اگر تمہارے اہل و اولاد اللہ تعالیٰ کے دوستوں
میں سے ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کو کبھی ضائع نہیں کرتا، اور اگر وہ اللہ
تعالیٰ کے دشمنوں میں سے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے دشمنوں میں مشغول ہونا اور ان کی
فکر کرنا تمہارے لئے کسی بھی طرح درست نہیں… (کشف المحجوب، ص: ۱۱۳)
ایک
جامع نصاب
’’حبّ
دنیا‘‘ سے حفاظت کا موضوع بڑا اہم اور بہت مفصل ہے… اوراسے بار بار دُھرانے کی
ضرورت ہے… کیونکہ جن لوگوں کے دل میں آخرت کی فکر ہوتی ہے انہیں پر’’حبّ دنیا‘‘
کا زیادہ حملہ ہوتا ہے… حضرت ابو سلیمان الدارانی رحمۃ اللہ
علیہ فرماتے ہیں:
’’جب
آخرت دل میں ہو تو دنیا وہاں حملہ آور ہوتی ہے تاکہ آخرت کو دل سے نکال دے…
لیکن جب دنیا دل میں ہو تو آخرت اُس پرحملہ آور نہیں ہوتی… کیونکہ دنیا کمینی ہے
اور آخرت معزز ہے…‘‘
حبّ
دنیا کا مکمل موضوع کسی ایک کالم میں نہیں آسکتا… بس آج ہم سب ایک نصاب یاد کر
لیں اور ساری زندگی اُس سے غافل نہ ہوں… یہ نصاب ان شاء اللہ ہمیں دنیا کی محبت
میں اندھا ہونے سے بچانے کا ذریعہ بن سکتا ہے
١ حبّ
دنیا سے حفاظت کی ہمیشہ دعاء بہت عاجزی کے ساتھ مانگنے کا معمول رہے…
٢ حرام
مال قطعاً نہ کمائیں، نہ لیں…
٣ کسی
بھی انسان سے ہرگز سؤال نہ کریں…
٤ کسی
بھی انسان سے ’’اِشراف‘‘ نہ رکھیں یعنی دل میں اُس سے کچھ لینے، کچھ ملنے کی لالچ
اور توقع نہ ہو…
٥ مال
میں اِسراف و تبذیر نہ کریں… نہ حرام پرخرچ کریں، نہ حلال میں ضرورت سے زیادہ
لگائیں…
٦ مال
میں بخل نہ کریں…خصوصاً زکوٰۃ اور دیگر شرعی حقوق ادا کرنے میں
٧ امانت
اور اجتماعی اموال میں ہرگز خیانت نہ کریں…
بس
یہ ہے مختصر اور جامع نصاب… اللہ تعالیٰ میرے لئے بھی اس پرعمل آسان فرمائے اور
آپ کے لئے بھی…
دینی،جہادی
دعوت دینے والوں کے لئے
اگرلوگوں
کی مالی حاجات پوری کرنے سے لوگ ہدایت پر آتے تو اللہ تعالیٰ حضرات
انبیاء علیہم السلام کو زمین کے خزانے دے کر بھیجتے… وہ لوگوں کو مال
دیتے اور لوگ دین پر آجاتے… مگر مال سے دین پر کوئی نہیں آتا… مال سے گمراہی تو
پھیلائی جا سکتی ہے، اسلام اور جہاد کو نہیں پھیلایا جا سکتا … آپ لوگوں کو دین
کی اور جہاد کی دعوت دیں… یہی آپ کے لئے اور اُن کے لئے کامیابی کا راستہ ہے…
اگرآپ ریلیف کے کاموں کو بھی ساتھ لگا کر دعوت چلائیں گے تو…لینے والے مزید کی
توقع کریں گے اورجن کو نہیں ملے گا وہ آپ سے اور آپ کی دعوت سے نفرت کرنے لگیں
گے… ریلیف اور خدمت خلق کا کام دین کا ایک الگ شعبہ ہے… اُس شعبہ کے بھی بہت فضائل
ہیں… مگر وہ ایمان اور جہاد کی دعوت کے برابرنہیں… ایمان اور جہاد کی دعوت بہت بڑی
چیز اور بڑی عظیم نعمت ہے… حضرات انبیاء علیہم السلام نے یہ دعوت دی
اورلوگوں کو جان و مال کی قربانی میں لگایا… جب لوگ دنیا سے کٹ کر جان ومال کی
قربانی پر آگئے تو اللہ تعالیٰ نے دنیا بھی اُن کے قدموں میں ڈال دی… کسی کے ساتھ
نیکی کرنا، خدمت خلق کرنا ان کاموں سے کوئی بھی مسلمان کسی کو روکنے کا تصور نہیں
کر سکتا… مگر ان کاموں کو ایمان اور جہاد کی برحق دعوت کے ساتھ خلط کرنے سے … وہ
عظیم دعوت کمزور ہوتی ہے… اپنی توجہ ایمان، اقامت صلوٰۃ اور جہاد کی دعوت اورعمل
پررکھیں… اپنا مال جہادپرلگائیںاور اپنے ذاتی مال سے مسلمانوں کی جو حاجت پوری کر
سکتے ہوں وہ کریں… حبّ دنیا کے فتنے سے خود بھی بچیں اور مسلمانوں کو بھی بچنے کی
دعوت دیں… دین کی خاطر خود بھی جان و مال کی قربانی دیں اور مسلمانوں کو بھی اس
قربانی پرلائیں… بس جلد ہی ہم زمین کے نیچے ایک ایسی جگہ ہوں گے جہاں نہ کوئی تکیہ
ہوگا اور نہ کوئی نرم لحاف… ہمارے پاس جو کچھ ہے یہ اُن کا تھا جو مر گئے… پھر ہم
مرجائیں گے اور یہ سب کچھ پیچھے والوں کا ہو جائے گا… اور ہم خالی ہاتھ قبرمیں ہوں
گے… وہاں جو کچھ کام آسکتا ہو بس اسی کی ہم سب فکر اورمحنت کریں…
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
ہم سب کو صراط مستقیم پر چلائے
اَللّٰھُمَّ
اھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم
اللہ تعالیٰ
ہمیں ایمان پر ثابت قدمی نصیب فرمائے
اَللّٰھُمَّ
یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قُلُوْبَنَا عَلیٰ دِیْنِک
اللہ تعالیٰ
ہم سب کو گمراہی سے بچائے
رَبَّنَا
لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنَا وَ ھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ
رَحْمَۃً
اللہ تعالیٰ
ہم سب کو تفرقے، نفاق اور برے اخلاق سے بچائے
اَللّٰھُمَّ
اِنَّا نَعُوْذُبِکَ مِنَ الشِّقَاقِ وَالنِّفَاقِ وَسُوْئِ الْاَخْلَاق
ایک
شخص پہلے بہت نیک تھا مگر پھر اس کی حالت بدل گئی… وہ گناہ اور گمراہی میں جا گرا
کسی نے ایک ’’صاحب علم‘‘ سے پوچھا یہ کیسے ہو گیا؟ انہوں نے فرمایا: یہ شخص ہدایت
پر ثابت قدمی کی دعاء نہیں مانگتا ہوگا… اور یہ شخص ہدایت کے بعد گمراہی آنے سے
حفاظت کی دعاء نہیں مانگتا ہو گا… اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے…
وہ مانگنے والوں سے محبت فرماتا ہے اور نہ مانگنے والوں سے ناراض ہوتا ہے… ہدایت
پر ہونا کسی کا ذاتی کمال نہیں، جب انسان اپنی کسی خوبی کو اپنا ذاتی کمال سمجھنے
لگتا ہے تو وہ خوبی اس کے لئے وبال بن جاتی ہے…
اَللّٰھُمَّ
اِنَّا نَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ وَرَحْمَتِکْ
اندھے
دل
حضرت
ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ بڑے بزرگ، نامور صوفی اور مقبول
مجاہد گذرے ہیں، وہ ارشاد فرماتے ہیں:
’’اے
میرے بھائی!دنیا کی محبت چھوڑ دو، کیونکہ دنیا کی محبت انسان کو اندھا اور بہراکر
دیتی ہے‘‘
جی
ہاں! دنیا کے مال کی محبت، دنیا کی عزت کی محبت… حبّ مال اور حب جاہ انسان کے دل
کو اندھا کر دیتی ہے… روز اٹھتے جنازے نظر نہیں آتے… اپنے سفید ہوتے ہوئے بال نظر
نہیں آتے… سامنے منہ پھاڑے قبر نظر نہیں آتی… قرآن پاک کی آیات نظر نہیں
آتیں… اور کان ایسے بہرے ہو جاتے ہیں کہ کوئی نصیحت اثر نہیں کرتی… ایک میٹھی
دعاء یاد کر لیں… یہ دعاء مشہور محدث حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ
علیہ مانگا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ
زَھِّدْنَا فِی الدُّنْیَا وَوَسِّعْ عَلَیْنَا فِیْھَا
یا اللہ
! ہمیں دنیا سے زہد اور بے رغبتی عطاء فرمائیے اور ہمارے لئے دنیا میں وسعت عطاء
فرمائیے…
دنیا
کے بدلتے رنگ
عرب
کا ایک مشہور قبیلہ تھا… بڑا مالدار اور سردار… مگر پھر اچانک دنیا نے آنکھیں
پھیر لیں اور بھکاری بنا دیا… اس خاندان کی ایک عورت حضرت سیّدنا امیر معاویہ رضی
اللہ عنہ کے دربار میں حاضر ہوئی، آپ رضی اللہ عنہ نے حالات پوچھے تو
اس نے کہا:
وہ
ایک شام تھی جب ملک عرب کا ہر شخص ہم سے محبت کرتا تھا اور ہم سے ڈرتا تھا… مگر جب
صبح ہوئی تو یہ حالت تھی کہ ہم ملک عرب کے ہر شخص کے محتاج تھے اور اس سے ڈرتے
تھے…
بینا
نسوس الناس فی کل بلدۃ
3
اذا
نحن فیھم سوقۃ نتنصّفُ
فاُف
لدنیا لایدوم نعیمھا
3
تقلب
تارات بنا وتصرف
’’ایک
وقت تھا جب ہم سب کے سردار تھے… مگر پھر اچانک ہم بری طرح سے حقیر ہو گئے… اُف ہو
اس دنیا پر کہ اس کی نعمتیں ہمیشہ نہیں رہتیں… ہر دن ان کا رنگ بدلتا رہتا ہے…‘‘
اسی
لئے تو حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دنیا کو ’’ملعونۃ‘‘
فرمایا…
حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں’’لعنت‘‘ کے لفظ کا استعمال بہت کم
اور خاص تھا… جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے’’حب دنیا‘‘ پر لعنت بھیج دی
تو ’’حب دنیا‘‘ کا کوئی مریض اب کہاں رحمت پا سکتا ہے… ہائے مال، ہائے عہدہ، ہائے
عزت، ہائے ناموری کرنے والے ہائے ہائے ہی پکارتے ہیں… دنیا کی زیب و زینت اور چمک
دمک پر کوئی منافق ہی مرتا ہے… قرآن پاک نے سمجھایا:
’’مزین
کر دی گئیں لوگوں کے لئے دنیا کی خواہشات یعنی عورتیں، بیٹے، سونا، چاندی، گھوڑے،
مویشی اور کھیتی…‘‘
یا
اللہ! رحم … ہم نے آج کل میں ہی اس ظالم دنیا کو چھوڑنا ہے… اس کی محبت سے ہماری
حفاظت فرما… ایک میٹھی دعاء یاد کر لیجئے:
اَللّٰھُمَّ
صَغِّرِ الدُّنْیَا بِاَعْیُنِنَا وَعَظِّمْ جَلَالَکَ فِی قُلُوْبِنَا،
اَللّٰھُمَّ وَفِّقْنَا لِمَرْضَاتِکَ وَثَبِّتْنَا عَلیٰ دِیْنِکَ وَطَاعَتِک
’’یا
اللہ! دنیا کو ہماری آنکھوں میں حقیر بنا دیجئے اور اپنے جلال کو ہماری آنکھوں
میں بڑا یعنی عظیم بنا دیجئے، یا اللہ! ہمیں اپنی رضاوالے اعمال کی توفیق عطاء
فرمائیے اور ہمیں اپنے دین اور اپنی اطاعت پر ثابت قدمی عطاء فرمائیے…‘‘
حساب،
عقاب، عتاب
سیّدنا
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے کسی نے دنیا کے بارے میں
پوچھا تو ارشاد فرمایا:
دنیا
تو ایسی چیز ہے جس کے حلال میں حساب ہے…یعنی حلال کا بھی حساب دینا ہوگا… اور اس
کے حرام میں عقاب یعنی اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے اور اس کے شک والے مال میں عتاب ہے…
دُنیا
کی محبت انسان کے دل میں’’وھن‘‘ بزدلی اور نفاق پیدا کرتی ہے… اور انسان کو ہمیشہ
فکر اور پریشانی میں مبتلا کرتی ہے… دُنیا کے طالب کو خریدنا آسان، گمراہ کرنا
آسان، ڈرانا آسان… اور راہ مستقیم سے ہٹانا آسان…
ایک
میٹھی مسنون دعاء یاد کر لیجئے:
اَللّٰھُمَّ
لَا تَجْعَلِ الدُّنْیَا اَکْبَرَ ہَمِّنَا وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا
یا
اللہ! دنیا کو ہماری بڑی فکر اور ہمارے علم کا مبلغ نہ بنائیے…
کافر
دنیا سے اپنی خواہشات پوری کرتا ہے… جبکہ منافق دنیا کو اپنی عزت اور ظاہری ٹیپ
ٹاپ پر لگاتا ہے… اور دونوں کے نزدیک آخرت کا کوئی نام و نشان نہیں ہوتا…
فتنہ
اور آزمائش
ہم
نے مرتے دم تک اسی دنیا میں رہنا ہے… اور حکم یہ ہے کہ دنیا میں دل نہ لگاؤ…
ہمارے
اندر طرح طرح کی ضرورتوں کے خانے ہیں… کھانے کی ضرورت، پینے کی ضرورت، جسمانی
ضرورتیں… رہنے کی ضرورت، وغیرہ وغیرہ…
گویا
دنیا کے دریا میں ہمیں ڈال دیا گیا ہے… اور ساتھ حکم فرمایا گیا ہے کہ اس میں
ڈوبنا نہیں… ہمارے چاروں طرف دنیا کے پجاری… ہرطرف مالداروں کی ظاہری عزت اور ٹیپ
ٹاپ…مگر ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم نے ان کی طرف رشک اور پسند کی نظر سے دیکھنا تک
نہیں… ہمارے چاروں طرف دنیا کی زیب و زینت مگر ہمیں حکم کہ تم نے اس دنیا کو ملعون
سمجھنا ہے… ہاں بے شک آزمائش ہے… ہاں!بے شک امتحان ہے… مگر اسی آزمائش اور
امتحان میں کامیابی پر ہی جنت ملتی ہے… انسان نہ اپنی مرضی سے مالدار ہوسکتا ہے
اور نہ اپنی مرضی سے غریب … مال جو قسمت میں لکھا ہے وہ مل کر رہے گا… مگر یہ مال
ہم نے جیب میں رکھنا ہے یادل میں… یہ ہمیں اچھی طرح سمجھا دیا گیا… آزمائش کے اس
میدان میں… نہ ہی اللہ تعالیٰ نے ہمیں اکیلا چھوڑا اور نہ ہی ہمارے محسن
آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں لاوارث کھڑا کیا… قرآن
پاک کامیاب مالداروں کے حالات بھی سناتا ہے اور ناکام مالداروں کے بھی… کامیاب
مالدار وہ تھے جن کے پاس دنیا تھی مگر اُن کے دل دنیا کی محبت سے پاک تھے… اور
ناکام مالدار وہ جو دنیا کو دل میں بسا بیٹھے تھے… بالآخر دنیا اُن کو لے ڈوبی…
قرآن پاک ہمیں کامیاب غریبوں کے حالات بھی سناتا ہے اور ناکام غریبوں کے بھی…
کامیاب
غریب وہ جنہوں نے… دنیا کو اپنا مقصود نہیں بنایا… اور ناکام غریب وہ جو دنیا میں
مالدار بننے کو ہی اپنی کامیابی سمجھ بیٹھے…
قرآن
پاک نے ہمارے سامنے منافقین کو کھڑا کر دیا… ان کی ایک ایک بُری عادت سمجھا دی…
مال کے بھوکے، جاہ ، زیب و زینت اور دنیاوی عزت کے بھوکے… قرآن مجید نے ہمیں چند
خواتین دکھائیں… وہ روئے زمین کی خوش بخت ترین عورتیں تھیں… عرش سے اُن کے لئے
سلام آتا تھا… وہ بڑے بڑے خاندانوں کی شہزادیاں تھیں… وہ ظاہری اور باطنی ہر خوبی
میں دنیا کی تمام عورتوں سے فائق تھیں…
ان
میں سے کوئی بھی کسی معمولی گھرانے میں نہیں پلی بڑھی تھیں… مگر پھر قدرت نے ان کو
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرمبارک میں لا بسایا… یہاں
فاقے تھے، پیوند زدہ کپڑے تھے اور تین تین دن تک ٹھنڈے رہنے والے چولہے تھے…
جنت
کی حوروں سے زیادہ افضل اور زیادہ مقام والی ہماری ان ماؤں نے ایک بار اپنے خرچے
میں اضافے کا جائز مطالبہ کر دیا… انہوں نے نہ کوٹھیاں مانگیں اور نہ طرح طرح کے
لباس… انہوں نے نہ جائیداد مانگی اور نہ سونے کے زیورات… بس اتنا کہ کم از کم
کھانا تو دو وقت کا پورا مل جائے… مگر جواب کیا ملا؟ حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم اُن سے روٹھ کر مسجد شریف میں مقیم ہوگئے…
یا
اللہ! خیر… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی خفگی… اور پھر ربّ
تعالیٰ نے بھی صاف اعلان فرما دیا… سورۂ احزاب کھول کر دیکھ لیجئے…
اے
نبی! ان سے پوچھ لیجئے کہ دنیا چاہئے یا اللہ اور رسول؟
ان
پاکیزہ ہستیوں کے دل اونچے تھے، شیطان ان میں یہ ضد نہ ڈال سکا کہ وہ اتنا ہی
عاجزی سے پوچھ لیتیں!!
یا
اللہ! ہم نے کون سی دنیا مانگی تھی کہ اتنا سخت فیصلہ کہ… اگر دنیا چاہئے تو حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ سامان دے دیںگے مگر اُس سامان کے
ساتھ طلاق بھی ہوگی… مگر وہ تو باسعادت تھیں، عقلمند تھیں ہماری وہ مائیں فوراً
پکار اٹھیں
ہمیں
اللہ چاہئے… ہمیں رسول اللہ چاہئیں
بس
اللہ، بس اللہ، بس اللہ… اور بس رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم دنیا نہیں، دنیا نہیں، دنیا نہیں…
سبحان
اللہ! اُن کے گھر پھر بس گئے… اور دنیا اور آخرت میں حضرت آقا مدنی
صلی اللہ علیہ وسلم کا قرُب نصیب ہو گیا…
بس
اسی واقعہ سے ہم اندازہ لگالیں کہ… اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی کیا قیمت ہے… اور
دنیا کی محبت کا کیا انجام ہے؟…
آہ!
آج دنیا کی محبت نے ہمارے دلوں کو ویران کر دیا… ہمارے گھروں کو اجاڑ دیا…
ہماری
جماعتوں کو غیبت، تفرقے اور رسہ کشی کا بازار بنا دیا… ہائے کاش ہم سورہ انفال کی
ابتدائی چند آیات ہی سمجھ کر پڑھ لیں اور دل میں اتار لیں تو… ہمارا جہاد کتنا
مبارک، کتنا طاقتور، کتنا خوشبودار ہو جائے… حضرات صحابہ کرام رضوان
اللہ علیہم اجمعین نے جب مال غنیمت پر تھوڑی سی آپس میں بات چیت کی تو قرآن پاک
نے کیسی واضح تنبیہ فرمائی… مال،مال کی باتیں چھوڑو، اگر تم واقعی ایمان والے ہو
تو اللہ تعالیٰ سے ڈرو، آپس کے معاملات درست کرو… اور اللہ اور اس کے رسول کی
اطاعت کرو… ساتھ ساتھ اجتماعی اموال کی نزاکت، امانت اور احتیاط کا مسئلہ بھی
سمجھا دیا… حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بڑے اونچے لوگ
تھے… ان کے پاس دنیا میں جو کچھ تھا وہ سارا انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے
لگا دیا… تب اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اُن کے قدموں میں ڈال دیا… مگر پھر بھی دنیا
اُن کے قدموں میں ہی رہی اُن کے دلوں میں کوئی جگہ نہ بنا سکی… یا اللہ! ہمارے
دلوں میں بھی نور اور روشنی عطاء فرمادیجئے
اَللّٰھُمَّ
اجْعَلْ فِی قُلُوْبِنَا نُوْرَا… اَللّٰھُمَّ اجْعَل لَّنَا نُوْرَا
لا
الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ، لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
ہم سب کو تمام روحانی اور جسمانی امراض سے شفاء عطاء فرمائے…
اَللّٰھُمَّ
اِنَّا نَسْئَلُکَ الصِّحَّۃَ وَ الْعِفَّۃَ وَالْاَمَانَۃَ وَحُسْنَ الْخُلُق
بُرے
نام سے اللہ تعالیٰ کی پناہ
دنیا
اور مال کے لالچی کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے معلوم ہے کیا نام
دیا ہے؟
’’عبدالدرھم،
عبدالدینار‘‘
درہم
اور دینار کا بندہ اور غلام… اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر لعنت
فرمائی ہے:
لُعِنَ
عبدالدینار، لعن عبدالدرھم(ترمذی)
لعنت
کے معنیٰ ہیں… اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہونا… دراصل لالچ اورایمان ایک دل میں
جمع نہیں ہو سکتے…لالچ ہو گی تو ایمان دل سے روٹھ جائے گا… اور جب دل میں ایمان
نہیں ہوگا تو ایسے دل پر اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل نہیں ہوگی…اسی لئے کہتے ہیں
کہ’’حبِ دُنیا‘‘ہی وہ چیز ہے جس نے جہنم کو آباد کرنا ہے… حضرت آقا مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم نے واضح الفاظ میں فرمادیاکہ!!
الا
ان الدنیا ملعونۃ (ترمذی)
خوب
اچھی طرح سن لو کہ دنیا ملعون ہے… ہاں دنیا میں جو کچھ اللہ تعالیٰ کے لئے ہو وہ
رحمت والا ہے… مگر انسان بہت تیزی سے حبّ دنیا کی طرف گرتا ہے…
بَلْ
تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا
ہاں
تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو… حالانکہ آخرت بہترین اور باقی رہنے والی ہے…
ہم سب کو بہت دعاء اور بہت فکر کرنی چاہئے کہ یہ بُرا لقب ہمارا نہ ہو۔
عبدالدینار،
عبدالدرھم
بلکہ
ہمارا نام، ہمارا لقب اور ہمارا مقام یہ ہونا چاہئے
عبداللہ،
عبدالرحمٰن… جی ہاں! ہم دنیا اور مال کے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں…
اَللّٰھُمَّ
اَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَاَنَا عَبْدُک
ہم
سب کہہ دیں…
یَا
رَبِّ اَنَا عَبْدُک… یا اللہ میں آپ کا بندہ ہوں، میں آپ کا غلام ہوں… حبِ
دُنیا سے توبہ کرتا ہوں، حبِ دُنیا سے آپ کی پناہ مانگتاہوں…
بے
شک دنیاجارہی ہے…بے شک آخرت آرہی ہے… حدیث شریف میں آیا ہے کہ کچھ لوگ دنیا کے
بیٹے ہیں… اور کچھ لوگ آخرت کے بیٹے…
کچھ
دنیا سے پیار کرتے ہیں… اور کچھ آخرت سے محبت رکھتے ہیں… آج سے سو سال پہلے والے
سب لوگ دنیا سے جا چکے… کہاں گئے اُن کے اموال؟ کہاں گئے اُن کے عہدے اور کہاں گئے
اُن کے عیش و آرام؟… دنیا کے بیٹے! اپنی ماں سے محروم ہوگئے… جبکہ آخرت کے بیٹے
اپنی پیاری ماں کی گود میں جا بسے…
نعوذ
باللّٰہ، اللّٰہ تعالیٰ سے اختلاف
’’حبِ
دُنیا ‘‘ کے نقصانات بے شمار ہیں… ایک بڑا اور خطرناک نقصان یہ کہ دنیا سے محبت
رکھنے والے اور اپنے دل میں دنیا کی عظمت رکھنے والے لوگ نعوذ باللہ، اللہ تعالیٰ
سے اختلاف کرتے ہیں… اللہ تعالیٰ نے دنیا کو حقیر اور ذلیل قرار دیا… اللہ تعالیٰ
نے دنیا کو مچھر کے پر سے بھی زیادہ بے وقعت قرار دیا… قرآن مجید میں جابجا اُن
لوگوں کی مذمت فرمائی جو دنیا کو اپنا مقصود اور مطلوب بناتے ہیں… اور اللہ تعالیٰ
نے اپنے بندوں کو بار بار سمجھایا کہ دنیا کی زندگی کے دھوکے میں نہ پڑو، دنیا کی
چمک دمک کی طرف نہ دیکھو… کفار کی دنیوی ترقی کی طرف نہ دیکھو… مگرہم ان تمام
فرامین کو پس پشت ڈال کر دنیا سے محبت کریں… دنیا کی مالداری اور چمک دمک کو
کامیابی سمجھیں… اور بار بار کفار کے حوالے دیں کہ وہ ہم سے کتنا آگے نکل گئے… وہ
چاند پر پہنچ گئے، وہ کامیاب ہوگئے… کیا یہ اپنے رب تعالیٰ سے اختلاف کرنا نہیں
ہے؟ یادرکھیں! دنیا کی محبت مسلمانوں کے لئے دنیا اور آخرت کی’’ذلت‘‘ ہے… اسی کو
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’وھن‘‘ کے نام سے بیان فرمایا
ہے اور مسلمانوں کو تنبیہ فرمائی ہے کہ… جب تم’’وھن‘‘ میں مبتلا ہو جاؤ گے… یعنی دنیا
کی محبت میں جا پڑو گے اور دنیا کو اپنا مقصود بنالوگے تو ایسے ذلیل ہو جاؤگے کہ
دنیا کی دوسری قومیں تم سے کھیلیں گی اور تمہیں نوچ نوچ کر کھائیں گی… مسلمانوں کی
عزت اور غلبہ’’جہاد‘‘ میں ہے اور جہاد کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ’’ حبّ دنیا‘‘
ہے… دنیا کی محبت ایک مسلمان کو جہاد میں نہیں آنے دیتی… کیونکہ جہاد میں ہجرت
ہے، مال کی قربانی ہے، جان کی قربانی ہے… اور جب کوئی مسلمان’’حبّ دنیا‘‘ کی پہلی
رکاوٹ توڑ کر جہاد میں آجاتا ہے تو پھر’’حبّ دنیا‘‘ کا دوسرا گڑھا منہ پھاڑ دیتا
ہے… مال کا شوق، عہدے کا شوق، ناموری اور شہرت کا شوق … تب بہت سے لوگ اس میں جا
گرتے ہیں… صحیح حدیث میں وہ افراد جن کے ذریعہ سب سے پہلے جہنم کی آگ کو بھڑکایا
جائے گا ان میں’’شہید‘‘ بھی ہے… جہاد میں جان لٹانے والا شہید… مگر اس کے دل پر
دنیا میں بہادرلقب، ناموری اور شہرت کی نیت چھائی ہو گی… وہ بھی ناکام ہو جائے گا…
پس جہاد جیسے عظیم فریضے پر آنے کے لئے بھی’’حبّ دنیا‘‘ سے لڑنا پڑتا ہے… اور پھر
جہاد میں آنے کے بعد اپنے جہاد کی قبولیت کے لئے بھی’’حبّ دنیا‘‘ سے لڑنا پڑتا
ہے… اسی لئے تو حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق کے
مطابق’’قتال فی سبیل اللہ‘‘ ہی ’’جہاد اکبر‘‘ ہے… کیونکہ اس میں مجاہدہ ہی مجاہدہ
ہے… ایک مجاہدے کے بعد دوسرا مجاہدہ… اور ساتھ جان و مال کی قربانی بھی…
مقام
ِعبرت
الحمدللہ
آج کے زمانے میں بھی سچے مسلمان موجود ہیں اور ان شاء اللہ تاقیامت موجود رہیں
گے…
سچے
مسلمان کی ایک بڑی نشانی!!
’’حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنا ہے‘‘
یہ
ایمان کی لازمی علامت ہے… الحمدللہ آج بھی ایسے مسلمان موجود ہیں جو حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت، حرمت اور ناموس پر اپنی جان کے ٹکڑے
کروانا اپنی سعادت سمجھتے ہیں… ایسے سچے مؤمن بھی موجود ہیں جو حضرت محمد صلی
اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اپنا سارا مال خرچ کر سکتے ہیں… اور ایسے
بھی موجود ہیں کہ خواب میں حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک
مبارک جھلک دیکھنے کے لئے طرح طرح کے جتن، وظیفے اور عمل کرتے ہیں اور بڑے بڑے
صدقات دیتے ہیں… بالاکوٹ کے ایک مقبول اللہ والے بزرگ حضرت شیخ مفتی ولی حسن صاحب
نوراللہ مرقدہ سے ملنے تشریف لائے… اور یہ کہہ کر بلک بلک کررونے لگے کہ حضرت!
مجھے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت نہیں ہوتی… حضرت
نے انہیں یہ درود شریف بتایا
’’صَلّٰی
اللہُ عَلٰی النَّبِیِّ الْاُمِّی‘‘
الحمدللہ
جمعۃ المبارک کے درود سلام والے’’مقابلہ حسن‘‘ میں شریک کئی افراد نے اطلاع دی ہے
کہ انہیں اس مقابلہ کے دوران خواب میں یہ نعمت نصیب ہوئی ہے… الحمدللہ آج بھی
ایسے مسلمان موجود ہیں جنہیں اگر کہا جائے کہ زمانہ سمیٹ کر آپ کو حضور اقدس صلی
اللہ علیہ وسلم کے دور میں لے جایا جائے گا اور آپ صرف ایک نماز رسول
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ادا کر سکیں گے… مگر اس کے بدلے
آپ کو اپنا تمام مال دینا ہوگا اور اس نماز کے فوراً بعد موت کو قبول کرنا ہو گا
تو وہ فوراً راضی ہو جائیں گے… مگر اب ایک بھیانک منظر دیکھیں… یہ منظر اگر ہمیں
یاد رہے تو ہمیں’’حبّ دنیا‘‘ سے انتہائی نفرت ہو جائے… کچھ اشخاص تھے جن کا شمار
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے میزبان قبیلے’’انصار‘‘ میں ہوتا تھا…
انصار کے فضائل آپ نے سن رکھے ہوں گے… یہ لوگ دن رات جنت سے بھی زیادہ لذیذ
سعادتوں کے قریب تھے… وہ جب چاہتے حضرت آقامدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی
صحبت میں حاضر ہوتے… یہ روزآنہ پانچ نمازیں رسول کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کی اقتداء میں ادا کرتے تھے… ان کے پاس موقع تھا کہ جب چاہتے رسول
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے لئے استغفار اور دعاء کرواتے… ان کی
آنکھیں ماہتاب نبوت کو براہ راست دیکھتی تھیں… اور اُن کے کان حضرت آقا مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم کی پُراثر شیریں آواز مبارک کو سنتے تھے… یہ لوگ ہر
طرح سے ایمانی، دینی اور روحانی نعمتوں کے قریب تھے… وہ چاہتے تو احسان مانتے اور
قدر کرتے… مگر’’حبّ دنیا‘‘ کا کینسر اُن کے دلوں کو مسخ کر چکا تھا… ہم جب سورۃ
التوبہ کی اُن آیات پر پہنچتے ہیں جہاں ان ظالموں کی ایک بڑی گستاخی کا تذکرہ ہے
تو دل خوف سے کانپنے لگتا ہے…
یا
اللہ رحم! کیا کوئی انسان مال اور دنیا کی لالچ میں اتنا بھی گر سکتا ہے؟ ہوا یہ
کہ حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں کچھ مال آیا…
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تقسیم فرما دیا یہ ظالم افراد بھی ان میں
شامل تھے جنہیں مال ملا… مگر وہ جتنا چاہتے تھے اتنا نہ ملا پس اُن کے دل کا حرص
اور اندر کا نفاق کالے سانپ کی طرح سر اٹھا کر پھنکارنے لگا…
یہ
گندے منہ بنا کر مجلس سے اٹھے اور فوراً اُن افراد کو جمع کرکے جو ان بد نصیبوں کی
بات سنتے تھے… غیبت کاناپاک بازارکھول کر بیٹھ گئے… اور غیبت بھی کس کی؟ کہتے ہوئے
زبان لرزتی ہے… غیبت اور وہ بھی حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی
اور الزام یہ کہ مال کی تقسیم میں انصاف نہیں ہوتا… اور نعوذ باللہ حضور اقدس صلی
اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق مال تقسیم نہیں فرماتے:
استغفراللہ،
استغفراللہ، استغفراللہ
اندازہ
لگائیں، دنیا کی لالچ اور مال کی محبت انسان کو کتنا ذلیل اور کتنا کمینہ بنادیتی
ہے… ایک طرف وہ مہاجرین و انصار صحابہ کرام تھے… جو حضرت آقا مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم کے حکم پر جان، مال، گھر، وطن سب کچھ قربان کر رہے
تھے…اور ہر وقت اس تاک میں رہتے تھے کہ ہمیں مزید جان و مال لگانے کا موقع ملے…
اور دوسری طرف یہ بدنصیب تھے جن کو حضرت آقامدنی صلی اللہ علیہ
وسلم نے خود مال عطاء فرمایا، مگر اُن کے دل کی حرص کم نہ ہوئی… بے شک
مال کی محبت اوردُنیا کی محبت انسان کو اندھا، بہرہ اور محروم بنا دیتی ہے…
اَللّٰھُمَّ
اِنَّا نَعُوْذُبِکَ مِنْ حُبِّ الدُّنْیَا وَنَعُوْذُبِکَ مِنَ الْوَھْنِ
وَالْحِرْمَان
تجربہ
کر لیں
انسان
کو پتہ نہیں چلتا کہ وہ کب’’حبِ دُنیا ‘‘ کی بیماری کا شکار ہوا… اور حبِ
دُنیا کی بیماری بہت خطرناک اور بڑی وسیع ہے… نشے میں مدہوش شخص کو یہ
یاد نہیں رہتا کہ وہ نشے میں ہے…
حضرت
یحییٰ بن معاذ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
دُنیا
شیطان کی شراب ہے، پس جو اس شراب کے نشے میں آگیا اسے قبر میں جا کر ہی ہوش آئے
گا…
ہاں
دوصورتیں ہیں… ایک یہ کہ انسان قبرستان جائے اور مردوں کے پاس بیٹھ کر غور وفکر
کرے…یا اُن لوگوں کی صحبت میں جائے جو حبّ دُنیا سے دور ہیں…
یہاں
چند باتیں ضروری ہیں:
١ ہم
خود کو حبّ دنیا سے محفوظ نہ سمجھیں…
٢ ہم
دوسروں کو نہ دیکھیں کہ کون حبّ دنیا کا مریض ہے؟ ایک تو اس عمل کا کوئی فائدہ
نہیں بلکہ نقصان ہی نقصان ہے… اوردوسرا یہ کہ حبّ دنیا ایک چھپی ہوئی بیماری ہے
کوئی بھی کسی کے بارے میں درست فیصلہ نہیں دے سکتا… ایک شخص دس روٹیاں کھاتا ہے
مگر وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں’’زاہد‘‘ لکھا ہوا ہوتا ہے… اور دوسرا دو روٹیاں کھاتا
ہے مگر وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں’’حریص‘‘ شمار ہوتا ہے… وجہ یہ ہے کہ اس آدمی کی
بھوک اور صحت پندرہ روٹیاں کھانے کی ہے وہ دس کھاتا ہے اورپانچ صدقہ کرتا ہے… اور
دل میں حرص نہیں رکھتا… جبکہ دوسرے کی بھوک اور صحت ایک روٹی کی ہے مگر وہ دوسری
حرص کی وجہ سے پیٹ میں ٹھونس لیتا ہے… اکثر مالدار حبّ دنیا کے مریض ہوتے ہیں لیکن
ایسے مالدار بھی ہیں جن کے پاس بہت مال ہے مگر وہ حبّ دنیا سے محفوظ ہیں… اور ایسے
غریب بھی ہیں جن کے پاس دنیا نہیں مگر وہ حبّ دنیا میں دنیا داروں سے بھی بڑھ کر
ہوتے ہیں… اس لئے دوسروں کے بارے میں فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں…
٣ کسی
بڑے سے بڑے آدمی کے حرام کھانے سے وہ حرام ہمارے لئے حلال نہیں ہوجاتا… عالم،
بزرگ، مجاہد ، خطیب … سب انسان ہیں اور سب پر حبِ دُنیا کا حملہ ہو سکتا ہے… اب
اُن کی حبِ دُنیا کو دلیل بنا کر اپنے لئے اس مرض کو جائزسمجھنا ایک
بڑا خسارہ ہے… شیطان ایک انسان کو پہلے اس بات پر لاتا ہے کہ فلاں اتنا کھا گیا،
فلاں اتنا لوٹ گیا… وہ بار بار مال میں خیانت کے تذکرے زباں پر لاکر پھریہ ترغیب
دیتا ہے کہ… جب دوسرے لوگ حرام کھا رہے ہیں تو تم بھی تھوڑا سا کھالو، جب اتنے بڑے
لوگ باز نہیں آتے تو تمہیں تقویٰ کی کیا ضرورت ہے؟
ایسے
حالات میں خود کو سنبھالنا چاہئے کہ ہر شخص سے خود اس کی اپنی ذات کا سؤال ہوگا…
مجھے اپنی حالت درست کرنی چاہئے کیونکہ میں نے اکیلے اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش
ہونا ہے…
٤ حبِ
دُنیا کا خطرناک پہلو یہ ہے کہ…دل میں مال کی عظمت ایسی آجائے کہ انسان کو صرف
مالدار لوگ ہی اچھے لگتے ہوں اور غریبوں مسکینوں سے اسے گھن آتی ہو… یہ وہ مقام
ہے جہاں سے آدمی کفر اورنفاق کی طرف گر سکتا ہے… کیونکہ دنیا میں اللہ تعالیٰ
کفار کو زیادہ دولت اورعیش دیتے ہیں… اورقرآن مجید کی سورۃ الزخرف میں تو یہاں تک
سمجھایا ہے کہ اگر تمام لوگوں کے گمراہ ہونے کا خطرہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ
کافروں کو اور زیادہ مال دیتا یہاں تک کہ ان کے گھروں کی چھتیں اور سیڑھیاں تک
سونے چاندی کی ہو جاتیں…
٥ ہم
اس بات کا درد لیکر کہ واقعی ہمارے اندر یہ موذی مرض… ’’حبّ دنیا‘‘ موجود ہے دو
رکعت نماز ادا کریں… اور اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں کہ وہ ہمیں اس مرض سے نجات
عطاء فرمائے… خوب رو رو کر دعاء کرنے کے بعد ہم یہ یقین باندھ لیں کہ آج مغرب تک
میں نے ضرور مرجانا ہے… پس ساری زندگی خراب کی اب چندگھنٹے پورے اخلاص سے آخرت کی
دائمی زندگی کی تیاری کرلوں… پھر مغرب تک کلمہ طیبہ اور استغفار میں لگے رہیں اور
دائیں بائیں کچھ توجہ نہ کریں… مغرب کے وقت موت آگئی تو اچھی ہوگی اور موت نہ
آئی تو ہم اپنے دل کو دیکھیں گے کہ کئی بڑے بڑے بوجھ اتر گئے… پہاڑوں جیسے کئی
بھاری مسائل حل ہو گئے اور بہت سی پریشانیاں دور ہو گئیں… دراصل دنیا کی محبت ہی
وہ بوجھ ہے جو ہمیں مایوس اورویران کر دیتا ہے…
مقامات
کچھ
عرصہ پہلے اچانک یہ خیال آیا کہ… رنگ و نور کے مضامین کا عنوان’’میم‘‘ سے شروع
کیا جائے… ہمارے محبوب آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم
گرامی’’ میم‘‘ سے شروع ہوتا ہے… ارادہ تھا کہ چالیس مضامین’’میم‘‘ والے عنوان سے
آجائیں… مگر الحمدللہ برکت ہو گئی رنگ و نور کی ساتویں جلد میں بھی کئی
مضامین’’میم‘‘ والے آگئے… اور اس کے بعد یہ پچاسواں مضمون بھی… اسی اہتمام کے
ساتھ آرہا ہے…یہ بس ایک ذوق تھا اور ایک جنون… اور کچھ بھی نہیں… عشق کا دعویٰ
نہیں مگر خواہش بہت ہے…
اَللّٰھُمَّ
صَلِّ عَلیٰ سَیِّدِنَا مُحَمَّدِ وَّاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّم
اب
ان پچاس مضامین کی کتاب تیار ہو رہی ہے… اوریہ اس کا آخری مضمون ہے اورکتاب کا
نام ہے’’مقامات‘‘… اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور نافع بنائے…آمین یا ارحم الراحمین
لا
الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ
وبارک
وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
کی کتاب قرآن مجید میں ہم سب کا تذکرہ موجود ہے…
ارشاد
فرمایا:
فِیْہِ
ذِکْرُکُمْ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ
’’ہم نے
ایسی کتاب نازل فرمائی ہے جس میں تمہارا تذکرہ ہے کیا تم نہیں سمجھتے‘‘
امریکہ
کی جیل کے کسی تاریک سے سیل میں… میری اور آپ سب مسلمانوں کی پاکیزہ بہن عافیہ
صدیقی… جب قرآن مجید کی تلاوت کرتی ہوں گی تو انہیں کونسی آیات میں اپنا تذکرہ
نظر آتاہو گا؟… دشمنوں کی قید میں قرآن مجید کی والہانہ تلاوت عجیب لذت بخش ہوتی
ہے…
سبحان اللہ
! قرآن مجید میں تو اللہ تعالیٰ بولتے ہیں، جب قیدی قرآن
مجید میں اللہ تعالیٰ کو سنتا ہے تو زخمی دل پر مرہم لگتا
ہے… ہاں! میں سب سے کٹ گیا مگر میراپیارا رب میرے ساتھ ہے میرا عظیم رب میرے پاس
ہے… دو چاردن مشرکوں کی قید ہم نے بھی دیکھی، قرآن مجید کی بعض آیات پڑھتے وقت
انسان کی چیخیں نکل جاتی ہیں… یہ دراصل اُن آیات کی خاص روشنی ہوتی ہے جو دل پر
پڑتی ہے… انسان اُس وقت صرف اُس روشنی میں کھوجاتا ہے مگر چند دن یا چند سالوں کے
بعد وہ اُن آیات کا مصداق اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے… ہم ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی
بہن’’ عافیہ‘‘ جیل میں اکیلی جب تلاوت کرتی ہو گی تو اُس پر کون کون سی آیات
چمکتی ہوں گی؟… ہاں بے شک بہت سی آیات! عافیہ بہن نے ایمان، عزم اور عزیمت کا
جوراستہ اختیار کیا… اُس کا مقام بہت اونچا ہے… یقیناً وہ قرآن مجید کی کئی آیات
میں اپنا تذکرہ اور اپنا مقام پاتی ہوں گی… تب کتنے آنسو ٹپ ٹپ برستے ہوں گے… کان
متوجہ ہوتے ہوں گے کہ
وَالْعادِیٰتِ
ضَبْحًا
مسلمان
مجاہدین کے گھوڑوں کی ٹاپیں کب سنائی دیں گی… اور
وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ
مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآئِ وَالْوِلْدَانِ
پر
دل بھر آتا ہوگا…مگر میں سوچتا ہوں کہ بہن جی عافیہ جب… حضرت سیّدہ آسیہ علیہا
السلام کا تذکرہ پڑھتی ہوں گی تو اُن پر قرآن مجید کے انوارات کس تیزی سے برستے
ہوں گے…
اللہ تعالیٰ
ایمان والوں کی مثال کے طور پر… فرعون کی بیوی کو پیش فرماتے ہیں…
دیکھو!ایمان
ہو تو ایسا… عزم ہو تو ایسا، قربانی ہو تو ایسی، شوق ہو تو ایسا، اور انجام ہو تو
ایسا…
سبحان
اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم
کیا اس
زمانے کے فرعون کی قید میں ظلم سہتی ’’عافیہ‘‘ کو… پرانے زمانے کے فرعون کے مظالم
سہتی ’’آسیہ‘‘ کے تذکرے سے سکون نہیں ملتا ہو گا…
امریکہ
اور فرعون کے درمیان بہت سی مشابہتیں ہیں… قرآن مجید ایک زندہ کتاب ہے… اس کے
حروف، الفاظ، اسماء اور زیر زبر تک میں بڑے بڑے راز اور بڑے بڑے نکتے پوشیدہ ہیں…
فرعون کو بار بار ذکر فرمایا، بے کار ہر گز نہیں… بلکہ زمین پر فرعونوں نے بار بار
آنا ہے… فرعون ایک شخص تھا مگر فرعونیت ایک سوچ ہے اور ایک مزاج ہے… آپ قرآن
مجید کی وہ آیات جن میں فرعون کا تذکرہ ہے اُن کو الگ کاغذ پر لکھ لیں…پھر انہیں
ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ پڑھ کر فرعون کی سوچ، فرعون کا مزاج، فرعون کا طرز عمل…
اور فرعون کا طریقہ حکمرانی لکھ لیں… پھر امریکہ کو دیکھتے جائیں آپ حیران ہوں گے
کہ نوے فیصد باتیں، پالیسیاں اور طریقہ کار بالکل ایک جیسا ہے…مجھے آج اپنی بہن
جی عافیہ صدیقی کا تذکرہ کرنا ہے… اُن کو امریکہ کی قید میں گیارہ سال بیت گئے…
اُن کی قید اور اسارت ہمارے دلوں پر ایک سلگتے انگارے جیسا زخم ہے… اس لئے میں
امریکہ اور فرعون کے درمیان مشابہتوں کو نہیں گنواتا کہ بات دوسری طرف نکل جائے
گی… کچھ لوگ امریکہ کو’’دجال اکبر‘‘ کہتے ہیں… یہ لوگ غلطی پر ہیں…
ممکن ہے
امریکہ نے خود یہ سوچ ان لوگوں میں پھیلائی ہو کہ… وہ’’دجال اکبر‘‘ ہے… نہیں بالکل
نہیں… وہ دجّالی فتنہ ضرور ہے اور چھوٹا موٹا دجال بھی اسے کہہ سکتے ہیں مگر
وہ’’دجال اکبر‘‘ نہیں… دجّال اکبر کی سوچ اس لئے پھیلائی جاتی ہے تاکہ مسلمانوںکے
ہاتھ پاؤں خوف سے ڈھیلے ہو جائیں… اور وہ یہ فیصلہ کر لیں کہ چونکہ یہ دجال اکبر
ہے تو اس کا مقابلہ ہمارے بس میں نہیں… اسے ختم کرنے کے لئے حضرت سیّدنا
عیسیٰ علیہ السلام… اور حضرت امام مہدی رضی اللہ عنہ تشریف لائیں گے…
اُن کے آنے تک ہم غلامی برداشت کریں…دجال کی ایک آنکھ والی تصویریں، خوف اور
دہشت پھیلانے والی موویاں، سازشوں کے انکشاف کرنے والی خوف آلود کتابیں… یہ سب
کچھ بالکل غلط بلکہ خود دشمنان اسلام کی چالیں ہیں… امریکہ اس زمانے کا فرعون ہے…
فرعون کے پاس جادوگروں کی طاقت تھی… امریکہ کے پاس سائنسی ٹیکنالوجی ہے… فرعون کے
جادوگر لوگوں کوہیبت زدہ کر دیتے تھے…
وَاسْتَرْھَبُوْھُمْ
وَجَآءُ وْ بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ
امریکہ
کی ٹیکنالوجی بھی بالکل وہی اثردکھاتی ہے… مگر ایک خشک لاٹھی نے اس جادو کا رعب
توڑ دیا… جس طرح آج کے لاٹھی بردار مجاہدین اور فدائیوں نے امریکہ کی جنگی
ٹیکنالوجی کا رعب خاک میں ملا دیا ہے… فرعون خاندانی منصوبہ بندی کا بانی تھا… مرد
کم ہوں عورتیں زیادہ تو قوم کو غلام بنانا آسان… آج مسلمان ممالک میں اسی فرعونی
تھیوری پر کام جاری ہے… فرعون کے پاس جنگی طاقت تھی، افرادی قوت تھی اور لوگوں کو
اپنا غلام بنانے کا جنون… اس کی طاقت اپنے زمانے کے اعتبار سے امریکہ سے زیادہ
تھی… کیونکہ اُس سے لڑنے کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا… بات دور نکل رہی ہے…
خلاصہ بس اتنا ہے کہ امریکہ ختم نہیں ہوگا… جس طرح فرعون کا جسم آج تک موجود ہے…
مگر اس کی فرعونیت ختم ہو گئی… اب وہ ایک بے جان لاشہ ہے… امریکہ بھی روئے زمین کے
ایک خطے کا نام ہے… یہ خطہ موجود رہے گا مگر امریکہ کی امریکیت ختم ہو جائے گی… اس
کے اندر غلام قوموں کا طوفان اٹھے گا… اور دوسری طرف سمندر اس پر چڑھ دوڑیںگے… اور
یہ سب اس وجہ سے ہوگا کہ امریکہ کی حکومت اُس کے ’’رعب‘‘ پر قائم ہے… اسی رعب کو
قائم رکھنے کے لئے وہ مسلمانوں میں اپنا خوف پھیلاتا ہے… مگر مجاہدین نے اس کے اس
رعب کو پنکچر کر دیا ہے… یہ رعب جیسے جیسے گھٹتا جائے گا امریکہ میں موجود قومیں
اپنے حقوق کے لئے سراٹھاتی چلی جائیں گی… یہ اچھاوقت ہم دیکھیں گے یا ہمارے بعد
والی نسل… یااُن کے بعد والی نسل یہ تو اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے… ہم بہرحال اُس
زمانے میں ہیں جب امریکہ اس زمین کے فرعونوں میں سے ایک بڑا فرعون ہے… اور ہم
’’نَبِیُّ الْمَلْحَمَہ‘‘ حضرت محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کے اُمتی ہونے کے ناطے… اس فرعون کے مقابلے پر کھڑے ہیں…
اور ان شاء اللہ اس مقابلہ میں مسلمان ہی کامیاب اور سرفراز ہوں گے… ہماری مظلوم
اور عظیم بہن عافیہ صدیقی… اس زمانے میں حضرت آسیہ علیہا السلام کی
مثال ہیں… آسیہ فرعون کے گھر میں بہت راحت سے تھیں… بہت بڑا محل تھا ہزاروں
باندیاں اورغلام خدمت پر مامور تھے… محل کے اندر پوری دنیا کی نعمتیں جمع تھیں…
حتی کہ دریا کا رخ موڑ کر محل میں نہریں اور ساحل بنائے گئے تھے… ان سب نعمتوں کی
وہ تن تنہا مالک تھیں… مگر پھر اچانک یہی ’’محل ‘‘اُن کے لئے قید خانہ اور عقوبت
خانہ بن گیا… کیونکہ انہوں نے اعلان کر دیا کہ…
لا الہ
الا اللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ
فرعون
غصے سے پاگل ہو گیا… وہ خود کو ربّ اور سپر پاور کہلواتا تھا اور دنیا کو اپنے
قدموں پر جھکاتا تھا… اس کی تویہ کوشش تھی کہ آسمانوں پر بھی اس کی حکومت قائم
ہوجائے… اس نے اس کام کے لئے ایک بڑے ماہر تعمیر سائنسدان کی خدمات حاصل کیں…
علماء لغت نے ’’ھامان‘‘ کے لفظ کی تحقیق کی ہے … ہامان جو فرعون کا وزیر تھا…
ھامان کہتے ہیں ارضیات، تعمیرات اور سائنس کے ماہر کو… امریکہ بھی چاند کی طرف،
مریخ کی طرف اور کائنات کے ذرہ اولیٰ کی طرف چھلانگیں لگا رہا ہے… کیونکہ زمین
عجیب جگہ ہے… یہاں ہر مکھی اور مچھر کو یہ شبہ ہونے لگتا ہے کہ بس وہی سب کچھ ہے…
اور اب اُسے خدائی کے رتبے تک (نعوذباللہ) پہنچ جانا چاہئے…یہی شبہ فرعون کو تھا
یہی شبہ تاتاریوں کو تھا… یہی شبہ سوویت یونین کو تھا اور آج یہی شبہ امریکہ کو
ہے… اور انڈیا بھی کوشش کرتا ہے کہ وہ بھی شائد کچھ بن جائے… اللہ تعالیٰ کی تقدیر
ان بیو قوفوں کی چھلانگیں دیکھ کر مسکراتی ہے… آسیہ کے لئے کفر پر رہنے میں ظاہری
فائدہ ہی فائدہ تھا… اور ہر طرح سے عیش ہی عیش تھی… آج کل کئی لوگ بہن جی عافیہ
کا موازنہ’’ملالہ‘‘ کے ساتھ کرنے بیٹھ جاتے ہیں… توبہ، توبہ، توبہ… ان دونوں میں
نسبت ہی کیا ہے… ایک ایمان کی علامت ہے تو دوسری نفاق کا سمبل… ایک آزادی کا
استعارہ ہے تو دوسری غلامی کا نشان… ایک ایمان و عزم کی خوشبو ہے تو دوسری گندے
ڈالروں اور ناپاک ایوارڈوں سے لت پت… ایک غیرت اور حیاء کا پاکیزہ چشمہ ہے تو
دوسری پوری اُمت مسلمہ کے لئے شرم اور عار کا باعث… ایک علم، تقویٰ، بہادری اور
قربانی کاپیکر ہے تو دوسری جہالت، شرارت، حرص اور لالچ کا مجسّمہ… ایک وہ ہے کہ جس
کا نام سنتے ہی گناہگاروں کے دل بھی اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں… اور
دوسری وہ ہے جس کا نام مسلمانوں کو گالی اور طعنہ دینے کے لئے استعمال ہوتا ہے…
ایک وہ ہے کہ جس کی پاکیزہ عقیدت نے کتنے بدکار مسلمانوں کو… متقی مجاہد اور
جانباز فدائی بنا دیا… اور دوسری وہ ہے کہ جس کے نام پر نفاق اور فسق پھیلایا
جارہا ہے…
آج
ملالہ کو جو کچھ ملا ہواہے، سیدہ آسیہ کو اس سے ہزاروں گنا زیادہ نعمتیں ملی ہوئی
تھیں… وہ جب اُن آسائشوں میں تھیں تو کچھ بھی نہ تھیں… مگر جب انہوں نے اُن سب
راحتوں اور عیش و آرام کو چھوڑا تو قرآن مجید کا کامیاب کردار بن گئیں… اب جس
مسلمان نے قرآن مجید میں یہ سب کچھ پڑھ رکھا ہو وہ کس طرح سے ملالہ کو کامیاب اور
عافیہ کو نعوذباللہ ناکام کہہ سکتا ہے؟… ملالہ جو کچھ کمارہی ہے یہ سب یہیں رہ
جائے گا…اور عافیہ جو کچھ بنا رہی ہے وہ قیامت تک چلے گا… دیکھ لینا ملالہ تاریخ
کے کوڑہ دان میں گم ہوجائے گی مگر عافیہ کے نام سے تاریخ ہمیشہ زندگی پائے گی…
عافیہ بہن کا فرعون، امریکہ ہے… وہ پہلے وہاں گئیں تو آرام و راحت میں تھیں…
تعلیم حاصل کی، ڈاکٹریٹ کی ڈگری پائی… بڑی پرکشش ملازمتوں کی آفریں آئیں…مگر جب
عافیہ نے پکارا:
لاالہ
الااللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ
تو
امریکہ غصہ سے پاگل ہو گیا… میرے ہاں پڑھنے والی،میری زمین پر پلنے والی ایک عورت…
مجاہدین کی حامی، جہاد کی دیوانی، شہادت کی متوالی اور امریکہ کی آنکھوں میں
آنکھیں ڈال کر اُس کی خدائی کاانکار کرنے والی؟… بس فرعون کی آنکھیں بدل گئیں…
وہی امریکہ جو عافیہ کے لئے محل کی طرح تھا… آج اس کا قیدخانہ ہے… اور اس قید
خانے میں رات کے آخری پہر میں ایک آواز ہلکی ہلکی… مگر گہری گہری، آنسوؤں میں
بھیگی بھیگی…اٹھتی ہے:
رَبِّ
ابْنِ لِیْ عِنْدَکَ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃ
اے میرے
رب! اپنے پاس جنت میں میرے لئے ایک گھر بنا دیجئے…
وَنَجِّنِیْ
مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِہٖ
اور
مجھے فرعون اور اس کے کرتوتوں سے نجات عطاء فرمادیجئے…
وَنَجِّنِیْ
مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ
اور مجھے
ظالموں سے نجات عطاء فرما دیجئے…
فرعون نے
سیّدہ آسیہ پر طرح طرح کے ظلم ڈھائے… وہ چاہتا تھا کہ یہ مجھے واپس مل جائے… یہ
میرے خلاف سرکشی چھوڑ دے… یہ میری بن جائے… مگر سیّدہ آسیہ… اپنے رب کی بن چکی
تھی… وہ جسم اور نفس کے تقاضوں سے بہت اونچی جا چکی تھی… اُس کی نظر میں دنیا اور
اس کی ساری دولت ایک حقیرقطرے جیسی ہو چکی تھی… ہاں آسیہ
لاالہ
الااللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ
کے
بلند مقام پر جا بیٹھی تھیں… ارے! جو مٹھائیوں اور ٹافیوں کی پانچ سو کمپنیوں کا
مالک بن چکا ہے تو کوئی بیو قوف اُسے ایک ٹافی دکھا کر… اُن کمپنیوں کو چھوڑ دینے
پر راضی کر سکتا ہے؟… جو اصل عیش دیکھ چکا ہو اُسے دنیا کے عیش بہت ہی حقیر لگتے
ہیں… فرعون کا تشدد بڑھتا گیا، غصہ بڑھتاگیا… سیّدہ آسیہ کی آزمائش بھی بڑھتی
گئی… وہ بڑے اونچے ذوق والی اور کامل ایمان والی خاتون تھیں… انہوں نے اللہ تعالیٰ
سے اصل بدلہ مانگا… فرعون نے حکم دیا کہ کھال اتارنا شروع کر دو… تب فرشتوں نے جنت
کا محل بی بی آسیہ کے سامنے کردیا… ڈاکٹرایک ٹیکہ لگا کر مریض کوایسا بے ہوش اور
مدہوش کر دیتے ہیں کہ اُسے آپریشن کی چیر پھاڑ کا درد نہیں ہوتا… ارے! جو جنت
دیکھ رہا ہو اس کی مدہوشی کا کیا عالم ہوگا… کھال اترنے کا ذرہ برابر درد نہ ہوا…
اور زمین تا آسمان ان کی روح کی خوشبو ایسی پھیلی کہ… کیا پوچھنے…
اور قسمت
کا عروج دیکھو! دنیا میں قربانی دی، چند منٹ لگے، اور بدلہ اتنااونچا کہ جنت میں
رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ بن کر رہیں گی…
سبحان
اللّٰہ وبحمدہ سبحان اللّٰہ العظیم…
ہاں! بے
شک جتنی بڑی قربانی اتنا بڑا مقام…
آسیہ علیہا
السلام کامیاب… ہماری بہن جی’’عافیہ‘‘ بھی ان شاء اللہ کامیاب… وہ
سیّدہ آسیہ کے راستے پر جارہی ہیں… انہوں نے ہمارے زمانے کی عورتوں کی لاج رکھ لی
ہے کہ… اُمت مسلمہ کی بیٹیاں کیسی بہادر اور کیسی غیرت مند ہوتی ہیں… بعض لوگ خبروں
میں اڑاتے ہیں کہ نعوذباللہ عافیہ بہن کی عصمت دری کی گئی… نہیں، نہیں، ہرگز نہیں…
میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ایسی عظیم خواتین کی عزت و عصمت کی حفاظت کے لئے خاص
ملائکہ اتارے جاتے ہیں… وہ لاکھ دشمنوں کے درمیان ہوں… اُن پر اور تو ہر ستم ہو
سکتا ہے مگر ان کی پاکیزگی اور عفت پر کوئی ہاتھ نہیں اٹھ سکتا… لیکن یہ بھی تو سچ
ہے کہ عافیہ بہن جب تک دشمنوں کی قید میں ہیں… پوری اُمت مسلمہ خود کو’’بے آبرو‘‘
محسوس کر رہی ہے…
یا اللہ!
بے شمار جانیں حاضر ہیں… غیب سے نصرت فرما… بہن جی عافیہ کو باعزت رہائی عطاء
فرما۔
آمین یا
ارحم الراحمین
لا الہ
الا اللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللھم صل
علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
نے اپنے ایک خاص فرشتے کو زمین پر بھیجا… اُس دن سے پہلے یہ فرشتہ کبھی زمین پر
تشریف نہیں لایا تھا… اس فرشتے کے لئے آسمان کا ایک خاص دروازہ کھولا گیا جس سے
وہ زمین پر اُترا… آسمان کا یہ دروازہ اس سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا تھا… یہ
فرشتہ اپنے رب کا پیغام لیکر ایک صحرائی زمین پر اُترا… وہاں دو عظیم شخصیات تشریف
فرما تھیں…
١ تمام
جہان کے سردار حضرت آقا مدنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم
اور
٢ تمام
ملائکہ یعنی فرشتوں کے سردار حضرت جبریل امین علیہ السلام
فرشتے نے
آکر سلام عرض کیا اور فرمایا:
آپ( صلی
اللہ علیہ وسلم ) کو دو نوروں کی بشارت ہو جو پہلے کسی نبی کو عطاء
نہیں کئے گئے…ان میں سے ایک نور ’’سورۃ الفاتحہ‘‘ ہے اور دوسرا نور’’سورہ بقرہ‘‘
کی آخری آیات ہیں…
سُبْحَانَ
اللہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیْم وَالْحَمْدُلِلہِ رَبِّ
الْعَالَمِیْن
یہ جو
کچھ اوپر لکھا ہے یہ ایک’’حدیث صحیح‘‘ کا مفہوم ہے، اور یہ حدیث’’مسلم شریف‘‘ میں
موجود ہے… لیجئے نور مل گیا، روشنی مل گئی، راستہ مل گیا… آپ میں سے جو پاکی کی
حالت میں ہوں… ابھی ایک بار دل کی توجہ سے سورۂ فاتحہ پڑھ لیں پھر بات آگے
بڑھاتے ہیں… امید ہے آپ نے پڑھ لی ہوگی… سبحان اللہ ! قرآن مجید کی
سب سے عظیم سورت… ایسی سورت جس میں ہمارے ہر مسئلے کا حل موجود ہے… ایسی سورت جو
نہ تورات میں نازل ہوئی اور نہ انجیل و زبور میں… ایسی سورت جو خاص طور پر حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اُمت کو عطاء فرمائی
گئی…
لا الہ
الا اللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ…
ارے
بھائیو! اوربہنو! اپنے مسلمان ہونے پر شکر ادا کرو… اگر کوئی صرف سورۂ فاتحہ کے
نور کی ایک جھلک دیکھ لے تو اسے اندازہ ہو جائے کہ اسلام کتنی بڑی نعمت ہے اور
کلمہ طیبہ کتنی عظیم نعمت ہے… کلمہ طیبہ کی برکت سے ہمیں سورۂ فاتحہ مل گئی…
لا الہ
الا اللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ…
دیکھیں
سورۃ فاتحہ میں ایک وسیع جزیرہ ہے… عبدیت اور طاقت کا شاندار پُرسکون جزیرہ…
اِیَّاکَ نَعْبُدُوَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْن… بس ایک کی غلامی میں آکر ہر غلامی سے
آزاد ہو جائو… ایک کی بندگی میں آکر ہر ذلت اور ہر طاقت کی بندگی سے نجات پا
جائو… اور ایک سے مدد مانگ کر ساری مخلوق کی محتاجی سے بچ جائو… دنیا بھر کے کافر
مشرک اور منافق اس پُر کیف جزیرے سے محروم… ہر ذلت ہر غلامی اور ہر محتاجی میں
جکڑے ہوئے… چلو وہ تو جدیدیت اور مادہ پرستی کے پجاری مگر ایمان والوں کو کیا ہوا…
مسلمانوں کو کیا ہوا کہ سورہ فاتحہ سے فائدہ نہیں اٹھا پارہے…
سبحان اللہ … الفاتحہ، الفاتحہ، الفاتحہ… کھولنے والی، رستہ دکھانے
والی، تاریکیوں کو توڑنے والی… گمراہیوں کو شکست دیکر ہدایت کی فتح کے جھنڈے گاڑنے
والی سورہ فاتحہ…تعجب ہے ہم پر کہ ہمارے پاس سورہ فاتحہ موجود ہے مگر ہم پھر بھی
دھکے کھا رہے ہیں… اچھا ایک بات بتائیں! آج صبح سے اب تک آپ نے کتنی بار سورہ
فاتحہ پڑھی ہے؟… نماز کی ہر رکعت میں تو ضرور پڑھی ہو گی، مگر یہ بتائیں کہ کتنی
بار سمجھ کر توجہ سے پڑھی؟… ہاں! شاید ایک بار بھی نہیں… ہم تو نماز میں سورہ
فاتحہ اتنی جلدی پڑھتے ہیں جیسے ہمارے پیچھے کوئی بھیڑیا لگا ہوا ہو اور ہم جان
بچانے کو بھاگ رہے ہوں… آہ! افسوس، جس عظیم سورۃ کے ہر جملے پر بادشاہوں کے
شہنشاہ حضرت رب العالمین خود جواب عطاء فرماتے ہیں، ہم اس سورت کو بھی جلدی جلدی
بے توجہی سے پڑھ جاتے ہیں… نہ توجہ، نہ سمجھ، نہ شوق نہ ولولہ… نہ محبت نہ مناجات،
نہ عظمت، نہ احترام… اور نہ اپنے محبوب رب سے گفتگوکرنے کی کیفیت اور حلاوت…
موبائل
یاریاں کرنے والوں کو دیکھا ہو گا کہ ناپاک آوازوں میں کیسے کھوئے کھوئے ہوتے
ہیں… اور ہم اپنے عظیم رب سے مناجات کرتے وقت… نہ اُن کی عظمت سے لرزتے ہیں اور نہ
اُن کے شوق میں پگھلتے ہیں… ارے! سورہ فاتحہ کے ہر جملے
پر اللہ رب العالمین خود جواب عطاء فرماتے ہیں:
لا الہ
الا اللہ، لا الہ الا اللہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ…
آج سے
نیت کر لیں کہ ہم ان شاء اللہ … آئندہ جب بھی سورہ فاتحہ پڑھیں گے… رک
رک کر، ٹھہر ٹھہر کر شوق اور توجہ سے پڑھیں گے… تب ہم پر اس عظیم ترین اور مبارک
ترین سورت کے انوارات چھم چھم برسیں گے… تھوڑا سا سوچیں…
آج ہم
پر جو سب سے بڑی بیماری مسلّط ہے… وہ ہے ناامیدی،مایوسی اور ناشکری کی بیماری…
سورۃ فاتحہ کا پہلا لفظ’’الحمد‘‘… ہمیں شکر گزار بناتا ہے… ہم شکر گزار بن گئے تو
تمام مایوسیاں، ناکامیاں اور ناشکریاں منہ چھپا کر بھاگ جائیں گی… ہم آج رزق،
رہائش اور معیشت کے مسائل سے دوچار ہیں… سورہ فاتحہ میں’’ربّ العالمین‘‘ موجود ہے…
جس کو ربّ مل جائے گا یعنی خوب دیکھ بھال کر کے محبت کے ساتھ پالنے والا… تو پھر
اور کیا چاہئے؟…
اَلْحَمْدُ
لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن، اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن، اَلْحَمْدُ لِلہِ
رَبِّ الْعٰلَمِیْن…
آج ہم
پریشان ہیں، دربدر ہیں، منتشر ہیں اور اس دنیا کے فریبوں میں پھنسے ہوئے مر رہے
ہیں، لٹک رہے ہیں… سورہ فاتحہ میں ہمارا مالک موجود ہے جو ہمارے اصل دن کا مالک
ہے… مالک مل جائے تو مملوک چیزیں ضائع نہیں ہوتیں… اور آخرت کی فکر نصیب ہو جائے
تو دنیا کے مسائل بہت ہلکے ہو جاتے ہیں… دوسری طرف ہم اپنے گناہوں کی وجہ سے، اپنی
شامت اعمال سے اور اپنے دشمن شیطان کی سازشوں کی وجہ سے ہر طرح کی زحمتوں اور
مصیبتوں میں پھنسے ہوئے ہیں… سورہ فاتحہ میں رحمتوں کا وسیع سمندر موجود ہے… عام
رحمتیں بھی اور خاص رحمتیں بھی… دنیا کی رحمتیں بھی اورآخرت کی رحمتیں بھی…
الرَّحْمٰنِ
الرَّحِیْم… مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن… الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم، مَالِکِ یَوْمِ
الدِّیْن…
سوچئے
اور غور کیجئے! سورۂ فاتحہ میں ہر وہ چیز مل جائے گی، جس کے ہم محتاج ہیں اور جس
کے ہم آگے محتاج ہوں گے… سب سے بڑی چیز سیدھا راستہ ہے، منزل تک پہنچانے والا
راستہ… اسی کو ہدایت کہتے ہیں… وہ بھی فاتحہ میں موجود ہے…
اِھْدِنَا
الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم اِھْدِنَا
الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم
اللہ والے
بندے تو بس اسی جملے سے ہی… اللہ تعالیٰ کی رہنمائی حاصل کر
لیتے ہیں… یہ جملہ ایک طرف’’ ہدایت‘‘ کے لامتناہی دروازے کھولتا ہے تو دوسری طرف
بندے کے دل میں’’الہام‘‘ کا دروازہ بھی کھول دیتا ہے … تب اُسے ہر معاملہ
میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سیدھی راہ اور ٹھیک راستے کا
الہام ہونے لگتا ہے… کئی لوگ تو سورۂ فاتحہ سے ہی استخارہ کر لیتے ہیں… دو رکعت
نماز ادا کی، استخارہ کی مسنون دعاء پڑھی… اور پھر سورۂ فاتحہ کے نور میں غوطے
لگانے لگے… جب بھی کسی مسئلے نے الجھایا، جب بھی کسی مشکل نے تڑپایا… وہ سورۂ
فاتحہ کے ذریعہ روشنی مانگنے لگے… ہمارے چاروں طرف تو اندھیرا ہی اندھیرا ہے نا؟…
شیطان کے اندھیرے، نفس کے اندھیرے، شہوات کے اندھیرے، کم فہمی اور بے علمی کے
اندھیرے… روشنی ہو تو کمرے کی ہر چیز نظر آجاتی ہے… اسی طرح نور ہو تو سیدھا اور
غلط سب نظر آجاتا ہے… اندھیرے میں گاڑی چلاؤ تو کسی کھائی میں گرے گی… اس کی
لائٹیں جلا لو تو مزے سے سیدھی سڑک پر دوڑتے ہوئے منزل تک جا پہنچو… سورہ ٔفاتحہ
کے ’’نور‘‘ ہونے میں کوئی مسلمان شک نہیں کر سکتا… مگر نور کو روشن کرنے کے لئے دل
کی توجہ اور اخلاص کا بٹن دبانا پڑتا ہے… اخلاص اور توجہ سے سورہ فاتحہ پڑھتے
جارہے ہیں… اور جب ’’اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم‘‘ پر پہنچتے ہیں تو… اسے
بار بار پڑھتے ہیں…
اِھْدِنَا
الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم اِھْدِنَا
الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم
تب نور
چمکتا ہے اور ہر مسئلے کا حل اور ہر مشکل سے نکلنے کا راستہ نظر آنے لگتا ہے… عرض
یہ کر رہا تھا کہ اس میں استخارہ بھی ہے…اچھا:آج ایک بات کا وعدہ کر لیں… آپ
یقین کریں آپ یہ وعدہ کرنے کے بعد نہ ان شاء اللہ دنیا میں
پچھتائیں گے اور نہ آخرت میں…وعدہ یہ کریں کہ’’استخارہ‘‘ کو اپنا معمول بنائیں
گے… اور کبھی بھی، جی ہاں! کبھی بھی کسی اور سے اپنے لئے استخارہ نہیں کرائیں گے…
یاد رکھیں! استخارہ بہت اونچا اور مبارک عمل ہے… حضرات صحابہ کرام کو استخارہ یوں
سکھایا جاتا تھا جس طرح سے قرآن مجید کی آیات سکھائی جاتی ہیں… استخارہ انسان کی
زندگی کو خیر اور رحمت سے بھر دیتا ہے… صرف پانچ منٹ کا عمل اور فضائل و فوائد
ہمیشہ ہمیشہ کروڑوں اور اربوں سالوں سے بھی زیادہ کے… مگر کسی اور سے اپنے لئے
استخارہ کرانا اچھا کام نہیں… اوراس سے کچھ بھی فائدہ حاصل نہیں ہوتا… کیا نعوذب
اللہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ… اللہ تعالیٰ ہماری
نہیں سنتے اور فلاں کی سنتے ہیں؟… توبہ توبہ اللہ تعالیٰ سے
ایسی بدگمانی… کیا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں استخارہ کا جواب سمجھ نہیں آتااس لئے
دوسروں سے کراتے ہیں… یہ بھی غلط… استخارہ کا کوئی جواب ہوتا ہی نہیں… بلکہ
استخارہ کے بعد خیر کاراستہ خود کھل جاتا ہے اور شر کا راستہ خود بند ہوجاتا ہے…
نہ خواب، نہ الہام اور نہ کچھ اور… ہمارے ہاں کچھ لوگ نجومیوں سے مستقبل کے حالات
پوچھتے ہیں…سفر ٹھیک ہے یا نہیں؟… فلاں تجارت نفع مند ہو گی یا نہیں؟ فلاں رشتہ
اچھا ہوگا یا نہیں؟… نجومیوں کے ہاں جو جاتاہے وہ ایمان سے دور ہوجاتا ہے…
حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سخت وعید فرمائی ہے… اور
نجومیوں کی تصدیق کرنے کو کفر جیسا قرار دیا ہے… اب جو لوگ ان وعیدوں کی وجہ سے
نجومیوں کے پاس نہیں جا سکتے… مگراُن کو بھی ہر وقت دنیا کے مسائل کی فکر اور
خواہش لگی رہتی ہے… انہوں نے اس کا متبادل نکال لیا ہے کہ فلاں سے استخارہ کرالو…
اور اس میں انداز بالکل نجومیوں والا ہوتا ہے کہ جی ہم نے فلاں سے استخارہ
دکھلوایا ہے…
اِنَّالِلہِ
وَاِنَّا اَلِیْہِ رَاجِعُوْن، اِنَّالِلہِ وَاِنَّااَلِیْہِ رَاجِعُوْن،
اِنَّالِلہِ وَاِنَّااَلِیْہِ رَاجِعُوْن…
آہ
مسلمان! اللہ تعالیٰ نے تیرے لئے اپنے ہاں ایک دروازہ کھولا
اور تو دوسروں کی ڈیوٹی لگا رہا ہے کہ وہ اس دروازے پر جا کر تیرے مستقبل کے بارے
میں اللہ تعالیٰ سے پوچھ آئیں… بھائیو! آپ جن سے استخارہ
کرواتے ہیں، کبھی جا کر خود اُن کے حالات دیکھیں کہ وہ کیسی پریشانیوںمیں ہوتے
ہیں… اگر اُن کے پاس عرش سے ہر ’’خیر‘‘ پوچھنے کا موبائل ہوتا تو وہ اپنے لئے ہر
خیر جمع کر لیتے، نہ کبھی بیمار ہوتے نہ کبھی تکلیف پاتے، نہ کبھی ان کا حادثہ
ہوتا… علم غیب تو اللہ تعالیٰ کا خاصّہ ہے… اور استخارہ کا
یہ مقصد ہرگز نہیں… بلکہ استخارہ تو بندگی کا ایک قرینہ ہے
کہ اللہ تعالیٰ سے خیر کی دعاء مانگی جائے اور شر سے بچانے
کی درخواست کی جائے… اللہ تعالیٰ نے اس عمل میں یہ تأثیر
اور برکت عطاء فرما دی ہے کہ جو شخص اپنے معاملات میں استخارہ کرتارہے… یعنی اللہ
تعالیٰ سے پوچھ پوچھ کر چلے تو اللہ تعالیٰ اُسے ایک خاص قوت اور روشنی
عطاء فرما دیتے ہیں… آپ سب اپنے معاملات کا ضرور استخارہ کیا کریں… مگر کبھی بھی
کسی اور سے اپنے لئے ہرگز ہرگزاستخارہ نہ کرائیں… اس سے عقیدہ بھی بگڑتا ہے، عمل
بھی خراب ہوتا ہے… اور انسان توہم پرست بن کر بالآخر نجومیوں اور غلط عاملوں کے
ہاتھوں اپنا ایمان کھو بیٹھتا ہے…
ہاں،
اللہ والوں اور نیک لوگوں سے مشورہ کیا کریں… اُن سے دعاء کرایا کریں اور اُن سے
شرعی رہنمائی لیا کریں… مگر اُن کو غیب دانی، اور مستقبل کے خیر و شر کے فیصلے
کرنے کی ڈیوٹی نہ دیں… کئی نیک لوگ اس لئے لوگوں کے ’’استخارے‘‘ کر دیتے ہیں کہ
اگر ہم نے نہ کئے تو یہ باز نہیں آئیں گے بلکہ کسی نجومی یا غلط عقیدہ کے عامل کے
پاس چلے جائیں گے… چنانچہ وہ دعاء کرکے کسی ایک پہلو کا فیصلہ سنا دیتے ہیں…
حالانکہ انہیں بھی کچھ نظر نہیں آتا… اور نہ شریعت میں ایسے شعبدے موجود ہیں…بس
جن میں کچھ روحانیت ہوتی ہے وہ اپنی دعاء، اپنے رونے دھونے اور اپنی عاجزی کے
ذریعہ روشنی پانے کی کوشش کرتے ہیں… اور پھر ان کی طبیعت کا رجحان جس طرف ہو وہ
بتا دیتے ہیں… ان کی نیت اچھی ہوتی ہے… مگر بہتر یہ ہوگا کہ وہ سامنے والے کو پوری
حقیقت بتا دیا کریں…اورخود استخارہ کرنے کی ترغیب دیا کریں… آپ آج تو اس شخص کو
نجومیوں اور غلط عاملوں سے بچالیں گے مگر… کل کیا ہوگا؟… اس کی عادت اگر یہی بن
گئی کہ ہر سفر سے پہلے، ہر رشتہ سے پہلے اور ہرکام سے پہلے اسے مستقبل میں خیر کی
گارنٹی درکار ہوئی تو یہ… ضرور نجومیوں اور غلط عاملوں کے ہاتھوں پھنسے گا… اس لئے
اچھا ہے کہ اس کو خیر اور شر کی تقدیر، علم غیب کا مسئلہ اور استخارہ کی حقیقت آج
ہی سمجھا دی جائے… تاکہ اگر اس کی قسمت اچھی ہو تو اس کا ایمان بچ جائے…
لا الہ
الا اللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
بات
سورۂ فاتحہ کی چل رہی تھی… بہت سی اہم باتیں رہ گئیں… مگر موضوع استخارہ کی طرف
پھسل گیا، دراصل کافی عرصہ سے استخارہ کے موضوع پر لکھنے کا ارادہ ہے مگر وہ پورا
نہیں ہورہا… ہر طرف’’استخارہ سینٹر‘‘ کھل رہے ہیں… سنا ہے ٹی وی پر بھی استخارہ کے
پروگرام چل رہے ہیں…ایسے لوگ بھی دوسروں کے استخارے کر رہے ہیں جو خود قدم قدم پر
بھٹکتے ہیں اور غلطیاں کرتے ہیں… فیس لیکربھی استخارے کئے جارہے ہیں… آہ! افسوس
استخارہ جیسا مقدس لفظ بھیڑیوں کے ہاتھوں میں آگیا ہے… کاش! وہ اپنے ان نجومیانہ
کاموں کا’’استخارہ‘‘ کے علاوہ کوئی اور نام رکھ لیتے… سورہ ٔفاتحہ میں الحمدللہ ہر
مسئلے کا حل موجود ہے… یہ سات آیات ہیں… جو سات آسمانوں اور سات زمینوں پر حاوی
ہیں… یہ سات آیات جہنم کے سات دروازے بند کر دیتی ہیں… یہ سات آیات ہر روحانی
اور ظاہری ترقی کو سات آسمانوں سے اوپر لے جانے کی طاقت رکھتی ہیں… آپ آج ارادہ
کر لیں کہ…سورۂ فاتحہ کا ترجمہ یاد کریں گے، سورہ فاتحہ کو صحیح تلفظ سے پڑھیں
گے… اور نماز میں سورۂ فاتحہ کی تلاوت ٹھہرٹھہر کر توجہ سے کریں گے… اور اپنے
معاملات، بیماریوںاور پریشانیوںکے حل کے لئے… سورہ فاتحہ پڑھیں گے… باقی باتیں پھر
کبھی ان شاء اللہ…
لا الہ
الا اللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللّھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
کا اپنے بندوں پر عظیم احسان… القرآن، القرآن…
آہ! آج
ہم مسلمانوں کا بہت سا وقت موبائل، نیٹ اور کمپیوٹر پر ضائع ہو جاتا ہے، جی ہاں!
تباہ اور برباد ہو جاتا ہے…
اِنَّا
لِلہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
وہ کتنے
خوبصورت اور حسین لمحات ہوتے ہیں جو کسی مسلمان کے ’’قرآن مجید‘‘ کے ساتھ گزرتے
ہیں… بے شک کسی نے سچ کہا ہے کہ قرآن مجید اس دنیا میں’’جنت‘‘ ہے…پڑھنے کا الگ
مزا، سننے کا الگ لطف، دیکھنے کی الگ حلاوت، سمجھنے کا الگ ذائقہ، سنانے کی الگ
مٹھاس… عمل کرنے کی الگ شان… اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جب ہم مرنے والے ہوں گے اورہم
سب سے جدا ہو رہے ہوں گے تو اگر ہم نے دنیا میں قرآن مجید کا حق ادا کیاتو… اُس
وقت قرآن مجید تشریف لے آئے گا… روح نکلتے وقت بھی ساتھ، غسل اور کفن کے وقت بھی
ساتھ… قبر میں بھی ساتھ… فرشتوں کے سؤال کے وقت بھی ساتھ… قبر کی تنہائی میں حشر
تک ساتھ ساتھ… پھر میدان حشر میں بھی ساتھ، پل صراط پر بھی ساتھ… ہاں! جب تک جنت
میں نہیں پہنچا دے گا اس وقت تک یہ سچا’’یار‘‘ ساتھ ساتھ رہے گا…
اَلْحَمْدُ
لِلہِ رَبِّ الْعالَمِیْن…
ڈاک میں
کوئی لکھتا ہے کہ تلاوت میں سستی ہوجاتی ہے… توبہ توبہ مسلمان اور تلاوت میں
سُستی؟… کیا قبر میں اکیلے رہنے کا ارادہ ہے؟… یا اپنا موبائل سیٹ اور لیپ ٹاپ
ساتھ دفن کرانا ہے… وہاں کوئی کمپنی سروس نہیں دے گی، قبر دیکھنے میں تو زمین پر
ہے مگر حقیقت میں یہ ایک بالکل الگ دنیا ہے اور الگ جہان… وہاں زونگ،موبی لنک اور
وارد کی سروس نہیں چلتی… وہاں ڈالر، پونڈ، یورو، ریال اور روپے نہیں چلتے… وہاں
بجلی، گیس وغیرہ سے روشنی نہیں ہوتی… وہ الگ جہان ہے کسی کے لئے بہت اونچا اور بہت
کشادہ… تب اُس کا نام ہوتا ہے’’عِلِّیِّیْن‘‘ اور کسی کے لئے بہت گہرا، بہت تنگ
اور تاریک تب اُس کا نام ہوتا ہے’’سِجِّیْن‘‘…
وہاں جو
چیز بہت کام آتی ہے وہ ہے… قرآن مجید… یہ آج ہمارے پاس آسانی سے موجود ہے… آپ
کے گھرمیں کئی قرآن مجید ہوں گے… آج اسے پڑھانے والے بھی دستیاب ہیں، اور
سمجھانے والے بھی… اور وقت بھی ہمارے پاس بہت ہے… لیکن اگر یہ روٹھ جائے تو پھر…
اس کی ایک آیت کوحاصل کرنے کے لئے کوئی ساری زمین کے خزانے لٹا دے تو وہ آیت
نصیب نہیں ہوتی… یاد رکھیں! جس دن ہم میں سے کسی کی تلاوت رہ جاتی ہے… یہ وہ دن
ہوتا ہے جس میں شیطان اس آدمی پر فتح پا لیتا ہے… کیونکہ اب یہ دن کبھی واپس نہیں
آئے گا کبھی بھی… اور اس دن کی تلاوت اب کبھی نہ ہو سکے گی، کبھی بھی… اور نامہ
اعمال میں یہ دن بغیرتلاوت کے لکھا جائے گا… آہ! افسوس ہم اپنے جسم کے تقاضے کسی
دن نہیں بھولتے… جبکہ روح کی غذا اور آخرت کے سرمائے میں ہم سے سستی ہو جاتی ہے…
حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیم اجمعین، قرآن مجید کے سچے عاشق اور قدر دان
تھے… ان میں سے بعض حضرات یہ دعاء مانگتے تھے:
اَللّٰھُمَّ
نَوِّرْ بِالْکِتَابِ بَصَرِیْ
یا اللہ
! قرآن مجید کے نور سے میری آنکھوں کو روشن فرما دیجئے…
وَاشْرَحْ
بِہٖ صَدْرِیْ
اورقرآن
مجید کے ذریعہ میرا سینہ کھول دیجئے…
وَاَطْلِقْ
بِہٖ لِسَانِی
اور
قرآن پاک کو میری زبان پر جاری فرما دیجئے…
وَقَوِّبِہٖ
عَزْمِی
اور
قرآن پاک کے ذریعہ میرے عزم اورایمان کو قوت دے دیجئے…
ان میں
سے کوئی ساری رات تلاوت کرتا تھا، کوئی آدھی رات اور کوئی ایک تہائی رات… ان کی
کم سے کم تلاوت سات پارے کی ہوتی تھی… وہ قرآن مجید سیکھنے اور سکھانے میں محنت
کرتے تھے… ایسا ہرگز نہیں کہ وہ فارغ تھے… نہیں وہ تو اپنی روزی بھی خود کماتے
تھے… مشرق و مغرب میں جہاد کے لئے بھی جاتے تھے… دیگر عبادات میں بھی بھرپور وقت
دیتے تھے… انسانوں کے حقوق بھی مکمل ادا کرتے تھے… ان کی شادیاں بھی تھیں اور بچے
بھی… مگر قرآن مجید ان کی روح میں اُتر چکا تھا اس لئے… کوئی بھی عمل انہیں قرآن
پاک سے غافل نہیں کرتا تھا… میدان جہاد میں ان کی تلاوت سے گھوڑے تک سکون پاتے تھے
اور ان کی جہادی پہرے داری اور رباط کے دوران قرآن مجید ہی اُن کا واحد دوست اور
رفیق ہوتا تھا…
رضی اللہ
تعالیٰ عنھم اجمعین…
بات
سورۂ فاتحہ کی شروع ہوئی تھی… یہ عظیم الشان سورۃ مبارکہ پورے قرآن مجید
کاخلاصہ، بنیاد اور نچوڑ ہے… اس سورۃ میں نور، علم، رزق اور معرفت کے بڑے بڑے
خزانے ہیں… اللہ تعالیٰ خود چاہتے ہیں کہ اس کے پیارے بندے
یہ سورۃ بار بار پڑھیں اور زیادہ پڑھیں… اسی لئے نماز کی ہر رکعت میں اس کو لازم
فرما دیا…اہل دل اور اہل علم نے اپنی زندگیوں کے سالہا سال اس مبارک سورۃ کی خدمت
پر لگا دیئے… اور اُمت تک اس سورۃ کے معانی، فوائد، نکات اور معارف پہنچائے… اس
مبارک سورۃ کے کس کس خادم کا نام لیا جائے… انسان تو کیا بے شمار فرشتے اس مبارک
سورۃ کی خدمت پر مامور ہیں… آپ اندازہ لگائیں کہ دنیا میں کتنی مساجد ہیں؟… ان
مساجد میں جب امام صاحب سورۂ فاتحہ پڑھتے ہیں… پھر وہ اور اُن کے مقتدی’’آمین‘‘
کہتے ہیں تو ہر جگہ ایسے فرشتے موجود ہوتے ہیں جو اُن کے ساتھ’’آمین‘‘ کہتے ہیں…
پس جس کو فرشتوں کی آمین نصیب ہوجاتی ہے اس کے گناہ بخشے جاتے ہیں… امام قرطبی
رحمۃ اللہ علیہ نے اس مبارک سورۃ کے بارہ نام لکھے ہیں… صرف اُن ناموں
پر ہی غور کریں تو دل بے اختیار پڑھنے لگتا ہے…
اَلْحَمْدُ
لِلہِ رَبِّ الْعالَمِیْن، اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعالَمِیْن، اَلْحَمْدُ لِلہِ
رَبِّ الْعالَمِیْن
١ الصلوٰۃ…
رحمت والی، نماز والی، اللہ تعالیٰ سے براہ راست مناجات والی سورۃ…
٢ سورۃ
الحمد… حمد والی سورۃ… بندے کو ساری مخلوق سے کاٹ کر اللہ تعالیٰ سے جوڑنے والی
سورۃ…
٣ فاتحۃالکتاب…
قرآن مجید کے آغاز والی سورۃ، پورے قرآن مجید کو کھولنے والی سورۃ…
٤ اُم
الکتاب… پورے قرآن مجید کی بنیاد، پورے قرآن مجید کی اصل، پورے قرآن مجید کا
خلاصہ اور نچوڑ…
٥ اُم
القرآن… اس کا بھی وہی مطلب ہے جو اُم الکتاب کا ہے…
٦ المثانی…
بار بار پڑھی جانے والی سورۃ، جس کا بار بار پڑھا جانا مطلوب و مقصود ہے…
٧ القرآن
العظیم… یہ سورۃ گویا خود قرآن عظیم ہے… اور قرآن مجید کی سب سے عظیم سورۃ ہے…
٨ الشفاء…
یہ شفاء والی سورۃ ہے… روح کی بیماریوں کا علاج، عقیدے کی بیماریوں کا علاج… دل کی
بیماریوں کا علاج، عمل کی بیماریوں کا علاج… گمراہی کی بیماریوں کا علاج، غضب کی
بیماریوں کا علاج… جسمانی بیماریوں کا علاج… ناشکری اور مایوسی کی بیماری کا علاج…
الغرض ہر طرح کے امراض سے شفاء کا ذریعہ ہے…
٩ الرقیہ…
یعنی ایسی سورۃ جس کے ذریعہ بیماروں کو دم کیا جاتا ہے…
١٠ الاساس…
یعنی بنیاد… دین، دنیا، آخرت اور عقیدہ و عمل سب کی بنیاد اس سورۃ میں موجود ہے…
١١ الوافیہ…
پورا پورا فائدہ دینے والی سورت، پورا بدلہ دلوانے والی سورۃ…
١٢ الکافیہ…
کافی ہو جانے والی اور کفایت عطاء فرمانے والی سورۃ…
علّامہ
سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے اور بھی کئی ناموں کا اضافہ کیا ہے… اُن کے
نزدیک اس سورۃ کے ناموں کی تعداد بیس سے زیادہ ہے…
اَلْحَمْدُ
لِلہِ رَبِّ الْعالَمِیْن…
امام
رازی کی تفسیر دیکھیں تو انسان حیران ہو جاتا ہے… سورۂ فاتحہ کی تفسیر اتنی مفصل
تحریر کی ہے کہ اگر اردو ترجمہ کیا جائے تو کئی سو صفحات کی کتاب بن جائے… ذکر کا
شوق اور ذوق رکھنے والے اہل علم نے’’سورہ فاتحہ‘‘ کو سب سے بڑا اور جامع ذکر قرار
دیا ہے… وہ فرماتے ہیں کہ بنیادی ذکر پانچ ہیں:
١ سُبْحَانَ
اللہ ٢ وَالْحَمْدُلِلہ
٣ لَا
اِلٰہَ اِلَّا
اللہ ٤ اَللہُ
اَکْبَر
٥ وَلَا
حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم
اور
سورۂ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ کی پانچ صفات کا ذکر ہے… اور ہر صفت میں الگ شان کا
ذکر پوشیدہ ہے… اللّٰہ میں ’’ سُبْحَانَ اللہ‘‘ ہے، رَبِّ العَالَمِین میں
اَلْحَمْدُ لِلہ ہے، اَلرَّحْمٰن میں ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ‘‘ ہے، اَلرَّحِیْم
میں ’’اَللہُ اَکْبَر‘‘ ہے… مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن میں ’’لَا حَوْلَ وَلَا
قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم‘‘ ہے…
اَلْحَمْدُ
لِلِہ رَبِّ الْعالَمِیْن، اَلْحَمْدُ لِلِہ رَبِّ الْعالَمِیْن…
وہ اہل
علم جو قرآن مجید کے انوارات اور روشنیوں کو تلاش کرتے ہیں اور ان میں گم ہو کر
بڑے بڑے راز تلاش کرتے ہیں…وہ کہتے ہیں کہ ہر انسان کو پانچ طرح کے انوارات اور
روشنیوں کی ضرورت ہوتی ہے…
اور یہ
پانچوں اَنوارات سورۂ فاتحہ میں موجود ہیں…
ایک
انسان کو کیا چاہئے؟
١ اسے
اللہ مل جائے…
٢ اس
دنیا کی خیر مل جائے…
٣ اس
دنیا کے شر سے حفاظت مل جائے…
٤ آخرت
کے شر یعنی جہنم سے نجات مل جائے…
٥ آخرت
کی خیر یعنی جنت مل جائے…
سورۂ
فاتحہ میں لفظ’’اللہ‘‘ موجود ہے… جسے اس لفظ کا نور نظر آجاتا ہے اس کی روشنی میں
وہ اللہ تعالیٰ کو پہچان لیتا ہے اور پالیتا ہے…سورۂ فاتحہ میں’’ربّ
العالمین‘‘موجود ہے… اس کی روشنی اگر کسی کو نظر آجائے تو وہ آخرت کی تمام خیریں
مانگ اور پاسکتا ہے… سورۂ فاتحہ میں’’الرحمٰن‘‘ موجود ہے اس کا نور اگر نظر
آجائے تو دنیا کے تمام مسائل کا حل مانگ سکتا ہے… سورۂ فاتحہ میں ’’الرحیم‘‘
موجود ہے اس کے نور سے آخرت کی تمام تکلیفوں سے بچنے کی راہ نظر آجاتی ہے… اور
سورۂ فاتحہ میں ’’مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ‘‘ موجود ہے اس کی روشنی ظاہر ہو جائے
تو دنیا کے ہر گناہ اور ہر آفت سے حفاظت مل سکتی ہے کیونکہ فکر آخرت ہی دنیا کے
تمام مسائل کا حل ہے…
اَلْحَمْدُ
لِلہِ رَبِّ الْعالَمِیْن، اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعالَمِیْن…
سورۂ
فاتحہ واقعی عجیب ہے… یہ سورت انسان کو مٹی سے اٹھا کر عرش کے نیچے لا کھڑا کرتی
ہے…
ہمیں عدم
سے وجودمیں لانے والا، پیدا کرنے والاکون؟ ’’اللہ‘‘… اَلْحَمْدُلِلہ…
پھرہمیں پالنے
والا کون؟… رَبِّ الْعالَمِیْن …
دنیا میں
ہمیں تھامنے اور چلانے والا کون؟…’’اَلرَّحْمٰن‘‘ …
آخرت
میں ہم کس کے سہارے ہوں گے؟… ’’اَلرَّحِیْم‘‘…
ہمیںدارِ
دنیا سے آخرت منتقل کرنے والا اور وہاں ہمیں انصاف دینے والا…’’مَالِکِ یَوْمِ
الدِّیْن‘‘…
جب ہماری
پیدائش سے لے کر ہمیں اگلے جہاں لے جانے والا… صرف اللہ تو بس پھر ہم اسی کے بندے
اسی کے غلام …اِیَّاکَ نَعْبُدُ… جب غلامی اس کی اختیار کی تو اب مدد کے لئے بھی
صرف اسی کے سامنے جھکیں گے…’’وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْن‘‘…
مانگو
کیا مانگتے ہو… اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ… یا اللہ! آپ سے آپ ہی کو
مانگتے ہیں… وہ راستہ جو سیدھا آپ تک پہنچا دے… اور ہمیں انعام یافتہ افراد میں
شامل کرادے… اور ہمیں گمراہی اور آپ کے غضب سے بچا دے…
وہ حضرات
جو اوراد اور وظائف کاذوق رکھتے ہیں، انہوں نے سورۂ فاتحہ کے مجرّبات پر کتابوں
کی کتابیں لکھ ڈالی ہیں… روحانی نعمتیں حاصل کرنی ہوں تو سورۂ فاتحہ کیسے اور
کتنی بار پڑھیں… اور ظاہری نعمتیں حاصل کرنی ہوں تو سورۂ فاتحہ کو کب اور کتنی
بار پڑھیں… ان میں سے بعض وظائف ان شاء اللہ اگلے کالم میں پیش کئے جائیں گے… آج
بس وہی دعوت ہے کہ سورۂ فاتحہ کو درست پڑھیں، اچھی طرح سمجھیں، نمازوں میں توجہ
سے پڑھیں، اور سورۂ فاتحہ اورقرآن مجید کی تمام مسلمان عموماً اور مجاہدین
خصوصاً زیادہ تلاوت کریں…
لا الہ
الا اللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللھم صل
علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
موتی پا لیجئے
اللہ تعالیٰ
… تمام مجاہدین اسلام کو’’سورۂ فاتحہ‘‘ کی قوت عطاء فرمائے…
بے شک:
سورۂ فاتحہ قوت و طاقت کا خزانہ ہے…
اِیَّاکَ
نَعْبُدُوَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ
اللہ تعالیٰ…تمام
اسیران اسلام کو’’سورۂ فاتحہ‘‘ کی وہ تأثیر عطاء فرمائے جس سے ہر بند چیزکُھل
جاتی ہے… ہر قید،ہرہتھکڑی، ہر تالا کھل جاتا ہے…
اَلْحَمْدُ
لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
اللہ تعالیٰ…
تمام بیماروں کو’’سورۂ فاتحہ‘‘ کی ’’شفاء‘‘ عطاء فرمائے…
بے شک:
سورہ ٔفاتحہ ہر بیماری کا علاج ہے… جسمانی بیماری ہو یاروحانی… کوئی زہر ہو یا
پاگل پن… کوئی جادوہو یا نظر… کوئی دردہویا وبا…
اِھْدِنَا
الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ
اللہ تعالیٰ…
مالی تنگی میں مبتلا ہر مسلمان کو سورۂ فاتحہ کے’’رزق حلال‘‘ والے تحفے عطاء
فرمائے… بے شک سورۂ فاتحہ قرضہ سمیت ہر مالی تنگی کا بہترین علاج ہے…
مَالِکِ
یَوْمِ الدِّیْنِ
اللہ تعالیٰ…
ہر گناہ گار،گمراہ، مایوس اور بھٹکے ہوئے مسلمان کو سورۂ فاتحہ کی ہدایت والا نور
اور فیض عطاء فرمائے… بے شک سورۂ فاتحہ ہر طرح کی’’ہدایت‘‘ اور روشنی سے لبریز
ہے…
اِھْدِنَا
الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ
سچی
بات یہ ہے کہ سورۂ فاتحہ کے فضائل، مناقب اور خواص کو کسی ایک مضمون یا کتاب میں
سمیٹنا ناممکن ہے… بالکل ناممکن… بس ایک مثال لے لیجئے…
ایک شخص
کے پاس اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر طرح کا وافر سامان موجود
ہو… گندم کی ہزاروں بوریاں، گوشت کے لئے بکریوں کے ریوڑ… پہننے کے لئے کپڑوں کے
انبار… علاج اور صحت کیلئے ہزاروں غذائیں اور دوائیں… خدمت کے لئے سینکڑوں نوکر،
غلام اور خادم… رہنمائی اور تعلیم کے لئے بہترین علماء اور اساتذہ… تفریح کے لئے
ہر طرح کا سامان…
مگر
اچانک اس شخص کو بہت دور کا اور بہت لمبا سفرپیش آگیا… اور سفر بھی سالہا سال کا…
اس عقلمند شخص نے سوچا کہ اتنا سامان ساتھ تو نہیں اٹھا سکتا… چنانچہ اس نے سارا
سامان اور ساری جائیداد… سونے کے بدلے بیچ دی… اب اس کے پاس ایک من سونا ہو گیا…
مگر اسے یہ بھی بوجھ لگتا ہے تو اس نے سارا سونا چند قیمتی موتیوں کے بدلے بیچ
دیا… ایسے موتی جو ہر جگہ اور ہر ملک میں بیچے جا سکتے ہیں… اب یہ شخص ہلکا پھلکا
ہو گیا، اس کی جیب میں چند موتی ہیں… مگر ان چند موتیوں میں… گندم اورآٹے کے ڈھیر
بھی موجود، گوشت والے جانور بھی موجود، پہننے کے کپڑے بھی موجود… یہ جہاں بھی جائے
گا موتی بیچ کر جو چاہے خریدلے گا… جیسے آج کل کے مالدار لوگ کروڑوں روپے اٹھانے
کی بجائے ایک کریڈٹ کارڈ جیب میں ڈال لیتے ہیں… بس اسی سے’’سورۂ فاتحہ‘‘ کا
اندازہ لگانے کی کوشش کریں اگرچہ مکمل اندازہ نہیں لگایا جا سکتا … سورۂ فاتحہ کی
سات آیات میں… پوراقرآن مجید موجود ہے… سورۂ فاتحہ کی سات آیات میں… سات
آسمانوں اور سات زمینوں کے ہدایت والے، علم والے، روشنی والے، رزق والے، حفاظت
والے اور برکت والے خزانے موجود ہیں… سورۂ فاتحہ اگر آپ کے پاس ہے تو آپ نہ کسی
بادشاہ کے محتاج، نہ کسی فقیر کے… سورۂ فاتحہ آپ کے ساتھ ہے تو نہ آپ کو کسی
انسان کی محتاجی، نہ کسی جن کی… آپ سورۂ فاتحہ کا انتہائی قیمتی موتی ساتھ لے
لیں… یہ وہ موتی ہے جسے بیچنا بھی نہیں پڑتا بس دکھانا پڑتا ہے… اسے دکھاتے جائیں
اور دنیا کے سارے مسئلے حل کراتے جائیں… یہ موتی آپ کے پاس ہی رہے گا… اورپھر یہی
موتی دکھا کر آخرت کے مسائل حل کراتے جائیں… ایک بار کسی دوسرے ملک کا سفر تھا…
واپسی کے وقت میزبانوں نے بطور اکرام ایک شخص کو ساتھ کر دیا… ہم جب پہلے گیٹ پر
پہنچے تو تلاشی لینے والے آگے بڑھے، اس شخص نے جیب میں دو انگلیاں ڈال کر ایک
کارڈ کو تھوڑا سا اونچا کیا… تلاشی لینے والے فوراً باادب ہو گئے اور راستہ
چھوڑدیا… پھر سامان کی تلاشی کے وقت بھی یہی منظر… حتیٰ کہ جہاز کی طرف جانے والے
آخری دروازے پر بھی یہی ہوا… یہ زندگی کا پہلا ایسا سفرتھا جس میں نہ سامان کی
تلاشی ہوئی اور نہ جسم کی… ایک کارڈ میںاتنی طاقت تھی… اندازہ لگائیںکہ قرآن پاک
کی سب سے عظیم اور افضل سورت کی طاقت کتنی ہوگی… اگر ہم سورۂ فاتحہ کو پالیں، اور
سورۂ فاتحہ کاکارڈ ہمارے دل میں ہو، ہماری آنکھوں میں ہو اور ہماری جیب میں ہو
تو… ہر منزل کتنی آسان ہو جائے…
کراچی
میں قیام کے دوران کبھی کبھارلانچ کرائے پر لیکر سمندر میں مچھلیاں پکڑنے چلے جاتے
تھے… الحمدللہ اس حلال اور پرکشش تفریح میں کئی بڑے مجاہدین اور اولیاء کرام کی
رفاقت نصیب ہوئی… جہاد کے ابتدائی رفقاء کمانڈر عبدالرشید شہید رحمۃ اللہ
علیہ اور بھائی اختر شہید رحمۃ اللہ علیہ … اور پھر برادرم حافظ کمانڈر
سجاد شہید رحمۃ اللہ علیہ … بندہ ان سب کو سمندر پر لے گیا اور خوب خوشگوار مجالس
رہیں… حتیٰ کہ حضرت مولانا جلال الدین حقانی مدظلہ العالی بھی ایک بار ساتھ تشریف
لے گئے اور انہوں نے خود چندمچھلیاں شکار کیں… سمندر کا یہ سفر بار بار ہوا… اور
اس میں سورۂ فاتحہ کے عجیب انوارات دیکھے… ایک طالب علم ساتھی جب بھی ڈور پھینکتے
مچھلی آجاتی… انہوںنے بتایا کہ ڈور پھینکتے وقت وہ سورہ فاتحہ پڑھتے ہیں… اس
واقعہ کے بعدسمندری سفر کے ہر مرحلے میں سورۂ فاتحہ کام آتی… سمندر میں کبھی
موسم بہت خراب ہو جاتا ہے سخت اندھیرا اور موجوں کے تھپیڑے…مگر الحمدللہ سورۂ
فاتحہ کی تلاوت سے ہر طرح کا طوفانی موسم کھل جاتا ہے … اور خوشگوار ہو جاتا ہے…
آپ دیکھیں کہ ایک مسلمان کو سورۂ فاتحہ سے جوڑنے کے لئے… اللہ تعالیٰ نے کیسے
کیسے انتظامات فرما دیئے ہیں… پہلا تو یہ کہ قرآنی ترتیب میں… سورۂ فاتحہ کو سب
سے پہلے رکھا گیا… اب قرآن مجیدکھولتے ہی سورۂ فاتحہ سب سے پہلے سامنے آجاتی
ہے… حالانکہ نزول قرآن کی ترتیب میں سورۂ فاتحہ سب سے پہلے نازل نہیں ہوئی… پھر
اسلام کے سب سے اہم فریضے نماز میںسورۂ فاتحہ کو ہر رکعت میں لازمی قرار دے دیا
گیا… آپ فرض نماز ادا کریں یا سنت اور وتر… ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ موجود ہے…
پھر اس سورت کے الفاظ بھی بے حد آسان رکھے گئے کہ انتہائی آسانی کے ساتھ اسے یاد
کیا جا سکتا ہے… اس لئے کسی نے یہ خوب دعوت چلائی کہ… اپنے بچوں کو سورۂ فاتحہ
خود یادکراؤ… تاکہ یہ جب بھی سورۂ فاتحہ پڑھیں تو تمہیں اجرو ثواب ملے…
اورایک
مسلمان بچہ… جوان اور بوڑھا ہونے تک لاکھوں بار سورۂ فاتحہ پڑھ لیتا ہے… اس لئے
کوشش کرو کہ اس کی ساری زندگی کی ’’فاتحہ‘‘ تمہارے نامہ اعمال کو وزنی کرتی رہے…
مگر اس سعادت کے حصول کے لئے یہ ضروری ہے کہ خود آپ کو’’سورۂ فاتحہ‘‘ آتی
ہو…کیا ہی اچھا ہوگا کہ آپ کسی عالم یا قاری کو اپنی’’سورۂ فاتحہ‘‘ سنا دیں… وہ
امریکی خلاباز جس نے چاند پر پہلا قدم رکھا تھا چند ماہ پہلے مر گیا…میں نے خبر
پڑھی اور اگلی رات آسمان پر دیکھا کہ چاند اپنی جگہ موجودتھا… جب کہ وہ خلا
بازاکیلا قبر میں جاپڑا… مگر جو مسلمان سورۂ فاتحہ کو پالیتا ہے سورۂ فاتحہ اس
کے ساتھ قبر اور عالم برزخ میں جاتی ہے… ہر مسلمان کو چاہئے کہ سورۂ فاتحہ کا
ترجمہ اچھی طرح یاد کر لے… اور اسے دل میں بٹھائے اور اس میں جو عقیدہ بیان کیا
گیا ہے… اس عقیدے کو اپنائے… ہم مسلمان جب سے قرآن اور سورۂ فاتحہ سے دور ہوئے
ہمارے اندر طرح طرح کے شرکیہ عقائد آگئے ہیں… بھائیو! اور بہنو! شرک سب سے بڑا
ظلم ہے، شرک سب سے بڑا گناہ ہے… شرک سب سے بڑی نجاست اور گندگی ہے… اور مشرک کے
لئے ہمیشہ ہمیشہ کی ناکامی ہے… سورۂ فاتحہ کی ساتوں آیات شرک کو توڑتی ہیں… اور
بندے کو صرف اللہ تعالیٰ سے جوڑتی ہیں…تعریف کے لائق صرف اللہ، شکر کے لائق صرف
اللہ، ربّ العالمین صرف اللہ… رحمتوں کا مالک صرف اللہ… قیامت کا مالک صرف اللہ…
عبادت کے لائق صرف اللہ… اور مدد مانگنے کے لائق صرف اللہ…
ہمارے
جدت پسندوں نے بندگی نما تعریف و ثنا کا حقدار ترقی اور ٹیکنالوجی کو قرار دے دیا
ہے…
اِنَّا
لِلّٰهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ
ہم نے
آج کے نقلی طاقتور کفار کو اس قابل سمجھ لیا ہے کہ ہم اُن کی غلامی اختیار کریں
اور اُن سے مدد مانگیں… بڑی بے حیائی سے کہتے ہیں کہ ہم دنیا میں اکیلے تو نہیں رہ
سکتے… ہم ان کافروں کی مدد کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے…اور پھر ہمارے حکمرانوں کے
ماتھے ان طاغوتوں کے سامنے جھک جاتے ہیں…
اِنَّا
لِلّٰهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ
شرک کی
اس بیماری نے ہمارے حکمرانوں… اورہمارے مالدار طبقے کو ایسا گھیر لیا کہ وہ ہر وقت
ستاروں، پتھروں، نجومیوں اور پیشن گوئیوں کے تھپیڑے کھاتے رہتے ہیں… ہر حکمران کے
پاس طرح طرح کے عامل ہیں… اور ان عاملوں میں سے کئی سی آئی اے، موساد اور را کے
باقاعدہ ایجنٹ ہیں… ہمارے حکمران جب سورۂ فاتحہ میں موجود:
اِیَّاکَ
نَعْبُدُوَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ
کی طاقت
سے محروم ہوئے تو پھر… کٹی ہوئی پتنگ کی طرح کہیں کے نہ رہے… اب جو بھی اُن کو
اچھی قسمت، اچھی صحت اور ہمیشہ کے اقتدار کی لالچ دے دے یہ اس کے ہاتھوں… اپنا
ایمان اور اپنی غیرت سب لٹوا بیٹھتے ہیں… مسلمانو! اللہ کے لئے سورۂ فاتحہ کو
سمجھو، سورۂ فاتحہ کو سیکھو اور سورۂ فاتحہ کو حاصل کرو… کم از کم ایک بار تو
مکمل اخلاص کے ساتھ وضو کر کے دو رکعت ادا کریں… اور پھر دل کی توجہ اور گہرائی سے
دعاء کریں کہ:
’’یا
اللہ! … سورۂ فاتحہ سکھا دیجئے، سورۂ فاتحہ عطاء فرما دیجئے، سورۂ فاتحہ پر
یقین نصیب فرمادیجئے، سورۂ فاتحہ کا نور میرے دل میں اتار دیجئے…‘‘
بس دعاء
میں سورۂ فاتحہ پڑھتے جائیں… اور عاجزی، احتیاج اور آنسوؤں کے ساتھ سورۂ فاتحہ
مانگتے جائیں… یا اللہ! سورۂ فاتحہ کی برکت سے سورۂ فاتحہ عطاء فرما دیجئے…
آمین یا
ارحم الراحمین…
جہاں تک
سورۂ فاتحہ کے مجربات کا تعلق ہے تو حسب وعدہ ان میں سے چند پیش خدمت ہیں:
١ گھر
میں داخل ہو کر ایک بار سورۂ فاتحہ اور تین بار سورہ اخلاص پڑھ لیں تو فقر و فاقہ
دور ہو جاتا ہے اور گھر میں برکت آجاتی ہے…
٢ ہر
بیماری کے لئے چالیس بار پڑھیں اور پانی پر دم کر کے پی لیں…
٣ اسیری
سے رہائی کے لئے ایک سو اکیس بار پڑھیں…
٤ رزق،
قرضہ کی ادائیگی اور حلال وافر مال کے لئے تین سو چونسٹھ بار پڑھیں… اور ساتھ اتنی
ہی تعداد میں سورۂ اخلاص اور اتنی ہی تعداد میں درود شریف…
٥ فجر
کی سنتوں اور فرضوں کے درمیان چالیس دن تک روز چالیس بار یا اکتالیس بار پڑھنا ہر
بیماری کا علاج ہے،خواہ کتنی بڑی بیماری ہو…
٦ اگر
اولاد نافرمان ہو، خاوند نشے اور گناہوں کا عادی ہو تو پانی پر سورۂ فاتحہ پڑھیں
جب ’’اِھْدِنَا‘‘ کے لفظ پر پہنچیں تو اسے ستر بار پڑھ کر سورت مکمل
کریں اورپانی اولاد یا خاوندکوپلادیں…
٧ نسیان
یعنی بھولنے کی بیماری، عقل کی خرابی، سستی وغیرہ دورکرنے کے لئے کسی برتن پر
سورۂ فاتحہ لکھیں، پھر اسے بارش کے پانی سے دھو لیں پھر اس پر سات بار سورۂ
فاتحہ پڑھ کر دم کر کے پی لیں…
٨ سورۂ
فاتحہ کا ایک خاص الخاص ورد… ’’الغزالی‘‘کہلاتاہے…اہل علم نے اس ورد کے فضائل پر
اشعار اور نظمیں لکھی ہیں… یہ ورد ہر طرح کی حاجات،ہر طرح کی پریشانیوں اورہر طرح
کی مصیبتوں سے چھٹکارے کا ذریعہ ہے…
کچھ عرصہ
پابندی سے کریں تو انسان نہ کسی کامحتاج رہتا ہے اور نہ کوئی اسے ذلیل و رسوا کر
سکتا ہے، اور قرضہ کی ادائیگی کے لئے بھی مجرب ہے… اس میں سورہ فاتحہ فجر کے بعد
تیس بار، ظہر کے بعد پچیس بار، عصر کے بعد بیس بار، مغرب کے بعد پندرہ بار اور
عشاء کے بعد دس بار پڑھیں… اور مزید دس بار کسی بھی وقت پڑھ لیں…
٩ کوئی
عزیز سفر پر گیا ہو اوراس کی بخیر واپسی مطلوب ہو تو اکتالیس بارسورۂ فاتحہ پڑھ
کر دعا کریں…
١٠ سانپ،
بچھو نے کاٹا ہو تو سات بار سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کریں، کسی کی صلح کرانے کے لئے
جارہے ہوں تو چند بار پڑھ لیں، صلح آسان ہو جائے گی… کسی بھی حاجت کے لئے پڑھنا
ہو توایک ہزار بار یاایک ہزار گیارہ بار پڑھ لیں… ویسے روزآنہ ایک ہزار بارکا
وردرکھنا عجیب تأثیرات رکھتا ہے…
لا الہ
الااللہ،لا الہ الااللہ،لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ
اللھم صل
علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الہ
الااللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
مقامِ خوف
اللہ تعالیٰ
فرماتے ہیں:
وَاِیَّایَ
فَارْھَبُوْنِ
صرف مجھ
ہی سے ڈرو…
جی ہاں!
صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور کسی سے نہیں…
آج کئی
باتیں کرنے کا ارادہ ہے… ان شاء اللہ… مگر آغاز رجب کی دعاء سے کر لیتے ہیں…
آئیے! پڑھ لیں اور دو ماہ تک پڑھتے اور مانگتے رہیں:
اَللّٰھُمَّ
بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَ شَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَان
سبحان اللہ
! رمضان المبارک کی خوشبو اور مٹھاس ابھی سے محسوس ہونے لگتی ہے…
ایک نظر
دنیا پر
*…افغانستان
میں انتخابات کا دوسرا مرحلہ شروع ہونے جارہا ہے… دونوں امیدوار کافی خطرناک ہیں…
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مسلمان حکمران عطاء فرمائے…
*…انڈیا
میں انتخابات کا شور، مسلمانوں کا آسام میں بہتا ہوالہو… غلاظت بکتا ہوا نجس و
ناپاک’’مودی‘‘… بڑھکیں مارتا ہوا سانپ کا بچہ’’راھل‘‘… مقبوضہ کشمیر میں بائیکاٹ…
وہاں بی
جے پی آئے یا کانگریس… دونوں مسلمانوں کی دشمن ہیں… فرق اتنا ہے کہ بی جے پی
زیادہ خطرناک نظرآتی ہے،جبکہ حقیقت میں کانگریس زیادہ خطرناک ہے…
*…افغانستان
میں بدخشاں کے ضلع میں ایک پہاڑ پورے گاؤں کو نگل گیا… ڈھائی ہزار افراد مارے
گئے… تین سو مکانات ایک اجتماعی قبر میں تبدیل ہو گئے… معلوم نہیں کون کس حالت میں
ہوگا، کون کس طرح کے منصوبوں میں ہوگا… اور کون کس طرح کی سوچوں میں ہوگا کہ اچانک
پورا پہاڑ گاؤں پر آگرا اور سب اپنے اعمال اوراپنے ارادوں سمیت دفن ہو گئے…
یا اللہ!
امان… یا اللہ! حُسن خاتمہ کی التجا ہے…
*…ہم
مسلمانوں کے وزیراعظم صاحب لندن گئے… وہاں اُن کے پڑوس میں انڈیا کا ایک ارب پتی
تاجر رہتا ہے… نام اُس کا’’لکشمی متل‘‘ ہے… یہاں دو خبریں ہیں اور دونوںایسی کہ
لکھتے ہوئے بھی شرم محسوس ہورہی ہے…
پہلی
شرمناک خبر یہ کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم ’’شوکت عزیز‘‘ آج کل ’’لکشمی متل‘‘ کے
ملازم ہیں… اور دوسری شرمناک خبر یہ کہ پاکستان کے موجودہ وزیراعظم نواز شریف خود
پیدل چل کر’’لکشمی متل‘‘ کے گھر حاضر ہوئے اور اُس سے ملاقات کی… ملاقات کے دوران
میوزک بھی بجتا رہا… اور شایدپاکستان کے مسلمانوں کی قسمت پر ہنستا رہا… شوکت عزیز
خود اربوں پتی ہے، اس کی صرف ایک بیوی اور دوبچے ہیں… دونوں بچے جوان، شادی
شدہ،برسرروزگار اور باپ کی طرح سودی نوکریوں میں مال کما رہے ہیں… اب شوکت عزیز کے
ذمے صرف دو پیٹ ہیں ایک اپنا اور ایک بیگم کا… جبکہ مال اتنا ہے کہ سونے کے نوالے
کھائیں تو مرتے دم تک ختم نہ ہوں… مگر پھر بھی اپنے ملک اور اپنی قوم کی ناک
کٹوانے اوراپنے اندر کے حرص کی آگ بجھانے کے لئے… وہ اس عمر میں نوکری کررہا ہے…
اور نوکری بھی ایک دشمن ملک کے سرمایہ دارکی… یا اللہ! حبّ دنیا سے بچائیے… یہ مرض
انسان کو جانوروں سے بدتر بنا دیتا ہے… اب نواز شریف صاحب بھی’’لکشمی‘‘ کے درپر
حاضر ہوئے تو خبر پڑھ کر آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا… کاش! کچھ تو ملک و قوم
کی عزت کا پاس ہوتا… کاش! کچھ تو اپنے مسلمان ہونے اور مسلمانوں کے وزیراعظم ہونے کا
لحاظ ہوتا… آج کل انڈیا کے تمام ہندو گجراتی اور مراٹھی سرمایہ کار… نریندر مودی
کو انڈیا کا وزیراعظم بنانے کے لئے پانی کی طرح پیسہ بہا رہے ہیں… اور مودی
پاکستان پر حملے کی بات کر رہا ہے… اور پاکستان کے حکمران مشرکوں کے قدموں پر گرے
جارہے ہیں… یا اللہ! اس ملک پر رحم فرمائیے…
ایک
سؤال ہم سب سے
*…ہم ایک
الگ تھلک گھر میں ہوں… اچانک ہمارے کچھ دشمن کلاشنکوفوں سے مسلّح ہمارے گھر کا
گھیرا کر لیں… مکمل لوڈ اور بھری ہوئی دس کلاشنکوفیں اور دشمن بھی بہت ماہر جنگجو…
کیا ہمیں خوف اور ڈر محسوس ہوگا یا نہیں؟
اور اگر
ایک سو افراد مکمل مسلّح ہو کر ہمارے گھر کا محاصرہ کر لیں تو ہماری کیا حالت ہو
گی؟…
*…ہم کسی
بستی میں جائیں اور بستی والوں سے کوئی بات کریں، جس پر وہ تمام لوگ ناراض اور غصہ
ہو جائیں… اور لاٹھیاں پتھر لیکر ہمارے پیچھے دوڑیں… کیا ہمیں خوف اور ڈر محسوس ہو
گا یا نہیں؟…
*…ہم سفر
میں کسی جگہ اکیلے لیٹے ہوئے ہوں اور ہمیں نیند آجائے… اچانک آنکھ کھلے تو
دیکھیں کہ ایک دشمن ہم پر اپنی بندوق تانے کھڑا ہے…
کیا ہمیں
ڈر اور خوف محسوس ہو گا یا نہیں؟…
*…کچھ
لوگ ہمیں قتل کرنا چاہتے ہوں… وہ ہمارے پیچھے لگے ہوں، ہم اُن سے چھپ کر کسی مکان
میں جا بیٹھیں… اور تھوڑی دیر بعد ہمارے دشمن اپنا اسلحہ لہراتے بالکل ہمارے سر پر
پہنچ جائیں… اُس وقت خوف سے ہماری حالت کیا ہو گی؟…
سؤال
سادہ سا ہے اور جواب بالکل واضح ہے کہ… ان تمام مواقع پر خوف اور ڈر کی وجہ سے
ہمارے حواس تک کام کرنا چھوڑ دیں گے… مگر حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کو دیکھیں… ہجرت کی رات آپ کے گھر پر ایک سو ماہر اور
مسلّح جنگجو تلواریں لئے محاصرہ کر چکے تھے… اس زمانے کی تلواریں جن مضبوط بازوؤں
میں ہوتی تھیں… اُن کا حال پڑھیں تو معلوم ہو کہ… کلاشن سے کم خطرناک نہ تھیں… مگر
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کو ذرہ برابر خوف محسوس نہ
ہوا…غزوہ حنین کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار ہزار
تیراندازوں کے نرغے میں اکیلے رہ گئے… مگر خوف کی ایک دھڑکن دل مبارک تک نہ پہنچ
سکی… طائف میں سینکڑوں افراد لاٹھیاں برساتے اور پتھر پھینکتے آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کے پیچھے لگے…جسم سے لہو تو بہت گرا مگر نہ آنکھ سے ایک
آنسو ٹپکا اور نہ دل پر خوف، ڈر اور مایوسی کے جھٹکے لگے… آپ صلی اللہ علیہ
وسلم ایک درخت کے نیچے آرام فرما رہے تھے کہ دشمن ننگی تلوار
لیکر سر مبارک پر آکھڑا ہوا اور للکارنے لگا کہ کوئی ہے جو آپ کو بچا سکے… آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک میں خوف کی ایک لہر نہ اٹھی…
اطمینان سے فرمایا… اللہ…
کس کس
موقع کا تذکرہ کیا جائے… ایسی جگہیں جہاں شیر دل افراد کا دل دھڑکنے پر مجبور ہو
جاتا ہے… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک میں ڈر
اور خوف کی ہلکی سی لرزش بھی جگہ نہ پاتی تھی…
صلی
اللہ علیہ وسلم ، صلی اللہ علیہ وسلم ، صلی اللہ علیہ
وسلم
اب دوسرا
سؤال
*…ہمارے
ہاں اکثر تیز ہوا چلتی ہے… کیا کبھی آندھی کے وقت ہمارے دل میں اتنا خوف آیا
جتنا گلی میں دھماکے یا پٹاخے کی آواز سے آتا ہے؟
*… کیا
کبھی بادلوں کو دیکھ کر ہم اتنے خوفزدہ ہوئے جتنا ہم کسی بڑے کتے کو سامنے دیکھ کر
ہو جاتے ہیں؟…
*… کیا
چاند گرھن اور سورج گرھن کے وقت ہمارے دلوں پر خوف کی کوئی ایسی لہر اٹھی جیسی
امریکہ اور انڈیا کی دھمکیوں کو سن کر اٹھتی ہے…
جواب
بالکل واضح ہے کہ… جی نہیں! آندھی، بادل اور سورج چاند گرھن کے وقت ہم اپنے دل
میں کوئی خاص خوف اور ڈر محسوس نہیں کرتے…
اب
دیکھئے اپنے محبوب آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کو…
حضرت
امّاں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ…
جب
آندھی، بادل وغیرہ آتے تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے
چہرہ انور پر اس کا اثر ظاہر ہوتا تھا اور چہرہ کا رنگ فق ہو جاتاتھا… خوف کی ایسی
حالت طاری ہوتی کہ کبھی اندر تشریف لے جاتے اور کبھی باہر تشریف لے جاتے…وجہ پوچھی
جاتی تو ارشاد ہوتا کہ…
عائشہ!
مجھے اس کا کیا اطمینان کہ اس میں عذاب نہ ہو…
سبحان
اللہ! اللہ تعالیٰ کا خوف، اللہ تعالیٰ کے عذاب کا خوف…
حضرت ابو
الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب آندھی چلتی تو حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم گھبرائے ہوئے مسجد میں تشریف لے جاتے…
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کے زمانے ذرا سی تیز ہوا چلتی تو ہم قیامت کے خوف سے مسجدوں
کو دوڑ جاتے…مدینہ میں سورج گرہن ہو گیا… آپ صلی اللہ علیہ
وسلم فوراًنماز کی طرف لپکے، بہت لمبی نماز پڑھی اور پھر روتے
ہوئے عذاب سے بچنے کی دعاء اور استغفار میں مشغول ہو گئے… کس کس واقعہ کو لکھا
جائے… غزوہ تبوک کے موقع پر قوم ثمودکی بستی سے گذر ہوا تو اللہ کے عذاب کے خوف سے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر گریہ طاری ہو گیا…چہرہ مبارک ڈھانپ
لیا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حکم فرمایا کہ یہاں سے روتے ہوئے،
استغفار کرتے ہوئے تیزتیز گزریں…
اب تیسرا
سؤال
بھائیو!
اور بہنو!
ہمارے
اعمال زیادہ اچھے ہیں… یا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اور
حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اعمال زیادہ اونچے اور اچھے تھے؟…
جواب
واضح ہے کہ… اُن کے اعمال کے مقابلہ میں ہمارے اعمال کچھ بھی نہیں… تو پھر کیا وجہ
ہے کہ…
وہ اللہ
تعالیٰ سے ڈرتے تھے، اللہ تعالیٰ کے خوف سے روتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کا
سن کر اُن پر غشی طاری ہو جاتی تھی…
جبکہ ہم
ہر کسی سے ڈرتے ہیں… مگر اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے… اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے
خوف نہیں کھاتے…یقیناً یہ بڑی مصیبت ہے… اور اس مصیبت کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں…
پہلی یہ
کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عظمت، قہر، جبروت اور شان کو نہیں پہچانتے… اس وجہ سے ہم
اللہ تعالیٰ کے خوف سے محروم ہیں… اور دوسری یہ کہ … ہم اپنے اعمال پر فخر
میںمبتلا ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم پر تو عذاب آہی نہیں سکتا…
اَسْتَغْفِرُاللّٰہ،
اَسْتَغْفِرُاللّٰہ، اَسْتَغْفِرُاللّٰہ…
اے
مسلمانو!… دنیا کی طاقتوں کی عظمت اور خوف دل سے نکالو، صرف ایک اللہ
تعالیٰ سے ڈرو… صرف ایک اللہ تعالیٰ سے ڈرو…
جو اللہ
تعالیٰ سے ڈرتا ہے وہ کامیاب ہو جاتا ہے…اللہ تعالیٰ کی ذات غنی اور صمد ہے…ہمیں
کبھی بھی اس کے عذاب سے بے پرواہ نہیں ہونا چاہئے…حضرات انبیاء علیہم
السلام معصوم ہیں پھر بھی اللہ تعالیٰ کے خوف سے تھر تھر کانپتے
ہیں…یا اللہ مُعافی…یا اللہ رحم، یا اللہ مُعافی…
باقی رہے
ہمارے اعمال… تو بس بھائیو اور بہنو!
اللہ
تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں قبول فرمائے…ورنہ ان میں قبولیت والی کوئی جان تو نظر
نہیں آتی… اب آج کی آخری بات سنیں…
شیطان
کہتا ہے … ہر کسی سے ڈرو، اللہ تعالیٰ سے نہ ڈرو
اِنَّمَا
ذٰلِکُمُ الشَیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآءَ ہُ
جبکہ
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
فَلَا
تَخَافُوْھُمْ وَخَافُوْنِ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ
کسی سے
نہ ڈرو، صرف مجھ سے ڈرو اگر ایمان والے ہو…
یا اللہ!
اپنے خوف اور اپنی خشیت کا وہ آنسو مجھے اور تمام پڑھنے والوں کو نصیب فرما
دیجئے… جو جہنم کی آگ کو بجھا دیتا ہے …
آمین یا
ارحم الراحمین
لا الہ
الا اللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللھم صل
علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
ایک آنسو کا سؤال
اللہ تعالیٰ
کا’’خوف‘‘اُن خوش نصیبوں کو ملتاہے جنہوں نے جہنّم میں کبھی نہیں جلنا… کبھی نہیں
جلنا…
اَللّٰھُمَّ
اَجِرْنَا مِنَ النَّارِ
کبھی
کباب والی دکان پر انگاروں پرپکتاہوا گوشت دیکھا ہے؟
کبھی
سجّی کی دکان پر آگ کی تپش سے نرم ہوتی مرغیوں کو دیکھا ہے؟
دنیا کی
آگ تو کچھ نہیں… وہ کیسا منظر ہوگا جب زندہ انسانوں کو زنجیروںمیں پرو کر جہنم کی
خوفناک آگ پر رکھ دیا جائے گا:
ذُوْقُوْا
عَذَابَ الْحَرِیْقِ
اللہ تعالیٰ
نے اعلان فرما دیا:
’’جواپنے
رب سے ڈرے گا اُسے دو جنتیں ملیں گی‘‘
مگر دل
کی سختی، دل کی قساوت، دل کا زنگ ہمیں… اللہ تعالیٰ سے ڈرنے
نہیں دیتا اور ہماری آنکھیں اُن آنسوؤں سے محروم ہیں، جو آنسو جہنّم سے بچا
لیتے ہیں…
ارشاد
فرمایا:
اللہ کے
ڈر سے رونے والا جہنم میں نہیں جائے گا یہاں تک کہ دودھ تھنوںمیں واپس چلا جائے۔
(ترمذی)
جس طرح
دودھ کا تھنوں میں واپس جانا ناممکن… اسی طرح اُس خوش نصیب کا جہنم میں جانا
ناممکن… جو اللہ تعالیٰ کے خوف سے روتا ہو…
یا اللہ…
اے عظیم ربّ! ایک آنسوکا سؤال ہے…
ویسے تو
ہم بہت روتے ہیں،صبح شام اور دن رات روتے ہیں… خواتین تو فلموں میں جذباتی مناظر
دیکھ کر بھی رو پڑتی ہیں… مگر کہاں ہیں وہ مقدس آنسو… جنہیں شہید کے خون کے ساتھ
بیان فرمایا گیا؟… کہاں ہیں وہ گرم اورمیٹھے آنسو… جن کے برسنے سے پہلے دل میں
حرارت آتی ہے؟
’’ یا
اللہ! ایک آنسو کا سؤال ہے‘‘…
وہ آنسو
جو یا اللہ! آپ کے لئے ہو… صرف آپ کے لئے… جو آپ کی عظمت کے اظہار میں آپ کے
خوف اور آپ کی خشیت سے گرا ہو…
یہ
دیکھیں ایک مجلس برپا ہے… دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کیا کبھی ہمیں بھی آج کل ایسی
کوئی مجلس ملتی ہے؟… ہماری مجالس میں یا غیبت ہے یا جھوٹ… یا چغل خوری ہے یا فخر…
تکبر کا اظہار ہے یا بے حیائی…
’’ یا
اللہ! ایسی مجالس سے بچا لیجئے‘‘
حضرت
سیّدناانس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا:
میں نے
تو اس سے پہلے کبھی ایسا خطبہ نہیں سنا تھا… آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا:
(اے میرے
صحابہ!) اگر آپ لوگ وہ جان لیں جو میں جانتا ہوں تو پھر بہت کم ہنسو گے اور زیادہ
روؤ گے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سن کر حضرات صحابہ
کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے چہرے ڈھانپ لئے اور بلک بلک کر
رونے لگے… (بخاری)
اللہ
اللہ… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس تو صحابہ کرام
کی قسمت میں تھی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ورثاء تو موجود
ہیں… وہ جو ڈراتے بھی ہیں اور امید بھی دلاتے ہیں… وہ جن کے اپنے دل پاک ہیں… ہائے
کاش! کبھی کبھار ہی سہی… ہماری مجالس کا رنگ بھی ایسا ہو جائے… ہم تو اپنی ہر مجلس
میں اپنے ٹوٹے پھوٹے اعمال کی بھری بوریوں کو بھی آگ لگا دیتے ہیں… ارے بھائیو
اور بہنو!… ہمارے دل کالے ہو گئے… وہ دیکھو! جو اللہ تعالیٰ کو جتنا پہچانتا ہے…جو
اللہ تعالیٰ کو جتنا جانتا اور جتنا مانتا ہے… اسی قدر وہ خوف سے تھر تھر کانپتا
ہے… قرآن مجید میں دیکھو… فرشتے اللہ تعالیٰ کے خوف سے لرز رہے ہیں… حضرات انبیاء
علیہم السلام اللہ تعالیٰ کے خوف سے روتے ہوئے سجدوں میں گرے پڑے ہیں…
اور بالکل واضح سمجھا دیا کہ… جس میں اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں اس کے دل میں گویا
ایمان ہی نہیں…
’’ یا
اللہ! ایمان کا سؤال ہے… یا اللہ! آپ کے خوف سے بہنے والے آنسو کا سؤال ہے‘‘
آج کل
عمل بہت کم اور دعوے بہت اونچے ہیں…اب حال ہی میں میلسی میں ایک ملعون نے نبوت کا
دعویٰ کر دیا… ابھی جیل میں پڑا ہے… اللہ کرے جلد مُردار ہو کر زمین کے شکنجے میں
جکڑا جائے… مہدی کادعویٰ کرنے والے تو اتنے ہو گئے جتنے گیس کے سلنڈر… ناپاک لوگ،
صبح شام غلاظتوں میں اور دعوے امام مہدی ہونے کے… مصر میں ایک نے مہدی ہونے کا
دعویٰ کر دیا ہے… یمن میں ایک بڑا نقلی مہدی بیٹھا ہے… پاکستان میں ہر چوتھے روز
اسی طرح کے دعوے… ہائے دلوں کی سختی! ہائے دنیا کی محبت!… جہاں دیکھو بس بیوٹی
پارلروں کے بورڈ ہیں… جہاں دیکھو اندرونی بیرونی صحت کے راز ہیں… کوئی نہ اپنی شکل
سے مطمئن نہ کوئی اپنے قد سے مطمئن… کبھی ایک منٹ بھی اس کی فکر ہوئی کہ آگے چل
کر اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہے… اتنے عظیم شہنشاہ کے پاس لے جانے کے لئے ہمارے پاس
کیا ہے؟
حضرت
جبرئیل امین جیسا عظیم الشان فرشتہ… اللہ تعالیٰ کے خوف سے چڑیا کی طرح کانپتا ہے…
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ تھا کہ آپ بخشے
بخشائے ہیں مگر رات کو یوں روتے کہ سینہ اقدس سے ہانڈی ابلنے جیسی آواز آتی…
اماں جی عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں… ایک رات وضو اور نماز کے بعد حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم اتنا روئے کہ دامن مبارک آنسوؤں سے
بھیگ گیا… پھر بھی گریہ جاری رہایہاں تک کہ داڑھی مبارک مکمل بھیگ گئی… مگر آنسو
جاری رہے یہاں تک کہ سامنے والی زمین بھی بھیگ گئی…
’’ یا
اللہ! دل کے نور کا سؤال ہے، یا اللہ! ایک آنسو کا سؤال ہے‘‘
اندھے دل
کیا جانیں کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کیا ہے… اللہ تعالیٰ کا جلال کیا ہے… اللہ تعالی
کا قہر کیا ہے… اللہ تعالیٰ کا غضب کیا ہے… اللہ تعالیٰ کی رحمت کیا ہے… کبھی آپ
نے قرآن مجید میں… سورۂ ابی لہب پڑھی؟… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کا چچا آگ میں جل رہا ہے… ارے! مالک کا غضب آجائے تو پھر
کون بچ سکتا ہے…
اَللّٰھُمَّ
اَجِرْنَا مِنَ النَّار… اَللّٰھُمَّ اَجِرْنَا مِنَ النَّار
دنیا کی
محبت، فیشن کی محبت، دنیا داروں کی محبت… زیادہ جینے کا شوق، ظاہری ٹیپ ٹاپ… اور
پروٹوکول کا شوق… یہ سب کچھ دل پر زنگ لگا دیتا ہے… اب زنگ آلود دل اللہ تعالیٰ
کو کیسے پہچانے؟… ارے بھائیو اور بہنو! چھوڑو میک اپ، چھوڑو فیشن، چھوڑو مال جمع
کرنا… اگر اپنے مالک کو راضی کرنا ہے تو بس دو قطروں کو حاصل کرنے کی فکر میں لگ
جاؤ…
ارشاد
فرمایا:
’’دو
قطروں سے زیادہ اللہ تعالیٰ کوکوئی چیز محبوب نہیں… ایک آنسو کا قطرہ جو اللہ
تعالیٰ کے خوف سے ٹپکا ہو… اور ایک خون کا قطرہ جو جہاد فی سبیل اللہ میں بہا
ہو‘‘…(ترمذی)
’’ یا
اللہ! دو قطروں کا سؤال ہے… ایک آپ کے خوف کا آنسو اور ایک آپ کے لئے شہادت کا
خون‘‘…
دل سخت
ہو جاتے ہیں تو شیطان کا اُن پر قبضہ ہو جاتا ہے…پھر شیطان طرح طرح کے دعوے کراتا
ہے… تم ایسے ہو اور تم ویسے ہو…
کسی کو
محقق ہونے کا زعم، کسی کو بڑا مجاہد ہونے کادعویٰ… کسی کو مجتہد ہونے کا وہم اور
کسی کو مہدی ہونے کا شبہ…
یا
اللہ! ہمارے دلوں کو ایمان اور ہدایت دے دیجئے…
یاد
رکھیں! جو آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف نہ بلائے بلکہ… اپنی ذات کی طرف بلائے اس سے
دور رہیں اور اُس سے کٹ جائیں… جو آپ کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا کرنے کی
محنت نہ کرے بلکہ آپ کو غیبت اور دیگر گناہوں میں لگا کر آپ کے دل کو کالا کرے
اُس سے کٹ جائیں، اُس سے دور ہو جائیں… جماعتوں میں اچانک شیطان کسی کو بہکاتا ہے
اور پھر وہ موبائل اٹھا کر… دوسروں کے دل کالے کرنے لگتا ہے… پہلا جملہ یہ ہوتا ہے
کہ… یار میرا تو سر پھٹ رہا ہے… آخر یہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے؟… ہاں! جب تیرے سر
سے ایمان نکلا اور اُس پر شیطان آبیٹھا تو اب اس سر نے پھٹنا ہی ہے… ہائے کاش! تو
اس ظالم خنّاس کا شکار ہونے سے پہلے… اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑپڑتا… تو اپنے گناہوں
کو یاد کرتا… تو دوسروں کے عیب دیکھنے کی بجائے اپنے کالے گناہ یاد کر کے بلک بلک
کر روتا تو تیرا سر نہ پھٹتا… آپ سے جوبھی اسی جملے سے بات شروع کرے، اُسے کہیں…
ارے ظالم! تیرا سر پھٹ رہا ہے تو پھٹ جائے تو میرا ایمان کیوں پھاڑتا ہے؟… اسی طرح
جو بھی اپنی ذات کے بارے میں اونچے اونچے دعوے کرتا ہو اُس سے دور رہیں…
بڑائی،عظمت اور کبریائی اللہ تعالیٰ کے لئے ہے… اللہ تعالیٰ کے سچے بندے دعوے نہیں
کرتے بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کے خوف اور ڈر سے تھر تھر کانپتے رہتے ہیں…
اِنَّمَا
یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَاء
یہ
دیکھو! حضرت سیّدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جیسے جلیل
القدر صحابی دھاڑیں مار مار کر رو رہے ہیں…اُن سے عرض کیا گیا کہ کس بات پر اتنا
رونا آرہا ہے… فرمایا!’’ اللہ تعالیٰ نے دو مٹھیاں بھریں… ایک مٹھی میں جو لوگ
آئے اُن کو جنت میں داخل فرمادیا اور دوسری مٹھی میں جو آئے اُن کو جہنم میں ڈال
دیا…مجھے کیا معلوم کہ میں کونسی مٹھی میں ہوں؟‘‘… یہ دیکھو! حضرت آقا مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم کے محبوب نواسے حضرت سیّدنا حسن رضی
اللہ عنہ رو رہے ہیں… وجہ پوچھی گئی تو فرمایا:
’’میں
ڈرتا ہوں کہ کہیں کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مجھے جہنم میں نہ پھینک دے اور پرواہ
بھی نہ فرمائے…‘‘
’’ یا
اللہ! ایک آنسو کا سؤال ہے‘‘
ایک بار
جمعہ کے لئے مسجد جانا ہوا ، ابھی مسجد کھلی نہ تھی ایک معذور بزرگ سیڑھیوں میں
بیٹھے تھے… ٹانگ سے بھی معذور اور بازو بھی ٹوٹا ہوا… دوسرے ہاتھ میں تسبیح تھی
اور چہرے پر اطمینان اور زبان رواں دواں اپنے خالق کی یاد میں… بندہ بھی اُن کے
ساتھ بیٹھ گیا… وہ مسجد کھلنے کے انتظار میں تھے… تھوڑی دیر میں اُن سے کچھ تعلق
بنا تو انہوں نے دعا دی…
’’اللہ
تعالیٰ ایمان نصیب فرمائے‘‘
میں
حیرانی اور سکتے میں آگیا… پہلے تو دل ڈرا کہ شائد اُن کو کشف ہوا کہ میں ایمان
سے محروم ہوں…یہ سوچ کر ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے… اس سے پہلے کبھی زندگی میں یہ
دعاء کسی نے اس طرح نہ دی تھی… تھوڑی دیر کی پریشانی کے بعد اندازہ ہوا کہ وہ جس
سے بھی شفقت فرماتے ہیں، یہی قیمتی دعاء دیتے ہیں… پھر یہ دعاء محبوب بن گئی… میں
اُن کی تلاش میں رہتا اور ملاقات کے بعد دھڑکتے دل کے ساتھ اسی دعاء کا انتظار
کرتا… اور پھر میں نے بھی اپنے اہل محبت کو یہی دعا دینا شروع کر دی… بے شک ایمان
والوں کو یہی حکم ہے کہ وہ ایمان مانگا کریں اور مرتے دم تک مانگتے رہیں… بے شک
ایمان ہی سب سے قیمتی اور سب سے اونچی نعمت ہے… ایمان مل جائے تو پھر اور کیا
چاہئے؟…اور قرآن پاک ایمان والوں کی صفات بار بار سمجھاتا ہے کہ…وہ اللہ تعالیٰ
سے ڈرتے ہیں… وہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے روتے ہیں، صدقہ دیتے وقت بھی اُن کے دل اس
خوف سے کانپ رہے ہوتے ہیں کہ کل انہوں نے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے…وہ قرآن پاک سن
کر روتے ہیں اور جب اُن کے سامنے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اُن کے دل ڈر
جاتے ہیں… جی ہاں! اللہ تعالیٰ کی عظمت کے رعب سے اُن کے دل دب جاتے ہیں…
اِذَا
ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ
بھائیو!
اللہ تعالیٰ نے کتنی اچھی دعوت اور کتنا اونچا کام اپنے فضل سے عطاء فرما دیا…
ایمان کی دعوت، اقامت صلوٰۃ کی دعوت… اور جہاد فی سبیل اللہ… خود بھی عمل دوسروں
کو بھی پکارنا… خود بھی محنت اور دوسروں کی بھی فکر… بس زندگی مختصر ہے… چندسانس
باقی ہیں… اس کام کی قدر کرو، مایوسیاں، بے چینیاں،غیبتیں اور عدم تحفظ کے گندے
خیالات جھٹک کر… اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک جاؤ… اس کے خوف سے آنسو بہاؤ… اور اس
کی رضاء کے لئے جان توڑ محنت میں لگ جاؤ…
لا الہ
الا اللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللھم صل
علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ نے رات اور دن کے آنے جانے میں عقل والوں کے لئے بڑی نشانیاں رکھی ہیں…
موہن گیا
مودی آیا
انڈیا
میں انتخابات ہوئے…نتیجہ وہی آیا جس کا سب کو اندازہ تھا…جمہوری نظام حکومت میں
لوگ ہر پانچ سال میں اپنی حکومت سے اکتا جاتے ہیں…کوئی حکومت گھسٹ گھسٹ کر دو
باریاں بھی کھیل جاتی ہے…پھر عوام کا رخ کسی نئے تجربے کی طرف ہو جاتا ہے…حالانکہ
انگریزی نظام حکومت میں اصل حکمران… بیوروکریسی،پولیس،عدلیہ اور خفیہ ایجنسیاں
ہوتی ہیں…سیاستدان کھانے کمانے آتے ہیں،کچھ لوٹ مار مچاتے ہیں…اپنی باری لوٹتے
ہیں اور پھر دوسروں کو موقع دینے کے لئے،پیچھے ہٹ جاتے ہیں … کانگریس نے گذشتہ دس
سال انڈیا پر مسلسل حکومت کی …ظاہر بات ہے لوگ تنگ آ گئے تو کانگریس والے
خود’’پیچھے ہٹ‘‘ گئے کہ پانچ سات سال بعد لوگ پھر بی جے پی سے تنگ آ کر خود ان کو
پکاریں گے…انڈیا میں کانگریس بہت تجربہ کار اور خطرناک پارٹی ہے…اسی پارٹی نے
پاکستان کے دو ٹکڑے کئے،اسی پارٹی نے کشمیر کا مسئلہ کھڑا کیا…اسی پارٹی نے حیدر
آباد اور جوناگڑھ کے مسلمانوں کا قتل عام کیا اور انہیں بھارت کے ساتھ الحاق پر
مجبور کیا…اسی پارٹی نے کشمیر پر جگموہن جیسے درندے کو مسلط کیا…اسی پارٹی نے محمد
افضل گورو رحمۃ اللہ علیہ کو شہید کیا…اسی پارٹی کے دور اقتدار میں بی
جے پی نے بابری مسجد شہید کی اور کانگریس کی وفاقی حکومت درپردہ ان کی مدد کرتی
رہی…لوگ انڈیا کی داخلی سیاست کو نہیں سمجھتے اسی لئے وہ ’’مودی‘‘کے آنے کو بڑا
خطرہ سمجھ رہے ہیں…بے شک مودی بھی خطرہ ہے مگر کانگریس جیسا نہیں…وہ کم عقل،جذباتی
اور آمرانہ طبیعت کا بے وقوف انسان ہے…
انڈیا کے
ارب پتی اپنے تجارتی مفادات کے لئے اسے لائے ہیں…وہ مسلمانوں کا کھلم کھلا دشمن ہے
مگر وزیر اعظم کی کرسی بڑی مجبورکرسی ہوتی ہے…اب وہ گجرات جیسی غنڈہ گردی نہیں کر
سکتا…واجپائی اور ایڈوانی بھی مسلمانوں کے خطرناک دشمن تھے…مگر مسلمان کوئی کچی
دیوار تو نہیںکہ جو چاہے گرا دے … انڈیا کے مسلمان ہندوستان کے حکمران تھے…ہزار
سال انہوں نے حکومت کی … اب چھیاسٹھ سال سے غلامی میں ہیں مگر زندہ ہیں … کانگریس
کی دشمنی ’’نفاقی‘‘ تھی،جبکہ بی جے پی کی دشمنی کھلم کھلا ہے…بی جے پی والے
مسلمانوں کے خلاف جو کچھ بھی کریں گے… اس کا انہیں ان شاء اللہ بہت کرارا جواب ملے
گا …جس لشکر کا سربراہ ابو جہل جیسا کھلم کھلا دشمن ہو مسلمان اس لشکر کو کسی
اندھے کنویںمیں ڈالنے کا ہنر جانتے ہیں…اخبارات و رسائل میں ’’مودی‘‘ کے حوالے سے
خوف کی جو فضا بنائی جا رہی ہے…وہ درست اور اچھی نہیں…کیا من موہن مسلمانوں کا
دوست تھا ؟ …کیا راہول گاندھی سے خیر کی کوئی توقع تھی؟…مودی جب گجرات میں
مسلمانوں کو کاٹ رہا تھا…تو اس کے کچھ عرصہ بعد ہی کانگریس کے دور اقتدار میں مظفر
نگر اورآسام کے مسلمان ذبح ہو رہے تھے…اس لئے مودی کے آنے پر خطرے کی گھنٹیاں
بجانے کا کوئی عقلی جواز نہیں ہے…ہاں! رات دن کے آنے میں عقل والوں کے لئے بڑے
سبق اور بڑی نشانیاں ہیں … انڈیا والوں نے مسلمانوں کے قاتل کو اپنا وزیر اعظم
بنایا ہے…مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ قاتلوں کا علاج کرنے والے فریضے ’’جہاد فی سبیل
اللہ‘‘ کی طرف متوجہ ہوں…جہاد فی سبیل اللہ کے سامنے کوئی مودی اور کوئی موذی نہیں
ٹھہر سکتا…جہاد فی سبیل اللہ کے خلاف اس وقت سازشیں زوروں پر ہیں اور یہ منحوس
کاوشیں اب ان لوگوں میں بھی گھس آئی ہیں جو ’’اپنے ‘‘ کہلاتے ہیں…حال میں
گوجرانوالہ سے شائع ہونے والے ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ نے ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ پر
اپنا ایک ’’ضخیم نمبر‘‘ شائع کیا ہے…ایک دردمند عزیز نے یہ ’’جہالت نامہ‘‘ مجھے
بھی بھیج دیا ہے…نام تو اس کا ’’جہاد فی سبیل اللہ نمبر‘‘ ہے مگر حقیقت میں یہ
’’انکار جہاد نمبر‘‘ ہے…اوّل تا آخر تقریباً شر ہی شر اور لفاظی کا فضول
کھیل…اکثر لکھنے والے وہ ہیں جنہیں کبھی’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کا مبارک غبار اور
معطر جھونکا نصیب نہیں ہوا…اورنہ ان کی زندگی کے منشور میں ایک لمحہ کے لئے ’’جہاد
فی سبیل اللہ‘‘ میں نکلنے کا ارادہ یا نیت شامل ہے…
انہوں
نے کتابوں کی ورق گردانی کی اور جو مواد انہیں مسلمانوں کو جہاد سے روکنے کے لئے
مل سکا اسے جمع کر دیا…اللہ تعالیٰ امام اہلسنت حضرت مولانا سرفراز صفدر صاحب نور
اللہ مرقدہ کو غریق رحمت فرمائے…انہوں نے چند صفحات پر مشتمل ایک رسالہ’’شوق
جہاد‘‘ تحریر فرمایا تھا…اس رسالے کو جو بھی پڑھتا ہے کم از کم اس کے دل میں جہاد
فی سبیل اللہ کا شوق ضرور ابھرتا تھا…اور ایک مومن کے لئے جہاد فی سبیل اللہ کا
شوق لوازم ایمان میں سے ہے…ایسا شخص جو نہ جہاد میں نکلے اور نہ اس کے دل میں جہاد
کا شوق ہو وہ منافقت کے ایک شعبے پر مرتا ہے…یعنی نعوذ باللہ حسن خاتمہ سے محروم
رہتا ہے…ماہنامہ الشریعہ کے مدیر صاحب حضرت امام اہلسنت رحمۃ اللہ
علیہ کے پوتے ہیں…ان کا نسبی رشتہ حضرت امام اہلسنت رحمۃ اللہ
علیہ سے جبکہ فکری شجرہ ’’غامدی‘‘ سے جڑا ہوا ہے…اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے،وہ
زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ کو پیدا فرماتا ہے…فتنۂ غامدی جو اس وقت پاکستان
میں سرگرم ہے…اس فتنے کا اصل مقصد مسلمانوں کو احساس کمتری میں مبتلا کر کے…انہیں
کفار کی بدترین ذہنی غلامی میں دھکیلنا ہے…اس فتنے کی کئی شاخیں ہیں اور ان میں سے
ایک شاخ کا کام اہل علم اور اہل عمل کو لفظی بحثوں میں الجھانا ہے…جہاد فی سبیل
اللہ جیسے اسلام کے محکم اور قطعی فریضے پر یہ ’’خصوصی نمبر‘‘بھی اسی کوشش کا حصہ
ہے…ممکن ہے کوئی بد نصیب انسان اسے پڑھ کر جہاد سے دور ہو…ورنہ اس میں نہ کوئی
دلیل ہے اور نہ کوئی عقلی روشنی…جہاد فی سبیل اللہ کے تمام فضائل،احکامات اور
طریقے قرآن مجید نے سکھا دئیے ہیں…حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کے مبارک غزوات، قرآن مجید کی دعوت جہاد کی عملی تفسیر
ہیں…اب جو مسلمان سورۃ انفال پڑھ لیتا ہے یا سورۃ توبہ اور سورۃ محمد صلی اللہ
علیہ وسلم کو سمجھ لیتا ہے…اس پر کسی قادیانی،کسی غامدی یا کسی
ناصری کا جادو کہاں چل سکتا ہے؟…
جو
مسلمان غزوہ بدر،غزوہ احد اور غزوہ احزاب و تبوک کے پُرنور سمندر میں غوطہ لگا
آتا ہے اس پر منکرین جہاد کی بدبودار تحریروں کا کہاں اثر ہوتا ہے؟…یہ بے چارے
خود کو خوامخواہ تھکا رہے ہیں…جہاد کی شمع الحمد للہ ایسی روشن ہو چکی ہے کہ اب
مشرق تا مغرب فدائی مجاہدین کے طوفانی ریلے ہیں…الشریعہ کے اس نمبر سے اس کے
مدیران گرامی بس یہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں کہ وہ اسے امریکن، برٹش یا انڈین سفارت
خانے میں بھیج کر …وہاں سے شاباش،ویزے اور کچھ مراعات لے لیں گے… اور بس…اور شائد
ان بے فکرے مفکرین کو اس دنیا میں یہی کچھ درکار ہے…انہیں نہ امت مسلمہ کا غم ہے
اور نہ اسیران اسلام کا درد…وہ نہ عافیہ صدیقی کو اپنی بہن سمجھتے ہیں…اور نہ
انہیں بابری مسجد اور مسجد اقصی کی کوئی فکر ہے…اس موقع پر مجھے امام العارفین
حضرت خواجہ عبید اللہ احرار نقشبند رحمۃ اللہ علیہ یاد آ رہے ہیں …
سبحان اللہ…حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے خاندان سے امت مسلمہ کو
کتنا نفع پہنچا…ابھی ہمارے ماہنامہ المرابطون کے حجۃ الاسلام نمبر میں آپ نے پڑھ
لیا ہو گا کہ… حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ بھی حضرت
صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے مبارک خاندان سے تھے…حضرت خواجہ عبید اللہ
احرار نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کا سلسلہ نسب بھی حضرت سیدنا صدیق
اکبر رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے…آپ ۸۰۶ھ تاشقند میں پیدا ہوئے…آپ نے ثمرقند کو اپنا مسکن بنایا
اور وہیں مدفون ہوئے…بندہ کو ان کی قبر پر حاضری کی سعادت حاصل ہوئی ہے حضرت خواجہ
صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ تعالیٰ نے تحریر و بیان میں عجیب تاثیر سے
نوازا تھا…
آپ
فرماتے تھے:
’’بزرگوں
کی خدمت سے مجھے دو چیزیں عطاء ہوئیں، ایک یہ کہ جو کچھ لکھوں اس میں نیا پن
ہو،دوسرا جو کچھ کہوں پسندیدہ ہو‘‘
آپ پہلے
بہت غریب تھے…پھر اللہ تعالیٰ نے بے حد و بے حساب مال و دولت عطاء فرمایا…غربت میں
تھے تب بھی امانت اور سادگی پر مضبوط رہے…اور جب بڑے مالدار ہو گئے تب بھی امانت و
سادگی وہی رہی … البتہ سخاوت ایسی بڑھی کہ دین کا کام کرنے والے فقراء کے مزے ہو
گئے…حضرت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ ان کی خدمت کرتے،ان کے تمام
اخراجات اٹھاتے اور ان کے لئے دین کے کاموں میں آسانی کے لئے اسباب فراہم
کرتے…آپ بڑی ہمت والا اس کو سمجھتے تھے جس کے پاس دنیا ہو مگر پھر بھی وہ اللہ
تعالیٰ سے غافل نہ ہو اور دنیا کی محبت اس کے دل میں نہ اترے…
بندہ کو
حضرت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے خاص عقیدت و محبت والا تعلق ہے…اس
لئے ان کا تذکرہ آیا تو اب دل چاہتا ہے کہ اسی میٹھے تذکرے میں لگا رہوں…مگر آج
موضوع کچھ اور ہے …اور اسی کی مناسبت سے حضرت خواجہ صاحب نوراللہ مرقدہ کا ایک
فرمان سنانا ہے … آپ فرماتے ہیں:
’’اگر ہم
پیری مریدی کرتے تو اس عہد (یعنی زمانے) میں کسی( اور) پیر کو کوئی مرید نہ
ملتا،لیکن ہمارے ذمے یہ کام لگایا گیا ہے کہ ہم مسلمانوں کو ظالموں کے شر سے محفوظ
رکھیں‘‘
حضرات
مفسرین کرام رحمۃ اللہ علیہ نے جہاد کے مقاصد اور اہداف میں سے ایک یہ
بھی لکھا ہے کہ مسلمانوں کی ظالم دشمنوں سے حفاظت رہے…حضرت خواجہؒ اپنے زمانے کے
مسلمان حکمرانوں کو اس طرف متوجہ فرماتے رہتے تھے…آپ نے اپنے ایک ارادتمند بادشاہ
کو یہاں تک لکھا کہ…آپ کے لئے نماز کے بعد سب سے اہم کام یہ ہے کہ آپ مسلمانوں
کی حفاظت کے لئے پوری ہمت اور محنت صرف کریں اور ان کے دشمنوں کا مکمل طاقت اور
سختی کے ساتھ مقابلہ کریں…
جہاد کے
خلاف امریکی اور انڈین فنڈ سے چلنے والے اداروں،رسالوں اور افراد کے لئے…یہ ضروری
اطلاع ہے کہ آج سے صرف چار دن بعد الحمد للہ پورے ملک میں…تقریباً تیس مقامات پر
آیات جہاد کا دورہ تفسیر شروع ہو رہا ہے…تین مرحلوں میں مکمل ہونے والے اس دورے
میں ان شاء اللہ ہزاروں مسلمان مرد اور خواتین شریک ہوں گی…اور یہ سب جہاد کے بارے
میں نازل ہونے والی قرآنی آیات کا ترجمہ اور تفسیر پڑھیں گے…غزوات
النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پُر کیف مناظر یاد کریں
گے…اور عصر حاضر میں جاری جہاد کا ماضی کے ساتھ رشتہ سمجھیں گے…ان تفسیری اسباق کی
صوتی ریکارڈنگ بھی ہوتی ہے…اور دنیا بھر کے مسلمان اسے سنتے،سمجھتے اور مانتے
ہیں…اور الحمد للہ بہت سے مسلمان اس پُرتاثیر دعوت کی برکت سے عملی جہاد میں بھی
شریک ہوتے ہیں…جماعت کے ذمہ داروں اور کارکنوں سے تاکیدی گزارش ہے کہ …اس سال
’’دورات تفسیر‘‘ کے لئے پہلے سے زیادہ محنت کریں…تاکہ ’’انکار جہاد‘‘ کا فتنہ اپنی
ناکامی خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لے…
لا الہ
الا اللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللھم صل
علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ ہم سب کی’’شماتتِ اَعداء‘‘ سے حفاظت فرمائے…آمین…
’’شماتتِ
اَعداء‘‘ کا کیا مطلب ہے؟ہم پر کوئی ایسی حالت یا مصیبت آئے کہ اسے دیکھ کر ہمارے
دشمن خوش ہوں اور وہ ہمارا مذاق اڑائیں…اسے کہتے ہیں ’’شماتتِ اَعداء‘‘۔
ہمارے
محسن حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم
فرمایا ہے کہ ہم چار چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگا کریں…یعنی یہ دعاء کیا
کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی پناہ اور امان میں لے کر ان چار چیزوں سے بچائے… وہ
چار چیزیں یہ ہیں:
١ جہد
البلاء…
٢ درک
الشقاء…
٣ سوء
القضاء…
٤ شماتۃِ
الاعداء…
آج ان
شاء اللہ کوشش ہو گی کہ ان چار مصیبتوں کی کچھ تشریح آ جائے…پہلے حضرت آقا مدنی
صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم پورا کریں اور یہ دعاء پڑھ لیں…
اَللّٰھُمَّ
اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ جَہْدِ الْبَلَائِ وَدَرَکِ الشَّقَائِ وَسُوْئِ
الْقَضَائِ وَشَمَاتَۃِ الْاَعْدَاءْ
’’یااللہ!
میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں…سخت آزمائش سے،بد بختی اور بد نصیبی سے، بری تقدیر اور
غلط فیصلے سے اور دشمنوں کے خوش ہونے سے‘‘…
تشریح
تھوڑا آگے چل کر …پہلے اسی حوالے سے ایک اہم بات…
رجب گیا
شعبان آیا
آج
ستائیس رجب کی رات ہے…یعنی شعبان کے آنے میں صرف دو یا تین دن باقی ہیں مناسب
معلوم ہوتا ہے کہ…اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے لئے شعبان کو پانے کا ایک
مختصر سا نصاب عرض کر دیا جائے…
شعبان کے
مہینہ کے بارے میں حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا ہے کہ…
’’لوگ اس
مہینے سے غافل رہتے ہیں‘‘
ارشاد
فرمایا:
ذٰلِکَ
شَہْرٌ یَّغْفُلُ النَّاسُ عَنْہُ بَیْنَ رَجَبَ وَ رَمَضَانَ
’’یہ وہ
مہینہ ہے رجب اور رمضان کے درمیان کہ لوگ اس سے غافل رہتے ہیں‘‘…
اب پہلی
نیت تو ہم سب یہ کریں کہ ہم ان شاء اللہ اس مبارک مہینہ سے غفلت نہیں کریں گے بلکہ
اسے مسنون اعمال کے ذریعہ قیمتی بنائیں گے…
لیجیے
دعا پڑھ لیں:
اَللّٰھُمَّ
بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَ شَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانْ
دوسری
بات اس مبارک مہینہ کے بارے میں حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم نے یہ ارشاد فرمائی کہ اس مہینہ میں بندوں کے اعمال اللہ
تعالیٰ کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں:
تُرْفَعُ
فِیْہِ الْاَعْمَالُ اِلٰی رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
اس لئے
ارشاد فرمایا:
فَاُحِبُّ
اَنْ یُّرْفَعَ عَمَلِی وَاَنَا صَائِمٌ
’’مجھے
یہ بات پسند ہے کہ میرے اعمال اس حالت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں کہ میں
روزے میں ہوں‘‘…(النسائی)
آپ حدیث
شریف کی کوئی بھی بڑی اور مستند کتاب دیکھ لیں…آپ یہی فیصلہ کریں گے کہ رسول کریم
صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ نفلی روزے شعبان میں رکھتے تھے…
کبھی
پورا مہینہ …اور کبھی اکثر مہینہ… بخاری اور مسلم میں روایات موجود ہیں…
تیسری
بات اس مہینہ کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد
فرمائی کہ اس مہینے کے نصف والی رات یعنی پندرہ شعبان کی رات،اللہ تعالیٰ مسلمانوں
کی عمومی مغفرت فرماتے ہیں… بس وہ لوگ مغفرت سے رہ جاتے ہیں جن کے دل میں اپنے
مسلمان بھائیوں کے لئے بغض اور دشمنی ہوتی ہے… حسد،بغض اور دشمنی رکھنے والوں کی
مغفرت نہیں کی جاتی…یہ مضمون کئی احادیث مبارکہ میں آیا ہے…
چوتھی
بات جو اس مہینہ کے بارے میں ارشاد فرمائی ہے…وہ ہے پندرھویں شعبان کا روزہ اور اس
سے پہلے والی رات کی عبادت…اس میں کئی علماء کرام کا کہنا ہے کہ اس مضمون کی
احادیث ضعیف میں…جبکہ کئی علماء کرام ان روایات کو قابل عمل قرار دیتے ہیں… (واللہ
اعلم بالصواب)
اب ہمارے
علم میں شعبان کے بارے میں کل چار باتیں آ گئیں…پہلی تین باتوں میں کسی کا اختلاف
نہیں جبکہ چوتھی بات میں اختلاف ہے…ان تمام باتوں کو سامنے رکھ کر یہ معلوم ہوتا
ہے کہ…مسلمانوں کو اس مہینہ میں اپنے اعمال زیادہ بہتر کرنے چاہیں تاکہ وہ رمضان
المبارک کو اچھی طرح سے کما سکیں…حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین اور ہمارے اسلاف شعبان آتے ہی چند باتوں کا اہتمام فرماتے
تھے…ایک تو روزوں کی کثرت تاکہ رمضان المبارک کے آنے سے پہلے روزوں کی حلاوت اور
عادت پا لیں…دوسرا تلاوت کی کثرت…کئی حضرات کے بارے میں آتا ہے کہ شعبان آتے ہی
گھروں کے دروازے بند کر کے قرآن مجید میں مشغول ہو جاتے…تیسرا زکوٰۃ اور صدقات
میں اضافہ…تاکہ غرباء،مساکین تک رمضان المبارک سے پہلے رمضان المبارک کا سامان
پہنچ جائے…اب ہمارے لئے نصاب آسان ہو گیا…
١ ہم
رجب اور شعبان میںبرکت والی دعاء کثرت سے مانگیں:
اَللّٰھُمَّ
بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَ شَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانْ
٢ ہم
شعبان میں زیادہ روزے رکھیں یا کم از کم چار روزوں کا اہتمام کر لیں ایک تو یکم
شعبان کا روزہ تاکہ مہینہ کا استقبال روزے سے ہو جائے اور ہمارے سال بھر کے اعمال
جب اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں تو ہم روزے کی حالت میں ہوں…ایک مسلمان روزے کی
حالت میں اللہ تعالیٰ کو زیادہ اچھا لگتا ہے …اور تین روزے ایام بیض کے تیرہ،چودہ
اور پندرہ شعبان…یہ روزے ہر ماہ مسنون ہیں…
٣ جن
کو صدقہ، خیرات،زکوٰۃ کی طاقت ہو وہ شعبان میں کچھ صدقہ اور زکوٰۃ نکال کر ان
مسلمانوں تک سامان پہنچائیں جن کی مالی حالت کمزور ہے…اس انتظار میں کہ رمضان
المبارک کا صدقہ ستر گنا اجر والا ہوتا ہے ، مال روک کر نہ بیٹھے رہیں…
اگر ایک
مسلمان نے رمضان کا چاند اس حالت میں دیکھا کہ…آپ کے دئیے ہوئے مال یا سامان کی
وجہ سے اسے مالی بے فکری حاصل ہوئی تو یہ… آپ کے لئے بہت بڑا ذخیرہ ہو گا…باقی
کوئی بھی سارا پیسہ یا سامان ایک دن میں نہیں کھا سکتا…وہ رمضان میں آپ کے مال سے
کھائیں گے تو آپ کو رمضان والا اجر بھی مل جائے گا…خصوصاً امت مسلمہ کا سب سے
مقرب اور اونچا طبقہ حضرات مجاہدین جو محاذوں اور تربیتوں میں ہوتے ہیں ان تک
رمضان المبارک کا سامان پہلے ہی پہنچا دینا چاہیے…
٤ اپنی
تلاوت میں کچھ اضافہ کریں…اسی طرح نمازوں کا باجماعت اہتمام کریں…
٥ جو
عید کی خریداری کا شوقین ہو وہ شعبان میں کپڑے وغیرہ سلوا لیں تاکہ رمضان المبارک
کے آخری قیمتی دن بازاروں اور درزیوں کے پاس ضائع نہ ہوں…
بس یہ ہے
پانچ نکاتی مختصر نصاب…خود بھی عمل کریں اور دوسروں تک بھی پہنچائیں…
انفاق فی
سبیل اللہ مہم
الحمد
للہ ’’جماعت‘‘ جہاد اور خیر کا وسیع کام اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کر رہی
ہے…چاروں طرف اندھیرے اور گمراہیوں کے سمندر ہیں…ان خوفناک سمندروں اور طوفانوں کے
بیچ اللہ کے نام اور اللہ کے کام سے وفاداری کرنا…اور امت مسلمہ کو روشنی،عزت،غیرت
اور ایمان کے جزیرے پر لانا ایک بڑا عظیم کام ہے…اس وقت بھی ماشاء اللہ دس مقامات
پر دورہ تفسیر جاری ہے اور اگلے چند دنوں میں تقریباً تیس مقامات پر یہ دورہ ہو
گا…محاذوں کی گرمی،کفالت شہداء کے ٹھنڈے سائے،دعوت کے برستے بادل،تعلیم و تعلم کے
انوارات،اصلاح اور تزکیہ کے میٹھے جام… تصنیف و تالیف کی روشنیاں…اور دور دور تک
اذانیں سناتیں مساجد…ماشاء اللہ ہر لمحہ خیر،ہر قدم خیر، اور ہر سانس خیر…
اپنی
جماعت اور اس کام کی قدر کریں… اخلاص کے ساتھ محنت کریں اور خود اپنا مال اس مبارک
کام پر شرح صدر کے ساتھ لگائیں…بیس شعبان سے یہ مہم شروع ہو کر یکم شوال کی مغرب
تک جاری رہتی ہے…اللہ والے دیوانے اس مہم میں شعبان بھی پاتے ہیں ، رمضان بھی
کماتے ہیںاور عید بھی لگاتے ہیں … آپ سب کے لئے ڈھیروں دعائیں…اور آپ سب کو پیار
بھرا سلام… اللہ تعالیٰ آپ کو امت مسلمہ کی طرف سے بہترین جزائے خیر عطا فرمائے…
چار
الفاظ کی تشریح
بخاری
شریف میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے…نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
تَعَوَّذُوا
بِاللہِ مِنْ جَہْدِ الْبَلَآءِ وَدَرَکِ الشَّقَاءِ وَسُوْءِ الْقَضَاءِ
وَشَمَاتَۃِ الْاَعْدِاءِ
’’اللہ
تعالیٰ کی پناہ مانگا کرو…جہد البلاء سے، درک الشقاء ہے، سوء القضاء سے اور شماتۃ
الاعداء سے‘‘…
١ جہد
البلاء: ہر ایسی مصیبت،سختی اور تکلیف جس کی انسان میں طاقت نہ ہو… ایسے فتنے جن
کے آنے پر انسان موت مانگنے لگے…ایسے امراض جو ناقابل برداشت اور ناقابل علاج
ہوں…ایسے قرضے جو کمر توڑ دیں …ایسی خبریں جو غم میں ڈبو دیں…ایسے غم جو خون نچوڑ
لیں یا اولاد کی کثرت اور ساتھ مال کی بے حدکمی…
٢ درک
الشقاء: شقاوت یعنی بد نصیبی،بد بختی … شقاوت ضد ہے سعادت کی اور شقاوت کی دو
قسمیں ہیں…پہلی دنیوی شقاوت اور وہ یہ کہ انسان کا دل اور جسم گناہوں میں غرق ہو
جائے اور نیک کاموں کی توفیق نہ ملے…اور دوسری اخروی شقاوت کہ کوئی انسان نعوذ
باللہ جہنم میں ڈال دیا جائے…
٣ سوء
القضاء: بری تقدیر،برا فیصلہ…یعنی ایسے حالات من جانب اللہ پیش آئیں کہ جن سے
انسان کو نقصان اور تکلیف پہنچے… یا انسان خود کوئی ایسے غلط فیصلے کر بیٹھے جن
میں گناہ ہو، ظلم ہو اور دنیا و آخرت کا نقصان ہو… یا انسان کے بارے میں کوئی
حاکم یا قاضی ظالمانہ فیصلہ سنا دے…
٤ شماتۃ
الاعداء: ہر آدمی کے دشمن بھی ہوتے ہیں اور حاسدین بھی…اگر اس انسان پر کوئی ایسی
حالت اور مصیبت آ جائے جس سے اس کے دشمن اور حاسدین خوش ہوں اور وہ اس کا مذاق
اڑائیں تو اسے ’’شماتۃ الاعداء‘‘ کہتے ہیں…
اندازہ
لگائیے حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے
’’احسانات‘‘ کا کہ کیسی عمدہ،جامع اور ضروری دعاء اپنی اُمت کو تعلیم فرما دی…
صلی
اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ
وسلم
اَللّٰھُمَّ
بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَ شَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانْ…اَللّٰھُمَّ
اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ جَہْدِ الْبَلَائِ وَدَرَکِ الشَّقَائِ وَسُوْئِ
الْقَضَائِ وَشَمَاتَۃِ الْاَعْدَاءْ
آمین یا
ارحم الراحمین
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ کے تمام وعدے سچے ہیں…بالکل سچے،بالکل پکّے…ان وعدوں کے بارے میں شک کرنا
محرومی ہے… یا اللہ! ہمیں اپنے وعدوں پر ایمان اور یقین نصیب فرما…آمین
تاریخ کی
طویل جنگ
ایک طرف
دنیا کی بظاہر سب سے بڑی قوت تھی…اور یہ قوت بھی اکیلی نہیں…اس کے ساتھ دنیا کے
تین درجن اور ممالک بھی تھے…جبکہ دوسری طرف اکیلی امارت اسلامیہ افغانستان…جی ہاں!
طالبان…یہ جنگ چودہ سال سے جاری ہے…چودہ سال کی اس لڑائی کے بعد نتیجہ کیا نکلا؟…
آپ نے
خبروں میں پڑھ لیا ہو گا…
’’امریکہ
نے اپنے ایک فوجی کے بدلے پانچ طالبان رہنماؤں کو رہا کر دیا ہے‘‘
سبحان
اللہ وبحمدہ،سبحان اللہ العظیم…اَللہُ اَکْبَر کَبِیْراً
یہ ہے
اسلام کی طاقت اور یہ ہے جہاد کی قوت…بظاہر تو یہ لگتا تھا کہ ’’طالبان‘‘ چودہ سال
تو دور کی بات چودہ دن بھی مقابلہ نہیں کر سکیں گے…کونسا اسلحہ ہے جو اُن کے خلاف
استعمال نہیں ہوا…اور کونسی سازش ہے جو اُن کے خلاف نہیں اُٹھائی گئی…دنیا بھر کے
جنگی ماہرین…اور بڑے بڑے جرنیل ہر آئے دن نئے نئے پینترے بدل کر جنگ بھڑکاتے
رہے،تدبیریں رچاتے رہے…اور سر کھپاتے رہے…سمندروں میں پہاڑوں کی طرح جمے ہوئے بحری
بیڑے … پچاس ہزار فٹ کی بلندی سے تاک کر نشانہ لگانے والے
جنگی جہاز…لمحوں اور ذروں کو شمار کر کے اپنے ہدف کو تہس نہس کرنے والے کروز
میزائل…میلوں تک ہر چیز کو بھسم کرنے والے ڈیزی کٹر بم…فضاؤں میں راج کرنے والے
نگران مصنوعی سیارچے…ہزاروں میٹر کی بلندی پر قائم پیٹرول اسٹیشن طیارے…اپنی مہارت
پر ناز کرنے والے خفیہ ادارے…ملکوں کی بساطیں لپیٹنے والے جاسوسی ماہرین…اور وحشی
جسم رکھنے والے کمانڈوز…یہ سب استعمال ہوئے اور ناکام ہو گئے…ایمان والوں کے ساتھ
اللہتعالیٰ کی نصرت کا وعدہ تھا جو الحمد للہ پورا ہوا…اور چودہ سال کی جنگ سہنے
والوں کو ایسی طاقت بخش گیا کہ انہوں نے ایک کے بدلے اپنے پانچ رہنما آزاد
کروالئے…
سبحان
اللہ وبحمدہ،سبحان اللہ العظیم…اَللہُ اَکْبَر کَبِیْراً
فتح کے
اس موقعہ پر کس کس کو مبارکباد دی جائے…کس کس پیارے فدائی کا تذکرہ مہکایا
جائے…قرآن پاک کی کونسی کونسی آیات سنائی جائیں…بہت سی روشن آیات آنکھوں کے
سامنے آتی ہیں اور دلنشین انداز سے مسکراتی ہیں…رب کعبہ کی قسم! وہ ہو گیا جو کسی
دشمن کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا…غامدی کے ایک شاگرد نے موجودہ افغان جہاد کے
آغاز میں قرآن مجید کی ایک آیت مبارکہ کا (نعوذباللہ) مذاق اڑایا تھا … غامدی
اور اس کے پرستاروں کی نظر امریکہ کی طاقت پر تھی…وہ نیٹو کی قوت پر توکل کر کے
بار بار لکھ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اب دنیا میں طالبان نام کی کوئی چیز باقی
نہیں رہے گی…وہ ’’بش‘‘ کو سلامیاں پیش کر رہے تھے کہ جلد ان فسادی مجاہدین کو مٹا
دو…مگر بش خود مٹ گیا اور اب ابامہ جانے کو ہے…اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَلَا
تَھِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ
مُّؤْمِنِیْنَ
اُحد میں
زخم کھانے والو! سست نہ پڑنا،غم میں نہ ڈوبنا، تم ہی غالب رہو گے اگر تم ایمان پر
رہے…
غامدی کے
شاگردوں نے اس آیت مبارکہ کو بار بار لکھا اور مذاق اڑایا…آج وہ شرم سے کیوں
نہیں ڈوب مرتے؟…مگر طاغوت کے پجاریوں کو شرم کہاں؟…سبحان اللہ! اسلام کی شان
دیکھیں،جہاد کی زندگی دیکھیں…موجودہ افغان جہاد شروع ہوا تو ’’غزوہ
احد‘‘ جیسے مناظر تھے…ہر طرف شہداء کے ٹکڑے، زخمیوں کی آہیں…دربدر بھٹکتے مہاجرین
کے قافلے…اور غموں کی برسات… اُن دنوں تو اچھے خاصے لوگ بھی دل ہار گئے تھے… یہی
شعبان تھا اور پھر رمضان…افغانستان پر طیارے آگ انڈیل رہے تھے…مجاہدین کے خط اور
محاذ ایک ایک کر کے ٹوٹ رہے تھے…مجاہدین کی عورتیں اپنے شیر خوار بچوں کو لے کر
صحراؤں اور پہاڑوں میں غم اور حیرت کا مجسمہ بنی آسمان کو تک رہی تھیں…طیاروں کی
کارپٹ بمباری سے قافلوں کے قافلے خون میں ڈوب رہے تھے … شمالی اتحاد کا سیلاب کابل
پر چھا چکا تھا…معصوم بچے ماؤں کی گود میں بھوکے پیاسے مر رہے تھے… مغربی میڈیا
خونخوار شیر کی طرح دھاڑ رہا تھا … اور مجاہدین کے رہنماؤں کا پتا نہیں چلتا تھا
کہ کہاں چلے گئے…مجھے آج بھی ان دنوں کے بعض مناظر یاد آتے ہیں تو دل پر غم کی
ضربیں لگتی ہیں…غزوہ احد کے بارے میں رب العالمین نے خود فرمایا:
فَاَثَابَکُمْ
غَمًّا بِغَمٍّ
کہ تم پر
غموں کی بارش ہو چلی تھی…ایک غم پر دوسرا غم اور دوسرے غم پر تیسرا غم…موجودہ
افغان جہاد کے آغاز میں اس سے ملتی جلتی صورتحال تھی…حضرت مفتی نظام الدین شامزئی
رحمۃ اللہ علیہ بے چین ہو کر ہمارے مرکز تشریف لائے اور بیان کرتے ہوئے
جگر مراد آبادی کے اشعار پڑھ کر رونے لگے ؎
اے خاصۂ
خاصانِ رُسل وقتِ دعاء ہے
وہ بلند
قامت،بلند ہمت اور زیادہ مسکرانے والے عالم دین تھے…مگر غم ایسا تھا کہ وہ کوہ
ہمالیہ بھی آنسوؤں کی آبشار نہ روک سکا…اس وقت ہم سب کا واحد سہارا اللہ تعالیٰ
کے وہ وعدے تھے جو ہم نے قرآن مجید میں پڑھے تھے…خود بھی ان وعدوں کو یاد کرتے
اور دوسروں کو بھی یہی وعدے سنا کر تسلّی دیتے…اور پھر رمضان المبارک میں خبر آ
گئی کہ…امارت اسلامیہ افغانستان کا سقوط ہو گیا…آہ! امارت اسلامیہ افغانستان…مگر
رب تعالیٰ کے وعدے مسکرا رہے تھے…اور قرآن مجید کی آیات جہاد چمک رہی تھیں…بے
سروسامان مجاہدین نے اپنے بچے کھچے حواس کو سنبھالا اور جس کے ہاتھ میں جو کچھ بھی
آیا وہ اسے لے کر ایک اندھیری جنگ میں کود گیا…فضائی بمباری کچھ تھمی اور دشمن
زمین پر اترا تو …منظر حیران کن تھا…وہ جو قیمہ ہو چکے تھے اور لہو میں ڈوب چکے
تھے…اُن کے فرزند زمین پر دشمن کا استقبال کرنے کو موجود تھے… تب ایک غیر متوازن
جنگ شروع ہوئی… ہمارے روشن خیالوں نے اپنی گھڑیوں اور کیلنڈروں کو اُلٹا چلا
دیا…یہ جنگ ایک ماہ چلے گی یا پندرہ دن…وہ ایک ایک دن گھٹاتے گئے مگر یہ کیا؟…ہر
دن گھٹنے کے ساتھ ان کی اُمیدیں بھی گھٹنے لگیں…سبحان اللہ! مجاہدین نے ایسی جنگ
لڑی کہ آسمان بھی جھانک کر دیکھتا ہو گا…سبحان اللہ! فدائیوں نے ایسا جہاد اٹھایا
کہ حوریں بھی منظر دیکھنے آسمان پر تشریف لاتی ہوں گی…ایک سال،دوسال، تین سال…کئی
جنرل بدل گئے…کئی قید خانے بھر گئے…کئی لشکر آئے اور چلے گئے…مگر کعبۃ اللہ اور
مسجد نبوی کے بیٹے آگے ہی بڑھتے گئے…اور قندھار سے لے کر کابل تک…خوست سے لے کر
غزنی تک…اور جلال آباد سے لے کر قندوز تک دنیا کے طاقت ور لشکر خود کو ایک تنگ
اور اندھیری گلی میں بند محسوس کرتے گئے … ہائے کاش! کوئی اس عظیم اور مبارک جہاد
کی تاریخ لکھے تو دنیا کا ہر عقلمند شخص مسلمان ہو جائے…اور الحمد للہ اس جہاد کی
برکت سے لاکھوں افراد اب تک مسلمان ہو چکے ہیں…خود دشمن کے کئی فوجی مسلمان ہو کر
گئے اور ان میں سے بعض آج اسلام کے مبلغ بنے ہوئے ہیں…وہ جہاد جس کا ابتدائی منظر
نامہ ’’غزوہ ٔاحد‘‘ جیسا تھا آج چودہ برس بعد اس میں سے ’’غزوۂ احزاب‘‘ کی خوشبو
آ رہی ہے…
دل چاہتا
ہے پہلے غزوہ احد والی آیات لکھ دوں…اور پھر غزوہ احزاب والی…ان آیات کو پڑھ کر
معلوم ہوتا ہے کہ…جہاد واقعی ایک زندہ عمل ہے…اور قرآن پاک کے جہادی واقعات بار
بار…اپنا منظر دکھاتے رہتے ہیں…غامدی اور اس کے شاگردوں کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے کہ
جہاد کی اکثر آیات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے
زمانے کے ساتھ خاص تھیں… انکار ِ جہاد پر یہ دلیل تو مرزا قادیانی کو بھی نہ
سوجھی… قرآن مجید قیامت تک کے لئے ہے اور تمام انس و جن کے لئے ہے…جب نماز والی
آیات قیامت تک کے مسلمانوں کے لئے ہیں تو جہاد والی آیات بھی قیامت تک کے
مسلمانوں کے لئے ہیں…آج کوئی بھی مسلمان غزوۂ احزاب والی آیات پڑھ لے اور پھر
افغانستان کے حالات دیکھے تو اس کا دل ایمان اور نور سے بھر جائے گا… الحمد للہ اس
وقت پندرہ شہروں میں ’’دورہ آیات جہاد‘‘ پڑھایا جا رہا ہے…ماشاء اللہ تین ہزار سے
زائد افراد کراچی سے لے کر پشاور تک…اور بہاولپور سے لے کر قلات اور ژوب تک قرآن
مجید کی زندہ آیات جہاد کو پڑھ اور سمجھ رہے ہیں…مبارک ہو ان تمام مسلمانوں کو
جنہوں نے افغان جہاد میں حصہ لیا…انہیں بھی جنہوں نے اس مبارک جہاد میں جان لگائی
اور ان کو بھی جنہوں نے اس جہاد میں مال لگایا…اور انہیں بھی جنہوں نے اس جہاد کے
لئے دعائیں اور محبت کے پھول کھلائے رکھے… ماشاء اللہ کسی کی محنت ضائع نہیں گئی…
آج وہ
مظلوم شہید کتنے یاد آتے ہیں جنہیں شبرغان اور قندوز میں کنٹینروں میں بند کر کے
شہید کیا گیا…اور وہ جو قلعہ جنگی کی جیل میں بمباری سے شہید ہوئے…آج ان شہداء کی
ارواح کتنی خوش ہوںگی کہ…ان کے سپہ سالار حضرت ملا فضل اخوند فاتحانہ رہائی پا چکے
ہیں…اس وقت کے دردناک اور خون آشام حالات میں کون اس فتح کا تصور کر سکتا
تھا؟؟…مگر اللہ تعالیٰ کے وعدے سچے ہیں…اور اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے ساتھ
دنیا اور آخرت کے جو وعدے کئے ہیںوہ ضرور پورے ہوں گے…
ایک دعاء
اپنا لیں
ہمیں ہر
دن تین چیزوں کی بے حد ضرورت ہوتی ہے…یہ تین چیزیں مل جائیں تو ہمارا پورا دن
کامیاب ہو جاتا ہے…اور اگر کسی دن ہم ان تین چیزوں سے محروم رہیں تو ہمارا وہ
دن…یعنی زندگی کا زمانہ (نعوذ باللہ) نا کام ہو جاتا ہے…
ہمارے
محسن اور آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دعاء سکھا
دی ہے اور ان تین چیزوں کی نشاندہی بھی فرما دی ہے…اور انہیں پانے کا طریقہ بھی
ارشاد فرما دیا ہے…اور طریقہ یہی ہے کہ ہم ہر صبح دل کی توجہ سے وہ تین چیزیں مانگ
لیا کریں…
اَللّٰہُمَّ
اِنِّی اَسْئَلُکَ عِلْمًا نَّافِعًا وَّرِزْقًا طَیِّبًا وَّعَمَلًا مُّتَقَبَّلا
یا اللہ!
میں آپ سے سوال کرتا ہوں…یعنی مانگتا ہوں نفع دینے والا علم…پاکیزہ رزق اور مقبول
اعمال سبحان اللہ! کیسی جامع اورکتنی ضروری دعاء ہے…علم نافع، رزق طیب اور مقبول
اعمال…ان تین الفاظ کی تشریح کی جائے تو ایک پورا کالم درکار ہو گا…علم، اللہ
تعالیٰ کا نور ہے… اور نفع دینے والا علم انسان کو راستہ بھی دکھاتا ہے اور منزل
تک بھی لے جاتا ہے…پاکیزہ رزق انسان کی اہم ضرورت ہے…اور رزق میں صرف کھانا پینا
اور مال ہی شامل نہیں…بلکہ انسان کو ملنے والی ہر نعمت رزق ہے…یہ رزق پاکیزہ ہو تو
انسان کی قسمت جاگ اٹھتی ہے…اور مقبول اعمال کے ہم سب محتاج ہیں…کتنے لوگ طرح طرح
کی سخت محنتیں کر کے اعمال کرتے ہیں مگر ان کی محنت رائیگاں جاتی ہے اور کسی وجہ
سے اعمال قبول نہیں ہوتے…
فجر کی
نماز کے بعد اس دعاء کو دل کی توجہ سے ہم سب تین بار مانگ لیا کریں…
اَللّٰہُمَّ
اِنِّی اَسْئَلُکَ عِلْمًا نَّافِعًا وَّرِزْقًا طَیِّبًا وَّعَمَلًا مُّتَقَبَّلا
آمین یا
ارحم الراحمین
لاالہ
الااللّٰہ،لاالہ الااللّٰہ،لاالہ الااللّٰہ محمدرسول اللّٰہ
اللہم صل
علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لاالہ
الااللّٰہ محمدرسول اللّٰہ
٭٭٭
ورد السعادۃ
اللہ
تعالیٰ ہی کے لیے تمام تعریفیں ہیں:
اَلْحَمْدُ
لِلهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
کیا
ہمارے دلوں میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شوق ہے؟
مَنْ
اَحَبَّ لِقَاءِ اللّٰہِ اَحَبَّ اللّٰہُ لِقَائَہٗ
جو اللہ
تعالیٰ سے ملاقات کا شوق رکھتا ہے… اللہ تعالیٰ بھی موت کے وقت اُس سے محبت والی
ملاقات فرماتے ہیں…
اَلْحَمْدُ
لِلهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
دن رات
میں چوبیس گھنٹے ہوتے ہیں… ان چوبیس گھنٹوں میں کیا صرف ایک لمحہ بھی ہمارے دل میں
یہ خیال آتا ہے کہ ہم نے ضرور اللہ تعالیٰ کے پاس جانا ہے؟
ارے
بھائیو! اور بہنو!
اللہ
تعالیٰ جیسا نہ کوئی مہربان… اللہ تعالیٰ جیسا نہ کوئی حسین، اللہ تعالیٰ جیسا نہ
کوئی محبت کرنے والا، اللہ تعالیٰ جیسا نہ کوئی معاف کرنے والا… اللہ تعالیٰ جیسا
نہ کوئی قدر اور اکرام کرنے والا… پھر کیا وجہ ہے کہ ہمارے دلوں میں ہر کسی سے
ملنے کا شوق ابھرتا ہے مگر اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شوق نہیں ابھرتا… آخر یہ
ساری نمازیں کس کے لیے ہیں؟… ساری محنتیں کس کے لیے ہیں؟… مزدور محنت کرتا ہے تاکہ
مالک اُس سے خوش ہو اور اُسے اجرت دے… ہم بھی عبادت کرتے ہیں… کیونکہ معبود کے پاس
جانا ہے… اگر ہم اپنے دلوں میں زندہ رہنے کا شوق کچھ کم کردیں… اور ہر نیکی اور
عبادت کے بعد اللہ تعالیٰ سے مناجات کیا کریں کہ… یا اللہ! یہ سب آپ کے لیے ہے،
آپ مجھے اپنی محبت والی ملاقات کا شوق نصیب فرما دیں… تو یقین کریں ہمارے لیے
دنیا کی ہر تکلیف آسان ہوجائے… دنیا انہیں کو زیادہ کاٹتی ہے جو دنیا ہی میں رہنے
کا شوق رکھتے ہیں… جو اس دنیا سے بے رغبت ہیں دنیا اُن کے پیچھے دوڑتی ہے…
اَلْحَمْدُ
لِلهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
سورۂ
فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے بڑی تأثیرات رکھی ہیں… ان میں سے ایک تأثیر یہ بھی ہے
کہ یہ سورۃ اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچاتی ہے…
اَلْحَمْدُ
لِلهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
اللہ
تعالیٰ کے غضب کے خوف سے ساری مخلوق تھر تھر کانپتی ہے… ایک مسلمان اگر اللہ
تعالیٰ کے غضب سے بچ کر اسکی رحمت میں آجائے تو اُسے اور کیا چاہیے… اسی لیے بار
بار آواز لگائی جارہی ہے کہ… سورۂ فاتحہ کو حاصل کرلیں، سورۂ فاتحہ کو پالیں…
یہ جو اس زمانے کے فدائی مجاہدین ہیں… اللہ تعالیٰ اُن کو مزید کامیابیاں عطاء
فرمائے… اور سورۂ فاتحہ کی برکت سے اُن کو اور زیادہ فتوحات عطاء فرمائے… سورۂ
فاتحہ اور فدائی مجاہدین میں کیا جوڑ ہے یہی بات عرض کرنی ہے… سورۂ فاتحہ میں
اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہے… بندہ پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ سنتے ہیں… اور ہر جملے کا
جواب عنایت فرماتے ہیں…
بندے نے
کہا:… اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ… اللہ تعالیٰ جواب میں فرماتے ہیں:
حَمِدَنِی عَبْدِی… میرے بندے نے میری حمد کی… یہ سلسلہ سورۂ فاتحہ کے آخر تک
چلتا رہتا ہے… اُدھر فدائی مجاہدین ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے شوق میں
جیتے اور مرتے ہیں…
اللہ
تعالیٰ کا ایک سچا بندہ کہہ رہا تھا… بس یہی تمنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے ٹکڑے
ٹکڑے ہو جائوں اور میرے جسم کو جانور کھالیں… ہاں! وہ سچ کہہ رہا تھا اور آج خبر
آئی ہے کہ وہ شہید ہو گیا ہے… دیوانہ عاشق اپنے محبوب سے مل چکا ہے…
اَلْحَمْدُ
لِلهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
میں کبھی
سوچتا ہوں کہ ان فدائی مجاہدین کا کتنا اونچا مقام ہے؟… اور ان حضرات کا پوری
اُمتِ مسلمہ پر کتنا بڑا احسان ہے؟… یہ نہ ہوتے تو آج دشمنانِ اسلام مسلمانوں کو
کچھ بھی نہ سمجھتے… اور انہیں کافی حد تک مٹا دیتے… جس طرح تاتاریوں نے علاقوں کے
علاقے مسلمانوں سے خالی کرا دئیے تھے… اور اُن کا سیلاب روکے نہیں رکتا تھا…
آج کے
دشمنان اسلام نے مسلمانوں کے خلاف ایسی جنگی طاقت بنا لی ہے کہ… بظاہر اُس کا
مقابلہ ممکن نظر نہیں آتا… ایسے وقت میں تن آسان لوگ دینی کتابوں سے وہ عبارتیں
ڈھونڈ لاتے ہیں کہ… جب مقابلے اور مقاومت کی طاقت نہ ہو تو جہاد فرض نہیں ہوتا… تب
اللہ تعالیٰ کا ایک سچا عاشق، اللہ تعالیٰ کا فدائی بن کر اُٹھتا ہے اور ایسا کام
کرتا ہے کہ… کفار کہنے لگتے ہیں کہ ہمارے پاس ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیںہے…
سبحان اللہ! ایٹم بموں اور ہائیڈروجن میزائلوں کے مالک… سیاروں، سیارچوں اور بحری
بیڑوں کے مالک خود کو… ایک فدائی مجاہد کے سامنے بے بس محسوس کرتے ہیں… تب قرآن
مجید کی جہادی آیات مسکرانے لگتی ہیں کہ… اے مسلمانو! جان تو لگا کر دیکھو… جہاد
تب بھی ممکن تھا جب بدر کے میدان میں تمہارے پاس مکمل تلواریں نہ تھیں… اور جہاد
آج بھی ممکن ہے جب تمہارے پاس غزوہ بدر کے جوان اور کڑیل بیٹے موجود ہیں… ارے!
جان تو لگائو، اپنے محبوب رب سے ملاقات کا شوق تو دل میں اٹھائو… یہ وہ شوق ہے جو
تمہیں پاک کر دیتا ہے… یہ وہ جنون ہے جو تمہیں بہت طاقتور بنا دیتا ہے
اَلْحَمْدُ
لِلهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
سورۂ
فاتحہ کا ورد جس کا تذکرہ چند کالم پہلے گذر چکا ہے… وہ ’’ورد الغزالی‘‘ حقیقت میں
’’ورد السعادۃ‘‘ ہے… اس ورد کے بارے میں لکھا ہے کہ اسے وہی خوش نصیب شخص اختیار
کر تا ہے جو اہل مشاہدہ میں سے ہو… یعنی جس کے دل کی آنکھیں کھلی ہوں… اچھا تو یہ
ہے کہ یہ ورد ہمیشہ کیا جائے تاکہ قرآن مجید اور خاص سورۂ فاتحہ کے ساتھ مضبوط
ربط اور تعلق نصیب رہے… مگر جن کے پاس فرصت کی کمی ہو وہ کم از کم چالیس دن اسے
اپنا معمول بنا لیں… حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے اس ورد کے
فضائل اور خواص پر چند اشعار لکھے ہیں… ان میں اس ورد کے جو خواص بیان فرمائے ہیں
ان میں سے دس درج ذیل ہیں:
١ رزق
کی برکت…
٢ تمام
مقاصد کا حصول…
٣ کسی
سے بھی کوئی معاملہ ہو اسکا حل…
٤ حوائج
کا پورا ہونا…
٥ دشمنوں
اور مخالفوں کی سازشوں سے حفاظت…
٦ عزت
و مرتبے میں ترقی…
٧ رعب
کا نصیب ہونا، دشمنوں پر ہیبت طاری ہونا…
٨ حفاظت
کے پردے نصیب ہونا…
٩ توفیق
اور خوشیوں کا ملنا…
١٠ ہر
طرح کے شر، تنگی، فقر وفاقہ، حکام کے ظلم سے حفاظت…
طریقہ
وہی ہے کہ… سورۂ فاتحہ فجر کے بعد تیس بار، ظہر کے بعد پچیس بار، عصر کے بعد بیس
بار، مغرب کے بعد پندرہ بار، عشاء کے بعد دس بار…
لاالہ
الااللّٰہ،لاالہ الااللّٰہ،لاالہ الااللّٰہ محمدرسول اللّٰہ
اللہم صل
علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لاالہ
الااللّٰہ محمدرسول اللّٰہ
٭٭٭
ایک ضروری دعوت
اللہ
تعالیٰ ہی ’’غیب ‘‘کا علم رکھتے ہیں …انسان کاعلم بہت تھوڑا ہے
وَمَآ
اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا
ہماری
جماعت کے بزرگ اور صاحب علم مجاہد …حضرت مولاناعبدالعزیزصاحب کشمیری ابھی دو روز
قبل انتقال فرماگئے…
اِنَّا
لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ
عراق کی
طرف حالات نے حیرت انگیزکروٹ لی ہے …امریکہ سے لیکرایران تک تمام باطل طاقتوں کی
نیندیں اڑ گئی ہیں …عراق وشام کے مجاہدین کے ایک مشترکہ لشکر نے صوبہ نینوامکمل
فتح کرلیا ہے …اوربغداد کی طرف پیش قدمی شروع کردی ہے …جب امریکہ نے عراق پر حملہ
کیا تھاتوکون جانتا تھا کہ …ایسا بھی ہوجائے گا …ہاں! بیشک جہاں ظلم آتاہے وہاں
…جہادفی سبیل اللہ گرجنے برسنے لگتا ہے …
وَاللّٰہُ
اَشَدُّ بَاْسًا وَّاَشَدُّ تَنْکِیْلًا
اس سال
الحمدللہ آیات الجہاد کا دورہ تفسیر …بہت کامیاب،مفید اور منظم رہا …پڑھنے والوں
کی تعداد بھی بڑھی اورپڑھانے والوں میں بھی اضافہ ہوا …یہ دورہ تین مراحل میں مکمل
ہوا …اورماشاء اللہ ساڑھے پانچ ہزار سے زائد مرد اور خواتین نے قرآن
مجیدکی آیات جہادکواس سال پڑھا…
اِنَّ
ھٰذَا الْقُرْاٰنَ یَھْدِیْ لِلَّتِیْ ھِیَ اَقْوَمُ
شمالی
وزیرستان میں نیاآپریشن شروع ہوچکاہے …بہت عرصہ سے اس آپریشن کی تیاری تھی… اب
جبکہ رمضان المبارک بالکل قریب ہے ،موسم سخت گرم اور زمینی مزاج شدید ہے … یہ
آپریشن شروع کردیا گیا ہے …وہ جومسلمانوں کوباہم لڑاناچاہتے تھے ان کے لئے اس
شعبان میں …بس یہی ایک خوشی کی خبر ہے
اَللّٰھُمَّ
ارْحَمْ اُمَّۃَ مُحَمَّدٍ صلی اللّٰہ علیہ وسلم
یہ ہیں
آج کی چار باتیں جن پر مختصر سی نظر ڈالنی ہے …حضرت مولاناعبدالعزیز
صاحب نوراللہ مرقدہ کے انتقال پرملال کی خبراس وقت آئی جب …بہاولپور
میں جماعت کے ذمہ داروں کا اجتماع جاری تھا …پندرہ شعبان کے بابرکت دن اس میٹھے
مزاج والے مہاجر فی سبیل اللہ بزرگ نے… اچانک رخت سفر باندھ لیا …ان کی صحت اچھی
ہوتی تووہ ضروراجتماع میں تشریف لاتے… انہیں اپنی جماعت سے بہت محبت تھی اورجماعت
کے اجتماعات میں وہ اہتمام سے شرکت کرتے تھے …وہ کشمیر کے اس معروف سلمان خیل
خاندان سے تعلق رکھتے تھے …جس خاندان کی سیاحتی حکومت کشمیر،جموں ،لداخ سے لیکر
بالاکوٹ کے پہاڑوں تک پھیلی ہوئی ہے …یہ سادہ طبیعت، باصلاحیت، بہادر اور صاف دل
خاندان …بڑے اللہ والے اولیاء کاقبیلہ ہے …۱۹۹۴ ء کے آغاز میں بندہ دہلی گیاتھاجہاں کشمیر کے دیگرعلماء
کرام کے ساتھ حضرت مولاناعبدالعزیز صاحب سے بھی ملاقات ہوئی… ان دنوں کشمیر کی
تحریک عروج پر تھی اورمجاہدین کی صف بندی پہاڑوں سے اتر کر میدانوں کارخ کررہی
تھی …بندہ نے علماء کرام کے اس مختصر وفد کے سامنے ہجرت وجہاد کی بات
رکھی… سب نے تائیداورحمایت فرمائی اور حضرت مولاناعبدالعزیزصاحب ؒ فوری ہجرت کے
لئے آمادہ ہو گئے… وہ سری نگر میں مقیم تھے اوروہاں کے معروف ’’میرواعظ‘‘خاندان
کے استاذتھے …سری نگر کامیرواعظ خاندان طویل عرصہ تک کشمیرکابے تاج
بادشاہ رہا ہے …آج بھی اس خاندان کااثر ورسوخ کافی حد تک قائم ہے … اگرچہ سیاست
کی خاردار جھاڑیوں نے پہلے جیسی بات نہیں رہنے دی… حضرت مولاناعبدالعزیز صاحب رحمۃ
اللہ علیہ کاہجرت کے لئے تیارہونابندہ کے لئے ایک خوشگوار خبر
تھی… پھر یہ ہوا کہ میں تو وہاں رہ گیااوروہ اپنے وعدہ کے مطابق یہاں پاکستان
تشریف لے آئے… انڈیا سے رہا ئی کے بعد ان سے دوسری ملاقات یہیں پاکستان میں
ہوئی … اور وہ ہماری جماعت میں محبت کے ساتھ شامل ہوگئے … ان کی ہجرت
جہاد کے لئے تھی اس پر وہ تادم آخر ڈٹے رہے اورجہاد کی خدمت کے ساتھ ساتھ علم دین
کی روشنی بھی پھیلاتے رہے …ماشاء اللہ بہت اچھے مدرس اورسراجی کے ماہر
عالم دین تھے …مجاہدین کوبہت درد کے ساتھ اتفاق واتحاد اوراطاعت امیر کاہمیشہ درس
دیتے تھے …آج وہ ’’گڑھی حبیب اللہ ‘‘کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں …جبکہ تحریک
کشمیر کومسکراہٹوں،ساڑھیوں اورسازشوں میں دفن کرنے کی کوشش ان دنوں تیزترہے …کتنے
عظیم لوگ اس تحریک کی ہجرت گاہوں میں دفن ہوگئے …کیسے کیسے البیلے
جانباز اس تحریک میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے …کیسی کیسی رشک بتاں جوانیاں اس تحریک کے
دوران سایوں میں ڈھل گئیں …مگربے عزم اوربے ضمیر حکمرانوں نے کبھی بھی
اس مبارک تحریک کے ساتھ وفاداری نہیں کی …ہاں! یہ ضرور ہے کہ… اس تحریک کے ساتھ
غداری اور ظلم کا معاملہ کرنے والے … خود قدرت کے انتقام کانشان بن
گئے… اور آج جو غداری پر تلے ہیں ان کے دن بھی کچھ زیادہ باقی نہیں ہیں… مجھے
یقین ہے کہ شہداء کاخون رائیگاںنہیں جاسکتا …ان شاء اللہ یہ تحریک …
کامیابی پائے گی،بلکہ ہماری توقع سے بھی زیادہ بہتر اس کے نتائج نکلیں گے …ہاں!
شرمندگی ہے کہ ہم مولاناعبدالعزیزاوران جیسے مہاجرین فی سبیل اللہ کوان کی زندگی
میں کشمیر کی اسلامی فتح کامژدہ نہ سنا سکے …مگر پہاڑوں کے اوپر سورج چمک رہا ہے…
اور اس سے بھی اوپر شہداء کاخون چمک اور مہک رہا ہے … یہ افسانہ نہیں اور نہ ہی
لفاظی… کل تک ہم جو کچھ عراق کے بارے میں کہتے تھے وہ مذاق کانشانہ بنایاجاتاتھا
…مگرآج عراق کاکانٹاہردشمن اسلام کے حلق میں اٹکا ہوا ہے …ممکن ہے
مجاہدین کوپھروقتی طور پر پسپا ہونا پڑے… اوریہ بھی ممکن ہے کہ ان کی پیش قدمی
جاری رہے …مگر یہ توسوچاجائے کہ اتنے سارے مجاہدین کہاں سے آگئے؟
…عراق میں عشروں تک جہادکانام لیناجرم تھا …اورپھربتیس ممالک نے مکمل طاقت کے ساتھ
عراق کووحشی کتوں کی طرح بھنبھوڑا …اوروہاں اپنی پسند کی حکومت بٹھا دی… اور اس
حکومت کوپیسے اور اسلحے سے لیس کردیا …توپھرمجاہدین کے اتنے بڑے لشکر کہاں سے
آگئے؟… سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم …جہاد ایک حقیقت ہے ،جہاد اللہ
تعالیٰ کا نہ مٹنے والاحکم ہے… جہاد اللہ تعالیٰ کی ابدی اور دائمی کتاب قرآن
مجیدکاموضوع ہے …جہاد میرے آقامدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کا محبوب عمل ہے …ارے! جس جہاد میں حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک خون لگا ہو… اس جہاد کو
کون روک سکتا ہے؟ …اس جہاد کو کون شکست دے سکتا ہے؟ …ہم ہوں گے یانہیں ان شاء اللہ
وہ وقت ضرورآئے گا …جب جماعت کا کوئی دیوانہ مجاہد … گڑھی حبیب اللہ کے قبرستان
جائے گا … اور حضرت مولاناعبدالعزیز صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو فتح
کشمیراورفتح ہند کی خوشخبری سنا کر کہے گا… حضرت مبارک ہو!
’’بڑھاپے
میں کی گئی آپ کی ہجرت ضائع نہیں گئی ‘‘ …
اس وقت
کفر و اسلام کا معرکہ اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہورہا ہے …اور ان شاء اللہ
اگلے دس سال میں جہادکامیدان بہت وسیع …اورجہاد کے محاذبہت دور تک پھیل جائیں گے
…دشمنان اسلام نے تقریباًیہ تو طئے کرلیاہے کہ …اب خودمسلمانوں کے سامنے نہیں آنا
…بلکہ مسلمانوں کو آپس میں لڑا کرمارنا ہے …اسی منصوبے کے تحت طرح طرح کے مضحکہ
خیز’’انتخابات‘‘ہورہے ہیں … مصر کا دم کٹافرعون ’’السیسی ‘‘صرف آٹھ
فیصدووٹ لیکر مصرکاصدر بن چکا ہے … اورحیرت یہ کہ ساری دنیا نے اس کی
حکومت اور صدارت کو تسلیم کرلیا ہے … دشمنوں کا یہ قدم مصر ،وادی
سینااوردور افریقہ تک جہاد کے نئے محاذ کھولنے کا ذریعہ بنے گا …ادھرشام
کابھورادجال’’بشارالاسد‘‘ …اپنے سرکاری اہلکاروں کے ووٹ لیکر تیسری بار اس مقدس
سرزمین پرطاعون کا چوہا بن کر ابھرا ہے …امید ہے کہ ا ن شاء اللہ یہ اس
کی آخری مدت ہوگی …اور شام کامحاذگولان کی پہاڑیوں سے اترتاہوا … مسجداقصیٰ کے
مجاہدین سے جاملے گا …الحمدللہ… آج مسلمانوں کے وجود کوتسلیم کیاجارہا
ہے …دشمنان اسلام نے بے پناہ جنگی اورسائنسی طاقت بناکریہ سمجھ لیا تھا
کہ …وہ دنیا سے اسلام اورمسلمانوں کا خاتمہ کردیں گے…مگر جب وہ اس اُمت
کے سامنے زمین پر اترے تو …ماشاء اللہ منظر ہی کچھ اور تھا…سبحان اللہ!بیس سال سے
جگہ جگہ مسلمانوں پر حملے کئے جارہے ہیں … اور حملے بھی اتحادی… مگرآج
تک ایک فتح بھی ان کے کاغذوں میں جگہ نہ پاسکی …شکست جمع شکست جمع ذلت جمع ناکامی…
نتیجہ بھاگواور مسلمانوں کو آپس میں لڑاؤ …اب مجاہدین اورعلماء کرام کا یہ کام
ہے کہ ایک طرف تووہ خالص شرعی جہادفی سبیل اللہ کی دعوت تیز کردیں …کیونکہ جنگ
فیصلہ کن مرحلے میں جانے کو ہے …اوردوسراکام یہ کہ اپنی دعوت میں اس
بات کو بھی بیان کریں کہ … مسلمانوں کا خون ایک دوسرے پرحرام ہے …ہاں…!
بیشک …مسلمان کے خون کی حرمت کعبہ شریف کی حرمت سے بھی زیادہ ہے …
لاالہ
الااللّٰہ محمدرسول اللّٰہ
لاالہ
الا اللّٰہ لاالہ الااللّٰہ لاالہ الااللّٰہ
محمدرسول اللّٰہ
اللھم صل
علیٰ سیدنامحمدوعلی اٰلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیماکثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
نے ایمان کی ایک بڑی علامت ارشاد فرمائی ہے:
’’مساجد
تعمیر کرنا، مساجد آباد کرنا‘‘
آج
ان شاء اللہ اسی بارے چند اہم باتیں عرض کرنی ہیں… پہلے ایک نظر’’دنیا‘‘ پر…
حالات
حاضرہ
١ بی
بی سی کے جنگی تجزیہ نگار… فرنیک گارڈنر نے ایک ’’قلم توڑ‘‘ بات لکھ دی ہے…
وہ کہتا
ہے:
’’تیرہ
سال سے دنیا کے تمام ممالک مل کر جہاد اور مجاہدین کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے
ہیں… انہوں نے اس کی خاطرہر حربہ آزما لیا ہے… مگر تیرہ سال کی ان متحدہ کوششوں
کے باوجود اُن کے لئے خوشی کی ایک خبر بھی نہیں ہے‘‘…
دیکھیں
کیسی سچی بات اس کے قلم اور زبان پر آگئی… سب پڑھیں:
لَا
اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدُ رَّسُوْلُ اللہ، اَلْحَمْدُ لِلہ، اَللہُ اَکْبَر،
سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیْم۔
٢ اُبامہ
جو صدر ہے امریکہ کا… اس کے منہ سے ایک’’زبان کاٹ‘‘ بات نکل گئی وہ کہتا ہے:
’’عراق
میں ہم امریکیوں نے جو قربانیاں پیش کیں وہ عراق کی نا اہل حکومت کی وجہ سے سب
ضائع اور رائیگاں چلی گئیں‘‘
بھائیو!دل
سے پڑھیں:
اللہ
اکبر کبیرا، اللہ اکبرکبیرا
٣ ایران
کی پاسداران انقلاب کا ایک جنرل… جس کا نام قاسم سلیمانی ہے وہ آج کل عراق میں ہے
اور مجاہدین کے خلاف جنگ میں عراقی حکومت کی مدد کر رہا ہے… اس سے پہلے وہ شام میں
تھا جہاں اُس نے مجاہدین کے خلاف بشار الاسد کے قاتلوں کی کمان کی… ایک ملک کا
جنرل دوسرے ملکوں میں اس قدر کھلا کردار ادا کررہا ہے… مگر اس غیر ملکی مداخلت پر
اقوام متحدہ خاموش، امریکہ خوش اور انڈیا مطمئن ہے… جبکہ پاکستان والے اگر اپنے
کشمیر میں چلے جائیں تو غیر ملکی مداخلت کا شور بجنے لگتا ہے… اسے کہتے ہیں’’اسلام
دشمنی‘‘ سب کہیں…
قَاتَلَھُمُ
اللّٰہُ
مرگ
بردشمنان اسلام
مساجد کی
طرف
مساجد کا
موضوع بڑا دلکش اور بہت مفصل ہے… پہلے تین قصے سن لیں
١ ترکی
کی ایک مسجد میں ایک بزرگ چھوٹے بچوں کو سورۂ فاتحہ یاد کرا رہے تھے… بچے بس چھ
سات سال کی عمر کے تھے… پوری مسجد میں سورۂ فاتحہ کا ترنم گونج رہا تھا … بزرگ کی
عادت تھی کہ روزآنہ سبق کا امتحان لیتے اور اول آنے والے بچے اور بچی کو دس روپے
انعام دیتے … اور سب بچوں کو کچھ نصیحت فرماتے…
سبق کا
وقت ختم ہوا… بزرگ نے ایک ایک بچے سے امتحان لیا… اور اب بچے آنکھیں مٹکا مٹکا کر
انتظار میں کہ… دس روپے کسے ملتے ہیں؟… بزرگ نے آج انداز بدل لیا… فرمایا! آج
ایک اور امتحان…ہر بچہ بتائے کہ اگر اُسے دس روپے ملے تووہ اُن سے کیا خریدے گا؟…
بچے جواب دینے لگے…
غبارے،
کھلونا، گاڑی، آئس کریم وغیرہ… مگر’’فاطمہ‘‘ خاموش… بزرگ نے پوچھا اگر فاطمہ بیٹی
انعام جیت گئی تو وہ کیا خریدے گی؟… فاطمہ تھوڑی دیر شرمائی پھر بولی ٹافیاں… بزرگ
نے فرمایا: اب ایک قصہ سنو اس کے بعد بتاتا ہوں کہ آج کا انعام کسے ملے گا…
دیکھو!
اس مسجد میں کتنے لوگ نماز ادا کرتے ہیں… وہ کتنے سجدے کرتے ہیں… کتنے رکوع… کتنی
دعاء، کتنے آنسو… اس مسجد میں کتنا درس ہوتا ہے، کتنا دین کا کام اور کتنے لوگ
یہاں توبہ کرتے ہیں… اس مسجد میں کتنی تعلیم ہوتی ہے، کتنے بچے پڑھتے ہیں… رمضان
میں کتنے لوگ اعتکاف کرتے ہیں، کتنے روزے دار افطاری کرتے ہیں… اس مسجد میں کتنے
جاہلوں کو علم ملتا ہے، کتنے گمراہوں کو ہدایت ملتی ہے… کتنا ذکر ہوتا ہے ، کتنی
تلاوت ہوتی ہے…
کیا کسی
کے بس میں ہے کہ ایک آباد مسجد میں چوبیس گھنٹے میں جتنی نیکیاں ہوتی ہیں اُن کو
لکھ سکے؟ کتنی بار ’’سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی،کتنی بار سُبْحَانَ رَبِّیَ
الْعَظِیْم‘‘… کتنا صدقہ، خیرات اور کتنی مناجات… مسجد کے تمام اعمال اگر لکھے
جائیں تو صرف ایک دن کی نیکیوں کو ہزار صفحات پر بھی نہیں لکھا جا سکتا … پھر ایک
سال میں کتنی نیکیاں ہوتی ہونگی؟…اور دس سال میں کتنی؟… کیا کسی کے بس میں ہے کہ
شمار کر سکے؟… سب بچوں نے آواز لگائی کسی کے بس میں نہیں…
بزرگ نے
فرمایا ! کیا آپ کو معلوم ہے کہ ان تمام نیکیوں کا ثواب اُس ایک شخص کو ملتا ہے
جس نے یہ مسجد تعمیر کی تھی…عمل کرنے والوں کے اپنے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوتی…
مگر مسجد بنانے والے کو اُن تمام اعمال کا پورا ثواب ملتا ہے جواُس مسجد میں ہوتے
ہیں، جو اس مسجد سے اٹھتے ہیں… اور جو اس مسجد سے پھیلتے ہیں… مثلاًآپ نے آج
سورۂ فاتحہ یاد کر لی… یہ آپ نے چونکہ اس مسجد میں بیٹھ کر یاد کی ہے… تو اس کا
ثواب اور آپ لوگ پوری زندگی جتنی سورۂ فاتحہ پڑھیں گے اُس کا ثواب… اور آپ آگے
جن کو سورۂ فاتحہ سکھائیں گے… اُس کا ثواب… یہ سب اس مسجد بنانے والے کے نامہ
اعمال میں بھی شامل ہوتا جائے گا…کیا آپ اس شخص کو جانتے ہیں جس نے یہ مسجد
بنائی؟… اس کا نام’’خیر الدین‘‘ تھا… ایک غریب، متوسط آدمی، نہ عالم نہ مشہور
بزرگ…بس اللہ تعالیٰ کا مخلص بندہ… اُسے شوق تھا کہ میں اللہ تعالیٰ کا گھر
بناؤں… اُس نے ایک تھیلا سلوایا… یہ تھیلا وہ اپنے ساتھ رکھتا… بازار جب بھی جاتا
توجو پھل اچھا لگتا اُسے دیکھ کر کہتا… لو بھائی !گویا کہ یہ میں نے کھالیا… پھر
جیب سے اُس پھل کی قیمت برابر پیسے نکال کر تھیلے میں ڈال لیتا… کبھی گوشت کی دکان
پر گوشت اچھا لگتا تو کہتا… لوبھائی! گویا کہ میں نے یہ گوشت خریدا، پکایا اور مزے
سے کھا لیا… پھر اس گوشت کی قیمت تھیلے میں ڈال لیتا… سالہا سال تک اس محنت اور
مجاہدے کے بعد اس نے تھیلا کھولا تو بڑی رقم جمع تھی… جس سے اُس نے یہ مسجد بنائی…
قصہ سنا
کربزرگ نے کہا… اب آج کے انعام کا اعلان… آج کا انعام’’ فاطمہ‘‘ کا ہے اُس نے
سورۂ فاتحہ سب سے اچھی یاد کی ہے… فاطمہ کا چہرہ خوشی سے دمکنے لگا… اٹھ کر انعام
وصول کیا… بزرگ نے پوچھا: فاطمہ ان پیسوں سے کیا لے گی… فوراً جواب آیا:کچھ بھی
نہیں…
بزرگ نے
کہا… تم نے تو ٹافیاں لینی تھیں… فاطمہ مسکرائی اور بولی… ٹافیاں گویا کہ میں نے
کھا لیں… اب میں یہ پیسے جمع کروں گی اور مسجد بناؤں گی…
سبحان
اللہ وبحمدہ… سبحان اللہ العظیم
٢ دوسرا
قصہ بھی قریبی زمانے کا ہے…
ایک
مالدار شخص نے ارادہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کے لئے مسجد بنائے… اپنے ملازموں سے کہا
کوئی مناسب پلاٹ ڈھونڈو… چند دن کی کوشش سے ایک پلاٹ پسند کر لیا گیا… بہت مناسب
جگہ پر تھا اور قیمت پینتیس لاکھ… جو اس مالدار کے لئے بہت آسان تھی… بات طیٔ ہو
گئی…پتا چلا کہ یہ پلاٹ ایک غریب چوکیدار کا ہے… وہ اپنے پانچ چھ بچوں کے ساتھ
سالہا سال سے غربت اور فقر و فاقہ کی زندگی کاٹ رہا تھا… اب کچھ خاندانی جائیداد
تقسیم ہوئی تو اس کو یہ پلاٹ ملا جسے اُس نے فوراً ’’برائے فروخت‘‘ کر دیا تاکہ اس
رقم سے اپنی معاشی حالت بہتر کر سکے… خریدنے کے دن مالدار شخص بیس لاکھ کا چیک
لیکرپہنچا… پلاٹ کے مالک نے کہا باقی پندرہ لاکھ؟… اُس نے کہا اوقاف سے جس دن
منظوری آگئی اس دن باقی پندرہ لاکھ دے دوں گا؟ پلاٹ والے نے کہا اس میں اوقاف کا
کیا کام؟… مالدار نے کہا میں نے یہاں مسجد بنانی ہے اس لئے اوقاف سے اجازت مانگی
ہے…مسجد کا نام سن کر پلاٹ کا مالک رونے اور کانپنے لگا… اس نے چیک پھاڑ کر پھینک
دیا اور کہا: جائیے! میں یہ پلاٹ نہیں بیچتا… پوچھا کیوں؟… کہنے لگا یہ کیسے ہو
سکتا ہے کہ آپ مجھ سے پلاٹ خرید کر اللہ کا گھر بنائیں… پھر اللہ تعالیٰ آپ کے
لئے جنت میں گھر بنائے… اور میں پلاٹ کا مالک ہو کر اس سعادت سے محروم رہوں… اب
میں اس پلاٹ پر مسجد ہی بناؤں گا… کروڑ پتی مالدار نے اُس غریب چوکیدار کے سامنے
سر جھکا کر کہا… زندگی گزر گئی میں نے آج تک کسی کے سامنے خود کو چھوٹا یا حقیرنہ
سمجھا… مگر آج میں خود کو آپ کے سامنے بے حد حقیر سمجھ رہا ہوں…
٣ تیسرا
قصہ کچھ پرانے زمانے کا ہے…
ایک
بادشاہ نے ارادہ کیا کہ وہ ایک ایسی مسجد بنائے گا جس میں اس کے سوا کسی کا کوئی
حصہ نہ ہو… اس نے پہلے جگہ خریدی،پھر اعلان کر دیا…خبردار! کوئی بھی اس مسجد میں
کسی طرح کا اپنا حصہ شامل نہ کرے… نہ مال نہ خدمت… جس نے کام کرنا ہو مزدوری اور
اجرت پر کرے… خیر: اسی شرط کے ساتھ مسجد تیار ہو گئی سارا مال بادشاہ کا لگا… مسجد
کے دروازہ پر بادشاہ نے اپنا نام لکھوا دیا… اور مسجد میں نماز شروع ہو گئی… ایک
رات بادشاہ نے خواب دیکھا کہ آسمان سے ایک فرشتہ اترا اُس نے مسجد کے دروازہ سے
بادشاہ کا نام کاٹ کر ایک عورت کا نام لکھ دیا… بادشاہ نے وجہ پوچھی تو اس نے کہا
مجھے اسی کا حکم ہے…صبح جب بادشاہ اٹھا تو بہت پریشان… اپنے کارندے بھیجے کہ جاکر
دیکھو! میرا نام موجود ہے یا نہیں؟… انہوں نے جا کر دیکھا بادشاہ کا نام موجود
تھا…مگر دوسری رات پھر وہی خواب… اور تیسری رات بھی…مگر جب جا کر دیکھتے تو بادشاہ
کا کتبہ موجود ہوتا… بادشاہ نے خواب میں اس عورت کا نام یاد کر لیا تھا… اپنے
لوگوں کو اس کی تلاش پر لگا دیا… وہ عورت مل گئی… اسے طلب کر لیا گیا… وہ بہت
بوڑھی تھی اور رعشہ کی وجہ سے اس کا جسم کپکپاتاتھا… اور اس طلبی پر مزید بھی خوف
سے کانپ رہی تھی… بادشاہ نے کہا…اے خاتون! آپ نے اس مسجد میں کیا حصہ ڈالا؟… اس
نے کہا کچھ بھی نہیں… میں غریب کمزور بڑھیا… میری مجال کہ آپ کے اتنے سخت اعلان
کے بعد کوئی جرأت کرتی… بادشاہ نے اس کو اللہ کا واسطہ دیا اور کہا آپ کو کچھ
نہیں کہا جائے گا سچ بتا دیں… وہ بولی: بادشاہ سلامت کچھ بھی نہیں، بس اتنا کہ ایک
گرمی کی دوپہر میں وہاں سے گزر رہی تھی… مزدور کاریگر سب اندر آرام میں تھے… ایک
جانور جو مسجد کا سامان اٹھاتا تھا وہ باہر بندھا ہوا تھا… پیاس کی وجہ سے اس کا
بُرا حال تھا… اس کے قریب ہی پانی کا بھرا برتن رکھا تھا مگر وہ اُس تک نہیںپہنچ
سکتا تھا اور بار بار زور لگا کر ہانپ رہا تھا… میں نے وہ برتن اس کے قریب کر دیا
اور اُس نے وہ پانی پی لیا… بس میں نے یہی خدمت کی… بادشاہ رو پڑا اور کہنے لگا…
اماں!
آپ نے اتنا سا کام اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کیا تو اللہ تعالیٰ نے ساری مسجد
آپ کے نام کر دی… اور میں نے اتنا سارا کام اپنے نام کے لئے کیا تو اللہ تعالیٰ
نے مسجد کے اجر میں مجھے شامل نہ فرمایا… پھر اس نے اپنے وزیر کو حکم دیا کہ جاکر
مسجد سے میرا نام کاٹ دو اور اسی خاتون کا نام لکھ دو…
مقصد یہ
کہ مسجد میں اخلاص کے ساتھ تھوڑی سی محنت کا بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ مقام ہے…
دراصل مسجد ایمان کا قلعہ… اور زمین پر اللہ تعالیٰ کی محبوب ترین جگہ ہے…ارشاد
فرمایا:
اَحَبُّ
الْبِلَادِ اِلَی اللہِ مَسَاجِدُھَا وَاَبْغَضُ الْبِلَادِ اِلَی اللہِ
اَسْوَاقُھَا
اللہ
تعالیٰ کے نزدیک محبوب ترین جگہ مسجد اور ناپسندیدہ ترین جگہ بازار ہے…(صحیح مسلم)
آج
بازار کتنے آباد ہوگئے… کیسی کیسی جدیدمارکیٹیں اور ان مارکیٹوں پر اُن سے بھی
زیادہ پرفریب مارکیٹیں… جبکہ مساجد کی طرف مسلمانوں کی وہ توجہ نہیں ہے جو ایک
حقیقی مسلمان کو ہونی چاہئے… جماعت نے الحمدللہ تین سو تیرہ مساجد تعمیر اور آباد
کرنے کی نیت کر رکھی ہے… اللہ تعالیٰ کافضل دیکھیں کہ الحمدللہ اب تک اٹھاون مساجد
تیار ہو چکی ہیں… ابھی حال ہی میں کراچی کے ایک خوش نصیب تاجرنے خود ایک مسجد تمام
ضروریات کے ساتھ تیار کر کے جماعت کو دے دی ہے…اللہ تعالیٰ اُن کے اس عمل کو خاص
قبولیت عطاء فرمائے…اور اب جماعت کے پاس جتنے پلاٹ موجود ہیں… ان میں سے مناسب
مقامات پر رمضان المبارک کے بعد مساجد کی تعمیر کا نیا سلسلہ شروع ہو جائے گا…
دراصل
جہاد اور مسجد کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے… اہل علم نے تو یہاںتک لکھا ہے کہ…
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم مجاہدین کو مساجد کے ساتھ
باندھ گئے ہیں تاکہ اُن کا جہاد مقبول اور کامیاب ہو… اسی لئے مسجد ہر جگہ مجاہد
کے ساتھ چلتی ہے اور ہر قدم پر مجاہد کو نئی قوت، نیا جذبہ اور مضبوطی عطاء کرتی
رہتی ہے… اہل سیر نے لکھا ہے کہ جہاد اور مسجد کے اس لزوم کی وجہ سے حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک تھا کہ جب بھی جہاد کے
سفر پر نکلتے تو راستے میں مساجد بناتے جاتے یا مساجد بنانے کا حکم فرماتے جاتے…
صرف ایک غزوہ تبوک کے سفر کے دوران ایک قول کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے سولہ مساجد… اور دوسرے قول کے مطابق بیس مساجد تعمیر
فرمائیں… آپ سیر کی کتابوں میں دیکھ لیں… ان تمام مساجد کے نام اور مقامات تک
محفوظ ہیں… مجاہد کے ساتھ مسجد رہتی ہے تو وہ کبھی ناکام نہیںہوتا… مگر جب وہ مسجد
سے دور ہٹ جائے تو پھر طرح طرح کے فتنوں کا شکار ہو کر کمزور ہوجاتا ہے… دشمنان
اسلام نے تعاون اور میڈیاوار کا دھوکہ دے کر اپنے لوگ مجاہدین میں گھسائے جنہوں نے
مساجد سے کٹے ہوئے دفاتر قائم کر کے مجاہدین کو مساجد سے دور کر دیا…تاکہ ان میں
حبّ دنیا اور حبّ الشہوات کے بیچ بو سکیں… پس جو دفاتر کے ہو کر رہ گئے وہ حقیقی
جہاد سے کٹ گئے… مگر جو اس فتنے کا شکار نہیں ہوئے وہ کامیاب رہے… اور اللہ تعالیٰ
نے انہیںشہادتوں اور فتوحات سے نوازا… ان شاء اللہ کبھی موقع ملا تو اُن مساجد کا
مفصل تذکرہ القلم میں آجائے گا… جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم نے اسفارِ جہاد کے دوران قائم فرمائیں…
آج کی
آخری بات
مسجد
تعمیر کرنا، مسجد آباد کرنا، مسجد کی خدمت کرنا، مسجد میں خوشبومہکانا، مسجد کی
حفاظت کرنا، مسجد کی صفائی کرنا… مسجد میں باادب رہنا… مسجد میں بیٹھ کر جہاد کی
ترتیب بنانا… یہ تمام اعمال بہت فضیلت والے ہیں…جماعت کی توجہ الحمدللہ مساجد کی
طرف بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کی توفیق سے تین سو تیرہ کے ہدف کی جانب گامزن ہے… اس
رمضان المبارک میں’’مسلمان‘‘ مساجد کے لئے بھی دل کھول کر اموال نکالیں… اور جہاد
فی سبیل اللہ میں بھی بڑھ چڑھ کر جان و مال لگائیں… جہاد میں جان و مال لگانا…
کعبہ شریف کی تعمیر سے بھی زیادہ افضل ہے…
لا الہ
الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ…
اللھم صل
علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا…
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ …
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ کا عظیم احسان… ماہ رمضان، ماہ رمضان
دل خوش
ہوا؟
کیارمضان
المبارک کے تشریف لانے پر ہمارا دل خوش ہوتا ہے ؟؟
اگر خوش
ہوتا ہے تو پھر مبارک ہو، صد مبارک
رمضان
المبارک،اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس اُمت کے لئے بڑا انعام ہے… رمضان المبارک نہ
آئے تو ہم نفس و شیطان کے ہاتھوں برباد ہوجائیں… رمضان المبارک کے روزے اسلام کے
بنیادی اور لازمی فرائض میں سے ہیں… ایک مؤمن کی شان یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے
فرائض کو بوجھ نہیں، نعمت سمجھتا ہے… اور اُن کی آمد اور ادائیگی پر خوش ہوتا ہے…
ہمارے
آقا حضرت محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کا خوشی
سے استقبال فرماتے تھے اپنے صحابہ کرام کو رمضان المبارک کی خوشخبری دیتے تھے… اور
رمضان المبارک کے آغازمیں علوم وحکمت کی بارش فرماتے تھے…یاد رکھیں! روزہ بوجھ
اور مشقت نہیں… قوّت اور لذت ہے… ایسی قوت کہ مسلمانوں نے رمضان المبارک میں بدر
بھی فتح کر لیا… اور مکہ مکرمہ پر بھی فتح کاجھنڈا لہرادیا…
مرحبا اے
رمضان!… خوش آمدید اے رمضان!
دل گھبرا
گیا؟
کیا
رمضان المبارک کے تشریف لانے پر ہمارا دل گھبراتا ہے؟
اگر
گھبراتا ہے تو ہم ابامہ کی رنگت والے اس’’کالے‘‘ دل کی اصلاح کر لیں…جی ہاں! ابھی
موقع ہے… اگر خدانخواستہ اسی حالت میں جان نکل گئی تو یہ’’ابامہ‘‘ ہمارے ساتھ قبر
میں چلا جائے گا… اللہ نہ کرے قبر تندور بن جائے… جیسے بلوچستان میں سالم بکرے کو
سجّی بنانے کیلئے ایک گڑھا کھود کر اُسے دھکتے انگاروں سے بھر دیتے ہیں…
…یا اللہ
!عذاب قبر سے بچا لیجئے…
روزہ نہ
گرمی کا مشکل نہ سردی کا مشکل… روزہ صرف ’’نفس پرست‘‘ کا مشکل… ارے! محبوب کے لئے
بھوکا، پیاسا رہنا… کمزوری سے خستہ حال ہوجانا یہ تو عشق کے مزیدار مراحل ہوتے
ہیں… ایسے مراحل ہی میں اُن کی نظر خاص نصیب ہوتی ہے…
اَلصَّوْمُ
لِیْ وَاَنَا أَجْزِی بِہٖ
ارشاد
فرمایا: روزہ میرے لئے ہے اور اس کا بدلہ میں خود دوں گا، خاص بدلہ، محبت والا
بدلہ… بہت ہی بڑا بدلہ…
انسان جب
تک اپنے محبوب کے لئے خستہ حال نہ ہو… کمزور اور زخمی نہ ہو، بھوکا اور پیاسا نہ
ہو تو محبت دل میں کہاں اُترتی ہے؟
حضرت
سیّدنا علی رضی اللہ عنہ اپنی محبوب ترین چیزوں میں سے ایک
یہ بھی بیان فرماتے ہیں کہ:
اَلصَّوْمُ
فِی الصَّیْف
سخت گرمی
میں روزہ رکھنا…
معروف
صاحب حکمت صحابی، حضرت سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ ارشادفرماتے ہیں:
صَلُّوْافِی
ظُلْمَۃِ اللَّیْلِ رَکْعَتَیْنِ لِظُلْمَۃِ القُبُوْر
رات کے
اندھیرے میں دو رکعت ادا کیا کرو،قبر کے اندھیرے سے بچنے کے لئے…
صُوْمُوْا
یَوْمًا شَدِیْدٌ حَرُّہٗ لِحَرِّیَوْمِ النُّشُوْر
سخت گرمی
کے دن روزہ رکھا کرو، قیامت کے دن کی گرمی سے حفاظت کے لئے
تَصَدَّقُوا
بِصَدَقَہٍ لِشَرِّ یومٍ عَسِیْر
اور صدقہ
دیا کرو، ایک مشکل دن کی آسانی کے لئے…
آج کل
خوب گرمی ہے… سورج آگ برساتاہے اور لوڈ شیڈنگ پسینے نکالتی ہے… عاشقوں کے روزے
اور زیادہ مزیدار ہوجاتے ہیں… اور عشق کی سرشاری سے بھیگ بھیگ جاتے ہیں… اے
مسلمانو! خوش ہونا چاہئے، بہت خوش ہونا چاہئے کہ قرآن مجید کا موسم آگیا…مغفرت
کا موسم آگیا… محبوب کے لئے روزے رکھنے اور بھوک پیاس اٹھانے کا موسم آگیا… ہم
سب اپنے دل کو سمجھائیں کہ… بابا سیدھا ہوجا… ہروقت موٹا تازہ، ہٹا کٹا، بنا سنورا
اور تروتازہ رہنا یہ عاشقوں کی شان نہیں… آگے قبر میں جانا ہے جس نے اس دنیا میں
اپنے رب کے لئے جتنی مشکل اٹھائی، آگے اس کواتنی ہی آسانی نصیب ہوئی…
رمضان
المبارک کے اعمال
رمضان
المبارک میں جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں…ایک دروازہ بھی بند نہیں رہتا… اور جہنم
کے دروازے بند ہوجاتے ہیں… اور ایک دروازہ بھی کھلا نہیں رہتا… اس لئے یہ اعمال
والا مہینہ ہے… شریعت نے بعض اعمال تو ایسے ارشاد فرمائے ہیں… جو صرف اسی مہینے
میں ادا ہو سکتے ہیں… اور بعض ایسے اعمال بیان فرمائے ہیں کہ… جن کا اجر اس مہینہ
میں بڑھا دیا جاتا ہے… قرآن وسنت میں رمضان المبارک کے جو اعمال بیان کئے گئے
ہیں… ان کی ایک فہرست حاضر خدمت ہے… دیکھ لیں کہ ہم نے کون کون سے اعمال کمانے
ہیں…
١ روزہ…
یہ سب سے اہم اور فرض ہے اور بڑی شان والا فریضہ ہے… اور یہی اس مہینہ کا اصل اور
بنیادی عمل ہے…
٢ جہاد
فی سبیل اللہ… اسی مہینہ میں غزوہ بدر اور غزوہ فتح مکہ پیش آئے، فضیلت کا اندازہ
خود لگا لیں
٣ رات
کا قیام… تراویح اور تہجد…
٤ صدقہ…
روایت میں آیا ہے کہ:
اَفْضَلُ
الصَّدَقَۃِ صَدَقَۃُ رَمَضَانَ
سب سے
افضل صدقہ… رمضان المبارک کا صدقہ ہے…
٥ تلاوت…
یہ قرآن مجید کا مہینہ ہے…اسی میں تمام آسمانی کتب نازل ہوئیں اس مہینہ میں
قرآن مجید خوب کھلتا ہے اور خوب رنگ جماتا ہے…
٦ اعتکاف…
یہ عبادت اسی مہینے کے آخری عشرے کے ساتھ بطور سنت مؤکدہ خاص ہے… البتہ واجب یا
نفل اعتکاف کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے…
٧ عمرہ…
رمضان المبارک کا عمرہ فضیلت میں حج کے برابر ہوجاتا ہے…
٨ لیلۃ
القدر کو تلاش کرنا اور اسے زندہ رکھنا… یہ عظیم فضیلت اسی مہینہ کے ساتھ خاص ہے…
٩ ذکر،
استغفار، درود شریف اور دعاء کی کثرت کرنا… رمضان المبارک میں ذکر اور دعاء زیادہ
قبول ہوتے ہیں… بہت مقبول ہوتے ہیں…
١٠ صلہ
رحمی کرنا…
اللہ
تعالیٰ ہمیں ان تمام اعمال کی توفیق عطاء فرمائے…
مقبول
رمضان
ہمارا
رمضان المبارک مقبول جارہا ہے یا نہیں؟… ہم میں سے ہر ایک کو خود اس کی فکر کرنی
چاہئے… قبولیت کا اندازہ اس سے ہوگا کہ… ہم حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کی طرف دیکھیں کہ… آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کا رمضان المبارک میں کیا رنگ اور کیا انداز ہوتاتھا…پھر
اگر ہمیں اپنے اندر… اُس رنگ اور انداز کی کچھ خوشبو محسوس ہو تو ہم شکر ادا کریں…
اسے قبولیت کی علامت سمجھیں اور مزید محنت کریں… حضرت آقا محمد مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم پر رمضان المبارک میں فرض روزہ کے علاوہ… تین باتوں کا
رنگ غالب رہتا…
١ قرآن
مجید کی طرف توجہ…
٢ بہت
بہادری اور جذبۂ جہاد…
٣ بہت
زیادہ سخاوت…
ویسے تو
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تین صفات دائمی تھیں… مگر سیرت
مبارکہ پر غور کریں تو یہی نظر آتا ہے کہ… رمضان المبارک میں آپ صلی اللہ علیہ
وسلم پر ان تین صفات کا گویا حال طاری ہوتا تھا… آپ قرآن مجید
کی طرف متوجہ رہتے… حضرت جبریل امین علیہ السلام بھی تشریف لاتے اور
پھر ان دو عظیم ہستیوں کے درمیان قرآن مجید کا دور چلتارہتا… دوسرا حال جہاد کی
طرف توجہ اور بے حد بہادری کاہوتا… بدر کی طرف نکلنا آسان نہ تھا… بے سروسامانی
تھی اور چاروں طرف سے خطرات… مگر رمضان المبارک کا عشق ایسا چمکا کہ یہ خستہ حال لشکر…مشرکین
مکہ کے تروتازہ اور پُرشوکت لشکر سے ٹکرا گیا… اور جہاد کو ناقابل تسخیر بنیاد
فراہم کر گیا…
فتح مکہ
کا معاملہ بھی آسان نہ تھا… وہ فتح اکبر اور فتح اعظم تھی اور اسی سے
دین اسلام کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے… ایک عظیم قوت اور مرکزیت ملی… اسی لئے کئی اہل
علم رمضان المبارک کی خصوصیات میں جن دو بڑی چیزوں کا ذکر کرتے ہیں… ان میں پہلی
نزول قرآن… اور دوسری فتح مکہ ہے…خلاصہ یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کی رمضان المبارک میں… جہاد کی طرف خاص توجہ رہتی
تھی…
تیسرا
حال جو رمضان المبارک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر زیادہ طاری
رہتا… وہ تھا سخاوت… آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیز ہواؤں سے بھی
زیادہ سخی ہو جاتے … آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو پہلے سے ہی سخیوں
کے سخی بادشاہ تھے… مگر رمضان المبارک میںاس سخاوت میں بہت زیادہ اضافہ ہو جاتا…
بس سب کچھ مالک کے لئے قربان اور ہر ضرورت مند کے ساتھ احسان… اور ہمدردی…
ہم اپنے
اندر جھانک کر دیکھیں:
کیا
قرآنِ پاک کی طرف توجہ زیادہ ہوئی؟
اگر
ہوگئی ہے تو…
اَلْحَمْدُ
لِلهِ، اَلْحَمْدُ لِلهِ اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
کیا
سخاوت زیادہ ہوئی؟
اگر ہوئی
ہے تو…
اَلْحَمْدُ
لِلهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
کیا
بہادری بڑھی؟… اللہ تعالیٰ کے لئے جان دینے کا جذبہ زیادہ ہوا؟… دل میں شوق جہاد
بڑھا؟… اسلام کے لئے کچھ کر گزرنے کا جنون فراواں ہوا؟
اگرہواتو…
اَلْحَمْدُ لِلهِ، ثُمَّ اَلْحَمْدُ لِلهِ… اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
لا الہ
الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ
اللّٰھم
صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ’’مُعافی‘‘ کو پسند فرماتے ہیں…
رمضان
المبارک کو قیمتی بنانے کا ایک اہم نسخہ’’مُعافی‘‘ ہے… آپ اللہ تعالیٰ کے بندوں
کو’’معاف‘‘ کریں… اللہ تعالی آپ کومعاف فرمائے گا…
وَلْیَعْفُوْا
وَلْیَصْفَحُوْا اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ
ایک مشکل
کام
جو آپ
کے ساتھ بُرا سلوک کرے … اس کے ساتھ برابر کا بُرا سلوک کرنا جائز ہے… جو آپ پر
ظلم کرے اس پر اتنا ہی ظلم کرنا جائز ہے… جو آپ کو نقصان پہنچائے اس کے بدلے میں
اُسے نقصان پہنچانا جائز ہے… مگراپنے ان جائز حقوق کو ذبح کرنا اور معاف کر دینا…
یہ بڑا اونچا عمل ہے… مگر آسان نہیں، بہت مشکل ہے، بہت مشکل… یہ کام وہی کر سکتا
ہے جس کا ایمان سچا اور مضبوط ہو… جس کی روح پاک ہو… جس کا دل بہادر ہو… اور جس کے
اخلاق اعلیٰ ہوں…مُعافی کا مطلب ہے… طاقت ہونے کے باوجود بدلہ نہ لینا… بہت سے لوگ
مُعافی کااعلان کرتے ہیں مگر وہ مُعافی نہیں ہوتی کیونکہ جتناکچھ وہ کر سکتے ہیں
وہ کر لیتے ہیں…غیبت ، چغلی، بدگوئی وغیرہ… مُعافی یہ ہے کہ… بس اللہ تعالیٰ کی
رضا کے لئے معاملہ ختم کر لیا جائے اور کسی طرح کا بھی بدلہ نہ لیا جائے… یہ ایک
سچے مجاہد کی شان اور ایک سچے ولی کی علامت ہے… اور یہ حضرات انبیاء علیہم
السلام کی مبارک صفت ہے…
مُعافی
کا لفظ
پہلے’’مُعافی‘‘
کا لفظ درست پڑھنا سیکھ لیں… اس میں میم پر پیش (یعنی ضمہ) ہے اور عین پر زبر… عام
لوگ میم پر بھی زبر پڑھتے ہیں جو درست نہیں …
معافی کے
فضائل اور فوائد
مُعافی
کے مسئلہ کو قرآن مجید نے بارہا بیان فرمایا ہے… سورۂ یوسف کو پڑھا جائے تو
مُعافی کا مطلب بھی سمجھ آتا ہے … اور معافی کی فضیلت اور مقام بھی…حضرت
یعقوب علیہ السلام کا اپنے بیٹوں کو معاف فرمانا… حضرت
یوسف علیہ السلام کا اپنے بھائیوں کو معاف فرمانا… پورا
منظر اور قصہ پڑھیں، اس کی باریکی میں جائیں… اور اُس کے نفسیاتی پہلوؤں کو
دیکھیں تو یہی سمجھ آتا ہے کہ…
مُعافی
بہت مشکل عمل ہے… مگر یہ بہت اونچااور بہت نفع مند کام ہے… اور اس عمل کے دنیا اور
آخرت میں بڑے عمدہ نتائج حاصل ہوتے ہیں… اگر ہم سورۃ یوسف کی روشنی میں’’معافی‘‘
کے مسئلہ کو تفصیل سے لکھیں تو اسی میں کالم پورا ہوجائے گا… اس لئے صرف اشارہ عرض
کر دیا… اب دیکھئے قرآن و سنت میں مُعافی کے فضائل کی ایک مختصر فہرست:
١ اللہ
تعالیٰ کی ایک صفت’’عفو‘‘ ہے… بہت معاف فرمانے والا… پس مُعافی کو اختیار کرنے
والا مسلمان… اللہ تعالیٰ کی صفت کا تخلّق کرتا ہے… ’’تخلّق‘‘ کے معنیٰ اپنے اخلاق
کو اللہ تعالیٰ کی صفات کے تابع بنانا…
٢ معافی
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی صفت ہے… اور معافی حضرات
انبیاء علیہم السلام کی صفت ہے …
٣ قرآن
مجید میں اللہ تعالیٰ کے متقی بندوں کی صفات میں سے ایک ’’وَالْعَافِیْنَ عَنِ
النَّاسِ‘‘ ہے… یعنی لوگوں کو معاف کرنے والے… ایسے متقی افرادکا بدلہ جنت ہے…
٤ قرآن
مجید میں معاف کرنے والوں سے اس بات کا وعدہ کیا گیا ہے کہ…اُن کا اجر اور بدلہ
اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے…
فَأَجْرُہٗ
عَلَی اللہِ
٥ معافی
کا بدلہ مغفرت ہے… یعنی جولوگوں کو معاف کرتا ہے اللہ تعالیٰ اُسے اپنی معافی اور
مغفرت عطاء فرماتے ہیں…
٦ اللہ
تعالیٰ نے کچھ اعمال کو’’عزائم‘‘ کا درجہ دیا ہے… یعنی وہ بڑی عزیمت اور ہمت والے
مسلمانوں کو نصیب ہوتے ہیں… قرآن مجید نے معاف کرنے کو بھی انہیں ’’عَزْمُ
الْاُمُوْر‘‘میں شامل فرمایا ہے…
٧ حدیث
شریف میں آتا ہے:
جو اپنے
غصے کو ایسی حالت میں دبا دے کہ وہ اُسے نافذ کرنے کی طاقت رکھتا ہو تو اللہ
تعالیٰ اسے تمام لوگوں کے سامنے بلا کر اس بات کا اختیار دیں گے کہ… وہ جس حور کو
پسند کرے وہ اسے عطاء کر دی جائے گی…(ابو داؤد، ترمذی)
یعنی
معاف کرنا، ایسا عظیم عمل ہے کہ… اس کے بدلے یہ سارے اعزازات ملیں گے…تمام خلق کے
سامنے عزت افزائی… اللہ تعالیٰ کا انعام کے لئے خود طلب فرمانا… مرضی اور پسند کی
حور عطاء فرماناوغیرہ…
٨ معافی
کی برکت سے اللہ تعالیٰ بندے کو دنیا کی عزت بھی عطاء فرماتے ہیں…
ارشادفرمایا:
مَا
زَادَ اللّٰہُ عَبْدًابِعَفْوٍ اِلَّاعِزَّاً(صحیح مسلم)
کہ معافی
سے اللہ تعالیٰ بندے کی عزت ضرور بڑھاتے ہیں…
جہاد اور
معافی
جہاد اور
معافی کا آپس میں کوئی ٹکراؤ نہیں… یہ دونوں بہادر افراد کی صفات ہیں… اسلام کے
دشمنوں سے جہاد کرنا… دین کے دشمنوں سے لڑنا… مسلمانوں کے دشمنوں سے قتال کرنا… یہ
بھی بہادر انسان کا کام ہے…
بزدل کے
بس میں نہیں کہ… وہ جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان میں اُترے…
اسی طرح
مسلمانوں کو معاف کرنا… کمزوروں سے بدلہ نہ لینا… آپس کے معاشرے میں خود کو معافی
کی علامت بنانا… یہ بھی بہادر انسانوں کاکام ہے…
بزدل
آدمی کے بس میں نہیں کہ وہ کسی کو معاف کرسکے… وہ تو جو کچھ کر سکتا ہے ضرور کر
گزرتا ہے… بلکہ برابری سے بڑھ کر بدلہ لیتا ہے…
ایک حدیث
شریف پڑھیں تو… بات دل میں اُترے گی…
اُم
المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنے ہاتھ مبارک سے کسی عورت یا
خادم کو بالکل نہیں مارا پیٹا مگر یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ
وسلم میدان جہاد میں ہوں… (یعنی میدان جہاد میں آپ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ہاتھ مبارک سے جنگ فرمائی) اورکبھی ایسا نہیں ہوا
کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی نے ایذاء پہنچائی ہو اورآپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ذاتی انتقام لیا ہو… ہاں! اللہ
تعالیٰ کے محارم کی بے حرمتی کرنے والوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ
تعالیٰ کے لئے بدلہ لیتے تھے…(مسلم)
آج بہت
سے لوگوں کا معاملہ الٹا ہو گیا ہے… وہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے لئے دعائیں کرتے
ہیں… اور اپنے مسلمان بھائیوں کو ایذاء کا نشانہ بناتے ہیں…
یاد
رکھیں!… کفار دشمنان اسلام کے لئے بددعاء کرنا… یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کی سنت مطہرہ ہے… اس بارے تفصیل ان شاء اللہ پھر کبھی…
اللہ
تعالیٰ روئے زمین پر موجود ہر انسان کو ہدایت عطاء فرمائے… مگر وہ جن کی قسمت میں
ہدایت نہیں اور جو مسلمانوں سے لڑتے ہیں، اُن پر مظالم ڈھاتے ہیں… ان کی بہنوں
بیٹیوں کوقیدی بناتے ہیں… اللہ تعالیٰ اُن کو چن چن کر ہلاک فرمائے… اوراُن کو
عذاب کا کالا دن دکھائے… اور اُن کا نام و نشان ختم فرمائے…آمین…
اللہ
تعالیٰ کے دشمن جہنم میں جائیں یہ کوئی غم کی بات نہیں… خوشی کی بات ہے… دشمنان
اسلام کے جہنم جانے پر غم منانے والے… کبھی محبت کی ایک نظر مسلمان مجاہدین پر بھی
ڈال لیا کریں… آپ پر کافروں کا اگر اتنا حق ہے تو اپنے مسلمان بھائیوں کا بھی کچھ
حق ضرور ہوگا… حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی صفت قرآن
مجید میں مذکور ہے:
اَشِدَّآئُ
عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَھُمْ…
خلاصۂ
موضوع
معاف
کرنا ایمان والوں کی علامت ہے… یہ اہل عزیمت کا شعار ہے… یہ بہادر مسلمانوں کا
طریقہ ہے… آپ نے معاف نہ کرناہو تو ہزاروں بہانے موجود ہیں… شرعی بھی اور غیر
شرعی بھی… بہانے بھی بہت طاقتور… اورکئی بالکل جائز… ان سب کے ہوتے ہوئے اپنے اندر
معافی کی صفت پیدا کرنا… یہ ایسا عمل ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی ’’معافی‘‘ کا
مستحق بنا سکتا ہے…
اس لئے
دعاء کریں، کوشش کریں کہ یہ صفت… ہمارے اندرپیدا ہوجائے… اور ہمارا معاشرہ معافی
کے نور سے جگمگا کر…مضبوط اور طاقتور ہوجائے…
قصہ ایک
شخص کا
آج
جب’’مُعافی‘‘ کے موضوع پر لکھنے کا ارادہ بنا تو… معاف کرنے کے کئی واقعات سامنے
آگئے… ان واقعات میں کافی نصیحت ہے… مگر بات کو مختصر کرنے کے لئے صرف ایک واقعہ
پر اکتفا کرتے ہیں…ایک شخص نے معافی کے فضائل پڑھے تو معاف کرنے کی عادت اختیار کر
لی… اس کا طریقہ تھا کہ روزآنہ یہ دعاء کرتا…
’’یا
اللہ! جن مسلمانوں نے میری غیبت کی، کوئی حق تلفی کی، مجھے ایذاء یا نقصان پہنچایا
میں نے اُن سب کو آپ کی رضا کیلئے معاف کردیا… آپ بھی انہیں معاف فرمادیں‘‘…
مگر پھر
اُسے ایذاء دینے والے اتنی کثرت سے ہو گئے کہ… اس کی ہمت ٹوٹ گئی…
اس نے یہ
دعاء بند کر دی… بس یہ کہتا کہ… یا اللہ! اُن سب کا معاملہ آپ کے سپرد… یوںایک
سال گذر گیا… اچانک ایک دن اُسے خیال آیا کہ… وہ مسلمان جو تمہیں ایذاء پہنچاتے
ہیں اگر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوبھی گئے تو اس سے تمہیںکیا ملے گا؟… کیا اس
سے تمہاری قبر اچھی ہو جائے گی، تمہاری آخرت بہتر ہو جائے گی… ؟
دل سے
جواب آیا… کچھ بھی نہیں… اُن کے عذاب سے میراکیا فائدہ؟… تب دل میں روشنی آئی
کہ… پھر ایسا کیوں نہیں کرتے کہ تم انہیں معاف کرو اور اس کے بدلے اللہ تعالیٰ سے
مُعافی چاہو…
اَلَا
تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ…
بس اُس
نے… اللہ تعالیٰ کی معافی پانے کی خواہش میں دوبارہ لوگوں کومعاف کرنے کا عمل شروع
کر دیا…
اَللّٰھُمَّ
رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤمِنِیْنَ وَ الْمُؤمِنَاتِ وَ
الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمَاتْ، اَلأحْیَاءِ مِنْھُمْ وَالأ مْوَاتْ۔
لا الہ
الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ
اللھم صل
علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ بھائی حبیب کی مغفرت فرمائے…
اَللّٰھُمَّ
اغْفِرْلَہٗ وَ ارْحَمْہُ وَاَکْرِمْ نُزْلَہٗ وَوَسِّعْ مُدْخَلَہٗ
آج اُن
کے ایصال ثواب کے لئے یہ کالم لکھنے بیٹھا ہوں… یادوں اور باتوںکا ہجوم راستہ ہی
نہیں چھوڑ رہا… جیسے وہ خود بہت متحرک … بلکہ خیر کا ایک ہنگامہ تھے، اُن کی یادیں
اُن سے بھی زیادہ تیز ہیں، سانحہ بیتے آج پانچواں دن ہے… دماغ و دل کو بہت
سمجھایا مگر وہ بھائی حبیب کی یادوں سے نہیں نکلتے…
آئی جب
اُن کی یاد تو آتی چلی گئی
ہر نقش
ماسواء کو مٹاتی چلی گئی
ہر منزلِ
جمال دکھاتی چلی گئی
جیسے
اُنہی کو سامنے لاتی چلی گئی
ہر واقعہ
قریب تر آتا چلا گیا
ہر شے
حسین تر نظر آتی چلی گئی
وہ ایک
سیدھے سادے سے انسان تھے… بشری کمزوریاں بھی ان میں عام انسانوں سے کم نہیں تھیں…
نہ عالم تھے نہ علامہ… نہ شیخ تھے نہ بڑے بزرگ … لیکن کیا کریں وہ ہمارے یار تھے
یار… اور جو یار ہوجائے وہ آسانی سے جان نہیں چھوڑتا… اور اگر وہ جان چھوڑ دے تو
پھر جان اُسے نہیں چھوڑتی… اسی لئے تو رب تعالیٰ نے ’’یاروں‘‘ کے لئے قیامت کے دن
اپنے عرش مبارک کا سایہ مقدر فرما دیا ہے …کیونکہ اللہ تعالیٰ کو یاری پسند ہے… وہ
یاری جو اللہ تعالیٰ کے لئے ہو… وہ زمین پر خیر کے باغات لگا دیتی ہے… بھائی حبیب
پر اللہ تعالیٰ کا فضل تھا… اللہ تعالیٰ نے انہیں کئی نعمتیں وافر مقدار میں عطاء
فرمائیں… مثلاً!
١ شکر
گزاری…
٢ اللہ
تعالیٰ کے ساتھ حسن ظن…
٣ خدمت
جہاد کا ولولہ…
٤ انتھک
محنت کی عادت…
٥ رقت
قلب…
٦ خیر
کے کاموں کی مثالی توفیق…
٧ حرمین
شریفین کا عشق اور بار بار حاضری کی سہولت…
٨ خدمت
فقراء…
٩ تلاوت
اور عبادت خاص طور پر رمضان اور نفلی روزوں کا ذوق…
١٠ سخاوت…
١١ دوسروں
کے لیے دردمندی…
١٢ سیاحت
فی الارض…
١٣ اچھی
صحبت… وغیرہ
چلیں
اللہ تعالیٰ سے مدد مانگ کر … یادوں کی آندھی میں سے کچھ خوشگوار جھونکے منتخب
کرتے ہیں… تاکہ پڑھنے والوں کو فائدہ ہو … اور بھائی حبیب صاحب کو ثواب پہنچے…
شکر
گزاری
اللہ
تعالیٰ کا بڑا انعام ہے کہ کسی کو ’’شکر گزاری‘‘ کی عادت نصیب فرما دے… اہل دل کا
قول ہے…جسے شکر نصیب ہوگیا اُس پر اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بارش کی طرح برستی رہتی
ہیں… بھائی حبیب کو جب سے ہم نے دیکھا وہ تکلیف دہ بیماریوں میں مبتلا تھے… شوگر
ایسی کہ اللہ تعالیٰ کی پناہ! انسولین کے ٹیکے سفر و حضر میں اُن کے ساتھ رہتے
تھے… ایک آنکھ کی بینائی مکمل ختم ہوچکی تھی جبکہ دوسری آنکھ ہمیشہ تکلیف میں
رہتی تھی… بعض اوقات آنکھ سے خون بھی جاری ہو جاتا تھا… مگر اللہ تعالیٰ کا وہ
شکر گزار بندہ… بیماریوں سے یوں کھیلتا تھا جس طرح کوئی بچہ گیند سے کھیلتا ہے… وہ
علاج بھی کراتے مگر نہ بیمار بنتے نہ بیماری سناتے … بلکہ اگر کوئی انہیں صحت مند
کہہ دیتا تو بہت خوش ہوتے… بھاگ دوڑ، محنت اور کام میں اُن کی جان تھی … وہ
بیماریوں کو ساتھ اٹھائے اورکبھی اپنے پیچھے لگائے بھاگتے دوڑتے کام کرتے رہے… ہر
بیماری نے اُن سے شکست کھائی … مگر کسی انسان نے اس دنیا میں ہمیشہ نہیں رہنا… جب
اُن کی ٹانگ پر وار ہوا … وہ چلنے پھرنے سے معذور ہوئے تو واقعی پریشان ہوگئے…
پھر بھی
انہوں نے ہمت نہ ہاری … باربار آپریشن اور علاج کراکے دوبارہ بھاگ دوڑ کا میدان
پانے کی جدوجہد میںلگے رہے …وہ خیر والی زندگی گزار رہے تھے اور کام کرنا چاہتے
تھے… جب معذور ہوئے تو پھر زیادہ وقت بستر اور اس دنیا میں نہ رہے اور جلد ہی کھلی
فضاؤں کی طرف پرواز کرگئے…
خوشی کا
استعارہ، غم کا تیشہ
بھائی
حبیب … جنہیں ہم محبت سے ’’دادا‘‘ کہتے تھے… ہماری زندگی میں اُس وقت آئے جب ہر
طرف راستے بند تھے… ایسے دردناک حالات میں وہ خوشی کا استعارہ بن کر ایک دم زندگی
میں شامل ہوگئے… اور پھر مسلسل اُنیس سال تک خوشی کا پیغام، راحت کا ذریعہ اور
محبت کا عنوان بن کر ساتھ رہے… اندازہ لگائیں کہ تہاڑ جیل کے سخت اور تاریک ماحول
میں … جہاں ہم پر کڑی نظر تھی… دادا ہمارے لئے بیرونی دنیا سے رابطے کی کھڑکی بن
گئے… اب انہیں اگر اللہ تعالیٰ کی نصرت کہا جائے تو کون سامبالغہ ہے… پہلے خط تک
نہیں جاسکتا تھا اب وہاں سے کتابیں روانہ ہورہی تھیں… وہیں زادِ مجاہد وجود میں
آئی… اور فتح الجواد کی بنیاد پڑی… اور خطوط کا ایک مفید سلسلہ شروع ہوا… ہمیں بس
اتنا معلوم تھا کہ کوئی تاجر ہیں بھائی فرقان… وہ یہ سارا کام کرتے ہیں … پھر اللہ
تعالیٰ نے چالیس دن کے لئے موبائل کی سہولت بھی نصیب فرما دی… والدین سے، عزیز و
اقارب سے اور مجاہدین سے خوب رابطے رہے… رابطے کے دوران ایک جگہ بات ختم ہونے کے
بعد …دوسری جگہ ملانے کے وقفے میں داد اجلدی سے اپنا نام … فرقان بتا کر ’’دعاؤں
کی درخواست ہے‘‘ کا جملہ بول دیتے… پھر کچھ سختی ہوگئی تو موبائل ضائع کردیا گیا…
باہر والوں کو طلب ہوئی کہ جیل سے کوئی تازہ بیان آجائے… دادا نے ایک بہت چھوٹا
ڈیجیٹل ٹیپ ریکارڈر بھیج دیا… میں نے اس سے پہلے اس حجم کا ٹیپ نہیں دیکھا تھا… اس
ٹیپ پر بیان تیار کرکے کراچی بھجوادیا گیا… جیل میں ہمارے آس پڑوس بمبئی مافیا کے
کئی ’ڈان‘ قید تھے… اُن کا جیل میں رہن سہن اور کھانا، پہننا اونچے معیار کا تھا…
مگر جب دادا نے سامان کی بوچھاڑ کی تو یہ ’’ڈان‘‘ بھی حسرت سے ہماری چیزوں کو
دیکھتے اور پوچھتے… پھر ہم نے دادا کو مزید سامان اور چیزیں بھیجنے سے روک دیا…
اللہ تعالیٰ نے کوٹ بھلوال میں ’’فضائل جہاد‘‘ کی توفیق بخشی… ہم نے یہ کتاب باہر
بھجوانے کے لئے جیل کے جس ہندو اہلکار کو پھنسایا… اُس کا دادا سے براہ راست رابطہ
ہوگیا… بس پھر کیا تھا…
دادا نے
اُسے ایسا خوش کیا کہ وہ مکمل وفاداری سے آخر تک کام کرتا رہا…پھر اللہ تعالیٰ نے
رہائی عطافرمائی… کراچی پہنچنے تک دادا سے کئی بار فون پر بات ہوئی…مگر زیارت کا
مرحلہ نہیں آرہا تھا… اور آنکھوں کو …اللہ تعالیٰ کی نصرت مجسم شکل میں دیکھنے
کا اشتیاق تھا… خیال تھا کہ جب دادا ملیں گے تو دیگر پرانے دوستوں کی طرح بہت دیر
تک گلے لگے رہیں گے… آنسو بہائیں گے… ہاتھوں اور پیشانی پر بوسوں کا تبادلہ ہوگا…
دس پندرہ منٹ تک خاموشی ، سنجیدگی اور خوشی و غم کی درمیانی کیفیت میں مجلس پر
سکتہ رہے گا…مگر ایسا کچھ بھی نہ ہوا وہ جلدی سے کمرے میں آئے، غیر جذباتی انداز
میں تیزی سے گلے ملے اور سامنے بیٹھ کر … میرے لئے نیا موبائل سیٹ تیار کرنے لگے…
میں نے میزبانوں سے پوچھا یہ کون؟… جواب ملا بھائی فرقان…
وہ دن …
اور آج کا دن دادا ساتھ رہے… دوست رہے، بے تکلف یار رہے… جماعت کے کاموں میں
معاون رہے… دین کے راستے میں ہمسفر رہے … مگر خوشیوں کے ساتھ… پھر ایک اور دن بھی
آگیا…
پیغام
آیا … دادا، اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ… شاید لکھنے والے میں
بھی اس سے زیادہ لکھنے کی ہمت نہیں تھی …اور پڑھنے والے کے دل پر غم کا تیشہ چل
گیا … اب بس دادا کے لئے دعائیں ہیں اور ایصال ثواب … اور ان گنت یادوں کا طوفان…
اچھا ہوا وہ معذوری کی تکلیف سے نکل کر اپنے محبوب رب کے پاس چلے گئے … اللہ
تعالیٰ اُن کے ساتھ اکرام والا معاملہ فرمائیں … دادا! آپ کو بھولنا بہت مشکل ہے،
بہت مشکل… ہاں! آپ ان شاء اللہ نہیں بھولیں گے … اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم
جب تک زندہ رہیں …آپ کا حق ادا کرتے رہیں…
رمضان کے
شیدائی
رمضان
المبارک کے آنے سے پہلے ہی ’’دادا‘‘ … ہر طرح کی تیاری شروع کردیتے… بندہ نے ایک
بار ’’رنگ و نور‘‘ میں اُن کے شوق رمضان کا تذکرہ بھی …اُن کا نام لکھے بغیر کیا
تھا… وہ شعبان سے دنوں کی گنتی سناتے رہتے کہ اب اتنے دن باقی ہیں… رمضان المبارک
سے پہلے اُن کی فرمائش آجاتی:
’’بابا!
رمضان المبارک کے معمولات بھیج دیجئے…‘‘
وہ مجھ
سے عمر میں بڑے تھے مگر پھر بھی محبت سے ’’بابا‘‘ کہہ کر پکارتے تھے… میں جواب
دیتا:
’’دادا
پچھلے سال جو معمولات بھیجے تھے بس وہی اس سال بھی‘‘
اُن کا
جواب آتا کہ … وہ پرچہ تو میں نے کسی کو دے دیا تھا بابا! واپس لکھ دیں… بہت
معذرت وغیرہ… پھر رمضان المبارک میں وہ عمرہ پر چلے جاتے تو کبھی پیغام آتا:
بابا!
کعبہ شریف کے سامنے بیٹھا ہوں فون ملاؤں دعا کریں گے؟
کبھی
بتاتے کہ حطیم میں بیٹھا ہوں … کبھی اطلاع بھیجتے کہ مدینہ پاک جارہا ہوں وہاں کے
معمولات بھیج دیں … پھر پیغام آتا کہ روضۂ اطہر پر کھڑا ہوں آپ کا
سلام عرض کردیا ہے… دوسرے عشرہ وہ دبئی چلے جاتے… وہاں ایک مسجد تھی وہ اس سال
ضرور آنسو بہائے گی… حجم کے اعتبار سے مختصر مسجد… یہاں دادا کا ٹھاٹھ والا
اعتکاف ہر سال چلتا تھا… خوب تلاوت، بھرپور رابطے… عبادت اور خدمت … اچانک تاکیدی
پیغام آجاتا:
بابا !
لیلۃ القدر کے معمولات بھیج دیں…
وہ اسی
لاڈ اور پیار میں مجھ سے وہ دعائیں اور وظائف بھی لے لیتے جو میں عموماً کسی کو
نہیں بتاتا… اور نہ بتانے کی وجہ بخل نہیں کچھ اور ہے… بعد میں پتا چلتا کہ وہ بھی
دادا نے آگے چلا دیئے ہیں… رمضان المبارک کا اختتام بھی بڑا عجیب کرتے… ایک عید
دبئی میں … اور پھر بھاگتے دوڑتے دوسری عید کراچی میں کرلیتے…
یا اللہ!
دادا کی مغفرت فرمادیجئے … اور اب ان کے لئے ہر دن عید کا دن بنا دیجئے… آمین…
ایک عجیب
واقعہ
ایک بار
آنکھ کے علاج کے لئے برطانیہ گئے… وہاں ڈاکٹروں نے کچھ اندیشہ ظاہر کیا کہ شاید
آنکھ کی روشنی بالکل ختم ہو جائے… دادا واپس آگئے … نہ غم نہ پریشانی… جب رابطہ
ہوتا قرآن پڑھ رہے ہوتے… کہنے لگے…
بابا !
حفظ کررہا ہوں ، تاکہ آنکھ نہ رہے تو زبانی پڑھتا رہوں…
سبحان
اللّٰہ وبحمدہ سبحان اللّٰہ العظیم
امانت
داری
کسی دن
یا رات اچانک پیغام آتا کہ …
بابا!
کوئی نصیحت کریں…
میرے دل
میں جو آتا لکھ دیتا… میں اُن کو دنیاداری میں زیادہ پھنسنے سے ہمیشہ روکتا رہتا
تھا… بندہ کے کہنے پر انہوں نے بعض کام چھوڑ بھی دیئے … وہ وضاحت کرتے کہ مجھے
دنیا سے محبت نہیں ہے… اور آخرت میرا مقصود ہے…
نصیحت
والے پیغام پر اُن کا جواب اور تبصرہ بڑا دلچسپ ہوتا تھا… دنیاداری کے بارے میں
باہمی باتوں کے دوران انہوں نے … ایک بار بتایا:
بابا!
دنیا سے محبت ہوتی تو بڑی دنیا مفت ہاتھ آگئی تھی، چھوڑ دی…
دراصل
دادا نے ایک شخص کو تجارت میں اپنا ’’استاد‘‘ بنایا تھا… تجارت کے یہ ’’استاد‘‘
ہزاروں سال سے اپنا فنی سلسلہ دنیا میں چلا رہے ہیں… یہ بہت عجیب و غریب لوگ ہوتے
ہیں… یہ نہ مال سے زیادہ کھاتے ہیں ، نہ پہنتے ہیں … اور نہ محلات بناتے ہیں… ان
میں سے اکثر عیاش بھی نہیں ہوتے… آپ ان کو مال کا ’’شکاری‘‘ سمجھ لیں… مال کمانا
اور بہت زیادہ کمانا یہ ان کا شوق، مشغلہ اور فن ہوتا ہے… وہ خالی ہاتھ نکلتے ہیں
اور گھنٹوں میں مہینوں کا مال کما کر اُسے جال کی طرح بکھیر دیتے ہیں… اور پھر اُن
کے اس جال میں مزید مال پھنستا چلا جاتا ہے… جیسے مچھلی کے شکاری بمشکل ایک دو
بوٹی مچھلی کھاتے ہیں… مگر ان کی خوشی اور فتح اس میں ہوتی ہے کہ اتنی بڑی مچھلی
پکڑی… اتنی زیادہ مچھلی پکڑی … دادا کو بھی اسی مخلوق سے تعلق رکھنے والا ایک
استاد مل گیا … دادا ابھی دنیاداری کی لائن میں مکمل نہیں جڑے تھے … استاد نے
شاگرد کی تعلیم کے لئے پیسے کے جال پھیلانے شروع کئے… ان جالوں کا علم بس استاد
اور شاگرد کو تھا … اچانک ایک دن استاد صاحب وفات پا گئے … یہ لوگ نہ کہیں مال کا
حساب لکھتے ہیں اور نہ کہیں اس کا ریکارڈ رکھتے ہیں… وہ سارا مال دادا کے ہاتھ
آگیا، اور روئے زمین پر دادا کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ مال ’’استاد‘‘ کا
ہے … مگر جن کی مٹی اچھی ، خمیر ایمان والا ہو … اللہ تعالیٰ ان کی رہنمائی فرماتے
ہیں… دادا نے وہ سارا مال جمع کرکے اپنے استاد کے ورثاء تک پہنچا دیا…
بڑی
سعادت
بات
مختصر کرتے ہیں … دادا کی بڑی سعادت تھی کہ… اللہ تعالیٰ نے ان کو اس زمانہ میں
’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کے ساتھ جوڑ دیا… جہاد کے ساتھ جڑ جانا اور جہاد میں خدمت
کرنا یہ ایک مسلمان کے مقبول ہونے کی بہت بڑی علامت ہے … تفسیر روح المعانی میں
تمام دلائل جمع کرکے اس بات پر بحث کی گئی ہے کہ … اگر کوئی مسلمان دین کے تمام
فرائض ادا کرے اور تمام ضروری عبادات بجا لائے مگر جہاد میں اس کا حصہ نہ ہو تو
کیا اس کی مغفرت ہوگی؟ …علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ نے تمام دلائل کو
مدنظر رکھ کر فتویٰ لکھا ہے کہ … اگر جہاد فرض عین نہ ہو … اور تمام عبادات بجا
لانے والا شخص جہاد سے بغض نہ رکھتا ہو … بلکہ محبت رکھتا ہو مگر وہ عملی طور پر
نہ نکل سکا ہو تو اس کی مغفرت کی امید ہے…
لیکن
کوئی مسلمان … دین کے تمام احکام پورے کرے… تمام فرائض ادا کرے، تمام حرام کاموں
سے بچے … مگر وہ جہاد فی سبیل اللہ سے بغض اور کھچاؤ رکھتا ہو تو … نعوذ باللہ …
اس کی مغفرت نہیں ہے… کیونکہ وہ دین کے ایک محکم اور قطعی فریضے سے بغض، عناد اور
کھچاؤ رکھتا ہے تو اس کے اصل ایمان ہی میں فرق ہے …ایک عام مسلمان بھی اگر غور
کرے تو یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود
کئی بار جنگ و قتال میں نکلے ہیں … تو جو انسان اس عمل کو نہیں کرتا وہ کیسے کامل
و مکمل ہوسکتا ہے…
ہاں! کسی
زمانے میں جہاد کی سہولت اور گنجائش ہی بعض علاقوں میں نہ رہی ہو تو اور بات ہے …
وہاں بھی اہل دل کو ’’احیاءِ جہاد‘‘ کی دعا اور فکر میں رہنا چاہئے… ہمارے زمانے
میں الحمدللہ جہاد فی سبیل اللہ کا میدان چار سو سجا ہوا ہے… جہاد میں شرکت کی ہر
سہولت موجود ہے …ایسے حالات میں جہاد سے دور رہنا اور کٹا رہنا …کافی بڑا نقصان
ہے…
اللہ
تعالیٰ اپنے محبوب اور مقبول بندوں کو …جہاد کی توفیق عطا فرماتے ہیں… دادا کی
قبولیت اور مقبولیت کے لئے یہ بات بھی ان شاء اللہ کافی ہے کہ … انہوں نے جہاد میں
شرکت کی، جہاد کی بھرپور خدمت کی… جہاد کے ساتھ محبت رکھی… اسیران اسلام کی بھرپور
اعانت کی …امارتِ اسلامیہ افغانستان کے کاموں کے سلسلے میں قیدکاٹی…
اور عصرِ حاضر کے شرعی جہاد میں بڑے بڑے کارنامے سرانجام دئیے… اللہ تعالیٰ ان
ساری محنتوں کو قبول فرمائے… اور دادا کو مقبول شہداءِ کرام کے ساتھ وسیع، اونچا
اور بہترین مقام عطاء فرمائے…
لا الہ
الا اللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللھم صل
علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اسلام مبارک ایمان مبارک
اللہ تعالیٰ
نے مسلمانوں کو دو عیدیں عطاء فرمائی ہیں:
عید
الفطر… عید الاضحیٰ
یہ سچی
بات حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ارشاد
فرمائی کہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے دو عیدیں عطاء فرمائی ہیں…
(ابوداؤد)
اب تیسری
کوئی عید نہیں… چوتھی کوئی عید نہیں… قیامت تک مسلمانوں کی عیدیں دو ہی رہیں گی…
عید
الفطر… عید الاضحیٰ
دوسری
بات یہ کہ’’عیدالفطر‘‘ بس ایک دن کی ہوتی ہے… یکم شوال…یہ عید دو دن یا تین دن کی
نہیں ہوتی… رمضان المبارک مکمل ہوا… اس سعادت کی خوشی میں عید آگئی… اور ایک دن
رہ کر چلی گئی… اللہ کرے خیر سے آئے اورخیر سے جائے…
تیسری
بات یہ ہے کہ… عید خود آتی ہے… اور خود جاتی ہے…
لوگ عید
کریں یا نہ کریں… عید منائیں یا نہ منائیں… رمضان المبارک ختم ہوتے ہی عید آجاتی
ہے… اپنے ساتھ خیر، خوشی، خوشخبری اور برکتیں لاتی ہے… بعض لوگ کہتے ہیں… اس سال
ہمارے گھر میں وفات ہوئی ہے،ہم عید نہیں کر رہے… عید کرنے یا نہ کرنے کا کیا
مطلب؟… عید نہ نئے کپڑوں کا نام ہے اور نہ ہلّا گُلّا کرنے کا… عید نہ کسی شور
شرابے کا نام ہے اور نہ کسی خاص پکوان کا… عیدکادن، رمضان المبارک اچھی طرح گذارنے
والے مسلمانوں کیلئے… ’’یوم الجائزہ‘‘ یعنی انعام کا دن ہے… عید کی صبح ہی اللہ
تعالیٰ کی طرف سے ان سب کی مغفرت کر دی جاتی ہے… اور انہیں اجر وثواب عطاء فرمایا
جاتا ہے… اوریوں اُن کے لئے عید ہو جاتی ہے عید… کئی لوگ عید کے دن لاکھوں کا لباس
پہنتے ہیں… لاکھوں کے پکوان کھاتے ہیں… مگر وہ عید کی رحمت اور برکت سے محروم رہ
جاتے ہیں… جبکہ کئی لوگ عید کے دن اپنا پیوند زدہ دُھلا ہوا لباس پہنتے ہیں… گھر
میں دال روٹی کھاتے ہیں… مگر ان کی ایسی عیدہوتی ہے کہ زمین تاآسمان… اور آسمان
تا عرش اُن کی عید چمک رہی ہوتی ہے، دمک رہی ہوتی ہے… اور فرشتوں میں اُن کے تذکرے
چل رہے ہوتے ہیں…
چوتھی
بات یہ ہے کہ… عید کا دن’’یوم الجائزہ‘‘ انعام کا دن ہے… غلط رسومات کی وجہ سے اسے
حسرت کا دن نہ بنایا جائے… آپ خود سوچیں اگر ایک بندہ جو خود کو مسلمان کہتا ہے…
عید کے دن بھی اللہ تعالیٰ سے(نعوذباللہ) ناخوش اور ناراض ہوگا… تو وہ کس منہ سے
اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت مانگے گا…
ہائے
میرے پاس نئے کپڑے نہیں… ہائے میرے پاس نیا جوتا نہیں… ہائے میرے بچوں کی اس سال
کیا عید؟… فلاں سامان نہیں، فلاںشخص نہیں…
یہ سب
محرومی والی سوچیں اور شیطان کے حربے ہیں… رمضان المبارک میں آپ نے محنت کی… روزے
رکھے، رات کا قیام کیا… اب اُس ساری محنت کے انعام پانے کا دن ہے تو اپنے محبوب رب
سے شکوے لیکر بیٹھ گئے… ذرا دماغ سے تو سوچو کہ آخر نئے کپڑوں سے کیا ہوتا ہے؟…
کیا نئے کپڑوں سے کوئی غریب مالدار ہوجاتا ہے؟… کوئی بیمار تندرست ہو جاتا ہے؟…
کوئی ذلیل عزت مند ہو جاتا ہے؟… کوئی قیدی رہا ہو جاتا ہے؟… کوئی مصیبت اور بلا ٹل
جاتی ہے؟… کوئی قرضہ یا آفت اُتر جاتی ہے؟… کچھ بھی نہیں… کچھ بھی نہیں… بادشاہ
پرانے کپڑے پہن کر بادشاہ ہی رہتا ہے… اور چپڑاسی نئے کپڑے پہن کر افسر نہیں بن
جاتا … کائنات کے سب سے افضل اور سب سے شان والے انسان نے اکثر پیوند زدہ کپڑے
پہنے… اس سے اُن کے مقام میں کوئی کمی نہیں آئی… دراصل مسلمانوں میں عید اور خوشی
کا مطلب ہی تبدیل ہوتا جارہا ہے… وہ نعوذباللہ عید کے مقدس دن کو… کرسمس، ہولی،
بسنت، دیوالی جیسا کوئی تہوار سمجھ بیٹھے ہیں… ایک مسلمان اور کافر کے درمیان جو
فرق ہے وہ… بڑے دن منانے میںبھی ظاہر ہوتا ہے… کافروں کے ہاں تہوار کا مطلب شہوت،
لذت، آزادی، غفلت، چھٹی، فخر، نمائش… اور درندگی ہے… اسی دن وہ دل بھر کے گناہ کی
پیپ پیتے ہیں… اور اسی دن مالدار لوگ اپنے مال کی نمائش کر کے… غریبوں کا دل
دکھاتے… اور اپنی نقلی شان بڑھاتے ہیں…
تہوار کے
دن… آزادی ہوتی ہے، عقل، اخلاق اور ہرضابطے سے آزادی… اور انسان ایک ایسے جانور
جیسا ہوتا ہے جسے پنجرے سے باہر نکال دیا گیا ہو… مگر عید تو عید ہے… سبحان اللہ!
عبادت اور راحت کا شاندار امتزاج… خوشی اور خدمت کا بہترین جوڑ… اور برکت اور
مسرّت کا حسین سنگم…اس میں نہ غفلت ہے نہ حرام کاری… نہ نمائش ہے اور نہ ایذاء
رسانی… مگر کیا کریں، کافروں کی دوستی اور صحبت نے کئی مسلمانوں کو ڈس لیا ہے… اور
انہوں نے ’’عید‘‘ جیسے پاکیزہ دن کو کافروں کے تہواروں جیسا سمجھ لیا ہے… اور اب
عید کے دن ناشکری کے جملے اُٹھتے ہیں… کپڑے نہیں، جوتے نہیں… فلاںعزیز گھر نہیں…
فلاں کیوں انتقال کرگیا… بس میری قسمت میں خوشیاں کہاں؟…
اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ…
وَاِنَّا لِلہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُونْ
آئیے
عزم کریں کہ… عید کے انعام والے دن… ہر حال میں اپنے عظیم رب تعالیٰ سے خوش اور
راضی رہیں گے…
پانچویں
بات یہ ہے کہ… عید کے دن اس بات کی فکر رہے کہ… ہمارا رمضان المبارک قبول ہوجائے…
حضرت جبیر رحمۃ اللہ علیہ بن نفیر فرماتے ہیں:
حضرات
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جب عید کے دن آپس میں ملتے تو ایک
دوسرے کو یہ دعاء دیتے:
تَقَبَّلَ
اللّٰہُ مِنَّا وَمِنْکَ
اللہ
تعالیٰ ہمارے اور آپ کے اعمال قبول فرمائے…
عید کے
دن کوئی ایسی حرکت، غفلت اور گناہ نہ ہو جو رمضان المبارک کے اعمال کو بھی ضائع کر
دے… خوشی کریں مگر حلال اور مباح اورایک مسلمان کے لئے حرام میں خوشی ہے بھی
کہاں؟…
حضرت حسن
بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’ہر وہ
دن جس میں کوئی بندہ، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرے وہ اس کے لئے عید کا دن ہے…
اور ہر وہ دن جو ایک مؤمن اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اللہ تعالیٰ کے ذکر اور شکر
میں گزارے وہ اُس کے لئے عید کا دن ہے… ‘‘
بس آج
یہی پانچ باتیں… آپ سب کو ’’رمضان‘‘ مبارک… عیدمبارک… اہل اعتکاف کو اعتکاف
مبارک… اہل عزیمت کو جہاد فی سبیل اللہ مبارک… اہل سعات جیسے بھائی حامد اور اُن
کے رفقاء… کو شہادت مبارک… اہل غزہ کو سرخ ر مضان اور صبر و استقامت مبارک… ساری
اُمت مسلمہ کو… اِسلام مبارک، اِیمان مبارک
لا الہ
الا اللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللھم صل
علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ ’’شوال‘‘ کے مہینہ کو اُمتِ مسلمہ کے لیے برکت والا بنائے…
برکت اور
نحوست
سال میں
بارہ مہینے ہوتے ہیں… ان میں سے کوئی ایک بھی ’’منحوس‘‘ یا نحوست والا مہینہ نہیں…
اس پر اپنا عقیدہ مضبوط کرلیں… مہینے میں اُنتیس یا تیس دن ہوتے ہیں… نہ اٹھائیس
نہ اکتیس… ان اُنتیس یا تیس دنوں میں ایک بھی دن منحوس نہیں ہے… ہفتے میں کل سات
دن ہوتے ہیں… جمعہ کا دن ان سات دنوں کا سیّد یعنی بادشاہ ہے… ان سات دنوں میں
کوئی دن بھی منحوس نہیں… اس پر اپنا یقین پکّا کرلیں… آج طرح طرح کے نقصان دہ
علوم لوگوں میں عام کئے جا رہے ہیں… ان میں سب سے خطرناک نجوم کا علم یا فن ہے… یہ
فن خود بہت بڑی نحوست ہے… اسمیں پھنسنے والا انسان ہمیشہ بے چین رہتا ہے، بے قرار
رہتا ہے… اور پریشان رہتا ہے… کسی نے نعوذباللہ منگل کے دن کو منحوس قرار دے دیا…
ہندو اس دن شادی نہیں رچاتے، بال نہیں کٹواتے… اور منگل کے دن پیدا ہونے والے لڑکے
یا لڑکی کو … منگلی یعنی منحوس کہتے ہیں… اگر اس کی شادی کرنی ہو تو… پہلی شادی
بندر سے کراتے ہیں یا کیلے کے درخت سے… تاکہ نحوست کا اثر اس پر منتقل ہو جائے…
افسوس!
کہ ہم مسلمانوں میں بھی… طرح طرح کے نجومی، عامل، حساب دان آبیٹھے ہیں… وہ منہ
بھر کر جھوٹ بولتے ہیں، توہمات پھیلاتے ہیں… لوگوں کو وساوس کا غلام بناتے ہیں…
اور پریشانیاں بانٹتے ہیں… ارے بھائیو اور بہنو!… مسلمانوں کو جو کلمہ طیبہ ملا
ہے:
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
یہ
ستاروں سے اونچا ہے… یہ آسمانوں سے اونچا ہے… یہ قسمت اور خوش نصیبی کی چابی ہے…
یہ خوش بختی اور برکت کا راز اور خزانہ ہے… جو اس پر یقین کرلے ستاروں کی چالیں اس
کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں… اور برجوں، حسابوں اور منتروں سے وہ بہت اونچا ہو جاتا
ہے، بہت اونچا…
لا الہ
الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
شوال کی
برکت
شوال کے
مہینہ کوعرب لوگ… اپنے بعض نقصان دہ علوم کی وجہ سے ’’منحوس‘‘ سمجھتے تھے… ایک علم
کا تعلق لغت سے تھا اور دوسرے علم کا تعلق تاریخ سے… شوال میں کبھی ’’طاعون‘‘ کا
مرض آیا تھا جو عربوں کی بستیاں اُجاڑ گیا… کچھ پنڈتوں نے ان تاریخوں کو پکا د با
لیا اور شوال کی نحوست کا پرچار کر دیا… جبکہ لغت میں بھی شوال کے بعض معنیٰ… زائل
ہونے، کم ہونے کے آتے ہیں… تو اس سے یہ سمجھ لیا کہ اگر اس مہینے میں شادی ہوگی…
یا رخصتی ہو گی تو زیادہ نہ چلے گی… میاں، بیوی میں جو ملاپ ہوگا وہ پائیدار اور
محبت خیز نہ ہوگا… جب اسلام کی روشنی آئی تو ’’شوال‘‘ کی بدنامی بھی دور کر دی
گئی… شوال کے چھ روزے رکھو اور پورے سال کے فرض روزوں کا ثواب پالو… کسی اور مہینے
کے نفل روزوں کا یہ مقام نہیں ہے… فرما دیا کہ… جس نے رمضان کے پورے روزے رکھے اور
پھر شوال کے چھ روزے بھی ساتھ جوڑ دئیے تو وہ ایسا ہے جیسے ہمیشہ پوری زندگی روزہ
دار رہا… یہ تو ہوئی ایک بہت بڑی اور زوردار برکت شوال کے مہینہ کی… اب دوسری برکت
دیکھئے! کہ مسلمانوں کی کُل دو عیدیں ہیں… ان میں سے پہلی عید… یعنی عید الفطر
شوال میں رکھ دی گئی… سبحان اللہ!… لوگ جس ماہ کو نحوست والا قرار دیتے تھے… اسلام
نے اس مہینہ کو عید مبارک کا مہینہ بنادیا… اب اس سے بڑھ کر برکت کی دلیل اور کیا
ہوگی؟؟… اب آتے ہیں تیسری فضیلت کی طرف… اس فضیلت نے تو شوال کو باقاعدہ ’’شوال
شریف‘‘ بنا دیا ہے… اس مہینے میں ایک ایسا نکاح اور ایک ایسی رخصتی ہوئی کہ… اس
نکاح کے موقع پر آسمان و زمین میں خوشیاں ہی خوشیاں تھیں… جی ہاں! خوشیاں ہی
خوشیاں… ایسا نکاح نہ پہلے کبھی ہوا نہ قیامت تک آئندہ کبھی ہوگا… ایسا نکاح جس
کی برکتیں چودہ سو سال سے جاری ہیں، ساری ہیں… اور قیامت تک جاری رہیں گی… ایسا
نکاح جس نے میاں ، بیوی کی محبت کا وہ منظر سکھایا کہ لفظ محبت بھی… خوشی سے سرشار
ہوگیا… ایسا نکاح کہ جس نے… علم کے دریاوں کو… اور روحانیت کے چشموں کو پورے عالم
میں جاری کر دیا… ایسا نکاح کہ جس نے اُمتِ مسلمہ کو ایک ایسی عظیم ’’امی جان‘‘ دے
دی کہ… جنہیں ’’امی امی‘‘ کہتے وقت مغفرت کی اُمید ہونے لگتی ہے… جی ہاں! حضرت
رسول اقدس آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا… حضرت اُم
المؤمنین سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نکاح اسی شوال کے مہینہ میں ہوا اور
رخصتی بھی اسی مہینہ میں ہوئی … جب لوگ کہتے کہ شوال کے مہینہ میں نکاح کرنے والی
دلہنوں کا نصیب کم ہوتا ہے تو … حضرت امی جی فرماتیں… میرا نکاح شوال میں ہوا…
رخصتی بھی شوال میں ہوئی… تمام ازواج مطہرات میں… مجھ سے زیادہ کس کو حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب ملا؟…
سبحان
اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم
اسی شوال
کے مہینے میں… غزوۂ احد برپاہوا… سبحان اللہ! ایک ایسی ظاہری شکست جس نے مسلمانوں
کے لیے فتوحات کے سمندر اگل دئیے اور انہیں فتح کار از سمجھا دیا… اورسنیں!… شہداء
کرام کی صدارت اور سیادت کا شرف جس ’’اُولِی الْمقَام‘‘ شہید کو ملا ہے… ان کی
شہادت بھی شوال کے مہینے میں ہوئی… سیّد الشہداء حضرت سیّدنا حمزہ رضی اللہ عنہ …
اور اسلام کا قابلِ فخر اور قابلِ اعزاز غزوہ… غزوہ حمراء الاسد بھی شوال کے مہینے
میں ہوا… اور مدینہ منورہ کو پاک کرنے والاغزوہ… غزوہ بنی قینقاع بھی شوال کے
مہینے میں برپا ہوا… یہ غزوہ یہودیوں کے خلاف تھا اور یہودیوں کی بڑھکیںاور دعوئے،
ہر سمت گونج رہے تھے… وہ کہتے تھے کہ… غزوۂ بدر کی فتح نے مسلمانوں کو خوامخواہ
دھوکے میں ڈال دیا ہے… یہ جب ہم سے لڑیں گے تو انہیں پتا چل جائےگا کہ جنگ کیا
ہوتی ہے… مگر جب مسلمانوں کا لشکر حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کی کمان میں سامنے آیا تو بزدل یہودی… قلعہ بند ہوگئے… اور
بالآخر ذلت، شرمندگی، عار، شکست اور رسوائی کا داغ قیامت تک اپنے منہ پر لگائے…
جلاوطن کر دئیے گئے…
آج بھی
شوال ہے… اور مسلمانوں کے مدّمقابل بزدل، قلعہ بند یہودی ہیں… ۱۹۴۸ء میں اسرائیل کی ناجائز مملکت بننے کے بعد اسرائیل نے جتنا
نقصان موجودہ جنگ میں اُٹھایا ہے… اُتنا پہلے کبھی نہیں بھگتا… اہلِ غزہ کی جرأت،
عزیمت، شہادت اور جانبازی کو سلام… اللہ تعالیٰ اُن پر اپنی مزید نصرت نازل
فرمائے… اور ہم سب کو توفیق عطاء فرمائے کہ… ہم اس مبارک جہاد میں ’’کلمۂ طیبہ‘‘
کے جھنڈے تلے یہودیوں کو تہس نہس کر سکیں…
لا الہ
الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
چھٹی کی
نحوست
بات دل
میں بیٹھ گئی ہوگی کہ… کوئی دن منحوس نہیں، کوئی تاریخ منحوس نہیں، کوئی ہفتہ
منحوس نہیں، کوئی مہینہ منحوس نہیں… نحوست جب بھی آتی ہے خود ہمارے اندر سے آتی
ہے… مسلمان ہو کر فجر کی نماز قضاء کردی اب نحوست آگئی… خواہ دن جمعہ کا ہی کیوں
نہ ہو… اور نحوست بھی ایسی زوردار کہ اللہ تعالیٰ کی پناہ … فجر کی نماز مومن کے
ایمان کا ہر دن پہلا امتحان اور ٹیسٹ ہے… اس لیے فجر کو وقت پر اہتمام سے ادا کرنے
والوں کو… احباب الرحمن… اللہ تعالیٰ کے دوست کا لقب دیا جاتا ہے… یہ وہ لوگ ہیں
جنہوں نے دن کے پہلے آغاز میں ہی… اپنے مومن ہونے کا بہترین ثبوت پیش کر دیا تو
اب… اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ان پر رحمت اور امان کی بوچھاڑ ہوتی ہے… ایسے لوگوں
کے لیے خاص فرشتے اُتارے جاتے ہیں جو اُن کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں… اور انہیں اللہ
تعالیٰ کی طرف سے امن اور امان کی ضمانت دے دی جاتی ہے… خیر یہ ایک الگ موضوع ہے…
رمضان المبارک ختم ہونے کے بعد… کئی مسلمان پہلا جرم یہی کرتے ہیں کہ فجر کی نماز
میں سست ہوجاتے ہیں… حالانکہ ہمارے مرشد ’’رمضان المبارک‘‘نے ہمیں انگلی پکڑ کر
تیس دن تک یہی سکھایا کہ… دیکھو! فجر کتنی آسان ہے… بس ایک کام کرلو… تہجد کی عادت
ڈال لو اور سحری کے وقت کچھ برکت والا طعام کھا پی لیا کرو… بس فجر آسان… رمضان
المبارک آتا ہی ہمیں سکھانے اور ہماری تربیت کرنے کے لیے ہے… اس تربیت کا ایک اہم
سبق یہ ہے کہ… مسلمان فجر کی نماز کو مشکل نہ سمجھیں… شیطان کی پوری کوشش ہوتی ہے
کہ… فجر اور عشاء کو بھاری بنا دے… اور منافق کی علامات میں بھی یہ شامل ہے کہ… اس
کے لیے فجر اور عشاء کی نماز بہت بھاری ہوتی ہے… رمضان المبارک کی عشاء اتنی بڑی
ہوتی ہے کہ… ایک مومن کو پورا سال عشاء کی نماز آسان اور ہلکی محسوس ہونے لگتی
ہے… ارے واہ! آج تو بیس منٹ میں فارغ ہوگئے… رمضان المبارک میں دو گھنٹے لگتے
تھے… اور فجر بھی ایسی آسان کہ مساجد میں جگہ نہیں ملتی… وجہ یہ کہ رمضان نے
سکھایا کہ اچھا مسلمان وہ ہے جو فجر کے لیے نہیں… تہجد کے لیے اٹھتا ہے… صبح صبح
برکت والا کچھ کھانا کھاتا ہے… اور پھر اہم ترین فرض… نماز فجر کے لیے مکمل چستی
کے ساتھ حاضر ہو جاتا ہے… ہم اگر ہر روز فجر کے لیے جاگنے کی کوشش کریں گے تو …
شیطان ہمیں گراتا رہے گا… لیکن اگر ہم تہجد میں جاگنے والے ہو گئے تو… ہماری فجر
محفوظ ہو جائے گی… اور فجر کو محفوظ کرنا… ہر ایمان والے مرد اور عورت پر لازمی
فرض ہے… اصل بات یہ عرض کرنی تھی کہ… شوال آتے ہی ساتھ ’’چھٹیاں‘‘ آجاتی ہیں…
اور چھٹیوں میں مسلمانوں کے لیے اکثر نحوست ہوتی ہے… اسی لیے سلف میں سے کسی کا
قول ہے کہ… بہت بُرے ہیں وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کو صرف رمضان المبارک ہی میں مانتے
اور پہچانتے ہیں… یعنی رمضان ختم تو اعمال بھی ختم … چھٹیوں کی جو عمومی نحوست…
مسلمانوں کے ایمان اور اعمال پر اثر کرتی ہے اُسے دور کرنے کی ضرورت ہے… شوال کے
روزے اس کا بہترین ذریعہ ہیں… ان چھ فضیلت والے روزوں کا موقع شوال کے آخر تک
رہتا ہے خواہ اکٹھے رکھیں … یا الگ الگ… دوسرا یہ کہ اپنے دینی کام میں… دوبارہ
جوش، جذبے اور محنت سے جڑ جائیں… اور تلاوت و نوافل کا جوذوق… مرشد جی رمضان
المبارک کی صحبت میں پایا اس کو… ایک حد تک برقرار رکھنے کی ہم سب دعاء، فکر اور
کوشش کریں…
لا الہ
الا اللہ ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ
اللھم صل
علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیراً کثیرا
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ اُن ایمان والے مردوں… اور ایمان والی عورتوں پر ’’رحمت‘‘ فرماتے ہیں… جو
نیکیوں کی دعوت دیتے ہیں… اور برائیوں سے روکتے ہیں… والحمدللہ رب العالمین
ایک صاحب
یاد آگئے
کراچی
میں دعوتِ جہاد کا کام شروع ہوا تو آغاز… چھوٹے چھوٹے رسائل اور چھوٹی چھوٹی
نشستوں سے ہوا… چند مختصر رسالے تھے… آہ! بابری مسجد، میرا بھی ایک سوال ہے،
اسلام اور جہاد کی تیاری، اللہ والے، بنیاد پرستی، جہاد رحمت یا فساد وغیرہ… پھر
ایک ماہنامہ بھی شروع ہوا ’’صدائے مجاہد‘‘… اتوار کی شام ناظم آباد کی ایک دوکان
میں دعوتِ جہاد کی نشست چلتی تھی… کبھی کبھار چھوٹے جلسے بھی ہو جاتے تھے… جہاد کے
معاملے میں کافی اجنبیت اور بے رُخی تھی مگر… اللہ تعالیٰ کے فضل سے کام آگے بڑھ
رہا تھا… جہادی نظموں کی ایک کیسٹ بھی نہیں ملتی تھی… ایک رات عشاء تا فجر محنت
ہوئی اور الحمدللہ کیسٹ تیار ہوگئی… خیر یہ سب کچھ اپنی جگہ… اصل بات یہ بتانی ہے
کہ ایک دن ایک صاحب تشریف لائے… بڑی عمر کے تھے مگر چاک و چوبند… فرمانے لگے اب بس
دعوتِ جہاد ہی اوڑھنا بچھونا ہے… کپڑے کا ایک تھیلا اُن کے پاس تھا اس میں جہادی
کتابچے تھے… فرمانے لگے یہ تقسیم کرتا رہتا ہوں اور لوگوں کو دعوت دیتا رہتا ہوں…
اپنی دعوت بھی انہوں نے سنائی، بندہ نے دعوت کی کچھ تصحیح اور اُن کی حوصلہ افزائی
کی… اگر وہ انتقال فرما چکے تو اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائے… اور حیات ہیں تو ایمانِ
کامل اور حسن خاتمہ اُن کا مقدر بنائے… سائیکل پر چلتے تھے اور دن رات دعوت میں
مگن رہتے تھے… بعد میں اُن جیسے کچھ اور حضرات بھی زندگی میں آئے… اُن سب کی
عزیمت اور اُن سب کے ذوق کو سلام… جہاد کی بہاریں جہاں جہاں تک پھیلیں اور پھیل
رہی ہیںاور جہاں تک ان شاء اللہ پھیلیں گی… اُن سب میں ان باذوق اور محنتی حضرات
کا حصہ ہے… سبحان اللہ! ایک ایسا صدقہ جاریہ جس کی وسعت اور پھیلائو کا خود ان
حضرات کو بھی کبھی اندازہ نہیں ہوگا… مگر جب اعمال کے دفتر کھلیں گے… تو ایسے لوگ
کتنے خوش اور کتنے حیران ہوں گے… اور ان شاء اللہ کیسے جھوم جھوم کر جنت کے بالا
خانوں میں جائیں گے… بے شک دعوت کا بڑا مقام ہے… بہت بڑا، بہت بڑا…
الحمدللہ
اب بھی ہیں
ایک صاحب
برطانیہ میں تھے… کیسٹ سن کر دین پر آئے اور پھر خود کو دعوت کے لیے وقف کر دیا…
خود دعوت نہ دے سکتے تھے… زندگی ایک بُرا کلب چلاتے گذری تھی… انہوں نے کیسٹوں کا
سہارا لیا… جدید مشینیں خریدیں اور اُس طبقے تک دعوت پہنچائی جس کے شرکے خوف سے
شرفاء اُن تک پہنچ ہی نہیں سکتے… کیا معلوم کیسٹیں سنتے، سناتے اور تقسیم کرتے…
اللہ تعالیٰ نے اُنکی زبان بھی کھول دی ہو… بعد میں اُن سے رابطہ نہ رہا… جماعت کے
رفقاء میں… اس ’’محبوبانہ ذوق‘‘ والے چند افراد اب بھی ہیں… اللہ تعالیٰ انہیں
سلامت رکھے اور اُن کے کام کو خصوصی قبولیت عطاء فرمائے… اس ذوق کو ’’محبوبانہ‘‘
اس لیے لکھا کہ حدیثِ صحیح ہے…
رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اَحَبُّ
النَّاسِ اِلَی اللّٰہِ اَنْفَعُھُم
’’لوگوں
میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو دوسروں کو زیادہ نفع پہنچانے
والا ہو‘‘… زیادہ نفع تو صرف ’’دعوت الی اللہ‘‘ کے ذریعہ ہی ہو سکتا ہے… ایمان کی
دعوت، نماز کی دعوت، جہاد کی دعوت… اور پورے دین کی دعوت کے ذریعہ… ہاں! کسی کو
کھانا کھلانا، کپڑے دینا، علاج کرنا یہ بھی نفع ہے… مگر عارضی… جبکہ کسی کو اللہ
تعالیٰ سے جوڑ دینا یہ ہمیشہ کا دائمی نفع ہے… کسی کو جہاد جیسے فلاح کے راستے پر
لانا یہ ہمیشہ کا دائمی نفع ہے… پس جسے اللہ تعالیٰ یہ دھن اور فکر عطاء فرما دے…
اُس کے محبوب الی اللہ ہونے میں کیا شبہ ہے؟… کاش! ایسا ہو کہ … جماعت کے سب
ساتھیوں کو یہ ذوق، یہ دُھن اور یہ فکر نصیب ہو جائے… کوئی انہیں کہے یا نہ کہے…
مہم کے دن ہوں یا نہ ہوں… کوئی ان کی سنے یا انہیں دھتکارے… وہ غریب مزدوروں کے
درمیان بیٹھے ہوں یا جہاز اور ائرپورٹ پر مالداروں کے درمیان… ہر حال میں ہر جگہ
دعوت، دعوت اور دعوت… تب پتا ہے کیا ہوگا؟ایسے افراد پر اللہ تعالیٰ کی رحمت چھم
چھم برسے گی… خود اُن کا دین پختہ اور مضبوط ہو جائے گا… اور وہ ’’اہل خسارہ‘‘ میں
سے نکال دئیے جائیں گے… فرمایا:
اِنَّ
الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ
بے شک
تمام انسان خسارے اور نقصان میں جا رہے ہیں… مگر دین کی دعوت دینے والے… ان اہل
خسارہ میں شامل نہیں… وہ تو ایسا نفع کما رہے ہیں… جس نفع کا کھاتہ قیامت تک کھلا
رہے گااور بڑھتا رہے گا… افسوس! کہ بہت سے مسلمان دین کی دعوت دیتے ہوئے شرماتے
ہیں… اور جہاد کی دعوت سے گھبراتے ہیں… اسی وجہ سے اُن کا اپنا معاملہ ایسا کمزور
ہو جاتا ہے کہ… ذرا سا دنیاداروں کے ماحول میں جاتے ہیں تو اپنی پگڑی، اپنی ٹوپی
اور اپنی پیاری داڑھی… انہیں بوجھ اور عار محسوس ہونے لگتی ہے… آہ افسوس… حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان والی، عزت و
عظمت والی شباہت جب ایک مسلمان کو عار لگنے لگے تو وہ خود سوچ لے کہ وہ کیسا
مسلمان ہے؟ یہی حال مسلمان بہنوں کا ہے… جو دعوت نہیں دیتیں وہ جب بے وقوف عورتوں
کے ماحول میں جاتی ہیں تو ان کے طرح طرح کے … فیشنوں سے متأثر ہو جاتی ہیں… ایسے
فیشن جن کو سوچ کر بھی الٹی اور ابکائی آتی ہے… ہاے کاش اے بہنا!… تیرے دوپٹے پر
امی فاطمہ رضی اللہ عنہاکے دوپٹے جیسا پیوند ہوتا… تیرے کرتے پر امی
عائشہ رضی اللہ عنہاکے کرتے جیسا پیوند ہوتا… اور تیرے دل میں ایمان
سورج کی طرح… اور تیرے دماغ میں شکر چاند کی طرح چمک رہا ہوتا… اور تو اپنی حالت
پر خوش اور مسرور ہوتی… تب تجھ سے خیر کے قیامت تک جاری رہنے والے چشمے پھوٹتے…
استقامت
اور ترقی کا راز
کئی لوگ
دیندار تھے… پھر دین سے محروم ہوگئے… کئی نمازوں کے شان والے پکّے تھے پھر ان کی
کمر پر شیطان نے تالے ڈال دئیے… کئی جہاد میں نامور تھے مگر پھر وہ جہاد سے اور
جہاد اُن سے روٹھ گیا… ایسا کئی وجوہات سے ہوتا ہے… مگر اہم ترین وجہ دعوت نہ دینا
ہے… دعوت دیتے رہو، پختگی پاتے رہو… دعوت دیتے رہو ترقی پاتے چلے جائو… دعوت دیتے
رہو خیر کے باغات میں رہو… وجہ یہ ہے کہ … دعوت دینے سے انسان کا اپنا دل زندہ
رہتا ہے… دعوت دینے سے شیطان کی کمر ٹوٹتی ہے… اور دعوت دینے والے کے لیے آسمانی
رحمتوں اور نصرتوں کی بوچھاڑ ہوتی ہے…
یہ
دیکھیں حدیثِ صحیح… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا:
ان ﷲ
عزوجل و ملائکتہ واھل السمٰوٰت والارض حتی النملۃ فی حجرھا وحتی الحوت لیصلون علی
معلم الناس الخیر…
’’بے شک
اللہ تعالیٰ اور اُس کے فرشتے اور آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوقات یہاں تک کہ
چیونٹیاں اور مچھلیاں… اُس شخص پر صلوٰۃ بھیجتے ہیں جو لوگوں کو خیر سکھاتا ہو ‘‘…
اللہ
تعالیٰ کا ’’صلوٰۃ‘‘ بھیجنا یہ ہے کہ … اللہ تعالیٰ اُس پر اپنی رحمت نازل فرماتے
ہیں… اور اپنے ملائکہ کے سامنے اس کی تعریف فرماتے ہیں… جبکہ مخلوق کا صلوٰۃ
بھیجنا… استغفار ہے… کہ ساری مخلوق ایسے شخص کے لیے استغفار کرتی ہے… اور اُس کے
لیے رحمت کی دعاء مانگتی ہے…
پس اسی
لیے جو دعوت میں لگے رہتے ہیں… اُن کا دین اور ایمان محفوظ رہتا ہے اور وہ جہاد کے
راستے میں ترقی کرتے ہیں… مگر جو دعوت چھوڑ دیتے ہیں خود اُن کے اندر کمزوری اور
دنیا سے متاثر ہونے کا مرض آجاتا ہے، عبادت میں غفلت اور سستی آجاتی ہے…
ابھی وقت
ہے
صرف صرف
اپنے فائدے کے لیے… اپنے دین کی مضبوطی کے لیے… اپنی نسلوں میں دین کو جاری رکھنے
کے لیے… اپنی قبر، حشر اور آخرت بنانے کے لیے … اور خود کو ملعون دنیا کے دھوکے
میں پھنسنے سے بچانے کے لیے… دعوت کا کام شروع کر دیں… اپنے گھر میں تعلیم اور
دعوت، اپنے آس پڑوس میں دعوت، دن دعوت، رات دعوت… یہ بڑا اونچا عمل ہے… آپ کی
دعوت کے اثرات کہاں تک جائیں گے… آپ کو اندازہ بھی نہ ہوگااور حالت یہ ہوگی کہ…
آپ مزے سے سو رہے ہوں گے اور آپ کے نامہ اعمال میں دھڑا دھڑ نیکیاں جمع ہو رہی
ہوں گی… دعوت کے لیے نہ لمبی چوڑی تقریر کی ضرورت… نہ سر پر قراقلی اور اونچی
آواز کی ضرورت… نہ جلسے اسٹیج اور اعلان کی ضرورت… نصاب آپ کے پاس بہت اونچا اور
جامع موجود ہے… کلمہ، نماز اور جہاد فی سبیل اللہ…
سیدھے
سادے الفاظ میں… درد کے ساتھ… اللہ تعالیٰ کی رضا کی نیت کرتے ہوئے… دل میں اُمت
اور دین کی فکر گرماتے ہوئے… اہل اسلام کے لیے خیر خواہی کے جذبے کے ساتھ… دشمنان
اسلام سے شدید نفرت شدید عداوت کے جوش کے ساتھ… مظلوم مسلمانوں کے ساتھ غیر مشروط
وابستگی کے رشتے کے ساتھ… دعوت دیتے جائیں، دعوت دیتے جائیں… آپ جس قدر اس میں
محنت کریں گے… تکلیف اٹھائیں گے، اسی قدر راستے کھلتے جائیں گے، روشنی پھیلتی جائے
گی… اور اندھیرے دور ہوتے جائیں گے… ان شاء اللہ، ان شاء اللہ…
لا الہ
الا اللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللھم صل
علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیراً کثیرا…
لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
’’اللہ
تعالیٰ‘‘ حضرت امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد کی حفاظت فرمائے…اور انہیں اس وقت
موجود پوری امت مسلمہ کی طرف سے جزائے خیر عطاء فرمائے…ماشاء اللہ انہوں نے تاریخ
اسلام کی گود میں ایک بڑی فتح ڈالنے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے…ایک ایسی فتح جسے
کبھی نہیں بھلایا جا سکے گا… ایک ایسی فتح جو تاقیامت مسلمانوں کا عزم اور حوصلہ
بڑھاتی رہے گی…
سبحان
اللہ! کارنامہ ہو تو ایسا ہو…نہ سنانے کی ضرورت،نہ منوانے کی حاجت…ساری دنیا خود
کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے…افغانستان میں ’’امیر المومنین‘‘ کی فتح اللہ تعالیٰ
کی کھلی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے…یہ آیۃ من آیات اللہ ہے…وہ سب کچھ اللہ
تعالیٰ کے فضل اور اس کی نصرت سے ہو گیا جو کل تک نا ممکن نظر آتا تھا…قارئین
سوچتے ہوں گے کہ آج کے ماحول میں…جبکہ ہر طرف جلوس،لانگ مارچ اور دھرنوں کی گہما
گہمی ہے…میں یہ کیا موضوع لے کر بیٹھ گیا ہوں…مگر آپ ہی بتائیں کہ دھرنوں اور
لانگ مارچوں پر کیا لکھا جائے؟…سب کچھ خبروں میں آ رہا ہے… اخبارات،ٹی وی، اور
نیٹ سب پر تازہ ترین صورتحال دستیاب ہے… موجودہ حکومت بھی اس قابل نہیں کہ اس کی
حمایت یا وکالت کی جائے … ہندوستان میں مسلمانوں کے قاتل کو جس طرح ساڑھیاں بھیج
کر…شہداء کشمیر…شہداء ہند کے مبارک اور معطر خون سے غداری کی گئی…اس کا فوری رد
عمل زمین پر جلوہ افروز ہوا کہ…کل تک جو تکبر اور رعونت کا بت بنے بیٹھے تھے…آج
وہ خوف،گھبراہٹ اور عدم تحفظ کے احساس میں گردن تک دفن ہیں…شہداء کا وارث اللہ
تعالیٰ ہے وہ اپنے ان وفادار عاشقوں کے کام،عمل اور اجر کی حفاظت فرماتا ہے…یہ
حکمران بے چارے تو چار دن کھا پی کر… عیاشی کر کے،خزانے جمع کر کے مر کھپ جاتے
ہیں…جبکہ شہداء کرام زندہ رہتے ہیں…اور زندہ رہیں گے…کشمیر میں تو ایسے ایسے اللہ
والے صدیقین شہید ہوئے کہ وہ…اس زمانے میں اپنی مثال آپ تھے…حالیہ حالات میں اگر
موجودہ حکومت ختم ہوئی تو اس کا اصل اور حقیقی سبب ایک ہی ہو گا…اور وہ ہے قاتل
انڈیا کے ساتھ ناجائزیاری کا جذبہ…واقعی یہ جذبہ منحوس ہے،ناپاک ہے اور ناجائز
ہے…اور آج کل حکومت اسی نحوست کے وبال میں ہے…یہ بات تو ہوئی حکومت کی…جبکہ دوسری
طرف دھرنے والے جو دو حضرات ہیں ان کی تائید اور حمایت بھی بہت مشکل کام ہے…ایک تو
ان میں کافروں کا چھوڑا ہوا غبارہ ہے…جبکہ دوسرا بالکل بے اعتبارا ہے … اسی لئے اس
موضوع پر نہ کچھ لکھا ہے اور نہ ہی لکھنے کا فی الحال ارادہ ہے…اِلَّا اَنْ
یَّشَاءَ اللہ
اب سوال
یہ ہے کہ حضرت ملا محمد عمر صاحب مدظلہ العالی آج کیسے یاد آ گئے؟…پہلی بات تو
یہ ہے کہ وہ آج یاد نہیں آئے ،روز یاد آتے ہیں اور بار بار یاد آتے ہیں…ان کے
ساتھ ہمارا تعلق دنیا کے لئے نہیں آخرت کی کامیابی کے لئے ہے…اور جو تعلق آخرت
میں کام آنے والا ہو وہ بہت قیمتی ہوتا ہے…
جی ہاں!
بے حد قیمتی…ایسے تعلق کی حفاظت کے لئے انسان کو جو قربانی دینی پڑے خوشی سے دے
دینی چاہیے … کیونکہ آخرت میں ہمیشہ رہنا ہے…حقیقی محبت کا جذبہ انسان کو اندر سے
بے حد مضبوط کر دیتا ہے…اور یہ وہ محبت ہوتی ہے جو کسی دنیاوی نقصان سے کم نہیں
ہوتی…محبوب سے ملاقات ہوتی ہے یا نہیں؟حقیقی محبت کو اس کی ضرورت نہیں؎
’’جب ذرا
گردن جھکائی دیکھ لی‘‘
محبوب اس
محبت کی قدر کرتا ہے یا نہیں؟…حقیقی محبت کو اس کی بھی ضرورت نہیں…محبت تو انسان
کے اپنے اندر ہوتی ہے…اور یہ محبت خود محبت کرنے والے کو طرح طرح کے فوائد عطا
کرتی ہے… اپنی مختصر سی زندگی میں بہت سے اہل دل اور اہل کمال کو دیکھا…اللہ
تعالیٰ نے ایک زمانہ میں سیاحت فی الارض بھی آسان فرما دی تھی…ملک ملک نگر نگر کا
پانی پیا…اور اصحاب کمال سے ملاقاتیں نصیب ہوئیں… ماشاء اللہ …اللہ تعالیٰ کی زمین
کبھی صادقین،صدیقین اور اولیاء کرام سے خالی نہیں ہوتی…
سب اہل
دل اور اہل بصیرت کو سلام…مگر حضرت ملا محمد عمر مجاہد کی بات ہی کچھ اور ہے…
اَللّٰہُمَّ
اغْفِرْلَہٗ وَاحْفَظْہٗ وَبَارِکْ لَہٗ
ان سے
بہت کم ملاقات رہی…الحمد للہ ایسا تعلق بن گیا تھا کہ مزید صحبت کی اُمید بن چلی
تھی کہ اچانک وہ بادلوں میں چھپ گئے…اپنی رائے کسی پر نہیں ٹھونستا مگر اس کا
اظہار ضرور کرتا ہو ں کہ…اپنی زندگی میں ان جیسا باکمال کوئی اور نہیں دیکھا…
مَاشَاءَ
اللہُ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ وَبَارَکَ اللہُ عَلَیْہِ وَلَہٗ
اب وہ
بادلوں کے پیچھے ہیں…مگر روشنی تو چھم چھم آتی ہے نا؟…وہ روشنی جو مایوسی کی رات
نہیں پڑنے دیتی…یہ تو ہوئی پہلی بات…اب آئیے دوسری بات کی طرف کہ آج وہ خاص طور
سے کیوں یاد آئے کہ ہماری محفل کو ہی مہکا دیا …دراصل شام و عراق میں مجاہدین کی
جماعت…الدولۃ الاسلامیہ فی العراق والشام…کے بارے آجکل دینی طبقوں میں طرح طرح کی
بحثیں گرم ہیں… کچھ بحثیں تو بالکل فضول،لا یعنی اور ضرر رساں ہیں…ٹویٹر اور فیس
بک پر لاکھوں مسلمان…ان لا یعنی بحثوں میں الجھ کر اپنے اعمال اور اپنا قیمتی وقت
ضائع کر رہے ہیں…القلم کے صفحات پر عزیزم مولانا طلحہ السیف کا اس بارے مضمون بہت
عمدہ اور نافع تھا…ان بحثوں میں افسوسناک پہلو یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان تفریق
اور تفرقے میں اضافہ ہوتا ہے…اور آپس کی طعن تشنیع اور گالم گلوچ سے اعمال بھی
برباد ہوتے ہیں…بہت سے افراد کو اپنی زبان کی خارش اور کھجلی دور کرنی ہوتی ہے… یہ
لوگ قرآن مجید کا ایک پارہ تلاوت کریں تو تھک جاتے ہیں…جبکہ اس طرح کی بحثوں میں
گھنٹوں تک بک بک کرنا یا کمپیوٹر سے جڑے رہنا ان کے لئے آسان ہوتا ہے…اللہ تعالیٰ
اس بری عادت سے ہم سب کی حفاظت فرمائے…شام کا جہاد بھی مبارک ہے… فلسطین کا جہاد
بھی مبارک ہے… افغانستان کا جہاد بھی مبارک ہے … کشمیر کا جہاد بھی مبارک ہے…الغرض
جہاں بھی شرعی شرائط کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ ہو رہا ہے وہ مبارک ہے…ہمیں اپنی
مکمل استطاعت کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ میں لگ جانا چاہیے…جہادی تربیت
لینا،محاذوں پر جانا… جان سے جہاد کرنا،مال سے جہاد کرنا…زبان کے ذریعہ جہاد کی
دعوت دینا وغیرہ…اور اس میں ترتیب یہ ہو گی کہ ہمیں جہاد کا جو محاذ میسر ہو ہم اس
میں اپنی مکمل صلاحیتیں لگا دیں…نفس اور شیطان کا دھوکہ یہ ہے کہ قریب ہی جہاد
موجود ہوتا ہے…اور شیطان بہکاتا ہے کہ نہ ابھی شرکت نہ کرو… حضرت امام مہدی رضی
اللہ عنہ کی علامات قریب ہیں وہ تشریف لائیں گے تو ان کے ساتھ
نکل کر لڑنا…بس اس انتظار میں عمر کٹ جاتی ہے،جسم اور عزائم کمزور ہو جاتے ہیں…اور
جہاد میسر ہونے کے باوجود محرومی قسمت بن جاتی ہے…اسی طرح یہ خیال کہ…میں صرف فلاں
جگہ جا کر لڑوں گا؟…اللہ کے بندو!جس جہاد کی کمان زمانے کا معتبر ترین مسلمان…ملا
محمد عمر مجاہد کر رہا ہو…اس جہاد سے رکے رہنا اور دور دور کی تیاریوں میں اپنا
وقت لگانا…یہ کون سی دانش ہے اور کونسا کارنامہ؟…قریب ہی غزوۂ ہند کی بہاریں ہیں
جس میں حافظ سجاد خان شہید رحمۃ اللہ علیہ ، غازی بابا شہید رحمۃ اللہ علیہ … اور
افضل گورو شہید رحمۃ اللہ علیہ اونچی چوٹیوں سے مسکراتے ہیں… اسے چھوڑ
کر بیٹھے رہنا کہ میں نے تو دور جا کر لڑنا ہے…پھر بتائیے کہ اگر یہ سوچ یہاں سب
کی ہو گئی تو… ان دشمنان اسلام سے کون لڑے گا؟…اگر یہ سوچ سب کی ہو جاتی تو اسلام
کی تاریخ میں اتنی بڑی فتح کیسے لکھی جاتی کہ…آج چالیس ملکوں کے لشکر زخمی زخمی
شکست خوردہ اپنا سامان باندھ کر بھاگ رہے ہیں…اور افغانستان میں لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ کا ڈنکا بج
رہا ہے…خیر یہ بات تو درمیان میں آ گئی…عرض یہ کرنا تھا کہ اس وقت علمی طبقوں میں
…مسئلہ خلافت اور مسئلہ امارت بہت شدت کے ساتھ زیر بحث ہے…اور یہ بحث لا یعنی بھی
نہیں…کیونکہ زمین پر خلافت قائم کرنا…دین اسلام کے عظیم ترین مقاصد میں سے ہے…اس
میں ایک یہ نکتہ سمجھ لیں تو ان شاء اللہ گمراہی سے حفاظت رہے گی…شادی صرف
’’دعویٰ‘‘ کرنے سے نہیں ہو جاتی…کوئی آدمی دعویٰ کر دے کہ میں فلاں حکمران کا
داماد ہوں…کیا یہ کہہ لینے سے اسے ’’داماد‘‘ کے حقوق مل جائیں گے؟… جواب واضح ہے
حقوق تو بالکل نہیں ملیں گے البتہ جوتے وغیرہ پڑ سکتے ہیں…بس اس طرح کوئی یہ دعویٰ
کر دے کہ میں ’’خلیفہ‘‘ ہوں…اس دعوے کا کوئی وزن،کوئی اعتبار اور کوئی شرعی حیثیت
نہیں ہے…آج کل کئی لوگ ’’مہدی‘‘ ہونے کا دعوی کرتے ہیں…ارے اللہ کے بندو! مہدی کو
کسی دعوے کی ضرورت ہی نہیں ہو گی…وہ خود زمین پر چھا جائیں گے…اور ان کی خلافت و
حکومت ہر کسی کو اپنی آنکھوں سے نظر آئے گی…دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اصل میں
مسلمانوں کا خلیفہ ساری دنیا میں ایک ہوتا ہے…ایسا کئی صدیوں تک رہا…اور ان شاء
اللہ قرب قیامت میں پھر ایسا ہو جائے گا…ایسی خلافت کو ’’خلافت کبریٰ‘‘ کہتے
ہیں…تیسری بات یہ ہے کہ جب مسلمانوں سے خلافت کبریٰ کی نعمت چھن گئی اور مسلمان
کئی ملکوں اور ٹکڑوں میں بٹ گئے تو ایسے حالات میں مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی مسلمان
حاکم کو زمین کے کسی خطے پر غلبہ نصیب ہو جائے…وہ وہاں قبضہ کر لے…اس کا حکم وہاں
نافذ ہوتا ہو تو یہ شخص اس خطے کے مسلمانوں کا حاکم یا امیر ہو گا…اسلام اس کی
حاکمیت اور امارت کو تسلیم کرتا ہے اور اس کے زیر انتظام مسلمانوں کو اس کی اطاعت
کا حکم دیتا ہے…شرط یہ ہے کہ وہ اسلامی حاکمیت کے اصول پورے کرے…اور اللہ اور اس
کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کے خلاف حکم نافذ نہ کرے
… اب اگر اس علاقے کے مسلمان اپنے اس حاکم یا امیر کو ’’خلیفہ‘‘ کا لقب دے دیں تو
یہ بھی جائز ہے…مگر اس کی امارت یا خلافت بس وہاں تک ہوگی…جہاں تک اس کا حکم نافذ
ہوتا ہے…وہ دور کے مسلمان جو دوسرے ملکوں میں رہتے ہیں…یہ نہ ان کا خلیفہ ہوگا اور
نہ ہی امیر… کیونکہ خلیفہ وہ ہوتا ہے کہ جس کی کمان میں جہاد کیا جائے…جو دشمنوں
سے تحفظ فراہم کرتا ہو…جو مظالم میں انصاف دے سکے…اب جب آپ ایک ملک میں رہتے
ہیں…اور خلیفہ دوسرے ملک میں ہے تو و ہ آپ کا حاکم اور خلیفہ کس طرح ہو سکتا
ہے؟…جہاں اس کا حکم ہی نہیں چلتا تو وہ وہاں کا حاکم کیسا؟…اب حضرت امیر المومنین
ملا محمد عمر مجاہد…دامت برکاتہم العالیہ کی دینی فراست اور زمینی حقائق پر نظر
دیکھیں کہ جب انہوں نے…افغانستان میں قبضہ کیا تو وہاں جو حکومت قائم کی اس کا نام
خلافت کی بجائے’’امارت اسلامیہ افغانستان‘‘ رکھا…اپنے خلیفۃ المسلمین ہونے کا دعوی
نہیں کیا…افغانستان سے باہر کسی مسلمان کو اپنی اطاعت کا حکم نہیں دیا…یہ ہے ایمان
اور یہ ہے اسلام کی سمجھ…چنانچہ کوئی فتنہ نہ اٹھا اور امارت اسلامیہ نے سات سال
تک مسلمانوں کو…قرون اولیٰ کے مزے یاد کرا دئیے…اور پھر وہ ایک عظیم جہاد میں اتر
گئی…اور اب الحمد للہ فاتح ہو گئی…عراق و شام کے مجاہدین نے خلافت اور خلیفہ کا
نام استعمال کیا تو…ہر طرف سے شور پڑ گیا اور مسلمانوں میں طرح طرح کی بحثوں نے
جنم لے لیا…واللہ اعلم آگے کیا ہو گا…فی الحال تو مسلمانوں کو وہاں برسرپیکار
تمام مجاہدین کے ساتھ حسن ظن رکھنا چاہیے…ان کے لئے دل کی توجہ سے خوب دعائیں
مانگنی چاہئیں…اور ان کے لئے ہر طرح کے ممکنہ تعاون کا جذبہ دل میں رکھنا
چاہیے…’’داعش‘‘ نے خلافت کبریٰ کا علان کیا ہو، ایسا ہمارے علم میں نہیں ہے…جن
علاقوں پر ان کا قبضہ ہے وہاں ان کی شرعی حکومت اور امارت قائم ہو چکی ہے…مسلمانوں
کو اس کی حمایت کرنی چاہیے…ایران کا مجوسی عفریت…اور شام کا نصیری اژدھا جس طرح سے
عراق و شام میں مسلمانوں پر مظالم ڈھا رہا تھا اسے سن کر دل خون کے آنسو روتا
تھا…ان مجاہدین نے وہاں اس ظلم کا مقابلہ کیا ہے…اور کسی حد تک مسلمانوں کے قلوب
کو ٹھنڈک پہنچائی ہے…تمام مسلمانوں کو ان کے اس کارنامے کی قدر کرکے ان کا ممنون
ہونا چاہیے … داعش کے مجاہدین کے خلاف ساری دنیا کا کفر جمع ہو چکا ہے…ایسے حالات
میں اہل ایمان کو ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے…اور خود داعش والوں کے لئے ضروری ہے
کہ…وہ دعووں سے دور اور عمل میں مگن رہیں…زمین خود بتا دیتی ہے کہ اس کا حاکم اور
خلیفہ کون ہے…
لا الہ
الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل
علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ نے مجاہدین کے لئے جہاد میں کامیابی کا نسخہ ارشاد فرما دیا ہے:
وَاذْکُرُواللّٰہَ
کَثِیْراً لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْن
اللہ
تعالیٰ کا بہت ذکر کرو…کامیابی یقینی ہے…
الحمد
للہ پشاور میں دورہ تربیہ شروع ہو چکا ہے …اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ آگے چل کر
ملک کے ہر ڈویژن میں یہ مبارک دورہ شروع ہو جائے گا…
سبحان
اللّٰہ وبحمدہ سبحان اللّٰہ العظیم
دین کا
درد رکھنے والے افراد کے لئے کتنی آسانی ہو گئی…ہر شخص خود نہ تو اچھی طرح دین
سمجھا سکتا ہے اور نہ ہی دنیا میں پھنسے ہوئے کسی مسلمان کا ذہن درست کر سکتا ہے…
اب
آسانی ہو گئی کہ… دعوت دے کر،منت سماجت کر کے ’’دورہ تربیہ‘‘ میں لے آئے… یہاں
ماشاء اللہ سب کچھ ہے…الف اللہ سے بات شروع ہوتی ہے…کلمہ دل میں اترتا ہے اور پھر
دین کی سب سے اونچی چوٹی’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ تک بات پہنچ جاتی ہے…
ماحول
میں نورانیت ہوتی ہے…خدمت اور رہنمائی کے لئے اہل محبت…اکرام اور محبت کے ساتھ
موجود ہوتے ہیں…اور گناہوں سے الحمد للہ دوری کا ماحول ملتا ہے…
آپ
اندازہ لگائیں کہ …دین کے دشمن کیسے سرگرم ہوئے کہ…فتنوں اور گناہوں کو ہر مسلمان
کے گھر میں داخل کر دیا…گھر تو اب بڑی بات ہر مسلمان کی جیب میں گناہوں اور فتنوں
کا پورا سامان پہنچا دیا گیا ہے…ظالموں نے دن رات محنت کی کہ کس طرح اللہ تعالیٰ
کے بندوں کو گمراہ کریں…اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اللہ تعالیٰ سے دور کریں…یہ
ان کی محنت ہے کہ آج ہر گناہ سستا ہو گیا،آسان ہو گیا، ہر کسی کو میسر ہو
گیا…اور اللہ معاف فرمائے ہر کسی کی زندگی اور معاشرے کا حصہ بن گیا…اب کون کس کی
نگرانی کرے…اور کون کس کو گناہ سے باز رکھے…سود کی لعنت ایسی عام کر دی کہ مسلمان
حلال کو ترسے…ہر طرف جوا ہی جوا اور سود ہی سود ہے…
صرف ایک
گھنٹے میں ہر کسی کو اس کے موبائل پر…پانچ بار گناہ کی دعوت ملتی ہے…لاٹری کھیل
لو…گانے سن لو…بدمعاشی دیکھ لو…سودی انعامی مقابلے میں کود پڑو…میوزک بجا لو… آہ
افسوس! اس ماحول نے دل کی مٹھاس اور چہرے کا پانی چھین لیا…
دل ایسے
سخت اور قساوت زدہ ہوئے کہ دو آنسو بھی اللہ تعالیٰ کے لئے نہیں ٹپکتے…موبائل فون
ہر کسی کے گلے میں بندھی ہوئی رسی ہے…یا یوں سمجھیں کہ ناک کی نکیل ہے… ایک منٹ
فارغ نہیں چھوڑتا کہ انسان کچھ اپنے اندر جھانک لے…اپنی روح کو کچھ وقت دے…اپنے
دین کو کچھ درست کرے…اپنی قبر کی کچھ فکر کرے…
موبائل
نے انسان کو ایک بے وقوف مشین بنا دیا ہے…فلاں گر گیا،فلاں اٹھ گیا، فلاں بیمار
ہے،فلاں کا ایکسیڈینٹ ہو گیا…فلاں آخری سانس لے رہا ہے…فلاں یہ کہہ رہا ہے …اب ہم
فلاں،فلاں اور فلاں کے ہو گئے… اور ’’اپنے‘‘ نہ رہے…
اپنے لئے
تو ہمارے پاس وقت ہی نہیں کہ کچھ اپنا بھی بنا لیں کہ…آگے جب اکیلی قبر میں ہوں
گے تو وہاں ہمارے ساتھ جائے گا اور کام آئے گا…
خیر یہ
ایک الگ موضوع ہے … بات یہ چل رہی تھی کہ اہل فساد اور اہل فتنہ نے دن رات محنت
کی…اور ہر گناہ کو ہمارے گھر کے دروازے تک پہنچا دیا…کیا ’’اہل دین‘‘ کا فرض نہیں
بنتا کہ وہ محنت کریں اور مسلمانوں کو گناہوں کے ماحول سے نکال کر …خالص دینی
ماحول میں لے جائیں… ساز اور گانے کے شور سے نکال کر …اللہ، اللہ ، اللہ کی صداؤں
میں لے جائیں… دنیا کی تنگی اور گھٹن سے نکال کر…آخرت کی وسعت یاد دلانے والی
جگہوں پر لے جائیں… دنیا پرستی کے تعفن سے نکال کر…شوق شہادت کی خوشبوؤں میں لے
جائیں…الحمد للہ دورہ تربیہ کا نصاب ایک مسلمان کو ایمان،ذکر ،جہاد ہر ایک کی لذت
چکھاتا ہے…اور زندگی کو تنگ گلی سے نکال کر کھلی شاہراہ پر ڈالتا ہے…آپ اپنے بچوں
پر بھی یہ احسان کریں کہ جو بالغ ہو چکے ان کو دورہ تربیہ میں بھیجیں اور بار بار
بھیجیں…آپ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ بھی یہ بڑی بھلائی کریں…وہ رشتہ دار مالدار
ہوں یا غریب آپ ان کے پاس چل کر جائیں…اور انہیں منت سماجت کے ساتھ ترغیب دیں
کہ…آپ اللہ تعالیٰ کی رضاکے لئے اپنی زندگی کا ایک ہفتہ دے دیں…ان شاء اللہ اس
ایک ہفتہ کی روشن راتیں اور معطر دن آپ کے بہت کام آئیں گے…یہی دعوت اپنے
پڑوسیوں کو بھی دیں…جماعت کے ذمہ دار دورہ تربیہ کی قدر کریں اور اس میں بڑھ چڑھ
کر خود حصہ لیا کریں…اپنے اندر ایمانی کیفیات مضبوط ہوں گی تو ہماری دعوت میں بھی
برکت ہو گی اور ہمارے اوقات میں بھی…
اہل
برکت،بہت تھوڑے وقت میں سالہا سال کا کام کر لیتے ہیں…اپنے نفس کی اصلاح ہر مسلمان
کے ذمہ لازم اور فرض ہے…دورہ تربیہ اصلاح نفس کا بہترین اور آسان نسخہ ہے…ہر
مسلمان کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنے ایمان کی تجدید کرتا رہے اور دورہ تربیہ ایمان
کی تجدید کا بہترین ذریعہ ہے…اپنے گناہوں پراستغفار اور سچی توبہ کرنا یہ ہر
مسلمان کے لئے لازم ہے…دورہ تربیہ سچی توبہ اور سچے استغفار کی بہترین مجلس ہے
…جہاد کو ماننا فرض ہے اور جہاد میں نکلنا بھی فرض ہے… جہاد کو مانے بغیر ایمان
مکمل نہیں ہوتا… اور جہاد میں نکلے بغیر اعمال صالحہ کی بلند چوٹی نصیب نہیں
ہوتی…دورہ تربیہ جہاد سمجھاتا ہے اور جہاد کی راہیں دکھاتا ہے…ذکر اللہ ہر عمل کی
روح ہے… ذکر ہی میں مسلمانوں کی اصل ترقی ہے …اور ذکر ہی تمام اعمال کا سرتاج
ہے…دورہ تربیہ ذکر اللہ کی شاندار محفل ہے…کئی لوگوں نے بتایا کہ ہم نے دورہ تربیہ
کے سات دنوں میں جتنا ذکر کیا ہے…اتنا اپنی پوری سابقہ زندگی میں نہیں کیا تھا…
جب بندہ
اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس بندے کا ذکر فرماتے ہیں:
سبحان
اللّٰہ وبحمدہ سبحان اللّٰہ العظیم
محبت
پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے…
یُحِبُّھُمْ
یہ محبت
دل میں اتر کر اس دل میں اللہ تعالیٰ کے لئے محبت پیدا کرتی ہے
وَیُحِبُّوْنَہٗ
یعنی عرش
کے اوپر سے محبت آتی ہے…اور مومن کے دل میں اتر جاتی ہے…پھر اس دل سے محبت بلند
ہوتی ہے…اور عرش کے نیچے جا کر سجدہ کرتی ہے…
یُحِبُّھُمْ
وَیُحِبُّوْنَہٗ
اللہ
تعالیٰ ان سے محبت فرماتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں…
ذکر اللہ
اسی محبت کا پھل ہے…بہت میٹھا اور بہت لذیذ پھل…
اللّٰہ،
اللّٰہ، اللّٰہ، اللّٰہ، اللّٰہ
نماز ایک
مسلمان کے لئے…اس کی زندگی کا سب سے اہم کام اور اہم فریضہ ہے… دورہ تربیہ… نماز
سکھاتا ہے،نماز سمجھاتا ہے اور فرائض کے ساتھ ساتھ نوافل کا ذوق عطاء کرتا
ہے…دراصل نماز اسی مسلمان کی محفوظ رہتی ہے جس کو نوافل کا ذوق ہو…تب فرائض
،واجبات اور سنن اس کے لئے بہت آسان ہو جاتے ہیں…الغرض دورہ تربیہ ایک مختصر سا
نصاب مگر بہت انمول نعمت ہے…اہل پشاور کو مبارک کہ ان کے ہاں یہ ’’دورہ‘‘ پہنچ
گیا…زندگی مختصر ہے اس دورہ سے خوب فائدہ اٹھائیں…یہ دورہ زندگی کو قیمتی اور
کامیاب بنانے کا مؤثر نسخہ ہے…
لا الہ
الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل
علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ میری اور آپ سب کی مغفرت فرمائے…آج کچھ مختصر باتیں
توبہ،
اِستغفار نہ چھوڑیں
اگر
شیطان اور نفس کا غلبہ ایسا ہو چکا کہ گناہ نہیں چھوٹتے…بار بار ہو جاتے ہیں تو بس
ایک ہمت کریں کہ توبہ کرنا نہ چھوڑیں…اِستغفار سے نہ بھاگیں …شیطان توبہ اور
اِستغفار کے وقت طرح طرح کے وسوسے ڈالے گا…منہ چڑائے گا…منافق منافق کے نعرے لگائے
گا…مگر آپ لگے رہیں…معافی مانگتے رہیں،معافی مانگتے جائیں…کوئی گناہ اللہ تعالیٰ
کی رحمت اور مغفرت سے بڑا نہیں…اور یہ سوچنا جرم ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے معاف نہیں
فرمائے گا…ہاں! بس گناہ کو گناہ سمجھیں، اس پر نادم ہوں اور اسے برا سمجھیں…’’اہل
ھویٰ‘‘ اس لئے مارے جاتے ہیں کہ وہ اپنے گناہ کو نیکی سمجھ بیٹھتے ہیں اور توبہ
نہیں کرتے…
محدود
اور وسیع
آج کل
ایک نیا شوشہ میڈیا میں اُڑ رہا ہے… محدود نظریہ والے جہادی اور وسیع نظریہ والے
جہادی…وہ جو افغانستان میں چالیس ملکوں کی فوج سے لڑ رہے ہیں…اور کشمیر میں بھارتی
سامراج سے برسرپیکار ہیں…ان کو ’’محدود جہادی‘‘ اور ایجنسیوں کا غلام قرار دیا جا
رہا ہے…اور جو صرف پاکستانی حکومت سے لڑ رہے ہیں وہ ہیں…عالمی جہادی، وسیع نظریہ
والے جہادی…ایسی نابغۃ العصر جاہلانہ تشریح…زندگی میں پہلی بار سنی ہے…اکتالیس
طاقتوں سے لڑنے والے محدود اور غلام… اور ایک طاقت سے لڑنے والے وسیع اور
آزاد…بلکہ یہ بھی سنا ہے کہ…کچھ لوگ سرے سے جہاد میں اُترے ہی نہیں… وہ صرف
انٹرنیٹ پر ویڈیو چلانے اور انگلیاں گھمانے کا کام کرتے ہیں …مگر اُن کا خیال یہ
ہے کہ…وہ ’’انٹرنیشنل مجاہد‘‘ اور بہت بڑے جہادی ہیں…
اللہ
تعالیٰ نفس اور شیطان کے فریب سے تمام اہلِ اسلام اور تمام اہلِ جہاد کی حفاظت
فرمائے…ہر مجاہد ایمان اور تقویٰ کی راہ چلے اور خود اپنے مال،جان، وقت کی قربانی
دے…بس یہی بڑی کامیابی ہے…باتیں کرنا،تنقید کرنا،غیبت کرنا،فخر اور عجب میں مبتلا
ہونا…کوئی کمال کی بات نہیں…
خوش
آمدید
جہاد کی
عمومی برکات ظاہر ہو رہی ہیں…اور الحمد للہ پوری دنیا میں اِسلام تیزی سے پھیل رہا
ہے…یہ بڑا حوصلہ افزا اِتفاق ہے کہ جب بھی خبریں پڑھتے ہیں تو کسی نہ کسی معروف
شخصیت کے مسلمان ہونے کی خبر دل کو باغ باغ کر دیتی ہے…ایسا پہلے نہیں تھا…یہ سب
جہاد کے پھیلاؤ کے بعد ہوا کہ مسلمانوں کو مانا جا رہا ہے،دیکھا جا رہا ہے اور ان
کے وجود کو تسلیم کیا جا رہا ہے…اور اُن دینی کاموں کو سرپر بٹھایا جا رہا ہے جن
میں جہاد کی بات نہیں ہے…چنانچہ اسلام کی روشنی ہر طرف پہنچ رہی ہے…معروف شخصیات
کے علاوہ …جو غیر معروف افراد مسلمان ہو رہے ہیں ان کی تعداد بے شمار اور ان کا
اسلامی جنون قابل رشک ہے…موجودہ زمانے میں کامیابی کا سفینہ ایک ہی ہے…اور وہ ہے
’’سفینۂ اسلام‘‘ اس سفینے پر سوار ہونے والے نئے بھائیوں اور بہنوں کو …سلام اور
خوش آمدید…
بے شک
شہدائِ اسلام کا خون…خوب رنگ لا رہا ہے…
مجاہدین
اور میڈیا
مجاہدین
کی کامیابی اسی میں ہے کہ …وہ مروّجہ میڈیا سے دور رہیں،ہوشیار رہیں اور اس سے
بچیں…اگر تمام مجاہدین مکمل عزم کے ساتھ یہ کام کر لیں تو جہاد کی منزل بہت قریب
آ سکتی ہے…اس میڈیا نے مجاہدین کو لڑایا،گمراہ کیا، مروایا اور فتنوں میں
ڈالا…مجاہدین کو چاہیے کہ خالص اسلامی اصولوں پر اپنا میڈیا فعال کریں…اپنی
کتابیں،رسائل ،اپنے اخبارات…اور اپنا مواصلاتی نظام…اپنا سمعی بصری نظام…یاد
رکھیں! دنیا بھر کا میڈیا آپ کا محتاج ہے…مگر جب آپ خود کو ان کا محتاج بناتے
ہیں…اُن کے ہر سوال کا جواب دینا ضروری سمجھتے ہیں…اور ان کے ہاں موجود رہنے کو ہی
اپنی زندگی سمجھتے ہیں تو …ناکامیاں اور فتنے آپ کو گھیر لیتے ہیں…شہرت پسندی سے
بچیں اور شہادت پسندی کو اپنا شعار بنائیں…اگر آپ زندہ نظر آنا چاہتے ہیں تو
اپنے عمل سے نظر آئیں…نہ کہ اپنی تصویروں اور میڈیا بیانات کے ذریعے…
کسی کو
یہ بات سمجھ نہ آئے تو…وہ مُردہ قذافی کی تصاویر،ڈرامے اور ناٹک شمار کر لے…
لیبیا سے
ٹھنڈی ہوا
براعظم
افریقہ کے تاریخی اسلامی ملک… لیبیا سے اسلامی جہاد کی ٹھنڈی ہوائیں چل پڑی ہیں…یہ
اس پورے خطے کے لئے بہت اہم پیش رفت ہے…مصر وغیرہ کے طواغیت تو ابھی سے ایسے
خوفزدہ ہیں کہ…وہ لیبیا کے مجاہدین پر بمباری بھی کر آئے ہیں…ان کے پڑوس میں غزہ
دن رات ذبح ہوتا رہا…ڈھائی ہزار مسلمان شہید اور ایک لاکھ مسلمان زخمی ہو گئے…مگر
مصر نے اسرائیل کی طرف ایک تھوک بھی نہ پھینکی…لیکن لیبیا کے مجاہدین پر بمباری
کرنا انہوں نے ضروری سمجھا…لیبیا کے مجاہدین کو سلام…
تین سو
تیرہ میں سے پینسٹھ
اللہ
تعالیٰ کے بھروسے پر’’ تین سو تیرہ‘‘ مساجد کا ارادہ ’’جماعت‘‘ نے کر رکھا
ہے…الحمد للہ ’’اٹھاون‘‘مساجد تعمیر ہو چکی ہیں…اس سال ان شاء اللہ کوشش کریں گے
کہ ان تمام مساجد کا تعارف اور تصاویر ڈائری میں آ جائیں…یہ اٹھاون مساجد بھی
اللہ تعالیٰ کے فضل سے تعمیر ہوئی ہیں…ورنہ ہم بے وسائل لوگوں کے بس میں ایک مسجد
بھی نہ تھی…اس سال ان شاء اللہ سات مساجد مزید تعمیر کی جائیں گی…ان سات مساجد کی
فہرست اور تعیین حتمی ہو چکی ہے…جس کا اعلان…ان شاء اللہ عید الاضحی کے فوراً بعد
کر دیا جائے گا…اور کوشش ہو گی کہ رمضان المبارک تک ان تمام مساجد میں اذان
گونجے،خطبہ جمعہ اور با جماعت نماز کا نور چمکے…تمام رُفقائِ کار کو مبارک…اللہ
تعالیٰ سے نصرت اور قبولیت کی اِلتجا ہے…
لا الہ
الا اللہ،لا الہ الا اللہ،لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل
علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ ’’فتنوں‘‘ سے ہم سب کی حفاظت فرمائے… فتنے ظاہری ہوں یا باطنی…
حضرت
آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم
فرمایا ہے کہ…ہم فتنوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگا کریں:
اَللّٰہُمَّ
اِنَّا نَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ
اس دعاء
کو اپنی نمازوں میں شامل کر لیں… قعدہ اخیرہ میں سلام سے پہلے اور نوافل کے سجدوں
میں…
الحمد
للہ! اسلامی جہاد…اپنی شاندار فتوحات کے دور میں داخل ہو رہا ہے…یہ وہ دور ہوتا ہے
جب شہرت پسند ریاکار طبقہ بھی جہاد اور مجاہدین کی حمایت میں نکل آتا ہے…اور
فتوحات اور تنظیموں کا ناجائز وارث بن بیٹھتا ہے…آپ سب کو امارت اسلامیہ
افغانستان کے عروج کا زمانہ یاد ہو گا؟…اس وقت پاکستان میں ہر طرف طالبان کے
حمایتی،طالبان کے وارث،طالبان کے سرپرست،اور طالبان کے مشیر نظر آتے تھے…بہت سے
لوگوں نے ان جیسی شباہت بھی اختیار کرلی تھی…وہی عمامے،وہی قندھاری کرتے…اور وہی
انداز…پھر آزمائش کا دور آیا،امارت اسلامیہ کے سقوط کا دردناک لمحہ آیا تو
یہ…ڈھولچی طبقہ ایک دم غائب ہو گیا…
طالبان
کے بڑے بڑے رہنما ’’پناہ‘‘ کے لئے دربدر پھرتے تھے مگر انہیں…پاکستان کے اکثر
دروازے اپنے لئے بند ملے…لوگوں نے پگڑیاں چھپا لیں،قندھاری کرتے غائب کر دئیے …اور
لمبے بال کتروا لئے…اور طالبان کے لئے اپنے دروازے بند کر دئیے…کچھ لوگوں نے
ابتداء میں چند زور دار جلوس اور چند بڑی ریلیاں نکالیں اور پھر اپنے کاموں میں
مشغول ہو کر… طالبان کو اتحادی فورسز کے سامنے اکیلا ڈال دیا … مگر اہل استقامت اس
وقت بھی امارت اسلامیہ کے ساتھ کھڑے رہے اور پھر جنگ و جہاد میں بھی ان کے ساتھ
میدان میں موجود رہے…خیر یہ ایک مثال تھی امید ہے کہ منظر آپ کے ذہن میں تازہ ہو
گیا ہو گا…اب آتے ہیں موجودہ حالات کی طرف…
عراق و
شام میں مظلوم مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کی نصرت اتری…اور ’’الدّولۃ الاسلامیہ‘‘
نامی جماعت جسے ’’داعش‘‘ بھی کہا جاتا ہے ایک دم چھا گئی…ایک زمانہ جس طرح
مسلمانوں نے افغان جہاد کا رخ کیا تھا اور پشاور تا پل خمری دنیا بھر کے مجاہدین
سے آباد تھا…یہی صورتحال عراق میں بھی پیش آئی…دنیا بھر کے اکیاسی ممالک کے
مجاہدین ’’الدولۃ الاسلامیہ‘‘ تنظیم میں شامل ہیں… صدام حسین شہید کے بچے کھچے
رفقاء بھی اس جماعت کا حصہ ہیں…اور یورپ و امریکہ سے آئے ہوئے مجاہدین بھی اس
جماعت میں موجود ہیں…جب کوئی علاقہ ظلم و ستم کی آگ میں جلتا ہے تو وہاں جہاد اور
مجاہدین کے لئے راستے کھل جاتے ہیں… ترکی کی قدرے اسلام پسند حکومت نے شامی
مہاجرین کو جگہ دی اور عراق و شام کے مجاہدین کو کچھ سہولیات دیں…قطر کی قدرے
اسلام پسند حکومت نے مالی تعاون کیا…اور عرب دنیا میں موجود اہل خیر نے بھی دل کھول
کر مجاہدین کی امداد کی…ادھر پاکستان میں مجاہدین کے لئے راستے بند ہوئے تو بہت سے
چیچن اور عرب مجاہدین نے بھی عراق کا رخ کیا…عراق کے سنی قبائل جو ایران کے ظلم و
ستم سے سخت اذیت میں تھے انہوں نے اپنے گھر اور دل مجاہدین کے لئے کھول دئے…اُدھر
بشار الاسد کے مظالم نے شام کو جہاد کی چنگاری دی جو وہاں کے بہادر اور غیور
مسلمانوں نے شعلوں میں بدل دی…ایران کا معاملہ صرف فرقہ پرستی کا نہیں ہے…یہ ملک
اور اس کا نظام مسلمانوں کا بدترین دشمن ہے…آپ نے تازہ خبروں میں سن لیا ہو گا
کہ…اب ایران نے ’’سوڈان‘‘ کے مسلمانوں کو بھی گمراہ کرنے کے لئے ایک نئے پلان پر
عمل درآمد شروع کر رکھا ہے…اس سے پہلے یہ وسطی ایشیا کی ریاستوں میں بھی اپنی
نجاست پھیلا چکا ہے…افغان جہاد کے دوران بھی اس نے مسلمانوں کے خلاف امریکہ اور
نیٹو کا بھر پور ساتھ دیا…اور عراق اور شام کی جنگ تو باقاعدہ…ایران کی کمان میں
مسلمانوں کے خلاف لڑی جا رہی ہے … پاکستان میں بد امنی اور فرقہ واریت کے پیچھے
بھی ایران کا ہاتھ ہے…مگر پاکستان میں ان کی لابی اتنی مضبوط ہے کہ ایران کے خلاف
دو لفظ لکھنے یا بولنے پر…خفیہ ادارے حرکت میں آ جاتے ہیں اور فوراً فرقہ پرستی
کا لیبل لگا دیا جاتا ہے…ایران کے انڈیا کے ساتھ تو بالکل ویسے ہی گہرے مراسم ہیں
جس طرح مشرکین اور مجوسیوں کے ہمیشہ سے رہے ہیں…آپ کبھی ایران کا ریڈیو
سنیں…پچھتر فیصد خبریں اور تبصرے پاکستان کے خلاف ہوتے ہیں…مگر پاکستان کی ہر
حکومت ایران سے یاری کو اپنا مقدس فریضہ سمجھتی ہے…ایران کے ان مظالم نے غیور
مسلمانوں کو ایسا تڑپایا کہ وہ دیوانہ وار جہاد کی طرف دوڑے اور یوں…مسلمانوں کو
امارت اسلامیہ افغانستان کے بعد ایک اور بڑی جہادی جماعت’’ الدولۃ الاسلامیہ فی
العراق و الشام‘‘ کی صورت میں مل گئی…بلاشبہ یہ ایک اسلامی اور جہادی جماعت ہے…اور
افرادی قوت کے اعتبار سے یہ اس وقت دنیا کی دوسری بڑی جہادی تنظیم ہے…امارت
اسلامیہ افغانستان کے پاس مقامی مجاہدین لاکھوں کی تعداد میں ہیں…اور ان کے
معاونین پاکستانی مجاہدین بھی ہزاروں میں ہیں…جبکہ ’’داعش‘‘ کے پاس مقامی اور غیر
مقامی تیس سے پچاس ہزار تک مجاہدین موجود ہیں…والحمد للہ رب العالمین
داعش کی
فتوحات سامنے آنے کے بعد…ڈھولچی طبقہ بھی زمین پر اپنے بلوں سے باہر نکل رہا
ہے…بس اسی سے ہوشیار کرنا مقصود ہے…داعش کا جہاد عراق اور شام میں ہے اور ان کے
لئے وہاں ابھی کافی کام موجود ہے… افغانستان میں الحمد للہ امارت اسلامیہ
افغانستان بر سرپیکار ہے…یہ ایک خالص اسلامی اور منظم جماعت ہے اور اس کے ’’امیر
محترم‘‘ زمانے کے معتبر ترین شخص…حضرت ملا محمد عمر مجاہد رحمۃ اللہ علیہ ہیں…اور
یہ جماعت باقاعدہ شرعی بیعت کے نظام پر قائم ہے…اور اس جماعت نے اسلام کے ’’نظام
نصرت‘‘ کے لئے ایسی عظیم قربانی دی ہے کہ …صدیوں میں اس کی مثال نہیں ملتی…اس
جماعت کا جہادی نظام اتنا مؤثر،جدید اور پائیدار ہے کہ…چالیس ملکوں کا اتحادی
لشکر دنیا کا ہر اسلحہ اور ہر ٹیکنالوجی استعمال کرنے کے باوجود…نہ اس جماعت کو
توڑ سکا اور نہ اسے کمزور کر سکا… مگر طالبان کا نظام… شہرت پسندی اور کھلی بھرتی
سے بہت دور ہے…
یہ حضرات
نہ تو خواتین کو بھرتی کرتے ہیں اور نہ ان کی پریڈ لگاتے ہیں…اور نہ جہادی شادیوں
کے اشتہار چلاتے ہیں…ان کا ویڈیو آڈیو نظام بھی چمک دمک سے دور اور جہاد کے قریب
ہے…یہ اپنے لیڈروں کو میڈیا سے دور رکھتے ہیں اور روز روز نئے ’’ہیرو‘‘ نہیں
بناتے…آج ساری دنیا میں جہاں بھی جہاد کی روشنی ہے وہ سب افغانستان سے ہی چمکی
ہے…اور افغان جہاد اس زمانے کی تحریکوں کے لئے اصل مرکز اور منبع کی حیثیت رکھتا
ہے…اور افغان جہاد کی یہ کامیابی… اخلاص، سادگی اور شریعت کی پابندی کی وجہ سے ہے…
ظاہر بات ہے یہ وہ چیزیں ہیں جو شہرت پسند طبقے…اور انٹرنیٹ کے جہادیوں کے لئے کسی
بھی طرح کی کوئی کشش نہیں رکھتیں…چنانچہ اب افغانستان اور پاکستان میں بھی
’’داعش‘‘ کے خود ساختہ اور ناجائز ولی وارثوں نے…اپنا کام شروع کر دیا ہے… آپ چند
دن تک ایسے افراد بھی دیکھیں گے جو یہ کہتے پھرتے ہوں گے کہ ہم…پاکستان میں
’’داعش‘‘ کے نمائندے ہیں … کچھ لوگوں نے داعش کا لٹریچر بھی انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ
کر کے چھاپنا شروع کر دیا ہے…اور کئی لوگوں کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ وہ مستقل داعش
کے رابطے میں ہیں…افغانستان اور پاکستان میں یہ ساری صورتحال…یقیناً تشویشناک ہے…
داعش ایک جہادی جماعت ہے اور جہادی جماعت کی قیادت اس زمانے میں خفیہ ہوتی ہے…تو
پھر یہاں موجود افراد کا داعش کی قیادت سے رابطہ کس طرح ممکن ہے؟
داعش
کی قیادت اگر فون اور انٹرنیٹ پر بیٹھی ہوتی تو کب کی شہید ہو چکی ہوتی…وہ حضرات
تو ایک بڑی گھمسان کی جنگ میں مشغول ہیں… ہاں! ان کے بہت سے حامی انٹرنیٹ پر موجود
رہتے ہیں… اور لوگ انہیں سے رابطے کو…قیادت کے ساتھ رابطہ قرار دے دیتے ہیں…
دوسری
طرف امت میں ایک طبقہ ایسا بھی پیدا ہو چکا ہے جو…خلافت کے نام پر مسلمانوں کو
مسلسل تقسیم اور گمراہ کر رہا ہے…دیکھیں! کیسا ستم ہے کہ …خلافت ہی دنیا بھر کے
مسلمانوں کو جوڑنے کا واحد ذریعہ ہے…مگر ان کم عقل لوگوں نے خلافت کے نام کو
مسلمانوں میں مزید تقسیم اور تفریق کا ذریعہ بنا لیا ہے…یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم
مسلح جہاد نہیں کرتے مگر ہمارا عقیدہ ہمارا اسلحہ ہے اور ہم اسی کے ذریعے خلافت
قائم کریں گے…یہ کافی خطرناک اور گمراہ کن نعرہ ہے اور اس تنظیم کی ساری قیادت
امریکہ اور برطانیہ میں بیٹھی ہوئی ہے…یہ لوگ جہاد اور خلافت کی جڑوں کو کاٹ رہے
ہیں…اور مسلمانوں کو ایک مقدس نام سے گمراہ کر رہے ہیں…جہاد و قتال کے بغیر خلافت
کا قیام ایک غیر فطری بات ہے…افغانستان میں جب خالص اسلامی حکومت قائم ہوئی تو
انہوں نے ایک پائی یا ایک گولی کی مدد نہیں کی…پھر یہ کون سی خلافت چاہتے ہیں…اب
جب ’’الدولۃ الاسلامیہ‘‘ نے فتوحات حاصل کیں تو یہ لوگ ان کی صفوں میں گھس گئے اور
وہاں سے ’’خلافت‘‘ کا اعلان کرا دیا… حالانکہ خلافت تو زمین پر ہوتی ہے…
اِنِّیْ
جَاعِلٌ فِیْ الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً
زمین فتح
ہی نہیں ہوئی تو اس پر خلافت کا کیا مطلب ؟ … ہاں! جتنی زمین فتح ہو چکی اس پر
خلافت کی طرز سے ا سلامی امارت اور حکومت قائم ہوئی ہے…جو افغانستان میں طالبان نے
…اور عراق و شام کے کئی علاقوں میں ’’الدولۃ الاسلامیہ‘‘ نے قائم کی ہے…اور مجھے
یقین ہے کہ ’’الدولۃ الاسلامیہ‘‘ اگر عراق کے بعد ایران کو فتح کر لے تب بھی وہ
افغانستان میں …امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد سے بیعت کر کے…امارت اسلامیہ کا
حصہ بن جائے گی…کیونکہ امارت اسلامیہ کا نظام زیادہ مستحکم،اور شریعت کے زیادہ
قریب اور مطابق ہے…جبکہ داعش کو ابھی بننے اور سنبھلنے میں وقت لگے گا…اس میں ہر
رنگ،ہر نسل اور طرح طرح کے نظریات کے افراد شامل ہیں…جنگ گرم ہونے کی وجہ سے سب کو
قابو میں کرنا اور ایک عقیدہ اور نظام پر لانا آسان نہیں ہے…پچھلے دو ماہ میں
داعش اپنے پانچ بڑے کمانڈروں کو معزول اور گرفتار کر چکی ہے…ایک کمانڈر تکفیری
تھا…ایک کمانڈر انٹرنیٹ پر جماعت کو بدنام کر رہا تھا…اور باقی تین بھی اسی طرح کے
جرائم میں ملوث تھے…
اچھا اب
ایک اور بات سنیں…پاکستان میں ’’داعش‘‘ کے کئی نمائندے اور ولی وارث وہ لوگ بنے
ہوئے ہیں جو جمہوریت کے تحت انتخابات میں حصہ لیتے ہیں…جبکہ’’داعش‘‘ کے اعلان کردہ
عقیدے کے مطابق جمہوری انتخابات میں حصہ لینا ’’کفر‘‘ ہے…اب اسی سے آپ ان کی
نمائندگی کا اندازہ لگا سکتے ہیں…اے مسلمانو! جھوٹ،شہرت پسندی اور فضول کاموں سے
بچو…قربانی والے فریضے جہاد کو مذاق نہ بناؤ…اللہ تعالیٰ امارت اسلامیہ افغانستان
کو فتوحات اور اپنی نصرت عطاء فرمائے…اللہ تعالیٰ ’’الدولۃ الاسلامیہ فی العراق و
الشام‘‘ کو بھی فتوحات اور اپنی نصرت عطاء فرمائے…جہاد ایک خالص اسلامی فریضہ ہے
جیسا کہ نماز…نماز وہی قبول ہوتی ہے جو شریعت کے مطابق ہو…جہاد بھی وہی قبول ہوتا
ہے جو شرعی احکامات کے مطابق ہو…اپنے نظریات کو فتنوں سے بچائیں اور وقتی نعروں
اور شور شرابوں سے اپنے نظریات تبدیل نہ کیا کریں…
مستحکم،مضبوط
اور مستقل نظریات ہی… مقبول اور پسندیدہ ہوتے ہیں…
’’کل ہی
خبروں میں پڑھا کہ …وہ لوگ جو ہمیں ایجنسیوں کا ایجنٹ قرار دے کر بھاگ گئے
تھے…اورپاکستان فتح کرنے کا کہتے تھے…انہوں نے اعلان کیا ہے کہ ہم اپنی کارروائیاں
افغانستان تک محدود کر رہے ہیں…پاکستان میں ہم صرف’’ تبلیغ دین‘‘ کا کام کریں
گے…کس منہ سے؟ کس منہ سے؟…‘‘
لا الہ
الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل
علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ
اپنے غضب اور عذاب سے ہم سب کی حفاظت فرمائے… پہلے وزیرستان کے مسلمان بے گھر
ہوئے… ان کی آہ لگی یا کس کی… اب پنجاب اور آزاد کشمیر کے لاکھوں مسلمان بھی
خیمہ بستیوں میں ہیں… مقبوضہ کشمیر میں صدی کا سخت ترین سیلاب ہے اور اوپر حکمران
بھی کشمیری مسلمانوں کے بدترین دشمن ہیں…
حسبنا
اللّٰہ ونعم الوکیل
نائن
الیون کے واقعہ کو تیرہ سال بیت چلے… اس بار بہت خاموشی سے برسی منائی گئی… تیرہ
سال پہلے مسلمانوںکے خلاف جو جنگ شروع کی گئی تھی… اور اُسے دہشت گردی کے خلاف
آخری اور حتمی لڑائی کا نام دیا گیا تھا… اُس جنگ نے کیا نتائج حاصل کئے؟… آج
صرف اسی موضوع پر لکھنے کا ارادہ تھا… اور خیال جی نے ایک دلچسپ کہانی کے ذریعہ اس
موضوع کے ہر پہلو پر بات کی ہے… مگر سیلاب سے تباہ حال مسلمانوں کا درد ایسا ہے کہ
اس کی موجودگی میں کسی اورموضوع پر لکھنا اچھا نہیں لگ رہا … جس طرف بھی نظر
اٹھائیں درد ہی درد ہے اور حقیقی دردناک کہانیاں… کہیں لوگ اپنے وفات پائے ہوئے
عزیزوں کو اُٹھائے پھرتے ہیں کہ پانی نے تدفین کی جگہ ہی نہیں چھوڑی… اور کہیں اسی
پانی نے ہنستے کھیلتے آباد علاقوں کو خود ہی قبرستان بنا دیا ہے… پانی میں غرق ہو
کر مرنا کافر اور منافق کے لئے دردناک عذاب کا آغاز ہے… فرعون کے عذاب کی ابتداء
پانی میں غرق ہونے سے ہوئی… پانی کی موت بڑی سخت ہوتی ہے، بہت تکلیف دہ اور بہت
ہیبت ناک… مگر مؤمن کے لئے پانی میں غرق ہو کرمرنا شہادت ہے… جبکہ مجاہد کے لئے
دورانِ جہاد پانی میں غرق ہونا… ایک ایسی نعمت ہے جو ساری دنیا کی تمام نعمتوں پر بھاری
ہے… ایسے شہید کو دُگنا اجر ملتا ہے اوراس کی روح اللہ تعالیٰ… خود قبض فرماتے
ہیں… سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ خود استقبال فرماتے ہیں… درمیان میں فرشتوں کا واسطہ
بھی نہیں رہتا…
کوئی
انسان نہیں جانتا کہ اس کی موت کیسے آئے گی… ڈوب کر مریں گے یا آگ میں جل کر…
چھت گرنے سے مریں گے یا سڑک کے حادثے سے… کوئی پکڑ کر ذبح کر دے گایا گولی مار دے
گا… سانپ بچھو کاٹے گا یا کوئی زہر دے ڈالے گا… کوئی پھانسی پر لٹکا دے گا… یا
کوئی دواء اُلٹا اثر کر جائے گی… موت کے ہزاروں طریقے ہیں… بعض موتیں دیکھنے میں
بڑی خوفناک نظر آتی ہیں مگر حقیقت میں بہت میٹھی ہوتی ہیں… جبکہ بعض موتیں ظاہر
میں بڑی پُرسکون نظر آتی ہیں مگر وہ حقیقت میں بہت تکلیف دِہ ہوتی ہیں… مرنے و
الے پر جو کچھ بِیت رہا ہوتا ہے وہ اس دنیا میں رہنے والوں کو نہ نظر آتا ہے نہ
محسوس ہوتا ہے… ہاں! بعض علامات سے کچھ اَندازے لگائے جا سکتے ہیں مگر وہ اندازے
بھی حتمی نہیں ہوتے… مثلاً ایک آدمی موت سے پہلے سخت تکلیف میں ہوتا ہے… بہت بے
چین بہت بے قرار…لوگ اسے موت کا درد سمجھتے ہیں حالانکہ وہ موت کا درد نہیں ہوتا
بلکہ دنیوی بیماری کا درد ہوتا ہے جو آخری لمحے تک اُس انسان کو پاک کرتا رہتا
ہے… اور جب اس کی موت شروع ہوتی ہے تو وہ بڑی آسان ہوتی ہے… بس بھائیو! اور
بہنو!… موت کو کبھی نہیں بھولنا چاہئے اور ہمیشہ اچھی موت، اچھے خاتمے اور مقبول
شہادت کی فکر اور دعاء کرنی چاہئے…
موت نے
تو آنا ہے… اسے یاد کرتے رہو، اس کی تیاری کرتے رہو تو یہ ’’محبوبہ‘‘ بن کر آتی
ہے… اور ایسی محبوبہ کہ جس کے آتے ہی سارے دکھ، درد اور تنہائیاں ختم ہوجاتی
ہیں…اور موت سے غافل رہو تو موت ایک ایسی مصیبت بن کر آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی
امان… اس دعاء کو روزانہ پچیس بار توجہ سے پڑھا کریں:
اَللّٰھُمَّ
بَارِکْ لِی فِی الْمَوْتِ وَفِیْمَا بَعْدَ الْمَوتْ
دنیا
میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جو نعمتیں عطاء فرماتا ہے… ان نعمتوں کی حفاظت کا
نسخہ قرآن مجید نے سورۃ الکہف میں سکھا دیا ہے… مگر اکثر لوگ اُس سے غافل ہیں…
نسخہ بہت آسان ہے کہ نعمتوں کو دیکھ کر یہ کلمات پڑھو…
مَاشَائَ
اللّٰہُ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہْ
اپنے گھر
میں داخل ہوئے تو فوراً
مَاشَائَ
اللّٰہُ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہْ
کہ یہ
اللہ تعالیٰ نے ہی عطاء فرمایا ہے… میرا اس میں کوئی ہنر، کوئی کمال نہیں… اللہ
تعالیٰ چاہے تو ایک منٹ میں ’’بے گھر‘‘ کر دے… اس زمانہ میں جبکہ دین پر عمل کمزور
ہوچکا ہے کسی مسلمان کا بے گھرہونا ایک بڑی سخت آزمائش ہے…
دین
پرعمل ہوتا تو… بے گھر مسلمانوں کے لئے ہر مسلمان کا گھر عزت، احترام اور حفاظت کے
ساتھ کھلا رہتا… ناموس کی حفاظت اپنے گھر سے زیادہ دوسرے مسلمانوں کے گھروں میں
ہوتی … بہن بیٹی کی عزت سلامت رہتی… اور پناہ دینے والے حقارت اور نفرت کی ایک نظر
بھی نہ ڈالتے… مگر اب ماحول بدل گیا ہے… مسلمانوں کے نزدیک’’مہاجر‘‘ کا لفظ نعوذ
باللہ، گالی… اور حقارت کا استعارہ بن گیا ہے…اور آنکھوں سے حیاء کی نعمت چھن گئی
ہے… ایسے حالات میں اپنے گھر والوں سمیت بے گھر ہوجانا بڑی سخت آزمائش ہے… اس لئے
جس کے پاس جیسا بھی مکان ہے… اپنا ہو یا کرائے کا… ذاتی ہو یا کسی نے رہنے کے لئے
دے دیا ہو… کچا ہویا پکّا… ہمیشہ اسے دیکھ کر اور اس میں داخل ہوتے وقت دل کے یقین
سے پڑھیں:
مَاشَائَ
اللّٰہُ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہْ
یعنی یہ
میرے اللہ نے مجھے دیا ہے یہ میرے اللہ تعالیٰ کا مجھ پر احسان ہے… یہ میرے اللہ
تعالیٰ کی مجھ پر نعمت ہے… والحمدللہ رب العالمین…
لوگ
سمجھتے ہیں کہ’’ماشاء اللہ‘‘ کا مطلب ہے، بہت اچھا، بہت عمدہ… یہ درست نہیں… بلکہ
ماشاء اللہ کا مطلب ہے… یہ میرا نہیں میرے اللہ تعالیٰ کا ہے… اور انہوں نے محض
اپنے فضل سے مجھے عطاء فرمایا ہے… اور اس میں میرا کوئی ہنر اور کمال نہیں… یہی
حال ہر نعمت کا ہے… وہ ایمان کی نعمت ہو یا دین کی… وہ صحت کی نعمت ہو یا مال کی…
جو فخر کرتا ہے وہ مارا جاتا ہے … جو اپنا کمال سمجھتا ہے وہ محروم رہ جاتا ہے…
اورجو اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان سمجھتا ہے وہ کامیاب رہتاہے…
مَاشَائَ
اللّٰہُ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہْ
قرآن
مجید میں سب کچھ موجود ہے … سیلاب کے مسئلہ پر قرآن مجید کی ایک پوری سورت
بائیسویں پارے میں سورۃ سبا کے نام سے موجود ہے… ایک قوم تھی جس کا نام’’قوم
سبأ‘‘ تھا… ان کا ایک شہر تھا جس کا نام’’مأرب‘‘ تھا… یہ قوم پانی کی نعمت سے
مالا مال تھی… اور پانی جس کو مل جائے اُسے ہر نعمت مل جاتی ہے کیونکہ زمین پر
اللہ تعالیٰ نے پانی کو… ہرنعمت کی بنیاد بنایا ہے… اس قوم سے کہا گیا کہ…
کُلُوْا
مِنْ رِّزْقِ رَبِّکُمْ وَاشْکُرُوْالَہٗ
اپنے رب
کی نعمتیں کھاؤ، خوب استعمال کرو… مگر شکر ادا کرتے رہو… ان نعمتوں کو اللہ
تعالیٰ کا فضل اور احسان سمجھو… ان نعمتوں کو اپنا حق اور اپنا کمال نہ سمجھو… مگر
قوم کے لوگوں نے اس نصیحت اور حکم کو بُھلا دیاا ور فخر میں پڑ گئے… وہ ان نعمتوں
کو اپنا ہنر اوراپنا کمال سمجھنے لگے… دیکھو! ہم نے کس طرح سے پانی کو بڑا بند اور
ڈیم بنا کر… اپنے قابو میں کر لیا ہے … اور اب یہ پانی ہم اپنی مرضی سے استعمال کر
کے… باغات اور زمینوں کو آباد کرتے ہیں… دیکھو! ہم تجارت میں کتنے ماہر ہیں کہ
بین الاقوامی راستوں پر… اپنا کاروبار چمکا چکے ہیں… اب ہر کوئی ہمارا محتاج ہے…
اسی طرح اپنی پلاننگ، اپنی ٹیکنالوجی او ر اپنی تاجرانہ سوچ پر فخر… اللہ تعالیٰ
نے پانی کو اشارہ فرمایا… پانی ایسا بپھرا کہ اُن کے بند اور ڈیم تنکوں کی طرح بہہ
گئے… بڑے بڑے باغات اور کھیتیاں کھنڈر کھلیان بن گئے… اور تجارت تباہ و برباد ہو
گئی… ایک مثال دے کر قرآن مجید نے پانی اور سیلاب کا سارا معاملہ سمجھا دیا… آج
ہمارے حکمرانوں کے دماغ پر… صرف اور صرف تجارت سوار ہے… تجارت کی خاطر دین بیچنا
پڑے، ضمیر بیچنا پڑے، ملک بیچنا پڑے یہ سب کچھ انہیں گوارہ ہے… تجار ت کی خاطر
شہداء کرام کے مقدس خون سے دن رات غداری کی جارہی ہے… تب سیلاب ہی آئے گا کوئی
رحمت تو نہیں برسے گی… تجارت کوئی بُری چیز نہیں مگر تجارت ہمیشہ وہی درست ہے جو
شریعت کے تابع ہو…ورنہ تجارت محض خسارہ ہی خسارہ ہے… سیلاب کی آزمائش جن مسلمانوں
پر نہیں آئی… وہ سیلاب زدہ مسلمانوں کی مدد کریں… اُن کے لئے مستقل دعائیں کریں…
اور اُن کی عزت و حرمت کا خیال رکھیں… اور خود استغفار کرتے رہیں… اپنی نعمتوں پر
اللہ تعالیٰ کا شکر اداکریں اور کثرت سے پڑھیں…
مَاشَائَ
اللّٰہُ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہْ
اگر کبھی
پانی سے واسطہ پڑے تو اسماء الحسنیٰ میں سے
یَا
حَیُّی یَا قَیُّومُ
کا ورد
پانی کے غیض و غضب کو ٹھنڈا کردیتا ہے…
یَا
حَیُّی یَا قَیُّومُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ
کتنے ہی
مسلمان… ان دومبارک اسماء الحسنیٰ کی برکت سے ڈوبنے سمیت دیگر آبی آفات سے محفوظ
رہے… بے شک اللہ تعالیٰ کے ’’ اسماء الحسنیٰ‘‘ میں بڑی تأثیر اور بڑی طاقت ہے…
ہمیں ہمارے عظیم رب نے حکم دیا ہے کہ ہم ’’اسماء الحسنیٰ‘‘ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ
سے مانگا کریں…
او ر وہ
مسلمان جو سیلاب کی آفت کا شکار ہیں… وہ اس آفت کو اپنے لئے’’سعادت‘‘ بنا لیں…
آزمائش اور ابتلاء اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے… اور یہ ایک مؤمن کو اللہ تعالیٰ کے
بہت قریب کرنے کا ذریعہ ہے…
اللہ
تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کو دنیا کی آزمائشوں میں ڈالتے ہیں… تاکہ اُن کا مقام
اور اونچا ہو جائے… ان کی منزل اور قریب ہو جائے… اُن کے گناہ معاف ہو جائیں… اُن
کے لئے آخرت کا بوجھ بالکل ہلکا ہو جائے… اور اُن کے لئے آخرت کی دائمی نعمتیں
پکی ہو جائیں… قرآن و سنت میں غور کریں تو ایک مؤمن مسلمان پر جو دنیوی تکلیفیں
اور آزمائشیں آتی ہیں… اُن کے فوائد اور ثمرات بے شمار ہیں… ان میں سے چند یہ
ہیں…
١ گناہوں
کا بالکل مٹ جانا اور معافی نصیب ہونا
٢ آخرت
کے اونچے اونچے درجات کا ملنا
٣ اس
بات کا شعور نصیب ہونا کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے حقوق میں کتنی کوتاہی کی ہے… اس
پر اپنے نفس کو ملامت کرنے کی سعادت ملنا
٤ اللہ
تعالیٰ کے سامنے عاجزی، انکساری اورتواضع نصیب ہونا
٥ توبہ
اور استغفار کی زیادہ توفیق ملنا
٦ دعاء
کی زیادہ توفیق ملنا
٧ بندے
کا اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط ہونا کہ… دنیا میں نعمت ملے یا نہ ملے اللہ تعالیٰ
سے تعلق اور محبت قائم رہے…
٨ محروم
اور مصیبت زدہ لوگوں کے درد کو محسوس کرنے کی استعداد پیدا ہونا
٩ دنیا
سے بے رغبتی نصیب ہونا اور دنیا کے فانی ہونے کا یقین مضبوط ہونا
١٠ اللہ
تعالیٰ کی تقدیر پر راضی ہونے کی قوت نصیب ہونا اور اس قوت کی برکت سے ایمان کا
مضبوط اور اعلیٰ درجہ نصیب ہونا…
ہماری
محبتیں، ہمدردیاں او ر دعائیں… تمام مصیبت زدہ مسلمانوں کے ساتھ ہیں…آپ حضرات و
خواتین… مکمل صبر اور رضا کے ساتھ ان حالات کا مقابلہ کریں… اور اللہ تعالیٰ کی
طرف مکمل یقین کے ساتھ متوجہ ہو جائیں…
دنیا کی
طرح یہاں کی مصیبتیں اوریہاں کی نعمتیں سب فانی ہیں… اصل ایمان کی نعمت ہے … اسے
زنگ نہ لگنے دیں… اللہ تعالیٰ آپ سب کی آزمائش دور فرمائے اور دنیا و آخرت میں
نعمتِ عافیت عطاء فرمائے…آمین یا ارحم الراحمین
لا الہ
الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
اللھم صل
علیٰ سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ جسے چاہتے ہیں’’فضیلت‘‘ عطاء فرماتے ہیں… وہ کوئی شخص ہو، مہینہ ہو، دن ہو
یا عمل…ہم پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ’’فضیلت‘‘ کا احترام کریں اور اس
سے فائدہ اُٹھائیں…
شکر کا
مقام ہے
اللہ
تعالیٰ نے پورے رمضان المبارک کو خاص فضیلت عطاء فرمائی ہے… اورپھر خصوصاً آخری
عشرے کی راتوں کو… الحمدللہ مسلمانوں کو اس فضیلت کا شعور ہے… رمضان المبارک اور
آخری عشرہ میں دنیا کا رنگ ہی بدل جاتا ہے… مساجدخوب آباد رہتی ہیں اور مسلمان
رمضان المبارک کے فضائل سے وافر حصہ پاتے ہیں… یقیناً یہ شکر کا مقام ہے…
والحمدللّٰہ
رب العالمین
فکر کی
بات ہے
اللہ
تعالیٰ نے’’ذوالحجہ‘‘ کے مہینہ کے پہلے دس دنوں کو خاص فضیلت عطاء فرمائی
ہے…’’عشرہ ذی الحجہ‘‘ کے فضائل قرآن مجید میں بھی ہیں… اور احادیث صحیحہ میں بھی…
اور فضائل بھی ایسے کہ دل جھوم اُٹھے… حتیٰ کہ کئی اہل علم کے نزدیک ذوالحجہ کے
پہلے دس دن رمضان المبارک کے آخری دنوں سے بھی افضل ہیں… مگر فکر اور افسوس کی
بات یہ ہے کہ اکثرمسلمانوں کوان فضائل کا علم اور شعور نہیں ہے… اکثر کو تو پتا ہی
نہیں چلتا کہ ذوالحجہ کا مہینہ کب شروع ہوا… اور اس مہینہ میں اعمال کی کیا قیمت
ہے؟…
چنانچہ
وہ زندگی کے یہ قیمتی ترین دن… جن کو حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم نے ’’افضل ایام الدنیا‘‘ قرار دیاہے… ضائع کر دیتے ہیں…
دنیا میں انسان کی عمر کے سب سے قیمتی دن… بغیر کچھ کمائے اور بغیر کچھ بنائے گزر
جاتے ہیں…
یقیناً
دُکھ، افسوس اور فکر کی بات ہے…
انا
للّٰہ وانا الیہ راجعون…
سمجھدار
اور عقلمند افراد کا جنون
حضرات
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ہمارے اَسلاف بہت
سمجھدار اور بے حد عقل مند تھے… جی ہاں! آج کل کے سائنسدانوں سے بہت زیادہ ذہین
اور بہت زیادہ سمجھدار… انہوں نے قرآن و سنت میں جب ’’عشرہ ذی الحجہ‘‘ کے والہانہ
فضائل دیکھے تو بس ان دنوں کوکمانے اور بنانے میں جان توڑ محنت لگا دی… چونکہ ان
دنوں میں ہر عبادت کا اجر و ثواب عام دنوں کی عبادت سے بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے…
چنانچہ حضرات اَسلاف نے اپنے اپنے رنگ میں ان اَیام کو پانے کی جستجو کی… چند
جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں:
*… حضرت
انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ہمارے ہاں یعنی حضرات صحابہ
کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں یہ کہا جاتا تھا کہ اس عشرہ کا ہردن…
فضیلت میں ایک ہزار دنوں کے برابر ہے، جبکہ عرفہ(یعنی نو ذی الحجہ) کا دن دس ہزار
دنوں کے برابر ہے…
*…مشہور
تابعی حضرت سعید بن جبیر شہید رحمۃ اللہ علیہ کا طریقہ یہ تھا کہ جب
عشرہ ذی الحجہ شروع ہوتا تو آپ عبادت میں ایسی سخت محنت فرماتے کہ… معاملہ بس سے
باہر ہونے لگتا… اور آپ فرمایا کرتے تھے … لوگو! ان راتوں میں اپنا چراغ نہ
بجھایا کرو… یعنی ساری رات تلاوت وعبادت میں رہا کرو…
*… حضرت
حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ… عشرہ ذی الحجہ کا ہر روزہ
دو مہینوں کے روزوں کے برابر ہے…
* …بعض
محدثین کرام کا طرز عمل یہ تھا کہ جیسے ہی عشرہ ذی الحجہ شروع ہوتا وہ اپنے اَسباق
میں ضعیف احادیث بیان کرنا بالکل بند کر دیتے… حالانکہ ان احادیث کے ساتھ یہ بتایا
جاتاتھا کہ یہ ضعیف ہیں… مگر ان ایام کے تقدس کا ایسااحترام کہ ضعیف حدیث زبان پر
نہ لاتے…
*… بعض
اَسلاف کا ان ایام میں عبادت کا یہ رنگ تھا کہ تعلیم و تدریس تک چھوڑ دیتے کہ اس
میں کچھ نہ کچھ قیل و قال ہوجاتی ہے… بس خود کو ذکر و عبادت کے لئے وقف کر دیتے…
*… بعض
اَسلاف ان ایام میں حاجیوں کی طرح احرام کی چادریں اوڑھ لیتے اور صبح شام تکبیرات
بلند کرتے رہتے…
* …اِبن
عساکر رحمۃ اللہ علیہ جو مشہور محدث، مؤرخ اور بزرگ گزرے ہیں وہ رمضان
المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے… اور پھر عشرہ ذی الحجہ بھی پورا اعتکاف میں
گزارتے…
* …حضرت
امام عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کی پوری زندگی کا معمول ان ایام
میں یہ تھا… یا تو جہاد پر ہوتے یا حج پر تشریف لے جاتے…
اور ان
سب سے بڑھ کر ان دو جلیل القدر… اہل علم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین کا عمل دیکھیں… یہ حضرت ابو ہریرہ … اور حضرت عبداللہ بن
عمر رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں…
یہ دونوں
حضرات ان ایام میں خاص طور پر صرف اس لئے بازار جاتے کہ… لوگوں کو’’تکبیر‘‘ کی طرف
متوجہ کریں کہ… یہ ایام اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرنے کے ہیں… چنانچہ آپ بازار
تشریف لے جاتے اور زور زور سے تکبیرات بلند فرماتے… اس پر بازار والے بھی آپ
دونوں کے ساتھ تکبیرات بلند کرنے میں مشغول ہوجاتے … اور حضرت عبداللہ بن زبیر
رحمۃ اللہ علیہ ان مبارک ایام میں پابندی اور باقاعدگی کے ساتھ… ظہر تا
عصر منبر پر جلوہ اَفروز ہوتے اورلوگوںکو حج کے اَحکامات تلقین فرماتے…
خلاصہ یہ
ہے کہ… چونکہ یہ تمام حضرات ان دنوں کی قیمت کو جانتے تھے اس لئے وہ ان دنوں میں
زیادہ سے زیادہ نیک اَعمال کا ذخیرہ اور خزانہ اپنے لئے جمع کر لیتےتھے… اور ان
ایام میں ان حضرات پر عبادت کا ایک خاص حال طاری رہتاتھا… اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس
میں سے کچھ حصہ نصیب فرما دے…
ہر عمل
وزنی اور قیمتی
عشرہ ذی
الحجہ کے فضائل کو تفصیل سے لکھا جائے تو ایک اچھی خاصی کتاب بن سکتی ہے ،رات اللہ
تعالیٰ نے توفیق عطاء فرمائی… قرآن مجید میں تھوڑا سا غور کیا تو اس عشرہ کے بارے
آیات پر آیات سامنے آتی چلی گئیں… اس پر خود حیرانی ہوئی کہ اس موضوع پر اتنی
زیادہ آیات مبارکہ کی طرف پہلے کبھی توجہ نہیں ہوئی تھی… پھر احادیث مبارکہ کو
دیکھنا شروع کیا تو بالکل ممکن لگا کہ صرف اس عشرہ مبارکہ کی فضیلت پر… چالیس
احادیث کا مجموعہ آسانی سے تیارکیاجا سکتا ہے… ارادہ بھی ہوا کہ آج کا’’رنگ
ونور‘‘ عشرہ ذی الحجہ کی چہل احادیث پر آجائے… مگراس کے لئے جگہ زیادہ چاہئے…
اللہ تعالیٰ توفیق عطاء فرمائے کہ چہل حدیث کا یہ مجموعہ الگ کتابچے کی صورت میں
آجائے… خلاصہ یہ ہے کہ یہ دس دن بہت قیمتی ہیں… عام دنوںسے ہزار گنا زیادہ قیمتی…
ان دنوں کا جہاد عام دنوں کے جہاد سے بہت افضل ہے…مبارک ہو انہیں جو یہ دن محاذوں
پر… یا جہادی محنت میں گزارتے ہیں… ان دنوں کا روزہ عام دنوںکے نفلی روزے سے بہت
زیادہ قیمتی ہے … مبارک ہو ان کو جو ان نو دنوں کے روزے کماتے ہیں… خود حضرت
آقامدنی صلی اللہ علیہ وسلم عشرہ ذی الحجہ کے نو روزوں کا مکمل
اہتمام فرماتے تھے… کتب احادیث میں تفصیل موجود ہے…
ہاں! بعض
اوقات کسی عذر کی بنا پر روزہ نہ رکھنے کا تذکرہ بھی’’حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا
‘‘ میں موجود ہے… ان دس مبارک ایام کی تہلیل، تکبیر اور تسبیح عام دنوں کے ذکر سے
بہت افضل ہے… خاص طور پر’’ لا الہ الا اللہ‘‘ اور’’اللہ اکبر‘‘ کی کثرت… اور
’’سبحان اللہ وبحمدہ‘‘… اگر تیسرے کلمے کا اہتمام کر لیا جائے تو اس میں سب کچھ
آجاتا ہے…
اسی لئے
کئی اللہ والے… ان ایام میں صلوٰۃ التسبیح اداء کرتے ہیں…اس میں چار رکعت کے دوران
تین سو بار یہ مبارک کلمات ادا ہو جاتے ہیں… ان دس مبارک ایام کی تلاوت عام دنوں
کی تلاوت سے بہت افضل ہے… مبارک ہو ان لوگوں کو جو ان ایام میں قرآن مجید کو
زیادہ وقت دیتے ہیں… اور اللہ تعالیٰ کے کلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل
کرتے ہیں… اسی طرح اس مبارک عشرے میں توبہ کرنا عام دنوں کی توبہ سے زیادہ افضل،
زیادہ محبوب اور زیادہ قیمتی ہے…خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس عشرے میں گناہوں سے
بچتے ہیں… اور توبہ، اِستغفار کی کثرت کرتے ہیں …اسی طرح اس مبارک عشرہ میں جہاد
پر خرچ کرنا، صدقہ دینا، والدین کی مالی خدمت کرنا… عام دنوں کے خرچ سے بہت افضل
اور بہت قیمتی ہے… خوش بخت ہیں وہ لوگ… جو ان ایام میں اپنی جیب ہلکی اوراپنا نامہ
اعمال وزنی کر لیتے ہیں… جیب تو پھر بھی بھر جاتی ہے مگر ایسے قیمتی دن روز روز
نہیں آتے… اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان دنوںکاحج فرض کے بعد سب سے افضل عمل قربانی
ہے… عام دنوں میں کوئی ایک سو اونٹ بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے ذبح کرے تو وہ دس
ذوالحجہ یعنی عیدالاضحیٰ کے دن ایک بکرے کی قربانی کے برابر نہیں ہو سکتے… جی ہاں!
عیدالاضحی کی قربانی بہت بڑا عمل ہے… اور مسلمانوں کو چاہئے کہ بہت شوق، بہت رغبت
اور بہت کھلے دل کے ساتھ قربانی کیا کریں… شیطان اور اس کے کارندے… قربانی کے خلاف
طرح طرح کے دلائل اور وساوس لاتے ہیں مگر ان کی ایک بھی نہ سنیں، بلکہ بہت اچھی
اور زیادہ سے زیادہ قربانیاں کریں… اور اپنے گھر کے علاوہ ’’الرحمت ٹرسٹ‘‘ کی وقف
قربانی میں بھی اپنا حصہ بڑھ چڑھ کر ڈالیں…آپ کی قربانی کا گوشت اُمت مسلمہ کے
افضل ترین افراد تک پہنچے گا… کسی محترم شہید کے بچوں کا لقمہ بنے گا تویہ… کتنی
بڑی سعادت ہوگی… مال تو ہوتا ہی اس لئے ہے کہ … اس سے جنت خریدی جائے، اس سے آخرت
بنائی جائے… بس بھائیو! اور بہنو! عشرہ ذی الحجہ تشریف لارہا ہے… اس کے آنے سے
پہلے ہی تیاری کر لیں کہ ہم نے اس عشرہ کو کس طرح سے کمانا ہے، کس طرح سے بنانا ہے
اور کس کس طرح سے پانا ہے…اللہ تعالیٰ سے توفیق مانگیں، جسم کو روزے اور عبادت کی
مشقت کے لئے تیار کر لیں …جیب کا منہ کھولیں… جہاد میںمال اور جان لگائیں… قربانی
کھلے دل سے کریں… اور یہ مبارک عشرہ اپنی آخرت کے لئے ذخیرہ کرنے کی ترتیب بنا
لیں…
قرآن
مجید سے ایک جھلک
١ اللہ
تعالیٰ نے اس مبارک عشرہ کی راتوں کی قسم کھائی ہے… جوکہ ان ایام کے لئے بڑی فضیلت
کی دلیل ہے… وَالْفَجْرِ وَلَیَالٍ عَشْرٍ
٢ اللہ
تعالیٰ نے حضرت سیّدنا ابراہیم علیہ السلام سے حج کا اعلان کروایا…
وَأذِّنْ فِیْ النَّاسِ بِالْحَجِّ… اور پھر اسی آیت میں عشرہ ذی الحجہ کو…
’’اَیَّامٍ مَّعْلُوْمَات‘‘ کا لقب عطاء فرمایا…
٣ قرآن
مجید میں حج کے بارے میں جہاں آیات ہیں… وہاں ضمناً ان مبارک ایام کا تذکرہ موجود
ہے…اسلام کا مقدس ’’فریضۂ حج‘‘ انہیں مبارک ایام میں ادا ہوتا ہے… اور حج کے تمام
فرائض عشرہ ذی الحجہ میں ادا ہوتے ہیں… اور بعض مناسک ایامِ تشریق میں…
سبحان
اللّٰہ وبحمدہ سبحان اللّٰہ العظیم
٤ سورۃ
الکوثرمیں… کئی مفسرین کے نزدیک :فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ میں دس ذی الحجہ کی
نماز فجر، یا عید کی نماز اور قربانی کا تذکرہ ہے…
٥ سورۃ
’’وَالصَّافَاتِ ‘‘میں حضرت سیّدنا ابراہیم علیہ السلام کے
خواب… اور اپنے لخت جگر کی قربانی کا واقعہ ہے… یہ سب اسی مبارک عشرہ میں پیش
آیا…
٦ سیّدنا
موسیٰ علیہ السلام کو تیس راتوں کی خلوت کے لئے اللہ تعالیٰ
نے طلب فرمایا… پھر دس دن مزید روک لیا… کئی مفسرین کے نزدیک یہ دس دن عشرہ ذی
الحجہ کے تھے…
٧ دین
اسلام کے مکمل اور کامل ہونے کاعظیم قرآنی اعلان… اور اِتمامِ نعمت کا اعلان اسی
مبارک عشرہ کے ایک دن… یعنی نو ذی الحجہ کو ہوا…اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ
دِیْنَکُمْ
مسک
الختام
آج کی
مجلس کا اختتام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو مبارک احادیث
پر کرتے ہیں، یہ احادیث مبارکہ… اُن تمام باتوں کی واضح دلیل ہیں جو اوپر عرض کی
گئی ہیں…
١ صحیح
بخاری کی روایت ہے، رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا:
’’کسی
بھی دن کا نیک عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک اتنا محبوب نہیں جتنا ان دنوں یعنی عشرہ
ذی الحجہ کا ہے… صحابہ کرام نے عرض کیا… یا رسول اللہ! جہاد بھی نہیں؟ ارشاد
فرمایا! جہاد بھی نہیں مگر یہ کہ کوئی شخص اپنی جان اور اپنا مال لے کر جہاد میں
جائے اور پھر ان میں سے کچھ بھی واپس نہ لائے… (یعنی شہید ہو جائے)‘‘(بخاری)
٢ حضرت
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا:
افضل
ایام الدنیا ایام العشر یعنی عشر ذی الحجۃ
’’دنیا
کے ایام میں سب سے افضل… یہ دس دن ہیں یعنی عشرہ ذی الحجہ‘‘…(صحیح ابن حبان،
البزاز)
لاالہ الااللّٰہ،لاالہ الااللّٰہ،لاالہ الااللّٰہ
محمدرسول اللّٰہ
اللھم صل
علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لاالہ الااللّٰہ
محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اَللّٰہُ
اَکْبَر، اَللّٰہُ اَکْبَر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ… وَ اللّٰہُ اَکْبَر،
اَللّٰہُ اَکْبَر وَ لِلہِ الْحَمْدُ
آج کیا
کالم لکھنا… اور کیا تبصرے کرنا! چھوڑیں بس… تکبیر پڑھتے ہیں تکبیر، اپنے عظیم ربّ
کی بڑائی اور عظمت پکارتے ہیں… ارے بھائیو! تکبیر کہنا، تکبیر پڑھنا بڑا اونچا کام
ہے…
اَللّٰہُ
اَکْبَر، اَللّٰہُ اَکْبَر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ… وَ اللّٰہُ اَکْبَر،
اَللّٰہُ اَکْبَر وَ لِلہِ الْحَمْدُ
حج بیت
اللہ کے دن قریب آگئے ہیں… اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو بار بار حج مبرور نصیب
فرمائے… حج بیت اللہ کا اس عظمت کے ساتھ ہر سال قائم ہونا… یہ اللہ تعالیٰ کی
نشانیوں میں سے ہے…بڑے بڑے فتنے کعبہ شریف کے خلاف اٹھے… کئی بار منحوس طیارے
خطرناک بم اٹھائے روانہ ہوئے… کچھ ظالموں نے روضۂ اطہر اور مسجد نبوی کو ویران
کرنے کی بڑی خوفناک سازشیں کیں… کئی فتنے حج کا معنیٰ مطلب بدلنے کو بھی اٹھے… کئی
بہروپیوں نے حج کے منسوخ ہونے کے فتوے بھی دیئے…حجاز کا وہ خطہ جہاں کعبہ شریف ہے
اسے مکمل طور پر سیلابوں میں گم کرنے کی کوششیں بھی ہوئیں کہ… بس سمندر ہی سمندر
نظر آئے… مگر ساری تدبیریں مکڑی کا جالا بن گئیں… وہ دیکھو! کعبہ شریف کس شان سے
کھڑا ہے اور لاکھوں مسلمان اس کے گرد دیوانہ وار گھوم کر… اللہ تعالیٰ کی وحدانیت
کااور عظمت کا اقرار کر رہے ہیں… مسلمانو! شکر کرو کعبہ شریف بھی تمہارا… اور حج
مبارک بھی تمہارا… تمہارے سوا نہ کسی کے پاس کعبہ نہ کسی کے پاس حج…
اَللّٰہُ
اَکْبَر، اَللّٰہُ اَکْبَر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ… وَ اللّٰہُ اَکْبَر،
اَللّٰہُ اَکْبَر وَ لِلہِ الْحَمْدُ
وہ
دیکھو! عید الاضحیٰ بھی تشریف لارہی ہے… سبحان اللہ، سبحان اللہ! کیا مناظر ہیں…
ہر مسلمان قربانی پیش کرنے کی فکر میں ہے… جانوروں کی منڈیاں ہر سو سجی ہیں… اللہ
تعالیٰ کے نام پر ذبح ہونا بھی سعادت اور اللہ تعالیٰ کے نام پر ذبح کرنا بھی
سعادت… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے سو اونٹوں کی
قربانی پیش فرمائی… ان میں سے اکثر کو اپنے ہاتھ مبارک سے نحر فرمایا… وہ اونٹ خود
آگے بڑھ بڑھ کر… شوق اور بے تابی سے اپنی گردن پیش کرتے تھے… قربانی بندے کو اللہ
تعالیٰ کے قریب کر دیتی ہے… اسی لئے شیطان کے کارندے مسلمانوں کو قربانی سے روکتے
ہیں… کوئی کہتا ہے گوشت ضائع جاتا ہے… کوئی کہتا ہے اس رقم سے غریبوں کا علاج
کرالو… وہ اپنی عیاشیوں بدمعاشیوںمیں سے تو ایک پائی کی کٹوتی کو تیار نہیں… بس
مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کے قُرب سے دور کرنے کیلئے… درد بھری باتیں بناتے ہیں… بس
اتنا یاد رکھیں… ہم بندے ہیں، ہمارا کام اُن کا حکم ماننا ہے… اگر اپنے ذہن سے
اپنا دین بنائیں گے تو مارے جائیں گے…کیونکہ ذہن ناقص ہے… وہ تویہاں تک کہہ سکتا
ہے کہ تم پیدا ہی نہ ہو… تاکہ ماں کو تکلیف نہ ہو… بس قصہ ہی ختم… قربانی کے
مخالفین نے لاکھ زور لگا لئے… مزید بھی لگا رہے ہیں… مگر قربانی اللہ تعالیٰ
کے’’شعائر‘‘ میں سے ہے… سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ کے خاص اور پسندیدہ ترین اعمال
میں سے ہے… اسی لئے تو اتنی سازشوں کے باوجود ماشاء اللہ قربانی بڑھتی ہی جارہی
ہے… وہ کونسی سازش ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت سے بڑی ہو… کوئی نہیں، کوئی
نہیں… اللہ ہی بڑا ہے… اللہ تعالیٰ سب سے بڑاہے…
اَللّٰہُ
اَکْبَر، اَللّٰہُ اَکْبَر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ… وَ اللّٰہُ اَکْبَر،
اَللّٰہُ اَکْبَر وَ لِلہِ الْحَمْدُ
یہ جو دس
دن عشرہ ذی الحجہ کے ہیں… اور پھر ان کے بعد تین دن ایام تشریق کے… ان میں
’’تکبیر‘‘ کی فضیلت بڑھ جاتی ہے… بس یوں کہیں کہ یہ تمام دن’’تکبیر‘‘ کا سیزن ہیں…
یہ تو اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ وہ ہمیں زیادہ سے زیادہ ’’تکبیر‘‘ کہنے کی توفیق
عطاء فرمادے… ورنہ اللہ تعالیٰ کو کیا ضرورت ، کیا حاجت؟… اللہ تعالیٰ کی بڑائی
اور عظمت کسی کے کہنے ،سننے اور ماننے پر موقوف نہیں ہے… اتنا بڑا عرش، بڑے بڑے
آسمان اور زمینیں، سمندر اور بادل… یہ سب اللہ تعالیٰ کی عظمت بیان کرتے ہیں…
طاقتور حکمرانوں کا منٹوں میں ختم یا بے بس ہو جانا… بڑے جابر لوگوں کا کینسر کے
درد سے کڑھنا اور تڑپنا… دن کی جگہ رات… اور رات کی جگہ دن کا آنا جانا… ان میں
سے کچھ بھی انسان کے بس میں نہیں… ہر چیز اللہ ہی اللہ پکارتی ہے… خوش نصیب ہے وہ
انسان جو اللہ تعالیٰ کو یاد رکھے… اور یاد کرے… اور بڑا بد نصیب ہے وہ جو اللہ
تعالیٰ کو بھلا دے… فرمایا: جو ہمیں بُھلا دیتا ہے ہم اسے بُھلا دیتے ہیں…
نَسُوا
اللّٰہَ فَنَسِیَھُمْ
انہوں نے
اللہ تعالیٰ کو بُھلا دیا… تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بُھلا دیا…
اللہ
تعالیٰ کا بُھلا دینا یہ ہے کہ… اب خیر کے دروازے بند، ہر طرف شر ہی شر… صبح شام
کفر، گناہ، بدکاری… اور بُرائی…
نہ کوئی
خیر… نہ کوئی نیکی… نہ کسی اچھے کام کی توفیق… نہ اجر و ثواب کا کوئی موقع… ایک
جانور کی طرح جی کر مرگئے… اور مستقل جہنم کا ایندھن بن گئے… یا اللہ! امان… مگر
وہ جنہیں اللہ تعالیٰ یاد فرماتے ہیں…اُن کو تو ہر قدم پر خیر، ہر قدم پر بھلائی…
اور ہر آن سعادتیں عطاء فرماتے ہیں… جب جس خیر کا موقع آیا… اُن کو اس کی توفیق
عطاء فرمادی…تاکہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے بادشاہ بن جائیں…اب ذی الحجہ آیا تواُن کو
تکبیر پر لگا دیا کہ اپنے رب کا نام بلند کرتے جاؤ… اور خود اپنے رب کے قرب کی
طرف بلند ہوتے جاؤ…
اَللّٰہُ
اَکْبَر، اَللّٰہُ اَکْبَر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ… وَ اللّٰہُ اَکْبَر،
اَللّٰہُ اَکْبَر وَ لِلہِ الْحَمْدُ
حضرات
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو’’تکبیر‘‘ کا بڑا ذوق تھا… دراصل وہ بڑی
محنتوں سے’’تکبیر‘‘ تک پہنچے تھے… وہ جس معاشرے میں اٹھے تھے اس میں… بہت سی چیزیں
’’بڑی‘‘ بن چکی تھیں… اور ایسی بڑی کہ اُن کو چھوٹا کرنے کا کوئی سوچ بھی نہیںسکتا
تھا… بڑے بڑے بت تھے… اور اُن بتوں کے آستانے اور تیر… قبائلی روایات اور خاندانی
فخر و غرور کے پہاڑ… خونریزی اور جھوٹی غیرت کی ناقابل تبدیل رسومات… شیطان کی
صدیوں کی محنت کہ پورا معاشرہ ایک خاص رنگ پر پختہ ہو چکا تھا… اور تبدیلی کادور
دور تک تصور بھی نہیں تھا کہ… اچانک کوہ صفا سے آواز آئی:
قُوْلُوْا
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ
کہہ دو…
صرف اللہ، صرف اللہ، فقط اللہ ہی معبودہے…
کہہ دو…
اللہ اکبر، اللہ سب سے بڑا ہے… اللہ ایک ہے…
یہ کلمات
جو ہم آج آسانی سے لکھ لیتے ہیں، بول لیتے ہیں… اُس وقت آسان نہ تھے… یہ کلمات
اُس وقت سرخ موت اور کالے تشدّد کو پکارنے کے مترادف تھے… حضرات صحابہ کرام رضوان
اللہ علیہم اجمعین نے ان مبارک کلمات کی بہت بھاری قیمت ادا کی … اور
یہ کلمات اپنے خون کے بدلے میں حاصل کئے… چنانچہ انہیں… ان کلمات سے عشق تھا … وہ
جب پڑھتے دل کے یقین… اور دل کی آواز سے پڑھتے… وہ چاہتے تھے کہ اور سب لوگ بھی
ان کلمات تک پہنچ جائیں… اور ان کلمات کو پالیں…
حضرت
سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ … جب منیٰ میں ’’تکبیر‘‘ بلند فرماتے
تو آواز بہت دور تک جاتی… پھراس سچی آواز کو سن کر دوسرے لوگ بھی تکبیر پکارتے
تو وادی گونج اٹھتی… جی ہاں! ایسی بارعب، والہانہ گونج کا تصور آج لاوڈ سپیکر اور
دیگر آلات کی موجودگی میں بھی نہیں کیا جا سکتا…اُدھر حضرت سیّدنا ابو ہریرہ رضی
اللہ عنہ … اور حضرت سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماعشرہ ذی
الحجہ… بازاروں میںنکل جاتے اور لوگوں کو تکبیر کہلواتے… اور یوں بازار تکبیر کی
آواز سے گونجنے لگتے…
اَللّٰہُ
اَکْبَر، اَللّٰہُ اَکْبَر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ… وَ اللّٰہُ اَکْبَر،
اَللّٰہُ اَکْبَر وَ لِلہِ الْحَمْدُ
یاد
رکھیں! تکبیر میں قوت ہے، تکبیر میں طاقت ہے، تکبیر میں سکون ہے… تکبیر میں سکینہ
ہے… اور تکبیر میں عزت ہے…
اللہ
اکبر… اللہ سب سے بڑا ہے… جی ہاں! دنیا کی اُن طاغوتی طاقتوں سے بھی بڑا ہے … جو
خود کو ناقابل شکست سمجھ بیٹھی ہیں… اور ہمیں غلام بنانا چاہتی ہیں… اللہ اکبر،
اللہ اکبر… اللہ تعالیٰ اُن فکروں، غموں اور پریشانیوں سے بھی بڑا ہے… جو ہمیں
گھیر کر دنیا میں پھنسانا چاہتی ہیں…
اللہ
اکبر، اللہ اکبر… اللہ تعالیٰ کی رحمت اُن گناہوں سے بھی بڑی ہے جن کو کرنے کے بعد
بہت سے لوگ مایوسی کی کھائی میں جا گرے کہ… اب معافی نہیں… اور پھر سرتاپا گناہوں
میں پھنس گئے…
الغرض…تکبیر
جوں جوں دل میں اترتی ہے … یہ دنیا، اس کی طاقتیں، اس کے مسائل اور اس کی
پریشانیاں… انسان کے دل میںچھوٹی ہوتی چلی جاتی ہیں… اور انسان آزاد ہو کر… اپنے
رب سے قریب تر ہوتا چلاجاتا ہے…
اَللّٰہُ
اَکْبَر، اَللّٰہُ اَکْبَر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ… وَ اللّٰہُ اَکْبَر،
اَللّٰہُ اَکْبَر وَ لِلہِ الْحَمْدُ
دل تو
نہیں چاہتا کہ’’مجلس تکبیر‘‘ ختم ہو… مگر اختصار مطلوب ہے… الحمدللہ عشرہ ذی الحجہ
میں جہاد کی طرف مسلمانوں کا رجوع بڑھ رہا ہے… حج اور جہاد کا آپس میں بڑا جوڑ
ہے… اہل علم نے خوب کھول کر حج اور جہاد کے جوڑ کو بیان فرمایا ہے … وجہ یہ ہے کہ
قرآن مجید میں… حج کے ساتھ جہاد کا تذکرہ جڑا ہوا ہے… پہلے اَشہر حرم میں جہاد کی
چھٹی تھی… بعد میں عمومی اجازت دے دی گئی … جہاد اور تکبیر کا بھی آپس میں گہرا
جوڑ ہے … جہاد’’تکبیر‘‘ سے قوت پکڑتا ہے… اور’’تکبیر‘‘ جہاد کی برکت سے دور دور تک
گونجتی اور پہنچتی ہے… آج عالم کفر نے بھی الحمدللہ… جہاد کی طاقت کو مان لیا ہے…
اور اب وہ اس طاقت کو مٹانے کی کوشش میں دن رات مِٹ رہے ہیں… ہماری طرف سے تمام
حجاج کرام کو… مبارک… تمام غازیان اسلام کو مبارک…
اور تمام
اُمت مسلمہ کو… عیدالاضحیٰ مبارک
اَللّٰہُ
اَکْبَر، اَللّٰہُ اَکْبَر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ… وَ اللّٰہُ اَکْبَر،
اَللّٰہُ اَکْبَر وَ لِلہِ الْحَمْدُ
لا الہ
الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ، لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللھم صل
علیٰ سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ ہمارا انجام اچھا فرمائے…اور ہمیں دنیا کی ذلت اور آخرت کے عذاب سے بچائے…
اَللّٰہُمَّ
اَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِی الْاُمُوْرِ کُلِّھَا وَاَجِرْنَا مِنْ خِزْیِ
الدُّنْیَا وَعَذَابِ الآخِرَۃِ
بے چاری
بے چاری
’’ملالہ‘‘ پر صلیبیوں نے ’’نوبیل انعام ‘‘ بھی لاد دیا…اُس کا باپ عجیب طرح کی
خوشی کا اظہار کر رہا تھا…توبہ توبہ! اللہ تعالیٰ کسی مسلمان بیٹی یا بہن کو ایسا
باپ نہ دے…اس شخص نے اپنی بیٹی کو کافروں کا تماشہ اور آلہ کار بنا دیا… صرف مال
اور شہرت کی ہوس میں…وہ اپنے انٹرویو میں کہہ رہا تھا ملالہ ہر پاکستانی ماں کی
بیٹی ہے…بالکل غلط،بالکل جھوٹ…پاکستانی ماؤں کی بیٹیاں تو بڑی شان والی ہیں…کتنی
ایسی ہیں جو قرآن مجید کی حافظہ ہیں…سبحان اللہ! …بس ایک آیت بتا دو تو وہ اللہ
تعالیٰ کے عظیم کلام کو زبانی پڑھتی چلی جاتی ہیں…کئی کئی پارے،بغیر رکے ،
بغیراٹکے …قرآن مجید کے انوارات ان کے پاکیزہ چہروں اور آنکھوں میں رچ بس جاتے
ہیں …کاش! ملالہ کا باپ بھی اپنی بیٹی کو یہ عظیم الشان اور بے مثال نعمت حاصل
کرواتا…مگر کہاں؟ وہ بد نصیب تو دن رات اپنی بیٹی کو رسوا کرا رہا ہے… پاکستانی
ماؤں کی بیٹیاں تو بہن عافیہ جیسی ہوتی ہیں …با حیا، باغیرت، علم والیاں،دین
والیاں… اور بہادر…پاکستانی ماؤں کی بیٹیاں تو…باپردہ ایمان والیاں ہیں…ان کے سر
سے اُترا دوپٹا آسمان بھی نہیں دیکھ پاتا…وہ راتوں کی تنہائیوں میں سجدے کرتی ہیں
اور سیّدہ مریم علیہا السلام کی دعاء ہی… ان کی سب سے بڑی امنگ ہے…
رَبِّ
ابْنِ لِیْ عِنْدَکَ بَیْتاً فِی الْجَنَّۃِ
نوبیل
انعام کا منحوس سلسلہ ایک صدی سے کچھ زیادہ عرصہ سے شروع ہے…امن کا پہلا انعام…
سرخ صلیب یعنی ریڈ کراس کے بانی کو ملا … اور اب تک کا آخری انعام… ایک انڈین
ہندو کیلاش…اور ملالہ کو مشترکہ طور پر ملا ہے…ملالہ کے ابا کو افسوس تو ضرور ہو
گا کہ اب…آدھی رقم ملے گی…مگر نوبیل کا نام بڑا ہے…اس پر مزید پیسہ بھی ملتا رہتا
ہے…کاش! ملالہ اللہ تعالیٰ کے دین سے وفاداری کرتی…اللہ تعالیٰ کا انعام ہر انعام
سے بڑا ہے…ساری دنیا کے نوبیل انعام مل کر بھی…استغفار کے ایک آنسو برابر نہیں ہو
سکتے …یہ آنسو جہنم کی آگ کو بجھا دیتا ہے…نوبیل انعام سے نہ تو عمر بڑھتی ہے نہ
موت ٹلتی ہے…نہ رزق بڑھتا ہے اور نہ صحت اچھی ہوتی ہے… الحمد للہ ہماری مسلمان
بیٹیوں کے پاس جو کچھ موجود ہے…نوبیل انعام اس کے سامنے خاک سے بھی زیادہ حقیر ہے…
کلمہ
طیبہ ،نماز، قرآن مجید،پردہ،حیا…ذکر اللہ،درود شریف،استغفار،جہاد کی خدمت… دین کی
خدمت…اے مسلمان بہنو! یہ سب نعمتیں مبارک ہیں…ملالہ لندن،سویڈن،امریکہ،کینیڈا میں
پھرتی رہے…اللہ تعالیٰ آپ کو مکہ شریف لے جائے…مدینہ منورہ لے جائے…اپنا عظیم گھر
دکھائے… شکر کریں وہ بیٹیاں اور بہنیں…جن کو ایسے والدین اور بھائی ملے ہیں جو
…انہیں قرآن مجید کی تعلیم دلواتے ہیں…جو انہیں پردہ اور حیاء کی بات سمجھاتے
ہیں…جو انہیں ذکر اللہ اور جہاد کی بلندیوں سے آشنا کرتے ہیں…جو انہیں آخرت کی
وسعتوں سے متعارف کرتے ہیں…اور جو ان کے دین،ایمان،غیرت اور شان کی حفاظت کرتے
ہیں…
بے چارے
مسلمانوں
کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نصرت ایسی ہمکنار ہوئی ہے کہ …ماشاء اللہ روز نئی
فتوحات،روز نئی ترقی…اور روز نئی خوشخبریاں… یہ سب شہداء اسلام کے خون کی برکت ہے…
اسلام کے لئے جانیں لگیں،خون لگا تو آج الحمد للہ مسلمانوں کے لشکر جس طرف کا رخ
کرتے ہیں …فتوحات ان کے قدم چومتی ہیں…
فلسطینی
مجاہدین نے اس رمضان المبارک میں …اسرائیل کی دم کاٹ دی ہے…عراق و شام میں دولت
اسلامیہ نے ایک نئی دھوم اٹھا دی ہے…افغانستان میں طالبان نے اتحادی لشکر کو بے بس
کر کے رکھ دیا ہے…کشمیر میں مجاہدین کے حملوں اور یلغار نے مودی کے ایسے دانت توڑے
کہ وہ…اب پاکستان پر بمباری اور گولہ باری کر کے اپنی عزت بچانے کی کوشش کر رہا
ہے…سبحان اللہ! فتوحات ہی فتوحات…ہر دن سینکڑوں، ہزاروں لوگ فوج در فوج اسلام میں
داخل ہو رہے ہیں… یورپ چیخ رہا ہے،امریکہ چلا رہا ہے،انڈیا کراہ رہا ہے کہ…مسلمان
عورتوں تک میں… بنیاد پرستی اور شدت پسندی بڑھ رہی ہے…اب یہ بدبودار پروپیگنڈہ ہے
کہ …مسلمان لڑکیاں شادی کے لئے بھاگ بھاگ کر عراق اور شام جا رہی ہیں …کوئی تھوڑی
سی عقل رکھتا ہو تو سوچ سکتا ہے کہ…جسمانی خواہشات کے لئے امریکہ اور یورپ سے بڑھ
کر کھلا میدان اور کہاں مل سکتا ہے؟…کوئی بھی شادی کے لئے نہیں جاتا… جھوٹ سو فی
صد جھوٹ…یہ اسلام کا نور ہے جو خوش نصیب افراد کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے…ان حالات
کو دیکھ کر دشمنان اسلام سخت پریشان ہیں …ان کی صدیوں کی محنت خاک میں مل رہی
ہے…وہ ہر میدان میں پے درپے شکست کھا رہے ہیں…اب ان کے آخری سہارے یہی رہ گئے ہیں
کہ…مسلمانوں میں سے گمراہ افراد کو … پیسہ اور ظاہری عزت دیکر مسلمانوں میں بھیجا
جائے تاکہ وہ…مسلمانوں کو دین اور جہاد سے دور کریں …اسی پریشانی اور بوکھلاہٹ میں
انہوں نے ’’ملالہ‘‘ کو نوبیل انعام دیا ہے…آپ اندازہ لگائیں کہ یہ لوگ کس قدر
حواس باختہ اور پریشان ہیں…ملالہ کا امن کے نوبیل انعام سے کیا تعلق؟ کہاں کا امن
اور کونسا امن؟ دنیا کے کس ملک، خطے، شہر یا محلے میں…اس سترہ سالہ لڑکی نے امن
قائم کیا ہے؟…چلیں شہر اور محلہ چھوڑیں،اس گلی کا نام بتا دیں،جہاں ’’ملالہ‘‘ نے
امن قائم کیا ہو…یا ان مسلح دستوں کا نام بتا دیں جن کے درمیان ملالہ نے صلح
کروائی ہو…یا کم از کم وہ منصوبہ ہی بتا دیں جو ملالہ نے امن کے لئے کسی کے سامنے
پیش کیا ہو؟…
اوبامہ
کو امن کا نوبیل انعام ملا تھا…ہزار اختلاف کے باوجود بہرحال یہ تو سچ ہے کہ اس نے
عراق سے امریکی فوج واپس بلائی تھی…اس کے اس اقدام سے امن قائم نہیں ہوا مگر یہ
ایک بڑا اور مشکل قدم تھا…چلو اس پر اسے نوبیل انعام ملا…ملالہ نے کون سی فوج کس
جگہ سے واپس بلائی ہے؟یاسر عرفات نے اسرائیل کے ساتھ ایک امن سمجھوتہ کیا تھا…وہ
کوئی اچھا اقدام نہیں تھا بہرحال عام دنیا کی نظر میں وہ ایک مشکل اور بڑا فیصلہ
تھا…اس پر اسے امن کا نوبیل انعام ملا…ملالہ نے کس کے ساتھ امن کا سمجھوتہ کیا
ہے؟…ہاں! ممکن ہے اپنے ابو اور امی کے درمیان کوئی صلح کروائی ہو…وہ بھی آج تک
میڈیا پر نہیں آئی…پھر آخر وہ کونسا کارنامہ ہے جس پر اسے دنیا کا اہم ترین
سمجھا جانے والا ایوارڈ دے دیا گیا؟ … جواب واضح ہے کہ کوئی نہیں…بس اسے مسلمانوں
کے خلاف استعمال کرنے کے لئے … زیادہ مؤثر اور زیادہ معتبر بنانے کی ایک فضول اور
ناکام سی کوشش ہے…چنانچہ مغربی میڈیا کو حکم دیا گیا کہ وہ ملالہ کو انعام ملنے کی
خبر اُچھالے… ساتھ ہی یہ دباؤ بھی ڈالا گیا کہ… پاکستان میں اس فیصلے پر خوشی
منائی جائے …منافق قسم کے کالم نویسوں نے بی بی سی وغیرہ پر…طرح طرح کے مضامین لگائے
اور اس بات کا رونا رویا کہ…آخر پاکستان میں ملالہ کو انعام ملنے کی خوشی کیوں
نہیں منائی جا رہی …یہ سب کچھ تین چار دن تک چلتا رہا مگر الحمد للہ! پاکستان میں
اس کا کوئی اثر نہیں دیکھا گیا…میڈیا پر ایک آدھ دن خبر چلی اور بس…حکمرانوں نے
چند رسمی بیانات دئیے اور بس… کچھ بیوقوفوں نے خوشی کے کالم لکھے اور بس… الحمد
للہ نہ یہاں کوئی جشن منایا گیا اور نہ ملالہ کی یاد میں کوئی آنسو گرا…نہ کسی نے
ملالہ کو واپس آنے کی دعوت دی…اور نہ ائیر پورٹوں پر اس کے لئے سرخ قالین بچھے…نہ
یہاں کی بچیوں نے ملالہ کو اپنا آئیڈیل قرار دیا… اور نہ لوگوں نے اس واقعہ کو
کوئی خاص اہمیت دی …اور یوں…الحمد للہ بے چارے دشمنان اسلام کا…کروڑوں ڈالر کا
منصوبہ خاک میں مل گیا… صرف سوشل میڈیا پر تھوڑی سی ٹائیں ٹائیں اور کائیں کائیں
ہوئی…مگر جب سے پرویز مشرف کی سوشل میڈیا مقبولیت کا پردہ چاک ہوا ہے لوگ سوشل
میڈیا کو سنجیدگی سے نہیں لیتے…
اللہ
تعالیٰ نے سورۃ انفال میں سمجھایا ہے کہ… یہ کافر لوگ دین اسلام کے خلاف مال خرچ
کرتے ہیں…مگر پھر اس پر پچھتاتے ہیں…وجہ یہ کہ اتنا مال خرچ کر کے بھی وہ دین
اسلام کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے…
وہ جو
سمجھ رہے تھے کہ…ملالہ کو نوبیل انعام دے کر اسے پاکستان کی مسلمان بچیوں کے لئے
’’ہیرو‘‘ بنا دیں گے…وہ آ کر دیکھ لیں ملالہ اب بھی زیرو ہے…زیرو پلس زیرو…یہاں
کی غیرت مند مسلمان بچیوں کی دعاؤں،ارمانوں … اور آنسوؤں میں…ملالہ نہیں عافیہ
مہکتی ہے…
محترم
بہن جی…عافیہ صدیقی حفظہا اللہ
لا الہ
الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل
علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایک مختصر سورۃ نازل فرمائی ہے…ایک روایت میں آیا ہے کہ
حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے جب بھی دو افراد آپس
میں ملتے تو وہ پہلے ایک دوسرے کو یہ سورۃ سناتے…پھر سلام دعاء ہوتی…حضرت امام
شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں…اگر لوگ قرآن مجید کی صرف اسی
ایک سورۃ میں غور کریں تو یہ اُن کی ہدایت اور اصلاح کے لئے کافی ہو جائے…یہ کونسی
سورۃ ہے؟آپ سب جانتے ہوں گے یہ ’’سورہ ٔوالعصر‘‘ ہے…
وَالْعَصْرِ
اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ
العصر،وقت،زمانہ،عمر
’’والعصر‘‘
کے شروع میں جو ’’واو‘‘ ہے اس کا ترجمہ ہے:
’’ میں
قسم کھاتا ہوں‘‘
اور
’’العصر‘‘ کہتے ہیں زمانے کو…وہ وقت اور زمانہ جس میں انسان کوئی خیر کا کام کرتا
ہے یا گناہ کا کام کرتا ہے…اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں … میں زمانے کی قسم کھاتا ہوں
کہ انسان یقیناً خسارے میں ہے…خسارہ یعنی نقصان…وقت گیا، انسان گیا، وقت ختم انسان
ختم …نہ بادشاہ،بادشاہ رہا نہ افسر،افسر…نہ کوٹھی کا مالک اپنی کوٹھی کا مالک
رہا…اور نہ جائیداد کا مالک اپنی جائیداد کا … ایک منٹ پہلے جو سب کچھ تھا وقت ختم
ہوتے ہی کچھ نہ رہا…وہ جو بڑا باخبر تھا اب خود ’’خبر‘‘ بن گیا…وہ جو ہر طرف اڑتا
پھرتا تھا اب ایک ’’قبر‘‘ بن گیا…جو کچھ بنایا تھا وہ سارا ’’اِدھر‘‘ رہ گیا…
آہ! جن
چیزوں پر اپنی عمر لگائی،اپنا زمانہ لگایا…وہ سب کچھ ایک منٹ میں ہاتھ سے نکل
گیا…ارشاد فرمایا:
’’میں
قسم کھاتا ہوں زمانے کی کہ بے شک انسان خسارے میں ہے‘‘…
ٹائم بم
ایک بم
ہوتا ہے جسے ٹائم بم کہتے ہیں…اس میں گھڑی یا کوئی آلہ لگا کر ایک وقت مقرر کر
دیتے ہیں…چند منٹ یا چند گھنٹے یا چند دن… وہ مقرر کیا ہوا وقت جب آ جاتا ہے تو
دو تاریں آپس میں ٹکراتی ہیں اور بم پھٹ کر ختم ہو جاتا ہے…اللہ تعالیٰ نے انسان
میں بھی ایک گھڑی ایک آلہ لگا دیا ہے…کسی میں چند منٹ کا…کسی میں چند گھنٹوں کا
…کسی میں چند مہینوں اور چند سالوں کا… جب مقررہ وقت آ جاتا ہے تو…روح کو جسم کی
ڈبیا میں روکنے والی پن ہٹا دی جاتی ہے…اور پھر قصہ ختم… اب ایک منٹ کے لئے بھی
مہلت نہیں ملتی کہ انسان کچھ کر سکے…دھماکہ ہوا اور بم پھٹ گیا… معلوم ہوا کہ
انسان نام ہے کچھ وقت کا…اس وقت میں سے جتنا وقت کم ہوتا جاتا ہے… انسان بھی اسی
قدر کم ہوتا جاتا ہے…کوئی ساٹھ سال کی عمر لایا تھا اب چالیس گذر گئے تو یہ اب بیس
سال کا رہ گیا…کوئی دس ہزار دن لایا تھا آج اس کے نو ہزار نو سو نناوے دن گذر گئے
ہیں تو اب یہ ایک دن کا انسان رہ گیا ہے…کھا رہا ہے،پی رہا ہے،ہنس رہا ہے،بڑے بڑے
سودے کر رہا ہے…بلڈنگ خرید رہا ہے،زمین اور باغ خرید رہا ہے…کسی کو پھنسا رہا
ہے،کسی سے وعدے کر رہا ہے… کسی سے جھوٹ بول رہا ہے …کسی کو دھوکہ دے رہا ہے…کسی سے
دس سال کا قرضہ لے رہا ہے… کسی سے بیس سال کا ٹھیکہ لے رہا تھا… جب کہ اس کی سوئی
آخری دن کی گنتی کر رہی ہے… اگلے دن وہ گنتی پوری ہو گئی…اور یہ قبر میں جا
لیٹا…سارے کھیل تماشے ختم…
مالک نے
ارشاد فرمایا…
’’میں
زمانے کی قسم کھاتا ہوں انسان گھاٹے میں ہے‘‘…
زمانہ
گواہ ہے
اللہ
تعالیٰ نے زمانے کی قسم کھا کر…یہ بھی ارشاد فرما دیا کہ …انسان کے گھاٹے اور
خسارے کی کہانی تمہیں اگر سمجھ نہیں آتی تو…زمانے سے پوچھ لو…آج جو زندہ ہے اسے
تو ایک ’’لمحہ ‘‘مرنے کا خیال نہیں آتا…مگر تھوڑا سا پیچھے تو جھانک کر دیکھو…جن
مکانوں میں تم بیٹھے ہو ان کے نیچے تم جیسے بلکہ تم سے زیادہ بھر پور زندگی گزارنے
والوں کی لا تعداد لاشیں خاک بن چکی ہیں…بڑے بڑے منصوبہ ساز عقلمند گذرے وہ بھی مر
گئے… بڑے نامور حکمران آئے وہ بھی مر گئے…اپنی خاطر دوسروں کو قتل کرنے والے جابر
آئے وہ بھی مر گئے…اپنے جادو سے زمین ہلانے والے جادوگر آئے وہ بھی مر
گئے…ستاروں پر کمندیں ڈالنے والے ماہرین فلکیات اور سائنس دان بھی مر گئے…مسیحا کا
لقب پانے والے حکیم، طبیب اور ڈاکٹر بھی مر گئے…اپنے ناز اور انداز سے دوسروں کو
مارنے والے حسین بھی مر گئے…فخر و تکبر میں گردن نہ جھکانے والے سرکش بھی مر
گئے…ہر طرف موت ہی موت ہے،ڈیڑھ دو سو سال پرانا کوئی شخص زندہ نظر نہیں آ رہا…اور
اگلے سو پچاس سال میں…آج موجود سب لوگ بھی خاک ہو جائیں گے…
اللہ
تعالیٰ نے اعلان فرما دیا…
’’میں
زمانے کی قسم کھاتا ہوں کہ انسان سراسر نقصان میں ہے‘‘…
نقصان
اور خسارے کا معنی ہے ’’کمی‘‘…ہر منٹ گذرنے کے ساتھ انسان کم ہو جاتا ہے … اس کی
عمر کم ہو جاتی ہے…یہ نقصان نہیں تو اور کیا ہے؟…
رحمت
والا اِلّا
عربی
زبان میں ’’اِلّا‘‘ کے معنی ہیں ’’مگر‘‘ … اللہ تعالیٰ صرف یہی فرماتے کہ سب انسان
خسارے میں ہیں تو …بس اتنے الفاظ سن کر ہی لوگوں کے دل پھٹ جاتے مگر رحمت والے رب
نے نہایت رحمت کے ساتھ… ’’اِلّا‘‘ فرما دیا …کہ ہاں! مگر کچھ لوگ خسارے
میں نہیں ہیں … وہ ہرگز گھاٹے میں نہیں ہیں…وقت کا گذرنا ان لوگوں کو ’’کم‘‘ نہیں
کرتا…زمانے کا گذرنا ان لوگوں کا کچھ نہیںبگاڑ سکتا…حتیٰ کہ پوری عمر کا ختم ہو
جانا بھی ان لوگوں کے لئے خسارے کی کوئی بات نہیں ہے…بلکہ یہ لوگ کامیاب ہیں،
کامران ہیں…ان کا جینا بھی نفع والااور ان کا مرنا بھی نفع والا…وقت کے سال تو کیا
صدیاں بھی انہیں پرانا نہیں کر سکتیں…ہاں! بے شک سب لوگ خسارے میں ہیں مگر یہ لوگ
جن کا تذکرہ ’’اِلّا‘ ‘ کے بعد آیا ہے یہ نفع ہی نفع میں ہیں…انہوں نے تھوڑا لگا
کر زیادہ پا لیا…انہوں نے ادنیٰ قربان کر کے اعلیٰ حاصل کر لیا…انہوں نے اللہ
تعالیٰ کے دئیے ہوئے زمانے کی قدر کی…اور اس مختصر زمانے کی مختصر محنت کے ذریعے
…ہمیشہ ہمیشہ کے عیش و آرام اور کامیابی کو پا لیا…
یہ خوش
نصیب کون؟
فرمایا:
’’وَالْعَصْرِ‘‘ میں قسم کھاتا ہوں زمانے کی ’’اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ‘‘
یقیناً انسان خسارے میں ہے…سارے انسان خسارے میں ہیں…’’اِلَّاالَّذِیْنَ‘‘ مگر وہ
لوگ ہرگز خسارے میں نہیں ’’اٰمَنُوْا‘‘ جو ایمان لائے’’ وَعَمِلُواالصَّالِحَاتِ‘‘
اور انہوں نے نیک اعمال کئے ’’وَتَوَاصَوا بِالْحَقِّ‘‘ اور انہوں نے حق کی دعوت
دی ’’وَتَوَاصَوا بِالصَّبْرِ‘‘ اور صبر کی دعوت دی…سبحان اللہ! خسارے سے بچنے کا
نصاب معلوم ہو گیا…
ایمان لے
آؤ…ایمان لانے کے بعد جن اچھے کاموں کا حکم ہے ان میں لگے رہو…دوسروں کو حق کی
دعوت دو…حق پر ڈٹے رہو،مضبوط رہو،ثابت قدم رہو اور دوسروں کو بھی مضبوطی اور ثابت
قدمی کی دعوت دیتے رہو…
سب سے
پہلے ایمان کو سمجھنا ہے…دل میں اتارنا ہے…اعمال صالحہ معلوم کرنے ہیں اور اپنا
وقت ان میںلگانا ہے…حق کی دعوت کو ہر کسی تک پہنچانا ہے… اب تکلیفیں آئیں
گی،آزمائشیں آئیںگی…وساوس آئیں گے … مجبوریاں آئیں گی…بڑھاپا آئے گا…مایوسیاں
آئیں گی…فتنے آئیں گے…تب بھاگ نہیں جانا، بیٹھ نہیں جانا،گھبرا نہیں جانا…بلکہ
خود بھی ڈٹے رہنا ہے اور دوسروں کو بھی استقامت کی طرف بلانا ہے…
بس یہ ہے
کامیابی کا نسخہ…جو اس پر اپنا وقت لگائے گا وہ کامیاب ہو جائے گا…اور جو اس میں
کمی کرے گا اس کی کامیابی بھی کمزور ہو جائے گی…اور جو اس نسخہ کو نہیں اپنائے
گا…وہ دنیا میں جتنا بھی کامیاب سمجھا جائے وہ ناکام ہے…بالکل ناکام ہے…یا اللہ
ناکامی سے بچا…
ایک عجیب
نکتہ
کامیابی
بس ان چار چیزوں ہی میں ہے…اور کسی چیز میں نہیں…
فرعون کی
اس دنیا میں ہر خواہش پوری ہوئی …مگر وہ ناکام…اور حضرت سیدنا اویس قرنی رضی اللہ
عنہ کی کوئی خواہش بھی پوری نہ ہوئی…حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے زمانے میں ہونے کے باوجود ایسی مجبوری آئی کہ …حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار سے محروم
رہے…مگر کامیابی کا نسخہ مکمل تھا…ایسے کامیاب ہوئے کہ حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جلیل القدر صحابہ کرام
رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا کہ… اویس سے ملنا اور ان سے دعاء
کروانا…
حضرت
نوح علیہ السلام کی بیوی کی شادی ہوئی…خاوند بھی ایسے کامل
مکمل انسان ملے … اللہ کے جلیل القدر نبی اور رسول…حضرات انبیاء علیہم
السلام روحانی حسن کے ساتھ ساتھ جسمانی حسن میں بھی کامل ہوتے ہیں…مگر
یہ عورت ناکام ہو گئی، جہنم میں جا گری…جبکہ حضرت مریم علیہا
السلام کی شادی ہی نہ ہوئی…مگر کامیابی کا نسخہ مکمل تھا تو آج بھی ان
کی کامیابی کے ہر طرف چرچے ہیں…اس پر کسی نے یہ عجیب جملہ لکھا ہے…
آج کی
مسلمان لڑکیوں نے شادی کو ہی کامیابی سمجھ لیا ہے…اور اسی کی فکر میں روتی کڑھتی
رہتی ہیں…کیا انہوں نے حضرت مریم علیہا السلام کو نہیں دیکھا…کامیابی
ایمان، اعمال صالحہ،حق کی دعوت اور صبر میں ہے…کاش آج کی ہر مسلمان لڑکی اپنا وقت
انہیں چار کاموں میں لگائے…شادی میں خیر ہو گی تو خود دروازے پر آ جائے گی…خیر
نہیں ہو گی تو ایسی شادی عذاب ہے…کتنی شادی شدہ عورتیں شادی کے بعد برباد ہو
گئیں…اور جن کی شادی میں تاخیر ہو رہی ہے وہ بھی…نا شکری،بے صبری نہ کریں… خود کو
بد نصیب نہ سمجھیں… حضرت سیّدہ خدیجہ رضی اللہ عنہاسالہا سال سے بیوہ بیٹھی تھیں…
صبر کا پھل ان کو ایسا ملا کہ حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کی زوجہ مطہرہ بنیں…اور آج تک زمانہ ان پر رشک کرتا ہے…
جماعت کی
نعمت
کامیابی
کے چار نکاتی نصاب پر عمل ’’جماعت‘‘ کی برکت سے آسان ہو جاتا ہے…
حدیث
شریف میں آیا ہے
اَلْجَمَاعَۃُ
بَرَکَۃٌ
جماعت
برکت ہے…
ہم الحمد
للہ اس برکت کا کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے ہیں کہ …جو کام انسان صدیوں میں
نہیں کر سکتا وہ جماعت کی برکت سے ہفتوں اور مہینوں میں ہو جاتا ہے…کیونکہ جماعت
کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہوتا ہے…ارشاد فرمایا
یداللّٰہ
مع الجماعۃ
اللہ
تعالیٰ کا ہاتھ…یعنی اللہ تعالیٰ کی مدد جماعت کے ساتھ ہوتی ہے…دوسری روایت میں
’’یداللّٰہ علی الجماعۃ‘‘ کے الفاظ ہیں…جن کا مطلب یہ کہ جماعت اللہ تعالیٰ کی
حفاظت میں ہوتی ہے…اسی لئے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ
عنہ فرماتے ہیں…
’’فان
الفرقۃ ھلکۃ والجماعۃ نجاۃ‘‘
تفرقہ
ہلاکت ہے اور جماعت ’’نجات‘‘ ہے…ایک اور روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت کی برکت
سے انسان،خیانت،دل کے کینے اور نقصان سے محفوظ رہتا ہے،جماعت کی دعوت کلمہ طیبہ
ہے…جو ایمان ہے…نماز کی اقامت یہ اعمال صالحہ کا سرتاج ہے…اور جہاد فی سبیل اللہ
جو اعمال صالحہ کی بلند چوٹی،حق کی عملی دعوت اور صبر کا اصل میدان ہے…جماعت ہمیں
ان کاموں میں لگائے رکھتی ہے اور یوں ہماری زندگی کا زمانہ اور وقت قیمتی بنتا
ہے…وگرنہ یہی وقت گناہ، غیبت، سازش، جھوٹ اور فتنے میں ضائع ہو سکتا ہے…
یا اللہ
ہم سب کی ’’خسارے‘‘ سے حفاظت فرما…آمین یا ارحم الراحمین
لاالہ
الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل
علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں اور سلام نازل ہوں،حضرت سیّدنا امیر المؤمنین عمر بن
خطاب پر… رضی اللہ تعالیٰ عنہ…سلام اللّٰہ علیہ ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ…جزاہ اللّٰہ
خیر الجزاء عنا وعن امۃ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم…
لیجئے!
نیا اسلامی ہجری سال شروع ہو چکا ہے …اس کا نام ہے 1436ھ…
ہجری سال
اور ہجری تقویم یعنی کیلنڈر کا آغاز…حضرت سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ
عنہ نے فرمایا… اس سال 1436ھ میں جب ’’چھ‘‘ کا ہندسہ نظر آیا تو نبوت
کا چھٹا سال یاد آ گیا…دل نے خوش فالی لی کہ جس طرح 6 نبوی میں مسلمانوں کو ایک
عظیم خوشی ،طاقت اور فتح ملی تھی…تو ان شاء اللہ 1436ھ بھی مسلمانوں کے لئے خوشی
اور فتوحات کا سال ہو گا…یہ کوئی پیشین گوئی نہیں بلکہ ایک آرزو ہے، ایک دعاء ہے…
’’یا
اللہ! اس نئے سال کو امت مسلمہ کے لئے خوشی اور فتوحات کا سال بنا دیجئے‘‘
نبوت کے
چھٹے سال صرف تین دن میں مسلمانوں کو دو بڑی خوشیاں اور کامیابیاں ملیں… پہلی یہ
کہ عرب کے مثالی بہادر شہسوار،حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کے حسین و جمیل اور با کمال چچا محترم…حضرت سیّدنا
حمزہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول فرمایا…
اس وقت
مسلمان مردوں کی تعداد چالیس تک بھی نہیں پہنچی تھی…بس مظلومیت تھی اور صبح شام کا
دردناک تشدد…حضرت سیّدنا حمزہ رضی اللہ عنہ مسلمانوں کی
جماعت میں شامل ہوئے تو یہ جماعت یکایک ایک طاقت بن گئی…آغاز اس قوت کا اس وار سے
ہوا جو حضرت سیّدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے ابو جہل کے سر پر
کیا اور اس ملعون کو لہولہان کر دیا…مسلمان مکہ میں بھی اپنی طاقت اور بساط کے
مطابق لڑتے تھے…کئی واقعات سیرت کی کتب میں موجود ہیں…مگر عمومی حکم ہاتھ روکنے
اور نماز قائم کرنے کا تھا…باقاعدہ جہاد کی اجازت نہ تھی…ہاں! دفاع کا حق اسلام نے
کسی مسلمان سے ایک دن کے لئے بھی نہیں چھینا…حضرت سیّدنا حمزہ رضی اللہ
عنہ کے مسلمان ہونے پر حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم اور آپ کے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین کو جو خوشی ہوئی ہو گی…اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا
سکتا…اللہ کی شان دیکھیں! اس خوشی کو تین دن ہوئے تھے کہ حضرت سیدنا عمر بن
خطاب رضی اللہ عنہ …حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کے زیر اقامت گھر کے دروازے پر پہنچ گئے…اندر موجود صحابہ
کرام نے یہ سمجھا کہ حملہ کرنے آئے ہوں گے تب حضرت حمزہ رضی اللہ
عنہ کی تلوار چمکنے لگی کہ آنے دو…نیت اچھی ہے تو مرحبا! اور اگر کوئی
اور ارادہ ہے تو پھر آج زندہ واپس نہ جائیں گے…حضرت عمر رضی اللہ
عنہ اس وقت ستائیس سال کے ایک دراز قد،معاملہ فہم ،عزتمند اور بے حد
بہادر نوجوان تھے…اتنی سی عمر میں سرداران قریش میں ان کا شمار ہو تا تھا… رعب ،
وجاہت،فصاحت اور ذہانت ایسی تھی کہ…اس وقت وہ اہل مکہ کے باقاعدہ سفیر تھے…باہر سے
آنے والے حکام اور سفراء سے مذاکرات آپ کی ذمہ داری تھی…طبیعت شروع سے مضبوط
تھی… اپنے آباء و اجداد کے دین پر پکے تھے اور اسلام سے سخت دشمنی تھی…روایات میں
آیا ہے کہ حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے…ایک
جمعہ کی رات آپ کو اللہ تعالیٰ سے مانگ لیا…سبحان اللہ! کیسی عظیم سعادت ہے…اسلام
کی عزت کے لئے سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو مانگا گیا…
دعاء
قبول ہوئی…کچھ حالات و واقعات ایسے بنے کہ دل پر اسلام کا نور چمکا…وہ دل جو ازل
سے بناہی اسلام کے لئے تھا فوراً کلمہ طیبہ کے لئے مچل اٹھا…بارگاہ نبوت میں حاضری
ہوئی…اسلام قبول کرنے کا اعلان فرمایا تو مظلوم مسلمانوں نے بے اختیار ایسا بلند
آہنگ نعرہ لگایا کہ پورا مکہ گونج اٹھا…
اَللہُ
اَکْبَر کَبِیْراً…اَللہُ اَکْبَر کَبِیْراً…اَللہُ اَکْبَر کَبِیْراً…
اسلام
قبول کرتے ہی عرض کرنے لگے کہ…جب ہم حق پر ہیں تو پھر کعبہ شریف میں کھلم کھلا سب
کے سامنے نماز ادا کریں گے…چالیس مسلمانوں کا قافلہ گھر سے دو صفوں کی صورت میں
نکلا…ایک صف کی کمان حضرت سیّدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور
دوسری صف کی قیادت حضرت سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ
عنہ فرما رہے تھے…
سبحان
اللہ! حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثاروں
کا پہلا باضابطہ قافلہ سوئے حرم جا رہا تھا… حضرت آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم کی امارت اور امامت میں جب یہ قافلہ حرم شریف کو بڑھ
رہا ہو گا تو …یقیناً آسمان بھی جھک جھک کر زمین کو شوق سے دیکھتا اور اس کی قسمت
پر رشک کرتا ہو گا…حرم شریف میں روئے زمین کے قدسیوں کا یہ قافلہ داخل ہوا تو
مشرکین مکہ ہکّے بکّے رہ گئے…وہ پریشان ہو کر ایک دوسرے سے پوچھتے تھے کہ … یہ سب
کیسے ممکن ہوا؟…معلوم ہوا کہ عمر بن خطاب مسلمان ہو چکے ہیں…تب مشرکین مکہ دل پکڑ
کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے آج اسلام اور مسلمانوں نے ہم سے عبرتناک بدلہ لے لیا
ہے…اس دن سے لے کر یکم محرم 24ھ کا وہ دن جب حضرت عمر رضی اللہ
عنہ کی روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے
قرب میں تدفین ہو رہی تھی…اسلام بڑھتا گیا،اسلام بلندیوں کی طرف چڑھتا گیا… اسلام
طاقتور ہوتا چلا گیا…اور اسلام دنیا میں پھیلتا چلا گیا…حضرت سیّدنا
عمر رضی اللہ عنہ اسلام کی اس عزت اور ترقی میں اپنا عظیم
حصہ ہر دن اور ہر رات پاتے چلے گئے…وہ کون سی سعادت ہے جو آپ نے حاصل نہ کی…وہ
کون سا مقام ہے جسے آپ نے پیچھے نہ چھوڑا…اور وہ کون سی خیر ہے جس میں آپ کا حصہ
شامل نہ ہوا…اے مسلمانو! سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے
احسان کو سمجھو،دیکھو اور تسلیم کرو…اللہ تعالیٰ نے ’’حق‘‘ اور ’’عمر‘‘ کو لازم
ملزوم بنا دیا…اور حق کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زبان اور
آپ کے دل پر ڈال دیا…اب جہاں ’’عمر ‘‘ ہوتے ہیں حق بھی وہیں ہوتا ہے…اور جہاں حق
ہوتا ہے ’’عمر‘‘ بھی وہیں ہوتے ہیں…جو اسلام قبول کرنے کے بعد سیّدنا
عمر رضی اللہ عنہ سے جڑ گیا اس نے حق کے راستے کو پا
لیا…اور جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کٹ گیا وہ حق سے بہت
دور جا گرا…اللہ تعالیٰ حضرت علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کو جزائے خیر
عطاء فرمائے…آپ نے حضرت سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ
عنہ کے مناقب پر چالیس احادیث کا ایک مجموعہ مرتب فرمایا ہے…ہر مسلمان
کو یہ مجموعہ پڑھنا چاہیے تاکہ ہم حق کے ساتھ دل کی محبت سے جڑے رہیں…علامہ سیوطی
رحمۃ اللہ علیہ نے کمال یہ فرمایا ہے کہ اس مجموعے کی پہلی حدیث حضرت
علی رضی اللہ عنہ سے لائے ہیں…
عن علی
کرم اللّٰہ وجہہ ان رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ
وسلم قال: ابو بکر و عمر سیدا کہول اہل الجنۃ من الاولین
والآخرین ما خلا النبیین والمرسلین
حضرت
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’ابو
بکر و عمر رضوان اللہ علیہم اجمعین جنت کے تمام پکی عمر والوں کے سردار ہیں…انبیاء
اور رسولوں کے علاوہ تمام اولین و آخرین کے‘‘…
اس
مجموعہ میں ایک روایت یہ بھی ہے:
عمر منی
وانا من عمر والحق بعدی مع عمر حیث کان
ارشاد
فرمایا:
’’عمر
مجھ سے ہیں اور میں عمر سے ہوں اور میرے بعد حق ہرحال میں عمر کے ساتھ ہے‘‘…
حضرت
عمر رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب بے شمار ہیں…آپ روحانی
دنیا کے بادشاہ اور تاجدار ہیں…شیطان ہمیشہ آپ کے نام تک سے ڈرتا ہے…روایات سے
ثابت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مسلمان ہونے کے بعد
شیطان جب بھی آپ کے سامنے آیا تو فوراً منہ کے بل زمین پر جا گرا… حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک فرمایا کہ اللہ
تعالیٰ نے عرفات کے دن فرشتوں کے سامنے تمام اہل عرفہ پر فخر فرمایا… اور پھر خاص
طور پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر فخر فرمایا…اللہ
تعالیٰ اپنے جس بندے پر فخر فرماتے ہیں تو مسلمانوں پر بھی لازم ہے کہ… ان سے محبت
پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں…اور اگر کسی مسلمان کے دل میں…حضرت عمر رضی اللہ
عنہ سے کچھ دوری ہو تو وہ استغفار کرے…توبہ کرے…اپنے دل کو شیطانی
اثرات سے پاک کرے…حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا:… ’’جو عمر سے بغض رکھتا ہے وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے…‘‘
حضرت
سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ …حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کے جلیل القدر صحابی،حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کے زمین پر وزیر…حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کے محترم سسر اور…حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کے اہل بیت میں سے ہیں…آپ سابقین اوّلین مہاجرین میں سے
ہیں…آپ اصحاب بدر میں سے ہیں…آپ ان میں سے ہیں جو احد کے دن پسپائی کے وقت آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ڈٹے رہے…آپ اصحاب بیعت رضوان میں سے
ہیں…آپ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں…آپ الہام و کشف کی دنیا کے امام…اور فطری طور پر
اللہ تعالیٰ کی رضامندی والے کاموںکی سمجھ رکھنے والے ہیں…آپ امیر المومنین اور
اسلام کے نامور فاتح ہیں…مصر کی عورتیں آپ کے ایک مختصر خط کی برکت کو …آج بھی
یاد کرتی ہیں…ورنہ دریا چلانے کے لئے ان کو زندہ دریا برد کیا جاتا تھا…ہر عفت
مآب خاتون جب پردے کے انوارات پاتی ہے تو سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ
عنہ کو دعائیں دیتی ہے…
آپ نے
زمین پر ایسی خلافت قائم کی کہ…چودہ سو برس سے زائد کا عرصہ گذر گیا کوئی بھی ایسی
حکومت قائم نہ کر سکا…آپ کی روحانی قوت کا حال یہ تھا کہ ہزاروں میل دور بیٹھ کر
اپنے لشکروں کو خود چلاتے اور ان کے لئے راستے ہموار کراتے اور انہیں خطرات سے
آگاہ کرتے تھے…آپ نے جس شخص کو بھی کوئی عہدہ دیا اس سے صحابہ کرام کی موجودگی
میں یہ عہد لیا کہ…وہ عیاشیوں اور دنیا داریوں میں نہیں پڑے گا…سواری اور کھانے
پینے تک میں سادگی اختیار کرے گا…اور اس کا دروازہ ہر وقت رعایا کے لئے کھلا رہے
گا…آپ روئے زمین کے بادشاہ تھے مگر جب خطبہ دینے کھڑے ہوتے تو کُرتے پر کئی کئی
پیوند نظر آتے…ان تمام فضائل و اعمال کے باوجود…اللہ تعالیٰ کے خوف اور خشیت کا
یہ عالم تھا کہ زیادہ رونے کی وجہ سے چہرے پر آنکھوں کے نیچے باقاعدہ آنسوؤں کے
نشانات پڑ چکے تھے…اسلام قبول کرنے کے بعد سے آپ کی ایک بڑی خواہش یہ تھی کہ…آپ
کو شہادت کی موت نصیب ہو…شہادت کی فضیلت کی یہ ایک بڑی دلیل ہے کہ حضرت سیّدنا
عمر رضی اللہ عنہ جیسے عظیم صاحب علم اس کی شدید خواہش اور
تمنا رکھتے تھے…غزوہ احد کے دن آپ نے اپنی زرہ اپنے بھائی کو دینا چاہی تو انہوں
نے فرمایا…بھائی! آپ اپنے لئے جو چاہ رہے ہیں مجھے بھی اسی کی خواہش ہے…یعنی
شہادت پھر دونوں بھائی بغیر زرہ میدان میں اتر گئے…آخری حج اپنی محترم ماؤں یعنی
امہات المومنین کو بھی کرایا…واپسی پر گڑگڑا کر شہادت مانگی مگر ساتھ یہ بھی
کہ…مدینہ منورہ میں یہ نعمت ملے…مدینہ منورہ امن کا گہوارہ…اور ہر طرف سے محفوط
تھا بظاہر وہاں شہادت ملنے کی کوئی صورت نہ تھی مگر اللہ تعالیٰ نے انتظام فرما
دیا…اللہ تعالیٰ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی برکات ہم سب کو
اور اُمتِ مسلمہ کو وافر عطاء فرمائے…آمین یا ارحم الراحمین
لا الہ
الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
وصلی
اللّٰہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا محمد والہ
وصحبہ
وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ ’’صبر‘‘کرنے والوں کے ساتھ ہے…
اِنَّ
اللّٰہَ مَعَ الصَّابِرِیْنَ
اللہ
تعالیٰ ’’صبر‘‘ کرنے والوں سے محبت فرماتے ہیں…
وَاللّٰہٗ
یُحِبُّ الصَّابِرِیْنَ
ایک نظر
دنیا پر
* خبروں
پر نظر ڈالی تو ہر طرف ماتم ہی ماتم نظر آیا…زندگی مفلوج،موبائل بند،سیکورٹی الرٹ
اور ماتم رواں دواں…حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم اور
آپ کے آل و اصحاب دنیا سے ماتم ختم کرنے کی کوشش فرماتے رہے…مشرکین ’’ماتم‘‘ کے
عادی تھے اسلام نے پابندی لگا دی…اسلام نے شہادت کو اعزاز اور تمغہ قرار دیا…شہداء
کا مقام ایسا اونچا فرمایا کہ ہر مخلص مسلمان شہادت کا طلبگار ہوا…مگر پھر کچھ لوگ
ماتم لے آئے…اس ماتم کا اسلام سے کچھ تعلق نہیں…
* واقعہ
کربلا اسلامی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے…حضرت سیّدنا حسین رضی اللہ
عنہ کو سلام،تمام شہداء کربلا کو سلام،قافلہ سیّدنا حسین رضی
اللہ عنہ کی عظیم پاکیزہ خواتین کو سلام…بہت بڑی قربانی ہے،بہت ہی
بڑی…اور یہ قربانی خالص دین اسلام کے لئے ہے…اس قربانی کا تصور کرتے ہی دل روتا ہے
اور ان عظیم ہستیوں کو کانپتے ہوئے خراج عقیدت پیش کرتا ہے…اس واقعہ میں ہم بس
اتنا ہی جانتے ہیں اور بس اتنا جاننے میں ہی اپنی نجات سمجھتے ہیں کہ…حضرت سیّدنا
حسین رضی اللہ عنہ ’’حق‘‘ پر تھے…آپ کا موقف سچا اور برحق تھا…اور آپ
نے جو کچھ کیا وہ سب ٹھیک اور درست تھا…ہم حضرت سیّدنا حسین رضی اللہ
عنہ کو…مشکوک تاریخی تحقیقات کے کٹہرے میں کھڑا کرنا جرم گستاخی اور بے
ادبی سمجھتے ہیں…بلکہ اس موضوع پر ہر روز نئی تحقیق، نئے مطالعہ اور نئے انکشافات
کو بھی ایک مرض اور فتنہ سمجھتے ہیں…جو لوگ اس مرض اور اس فتنے کا شکار ہیں وہ آل
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو نہ سمجھ
سکے…انہیں چاہیے کہ توبہ کریں، اپنے دل پاک کریں، ایسی عظیم پاکیزہ ہستیوں کے لئے
اپنے دل میں بغض اور اعتراضات لے کر مریں گے تو …قیامت کے دن کیا منہ لے کر حاضر
ہوں گے…تاریخ بہت جھوٹ بکتی ہے…واقعات کو ہر انسان اپنے تناظر سے نقل
کرتا ہے…ہماری آنکھوں کے سامنے بے شمار ایسے واقعات ہیں جنہیں ہر
انسان اپنی سوچ کے مطابق بیان کرتا ہے…ہم پر لازم ہے کہ ہمیں ان سے پیار ہونا
چاہیے جن سے ہمارے محبوب آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کو پیار ہے…اور ہم ہر ایسی بات سے دور رہیں جو اس پیار اور
محبت کو پھیکا یا کمزور کرنے والی ہو…واقعہ کربلا پر لکھنے والے بھی احتیاط سے
لکھا کریں ہمیں تو ابھی تک اس واقعہ پر کچھ لکھنے کی ہمت ہی نہیں ہو سکی…
* دنیا
میں اس وقت ’’ایبولا‘‘ نامی ایک مہلک بیماری ’’وبا‘‘ کی شکل اختیار کر رہی ہے…
افریقہ میں ہزاروں افراد اس بیماری کا لقمہ بن چکے ہیں…اور اب یہ مرض امریکہ تک جا
پہنچا ہے…یہ ہے آج کی ترقی اور میڈیکل سائنس کا عروج کہ …ہر روز نئی بیماری اور
نئی مصیبت…یہ دنیا ترقی نہیں خود کشی کی طرف بڑھ رہی ہے…انسانوں کی بے صبری نے
زمین کو دھوئیں،کثافت اور ایٹمی شعاعوں سے بھر دیا ہے…حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دعاء سکھا دی ہے کہ
…ہم اسے مانگا کریں اور برے امراض سے محفوظ رہیں…
اَللّٰہُمَّ
اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْجُذَامِ وَالْبَرَصِ وَالْجُنُوْنِ وَسَیِّیِٔ
الْاَسْقَام
یا اللہ!
مجھے اپنی پناہ دے دیجیے کوڑھ، برص، پاگل پن اور ہر بری بیماری سے…
آج کل
فالج کا مرض بہت عام ہے… خبروں میں آیا ہے کہ پاکستان میں روزآنہ چار سو افراد
فالج سے وفات پا رہے ہیں…حدیث شریف میں فالج سے حفاظت کا وظیفہ ارشاد فرمایا ہے…
صبح اور
شام …یعنی فجر اور مغرب کے بعد تین بار پڑھیں…
سُبْحَانَ
اللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ
یقین کے
ساتھ جو دعاء پڑھی جائے وہ ضرور اثر کرتی ہے…اس دعاء میں اضافہ بھی کر سکتے ہیں…
سُبْحَانَ
اللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ
الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ
کتاب اس
وقت ساتھ نہیں وگرنہ مکمل روایت حوالہ کے ساتھ لکھ دی جاتی…ان شاء اللہ اگلے کالم
میں آ جائے گی…مگر معمول میں ابھی سے شامل کر لیں تو اچھا ہے…
* امریکہ
میں وسط مدتی انتخابات ہو رہے ہیں…اور وہاں بس ایک ہی بات کا شور ہے کہ صدر اوبامہ
کی ’’ریٹنگ‘‘ گر رہی ہے…مطلب یہ کہ صدر اوبامہ کی مقبولیت ختم ہو رہی ہے اور وہ
امریکہ کا ایسا بے عزت اور ذلیل شہری بن چکا ہے کہ…ہر کوئی اس سے اپنا دامن بچا
رہا ہے…گذشتہ دنوں اسے گولف کھیلنے کا شوق ہوا تو اس کے عملے کے افراد جگہ ڈھونڈتے
رہ گئے مگر کسی گولف کلب نے اسے اپنے ہاں آنے کی اجازت نہ دی…
اسے کہتے
ہیں:
خَسِرَ
الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ
نہ دنیا
ملی نہ آخرت…اس نے ایک مسلمان کے گھر آنکھ کھولی…پھر کفر کی گود میں گرا، جان
توڑ محنت کی اور امریکہ کا صدر بنا…مسلمانوں پر مظالم کئے،نامور ہستیوں کو شہید
کیا کہ ہیرو بن جائے مگر آج جب زندگی بھی اختتام پر ہے وہ محض ایک ’’زیرو‘‘ ہے…
بس
بھائیو! یہی حال ہے دنیا کی عزت کا…جو بھی دنیا کی عزت کے چکر میں پڑتا ہے اور
لوگوں میں محبوب و مقبول ہونے کو ہی اپنا ہدف بناتا ہے وہ بالآخر اسی دنیا میں
ذلت پاتا ہے…اوبامہ تو ایک کافر ہے…بہت سے مسلمان رات دن مقبولیت و محبوبیت کے چکر
میں پڑے رہتے ہیں…اس کے لئے طرح طرح کے وظیفے کرتے ہیں…طرح طرح کے پتھر اپنی
انگوٹھیوں میں ڈالتے ہیں…ہرن کی کھال پر نقش بنواتے ہیں…اور معلوم نہیں کیا کچھ
کرتے ہیں…اللہ تعالیٰ ایسی فکر سے ہماری حفاظت فرمائے…اصل عزت وہ ہے جو اللہ
تعالیٰ کے ہاں ہو…اصل عزت دین کی عزت ہے…کبھی نہ ختم ہونے والی عزت،کبھی نہ پرانی
ہونے والی عزت…یہ عزت اہل اخلاص کو ملتی ہے…جو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کو راضی
اور خوش کرنے کے لئے اعمال کرتے ہیں…جو دین کی خاطر قربانی دیتے ہیں…جو خود کو
مٹاتے ہیں…جو مخلوق کی خدمت کرتے ہیں…اور جو آخرت کے طلبگار ہوتے ہیں…
* قاتل
مودی کا رخ اس وقت کشمیر کی طرف ہے…وہ کشمیر میں انتخابات جیتنا چاہتا ہے اور پھر
کشمیر اسمبلی کے ذریعہ…کشمیر کو انڈیا کی مکمل غلامی میں لانا چاہتا ہے…اس کے لئے
اس نے بھر پور انتظامات کر لئے ہیں…مگر ’’مودی‘‘ جو کچھ سوچ رہا ہے وہ ان شاء اللہ
ہر گز نہیں ہو گا…کشمیر میں انتخابات وہ جیت سکتا ہے کیونکہ اکثر کشمیری مسلمان
ووٹ ہی نہیں ڈالتے…مگر وہ نہ تو کشمیریوں کے دل جیت سکتا ہے اور نہ ہی آزادی کی
سوچ کشمیریوں کے ذہنوں سے کھرچ سکتا ہے…ہاں! اس کے مظالم البتہ تحریک کو پھر گرم
کر دیں گے…اور ان شاء اللہ جہاد کشمیر کا ایک نیا دور دہلی کے ایوانوں کو لرزا دے
گا…
مودی یاد
رکھنا! یہ دھمکی یا لفاظی نہیں…زمینی حقیقت ہے جسے ان شاء اللہ دنیا اپنی آنکھوں
سے دیکھے گی…
نیکی
جاری رکھیں
آج
’’صبر‘‘ کے موضوع پر لکھنے کا ارادہ تھا…صبر ایمان کا آدھا حصہ اور کامیابی کی
چابی ہے… صبر وہ سب سے بھلی اور وسیع نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو
عطاء فرماتے ہیں… اور صبر کا اجروثواب بے حساب ہے…قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے
نوّے(90) مقامات پر صبر کا تذکرہ فرمایا ہے،صبر کا حکم دیا ہے …اور صبر کے
فضائل،فوائد اور مناقب بیان فرمائے ہیں…صبر کے تین اجزاء ہیں:
١ نیکیوں
پر ڈٹے رہنا…
٢ مصیبتوں
سے نہ لڑکھڑانا…
٣ گناہوں
سے خود کو روکنا…
اس میں
سب سے پہلا اور اہم درجہ یہ ہے کہ …انسان ایمان پر اور نیک اعمال پر مضبوط
ہو…حالات جیسے بھی ہوں…نتائج جیسے بھی سامنے آئیں…مسلمان اپنی نیکی اور اپنے عمل
کو جاری رکھے…آج ہمارے اندر اس بارے میں بے حد کمزور آ چکی ہے…وہ اعمال جو اللہ
تعالیٰ کی رضا کے لئے شروع کئے جاتے ہیں…اچانک کسی پریشانی،مایوسی یا حالات کی
خرابی کی وجہ سے چھوڑ دئیے جاتے ہیں…جو اس بات کا ثبوت بن جاتا ہے کہ یہ عمل اللہ
تعالیٰ کے لئے نہیں تھا…اللہ تعالیٰ کے لئے ہوتا تو پھر کیوں چھوڑا جاتا؟
ذرا سی
تکلیف آئی تو عمل بند…لوگوں نے ذرا سی ناقدری کی تو عمل بند…ذرا سا وسوسہ کسی
شیطان نے دل میں اتارا تو عمل بند…دنیاوی نتائج میں تھوڑی سی تاخیر ہوئی تو عمل
بند دعاء بند…یہ وفاداروں کا طریقہ نہیں…کامیاب وہی ہوتے ہیں جو ہر طرح کے حالات
میں لگے رہتے ہیں،ڈٹے رہتے ہیں…اور نتائج سے بے فکر ہو کر اپنی نیکی اور اپنے عمل
کو جا ری رکھتے ہیں…
لا الہ
الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل
علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ جسے عزت دینا چاہیں…اُسے کوئی ذلیل نہیں کر سکتا…اللہ تعالیٰ جسے رزق دینا
چاہیں اسے کوئی رزق سے محروم نہیں کر سکتا…بس یہی بات حقیقت ہے…باقی جو کچھ دل میں
آتا ہے وہ سب جھوٹ ہے وہ سب وسوسہ ہے…فلاں مر گیا تو میرا کیا بنے گا؟…فلاں نے
مجھے چھوڑ دیا تو میں کہاں جاؤں گا؟…
کسی کے
مر نے سے کسی کی روزی بند نہیں ہوتی…کیونکہ رازق اور رزاق صرف اللہ تعالیٰ ہے… وہی
’’رب‘‘ ہے پالنے والا…رب العالمین…کسی کے آنے جانے سے کسی کی ’’عزت‘‘ پر کوئی فرق
نہیں پڑتا کیونکہ عزت کا مالک بھی اللہ…اور ذلت کا فیصلہ فرمانے والا بھی اللہ…
وَتُعِزُّ
مَنْ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ
کلمہ
طیبہ پر یقین …کلمہ طیبہ کا وِرد یہ آخری سانس تک کا وظیفہ ہے…کلمہ طیبہ میں ہم
جتنا غور کریں گے،اس کلمہ کو ہم جتنا سمجھیں گے،جتنا پڑھیں گے…اور اس کلمہ کی ہم
جس قدر دعوت دیں گے…اسی قدر ہمارا تعلق…اپنے مالک اور خالق سے مضبوط ہو گا…اور ہم
مخلوق کی محتاجی سے آزاد ہوں گے
لا الہ
الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
کوئی خط
میں لکھتا ہے کہ نماز میں سستی ہو رہی ہے…انا للہ وانا الیہ راجعون…کوئی لکھتا ہے
کہ کلمہ طیبہ کے ورد میں سستی ہو رہی ہے…انا للہ وانا الیہ راجعون…کوئی کہتا ہے کہ
جہاد کا شوق دل میں کمزور ہو رہا ہے…اناللہ واناالیہ راجعون… ہاں! اصل مصیبتیں یہی
ہیں اور ان پر دل سے… انا للہ وانا الیہ راجعون… پڑھنا چاہیے…پرانے زمانے کا قصہ
لکھا ہے کہ ایک صاحب گھر میں داخل ہوئے بے حد پریشان وہ بار بار کہہ رہے تھے…مصیبت
آ گئی بڑی مصیبت… ہائے مصیبت…ان کی بیوی بڑے کامل ایمان اور علم والی تھی اس نے
خاوند کو تسلی سے بٹھایا اور عرض کیا…میرے سرتاج! آپ اس قدر پریشان ہیں اور مصیبت
مصیبت پکار رہے ہیں… کیا مسلمانوں کے امیر کا انتقال ہو گیا؟امیر المومنین وفات پا
گئے…خاوند نے کہا… نہیں…بیوی نے کہا: کیا مسلمانوں کے کسی علاقے پر کافروں نے قبضہ
کر لیا ہے؟ … خاوند نے کہا: نہیں …بیوی نے پوچھا…کیا کچھ مسلمانوں کو کافروں نے
گرفتار کر لیا ہے؟…خاوند نے کہا: نہیں…بیوی نے پوچھا: کیا کسی محاذ پر مسلمانوں کو
کفار سے شکست ہوئی ہے؟خاوند نے کہا: نہیں…بیوی نے پوچھا: کیا کچھ دیندار مسلمانوں
نے دین پر عمل چھوڑ دیا ہے؟خاوند نے کہا: نہیں…بیوی نے اطمینان کا سانس لیا اور
کہنے لگی…اگر یہ سب کچھ نہیں ہوا تو پھر کوئی مصیبت نہیں… غم ،بیماری،مالی پریشانی
کئی بار انسان کے فائدہ کے لئے ہوتی ہے…جسم میں کینسر بن رہا تھا اچانک ایکسیڈنٹ
ہوا ٹانگ میں سخت چوٹ لگی اور اس چوٹ کے درد نے کینسر کو جسم سے اکھاڑ کر نکال
دیا…جسم میں شوگر بن رہی تھی…اچانک کہیں شدید درد ہوا اور اس درد کی کڑواہٹ نے
شوگر کو جسم میں جمنے سے پہلے نکال پھینکا…کچھ مالی پریشانی آئی تو انسان اللہ
تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوا…دن رات کی دعاء اور عبادت نے گناہوں کے گودام کو جلا کر
دل کو پاک کر دیا…ہم جن چیزوں کو مصیبت سمجھتے ہیں…ان میں سے اکثر مصیبت نہیں،
نعمت ہوتی ہیں…جبکہ اصل مصیبت تو یہ ہے کہ…ابھی سانس جاری ہے اور نماز میں سستی
شروع ہو گئی…توبہ توبہ…کیا ایک مسلمان اپنی زندگی میں نماز سے بھی سست ہو سکتا
ہے؟…مصیبت ہے،مصیبت…سچ پوچھئے تو کینسر اور شوگر سے بڑی مصیبت کہ مسلمان فرض میں
بھی سستی کرنے لگے…کلمہ نہیں تو کیا زندگی…نماز نہیں تو کیا زندگی…جہاد نہیں تو
کیا زندگی…امانت نہیں تو کیا زندگی…کوئی ہے جو اپنی نماز درست کرنے کے لئے اتنی
فکر کرے جتنی اپنی بیماری کے علاج کی کرتا ہے؟…کئی اللہ والوں کے ہاں بیٹھنا
ہوا،دل کو بڑا صدمہ لگا کہ لوگوں کا ہجوم ان سے بھی صرف دنیا کے مسائل حل کرنے کے
لئے رجوع کر رہا ہے…کوئی نہیں دیکھا کہ رو رہا ہو کہ…حضرت! خاص دعاء کر دیں کہ
مرتے وقت ایمان سلامت رہے،مجھے قبر میں عذاب نہ ہو… میری نماز آخری سانس تک پختہ
رہے…ہر کوئی بس دنیا کے مسائل کے لئے پریشان ہے،رو رہا ہے…اور اللہ والوں سے اللہ
کا راستہ پوچھنے اور سمجھنے کی بجائے…مال کی کثرت کے تعویذ مانگ رہا ہے…
انا
للّٰہ وانا الیہ راجعون
اس میں
کوئی شک نہیں کہ…مال بھی انسان کی اہم ضرورت ہے…رزق حلال کے لئے دعاء کرنا اور
دعاء کروانا بھی نیکی ہے…رزق حلال کے لئے مسنون اور مشروع وظائف کرنا بھی اچھی بات
ہے…اللہ تعالیٰ سے وہی مانگتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو ’’رب العالمین‘‘ مانتا ہے…مگر
ہمارے اصل مسائل کچھ اور ہیں…بہت اہم،حد سے زیادہ اہم…ہمیں ان کی فکر بھی کرنی
چاہیے… ایمان پانا،ایمان کو سلامت رکھنا،فرائض کی پابندی نصیب ہونا…دین کے تقاضے
پورے کرنے کی توفیق ملنا… موت،قبر اور آخرت کی تیاری کرنا …اسلام کی عظمت اور امت
مسلمہ کے تحفظ کی فکر کرنا… امت مسلمہ میں دین پھیلانے کی فکر کرنا …اگر ہمیں یہ
نعمتیں نصیب ہو جائیں تو پھر دنیا بھر کے مسائل خود بخود حل ہو جاتے ہیں…خود سوچیں
…ایک مسلمان اس مقام پر ہے کہ وہ …شہادت کے لئے ایک ایک لمحہ گن کر گزار رہا ہے…دن
رات شہادت مانگتا ہے…خود کو دین کے فدائی کے طور پر پیش کرتا ہے…جبکہ دوسرا مسلمان
نماز تک میں غفلت اور سستی کر رہا ہے اور خود کو گلے تک دنیا میں پھنساتا جا رہا
ہے…کیا یہ مصیبت زدہ نہیں ہے؟…یہ خود کو مصیبت میں سمجھے گا تبھی اپنا علاج کرائے
گا… اپنے روحانی علاج کے لئے دو رکعت نماز ادا کرے گا…اللہ تعالیٰ کے سامنے روئے
گا…بار بار بے چین ہو کر دعاء مانگے گا… دل کے درد کے ساتھ اللہ،اللہ پکارے گا تو
اللہ تعالیٰ کی رحمت… اس کی مصیبت کو دور کر دے گی… یہاں ایک اور بات بھی سمجھ لیں
…نماز میں اللہ تعالیٰ کی مدد ہے…اور نماز ہمارے مسائل کا حل ہے…نماز میں جو
دعائیں مانگی جائیں وہ جلد قبول ہوتی ہیں…مگر آج اکثر مسلمانوں کی نماز میں کوئی
دعاء ہوتی ہی نہیں…بس آٹو میٹک نماز…’’اللہ اکبر‘‘ کہہ کر خیالوں میں گم ہوئے اور
’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ‘‘ پر دنیا بھر کی سیر کر کے واپس آ گئے… اب ایسی نماز
میں ہم نے اللہ تعالیٰ سے کیا مانگا اور کیا لیا؟…ابھی بالکل تازہ واقعہ ہے کسی نے
بتایا کہ اسے سخت مالی پریشانی آ گئی…قریب تھا کہ وہ قرضہ کی مصیبت میں جکڑا
جاتا…اس نے فوراً نماز کی طرف توجہ کی…دو رکعت نماز اور اس میں جو دعاء کے مقامات
ہیں…ان میں یہ دعا:
اَللّٰہُمَّ
اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ
رکوع میں
تسبیح پڑھنے کے بعد دس بار یہی دعاء…پھر رکوع سے کھڑے ہو کر ’’سمع اللّٰہ لمن
حمدہ، ربنا لک الحمد‘‘ کے بعددس بار یہی دعاء…پھر سجدے میں دس بار،سجدے سے اٹھ کر
دس بار اور دوسرے سجدے میں دس بار … اور التحیات کے آخر میں دس بار…یوں یہ مسنون
دعا ء ایک سو دس بار ہو گئی…نماز میں توجہ بھی رہی اور یہ خیال بھی کہ میں اپنا
مسئلہ اپنے رب کو پیش کر رہا ہوں…الحمد للہ دو چار دن میں مسئلہ حل ہو گیا…
ایک صاحب
نے بتایا کہ وہ ایک مصیبت میں پھنس گئے…انہوں نے نماز میں دعاء کے مقامات پر
استغفار شروع کر دیا…دو رکعت نماز میں دو سو بار تین سو بار استغفار…
اَسْتَغْفِرُ
اللّٰہَ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ وَاَتُوبُ اِلَیہِ
اللہ
تعالیٰ نے احسان فرمایا اور مصیبت سے نجات عطا فرما دی…
نماز میں
دعاء کے مقامات سات ہیں…مگر یہ نفل اورسنتوںمیں زیادہ بہتر ہے…
١ پہلی
رکعت میں تکبیر اولیٰ کے بعد قراء ت شروع کرنے سے پہلے…
٢ رکوع
میں…
٣ رکوع
سے کھڑے ہو کر یعنی قومہ میں…
٤ سجدہ
میں…
٥ سجدہ
سے اٹھ کر جلسہ میں…
٦ دوسرے
سجدہ میں …
٧ آخری
قعدہ میں درود شریف کے بعد…
اب جس کو
جو حاجت ہو وہ اس کی دعاء ان مقامات پر توجہ اور کثرت سے کر لیا کرے…مثلاً کوئی
اپنے اندر حرص اور لالچ محسوس کر رہا ہے… بڑا خطرناک اور ذلیل کرنے والا مرض ہے…وہ
دو رکعت نماز میں ان سات مقامات پر حرص اور لالچ سے حفاظت کی دعاء مانگے:
اَللّٰھُمَّ
قِنِی شُحَّ نَفْسِی
’’یا
اللہ! مجھے میرے نفس کی حرص اور لالچ سے بچا لیجئے‘‘…
اور پھر
اس وقت تک یہ عمل کرتا رہے جب تک دل پاک نہ ہو جائے…کوئی اپنے اندر سستی اور بے
کاری محسوس کر رہا ہے تو وہ یہ دعاء پڑھے…
اَللّٰہُمَّ
اِنِّی اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْکَسْلِ
کوئی
اپنے اندر نفاق محسوس کر رہا ہے تو نفاق سے حفاظت کی دعاء پکڑ لے… کوئی بیمار ہے
تو شفاء کی دعاء اپنا لے…کسی کو عذاب قبر کا خوف ہے تو وہ عذاب قبر سے حفاظت کی
دعاء تھام لے … یوں ہماری نماز بھی جاندار ہوتی جائے گی،دعاء بھی قبول ہو گی…اور
ان شاء اللہ مسائل بھی حل ہوں گے…مجاہدین کو خاص طور پر فتنوں سے حفاظت کی دعاء کو
اپنانا چاہیے…
اَللّٰھُمَّ
اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ
مجاہدین
اس امت کے خاص اور برگزیدہ لوگ ہیں…سچے امانت دار اور مخلص مجاہدین ہی اس اُمت کے
اولیاء صدیقین ہیں…مجاہدین ہوں گے اور ان کا جہاد جاری رہے گا تو دین کی حفاظت اور
عظمت رہے گی…اس لئے شیطانی قوتیں اور ان کے انسانی آلہ کار مجاہدین کو فتنوں میں
ڈالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں…نماز اور نماز میں مانگی گئی دعاؤں سے مجاہدین کو
مضبوطی حاصل کرنی چاہیے…اِسْتَعِیْنُوْابِالصَّبْرِوَالصَّلٰوۃِ
فالج سے
حفاظت کا نسخہ
گذشتہ
کالم میں فالج سے حفاظت کا نسخہ عرض کیا گیا تھا…فجر اور مغرب کو تین بار…
سُبْحَانَ
اللّٰہِ الْعَظِیمِ وَبِحَمْدِہِ وَلَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ
یہ عمل
ایک…مرفوع حدیث میں بیان فرمایا گیا ہے…یہ حدیث کئی کتابوں میں موجود ہے…
مثلاً(المعجم الکبیر للطبرانی،مسند احمد،اسد الغابہ لابن الاثیر،عمل الیوم واللیلۃ
لابن السنی)…
یہ ایک
بزرگ صحابی ہیں…حضرت قبیصہ بن المخارق الہلالی رضی اللہ عنہ
یہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ننہیال میں سے تھے … بعد
میں ان کے ایک صاحبزادے مسلمانوں کے بڑے کمانڈر اور سجستان کے گورنر بھی بنے…
انہوں نے
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بہت بڑھاپے اور کمزوری
کی حالت میں حاضری دی…آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان
کا اکرام فرمایا اور ان کے علم اور دین سیکھنے کے جذبہ کی تعریف فرمائی… انہوں نے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:
یارسول
اللّٰہ! علمنی شیئا ینفعنی اللّٰہ بہ فی الدنیا والآخرۃ
’’یا
رسول اللہ! مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجیے جس کی برکت سے اللہ تعالیٰ مجھے دنیا
اور آخرت میں نفع عطا فرمائے‘‘…
ساتھ یہ
بھی عرض کیا کہ…مختصر عمل ہو کیونکہ میں بہت بوڑھا ہوں،زیادہ بھول جاتا ہوں…
آپ صلی
اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو دعائیں تلقین فرمائیں …پہلی یہی کہ
صبح کی نماز کے بعد تین بار پڑھا کریں:
سُبْحَانَ
اللّٰہِ الْعَظِیمِ وَبِحَمْدِہِ وَلَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ
اس کی
برکت سے چار بیماریوں سے حفاظت رہے گی…
١کوڑھ ٢پاگل
پن ٣اندھا
پن ٤
فالج
دراصل
بڑھاپے میں انہیں چار امراض کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے…
اہل علم
نے حدیث کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے…مگر ان کلمات کی برکت اور فضیلت کا سب کو
اعتراف ہے کیونکہ کئی اور روایات بھی ان مبارک کلمات کے فضائل پر موجود ہیں…
ایک
روایت میں تو یہاں تک آیا ہے کہ… جو شخص نماز کے بعد تین بار یہ کلمات پڑھ لے وہ
ایسی حالت میں وہاں سے اٹھتا ہے کہ…اس کی مغفرت ہو چکی ہوتی ہے…
سُبْحَانَ
اللّٰہِ الْعَظِیمِ وَبِحَمْدِہِ وَلَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ
لا الہ
الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل
علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ ہم سب کو ’’ایمانِ کامل‘‘…’’ایمانِ دائم‘‘ اور ثابت قدمی عطا فرمائے!
اس وقت
کئی اِیمان افروز مناظر میری آنکھوں کو روشن اور نم کر رہے ہیں…لیجئے! آپ بھی اس
کیفیت میں شریک ہو جائیے…
اے بیعت
کرنے والو!
اسلامی
لشکر پر کفار نے ایسا زور دار حملہ کیا کہ…باوجود کثرت کے مسلمانوں کے پاؤں اُکھڑ
گئے…دشمن کے چار ہزار تیر اَنداز موسلا دھار بارش کی طرح تیر برسا رہے تھے…یہ
اسلامی لشکر کے راستے میں چھپے بیٹھے تھے،انہوں نے اچانک بیس ہزار تلواروں سے
مسلمانوں پر ہلہ بول دیا…بارہ ہزار افراد کا اِسلامی لشکر ٹوٹ پھوٹ اور انتشار کا
شکار ہو گیا…میدان میں مسلمانوں کے سپہ سالار اکیلے رہ گئے، ان کے اردگرد صرف دس
بارہ پروانے دیوانے مجاہدین تھے…وہ اپنے محبوب قائد اور سپہ سالار کو تیروں اور
تلواروں کی بارش سے بچانے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا رہے تھے…سپہ سالار پوری
استقامات کے ساتھ ہزاروں کفار کے سامنے ڈٹے ہوئے تھے اور اپنے لشکر اور مجاہدین کو
دوبارہ جمع اور منظم ہونے کے لئے پکار رہے تھے…اچانک ایک بلند قامت پُر نور بابا
جی تلوار لے کر سپہ سالار کے گھوڑے کے قریب کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنی بلند
آواز سے پکارا…
یا معشر
الانصار! یا اصحاب السمرۃ!
’’اے
گروہِ انصار! اے درخت کے نیچے بیعت کرنے والو!
سبحان
اللہ ! آواز بلند تھی،جذبے سے لبریز اور خوشبو سے معمور تھی…انصار کے لفظ میں
وعدۂ نصرت کی یاد دہانی تھی…اور کیکر کے درخت ’’السمرۃ‘‘ کے لفظ میں ’’بیعت‘‘
نبھانے کی تلقین تھی… دو تین بار یہ آواز گونجی تو خوف کے بادل چھٹ گئے، اِنتشار
کا سیلاب تھم گیا…اور دیوانے مجاہدین بجلی کی تیزی سے واپس پلٹے…اپنے سپہ سالار کے
گرد جمع ہوئے اور دشمن پر ایسا جاندار حملہ کیا کہ شکست فتح میں تبدیل ہو گئی…اور
مسلمان غالب ہو گئے…
یہ غزوہ
حنین کا واقعہ ہے…مسلمانوں کے سپہ سالار حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم تھے… اور ایمان کو زندہ کرنے والی آواز لگانے والے ’’بابا
جی‘‘…حضرت سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ تھے… حضرت آقا مدنی
صلی اللہ علیہ وسلم کے ’’چچا جی‘‘…سلام ہو…حضرت سیّدنا عباس رضی
اللہ عنہ پر اور انکی مسلمان آل پر…
یَا
نَصْرَ اللّٰہ!
یہ ایک
اور منظر ہے…پہلے منظر سے کسی قدر ملتا جلتا…یہاں بھی میدان جہاد ہے اور کفار کا
لشکر…مسلمانوں کے لشکر سے بہت بڑا ہے…جنگ پڑی تو مسلمانوں کے قدم اُکھڑ گئے…یہاں
بھی ایک بابا جی لمبی سی لاٹھی لے کر کھڑے ہو گئے …ان کی عمر اسّی سال کے قریب
تھی… ایک آنکھ سے معذور تھے…ان کی یہ آنکھ ایک غزوے میں شہید ہو گئی تھی… وہ
میدان کے کنارے پر کھڑے تھے…اور پکار پکار کر مسلمانوں کو ثابت قدمی اور جنت کی
یاد دلا رہے تھے…کبھی وہ اپنا رخ آسمان کی طرف کرتے اور پکارتے…
یَا
نَصْرَ اللّٰہِ اقْتَرِبْ!
’’اے
اللہ کی مدد…قریب آ جا، قریب آ جا‘‘
اور کبھی
اپنی لاٹھی سے ان مسلمانوں کو مار مار کر میدان کی طرف دھکیلتے جو پسپائی کو دوڑ
رہے تھے…اس دوران وہ بابا جی خود بھی تلوار تھام کر جنگ میں شامل ہوتے رہے…یہ
اسلام کا اہم معرکہ جنگِ یرموک تھا…اور بابا جی کا نام…حضرت ابو سفیان بن
حرب رضی اللہ عنہ …قریش کے نامور اور متفقہ سردار…
فتح مکہ
کے موقع پر مسلمان ہوئے…رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو
غزوات میں شرکت فرمائی… غزوہ طائف میں تیر لگا تو آنکھ ضائع ہو گئی…حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دیا… آپ چاہیں تو دعاء کر
دوں،اللہ تعالیٰ آنکھ واپس عطاء فرما دے…یا آپ صبر کریں تو اس کے بدلے جنت ملے
گی…فرمایا: جنت چاہیے،آنکھ نہیں…سلام ہو!…امی جی اُم حبیبہ اُم
المومنین رضی اللہ عنہا پر… ان کے والد حضرت ابو سفیان رضی
اللہ عنہ پر…ان کے بھائی حضرت معاویہ رضی اللہ
عنہ پر…
قرآنی
منظر
آپ نے
قرآن مجید میں اس جہادی لشکر کا قصہ پڑھا ہو گا…جس کے امیر حضرت
طالوت رحمۃ اللہ علیہ تھے…اور اس لشکر کے ایک سپاہی حضرت
سیّدنا داؤد علیہ السلام تھے…جب یہ لشکر امتحانات کی
چھلنیوں سے گذر کر بہت تھوڑی تعداد میں رہ گیا تو اس کا سامنا جالوت کے اس لشکر سے
ہوا جو سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مار رہا تھا…تب مایوسی کی سرد لہر ان الفاظ میں دوڑا
دی گئی…
لَا
طَاقَۃَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِہٖ
آج
ہمارے بس میں ہی نہیں کہ ہم جالوت اور اس کے لشکر کا مقابلہ کر سکیں…مایوسی کے
الفاظ…ہڈیوں کا گودا جما دیتے ہیں…مایوسی کے کلمات جذبوں کی آگ کو بجھا دیتے
ہیں…مایوسی کی باتیں…انسانوں کے جسم کی قوت سلب کر دیتی ہیں…اور مایوسی کے جملے ہر
طرف بزدلی کی بدبو اور ناکامی کا اندھیرا پھیلا دیتے ہیں…ایسے میں اچانک کسی اللہ
والے نے ایک آواز لگائی…اس اللہ والے کے ساتھ چند اور اللہ والوں نے بھی اپنی
آواز شامل کر دی…
کَمْ
مِّنْ فِئَۃٍ قَلِیْلَۃٍ غَلَبَتْ فِئَۃً کَثِیْرَۃً
ارے!…فتح
و غلبے کا مالک… اللہ تعالیٰ ہے، وہ جب چاہتا ہے مٹھی بھر افراد کو بڑے بڑے لشکروں
پر غالب کر دیتا ہے…
بس اس
ایک جملے نے…جذبات کو قوت دے دی…نظر کو زمین سے اُٹھا کر آسمان کی طرف پھیر
دیا…اور اُمید کی خوشبو ہر سو مہکنے لگی…اس خوشبو میں ڈوب کر جب ایمان والوں نے
حملہ کیا تو جالوت کا لشکر…جھاگ کی طرح پھٹ گیا اور بکھر گیا…
دو طبقے
قرآن
مجید میں ’’جہاد‘‘ کو پڑھ لیجیے…ماضی کے جہادی واقعات پر نظر ڈال لیجیے آپ کو
اسلامی لشکر میں دو طبقے ضرور نظر آئیں گے…
١ مُثَبِّتِینْ
٢ مُثَبِّطِینْ
دوسرے
لفظ کا مطلب پہلے سمجھ لیجئے…’’مثبطین‘‘ وہ لوگ جو مایوسی پھیلاتے ہیں…جذبوں کو
سرد کرتے ہیں…خود بھی بھاگتے ہیں اور دوسروں کو بھی بھگاتے ہیں…ان کو ’’مخذلین‘‘
بھی کہا جاتا ہے…بزدلی،مایوسی ،بددلی،بد اطمینانی پھیلانے والے…مسلمانوں کو رسوائی
اور شکست کے راستے پر ڈالنے والے…جمے ہوئے قدموں اور دلوں کو اُکھاڑنے والے…دراصل
’’جہاد‘‘ بہت اونچے مقام والی عبادت ہے…یہ اسلام کا اہم فریضہ ہے…یہ اللہ تعالیٰ
کے قرب کا بہترین وسیلہ ہے… یہ تمام اعمال سے افضل عمل ہے…یہ مسلمانوں کو عزت اور
غلبہ دلانے والا عمل ہے…یہ اسلام کو قوت اور غلبہ دلانے والا عمل ہے…یہ گناہوں کو
مٹا کر جنت میں جلد لے جانے والا عمل ہے…جب کوئی مسلمان اس عمل میں لگ جاتا ہے تو
شیطان…اس مسلمان کا نام اپنے دشمنوں کی سب سے اہم فہرست میں لکھ دیتا ہے…ایسے
آدمی کو گمراہ کرنے کے لئے شیطان اپنے خاص اور ماہر شاگردوں کو متعین کرتا ہے…
اور چھ طرف سے اس مجاہد پر حملہ آور ہوتا ہے…وہ جہادی لشکروں اور جماعتوں میں
…ایسے افراد چھوڑ دیتا ہے جو ہر وقت مایوسی،بد دلی اور پریشانی پھیلاتے رہتے
ہیں…بے اطمینانی جب کسی دل میں آ جاتی ہے تو پھر…ایسے دل کا جہاد پر جمے رہنا بہت
مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ…جہاد تو اللہ تعالیٰ کو دل دینے،جان دینے،مال دینے…اور سب
کچھ دینے کا نام ہے…ایک بے اطمینان شخص کس طرح سے قربانی دے سکتا ہے؟…آپ غزوہ احد
سے شروع ہو جائیں اور آج کے ’’شرعی جہاد‘‘ تک کی تاریخ پڑھ لیں…ہر اسلامی لشکر کے
ساتھ مثبطین اور مخذلین کا یہ ٹولہ ساتھ ساتھ بندھا نظر آتا ہے…غزوۂ احد میں یہ
ٹولہ بڑی تعداد میں مسلمانوں کے ساتھ نکلا…پھر راستے میں تین سو افراد رُوٹھ کر
ٹوٹ کر بھاگ گئے…آپ خود سوچیں کہ جب کسی لشکر کا پورا ایک تہائی حصہ ٹوٹ جائے تو…
اس سے کس قدر مایوسی پھیلتی ہے…آج کل کے دور میں تو ایسا ایک جھٹکا کسی بھی جماعت
یا لشکر کو مکمل ختم کرنے کے لئے کافی ہے…مگر وہ لشکر بڑا عظیم تھا…انہوں نے ان
تین سو کی طرف دیکھنا بھی گوارہ نہ کیا…ہمارا بھاگنے والوں سے کیا تعلق؟ہم نے اپنا
ہاتھ حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک میں
دیا ہے…وہ جب لشکر میں موجود تو پھر ہمارے بھاگنے کا کیا جواز؟…تین سو
’’مُخَذِّلین‘‘ بھاگ گئے…مگر چند ایک اسلامی لشکر میں موجود رہے کہ آگے چل کر جب
لڑائی شروع ہو گی تو اس وقت مایوسی اور بد دلی پھیلائیں گے…انہوں نے اپنا کام آگے
چل کر کیا…آپ نے واقعہ احد میں پڑھا ہو گا…مگر الحمد للہ ان کی بھی ایک نہ چلی…یہ
تو ہوئی مثبطین کے لفظ کی تشریح…اب دوسرے لفظ کا مطلب سمجھیں…
’’مثبتین‘‘…یہ
وہ اللہ کے بندے ہوتے ہیں…جو اسلامی لشکر کو ہمیشہ ثابت قدمی کی طرف بلاتے رہتے
ہیں…وہ خود بھی ڈٹے رہتے ہیں…اور اپنے قول اور عمل سے دوسروں کو بھی ڈٹا رہنے کی
ہر وقت دعوت دیتے رہتے ہیں…دوسرے الفاظ میں ان کو ’’مُحَرِّضِینْ‘‘ بھی کہتے
ہیں…اصل مثبت یعنی ثابت قدمی عطا فرمانے والا اللہ تعالیٰ ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ
کے یہ مخلص بندے اللہ تعالیٰ کے مُنادی ہوتے ہیں…یہ وہ جنتی پھول ہوتے ہیں…جن کا
ایمان کبھی نہیں مرجھاتا…یہ لشکروں کو جوڑتے ہیں… ان کا رخ سیدھا رکھتے ہیں…اور
عین جنگ اور آزمائش کے وقت یہ ثابت قدمی کی آوازیں لگا کر… مایوسی اور شکست کو
دور بھگاتے ہیں…ہم نے اپنی زندگی میں ایسے بعض افراد دیکھے ہیں… سبحان اللہ! نور
ان کے چہروں سے برستا ہے،اخلاص کی خوشبو ان کی آنکھوں سے ٹپکتی ہے… یہ اللہ
تعالیٰ کے دیوانے بندے ہر لشکر اور ہر سچی جماعت کی جان ہوتے ہیں…افغانستان میں جب
امارت اسلامیہ کا سقوط ہو رہا تھا…ہر طرف غم تھا اور خون…تب ایک مجلس میں ایک ایسا
دیوانہ دیکھا…وہ کھانے کے دوران بلند آواز سے قرآنی آیات پڑھتا، ثابت قدمی کے
فضائل سناتا…اور وفاداری کے گیت گاتا…اس کی مجلس میں ایک منٹ کے لئے بھی…دل میں یہ
خیال نہ گذرا کہ مسلمانوں پر اتنا بڑا ظلم ہو گیا ہے…اور ہمیں بظاہر ایک بڑی شکست
ہوئی ہے…وہاں تو جتنی دیر موجود رہے دل…عرش کے نیچے شکر کے سجدے کرتا رہا کہ…ایمان
والوں کی فتح…ایمان کی سلامتی میں ہے…آزمائش اللہ تعالیٰ کے پیارے بندوں پر آتی
ہے…اللہ تعالیٰ راضی تو مسلمان کی جیت…اللہ تعالیٰ ناراض تو مسلمانوں کی
شکست…حالات کی خرابی سے منافق…اپنا نظریہ بدلتا ہے…مسلمان تو آزمائش کی آگ میں
کود کر پکا مومن بن کر نکلتا ہے…دنیا میں نفع،نقصان اور رات دن کے آنے جانے کا
سلسلہ جاری رہتا ہے…بس اللہ تعالیٰ کے ساتھ وفادار رہو…اس کے دشمنوں کا ڈٹ کر
مقابلہ کرو…اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو اپنی پیٹھ اور بزدلی نہ دکھاؤ…
ماضی کے
قصوں میں ہم یہی پڑھتے ہیں کہ…بعض پورے پورے لشکروں کو ایک بوڑھے شخص نے…ثابت قدمی
کی آواز لگا کر مایوسی سے بچا لیا…اور بعض شکست کھاتے لشکروں کو …کسی چھوٹے سے
بچے نے بلند آواز سے چند قرآنی آیات سنا کر…فتح کے راستے پر ڈال دیا…
جنتی
پھول بنیں!
وہ لوگ
جو اللہ تعالیٰ کے وفادار ہیں…وہ مسلمان جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا یقین رکھتے
ہیں… وہ ہمیشہ ثابت اور مُثَبِّتْ رہتے ہیں…خود بھی ثابت قدم اور دوسروں کو بھی
ثابت قدمی کی طرف بلانے والے…مگر وہ لوگ جو دنیا کے ادنیٰ اور حقیر مفادات کو اپنا
مقصود بنا لیتے ہیں…وہ جہاد میں آ کر بھی… ثابط اورمُثَبِّطْ رہتے
ہیں…خود بھی بے اطمینان اور دوسروں کو بھی مایوس کرنے والے… یہ افراد قربانی دینے
سے ڈرتے ہیںاور اگر ان پر تھوڑی سی تکلیف آ جائے تو فوراً بدک جاتے ہیں…
اس وقت
اسلامی لشکروں اور …مجاہدین کو ’’مُثَبِّتینْ‘‘ کی ضرورت ہے…جو خود صابر ہوں اور
صبر کی دعوت بھی دیتے ہوں…جو خود بھی مشکلات میں جمے رہتے ہوں…اور دوسروں کو بھی
جمائے رکھتے ہوں…یہ لوگ بڑے مقام والے ہوتے ہیں…ایسے افراد سے اللہ تعالیٰ بہت
عظیم کام لیتا ہے…اور ان کے لئے مغفرت،رحمت اور توفیق کے دروازے کھول دیتا ہے…آپ
چاہیں تو اپنے ایک جملے سے پوری جماعت میں مایوسی اور بد دلی پھیلا دیں…اور اگر
آپ چاہیں تو اپنے ایک جملے سے جماعت میں جذبوں کی بجلی چلا دیں…
اپنی
اپنی قسمت…اپنا اپنا کام …دعاء کرنی چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ…ہم ثابت اور
مُثَبِّتْ بنیں…کیونکہ یہ لوگ جنت کے پھول ہوتے ہیں…کبھی نہ مرجھانے والے…کبھی نہ
مٹنے والے…
اَللّٰہُمَّ
رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا ذُنُوبَنَا وَاِسْرَافَنَا فِی اَمْرِنَا وَثَبِّتْ
اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلیٰ الْقَوْمِ الْکَافِرِینْ…
لا الہ
الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل
علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ کا نام مبارک…ایسا بابرکت کہ اس کی ’’برکت‘‘ سے ہر ’’نحوست‘‘ دور ہو جاتی
ہے…
ہم اللہ
تعالیٰ کے نام سے شروع کرتے ہیں …نئے ہجری مہینے ’’صفر المظفر‘‘ کو…
’’بِسْمِ
اللّٰہِ عَلیٰ شَہْرِ صَفَرْ‘‘
ایک
صحابی نے عرض کیا…یا رسول اللہ! میں جہاد میں مصروف رہتا ہوں،میرا مال نہیں بڑھتا…
ارشاد
فرمایا: صبح صبح پڑھ لیا کرو…
بِسْمِ
اللّٰہِ عَلیٰ نَفْسِیْ ،بِسْمِ اللّٰہِ عَلیٰ اَہْلِیْ وَمَالِی
’’اللہ
تعالیٰ کا نام…میری جان پر…اللہ تعالیٰ کا نام میرے مال اور میری اہل اولاد پر‘‘…
اللہ
تعالیٰ کا نام آیا تو مال خود بخود بڑھنے لگا…وہ جہاد میں لگے رہے اور مال کو
’’بسم اللہ‘‘ کی برکت بڑھاتی رہی…آج اسلامی سال کے دوسرے مہینے ’’صفر‘‘ کی پہلی
تاریخ ہے…اس مہینہ کو کئی لوگ نعوذ باللہ نحوست والا مہینہ سمجھتے ہیں …اور بعض
لوگ اس مہینہ کے آخری بدھ کو نحوست والا قرار دیتے ہیں… اسی لئے ابتداء ہی میں
نحوست سے حفاظت کا عمل عرض کر دیا کہ…اللہ تعالیٰ کا نام ہر نحوست کو بھگا دیتا
ہے…آپ ایک بار نہیں ہزار بار تجربہ کر کے دیکھ لیں…آپ کو ہر اس چیز میں ’’برکت‘‘
اپنی آنکھوں سے نظر آئے گی جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لے لیا جائے…ویسے یاد رکھیں
کہ صفر کے مہینے میں کوئی نحوست نہیں…یہ مشرکین کا عقیدہ اور نظریہ تھا …حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح الفاظ میں اس کی
تردید فرما دی… حدیث بخاری شریف میں موجود ہے…صفر کے معنی ’’خالی‘‘ مگر خیر سے
خالی نہیں… دراصل عرب لوگ اس مہینہ میں جنگوں پر نکل جاتے اور ان کے گھر اور علاقے
خالی رہ جاتے تو مہینے کا نام ’’صفر‘‘ پڑ گیا…پچھلے تین مہینے ذوالقعدہ، ذوالحجہ
اور محرم میں وہ جنگ نہیں کرتے تھے…مگر جیسے ہی محرم ختم ہوتا وہ فوراً نکل
پڑتے…دوسرا یہ کہ عرب کے بہادر قبائل جس پر بھی حملہ کرتے اسے مال و اسباب سے
’’خالی‘‘ کر چھوڑتے…اس مناسبت سے مہینے کا نام صفر پڑ گیا…اللہ تعالیٰ اس مہینہ کو
مسلمانوں کے لئے …ہر آفت اور شر سے ’’خالی‘‘ صفر بنا دے…ہم تو اس مہینہ کو اس لئے
بھی برکت والا سمجھتے ہیں کہ اسلام کا پہلا ’’غزوہ‘‘اس مہینہ میں ہوا…یہ بات یاد
کر لیں کہ ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کا عملی آغاز حضور اقدس صلی اللہ
علیہ وسلم کی ہجرت مبارکہ کے سات ماہ بعد ہی ہو گیا…اسلام کا
پہلا جہادی لشکر حضرت سیّدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی کمان میں
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ فرمایا…اسی مناسبت
سے اسے ’’سریہ حمزہ رضی اللہ عنہ ‘‘ کہا جاتا ہے…جبکہ سب سے پہلا غزوہ ہجرت کے
بارہویں مہینے میں ہوا… اس غزوہ کا نام…’’غزوہ ابواء‘‘ ہے اور اسے ’’غزوہ ودّان‘‘
بھی کہتے ہیں…ابواء اور ودان دو قریب قریب علاقوں کے نام تھے…
یہ حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا غزوہ ہے جبکہ آخری
غزوہ تبوک ہے…غزوہ اس جہاد کو کہتے ہیں جس میں مسلمانوں کے لشکر کی کمان حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمائی…حسن اتفاق
دیکھیں… اور خوش بختی کا عروج کہ اسلام کے پہلے ’’سریہ‘‘ کی کمان حضرت سیّدنا
حمزہ رضی اللہ عنہ فرمارہے تھے… اوراسلام کے پہلے غزوہ میں
لشکر کا جھنڈا حضرت سیّدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں
تھا…اس زمانے کی جنگوں میں جھنڈے کی بڑی اہمیت تھی … جب تک لشکر کا جھنڈا بلند
رہتا لشکر غالب رہتا … اسی لیے جھنڈا بہت ہی بہادر اور ثابت قدم شخص کے ہاتھ میں
دیا جاتا تھا…اور اس کے آس پاس بھی ایسے مضبوط افراد موجود رہتے جو ’’علمبردار‘‘
کی شہادت کی صورت میں فوراً جھنڈا تھام لیتے… حضرت حمزہ رضی اللہ
عنہ راہ جہاد کے ابتدائی مسافر تھے اور آپ کا یہ باسعادت سفر ہجرت کے
تیسرے سال غزوہ اُحد میں…بصورت شہادت مکمل ہوا…
جی ہاں!
مزہ تو تبھی ہے جب سفر جہاد کا اختتام مقبول شہادت پر ہو…اس لئے ہر مجاہد کو…دن
رات مقبول شہادت کی دعا کا اہتمام کرنا چاہیے…جو مسلمان دل کے یقین کے ساتھ شہادت
مانگتا ہے… اسے شہادت کا مقام ضرور ملتا ہے خواہ وہ اپنے بستر پر ہی کیوں نہ
مرے…پس جب بھی کوئی مقبولیت کی گھڑی دیکھیں…فوراً دل کے شوق سے شہادت مانگ لیں…جب
صدقہ دیں تو اس کے بعد شہادت مانگ لیں…جب کوئی ذکر یا وظیفہ کریں تو اس کے بعد
اخلاص کے ساتھ شہادت مانگ لیں… یہ بار بار مانگنے کی چیز ہے…یہ مل جائے تو سارے
مسئلے حل…اسلام کا پہلا غزوہ ’’صفر المظفر‘‘ کے مہینے میں برپا ہوا…حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساٹھ جانثاروں کے ساتھ
قریش کے ایک قافلہ پر حملہ فرمانے تشریف لے گئے…یہ قافلہ پہلے ہی نکل گیا تھا تو
لشکر کا رخ اپنے دوسرے ہدف بنو ضمرہ کی طرف ہوا… بنوضمرہ نے جنگ نہ کی بلکہ صلح
اور معاہدہ پر آمادہ ہوئے…یہ جہادی سفر پندرہ دن کا تھا…پندرہ دن بعد یہ لشکر
بخیر و خوبی مدینہ منورہ لوٹ آیا…اچھا! یہاں ایک بات بتائیں…آپ جب کسی ایسے
اسلامی لشکر کا حال پڑھتے ہیں جس کی کمان خود حضرت آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم فرما رہے تھے… توآپ کے دل کا کیا حال ہوتا ہے؟سچی بات
ہے کہ دل پر جو کیفیت گذرتی ہے وہ زبان اور قلم سے بیان نہیں ہو
سکتی… ؎
کسی کو
کیا خبر دل پر ہمارے کیا گذرتی ہے
کتنے خوش
نصیب تھے وہ مجاہدین جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کی قیادت میں …جہاد پر نکلتے تھے… اور خود حضرت آقا مدنی
صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جنگی اور جہادی لباس میں کیسے لگتے ہوں
گے؟…سر مبارک پر جنگی خود، جسم اطہر پر سجے ہوئے ہتھیار …ہاتھ مبارک میں چلتی
تلوار…ہائے! وہ ’’تلوار ‘‘ بھی اپنی قسمت پر ناز کرتی ہو گی…میرے محبوب آقا مدنی
صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیارہ تلواریں تھیں…اور ہر تلوار
دوسری سے بڑھ کر تیز اور قیمتی…ایک عام مجاہد کا قدم جب جہاد میں مٹی پر پڑتا ہے
تو یہ مٹی…جنت کی زمین بن جاتی ہے…تو اس مٹی کا کیا مقام ہو گا جس پر حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے جہادی قدم مبارک پڑتے ہوں گے…وہ مٹی
تو اپنی افضلیت پر آسمانوں کو چیلنج کرتی ہو گی…اور جیت جاتی ہو گی… ہجرت کے
ساتویں مہینے حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کا جو
پرچم مسلمانوں کے حوالے فرمایا…وہ پرچم ان شاء اللہ قیامت تک لہراتا رہے گا…امت کے
خوش نصیب افراد اس پرچم کو کبھی سرنگوں نہیں ہونے دیں گے… اے وہ مسلمانو! جنہیں اس
زمانے میں جہاد فی سبیل اللہ کا تعلق نصیب ہے… اپنی خوش نصیبی پر اللہ
تعالیٰ کا شکر ادا کرو…جہاد کے منکر کبھی مسلمان نہیں ہو سکتے…بے شک ساری رات
عبادت میں گذاریں…اور سارا دن دینی کتابوں کی ورق گردانی کریں…کل مینار پاکستان پر
کسی نے جہاد و قتال کی بات کر دی تو …مسلمانوں میں گھسے ہوئے فرنگی انڈے چٹخنے
لگے… ایک طرف یہ منظر ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم خود
تلوار اٹھائے جہاد پر تشریف لے جا رہے ہیں…اور دوسری طرف یہ منظر کہ خود کو مسلمان
کہلوانے والے افراد کوجہاد کا نام سننا بھی گوارا نہیں…یہ مسلمان ہیں یا انگریزی
فارمی انڈے؟…یہ اُمتِ محمدیہ کے افراد ہیں یا امریکی پالتو چوہے؟…
صفر کے
مہینے میں ایک اور بڑا اسلامی غزوہ بھی ہوا…یہ ہے ’’غزوہ خیبر‘‘ اس میں روانگی تو
محرم کے آخر میں ہوئی مگر جنگ اور فتح صفر الخیر کے مہینے میں ہوئی…غزوۂ خیبر
یہودیوں کے خلاف تھا اور اس غزوہ نے مسلمانوں کو بہت مستحکم کر دیا…اُمید ہے کہ
آپ نے غزوہ خیبر کے واقعات پڑھ رکھیں ہوں گے… نہیں پڑھے تو آج ہی سیرت کی کسی
کتاب یا فتح الجواد میںپڑھ لیں…موبائل کی آفتوں میں سے ایک آفت یہ بھی ہے کہ
مسلمان ’’کتابوں‘‘ سے کٹتے جا رہے ہیں…
اب ہر
چیز کانوں سے سنی جاتی ہے…اور کانوں کے ڈاکٹروں کے پاس مریضوں کا ہجوم ہے… کتاب کو
پڑھنے سے علم ملتا ہے…آنکھیں تیز ہوتی ہیں…دماغ کو قوت ملتی ہے…اور انسان کے اندر
مضبوطی آتی ہے…جبکہ کمپیوٹر اور موبائل کی شعاعوں سے آنکھیں اور دماغ کمزور ہوتے
ہیں اور بدن بھی پگھلنے لگتا ہے…ابھی ایک تازہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ٹی
وی،موبائل اور کمپیوٹر کی سکرین اگر پندرہ بیس منٹ تک مسلسل دیکھی آئے تو اس سے
آدمی کی عمر میں ایک دن کی کمی ہو جاتی ہے…عمر کا مسئلہ تو خیر متعین ہے مگر یہ
بات یقینی ہے کہ نقصان بہت زیادہ ہوتا ہے…کتابیں خریدا کریں،کتابیں پڑھا کریں اور
اپنے بچوں کو کتابیں پڑھنے کا عادی بنائیں تاکہ …علم سے تعلق مضبوط ہو… مشرکین ،
صفر کے مہینے کو ’’نحوست والا‘‘ کہتے تھے…اسلام نے پُر زور تردید کی اور بتایا کہ
اس مہینہ میںکوئی نحوست نہیں…مگر دنیا میں ایسے واقعات ہو جاتے ہیں جو ’’شیطانی
نظریات‘‘ کے لئے دلیل بن سکتے ہیں…یہ ایک مسلمان کے عقیدے اور توکل کا امتحان ہوتا
ہے کہ …کون ثابت قدم رہتا ہے اور کون پھسل جاتا ہے…مثلاً آپ نے کوئی بہت اجر والا
کام شروع کیا…اسی اثنا میںکوئی مصیبت آ گئی… اب شیطان کو دلیل مل گئی وہ فوراً
آپ کے کان میں پھونکے گا کہ یہ مصیبت اس نیک عمل کی وجہ سے آئی ہے…یا یوں کہے گا
کہ یہ عمل تو اچھا ہے مگر بہت بھاری ہے تمہارے بس کا نہیں…آئندہ بھی کرو گے تو
ایسی ہی مصیبت آئے گی…چنانچہ بہت سے لوگ ایسے حالات میں عمل چھوڑ دیتے ہیں…
حالانکہ اس مصیبت کا اس نیک عمل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا … بلکہ اگر یہ نیک عمل نہ
ہوتا تو وہ مصیبت اپنے ساتھ مزید مصیبتوں کو بھی لے آتی…
حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بعض ایسے
واقعات پیش آئے جنہیں شیطان اس بات کی دلیل بنا سکتا ہے کہ…’’صفر‘‘ کا مہینہ نعوذ
باللہ نحوست والا مہینہ ہے…پہلا واقعہ ’’رجیع ‘‘ کا ہے اس میں کئی مسلمان دھوکے سے
شہید کئے گئے اور حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ گرفتار
ہوئے اور انہیں سولی دے کر شہید کیا گیا…دوسرا واقعہ ’’بیئر معونہ‘‘ کا پیش آیا
اس میں بڑے اونچے مقام والے ستر حفاظ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین کو دھوکے سے شہید کیا گیا…اور تیسرا یہ کہ حضوراقدس صلی اللہ
علیہ وسلم کے وصال پر ملال کی بیماری صفر سے شروع ہوئی…حالانکہ
ان تین واقعات کا نحوست کے ساتھ دور دور کا بھی تعلق نہیں…واقعۂ رجیع اور بئر
معونہ کے شہداء کو اللہ تعالیٰ نے جو مقام عطا فرمایا…اسے پڑھ کر دل دھڑکنے لگتا
ہے اور کہتا ہے کہ کاش! ہمیں بھی اس مقام کا کچھ حصہ نصیب ہو …حضور اقدس صلی اللہ
علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا کہ ہمارے پاس آئیں یا
دنیا میں رہیں …آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی ملاقات
کو اختیار فرمایا…پھر یہ بھی کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا
وصال ’’ربیع الاول‘‘ میں ہوا تو کیا ’’ربیع الاول‘‘ کو بھی منحوس قرار دیں گے…
حالانکہ یہ مبارک مہینہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش
کا مہینہ ہے…واقعہ رجیع اور بئر معونہ جیسے حادثات دوسرے مہینوں میں بھی پیش
آئے…فتح اور شکست،بیماری اور موت یہ ہر انسان کے پیچھے لگے رہتے ہیں…اور کسی بھی
وقت آ سکتے ہیں…ایک مسلمان کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ ہر وقت نحوست وغیرہ کی فکر
اور چکر میں پڑا رہے…صفر کے مہینے میں اسلامی غزوات کا آغاز ہوا…حضور اقدس صلی
اللہ علیہ وسلم نے اسی مہینہ سے اپنے جہاد مبارک کا آغاز
فرمایا…وہ مسلمان جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں…
اور قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے طلبگار ہیں…مگر وہ
ابھی تک جہاد سے دور ہیں… ان سب سے درد مندانہ گذارش ہے کہ آپ بھی اسی ’’صفر‘‘ کے
مہینے سے …اپنے جہادی سفر کا آغاز کر دیں…
کامیابی
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں ہے …اور
جہاد کے بغیر ’’کامل اتباع‘‘ نصیب نہیں ہو سکتا…فریضۂ جہاد کو دل سے قبول
کیجئے،جہاد کی تربیت حاصل کیجئے…جہاد میں مال لگائیے،جہاد میںجان لگائیے…اور جہاد
کی ہر طرح سے خدمت کیجئے…مگر وہی مبارک جہاد…جس میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم نے صفر ۲ھ غزوہ
ابواء کی طرف سفر فرمایا… پھر بدر و اُحد سے غزوہ خندق…سے گذرتے ہوئے فتح مکہ اور
پھر حنین سے غزوۂ تبوک تک…یہی حقیقی جہادِ فی سبیل اللہ ہے اور یہی اسلام کا محکم
فریضہ ہے…
لا الہ
الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل
علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ ان لوگوں کو پسند نہیں فرماتے…جو تکبر کرتے ہیں،اکڑتے ہیں اور فخر کرتے
ہیں… آج کی مجلس میں اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کی خدمت میں چند مشورے عرض
کرنے ہیں…
خود کو
دوسروں سے بڑا نہ سمجھیں
اللہ
تعالیٰ نے کسی کو مالدار بنایا…اور کسی کو غریب…مگر کوئی مالدار کسی غریب سے
’’بڑا‘‘ نہیں جو مالدار خود کو غریبوں سے بڑا اور افضل سمجھے گا…اور اس پر اکڑے گا
وہ ہلاک وبرباد ہو جائے گا… اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں سے نفرت فرماتے ہیں…
اللہ
تعالیٰ نے کسی کو اچھی شکل والا بنایا…اور کسی کو کم صورت…مگر کوئی خوبصورت انسان
اپنی خوبصورتی کی وجہ سے…کسی کم صورت انسان سے ’’بڑا‘‘ اور افضل نہیں…جو ایسا
سمجھے گا وہ مارا جائے گا…اللہ تعالیٰ تکبر اور فخر کرنے والوں… کو قیامت کے دن
چیونٹیوں جیسا حقیر بنا دیں گے…
اللہ
تعالیٰ نے دنیا میں کسی کو بڑا عہدہ اور منصب دیا…اور کسی کو عہدہ و منصب نہیں دیا
… مگر کوئی عہدیدار اپنے عہدے کی وجہ سے کسی سے بڑا نہیں…
جو
عہدیدار اپنے مامورین اور ماتحتو ں کو حقیر سمجھے گا…اورخود کو بڑا سمجھے گا وہ
تباہ ہو جائے گا… اللہ تعالیٰ کسی ایسے شخص کو جنت میں داخل نہیں فرمائیں گے جس کے
دل میں رائی کے دانے برابر ’’تکبر‘‘ ہو گا…بڑائی ہو گی…
پس
کامیاب زندگی اور کامیاب آخرت پانے کے لئے ضروری ہے کہ…ہم جو بھی ہیں،جیسے بھی
ہیں…خود کو ’’انسان‘‘ سمجھیں…مٹی سے بنا ہوا اللہ تعالیٰ کا بندہ…
جو
مسلمان جس قدر تواضع اختیار کرے گا… وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اسی قدر اونچا ہو گا…
تکبر، بڑائی، خود نمائی اور عجب یہ سب ’’بدبودار‘‘ صفات ہیں…
جماعت کے
ذمہ دار جو مختلف عہدوں پر ہیں …ان کو خاص طور سے ’’تواضع‘‘ کی صفت اپنانی
چاہیے…اپنے ماتحت مجاہدین اور ساتھیوں کو ہرگز حقیر یا چھوٹا نہیں سمجھنا
چاہیے…ہاں! جماعتی معاملات میں مضبوطی سے ’’اطاعت‘‘ کروائیں …مگر ذاتی معاملات میں
ان کو اپنے سے بہتر یا کم از کم برابر سمجھیں…
خواتین
دو کام ضرور کر لیں
جو
مسلمان خواتین کامیابی چاہتی ہیں… کامیاب زندگی اور کامیاب آخرت …وہ دو کام ضرور
کر لیں…پہلا یہ کہ نماز ہمیشہ اول وقت ادا کریں…اپنے پاس اوقات نماز کا نقشہ
رکھیں، جیسے ہی وقت داخل ہو فوراً ’’اللہ اکبر‘‘… آپ یقین کریں کہ اس عمل کی برکت
سے آپ کی زندگی بدل جائے گی…اس عمل کے فوائد اور فضائل لکھوں تو آج کا پورا کالم
اسی میں لگ جائے گا …خود سوچیں کہ جب نماز کا وقت داخل ہوتا ہے تو فرمایا جاتا
ہے…اٹھ میری بندی! میرے لئے نماز قائم کر…اب جو پہلی آواز پر ہی دوڑ کر حاضر ہو
جائے…اس کا مقام کتنا اونچا ہو گا؟…جو بیوی خاوند کی پہلی آواز پر دوڑتی چلی آئے
وہ خاوند کا دل جیت لیتی ہے…نماز کی آواز نماز کا وقت داخل ہوتے ہی آنا شروع
ہوتی ہے…اور نماز کا وقت ختم ہونے تک آتی رہتی ہے…جن کو اپنے محبوب رب تعالیٰ سے
سچی محبت ہے وہ تو پہلی آواز پر ہی بے تاب ہو کر دوڑتے ہیں…اور پھر وہ اپنے رب کی
خاص نعمتوں کو پا لیتے ہیں…
عزیز
بہنو! آپ کے پاس بہت علم ہو مگر نماز میں سستی ہو تو یہ علم بھی وبال بن جائے
گا…نماز میں اللہ تعالیٰ کی مدد ہے…اس مدد کو آپ ساتھ لیں گی تو کس کی مجال ہے کہ
آپ کی ناقدری کرے… آپ کو ستائے…
فجر کا
وقت داخل ہوا’’اللہ اکبر‘‘ عصر کا وقت داخل ہوا ’’اللہ اکبر‘‘…یہ وہ دو نمازیں ہیں
جو خواتین کا امتحان ہیںکہ …انہیں اللہ تعالیٰ سے کتنی محبت ہے…
جب فجر
میں سستی ہوتی ہے تو چہرے بے نور ہو جاتے ہیں…اور جب عصر میں سستی ہوتی ہے تو ہر
مصیبت لپک کر آتی ہے…خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اپنی نمازوں کا معاملہ ٹھیک
کر لیں… آپ کا ہر مسئلہ ان شاء اللہ ٹھیک ہو جائے گا…
نماز کے
لئے بہترین اور پاکیزہ کپڑوں کا جوڑا…نماز کے لئے اچھی سے اچھی خوشبو… نماز کے لئے
بہترین مسواک…نماز کے لئے سفید عمدہ جائے نماز…نماز کے لئے توجہ سے کیا ہوا وضو…
سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ کی بندی اپنے رب تعالیٰ کے ساتھ بندگی کا عہد وفا کرنے کے
لئے اول وقت حاضر…اور پھر اطمینان سے پوری نماز اور آخر میں دل کی توجہ سے
دعاء…یاد رکھیں! اسی سے آپ کی دنیا اور آخرت کے مسائل حل ہوں گے…نماز کا اہتمام
کیے بغیر تعویذوں، گنڈوں، دھاگوں، دوائیوں،چالاکیوں سے کوئی کام نہیں بنتا …بالکل
نہیں بنتا بلکہ الٹا پریشانیاں بڑھتی ہیں…
دوسرا
کام یہ کہ…اپنا پردہ مضبوط کر لیں… نہ کسی غیر محرم کو دیکھیں اور نہ خود کو کسی
غیر محرم کے سامنے لائیں…برقع فیشن والا بالکل نہ پہنیں …ایسے برقع کا کیا فائدہ
جو غلیظ اور ناپاک نظروں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہو…ایمان والی عورت جب بازار سے
برقع منگواتی ہے تو پہن کر اپنی بہنوں اور سہیلیوں سے پوچھتی ہے کہ…یہ مجھے کیسا
لگ رہا ہے؟…اگر وہ کہیں کہ بہت اچھا بہت خوب صورت…تو فوراً وہ برقع واپس کر دیتی
ہے کہ یہ تو خود کو چھپانے کے لئے پہنا جاتا ہے نہ کہ خود کو دکھانے کے لئے…تنگ
اور چست کپڑے ہرگز نہ پہنیں اور پردے کو اپنے لئے رحمت سمجھیں…
جہاد کی
تربیت میں تاخیر نہ کریں
ہر وہ
مسلمان جو کلمہ طیبہ ’’لا الہ الااللّٰہ محمدرسول اللّٰہ‘‘ پڑھتا ہے اور اس کلمہ
پر یقین رکھتا ہے… اس کے لئے لازمی نصیحت ہے کہ وہ جہاد کی عملی تربیت حاصل کر
لے…اور ہر وہ مسلمان جس کی نرینہ اولاد یعنی بیٹے بالغ ہو چکے ہیں اس پر لازم ہے
کہ وہ اپنے بیٹوں کو جہاد کی تربیت فوراً دلوا دے … جو مسلمان ان دو معاملات میں
سستی کرے گا… یعنی خود جہاد کی تربیت نہیں لے گا یا اپنی اولاد کو تربیت نہیں
دلوائے گا…وہ اپنے ایمان اور اپنے دین کو خطرے میں ڈال دے گا…جہاد مسلمانوں کے لئے
نماز اور روزے کی طرح فرض ہے…اور جہاد رسول کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کا عمل اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی
تاکیدی وصیت ہے…قرآن و حدیث میں جہاد کی اتنی تاکید کے باوجود… ایک مسلمان کو
جہاد کرنا ہی نہ آئے تووہ کیسا مسلمان ہے؟…اللہ کے لئے اپنا ایمان بچائیں اور سچے
مسلمان بنیں…چند دن فضائل جہاد کا عمل کی نیت سے مطالعہ کریں ان شاء اللہ آنکھیں
کھل جائیں گی…
خرید و
فروخت میں کم گوئی
امانت
داری کے ساتھ تجارت کرنے والے …اس امت کے تاجروں کا حشر ’’صدیقین‘‘ کے زمرے میں ہو
گا…ایسی کامیاب تجارت کا ایک اہم راز یہ ہے کہ…آپ خرید و فروخت کے وقت بہت کم
بولیں…زیادہ بولنے میںجھوٹ، مبالغہ ، دھوکہ اور نہ معلوم کیسے کیسے گناہ ہو جاتے
ہیں…بڑا دکھ ہوتا ہے کہ دکاندار اپنے مال اور سامان کو بیچنے کے لئے قسمیں تک کھا
جاتے ہیں…قسمیں کھانا نہ تو مال کو بڑھاتا ہے اور نہ رزق کو…آپ کوئی چیز بیچ رہے
ہیں وہ گاہک کے سامنے کر دیں قیمت بتا دیں… اور پھر ذکر میں لگ جائیں اس نے خریدنی
ہو گی تو ضرور لے جائے گا اگر اس کی قسمت میں نہیں تو آپ فضول گفتگو سے بچ جائیں
گے…ملمع سازی اور لفاظی کی مارکیٹنگ جو آج ایک فن بن چکی ہے… وہ مسلمانوں کے لئے
زہر قاتل ہے… ہاں! اگر اپنے سامان کا عیب بتا دیں تو آپ کی تجارت خوب نکھر جائے
گی…زیادہ خوبیاں گنوانا ، گاہک کو پھنسانے کے لئے لچھے دار گفتگو کرنا … اور بولتے
ہی چلے جانا ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتا …جو لوگ اسے اپنی عقلمندی سمجھتے ہیں وہ
بیچارے عقلمند نہیں بیوقوف ہیں…کیونکہ جو کچھ ان کے نصیب کا ہے وہ انہیں یہ سارے
گناہ کئے بغیر بھی ضرور مل جائے گا…ماضی کے ان کامیاب مسلمان تاجروں کے حالات
پڑھیں جن کی تجارت ان کے لئے جنت کا ذریعہ بن گئی…
خدمت
ٹھیک،ٹھیکیداری غلط
ایک منظر
دیکھیں! ایک صاحب مسجد کے کونے میں بیٹھے کسی کو چیخ کر بتا رہے ہیں کہ… پنکھے کا
بٹن بند کر دو…یار یہ بٹن نہیں اوپر سے تیسرا بٹن…ہاں پانچواں بھی آف کر دو…وہ
اپنے گمان میں بڑی نیکی کر رہے ہیں کہ مسجد کی بجلی بچا رہے ہیں…مسجد کی خدمت کر
رہے ہیں… حالانکہ وہ اپنے اس شور شرابے کی وجہ سے ایک ’’قبیح گناہ‘‘ میں مبتلا ہو
رہے ہیں…پہلا گناہ یہ کہ مسجد میں شور شرابا…دوسرا گناہ یہ کہ نماز پڑھنے والوں کی
نماز خراب کرنا…اور تیسرا گناہ یہ کہ اپنے گناہ کو نیکی سمجھنا…اللہ تعالیٰ معاف
فرمائے ’’مساجد‘‘ کے یہ خادم آج کل ہر مسجد میں زیادہ ہو گئے ہیں…مگر حقیقت میں
یہ خادم نہیں ٹھیکیدار ہوتے ہیں… جب چاہتے ہیں مائک پکڑ کر طرح طرح کے اعلانات
شروع کر دیتے ہیں… نہ کسی کی نماز کا خیال رکھتے ہیں اور نہ کسی کی تلاوت کا…مسجد
کے بارے میں تو یہ حکم ہے کہ وہاں کسی کو آواز دے کر پکارنا بھی درست نہیں…مسجد
میں ایسی بلند آواز سے ذکر کرنا کہ کسی کی نماز میں خلل ہو جائز نہیں … جب ذکر
اللہ کا یہ حکم ہے تو عام باتوں کا کیا حکم ہو گا؟ …ایسے افراد کی چندے کی اپیل
بھی بہت جارحانہ ہوتی ہے وہ نمازیوں کو بہت شرمندہ کرتے ہیں … گویا کہ اللہ تعالیٰ
کے مہمانوں کو رسوا کرتے ہیں… آپ مسجد ضرور جائیں، بار بار جائیں مگر جیسے ہی
مسجد میں سیدھا قدم رکھیں… اب مکمل طور پر با ادب ہو جائیں…اپنے فون کے ساتھ اپنے
گلے کو بھی سائلنٹ (خاموش) کر دیں… اپنے دل میں مسجد کی عظمت کو محسوس کریں…احتیاط
سے چلیں …کسی کو ایذاء نہ پہنچائیں… باجماعت نماز میں کھجلی،خارش یا کسی اور کام
کے لئے ہاتھ نہ ہلائیں …اس سے دوسروں کی نماز خراب ہوتی ہیں… خود صف میں سیدھے
کھڑے ہو جائیں دوسروں کو سیدھا کرنے کی فکر میں شور نہ کریں…یہ آپ کا کام نہیں
امام صاحب کا کام ہے…اقامت شروع ہوتے ہی ایسے ہو جائیں جیسے جسم میں حرکت اور جان
نہیں مکمل طور پر قبلہ رخ اور اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ…کئی لوگ اقامت شروع ہونے
کے بعد آڑھے ترچھے کھڑے ہو کر کسی کو آگے بلاتے ہیں، کسی کو پیچھے دھکیلتے ہیں…
غفلت کی انتہا دیکھیں کہ …اقامت کی آواز سن کر وہ خود اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ
نہیں ہوتے… سلام کے بعد اپنا رخ قبلہ کی طرف رکھ کر دعائیں پڑھیں…کئی لوگ اس وقت
گردن دائیں،بائیں گھما کر دعائیں پڑھتے ہیں تو ان کی دعائیں…دائیں ،بائیں والے
نمازیوں کے کان میں سپیکر بن جاتی ہیں… مقصد یہ کہ مسجد میں داخل ہوتے ہی…بس ایک
اللہ کی طرف متوجہ ہو جائیں… کسی دوسرے نمازی کو ایذاء یا خلل نہ پہنچائیں…اور
مسجد کی خدمت کرنی ہو تو… ادب،تواضع اور خاموشی سے خدمت کریں …ٹھیکیداری نہ کریں…
مسجد بہت اونچی جگہ ہے… یہ دنیا میں جنت کے باغات ہیں …اس لئے مکمل احتیاط سے کام
لیں…
یہ
ہیں…اپنے لئے اور آپ سب کے لئے چند مفید مشورے…دو مزید باتیں بھی تھیں مگر جگہ
مکمل ہو گئی…اللہ تعالیٰ توفیق عطاء فرمائے ان مشوروں پر عمل کریں اور دوسرے
مسلمانوں تک بھی پہنچائیں…خاص طور پر جہاد فی سبیل اللہ کی تربیت کا ’’حکم الہٰی‘‘
ہر مسلمان تک پہنچا دیں تاکہ کل کوئی یہ نہ کہے کہ ہمیں کسی نے بتایا نہیں تھا…
لاالہ
الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل
علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ اپنے اُس ’’مجاہد‘‘ اور ’’شہید‘‘ بندے کی مغفرت فرمائے… جو آج ہماری اس
مجلس رنگ ونور کا ’’مہمان خصوصی‘‘ ہے… اُس نے اپنے وصیت نامہ میں لکھا ہے کہ اس کی
شہادت کے بعد نہ ہی اُس کی یاد میں کوئی جلسہ کیا جائے… نہ مضمون لکھا جائے اور نہ
ہی کوئی اور تشہیر کی جائے…لاڈلے شہید کا ہر حکم سر آنکھوں پر…ان شاء اللہ نہ
جلسہ ہوگا اور نہ مضمون…نہ شہرت ہوگی نہ تشہیر…آج بھی آپ رنگ ونور میں ایک روشنی
کے ہالے کی طرح لطیف پردوں کے پیچھے بیٹھ کر ہی مجلس کی صدارت کریں گے…آپ کا نام
نہیں لکھوں گا…وہ تو خود مجھے بھی پوری طرح یاد نہیں… کیونکہ آپ کا خط پڑھنے کے
بعد آنکھوں پر اتنا پانی تھا کہ نام ٹھیک طرح سے پڑھا ہی نہیں گیا…ہاں! نام نہیں
لکھا جائے گا مگر آپ کی روشنی اور آپ کی خوشبو کو چھپانا، نہ ہی میرے بس میں ہے
اور نہ کسی اور کے…
اِس
لاڈلے شہید نے دو خط لکھے ہیں…ایک مختصر اور دوسرا مفصّل…مختصر خط میں بس ایک
درخواست تھی… دعا کریں کہ شہادت کے وقت میرے جسم کے زیادہ سے زیادہ ٹکڑے ہوں…میرا
اللہ مجھ سے راضی ہوجائے…اور بس…
کتنی
عجیب خواہش ہے… آج جو بھی صبح اٹھتا ہے وہ رات کو سونے تک جسم بنانے، جسم
سنوارنے، جسم مہکانے اور جسم بھرنے کی ہزاروں فکروں میں لگا رہتا ہے… طرح طرح کی
خوراکیں،طرح طرح کے ڈاکٹر، طرح طرح کی دوائیاں، طرح طرح کے لباس، طرح طرح کے میک
اپ… اور معلوم نہیں کیا کچھ…
جسم کی
حرص… جس قدر بڑھائی جائے… بڑھتی ہی چلی جاتی ہے…جسم کی خواہشات جس قدر پوری کی
جائیں ان میںاضافہ ہی ہوتا چلا جاتا ہے…جبکہ ایک دیوانہ اس تمنا میں ہے کہ اس کے
جسم کے زیادہ سے زیادہ ٹکڑے اللہ تعالیٰ کی راہ میں نچھاور ہوں…
سلام ہو
تم پر اے گمنام مسافر…اے عقلمند مسلمان!!
اللہ
تعالیٰ کے اولیاء الگ الگ شان والے ہوتے ہیں… بعض یہ وصیت کرجاتے ہیں کہ اُن کی
شہادت کے بعد اُن کے شہر میں…جہاد کا عظیم الشان جلسہ ہو…مقصد یہ ہوتا ہے کہ اُن
کے علاقے اور شہر میں جہاد کا پیغام عام ہو… زیادہ سے زیادہ مجاہدین وہاں سے نکلیں
اور اللہ تعالیٰ کے دین کو اَفرادی قوت ملے…یہ اپنے شہر اور علاقے کے ساتھ خیر
خواہی کا ایک انداز ہوتا ہے… نہ شہرت پسندی نہ ریاکاری…جبکہ بعض شہداء ’’فنا فی
اللہ‘‘ ہوتے ہیں…یہ بھی ولایت کا ایک مقام ہے…یہ حضرات حتیٰ الوسع کوشش کرتے ہیں
کہ گمنام رہیں…یہ دل کے بادشاہ ہوتے ہیں…سرجھکاکر اللہ تعالیٰ سے باتیں کرتے ہیں…
لوگوں میں بیٹھے ہوں تو بھی دل کا رابطہ اللہ تعالیٰ سے نہیں ٹوٹنے دیتے…جلوت میں
خلوت کے مزے لوٹتے ہیں…لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ کچھ سوچ رہے ہیں… حالانکہ وہ اپنے رب
سے مناجات میں مشغول ہوتے ہیں… اُن کا دل ان کی زبان بن جاتا ہے… اور جب ان کو
حقیقی خلوت اور تنہائی ملے تب اُن کی آنکھیں، ان کی زبان اور ان کے آنسو اُن کے
اَلفاظ بن جاتے ہیں…
یہاں پر
ایک بڑا اہم نکتہ یاد آگیا…مقبول شہداء کرام کی شہادت ضائع نہیں جاتی…یہ اوپر کا
فیصلہ ہے… جسے کوئی بدل نہیں سکتا…کسی شہید کا جلسہ ہو یا نہ ہو…کسی شہید کا تذکرہ
ہو یا نہ ہو… کسی شہید پر کوئی مضمون یاکتاب لکھی گئی ہو یا نہ… کسی شہید کو لوگ
جانتے ہوں یا نہ …شہداء ہر حال میں زندہ ہیں… ہر حال میں زندہ رہتے ہیں… اُن کا
کام زندہ رہتا ہے…اُن کے آثار طیبہ زندہ رہتے ہیں… اُن کا اجر زندہ رہتا ہے… اُن
کی فکر زندہ رہتی ہے… وہ چونکہ دینِ اسلام کے لیے مر مٹتے ہیں… تو اس لیے ان کی
زندگی اسلام کی آغوش میں آنکھ کھول لیتی ہے… ہر اذان کا اجر انہیں ملتا ہے، ہر
نماز،ہر حج اور ہر اسلامی حکم میں ان کے لیے اجر کا حصہ مقرر ہوجاتا ہے…اور پھر ان
کی زندگی کو ثابت کرنے کے لیے… قدرت ایسی ایسی کرامات سامنے لاتی ہے کہ انسانوں کی
عقل حیران رہ جاتی ہے… ابھی حال ہی کا واقعہ دیکھیں کہ شہید عبداللہ عزام رحمۃ
اللہ علیہ جو افغان جہاد کے پہلے مرحلے کے دوران پشاور میں شہید ہوئے۔
اُن کی
شہادت کے وقت بھی کئی کرامات ظاہر ہوئیں… مثلاً خون سے مہکتی خوشبو کااُٹھنا، گاڑی
کے تین ٹکڑے ہونے کے باوجود جسم کا سلامت رہنا وغیرہ … مگر پھر یہ ہوا ہے کہ ان کی
جماعت اور ان کا کام مکمل طور پر بکھرگیا… وہ ادارہ جو اِن کی کتابیں اور کیسٹیں
بناتا اور تقسیم کرتا تھا ختم ہو گیا…اُن کی جماعت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر اپنا
وجود کھو بیٹھی… عرب مجاہدین کی جو جماعت طاقت وربن کر اُبھری وہ شیخ سے ذہنی طور
پر دور تھی… پھر پاکستان میں آپریشن شروع ہوا اور شیخ ؒ کے بنائے ہوئے تمام ادارے
ختم ہوگئے… کسی دورمیں حالت یہاں تک پہنچی کہ وہ شخص جس کی کتابیں اور بیانات کسی
دور میں مشرق تامغرب پھیل چکے تھے… اب اس کی ایک کتاب بھی کہیں سے ملنا محال
تھی…بس یوں سمجھیں کہ ظاہری طور پر … قصہ ختم، کام ختم… مگر قرآن مجید کا محکم
فیصلہ ہے… ’’بل احیاء‘‘ کہ شہداء کی زندگی یقینی ہے… آج پھر آپ کو عراق وشام کے
جہاد میں شہید عبداللہ عزام رحمۃ اللہ علیہ کے قلم کا جہادی گھوڑا…
پوری شان سے دوڑتا ہوا نظر آرہا ہے… اور اسکی ٹاپوں سے اڑنے والی چنگاریاں
آنکھوں کو خیرہ کررہی ہیں…
حضرت
سیّد احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کا مختصر ساجہادی قافلہ …جن جن راہوں سے
گذرا…وہاں دو صدیاں بیت جانے کے باوجود …ان کے مبارک آثار صاف محسوس ہوتے ہیں …
اور شہدائِ بالاکوٹ جس کام کے لئے اٹھے اور مٹے… وہ آج الحمدللہ پورے عالم اسلام
میں جاری و ساری ہے… بات کچھ دور نکل رہی ہے واپس اپنے ’’صدرِ مجلس‘‘ کی خدمت میں
آتے ہیں… یہ ہمارے ایک گمنام بھائی اور شہید… انہوں نے ایک مفصل خط بھی لکھا ہے…
اس خط کے کئی رنگ ہیں اور ہر رنگ دوسرے سے زیادہ روشن ہے… ایک طرف وہ اپنی عفت
مآب نشانِ غیرت بہن… عافیہ صدیقی کا تذکرہ کرتے ہیں… ایک دردناک تذکرہ مگر امید
کی خوشبو سے مہکتا تذکرہ…وہ کہتے ہیں کہ بہن جی کو جہاد کے عمل کی برکت سے ان شاء
اللہ آزادی ملے گی… اور میری شہادت کے بعد ان شاء اللہ آپ لوگ بہن جی… کی آزادی
کی خبربھی کسی دن سن لیں گے…
’’اے
باوفا شہید! اللہ تعالیٰ تمہارے الفاظ کو مبارک فرمائے۔‘‘
اس مفصل
خط میں ’’گمنام مؤمن‘‘ نے ایک رات کا تذکرہ بھی کیا ہے…اللہ تعالیٰ مجھے اور
القلم کے تمام قارئین کو بھی … آنکھیں کھولنے والی ایسی ’’رات‘‘ نصیب فرمائے… آہ!
مسلمانوں کی راتیں کتنی تاریک، کتنی بدبودار اور کتنی غفلت زدہ گزرتی ہیں… یا
اللہ! رحم، یااللہ! معافی…
وہ رمضان
المبارک کے آخری عشرے کی ایک رات تھی …غالبا ًپچیسویں شب… وہ گمنام بندہ، جامع
مسجد عثمان و علی رضی اللہ عنہمابہاولپور میں معتکف تھا کہ… اس رات اُس کو خصوصی
توجہ عنایت فرمادی گئی…ہاں! اللہ تعالیٰ کی محبت اسی طرح کسی دل پر چپکے سے دستک
دیتی ہے… اور پھر سودا ہوجاتا ہے، وہی سودا جس کا قرآن مجید میں والہانہ تذکرہ
ہے… اللہ تعالیٰ خریدار بن کرآگیا… دل پر دستک دی… ارے! جان دے دو، ہماری رضا لے
لو… ہماری جنت لے لو…ہمارا پیار لے لو… ہماری محبت لے لو…ارے! جان دے کر زندگی لے
لو… ہمیشہ کی زندگی… اور پھر اس سودے اور اپنی قسمت پر ناز کرو، خوشیاں منائو…
فَاسْتَبْشِرُوا
بِبَیْعِکُمُ الَّذِی بَایَعْتُمْ بِہ
وہ گمنام
مومن ہوشیار ہوگیا… اس نے دل پر آنے والی دستک محسوس کرلی… اسے یاد آیا کہ میرے
ماضی کی زندگی…کس قدر غفلت میں گذری تھی…پھر کچھ لوگ میری زندگی میں آئے… یہ
دیوانوں کی جماعت ’’جیش‘‘ کے لوگ کے تھے… وہ مجھے اس مرکز میں لے آئے… جس مرکز کے
ہر چپے پر کسی شہید کے والہانہ ذکر اللہ کی گواہی لکھی ہے… اور پھر میرارخ ’’اللہ
تعالی‘‘ کی طرف ہو گیا… ایک جماعت جس نے چند دن میں مجھے ایسی جگہ لا کھڑا کیا کہ
آج مجھ جیسے گناہگار کے دل پر محبت کی دستک آرہی ہے…
ہائے
کاش! جماعت کے ذمہ دار… جماعت کے ساتھی اور پاکستان کے مسلمان اس جماعت کی قدر
کریں…وہ درد کے ساتھ لکھتا ہے:
ْْ’’مجھے
اس رات دعا مانگتے مانگتے اور شکر کرتے کرتے یہ بات محسوس ہوئی کہ اس جماعت کی قدر
نہ خود جماعت والے ٹھیک طرح سے کررہے ہیں اور نہ پاکستان کے مسلمان مگر میرا عزم
ہے کہ اسی جماعت کے پرچم تلے…اپنے جسم کے ٹکڑے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کردوں تاکہ
عافیہ بہن رہا ہوجائے اور میری جماعت کی حفاظت ہوجائے‘‘…
سُبْحَانَ
اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیمْ…سُبْحَانَ اللّٰہِ
وَبِحَمْدِہِ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیمْ
میں خط
کے یہ الفاظ پڑھ رہا تھا تو سر شرم سے جھک گیا… مجھے بھی جماعت کے دینی، روحانی
اِحسانات یاد آنے لگے اور ساتھ یہ بھی کہ میں بھی تو کبھی کبھار جماعت کے کاموں
میں سستی یا تاخیر کرجاتا ہوں… تب اسی وقت تمام رکے ہوئے کام یاد کئے اور ایک ایک
کو نمٹانا شروع کیا اور بار بار اُس گمنام شہید کا شکر یہ بھی ادا کرتا رہا کہ:
اے سچے
عاشق…غفلت کے پردے چاک کرنے کا شکریہ!
یااللہ!
ہماری آج کی اس مجلس کا پورا ثواب اس گمنام شہید اور اس کے تینوں رُفقاء کو عطا
فرما دیجئے… اور ہمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل فرمادیجئے، جنہوں نے اس جماعت سے
اپنا دین بنایا اور آپ کی محبت اور مقبول شہادت کو پایا…آمین یاارحم الراحمین
لا الہ
الا اللہ،لا الہ الا اللہ،لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللھم صل
علی سیدنا محمد والہ و صحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ ہمیں اُن خوش نصیبوں میں سے بنائے جو صرف ’’اللہ تعالیٰ‘‘ سے مانگتے ہیںاور
اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہیں مانگتے…
اَللّٰہُمَّ
اَغْنِنَا بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ
یا اللہ!
اپنا فضل فرما کر ہمیں اپنے سوا ہر کسی سے غنی فرما دیجئے…
قرآنی
نقشہ
’’دعاء‘‘
کتنی بڑی چیز ہے…اور کتنی ضروری چیز ہے اسے سمجھنا ہو تو قرآن مجید میں جھانک کر
دیکھیں…بڑے بڑے اولوالعزم انبیاء علیہم السلام اللہ تعالیٰ سے دعاء
مانگ رہے ہیں…بڑے بڑے مجاہدین دعاء مانگ رہے ہیں…بڑے بڑے بادشاہ دعاء مانگ رہے
ہیں…فاتحین بھی دعاء مانگ رہے ہیں…اور مظلوم بھی دعاء مانگ رہے ہیں…اور جو بھی
اللہ تعالیٰ سے دعاء مانگ رہا ہے وہ کامیاب ہو رہا ہے…
قرآن
مجید کی دعائیں پڑھتے جائیں…ان دعاؤں کے آس پاس والا قصہ پڑھتے جائیں… آپ کے دل
میں دعاء کی اہمیت اچھی طرح بیٹھ جائے گی…افسوس! کہ آج مسلمانوں نے دعاء بہت کم
کر دی ہے…اکثر مانگتے ہی نہیں…اور جو مانگتے ہیں وہ توجہ اور یقین سے نہیں مانگتے…
آج کا
سبق
آج کئی
باتیں عرض کرنی تھیں مگر ایک ضروری بات جس کا تعلق دعاء کے ساتھ ہے وہ ہر بار رہ
جاتی ہے…آج کوشش کرتے ہیں کہ اس کا کچھ تذکرہ ہو جائے…دعاء کے بارے میں ہم پر کچھ
حقوق ہیں…کچھ لوازمات ہیں اور کچھ قرضے…بس یہی ایک نکتہ آج کا سبق ہے…
تین طبقے
ہم میں
سے ہر مسلمان کی زندگی میں تین طبقے ضرور موجود ہوتے ہیں:
١ ہم
پر احسان کرنے والے…ہمارے ساتھ بھلائی کرنے والے مسلمان…
٢ ہم
پر ظلم کرنے والے…ہمیں ستانے والے مسلمان…
٣ وہ
مسلمان جن پر ہم کوئی ظلم کر بیٹھتے ہیں…کوئی زیادتی،غیبت،حق تلفی وغیرہ…
آپ کو
اپنی زندگی میں یہ تین طبقے ضرور نظر آئیں گے…اور مرتے دم تک یہ تینوں ہمارے ساتھ
رہتے ہیں…ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی روزانہ کی دعاء میں ان تین طبقوں کو ان کا
پورا حق دیں…جو مسلمان یہ حق ادا کرتا ہے وہ بڑی بڑی نعمتیں پا لیتا ہے…
پہلا
طبقہ
ناشکری
بہت خطرناک گناہ اور جرم ہے … ناشکری انسان کو کفر تک لے جاتی ہے…اسی لئے عربی
زبان میں ناشکری کو ’’کفران‘‘ کہتے ہیں … اور یہ مقولہ مشہور ہے کہ کفران بڑھ جائے
تو انسان کو کفر میں گرا دیتا ہے…اور فرمایا کہ جس نے لوگوں کی ناشکری کی…یعنی ان
کے احسان کو نہیں مانا، ان کے احسان کو محسوس نہیں کیا وہ انسان…اللہ تعالیٰ کا
بھی ’’ناشکرا‘‘ ہوتا ہے…حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مایہ
ناز اصلاحی کتاب ’’الادب المفرد‘‘ میں ہر مسلمان کو یہ نکتہ سمجھانے کے لئے بہت
زور لگایا ہے… اللہ تعالیٰ توفیق دے تو وہاں ضرور پڑھ لیجئے گا…اللہ تعالیٰ ہماری
زندگی میں ایسے افراد کو لاتا ہے جو ہم پر ’’احسان‘‘ کرتے ہیں… اوران کے ذریعے
اللہ تعالیٰ ہمیں بڑی انمول نعمتیں عطاء فرماتا ہے مگر شیطان کی پوری کوشش رہتی ہے
کہ …ہم ایسے افراد اور ان کے احسانات کی ناقدری کریں، ناشکری کریں… ایسے افراد کے
لئے روزانہ دعاء کو اپنا معمول بنانا چاہیے…دعاء بھی شکر گزاری اور احسان کا بدلہ
دینے کا ایک بہترین ذریعہ ہے… کسی نے ہم پر دینی احسان کیا،کسی نے ہم پر روحانی
احسان کیا…کسی نے ہم پر دنیاوی احسان کیا… کسی نے ہم پر علمی احسان کیا…یا اللہ!
جس مسلمان نے بھی ہمارے ساتھ کوئی احسان کیا،ہمیں کوئی بھی خیر یا بھلائی پہنچائی
اسے اس کا بہترین بدلہ… جزائے خیر دنیا وآخرت میںعطافرما دیجئے …ایسے تمام افراد
کی مغفرت فرما دیجئے!انہیں وافر رزق حلال عطاء فرما دیجئے …اور انہیں جہنم کی آگ
اور دھوئیں تک سے بچا لیجئے … یا اللہ! آپ کے علم میں جو افراد ہمارے لئے خیر
والے ہیںہمیں ان کی قدر دانی نصیب فرما دیجئے …
یہی دعاء
کر لیجئے یا اس سے ملتے جلتے اپنے حسب حال الفاظ استعمال کیجئے…یقین کریں اگر آپ
نے اس دعاء کو اپنا معمول بنا لیا تو …ان شاء اللہ آپ کے بہت سے قرضے اُتر جائیں
گے… بہت سے حقوق ادا ہو جائیں گے…اور آپ بہت سی محرومیوں سے بچ جائیں گے…آپ کے
’’اہل احسان‘‘ وفات پا چکے ہیں یا زندہ ہوں…دونوں کے لئے دعاء کو اپنا معمول بنا
لیں…
دوسراطبقہ
وہ
مسلمان جو ہمیں ستاتے ہیں،تنگ کرتے ہیں…ہم پر ظلم یا زیادتی کرتے ہیں…ہماری غیبت
کرتے ہیں…ہماری حق تلفی کرتے ہیں… ہمیں ایذاء پہنچاتے ہیں…یہ حضرات بھی دراصل
ہمارے ’’محسن‘‘ ہیں…یہ اگر ہماری زندگی میں نہ آئیں تو ہم کبھی ترقی نہ کر سکیں
…یہ افراد نہ ہوں تو ہم ہمیشہ کمزور رہ جائیں…یہ افراد نہ ہوں تو ہماری زندگی بہت
سی اچھی تبدیلیوں سے محروم رہ جائے… یہ ہمارے محسن ہیں…جس طرح پہلے طبقے والے
ہمارے محسن ہیں…فرق اتنا ہے کہ… پہلے طبقے والے ہمارے ساتھ بھی بھلا کرتے ہیں اور
اپنے ساتھ بھی بھلا کرتے ہیں…جبکہ دوسرے طبقے والے وہ لوگ ہیں جو اپنا نقصان کر کے
ہمارا بھلا کرتے ہیں…مثلاً اگر وہ ہماری غیبت کرتے ہیں تو اس میں ان کا شدید نقصان
ہے مگر ہمارا بھلا ہے کہ…ہمارے گناہ اب ان کے سر چلے جائیں گے… وہ ہمیں ستاتے ہیں
تو اپنا نقصان کرتے ہیںکیونکہ مسلمانوں کو ستانا جرم ہے…مگر ان کے ستانے کی وجہ سے
ہمارے اندر مضبوطی اور اچھی تبدیلی آتی ہے…اورہماری اصلاح ہوتی ہے… اس لئے جو
مسلمان جس قدر زیادہ کام والا ہوتا ہے اس کو ستانے والے بھی اس قدر زیادہ ہوتے
ہیں… لوگوں کے ستانے اور ایذاء پہنچانے سے ہمیں کون کون سی نعمتیں ملتی ہیں…یہ
قرآن مجید نے کئی جگہ بہت لطیف انداز میں سمجھایا ہے…آپ خود اپنی زندگی میں غور
کریں…ماضی کے واقعات یاد کریں… اگر بہت سے ستانے والے اور ایذاء پہنچانے والے
افراد آپ کی زندگی میں نہ آتے تو آپ کتنی نعمتوں سے محروم ہو جاتے…خیر یہ ایک
بڑا وسیع موضوع ہے…آج یہ عرض کرنا ہے کہ اس طبقے کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ اگر
ہم روز اسے معاف کریں …اور روز ان کے لئے دعاء کریں تو دو نعمتیں ملنے کا قوی
امکان ہے…پہلی نعمت یہ کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے معافی مل جائے گی جس کے ہم
بے حد محتاج ہیں…اور دوسری نعمت یہ کہ رزق میں ایسی برکت ہو گی کہ عقل اس کا احاطہ
نہیں کر سکتی…
یا اللہ!
ہر وہ مسلمان جس نے ہماری غیبت کی، حق تلفی کی…ہم پر کوئی ظلم کیا،زیادتی کی…ہمیں
ایذاء پہنچائی …یا اللہ! ہم نے اسے آپ کی رضا کے لئے معاف کر دیا…آپ اسے معاف
فرما دیجئے اور اپنی مغفرت اور رحمت اسے عطاء فرما دیجئے ‘‘…
یہ دعاء
اگر دل کی موافقت کے ساتھ نصیب ہو جائے …اور ہمارا عمل بھی اس کے مطابق ہوجائے تو…
پھر ان شاء اللہ توفیق، مغفرت اور رزق کے دروازے ہم پر کھل جاتے ہیں…
یہ وہ
طبقہ ہے کہ اگر ہم اسے معاف نہ کریں تو یہ بھی جائز ہے… اگرہم اُس سے برابر کا
بدلہ لیں تو یہ بھی جائز ہے…اور اگر ہم ان کے لئے کچھ شرائط کے ساتھ بددعاء کریں
تو وہ بھی جائز ہے…
مگر جو
مسلمان …اپنے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر
سر جھکا کر اپنے یہ تمام جائز حقوق چھوڑ دے…ظلم کرنے والوں کو معاف کرے اور برائی
کرنے والوں کے ساتھ اچھائی کرے…
وَاعْفُ
عَمَّنْ ظَلَمَکَ وَاَحْسِنْ اِلیٰ مَنْ اَسَائَ اِلَیْکَ
تو ایسا
مسلمان …اپنے عظیم آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک اخلاق
کی پیروی کرتا ہے…آپ ایسے مسلمان کے اونچے مقام کا خود اندازہ لگا لیجئے…
تیسرا
طبقہ
دعاء کے
باب میں یہ طبقہ سب سے زیادہ ’’اہم‘‘ اور ’’ضروری‘‘ ہے…یہ وہ مسلمان ہیں جو ہمارے
’’ اہل حقوق‘‘ اور ’’اہل مظالم ‘‘ ہیں…ہم پر ان کے حقوق لازم تھے جو ہم نے ادا
نہیں کئے … اور ان میں سے بعض وہ ہیں جن کی ہم نے غیبت کر ڈالی…گویا ان کا گوشت
کھا گئے…
بعض ایسے
ہیں جن پر ہم نے کوئی ظلم کر ڈالا …اور قیامت کے دن اپنی گردن ان کے ہاتھ میں دے
دی…بعض ایسے ہیں کہ ہم نے انہیں کوئی ایذاء یا تکلیف پہنچا کر …مسلمان کی جگہ
’’موذی‘‘ ہونے کا کردار ادا کیا…یہ لوگ اگرہمیں معاف کئے بغیر دنیا سے جا چکے ہیں
تومعاملہ زیادہ خوفناک ہے… اور اگر زندہ ہیں تو پھر کچھ کم خوفناک ہے …ہم پر لازم
ہے کہ ہم دعاء اور نفل عبادات کے ایصال ثواب کے ذریعے اس معاملہ میں اپنی جان کا
بھلا کریں…
’’یا
اللہ! وہ تمام مسلمان جن کی ہم نے غیبت کی، حق تلفی کی، ایذاء رسانی کی…انہیںکوئی
تکلیف پہنچائی… یا اللہ! ہمیں اور انہیں اپنی معافی عطا فرما دیجئے…یا اللہ! انہیں
اس کے بدلے بہترین نعمتیں،اپنی رحمتیں اور برکتیں عطا فرما دیجئے…یا اللہ!انہیں
توفیق دیجئے کہ وہ ہمیں معاف کر دیں… یا اللہ! آئندہ اس طرح کے گناہوں سے ہماری
حفاظت فرما دیجئے‘‘…یہ الفاظ یا اپنے حسب حال جو بھی الفاظ ہوں ان میں دل کی توجہ
سے…اور اپنی اہم ضرورت سمجھ کر اس دعاء کو اپنا معمول بنائیں…
ہم نے
ایسے حضرات کو دیکھا ہے جو …فکرِ آخرت رکھتے تھے، وہ ہمیشہ اپنے اس تیسرے طبقے کے
معاملہ میں بہت فکر مند رہتے اور سخت محنت کرتے …میں نے خود ایک بزرگ کو دیکھا کہ
وہ روزانہ سات پارے تلاوت کر کے اپنے ’’اہل حقوق‘‘ اور ’’اہل مظالم‘‘ کو ایصال
ثواب کرتے تھے …یعنی وہ افراد جن کی انہوں نے کبھی حق تلفی کی اور جن پر ان سے
کوئی ظلم ہوا…اس طبقے کے لئے دعاء کے فوائد بے شمار ہیں…انسان کو اپنے گناہوں کا
احساس رہتا ہے…اپنے بشر اور کمزور ہونے کا احساس رہتا ہے…اور دوسرے مسلمانوں کے
حقوق کی اہمیت بھی دل میں رہتی ہے …اور بہت سا بوجھ بھی ہلکا ہو جاتا ہے…
اے
مسلمانو! دعا کو اپنا لو…آپس میں رحم کرنے والے بنو…اللہ کے دشمنوں کے لئے سخت
بنو… مسلمانوں کے حقوق ادا کرو…اور مسلمانوں کے دشمنوں سے جہاد کرو…دیکھو! کامیاب
ترین طبقے کی یہی صفات قرآن مجید نے بیان فرمائی ہیں…
اَشِدَّائُ
عَلیٰ الْکُفَّارِ،رُحَمَائُ بَیْنَھُمْ
لا الہ
الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل
علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ ہی زندگی اور موت کا مالک ہے…
ہُوَ
یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ
زندگی کا
پوشیدہ نظام
زندگی ہر
وقت جاری رہتی ہے…مگر آپ نے کبھی یہ جملہ نہیں سنا ہو گا کہ…فلاں جگہ زندگی رقص
کر رہی ہے…حالانکہ روزانہ ہزاروں، لاکھوں افراد پیدا ہوتے ہیں…کتنی نئی روحیں
روزانہ زمین پر اُترتی ہیں…ہمیشہ نئے پیدا ہونے والوں کی تعداد مرنے والوں سے
زیادہ ہوتی ہے …اسی لئے زمین کی آبادی ہر دن بڑھ رہی ہے …مگر زندگی کا نظام خاموش
ہے…جبکہ موت کا نظام کافی ہنگامہ خیز ہے…جہاں چند افراد زیادہ مرے…وہاں شور پڑ
جاتا ہے کہ موت رقص کر رہی ہے…
دراصل
موت انسانوں کو اچھی نہیں لگتی… اس لئے اس کا اثر،صدمہ اور شور زیادہ ہوتا ہے…
لیکن اگر صرف ایک دن کے لئے موت کا نظام بند کر دیا جائے تو سمندر زمین پر اُبل
پڑے…اور زمین پھٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائے…ظاہری اسباب کے درجہ میں ’’موت‘‘ ہی نے
’’زندگی‘‘ کو تھام رکھا ہے…اصل تھامنے والا تو اللہ تعالیٰ ہے …لیکن اللہ تعالیٰ
نے زمین پر ایک نظام اتار دیا ہے…اس نظام میں اگر موت نہ ہو، تو زندگی… زندہ نہ رہ
سکے…موت نے بہرحال آنا ہے… بس دعاء کرنی چاہیے کہ اچھے وقت،اچھے حالات، اچھے
طریقے سے اچھی موت مل جائے…موت کے بعد ایک نیا سفر ہے،ایک نیا جہان اور ایک نئی
دنیا…موجودہ دنیا سے بہت بڑی،بہت وسیع… اور ایمان والوں کے لئے بہت لذیذ…خود کو
اور آپ کو پھر یاد دلاتا ہوں…یہ دعاء پڑھا کریں:
اَللّٰہُمَّ
بَارِکْ لِیْ فِی الْمَوْتِ وَفِیْمَا بَعْدَ الْمَوتْ
اتفاقی
نظام
دنیا میں
بعض چیزیں محض اتفاقی ہیں…وہ ہمیشہ کا قانون نہیں ہوتیں…مگر وہ ’’اتفاق‘‘ ایسی
ترتیب سے بار بار ہوتا ہے کہ …لوگ اسے ہمیشہ کا قانون سمجھ لیتے ہیں…مثلا بعض لوگ
کہتے ہیں… میری زندگی میں منگل کا دن بڑی مصیبت والا ہے…پھر وہ منگل میں اپنے ساتھ
پیش آنے والے بعض واقعات کی فہرست سنا دیتے ہیں… اور زندگی بھر وہم اور غلط عقیدے
میں مبتلا رہتے ہیں… اسی طرح بعض لوگ کسی مہینے کو اپنے لئے ’’منحوس‘‘ کہہ کر…اللہ
تعالیٰ کی بجائے اس مہینے کی نحوست سے خوفزدہ رہتے ہیں…یہ بڑا خطرناک اور قابل
اصلاح مرض ہے…
اوّل تو
ہم یہ نہیں جانتے کہ…کون سی چیز مصیبت ہے اور کون سی چیز نعمت…ہم اپنی کم علمی کی
وجہ سے مصیبت کو نعمت…اور نعمت کو مصیبت سمجھتے رہتے ہیں…
مثلاً
ایک شخص قید ہو گیا،گرفتار ہو گیا…وہ سمجھتا ہے کہ یہ ’’مصیبت ‘‘ ہے…حالانکہ اسے
اس قید میں توبہ کی قبولیت اور ترقی نصیب ہونا ہوتی ہے…ایک دوسرے شخص کو بہت قیمتی
موبائل تحفے میں ملا… وہ سمجھا کہ نعمت ہے…حالانکہ وہ بعد میں اس موبائل کی وجہ سے
گناہوں میں مبتلا ہو گیا… دوسری بات یہ ہے کہ محض چند واقعات ہی کا نام تو زندگی
نہیں…زندگی کے چند واقعات اتفاقاً کسی خاص دن یا مہینے میں ہوئے جبکہ ان گنت
واقعات …دوسرے دنوں اور مہینوں میں ہوئے…مگر انسان نے چند واقعات کا اثر لیا اور
کسی دن یا مہینے کی ’’نحوست‘‘ یا ’’بھاری‘‘ ہونے کا عقیدہ بنا لیا…یہ غلط ہے…جو اس
میں مبتلا ہو وہ توبہ کرے…اپنا دل درست کرے…وہم اور بدفالی کے وقت پڑھی جانے والی
مسنون دعائیں پڑھے…اور اللہ تعالیٰ کے عرش والے مخفی خزانے کی طاقت پکڑے وہ مخفی
خزانہ ہے…لاحول ولا قوۃ الا باللہ…بس یقین اور کثرت سے پڑھے…
لا حول
ولا قوۃ الا باللّٰہ، لا حول ولا قوۃ الا باللّٰہ، لاحول ولاقوۃ الا باللّٰہ
پاکستان
کا دسمبر
اتفاقاً
چند سالوں سے ’’دسمبر‘‘ کا مہینہ خونی اورخوفناک جا رہا ہے…یہ زمین کا کوئی اٹل
قانون نہیں…دسمبر کڑوے بھی آتے ہیں…اور میٹھے بھی…ویسے بھی ہم مسلمانوں کے نزدیک
ہجری قمری مہینوں کا اصل عتبار ہے…محرم صفر وغیرہ … اس لئے ہمارے ہاں تو دسمبر
کبھی کس مہینے میں آتا ہے اور کبھی کس میں…ہم نے وہ چھ دسمبر بھی دیکھا جس میں
پیاری بابری مسجد شہید کی گئی…بڑا عظیم سانحہ تھا ’’بہت دردناک‘‘…اور پھر اکتیس
دسمبر بھی دیکھا جب اللہ تعالیٰ نے اسلام اور مسلمانوں کو ایک بڑی خوشی اور فتح
عطاء فرمائی…آج کل چند سالوں سے دسمبر خونخوار آ رہا ہے…اس ظاہری شر میں معلوم
نہیں کیا کیا ’’خیریں‘‘ پوشیدہ ہوں گی… پشاور کا سانحہ ہوا…پورا ملک لرز کر رہ
گیا…پھول جیسے بچے ذبح کر دئیے گئے…اور پھر خونخواری اور خونریزی کا ایسا دور چلا
کہ…آج کئی دن گذرنے کے بعد بھی فضا میں خون ہی خون نظر آ رہا ہے…ہاں! جب حکومتیں
بھی توازن کھو بیٹھیں تو حالات کبھی درست نہیں ہو سکتے کبھی بھی … بس اللہ تعالیٰ
سے رحم کی دعاء ہے:
اَللّٰہُمَّ
ارْحَمْ اُمَّۃَ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم
اپنا ہی
قصور ہے
نہ
امریکہ پر کوئی الزام ہے نہ انڈیا سے کوئی گلہ شکوہ…وہ تو مسلمانوں کے دشمن ہیں…ان
کا کام ہی مسلمانوں کو تباہ وبرباد کرنا ہے…اس وقت پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے
وہ سب یہاں کے اپنے لوگوں کا ہی بویا ہوا ہے…پرویز مشرف پاکستانی تھا…اس نے
پاکستان کو ایک حرام جنگ میںدھکیلا…وہ اپنا کام کر کے اپنے آقاؤں کے پاس چلا
گیا…مگر بعد کے حکمرانوں نے اسی کی پالیسیوں کو جاری رکھا…امریکہ کی چاپلوسی اور
انڈیاسے یاری …غیروں کی غلامی اور اپنوں پر مظالم…اور ایک اندھی جنگ میں بے دریغ
تعاون …تب پاکستان میں بھی ایک ایسی قوت وجود میں آ گئی جو ریاست سے جنگ میں الجھ
گئی…اور پھر پاکستان خود میدان جنگ بن گیا…اس جنگ کو روکا جا سکتا ہے…اسے امن میں
تبدیل کیا جا سکتا ہے…مگر اب دونوں طرف امن کی خواہش ختم ہو چکی ہے…اور جنگ ان کی
مجبوری بن چکی ہے …دونوں فریق اب اپنے فیصلوں میں خود مختار نہیں رہے…دونوں پر
شدید دباؤ ہے کہ بس لڑتے رہو، مرتے رہو…اگر ایک قدم بھی پیچھے ہٹے تو ہم تمہاری
گردن دبا دیں گے…اب اگر تم نے صلح یا مذاکرات کی بات کی تو ہم تمہارا سب کچھ بگاڑ
دیں گے…چنانچہ دونوں فریق لڑ رہے ہیں…جبکہ پاکستان مر رہا ہے…مسلمان مر رہا ہے…بے
قصور مر رہا ہے…اور دشمن اوپر سے جعلی اشک اور اندر سے قہقہے برسا رہے ہیں…کوئی ہے
جو حکومت پاکستان اور تحریک طالبان پاکستان کو سمجھا سکے کہ…آپ
دونوںیہ جنگ نہیں جیت سکتے… ہاں! جنگ سے آپ ایک دوسرے کو ختم نہیںکر سکتے …اب یہ
جنگ اس مرحلے پر پہنچ چکی ہے کہ… آپ دونوں میں سے کوئی فریق مکمل طور پر اسے نہیں
جیت سکتا…اور نہ ہی کوئی فریق اس جنگ سے اپنے ’’مقاصد‘‘ حاصل کر سکتا ہے…ہاں! اس
جنگ میں صرف مارا جا سکتا ہے اور مرا جا سکتا ہے …اور اپنے ساتھ دوسروں کو بھی
مرنے میں شریک کیا جا سکتا ہے…میں جانتا ہوں…ان حالات میں یہ بات لکھنا کتنا
خطرناک ہے…مگر میرے دل میں مسلمانوں کا درد ہے…اسلام کا درد ہے اور پاکستان کا درد
ہے اس لئے میںاپنا فرض ادا کر رہا ہوں…میں جنگوں اور ان کے نتائج کو اچھی طرح
سمجھتا ہوں…میں نے جنگ کا پورا نظام ’’قرآن مجید‘‘ سے سمجھا ہے…اس لئے دنیا کی
کسی بھی جنگ کو غور سے دیکھ کر اس کے حالات اور نتائج آسانی سے سمجھ سکتا
ہوں…افغانستان،عراق اور بہت سی جنگوں کے بارے میں قرآن مجید کی روشنی سے جو کچھ
دیکھا…وہی بعد میں سامنے آیا…یہ کوئی علمی یا کشفی دعویٰ نہیں…اور نہ ہی دعووں کا
وقت یا شوق ہے…ہر مسلمان کو قرآن مجید سے روشنی لینی چاہیے… اسی روشنی سے یہ نظر
آ رہا ہے کہ …پاکستان میں حالیہ جنگ کے دونوں فریق …ایک لاحاصل ،بے کار اور
خونریز جنگ میں الجھ چکے ہیں…اور اب دنیا بھر کے اسلام دشمن عناصر پورا زور لگا
رہے ہیں کہ یہ جنگ مزید بھڑک جائے …اور پاکستان صومالیہ بن جائے…
خطرناک
لوگ
آزاد
گروپ، آزاد ہوتے ہیں… مگر حکومت پر لازم ہے کہ وہ قانون کی پابند رہے…اسے فلمی
ڈائیلاگ، انتقامی جملے اور غیر قانونی کارروائیاں زیب نہیں دیتیں…اور جو حکومت اور
ملک کسی موقع پر جذبات میں آ کر اپنا توازن کھو بیٹھے…اور قانون کے دائرے سے نکل
جائے تو اس ملک کا حال بہت برا ہوتا ہے…پھانسیاں دینی تھیں تو اس ترتیب سے دی
جاتیں جس کا تقاضا قانون کرتا ہے نہ کہ بد حواس ہو کر …پھانسیوں کو بھی باقاعدہ
ٹارگٹ کلنگ بنا دیا جائے…اور خوف کی فضا پھیلا کر مزید ہلاکت خیز واقعات کی راہ
ہموار کی جائے…
امریکہ
میں نائن الیون کا واقعہ ہوا…امریکہ غصے اور جذبات میں اپنا توازن کھو بیٹھا…کوئی
حقیقت کی نظر سے دیکھے کہ امریکہ نے جن مقاصد کو حاصل کرنے کا اعلان کیا تھا،ان
میں سے کتنے اس نے پا لئے…جواب یہ ہے کہ ایک بھی نہیں…یہ میرا جواب نہیں خود
امریکہ اس کا اعتراف کرتا ہے…جبکہ امریکہ نے کیا کیا کھویا اس کی فہرست بہت طویل
ہے…پچاس ہزار فوجیوں کی ہلاکت… ہزاروں فوجیوں کی معذوری،خود کشی اور دماغی
بیماری…ساری دنیا سے رعب کا خاتمہ… کھربوں ڈالر کا نقصان…داخلی سیاست کی تباہی
…اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جن کو مٹانے نکلا تھا وہ کئی گنا زیادہ بڑھ گئے…اور اب
ساری دنیا میں امریکی فوجی اور عوام دھڑا دھڑ مر رہے ہیں…عدم تحفظ کا شکار ہیں…اور
امریکہ اس جنگ سے نکلنے کے لئے بے قرار ہے جس میں وہ بڑے فخر سےداخل ہوا تھا…پشاور
کے واقعے کو پاکستان کا ’’نائن الیون‘‘ قرار دے کر جو لوگ حکومت کو مزید اندھی جنگ
میں دھکیل رہے ہیں…وہ پاکستان کے دوست ہرگز نہیں ہیں …پاکستان کے لئے اصل خطرناک
یہی لوگ ہیں…
ڈر اور
خوف کی ضرورت نہیں
کسی شاعر
نے کہا تھا:
ہے مقصد
زندگانی کا کہ کچھ دنیا میں کر جانا
خیال موت
بے جا ہے وہ جب آئے تو مر جانا
بعض لوگ
ہر موقع پر ضرورت سے زیادہ خوفزدہ ہو جاتے ہیں…اور اپنے ساتھ دوسروں کو بھی
باجماعت خوفزدہ کرتے ہیں…پاکستان میں دینی طبقہ پر ہمیشہ سے شدید دباؤ رہا ہے…اور
یہاں موجود سیکولر،ملحد اور بد دین لوگ…اس جنگ کی آڑ میں پاکستان کے دینی طبقے کو
ختم کرانا چاہتے ہیں…وہ مدارس اور مساجد کے دشمن ہیں…اور شرعی جہاد کی بات کرنے
والی جماعتیں ان کا اصل ہدف ہیں…
نائن
الیون کے بعد …اس سیکولر طبقے کو امید تھی کہ…اب پاکستان میں نہ کوئی مدرسہ بچے گا
نہ کوئی دینی جماعت…مگر الحمد للہ سب کچھ بچ گیا بلکہ بڑھ گیا…پھر بھارتی پارلیمنٹ
پر حملہ ہوا اور پاکستان پر غیر ملکی دباؤ پڑا تو سیکولر چوہے فوراً بلوں سے نکل
آئے…اس بار ان کو کچھ کامیابی ملی اور پرویز مشرف نے جہادی جماعتوں کو کالعدم
قرار دے کر …اور ان کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کر کے …تحریک طالبان پاکستان بننے کے
مواقع کھڑے کر دئیے…اور پاکستان کو ایک داخلی جنگ میں جھونک دیا…مگر پھر بھی
پاکستان کے دینی مدارس اور جماعتیں بچ گئیں…پھر بمبئی کا واقعہ ہوا…تو خوب شور ہوا
اور دباؤ پڑا…مگر اس وقت پاکستان کی عسکری قیادت عقلمند لوگوں پر مشتمل تھی …اور
انہوں نے اس دباؤ میں اپنے ملک کو تباہ نہیں ہونے دیا…اسی طرح جب بھی کوئی سانحہ
اور واقعہ ہوتا ہے تو…یہ امریکی چوہے اور انڈین انڈے فوراً باہر نکل آتے ہیں
کہ…بس مار دو،جلا دو ،لٹکا دو…کسی مولوی کو نہ چھوڑو، کسی مدرسہ کو نہ چھوڑو…کسی
مجاہد کو نہ چھوڑو…ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ پاکستان کی داخلی جنگ یہاں کی ایک ایک
گلی میں پھیل جائے…مسلمانوں کا یہ ملک ختم ہو جائے اور ان ظالموں کی تنخواہ پکی ہو
جائے…ان حالات میں دینی طبقوں سے تعلق رکھنے والے بعض افراد ،ہر موقع پر بہت
خوفزدہ ہو جاتے ہیں…اور وہ دوسروں کو بھی خوفزدہ کرتے ہیں…جو اچھا کام نہیں…قرآن
مجید میں منافق کی علامت یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ ہر مصیبت کا رخ اپنی طرف سمجھتا ہے
…یعنی ہمیشہ بوکھلا کر پریشان ہو جاتا ہے… پشاور کے سکول کی قتل وغارت سے…پاکستان
کے مدارس کا کیا تعلق؟…پاکستان کی مساجد کا کیا تعلق؟…شرعی جہاد کی دعوت دینے
والوں کا کیا تعلق؟…جب کوئی تعلق نہیں تو پھر ڈرنے گھبرانے کی کیا ضرورت ہے؟…حکومت
اگر ظلم اور غلطی کر کے آپ کا رخ کرے گی تو خود ہی اپنا اور ملک کا نقصان کرے
گی…اور مزید جنگ بھڑکائے گی…آپ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اپنا شرعی،مثبت اور
دینی کام کرتے رہیں…پاکستان میں جو رہا سہا امن موجود ہے وہ آپ کے اسی کام کی
برکت سے ہے…آج کے حکمرانوں کو اگر غیر ملکی دباؤ کی وجہ سے آپ کے کام کی افادیت
نظر نہیں آ رہی تو …نہ نظر آئے…
وہ اگر
آپ کی طرف ظلم کا ہاتھ بڑھانا چاہتے ہیں تو بڑھا لیں…اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و
محافظ ہے…پرویز مشرف نے کون سا ہتھیار اور ہتھکنڈا آپ کو ختم کرنے کے لئے استعمال
نہیں کیا؟… زرداری کون سا آپ کا خیرخواہ تھا؟…موجودہ حکمران بھی اگر ان کے نقش
قدم پر چلیں گے تو انہی جیسے نتائج پائیں گے…آپ کا دینی کام اللہ تعالیٰ کی رضا
کے لئے ہے…آپ کا شرعی جہاد اُمتِ مسلمہ کی فلاح کے لئے ہے…
بس اپنے
کام میں لگے رہیں…اللہ تعالیٰ کے راستے پر جمے رہیں…اس راستے کی زندگی بھی پیاری
ہے…اور اس راستے کی موت بھی میٹھی ہے…
وَلَا
تَھِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُؤمِنِیْنَ
حَسْبُنَا
اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیل
لا الہ
الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل
علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
اللہ
تعالیٰ کے محبوب اور آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کی ولادت باسعادت ’’پیر‘‘ کے دن ہوئی … یہ بات حتمی ہے
کیونکہ حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ارشاد فرمائی
ہے…
’’سلام
ہو آپ پر اور آپ کی آل اور آپ کے اصحاب پر‘‘
حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ کا مہینہ ’’ربیع
الاوّل‘‘ ہے…اور یہی وفات مبارکہ کا مہینہ ہے…اسی میں تشریف لائے اور اسی میں
تشریف لے گئے…جب تشریف لائے تو عالم جگمگا اُٹھا… اور جب تشریف لے گئے تو سارا
عالم سکتے میں آ گیا…غموں کے پہاڑ آل رسول صلی اللہ علیہ
وسلم اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ
وسلم پر ٹوٹ پڑے…
صلوٰۃ
وسلام ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر…
زندگی
مبارک جسے ’’سیرت طیبہ‘‘ کہا جاتا ہے…اول تا آخر آزمائشوں میں بسر ہوئی… ان
آزمائشوں میں سے ہر آزمائش اتنی بھاری ہے کہ اگر ہم میں سے کسی پر آئے تو وہ
ٹوٹ پھوٹ جائے… مگر حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم ان آزمائشوں کو سہتے رہے اور آگے بڑھتے رہے…اور اللہ
تعالیٰ کے پسندیدہ دین اسلام کو زمین پر جماتے گئے… جب یہ دین جم گیا…اور ناقابل
شکست ہو گیا تو حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم …اپنے محبوب
حقیقی کے پاس تشریف لے گئے…کیونکہ دنیا بہت ادنیٰ جگہ ہے …یہ حضرات انبیاء، صحابہ،
مقربین اور اولیاء کے رہنے کی جگہ نہیں ہے…یہ حضرات تو یہاں ایک خاص ذمہ داری کے
لئے بھیجے جاتے ہیں…جیسے ہی ان کی ’’ذمہ داری‘‘ پوری ہوتی ہے تو انہیں یہاں کی
پُرمشقت زندگی سے…آزادی دے کر اللہ تعالیٰ کے قرب میں…بلا لیا جاتا ہے…جہاں سکون
ہے، آرام ہے،راحت ہے اور بہت وسعت ہے…زمین تو بہت چھوٹی اور بہت تنگ جگہ ہے…جی
ہاں! آخرت کے مقابلے میں بہت چھوٹی…
حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ میں یہ عجیب تاثیر ہے
کہ…یہ سیرت ہر گرنے والے انسان کو سنبھال کر دوبارہ کھڑا کر دیتی ہے…یہ ہر دکھی
انسان کے لئے بہترین مرہم ہے…آپ کو یقین نہ آئے تو آج ہی سیرت المصطفیٰ صلی
اللہ علیہ وسلم کے چند صفحات پڑھ لیجئے…دل سے مایوسی،خوف اور
پریشانی یوں دور ہوجائے گی جیسے صابن سے ہاتھ دھو لینے سے…ہاتھوں کی میل دور ہو
جاتی ہے…
ویسے آج
کل ہم سب کو ضرورت ہے کہ…سیرت طیبہ کا دل کی آنکھوں سے مطالعہ کریں…کیونکہ شیطان
نے فضاء کو خوف اور بے یقینی سے بھرنے کے لئے…اپنے لاکھوں کارندے سرگرم کر دئیے
ہیں…کوئی بھی اخبار اٹھا لیں…بس خوف ہی خوف کی دعوت ہے کہ … اے دین محمد صلی اللہ
علیہ وسلم کے دیوانو! ڈر جاؤ،ڈر جاؤ…
قرآن
مجید نے ارشاد فرمایا:
اِنَّمَا
ذٰلِکُمُ الشَّیْطَانُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَائَہٗ
یہ شیطان
ہی کا کام ہے کہ وہ…اپنے یاروں سے مسلمانوں کو ڈرانے کی کوشش کرتا رہتا ہے … تاکہ
شیطان کے یار غالب آ جائیں اور اہل اسلام مغلوب ہو جائیں…عالمی سامراج سے ڈر
جاؤ… وہ تمہیں بالکل تباہ کر دے گا…امریکہ سے ڈر جاؤ وہ سپر پاور ہے تمہیں مٹا
دے گا…انڈیا سے ڈر جاؤ وہ بہت بڑی طاقت ہے تمہیں ختم کر دے گا … عالمی برادری سے
ڈر جاؤ وہ ناراض ہو گئی تو تم دنیا میں اکیلے رہ جاؤ گے…موت سے ڈر جاؤ…قید سے
ڈر جاؤ ، بس ڈرجاؤ اور ڈر جاؤ…یہ ہے شیطانی آواز…
جبکہ
اللہ تعالیٰ فرماتے :
فَلَا
تَخْشَوُوْاالنَّاسَ
اے
مسلمانو! کسی انسان سے نہ ڈرو…اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے بھی نہ ڈرو…ہرگز نہ ڈرو …
موت نام ہے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا…ارے! محبوب کے وصال سے بھی کوئی ڈرتا ہے؟…آج
تو دل چاہتا ہے کہ وہ آیات لکھتا چلا جاؤں جن میں اللہ تعالیٰ نے …ایمان والوں
کو تاکیدی حکم فرمایا ہے کہ اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرو…کوئی بھی تمہارا کچھ نہیں
بگاڑ سکتا…ایک نعرہ مستانہ لگاؤ … حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ
الْوَکِیْل…حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْل…اور یہ اعلان کر دو کہ:
قُلْ لَن
یُّصِیْبَنَا اِلَّا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَنَا
ارے!
ہمیں کوئی بھی تکلیف نہیں پہنچ سکتی مگر وہی جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے مقدر میں لکھ
دی ہے… اور بلند آواز سے کہہ دو:
ہُوَ
مَوْلَانَا
بس اللہ
تعالیٰ ہی ہمارا مولیٰ ہے…وہی ہمارا مالک ہے، وہی ہمارا ناصر ہے…وہی ہمارا محافظ
ہے…وہی ہمارا سب کچھ ہے…اور وہ دنیا بھر کے کافروں اور منافقوں کی طاقت کو مکڑی کے
جالے کی طرح کمزور فرما دیتا ہے…
ذٰلِکُمْ
وَاَنَّ اللّٰہَ مُوْہِنُ کَیْدِ الْکَافِرِیْنَ
آج تو
موقع نہیں بن رہا …ان شاء اللہ کسی فرصت کے وقت ان آیات کو اپنے لئے اور آپ کے
لئے جمع کر دوں گا…جو آیات ہر کافر،ہر منافق،ہر سازش،ہر سختی اور ہر طاقت کا خوف
ہمارے دلوں سے نکال دیتی ہیں…
قرآن
مجید سمجھاتا ہے کہ…موت جب آ جائے تو پھر کوئی نہیں بچا سکتا…مومن کا یہ کام نہیں
ہے کہ وہ موت سے بچتا پھرے اور موت سے بچنے کے لئے اپنا ایمان اور اپنی آخرت خراب
کرتا رہے… اور موت کے خوف سے ہر دن مرتا رہے … موت تو محبت کی علامت ہے…یہودیوں نے
محبت کا دعویٰ کیا توفرمایا گیا اگر سچے ہو تو موت کی تمنا کرو…مگر وہ بھاگ گئے
کیونکہ جھوٹے تھے…وہ نہ اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے تھے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے
محبوب تھے…قرآن سمجھاتا ہے کہ…جب موت کا وقت آ جائے تو دنیا بھر کے حفاظتی
اقدامات انسان کو نہیں بچا سکتے…ابھی کچھ عرصہ پہلے نیپال کا بادشاہ مارا گیا…اس
کے خاندان کی حکومت ڈھائی سو سال سے جاری تھی…ملک کے لوگ اپنے بادشاہ کے دیوانے
تھے…حفاظت کا نظام اور انتظام بھی بھرپور تھا…اور آس پڑوس کسی ملک سے کوئی دشمنی
بھی نہیں تھی…وہ اپنے اُس محل کے ایک محفوظ کمرے میں اپنے گھر والوں کے ساتھ بیٹھا
ہوا تھا…جس محل کا حفاظتی نظام ناقابل شکست تھا …اب بتائیے کہ اس زمین پر ’’امن‘‘
کے لئے اور کیا چاہیے؟…تب اسی لمحے اس کا اکلوتا بیٹا اندر داخل ہوا اور اس نے
فائرنگ کر کے…بادشاہ اور اس کی بیوی کو ہلاک کر دیا…اور پھر خود کو بھی گولی مار
دی…امن کے ایسے انتظامات کے بیچ … ڈھائی سو سالہ بادشاہت کا بت پاش پاش ہو گیا …
نہ پہرے دار کچھ کر سکے…اور نہ باڈی گارڈ بچا سکے…
دنیا میں
ایسے واقعات بے شمار ہیں…کاش! یہ ان مسلمانوں کی آنکھیں کھول دیں جن کو کوئی کان
میں کہہ دے کہ حالات سخت خراب ہیں تو وہ دین کا کام چھوڑ دیتے ہیں،جہاد کا کام
چھوڑ دیتے ہیں…
آپ کبھی
شمار کریں کہ…روزانہ ٹریفک حادثات میں کتنے افراد مرتے ہیں؟…کتنے زخمی ہوتے
ہیں؟کتنے معذور ہوتے ہیں؟ اور کتنے جیل جاتے ہیں؟ آپ حیران ہوں گے کہ…یہ تعداد
روزانہ لاکھوں کے عدد تک پہنچ جاتی ہے…مگر اس کے خوف سے کوئی بھی…سفر نہیں
چھوڑتا…پھر موت،گرفتاری اور تشدد کے خوف سے لوگ… دین کا کام اوردین کا نام کیوں
چھوڑ دیتے ہیں؟… حالانکہ دین کے کام کااصل مزہ ہی تب ہے جب حالات سخت ہوں، حالات
خطرناک ہوں …اور فضاء میں شیطانی خوف پھیلایا جا رہا ہو … سوچنے کی بات یہ ہے کہ
قسمت میں اگر جلدی موت لکھی ہو تو ہم دین کا کام کریں یا نہ کریں وہ ضرور آ جائے
گی…قسمت میں اگر قید لکھی ہو تو …ہم جہاد کا کام کریں یا نہ کریں وہ ضرور آ جائے
گی … قسمت میں اگر پھانسی لکھی ہو تو ہم دین پر رہیں یا دنیا پر وہ بھی ہر حال میں
آ جائے گی…کاش! مسلمان میلاد کی دیگیں کھانے کی بجائے حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کی سیرت مطہرہ سے روشنی حاصل کریں…مکہ مکرمہ میں کیسی
خوفناک اور دہشت ناک فضاء تھی…ہر شخص قاتل تھا، دشمن تھا اورموذی تھا…ایسے حالات
میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اور چند حضرات صحابہ کرام اپنی
جان ہتھیلیوں پر رکھے…دین کے کام میں مشغول تھے…دن رات ماریںکھاتے، زخمی ہوتے اور
پھر اسی حالت میں اپنے کام پر نکل کھڑے ہوتے…آج ہر شخص کی زبان پر یہ جملہ ہے
کہ…ہماری ہڈیوں میں مار کھانے کی طاقت نہیں ہے…ایسے مسلمان کس منہ سے اپنی نسبت
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی طرف کر سکتے ہیں…جن کو اتنا
مارا گیا کہ قریبی رشتہ دار بھی ان کو نہیں پہچان سکتے تھے…یعنی مار اور تشدد کی
وجہ سے چہرہ مبارک پر اتنے زخم اور اتنی سوجن آئی کہ حلیہ مبارکہ تک تبدیل ہو
گیا…سلام ہو ہمارے زمانے کے اُن اہل عزیمت کو! جن کی قربانیوں نے آج زمین کا رنگ
ہی بدل دیا ہے…سلام ہو اس پاکباز نہتی بہن !کو…جسے ہم عافیہ صدیقی کے نام سے یاد
کرتے ہیں…سلام ہوگوانٹاناموبے،تہاڑ جیل، شبرغان،پل چرخی، فلوجہ،ابوغریب،غرب اُردن
…اور دور دور کی جیلوں میں قربانیاں پیش کرنے والے اہل ایمان کو!…ان کی عزیمتوں نے
آج وقت کا دھارا بدل دیا ہے…نائن الیون کے وقت عالمی سامراج جتنا طاقتور تھا…آج
وہ اس قدر طاقتور نہیں…اسے معلوم ہو چکا ہے کہ وہ مسلمانوں سے نہیں لڑ سکتا…اسے
گذشتہ پندرہ سالوں میں…تین بار بڑی شکست کا سامنا ہوا ہے… اور اب وہ صرف مسلمانوں
کو …مسلمانوں سے لڑانے کی فکر اور محنت میں ہے…اور اس کے انڈے اور کارندے آج
کل…مسلمانوں میں خوف،دہشت اور انتشار پھیلانے کے لئے … میڈیا پر سوار ہیں…
مگر یہ
سب سن لیں کہ…دین اسلام کو نہیں مٹایاجا سکتا…مسلمانوں کو نہیں مٹایا جا سکتا …
جہادِ فی سبیل اللہ کو نہیں مٹایا جا سکتا…
یہ بات
قرآن مجید نے بتائی ہے… اور قرآن مجید سچا ہے…اور یہ بات ہمارے نبی صلی اللہ
علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ نے سمجھائی ہے…اور سیرت مبارکہ سچی
ہے…والحمد للہ رب العالمین
لا الہ
الا اللّٰہ،لا الہ الااللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
اللّٰہم
صل علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الہ
الااللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ کے نام سے شروع کرتے ہیں … اگر ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت کریں تو بڑے ہی
بدنصیب ہیں…اللہ تعالیٰ کیا ہی اچھا ربّ ہے…اور اُس کا دین کیا ہی اچھا دین ہے…
آپ
سمجھے؟
اُوپر جو
الفاظ لکھے ہیں…کیا ان کو پڑھ کر آپ وہ واقعہ سمجھے جس کی طرف اِشارہ کرنا مقصود
ہے؟…یہ سخت سردی کا موسم تھا،جیسے آج کل ہمارے ہاں چل رہا ہے…مدینہ منورہ سخت
محاصرے میں تھا…دس ہزار کا مسلح لشکر مدینہ منورہ کو گھیر چکا تھا…مدینہ منورہ میں
موجود یہودیوں نے بھی خونخوار دانت نکال لیے تھے…اور منافقین کی زبانیں قینچیوں کی
طرح چل رہی تھیں…
بس یوں
سمجھیں کہ مسلمانوں پر پانچ دشمنوں نے ایک ساتھ حملہ کر دیا تھا:
١ مشرکین
کا لشکر
٢ مدینہ
کے یہودی
٣ داخلی
منافقین
٤ سردی
٥ فاقہ
اللہ
اکبر کبیرا…حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات
صحابہ کرام نے بھوک اور فاقہ کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھ رکھے تھے…ایسا
خوفناک،ہولناک اور دہشت ناک ماحول مسلمانوں کے خلاف بن گیا تھاکہ… کلیجے منہ کو آ
رہے تھے اور آنکھیں دہشت سے پتھرا جاتی تھیں…سارا منظر قرآن مجید نے سورۃ اَحزاب
میں کھینچ ڈالا ہے…واقعی بہت سخت آزمائش تھی…یوں لگتا تھا کہ بس اسلام کا قصہ
ختم، مسلمانوں کا قصہ ختم…
ہر طرف
سے آوازیں تھیں کہ…مار دو،ختم کر دو، مٹا دو، جڑ سے اکھاڑ دو…ایک کو بھی نہ
چھوڑو…ایسا موقع پھر شاید نہ ملے،اس موقع کا فائدہ اٹھاؤ اور ان کی بنیاد ہی
ادھیڑ دو…ایسے حالات میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اپنے
صحابہ کرام کے ساتھ مل کر خندق کھود رہے تھے…اور ان اشعار کو اپنی خوبصورت آواز
سے عزت بخش رہے تھے…
بِسْمِ
اللّٰہِ وَبِہِ بَدَیْنَا
وَلَوْ
عَبَدْنَا غَیْرَہُ شَقِیْنَا
بسم
اللہ…ہم اللہ تعالیٰ کے نام سے شروع کرتے ہیں…اگر ہم اس کے سوا کسی کی عبادت کریں
تو بڑے ہی بد نصیب ہیں…اللہ تعالیٰ کتنا اچھا ربّ ہے اور اس کا دین کتنا اچھا دین
ہے…سبحان اللہ! ایسے خوفناک حالات میں ایسی مضبوطی،ایسی استقامت…اور دشمنوں کو یہ
پیغام کہ… ہم اپنے دین پر مضبوط ہیں،مطمئن ہیں …اور اگر تمہارا یہ خیال ہے کہ…موت
اور خوف کی دہشت پھیلا کر ہمیں ہمارے دین اور ہمارے راستے سے ہٹا دو گے تو یہ
تمہاری بھول ہے …ان حالات میں بھی ہم اپنے رب کے وفادار اپنے دین کے وفادار…اور
اپنے رب سے راضی ہیں…
اَللّٰہُ
اَکْبَرُ کَبِیْراً، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْراً وَّسُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً
وَّاَصِیْلاً
ایسا وقت
بھی آتا ہے
حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ … ہر مسلمان کی ہر
موقع پر رہنمائی فرماتی ہے… مسلمان خوش نصیب ہیں کہ ان کے پاس اپنے آقا صلی اللہ
علیہ وسلم کی مکمل سیرت محفوظ ہے…اس وقت پاکستان میں جو خوفناک حالات
چل رہے ہیں اگر ہم صرف انہیں پر غور کریں تو …دل بیٹھ جائیں اور حوصلے پست ہو
جائیں…مگر ہمارے پاس زندہ سیرت موجود ہے…جو ہمیں فوراً۵ھ کے شوال کی سردیوں میں لے جاتی ہے…تب مدینہ منورہ مکمل
محاصرے میں تھا اور ظاہری اسباب کے درجے میں مسلمانوں کا مکمل خاتمہ یقینی
تھا…عربوں کا اتحادی لشکر مکمل تیاری اور عزم کے ساتھ آیا تھا اور لشکر کی تعداد
ایسی تھی کہ …مدینہ منورہ اس کے سائے میں گم ہو سکتا تھا…پھر داخلی طور پر بھی
حالات بگڑ گئے تھے اور یہودی اپنا معاہدہ توڑ کر مقابلے پر آ گئے تھے…ایسے حالات
میں ’’منافقین‘‘ کے میلے ہو جاتے ہیں…وہ خوف پھیلانے والے دانشور بن کر اُبھرتے
ہیں…اپنی عقلمندی کے گیت گاتے ہیں کہ ہم نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اسلام اور
مسلمانوں کا مسئلہ بس چند دن کا ہے…اب ان کو خاتمے سے کوئی نہیں بچا سکتا…وہ کمزور
مسلمانوں کو ڈرا ڈرا کر کہہ رہے تھے کہ اسلام چھوڑ دو، واپس اپنے پرانے دین پر آ
جاؤ…ادھر موسم بہت سخت تھا…سردی تھی،اور مسلمانوں کے پاس خوراک کی شدید کمی تھی…
اب مسلمان کیا کرتے؟…باہر سے حملہ آور لشکر کا مقابلہ کرتے یا اندر یہودیوں سے
اپنی عورتوں اور بچوں کو محفوظ کرتے…منافقین کی زبانوں کو پکڑتے یا لشکر کے لئے
خوراک کا انتظام کرتے… قرآن مجید نے فرمایا:
وَزُلْزِلُوْا
زِلْزَالًا شَدِیْدًا
یعنی
ایسے سخت حالات تھے کہ مسلمانوں پر گویا ہر طرف سے زلزلہ ہی زلزلہ تھا…ایسا زلزلہ
جو جسموں کے ساتھ روحوں کو بھی لرزا دے…
سیرت
مبارکہ کا یہ پورا منظر ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ… دین کا کام کرنے والوں اور جہاد کی
محنت کرنے والوں پر…ایسے حالات بھی آتے ہیں جو بے حد خوفزدہ کرنے والے ہوتے
ہیں…اور بظاہر یوں لگتا ہے کہ بس اب سارا کام ختم…اب کچھ بھی نہیں بچ سکتا…سیرت
مبارکہ کا یہ منظر اہل ایمان کو طرح طرح کی حفاظتی دعائیں ،حفاظتی تدابیر اور
عزیمت کے اسباق سکھاتا ہے…غزوہ احزاب کے اسی منظر نے ہمیں وہ دعاء عطاء فرمائی جو
دل سے خوف کو نکال کر اطمینان نصیب کرتی ہے…
اَللّٰہُمَّ
اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا
یا اللہ!
ہمارے عیبوں کو چھپا دیجیے اور ہمارے خوف کو دور فرما دیجیے…
صحابہ
کرام نے محاصرے کی شدت اور سختی کے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ
وسلم سے دعا کی درخواست کی تو آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے یہی دعاء سکھائی:
اَللّٰہُمَّ
اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا
اور
یہ وجد آفریں دعاء بھی تلقین فرمائی:
اَللّٰہُمَّ
مُنْزِلَ الْکِتَابِ وَ مُجْرِیَ السَّحَابِ وَھَازِمَ الاَحْزَابِ ۔ اِھْزِمْہُمْ
وَانْصُرْنَا عَلَیْہِمْ
یا اللہ!
کتاب کو نازل فرمانے والے … بادلوں کو چلانے والے…لشکروں کو شکست دینے والے…انہیں
شکست دیجیے اور ان کے مقابلے میں ہماری نصرت فرمائے…
عجیب
صورتحال
ایسے
لگتا ہے کہ ہمارے حکمران خود کسی ایسے واقعہ کے انتظار میں تھے…جسے وہ نائن الیون
قرار دے کر پاکستان کے دینی طبقے کو ختم کر سکیں… امریکہ،یورپ اور انڈیا کا ہمیشہ
سے ہمارے حکمرانوں پر دباؤ ہے کہ وہ…پاکستان کے دینی طبقے کو مٹا دیں…
پشاور
سکول کا واقعہ پیش آیا تو …حکومت کو موقع مل گیا…اورمنافقین کے میلے ہو گئے… اب
صبح،شام متحدہ اجلاس طلب ہو رہے ہیں… ملک میں فوجی عدالتیں قائم ہورہی ہیں… مدارس
اور دینی جماعتوں کے خلاف زبانیں گرم ہورہی ہیں … گلی گلی میں حفاظتی دستے ہر
داڑھی والے اور پگڑی والے کو پکڑ رہے ہیں ،ستا رہے ہیں…اور فوجی عدالتوں کے بارے
میں صاف اعلان ہے کہ… ان میں نہ کسی ڈاکو کا مقدمہ سنا جا سکے گا…نہ کسی چور
کا…ڈاکو جب کسی کو قتل کرتے ہیں تو مقتول کی ماں کو اتنی ہی تکلیف پہنچتی ہے جتنی
کسی سکول کے مقتول بچے کی ماں کو…مگر حکومت کے نزدیک مذہب سے تعلق رکھنا،چوری ڈاکے
اور بدکاری سے بڑاجرم ہے…وہ لسانی تنظیمیں جنہوں نے پاکستان کی بنیادوں تک کو ہلا
دیا ہے…اور ہزاروں افراد کو قتل کر دیا ہے…ان کا مقدمہ بھی ان فوجی عدالتوں میں
نہیں سنا جا سکے گا…کیونکہ لسانیت کے نام پر ساٹھ ہزار افراد کو قتل کرنا حکومت کے
نزدیک جرم نہیں ہے…جبکہ قرآن پاک کی آیاتِ جہاد کو بیان کرنا جرم ہے…
ملک کے
سارے سیاسی مگرمچھ پارلیمنٹ ہاؤس میں جمع ہوئے…اور سب نے دینی جماعتوں کے خلاف
فوجی عدالتوں کے قیام کی تجویز پر اتفاق کر لیا …کیا ان کو اپنے جرائم یاد نہیں
ہیں…ان میں سے کون ہے جو بد عنوانی اور کرپشن میں ملوث نہیں؟…ان میں سے کون ہے جو
ناجائز قتل و غارت میں ملوث نہیں؟…ان میں سے کون ہے جو اپنی پارٹی کے عسکری ونگ
نہیں رکھتا؟ … پاکستان کے اربوں ڈالر لوٹ کر غیر ملکی بینکوں میں جمع کرانے والے
…ہزاروں پاکستانیوں کو قتل کرنے والے یہ سیاستدان…کس منہ سے پاکستان کے مدارس اور
دینی جماعتوں کو ختم کرنے کی بات کرتے ہیں…مگر ہاں! آج کل یہ خوش ہیں، ان کے میلے
لگے ہوئے ہیں…ان کو اپنے ارمان پورے ہوتے نظر آ رہے ہیں…ان کو اپنے غیر ملکی
آقاؤں کی خوشنودی مل رہی ہے…
مگر یہ
سب کچھ فانی ہے…یہ سب کچھ وقتی ہے…یہ سارا ظلم واپس خود ان کی طرف لوٹے گا… وہ
جہادی جماعتیں جنہوں نے پاکستان کو کبھی کوئی نقصان نہیں پہنچایا یہ اگر ان
جماعتوں پر شب خون ماریں گے تو…اللہ تعالیٰ کے انتقام سے نہیں بچ سکیں گے…اور مخلص
فدایانِ اسلام کی آہیں اور بددعائیں ان کے گھروں اور دلوں کو آگ لگا دیں گی…ان
شاء اللہ
دو طبقے
سیرت
مبارکہ کا یہ منظر جو شوال ۵ھ میں
سامنے آیا ایک اور بڑی اہم بات سمجھاتا ہے…وہ یہ کہ جب اہل ایمان،اہل جہاد پر
حالات سخت ہوتے ہیں تو دو طبقے سامنے آجاتے ہیں…
١ ایمانی،
تسلیمی…یہ وہ لوگ ہیں جن کو جس قدر بھی ڈرایا جائے وہ اپنے ایمان اور اپنے کام پر
ڈٹے رہتے ہیں…بلکہ ان کا ایمان بھی بڑھ جاتا ہے اور ان کی ثابت قدمی بھی بڑھ جاتی
ہے… وہ اللہ تعالیٰ سے جڑے رہتے ہیں…اور اللہ تعالیٰ کے کام میں لگے رہتے
ہیں…دشمنوں کی کثرت اور حالات کی خرابی…ان کے عزم کو اور مضبوط کر دیتی ہے…اور وہ
کہتے ہیں کہ…یہی اصل وقت ہے وفاداری کا اور قربانی کا…
وَمَا
زَادَھُمْ اِلَّا اِیْمَاناً وَّتَسْلِیْمًا
اس طبقے
کی تفصیل کے لئے ملاحظہ فرمائیے سورۃ احزاب آیت:۲۲
٢ فراری…دوسرا
طبقہ ان لوگوں کا سامنے آتا ہے جو برے حالات دیکھ کر فورا بھاگ جاتے ہیں… یہ لوگ
بڑے عجیب بہانے بناتے ہیں اور دین کے کام سے کٹ جاتے ہیں…کوئی ان کے کان میں کہہ
دے کہ اب حالات ٹھیک نہیں رہے تو فوراً…فرار کا راستہ اختیار کرتے ہیں… اور اپنے
بچاؤ کے لئے جنت کے راستے کو چھوڑ دیتے ہیں…یار! ہم سے قید برداشت نہیں ہوتی…
یار! دین کا کام تو ٹھیک ہے مگر ڈنڈے کھانے کی طاقت ہم میں نہیں ہے…یار! ڈر تو
نہیں ہے مگر کچھ گھر کی دیکھ بھال بھی کرنی ہے…
قرآن
مجید فرماتا ہے:
اِن
یُّرِیْدُوْنَ اِلَّافِرَارًا
اصل بات
یہ ہے کہ یہ لوگ بھاگنا چاہتے ہیں، باقی سب بہانے ہیں…اس طبقے کی تفصیل کے لئے
ملاحظہ فرمائیں سورۃ احزاب آیت ۱۳
اَبَیْنَا
اَبَیْنَا
غزوۂ
احزاب کے مناظر میں ایک بڑا حسین، بہت دلکش اور بے حد ولولہ انگیز منظر بھی آتا
ہے… اس منظر کے دو حصے ہیں، پہلے چھوٹا حصہ دیکھتے ہیں پھر بڑا حصہ…
١
خوف،بھوک،فاقے اور شدید خطرے کے دوران…حضرات صحابہ کرام خندق کھود رہے تھے…اور
ساتھ ساتھ یہ شعر پڑھ رہے تھے:
نَحْنُ
الَّذِیْنَ بَایَعُوا مُحَمَّداً
عَلیٰ
الْجِہَادِ مَا بَقِیْنَا اَبَداً
’’ہم ہی
ہیں وہ لوگ جنہوں نے…حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے
بیعت کی ہے کہ ہم مرتے دم تک جہاد کرتے رہیں گے‘‘…
سبحان
اللہ!…یہ شعر پڑھنے کا اصل وقت ہی تب ہے جب جہاد کا نام لینے پر پابندی ہو…اور
جہاد کا علَم تھامنے پر موت سامنے نظر آتی ہو…کون ہے جو موجودہ حالات میں بھی دل
کے یقین کے ساتھ یہ شعر پڑھے اور پھر اس پر سچا رہے،پکا رہے … خواہ قید آئے یا
موت!
٢ دوسرا
منظر جو پہلے والے سے بھی زیادہ دلکش ہے…
حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خندق کے موقع پر خود بنفس نفیس مٹی
ڈھو رہے تھے…اس مٹی نے جسم مبارک کو بھی گرد آلود کر دیا تھا…مگر آپ صلی اللہ
علیہ وسلم یہ اشعار پڑھ رہے تھے:
وَاللّٰہِ
لَوْلَا اللّٰہُ مَا اھْتَدَیْنَا
وَلَا
تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّیْنَا
فَاَنْزِلَنْ
سَکِیْنَۃً عَلَیْنَا
وَثَبِّتِ
الاَقْدَامَ اِن لَّاقَیْنَا
’’اللہ
کی قسم!…اگر اللہ تعالیٰ توفیق نہ دے، تو ہم کبھی ہدایت نہ پاتے، نہ صدقہ دیتے،نہ
نماز پڑھتے…یا اللہ! ہم پر سکینہ نازل فرمائیے اور جنگ میں ہمیں ثابت قدمی عطاء
فرمائیے‘‘
اب آخری
شعر ملاحظہ فرمائیں…جو اس منظر کی ’’جان ‘‘ ہے
اِنَّ
الْاُلٰی قَدْ بَغَوْا عَلَیْنَا
اِذَا
اَرَادُوْا فِتْنَۃً اَبَیْنَا
’’یہ
ہمارے دشمن ہم پر ظلم کرنے کو چڑھ آئے ہیں…یہ اگر ہمیں فتنہ میں ڈالنا چاہتے ہیں…
یعنی ہمیں اپنے دین سے ہٹانا چاہتے ہیں تو ہماری طرف سے صاف انکار ہے‘‘…
شعر کے
آخری الفاظ…اَبَیْنَا اَبَیْنَا کو آپ صلی اللہ علیہ
وسلم بلند آواز سے پڑھتے کہ…اے دین کے دشمنو! ہم تمہارے دباؤ میں
آنے سے انکار کرتے ہیں…انکار کرتے ہیں…انکار کرتے ہیں … ہم دین چھوڑنے اور فتنہ
میں پڑنے سے انکار کرتے ہیں…انکار کرتے ہیں…اے دین کے دیوانو! کہہ دو: اَبَیْنَا
اَبَیْنَا
سبحان
اللہ! کیسا عزت و غیرت والا منظر ہے…
لا الہ
الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل
علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیماکثیراکثیرا
لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ کا سلام اور بے شمار رحمتیں…اُن شہداء کرام پر جنہوں نے عشق رسول صلی اللہ
علیہ وسلم کا حق اَدا کر دیا…پیرس میں اِسلامی غیرت اور عشقِ
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شمع اپنی جان سے روشن کرنے والو!
السلام
علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
قلم ہاتھ
سے چھوٹتا ہے
سبحان
اللہ ! کیسا تاریخی واقعہ ہے اور وہ تینوں شہداء کتنے عظیم ہیں…سچ کہتا ہوں جوش
،جذبے اور عقیدت سے میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں اور قلم ہاتھ سے چھوٹ رہا ہے…گستاخانہ
خاکے بنانے والوں پر تڑ،تڑ گولیاں برسانے والے…بڑا اونچا مقام لُوٹ گئے… جس کے دل
میں بھی ایک ذرہ برابر عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو گا وہ
ضرور…ان شہداء کرام کو خراج تحسین پیش کرے گا…ان کے لئے دعاء مانگنا اپنی سعادت
سمجھے گا…مجھے تو اس ولولے اور خوشی کے موقع پر ایک شعر بھی سوجھا ہے…
میرے
آقا کی محبت کا یہ منظر دیکھو
مل گئے
خاک میں وہ خاکے بنانے والے
مَنْ لِی
بِھٰذَا الْخَبِیْث
ہم جب
اپنے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندہ سیرت پڑھتے ہیں تو اس
میں ہمیں یہ اَلفاظ ملتے ہیں:
’’مَنْ
لِی بِھٰذَا الْخَبِیْث‘‘
کون
ہے؟کون ہے، جو میرے لئے… یعنی محض میری عزت و حرمت کے لئے اس خبیث کو ختم کر
دے…کون ہے اس خبیث کے مقابلے میں میری نصرت کرنے والا؟…یہ ۲ھ کا واقعہ ہے…ایک یہودی تھا ’’ابو عفک‘‘ … بہت بڈھا… بہت
ناپاک اور بہت منہ پھٹ…یعنی اس زمانے کا ’’چارلی ایبڈو‘‘…وہ حضرت آقا مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم کی گستاخی میں اَشعار بکتا تھا…گویا کہ اللہ
تعالیٰ کو گالیاں بکتا تھا…حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی
گستاخی …دراصل اللہ تعالیٰ کی گستاخی ہے… حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کی گستاخی…ہزاروں لاکھوں بے گناہ انسانوں کو قتل کرنے سے
بھی زیادہ خطرناک جرم ہے…کیونکہ یہ جرم انسانوں کے لئے جہنم اور ہمیشہ ہمیشہ کی
ناکامی کے دروازے کھولتا ہے… حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی
شان اَقدس میں گستاخی پورے پورے شہروں کو آبادیوں سمیت جلا دینے سے بھی زیادہ
مہلک اور نقصان دِہ گناہ ہے…یہ گناہ ایک ہستی کے خلاف نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے
خلاف ہے… ابو عفک یہودی کی گستاخی جب حد سے گذر گئی تو حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم نے انسانیت کی حفاظت کے لئے نہایت درد کے ساتھ فرمایا:
’’مَنْ
لِی بِھٰذَا الْخَبِیْث‘‘
’’کون ہے
میرا مددگار،اس خبیث کے بارے میں؟‘‘
سبحان
اللہ ! سعادت کا قرعہ حضرت سیّدنا سالم بن عمیر رضی اللہ
عنہ کے حق میں نکلا…انہوں نے حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کے اَلفاظ مبارک سنے تو تڑپ اُٹھے اور عرض کیا: یا رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے پہلے ہی منت مانی ہوئی ہے کہ
’’ابو عفک ‘‘ کو قتل کر دوں گا یا خود مر جاؤں گا… پھر فوراً تلوار لے کر نکلے
اور اس ظالم ،موذی،کینسر، ایڈز، ایبولا کو ختم کر دیا… چارلی ایبڈو رسالے نے جب
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی شان عالی مقام کی
گستاخی کا ارتکاب کیا…کروڑوں مسلمانوں کے دلوں پر خنجر چلایا… احتجاج کے باوجود
اَڑیل گدھوں کی طرح اپنی ضد پر اَڑے رہے…اور اپنی سکیورٹی پر ناز کرتے ہوئے اپنی
گستاخی پر قائم رہے تو میں سوچتا ہوں…گنبد خضراء سے آواز آتی ہو گی…
’’مَنْ
لِی بِھٰذَا الْخَبِیْث‘‘
’’کون
ہے؟ کون ہے،میرا عاشق،میرا جانباز اس خبیث رسالے کے مقابلے میں؟ ‘‘
آہ! چار
سال تک یہ آواز آتی رہی…ہم مسلمان روتے رہے، بلکتے رہے، شرم میں ڈوبتے رہے…کئی
دیوانے چاقو چھریاں لے کر روانہ بھی ہوئے مگر پکڑے گئے یا مارے گئے… کئی دیوانے
راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر روئے بھی… ہر ایک چاہتا تھا کہ پکار کر کہے:
اَنَا
یَا رَسُوْلَ اللہ، اَنَا یَا رَسُوْلَ اللہ
’’میں
ہوں، میں ہوں…اے اللہ کے رسول! آپ کی عزت و حرمت کا بدلہ لینے والا‘‘…
مگر
قسمت جاگی تو شریف اور سعید کی…وہ مکمل تیاری کے ساتھ اپنے ہدف پر پہنچے اور ایسی
جنگ لڑی کہ آسمان بھی جھک جھک کر دیکھتا اور سلام کرتا ہو گا… چارلی ایبڈو کا
غرور اور گستاخی خاک میں مل گئی…کروڑوں مسلمانوں کے دلوں پر شفاء کا مرہم
لگا…سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم … دنیا نے دیکھ لیا کہ اسلام کی گود ابھی
بانجھ نہیں ہوئی…اور حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کی محبت کا سورج آج بھی…الحمد للہ نصف النہار پر ہے…
میرے
آقا کی محبت کا یہ منظر دیکھو
مل گئے
خاک میں وہ خاکے بنانے والے
انصارِ
محمد صلی اللہ علیہ وسلم
ہم جب
اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ پڑھتے ہیں تو اس
میں ایک ایسا خوش نصیب ،خوش بخت، عالی مقام اور قابل رشک شخص بھی نظر آتا ہے جو
آنکھوں سے معذور تھا مگر …اس کے دل کی آنکھیں روشن تھیں…
اُن کا
اسم گرامی تھا…حضرت سیّدنا عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ
سب پڑھنے
والے جھوم کر والہانہ دعا کریں:
رضی اللہ
عنہ، رضی اللہ عنہ، رضی اللہ عنہ واَرضاہ
مدینہ
منورہ میں ایک بدبخت عورت تھی…عصماء یہودیہ… یہ بھی حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کی شان مبارک میں گستاخانہ اَشعار بکتی تھی…حضرت عمیر بن
عدی رضی اللہ عنہ نے قسم کھا لی کہ اس نجاست کو ضرور ختم
فرمائیں گے…اور پھر رمضان المبارک کی ایک رات انہوں نے یہ سعادت حاصل کر لی…
ارے ! یہ
تو ایسی عظیم عبادت اور عظیم سعادت ہے کہ…کوئی شخص سو سال تک کعبہ شریف میں عبادت
کرتا رہے اور نہ تھکے…اور کوئی شخص سو سال تک مسجد نبوی شریف میں اِعتکاف کرے اور
ہر نماز پہلی صف میں اَدا کرے…اور روز لاکھوں بار مواجہہ شریف پر… درودشریف پیش
کرے… تب بھی وہ اس عاشقِ رسول کے برابر تو کیا قریب بھی نہیں ہو سکتا …جو کسی
گستاخِ رسول کا خاتمہ کر دے… حضرت کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
’’
پیغمبر برحق صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی
کرنے والے کا قتل اَعظمِ قربات اور اَفضل عبادت میں سے ہے…‘‘
حضرت
عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ نے جب یہ عظیم کارنامہ سراَنجام
دے دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے حد مسرور ہوئے اور صحابہ
کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مخاطب ہو کر فرمایا:
’’اذا
احببتم ان تنظروا الی رجل نصر اللہ ورسولہ بالغیب فانظروا الی عمیر بن عدی‘‘
’’اگر
آپ لوگ ایسے شخص کو دیکھنا چاہتے ہو جس نے اللہ اور اس کے رسول کی غائبانہ مدد کی
تو عمیر بن عدی کو دیکھ لو‘‘
اب ایک
اور بہت مزے کی بات سنیں… عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ
جانا کتنی بڑی سعادت ہے،اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ…حضرت عمیر بن
عدی رضی اللہ عنہ ’’نابینا‘‘ تھے… لوگ انہیں ’’اَعمیٰ‘‘
یعنی نابینا کہتے تھے…آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پابندی لگا دی
کہ اِن کو اَعمیٰ یعنی نابینا نہ کہو یہ تو ’’بصیر‘‘ یعنی خوب دیکھنے والے ہیں…
سبحان
اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم
ہاں !
اصل اَعمیٰ یعنی نابینا تو وہ ہیں جو … حضورِ اَقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کے مقام کو نہیں دیکھ سکتے… وہ اَندھے جو اپنی آنکھوں سے
دنیا بھر کی طاقتوں کو دیکھتے ہیں… دنیا بھر کے گناہوں کو دیکھتے ہیں… مگر کائنات
کی سب سے روشن ہستی کو نہیں پہچانتے… ہاں! وہ اندھے ہیں جنہیں پاکستان میں ناموس
رسالت کا قانون بُرا لگتا ہے… ہاں! وہ اَندھے ہیں جو گستاخانِ رسول کا تحفظ کرتے
ہیں… اور عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ مجرم
اور دہشت گرد سمجھتے ہیں… اَرے! وہ آنکھیں کس کام کی جو جمالِ محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کو نہ دیکھ سکیں… جو شانِ محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کا اِدراک نہ کر سکیں… سلام ہو! ان گرم خون نوجوانوں کو
جنہوں نے ہمارے زمانے کی لاج رکھ لی… اور خاکے والوں کو خاک و خون میں تڑپا دیا…
ہاں ! وہ اللہ تعالیٰ کے ’’اَنصار ‘‘ ہیں… ہاں ! وہ آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کے ’’اَنصار ‘‘ ہیں… دنیا لاکھ اُن کی مذمت کرے… ہم اُن سے
محبت رکھتے ہیں…اُن کو سلامِ عقیدت پیش کرتے ہیں… اگر اُن کی تعریف کرنا جرم ہے…تو
ایسا جرم بھی سعادت… اگر میں شاعر ہوتا تو آج ایک پورا قصیدہ…ان سچے جانباز
عاشقوں کی شان میں لکھ دیتا…فی الحال تو…میرا دل ان کے ساتھ خوشی کا رقص کر رہا
ہے…
بیا
جاناں تماشا کن کہ در انبوہِ جانبازاں
بصد
سامان رُسوائی سرِ بازار می رقصم
جو ہونا
ہے، ہوتا رہے
یورپ
والے بڑے بڑے مظاہرے کر رہے ہیں…ہر ملک اپنی سیکیورٹی سخت کر رہا ہے… یہ بیوقوف
اتنا نہیں سوچتے کہ نائن الیون کے بعد سے تم سب یہی کچھ تو کر رہے ہو… مار رہے
ہو،پکڑ رہے ہو، بمباری کر رہے ہو،…پھانسیاں دے رہے ہو…سیکیورٹی سخت کر رہے
ہو…دھمکیاں دے رہے ہو،ڈرا رہے ہو… مگر تمہارے ان تمام اِقدامات کا کیا نتیجہ
نکلا؟… سوچو، سوچو! کہ جہاد کمزور ہوا یا طاقتور… قتال فی سبیل اللہ محدود ہوا یا
وسیع؟… اِسلام کی خاطر لڑنے والے کم ہوئے یا زیادہ؟… اب تم مزید بھی یہی اِقدامات
کرو گے تو نتیجہ پہلے جیسا ہی نکلے گا…جب تم گستاخانہ خاکے بناؤ گے تو کیا حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دیوانے عاشق…ہاتھ میں
چوڑیاں پہن کر بیٹھے رہیں گے؟… فرانس کو بڑا شوق ہے بمباری کا…افغانستان ہو یا
لیبیا یا عراق…اس کے میراج طیارے ہر جگہ سب سے پہلے مسلمانوں پر بم برسانے پہنچ
جاتے ہیں… تم بم برساؤ گے تو کیا مدینہ منورہ کے بیٹے تم پر پھول نچھاور کرتے
رہیں گے؟… اَرے مان لو! کہ اسلام ایک حقیقت ہے… جہاد ایک حقیقت ہے… اور حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ایک بہت بڑی حقیقت
ہے… تم جس قدر جنگ کی آگ بھڑکاتے جاؤ گے…سختیاں کرتے جاؤ گے…مسلمان اسی قدر مضبوط
اور جنگجو ہوتے چلے جائیں گے…کل جب تم نے خاکے بنائے تو ہم نے کہا تھا…
خاک ہو
جائیں گے خاکے بنانے والے
اور آج
الحمد للہ ہم یہ کہنے کے قابل ہو گئے کہ…
مل گئے
خاک میں وہ خاکے بنانے والے
یاد
رکھو! مسلمان کے لئے موت…کوئی ڈراوے کی چیز نہیں … بلکہ یہ تو وہ حسینہ ہے جس کے
اَنگ اَنگ میں لذت اور راحت ہے…مسلمان اپنے دین کا… اپنے اللہ کا اور اپنے
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا وفادار ہی رہے گا…اِن شاء
اللہ…
اُسے یہ
پرواہ نہیں کہ… کیا ہو گا؟…جو ہوتا ہے، ہوتا رہے…ہمارے لئے کل بھی اَللّٰہ… آج
بھی اَللّٰہ… حسبنا اللّٰہ …اَللّٰہ ہی اَللّٰہ …اَللّٰہ ہی اَللّٰہ
لا الہ
الا اللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل
علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ نے ’’زکوٰۃ‘‘ میں برکت بھی رکھی ہے اور رحمت بھی… مسلمان جب خوشی،جذبے اور
شوق کے ساتھ ’’زکوٰۃ‘‘ ادا کرتے ہیں تو ان کا مال خوب پاک ہو جاتا ہے اور بہت بڑھ
جاتا ہے … اور آسمان سے برکت والی بروقت بارش ہوتی ہے … ایسی بارش جو قحط،بیماری
اور نحوست کو دور کر دیتی ہے…مگر افسوس کہ مسلمان ’’زکوٰۃ‘‘ کے بارے میں بہت ظلم
کرنے لگے ہیں…بہت سے مسلمان زکوٰۃ ادا ہی نہیں کرتے…کتنا بڑا جرم ہے،کتنا بڑا
…اسلام کے ایک محکم اور قطعی فریضے کو چھوڑ دینا… واقعی بڑا دردناک جرم ہے…
اور بہت
سے مسلمان زکوٰۃ ادا کرتے ہیں … مگر رو رو کر،ناپ ناپ کر اور بجھے دل کے ساتھ …
ہائے! افسوس کہ اتنی بڑی خوشی کے موقع کو اپنے لئے غم بنا دیتے ہیں…زکوٰۃ تو فرض
ہے…اور ایک مسلمان فرض ادا کرتے وقت اتنا خوش ہوتا ہے کہ اس کے جسم کے ایک ایک بال
پر لذت طاری ہو جاتی ہے…اور اس کا دل خوشی سے رقص کرتا ہے کہ…الحمد للہ، الحمد للہ
مجھے اپنے رب کا فریضہ ادا کرنے کی توفیق ملی…اللہ والے تو مال ملنے پر پہلی خوشی
ہی یہ محسوس کرتے ہیں کہ اب ہم ایک اسلامی فریضہ ادا کرنے کے قابل ہو گئے…سبحان
اللہ! اب ہم زکوٰۃ ادا کریں گے…یہ عجیب بات ہے کہ مسلمان الحمد للہ حج پر تو خوش
ہوتے ہیں…اچھی بات ہے…مگر زکوٰۃ پر خوش نہیں ہوتے…شاید شیطان کی محنت کا اثر
ہے…ورنہ غریب سے غریب مسلمان کے لئے مال میں پہلی خوشی یہ ہوتی تھی کہ …اس میں سے
زکوٰۃ ادا کریں گے … ارے بھائیو! اور بہنو! ساری دنیا کی نفل عبادت مل کر ایک فرض
کے برابر نہیں ہو سکتیں…اور اسلام کی پوری عمارت ’’فرائض‘‘ پر کھڑی ہے…فرائض کے
برابر نہ کوئی سنت ہو سکتی ہے اور نہ کوئی اور غیر فرض نیکی…ہم نے اپنی زندگی میں
خوشی خوشی حج کرنے والے تو بہت مسلمان دیکھے ہیں…مگر دل کے شوق اور مزے کے ساتھ زکوٰۃ
نکالنے والے بہت کم دیکھے ہیں… ایک صاحب کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی…ان کو زکوٰۃ
نکالنے کا ایسے شوق تھا جس طرح کسی چیز کے عادی انسان کو اس چیز کا شوق ہوتا ہے…وہ
سال پورا ہونے سے پہلے اپنے سارے مال کی زکوٰۃ ادا کر دیتے…مگر ان کا دل نہیں
بھرتا تھا…پھر اپنے منشی کو بلا کر کہتے کہ یار اگلے سال کی زکوٰۃ بھی حساب کرکے
نکال دو…یوں ہر وقت اگلے کئی کئی سالوں کی پیشگی زکوٰۃ ادا کرتے رہتے…مگر ان کا
مال اتنا بڑھ جاتا کہ سال کے آخر میں انہیں حساب کر کے مزید زکوٰۃ ادا کرنا
پڑتی…جس پر ان کی خوشی اور بڑھ جاتی…بس اس اللہ کے بندے کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی
تھی کہ …فرائض اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں…فرائض کے ذریعے انسان کو اللہ تعالیٰ کا
خصوصی قرب ملتا ہے…اور فرائض سے اللہ تعالیٰ محبت فرماتے ہیں…چنانچہ اس کے دل میں
فرائض کی محبت بیٹھ گئی…وہ فرائض سے عشق کرنے لگا… فریضہ نماز خود بھی ادا کرتا
اور دوسروں کے لئے مسجدیں بھی بناتا…جماعت کی ایک بڑی مسجد اس نے اکیلے ہی بنا کر
دے دی…زکوٰۃ کا اسے حرص تھا،اس کا بس چلتا تو روز اپنا مال گن کر ہر دن چالیسواں
حصہ زکوٰۃ نکال دیتا…ہاں! واقعی مال کا اصل فائدہ ہی یہ ہے کہ اس سے اپنے محبوب کی
محبت حاصل کی جائے…حج بھی وہ پابندی سے کرتا اور اپنے ساتھ بہت سے غریب مسلمانوں
کو بھی حج کراتا…اور فریضہ جہاد میں بھی اس نے دل کھول کر مال لگایا…اللہ کرے وہ
جہاں بھی ہو…اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سائے میں ہو…زکوٰۃ کی وجہ سے اس کے مال میں بے
حد برکت تھی…ایک بار بتا رہے تھے کہ میں نے سال کے شروع میں سارا مال شمار کر کے
دو سال کی زکوٰۃ ادا کر دی…سال کے آخر میں جب حساب ہوا تو مال اس قدر بڑھ چکا تھا
کہ وہ دو سال کی زکوٰۃ …ایک سال کے لئے بھی پوری نہ ہوئی… چنانچہ مزید زکوٰۃ
نکالی…یعنی اس سال ان کے مال میں سو فیصد سے بھی زیادہ کا اضافہ ہوا…مگر وہ کبھی
بھی اس نیت سے زکوٰۃ نہیں نکالتے تھے کہ مال میں برکت ہو…بلکہ ہمیشہ یہی نیت کہ
اللہ تعالیٰ کا حکم پورا ہو…اللہ تعالیٰ کا فرض ادا ہو…اللہ تعالیٰ کی رضا اور
محبت نصیب ہو…جبکہ مسلمانوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو طرح طرح کی تاویلیں کر کے…زکوٰۃ
سے اپنی جان بچاتے ہیں…یعنی اپنی جان کو نعمت زکوٰۃ سے محروم رکھتے ہیں…مغلیہ
خاندان کے دور اقتدار میں ایک قاضی تھے…ان کے علمی مقام کی وجہ سے ان کو بادشاہ سے
بڑے بڑے انعامات اور ہدایا ملتے تھے مگر ان پر بخل کا کینسر حملہ آور تھا…وہ
گیارہ مہینے مال اپنے پاس رکھتے اور بارہویں مہینے وہ سارا مال اپنی بیوی کو ہدیہ
کر دیتے…زکوٰۃ کے وجوب کے لئے مال پر ایک سال گزرنا شرط ہے تو وہ کہتے کہ…میرے پاس
تو یہ مال ایک سال رہا نہیں اس لئے مجھ پر زکوٰۃ نہیں ہے…اور بیوی بھی خاوند جیسی
تھی، وہ گیارہ مہینے بعد سارا مال خاوند کو ہدیہ کر دیتی…یوں دونوں نے پوری زندگی
زکوٰۃ ادا نہ کی…ان کی اولاد بھی نہیں تھی…دونوں سارا مال چھوڑ کر مر کھپ گئے اور
بادشاہ نے وہ مال اٹھوا کر شاہی خزانے میں جمع کرا دیا…اکثر عورتیں اس مرض کا شکار
ہیں کہ … زیور کی زکوٰۃ ادا کرنے سے ڈرتی ہیں کہ وہ کم ہو جائے گا…اری مسلمان بہن!
ایسے مال اور ایسے زیور کا کیا فائدہ جس سے تم اسلام کے ایک اہم فریضے کو ادا نہ
کر سکو…مسلمان تو دنیا میں آیا ہی … ایمان پر قائم رہنے،فرائض ادا کرنے،دین پر
عمل کرنے،دین کیلئے غیرت کھانے،مخلوق کے شرعی حقوق اداکرنے اور ایمان پر مرنے کے
لئے ہے …مسلمان کا اس دنیا میں اور کیا کام؟…کھانا،پینا،خواہشات پوری کرنا … اور
جائیدادیں بنانا؟یہ کسی مسلمان کا مقصد زندگی نہیں ہو سکتا…یہ تو جانوروں اور
کافروں کا مقصد حیات ہے…مسلمان تو اس تاک میں رہتا ہے کہ کب وقت داخل ہو تو میں
فرض ادا کروں …کب مال ملے تو میں زکوٰۃ ادا کروں اور اس مال سے جنت خریدوں…کئی
غریب لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ شرعاً ان پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی مگر ان کو سو روپے
بھی ہاتھ آ جائیں تو فوراً ڈھائی روپے نکال کو زکوٰۃ ادا کر دیتے ہیں کہ…چلو ایک
فرض کی مشابہت اور صدقہ کا اجر تو مل جائے گا…سو روپے میں سے ڈھائی روپے نکالنے سے
کیا کمی آتی ہے؟ …کچھ بھی نہیں …مگر یہی ڈھائی روپے جب نکال دئیے جائیں تو وہ
کروڑوں سے بھی زیادہ قیمتی بن جاتے ہیں…کیونکہ ایک فرض کو زندہ کرنے کے لئے نکالے
گئے ہیں…اور فرائض پرہی دین قائم ہے… اور فرائض پر ہی دنیا قائم ہے…آج ہمارے ملک
میں بارش کا بحران ہے…اس سال کئی علاقوں میں خوفناک قحط پڑا ہے…ہر طرف خشک سالی
ہے…اور حکومت کے ظالمانہ اقدامات کی نحوست بھی… ان حالات کو دیکھ کر خیال آیا کہ
مسلمانوں کو…زکوٰۃ کی طرف توجہ دلائی جائے…اور زکوٰۃ کا شوق دلایا جائے…اسی مقصد
کے تحت یہ چند سطریں لکھی ہیں…اللہ تعالیٰ قبول فرمائے…خود بھی عمل کریں اور دوسرے
مسلمان تک بھی یہ پیغام پہنچائیں … ہمارا ملک اس وقت بہت خطرناک دور سے گزر رہا
ہے…پرویز مشرف کے جن اقدامات کی وجہ سے اس پُر اَمن ملک میں ’’بد امنی ‘‘
آئی…موجودہ حکومت انہی اقدامات کو زیادہ شدت کے ساتھ نافذ کر رہی ہے…عجیب بات ہے
کہ کلمہ پڑھنے والے اور خود کو مسلمان کہلانے والے حکمران … اسلام کے ایک قطعی
فریضے ’’جہادِ فی سبیل اللہ‘‘ کو نعوذباللہ گالی اور جرم بنا کر پیش کر رہے ہیں …
توبہ،توبہ،استغفر
اللہ،استغفر اللہ
کیا ان
لوگوں نے قرآن مجید نہیں پڑھا؟ … کیا ان لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کی سیرت مبارکہ نہیں پڑھی؟…یہ جن کافروں کو خوش کرنے کے لئے
یہ سب کچھ کر رہے ہیں…وہ کافر ان کے کسی کام نہیں آئیں گے…الٹا یہ ملک زیادہ بد
امنی کا شکار ہو جائے گا…کیونکہ حکمران جو دہشت پھیلا رہے ہیں…یہی بعد میں دہشت
گردی بن جاتی ہے…یقین نہ آئے تو پاکستان کے گذشتہ بیس سال کے حالات کو سامنے رکھ
لیں…اب تو امریکہ اور یورپ سے خود مجاہدین…اٹھ رہے ہیں… حالانکہ وہاں نہ تو کوئی
مدرسہ ہے…اور نہ کوئی ’’جہادی تنظیم‘‘ …وہاں نہ تو عورتوں پر کوئی پابندی ہے… اور
نہ لاؤڈ سپیکر کھلے ہیں…مگر ہزاروں یورپین مسلمان…جہاد کے لئے شام و عراق پہنچ
چکے ہیں… اور ابھی حال ہی میں تین چار مجاہدین نے…پیرس کے گستاخانِ رسول کو خاک
میں ملا دیا ہے…جمعۃ المبارک کے مقدس دن شہید ہونے والے…شریف کواچی شہید اور سعید
کواچی شہید کی تدفین خفیہ مقامات پر کر دی گئی ہے…اندازہ لگائیں کہ خود کو ایٹمی
پاور اور سپر پاور کہلوانے والے ممالک… مجاہدین کی لاشوں تک سے ڈرتے ہیں…ابھی
تیسرے مجاہد احمدی شہید کی تدفین باقی ہے… یقیناً ان کی خوشبودار،کشادہ اور
پُرتعیش قبر بے چینی سے ان کا انتظار کر رہی ہو گی کہ… کب محبوب آئے گا تو اسے
لذتوں اور مزوں سے سرشار کر دوں گی…
اللہ
تعالیٰ کی رحمت ہو…شہدائے ناموسِ رسالت پر…اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو تمام شہدائے
اِسلام پر…
لا الہ
الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
اللّٰہم
صل علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ اپنے فضل سے مغفرت،ثابت قدمی اور نصرت عطاء فرمائے…
رَبَّنَا
اغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَاِسْرَافَنَا فِیْ اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا
وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنَ
ایک سچی
کہانی
آج کی
مجلس میں ایک سچی کہانی عرض کرنی ہے…اور اسی کہانی کی روشنی میں موجودہ حالات پر
چند باتیں…اللہ تعالیٰ توفیق عطاء فرمائے…
گیارہ
فروری 1994ء…کشمیر کے علاقہ ’’اننت ناگ‘‘ سے ہماری گرفتاری ہوئی…پہلے کچھ دن
کھندرو کیمپ میں رکھا گیا…اور پھر بادامی باغ کے ’’آرمی عقوبت خانے‘‘ آر آر
سینٹر منتقل کر دیا گیا… یہ کہانی بادامی باغ سری نگر کے اسی عقوبت خانے کی ہے…
دنیا
دھوکے اور امتحان کی جگہ
دنیا ہر
انسان کا عارضی گھر ہے…اور یہ امتحان گاہ ہے… اللہ کے دشمن کرسیوں پر اور اللہ کے
دوست سولیوں پر…اللہ کے دشمن ہنستے دمکتے …اور اللہ کے دوست روتے بلکتے درد سے
کراہتے… اللہ کے دشمن حکمران اور اللہ کے دوست قید میں …یہ سب کچھ امتحان ہے
کہ…کون اللہ تعالیٰ کے ساتھ وفادار رہتا ہے اور جنت خریدتا ہے…اور کون دنیا کے یہ
رنگ دیکھ کر گمراہ ہو جاتا ہے… آج 26جنوری تھی اس زمانے کا ابرہہ یعنی اُبامہ اور
اس زمانے کا ابو جہل یعنی مودی…کس قدر خوش تھے… ان کے گرد بڑی فوج،بڑے پہرے تھے
…انڈیا میں یوم آزادی کی پریڈ تھی…کافروں نے اپنی شان و شوکت دکھانے کی ہر کوشش
کی … منافقین منہ میں رال لئے اُن کو دیکھتے رہے کہ… کاش! ہمیں بھی ایسی عزت ملے…
جبکہ اہل ایمان پر آج کا دن بھی آزمائش والا گزرا… چھاپے ، گرفتاریاں،غم،
آنسو…اور ایک دوسرے کو دلاسے…پاکستان کی موجودہ حکومت نے تو ظلم اور کفر نوازی
میں سابقہ تمام حکومتوں کو مات دے دی ہے…مگر ظلم کا انجام بھی بھیانک ہوتا ہے…یہ
حکومت اور اس کے حکمران بھی…بد دعاؤں کی زد میں آنے کو ہیں…انہوں نے تو چادر اور
چار دیواری کے تقدس کو بھی روند ڈالا ہے…اور یہ دنیا کی واحد اسلامی حکومت ہے جو
نعوذ باللہ جہاد جیسے مقدس اسلامی فریضے کو ’’جرم‘‘ قرار دے کر عذابِ الٰہی کو
آوازیں دے رہی ہے…دنیا امتحان کی جگہ ہے یہاںموٹی اور تنی ہوئی گردنوں والے
حکمرانوں کو…ایک وقت تک ڈھیل دی جاتی ہے…اور پھر رسی کھینچ لی جاتی ہے… دوسری طرف
اہل ایمان ہمیشہ آزمائے جاتے ہیں…انبیاء علیہم السلام اور ان کے بعد
سچے ایمان والے…طرح طرح کی آزمائشوں میں ڈالے جاتے ہیں…اور یہ آزمائشیں ان کے
لئے حقیقی کامیابی کی ضمانت اور جنت کا ٹکٹ بن جاتی ہیں…جبکہ کافروں اور منافقوں
کو جو کچھ دینا ہوتا ہے اسی دنیا میں دے دیا جاتا ہے…اور آخرت میں ان کے لئے عذاب
کے علاوہ اور کوئی حصہ نہیں ہوتا…آج دنیا بھر کی جیلوں میں اہل ایمان…اپنی ایمانی
آزمائش کے دن کاٹ رہے ہیں… اللہ تعالیٰ ہمیں بھی سچے اہل ایمان میں شمار
فرمائے…ہم نے بھی چند سال جیل کاٹی…اس قید کا پہلا سال سری نگر کے بادامی باغ میں
گذرا…
قانون
بدل جاتے ہیں
غزوۂ
بدر سے لے کر جہاد افغانستان تک … ہر جہاد میں کافروں کو ایسی مار پڑی کہ جہاد کے
نام سے ان کی روحیں کانپتی ہیں…اسی لئے وہ منافق حکمرانوں کو استعمال کرتے ہیں
کہ…جہاد کے خلاف کام کرو… آج دنیا کی ہر جیل میں خواہ وہ مسلمانوں کے ممالک کی ہو
یا کفار کے ملکوں کی… مجاہدین کے لئے الگ سیل ہوتے ہیں،الگ طرح کا تشدد ہوتا ہے
…اور ان کے لئے ملک کا ہر قانون تبدیل کر دیا جاتا ہے…
پرویز
مشرف پر قاتلانہ حملہ کرنے کے الزام میں …کئی مسلمان پھانسی پر لٹکا دیئے گئے…ان
کا کیس لڑنے والا ایڈووکیٹ چیختا رہا کہ… پرویز مشرف خود زندہ ہے توپھر کوئی اس کا
قاتل کیسے بن گیا؟…مگر یہ لوگ داڑھیوں والے تھے،دین سے نسبت رکھتے تھے تو انہیں بے
دردی سے لٹکا دیا گیا… یعنی زندہ مقتول کے قاتل مار دیئے گئے… جبکہ صولت مرزا نے
ایک سو قاتلانہ وارداتوں کا اقرار کیا…مگر چونکہ اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں تو
وہ ابھی تک زندہ ہے…معلوم نہیں یہ حکمران کس منہ سے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں
گے…بادامی باغ کا آر آر سینٹر کوئی جیل نہیں تھا…وہ ایک تفتیشی مرکز تھا…قانون
کے مطابق وہاں کسی بھی قیدی کو صرف نوے دن تک رکھنے کی اجازت تھی…پھر یا تو اسے
رہا کر دیا جاتا تھا یا کیس بنا کر جیل بھیج دیا جاتا تھا…یہ بہت تنگ اور اذیت ناک
جگہ تھی… وہاں نوے دن رہنا بھی آسان کام نہیں تھا…مگر جب ہمارا معاملہ آیا تو یہ
قانون بھی تبدیل ہو گیا اور ہمیں ایک سال کے لگ بھگ غیر قانونی طور پر اس سینٹر
میں رکھا گیا…مقامی کشمیری مجاہدین آتے اور چلے جاتے مگر ہم پاکستانی اپنے تنگ
اور تاریک سیلوں میں پڑے رہ جاتے…اور ہمیں کہا جاتا کہ تم نے بس یہیں رہنا ہے، یہیں
مرنا ہے…اسی دوران کسی خیرخواہ نے ہمیں مشورہ دیا کہ آپ لوگ یہاں سے نکلنے کے لئے
کچھ کریں…کیونکہ یہاں رہتے ہوئے نہ تو آپ کا اپنے گھروں سے رابطہ ممکن ہے …اور نہ
ساتھیوں سے…اور چونکہ آپ لوگوں کو یہاں غیر قانونی طور پر رکھا گیا ہے تو اس لئے
جب …معاملہ اوپر تک جائے گا تو شاید قانون کے مطابق آپ کو جیلوں میں شفٹ کر دیا
جائے…مشورہ معقول تھا اور آپس کے مشورے میں طے پایا کہ بھوک ہڑتال کی جائے…ایسی
بھوک ہڑتال جس میں جان نہ جائے کہ خود کشی ہو …مگر حکام پر کچھ دباؤ آ جائے…ہم
بارہ افراد تھے…اللہ تعالیٰ سے مدد مانگ کر ہم نے بھوک ہڑتال شروع کر دی…اور
مطالبہ یہ رکھا کہ ہمیں بھی جیل منتقل کیا جائے…
آزمائش
کے آٹھ دن
ہم پہلے
ہی عقوبت خانے کی آزمائش میں تھے …اب ساتھ بھوک ہڑتال بھی چل پڑی… ابتداء میں
مقامی حکام نے سمجھانے کی کوشش کی …مگر ہم مضبوط رہے…پھر انہوں نے زور زبردستی
شروع کی…مگر ہم ڈٹے رہے…وہ ہمیں اپنی سیلوں سے نکال کر باہر برآمدے میں بٹھا دیتے
اور ہمارے سامنے ابلے ہوئے چاولوں کی پلیٹیں رکھ کر…بھاشن دیتے کہ آپ لوگ کھانا
کھا لو…کھانا نہ کھانے سے آپ کا مسئلہ حل ہونے والا نہیں…کھانا نہ کھانے میں آپ
لوگوں کا اپنا ہی نقصان ہے…اور آپ کا دھرم(دین) بھی بھوک ہڑتال کی اجازت نہیں
دیتا وغیرہ وغیرہ…اس وقت ہم اپنا مطالبہ دہراتے کہ نہیں ہم نے ہرگز کھانا نہیں
کھانا…آپ لوگ کم از کم اپنے قانون کا تو احترام کرو وغیرہ…
یہ سلسلہ
چار دن چلا …ہمارے بعض ساتھی کمزور ہو گئے اور بعض بیمار…مجبوراً مقامی حکام کو
اوپر بتانا پڑا…تب ویڈیو کیمرے لا کر ان کے سامنے وہی سب کچھ کیاگیا جو روز ہوتا
تھا…پھر بعض ساتھی بیمار ہو گئے تو انہیں آرمی کے ہسپتال لے جایا گیا…جہاں ان کی
داڑھیاں کاٹ دی گئیں اور زبردستی ان کی بھوک ہڑتال ختم کرا دی گئی… باقی جو ساتھی
رہ گئے ان کو روز ڈرایا دھمکایا جاتا… مختلف طریقے سے خوف پھیلایا جاتا…اور بعض
ساتھیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا…
آخری دن
بالآ خر
وہ دن آ گیا جس میں ہمارے لئے فتح اور آسانی مقدر تھی…مگر انسان کہاں جانتا ہے
کہ کون سا دن فتح والا ہے اور کون سا دن شکست والا …اس دن کا آغاز بہت مشکل تھا
مگر اختتام بہت پیارا…صبح سے ہی ہمیں ڈرانے،دھمکانے کا عمل تیز ہو گیا…بعض ساتھیوں
کو میڈیکل روم لے کر جا کر سخت مارا گیا…اور پھر انہیں نڈھال حالت میں لا کر ہمارے
سامنے گھسیٹتے ہوئے اپنے سیلوں میں ڈال دیا گیا…حکام اس دن سرخ آنکھوں کے ساتھ
آتے اور طرح طرح کی گالیاں بکتے…اور کہتے کہ آج اگر تم نے بھوک ہڑتال نہ توڑی تو
ہم تمہیں ’’بی ایس ایف‘‘ کے ٹارچر سیل ’’پاپا ٹو‘‘ میں ڈال دیں گے…’’پاپاٹو‘‘ کے
تشدد کی داستانیں وہاں بہت عام اور بہت دردناک تھیں…
جب دو
ساتھیوں کو بہت مارا گیا تو …ان کی حالت دیکھ کر اکثر ساتھیوںکا غم سے برا حال ہو
گیا…انسان اپنی تکلیف سہہ لیتا ہے مگر اپنے عزیز ساتھیوں کی تکلیف سے دل زخمی ہو
جاتا ہے… ایک معزز ساتھی کسی طرح میرے سیل پر آئے اور کہنے لگے …اب ہمیں بھوک
ہڑتال توڑ دینی چاہیے…اور ساتھیوں کو کھانے پینے کی اجازت دے دینی چاہیے
کیونکہ…ظلم اور تشدد بہت بڑھ گیا ہے…اور اگر ہماری قسمت میں اسی عقوبت خانے کا
دانہ پانی ہے تو …اپنے مقدر کو قبول کر لینا چاہیے…اب ساتھیوں کو مزید مار کھاتے
دیکھنا میرے بس میں نہیں…آپ اس پر ہمدردی سے سوچ لیں… میں ان کی بات سے متاثر ہوا
اور کہا کہ میں دو رکعت پڑھ کر استخارہ کرتا ہوں…پھر کوئی فیصلہ کرتے ہیں…اللہ
اکبر کبیرا…وہ عجیب دردناک لمحات تھے…کمزوری کی وجہ سے کھڑے ہو کر نماز ادا نہیںکر
سکتا تھا…اب دل پر مزید بوجھ کہ اگر ہم بھوک ہڑتال توڑیں تو…مشرکین کے سامنے اہل
اسلام کی پسپائی اور ظاہری شکست ہے…اور اگر بھوک ہڑتال جاری رکھیں تو…مظلوم اور
مسافر مجاہدین پر مزید تشدد کے ہم ذمہ دار بنتے ہیں… اس وقت جو حالت تھی،کیفیت
تھی،درد تھا اور بے بسی تھی اسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے… بیٹھے بیٹھے دو رکعت
نماز ادا کی اور دعاء میں آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی…ذہن اسی طرف جا رہا تھا کہ
ساتھیوں کو تشدد سے بچایا جائے اور بھوک ہڑتال ختم کر دی جائے…دعاء کے دوران بوٹوں
کی زور دار آواز آئی…ایک سپاہی تیزی سے میرے سیل کے سامنے آیا بلند آواز سے
مجھے برا بھلا کہا…کھانا کھانے کا اصرار کیا اور اسی درمیان چپکے سے منہ قریب کر
کے کہا…آپ کا مسئلہ حل ہونے والا ہے …چند گھنٹے ہیں، مضبوط رہنا…یہ آہستہ سے یہ
کہہ کر پھر بلند آواز سے بھوک ہڑتال توڑنے کا کہتا ہوا تیزی سے واپس چلا گیا…اور
یوں …غریب ،مسافر،بے بس،نڈھال اور کمزور مسلمانوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی نصرت آ
گئی…اس نے چند گھنٹوں والی جو بات کہی تھی وہ فوراً سب ساتھیوں کو بتا دی گئی…اور
سب کے جذبے دوبارہ جوان ہو گئے…
آخری
گھنٹے
غالباً
اوپر کے حکام نے نیچے والوں کو اب یہ آخری تین چار گھنٹے دئیے تھے کہ ان میں …جو
کر سکتے ہو وہ کر کے بھوک ہڑتال ختم کراؤ…ورنہ ہمیں مجبورا ًان کو جیل میں منتقل
کرنا پڑے گا… بس پھر کیا تھا…
عقوبت
خانے کے حکام نے ہم پردباؤ کی حد کردی… ایسا سخت دباؤ کہ اگر ہمیں پہلے سے اطلاع
نہ مل چکی ہوتی تو یقینا ہم ٹوٹ جاتے… آخر گوشت پوست کے بنے کمزور انسان تھے… ان
آخری چار گھنٹوں میں ایسا خوفناک اور دہشت ناک ماحول بنایا گیا کہ…کبھی کبھار دل
مکمل طور پر بیٹھ جاتا اور یہ خیال آتا کہ شاید وہ اطلاع بھی جھوٹی ہے…اور ہمیں
پھنسانے کے لئے خود ہی غلط اطلاع دی گئی ہے…مگر اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی …اور ہم
ان کی سختی کے مقابلے میں پہلے سے بھی زیادہ سختی،مضبوطی اور عزیمت دکھانے لگے…
بالآخرچار گھنٹے بعد یہ خونی تماشا ختم ہوا…سرخ آنکھوں والے چہرے مسکراتے ہوئے
آئے… کچھ نئے لوگ بھی ساتھ تھے…ہمیں مبارک باد دی کہ ابھی گاڑیاں پہنچ رہی
ہیں…آپ کوٹ بھلوال جا رہے ہیں …چلو ہمارا آخری کھانا کھا لو…ہم نے کہا: ہم کوٹ
بھلوال جا کر کھا لیں گے …تھوڑی دیر میں گاڑیاں آ گئیں اور ہم تنگ جیل سے ایک
کھلی جیل کی طرف روانہ ہو گئے…
موجودہ
حالات
الحمد
للہ کفر کے اتحادی لشکر عبرتناک شکست کھا چکے ہیں…زمانے کا مؤرخ حیران ہے کہ اس
واقعہ کو کیسے لکھے کہ…چالیس ملکوں کے مشترکہ اتحادی لشکر نے افغانستان میں اکیلے
طالبان سے شکست کھائی ہے…ایٹمی طاقتوں کا غرور ٹوٹ چکا ہے…اور وہ جس جہاد کو مٹانے
نکلے تھے وہ جہاد خود ان کے ملکوں میں داخل ہو چکا ہے…اور مجاہدین کے بڑے بڑے نئے
لشکر وجود میں آ چکے ہیں…افغانستان سے غیر ملکی افواج تیزی سے نکل رہی ہیں…مگر وہ
جاتے جاتے آخری لمحات میں ایسا خوف، ایسا ظلم اور ایسی دہشت مچانا چاہتے ہیں
کہ…شاید اس کی وجہ سے وہ مجاہدین سے اپنی شکست کا بدلہ لے سکیں…اور اپنی شرمندگی
کو کچھ کم کر سکیں…ساتھ ہی وہ ’’ پاکستان‘‘ کو اپنی شکست کا بڑا ذمہ دار سمجھتے
ہیں …اور چاہتے ہیں کہ … جاتے جاتے اس ملک کو کھنڈر بنا جائیں…
بس اب
آخری گھنٹوں کا خونی کھیل شروع ہے…پاکستان میں ہر طرف مارو،پکڑو، لٹکاؤ کی
آوازیں ہیں…اور یہ ملک ایک نئی خانہ جنگی کی طرف جا رہا ہے…اور مجاہدین پر ہر طرف
سے دباؤ ہے،تشدد ہے اور سخت پابندیاں ہیں…ہاں! شکست کھانے والا کفر ہمیشہ آخری
گھنٹوں میں … یہی حرکت کرتا ہے…مگر اے مجاہدین اسلام!
یہ تو
سوچو کہ…گذشتہ چودہ سال تم کس کی نصرت سے ’’فتح یاب‘‘ ہوئے؟…ہاں! صرف ایک اللہ کی
نصرت سے…صرف اللہ تعالیٰ کی نصرت سے…
تو پھر
ان آخری گھنٹوں میں بھی…اللہ تعالیٰ موجود ہے…وہ ہمیشہ ہے اور ہمیشہ رہے گا…
حوصلہ رکھو، ایک دوسرے کو حوصلہ دلاؤ…تشدد سے نہ گھبراؤ…پابندیوں اور بیانات سے
نہ ڈرو… اللہ تعالیٰ کل بھی موجود تھا، آج بھی موجود ہے… اللہ تعالیٰ کل بھی ناصر
تھا…آج بھی ناصر ہے… اسی کی طرف رجوع کرو…اور اسی کو پکارو…
اللّٰہ،
اللّٰہ، اللّٰہ، اللّٰہ، اللّٰہ
لا الہ
الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل
علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ اپنے فضل سے ہم سب کو ایمان اور راحت والی موت عطاء فرمائے…
ہمارے
زمانے کے ایک بڑے عالم… بزرگ اور اللہ والے…شیخ الحدیث حضرت اقدس مولانا عبد
المجید لدھیانوی صاحب گذشتہ کل انتقال فرما گئے…
اِنَّا
لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ…اَللّٰہُمَّ لَا تَحْرِمْنَا اَجْرَہُ وَلَا
تَفْتِنَّا بَعْدَہْ
آج ’’
کہروڑپکا ‘‘ میں اُن کا جنازہ بڑی شان سے اُٹھا…اہلِ اسلام کا ایسا ہجوم تھا کہ
شمار کرنا مشکل…علماء، مجاہدین، طلبہ اور ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد،دور
اور قریب ہر جگہ سے کھنچے چلے آ رہے تھے…واقعی تاریخی جنازہ تھا بلکہ تاریخ کو
زندہ کرنے والا جنازہ تھا…
آپ
تاریخ پر ایک نظر ڈالیں…اہل حق کے جنازے عجیب شان سے اُٹھے…حضرت امام احمد بن
حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے تو اپنی زندگی میں فرما دیا تھا کہ
…اے حکمرانو! اے دین میں تبدیلیاں کرنے والو!
’’
بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمُ الْجَنَائِز‘‘
ہمارااور
تمہارا فیصلہ ہمارے جنازے کریں گے…اللہ والوں کے جنازوں میں مخلوق ہر طرف سے
اُمڈتی ہے…اللہ تعالیٰ کے ملائکہ بھی ان کے جنازوں میں شریک ہوتے ہیں…اور حضرات
شہداء کرام کی ارواح بھی بعض خاص جنازوں میں حاضر ہوتی ہیں… گویا کہ دین کے ان
خادموں کے جنازے ’’یوم مشہود ‘‘ ہوتے ہیں…وہاں حاضری ہی حاضری ہوتی ہے… فرشتے،
اولیاء، خواص،عوام اور معلوم نہیں کون کون سی مخلوقات حاضرہوتی ہیں…اور ان جنازوں
پر اللہ تعالیٰ کی رحمت برستی ہے… حکمران بے چارے حیرانی، حسرت،حسد اور تعجب کے
ساتھ ان جنازوں کو دیکھتے ہیں…کیونکہ ان کو تو اپنے جلسوں کے لئے سرکاری ملازمین
زبردستی لانے پڑتے ہیں…جبکہ ان کے جنازوں میں بے وضو افراد زیادہ ہوتے ہیں…جو
دعائے مغفرت کے لئے نہیں، اپنی ڈیوٹی پوری کرنے کے لئے جنازے میں شریک ہوتے ہیں…
حضرت
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتے
ہوئے…دنیا کے حکمرانوں اور اہل بدعت کو یہ چیلنج کیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فقیر
بندے کے قول کی لاج رکھی اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا ایسا
شان والا جنازہ اٹھا کہ… صرف اس جنازے کے مناظر دیکھ کر اُسی دن بیس ہزار یہودی
اور عیسائی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے…وقت کے حاکم نے جنازہ گاہ کی زمین ناپ کر
اندازہ لگایا تو…جنازہ کے شرکاء کی تعداد سترہ لاکھ سے زائد بن رہی تھی…اس زمانے
نہ جہاز تھے نہ گاڑیاں…نہ موٹروے تھے اور نہ اطلاع دینے کے برقی آلات…مگر پھر بھی
اتنے مسلمان جنازہ میں حاضر ہوئے…اور پھر جو لوگ نماز جنازہ سے رہ گئے انہوں نے
تدفین کے وقت قبرستان میں نماز جنازہ ادا کی…مگر پھر بھی لوگوں کا سلسلہ جاری رہا
اور ایک بڑی تعداد نے ان کی قبر پر نماز جنازہ ادا کی…ایک محدث لکھتے ہیں کہ مجھے
شہر میں داخل ہونے کے بعد حضرت امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی قبر تک
پہنچنے میں پورے سات دن لگ گئے…یعنی اتنا ہجوم تھا کہ تھوڑا سا فاصلہ بھی سات دنوں
میں طے ہوا…اور بعد میں مسلمانوں کا جم غفیر ان کی قبر پر حاضری دیتا رہا…حضرت
امام بخاریؒ کا انتقال دربدری کی حالت میں ہوا لیکن نماز جنازہ میں مسلمانوں کا
ایسا ہجوم تھا کہ اہل اقتدار حیران رہ گئے…موت ایک لازمی حقیقت ہے
کل نفس
ذائقۃ الموت
اور اس
دنیا میں رہنا کوئی اعزاز و اکرام کی بات نہیں…اگر موت ،عذاب ہوتی تو حضرات انبیاء
علیہم السلام پر نہ آتی…اور دنیا میں رہنا ہی اِعزاز ہوتا تو تمام
انبیاء کرام علیہم السلام اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین آج بھی زمین کی پشت پر موجود ہوتے…دنیا تو اللہ تعالیٰ کے ہاں
مچھر کے پر سے بھی زیادہ حقیر ہے… جبکہ موت ایک دروازہ ہے…ہر انسان نے اس دروازے
سے گذرنا ہے…اور اس دروازے کے بعد یا تو راحت ہی راحت ہے یا عذاب ہی عذاب…
حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بہت ہی پُر تاثیر اور جامع دعاء
سکھلا دی ہے:
اَللّٰہُمَّ
اَصْلِحْ لِیْ دِیْنِیَ الَّذِی ہُوَ عِصْمَۃُ اَمْرِیْ وَاَصْلِحْ لِیْ دُنْیَایَ
الَّتِیْ فِیْھَا مَعَاشِی وَاَصْلِحْ لِیْ آخِرَتِیَ الَّتِیْ فِیْھَا
مَعَادِی،وَاجْعَلِ الْحَیَاۃَ زِیَادَۃً لِّیْ فِیْ کُلِّ خَیْرٍ وَاجْعَلِ
الْمَوْتَ رَاحَۃً لِّیْ مِنْ کُلِّ شَرٍّ
اس دعاء
میں پانچ چیزوں کا سوال ہے…
١ یا
اللہ! میرا دین ٹھیک فرما دیجئے…دین ہی سب سے بڑی حفاظت ہے…
٢ یا
اللہ! میری دنیا ٹھیک فرما دیجئے … اس دنیا میں میرا معاش اور رہنا سہنا ہے…
٣ یا
اللہ! میری آخرت ٹھیک فرما دیجئے …اُسی آخرت کی طرف میں نے جانا ہے…دین کی
اصلاح، دنیا کی اصلاح، آخرت کی اصلاح
٤ یا
اللہ! میرے لئے زندگی کو ہر خیر میں اضافے کا ذریعہ فرما دیجئے…یعنی میں جتنے دن
زندہ رہوں، زیادہ سے زیادہ خیریں اور نیکیاں اپنے نامہ اعمال میں بڑھاتا جاؤں…
٥ یا
اللہ! موت کو میرے لئے ہر شر سے راحت کا ذریعہ بنا دیجئے…یعنی موت کے دروازے میں
داخل ہوتے ہی میرے لئے راحت ہی راحت ہو جائے…نہ غم، نہ پریشانی…نہ تنگی، نہ
عذاب…نہ افسوس، نہ حسرت…
یہ دعاء
حدیث صحیح میں آئی ہے… اللہ کرے ہر مسلمان کو یہ یاد ہو اور وہ اسے سجدے میں بھی
مانگے اور رکوع میں بھی …اور اہم اوقات میں بھی اور قبولیت کے لمحات میں بھی…اس
دعاء کے آخری الفاظ میں ’’حسن خاتمہ‘‘ کا سوال ہے…
وَاجْعَلِ
الْمَوْتَ رَاحَۃً لِّیْ مِنْ کُلِّ شَرٍّ
ان الفاظ
سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ موت ’’عذاب ‘‘ نہیں ہے…بلکہ اہل ایمان کے لئے یہ راحت کا
ذریعہ ہے…آرام،سکون،چین،عافیت اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے میزبانی …اور اگر یہ موت
شہادت والی ہو تو پھر اس میں ایک طاقتور ، زندگی بھی ہے…ایسی زندگی جو دنیا کی
زندگی سے زیادہ مضبوط، زیادہ پُرتعیش اور زیادہ لذیذ ہے… جبکہ حضرات انبیاء علیہم
السلام کو موت کے بعد جو زندگی عطاء فرمائی جاتی ہے وہ شہداء کی زندگی
سے بھی زیادہ طاقتور اور وسیع ہوتی ہے…
اسلام نے
ہم مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ … جب کسی مسلمان کا انتقال ہو جائے تو دوسرے مسلمان
اس کی نماز جنازہ ادا کریں…یہ ایک مسلمان بھائی کا اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں پر
حق ہے…اور نماز جنازہ ادا کرنے کی بہت فضیلت ہے…اگر کوئی صرف نماز جنازہ ادا کرے
تو اس کے لئے ایک ’’قیراط‘‘ اجر کا وعدہ ہے…اور جو تدفین تک شریک رہے اس کے لئے دو
’’قیراط‘‘ کا اعلان ہے…اور قیراط کے بارے میں فرمایا کہ یہ ایک بڑے پہاڑ سے بھی
زیادہ بڑا اجر کا ذخیرہ ہوتا ہے…اُحد پہاڑ سے بھی بڑا…شاید میدانی اور شہری علاقوں
کے رہنے والے افراد نہ جانتے ہوں کہ ایک پہاڑ اپنی لمبائی اور چوڑائی میں میلوں تک
پھیلا ہوا ہوتا ہے…اور قیراط سے مراد عام پہاڑ نہیں بلکہ بڑا پہاڑ ہے…اسی لئے
روایت میں آیا ہے کہ…ایک صحابی نے جب پہلی بار یہ حدیث دوسرے صحابی سے سنی تو
افسوس کے ساتھ زمین پر ہاتھ مارتے تھے اور فرماتے تھے کہ ہائے! ہم نے اب تک کتنے
قیراط کا نقصان کر ڈالا…یعنی اگر یہ حدیث پہلے سن لیتے تو اور زیادہ محنت اور
اہتمام کے ساتھ جنازوں میں شرکت کرتے…
پھر بعض
جنازے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ … ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت اور مغفرت چھم چھم
برس رہی ہوتی ہے…جب اس جنازے کے شرکاء نماز جنازہ میں دعاء کرتے ہیں …اَللّٰہُمَّ
اغْفِرْ لِحَیِّنَا وَمَیِّتِنَا…یا اللہ ! ہمارے زندوں کی بھی مغفرت فرما اور
ہمارے وفات پانے والوں کی بھی مغفرت فرما…
تو اس
دعاء کے ساتھ ہی…سب سے پہلے خود اُن کی مغفرت کر دی جاتی ہے…
چنانچہ
یہ کہنا درست ہے کہ بعض جنازے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان میں اخلاص کے ساتھ شرکت
کرنے والے تمام افراد کی مغفرت فرما دی جاتی ہے…
بے شک
اللہ تعالیٰ کی رحمت وسیع ہے…اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا بہت اکرام فرمانے والے
ہیں…پاکستان میں اس وقت اہل حق پر آزمائش کا دور چل رہا ہے…صرف اہل حق کو ہی ہدف
بنا کر ایک اندھا آپریشن جاری ہے…اور اب تک تیس ہزار سے زائد افرادگرفتار کئے جا
چکے ہیں…کئی بے گناہ افراد کو گرفتاری کے بعد سخت تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا
ہے…اس وقت ہر مسجد اور ہر مدرسہ خوفناک نگرانی کی زد میں ہے…ایسے حالات میں امت
مسلمہ کے ایک غمخوار قائد کا اٹھ جانا مزید بڑا سانحہ ہے…لیکن ان کے وصال پر
مسلمانوں نے جس پُر وقار اور عظیم الشان ’’اجتماعیت ‘‘ کا ثبوت دیا ہے…اور لاکھوں
افراد اس مردِ درویش کے جنازے میں شریک ہوئے ہیں…اس سے حکمرانوں کو یہ سبق ضرور مل
چکا ہو گا کہ…علماء اور مجاہدین اس ملک کی ایک حقیقت ہیں…اور انہیں کمزور یا قلیل
سمجھ کر ختم کرنے کی کوشش…مزید بدامنی کا ذریعہ بنے گی…کیونکہ یہ لوگ ایک قلبی
نظریاتی رشتے میں بندھے ہوئے ہیں…اور یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے کمزور نہیں
ہیں…حضرت اقدس مولانا عبد المجید صاحب لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ…ہمارے اکابر میں سے
تھے… آپ ایک مایہ ناز محدث، محقق اور زمانہ ساز مدرس تھے … آپ جہاد کے پُرجوش
داعی اور تحفظ ختم نبوت کے جری سالار تھے…آپ حضرت سیّد احمد شہید رحمۃ اللہ
علیہ کی تحریک کو پرکھنے والے اُن گنے چنے اہل تحقیق میں سے تھے
کہ…جنہوں نے اس تحریک کو مکمل گہرائی کے ساتھ سمجھا…اور اس تاریخی جہادی سفر کے
چپے چپے کی داستان کو یاد کیا…حضرت لدھیانویؒ جب کبھی حضرت سیّد احمد شہیدؒ کے
مزار پر حاضر ہوتے تو جہاد بالاکوٹ کا ایسا مدلل اور مفصل نقشہ بیان فرماتے کہ
سننے والے ششدر رہ جاتے … انڈیا سے رہائی کے بعد جب پاکستان آنا ہوا تو حضرت ؒ نے
بندہ کے ساتھ کئی بار بہت مثالی شفقت کا معاملہ فرمایا…وہ سارے مناظر آج بھی یاد
آتے ہیں…اللہ تعالیٰ حضرت ؒ کو مغفرت ،رحمت اور اکرام کے اعلیٰ مراتب عطاء
فرمائے…آمین
لا الہ
الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل
علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ توفیق عطاء فرمائے…آج ایک بہت ہی اہم ’’نکتہ‘‘ عرض کرنا ہے…ایک بہت مفید
قرآنی نکتہ
رَبِّ
اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ وَیَسِّرْ لِیْ اَمْرِیْ
نکتہ کی
اہمیت
اس
قرآنی نکتہ کی اہمیت یہ ہے کہ جس نے اسے سمجھا،دل میں بٹھایا اوراس پر عمل کیا وہ
ہمیشہ سیدھے راستہ پر رہا…اور فتنوں سے بچا رہا … اور جس نے اس نکتے کو نظر انداز
کیا وہ طرح طرح کے فتنوں میں پھنس گیا،ناکام ہو گیا، گمراہی میں جا گرا…اور گمراہی
اور ناکامی کا سوداگر بن گیا…
صرف ایک
آیت نہیں
قرآن
مجید کا یہ نکتہ صرف کسی ایک آیت میں بیان نہیں ہوا…بلکہ یہ نکتہ بہت سی آیات
میں نہایت تفصیل کے ساتھ سمجھا کر بیان فرمایا گیا ہے …قرآن مجید کی بعض پوری
پوری سورتوں کا مرکزی موضوع یہی نکتہ ہے…پس خوش نصیب ہیں وہ مسلمان جو اسے سمجھ
لیتے ہیں،اپنا لیتے ہیں …اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو ان میں شامل
فرمائے…(آمین)
نہ
دیکھو! ہرگز نہ دیکھو
قرآن
مجید کا یہ نکتہ مختصر الفاظ میں یہ ہے کہ … ’’نہ دیکھو! ہرگز نہ دیکھو‘‘…یعنی
پسند کی نگاہ سے نہ دیکھو! توجہ نہ کرو…متاثر ہونے والے انداز سے نہ دیکھو…اگر
دیکھو گے تو گر جاؤ گے،تباہ ہو جاؤ گے…کہیں کے نہیں رہو گے…
کیا نہ
دیکھیں؟
قرآن
مجید نے سمجھایا کہ…کافروں کی طاقت کو نہ دیکھو…اُن کے مال و دولت کو نہ دیکھو! ان
کی چمکتی دمکتی زندگیوں کو نہ دیکھو!…ان کی سلطنت کو نہ دیکھو!…ان کے اُڑنے پھرنے
کو نہ دیکھو!…ان کی عسکری قوت کو نہ دیکھو! … منافقین کے مال اور اولاد کی کثرت کو
نہ دیکھو! … یہ نہ دیکھنے والے جتنے جملے میں نے لکھے ہیں…یہ لفاظی نہیں …ہر ایک
جملے کے پیچھے قرآن مجید کی کوئی آیت یا کئی آیات اور قرآن مجید کے سچے قصے
موجود ہیں…آپ میں سے جنہوں نے قرآن مجید کا ترجمہ پڑھ رکھا ہے وہ اچھی طرح سمجھ
گئے ہوں گے…جنہوں نے ترجمہ نہیں پڑھا ان کے لئے ان آیات کی طرف اشارہ عرض کر دیا
جائے گا…
چند
اشارے
حضرت
سیّدنا نوح علیہ السلام کے زمانہ سے کفر و شرک شروع ہوا…اور
ساتھ یہ آزمائش بھی کہ کافروں اور مشرکوں کو اس فانی زندگی میں قوت،
شوکت،مال،اولاد ،ترقی اور اقتدار دیا جاتا ہے … ان کافروں ،مشرکوں اور منافقوں کے
لئے آخرت میں کچھ نہیں ہے…ان کے لئے آخرت میں عذاب ہی عذاب ہے…یہ وہ درخت اور
لکڑیاں ہیں جن کو جلانے کیلئے پیدا کیا گیا ہے…البتہ دنیا میں ایمان والوں کی
آزمائش کے لئے…اور بعض دیگر وجوہات سے اللہ تعالیٰ کافروں،مشرکوں اور منافقین
کو…ظاہری قوت ،طاقت اور مال و دولت عطاء فرماتے ہیں…مگر یہ سب کچھ وقتی اور فانی
ہوتا ہے…کافر ،مشرک اور منافق ہر زمانے میں یہی سمجھتے ہیں کہ …ان کا اقتدار ،ان
کا مال، ان کی ترقی اور ان کی طاقت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہے … مگر کچھ ہی عرصہ بعد
میدان صاف ہو جاتا ہے اور اس میں دھول اُڑنے لگتی ہے…
حضرت
نوح علیہ السلام کے زمانے سے لے کر آج کے دن تک کی تاریخ
پڑھ لیں…ہمیشہ یہی ہوا اور آئندہ بھی ہمیشہ یہی ہوتا رہے گا… قرآن مجید نے جالوت
کا قصہ اٹھایا…عسکری طاقت کا وہ امریکہ تھا…مسلمانوں میں سے جس نے اس کی طاقت پر
نظر ڈالی وہ سہم کر رہ گیا کہ اس سے مقابلہ ناممکن ہے…مگر جنہوں نے حکم مانا کہ
…نہ دیکھو! انہوں نے زمین کی بجائے آسمان کی طرف دیکھا اور تھوڑی دیر میں جالوت
کو شکست دے ڈالی…قرآن مجید نے قارون کا قصہ سنایا …اس کی معاشی اور اقتصادی طاقت
ہر کسی کو فتنے میں ڈالنے کے لئے کافی تھی… جنہوں نے اس طاقت کی طرف دیکھا
تو…قارون جیسا بننے کی فکر اور تمنا میں ڈوبنے لگے مگر جنہوں نے حکم مانا کہ … نہ
دیکھو! …انہوں نے قارون کی طرف تھوک دیا کہ ایسا محروم شخص جس کے پاس آخرت کی اصل
زندگی کے لئے ایک نیکی بھی نہیں…ہم اس جیسا بننے کی تمنا اور فکر کیوں کریں؟…یہ تو
ایک ناکام انسان ہے…بظاہر ان کا یہ موقف ایسا تھا کہ … ان کا مذاق اڑایا جا
سکے،مگر چند دن بعد جب قارون اپنی معاشی طاقت سمیت زمین میں دھنس رہا تھا تو
…قارون جیسا بننے کی خواہش رکھنے والے تھر تھر کانپ رہے تھے…اور قارون کی دولت کی
طرف ’’دیکھنے‘‘ کے اپنے جرم پر شرمندہ اور خوفزدہ تھے …قرآن مجید نے فرعون کا
واقعہ سمجھایا…اس کی سلطنت ناقابل شکست تھی…اس سے مقابلے اور آزادی کی بات کرنا
ایک طرح کی ظاہری بیوقوفی سمجھی جاتی تھی…اس کے اقتدار کے خاتمے کی دور دور تک
کوئی اُمید نہیں تھی…مگر حکم تھا کہ یہ سب کچھ نہ دیکھو!…چند افراد نے حکم مانا
اور طاقت کو دیکھنے سے انکار کر دیا اور مقابلے پر اتر آئے…ان میں سے چند ایک کو
شہادت ملی اور باقی کو فتح…اور پوری قوم آزاد ہو گئی…اور ایسی سلطنت جس کے خاتمے
کا اگلی کئی صدیوں تک وہم بھی نہیں تھا … مکمل طور پر مٹ گئی…اس طرح کی قرآنی مثالیں
اور بھی ہیں…مگر ہم تیزی سے آگے بڑھ کر اس دور میں آتے ہیں…جب ساری دنیا پر کفر
و شرک کا راج تھا…اکیلے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ
کی پہاڑی پر کھڑے ہوئے اور ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کا اعلان فرما دیا…
اس مبارک
کلمہ کا آغاز ہی یہ تھا کہ…’’لا الہ‘‘ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی طاقت
،قوت سلطنت اور ظاہری خدائی کو نہ دیکھو…اگر دیکھو گے تو اس کلمہ کو اور کامیابی
کو نہیں پا سکو گے…چنانچہ جو مسلمان ہوتا گیا وہ ’’لا الہ‘‘ کے حکم کو اپناتا گیا
کہ اب کسی کو نہیں دیکھنا…حالانکہ سب کچھ آنکھوں کے سامنے تھا …ابو جہل کی
جاہلانہ عسکری طاقت…قریش کی خوفناک قبائلی طاقت…بنو امیہ کی سحر انگیز معاشی
طاقت…اور چاروں طرف پھیلے ہوئے کفر کی سمندری قوت…اگر حضرات صحابہ کرام ان طاقتوں
اور قوتوں کو دیکھتے…ان سے متاثر ہوتے …ان سے اپنا موازنہ کرنے بیٹھ جاتے تو ایک
قدم بھی آگے نہ بڑھ سکتے…مگر وہ ’’نہ دیکھو،نہ دیکھو ،ہرگز نہ دیکھو‘‘ کی ترتیب
پر مضبوط رہے … اور آگے بڑھتے گئے…اور یہ تمام طاقتیں موم کی طرح پگھلتی
گئیں…مکڑی کے جالے کی طرح ٹوٹتی گئیں…صحابہ کرام آگے بڑھتے گئے…اور قرآن انہیں
بار بار یہی نکتہ یاد دلاتا رہا…اپنی نظریں ان کافروں کے مال و اسباب کی طرف نہ
پھیرو…تمہیں ان کا زمین میں اڑنا پھرنا دھوکے میں نہ ڈالے…تمہیں ان کے مال و اولاد
کی کثرت متاثر نہ کرے…تمہیں ان کی عسکری اور اقتصادی قوت کمزوری میں نہ ڈالے…یہ سب
کچھ وقتی تماشا ہے،عارضی دھوکہ ہے اور آزمائش کے پھندے ہیں…ایک آیت، دو آیت،تین
آیت…قرآن مجید بار بار یہ نکتہ سمجھاتا رہا…اور صحابہ کرام اسے دل میں اُتارتے
چلے… پھر منافقین کا گروہ وجود میں آ گیا…
ہٹے
کٹے،تروتازہ،چمکیلے، بظاہر عقلمند، چرب لسان…دانشوری کے دعویدار اور ہر طرح کے
مفادات کو جمع کرنے والے…فرمایا ان کو بھی نہ دیکھو! یعنی ان کی اس ظاہری ٹیپ ٹاپ
سے متاثر نہ ہونا…پوری ’’سورۃ المنافقون ‘‘ نازل ہو گئی اور ’’نہ دیکھو! ہرگز نہ
دیکھو!‘‘ کا نکتہ ایمان والوں کے دلوں میں بٹھا گئی…پس پھر کیا تھا نہ روم ان کے
سامنے ٹھہر سکا نہ فارس…نہ ترک ان کے سامنے جم سکے نہ بربر…نہ عرب ان کا مقابلہ کر
سکے اور نہ عجم…اسلام بڑھتا گیا اور کفر سمٹتا گیا…
دیکھنے
والے مارے گئے
’’نہ
دیکھو، ہرگز نہ دیکھو‘‘ کے حکم پر جنہوں نے عمل نہیں کیا…وہ ہمیشہ مارے گئے اور
ناکام ہو گئے…یہ وہ لوگ ہیں جو کلمہ تو کسی وجہ سے پڑھ لیتے ہیں…مگر اس کے پہلے
حکم ’’لا الہ‘‘پر عمل نہیں کرتے…یہ ہمیشہ کافروں کی طاقت، قوت، مالداری اور ترقی
کو دیکھتے ہیں…اور متاثر ہوتے ہیں…اور ہر زمانے میں یہی سمجھتے ہیں کہ کافروں کی
اس طاقت کا مقابلہ مسلمانوں کے بس میں نہیں ہے… یہ لوگ کافروں کے مال اور ترقی کو
دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ اصل کامیابی یہی ہے …ہم تو پیچھے رہ گئے…یہ
لوگ کافروں کی عسکری قوت کو ہر وقت ناپتے تولتے رہتے ہیں … اور اس سے متاثر ہو کر
یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ…ہمیں ان کی غلامی میں آ جانا چاہیے…کیونکہ یہ ناقابل شکست
ہیں…یہ آج کی بات نہیں…رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک
زمانہ سے یہ ’’گندی آنکھوں ‘‘ والا طبقہ موجود ہے…غزوہ خندق کے موقع پر جب رسول
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پتھر کو توڑتے وقت اس سے
نکلتے شعلوں کو دیکھ کر…مسلمانوں کو روم و فارس کی فتح کی خوشخبری عطاء فرمائی تو
یہ ظالم…منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنستے تھے کہ…پیٹ پر بھوک سے پتھر بندھے ہیں اور باتیں
ہیں روم و فارس فتح کرنے کی… ایک ظالم جو بڑا دانشور کہلاتا تھا یہاں تک بک گیا
کہ…ہم آج آسانی سے بیت الخلاء تو جا نہیں سکتے…چاروں طرف کفار کا محاصرہ اور
تیروں کی بوچھاڑ ہے…اور ہمیں دھوکا دیا جا رہا ہے روم و فارس فتح کرنے کا…اُحد کے
موقع پر بھی اس طبقے کے یہی تبصرے تھے…اور حنین کے موقع پر جب مسلمانوں کے قدم
اُکھڑے تو…ایسے ایسے ظالمانہ تبصرے ہوئے کہ انہیں لکھنا بھی محال ہے… پھر ہر موقع
پر یہی ہوتا رہا…زیادہ دور نہ جائیں ابھی قریب ہی کا واقعہ ہے کہ…جب سوویت یونین
نے ہر طرف چڑھائی شروع کی تو …مسلمانوں میں موجود یہ طبقہ ان کی طاقت اور پیش قدمی
دیکھ کر…فوراً ان کے سامنے سجدے میں گر گیا…اور افسوس یہ کہ صرف خود نہیں گرا …
بلکہ مسلمانوں پر بھی ان کا بھرپور اور جارحانہ دباؤ تھا کہ…اگر بچنا ہے تو سوویت
یونین کی پناہ میں آ جاؤ …آپ اُس زمانے کے اخبارات اور کالم اٹھا کر دیکھیں…ایک
ہی شور تھا کہ اب سوویت یونین ہی سب کچھ ہے…اسی کو مان لو اسی کی غلامی میں آ
جاؤ…اور اب صدیوں تک سوویت یونین کا قدم کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا…مگر ہوا کیا؟…وہ
لوگ جو ’’نہ دیکھو،ہرگز نہ دیکھو!‘‘ کے حکم پر تھے وہ سوویت یونین سے ٹکرا گئے…اور
آج سوویت یونین نام کا کوئی ملک یا جانور دنیا میں موجود نہیں ہے…تب ان دانشوروں
نے فوراً قبلہ بدل لیا اور اب انہوں نے ایک اور ’’الٰہ‘‘ کی پوجا شروع کر دی…اور
مسلمانوں کو بھی چیخ چیخ کر اس کے سامنے جھکنے کا کہنے لگے کہ…امریکہ اور یورپ
ناقابل شکست ہیں…ان کو مان لو…ان کی ہر بات مان لو … ان کے سامنے گر جاؤ…کیونکہ
ان کا قدم اب اگلی کئی صدیوں تک پیچھے ہٹنے والا نہیں ہے…نعوذ باللہ ، نعوذ باللہ
قرآنی
نکتے کا اعجاز
بات
دراصل یہ ہے کہ انسانی حواس بہت کمزور ہیں…مثلاً آپ آج انٹرنیٹ، اخبارات اور چند
رپورٹیں سامنے رکھ کر امریکہ،یورپ، اسرائیل یا انڈیا کی طاقت کو دیکھنے لگیں…تھوڑی
دیر میں آپ کا دل بیٹھ جائے گا…اور آپ کا نظریہ بن جائے گا کہ ان ملکوں نے زمین
کے ہر چپے … ہوا کے ہر جھونکے…سمندر کے ہر قطرے،فضا کے ہر گوشے پر مکمل قبضہ کر
لیا ہے…یہ جس کو چاہیں …ایک بٹن دبا کر مار سکتے ہیں…دنیا میں کوئی فون کال ان سے
چھپی نہیں رہ سکتی…زمین کا کوئی گھر،کوئی کونہ گوگل ارتھ،ناسا رینج اور میزائل مار
سے محفوظ نہیں ہے…یہ ممالک چاہیں تو زمین کو پورا الٹ دیں…موسموں کے رخ بدل دیں …
سمندروں کو خشکی پر چڑھا دیں…اور منٹوں میں خطہ زمین کو تباہ کر دیں…
آپ مزید
مطالعہ کرتے جائیں تو آپ کو ان کی طاقت کا ہوشربا طلسم…نا اُمیدی کے اندھیروں میں
پھینکتا جائے گا…مگر آپ تھوڑا سا سر اٹھا کر دیکھیں…عراق میں ایک نوجوان مجاہد
ایک امریکی کے سر پر خنجر لئے کھڑا ہے…چوبیس گھنٹے کا وقت دیتا ہے…اور پھر چوبیس
گھنٹے بعد امریکی کو قتل کر دیتا ہے…آخر ناسا، پینٹاگون، گوگل ارتھ اور میزائل
کہاں چلے گئے…ریڈیائی لہروں کا نظام کہاں مر گیا؟… دس سال تک امریکہ کے سب سے
مطلوب مجاہد شیخ اُسامہ … آرام سے زندگی کے دن پورے کرتے رہے … اور بالٓاخر اپنوں
کی غداری سے ان کا سراغ لگا نہ کہ …عسکری اور سائنسی طاقت سے…افغانستان کے محاذ پر
امریکہ کو شکست ہوئی…اسرائیل نے اسی رمضان حماس سے شکست کھائی…عراق و شام میں
مجاہدین کے بڑے بڑے لشکر وجود میں آئے…اگر آپ صرف کفر کی طاقت دیکھیں تو یہ سب
کچھ ممکن نظر نہیں آتا…مگر زمین پر دیکھیں تو یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور ہر دن ہو
رہا ہے…معلوم ہوا کہ جنہوں نے حکم مانا کہ…’’نہ دیکھو! ہرگز نہ دیکھو!‘‘ …اللہ
تعالیٰ نے ان کو قوت بھی دی اور کامیابی بھی…فتح بھی عطاء فرمائی اور عزت بھی…مگر
جنہوں نے حکم نہیں مانا اور اپنی آنکھوں کو گندا کر لیا…کافروں کی طاقت و قوت کو
دیکھ لیا وہ ذلت ،غلامی اور ناکامی میں جا گرے… یہ جاوید غامدی کا فتنہ کیا ہے؟…یہ
وحید الدین کا فتنہ کیا ہے؟…یہ وہ لوگ ہیں جو کافروں کی طاقت و قوت اور مال و دولت
کو دیکھتے ہیں، ان سے متاثر ہوتے ہیں…ان کو کامیاب اور ناقابل شکست سمجھتے ہیں
…اور ان کی غلامی میں اپنی کامیابی دیکھتے ہیں … یہ وہ لوگ ہیں جو کبھی روم کو اسی
طرح سمجھتے تھے… فارس کو اسی طرح سمجھتے تھے…تاتاریوں کو اسی طرح سمجھتے
تھے…فاطمیوں کو اسی طرح سمجھتے تھے …خوارج کو بھی اسی طرح سمجھتے تھے…انگریزوں کو
اسی طرح سمجھتے تھے…سکھوں کو اسی طرح سمجھتے تھے…منافقین کا یہ ایڈیشن شیطان کی
طرف سے ہر چند سال بعد شائع ہوتا ہے…اور آج کل جو ایڈیشن چل رہا ہے اس کا نام
غامدی،وحید الدین وغیرہ ہے…آج اگر امریکہ ختم ہو جائے تو یہ کسی اور کافر طاقت کو
دیکھ کر اس کی غلامی کا درس دینا شروع کر دیں گے…ان لوگوں کو صرف اللہ کی طاقت اور
اسلام کی قوت نظر نہیں آتی…باقی سب کچھ نظر آتا ہے…جی ہاں! وہ سب کچھ …جس کو نہ
دیکھنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی آخری کتاب میں…بار بار دیا ہے…
شیطان کی
چال
ابھی آج
کل جو حالات پاکستان میں…اور دنیا کے میڈیا پر چل رہے ہیں…اگر آپ صرف انہیں کو
دیکھیں تو یہ سمجھیں گے کہ…پاکستان سے دین ختم، جہاد ختم، دیندار ختم، داڑھی والے
ختم، پگڑیوں والے ختم…گلی گلی ناکے، قدم قدم پر چھاپے اور مارو،پکڑو کی صدائیں…مگر
ان سب کو نہ دیکھتے ہوئے کراچی کے دیوانوں نے اللہ تعالیٰ کے توکل پر محنت کی اور
جہاد کشمیر کا ایسا اجتماع کر ڈالا کہ…اچھے حالات میں بھی ایسا اجتماع ممکن نظر
نہیں آتا…ان دیوانوں نے حالات،اخبارات اور بیانات کو نہ دیکھا…اپنے رب کی طرف
دیکھا تو رب تعالیٰ نے ان کی نصرت فرما دی اور اپنی حفاظت کے مضبوط حصار ان پر ڈال
دئیے اور الحمد للہ اجتماع ہو گیا…اگر یہ دیوانے حالات کو دیکھتے تو کیا…ایسے
حالات میں پانچ سو افراد بھی جمع کر سکتے تھے؟…
آنکھوں
دیکھا واقعہ
آج سے
اکیس سال پہلے مجھے ’’سری نگر‘‘ جانے کا موقع ملا…ائیر پورٹ سے لے کر اپنے میزبان
کے گھر تک جو کچھ نظر آ رہا تھا وہ انتہائی خوفزدہ اور مایوس کرنے والا
تھا…پاکستان کے رہنے والے شائد اس پورے منظر کو نہ سمجھ سکیں … ہر طرف آرمی ہی
آرمی تھی…ہزاروں کی تعداد میں مسلح دستے…ہر چند میٹر کے فاصلے پر فوجی بینکر
…سڑکوں کے کنارے ہر چند گز کے فاصلے پر مسلح فوجی…عمارتوں کی چھتوں پر ہیوی مشین
گنیں … سڑکوں کے درمیان فٹ پاتھوں پر بھی فوجی دستے …جہاں کہیں کوئی گلی، یا موڑ
آتا تو وہاں بھی فوجی مورچے… صرف سری نگر شہر میں فوجی دستوں کی تعداد ایک لاکھ
سے زیادہ تھی…حیرت کی بات تھی کہ ایسے شہر میں مجاہدین کہاں رہتے ہوں گے … کیسے
چلتے ہوں گے اور کیسے کارروائیاں کرتے ہوں گے…جبکہ ان دنوں تحریک عروج پر تھی اور
سری نگر میں ہر ہفتہ دو چار کارروائیاں ضرور ہو جاتی تھیں …ہم ایک گھر میں پہنچے
ابھی کچھ آرام کیا تھا کہ مجاہدین آنا شروع ہو گئے… اور ماشاء اللہ تمام کے تمام
مکمل طور پر مسلح تھے…کلاشنکوفیں، راکٹ، گرینیڈ، ہر طرح کا اسلحہ ان کے پاس تھا…یہ
’’نہ دیکھو،ہرگز نہ دیکھو ‘‘کا حکم ماننے والے افراد تھے …اللہ تعالیٰ نے انہیں
راستے بھی سجھا دیے اور اپنی نصرت بھی انہیں عطاء فرما دی…ایک لاکھ آرمی کے بیچ
وہ مسلح گھوم پھر رہے تھے…اگر یہ لوگ صرف دشمن کی طاقت کو دیکھتے اور اس کا اثر
لیتے تو…شائد ایک چاقو لے کر بھی نہ گھوم سکتے…
ابھی حال
کا واقعہ
آپ
انٹرنیٹ اور عسکری معلومات کا کوئی میگزین پکڑ کر بیٹھ جائیں…فرانس کے دارالحکومت
پیرس کی سیکورٹی کا جائزہ لیں… وہاں لگے ہوئے سی سی کیمرے شمار کریں…تیز رفتار
پولیس کی تفصیل معلوم کریں…پولیس کی جائے واردات پربروقت پہنچنے کی صلاحیت بارے
معلومات لیں…خفیہ اہلکاروں کی نقل و حرکت کی رپورٹیں لیں…اُس علاقے کی سیکورٹی کا
جائزہ لیں،جہاں گستاخ رسالے چارلی ایبڈو کا دفتر ہے …یقیناً آپ یہ فیصلہ دیں گے
کہ ان تمام انتظامات کی موجودگی میں…رسالے کے دفتر کو کوئی خطرہ ہو ہی نہیں
سکتا…مگر تین چار افراد نے ’’نہ دیکھو،ہرگز نہ دیکھو‘‘ کا حکم مانا اور چل پڑے
…ساری دنیا نے دیکھا کہ وہ بھاری ہتھیاروں سمیت پہنچ گئے…اپنا کام اطمینان سے نمٹا
گئے…اور بحفاظت وہاں سے نکل گئے…اور دو تین دن تک پورے ملک کو تگنی کا ناچ نچا کر
بالآخر شہید ہو گئے…بے شک جو ’’نہیں دیکھتے‘‘ ان کے راستے کی تمام رکاوٹیں خود
بخود دور ہو جاتی ہیں…
آخری
گزارش
آج بات
کچھ لمبی ہو گئی مگر کیا کروں، قرآن مجید کا اہم نکتہ سمجھنے اور سمجھانے سے ابھی
دل نہیں بھرا…مزید بہت سی باتیں اور مثالیں ذہن میں ہیں…مگر امید ہے کہ آپ اس
نکتے کو ان شاء اللہ سمجھ چکے ہوں گے،اسی لئے مزید تفصیل میں نہیں جاتے…بس آج کی
آخری گزارش سن لیں … شیطان کوشش کرتا ہے کہ ہماری آنکھیں اس طرف لگا دے جس طرف
دیکھنے سے ہمارے مالک نے ہمیں منع فرمایا ہے…ایک شخص اچھا خاصا دین اور جہاد کا
کام کر رہا ہے…اچانک شیطان نے اسے اکسایا کہ دیکھو تو سہی حالات کتنے خراب ہیں …
ذرا آنکھیں تو کھولو کہ کفر و نفاق کی طاقت کتنی بڑھ گئی ہے…اب تم مقابلہ نہیں کر
سکتے…خوامخواہ پکڑے جاؤ گے، مارے جاؤ گے،تشدد ہو گا… کہیں کوئی پر امن جگہ
دیکھو…پرسکون گھر،امن والا ماحول…اور بے خطر زندگی…آخر کب تک دھکے کھاتے رہو
گے…یہ شخص نہیںجانتا کہ اس کی زندگی میں اب صرف چند دن ہی باقی ہیں … اور وہ شیطان
کے دھوکے میں آ کر دین کا کام چھوڑ دیتا ہے…اور پھر چند دن بعد مر جاتا ہے …
بھائیو! اندازہ لگاؤ کہ کتنے نقصان میں جا پڑا…اگر چند دن اور ’’نہ دیکھو‘‘ کے
حکم پر ڈٹا رہتا اور کام میں جڑا رہتا تو کتنی اچھی حالت میں موت آتی… دوسری بات
یہ کہ اگر ہم خدانخواستہ اپنی آنکھیں گندی کر لیں…یعنی کافروں اور حکمرانوں کی
طاقت دیکھ کر اور اسے مان کر اللہ تعالیٰ کا راستہ چھوڑ دیں تو ٹھیک ہے…ہم نے خود
کو بظاہر اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے محفوظ کر لیا…اب وہ ہمیں خطرہ سمجھ کر نہ پکڑیں
گے نہ ماریں گے…
مگر ہم
اپنے باقی دشمنوں کا کیا کریں گے … ہارٹ اٹیک،کینسر،گردے فیل ہونا، ایکسیڈنٹ…
گھریلو قتل وغارت…چور،ڈاکو،کرائے کے قاتل…
یہ سب تو
اب بھی کسی وقت ہمیں مار سکتے ہیں …تو پھر اللہ تعالیٰ کا راستہ چھوڑنے سے ہمیں
کیا ملا؟…موجودہ حالات میں شیطان بہت سرگرم ہو کر وساوس پھیلا رہا ہے کہ…دیکھو،
دیکھو!… اے ایمان والو! شیطان کی نہ مانو…اور کہہ دو … ’’نہیں دیکھتے،ہرگز نہیں
دیکھتے‘‘…ہم نے تو ایک دن وہ آزمائشیں نہیں دیکھیں جو حضرت سیّدنا
نوح علیہ السلام نے…ساڑھے نو سو سال تک روزانہ دیکھیںوہ ڈٹے رہے کامیاب
ہو گئے …حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ڈٹے رہے کامیاب ہو
گئے…
بس
کامیابی کا نسخہ یہی ہے…استقامت، استقامت اور استقامت…اور ’’نہ دیکھو…ہرگز نہ
دیکھو‘‘…جن کو وساوس کا سامنا ہے وہ روزانہ سو سو بار سورۃ فلق اور سورۃ الناس
پڑھیں…اور کافروں،مشرکوں، حکمرانوں اور منافقوں کی طاقت ،قوت،وقتی جبر و ستم کو نہ
دیکھیں…ہرگز نہ دیکھیں…
لا الہ
الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللہ
اللہم صل
علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ حکم فرماتے ہیں… اے ایمان والو! اے تمام دنیا والو!
سرکش
ظالموں کے انجام کو دیکھو!
ضدی
کافروں کے انجام کو دیکھو!
فسادیوں
کے انجام کو دیکھو!
اُنْظُرُوْا
کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ …کَیْفَ کَانَ
عَاقِبَۃُ الْمُجْرِمِیْنَ…
کَیْفَ
کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُفْسِدِیْنَ…کَیْفَ کَانَ
عَاقِبَۃُ الظَّالِمِیْنَ…کَیْفَ کَانَ
عَاقِبَۃُ الْمُنْذِرِیْنَ…
دیکھو،
دیکھو! اُن کا انجام جو بڑے تکبر سے دین کو جھٹلاتے تھے… اور وہ جو اپنی عقل اور
طاقت پر ناز کھاتے تھے… دیکھو! ان کا انجام جو دین کے مقابلے پر اپنی طاقت لائے
تھے… اور جنہوں نے اہل ایمان پر مظالم ڈھائے تھے…
دیکھو!
دیکھو! غور سے دیکھو! ان کا انجام جو دنیا کی ترقی کو سب کچھ سمجھ کر اللہ تعالیٰ
کے منکر ہو گئے… وہ جن کو اپنی تعلیم، ترقی اور معیشت پر ناز تھا… دیکھو تو سہی ان
سب کا کیسا بُرا اور حسرتناک انجام ہوا…
یاد
رکھو! یہ زمین اللہ تعالیٰ کی ہے…
اِنَّ
الْاَرْضَ لِلّٰہِ
یہ
گھومنے والی، بدلنے والی، دفنانے اور مٹانے والی زمین صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی
ہے…
یُوْرِثُھَا
مَن یَّشَائُ
اللہ
تعالیٰ کچھ وقت کے لئے جسے چاہتے ہیں یہ زمین دے دیتے ہیں… مگر اصل کامیابی اور
اچھا انجام صرف اور صرف ایمان والوں کو عطاء فرماتے ہیں…
وَالْعَاقِبَۃُ
لِلْمُتَّقِیْنَ
ہاں! اصل
کامیابی، بہترین انجام صرف ایمان والوں کے لئے ہے… وہ ایمان والے جو ایمان کے
تقاضے پورے کرتے ہیں…
عبرتناک
مناظر
اللہ
تعالیٰ ہمیں حکم فرماتے ہیں کہ… ہم کافروں کی ظاہری طاقت اور ترقی دیکھ کر متاثر
نہ ہوں… اور ان کو کامیاب نہ سمجھیں… اور پھر ہمیں حکم فرماتے ہیں کہ… ہم ان سرکش
کافروں کے انجام کو اچھی طرح دیکھیں… اور اس سے عبرت حاصل کریں… چنانچہ قرآن مجید
بہت سے عبرتناک مناظر ہمیں دکھاتا ہے…
وہ
دیکھو! ذلت اور حسرت کے ساتھ ڈوبتا ہوا فرعون… دیکھو تو سہی… روئے زمین کا جابر
ترین حکمران کس بے بسی سے ڈوب رہا ہے… وہ دیکھو! قومِ عاد کے بڑے بڑے لاشے اوندھے
منہ پڑے ہیں… ان کے کارخانے، ان کی ایجادات اور ان کے مضبوط محلات سب مٹ چکے ہیں…
وہ دیکھو! دنیا کا سب سے بڑا سرمایہ دار ’’قارون‘‘ اپنی معیشت سمیت ذلت، عبرت اور
بے بسی کی تصویر بنا… زمین میں دھنس رہا ہے…
وہ
دیکھو! ابرہہ کا خوفناک عسکری لشکر… اپنے ہاتھیوں سمیت بھوسہ بنا پڑا ہے… وہ
دیکھو! قوم ثمود ایک ماہر، فنکار اور ہنر مند ترقی یافتہ قوم… اپنی ترقی سمیت زمین
بوس پڑی ہے… دیکھو، دیکھو، غور سے دیکھو! عبرت پکڑو یہ حضرت لوط علیہ السلام کی
قوم… آزاد، لبرل، عیاش، جدت پسند، بے باک اور خوبصورت قوم… اسے اوپر اٹھا کر زمین
پر دے مارا گیا… وہ جو حسن و خوشبو میں ہر وقت سنورتے تھے… اللہ تعالیٰ کی
نافرمانی کے وبال سے بدبودار، مردار کیچڑ بن گئے … اور ان کے گناہوں کے اثرات نے
زمین اور پانی تک کو بے کار بنا دیا…
وہ
دیکھو! تجارت اور بزنس کی ماہر… حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم… وہ اپنی
اقتصادی ترقی کے ساتھ تباہ کر دی گئی… اے کافرو! اپنے کفر پر ناز کرنے والو! تم
بھی ’’سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ‘‘ زمین میں چل پھر کر دیکھو!…
اور
اے اہل ایمان! تم بھی دیکھو…
کَیْفَ
کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُجْرِمِیْنَ
کہ
مجرموں کا کیسا عبرتناک انجام ہوا…
طوفان
جواب دیتا ہے
وہ
دیکھو! روئے زمین کا سب سے خوفناک طوفان… ایک پوری انسانی نسل کو ختم کرنے والا
طوفان… پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے والا طوفان…ایک ہزار سال سے قائم ایک بڑی
تہذیب کو ملیامیٹ کرنے والا طوفان… ایسا طوفان کہ… آسمان سے پانی برس نہیں رہا
تھا بلکہ گر رہا تھا… اور زمین سے بھی پانی ہی پانی ابل رہا تھا … حضرت نوح علیہ
الصلوٰۃ والسلام کی قوم پر آنے والا طوفان… ساڑھے نو سو سال وہ اکڑتے تھے اور
اللہ تعالیٰ کے نبی کو ستاتے تھے… ان کو ناز تھا کہ ہم عقل والے، دانش والے، طاقت
والے، اور حکومت والے ہیں… طوفان آیا تو اتنی بڑی قوم کا نام و نشان تک باقی نہ
رہا… آج کسی کو وہ احادیث مبارکہ سنائیں جن میں آخری زمانے مسلمانوں کے مکمل
غلبے کی بشارت ہے تو سوالات کی بوچھاڑ لگ جاتی ہے… یہ ایٹم بم کہاں جائیں گے؟ … یہ
امریکہ، یورپ، انڈیا اور کفر کے بڑے بڑے ممالک اور لشکر کہاں جائیں گے؟… یہ کفار
کی فضائی قوت اور عسکری ٹیکنالوجی کہاں جائے گی؟ … اس کا مقابلہ کیسے ہو سکے گا؟…
قرآن
مجید ’’ طوفانِ نوح‘‘ کا قصہ سنا کر… ان تمام سوالات کا جواب دے دیتا ہے کہ… اللہ
تعالیٰ سب کچھ بدلنے اور سب کچھ اکھاڑنے کی طاقت رکھتا ہے… اور زمین پر ایسے حالات
لاتا ہے کہ جن کا مقابلہ… کوئی مخلوق نہیں کر سکتی… اور بڑی بڑی تہذیبیں اور قومیں
اس طرح سے مٹا دی جاتی ہیں کہ… ان کے آثار اور کوئی آہٹ تک باقی نہیں رہتی…
ھَلْ
تُحِسُّ مِنْھُمْ مِنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَھُمْ رِکْزاً
یہ سب
کچھ کیسے ہوتا ہے… طوفانِ نوح اس کی ایک مثال ہے… وہ جو زمین پر کروڑوں کی تعداد
میں تھے وہ ختم ہو گئے … اور وہ جو درجنوں کی تعداد میں تھے وہ زمین کے مالک، حاکم
اور اگلی نسل کے معمار بنا دئیے گئے … اللہ تعالیٰ جب چاہے اور جس طریقے سے چاہے
ایسا کر سکتا ہے… اور وہ ایسا بارہا کر چکا ہے… یقین نہ آئے تو دیکھو، دیکھو، غور
سے دیکھو!… بڑی بڑی سلطنتوں کا انجام…
اپنے آس
پاس دیکھیں
اگر ہم
اپنے آس پاس دیکھیں… قریب زمانہ کی تاریخ دیکھیں تو ہمیں یہی نظر آئے گا کہ…
ایمان والے ہمیشہ اچھے انجام سے سرفراز ہوتے ہیں… اور اہل کفر، اہل نفاق اور اہل
ظلم کا انجام بہت بُرا ہوتا ہے… پاکستان پر ایک مصیبت بن کر گرنے والے پرویز مشرف
کے دور اقتدار کو دیکھیں … ’’ میں میں ہوں، میں میں ہوں‘‘ کی منحوس گونج تھی… اور
جہاد کو جڑ سے ختم کرنے کے دعوے … آج وہ کس حالت میں ہے اور جہاد کس حالت میں… ہر
شخص بہت آسانی سے سمجھ سکتا ہے… ہمارے لئے قرآن مجید کا یہ حکم تھا کہ ہم اس کی
طاقت اور جبر کو ’’نہ دیکھیں، ہرگز نہ دیکھیں‘‘… اس کے خوفناک اقدامات سے نہ ڈریں…
اور اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر اپنا حق کام کرتے رہیں…
جنہوں نے
اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو مانا… اور اس کے نوسالہ اقتدار کے دوران ’’نہ دیکھو، ہر
گز نہ دیکھو‘‘ کی ترتیب پر رہے… اُن سے اللہ تعالیٰ نے بڑا اور مقبول کام لیا… اور
آج پرویز مشرف اس حالت میں آ پہنچا ہے کہ… ہمارے لئے قرآن کا حکم ہے… ’’دیکھو،
دیکھو، غور سے دیکھو!‘‘ کہ مجرموں کا انجام کیسا ہوتا ہے… یہ ایک مثال ہے… آپ غور
کریں گے تو ہر طرف بہت سی مثالیں نظر آ جائیں گی… مومن اپنے ایمان اور کام پر رہے
تو اس کے لئے مرنے میں بھی ناکامی نہیں… اور کافر و منافق کے لئے ناکامی اور ذلت
کا سفر اس کی موت سے پہلے یا موت کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے…
انجام کے
فرق کی ایک جھلک
ایک بہت
ایمان افروز نکتہ ہے… تھوڑا سا غور کریں…
سورۃ
الدخان کی آیت (۲۹) دیکھیں…
اللہ تعالیٰ سمجھاتے ہیں کہ… فرعون اور اس کی قوم غرق ہو گئی… اپنی تمام بڑی بڑی
نعمتیں اور عیاشیوں کا سارا سامان یہاں چھوڑ گئی…
مگر اس
قوم کے ہلاک ہونے پر نہ آسمان رویا نہ زمین روئی…
فَمَا
بَکَتْ عَلَیْہِمُ السَّمَائُ وَالْاَرْضُ (الدخان)
غور
فرمائیے! نہ آسمان رویا نہ زمین روئی… اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اتنا بڑا
بادشاہ… اور اتنی بڑی قوم غرق ہو گئی… مگر پھر بھی زمین کا نظام چلتا رہا… آسمان
کے نظام میں بھی کوئی فرق نہ آیا… یعنی ان لوگوں کی کوئی کمی کسی بھی طرح محسوس
نہ کی گئی… حالانکہ جب وہ جیتے تھے تو گویا زمین کے مالک تھے اور آسمان کو اپنے
قبضہ میں لینے کی کوشش کرتے رہتے تھے… اور ان کا یہ دعوی تھا کہ زمین کو ہم نے
آباد کیا ہے… اس کو ہم نے سنوارا ہے… اور اس کو ہم نے اپنی عقل سے ترقی دی ہے… جس
طرح آج کل امریکہ اور یورپ کا دعوی ہے کہ… ان کی ایجادات نے زمین اور انسان کو
بہت آگے کر دیا ہے… نعوذ باللہ، استغفر اللہ…
ارشاد
فرمایا: نہ اُن پر آسمان رویا اور نہ زمین روئی… کئی مفسرین حضرات فرماتے ہیں کہ…
آسمان و زمین کا یہ رونا اور نہ رونا اپنے اصلی معنیٰ پر ہے… جب کوئی ایمان والا
اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو اس کی موت پر آسمان بھی روتا ہے اور زمین بھی روتی
ہے… جبکہ کافر کی موت پر نہ آسمان روتا ہے اور نہ زمین روتی ہے بلکہ وہ خوش ہوتے
ہیں… حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ…
’’ہر
مومن کے لئے آسمان میں دو دروازے ہوتے ہیں… ایک دروازہ سے اس کا رزق نیچے اترتا
ہے… اور دوسرے دروازہ سے اس کا عمل اور اُس کا کلام اوپر جاتا ہے… جب یہ مؤمن
انتقال کر جاتا ہے تو وہ دونوں دروازے اس کی کمی محسوس کرتے ہیں اور روتے ہیں‘‘…
(تفسیر ابن کثیر)
حضرت
سیّدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا… کیا
آسمان و زمین بھی کسی پر روتے ہیں؟… ارشاد فرمایا:’’ ہر مومن کے لئے زمین پر وہ
جگہ روتی ہے جس پر وہ نماز ادا کرتا ہے… اورآسمان میں ہر مومن کے لئے ایک راستہ
ہوتا ہے جس سے اس کا عمل اوپر جاتا ہے‘‘… فرعون کی قوم کا نہ زمین میں نماز والا
ٹکڑا تھا اور نہ ان کا کوئی نیک عمل تھا جو آسمان کے راستہ اوپر جاتا… اس لئے ان
پر نہ آسمان رویا اور نہ زمین روئی…
اسی طرح
کی روایت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی ہے… جس سے معلوم ہوتا ہے
کہ زمین کے وہ حصے جن پر کوئی مومن اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے… نماز اور سجدہ
ادا کرتا ہے… ذکر و تلاوت کرتا ہے… یا اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کا کوئی بھی عمل
کرتا ہے…تو اس کی وفات کے بعد زمین کا وہ حصہ… اس کی کمی اور یاد میں روتا ہے… اس
طرح آسمان کا وہ دروازہ جس سے مومن کا رزق اترتا ہے اور اس کا نیک عمل اوپر جاتا
ہے… یہ دروازہ اس کی وفات پر بند کر دیا جاتا ہے تو آسمان روتا ہے… حضرت سفیان
ثوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں… ’’زمین ایک مومن کے انتقال پر چالیس
دن روتی ہے‘‘… اور حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں… ’’جب کوئی
مومن انتقال کر جاتا ہے تو اس پر زمین اور آسمان چالیس دن تک روتے ہیں‘‘… ان سے
پوچھا گیا کیا زمین بھی روتی ہے؟… فرمایا: ’’اس میں تعجب کی کیا بات ہے؟… زمین ایسے
شخص پر کیوں نہ روئے گی جو اسے رکوع اور سجود سے آباد رکھتا تھا…اور آسمان ایسے
شخص پر کیوں نہ روئے گا جس کی تکبیر و تسبیح سے آسمان میں شہد کی مکھیوں جیسی
آواز گونجتی تھی‘‘…
اندازہ
لگائیں… موت سے انجام کا آغاز ہوتا ہے… اور اس آغاز میں کتنا فرق ہے… مومن کی
موت بہت میٹھی ہے،کافر کی موت بڑی دردناک ہے… مومن کی موت پر زمین و آسمان روتے
ہیں… کافر کی موت پر زمین و آسمان خوشیاں مناتے ہیں… پھر ایک مومن کے لئے کہاں
جائز بنتا ہے کہ… وہ ظالموں،کافروں اور منافقوں کی ظاہری طاقت اور ترقی کو دیکھ کر
متاثر ہو… اور خود کو اور اپنے ایمان کو حقیر سمجھے… یا اللہ تعالیٰ سے مایوس ہو…
یا یہ سمجھے کہ حالات کبھی تبدیل نہیں ہوں گے… ارے ایمان والو! … ان ظالموں اور
کافروں کے انجام کو دیکھو… خوب دیکھو، غور سے دیکھو! وہ دیکھو! مکہ مکرمہ میں
مسلمانوں پر وحشی کتے کی طرح غرانے والا ’’ابو جہل‘‘… بدر کے ایک اندھے کنویں میں
مردار پڑا ہے…
لا الہ
الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل
علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ کو پانے کا واحد راستہ
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
مومن کے
اعمال کو عرش تک پہنچانے کا واحد ذریعہ
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
دنیا میں
کامیابی کی چابی
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
قبر میں
آسانی اور راحت کا نسخہ
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
افضل
ترین نیکی جو گناہوں کو مٹا دیتی ہے
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
ایمان کی
جڑ…دین کی بنیاد …سب سے افضل ذکر…اور آخرت میں کامیابی کی پہلی شرط
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
بہت اہم
نکتہ
آج کی
مجلس میں ایک بڑا ’’اہم نکتہ‘‘ عرض کرنا ہے…یہ نکتہ قرآن مجید کی سورۃ الفتح کی
آیت (۲۶) میں بیان
فرمایا گیا ہے…بہت بڑا خزانہ ہے،رب کعبہ کی قسم! بہت بڑا خزانہ…اللہ تعالیٰ کا شکر
جس نے ہمیں ’’قرآن مجید‘‘ جیسی نعمت عطاء فرمائی ہے…قرآن مجید جیسی اونچی اور
اعلیٰ تعلیم (ہائر ایجوکیشن) اور کوئی نہیں…حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کا احسان کہ ہم تک قرآن مجید پہنچایا…
الحمدللّٰہ
رب العالمین،والصلوٰۃ والسلام علی خاتم النبیین
پہلے ایک
بات بتائیں
آج کے
نکتے کا تعلق پاکستان اور دنیا کے موجودہ حالات سے ہے…اور اس نکتہ میں کلمہ طیبہ
کا بیان بھی ہے…یہ نکتہ سمجھنے سے پہلے آپ یہ بتائیں کہ ’’کلمہ طیبہ‘‘ کے وِرد کا
معمول جاری ہے یا نہیں؟… الحمد للہ بارہ سو بار کلمہ طیبہ کے وِرد کی آواز لگی تو
ہزاروں لاکھوں مسلمانوں نے اسے قبول کیا اور اپنا لیا…مگر کلمہ طیبہ اور استغفار
سے شیطان کی کمر ٹوٹتی ہے تو وہ…مسلمانوں کو اس سے غافل کرنے کا زور لگاتا ہے…اب
معلوم ہواہے کہ کئی مسلمان بھائیوں اور بہنوں نے…کلمہ طیبہ کے ورد سے غفلت شروع کر
دی ہے…استغفر اللہ، استغفر اللہ، استغفر اللہ…حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ
علیہ کا جب انتقال ہو رہا تھا تو کسی نے انہیں ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ کی
تلقین کی…حضرت نے فرمایا اس کلمہ کو تو میں کسی وقت بھی نہیں بھولا…یعنی اسے یاد
دلاؤ جو کبھی اس کلمہ سے غافل رہا ہو…میں تو الحمد للہ اس کلمہ سے کبھی غافل نہیں
ہوا…سبحان اللہ! ایک وہ حضرات تھے جنہوں نے اس کلمہ طیبہ سے ایسا مضبوط تعلق
جوڑا…اور ایک ہم ہیں کہ صرف بارہ سو بار کا ورد بھی بھاری لگتا ہے…حضرت شاہ ولی
اللہ رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ تعالیٰ نے بہت نفع اور برکت والے علوم عطائے
فرمائے…آپ علم اور حکمت میں اپنے زمانے کے بادشاہ تھے…تفسیر و حدیث سے لے کر
سیاست و مدنیت تک ہر علم میں آپ امام کا درجہ رکھتے تھے… یہ سارا کمال ’’لا الہ
الا اللہ‘‘ کی برکت سے نصیب ہوا…بہت چھوٹی عمر میں اس کلمہ کے ساتھ جڑ گئے… ایک
سانس میں دو سو بار ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کا وِرد فرمایا کرتے تھے… یہ کلمہ تو ایسا
ہے کہ اس کی شاخیں آسمان تک جاتی ہے…چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان پر علم و حکمت کے
خزانے کھول دئیے…
ارے
بھائیو! یہ کلمہ طیبہ ہی اصل میں کلمہ توحید ہے…اور کلمہ توحید سے بڑھ کر اور کوئی
حفاظت نہیں…اور یہی کلمہ طیبہ ہی کلمۂ اِخلاص ہے… اور اِخلاص سے بڑھ کر کوئی قوت
نہیں…آج کے مسلمانوں کا رجحان بس اس طرف ہے کہ روزی کے وظیفے کرو…حفاظت کے وظیفے
کرو…ترقی کے وظیفے کرو…عزت کے وظیفے کرو…جو تھوڑا بہت وقت ذکر کے لئے نکالتے ہیں
وہ سارا ان وظیفوں میں لگ جاتا ہے…اور اصل وظیفہ ’’کلمہ طیبہ‘‘ رہ جاتا ہے…ارے
بھائیو اور بہنو! یہ کلمہ طیبہ نصیب ہو گیا تو حفاظت،عزت،ترقی ،روزی اور کامیابی
سب کچھ خود بخود مل جائے گا…کلمہ طیبہ کے بغیر نہ تو کوئی عمل قبول ہوتا ہے اور نہ
کوئی وظیفہ کام کرتا ہے…آپ اپنے علاج کے لئے عاملوں کے دروازے پر نہ جائیں…آپ کے
پاس سب سے بڑا عمل موجود ہے…اور وہ ہے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ…کسی عامل کا
کوئی تعویذ اس کلمہ کے برابر نہیں…کسی عامل کا کوئی پراسرار عمل اس کلمہ سے زیادہ
طاقتور نہیں…یہی کلمہ …قول ثابت یعنی سب سے پکی بات ہے…یہ کلمہ سات آسمانوں اور
سات زمینوں سے بھاری ہے…دنیا کا کوئی جادو اس کلمہ سے زیادہ طاقتور نہیں…دنیا کی
کوئی نحوست…اس کلمہ کی برکت کے سامنے نہیں ٹھہر سکتی…کلمہ طیبہ کو دل میں اُتاریں
… اُس کے نور کو سمجھیں…اُس کے معنیٰ کو دل و دماغ میںبٹھائیں… اوراس کا وِرد ایسی
پابندی،ایسے اہتمام…اور ایسے ذوق و شوق سے کریں کہ یہ کلمہ ہماری روح میں اتر
جائے…ہماری ہڈیوں اور گوشت میں سرایت کر جائے اور ہمارے خون میں شامل ہو جائے…
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ،لا الہ الا
اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
وعدہ
کرتے ہیں؟
اللہ
تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو مرتے وقت ’’کلمہ طیبہ‘‘ نصیب فرمائے…اور ہمیں موت کے
وقت خوف اور دہشت سے بچائے…بس موت آیا ہی چاہتی ہے…آج کا قرآنی نکتہ پڑھنے سے
پہلے…آپ سب سچا وعدہ کریں کہ ’’کلمہ طیبہ‘‘ کا روزانہ ورد کبھی نہیں چھوڑیں
گے…کبھی بھی نہیں…
صحت مند
ہوں یا بیمار…مالدار ہوں یا غریب…آزاد ہوں یا قید…فائدہ محسوس ہو یا نہ ہو…کیفیت
بنے یا نہ بنے…کسی بھی حال میں کلمہ طیبہ کا ورد ناغہ نہ ہو…اللہ نہ کرے بڑے بڑے
گناہ ہو جائیں تب بھی کلمہ طیبہ کا ورد ناغہ نہ ہو…شیطان کہے گا کہ اب تمہارا منہ
’’کلمہ طیبہ‘‘ کے قابل نہیں رہا اس لئے پڑھنے کا کیا فائدہ؟ … تب شیطان کی نہ
مانیں اور کلمہ طیبہ کے ورد میں لگ جائیں…کلمہ طیبہ بڑے بڑے گناہوں کو نیست و
نابود کرنے کی طاقت رکھتا ہے…بارہ سو بار تو ابتدائی سبق ہے…جن کو اللہ تعالیٰ نے
توفیق عطاء فرمائی وہ تعداد میں اضافے کرتے جائیں … اضافہ نہ کرسکیں تو بارہ سو
بار کو ہی پکا بنالیں…کھانا پینا اتنا ضروری نہیں……انسان آرام سے آٹھ دس دن
بھوکا رہ سکتا ہے…نیند کرنا اتنا ضروری نہیں… انسان کافی وقت جاگ سکتا ہے اپنے ٹچ
فون پر زندگی ضائع کرنا ضروری نہیں…بلکہ نقصان ہی نقصان ہے…جبکہ کلمہ طیبہ میں
فائدہ ہی فائدہ ہے…فائدہ ہی فائدہ…تو پھر اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر وعدہ کر لیجئے
کہ ان شاء اللہ…کلمہ طیبہ کے ورد کی پکی پابندی کریں گے…اور ہاں! کبھی کبھار کچھ
وقت…آنکھیں اور زبان بند کر کے دل سے بھی پڑھا کریں
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ،لا الہ الا
اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
قرآنی
نکتے کا خلاصہ
سورۃ
الفتح میں جو نکتہ بیان فرمایا گیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے …
اگر
تمہارے دشمن مکمل جہالت پر اتر آئیں …اور کسی وجہ سے ان سے لڑنے کی اجازت نہ ہو…
تو ایسے وقت میں تم ضد اور جہالت پر نہ اترو …بلکہ کلمہ طیبہ کے ساتھ مضبوطی سے جڑ
جاؤ … تب کچھ ہی عرصے بعد تمہارے لئے فتوحات کے ایسے دروازے کھلیں گے کہ…تم خود
حیران رہ جاؤ گے…اور جہالت پر اترنے والا تمہارا دشمن … ذلیل و خوار ہو جائے گا
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ،لا الہ الا
اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
اصل
مفہوم
آیت
مبارکہ…غزوہ حدیبیہ کے موقع پر نازل ہوئی…مسلمان ،حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کی قیادت مبارکہ میں عمرہ کے لئے تشریف لے گئے تھے…مشرکین
مکہ نے انہیں حرم شریف میں داخل ہونے سے روک دیا…راستے میں جگہ جگہ مسلمانوں پر
حملے کئے…اور اپنی جنگی طاقت سے انہیں مرعوب کرنے کی بھرپور کوشش کی…مسلمان کم
تعداد میں تھے…اسلحہ اور لڑائی کا سامان بھی بہت قلیل تھا…اور علاقہ بھی دشمنوں کا
تھا … ایسے وقت میں پہلا حملہ خوف اور بزدلی کا ہوتا ہے …مگر ’’لا الہ الا اللہ
محمد رسول اللہ‘‘ پر مضبوطی کی برکت سے وہ اس حملہ کی زد میں نہ آئے…اب مشرکین نے
انہیں ضد اور غیرت دلانے کے لئے جاہلانہ حرکتیں شروع کر دیں…پہلی حرکت یہ کہ انہیں
حرم شریف سے روکا…دوسری یہ کہ معاہدہ نامہ میں مسلمانوں کے مقدس الفاظ کاٹنے پر
اصرار کیا اور اپنی مرضی کے نام لکھوائے…تیسرا یہ کہ معاہدہ میں ایسی شرطیں رکھیں
جن سے مسلمانوں کو ذلت کا احساس ہو…یہ سارا شیطانی چکر اس لئے تھا کہ مسلمان بھی
…ضد پر اتر آئیں…دوسری طرف حکم یہ تھا کہ یہاں اس موقع پر کسی بھی حال میں جنگ
نہیں کرنی…ایک تو حرم شریف کے تقدس کا مسئلہ تھا…اور دوسرا یہ کہ اس وقت یہاں جنگ
ہوئی تو مکہ میں پھنسے ہوئے چند مظلوم مسلمان شہید کر دئیے جائیں گے…اب بڑا سخت
امتحان تھا…مشرکین بار بار جاہلانہ حرکتیں کر کے مسلمانوں کے دلوں کو زخمی کر رہے
تھے…ان کی اکڑ اور ان کا طرز عمل ایسا تھا کہ اسے دیکھ کر دل غصے سے پھٹنے
لگیں…حضرات صحابہ کرام کے ضمیر پر ہتھوڑے برس رہے تھے کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ …اگر
ہم حق پر ہیں تو پھر اس طرح دبنے اور براشت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟…یہ بتوں کے
پجاری کس طرح سے ہمیں ستا رہے ہیں جبکہ ہمارے پاس تلواریں اور جان دینے کا جذبہ
موجود ہے…اسی دوران…ایک مسلمان قیدی جو مکہ مکرمہ سے بھاگ کر مسلمانوں کے لشکر
پہنچ چکے تھے…مشرکین نے انہیں بھی واپس لے جانے کے ضد کی…یہ مرحلہ بڑا نازک
تھا…غم،غصے اور غیرت سے کلیجے پھٹ رہے تھے…مگر ’’کلمہ طیبہ‘‘ کی طاقت کام کر
گئی…اور حضرات صحابہ کرام اس کلمہ سے جڑ کر جذبات میں بہنے سے بچ گئے … ایک امتحان
تھا جو گذر گیا…مشرکین کے لئے ایک وقتی خوشی تھی جو چند دن میں بیت گئی…اور پھر ان
کا ہر قدم،ذلت و زوال کی طرف اور مسلمانوں کا ہر قدم فتح اور عزت کی طرف بڑھتا چلا
گیا…اور تھوڑے ہی عرصے میں مسلمان حرم شریف کے مالک بن گئے…اور وقتی ضد اور اکڑ
دکھانے والے مشرکین کا قصہ ختم ہو گیا…
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ،لا الہ الا
اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
آیت
مبارکہ کا ترجمہ
دیکھئے
سورۃ الفتح کی آیت:۲۶
ترجمہ:
جب کافروں نے اپنے دلوں میں ضد بٹھا لی اور ضد بھی جاہلیت کی تو اللہ تعالیٰ نے
اپنے رسول اور ایمان والوں پر اپنی طرف سے تسکین (یعنی سکون، تحمل یا خاص رحمت)
نازل فرمائی اور ان کو تقویٰ کے کلمہ پر جمائے رکھا اور وہی اس (تقوی کے کلمہ) کے
مستحق اور اہل تھے…اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے…
کلمہ
طیبہ پر جمنے کا وقت
وہ جو
مسلمان کہلاتے ہیں…مگر کام ان کے سارے کافروں والے ہیں…نہ نماز کے پابند… نہ دین
سے کوئی تعلق…قرآن مجید کی تعلیم کے دشمن اور کافروں کی غلامی میں اپنی کامیابی
دیکھنے والے…وہ خود کو مسلمان کہتے ہیں اللہ کرے وہ مسلمان ہوں…ہمیں کسی کی تکفیر
کا ہرگز ہرگز شوق نہیں…مگر وہ اہل ایمان کو …ستا رہے ہیں،دبا رہے ہیں…اور خود کو
’’اتاترک‘‘ بنا رہے ہیں … کمال اتاترک کسی زمانے آیا تھا پھر مر گیا…اب اس کا نام
بھی ترکی میں مرنے کو ہے…وہ ایک بد نصیب انسان تھا…خود اس کے دور اقتدار میں اہل
ترکی کہتے تھے…کسی ماں نے کمال اتاترک سے زیادہ منحوس بچہ نہیں جنا…اس نے مساجد کو
ویران کیا…اذان پر پابندی لگائی…بے حیائی اور فحاشی کو عام کیا…دینی تعلیم ممنوع
قرار دی… عربی رسم الخط پر پابندی لگائی…مگر آج ترکی میں یہ سب کچھ دوبارہ بحال
ہو رہا ہے…خلافت عثمانیہ ماشاء اللہ پانچ صدیوں تک قائم رہی جبکہ کمال اتاترک کا
کفری نظام سو سال بھی نہ کاٹ سکا…
پاکستان
میں دین کے دشمن…آج اپنے دل کی زہریلی امنگیں پوری کرنے کے لئے کمال اتاترک کو
آوازیں دے رہے ہیں…مگر بے فکر رہیں…کمال اتاترک مر گیا ہے…وہ واپس نہیں آئے گا
اور نہ پاکستان کی سرزمین پر ایسے کسی بے عقل زندیق کے لئے کوئی گنجائش ہے…اب تو
ساری دنیا تیزی سے بدل رہی ہے…اور جہاد فی سبیل اللہ کے محاذ چاروں طرف کھل چکے
ہیں … پاکستان کے اہل دین کی کوشش ہے کہ …سیکولر طبقے اور حکمرانوں کے جاہلانہ
مظالم…اس ملک کومکمل خانہ جنگی میں نہ دھکیل دیں…اس لئے صبر ہے…برداشت ہے…اور
قرآنی نکتے کے مطابق…کلمہ طیبہ سے جڑنے اور کلمہ طیبہ پر جمنے کا وقت ہے…پس اے
ایمان والو! کلمہ طیبہ پر جمے رہو،کلمہ طیبہ سے جڑے رہو …اے دین کے دیوانو! کلمہ
طیبہ دل میں اتارو …یہی دل کی زندگی ہے…کلمہ طیبہ میں غور کرو یہی عقل اور خیال کی
روشنی ہے…کلمہ طیبہ کی دعوت دو…یہی امر بالمعروف کا سب سے اہم درجہ ہے …کلمہ طیبہ
کا دل و جان اور زبان سے ورد کرو … یہی کامیابی، خیر اور نصرت کی ضمانت ہے…
لا الہ
الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل
علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ ہمیں اپنی مساجد آباد کرنے والا بنائے…سبحان اللہ…کتنا پیارا…اور میٹھا
لفظ ہے…
مسجد،مسجد،
مسجد…محبوب رب سے سجدے میں مناجات کی جگہ،ملاقات کی جگہ… واہ! مسجد…پیاری
مسجد…میٹھی مسجد…دنیا کے ہر غم،ہر فکر اور ہر گناہ سے آزادی کی جگہ…
مسجد،مسجد،مسجد…
سب سے
اُونچی جگہ
چاند پر
جانا ترقی نہیں…مریخ پر پہنچ جانا ترقی نہیں… مچھر مکھیاں اُڑتی رہتی ہیں…اِنسان
بھی اُڑتے پھرتے رہتے ہیں…ہاں! ایک مسلمان کا مسجد کو پا لینا واقعی ترقی ہے…بڑی
ترقی…
کوئی
میری اس بات پر ہنستا ہے، تو ہنستا رہے…ترقی کہتے ہیں بلندی کو…اللہ تعالیٰ کے گھر
سے بلند جگہ اور کون سی ہو سکتی ہے؟…مسجد کا براہ راست تعلق ’’جنت‘‘ سے ہے…
قیامت کے
دن ساری زمین،چاند،ستارے تباہ ہو جائیں گے …مگر مسجد کی زمین کو جنت لے جا کر جنت
کا حصہ بنا دیا جائے گا…مسجد کی زمین قیامت کے دن اُن اِیمان والوں کے لئے گواہی
دے گی…جنہوں نے اس مسجد کو آباد کیا…وہاں رکوع اور سجدے کئے…اندازہ لگائیں مسجد
کتنی طاقتور ہے اور مسجد کی سلطنت کتنی وسیع ہے…دنیا سے لے کر آخرت تک…زمین سے لے
کر آسمان تک…اور آسمان سے لے کرجنت تک…ہائے! دل چاہتا ہے کہ دنیا بھر
میں مسجدیں بناتے چلیں جائیں…ان مسجدوں میں اللہ اکبر، اللہ اکبر کی اذانیں
گونجیں…حضورِ اَقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اَذان بلند
کرنے والوں کو تین بار دعا دی:
اَللّٰہُمَّ
اغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِینْ
’’یا
اللہ! اَذان دینے والوں کی مغفرت فرما دیجئے‘‘
حضرت
عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا…یا رسول اللہ! آپ نے اذان کی
ایسی فضیلتیں بیان فرمائیں کہ…آپ کے بعد مسلمان اذان کی خاطر ایک دوسرے پر
تلواریں برسائیں گے…یعنی ہر شخص یہ چاہے گا کہ میں اذان دوں…ظاہر بات ہے کہ سب تو
اذان نہیں دے سکیں گے…مگر دینا ہر کوئی چاہے گا تو آپس میں لڑائی ہو گی اور اس
فضیلت کو حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے پر تلواریں نکالی جائیں گی…حضورِ اَقدس صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
کَلَّا
یَا عُمَرْ!
’’اے عمر
! ایسا نہیں ہو گا‘‘
انہ
سیأتی علی الناس زمان یترکون الاذان علی ضعفائھم
لوگ تو
ایسے ہو جائیں گے کہ اذان کا کام اپنے کمزور لوگوں پر چھوڑ دیں گے…اللہ، اللہ،
اللہ… آج مؤذن کا لفظ کتنا ہلکا ہو گیا…استغفرا للہ، استغفر اللہ… کمزور
بوڑھے…اور وہ جن کو بے کار سمجھا جاتا ہے، اذان کا کام اُن کے سپرد کر دیا جاتا
ہے…چلیں،ان کمزورں کے مزے ہو گئے کیونکہ حضورِ اَقدس صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا:
وتلک
لحوم حرمھا اللّٰہ عزوجل علی النار
’’یہ وہ
گوشت ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے جہنم پر حرام فرما دیا ہے‘‘
لحوم
المؤذنین
اذان
دینے والوں کے جسم کا گوشت…جہنم کے لئے حرام…جہنم کی آگ اس کو چھو بھی نہیں
سکتی…یہ فضیلت نہ کسی سائنسدان کے لئے ،نہ ڈاکٹر، انجینئر کے لئے…اور نہ چاند پر
چڑھنے والوں کے لئے…یہ فضیلت مسجدوں کو اَذان سے آباد کرنے والوں کے لئے
ہے…اندازہ لگائیں کتنی بڑی ترقی ہے،کتنی بڑی…ایک مسلمان کو جہنم سے نجات مل
جائے…اس سے بڑی ترقی اور کیا ہو سکتی ہے؟… اے دین کے دیوانو! مسجدیں بناؤ، مسجدیں
آباد کرو…مسلمانوں کو مسجدوں سے جوڑو… اور جہاد کو مسجدوں سے قوت دو…
خوشی کا
دن
الحمد
للہ! دو دن بعد…ایک اور خوشی کا دن آ رہا ہے…۱۴ جمادی الاولیٰ ۱۴۳۶ھ بمطابق ۵ مارچ
بروز جمعرات …سات نئی مساجد کی تعمیر کا آغاز…
الحمد
للہ رب العٰلمین، الحمد للہ رب العٰلمین
دل کی
تڑپ ہے کہ جماعت کم از کم تین سو تیرہ مساجد بنائے اور آباد کرے…دل کا درد ہے کہ
جہاد اور مسجد آپس میں اسی طرح جڑ کر چلیں…جس طرح مسجد نبوی اور غزوۂ بدر کا جوڑ
تھا… مساجد،دین اِسلام کا شعار اور علامت ہیں…مساجد ایک مسلمان کے ایمان کا ٹیسٹ
ہیں… ہر شخص اپنے دل کو دیکھے اگر دل مسجد کی طرف لپکتا ہے…وہاں جا کر سکون پاتا
ہے…تو سمجھ لیں کہ دل زندہ ہے اور اس میں اِیمان موجود ہے…لیکن اگر دل مسجد سے
بھاگتا ہے…مسجد کو بوجھ سمجھتا ہے…اور مسجد میں جا کر بے چین ہوتا ہے تو سمجھ لیں
کہ دل موت کے جھٹکوں پر ہے…اور کسی بھی وقت اِیمان سے خالی ہو سکتا ہے…آج کل جس
طرح جسم اور خون کے میڈیکل ٹیسٹ کرائے جاتے ہیں…ایک مسلمان کو چاہیے کہ…اپنے ایمان
کی اپنے جسم سے زیادہ فکر رکھے…جسم نے تو ویسے گل سڑ جانا ہے… جبکہ ایمان کے بغیر
کوئی گذارہ نہیں…
الحمد
للہ! ملک کے مختلف شہروں میں مزید سات مساجد تعمیر کرنے کی ترتیب بن چکی ہے…جس دن
ہم ان مساجد کے لئے اپنی جیب سے کچھ مال نکالیں گے…وہ کتنا خوشی کا دن ہو گا…ہاں!
واقعی عید جیسی خوشی کہ…اللہ تعالیٰ اپنے گھر کے لئے ہمارے مال کو قبول فرما
لے…بندہ نے الحمد للہ ارادہ باندھ لیا ہے…اور ان شاء اللہ جمعرات کو مہم شروع ہوتے
ہی اپنا ’’عطیہ‘‘ جمع کرانے کی سعادت حاصل کرے گا…آپ بھی نیت پکی کر لیں…اگر دو
چار دن گوشت اور مرغی نہ کھائی تو کیا نقصان ہو گا؟…ویسے بھی آج کل ہر شہر میں
حرام گوشت فروخت ہو رہا ہے…اور بڑے بڑے ہوٹلوں میں مُردار اور نجس گوشت کھلایا جا
رہا ہے…مسلمان جب تک کھانے پینے کے شوقین نہیں تھے تو کوئی انہیں حرام میں نہیں
ڈال سکتا تھا…مگر جب سے چٹخارہ بازی مسلمانوں پر مسلط ہوئی ہے تو کوئی ان کو…خنزیر
کے اَجزاء کھلا رہا ہے، تو کوئی ان کو کتے اور گدھے کا گوشت…کھانا پینا ایک ضرورت
ہے مگر جب عادت یہ بن جائے کہ سامنے سادہ کھانا رکھا ہو تو …ہاتھ روک کر بیٹھے
رہیں گے کہ کہیں اس پاک کھانے سے ہمارا پیٹ نہ بھر جائے…ہم نے تو ضرور کسی ہوٹل جا
کر کسی نئی ڈش سے پیٹ بھرنا ہے تو پھر…مسلمانوں کے دشمن اِن کو حرام تک کھلا دیتے
ہیں…آپ صرف زندگی کا ایک ہفتہ اس طرح گذاریں کہ کھانے کو صرف اپنی ضرورت
سمجھیں…خواہش نہیں…دال ساگ جو ملے اس سے ضرورت پوری کر لیں…اور سنت کے مطابق پیٹ
بھر کر کھانا نہ کھائیں، تو آپ اپنی زندگی کو آزاد اورپُر سکون محسوس کریں
گے…بڑی بڑی بیکریاں، بڑے بڑے ہوٹل اور طرح طرح کے مشروبات… آپ خود کو ان سے آزاد
پائیں گے…کھانے کا کوئی اِشتہار…بوفے کا کوئی بورڈ اور ذائقے کا کوئی پوسٹر آپ پر
اَثر انداز نہ ہو گا…اور آپ کو سادہ کھانے میں وہ مزہ آئے گا جو پانچ ستارہ
ہوٹلوں کے کھانوں میں بھی نہیں ہوتا…مساجد کی تعمیر و آبادی کے لئے جو مال ہم
لگائیں گے…وہ خوشبودار اَمانت بن کر ہمارے لئے محفوظ ہو جائے گا…جمعرات کے دن ہم
مسلمانوں کے سامنے اللہ کے لئے جھولی بھی پھیلائیں گے…اپنی ذات کے لئے نہیں…اللہ
تعالیٰ کے گھر اور دین کے لئے… تو یہ بھی خوشی اور سعادت کا موقع ہو گا…اسی مہم کے
دوران ہم چندے کے ساتھ ساتھ… مسلمانوں کو مسجد حاضری کی دعوت بھی دیں گے…یعنی اللہ
تعالیٰ کے بندوں کو اللہ تعالیٰ کے گھر کی طرف بلائیں گے…یہ بھی بڑی خوشی کی بات
ہو گی…اور ہم اس مہم کے دوران…اپنے محبوب رب کے گھروں یعنی مساجد کے فضائل بھی
سنائیں گے…سبحان اللہ! محبوب کے گھر کے قصیدے… اور محبوب کے گھر کی دیواروں کے
والہانہ بوسے…یہ بھی بڑی خوشی اور مسرت کا موقع ہو گا ان شاء اللہ…
آج منگل
کا دن ہے…پرسوں جمعرات ہے…یہ رحمتوں اور خوشیوں بھری مہم آ رہی ہے… خالص اللہ
تعالیٰ کی رضا کے لئے اپنے سجدے اور اپنے مال سے اس مہم کا آغاز کرنا ہے… ان شاء
اللہ…مکمل تیاری باندھ لیں…
اَنمول
موقع
اللہ
تعالیٰ کے وہ بندے جو اکیلے…پوری مسجد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے بنا لیتے ہیں…اُن
پر ہمیں رشک آتا ہے…کبھی دل سے دعا بھی نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسی
توفیق عطاء فرمائے… ایک سچے مومن کا عشق یا تو محاذ کے ساتھ ہوتا ہے یا مسجد کے
ساتھ…ہاں! ایک بات ضرور پوری زندگی مدنظر رہے…بعض لوگ اللہ تعالیٰ سے مال مانگتے
ہیں…یا اللہ! مال دے ہم جہاد پر لگائیں گے، مساجد بنائیں گے…کھانے کھلائیں گے…ان
کی دعا قبول ہو جاتی ہے…اور مال مل جاتا ہے اب وہ اپنے تمام عزائم اور ارادے بھول
کر…اس مال کے مرید بن جاتے ہیں…اسی کی خدمت میں زندگی برباد کرتے ہیں…اسے جمع
کرنے،بڑھانے،سنبھالنے اور محفوظ رکھنے کی فکر میں دن رات کاٹتے ہیں…ایسا مال دراصل
وبال ہوتا ہے…بلکہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ہوتا ہے…اور قرآن مجید میں منافق کا حال
مذکور ہے کہ…وہ اسی طرح مال مانگتا ہے کہ…یا اللہ! مال دے تاکہ تیری راہ میں
لگاؤں …جب مال مل جاتا ہے تو وہ بگڑ جاتا ہے…اس لئے جب بھی دین کی خاطر مال
مانگیں تو ساتھ توفیق بھی مانگیں…یا اللہ! دین پر خرچ کرنے کے لئے مال عطاء فرما
اور ساتھ اس مال کو دین پر خرچ کرنے کی ہمت ،صلاحیت اور توفیق بھی عطاء فرما…یا
اللہ! ایک مسجد بنانے کی خواہش ہے… خالص آپ کی رضا کے لئے پوری مسجد…یا اللہ! مال
عطاء فرما…اس مال سے مسجد بنانے کی توفیق عطاء فرما… اور اسے قبول فرما…اس طرح
دعاء ہو تو پھر ان شاء اللہ وبال اور عذاب سے حفاظت رہتی ہے… جماعت کی طرف سے جب
اس طرح کی کسی مہم کا اعلان ہوتا ہے تو…یہ ہمارے لئے بہترین موقع ہوتا ہے کہ… ہم
اپنی آخرت بنا لیں…اہل علم نے لکھا ہے کہ… اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں سے محبت
فرماتے ہیں…توبہ کے فضائل بے شمار ہیں…مگر توبہ کس کی قبول ہوتی ہے؟…
لکھا ہے
کہ …توبہ قبول ہونے کی بڑی علامات تین ہیں:
١ دل
اچھی صحبت کی طرف مائل ہو جائے…اور برے لوگوں کی صحبت سے دور بھاگنے لگے…
٢ نیک
اَعمال کی توفیق ملنے لگے…
٣ دنیا
کی محبت کم ہو جائے یا ختم ہو جائے…
اسی طرح
اَحادیث مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ…گناہوں کے فوراً بعد کوئی نیکی کر لی
جائے تو وہ نیکی ان گناہوں کو مٹا دیتی ہے…
ہم سب
الحمد للہ توبہ،استغفار کرتے رہتے ہیں…اور اس طرح کی مہم ہمارے لئے انمول موقع
ہوتی ہے کہ…ہم اپنی توبہ کو مقبول بنا لیں…
مساجد کی
محنت میں پہلا اِنعام اچھی صحبت ہے…ہم خود مساجد میں جائیں گے…مسلمانوں کو مساجد
کی طرف بلائیں گے…مساجد کے تعاون کی مجالس سجائیں گے تو…یہ سب اچھی صحبت کے مقامات
ہمیں نصیب ہو جائیں گے…دوسری علامت نیک اعمال کی توفیق…تو وہ بھی ان مہمات سے حاصل
ہو جاتی ہے… ہر مہم میں الحمد للہ جانی اورمالی نیک اَعمال جمع ہوجاتے ہیں… اور جب
ہم خود اپنا مال بھی لگاتے ہیں…اور مسلمانوں کو بھی مال لگانے کی ترغیب دیتے ہیں
تو اس سے…دنیا کی محبت کم ہو جاتی ہے…اللہ تعالیٰ اس مہم کو کامیاب فرمائے…قبول
فرمائے…اور اس میں ہمیں زیادہ سے زیادہ مقبول حصہ عطاء فرمائے…آمین یا ارحم
الراحمین
لا الہ
الا اللہ،لا الہ الا اللہ،لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل
علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ نے ہر عاقل،بالغ مسلمان مرد…اور مسلمان عورت پر ’’نماز ‘‘ کو فرض فرمایا
ہے…
وَاَقِیْمُو
الصَّلوٰۃ
حضور
اَقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو دین کا ستون قرار دیا اور
نماز چھوڑنے کو کفر قرار دیا…
فرمایا:
فَمَنْ
تَرَکَھَا فَقَدْ کَفَر
’’جس نے
نماز چھوڑ دی وہ کافر ہوا‘‘
حضرت
سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قرآن و سنت کی روشنی میں واضح
اعلان فرمایا:
لَا
حَظَّ فِی الْاِسْلَامِ لِمَنْ تَرَکَ الصَّلٰوۃَ
’’جو
نماز چھوڑے اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں‘‘…
آپ
بتائیں! جو اللہ تعالیٰ کو مانتا ہو…جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کو مانتا ہو…کیا وہ جان بوجھ کر ایک نماز بھی چھوڑ سکتا
ہے؟…نماز اسلام کا سب سے بڑا اور لازمی فریضہ…ایک تابعی فرماتے ہیں…حضرات صحابہ
کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کسی عمل کے چھوڑنے کو کفر نہیں سمجھتے
تھے مگر نمازکے چھوڑنے کو کفر قرار دیتے تھے…
آہ امت
مسلمہ! آج اکثر مسلمان نماز کے تارک ہو گئے…سچی بات ہے دل خون کے آنسو روتا
ہے…قرآن مجید نے کافروں کی صفت بیان کی :
وَاِذَا
قِیْلَ لَھُمُ ارْکَعُوْا لَا یَرْکَعُونْ
’’جب
انہیں کہا جاتا ہے کہ رکوع کرو تو وہ رکوع نہیںکرتے‘‘…
کیا روز
مسجد سے نہیں بلایا جاتا…حی علی الصلوٰۃ، حی علی الصلوٰۃ
آؤ
نماز ادا کرو…آؤ اپنے رب کے لئے رکوع،سجدے کرو…یہ آواز سن کر جو ٹس سے مس نہیں
ہوتے…وہ آخر کس عقیدے پر ہیں؟کس دین پر ہیں؟ …تمام ائمہ کرام کا اتفاق ہے کہ…جو
شخص نماز کی فرضیت کا منکر ہو وہ بالکل پکا کافر ہے…اور جو شخص نماز کو حقیرسمجھے
یا معمولی چیز سمجھے اور چھوڑ دے وہ بھی کافر ہے…
صرف اس
شخص کے بارے میں حضرات ائمہ کرام کا اختلاف ہے…جو نماز کو فرض سمجھتا ہو مگر اپنی
سستی اور غفلت کی وجہ سے ادا نہ کرتا ہو…احناف کے نزدیک وہ فاسق ہے، اسے کوڑے مارے
جائیں اور توبہ کرنے تک قید رکھا جائے…شوافع اور مالکیہ کے نزدیک وہ فاسق ہے اسے
قتل کر دیا جائے…کیونکہ نماز کاچھوڑنا بڑا جرم ہے…اور اس کی سزا موت ہے…حنابلہ کے
نزدیک وہ کافر،مرتد ہے…اسے مرتد ہونے کی وجہ سے قتل کر دیا جائے…اللہ کے بندو! یہ
سب کچھ نہ سختی ہے اور نہ شدت…یہ سب شفقت ہی شفقت ہے…بے نمازی کی موت بڑی دردناک
ہوتی ہے…یا اللہ! امان، یا اللہ! امان…بے نمازی کے جسم کا ہر بال اور ہر خلیہ
ناپاک اور نجس ہو جاتا ہے…یا اللہ! امان…یا اللہ! امان…بے نمازی کی قبر آگ کا
تندور اور عذاب کی بھٹی ہوتی ہے…یااللہ! امان، یا اللہ! امان… اور بے نمازی کے لئے
آخرت میں آگ ہی آگ ہے…اور عذاب ہی عذاب…
اب ایک
مسلمان کو ان تمام دردناک سزاؤں اور بُرے انجام سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ… اسے
نماز پر لایا جائے…آخر کلمہ پڑھنے کا کچھ تو مطلب ہو…جو اللہ تعالیٰ کی پہلی بات
ہی نہ مانے اس نے اللہ تعالیٰ کو کہاں مانا؟…جو رسول کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کے سب سے تاکیدی حکم کو نہ مانے…اُس کے دل میں رسول کریم
صلی اللہ علیہ وسلم کی آخر کیا حیثیت ہے؟…دل میں جن کا احترام
ہو اُن کے حکم کا بھی اِحترام ہوتا ہے…اور یہاں نماز کے بارے میں ایک حکم
نہیں…بلکہ بار بار تاکید ہے… بہت سخت تاکید ہے…حتیٰ کے بستر وفات پربھی یہی فکر
اور کڑھن ہے کہ…مسلمانو! نماز کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو…مسلمانو! نماز کے
بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو…سچی بات یہ ہے کہ جو لوگ خود کو مسلمان کہتے ہیں مگر
نماز ادا نہیںکرتے…وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف
پہنچاتے ہیں…کوئی والد اپنے بیٹے کو آٹھ، دس بار کوئی کام بتائے…بیٹا اپنی جگہ سے
ہلے بھی نہ تو والد کے دل پر کیا گذرے گی؟…حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کا حق والد سے بہت زیادہ ہے بہت زیادہ… آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے اپنے ہر امتی کو بار بار نماز کی طرف بلایا…سینکڑوں
ہزاروں بار بلایا…فضائل سنا کر بلایا…وعیدیں سنا کر بلایا…اور نماز کو دین کے لئے
ستون اور سر کی طرح قرار دیا… مگر کوئی شخص یہ سب کچھ سن کر بھی نہ اٹھے تو …اس نے
کتنا بڑا ظلم کیا…شیطان نے لوگوں کو بازار کی طرف بلایا…بازار کھچا کھچ بھر
گئے…شیطان نے لوگوں کو سینما اور کلبوں کی طرف بلایا…کھیل اور بے حیائی کے مقابلوں
کی طرف بلایا تو وہاں جگہ ملنا مشکل ہوگئی…حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم نے مسلمان کو مسجد کی طرف بلایا تو…مسجدیں خالی خالی نظر
آئیں…کیا یہ تکلیف پہنچانا نہیں؟…ہائے کاش! کوئی مسلمانوں کو سمجھائے…ایک وقت تھا
کہ …ملکِ مغرب کے علماء کا ایک اِجلاس ہوا…مسائل پر گفتگو تھی…ایک عالم نے تجویز
دی کہ…تارکِ صلوٰۃ یعنی نماز چھوڑنے والے مسلمان کے بارے گفتگو ہو جائے…آیا وہ
مسلمان ہے یا کافر؟…اُس کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی یا نہیں؟اس سے کسی مسلمان
عورت کا نکاح جائز ہے یا نہیں؟اس کا ذبیحہ حلال ہے یا نہیں؟…چونکہ ائمہ کرام کا
اختلاف ہے اس لئے علماء کی یہ مجلس اپنے ملک کے لئے…کسی ایک فتویٰ پر اتفاق کر
لے…یہ تجویز سن کر باقی علماء نے فرمایا…ملک میں یہ طبقہ موجود ہی نہیں…نماز
چھوڑنے والے کسی مسلمان کا یہاں تصور ہی نہیں…تو ایک فرضی مسئلہ پر ہم اپنا وقت
کیوں لگائیں…یہی وقت کسی اور مسئلہ پر گفتگو کر لیتے ہیں جس کا ہمارے ہاں وجود
ہو…سبحان اللہ! پورے ملک میں ایک بھی نماز چھوڑنے والا نہیں تھا…کہتے ہیں کہ یہ
ساتویں صدی ہجری کا قصہ ہے…اور آج…ہر طرف بے نمازی ہی بے نمازی…حکمران بے نمازی،
عوام بے نمازی…اور دُکھ کی بات یہ ہے کہ اتنا بڑا فریضہ چھوڑنے پر نہ کوئی شرم، نہ
کوئی ندامت…نہ کوئی خوف، نہ کوئی دکھ…حالانکہ نماز چھوڑنا…چوری،شراب نوشی اور زنا
سے بڑا گناہ ہے…مگر اب ہماری اشرافیہ میں اسے گناہ نہیں سمجھا جاتا…حالانکہ قرآن
مجید نہایت صراحت کے ساتھ سمجھاتا ہے کہ نماز چھوڑنا کافروں کا کام…مشرکوں کا
طریقہ ہے اور منافقوں کی عادت ہے…ایک آیت نہیں…سینکڑوں آیات میں نماز کا حکم
موجود ہے… اور نہایت تاکید کے ساتھ موجود ہے…آہ! مسلمانوں کی حالت دیکھ کر دل
روتا ہے کہ …نماز تک سے محروم ہو گئے…نماز ہی تو کلمہ طیبہ کے سچا ہونے کی پہلی
دلیل ہے…اب معلوم نہیں کہ دل میں کلمہ بھی باقی ہے یا وہ بھی رخصت ہو چکا…وہ
مسلمان جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے نماز ادا کرتے ہیں وہ اس نعمت پر بہت شکر ادا
کریں…آج جب مسجد جائیں اور نماز ادا کر لیں تو …دل کی گہرائی سے آنسو بہا بہا کر
اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ… یا اللہ! اتنی عظیم نعمت عطا فرما دی…جس کے
والدین نمازی ہوں وہ اس پر شکر ادا کرے… جس کی بیوی نمازی ہو وہ اس پر شکر ادا
کرے…جس کی اولاد نمازی ہو وہ اس پر شکر ادا کرے… ہر نماز کے بعد والہانہ شکر اور
جو نمازیں رہ گئیں ان کی قضاء…اور اگلی نمازوں کے لئے دعاء کہ یا اللہ! جتنی رہ
گئی ہیں …وہ سب آسان فرما ،قبول فرما…مسجد میں تکبیر اولیٰ کے ساتھ نصیب فرما…
قیامت کے دن پہلا سوال نماز کا ہو گا…نماز ٹھیک نکلی تو باقی پرچہ آسان ہو جائے
گا… اور اگر نماز ہی میں فیل ہو گئے تو پھر آگے سوائے ناکامی کے اورکوئی بات نہ
ہو گی…ارے! بنیادی سوال ہی حل نہ کیا تو کوئی لاکھ خوشخطی دکھا دے کوئی نمبر ملنے
والے نہیں…نماز کی محنت کا آغاز اپنی ذات سے کریں…نماز سمجھیں،نماز سیکھیں،نماز
درست کریں…اور نماز سے سچا عشق کریں… خواتین خاص طور پر فکر کریں…اور ہر نماز اول
وقت میں ادا کریں…بنات کے جامعات بن گئے مگر نماز کا معاملہ کمزور پڑ گیا…فجر میں
سستی عام ہو گئی…اے مسلمان بہن! کیا نماز کے بغیر بھی کوئی زندگی ہے؟…کیا نماز کے
بغیر بھی کوئی کامیابی ہے؟…اپنی ذات پر محنت کے بعد پھر اپنے گھر پر محنت کریں…جو
کچھ بھی کرنا پڑے کر لیں کہ گھر میں کوئی بے نمازی نہ رہے… کسی کے پاؤں پکڑنے
پڑیں تو پکڑ لیں…کسی کے سامنے رونا پڑے تو دریا بہا دیں…کسی کے بیٹے کو پھانسی کی
سزا ہو جائے… وہ اس سزا کو ختم کرانے کی کتنی کوشش کرتا ہے؟…حالانکہ پھانسی دو منٹ
کی تکلیف ہے…جبکہ بے نمازی کے لئے …بہت بڑی آگ ہے،بہت طویل عذاب اور بہت سخت
لعنت…جو اپنی اولاد کو اس آگ، اس عذاب اور اس لعنت سے نہ بچا سکا…اس نے اولاد کے
ساتھ کیا خیر خواہی کی؟…اپنے گھر کے بعد پھر عام مسلمانوں میں نماز کی دعوت ہے…بہت
درد بھری، بہت جاندار، اوربہت تڑپتی ہوئی دعوت…یہ دعوت چل پڑی تو سب سے پہلا فائدہ
خود دعوت دینے والے کو پہنچے گا…حضرات مجاہدین…نماز کا بہت خیال رکھیں…جاندار نماز
کے بغیر جہاد میں جان نہیں پڑتی…اپنے مراکز میںنماز کا بہت اہتمام کرائیں…اللہ
تعالیٰ کا شکر ہے کہ ان دنوں سات مساجد کی مہم چل رہی ہے…اسی مہم کی روشنی میں
اقامت صلوۃ کی محنت بھی کر لیں…کیا معلوم آپ کی دعوت…آپ کے نامہ اعمال میں کسی
مسلمان کے ہزاروں سجدے ڈال دے…اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت پیارا نصاب عطاء فرمایا ہے…
کلمہ
طیبہ، اقامت صلوۃ…اور جہاد فی سبیل اللہ…یا اللہ! آپ کا شکر ہے…بے حد شکر…
الحمد
للہ، الحمد للہ، الحمد للہ
لا الہ
الا اللہ،لا الہ الا اللہ،لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل
علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ ’’غافر‘‘ ہے، ’’غفور‘‘ ہے اور ’’غفّار‘‘ ہے…
بخشنے
والا…مکمل بخشش اور مغفرت فرمانے والا…اور بار بار بخشنے والا…
اللہ
تعالیٰ ’’سَاتِرْ‘‘ ہے، ’’سَتِّیر‘‘ ہے اور ’’سَتَّار ‘‘ ہے…
عیبوںپرپردہ
ڈالنے والا…برائیوں اور کمزوریوں کو چھپانے والا…عیب دار انسانوں پر اچھائی کے
پردے ڈالنے والا…
یہ اللہ
تعالیٰ کے چھ اسماء الحسنی…پیارے پیارے نام ہمارے سامنے آ گئے…
اَلْغَافِرُ…اَلْغَفُوْرُ…اَلْغَفَّارُ…اَلسَّاتِرُ،
السَّتِّیْرُ، اَلسَّتَّارُ…
اب نہایت
ادب، بے حد توجہ اور عاجزی سے پکاریں…
یَا
غَافِرُ…اے بخشنے والے…
یَاغَفُوْرُ…اے
مکمل مغفرت فرمانے والے…
یَا
غَفَّارُ…اے بار بار بخشش اور معافی دینے والے…
اِغْفِرْلِیْ…اِغْفِرْلِیْ…اِغْفِرْلِیْ…
میری
مغفرت فرما…مجھے بخش دے … مجھے مغفرت عطاء فرما…
یَا
سَاتِرُ…اے چھپانے والے…
یَا
سَتِّیْرُ…اے پردہ ڈالنے والے…
یَا
سَتَّارُ… اے ہر طرح کی کمزوریوں اور عیبوں کو ڈھانپنے والے…
اُسْتُرْ
عَوْرَاتِنَا وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا
ہماری
کمزوریوں پر اپنا پردہ ڈال دے اور ہمارے خوف پر اپنا امن ڈال دے…
پہلے تین
نام قرآن مجید میں آئے ہیں…
١ الغافر… یہ
ایک مقام پر آیا ہے ( غافر الذنب)…
٢ الغفور… یہ
قرآن مجید میں اکیانوے (۹۱) بار آیا
ہے…
٣ الغفّار… یہ
قرآن مجید میں پانچ بار آیا ہے…
گویا
قرآن مجید میں مغفرت کا یہ نور … مسلمانوں پر ستانوے بار برسا…اگر ایک بار بھی
برستا تو تمام اہل ایمان کی مغفرت کے لئے کافی تھا …مگر یہاں تو’’ربّ غفور‘‘ کی
مغفرت کا سمندر ہے،پورا سمندر…اسی لئے تو اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت سے مایوس
ہونا…بہت بڑا گناہ ہے،جی ہاں! اللہ تعالیٰ بچائے کبیرہ گناہ ہے…حضرت امام قرطبیؒ
نے اپنی تفسیر میں وہ احادیث اوراقوال جمع فرمائے ہیں، جن میں ’’کبائر‘‘ یعنی
کبیرہ گناہوں کی تفصیل ہے…سات سے لے کر سات سو تک…مگر حضرت عبد اللہ بن
مسعود رضی اللہ عنہ کا ایک فرمان یہ ہے کہ …کل کبیرہ گناہ
چار ہیں…
١ اَلْیَأسُ
مِنْ رَوْحِ اللّٰہِ… اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مدد سے مایوس ہو جانا…
٢ اَلْقَنُوْطُ
مِنْ رَحْمَۃِ اللّٰہِ…اللہ کی مغفرت اور رحمت سے نا امید ہو جانا…
٣ وَالْأمْنُ
مِنْ مَکْرِ اللّٰہِ…اللہ تعالیٰ کی پکڑ اور خفیہ تدبیر سے بے خوف ہو جانا…
٤ وَالشِّرْکُ
بِاللّٰہِ…اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا…
کچھ لوگ
گناہ کرتے ہیں اور گناہوں کی دلدل میں پھنستے جاتے ہیں…پھر جب خود کو ہر طرف سے
گناہوں میں لتھڑا ہوا پاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مکمل طور پر مایوس ہو
کر…نہ استغفار کرتے ہیں اور نہ توبہ…وہ کہتے ہیں کہ ہم تو گناہوں سے نکل ہی نہیں
سکتے…زبانی توبہ کا کیا فائدہ؟…ہمیں استغفار سے شرم آتی ہے کہ بار بار توبہ توڑ
تے ہیں…بظاہر یہ اچھی سوچ ہے مگر حقیقت میں شیطانی نظریہ اور سوچ ہے…یہ اللہ
تعالیٰ سے مکمل طور کٹ کر شیطان کی گود میں گرنے کا اعلان ہے…یہ اللہ تعالیٰ کی
صفت مغفرت اور قوت مغفرت کا انکار کرنا ہے…کون سا گناہ اللہ تعالیٰ سے بڑا ہے…کون
سا گناہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت سے زیادہ وسیع ہے؟…اللہ تعالیٰ جب مغفرت دینے پر آ
جائے تو ایسی قوت والی مغفرت دیتا ہے کہ…گناہوں کے تمام اثرات تک مٹ جاتے ہیں…اگر
کسی کے گناہوں کا دائرہ بہت وسیع ہو گیا…گناہوں کے انڈے بچے دور دور تک پھیل
گئے…تب بھی اللہ تعالیٰ کی مغفرت جب آتی ہے تو اُن تمام گناہوں اور ان کے اثرات
کو ختم کر دیتی ہے…اور جو حقوق گناہگار کے ذمہ لوگوں کے ہوتے ہیں…وہ بھی ادا کروا
دیتی ہے…اور جن گناہوں کا داغ بہت گہرا ہو… ان کی جگہ گہری نیکیوں کی توفیق لے
آتی ہے…
ایک
آدمی کروڑوں روپے کی خیانت کر کے …سچی توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کو اربوں
روپے دے دیتے ہیں کہ وہ کروڑوں کی خیانت بھی واپس کر آئے اور مزید کروڑوں کے
صدقات جاریہ بھی چھوڑ آئے…اللہ تعالیٰ کوئی معمولی معافی دینے والے نہیں…غفور ہی
غفور…غفّار ہی غفّار … حضرت وحشی رضی اللہ عنہ جنہوں نے
حضرت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کا جرم کیا
تھا…توبہ کرنے اور توبہ قبول ہو جانے کے باوجود غم میں کڑھتے تھے تو …ربّ غفور نے
انتظام فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کے ایک بڑے دشمن کو قتل کرنے کی سعادت عطا فرما
دی… تاکہ دل کا بوجھ ہلکا ہو جائے…ارے! سچے دل سے معافی تو مانگو،سچے دل سے توبہ
کے دروازے پر تو آؤ…اللہ تعالیٰ غافر و غفور ہے…مغفرت کے اصل معنیٰ پردہ
ڈالنے،ڈھانپنے اور چھپانے کے آتے ہیں… پرانے زمانے کی جنگوں میں سرپر جو لوہے کی
ٹوپی پہنی جاتی تھی…اسے ’’مغفر‘‘ کہتے تھے…وہ سر کو حفاظت سے ڈھانپ لیتی تھی…اسی
طرح اللہ تعالیٰ کی مغفرت انسان کو گناہوں کے ہر شر سے … دنیا اورآخرت میں محفوظ
کر دیتی ہے…ڈھانپ لیتی ہے…اہل دل فرماتے ہیں کہ…گناہ ایک ظلم ہے جو انسان اپنی ذات
پر ڈھاتا ہے…پھر گناہگار تین قسم ہیں:
١ ظالم…یعنی
عام گناہگار
٢ ظلوم…بڑے
سخت گناہگار
٣ ظلّام…یعنی
بار بار گناہوں میں گرنے والے
مگر اللہ
تعالیٰ کی رحمت دیکھیں کہ …جو بندے ’’ظالم‘‘ ہیں اللہ تعالیٰ ان کے لئے ’’غافر‘‘
ہے…بخشنے والا…جو ’’ظلوم‘‘ ہیں یعنی سخت گناہگار…ان کے لئے اللہ تعالیٰ ’’غفور‘‘
ہے…یعنی ’’ٹھاٹھ‘‘ کی مغفرت دینے والا…اور جو ’’ظلّام ‘‘ ہیں بار بار گناہ کرنے
والے ان کے لئے اللہ تعالیٰ ’’غفار‘‘ ہے…بار بار بخشش فرمانے والا…تم دل سے بخشش
مانگو تو سہی…مغفرت مانگنے اور بخشش طلب کرنے کو ہی استغفار کہتے ہیں …دل کی ندامت
کے ساتھ استغفار…بات یہ چل رہی تھی کہ… اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت سے نا امید
ہونا یہ بڑا سخت کبیرہ گناہ ہے…دوسری طرف کچھ لوگ (نعوذباللہ) اللہ تعالیٰ سے
بدگمان ہو جاتے ہیں…وہ دنیا میں تکلیفیں اور مصیبتیں دیکھ دیکھ کر شیطان کے اس جال
میں پھنس جاتے ہیں کہ…اللہ تعالیٰ (نعوذ باللہ) نہیں سنتا…اللہ تعالیٰ مدد نہیں
فرماتا… تو ایسا نظریہ بنا لینا بھی سخت کبیرہ گناہ ہے…اللہ تعالیٰ ضرور سنتا ہے
اور وہ نصرت بھی فرماتا ہے…مگر جلد باز انسان اس کی نصرت کے انداز کو ہمیشہ نہیں
سمجھ سکتا…وہ سمجھتا ہے کہ نصرت نہیںآ رہی…حالانکہ نصرت آئی ہوئی ہوتی ہے…اگر وہ
نہ آتی تو معلوم نہیں انسان کا کیا حشر ہوتا…یہاں ایک ضروری بات یاد رکھیں … اگر
اپنے ایمان کی سلامتی چاہتے ہیں تو …غیر مسنون وظیفے اور عملیات زیادہ نہ
کریں…عامل بننے کا شوق دل سے نکالیں …مومن اور تائب بننے کا شوق دل میں بسائیں…اگر
کوئی مرشد کامل نصیب ہے تو پوچھ پوچھ کر وظائف کریں…اگر مرشد کامل نصیب نہیں تو…
تلاوت قرآن پاک …نوافل…نفل روزے،صدقہ…کلمہ طیبہ، استغفار، درودشریف… اور تیسرے
کلمہ میں لگے رہیں…یعنی فرض عبادت کے بعد جو وقت ملے …ان میں بس یہی اعمال کریں
اور مسنون دعاؤں کا اہتمام…ان کے لئے نہ کسی مرشد کی اجازت ضروری… اور نہ ان میں
کوئی خطرہ … باقی وظائف یا تو آخر میں مایوسی کی طرف کھینچ لیں گے…یا نعوذ باللہ
اپنی ذات کا تکبر دل میں آ جائے گا جو تمام بیماریوں کی جڑ…اور مہلک کینسر ہے…
حضرت
سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ …ذی النورین تھے، جنت کی پکی بشارت رکھتے
تھے … آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب
تھے…سخاوت کے تاجدار تھے…صدقات جاریہ کے امام تھے … حیاء میں اپنی مثال آپ
تھے…مگر قبر پر جاتے تو زاروقطار روتے اور عذاب قبر کے خوف سے تھر تھر کانپتے… پھر
ہمیں یہ کیفیت کیوں نصیب نہیں ہوتی؟…ہمیں قبر کا خوف ایک آنسو تک نہیں رلاتا…
معلوم ہوا کہ دل اور نفس میں خرابی اور تکبر ہے …اسی لئے حضرت ابن
مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ…اللہ تعالیٰ کی دنیا اور
آخرت میں پکڑ سے بے خوف ہو جانا بھی کبیرہ گناہ ہے…یہ حالت بری صحبت سے بھی بن
جاتی ہے… اور زیادہ غیر شرعی وظائف سے بھی کہ…انسان کو اپنے اصل مسائل موت،
قبر،حشر اور آخرت کی فکر نہیں رہتی…اسی لئے جو وقت وظائف میں لگتا ہے…وہ سچے
استغفار میں لگ جائے… استغفار کی برکت سے اللہ تعالیٰ انسان کی حالت تبدیل فرما
دیتے ہیں…حضرت سیّدہ مطہرہ اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں
ایک عورت آئی …اور مسئلہ پوچھنے کے انداز میں اپنے گناہ کا تذکرہ کر گئی…شاید کسی
نے احرام کی حالت میں اس کی پنڈلی کو پکڑا یا چھوا تھا…اس نے جیسے ہی یہ بات
بتائی…حضرت اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہانے فوراً چہرہ پھیر لیا اور
فرمایا:
’’رک
جاؤ، رک جاؤ، رک جاؤ‘‘
اور پھر
ارشاد فرمایا:’’ اے ایمان والی عورتو! اگر تم میں سے کسی سے کوئی گناہ ہو جائے تو
وہ دوسروں کو نہ بتائے…بلکہ فوراً اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے، استغفار کرے اور
اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کرے … یاد رکھو!بندے عار میں ڈالتے ہیں بدل نہیں سکتے
…جبکہ اللہ تعالیٰ بدلتا ہے…عار میں نہیں ڈالتا‘‘… یعنی تم اپنے گناہ لوگوں کو
بتاؤ گی تو لوگ تمہارے اس گناہ کو مٹا نہیں سکتے…نہ تمہاری حالت کو تبدیل کر سکتے
ہیں…اور نہ گناہ کے شر اور نقصانات سے تمہیں بچا سکتے ہیں…ہاں! البتہ وہ تمہیں عار
اور شرمندگی میں ضرور ڈال سکتے ہیں… جب بھی اُن کو موقع ملا وہ تمہیں اس گناہ کی
وجہ سے رسوائی،شرمندگی اور بدنامی میں مبتلا کر سکتے ہیں …جبکہ اللہ تعالیٰ نہ
شرمندہ کرتے ہیں،نہ بدنام فرماتے ہیں اور نہ عار دلاتے ہیں…بلکہ وہ تمہاری بری
حالت کو اچھی حالت میں تبدیل فرما دیتے ہیں …وہ تمہیں گناہ کے نقصانات سے بچا لیتے
ہیں …وہ ’’العفو‘‘ ہیں…معاف فرمانے والے… کہ اس گناہ کو مٹا دیتے ہیں… اور
’’الغفور‘‘ ہیں کہ اس گناہ کو چھپا لیتے ہیں اور بعض اوقات تو ایسی رحمت اور
تبدیلی فرماتے ہیں کہ …خود گناہگار بندے کو بھی…اپنا گناہ یاد نہیں رہتا…گویا کہ
گناہ کا ہر طرف سے نام و نشان ہی مٹ گیا…نہ وہ نامۂ اعمال میں باقی رہا، نہ وہ
لکھنے والے فرشتے کو یاد رہا…نہ وہ اُس زمین کو یاد رہا جس پر وہ ہوا تھا …نہ وہ
اُن اعضاء کو یاد رہا جن سے وہ گناہ کیا تھا … اور نہ خود گناہگار بندے کو یاد
رہا… ایسا فضل اور ایسی مغفرت اور کون کر سکتا ہے؟…زندگی کے سانس چل رہے ہیں…سورج
مشرق سے طلوع ہو رہا ہے…توبہ کا دروازہ کھلا ہے…بھائیو! کثرت استغفار، بہت
استغفار، سچا استغفار…
اچھی
توبہ،خالص توبہ،سچی توبہ ،پکی توبہ
سُبْحَانَکَ
اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ نَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ نَسْتَغْفِرُکَ
وَنَتُوْبُ اِلَیْکَ، نَسْتَغْفِرُکَ وَنَتُوْبُ اِلَیْکَ،نَسْتَغْفِرُکَ
وَنَتُوْبُ اِلَیْکَ…
لا الہ
الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللہ
اللہم صل
علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ،
اللہ…اللہ تعالیٰ میرا رب ہے…میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا…
اَللّٰہُ
اَللّٰہُ رَبِّیْ لَا اُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا
دو باتیں
آج کی
مختصر سی مجلس میں بس دو باتیں ہیں…
پہلی یہ
کہ ایک بہت قیمتی اور طاقتور دعاء یاد کر لیں…یہ دعاء رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم نے خاص طور پر اپنے گھر والوں کو سکھائی…اور پھر ساری امت
کو سکھائی…
اَللّٰہُ
اَللّٰہُ رَبِّیْ لَا اُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا
’’اللہ
اللہ میرا رب ہے…میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتا‘‘
دوسری
بات یہ کہ…بہت اہم نکتہ دل میں بٹھا لیں کہ…جب ہم اللہ تعالیٰ کے سوا ہر طاقت کا
انکار کر دیں گے تو…ساری طاقتیں خودبخود ’’ بے طاقت‘‘ ہو جائیں گی…حضرت
ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا… میں اللہ تعالیٰ کو مانتا
ہوں…نمرود کو نہیں…بس جیسے ہی دل کی گہرائی سے نمرود کی طاقت کا انکار
فرمایا…نمرود، اس کی حکومت اور اس کی آگ… سب بے طاقت ہو گئیں…ارے! ہر کسی کو مانو
تو ہر کوئی نقصان پہنچاتا ہے…اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہ مانو تو کوئی بھی
کچھ نہیںبگاڑ سکتا…
اللہ کا
بندہ
آپ نے
اپنے اردگرد یہ جملہ بہت سنا ہو گا کہ …فلاں آدمی کی بہت چلتی ہے…وہ وزیر اعظم کا
بندہ ہے…فلاں آدمی کو پولیس کچھ نہیں کہتی وہ کور کمانڈر کا بندہ ہے…فلاں شخص سے
تو انتظامیہ بھی ڈرتی ہے وہ گورنر کا بندہ ہے…بہت پہلے کی بات ہے کہ حج ویزہ کے
سلسلہ میں ایک سرکاری دفتر جانا ہوا تھا…وہاں موجود وزیر صاحب نے ایک شخص کو
ملاقات کے لئے جلد بلا لیا…وجہ یہ تھی کہ وہ کسی جنرل کا بندہ تھا…اندازہ
لگائیں…کسی طاقتور کا بندہ ہونا کتنے کام کی چیز ہے…
اب جو
شخص اللہ تعالیٰ کا بندہ ہو…بلکہ صحیح معنی میں وہ اللہ تعالیٰ کا بندہ بن جائے تو
اس کی طاقت کتنی ہو گی؟…وزیر اعظم کے بندے کو وزیر اعظم سے چھوٹے عہدیدار کوئی
نقصان نہیں پہنچا سکتے … جو اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوگا اسے اللہ تعالیٰ سے چھوٹے
افراد کس طرح کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں؟…اور اللہ تعالیٰ سے تو سب چھوٹے
ہیں…وزیراعظم سے بڑے بہت سے ہو سکتے ہیں…مگر اللہ تعالیٰ سے بڑا کوئی بھی
نہیں…اللہ اکبر، اللہ اکبر…اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے…
اس لئے
دعاء کا پہلا حصہ ہی یہی ہے…’’ اللہ اللہ ربی‘‘…اللہ تعالیٰ میرا رب ہے…اور میں اس
کا بندہ ہوں…سبحان اللہ…اللہ کا بندہ …اللہ کا بندہ… اللہ کا بندہ
جب کوئی
شدت،پریشانی ،مصیبت آئے
حضرت
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ…رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا:
اِذَا
اَصَابَ اَحَدَکُمْ ھَمٌّ اَوْلَاْوَاءٌ فَلْیَقُلْ:
اَللّٰہُ
اَللّٰہُ رَبِّیْ لَا اُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا
جب تم
میں سے کسی کو کوئی پریشانی یا سختی پیش آئے تو وہ کہے:
اَللّٰہُ
اَللّٰہُ رَبِّیْ لَا اُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا
’’
ھَمّ‘‘ کہتے ہیں فکرمندی، پریشانی … الجھن،بے چینی…یا آج کل کے الفاظ میں تفکرات
اور ٹینشن…
’’لَاْوَاء
‘‘ کا معنی ہے…شدت، سختی، مصیبت… رزق یا زندگی کی تنگی…ان دو تکلیفوں کا علاج یہ
فرمایا کہ…اعلان کر دو کہ میں اللہ کا بندہ ہوں…اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں
مانتا … دراصل ہمارے اندر توحید کی کمی آتی ہے تو ساتھ خوف،غم،پریشانیاں اور
مصیبتیں لاتی ہے…دل میں توحید موجود ہو تو دل اپنے مرکز کے ساتھ جڑا رہتا ہے…اور
اس میں کسی کا خوف نہیں آتا … مثال لے لیجئے… جو لوگ امریکہ سے ڈرتے ہیں …وہ دن
رات امریکہ کی غلامی اور ذلت کا خوف اٹھاتے ہیں… اور جو نہیں ڈرتے ان کے لئے گویا
امریکہ موجود ہی نہیں ہے…آپ کبھی محاذ جنگ پر جا کر وہاں موجود مجاہدین کی خوشی،
بے فکری اور اطمینان دیکھ لیں تو حیران رہ جائیں گے…اس سے بھی زیادہ عام سی مثال
لے لیں…جو لوگ جنات کو حد سے زیادہ مانتے ہیں…ان سے ڈرتے ہیں،ان کو طاقتور سمجھتے
ہیں…وہی بتاتے ہیں کہ جنات ان کو ہر وقت چمٹے رہتے ہیں…ان کو ستاتے ہیں… ان کے
گھروں پر حملے کرتے ہیں…لیکن جو جنات کو نہیں مانتے…نہ ماننے کا مطلب یہ کہ ان کو
کوئی بڑی طاقت یا مؤثر قوت نہیںمانتے…آپ نے کبھی نہیں سنا ہو گا کہ کوئی جن ان
کے قریب بھی کبھی آیا ہو…ارے بھائیو! اور بہنو!اللہ کے سوا کسی پتھر کو بھی مانو تو
وہ بھی … خدا بننے کی کوشش میں سیدھا سر پر آ لگتا ہے…کسی کتے کو بھی طاقتور مانو
تو وہ اچھل اچھل کر بھونکتا ہے اور کاٹنے کو دوڑتا ہے…اس لئے ضروری ہے کہ …دل میں
توحید کو مضبوط کیا جائے…بس صرف ایک اللہ کو مانو…اور باقی سب سے کہہ دو کہ …
نہیںمانتے،نہیں مانتے…لا الہ الا اللہ،لا الہ الا اللہ…اللہ ہی خالق، اللہ ہی نفع
و نقصان کا مالک …باقی سب مخلوق،باقی سب فانی…
اَللّٰہُ
اَللّٰہُ رَبِّیْ لَا اُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا
کوئی
لاکھ اچھلے،کودے،چیخے،دھاڑے کہ مجھے مانو…مجھے مانو…اس کو صاف بتا دیں کہ… جی
بالکل نہیں مانتے…بالکل نہیں مانتے … بالکل نہیں مانتے…نہ کسی پتھر کو نہ مورتی
کو…نہ کسی ستارے کو نہ کسی سیارے کو…نہ کسی طاقت کو نہ کسی قوت کو…نہ کسی جن کو نہ
کسی سائے کو…نہ کسی قبر کو نہ کسی آستانے کو…نہ کسی پنڈت کو نہ کسی نجومی کو…نہ
کسی مہاراج کو، نہ کسی گوروگھنٹال کو … نہ کسی ٹونے باز کو نہ کسی جادوگر کو…نہ
ماننے کا مطلب یہ نہیں کہ ان کا وجود ہی نہیں…وجود تو ہے …مگر مؤثر نہیں…نفع و
نقصان کا مالک نہیں … شر اور خیر کا فیصلہ کرنے والا نہیں…یہ سب محتاج یہ سب کمزور
یہ سب فانی…میں تو اللہ کا بندہ ہوں …صرف ایک اللہ کا…اسی کے سامنے جھکتا ہوں…اسی
سے مانگتا ہوں…صرف اسی کو مانتا ہوں…
اَللّٰہُ
اَللّٰہُ رَبِّیْ لَا اُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا
کرب اور
خوف کے وقت
حضرت
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہاسے روایت ہے…کہتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اَلَا
اُعَلِّمُکَ کَلِمَاتٍ تَقُوْلِیْھِنَّ عِنْدَ الْکَربِ اَوْ فِی الْکَربِ
’’کیا
میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھا دوں جو تم مصیبت کے وقت ،یا مصیبت میں کہا کرو؟‘‘
اَللّٰہُ
اَللّٰہُ رَبِّیْ لَا اُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا
’’اللہ،اللہ
ہی میرا رب ہے۔ میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتی‘‘
سبحان
اللہ! جو انسان توحید خالص کے قلعہ میں پہنچ جائے…اسے کون تکلیف پہنچا سکتا ہے؟…
الکرب
یعنی غم،مصیبت،تنگی…ہر وہ حالت جو انسان کو تکلیف اور پریشانی میں ڈال دیتی ہے…
ایک عجیب
واقعہ
ایک
مشہور محدث گزرے ہیں…عبد الرحمن بن زیاد رحمۃ اللہ علیہ …یہ اپنے رفقاء کے ساتھ
سمندری سفر میں تھے کہ رومیوں نے انہیں قید کر لیا…مسلمانوں اور رومیوں کی جنگیں
چلتی رہتی تھیں…چنانچہ یہ بھی جنگی قیدی بنا لئے گئے…اسی قید کے دوران رومیوں کا
تہوار آیا تو بادشاہ کے حکم سے ان مسلمان قیدیوں کو بھی اس دن…اچھا کھانا دیا گیا
اور وہ بھی زیادہ مقدار میں…بادشاہ کی مقرب ایک عورت دربار میں پہنچی اور چیخنے
چلانے لگی کہ…ان مسلمانوں نے میرے بیٹے،خاوند اور بھائی کو قتل کیا ہے اور تم ان
قاتلوں کی دعوتیں کر رہے ہو…اس نے اپنے بال نوچ کر ایسا غمناک ماتم کیا کہ بادشاہ
بھی غصہ میں آ گیا اور کہنے لگا کہ…ان تمام قیدیوں کو لاؤ اور ایک ایک کر کے
میرے سامنے قتل کرو…قیدی لائے گئے اور جلاد نے انہیں قتل کرنا شروع کیا…جب وہ حضرت
عبد الرحمن بن زیاد رحمۃ اللہ علیہ کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا:
اَللّٰہُ
اَللّٰہُ رَبِّیْ لَا اُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا
’’اللہ،اللہ
میرا رب ہے، میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا‘‘
سبحان
اللہ! سزائے موت کا وقت جب لوگ جان بچانے کے لئے ہر سہارا ڈھونڈتے ہیں … ہر ظاہری
طاقت کے قدموں میں گرتے ہیں…ہر صاحب اختیار کی منتیں کرتے ہیں…اور ہر کسی کی طرف
رحم طلب نگاہوں سے دیکھتے ہیں…حضرت عبد الرحمن فرما رہے تھے کہ…اس وقت بھی میں
اللہ تعالیٰ کے سوا کسی طاقت کو نہیں مانتا…اس وقت بھی میںاللہ تعالیٰ کے سوا کسی
کی طرف نہیں دیکھتا… اس وقت بھی میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے سامنے نہیں
جھکتا…میں تو اللہ کا بندہ ہوں … زندہ رہوں تب بھی اس کا بندہ…اور مر جاؤں تب بھی
اس کا بندہ…وہ مجھے ان کافروں کے ہاتھوں موت دے تب بھی وہ میرا رب…وہ مجھے بچا دے
تب بھی وہ میرا رب…یہ جہان بھی اس کا اور وہ جہان بھی اس کا…زندگی بھی اس کا عطیہ
… اور موت بھی اس کا تحفہ…ہماری زندگی میں بھی وہی سب کچھ…اور ہمارے مرنے کے بعد
بھی وہی سب کچھ…
اَللّٰہُ
اَللّٰہُ رَبِّیْ لَا اُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا
انہوں نے
جیسے ہی توحید کے یہ عاشقانہ الفاظ پڑھے،بادشاہ نے فوراً جلاد کو روک لیا اور کہا
مسلمانوں کے اس عالم کو میرے پاس لاؤ … خلاصہ یہ کہ ان کو اور ان کے باقی رفقاء
کو باعزت رہا کر دیا گیا…غور کریں…جس وقت بادشاہ کی طاقت اندھا ناچ ناچ رہی
تھی…اور بادشاہ کے جلاد کی تلوار گردنیں کاٹ رہی تھی…رسیوں میں بندھے ہوئے ایک مرد
مؤمن نے…بادشاہ کی طاقت کا انکار کر دیا کہ…میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا…تو
اللہ تعالیٰ نے اس بادشاہ کو ان کے لئے ’’ بے طاقت‘‘ فرما دیا…
اَللّٰہُ
اَللّٰہُ رَبِّیْ لَا اُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا
مبارک
مصیبتیں
مسلمان
پر تکلیف اور مصیبت اس لئے آتی ہے تاکہ اس کے گناہ معاف ہو جائیں اور وہ خالص ایک
اللہ کی طرف رجوع کر کے…ایمان اور کامیابی کے بڑے بڑے درجات حاصل کر لے… ایک بزرگ
کا فرمان ہے:
’’اے ابن
آدم! تمہاری وہ حاجتیں اور مصیبتیں کتنی برکت والی ہیں جن میں تم بار بار اپنے
مالک کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہو‘‘…
ایک اور
اللہ والے فرماتے ہیں:
’’جب
مجھے کسی تکلیف اور مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ سے مناجات کی لذت ملتی ہے…اور ایک
اللہ سے مانگنے کی حلاوت دل میں اترتی ہے تو …میں چاہتا ہوں کہ کاش یہ مصیبت جلد
دور نہ ہو …یہ حاجت جلد پوری نہ ہو…تاکہ مجھے اپنے مولیٰ، اپنے مالک اور اپنے
محبوب کے دروازے پر اور زیادہ دیر بھیک مانگنے کی لذت ملتی رہے‘‘…
اسی لئے
یہ مقولہ بھی مشہور ہے کہ … مصیبت،مخلص بندے کو اللہ تعالیٰ سے ملا دیتی ہے
…کیونکہ مخلص بندہ…نہ حکومتوں کے سامنے جھکتا ہے…نہ مخلوق میں سفارشیں ڈھونڈتا
ہے…نہ پتھروں اور آستانوں سے مدد مانگتا ہے…اور نہ دنیا کے طاقتور لوگوں کو سہارا
بناتا ہے…وہ تو بس ایک مالک،ایک خالق ،ایک مولیٰ…یعنی اللہ تعالیٰ سے مانگنے میں
مشغول ہو جاتا ہے…اور مانگتے مانگتے اپنے مالک کے قریب ہوتا جاتا ہے…ارے! محبوب
مالک کا قرب مل جائے تو اور کیا چاہیے … سب بھائی اور بہنیں…اس دعا کو یقین کے
ساتھ یاد کریں…
اَللّٰہُ
اَللّٰہُ رَبِّیْ لَا اُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا
اور
موجودہ حالات میں وجد کے ساتھ پڑھا کریں…
اَللّٰہُ
اَللّٰہُ رَبِّیْ لَا اُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا
لا الہ
الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل
علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ کا شکر ہے…الحمد للّٰہ رب العٰلمین…اللہ کی نعمتیں بے شمار ہیں…انسان کے
نفس پر پریشانیوں اور وساوس کا حملہ ہو جاتا ہے …اور وہ سمجھتا ہے کہ مجھ پر اللہ
تعالیٰ کی کوئی نعمت نہیں ہے…میں دنیا کا سب سے مظلوم ،سب سے بد حال اور سب سے
زیادہ غمزدہ انسان ہوں …یہ بڑا خطرناک وقت ہوتا ہے…اکثر لوگ بڑی بڑی غلطیاں ایسے
ہی لمحات میں کر بیٹھتے ہیں …اور پھر ساری زندگی پچھتاتے ہیں…ان کو یہاں تک یاد
نہیں رہتا کہ ان کے پاس ’’کلمہ طیبہ‘‘ جیسی قیمتی نعمت ہے…وہ بھول جاتے ہیں کہ وہ
جو سانس لے رہے ہیں وہ کتنی بڑی نعمت ہے…ان کو یہ بھی خیال نہیں رہتا کہ ان کے پیٹ
میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی غذا ہے…ان کو یہ بھی احساس نہیں ہوتا کہ ان کے دل و
دماغ میں قرآن مجید کی کتنی آیات ہیں…وہ یہ بھی فراموش کر بیٹھتے ہیں کہ ان پر
اللہ تعالیٰ کے کتنے پردے ہیں…ایسے پردے کہ اگر وہ اتار لئے جائیں تو ان کا سارا
غم و غصہ شرمندگی میں بہہ جائے…وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ اس وقت وہ جس غم و پریشانی
کو محسوس کر رہے ہیں…یہ بھی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی بعض قوتوں کے بل بوتے پر
ہے…ورنہ ایسا وقت بھی آ جاتا ہے کہ…انسان بے بسی کے جال میں پھنس جاتا ہے … تب وہ
مار کھاتا ہے مگر غصہ نہیں کر سکتا …تب وہ ایسا تشدد دیکھتا ہے کہ جسم میں کچھ
محسوس کرنے کی سکت تک نہیں رہتی…اس لئے جب بھی نفس پر پریشانیوں اور وساوس کا شدید
حملہ ہو …اس وقت کوئی فیصلہ نہ کریں…اس وقت صرف اور صرف استغفار میں لگ جائیں…اپنے
گناہ یاد کریں،ان پر روئیں…ان کی معافی اللہ تعالیٰ سے مانگیں…اور اپنے دل کو
سمجھائیں کہ …اس وقت جو کچھ مجھ پر بیت رہی ہے وہ حقیقی باتیں نہیں…محض شیطان کا
حملہ ہے…اور شیطان ذکر اور استغفار سے بھاگتا ہے…فیصلے کرنے ، دوسروں کو الزام
دینے… اور زیادہ سوچنے سے نہیں…
رَبَّنَا
اغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَاِسْرَافَنَا فِیٓ اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا
وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْن
مائدۃ
الصّابر
الحمد
للہ رنگ و نور کے عاجزانہ مضامین سے اب تک آٹھ کتابیں بن چکی ہیں…سات جلدیں رنگ و
نور کے نام سے اور آٹھویں کتاب ’’مقامات‘‘ کے نام سے…آج کے کالم پر الحمد للہ
نویں کتاب بھی ان شاء اللہ مکمل ہو جائے گی…اس کتاب کا نام ’’مائدۃ الصّابر‘‘
تجویزکیا ہے…بندہ نے اس کتاب کا ثواب ’’حضرت صابر رحمۃ اللہ علیہ ‘‘ کے
لئے ہدیہ کیا ہے…اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور اسے حضرت ابا جی محترم اللہ بخش صابر
نور اللہ مرقدہ کے لئے ’’صدقہ جاریہ‘‘ بنائے…
حضرت ابا
جی رحمۃ اللہ علیہ کے بندہ پر اور جماعت پر بہت احسانات ہیں…ان کے جانے
سے ہم نے جوکچھ کھویا ہے وہ واپس ہاتھ نہیں آیا…اللہ تعالیٰ اس کتاب کی عاجزانہ
خدمت اور محنت کا مکمل ثواب حضرت ابا جی رحمۃ اللہ علیہ کو عطا
فرمائے…اور انہیں اپنی مغفرت اور اپنے فضل سے مقامِ صدیقین نصیب فرمائے…اللہ
تعالیٰ سے امید ہے کہ ’’مائدۃ الصّابر‘‘ سے ان شاء اللہ مسلمانوں کو فائدہ پہنچے
گا …یہ کتاب کافی اہم مضامین پر مشتمل ہے اور ان پر رنگ و نور کے باقی تمام مضامین
سے زیادہ محنت ہوئی ہے
رَبَّنَا
تَقَبَّلْ مِنَّااِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۔وَتُبْ عَلَیْنَااِنَّکَ
اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ
مقبول
استغفار
’’مائدۃ
الصّابر‘‘ کا آخری مضمون استغفار کی ان دعاؤں پر مشتمل ہے جو قرآن مجید نے بیان
فرمائی ہیں…اور اُمت کو سکھائی ہیں…قرآن مجید…اللہ تعالیٰ کا کلام ہے…قرآن مجید
حضرات انبیاء علیہم السلام کا استغفار سناتا ہے کہ … فلاں نبی نے ان
الفاظ میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگی…فرشتے اس طرح سے ایمان والوں کے لئے استغفار
کرتے ہیں…ماضی کے مقبول مجاہدین نے ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا …اللہ
تعالیٰ کے مقرب بندے ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے ہیں…آج کے کالم
میں ان شاء اللہ قرآن مجید کے تیس پاروں میں موجود استغفار کی تمام دعاؤں کو جمع
کرنے کا ارادہ ہے … تاکہ ایک ہی مجلس میں یہ نعمت ہم سب کے سامنے آ جائے اور ہم
سب کو نصیب ہو جائے…استغفار خود ہی بہت مقبول عبادت اور افضل ترین دعاء ہے …پھر
اگر یہ دعاء اور عبادت…قرآن مجید کے محکم اور مبارک الفاظ میں ہو تو…وہ قبولیت کے
بہت زیادہ قریب ہو جاتی ہے…ان تمام دعاؤں کو سمجھ لیں،یاد کر لیں اور اپنے پاس
لکھ لیں…پھر تہجد کے وقت، جمعہ کی رات…جمعہ کے دن عصر کے بعد…اور عموماً فرض
نمازوں کے بعد ان دعاؤں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا کریں …یعنی مغفرت
اور معافی مانگا کریں…امید ہے کہ ان شاء اللہ بہت کچھ ہاتھ آ جائے گا…
اہم نکتہ
قرآن
مجید کے پر نور، پرکیف، پرسکون سمندر میں سے،استغفار کے موتی چننے سے پہلے چند
باتیں دل میں بٹھا لیں…
١ استغفار
کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ سے معافی اور مغفرت مانگنا…چنانچہ حقیقی استغفار وہی
مسلمان کرتا ہے جو خود کو گناہگار اور مغفرت کا محتاج سمجھتا ہے…
٢ معافی
مانگنے، مغفرت طلب کرنے اور خود کو گناہگار سمجھنے کی کیفیت ہرکسی کو نصیب
نہیںہوتی…جو لوگ شیطان اور نفس کی غلامی میں آ جاتے ہیں ان کو نہ اپنے گناہوں پر
ندامت ہوتی ہے اور نہ وہ اپنے گناہوں کو گناہ سمجھتے ہیں…اس لئے استغفار کا نصیب
ہونا بڑی نعمت ہے…
٣ استغفار،بندے
کو اللہ تعالیٰ سے جوڑتا ہے…اور یہ اُمید کا وہ دروازہ ہے جو کسی بندے کو اللہ
تعالیٰ سے ٹوٹنے نہیں دیتا…اسی لئے قرآن مجید نے ’’استغفار‘‘ کی دعوت دی… حضرات
انبیاء علیہم السلام نے ’’استغفار‘‘ کی دعوت دی … ہم مسلمانوں کو بھی
چاہیے کہ دوسرے مسلمانوں کو ’’استغفار‘‘ کی دعوت دیا کریں…
٤ استغفار
کرنے والا مسلمان چند باتوں کا دل سے اعتراف کرتا ہے…پہلی بات یہ کہ میرا ایک رب
ہے جسے میں نے منانا ہے…دوسری بات یہ کہ گناہ کی معافی صرف اللہ تعالیٰ ہی سے مل
سکتی ہے،کسی اور سے نہیں…تیسری بات یہ کہ میں گناہگار ہوں مگر اپنے گناہ پر خوش
نہیں ہوں اور اس گناہ کے وبال سے خلاصی چاہتا ہوں…اندازہ لگائیں یہ تینوں باتیں کس
قدر اہم اور وزنی ہیں… اسی لئے ایک بار ’’استغفر اللّٰہ‘‘ کہنا بہت بڑی عبادت اور
دعاء ہے کہ اس میں…ایک ساتھ ایمان والی اتنی باتوں کا اقرار آ جاتا ہے…
اَسْتَغْفِرُا
للّٰہَ الْعَظِیْمَ الَّذِی لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ
وَاَتُوبُ اِلَیْہ
آئیے اب
’’بسم اللہ‘‘ پڑھ کر قرآن مجید کی استغفار والی دعائیں ایک ایک کر کے سمجھتے اور
پڑھتے ہیں…
١
وفاداری کا اعلان اور استغفار
سَمِعْنَا
وَاَطَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَاِلَیْکَ الْمَصِیرْ ( البقرۃ:۲۸۵)
ترجمہ:
ہم نے ( اللہ تعالیٰ کے حکم کو قبول کرنے کی نیت سے ) سنا…اور ہم نے مان لیا… اے
ہمارے رب! ہم تیری بخشش ( مغفرت) چاہتے ہیں اور ( ہم نے ) تیری طرف لوٹ کر جانا
ہے…
اس دعاء
میں اللہ تعالیٰ اور اس کے تمام احکامات سے وفاداری کا اقرار بھی آ گیا اور
استغفار یعنی مغفرت کا سوال بھی آ گیا…وہ افراد جن کا دل گمراہی کی طرف بار بار
بھٹکتا ہو ان کو اس دعاء کا زیادہ اہتمام کرنا چاہیے…
٢معافی،مغفرت،
نصرت، رحمت،
آسانی
کے سوال پر مشتمل جامع استغفار
رَبَّنَا
لَا تُؤَاخِذْنَآ اِن نَّسِیْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ
عَلَیْنَآ اِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہٗ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَ
لَاتُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْلَنَا
وَارْحَمْنَا اَنْتَ مَوْلٰنَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ۔ (
البقرۃ:۲۸۶)
ترجمہ:
اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کریں تو ہمیں نہ پکڑ، اے ہمارے رب! ہم پر
بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے پہلے والوں پر رکھا تھا،اے ہمارے رب! اور ہم
سے وہ بوجھ نہ اٹھوا جس کی ہمیں طاقت نہیں اور ہمیں معاف فرما دے،اور ہمیں بخش دے
اور ہم پر رحم فرما تو ہی ہمارا کارساز ہے،کافروں کے مقابلہ میں تو ہماری مدد
فرما…
استغفار
پر مشتمل یہ قرآنی دعا ایک ’’نور ‘‘ ہے …جو انسان کسی بھی دشمنی یاحالت سے مغلوب
ہو… وہ اسے زیادہ مانگے…کئی افراد جن کی شہوت بے قابو تھی انہوں نے اس استغفار کو
اپنایا تو برائی ، بے تابی اور بے چینی سے نجات پائی…الغرض کوئی بھی برا دشمن،بری
عادت یا بری حالت انسان کودبا رہی ہو تو یہ مبارک دعا یقین اور توجہ سے پڑھے … تو
ان شاء اللہ اس دعاء کا نور مددگار بن کر پہنچ جائے گا…اس دعاء کے لئے ’’نور‘‘ کا
لفظ حدیث پاک میں آیا ہے…
٣ ہمیشہ
کی نعمتوں کے مستحق بندوں کا استغفار
رَبَّنَا
اِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ( آل
عمران:۱۶)
ترجمہ:
اے ہمارے رب! ہم ایمان لاتے ہیں پس ہمارے لئے ہمارے گناہ بخش دے اور ہمیں جہنم کے
عذاب سے بچا لے۔
فرمایا
کہ لوگ عموماً دنیا کی چیزوں پر فریفتہ ہوتے ہیں…دنیا کی چیزیں مثلاً عورتیں،بیٹے
، سونا چاندی کے ڈھیر، قیمتی گھوڑے،مویشی، کھیت وغیرہ… حالانکہ یہ وقتی فائدے کی
چیزیں ہیں ہمیشہ کی کامیابی نہیں…جبکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے متقی بندوں کے لئے جو
کچھ آخرت میں تیار فرمایا ہے وہ بہت بہتر ہے مثلاً اللہ تعالیٰ کی رضا، جنت،حوریں
وغیرہ… یہ دائمی نعمتیں جن بندوں کو ملیں گی ان کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ اپنے ایمان
کا اعلان کرتے ہیں،اپنے گناہوں پر استغفار کرتے ہیں اور جہنم سے پناہ مانگتے
ہیں…وہ کہتے ہیں
رَبَّنَا
اِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
٤جہاد
میں آزمائشیں اور مشکل حالات کے وقت کا مؤثر استغفار
رَبَّنَا
اغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَاِسْرَافَنَا فِیٓ اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا
وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ (آل عمران:۱۴۷)
ترجمہ:
اے ہمارے رب! ہمارے گناہ بخش دے اور جو ہمارے کام میں ہم سے زیادتی ہوئی ہے (وہ
بھی بخش دے) اور ہمارے قدم جما دے اور کافروں کے مقابلے میں ہمیں مدد عطاء فرما…
قرآن
مجید نے بتایا کہ حضرات انبیاء علیہم السلام اور ان کے اللہ والے
رفقاء نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتال کیا…اس جہاد و قتال فی سبیل اللہ کے دوران
جب ان پر کوئی تکلیف،آزمائش یا ظاہری شکست آئی تو وہ نہ گھبرائے،نہ انہوں نے ہمت
ہاری اور نہ دشمن کے سامنے د بے…بلکہ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر
استغفار کرنے لگے…
رَبَّنَا
اغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَاِسْرَافَنَا فِیٓ اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا
وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ
جب انہوں
نے یہ طرز اپنایا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا اور آخرت کا بہترین اجر عطاء
فرمایا … استغفار کی یہ دعاء بہت مقبول اور نافع ہے اور ہر زمانہ میں مجاہدین اور
دین کی خاطر آزمائش اٹھانے والوں نے اسے اپنا کر اللہ تعالیٰ کی مغفرت، رحمت اور
نصرت حاصل کی ہے…
٥ عقل
والوں کا استغفار
رَبَّنَا
فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَکَفِّرْ عَنَّا سَیِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ
الْاَبْرَارِ ( آل عمران:۱۹۳)
ترجمہ:
اے ہمارے رب! ہمارے گناہ بخش دے اور ہم سے ہماری برائیاں دور کر دے اور ہمیں نیک
لوگوں کے ساتھ موت دے۔
قرآن
مجید کی ان آیات میں ’’اولوالالباب ‘‘ کا تذکرہ ہے…عقل مند،عقل والے،روشن فکر،
روشن خیال ، سمجھدار،دانشور اور ذہین لوگ کون ہیں؟ قرآن مجید نے ان کی علامات
بیان فرمائی ہیں… سورۃ آل عمران کے آخر میں ملاحظہ فرما لیں …ان عقل والوں کی
ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے گناہوں پر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے ہیں … اپنی
برائیوں کے وبال سے بچنا چاہتے ہیں … اور ان کی بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ…ان کو ’’
حسن خاتمہ‘‘ یعنی ایمان پر موت نصیب ہو جائے… اس لئے وہ دعاء مانگتے ہیں…
رَبَّنَا
فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَکَفِّرْ عَنَّا سَیِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ
الْاَبْرَارِ
معذرت
ارادہ
یہی تھا کہ آج کی مجلس میں قرآن مجید کی تمام استغفار والی دعائیں اکٹھی آ
جائیں…مگر کالم کی جگہ پوری ہو گئی اور ابھی تک صرف پانچ دعائیں آئی ہیں…جبکہ
بندہ نے جو دعائیں شمار کر رکھی ہیں وہ چوبیس کے لگ بھگ ہیں…اس لئے آپ سب سے
معذرت…آج کے کالم کو پہلی قسط بنا کر باقی دعائیں آئندہ قسط میں ان شاء اللہ…
لا الہ
الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل
علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ
تعالیٰ کی توفیق سے ہی خیر کا ہر کام ہوتا ہے…
وَمَا
تَوْفِیْقِی اِلَّا بِاللّٰہِ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَاِلَیْہِ اُنِیبُ
انسان
جاہل ہے،بلکہ جہول ہے، اللہ تعالیٰ اسے جو علم سکھائیں ،بس وہی حقیقی علم ہے…
سُبْحَانَکَ
لَا عِلْمَ لَنَا اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیمُ
علم کے
ساتھ اگر اس علم پر یقین…یعنی شرح صدر بھی نصیب ہو جائے تو ایسا علم ’’دعوت‘‘ بن
کر صدقہ جاریہ ہو جاتا ہے…شرح صدر بھی اللہ تعالیٰ عطاء فرماتے ہیں اور دعوت کے
لئے زبان و قلم بھی…
رَبِّ
اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ وَیَسِّرْلِیْ اَمْرِیْ ، وَاحْلُلْ عُقْدَۃً مِّن
لِّسَانِیْ یَفْقَہُوْا قَوْلِیْ
بارش
چلتی رہے تو دریا اور ندی ،نالے آباد رہتے ہیں…بارش رک جائے تو دریا بھی سوکھ
جاتے ہیں…مرتے دم تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم ملتا رہے تو علم و دعوت کا گلشن
آباد رہتا ہے، اور علم میں اضافہ اللہ تعالیٰ ہی عطاء فرماتے ہیں…
رَبِّ
زِدْنِی عِلْمًا
مقبول
دعوت وہی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا خوف بھی ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف امید
بھی…اللہ تعالیٰ مغفرت والے بھی ہیں اور عذاب والے بھی …اللہ تعالیٰ خود اپنے
بندوں کو اپنی مغفرت کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ان مقبول بندوں نے
بھی…لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی طرف بلایا… جن کی دعوت کا تذکرہ قرآن مجید
میں موجود ہے…
وَاَنَا
اَدْعُوْکُمْ اِلَی الْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ
مغفرت
اور اُمید کی طرف دعوت کا طریقہ یہ ہے کہ…اللہ تعالیٰ کے بندوں کو توبہ اور
استغفار کی طرف بلایا جائے…ان گناہوں سے بھی جن کو معاشرے میں گناہ سمجھا جاتا
ہے…اور ان گناہوں سے بھی جو بہت خطرناک ہیں مگر ان کو گناہ نہیں سمجھا جاتا…اور ان
پر توبہ نہیں کی جاتی…
دعوت کا
یہ ایک مکمل نصاب ہے …اسی نصاب کا ایک حصہ ’’قرآن مجید‘‘ کی وہ دعائیں ہیں… جن
میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگی گئی ہے … استغفار کی یہ دعائیں…اللہ تعالیٰ کے ہاں
مقبول ہیں…اسی لئے قرآن مجید کا حصہ ہیں…اور جنہوں نے ان دعاؤں کو پڑھا ان کو
ماضی میں مغفرت اور کامیابی ملی…ان دعاؤں کی یہ تاثیر اب بھی برقرار ہے…الحمد للہ
گذشتہ کالم میں پانچ دعائیں آ گئیں…آج اللہ تعالیٰ کی توفیق سے باقی دعائیں بیان
کرنی ہیں…
٦حضرت
سیّدنا آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا استغفار
رَبَّنَا
ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ
مِنَ الْخٰسِرِیْنَ (الاعراف:۲۳)
ترجمہ:
اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہ بخشے گا اور ہم پر
رحم نہ فرمائے گا تو ہم ضرور تباہ ہو جائیں گے…
یہ وہ
استغفار ہے جو اللہ تعالیٰ نے خود حضرت آدم علیہ السلام کو
تلقین فرمایا…یہ وہ استغفار ہے جس سے حضرت آدم علیہ
السلام کی توبہ قبول ہوئی …یہ انسان کا پہلا استغفار اور روئے زمین کا
ابتدائی استغفار ہے…بہت جامع، بہت مؤثر، بہت پُرکیف اور مقبول استغفار…
٧ حضرت
موسیٰ علیہ السلام کی تسبیح اور توبہ
سُبْحٰنَکَ
تُبْتُ اِلَیْکَ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ(الاعراف:۱۴۳)
’’یا
اللہ ! آپ کی ذات پاک ہے، میں آپ کے حضور توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلے
ایمان لانے والا ہوں…‘‘
حضرت
موسیٰ علیہ السلام نے شوق و محبت سے بے تاب ہو کر درخواست
کی…یا اللہ! اپنی زیارت کرا دیجئے…فرمایا! وہ (یہاں دنیا میں) ہرگز نہیں ہو
سکتی…سامنے والے پہاڑ پر نظر رکھیں ہم اس پر اپنی تجلی ڈالتے ہیں…اگر وہ سہہ گیا
تو آپ بھی زیارت کر لینا…پہاڑ پر تجلی آئی تو وہ ریزہ ریزہ ہو گیا اور حضرت
موسیٰ علیہ السلام بے ہوش ہو گئے …جب ہوش آیا تو زبان پر
اللہ تعالیٰ کی تسبیح تھی…اور اس بات پر توبہ کہ ایسی درخواست کیوں پیش کی…حضرات
انبیاء علیہم السلام ہر طرح کے صغیرہ کبیرہ گناہوں سے معصوم ہوتے
ہیں…ان کا استغفار اور ان کی توبہ اُن کے بلند مقام کے لحاظ سے ہوتی ہے…کوئی بات
یا کام اس مقام سے تھوڑا سا ہٹا تو فوراً استغفار اور توبہ میں لگ گئے…ہم جب ان
الفاظ میں استغفار کریں تو ’’اوّل المومنین ‘‘ کی جگہ ’’من المومنین‘‘ کہہ لیا
کریں…
سُبْحٰنَکَ
تُبْتُ اِلَیْکَ وَاَنَا مِنَ الْمُؤْمِنِینَ
ویسے
’’اوّل‘‘ کا ایک معنی آگے بڑھ کر ایمان لانا ہے… جیسا کہ فرعون کے جادوگروں نے
ایمان قبول کرتے وقت کہا تھا…اَنْ کُنَّا اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنْ
٨ شدید
ندامت والا استغفار
لَئِنْ
لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَیَغْفِرْلَناَ لَنَکُوْنَنَّ مِنَ
الْخٰسِرِیْنَ(الاعراف:۱۴۹)
ترجمہ:
اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ کیا اور ہمیں نہ بخشا تو بے شک ہم تباہ ہو جائیں گے…
حضرت
سیّدنا موسیٰ علیہ السلام تورات لینے گئے …پیچھے قوم نے
بچھڑے کو اپنا معبود بنا کر اپنے ایمان کا جنازہ نکال دیا…جب حضرت
موسیٰ علیہ السلام واپس تشریف لائے اور قوم کو سمجھایا اور
انہیں اس نقصان کا اندازہ دلایا جو وہ کر بیٹھے تھے…تب ان کی آنکھیں کھلیں ،باطل
کا جوش ٹھنڈا پڑا…اور آگے ہمیشہ ہمیشہ کی آگ نظر آئی…اور یہ کہ کفر و شرک کر کے
اپنی پوری زندگی کے عمل برباد کر ڈالے تب تو ان کے جسموں اور ہاتھوں تک کی جان
نکلنے لگی…انتہائی شرمندگی،ندامت،بے قراری اور گہرے پانی میں ڈوبتے انسان کی طرح
چلائے…
لَئِنْ
لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَیَغْفِرْلَناَ لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ
یہ اگرچہ
دعاء کے الفاظ نہیں …مگر اظہار ندامت اور طلب مغفرت میں دعاء جیسے ہیں … تب رحمت
الٰہی متوجہ ہوئی اور توبہ کا حکم نامہ اور طریقہ عطاء فرما دیا گیا…
٩ صلہ
رحمی والا استغفار
رَبِّ
اغْفِرْلِیْ وَلِاَخِیْ وَاَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِکَ وَاَنْتَ اَرْحَمُ
الرّٰحِمِیْنَ (الاعراف:۱۵۱)
ترجمہ:اے
میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو معاف فرما دیجئے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل
فرمائیے اور آپ سب سے زیادہ رحم کرنے والے ہیں…
حضرت
موسیٰ علیہ السلام اپنے پیچھے اپنے بھائی حضرت
ہارون علیہ السلام کو چھوڑ گئے تھے…واپس آ کر قوم کو شرک
میں مبتلا دیکھا تو آپ پر شدید دکھ ، رنج اور غم و غصہ طاری ہو گیا…اسی دینی غصہ
میں حضرت ہارون علیہ السلام کو بھی پکڑ لیا اور جھنجھوڑا کہ
…آپ نے جانشینی کا حق ادا نہیں کیا… حضرت ہارون علیہ السلام نے اپنا
عذر بیان فرمایا کہ میں نے قوم کو بہت سمجھایا…مگر انہوں نے میری ایک نہ سنی الٹا
مجھے قتل کرنے پر آمادہ ہو گئے…اب آپ مجھ پر سختی کر کے قوم والوں کو مجھ پر
ہنسنے کا موقع نہ دیں اور مجھے ان ظالموں میں شمار نہ کریں… اپنے بھائی کا عذر سن
کر حضرت موسیٰ علیہ السلام … ان سے مطمئن ہوئے اور فوراً
اپنے لئے اور ان کے لئے استغفار کرنے لگے…اس میں دو باتیں تھیں … ایک یہ کہ دعاء
کرنے سے یہ اشارہ دیا کہ میں آپ سے مطمئن ہوں…اور دوسری یہ کہ سخت رویے کی وجہ سے
بھائی کو جو تکلیف پہنچی اس کا بھی ازالہ ہو جائے … کسی کے لئے استغفار کرنا یعنی
اس کے لئے اللہ تعالیٰ کی مغفرت مانگنا…بہت بڑا تحفہ،ہدیہ اور احسان ہے …پھر اس
میں یہ بھی اشارہ ملا کہ اپنے کسی بھی قریبی عزیز سے کوئی رنجش ہو جائے تو صلح کے
بعد اس کے لئے استغفار کیا جائے…قرآن مجید کے الفاظ موجود ہیں…بھائی سے رنجش اور
صلح ہو تو یہی الفاظ اور اگر کوئی اور ہو تو ’’اخی‘‘ کی جگہ اس کا نام… مثلاً بیوی
سے رنجش پھر صلح ہوئی تو…
رَبِّ
اغْفِرْلِیْ وَلِزَوجَتِیْ وَاَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِکَ وَاَنْتَ اَرْحَمُ
الرّٰحِمِیْن
والدین
سے تو رنجش ہونی ہی نہیں چاہیے … ان کے لئے بھی انہی الفاظ میں استغفار کر سکتے
ہیں
رَبِّ
اغْفِرْلِیْ وَلِاَبِیْ…رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَ لِاُمِّیْ…’’یا‘‘… رَبِّ اغْفِرْلِیْ
وَلِوَالِدَیَّ وَاَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِکَ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْن
١٠
اجتماعی مصیبت اور قومی مشکل کے وقت کا استغفار
اَنْتَ
وَلِیُّنَا فَاغْفِرْلَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ (الاعراف:۱۵۵)
ترجمہ:
یا اللہ! تو ہی ہمارا تھامنے والا ہے، پس ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو
سب سے بہتر بخشنے والا ہے…
حضرت
موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے ستر نمائندہ افراد کو اپنے
ساتھ ’’طور ‘‘ پر لے گئے … وہاں ان سب نے اللہ تعالیٰ سے کلام سنا مگر یقین کرنے
کی بجائے اَڑ گئے کہ…جب تک ہم خود اپنی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کو نہ دیکھ لیں ہم
یقین نہیں کر سکتے…اس پر سخت زلزلہ آیا،بجلی کڑکی اور وہ سب کانپ کر مر گئے…حضرت
موسیٰ علیہ السلام بہت پریشان ہوئے کہ واپس جا کر قوم کو
کیا بتائیں گے؟ وہ تو یہ سمجھیں گے کہ ان کے نمائندوں کو میں نے مار دیا تب خوب
عاجزی سے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوئے دعاء مانگی،استغفار کیا تو وہ سب دوبارہ زندہ
کر دئیے گئے…معلوم ہوا کہ اجتماعی مشکلات اور قومی مصیبتوں کا حل بھی ’’ توجہ الی
اللہ‘‘ اور ’’استغفار‘‘ ہے…دعاء کے شروع میں ’’ اَللّٰھُمَّ‘‘ لگا لیں…
(اَللّٰہُمَّ)
اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْلَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْن…
١١ ربّ
غفور کے سہارے
بِسْمِ
اللّٰہِ مَجْرٖھَا وَمُرْسٰھَا، اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(ہود:۴۱)
ترجمہ:
اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا، بے شک میرا رب ہی بخشنے والا مہربان ہے۔
جب طوفان
آ گیا تو حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے ایمان والے ساتھیوں سے فرمایا!
اللہ کے نام سے کشتی پر سوار ہو جاؤ، کچھ غم ،فکر اندیشہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ
اس کشتی کا چلنا اور ٹھہرنا سب اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کے نام کی برکت سے ہے …
اور اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے لئے ’’غفور‘‘ یعنی بخشنے والا اور ’’رحیم‘‘ یعنی
مہربان ہے…اللہ تعالیٰ کی شانِ مغفرت اور شانِ رحمت ہی ایمان والوں کو ہر طوفان
،ہر مصیبت اور ہر آزمائش سے پار لگاتی ہے …کشتی یا کسی بھی سواری پر…سوار ہوتے
وقت یہ والہانہ دعاء پڑھ لینی چاہیے…
١٢حضرت
نوح علیہ السلام کا مؤثر استغفار
رَبِّ
اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِکَ اَنْ اَسْئَلَکَ مَالَیْسَ لِیْ بِہٖ عِلْمٌ ،
وَاِلَّاتَغْفِرْلِیْ وَتَرْحَمْنِیْٓ اَکُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ(ہود:۴۷)
ترجمہ:
اے میرے رب! میں تیری پناہ لیتا ہوں اس بات سے کہ تجھ سے سوال کر وں اس چیز کا جس
کا مجھے علم نہیں…اور اگر تو نے مجھے نہ بخشا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں تباہ
ہو جاؤں گا…
طوفان
میں حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا غرق ہو رہا تھا…حضرت
نوح علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی…اے میرے رب! میرا
بیٹا بھی میرے ’’ اہل ‘‘ میں سے ہے…جن کو بچانے کا آپ نے وعدہ فرمایا ہے… حکم
آیا کہ …اے نوح! وہ آپ کے اہل میں سے نہیں ہے…اس کے اعمال خراب ہیں آپ کو اس کے
بارے ہم سے سوال نہیں کرنا چاہیے…اس تنبیہ پر حضرت نوح علیہ
السلام کانپ اُٹھے اور فوراً توبہ و استغفار میں مشغول ہو گئے…اگر کسی
مسلمان سے دعاء میں کوئی غلطی، بے ادبی…یا تجاوز ہو جائے…تو ان الفاظ میں استغفار
ان شاء اللہ مفید رہے گا…
١٣ کسی
کو معاف کرتے وقت کا استغفار
یَغْفِرُ
اللّٰہُ لَکُمْ وَھُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ(یوسف:۹۲)
ترجمہ:
اللہ تعالیٰ تمہیں بخشے اور وہ سب سے زیادہ مہربان ہے…
حضرت
یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے اپنی غلطی تسلیم کی،ندامت کا سچا اظہار
کیا اور حضرت یوسف علیہ السلام سے معافی چاہی…حضرت
یوسف علیہ السلام نے معافی دیتے وقت ان کے لئے اللہ تعالیٰ
سے استغفار فرمایا…پس کسی کو معاف کرتے وقت اس کے لئے استغفار کرنا خوبصورت سنت
یوسفی ہے…
یَغْفِرُ
اللّٰہُ لَکُمْ وَھُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِینْ
١٤ اللہ
تعالیٰ پر توکل…اور اللہ تعالیٰ ہی سے توبہ
ھُوَ
رَبِّیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَاِلَیْہِ مَتَابِ (الرعد:۳۰)
ترجمہ:
وہی ( اللہ تعالیٰ) میرا رب ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں،اسی پر میں نے بھروسہ
کیا ہے اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے…
حکم دیا
گیا کہ…آپ کہہ دیجئے…
ھُوَ
رَبِّیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَاِلَیْہِ
مَتَابْ
١٥ اپنے
لئے، والدین کیلئے اور سب ایمان والوں کے لئے استغفار
رَبَّنَا
اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ
الْحِسَابُ(ابراہیم:۴۱)
اے ہمارے
رب! مجھے اور میرے والدین کو اور ایمان والوں کو حساب قائم ہونے کے دن بخش دے…
یہ دعاء
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مانگی …یہ بہت جامع اور نافع
استغفار ہے…
١٦ اسم
اعظم والا استغفار
لَا
اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْن(الانبیاء:۸۷)
ترجمہ:
آپ کے سوا کوئی معبود نہیں آپ بے عیب ہیں بے شک میں گناہگاروں میں سے تھا…
یہ حضرت
یونس علیہ السلام کی تسبیح ہے…اس میں تہلیل بھی ہے یعنی لا الہ الا انت
اور تسبیح بھی ہے ’’سبحانک ‘‘ اور استغفار بھی ہے…اِنِّی کُنْتُ مِنَ
الظَّالِمِین…
اس
استغفار کے بہت فضائل احادیث و روایات میں آئے ہیں… یہ ہر غم ،مصیبت، مشکل اور
پریشانی کا حل ہے…اُمتِ مسلمہ نے ہمیشہ اس تسبیح و استغفار سے بڑے بڑے منافع حاصل
کئے ہیں… بندہ نے استغفار کے موضوع پر اپنی زیر طبع کتاب میں اس ’’آیت کریمہ‘‘ کے
فضائل و خواص پر کئی روایات جمع کر دی ہیں…
١٧
مقبولین کا استغفار
رَبَّنَآ
اٰمَنَّا فَاغْفِرْلَناَ وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْن (المؤمنون:۱۰۹)
ترجمہ:
اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے،تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما، تو بہت بڑا رحم
فرمانے والا ہے…
دنیا میں
کافر اور منافق خود کو عقلمند سمجھتے ہیں … اور ایمان والوں کا مذاق اڑاتے ہیں کہ
یہ (نعوذ باللہ) بیوقوف لوگ ہیں…ان کو دنیا کی سمجھ ہی نہیں …قیامت کے دن اللہ
تعالیٰ ان کافروں کے سامنے ان ایمان والوں کی کامیابی کا اعلان فرمائیں گے…اور
ساتھ ان کے اِس استغفار کا بھی تذکرہ فرمائیں گے…کہ میرے بندوں میں سے کچھ لوگ
کہتے تھے…
رَبَّنَآ
اٰمَنَّا فَاغْفِرْلَناَ وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِینْ
تو تم
کفار ان کا مذاق اڑاتے تھے…
آج
دیکھنا کہ میں ان کو کیسی کامیابی، بدلہ اور مقام دیتا ہوں…
١٨ مغفرت
اور رحمت مانگو
رَبِّ
اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ (المؤمنون:۱۱۸)
ترجمہ:
اے میرے رب معاف فرما اور رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے…یہ بہت
مؤثر اور میٹھا استغفار ہے…اور قرآن مجید میں حکم فرمایا گیا ہے کہ… کہو!
رَبِّ
اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِینْ
وہ جو
کچھ دینا چاہتے ہیں اسی کو مانگنے کا حکم فرماتے ہیں…مغفرت اور رحمت مل
جائے تو اور کیا چاہیے…
١٩ مقرب
فرشتوں کا تائب ایمان والوں کے لئے استغفار
رَبَّنَا
وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَا بُوْا
وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَــحِيْمِ رَبَّنَا
وَاَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِۨ الَّتِيْ وَعَدْتَّهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَاۗىِٕـهِمْ
وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيّٰــتِهِمْ ۭ اِنَّكَ
اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ وَقِهِمُ السَّيِّاٰتِ ۭ وَمَنْ
تَقِ السَّيِّاٰتِ يَوْمَىِٕذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ ۭ وَذٰلِكَ
هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ(المؤمن:۷تا۹)
ترجمہ!
اے ہمارے رب! تیری رحمت اور تیرا علم سب پر حاوی ہے پس جن لوگوں نے توبہ کی ہے اور
تیرے راستے پر چلتے ہیں انہیں بخش دے اور انہیں جہنم کے عذاب سے بچا لے… اے ہمارے
رب! انہیں ہمیشہ کی جنتوں میں داخل فرما جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور ان کو
جو ان کے باپ دادوں اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میںسے نیک ہیں۔ بے شک تو
غالب حکمت والا ہے اور انہیں برائیوں سے بچا اور جس کو تو اس دن برائیوں سے بچائے
گا پس اس پر تو نے رحم کر دیا اور یہ بڑی کامیابی ہے…
یہ بڑی
اہم دعاء ہے مکمل تفصیل تو یہاں ممکن نہیں چند اشارات لے لیں…
١ یہ
دعاء عرش اٹھانے والے اور عرش کے گرد طواف کرنے والے مقرب فرشتوں کا وظیفہ
ہے…اندازہ لگائیں کیسی برکتوں والی دعاء ہو گی…
٢ اس
دعاء میں اللہ تعالیٰ کے تائب بندوں کے لئے استغفار ہے… ہم جب ایسے بندوں کے لئے
دعاء اور استغفار کریں گے تو اس سے خود ہمیں بہت نفع ملے گا…
٣ جب
ہم یہ دعاء اللہ تعالیٰ کے تائب بندوں اور ان کے متعلقین کے لئے کریں گے تو حدیث
شریف کے وعدے کے مطابق فرشتے یہی دعاء ہمارے لئے کریں گے…
٢٠ مقبول
اور سعادتمند بندوں کا استغفار
رَبِّ
اَوْ زِعْنِی اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیٓ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلٰی
وَالِدَیَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰہُ وَاَصْلِحْ لِیْ فِیْ
ذُرِّیَّتِیْ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْکَ وَاِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ
(الاحقاف : ۱۵)
ترجمہ:
اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری نعمت کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر انعام کی
اور میرے والدین پر اور میں نیک عمل کروں… جسے تو پسند کرے اور میرے لئے میری
اولاد میں اصلاح کر بے شک میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں اور بے شک میں فرمانبرداروں
میں ہوں…
یہ
سعادتمند اور مقبول انسان بننے کا ایک قرآنی نصاب ہے…
١ اللہ
تعالیٰ سے شکر کی توفیق مانگنا…ان نعمتوں پر جو اپنے اوپر اور اپنے والدین پر ہوں…
٢ اللہ
تعالیٰ سے نیک اور مقبول اعمال کی توفیق مانگنا …
٣ اپنی
اولاد کی اصلاح اور نیکی کی دعاء مانگنا…
٤ اللہ
تعالیٰ سے توبہ،استغفار کرنا…
٥ اللہ
تعالیٰ کی فرمانبرداری کا اقرار کرنا…
اگلی
آیت میں ان افراد کا جو یہ پانچ کام کرتے ہیں،بدلہ مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے
اعمال قبول فرماتے ہیں …ان کے گناہ معاف فرماتے ہیں …اور انہیں اہل جنت میں شامل
فرماتے ہیں…
بعض
مفسرین کے نزدیک یہ آیت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے
بارے میں نازل ہوئی… پس یہ بہت قیمتی دعاء ہے…توجہ اور یقین سے مانگنی چاہیے…
٢١ بڑے
مقام والا استغفار
رَبَّنَا
اغْفِرْلَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا
تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّکَ رَءُ
وْفٌ رَّحِیْمٌ (الحشر:۱۰)
ترجمہ:
اے ہمارے رب! ہماری اور ہمارے ان بھائیوں کی مغفرت فرما جو ہم سے پہلے ایمان لائے
ہیں اور ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے لئے کینہ قائم نہ ہونے پائے… اے ہمارے رب!
بے شک تو بڑا مہربان،نہایت رحم والا ہے…
یہ بہت
نافع،مؤثر اور جامع استغفار ہے… قرآن مجید میں سمجھایا گیا کہ بعد والے مسلمان
جو دل کے یقین کے ساتھ یہ دعاء مانگتے ہیں…وہ انعام میں اپنے سے پہلے والوں کے
ساتھ ملحق کر دئیے جاتے ہیں…اس دعاء میں اپنے اسلاف کے لئے بھی استغفار ہے…جو بڑا
فضیلت والا عمل ہے… وہ افراد جن کے دل میں مسلمانوں کے لئے بغض اور کینہ زیادہ
پیدا ہوتا ہو وہ اس دعاء کا بہت اہتمام کریں …بے حد نافع ہے…
٢٢
دشمنوں سے حفاظت والا استغفار
رَبَّنَا
عَلَیْکَ تَوَکَّلْنَا وَاِلَیْکَ اَنَبْنَا وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ ، رَبَّنَا
لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَۃً لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَاغْفِرْلَنَا رَبَّنَا اِنَّکَ
اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (الممتحنۃ:۴۔۵)
ترجمہ:
اے ہمارے رب! ہم نے تجھ پر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف ہم رجوع ہوئے اور تیری ہی
طرف لوٹنا ہے اے ہمارے رب! ہمیں کفار ( کے ظلم و ستم ) کا تختہ مشق نہ بنا اور اے
ہمارے رب! ہماری مغفرت فرما بے شک تو ہی غالب حکمت والا ہے…
حضرت
ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ایمان والے رفقاء نے استغفار
پر مشتمل یہ دعاء مانگی … اور کافر حکمرانوں اور کفر کی طاقت سے کھلم کھلا براء ت
کا اِعلان فرمایا…
٢٣ اہل
ایمان کا آخرت میں استغفار
رَبَّنَآ
اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْلَنَا اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ
قَدِیْرٌ(التحریم:۸)
ترجمہ:
اے ہمارے رب! ہمارے لئے ہمارا نور پورا فرما اور ہمیں بخش دے بیشک تو ہر چیز پر
قادر ہے
اہل
ایمان یہ دعا آخرت میں مانگیں گے… دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ سے نور اور مغفرت
مانگتے رہنا چاہیے…
٢٤ حضرت
نوح علیہ السلام کا جامع استغفار
رَبِّ
اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّ
لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتْ
(نوح:۲۸)
ترجمہ:
اے میرے رب! مجھے اور میرے والدین کو بخش دے اور جو ایمان والا میرے گھر میں داخل
ہو جائے اور ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو (بخش دے)
الحمد
للہ
الحمد
للہ! قرآن مجید کے بیان فرمودہ چوبیس استغفار آ گئے… حضرت
سلیمان علیہ السلام کا استغفار اور ملکہ بلقیس کا استغفار شامل نہیں
کیا گیا …کیونکہ وہ ایسی دعاؤں پر مشتمل ہے جو کسی اور کو مانگنے کی اجازت
نہیں…اللہ تعالیٰ ہمیں سچی توبہ اور سچا استغفار اور اپنی مغفرت نصیب فرمائے…
سُبْحَانَکَ
اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ نَشْھَدُ اَن لَّا اِلٰہَ اِلّا اَنْتَ نَسْتَغْفِرُکَ
وَنَتُوْبُ اِلَیْکَ
لا الہ
الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
اللھم صل
علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ
اللہ تعالیٰ انہیں ’’مغفرت کاملہ‘‘ اور اپنے قربِ خاص کا مقام
عطاء فرمائے…
آہ! حضرت امیر المومنین بھی چلے گئے…
﴿ اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ
رٰجِعُوْنَ، اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ
رٰجِعُوْنَ، اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ﴾
غم اور مشکل کا اندھیرا
حضرت امیر المومنین جیسے افراد جب دنیا سے اٹھتے ہیں تو
آسمان بھی روتا ہے اور زمین بھی… اور ساری اچھی مخلوقات بھی… ہم تو انسان ہیں،
بہت کمزور … پھر ان کے مامور ہیں… اور ایک اللہ کی خاطر ان سے محبت کرنے والے…
وہ ہمارے خواب بھی تھے اور خوابوں کی تعبیر بھی… وہ ہمارے
رہنما بھی تھے اور محبوب بھی… آج کا مضمون میرے لئے بہت مشکل ہے… بہت ہی مشکل
کیونکہ!!
٭ ان
سے الحمدللہ سچی محبت تھی… اللہ تعالیٰ ہی اس محبت کا حال جانتا ہے… ایسے محبوب کے
بارے میں بار بار ماضی کا صیغہ استعمال کرنا کہ وہ ایسے تھے، اس طرح تھے… یہ بڑا
مشکل کام ہے…
٭ خود
کو کبھی اس بارے میں ذہنی طور پر تیار ہی نہیں کیا کہ… وہ ہم سے پہلے چلے جائیں
گے… حالانکہ وہ مستقل موت کے قریب تھے مگر دل کی خواہش تھی کہ… ہم ان سے پہلے ’’ان
کی زندگی میں چلے جائیں‘‘ ان تک خبر پہنچے اور وہ ہماری مغفرت کے لئے دعاء فرما
دیں… مگر وہ پہلے چلے گئے… دل پر جو گذر رہی ہے وہ بتانا آسان نہیں…
٭ وہ
ماشاء اللہ بہت اونچے اور باصفات انسان تھے… بلا مبالغہ ایک مثالی یعنی آئیڈیل
شخصیت… اور ہم بے کار اور بے صفت انسان… ہم میں اور ان میں زمین و آسمان کا فرق
ہے… اب زمین کس طرح سے آسمان کی بلندی بیان کرے… واقعی مشکل کام ہے… اپنے زمانے
کے بڑے انسانوں کو سمجھنا اور ان کے بارے میں دوسروں کو سمجھانا ہر کسی کے بس کی
بات نہیں ہے…
٭ ان
کے بارے میں ہمیشہ یہ ذہن رہا کہ وہ حکم دیں اور ہم اطاعت کریں… اللہ تعالیٰ کا
شکر ہے کہ ان کی اطاعت اور محبت میں نہ تو جان بوجھ کر کبھی کوتاہی کی… اور نہ اس
بارے میں کبھی کسی کی پرواہ کی… یہ تو کبھی نہیں سوچا تھا کہ ان کے بارے میں کوئی
تبصرہ کرنے یا لکھنے کا جوکھم بھی اٹھانا ہو گا… کسی وفادار مامور کا مبصر بن جانا
آسان کام نہیں ہے…
بہرحال غم ہے، صدمہ ہے، ذمہ داری ہے… اور لکھنا بھی ضروری ہے…
وہ اس کے محتاج نہیں مگر ہم تو محتاج ہیں… اب اس مشکل میں اللہ تعالیٰ سے ہی مدد
کا سوال ہے…
٭ ان
کے کارنامے بے شمار ہیں… ان کی کرامات ماشاء اللہ کثیر ہیں… ان کی حصولیابیاں اور
کامیابیاں ایک شان رکھتی ہیں… ان کی صفات میں بہت روشنی ہے… ان سب باتوں کا خلاصہ
بھی ایک کتاب کی جگہ مانگتا ہے… ایک چھوٹے سے مضمون میں کیا لکھا جائے اور کیا
چھوڑا جائے؟… یہ انتخاب بھی مشکل کام ہے…
یا اللہ ! صبر اور ہمت کا ایک جام پلا دیجئے… تاکہ یہ ساری
مشکلات آسان ہو جائیں…
الا یا ایھا الساقی ادر کأسا و ناولھا
کہ عشق آسان نمود اول ولے افتاد مشکلھا
شب تاریک و بیم موج و گرداب چنیں ھائل
دل افگندیم بسم اللہ مجرھا ومرسٰھا
محبت اپنی جگہ مگر!!
ہماری محبت اپنی جگہ مگر … اللہ تعالیٰ کے وہ مخلص بندے جو
اللہ تعالیٰ کے لئے سخت محنت اور مزدوری کرتے ہیں…آخر ان کا بھی حق ہے کہ… وہ
اپنے محبوب رب سے اجر اور اجرت پانے جائیں… جی ہاں! ان کا حق ہے کہ ان کی مشکل
زندگی… آرام دہ عیش وعشرت میں تبدیل ہو… جہاد والی زندگی بہت مشکل ہوتی ہے…
روپوشی بڑی سخت اور کڑوی چیز ہے… اتنے مشکل حالات میں اتنے بڑے لشکر کی کمان اور
قیادت کرنا بھی بڑا مشکل کام ہے… جو شخص مسلسل تیرہ سال سے یہ ساری مشکلات جھیل
رہا ہو… اس کا حق ہے کہ وہ راحت و آرام کے پر سکون جزیرے پر اکرام کے لئے بلایا
جائے… حضرت شاہ عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
’’جب حضرات انبیاء علیہم السلام سے وہ
کام لے لیا جاتا ہے… جو ان کے دنیا میں تشریف لانے پر موقوف ہوتا ہے تو انہیں اس
فانی،دکھ درد بھری، ناقص دنیا سے اٹھا لیا جاتا ہے… کیونکہ یہ فانی دنیا ارواح
مقدسہ کے رہنے کی جگہ نہیں ہے… یہ مقدس روحیں تو اس ناقص گھر میں بعض ضروری کاموں
کی تدبیر کے لئے بھیجی جاتی ہیں… پس جیسے ہی وہ کام پورا ہوتا ہے ان ارواح کو بڑے
آرام دہ گھر کی طرف بلا لیا جاتا ہے۔‘‘ (مفہوم تفسیر عزیزی)
یہی حال اللہ تعالیٰ کے اولیاء صدیقین اور مقربین کا ہے… حضرت
امیر المومنین بھی جس کام کے لئے اس دنیا میں آئے تھے وہ جب پورا ہو چکا تو وہ
چلے گئے…
﴿ اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ
رٰجِعُوْنَ، اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ
رٰجِعُوْنَ، اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ﴾
اُمید کی روشنی
حضرت الامیرؒ کی جدائی کا غم بڑا ہے… بڑا درخت گرتا ہے تو
زمین دور دور تک اکھڑ جاتی ہے، لرز جاتی ہے مگر اسلام اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ اور
آخری دین ہے… اس دین کی گود کبھی بانجھ نہیں ہوتی… ایک مخلص فرزند جاتا ہے تو
دوسرا آ جاتا ہے… جہاد عزت و عظمت کا کارخانہ ہے… یہ کارخانہ اپنے کاریگر اور
کارکن بنانے میں خود کفیل ہے، اور ماشاء اللہ آج تو جہاد اس قدر پھیل چکا ہے کہ…
اسے روکنا کسی کے بس میں نہیں رہا… حضرت امیر المومنین کی محنت، تدبیر اور قربانی
کی برکت سے جہاد پورے عالم اسلام میں پہنچ چکا ہے… عالم کفر نے حضرت امیر المومنین
کی وفات پر زیادہ خوشی نہیں منائی… اس کی دو بڑی وجوہات ہیں… پہلی تو یہ کہ عالم
کفر اپنی ہوشربا عسکری طاقت اور سائنسی ٹیکنالوجی استعمال کر کے بھی حضرت امیر
المومنین کو نہیں ڈھونڈ سکا… بڑے بڑے انعامات کے اعلان اور منافقوں کی بھرتی کے
باوجود وہ حضرت امیر المومنین کی ہوا تک نہ پا سکا… یہ اس کے لئے ایک ایسی عبرتناک
ذلت، رسوائی اور شرمندگی ہے جو ہمیشہ اس کے دل کا زخم بنی رہے گی… اور دوسری وجہ
یہ کہ حضرت امیر المومنین آج سے دو سال دو ماہ قبل وفات پا گئے مگر پورے
افغانستان میں جہاد مکمل آب و تاب سے جاری رہا… جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حضرت
امیر المومنین رحمۃ اللہ علیہ مستقبل پر نظر رکھنے والے ایک مدبر اور
صاحب بصیرت قائد اور امیر تھے… انہوں نے جہاد کو اپنی ذات کے ساتھ ایسا نہیں
باندھا کہ ان کے جانے سے جہاد بھی مٹی میں دفن ہو جائے… بلکہ انہوں نے خود کو کھپا
کر، مٹا کر جہاد کی تحریک کو منظم اور خود کار بنایا… انہوں نے جہادی دستوں کی
ایسی ترتیب بنائی کہ ان کی شہادت سے یہ کام رکنے کی بجائے اور زیادہ تیز ہو جائے…
انہوں نے مجاہدین کے لئے مستحکم نظام وضع فرمایا… اصل توجہ محاذوں پر رکھی اور
محاذوں کی آبادی اور آبیاری کے لئے تعلیمی، نشریاتی، تبلیغی، اعلامی، مالی، طبی
اور سیاسی شعبوں کا جال بچھا دیا… انہوں نے جہاد اور مجاہدین کو مال کا محتاج
بنانے کی بجائے… مال سے دوری اور مال میں احتیاط کا عادی بنایا… انہوں نے جماعت کو
شوریٰ اور احتساب کے نظام میں باندھ دیا… اور ہر شخص کو اس کی اہلیت کے کام پر لگا
کر اسے کسی کی نگرانی میں دے دیا… یوں وہ اپنا سب کچھ کام میں لگا کر اپنی ذات کو
ایک طرف کرتے چلے گئے… یہ سب کچھ صرف وہی انسان کر سکتا ہے جس کا ایمان بھی کامل
ہو اور اخلاص بھی مکمل ہو… خلاصہ یہ کہ وہ اپنی زندگی میں ایک ایسی مضبوط بنیاد
رکھ گئے ہیں کہ جس پر بہت وسیع اور عالی شان عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے… اللہ کرے
ان کی جماعت ان کی ڈالی ہوئی بنیادپر قائم رہے اور ان کے طریقہ کار اور نظریات پر
کاربند رہے… تب ان شاء اللہ کوئی خطرہ نہیں، کوئی اندیشہ نہیں…
ہاں! کمی تو محسوس ہو گی کیونکہ ایسا بے غرض، بے لوث، مدبر
اور مخلص رہبر چلا گیا…
﴿ اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ
رٰجِعُوْنَ، اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ
رٰجِعُوْنَ، اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ﴾
بڑی نسبتوں کے امین
اللہ تعالیٰ نے حضرت امیر المومنین کو سابقین اوّلین کی کئی
نسبتیں عطاء فرمائیں… اہل علم اگر انصاف سے غور کریں گے تو ضرور حضرت امیر
المومنین کو پندرھویں صدی ہجری کا’’ مجدِّد‘‘ مانیں گے… شہید اسلام حضرت اقدس
مولٰنا محمد یوسف لدھیانوی قدس سرہ نے جب افغانستان کا سفر فرمایا تو ان پر عجیب
والہانہ کیفیات طاری رہیں… ایک بار فرمایا قندھار سے کابل تک ایک آدمی بھی بغیر
داڑھی کے نظر نہیں آیا… کوئی ایک عورت بھی بے پردہ نہیں… یہ سب کچھ کیسے ہو گیا؟…
ہم ساری زندگی محنت کر کے ایک گلی یا ایک محلے میں یہ ماحول قائم نہیں کر سکتے… جو
یہاں ہزاروں میل تک قائم ہو چکا ہے… یہ سب باتیں کرتے ہوئے ان کی آنکھوں میں چمک
اور آنسو ایک ساتھ جمع ہو جاتے اور وہ بے خودی کے عالم میں حضرت امیر المومنین کی
تعریف کرتے رہتے… حالانکہ سب جانتے ہیں کہ وہ کس قدر اونچے معیار کے عالم، بزرگ
اور ولی تھے… اور مبالغہ آرائی ان کے قریب بھی نہیں پھٹکی تھی… حضرت اقدس مولٰنا
محمد موسیٰ روحانی قدس سرہ نے فرمایا کہ… امیر المومنین رحمۃ اللہ
علیہ نے سو فیصد حضرات خلفاء راشدین رضوان اللہ علیہم
اجمعین کا دور زندہ فرما دیا ہے… بات نسبت کی چل رہی تھی … حضرت امیر
المومنینؒ کو اصل نسبت تو حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیب
ہوئی… اس نسبت کی تفصیل جاننی ہو تو حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ
علیہ کی وہ تحریر پڑھ لیجئے جو انہوں نے حضرت سید احمد شہید رحمۃ اللہ
علیہ کی نسبت کے بارے میں لکھی ہے… دنیا میں جب کچھ پتھروں کو جوڑ کر
کوئی بت بنا لیا جاتا ہے تو یہ بت بھی چونکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق پتھر وغیرہ سے
بنتا ہے… اس لئے وہ انتظار کرتا ہے کہ کوئی بت شکن آئے اور اسے توڑ ڈالے تاکہ…
اللہ کے سوا اس کی پوجا نہ کی جا سکے… بامیان کے بتوں کو دو ہزار سالوں
سے اپنے بت شکن کا انتظار تھا… اور ان بتوں کے محافظ اس زمانے میں بہت مالدار اور
طاقتور تھے… حضرت امیر المومنین کو اللہ تعالیٰ نے یہ عظیم سعادت عطاء فرمائی کہ…
وہ بت شکن بنے جو کہ ان کی نسبت ابراہیمی کا ثبوت ہے… زمانے کا فرعون خود کو
ناقابل تسخیر سمجھ کر سپر پاور ہونے کے دعوے کر رہا تھا… نیو ورلڈ آرڈر اس کا
اعلان تھا…
﴿ اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی… ھَلْ لَّکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ
غَیْرِیْ﴾
حضرت امیر المومنین نے اس فرعون کو شکست دے کر بے آبروئی کے
سمندر میں گرا دیا… جو آپ کی نسبت موسوی کی طرف واضح اشارہ ہے…
حضرت امیر المومنین کا وصال اپریل ۲۰۱۳ء میں ہوا… مگر وہ اس کے
بعد بھی دو سال دو ماہ تک اپنے دشمنوں اور دوستوں کو زندہ نظر آتے رہے… دوستوں کا
لشکر ان کے نام، تعلق اور محبت سے چلتا رہا… جبکہ ان کے دشمن ان کے رعب اور خوف کے
’’عذاب مھین‘‘ میں مبتلا رہے… یہ حضرت کی سلیمانی نسبت کا اثر تھا…
آپکی صدیقی نسبت بہت گہری تھی… صدیق کسے کہتے ہیں اور اس کی
علامات کیا ہیں؟… یہ ہم ان شاء اللہ تھوڑا آگے چل کر عرض کریں گے… حضرت صدیق
اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا:
اَیَنْقُصُ الدِّیْنُ وَاَنَا حَیٌّی
میری زندگی میں دین کا حکم ختم ہو… یہ ممکن نہیں ہے… حضرت
امیر المومنین نے بھی دین کے ہر حکم کے احیاء کے لئے بڑی بڑی قربانیاں دیں… حضرت
امیر المومنین کی خاص نسبت فاروقی تھی… نام سے لے کر کام تک… مزاج سے لے کر جلال
تک آپ حضرت سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شاندار
نسبت سے مالا مال تھے…
یاد رکھیں!… اس اُمت میں حضرات انبیاء علیہم
السلام اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی
نسبتیں قیامت تک چلتی رہیں گی…﴿وَقَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ﴾
آہ! اس زمانے میں اتنی بڑی نسبتوں کا امین شخص چلا گیا، چلا
گیا…
﴿ اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ
رٰجِعُوْنَ، اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ
رٰجِعُوْنَ، اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ﴾
سیاسی بصیرت کا عروج
اخبارات میں ایک جملہ پڑھ کر بہت تکلیف ہوئی کہ… نعوذ باللہ
حضرت امیر المومنین سیاسی بصیرت نہیں رکھتے تھے… ایک اور ظالمانہ جملہ بھی چل رہا
ہے کہ نعوذ باللہ حضرت امیر المومنین پاکستان کے خفیہ اداروں کے مہرے تھے… اس
ظالمانہ، فاسقانہ جملے کا جواب دینا بھی جائز نہیں… جو بھی ایسا کہہ رہے ہیں وہ
بدترین غیبت اور بڑے گناہ کا ارتکاب کر رہے ہیں… مگر پہلے جملے کے بارے میں کچھ
عرض کرنا ضروری ہے… کیونکہ وہ جملہ ایسے افراد لکھ رہے ہیں جو حضرت امیر المومنین
کے اخلاص، شجاعت اور دیگر کئی صفات کے بظاہر معترف ہیں… وہ کہتے ہیں کہ حضرت امیر
المومنین کی دیگر تمام صفات بجا مگر ان میں سیاسی بصیرت نہیں تھی… اس لئے وہ بڑے
اہم مواقع سے فائدہ نہ اٹھا سکے… وہ اپنے فیصلوں کی وجہ سے خود بھی مشکلات کا شکار
رہے… اور اپنے رفقاء کو بھی مسلسل مشکلات میں ڈالتے رہے… حضرت امیر المؤمنین کے
بارے میں یہ تجزیہ انتہائی غلط… بلکہ ظالمانہ ہے… اندازہ لگائیں…
٭ بیس
سال تک دنیا کی سب سے بڑی جہادی جماعت کی مدبرانہ قیادت… کبھی آپ کی امارت پر
اختلاف نہ ہوا…
٭ چھ
سال تک افغانستان کے نوے فیصد علاقے پر ایک عادلانہ، منصفانہ حکومت چلانا… آج جو
وزیر اعظم اپنے پانچ سال کسی طرح کاٹ لے اس کی سیاسی بصیرت کے گن گائے جاتے ہیں…
اسلامی حکومت کو تو آج کل کا قابض استعمار چھ ہفتے بھی نہیں چلنے دیتا…
٭ اپنے
ایک حکم کے ذریعے افغانستان جیسے معاشرے میں امن قائم کرنا، پوست کی کاشت روکنا
اور منصفانہ عدالتی نظام قائم کرنا سیاسی بصیرت نہیں تو اور کیا ہے؟… اعتراض کرنے
والے اپنا گھر اور اپنے چار ملازمین کو اس طرح چلا کر دکھا دیں…
٭ دنیا کے سب سے بڑے، طاقتور اور متحدہ لشکر کا تیرہ سال تک
مقابلہ کرنا اور بالآخر اس کو شکست سے دوچار کرنا… کیا یہ سیاسی بصیرت کے بغیر
ممکن ہے؟…
٭ دنیا کا سب سے مطلوب شخص ہونے کے باوجود اپنے محاذ پر ڈٹے
رہنا اور دشمن سے پوشیدہ رہ کر اتنے طویل عرصے تک اپنے لشکروں کی کمان کرنا… اس سے
بڑھ کر کسی بصیرت کا تصور بھی ممکن ہے؟…
٭ کسی بھی ملک اور ادارے کی امداد کے بغیر ایک بڑی جنگ لڑنا
اور اس میں با آبرو رہنا… ایسا شاید دنیا بھر کے تمام دماغ مل کر بھی نہ کر سکیں…
ہم مانتے ہیں کہ حضرت امیر المومنین انسان تھے، بشر تھے… وہ
فرشتہ، پیغمبر، صحابی یا تابعی نہیں تھے ان میں بھی کمزوری ہو گی مگر سیاسی بصیرت
نہ ہونے کا دعویٰ بہت فضول اور بے کار ہے… جس سیاسی بصیرت… اور مواقع سے فائدہ نہ
اٹھانے کا رونا آپ رو رہے ہیں… یہ بصیرت قذافی نے اختیار کی اور اسی کے نتیجے میں
ذلت کی موت مارا گیا… یہی بصیرت صدام حسین نے اپنائی تو پکڑا گیا اور پھانسی پر
شہید ہوا… عالمی سامراج کی سیاست یہی ہے کہ جو مسلمان حکمران ان کی غلامی میں نہیں
چلتا اور اپنے موقف پر آگے بڑھتا ہے تو وہ اس کے گرد جعلی دوستوں اور خیر خواہوں
کا جال بچھاتے ہیں… یہ دوست اس حکمران کو طرح طرح کے سبز باغ دکھا کر … اور اچھی
طرح ڈرا کر ایک قدم پیچھے ہٹنے پر مجبور کرتے ہیں… پھر جیسے ہی وہ قدم پیچھے ہٹاتا
ہے تو اسے ذلت کی موت مار دیتے ہیں… قذافی بہت دھاڑتا تھا، اسے مقبولیت کے سبز باغ
دکھا کر پیچھے ہٹایا گیا… پیچھے ہٹتے ہی وہ اپنے جذباتی حامیوں سے محروم ہوا تو
اسے ذلت کی موت مار دیا گیا… یہی صدام کے ساتھ ہوا… ان دونوں نے بظاہر سیاسی بصیرت
کے تحت عالم کفر کے بہت سے مطالبات مانے… اگر خدانخواستہ حضرت امیر المومنینؒ اپنی
حکومت بچانے کے لئے ایسا کرتے… بامیان کے بت نہ گراتے، شیخ اسامہ کو پکڑ کر حوالے
کر دیتے… انڈین طیارے کو نہ اترنے دیتے… این جی اوز کو بے لگام چھوڑ دیتے… تب بھی
ان کو نہ چھوڑا جاتا… ڈو مور، ڈومور بھونکتے ہوئے وحشی کتے پھر کسی بہانے ان پر
حملہ آور ہوتے کیونکہ ان کے لئے مسلمانوں کی خود مختار حکومت کسی صورت قابل
برداشت نہیں ہے… حضرت امیر المومنین بھی اگر ایک قدم پیچھے ہٹا لیتے تو ان کو ذلیل
کر کے مارا جاتا… حضرت تو قابل رشک سیاسی بصیرت رکھتے تھے… وہ آگے بڑھتے رہے… تب
قدرت نے ان کی جھولی عزت، اکرام اور فتوحات سے بھر دی… ان کی بصیرت اور استقامت کی
برکت سے یہ تصور ختم ہوا کہ ہر مسلمان حکمران کو جھکایا اور دبایا جا سکتا ہے…
الحمد للہ ان کے اس عمل کی برکت سے ساری دنیا میں اسلام کو عزت ملی اور لوگ فوج در
فوج اسلام میں داخل ہوئے… اور دنیا کے کئی خطوں میں مجاہدین کے لشکر وجود میں آئے…
اور یہ تاثر ختم ہوا کہ امریکہ اور یورپ کو شکست نہیں دی جا سکتی…
ہم کیوں اپنی طرز فکر چھوڑیںہم اپنی کیوں وضع خاص بدلیں
کہ انقلابات نو بہ نو تو ہوا کیے ہیں ہوا کریں گے
ہاں! اگر سیاسی بصیرت کا مطلب پسپائی، غلامی، مفاد پرستی اور
جھوٹ ہے تو واقعی حضرت امیر المومنینؒ اس نام نہاد بصیرت سے پاک تھے…
سبحان اللہ! ہمارے حضرت الامیر! دنیا سے اس حال میں گئے کہ ان
کے چہرے پر ذلت، ہزیمت، خود سپردگی، شکست، حسرت اور پشیمانی کا ایک داغ بھی نہیں
تھا… ماشاء اللہ وہ کامل بصیرت رکھنے والے پورے اور سالم مسلمان تھے… اور وہ اپنا
ایمان سالم لے کر اس دنیا سے چلے گئے…
﴿ اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ
رٰجِعُوْنَ، اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ
رٰجِعُوْنَ، اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ﴾
سالوں میں صدیوں کا سفر
کیا آپ کو معلوم ہے کہ… حضرت عمر بن عبد
العزیز رحمۃ اللہ علیہ کی عمر کتنی تھی؟… انہیں پانچواں
خلیفۂ راشد کہا جاتا ہے… عالم اسلام کے کامیاب ترین حکمرانوں میں ان کا نام پہلے
دس افراد میں آتا ہے… اہل علم ہوں یا اہل جہاد… اہل تاریخ ہوں یا اہل تصوف سب ان
کے آج تک قصیدے پڑھتے ہیں… ان کا انتقال چالیس سال کی عمر میں ہوا… کہا جاتا ہے
کہ ان کو زہر دیا گیا تھا… اکثرصدیقین کی شہادت اسی طرح ہوتی ہے… اور یہ شہادت عام
شہادت سے زیادہ بلند ہوتی ہے… وہ ۶۱ھ میں پیدا ہوئے اور ۱۰۱ھ میں
وفات پا گئے… خلافت کا کل زمانہ دو سال پانچ ماہ چار دن بنتا ہے… مگر یہ دو سال …
برکت، اجر اور عمل میں صدیوں پر بھاری ہیں…
محمد بن قاسم رحمۃ اللہ علیہ جو فاتح سندھ اور
مغربی پنجاب تھے… انہوں نے تیئس (۲۳) سال کی عمر پائی… ۷۲ھ میں پیدا ہوئے اور ۹۵ھ میں
وفات پا گئے… آج تک کسی مصنف یا خطیب کا جہادی بیان ان کے تذکرہ کے بغیر مکمل
نہیں ہوتا… اسے کہتے ہیں صدیوں کی کمائی…
فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ
علیہ … آج تک امت مسلمہ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں… انہوں نے کل چون یا
پچپن سال کی عمر پائی… مگر ان کا نام، کام، کارخانہ اور برکتیں آج تک جاری ہیں…
اسے کہتے ہیں صدیوں کو فتح کرنا… ویسے پچاس سے پچپن سال کی عمر کے دوران وفات پانے
والے اہل کمال بہت زیادہ ہیں…
حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھ لیجئے…
پورے ایک مسلک اور اربوں مسلمانوں کے امام… ۱۵۰ھ میں پیدا ہوئے اور ۲۰۴ھ وفات
پا گئے… زمانے کے ذہین ترین بابے بھی ان کی تقلید پر فخر کرتے ہیں… حضرت امام
غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی تقریباً یہی عمر پائی مگر اور کاموں کے
ساتھ اتنی کتابیں لکھ گئے کہ… اگر کوئی ان کو نقل کرنے بیٹھے تو اس کی عمر بیت
جائے…
سالوں میں صدیوں کو فتح کرنے والے ان افراد میں ایک نیا نام
شامل ہو گیا اور وہ ہیں… ہمارے حضرت امیر المومنین … سبحان اللہ ! اتنا کام، اتنے
کارنامے، اتنا وسیع کارخانہ اور اتنی برکت… اور عمر ہجری حساب سے یہی چون پچپن
سال… حضرت سیّد احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ سے آٹھ نو سال بڑے اور سلطان
صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ کے ہم عمر… ملا محمد عمر مجاہد اخوند
رحمۃ اللہ علیہ چلے گئے…
﴿ اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ
رٰجِعُوْنَ، اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ
رٰجِعُوْنَ، اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ﴾
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ
ایک بات ’’مکتوبِ خادم‘‘ میں لکھ دی تھی… ممکن ہے وہ کسی کو
مبالغہ لگی ہو… اس لئے قدرے وضاحت کے ساتھ عرض ہے… حضرت شاہ عبد العزیز قدس سرہ نے
اپنے والد محترم مسند الہند حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ
علیہ کے بارے میں لکھا ہے کہ… وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کے معجزات میں سے ایک معجزہ تھے… بندہ نے عرض کیا تھا کہ ہمارے
حضرت امیر المومنینؒ بھی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے
معجزات میں سے ایک معجزہ تھے … چاند زمین سے کافی فاصلے پرہے… حضرت آقا مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم کی انگلی مبارک کے اشارے نے اس پر اثرا ڈالا اور وہ دوٹکڑے ہو گیا…
یہ معجزہ تھا… اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت اور
رہنمائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چودہ سو سال دور ایک
انسان کے دل کو ایسا کر دے کہ وہ قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں جیسا ہو جائے… یہ بھی
معجزہ ہے… آج کئی لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا
زمانہ نہیں پایا… ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک
سے چودہ سوسال دور ہیں اس لئے ہم دین میں اس قدر پختہ نہیں ہو سکتے… مگر ایک انسان
کے دل میں آج بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت اپنی
مکمل رعنائی کے ساتھ اتر جاتی ہے… اور اس کو مسلمانوں کا برحق امام اور قائد بنا
دیتی ہے تو یہ یقیناً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے…
ویسے بھی اس اُمت کے تمام ’’صدیقین‘‘ حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کا معجزہ ہیں …کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی
تربیت ان کو مقام’’ صدیق‘‘ تک پہنچاتی ہے… صدیقین کون ہوتے ہیں؟ تفصیل کا مقام
نہیں بس ان کی چار علامات عرض ہیں:
١ صدیق
وہ ہوتا ہے جس کا ظاہر اور باطن ایک جیسا ہو…
٢ صدیق
وہ ہوتا ہے جو اپنے عزم اور ارادے میں ہرگز تردد نہیں کرتا، یعنی جس نیک کام کا
عزم و ارادہ باندھ لے پھر اسے نہیں چھوڑتا…
٣ دین
کے کاموں میں خالص اللہ تعالیٰ کے لئے کوشش کرتا ہے… اپنی خواہشات نفس کو بالکل
دخل نہیں دیتا…
٤ اپنی
عمر کے ابتداء سے جھوٹ … اور دو رنگی بات کہنے سے دور رہتا ہے۔ (مفہوم تفسیر
عزیزی)
آپ حضرت امیر المومنین رحمۃ اللہ علیہ کے حالات
کا بغور مشاہدہ کریں … ماشاء اللہ ان میں یہ سب علامات موجود تھیں…
ہماری خوش نصیبی ہے کہ آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کا یہ معجزہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا… اس سے فیض پایا… اس کی
قیادت میں کام کیا… حضرت امیر المومنینؒ کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچا اخلاص اور عشق
نصیب تھا… اللہ تعالیٰ ہمیں بھی یہ نعمت نصیب فرمائے…جگرؔ مرحوم کے دو شعر جو حضرت
امیر المومنینؒ کے عشق کی تصویر کھینچتے ہیں… قدرے ترمیم کے ساتھ پیش ہیں؎
جنہیں کہیے عشق کی وسعتیں، جو ہیں خاص حسن کی عظمتیں
یہ اسی کے قلب سے پوچھئے جسے فخر ہو غم یار پر
میں رہین درد سہی مگر مجھے اور چاہیے کیا ’’عمر‘‘
غم یار ہے میرا شیفتہ، میں فریفتہ غم یار پر
آہ! زمانے کا وہ صدیق چلا گیا…
﴿ اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ
رٰجِعُوْنَ، اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ
رٰجِعُوْنَ، اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ﴾
ہر سعادت پر قبضہ
اکثر لوگ اپنی آئندہ کل کے مفادات سوچ سوچ کر… اپنے آج کو
ویران کرتے رہتے ہیں… مصلحت، مصلحت، مصلحت کی رٹ لگا کر ہر سعادت سے محروم رہتے
ہیں… مگر عقلمند لوگ اپنے ’’آج ‘‘ کو قیمتی بناتے ہیں… اور جو سعادت اور نیکی
سامنے آئے اس کو فوراً حاصل کر لیتے ہیں… اور کل کے خوف، خطرے اور اندیشے میں
اپنے آج کا نقصان نہیں کرتے…
امیر المومنین کے دور حکومت میں جب نائن الیون کا واقعہ ہو
چکا تھا… اور افغانستان پر غیر ملکی حملہ قریب تھا… پاکستان کے ایک قومی سیاستدان
سے ملاقات ہوئی… انہوں نے بطور شکوہ بتایا کہ میں نے طالبان کے لئے حمایت حاصل
کرنے کی کافی محنت کی… مگر انہوں نے چیچنیا کی حکومت کو تسلیم کر کے اور کابل کا
روسی سفارتخانہ چیچن مجاہدین کو دے کر… اور سنکیانک کے کچھ مسلمانوں کو پناہ دیکر
سب کو ناراض کر دیا ہے… اور میری ساری محنت رائیگاں گئی ہے… ان کی یہ تنقید سن کر
مجھے حضرت امیر المومنینؒ کے ایمان پر رشک آیا کہ واقعی وہ ایسے سچے مسلمان ہیں…
جن کی زندگی کا ایجنڈا کبھی بھی اسلام اور مسلمانوں سے باہر نہیں جاتا…
وہ اسلام اور مسلمانوں کی خاطر اپنا ہر ذاتی نقصان خوشی سے
قبول کرتے ہیں… اور صرف اسلام اور مسلمانوں کے لئے جیتے ہیں… آسمان، زمین اور
تمام مسلمان صدیوں سے ایسے مسلمان حکمران کے لئے ترس رہے تھے… جو اسلام اور
مسلمانوں کا خادم ہو… اور انہیں سب سے زیادہ فوقیت دیتا ہو… امیر المومنینؒ کا
زمانۂ حکومت اتنا ہی تھا جتنا ان کو نصیب ہوا… اور ان کی زندگی اتنی ہی تھی جتنی
انہوں نے گذار لی… وہ اگر چیچن مسلمانوں کو ذبح کر کے، اور سنکیانک کے مظلوموں کو
حوالے کر کے روس اور چین کو اپنا دوست بنا بھی لیتے تو ان کی حکومت اور عمر کے
دنوں میں اضافہ نہ ہوتا… روس نے صدام کو کونسا بچا لیا؟… چین نے قذافی کی کیا مدد
کی؟… اگر امیر المومنینؒ ان کی دوستی کی خاطر مسلمانوں کے مفادات ذبح کرتے تو ان
کی حکومت اسلام کے کیا کام آتی؟… تاریخ میں کیا تبدیلی ہوتی ؟ زمین پر کون سے بیج
بوتی؟ ایسے مسلمان حکمران تو ہزاروں آئے اور مر گئے… مگر عمر تو عمر تھے… انہوں
نے اپنی ہر چیز اسلام اور مسلمانوں کے لئے قربان کی… وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے
اسلام اور مسلمانوں کی عزت بنے… تب روس بھی ان کے قدموں پر جھکا… چین نے بھی بارہا
ان کو امداد کی خفیہ پیشکشیں کیں… اور وہ بڑی امتیازی شان کے ساتھ جئے اور بڑی
امتیازی شان کے ساتھ چلے گئے…
﴿ اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ
رٰجِعُوْنَ، اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ
رٰجِعُوْنَ، اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ﴾
ایک خاص طبقہ
انسان عمومی طور پر کمزور پیدا ہوا ہے… جو خود کو مضبوط
سمجھتے ہیں ان کی مضبوطی بھی… کئی مقامات اور کئی حالات میں بالآخر کمزور پڑ جاتی
ہے… خوف، بیماری، اولاد، موت، آنسو، معاشی مجبوری… اور بہت کچھ مضبوط انسانوں کے
عزم کو کمزور کرنے والی چیزیں ہیں… مگر کچھ لوگ واقعی بے حد مضبوط ہوتے ہیں… ان پر
جیسے بھی حالات آ جائیں وہ اپنے عزم اور ہٹ سے پیچھے نہیں ہٹتے… کبھی بھی نہیں،
کسی بھی حال میں نہیں… ایسے لوگ کروڑوں اربوں میں ایک آدھ ہوتے ہیں…
مثال لیجئے… مکہ مکرمہ میں اس خاص مزاج کے دو افراد تھے… حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے پہچان لیا… جمعہ کی رات، اللہ تعالیٰ سے
التجا کی کہ ان دو میں سے ایک مجھے عنایت ہو… تاکہ اسلام اور مسلمانوں کے لئے عزت
کا ذریعہ ہو… دعاء حضرت سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے
حق میں قبول ہوئی… وہ اسلام اور مسلمانوں کی عزت کا ناقابل شکست ستون بن گئے… جبکہ
دوسرا ضدی محروم رہا موت کے وقت تک اور موت کے دوران بھی اپنی بات پر ڈٹا رہا… وہ
تھا عمرو بن ہشام یعنی ابو جہل… بعد کے زمانے میں بھی ایسے افراد آتے رہے… اچھے
بھی اور ُبرے بھی… تفصیل لکھوں تو آپ حیران رہ جائیں گے… مضمون کی جگہ کم ہے…
ہمارے حضرت امیر المومنین اسی خاص مزاج کے انسان تھے… سردی ہو یا گرمی، غربت ہو یا
امیری، زندگی ملے یا موت، تخت ہو یا تختہ، کوئی راضی ہو یا ناراض، فائدہ نظر آئے
یا نقصان، بس جس حق نظریہ پر ڈٹ گئے… اس سے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا… ایسے
افراد فطرت کے مخدوم ہوتے ہیں… فرشتوں سے لے کر ہواؤں اور پہاڑوں تک سب ان کی
خدمت میں لگے رہتے ہیں… ایسے افراد اپنے نظریے اور اپنی قوم کے لئے عزت کا سامان
ہوتے ہیں… ہمارے امیر المومنین بھی اس زمانے میں اسلام، جہاد اور دینی غیرت کی عزت
و آبرو بنے رہے اور اسی عزت و آبرو کی سلامتی کے ساتھ چلے گئے…
﴿ اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ
رٰجِعُوْنَ، اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ
رٰجِعُوْنَ، اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ﴾
ایک ملاقات کا حال
گرفتاری کا پہلا سانس ’’مقبوضہ کشمیر‘‘ میں لیا تھا… اللہ
تعالیٰ کشمیر کو آزادی عطاء فرمائے… مگر اس طویل گرفتاری کے بعد آزادی کا پہلا
سانس… حضرت امیر المومنین کے سایۂ شفقت ’’قندھار‘‘ میں لیا… ہم بالکل
ان کے پڑوس میں، ان کی میزبانی اور شفقت کے مزے لوٹ رہے تھے… مگر زیارت سے محروم،
شوق سے تڑپتے ہوئے…
اللہ رے تیغ عشق کی برھم نوازیاں
میرے ہی خون شوق نے نہلا دیا مجھے
ان کے عالی مقام اور حالات کی نزاکت کے باعث عزم تھا کہ محبت
کو ضبط کریں گے…ملاقات کا اصرار نہ کریں گے… مگر ان کی دلنوازیاں… اللہ،
اللہ… ایک بار پہننے کے لئے غریب مسافروں کو کپڑے بھیج دئیے… کبھی ان
کا چھوٹا بھائی آنکھوں میں پیغام محبت بھرے سامنے آ بیٹھتا اور ہم اس کے چہرے
میں… اپنے محبوب کے نقوش تلاش کرتے… ایک بار تو حد ہو گئی… پیغام آیا کہ یہاں
رہنا چاہو تو میرا ملک، میرا شہر حاضر ہے… جانا چاہو تو دعاؤں کے ساتھ اجازت ہے…
دعویٰ کیا تھا ضبط محبت کا اے جگر!
ظالم نے بات بات پر تڑپا دیا مجھے
بالآخر اسی تڑپ کو دل میں دبائے، پاکستان آ گئے… مگر دل
وہیں چھوڑ آئے تھے… اس نے خوب سفارتکاری کی یہاں تک کہ ملاقات کا بلاوا آ گیا…
کام آخر جذبۂ بے اختیار آ ہی گیا
دل کچھ اس صورت سے تڑپا ان کو پیار آ ہی گیا
ہمارا قافلہ ایک بار پھر قندھار روانہ ہو گیا…
اوّل اوّل ہر قدم پر تھیں ہزاروں منزلیں
آخر آخر اک مقام بے مقام آ ہی گیا
التفات چشم ساقی کی سبک تابی نہ پوچھ
میں یہ سمجھا جیسے مجھ تک دور جام آ ہی گیا
عشق کو تھا کب سے اپنی خشک دامانی کا رنج
ناگہاں آنکھوں سے اشکوں کا سلام آ ہی گیا
جگر مرحوم سے معذرت کے ساتھ:
بے ’’عمر‘‘ سُونا پڑا تھا مدتوں سے مے کدہ
پھر وہ دریا نوش، رندتشنہ کام آ ہی گیا
ملاقات کا منظر عجیب تھا… رعب اور اپنائیت، خوف اور محبت…
احتیاط اور شوق… کیا کہیں گے؟… کیا کہہ سکیں گے؟… نہیں نہیں صرف سنیں گے… ہاں! مگر
آنکھوں سے جام بھریں گے… مگر دیکھیں گے کیسے؟… نظریں کہاں ملا سکیں
گے؟… چلو قدم مبارک پر نظر جما لیں گے… مگر ملاقات ہوتے ہی سب دوریاں، قربتوں میں
بدل گئیں…
نظر سے ان کی پہلی نظر یوں مل گئی اپنی
حقیقت میں تھی جیسے مدتوں سے دوستی اپنی
اور…
حسن کی سحرکاریاں عشق کے دل سے پوچھیے
وصل کبھی ہے ہجر سا، ہجر کبھی وصال سا
گم شدگان عشق کی شان بھی کیا عجیب ہے
آنکھ میں اک سرور سا چہرے پہ ایک جلال سا
مصافحہ، معانقہ، بہت مختصر حال احوال اور پھر خاموشی…
دل بن گیا نگاہ، نگہ بن گئی زباں
آج اک سکوتِ شوق قیامت ہی ڈھا گیا
جو دل کا راز تھا اسے کچھ دل ہی پا گیا
وہ کر سکے بیاں، نہ ہمیں سے کہا گیا
ویسے جگر کی اس غزل کا ایک شعر تو حضرت امیر المومنینؒ پر خوب
جچتا ہے…
اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہل دل
ہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا
ان دنوں ہم جہاں جاتے… بہت طویل باتیں سنتے… مشورے، احکامات،
اُمیدیں، تنبیہات… یہاں سراپا گوش بنے بیٹھے تھے… مگر دلنواز خاموشی… نہ کوئی حکم
نہ کوئی مشورہ… نہ احسانات کی فہرست نہ کوئی مطالبہ… ہاں! وہ بہت کم بولتے تھے،
مگر جب بولتے تو موتی جھڑتے… تب مجبوراً ادب کے ساتھ زبان کھولی… کچھ حال سنایا،
اپنے عہد و پیمان کو جو جیل میں باندھا تھا تازہ کیا… کچھ رہنمائی لی… تب جچے تلے
جوابات ملنا شروع ہوئے… اور ایک حسین خواب کی طرح پہلی ملاقات ختم ہو گئی… کچھ
عرصے بعد دوسری ملاقات ہوئی… اس دن ایک حسّاس موضوع تھا تو خوب بولے… دل میں آرزو
تھی کہ یہ لمحات زندگی میں بار بار آئیں… ان کی روپوشی کے دوران کئی بار سوچا کہ
اگر حالات ٹھیک ہو گئے تو انہی کے قدموں میں جا بسوں گا… ان سے ان کے دفتر میں
جھاڑو کی خدمت مانگوں گا… نہ عہدہ، نہ منصب… نہ تقریریں نہ تحریریں…محبوب رب کی
بارگاہ میں مقبول ایک انسان کی نوکری، چاکری… اور اس کی زیارت… اپنے دل سے کئی بار
سچ سچ پوچھا… اسے یہ نوکری اور چاکری دنیا بھر کی بادشاہت سے زیادہ عزیز تھی…
انہیں خیالوں اور خوابوں میں چل رہے تھے کہ پتا چلا کہ… وہ تو چلے گئے…
رفت ساقی بسوئے ساقی دست تہی میخانہ شد
﴿ اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ
رٰجِعُوْنَ، اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ
رٰجِعُوْنَ، اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ﴾
حافظ شیراز رحمۃ اللہ علیہ کی باتیں
حافظ شیراز رحمۃ اللہ علیہ سے پرانی یاری ہے… وہ
اپنے دیوان میں تشریف فرما آتے ہیں… کبھی رُلاتے ہیں، کبھی رقصاتے ہیں اور کبھی
زخموں پر مرہم رکھتے ہیں… اس عظیم صدمے کے موقع پر بھی آ گئے… شاید دل غمزدہ کو
پرُسا دینے، تعزیت فرمانے…
کپکپاتے ہاتھوں سے دیوان کھولی تو حافظ کہنے لگے…
حال ماو فرقت جاناں وابرام رقیب
جملہ میداند خدائے حال گرداں غم مخور
ہمارا حال اور محبوب کی جدائی اور دشمنوں کا ستانا… یہ سب کچھ
اس اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے جو حال کا بدلنے والا ہے، اس لئے غم مت کھاؤ…
گرچہ منزل بس خطرناک ست و مقصد ناپدید
ہیچ راہے نیست کو را نیست پایاں غم مخور
اگرچہ منزل بہت خطرناک ہے اور مقصود بھی حاصل نہیں۔ مگر کوئی
راستہ ایسا نہیں جو ختم نہ ہونے والا ہو اس لئے غم مت کھاؤ…
دور گردوں گردو روزے بر مراد مانگشت
دائما یکساں نماند کار دوراں غم مخور
آسمان کی گردش اگر ایک روز ہماری مراد کے موافق نہیں ہوئی…
مگر زمانے کا کام کبھی ایک جیسا نہیں رہتا، غم مت کھاؤ…
حافظا در کنج فقرو خلوت شبہائے تار
تابود وِردت دعا ودرسِ قرآں غم مخور
حافظؒ سے عرض کیا کہ… حضرت امیر المومنین کے حسب حال کچھ
ارشاد ہو… فرمایا: ان کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ عشق، وفاداری… اور ان کی وسیع روحانی
سلطنت پر عرض ہے…
عشقت نہ سرسری ست کہ از سر بدرشود
مہرت نہ عارضی ست کہ جائے دگرشود
تیرا عشق ایسا سرسری نہیں کہ میرے سر سے نکل جائے… تیری محبت
عارضی نہیں کہ کسی اور کے ساتھ جڑ جائے…
عشق تو در وجودم و مہر تو دردلم
باشیردر دروں شد وباجاں بدرشود
تیرا عشق میرے وجود میں اور تیری محبت میرے دل میں اتر چکی
ہے۔ یہ ماں کے دودھ کے ساتھ اندر گئی ہے اور جان کے ساتھ نکلے گی…
دردیست درد عشق کہ اندر علاج او
ہر چند سعی بیش نمائی بتر شود
عشق کا درد ایسا درد ہے کہ اس کے علاج میں جس قدر کوشش کرو گے
یہ بڑھتا ہی جائے گا…
اول منم یکے کہ دریں شہر ہر شبے
فریاد من بگنبد افلاک بر شود
اس شہر میں جس کی فریاد ہر رات سب سے پہلے آسمانوں کے اوپر
جاتی ہے وہ میں ہی ہوں…
اگلا شعر بہت ہی عجیب ہے… توجہ سے ملاحظہ فرمائیں…
ور زانکہ من سرشک فشانم بزندہ رود
کِشت عراق جملہ بیکبار ترشود
اس وجہ سے کہ جب میں ’’زندہ رود‘‘ پر آنسو گراتا
ہوں تو عراق کے کھیت سب یکبارگی تروتازہ ہو جاتے ہیں۔
’’زندہ رود‘‘ اصفہاں کا دریا ہے یعنی جب میں اپنے شہر میں
آنسو گراتا ہوں تو ان آنسوؤں سے دریاؤں میں ایسا زوردار سیلاب آتا ہے کہ… دور
دور تک کے خشک کھیت سیراب ہو جاتے ہیں… خاص طور سے عراق کے کھیت… حضرت امیر
المومنین کی آہوں اور آنسوؤں سے جہاد کا ایسا سیلابی ریلا اٹھا کہ… عراق میں
بھی تحریک کھڑی ہوئی… اور دجلہ اور فرات کے دریا… دشمنان اسلام کی لاشوں سے بھر
گئے… اور ایمان و جہاد کے خشک کھیت سرسبز ہو کر لہلہانے لگے… آج جو عراق و شام کے
اتنے بڑے لشکر نظر آتے ہیں … ان سب کے پیچھے ملا محمد عمر مجاہد کی آہیں، آنسو،
محنت، استقامت اور فکر ہے… آہ! وہ فاتح عالم چلا گیا…
﴿ اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ
رٰجِعُوْنَ، اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ
رٰجِعُوْنَ، اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ﴾
مِسْکُ الخِتَام
ہمارے لئے سعادت کی بات ہے کہ ہم اپنی آج کی مجلس کا اختتام
اپنے ’’میر مجلس‘‘ حضرت امیر المومنینؒ کے ایک فرمان پر کر رہے ہیں… یہ
فرمان آپؒ نے افغانستان پر امریکہ اور نیٹو کے حملے کے فوری بعد جاری فرمایا… اور
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی بات کو سچا فرما دیا… ہم اس بیان کی روشنی میں حضرت
امیر المومنین کی شخصیت کے کئی پہلو سمجھ سکتے ہیں… حضرت امیر المومنین نے ارشاد
فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، اللہ تعالیٰ کے لئے امریکا
اور چیونٹی دونوں ایک برابر ہیں… امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو یہ جان لینا چاہیے
کہ ’’امارت اسلامیہ‘‘ ایسا نظام نہیں کہ اس کا امیر ’’ظاہر شاہ‘‘ کی طرح روم چلا
جائے گا اور فوج تمہارے سامنے ہتھیار ڈال دے گی… بلکہ یہ جہاد کا منظم محاذ ہے۔
اگر تم شہروں اور دارالحکومت پر قابض ہو بھی جاؤ، اسلامی حکومت گرا بھی دو، تو
ہمارے مجاہدین دیہاتوں اور پہاڑوں میں چلے جائیں گے تب پھر تم کیا کرو گے؟… تم پھر
کیمیونسٹوں کی طرح ہر جگہ مارے جاؤ گے… تم جان لو کہ بد انتظامی اور جنگ بھڑکانا
آسان ہے، مگر اس بد انتظامی اور جنگ کا خاتمہ کرنا اور ایک نظام قائم کرنامشکل
ہے، موت برحق ہے، اور سب کو آئے گی… امریکا کی حمایت میں بے ایمانی اور بے غیرتی
کی حالت میں موت آئے یہ اچھا ہو گا؟ یا اسلام میں،ایمان کے ساتھ اور غیرت کی حالت
میں موت کا آنا زیادہ بہتر ہو گا۔‘‘
(خادم الاسلام ملا محمد عمر مجاہد)
آہ! وہ اللہ کی تلوار، اسلام کا شیر اور دینی غیرت کا ستون
چلا گیا…
﴿ اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ
رٰجِعُوْنَ، اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ
رٰجِعُوْنَ، اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ﴾
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ’’مغفرت‘‘ مانگنے والا بنائے… اور ہم سب
کو اپنے فضل سے ’’مغفرت‘‘ پانے والا بنائے…
حد درجہ پُرکشش
’’مغفرت‘‘ کا لفظ بہت پُرکشش ہے…یہ لفظ سنتے ہی دل مچلنے لگتا
ہے،کبھی کبھار دھڑکنے لگتا ہے …’’مغفرت‘‘ کوئی معمولی چیز تو ہے نہیں … قرآن مجید
دکھاتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام ’’مغفرت‘‘ مانگ رہے
ہیں…حضرت نوح علیہ السلام ’’مغفرت‘‘ مانگ رہے ہیں…اور دونوں
جلیل القدر پیغمبر فرما رہے ہیں کہ…یا اللہ! اگر ہمیں ’’مغفرت‘‘ نہ ملی تو ہم تباہ
ہو جائیں گے … اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ
السلام ’’ مغفرت‘‘ مانگ رہے ہیں…اللہ تعالیٰ کے کلیم حضرت
موسیٰ علیہ السلام ’’مغفرت‘‘ مانگ رہے ہیں …وہ دیکھیں!
قرآن مجید میں بہت عجیب منظر … فرعون اپنی مکمل فرعونیت کے ساتھ ایمان لانے والے
جادوگروں کو دھمکا رہا ہے…میں تمہیں کھجور کے درختوں سے اُلٹا لٹکا دوں گا… میں
تمہارے بازو اور ٹانگیں کاٹ دوں گا…میں تمہیں سولی اور پھانسی پر اُلٹا لٹکا دوں
گا…میں تمہیں سسکا سسکا کر سخت عذاب میں ماروں گا…ایمان لانے والے جادوگروں نے
کہا… کوئی فکر نہیں، تو یہ سب کچھ کر لے…ہماری لالچ بس اتنی ہے کہ ہمیں اللہ
تعالیٰ کی طرف سے ’’مغفرت‘‘ مل جائے…’’ مغفرت ‘‘کی تلاش میں تیرے مظالم قبول ہیں…
’’ مغفرت‘‘ کی خاطر کٹ مرنا اور لٹک کر مرنا سب منظور ہے…وہ دیکھیں! حضرت
داؤد علیہ السلام ’’مغفرت‘‘ مانگ رہے ہیں… حضرت
سلیمان علیہ السلام ’’مغفرت‘‘ مانگ رہے ہیں…یہ سب معصوم
انبیاء ہیں…کبیرہ گناہوں سے بھی پاک اور صغیرہ گناہوں سے بھی پاک…مگر وہ کس طرح
تڑپ تڑپ کر مغفرت مانگتے ہیں… کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور بڑائی کو جانتے
ہیں…اتنا عظیم رب ،اتنا عظیم،اتنا عظیم… اور ہم اتنے چھوٹے تو پھر اتنے عظیم رب کا
حق کیسے ادا کر سکتے ہیں؟…اس کی عظمت اور شان کے مطابق کہاں اس کی عبادت کر سکتے
ہیں؟…یا اللہ معافی، یا اللہ مغفرت…قرآن مجید نے اعلان فرمایا کہ… اللہ تعالیٰ نے
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’کامل مغفرت‘‘ عطاء فرما
دی ہے… سبحان اللہ! حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی
خوشی کی حد نہ رہی…فرمایا: آج تو ایسی سورت نازل ہوئی جو مجھے ہر چیز سے زیادہ
محبوب ہے … اور پھر مغفرت کے شکرانے میں عبادت بڑھا دی، ریاضت بڑھا دی اور محنت
بڑھا دی… کیا ہم گناہگاروں اور بے کاروں کو بھی ’’مغفرت‘‘ ملے گی؟…یہ سوچ کر دل
دھڑکنے لگتا ہے… کبھی خوف سے ڈوبنے لگتا ہے تو کبھی امید سے مچلنے لگتا ہے … مغفرت
، مغفرت ، مغفرت … اسی مغفرت کے مانگنے کو ’’استغفار ‘‘ کہتے ہیں … استغفار کا
ترجمہ ہے مغفرت مانگنا،مغفرت چاہنا، مغفرت طلب کرنا…مغفرت کی لالچ میں یہ خواہش
تھی کہ قرآن مجید کی مغفرت،توبہ اور استغفار والی آیاتِ مبارکہ کو جمع کیا
جائے…قرآن مجید کی استغفار اور توبہ والی دعاؤں کو جمع کیا جائے … سالہا سال تک
یہ خواہش دل میں رہی…وہاں پلتی اور بڑھتی رہی…مگر عمل میں نہ آ سکی…اس دوران توبہ
اور استغفار کے موضوع پر چند مضامین کی توفیق ملی…الحمدللہ نتائج بہت اچھے
نکلے…پھر ’’استغفار‘‘ کی ایک مہم چلی،اس پر ’’مکتوبات‘‘ کی توفیق ملی…ماشاء اللہ
نتائج حیرت انگیز تھے… بڑی خوشی یہ ہوئی کہ استغفار مہم نے ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘
کو بہت فائدہ پہنچایا…مجاہدین میں اپنے لئے اور دوسروں کے لئے’’استغفار‘‘ کا ذوق
ایک جنون کی طرح ابھرا اور دور دور تک پھیل گیا …اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کی
تعریف فرماتا ہے …جو سحری کے وقت مغفرت مانگتے ہیں…یعنی استغفار کرتے ہیں…
﴿وَبِالْاَسْحَارِ ہُمْ یَسْتَغْفِرُونَ﴾
الحمد للہ یہ کیفیت بھی مضبوط ہوئی…فدائی مجاہدین نے درخواست
کی کہ…استغفار مہم بار بار چلائی جائے…ایک دن میں تیس ہزار استغفار کا عمل بھی خوب
رہا…اور روزانہ ایک ہزار بار ’’ استغفار‘‘ بے شمار افراد کا وظیفہ بنا…فدائی
مجاہدین کے دل آئینے کی طرح ہوتے ہیں…اور استغفار کے مقام کو دل والے ہی سمجھتے
ہیں…محبوب کو منانا ،محبوب سے معافی مانگنا…محبوب سے بار بار معافی اور توجہ کی
عاجزانہ التجا کرنا…اپنے کسی عمل پر ناز نہ کرنا بلکہ معافی ہی مانگتے چلے جانا…یہ
وہ عمل ہے جو دل کو مانجھ دیتا ہے…جو نفس کو پاک کر دیتا ہے …جو پردوں کو ہٹا کر
حقائق کا چہرہ صاف کر دیتا ہے…یہ ساری صورتحال دیکھ کر شوق مزید بڑھا کہ…آیات
استغفار کو جمع کیا جائے…
ایک بات سمجھیں
قرآن مجید کسی ایک موضوع کی آیات کو … اکٹھا جمع نہیں
فرماتا… توحید کی آیات ہوں یا نماز کی…جہاد کی آیات ہوں یا استغفار کی… قصص والی
آیات ہوں یا فکر آخرت کی…یہ پورے قرآن میں بکھری ہوئی ہیں…اور ایسا کر کے اللہ
تعالیٰ نے اپنے بندوں پر بڑا احسان فرمایا ہے… اگر قرآن مجید میں بھی مخلوق کی
کتابوں کی طرح ہر موضوع کی آیات اکٹھی ہوتیں تو…ہم بہت سی خیروں اور بہت سے علم
سے محروم ہو جاتے… انسان کے ذہن میں جب نئی بات آتی ہے تو پچھلی بات مدھم پڑ جاتی
ہے…ہم پہلے توحید کی آیات پڑھتے جو ہمارے دماغ میں روشن ہو جاتیں …مگر جب وہ باب
ختم ہوتا اور ہم نماز کی سینکڑوں آیات کو اکٹھا پڑھتے تو توحید کا سبق دماغ میں
مدھم ہو جاتا…پھر جب جہاد کی سینکڑوں آیات شروع ہوتیں تو نماز کا سبق کمزور ہونے
لگتا…اللہ تعالیٰ نے احسان فرمایا کہ قرآن مجید میں تمام ضروری باتوں کو… جگہ جگہ
پر بکھیر دیا…اس سے ہر سبق ہر وقت تازہ رہتا ہے… اور انسان اکتائے بغیر اپنے دماغ
کو روشن کرتا ہے…اور مختلف موضوع جب باہم جڑتے ہیں… اور ایک ایک آیت میں کئی کئی
اسباق ملتے ہیں تو انسان کے ذہن کی قوت اور صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے…اب آپ قرآن
مجید کا کوئی بھی صفحہ کھولیں…آپ کو صرف ایک موضوع نہیں ملتابلکہ ہر صفحہ پر
انسانی ضرورت کی بہت سی ہدایات مل جاتی ہیں…والحمد لله رب العالمین
یہ تو صرف ایک حکمت عرض کی گئی… جبکہ اللہ تعالیٰ کے ہر کام
میں بے شمار حکمتیں ہوتی ہیں… انسان غورکرتا جائے تو حکمتوں کے دروازے کھلتے چلے
جاتے ہیں… اب دوسری بات سمجھیں… کیا یہ جائز ہے کہ کوئی شخص محنت کرکے قرآن مجید
میں سے ایک موضوع کی آیات ایک جگہ جمع کر لے؟… پھر خود بھی ان سے فائدہ اٹھائے
اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچائے…جی ہاں! یہ جائز ہے، اچھا ہے،بہت مفید ہے…اور بہت
نافع ہے …قرآن مجید کے کسی بھی ایک حکم کی آیات جمع کریں… ان کو سمجھیں تو اس
حکم کا پورا نظام دل و دماغ میں اتر جاتا ہے…اور پھر جب انسان قرآن مجید کی تلاوت
کرتا ہے تو …اس میں اسے زیادہ لطف اور فائدہ محسوس ہوتا ہے…
خصوصاً آج کل کے زمانے میں…جبکہ افسوس ہے کہ اکثر مسلمانوں
کو قرآن پاک کا ترجمہ نہیں آتا… یعنی ان کو یہ تک معلوم نہیں کہ ان کے مالک و
خالق نے ان کی ہدایت کے لئے جو دستور نازل فرمایا ہے وہ کیا ہے؟…ان حالات میں کسی
ایک موضوع کی آیات کو جمع کر کے وہ موضوع مسلمانوں کو سمجھانا پھر دوسرے موضوع کی
آیات جمع کر کے وہ موضوع سمجھانا ایک مفید اور نافع خدمت ہے…یہ قرآن مجید کو
’’کاٹنا ‘‘ نہیں بلکہ مسلمانوں کو قرآن مجید سے ’’جوڑنا‘‘ ہے…
روشنی چمکی
آیات توبہ و استغفار جمع کرنے کا شوق تھا مگر زندگی بے
ہنگم…بے ساحل و بے کنارا… ہمت کمزور اور وقت کی قلت…اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور
ایک روشنی کی کرن نظر آئی …ہوا یہ کہ ایک مجاہد نے بہت متاثر کیا…اس کی
قربانی،جانثاری اور شوق شہادت نے دل پر بہت اثر ڈالا…وہ اپنی بات اور اپنی تشکیل
منوا کر چلا گیا…اور جاتے جاتے میرے لئے قرآن مجید کا ایک خوبصورت نسخہ ہدیہ بھیج
گیا…ایسا ہدیہ تو ویسے ہی ’’متبرک ‘‘ہوتا ہے…اور پھر اتنی بڑی قربانی پیش کرنے
والے ’’مرد مومن‘‘ کا ہدیہ…
بس میں نے ارادہ کر لیا کہ ان شاء اللہ اسی ’’نسخہ مبارکہ‘‘
پر آیات استغفار جمع کرتا ہوں … اس شہید نے ایسی کوئی وصیت یا فرمائش نہیں کی تھی
…اس نے بس خاموشی سے قرآن مجید بھیج دیا … معلوم نہیں اس نے کیا دعاء مانگی ہو
گی…لاڈلوں کے تو اپنے ناز ہوتے ہیں اور اپنے انداز…فدائی مجاہدین کا دل چونکہ روشن
ہوتا ہے اس لئے وہ … ان باتوں کو خوب سمجھتے ہیں جن کو دوسرے مسلمان آسانی سے
نہیں سمجھ سکتے …مثلاً کئی افراد بندہ سے عجیب وغریب فرمائشیں کرتے ہیں…کوئی لکھتا
ہے کہ جب آپ کو میر اخط ملے تو فوراً کھڑے ہو کر دو رکعت نماز ادا کریں اور میرے
لئے دعاء کریں… کوئی لکھتا ہے کہ آپ کو قسم ہے کہ آپ نے روز تہجد میں میرا نام
لے کر میرے لئے یہ تین دعائیں مانگنی ہیں…کوئی اصرار کرتا ہے کہ…میری بیوی خرچہ
زیادہ کرتی ہے آپ اس موضوع پر فوراً مکتوب جاری کریں…وغیرہ…حالانکہ ایسے افراد جن
پر اُمت کے اجتماعی معاملات کی ذمہ داری ہو…ان سے ایسے مطالبات کرنا درست نہیں
ہے…ایسے افراد کا وقت ضائع کرنا اجتماعی نقصان کرنا ہے…اور ایسے افراد کو راحت
پہنچانا اجتماعی نیکی ہے…یہ پورا معاملہ قرآن مجید نے نہایت تفصیل سے سمجھایا
ہے…مگر چونکہ اپنی بات چل پڑی ہے اس لئے فی الحال اس کو تفصیل سے عرض نہیں کیا جا
سکتا… لوگوں کے مطالبات کی ایک جھلک تو آپ نے پڑھ لی مگر آج تک کسی فدائی مجاہد
نے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا… جو تکلیف دِہ یا وقت ضائع کرنے والا ہو…وہ ہمیشہ
آسان، مفید،اجتماعی اور نفع مند فرمائشیں کر کے جاتے ہیں…اور ان کی فرمائشیں پوری
کرنے سے دل خوش ہوتا ہے…
یہ شہید بہت قربانی والا تھا…اس نے خط میں لکھا کہ میں نے آپ
کو کئی بار دیکھا ہے…مگر آپ نے مجھے نہیں دیکھا… اور میں آپ سے ملاقات کی سخت
خواہش کے باوجود آپ سے اس کا مطالبہ نہیں کرتا… اور اپنی اس خواہش کو بھی اللہ کے
لئے قربان کرتا ہوں…بس مجھے اجازت چاہیے…وہ چلا گیا… قرآن مجید کا نسخہ دے گیا
…اور اس کے چند دن بعد میں نے اپنے ایک بھائی کے ساتھ بیٹھ کر… دو طرفہ تلاوت کے
دوران آیات توبہ و استغفار پر نشانات لگا دئیے … ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ اس
موضوع پر بھی سینکڑوں آیات مبارکہ موجود ہیں…عمومی تلاوت اور عمومی تفسیر کے
دوران اس کا اندازہ اکثر نہیں ہو سکتا…آیات کی فہرست توقع سے بڑی تھی … اس لئے
پھر ہمت جواب دے گئی…اور میں سفر و حضر میں قرآن مجید کا یہ نسخہ ساتھ لئے پھرتا
رہا … باقی داستان ان شاء اللہ اگلے ہفتے…
مجموعہ مقبول استغفار
رنگ و نور کے گزشتہ دو کالموں میں…قرآن مجید کی بیان فرمودہ
توبہ و استغفار والی دعائیں جمع کی گئیں تھیں…بعض اہل ذوق کی فرمائش تھی کہ ان
دعاؤں کو ترجمہ اور تشریح کے بغیر اکٹھا چھاپ دیا جائے تاکہ …پڑھنے والوں کو
آسانی ہو… چوبیس دعائیں تو وہی ہیں جو دو کالموں میں تھیں … جبکہ پچیسویں
دعاء…حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعمیر کعبہ کے وقت کی دعاء ہے…یہ
دعاء مفصل ہے… عام طور پر اس کے پہلے اور آخری حصے کو ملا کر…ایک دعاء بنا دیا
جاتا ہے…
﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ
الْعَلِیمُ﴾ ( البقرۃ ۱۲۷)
﴿وَتُبْ عَلَیْنَا اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ﴾ (
البقرۃ ۱۲۸)
اور درمیانی حصہ کو ہٹا دیا جاتا ہے…چنانچہ اسی طریقہ پر اس
دعاء کو بھی مجموعہ میں شامل کر کے القلم کے اس شمارہ میں یہ تحفہ بھی قارئین کے
لئے پیش کیا جا رہا ہے…
﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ
الْعَلِیمُ… وَتُبْ عَلَیْنَا اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ﴾
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے…’’رجب‘‘ کا محترم اور معزز مہینہ شروع
ہو گیا ہے…
اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَشَعْبَانَ
وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ
کسی مہینہ کے ’’محترم‘‘ اور معزز ہونے کا ایک مطلب یہ ہے
کہ…اس مہینہ میں نیکیوں کا وزن بڑھ جاتا ہے…اس لئے نیکیوں کو بڑھا دیا جائے …اور
اس مہینہ میں گناہوں کا بوجھ اور وبال بھی بڑھ جاتا ہے…پس گناہ کر کے اپنی جان پر
ظلم نہ کیا جائے…جان بے چاری اتنا بوجھ کیسے اٹھائے گی…
﴿فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْھِنَّ اَنْفُسَکُمْ﴾
اصل موضوع کی یاد دہانی
گذشتہ کالم سے ہماری مجلس کا جو موضوع چل رہا ہے…وہ یاد کر
لیں…قرآن مجید کی آیات توبہ و استغفار جمع کرنے کا داعیہ تھا…ایک بڑی قربانی
والے مرد مومن نے قرآن مجید کا سرخ غلاف والا ایک نسخہ ہدیہ کیا…اس نسخے پر تلاوت
کے دوران ’’آیاتِ مغفرت‘‘ کا ابتدائی کام ہو گیا … الحمد للہ تقریباً اڑھائی سو
آیات پر نشانات لگا دئیے گئے…اب یہ خواہش اور کوشش تھی کہ ان آیات کی آسان اور
مختصر تشریح لکھ دی جائے…یہ کام اگرچہ ’’ فتح الجواد‘‘ کے کام کی طرح مشکل نہیں
تھا …وہ بہت علمی،احتیاط طلب اور تحقیقی کام تھا … اور بالکل نیا اور پیچیدہ…ویسے
’’فتح الجواد‘‘ کو عام نظروں سے پڑھا جائے تو یہی نظر آتا ہے کہ…وہ بھی معمول کا
کام ہے…آیت اور اس کا ترجمہ لکھ دیا…اور نیچے تفسیروں سے عبارتیں نقل کرتے چلے
گئے…مگر ایسا نہیں ہے…کوئی صاحب علم جس کی عمر کے سالہا سال تفسیر کے مطالعہ اور
تفسیر کی تعلیم و تدریس میں گزرے ہوں…وہ اگر ’’ فتح الجواد‘‘ کو دیکھے تو سمجھ
سکتا ہے کہ…یہ کتنا مشکل کام تھا … ایک موضوع کی آیات لانا…ان آیات کا ایک رخ
متعین کرنا…اس رخ کی تائید میں اسلاف کی شہادتیں جمع کرنا…اور پھر حال کو ماضی سے
جوڑنا اور… فتنہ انکار جہاد کی ہر دلیل کو غیر محسوس طریقے سے توڑتے چلے جانا…بس
اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ کام ہو گیا …وہ نہ میرے بس کی بات تھی اور نہ اس میں
میرا واقعی کوئی کمال تھا…دور حاضر کے شہداء کرام کی قربانی پر اللہ تعالیٰ کا فضل
ہوا کہ…جہاد اس قدر ناقابل تردید دلائل کے ساتھ چمکا… والحمد للہ رب العالمین…
مگر ’’آیات استغفار‘‘ کا کام آسان تھا … کوئی بھی مسلمان
’’استغفار‘‘ کا انکار نہیں کرتا … ہاں! اس بارے میں غفلت موجود ہے…انکار اور غفلت
میں بڑا فرق ہے…غفلت دور کرنے کے لئے دلائل سے زیادہ…دعوت اور یاد دہانی کی ضرورت
ہوتی ہے…کام آسان تھا مگر پھر بھی ’’قرآن مجید‘‘ کا ہر کام… خاص آداب،خاص توجہ
اور خاص وقت مانگتا ہے…پس اسی خاص توجہ اور خاص وقت کی تلاش میں دو تین سال گزر
گئے اور قرآن مجید کا سرخ غلاف والا نسخہ سفر و حضر میں میرے ساتھ رہا…
استغفار پر دوسری محنت
اس دوران فکر تو تھی کہ…یہ کام جلد ہو اور اپنی مغفرت کا کچھ
سامان ہو جائے…چنانچہ استغفار اور توبہ کے موضوع پر…دیگر مواد جمع ہوتا رہا…ایک تو
رنگ و نور کے بعض مضامین…دوسرا مکتوبات استغفار…تیسرا صیغ استغفار کی احادیث
…چوتھا توبہ کے متعلق احادیث…پانچواں استغفار کی فضیلت پر احادیث… چھٹا استغفار کے
بارے میں امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کے علمی شہ پاروں کی تلخیص اور
تسہیل…اور ساتواں استغفار اور توبہ کے درمیان تعلق اور فرق کی تحقیق وغیرہ…
الحمد للہ یہ سارا کام جمع ہوتا رہا…اس کی کتابت بھی ساتھ
ساتھ چلتی رہی…پھر اس کی ترتیب بھی طے ہو گئی…ترتیب کے بعد بندہ نے اس سارے مسودے
کو دوبارہ پڑھا تو دل میں شوق بھڑک اٹھا…کتاب کا مسودہ اٹھا کر ایک دوردراز مسجد
میں جا بیٹھا اور وہاں اللہ تعالیٰ سے وقت متعین اور مقید کرنے کا عہد باندھ لیا…
اور یوں الحمد للہ آیات پر کام شروع ہوا … اور ڈیڑھ ماہ کے
عرصے میں مکمل ہو گیا…
وَالْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ بِنِعْمَتِہٖ تَتِمُّ
الصَّالِحَاتُ۔
دلنشین خلاصہ
قرآن مجید کی آیات توبہ، آیات استغفار اور آیات مغفرت کو
پڑھا جائے تو دل میں ایک عجیب سی روشنی چمکنے لگتی ہے…چند مضامین کا خلاصہ پیش
خدمت ہے…
* اللہ
تعالیٰ اپنے بندوں کو مغفرت کی طرف بلا رہے ہیں…آ جاؤ! میرے بندو آ جاؤ، میں
تمہیں معاف کروں، تمہیں بخش دوں…
* جو
اللہ تعالیٰ کا جتنا مقرب ہے وہ اسی قدر اللہ تعالیٰ کی ’’مغفرت‘‘ اور ’’معافی‘‘
کا لالچی اور حریص ہے… اور وہ اللہ تعالیٰ سے بار بار مغفرت مانگ رہا ہے،استغفار
کر رہا ہے…حالانکہ لگتا یوں ہے کہ ایسے لوگوں کو ’’استغفار‘‘ کی کیا ضرورت ؟؟ …وہ
تو بخشے بخشائے لوگ ہیں…
* جو
اللہ تعالیٰ سے جتنا دور ہے…جو جس قدر نفاق میں دفن ہے وہ اس قدر ’’استغفار‘‘ سے
دور ہے…اس کے دل میں ہر چیز کی لالچ ہے…مگر ’’مغفرت‘‘ کی لالچ نہیں …حالانکہ ایسے
لوگوں کو استغفار کی زیادہ ضرورت ہے…مگر وہ اپنے نفاق،اپنے گناہ اور اپنی حب دنیا
پر مطمئن ہیں… اسی لئے نہ وہ معافی مانگتے ہیں اور نہ مغفرت…
* مسلمان
کا ایسا کوئی بھی مسئلہ نہیں جو … استغفار سے حل نہ ہو سکتا ہو…ناممکن سے ناممکن
کام… استغفار کی برکت سے ممکن ہو جاتا ہے … مچھلی کے پیٹ سے زندہ نکلنے کا واقعہ
بطور دلیل موجود ہے… استغفار کی برکت سے شکست،فتح میں بدل جاتی ہے…استغفار کی برکت
سے فتح پکی ہو جاتی ہے… استغفار کی برکت سے پانی، ہوا ،مٹی اور آگ کا نظام…انسان
کے حق میں ٹھیک ہو جاتا ہے…خاندانی نظام درست ہو جاتا ہے… بانجھ پن دور ہو جاتا
ہے…اقتصادی نظام بہترین ہو جاتا ہے…اور معاشرہ میں باہمی محبت، معافی، درگزر اور
خدمت کا ماحول بن جاتا ہے…
* مومن
کے دل میں اللہ تعالیٰ سے معافی اور مغفرت پانے کی لالچ ہو تو…اس کو دو متضاد
فائدے ملتے ہیں…پہلا یہ کہ اس میں ’’تکبر‘‘ پیدا نہیں ہوتا وہ دل سے عاجز رہتا ہے
اور عاجزی اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے…اور دوسرا یہ کہ اس کی کمزوری دور ہو جاتی ہے
اور وہ بہت طاقتور مومن بن جاتا ہے…
* مجاہدین
استغفار کریں تو ان کو قوت، ثابت قدمی اور فتح ملتی ہے…اور ان کا جہاد اور کام دور
دور تک پھیل جاتا ہے…علماء استغفارکریں تو ان کے علم میں روشنی اور برکت آ جاتی
ہے…اور ان کا علم خود ان کے لئے اور دوسروں کے لئے نفع مند بن جاتا ہے…
* کوئی
گناہ ایسا نہیں جو …توبہ اور استغفار سے معاف نہ ہوتا ہو…شرط یہ کہ توبہ زندگی میں
کرے اور سچی توبہ کرے…جب عذاب کی علامات شروع ہو جائیں…موت کی سکرات شروع ہو
جائے…یا جب موت آ جائے…تب توبہ قبول نہیں ہوتی…اس سے پہلے… ہر گناہ کی توبہ کا
دروازہ کھلا ہے…اور سچی توبہ پر یہ بھی بشارت ہے کہ…گناہوں کو نیکیوں سے بدل دیا
جاتا ہے…
* تم
دیکھو گے کہ…لوگ مال،اولاد، عورتوں،مویشیوں،گھوڑوں،زیورات اور زمینوں کے حاصل کرنے
میں…ایک دوسرے کو پیچھا دکھا رہے ہیں…ایک دوسرے سے سبقت لے جا رہے ہیں…ایسے وقت
میں تم ان فانی چیزوں کو چھوڑو…اور اپنے رب کی مغفرت اور اپنے رب کی جنت پانے کے
لئے…دوڑ لگا دو، محنت کرو، مقابلہ کرو اور ایک دوسرے سے سبقت کرو…
* کلمہ
طیبہ کو دل میں بٹھا لو…اس کو پکا کرو…خود بھی پڑھو،اوروں تک بھی پہنچاؤ… استغفار
خود بھی کرو…اس سے تمہارا کلمہ پکا اور مضبوط ہو گا…اور دوسرے ایمان والوں کے لئے
بھی استغفار کرو…اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور استغفار کی طرف بلاؤ…
* جو
اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے گا وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے دنیا اور آخرت میں بچتا
رہے گا…اور جو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرے گا وہی ہر جگہ مرے گا…اللہ تعالیٰ کا خوف
نعمت ہے…مگر ایسا خوف جس کے ساتھ اُمید بھی ہو…خوف اور اُمید دونوں کا مشترکہ
اظہار…سچے استغفار میں ہوتا ہے…ایک طرف ڈر کہ مجھ سے غلطی ہو گئی، مجھ سے ظلم ہو
گیا، میں نے یہ کیا کر دیا…میں تو ہلاکت کی طرف جا پڑا…یا اللہ، یا اللہ، یا اللہ…
ساتھ اُمید کہ معافی مل سکتی ہے…یا اللہ! معاف فرما دے…بخش دے، مغفرت عطا فرما…پس
جس کو یہ نصیب ہو گیا…اس کو ایمان کا بلند مقام مل گیا…جو گناہ کر کے اللہ سے ڈرے
ہی نہ…وہ سخت خطرے میں ہے… اور جو گناہ کر کے اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت سے
مایوس ہو بیٹھے … وہ اس سے بھی زیادہ خطرے میں ہے…
* اسباب
مغفرت کون کون سے ہیں؟ … مغفرت سے محرومی کے اسباب کون کون سے ہیں؟… ’’مغفرت‘‘ ایک
مومن کے لئے سب سے بڑا انعام ہے…کس طرح؟
یہ سب کچھ قرآن مجید میں…موجود ہے … بس اتنا خلاصہ عرض کر
دیا تاکہ خلاصہ… خلاصہ ہی رہے…
کتنی آسانی ہو گئی
توبہ،مغفرت اور استغفار کی جو آیات جمع کی ہیں وہ…اڑھائی سو
سے کچھ زائد ہیں…ان آیات کی تفسیر میں…نہ تو لمبی چوڑی تقریر لکھی ہے اور نہ
تفاسیر کے حوالے…بس چند سطروں میں اس آیت مبارکہ کا…توبہ،استغفار والا مضمون واضح
کر دیا ہے…
اب عام پڑھا لکھا مسلمان…جو اردو پڑھ لیتا ہو…آسانی سے ان
آیات کا مفہوم سمجھ سکتا ہے… اور تقریباً چار پانچ گھنٹے کے مطالعے یا تعلیم کے
ذریعے…قرآن مجید کی تقریباً تمام آیات مغفرت کو پڑھ سکتا ہے…اور جو دین کے
طالبعلم اور عربی سے واقف ہیں وہ اڑھائی تین گھنٹے میں ان تمام آیات کو پڑھ سکتے
ہیں…ماشاء اللہ، لا قوۃ الا باللہ …دیکھیں کتنی آسانی ہو گئی کہ…اتنا اہم مضمون
اور اس کی اتنی زیادہ آیات…چند گھنٹوں کی محنت سے سمجھی جا سکیں…آپ جانتے ہیں
کہ… قرآن مجید بیماری بھی بتاتا ہے اور علاج بھی… ’’گناہ‘‘ بیماری ہے…اور’’ توبہ
و استغفار‘‘ علاج اور شفاء ہے…علاج و شفاء کا مکمل نسخہ،مکمل نصاب، اور مکمل
ترتیب…ان تمام آیات کو سمجھ کر پڑھنے سے ہمارے سامنے آ جائے گی ان شاء اللہ…
الیٰ مغفرۃ
آیات توبہ اور آیات استغفار پر مشتمل اس کتاب کا نام…’’الیٰ
مغفرۃ‘‘ رکھا ہے…یعنی ’’مغفرت کی طرف‘‘…اس کتاب کے دو حصے ہیں …پہلے حصے میں قرآن
مجید کی’’ آیاتِ مغفرت‘‘ اور قرآن مجید کی استغفار والی دعائیں…جبکہ دوسرے حصے
میں…استغفار اور توبہ کے موضوع پر احادیث مبارکہ…استغفار کے صیغے اور دعوت استغفار
ہے…وہ بہت کچھ جو آپ ’’آیات‘‘ میں پڑھیں گے اس کی تشریح آپ کو دوسرے حصہ کی
احادیثِ مبارکہ میں مل جائے گی…’’الیٰ مغفرۃ ‘‘ نامی یہ کتاب تیاری کے مراحل میں
ہے…اہل دل اس کی جلد اشاعت کے لئے دعاء فرما دیں…
شکریہ شہید بھائی!
قرآن مجید کا نسخہ دینے والے شہید بھائی کا شکریہ…ان کی
قربانی کا گہرا تاثّر اور ان کے اخلاص کی گہری حرارت نے…خیال اور عزم کو تقویت
دی…قرآن مجید کے نسخے ہدیہ میں آتے رہتے ہیں… سب ہی بہت محترم اور بہت مبارک
ہوتے ہیں…اکثر کچھ تلاوت کر کے آگے بڑھا دیے جاتے ہیں…مگر یہ نسخہ کئی سال ساتھ
رہا … اور الحمدللہ ایک ایسے کام کی بنیاد بن گیا جس کی مجھے خود سخت ضرورت تھی…دل
چاہا کہ اس شہید کا نام اور اس کے حالات اور قربانی بھی لکھ دوں…مگر بہت سی وجوہات
ایسی ہیں کہ نہیں لکھ سکتا…یہ بھی شہید کی کرامت اور اخلاص ہے کہ…یوں چھپ کر آپ
سب سے محبت اور دعائیں پا رہا ہے … اے شہید بھائی! بہت شکریہ! اللہ تعالیٰ آپ کو
اپنی شایان شان جزائے خیر عطا فرمائے…
دو دعائیں
کتاب کے اس تعارف کے موقع پر مسافر کا دل اپنے غفور اور
مہربان رب سے دو دعائیں مانگ رہا ہے…
پہلی دعاء:یا اللہ! مجھے اپنی مغفرت کی ایسی شدید لالچ عطا
فرما کہ میں اس کتاب سے سوائے آپ کی مغفرت پانے کے…اور کسی بھی صلے کی کبھی بھی
کوئی خواہش نہ رکھوں…یا اللہ! کتاب کی تیاری میںمعاونت کرنے والے اور پھر کتاب
چھاپنے والے عزیز و احباب کو اپنی مغفرت کی ایسی شدید حرص عطاء فرما کہ وہ اس کتاب
کی تیاری اور اشاعت میں دل اور جان لگا کر حد درجہ مثالی محنت کریں اور اسے ہر طرح
سے عمدہ تیار کریں…یا اللہ ! اپنے بعض خوش نصیب بندوں کو اپنی مغفرت کی ایسی سخت
لالچ عطاء فرما کہ…وہ اس کتاب کو خود بھی پڑھیں اور زیادہ سے زیادہ تقسیم بھی
کریں…یا اللہ! اس کتاب کے پڑھنے والے تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کو اپنی مغفرت
کی ایسی شدید لالچ عطاء فرما کہ…وہ صبح و شام،رات دن آپ سے استغفار کریں یعنی آپ
سے معافی اور مغفرت مانگیں…خصوصاً سحری کے وقت استغفار کو اپنا پختہ معمول بنائیں…
دوسری دعاء:یا اللہ! جن جن کا تذکرہ پہلی دعاء میں ہوا…ان سب
کو مغفرت کی لالچ، مغفرت کا حرص اور مغفرت کی شدید خواہش دینے کے بعد…ان کی اس
لالچ،حرص اور خواہش کو پورا بھی فرما دے…اور ان سب کو اپنی کامل مغفرت عطاء فرما
دے…ایک بزرگ کا واقعہ پڑھا تھا…وہ کتے کو روٹی کھلا رہے تھے…اور یہ اُمید رکھ رہے
تھے کہ…میں نے اس کے حرص اور لالچ کو پورا کیا ہے…
اللہ تعالیٰ تو مجھ سے زیادہ کریم اور سخی ہے…میں اگرچہ کتے
سے بھی بدتر ہوں…مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کیا بعید کہ…مجھے معاف فرما دے اور
میری لالچ پوری فرما دے اور میری لالچ ایک ہی ہے کہ…اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے، مجھے
اپنی مغفرت عطاء فرما دے…
سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ نَشْھَدُ اَنْ لَّا
اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ نَسْتَغْفِرُکَ وَنَتُوْبُ اِلَیْکَ
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ’’قلم‘‘ تحریر اور وقت میں اپنے فضل سے ’’برکت‘‘
عطاء فرمائے… آج چار باتیں عرض کرنی ہیں…
١ ایک شکر،ایک خطرہ
شکر اس بات کا کہ ’’یمن‘‘ کے بحران کی وجہ سے بہت سے مسلمانوں
کے سامنے ’’ایران‘‘ کی اصلیت واضح ہو گئی ہے…مسلمانوں کے لئے ’’ اسرائیل‘‘ سے بڑا
خطرہ ایران…برطانیہ کی خفیہ ایجنسیوں کی صد سالہ محنت سے وجود پانے والا ایرانی
انقلاب…ہاں! بے شک اسرائیل بھی بڑا خطرہ اور بڑا دشمن ہے…مگر وہ تو اپنے وجود کو
بچانے کی فکر اور خوف میں رہتا ہے…نہ اس نے افغانستان میں عالمی سامراج کا ہاٹھ
بٹایا…نہ اس نے عراق کی مسلم آبادی کا قتل عام کیا…نہ اس نے شام میں مسلمانوں کے
خون سے دریا سرخ کیے … نہ اس نے یمن میں مسلمانوں کے گلے کاٹے… مگر ایران نے یہ
سارے کام کر ڈالے … آپ صرف عراقی شہر تکریت میں…مسلمانوں کے بھیانک قتل عام کی
لرزہ خیز داستان پڑھ لیں… آپ یقین نہیں کریں گے کہ…کیا کوئی انسان اس قدر درندگی
کا مظاہرہ کر سکتا ہے؟…
دولتِ اسلامیہ کے مظالم کی داستانیں اہلِ مغرب نے خود گھڑی
اور اڑائی ہیں…مگر تکریت میں ایرانی پاسبان نے جس طرح سے چنگیز اور ہلاکو کو
شرمندہ کیا ہے…اس کی رپورٹنگ کے لئے عالمی ذرائع ابلاغ کے پاس دو منٹ اور دو سطریں
بھی نہیں…کیونکہ ایران اس وقت اہل کفر کی ’’ڈارلنگ‘‘ ہے…بی بی سی لندن کے بارے میں
اندھے بھی جانتے ہیںکہ…یہ یہودیوں کے فنڈ سے چلنے والا ایک اسلام مخالف مؤثر
ادارہ ہے … بی بی سی کو نہ مولوی بھاتے ہیں اور نہ اسلامی حکومتیں… مگر ایران کے
لئے اس کا انداز ہی الگ ہے … وہاں کے ملاّ بھی برداشت،وہاں کی سخت گیر مذہبی حکومت
بھی قبول…وہاں کی جارحانہ سزائیں بھی برداشت اور پھر…یمن بحران پر ایران کی دل
کھول کر حمایت…جی ہاں! دجّال کا میدان تیار ہو رہا ہے … دجّال کا میدان
،ایران ہی ایران… اور اب اس عفریت کا پنجہ تہران سے بیروت تک پھیل چکا ہے…مگر آگے
کے خواب کچھ کڑوے ہیں…یمن کے بعد سعودیہ ضرور ہے …مگر مکہ،مدینہ پر پہرہ ہے…بہت
مضبوط پہرہ… وہاں دجال داخل نہیں ہو سکتا…ہاں! مسلمانو !ایران خطرہ ہے…ایران ہی اس
خطے میں اسرائیل…اور تمام اہل کفر کا محافظ ہے…مگر شکر ہے…اللہ تعالیٰ کا شکر کہ
اب ’’تقیہ‘‘ کے پردہ میں چھپا یہ دشمن…بے نقاب ہو رہا ہے…اگر اس نے اپنے قدم حرمین
یا پاکستان کی طرف بڑھائے تو بے آبرو بھی بہت ہو گا… ان شاء اللہ…
٢ زلزلوں،طوفانوں،شیطانوں کا حملہ
اگر آپ نے روئے زمین کی تاریخ پڑھی ہو تو …آپ جانتے ہوں گے
کہ…کبھی کبھار ایسا موسم آتا ہے کہ زمین پر زلزلوں،طوفانوں…اور شیطانوں کے حملے
بڑھ جاتے ہیں…
آج کل کچھ ایسے ہی حالات نظر آ رہے ہیں …دنیا کی بلند ترین
چوٹی ’’ایورسٹ‘‘زلزلے سے لرزی ہے…اور ہزاروں میل تک زمین اندر سے کانپ اٹھی
ہے…نیپال ٹوٹا پڑا ہے جبکہ…جگہ جگہ آسمان گرج رہا ہے…اور زمین پر بجلی اور پانی
گرا رہا ہے…
ایسے وقت میں ’’عذابِ الٰہی‘‘ سے حفاظت کی دعاء اور تدبیر
کرنی چاہیے…
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَ
بِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوْبَتِکْ
عذابِ الٰہی سے بچنے کا ایک بڑا نسخہ جو قرآن مجید نے بیان
فرمایا ہے…وہ ہے ’’جہادِ فی سبیل اللہ‘‘… جہاد میں نکل آؤ… عذاب سے بچ جاؤ
…جہاں بھی شرعی جہاد کا محاذ ملے اس کی طرف نکل پڑو…عذابوں کا رخ تم سے ہٹ جائے گا
…جہاد میں جان لگاؤ…جہاد میں مال لگاؤ… جہاد میں زبان لگاؤ…جنگ،تربیت،تجہیز،
معاونت اور دعوت…اور پھر اللہ تعالیٰ کی نصرت اور رحمت ہی رحمت…
اور عذاب سے بچنے کا دوسرا بڑا نسخہ ’’استغفار‘‘ ہے…ایک
مسلمان کے لئے استغفار کے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں…استغفار اس اُمت کی امان ہے اور
استغفار ’’محافظ ایمان‘‘ ہے…اہلِ دل کے نزدیک ’’رجب‘‘ کے مہینے میں زیادہ استغفار
بہت مفید ہے …گناہوں سے پاکی ملے گی تو ان شاء اللہ ہر مسئلہ حل ہو گا اور عذاب سے
حفاظت رہے گی … زلزلوں،طوفانوں اور شیطانوں کے ان حملوں سے بچنے کے لئے استغفار
بڑھا دیجئے…اپنے محبوب رب سے معافی مانگتے جائیے اور اس کا قرب پاتے جائیے…
استغفار کے وقت اللہ تعالیٰ کے خوف سے نکلنے والے آنسو کا قطرہ اتنا طاقتور ہے
کہ… جہنم کی آگ کو بجھا دیتا ہے … دنیا کے طوفان اس کے سامنے کیا حیثیت رکھتے
ہیں…
اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الْعَظِیْمَ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا
ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ
جب بارش اور طوفان آئے تو…جہاد کی نیت کریں،جہاد میں مال
لگائیں…اور استغفار و نماز میںمشغول ہو جائیں…آسمانی بجلی سے حفاظت کی دعاء آپ
کو یاد ہو گی…
سُبْحَانَ الَّذِی یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِہٖ
وَالْمَلَآئِکَۃُ مِنْ خِیْفَتِہٖ۔
اور دوسری دعاء:
اَللّٰھُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِکَ وَلَا تُھْلِکْنَا
بِعَذَابِکَ وَعَافِنَا قَبْلَ ذَالِکَ۔
٣ خدمت و حفاظت قرآن کا مقام
گذشتہ کل تاریخ کی مایہ ناز کتاب … ’’البدایہ والنہایہ‘‘ کی
دسویں جلد کے ساتھ کچھ وقت گزارنا نصیب ہوا…یہ امام ابن کثیر الدمشقی رحمۃ اللہ
علیہ کی جامع تصنیف ہے اور اہل علم کے ہاں معتبر ہے … بات اس میں اُمت
مسلمہ کے ایک جلیل القدر امام …حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ
علیہ کی چل نکلی…ان کے فضائل،حالات،وفات اور مناقب لکھنے کے بعد علامہ
ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے…امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے
بارے میں دیکھے گئے خوابوں کا تذکرہ چھیڑا ہے…پہلے تو یہ ثبوت پیش کیا کہ سچے خواب
معتبر ہوتے ہیں … اور یہ ایک مومن کے لئے…بشارت اور رہنمائی کا ذریعہ بنتے ہیں…
اس پر صحیح احادیث بیان فرمائیں…اور آگے حضرت امام احمد بن
حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں دیکھے گئے ’’مبشِّرات ‘‘ نقل
فرمائے…ایک بزرگ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے پاس آئے جب
تعارف ہو گیا تو انہوں نے بتایا کہ…میںنے آپ سے ملنے کے لئے چار سو فرسخ کا سفر
کاٹا ہے… مجھے حضرت خضر علیہ السلام نے خواب میں حکم فرمایا
کہ آپ کے پاس جاؤں اور آپ کو بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے عرش کے ملائکہ سب
آپ سے خوش ہیں…اسی طرح ایک اور خواب کا تذکرہ ہے کہ امام صاحب جنت میں چل رہے
ہیں…اور بتایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بخش دیا ہے…میری تاج پوشی فرمائی ہے…مجھے
سونے کے دو جوتے دئیے ہیں اور فرمایا ہے کہ…تم نے جو یہ کہا تھا کہ … قرآن اللہ
تعالیٰ کا کلام ہے…یہ سب اس کا بدلہ ہے … امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے
زمانہ میں ایک فتنہ اٹھا تھا… اور وقت کے حکمران اس فتنہ کے محافظ تھے … یہ فتنہ
قرآنِ مجید کے خلاف تھا کہ …نعوذ باللہ قرآنِ مجید ’’مخلوق‘‘ ہے…حضرت امام صاحب
رحمۃ اللہ علیہ اس فتنہ کے خلاف ڈٹ گئے…اس پر انہیں مارا گیا، قید میں
ڈالا گیا…پابندیاں لگائیں گئیں…اور کوڑوں سے پیٹا گیا…مگر آپ ڈٹے رہے اور بالآخر
آپ کی استقامت نے اس فتنہ کی کمر توڑ دی …وہ پہلے کمزور ہوا اور پھر الحمد للہ
بالکل ختم ہو گیا… امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی اس محنت کا حتمی نتیجہ
تو ان کی وفات کے بعد آہستہ آہستہ ظاہر ہوا…مگر امام صاحب رحمۃ اللہ
علیہ کی محنت اور استقامت…اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑے مقام کے ساتھ قبول
ہوئی… ہمارے زمانے میں … قرآن مجید کی آیات جہاد کے انکار کا فتنہ سرگرم ہے
…حکمران اس فتنہ کے محافظ ہیں …اور یہ فتنہ بھی…خلق قرآن کے فتنہ کی طرح زمانے کی
دانشوری سمجھا جاتا ہے…اس فتنہ کے علمبردار مختلف طبقے ہیں…کوئی کھلے انکار پر ہے
تو کوئی تحریف کے راستے سے انکار تک آتا ہے … مقصد اور نتیجہ سب کے نزدیک ایک ہی
نکلتا ہے کہ …ان آیات کا نعوذباللہ اس زمانہ میں تلاوت کے علاوہ اور کوئی مصرف
نہیں ہے…اور مسلمانوں کو ان پر عمل کا تصور ہی چھوڑ دینا چاہیے…یہ فتنہ پہلے بہت
طاقتور تھا اور منہ زور بیل کی طرح کسی کے قابو میں نہ آتا تھا…مگر اب الحمد للہ
اس میں کمزوری آ رہی ہے…مگر آج بھی یہ فتنہ زندہ ہے…اور اسے زندہ رکھنے اور
طاقتور بنانے کے لئے … اداروں کے ادارے اور ملکوں کے ملک محنت کر رہے ہیں …ایسے
حالات میں چند دن بعد دیوانے آپ کے دروازے پر آئیں گے کہ…اے مسلمانو! چلو سات دن
قرآن مجید کی آیاتِ جہاد کی تفسیر پڑھ لو… آؤ! ان آیات کی تفسیر پڑھو جن کی
تفسیر کو مٹایا جا رہا ہے،چھپایا جا رہا ہے…آؤ! اپنے رب کی کتاب کی اس خدمت میں
اپنا حصہ ڈالو…آؤ! اپنے رب کی کتاب کی حفاظت میں اپنا حصہ ڈالو…اللہ تعالیٰ نے
اس کتاب کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے…پھر وہ جن افراد کو اس کتاب کی حفاظت کی خدمت
پر کھڑا فرماتا ہے…ان کو امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کی طرح اپنی
مغفرت اور محبت سے مالا مال فرما دیتا ہے…
آج ہر ٹی وی چینل…ان آیات کے خلاف زہر اگل رہا ہے…آج ہر
مغرب زدہ کالم نویس ان آیات کے مفہوم و معنٰی کا انکار لکھ رہا ہے…آج غیر ملکی
سفارتخانوں سے…ماہانہ کروڑوں ڈالر کا فنڈ ان آیات کو مٹانے کے لئے جاری ہوتا ہے …
آج قلم کاروں اور نام نہاد اہل تحقیق کے کئی جتھے… غامدی اور وحید الدین جیسے
ملحدین کی قیادت میں ان آیات کے خلاف…اپنا پسینہ بہا رہے ہیں…
ان حالات میں اٹھو اور آؤ!ہم سب مل کر ان آیات کی تلاوت
کریں…ان آیات کا ترجمہ پڑھیں،ان آیات کی تفسیر پڑھیں…ان آیات کی خوشبو سونگھیں
اور اپنے دل و جان معطر کریں…آؤ! ان آیات کے سائے میں شہداء بدر و احد سے
ملاقات کریں…آؤ!ان آیات کی روشنی میں… اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ
وسلم کی بطور سپہ سالار زیارت کریں…آؤ! ان آیات کی روشنی میں عزت،
عظمت اور آزادی و شہادت کا راستہ ڈھونڈیں … اور اعلان کر دیں…یا اللہ! ہم آپ کی
کتاب پر ایمان لائے ہیں…ہم اس کتاب کی ایک ایک آیت …اور ایک ایک حکم کومانتے ہیں…
ارے کیسے خوش نصیب ہیں وہ افراد…جو چند دن بعد ان مبارک آیات کا دورہ پڑھائیں
گے…خود بھی چمکیں گے، سننے والوں کو بھی چمکائیں گے…خود بھی روئیں گے اور سننے
والوں کو بھی رلائیں گے… اور مسلمانوں کو سمجھائیں گے کہ دین وہی ہے جو
آقا صلی اللہ علیہ وسلم دے گئے…جہاد وہی ہے جو آقا صلی
اللہ علیہ وسلم دے گئے…سبحان اللہ! خدمت قرآن،حفاظتِ قرآن اور دعوت
قرآن کی یہ پر نور محفلیں…بس سجا ہی چاہتی ہیں…
بھائیو! ان محفلوں کے لئے محنت کرو…ان میں شرکت کرو…اور ان کی
روشنی کا دائرہ وسیع کرو… ہاں! سچ کہتا ہوں اس نعمت کی قدر کرو…
٤ مفید اور مبارک ذرات
چوتھی بات کے لئے جگہ کم رہ گئی…مختصر عرض ہے کہ کھانا اور
رزق ضائع نہ کریں…پلیٹ اور برتن سنت کے مطابق صاف کریں…اجتماعی کھانا تو ہرگز ضائع
نہ ہو…کھانے کے دوران جو ذرات اور لقمے دسترخوان پر گر جاتے ہیں…انکو چن کر کھا
لیں…یہ ہمارے محبوب آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے…
دراصل شیطان ہمارے کھانے میں سے مفید اور برکت والے ذرات کو نیچے گراتا رہتا ہے …
کیونکہ وہ دشمن ہے وہ نہیں چاہتاکہ ہم صحت و برکت حاصل کریں … اس لئے ہم اپنے
محبوب کی سنت کے مطابق وہ مفید اور بابرکت ذرات چن کر شکر کے ساتھ کھا لیا
کریں…چند دن اہتمام کریں تو فائدہ اور برکت اپنی آنکھوں سے خود دیکھ لیں گے ان
شاء اللہ…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو ’’دین‘‘ کا لازمی اور ضروری ’’علم‘‘
عطاء فرمائے…
رجب اور مدارس
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے،ہمارے ملک میں خالص دینی تعلیم کے
ادارے موجود ہیں…ان اداروں کو ’’مدارس‘‘ کہا جاتا ہے…مدارس یعنی درس کے
مقامات…پہلے کئی صدیوں تک مسلمانوں کے دینی مدارس ’’مساجد‘‘ میں آباد رہے…ان کی
الگ عمارت نہیں ہوتی تھی…ہر مسجد میں ’’مدرسہ‘‘ لازمی تھا… پھر آبادی بڑھی،افراد
زیادہ ہوئے تو مساجد کے پڑوس میں ’’مدارس‘‘ کی الگ عمارتیں بننے لگیں اور یہ مبارک
سلسلہ آج تک جاری ہے …خالص دینی تعلیم کے مدارس پاکستان ، ہندوستان،بنگلہ
دیش…امریکہ ،یورپ اور کئی افریقی ممالک میں موجود ہیں…اب کئی سالوں سے عرب ممالک میں
بھی قائم ہو رہے ہیں … ورنہ وہاں حکومت کی زیر نگرانی دینی و عصری تعلیم کے مخلوط
ادارے تھے… اور عرب شیوخ اور طلبہ اپنی علمی پیاس بجھانے کے لئے شام ،عراق،ہند اور
پاکستان کے مشائخ سے استفادہ کرتے تھے اور سند حدیث حاصل کرتے تھے…
ویسے وہاں بھی نجی طور پر اہل علم کے مدرسے ان کی ذات اور ان
کے گھروں میں ہمیشہ قائم رہے ہیں…مدارس کو ’’دارالعلوم‘‘ بھی کہا جاتا ہے… اب
’’جامعہ‘‘ کا لفظ زیادہ چل نکلا ہے…کچھ عرصہ سے ’’معہد‘‘ یا ’’المعہد‘‘ کا لفظ بھی
عام ہو رہا ہے …یہ عربی میں ’’سکول ‘‘ کا ہم معنی لفظ ہے…ان مدارس کا تعلیمی سال
رمضان المبارک کے بعد ’’ شوال‘‘ کے مہینہ میں شروع ہوتا ہے…اور اختتام رجب کے آخر
یا شعبان کے شروع میں ہوتا ہے …رجب کے مہینے میں مدارس کا ماحول بہت عجیب روح پرور
بن جاتا ہے…طلبہ اپنے سالانہ امتحانات کی تیاری میں رات دن ایک کرتے ہیں …رات کے
دو بجے بھی یہ مدارس اور ان سے ملحقہ مساجد کا ماحول جاگ رہا ہوتا ہے…علمی مذاکرے
اور تکرار کی آوازیں گونجتی ہیں…کچھ طلبہ پریشان ہوتے ہیں کہ امتحان میں کیا ہو
گا؟ کچھ پرسکون ہوتے ہیں کہ جیسا تیسا گزر ہی جائے گا… کم از کم ’’راسب‘‘ یعنی فیل
ہونے کا خطرہ نہیں…کچھ طلبہ مقابلہ کی کیفیت میں ہوتے ہیں کہ اچھی پوزیشن حاصل
کریں…اور بعض طلبہ ان دنوں میں باقاعدہ توجہ سے دعاء بھی مانگتے ہیں …ورنہ پورا
سال وہ دعاء سے دور رہتے ہیں…
لائق اور ذہین طلبہ کے گرد ان دنوں مجمع رہتا ہے…وہ خود بھی
پڑھتے ہیں اور دوسروں کو بھی پڑھاتے ہیں…ذکر اور عبادت کے شوقین طلبہ ان دنوں اپنے
معمولات کم کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں… مگر دینی تعلیم میں مشغول ہونا خود ایک اہم
عبادت ہے…تو وہ تجدید نیت کے ذریعہ عبادت کا ذوق پورا کرتے رہتے ہیں…ہمارے حضرت
شیخ مفتی ولی حسن صاحب ٹونکی نور اللہ مرقدہ … امتحانات میں اچھی کامیابی کا وظیفہ
ارشاد فرماتے تھے کہ ’’سورۃ ابراہیم‘‘ پڑھ لی جائے…تعلیم کے آخری سالوں میں الحمد
للہ اس کا معمول رہا کہ صبح امتحان گاہ جانے سے پہلے پڑھ لیتے
تھے…الحمد للہ بہت فائدہ ہوا…اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمیشہ اچھی کامیابی اور
درجہ ممتاز عطاء فرمایا…اللہ تعالیٰ آخرت کے امتحان میں بھی کامیابی عطاء فرمائے…
دینی تعلیم کے درجے
دنیا فانی ہے اور اس کی تعلیم بھی عارضی نفع ہے …جبکہ دینی
تعلیم کا نفع دائمی ہے…شرط یہ ہے کہ دینی تعلیم سے ’’دین‘‘ حاصل ہو جائے…دینی
تعلیم کا ایک حصہ تو وہ ہے جو ہر مسلمان مرد اور عورت کے لئے فرض عین ہے …افسوس کی
بات یہ ہے کہ آج اکثر مسلمان دینی تعلیم کے اس’’فرض‘‘ حصے کو بھی حاصل نہیں کرتے
… یوں وہ دین سے ’’جاہل‘‘ رہ جاتے ہیں…نہ ان کو فرائض ادا کرنے کا طریقہ آتا ہے
اور نہ وہ حلال و حرام کے درمیان فرق کر سکتے ہیں…نہ ان کی زبان کلمات کفر سے
محفوظ رہتی ہے اور نہ ان کو نکاح اور طلاق کا پتا چلتا ہے … یہ لوگ بظاہر بڑے
سمجھدار اور پڑھے لکھے لگتے ہیں… کوئی وزیر،کوئی لیڈر، کوئی بیوروکریٹ،کوئی سفارت
کار، کوئی سائنسدان ،کوئی ڈاکٹر …اور کوئی انجینئر… مگر یہ بے چارے ’’غسل‘‘ تک کا
طریقہ نہیں جانتے اور ناپاکی میں زندگی گذارتے ہیں… ان کے گھروں میں ’’قرآن عظیم
الشان‘‘ کے نسخے موجود ہوتے ہیں مگر محرومی کی حد دیکھیں کہ وہ قرآن پاک کی ایک
سطر بھی درست نہیں پڑھ سکتے …کیا کیمبرج کی ڈگریاں … اور کیا آکسفورڈ کی سندیں…
یہ سب مل کر قرآن مجید کی ایک سطر کے علم کے برابر نہیں ہیں…
دینی تعلیم کا دوسرا درجہ وہ ہے جو ’’فرض کفایہ‘‘ ہے…کہ بعض
مسلمان اسے حاصل کر لیں اور وہ باقی مسلمانوں کی رہنمائی کرتے رہیں…دینی مدارس کا
جو نصاب ہے وہ اسی ’’فرض کفایہ‘‘ تعلیم پر مشتمل ہے… آج کل مسلمانوں کا رجوع عصری
تعلیم کی طرف زیادہ ہے … اور مدارس کی طرف آنے والے طلبہ ان کے مقابلہ میں کافی
کم ہیں … اس لئے فرض کفایہ بھی پورا نہیں ہو رہا… اور جو خوش نصیب طلبہ دینی مدارس
کی طرف آ جاتے ہیں …ان کو بھی بہت سے لوگ واپس سکولوں کالجوں کی طرف گھسیٹ کر لے
جاتے ہیں کہ … معاشرہ میں ان کا کچھ مقام ہو…یہ بہت افسوسناک صورتحال ہے… دین اور
دینی علم سے بڑھ کر اور کیا ’’عزت ‘‘ ہو سکتی ہے؟ …بہرحال دینی مدارس اس اُمت کا
فرض ادا کر رہے ہیں…یہ زمین پر وحی الٰہی کی تعلیم و تبلیغ کے اسٹیشن ہیں…ان مدارس
سے محبت رکھنا …ان کی حتی الوسع خدمت کرنا … ان کی آبادی میں محنت کرنا اور ان کی
قدر کرنا… یہ سب ایمان کے تقاضے ہیں…
آج ہر مسلمان کوشش کرے کہ…کم از کم ایک بچہ…اپنا ہو تو بڑی
خوش نصیبی ورنہ کسی اور کا …وہ اسے ضرور مدرسہ میں تعلیم دلائے گا…اس کے والدین کو
دعوت دے کر…یا مالی تعاون کے ذریعہ…یا کسی بھی طرح…
ایک اچھا رجحان
الحمد للہ تحریک جہاد کے طاقتور ہونے سے … اسلام اور مسلمانوں
کو عالمی طور پر جو عزت اور حیثیت ملی…اس کے نتیجہ میں بے شمار غیر مسلم افراد نے
اسلام قبول کیا…اور الحمد للہ یہ سلسلہ زور و شور سے جاری ہے…دوسرا فائدہ یہ ہوا
کہ وہ مسلمان جو عصری تعلیم حاصل کر چکے تھے…یا کر رہے تھے… ان میں دینی تعلیم
حاصل کرنے کا شوق پیدا ہوا…ان کو اس بات کا احساس ہوا کہ ہم نے جو کچھ پڑھا ہے یہ
تو زیادہ سے زیادہ…موت کے جھٹکے تک کام آنے کا ہے…مگر اس کے بعد آگے کیا ہو گا؟…
قبر، حشر، پل صراط، میزان … حساب و کتاب یہ سب کچھ بالکل برحق ہے اور یقینی
ہے…ہمیں ان یقینی اور بڑے مراحل کی تیاری کے لئے دینی علوم حاصل کرنے چاہئیں…آگے
کے اندھیروں سے بچنے کے لئے قرآن کی روشنی ساتھ لینی چاہیے…آگے کا راستہ سمجھنے
کے لئے سنت کا رہنما آلہ ساتھ لینا چاہیے…اس رجحان کے تحت بہت سے دنیا دار
مسلمانوں نے مدارس و مساجد کا رخ کیا…مدارس نے بھی انہیں خوش آمدید کہا…کئی آسان
اور مفید نصاب مرتب ہوئے…الحمد للہ ہماری جماعت نے دورہ اساسیہ اور دورہ خیر کے
ذریعہ اس خیر میں اپنا حصہ شامل کیا اور ہزاروں مسلمانوں کو دین کی لازمی اور
بنیادی تعلیم دی… وہ افراد جو کلمہ درست نہیں پڑھ سکتے تھے…وہ ان مختصر دوروں کی
برکت سے نماز کی امامت کرانے کے قابل ہوئے…یادرکھیں! درست اذان دینا اور امامت
کرانا …یہ اتنا بڑا اعزازہے کہ…اس کی عظمت کو اگر سر اُٹھا کر دیکھیں تو ٹوپی گر
جائے… والحمد للہ رب العالمین
ایک برا رُجحان
پاکستان میں ’’فتنۂ پرویز مشرف‘‘ کے آنے کے بعد دینی مدارس
کو جدید اور مولوی صاحب کو ’’لیپ ٹاپ‘‘ بنانے کا پروگرام ریاستی جبر کے ساتھ شروع
ہوا…پرویز چلا گیا مگر بعد کی حکومتیں بھی اسی کی پالیسی پر گامزن رہیں…
الحمد للہ اکثر مدارس اور اہل مدارس ڈٹ گئے …ان کی استقامت پر
اللہ تعالیٰ کی موعود نصرت اتری اور فتنہ ٹھنڈا اور کمزور پڑ گیا …مگر کچھ لوگ
اپنی بد نصیبی سے پھسل گئے…شیطان نے ان کے دل میں ڈالا کہ ’’جدت پسندی‘‘ اختیار
کرنے میں دین کا تحفظ ہے،مدارس کا تحفظ ہے وغیرہ وغیرہ…
حالانکہ جو لوگ مدارس کی تاریخ جانتے ہیں…ان کے علم میں ہے کہ
مدارس کا تحفظ کسی فرد،پارٹی یا پالیسی کا مرہون منت نہیں ہے…مدارس الحمد للہ
صدیوں سے قائم ہیں…داڑھی اور پگڑی بھی ہمیشہ الحمد للہ اہل استقامت کے ہاں محفوظ
رہی ہے …بڑے بڑے فتنے آتے ہیں مگر اہل استقامت کے سامنے جھاگ کی طرح بیٹھ جاتے
ہیں … پرویز مشرف کا فتنہ جب عروج پر تھا اور اس کے منہ سے ہر دوسرا جملہ مدارس
اور جہاد کے خلاف نکل رہا تھا…انہی دنوں ایک بڑے بزرگ عالم دین سے ملاقات کا شرف
حاصل ہوا…بات مدارس کے تحفظ کی چل نکلی تو انہوں نے مسکرا کر قلندرانہ انداز میں
فرمایا… مولانا ! کچھ بھی نہیں ہو گا کچھ بھی نہیں …یہ خود ختم ہو جائے گا،مدارس
اسی طرح قائم رہیں گے ان شاء اللہ، آپ نوجوان ہیں، ایوب کا زمانہ آپ نے نہیں
دیکھا ہو گا…وہ مدارس کے خلاف اس سے بھی زیادہ سخت دھمکیاں اٹھاتا تھا …بالآخر
اپنے کانوں سے اپنے خلاف گالیاں سن کر الٹا جا گرا…مدارس کا اصل تحفظ یہ ہے کہ
اپنی بنیاد پر قائم رہیں…اور دینی تعلیم کی عزت و عظمت کا پاس رکھیں… بہرحال سیلاب
آتا ہے تو بہت کچھ بہا کر لے جاتا ہے…پرویزی فتنہ آیا تو یہ برا رجحان پڑ گیا کہ
… دینی تعلیم حاصل کرنے والے کئی افراد …عصری تعلیم کی طرف بھی جانے لگے … میٹرک،
ایف اے،بی اے،ایم فل اور ایم اے کے امتحانات دینے کا رجحان بڑھ گیا… مسلمان اگر
دین کے علاوہ کسی اور چیز…میں عزت دیکھے تو اسے ضرور ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے
…چنانچہ ایسے افراد پر بھی ذلت آئی کہ دینی تعلیم کے رنگ، حلاوت اور مزاج سے
محروم ہوئے…کئی ایک نماز تک سے دور ہو گئے…کئی ٹی وی چینلوں کے بے حیا ماحول میں
جا پھنسے…بعض نے دینی اور عصری مخلوط تعلیم کے ادارے بنا کر شرعی حدود کی پاسداری
نہ کرتے ہوئے …اور عصری تعلیم کو دینی تعلیم کے اوپررکھتے ہوئے پردہ،تقویٰ اور اپنے
دین کا جنازہ نکال دیا …اور کئی ایک مستقل طور پر بری سیاست میں غرق ہو گئے…
﴿ اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ﴾
انہوں نے چٹائی پر بیٹھ کر قرآن مجید پڑھانے کو نعوذ باللہ
ثم نعوذ باللہ حقیر سمجھا تو خود ایسے حقیر ہوئے کہ…دفتروں میں نوکریوں کے لئے
دھکے کھاتے پھرے اور اذان کی آواز پر مسجد جانے سے ان کے قدم بھاری ہو گئے… یہی
وقت جو وہ عصری تعلیم کے امتحانات کی تیاری میں گزارتے ہیں…قرآن مجید سیکھنے
،سمجھنے اور سکھانے پر لگا دیتے تو کتنا عظیم خزانہ پا لیتے … علماء کے لئے عصری
تعلیم ممنوع نہیں ہے مگر اس کے لئے بہت سی شرائط ہیں…ان شرائط کو پورا کئے بغیر
قرآن مجید پر سائنس کی کتاب اور حدیث شریف پر کیمسٹری کی گائیڈ رکھ دینا…خطرہ
ہے،نقصان ہے …بہت عظیم نقصان…اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کے دل میں دین اور دینی علوم
کی وہ عزت عطاء فرمائے جو ہر مسلمان کے دل میں ہونا اس کے ایمان کے لئے لازمی ہے…
طلبہ کی چھٹیاں
قرآن مجید میں …دینی علوم کے طلبہ کی اپنے وطن واپسی کا
تذکرہ موجود ہے…کہ وہ واپس جا کر اپنی قوم،قبیلے کو، خاندان کو…اللہ تعالیٰ کے
عذاب سے ڈرائیں…ان کو دین سکھائیں اور ان کی دینی رہنمائی کریں…کیا دینی مدارس کے
طلبہ چھٹیوں میں گھر جا کر یہی کام کرتے ہیں…جی ہاں! بعض طلبہ ضرور کرتے ہوں
گے…قرآن مجید کے ہر حکم پر عمل کرنے والے افراد ہر زمانہ میں موجود رہتے ہیں…مگر
اکثر طلبہ ایسا نہیں کرتے…بلکہ اپنے اعمال اور فرائض میں بھی مکمل طور پر مستعد
نہیں رہتے…
ان سے گزارش ہے کہ …چھٹیوں کو قیمتی بنائیں…اہم ترین کام جہاد
کی تربیت ہے… اسی طرح حافظ طلبہ قرآن مجید یاد کریں…آیات جہاد کا دورہ تفسیر…یا
پورے قرآن مجید کا دورہ ٔتفسیر پڑھیں…دعوتِ جہاد کا کام کریں…جماعت کا نصاب ماشاء
اللہ دین کا جامع ہے…بس آج ہی نیت کر لیں کہ…چھٹیوں میں غفلت سے توبہ … اور کام
کا عزم…دین کا کام…اللہ تعالیٰ کا کام… اور ہمیشہ کام آنے والا کام…ان شاء اللہ
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے ’’لشکر ‘‘ بے شمار ہیں…اللہ تعالیٰ کے لشکروں
میں سے ایک بہت طاقتور لشکر کا نام ہے ’’اَلْھَمّ‘‘…یعنی فکر،پریشانی،سخت اُلجھن…
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتے ہیں اِس لشکر کو مسلّط فرما دیتے ہیں…
آئیے! دعاء مانگ لیں…جو حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم نے سکھائی ہے…
اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْھَمِّ وَالْحُزْنِ
یا اللہ ! اپنی حفاظت اور پناہ دے دیجئے پریشانی اور صدمے سے…
اُن دونوں کو سلام
آج کی مجلس کا اصل موضوع…فکر اور پریشانی کا علاج ہے…مجھے
معلوم نہیں کہ آپ میں سے کون کون ’’پریشانی‘‘ کا شکار ہے؟ اور آپ کو علم نہیں کہ
میں پریشان ہوں یا نہیں؟…بس آپس میں مل کر اس بھاری اور خطرناک بیماری کا علاج
ڈھونڈتے ہیں…
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم سب الحمد للہ مسلمان ہیں…اور
دنیا میں صرف ایک ’’دواخانہ‘‘ اور ہسپتال ایسا ہے جہاں ہر بیماری کی دواء اور علاج
موجود ہے…وہ ہے ’’اسلام کا دواخانہ‘‘…جی ہاں! اسلام کے پاس ہر مرض کا علاج اور ہر
بیماری کی دواء دستیاب ہے جبکہ باقی سب…صرف بیماریاں بیچ رہے ہیں صرف بیماریاں…
ایڈز، کینسر،غم،فکر، خود کشی،بے حیائی، ہالی وڈ،بالی وڈ… فیشن،سود، حرص، لالچ،
جھوٹ … عیاشی، فحاشی، بدمعاشی…کمیونزم، سیکولر ازم، سرمایہ داری،مغربی جمہوریت…اور
نفس پرستی … بے شمار بیماریاں…
آج کا اصل موضوع چھیڑنے سے پہلے دو گمنام شہداء کو سلام کر
لیں…اس فکر بھری دنیا میں جن دو نوجوانوں کو…صرف ایک ہی فکر تھی کہ حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخوں کا ایک جلسہ ہو رہا ہے…
اس ناپاک جلسہ پر لعنت برس رہی ہے اور اگر مسلمانوں میں سے کوئی بھی حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموس کے لئے نہ اُٹھا تو… زمین و آسمان
بھی شرمندہ ہوں گے اور لعنت کا وبال ہر طرف پھیل جائے گا… یہ دونوں نوجوان…نہ شادی
کی فکر میں تھے نہ مال بنانے کی… وہ ایسی تمام فکروں اور پریشانیوں سے آزاد تھے
جن فکروں میں آج کے اکثر مسلمان دن رات روتے ہیں…انہوں نے بس ایک فکر کو اپنایا
کہ حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت اور ناموس کے
لئے…جان دینی ہےاور ناپاک و نجس کارٹون سازوں کو مارنا، ڈرانا اور بھگانا ہے…ان
دونوں نے اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر عزم کیا اور نکل پڑے…امریکہ جیسے ملک میں وہ ہر
سیکورٹی رکاوٹ کو روندتے ہوئے…جلسہ گاہ تک جا پہنچے اور وہاں لڑتے ہوئے جامِ شہادت
نوش فرما گئے …اس لڑائی کے دوران ناپاک کارٹون ساز چوہوں کی طرح کانپتے رہے… ان کا
جلسہ اور مقابلہ درہم برہم ہوگیا… وہ مار کھائے ہوئے گدھوں کی طرح وہاں سے بھاگ
گئے…اور زمین و آسمان اور ساری مخلوقات میں درود و سلام کا شور برپا ہو گیا…
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّد… اَللّٰہُمَّ
صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّد… اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّد…
رجب کے مہینے میں …عشقِ رسول صلی اللہ علیہ
وسلم کی معراج پانے والے دونوں شہدائِ کرام کو دل کی گہرائی سے …عقیدت
بھرا سلام
تین سخت لہریں
انسان کے دل پر جو تکلیف دِہ لہریں حملہ آور ہوتی ہیں…وہ تین
طرح کی ہیں…
١ اَلْحُزْن
٢ اَلْغَمّ
٣ اَلْھَمّ
اگر ماضی میں گزرے ہوئے زمانہ کی کوئی تکلیف…کڑوی یاد بن کر
دل پر حملہ آور ہو تو اسے عربی میں ’’حُزْن‘‘ کہتے ہیں…یعنی صدمہ … اردو میں غم
بھی اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے…
اور زمانہ حال کی کوئی تکلیف دل کو جلا اور پگھلا رہی ہو تو
اسے عربی میں ’’غَمْ‘‘ کہتے ہیں… یعنی گھٹن، بے چینی…
اور گر آگے یعنی مستقبل کی کوئی فکر دل کو رُلا رہی ہو ،تڑپا
رہی ہو…خونی اندھیروں میں نہلا رہی ہو… اور مایوسی کی کھائی میں گرا رہی ہو تو اسے
’’ھَم‘‘ کہتے ہیں…یعنی فکر اور پریشانی…
ان تینوں مصیبتوں کا حملہ دل پر ہوتا ہے … اور یہ بھی یاد
رکھیں کہ ہر دل پر ہوتا ہے…کسی پر کم اور کسی پر زیادہ…کسی پر مفید اور کسی پر
نقصان دِہ …ویسے علمی طور پر ان تین الفاظ میں …مزید تشریح اور فرق بھی ہے مگر آج
’’ کتب خانہ‘‘ کا نہیں ’’دواخانہ ‘‘ کا قصد ہے…آئیے! پھر دعاء مانگ لیں…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ، یَا حَیُّی یَا
قَیُّومُ ،اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْھَمِّ وَالْحُزْنِ
وَالْغَمِّ…
بہت طاقتور
لوہا بہت طاقتور ہے مگر آگ اسے پگھلا دیتی ہے…آگ کی طاقت
بہت مگر پانی اسے بجھا دیتا ہے… پانی کی طاقت بہت مگر ہوا اُسے اڑا دیتی ہے…ہوا کی
طاقت بہت مگر انسان ہوا کو قابو کر لیتا ہے…انسان کی طاقت بہت مگر نیند انسان کو
گرا دیتی ہے…نیند کی طاقت بہت مگر فکر اور پریشانی نیند کوبھی بھگا دیتی ہے…معلوم
ہوا کہ ’’اَلْھَمّ‘‘ یعنی فکر اور پریشانی اللہ تعالیٰ کے لشکروں میں سے بہت
طاقتور لشکر ہے…یہ کسی دل پر اُتر جائے تو دل زخموں اور اندھیروں میں ڈوب جاتا
ہے…دنیا بھر کی دوائیاں اس کو دل سے نہیں نکال سکتیں…دنیا بھر کے کھانے اور
مشروبات اس کا علاج نہیں کر سکتے… لوگ نشہ کرتے ہیں تاکہ فکر اور پریشانی ختم ہو
جائے مگر وہ اور بڑھ جاتی ہے اور دل میں زیادہ گہری اتر جاتی ہے… چنانچہ نشے کرنے
والے اپنا نشہ مزید بڑھاتے جاتے ہیں …مگر مرتے دم تک فکر دل سے نہیں نکلتی…اگر نشہ
سے نکل جاتی تو نشہ کرنے والے ایک بار نشہ کر کے باز آ جاتے…یہی فکر اور پریشانی
ہے جو انسان کو خود کشی پر آمادہ کرتی ہے…یہی انسان کو بہت بڑے بڑے گناہوں میں
ڈالتی ہے …یا اللہ! آپ کی پناہ…
اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْھَمِّ وَالْحُزْنِ…
یَا فَارِجَ الْھَمِّ کَاشِفَ الْغَمِّ، اَذْھِبْ عَنَّا الْھَمَّ وَالْحُزْنَ۔
خوشخبری
اگر فکر اور پریشانی ’’آخرت ‘‘ کی ہو تو یہ بہت مبارک ہے…اس
فکر اور پریشانی کی برکت سے دنیا کی پریشانیاں اور فکریں ختم ہو جاتی ہیں… انسان
کا دل غنی ہو جاتا ہے…اور دنیا ناک رگڑ کر اس کے قدموں میں آتی ہے…اسے ’’ھَمُّ
الْآخِرَۃْ‘‘ کہتے ہیں…دعاء مانگا کریں …
اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ ھَمِّی الْآخِرَۃَ
’’یا اللہ! آخرت کو میری فکر بنا دے‘‘۔
اردو میں جو ہم ’’اہمیت‘‘ کا لفظ بولتے ہیں وہ اسی ’’اَلْھَمّ
‘‘ سے نکلا ہے…کہ دل میں آخرت کی اہمیت دنیا سے زیادہ ہو جائے…جس طرح کینسر کے
مریض کو یہ فکر ہوتی ہے کہ…میں اس بیماری سے مر نہ جاؤں…چنانچہ وہ اس کے علاج کو
ہر چیز سے بڑھ کر اہمیت دیتا ہے…اس علاج کی خاطر مال مویشی بیچنے پڑیں…گاڑی فروخت
کرنی پڑے…مکان بیچنا پڑے یا قرض لینا پڑے … وہ سب کچھ کر گزرتا ہے…پس اسی طرح ایک
مسلمان کو آخرت کی فکر لگ جائے کہ…میری موت ایمان پر آئے ،مجھے اللہ تعالیٰ سے
ملاقات کے وقت مغفرت اور اکرام ملے…مجھے قبر کی تنہائی اور عذاب سے حفاظت ملے…حشر
کے دن اور پل صراط اور میزان پر میرا معاملہ ٹھیک رہے…ان سب باتوں کی فکر اور بہت
اہمیت …اور پھر اس کے لئے تیاری،قربانی اور محنت … اسے ’’ھَمُّ الْآخِرَۃْ‘‘ کہتے
ہیں…جو اللہ تعالیٰ معاف فرمائے ہم میں سے اکثر کو…نصیب نہیں ہے…ہم اپنے جسم کی
ایک چھوٹی سی بیماری پر لاکھوں خرچ کر سکتے ہیں…مگر آخرت کے لئے ہزاروں کا خرچہ
بھی بھاری لگتا ہے…بہرحال جن مسلمانوں کو یہ فکر اور ’’ھَمّ‘‘ نصیب ہے انہیں بہت
بہت مبارک ہو…اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان میں شامل فرمائے…
دوسری خوشخبری
وہ مسلمان جن پر اچانک کوئی ’’ھَمّ‘‘ یعنی فکر یا پریشانی
مسلط ہو جاتی ہے…مگر وہ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں …وہ اللہ تعالیٰ
سے ہی اس کا علاج اور حل مانگتے ہیں…وہ اپنے جلے ہوئے دل سے اپنا ایمان یا دوسروں
کا دل نہیں جلاتے…بلکہ اس جلے ہوئے دل سے اپنے آنسوؤں کو گرم کر کے سچا اِستغفار
کرتے ہیں …ایسے لوگوں کو بھی بشارت اور خوشخبری ہو کہ…یہ پریشانی اور فکر کا یہ
حملہ اُن کے گناہوں کو مٹانے اور درجات کو بلند کرنے کا ذریعہ بنتا ہے…اس سے ان کے
بڑے بڑے خطرناک گناہ معاف ہو جاتے ہیں …اس سے ان کو اللہ تعالیٰ کے قرب کا مقام مل
جاتا ہے… کیونکہ جسمانی تکلیف سہنا آسان ہے … مگر جب جسمانی تکلیف پر اللہ تعالیٰ
کی طرف سے اَجر کے اتنے وعدے ہیں تو …قلبی اور روحانی تکلیف تو بڑی اذیت ناک ہوتی
ہے…جو اسے صبر اور ذکر کے ساتھ کاٹ لے اس کا مقام بہت اونچا ہوتا ہے…اسی لئے اللہ
والے بزرگ ایسے لوگوں کو ہمیشہ صبر کے نسخے بتاتے رہتے ہیں … حضرت ابراہیم بن ادہم
رحمۃ اللہ علیہ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو اسی ’’ھَمّ‘‘ یعنی فکر و
پریشانی سے تڑپ رہا تھا…آپ نے اس بندہ ٔمومن سے فرمایا … میں تم سے تین باتیں
پوچھتا ہوں :
١ کیا دنیا میں اللہ تعالیٰ کے چاہے بغیر کچھ ہو سکتا ہے؟
٢ اللہ
تعالیٰ نے تمہاری قسمت میں جو رزق لکھ دیا ہے کیا اس میں سے کوئی ایک ذَرّہ کم کر
سکتا ہے؟
٣ اللہ
تعالیٰ نے تمہارے لئے جتنی زندگی لکھ دی ہے…کیا اس میں سے کوئی ایک لحظہ یعنی
سیکنڈ کم کر سکتا ہے؟…
اس شخص نے تینوں سوالوں کے جواب میں کہا …نہیں، ہر گز
نہیں…حضرت نے فرمایا: پھر فکر اور پریشانی کس بات کی؟
خطرہ ہے خطرہ
وہ لوگ جن کے دل پر ’’ھَمّ‘‘ یعنی فکر اور پریشانی کا حملہ
ہوتا ہے…مگر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ نہیں ہوتے…کچھ مایوس ہو کر گناہوں اور
نشے میں جا پڑتے ہیں…کچھ شرک ،کفر اور ٹونوں میں جا گرتے ہیں…کچھ دوسروں کو اِیذاء
پہنچانے میں لگ جاتے ہیں…اور کچھ خود کشی کر کے اپنی دنیا اور آخرت تباہ کر لیتے
ہیں…ایسے لوگوں کا دل…شیطان کا تخت ہوتا ہے …وہ اس پر بیٹھتا ہے،ناچتا ہے اور
تباہی مچاتا ہے… ہم سب مسلمانوں کو ایسی فکر اور ایسی حالت سے ڈرنا چاہیے…اور اس
سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے…دنیا بڑی عجیب جگہ ہے …اس کی جو جتنی زیادہ
فکر کرے یہ اسی قدر زیادہ کاٹتی ہے اور زیادہ دور بھاگتی ہے…ایک مسلمان کو یہ
سوچنا چاہیے کہ کسی بات کی فکر لگانے اور فکر کھانے سے کیا ہو گا؟…یہی وقت اللہ
تعالیٰ سے مانگنے یا آخرت کی تیاری میں لگا دوں…
علاج
’’ھَمّ‘‘ یعنی فکر اور پریشانی کا اصل علاج اللہ تعالیٰ پر
توکل اور بھروسہ ہے… کہ اللہ تعالیٰ میرے ساتھ ہے…وہ میری سنتا ہے…وہ میری ضرور
مدد فرمائے گا…اندازہ لگائیں… ایک شخص کے دل پر بیک وقت تینوں خطرناک لہروں کا
حملہ ہے… ماضی کا صدمہ بھی ہے یعنی حُزن…حال کا غم بھی جاری ہے…اور مستقبل کی فکر
بھی ہے…محبوب ترین بیٹا سالہا سال سے گم ہے اور اب دوسرا بیٹا بھی گم ہو گیا…مگر
اس کی زبان سے کیا نکلتا ہے؟
﴿فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ﴾
’’ہاں! صبر ہی اچھا ہے‘‘…اور ساتھ فرماتا ہے :
﴿لَا تَیْأَسُوْا مِن رَّوْحِ اللّٰہِ﴾
’’اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو…اللہ کی رحمت سے صرف کافر
مایوس ہوتے ہیں‘‘…
دوسرا بڑا علاج یہ کہ جس بارے میں فکر کا حملہ ہو اسی کے خلاف
کوئی نیک کام کر لیا جائے…مال کی فکر اور پریشانی دل کو رُلارہی ہے تو ہمت کر کے
جیب سے پیسے نکال کر صدقہ کر دیں…تھوڑی دیر میں فکر کا حملہ بھی ختم…اور ساتھ اِن
شاء اللہ سکینہ بھی شروع…ویسے بھی صدقہ اس بیماری کا بہترین اور بڑا علاج ہے…
تیسرا علاج کثرتِ اِستغفار ہے…اور یہ اہلِ دل کا مجرب ہے…اور
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی…استغفار لازم
پکڑنے والوں کو ہر فکر و پریشانی سے نجات کی بشارت دی ہے…
چوتھا علاج …’’لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ‘‘ کی
کثرت ہے،جیسا کہ حدیث پاک میں آیا ہے…
پانچواںعلاج…درود شریف کی کثرت ہے …اس پر دلائل روایات میں
موجود ہیں…
اور بہت سے علاج اور بہت سی دعائیں حدیث شریف میں آئی ہیں…
جو علاج چاہتا ہو…وہ تلاش کر لے…اور دنیا میں جس چیز کی فکر
اور پریشانی حد سے زیادہ مسلّط ہو…اگر انسان اُس کو چھوڑنے یعنی اُس کی قربانی
دینے کا عزم کر لے تو …پریشانی بھی دور ہو جاتی ہے اور نصرت بھی آ جاتی ہے…
اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْھَمِّ وَالْحُزْنِ۔
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے اپنے سب سے آخری اور سب سے محبوب نبی حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو چار پیاری پیاری بیٹیاں عطاء
فرمائیں…
١ حضرت
سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا
٢ حضرت
سیّدہ رقیہ رضی اللہ عنہا
٣ حضرت
سیّدہ اُم کلثوم رضی اللہ عنہا
٤ حضرت
سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا
آج مسلمانوں میں ان چار میں سے تین نام تو الحمد للہ بکثرت
موجود ہیں…مگر ’’اُم کلثوم‘‘ نام بہت کم ہے…کسی کو مشورہ دیں تو ہچکچا جاتا ہے …
کہ بچی ’’اُم‘‘ کیسے ہو گئی…وہ سمجھتے ہیں کہ ’’اُم‘‘ کا مطلب صرف ’’ماں‘‘ ہے…ایسا
غلط ہے… حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری بیٹی کا نام
’’اُم کلثوم‘‘ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی پیاری بیٹی کا نام ’’
اُم کلثوم‘‘ …حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی پیاری بیٹی کا نام
’’اُم کلثوم‘‘…حدیث کی روایت کرنے والی ایک عظیم صحابیہ کا نام ’’اُم کلثوم‘‘… رضی
اللہ عنہا
ایک دعاء یاد کر لیں
بیٹی کا تذکرہ چلا تو یاد آ گیا کہ…دو دن پہلے جماعت کے شعبہ
تعارف نے اطلاع دی کہ پشاور کی ایک مسلمان بہن نے بارہ تولے سونا اور تین لاکھ
روپے جہاد میں دئیے ہیں…اور دو فرمائشیں کی ہیں…
پہلی یہ کہ ان کے لئے دعاء کی جائے…اور دوسری یہ کہ کچھ عرصہ
پہلے’’رنگ و نور‘‘ میں زکوٰۃ کے بارے میں جو کالم شائع ہوا تھا…ایک مسلمان کا اور
کیا کام؟…وہ ماہنامہ بنات عائشہ رضی اللہ عنہا میں
بھی شائع کیا جائے…
بندہ نے دعاء کر دی…تمام قارئین بھی دل کی گہرائی سے ان کے
لئے دعاء کریں…اور مضمون ان شاء اللہ شائع کر دیا جائے گا…
ایک بات بتائیں
جب آپ کے ہاں ’’بیٹی‘‘ کی ولادت ہوتی ہے تو آپ خوش ہوتے ہیں
یا پریشان ؟اگر خوش ہوتے ہیں تو بہت مبارک ہو…بہت مبارک… اور اگر پریشان ہوتے ہیں
تو مشہور زمانہ تفسیر ’’روح المعانی‘‘ کی یہ عبارت پڑھ لیں جو حضرت علامہ آلوسی
رحمۃ اللہ علیہ نے سورۃ النحل آیت (۵۸) کی تفسیر میں لکھی
ہے…فرماتے ہیں:
’’اس آیت میں ہر اس شخص کی واضح مذمت ہے جو بیٹی کی خبر سن
کر غمگین ہوتا ہے …کیونکہ آیت مبارکہ بتا رہی ہے کہ یہ کافروں کا کام ہے…یعنی
مشرک اور کافر کا یہ طریقہ ہے کہ وہ بیٹی پیدا ہونے کی خبر سے غمگین ہو جاتا ہے‘‘…
ایک خاص نکتہ
حدیث شریف میں ایک دعاء کا حکم ہے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ النِّسَائِ
’’یا اللہ! عورتوں کے فتنہ سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں‘‘۔
یہ دعاء ( نعوذ باللہ) اکثر عورتوں کو پسند نہیں ہے…اسی لئے
مرد حضرات اپنی ’’عربی دان‘‘ بیویوں کے سامنے یہ دعاء نہیں پڑھتے کہ وہ ناراض نہ
ہو جائیں…پڑھنی بھی ہو تو آواز آہستہ کر لیتے ہیں… اور خواتین تو اکثر اس دعاء
کو نہیں پڑھتیں …حالانکہ اس زمانہ میں عورتوں کے لئے یہ دعاء بہت ضروری ہے…کیونکہ
آج کل عورتیں ہی دوسری عورتوں کو زیادہ تکلیف اور نقصان پہنچاتی ہیں …آپ جب یہ
دعاء پڑھیں گی تو دوسری عورتوں کے شر اور فتنہ سے ان شاء اللہ حفاظت میں رہیں گی
…یہ موضوع تو بڑا مفصل ہے کہ عورتیں کس طرح سے دوسری عورتوں کو نقصان پہنچا رہی
ہیں…بس ایک مثال لے لیں کہ بیٹی کی پیدائش پر سب سے زیادہ تکلیف آج عورتوں کو ہی
ہوتی ہے…ماں بھی پریشان کہ بیٹا کیوں نہیں ہوا…ساس بھی دکھی کہ پوتا کیوں نہیں
ہوا…اری بہنو! اگر ہر گھر میں ہمیشہ بیٹا ہی ہوتا تو پھر نہ یہ ماں موجود ہوتی اور
نہ یہ ساس…آپ خود تو پیدا ہو گئیں…حالانکہ آپ بھی تو بیٹی تھیں…اب اگر آپ کے
ہاں ’’بیٹی‘‘ پیدا ہوئی ہے تو اسے بھی خوشی سے قبول کر لیجئے…بیٹا بیٹا کرتے کہیں
خدانخواستہ ایسا نہ ہو کہ پرویز مشرف یا پرویز رشید جیسا کوئی پیدا ہو جائے … ایسے
بیٹوں سے کروڑ بار اللہ تعالیٰ کی پناہ …زمین بھی ان کے وجود سے پناہ مانگتی ہے…
اُمّ کا مطلب
کسی بچی کے نام میں ’’اُم‘‘ کا لفظ آنا حیرت کی بات نہیں
ہے…اُم ’’ماں‘‘ کو بھی کہتے ہیں… اصل کو بھی کہتے ہیں…جڑ کو بھی کہتے ہیں…اُم
’’والی‘‘ کے معنٰی میں بھی آتا ہے…اُم ایمن برکت والی…اُم کلثوم ریشم جیسے چہرے
والی…ہمارے ہاں ’’اُم کلثوم‘‘ نام نہیں رکھتے، ہاں بعض لوگ اپنی بچی کا نام
’’کلثوم‘‘ رکھ دیتے ہیں…عربی لغت کی مشہور کتاب ’’لسان العرب لابن منظور ‘‘ میں
لکھا ہے :
کلثوم رجل وام کلثوم امرأۃ
’’کلثوم‘‘ مرد کا نام ہوتا ہے… اور اُم کلثوم عورت کا‘‘…
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے جب
قباء میں قیام فرمایا تو آپ کا قیام جن صاحب کے گھر میں تھا…ان کا نام تھا کلثوم
بن ھدم…اور بھی کئی مردوں کا نام ’’کلثوم‘‘ آیا ہے…اگرچہ ناموں میں کافی گنجائش
ہوتی ہے…شاید اسی کا لحاظ رکھتے ہوئے ہمارے ہاں عورتوں کا نام بھی ’’کلثوم‘‘ رکھ
دیا جاتا ہے…مگر جن مبارک ہستیوں کو دیکھ کر یہ نام اسلامی معاشرے میں آیا ہے…ان
سب کا اسم گرامی’’ اُم کلثوم‘‘ تھا…بندہ سے کئی لوگ اپنے بچوں کا نام رکھنے میں
مشورہ کرتے ہیں…الحمد للہ بعض دوستوں کی بچیوں کا نام ’’اُم کلثوم ‘‘ رکھ دیا ہے
…مگر انہیں سمجھانے میں محنت کرنی پڑی…اللہ کرے یہ کالم کام کر جائے اور ہمارے
گھروں میں میرا،وینا، پلوشہ، ملالہ،گلالہ کی جگہ پیاری عائشہ،خدیجہ، فاطمہ ، اُم
کلثوم، رقیہ، حفصہ، زینب، صفیہ،جویریہ، میمونہ،آمنہ،امامہ…اور ان جیسے دوسرے
پاکیزہ نام آ جائیں…
ایک بری رسم
ہمارے معاشرے میں بچوں کے برے نام ایک بری رسم کی وجہ سے آئے
ہیں…وہ رسم یہ کہ جو نام ایک بار کسی خاندان میں آ جائے…وہ اب دوبارہ کسی بچے کا
نہیں ہو سکتا…خاندان ماشاء اللہ بڑے ہیں تو اس لئے کئی لوگ نئے نئے نام ڈھونڈتے
ہوئے…کافروں،منافقوں،بتوں اور چڑیلوں کے ناموں تک پہنچ جاتے ہیں…اب بھلا پرویز بھی
کوئی نام ہے؟ ماضی کا ایک دشمن اسلام کافر… ارے بھائیو! اور بہنو! اپنے بچوں کے
بہت پیارے پیارے نام رکھو…یہ بچوں کا اپنے والدین پر لازمی شرعی حق ہے … بے شک ایک
ہی خاندان میں محمد ہی محمد… اور عائشہ ہی عائشہ ہر طرف نظر آئیں… سچی بات ہے بہت
بھلا لگتا ہے… بہت خوبصورت…
ویسے اچھے ناموں کی بھی کمی نہیں ہے…بس اچھا نام رکھنے کی فکر
ہو …ہزاروں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور صحابیات رضی اللہ
عنہن کے نام موجود ہیں…والحمد للہ رب العالمین
کوکب الاسلام
بات ایک مقدس ہستی کی چلی تو کچھ ان کا مبارک تذکرہ بھی آ
جائے کہ…ان کے تذکرے پر بھی رحمت نازل ہوتی ہے…
سیّدہ اُم کلثوم رضی اللہ عنہا …حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی تیسری صاحبزادی…ولادت مکہ مکرمہ
میں ہوئی… چھ سال کی تھیں کہ والد مکرم کو نبوت اور ختم نبوت کا تاج پہنایا
گیا…اپنی امی جی اور بہنوں کے ساتھ فوراً کلمہ پڑھ کر سابقین الاولین میں جگہ
پائی…ابو لہب کے بیٹے سے رشتہ طے تھا … مگر اُس ملعون نے اپنے بیٹے کو حکم دیا کہ
طلاق دے دو…ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی…پھر حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کے ساتھ شعب ابی طالب کی سخت مشقت کاٹی…والدہ ماجدہ سیدہ خدیجہ
رضی اللہ عنہا انتقال فرما گئیں…بیٹیاں ماں کے بغیر رہ گئیں…حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی دوسری زوجہ حضرت
سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے تربیت فرمائی…پھر مدینہ
کی طرف ہجرت ہوئی …پہلے حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم تشریف لے گئے …پھر بیٹیوں نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ
عنہ کے خاندان کے ساتھ ہجرت کی… حضرت آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم نے خود استقبال فرمایا…ہجرت کے دوسرے سال بڑی بہن حضرت سیّدہ
رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا…ان کے خاوند حضرت سیدنا
عثمان رضی اللہ عنہ غم سے نڈھال تھے کہ… حضرت رقیہ رضی اللہ
عنہا خود بڑے مقام والی تھیں…اور ان کے ذریعے سے حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی رشتہ تھا… ایسی بیوی کا
انتقال تو کمر توڑ دیتا ہے…تب جبرئیل امین عرش سے اللہ تعالیٰ کا حکم لائے کہ…
سیّدہ اُم کلثوم کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دے
دیا جائے…رشتہ ہو گیا اور اس رشتہ نے سیّدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو
’’ذی النورین‘‘ بنا دیا…
اس رشتہ سے پہلے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ
عنہ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اپنی
بیٹی… حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا رشتہ پیش کیا …
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے خاموشی اختیار فرمائی… جس پر
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کچھ غمگین تھے … تو حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا…حفصہ کو عثمان سے
اچھا خاوند…اور عثمان کو حفصہ سے بہتر بیوی ملے گی…حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا تو
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد مبارک میں آ گئیں…
مگر سب حیران تھے کہ حفصہ سے افضل اس وقت کون ہو گا؟ …جب سیّدہ اُم
کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت
عثمان رضی اللہ عنہ سے ہوا تو سب نے جان لیا کہ…وہ افضل
خاتون حضرت سیّدہ اُم کلثوم رضی اللہ عنہا ہیں
…بعض حضرات نے حضرت اُم کلثوم رضی اللہ عنہا کو ’’کوکب
الاسلام‘‘ کا لقب بھی دیا ہے …ہجرت کے نویں سال شعبان کے مہینہ میں
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیاری لخت جگر…اس دنیا
فانی سے کوچ کر گئیں…عمر ابھی تیس سال بھی نہیں ہوئی تھی…پیدا مکہ مکرمہ میں
ہوئیں…جبکہ تدفین مدینہ منورہ جنت البقیع میں ہوئی…کوئی اندازہ لگا سکتا ہے
کہ…حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر کیا گذری ہو
گی جب آپ …سیّدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کے پہلو میں
سیّدہ اُم کلثوم رضی اللہ عنہا کو قبر میں اُتار رہے
تھے…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ’’قرآنِ مجید‘‘ کا ساتھ نصیب
فرمائے…دنیا میں بھی…مرتے وقت بھی…قبر میں بھی،حشر میں بھی…اور جنت میں بھی…قرآن
مجید نور ہے،ہدایت ہے،روشنی ہے، رحمت ہے، امام ہے، رہنما ہے… بچانے والا ہے،
بڑھانے والاہے،ساتھ نباہنے والا ہے… چھڑانے والا ہے… دلکش،دلربا اور مونس ساتھی
اور ہمسفر ہے… ہمیں سوچنا چاہیے کہ…مرتے وقت ہم اپنے ساتھ کتنا ’’قرآن مجید‘‘ لے
کر جاتے ہیں…
مجاہدین کرام کے نام
کامیاب مجاہدین کا ہمیشہ سے یہ دستور رہا ہے کہ…جیسے ہی
’’رجب‘‘ کا مہینہ ختم ہوا، انہوں نے قرآن اور جہاد کو تھام لیا…شعبان میں محنت کی
اور رمضان المبارک میں فتوحات پائیں …ماشاء اللہ، جہاد کا نور اب ہر طرف پھیل چکا
ہے…جہاد کے دوست اور دشمن سب نمایاں ہو کر سامنے آ چکے ہیں… جہاد کے بری،بحری اور
پہاڑی محاذ کھل چکے ہیں…قدیم اسلحہ اور گھوڑوں سے لے کر جہاز اور ٹینک تک مجاہدین
کے پاس موجود ہیں…جہاد کا مسئلہ اب چند سال پہلے کی طرح ’’اجنبی‘‘ نہیں رہا… جہاد
کے موضوع پر کتابیں، بیانات اور دیگر دستاویزات ہر جگہ مہیّا ہیں…دشمنانِ اسلام
جہاں بھی مسلمانوں پر حملہ کرتے ہیں…وہاں انہیں مجاہدین کی طرف سے مزاحمت کا سامنا
کرنا پڑتا ہے… اَقوامِ متحدہ نام کا ادارہ اب آخری ہچکیاںلے رہا ہے… سوویت یونین
نام کا اِتحاد بکھر چکا ہے… اور دہشت کا نشان امریکہ اب ’’اُبامہ‘‘ ہوتا جا رہا ہے…
کمزور، رسوا، بدنام، غیر مقبول…اور بے رُعب…اور یورپی اِتحاد اپنے وجود کو بچانے
کی آخری کوششیں کر رہا ہے…جہاد نے گذشتہ پندرہ سال میں دنیا کے حالات اور دنیا کے
نقشے کو بدل ڈالا ہے اور تبدیلی کا یہ عمل تیزی سے جاری ہے… مجاہدین کو چاہیے کہ
قرآن مجید کو مضبوط تھام لیں…پھر ان کی فتوحات کا دائرہ بہت وسیع ہو جائے گا…
کیونکہ قرآن مجید کا آغاز ہی سورۂ فاتحہ سے ہوتا ہے…ماضی کے کئی اسلامی لشکروں
نے سورۂ فاتحہ کی برکت سے بڑے بڑے شہر اور قلعے فتح کئے…اور اسی قرآن مجید میں
سورۃ ’’الفتح‘‘ موجود ہے… یہ سورۃ مجاہدین کو ’’فاتح جماعت‘‘ بنانے کا طریقہ
سکھاتی ہے…اور اسی قرآن مجید میں سورۃ ’’النصر‘‘ موجود ہے…جو زمین پر اللہ تعالیٰ
کی نصرت اُتارنے کا طریقہ بتاتی ہے…مجاہدین کے معاشی مسائل کے حل کے لئے سورۂ
’’اَنفال‘‘ موجود ہے…اور مجاہدین کو پہاڑوں جیسا حوصلہ دِلانے والی سورۂ توبہ بھی
ہمارے سامنے ہے…
’’مجاہد‘‘ جس قدر ’’قرآن‘‘ سے جڑے گا،اسی قدر اس کا جہاد
کامیاب اور شاندار ہو گا… شعبان شروع ہو چکا…قرآن مجید کو سینے سے لگا لیجئے…
محاذوں کی گرمی ہو یا ریاضت و تربیت کی سرگرمی… دعوت کی بھاگ دوڑ ہو یا کسی مہم کی
محنت … قرآن مجید آپ کے ساتھ رہے…جن کو درست پڑھنا نہ آتا ہو وہ فوراً سیکھنا
شروع کر دیں…جو پڑھنا جانتے ہوں وہ تلاوت میں اضافہ کردیں … جو حفاظ ہیں وہ حفظ کو
پختہ کر یں…اور سب مل کر قرآن مجید زیادہ سے زیادہ سمجھنے کی کوشش کریں…
قرآن،شعبان ،رمضان
قرآن مجید کو اپنے ساتھ لینے اور قرآن مجید کی خدمت کرنے کا
میدان بہت وسیع ہے…سب سے پہلے اپنے دل میں ’’قرآن مجید‘‘ کی عظمت بٹھائیں کہ یہ
کتنی بڑی اور کتنی ضروری نعمت ہے … کوئی نعمت اس کے برابر نہیں کیونکہ باقی سب
نعمتیں ’’مخلوق ‘‘ ہیں…جبکہ قرآن مجید خود اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اللہ
تعالیٰ کا کلام ’’مخلوق‘‘ نہیں ہو سکتا…
اس کے لئے اچھا ہو گا کہ…آپ فضائل قرآن مجید کی احادیث کا
ایک بار ضرور مطالعہ کر لیں…دوسرا کام یہ کہ اپنے دل میں اس بات کا عزم باندھیں کہ
میں نے ان شاء اللہ قرآن مجید کو اپنے ساتھ لے جانا ہے… جب یہ فکر دل میں بیٹھ
گئی تو ان شاء اللہ اس کا کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکل آئے گا…
عجیب نقشے
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص تجوید کے ساتھ قرآن مجید
پڑھنا جانتا ہے…وہ بہت پختہ حافظ بھی ہے…اور قرآن مجید کا ترجمہ اور تفسیر بھی
جانتا ہے…مگر مرتے وقت قرآن مجید اس کے ساتھ نہیں جاتا… روح نکلتے وقت بھی قرآن
مجید اس کے ساتھ کوئی تعاون نہیں فرماتا…اور قبر و حشر میں بھی اس کا ساتھ نہیں
دیتا…بلکہ اُلٹا اس کے خلاف گواہی دیتا ہے…یا اللہ! ایسی صورتحال سے آپ کی پناہ…
اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ…ایک شخص شرعی عذر کی وجہ سے
درست قرآن مجید نہیں پڑھ سکتا… وہ حافظ اور عالم بھی نہیں…تلاوت بھی زیادہ نہیں
کر سکتا…مگر مرتے وقت قرآن مجید اس کے ساتھ جاتا ہے…اور آگے کے تمام مراحل میں
اس کے ساتھ بھرپور تعاون کرتا ہے…
وسیع اور دلکش میدان
دل میں قرآن مجید کی عظمت ہو…قرآن مجید پر مکمل ایمان
ہو…قرآن مجید کو ساتھ لینے کی فکر، کڑھن اور حرص ہو…اور اسے اپنی اہم ضرورت
سمجھتا ہوتو…خدمت قرآن کا میدان بہت دلکش اور وسیع ہے…تلاوت سیکھنا، تلاوت
کرنا…ادب کرنا، قرآن مجید کو سمجھنا، سمجھانا … قرآن مجید پڑھانا… قرآن مجید کی
تعلیم کے لئے سہولیات اور اَسباب فراہم کرنا…قرآن مجید کی طرف لوگوں کو
بلانا…قرآن مجید کی دعوت چلانا …قرآن مجید چھاپنا، چھپوانا، تقسیم کرنا…قرآن
مجید کی محبت عام کرنا… قرآن مجید پر عمل کرنا… عمل کرانا…قرآن مجید کے احکامات
کو خود پر ، معاشرے پر اور زیرِاختیار اَفراداور علاقے پر نافذ کرنا…قرآنی تعلیم
کی حفاظت کرنا…قرآن مجید کی تعلیم دِلوانا… قرآن مجید کی تفسیر بیان کرنا، تفسیر
لکھنا یا کوئی بھی علمی خدمت کرنا…
ماضی میں ایسے لوگ بھی گزرے ہیں…جو قرآن مجید کے ادب کی
بدولت کامیاب ہو گئے… اور ایسے بھی گذرے ہیں کہ بظاہر قرآن مجید ان کے ساتھ
تھا…مگر یقین،عمل اور ادب کے نہ ہونے کی وجہ سے …وہ قرآن مجید کے ساتھ سے محروم
رہے …ایک شخص قتال فی سبیل اللہ کا منکر ہو اور تلاوت کر رہا ہو آیاتِ قتال کی…یہ
تلاوت خود اُس کے خلاف حجت بن جائے گی…
آج ہی سے
الحمد للہ شعبان شروع ہو چکا ہے…آپ آج سے ہی اپنی زندگی کا
’’قرآنی منصوبہ‘‘ طے کر لیں… پھر اس کے لئے دعاء اور محنت شروع کر دیں …اور نتیجہ
اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں…ایک آدمی ہر وقت یہ سوچتا ہے کہ میں نے ان شاء اللہ مرنے
سے پہلے قرآن مجید کے چار سو مکتب قائم کرنے ہیں… ایک آدمی یہ سوچتا ہے کہ میں
نے ان شاء اللہ محاذوں تک قرآن مجید کے نسخے پہنچانے ہیں…ایک آدمی یہ سوچتا ہے
کہ میں نے اول تا آخر ایک بار قرآن مجید کی ہر آیت کو ان شاء اللہ ضرور سمجھنا
ہے کہ میرا رب مجھ سے کیا فرما رہا ہے…ایک آدمی یہ سوچتا ہے کہ میں نے درست تلفظ
کے ساتھ قرآن مجید سیکھنا ہے، پھر روز تلاوت کرنی ہے اور اپنی ساری اولاد کو ان
شاء اللہ حافظ بنانا ہے…ایک آدمی یہ سوچتا ہے کہ میں نے ایک ایسا پریس قائم کرنا
ہے جو صرف قرآن مجید چھاپے گا اور درست چھاپے گا اور مفت تقسیم کرے گا…ایک آدمی
یہ سوچتا ہے کہ میں نے ایک بار قرآن مجید کا اس طرح مطالعہ کرنا ہے کہ…ہر آیت پر
غور کروں گا کہ میرا اس پر کتنا یقین ہے اور کتنا عمل ہے…ایک آدمی یہ سوچتا ہے کہ
میں ان شاء اللہ ایک سو افراد کو قرآن مجید پڑھنا سکھا جاؤں گا…وہ پڑھتے پڑھاتے
رہیں گے…اور میرا کارخانہ چلتا رہے گا…ایک آدمی سوچتا ہے کہ…میں اپنی اولاد کو
سورۂ فاتحہ خود حفظ کراؤں گا…اولاد زندہ رہی اور بڑی ہوئی تو لاکھوں بار فاتحہ
پڑھے گی جس کااجر ان شاء اللہ میرے لئے جاری رہے گا…ایک آدمی سوچتا ہے کہ میں جلد
سازی کی چھوٹی سی دکان بنا لوں گا… چھٹی کے دن مساجد میں جاکر قرآن مجید کے ضعیف
نسخے اٹھا لاؤں گا اور ان کی جلد بنا کر واپس رکھ دوں گا…ایک آدمی سوچتا ہے کہ…
میں کسی غریب آدمی کے ایک بچے کی قرآنی تعلیم کا سارا بوجھ اپنے سر لے لوں
گا…اور اس کی تعلیم مکمل ہونے تک ان شاء اللہ خرچہ اٹھاتا رہوں گا…ایک آدمی سوچتا
ہے کہ میں قرآن پاک کے فضائل کی دس احادیث ٹھیک ٹھیک یاد کروں گا اور روز کچھ
مسلمانوں کو سناؤں گا…اور انہیں قرآن مجید پڑھنے اور سمجھنے کی دعوت دوں گا…ایک
آدمی سوچتا ہے کہ روزانہ اتنا قرآن مجید حفظ کروں گا اور مرتے دم تک حفظ کرتا
رہوں گا…ایک آدمی سوچتا ہے کہ میں قرآن مجید کا ایک نسخہ لے کر…کسی مستند عالم
یا مستند ترجمہ کے ذریعے اس پر نشانات لگا دوں گا تاکہ…تلاوت کے وقت دھیان رہے کہ
میں کیا پڑھ رہا ہوں… پھر یہ نسخہ بعد والوں کے کام بھی آتا رہے گا…ایک آدمی
سوچتا ہے کہ میں نے خود بھی قرآن مجید حفظ کرنا ہے…اپنی بیوی اور اولاد کو بھی
کرانا ہے اور اپنے پورے خاندان کو بھی کرانا ہے ان شاء اللہ…
دیکھا آپ نے کہ خدمت قرآن کا میدان کتنا وسیع ہے…اور اہل
ہمت کے لئے اس میں کیسے کیسے امکانات موجود ہیں…یہ اوپر جو چند نیتیں بغیر ترتیب
کے لکھی ہیں …یہ بطورِ مثال ہیں… اصل ترتیب درج ذیل ہے:
١ قرآن
مجید پر ایمان لانا…
٢ قرآن
مجید پر عمل کرنا…
٣ قرآن
مجید کی تلاوت سیکھنا اور کرنا…
٤ قرآن
مجید کی دعوت دینا…
٥ قرآن
مجید سمجھنا، سمجھانا، پڑھنا اور پڑھانا…
٦ قرآن
مجید کو حفظ کرنا،پھر حفظ رکھنا، اور قرآن مجید کا ادب کرنا…
اسی طرح اوپر جو نیتیں لکھی ہیں…ان کے علاوہ بھی خدمت قرآن
کے بے شمار طریقے ہیں… آپ صرف تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ اہل سعادت نے
خدمتِ قرآن پر زندگیاں قربان کر دیں… تفسیر الگ خدمت، ترجمہ الگ خدمت، الفاظ الگ
خدمت، معانی الگ خدمت،تجوید الگ خدمت، کتابت،اشاعت، دعوت الگ خدمت … اور بے شمار
خدمات…ارے بھائیو! شہنشاہِ اعظم، اللہ اکبر کا عظمت والا کلام ہے…اس لئے اس کے
خُدّام بھی بے شمار، خدمتیں بھی بے شمار اور ان خدمات کا اجر بھی بے شمار…اللہ
تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو توفیق عطا فرمائے …مگر ایک کام تو ابھی سے
کر لیں…شعبان آ گیا ہے آج سے ہی اپنی تلاوت میں کچھ اضافہ کر لیں…وقت بہت قیمتی
ہو جائے گا…بہت قیمتی …
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ سے اس طرح دعاء مانگو کہ تمہیں قبولیت کا یقین
ہو…
یہ حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان
ہے…حدیث ترمذی شریف میں موجود ہے … اب دوسری حدیث شریف لیجئے!
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
…میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے تین دن پہلے آپ
سے یہ فرمان سنا …تم میں سے کوئی نہ مرے مگر اس حال میں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے
’’حسنِ ظن ‘‘ رکھتا ہو… (صحیح مسلم)
اب تیسری حدیث مبُارکہ سے اپنے دل کو روشن کیجئے…
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ایک
نوجوان کے پاس تشریف لے گئے…وہ موت آنے کی حالت میں تھا…آپ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا : تم خود کو کیسے پاتے ہو؟اس نے عرض کیا… یا رسول
اللہ! اللہ تعالیٰ کی قسم میں اللہ تعالیٰ سے اُمید رکھتا ہوں اور اپنے گناہوں سے
ڈرتا ہوں… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب ایسی حالت میں
کسی بندے کے دل میں یہ دو چیزیں جمع ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ اسے وہ عطاء فرما
دیتا ہے جس کی اسے اُمید ہو اور اسے اس چیز سے بچا لیتا ہے جس کا اسے خوف ہو…(
ترمذی)
ان تین احادیث مبارکہ میں غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ
تعالیٰ سے ’’حسن ظن‘‘ یعنی اچھا گمان اور اچھی اُمید رکھنا یہ ایک عظیم الشان
عبادت ہے…حضرت سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قسم کھا کر
فرماتے ہیں کہ ایک مومن کے لئے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ’’حسن ظن‘‘ نصیب ہونے سے بڑھ
کر بہتر چیز اور کوئی نہیں…مشہور زمانہ بزرگ حضرت مالک بن دینار رحمۃ
اللہ علیہ کا جب انتقال ہو گیا تو ایک محدث نے انہیں خواب میں دیکھا
اور پوچھا کہ آپ کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟ فرمایا : میں بہت گناہ لے کر حاضر ہوا
مگر مجھے اللہ تعالیٰ کے ساتھ جو ’’حسنِ ظن ‘‘ تھا اس نے میرے تمام گناہوں کو مٹا
دیا…واقعی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ’’حسنِ ظن‘‘ ایک بڑی نعمت،قلبی عبادت اور جنت کی
قیمت ہے…مگر افسوس کہ آج اکثر لوگ اس نعمت سے محروم ہیں…ہر کسی کو اللہ تعالیٰ سے
شکوہ ہے کہ …میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ میرے ساتھ یہ کیوں ہو رہا ہے؟ اور میری تو
دعائیں سنی ہی نہیں جاتیںاور میں تو ہوں ہی بد نصیب… استغفر اللہ،استغفر
اللہ،استغفر اللہ … افسوس کہ بعض لوگ تو یہاں تک بھی سوچتے ہیں کہ… مجھ سے گناہ
کروائے جا رہے ہیں تاکہ مجھے جہنم میں جلایا جا سکے…میں گناہوں سے بچنے کی جتنی
کوشش کرتا ہوں… نہیں بچ پاتا… بہت غلط سوچ،بہت غلط سوچ…استغفر اللہ،استغفر اللہ،
استغفر اللہ… خوب سن لیں…اللہ تعالیٰ سے بدگمانی رکھنے والے لوگ کبھی کامیاب نہیں
ہوتے…
بات دراصل یہ ہے کہ شیطان پہلے ہاتھ پکڑ کر ہمیں گناہوں کی
گلی میں لے جاتا ہے…اور پھر ہمیں سمجھاتا ہے کہ تم اب اللہ تعالیٰ کی رحمت کے قابل
نہیں رہے…اس لئے دو چار دن کی زندگی ہے اس میں عیش عیاشی کر لو…نیکی کرنا اور اللہ
تعالیٰ کو راضی کرنا تمہارے بس میں نہیں ہے … توبہ پر قائم رہنا تمہارے لئے ممکن
نہیں ہے…کئی لوگ شیطان کے اس دھوکے میں آ جاتے ہیں…اور پھر گناہوں میں دھنستے چلے
جاتے ہیں…کاش! ان مسلمانوں کے کانوں تک …کوئی اُن کے رب کا یہ اعلان پہنچا دے…
’’اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کر لیا ہے…تم اللہ تعالیٰ کی رحمت
سے مایوس نہ ہو…اللہ تعالیٰ تو سارے گناہ بخش دیتے ہیں…وہ بہت بخشنے والے مہربان
ہیں …بس موت سے پہلے پہلے ہماری طرف متوجہ ہو جاؤ…ہم سے رجوع کرو…ہم سے معافی
مانگ لو… اچانک موت آ ئے گی تو پھر موقع نہیں رہے گا‘‘ …سبحان اللہ! …ایسی رحمت
والا اعلان فرمانے والے رب سے بھی اگر ’’حسن ظن‘‘ نہ ہو تو پھر کس سے ہو گا؟
دراصل گناہوں پر توبہ،استغفار نہ کرنے کی وجہ سے دل سخت ہو
جاتا ہے…انسان ایک خاص گھٹن اور مایوسی کے پنجرے میں بند ہو جاتا ہے … اور شیطان
اس پر مکمل قبضہ جما لیتا ہے…لیکن اگر بندہ ہمت کرے…اور اللہ تعالیٰ سے بار بار
معافی مانگے…بار بار استغفار کرے اور اللہ تعالیٰ سے ’’حسنِ ظن‘‘ رکھے کہ وہ دعاء
سنتے ہیں…قبول فرماتے ہیں…توبہ اور استغفار سنتے ہیں… مغفرت اور معافی دیتے ہیں
…اُن کی رحمت میرے گناہوں سے بڑی ہے…وہ بار بار معاف فرمانے سے نہیں اُکتاتے…وہ
اپنا دروازہ اپنے بندوں کے لئے بند نہیں فرماتے…میں جتنا گندا ہوں پھر بھی اُنہی
کا بندہ ہوں اور ان کی رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے…تو ایسا بندہ شیطان کی قید سے
آزاد ہو کر…بندگی کی شاہراہ پر آ جاتا ہے … یاد رکھیں ! ’’حسنِ ظن‘‘ کا مطلب یہ
نہیں کہ انسان نہ فرائض ادا کرے…نہ حرام سے بچنے کی کوشش کرے…نہ وہ توبہ کرے اور
نہ استغفار…نہ اپنے گناہوں پر نادم ہو اور نہ اپنے گناہوں کو گناہ سمجھے…اور ساتھ
یہ کہتا پھر ے کہ…اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہیں…اور دین میں کوئی سختی اور پابندی
نہیں ہے…یہ ساری باتیں وہی لوگ کرتے ہیں …جو حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے کوئی
محبت…کوئی تعلق اور کوئی ’’حسنِ ظن‘‘ نہیں رکھتے…ان میں سے اکثر کو آخرت کا یقین
نہیں ہوتا …وہ کہتے ہیں کہ اگر کبھی آخرت برپا ہوئی اور حساب کتاب ہوا تو اللہ
تعالیٰ ہمیں نہیں پکڑے گا…کیونکہ ہم دنیا میںکامیاب ہیں…یہ ’’حسنِ ظن‘‘ نہیں،
دھوکا ہے… اور نفس کی شرارت ہے… ’’حسنِ ظن‘‘ تو اللہ تعالیٰ سے وفاداری اور محبت
کا نام ہے…اللہ تعالیٰ کی باتوں پر یقین اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر اطمینان …
وہ دیکھیں ! سیّدہ آسیہ رضی اللہ
عنہا … ان کے چاروں طرف کے مناظر اللہ تعالیٰ سے مایوسی کی دعوت دے رہے
ہیں…وقت کا سب سے بڑا ظالم اُن کی کھال اُدھیڑ رہا ہے…مگر وہ اللہ تعالیٰ پر یقین
میں مستحکم ہیں…ایسے دردناک حالات میں بھی انہیں اللہ تعالیٰ سے ’’حسنِ ظن‘‘ ہے
کہ…وہ میرے لئے جنت کا گھر اپنے پاس بنا دیں گے … یہ ہے یقین اور یہ ہے ’’حسنِ
ظن‘‘ … آج ہماری دو تین دعائیں قبول نہ ہوں تو فوراً اللہ تعالیٰ سے بدگمان ہو
جاتے ہیں…اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دائیں بائیں جھکنے لگتے ہیں…
یہ دیکھیں! یہ تین صحابہ کرام جو غزوہ تبوک سے رہ گئے
تھے…حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے قطع تعلق فرما
لیا کہ جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم نہ آئے…آپ تینوں باقی مسلمانوں سے الگ
رہیں…تینوں مدینہ منورہ میں اکیلے اور تنہا… غموں کے تھپیڑوں پر تھے…زمین اُن پر
تنگ… اور اُن کی جانیں ان پر تنگ… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کی ناراضگی سے بڑھ کر اور کیا غم اور صدمہ ہو سکتا تھا…مگر اس
حالت میں بھی وہ اللہ تعالیٰ سے جڑے رہے…اُسی کو مناتے رہے…اُسی سے اُمید باندھتے
رہے…ارشاد فرمایا:
﴿ وَظَنُّوْااَنْ لَّامَلْجَأَ مِنَ اللّٰہِ اِلَّا اِلَیْہِ
﴾
یعنی اُن کو یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ کے غضب سے صرف اللہ
تعالیٰ ہی کی پناہ بچا سکتی ہے…پس اسی اُمید نے کام بنا دیا اور ان کی توبہ ایسی
شان سے قبول ہوئی کہ…قرآن عظیم الشان کی آیت مبارکہ بن گئی…
آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کے
ساتھ ’’حسنِ ظن ‘‘ رکھنے کی دعوت دی جائے…انہیں توبہ اور استغفار کی طرف بلایا
جائے…مایوسی کے اندھیروں میں انہیں اُمید کا چراغ دکھایا جائے…حضرت حسن بصری رحمۃ
اللہ علیہ فرماتے ہیں …جو اللہ تعالیٰ سے ’’حسنِ ظن ‘‘ رکھتا ہے وہ
ہمیشہ اچھے اعمال کی طرف بڑھتا ہے… ماضی میں جھانکیں …توبہ،استغفار اور اُمید کی
روشنی نے چوروں، ڈاکوؤں اور بدکاروں کو…زمانے کا صف شکن مجاہد اور ولی بنا
دیا…مسلمانوں میں جب اللہ تعالیٰ سے اُمید پیدا ہو گی تو وہ مخلوق سے کٹ کر اللہ
تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں گے…اللہ تعالیٰ سے اُمید ہو گی تو جہاد کا کامیابی والا
راستہ سمجھ آئے گا … اور اللہ تعالیٰ کی نصرت پر یقین پیدا ہو گا…اللہ تعالیٰ سے
اُمید ہو گی تو مسلمان ہر معاملہ میں اللہ تعالیٰ کی مدد اپنے ساتھ لے سکیں
گے…اُمید کا یہ چراغ روشن ہو…اُس کے لئے ایک ادنیٰ سی کاوش’’ الیٰ مغفرۃ ‘‘ کی شکل
میں پیش کی گئی ہے …الحمد للہ یہ کتاب شائع ہو چکی ہے…اور اگلے آٹھ دن میں ملک کے
چار شہروں میں ان شاء اللہ اس کی رونمائی کے اجتماعات ہوں گے …یا اللہ! آسان
فرما…یا اللہ! قبول فرما …یا اللہ!
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے… ’’الیٰ مغفرۃ ‘‘ کتاب شائع ہوگئی اور
بہت سے مسلمانوں تک پہنچ گئی…
الحمد للہ، الحمد للہ…
اس کتاب میں مزید بھی بہت کچھ لکھنے کا ارادہ تھا…مگر کوتاہی
ہوئی اور وہ سب کچھ نہ لکھا جا سکا جس کا نقشہ دل و دماغ میں موجود تھا…اللہ
تعالیٰ معاف فرمائے…
استغفر اللہ، استغفر اللہ…
ایک دعاء اپنا لیں
گذشتہ کالم میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ’’حسنِ ظن‘‘ رکھنے کی
اہمیت کا بیان تھا…انسان جس نعمت کو پانا چاہے…اس کے لئے پہلا کام یہ کرے کہ اللہ
تعالیٰ سے اس نعمت کو مانگے…دعاء بہت بڑی چیز ہے…یہ اگر دل سے ہو تو بڑے بڑے
دروازے کھلوا دیتی تھی…مشہور تابعی حضرت سعید بن جبیر شہید رحمۃ اللہ
علیہ سے ایک دعاء منقول ہے…
اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ صِدْقَ التَّوَکُّلِ عَلَیْکَ
وَحُسْنَ الظَّنِّ بِکَ۔
’’یا اللہ! میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے آپ پر سچا توکل
اور آپ کے ساتھ ’’حسنِ ظن‘‘ نصیب ہو جائے‘‘…
بڑی اہم ،ضروری اور مؤثر دعا ہے…تجربہ میں آیا ہے کہ جب دل
پر غم، مایوسی اور بے بسی کے احساس کا حملہ ہو تو یہ دعا مانگی جائے…بہت فائدہ
ہوتا ہے…
حسن ظن کے مقامات
حضرت ابو العباس القرطبی رحمۃ اللہ
علیہ نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسنِ ظن کا مطلب اور اس کے مواقع کو ایک
جملے میں سمیٹنے کی کوشش فرمائی ہے…
اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ظن کا مطلب یہ ہے کہ…
* دعاء
کے وقت یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ دعاء سنتے ہیں اور قبول فرماتے ہیں…
* توبہ
کے وقت یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرماتے ہیں…
* استغفار
کے وقت یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ مغفرت عطا فرماتے ہیں…
* نیک
اعمال کو شریعت کے مطابق کرتے وقت یہ یقین ہو کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہو
رہے ہیں…
یہ سارے یقین اس وجہ سے ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے سچے ہیں
اور اس کا فضل بے شمار ہے… یعنی جب انہوں نے خود فرما دیا کہ ہم توبہ قبول فرماتے
ہیں…بلکہ چاہتے ہیں کہ تمہاری توبہ قبول فرمائیں…ہم استغفار کرنے والوں کو مغفرت
عطا فرماتے ہیں…ہم دعاء سنتے ہیں اور پوری فرماتے ہیں…ہم اپنے بندوں کے اعمال کی
قدر کرتے ہیں…اور ہمارا فضل بہت عظیم اور بہت بڑا ہے تو پھر بندے کو شک کرنے کی
کیا ضرورت ہے؟ جو شک کرے گا اپنا ہی نقصان کرے گا…فرما دیا کہ…ہمارا بندہ ہم سے جو
گمان رکھے گا، ہم اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ فرمائیں گے…
آئیے! پھر دعاء مانگ لیں:
اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ صِدْقَ التَّوَکُّلِ عَلَیْکَ
وَحُسْنَ الظَّنِّ بِکَ۔
’’الیٰ مغفرۃ‘‘
آج جس کتاب کی بات چل رہی ہے…اس کا نام ’’الیٰ مغفرۃ‘‘
ہے…سورۃ آل عمران میں فرمایا گیا:
﴿سَارِعُوا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّن رَّبِّکُمْ﴾
’’دوڑو اپنے رب کی مغفرت کی طرف۔‘‘
اور سورۃ الحدید میں فرمایا گیا:
﴿سَابِقُوا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّن رَّبِّکُمْ﴾
’’سبقت کرو اپنے رب کی مغفرت کی طرف‘‘…
اس میں چند باتیں سمجھنے کی ہیں…
پہلی بات تو یہ کہ ان آیات سے ثابت ہوا کہ…ہم آج کل جہاں
ہیں یہ ہماری جگہ نہیں…یہ ہمارے رہنے کا مقام نہیں…یہ ہماری کامیابی کا میدان
نہیں…ہمیں یہاں سے دوڑ کر کسی اور طرف جانا ہے…جہاں ہمارے لیے راحت ہے اور بڑی
کامیابی…
پس ثابت ہوا کہ …سب سے پہلے ہمیں اس دنیا میں رہنے، یہاں فٹ
اور سیٹ ہونے اور یہاں سب کچھ بنانے کا خیال اپنے دل سے نکالنا ہو گا… اپنے دل میں
جھانک کر دیکھیں کہ…اس میں یہاں رہنے اور بسنے کی فکر زیادہ ہے یا یہاں سے بھاگ کر
کامیابی والے گھر کو بسانے کی فکر زیادہ ہے؟…
دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ…انسان کو بہت جلدی جلدی اور بہت
تیز تیز وہ اعمال کرنے چاہئیں جن سے مغفرت اور جنت ملتی ہو…بالغ ہونے کے بعد سستی
عذاب ہے…وقت گزر رہا ہے… انسان کو چاہیے کہ آرام اور طعام میں زیادہ وقت برباد نہ
کرے… اپنے ذہن پر ایک طرح کی جلدی سوار کرےیہ جلدی نیک اعمال میں ہو کیونکہ ہمارے
رب نے حکم فرما دیا کہ… آہستہ نہیں… بلکہ ’’سَارِعُوا‘‘ بہت تیز دوڑو…’’سَابِقُوا
‘‘ سبقت کرو… جنہوںنے اس حکم کو مانا وہ تھوڑی سی عمر میں بڑے بڑے کام کر گئے …اور
جنہوں نے اس حکم کو نظر انداز کیا…وہ لمبی عمر پا کر بھی کچھ نہ کر سکے… حضرت
سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ نے جب بیت المقدس کو
آزاد کرانے کا عزم کیا تو… اپنے اوپر بہت سے جائز اور حلال کام بھی ممنوع کر
لئے…تاکہ مغفرت اور جنت والے کام میں تاخیر نہ ہو جائے…
تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ… دنیا مقابلے کی جگہ ہے…کھیلوں کے
مقابلے، شکل و صورت کے مقابلے…مال و دولت کے مقابلے… حسب و نسب کے مقابلے…دنیا کے
اکثر لوگ ان مقابلوں میں لگ کر برباد ہوتے ہیں…اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں
’’مقابلہ بازی‘‘ کا شوق رکھا ہے… تو ان آیات میں سمجھا دیا کہ مقابلہ ضرور
کرو…مگر کھیل کود اور مال و دولت میں نہیں…بلکہ مغفرت پانے میں…جنت پانے میں… دین
کے معاملے میں ہمیشہ اپنے سے اوپر والوں کو دیکھو…اور مقابلہ کر کے ،دوڑ لگا کر ان
سے آگے بڑھنے کی فکر کرو…اور دنیا کے معاملہ میں ہمیشہ اپنے سے کمزور افراد کو
دیکھو… اور جو کچھ تمہارے پاس ہے اسی کو کافی سمجھو…
حضرات مفسرین رحمہم اللہ نے …ان دونوں
آیات کی تفسیر میں لکھا ہے کہ…مغفرت کی طرف دوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ …اُن اسباب کی
طرف دوڑو جن سے مغفرت ملتی ہے… ایمان، اخلاص،جہاد میں ثابت قدمی،سود سے توبہ
کرنا…کثرت سے استغفار کرنا …وغیرہ… مغفرت کے اسباب کون کون سے ہیں؟ آپ جب ’’ الیٰ
مغفرۃ ‘‘ کتاب کا مطالعہ کریں گے تو آپ کے سامنے ’’ اسبابِ مغفرت‘‘ کی پوری فہرست
آ جائے گی…اور وہ کون سے اسباب ہیں جن کی نحوست سے انسان مغفرت سے محروم ہو جاتا
ہے… ان کی تفصیل بھی اس کتاب میں موجود ہے…اس کتاب کا ایک بڑا مقصد یہی ہے
کہ…مسلمانوں کو ’’مغفرت‘‘ کا مقام اور اس کی ضرورت معلوم ہو…اُن میں مغفرت پانے کا
جنون پیدا ہو…ان کو مغفرت مانگنے کی عادت نصیب ہو… اور وہ مغفرت کی طرف بھاگ بھاگ
کر لپکنے والے بن جائیں…یاد رکھیں! …ایک مسلمان کو ’’مغفرت‘‘ مل جائے تو اسے سب
کچھ مل گیا… اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کامیاب ہو گیا…
استغفر اللہ،استغفر اللہ،استغفر اللہ
یا اللہ! آپ سے مغفرت کا سوال ہے… مغفرت کا سوال ہے…مغفرت کا
سوال ہے…
رکاوٹوں بھرا سفر
’’الیٰ مغفرۃ ‘‘ کتاب لکھتے وقت خود اپنی ذات کو بڑا فائدہ
ہوا…
الحمد للہ، الحمد للہ…
پھر جن ساتھیوںنے اس کتاب میں معاونت کی… انہوں نے بتایا کہ
کتاب کی تصحیح اور ترتیب کے دوران ان اوراق کو پڑھنے سے بہت فائدہ ہوا…یہ بات کئی
افراد نے بتائی…
الحمد للہ، الحمد للہ…
مگر اس کے باوجود کتاب میں تاخیر ہوتی چلی گئی…یقیناً یہ میری
سستی اور کم ہمتی تھی …
استغفر اللہ، استغفر اللہ…
دراصل کتاب شروع کرنے کے بعد سے لے کر…اس کی اشاعت تک بہت
حوصلہ شکن رکاوٹیں آتی چلی گئیں…دل بے چین تھا کہ یہ کتاب جلدی آ جائے مگر ہر
قدم پر کوئی رکاوٹ سامنے آ جاتی… اسی میں کئی سال بیت گئے…اسی دوران کئی افراد نے
کتاب کا مسودہ پڑھ لیا اور کتاب جلد تیار کرنے کی فرمائش کی…اللہ تعالیٰ ان تمام
افراد کو اپنی مغفرت اور جزائے خیر عطا فرمائے…جنہوں نے مختلف طریقوں سے اس کتاب
کی تیاری اور اشاعت میں معاونت کی…بندہ ان سب کا دل سے شکر گزار ہے… مگر آخری
سیڑھی بہت اہم ہوتی ہے… یہ سیڑھی انسان عبور کر لے تو پچھلا سارا سفر کامیاب ہو
جاتا ہے… لیکن اگر اسی سیڑھی پر اٹک جائے تو پچھلا سفر بھی ندامت اور حسرت بن جاتا
ہے… اس لئے آخری سیڑھی پر سہارا بننے والے کے لئے دل سے دعاء نکلتی ہے…برادر عزیز
مولانا طلحہ السیف کی قسمت میں یہ نیکی آئی اور انہوں نے آخری سیڑھی کے مرحلے پر
…اللہ تعالیٰ کی توفیق سے محنت،جانفشانی اور معاونت کا حق ادا کیا…کتاب کے بکھرے
مواد کو مرتب کیا، بار بار پڑھ کر تصحیح اور کتابت کے مراحل سے گذارا…اور ان کی اس
محنت کو دیکھ کر مجھے ہمت ملی کہ کتاب کے حصہ اوّل کو لکھنے بیٹھ گیا…اللہ تعالیٰ
ان کو اپنی مغفرت اور بہترین بدلہ عطا فرمائیں…بندہ کے مکتب اور معاون نے بھی بہت
محنت کی…اور آخر میں شعبہ نشریات کے ذمہ داروں نے دل وجان لگا کر…کتاب کو تیار
کیا…بندہ ان سب کے لئے …اور وہ معاونین جن کا تذکرہ نہیں آ سکا…سب کے لئے دل کی
گہرائی سے دعاء گو اور شکر گزار ہے…
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِی وَلَھُمْ،اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِی
وَلَھُم،اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِی وَلَھُم
وہ جو رہ گیا
ارادہ تھا کہ کتاب میں یہ چند چیزیں بھی شامل کی جائیں…
١ قرآن
مجید میں آنے والے وہ اسماء الحسنی جن کا تعلق ،مغفرت،توبہ اور معافی سے ہے… ان
اسماء الحسنی کے تفصیلی معانی اور معارف لکھنے کا ارادہ تھا مثلاً …
اَلْغَفُوْرُ، اَلْغَفَّارُ، اَلتَّوابُ، اَلْعَفُوُّ،
وَاسِعُ الْمَغْفِرَۃِ ،اَہْلُ الْمَغْفِرَۃِ، خَیْرُ الْغَافِرِیْنَ۔
٢ حضرات
انبیاء علیہم السلام کے استغفار کو قرآن مجید نے بہت
اہتمام سے بیان فرمایا ہے…ان کی الگ فہرستیں بنا کر…ان کے معارف لکھنے کا ارادہ
تھا… مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد کے لئے
بار بار استغفار فرمایا…پھر اللہ تعالیٰ نے منع فرما دیا تو اس سے رک گئے…مگر اس
کے باوجود قرآن مجید بار بار ان کے اس استغفار کو بیان فرماتا ہے… اس میں بڑے اہم
نکتے ہیں… اگر ہر مسلمان بیٹا اپنے والد کا ایسا خیر خواہ بن جائے تو وہ کتنے
اونچے مقامات پا سکتا ہے… کاش! مسلمان بیٹے اور بیٹیاں اپنے مسلمان والدین کے لئے
اسی اہتمام سے استغفار کرنے والے بن جائیں…
٣ توبہ
اور استغفار کے بارے میں آیات تو بہت ہیں…آپ ’’الیٰ مغفرۃ ‘‘ کا مطالعہ کریں گے
تو تقریباً سب آیات سامنے آ جائیں گی… مگر ان میں سے بعض آیات …توبہ اور
استغفار پر بہت سے الٰہی قوانین اور نکات پر مشتمل ہیں…ارادہ تھا کہ ایسی دس آیات
کی تفسیر مفصل لکھ دی جائے۔
٤ توبہ
اور استغفار دونوں کا معنٰی ایک ہے…یا دونوں میں فرق ہے؟ یہ بات ’’الیٰ مغفرۃ‘‘
میں واضح کر دی گئی ہے… مگر اس میں اور بہت سی تفاصیل تھیں جو تیاری کے باوجود نہ
آ سکیں… دراصل رکاوٹیں زیادہ تھیں…اور کتاب میں مسلسل تاخیر ہو رہی تھی…اس لئے جو
کچھ تیار تھا اسی کو پیش کر دیا گیا…
اَلْحَمْدُ لِلہِ، اَسْتَغْفِرُ اللہَ، اَلْحَمْدُ لِلہِ،
اَسْتَغْفِرُ اللہَ
اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ…اس کتاب سے مجاہدین کو جہاد میں
ترقی اور استقامت کا راستہ ملے گا… سلوک و احسان کا ذوق رکھنے والوں کو معرفت کا
آئینہ نصیب ہو گا…مایوسی کے گڑھوں میں سسکنے والوں کو اُمید کی سیڑھی ہاتھ آئے
گی… گناہوں میں پھنسے اور الجھے ہوئے مسلمانوں کو دلدل سے باہر نکلنے کی راہ نظر
آئے گی… مصائب اور پریشانیوں میں مبتلا مسلمانوں کو… روشنی اور راحت کا جزیرہ
دکھائی دے گا… ان شاء اللہ… اور اہل دل کو دل کی غذا ملے گی… کیونکہ یہ
قرآن مجید کی دعوت ہے…یہ احادیثِ مبارکہ کی روشنی ہے… اور یہ مسلمانوں کی ایک اہم
ترین ضرورت ہے…یا اللہ! قبول فرما…یا اللہ! مغفرت نصیب فرما…آمِیْن یَا خَیْرَ
الْغَافِرِیْنَ۔
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کو سمجھنے ، پانے،منانے…اور
کمانے کی توفیق عطاء فرمائے…
جھوٹ کے سمندر
ہم آج کل جس ماحول میں ہیں…وہ گویا کہ جھوٹ کا ایک ناپاک
سمندر ہے… سیاست جھوٹ، تجارت جھوٹ، تفریح جھوٹ… بس ہر طرف جھوٹ ہی جھوٹ…
جھوٹ کوئی چھوٹا گناہ تو ہے نہیں…یہ تو لعنت ہے لعنت… محرومی
ہے محرومی اور اندھیرا ہے اندھیرا…فرمایا: مومن سے ہر گناہ ہو سکتا ہے مگر مومن
جھوٹا نہیں ہو سکتا… مگر اب تو ہر ہاتھ میں کئی کئی موبائل اور ہر موبائل جھوٹ کا
پہاڑ …ابھی چند دن پہلے عراق کے ایک شہری نےجو برطانیہ میں مقیم ہے…فیس بک پر ایک
جھوٹ چھوڑ دیا…’’شجوہ‘‘ نامی قصبے سے دولتِ اسلامیہ پسپا… قصبے پر عراقی حکومت کا
قبضہ مستحکم… علاقہ چھوڑ کر جانے والے افراد واپس شجوہ کی طرف رواں دواں… دولتِ
اسلامیہ کو ذلت آمیز شکست… اس نے اس جھوٹی خبر کے ساتھ چند نقشے اور تصویریں بھی
لگا دیں… بس پھر کیا تھا…لاکھوں افراد اس خبر کو نشر کرنے لگے…کئی افراد نے تو اس
جھوٹی دیگ میں مزید چاول بھی ڈال دئیے کہ… شجوہ کی لڑائی میں اتنے مجاہدین مارے
گئے…عراقی اور ایرانی شیعوں کی ویب سائٹوں پر فوراً…فتح مبارک کے ہیش ٹیگ لگ گئے…
کئی افراد نے اس جنگ میں شرکت کرنے اور بہادری دکھانے کے دعوے بھی نشر کر دئیے…
تین چار دن یہ طوفان برپا رہا… تب اس عراقی شہری نے لکھا کہ میں آپ سب سے معذرت
چاہتا ہوں… عراق میں شجوہ نام کا کوئی شہر،قصبہ یا علاقہ ہے ہی نہیں… عراقی زبان
میں شجوہ ’’پنیر‘‘ کو کہتے ہیں جو بہت شوق سے کھایا جاتا ہے… میں نے مذاق میں یہ
خبر گھڑی تھی… اب میں شرمندہ ہوں…ازراہ کرام! یہ سلسلہ بند کیا جائے…
انداہ لگائیں کہ …جھوٹ کہاں تک ترقی کر گیا… ابھی ایک کمپنی
پکڑی گئی ہے…جو بڑی بڑی تعلیمی سندیں اور ڈگریاں جاری کرتی تھی…معلوم ہوا کہ اس نے
جو یونیورسٹیاں بنا رکھی تھیں… ان کا روئے زمین پر وجود ہی نہیں ہے…وہ سب کمپیوٹر
اور انٹرنیٹ پر قائم تھیں…اور سالہا سال سے تعلیمی اسناد جاری کر رہی تھیں… جی
ہاں! وہی ڈگریاں جن کے فخر میں قرآن و سنت کی تعلیم کا (نعوذباللہ) مذاق اڑایا
جاتا ہے…
آج کل کئی دن سے بی بی سی پر ایک خبر لگی ہوئی ہے…اور ایسی
مضبوط لگی ہے کہ ہٹنے کا نام ہی نہیں لیتی… حالانکہ جب کابل کے گیسٹ ہاؤس کو
مجاہدین نے نشانہ بنایا تو وہ خبر صرف چند گھنٹے رہی… پھر اڑا دی گئی… اسی طرح
مجاہدین کی دیگر کارروائیوں والی خبریں…یا تو لگتی ہی نہیں…اور اگر کسی مجبوری سے
لگانی پڑیں تو…دو چار گھنٹوں میں انہیں ہٹا دیا جاتا ہے…مگر یہ خبر کئی دن سے لگی
ہوئی ہے کہ…ایران،طالبان کی مدد کر رہا ہے…یہ خبر یہودی اخبار ’’وال سٹریٹ جنرل‘‘
نے گھڑی ہے… ایران، افغانستان کے طالبان کو اسلحہ بھی دے رہا ہے اور پیسے بھی…
اندازہ لگائیں…کیسی جھوٹی اور فتنہ انگیز خبر ہے… ایران امارت اسلامی افغانستان کا
ہمیشہ سے عملی دشمن رہا ہے…اور اب بھی اس کی یہ دشمنی ٹھنڈی نہیں پڑی… مگر امارت
اسلامیہ افغانستان کو بدنام کرنے…اور افغانستان میں ’’دولت اسلامیہ‘‘ کے جنگجو
کھڑے کرنے کے لئے …یہ خبر بنائی گئی ہے…تاکہ مجاہدین کو آپس میں لڑایا جا سکے…
اور لوگوں میں یہ بات عام ہو کہ امارت اسلامی افغانستان… ایران کی حامی ہے اس لئے
اس کے خلاف بھی (نعوذباللہ) جہاد کیا جائے…
الغرض …ہر طرف جھوٹ ہی جھوٹ ہے… ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ
کا شکر ہے کہ… سچائیوں ،رحمتوں اور مغفرتوں سے بھرپور مہینہ رمضان المبارک تشریف
لا رہا ہے…تاکہ ہم جھوٹ کے سمندر سے بچ کر… سچ اور رحمت کے جزیرے پر آئیں…اور
اپنے محبوب رب سے ’’مغفرت‘‘ کا انعام پائیں… اس لئے جھوٹ کے تمام آلات بند کر
دیں…جھوٹ پڑھنا، جھوٹ دیکھنا، جھوٹ سننا اور جھوٹ بولنا سب کچھ بند کر دیں… اپنے
ٹچ موبائل بند کر کے تالوں میں ڈال دیں… اخباروں،کالموں،ڈراموں اور ویڈیو… سب سے
تعلق توڑ لیں… اور مغفرت کے موسم سے… خوب خوب فیض یاب ہوں… کیا معلوم اگلا رمضان
ملے گا یا نہیں…
رمضان اور جہاد فی سبیل اللہ
رمضان المبارک اور جہاد فی سبیل اللہ کا تعلق اور رشتہ بہت
گہرا ہے… غزوۂ بدر جیسا عظیم معرکہ جو قرآن پاک کا خاص موضوع ہے… رمضان المبارک
میں برپا ہوا… حج عمرے کی سعادتیں ساری اُمت کو’’فتح مکہ‘‘ کی برکت سے ملیں… اور
فتح مکہ کا غزوہ رمضان المبارک میں ہوا… وہ بڑے بڑے بت جن سے …ایک دنیا گمراہ
تھی…رمضان المبارک میں گرائے گئے… اکثر مؤرخین کے نزدیک جہاد کا مبارک آغاز بھی
رمضان المبارک میں ہوا… جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے …اپنے
چچا جان محترم حضرت سیّدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی کمان میں
…اسلام کا پہلا سریہ روانہ فرمایا… عصماء یہودیہ کے قتل کا واقعہ بھی… رمضان
المبارک کا مبارک کارنامہ ہے…یہ دشمن دین خاکہ پرست گمراہ عورت تھی… اسلامی غیرت
کا شاہکار سریہ…’’ام قرفہ‘‘ بھی رمضان المبارک میں پیش آیا اور سریہ سیدنا علی
المرتضی رضی اللہ عنہ … جویمن کی طرف بھیجا گیا تھا…وہ بھی رمضان
المبارک میں لڑا گیا… اس سریہ کی خاص بات یہ ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ
علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کو
’’امیر لشکر‘‘ مقرر فرمایا اور پھر اپنے دست مبارک سے ان کے سر پر عمامہ باندھا…
رمضان اور جہاد کی ایک اور بڑی مناسبت…جو قرآن مجید کے الفاظ
سے سمجھ آتی ہے…وہ یہ کہ… دونوں کی فرضیت کے لئے ایک جیسے الفاظ استعمال فرمائے
گئے …فرمایا:
﴿کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ﴾
’’تم پر روزہ فرض کر دیا گیا‘‘…
بالکل اسی طرح فرمایا …
﴿کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ﴾
’’کہ تم پر جہاد فرض کر دیا گیا‘‘…
اہل تفسیر نے اس میں بہت عجیب نکتے لکھے ہیں… اگر ہم وہ
لکھنے میں مشغول ہوئے تو آج کا اصل موضوع رہ جائے گا… بس اتنا یاد رکھیں کہ…
قرآن مجید کی ایک ہی سورۃ…یعنی سورۃ بقرہ میں جہاد کی فرضیت بھی موجود ہے… اور
رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت بھی… پس دونوں اسلام کے قطعی فریضے ہیں…اور
کُتِبَ عَلَیْکُمْ کے لفظ سے بہت تاکیدی فرضیت معلوم ہوتی ہے… ﴿کُتِبَ عَلَیْکُمُ
الصِّیَامُ﴾کہ تم پر روزہ پورا کا پورا ڈال دیا گیا ہے کہ…یہ روزہ دل سے بھی رکھو،
زبان سے بھی…کانوں سے بھی…آنکھوں سے بھی…جسم سے بھی اور روح سے بھی…
بہت آسان نصاب
ہم رمضان المبارک کو کیسے پا سکتے ہیں؟… بڑے لوگوں نے تو بہت
محنتیں فرمائیں… ہم اپنے اسلاف اور بزرگوں کے رمضان کا حال پڑھتے ہیں تو شرم اور
ندامت سے پانی پانی ہو جاتے ہیں… اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے تو اپنے نفس کو
فائدہ پہنچائیں اور حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب رحمۃ اللہ
علیہ کا رسالہ… فضائل رمضان کا ایک بار ضرور مطالعہ کر لیں… اور کچھ نہیں تو کم از
کم رمضان المبارک کا احساس اور شعور ضرور پیدا ہو جائے گا… اللہ تعالیٰ
مجھے اور آپ سب کو موبائل اورنیٹ کی لعنت سے بچائے…اور صرف اس کے ضروری اور مفید
استعمال کی توفیق عطاء فرمائے… اس ظالم نے علم اور مطالعہ کے اوقات کو برباد کر
دیا ہے… رمضان المبارک کے بارے میں قرآنی آیات …اور احادیثِ مبارکہ پڑھ کر بندہ
نے ایک مختصر دس نکاتی نصاب نکالاہے… آپ ایک کاغذ پر یہ نصاب لکھ لیں…اور روزانہ
رات کو اپنا محاسبہ کریں کہ…ہم نے اس پر کتنا عمل کیا…بے حد آسان اور ممکن نصاب
ہے… پھر اللہ تعالیٰ جس کو توفیق عطا فرمائے وہ مزید جو کچھ کر سکتا ہو…کرتا چلا
جائے…
ہم نے رمضان المبارک میں ان شاء اللہ یہ دس کام روزانہ کرنے
ہیں…
١ روزہ…
یہ فرض ہے اور یہی رمضان المبارک کی اصل عبادت ہے…ساری زندگی کے نفل روزے رمضان
المبارک کے ایک فرض روزے کے برابر نہیں ہو سکتے…
٢ پانچ
نمازوں کا باجماعت تکبیر اولیٰ سے اہتمام… ویسے تو یہ ہمیشہ کرنا چاہیے مگر رمضان
المبارک میں اسے ایک لازمی سعادت کے طور پر دیکھا جائے کہ… جو ہر حال میں حاصل
کرنی ہے ان شاء اللہ… یہ عمل ہمارے لئے پورے رمضان کو پانے اور کمانے کا ذریعہ بن
جائے گا…
٣ تراویح…
عشاء کی نماز کے بعد باجماعت بیس رکعات… یہ رمضان المبارک کا خاص تحفہ اور انعام
ہے… اور اس میں ایک قرآن پاک پڑھنا یا سننا ایک مستقل سنت ہے…
٤ قرآن
پاک کی تلاوت اور قرآن پاک سے خاص تعلق …یہ بڑا مبارک عمل ہے…آگے چل کر ہم اسے
کچھ تفصیل سے عرض کریں گے… اگر ہم اپنے ساتھ قبر اور آخرت میں پورا قرآن یا کچھ
قرآن لے جانا چاہتے ہیں تو رمضان المبارک میں یہ نعمت پانا آسان ہے…
٥ سحری
کھانے کا اہتمام… سحری کے بہت فضائل اور برکات ہیں یہ ہرگز نہیں چھوڑنی چاہیےمگر
سحری رات کے آخری حصے میں کریں اور زیادہ دبا کر نہ کھائیں کہ سارا دن ڈکار بجاتے
رہیں…
٦ افطار
کرانے کا اہتمام… یہ رمضان المبارک میں مغفرت کا خاص تحفہ ہے کہ آپ کسی مسلمان کو
افطار کرائیں …خواتین کے تو مزے ہیں ان کو اپنے گھر والوں اور بچوں کو افطار کرانے
کا اجر ملتا ہے… کیونکہ وہ اس قدر محنت سے افطار تیار کرتی ہیں…کسی روزے دار کو
افطار کرانے کی فضیلت بہت زیادہ ہے… جب دل میں یہ فضیلت حاصل کرنے کا جذبہ ہو…اور
یہ شعور ہو کہ اس عمل کی برکت سے مجھے مغفرت مل سکتی ہے تو… انسان خود ہی اپنی
استطاعت کے مطابق بہت سے طریقے نکال سکتا ہے… بعض لوگوں کو دیکھا کہ عین افطار کے
وقت کسی ویران جگہ جا کر کھڑے ہو جاتے ہیں …چند کھجوریں،ٹھنڈا پانی یا شربت لے
کر…اور پھر اس وقت جو وہاں سے گزرتا ہے اسے افطار کراتے ہیں… آپ افطار کے موقع پر
…بعض لوگوں کی جو پُر تکلف دعوتیں کرتے ہیں… اگر اسی رقم سے عمومی افطاری تیار
کریں تو… درجنوں افراد کو افطار کرا سکتے ہیں… کئی لوگوں کو دیکھا کہ اس حرص میں
بھاگ دوڑ کرتے ہیں کہ… اللہ تعالیٰ کے پیارے مجاہدین کو محاذ اور تربیت گاہوں تک
افطار پہنچائیں …ہمارے کچھ دوست…جامع مسجد عثمان و علی رضی اللہ
عنہما کے معتکفین کے افطار اور سحر کا انتظام کرتے ہیں تو سچی بات ہے
ان پر رشک آتا ہے…
بہرحال یہ ایک ایسا عمل ہے کہ… جو صرف رمضان المبارک میں ہی
حاصل کیا جا سکتا ہے… عام دنوں میں آپ کھانے کا پورا ٹرک تقسیم کر دیں تو رمضان
المبارک میں کسی روزہ دار کو کھلائی گئی ایک روٹی کے برابر نہیں ہو سکتا…عام دنوں
میں بھی روزہ رکھنے والوں کو…اگر آپ افطار کرائیں تو وہ بھی اجر کا کام ہے… مگر
رمضان المبارک کی افطاری… بہت بڑی چیز ہے… بہت مبارک،بہت خاص… یا اللہ! وسعت اور
توفیق عطاء فرما…
٧ چار
چیزوں کی کثرت پہلی چیز …لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کا ورد… دوسری چیزاستغفار… تیسری
چیز اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال… چوتھی چیز جہنم سے پناہ مانگنا…
٨ جہاد
میں وقت لگانا…یہ اوپر رمضان المبارک اور جہاد کے تعلق میں اِشارۃً آ چکا ہے…
جہادی محنت میں وقت لگانا… جہاد میں مال لگانا… صدقہ خیرات اور مسلمانوں کے ساتھ
غمخواری کرنا، ان کی حتی الوسع مدد کرنا…
٩ اپنے
ملازموں ،ماتحتوں ،گھر والوں پر کام کے معاملے میں نرمی، آسانی اور تخفیف
کرنا…کسی مسلمان پر بوجھ زیادہ ہو تو اس کا بوجھ ہلکا کرنے میں مدد کرنا…
١٠ شراب
خوری، والدین کی نافرمانی،رشتہ داروں سے قطع رحمی…مسلمانوں سے بغض رکھنا…جھوٹ
بولنا اور غیبت کرنا…ان چھ گناہوں سے خاص طور پر بچنا چاہیے کیونکہ یہ رمضان المبارک
میں روزہ کی خرابی اور مغفرت سے محرومی کا ذریعہ بن جاتے ہیں…
یہ ہے وہ بہت آسان سا نصاب جو ہر مسلمان مرد اور عورت کے لئے
ممکن ہے…خواتین نمازوں کو اہتمام سے اول وقت ادا کریں تو ان کا اجر باجماعت ادا
کرنے والے مردوں کی طرح ہے…باقی جو اہل ہمت ہیں…ان کے لئے رمضان المبارک کمانے کا
سیزن ہے…اعتکاف،قیام اللیل، نوافل،صدقات ،مجاہدے،ریاضتیں اور بہت کچھ…
تین اوقات باندھ لیں
زندگی کے لمحات چونکہ گنے چنے ہیں…اس لئے ان کو ضائع نہیں
کرنا چاہیے…بلکہ ترتیب سے گزارنا چاہیے…اس رمضان المبارک میں تین اوقات باندھ
لیں…یعنی اپنے پر یہ عہد لازم کر لیں کہ فلاں تین اوقات میں بس یہ تین کام کرنے
ہیں…ان شاء اللہ
١ تلاوت
کا وقت… اس میں قرآن مجید دیکھ کر پڑھیں…جن کی تجوید کمزور اور غلط ہو وہ زیادہ
تلاوت کی جگہ اس سال اپنا تلفظ درست کریں…اور اسی وقت میں قرآن مجید کا کچھ حصہ
یاد بھی کر لیں…یہ وقت ایک گھنٹہ ہو یا کم ،زیادہ…
٢ قرآن
سمجھنے کا وقت…اس میں قرآن مجید کا ترجمہ اور تفسیر پڑھیں…اچھا ہے کہ کسی عالم
سے…اگر اس کی ترتیب نہ بنے تو کسی مستند اردو تفسیر سے…اس عمل کی برکت سے آپ اللہ
تعالیٰ کے کلام کو اپنے دل پر آتا محسوس کریں گے…
٣ چار
کاموں کی کثرت کا وقت… اس میں کلمہ طیبہ ،استغفار،جنت کی دعاء اور جہنم سے پناہ…
یہ چاروں کام کم از کم تین سو بار سے تین ہزار بار تک…
اس رمضان المبارک میں…بندہ فقیر و محتاج کو بھی اپنی دعاء میں
کبھی کبھار یاد کر لیا کریں…آپ کا احسان ہو گا…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندوں کو جو بہت قیمتی نعمتیں عطاء
فرمائی ہیں…ان میں سے ایک انمول نعمت ’’گرمی کے روزے‘‘ ہیں…
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ
الْعَظِیْمِ
اللہ تعالیٰ کے ہاں جن عبادات کی قدر اور قیمت بہت زیادہ
ہے…ان عبادات میں گرمی کے روزے بھی شامل ہیں…
سخت گرمی کے روزے
موت کی سکرات کو ٹھنڈا کرتے ہیں … موت کے وقت کی گرمی سے اللہ
تعالیٰ بچائے وہ دل اور جسم کو پگھلا دیتی ہے…
سخت گرمی کے روزے!
قیامت کے دن کی شدید پیاس اور شدید گرمی کے وقت کا ٹھنڈا شربت
ہیں…اُس دن سورج سر پر ہو گا… بالکل قریب، نہ کوئی پردہ… نہ کوئی چھت، لوگ اپنے
پسینے میں ڈوبتے ہوں گے… کھولتا ہوا گرم پسینہ…تب ان لوگوں کو ٹھنڈے جام پلائے
جائیں گے…جو گرمیوں کے سخت روزے خوشی خوشی برداشت کرتے تھے…
سخت گرمی کے روزے!
ایمان کی خصلت اور علامت ہیں…یہ ایمان کی چوٹی تک پہنچانے کا
ذریعہ ہیں…یہ ایمان کی حقیقت کا حصہ ہیں…یعنی جو سچا مومن ہے وہ گرمی کے روزوں سے
پیار رکھتا ہے…وہ گرم ترین دن ڈھونڈتا ہے تاکہ اس میں روزہ رکھے … وہ گرمی کے دن
روزہ رکھ کر دوپہر کا انتظار کرتا ہے تا کہ… گرمی بڑھے تو پیاس زیادہ ہو…اور پھر
وہ اس پیاس میں اپنے رب کے پیار کو تلاش کرتا ہے…
سخت گرمی کے روزے!
مومن کو اس مقام پر لے جاتے ہیں … جہاں اللہ تعالیٰ اس پر فخر
فرماتے ہیں اور فرشتوں سے کہتے ہیں کہ… میرے بندے کو دیکھو! …اور اسی دن اللہ
تعالیٰ جنت کی حور سے اس مومن کا نکاح کرا دیتے ہیں…
سخت گرمی کے روزے!
ان نعمتوں میں سے ہیں کہ… جن کی خاطر اللہ تعالیٰ کے خاص بندے
دنیا میں زندہ رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ…اگر یہ نعمتیں نہ ہوں تو ہم ایک منٹ زندہ
رہنا گوارہ نہ کریں… جہاد میں لڑنا… رات کو تہجد ادا کرنا…نماز کے لئے چل کر مسجد
جانا… اور سخت گرم دن کا روزہ رکھنا…
سخت گرمی کے روزے!
ایک مومن کو ’’صبر‘‘ کا اونچا مقام دلاتے ہیں…اس کے عزم اور
ہمت کو مضبوط کرتے ہیں اور اسے ایک کارآمد انسان بناتے ہیں…
اللہ کرے! ہمیں بھی گرمی کے روزوں سے عشق نصیب ہو جائے…تاکہ
ہم موت اور آخرت کی گرمی سے بچنے کا انتظام کر سکیں…آئیے! چند روایات اور چند
حکایات پڑھتے ہیں…کیا عجب! ہم بھی اہل محبت کی یہ نشانی پا لیں…
سچے مومن کی چھ صفات
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے
مرفوعاً روایت ہے… ( یعنی حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کا فرمان ہے)
چھ صفات جس شخص میں ہوں وہ حقیقی مومن ہے:
١
وضو پورا کرنا
٢
بادلوں والے دن نماز میں جلدی کرنا
٣
سخت گرمی میں زیادہ روزے رکھنا
٤
دشمنوں کو تلوار سے قتل کرنا
٥
مصیبت پر صبر کرنا
٦
بحث نہ کرنا اگرچہ تو حق پر ہو
( الدیلمی فی الفردوس)
دوسری روایت میں آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کا فرمان ہے:
چھ خصلتیں خیر والی ہیں:
١ اللہ
تعالیٰ کے دشمنوں سے تلوار کے ساتھ جہاد کرنا…
٢ گرم
دن کا روزہ رکھنا…
٣ مصیبت
کے وقت اچھا صبر کرنا…
٤ بحث
نہ کرنا اگرچہ تم حق پر ہو…
٥ بادلوں
والے دن نماز میں جلدی کرنا …
٦ سردی
کے دن اچھا ( یعنی پورا) وضو کرنا… ( البیہقی)
ایک اور روایت میں ان صفات کو ایمان کی حقیقت قرار دیا گیا ہے
کہ جس شخص کو یہ چھ صفات نصیب ہو جائیں تو وہ ایمان کی حقیقت تک پہنچ جاتا ہے۔ (
رواہ المروزی)
ایک عجیب قصہ
یہ واقعہ حدیث شریف کی کئی کتابوں میں کچھ فرق کے ساتھ مذکور
ہے… خلاصہ اس کا یہ ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو… سمندری جہاد کے سفر
پر بھیجا، آپ اپنے رفقاء کے ساتھ کشتی پر جا رہے تھے کہ …سمندر سے ایک غیبی آواز
آئی… کیا میں تمہیں وہ فیصلہ نہ سناؤں جو اللہ تعالیٰ نے اوپر فرمایا ہے؟ …حضرت
ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا…ضرور سناؤ…آواز دینے والے نے کہا…اللہ
تعالیٰ نے اپنے اوپر یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ جو شخص خود کو کسی گرم دن…اللہ تعالیٰ
کے لئے پیاسا رکھے گا ( یعنی روزہ رکھے گا) تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر لازم
فرمایا ہے کہ …اس کو قیامت کے دن ضرور سیراب فرمائیں گے… حضرت ابو موسیٰ
اشعری رضی اللہ عنہ اس واقعہ کے بعد گرم دنوں کی تلاش میں
رہتے تھے…ایسے گرم دن کہ جن میں لوگ مرنے کے قریب ہوں… آپ ایسے دنوں میں روزہ
رکھتے تھے… ( رواہ ابن المبارک وابن ابی شیبہ وعبد الرزاق وفی سندہ کلام)
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا
عمل
بخاری اور مسلم کی ایک روایت کا خلاصہ ہے کہ:
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ایک گرم
دن میں سفر پر تشریف لے گئے ( رمضان المبارک کا مہینہ اور جہاد کا سفر تھا) گرمی
اتنی شدید تھی کہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنے ہاتھ
اپنے سروں پر رکھتے تھے…مگر اس حالت میں بھی حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ
عنہ روزہ کی حالت میں تھے … اور بھی کئی روایات میں سخت گرمی کے سفر کے
دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا روزہ رکھنا ثابت ہے…اتنی
گرمی کہ بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر
پانی بھی ڈالا…تاکہ گرمی کی شدت کچھ کم ہو…
حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کا عمل
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا تو
مستقل یہ معمول تھا کہ:
’’گرمی کے موسم میں روزے رکھتے تھے اور سردیوں میں افطار
فرماتےتھے۔‘‘
یعنی نفل روزوں کے لئے گرمی کے موسم کو منتخب فرما رکھا
تھا…حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بھی سخت
گرمیوں میں روزے رکھنے کا معمول تھا…حتیٰ کہ سفر میں جب گرم لو کے تھپیڑے آپ کو
ایذاء پہنچا رہے ہوتے تھے تو آپ روزہ کی حالت میں ہوتی تھیں…
جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی
شہادت کے قریب اپنے بیٹے ’’عبد اللہ‘‘ کو وصیت فرمائی کہ اے پیارے بیٹے… ایمان
والی صفات کو لازم پکڑنا…انہوں نے عرض کیا…اے پیارے ابا جی! وہ کونسی صفات
ہیں…ارشاد فرمایا:
١ سخت
گرمی میں روزہ رکھنا…
٢ دشمنوں
کو تلوار سے قتل کرنا ( یعنی اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو)…
٣ مصیبت
پر صبر کرنا…
٤ سرد
دنوں میں پورا وضو کرنا…
٥ بادلوں
والے دن نماز میں جلدی کرنا…
٦ شراب
نہ پینا … ( ابن سعد فی الطبقات)
مجھے گرمی لوٹا دو
حضرت عامر بن عبد قیس رضی اللہ عنہ …
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی دعوت پر بصرہ سے شام
منتقل ہو گئے… وہاں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ان سے
بار بار پوچھتے کہ کوئی حاجت، خدمت ہو تو بتائیں… مگر حضرت عامر رضی
اللہ عنہ کچھ نہ مانگتے …جب حضرت معاویہ رضی اللہ
عنہ کا اصرار بڑھا تو حضرت عامر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
مجھے بصرہ کی گرمی لوٹا دیجئے تاکہ مجھے سخت روزے نصیب ہوں… یہاں آپ کے ہاں روزہ
بہت آسان گذر جاتا ہے… حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ
عنہما …سخت گرمیوں میں نفل روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ بعض اوقات بے
ہوشی اور غشی طاری ہو جاتی …مگر روزہ نہ توڑتے … اور جب دنیا سے رخصت ہونے کا وقت
آیا تو فرمایا:اپنے پیچھے ایسی کوئی چیز چھوڑ کر نہیں جا رہا کہ …جس کے چھوڑنے کا
افسوس ہو…سوائے دو چیزوں کے …ایک گرمی کے روزہ میں دوپہر کی پیاس اور دوسرا نماز
کے لئے چلنا… ( بس ان دو چیزوں کے چھوٹنے کا افسوس ہے)۔ ( ابن ابی شیبہ)
اسی طرح کی روایت حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ
عنہ سے بھی ہے کہ وہ اپنی وفات کے وقت اس بات پر افسوس فرما رہے تھے
کہ… اب گرمی کے روزے کی پیاس نصیب نہیں ہو گی…
میں کب آپ کی دلہن بنی؟
امام ابن رجب حنبلی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں…
جنت کی حور اپنے اللہ کے ولی خاوند سے پوچھے گی …کیا آپ کو
معلوم ہے کہ کس دن مجھے آپ کے نکاح میں دیا گیا؟…یہ سوال و جواب اس وقت ہو گا جب
وہ دونوں جنت میں… شراب کی نہر کے کنارے شان سے تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے…اور حور
جام بھر بھر کر اپنے خاوند کو پلا رہی ہو گی…حور اپنے سوال کا جواب خود ہی دے گی …
وہ ایک گرم دن تھا ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو روزہ کی سخت پیاس میں دیکھا تو فرشتوں
کے سامنے آپ پر فخر فرمایا… میرے بندے کو دیکھو! اس نے میری خاطر اور میرے پاس
موجود نعمتوں کی رغبت میں… اپنی بیوی، لذت،کھانا اور پینا سب کچھ چھوڑا ہوا ہے…تم
گواہ رہو کہ میں نے اس کی مغفرت کر دی ہے…پس اس دن اللہ تعالیٰ نے آپ کی مغفرت
فرمائی …اور مجھے آپ کے نکاح میں دے دیا…
آخری بات
یہ موضوع بہت میٹھا اور مفصل ہے…ابھی مزید کچھ قصے لکھنے کا
ارادہ تھا مگر رمضان کے مبارک اوقات میں اختصار ہی بہتر ہے…آج کل ہم سب کو گرمی
کے روزے نصیب ہیں…یہ بڑی مہنگی نعمت ہے جو پیسوں سے نہیں خریدی جا سکتی… اس نعمت
کی قدر کریں…خوشی اور شکر سے روزے رکھیں… جو تھوڑی بہت تکلیف آئے وہ خندہ پیشانی
سے برداشت کریں…شیطان کے اس جال میں کوئی نہ پھنسے کہ…یہ روزے میرے بس میں نہیں
ہیں…کئی مرجی قسم کے مفکر بھی یہی فتویٰ دیتے ہیں… یہ سب ہمیں اس انمول نعمت سے
محروم رکھنا چاہتے ہیں…اگر گرمی کے روزے ہمارے بس میں نہ ہوتے …تو ہمارا رحیم و
مہربان رب کبھی ہم پر یہ روزے فرض نہ فرماتا… جب اللہ تعالیٰ نے یہ روزے فرض
فرمائے ہیں تو معلوم ہوا کہ یہ روزے ممکن ہیں… اللہ تعالیٰ کے پیارے بندے سخت گرمی
میں روزے بھی رکھتے ہیں اور مزدوری بھی کرتے ہیں… اور ساتھ خوشی اور شکر بھی ادا
کرتے ہیں…دین کے دیوانے گرمی کے روزوں کے ساتھ ’’ مہم ‘‘ کی محنت اور حکمرانوں کے
’’جبر‘‘ کو بھی جھیل رہے ہیں…اللہ تعالیٰ ہمت، قبولیت، استقامت اور بہت جزائے خیر
عطا فرمائے…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ’’بخل‘‘ اور ’’لالچ‘‘ سے ہم سب کی حفاظت فرمائے…
اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْجُبْنِ
بخل یعنی کنجوسی کی بیماری تین وجوہات سے پیدا ہوتی ہے:
١ مال
کی محبت…
٢ زیادہ
زندہ رہنے کا شوق ،لمبی تمنائیں…
٣ بے
وقوفی…کم عقلی…
ایک دلچسپ قصہ
ہمارے ہی زمانے کا یہ قصہ کسی نے نقل کیا ہے … ایک صاحب کو
انگور بہت پسند تھے… صبح اپنی فیکٹری جاتے ہوئے انہیں راستے میں اچھے انگور نظر
آئے…انہوں نے گاڑی روکی اور دوکلو انگور خرید کر نوکر کے ہاتھ گھر بھجوا دئیے اور
خود اپنی تجارت پر چلے گئے… دوپہر کو کھانے کے لئے واپس گھر آئے…دستر خوان پر سب
کچھ موجود تھا مگر انگور غائب… انہوں نے انگوروں کا پوچھا… گھر والوں نے بتایا کہ
وہ تو بچوں نے کھا لئے…کچھ ہم نے چکھ لئے…معمولی واقعہ تھا مگر بعض معمولی جھٹکے
انسان کو بہت اونچا کر دیتے ہیں… اور اس کے دل کے تالے کھول دیتے ہیں… وہ صاحب
فوراً دستر خوان سے اٹھے… اپنی تجوری کھولی، نوٹوں کی بہت سی گڈیاں نکال کر بیگ
میں ڈالیں اور گھر سے نکل گئے… انہوںنے اپنے کچھ ملازم بھی بلوا لئے …پہلے وہ ایک
پراپرٹی والے کے پاس گئے … کئی پلاٹوں میں سے ایک پلاٹ منتخب کیا…فوراً اس کی قیمت
ادا کی…پھر ٹھیکیدار اور انجینئر کو بلایا … جگہ کا عارضی نقشہ بنوا کر ٹھیکیدار
کو مسجد کی تعمیر کے لئے… کافی رقم دے دی… اور کہا دو گھنٹے میں کھدائی شروع ہونی
چاہیے…وہ یہ سب کام اس طرح تیزی سے کر رہے تھے…جیسے آج مغرب کی اذان تک ان کی
زندگی باقی ہو…ان کاموں میں ہفتے اور مہینے لگ جاتے ہیں… مگر جب دل میں اخلاص کی
قوت ہو… ہاتھ بخل اور کنجوسی سے آزاد ہو تو… مہینوں کے کام منٹوں میں ہو جاتے
ہیں…ایک صاحب ’’نو مسلم‘‘ تھے… ان کو نماز کی تکبیر اولیٰ پانے کا عشق تھا… ایک
بار وضو میں کچھ تاخیر ہو گئی… نماز کے لئے اقامت شروع ہوئی تو وہ وضو خانے سے
دیوانہ وار شوق میں مسجد کے صحن کی طرف بڑھے…جلدی میں وہ وضو خانے کی ایک دیوار کے
سامنے آ گئے تو ان کا ہاتھ لگتے ہی وہ دیوار اچانک بیٹھنے اور گرنے لگی… وہ تیزی
سے ایک طرف ہو کر گزر گئے…نماز کے بعد سب لوگ حیران تھے کہ اس دیوار کو کیا ہوا…وہ
نو مسلم صاحب فرماتے ہیں کہ جب سب لوگ چلے گئے تو میں نے جا کر دیوار پر زور لگانا
شروع کیا کہ …کسی طرح سیدھی ہو جائے… مجھے خیال تھا کہ چونکہ میرے ہاتھوں سے یہ
ٹیڑھی ہوئی ہے تو میں ہی اس کو سیدھا کر سکتا ہوں…مگر بار بار زور لگانے کے باوجود
دیوار سیدھی نہ ہوئی… تب سمجھ آیا کہ…نماز کو جاتے وقت میرے اندر اخلاص اور شوق
کی جو طاقت تھی…اس نے اتنی مضبوط دیوار کو ہلا دیا تھا…اور اب وہ طاقت موجود نہیں
ہے… یہی صورتحال تاجر صاحب کے ساتھ بھی ہوئی… اخلاص اور شوق کی طاقت نے …چند
گھنٹوں میں سارے کام کرا دئیے… بہترین موقع کا پلاٹ بھی مل گیا… اچھا انجینئر اور
اچھا ٹھیکیدار بھی ہاتھ آ گیا… اور مغرب کی اذان سے پہلے پہلے کھدائی اور تعمیر
کا کام بھی شروع ہو گیا …شام کو وہ صاحب واپس گھر آئے تو گھر والوں نے پوچھا کہ
آج آپ کھانا چھوڑ کر کہاں چلے گئے تھے؟… کہنے لگے… اپنے اصلی گھر اور اصلی رہائش
گاہ کا انتظام کرنے…اور وہاں کھانے پینے کا نظام بنانے گیا تھا…الحمد للہ سارا
انتظام ہو گیا … اب سکون سے مر سکتا ہوں… آپ لوگوں نے تو میری زندگی میں ہی…
انگور کے چار دانے میرے لئے چھوڑنا گوارہ نہ کئے… اور میں اپنا سب کچھ آپ لوگوں
کے لئے چھوڑ کر جا رہا تھا … میرے مرنے کے بعد آپ نے مجھے کیا بھیجنا تھا؟ … اس
لئے اب میں نے خود ہی اپنے مال کا ایک بڑا حصہ اپنے لئے آگے بھیج دیا ہے…اس پر
میرا دل بہت سکون محسوس کر رہا ہے…
صدقہ ،خیرات کے فوائد
قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں …صدقہ ،خیرات اور دین پر
مال لگانے کے فضائل اس قدر زیادہ ہیں کہ… انہیں پڑھ کر پتھر دل انسان بھی ’’بخل‘‘
سے توبہ کر لیتا ہے…مگر شیطان پڑھنے نہیں دیتا… شیطان ہمارا دشمن ہے،اس نے ہمیں
ذلیل کرنے کی قسم کھائی ہے…اور وہ ہمیں مال کے ذریعے زیادہ ذلیل کرتا ہے… مال کے
نوکر بنے رہو…مال کے غلام بنے رہو… مال گن گن کر چھپا چھپا کر رکھتے رہو…دن رات
مال جمع کرتے رہو…مال کی خاطر چوری کرو، خیانت کرو… حرمتیں پامال کرو… مال کی
حفاظت کے لئے مرتے رہو…مال کے نقصان پر روتے رہو… شیطان نے مال کے بارے میں جو’’
پیکج‘‘ بنایا ہے…اس کا خلاصہ ہے…
’’سانپ سے سانپ تک‘‘
یعنی دنیا میں تم کالے سانپ کی طرح… مال کے اوپر چوکیدار بن
کر بیٹھے رہو…اس مال سے کسی کو فائدہ نہ اٹھانے دو…اور جب یہ سارا مال چھوڑ کر
مرجاؤ تو اس مال کو سانپ بنا کر تمہاری گردن میں لٹکا دیا جائے…اور وہ تمہارے
چہرے پر کاٹتا رہے… آج کے کروڑ پتی…ارب پتی اور سرمایہ دار کیا کر رہے ہیں؟… یہی
سانپ والا کردار… غور کریں تو آپ کو ان کی شکلیں بھی سانپ جیسی نظر آئیں گی…
صدقہ،خیرات سے انسان کا نفس پاک ہو جاتا ہے… اس کا مال بھی
پاک ہو جاتا ہے … آپ تجربہ کر لیں…سخت پریشانی اور سخت بیماری کے وقت اگر اللہ
تعالیٰ کی رضاء کے لئے مال خرچ کر دیا جائے تو… پریشانی دور اور بیماری ٹھیک ہو
جاتی ہے… دراصل مال کا وہ نوٹ یا حصہ… خود ایک بیماری اور پریشانی تھی…وہ جب تک
ہمارے پاس موجود رہتا ہمیں اسی طرح تکلیف میں رکھتا مگر جب وہ چلا گیا… تو وہ خود
بھی ہمارے لئے رحمت بن گیا …اور اپنے پیچھے بھی ہمارے لئے … رحمت چھوڑ گیا…
جہنم کی آگ کتنی سخت ہے… مگر صدقہ خیرات سے یہ آگ بجھ جاتی
ہے… قیامت کے دن ہر شخص اپنے صدقہ کے سایہ میں ہو گا…جس کا صدقہ زیادہ… اس کا سایہ
بھی زیادہ… گناہوں کی آگ کو بھی صدقہ اس طرح بجھا دیتا ہے جس طرح پانی آگ
کو…دراصل انسان جو گناہ بھی کرتا ہے اس گناہ کے برے اثرات اس کے ساتھ چمٹ جاتے ہیں
…مگر صدقہ کی برکت سے وہ گرم اثرات ختم ہو جاتے ہیں … صدقہ میزان حسنات کو بھاری
کر دیتا ہے…اور سب سے بڑھ کر یہ کہ صدقہ کرنے والے کی… اللہ تعالیٰ کے ہاں قدر
ومنزلت بہت بڑھ جاتی ہے … صدقہ انسان کو دنیا میں مالدار اور آخرت میں کامیاب
بناتا ہے اور صدقہ ہی اصل میں انسان کے دل کی خوشی ہے…
اہم مگر مشکل محنت
اسلام میں نیکیوں پر مال خرچ کرنے کی… بہت ترغیب ہے… مسجد پر
خرچ کرو…والدین پر خرچ کرو … اہل و اولاد پر خرچ کرو… دینی تعلیم پر خرچ کرو …
غرباء مساکین پر خرچ کرو…کھانا کھلانے اور افطار کرانے پر خرچ کرو… مصیبت زدہ
لوگوں پر خرچ کرو… پانی کے انتظام پر خرچ کرو… والدین کے ایصال ثواب پر خرچ کرو…
وغیرہ… مگر سب سے زیادہ فضائل جہاد پر خرچ کرنے کے ہیں…سب سے زیادہ اجر جہاد پر
خرچ کرنے کا ہے… اور سب سے بڑا مقام جہاد میں مال لگانے کا ہے… حتیٰ کہ کعبہ شریف
پر …اور حجاج کرام کی خدمت پر خرچ کرنے سے بھی زیادہ اجر جہاد پر خرچ کرنے کا
ہے…جہاد چونکہ فرض ہے…اس لئے مال سے جہاد کرنا بھی فرض کے درجے میں آتا ہے…
ہمارے ساتھی اور رفقاء جو انفاق فی سبیل اللہ کی مہم میں شریک
ہیں…وہ بہت اہم خدمت سر انجام دے رہے ہیں… آج ایک طرف یہ فتنہ سرگرم ہے کہ
مجاہدین کو لوگوں سے بھیک نہیں مانگنی چاہیے… انہیں چاہیے کہ بینک لوٹیں،بھتہ لیں…
لوگوں کو اغواء کر کے تاوان وصول کریں… کئی افراد اس طرح کے نعروں میں گمراہ ہو
گئے اور طرح طرح کی برائیوں میں مبتلا ہو گئے… حالانکہ اسلام میں مسلمانوں کے مال
کو اغواء وغیرہ کے ذریعے حاصل کرنے کو…شرمناک قسم کا حرام قرار دیا گیا ہے…
دوسرا فتنہ حکمرانوں کی طرف سے ہے کہ… وہ شرعی جہاد پر مال
دینے سے لوگوں کو روکتے ہیں… مجاہدین کو چندہ کرنے پر پکڑتے ہیں…اور طرح طرح کی
پابندیاں اور رکاوٹیں ڈالتے ہیں … قرآن مجید کی ’’سورۃ المنافقون ‘‘ نے …یہ مسئلہ
سمجھایا ہے کہ…کافروں اور منافقوں کے نزدیک مال بڑی چیز ہوتا ہے… وہ یہ سمجھتے ہیں
کہ اگر مجاہدین کے مالی راستے بند کر دئیے جائیں تو ان کا جہاد اور ان کا دین ختم
ہو جائے گا…حالانکہ ان کی یہ سوچ غلط ہے…اور زمین و آسمان کے تمام خزانوں کا مالک
اللہ تعالیٰ ہے…
تیسرا فتنہ…کمزور دل مسلمانوں کی طرف سے ہے کہ… وہ اپنی مساجد
اور اپنے منبروں پر… کفار اور منافقین کے ڈر سے… جہاد فی سبیل اللہ کو بیان نہیں
کرتے… اسی لئے مسلمانوں کو جہاد کے وہ مسائل بھی معلوم نہیں ہیں…جو قرآن مجید میں
نص قطعی کے طور پر صراحت سے مذکور ہیں… مثلاً کئی مسلمان پوچھتے ہیں کہ کیا
مجاہدین کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں؟… یہ مسئلہ قرآن مجید نے صراحت اور وضاحت کے ساتھ
بیان فرما دیا ہے کہ… مجاہدین زکوٰۃ کا مصرف ہیں… آج بدعات پر خرچ کرنے کی ترغیب
دینے والے بہت ہیں… کروڑوں اربوں روپے بدعات و خرافات پر دین کے نام سے خرچ کئے
جاتے ہیں… آج نفل کاموں پر خرچ کرنے کی ترغیب دینے والے بہت ہیں… کروڑوں اربوں
روپے نفل عمروں، وہاں کی مہنگی رہائشوں اور مدارس میں انگریزی تعلیم پر خرچ کئے
جاتے ہیں… مگر جہاد پر خرچ کی ترغیب سنانے کا کوئی سلسلہ مساجد اور منابر پر موجود
نہیںہے…
اب ان تین فتنوں کی موجودگی میں …جہاد کے لئے چندہ کس قدر
مشکل ہو جاتا ہے؟… مگر اخلاص اور شوق ہر مشکل کا علاج ہے…
اور اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کا جوش… ناموافق حالات میں
مزید بڑھ جاتا ہے…اے دین کے دیوانو! اللہ تعالیٰ آپ کو بہت جزائے خیر عطاء
فرمائے…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ سے شہادت کی دعاء وہی مسلمان کرتے ہیں…جو اللہ
تعالیٰ کے وعدوں پر یقین رکھتے ہیں… یا اللہ ! ہمیں مقبول ایمان بالغیب عطاء فرما…
دور والی بہت قریب
جنت ویسے تو ہم سے بہت دور ہے… کیونکہ جنت سات آسمانوں کے
اوپر ہے… مگر بعض حالات ایسے آ جاتے ہیں کہ… جنت کسی انسان کے بالکل قریب ہو جاتی
ہے… مثلاً ایک غریب آدمی ہے…مہینہ میں مشکل سے پانچ دس ہزار روپے کماتا ہے… تو
شہر کی مہنگی کوٹھیاں اس کی پہنچ سے کتنی دور ہیں؟… وہ اگر دس کروڑ کی ایک کوٹھی
خریدنا چاہے تو اس کے لئے اس کی سو سال کی تنخواہ بھی کافی نہیں… اسی طرح شہر کے
شورومز میں موجود مہنگی گاڑیاں اس سے کتنی دور ہیں؟… یقیناً بہت دور… وہ اگر دس
سال بھی بچت کر کے پیسہ جمع کرے تو اچھی گاڑی نہیں خرید سکتا… مگر ایک دن اچانک
اسے بہت سی رقم مل گئی…نوٹوں سے بھرا ایک بڑا صندوق… کم از کم پچاس ساٹھ کروڑ کی
نقد رقم… اب اس لمحے وہ بہت سی چیزیں جو اس سے سالہا سال دور تھیں ایک دم قریب آ
گئیں… اب وہ ایک گھنٹے میں ایک نئی گاڑی خرید سکتا ہے…
جنت واقعی بہت دور ہے… لیکن جب ’’بندۂ مومن‘‘ ایمان اور
اخلاص کے ساتھ جہادِ فی سبیل اللہ میں نکلتا ہے تو…یہ کروڑوں اربوں سال کی دوری
والی جنت…بالکل اُس کے قریب، اُس کے سر پر آ جاتی ہے… اور اس میں اور جنت میں بس
اتنا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ…وہ مجاہد شہید ہواور فوراً جنت میں داخل ہو جائے… یعنی
دو قدم کی مسافت… پہلا قدم شہادت اور دوسرا قدم جنت… یہ بات اپنی طرف سے نہیں
لکھی… اس پر بڑے مضبوط دلائل موجود ہیں…بس یہاں صرف’’شہید بدر‘‘ حضرت عمیر بن
حمام رضی اللہ عنہ کے مبارک الفاظ کافی ہیں:
’’ بَخٍ بَخٍ فَمَا بَیْنِی وَبَیْنَ اَنْ اَدْخُلَ
الْجَنَّۃَ اِلَّا اَنْ یَّقْتُلَنِیْ ھٰؤُلَاءِ‘‘
ترجمہ: واہ، واہ میرے اور جنت کے درمیان فاصلہ ہی کیا رہ گیا
ہے،بس صرف اتنا کہ یہ مشرکین مجھے قتل کر ڈالیں…
وہ اس وقت کھجوریں کھا رہے تھے، یہ الفاظ فرما کر کھجوریں
پھینک دیں اور تلوار لے کر لڑنا شروع کیا، یہاں تک کہ شہید ہو گئے…
یہ اسلام کا پہلا بڑا معرکہ ’’غزوۂ بدر‘‘ تھا… غزوۂ بدر کے
ہر منظر سے جہاد کی دلکش دعوت ملتی ہے… اور جہاد کے فضائل،معارف،حکمتیں اور قوانین
معلوم ہوتے ہیں… اسی لئے غزوہ ٔبدر کو یاد رکھنا چاہیے… اس کو بار بار پڑھنا
چاہیے… اور اسے آپس میں سنتے سناتے رہنا چاہیے… کیونکہ یہ جہاد اور ’’علمِ جہاد‘‘
کا ایسا انمول خزانہ ہے…جو ہر ملاقات اور ہر مطالعہ پر نئے راز ،نئے اسباق اور نئی
حکمتیں سکھاتا ہے…
پس وہ مسلمان جو جنت کے بہت زیادہ قریب ہونا چاہتا ہے…وہ جہاد
میں نکلے… جہاد میں نکلتے ہی جنت اس کے قریب آ جائے گی… پھر وہ جس طرح بھی مرے…اس
کی موت کا کوئی نتیجہ ظاہر ہو یا نہ ہو…ہر حال میں اس کے لئے جنت لازم ہے… علامہ
ابن قیمؒ نے لکھا ہے کہ… اللہ تعالیٰ بعض ’’جہاد‘‘اس لئے قائم فرماتا ہے تاکہ…
اپنے بندوں میں سے کچھ کو شہادت عطاء فرمائے…یعنی اس جہاد کا اور کوئی نتیجہ نہیں
نکلتا… اور نہ اس کا کوئی اور اثر زمین پر ظاہر ہوتا ہے… وہ جہاد بس اس لئے ہوتا
ہے کہ… بعض خوش نصیب مسلمان ’’شہادت ‘‘ کا بلند مقام …شہادت کی مزیدار اور پائیدار
زندگی… اور شہادت کا دائمی انعام پا لیں… اور یہ کوئی چھوٹا انعام یا مقصد نہیں
ہے…ایک مسلمان کو مرتے ہی شاندار زندگی… ہمیشہ ہمیشہ کا عیش و آرام …اور ہمیشہ کی
کامیابی مل جائے تو اسے اور کیا چاہیے…یہ تو ایسی نعمت ہے کہ… اگر اس کی خاطر سب کچھ
بھی قربان کرنا پڑے تو سودا بہت سستا اور بہت نفع والا ہے…
طاقتور بہت کمزور
مکہ کے مشرکین کس قدر طاقتور تھے؟…وہ تلواروں کے سائے میں
پلتے تھے، گھوڑوں کی پیٹھ پر جوان ہوتے تھے اور بہادری اور شجاعت میں ساری دنیا پر
فائق تھے…ان کی جنگ بازی،خونریزی اور بہادری کے واقعات جب ہم تاریخ میں پڑھتے ہیں
تو بہت حیرانی ہوتی ہے…
غزوۂ بدر کے دن پورے قریش کی طاقت کا ’’مکھن‘‘ …میدان بدر
میں موجود تھا…صرف ابوجہل کی جنگی اور طبعی طاقت کا حال لکھا جائے تو آج کا کالم
اسی میں لگ جائے… فرعون سے بڑھ کر ضدی ابو جہل کی طاقت کا یہ حال تھا کہ…اس نے کئی
مرتبہ عذاب کے فرشتے اور عذاب کی جھلکیاں اپنی آنکھوں سے دیکھیں… مگر یہ نہ تو بے
ہوش ہوا اور نہ قائل ہوا… آج دنیا کے بڑے سے بڑے بہادر کو کسی پر حملہ کرتے وقت
…اگر وہ مناظر نظر آ جائیں …جو ابو جہل نے حضور نبی کریم صلی اللہ
علیہ وسلم پر حملہ کرتے وقت دیکھے تھے تو…وہ فوراً خوف سے مر جائے…
ابو جہل ظالم کہتا تھا کہ…جب حضور نبی کریم صلی
اللہ علیہ وسلم سجدہ میں ہوں تو مجھے بتانا میں ان کی گردن پر پاؤں
رکھ کر …(نعوذ باللہ) گردن توڑ دوں گا…ایک بار اسی ناپاک ارادے سے آگے بڑھا…مگر
پھر اپنے دونوں ہاتھ منہ پر رکھ کر ایک دم پیچھے ہٹا… اسی طرح دو تین بار آگے
بڑھا اور پھر پیچھے ہٹا… لوگوں نے حیران ہو کر وجہ پوچھی تو کہنے لگا آگے ایک
خندق آگ کی بھری ہوئی سامنے آ گئی اور ایک بڑا اژدھا میری طرف لپکا…اگر میں
پیچھے نہ ہٹتا تو یا آگ میں جل مرتا یا وہ اژدھا مجھے نگل لیتا…
اندازہ لگائیں…ایسا منظر دیکھنے کے باوجود وہ نہ دہشت سے
مرا…نہ بے ہوش ہو کر گرا… نہ وہاں سے بھاگا… بلکہ بار بار آگے بڑھ کر اپنے ناپاک
ارادے کو پورا کرنے کی کوشش کرتا رہا… غزوۂ بدر کے میدان میں ابو جہل موجود تھا
اور اسی جیسے اور چوبیس نامور سردار موجود تھے…ان میں سے ہر ایک کی مستقل جنگی اور
عسکری داستان تھی…دوسری طرف مقابلے میں بے سروسامان مسلمان تھے… تعداد بھی کم اور
سامان حرب بھی قلیل …مگر یہ جہاد کا میدان تھا…اور جہاد کے میدان کے لئے اللہ
تعالیٰ کے قوانین نرالے ہیں…یہاں دور کی چیزیں قریب اور قریب کی چیزیں دور ہو جاتی
ہیں…یہاں بہت سے بارعب…اپنا رعب کھو دیتے ہیں…اور بہت سے مسکین بہت بارعب ہو جاتے
ہیں…یہاں بہت سے طاقتور شہباز ’’چڑیا‘‘ بن جاتے ہیں…اور بہت سی ’’ابابیلیں‘‘
ہاتھیوں سے طاقتور…غزوۂ بدر میں مقابلہ ہوا…کمزور اور قلیل مسلمان غالب آئے… ابو
جہل اور اس کے ہم پلہ چوبیس سردار بالوں سے گھسیٹ کر ایک ناپاک کنویں میں ڈال دئیے
گئے… یہ سارا قصہ اکثر مسلمانوں کو معلوم ہے… آج جو بات عرض کرنی ہے …وہ یہ ہے کہ
جب مسلمانوں کا لشکر غزوۂ بدر فتح کر کے…مدینہ واپس آ رہا تھا… راستہ میں ’’مقام
روحاء‘‘ پر کچھ مسلمانوں نے لشکر کا استقبال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ
وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو فتح
مبین کی مبارک باد دی… اس پر حضرت سلمہ بن سلامہ رضی اللہ
عنہ نے فرمایا: کس بات کی مبارک باد دیتے ہو…اللہ تعالیٰ کی قسم! بوڑھی
عورتوں سے پالا پڑا اور ہم نے ان کو رسی میں بندھے ہوئے اونٹوں کی طرح ذبح کر کے
پھینک دیا…
غور فرمائیں…ابو جہل، عتبہ، شیبہ جیسے جنگ آزما ،سورما… جن
کے خوف اور دہشت سے وادیاں کانپتی تھیں… ان کے بارے میں فرما رہے ہیں کہ…بوڑھی
عورتیں تھیں…اور رسیوں میں بندھے ہوئے جانور…
دراصل جہاد میں اللہ تعالیٰ نے یہ تاثیر رکھی ہے کہ…وہ کافروں
اور ان کی طاقت کو ’’بہت چھوٹا‘‘ کر دیتا ہے… آج بھی ہمارے صاحب اقتدار مسلمان…
کافروں سے بہت ڈرتے ہیں…اور ان کے رعب سے کانپتے ہیں… اور ان کے خوف اور دباؤ میں
آ کر غلط کام کرتے ہیں… لیکن جہاد میں مشغول مسلمان… اپنے دل میں کافروں کے لئے
کوئی خوف،کوئی رعب… یا کوئی بڑائی نہیں پاتے… ان کے نزدیک… سارے اوبامے، مودی اور
یہودی… بوڑھی عورتیں اور رسی میں بندھے جانور ہیں…یاد رکھیں! ہر انسان نے اپنے وقت
پر مرنا ہے…جو لوگ کافروں کے رعب میں رہتے ہیں وہ بھی اپنے وقت پر مرتے ہیں…اور جو
کافروں کے رعب سے آزاد ہیں وہ بھی… اپنے وقت سے پہلے نہیں مرتے… ہاں! یہ اللہ
تعالیٰ کی نعمت ہے کہ…کسی مسلمان کے دل میں کافروں کا رعب اور بڑائی نہ ہو…اور یہ
نعمت جہادِ فی سبیل اللہ کے ذریعے نصیب ہوتی ہے…
آسان طریقہ
اگر ہم چاہتے ہیں کہ… وہ جنت جو ہم سے بہت دور ہے…وہ ہمارے
بہت قریب آ جائے… اگر ہم چاہتے ہیں کہ… دنیا بھر کے اسلام دشمن کافر ہماری نظروں
میں چھوٹے اور حقیر ہو جائیں… اور ہمیں ان کی ذہنی غلامی سے نجات ملے تو اس کا
آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم جہادِ فی سبیل اللہ کے راستہ کو اختیار کر لیں… جہاد میں
کامیابی ہی کامیابی…اور رحمت ہی رحمت ہے…
الرحمت ٹرسٹ کے جانباز داعی… آج کل مسجد،مسجد اور گلی گلی
جہاد فی سبیل اللہ کی دعوت دیتے پھرتے ہیں…یہ دیوانے اس اُمت کے محسن ہیں …ان کا
ساتھ دیں…ان کی مہم کو کامیاب بنائیں… اور آپ بھی ان کے ساتھ ’’قافلۂ جہاد‘‘ میں
شامل ہو جائیں…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ لَا اِلٰہَ اِلَّا
اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ
رمضان المبارک جا رہا ہے…بس چار پانچ دن رہ گئے…اور عید کا دن
آ رہا ہے تاکہ…اہل ایمان خوشیاں منائیں…اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو اسلام
اور ہدایت کی نعمت عطاء فرمائی … اُن کو ایمان اور جنت کے لئے چن لیا…اور اُن کو
اپنے فضل سے کامیابی عطا ء فرمائی…
﴿لِتُکَبِّرُوْااللہَ عَلیٰ مَا ھَدٰکُمْ﴾
تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی بڑائی اور عظمت بیان کرو …اس نعمت کے
شکرانے میں کہ اُس نے تمہیں ہدایت عطاء فرمائی…
اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ لَا اِلٰہَ اِلَّا
اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلہِ الْحَمْدُ
دو باتیں دل میں بٹھانی ہیں…پہلی یہ کہ اللہ تعالیٰ ہی سب سے
بڑا ہے…اور دوسری یہ کہ ہدایت کی نعمت…یعنی اسلام کی توفیق ملنا ہی سب سے بڑی نعمت
ہے…
جس کے دل میں یہ دونوں باتیں بیٹھ چکی ہیں …وہ شکر ادا
کرے…لمبے لمبے سجدے کرے… اورجس کے دل میں ابھی کچھ کھوٹ ہے…وہ اللہ تعالیٰ کو سب
سے بڑا کہتا تو ہے مگر دل میں اور بہت سے افراد کی…اور بہت سی چیزوں کی بڑائی بٹھا
رکھی ہے…اور جو اسلام کو سب سے بڑی نعمت کہتا تو ہے مگر سمجھتا نہیں…تھوڑی سی مالی
تنگی، تھوڑی سی جسمانی آزمائش اور چھوٹی چھوٹی تکلیفوں پر گھبرا کر…اسلام کی نعمت
کو بھول جاتا ہے… اس نعمت پر شکر ادا کرنا بھول جاتا ہے…وہ توبہ کرے،استغفار
کرے،آنسو بہائے اور اپنے دل کا علاج کرے…ارے! دنیا بھر کی ساری نعمتیں اسلام کے
مقابلے میں خاک کے ایک ذرے کے برابر بھی نہیں…اور دنیا بھر کی ساری طاقتیں اللہ
تعالیٰ کے سامنے مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں…
دل سے پڑھیں:
اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ لَا اِلٰہَ اِلَّا
اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلہِ الْحَمْدُ
شیطان نے دنیا کی چیزوں کو…لوگوں کی نظر میں مزین، معزز اور
خوشنما کر دیا ہے…طرح طرح کے گھر اور بنگلے…طرح طرح کی گاڑیاں اور سواریاں…طرح طرح
کے لباس اور ملبوسات… طرح طرح کے رنگ برنگے لائف اسٹائل… لوگ انہی پر مر رہے
ہیں…انہی پر جی رہے ہیں… اور پھر موت کا جھٹکا آتا ہے تو…اندھیرا ہی اندھیرا چھا
جاتا ہے…وہ جن کے پاس ’’اسلام‘‘ کی روشنی نہیں ہے…وہ مرتے ہی خوفناک اندھیروں
میںڈوب جاتے ہیں…فرشتے اُن کی ارواح کو لے کر آسمان کی طرف جاتے ہیں تو آسمان کے
فرشتے …اُن کی ارواح کو وہاں سے دھکا دے کر گرا دیتے ہیں…اللہ، اللہ…اتنی اونچائی
سے گرنے والوں کا حال کیا ہو گا؟… وہ گرتے گرتے زمین پر آتے ہیں تو زمین بھی ان
کو نیچے دھکا دے دیتی ہے…کیونکہ زمین ان کے وجود سے تنگ ہوتی ہے…وہ بڑے حکمران ہوں
یا بڑے بڑے سائنسدان… وہ اربوں پتی سرمایہ دار ہوں یا سونے چاندی میں کھیلنے والے
سیٹھ… وہ بڑے نامور فنکار ہوں یا مشہور کھلاڑی یا اداکار… اسلام کی نعمت سے محروم
مرے تو اب عذاب ہی عذاب ہے… اور ایک ہی آواز ہے:
﴿فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَکُمْ اِلَّا عَذَابًا﴾
یہ عذاب بھگتو اور یاد رکھو! اب ہم تمہارا عذاب بڑھاتے ہی چلے
جائیں گے…اب اس عذاب سے خلاصی کی کوئی صورت نہیں … گاڑیاں، بنگلے ، نوکر،ملازم اور
سیلوٹ کرنے والے اب تمہارے کسی کام کے نہیں…اور جو چیز کام کی تھی وہ تمہارے پاس
موجود نہیں…پھر اُن کی ارواح کو مقام ’’سِجِّیْن‘‘ پر لے جا کر قید کر دیا جائے
گا…یہ ایک بڑا پتھر ہے…جس سے ہر وقت دھواں نکلتا رہتا ہے…اور اس کے اردگرد گرمی
ہے،آگ ہے اور عذاب ہے… یا اللہ! آپ کی پناہ…یا اللہ! اسلام کی نعمت پر اربوں بار
شکر…دل کی گہرائی سے شکر…بے شمار شکر…
اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ لَا اِلٰہَ اِلَّا
اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ
اللہ تعالیٰ نے زمین پر رزق اُتارا ہے… کسی کو زیادہ دیا اور
کسی کو تھوڑا… جن کو اسلام اور ایمان کی نعمت ملی…ان کو اگر رزق کم بھی ملا تو
انہوں نے فکر نہیں کی…لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے …اور کافروں کے سفارتخانوں پر
لائن لگانے کی بجائے… انہوں نے اپنی ضروریات کو محدود کر لیا … وہ اپنے اِسلام پر
راضی رہے… تب ان کے فقر و فاقے میں ایسا سکون رکھ دیا گیا جو بادشاہوں کو… خوابوں
میں بھی نہیں ملتا…
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری
صحابی کو دیکھا کہ … فقرو فاقے اور بیماری کی وجہ سے بہت سخت حالت میں ہیں…نہ مال
تھا نہ صحت… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ایسی خستہ حالت دیکھی تو
ایک وظیفہ ارشاد فرمایا کہ… یہ پڑھو گے تو حالت سدھر جائے گی… اُن انصاری کا ایمان
بہت بلند تھا … فرمانے لگے: میں ان دو چیزوں یعنی فقروفاقے اور بیماری کے بدلے بڑی
سے بڑی نعمت لینے کوبھی تیار نہیں…حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم نے ان کی تعریف فرمائی کہ…جو اپنی ایسی حالت پر اللہ تعالیٰ سے
راضی ہو اس کا مقام بڑے بڑے اعمال کرنے والوں سے بھی بہت اونچا ہے…
آج جس کے پاس عید کا نیا جوڑا نہ ہو وہ آہیں بھرتا ہے…جس کے
پاس عید کا نیا جوتا نہ ہو وہ آنسو بہاتا ہے…جس کے بچوں کو عید پر زیادہ عیش نہ
ملے وہ شکوے برساتا ہے…یہ نہیں سوچتا کہ… اصل نعمتیں اللہ تعالیٰ نے ہر غریب اور
ہر امیر کو وافر عطاء فرمائی ہیں…اسلام کی نعمت، ایمان کی نعمت، قرآن کی
نعمت،رمضان کی نعمت… روزوں اور تراویح کی نعمت… جہاد کی نعمت… ان نعمتوں کو ہر
غریب سے غریب آدمی بھی حاصل کر کے… آخرت کا بادشاہ بن سکتا ہے…
پھر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیوں نہیں کرتے؟…
اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ لَا اِلٰہَ اِلَّا
اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ
بھائیو! اور بہنو! عید کا دن آ رہا ہے…خوشی اور مسکراہٹ کا
دن…
اس دن ایمان والوں کو دیکھ کر زمین بھی مسکراتی ہے…آسمان بھی
مسکراتا ہے…فضائیں اور ہوائیں بھی مسکراتی ہیں… ارے! زمین سے لے کر عرش تک جشن کا
سماں ہوتا ہے کہ…ایمان والوں کو پورے ایک مہینہ کے روزے نصیب ہوئے …ایک مہینہ کی
تراویح نصیب ہوئی…ایک مہینہ کی مقبول عبادت نصیب ہوئی… اور آج ان سب کو ’’انعام‘‘
ملنے والا ہے… سبحان اللہ! سب سے بڑا انعام…جی ہاں! مغفرت کا انعام…اس سے بڑی خوشی
اور کیا ہو گی… تقریب انعامات کا دن…اس سے بڑا جشن کیا ہو گا… اپنے محبوب رب کی
رضا کا دن…اس سے بڑی فرحت اور کیا ہو گی کہ اپنے رب کی تکبیر اٹھانے اور اپنے رب
کا شکر ادا کرنے کا دن…
اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ لَا اِلٰہَ اِلَّا
اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ
عید کے دن پہلا کام یہ کہ… دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور
بڑائی اور زبان پر اس کی ’’تکبیر ‘‘ ہو…دنیا کی ہر طاقت کا رعب دل سے نکال دینا
ہے… ارے! سائنس نے ایسی کوئی ترقی نہیں کر لی کہ ہم نعوذباللہ اسے سجدے کرتے
رہیں…جب بجلی نہیں تھی تو لوگوں کے پاس روشنی کا انتظام آج کے زمانہ سے زیادہ
اچھا تھا…کوئی اندھیرے میں نہیں مرتا تھا…لوگ سفر کرتے تھے…اور بہت صحت مند تھے…
وہ آج کے لوگوں کی طرح پلاسٹک کی بوتلیں اور گیس کے سلنڈر نہیں تھے… منوں وزنی
تلواریں ہاتھ کے پنکھے کی طرح گھماتے تھے…اور بھاری کمانوں سے تیروں کی بوچھاڑ
کرتے تھے… سائنس ہر زمانے میں موجود رہی ہے…کیونکہ انسان اللہ تعالیٰ کا زمین پر
خلیفہ ہے… اور اپنی ضرورت کے مطابق سمندروں، پہاڑوں،ہواؤں اور عناصر کو اپنے کام
میں لاتا رہتا ہے…آج کی سائنس تو دہشت گردی ہے اور غلاظت …جس نے پورے خطۂ زمین
کو زہریلی گیسوں سے بھر دیا… اور انسان کو ایک بے وزن کھلونا بنا دیا … افسوس کہ
مسلمانوں نے عمومی طور پر جہاد کو چھوڑ رکھا ہے… اگر زمین پر جہاد ہوتا تو زمین کی
حکومت عقلمند انسانوں کے ہاتھ ہوتی جو…سائنس کو انسان کا غلام بناتے نہ کہ…انسان
کو سائنس کا غلام…
اور اب تو نعوذباللہ کئی بد عقل لوگ… دین اور قرآن کو بھی
سائنس کا غلام بنانے پر تلے ہیں… اپنے دل سے ان سب بے حیا اور بد کار کافروں کی
عظمت نکالنی ہے…امریکہ اور یورپ کی عظمت دل سے ختم کرنی ہے…یہ سب اللہ تعالیٰ کی
عظمت کے سامنے اڑتا ہوا غبار بھی نہیں… اللہ ہی سب سے بڑا ہے اور اللہ ایک ہے…
اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ لَا اِلٰہَ اِلَّا
اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ
عید کا دوسرا کام یہ کرنا ہے کہ… اپنے دل کو … حقیقی نعمت
یعنی اسلام کی یاد دلا کر خوش کرنا ہے … عید کا دن رونے پیٹنے اور دنیا کے غموں کو
اپنے اوپر مسلط کرنے کا دن نہیں… یہ شکر اور خوشی کا دن ہے… اور شکر اور خوشی ان
نعمتوں پر جو اصل اور قیمتی نعمتیں ہیں… الحمد للہ! ہمارے پاس کلمہ طیبہ ہے… الحمد
للہ! ہمیں رمضان المبارک ملا…الحمد للہ! ہمیں روزوں کی توفیق ملی… الحمد للہ! ہمیں
رمضان المبارک میں جہاد میں نکلنے یا جہاد کی خدمت کی توفیق ملی… ہمیں زیادہ
تلاوت،زیادہ صدقے اور زیادہ عبادت کی توفیق ملی… ہمیں حضرت آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم جیسے نبی ،قائد اور رہبر ملے…اللہ اکبر! یہ کتنی بڑی نعمت
ہے؟… دنیا بھر کے کافر ہزار دولت کے باوجود …حضرت آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم سے محروم ہیں… آپ بتائیے! اس سے بڑی محرومی اور کیا ہو سکتی
ہے؟…حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو جب حضور
پاک صلی اللہ علیہ وسلم مل گئے تو انہوں نے کیسی عظیم قربانیاں دے
کر…اس نعمت کی قدر کی… آج کوئی نظم پڑھ رہا تھا کہ …سیّدنا بلال
حبشی رضی اللہ عنہ نے جب آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کو کفن مبارک میں دیکھا ہو گا تو… ان پر کیا گزری ہو گی؟… یہ
الفاظ سن کر دل تڑپنے لگا اور آنکھیں رونے لگیں… بلال نے تو بڑی قربانیاں اٹھا کر
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا تھا… ہم نے کیا قربانی دی؟
… حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کے وصال کے بعد مدینہ طیبہ بھی نہ رہ سکے… محاذوں پر چلے گئے کہ
کب شہادت ملے اور حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سے
ملاقات ہو… اور جدائی کا یہ بھاری زمانہ ختم ہو … ہم جب چاہیں آپ صلی اللہ علیہ
وسلم پر درود و سلام بھیج سکتے ہیں اور وہاں سے جواب بھی آتا ہے… یہ
کتنی بڑی نعمت ہے…
عید کے دن ان بڑی بڑی عظیم نعمتوں کو یاد کر کے… اپنے دل کو
خوشی پر اور اپنے ہونٹوں کو مسکراہٹ پر لانا ہے…ہم لاکھ گناہگار سہی…مگر الحمد للہ
مسلمان تو ہیں…حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی
تو ہیں…یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے…
اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ لَا اِلٰہَ اِلَّا
اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ
رمضان المبارک آیا…اور اب جا رہا ہے … مگر رمضان المبارک کا
اختتام عید کی خوشی پر ہو گا…بس اسی سے یہ سبق سیکھیں کہ…ہم بھی دنیا میں آئے اور
ایک دن ضرور یہاں سے چلے جائیں گے… کیا ہمارا اختتام بھی عید جیسی خوشی پر ہو گا؟
… جی ہاں! اگر ہم اپنی پوری زندگی رمضان المبارک کی ترتیب پر گزاریں… خوشی خوشی
شریعت کی پابندی برداشت کریں…اور ان پابندیوں کو اپنے لئے نعمت سمجھیں… کیا کھانا
ہے اور کیا نہیں کھانا… کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا… ہر وقت نفس کی خواہشات
پوری نہیں کرنی… ہروقت لذتوں کی فکر میں نہیں رہنا… پس جو اس طرح پابندی والی
زندگی گزارے گا…اس کی موت کا دن،رمضان المبارک کے بعد والے دن کی طرح ہو گا… یعنی
عید کا دن… خوشی کا دن… پابندیاں اٹھ جانے اور عیش و عشرت ملنے کا دن… تب اس کی
روح اس دن خوشیاں مناتی ہوئی… تکبیر پڑھتی ہوئی مقام ’’عِلِّیِّیْن‘‘ کی طرف لے
جائی جائے گی…یہ مقام آسمانوں کے اوپر ہے …وہاں ایک کتاب رکھی ہوئی ہے…ہر مومن کی
روح کو وہاں لے جا کر… اس کتاب میں اس کا نام لکھ دیا جائے گا… اور پھر قیامت تک
اس کے درجے کے مطابق…کسی اچھی جگہ قیام کی ترتیب بن جائے گی…یا اللہ! ہمیں بھی ان
میں شامل فرما لیجئے…
اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ لَا اِلٰہَ اِلَّا
اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ
رمضان المبارک کی رات ہے…اس لئے اپنی آج کی مجلس بھی مختصر
کرتے ہیں… بس آج کی آخری بات یہ ہے کہ…تھوڑا سا سوچیں! رمضان المبارک تو سب پر
آیا… کافروں پر بھی آیا اور مسلمانوں پر بھی… اہلِ تقویٰ پر بھی آیا اور فاسقوں
فاجروں پر بھی…مگر یہ رمضان المبارک کس کے لئے…رحمت اور خوشی کا ذریعہ بنا؟…
یقیناً مسلمانوں کے لئے اور مسلمانوں میں سے بھی ان کے لئے جنہوں نے …رمضان
المبارک کی قدر کی…اور اس میں قربانی دی…روزہ کی حالت میں بھوک پیاس کی
قربانی…راتوں کو جاگ کر نیند کی قربانی… عبادت میں لگ کر راحت کی قربانی… صدقہ خیرات
دے کر مال کی قربانی… جہاد میں نکل کراور جہادی محنت میں لگ کر…جان و دل کی
قربانی… جنہوں نے قربانی دی رمضان ان کا ہو گیا…اور ان کے نامہ اعمال کی روشنی بن
گیا… اور ان کے لئے آخرت میںمحفوظ ہو گیا …مگر جنہوں نے نہ رمضان المبارک کو
مانا…نہ اُس میں روزہ اور عبادت کی قربانی دی… ان کے لئے رمضان جیسی نعمت بھی…کسی
کام نہ آئی… بس اسی طرح ہم میں سے ہر ایک کے پاس زندگی کی نعمت موجود ہے…جو اس
میں قربانی دے گا وہ اس زندگی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پا لے گا… اور جو اس زندگی کی
نعمت کو…فضول خواہشات میں ضائع کر دے گا…وہ مرتے ہی زندگی سے اور ہر طرح کے آرام
سے محروم ہو جائے گا…
الحمد للہ! ہماری جماعت کے پاس…زندگی کو زندگی بنانے کا
بہترین نصاب موجود ہے…
کلمہ طیبہ…اقامت صلوٰۃ اور جہاد فی سبیل اللہ کی محنت…
یہ ایک جامع نصاب ہے… یہ کامیابی والا عقیدہ،کامیابی والا
ماحول…اور کامیابی والا راستہ دیتا ہے…آئیے! اس عظیم محنت میں شامل ہو
جائیے…تاکہ…زندگی کی انمول نعمت… ہمارے لئے واقعی ہمیشہ کی نعمت بن جائے…
اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ لَا اِلٰہَ اِلَّا
اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ سب سے بڑے ہیں…اللہ اکبر کبیرا…زمین سے بڑا
آسمان ہے…اور سات آسمانوں میں ہر دوسرا آسمان پہلے آسمان سے بڑا ہے…پھر
’’کرسی‘‘ ان سات آسمانوں سے بڑی ہے…
﴿وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ﴾
اور پھر اللہ تعالیٰ کا عرش…کرسی سے بھی بڑا ہے…اس کی صفت
’’عظیم ‘‘ ہے…’’العرش العظیم‘‘ اور اللہ تعالیٰ عرش سے بھی بڑا ہے،سب سے عظیم
،اعظم ،الکبیر،العلی،العظیم …اور عظمت سے بھی بڑا مقام ’’جلال ‘‘ کا ہے…اور اللہ
تعالیٰ جلال والا ہے ذوالجلال والاکرام…
آئیے! ہم پکارتے ہیں…
یَا عَلِیُّ،یَا عَظِیْمُ ، یَا کَبِیْرُ، یَا ذَالْجَلَالِ
وَالْاِکْرَامِ…اِغْفِرْلَنَا وَارْحَمْنَا
انسان بہت چھوٹا ہے…بہت کمزور،بہت ضعیف،بہت عاجز…
﴿خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا﴾
انسان جہالت کے اندھیرے اور ظلم کی تاریکی میں پڑا
ہے…اور ظلم بھی سب سے زیادہ اپنی جان پر کرتا ہے…
﴿اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوْمًا جَہُوْلًا﴾
انسان گناہوں میں لتھڑا ہوا،غلاظت سے بھرا ہوااور فناء سے
لرزتا ہوا اپنی زندگی گزارتا ہے…
مگر تعجب ہے ،پھر بھی فخر کرتا ہے،اکڑتا ہے ، اتراتا ہے اور
میں میں کرتا ہے…
﴿ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِیَ خَلْقَہٗ﴾
کاغذ صاف اور خالی ہو تو اس پر ’’قرآن مجید‘‘ بھی لکھا جا
سکتا ہے…برتن جتنا سستا کیوں نہ ہو لیکن خالی ہو اور پاک ہو تو اس میں زمزم بھی
بھرا جا سکتا ہے…اور شہد بھی…
پس جو انسان خود کو کمزور سمجھے،عاجز سمجھے،بے کمال
سمجھے،فانی سمجھے،جاہل سمجھے…وہی اللہ تعالیٰ سے سب کچھ پاتا ہے…اسی کو روشنی ملتی
ہے،قوت ملتی ہے،کمال ملتا ہے،بقاء ملتی ہے،علم ملتا ہے … کیونکہ اس نے اپنے نفس
اور دل کو…اپنے مالک کے لئے خالی کیا…مالک نے سب کچھ بھر دیا ، سب کچھ عطاء فرما
دیا…مگر جو ہر وقت اپنی خوبیاں سوچے،اپنے آپ کو باکمال سمجھے ،اپنی طاقت پر نظر
کرے…اپنے حسن اور عقل پر نظر کرے…اپنی صلاحیتوں پرفخر کرے کہ میں ایسا ہوں…میں
ویسا ہوں…میں فلاں سے اچھا ہوں… میں عقل والا سمجھدار ہوں …میں بہت مقبول ہوں… میں
بہت ذہین اور باصلاحیت ہوں…میں نیک ہوں ، متقی ہوں… تو ایسے آدمی کو…کچھ بھی نہیں
ملتا… کچھ بھی نہیں… اس نے اپنے دل میں اپنی ذات کو بھر رکھا ہے…اس نے اپنے نفس
میں… اپنی بڑائی کو بھر رکھا ہے… ایسے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت نہیں آتی… اللہ
تعالیٰ ایک ہے … وہ شرک اور شرکت کو گوارہ نہیں فرماتا…اس لئے ایسے افراد کو نہ
روشنی ملتی ہے،نہ نور ملتا ہے،نہ نفع والا علم ملتا ہے… اور نہ وہ عزت…جو اللہ
تعالیٰ کے نزدیک عزت ہے… اس لئے بہت عجیب بات فرمائی…
مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہٗ
جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا…اس نے اپنے رب کو پہچان لیا…
یہ جملہ ’’حدیث ‘‘ ہے یا نہیں؟…علماء نے بڑی بحث فرمائی ہے…
اکثر اہل علم کے نزدیک اس کا حدیث ہونا ثابت نہیں… مگر سب کا ایک بات پر اتفاق ہے
کہ…یہ حدیث ہے یا اسلاف میں سے کسی کا قول…مگر یہ ہے بڑے پتے کی بات،بڑے راز کی
بات…اور بہت حکمت والی بات… جس نے خود کو پہچان لیا کہ…میں کچھ بھی نہیں…وہی اپنے
رب کو پہچانے گا کہ وہ سب کچھ ہے…انسان سجدے میں جا کر بھی…یہ سوچے کہ میں ایسا
ہوں،میرے اندر یہ کمال ہے…میرا یہ مقام ہے…تو ایسے سجدے سے اس نے کیا پایا؟…
ایک طرف حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین تھے… جہاد جیسے عظیم عمل میں مصروف…ایک سخت جنگ میں مشغول…اور
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت سے محظوظ… اتنے
سارے فضائل جمع ہوں تو کچھ نہ کچھ نظر اپنی ذات پر چلی جاتی ہے… مگر وہ حضرات
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے…خندق کھودتے وقت اشعار
پڑھ رہے تھے کہ…یا اللہ! اگر آپ کا فضل نہ ہوتا تو نہ ہم ہدایت پاتے…نہ نماز
پڑھتے نہ سجدے کر سکتے… آپ کا ہی خالص احسان ہے کہ … ہمیں ہدایت دی…ہمیں نماز کی
توفیق دی… ہمیں جہاد میں لگایا… ہمیں سجدے کا شرف بخشا… ہمیں حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم عطاء فرمائے… یعنی ہمارا کوئی کمال
نہیں… ہم میں جو خوبی بھی ہے یہ سب آپ نے عطاء فرمائی ہے… دیکھئے! یہ ہے اپنے نفس
کی پہچان… اور اس کے ذریعہ اپنے رب کی پہچان…حضرت ہجویری رحمۃ اللہ علیہ نے
سمجھایا کہ… اپنے نفس کو کالا اندھیرا سمجھو اور اس میں جو خیر ہے اسے اپنے رب کا
نور سمجھو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کالی سلیٹ پر…اپنے نور اور روشنی سے فلاں فلاں خیر
لکھ دی ہے…جو اپنے نفس کو پہچان لے کہ میں بہت کمزور ہوں…صرف پیشاب رک جائے تو
میری ساری فوں فاں اور شان ختم ہو کر… نیم ذبح شدہ جانور کی طرح تڑپنے لگتی ہے…
وہی آدمی پہچان سکتا ہے کہ… اللہ تعالیٰ کتنا طاقت والا ہے… ہم تو تیز ہوا میں
اپنے سر کی ٹوپی نہیں تھام سکتے …جبکہ اللہ تعالیٰ نے اتنے بڑے آسمانوں کو بغیر
ستونوں کے تھام رکھا ہے… پس جو اپنے آپ کو ناقص سمجھے، کمزور سمجھے،عاجز
سمجھے،خالی سمجھے… وہی اللہ تعالیٰ کی صفات اور اللہ تعالیٰ کی ذات کو پہچان سکتا
ہے…شیطان کی بھرپور کوشش ہوتی ہے کہ…ہم اپنی ذات کو نہ پہچانیں…یعنی مٹی، گارے اور
حقیر نطفے سے بنا ہوا انسان…تکبر میں مبتلا ہو جائے…کسی انسان کا تکبر میں مبتلا
ہونا اس بات کی علامت ہے کہ…اس بے وقوف انسان نے خود کو نہیں پہچانا…کیونکہ تکبر
کا معنی ہے بڑائی … اور انسان میں ’’بڑائی‘‘ والی کوئی چیز ہے ہی نہیں… کس قدر
دھوکے میں ہے وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے مال میں سے … چند افراد کو کھانا
کھلا کر خود کو نعوذ باللہ رازق اور سخی سمجھنے لگے …جو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی
عقل سے چند الفاظ سیکھ کر خود کو عالم و علامہ سمجھنے لگے…جو اللہ تعالیٰ کی دی
ہوئی تھوڑی سی شان کو دیکھ کر…خود کو عزت اور عبادت کے لائق سمجھنے لگے…اسی لئے
فرمایا… جہنم کی آگ کو سب سے پہلے…ریاکار عالم ،ریاکار شہید اور ریاکار سخی کے
ذریعے بھڑکایا جائے گا…ان لوگوں نے اپنے نفس کو نہ پہچانا اور اپنی خوبیوں کو اپنی
جاگیر سمجھ کر…اس کے بدلے لوگوں سے اکرام چاہا تو…باوجود اتنے بڑے اعمال کے برباد
ہو گئے…اور فرمایا کہ…
جو چاہے کہ لوگ اس کے لئے کھڑے ہوں تو وہ ابھی سے جہنم میں
اپنا ٹھکانا پکڑ لے…
ہاں! بے شک… جو شخص اپنی ذات کو پہچانتا ہو…وہ کبھی بھی خود
کو اس لائق نہیں سمجھے گا کہ لوگ اس کی تعظیم میں کھڑے ہوں…بلکہ وہ چاہے گا کہ وہ
خود بھی اور دوسرے لوگ بھی صرف اللہ تعالیٰ کے لئے کھڑے ہوں…کیونکہ وہی تعظیم اور
بندگی کا حقدار ہے…ہم میں جو کچھ اچھا نظر آ رہا ہے سب اسی کا عطاء فرمودہ ہے… وہ
جب چاہے چھین لے اور جب چاہے اس اچھائی کو بڑھا دے…
آپ نے کبھی غور کیا کہ… انسان میں نا شکری کیوں پیدا ہوتی
ہے؟ وجہ بالکل سیدھی ہے کہ وہ جب خود کو نہیں پہچانتا کہ… میں تو بندہ ہوں ، غلام
ہوں، فانی ہوں… تو وہ خود کو…طرح طرح کی چیزوں کا حقدار سمجھنے لگتا ہے کہ… مجھے
یہ بھی ملے اور وہ بھی ملے …پھر جب اس کے نفس کی یہ خواہشات پوری نہیں ہوتیں تو
وہ…شکوے کرتا ہے،ناشکری کرتا ہے،ناقدری کرتا ہے…اور نعوذ باللہ، اللہ تعالیٰ سے
جھگڑے کرتا ہے…
یہ اگر خود کو پہچان لے کہ…میں کچھ بھی نہیں ، کسی چیز کا
مستحق نہیں تو یہ فوراً اللہ تعالیٰ کو پہچان لے گا کہ… وہی حاجت روا ہے،فضل والا
ہے،کرم والا ہے کہ اب تک مجھے اتنا کچھ دیا… میرے اتنے گناہوں کے باوجود مجھے
کھلایا، پلایا اور چھپایا… تب اسے شکر نصیب ہو گا…اور شکر نعمتوں کی چابی اور
نعمتوں کا محافظ ہے…آپ نے کبھی غور کیا کہ …انسان میں حرص کیوں پیدا ہوتی ہے؟
…وجہ صاف ہے کہ انسان اپنی ذات کو نہیں پہچانتا کہ میں ایک فانی زندگی کے چند
سانسوں کے لئے دنیا میں آیا ہوں…اللہ تعالیٰ نے مجھے یہاں جو نعمتیں عطاء فرمائی
ہیں وہ آخرت کی تیاری کے لئے ہیں… اس کی بجائے وہ یہ سوچتا ہے کہ …میرے اندر بڑے
کمالات ہیں،بڑی عقل ہے… میری زندگی بہت لمبی ہے… میری بڑی اونچی قسمت ہے کہ میرے
پاس یہ یہ چیز آ گئی ہے…اب مجھے اور آگے بڑھنا ہے… اور زیادہ سے زیادہ ان چیزوں
کو حاصل کرنا ہے… تب وہ مزید کی حرص میں مبتلا ہو کر ایسا جہنمی مزاج انسان بن
جاتا ہے کہ…مزید کی خواہش اس میں بڑھتی ہی چلی جاتی ہے… آپ آج دنیا کے کسی ارب
پتی کے پاس جا بیٹھیں …وہ کوئی نئی چیز بنانے یا خریدنے کی فکر میں اتنا پریشان ہو
گا… جتنا کوئی غریب آدمی اپنی اکلوتی جھونپڑی کے لئے بھی نہیں ہوتا… کیونکہ حرص
جب آ جائے تو پھر قبر کی مٹی ہی اسے ختم کر سکتی ہے …حکایت لکھی ہے کہ…ایک آدمی
کے کھیت میں ایک جنگلی مرغی اڑ کر آ گئی…اس نے پکڑ لی اور گھر لے آیا… وہ مرغی
روزانہ سونے کا ایک انڈہ دیتی تھی… وہ اگر اپنے آپ کو پہچانتا تو اسی انڈے
کو…اللہ تعالیٰ کا فضل سمجھ کر شکر کرتا…مگر اس میں حرص جاگ اٹھی … مجھے اور زیادہ
مالدار ہونا چاہیے… اب روزانہ ایک انڈے پر صبر اس پر بھاری پڑا… اور اس نے زیادہ
انڈوں کی لالچ میں مرغی ذبح کر دی…تب اس کے پیٹ سے ایک انڈہ بھی نہ نکلا…اور اس
طرح وہ روزانہ کے رزق سے بھی محروم ہو گیا…مشہور مسلمان بادشاہ …اور عالم اسلام کے
قابل فخر ماہر فلکیات ’’الغ بیگ‘‘ نے اپنے بیٹے کو بڑا مال اور اختیارات دے رکھے
تھے …بیٹا نالائق نکلا… اپنی ذات کو نہ پہچاننے والا …اس میں ’’مزید‘‘ کی حرص پیدا
ہو گئی…اور باپ کا وجود اسے بھاری لگنے لگا…حالانکہ اس کے پاس جو کچھ تھا اس کا
ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس کے باپ کو بنایا تھا…ایمان والوں کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ
وہ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے ’’ذرائع‘‘ اور راستوں کی قدر کرتے ہیں… جس طرح ہمیں
پانی اگرچہ زمین سے آتاہے… مگر پائپ ،ٹوٹیاں وغیرہ اس پانی کو ہم تک پہچانے کا
ذریعہ ہیں تو ہم …ان کی قدر اور حفاظت کرتے ہیں…اور یہ کہہ کر انہیں نہیں پھینک
اور توڑ دیتے کہ تم کونسا ہمیں پانی دیتی ہو؟… پانی تو ہمیں زمین سے آتا ہے…
شیطان کی ایک بڑی صفت جو قرآن مجید نے بیان فرمائی ہے …وہ اپنے ماننے والوں میں
ہر وقت خوف پھیلاتا ہے…اللہ تعالیٰ کا نہیں مخلوق کا خوف …اور پھر اس خوف کے ذریعہ
وہ ان سے بڑے بڑے گناہ کرواتا ہے… وہ حریص آدمی میں یہ خوف ڈالتا ہے کہ …دیکھو!
جو نعمتیں تمہارے پاس ہیں وہ تم سے چھن نہ جائیں… اور فلاں فلاں آدمی تم سے
تمہاری نعمتیں چھین سکتا ہے… پس ان افراد کو ختم کر دو، ہٹا دو، ٹھکانے لگا دو
تاکہ تمہاری نعمتیں سدا بہار ہو جائیں… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم نے سمجھایا کہ حرص سے بچو، اسی کی وجہ سے پہلے لوگوں نے قتل و
غارت کا بازار گرم کیا اور حرمتوں کو پامال کیا …الغ بیگ کے بیٹے کے دل میں یہ خوف
آیا کہ …آج تو ٹھیک ہے لیکن اگر کل میرے باپ نے مجھے معزول کر دیا …تو میرا کیا
بنے گا… اسی خوف میں اس نے اپنے محسن باپ کو قتل کر دیا… امت مسلمہ کو ایک قابل
فخر رہنما سے محروم کر دیا…اور خود حکمران بن بیٹھا… مگر چھ ماہ میں مارا گیا…دنیا
بھی گئی اور آخرت بھی برباد…
اس نے خود کو نہ پہچانا…اپنے رب کو نہ پہچانا …اپنی عقل کو
اپنا رہنما بنایا اور اپنا اور مسلمانوں کا اتنا بڑا خسارہ کر بیٹھا… اگر وہ
معزولی کے خوف کی بجائے دل میں یہ خوف لاتا کہ اللہ تعالیٰ مجھے موت دے سکتے ہیں
تو کبھی بھی یہ گناہ نہ کرتا…
اس لئے ضروری ہے کہ …ہم اپنے نفس کی کمزوری
،عاجزی،تاریکی، فنا اور بے سمجھی پر…غور کریں…ہم اپنی خوبیوں کواپنی محنت اور اپنی
کمائی نہ سمجھیں… ہم اس بات کا یقین دل میں بٹھائیں کہ…ہم نے جلد مر جانا ہے… ہم
اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات میں غور کریں کہ…کیسی کامل مکمل اور عظیم ذات ہے…پھر
اللہ تعالیٰ کے اسماء الحسنی میں غور کریں اور اپنے اندر کی ایک ایک تاریکی کو دور
کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے بھیک مانگیں…
دل کے لئے… اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ فِی قَلْبِی نُوراً
بدن کے لئے… اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ فِی بَدَنِی نُوْراً
آنکھوں کے لئے… اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ فِی بَصَرِی نُوْراً
اسی طرح مانگتے جائیں اور پاتے جائیں اور جب بھی شیطان
بھٹکانے لگے… اللہ تعالیٰ کے اسماء الحسنیٰ اور کلمہ طیبہ کے قلعہ میں آ جایا
کریں کہ ظالم تو جو کچھ مجھے سمجھا رہا ہے وہ غلط ہے…سچ یہ ہے کہ…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ
اللہ تعالیٰ ہی سب کچھ ہے…میں کچھ بھی نہیں… اللہ تعالیٰ ہی
معبود ہے… اور کوئی نہیں … اللہ تعالیٰ ہی قادر اور باقی ہے… باقی سب کچھ فانی ہے…
الحمد للہ…رمضان المبارک میں اللہ تعالیٰ نے جماعت پر بہت کرم
فرمایا… اتنے گرم اور مشکل حالات میں ایسی دستگیری فرمائی کہ…تمام ساتھی دل و جان
سے مہم میں لگے رہے…اس سے اُمید ہوئی کہ ان شاء اللہ، اللہ تعالیٰ کی نصرت اور
رحمت ’’جماعت‘‘ کو نصیب ہے…اب ہم نے اس نعمت کی کس طرح قدر اور حفاظت کرنی ہے… اس
کے لئے ’’رنگ و نور‘‘ میں چند اسباق کا یہ سلسلہ شروع کیا جارہا ہے…آج کا پہلا
سبق ’’معرفتِ نفس‘‘ آپ نے پڑھ لیا…اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو عمل کی توفیق
عطاء فرمائے… اگلا سبق اس بارے میں ہے کہ …کام کی مضبوطی اور ترقی کے لئے اب
انفرادی ملاقاتوں …اور اجتماعات کی ضرورت ہے… ہماری دعوتی ملاقات کیسی ہو؟ … ہمارے
دعوتی اجتماعات کیسے ہوں؟…اس کا بیان اگلے ہفتے ان شاء اللہ…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہی ہمارے ’’ربّ‘‘ ہیں…اللہ تعالیٰ کے سوا ہم کسی
کو ’’ربّ‘‘ نہیں مانتے…کوئی فرعون آئے یا دجّال…کوئی سائنسی طاقت آئے یا عسکری…
اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں مانتے… نہ موت کے ڈر سے، نہ مال کی لالچ میں … ہم
زندہ رہیں یا مر جائیں…مالدار ہوں یا بھوکے مریں… تخت پر بیٹھیں یا تختے پر لٹکیں…
خوشحال ہوں یا تنگدست… لوگ ہماری عزت کریں یا ہمیں ستائیں… ہر حال میں ہمارا
معبود،ہمارا مالک، ہمارا ’’ربّ‘‘ اللہ تعالیٰ ہے…
ہم اپنے اس عقیدے پر خوش ہیں، راضی ہیں، سعادت مند ہیں…اور بے
حد،بے حد شکرگزار ہیں…
رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا، رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا ،
رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا
اسلام ہمارا دین ہے… اور کسی دین کو ہم نہیں مانتے… خواہ وہ
کتنی چمک دکھائے، کتنے شعبدے اٹھائے… لالچ اور حرص کے جتنے جال بچھائے…اسلام،
اسلام اور صرف اسلام…
رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا وَّبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے
نبی ہیں، رسول ہیں ، قائد ہیں، رہنما ہیں… کامیابی صرف ان کی اتباع میں ہے… اور ان
کی تشریف آوری کے بعد… ان کے سوا کسی کے دامن سے وابستہ ہونے میں کامیابی نہیں…
ہم ان کی رسالت،نبوت اور ختم نبوت پر ایمان لانا… اپنے لئے فرض، لازم اور بے حد
لازم سمجھتے ہیں… اور اپنے اس عقیدے پر راضی ہیں…اور اس پر اللہ تعالیٰ کے بے حد
شکر گزار ہیں…
رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا وَّبِالْاِسْلَامِ
دِیْنًا وَّبِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَبِیًّا
یا اللہ! ہمیں اسی عقیدے پر زندہ رکھ… اسی پر موت دے… اسی پر
ہمیں ایسا راضی فرما کہ اس رضا کے بدلے میں آپ کی رضا ملے…اور اس عقیدے پر ہر حال
میں اور ہر لمحے ہمیں استقامت عطاء فرما…
یہ مبارک دعاء…جو ہمارے لازمی عقیدے پر مشتمل ہے… یہ جنت میں
جانے کا ٹکٹ ہے… فرمایا: جو اس عقیدے پر دل سے راضی ہو گا… اللہ تعالیٰ نے اپنے
ذمہ لازم فرمایا ہے کہ… اسے قیامت کے دن راضی فرما دیں گے… اور جو صبح شام تین تین
بار یقین سے یہ دعاء پڑھے گا… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم اس کا
ہاتھ پکڑ کر اسے جنت میں لے جائیں گے…
رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا وَّبِالْاِسْلَامِ
دِیْنًا وَّبِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَبِیًّا
ایک تابعی بزرگ کا فرمان ہے کہ… جو یہ دعاء پڑھے ظالم حکمران
اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے…
رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا وَّبِالْاِسْلَامِ
دِیْنًا وَّبِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَبِیًّا وَّ
بِالْقُرْآنِ حَکَمًا وَّ اِمَامًا
آج بڑی سخت محنت جاری ہے…یہ جو ہر وقت گندے منہ اٹھا کر…اور
ناپاک قلم چلا کر کافروں کی ترقی کے قصیدے پڑھتے ہیں … صرف اس لئے کہ …ہمارا دل
اسلام پر راضی نہ رہے… ہم احساس کمتری کا شکار ہو جائیں… اور دنیا کی سب سے بڑی
دولت پا کر بھی خود کو محروم، فرسودہ، غیر ترقی یافتہ، ذلیل اور رسوا سمجھیں…
استغفر اللہ، استغفر اللہ، استغفر اللہ…
ارے بھائیو! جس کو یہ مبارک عقیدہ نصیب ہو گیا… اور اس کا دل
اس پر راضی ہو گیا تو دنیا کے تمام ارب پتی کافر اس کے جوتے پر لگی ہوئی گندگی کے
برابر بھی نہیں… باقی رہے دنیا کے دکھ، سکھ… یہاں کے مسائل اور پریشانیاں… یہاں کے
غم اور محرومیاں تو یاد رکھیں اور یقین کریں کہ…ان سے کوئی بھی بچا ہوا نہیں ہے…
دنیا میں سب سے زیادہ خود کشی دنیا کے سب سے مالدار ملک جاپان کے لوگ کرتے ہیں… یا
اللہ! کس طرح آپ کا شکر ادا کریں کہ ایسی عظیم، ایسی شاندار اور ایسی قیمتی ترین
نعمت عطاء فرمائی…
رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا وَّبِالْاِسْلَامِ
دِیْنًا وَّبِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَبِیًّا
ایک معذرت
گذشتہ سے پیوستہ کالم میں عرض کیا تھا کہ … اگلے ’’رنگ و
نور‘‘ میں جماعت کے لئے اجتماعات کی ایک جامع ترتیب پیش کی جائے گی…مگر سانحہ
ہوگیا…وہ بھی معمولی نہیں…حضرت امیر المومنین قدس سرہ کا سانحہ… اُمید نہیں تھی کہ
ہاتھ دوبارہ قلم اٹھانے کی طاقت پائیں گے…مگر اللہ تعالیٰ کے مبارک نام اور اس
دعاء نے عجیب کام کیا…
رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا وَّبِالْاِسْلَامِ
دِیْنًا وَّبِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَبِیًّا
الحمد للہ! ہوش واپس آیا…حضرت اقدس امیر المومنین قدس سرہ کے
بارے میں کالم لکھنے کی توفیق ملی…خود کو اور رفقاء کو تسلی دینے کا بھی سامان
ہوا… راضی ہونے کا معنٰی ہوتا ہے… ایسا کافی ہونا کہ کوئی کمی محسوس نہ ہو… راضی
ہونے کا مطلب ہوتا ہے کہ… اس کے ہوتے ہوئے اور کچھ بھی نہ ہو تو کوئی حرج نہیں…
رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا وَّبِالْاِسْلَامِ
دِیْنًا وَّبِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَبِیًّا
تب ارادہ ہوا کہ…یہ دعاء تو الحمد للہ ہم پہلے بھی پابندی سے
پڑھتے تھے… مگر ایسے مواقع پر اس کی اتنی زبردست تاثیر ہو گی… یہ اب انکشاف ہوا…تو
آپ سب کو اس کی یاد دہانی کرا دی جائے … انسان کی زندگی میں…ہوش و حواس اڑانے
والے، عزائم کی عمارت گرانے والے…مایوسیوں کے گڑھوں میں گرانے والے…اور ایمان کو
کمزور کرنے والے حوادث، واقعات اور گناہ آتے رہتے ہیں… تب انسان اصل نعمت کی
حفاظت میں لگ جائے تو وہ بچ جاتا ہے…
رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا وَّبِالْاِسْلَامِ
دِیْنًا وَّبِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَبِیًّا
اور اللّٰہ، اللّٰہ کا ورد… یا اللّٰہ ، یا اللّٰہ…
بے شک ذکر اللہ سے دلوں کو سکون ملتا ہے … مگر ذکر بہت کثیر
ہو…بہت زیادہ … یہ جو ہمارے ہاں ’’دورہ تربیہ‘‘ میں…روزانہ پندرہ ہزار بار ’’ اللہ
اللہ‘‘ کا ورد ہے… اس کی بہت عجیب تاثیر ہے… دل والے جانتے ہیں… ایمان والے سمجھتے
ہیں کہ…اس میں روحانی عمل کا ایک خاص ’’چلہ‘‘ پورا ہو جاتا ہے … اس عمل کے دینی،
روحانی اور اخروی فوائد اپنی جگہ… دنیا میں بھی بڑے بڑے فوائد ہیں… ان فوائد کا
تذکرہ اور مذاکرہ اس لئے نہیں کیا جاتا کہ…نیت میں کمزوری نہ آئے… ورنہ جو شخص
دورہ تربیہ میں …اہتمام سے پندرہ ہزار کا یہ ورد روزانہ پورا کرے…وہ اگر بعد میں
روزانہ تین سو یا ایک سو بار ’’یا اللہ ‘‘ کا ورد کر لیا کرے تو اسے… پوری زندگی
مال اور رزق کی تنگی نہیں آتی… اس کی دعاء قبول ہوتی ہے…وہ کسی کو دم کرے تواس
میں تاثیر ہوتی ہے…
کیونکہ اللہ ہی آسمان و زمین کا نور ہے…
﴿اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ﴾
جب نور آ جائے تو پھر اندھیروں کا کیا کام؟ …روشنی کسے کہتے
ہیں؟ اور اندھیرے کا کیا مطلب ہے؟ اگر آپ یہ جانتے ہوں تو … آپ وہ نکتہ سمجھ گئے
ہوں گے جو ابھی عرض کیا ہے…آج بھی ارادہ تھا کہ ’’اجتماعات‘‘ کی ترتیب آ جائے…
مگر ’’قربانی‘‘ کا ضروری معاملہ سامنے آ گیا ہے … اس لئے معذرت کے ساتھ آج وہ
عرض کیا جاتا ہے…’’اجتماعات‘‘ اِن شاء اللہ اگلے ہفتے…
ایک اہم نکتہ
بعض گناہ جو دیکھنے میں زیادہ بڑے نہیں لگتے مگر ان میں… ایسی
نحوست ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پناہ… ان گناہوں کی موجودگی میں انسان کے بڑ ے
بڑے نیک اعمال قبول نہیں ہوتے… ایسے گناہ کئی ہیں…اللہ تعالیٰ ہمیں ان سب سے
بچائے… مثال کے طور پر صرف ایک گناہ دیکھ لیں …وہ ہے ’’خیانت‘‘ خصوصاً اجتماعی
اموال میں ’’خیانت‘‘… یہ ایسا ظالم گناہ ہے جو انسان کے فرائض ،نیکیوں اور محنتوں
کو…بری طرح سے کھا جاتا ہے… قرآن و حدیث میں اس پر محکم دلائل موجود ہیں…اسی طرح
بعض نیکیاں ایسی ہیں …جو بظاہر زیادہ بڑی نہیں لگتیں مگر ان میں ایسی برکت اور
تاثیر ہے کہ…وہ بڑے بڑے خطرناک گناہوں کو مٹا دیتی ہیں… ایسی نیکیاں کئی ہیں …
اللہ تعالیٰ ہمیں ان سب کی توفیق عطاء فرمائے… مثال کے طور پر ایک نیکی دیکھ
لیں…وہ ہے ’’کھانا کھلانا‘‘… یہ ایسی بابرکت نیکی ہے…جو گناہوں کے زہر کو مٹاتی
ہے…اور انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیتی ہے… شرط یہ کہ کھانا حلال مال سے
کھلایا جائے…پھر اس نیکی کے درجے ہیں… کس کو کھانا کھلانے کا اجروثواب کتنا ہے؟…
بہت وسیع مطالعہ کے بعد ترتیب سے فہرست بنائی جا سکتی ہے…یاد رکھیں! ’’کھانے‘‘ کے
لفظ میں کھانا اور پینا دونوں شامل ہیں… گلی کے کتے سے لے کر… چرند، پرند حیوانات
تک اس میں شامل ہیں… ایک پیاسے اور بے بس کتے کو پانی پلانے پر ایک فاحشہ عورت
بخشی گئی…والدین کو کھانا کھلانا کبیرہ گناہوں کے برے اثرات کو بھی دھو دیتا ہے…
حضرات مجاہدین کو اور اللہ تعالیٰ کے اولیاء کو کھلانے کا اجر کیا ہو گا؟… بہت
مفصل موضوع ہے… بس اشارہ عرض کر دیا…
واجب قربانی نہیں لیں گے
صاحب استطاعت مسلمانوں پر عید الاضحی کی قربانی واجب ہے…کئی
سال سے یہ ترتیب تھی کہ ہم یہ قربانیاں جمع کرتے تھے اور سخت محنت کر کے ان کو ادا
کرتے اور بہت اچھی جگہوں پر تقسیم کرتے تھے…
اس مہم کے ان گنت فوائد تھے…حضرات شہداء کرامؒ کے اہل خانہ سے
لیکر محاذوں تک… مدارس سے لے کر مراکز تک… قربانی کا گوشت پہنچایا جاتا…مسلمانوں
کو قربانی کے اجر کے ساتھ ساتھ دعوتِ مجاہدین اور دعوتِ صلحاء و ابرار کا بھی اجر
ملتا… مگر اس سال استخارہ اور طویل مشاورت کے بعد یہ طے کیا ہے کہ… واجب قربانی
جمع نہیں کی جائے گی…وجہ یہ ہے کہ…یہ ایک بھاری ذمہ داری ہے…قربانی کا وقت محدود
ہوتا ہے… پاکستان اور افغانستان میں چاند کا جھگڑا رہتا ہے… تمام ساتھی جماعت کی
فرض محنت میں مشغول ہوتے ہیں…ان حالات میں ان تمام واجب قربانیوں کو ادا کرنا…ان
کی ادائیگی کی نگرانی کرنا …اور ہر قربانی کو وقت کے اندر ذبح کرنا…بہت مشکل کام
ہے… بالفرض ہم سات ہزار قربانیاں جمع کرتے ہیں…اور تمام قربانیاں بروقت ادا کرتے
ہیں…مگر درمیان کے کسی فرد کی غفلت کی وجہ سے… کوئی دوچار قربانیاں رہ جاتی ہیں
تو… اس کا وبال بڑا خطرناک ہے… ہم نے ایک مسلمان کے واجب کو ضائع کر دیا…چونکہ سب
قربانیاں اپنے سامنے نہیں کی جا سکتیں… محاذوں وغیرہ کی طرف کچھ افراد کو وکیل بنا
کر رقم دی جاتی ہے… ان افراد سے بھی کوتاہی کا امکان رہتا ہے …بہرحال ایسا کام جو
اللہ تعالیٰ نے ہم پر لازم نہ فرمایا ہو…اور ہم اسے تطوعاً اللہ تعالیٰ کی رضا کے
لئے خود کرتے ہوں…ایسے کام میں اگر گناہ کا خطرہ ہو تو اسے فوراً چھوڑ دینا چاہیے…
ان تمام وجوہات کو سامنے رکھتے ہوئے…اس سال جماعتی نظام کے تحت ایک بھی واجب
قربانی جمع نہیں کی جائے گی…جماعت کے اہل شوریٰ نے اللہ تعالیٰ کی رضا… اور اللہ
تعالیٰ کے خوف کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ قدم اٹھایا ہے…اللہ تعالیٰ قبول فرمائے…
اگر انتظام ہو گیا
عید الاضحی کے بعد اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ یہ فیصلہ
ایک سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے…
اگر کچا گوشت محفوظ کرنے کا پلانٹ اور… ایک بڑا مذبح خانہ
مرکز کے قریب بن جائے…اور تمام قربانیاں حضرات علماء کرام کی نگرانی میں… ایک ہی
جگہ ذبح ہوں…اور پھر گوشت کو محفوظ کر کے فوراً پورے ملک اور محاذوں تک پہنچانے کا
انتظام …اللہ تعالیٰ کی طرف سے میسر آ گیا تو ان شاء اللہ…یہ بابرکت سلسلہ دوبارہ
شروع کیا جا سکتا ہے…لیکن اگر ایسا انتظام نہ ہو سکا تو واجب قربانی جمع نہ کرنے
کی ترتیب برقرار رہے گی ان شاء اللہ…
نفل قربانی ، قرب کا ذریعہ
الحمد للہ بہت سے مسلمان عید کے موقع پر واجب قربانی کے علاوہ
’’ نفل قربانی‘‘ بھی کرتے ہیں… کراچی کے بعض اہل ثروت کو ہر سال پانچ سو سے ایک
ہزار تک قربانی کی توفیق ملتی ہے … بعض غریب مسلمانوں کو بھی دیکھا کہ…قربانی کی
بڑی فضیلت اور قربانی کے مبارک ایام میں نیکی کمانے کے شوق میں…پورا سال اپنا خرچہ
بچا کر …عید کے دن کئی کئی قربانیاں کرتے ہیں… دراصل ذوالحجہ کے پہلے دس دن …اور
عید کے ایام یہ دنیا کے سب سے افضل دن ہوتے ہیں… یعنی انسانی عمر کے سب سے قیمتی
دن…اور ان دنوں کے نیک اعمال کی قیمت عام دنوں کے اعمال سے بہت زیادہ ہے، بہت ہی
زیادہ… اور ان نیک اعمال میں بھی سب سے افضل عمل قربانی ذبح کرنا ہے… اب جن
مسلمانوں کو اس نکتے کا ادراک ہو جاتا ہے تو وہ… خوب بڑھ بڑھ کر قربانی کرتے
ہیں…اس لئے جماعت بھی اس سال مسلمانوں سے ’’نفل قربانی‘‘ جمع کرے گی… اعلان یہ ہو
گا کہ واجب قربانی آپ خود کریں جبکہ نفل قربانی ہمیں دے دیں… ہم ان شاء اللہ مکمل
محنت اور دیانتداری سے آپ کی یہ دعوت… اُمت کے بڑے مسلمانوں تک پہنچائیں گے…حضرات
شہداء و اسیران کے اہل خانہ… مجاہدین ، مہاجرین فی سبیل اللہ اور جہاد، علم اور
دینی کاموں میں مشغول مسلمان…
اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے اور امید بھی کہ… اس مہم میں برکت ہو
گی… مسلمان ان شاء اللہ بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لیں گے… نفل قربانی کی یہ مہم اگر
جماعتی ضروریات کے لئے کافی ہو گئی تو بہت اچھا… اگر کافی نہ ہوئی تو جماعت اپنے
بیت المال سے…اللہ تعالیٰ کی دعوت اپنے زیر کفالت خاندانوں اور افراد تک پہنچائے
گی ان شاء اللہ … آپ سب سے دعاء اور تعاون کی درخواست ہے…
رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا وَّبِالْاِسْلَامِ
دِیْنًا وَّبِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَبِیًّا
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے ’’جماعت‘‘ میں برکت رکھی ہے …اور جماعت وہی
کامیاب چلتی ہے جس میں ’’اجتماعات‘‘ ہوتے ہیں…
اجتماع کا معنیٰ
چند افراد کے کسی ایک مقصد پر جمع ہونے کو ’’اجتماع‘‘ کہتے
ہیں…افراد زیادہ ہوں یا تھوڑے ’’اجتماع‘‘ کا لفظ عام ہے…ہمارے ہاں یہ بات چل پڑی
ہے کہ صرف بڑے مجمع کو ’’اجتماع‘‘ کہا جاتاہے…ایسا بعض جماعتوں نے اپنی ترتیبات کو
منظم کرنے کے لئے کیا ہے… وہ چھوٹے مجمع کو ’’جوڑ‘‘ اور بڑے کو ’’اجتماع‘‘ کہتے
ہیں…
بہرحال درست بات یہ کہ مجمع کم ہو یا زیادہ …جب کچھ افراد کسی
ایک مقصد کے لئے جمع ہو جائیں تو وہ ’’اجتماع ‘‘ بن جاتا ہے…لوگوں کو جمع کرنے
والی کئی چیزیں ہیں…مٹی،علاقہ، وطن، قبیلہ، قوم، زبان، خوشی کی تقریبات، گناہ کی
کشش وغیرہ… مگر اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ اس کے بندے دین پر جمع ہوں…ان کا اجتماع
’’اللہ تعالیٰ‘‘ پر ہو … اللہ تعالیٰ کے لئے ہو…ایسے اجتماع میں ایمان والوں کے
لئے مضبوطی ہے، رحمت ہے، تازگی ہے، زندگی ہے اور برکت و کامیابی ہے … اسی لئے
حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں کسی
نے کہا ہے:
وَکَانَ الصَّحَابَۃُ حَرِیْصِیْنَ عَلَی الْمَجَالِسِ
الْاِیْمَانِیَّۃِ
یعنی حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین ایمانی مجالس و اجتماعات کا حرص رکھتے تھے…
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے
شاعر، خطیب اور بہادر صحابی حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ
عنہ کے بارے میں ارشاد فرمایا:
یَرْحَمُ اللّٰہُ ابْنَ رَوَاحَۃَ اِنَّہٗ یُحِبُّ
الْمَجَالِسَ الَّتِیْ تَتَبَاھَیٰ بِھَا الْمَلَائِکَۃُ۔
یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو ابن رواحہ پر… وہ ایسی مجالس کو
پسند کرتے ہیں جن مجالس پر فرشتے بھی خوشی اور فخر فرماتے ہیں…دراصل حضرت عبد اللہ
بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی عادت مبارکہ تھی کہ دوسرے صحابہ
کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ملتے تو فرماتے …آئیں! تھوڑی دیر ہم
ایمان لے آئیں… یعنی ایمان کا مذاکرہ کریں… ایمان کو تازہ کریں، ایمان کی تجدید
کریں…وہ جانتے تھے کہ دو یا زیادہ مسلمان جب ایمان کی فکر لے کر اللہ تعالیٰ کے
لئے بیٹھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کو تازگی، قوت اور قبولیت عطاء فرماتے
ہیں… ابو داؤد کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ…حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ
علیہم اجمعین کو ایمان والی مجالس کا ایسا شوق اور حرص تھا کہ جب اس
میں بیٹھتے تو آخر تک موجود رہتے…پھر یہ مجلس اور اجتماع جتنا بڑا ہو…یعنی اس میں
جتنے زیادہ افراد ہوں… اسی قدر اس کی تاثیر اور خیر بڑھ جاتی ہے…
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا:
خَیْرُ الْمَجَالِسِ اَوْسَعُھَا۔ ( ابو داؤد)
یعنی زیادہ اچھی مجلس وہ ہے جو زیادہ بڑی ہو…
اہل ایمان کے ’’اجتماع ‘‘ کی فضیلت کا اندازہ لگانا ہو تو
…جماعت کی نماز کو دیکھ لیں…بالکل وہی نماز ہے نہ اس میں کوئی اضافہ نہ کمی… مگر
اکیلا انسان ادا کرے تو ایک نماز اور اگر جماعت میں ادا کرے تو ستائیس نمازوں کے
برابر… بعض اہل علم نے ضرب لگا کر جماعت کی نماز کو اکیلی نماز پر کروڑوں گنا
زیادہ فضیلت والا قرار دیا ہے…مگر آپ صرف ستائیس کو ہی دیکھ لیں… کیا یہ معمولی
اضافہ اور برکت ہے؟ … کسی رات عشاء کے چار فرض ستائیس بار ادا کرکے دیکھیں خود
اندازہ ہو جائے گا…معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے اجتماع پر اللہ تعالیٰ کی بہت رحمت
اور بہت عنایت ہے… پس جو جماعت ’’دینی اجتماعات ‘‘ کا التزام کرتی ہے وہ عام
جماعتوں سے کم از کم ستائیس گنا زیادہ تیز ترقی کرتی ہے…
فضائل ہی فضائل
اللہ تعالیٰ کی خاطر جمع ہونا… اللہ تعالیٰ کے دین کی نسبت سے
جمع ہونا…اللہ تعالیٰ کے ذکر یعنی اس کی یاد کے لئے جمع ہونا… اللہ تعالیٰ کی کتاب
کی تلاوت اور تدریس و تعلیم کے لئے جمع ہونا… اللہ تعالیٰ سے مانگنے کے لئے جمع
ہونا… اللہ تعالیٰ سے پانے کے لئے جمع ہونا… اللہ تعالیٰ سے وفاداری کے لئے جمع
ہونا… یہ وہ اجتماعات ہیں جو ہر مسلمان کی لازمی ضرورت ہیں… ایسے اجتماعات میں
شامل ہونے کا حکم قرآن مجید میں بھی بار بار ہے… اور احادیث مبارکہ میں ایسے
اجتماعات کے اتنے فضائل ہیں کہ …اگر ان کو جمع کیا جائے تو مکمل ایک کتاب بن سکتی
ہے… اللہ تعالیٰ نے خاص ایسے سیّار فرشتے پیدا فرمائے ہیں …جو ایسے اجتماعات کو
ڈھونڈتے پھرتے ہیں … اور جب وہ ایسا اجتماع پا لیتے ہیں تو فوراً اس میں شامل ہو
جاتے ہیں… یعنی ان اجتماعات میں فرشتوں کی صحبت کا ملنا ایک یقینی نعمت ہے… یہ
فرشتے اللہ تعالیٰ کے ہاں جا کر گواہی دیتے ہیں… اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے
اجتماعات میں شریک مسلمانوں کے لئے بڑے بڑے انعامات کا اعلان کیا جاتا ہے… اور
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا اپنے فرشتوں کے درمیان فخر کے ساتھ تذکرہ فرماتے
ہیں…دراصل ان اجتماعات سے دین کو قوت ملتی ہے…اسلام کی عظمت اور شوکت کا اظہار
ہوتا ہے… قومیت، وطنیت، لسانیت اور علاقیت کے بتوں کی نفی ہوتی ہے…اور اللہ تعالیٰ
سے وفاداری کا اظہار ہوتا ہے … اسی لئے یہی اجتماعات دنیا میں جنت کے باغات ہیں…ان
اجتماعات میں شریک ہونے والے اہل سعادت ہیں… اور ان اجتماعات پر اللہ تعالیٰ کی
طرف سے سکینہ نازل ہوتا ہے… آج ہمارے دل روشنی اور خشوع سے خالی ہیں پوری مسجد
میں ایک نمازی بھی خشوع سے نماز پڑھنے والا نہیں ہوتا… حضرت عبد اللہ بن
مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
مَجَالِسُ الذِّکْرِ مَحْیَاۃٌ لِّلْعِلْمِ وَتُحْدِثُ
لِلْقُلُوْبِ خُشُوعًا
اللہ تعالیٰ کے ذکر کی مجالس علم کو زندہ کرتی ہیں اور دلوں
میں خشوع پیدا کرنے والی ہیں…
’’ذکر اللہ ‘‘کی مجالس میں وہ بھی شامل ہیں جن میں چند افراد
بیٹھ کر ’’ اللہ، اللہ ‘‘ کرتے ہیں… شرط یہ ہے کہ دل سے کریں اور جس کا نام لے رہے
ہیں اسی کی یاد میں ڈوبے رہیں… اور وہ مجالس اور اجتماعات بھی ’’ذکر اللہ ‘‘ میں
شامل ہیں جن میں… دین بیان ہوتا ہے…علم دین سیکھا اور سکھایا جاتا ہے… دینی فرائض،
دینی احکامات کی دعوت دی جاتی ہے… اور ایمان اور ایمانیات کا مذاکرہ ہوتا ہے… یاد
رکھیں! شیطان ہمیشہ اکیلے فرد کو آسانی سے شکار کر لیتا ہے…اس لئے اپنے دینی کام
اوراپنی دینی جماعت میں… ’’اجتماع‘‘ کا ماحول بنانا ضروری ہے تاکہ… ہم شیطان کا
شکار نہ بنیں…
پانچ اجتماعات
جماعت کے ہر فرد کے لئے پانچ اجتماعات کی ترتیب ہے:
١ روزانہ
کا اجتماع…
٢ ہفتہ
واری اجتماع…
٣ ماہانہ
اجتماع…
٤ شش
ماہی اجتماع…
٥ سالانہ
اجتماع…
اس میں ایک وضاحت ضروری ہے کہ… بعض افراد ’’ہفتے‘‘ کی ترتیب
کو ’’غیر اسلامی‘‘ قرار دیتے ہیں… وہ کہتے ہیں کہ ہفتہ اور ’’ویک‘‘ کی ترتیب یہود
و نصاریٰ کی ہے…وہ مختلف چیزوں کے ہفتے مناتے ہیں… مسلمانوں کو چاہیے کہ ’’عشرے‘‘
کی ترتیب بنایا کریں… یہ بات درست نہیں… ہفتے کی ترتیب خود اللہ تعالیٰ نے مقرر
فرمائی ہے کہ… دن کل سات ہی بنائے… اور مسلمانوں کا سب سے مبارک اجتماع… یعنی جمعہ
کا اجتماع بھی ہفتہ واری ہے…
باقی جہاں تک تعلق ہے کوئی خاص ہفتہ ’’ منانے‘‘ کا تو… اسلام
میں اپنی طرف سے نہ دن منانا درست ہے، نہ ہفتہ منانا اور نہ ہی عشرہ منانا … ہمارا
دین کامل اور مکمل ہے… جو دن منانے ہیں وہ بتا دئیے گئے ہیں…باقی دینی کاموں کی
ترتیب کے لئے… ایک ہفتہ کی مہم چلانا یا کم زیادہ دنوں کی…اس میں کوئی حرج نہیں …
اس میں نہ ہفتہ ضروری، نہ عشرہ ضروری …بس جتنے دن ’’اہل انتظام ‘‘ طے کر لیں…
روزانہ کا اجتماع بہت ضروری ہے… یہ اپنے گھر کے افراد کے ساتھ
ہو یا مسجد والے ساتھیوں کے ساتھ… اس کا عید کے دن بھی ناغہ نہیں کرنا چاہیے… چند
افراد کچھ وقت اللہ تعالیٰ کی یاد میں اکھٹے بیٹھیں…ذکر کریں، دین کی بات کریں …
یہ ترتیب ہماری زندگی کو ایمانی ترقی کی طرف لے جاتی ہے… اور جو اس ترتیب کو اہمیت
نہیں دیتا وہ بہت سی غلطیوں، گناہوں اور گمراہیوں میں جا گرتا ہے… یا اللہ! آپ کی
پناہ…
ہفتہ واری اجتماع: یہ ایک ’’عصابہ‘‘ یا ایک محلہ یا ایک گاؤں
یا شہر کے ساتھی باقاعدگی سے کریں … یہ اجتماع جس قدر پابندی سے ہو…جماعت اسی قدر
تیزی سے کامیابی اور ترقی کی طرف بڑھتی ہے…
ماہانہ اجتماع: یہ ایک تحصیل یا ایک ضلع کے ساتھی مستقل نظام
کے تحت کریں…یہ اجتماع جماعت کے لئے ہر طرح کی نصرت اور وسائل و اَفراد کی فراوانی
کا ذریعہ بنتا ہے…
شش ماہی اجتماع: یہ ایک ڈویژن کی سطح پر ہو… اور بہت پابندی
اور تیاری سے ہو… اس اجتماع سے جماعت کا داخلی نظم اور اس کی دعوت کو بے حد مضبوطی
ملتی ہے…
سالانہ اجتماع: یہ مرکز کی سطح پر ہو… اس اجتماع سے جماعت کو
سب سے بڑی نعمت… یعنی ’’اجتماعیت‘‘ ملتی ہے… اور وہ فرقوں اور تفرقوں سے بچی رہتی
ہے…
یہ ’’پانچ اجتماعات‘‘ کا اشاریہ ہے… جماعت کے ’’اہل بیعت‘‘
ساتھی مل بیٹھیں،فکر کریں اور ان تمام اجتماعات کی تاریخیں، ترتیبیں اور ان کے لئے
نگران مقرر کریں… اور فوری طور پر اسے نافذ کریں… سالانہ مرکزی اجتماع کی ترتیب…ان
شاء اللہ شوریٰ کے مشورہ سے مستقل طے کر دی جائے گی…
باقی چار اجتماعات کی ترتیب آپ اپنے شعبوں کے تحت طے کر لیں…
ان اجتماعات میں کیا ہو گا؟…بہت سی باتیں تو سامنے آ گئیں اور بعض اہم باتیں باقی
ہیں جو جلد کسی اور مجلس میںعرض کر دی جائیں گی، ان شاء اللہ…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہم سب کو حج بیت اللہ کا سچا شوق … اور ’’حج
مقبول‘‘ نصیب فرمائے…
آہ شوق! آہ دل ! محبوب کا گھر، مالک کا گھر …میرے رب کا
گھر، میرے رب کا گھر… یا اللہ! کب بلائیں گے؟ کب دکھائیں گے؟ کب بے تاب آنکھوں کو
نور کا شربت پلائیں گے؟
سچا قصہ لکھا ہے کہ ایک قافلہ حج کے لئے پہنچا…اس میں ایک سچی
عاشقہ تھی… ہاں سچی عاشقہ! گندی عاشقہ نہیں… مکہ مکرمہ پہنچ کر بار بار بے تابی سے
پوچھتی تھی…
اَیْنَ بَیْتُ رَبِّی؟ اَیْنَ بَیْتُ رَبِّی؟ اَرُوْنِیْ
بَیْتَ رَبِّی؟
کہاں ہے میرے رب کا گھر؟ کہاں ہے؟ دکھادو مجھے میرے محبوب کا
گھر…
قافلے والوں نے کہا بس تھوڑی دیر میں دیکھ لو گی… وہ اللہ
والی معلوم نہیں کب سے دل میں پیاس بھرے جی رہی تھی…لوگوں نے کہا وہ دیکھو! سامنے
کعبہ شریف ہے… اللہ تعالیٰ کا گھر…وہ یوں دوڑی جس طرح ماں اپنے بچھڑے ہوئے بچے کی
طرف بھی نہ دوڑ سکے…جا کر کعبہ شریف سے لپٹ گئی…پھر لپٹی رہی… کافی وقت گزرا تو
قافلے کی دوسری عورتوں نے جا کر دیکھا…وہ تو پہنچ چکی تھی… کعبہ سے لپٹ کر کعبہ کے
رب کے پاس جا چکی تھی … ہاں! وہ عشق میں جان دے کر سچے عاشقوں کے اونچے مقام پر جا
چکی تھی…
بھائیو! اور بہنو! ہم روز نماز کے آغاز میں کہتے ہیں…منہ
قبلہ شریف کی طرف…رخ کعبہ شریف کی طرف… جس کی روح زندہ ہو…وہ تڑپتی ہے کہ…کب تک
دور دور سے رخ کرتے رہیں گے… ٹھیک ہے ہم اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکتے …مگر اس کا
احسان کہ اس کے گھر کو تو دیکھ سکتے ہیں…اس گھر میں لگا ہوا ’’حجر اسود‘‘ اللہ
تعالیٰ کے دائیں ہاتھ کے قائم مقام ہے… ارے! اسے تو جا کر چوم سکتے ہیں…چلو چل
پڑتے ہیں…راستہ دور ہے تو کیا ہوا؟…پاؤں پھٹ گئے تو کیا ہوا؟… بس چلتے رہیں گے،
چلتے رہیں گے…ایک نہ ایک دن تو پہنچ ہی جائیں گے…نہ پہنچ سکے تو راستے میں جان دے
کر …جسم کو دفن کروا دیں گے … اور روح اسی طرح کعبہ شریف کی طرف بڑھتی جائے
گی…بالآخر پہنچ ہی جائے گی… ایک بزرگ کہیں جا رہے تھے، راستے میں ایک شخص کو
دیکھا کہ دونوں ٹانگوں سے معذور ہے…اور زمین پر گھسٹ گھسٹ کر تیزی سے آگے جا رہا
ہے… اس کی آنکھوں میں شوق کی چمک اور چہرے پر عشق کا جذبہ تھا…بزرگ نے پوچھا:
جناب! کہاں اتنا تیز جا رہے ہیں؟… بغیر رکے کہنے لگے… اپنے رب کے گھر جا رہا ہوں…
بزرگ نے حیرت سے کہا… اس طرح؟ وہ تو بہت دور ہے کیسے پہنچو گے…فرمایا! دس سال سے
اسی طرح گھسٹ گھسٹ کر جا رہا ہوں … کبھی تو پہنچ ہی جاؤں گا…
آہ افسوس!… ہم مسلمانوں کے دلوں سے حج کا شوق… اور کعبہ کا
اشتیاق جاتا رہا… حج بیت اللہ اسلام کا محکم اور قطعی فریضہ…ان فرائض میں سے ایک
جن پر اسلام کی بنیاد ہے… حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ
عنہ نے فرمایا…
میں سوچتا ہوں کہ تمام شہروں میں کچھ افراد بھیج دوں…وہ جا کر
دیکھیں کہ …جن لوگوں کے پاس حج کی استطاعت ہے اور انہوں نے فرض حج ادا نہیں کیا
تو…ان پر جزیہ مقرر کر دیں کیونکہ وہ مسلمان نہیں ہیں …وہ مسلمان نہیں ہیں…
حج اور جہاد
منظر آنکھوں کے سامنے آتا ہے…ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے مکہ
مکرمہ میں تھے…وہاں کے مفتی اعظم شیخ بن باز رحمۃ اللہ
علیہ نے مجاہدین اور علماء کرام کی دعوت کی…دعوت سے پہلے جلسہ تھا …
عرب میں رواج ہے کہ اہم بیانات پہلے ہوتے ہیں …سب سے پہلا بیان مہمان خصوصی کا
ہوتا ہے …ہمیں بھی کسی کے طفیل اس مبارک جلسہ میں شرکت مل گئی…چوتھا اہم بیان حضرت
شیخ مولوی جلال الدین حقانی کا تھا…افغان لہجے میں جاندار عربی بیان… فرمایا: حج
اور جہاد میں بہت مناسبت ہے… دلیل یہ کہ قرآن مجید میں حج کے فوراً بعد جہاد و
قتال کا حکم موجود ہے…بعد میں شاہ ولی اللہ قدس سرہ کی ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں
دیکھا…انہوںنے حج اور جہاد کے درمیان بہت سی مناسبات ذکر فرمائی ہیں… ویسے کوئی
بھی غور کرے تو…دونوں فریضوں کے درمیان کئی رشتے ڈھونڈ سکتا ہے… دونوںمیں سفر ہے،
ہجرت ہے…مشقت اور تکلیف ہے…خون ہے، مار دھاڑ ہے… عشق ہے،جدائی ہے، قربانی ہے… میل
کچیل ،تھکاوٹ اور پراگندہ حالی ہے… پسینہ ہے، بھاگ دوڑ ہے …جذبہ ہے، شوق ہے،
والہانہ پن ہے…مار دھاڑ کا لفظ کئی افراد کو کھٹکے گا… اللہ تعالیٰ ان کو روشنی دے
تاکہ نہ کھٹکے… عبادت وہ نہیں جسے ہم عبادت سمجھیں… عبادت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کا
حکم اور آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہو …ایک آدمی صاف سفید
پاک کپڑے پہنے…مصلیٰ پر سجدہ ریز ہے…اسے سب عبادت سمجھتے ہیں… دوسرا آدمی مٹی سے
اٹا ہوا …بھاگ بھاگ کر پتھر پھینک رہا ہے… جانور ذبح کر رہا ہے… یہ بھی چونکہ اللہ
تعالیٰ کا حکم … اس لئے یہ بڑی عبادت ہے… دشمنوں کے ناپاک خون سے کپڑے لت پت سر سے
لے کر پاؤں تک خون ہی خون…یہ بھی اللہ تعالیٰ کا حکم…اس لئے بہت عظیم عبادت ہے…
ہمارے شیخ…حضرت سیّد احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ جب جہاد کی طرف
متوجہ ہوئے تو…دل کے شوق نے آواز دی… اپنے جہادی قافلے کو سمندر کے راستے حرمین
شریفین لے چلے… دو حج کئے…پھر وہاں سے جہاد کا رخ کیا… اور ’’رَبُّ الْبَیْتِ‘‘ کے
پاس سرخرو چلے گئے… ہمارے مرشد حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ
علیہ ایک سال جہاد کی طرف دوڑتے تو دوسرے سال حج کی طرف لپکتے…روح کا
عشق ان دو حسین چیزوں کی طرف ہمیشہ بے قرار لپکتا ہے… جہاد کا محاذ…اور حرمین
شریفین…
کتنے خوش نصیب ہیں وہ مسلمان جن کو دونوں طرف سفر کی سہولت
میسر ہے… حضرت سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے بڑا اہم
نکتہ سمجھایا…وہ نکتہ پڑھ کر روح نے غم کی ہچکی لی…اور آنکھیں پانی میں ڈوبنے
لگیں…فرمایا:
’’ اللہ کے گھر کا زیادہ سے زیادہ طواف کر لو …اس سے پہلے کہ
تمہارے اور اس کے درمیان رکاوٹیں کھڑی کر دی جائیں‘‘…
ہاں! سچ فرمایا… بہت اونچی بات فرمائی … رکاوٹیں آ جاتی
ہیں…پہاڑوں سے بھی زیادہ بڑی اور رات سے بھی زیادہ تاریک…پھر آدمی نہیں جا
سکتا…نہیں جا سکتا…
جو خوش نصیب وہاں پہنچ چکے ہیں…وہ اس نکتے کی قدر
کریں…بازاروں، خریداریوں، ملاقاتوں اور فضولیات میں وقت ضائع نہ کریں… اپنے ایک
ایک لمحے کو قیمتی بنائیں…حرم شریف کی ایک نماز …کسی انسان کے چوّن سال کی نمازوں
کے برابر ہے… وہاں کا ایک ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ ایک لاکھ ’’ لا الٰہ الا اللہ‘‘ کے
برابر… اور ایک بار کا ’’سبحان اللہ‘‘ ایک لاکھ بار ’’سبحان اللہ‘‘ پڑھنے کے برابر
ہے…
بابا! پیسے سے نہیں، شوق سے
ایک اور منظر بے تابی سے دستک دے رہا ہے …ہمارا ’’جلالین‘‘ کا
سبق تھا…یہ تفسیر کی مشہور کتاب ہے…خوش نصیبی کہ حضرت کشمیری رحمۃ اللہ
علیہ کے شاگرد رشید…حضرت مولانا محمد ادریس صاحب
میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ ہمیں یہ کتاب پڑھا رہے تھے … پیرانہ
سالی کی وجہ سے نظر کمزور تھی، ان کی تشریف آوری سے پہلے ان کی تپائی پر کتاب
کھول کر رکھ دی جاتی اور ساتھ برقی لیمپ جلا دیا جاتا…اس لیمپ کا ان کو فائدہ تھا
یا نہیں…انہیں تو پوری کتاب زبانی یاد تھی مگر ہمیں فائدہ تھا کہ…ان کے چہرہ مبارک
کو مزید چمکتا دمکتا دیکھ لیتے… اس دن حج کا موضوع تھا اور وہ حج بیت اللہ کے
شیدائی… اور حرم شریف کے بے تاب عاشق تھے…ہر سال دو بار جانے کا معمول تھا…حج کا
موضوع آیا تو لیمپ کی روشنی میں ان کے چہرے پر آنسوؤں کی آبشار جاری ہو گئی
…بار بار فرماتے ’’بابا! حج پیسے سے نہیں ہوتا شوق سے ہوتا ہے…‘‘آہ! ہم آپ طلبہ
کے دلوں میں حج کا اور حرمین شریفین کا شوق نہیں دیکھ رہے… بس یہ چند آنسو اور دو
جملے دل کی دنیا ہی بدل گئے… روح کا کبوتر بے قرار ہو کر حرمین شریفین کی طرف اڑنے
لگا…ارے! یہ کیا؟ اب تک روز زبانی تو ہم یہ کہتے کہ منہ قبلہ شریف کی طرف… تو دل قبلہ
شریف کو کیوں نہیں مچلتا؟… سبق کے بعد دروازے پر حضرت استاذ سے عرض کیا: حضرت شوق
پیدا ہو گیا ہے آپ دعاء فرما دیں…بہت جلال سے فرمایا: جب شوق پیدا ہو گیا تو ضرور
جاؤ گے… طالبعلمی کا زمانہ تھا…عمر ابھی اتنی نہیں تھی کہ پاسپورٹ بن سکے…جیب میں
رقم اتنی نہیں تھی کہ اس وقت کے پاسپورٹ کی فیس دو سو دس روپے ادا ہو سکے… مگر
یقین تھا کہ بس اب جانا ہے … ایک دن عصر کے بعد تسبیحات میں تھے کہ ایک دوست نے آ
کر سلام کیا…اور فوراً کہا کہ عمرے کی تیاری کیجئے… ٹکٹ خرچہ ہمارے ذمہ… نہ کبھی
ان کو اشارہ کیا تھا اور نہ کسی اور کو…بس اسی سال اللہ تعالیٰ نے اپنا عظیم گھر
دکھا دیا…پھر یہ نسخہ بانٹنے کی کئی سال تک عادت رہی…’’بابا! حج پیسے سے نہیں شوق
سے ہوتا ہے‘‘…جس کے دل میں اتر گیا وہ فوراً پہنچ گیا…اب یہ نسخہ آپ سب کو دے رہا
ہوں… شوق وہ ہوتا ہے جو دل اور دماغ پر حاوی ہو جائے…اور انسان کی طبعی طور پر
پہلی ترجیح بن جائے… اور اس شوق کی خاطر کسی بھی چیز کو قربان کرنا…بوجھ نہ لگے ،
بلکہ اچھا لگے…
ارے! وہ گھر جو ہمارے رب کا ہے…جہاں ہمیشہ ہدایت برستی
ہے…جہاں ہر نبی تشریف لے گئے…جہاں جبرئیل امین علیہ السلام بار بار
اترے… جہاں ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن
گزرا،جوانی گزری …جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت
ملی…جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے حجر
اسود رکھا… جہاں ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے بے شمار
سجدے کئے … اور ان سجدوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت کا نشانہ
بنایا گیا… وہ گھر جو انسانیت کی ترقی ہے…جو اسلام کا مرکز ہے…وہاں کبھی حضرت
آدم علیہ السلام تشریف لائے…کبھی حضرت ابراہیم خلیل
اللہ علیہ السلام نے اس کی مزدوری فرمائی… جہاں سے
اسماعیل علیہ السلام ذبح ہونے کو روانہ ہوئے… جہاں ابو بکر
رضی اللہ عنہ نے ماریں کھائیں…جہاں عمر رضی اللہ عنہ کی شجاعت
نے تالے کھولے… جہاں عثمان رضی اللہ عنہ کی وفاؤں نے ڈیرہ ڈالا… جہاں
علی رضی اللہ عنہ نے بت گرائے … ارے! وہاں کے کس کس مقام کو بیان کروں…
وہاں کی کس کس فضیلت اور تاریخ کو عرض کروں… زمین پر تو کیا آسمانوں پر بھی کعبہ
اور زمزم جیسی بلند نعمتیں موجود نہیں ہیں… جلدی کرو بھائیو! جلدی کرو… جلدی کرو
بہنو! جلدی کرو… مکان پھر بن جائے گا…نہ بنا تو کیا ہوا… شادیوں کے خرچے پھر آ
جائیں گے نہ آئے تو کیا ہوا … حج کا فریضہ ادا کر لو… حج کا فریضہ ادا کر لو … حج
کا فریضہ ادا کر لو…
دیکھو! ہمارے آقا صلی اللہ علیہ
وسلم کیا فرما رہے ہیں:
تَعَجَّلُوا اِلَی الْحَجِّ فَاِنَّ اَحَدَکُمْ لَا یَدْرِی
مَا یَعْرِضُ لَہٗ۔ ( احمد، ابوداؤد)
’’حج کے لئے جلدی کرو، کیونکہ تم میں کوئی نہیں جانتا کہ اسے
کیا حالت پیش آ جائے۔‘‘
دوسری روایت میں فرمایا:
’’جو حج کرنا چاہے وہ جلدی کرے کیونکہ کبھی بیماری آ جاتی
ہے، مال گم ہو جاتا ہے یا کوئی رکاوٹ آ جاتی ہے‘‘ ( احمد، ابن ماجہ)
ذہن درست کریں
ہر مسلمان جانتا ہے کہ… حج بیت اللہ اسلام کے بنیادی فرائض
میں سے ایک فریضہ ہے…اور فرائض ادا کرنے کے لئے ہی ہمیں پیدا کیا گیا ہے …اللہ
تعالیٰ ہمیں جو قوت اور مال عطاء فرماتے ہیں… وہ ہماری لازمی ضروریات کے بعد اس
لئے ہوتا ہے تاکہ ہم فرائض ادا کریں… فرائض ہی جنت کی ضمانت ہیں…اور یہ ہر انسان
کی کامیابی کے لئے لازم ہیں… اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی عبادت کا محتاج نہیں ہے…جو
چیزیں ہم پر فرض کی گئی ہیں وہ ہمارے ہی فائدہ اوربقاء کے لئے ضروری ہیں… آگے ہم
نے ہمیشہ کی زندگی گزارنی ہے… جب حج فرض ہے تو ضروری ہے کہ…مسلمانوں کو اس کا شوق
ہو، اس کی قدر ہو… مگر ہمارا عمومی رویہ کیا ہے؟… جب مال آ جائے گا تو حج کا
سوچیں گے …جب شادی کر لیں گے تو حج کا سوچیں گے… جب کاروبار سیٹ ہوجائے گاتو حج کا
سوچیں گے … کوئی اور ہمیں بھیج دے گا تو ہم حج کر لیں گے… یہ فکر کیوں نہیں کرتے
کہ… ہم نے یہ فرض بھی اپنے نامۂ اعمال میں ڈالنا ہے…ہم نے یہ عظیم کام ضرور کرنا
ہے… جب یہ سوچ ہو گی تو دعاء بھی کریں گے…مال آتے ہی حج کے لئے لپکیں گے… مگر یہ
سوچ نہیں ہے…اس لئے مال آتا ہے اور اڑ جاتا ہے… یا کہیں جم جاتا ہے…
آہ! آج کتنے مسلمان حج سے محروم ہیں … حالانکہ ہمارے معاشرے
میں حج آ جائے تو ہر طرف خوشحالی کا دور دورہ ہو…اور ہم حرمین شریفین کا نور اپنے
ساتھ لئے چلتے پھریں… حج کے لئے کسی سے سوال نہ کریں…حج کے لئے کسی سے توقع نہ
رکھیں کہ وہ مجھے لے جائے گا… بس خود اپنے اندر اس کا شوق اور اہمیت لائیں …اور ’’
بیت‘‘ تک جانے کے لئے ’’رَبُّ الْبَیْت‘‘ سے ہی فریاد کریں…دیکھیں کہ ان شاء اللہ
راستے کس طرح سے کھلتے ہیں…
معذرت
آج دل میں باتیں بہت ہیں…ارادہ بھی بہت مفصل لکھنے کا
تھا…ابھی تومحبت کی سرزمین مدینہ منورہ کا تذکرہ باقی ہے…حج کے فضائل کی بہت سی
روایات بھی سامنے ہیں… اور حج کے شوق کے قصے اور مناظر بھی دل میں مچل رہے ہیں …
مگر مزید کچھ لکھنے کی ہمت نہیں رہی…وجہ شاید آپ سمجھ گئے ہوں گے… مگر ایک بات
بڑی تسلی والی ’’اہلِ دل‘‘ نے لکھی ہے…وہ فرماتے ہیں: ایک حج دل اور روح کا بھی
ہوتا ہے…دل کعبہ شریف کا طواف کرتا ہے،روح احرام باندھتی ہے … دونوں مل کر روضۂ
اقدس پر جاتے ہیں…یہ ان لوگوں کا حج ہے جن کا شوق کامل، جذبہ سچا … اور تیاری ایسی
کہ موقع ملے تو اپنا سب کچھ قربان کر کے اور بیچ باچ کے نکل پڑیں… مگر ان کو روک
لیا جاتا ہے… ہاں! وہ نہیں جا سکتے… ایسے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ …فاصلے سمیٹ
دیتے ہیں… اسلاف میں سے کئی افراد کے قصے مذکور ہیں… ان کا شوق کامل تھا مگر عذر
بہت سخت تھا…نہ جا سکے…حاجی واپس آئے تو قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے…ہم نے آپ کو
طواف کرتے دیکھا …کوئی کہتا ہم نے آپ کو عرفات میں دیکھا… کوئی کہتا روضۂ اطہر
پر آپ کو پایا… ایسے افراد کے لئے فرشتے مقرر ہوتے ہیں جو ان کی طرف سے وہاں
حاضری دیتے ہیں… یہ ایک مستقل موضوع ہے … مقصد یہ کہ کعبہ شریف ہر مومن کے دل کی
بڑی اُمنگ ہے… اللہ کرے! ہر ایمان والے کو یہ ایمانی اور پاکیزہ شوق نصیب ہو جائے…
آمین یا ارحم الراحمین
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو شیطان کے سامنے رسوا نہیں فرماتے…
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ
الْعَظِیْمِ
ایک سچا واقعہ
ایک صاحب کو اللہ تعالیٰ نے ’’قربانیوں‘‘ کا شوق نصیب فرمایا
ہے… فرائض کے بعد نفل عبادت کی کثرت یہ ’’محبت ‘‘ کی علامت ہے… ایک سال ایسا ہوا
کہ پیسے کم پڑ گئے…جتنی قربانیوں کا ارادہ تھا وہ تو بہت مشکل…اپنی واجب قربانی کے
معاملہ میں بھی تنگی آ رہی تھی…دل میں خوف آیا کہ اس سال عید کا موسم نہیں کما
سکیں گے …مگر پھر بھی عزم باندھے رہے کہ دینے والا بھی اللہ…قبول فرمانے والا بھی
اللہ…ایک دن مغرب کی نماز کے لئے مسجد میں حاضر ہوئے … امام صاحب نے ’’سورۃ
الکوثر‘‘ پڑھی… جیسے ہی ’’ وَانْحَرْ‘‘ کا لفظ آیا ان صاحب کے دل پر اُتر گیا…
﴿فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ﴾
’’پس آپ اپنے رب کے لئے نماز ادا کریں ’’وَانْحَرْ‘‘ اور
قربانی کریں‘‘
’’وَانْحَرْ‘‘ کا لفظ اصل میں اونٹ کی قربانی کے لئے آتا
ہے…ویسے ہر قربانی اس میں شامل ہے… اونٹ کی ہو یا گائے، بھینس، بکری کی… ان صاحب
کو لگا کہ …انہیں اونٹ کی قربانی کی طرف متوجہ کیا گیا ہے…نماز کے بعد ہاتھ پھیلا
دئیے کہ…یا اللہ ’’وَانْحَرْ‘‘ آپ کا حکم ہے… یہ حکم پورا کرنے کی توفیق عطاء
فرما دیجئے… اب شیطان نے قہقہے لگائے کہ…بکرے اور گائے کی رقم نہیں اور دعاء چل
رہی ہے اونٹ کی… طرح طرح کے وسوسے اور خیالات… مگر عزم اللہ تعالیٰ کے لئے تھا…جو
عزم اللہ تعالیٰ کے لئے ہوتا ہے اس کی ایک بڑی علامت یہ ہے کہ…بندہ اس کی توفیق
صرف اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے… ایسا نہیں کہ حج کا شوق ہوا تو اب ہر کسی کے سامنے
آہیں بھرتے رہیں… تاکہ کوئی بھیج دے… قربانی کا شوق ہوا تو ہر کسی کو بتاتے پھریں
تاکہ کوئی کرا دے …یہ شوق نہیں ہوتا، شوق فروشی ہوتی ہے… اللہ تعالیٰ ہم سب کی
حفاظت فرمائے…
اب ہر سال کی قربانیوں کے ساتھ…اونٹ بھی جوڑ لیا… اللہ تعالیٰ
کی رحمت متوجہ ہوئی … سارا انتظام فرما دیا…تمام قربانیاں بھی ہو گئیں اور اونٹ
بھی قربان ہوا… بے شک اللہ تعالیٰ کے خزانے بے شمار ہیں… اور اللہ تعالیٰ اپنے
بندوں کو شیطان کے سامنے رسوا نہیں فرماتے…
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ
الْعَظِیْمِ
نفل قربانی
ایک سے زائد جو قربانی کی جاتی ہے… وہ نفل قربانی ہے… اور نفل
سے اللہ تعالیٰ کی قریبی محبت نصیب ہوتی ہے…نفل قربانی کا عمل خود حضرت آقا مدنی
صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع فرمایا…آپ ہمیشہ دو مینڈھے سینگوں والے
ذبح فرماتے تھے …حج کے موقع پر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سو
اونٹ قربان فرمائے…
حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ
عنہ … ہمیشہ دو دنبے ذبح فرماتے… ایک حضرت آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم کی طرف سے اور ایک اپنی طرف سے …کیا ہی اچھا ہو کہ مسلمانوں
میں بھی اس کا ذوق پیدا ہو… اس سال کوشش کریں کہ ایک بکرا، یا ایک حصہ… حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اللہ تعالیٰ کے حضور قربان کریں…
ایک منحوس ٹچ فون کی قیمت میں…یہ بابرکت کام ہو سکتا ہے… ہماری جماعت اس سال نفل
قربانی جمع کر رہی ہے … حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے
جو قربانی کریں… وہ جماعت میں دے دیں… معلوم نہیں کہاں کہاں تک وہ پہنچے گی…حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی،جیشِ محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کے ذریعہ… اُمتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص اَفراد تک…
مقامِ محبت
یہ ایک حدیث قدسی ہے… اسے ’’حدیثِ الٰہی‘‘ بھی کہتے ہیں… یعنی
اللہ تعالیٰ کی بات… اللہ تعالیٰ کا فرمان… یہ وہ حدیث ہوتی ہے جو حضور اقدس صلی
اللہ علیہ وسلم …اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی طرف نسبت کے ساتھ بیان
فرماتے ہیں…حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا… اللہ تعالیٰ
ارشاد فرماتے ہیں:
مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًا فَقَدْ آذَنْتُہٗ بِالْحَرْبِ
جو میرے کسی ولی کے ساتھ دشمنی کرتا ہے… تو میں اس کے ساتھ
دشمنی کا اعلان کرتا ہوں… یعنی جو اللہ تعالیٰ کے کسی ولی …یا اولیاء سے بغض رکھے،
انہیں ستائے تو ایسے بد نصیب انسان کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اِعلان جنگ ہے…
وَمَا تَقَرَّبَ اِلَیَّ عَبْدِیْ بِشَیْئٍ اَحَبُّ اِلَیَّ
مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَیْہِ
میرا بندہ جن چیزوں کے ذریعہ میرا قرب حاصل کرتا ہے… ان چیزوں
میں میرے نزدیک سب سے محبوب ’’فرائض ‘‘ ہیں…یعنی اللہ تعالیٰ کے قرب کا سب سے اہم
ذریعہ… فرائض کی پابندی اور فرائض کا اہتمام ہے… اور فرائض کے برابر اور کوئی عمل
نہیں ہو سکتا…
وَمَا یَزَالُ عَبْدِیْ یَتَقَرَّبُ اِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ
حَتّٰی اُحِبَّہٗ
اور میرا بندہ نفل عبادت کے ذریعہ برابر میرا قرب حاصل کرتا
رہتا ہے…یہاں تک کہ میں اس سے محبت فرمانے لگتا ہوں…یعنی فرائض کے بعد میرے مخلص
بندے مجھے راضی کرنے کے لئے … اور میرا قرب پانے کے لئے مستقل نوافل میں لگے رہتے
ہیں…نفل نماز، نفل صدقہ، نفل قربانی، نفل حج، عمرہ وغیرہ یہاں تک کہ وہ میرے محبوب
بن جاتے ہیں…سبحان اللہ! عجیب الفاظ ہیں… پڑھتے جائیں تو دل پر وجد طاری ہو جاتا
ہے… اللہ تعالیٰ کی محبت مل جائے تو انسان کو اور کیا چاہیے…
آگے ارشاد فرمایا:
فِاِذَا اَحْبَبْتُہٗ کُنْتُ سَمْعَہُ الَّذِیْ یَسْمَعُ
بِہٖ، وَبَصَرَہُ الَّذِیْ یَبْصُرُ بِہٖ، وَیَدَہُ الَّتِی یَبْطِشُ بِھَا،
وَرِجْلَہُ الَّذِیْ یَمْشِیْ بِھَا
جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو اس کے کان، آنکھیں، ہاتھ اور
پاؤں میری خاص نگرانی اور رہنمائی میں آ جاتے ہیں…یعنی اس کے لئے خیر کے بے شمار
دروازے کھل جاتے ہیں…اس کا سننا، دیکھنا، پکڑنا اور چلنا سب کچھ عبادت بن جاتا ہے
…اور اس کے جسم کے اعضاء گناہوں سے محفوظ ہو جاتے ہیں…
آگے ارشاد فرمایا:
وَاِنْ سَأَلَنِیْ لَأُعْطِیَنَّہٗ
وہ اگر مجھ سے کچھ مانگے تو میں ضرور عطا فرماتا ہوں…
وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِیْ لَأُعِیْذَنَّہٗ
اور اگر کسی چیز سے میری پناہ مانگے تو میں اسے اس چیز سے
ضرور بچا لیتا ہوں۔ ( صحیح بخاری)
اندازہ لگائیں کہ فرائض پورے کرنے کے بعد نفل عبادت کا کیا
مقام ہے…اسی کو ہم ’’مقامِ محبت‘‘ سے تعبیر کر رہے ہیں…زمانے میں جو بھی بڑے اور
کامیاب لوگ گزرے انہوں نے اسی مقامِ محبت سے بلندی حاصل کی… فرض نمازیں تو سب
روزانہ پانچ ہی ادا کر سکتے ہیں… کسی کو چھ کی اجازت نہیں… مگر جنہوں نے نفل عبادت
کو اپنایا وہ…مقامِ محبت تک جا پہنچے… عام حالات میں دیکھ لیجئے… جو ملازم اپنی
اصل ملازمت سے زیادہ… پانچ دس منٹ بھی محنت کرتا ہو تو مالک کی آنکھ کا تارا بن
جاتا ہے… جو دکاندار پانچ دس روپے کی معمولی رعایت دیتا ہو…اس کے ہاں گاہکوں کی
بھیڑ لگ جاتی ہے…
اپنی اصل ذمہ داری سے زائد محنت انسان کو مقبول، محبوب اور
قیمتی بنا دیتی ہے…
فرائض ہماری اصل ذمہ داری ہیں… اس کو پورا کرنے کے بعد …نفل
کے ذریعہ مقامات کا حصول ہے…اور یہ نفل قیامت کے دن بڑے کام آئیں گے…جب اللہ
جَلَّ شانُہ فرشتوں سے فرمائیں گے:
میرے بندے کے اعمال دیکھو! کیا ان میں نفل عبادت ہے؟ … اگر
نفل عبادت ہو گی تو اس سے فرائض کی کمی کوتاہی کا ازالہ کیا جائے گا…
ذوالحجہ کا مہینہ شاندار ہے… عشرہ ذی الحجہ کے مقبول اعمال کا
موسم ہے… اور نفل قربانی عام صدقے سے بھی افضل ہے… مال آتا جاتا رہتا ہے… کیا
معلوم دوبارہ یہ دن نصیب ہوں یا نہ … سب سے پہلے اپنی واجب قربانی بہت شوق، خوشی
اور اِخلاص سے ادا کریں…اورپھر ایک،دویا زیادہ نفل قربانیوں کے ذریعہ ’’مقامِ
محبت‘‘ حاصل کریں… دل میں ذوق اور جذبہ ہو گا تو اسباب خود مہیا ہو جائیں گے ، ان
شاء اللہ
مبارک کڑیاں
نفل اعمال میں سب سے افضل عمل ’’صدقہ‘‘ ہے… اور سب سے افضل
صدقہ ’’کھانا کھلانا‘‘ ہے… اور کھانے میں سب سے افضل گوشت اور اس کا شوربہ ہے…
کبھی ہمت ہو تو ایک دنبے کے بال شمار کریں… چلیں پورا دنبہ نہیں صرف اس
کے سر کے بال شمار کر لیں… قربانی میں ہر ایک بال کے بدلے ایک نیکی ملتی ہے… ضروری
اعمال میں سب سے افضل عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے… اب یہ نفل قربانی اگر ’’جہادِ فی
سبیل اللہ‘‘ میں لگ جائے گی تو اندازہ لگائیں… آپ نے کتنی عظیم فضیلتوں کو پا
لیا…
جہادِ فی سبیل اللہ کا عظیم فریضہ …مختلف کڑیوں سے جڑتا ہے…
اور ان میں سے ہر کڑی مبارک ہے… اور بعض اَوقات اَفراد کے اِخلاص کی وجہ سے…کوئی
کڑی زیادہ مقبولیت کے خاص مقام پر ہوتی ہے… سب سے پہلے دعوت کی کڑی ہے… کچھ
اَفراد… دوسرے مسلمانوں کو جہاد کی دعوت دیتے ہیں… اب دوسری کڑی تعلیم و تربیت کی
ہے… ایک مسلمان جماعت اور جہاد سے متعارف ہو کر آ گیا…اب اس کو جہاد سے جوڑنا ہے،
اسے جہاد سکھانا اور سمجھانا ہے…دورہ تربیہ، اساسیہ اور تفسیر… اب اگلی کڑی ریاضت
اور تربیت کی ہے… اس اللہ کے بندے کو یہ تربیت دینی ہے کہ اس نے کس طرح سے لڑنا
ہے… اب اگلی کڑی رباط کی ہے… اس بندے کو محاذ تک پہنچانا ہے… اور اب آخری کڑی…
خود محاذ کی ہے کہ…اس بندے کو اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے سامنے لا کھڑا کرنا ہے…ہر
کڑی بہت ضروری … اور ہر کام بہت مبارک ہے…
بعض اوقات پچھلی کڑیوں والے آگے کی کڑیوں سے زیادہ مقرب بن
جاتے ہیں…بات اِخلاص اور اِطاعت امیر کے ساتھ جڑی ہوئی ہے … جماعت کے بیت المال کی
’’ نہر‘‘ ان سب کڑیوں کو سیراب کرتی ہے… انہیں چلاتی ہے … اب جس خوش نصیب نے اپنے
پانی کی بالٹی اس نہر میں ڈال دی…اسے سب کڑیوں میں شرکت کا اجر وثواب مل گیا… اور
اگر اس کا اِخلاص کامل ہے تو اس کا پانی… وہاں پہنچے گا جہاں قبولیت اُس وقت سب سے
بڑھ کر ہو گی… نفل قربانی کے ذریعہ…اس بابرکت نہر میں اپنا حصہ ڈالیں … اور قربانی
کی کھالوں کے ذریعہ بھی اس مبارک سلسلے کو مضبوط کریں…ان شاء اللہ بہت کام آئے گا
… بہت کام، ان شاء اللہ…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ خالق ہے، مالک ہے، قادر ہے… باقی ہر چیز خواہ وہ
کتنی افضل کیوں نہ ہو… اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے، مملوک ہے… کعبہ شریف بھی مخلوق،
حجر اسود شریف بھی مخلوق، حرم شریف بھی مخلوق … اور تمام حضرات انبیاء علیہم
السلام بھی اللہ تعالیٰ کے بندے اور مخلوق… اور حضرت جبرئیل، میکائیل،
اسرافیل، عزرائیل علیہم السلام جیسے عظیم ملائک بھی … اللہ
تعالیٰ کے بندے اور مخلوق…
حادثہ ہو گیا
کعبہ شریف میں بھی حادثہ ہو سکتا ہے… ماضی میں وہاں حادثات
ہوتے رہے ہیں… اس سال بھی وہاں ایک حادثہ ہو گیا… اسلام نے جھوٹے مذاہب کی طرح
کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ اس کے مقدس مقامات ہر طرح کے حوادث سے محفوظ ہیں…نہیں،
بلکہ… مقدس ترین مقامات پر بھی اللہ تعالیٰ کا حکم اور قانون چلتا ہے… وہاںسردی
بھی آتی ہے اور گرمی بھی… بارش بھی برستی ہے اور سیلاب بھی آ سکتے ہیں… وہاں
رحمت تو ہر لمحہ برستی ہے مگر کبھی کبھار اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ اور قہر کے
تھپیڑے بھی پڑ سکتے ہیں… کعبہ شریف کے گرد طواف سے جہاں روزانہ لاکھوں افراد رحمت،
نور اور ہدایت پاتے ہیں… وہیں بعض افراد کو وہاں بلا کر سخت سزا بھی دی جاتی ہے…
پھر بعض لوگوں کو سزا دے کر پاک کر دیا جاتا ہے… اور بعض بد نصیبوں کے دلوں پر
شقاوت اور بد بختی کی حتمی مہر لگا دی جاتی ہے… وہاں کے حادثات بعض افراد کے لئے
رحمت ہوتے ہیں ، بعض کے لئے عذاب اور بعض کے لئے تنبیہ اور سبق… اس بارے میں بڑے
عجیب واقعات ماضی میں سامنے آئے…وہ سب سے بڑی جگہ ہے وہاں جو پا گیا اب وہ محروم
نہیں ہو سکتا… اور وہاں جو محروم رہ گیا وہ کسی اور جگہ پا نہیں سکتا… سوائے یہ کہ
اللہ تعالیٰ کی مغفرت پھر ڈھانپ لے… ایک اللہ والے بزرگ طواف کر رہے تھے ،شیطان نے
حملہ کیا اور طواف کے دوران بد نظری کر بیٹھے… کعبہ شریف سے ایک ہاتھ بلند ہوا اور
ان کے چہرے پر ایسا تھپڑ لگا کہ ایک آنکھ ضائع ہو گئی… آنکھ ضائع ہو گئی مگر
ایمان بچ گیا… وہ اس تنبیہ اور معذوری پر ساری زندگی اللہ تعالیٰ کے شکر گزار رہے
کہ… دائمی اور سچی توبہ نصیب ہوئی…اور گناہ کی سزا نقد ختم ہو گئی… تنبیہ نہ ہوتی
اور طواف کے دوران یہ گناہ چلتا رہتا تو سوچیں کہ کیا بنتا؟… جس گناہ کا گواہ کعبہ
شریف ہو ، حجر اسود ہو، رکن یمانی ہو، مقام ابراہیم ہو… مطاف ہو… ملتزم ہو… اس
گناہ کو کوئی لے کر مرا تو کس قدر خسارے کی بات ہے؟… مگر وہ صاحب اللہ تعالیٰ کے
پیارے تھے اس لئے تنبیہ فرما دی گئی… بہت سے لوگ کعبہ شریف کے گرد اس گناہ سے
زیادہ بڑے گناہ کرتے رہتے ہیں… ان کو تنبیہ نہیں کی جاتی… ہاں! بد نصیب ہمیشہ
تنبیہ سے محروم رہ کر بڑی سزا کے مستحق بن جاتے ہیں… یا اللہ ! آپ کی پناہ…
جو لوگ اس حادثے میں… بحالت ایمان شہید ہوئے ان کو سلام…
انہیں سفر حج کی موت ملی جو کہ قیامت تک کا حج ہے… ان کو مطاف کی موت ملی…جہاں سے
جنت بہت قریب ہے… ان کو جمعہ کا دن ملا… جو عذابِ قبر سے نجات کی ضمانت ہے… اور ان
کو حادثاتی موت ملی جو کہ لاریب شہادت ہے… اب وہ پکے حاجی بن گئے … بغیر ویزے،
پاسپورٹ اور ٹکٹ کے ہر سال کا حج… ان کو مبارک اور ان کے اہل خانہ سے قلبی تعزیت…
ایک مفروضہ
اتفاق کی بات ہے کہ حادثے کے دن کی تاریخ… گیارہ ستمبر بنتی
ہے…یعنی’’ نائن الیون‘‘ … ممکن ہے کہ بعض لوگ اس میں سازش کا پہلو ڈھونڈ یں کہ…
امریکہ نے یہ حادثہ کرا کے مسلمانوں سے انتقام لیا ہے… آج کل کی مہلک سائنس میں
مصنوعی بارش، مصنوعی طوفان … اور مصنوعی زلزلوں کا تذکرہ بھی کچھ عرصہ سے چل رہا
ہے… مگر بظاہر اس میں کوئی سازش نظر نہیں آتی … حرم شریف میں درجنوں بار سیلاب آ
چکا ہے … تاریخ کی کتابوں میں ستر سیلابوںکی تفصیلات موجود ہیں…بعض سیلاب تو ایسے
بھی آئے کہ پورا مطاف پانی میں ڈوب گیا اور کئی افراد نے تیر کر طواف کیا… کعبہ
شریف پر دشمنوں کے حملوں کی بھی ایک تاریخ موجود ہے… حضور اقدس صلی
اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے کچھ پہلے ابرہہ حبشی نے حملہ کیا…اس حملے
اور حملہ آوروں کے انجام کا تذکرہ قرآن مجید میں موجود ہے… ابرہہ سے پہلے بھی
ایک یمنی بادشاہ ’’ازماع‘‘ نے کعبہ شریف پر حملہ کیا تھا… اسلام کے بعد ۶۳ھ میں
حصین بن عمیر نے اور پھر حجاج نے حملہ کیا… ۳۱۷ھ میں قرامطہ نے حملہ کیا
…یہ فاطمی بھی کہلاتے تھے انہوں نے حجر اسود پر بھی قبضہ کیے رکھا…
ان تمام حملوں میں…اللہ تعالیٰ نے ابتدائی آزمائش کے بعد اہل
ایمان کو بڑی عظیم خیریں اور فتوحات عطاء فرمائیں اور اللہ تعالیٰ کے عظیم گھر کا…
فیض آج بھی پورے عالم میں جاری و ساری ہے… اس بار کا حادثہ اگر کسی کا حملہ ہے تو
ان شاء اللہ…حملہ آور چالیس دن یا چار ماہ کے عرصہ میں اس کی عبرتناک سزا بھگت
لیں گے… مسلمانوں کا یہ کام نہیں کہ وہ …کافروں کی طاقت کے تذکرے کر کے… اور ان کی
سازشوں کے فرضی قصے بنا کر مسلمانوں کو مرعوب کرتے رہیں… کافروں کی قوت اور شوکت
کا جواب جہادِ فی سبیل اللہ ہے… جہادِ فی سبیل اللہ کے سامنے نہ کوئی کفریہ طاقت
ٹھہر سکتی ہے اور نہ اس کا کوئی اسلحہ اور ٹیکنالوجی… حجاج کرام اللہ تعالیٰ کے
مہمان ہیں… بہت سے لوگ وہاں جا کر غافل ہو جاتے ہیں… کئی بازاروں میں پھنس جاتے
ہیں… کئی گناہوں میں غرق ہونے لگتے ہیں… اور کئی اپنے وقت کو ضائع کرنے والے بن جاتے
ہیں… ایسے لوگوں کے لئے اس طرح کے حوادث تنبیہ اور سبق کا کام کرتے ہیں … اس طرح
کے حوادث مسلمانوں کا عقیدہ مضبوط بناتے ہیں… اس طرح کے حوادث سے وہاں کی حکومت
اور انتظامیہ کو بھی اپنی بہت سی غلطیوں کا احساس ہوتا ہے… اور وہ غلط اور مضر
تعمیرات سے بچ جاتے ہیں… بہرحال کعبہ شریف مرکزِ ہدایت ہے… وہ چادریں چڑھانے یا
دنیا کی ہر جائز و ناجائز حاجتیں پوری کرنے والا دربار نہیں ہے… وہاں جانا اسلام
کے فرائض میں سے ہے… موت برحق ہے… یہ ایمان والوں کے لئے ایک بڑی نعمت اور پل ہے…
اور موت کسی بھی جگہ آسکتی ہے… اگر کسی کو کعبہ شریف کے پاس ایمان کی حالت میں
موت ملے تو اسے اور کیا چاہیے… عقیدہ درست رکھیں…اور اپنے دل میں کعبہ شریف کی
محبت بڑھاتے جائیں…
ماحول بن رہا ہے
ہمارے ہاں آج انتیس ذی القعدہ ہے… جبکہ حرمین شریفین میں آج
’’ذو القعدہ ‘‘ کی تیس تاریخ ہے… یعنی دنیا میں…کل اور پرسوں اس دنیا کے سب سے
افضل ایام شروع ہونے والے ہیں… جی ہاں! ذوالحجہ کے پہلے دس دن…ہم نے اپنے بچپن اور
اوائل جوانی میں دیکھا کہ ہمارے ماحول میں… ’’عشرہ ذی الحجہ‘‘ کے بارے کوئی سرگرمی
نظر نہیں آتی تھی… نہ روزے، نہ عبادات…نہ فضائل کامذاکرہ…اور نہ ذکراللہ کی کثرت…
مدارس میں عید الاضحیٰ کے موقع پر چھٹیاں ہوتی ہیں تو… اساتذہ
اور طلبہ گھر جانے، ٹرین کا ٹکٹ کرانے…اور سفر کی تیاری میں لگے رہتے ہیں … علماء
اور طلبہ جب تعطیل پر ہوں تو ’’عشرہ ذی الحجہ‘‘ کے فضائل امت کو کون سنائے… الحمد
للہ قربانی کا عمل نیک لوگ اہتمام سے کرتے تھے اور کر رہے ہیں… اور عرفہ کے دن کا
روزہ بھی عبادت گذار لوگ رکھ لیتے تھے…اور بس…
حالانکہ عشرہ ذی الحجہ کے فضائل جو قرآن و حدیث میں آئے
ہیں…ان کا اگر ٹھیک ٹھیک مذاکرہ ہو جائے تو… ماحول کا رنگ ہی بدل جائے … یہ انسانی
زندگی کے قیمتی ترین دن ہیں… حجاج کرام کے لئے بھی اور غیر حجاج کے لئے بھی … حتیٰ
کہ کئی ائمہ کرام رحمہم اللہ نے ان دس دنوں کو رمضان المبارک کے آخری
دس دنوں سے بھی افضل قرار دیا ہے… خیر وہ ایک علمی بحث ہے…
مگر ان ایام کی فضیلت کا کسی کو انکار نہیں… اور ان ایام میں
ہر نیک عمل کی قدر و قیمت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے…اور ان دنوں کی عبادت اس جہاد سے
بھی افضل ہے جس میں مجاہد کی جان قربان نہ ہوئی ہو…یہ وہ دن ہیں جن کی راتوں کی
قسم اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کھائی ہے… اور ان دنوں میں خاص طور سے ذکر کا
حکم قرآن مجید میں فرمایا ہے … یہ وہ دن ہیں جن میں اسلام کے محکم فرائض میں سے
ایک فریضہ…’’حج بیت اللہ‘‘ ادا ہوتا ہے…اور وہ ان دنوں کے علاوہ کبھی ادا نہیں ہو
سکتا … ان دس دنوں میں ’’عرفہ‘‘ کا دن ہے جس دن سب سے زیادہ افراد کو جہنم سے نجات
دی جاتی ہے… ان دس دنوں میں ’’یوم النحر‘‘ یعنی عید کا دن ہے …جو اللہ تعالیٰ کے
نزدیک سب سے بڑا اور سب سے عظیم دن ہے…
اللہ تعالیٰ نے ان دنوں کو ’’ایام معلومات‘‘ کا بڑا لقب عطاء
فرمایا ہے…اور ان دنوں اللہ تعالیٰ کا فضل اپنے بندوں پر بہت زیادہ متوجہ ہوتا ہے…
ان دنوں کی فضیلت میں اتنی صحیح احادیث وارد ہوئی ہیں کہ…اگر ان کو جمع کیا جائے
تو ایک رسالہ بن سکتا ہے…
الحمد للہ ان فضائل اور احادیث کے مذاکرہ سے اب ماحول میں…کچھ
تبدیلی نظر آ رہی ہے … ماشاء اللہ بہت سے لوگ پورے نو دن کے روزے رکھتے ہیں…
تکبیرات کا والہانہ اہتمام ہوتا ہے… کئی افراد ان دنوں کو پانے کے لئے محاذوں کا
رخ کرتے ہیں…حج بیت اللہ کا شوق بھی الحمد للہ بڑھ رہا ہے… اور اس مبارک عشرے کو
کمانے والے مسلمانوں کی تعداد میں الحمد للہ روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے…
عشرہ ذی الحجہ کا مختصر نصاب
جو مسلمان حج بیت اللہ پر نہیں گئے… ان کے لئے اس مبارک عشرے
کو پانے اور کمانے کا ایک آسان سا نصاب عرض کیا جا رہا ہے…اللہ تعالیٰ میرے لئے
اور آپ سب کے لئے یہ نصاب آسان فرمائے… اور اسے اپنے فضل سے قبول فرمائے…
١ قربانی
بہت ذوق و شوق اور اہتمام سے کریں…استطاعت ہو تو واجب کے ساتھ نفل قربانی بھی
کریں…
٢ یکم
ذی الحجہ تا ۹ ذی
الحجہ…تمام نو دن یا کم از کم آخری تین دن روزے کا اہتمام کریں…
٣ تہلیل
یعنی ’’لا الہ الا اللہ‘‘، تکبیر اور تحمید کی کثرت کریں… آسان طریقہ یہ ہے کہ ہر
دن اور ہر رات تین تین سو بار تیسرا کلمہ ان تمام دنوں میں پڑھ لیں… ان شاء اللہ
ایسا فائدہ ہو گا جو بیان سے باہر ہے… ساتھ اپنا بارہ سو بار کلمہ کا معمول جاری
رہے…ان دنوں کا اصل تحفہ ’’تکبیر‘‘ ہے… اس کی بہت کثرت…
اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ لَا اِلٰہَ اِلَّا
اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلہِ الْحَمْدُ
٤ تلاوت
میں کچھ اضافہ کر دیں… اور یہ اضافہ عید کے دن بھی جاری رہے… مثلاً آدھے پارہ
والے ایک پارے پر… اور ایک پارے والے دو پارے پر چلے جائیں…
٥ روزانہ
جہاد فنڈ دیں… خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہو… روز جمع کرانے کی سہولت ہو تو جماعت کے
بیت المال میں جمع کراتے جائیں … اگر یہ سہولت نہ ہو تو لفافہ بنا کر روز اس میں
ڈالتے جائیں، جب موقع ملے جمع کرا دیں…
٦ جہاد
کی محنت، جہاد کی دعوت، نفل قربانی اور کھالوں کی محنت میں اخلاص کے ساتھ وقت
لگائیں…
٧ سحری
پابندی سے کھائیں، یہ بڑا برکت والا کھانا ہے… اور جب سحری کو جاگیں تو تہجد کا
مزا بھی لوٹ لیں…
٨ والدین
اور اہل و عیال کا خرچہ ان دنوں حسب استطاعت بڑھا دیں اور گھر میں عشرہ ذی الحجہ
کے فضائل کا مذاکرہ کرتے رہیں…اسی طرح صلہ رحمی،کھانا کھلانا اور صدقہ خیرات کی
کثرت…
٩ جنہوں
نے قربانی کرنی ہو وہ ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد… اپنے ناخن، بال وغیرہ نہ
کاٹیں جب تک کہ قربانی ذبح نہ ہو جائے…
١٠ ان
تمام دنوں میں تکبیر اولیٰ کے ساتھ نماز کا زیادہ التزام کریں…عید الاضحیٰ کی تیرہ
سنتیں یاد کر کے ان کو عمل میں لائیں… اور دوسرے مسلمانوں کو بھی عشرہ ذی الحجہ کے
اعمال کی طرف متوجہ کرتے رہیں…
وَمَا تَوْفِیْقِیْ اِلَّا بِاللّٰہِ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ
وَاِلَیْہِ اُنِیْبُ
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ’’الکوثر‘‘ … میں سے حصہ عطا فرمائے…
الکوثر کیا ہے
یہ بات تو ہر مسلمان جانتا ہے کہ قرآن مجید میں ایک سورۂ
مبارکہ کا نام ’’سورۃ الکوثر‘‘ ہے… حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ لکھتے
ہیں:
’’یہ سورۃ مکی ہے اور اس میں تین آیتیں، بارہ کلمے اور
بیالیس حرف ہیں …اس سورۃ کے نازل ہونے کا سبب یہ تھا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کے حضرت خدیجہ رضی اللہ
عنہا سے دو صاحبزادے تھے…قاسم اور عبد اللہ… لقب ان کا طیب اور
طاہر تھا… یہ دونوں صاحبزادے بچپن میں وفات پا گئے… تب کفار نے طعنہ دیا کہ یہ
پیغمبر ’’ابتر‘‘ ہے یعنی اس کی نسل ختم ہو گئی… ان کے بعد ان کے دین کو قائم اور
برپا رکھنے والا کوئی نہیں ہو گا… اور ان کا دین اور نام مٹ جائے گا۔‘‘ ( تفسیر
عزیزی)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ نازل فرمائی…﴿اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ
الْکَوْثَرَ﴾ … اے نبی! ہم نے آپ کو اتنی زیادہ، اتنی وسیع اور اتنی بڑی خیریں
عطا فرما دی ہیں…جو خیریں کبھی ختم نہ ہوں گی… اور یہ تمام خیریں آپ کے دین اور
آپ کے نام کے ساتھ جڑی رہیں گی… اگر نرینہ اولاد نہیں تو کیا ہوا؟ … کبھی اولاد
بہت ہوتی ہے مگر وہ نہ تو انسان کے نام کو زندہ رکھتی ہے اور نہ اس کے کام کو…
اللہ تعالیٰ نے آپ کو بیٹوں کی نسل نہیں دی…مگر آپ کو ’’الکوثر ‘‘ دی ہے… الکوثر
کے معنٰی ’’بہت زیادہ خیر‘‘ … خیر کثیر… اور ’’الکوثر‘‘ کا معنٰی وہ حوض کوثر جس
کے قیامت کے دن سب نبی اور سب امتی محتاج ہوں گے…اس حوض کا پانی دودھ سے سفید، شہد
سے میٹھا اور برف سے ٹھنڈا ہو گا… اور آپ صلی اللہ علیہ
وسلم اس حوض کے مالک و مختار ہوں گے…اور ’’الکوثر‘‘ کا معنی بہت علم…
اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اُمت کو
وہ علوم عطا فرمائے جو پہلے کسی کو نہیں دئیے گئے …اور ’’الکوثر‘‘ کا معنٰی قرآن
مجید اور اس کا علم… قرآن مجید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو
اور آپ کی امت کو عطا ہوا اور اس کا علم بھی… یہ ایسی بڑی خیر ہے کہ جو اگر کسی
کو مل جائے تو اسے کسی اور چیز کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی… اور’’ الکوثر‘‘ کا
معنیٰ …پانچ وقت کی نماز… سبحان اللہ! نماز میں جو نور مومن کے دل پر اُترتا ہے…
وہ دودھ سے زیادہ سفید ہے… اور نماز میں مومن کو اللہ تعالیٰ سے مناجات کی جو لذت
ملتی ہے وہ شہد سے میٹھی ہے… اور نماز میں ایمان والوں کو جو سکون ملتا ہے وہ برف
سے زیادہ تسکین آور اور ٹھنڈا ہے… اور ’’الکوثر‘‘ کا معنٰی …کلمہ طیبہ ’’لا الٰہ
الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ … یہ بہت عظیم اور سب سے بڑی خیر ہے… جس کے پاس یہ خیر
ہے وہ کامیاب ہے، وہی برقرار ہے…اور جو اس خیر سے محروم ہے وہ ابتر ہے،بدتر ہے ،
محروم ہے، بے نسل ہے اور ناکام ہے…
اور’’ الکوثر‘‘ کا معنٰی…بہت زیادہ اولاد… حقیقی اولاد بھی
اور مجازی اولاد بھی… دو بیٹے وفات پا گئے مگر بیٹی سے اللہ تعالیٰ نے ایسی پاکیزہ
اولاد کو کھڑاکر دیا جو… لاکھوں کی تعداد میں پھیل گئی…اور روحانی اور مجازی اولاد
تو… ماشاء اللہ اتنی کثیر کہ… نہ کسی اورکو ملی اور نہ کسی اور کو مل سکتی ہے…
اللہ تعالیٰ نے ہمارے آقا صلی اللہ علیہ
وسلم کو ’’الکوثر‘‘ یعنی بہت بڑی خیر عطا فرمائی… آپ صلی
اللہ علیہ وسلم کا دین مبارک آپ کے بعد زندہ رہا اور زندہ ہے…اور
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک بھی… اللہ تعالیٰ کے
نام کے بعد سب سے محبوب، مقبول اور اونچا نام ہے …حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ
علیہ لکھتے ہیں:
’’اس آیت میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ…آپ صلی
اللہ علیہ وسلم کی نسل ظاہری اور باطنی قیامت تک رہے گی…
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے لوگ ممبروں اور مناروں
پر چڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام، اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ
پکارا کریں گے اور پانچوں وقت کی نماز میں… اور اس کے علاوہ بھی
آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجا کریں گے اور
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں جانبازیاں کریں گے… اور
ہزاروں عاشق آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتے ہوئے ہر
سال آپ کے روضہ مبارک کی زیارت کو دوڑیں گے… پس ذکر خیر آپ کا جاری رہے گا اور
آپ کا دشمن ایسا گمنام ہو گا کہ…کوئی نام بھی اس کا نہ لے گا مگر لعنت اور پھٹکار
کے ساتھ ۔‘‘
(مفہوم تفسیر عزیزی)
خلاصہ یاد کر لیں…الکوثر کا مطلب
١ حوض
کوثر،نہر کوثر…
٢ کلمہ
طیبہ: لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ…
٣ قرآن
مجید اور اس کا علم…
٤ پانچ
وقت کی نماز…
٥ کثرت
علم…
٦ کثرت
اولاد … حقیقی اور مجازی …
٧ خیر
کثیر…
ہم نے آج کی مجلس کا آغاز اسی دعاء سے کیا کہ… اللہ تعالیٰ
ہمیں ’’الکوثر‘‘ میں سے حصہ عطاء فرمائے دنیا میں بھی… اور آخرت میں بھی… آمین
یا ارحم الراحمین
ویسے حضرت امام قرطبیؒ نے اپنی تفسیر میں ’’الکوثر‘‘ کے سولہ
معانی لکھے ہیں…یعنی اس کے معنیٰ اور مطلب میں مفسرین کے سولہ اَقوال ہیں …اہل ذوق
تفسیر قرطبی میں ملاحظہ فرما لیں…
تین اَسباق
قرآن مجید کی ہر آیت اور سورت کا ایک خاص نور ہوتا ہے… جب
کوئی بندہ اس آیت کو اخلاص سے تلاوت کرتا ہے تو وہ روشنی اور نور اس کے دل پر
اُترتا ہے… آپ آیۃ الکرسی کا ترجمہ سمجھ لیں… پھر توجہ سے آیۃ الکرسی کی تلاوت
کرتے جائیں …ہرجملے کے ساتھ دل پر ایک الگ روشنی، قوت، کیفیت اُترتی چلی جائے گی…
اس سورۂ مبارکہ میں فرمایا…﴿اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ
الْکَوْثَرَ﴾ … معلوم ہوا کہ بڑی خیر اور اصل خیر حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کو عطاء فرمائی گئی ہے… آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی تشریف آوری کے بعد …اب اصلی خیر ، حقیقی خیر اور بڑی خیر… صرف
اسی کو مل سکتی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستہ ہو
گا… پس جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کٹے ہوئے ہیں…وہ
بڑی خیر سے محروم ہیں…خواہ دنیا بھر کے حکمران بن جائیں ، یا اَرب پتی سرمایہ دار
یا بڑے سائنسدان …یہ سب ناکام ہیں، محروم ہیں، ذلیل ہیں، نامراد ہیں،خاسر ہیں… مسلمانوں
کو کبھی بھی ان سے ہرگز متاثر نہیں ہونا چاہیے…دنیا کی عارضی چمک دمک ایک وقتی
تماشا ہے…
دوسرا سبق یہ کہ …خیر کی چیزوں میں کثرت اچھی بات ہے… جبکہ
دنیا کے معاملات میں کثرت کی خواہش بری ہے… ایک طرف فرمایا:
﴿اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُ﴾
تمہیں کثرت کی خواہش نے غفلت اور ہلاکت میں ڈال دیا…
جبکہ یہاں فرمایا:
﴿ اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ﴾
ہم نے آپ کو کثرت عطاء فرمائی…یعنی خیر کی کثرت… ’’خیر
کثیر‘‘کی تمام چیزیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو عطاء ہوئیں… حوض
کوثر بھی، کلمہ طیبہ بھی، قرآن مجید بھی، علم بھی، نماز بھی… اب اہل ایمان کو
چاہیے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا تعلق مضبوط بنا
کر ان خیروں میں سے زیادہ سے زیادہ اپنا حصہ حاصل کر لیں… اور اپنے دل میں ان
خیروں کو زیادہ سے زیادہ کثرت کے ساتھ پانے کی تمنا اور خواہش بھی رکھیں…
تیسرا سبق یہ کہ… حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کو یہ خوشخبری سنائی گئی کہ…ہم نے آپ کو بہت خیر عطاء فرما دی
ہے…اس خوشخبری کے فوراً بعد فرمایا:
﴿فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ﴾
پس آپ اپنے رب کے لئے نماز ادا کریں اور قربانی کریں…
یعنی بڑی خیر پانے کے شکرانے میں… آپ نماز اور قربانی کا بہت
اہتمام فرمائیں…اس میں امت کے لئے یہ اشارہ بھی ہو سکتا ہے کہ…بڑی خیر میں سے
زیادہ سے زیادہ حصہ پانے کا طریقہ نماز اور قربانی میں زیادہ محنت ہے… پس جو
مسلمان نماز میں سے زیادہ حصہ پائے گا…اور جو قربانی میں زیادہ اخلاص دکھائے گا…وہ
بڑی خیر میں سے بھی ان شاء اللہ زیادہ حصہ پائے گا…وہ بڑی خیر… جو اللہ تعالیٰ نے
اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو عطاء فرمائی ہے…
الحمد للہ عید الاضحی آ رہی ہے… قربانی کے ذریعہ مسلمان اللہ
تعالیٰ کا قرب اور خیر کثیر میں سے حصہ پا سکتے ہیں… اور ان لوگوں کے مقام کا تو
پوچھنا ہی کیا جو اپنی جان اللہ تعالیٰ کے لئے جہاد فی سبیل اللہ میں پیش کرتے
ہیں…یہ لوگ تو ایسے قیمتی ہیں کہ… اللہ تعالیٰ ان کا خریدار ہے…
فَطُوبیٰ لَھُم
حوض کوثر
قیامت کے دن سب پیاس سے بے حال و بے تاب ہو رہے ہوں گے… اور
وہاں صرف ایک حوض ہو گا…حوض کوثر… یہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کا حوض مبارک ہے… جسے آپ صلی اللہ علیہ
وسلم پلائیں گے وہی اس سے پی سکے گا… اور پھر کبھی پیاسا نہ ہو گا… حوض
کوثر کے بارے میں جو روایات آئی ہیں ان کو مد نظر رکھ کر حضرت مولانا عاشق الٰہی
صاحب رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
’’حاصل سب روایات کا یہ ہے کہ اس حوض کی مسافت سینکڑوں میل
ہے، برف سے زیادہ ٹھنڈا اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور مشک سے بہتر اس کی خوشبو
ہے، اس کے پیالے آسمان کے ستاروں سے بھی زیادہ ہیں،جو اس میں سے ایک مرتبہ پی لے
گا اس کے بعد کبھی بھی پیاسا نہ ہوگا، سب سے پہلے اس پر مہاجر فقراء آئیں گے کسی
نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! ان کا حال بتا دیجئے…ارشاد فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں
(دنیا میں) جن کے سروں کے بال بکھرے ہوئے اور چہرے ( بھوک اور محنت کے باعث) بدلے
ہوتے تھے ان کے لئے (بادشاہوں اور حاکموں) کے دروازے نہیں کھولے جاتے تھے… اور
عمدہ عورتیں ان کے نکاح میں نہیں دی جاتی تھیں اور ان کے ذمہ جو (کسی کا) حق ہوتا
تھا وہ پورا ادا کرتے تھے اور ان کا حق جو (کسی پر) ہوتا تھا تو پورا نہ لیتے تھے(
بلکہ تھوڑا بہت) چھوڑ دیتے تھے۔‘‘ (الترغیب والترہیب)
یعنی وہ اہل ایمان جو دنیا میں خستہ حال اور نظر انداز تھے
آخرت میں ان کا اعزاز یہ ہو گا کہ حوض کوثر پر سب سے پہلے پہنچیں گے…
عید کی سنتیں
گذشتہ کالم میں عید کی سنتوں کا تذکرہ تھا… یہ سنتیں پہلے کئی
بار بیان کی جا چکی ہیں… مگر تقاضا آیا کہ انہیں پھر شائع کیا جائے…عید کے دن
تیرہ چیزیں سنت ہیں:
١ شرع
کے موافق اپنی آرائش کرنا…
٢ غسل
کرنا…
٣ مسواک
کرنا…
٤ حسب
طاقت عمدہ کپڑے پہننا…
٥ خوشبو
لگانا…
٦ صبح
کو بہت جلد اٹھنا…
٧ عید
گاہ میں بہت جلد جانا…
٨ عید
الفطر میں صبح صادق کے بعد عید گاہ جانے سے پہلے کوئی میٹھی چیز کھانا اور عید
الاضحیٰ میں نماز عید کے بعد اپنی قربانی کے گوشت میں سے کھانا مستحب ہے۔
٩ عید
الفطر میں عید گاہ جانے سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنا…
١٠ عید
کی نماز عید گاہ میں پڑھنا، بغیر عذر شہر کی مسجد میں نہ پڑھنا…
١١ ایک
راستے سے عید گاہ جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا…
١٢ عید
گاہ جاتے ہوئے راستہ میں:
اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ لَا اِلٰہَ اِلَّا
اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ
عید الفطر میں آہستہ آہستہ کہتے ہوئے جانا اور عید
الاضحی میں بلند آواز سے کہنا…
١٢ سواری
کے بغیر پیدل عید گاہ جانا…
(نور الایضاح …بارہ مہینوں کے فضائل و احکام)
رنگ ونور کے تمام قارئین کو بندہ کی طرف سے قلبی ’’عید
مبارک‘‘…
تَقَبَّلَ اللّٰہُ مِنَّا وَمِنْکُمْ
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے سامنے ہر شخص نے ’’اکیلے‘‘ پیش ہونا ہے، جس
طرح کہ ہر شخص’’اکیلا‘‘ پیدا ہوا…
ارشاد فرمایا:
﴿وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادٰی﴾
’’یقیناً تم ہمارے پاس آؤ گے الگ الگ جیسا کہ ہم نے تمہیں
پہلی مرتبہ پیدا کیا اورتم نے اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ دیا جو ہم نے تمہیں عطا ء کیا
تھا۔‘‘( سورۃ انعام، آیت: ۹۴)
دنیا میں جو بھی آیا ،خالی ہاتھ آیا…نہ تن پر کپڑے تھے، نہ
پائوں میں جوتا تھا… نہ جیب تھی نہ مال… نہ کوئی لیڈر تھا نہ کوئی کارکن… نہ کوئی
صدرتھا نہ وزیر اعظم… نہ کوئی حضرت تھا نہ کوئی پیر… بالکل اسی طرح اللہ تعالیٰ کے
سامنے میدان حشر میں پیشی ہوگی، نہ جسم پر کپڑے ہوں گے نہ پائوں میں جوتے…نہ مال
ساتھ ہوگا نہ نوکر، خادم اور احباب… دنیا میں اکیلے آئے تھے اور قیامت کے دن
اکیلے پیش ہوں گے… پس جو یہاں ’’تنہا‘‘ ہے ،وہ نہ گھبرائے… ناشکری اور مایوسی میں
مبتلا نہ ہو، اور جو یہاں محبوب ہے اور ہروقت خادموں، نوکروں اور دوستوں میں گھرا
ہواہے وہ نہ اِترائے، فخر میں مبتلا نہ ہو… آدمی کے ساتھ بس وہی کچھ جائے گا جو
اس نے دنیا میں رہتے ہوئے… اللہ تعالیٰ کے لئے کیا اورآخرت کے لئے بھیجا…
حق اور باطل کی حکایت
کسی نے بات سمجھانے کے لئے حق اور باطل کی ایک تمثیل پیش کی
ہے… حق سیدھا سادہ ہے، سچ بولنے والا دنیا میں جیسے بھی ہو گذارہ چلانے والا…
سختیاں اور پریشانیاں جھیلنے والا… جبکہ باطل بہت چالاک ہے، مکار ہے، جھوٹ بولنے
والا، دنیا کے ہر مفاد کو حاصل کرنے والا… کہتے ہیں کہ… حق اپنے گھر سے اچھا لباس
پہن کر سواری پر بیٹھا اور روانہ ہوا… راستے میں اسے باطل مل گیا… باطل نے دھوکے
کے ذریعہ حق سے اس کے کپڑے لیکر خود پہن لئے، حق ایک خستہ حال چادر میں رہ گیا…
پھر باطل نے ایک چال چلی اور حق سے اس کی سواری چھین لی… اب وہ گھوڑے پر جا رہا
تھا اور حق پیدل پیدل… دیکھنے والے سمجھ رہے تھے کہ باطل کامیاب رہا اور حق ناکام…
مگر آگے ایک جنگل تھا اس کے وحشی درندوں نے یہ طے کر رکھا تھا کہ… جو شخص جنگل سے
سوار گذرے گااور اچھے لباس میں ہوگا اس کو وہ کھا جائیں گے…اور جو پیدل پرانے لباس
میں ہوگا اس کو گذرنے دیں گے… حق اور باطل اس جنگل میں داخل ہوئے… باطل مارا گیا
اور حق جنگل سے پار ہو کر ہمیشہ ہمیشہ والی راحت میں پہنچ گیا… اہل باطل دنیا میں
چند دن عیش آرام ، ظاہری عزت پاکر… قبر کے جنگل میں مارے جاتے ہیں … جبکہ اہل حق
دنیا میں چند دن کی تکلیف اور اذیت سہہ کر… قبر کے راحت والے دروازے سے
…’’عِلِّیِّیْن‘‘ کی پرواز میں جا بیٹھتے ہیں…اس لئے ’’ترقی یافتہ ‘‘ وہ ہے جو
دنیا میں رہتے ہوئے آگے کی تنہائی ختم کرنے کا سارا سامان آخرت میں بھیج دے…
یہاں اس کو جو مال ملے اس سے وہ آخرت خریدے،یہاں جو عزت ملے اس سے آخرت بنائے…
یہاں جو دوست احباب ملیں ان کو بھی… آخرت کا سرمایہ بنائے… وہ آخرت کہ دنیا کے
سب دوست اس میں سخت دشمن ہوں گے… سوائے ان کے…جن کی دوستی صرف اللہ تعالیٰ کے لئے
ہوگی… دین پر ہوگی اور دین کے مطابق ہوگی…
ترقی کی ایک مثال
کل کی بات ہے کہ خبر آئی… مقبوضہ کشمیر میں ہمارے
جانباز اور مخلص کمانڈر استاذ عدیل’’جام شہادت‘‘ نوش فرماگئے …ان کا اصلی
نام’’غلام مصطفیٰ‘‘ تھا… عباس پور آزاد کشمیر کے رہائشی تھے … سالہا سال تک وادی
میں مشرکین کے خلاف جہاد کی کمان کرتے رہے… خبر آئی تو دعاء اور ایصال ثواب کے
بعد ارادہ تھا کہ ان کے اہل خانہ کو مبارک و تعزیت کا پیغام بھیجا جائے… شہادت کی
مبارک اور طبعی صدمے پر تعزیت…ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ … شہید کے والد گرامی کا
پیغام آگیا… اور میں ایمان کی ترقی دیکھ کر حیران رہ گیا…فرمایا:
’’ عدیل کی شہادت مبارک ہو… ایک اور بیٹا بھی اللہ تعالیٰ کے
لئے وقف کردیا ہے… جہاں چاہیں بھیج دیں…‘‘
سبحان اللہ ! عدیل کا ایک بھائی پہلے شہید ہوچکا ہے…
اور اب ایک اور بھائی بھی وقف ہوچکا … اور والد محترم اپنی قسمت پر مسرور ہیں کہ…
اللہ تعالیٰ نے ان کا سرمایہ اپنے پاس محفوظ فرمایا، قبول فرمایا… آج کتنے لوگ
اپنے بیٹوں کی وجہ سے جہنم کی طرف دوڑ رہے ہیں… اور ایک یہ خاندان ہے کہ… باپ بیٹے
سب اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کی طرف دوڑ رہے ہیں… اسے کہتے ہیں ترقی… اسے کہتے
ہیں بلندی…
القلم کے تمام قارئین سے… عدیل شہید رحمۃ اللہ
علیہ … اور اُن کے پورے خاندان خصوصاً والدین کے لئے خصوصی دعاء کی
درخواست ہے…
ہندوستان کی تاریخ بھی عجیب ہے… وہاں شرک ہی شرک تھا… پھر
اللہ تعالیٰ کے مخلص اولیاء نے ہندوستان کا رخ فرمایا… اور انہوں نے مسلمان فاتحین
کو جہاد کے لئے بلایا… افغانستان کی طرف سے مسلم فاتحین نے یلغاریں کیں…ان مجاہدین
میں بڑے بڑے نامور اولیاء بھی شامل تھے… لکھا ہے کہ… محمود غزنوی رحمۃ اللہ
علیہ کے لشکر کو جب سومنات میں کچھ مشکل کا سامنا ہوا تو… ایک بزرگ ولی
،جن کی عمر ایک سو بیس سال کے لگ بھگ تھی… تلوار لے کر میدان میں اترآئے…اُن کے
مریدین نے اپنے شیخ کو اس حالت میں دیکھا تو وہ بھی جنگ میں دیوانہ وار کودپڑے اور
یوں غزنوی کا لشکر فتح یاب ہو گیا… سلسلہ چشتیہ کے نامور بانی… حضرت سلطان الہند
السیّد معین الدین حسن چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے القاب میں… ایک لقب
’’قاتل الکفار‘‘ بھی لکھا ہے…اہل ایمان کو چاہیے کہ حضرت خواجہ چشتی قدس سرہ کے
ملفوظات غور سے پڑھیں تاکہ اُن کے نام اور مزار کے ساتھ جو بدعات وخرافات جوڑی
جاتی ہیں… ان کی حقیقت معلوم ہو… وہ اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے اور عقیدۂ توحید سے
سرشار… اسلام کے داعی تھے…کہا جاتا ہے کہ نوّے لاکھ اَفراد نے اُن کے ہاتھ پر
اسلام قبول کیا…جہاد اور دعوت کی برکات بھی بہت عجیب ہیں…انسان دنیا سے چلا جاتا
ہے مگر اس کے عمل کا کارخانہ چلتا رہتا ہے… خصوصاً گمنام مجاہدین کا بہت بڑا مقام
اور بہت بڑا کارخانہ ہے… زمین پر ہونے والی ہر نیکی اور ہر خیر، ہر نماز اور ہر
اذان، ہر عمرے اور ہر حج میں اُن کا اجر شامل ہوتا ہے اور نام نہ ہونے کی وجہ سے
یہ اجر اور زیادہ بڑھ جاتا ہے…مسلمان فاتحین اور اولیاء و علماء کی محنت سے پورا
ہندوستان اسلام کے رنگ میں آگیا…وہاں مسلمانوں کی حکومت قائم ہوگئی جو کئی صدیوں
تک چلتی رہی…مگر اب پھر پورے ہندوستان کو…شرک کی سیاہی میں ڈبونے کی کوشش جاری ہے…
آر ایس ایس اور وشوا ہندو پریشد اپنے عروج کی انتہا کو پہنچ چکے ہیں…یقینی بات ہے
کہ عروج کے بعد زوال کی کھائی ہے…سو سال کی جان توڑ محنت کے بعد آج ہندوستان میں
ایک قاتل ہندو متعصب کی حکومت ہے…رنگ برنگے کپڑے پہننے کا شوقین، کیمرے کے سامنے
رہنے کا حریص… اور ہر کسی کے گلے میں بانہیں ڈالنے کا مشتاق ایک ہیجڑا…نریندر
مودی…
آر ایس ایس سمجھ رہی ہے کہ…مودی اس کے خوابوں کی تعبیر ہے…بے
شک وہ ٹھیک سمجھ رہی ہے مگر یہ تعبیر بہت بھیانک ہے…خوابوں کی دنیا عجیب ہے…جو
خواب اچھے اور سہانے نظر آتے ہیں ان کی تعبیر اکثر خطرناک اور بھیانک ہوتی ہے،
مثلاً خواب میں خوبصورت عورتیں دیکھنا اس کی تعبیر اچھی نہیں…جبکہ وہ خواب جو بڑے
خطرناک نظر آتے ہیں… ان کی اکثر تعبیر اچھی ہوتی ہے… مثلاً بیٹے یا بھائی کا مرنا
وغیرہ… مودی آر ایس ایس کے خوابوں کی تعبیر ضرور ہے مگر یہ تعبیر بہت بھیانک ہو
گی… کیونکہ جہاد کا دور زندہ ہوچکا ہے، کشمیر کے مسلمان اس قدر غیرتمند ہیں کہ…
وہاں اب گلی گلی میں گائے ذبح ہورہی ہے…کیونکہ حکومت نے گائے ذبح کرنے پر سخت
پابندی لگادی ہے۔ ہندوستان کے جنوب اورشمال میں آزادی کی تحریکیں پل رہی ہیں اور
ہندوستان کے مسلمان عزم اور جذبے سے سرشار ہیں…مودی اگر جنگ پر اُتراتو وہ ابتدائی
کامیابی کے بعد…بہت بڑی شکست کھائے گا…اور ہندوستان میں ان شاء اللہ حضرت اجمیری،
حضرت ہمدانی، حضرت غزنوی اور حضرت غوری رحمہم اللہ کا زمانہ…زندہ
ہوجائے گا…
ترقی کی ایک اور مثال
یہاں ایک اور بات یاد آگئی…آپ میں سے کئی حضرات کو ۲۰۰۱ کے وہ
خونی دن یاد ہوں گے… جب افغانستان میں امارتِ اسلامیہ کے آخری دن تھے…صلیبی
خونخواری کا سب سے بھیانک واقعہ قندوز میں پیش آیا…مجاہدین کے قافلوں پر ڈیزی کٹر
بم برسائے گئے…ہزاروں مجاہدین نے وہاں جامِ شہادت نوش فرمایا…ان میں اسّی سے زائد
ہمارے ساتھی بھی تھے…پھر شبرغان کی خیانت اور ظلم کا واقعہ ہوا…اور اِمارت اسلامیہ
کا سورج وقتی طور پر پہاڑوں کے پیچھے چھپ گیا…
اُن واقعات کو سامنے رکھیں اور آج کل کی یہ خبر پڑھیں
کہ…طالبان نے قندوز پر قبضہ کرلیا ہے تو دل اور زبان سے بے ساختہ تکبیر بلند ہوتی
ہے…
اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ
اَکْبَرُ کَبِیْرًا…
سبحان اللہ! وہ جن کو آتشیں بموں سے جلاکر ریزہ ریزہ کردیا
گیا تھا وہ آج پھر فاتح بن کر ابھرے ہیں…بے شک شہداء نہیں مرتے…بے شک شہدا نہیں
مرتے…
اور وہ جو کل تک فاتح اور قابض تھے…آج ذلیل ورسوا اور ایسے
بدحواس ہیں کہ…اپنے ہسپتالوں پر بمباری کررہے ہیں…اے مسلمانو! جہاد کی صداقت کے
لیے اور کیا دلیل چاہیے…؟ آج ہمارے ہاتھ میں جو کچھ ہے اسے دین پر اور جہاد پر
لگادیں یہ سب کچھ محفوظ ہوجائے گا…اور کل ہمارے کام آئے گا…اس لیے کے کل اللہ
تعالیٰ کے حضور اکیلے پیش ہونا ہے…بالکل اکیلے…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ’’فلسطین‘‘ کے جانباز اور مظلوم مسلمانوں کی نصرت
اور حفاظت فرمائے…وہاں اس وقت معرکہ گرم ہے…ظالم یہودیوں کی پشت پر دنیا بھر کا
’’کفر‘‘ ہے…جبکہ فلسطینی مسلمان اکیلے ہیں…صرف ایک اللہ تعالیٰ کے سہارے اور یہی
سہارا سب سے مضبوط ہے…اسی لیے وہ نہتے ہوکر بھی فاتح ہیں…وہ پتھروں سے مسلح ہوکر
ایک ایٹمی طاقت سے لڑرہے ہیں مگر پھر بھی سرفراز ہیں…
اَللّٰھُمَّ انْصُرْھُمْ، اَللّٰھُمَّ اَیِّدْھُمْ…
الیٰ مغفرۃ
آج کل ہماری جماعت میں ’’ترقی مہم‘‘ چل رہی ہے…اخبار کا یہ
شمارہ آپ تک پہنچتے یہ مہم قریب الاختتام ہوگی…اس لیے مہم کے بارے زیادہ کچھ نہیں
لکھا جارہا…الحمدللہ روزانہ مکتوبات کے ذریعہ آپ سے ملاقات رہتی ہے…بس اتنا عرض
کرنا ہے کہ…’’الیٰ مغفرۃ‘‘ کتاب کو مہم میں شامل کرنے کی وجہ یہ بنی کہ…الحمدللہ
مسلمانوں کو اس کتاب سے کافی فائدہ پہنچ رہا ہے…اللہ تعالیٰ نے اپنے کئی مخلص اور
’’مُسْتَغْفِر‘‘ بندوں کو اس کتاب کی خدمت پر لگادیا ہے… ہمارے پروفیسر صاحب نے
کراماتی رفتار کے ساتھ کتاب کا انگریزی میں ترجمہ…رمضان المبارک کی آخری راتوں
میں مکمل کرلیا…اللہ تعالیٰ ان کو اپنی شایان شان جزائے خیر عطا فرمائے…اب انگریزی
ترجمہ شائع ہونے کی تیاری میں ہے…بعض مخلص اور توّاب بندے زیادہ سے زیادہ افراد تک
یہ کتاب پہنچانے کی مستقل محنت میں لگے ہوئے ہیں…کئی احباب نے القلم اور دیگر قومی
اخبارات میں اس کتاب پر مخلصانہ کالم لکھے…اور کئی اَفراد سوشل میڈیا پر مستقل اس
کتاب کو چلارہے ہیں، پھیلا رہے ہیں… اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنی مغفرت کاملہ اور
جزائے خیر عطا فرمائے…الحمدللہ اس کتاب سے دعوت جہاد اور جہاد کے کام کو ایک نئی
قوت اور تازگی ملی ہے…اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالیٰ کے مخلص فدائی مجاہدین
اس پر بہت خوش ہیں…اللہ تعالیٰ کے یہ وفادار بندے جماعت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت
اور محبت پر دیکھنا چاہتے ہیں…انہیں جماعت میں کوئی دینی ترقی نظر آتی ہے تو بے
حد خوش ہوتے ہیں…اور جب وہ جماعت کے افراد میں کوئی دینی کمزوری دیکھتے ہیں تو بے
چینی سے تڑپ اٹھتے ہیں…یہ خوش نصیب جو اپنی جان بیچ چکے ہیں ان کو اپنے جماعتی
ساتھیوں کا موبائل اور نیٹ سے مشغول ہونا…دنیا داری کے دھندوں میں پھنسنا…اور
عبادات میں سستی کرنا، بہت تکلیف دیتا ہے… وہ حیران ہوتے ہیں کہ…ایک مجاہد کس طرح
ان معاملات میں الجھ سکتا ہے…
جب بھی جماعت میں توبہ اور استغفار کی تازہ ہوا چلتی ہے تو
…یہ فدائی دیوانے مسرت سے جھومنے لگتے ہیں…اور خوشی و مبارکباد کے پیغامات بھیجتے
ہیں…’’الیٰ مغفرۃ‘‘ کتاب کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ہزاروں مسلمانوں کو رحمت ،
امید اور عزم کا پرنور راستہ عطا فرمایا ہے…جو رفقاء ابھی تک یہ کتاب نہیں پڑھ سکے
وہ ہمت کرکے پڑھ لیں…اور پھر دوسروں تک بھی…اللہ تعالیٰ کا معافی، مغفرت اور رحمت
والا پیغام پہنچاتے رہیں…
جَزَاکُمُ اللہُ خَیْرًا
الحمدللہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر جماعت کی تمام مہمات پر…اللہ
تعالیٰ کا فضل رہا…نفل قربانی کی مہم کا یہ پہلا سال تھا…کسی کو توقع نہیں تھی کہ
یہ مہم اس قدر کامیاب ہوگی…مگر مشورے میں روشنی، اجتماعیت میں قوت اور اخلاص ومحنت
میں کامیابی رکھ دی گئی ہے…الحمدللہ یہ نصاب مکمل تھا…پہلے بہت جامع مشورہ ہوا تو
روشنی آگئی…پھر اجتماعی ترتیب بنی تو ہمت وقوت آگئی…پھر اخلاص کے ساتھ دیوانوں
نے محنت کی تو کامیابی آگئی…الحمدللہ تمام تقاضے پورے ہوئے اور اس مشق کی برکت سے
آئندہ کے لیے بھی راستے کھل گئے…محنت کرنے والے رفقاء کرام کا شکریہ…اور نفل
قربانی وقف کرنے والے مسلمانوں کا بھی شکریہ…
اللہ تعالیٰ آپ سب کو ایمان کامل اور خوب جزائے خیر عطا
فرمائے…عیدالاضحیٰ کی اہم ’’مہم‘‘ چرم قربانی کی ہوتی ہے…الحمدللہ نہ کھال
مقصودہے، نہ مال مقصود…مقصد یہ ہوتا ہے کہ جماعت کے ساتھی دین اور جہاد کی خدمت
میں لگیں…اور مسلمانوں کا مال دین اور جہاد کی خدمت پر لگ جائے… اس میں لینے والوں
کا بھی فائدہ…اور دینے والوں کا بھی فائدہ…انسان کا وہی وقت قیمتی ہے جو اللہ
تعالیٰ کی رضا میں لگ جائے…اور انسان کا وہی مال قیمتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا
میں خرچ ہوجائے…اس مہم کی برکت سے…جماعت کے ساتھیوں کا وقت قیمتی بنتا ہے…اور مسلمانوں
کا مال ایک عظیم کام پر خرچ ہوتا ہے…جہاد سے محرومی کی سزا ’’ذلت‘‘ ہے…دنیا میں
بھی اور آخرت میں بھی…یہ بات قرآن وسنت میں بالکل واضح ہے…اور دنیا میںچاروں طرف
ہمیں اپنی آنکھوں سے نظر آرہی ہے…پس جس کا وقت جہاد پر لگ جاتا ہے، وہ بھی خوش
نصیب اور جس کا مال جہاد پر لگ جاتا ہے وہ بھی خوش نصیب…بدبختی، بدنصیبی اور ذلت
سے بچنے کے لیے اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوش نصیبی پانے کے لیے…یہ ’’مہمات‘‘
چلائی جاتی ہیں…
اس سال حالات کی وجہ سے بظاہر اندھیرا تھا…مگر الحمدللہ…اللہ
تعالیٰ کی توفیق سے نصاب پورا تھا…مشورہ اور اجتماعیت…اخلاص اور محنت…حکومت نے بہت
کوشش کی کہ پاکستان میں امن ورحمت کے یہ چراغ بھی بجھ جائیں…مگر اللہ تعالیٰ کا
بہت فضل رہا اور چرم قربانی کی مہم بہت کامیاب رہی…اس مہم میں محنت اور تعاون کرنے
والے…رفقاء اور اہل اسلام کا شکریہ…
یَغْفِرُاللہُ لِیْ وَلَکُمْ وَجَزَاکُمُ اللہُ خَیْرًا…
آئینے جیسے دل
ایک عارف باللہ فقیر نے دلی کی تہاڑ جیل میں بیٹھ کر…ایک
’’آئینہ‘‘ تیار کیا اور ہمیں بھجوا دیا… پھر وہ خود ایک شفاف ’’آئینہ‘‘ بن
کر…اونچی پروازوں پر چلا گیا…اس کا تیار کردہ ’’آئینہ‘‘…یہ ساحرانہ تاثیر رکھتا
ہے کہ…سخت اور کالے دلوں کو بھی…روشن اور شفاف ’’آئینہ‘‘ بنادیتا ہے… آئینہ کتاب
کی پہلی تقریب رونمائی دہلی کے پھانسی گھاٹ پر ہوئی…جہاں مسکراتے ہوئے افضل نے
اپنی کتاب پر…سب سے پہلے عمل کرتے ہوئے…ایک عجیب روشن زندگی پالی…پھر دوسری
تقریب…مظفرآباد کے ایک وسیع و عریض میدان میں…ہزاروں مجاہدین کے درمیان ہوئی…وہ
دن ہے اور آج کا دن…یوں لگتا ہے کہ…ولی کامل مجاہد ِاسلام حضرت شیخ محمد افضل
گورو قدس سرہٗ کی روحانی سلطنت…دہلی سے کوہالہ تک قائم ہوچکی ہے…
جہادِ کشمیر کی تحریک نے اس آئینے سے روشنی لے کر…ایسی کروٹ
لی کہ کفر کے ایوانوں میں بھونچال آگیا…اب الحمدللہ شہید افضل کی روحانی سلطنت کا
دور ہے…اور مخلص مجاہدین تیزی سے جہاد کشمیر کی صفوں میں آرہے ہیں…گزشتہ دو سالوں
میں کشمیر کے اس طبقے نے بندوق اٹھائی ہے… جس کے بارے میں…کوئی تصور بھی نہیں
کرسکتا تھا کہ…یہ طبقہ بھی جہاد پر آئے گا…ہاں! بے شک شہید ولی کی سلطنت بہت وسیع
ہوتی ہے…یوں لگتا ہے کہ جیسے دلی قیام کے دوران تہاڑ جیل کی تاریک راتوں میں…حضرت
خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ …حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ
اللہ علیہ … اور حضرت سلطان التمش رحمۃ اللہ علیہ نے خوابوں میں آکر
افضل شہید رحمۃ اللہ علیہ کے سر پر اپنی روحانی طاقت کے تاج رکھ دیئے
ہیں… بے بسی، آہ و زاری اور آنسوئوں والی ان راتوں میں…افضل نے معلوم نہیں کون کون
سے مقامات طے کر لیے…اسی لیے تو وہ ہر وقت مسکراتا نظر آتا تھا … لوگ چار دن اپنے
ملک کی قید پر…چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں…مگر افضل تو ہر وقت مسرور
تھا…کسی اندرونی نشے سے مخمور تھا…ہم سے اس کے بارے میں کئی کوتاہیاں ہوئیں…مگر اس
نے کوئی شکوہ نہیں کیا…اس کو وہ سب کچھ مل چکا تھا…جو ایک مسلمان کی سب سے بڑی
خواہش اور بڑی ضرورت ہے…ہاں! اللہ تعالیٰ کا قرب، اللہ تعالیٰ کی معرفت، اللہ
تعالیٰ کی محبت …اور اللہ تعالیٰ کی رضاء… الحمدللہ ’’آئینہ‘‘ کتاب دور دور تک
پھیل چکی ہے…افضل کے دشمن افضل کی روشنی اور خوشبو کو پھیلنے سے نہیں روک سکے…اس
کتاب کے کئی زبانوں میں ترجمے ہوچکے ہیں…مقبوضہ کشمیر کی گلی گلی میں یہ آئینہ
چمک رہا ہے… جیش والو! اب تمہارا کام ہے کہ…ولی شہید کی سلطنت کا ثمر سمیٹو…زیادہ
سے زیادہ افراد تک ’’آئینہ‘‘ پہنچائو…ہندوستان، پاکستان اور کشمیر سے زیادہ سے
زیادہ مجاہدین اٹھا کر افضل کے زیرِکمان لشکر میں کھڑا کرو…اب تمہیں کوئی نہیں روک
سکتا کیونکہ حکومت افضل کی ہے … بہت اچھا موقع ہے کہ اپنے تمام شہداء کا بھر پور
انتقام لو… اگلے، پچھلے سارے قرضے چکادو… اور غزوۂ ہند کو اس کی معراج تک لے
جائو…
ایک رسم کی اصلاح
حضرت آقامدنی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ
کر… مخلوق میں کوئی ’’محبوب‘‘ نہیں… کوئی محترم نہیں…اور حضرات صحابہ کرامؓ سے بڑھ
کر…حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والا …
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا احترام کرنے والا … اور کوئی نہیں …
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ ارشاد فرمانے مسجد میں
تشریف لاتے تو… صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اجازت نہیں تھی
کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھڑے ہوجائیں… وہ احترام کے ساتھ
بیٹھے رہتے… اور ایسی توجہ اور ادب سے خطبہ سنتے کہ جیسے سراپا گوش ہوں… آپ صلی
اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے جانشین خلفاء راشدین رضوان اللہ علیہم
اجمعین اور پھر حضرات محدثین رحمہم اللہ کا بھی یہی طرزِعمل
رہا ہے… ابھی کچھ عرصہ سے دینی جلسوں میں یہ رسم پڑگئی ہے کہ… خطباء کرام اور
مہمانوں کے آنے پر مجمع کو زبردستی کھڑا کیا جاتا ہے…یہ غلطی ہماری جماعت کے
جلسوں میں بھی…غیر شعوری طور پر داخل ہوگئی… اور اب اس کا دائرہ وسیع ہوتا جارہا
ہے… خطباء،علماء اور کمانڈروں کے لئے… مسلمانوں کو کھڑا کیا جاتا ہے… اگرچہ وہ
خطباء علماء اور کمانڈر نہ بھی چاہتے ہوں… اس عمل میں کئی خرابیاں ہیں… مثلاً…
١ اسیٹج
پر اور جلسہ گاہ میں بزرگ حضرات، علما ء کرام اور اولیاء عظام بھی ہوتے ہیں… ایسے
قابل احترام حضرات کو کسی کے لیے کھڑا کرنا … اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا ذریعہ بن
سکتا ہے …
٢ کسی
کے احترام میں کھڑا ہونا جائز ہے… مگر اس وقت جب کھڑا ہونے والا اپنی مرضی اور
خوشی سے کھڑا ہو… اجتماع یا جلسہ میں چونکہ اعلان کر کے اور حکم دے کر لوگوں کو
کھڑا کیا جاتا ہے تو معلوم نہیں ہو سکتا کہ کون اپنی خوشی سے کھڑا ہوا… اور کون
اپنی عزت بچانے کے لئے…
٣ اس
عمل کی وجہ سے اگر کسی کے دل میں یہ شوق پیدا ہوگیا کہ لوگ اس کے لئے کھڑے ہوا
کریں تو یہ بڑاخطرناک اور نقصان دہ شوق ہے… جو انسان کے بڑے بڑے اعمال کو اکارت
کردیتا ہے…
دینی جلسوں کا مقصد… اللہ تعالیٰ کی عظمت اور بڑائی
بیان کرنا … اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا … اسلامی احکامات اور جہاد کی دعوت دینا
ہے…ان جلسوں اور اجتماعات کا مقصد لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکانا اور دین
کی خدمت کے لئے کھڑا کرنا ہوتا ہے… اس لئے ان اجتماعات کو ایسی رسومات سے پاک رکھا
جائے … جو ان اجتماعات کے بنیادی مقاصد کے خلاف ہوں…
بندہ کا ارادہ تھا کہ … جب اللہ تعالیٰ نے توفیق دی اور خود
کسی اجتماع میں شرکت کا موقع ملا تو… جماعتی اجتمامات میں اس ’’بری رسم‘‘ کے خاتمے
کا اعلان کروں گا… مگر انتظار طویل ہوگیا … یہ بھی معلوم نہیں کہ مجھے موقع ملے گا
یا نہیں … اور موت کا کچھ علم نہیں… اس لئے ماضی میں اس بارے ہم سے جو غلطی ہوئی
اس پرتمام مسلمانوں سے معذرت کرتا ہوں… اور آج سے جماعتی اجتماعات اور جلسوں میں
اس رسم پر پابندی کا اعلان کرتا ہوں… ہمارے جلسوں میں جو مسلمان تشریف لاتے ہیں ہم
ان کا بے حد احترام کرتے ہیں… ہم ان کی عزتِ نفس کا خیال رکھتے ہیں… اور اب ہم ان
کو اپنے لئے یا کسی کے لئے کھڑا نہیں کریں گے… اسی طرح جماعتی خطباء حضرات سے بھی
تاکیدی گذارش ہے کہ … وہ مسلمانوں کے مجمع کا احترام کریں… بار بار ان کے ہاتھ
اٹھوانا، ان کو کھڑا کرنا ان کی ناقدری ہے یہ کام ہرگز نہ کریں… بار بار وعدے نہ
لیں… بس آخری خطیب اگر کسی جہادی محاذ یا تحریک کے لئے تشکیل کا اعلان کرنا چاہتا
ہو تو وہ… کہہ سکتا ہے کہ جو تیار ہو وہ ہاتھ اٹھائے یا کھڑا ہو کر نام لکھوائے…
اسلام میں ’’خطیب‘‘ کا بہت اونچا مقام ہے… حضرات انبیاء علیہم
السلام سارے کے سارے ’’خطباء‘‘ تھے… قرآن مجید نے اُن کے ’’خطبات‘‘ کا
جابجا تذکرہ فرمایا ہے… جو ’’خطیب‘‘ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے خطاب کرتا ہو اور
لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہو تو… اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں اس قدر
بڑا ہے کہ… عام لوگ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے… بس شرط ایک ہی ہے کہ… خطیب میں
اخلاص ہو… اور وہ خود باعمل ہو… بندہ نے کچھ عرصہ قبل خطیب کے عظیم مقام اور خطابت
کے شرعی آداب پر ایک مضمون لکھا تھا… وہ ابھی تک شائع نہیں ہوا… موقع ملا تو ان
شاء اللہ رنگ ونور میں شائع کردیا جائے گا… خطبا ء کرام کو اس نعمت پر اللہ تعالیٰ
کا شکرادا کرنا چاہئے… تواضع اختیار کرنی چاہئے… اور اس نعمت کی قدر کرتے ہوئے
خطاب سے پہلے… استغفار اور دعاء کا بہت اہتمام کرنا چاہئے…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ معاف فرمائے… آج کا کالم ’’خیال جی‘‘ کی
’’خیالیات‘‘ پر مشتمل ہے…
میری دکان
بے روزگاری سے تنگ آکر سوچا کہ… روزی اور کمائی کا کوئی
ذریعہ کیا جائے… آپ تو جانتے ہیں کہ میں یعنی مسمیٰ ’’خیال جی‘‘ نہ سیاستدان ہوں
نہ سائنسدان… نہ ڈاکٹر نہ انجینئر…اب کہاں سے کمائوں اور کہاں سے کھائوں…بالآخر
اپنے استاد ’’درویش جی‘‘ کی خدمت میں حاضر ہوا …انہوں نے سمجھایا کہ کیوں فکر کرتے
ہو… مشوروں، تعویذوں اور عملیات کی دکان کھول لو … چند ہی دنوں میں مالا مال
ہوجائو گے…اور سنو! آج کل دنیا بھر کے حکمران انتہاپسندی، شدت پسندی اور جہاد سے
ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں… تم اسی موضوع کے دانشور، عامل اور ڈاکٹر بن کر بیٹھ جائو…
اور پھر ملالہ یوسف زئی کے باپ کی طرح صبح شام نوٹ ہی نوٹ گنتے رہو…درویش جی کا
مشورہ معقول تھا، سیدھا میرے معدے کو لگا… عرض کیا یامرشد! کچھ قرضہ عنایت ہوتاکہ
دکان کرائے پر پکڑ سکوں…انہوں نے تین روپے عطا کئے اور فرمایا! ایک روپیہ دکان کا
کرایہ…ایک روپیہ بورڈ کی لکھائی…اور ایک روپے سے چھوٹا موٹا جہاز خرید لو…میں دیکھ
رہا ہوں کہ تمہیں بڑے بڑے سفر درپیش ہوں گے… تین روپے بریف کیس میں بھر کر میں
درویش کی جھگی سے نکلا … جاتے ہی مارکیٹ میں ایک دکان پکڑی…ایک خوبصورت بورڈ
لکھوایا…جس کا عنوان تھا…انتہا پسندی کا مکمل خاتمہ، شدت پسندی کا تیر بہدف علاج
اور مجاہدین سے بچنے کے نادر طریقے… حضرت حکیم، ڈاکٹر، عامل کامل، دانشور، تھنک
ٹینک خیال جی…فون نمبر…
کالوں کا تانتا
اگلے دن خان جی کے ہوٹل سے اُدھار کی چائے پی کر میں اپنی
دکان کو جانے لگا تو…خان جی نے پیسے مانگے…میں نے فخر سے مسکرا کر کہا …اب فکر نہ
کرو سارے قرضے جلد چکا دوں گا… دکان جاکر بیٹھا ہی تھا کہ فون پر کالوں کا تانتا
بندھ گیا…میں پریشان کہ سب سے پہلے کس کی کال سنوں؟ پھر فیصلہ کیا کہ سب سے پہلے
ایک کالے کی کال سنتا ہوں…بٹن دباکر فون کان سے جوڑا تو چرسیوں جیسی اُکھڑی ہوئی،
اُبھری ہوئی آواز آئی …آئی ایم ابامہ…آریو خیال جی؟…میں نے کہا ہاں! بولو…کہنے
لگا: خیال جی ہم مر گئے … کئی ٹریلین ڈالر خرچ کردئیے…مگر مجاہدین ختم ہوئے نہ
جہاد رُکا…مسلمانوں کے ہر ملک میں ہم نے اپنے زرخرید ایجنٹ حکمران بٹھا دئیے…مگر
جہاد ہر طرف پھیلتا جارہا ہے…اب تو ہماری اپنی سلامتی خطرے میں ہے…خیال جی! کوئی
مشورہ دو، کچھ سمجھائو…کوئی تعویذ دو…افغانستان، عراق، شام سے لے کر افریقہ کے
آخری کونے تک جہاد ہی جہاد ہے، مجاہدین ہی مجاہدین ہیں…یہ کہہ کر ابامہ ہچکیاں لے
کر رونے لگا…میں نے کہا: ابامہ تمہیں میری فیس معلوم ہے؟ کہنے لگا نہیں تم
بتادو…میں ایک دو دن گانجا اور چرس نہیں پیئوں گا…تمہاری فیس ادا کردوں گا…میں نے
کہا …ساڑھے پانچ روپے…ابامہ گڑ گڑانے لگا کہ کچھ رعایت کرو… ہمارا ملک معاشی خسارے
میں جارہا ہے…خود امریکہ میں بغاوتیں پھوٹ رہی ہیں…اُدھر روس بھی دوبارہ پَر پرزے
نکال رہا ہے…چین اور شمالی کوریا بھی ہاتھ نہیں آرہے … اور یہ مجاہدین اُف
توبہ…روز بوریاں بھر کر ڈالر خرچ کرنے کے باوجود…اور اتنی بمباری کے باوجود کسی
بھی طرح کم نہیں ہورہے…معلوم نہیں زمین سے اُگ رہے ہیں یا آسمانوں سے برس رہے
ہیں…خیال جی! کچھ رعایت! کافی بات چیت کے بعد پانچ روپے میں سودا طے ہوگیا … اور
میں نے ابامہ سے امریکہ کے دورے کا وعدہ کرلیا کہ…جلد واشنگٹن کا چکر لگاتا ہوں
اور تمہیں مشورے سے نوازتا ہوں…تھینک یو تھینک یو کی گردان کے ساتھ یہ کال ختم
ہوئی تو فون پھر بجنے لگا…گھنٹی کی آواز سے لگ رہا تھا کہ کال قریب کی ہے…بٹن دبا
کر سنا تو کانوں میں ڈھول کی آواز آئی…میں حیران ہونے ہی والا تھا کہ آواز آئی
…میں نریندر مودی بول رہی ہوں…ارے خیال جی! تمہاری پڑوسن مودی…میں نے کہا! ہاں
مودی سنائو کیسی ہو…کہنے لگا…بس ابھی درزی کے پاس سے آرہی ہوں…وہ جو اس نے یوم
آجادی پر میرا سوٹ بنایا تھا…ارے! نیلے رنگ کا چھمک چھلو…اس کی شلوار پر بھی موئے
نے آگے پیچھے ہر طرف لکھ دیا تھا…مودی، مودی … ہائے بے سرم کہیں کا… وہ سوٹ تو
میں نے بیچ ڈالا…اب آٹھ جوڑوں کا آرڈر دے آئی ہوں…موئے کو تاکید کری ہے کہ
کپڑوں میں گھنگھرو ضرور لگایا کرے …پھر راستے میں پھوٹو گرافر کے پاس گئی…کچھ نئے
پھوٹو بنوائے…بہت مصروف ہوں…ابھی کئی ملکوں کا دورہ کرنا ہے…ہر جگہ نئے کپڑے پہن
کر پھوٹو بنوانے ہوتے ہیں…میں تو ہر راشٹر پتی کے گلے میں بانہیں ڈال کر …اپنے دیش
کے لیے ساری باتیں منوالیتی ہوں…مودی کی باتوں سے تنگ آکر میں نے کہا…چھوڑو ان
باتوں کو…مجھے کیوں فون کیا؟ کہنے لگا…
وہ ہمارے دیش میں شدت پسندی بڑھ رہی ہے…کشمیر کی طرف پھر
مجاہدین اکٹھے ہورہے ہیں…اور افغانستان سے بھی کافی کھترا لگ رہا ہے…ہائے! میں تو
بہت ڈر رہی ہوں، دل دھک دھک کررہا ہے…امریکہ والے بھی بتار ہے ہیں کہ انڈیا بہت
کھترے میں ہے…ہمیں مسورہ دو، کوئی تعویج منتر بتائو…مودی سے چار روپے میں فیس طے
ہوئی اور میں نے دورے کا وعدہ کر لیا … مگر یہ کیا فون پھر بجنے لگا…اب روسی صدر
’’پوٹن‘‘ کی کال تھی…وہ بھی بہت چیخ رہا تھا کہ ہمارے ہاں تو سائبیریا سے تاجکستان
تک…اور قفقاز سے آمو تک مجاہدین ہی مجاہدین نظر آرہے ہیں… روس اور وسطی ایشیاء
کے چودہ ہزار افراد بھاگ کر شام اور عراق چلے گئے ہیں…اور وہ مجاہدین بن گئے
ہیں…ان میں تاجکستان کے خفیہ ادارے کا سربراہ بھی شامل ہے…ہم پہلے ہی افغانستان
میں مار کھا چکے ہیں…یہ کہہ کر پوٹن رونے لگا اور بولا …میں ان مجاہدین کی تصویریں
دیکھتا ہوں تو خوف سے میری پوٹی نکلنے لگتی ہے…اب ہم شام میں بمباری کررہے ہیں مگر
خود اپنی زمین ہمارے نیچے سے سرک رہی ہے…آخر یہ جہاد ہے کیا؟ … ہماری سلامتی خطرے
میں ہے…خیال جی کچھ بتائو، کچھ سمجھائو، پوٹن سے ساڑھے تین روپے میں بات طے ہوئی
اور میں نے ماسکو کا چکر لگانے کا وعدہ کرلیا…
کل کی بات تھی کہ میں بے روزگار تھا مگر آج میرے پاس
تین ملکوں کے آرڈر تھے …اور میں خیالات ہی خیالات میں… ضیاء الدین یوسفزئی کی
طرح… نوٹ ہی نوٹ گن رہا تھا…
سفرکی تیاری
میرے فون پر مزید کالیں بھی آرہی تھیں… ایک کال ایران سے
تھی… فون بہت دھوکے سے بج رہا تھا میں نے کال کاٹ دی… ایک اور کال برطانیہ سے تھی…
یہ کال بھی کاٹ دی… اکیلا آدمی کس کس کی کال وصول کرے؟ … سوچا پچھلے تین آرڈر
نمٹالوں پھر… باقی لوگوں سے بات کر لوں گا… قریب ہی ایک کھوکھے سے جا کر نیا جہاز
خریدا… چاچا رحیم بخش کی دکان سے اس کے ٹائروں میں ہوا بھروائی…اور امریکہ ،انڈیا
اور روس کے دورے کے لئے تیار ہو گیا… مگر فون تھاکہ چپ ہی نہیں ہو رہا تھا ایک کال
بار بار آرہی تھی… غصے اور بے دلی کے ساتھ ریسیو کی تو… دوسری طرف بنیامین نیتن
یا ہو تھا… اس نے تڑپ کر کہا خیال جی ،خیال جی… اور پھر ہچکیاں لے کر رونے لگا… وہ
اس طرح رورہا تھا جیسے رات کے اندھیرے میں بلی روتی ہے… میں نے بڑی مشکل سے چپ
کرایا… وہ کہنے لگا: یہ فلسطینی مجاہدین، یہ حماس والے… یہ کہہ کر پھر دھاڑیں
مارنے لگا… ہم نے ہر اسلحہ استعمال کرلیا… مگر وہ چاقو اور چھری لے کر ہمارا
مقابلہ کررہے ہیں… خیال جی! خوف ہی خوف ہے اور بہت پریشانی… جتنا تشدد اور اسلحہ
ہم نے فلسطینیوں پر چلا یا… اتنا اگر کسی اور قوم پر چلاتے تو وہ کبھی کی مٹ گئی
ہوتی … مگر یہ تو بڑھتے ہی جارہے ہیں… ہر دن جنگ کا نیا طریقہ… اور ہر دن الجہاد
الجہاد کے نئے نعرے…ہائے! قوم یہود ماری گئی… تباہ ہوگئی … نہ امریکہ کی یاری سے
کچھ کام بن رہا ہے اور نہ عربوں کی فلسطین سے غفلت کا ہمیں کوئی فائدہ مل رہا ہے…
ہمیں مصر میں ’’محمد مرسی‘‘ سے خطرہ تھا ہم نے اسے ہٹوا کر اپنا ’’سیسی‘‘ بٹھا دیا
مگر وہ توہمارے لئے پیشاب کی’’شیشی‘‘ نکلا… ہائے! ہماری سلامتی، ہائے ہماری
سلامتی… خیال جی! کچھ بتائو، کچھ سمجھائو…میں نے کہا… دیکھونیتن! میں بہت مصروف
ہوں…ابھی امریکہ جانا ہے، پھر روس اور انڈیا کا چکر ہے… ایسا ہے کہ تم مجھے پھر کال
کرلینا… یہ سن کر وہ باقاعدہ گڑگڑانے لگا… خیال جی! میں تمہارے پائوں پڑتا ہوں… اس
بار بڑا خطرناک انتفاضہ ہے ہمارے لئے بھی وقت نکالو… اس کے رونے دھونے
پر ترس کھا کر میں نے تل ابیب کے دورے کا وعدہ بھی کرلیا اور ڈھائی روپے فیس بھی
پکی طے کرلی…
جہاز حادثے سے بال بال بچا
گھروالوں اور دوستوں سے رخصت ہو کر میں اپنے جہاز پر
آبیٹھا… جہاز کی بریکیں،پیڈل اور ہینڈل چیک کر کے میں نے اپنا جہازروس کی طرف
اُڑادیا… ارادہ تھا کہ پہلے ماسکو جاؤں گا … پھر واپس انڈیا… وہاں سے اسرائیل اور
آخر میں امریکہ… وجہ یہ تھی کہ امریکہ سے غذائی قلت کی خبریں آرہی تھیں… انڈیا
کا وزیر اعظم پھر ڈھول لے کر پڑوسی ملکوں کی شادیوں میں چلا گیا تھا … اور اسرائیل
میں میرے جہاز کے لئے رن وے کی تعمیر کا کام جاری تھا… چنانچہ روس کی طرف پہلے
جانا طے پایا… میرا جہاز فضا میں بلند ہوا… ابھی تھوڑا سا سفر طے ہوا تھا کہ ایک
بڑا ساجہاز لڑ کھڑاتا ہوا، ہانپتا ہوا میرے جہاز کے قریب آنے لگا… میں نے دوربین
لگا کر دیکھا تو اس جہاز کی چھت پر بڑی بڑی دیگیں رکھی تھیں… اور ان کے بوجھ کی
وجہ سے وہ ٹھیک طریقے سے اڑنہیں پاتا تھا… میں نے غور سے دیکھا تو… دیگوں پر
کھانوں کے نام درج تھے… قورمہ، سری پائے، بریانی، مچھلی کڑی،نہاری وغیرہ وغیرہ… وہ
جہاز جس طرح سے ڈگمگا رہا تھا خطرہ تھا کہ میرے جہاز سے اس کی ٹکر ہوجائے … میں نے
فوراً کنڑول ٹاور کے ذریعہ اس جہاز کے پائلٹ سے رابطہ کیا… پوچھا یہ کس کا جہاز ہے
؟ جواب آیا وزیراعظم پاکستان کا جہاز ہے وہ اس میں خود سوار ہیں اور امریکہ کے
دورے پر جارہے ہیں… پوچھا کہ یہ اتنی بھاری دیگیں کیوں لاد رکھی ہیں؟کہنے لگا
امریکہ والوں نے وزیراعظم صاحب کو چھ دن کے لئے بلایا تھا… پھر جب ان کے کھانے کا
مینیو معلوم ہوا تو ڈر کے مارے یہ دورہ تین دن کا کردیا… مگر ہمارے وزیر اعظم صاحب
کو خطرہ تھا کہ… امریکی بڑے کنجوس ہیں وہ ان تین دنوں میں …روزانہ صرف تین وقت کا
کھانا دیں گے… تو باقی روزانہ تین وقت کا کھانا وہ اپنے ساتھ لے جارہے ہیں… ملک
اور قوم کے مفاد میں… انتہا پسندی اور شدت پسندی کو ختم کرنے کے لئے… ایسی قربانیاں
تو دینی پڑتی ہیں… قربانی کی دیگوں کے وزن سے جہاز ڈگمگا رہا ہے … تم اگر حادثے سے
بچناچاہتے ہو تو اپنا جہاز ایک طرف کرلو… میں نے فوراً اپنا جہاز ایک طرف دور کر
کے کھڑا کردیا کہ… پہلے دیگوں والا جہاز گزرجائے… اب میرا جہاز ایک سائیڈمیں کھڑا
تھا… مجھے خیال آیا کہ… میں اپنے مرشد سے کچھ مشورہ کرلوں…
اَسْلِمْ تَسْلَم
میں نے جہاز کے ہینڈل کے ساتھ لٹکا ہوا اپنا تھیلا اُتارا…
اور فون نکال کر درویش جی کا نمبر ملالیا… دوسری طرف میٹھی سی آواز آئی…ہاں خیال
جی! عرض کیا… حضرت! آپ کی دعائوں سے جہاز کی گدی پر بیٹھا ہوں…پوٹیوں والے صدر
پوٹن کے پاس جا رہا ہوں …بس ایک بات سمجھا دیں… یہ بڑے بڑے ملک،جن کے پاس ایٹم
بموں کے کارخانے اور زمین کے خزانے ہیں… یہ سب’’ سلامتی‘‘ کو کیوں ترس رہے ہیں؟
اور دوسری بات یہ کہ جہاد کے خلاف کھربوں ڈالر،ٹنوں اسلحہ، منوں بارود، دھاروں
فوجیں استعمال ہو رہی ہیں… مگر جہاد کیوں ختم نہیں ہو رہا؟… درویش جی نے فرمایا …
خیال جی! درود شریف پڑھو… میں درود شریف پڑھنے لگا… فرمایا! درودشریف میں کتنے نام
آئے… میں نے عرض کیا… دو نام آئے… فرمایا کونسے؟ عرض کیا… اللہ اور محمد… فرمانے
لگے ان دونوں سے کوئی بڑا ہے؟ عرض کیا نہیں… فرمایا ان دونوں سے زیادہ کوئی سچا
ہے؟ عرض کیا نہیں… فرمایا… ان دونوں کا ارشاد ہے…یعنی اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے اور
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ مخلوق کو
سنایا ہے کہ… سلامتی صرف اسلام میں ہے… اور جہاد اللہ تعالیٰ کا کلمہ ہے… اور اللہ
تعالیٰ کے کلمات کو کوئی مٹا نہیں سکتا… سنو خیال جی سنو… حضرت آقا محمدمدنی صلی
اللہ علیہ وسلم نے چودہ صدیاں پہلے چند خطوط لکھوائے اور ساری دنیا کے
حکمرانوں کو بھجوائے… ان خطوط میں یہ جملہ مبارکہ بھی تھا…
اَسْلِمْ تَسْلَمْ… تم اسلام لے آئو تمہیں سلامتی مل جائے
گی… بس فیصلہ ہو گیا کہ اسلام کے بغیر سلامتی کا خواب دیکھنا بھی ممکن نہیں… نہ دل
کی سلامتی، نہ روح کی سلامتی، نہ ظاہر کی سلامتی، نہ باطن کی سلامتی،نہ دنیا کی
سلامتی، نہ آخرت کی سلامتی…اسلام سے محروم کافر… بظاہر جس امن اور سلامتی میں نظر
آتے ہیں وہ بھی حقیقت میں کوئی سلامتی نہیں تم ان کے دلوں کو جاکر دیکھو ! تو
تمہیں ترس آئے گا کہ وہ کس قدر ذلت ، خوف، لالچ اور بے یقینی کے زخموں سے چور چور
ہیں… اور اب تو وہ مجاہدین کی برکت سے ظاہری سلامتی سے بھی محروم ہوتے چلے جا رہے
ہیں… اور باقی رہا جہاد تو سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کا اٹل فرمان
ہے… اور ان کے فرمان کا یقینی ہونا سورج سے بھی زیادہ روشن ہے کہ… جہاد کو کوئی
نہیں روک سکتا: لَایُبْطِلُہٗ جَوْرُجَائِرٍ وَّلَا عَدْلُ عَادِلٍ…
جہاد پہلے بھی تھا مگر کم تھاکیونکہ… دعوت میں کمزوری تھی اور
میدان تنگ تھے… اب ماشاء اللہ دعوت کی برسات ہے اور میدان وسیع ہیں… اس لئے اب
جہاد طوفانوں کی طرح بجلی کی رفتار سے بڑھ رہا ہے… درویش جی نے سلام کر کے فون بند
کردیا…میں نے دور بین آنکھوں سے لگائی تو دیگوں والا جہاز کافی دور جا چکا تھا…
مگر فضا میں اب بھی نہاری، بریانی اور قورمے کی خوشبو آرہی تھی … اس خوشبو کو
سونگھ کر میری بھوک چمک اٹھی… میں نے موبائل تھیلے میں ڈالا اور اسی تھیلے سے بھنے
ہوئے چنوں کا شاپر نکال لیا… چنوں کی پوری ایک مٹھی بھر کر میں نے منہ میں
ڈالی…کِک مار کر جہاز کو اسٹارٹ کیا… اور یہ جا وہ جا…استغفر اللّٰہ… استغفر
اللّٰہ… استغفر اللّٰہ
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا ’’سلام‘‘ اور بے شمار رحمتیں ہوں … حضرت سیّدہ
’’فاطمہ‘‘ رضی اللہ عنہا پر…
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی
سب سے پیاری اور لاڈلی لخت جگر… خواتینِ جنت کی سردار … کائنات کی کامل ترین اور
مقدس ترین ہستیوں میں سے ایک…حضرت سیّدنا حسن اور حسین رضی اللہ
عنہما کی امی جان… ہم سب کی محترم اور مکرم امی جان…حضرت سیّدہ ،قدسیہ،
منورہ، طاہرہ، طیبہ … برکتوں کا خزینہ ’’فاطمۃ الزہراء رضی اللہ
عنہا ‘‘…
تفسیر عزیزی رحمۃ اللہ علیہ میں لکھا ہے:
’’میدان حشر میں سب کو حکم دیا جائے گا کہ اپنی آنکھیں بند
کر لو تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت بی بی
فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا پل صراط پر سے تشریف لے
جائیں…‘‘
اے مسلمان بہنو! اندازہ لگاؤ کہ حیاء کتنی عظیم نعمت ہے…اپنی
دعاؤں میں اللہ تعالیٰ سے ’’حیاء‘‘ کی نعمت مانگا کرو…حیاء کی نعمت ملی تو حضرت
سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی نسبت پانے کا پہلا
دروازہ کھلے گا… آج کی مجلس کا موضوع حضرت سیّدہ فاطمہ رضی اللہ
عنہا کی سیرت مبارکہ کا بیان نہیں ہے… ان کا تذکرہ بطور برکت اور
ایک واقعہ کی تمہید کے لئے ہوا ہے…حضرت سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ ،حضرت
فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بڑے صاحب زادے ہیں…وہ ایک جنگ
میں اپنے والد گرامی حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ
عنہ کے ساتھ تھے… جنگ گھمسان کی تھی مگر حضرت علی رضی اللہ
عنہ نے نہ تو زرہ پہنی اور نہ سر پر آہنی ٹوپی… آپ نے عام سا کرتہ
پہنا ہوا تھا اور اس کے باوجود اپنے گھوڑے کو جنگ کی صفوں کے درمیان کوداتے تھے
…بیٹے کے دل میں فطری محبت جاگی… بے قرار ہو کر عرض کیا:
اے والد محترم! یہ لڑائی کا لباس نہیں جو آپ نے پہن رکھا ہے…
مقصد یہ تھا کہ…جب آپ نے اتنا اندر گھس کر ہی لڑنا ہے تو زرہ
، بکتر زیب تن فرما لیجئے … آپ کی جان ہم سب کے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے بے
حد قیمتی ہے…
مگر حضرت سیّدنا حضرت علی رضی اللہ
عنہ نے فرمایا:
یَا بُنَیَّ لَا یُبَالِی اَبُوْکَ، عَلَی الْمَوْتِ سَقَطَ
أَمْ سَقَطَ عَلَیْہِ الْمَوْتُ۔
’’اے پیارے بیٹے! تیرا باپ اس کی پرواہ نہیں رکھتا کہ وہ موت
پر گرے یا موت اس پر گرے‘‘… ( تفسیر عزیزی)
کل جب پاکستان میں ایک اور زوردار ’’زلزلہ‘‘ آیا تو مجھے
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان یاد آ گیا…واقعی موت نے
تو آنا ہے… اور جو موت سے دوستی اور یاری کر لے اسے اس کی فکر نہیں رہتی کہ وہ
موت پر گرے یا موت اس پر گرے … کوئی اپنی روحانی محبوبہ کو گلے لگائے یا اس کی
محبوبہ اسے گلے لگائے… بات تو ایک ہی ہے… زلزلوں اور حادثات کے موقع پر مسئلہ یہ
نہیں کہ … کون مر گیا اور کون بچ گیا…ایک مومن کے لئے اصل فکر والی بات یہ ہے
کہ…اسے جیسے بھی موت آئے وہ اسلام اور ایمان کی حالت میں ہو… ایمان کی حالت میں
بظاہر بھیانک اور خوفناک نظر آنے والی موت بھی بہت میٹھی ہے…مثلاً زلزلے سے مرنا
…جلتے تیل کی دیگ میں جل کر مرنا…شدید بمباری سے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر مرنا… یہ سب کچھ
دیکھنے میں خوفناک نظر آتا ہے…حالانکہ ایمان و شہادت کی صورت میں یہ سب ’’موتیں‘‘
شہد سے زیادہ میٹھی ہیں…لیکن اگر موت ایمان کی حالت میں نہ ہو تو بظاہر وہ جتنی
پُرسکون ہو اسی قدر زیادہ کڑوی ہے…جیسے لندن میں کسی بڑے عالیشان ہسپتال کے قیمتی
بیڈ پر… ڈاکٹروں اور نرسوں کے جھرمٹ اور جدید مشینوں کی نگرانی میں مرنا وغیرہ…
زلزلہ کیا ہے؟ یہ کیوں آتا ہے؟ اور اس کے آنے پر ہمیں کیا
کرنا چاہیے… یہ سب باتیں قابل غور ہیں…ویسے زلزلے میں جو لوگ مر جاتے ہیں انہیں تو
غور کا موقع ملتا ہی نہیں…البتہ جو بچ جاتے ہیں وہ لمبی لمبی بحثیں اور باتیں کرتے
ہیں …ہو سکتا ہے کہ آج یا کل یا کبھی پھرزلزلہ آئے اور ہم بھی مرنے والوں میں
شامل ہوں…اس لئے ضروری ہے کہ ایمان کو ہر وقت ساتھ رکھیں … آئندہ کل کے لئے کسی
گناہ یا ظلم کا ارادہ نہ رکھیں…اپنے کمپیوٹر اور موبائل میں گناہ جمع کر کے نہ
رکھیں… جو گناہ ہو گئے ان پر ندامت اور استغفار… اور آگے کے لئے گناہوں کی نیت،
ارادہ،تیاری یا عزم نہ ہو… ضروری نہیں کہ زلزلہ ہی ہمیں لینے آئے… چھت بھی گر
سکتی ہے… یورپ کا ایک بڑا سائنسدان اس طرح مرا کہ اس کے سر پر چیل نے کوئی چیز
پھینک دی…وہ زمین پر چل رہا تھا اوپر چیل اپنے منہ میں کوئی شکار لے کر جا رہی تھی
وہ اس سے گر گیا…اور سائنسدان صاحب کی کھوپڑی ٹوٹ گئی… اسلام نے اسی لئے ہمیں ہر
موقع پر ایمان ساتھ رکھنے کے طریقے سکھائے ہیں…آپ بیت الخلاء جا رہے ہیں… ظاہر ہے
وہاں حالت اچھی نہیں ہوتی اور کوئی مسلمان اس حالت میں مرنا پسند نہیں کرتا… مگر
بیت الخلاء جاتے وقت دعاء پڑھی لی… اللہ تعالیٰ کا ذکر کر لیا…سر ڈھانپ لیا…سنت کے
مطابق داخل ہوئے… اب کوئی فکر نہیں…وہاں موت آتی ہے تو آ جائے…ویسے یہ الگ بات
ہے کہ … اچھی جگہ اور اچھی حالت میں موت کی دعاء مانگتے رہنا چاہیے…
ایک آدمی اپنی بیوی سے مل رہا ہے…ظاہر ہے کہ یہ ایسی حالت
نہیں جس میں مرنا اچھا نظر آتا ہو… بے ستری بھی ہے اور ناپاکی بھی…مگر جس نے لباس
ہٹانے سے پہلے ’’بسم اللہ ‘‘ پڑھ لی… اس کے لئے فکر کی کوئی بات نہیں…وہ اس حالت
میں مر گیا تو ایمان پر مرے گا… تفسیر ِعزیزی میں حضرت شاہ صاحب رحمۃ
اللہ علیہ لکھتے ہیں:
’’ جو شخص اپنی بیوی سے ہمبستری کرنے سے پہلے ’’بسم اللہ ‘‘
پڑھ لے تو فرشتے اس کے لئے غسل کرنے کے وقت تک مسلسل نیکیاں لکھتے رہتے ہیں‘‘ (
تفسیر عزیزی)
خلاصہ یہ کہ زلزلے سے مرنا…اللہ تعالیٰ کے غضب اور ناراضی کی
علامت نہیں…ہاں! گناہ کی حالت میں، گناہ کے عزم میں اور بے ایمانی میں مرنا یہ بڑے
نقصان اور عذاب کی بات ہے… اللہ تعالیٰ ایسی بری موت سے ہم سب کی حفاظت
فرمائے…باقی رہے وہ لوگ جو زلزلے سے بچ جاتے ہیں…انہیں چاہیے کہ زلزلے کے بارے میں
زیادہ باتیں اور تبصرے نہ کریں…بلکہ خود بھی استغفار کریں اور دوسرے مسلمانوں کو
بھی استغفار کی طرف بلائیں… اور زلزلے سے متاثر ہونے والے افراد کی حتی الوسع
دلجوئی اور مدد کریں… بس ان دو کاموں کے علاوہ باقی سب کچھ یا تو بے کار ہے یا
وبال… کئی لوگ ایسے مواقع پرگناہوں کی فہرستیں لکھنے لگتے ہیں کہ…فلاں فلاں گناہوں
کی وجہ سے زلزلہ آیا ہے…اس میں کوئی شک نہیں کہ گناہوں کے وبال سے زلزے اور
آفتیں آتی ہیں…مگر زلزلے کے موقع پر طعنہ زنی اور لفاظی کی نہیںتوبہ استغفار کی
ضرورت ہوتی ہے… ویسے بھی اللہ تعالیٰ معاف فرمائے ہمارے معاشرے میں ہر گناہ پوری
قوت اور نحوست کے ساتھ مسلط ہے… ہمیں ہر وقت ان گناہوں کے خلاف محنت کرتے رہنا
چاہیے…کچھ لوگ زلزلے کے وقت یہ انکشاف ضرروی سمجھتے ہیں کہ…یہ زلزلہ ہمارے
حکمرانوں کی وجہ سے آیا ہے…اس میں شک نہیں کہ حکمرانوں کے برے اعمال سے اجتماعی
آفات نازل ہوتی ہیں…مگر ہمارے حکمران تو خود ہی ہر زلزلے سے منحوس زلزلہ اور ہر
آفت سے بڑی آفت ہیں… یہ نام کے مسلمان …کافروں کے سامنے سر جھکا کر جاتے ہیں اور
وہاں ان سے اپنے مسلمان بھائیوں کو قتل کرنے کے وعدے کر آتے ہیں…ان کے کس کس جرم
اور گناہ کا تذکرہ کیا جائے…مگر زلزلے کے وقت ان حکمرانوں کے برے اعمال کی جامع
فہرستیں شائع کرنا…کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاتا…
ان ظالم حکمرانوں کا تو ایک ایک عمل ایسا خطرناک ہے کہ…اگر اس
کے بدلے میں اللہ تعالیٰ پوری زمین کو الٹ دے تو یہ بھی اس کا حق ہے… مگر اللہ
تعالیٰ حلم اور عفو والے ہیں کہ… ہر عمل پر فوری پکڑ نہیں فرماتے…زلزلے میں زمین
اندر تک ہلتی ہے تاکہ…ہم بھی اپنے اندر تک جھانکیں اور اپنے اندر جلد اچھی
تبدیلیاں لائیں… ممکن ہے ایک شخص زلزلے کے موقع پر سب کے گناہ اور سب کے عیب گنوا
رہا ہو… حالانکہ خود اس کے گناہ اس زلزلے کا اصل سبب ہوں… زلزلہ اللہ تعالیٰ کے
لشکروں میں سے ایک لشکر ہے… اور اللہ تعالیٰ کے لشکروں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی
نہیں جانتا کہ…وہ کتنے ہیں اور کتنی طاقت رکھتے ہیں…
زلزلے کے اس لشکر کے ذریعے …اللہ تعالیٰ کئی سرکشوں کی اکڑی
گردنیں توڑتا ہے…کئی مجرموں کو سزا میں دھنساتا ہے…کئی غافلوں کو عبرت کا مقام
بناتا ہے…
اس زلزلے کے لشکر کے ذریعہ …اللہ تعالیٰ اپنے کئی بھٹکے ہوئے
بندوں کو توبہ کا راستہ دکھاتا ہے… کئی مجرموں کو معافی مانگنے کے لئے ایک اور
موقع دیتا ہے… اور اپنے کئی مخلص بندوں کو حادثاتی موت کے ذریعہ شہادت کا مقام
عطاء فرماتا ہے…زلزلے کا الٰہی لشکر… ہم سب مسلمانوں کو توبہ کی طرف بلاتا ہے…موت
اور استغفار کی یاد دلاتا ہے… اور ہمیں سمجھاتا ہے کہ… زمین پھٹنے کے انتظار میں
گھر نہ پڑے رہو…بلکہ اٹھو ، نکلو، زمین کو کفر سے پاک کرو… اور اللہ تعالیٰ کے
کلمے کی سربلندی کے لئے موت کے پیچھے دوڑو… تب تمہیں زندگی ملے گی…بڑی زندگی…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ’’ھادی‘‘ ہے راستہ دکھلانے والا…اللہ تعالیٰ
’’نصیر‘‘ ہے مدد فرمانے والا…
﴿وَکَفٰی بِرَبِّکَ ھَادِیًا وَّنَصِیْرًا﴾
آپ کسی ماہر سائنسدان اور انجینئر کو بٹھا دیں… اُس کے سامنے
نقشہ، تصویریں اور ویڈیو رکھ دیں… اور پوچھیں کہ…اتنی فوج، اتنی سیکيورٹی اور اتنی
رکاوٹوں کے ہوتے ہوئے کیا مجاہدین… آزاد کشمیر سے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوسکتے
ہیں؟ وہ چیخ پڑے گا کہ بالکل نہیں، ہرگز نہیں…مگر اللہ تعالیٰ ’’ھادی‘‘ ہے مجاہدین
کو راستے دکھاتا ہے…اُن کے لیے راستے بناتا ہے اور وہ ’’نصیر‘‘ ہے ان کی مدد
فرماتا ہے…چنانچہ وہ چھ سات لاکھ آرمی کی موجودگی کے باوجود کشمیر میں داخل
ہوجاتے ہیں… سری نگر تک بھی پہنچ جاتے ہیں…ابھی حال ہی میں ’’اہلِ کشمیر‘‘ نے
عقیدت اور جذبات کے ساتھ دو شہداء کرام کے جنازے اٹھائے…ان پر آنسو اور پھول
نچھاور کئے…اور انہیں اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتارا…ان میں سے ایک مجاہد… عباس پور
کا عدیل شہید تھا…اور دوسرا کراچی کا عبدالرحیم برمی شہید… یہ دونوں نہ اُڑ کر
کشمیر پہنچے اور نہ زمین پھاڑ کر…پہلے ایک طرف رکاوٹ تھی اب دونوں طرف پہرے
ہیں…مگر قرآن مجید نے دو لفظوں میں کفر کی ہر طاقت کا توڑ سمجھا دیا…ھادی اور
نصیر… اللہ تعالیٰ ’’ھادی‘‘ ہے…اس لیے اہل حق اور اہل ہمت کے لیے دنیا کی کوئی
طاقت راستے بند نہیں کرسکتی…اور اللہ تعالیٰ ’’نصیر‘‘ ہے…بہت بڑی نصرت فرمانے
والا…جیل میں ایک بار خواب دیکھا تھا کہ ایک گاڑی میں چند طالبعلم جا رہے
ہیں…اچانک غیر ملکی شکل کے دشمنوں نے انہیں گھیر لیا اور گاڑی پر شدید فائرنگ شروع
کردی …وہ گاڑی کے چاروں طرف کھڑے تھے اور گاڑی پر موسلا دھار فائرنگ کررہے تھے…گمان
بلکہ یقین ہوا کہ کوئی طالبعلم نہیں بچا ہوگا، بلکہ سب ٹکڑے ٹکڑے ہوکر بکھر گئے
ہوں گے…دشمن چلے گئے تو میں گاڑی کے پاس گیا…سارے طالبعلم صحیح سلامت تھے…خواب کی
تعبیر پر ہر پہلو سے غور کیا…مگر کچھ مطلب سمجھ نہ آیا…علامات ساری سچے خواب کی
تھیں اس لیے وہ دل ودماغ میں رہا…پھر رہائی ہوئی، افغانستان پر عالمی کفر کا حملہ
ہوا…بے انتہا شدید بمباری ہوئی…مگر طالبان اس بمباری کی گرد سے مسکراتے ہوئے اُٹھے
اور آہستہ آہستہ پورے افغانستان پر پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ چھا گئے تو خواب
کی تعبیر سمجھ آگئی…
﴿وَکَفٰی بِرَبِّکَ ھَادِیًا وَّنَصِیْرًا﴾
آپ کو معلوم ہے کہ…یہ آیتِ مبارکہ کس موقع پر نازل
ہوئی؟…مکہ مکرمہ میں مشرکین مکہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر
طرح سے ناکہ بندی کر دی… آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید سناتے تو
مشرکین شور مچاتے، تالیاں پیٹتے، مذاق اُڑاتے…اور نعوذباللہ ہر طرف یہی کہتے کہ یہ
بے ہودہ بکواس نہ سنو… پھر وہ اس سے بڑھ کر تشدد پر بھی اُتر آئے…
آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب قرآن مجید کی دعوت
دیتے تو وہ پتھر مارتے…گریبان پکڑتے، گالیاں بکتے… آپ کے رفقاء پر شدید تشدد
کرتے…ایک بار تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو اتنا مارا
کہ آپ بے ہوش ہوگئے اور آپ کا چہرہ اس قدر سوج گیا کہ قریبی لوگ بھی آپ کو نہیں
پہچان سکتے تھے… مشرکین کی ٹولیاں ہر وقت حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کے چاروں طرف موجود رہتیں جو مسلمان آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کے پاس آنا چاہتا اس کو پکڑلیتے…اور جو شخص آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی دعوت سننے کے لیے آتا اس کو روک دیتے… مشرکین کی یہ ناکہ بندی
بہت سخت تھی …پرویز مشرف کی مجاہدین کے خلاف ناکہ بندی سے زیادہ سخت… نواز شریف
اور شہباز شریف کی ناکہ بندی سے بھی بہت زیادہ سخت…
اس ناکہ بندی کے دوران کئی مسلمانوں کو شہید کردیا
گیا…تقریباً سارے مسلمان تشدد کا نشانہ بنے… کئی مسلمان گرفتار کرلئے گئے… تمام
مسلمانوں کا معاشی اور سماجی مقاطعہ یعنی بائیکاٹ کیا گیا… اس موقع پر زمین نے وہ
خوفناک، دردناک اور ہیبت ناک منظر بھی دیکھا جب… ابوجہل ملعون نے ننھی معصومہ
خاتونِ جنت حضرت سیّدہ فاطمۃ الزھرا رضی اللہ عنہا کو
تھپڑ مارا…مکہ مکرمہ کے تمام راستوں کو سیل کردیا گیا …مسلمانوں کو ذلیل بناکر
معاشرے سے الگ تھلگ پھینک دیا گیا…ان مسلمانوں پر ایسے حالات آئے جو کسی بھی پہاڑ
کا حوصلہ توڑنے کے لیے کافی تھے…ایسے وقت میں عرش سے ایک آیت مبارکہ مسکراتی ہوئی
تشریف لائی:
﴿وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّامِّنَ
الْمُجْرِمِیْنَ﴾
اے نبی!… صلی اللہ علیہ وسلم … یہ کوئی نئی بات نہیں ہے…جو
نبی بھی تشریف لاتے ہیں تو مجرم لوگ اُن کے ساتھ اس طرح دشمنی کرتے ہیں…سبحان
اللہ! عجیب بات سمجھائی کہ دشمن نہ ہوں تو زندگی کا کیا مزا؟… دشمن نہ ہوں تو دعوت
کا کیا مزا؟…مجرم نہ ہوں تو رہبر کی کیا ضرورت؟ مخالف نہ ہوں تو ترقی کیسے ملے؟…
اگر رکاوٹیں نہ ہوں تو قوت کیسے بنے؟…اگر سختیاں نہ ہوں تو عزیمت کہاں پلے؟… اے
نبی! دشمن تو آپ کے ضرور ہوں گے… ہر مجرم، ہر ظالم، ہر مشرک، ہر کافر، ہر منافق…
آپ کا دشمن ہوگا… یااللہ! جب اتنے دشمن ہوں گے تو کام کیسے چلے گا؟ وہ تو تمام
راستے بند کردیں گے تو قافلہ کیسے آگے بڑھے گا؟ ارشاد فرمایا:
﴿وَکَفٰی بِرَبِّکَ ھَادِیًا وَّنَصِیْرًا﴾
اے نبی! آپ کے لیے آپ کا رب کافی ہوگا اور وہ ’’ھادی‘‘ ہے،
راستے دکھانے، راستے بنانے اور راستے پر چلانے والا…اور ’’نصیر‘‘ ہے، بہت شاندار
نصرت فرمانے والا…
یہ آیت اس وقت اُتری جب نہ راستے نظر آرہے تھے…اور نہ مدد
کا دور دور تک نشان تھا … مدد سے مُراد وہ نصرت جو دشمنوں پر غالب کردے …خدشہ تھا
کہ جو چالیس پچاس افراد مسلمان ہوئے ہیں، یہ بھی کہیں اتنے خوفناک تشدد کے
سامنے…جان یا حوصلہ نہ ہار دیں…مگر پھر راستے عجیب طرح کھلتے گئے…مدینہ والوں کو
آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچنے کا راستہ ملا…مکہ کے مسلمانوں کو حبشہ کا راستہ
ملا…پھر مدینہ کا راستہ کھلا …اور پھر ہر طرف ’’ھادی‘‘ رب کی طرف سے راستے ہی
راستے… اور ساتھ ساتھ نصرت…اور نصرت بھی ایسی کہ کچھ عرصہ بعد مکہ مکرمہ کے مظلوم
…بدر کے فاتح تھے… اور ظالم اور مجرم ایک کنویں میںبغیر کسی پروٹوکول کے ایک دوسرے
پر اوندھے پڑے تھے…
﴿وَکَفٰی بِرَبِّکَ ھَادِیًا وَّنَصِیْرًا﴾
آپ نے کبھی غور کیا کہ تاجکستان کے کئی مسلمان کس طرح سے شام
اور عراق تک پہنچ گئے؟… درمیان میں کتنے ملک پڑتے ہیں… ہر ملک کی سرحد پر سخت پہرے
ہیں… چلیں مان لیا کہ وہ تاجکستان سے افغانستان … افغانستان سے ایران… اور ایران
سے عراق میں پہنچ گئے… یہ بھی آسان نہیں مگر جو بوسنیا میں تھے… وہ کیسے شام جا
پہنچے؟… درمیان میں پورا یورپ پڑتا ہے … خلا میں سیارچوں کا اور زمین پر کمپیوٹروں
کا زمانہ ہے… وہ دوردراز آسڑیلیا اور برفوں میں دبے سائبیریا کے لوگ کس طرح
ہزاروں کی تعداد میں دنیا کے ہر محاذ تک پہنچے؟… بے شک اللہ تعالیٰ ہادی ہے ہادی…
عالَم کفر سرحدیں بنا کر… باڑیں لگا کر، ظالمانہ قوانین اور حدبندیاں بنا کر مطمئن
ہو گیا تھا کہ… جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت اب الگ الگ
چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ گئی ہے… اب ان میں سے کوئی دوسرے کی مدد کو نہیں پہنچ سکتا
… اب ان کو ایک ایک کر کے ختم کرتے جاؤ… مگر ’’رب ہادی‘‘ اور ’’رب نصیر‘‘ نے ان
کے تمام اندازے غلط ثابت فرمادئیے… اور ان کی تمام تدبیروں کو توڑدیا… سب سے پہلے
مجاہدین کا عالمی اجتماع…افغانستان میں ہوا…پھر کچھ عرصہ تاجکستان نے بہت خوبصورت
مناظر دیکھے…اور پھر بوسنیا پر جہادی ابابیلوں کی یلغار ہوئی… اس کے بعد چیچنیا نے
ہجرت، نصرت، اور جہاد کے روحانی نقشے دیکھے… اور اب انبیاء علیہم
السلام اور اولیاء کی سرزمین عراق و شام میں… دنیا بھر کے مجاہدین کا
اجتماع جاری ہے… خود مقبوضہ کشمیر کے مقبرۂ شہداء میں کئی ممالک سے تعلق رکھنے
والے مجاہدین آسودئہ خاک ہیں…یہ دوردراز علاقوں کے مجاہدین کس طرح سے سرحدیں روند
کر… کیمروں ،سیاروں اور خفیہ ایجنسیوں کو دھول چٹا کر … اپنے اپنے محاذوں تک پہنچ
جاتے ہیں؟… جواب بس ایک ہی ہے…
﴿وَکَفٰی بِرَبِّکَ ھَادِیًا وَّنَصِیْرًا﴾
ہمارے ملک میں اس وقت دینی اور جہادی طبقے پر جو مشکل حالات
آئے ہوئے ہیں… انہیں اسی مبارک آیت کے دونوں حصوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے…
پہلاحصہ یہ کہ اگر آپ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر ہیں
تو… زمانے کے مجرم ضرور آپ کے دشمن ہوں گے… اس لئے جو حق کے راستے پر رہناچاہتا
ہے… وہ ان مجرموں کی دشمنی جھیلنے کے لئے تیار رہے… یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ قرآن
مجید کو پوراکا پورا بیان کریں اور مجرم آپ کے دشمن نہ بنیں… ابھی چند دن پہلے
ایک قومی اخبار کے کالم نویس نے نہایت غم اور حیرت کے ساتھ لکھا کہ… ملتان کے ایک
کالج میں جہادی حلیے والے چند افراد بلاروک ٹوک داخل ہوئے … انہوں نے وہاں کالج کے
چند طلبہ کو جمع کیا… اور انہیں قرآن مجید کی آیات جہاد سنائیں…یہ کالم نویس
حکومت سے شکوہ کرتا ہے کہ… جب ہمارے کالج بھی ایسے لوگوں سے محفوظ نہیں تو پھر اس
ملک کا کیا بنے گا؟…یعنی کالج ان کے باپ انگریز کی جاگیر ہیں اور وہاں قرآن مجید
کی آیاتِ جہاد سنا نا جرم ہے… بندہ نے اس اخباری کالم کے بارے میں چند باتیں
وضاحت کے ساتھ ماہنامہ المرابطون میں لکھ دی ہیں… جو چاہے وہاں ملاحظہ فرما
لے…یہاں صرف یہ عرض کرنا مقصودہے کہ… جب آپ قرآن مجید کے تمام احکام بیان کریں
گے تو… زمانے کے ’’مجرمین‘‘ ضرور آپ کے دشمن بنیں گے… چنانچہ آپ کو اس صورتحال
کے لئے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہئے … یہ دشمن آپ کے راستے بند کرنا… اور آپ کو
اور آپ کے کام کو ختم کرنا چاہیں گے تب…
﴿وَکَفٰی بِرَبِّکَ ھَادِیًا وَّنَصِیْرًا﴾
اللہ تعالیٰ موجود ہے… اور وہ ’’ہادی‘‘ بھی ہے… اور نصیر بھی…
اَللّٰھُمَّ یَاہَادِیُٔ اِھْدِنَا… اَللّٰھُمَّ
یَانَصِیْرُاُ نْصُرْنَا…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ’’مغفرتِ کاملہ ‘‘ اور ’’درجاتِ عالیہ‘‘ نصیب
فرمائے… ہمارے زمانے کے ایک بڑے آدمی چلے گئے…
حضرت اقدس مولانا ڈاکٹر سیّد شیر علی شاہ صاحب المدنی رحمۃ
اللہ علیہ …
﴿ اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ ﴾
وہ خاندان سادات سے تھے…یعنی ’’سیّد بادشاہ‘‘ تھے…اور اب تو
’’سیّد العلماء‘‘ بھی تھے… دور دور تک ان جیسا کوئی نظر نہیں آتا… اللہ تعالیٰ کا
فضل دیکھیں کہ…اکوڑہ خٹک کے اس فقیر مزاج ’’سیّد بادشاہ‘‘ کو وفات کے لئے ’’سیّد
الایام‘‘ یعنی جمعہ کا دن عطاء فرما دیا… جگرؔ مرحوم نے بڑی عجیب بات کہی ہے:؎
یہ حسن ہے کیا، یہ عشق ہے کیا، کس کو ہے خبر؟ اس کی لیکن
بے جام ظہور بادہ نہیں،بے بادہ فروغ جام نہیں
یہ شعر بہت گہرا ہے…تفصیل مانگتا ہے اور تشریح بھی…بس ایک
اشارہ کرتا ہوں… حسن ہو مگر اسے عشق اور عاشق نہ ملے تو ایسا حسن گھٹ مرتا
ہے…مرجھا جاتا ہے… اور اگر عشق ہو مگر اسے حسن نہ ملے تو وہ جل مرتا ہے…اور ناکامی
سے بکھر جاتا ہے… کتنے افراد ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے پاس علم بہت ہوتا ہے مگر ان
کے علم سے کام نہیں لیا جاتا…کئی با صلاحیت افراد…ساری زندگی اس میدان کوترستے
ہیں…جہاںان کی صلاحیتو ں کا سورج چمکے…
یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہوتا ہے کہ…کسی کو ’’قدر ‘‘ بھی
عطاء فرمائے اور ساتھ ’’قدر دان‘‘ بھی… قیمتی بھی بنائے اور ساتھ خریدار بھی عطاء
فرمائے …حسن بھی بخشے اور حسن کے قدر دان بھی…
حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ …کی کامیاب اور محنت
بھری زندگی پر غور کرنے کی ضرورت ہے…تاکہ بہت کچھ سیکھاجاسکے…یہ کامیاب اور محنتی
حضرات بڑے کام کے ہوتے ہیں…زندگی میں بھی آپ کو بہت کچھ سکھاتے ہیں… اور مرنے کے
بعد بھی بہت مفید اسباق سکھاتے رہتے ہیں… ایک صحافی نے حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ
علیہ کا اکوڑہ خٹک میں جنازہ دیکھا تو بے اختیار بول اٹھا کہ… میڈیا کی
طاقت کا شور مچانے والے جھوٹے ہیں…ہاں! واقعی کسی اخبار میں اس جنازے کا اعلان
نہیں چھپا… کسی ٹی وی چینل پر جنازے کے وقت اور مقام کی تشہیر نہیں ہوئی… اور تو
اور حضرت کی وفات کی خبر میڈیا پر جنازے سے پہلے نہیں آئی… تو پھر یہ لاکھوں
افراد کیسے آ گئے؟… انسانوں کا یہ سیل رواں کہاں سے امڈ آیا؟…
آج کل تو جو عالم میڈیا پر نہ آئے لوگ اسے عالم نہیں
سمجھتے… جو مجاہد میڈیا پر نہ آئے لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ یا تو مر گیا ہے…یا اس کا
کام ختم ہو چکا ہے… میڈیا پر آنے کی دوڑ میں لوگ معلوم نہیں کیا کیا کرتے
ہیں؟…بہت کچھ غیر شرعی اور بہت کچھ باعث ندامت… مگر حضرت ڈاکٹر صاحب رحمۃ اللہ
علیہ میڈیا سے دور ہو کر بھی لوگوں کے دلوں کے قریب تھے… انہوں نے جاتے
جاتے یہ سبق مجاہدین کو بھی دیا اور علماء کو بھی کہ…میڈیا کے سحر سے نکلو… کام
کرو کام… محنت کرو محنت… شہرت اور تشہیر کسی مومن کے کام نہیں آتی… نہ دنیا میں
نہ آخرت میں…اخلاص کام آتا ہے اور محنت کام آتی ہے… اللہ تعالیٰ کا حضرت شاہ
صاحب رحمۃ اللہ علیہ پر بڑا فضل رہا…اور اس فضل کا سلسلہ موت کے دن پر
بھی نظر آیا… ’’جمعہ ‘‘ کو وفات پانا…ایک مومن کے لئے ’’حسنِ خاتمہ‘‘ کی ایک
علامت ہے … ترمذی کی روایت ہے، ارشاد فرمایا:
مَا مِنْ مُّسْلِمٍ یَمُوْتُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ اَوْ
لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ اِلَّا وَقَاہُ اللّٰہُ فِتْنَۃَ الْقَبْرِ۔
جو مسلمان جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات وفات پاتا ہے اسے اللہ
تعالیٰ قبر کے فتنے سے بچا لیتے ہیں… (ترمذی)
جمعۃ المبارک کے دن یا رات کی وفات پر اور بھی کئی
روایات موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ:
١ جمعہ
کے دن کی موت عذاب قبر سے بھی حفاظت ہے اور سوال قبر سے بھی۔
٢ جمعہ
کے دن مرنے کا فائدہ ایک مسلمان کو قیامت کے دن بھی ہو گا۔
٣ جمعہ
کے دن مرنے والے مسلمان قیامت کے دن ایک خاص علامت کے ساتھ آئیں گے۔
حکیم ترمذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
کہ… جو مسلمان جمعہ کے دن مرتا ہے تو اس سے وہ پردے ہٹا لیے جاتے ہیں جو اس کے اور
اُن نعمتوں کے درمیان ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے تیار فرمائی ہیں … کیونکہ
جمعہ کے دن جہنم کی آگ نہیں بھڑکائی جاتی… اس لئے آگ کی طاقت جمعہ کے دن وہ کام
نہیں کر سکتی جو باقی دنوں میں کرتی ہے… اللہ تعالیٰ جب کسی مومن کی روح جمعہ کے
دن قبض فرماتے ہیں تو یہ اس مومن کے لئے سعادت اور اچھے انجام کی علامت ہے…
یہ تمام احادیث اگرچہ سند کے اعتبار سے زیادہ مضبوط نہیں…مگر
اہلِ تحقیق اور اہلِ علم نے انہیں قابلِ اعتبار اور قابلِ اعتماد قرار دیا ہے…جمعہ
کے دن کی موت انسان کے اپنے اختیار میں نہیں… مگر یہ کونسا ضروری ہے کہ… سعادت وہی
ہوتی ہے جو اپنے اختیار سے حاصل کی جائے … اللہ تعالیٰ ’’شکور‘‘ ہے’’ قدر‘‘ فرمانے
والا… وہ جب اپنے کسی بندے یا اس کے اعمال کی قدر فرماتا ہے تو… پھر اس کی جھولی
ہر طرح کی سعادتوں سے بھر دیتا ہے… اختیاری بھی اور غیر اختیاری بھی…
حضرت ڈاکٹر شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ باوجود اس کے
کہ ایک…محقق،مفسر، محدث، اور مصنف تھے اور آپ کا اصلی میدان تعلیم اور تدریس
تھا…آپ جہاد اور شہادت کے عاشق زار تھے… چنانچہ ’’رب شکور جلّ شانہ‘‘ نے آپ کو
اپنی ملاقات کے لئے ’’جمعہ‘‘ کا مبارک دن عطا فرمایا جو کہ خود ایک طرح کی’’ مقبول
شہادت‘‘ ہے… حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے دو تفسیریں تحریر
فرمائیں…دونوں عربی میں ہیں … ایک بار ’’سورۃ الکہف‘‘ پر ان کی تفسیر پڑھتے ہوئے
ایسا وجد اور مزا آیا کہ…اس تفسیر کے اردو ترجمہ کا خیال آنے لگا… اللہ کرے مجھے
توفیق مل جائے یا کسی کو بھی… زیادہ مشکل کام نہیں ہے … مگر علم،تذکیر اور تحقیق
سے لبریز ہے…دوسری تفسیر حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہ کے
تفسیری اقوال کی جامع ہے…یہ آدھی حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے جمع
فرمائی ہے اور آدھی ان کے ایک عرب رفیق نے… حضرت حسن بصری کو ’’ رضی اللہ عنہ ‘‘
لکھتے ہیں… اگرچہ وہ تابعی ہیں مگر پلے بڑھے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین کے ساتھ ہیں… اور علمی روحانی مقام بھی ان کا بہت اونچا ہے… وہ جہادِ فی
سبیل اللہ کے شیدائی تھے… حضرت ڈاکٹر شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی
کے کئی قیمتی سال حضرت امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے احوال و اقوال
کی معطر مجالس میں گذرے… اس صحبت کا اثر تھا کہ …جہادِ فی سبیل اللہ کی محبت آپ
کے رگ و پے میں اتری ہوئی تھی… وہ ہمارے زمانے میں جہاد فی سبیل اللہ کی حقانیت
اور دعوت کی بہت ثقہ دلیل تھے…انہیں جہاد اور مجاہد کے لفظ سے ہی اتنا پیار تھا کہ
ہر مجاہد کی معاونت اور تائید کے لئے ہمیشہ تیار ہو جاتے… انہوں نے بڑے عظیم
المرتبت مشائخ کی صحبت پائی تھی… قرآن مجید کی تفسیر حضرت اقدس مولانا احمد علی
لاہوری رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھی… حضرت لاہوری رحمۃ اللہ
علیہ کے نزدیک قرآنِ مجید کا موضوع ’’جہادِ فی سبیل اللہ‘‘ تھا… وہ
آیاتِ جہاد کی بہت والہانہ تفسیر فرماتے اور اپنے طلباء کے دلوں میں جہادِ فی
سبیل اللہ کی پاکیزہ محبت کا بیج بو دیتے تھے… حضرت لاہوری رحمۃ اللہ
علیہ کے ہاں تعلیم کے دوران حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ
علیہ کی ملاقات حضرت اقدس مولانا عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری رحمۃ اللہ
علیہ سے بھی ہوئی … ان کی صحبت، ان کے بعض اشعار اور ان کے جوتے اٹھانے
کا واقعہ بہت مزے لے کر سنایا کرتے تھے…
حضرت ڈاکٹر شیر علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو
اللہ تعالیٰ نے بہت سی نمایاں خوبیوں اور صفات سے نوازہ تھا … بندہ نے الحمد للہ
ان کی خدمت میں کافی وقت گزارہ ہے…بہت لمبے اور طویل سفر ان کی باشفقت رفاقت میں
نصیب ہوئے… ان کی سرپرستی میں جہاد کی محنت اور دعوت کی بھی بارہا توفیق ملی… ان
کی میزبانی کا شرف بھی حاصل ہوا اور ان کی مہمانی کا بھی… اس لئے ان کی صفات اور
خوبیوں پر مکمل تفصیل اور شرح صدر سے لکھ سکتا ہوں مگر صرف ایک بات پر اکتفا کرتا
ہوں … جو ہمارے لئے سبق آموز بھی ہے اور مفید بھی… وہ یہ کہ حضرت ڈاکٹر صاحب رحمۃ
اللہ علیہ اتنے بلند مقام ہونے کے باوجود بہت ’’آسان ‘‘بزرگ تھے اور
دوسری بات یہ کہ وہ سستی یعنی ’’کسل‘‘ سے بہت دور تھے…
آسان ہونا اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت اور اس کا بڑا فضل ہے… ان
کے ساتھ سفر بھی آسان تھا اور حضر بھی…ان کے ساتھ بولنا بھی آسان تھا اور بیٹھنا
بھی… کسی کا قول ہے…ہر انسان ’’نوکدار ‘‘ ہوتا ہے کوشش کر کے خود کو دوسروں کے لئے
آسان بناتے رہو اور اپنی ’’نوکیں‘‘ گول کرتے رہو…
ایک بار تو بہت سخت محنت تھی،تقریباً دس دن تک … بندہ
ان کا ہم سفر بھی تھا اور ڈرائیور بھی…نہ کھانے پینے کا کوئی باقاعدہ نظم اور نہ
نیند کے لئے پورا وقت…مگر ان کی صحبت نے ہر معاملہ میں آسانی پیدا کی… وہ جب
جاگتے جاگتے تھک جاتے تو نیچے سر جھکا کر آنکھوں میں سرمہ لگاتے…اس سرمے کے ساتھ
ان کی آنکھوں سے چند بوندیں ٹپکتیں اور وہ اگلے کئی گھنٹوں کے لئے تروتازہ ہو
جاتے…
الحمد للہ دس دن کی محنت کامیاب رہی…اور کراچی میں حضرت
مولانا جلال الدین حقانی کا مفصل دورہ ہوا… اور جہاد کی دعوت اونچی فصیلوں تک جا
پہنچی… اور رکاوٹوں کے کئی قلعے فتح ہو گئے… ’’محبت‘‘ بہت لذیذ چیز ہے مگر اس کی
لذت تب دو آتشہ ہو جاتی ہے جب کسی مرحلے پر اس میں ’’تلخی‘‘ ’’ستم‘‘ اور کچھ
’’ناراضی‘‘ آ جائے… وہ ’’تلخی‘‘ جب دور ہو تی ہے تو …محبت ہمیشہ کے لئے پائیدار
ہو جاتی ہے…
زندگی میں کبھی اس بات کا ’’وہم ‘‘ اور ’’وسوسہ ‘‘ بھی نہ
گذرا تھا کہ…حضرت ڈاکٹر صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے کبھی ’’دوری‘‘ ہو
گی…مگر محبت کو پائیدار ہونا منظور تھا…کراچی میں بندہ پر مظالم کا ایک سلسلہ شروع
ہوا…بہت تکلیف دہ، مکروہ اور سخت مظالم…ان سب کو الحمد للہ سہہ لیا مگر… ایک ظلم
بڑا بھیانک ہوا…وہ یہ کہ غلط فہمیوں کا ایک جال بچھا کر …حضرت ڈاکٹر صاحب رحمۃ
اللہ علیہ اور ہمارے درمیان کچھ دوری اور تلخی کا بندوبست کر لیا گیا…
ہاں! وہ دن اور راتیں بہت اذیت ناک تھے… یہ اذیت نہ تو اس بدنامی کے خوف سے تھی…
جس کو بہت محنت سے پھیلایا جا رہا تھا…اور نہ ہی اپنی حمایت اور جماعت کے کم اور
کمزور ہونے کا خوف تھا… یہ خوف تب ہوتا جب لوگوں کو اپنی ذات کی طرف دعوت دی ہوتی…
یا اپنی ذات کے لئے کوئی دعویٰ گھڑا جاتا… الحمد للہ… محض اللہ تعالیٰ کی توفیق سے
…ہمیشہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ
وسلم کی طرف بلایا ہے… ہمیشہ جہادِ فی سبیل اللہ کی دعوت دی ہے… اور
ہمیشہ دین کی طرف آنے کی آواز لگائی ہے… پریشانی اور رنج کی بات یہ تھی کہ… حضرت
ڈاکٹر صاحب رحمۃ اللہ علیہ تک اصل صورتحال نہ پہنچ سکی اور وہ خفا
ہوئے… یہ میرے لئے بڑا صدمہ تھا بلکہ کراچی کے اس پورے سانحے کا واحد صدمہ اور
واحد نقصان تھا… باقی جو کچھ ہو رہا تھا وہ سب برداشت تھا…اور جو لوگ الگ ہو رہے
تھے ان کی علیحدگی میں ہمارے لئے دکھ، نقصان یا افسوس کی کوئی بات نہیں تھی… اس
سانحہ کے کچھ عرصے بعد بندہ نے حضرت ڈاکٹر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت
میں ایک خط بھیجا… معافی نامہ، محبت نامہ اور وضاحت نامہ…
اللہ تعالیٰ کی رحمت دیکھیں …اور حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ
علیہ کی وسعت ظرفی دیکھیں کہ… عین اسی دن اس خط کا ایسا جواب آیا
کہ…دل کے زخم دور ہو گئے اور محبت کی مٹھاس کو اس وقتی تلخی نے دو آتشہ بنا دیا…
اس وقت بندہ نے حضرت کے اس خط کو نہ ہی شائع کیا اور نہ عام کیا…کیونکہ مقصد عوامی
حمایت حاصل کرنا نہیں…ایک ولی بزرگ کی ناراضی دور کرنا تھا…جو الحمد للہ دور ہو
گئی…
پھر الحمد للہ باہمی محبت و سلام و پیام کا غائبانہ سلسلہ
چلتا رہا…ایک بار انہوں نے فرطِ محبت میں ایک پرچی پر فارسی شعر بھی لکھ
بھیجا…تلاش بسیار کے باوجود وہ معطر پرچی نہ مل سکی…مگر ان کا والا نامہ مل گیا
ہے… آج کی مجلس کا اختتام حضرت شاہ صاحب نور اللہ مرقدہ کے اسی نوازش نامے پر
کرتے ہیں…
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بگرامی خدمت، مخدومی المکرم، صاحب المجد والہمم، بارک اللہ فی
حیاتکم الغالیہ، وتقبل جہدکم الطیبۃ فی سبیل الاسلام والمجاہدین
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مکتوب گرامی باعث صد مسرت و ابتہاج ہوا۔ ذرہ نوازی کا تہہ دل
سے سپاس گذار ہوں۔ مجھے خود ان ناگفتہ حالات کی وجہ سے حد درجہ قلق و اضطراب لاحق
ہے۔ الحمد للہ آں محترم کے والانامہ سے تمام رنج و غم دور ہوا، زندگی کاپتہ
نہیں،میری صحت بہت کمزور ہے، کمر میں شدید درد کی وجہ سے آپریشن کیا۔ اب تک درد
باقی ہے، نماز کرسی پر پڑھتا ہوں، نیچے بیٹھنے سے قاصر ہوں۔
حاملین مکتوب سامی کے ذریعے آپ کی صحت و سلامتی کا علم ہوا۔
للہ الحمد ولہ المنۃ کہ آنجناب بخیر و عافیت ہیں اور آپ کے والدین کرام دامت
برکاتہم اور اخوان کرام سلمہم اللہ تعالیٰ بخیر و عافیت ہیں۔ القلم کا موقر جریدہ
موصول ہو رہا ہے، آں محترم سے بھی یہی استدعا ہے کہ صمیم قلب سے عفو و درگزر فرما
کر اپنی مستجاب دعاؤں میں یاد فرمائی سے نوازا کریں۔ آپ کے والدین کرام ، اہل
بیت اور اخوان وخلان کی خدمت میں طلب عفو و درگزر کا مضمون واحد ہے۔
زادکم اللّٰہ مجدا و شرفا ورزقکم سعادۃ الدارین وحفظکم من
الآفات والعاھات وایدکم بنصر من عندہ ویکلؤکم بعین حمایتہ۔
ولکم منی جزیل الشکر وفائق الاحترام
شیر علی
شاہ
۲۲/۵/۱۴۲۷ھ
اللہ تعالیٰ حضرت ڈاکٹر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو
اپنے اکرام، ضیافت، مغفرت کاملہ اور علیین کا مقام عطاء فرمائے… آمین یا ارحم
الراحمین
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کی ہر دن نئی شان ہے… کسی کو عزت دیتا ہے، کسی کو
ذلت… کسی کو صحت دیتا ہے کسی کو بیماری…اس کی ہر دن نئی شان ظاہر ہوتی ہے…مالداروں
کو بیٹھے بیٹھے فقیر بنا دیتا ہے… اور فقیروں کو بادشاہ…
﴿کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ﴾ (الرحمن :۲۹)
ہر روز وہ کام میں مصروف رہتا ہے…ہر دن وہ نئی شان میں ظاہر
ہوتا ہے…
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ
الْعَظِیْمِ
ہماری آج کی مجلس بس اسی آیت مبارکہ کے اردگرد ہے… یہ بھی
اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ آج ہمیں اپنے عظیم کلام کی ایک آیت مبارکہ کو سمجھنے،
سمجھانے پر بٹھا دیا ہے…
﴿کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ﴾
ایک منظر دیکھیں
افغانستان کی بستیوں پر فرانس کے میراج طیارے بھاری بم برسا
رہے ہیں… آگ، بارود اور زہریلی گیس کے بم… گویا کہ اس ملک میں انسان نہیں بستے…وہ
دیکھو! عراق کی آبادیوں اور مساجد پر فرانس کی ائیر فورس شدید بمباری
کر رہی ہے… عمارتیں ریزوں میں اور جسم لوتھڑوں میں اڑ رہے ہیں…عراق والوں نے فرانس
کا کیا بگاڑا تھا؟…
اور وہ ملک شام، آہ! وہ برکت والی سر زمین … اس پر فرانسیسی
فضائیہ کے بمبار طیارے کلسٹر اور ڈیزی کٹر بموں سے حملے کر رہے ہیں…ہنستے مسکراتے
جنگی پائلٹ…شراب کے آخری گھونٹ بھرتے، آپس میں گپیں ہانکتے خنزیر کے گوشت کے
برگر منہ میں ٹھونستے… سگریٹ کے بدبودار بھبھکے اڑاتے… گناہوں سے لتھڑے ناپاک سفید
بدن …برائلر مرغی کے چھلے ہوئے جسم جیسے چہرے… آنکھوں میں رعونت…جہازوں میں اڑتے،
بم برساتے، قہقہے اڑاتے…مسلمانوں کے جسموں کا قیمہ جلاتے… ہر دن بمباری ، خوفناک
بمباری … خود امن میں مگر دوسروں میں خوف بانٹتے… مگر پرسوں سب کچھ الٹ دیا…اس نے
جو حالات کو الٹنے کی طاقت رکھتا ہے… پیرس خوف سے لرز رہا تھا… ہر شخص بدکے ہوئے
گدھے کی طرح دوڑ رہا تھا… حکمرانوں کے سانس پھولے ہوئے تھے… سیکیورٹی والوں کی
آنکھیں ابل رہی تھیں…بس خوف تھا اور دہشت… دھماکے تھے اور چیخیں… افراتفری تھی
اور بھگدڑ… خون تھا اور لاشیں… خوف بانٹنے والوں پر خوف پلٹ آیا… موت تقسیم کرنے
والوں پر موت ٹوٹ پڑی… حملہ رکا تو گھنٹوں بعد حواس بیدار ہوئے… اب رونا ہے اور
ماتم… صدمہ ہے اور شکوے… فیس بک پر جھنڈے ہیں اور منافقوں کے تعزیتی انڈے … آخر
کیوں؟…
جن پر تم سالہا سال سے بم برسا رہے ہو … کیا وہ انسان نہیں؟…
وہ جن ماؤں کے بچے تم بے قصور مار رہے ہو…کیا ان ماؤں کے سینے میں دل نہیں؟… وہ
ہنستی کھیلتی بستیاں جو تم نے جلا ڈالیں… وہ کیا پیرس سے کم تھیں؟… اللہ تعالیٰ کا
فیصلہ تھا کہ تمہیں مہلت دی، چھوٹ دی… مظلوم انتظار میں تھے کہ… اللہ تعالیٰ کا
دوسرا فیصلہ کب آتا ہے…وہ آ گیا اور تم لرز اٹھے…
﴿کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ﴾
ہر دن اللہ تعالیٰ کی نئی شان ہے۔
﴿کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ﴾
حضرت عثمانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
’’ہر وقت اس کا الگ کام اور ہر روز اس کی نئی شان ہے، کسی کو
مارنا، کسی کوجِلانا ( یعنی زندہ کرنا)… کسی کو بیمار کرنا، کسی کو تندرست کر
دینا، کسی کو بڑھانا، کسی کو گھٹانا‘‘… (تفسیر عثمانی)
تفسیرِ حقانی میں ہے:
’’عبد اللہ بن منیب رضی اللہ
عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے یہ آیت پڑھی ہم نے پوچھا۔ حضرت! شان سے کیا مراد ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ گناہ بخشتا ہے اور غم
دور کرتا ہے اور کسی قوم کو بلند اور کسی کو پست کرتا ہے…یعنی دنیا میں جو کچھ ہو
رہا ہے اور آئندہ ہو گا اور جو کچھ قیامت میں ہو گا وہ سب اس کی ایک ایک شان کا
جلوہ ہے… وہ بے کار نہیں کہ دنیا کو پیدا کر کے آپ بے کار بن بیٹھا جیسا کہ بعض
غلط مذاہب خصوصاً فرنگی فلسفیوں کا خیال ہے۔‘‘ ( مفہوم حقانی)
پس اے ظالمو! اکڑنے کی ضرورت نہیں… اے مظلومو! مایوس ہونے کا
مقام نہیں… معلوم نہیں کس وقت مالک کی کونسی شان ظاہر ہو…وہ دیکھو! کل کا فرعون بش
آج ذلیل ہے…کل کا نمرود ’’ٹونی‘‘ آج رسوا ہے… کل کا سرکش ’’پرویز مشرف‘‘ آج بے
بس ہے…کیونکہ :
﴿کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ﴾
ہر دن اللہ تعالیٰ کا نیا کام ہے…نئی شان ہے…
کمینہ دشمن
آپ نے کبھی فرانس کی تاریخ دیکھی؟… آج ہمارے روشن خیال
دانشور اسے ایک مظلوم بھیڑ بکری بنا کر پیش کر رہے ہیں …مسلمان فاتحین کو سلام…
انہوں نے اسلامی حکومت کو ۱۰۲ہجری ہی میں فرانس تک پہنچا دیا تھا…صلیبی جنگوں میں …دو سو
سال تک فرانسیسی فوجیں مسلمانوں کے خلاف سب سے آگے لڑتی رہیں…وہ کونسا ظلم ہے جو
اہل فرانس نے مسلمانوں پر نہیں ڈھایا… مگر وہ ’’اسلام کے بیٹوں‘‘ کے سامنے بے بس
تھے… پھر مسلمانوں نے جہاد چھوڑا… خلافت کا دامن ان کے ہاتھ سے چھوٹا تو صلیبی
قومیں پاگل کتوں کی طرح ان پر پل پڑیں… اور ہر ایک نے اپنے حصے بانٹ لئے… فرانس کے
صلیبیوں نے براعظم افریقہ کا رخ کیا…مالی سے الجزائر تک مسلمانوں کے ممالک اپنے
قبضے میں لے لئے… خلافتِ عثمانیہ کے خلاف فرانس سب سے آگے لڑا … عرب اسرائیل جنگ
میں فرانس نے عرب مسلمانوں کی دھجیاں بکھیریں… اور پھر عہد حاضر میں تو اس کمینہ
خصلت قوم کے مظالم مسلمانوں پر بے شمار ہیں…اور افسوس یہ کہ بے جواز ہیں… اس دور
میں نہ فرانس پر مسلمانوں کا کوئی حملہ ہوا اور نہ فرانس کے کسی بدکار کتے کا کوئی
دانت مسلمانوں نے توڑا… مگر ہر جنگ میں وہ سب سے بڑھ کر مسلمانوں پر بم برساتا
رہا…اللہ تعالیٰ کے ہاں مہلت کا ایک وقت ہے… اور ظلم ضرور ظالم پر لوٹتا ہے… کوئی
ہمیں بنیاد پرست کہے یا شدت پسند … مگر ہمیں افغانستان کی مٹی کے گھر پیرس کے شیشے
والے محلات سے زیادہ عزیز ہیں…وہ جو پیرس کو خوابوں کی سرزمین سمجھتے ہیں…اور وہاں
جا کر اپنی راتیں رنگیں اور قبر تاریک کرتے ہیں…وہ کبھی افغانستان ،عراق اور شام
جا کر بھی دو آنسو بہا آتے … ان مظلوم شہداء پر جن کو فرانسیسی طیارے نے ٹکڑوں
میں بکھیر دیا…پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی
کا بدبودار طوفان اٹھا تو… فرانس اس میں سب سے آگے تھا…مسلمان خواتین پر حجاب کی
پابندی کا فتنہ اٹھا تو قیادت فرانس کے ہاتھ میں تھی… کیا انہوں نے یہ سمجھ لیا
تھا کہ وہ زمین کے مالک بن چکے؟… وہ جو کچھ کریں گے اس کا انجام ان تک نہ پہنچے
گا؟…مگر اللہ تعالیٰ موجود ہے…وہ ’’حی قیوم‘‘ ہے… وہ ظالموں کی گردنیں توڑنے والا
ہے…وہی زمین کا مالک ہے … اس کی ڈھیل کو اپنا کمال نہ سمجھو… چارلی ایبڈو پر حملے
کے بعد…یہ تم پر دوسرا حملہ ہے…اور یہ آخری نہیں… کیونکہ… ظلم ظالم کی طرف لوٹ
آتا ہے…
﴿کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ﴾
ہر دن اللہ تعالیٰ کا الگ کام ہے…
اب اس کے اگلے کام کا انتظار کرو… تمہارے ایٹم بم اور تمہاری
سیکیورٹی اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کر سکتی…
﴿کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ﴾
حضرت کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
’’ہر روز اللہ تعالیٰ کی ایک شان ہے… کسی کو بڑھانا،کسی کو
گھٹانا،کسی کو عزت دینا،کسی کو پست کرنا اور ذلیل کرنا…کسی کو انعام و اکرام سے
نوازنا، کسی کو اس کے برے اعمال کی بدولت مصائب و آفات میں مبتلا کرنا…کسی کو
نیکی اور رجوع الی اللہ کی توفیق دینا اور کسی کو اس کی بد نصیبی سے خیر اور نیک
اعمال سے دور کر دینا… کبھی کسی کو تندرست رکھنا اور کبھی بیمار کر دینا… کسی کو
مارنا، کسی کو زندگی عطا فرمانا… خلاصہ یہ کہ کبھی جمال والی شان اور کبھی جلال
والی شان… مخلوق کے حالات کے مطابق بدلتی رہتی ہے…اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی
نعمت اور رحمت ہے‘‘… ( مفہوم معارف القرآن)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ
عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
ہر دن اللہ تعالیٰ کی نئی شان ہے… وہ گناہ کو بخشتا ہے، مصیبت
کو دور فرماتا ہے اور دعاء کو قبول کرتا ہے…(القرطبی)
یہ آیت مبارکہ ذہن میں ہو تو دعاء مانگنے والے کبھی نہ
تھکیں… ہمیشہ مانگتے رہیں کہ کب قبولیت والی شان ظاہر ہو جائے…مصیبت زدہ مایوس نہ
ہوں کہ کب حاجت روائی والی شان ظاہر ہو… اور استغفار کرنے والے اس لالچ اور سچی
اُمید میں معافی مانگتے رہیں کہ کب معافی والی شان ظاہر ہو اور پہاڑوں جیسے گناہ
ایک لمحے میں بالکل ختم ہو جائیں…
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے کہ…اللہ تعالیٰ کی ہر دن نئی شان ہے وہ کسی قوم کو اونچا کرتا ہے اور کسی کو
گراتا ہے…
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ
الْعَظِیْمِ
دہرے اجر والے
ہمارے پیارے ساتھی بھائی محمد اشفاق… اللہ تعالیٰ ان کی شہادت
قبول فرمائے …کوہاٹ کے ڈویژن منتظم بن کر گئے تو مجھے مسلسل خطوط لکھتے تھے…جماعت
کا رشتہ بھی تھا اور بیعت کا بھی… انہوں نے گرتے کام کو سنبھالا اور فتنے میں
روشنی کے مینار بنے… بار بار شہادت کی تشکیل مانگتے تو عرض کیا جاتا کہ… وہ تو
اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے…اس کی شان کہ جیسے عطاء فرما دے… پھر وہ محاذ پر تشکیل
کرانے میں کامیاب ہوئے اور اپنے دس عزیز رفقاء کے ہمراہ…صلیبی ڈرون کا نشانہ بنے…
وہ شہداء کس قدر خوش نصیب ہیں…جن کے لئے صلیبیوں کے ہاتھوں شہید ہونے کی وجہ سے
دہرے اجر کی بشارت ہے… ان رفقاء میں باہمی محبت کیسی ہو گی؟ …وہ فتح کی خوشی میں
سرشار کس طرح ذکر و شکر میں ڈوبے واپس جا رہے ہوں گے؟… اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ
کی مہمانی اور اس کے قرب کی زندگی کیسی ہو گی؟… اللہ کی شان دیکھیں کہ کچھ لوگ
زندہ ہیں مگر مر چکے ہیں… اور یہ شہداء مر چکے ہیں مگر زندہ ہیں… ان خوش بختوں کے
والدین اور عزیز و اقارب کو قلبی مبارکباد… اور جدائی کا جو طبعی صدمہ پہنچا اس پر
قلبی تعزیت ہے … اللہ تعالیٰ کی ہر دن نئی شان ہے…ایک دن ہم میں سے ہر ایک کے لئے
اس کی شان کا ظہور اس طرح ہو گا کہ…اس دن وہ ہمیں موت دے گا… ہاں! سب نے مرنا
ہے…بس دعاء کریں کہ… اس دن محبوب کی جو شان ظاہر ہو وہ رحمت والی، مغفرت والی اور
ستاری والی ہو… اے شہداء اسلام! شان والے رب کی طرف سے شاندار انجام مبارک ہو…
﴿کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ﴾
آج کل کوشش ہوتی ہے کہ ’’رنگ و نور‘‘ مختصر لکھا جائے…مگر
آج اس آیت مبارکہ کے جلوے قلم کو رکنے ہی نہیں دے رہے… اردگرد کئی عربی اور اردو
تفسیریں بھی رکھی ہیں جو دعوت دے رہی ہیں کہ…ان کے موتی بھی اس ہار میں پرو دیے
جائیں…پھر بھی اختصار کی کوشش کرتا ہوں… حضرت امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت
مبارکہ کی تفسیر میں یہ قصہ لائے ہیں:
ایک مسلمان حاکم نے اپنے وزیر سے پوچھا:
﴿کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ﴾
اس آیت مبارکہ کا حقیقی مطلب کیا ہے؟ وزیر نہ سمجھا سکا اور
اس نے بادشاہ سے ایک دن کی مہلت مانگی…مہلت ملنے پر وہ سخت غمزدہ حالت میں گھر
لوٹا…اس کے ایک کالے حبشی غلام نے پوچھا… آپ اس قدر پریشانی کی حالت میں کیوں
ہیں؟ اس نے وجہ بتائی تو غلام نے کہا…مجھے حاکم کے پاس لے چلیے میں اس آیت کی
تفسیر ان کو سمجھا دوں گا…وزیر نے جا کر حاکم کو بتایا تو حاکم نے غلام کو بلوا
لیا…غلام نے کہا…’’اے امیر محترم! اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ رات کو دن میں
داخل کرتا ہے…اور دن کو رات میں داخل فرماتا ہے… زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے اور
مردہ سے زندہ کو… وہ بیماروں کو شفاء دیتا ہے، اور تندرستوں کو بیماری… وہ عافیت
میں پڑے لوگوں کو مصیبت میں مبتلا فرماتا ہے اور مصیبت زدہ لوگوں کو عافیت عطاء
فرماتا ہے…وہ ذلیل کو عزت دیتا ہے اور عزت والوں کو ذلت… وہ محتاج کو غنی بناتا ہے
اور غنی کو محتاج‘‘…بادشاہ نے یہ سن کر کہا…تم نے مجھے راحت دی ، اللہ تعالیٰ
تمہیں راحت دے…پھر اس نے حکم دیا کہ ’’وزیر‘‘ کا وزارتی لباس اتار کر اسے معزول کر
دیا جائے اور یہ لباس اس غلام کو پہنا کر اسے وزیر بنا دیا جائے… غلام نے وہ لباس
پہنا اور کہا… اے میرے آقا! یہ ہے اللہ تعالیٰ کی شان… (القرطبی)
سبحان اللہ ! وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کی شان یقین سے بیان کر
رہا تھا اور اس آیت کی تفسیر سنا رہا تھا، اللہ تعالیٰ نے اسی لمحہ خود اسے اس
آیت کی تفسیر بنا دیا… ہم اپنی زندگی میں غور کریں کہ بعض لمحوں میں زندگی کا رخ
کیسا بدلا…وہ رمضان المبارک کی رات تھی میں نے جیل میں ایک کپ چائے سے سحری کی…
اور میری زندگی ایک چار دیواری تک محدود تھی… مگر اسی روزے کی افطاری میں نے
قندھار میں تازہ کھجور اور اچھے کھانے کے ساتھ آزادی کی حالت میں کی…پھر ایک
رمضان تھا میں نے روزے کی افطاری اپنے والدین، اہل خانہ اور رفقاء کے ہمراہ کی…مگر
یکایک ایسا کچھ ہوا کہ سحری کے وقت اکیلا تھا اور دربدر…زندگی مکمل طور پر تبدیل
ہو گئی… اللہ تعالیٰ کی شان کا نظام ’’غیبی‘‘ ہے… جو اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین
رکھتے ہیں وہ کبھی مایوس اور بدیقین نہیں ہوتے… مثلاً زکوٰۃ، صدقے ،خیرات پر مال
میں برکت کا وعدہ ہے… اب یہ نہیں ہو گا کہ آپ نے دس دئیے تو آپ کو بتا کر ستر
واپس کیے جائیں… یہ ستر ضرور ملیں گے مگر کس طرح؟ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنا نظام
ہے…وہ آج دیں یا کل؟… نقد عطاء فرمائیں یا کسی چیز کی صورت میں …کوئی بیماری ٹال
کر اس کے علاج کی رقم بچا دیں یا کوئی اور دور کی نعمت دے کر انسان کو مالا مال
فرما دیں… بعض بیماریاں ایسی ہوتی ہیں کہ انسان کے سارے مال کو کھا جاتی ہیں…ایک
بار ٹیکسی میں سفر کے دوران ڈرائیور نے بتایا کہ میرے والد بہت عرصہ بیرون ملک
کماتے رہے…بڑی جائیداد بنائی…مگر پھر بیمار ہو کر آئے تو علاج میں سب کچھ بیچنا
پڑا…اور جب وہ مرے تو ان کے بیس تیس سال کی ساری کمائی علاج پر لگ چکی تھی… بے شک
اللہ تعالیٰ جو چاہے کرتا ہے… ساری مخلوق اس کی محتاج ہے…اور اللہ تعالیٰ کی ہر دن
ایک نئی شان ہے… کامیابی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے پُر امید رہو اور اللہ تعالیٰ سے
جڑے رہو… اللہ تعالیٰ سے جڑے رہو…
اے شان والے رب! ہماری حالت دنیا اور آخرت میں بہتر فرما دے…
یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ! اَصْلِحْ لَنَا شَأْنَنَا کُلَّہْ
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ سے سب اپنی ’’حاجتیں‘‘ مانگتے ہیں، آسمان والے
بھی اور زمین والے بھی…سب اس کے محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں… وہ سب کی سنتا
ہے… اور سب کی حاجتیں ان کی مصلحتوں کے مطابق پوری فرماتا ہے…ہر دن اس کی نئی شان
ہے…
﴿کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ ﴾
’’شأن‘‘ کا معنی سمجھ لیں…
اس آیت مبارکہ کے جلوے آج بھی دل و دماغ پر حاوی ہیں…
﴿کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ ﴾
سب سے پہلے ’’شأن‘‘ کا معنی سمجھ لیں…
شأن کہتے ہیں…حالت، کام اور فکر کو … جب کسی سے پوچھیں…
مَا شَأْنُکَ؟
اس کا مطلب ہو گا… تیرا کیا حال ہے…
اَلشَّأن بڑا کام ، معاملہ ،حالت… یا اللہ میری شأ ن ٹھیک
فرما دے… یعنی میری حالت اچھی فرما دے، میرے کام درست فرما دے،میرے معاملات کی
اصلاح فرما دے…أَصْلِـحْ لِی شَـأْنِـی…
اس کی جمع آتی ہے ’’شئون‘‘ آپ نے یہ لفظ سنا اور پڑھا ہو
گا… ’’شُئُون الحرمین‘‘ حرمین شریفین کے کام کاج اور معاملات…وہاں عرب میں ایک
پوری وزارت اس نام سے موجود ہے…
اسی طرح ’’شأ ن‘‘ کا لفظ اچھی حالت، اور قدر و منزلت کے معنی
میں بھی استعمال ہوتا ہے … اور مصروفیت کے معنٰی میں بھی آتا ہے… اب ترجمہ آسان
ہو گیا…
﴿کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ ﴾
ہر دن اللہ تعالیٰ کے نئے نئے کام ہیں، اور وہ نئے حالات ظاہر
فرماتا ہے…قیدیوں کو رہائی دیتا ہے… اور آزاد لوگوں کو قید…وہ ہر دن تین بڑے لشکر
روانہ فرماتا ہے…ایک لشکر ان افراد کا جن کو دنیا سے قبر کی طرف بھیج دیتا ہے…
دوسرا لشکر ان افراد کا جن کو ماں کے پیٹ سے دنیا میں بھیجتا ہے… اور تیسرا لشکر
ان افراد کا جن کو ماؤں کے رحم میں منتقل فرماتا ہے… مانگنے والے مانگ رہے ہیں
اور وہ دے رہا ہے… کھانے والے کھا رہے ہیں اور وہ کھلا رہے ہیں…پینے والے پی رہے
ہیں اور وہ پلا رہا ہے… مگر اس کے خزانوں میں ذرہ برابر کمی نہیں آئی…اور نہ آئے
گی…وہ جو دنیا میں قوت والے تھے آج قبروں میں بے بس پڑے ہیں…قوموں کی قومیں مٹ
گئیں…اللہ تعالیٰ کا کام چلتا رہا، اللہ تعالیٰ کا نظام چلتا رہا اور چلتا رہے
گا…یہ کام، یہ نظام کسی کا محتاج نہیں…
﴿کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ ﴾
ہر دن اللہ تعالیٰ کی نئی شان ہے…
ہر دن نئی خیر
حضرت سلیمان دارانی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی
تفسیر میں فرماتے ہیں:
ہر دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نئی خیر اس کے بندوں کو ملتی ہے…
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت
ہے:
اللہ تعالیٰ نے موتی سے ایک تختی بنائی… اس تختی کے دونوں
پٹھے سرخ یاقوت کے بنائے… اس کا قلم نوری ہے اور اس کی تحریر بھی نوری ہے … اللہ
تعالیٰ ہر دن تین سو ساٹھ مرتبہ اس تختی پر نظر فرماتا ہے اور ہر نظر پر کسی کو
زندگی دیتا ہے، کسی کو موت… رزق دیتا ہے، عزت عطا فرماتا ہے، ذلت میں ڈالتا ہے اور
جو کچھ چاہتا ہے وہ کرتا ہے…﴿کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ﴾ کا یہی مطلب ہے‘‘… (
بغوی، ابن کثیر، مظہری)
حضرت حسین بن فضل رحمۃ اللہ
علیہ فرماتے ہیں:
’’آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو تقدیر لکھ دی ہے،
روزانہ اس کو اپنے وقت پر نافذ فرماتے ہیں‘‘…(مظہری)
سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے…اور وہ ہر
وقت سنتا ہے، ہر وقت دیتا ہے اور ہر وقت ہر کام کی قدرت رکھتا ہے…
﴿کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ ﴾
ڈرانے والوں کے نام
آج کل پاکستانی حکومت بہت سرکشی اور تکبر کی حالت میں ہے…وہ
پاکستان کو لبرل، سیکولر اور ہندو مملکت بنانے کے دعوے کر رہی ہے…مدارس کے خلاف
شدید کریک ڈاؤن جاری ہے… سنا ہے کہ اب مساجد پر بھی چھاپوں اور قبضوں کی تیاری چل
رہی ہے…ساتھ ساتھ یہ اعلان بھی کیا جا رہا ہے کہ…جہاد کے ہر حمایتی کو ختم کر دیا
جائے گا، مٹا دیا جائے گا… حکومت کے یہ تمام بیانات سن کر ذہن میں یہی آیت مبارکہ
آتی ہے کہ:
﴿کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ ﴾
اللہ تعالیٰ ہر دن نئے حالات ظاہر فرماتے ہیں…
معلوم نہیں کل نواز شریف رہے گا یا نہیں؟ …معلوم نہیں شہباز
شریف ہر دفعہ لندن سے علاج کرا کے واپس آ سکے گا یا نہیں… آج جن کے پاس طاقت ہے
کل ان کی کوئی سنے گا بھی یا نہیں؟… یہودی کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ چھ دن تو کام
اور فیصلے فرماتے ہیں مگر ہفتہ کے دن کوئی کام یا فیصلہ نہیں فرماتے…
ان کو جواب دیا گیا کہ…
﴿کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ ﴾
اللہ تعالیٰ ہر دن کام اور فیصلے فرماتے ہیں…
آج جو وزیر اعظم بنے ہوئے ہیں …کل اللہ تعالیٰ ایسے حالات
لائیں گے کہ خود ان کے اپنے اعضاء بھی ان کا کہنا نہیں مانیں گے…اس آیت مبارکہ کی
تفسیر میں حضرت شیخ ابواللیث سمر قندی رحمۃ اللہ علیہ نے بہت ہمت
افزاء قصہ تحریر فرمایا ہے …وہ لکھتے ہیں:
’’حجاج بن یوسف نے حضرت محمد ابن الحنفیہ رضی اللہ
عنہ کو خط لکھا اور اس میں انہیں دھمکیاں دیں کہ میں آپ کا برا حشر
کروں گا وغیرہ… حضرت محمدابن الحنفیہ رضی اللہ عنہ ( جو
حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے تھے) نے
جواب میں تحریر فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ ہر دن تین سو ساٹھ بار لوح محفوظ پر نظر فرماتے
ہیں، اور ہر دن عزت دیتے ہیں اور ذلت، عطا فرماتے ہیں اور روکتے ہیں…پس میں اُمید
کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی کوئی نظر عطاء فرمائیں گے اور تجھے مجھ پر قدرت
نہیں دیں گے‘‘…
حجاج نے حضرت محمد ابن الحنفیہ رضی اللہ
عنہ کا یہ خط عبد الملک بن مروان کو بھیج دیا… عبد الملک نے یہ خط اپنے
پاس خزانے میں محفوظ رکھ لیا… کچھ عرصہ بعد روم کے بادشاہ نے عبد الملک بن مروان
کو دھمکی آمیز خط بھیجا تو اس کے جواب میں عبد الملک نے… حضرت محمد بن حنفیہ رحمۃ
اللہ علیہ کے الفاظ لکھ کر بھیج دئیے…اس پر رومی بادشاہ نے کہا…یہ
الفاظ تو خاندان نبوت کا خزانہ معلوم ہوتے ہیں…
( تفسیر السمرقندی ص ۳۶۲ ج ۲)
پاکستان کے اہل ایمان، اہل جہاد ، اہل مساجد…اور اہل مدارس …
حکومت کی موجودہ دھمکیوں اور پھرتیوں سے نہ گھبرائیں…وفاق المدارس کے محترم اور
مکرم منتظمین خود سپردگی اور پسپائی کا طرزِ عمل اختیار نہ کریں … اللہ تعالیٰ کسی
کو قوت اور طاقت دے کر …خود ایک طرف نہیں ہو گئے… وہ جس طرح حکومت دینا جانتے ہیں
اسی طرح حکومت چھیننا بھی جانتے ہیں…ہر دن ان کے نئے کام ہیں…وہ سرکشوں کی گردنیں
توڑتے ہیں…جابروں کو خاک چٹاتے ہیں…متکبروں کو مٹی میں ملاتے ہیں…قوت والوں کو بے
بسی میں گراتے ہیں …اور حکمرانوں کو ذلت چکھاتے ہیں…
﴿کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ ﴾
ہر دن وہ اپنی قدرت کے نئے نئے نمونے دکھاتے ہیں…اس لئے اے
مسلمانو! آج کے حکمرانوں کی طاقت دیکھ کر یہ نہ سمجھو کہ وہ ہمیشہ اسی طرح رہیں
گے…اور آج اپنی راحتوں کو دیکھ کر یہ نہ سمجھو کہ یہ راحتیں ہمیشہ رہیں گی…اپنی
راحتوں کی خاطر مسجد قربان نہ کرو، مدرسہ کو غلام نہ بناؤ… جہاد سے محرومی نہ
پاؤ… اگر کوئی اپنی راحت اور حفاظت کی خاطر اپنا دین قربان کرے گا تو ممکن ہے…
دین سے بھی جائے اور راحت اور حفاظت بھی چھن جائے…اور جو اپنی راحت اور حفاظت خطرے
میں ڈال کر اپنے دین کو بچائے گا تو … بہت ممکن ہے کہ دین بھی نصیب رہے اور راحت و
حفاظت بھی سلامت رہے…اس لئے اپنے حق مؤقف پر ڈٹ جاؤ… اور اللہ تعالیٰ سے اچھے
حالات اور اس کی نصرت مانگو… وہ ہر دن اپنے بندوں کی بہت عجیب طرح سے نصرت فرماتا
ہے…
ہماری شان
’’ہماری شان‘‘… یعنی ہمارے کام، ہمارے حالات اور ہمارے
معاملات پر جب اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سایہ ہو تو…سب کچھ ٹھیک رہتا ہے…لیکن جب
ہمارے کاموں اور ہمارے حالات پر ہمارے’’ نفس‘‘ کا سایہ ہو تو سب کچھ بگڑ جاتا ہے…
انسان کا نفس اس کا سب سے بڑا دشمن ہے…وہ ہمارے ہر کام کو بگاڑتا ہے… اور ہمیں
گناہوں ،برائیوں ، ذلتوں اور رسوائیوں میں ڈالتا ہے…اسی لئے ہمیں سکھایا گیا کہ…ہم
اپنی ’’شان‘‘ ٹھیک کرانے کے لئے …’’شان‘‘ والے رب سے فریاد کیا کریں…اور اس کی
رحمت والی ’’شان‘‘ مانگا کریں…
لیجئے ’’شان‘‘ ٹھیک کرانے کے لئے یہ اہم تحفہ… اور
تحفہ بھی معمولی نہیں…بلکہ یہ وہ عظیم تحفہ ہے جو حضرت رسول اکرم صلی
اللہ علیہ وسلم نے اپنی سب سے لاڈلی، پیاری اور چہیتی لختِ جگر…حضرت
سیّدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کو عطاء فرمایا…
اور ان کے ذریعہ سے امت تک پہنچایا…
اپنی عزیز ترین اور افضل ترین بیٹی کو یہ تحفہ دیتے وقت حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید کے جو الفاظ ارشاد
فرمائے ان کو پڑھ کر دل وجد میں آ جاتا ہے کہ…اولاد کے ساتھ اصل خیر خواہی کسے
کہتے ہیں…ارشاد فرمایا:
مَایَمْنَعُکِ اَنْ تَسْمَعِی مَا اُوْصِیْکِ بِہٖ
اے فاطمہ! میری وصیت غور سے سنو…کوئی چیز تمہیں یہ نصیحت سننے
سے نہ روکے…
تم صبح اور شام یہ الفاظ کہا کرو:
یَا حَـیُّ یا قَیُّـومُ بِـرَحْمَـتِکَ أَسْتَـغِـیْثُ ،
أَصْلِـحْ لِی شَـأْنـی کُلَّـہٗ ، وَلا تَکِلْـنِی إِلٰی نَفْـسِی طَـرْفَۃَ
عَـینٍ۔ (نسائی، مسند احمد)
یا اللہ، اے زندہ ، اے تھامنے والے! میں آپ کی رحمت سے فریاد
کرتا ہوں میرے سارے کام، میرے سارے حالات ٹھیک فرما دیجئے اور مجھے آنکھ جھپکنے
کے برابر…یعنی ایک لمحہ بھی میرے نفس کے سپرد نہ کیجئے…
اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی
روایت میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مکروب کی دعاء یہ ہے:( مکروب کہتے ہیں شدید غم، پریشانی،
تکلیف اور تنگی میں مبتلا شخص کو)
اَللّٰہُمَّ رَحْمَتَکَ أَرْجُو فَلَا تَکِلْنِی إِلٰی
نَفْسِی طَرْفَۃَ عَیْنٍ، وَأَصْلِحْ لِی شَأْنِی کُلَّہٗ لَا إِلٰہَ إِلَّا
أَنْتَ۔
’’یا اللہ! آپ ہی کی رحمت کا امیدوار ہوں … (کسی اور کی طرف
نہیں دیکھتا) …مجھے ایک لمحہ بھی میرے نفس کے سپرد نہ کیجئے ، میرے سارے کاموں کو
سیدھا فرما دیجئے ، آپ کے سوا کوئی معبود نہیں‘‘… ( ابو داؤد، احمد)
یہ دونوں دعائیں بڑی قیمتی ہیں… ہماری ’’شان‘‘ ہر وقت اللہ
تعالیٰ کی ’’شانِ رحمت‘‘ کی محتاج ہے…جاگتے ہوئے بھی سوتے ہوئے بھی …دن میں بھی
رات میں بھی…دنیا میں بھی اور قبر ،حشر میں بھی… رزق کے بارے میں بھی… اور عزت کے
باب میں بھی… صحت کے بارے میں بھی… اور حفاظت کے لحاظ سے بھی… ہم اپنے حالات، اپنی
ضروریات اور اپنے کاموں کے لئے اگر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کا سہارا پکڑیں تو
وہ ہمیں پورا نہیں پڑ سکتا… آخر اس نے بھی مرنا ہے، سونا ہے اور دوسرے کاموں میں
لگنا ہے…مگر اللہ تعالیٰ ’’حی‘‘ ہے ہمیشہ زندہ …’’قیوم‘‘ ہے سنبھالنے والا، تھامنے
والا… اور وہ ہر وقت سنتا ہے، قبول فرماتا ہے، عطا کرتا ہے…
﴿کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ ﴾
آیت پر غور نہ کرنے کے نقصانات
یہ آیت مبارکہ…
﴿کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ ﴾
ہمارے ایمان، عقیدے اور عزم کو مضبوط فرماتی ہے… وہ لوگ جنہوں
نے اس آیت مبارکہ پر غور نہیں کیا اور اسے نہیں سمجھا وہ طرح طرح کی گمراہیوں اور
غلطیوں میں جا ڈوبے…
یہ’’غامدی‘‘ یہ جدت پسند مفکر… انہوں نے امریکہ اور یورپ کی
چمک دمک کو دیکھا تو دل ہار بیٹھے…انہوںنے سمجھا کہ بس اب یہ سب کچھ اسی طرح رہے
گا…اس لئے احساس کمتری میں مبتلا ہو کر یہ ان کے تلوے چاٹنے لگے… ان کی نظروں میں
کلمہ طیبہ پھیکا پڑ گیا…ان کی نظروں میں مدینہ طیبہ اور حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے چھوٹے پڑ گئے…انہوں نے
سمجھا کہ بس اب حالات ہمیشہ اسی طرح رہیں گے تو ہمیں بھی عالمی برادری کا حصہ بن
جانا چاہیے…انہوں نے نہ ماضی کو دیکھا نہ مستقبل کو سمجھا اور نہ اس آیت مبارکہ
میں غور کیا…
﴿کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ ﴾
اللہ تعالیٰ ہر لمحہ، ہر لحظہ اور ہر دن نئے نئے حالات لاتے
ہیں… اور بڑی بڑی قوموں کو گراتے ہیں… اول تو دنیا کی چمک دمک… کوئی ترقی
نہیں…لیکن اگر اسے ترقی مان لیا جائے تو بھی یہ جلد ختم ہو جائے گی…امریکہ اور
یورپ تیزی سے تباہی کی طرف جا رہے ہیں…ان کے آلات، ان کی سائنس اور ان کی تہذیب…
یہ تینوں چیزیں خود ان کے لئے موت اور ذلت کا پیغام بن جائیں گی…
تب یہ ’’جدید انڈے‘‘ پچھتائیں گے…مگر ایسے پچھتانے کا کیا
فائدہ؟…
اسی طرح وہ مسلمان جو حرام کی کمائی میں پڑ گئے ہیں… ان کو
توبہ کا خیال آتا ہے مگر سوچتے ہیں کہ کھائیں گے کہاں سے؟ … وہ اس آیت میں غور
کریں تو… رب تعالیٰ کی رزق والی شان کو پہچان جائیں کہ…وہ ہر دن اور ہرلحظہ ہمیں
کن کن طریقوں اور راستوں سے رزق دیتا ہے اور دے سکتا ہے…تو پھر ہم حرام کو اپنی
مجبوری کیوں بنائیں…
اسی طرح وہ پریشان حال مسلمان… جو بیماری، قرضے،تکلیف، رشتہ
نہ ہونے وغیرہ کے مسائل سے دوچار ہیں…وہ اس آیت مبارکہ میں غور کریں تو مایوسی سے
بچ جائیں…اور وہ سمجھ جائیں کہ ہم سے بڑی غلطی یہ ہوئی کہ…مصیبت کے وقت ہم نے اللہ
تعالیٰ کے سوا اور سہاروں کی طرف دیکھا… حالانکہ حالت بدلنے ، شان بدلنے کا اختیار
اور کام صرف اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہے…اس لئے ہر مصیبت کا حل صرف یہی ہے کہ…صرف
اور صرف اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیاجائے…اپنے ایمان کی تجدید کی جائے… عقیدۂ
توحید کی تجدید کی جائے اور بار بار اللہ تعالیٰ کو پکارا جائے کہ… مالک آپ کے
سوا کوئی نہیں کر سکتا… آپ کے سوا کسی کی رحمت پر میری نظر نہیں …آپ کے سوا کسی
کے پاس شان بدلنے کی طاقت نہیں…
لَا إِلٰہَ إِلَّاأَنْتَ،لَا إِلٰہَ إِلَّاأَنْتَ،
بِرَحْمَتِکَ أَسْتَغِیْثُ،أَصْلِـحْ لِیْ شَـأْنِـی کُلَّـہ
یَا حَـیُّ یا قَیُّـومُ بِـرَحْمَـتِکَ
أَسْتَـغِـیْثُ ، أَصْلِـحْ لی شَـأْنِـی کُلَّـہٗ ، وَلا تَکِلْـنِی إِلٰی
نَفْـسِی طَـرْفَۃَ عَـینٍ۔آمین یا ارحم الراحمین
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہر دن نئے افراد پیدا فرماتا ہے… پرانے لوگوں کی
جگہ نئے افراد لاتا ہے…پس کوئی خود کو لازوال نہ سمجھے…کوئی اپنے عہدے، منصب اور
مال کو مستقل نہ سمجھے… جو کل عزت مند تھے آج ذلیل پھرتے ہیں…جو کل مالدار تھے
آج ان کا بھیک پر گذارہ ہے…وہ جو کل زمین پر اکڑ کر چلتے تھے وہ آج دو قدم
اٹھانے سے معذور ہیں…وہ جو کل آپس میں محبت کرتے تھے آج ایک دوسرے کے دشمن
ہیں…اللہ تعالیٰ کی ہر دن نئی شان ہے…
یُحْدِثُ اَشْخَاصًاوَیُجَدِّدُاَحْوَالًا…
وہ روز نئے افراد لاتا ہے اور ہر گھڑی نئے احوال بناتا ہے…
﴿کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ ﴾
آنکھوں دیکھا واقعہ
مدرسہ سے تعلیمی فراغت کے بعد جب جہاد میں قدم رکھا تو بیانات
کا سلسلہ شروع ہوا…ایک بار پنجاب کے ایک شہر سے دعوت آئی…میرا قیام کراچی میں
تھا…جلسہ میں پہنچا تو ایک بڑے خطیب صاحب بھی مدعو تھے اور آخری بیان ان کا
تھا…وہ بڑی شان سے تشریف لائے…پورے مجمع کو کھڑا کیا گیا…بہت شور شرابا ہوا، جس کا
بیان ہو رہا تھا …اسے بیان کافی دیر تک روکنا پڑا… چند سال بعد پھر ایک جلسہ تھا
وہ خطیب صاحب اپنی پارٹی چھوڑ چکے تھے…مسکینوں کی طرح اسٹیج پرآ بیٹھے… نہ کوئی
نعرہ گونجا نہ شور… پھر تھوڑی دیر بعد ان کے نام کا اعلان ہوا کہ وہ تقریر کے لئے
تشریف لائیں مگر وقت کم ہے اس لئے پانچ منٹ میں اپنی بات ختم کریں…وہ بیان کے لئے
اُٹھے تب بھی کسی نے توجہ نہ کی…انہوں نے خطاب شروع ہی کیا تھا کہ انہیں پرچی بھیج
دی گئی کہ بس کریں…وہ خاموشی سے اُتر آئے اور بیٹھ گئے … صرف چند سال میں اتنا
بڑا نام … بے نام ہو گیا…یہی ہر جگہ ہوتا ہے…صرف ان لوگوں کی شان اللہ تعالیٰ
سلامت رکھتے ہیں جو…شان کے زمانے اللہ تعالیٰ سے جڑے رہتے ہیں…اور اپنی شان کو
اپنا کمال نہیں سمجھتے…اور اپنی شان کا ناجائز استعمال نہیں کرتے… اللہ تعالیٰ شان
والا ہے… وہ جس کو چاہتا ہے شان دیتا ہے…اور جس سے چاہتا ہے شان چھین لیتا ہے… پس
آج جو صحتمند ہیں وہ اپنی صحت کا دینی، اخروی فائدہ اٹھا لیں … وہ جو عزت مند ہیں
اپنی عزت کے ذریعہ اپنی آخرت بنا لیں…وہ جو مالدار ہیں اپنے مال کے ذریعے آگے کا
سامان خرید لیں…کیا معلوم کس لمحہ اللہ تعالیٰ کی کونسی شان ظاہر ہو جائے…
﴿کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِیْ شَاْنٍ ﴾
مفسرین فرماتے ہیں کہ دن سے مراد ہر گھڑی، ہر لمحہ اور ہر وقت
ہے… اللہ تعالیٰ نے آگ کو جلانے کی طاقت دی… اب یہ نہیں کہ آگ اپنی مرضی سے
جلائے گی… بلکہ اللہ تعالیٰ جب چاہے گا تب وہ جلائے گی… اور جس کو جلانے کا حکم دے
گا اسی کو جلائے گی…دنیا کی ہر آگ، ہر لمحہ جلانے میں اللہ تعالیٰ کے حکم اور
مرضی کی محتاج ہے…یہی حال پانی کا ہے…اور یہی حال دواء کا ہے… اللہ تعالیٰ ہر لمحہ
،ہر وقت، ہر گھڑی فیصلے فرماتے ہیں…آگ کو فرماتے ہیں جلا دے تو جلا دیتی ہے…
فرماتے ہیں ’’ نہ جلا‘‘ تو وہ نہیں جلاتی… پانی کو فرماتے ہیں کہ پیاس بجھا تو وہ
بجھاتا ہے…جب یہ حکم نہیں ہوتا تو بعض افراد گھڑے پی جاتے ہیں مگر پیاس نہیں
بجھتی… اللہ تعالیٰ ہر روز اپنی مخلوق کی طرف تین سو ساٹھ بار نظر فرماتے ہیں… خاص
نظر… کیونکہ ویسے تو وہ ہر وقت ہر کسی کو دیکھتے ہیں…اس خاص نظر میں وہ اپنی مخلوق
کو نئی نئی نعمتیں عطا فرماتے ہیں…بعض افراد کو ان کی چھنی ہوئی نعمتیں واپس دیتے
ہیں… اور بعض لوگوں کو نعمتوں سے محروم فرماتے ہیں… مقصد یہ کہ… کامیاب وہی بندہ
ہے جو ہر وقت اللہ تعالیٰ سے جڑا رہے… اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے … اللہ تعالیٰ سے
اُمیدوار رہے…اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی رہے… اور یقین رکھے کہ…اللہ تعالیٰ
حالات بدلنے پر قادر ہیں…اور وہ نئے حالات لاتے ہیں…
﴿کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ ﴾
اجتماعات کی ترتیب
جماعتی اجتماعات کی ترتیب الحمد للہ منظم ہوتی جا رہی ہے… ان
اجتماعات کا نصاب کیا ہو؟…کئی ہفتوں سے اس پر لکھنے کا ارداہ ہے…مگر آیت مبارکہ…
﴿کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِیْ شَاْنٍ﴾ کے انوارات اپنی طرف بلاتے ہیں تو سعادت سمجھ کر
انہیں کو لکھنے بیٹھ جاتا ہوں… کئی اہل دل مفسرین کے نزدیک اس آیت میں ’’شان‘‘ سے
مراد اللہ تعالیٰ کی ’’تجلیات ‘‘ ہیں… جو ہر لمحہ نئے نئے انداز سے اس کے بندوں کے
دل پر اترتی ہیں… سبحان اللہ! کبھی نعمتیں یاد دلا کر دل پر شکر کی تجلی فرما دی…
اب دل خوش ہے، جھوم رہا ہے اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے لئے بے قرار ہے… کبھی
گناہ یاد دلا کر توبہ کی تجلی دل پر برسائی تو اب دل رو رہا ہے، بلک رہا ہے،
معافیاں مانگ رہا ہے… ڈر رہا ہے ، شرما اور پچھتا رہا ہے…
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دل کو بڑی طاقت عطاء فرمائی
ہے…یہ دل جیسا ہو گا اللہ تعالیٰ کا نور اسی کے مطابق اس دل پر برسے گا… معافی
مانگنے والے دل کو رحمت ملتی ہے… اور تکبر میں اکڑے دل پر اللہ تعالیٰ کا غضب
برستا ہے… ویسے آج اس آیت مبارکہ پر یہ آخری کالم ہے … کوشش ہو گی کہ آج اس
موضوع کو کسی حد تک سمیٹ لیا جائے… اللہ تعالیٰ کے کلام کی مکمل تفسیر کوئی نہیںکر
سکتا… جس طرح اللہ تعالیٰ کی ہر وقت نئی شان ہے…اس کے کلام کی بھی ہر دور اور ہر
زمانے میں نئی شان ہے…قرآن مجید کا ہر لفظ ہر زمانے میں سمجھا جا سکتا ہے… اور
قرآن مجید ہر زمانے کے مطابق ہر انسان کی رہنمائی فرماتا ہے… سوچا تھا کہ اس آیت
مبارکہ پر تین مضامین ہو جائیں گے تو پھر اجتماعات کے نصاب پر بات ہو گی…اب بھی ان
شاء اللہ یہی ارادہ ہے… مگر اتنی سی بات یاد کر لیں کہ مقبول اجتماعات میں تین
چیزیں ضروری ہیں… جن اجتماعات میں یہ تین چیزیں ہوتی ہیں… ان میں شرکت کرنے والوں
کو… مغفرت بھی ملتی ہے اور رحمت بھی… اور ان اجتماعات کا اثر زمین و آسمان میں
دور دور تک پھیل جاتاہے… اور ایسے اجتماعات میں وقت آنے کے ساتھ ترقی اور برکت
ہوتی چلی جاتی ہے… وہ تین چیزیں یہ ہیں…
١ ذکر
اللہ…
٢ دعوت
الی اللہ…
٣ التوبہ
الی اللہ…
بس یہ ہے مقبول اور کامیاب اجتماعات کا نصاب… اس کی تفصیل ایک
پورے مضمون کی طلبگار ہے… خلاصہ یہ کہ…ان اجتماعات میں اللہ تعالیٰ کی یاد اور
اللہ تعالیٰ کا ذکر ہو… یعنی تلاوت، کلمہ طیبہ، استغفار ،درودشریف وغیرہ… کوئی
اخلاص کے ساتھ تلاوت کرے…مجمع سے بھی کچھ تلاوت کرائے… اور کچھ وقت ذکر کی مجلس
توجہ کے ساتھ ہو… ایسی مجالس کی فضیلت قرآن و حدیث میں بہت ہے… دوسرا کام دعوت
الی اللہ…اس میں بیانات آتے ہیں…اور ہمارا نصاب موجود ہے… کلمہ طیبہ، اقامت صلوٰۃ
اور جہاد فی سبیل اللہ…تیسرا اور ضروری کام یہ ہے کہ… اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ،
اللہ تعالیٰ کی طرف فرار، اللہ تعالیٰ کی طرف ہجرت… اور اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ…
یعنی اپنے ماحول سے نکل کر ایسے ماحول کی طرف جانا جہاں اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور
رضا پانا آسان ہو…اس تیسرے کام کے لئے ایک ساتھی کھڑا ہو اور لوگوں کو دعوت دے کر
… ان کے ارادے لکھ لے…محاذ، تربیت ،دورہ تربیہ، دورہ اساسیہ کے لئے نقد پکے ارادے…
یہ آخری کام بھی اسی طرح جم کر کیا جائے جس طرح بیانات جم کر ہوتے ہیں… آخر میں
دعاء ہو جائے یا صرف استغفار… اور پھر منتظمین بیٹھ کر جائزہ لیں کہ اجتماع میں
کیا ٹھیک رہا اور کیا غلط… اور جن مسلمانوں نے ’’التوبۃ الی اللہ‘‘ میں نام
لکھوائے ان کو الگ بٹھا کر ان کے ارادوں پر عمل کی ترتیب بن جائے…ابتداء میں ممکن
ہے یہ سب کچھ اجنبی لگے مگر کامیابی کا نصاب بہرحال یہی ہے جو اہل ہمت کو اپنانا
ہو گا…ان تین چیزوں کے بغیر بھی جلسے ہو جاتے ہیں… چند دن خوب زور شور بھی رہتا ہے
مگر پھر سب کچھ ہوا میں تحلیل ہو جاتا ہے… جبکہ ان تین چیزوں کے التزام سے ان
اجتماعات میں مستقل ترقی ہوتی چلی جاتی ہے… اللہ تعالیٰ کی ہر دن نئی شان ہے…
فرمایا کہ اگر تم جہاد نہیں کرو گے تو ہم اور لوگ لے آئیں گے او روہ تمہارے جیسے
نہیں ہوں گے… ہر دن نئے افراد ، نئے کردار اور نئے اہل عمل لانا اللہ تعالیٰ کے
لئے آسان ہے…کیونکہ ہر لمحہ وہ کام میں مصروف ہے، ہر لمحہ وہ فیصلے فرماتا ہے اور
ہر لمحہ اس کی نئی شان کے مناظر ظاہر ہوتے ہیں…
﴿کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ ﴾
بڑی شاندار دعاء
سورۃ’’ الرحمٰن‘‘ کی جس آیت پر ہم بات کر رہے ہیں…وہ اس سورۃ
کی انتیسویں آیت ہے…تھوڑا سا غور فرمائیں… اس سے پچھلی آیت میں فرمایا گیا کہ جو
بھی زمین پر ہیں وہ سب فنا ہو جائیں گے… صرف اللہ تعالیٰ باقی رہے گا جو
’’ذوالجلال والاکرام ‘‘ ہے… پھر اس آیت میں فرمایا کہ…زمین و آسمان کی ساری
مخلوق اللہ تعالیٰ سے مانگتی ہے…اور اللہ تعالیٰ ہر لمحہ نئے کام میں ہے…اللہ
تعالیٰ جلال اور اکرام کا مالک ہے… تم سب فانی ہو…اللہ تعالیٰ ہر وقت نئی شان
میںہے… اور تم اس کی شان اور فیصلوں کے محتاج ہو…اب ان دونوں آیتوں کو جوڑ کر… حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دعاء مانگی… سبحان
اللہ…عجیب شان والی دعاء ہے… اور انسان کی شان کو درست کرانے والی دعا ہے…
اس دعاء میں اللہ تعالیٰ کو ان کے اسم ’’ذوالجلال والاکرام‘‘
کا واسطہ دیا گیا …اور اپنی محتاجی بیان کی گئی…دعاء یہ ہے:
یَا حَیُّی یَا قَیُّومُ، یَا بَدِیْعَ السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضِ، یَا ذَاالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ ،
بِرَحْمَتِکَ نَسْتَغِیْثُ، اَصْلِحْ لَنَا شَأنَنَا کُلَّہٗ… وَلَا تَکِلْنَا
اِلٰی اَنْفُسِنَا طَرْفَۃَ عَیْنٍ ، وَلَا اِلٰی اَحَدٍ مِّنْ خَلْقِکَ…
ترجمہ: یا اللہ ! اے ہمیشہ زندہ ، اے تھامنے والے… اے زمین و
آسمان کے موجد…اے جلال و اکرام والے … آپ کے سوا کوئی معبود نہیں…ہم آپ کی رحمت
سے فریاد کرتے ہیں… ہمارے سارے حالات درست فرما دیجئے اور ہمیں ایک لمحہ بھی ہمارے
نفس کے سپرد نہ کیجئے اور نہ ہمیں اپنی مخلوق میں سے کسی کے سپرد کیجئے…
پردے والی شان
یہ بڑی عمر کے لوگ جنہیں ہم ’’بابا ‘‘ کہتے ہیں…ان میں سے بعض
بڑے کام کے ہوتے ہیں… ان کے پاس سالہا سال کے تجربہ کا نچوڑ کامیابی کے نسخے ہوتے
ہیں… ایسے چند معمر افراد سے بعض چیزیں سیکھنے کی سعادت ملی ہے… کسی زمانے ایک
معمر بزرگ سے سلام دعاء رہی… وہ عالم نہیں تھے نہ ہی پیریا مرشد…ہاں! نماز کے بہت
پابند، وہ پہلی بار ملے تو سلام کے فوراً بعد دعاء دی…اللہ تعالیٰ پردہ رکھے اور
کبھی بے پردہ نہ فرمائے… میں دعاء سن کر سوچ میں پڑ گیا… ایسی دعاء کافی اجنبی لگی
پہلے کبھی کسی نے نہ دی تھی… بعد میں ان سے ملنا جلنا ہوا تو وہ ہمیشہ یہی دعا ء
دیتے…اور جس سے بھی ملتے اسے یہی دعاء دیتے… ایک دن مسجد ہی میں غور و فکر کا موقع
ملا تو میں ’’بزرگ‘‘ کی فراست کا قائل ہوا کہ… اس نے اللہ تعالیٰ کی وہ شان مانگنے
کا معمول بنا رکھا ہے جس شان کا ہر انسان ہر لمحہ محتاج ہے… وہ ہے اللہ تعالیٰ کی
شان ستّاری…
ہمارے ہاں اگر کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ پر دہ رکھے تو اس سے…
بس ایک دو بے حیائی والے کام ذہن میں آتے ہیں…حالانکہ اللہ تعالیٰ کے پردے کے
بغیر ہم ایک لمحہ بھی عزت مند نہیں رہ سکتے… ہر انسان عیب، گندگی ،گناہ اور
آلائشوں سے بھرا ہوا ہے… جب کسی کو فالج ہوتا ہے تو کس طرح اس کے پردے ہٹتے
ہیں…اب پیشاب استنجا بھی دوسرے لوگ کراتے ہیں وہ جو ساری زندگی ستر میں رہے…اب ایک
ایک کے سامنے ان کا ستر کھلا پڑا ہے…
اور بہت سی مثالیں دیکھ لیں… اللہ تعالیٰ جب تک پردہ رکھتا ہے
انسان کی عزت و آبرو رہتی ہے… لیکن جیسے ہی وہ اپنا پردہ کھینچ لے تو انسان کس
قدر بے ناموس ہو جاتا ہے… انسان کے پیشاب کا نظام اس کی خلوتوں کا نظام…اس کے جسم
کی گندگیوں کا نظام، اس کے دل کے وساوس و خیالات کا نظام… اس کی بری نیتوں اور
ارادوں کا نظام… اس کے جھوٹ اور خیانت کا نظام… اس کی کمزوریاں،اس کے عیب…
اللہ تعالیٰ جب پردے والی شان فرماتے ہیں تو یہ سب کچھ چھپا
رہتا ہے… اسی لئے فرمایا گیا کہ…اللہ تعالیٰ کے پردے کی قدر کرو، جو اس کی ناقدری
کرتا ہے… اور اپنی عزت کو اپنا کمال سمجھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے پردہ ہٹا لیتے
ہیں… جب پردہ ہٹا تو اب گند ہی گند ہے،کمزوری ہی کمزوری اور عیب ہی عیب… دعاء سکھا
دی کہ… اللہ تعالیٰ سے اس کی پردے والی شان مانگا کرو…
اَللّٰھُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا
’’یا اللہ! ہمارے عیبوں پر پردہ فرما اور ہمیں خوف سے امن
نصیب فرما۔‘‘
اَللّٰھُمَّ اسْتُرْنِیْ بِالْعَافِیَۃِ فِی الدُّنْیَا
وَالْآخِرَۃِ
’’ یا اللہ! مجھے اپنی عافیت کا پردہ دنیا اور آخرت میں عطاء
فرما‘‘…
اسی لئے ہمیں حکم دیا گیا کہ… اپنے گناہ دوسروں کو نہ بتاؤ…
اور دوسروں کے پردے چاک نہ کرو… جو دوسروں کے پردے اتارے گا اللہ تعالیٰ اس کو گھر
بیٹھے رسوا فرما دیں گے…انسان ہر وقت اللہ تعالیٰ کے رزق کا، اللہ تعالیٰ کے پردے
کا، اللہ تعالیٰ کی رحمت کا محتاج ہے…اور اللہ تعالیٰ ہر لمحہ، ہر وقت اپنی مخلوق
کی حاجتیں پوری فرماتا ہے…
﴿کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ ﴾
پوری آیت کا ترجمہ اور تفسیر
مجلس کے آخر میں یہ پوری آیت اور اس کا ترجمہ اور مختصر
تفسیر پڑھ لیتے ہیں…
﴿یَسْئَلُہٗ مَنْ فِی السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ ، کُلَّ
یَوْمٍ ھُوَ فِی شَأنٍ﴾ ( الرحمن ۲۹)
ترجمہ: سب آسمان و زمین والے اسی ( اللہ تعالیٰ) سے مانگتے
ہیں… ہر دن اس کے نئے نئے کام ہیں…
یعنی آسمان و زمین کی ساری مخلوقات … اللہ تعالیٰ کی محتاج
ہیں…اور یہ سب اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجتیں مانگتے ہیں… اتنے سارے مانگنے والوں کی
کثرت…پھر ہر ایک کی الگ الگ حاجتیں … الگ الگ ضرورتیں… مگر اللہ تعالیٰ ہر وقت، ہر
کسی کی سنتا ہے… اور اپنی حکمت کے مطابق ان کی حاجت پوری کرتا ہے… انسان کو سانس
لینے کے لئے ضروری ہے کہ … اسے ہوا ملے…اور مچھلی کو سانس لینے کے لئے ضروری ہے کہ
اسے پانی ملے… اللہ تعالیٰ ایک ہی لمحے میں انسان کو الگ نعمت اور مچھلی کو الگ
نعمت ان کی ضرورت کے مطابق دیتا ہے… فرشتے بھی اس سے مانگ رہے ہیں… اور انسان بھی…
جنات بھی اس سے مانگ رہے ہیں اور پرندے اور نباتات بھی… کوئی مغفرت مانگ رہا ہے،
کوئی رزق…کوئی صحت مانگ رہا ہے، کوئی عافیت… کوئی رشتہ مانگ رہا ہے اور کوئی
اولاد… کوئی مال مانگ رہا ہے کوئی گھر… کوئی نیک اعمال کی توفیق مانگ رہا ہے… اور
کوئی نورانی تجلیات اور برکات …کوئی فتح مانگ رہا ہے کوئی شہادت… کوئی آزادی مانگ
رہا ہے تو کوئی حفاظت… وہ ہر لمحہ ہر کسی کی براہ راست سنتا ہے اور ہر دعاء پر
اپنا فیصلہ صادر فرماتا ہے…
﴿کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ ﴾
ایک قول
بعض اسلاف جیسا کہ حضرت سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ
علیہ کے نزدیک… کائنات میں کل دو دن ہیں… ایک دن دنیا…اور ایک دن
قیامت…اب ہر دن اللہ تعالیٰ کی نئی شان ہے…یعنی دنیا میں اس کی شان الگ ہے… یہاں
وہ اپنے منکروں اور دشمنوں کو بھی دیتا ہے …بلکہ زیادہ دیتا ہے… مگر آخرت میں اس
کی الگ شان ہو گی کہ… صرف اپنے ماننے والوں کو نوازے گا اور منکروں کو درد ناک
عذاب میں ڈالے گا…دنیا میں اس کی شان یہ ہے کہ حکم دیتا ہے اور منع فرماتا ہے…
آخرت میں صرف وہ فیصلہ فرمائے گا…دنیا میں وہ اپنوں کو آزماتا ہے، امتحانات میں
ڈالتا ہے… مگر آخرت میں وہ ان کو اعزازات دے گا اور اپنے دشمنوں کو سخت سزائیں…
اس لئے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی شأن دیکھ کر یہ نہ سمجھو کہ مالدار کافر کامیاب
ہیں… یہ دنیا ختم ہو جائے گی… اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی نئی شان ظاہر ہو گی
جس میں کفار کو ہمیشہ کی سزا اور ناکامی میں ڈال دیا جائے گا…
﴿کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ ﴾
مگر ابو یزید
اللہ تعالیٰ سے ہر کوئی مانگتا ہے… مگر ہر ایک کا مانگنا اس
کی ہمت اور مقام کے اعتبار سے ہوتا ہے… اسی لئے کوئی کام کی چیزیں مانگتے ہیںاور
کوئی بے کار…کوئی ہمیشہ کام آنے والی نعمتیںمانگتے ہیں اور کوئی عارضی اور فانی
نعمتیں… کوئی دعائیں مانگتے ہیںاور کوئی بد دعائیں… کوئی نیکی مانگتے ہیں اور کوئی
گناہ… اللہ تعالیٰ سے مانگنے والے بنو، اللہ تعالیٰ سے مانگتے رہو… اللہ تعالیٰ سے
مانگنے کا سلیقہ سیکھو…اللہ تعالیٰ سے وہ مانگو جو ہمیشہ کام آئے… مانگنے سے نہ
تھکو… اور مانگنے میں غلطی نہ کرو… غلط دعائیں بہت نقصان پہنچاتی ہیں…اللہ تعالیٰ
کی معلوم نہیںکب کو نسی شان ظاہر ہو اور دعاء قبول ہو جائے… سوچ کر مانگو، سمجھ کر
مانگو، عاجزی اور ادب سے مانگو…جھلا کر، اکتا کر،سٹپٹا کر شکوے والے انداز میں نہ
مانگو…بد دعائیں صرف اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے لئے مانگو… سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ
کی رحمت اور مغفرت مانگو… اور اگر سچا عشق نصیب ہو جائے تو سب کچھ چھوڑو، اللہ
تعالیٰ سے خود اسے مانگو… اللہ تعالیٰ سے اللہ تعالیٰ کو مانگو… یا اللہ! میں تجھ
سے تجھی کو مانگتا ہوں، تو میرا بن جا اور مجھے اپنا بنا لے…تفسیر روح البیان میں
لکھا ہے:
خواجہ احمد بن ابی الجواری رحمۃ اللہ علیہ نے خواب
میں اللہ جلّ شانہ کی زیارت کی…ان سے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
یَا اَحْمَد! کُلُّ النَّاسِ یَطْلُبُوْنَ مِنِّی اِلَّا
اَبَا یَزِیْدَ فَاِنَّہٗ یَطْلُبُنِیْ
’’اے احمد! سب لوگ مجھ سے مانگتے ہیں مگر ابو یزید وہ مجھے
مانگتا ہے‘‘…
(مراد حضرت ابو یزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ ہیں جو
صاحب علم و معرفت بزرگ گذرے ہیں)
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے اُس بندے پر ’’خاص رحمت‘‘ فرماتے ہیں… جو
لوگوں کو نیکی کی تعلیم دیتا ہو… نیکی کی طرف بلاتا ہو…مبارک ہو دین کی دعوت دینے
والوں کو…مبارک ہو جہاد کی طرف بلانے والوں کو…
اللہ تعالیٰ اپنے اُس بندے سے ’’خاص محبت‘‘ فرماتے ہیں… جو
دوسروں کو زیادہ نفع پہنچانے والا ہو…
زیادہ نفع پہنچانا یہ ہے کہ…کسی کو ’’اللہ تعالیٰ‘‘ کے ساتھ
جوڑ دیا جائے… دین کا راستہ سمجھادیا جائے…جہنم کی آگ سے بچایا جائے…اے ایمان
والو! خود کو اور اپنے اہل وعیال کو جہنم کی آگ سے بچائو…
اِس بار کا چھ دسمبر
اسلام میں نہ کوئی سالگرہ ہے نہ برسی…نہ عُرس ہے نہ ماتم…نہ
تاریخِ ولادت کا جشن ہے اور نہ تاریخِ وفات کا غم…پھر بھی اس بار چھ دسمبر کو
’’بابری مسجد شریف‘‘ بہت یاد آئی…چھ دسمبر ۱۹۹۲ء بابری مسجد کو شہید کیا
گیا… دل بہت چاہا کہ اپنے غم اور درد کو بانٹا جائے، کم از کم ایک مکتوب ہی چل
پڑے…سائیں حذیفہ شہید بھی یاد آئے وہ ’’بابری مسجد‘‘ کو اپنی ماں کہتے تھے…وہ
دراز قد سجیلا پاملا شہید بھی یاد آیا جو بابری مسجد کو ’’امی‘‘ کہا کرتا تھا…اور
وہ حسین وجمیل استاذ طلحہ بھی… بابری مسجد کے یہ بیٹے اپنی ماں کی طرح شہید ہوکر
ماں کے قدموں میں جا بسے…ہر مسجد حقیقت میں کعبہ شریف کا ٹکڑا اور جنت کا حصہ ہوتی
ہے…
قیامت کے دن ہر مسجد کی زمین کو کعبہ شریف کی مسجد کے ساتھ
جوڑ کر…جنت میں شامل کردیا جائے گا… ہر مسجد کی ایک روحانی سلطنت ہوتی ہے… جو چیز
مسجد کے ساتھ جڑ جائے اُس کی قیمت اور قدر بڑھ جاتی ہے…
ہماری دعوت جہاد…جب بابری مسجد کے ساتھ جڑی تو…یہ پاکیزہ درد
پورے عالم اسلام میں پھیل گیا…یہ ’’بابری مسجد‘‘ کی کھلی کرامت تھی کہ…اس پر ہونے
والے بیان نے ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کی زندگی بدل دی اور سنوار دی …بے شمار
مسلمان دین پر آئے، جہاد پر آئے… بڑی عجیب داستان ہے…میں سوچتا ہوں اُن شہداءِ
کرام کا کیا مقام ہوگا جو ’’بابری مسجد‘‘ پر جان نچھاور کر گئے…مجھے یقین ہے کہ ان
شاء اللہ بابری مسجد ضرور دوبارہ تعمیر ہوگی…وہاں کے میناروں سے ’’اللہ اکبر، اللہ
اکبر‘‘ کی صدا گونجے گی… نمازیوں کی لمبی قطاریں بابری مسجد کے باہر لگیں گی…
شہدائِ بابری مسجد کی ارواح…ان نمازیوں کا استقبال کریں گی…اور وہاں اہل ایمان اور
اہل توحید کا مجمع اتنا ہوگا کہ اندر پہنچ کر سجدہ کرنے والے خود کو خوش نصیب
محسوس کریں گے…ان شاء اللہ، ان شاء اللہ، ان شاء اللہ یہ سب کچھ ہوگا…بابری مسجد
کا قاتل ’’ہنس راج‘‘ مرچکا… ایڈوانی مرنے والا ہے… اور جیتے جی بھی مرچکا ہے…
بابری مسجد کو گرانے والے کئی افراد دردناک عذابوں کا شکار ہوگئے… اور کئی ایک
مسلمان ہوچکے… جہاد تیزی سے بڑھ رہا ہے…غزوۂ ہند کا سورج پھر آنکھیں کھول رہا
ہے…سلام ہو پیاری بابری مسجد!…سلام، بہت سلام…
خطابت کا مقام
بات جماعت کے ’’اجتماعات‘‘ کی چل رہی ہے… الحمدللہ پورے ملک
میں ’’اجتماعات‘‘ کی ترتیب منظم ہوتی جارہی ہے… اس بار جو کار گزاری کل اور پرسوں
آئی…اس میں روشنی محسوس ہوئی…اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا…
مَاشَآءَ اللہَ لَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ…اَلْحَمْدُلِلہِ
الَّذِی بِنِعْمَتِہٖ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ…
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بولنے کی طاقت عطا فرمائی ہے…کسی کو
زیادہ، کسی کو کم…وہ جو اپنی بات مکمل یقین سے کرتے ہیں…اور سننے والوں کے حواس پر
چھا جاتے ہیں…ان کو ’’خطیب‘‘ کہا جاتا ہے…کسی بھی نظریے اور کسی بھی قوم کی
کامیابی میں…خطیب کا کردار سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے…
فرعون بھی ایک ماہر خطیب تھا…اللہ تعالیٰ نے اس کو یہ صلاحیت
عطاء فرمائی تھی کہ…جب بولتا تھا تو سننے والوں کو اپنے رنگ میں اور اپنے اثر میں
لے آتا تھا…مگر اس نے اپنی اس ’’صلاحیت‘‘ کا غلط استعمال کیا…
اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی کسی بھی خاص صلاحیت کو…غلط استعمال
کرنے والے ’’عذابِ الٰہی‘‘ کا شکار ہوجاتے ہیں… قرآن مجید نے اس کی عبرتناک
مثالیں بیان فرمائی ہیں…کبھی موقع ملے تو ضرور دیکھ لیجئے گا…دعاء اور اسم اعظم کی
صلاحیت والا بلعم بن باعوراء…انفرادی اور امتیازی صلاحیتوں والا ولید بن
مغیرہ…معاشی صلاحیتوں سے مالا مال قارون وغیرہم…فرعون نے اپنی خطابت کے زور سے کئی
سو سال تک اپنی قوم پر بلا شرکت غیرے حکومت کی… وہ جب کسی بات یا نظریے کو بیان
کرتا تو سننے والے…خود کو اور اپنی رائے کو حقیر سمجھنے لگ جاتے اور فرعون کی بات
کے قائل ہوجاتے…اسی صورتحال کو دیکھ کر اس نے ’’ربّ اعلیٰ‘‘ ہونے کا دعویٰ کردیا…
پھر عربوں میں خطابت کا بڑا زور تھا… عربوں کا سارا فخر، غلبہ
اور احساس برتری ’’خطابت‘‘ کے ستونوں پر کھڑا تھا…خود کو بڑا سمجھنا، عظیم سمجھنا،
دوسروں کو حقیر سمجھنا… اور دشمنوں سے مقابلے کے لیے اپنے اندر عزم اور جوش
رکھنا…یہ تین عناصر تھے…اور ان تینوں کو قائم رکھنے کے لیے دماغ اڑانے والے
’’خطباء‘‘ کی ضرورت تھی…ایسے خطباء جو قوم کو ان کی عظمت کا احساس دلاسکیں… جو
دوسری قوموں کی حقارت اُن کے دلوں میں بٹھا سکیں…اور اپنی قوم کو عزت کی خاطر لڑنے
مرنے اور مارنے پر اُبھارسکیں… تفاخر، تحقیر اور تحریض …اپنے لیے فخر، دوسروں کے
لیے حقارت… اور جذبات ابھارنا… عرب خطباء نے صدیوں تک …یہ تینوں کام بہت مہارت سے
کئے… پھر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا اور اسلام آگیا…اسلام نے ’’خطابت‘‘ کی حوصلہ
افزائی کی…نصاب بھی وہی رکھا مگر اس کی اصلاح فرمادی…
تفاخر…اسلام پر، ایمان پر شکر… تحقیر … کفر کی، شیطان کی اور
گناہوں کی… اور تحریض… جہاد فی سبیل اللہ کی، ہجرت کی…اور قربانی کی…
سبحان اللہ! اسلام نے ’’خطیب‘‘ کو وہ زبان دی…جو نہ فرعون کے
پاس تھی اور نہ جاہلی عربوں کے پاس… اسلام نے ’’خطیب‘‘ کو وہ مقام دیا کہ…ساری
مخلوق اس کی ممنون اور شکر گزار ہوئی … اور اسلام نے ’’خطیب‘‘ کو…قومی تفاخر اور
فخر بازی سے ہٹاکر…شکر پر لگادیا…اسلام اور ایمان پر شکر…قوموں، قبیلوں، اورعلاقوں
کی تحقیر اور مذمت سے ہٹا کر…کفر، شیطان اور گنا ہ کی مذمت اور تحقیرپر لگادیا
…اور اپنی قوم، قبیلے اور نام پر لڑنے مرنے کی ترغیب کو… اللہ تعالیٰ کے لئے جان
دینے کی دعوت میں تبدیل فرمادیا…اسلام میں’’خطیب‘‘ کا جو اجر، مقام اور رُتبہ ہے،
دوسرے لوگ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے… ’’خطیب‘‘ کے لئے اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت
کا وعدہ ہے، فرشتوں کی طرف سے خصوصی دعائیں اور استغفار… اور تمام مخلوق کی طرف سے
اس کے لئے خصوصی دعائوں اور استغفار کی بشارت ہے… خطیب کی بات کو’’ اَحْسَنُ
الْقَول‘‘(یعنی سب سے بہترین بات قرار دیا گیا)… اور خطیب کے اجر کا سلسلہ قیامت
تک پھیلا دیا گیا… خطیب اللہ تعالیٰ کے دین کا ناصر ہے… اور خطیب اللہ تعالیٰ کا
محبوب ہے… بس شرط یہ کہ …خطیب… واقعی خطیبِ اسلام ہو … اللہ تعالیٰ کے لئے بولتا
ہو، اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہو… اللہ تعالیٰ کی محبت دلوں میں جگاتا ہو… اللہ
تعالیٰ کے دین کی غیرت اُبھارتا ہو… علم کے ساتھ بولتا ہو… یقین کے ساتھ بولتا ہو…
سلیقے اور تاثیر کے ساتھ بولتا ہو…اور خود بھی دین پر عمل کرتا ہو…اہل یونان
نے’’خطابت‘‘ کو ایک فن قرار دے کر اس کے طریقے اور اسلوب مقرر کئے ہیں… مگر اسلام
میں خطابت کوئی باقاعدہ’’ فن‘‘ نہیں ہے… یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا فرمودہ ایک
وہبی نعمت ہے… اور اس نعمت کی حفاظت تین چیزوں سے ہوتی ہے…
١ علم…
٢ عمل…
٣ توجہ
الی اللہ…
مطلب یہ کہ آپ جو کچھ بیان کر رہے ہیں اس کا آپ کو مکمل علم
ہو… دوسرا یہ کہ آپ خود بھی اس پر عمل کرتے ہوں… اور تیسرا یہ کہ بیان اور خطابت
سے پہلے اور اس کے دوران آپ کی توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہو… اللہ تعالیٰ سے مانگ
کر بیان کرنے جائیں اور… بیان کے دوران بھی اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہیں… خطیب
کے لئے نہ کوئی خاص ٹوپی ضروری ہے… اور نہ کوئی خاص لباس… نہ کسی خاص لہجے کی
ضرورت ہے اور نہ بلند آواز کی… بس ضرورت ہے تو صرف تین چیزوں کی…
١ اخلاص…
٢ یقین…
٣ تاثیر…
اخلاص یہ کہ …خطیب کی نیت، اللہ تعالیٰ کی رضا ہو… اور کچھ
بھی نہیں… یقین یہ کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے او ر سمجھا رہا ہے خود اس کے دل میں…
اس کا کامل یقین ہو… اور تاثیر یہ کہ حقیقت کو دلوں کا مزاج بنا سکے… اس کی مثال
یہ کہ ہر کلمہ گو مسلمان کو معلوم ہے کہ پانچ وقت کی نماز فرض ہے … مگر پھر بھی
بہت سے لوگ نماز ادا نہیں کرتے … خطیب وہ ہے جو نماز کی فرضیت کو ایسے طریقے سے
بیان کرے کہ یہ فرضیت لوگوں کے دلوں کا مزاج اور رنگ بن جائے تب ان کے لئے ممکن ہی
نہیں ہوگا کہ… ایک نماز بھی چھوڑ سکیں…
جیسے خنزیر کے گوشت کی حرمت… ہم مسلمانوں کے دل کامزاج اور
رنگ بن چکی ہے… کوئی گناہ گارمسلمان بھی یہ گوشت نہیں کھا سکتا … آج دین اسلام
کو…مخلص،مؤثر اور باعمل ’’خطباء‘‘ کی ضرورت ہے…جویہ ضرورت پوری کرے گا وہ بڑا
مقام پائے گا… اور دنوں میں صدیاں کمائے گا، ان شاء اللہ…
اِجتماعات کا سہ نکاتی نصاب
جب چند مسلمان … اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے جمع ہوں… اور وہ
اللہ تعالیٰ کے دین کی باتیں کریں… وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں… وہ کتاب اللہ کی
تلاوت اور تعلیم و تدریس کریں… وہ اللہ تعالیٰ کی طرف ایک دوسرے کو بلائیں، تو
ایسے اجتماعات … اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہیں… ان اجتماعات سے دل زندہ ہوتے ہیں،
ایمان جڑ پکڑتا ہے… نفس کا تزکیہ ہوتا ہے… ہمت بڑھتی ہے… اور شیطان کی کمر ٹوٹتی
ہے… شیطان لوگوں کو ہر وقت گناہ پر جمع کرنے کی محنت کرتا ہے… وہ لوگوں کو اللہ
تعالیٰ کی بغاوت پر اکٹھا کرتا ہے… شیطان جانتا ہے کہ اجتماعی گناہ… انفرادی گناہ
سے کم ازکم ستر گنا زیادہ خطرناک ہوتے ہیں… کیونکہ دلوں کی سیاہی ایک دوسرے کی طرف
جلدی منتقل ہوتی ہے اور اجتماعی گناہ کے نقصانات تیزی سے پھیلتے ہیں… سینما، کلب،
پارٹیاں، شراب خانے اور معلوم نہیں کیا کیا… حتیٰ کے شادی بیاہ کی گناہ آلود
مجالس اور بدعات و خرافات کی مجلسیں… اس لئے جب چند مسلمان اس پورے شیطانی نیٹ ورک
سے کٹ کر… خالص اللہ تعالیٰ کے لئے جمع ہو تے ہیں تو اس سے شیطان کی کمر ٹوٹتی ہے…
دلوں کی روشنی ایک دوسرے کی طرف منتقل ہوتی ہے … اور اجتماعی محنت کا اثر زمین میں
دور دور تک … اور زمانے میں دور دور تک پھیل جاتا ہے… زمانے میں اثر پھیلنے کا
مطلب یہ کہ… اگلی نسلوں تک بھی اس مبارک محنت کے آثار پہنچتے ہیں…
اب قرآن وسنت میں غور کریں… ایک طرف مجالس ذکر کے فضائل ہیں…
دوسری طرف دعوت الی اللہ کے فضائل ہیں… اور تیسری طرف توبہ الی اللہ کے فضائل ہیں…
ان تمام فضائل کی آیات اور احایث کو جمع کریں تو…انہیں پڑھ کر دل باغ باغ ہوجاتا
ہے… اور انسان کی روح خود ان مبارک مجلسوں اور اجتماعات کی طرف دوڑتی ہے… قرآن و
احادیث پر غور و فکر کے بعد اپنے ’’اجتماعات‘‘ کو ’’جامع الخیرات‘‘ بنانے کے لئے
یہی تین نکاتی نصاب طے کیا گیا ہے…
١ ذکر
اللہ…
٢ دعوت
الی اللہ…
٣ توبہ
الی اللہ…
الحمد للہ اس ہفتہ سے جماعتی ’’اجتماعات‘‘ میں یہ تینوں عمل
شروع ہوچکے ہیں… خصوصاً تیسرا کام کمزور تھا… الحمد للہ اس کی طرف محنت کا رخ ہوا
ہے… اُمید ہے کہ بہت اچھے نتائج و اثرات سامنے آئیں گے… ان شاء اللہ
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا ذکر ’’دل‘‘ کے لیے ایسا ہے جیسے مچھلی کے لیے
پانی…مچھلی بغیر پانی کے مرجاتی ہے… اسی طرح ’’دل‘‘ بھی ذکر کے بغیر مرجاتا ہے،
سخت ہوجاتا ہے، اکڑ جاتا ہے…اور تباہ ہوجاتا ہے… مجاہدین کو دوباتوں کا خاص طور سے
حکم فرمایا گیا…ایک ثابت قدمی اور دوسرا کثرتِ ذکر… پھر کامیابی یقینی ہے…
﴿ فَاثْبُتُوْا وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ
تُفْلِحُوْنَ﴾
ہمارے اجتماعات کا پہلا اور ضروری کام… اللہ تعالیٰ کا ذکر
ہے…اللہ تعالیٰ کی یاد، اللہ تعالیٰ کا نام… اجتماع چھوٹا ہو یا بڑا اول تا
آخر…کہنے والے اور سننے والے سب اللہ تعالیٰ کی یاد میں ڈوبے رہیں…کیمرے بازی
نہیں، ریاء کاری نہیں، غفلت نہیں، فخر نہیں…صرف اللہ ہی اللہ …ہم سب اللہ تعالیٰ
کے ہیں، ہم سب کو اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے، ہم سب نے اللہ تعالیٰ کے پاس جانا
ہے…ہم سب نے اللہ تعالیٰ کو منانا ہے…ہم سب نے اللہ تعالیٰ کو پانا ہے…ہمارا جینا
مرنا سب اللہ تعالیٰ کے لیے ہے… بس بھائیو! ہمارے اجتماعات ایسے ہوں کہ جو بھی ان
میں شرکت کرکے جائے…اس کا دل ’’اللہ، اللہ‘‘ کررہا ہو…
اللہ تعالیٰ کے ذکر کے فضائل اور فوائد بے شمار ہیں…علامہ
ابنِ قیمؒ نے ’’الوابل الصیب‘‘ میں سو سے زیادہ فضائل و فوائد قرآن و سنت سے جمع
فرمائے ہیں اور ہمارے حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے رسالہ
’’فضائل ذکر‘‘ میں ’’ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ ‘‘ کے ذکر کردہ اناسی(۷۹) ترتیب
وار فوائد کو تہتر(۷۳) نمبرات میں بیان فرمایا ہے…میرا آپ سب کو مشورہ ہے کہ یہ
پورا رسالہ ایک بار پڑھ لیں…اگر ہمت نہ ہوتو چار صفحات پر مشتمل یہی تہتر(۷۳) فوائد ہی
پڑھ لیں… ہاں بے شک ذکر اللہ کے بغیر نہ زندگی میں کچھ مزا ہے…اور نہ کوئی عبادت
بغیر ذکر کے عبادت ہے…
پھر اگر چند مسلمان اکٹھے ہوکر اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں تو اس
ذکر کی تاثیر اور شان مزید بڑھ جاتی ہے… حضرت امام غزالیؒ نے ’’اِحیاء العلوم‘‘
میں ایسی مجالس کی شان بیان فرمائی ہے جن میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہے… ان کی
چند باتیں بطور خلاصہ ملاحظہ کریں…
١ جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں
تو ان کو فرشتے گھیر لیتے ہیں اور رحمت ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے ان
بندوں کا ذکر اپنے پاس والے فرشتوں یعنی ملاء اعلیٰ میں فرماتے ہیں۔
٢ جو لوگ اکٹھے ہوکر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں…اور اس ذکر
سے اُن کا مقصود صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہوتی ہے تو اُن کو آسمان کا ایک منادی
پکارتا ہے کہ اٹھو! تمہاری مغفرت ہوگئی اور تمہاری برائیاں نیکیوں سے بدل دی گئیں…
٣ حضرت دائود علیہ السلام نے دعاء
فرمائی …یاالٰہی! جب تو مجھ کو دیکھے کہ میں ذکر کرنے والوں کی مجلس سے غافلوں کی
مجلس کی طرف بڑھا جاتا ہوں تو ان تک پہنچنے سے پہلے میری ٹانگ توڑ دے، یہ بھی تیرے
احسانوں میں سے مجھ پر ایک احسان ہوگا…
٤ ایمان والے کے لیے نیک مجلس … اس کی بیس لاکھ بُری مجلسوں
کا کفارہ ہوتی ہے…
٥ سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں…جب
چند لوگ اکٹھے ہوکر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں تو شیطان اور دنیا اُن سے الگ
ہوجاتے ہیں…اور شیطان دنیا سے کہتا ہے کہ دیکھتی ہے یہ کیا کررہے ہیں؟ دنیا کہتی
ہے کہ کرلینے دو…یہ جب اس مجلس سے جدا ہوں گے تو اُن کی گردنیں پکڑ کر تیری طرف لے
آئوں گی…
٦ اللہ تعالیٰ کے بہت سے فرشتے ایسی مجلسوں کو ڈھونڈتے رہتے
ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہے… جب انہیں ایسی مجلس ملتی ہے تو اس میں
شریک ہوجاتے ہیں۔
(خلاصہ از: احیاء العلوم، جلد اوّل)
اپنی مجالس میں ’’ذکراللہ‘‘ کے اِحیاء کو معمولی کام نہ
سمجھیں…اور نہ ہی اس کو رسمی کام سمجھ کر نمٹائیں…ابتداء میں تھوڑی سی تلاوت ہوئی
اور بس…
آج کل ہمارے دینی اجتماعات کو میڈیا، صحافیوں اور کیمروں نے
ویران کردیا ہے…دینی اجتماع تو وہ ہوتا ہے جو دلوں کو پاک کردے…مگر بُری چیزوں نے
ان اجتماعات کی روح فنا کردی ہے… پہلے مائیکل جیکسن ناچتا تھا اور مجمع والے اس پر
کیمروں کے فلش مارتے تھے… اب موبائل فون کے کیمروں نے ہر دینی اجتماع کو اسی
’’نحوست ‘‘ میں ڈال دیا ہے…نہ ذکر اللہ ہوتا ہے اور نہ آنسو… خطیبوں کو فکر کہ
ویڈیو اچھی بنے اور اُن کے چہرے تصویروں میں خوب چمکیں…اور سننے والوں کے دل غافل
اور موبائل متحرک…جس طرف کیمرے کا رخ ہوتا ہے اس طرف ریاکاری ناچنے لگتی ہے…یہ
درست ہے کہ دینی بیان بھی ذکر اللہ میں آتے ہیں…مگر مزید خالص ذکر بھی ہو … کچھ
جاندار تلاوت، مجمع سے بھی تلاوت کرائی جائے…کلمہ طیبہ ، استغفار اور درود شریف…
ساتھ ذکر کے فضائل بھی بیان ہوتے جائیں… دل نرم ہوں گے تو دعوت جہاد اثر کرے گی…
شیطان مجلس سے بھاگے گا تو دینی دعوت جمے گی …دل میں ’’اللہ‘‘ ہوگا تو اللہ کی بات
دل میں اُترے گی…
اجتماعات میں دوسری اہم چیز…’’دعوت اِلی اللہ‘‘ ہے…اللہ
تعالیٰ کی طرف اللہ تعالیٰ کے بندوں کو بلانا یہ بہت اونچا اور افضل عمل ہے…آپ
قرآن مجید کو کھولیں…یہ عظیم کتاب بار بار دعوت اِلی اللہ کے عمل کو جاری کرنے کا
حکم فرماتی ہے… قرآن مجید بار بار بتاتا ہے کہ…دعوت الی اللہ معمولی کام نہیں، یہ
تمام انبیاء اور رُسل کا کام ہے …تمام رسول اور نبی…اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اللہ
تعالیٰ کی طرف بلانے کا کام کرتے تھے… قرآن مجید ہمیں انبیاء علیہم
السلام کے خطبات سناتا ہے…ایک خطیب کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن مجید
میں حضرات انبیاء علیہم السلام کے خطبات کو غور اور توجہ سے
پڑھے…وہ حضرات روئے زمین کے سب سے بڑے اور سب سے مقبول خطبائِ کرام تھے…جو اپنی
خطابت کو حضرات انبیاء علیہم السلام کی خطابت کے نقش قدم پر
چلائے گا…وہی مقبول اور مؤثر خطیبِ اسلام ہوگا اور اُس کی خطابت دلوں کا رنگ بنے
گی…اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم فرمایا…
﴿کُوْ نُوْا اَنْصَارَاللّٰہِ﴾… اے میرے بندو! تم
میرے مددگار بن جائو…
اللہ تعالیٰ کے مدد گار یعنی اللہ تعالیٰ کے دین کے مدد
گار،پس جو جہاد میں جان ومال لگاتا ہے…وہ اللہ تعالیٰ کی اس پکار پر لبیک کہتا ہے…
اور جودین کی دعوت دیتا ہے وہ بھی…اس پکارپر لبیک کہہ کر اللہ تعالیٰ کے دین کا
مددگار بن جاتا ہے …ایسے لوگوں کی قیامت کے دن اور جنت میں بہت اونچی شان ہوگی…سب
لوگ حساب دے رہے ہوں گے جب کہ یہ اپنی بے حساب نیکیوں کے اجر میں غوطے لگارہے ہوں
گے…
حضرت سیّدنا لقمان علیہ السلام نے اپنے
بیٹے کو جو نصیحتیں فرمائیں…ان میں خاص طور پر فرمایا: اے بیٹے نماز قائم کرو،
نیکیوں کا حکم کرو اور برائیوں سے روکو… اور جو مصیبت آئے اس پر صبرکرو… اس آیت
مبارکہ سے حضرات اہل علم نے یہ نکتہ سمجھادیا ہے کہ… بہترین داعی اور خطیب وہ ہے
جو دعوت کے راستے میں آنے والی تکلیفوں کو برداشت کرسکے… حضرت مولانا احمد علی
لاہوری رحمۃ اللہ علیہ جہاں جاتے تھے لوگوں کا ہجوم ان کی دعوت سننے کے
لئے اُمڈ پڑتا تھا… ایک بڑے عالم دین نے ان سے پوچھا کہ آپ نے یہ کیا عمل کررکھا
ہے؟… کوئی تسخیر کا عمل یا کوئی اور ڈھونگ؟کہ ہر طرف سے لوگ کھنچے چلے آتے ہیں…
فرمایا: بھائی نہ کوئی تسخیر کا عمل کیا ہے اور نہ کوئی وظیفہ… بس جہاں بیان ہو
اپنے خرچے سے جاتا ہوں… بیان پر کسی سے کچھ نہیں لیتا… اور نہ کسی اکرام و اعزاز
کا تقاضا کرتا ہوں… ہاں! بے شک جنہوں نے دعوت اور خطابت سے اللہ تعالیٰ کی رضا
کمانی ہو… ان کو اس کی کیا فکر کہ جہاز پر جاتے ہیں یا کسی ادنیٰ سواری پر … نہ وہ
کھانے کے معاملہ میں کسی پر بوجھ بنتے ہیں اور نہ آرام کے معاملہ میں… وہ دعوت
الی اللہ کو اپنے اوپر اسی طرح فرض سمجھتے ہیں جس طرح نماز کو … نماز ادا کرنے کے
کوئی کسی سے پیسے نہیں لیتا … اور نہ یہ تقاضا کرتا ہے کہ میں تب نماز پڑھوں گا جب
مجھے فلاں فلاں ڈشیں کھلاؤ گے…
دعوت الی اللہ نہ ہو تو…اپنا دین بھی کمزور ہوجاتاہے اور زمین
کفر اورفساد سے بھر جاتی ہے… جہاد کی دعوت کمزور ہوئی تو دنیا میں ہر طرف کفر کے
جالے تن گئے… اب اگر جہاد کی دعوت دینے والے بھی … مروّجہ نخروں اور ریاکاریوں میں
پڑ جائیںتو …مسجد اقصیٰ سے لے کر بابری مسجد تک… اشک ہوں گے اور حسرتیں اور کفار
کی جیلوں میں عافیہ بہن سے لیکر کشمیر کی بیٹیوں تک… دلخراش داستانیں ہوں گی…اس
لئے ضروری ہے کہ ہمارے اجتماعات میں عمل کی دعوت ہو اور یہ اجتماعات مسلمانوں کو
میدان عمل تک لانے کا ذریعہ بنیں… ان اجتماعات میں سیاسی جماعتوں کی نقل کرنے اور
ان کی اصطلاحات اپنانے کی ضرورت نہیں… بلکہ ضرورت ہے بھرپور اور جاندار دعوت
کی…اور ایسے خطباء کی جو خود باعمل ہوں… اور اپنے نظریات پر دل سے یقین رکھتے ہوں…
ایسا نہ ہو کہ جہاد پر شعلہ بیانی کریں… مگر جب کوئی آزمائش آئے تو جہاد کے
مخالف بن جائیں… یاکوئی دنیوی ترغیب آئے اور پھر جہاد کا نام ہی نہ لیں … ہمارے
اجتماعات میں دعوت الی اللہ کا جامع نصاب وہی ہے جو ہماری جماعت کا سہ نکاتی نصاب
ہے… کلمہ طیبہ، اقامت صلوٰۃ اور جہاد فی سبیل اللہ… اس میں توحید بھی آجاتی
ہے’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ اور رسالت بھی’’محمد رسول اللہ‘‘…اس میں عقیدہ بھی آجاتا
ہے اور عمل بھی… اس میں فکر بھی آجاتی ہے اور نظریہ بھی اور اس میں راستہ بھی مل
جاتا ہے اور میدان اور منزل بھی… جماعت کے سب خطباء خالص رضائِ الٰہی کے لئے … اس
نصاب کو ہی اپنا بیان بنائیں…محنت کر کے مطالعہ کریں، کلمہ سمجھیں ، نماز سمجھیں،
جہاد سمجھیں… پھر ان تینوں کواپنے دل میں اتار کر… اپنی زبانوں پر لائیں اور اپنے
لئے ہمیشہ ہمیشہ کا صدقہ جاریہ قائم کریں…
ہمارے اجتماعات کا تیسرا اہم کام … توبہ الی اللہ ہے…
الحمدللہ اجتماعات میں شریک افراد کا ذہن خوب بن جاتا ہے… مگر ان افراد کو فوراً
وصول نہ کرنے کی وجہ سے… اس مبارک کام میں اَفراد کی قلت رہتی ہے… ہمارے اِجتماعات
ماشاء اللہ خوب جم کر چلتے ہیں مگر ان کا اختتام ہنگامہ خیز ہوتا ہے… دلوں کو نرم
کر کے واپس دنیا کی ٹھنڈی ہوا میں بھیج دیا جاتا ہے… اجتماع کے آخر میں آپا
دھاپی سے سارا ماحول بگڑجاتا ہے…
عجیب بات ہے کہ…وہ جماعت جس کے ہر مہینے اوسطاً تین ہزار
بیانات ہوتے ہیں … وہ پورے مہینے میں تین سو افراد بھی وصول نہیں کر سکتی … آپ نے
روایات میں پڑھا ہوگا کہ… بنی اسرائیل کا وہ قاتل جو سوافراد کو قتل کر چکا تھا…
اس کو توبہ کا طریقہ یہ بتایا گیا کہ ماحول بدل لے… اور اچھی صحبت کی طرف سفرکرے…
اس نے سفر کیا راستے میں مر گیا مگر کامیاب ٹھہرا… آپ نے تاریخ میں پڑھا ہوگا کہ
وہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جو فتح مکہ کے وقت یابعد
میں مسلمان ہوئے… انہوں نے سابقین اولین مسلمانوں کے مقام تک پہنچنے کے لئے گھر
چھوڑے اور محاذوں کا رُخ کیا… وہ سمجھ گئے تھے کہ ماضی کی کمی کوتاہی پوری کرنے کا
بہترین راستہ یہی ہے… ایک مسلمان کو ہجرت کی ابتدائی شکل پر لانا ہوگا… کیونکہ
ماحول کی تبدیلی بہت سے گنا ہوں سے جان چھڑا دیتی ہے…اور اچھا ماحول چند دن میں
سالوں کا سفر طے کرادیتا ہے …جماعت کے پاس دورہ تربیہ کی نعمت ہے… خود اس شعبہ کے
رفقاء بھی اگر محنت کریںاور اسے اپنی ذمہ داری سمجھ کر …تربیہ میں آنے والے ہرفرد
کو داعی بنا کر واپس بھیجا جائے تو چند ماہ کے اندر پورے ملک میں جگہ جگہ یہ مبارک
سلسلہ شروع ہوجائے… اجتماعات میں دورہ تربیہ کے لئے نقد ارادے لئے جائیں…دورہ
اساسیہ،ریاضت … اورمیدان عمل کے لئے لوگوں کو نقد نکالا جائے تو… ان اجتماعات کا
اصلی مقصد پورا ہوجائے… بھائیو! اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بڑی عالمی جنگ شروع
ہوچکی ہے… کفر نے بہت طاقت بنا لی ہے… مسلمانوں کی زمینیں اور مقدسات کافروں کے
قبضے میں ہیں… کروڑوں مسلمان غلامی اور لاکھوں مسلمان قید میں ہیں… ان حالات میں
ہمارے لئے ضروری ہے کہ… بھرپور محنت کریں…بہت سنجیدہ محنت… بہت منظم محنت… وہ
دیکھو! سچاوعدہ فرمایا جارہا ہے کہ تم اگر پوری محنت کروگے تو ہم تمہارے راستے
کھول دیں گے… لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ … لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے بعض مخلص بندوں کو ان کی ’’موت‘‘ کے وقت
’’سلام ‘‘ فرماتے ہیں… اور جنت میں سب اہل جنت کو ’’سلام ‘‘فرمائیں گے…سلام یعنی
سلامتی کی پکی ضمانت…
﴿سَلٰمٌ ۣ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ﴾
یہ سورہ یٓس کی آیت مبارکہ ہے…بعض اہل تجربہ اسے ’’اسم اعظم
‘‘ قرار یتے ہیں…
﴿سَلٰمٌ ۣ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ﴾
ہمارے مرشد حضرت سیّد احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ …کئی افراد کو
اس آیت مبارکہ کے ورد کی تلقین فرمایا کرتے تھے…
کسی کو ایک سو بار…اور کسی کو ایک ہزار بار… یا کم زیادہ کہ
وہ روز پڑھا کرے…
﴿سَلٰمٌ ۣ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ﴾
کئی لوگ روزی کی تنگی کا بتاتے…کئی بیماریوںکا، کئی غموں اور
پریشانیوں کا…حضرت سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ بڑے مضبوط پیر
تھے…جوانی میں ہی نسبتوں میں رنگے گئے تھے…عملیات بھی بھرپور جانتے تھے…کیمیاگری
کا نسخہ بھی ان کو حاصل تھا …مگر نہ خانقاہ چلائی، نہ عملیات میں لگے اور نہ سونا
بنایا… سیدھے دوڑتے ہوئے ایمان اور اسلام کی سب سے اونچی چوٹی پر چڑھ گئے…اور اگلے
چار سو سال کے وسیع جہاد کا اجر اپنے نام کر لیا… بے شک بڑی عقلمندی فرمائی اور
بہت نفع کا سودا کمایا…
سات سال کی جہادی محنت…مگر صدیوں کا اجر اور ہمیشہ کا صدقہ
جاریہ…
حضرت سیّد صاحب نے ’’جہادِ فی سبیل اللہ‘‘ کا مبارک راستہ
پکڑا …برصغیر کی سب سے بڑی خانقاہ کو چھوڑا…لاکھوں عقیدتمندوں کو چھوڑا… اور چند
سو مجاہدین کو ساتھ لے کر نکل پڑے… ملنے جلنے والے لوگ اپنے مسائل بتاتے تو حضرت
سید صاحب …اپنے مجرب وظائف بتا دیا کرتے … جو وظیفہ آپ زیادہ بتایا کرتے تھے …وہ
یہ آیت تھی…
﴿سَلٰمٌ ۣ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ﴾
ابھی چند دن سے اس آیت کے انوارات بے ساختہ اپنی طرف متوجہ
کر رہے ہیں تو ارادہ تھا کہ آج اس آیت کی تفسیر بھی ہو جائے…اور اس کے کچھ خواص
اور مجربات بھی عرض کر دئیے جائیں…
﴿سَلٰمٌ ۣ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ﴾
مگر آج سیرتِ طیبہ کے موضوع پرکچھ عرض کرنے کا ارادہ ہے…
توفیق ملی تو اس آیتِ مبارکہ پر کسی اور نشست میں بات چیت کریں گے ان شاء اللہ…
حضرت سیّد احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کا جہادی
لشکر… بہت چھوٹا تھا مگر بے حد قیمتی اور معتبر… اس میں راسخ علم والے علماء بھی
تھے محدثین بھی… صاحب نسبت اولیاء بھی تھے اور تارک الدنیا زاہدین بھی… ماشاء اللہ
ایک مثالی لشکر تھا…چھوٹی سی جماعت مگر مکمل جماعت… اس تحریک کے فوری نتائج زیادہ
ظاہر نہیں ہوئے مگر برصغیر میں ’’فریضۂ جہاد‘‘ کا احیاء ہو گیا… وہ وقت ہے اور
آج کا دن… اس خطے میں جہاد بھی روشن ہے اور مجاہدین بھی موجود ہیں…آج سیرت کے
حوالے سے یہ بات عرض کرنی ہے… کہ ’’مجاہدین ‘‘ کی تربیت حضور اقدس صلی
اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ کی روشنی میں ہونی چاہیے…آپ صلی اللہ
علیہ وسلم نے جہاد فرمایا …بار بار جنگوں میں نکلے، اپنے صحابہ کرام کو
ہر طرف جہاد کے لئے بھیجا… اس پورے جہاد میں …مجاہدین کے کھانے پینے کا نظام کیا
تھا؟… آپ باریکی سے مطالعہ کر لیں…کہیں کوئی لوٹ مار، دھمکی، یا حرص کا ایک منظر
بھی نظر نہیں آتا… سات غزوات تو ایسے تھے کہ پورا لشکر ٹڈیاں کھا کر چل رہا تھا…
ایک غزوہ میں کھجور کی گٹھلیاں چوس کر گزارہ تھا … ایک غزوہ میں سب کے پیٹ پر پتھر
بندھے تھے…
معلوم ہوا کہ اس پورے مبارک جہاد میں …کھانے کی لالچ، کھانے
کی حرص، اچھا کھانا کھانے کی خواہش … زیادہ کھانے کا شوق… کچھ بھی نظر نہیں آتا…
یعنی یہ جہاد ’’پیٹ کی شہوت‘‘ سے آزاد تھا…اسی لئے یہ آگے بڑھتا گیا اور تیس سال
کے عرصے میں اس نے دنیا بھر کے کفر کو روند ڈالا… آپ غور کریں… حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مبارک جہاد میں… زیادہ کھانے
اور اچھے کھانے کا آسانی سے انتظام ہو سکتا تھا… عرب خانہ بدوش تھے…ہر راستے پر
ان کے قافلے پڑے رہتے تھے…مدینہ منورہ میں غیر مسلم اقلیتیں موجود تھیں…مگر یہ
جہادِ فی سبیل اللہ تھا…داداگیری،بھتہ خوری اور فساد نہیں… ان سب سے کھانا وصول
کیا جا سکتا تھا… مگر نہیں کیا گیا… کیونکہ کھانے کو مقصود بنانے والے کبھی آگے
نہیں بڑھ سکتے… اچھا کھانا تو دور کی بات وہاں پورا کھانا بھی پسندیدہ نہیں تھا…
انسان پیٹ سے آزاد ہوتا ہے تو اس کا ترقی کا سفر شروع ہوتا ہے… اسی لئے نصاب یہ
مقرر تھا کہ… اپنے پیٹ کے تین حصے کرو… ایک حصہ کھانے کا، ایک پینے کا…اور ایک
سانس لینے کا… اور فرمایا: مؤمن ایک آنت سے کھاتا ہے جبکہ کافر سات آنتوں سے…
اور اپنا عمل یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری
زندگی کبھی مکمل پیٹ بھر کر کھانا تناول نہ فرمایا…
یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت
مبارکہ کا وہ اہم پہلو تھا… جس نے جہاد کو بے انتہا ترقی عطاء فرمائی … کہتے ہیں
کہ ایک مسلمان فاتح نے کافروں کے ایک شہر پر حملہ کیا… اہل شہر مقابلہ کی تاب نہ
لا سکے اور انہوں نے ہتھیار ڈال دئیے… وہ فاتح شہر میں داخل ہوا تو اسی شہر کے
قائدین نے اس کی پرتکلف دعوت کی…طرح طرح کے کھانے، ہر طرح کے کھانے… وہ دستر خوان
پر بیٹھا تو اپنے خادم سے کہا… ہمارا کھانا لاؤ… اس نے چمڑے کا تھیلا پیش کر دیا…
فاتح نے اسے دستر خوان پر الٹ دیا، اس میں خشک روٹیاں تھیں…وہ مزے لے لے کر کھانے
لگا… عمائدین نے عرض کیا…یہ سب کھانے ہم نے آپ کے لئے تیار کرائے ہیں… آپ یہ بھی
تناول کریں…وہ کہنے لگا…اگر میں بھی تمہاری طرح ان کھانوں کا عادی ہو گیا تو پھر
تمہاری طرح ذلیل ہو کر ہتھیار ڈالوں گا… حضرت سید احمد شہید رحمۃ اللہ
علیہ نے اپنے لشکر کی یہی تربیت کی… یہ بڑے بڑے علماء، خطباء ، مشائخ
اور امیر زادے… طرح طرح کے مرغن کھانوں کو چھوڑ کر اس لشکر میں شامل ہوئے اور پھر
انہوں نے سادہ کھانے کو ہی اپنا طریقہ بنا لیا… مگر ہر جماعت میں ہر طرح کے لوگ
گھس جاتے ہیں… سیّد صاحب کی جماعت میں بھی بعض ’’پیٹو، معدہ پرست، دعوت خور‘‘ شامل
ہو گئے … اور حضرت کی تحریک کو جو سب سے بڑا اور پہلا نقصان پہنچا وہ انہی افراد
کی وجہ سے پہنچا …
حضرت سیّد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خلافت اور حکومت
کئی علاقوں میں تسلیم کر لی گئی تھی… وہاں کے مسلمان نہایت خوشی سے اپنی زکوٰۃ اور
عشر وغیرہ… سید صاحب کو دیتے تھے… سب معاملات ٹھیک چل رہے تھے کہ…ان دعوت خور پیٹو
مجاہدین نے لوگوں کو تنگ کرنا شروع کر دیا…وہ جس علاقے میں جاتے وہاں طرح طرح کے
اچھے کھانوں کی فرمائش کرتے… حالانکہ ان کا کام اتنا تھا کہ جاتے اور زکوٰۃ و عشر
وصول کر کے واپس آ جاتے … مگر یہ پیٹ کے چکر میں پڑ گئے… پھر جو لوگ اچھا کھانا
نہ کھلاتے یہ ان کو دھمکیاں دیتے اور تنگ کرتے… اور یوں بالآخر یہ بدنامی ایسی
پھیلی کہ ان چند افراد کے پیٹ کی آگ نے …اتنی بڑی تحریک کو خون میں ڈبو دیا…
یقینی بات ہے کہ … زکوٰۃ وصولی کے لئے جانے والے سب افراد ایسے نہ تھے… سیّد صاحب
کا لشکر تو اولیاء اور زاہدین کا لشکر تھا…فتح پشاور کے موقع پر جب سیّد صاحب رحمۃ
اللہ علیہ نے شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ کو …سلطان سے
مذاکرات کے لئے بھیجا تو سلطان نے انہیں کھانا پیش کیا…شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ
علیہ نے فرمایا : ہم اپنے امیر سے کھانے کی اجازت لے کر نہیں آئے اس
لئے ہم نہیں کھا سکتے… حالانکہ وہ اور ان کے تمام رفقاء دن بھر کے بھوکے تھے… مگر
کھانا نہ کھایا… سلطان نے وہ کھانا ساتھ باندھ کر دے دیا کہ واپس جا کر اگر اجازت
مل جائے تو کھا لیں…واپس آئے تو رات کے دو بج چکے تھے تو حضرت سیّد صاحب کو نہ
جگایا …صبح جب اجازت ملی تب وہ کھانا کھایا…
یعنی لشکر کے سب لوگ ایسے نہیں تھے…بس چند ایک اس بری عادت
میں پڑے تو شیطان اور مخالفین نے بدنامی پھیلا دی…ہر طرف یہی بات چل پڑی کہ
مجاہدین زکوٰۃ اور عشر لینے آتے ہیں تو لوگوں کو ذلیل کرتے ہیں… زبردستی کھانے
پکواتے ہیں اور نہ کھلانے والوں کو مارتے پیٹتے ہیں … یہ بدنامی اس قدر بڑھی کہ
بغاوت کی بنیاد بن گئی… اور بھی کئی عوامل جمع ہوئے تو لوگوں نے ایک رات فساد برپا
کر دیا اور سیّد صاحب کے مجاہدین کو سینکڑوں کی تعداد میں شہید کر دیا…
ربیع الاوّل کا مہینہ شروع ہے…اس مہینہ میں حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک سیرت بیان کی جاتی ہے…
ضرورت اس بات کی ہے کہ …اس مبارک اور کامیاب سیرت کو ہم اپنی زندگیوں میں لائیں…
ہر سال کم از کم اس سیرت مبارکہ کے مطب سے اپنی ایک بیماری کا علاج کروائیں …
مثلاً اس سال ہم یہ عزم کر لیں کہ…کھانے پینے کے معاملہ میں ہم سیرتِ طیبہ سے مکمل
روشنی لیں گے… پھر تحقیق کریں کہ حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کے کھانے پینے کے بارے میں کیا نظام تھا… اس بارے میں آپ صلی
اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کیا ہیں… اس بارے میں آپ صلی
اللہ علیہ وسلم کا ذوق مبارک کیا تھا…پھر ہم اللہ تعالیٰ سے دعاء مانگ
کر…اسی نظام کو حتی الوسع اپنانے کی کوشش کریں…کیونکہ کامیابی تو
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں ہے… آج کل جو کفر کا
فتنہ… اہل اسلام کے خلاف سرگرم ہے…اس کا ایک وار یہ بھی ہے کہ مسلمانوں میں زیادہ
کھانے، جدید کھانے اور مہنگا کھانے کا شوق ابھارا جائے… جب یہ شوق پیدا ہو جائے گا
تو اس شوق کو پورا کرنے کے لئے مال کی ضرورت ہو گی…اور جب یہ شوق پورا کر لیں گے
تو کئی اور خواہشات بھڑک اٹھیںگی… اور یوں ہر مسلمان دنیا کی غلامی میں پڑ جائے
گا… یا پھر جرائم کا راستہ اختیار کرے گا…وہ جو جدید کھانے کھائے بغیر زندہ نہ رہ
سکے وہ کہاں جہاد کرنے جائے گا… زیادہ کھانے سے بزدلی بھی پیدا ہوتی ہے اور
بیوقوفی بھی… جب تک کوئی انسان روزانہ کچھ وقت بھوکا نہ رہے وہ عقلمندی اور حکمت
کو نہیں پا سکتا… ذائقہ پرستی انسان کو حرام کی طرف لے جاتی ہے… پرسوں کی خبروں
میں تھا کہ میکڈونلڈ کے ایک برگر سے چوہے کا سر برآمد ہوا ہے…
بہرحال یہ ایک بہت اہم موضوع ہے… ہم سب کو ایمانداری کے
ساتھ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ کے اس
پہلو کا مطالعہ کرنا چاہیے… اور پھر اللہ تعالیٰ سے توفیق مانگ کر حتی الوسع اسے
اپناناچاہیے… خصوصاً مجاہدین کے لئے یہ پہلو بہت زیادہ اہم ہے… آپ جب کہیںدورہ
کرنے جائیں…بیان کرنے جائیں… تو اپنے اصل کام کو مقدم رکھیں اور دعوت خوری کے فتنے
میں نہ پڑیں… اجتماعی اموال میں سخت احتیاط کریں … یہ مال ایک دوسرے کی دعوتیں
کرنے کے لئے نہیں… خصوصاً حساب کے لئے جانے والوں کو تو کبھی ان لوگوں کی دعوت
نہیں کھانی چاہیے جن سے وہ حساب لے رہے ہیں…بھائیو! شریعت کے اصولوں میں خیر ہے،
برکت ہے، عزت ہے اور راحت و کامیابی ہے…
اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطاء فرمائے۔
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ پر جو بھی سچا ایمان لائے گا…اس کو پانچ مخالفین
کا سامنا ضرور کرنا پڑے گا…
پانچ سختیاں،پانچ امتحانات ،پانچ دشمن، پانچ مقابلے، پانچ
میدان…پانچ شدائد…
پہلی سختی: حسد کا سامنا…خود کئی مسلمان اس سے حسد کریں گے
اور اسی حسد میں مبتلا ہو کر اسے ایذاء پہنچائیں گے…
دوسری سختی: بغض اور نفرت کا سامنا…جتنے بھی منافقین ہیں وہ
سب اس سے بغض رکھیں گے، اس سے نفرت کریں گے اور اپنے اسی بغض اور نفرت کی وجہ سے
اسے ستائیں گے ، تکلیف پہنچائیں گے…
تیسری سختی: قتال اور جنگ کا سامنا…جتنے بھی اسلام اور ایمان
کے دشمن کفار ہیں وہ اس سے لڑیں گے، اس کو مارنے ، قتل کرنے اور پکڑنے کی ہر کوشش
کریں گے اور ہر وقت اس کو نقصان پہنچانے کی تاک میں رہیں گے…
چوتھی سختی: گمراہی اور فتنوں کا سامنا… شیطان ہمیشہ اس کے
پیچھے پڑا رہے گا…وہ اسے گمراہ کرنے کی ہر کوشش کرے گا…وہ اسی پر اپنے لشکر دوڑائے
گا…وہ اسے مال، عہدے، عورت، شہوت اور عزت کے ہتھیاروں سے ’’بے ایمان‘‘ بنانے کی
جدوجہد کرے گا… وہ اسے مایوسی،بد دلی،ناشکری اور خیانت کے وساوس میں ڈالے گا…
پانچویں سختی: مزاحمت اور جھگڑے کا سامنا …خود اس مومن کا نفس
اس سے جھگڑے کرے گا… تم کیوں اتنی عبادت کرتے ہو…تم کیوں اتنے دشمن بناتے ہو… تم
کیوں حلال حرام میں اتنی باریکی کرتے ہو…تم کیوں کم کھاتے ہو… تم کیوں غربت میں
پڑے ہو…تم کیوں مجھے اتنا تھکاتے ہو… تم کیوں خود کو اور اپنے اہل و عیال کو اتنی
مشقت میں ڈالتے ہو…آزاد ہو جاؤ ، مزے کرو، عیش کرو، حلال حرام سب کھاؤ… زندگی
کا لطف اٹھاؤ…آخرت کی فکر میں نہ پڑو…دنیا بناؤ…
اب کیا کرنا ہے؟
اگر سچے دل سے کلمہ طیبہ پڑھا ہے:
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اور اس کلمہ کو دل میں اُتارا ہے… اور کلمے کے سب احکامات کو
مانا ہے…تو آپ ’’مومن ‘‘ ہیں…مگر آپ جیسے ہی سچے پکے مومن ’’بنے‘‘ تو پانچ
سختیوں نے ایک دَم حملہ کر دیا…حاسدین پیچھے پڑ گئے…منافقین نے زہریلے پھن اٹھا
لئے … کافر قتل کرنے اور پکڑنے کو دوڑے…شیطان نے مورچہ قائم کر لیا…اور نفس دن رات
تنگ کرنے لگا…
تو اب کیا کرناہے؟ …ایمان ایسی چیز نہیں کہ اس کو چھوڑ دیا
جائے…ایمان چھوڑ دیا تو ہمیشہ کا عذاب ہے، ہمیشہ کی ناکامی اور ہمیشہ کی ذلت …مگر
ایک وقت میں پانچ مخالفین کا مقابلہ کرنا بھی آسان نہیں… تو پھر کیا کریں؟… حاسد
تو اپنے مسلمان ہیں…مگر ذرا بھی رحم نہیں کھاتے…اتنا ستاتے ہیں کہ روح کانپ جاتی
ہے… منافق اس زمانے میں بہت طاقتور ہو چلے، وہ حکومتوں کے مالک ہیں… وہ ہمیں نفرت،
ذلت اور دشمنی کا نشانہ بناتے ہیں… وہ اتنے طاقتور ہو گئے کہ ان کو اپنا نفاق
چھپانے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی… دھڑلے سے شرابیں پیتے ہیں…سؤر کا گوشت کھاتے ہیں…
دن رات طوائفوں میں رہتے ہیں …کافروں سے یاریاں باندھتے ہیں… مسلمانوں کو پکڑ کر
کافروں کے حوالے کرتے ہیں … کافروں، مشرکوں کی پگڑیاں سر پر سجاتے ہیں…کفر کے لئے
لڑتے ہیں…مسجد سے نفرت کرتے ہیں، مدرسہ سے گھن کھاتے ہیں…جہاد کے سخت دشمن ہیں…
مگر خود کو مسلمان کہلواتے ہیں … وہ ہمارا وجود تک برداشت نہیں کرتے…
اور کافر …اللہ معاف فرمائے وہ تو آج پوری دنیا کے حکمران بن
بیٹھے… ہم نے جہاد کیا چھوڑا کہ کافروں کو کھلی چھٹی مل گئی… انہوں نے ایٹم بم بنا
لئے، انہوں نے فضاؤں اور سمندروں پر قبضہ کر لیا…انہوں نے ہوش رُبا عسکری قوت بنا
لی… وہ ہمیں ختم کرنا چاہتے ہیں…
اور شیطان …وہ تو آج کل کافی فارغ ہے… اور اس کی پوری توجہ
’’اہل ایمان‘‘ کی طرف ہے کہ ان سرپھروں کو کیسے گمراہ کروں… دن رات نئے فتنے اور
دن رات نئے وساوس… وہ ظالم قہقہے لگاتا ہے کہ…دنیا کہاں تک پہنچ گئی… بل گیٹس کہاں
تک پہنچ گیا… مارک زکر برگ ( نعوذ باللہ) کامیاب ہو گیا… تم کہاں کھڑے ہو…آؤ!
عالمی برادری کا حصہ بنو…یعنی تم بھی میرے یار بنو… جنت جہنم بعد کی باتیں
ہیں…دنیا کو بہتر بناؤ… غربت سے جان چھڑاؤ … اپنے بچوں کو غریبی کے طعنے سے
بچاؤ… ترقی کرو…گناہ کرو…
اور نفس…وہ دن رات طعنے دیتا ہے کہ… تم بڑے آئے مسلمان…
چھوڑو ان سختیوں اور پابندیوں کو…مجھے بھی آرام دو اور خود بھی آرام سے رہو…
ایک مومن…اور پانچ دشمن …ایک مومن اور پانچ میدان… ایک مومن
اور پانچ سختیاں … اب کرنا کیا ہے؟ جواب یہ ہے کہ یہ پانچ دشمن… جس وجہ سے ہمارے
دشمن بنے ہیں… وہ ہے ’’ایمان ‘‘ … معلوم ہوا کہ ان کی دشمنی ہم سے نہیں، ’’ایمان
‘‘ سے ہے… اور ایمان سے ان کی دشمنی اس لئے ہے کہ…ایمان کے سامنے یہ ٹھہر نہیں
سکتے… ایمان ان کی موت ہے…ایمان ان کی شکست ہے…ایمان ان کی ذلت ہے… ایمان ان کی
اصلاح ہے …اس لئے ہم ایمان پر ڈٹے رہیں…ایمان پر مضبوط رہیں … ایمان میں ترقی کریں
…ایمان کو مضبوطی سے تھامے رہیں… تب یہ سارے ناکام ہو جائیں گے… ان کی ہر کوشش اور
ان کی ہر طاقت ناکام ہو جائے گی… یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے… یہ قرآن مجید کا
اعلان ہے…یہ اٹل حقیقت ہے… ایمان کے سامنے حاسد نہیں ٹھہر سکتے… وہ نادم ہو جاتے
ہیں ناکام ہو جاتے ہیں… حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی…
حسد کی آگ برساتے رہے مگر آخر میں کیا ہوا؟… ایمان کے سامنے منافق نہیں ٹھہر
سکتے… خواہ وہ کتنے طاقتور ہو جائیں…عبد اللہ بن اُبی مدینہ کا بے تاج بادشاہ
تھا…اس کے ساتھ طاقتور قبائلی منافقین سردار تھے… حضور اقدس صلی اللہ
علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین باہر سے آئے ہوئے مہاجر تھے… اور آپ کے حامی غریب کسان تھے…
سورۃ المنافقون پڑھ لیں… وہ بتا رہی ہے کہ ’نفاق‘‘ جتنا بھی طاقتور ہو جائے …وہ
ایمان کے سامنے ذلیل اور شکست خوردہ ہے… کفار بھی … ایمان کے سامنے نہیں ٹھہر
سکتے…قرآن زمانہ نوح علیہ السلام سے بات شروع کرتا ہے… اور
فتح مکہ تک کی داستان سناتا ہے… طاقت میں کوئی توازن ہی نہیں تھا… کفار ہمیشہ
طاقتور تھے…مگر ایمان نے انہیں شکست دی… ایک بار نہیں بار بار دی… اور ہمیشہ
دی…اور ہمیشہ دیتا رہے گا… شیطان بھی ’’ایمان‘‘ کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا … اس نے
جب اللہ تعالیٰ سے کہا کہ…میں تیرے بندوں کو ایسا گمراہ کروں گا کہ وہ ہر طرف سے
گِھر کر میرے ہو جائیں گے تو ’’رب العالمین‘‘ نے فرمایا…نہیں…
’’ جو میرے مخلص ہیں ان پر تیرا زور نہیں چلے گا‘‘
ایسے لوگوں کو شیطان ایک قدم پیچھے دھکیلتا ہے تو وہ… دوڑ کر
چار قدم اور آگے نکل جاتے ہیں… شیطان ان سے ایک گناہ کرواتا ہے تو وہ سو بار
استغفار کر کے… گناہ بھی معاف کروا لیتے ہیں… اور اپنے گناہوں کو بھی نیکیاں بنوا
لیتے ہیں…شیطان ان کو خواہشات میں دھکیلتا ہے تو وہ… اپنے آنسوؤں کے ذریعہ ایمان
کی ترقی تک پہنچ جاتے ہیں…اور نفس بھی ایمان کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا… ایمان اس
سرکش نفس کو ایسا لوّامہ اور مطمئنہ نفس بنا دیتا ہے کہ…پھر فرشتے بھی اس نفس پر
رشک کرتے ہیں…
مثال سے سمجھیں
ایک شہر یا گاؤں میں پانچ چور رہتے ہیں… دھوکے باز لٹیرے…
آپ اس گاؤں میں داخل ہوئے تو وہ آپ کو لوٹنے آ گئے… مگر آپ کے ہاتھ میں تیز
تلوار یا میگزین بھری کلاشنکوف ہے… ان چوروں کے پاس نہ تلوار ہے نہ کلاشن … وہ آپ
کے دشمن بن گئے… اب وہ ہر حیلہ بہانہ بنا رہے ہیں کہ…کسی طرح آپ یہ تلوار یا
کلاشن رکھ دیں …اگر آپ نے ان کے ستانے سے تنگ آ کر یہ کلاشن رکھ دی تو پھر… نہ
جان بچے گی نہ مال … نہ آبرو سلامت رہے گی اور نہ عزت… لیکن اگر آپ نے کلاشن
تھامے رکھی اور حسب ضرورت اس کا استعمال کیا تو… آپ اس بستی سے سلامتی اور آبرو
کے ساتھ گذر جائیں گے… ہم دنیا کی بستی میںآئے ہیں… اور ہمیں آگے آخرت کی منزل
پر جانا ہے… دنیا چوروں اور لٹیروں سے بھری پڑی ہے…کوئی ہمیں کافر بنانا چاہتا ہے
تو کوئی منافق… کوئی ہمیں فاسق بنانا چاہتا ہے تو کوئی نفس پرست… ایسے میں سلامتی
کا راستہ صرف ایک ہے… اور وہ ہے ’’ایمان ‘‘ …مگر ’’ایمان ‘‘ پرآتے ہی… سب دشمن ہو
جائیں گے… حسد، نفرت، حملے، وسوسے اور تکلیف کا سامنا ہو گا… ان سب چیزوں کا
سامنا…ہمیشہ رہے گا…مرتے دم تک یہ ’’مقابلہ‘‘ جاری رہے گا… یہ ایک دو دن کی جنگ
نہیں…موت کے وقت بھی شیطان کی آخری کوشش یہ ہو گی کہ ایمان پر نہ مرنے دے …نفس کی
آخری کوشش ہو گی کہ… آل و اولاد کے مفادات سمجھا کر اس وقت بھی کوئی گناہ کر
الے… کفار کی کوشش ہو گی کہ …ہماری موت، ذلت ناک، عبرتناک ہو جائے… ہاں! یہ جنگ
’’کلمہ طیبہ ‘‘دل سے پڑھتے ہی شروع ہوتی ہے… اور مرتے دم تک جاری رہتی ہے…اگر ہم
’’ایمان‘‘ چھوڑ دیں گے تو ہم بری طرح شکست کھا جائیں گے … موت تب بھی آئے گی…
بیماری تب بھی آئے گی … پریشانی تب بھی آئے گی… یہ شیطان کا دھوکہ ہے کہ…ایمان
چھوڑ دو تو مزے ہی مزے ہیں… حقیقت یہ ہے کہ …کوئی مزے نہیں… بس دوسروں کو مزے نظر
آتے ہیں… اندر آگ ہی آگ ہے… ہالی ووڈ کے فنکار کیوں خود کشی کر کے مرتے ہیں؟ …
بالی ووڈ کے ایکٹر کیوں دن رات زہر کھانے کا سوچتے ہیں؟ …اس لئے ان دشمنوں سے
گھبرا کر ’’ ایمان‘‘ کو نہیں چھوڑنا…ایمان ہی میں ہماری کامیابی ہے… اور ایمان ہی
میں ان سب دشمنوں کی شکست ہے… دیکھو! سچے رب نے واضح اعلان فرما دیا…
﴿ وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ﴾
مناظر دیکھیں
آج غزوۂ بدر کا دن ہے… ابو جہل کا طاقتور لشکر ’’ایمان ‘‘
پر حملہ آور ہے… ایمان والے نہتے ہیں… مگر فتح ایمان کی ہوئی…
آج غزوہ احد ہے… ایمان خون میں لت پت ہے… زخمی ہے… لاشوں اور
ٹکڑوں میں نظر آ رہا ہے… کفر ’’ایمان ‘‘ کے خاتمہ کا جشن منا رہا ہے…مگر یہ کیا…
ایمان اٹھا اور تھوڑی دیر میں ’’حمراء الاسد‘‘ کا فاتح بن گیا… وہ جو مار کر جا
رہے تھے ان کے بارے میں آواز آئی کہ یہ سب مر چکے… اور وہ جو مرے پڑے تھے ان کے
بارے میں اعلان ہوا کہ وہ زندہ ہیں …خبردار جو ان کو مردہ کہا …اور پھر تاریخ نے
دیکھا کہ واقعی وہ زندہ تھے…اور مکہ سے لے کر قیصر و کسریٰ تک کو فتح کر رہے تھے…
آج غزوہ خندق ہے…ایمان آج مکمل محاصرے میں ہے… اندر سے بھی
اور باہر سے بھی… اتحادی لشکروں کا طوفان اسے ہر طرف سے گھیر چکا ہے… اور داخلی
دشمنوں کا سیلاب اسے بہانے کے لئے کروٹیں بدل رہا ہے… آج شاید ایمان کا دنیا میں
آخری دن ہو گا…مگر یہ کیا؟ یہ کون بھاگ رہے ہیں؟ محاصرہ کرنے والے… یہ کون مر رہے
ہیں… داخلی سیلاب اٹھانے والے … اور ’’ایمان‘‘ ایک شان سے مسکرا کر کہہ رہا ہے…
آج کے دن سے دستور بدل گیا… اب مجھ پر یہ کبھی حملہ نہیں کر سکیں گے… اب حملہ میں
ہی کروں گا…اور میرے حملے کو کوئی روک نہیں سکے گا…
یہ تین مناظر… بہت سے فتنوں کا علاج ہیں… بدر کے دن ایمان پر
جمے رہنا آسان نہیں تھا… بہت مشکل تھا بہت مشکل… مگر ایمان والے ایمان پر ڈٹے رہے
تو ایمان نے اپنی طاقت دکھا دی… ہم پر اپنی زندگی میں ایسے حالات بھی آ سکتے ہیں
…
اُحد کے دن ایمان پر ڈٹے رہنا…حد درجہ مشکل تھا، بے حد مشکل…
مگر ایمان والے ایمان پر ڈٹے رہے … تو ایمان نے اپنی قوت دکھا دی … اور غزوہ احزاب
تو … دل و دماغ کو ہلا دینے والا اور اندر تک بنیادوں کو لرزا دینے والا امتحان
تھا … مگر ایمان والے ایمان پر مضبوط رہے تو ایمان نے اپنی شان دکھا دی… ہم پر احد
والے حالات بھی آ سکتے ہیں اور احزاب والے بھی …
بس بھائیو! امریکہ ، برطانیہ کے چنگھاڑنے سے خوفزدہ ہونے کی
ضرورت نہیں…مودی کے آنے جانے سے پریشان ہونے کی حاجت نہیں … یہودیوں کے عسکری اور
معاشی طوفان کو دیکھ کر دل ہارنے کی گنجائش نہیں…اور اپنے حکمرانوں کی شرک پرستی
اور سختی دیکھ کر گھبرانے کی اجازت نہیں… ’’ایمان‘‘ ان سب سے بھاری ہے تول کر دیکھ
لو …
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
یہ کلمہ ایک آن میں…فرش سے عرش تک کا سفر کرتا ہے… کالے کافر
آئے مر گئے… گورے کافر آئے مٹ گئے… کلمہ کل بھی تھا، آج بھی ہے… اور ہمیشہ رہے
گا… ایمان کی مضبوطی… ایمان کے فرائض میں ہے… سب سے پہلے عقیدہ درست ہو…اور پھر
اسلام کے فرائض سے محبت… اور مضبوط تعلق…
نماز، روزہ، حج ،زکوٰۃ… اور جہادِ فی سبیل اللہ
بھائیو! غربت کو عیب یا گالی نہ سمجھو… اپنی عمر کے ساتھ اپنے
ایمان کو بھی بڑھاؤ…
اور زمانے کے ساتھ چلنے کی بجائے … زمانے کو اپنے ساتھ چلاؤ…
بس دنیا میں مختصر سا قیام ہے… اور پھر اللہ تعالیٰ کی ملاقات
اور اللہ تعالیٰ کی مہمانی… ان شاء اللہ
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے ایک بڑی ’’کرامت‘‘ دکھا دی …ہمارے زمانے کے
مجاہدین کی کرامت … ایمان کو قوت اور دلوں کو شفا دینے والی کرامت… حوصلہ،ہمت اور
جذبہ بڑھانے والی کرامت… چار مجاہدین نے انڈیا کے پٹھان کوٹ فضائی اڈے پر حملہ
کیا… جمعہ شریف کے بعد والی رات تہجد کے وقت… جی ہاں! تین بجے کے آس پاس…وہ وقت
جب زمین ، آسمان کے قریب ہو جاتی ہے… جب دعاؤں اور آہوں کے نالے عرش کو چھوتے
ہیں… جب رحمت کا مالک آسمانِ دنیا پر تجلی فرماتا ہے… جب معافی مانگنے والوں کو
فوراً معافی دے دی جاتی ہے… جب رزق مانگنے والوں کے لئے خزانوں کے منہ کھول دئیے
جاتے ہیں… جب نفس روندا جاتا ہے اور زبان سیدھی چلتی ہے… یہ اللہ والے مجاہدین
…اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے، اللہ تعالیٰ کو اپنی جان بیچنے… مظلوموں کا بدلہ لینے…
اور زمین کو فساد اور نجاست سے پاک کرنے کے لئے…انڈین فضائیہ کے مضبوط ترین اڈے
میں گھس گئے… سبحان اللہ! کیا کیفیت ہو گی اور کیا منظر… کیا جذبے ہوں گے اور کیا
نعرے… کیا کیفیت ہو گی اور کیا سرمستی… اللہ اکبر کبیرا… حملے کو اڑتالیس گھنٹے
بیت چکے…مشرکین ابھی تک نہ ان مجاہدین کی درست تعداد سمجھ سکے اور نہ ان کے آنے
کے راستے… ہاں! بے شک وہ فرشتے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے غزوہ بدر میں جہادی
وردی پہنی تھی…وہ قیامت تک کے بر حق مجاہدین کے لئے اترتے رہتے ہیں…خبریں سنتے
ہوئے کون یقین کر رہا ہو گا کہ… اتنی سردی اور اتنے سخت موسم میں کوئی بغیر سوئے ،
بغیر کھائے اڑتالیس گھنٹے لڑ سکتا ہے… آپ چوبیس گھنٹے مسلسل جاگ کر دیکھ لیں دماغ
لرز جائے گا… آپ چوبیس گھنٹے بھوکے رہ کر دیکھ لیں چکر آ جائیں گے… مگر یہاں
ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں اور ہیلی کاپٹروں کا سامنا تھا…مگر وہ ایمانی شان کے ساتھ
تازہ دم لڑتے رہے اور دشمنوں، قاتلوں کی لاشیں گراتے رہے…ان کے خلاف ہر اسلحہ ، ہر
قوت اور ہر عسکری ٹیکنالوجی استعمال ہوئی مگر…ان کو آسمان سے مدد بھی آ رہی تھی…
اور رزق بھی… حضرت سیّدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ایک
بار ایک چھوٹے سے لشکر کے ساتھ دشمنوں کے بہت بڑے لشکر کے سامنے ہوئے… دشمنوں نے
کہا ہتھیار ڈال دو… مٹھی بھر افراد ہو ، ہمارے سامنے چند منٹ بھی نہ ٹھہر سکو
گے…جواب میں فرمایا : تم اسلام قبول کر لو…یا ہتھیار ڈال کر جزیہ دو یا مرنے کو
تیار ہو جاؤ… دشمنوں کے سالار نے حیرت سے پوچھا… کیا تمہارے لئے کوئی بڑی کمک اور
مدد آنے والی ہے؟ فرمایا:
اَمَّا مِنَ الْاَرْضِ فَلَا
زمین سے تو کسی مدد اور کمک کے پہنچنے کا امکان نہیں…مگر
آسمان سے ضرور ہے…
اور پھر وہی ہوا جو ان کا گمان تھا…بالکل واضح اور سچا ارشاد
ہے…
اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِی بِیْ
میرا بندہ مجھ سے جو گمان رکھتا ہے…میں اس کے گمان کے مطابق
اپنی شان دکھاتا ہوں
﴿كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ﴾
ہر دن اللہ تعالیٰ کی ایک نئی شان ہے
چند دن پہلے انڈین فوجی… کشمیر کے نہتے مسلمانوں کی لاشیں گرا
رہے تھے… مگر دو جنوری سے وہ اپنے قابل فخر سورماؤں کی لاشیں گھسیٹ رہے ہیں… این
ایس جی، بلیک کیٹ کمانڈو کا ماہر کرنل نرنجن…نشانہ بازی میں سونے کا تمغہ جیتنے
والا عالمی شہرت یافتہ صوبیدار فتح سنگھ… اور معلوم نہیں کون کون… سب کھیت ہو گئے،
بری طرح مارے گئے… پہلے اعلان کیا کہ مجاہدین چھ ہیں اور ہم نے سب مار دئیے
ہیں…پھر اعلان ہوا کہ ایک اور بھی ہے وہ زندہ ہے اور لڑ رہا ہے… پھر بتایا گیا کہ
نہیں! دو اور بھی زندہ ہیں…اور جنگ کر رہے ہیں…
﴿ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ﴾
یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی نصرت نہیں تو اور کیا ہے؟… یہ واضح
کرامت نہیں تو اور کیا ہے؟… یہ جہاد اور مجاہدین کی حقانیت نہیں تو اور کیا ہے؟…
یہ مظلوم اور مقرب محمد افضل گورو شہید رحمۃ اللہ علیہ کی روحانی اور
جہادی سلطنت نہیں تو اور کیا ہے؟… اب اتنا بڑا ملک رو رہا ہے اور بزدلوں کی طرح
الزامات لگا رہا ہے… پاکستان کے حکمران انڈیا کے الزامات کے سامنے…معلوم نہیں کیوں
جھکتے ہیں، کیوں شرماتے ہیں؟… انڈیا نے مشرقی پاکستان کاٹ ڈالا … انڈیا نے
بلوچستان کو آگ کی بھٹی بنا دیا… انڈیا نے کراچی کو مسلمانوں کا مذبح خانہ بنا دیا
… انڈیا نے افغانستان میں پاکستان کے خلاف اڈے کھول لئے… انڈیا نے پیارے کشمیر کو
لہو لہو کر دیا…انڈیا نے بابری مسجد سمیت بے شمار مساجد کو ویران کیا… انڈیا نے
کبھی پاکستان کے وجود ہی کو تسلیم نہیں کیا… پھر ایسے مکار دشمن کے دباؤ میں آنا
کون سی عقلمندی ہے اور کونسی غیرت؟… یہ حکمرانوں کی بھول ہے کہ انڈیا سے یاری
پاکستان کو ایشیاء کا ٹائیگر بنا دے گی…نیپال والوں سے جا کر پوچھو! انہیں انڈیا
کی یاری اور غلامی نے کیا دیا… سری لنکا سے پوچھو! اسے انڈیا نے کہاں کا چھوڑا…
پاکستان کا تو وہ ہمیشہ سے دشمن ہے… وہ تمہیں ترقی کے نام پر نچوڑ لے گا…کاش! تم
مشرکین کے مزاج کو سمجھتے…اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے…
﴿اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ﴾
کہ ہر مشرک سراسر نجاست ہے، گند ہے اور خرابی ہے…
پھر قرآن مجید نے بہت عجیب نکتہ سمجھایا … اے مسلمانو! معاشی
ترقی کے دھوکے میں مشرکین سے یاری نہ کر بیٹھنا…
﴿وَاِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيْكُمُ اللّٰهُ
مِنْ فَضْلِهٖ﴾
اللہ تعالیٰ تمہیں غنی فرما دے گا…تم ان مشرکوں کو اپنے حرم
کے قریب نہ آنے دو…دل کے قریب لانے کا تو سوال ہی نہیں… کون کلمہ گو مسلمان اپنے
دل کو نجاست سے آلودہ کر سکتا ہے؟ …تجارت، ترقی سب دھوکہ ہے… حکمرانو! اگر ہماری
نہیں سنتے تو نہ سنو…اللہ تعالیٰ کے فرمان کو تو مانو، اللہ تعالیٰ کے فرمان کو تو
سنو… نہیں سنو گے تو اپنا ہی نقصان کرو گے…ہاں! صرف اپنا… ایمان والوں کا اور
مجاہدین کا تم کچھ نہیں بگاڑ سکتے … وہ جن کی نصرت کے لئے فرشتے اترتے ہیں اور وہ
جو رب تعالیٰ سے سودا کر چکے ہیں…ان کو ستا کر تم کہیں کے نہیں رہو گے…
جانباز سرفروش فدائیوں کی پاکیزہ ماؤں کو سلام …شہداء اسلام
کی عظمت اور کرامت کو سلام…
ایک مومن پانچ شدائد
گذشتہ’’ رنگ و نور‘‘ میں عرض کیا تھا …ایک خالص اور سچے مومن
کو پانچ مخالفین ، پانچ امتحانات اور پانچ شدائد کا سامنا ہوتا ہے… مسلمان اس سے
حسد کرتے ہیں… منافق اس سے بغض رکھتے ہیں…کافر اس سے قتال کرتے ہیں… شیطان اس کو
گمراہ کرتا ہے… اور نفس اس سے جھگڑے کرتا ہے…
ایک مؤمن کے لئے ضروری ہے کہ…
٭ وہ
ان پانچ سختیوں سے نہ گھبرائے بلکہ ڈٹ کر ان کا مقابلہ کرے…
’’کیا لوگوں نے یہ گمان کر لیا کہ وہ ایمان کا اعلان کریں گے
اور پھر انہیں آزمایا نہیں جائے گا۔‘‘( القرآن)
ان آزمائشوں سے ہی سچے مومن کی پہچان ہوتی ہے…جو ڈٹا رہتا ہے
وہی مومن ہوتا ہے…
٭ ان پانچ امتحانات اور سختیوں کا مقابلہ یہ ہے کہ…مومن اپنے
ایمان پر قائم رہے، ایمان کو مضبوط کرتا رہے…ایمان میں ترقی کرے … ایمان ہی کے
ذریعے وہ ان تمام مخالفین پر غالب ہو سکتا ہے…
٭ ایمان
کی بنیاد ہے کلمہ طیبہ…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اس کلمہ سے اپنا تعلق اور رشتہ مضبوط کیا جائے تو ایمان سلامت
رہتا ہے اور ترقی کرتا ہے…کلمہ طیبہ کا مفہوم سمجھیں، اسے دل میں اتاریں …کلمہ
طیبہ کو سیکھیں اور سکھائیں… کلمہ طیبہ کے حقوق ادا کریں…کلمہ طیبہ کے لئے قربانی
دیںاور کلمہ طیبہ کا کثرت سے وِرد کریں…
٭ دل میں اگر ایمان اچھی طرح اتر چکا ہو تو وہ خود سکھاتا ہے
کہ…پانچ امتحانات اور پانچ سختیوں میں سے ہر ایک کا مقابلہ کس طرح
کرنا ہے… ایمان کا فیض ہر موقع پر خود حاضر ہو جاتا ہے اور… مومن کی
رہنمائی کرتا ہے… جس طرح ڈرائیوری کا فن اگر کسی کے دل و دماغ میں اتر چکا ہو تو
اب گاڑی چلاتے وقت یہ مہارت آٹو میٹک اس کے پاؤں، ہاتھوں اور دیگر اعضاء میں
موقع کے مطابق حاضر ہو جاتی ہے… کب بریک لگانی ہے…کب ریس چھوڑنی ہے اور کب کیا
کرنا ہے…
اس لئے اللہ تعالیٰ سے ’’ایمان کامل‘‘ اور ’’ ایمان مباشر
بالقلب‘‘ مانگتے رہنا چاہیے…
اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ اِیْمَانًا یُّبَاشِرُ قَلْبِی
یا اللہ! آپ سے ایسے ایمان کا سوال ہے جو ایمان میرے دل میں
اترا ہوا ہو…
ایمان کو سمجھیں، ایمان کو سیکھیں، ایمان کا مذاکرہ کریں
،ایمان کو مانگیں ، ایمان کی قدر کریں اور ایمان ہی کو اپنا سب سے اصل اور اہم
سرمایہ سمجھیں…
٭ ایمان سکھاتا ہے کہ… حاسد مسلمانوں کا مقابلہ
تحمل اور برداشت کے ذریعہ ہو سکتا ہے… حاسدین کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے
رہیں…مسلمانوں میں سے جو آپ سے حسد کرے آپ اس کے پیچھے نہ پڑیں، بدلہ نہ لیں …
تحمل کریں، معاف کریں…تب یہ حسد آپ کا نقصان نہیں کر سکے گا…یہ حسد واپس لوٹ جائے
گا…آپ کا یہ طرز عمل بہت سے حاسدین کو آپ کا گہرا ہمدرد دوست بنا دے گا… اور آپ
کی صلاحیتیں محفوظ رہیں گی… لیکن اگر آپ بدلہ چکانے اور اینٹ کا جواب پتھر سے
دینے پر اتر آئے تو …آپ اپنا ہی نقصان کریں گے… آپ بغض اور کینے کے بیمار بن
جائیں گے… آپ کی صلاحیتیں ضائع ہو جائیں گی…اور آپ ایمان میں ترقی نہیں کر سکیں
گے… دلائل قرآن مجید میں بھی موجود ہیں اور احادیث و سیرت میں بھی… موضوع بہت
طویل ہے اس لئے خلاصہ اور اشارہ عرض کر دیا…
٭ ایمان سکھاتا ہے کہ منافقین کے بغض اور شر سے
حفاظت… ایمان والوں کی ’’جماعت ‘‘ کے ذریعہ ہو سکتی ہے…منافقین سے ہمیں دو بڑے
خطرے ہیں…پہلا خطرہ یہ ہے کہ وہ ہمیں بھی(نعوذ باللہ) منافق بنا ڈالیں…وہ حب دنیا
کا بیج ہر وقت ہاتھوں میں لئے پھرتے ہیں… جان بچاؤ، مال بناؤ ، دنیا میں مستقبل
سنوارو، عیش کرو، آرام کرو، امن سے رہو وغیرہ… یہ سب پُرکشش دعوتیں ’’منافقین ‘‘
کے ساتھ چلتی ہیں… انسان کمزور ہے دنیا میں اپنے تقاضوں اور خواہشات کی خاطر ان
باتوں کا شکار ہو سکتا ہے… دوسرا خطرہ منافقین سے یہ ہے کہ وہ ہمیں جانی، مالی اور
عزت کا نقصان پہنچائیں، ہمیں کافروں کے سپرد کریں…کافروں کو ہم پر چڑھا لائیں…
قرآن مجید نے ’’فتنۂ نفاق‘‘ کو تفصیل سے بیان فرمایا ہے…
اور اہل ایمان کو منافقین کے ان دونوں خطروں سے مکمل آگاہ کیا ہے… آپ قرآن مجید
میں وہ آیات پڑھ لیں جن میں منافقین کا تذکرہ ہے… تو آپ ان دونوں خطرات کو اچھی
طرح سمجھ لیں گے… اب علاج کیا ہے؟… سورہ توبہ میں علاج بیان فرما دیا… ایمان والے
مرد اور ایمان والی عورتیں… ایمان والی جماعت بن کر رہیں… خالص دینی جماعت… جہاد ،
اقامت صلوٰـۃ ، امر بالمعروف، نہی عن المنکر، زکوٰۃ… اللہ و رسول کی اطاعت…والی
جماعت… اس جماعت کی برکت سے وہ خود بھی ’’منافق‘‘ ہونے سے بچیں گے اور منافقین کے
شر سے بھی محفوظ رہیں گے… شرط یہ کہ جماعت خالص دینی ہو… جماعت میں آنے اور رہنے
کا مقصد بھی صرف دین ہو، دنیا نہ ہو… جماعت کے کاموں میں شرکت ہو …اور اطاعت امیر
ہو…تب جماعت کی برکات حاصل ہوں گی…
٭ ایمان
سکھاتا ہے کہ کفار کے قتال کا علاج …زوردار جہاد و قتال اور دعوت جہاد ہے … اسی
لئے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا گیا:
’’آپ خود بھی قتال کریں، آپ پر آپ کے نفس کی ذمہ داری ہے
اور آپ ایمان والوں کو قتال پر ابھاریں‘‘… ( القرآن)
قتال اور دعوت قتال…ان دو کا نتیجہ کیا نکلے گا؟
﴿عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا﴾
اس کی برکت سے اللہ تعالی کافروں کی جنگ توڑ دے گا… ان کی آپ
کے خلاف لڑائی کو روک دے گا… وہ کمزور پڑیں گے، پیچھے ہٹیں گے اور صلح کے لئے
جھکیں گے…
یہ بھی کافی مفصل موضوع ہے… اس آیت مبارکہ سے اس کا پورا
خلاصہ سمجھا جا سکتا ہے…
٭ ایمان
سکھاتا ہے کہ…شیطان کا مقابلہ ’’ذکر اللہ‘‘ کے ذریعہ سے کیا جا سکتا ہے… کلمہ طیبہ
اور استغفار سے شیطان کی کمر ٹوٹتی ہے… اور سچا ذکر شیطان کو کمزور اور مضمحل کر
دیتا ہے…جس دل میں اللہ تعالیٰ کی یاد ہو، اللہ تعالیٰ کا ذکر ہو اس دل پر شیطان
اپنا قبضہ نہیں جما سکتا… اسی لئے ذکر اللہ ہر عبادت کی جان اور ہر عبادت کی
قبولیت ہے… ذکر میں بہت محنت کرنی چاہیے تاکہ… شیطان ہمارے دل پر ڈاکہ نہ ڈال سکے…
٭ ایمان
سکھاتا ہے کہ…نفس امارہ کے جھگڑوں اور شرارتوں کا مقابلہ… ’’مجاہدہ‘‘ یعنی نفس کی
مخالفت کے ذریعہ کیا جا سکتا ہے… انسان اپنے نفس کی تمام جائز خواہشات پوری کرے تو
یہ فوراً ناجائز خواہشات کا مطالبہ کر دیتا ہے… اور نفس کی خواہشات کبھی ختم نہیں
ہوتیں… اس لئے اگر اس کو لگام دی جائے… اور اسے خواہشات سے روکا جائے تو یہ درست
ہونے لگتا ہے اور بالآخر یہ بھی نفس لوّامہ اور نفس مطمئنہ بن جاتا ہے… جہاد کی
مشقتیں ، روزے کی بھوک، عبادت کی تھکاوٹ… کم کھانا، کم سونا اور کم بولنا… اچھی
صحبت… یہ سب نفس کی اصلاح کے ذریعے ہیں…
معذرت
ایک مومن پانچ شدائد کا مضمون… بہت تفصیل مانگتا ہے…گذشتہ
کالم میں یہ موضوع شروع کرنے کے بعد احساس ہوا کہ…بہت مفصل موضوع چھیڑ بیٹھا ہوں…
اب اسے کس طرح سمیٹا جائے…اللہ تعالیٰ سے توفیق مانگ کر یہ خلاصہ آپ کی خدمت میں
پیش کر دیا ہے…کمی ، کوتاہی اور اختصار پر معذرت… اللہ تعالیٰ اسے میرے لئے اور
آپ سب کے لئے نافع بنائے… ہم سب کو ایمان کامل ، ایمان کی سلامتی اور ایمان پر
خاتمہ نصیب فرمائے… آمین یا ارحم الراحمین
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے لئے ایک ’’وقت ‘‘ مقرر فرما دیا ہے…
قرآن مجید اسے ’’اجل مسمیّٰ ‘‘ کہتا ہے… ایک مقرر شدہ وقت… جسے کوئی نہیں بدل
سکتا… جس سے کوئی نہیں بھاگ سکتا…مثلاً ہر انسان کی موت کا وقت مقرر ہے… وہ وقت
آنے سے پہلے ساری دنیا مل کر بھی اسے نہیں مار سکتی…اور جب وہ وقت آ جاتا ہے تو
ساری دنیا مل کر بھی اسے نہیں بچا سکتی… قرآن مجید نے ان افراد کے واقعات سنائے
ہیں…جن کو مارنے کی ہر کوشش ہوئی مگر وہ ان کوششوں سے نہ مرے… آگ کے جلتے آلاؤ
میں…مسلح فوجوں کے نرغے میں…تیز چھری کی دھار کے نیچے… وہ جیتے رہے اور اپنی ’’اجل
مسمیّٰ‘‘ کی طرف بڑھتے رہے … پھر وہ ’’اجل مسمیّٰ‘‘ آ گئی تو وہ چلے گئے… قرآن
مجید بار بار ’’اجل مسمیّٰ‘‘ کا مسئلہ سمجھاتا ہے…تاکہ بے صبروں کو صبر ملے
کہ…محنت کا نتیجہ وقت پر ہی ظاہر ہو گا … تاکہ خوفزدہ لوگوں کو چین ملے کہ …وقت سے
پہلے کوئی مصیبت نہیں آ سکتی…تاکہ بے ہمتوں کو حوصلہ ملے کہ… موت اللہ کے سوا کسی
کے ہاتھ میں نہیں… جو کام تمہارے ذمہ لگایا گیا ہے تم وہ کرو… باقی جو کچھ ہوتا ہے
وہ اپنے وقت پر ہی ہو گا… وقت کو آگے پیچھے کرنے کی کوشش میں اپنی زندگی برباد نہ
کرو… اپنے عمل کو تباہ نہ کرو…کام کرو کام… اپنی ذمہ داری ادا کرو… اپنے فرائض
پورے کرو… جو وقت تمہارے پاس ہے اسے قیمتی بناؤ…
گرفتاری دور، دور
ہمارے ایک استاذ محترم تھے…بہت عبادت گذار ، اللہ والے اور با
اصول…لوگوں سے کم ملتے تھے اور بہت کم بولتے تھے…خود سچے تھے تو دوسروں کو بھی سچا
سمجھتے تھے… ان کو کسی نے بتایا کہ جو لوگ عمرہ پر جاتے ہیں، جب ان کے ویزے کی
تاریخ ختم ہو جائے اور وہ واپس نہ جائیں تو سعودی پولیس… یعنی شرطہ انہیں فوراً
گرفتار کر لیتے ہیں…بات درست تھی مگر اس میں ’’فوری‘‘ کا لفظ غلط تھا… ان دنوں
ویزے سے چند دن اوپر نیچے ہو جاتے تو حکومت برداشت کرتی تھی… مگر حضرت استاذ محترم
نے فوری گرفتاری والی بات سچی مان لی… بندہ ان کے ساتھ مدینہ منورہ میں تھا… انہوں
نے پوچھا تمہارا ویزہ کب ختم ہو گا؟ …بندہ نے تاریخ بتا دی…میرا ویزہ ان کے ویزے
سے پہلے ختم ہو رہا تھا…وہ پریشان ہوئے مگر خاموش رہے…ماشاء اللہ قوت حافظہ اسّی
سال کی عمر میں بھی بھرپور تھی… تاریخ انہوں نے یاد کر لی… معمول یہ تھا کہ میں ان
کو وہیل چیئر پر مسجدِ نبوی لے جاتا تھا… اور ان کے قدموں کے پاس بیٹھ کر معمولات
کرتا تھا… ایک دن مجھے تلاوت کرنی تھی تو قرآن مجید کے احترام میں ان سے کچھ
فاصلے پر جا بیٹھا… ان کو یاد آیا کہ میرے ویزے کی تاریخ ختم ہو چکی ہے… دور سے
ہی بلند آواز میں میرا نام پکار کر فرمایا…کیا تمہیں ابھی تک ’’شرطہ ‘‘ پکڑنے
نہیں آئے؟… اردگرد کے سب لوگ متوجہ ہو گئے، میں گھبرا کر تیزی سے اٹھا اور ان کے
پاس جا کر عرض کیا… حضرت آپ کی دعاء کی برکت سے خیر ہو گئی ہے…کچھ گنجائش ہے میں
ان شاء اللہ آپ کے ساتھ واپس جاؤں گا… وہ مطمئن اور خوش ہو گئے… اس وقت میرے لئے
قید اور گرفتاری کی ’’اجل مسمیّٰ‘‘ شروع نہیں ہوئی تھی… خیال تک نہ آتا تھا کہ
کبھی ’’گرفتاری ‘‘ ہو گی… حالانکہ ایسے کئی مواقع آئے کہ گرفتاری یقینی تھی مگر…
گرفتاری دور دور بھاگتی رہی… کئی بار تو خود ہی ’’گرفتاری‘‘ پر حملہ کیا… مگر وہ
صاف بچ کر نکل گئی… واقعات سناؤں تو بہت سے لوگ شاید یقین ہی نہ کریں… دنیا کے
کئی ممالک گھوم لئے … ایسی ایسی جگہ جہاد کے بیانات کئے جہاں ایسے بیانات کرنے کا
کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا … ایک عرب ملک میں پولیس نے گھیر بھی لیا اور پھر
دعاء کا وعدہ لے کر چھوڑ دیا… کئی جگہ پکڑنے والے آئے مگر بغیر پکڑے چلے گئے… اس
وقت واقعات کی ایک پوری لڑی میرے ذہن میں چل رہی ہے…کراچی میں کرفیو کی کئی بار
خلاف ورزی کی…اور بہت کچھ… یوں لگتا تھا کہ میں گرفتاری کے پیچھے بھاگ رہا ہوں اور
وہ مجھ سے اپنی جان بچا رہی ہے… یہ سب کچھ اس لئے تھا کہ ابھی ’’وقت مقرر ‘‘ نہیں
آیا تھا… اور گرفتاری اسی وقت مقرر کے انتظار میں اپنی چھریاں تیز کر رہی تھی…اور
پھر وہ وقت آ گیا…اور ایسا آیا کہ مکمل طور پر چھا گیا…پہلے ایک طویل گرفتاری
ہوئی… گویا کہ گرفتاری نے پچھلے عرصے کی اپنی ساری پیاس بجھا ڈالی… پھر اللہ
تعالیٰ نے رہائی عطا فرمائی…مگر رہا ہوتے ہی گرفتاری مجھ پر اپنے دانت تیز کرنے
لگی… رات کو سوتے تو یہی لگتا کہ کسی جیل میں ہوں گے… اور دن چڑھتا تو یہی لگتا کہ
رات کسی کال کوٹھڑی میں گزرے گی… گرفتاری نے دو مہینے کی آنکھ مچولی کے بعد …پھر
دبوچ لیا… چند ہفتے مسلط رہی…پھر ایسی رہائی ملی جو نیم رہائی تھی اور نیم
گرفتاری… تین ماہ تک ایک ہی شہر میں رہنا تھا… ٹول پلازہ سے آگے جانے کی اجازت نہ
تھی… پھر اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا، رہائی ملی مگر کچھ عرصہ بعد گرفتاری پھر
تشریف لے آئی اور ایک سال تک قابض رہی… اور یہ سلسلہ چل نکلا… ایک وہ وقت تھا
گرفتاری دور دور تھی…اور پھر وہ وقت آ گیا کہ…گرفتاری بہت قریب آ گئی… بے شک
اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر چیز کے لئے ایک ’’اجل مسمیّٰ‘‘ یعنی وقت مقرر ہے…انسان جس
حال میں بھی ہو… اللہ تعالیٰ سے جڑا رہے اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے…
گرفتاری ہی گرفتاری
گرفتاری جب دور دور تھی تو … باوجود کوشش کے بھی قریب نہ آتی
تھی…تعلیم کے زمانے ہمارے جامعہ کے مہتمم …حضرت اقدس مفتی احمد الرحمن صاحبؒ اور
کئی محبوب اساتذہ کرام گرفتار ہو گئے… اس وقت گرفتاری بہت مرغوب لگتی تھی کہ ان
اساتذہ کرام کی خدمت کا موقع ملے… مگر نام نہ نکلا… میں اکثر جیل جاتا اور جالیوں
کے پیچھے سے اپنے اساتذہ کرام کی زیارت کرتا… ایک اور بار استاذ محترم حضرت مفتی
عبد السمیع صاحب شہید رحمۃ اللہ علیہ ایک مسجدکی آزادی کے لئے گرفتار
ہوئے…میں نے بھی کوشش کی مگر گرفتاری نہ ملی… پھر جب ’’گرفتاری‘‘ کی ’’اجل
مسمیّٰ‘‘ آ گئی تو میرے ساتھ ’’گرفتاری‘‘ نے وہ کیا جو شائد کسی کے ساتھ کم ہوا
ہو… جو شخص بھی قید یا گرفتاری میں ہوتا ہے تو اسے یہی فکر رہتی ہے کہ… رہائی کب
ملے گی؟ … جبکہ مجھے اپنی قید کے دوران کئی بار اس فکر سے گذرنا پڑا کہ…گرفتاری کے
دوران مزید گرفتاری نہ آ جائے … کوٹ بھلوال جیل میں کچھ راحت ملی تو… حکومت نے
ہمیں وہاں سے نکال کر ایک عقوبت خانے میں بھیجنے کی تدبیر کی…جیل میں اس بات پر
لڑائی ہو گئی… اب حکومت ہمیں اپنی ہی جیل میں دوبارہ گرفتار کرنا چاہتی تھی…مگر
کشمیری مجاہدین آہنی دیوار کی طرح رکاوٹ بن گئے… ایک ماہ سے زائد کا عرصہ اس طرح
گذرا کہ جیل میں دن رات… مزید گرفتاری کا خطرہ مسلط رہا…حکومتی فورسز دوبار ناکام
ہوئیں… تیسری بار انہوں نے سی آر پی ایف کی سات کمپنیوں کے ساتھ حملہ کیا … جیل
میں شدید فائرنگ ہوئی… بھائی نوید انجم جام شہادت نوش فرما گئے… مزید ساتھیوں کے
شہید ہونے کا اندیشہ تھا تو ہم نے گرفتاری دے دی… گرفتاری ہی گرفتاری…پھر یہ سلسلہ
چل نکلا… جب بھی باہر کوئی بڑا واقعہ ہوتا … فوری طور یہ خبریں شروع ہو جاتیں کہ…
اس واقعہ میں میرا ہاتھ ضرور ہو گا… چنانچہ پھر مزید گرفتاری ، تفتیش، تشدد اور منتقلی
کی تلوار سر پر لٹکنے لگتی…
گرفتار آدمی ویسے ہی مظلوم اور بے بس ہوتا ہے… بڑی مشکل سے
جیل میں سونے جاگنے کی ترتیب درست ہوتی ہے… ایسی حالت میں پھر اگر مزید گرفتاری
اور تفتیش کا خطرہ آ جائے تو دل و دماغ پر کیا گذرتی ہو گی… اس کا تصور آسان
نہیں ہے… دہلی کی تہاڑ جیل میں قیام کے دوران وہاں یو پی میں کچھ مجاہدین پکڑے
گئے…فوراً میرا نام اخبارات میں آنے لگا…آس پاس سے بھی اطلاعات ملیں کہ اب ’’یو
پی‘‘ منتقل کیا جائے گا… دل پر پریشانی کا حملہ ہوا تو اسے دبانے کے لئے قرآن
مجید لے کر بیٹھ گیا…مرنا ہے تو مرنے سے پہلے کچھ کام ہی کر لو… الحمدللہ سات دن
رات محنت کر کے قرآن مجید کی آیات جہاد کو جمع کیا… ان کا ترجمہ اور مختصر تشریح
لکھی… اور یوں تعلیم الجہاد کی چوتھی جلد تیار ہو گئی…امن کی حالت ہوتی تو شائد یہ
کام مہینوں میں بھی نہ ہوسکتا…
یہود کی چالیس بیماریاں بھی اسی طرح کے ایک اور خطرے کے دوران
لکھی گئی…جیل سے کچھ مجاہدین باحفاظت فرار ہو گئے…جن میں کمانڈر خالد شہید رحمۃ
اللہ علیہ بھی تھے… اس کا الزام بھی مجھ پر لگا کہ ماسٹر مائنڈ اور
سہولت کار میں ہوں…دہلی سے سی بی آئی کی خصوصی ٹیم تفتیش کے لئے پہنچ گئی …
پاکستان کی حکومت کا میں نے کچھ نہیں بگاڑا تھا …مگر غیروں کے دباؤ میں انہوں نے
بھی مجھ پر گرفتاری مسلط کی… اور پھر گرفتاری میں بھی مزید گرفتاری کی کوشش جاری
رہی… بہاولپور سینٹرل جیل میں تھا تو وہاں کی انتظامیہ پر خوف مسلط ہو گیا کہ…میرے
رفقاء ان پر حملہ نہ کر دیں…چنانچہ وہ دن رات اسی کوشش میں رہے کہ کسی طرح دوبارہ
گرفتار کر کے …ڈیرہ غازیخان منتقل کر دیں… ان کو بار بار سمجھایا کہ یہ میرا اپنا
ملک ہے…یہاں ہم نے کسی کو کنکر تک نہیں مارا… مگر پھر بھی ان کا خوف کم نہ ہوا…
اللہ تعالیٰ نے آسانی فرمائی تو گھر کو سب جیل قرار دے کر وہاں بند کر دیا گیا…
مجھے گرفتاری کی اس وفاداری پر حیرت ہوئی…کہ جب دور تھی تو افریقہ جیسے ملکوں میں
بھی قریب نہ آئی…جہاں ایک قادیانی مبلغ نے بہت سے غنڈے جمع کر لئے تھے… اور جب
قریب آئی تو اپنے گھر میں بھی مجھے آزاد نہ رہنے دیا… آٹھ ماہ تک یہ گرفتاری
میرے ساتھ میرے گھر پر مقیم رہی … جہاں اپنے بوڑھے والدین کی زیارت بھی ہفتے میں
دو بار نصیب ہو سکتی تھی… حالانکہ پورے پاکستان کے کسی تھانے میں مجھ پر کوئی ایک
مقدمہ نہیں تھا… ملک میں کسی تخریب کاری کا کبھی سوچا تک نہیں تھا… بلکہ اس ملک پر
آنے والے کئی طوفانوں کو اپنے سینے پر روکا… مگر ایک ہی جواب ملتا کہ کیا کریں…
عالمی دباؤ ہے…
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے
جب گرفتاری دور تھی تب بھی اللہ تعالیٰ کا شکر… اور جب
گرفتاری قریب آئی تب بھی اللہ تعالیٰ کا شکر… اللہ تعالیٰ نے گرفتاری کے دوران
بہت فضل فرمایا… ہر گرفتاری میں کوئی نہ کوئی قیمتی نعمت عطاء فرمائی…گرفتاری کے
دوران خدمت دین کی توفیق بھی بخشی اور رزق بھی عطاء فرمایا… اور الحمد للہ اپنے
سوا کسی کا محتاج نہیں فرمایا…ہم اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں… وہ ہمارا مالک اور رب
ہے… اس کی مرضی ہمیںآزاد رکھے یا قید رکھے … پرویز مشرف کو شوق تھا کہ مجھے زیادہ
سے زیادہ قیدمیں رکھے…پھر وہ بھی گرفتار ہوا ، قید ہوا اور اب تک نیم گرفتاری کی
زندگی گزار رہا ہے… دین کی خاطر قید ہونا نعمت اور عبادت ہے… ہر مسلمان کو ذہنی
طور پر اس کے لئے تیار رہنا چاہیے کیونکہ… حضرات انبیاء علیہم
السلام اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے
دین کی خاطر جیلیں اور قیدیں کاٹی ہیں…وہ جو دین کا کام کر رہے ہیں، جہاد کی محنت
کر رہے ہیں اور وہ آزاد ہیں…وہ جیل اور قید کے ڈر سے اپنا کام نہ روکیں… اگر ان
کی قسمت میں جیل اور قید لکھی ہے تو وہ دینی کام کے بغیر بھی آ جائے گی… آپ کسی
بھی جیل جا کر دیکھیں … ہزاروں افراد وہاں قید ہوں گے…کیا یہ سب جہاد کا کام کر
رہے تھے؟… زرداری نے آٹھ سال جیل کاٹی… وہ دین یا جہاد کا مبلغ تو نہیں تھا… بس
قسمت میں جو قید لکھی ہو وہ کاٹنی پڑتی ہے… یہ قید اگر دین کی نسبت سے مل جائے تو
انسان کے لئے بڑی سعادت ہے… قید کی طرح رہائی کا وقت بھی مقرر ہے…وہ وقت جب آ
جائے تو کوئی نہیں روک سکتا…ایک مومن کو قید اور رہائی کے بارے میں زیادہ سوچنے کی
بجائے یہ سوچنا چاہیے کہ …وہ دنیا میں کس کام کے لئے بھیجا گیا ہے؟ … اس سے قبر
میں کیا سوالات ہونے ہیں… اور اس نے عالم برزخ کے قید خانے ’’سجین‘‘ اور آخرت کے
قید خانے ’’جہنم‘‘ سے کس طرح بچنا ہے…
یہ باتیں کیوں یاد آئیں
یہ ساری باتیں آج اس لئے یاد آئیں کہ … بھارت سے ہمارے بارے
میں ایک ہی شور آ رہا ہے… پکڑو، مارو ، پکڑو، مارو… اور یہاں اپنے ملک کے
حکمرانوں کو یہ صدمہ ہے کہ… شاید ہم نے ان کی یاری میں خلل ڈالا ہے… یہ چاہتے ہیں
کہ قیامت کے دن یہ مودی اور واجپائی کے یاروں، دوستوں میں اٹھائے جائیں… ہمیں اپنے
مرنے یا پکڑے جانے کی الحمد للہ کوئی فکر نہیں… ہمارے مرنے سے ہمارے دوستوں کو
کوئی کمی محسوس ہو گی اور نہ ہمارے دشمنوں کو… الحمد للہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو
کچھ تھوڑا سا لکھا ہے اور جو تھوڑا سا بولا اور بنایا ہے وہ ان شاء اللہ دوستوں کو
فائدہ پہنچاتا رہے گا… اور دشمنوں کے لئے الحمد للہ ایک ایسا لشکر تیار ہے جو موت
سے عشق رکھتا ہے…اور اس لشکر کی جڑوں تک پہنچنا کسی دشمن کے بس میں نہیں ہے… ان
شاء اللہ یہ لشکر دشمنوں کو زیادہ دن خوشی نہیں منانے دے گا… اور کمی تو بالکل
محسوس نہیں ہونے دے گا… الحمد للہ دنیا کے بارے میں کوئی تمنا نہیں کہ…مرنے پر اس
کی حسرت رہ جائے…
باقی رہے گھر والے اور بچے… تو ان کو آج بھی اللہ تعالیٰ پال
رہے ہیں…اور کل بھی اللہ تعالیٰ ہی پالنے والے ’’رب العالمین ‘‘ ہیں… ہم نے
پاکستان کے لئے ہمیشہ امن اور خیر خواہی کی سوچ رکھی ہے…اپنی جان اور چمڑی بچانے
کے لئے نہیں… بلکہ اُمتِ مسلمہ اور جہاد کے مفاد میں …افسوس کہ یہاں کے حکمرانوں
نے اس کی قدر نہیں کی… یہ غیروں کے اشاروں پر چلتے رہے …اور اپنے ہی ملک کو… آگ
اور بارود کے ڈھیر میں تبدیل کرتے گئے… ان میں سے ہر ایک آتا ہے ملک میں آگ
لگاتا ہے…اور پھر باہر بھاگ جاتا ہے… ہم نے بہت پہلے ’’کالی آندھی‘‘ کے نام سے
ایک مفصل مضمون لکھ کر …حکومت اور عوام دونوں کو سمجھانے کی کوشش کی… مگر سمجھتا
تو وہ ہے جو اپنے فیصلے خود کرتا ہو… مودی کو کیا ہمت تھی کہ وہ ان کو بہتّر
گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دیتا … کوئی غیرتمند انسان کس طرح سے یہ لہجہ برداشت کر سکتا
ہے… حکمران جس راستے پر جا رہے ہیں وہ…اس ملک کے لئے سخت خطرناک ہے…ترقی تو دور کی
بات ہے… مساجد، مدارس اور شرعی جہاد کے خلاف ان کے اقدامات…ملک کی سا لمیت کے لئے
بھی خطرہ ہیں… الحمد للہ اسلام کا ماضی بھی تابناک ہے اور مستقبل بھی روشن… مؤمن
کی دنیا بھی کامیاب ہے…اور قبر اور آخرت بھی… موجودہ شور شرابے سے اہل دل ہرگز
خوفزدہ نہ ہوں…بلکہ اپنی فرض اور مثبت محنت کو اور زیادہ بڑھا دیں …ایمان پر رہیں…
ایمان پر جئیں اور ایمان پر مریں…رب کعبہ کی قسم! کامیابی آپ کے لئے ہے…میں نہیں
کہہ رہا … بلکہ آسمان و زمین کا مالک اللہ تعالیٰ اعلان فرما رہا ہے…
﴿ وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ﴾
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے ’’سورۂ یٰس‘‘ کی نعمت عطاء فرمائی ہے … جن کو
یہ نعمت نصیب ہے وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں…
اَلْحَمْدُ لِلہِ، اَلْحَمْدُ لِلہِ، اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ
الْعَالَمِیْنَ۔
اگرسائنسدانوں نے کوئی ایسی مشین ایجاد کی ہوتی… جو دل کے
’’سکون‘‘ کو ناپ سکتی… پھر وہ دیکھتے کہ ایک مسلمان کو اخلاص کے ساتھ سورہ یٰسٓ
شریف پڑھنے پر کیسا سکون ملتا ہے… کوئی اُبامہ، کوئی مودی…کوئی بل گیٹس کوئی یہودی
اس ’’سکون‘‘ کا تصور بھی نہیں کر سکتے… اور نہ اپنی ساری طاقت اور دولت خرچ کر کے
یہ ’’سکون‘‘ حاصل کر سکتے ہیں… کاش! مسلمان ایسی نعمتوں کی قدر کریں… اور ان
نعمتوں سے فائدہ اٹھائیں…
کچھ عرصہ پہلے دل پر وار ہوا …بس وہ ڈوبنے کو ہی تھا …جب خبر
ملی کہ حضرت امیر المومنینؒ چلے گئے … اس وقت…’’یا اللہ، یا اللہ ‘‘ کے ذکر…اور اس
دعاء نے تھام لیا…
رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا وَّبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا
وَّبِمُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم نَبِیًّا
ذکر بڑھتا گیا اور یہ دعاء رنگ دکھاتی گئی تو الحمد للہ…دل بچ
گیا…
یہ ذکر اور یہ دعاء بھی تو صرف مسلمانوں کے پاس ہی ہے…اور تو
سب اس طرح کی حقیقی نعمتوں سے محروم ہیں… سائنس کبھی ایسا آلہ ایجاد نہیں کر سکتی
جو موت کی سکرات کو آسان کر دے … آج کی سائنس انسان کو کمزور کر رہی ہے ،ذلیل کر
رہی ہے اور مشقت میں دھکیل رہی ہے…یہ تاثیر سورۂ یٰسٓ میں ہے کہ وہ موت کی سکرات
کو آسان بناتی ہے… اب جبکہ ’’پٹھان کوٹ ‘‘ کے واقعہ کے بعد حالات خراب ہونا شروع
ہوئے تو اس موقع پر سورہ یٰس شریف نے اپنا کمال دکھایا… بس روز پانچ ، سات بار پڑھ
لی اور دل سے ہر کافر اور ہر منافق کا خوف نکل گیا… کسی زمانے ایک مسجد میں جانا
ہوتا تھا وہاں ایک دیوانہ تھا…اسے مجھ سے اور مجھے اس سے خاص ’’انس‘‘ ہو گیا تھا …
عقلمند لوگ عقلمندوں سے ’’انس ‘‘ رکھتے ہیں…اور دیوانے دیوانوںسے…وہ عجیب و غریب
نماز پڑھتا تھا…قیام میں کھڑا ہوتا اور پھر فوراً سجدے میں گر جاتا اور پھر سجدے
ہی سجدے، سجدے ہی سجدے… معلوم نہیں ایک رکعت میں کتنے سجدے کر لیتا تھا…مرفوع
القلم تھا… ایسے لوگوں پر تو نماز فرض ہی نہیں…مگر وہ پابندی سے ادا کرتا تھا …
اللہ تعالیٰ اسے اپنے اکرام کا اعلیٰ مقام عطاء فرمائے… ایک دن مسجد میں ہم دونوں
اکیلے تھے …میں اپنے معمولات پورے کر رہا تھا اور وہ اپنے سجدے … اچانک اس پرکوئی
حال طاری ہوا اور وہ بار بار پڑھنے لگا…
یٰسٓ،یٰسٓ ،یٰسٓ ،یٰسٓ
بعض لوگوں کی آواز بھی عجیب ہوتی ہے … فوراً اپنی طرف ساری
توجہ کھینچ لیتی ہے…
کتابوں میں لکھا ہے کہ… ملائکہ یعنی فرشتوں میں سے حضرت
اسرافیل علیہ السلام کی آواز بہت دلکش اور پیاری ہے…وہ جب
بلند آواز میں خوش الحانی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تسبیح میں مشغول ہوتے ہیں تو
باقی فرشتے… اپنے اَذکار چھوڑ کر ان کی تسبیح سننے لگتے ہیں… میرے دیوانے دوست کی
آواز بلند، پاٹ دار تھی… میں اپنے معمولات بھول کر اس کی تلاوت سننے لگ گیا …
انتظار تھا کہ وہ کچھ آگے بھی پڑھے مگر وہ ایک ہی کلمہ پڑھ رہا تھا…
یٰسٓ، یٰسٓ،یٰسٓ
اس کی یہ آواز میرے دل و دماغ میں اُتر گئی … اب جب بھی سورہ
یٰسٓ کی تلاوت شروع کرتا ہوں تو ’’یٰسٓ‘‘ کا لفظ پڑھتے ہی دل چاہتا ہے کہ بس اسی
کو پڑھتا رہوں…
یٰسٓ، یٰسٓ ،یٰسٓ
عجیب مٹھاس ہے اور عجیب تاثیر … یہ جو سورتوں کے شروع میں
حروف مُقَطَّعَات ہیں… الٓمٓ ، حمٓ ، یٰسٓ وغیرہ… یہ علم، قوت ، تاثیر اور راز کے
خزانے ہیں… اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو اپنے فضل سے جنت میں لے جائے تو وہاں
معلوم ہو گا کہ ان مبارک الفاظ میں… کیا کیا خزانے رکھے ہیں… الحمد للہ یہ مبارک
’’الفاظ‘‘ بھی صرف مسلمانوں کے پاس ہیں…وہ اگرچہ نہیں جانتے کہ ان ’’الفاظ ‘‘ میں
کیا کیا چھپا ہے مگر وہ اِن الفاظ کی تلاوت اور تکرار سے وہ تمام خزانے پالیتے
ہیں… بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ بڑے مسلمان فاتحین جنگوں کے وقت ان حروف کو پڑھا
کرتے تھے اور ان کی برکت سے قوت اور فتح پاتے تھے… حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
رحمۃ اللہ علیہ کے خاندان میں بھی ظالم حکمرانوں سے حفاظت کے لئے
…حروف مُقَطَّعَات کا عمل مجرب تھا… کھیعٓصٓ، کُفِیْتُ، حمٓعٓسٓقٓ حُمِیْتُ… اس
عمل کی تفصیل آپ مناجات صابری میں دیکھ سکتے ہیں…سورہ یٰسٓ کا آغاز ’’یٰسٓ ‘‘ کے
وجد آفریں اور طاقتور کلمے سے ہوتا ہے…کئی مفسرین اس کے مختلف معانی بھی بیان
کرتے ہیں… آج اس تفصیل میں جانے کا موقع نہیں…ابھی تو میرے ذمہ آپ سب کا قرضہ
﴿سَلٰمٌ ۣ قَوْلًا
مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ﴾ کی تفسیر بھی ہے… پٹھان کوٹ کے واقعہ نے ایسا ہنگامہ برپا
کیا ہے کہ … کسی کو پتا نہیں چل رہا کہ وہ کیا کرے اور کیا کہے… ایک طرف انڈیا ہے
وہ زخمی کتے کی طرح کوک رہا ہے… اور زخمی سانپ کی طرح پھنکار رہا ہے… انڈیا میں
چونکہ ’’فلموں ‘‘ کا راج ہے… اس لئے وہاں کے حکمران ، وہاں کے صحافی اور وہاں کے
سیاستدان … سبھی ’’ایکٹر‘‘ بننے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں… حالانکہ جنگ الگ چیز ہے
اور فنکاری الگ چیز… فلموں کے وہ ہیرو جو فلموں میں کئی کئی لوگوں سے بیک وقت لڑتے
ہیں…وہ عام زندگی میںچوہے کو دیکھ کر بھی بیت الخلاء میں بھاگ جاتے ہیں… جنگ میں
تو یہ ہوا کہ چار مجاہدین کا مقابلہ ہزاروں فوجیوں نے مشکل سے کیا… کئی مارے گئے
کئی زندگی بھر کے لئے معذور ہوئے اور کئی زخمی… جبکہ میڈیا پر انڈین شیر دھمکیاں
دینے سے نہیں تھک رہے… ادھر ہمارے حکمرانوں نے انڈیا کے درد کو اپنا درد بنا کر
ظالمانہ حرکتیں شروع کر دی ہیں… اور ہمارا میڈیا بھی اس موقع پر نہایت اَفسوسناک
کردار ادا کر رہا ہے…جہاد اور مجاہدین پر ایسے حالات آتے رہتے ہیں …یہ حالات جہاد
کے لوازمات میں سے ہیں…جو مسلمان بھی جہاد فی سبیل اللہ کے مبارک عمل کو اختیار
کرتا ہے… وہ جانتا ہے کہ اس عمل میں شہادت بھی مل سکتی ہے اور زخم بھی… گرفتاری
بھی ہو سکتی ہے اور معذوری بھی… پابندیاں بھی لگ سکتی ہیں اور بدنامیاں بھی… اسے
معلوم ہوتا ہے کہ ’’بدر ‘‘ والے حالات بھی آ سکتے ہیں اور ’’اُحد ‘‘والے بھی…
غزوۂ احزاب والی صورت بھی بن سکتی ہے اور غزوۂ حدیبیہ والی بھی… تبوک بھی آ
سکتا ہے اور موتہ بھی… جہاد کا تو مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ… قربانی دو تاکہ اللہ
تعالیٰ کا دین اور کلمہ بلند ہو…جان اور مال دو اور جنت لو… جہاد دنیا میں عیاشی
اور ظاہری پُر امن زندگی کا نام تو ہے نہیں… یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہماری
کمزوریوں پر رحم فرماتے ہوئے ہمیں طرح طرح کی آسانیاں عطاء فرمائی ہیں…ورنہ جہاد
میں تو بس قربانی ہوتی ہے اور مشقت… کٹنا ہوتا ہے اور مرنا…ہجرت ہوتی ہے اور زخم …
اس لئے موجودہ حالات ہمارے لئے حیرانی یا صدمے کا باعث نہیں ہیں… بس ضرورت صرف ایک
بات کی ہے… وہ یہ کہ دیکھا جائے کہ سخت حالات ہمارے جہاد کی وجہ سے آئے ہیں…یا
ہمارے کسی گناہ یا نافرمانی کی وجہ سے غزوۂ احد میں مسلمانوں پر جو سخت صدمات اور
تکلیفیں آئیں… ان کی وجہ بعض افراد کی ’’نافرمانی ‘‘ تھی… حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی نافرمانی ہوئی… اور پھر
میدان الٹ گیا… صرف ایک نافرمانی نے فتح کی خوشی کو کراہتے زخموں میں… بڑھتے ہوئے
طوفانی لشکر کو لاشوں میں… اور للکارتے جذبات کو غموں میں بدل دیا… پھر تو
مسلمانوں کی ایسی حالت ہوئی کہ ہر کتا ان پر بھونک رہا تھا… اور ہر گیدڑ ان پر
دھاڑ رہا تھا… شیطان کو بھی موقع ملا اور اس نے مسلمانوں کے خاتمے کا اعلان کر
دیا…اور منافقین بھی ڈیڑھ گز کی زبانیں چلانے لگے… جہاد کے معاملات میں امیر کی
نافرمانی سے یہی ہوتا ہے… اور یہی ہوتا رہے گا …مامورین کی فرمانبرداری سے امیر کو
کچھ نہیں ملتا…خود مامورین کا سر بھی سلامت رہتا ہے اور تاج بھی… لیکن جب امیر کے
حکم کو پاؤں کی جوتی بنا دیا جائے تو…پھر مامورین خود بے وزن ہو جاتے ہیں…صرف فخر
ہوتا ہے کہ ہم کسی کی نہیں مانتے، اندر طاقت ختم ہو جاتی ہے… ابھری ہوئی جھاگ کی
طرح… اڑتے ہوئے غبار کی طرح … جماعت کے رفقاء کو بار بار روکا گیا کہ… تصویر بازی
اور ویڈیو بازی سے دور رہیں… خصوصاً عسکری شعبوں میں یہ زہر قاتل ہے… ذمہ دار
افراد دوسرے ذمہ داروں کی غیبت نہ کریں …کل وقتی وقف ساتھی خود کو دنیاوی
کاروباروں میں نہ لگائیں اور اسی طرح کے دیگر جماعتی احکامات … ان سب باتوں پر کون
کتنا عمل کر رہا ہے … اور کون نہیں… اور عمل نہ کرنے کی وجہ سے کیا کیا نقصانات
سامنے آ رہے ہیں…ان سب پر غور کرنے کی سخت ضرورت ہے… اور وہ جن سے غلطیاں ہو
چکیں…استغفار اور سچی توبہ کا دروازہ کھلا ہے اس میں داخل ہو کر اپنے جہاد کو عند
اللہ مقبول بنا سکتے ہیں…
جہاد شریعت کا حکم ہے…اور شریعت کا حکم شریعت کے طریقے سے ہی
ادا ہو تو مقبول ہوتا ہے… اس وقت کچھ مناظر احد والے ہیں اور کچھ مناظر احزاب
والے… ان حالات اور مناظر میں مایوسی اور پسپائی جرم ہے… ایمان پر مضبوطی … جہاد
پر ثابت قدمی …کثرتِ استغفار اور سچی توبہ … یہ چار ڈھالیں ہیں…ان کو تھام کر اس
چومکھی حملے کو روکا جا سکتا ہے…اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے فتح حاصل کی جا سکتی
ہے… ان شاء اللہ
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں…لا الٰہ الا اللہ…یہ ہو
گیا سب سے افضل ذکر…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ
’’ذکر اللہ ‘‘کہتے ہیں …اللہ تعالیٰ کی یاد کو…اللہ تعالیٰ کی
یاد کا سب سے بہترین اور افضل طریقہ ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ ہے…یہ سوچ کر پڑھیں تو
دل نور سے بھر جاتا ہے…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ
یاد کسے کہتے ہیں ؟ یاد کہتے ہیں ’’دل جوڑنے‘‘ کو… ہمارے دل
پر جب کوئی چھا جائے …دل پر جب کوئی ٹک جائے …دل پر جب کوئی رُک جائے تو کہتے ہیں
کہ فلاں مجھے بہت یاد آ رہا ہے… اس لئے اگر اللہ تعالیٰ کی سچی یاد چاہیے تو زبان
کے ساتھ دل بھی پڑھے…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ
ذکر یعنی ’’یاد‘‘ ایک خفیہ چیز ہے… ایک آدمی آپ کے سامنے
بیٹھا ہے وہ آپ کو دیکھ رہا ہے، آپ سے بول رہا ہے…مگر اس کے دل پر کوئی اور سوار
ہے…آپ دوربین لگا کر بھی نہیں دیکھ سکتے کہ وہ کس سے دل کوجوڑے بیٹھا ہے…اسی لئے
تو ’’ذکر‘‘ سب سے افضل عبادت ہے کیونکہ اس میں رازداری ہے…یہ خفیہ تعلق ہے…یہ اندر
کی دوستی اور یاری ہے… اس میں دکھاوا ہو ہی نہیں سکتا… یہ بڑا گہرا عمل ہے…کبھی دل
و دماغ کو سب سے کاٹ کر ایک اللہ تعالیٰ سے جوڑ کر تو دیکھیں پھر تو کوئی اور نظر
ہی نہیں آئے گا…صرف اللہ، صرف اللہ، صرف اللہ…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ
آپ جس کو پوری توجہ سے یاد کریں گے … اس کا اثر آپ پر آ
جائے گا…تجربہ کر کے دیکھ لیں…اچھے لذیذ کھانوں کی یاد سے بھوک چمکتی ہے… منہ میں
پانی آتا ہے…حرص بڑھ جاتی ہے… کوئی گندی غلیظ اور بدبودار چیز کو یاد کریں تو دل
متلانے لگتا ہے…کبھی الٹی آنے لگتی ہے اور طبیعت پر گھن چھا جاتی ہے… شہوت والی
چیزوں کو یاد کریں تو طبیعت اُکھڑنے لگتی ہے…گیتوں، نغموں اور گانوں کو یاد کریں
تو طبیعت بہکنے لگتی ہے…
’’یاد ‘‘ کا مطلب یاد رہے کہ… دل کی مکمل توجہ…دل پر مکمل چھا
جانا…
اب اندازہ لگائیں کہ…اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے سے انسان پر
کیسے اثرات پڑتے ہوں گے؟
نہ ان جیسا کوئی حسین …نہ ان جیسا کوئی عظیم، نہ ان جیسا کوئی
سخی، نہ ان جیسا کوئی محسن … نہ ان جیسا کوئی محبوب… اسی لئے تو ’’ذکر اللہ‘‘ کرنے
والے بھی حسن میں رچائے جاتے ہیں، عظمتوں میں بسائے جاتے ہیں…سخاوتوں میں نہلائے
جاتے ہیں، احسان میں چمکائے جاتے ہیں …اور محبتوں میں مہکائے جاتے ہیں…یہ ان کا
اپنا کمال نہیں ہوتا… یہ ذکر اللہ جو ان کے دل میں اُترتا ہے…وہ یہ سارے رنگ جما
دیتا ہے…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ
انسان کوئی معمولی چیز نہیں ہے… یہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار
مخلوقات میں سب سے افضل اور سب سے اشرف ہے… اللہ تعالیٰ کی مخلوقات کتنی ہیں؟ یہ
کوئی نہیں جانتا…اور نہ کوئی جان سکتا ہے …اللہ تعالیٰ کی وہ مخلوقات جو نظر آ
رہی ہیں… اور وہ مخلوقات جو ہم سے پوشیدہ ہیں… ان سب میں بڑے رتبے والا… ’’انسان
‘‘ ہے… ساری دنیا مل کر بھی ایک ’’انسان‘‘ نہیںبنا سکتی… سائنسدان بہت زور لگا رہے
ہیں… طرح طرح کے روبوٹ بنا رہے ہیں… جو کچھ نہیں بنا سکتے ان پر فلمیں بنا کر دل
کو تسلی دے رہے ہیں… مگر یہ ایک عام سا انسان نہیں بنا سکتے… انسان کو اللہ تعالیٰ
نے بہت سی خفیہ اور بہت سی ظاہری طاقتیں عطا فرمائی ہیں … انسان کی ایک بڑی طاقت …
’’انکار‘‘ کی طاقت ہے…
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا … انسان جس
چیز کی دل سے نفی کر دے وہ چیز اسے نقصان نہیں پہنچا سکتی… کوئی انسان شیر کے
سامنے کھڑے ہو کر اگر شیر کی نفی کر دے…یعنی دل میں اس کا خوف نہ آنے دے تو شیر
بھی اس کے پاؤں چاٹنے لگتا ہے… ایسا تاریخ میں کئی بار ہو چکا ہے… جو لوگ سانپ کا
خوف دل سے نکال دیتے ہیں…سانپ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے… کتنے لوگ
ستاروں سے ڈرتے ہیں… کوئی سورج سے ڈرتا ہے اور کوئی چاند سے… یہ ہر وقت طرح طرح کے
حساب اور زائچے بنا کر خوف سے کانپتے رہتے ہیں… مگر جو ان چیزوں سے نہیں ڈرتے ان
پر کوئی اثر نہیں ہوتا… انسان کی یہ ’’قوتِ انکار‘‘ جس قدر بڑھتی جاتی ہے وہ اُسی
قدر طاقتور ہوتا چلا جاتا ہے… ذکر اللہ… اللہ تعالیٰ کو سب کچھ مان کر اس کی یاد
میں ڈوب جانا… یہ انسان کی قوت اور طاقت کا اصل راز ہے …
حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دیکھ لیں…
دریاؤں اور سمندروں میں گھوڑے ڈال دئیے… ہواؤں کے رخ پھیر دئیے… آگ کو متّبع
بنا ڈالا… ان کی طاقت کیا تھی؟… یہی انکار کی طاقت… اور اس طاقت کو پیدا کرنے کا
سب سے بڑا ذریعہ ہے…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ
’’لا الٰہ‘‘ہم نہیں مانتے کسی بھی معبود کو…کسی بھی طاقت کو
’’الا اللہ‘‘ سوائے ایک اللہ کے … ’’غار حرا‘‘ سے یہ کلمہ اترا تو بالکل ’’اکیلا
‘‘تھا… ہر طرف اس کلمے کے دشمن تھے…اگر حکم یہ ہوتا کہ آپ یہ کلمہ پڑھتے رہیں تو
مشکل کام نہ تھا…روح محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو ہمیشہ سے
یہی کلمہ پڑھ رہی تھی… مگر حکم تھا اب اس کلمہ کا ’’اعلان ‘‘ کرنا ہے…اور یہ کلمہ
مشرق سے لے کر مغرب تک پھیلانا ہے، چلانا ہے … یہ بہت بھاری ذمہ داری تھی… اگر کسی
اور پر ڈالی جاتی تو وہ سنتے ہی بوجھ سے مر جاتا… اور اس کا سینہ پھٹ جاتا مگر یہ
سینہ حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا… پسینے میں
تو ڈوب گیا مگر مرجھایا نہیں… مشرکین کے لئے ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ ایک ایسی گالی
تھی جسے وہ ہرگز برداشت نہ کر سکتے تھے… ان کے نزدیک ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ ایک
ایسا جرم تھا جس کی سزا موت سے کم کوئی نہ تھی… مگر مشرک کیا کرتے؟ … جو شخص کلمہ
پڑھ رہا تھا… کلمہ اس کے دل میں اُترا ہوا تھا… اور جس دل میں کلمہ اُترا ہوا ہو…
اس دل کو شکست نہیں دی جا سکتی… اللہ تعالیٰ کے حکم سے ’’کلمہ‘‘ کا اعلان شروع
ہوا…ہر طرف اندھیرا تھا… مگر کلمہ ہر اندھیرے کی نفی کرتا ہے… جب نفی ہوئی تو
اندھیرے بھاگ گئے…ہر طرف مایوسی تھی… مگر کلمہ ہر مایوسی کی نفی کرتا ہے… جب نفی
ہوئی تو مایوسی بھاگ گئی…شیطان کی حکومت کا زمانہ ختم ہو رہا تھا… ’’لا الٰہ الا
اللہ‘‘ میدان میں اُتر آیا تھا…اور اب وہ ہمیشہ کے لئے مکمل ہو چکا تھا… اس کے
ساتھ ’’محمد رسول اللہ‘‘ کو لازمی طور پر جوڑ دیا گیا تھا… تاکہ اگر کوئی پوچھے کہ
’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ تک ہم کیسے پہنچیں گے تو فرمایا گیا ’’ محمد رسول اللہ ‘‘ کے
ذریعے… اللہ تعالیٰ کو پانے کا بس ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘
اور ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ کو پانے کا بس ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے’’ محمد رسول
اللہ‘‘…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ
اللّٰہِ… لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ… لَا اِلٰہَ
اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
یہ مبارک کلمہ …خود ایک طاقت ہے…اسی لئے ’’ابو جہل ‘‘ کی
شرکیہ حکومت اس کو نہ روک سکی… کلمہ بڑھتا گیا…کچھ عرصہ صبر کے ساتھ، تحمل کے ساتھ
یہ اپنا راستہ بناتا گیا… اور پھر جب ’’کلمہ والے ‘‘ گھروں کو چھوڑ کر وفا کے
امتحان میں کامیاب ہو گئے تو… کلمہ طیبہ… جہاد فی سبیل اللہ کے گھوڑے پر سوار ہو
گیا… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا:
اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَقُوْلُوْا لَا
اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ
مجھے حکم دیا گیا ہے کہ… لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ
’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ کو قبول کر لیں…اب کلمہ تھا اور جہاد… سبحان اللہ! زمین کا
رنگ بدلنے لگا… کلمہ چار سو گونجنے لگا… بدر، اُحد سے لے کر تبوک اور موتہ تک… اب
کلمہ مکہ مکرمہ میں فاتحانہ داخل ہوا… اور آج تک وہ وہاں فاتح ہے…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ
اللّٰہِ… لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ… لَا اِلٰہَ
اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
مسلمان جس قدر اس کلمہ کے قریب آتا ہے …اسی قدر بلندی پاتا
ہے… عزت و مرتبہ پاتا ہے… فتح و سعادت پاتا ہے… اور جس قدر اس کلمہ سے دور ہوتا ہے
اسی قدر ذلتوںمیں گرتا ہے … قرآن مجید نے ہمیں کلمہ طیبہ کے ذریعے قوتِ انکار
سکھائی… فرعون کا تذکرہ کیوں فرمایا؟… قارون کا انجام کس لئے بیان فرمایا؟ …
مشرکین مکہ کا نقشہ کس لئے کھینچا؟… اسی لئے تاکہ ہم ہر فرعون کا انکار کریں…فرعون
کوئی بھی نام رکھ کر آ جائے… وہ کوئی بھی کھال اوڑھ کر آ جائے… ظلم کے جو بھی
تیشے اُٹھا کر آ جائے… فرعون روئے زمین کی ایک کفریہ ایٹمی طاقت کا نام تھا…
قرآن مجید میں جھانک کر دیکھ لیجئے… مگر ہمیں یہ نہیں سکھایا گیا کہ ہم فرعون کو
مان لیا کریں… فرعون کے اتحادی بن جایا کریں… فرعون کی بندگی کیا کریں … قارون
روئے زمین کی کفریہ اقتصادی اور معاشی طاقت کا نام تھا… حکم دیا گیا کہ نہ اس جیسا
بنو اور نہ اسے کامیاب سمجھو… ہر قارون اپنی دولت سمیت اسی طرح تاریخ کے غار میں
دفن ہو گیا … جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کا
قارون ہوا…
’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ والے کل بھی کامیاب رہے … اور ہمیشہ
کامیاب رہیں گے…
’’ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ‘‘
کلمہ سکھانے اور سمجھانے کے لئے قرآن مجید نازل ہوا… انسان
کی آنکھیں کمزور ہیں… ظاہری مناظر دیکھ کر وہ دھوکے میں پڑ جاتا ہے… تب قرآن پاک
آتا ہے اور آنکھوں سے دھوکے کی پٹی نوچ کر پھینک دیتا ہے…مکہ کے طاقتور مشرک
سازش کر رہے تھے کہ…حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ
کے رفقاء کو ختم کر دیں… چالیس، پچاس افراد ہیں … عربوں کے اصول کے مطابق زیادہ سے
زیادہ خون بہا یعنی دیت ہی دینی پڑے گی… یہ مشورے روز ہوتے… روز تلواریں اور دانت
تیز کئے جاتے… روز خوفزدہ کرنے والی خبریں اُڑائی جاتیں… روز راستوں میں رکاوٹیں
اور کانٹے بچھائے جاتے… ظاہری آنکھیں یہ دیکھ رہیں تھی کہ … اسلام اور مسلمان
دونوں کا بچنا بالکل بالکل ناممکن ہے… بس پانچ دس منٹ کی تلوار بازی ہو گی اور پھر
کلمہ پڑھنے والا ایک بھی نہ بچے گا… ہر تجزیہ نگار یہی تجزیہ پیش کر رہا تھا اور
کچھ لوگ مسلمانوں کو ڈرانے میں مشغول تھے کہ… اسلام چھوڑو تو جان بچے گی ورنہ مارے
جاؤ گے…تب آسمان سے وحی کڑکی…
اَلَم تَرَ…اَلَم تَرَ…اَلَم تَرَ…
کیا تم نے نہیں دیکھا…کیا تم نے نہیں دیکھا …کیا تم نے نہیں
دیکھا…
سبحان اللہ! عجیب الفاظ ہیں… آنکھوں کی چربی پگھلانے
والے…آنکھوں کا دھوکہ دھونے والے… آنکھوں کا رخ حقیقت کی طرف پھیرنے والے… ارے
تم! ابھی ابو جہل کی طاقت دیکھ رہے ہو… تم صرف مکہ والوں کی عسکری قوت ناپ رہے
ہو…تم ابھی قریش کے جنگی جنون کو دیکھ رہے ہو…تم ابھی مسلمانوں کی قلت اور کمزوری
دیکھ رہے ہو…چھوڑو ان سب چیزوں کو …
آؤ دیکھو! آؤ دیکھو! آؤ دیکھو…
﴿كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ﴾
تمہارے رب نے ہاتھی والے لشکر کے ساتھ کیا کیا تھا…
سبحان اللہ! آنکھوں کا رخ زمین سے آسمان کی طرف ہو گیا…
دھوکے سے حقیقت کی طرف ہو گیا…اندھیرے سے روشنی کی طرف ہو گیا… مایوسی سے امید کی
طرف ہو گیا… اب ہاتھی نہیں بلکہ ابابیل طاقتور نظر آ رہے ہیں… اور اللہ تعالیٰ کے
سوا ہر طاقت کی نفی دل میں اُتر رہی ہے…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
آج کچھ اور لکھنے کا ارادہ تھا…محبوب مالک کا شکر کہ ’’افضل
الذکر‘‘ کی شان لکھنے میں لگا دیا … اللہ تعالیٰ مجھے بھی یہ کلمہ نصیب فرمائے…اور
اسی پر موت دے اور آپ سب کو بھی یہ کلمہ ہمیشہ کے لئے نصیب فرما دے…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ’’شفاء ‘‘ رکھی ہے… مگر کس کے
لئے؟ فرمایا: ایمان والوں کے لئے…قرآن مجید شفاء بھی ہے اور رحمت بھی…
آج روزانہ کی تلاوت کے دوران سورۂ ’’الفتح ‘‘ آ گئی… سبحان
اللہ! پوری سورۃ بشارتوں سے بھری ہوئی ہے…اچانک خیال آیا کہ یہ سورۃ کس ماحول میں
نازل ہوئی تھی؟… کیا غزوۂ بدر کے وقت؟ جب مسلمان ایک واضح فتح سے سرشار
تھے…مشرکین مکہ کے ستّر نامور سردار…مردار ہوئے پڑے تھے… اور ستّر افراد مسلمانوں
کی قید میں تھے… نہیں اس موقع پر یہ سورۂ فتح نازل نہیں ہوئی… تو کیا یہ فتح مکہ
کے شاندار موقع پر نازل ہوئی؟… جب مسلمانوں کا عظیم لشکر مکہ مکرمہ میں فاتحانہ
داخل ہو رہا تھا اور مشرکین کو لڑنے کی تاب تک نہ تھی… جواب یہ ہے کہ فتح مکہ کے
پُر مسرت موقع پر بھی یہ سورۃ نازل نہیں ہوئی…پھر یہ کونسی فتح کا موقع تھا؟…
فرمایا گیا کہ ہم نے آپ کو بڑی واضح فتح دی ہے…اور آپ کو مغفرت کاملہ کا وہ مقام
دے دیا ہے جو آپ سے پہلے کسی کو نہیں ملا… اور نہ آپ کے بعد کسی کو ملے گا…اور
آپ کے رفقاء کے لئے بھی بڑے بڑے انعامات کا اعلان ہے…اللہ تعالیٰ کی رضا ، نصرت ،
فتوحات کے وعدے، مغفرت کے وعدے… اور فوز عظیم یعنی بڑی کامیابی…
تلاوت کے دوران ہی میرے دل و دماغ پر وہ ماحول چھانے لگا…جس
ماحول میں یہ سورۃ مبارکہ نازل ہوئی تھی… ایک تھکا ماندہ خاموش لشکر جو واپس جا
رہا تھا… ٹوٹے دل، زخمی کلیجے اور غموں کے بادل…عمرہ کرنے نکلے تھے وہ ہو نہ سکا…
قربانی کے جانور ساتھ لے کر گئے تھے وہ راستے میں ذبح کرنے پڑے… آنکھیں کعبہ شریف
کے دیدار کو لپکتی تھیں مگر دیدار ہو نہ پایا…قدم طواف کو مچلتے تھے ان کی امنگ
پوری نہ ہوئی… منافقین کو بتا کر نکلے تھے کہ عمرہ کر کے ہی آئیں گے… حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب مبارک سچا ہے…مگر اب
منافقین کی تیز نگاہوں اور گندی زبانوں کا سامنا کیسے کریں گے؟… وہاں حدیبیہ کے
قیام کے دوران کچھ مسلمان قیدی بھاگ کر آ گئے تھے…مگر معاہدہ کی وجہ سے ان کو بھی
اپنے ساتھ نہ لا سکے … وہ روتے، آہیں بھرتے واپس بھیج دئیے گئے… اندازہ لگائیں اس
ماحول میں یہ لشکر واپس آ رہا تھا کہ عرش سے آواز آئی…
﴿اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا﴾
مبارک ہو…فتح مبارک ہو…معمولی فتح نہیں، فتوحات کی چابی مبارک
ہو… مغفرت مبارک ہو …معمولی مغفرت نہیں… مغفرت کاملہ مبارک ہو… نصرت مبارک
ہو…معمولی نصرت نہیں غلبے سے بھرپور نصرت مبارک ہو… صرف آپ کو نہیں آپ کے تمام
رفقاء کو…بڑی کامیابی مبارک ہو…اور جنہوں نے موت کی بیعت کی تھی ان کو اللہ تعالیٰ
کی رضا مبارک ہو… ان کو اللہ تعالیٰ کا ہاتھ مبارک ہو… اس پورے لشکر کو بار بار
’’سکینہ ‘‘ مبارک ہو…
اللہ تعالیٰ کے پاس بے شمار لشکر ہیں…اسے نہ کسی کے ایمان کی
ضرورت ، نہ کسی کے جہاد کی حاجت… وہ چاہے تو سارے کافروں کو ایک لمحے میں خود مٹا
دے…
اس لئے فتح وہ نہیں ہوتی جسے تم فتح سمجھو… فتح وہ ہوتی ہے
جسے اللہ تعالیٰ فتح قرار دے… کامیابی وہ نہیں جسے تم کامیابی سمجھو، کامیابی وہ
ہے جسے اللہ تعالیٰ کامیابی قرار دے…اس سفر میں تم اپنے ایمان پر قائم رہے…تم اپنے
جہاد پر ڈٹے رہےاور تم حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر
قائم رہے… بس یہ ہے فتح…بلکہ فتوحات کی چابی… اور یہ ہے کامیابی بلکہ بڑی کامیابی…
تمہیں چلنے کے لئے کہا گیا تم چل پڑے… تمہیں رکنے کے لئے کہا گیا تم رک گئے…تمہیں
ہاتھ روکنے کا فرمایا گیا تم نے ہاتھ روک لئے… تمہیں جان دینے کے لئے بلایا گیا تم
نے موت کی گردن میں ہاتھ ڈال دئیے… پھر تمہیں دوبارہ لڑنے سے روکا گیا تم رک
گئے…ریس بھی طوفانی اور بریکیں بھی سلامت… اے نبی!…آپ کی تربیت نے ایسا لشکر کھڑا
کر دیا ہے…یہ آپ کی عظیم فتح ہے، اب یہ لشکر کہیں رکنے کا نہیں… اب مشرق تا مغرب
فتوحات ہی فتوحات ہوں گی… یہ بیج جو آپ نے بویا تھا آج اس کا پودا اپنی پنڈلی پر
کھڑا ہو گیا ہے … اب یہ ایسا مضبوط تنا بنے گا…جسے صدیاں بھی پرانا اور کمزور نہیں
کر سکیں گی… اس سفر میں بار بار منزل بدلی گئی… بار بار فیصلے تبدیل ہوئے… بار بار
جذبات کچلے گئے…بار بار آزمائش آئی… مگر آفرین اس لشکر پر کہ ایک فرد بھی نہیں
ٹوٹا… ایک فرد بھی نہیں بپھرا… ایک فرد بھی نہیں کٹا… طبعی غم اپنی جگہ وہ انسان
ہونے کے ناطے معاف ہے… چپکے چپکے آنسو اپنی جگہ وہ ان کے زندہ دلوں کی شبنم تھی…
مگر مجال ہے کہ کوئی قدم اطاعت سے ڈگمگایا ہو؟… کسی کی آواز آپ صلی
اللہ علیہ وسلم کی آوازسے بلند ہوئی ہو… یہ ہر بات مانتے گئے اور رب
مہربان ہوتا گیا… ان کے دل اس بھاری اطاعت سے زخمی ہوتے گئے اور ان دلوں میں اللہ
کا نور بستا گیا… رات کا سناٹا تھا…خاموش تھکا ماندہ لشکر آہستہ آہستہ مدینہ
منورہ کی طرف بڑھ رہا تھا… ٹوٹے دلوں کے رِستے زخم آہستہ آہستہ بہہ رہے تھے کہ
…حضرت جبرائیل امین علیہ السلام آ گئے… اور ’’سورۃ الفتح
‘‘ سنا دی… پورا لشکر خوشی کے نور میں ڈوب گیا… سواریاں ناز سے دوڑنے لگیں… دل
مسرت میں جھوم جھوم کر عرش کے نیچے سجدے کرنے لگے…اللہ تعالیٰ نے محبت ، رحمت اور
فضل کی ایسی بارش برسائی کہ اس لشکر سے پہلے…شاید کسی پر برسی ہو… حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ سورۃ ان تمام
چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے… سورۃ کے آخر میں وعدہ فرمایا
گیا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب بے شک سچا ہے
تم ضرور عمرہ کرو گے…اور فرمایا گیا کہ …یہ دین دنیا میں غالب ہونے کے لئے آیا
ہے… اور سورۃ کے آخر میں… حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین کی بھرپور تعریف کی گئی اور ان سے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ
فرمایا گیا…
ایمان پر رہو، جہاد پر رہو…اطاعت پر رہو …یہی فتح ہے اور یہی
کامیابی …وقتی اور فوری نتائج کو نہ دیکھو… یہ دنیا کی زندگی ایک صبح یا ایک شام
کے برابر ہے…اس میں کبھی دن آتا ہے اور کبھی رات… کبھی گرمی کبھی سردی…کامیابی
ایمان میں ہے اور جہاد میں… وہ جو صحیح بخاری شریف کا ایک کامیاب کردار ہے…ایمان
لایا …اور فوراً جہاد میں شہید ہو گیا…نہ ایک نماز ملی نہ ایک سجدہ… نہ کوئی ظاہری
فتوحات دیکھیں …اور نہ زمین پر اسلام کا غلبہ…مگر کیسی زبردست کامیابی پائی…ہاں!
اس کی کامیابی پر واقعی رشک آتا ہے…
آج پاکستان میں حکومت جو کچھ کر رہی ہے…اس کی وجہ سے بہت سے
دل ٹوٹے ہوئے ہیں، کچھ کلیجے زخمی بھی ہیں…جہاد کا نام لینے والوںکو یوں پکڑا جا
رہا ہے جیسے یہ حکومت قرآن مجید کو مانتی ہی نہ ہو… معلوم نہیں یہ انڈیا کو اس کے
کس احسان کا بدلہ دینا چاہتے ہیں؟…اس نے پاکستان توڑ ڈالا… دریاؤں پر قبضہ کر
لیا…شہ رگ پر اپنے پنجے گاڑ لئے… شاید ہمارے حکمران انڈیا کے ان تمام اقدامات کو
اس کا احسان مانتے ہیں… ہم جموں کی ایک جیل میں تھے… ایک بار تشدد کا بازار گرم
کیا گیا… انڈین اہلکار ہم پر لاٹھیاں، مکے اور لاتیں برسا رہے تھے…اور بار بار یہی
مطالبہ کر رہے تھے کہ پاکستان کو گالی دو… پاکستان کی ماں کو گالی دو… وہ پاکستان
کو غلیظ گالیاں بکتے اور پھر قیدیوں سے مطالبہ کرتے کہ وہ بھی یہی گالیاں دہرائیں…
ہمارے حکمرانوں کی بزدلی نے انڈیا کو شیر بنایا ہوا ہے ورنہ تو… اس کے فوجی لڑنے کے
قابل بھی نہیں…
بہرحال جو کچھ بھی ہو جائے… ایمان نہیں چھوڑا جا سکتا… جہاد
نہیں چھوڑا جا سکتا… اللہ تعالیٰ حالات بدلنے پر قادر ہے…ایک وہ دن تھا کہ ہم چند
ساتھیوں کو کوٹ بھلوال جیل کے ایک کھلے کمرے میں بند کر دیا گیا تھا…ہمارے کپڑے
ہمارے لہو سے بھیگے ہوئے تھے… چہرے زخمی اور جسم نیل آلود تھے… سلاخوں سے بنا ہوا
یہ کمرہ جیل کے اندر جیل خانہ تھا…چوبیس گھنٹے ہتھکڑی لگی رہتی اور اس کی زنجیر
کمرے کی سلاخ سے باندھ دی جاتی…نماز بھی اسی حالت میں جھک کر پڑھتے تھے…وہاں میں
نے ساتھیوں کی دلجوئی کے لئے کچھ اشعار بھی کہے تھے…ایک شعر یہ بھی تھا :
بدن زخمی کڑی ہاتھوں میں ہر دم
محبت کا زمانہ آگیا ہے
دین، ایمان اور جہاد کے راستے میں … محبت کے یہ زمانے آتے
رہتے ہیں… پھر اللہ تعالیٰ نے نصرت فرمائی… اور آج وہی مارنے والے خود چیخ رہے
ہیں اور رو رہے ہیں… اس لئے موجودہ حالات میں مایوس نہ ہوں بلکہ …سورۃ الفتح اور
اس کے ماحول پر غور کریں… اور پھر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے ہمیں…
کیسا عظیم راستہ عطاء فرمایا ہے…والحمد للہ رب العالمین۔
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ’’ایک‘‘ ہیں…اللہ احد…اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر
ہیں…
﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَىْءٍ
قَدِيْرٌ﴾
ایک بات بتائیں: اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے کہ تم کہو…ہُوَ
اللّٰہُ أَحَد
﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾
کیا آپ نے کبھی پوری محبت اور توجہ کے ساتھ یہ کہا؟
هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ
دل میںجب خوف آئے کہ فلاں یہ کر دے گا … فلاں وہ کر دے گا…دل
میں جب حرص آئے کہ فلاں مجھے یہ دے اور فلاں مجھے وہ دے… جب دنیا کی طاقتوں کا
رعب دل کو ناپاک کر رہا ہو تو کہہ دو اور کہتے چلے جاؤ…
هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ
آپ یقین کریں کہ اگر اخلاص کے ساتھ سو بار بھی کہہ دیا تو دل
ایمان اور نور سے بھر جائے گا… اور اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی طاقت نظر ہی نہیں
آئے گی…
اَللّٰہُ أَحَد،اَللّٰہُ أَحَد،اَللّٰہُ أَحَد
سچی بات ہے سورہ ٔاخلاص بہت بڑی طاقت ہے… کبھی تہجد کے وقت
ایک رکعت میں سو بار یا کم از کم بیس بار پڑھ کر دیکھیں دل پر کیسے کیسے راز کھل
جائیں گے…راز کی بات تھوڑا آگے چل کر کرتے ہیں …ابھی تو ’’اَللّٰہُ أَحَد‘‘ کی
بات چل رہی ہے… اگر کسی کو کسی وقت بہت تنہائی اور وحشت محسوس ہو…میرا تو کوئی
دنیا میں ہے ہی نہیں … مجھے تو سب نے پھینک دیا…میرے تو سارے دشمن ہیں وغیرہ
وغیرہ… یہ شیطانی آوازیں ہوتی ہیں…شیطان ان آوازوں کے ذریعہ ہمارے دل کو کمزور
کرتا ہے…ایسے وقت میں سورۂ اخلاص کا ورد شروع کردیں…یا پڑھیں…
هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ،هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ،هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ
اگر توجہ سے پڑھا تو تھوڑی دیر بعد یوں لگے گا جیسے آپ
بادشاہ ہیں، بادشاہ… اکیلی ذات صرف ’’اللہ ‘‘ کی اور یہ اکیلا ہونا اس کی شان
ہے…اس جیسا کوئی ہے ہی نہیں…باقی اس نے کسی کو اکیلا نہیں چھوڑا…
ہر کسی کو بے شمار چیزیں عطا فرمائی ہیں…جو خود کو اکیلا
اکیلا کہہ کر روتے ہیں، کبھی غور کریں تو شکر میں ڈوب جائیں …اور پھر پڑھتے جائیں…
هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ،هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ،هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ
اوپر راز کھلنے کی بات آئی…جی ہاں! بہت چھوٹے چھوٹے راز اگر
کسی پر کھل جائیں تو اسے صدیوں کا علم عطا کر جاتے ہیں…مثلاً مال کے بارے میں ایک
راز ہے…وہ یہ کہ مال خرچ کرنے کے لئے ہوتا ہے جمع کے لئے نہیں… الفاظ کی حد تک تو
سب کو یہ بات شاید معلوم ہو مگر اس بات کی اصل روح جب کسی کے دل میں اتر جاتی
ہے…یا کمپیوٹر کی زبان میں کسی کے دل میں یہ بات ’’انسٹال‘‘ ہو جاتی ہے کہ مال خرچ
کرنے کے لئے پیدا ہوا ہے جمع کرنے کے لئے نہیں…تو ایسا شخص دنیا اور آخرت کی ہر
سعادت اور خوشی کو حاصل کر سکتا ہے…لیکن اگر کسی کے دل میں یہ راز نہیں اترا تو اب
وہ شخص مال کا غلام ہے، مال کا نوکر ہے اور مال کا چوکیدار ہے…مال اس کے کام نہیں
آئے گا مگر اسے ہمیشہ اپنے کام میں لگائے رکھے گا… خوب تھکائے گا، خوب ذلیل کرے
گا، بہت رلائے گا، بہت تڑپائے گا اور موت کے وقت یا پہلے ہی ساتھ چھوڑ جائے گا… اس
حقیقت پر تھوڑا سا غور کریں… مال جمع کرنے والے لوگ کتنی مشقت میں ہیں…لیکن کیا
’’رنگ ونور‘‘ میں یہ بات پڑھنے سے یہ راز دل میں اتر جائے گا؟… بالکل نہیں… قرآن
مجید میں اللہ تعالیٰ نے مال کا یہ مسئلہ کتنی بار سمجھایا ہے… مگر لوگ نہیں
مانتے… بلکہ کئی لوگ تو یہی باتیں خود اپنی زبان سے کرتے ہیں کہ مال جمع نہ
کرو…مال کو نیکی کے راستے پر لگاؤ…مال سے دنیا اور آخرت کی سعادتیں خریدو … مال
کو آخرت کا سرمایہ بناؤ… مگر خود ان کے دل میں یہ راز اترا ہوا نہیں ہوتا تو جب
بھی مال ملتا ہے تو جمع کرتے ہیں… اور دن رات اس کو بڑھانے اور بچانے کی فکر میں
لگے رہتے ہیں… اور بڑی بڑی سعادتوں سے محروم ہو جاتے ہیں… یہ راز دل کو کیسے سمجھ
آئے گا؟…یہ دل میں تب اترے گا جب دل میں نور ہو گا، روشنی ہو گی…راز کو پڑھنے،
سمجھنے اور دل میں انسٹال کرنے کے لئے …روشنی، بتی اور طاقت کی ضرورت ہوتی ہے… اور
یہ طاقت ذکر اللہ سے آتی ہے…اللہ تعالیٰ کو پکارنے سے آتی ہے…
ہُوَ اللّٰہُ أَحَد،ہُوَاللّٰہُ أَحَد،ہُوَاللّٰہُ أَحَد
آپ پوری سورۂ اخلاص پڑھ لیں…اس میں کہیں ’’اخلاص‘‘ کا لفظ
نہیں ہے…پھر اسے سورۂ اخلاص کیوں کہتے ہیں؟…سورۃ البقرہ میں ’’البقرۃ ‘‘ کا تذکرہ
ہے…آل عمران میں ’’ آل عمران ‘‘ کا ذکر ہے… مگر سورۂ ’’اخلاص‘‘ میں … اخلاص
ایسے ہی چھپا ہوا ہے جس طرح اصل ’’اخلاص‘‘ کسی بندے کے دل میں چھپا
ہوتا ہے …اللہ تعالیٰ اور اس کے بندے کے درمیان ایک خفیہ رابطہ… ایک خفیہ تعلق…اسے
عربی زبان میں ’’سِرّ‘‘ یا ’’سریرہ ‘‘ کہتے ہیں…یہ تعلق جس کو نصیب ہو جائے بس اس
کا کام بن جاتا ہے… اندر ہی اندر اللہ تعالیٰ سے یاری، اللہ تعالیٰ سے دوستی…اللہ
تعالیٰ کی بندگی…ایسے لوگوں کے اعمال بڑے وزنی ہوتے ہیں…اور ان کے چھوٹے سے چھوٹے
عمل میں بڑی تاثیر ہوتی ہے …دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر فضل ہو اور یہ نعمت
ہمیں بھی نصیب ہو جائے… دینے والا تو وہی ایک ہی ہے…
ہُوَاللّٰہُ أَحَد،ہُوَاللّٰہُ أَحَد،ہُوَاللّٰہُ أَحَد
کچھ لوگوں نے ایک غلط نظریہ اپنا رکھا ہے … وہ کہتے ہیں کہ
سورۂ اخلاص اور سورہ الفلق وغیرہ کو جب وظیفہ کے طور پر پڑھیں تو شروع میں ’’قل
‘‘ ہٹا دیں…
﴿اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ… اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾
بلکہ لیبیا کے سابق صدر قذافی نے اس پربہت فتنہ بھی
اٹھایا اور پورے قرآن میں سے قُلْ کا لفظ ہٹانے کی بات کی…وہ کہتا تھا کہ ’’قُلْ
‘‘ کے معنٰی کہو ، کہہ دو… اصل بات اس کے بعد شروع ہوتی ہے جس کو کہنے کا حکم دیا
جا رہا ہے…اس نے قرآن پاک کا نسخہ بھی اسی طرح کی تحریفات کے ساتھ بڑی تعداد میں
شائع کرا دیا تھا…اس وقت اہل علم نے اس فتنے کا سخت توڑ کیا علمی طور پر بھی اس کی
بات کو غلط ثابت کیا…اور عملی طور پر اس کے شائع شدہ نسخے کو خرید خرید کر حوالہ
سمندر کرتے رہے… حکمرانوں کی بد دماغی بڑی خطرناک ہوتی ہے… یہ چند دن کے لئے حکومت
میں آتے ہیں مگر ان کا ذہن یہ بن جاتا ہے کہ وہ ملک کے مالک ہیں…گویا کہ انہوں نے
ملک اور عوام دونوں کو خرید لیا ہے… پھر ان کے گرد ایسے خوشامدی اور چاپلوس لوگ
جمع ہو جاتے ہیں جو ان کی ہر بات کی تعریف کرتے ہیں… تب انہیں یہ غلط فہمی بھی
ہونے لگتی ہے کہ وہ عقلمند ہیں… یہ پوری بات عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آج کے
کالم میں بار بار ’’هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ‘‘ پڑھ کر آپ کو یہ شبہ نہ ہو کہ نعوذ
باللہ… میرا بھی یہی نظریہ ہے کہ ‘‘قُلْ ‘‘ کو ہٹا کر پڑھا جائے…
قُلْ تو قُلْ ہے…چابی ، پاس ورڈ، آغاز… ’’قُلْ‘‘ میرے رب کا
فرمان عالی شان ہے… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی ان
سورتوں کی تلاوت فرمائی ’’قُلْ ‘‘ کے ساتھ فرمائی…بس بات ہی ختم… آج کے کالم میں
تو ’’ذکر اللہ‘‘ کی بات ہو رہی ہے…تو قرآن مجید کی کئی آیات سے اہل دل نے کئی
اذکار سمجھے اور حاصل کئے ہیں…مثلاً اللہ الصمد وغیرہ…
قرآن مجید ذکر بھی سکھاتا ہے اور دعائیں بھی…جس طرح ہم دیگر
اسماء الحسنیٰ کا ورد کرتے ہیں مثلاً اللہ القادر… اللہ الغفار تو اسی طرح ’’ اللہ
احد ‘‘ بھی ایک ذکر ہے اور ساتھ یہ قرآن مجید کے مبارک الفاظ کے بھی مطابق ہے تو
اس میں مزید قوت اور تاثیر آ جاتی ہے… ویسے وہ لوگ جو خوف، لالچ اور وساوس کا
زیادہ شکار ہوں وہ سورۂ اخلاص کا بہت ورد کیا کریں… ان شاء اللہ دل پر کامیابی کے
راز کھلیں گے…دل کے دھوکے دور ہوں گے… یہ دنیا دھوکے اور فریب سے بھری پڑی ہے… چند
دن پہلے ایک صاحب کا کالم پڑھا… وہ ترغیب دے رہے تھے کہ اپنا ہر شوق پورا کرو…اور
ہر شوق کے لئے ایک عمر مقرر کر لو کہ فلاں شوق فلاں فلاں عمر میں پورا کرنا ہے…اس
بات کو وہ ’’بھر پور‘‘ زندگی کا راز قرار دے رہے تھے …حالانکہ یہی بات
’’بدترین‘‘زندگی کا راز ہے… شوق کے بارے میں کامیابی کا اصل راز یہ ہے کہ… اگر شوق
کو پورا نہ کیا جائے اور اسے حتی الوسع دبایا جائے …تو اس سے انسان کو عجیب و غریب
قوت ملتی ہے…ایسے لوگ بے حد طاقتور ہو جاتے ہیں…اور ساتھ ساتھ یہ کہ اگر شوق کی
قربانی … اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہو تو ہر قربانی پر… آخرت کی نعمتیں ملتی ہیں
…حضرت سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے
کیسی عظیم قوت عطاء فرمائی تھی… وہ ہواؤں کو حکم دیتے تھے تو وہ بھی مانتی تھیں…
اور پہاڑوں کو حکم فرماتے تھے تو وہ بھی تسلیم کرتے تھے… یہ باتیںمبالغہ نہیں ہیں
…بلکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی قوت کا اعتراف ان کے دشمن
بھی کرتے ہیں… مدینہ منورہ میں بیٹھ کر اتنے بڑے خطے پر حکمرانی کرنا…صرف جسموں پر
نہیں روحوں پر بھی حکومت کرنا… یہ کسی عام طاقت والے انسان کے بس میں نہیں ہے… ایک
بار دستر خوان پر آپ کے ساتھ کچھ مہمان تھے …انہوں نے جب اتنا سادہ کھانا دیکھا
تو حیران رہ گئے… اس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بڑا عجیب
نکتہ ارشاد فرمایا … فرمانے لگے کہ…تم یہ نہ سمجھو کہ میں نرم اور اچھے گوشت کی
لذت سے نا واقف ہوں، ایسا ہرگز نہیں…مگر میں روزانہ جو اونٹ ذبح کرتا ہوں اس کا
نرم گوشت تقسیم کر دیا جاتا ہے اور ’’آلِ عمر‘‘ کے حصہ میں گردن کا یہ سخت گوشت
آتا ہے… آپ کے اس فرمان میں یہ اشارہ تھا کہ ہم وہ لوگ نہیں جو اپنی غربت اور
محتاجی کی وجہ سے سادہ کھانے کے عادی ہو جاتے ہیں …بلکہ ہمیں اچھے کھانے کا ذوق
نصیب ہے… اور اب اس ذوق اور شوق کی جان بوجھ کر قربانی دے رہے ہیں…بات سورۂ اخلاص
کی چل رہی تھی…جو کثرت سے یہ پوری سورۃ نہیں پڑھ سکتے وہ اسمِ الٰہی ’’الاحد ‘‘ کا
ورد کر لیا کریں…اس سے بھی ان کے دل کو روشنی ملے گی ان شاء اللہ …
اللّٰهُ اَحَدٌ، اللّٰهُ اَحَدٌ، هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ
ذکر اللہ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ…انسان کی نظر اللہ تعالیٰ
پر رہتی ہے…اور اللہ تعالیٰ ہی حالات، افراد اور زمانے کا مالک… اور مالک الملک
ہے…وہ سردی میں گرمی اور گرمی میں سردی لانے پر قادر ہے… امام نسائی رحمۃ اللہ
علیہ نے اپنی کتاب ’’خصائص ‘‘ میں ایک عجیب روایت لائی ہے…
ایک تابعی فرماتے ہیں کہ …حضرت امیر المومنین سیّدنا علی بن
ابی طالب رضی اللہ عنہ سخت گرمیوں میں ہمارے پاس تشریف لائے
تو آپ نے سردیوں کا لباس پہنا ہوا تھا… اور سردیوں کے موسم میں تشریف لائے تو آپ
نے گرمیوں کا لباس پہنا ہوا تھا…عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ نے اپنے والد سے پوچھا
کہ… امیر المومنین کا یہ کیا طریقہ ہے …سردیوں میں گرمیوں کا لباس پہن کر اور
گرمیوں میں سردیوں کا لباس پہن کر ہمارے پاس تشریف لائے…ان کے والد نے ان کا ہاتھ
پکڑا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے…اور
اپنے بیٹے کا سوال عرض کیا… حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد
فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار مجھے طلب
فرمایا اس وقت میری آنکھوں میں سخت تکلیف تھی آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے اپنا لعاب میری آنکھوں پر ڈالا اور ارشاد فرمایا: اپنی
آنکھوں کو کھولو… میں نے آنکھیں کھول لیں اور اس کے بعد اب تک مجھے آنکھوں میں
تکلیف نہیں ہوئی اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے
لئے دعاء فرمائی:
اَللّٰھُمَّ اَذْھِبْ عَنْہُ الْحَرَّ وَالْبَرْدَ۔
یا اللہ! ان سے گرمی اور سردی کو دور فرما دیجئے…
اس کے بعد آج تک مجھے گرمی یا سردی محسوس نہیں ہوتی…
(خصائص امیر المومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ
عنہ ، ص: ۹۲)
یہ واقعہ اس پر یاد آیا کہ ان دنوں جماعت پر جو مشکل حالات
آئے ہیں…ہر طرف چھاپے ہی چھاپے…ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے کام میں کیسی ترقی
عطاء فرمائی… کچھ عرصہ پہلے جب حالات میں استقرار تھا تو نہ دورہ تربیہ میں اتنے
زیادہ افراد آ رہے تھے …اور نہ دیگر ترتیبات میں…
اور اب ماشاء اللہ ہر طرف ، ہر کام میں ، بہاریں ہی بہاریں
نظر آ رہی ہیں…محاذ ہوں یا مساجد، تربیہ ہو یا اجتماعات…جلسے ہوں یا ریلیاں …
خدمت ہو یا الحجامہ…اسے کہتے ہیں گرمی میں سردی اور سردی میں گرمی… اور یہ سب صرف
وہی کر سکتا ہے جو ’’ایک ہے‘‘…اور وہ ہر چیز پر قادر ہے…اکیلا ہر چیز پر قادر…
اللّٰہُ أَحَد،اَللّٰہُ أَحَد،ہُوَ اللّٰہُ أَحَد
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے تین مخلص بندے ایک ’’بچی‘‘ پر جھگڑ رہے تھے…
چھوٹی سی ،پیاری سی…حور جیسی بچی… جھگڑا اس بات پر تھا کہ کون
اس کو پالے گا؟… اس کے ’’ابا جانی ‘‘ تو شہید ہو چکے ہیں…کتنا دکھ ہوتا ہے جب آج
سگے بھائی ’’جائیداد‘‘ پر لڑتے ہیں… زمین، پلاٹ اور مال پر لڑتے ہیں… بھائیوں میں
اگر لڑائی ہو تو اس بات پر ہونی چاہیے کہ…بھائی میرا حصہ تم لے لو… دوسرا کہے میں
کیوں لوں؟ آپ میرا حصہ لے لو… مال دینے سے ہی بڑھتا ہے اور پھر بھائی کا تو بہت
حق ہوتا ہے …مگر یہاں جو سچا قصہ عرض کرنا ہے اس میں لڑائی جائیداد پر نہیں اور
جھگڑا کرنے والے دو سگے بھائی ہیں… اور ایک رشتہ داری کے اعتبار سے غیر ہے… یہ
پیاری لخت جگر تھی حضرت سیّدنا حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ
عنہ کی… اور جھگڑنے والے تین حضرات کے نام تھے… حضرت علی، حضرت
جعفر اور حضرت زید… رضوان اللہ علیہم اجمعین …
اللہ کرے ہمارے اندر بھی شہداء کرام کے بچوں کی کفالت کا یہی
جذبہ پیدا ہو جائے… حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے
بڑھ کر بچی کو اُٹھا لیا…اور اپنی اہلیہ محترمہ کے سپرد کر دیا کہ ہم نے اسے پالنا
ہے… یہ میرے چچا جان کی بیٹی ہے…مگر حضرت جعفر رضی اللہ
عنہ فوراً آگے بڑھے اور فرمایا! نہیں اس کو پالنا میرا حق ہے…یہ میرے
چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میری اہلیہ ہے …جھگڑا ان دو میں رہتا تو خاندان کی
داخلی بات تھی…مگر اس خوش نصیب بچی کے تو ہر طرف چچا ہی چچا تھے…ایمان کا رشتہ،
اُس زمانے میں خاندان کے رشتہ سے طاقتور تھا… حضرت زید رضی اللہ
عنہ آگے بڑھے اور فرمایا… نہیں اس بچی کو پالنے کا حق میرا ہے…یہ میرے
بھائی کی بیٹی ہے …تینوں بڑے حضرات تھے، جنگجو، مجاہد، بہادر، معزز اور بات کے
پکے… کوئی اپنے اس حق سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں تھا… معاملہ حضور اقدس صلی
اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا کہ اب فیصلہ آپ صلی
اللہ علیہ وسلم ہی فرما سکتے ہیں… معاملہ بچی کا تھا اور بچی کو باپ سے
زیادہ ماں کی ضرورت ہوتی ہے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت
جعفر رضی اللہ عنہ کے حق میں فیصلہ فرما دیا…اور فرمایا :
’’اَلْخَالَۃُ بِمَنْزَلَۃِ الْاُمِّ‘‘
خالہ ماں کے قائم مقام ہوتی ہے…
گویا کہ فیصلہ ان تینوں حضرات کے حق میں ہونے کی بجائے…خالہ
کے حق میں چلا گیا… کیونکہ اصل میں ’’بچی ‘‘ کی مصلحت مقصود تھی… پھر آپ صلی اللہ
علیہ وسلم نے سعادت پر جھگڑا کرنے والے ان تینوں حضرات کو انعامات سے
نوازا… حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
اَنْتَ مِنِّی بِمَنْزَلَۃِ ھَارُوْنَ وَاَنَا مِنْکَ۔
آپ میرے لئے اس طرح ہیں جس طرح موسیٰ کے لئے ہارون…اور میں
آپ سے ہوں…
(دوسری روایت میں وضاحت ہے کہ … آپ میرے لئے اس طرح ہیں ، جس
طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لئے ہارون علیہ
السلام …لیکن میری بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا…)
اور حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
اَشْبَھْتَ خَلقِیْ وخُلُقِی۔
کہ آپ شکل و صورت اور اَخلاق میں میرے مشابہ ہیں…
اور حضرت زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
یَا زَیْدُ! اَنْتَ اَخُوْنَا وَمَوْلَانَا۔
اے زید! آپ ہمارے بھائی اور دوست ہیں…(مسند احمد ، ابوداؤد)
سبحان اللہ! ایک شہید کی بچی کے لئے خیر خواہی کرنے والے…
تینوںحضرات کو کیسے کیسے القابات اور انعامات ملے… اور ان تینوں کو اللہ تعالیٰ نے
شہادت بھی عطا فرمائی…کل رات کو ایک صحافی کا کالم پڑھ لیا…کالم کیا تھا، کالک تھی
کالک… گوگل ویب سائٹ نے اپنے ایک ہندو ملازم کو بیس کروڑ ڈالر کا چیک دیا ہے کہ…یہ
اس ملازم کی سالانہ تنخواہ ہے… ساتھ یہ اعلان بھی کر دیا کہ یہ دنیا میں سب سے بڑی
تنخواہ ہے… بس یہ خبر اور چیک کی رقم پڑھتے ہی ہمارے مسلمان کالم نویس پر ’’حال ‘‘
طاری ہو گیا… جس طرح اولیائِ کرام پر اللہ تعالیٰ کا کلام سن کر حال طاری ہوتا ہے
اور پھر وہ ’’اللہ، اللہ‘‘ کے ذکر میں گم اور مدہوش ہو جاتے ہیں…اسی طرح یہ ’’کالم
نویس ‘‘بیس کروڑ کی رقم پڑھ کر مدہوش ہو گیا… چھوٹے سے کالم میں بار بار بیس کروڑ،
بیس کروڑ، بیس کروڑ کی قوالی کی … خیالات اور تصورات میں کئی بار بیس کروڑکے چیک
کو چوما اور چاٹا اور پھر اس ہندو ملازم کی شان میں پورا شاہنامہ لکھ ڈالا… اور اس
کو ’’عقلمند ‘‘ قرار دے کر باقی لوگوں کو ’’بیوقوف ‘‘ ہونے کی گالی دے
ڈالی… اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ
خود کومسلمان کہنے والے شخص کا یہ کالم…کم از کم مجھے تو شدید
اَذیت میں مبتلا کر گیا …بہت دیر تک نیند نہ آئی… کیا کل قارون کی شان میں بھی
ایسے قصیدے لکھے جائیں گے؟… کیا بہت سے ڈالروں کا گند سر پر اُٹھا لینا ہی کامیابی
اور عقلمندی ہے؟… دل پر جب تکلیف کا حملہ شدید ہوا تو … توجہ ہٹانے کے لئے ذہن کو
کامیاب لوگوں کی طرف متوجہ کیا… ہمارے زمانے کے کامیاب لوگ… تب شہدائِ کرام کے
باوقار، مستغنی چہرے مسکرانے لگے… بیس کروڑ کا محتاج ہونا کامیابی ہے یا بیس کروڑ
کو تھوک کے برابر نہ سمجھنا کامیابی؟…
فقیر عطاء اللہ شہید رحمۃ اللہ علیہ ایسی شان سے
مسکراتے تھے…جس طرح پوری دنیا کے بادشاہ ہوں… اور بادشاہ بھی ایسا جس کی ہر حاجت
پوری ہو چکی ہو… آج کل کے بادشاہ بھی اپنی کئی ضرورتوں کے بارے میں پریشان اور بے
چین رہتے ہیں…کسی کو صحت نہیں ملتی تو کسی کو محبت میں ناکامی رہتی ہے… جبکہ ان
شہدائِ کرام کے اطمینان کا یہ حال ہے کہ …کوئی ان کے قدموں میں بیس کروڑ نہیں بیس
ارب ڈالر بھی ڈال دے تو وہ اس پر ایک نظر ڈالنا بھی گوارا نہ کریں… فرعون مر گیا،
قارون دھنس گیا… تعمیرات کی ماہر قومِ ثمود غارت ہو گئی… جسمانی اور عسکری قوتوں
کی سپرپاور قومِ عاد تباہ ہو گئی… وہ جن کو اپنی معیشت پر ناز تھا بے نشان ہو گئے…
روشن خیالوں کی آئیڈیل لوط علیہ السلام کی قوم ملیامیٹ ہو
گئی…آج جن کے پاس اربوں ڈالر ہیں یہ بھی خزاں کے زرد پتوں کی طرح گمنامی کی مٹی
میں دفن ہو جائیں گے… اللہ تعالیٰ بار بار فرماتے ہیں: ماضی کے لوگوں کا انجام
دیکھو،اس سے عبرت پکڑو … مال کے حریص اور لالچی نہ بنومگر ہم پھر بھی ایک ہندو
مشرک کے بیس کروڑ دیکھ کر … بیس کروڑ بیس کروڑ کی دھمال ڈال دیں…تو اس سے بڑی
بیوقوفی، بد نصیبی ،بدبختی اور بد عقلی اور کیا ہو سکتی ہے؟
لوگ دنیا میں آتے ہیں… طرح طرح کی ایجادیں کرتے ہیں…یہ ہمارے
زمانے کے لوگوں کی غلط فہمی ہے کہ وہ ترقی یافتہ ہیں…ماضی کے لوگوں اور تہذیبوں نے
بھی بہت کچھ بنایا… آج پلاسٹک پہننے والے اُس زمانے کو کیوں بھول جاتے ہیں جب لوگ
سونے چاندی سے… نرم کپڑے بنا لیتے تھے… اور پہاڑوں کے اندر محلات کھڑے کر دیتے
تھے…یہ سب کچھ دنیا میں چلتا رہا ہے اور چلتا رہے گا…اصل کامیابی ایمان میں ہے…اصل
دولت کلمہ طیبہ کی دولت ہے… اصل ترقی نماز میں ہے… اور اصل عزت اور سربلندی جہاد
فی سبیل اللہ میں ہے… روزی اور مال اللہ تعالیٰ نے مقدر فرما دیا ہے…اور انسان کو
حکم فرمایا ہے کہ…وہ حلال روزی کے لئے مناسب محنت کرے…اسلام نے نہ تجارت سے روکا
ہے نہ زراعت سے…نہ سائنس سے روکا ہے نہ ٹیکنالوجی سے… نہ مال کمانے سے روکا ہے اور
نہ محنت کرنے سے…
مگر کامیابی اسی کو سمجھ لینا کہ کلمہ ہو یا نہ ہو بس مال
زیادہ ہونا چاہیے یہ بدترین ملحدانہ سوچ ہے… میں جب مسجد جاتا ہوں اور
وہاں چھوٹے چھوٹے بچوں کو قرآن مجید پڑھتے دیکھتا ہوں تو … دل خوشی اور محبت سے
بھر جاتا ہے… یہ خوش نصیب بچے کتنی عظیم دولت حاصل کر رہے ہیں … ان کو جو چیک مل
رہا ہے وہ قیامت تک… اور جنت میں بھی کیش ہوتا رہے گا… یہ جو سورۂ فاتحہ، سورۂ
اخلاص اور سورۃ الکوثر جیسے خزانوں کے مالک بن رہے ہیں…ایسے خزانے جن کا مال کبھی
ختم نہیں ہوتا… ان بچوں کے والدین کو سلام! جنہوں نے اپنے بچوں پر احسان کیا کہ…ان
کو قرآن مجید کی تعلیم کے لئے بھیجا… آج آپ کو ایسے کروڑوں مسلمان مل جائیں گے
جو سورۂ فاتحہ درست تلفظ کے ساتھ نہیں پڑھ سکتے… ان کے والدین نے ان پر ظلم
کیا…اُن کو صرف انگریزی سکھائی جو وقتی ضرورت ہے…اور سورۂ فاتحہ نہ سکھائی جو
ہمیشہ کی ضرورت ہے… مسجد اور مدرسہ کے مسکین نظر آنے والے بچے …جو چندے کی روٹی
کھا کر قرآن مجید اپنے سینوں میں محفوظ کر رہے ہیں… یہ مجھے بل گیٹس، مارک
زکربرگ…اور لکشمی متل سے زیادہ مالدار نظر آتے ہیں…بیماریوں سے بھرے ،پریشانیوں
سے اَٹے اور ہمیشہ کی ناکامی کی طرف دوڑتے اَرب پتی… اگر ان بچوں کی خوشی، آسودگی
اور اطمینان کو دیکھیں تو حسد سے مر جائیں … میں جب ان والدین کو دیکھتا ہوں جن کی
اولاد جوان ہو چکی ہے… اور ان کی اولاد میں تین صفات موجود ہیں…کلمہ طیبہ، نماز کی
پابندی اور جہادِ فی سبیل اللہ… تو حقیقت میں مجھے اُن پر رشک آتا ہے… اللہ کرے
میری اولاد بھی جب جوان ہو تو ان تین صفات سے مالا مال ہو… کلمہ طیبہ اُن کے دلوں
میں ایسا اُترا ہوا ہو کہ… کوئی خوف یا کوئی لالچ انہیںکلمہ طیبہ سے نہ ہٹا سکے…
اور نماز کے وہ ایسے پابند ہوں کہ… کسی ایک نماز کو قضا کرنے کا تصور نہ کریں… اور
جہادِ فی سبیل اللہ کے وہ شیدائی ہوں… جہاد ہی انسان کے دل کو ایسا خوبصورت بناتا
ہے کہ…اللہ تعالیٰ خود اُس دل کا خریدار بن جاتا ہے… ذکر، فکر، مراقبے بھی بڑی
نعمت ہیں… اُن سے دل شیشے کی طرح صاف ہو جاتا ہے… انسان روحانی سیریں کرتا ہے…اس
کے تصورات کی دوربین دور دور تک دیکھتی ہے… مگر جہاد انسان کے دل کو ’’بہادر‘‘
بناتا ہے… اور بہادر دل ہی اسلام اور اُمت مسلمہ کے کام آتا ہے … حضرت اقدس
مولانا حاجی عبد الرحیم صاحب ولایتی رحمۃ اللہ علیہ بہت بڑے ولی
تھے… صاحبِ خواب اور صاحبِ کشف، صاحبِ توجہ اور صاحبِ حال… پھر وہ حضرت سیّد احمد
شہید رحمۃ اللہ علیہ کے قافلے میں شامل ہوئے…دل پاک اور صاف تھا
تو انہوں نے جہاد کے مقام کو جلد دیکھ لیا…تب فرماتے تھے کہ … جہاد کا ایک
لمحہ…میرے ماضی کے سالہا سال کی محنت اور ریاضت سے اَفضل ہے… بے شک انہوں نے سچ
فرمایا… مگر جہاد اور جہادی محنت کے مقام کو ہر کوئی نہیں سمجھتا… حتیٰ کہ بہت سے
مجاہدین کو بھی یہ مقام معلوم نہیں… جہاد اور جہادی محنت کا حقیقی مقام معلوم ہو
جائے تو پھر… جان دینا بھی آسان … جیل کاٹنا بھی آسان…اور اس راستے کی ہر ہجرت
اور ہر قربانی برداشت کرنا آسان ہو جائے…
اے شہدائِ اسلام…آپ کی عظمت… اور آپ کے مقام کو دل کی
گہرائی سے سلام… اصل مالدار آپ ہو…اصل دولت مند، اصل کامیاب…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جو ’’قصے ‘‘ بیان فرمائے
ہیں…وہ زندہ قصے ہیں…قیامت تک ان قصوں سے ملتے جلتے مناظر سامنے آتے جائیں گے… اس
لئے قرآن مجید کے تمام ’’ قصص‘‘ کو بہت غور سے پڑھنا اور سمجھنا چاہیے…اور ان سے
سبق، عبرت اور روشنی لینی چاہیے…بات آگے بڑھانے سے پہلے حضرات
انبیاء علیہم السلام کی خدمت میں سلام عرض کر لیتے ہیں
…تاکہ ہماری اس مجلس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت اور سلامتی نازل ہو…ایک نبی تو
ایسے ہیں کہ جن پر سلام بھیجنے کا تاکیدی حکم ’’اللہ تعالیٰ ‘‘ نے خود فرمایا ہے…وہ
ہیں ہمارے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم … ہم اپنی ہر نماز کے ’’قعدہ‘‘
میں حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجتے ہیں:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَاالنَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ
وَبَرَکَاتُہٗ
یہ بڑا مبارک ’’سلام‘‘ ہے…نماز کے علاوہ بھی اسے پڑھنا چاہیے…
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَاالنَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ
وَبَرَکَاتُہٗ
فرشتے یہ سلام حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کی خدمت میں پہنچاتے ہیں…اور آپ صلی اللہ علیہ
وسلم جواب ارشاد فرماتے ہیں…محبت سے پڑھیں…
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَاالنَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ
وَبَرَکَاتُہٗ
’’السلام ‘‘ کہتے ہیںسلامتی کو…ظاہری آفات سے بھی سلامتی اور
باطنی آفات سے بھی سلامتی… ظاہری آفات وہ ہیں جو انسان کے جسم ، مال ، گھر ،
اولاد وغیرہ پر آتی ہیں…اور باطنی آفات وہ ہیں جو انسان کے دل اور روح پر آتی
ہیں…کفر، شرک،حسد، تکبر ، ریاکاری وغیرہ…سلامتی کی دعاء دراصل جنت میں جانے کی
دعاء بھی ہے… کیونکہ مکمل سلامتی ’’جنت ‘‘ میں ملے گی…وہاں نہ بڑھاپا آئے گا اور
نہ بیماری، نہ ذلت آئے گی نہ محتاجی …نہ زخم آئیں گے نہ موت،کوئی بوڑھی عورت جس
کا چہرہ جھریوں کی وجہ سے شکن آلود لٹھے کی طرح ہو چکا ہو…وہ اگر اسی ’’دنیا ‘‘
کو جنت قرار دے تو یہ عجیب مضحکہ خیز جھوٹ ہے…جنت تو سلامتی کا گھر ہے اور وہاں
اہل جنت کو اللہ تعالیٰ خود ’’سلامتی ‘‘ کا انعام دیں گے…
﴿سَلٰمٌ ۣ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ﴾
اللہ تعالیٰ کے مبارک ناموں میں سے ایک نام ’’السلام ‘‘
ہے…کیو نکہ اللہ تعالیٰ ہر عیب ، ہر کمزوری اور ہر آفت سے سالم ہیں، پاک ہیں اور
اللہ تعالیٰ ہی ’’سلامتی ‘‘ عطاء فرمانے والے ہیں…اللہ تعالیٰ کے اسماء مبارکہ میں
سے ’’یا سلام ‘‘کا وِرد بہت تاثیر رکھتا ہے… ہمارے ایک بزرگ یہ وِرد اس طرح کرتے
تھے:
’’ اَللّٰھُمَّ یَا سَلَامُ سَلِّمْ ‘‘
ترجمہ: یا اللہ!اے سلام! سلامتی عطاء فرمائیے…
پانچ انبیاء علیہم السلام ایسے ہیں
کہ…ان پر ان کے نام کے ساتھ ’’سلام ‘‘ قرآن مجید میں مذکور ہے… اور یہ ایمان
والوں کا وظیفہ ہے کہ وہ انبیاء علیہم السلام پر سلام
بھیجتے رہتے ہیں…
١ حضرت
سیّدنا نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام …آج کے کالم میں حضرت نوح علیہ
السلام کے ایک بیٹے کا قصہ ہمارا موضوع ہے…ارشاد فرمایا:
﴿سَلَامٌ عَلٰی نُوْحٍ فِی الْعَالَمِیْنَ﴾۔ (سورۃ الصافات:۷۹)
اہل تجربہ کہتے ہیں کہ…جو روزانہ صبح شام تین بار یہ سلام پڑھ
لے اسے سانپ بچھو وغیرہ نہیں ڈس سکتے…
٢ حضرت
سیّدنا ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام
﴿سَلَامٌ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ﴾ (سورۃ الصافات: ۱۰۹ )
٣ حضرت سیدنا موسی علیہ الصلوٰۃ والسلام ٤ حضرت سیّدنا ہارون
علیہ الصلوٰۃ ولسلام
﴿سَلَامٌ عَلٰی مُوْسٰی وَہَارُوْنَ﴾ (سورۃ الصافات:۱۲۰)
٥ حضرت سیّدنا الیاس علیہ الصلوٰۃ والسلام
﴿سَلَامٌ عَلٰی اِلْیَاسِیْنَ﴾ (سورۃ الصافات:۱۳۰)
اور قرآن مجید کی دو آیات ایسی ہیںکہ… ان کو پڑھنے سے تمام
حضرات انبیاء علیہم السلام پر ’’سلام‘‘ ہو جاتا ہے…
١ ﴿
سَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی﴾ (سورۃ النمل:۵۹)
٢ ﴿وَسَلَامٌ
عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ﴾
(سورۃ الصافات:۱۸۱۔۱۸۲)
بندہ کی کوشش رہتی ہے کہ روزانہ رات کو سونے سے پہلے یہ سارے
’’سلام ‘‘ ان مبارک ہستیوں پر بھیج دے…
وظیفہ یوں بن جاتا ہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَاالنَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ
وَبَرَکَاتُہٗ۔ ( چند بار )
﴿سَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی﴾ ( تین بار)
﴿وَسَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ، وَالْحَمْدُ
لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ﴾( تین بار)
﴿سَلَامٌ عَلٰی نُوْحٍ فِی الْعَالَمِیْنَ﴾ ( تین بار)
﴿سَلَامٌ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ﴾ ( تین بار)
﴿سَلَامٌ عَلٰی مُوْسٰی وَہَارُوْنَ﴾ (تین بار)
﴿سَلَامٌ عَلٰی اِلْیَاسِیْنَ﴾( تین بار )
﴿سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِیْمٍ﴾ ( چند بار)
ہماری یہ دنیا فتنوں، گمراہیوں ، شیطانوں ، جادوگروں اور
دھوکوں سے بھری پڑی ہے…اگر کوئی اپنا ایمان بچانا چاہتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ
…حضرت انبیاء علیہم السلام سے جڑا رہے… تمام
انبیاء علیہم السلام کے نبی ہونے پر پختہ ایمان لائے …تمام
انبیاء علیہم السلام سے سچی اور قلبی محبت رکھے… تمام
انبیاء علیہم السلام کے سچے واقعات اور قصوں سے روشنی
لے…حضرت آدم علیہم السلام کو پہلا نبی اور حضرت محمد صلی
اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مانے …اور احکامات میں حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرے… کیونکہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد سابقہ تمام شریعتیں
منسوخ ہو چکی ہیں… حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے
یہودیت، نصرانیت اور رہبانیت وغیرہ میں کامیابی مل سکتی تھی…مگر آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی بعثت کے بعد…اب کامیابی صرف ’’اسلام ‘‘ میں ہے…دین کی ’’دعوت
‘‘ بھی اسی لئے ہے…اور جہاد و قتال بھی اسی لئے ہے… مسلمانوں میں سے کچھ لوگ ایسے
کھڑے ہو گئے ہیں جو اصل میں… دین اسلام کی دعوت روکنا چاہتے ہیں…جو ’’جہادِ فی
سبیل اللہ ‘‘ کے دشمن ہیں… ان لوگوں نے یہ نعرہ لگایا ہے کہ… حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے بغیر بھی یہود و
نصاریٰ کامیاب ہو سکتے ہیں… پاکستان میں اس فتنے کی لگام ’’غامدی‘‘ کے ہاتھ میں
ہے…جب کہ مصر میں’’عَبْدرَبِہٖ ‘‘ اور ہندوستان میں ’’وحید الدین خان ‘ ‘ وغیر ہ …
یہ لوگ دراصل …نہ غامدی ہیں، نہ خانی اور نہ عبدی… یہ سارے
حقیقت میں ’’کنعانی‘‘ …اور ’’یامی‘‘ وغیرہ ہیں…اس پورے فتنے کو سمجھنے کے لئے
قرآن مجید کے ایک زندہ قصے میں غور کرنا ہو گا… یہ قصہ ہے حضرت سیّدنا نوح علیہ
الصلوٰۃ والسلام کے ایک ’’بیٹے ‘‘ کا… حضرت سیّدنا نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کل
چار بیٹے تھے…سام ، حام ، یافث… یہ تین حضرات ’’مومن ‘‘ تھے … اپنے والد محترم کے
ہم دین ، ہم سفر اور خادم … چوتھا بیٹا جس کا نام بعض مفسرین نے ’’کنعان ‘‘ اور
بعض نے ’’یام ‘‘ لکھا ہے …وہ کافر تھا…بس اسی بیٹے سے وہ مزاج شروع ہوتا ہے جو
لوگوں کو ’’غامدی ‘‘ بناتا ہے… اپنے گھر کی ہدایت کو حقیر سمجھنا اور باہر کی
عالمی برادری کو معزز سمجھنا…اپنے گھر کو تنگ سمجھنا اور باہر کے دشمنوں کو ترقی
یافتہ سمجھنا… اپنے گھر کی روشنی کو ذلیل قرار دینا اور باہر کی چکا چوند کو
للچائی نظروں سے دیکھنا…’’کنعان ‘‘ کی نوجوان آنکھیں یہ دیکھ رہیں تھیں کہ…اس کا
گھر باہر کی دنیا سے بالکل کٹا ہوا ہے…اس کا گھر باہر کی دنیا میں بہت رسوا اور
بدنام ہے…اس کا گھر باہر کی دنیا سے بالکل الگ اور فرسودہ ہے… اس گھر کو باہر والے
نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں…اس گھر کو باہر والے اپنی ترقی کی راہ میں رکاوٹ
سمجھتے ہیں …باہر کے لوگ دنیا آباد کر رہے ہیں جبکہ اس گھر میں دنیا ویران نظر
آتی ہے…ایک ’’بابا جی‘‘ اس گھر سے نکلتے ہیں اور لوگوں کو ایک پیغام سناتے ہیں…
ان کے پیغام کو کوئی نہیں سنتا… لوگ ان کا مذاق اڑاتے ہیں…ان کے گلے میں رسیاں ڈال
کر ان کو گھسیٹتے ہیں…چھوٹے بچے ان کے پیچھے تالیاں بجاتے بھاگتے ہیں…شہر کے معزز
لوگ ان کو دیکھتے ہی کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر راستہ بدل لیتے ہیں…اور شہر کے
طاقتور لوگ ان پر پتھر برساتے ہیں… وہ ’’بابا جی‘‘ صبح سے رات تک…لوگوں میں پھرتے،
ماریں کھاتے، لہولہان ہو جاتے اور رات کو گھر واپس آتے اور مصلیٰ بچھا کر…رب
تعالیٰ کے سامنے آہ و زاری میں لگ جاتے…
یہی روز کا معمول تھا…دس سے بارہ سال کی شبانہ روز محنت کے
بعد کوئی ایک آدھ آدمی ان کے پیغام کو تسلیم کرتا… اور وہ تسلیم کرنے والا عالمی
برادری کا کوئی معزز، تاجر ، مفکر یا صنعت کار نہیں… کوئی معمولی مزدوری کرنے والا
غریب آدمی ہوتا…
یوں کنعان کا گھر…معاشرے کے غریب اور معمولی افراد کی بیٹھک
بن گیا…عالمی برادری ترقی پر ترقی کر رہی تھی… اور اس گھر میں صرف یہ بات ہوتی
کہ…اللہ تعالیٰ کو ایک مانو…تمہیں ہمیشہ ہمیشہ کی جنت ملے گی…ہمیشہ ہمیشہ کی
کامیابی ملے گی…اللہ تعالیٰ سے استغفار کرو، معافی مانگو… تمہیں دنیا و آخرت میں
اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات ملے گی… اس گھر میں نہ دنیا بسانے کی باتیں ہوتیں…اور
نہ ترقی کے منصوبے … اب کنعان کے لئے دو راستے تھے…ایک یہ کہ وہ اپنے تین بھائیوں
کی طرح اپنے والد محترم کی بات مان لیتا… اور دنیا سے کٹ کر ایک الگ مکان کا حصہ
بن جاتا…اور دوسرا راستہ ’’غامدیت ‘‘ کا تھا کہ… وہ عالمی برادری کا حصہ بنے…دنیا
میں رہنا ہے تو اہل دنیا کو کامیاب سمجھے…زمین پر رہنا ہے تو زمین بسانے والوں سے
کندھے جوڑے… آپ کہیں گے کہ …غامدی تو اس وقت تھا نہیں تو ’’غامدیت ‘‘ کہاں سے آ
گئی؟…
جواب یہ ہے کہ …یہی ’’کنعانیت‘‘ ہر زمانے میں اُبھرتی ہے اور
اپنا کوئی اچھا سا نام رکھ لیتی ہے…آپ جاوید غامدی صاحب کے نظریات دیکھیں ، وحید
الدین خان کے نظریات پڑھیں… عبدربہ کا فلسفہ دیکھیں …ان سب کی سوچ میں بس ایک بات
مشترک ہے…وہ یہ کہ یہ حضرات اسلام کے گھر میں پیدا ہو گئے…مگر ان کو اسلام کا گھر
حقیر لگتا ہے…اور اسلام سے باہر کی برادری نعوذ باللہ عزت یافتہ… پھر یہ اسلام سے
نکلنے اور باہر کی برادری کا حصہ بننے کے سفر پر نکل پڑتے ہیں…آپ کو کوئی دو
غامدی دنیا میں ایسے نہیں ملیں گے جن کے نظریات ایک جیسے ہوں…خود غامدی اور وحید
الدین کے بقول ان کے باہمی نظریات میں …اَسّی فیصد اختلاف ہے …مگر ان سب کا راستہ
اور سوچ ایک ہے…اور وہ ہے ’’کنعانی ‘‘پریشانی… یہ جس چیز کو عزت اور ترقی سمجھتے
ہیں وہ انہیں اپنے گھر میں نظر نہیں آتی … اور اس گھر سے باہر کی ساری دنیا ان کو
اچھی لگتی ہے…چنانچہ وہ گھر کی حدود سے آزاد ہونے اور باہر کی برادری کا حصہ بننے
کی کوشش میں لگ جاتے ہیں… اس کوشش میں پھر وہ اپنے نئے نئے نظرئیے اور طریقے گھڑتے
ہیں…وہ چاہتے ہیں کہ اسلام کے گھر کی محفوظ عمارت کو عالمی برادری کا کوٹھا
بنادیں… اسی لیے وہ اسلامی مسلّمات اور اسلامی امتیازات کا انکار کرتے ہیں… تاکہ
اسلام کا اصلی گھر مکمل طور پر تبدیل ہوجائے… حضرت نوح علیہ
السلام ساڑھے نو سو سال تک قوم کو دعوت دیتے رہے…ان کے گھر سے ’’لا الہ
الا اللہ ‘‘ کا کامیابی والا پیغام بلند ہوتا رہا… ان کے گھر پر رحمت اور فرشتے دن
رات اُترتے رہے… مگر ’’کنعان ‘‘ تو زمین دیکھ رہا تھا… معاشرہ دیکھ رہا تھا ، دنیا
دیکھ رہا تھا…زمانے کے معزز کہلانے والے لوگوں کے ساتھ اٹھ بیٹھ رہا تھا… چنانچہ
اسے اپنے والد پر بھی شرمندگی ہوتی اور اپنے گھر پر بھی … جب ملک میں قحط پڑتا تو
ملک کے دانشور مل بیٹھتے… طرح طرح کے آبپاشی اور زراعت کے منصوبے بناتے… کنعان
گھر آتا تو ’’ابا جی‘‘ فرماتے… قوم اگر ’’استغفار ‘‘ پر آ جائے تو قحط ختم ہو
جائے…پھر ’’ابا جی ‘‘ یہ دعوت لے کر شہر کے گلی کوچوں میں نکل جاتے…لوگ مذاق اڑاتے
کہ ’’استغفار ‘‘ کا آبپاشی یا زراعت سے کیا تعلق؟… کنعان کو بڑی شرم آتی کہ
واقعی…میرا باپ پورے خاندان کو شرمندہ کر رہا ہے… زراعت و تجارت کے ماہرین کے
سامنے استغفار،استغفار کی دعوت دیتا ہے…حالانکہ دنیا بہت آگے نکل چکی ہے… بس اسی
شرم اور شرمندگی نے کنعان کو کفر کی راہ پر ڈال دیا…جب کہ باقی تینوں بھائی… اپنے
’’ابّا جی‘‘ کی تصدیق کرتے رہے اور انہیں ہمیشہ یہ فخر رہا کہ ہم جس گھر میں ہیں
اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوتی ہے… اس پر اللہ تعالیٰ کے فرشتے اترتے ہیں…
ہمیں اپنے خالق کو راضی کرنا ہے نہ کہ…فانی مخلوق کو…
پھر اس پوری قوم کی تباہی کا فیصلہ ہو گیا … تین بیٹے باپ کے
ساتھ نجات کی کشتی بنانے میں مصروف ہو گئے…عالمی برادری نے اس کشتی کا مذاق اڑانا
شروع کردیا…’’کنعان‘‘ اس شرمندگی سے بچنے کے لئے عالمی برادری کا حصہ بنا رہا …
پھر طوفان آ گیا…عالمی برادری ڈوب گئی… کنعان بھی غرق ہو گیا…اور وہ گھر جو روئے
زمین پر سب سے الگ تھلگ ، سب سے کٹا ہوا…سب سے فرسودہ سمجھا جاتا تھا…ایک کشتی میں
بیٹھ کر پورے روئے زمین کا مالک بن گیا…
آج وہی گھر ’’اسلام ہے‘‘ …وہی کشتی ‘‘دین اسلام ‘‘ ہے…اور اس
کے چاروں طرف اس گھر اور کشتی کا مذاق اڑانے والی چمکتی دمکتی عالمی برادری… وہ جو
اسلام کے گھر میں پیدا ہو گئے … مگر ان کی سوچ اور فکر کنعانی ہے…وہ اس گھر کو
نعوذ باللہ حقیر سمجھ کر اس سے کھسکتے جا رہے ہیں … یہ سارے لوگ طوفان اور آگ کی
طرف جا رہے ہیں…اور وہ جن کو اس گھر پر فخر ہے…ایمان ہے، اعتماد ہے… وہ کامیابی
اور جنت کی طرف جا رہے ہیں…بے شک اسلام کا ہر حکم بڑا ہو یا چھوٹا … اسی میں عزت
ہے ، اسی میں کامیابی ہے… واشنگٹن اور لندن کی ساری چمک دمک میرے نزدیک…میری جیب
میں رکھی ہوئی اس مسواک کے برابر بھی نہیں…جو مسواک حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم نے اس اُمت کو عطا فرمائی ہے…جہادِ فی سبیل اللہ تو بہت بڑا حکم
ہے…ہمیں نہ اسلام پر کوئی شرمندگی ہے نہ جہاد پر…ہمیں نہ داڑھی پر شرمندگی ہے اور
نہ شلوار ٹخنوں سے اوپر رکھنے پر…ارے! یہی تو عزت، حسن ،کامیابی اور ترقی کے نقشے
ہیں…
یا اللہ ! ایمان اور اسلام کی نعمت پر آپ کا شکر…بے حد
شکر…الحمد للہ رب العالمین
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے ساتھ ہے… مکہ کے مشرک اس ’’غار‘‘
تک پہنچ چکے تھے… جس ’’غار‘‘ میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اور
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ موجود تھے… مشرکین ہاتھوں میں
ننگی تلواریں لئے اس غار کے سر پر کھڑے تھے… وہ اگر تھوڑا ساجھک کر دیکھتے تو غار
میں موجود اَفراد انہیں نظر آ جاتے… مگر غار کے اندر اطمینان تھا اور فرمایا جا
رہا تھا…
﴿اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا﴾
بے شک اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے… مشرکین اندھے ہوگئے، ناکام
ہوگئے اور نامراد لوٹ گئے… سامنے خوفناک سمندر تھا اور پیچھے فرعون کا بھیانک
لشکر… مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام فرما رہے تھے…
﴿اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ﴾
بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے… چنانچہ رب نے اپنا ساتھ نبھایا…
دودشمن ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوگئے…سمندر کی لہروں نے فرعون اور اس کے لشکر کو
نگل لیا…اور وہ جن کے ساتھ ’’اللہ‘‘ تھا، صحیح سالم نکل گئے…
آج کا موضوع
آج کئی باتیں لکھنے کا ارادہ بنا…حج بیت اللہ کے داخلے شروع
ہورہے ہیں… ارادہ تھا کہ ’’فریضۂ حج‘‘ کا مذاکرہ اور حرمین شریفین کی دلکش یادیں
آجائیں… ممکن ہے بہت سے مسلمانوں کا دل متوجہ ہو…لوگوں کے پاس فضول پلاٹ، فضول
زیورات اور فضول بینک بیلنس موجود ہوتا ہے… فریضۂ حج کا مزا ہی تب ہے جب اس کے
لئے پلاٹ بیچے جائیں، زیورات فروخت کئے جائیں… اور بینک بیلنس خالی کیا جائے…
پلاٹ، زیورات تو پریشان کرتے رہتے ہیں جبکہ …حج بیت اللہ بہت کام آتا ہے… اور بہت
کا م آئے گا…
وہ مسلمان مرد اور خواتین جنہوں نے’’ فریضۂ حج‘‘ اداء نہیں
کیا… وہ دعاء کریں، فکرکریں، قربانی دیں اور یہ نعمت حاصل کرلیں…کسی زمانے جب میں
حج پر بیان کرتا تھا تو لوگوں سے کہتا تھا کہ… آپ اپنا سب کچھ خرچ کر کے چلے
جائیں… اللہ تعالیٰ آپ کو سب کچھ لوٹا دے گا…بخل کرکے اپنی جان کا نقصان نہ کریں…
حج کئے بغیر مر گئے تو زندگی ادھوری رہ جائے گی… اپنا مال اپنے بچوں کے لئے بچا کر
اگر آپ فریضۂ حج سے محروم رہے تو آپ نے خود بھی ظلم کیا ور اپنی اولاد پر بھی
ظلم ڈھایا… ممکن ہے آپ کے بعد آپ کی اولاد یہ سارا پیسہ چندراتوں کی عیاشی میں
اُڑا دے… لیکن اگر آپ پلاٹ، زمین بیچ کر حج پر گئے… اور وہاں اپنی اولاد کے لئے
دعاء کی تو…مال بھی واپس مل جائے گا… اور آپ کی اولاد کو حرمین کی قیمتی دعائیں
بے حد نفع دیں گی… کل کچھ لوگ ’’عمرہ‘‘ پر جارہے تھے انہوں نے حکم دیا کہ انہیں
کچھ نصیحت عرض کی جائے… اللہ تعالیٰ کی توفیق سے چند باتیں ان کے سامنے عرض
کردیں…ان میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ… وہاں حرم شریف کی ایک دعاء ایک لاکھ
دعائوں کے برابر ہے…آپ جو وقت بازار میں جا کر اپنی اولاد کے لئے تحفے خریدیں
گے…یہی وقت آپ حرم میں بیٹھ کر ان کے لئے ’’دعاء‘‘ کردیں… تحفے، سامان ہر جگہ مل
جاتے ہیں… مگر حرم شریف کی دعاء تو ہر جگہ نہیں ملتی… مثلاً آپ چاہتے ہیں کہ آپ
کی اولاد کو قرآن مجید نصیب ہو… آپ یہاں رہتے ہوئے ایک لاکھ بار اگر یہ دعاء
کریں تو قبولیت کی کتنی امید ہوجائے گی… مگر ایک لاکھ بار دعاء کرنے میں کئی دن لگ
جائیں گے…لیکن حرم شریف میں آپ نے یہ دعاء ایک بار کردی تو یقیناً ایک لاکھ بار
ہوگئی… اللہ تعالیٰ نے مقدر فرمایا تو ان شاء اللہ… فریضۂ حج پر یاد دہانی کا
کالم آجائے گا… اگر نہ آسکا تو انہی الفاظ کو کافی سمجھ کر اس سال… اللہ تعالیٰ
کی محبت میں ڈوب کر اپنا داخلہ جمع کرادیں…
دوسرا جو موضوع سامنے تھا…وہ حضرت سیّدنا نوح علیہ
السلام کی بعض نصیحتیں اور تلقین فرمودہ قیمتی دعائیں تھیں…گذشتہ کالم
میں حضرت سیّدنا نوح علیہ السلام کا کچھ مبارک تذکرہ آیا
تھا تو ارادہ بنا کہ یہ باقی باتیں بھی آجائیں…مگر ہمارے ملک کے حالات اس درجہ
خراب ہوچکے ہیں کہ… اب ’’اہل دل‘‘ باقاعدہ مایوسی اور پریشانی محسوس کررہے ہیں… اس
لئے آج ملک کے تازہ حالات پر چند گذارشات کا ارادہ ہے… اللہ تعالیٰ شرح صدر اور
توفیق عطاء فرمائیں…
﴿ رَبِّ اشْرَحْ لِيْ صَدْرِيْ وَيَسِّرْ لِيْٓ اَمْرِيْ﴾
پہلے ایک تحفہ
حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے محبوب امتی،
شاگرد، داماد اور معتمد حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ
عنہ سے ارشاد فرمایا:
یَا عَلِیُّ! اَلَا اُعَلِّمُکَ کَلِمَاتِ الْفَرَجِ؟
’’اے علی!کیا میں آپ کو حالات کی بہتری لانے والے’’کلمات‘‘
نہ سکھائوں‘‘…
’’اَلْفَرَج‘‘ کہتے ہیں کشادگی کو… غم کادور ہونا، پریشانی کا
ختم ہونا، بند راستے کھلنا، مسائل کا حل ہونا، دل کا بوجھ اُترنا…ان سب کو عربی
میں’’ اَلْفَرَج‘‘ کہتے ہیں… پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات
تلقین فرمائے:
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ،
سُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ،
اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ (خصائص للنسائی)
یہ بڑے مبارک اور طاقتور کلمات ہیں… آج کے غم زدہ حالات میں
ہمارے لئے یہ اَلفاظ بہت بڑا ’’تحفہ‘‘ ہیں…
طاعون کے چوہے
کسی زمانے ’’طاعون‘‘ کا مرض ایک وباء کی طرح پھیلتا تھا…
غلاظت میں پلنے والے ’’ چوہوں‘‘ کے ذریعہ سے یہ مرض شروع ہوتا اور پھر شہر کے شہر
اور بستیوں کی بستیاں اجاڑ دیتا تھا… غلیظ چوہے اپنی غلاظت سے یہ مرض اٹھاتے اور
پھر یہ سمجھتے کہ بس اب دنیا پر ہماری حکومت ہوگی… اور دنیا سے سارے انسان ختم
ہوجائیں گے… طاعون کے عروج کے زمانے بظاہر یہی نظر آتا کہ… واقعی انسان ختم ہونے
والے ہیں…
ایک ایک گھر سے کئی کئی جنازے اُٹھتے… لوگ ابھی تدفین
سے فارغ نہ ہوتے کہ پیچھے مزید لاشوں کا ڈھیر جمع ہوجاتا… لوگ اتنی تیزی اور کثرت
سے مرتے کہ زندہ رہنے والوں کے دل بھی برُی طرح بجھ جاتے… یہاں تک کہ آنکھوں کے
آنسو بھی ختم ہوجاتے… کسی کے مرنے پر رونے کا تو کیا غم ہوتا یہ فکر پڑجاتی کہ کس
کس کو دفن کریں اور کہا ں دفن کریں… ان حالات میں ’’چوہے‘‘ بڑے خوش ہوتے … وہ اپنی
خوشی کا جشن مناتے… اور دل کھول کر دانت بجاتے…
مگر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے … انسان
کے لیے ہی یہ زمین بنائی گئی ہے چنانچہ انسان سنبھل جاتے اور چوہوں کو بھاگنا پڑتا
… ایسے ’’طاعون‘‘ ہزاروں آئے اور ہر بار بلآخر چوہوں کو بھاگنا پڑا … پاکستان
میںآج کل بد دینی کا طاعون آیا ہوا ہے …شرابوں، بدکا ریوں، بے حیائیوں میں پلنے
والے چوہے ، کافروں کے حرام مال سے طاقت پانے والے ’’چوہے‘‘ اس ملک کو بد دینی
،بدکا ری اور بے حیائی کی دلدل میں اتارنے کی محنت میں لگے ہوئے ہیں …
کچھ دن سے ایسے حالات سامنے آرہے ہیں جن کی وجہ سے… یہ
طاعونی چوہے، بہت خوش ہیں اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ… اب اس ملک میں اسلا م ختم ، دین
ختم ، جہاد ختم… نون لیگ کی موجودہ حکومت ان کے وہ ’’ ارمان‘‘ بھی پورے کردے گی …
جو پر ویز مشرف بھی پورے نہ کرسکا … حکومت نے بھارتی دباؤ میں … یا ہندو دوستی
میں … پٹھان کوٹ کا مقدمہ پاکستان میں درج کیا …پھر فوراً ایک گندی فلم اور اس کی
گندی ہدایت کا رہ کو اس کی اوقات سے بڑھ کر… وزیر اعظم ہاؤس میں پذیرائی ملی …
پھر فوراً ہی پنجاب حکومت نے ’’تحفظ نسواں‘‘ نامی ایک ’’بل‘‘ کھود ڈالا… اور پھر
اُس کے بعد عاشق رسول غازی ممتاز قادری رحمۃ اللہ علیہ کو شہید کر دیا
گیا…
یہ تما م اقدامات اس قدر تیزی سے پئے در پئے ہوئے کہ … طاعونی
فرقے کی ’’دیوالی‘‘ ہوگئی … وزیر اعظم کی قلبی خواہش یہ بھی سامنے آئی کہ … وہ
مشرکوں کا مقدس تہوار’ ’ہولی ‘‘ خود منایا کریں… اور اس تہوار پر ہندو ان پر رنگ
پھینکا کریں … مگر ہولی میں کچھ دیر تھی اور اپنے اوپر کا فروںکا رنگ ڈالنے کی
جلدی … اس لیے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے کی تدبیر کر لی گئی …طرح طرح کے
پولیس مقابلے ،پھانسیاںاور خفیہ قتل غاریاں … اب رنگ ہی رنگ ہے … خون کا سرخ رنگ…
حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے اُمتیوں کے خون کا رنگ…
یہ رنگ جیسے ہی موجودہ حکومت کے چہرے پر پڑا… فوراً مودی کے بھی خوشی سے دانت نکل
آئے … اب وہ جلد ہی ہمارے وزیر اعظم کو اپنی ملاقات کا شرف بخشنے والا ہے …
امریکہ نے بھی خوشی سے تالیاں بجائیں کہ … یہ حکومت ہمارے بہت کا م آرہی ہے… اور
پاکستان کا بے دین طبقہ تو خوشی سے مرے جا رہا ہے … ہر طرف طاعون کے چوہے … دم
اٹھائے، دانت نکالے جشن منارہے ہیں …اور دوسری طرف اہل ایمان کے ہاں غم ہے،
پریشانی ہے …جنازے ہیں اور صدمے ہیں …
آئیے! مل کروہ نعرہ لگاتے ہیں جو غار ثور میں گونجا تھا :
اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا… اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا… اِنَّ اللّٰہَ
مَعَنَا
آئیے! وہ دعاء پڑھتے ہیں… جو حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم نے حضرت سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کو
سکھائی:
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ،
سُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ،
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ۔
افسوس ناک منظر
پاکستان کی ترقی اور حفاظت کا دعویٰ کرکے …اہل پاکستان کو
بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کرنے والے یہ حکمران کون ہیں؟… آپ ان حکمرانوں کی تاریخ
اُٹھا کر دیکھیں دل غم سے پھٹنے لگے گا … پرویز مشرف نے سب سے پہلے پاکستان کا
نعرہ لگا کر …کتنے پاکستانی شہید کر دیئے … کتنے پاکستانی فروخت کردیئے … آج خود
اس کی یہ حالت ہے کہ ہر وقت پاکستان سے بھاگنے کی فکر میں لگا ہے ،اب سب سے پہلے
پاکستان کیوں یاد نہیں آتا ؟… اس وقت وہ کہتا تھا کہ قانون کا احترام کرو … آج
وہ خود قانون کے سامنے کیوں پیش نہیں ہوتا؟ … کئی سال تک پاکستانیوں کو ذلیل و
رسوا کرنے والا ’’شوکت عزیز ‘‘آج ایک ہندو صنعت کا ر کا ملازم ہے … کئی ماہ تک
پاکستان کے سفید وسیاہ کا مالک ’’ معین قریشی‘‘ آج بھی غیر ملکیوں کی نوکری
کررہاہے … کئی سال تک پاکستانیوںکو لوٹنے والا ’’زرداری‘‘ آج امریکہ میں بیٹھا ہے
… کئی سال تک پاکستانیوں کو وفا داری یا غداری کے سر ٹیفکیٹ جاری کر نے والا
’’حسین حقانی ‘‘آج سامراج کا پا کستان کے خلاف سب سے بڑا جا سوس ہے … مگر موجودہ
حکومت… ان سب کو پیچھے چھوڑ چکی ہے … اور وہ پاکستان کو اس غارکی طرف دھکیل رہی ہے
… جہاں صرف خون ہی خون ہے اور اندھیر ا ہی اندھیرا…
پاکستان میں دہشت گردی نا م کی کوئی چیز مذہب کی طرف
منسوب نہیں تھی … دہشت گردی یہاں کے وڈیرے ، جاگیر داراور سیاسی پارٹیا ں کرتے
تھے… پرویز مشرف کے دور میں خود مذہبی دہشت گردی کو اُٹھا یا گیا … مقصد یہ تھا کہ
اس کی آڑ میں ملک سے دین اور مذہب کا صفایا کردیا جائے گا… دراصل یہ حکمران نہ
پاکستان کو جانتے ہیں اور نہ یہ پاکستان کے زمینی حقائق کو سمجھتے ہیں … یہ لوگ
اونچی اور بند کوٹھیوں میں پیدا ہوئے … ان کی پرورش غیر ملکی دودھ سے ہوئی … تعلیم
انہوں نے غیر ملکی یونیورسٹیوں میںحاصل کی … اور یہ ہمیشہ نوکروں اور غلاموں کے
حصار میںرہے …یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں اسلام صرف مسجدوں اور مدرسوں تک محدود
ہے… اس لیے جب یہ مسجدوں اور مدرسوں کو فتح کر لیں گے تو… پاکستان ایک لبرل ملک بن
جائے گا… میں ابھی یہ کالم لکھ رہا ہوں اور میرے قریب ہی … ایک شہید’’ ممتاز قادری
‘‘کی زیارت جاری ہے … کل سے ابھی تک لاکھوں افراد اس کے ایک دیدار کے لیے میلوں
لمبی لائنوں میں کھڑے ہیں … یہ نہ مدارس کے طلبہ ہیں اور نہ مسجدوں کے مؤذن اور
امام … اسلام پاکستان کی جڑوں میں اُترا ہو ا ہے…
شکر کرو کہ پاکستان کا مسلمان… کا فی اَمن پسند اور
اعتدال پسند ہے … اسی لیے تم اس کے سینے پر کئی وار کر لیتے ہو… لیکن جس دن
پاکستان کے ’’دیندار‘‘ نے بھی یہ محسوس کر لیا کہ… اس ملک میں اس کے لئے سانس لینا
مشکل ہے…اس دن تم چھاپے اور فورتھ شیڈول سب بھول جائو گے… ہاں! سچ کہتا ہوں… تم
خود ہی پاکستان کے مسلمانوں کو ’’داعش‘‘ بننے پر مجبور کررہے ہو… کیا قرآن مجید
کی تعلیم جرم ہے؟…تم کس منہ سے ہر مدرسے میں گھس جاتے ہو اور وہاں پڑھنے والے عظیم
المرتبہ طالب علموں سے ان کی عفت مآب بہنوں کے نام تک پوچھتے ہو؟… دینی مدارس کے
یہ طلبہ جس دن صرف بارہ گھنٹے کے لئے سڑکوں پر آگئے تو تمہیں…قبرستانوں میں بھی
سرچھپانے کی جگہ نہیں ملے گی… یہ غیر ملکی این جی اوز کے پھنکارتے سانپ اس دن
کیچووں سے بھی زیادہ کمزور ثابت ہوں گے… جس دن قوم نے ان سے ان کی دین دشمنی اور
ملک دشمنی کا حساب مانگ لیا… یہ شراب اور سگریٹ کے ذریعہ بدبودار کالم لکھنے والے
نام نہاد دانشور…جو سائنس، سائنس کا شور مچا کر… ہر وقت اسلام اور علماء کی توہین
کرتے رہتے ہیں… قوم نے جس دن ان کا محاسبہ کیا تو ان کو…خود ان کے گھر والے بھی
پناہ نہیں دیں گے…کوئی ان جاہلوں سے پوچھے کہ… تم نے اب تک کیا ایجاد کیا ہے؟… تم
نے اب تک مسلمانوں کے لئے کونسی ٹیکنالوجی بنائی ہے؟…تم نے اب تک قوم کو سوائے
نفرت، حقارت اور ذلت کے اور کیا دیا ہے؟ خود تو تم اپنے قلموں میں ناپاکی بھر کر
اسی سے مال کماتے ہو اور طعنے علماء اور مجاہدین کو دیتے ہو کہ… انہوں نے قوم کو
ترقی سے روک رکھا ہے… تم نے کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانکا؟…یہ انسانی حقوق کے
علمبردار… کوئی ان کی زندگی قریب سے دیکھے تو اسے متلی اور قے آجائے گی…یہ نہ
اپنے ملازموں کو انسانی حقوق دیتے ہیں اور نہ اپنے بچوں کو … نہ اپنے غریب پڑوسیوں
کو انسان سمجھتے ہیں اور نہ اپنے غریب رشتہ داروں کو… ان کے انسانی حقوق صرف اسلام
اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے تک محدود ہیں…
ہاں! آج پاکستان میں حالات بہت افسوسناک ہیں… بہت افسوسناک…
مگر ہمیں نہ کوئی مایوسی ہے، نہ پریشانی… طاعون کے چوہوں کا یہ کھیل زیادہ عرصہ تک
نہیں چلے گا… ہاں! افسوس صرف اس بات کا ہے کہ… وہ اہل ایمان جو اب تک صبر، برداشت
اورتحمل کا درس دیتے رہے ہیں…ان کو تم ایسے راستے پر جانے کے لئے مجبور کررہے ہو…
جس راستے میں بہرحال کسی کے لئے خیر نہیں ہوتی… بے صبری کی آگ جب بھڑکتی ہے تو
پھر وہ انصاف نہیں کرسکتی… انتقام اور بے چینی کا لاوا جب پھٹتا ہے تو پھر…درست
اور غلط کی تمیز نہیں رہتی…
اَب بس کرو
موجودہ حکومت جو کچھ کررہی ہے… اس سے نہ ملک کو کوئی فائدہ
ہوگا اور نہ حکومت کو… ممکن ہے حکومت اپنے ان ظالمانہ اقدامات میں… مزید کچھ
کامیابیاں حاصل کرلے… اور اسلام دشمنوں سے مزید کچھ شاباش کمالے… ممکن ہے ملک کے
مسلمانوں کو مزید کچھ غم دیکھنے پڑیں… مگر یہ سلسلہ زیادہ دیر تک چلنے والا نہیں
ہے… پاکستان کے مسلمانوں کی دینی وابستگی نہ کسی ’’مدرسہ‘‘ تک محدود ہے نہ کسی
شخصیت تک… دوچار سومدارس بند کرنے… اور اُمت مسلمہ کے دوچار قائدین کو مارنے سے یہ
قوم نہ ہی’’بددین‘‘ ہو جائے گی… اور نہ ہی ٹھنڈی… اس قوم کی مائوں کے دودھ میں
کلمہ، جہاداور نماز کے مبارک اَثرات ہیں …اس قوم کی بہنوں کے آنسو ایمانی جذبات
کی تاثیر رکھتے ہیں… اس زمین کی مٹی میں شہداء کے جذبے پَل رہے ہیں… غیر ملکی
دشمنوں کی خوشنودی کے لئے اپنے ملک کو صومالیہ اور لیبیا نہ بنائو… کمال اتاترک نے
جو اقدامات کئے تھے ان میں اس کی کامیابی… ایک عارضی موسم تھا… اس وقت ترکی کا
دیندار طبقہ اندر سے دنیا پرست ہوچکا تھا… پھر بھی کمال اتاترک کا جادو پچاس سال
ہی میں ٹوٹ گیا… ا س کے بعد کون سا سیکولر حکمران اس طرح کے اقدامات میں کامیاب
ہوا؟… امریکہ، اسرائیل اور انڈیا تمہیں استعمال کررہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ…
تمہارے انہی اقدامات سے یہ ملک تباہ ہوگا…
بہت ظلم ہوچکا… اب بس کرو… اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ… تمہارے
ان اقدامات سے پاکستان کے مسلمان خوفزدہ ہیں… نہیں، ہرگز نہیں …حضرت محمد صلی اللہ
علیہ وسلم کے اُمتی پھانسیوں اور سولیوں سے نہیں ڈرتے… یہ ان کے لئے کھیل کے جھولے
ہیں… گرفتاری،قید اور نظر بندی ہمیشہ جہاد کو طاقتور بناتی ہے… شہادت اپنے پیچھے
زندگی کی ایک نئی لہر چھوڑ جاتی ہے…تم جن کو گھروں میں ستاؤ گے ان کو جنگل اور
پہاڑ اپنا شیر بنا لیں گے … وہ جن کو تم دربدر کروگے وہ مورچوں کو اپنا گھر بنالیں
گے، تم دہشت پھیلائو گے تو ہشت گردی پھیل جائے گی… تم موت بانٹو گے تو موت کے
بازار سج جائیں گے…تم صرف غیروں کو ہی خوش کرتے رہوگے تو پھر… اپنے روٹھ جائیں گے
اور غیر تمہیں استعمال شدہ ٹشو کی طرح کچرادان میں ڈال دیں گے…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے پیارے بندو! حج کر لو، حج کر لو،حج کر لو…
اللہ تعالیٰ کی پیاری بندیو! حج کر لو، حج کر لو، حج کر لو…
ہم دنیا میں جن ضروری کاموں کے لئے بھیجے گئے ہیں…ان کاموں
میں سے اہم ترین کام ’’حج بیت اللہ ‘‘ ہے…
’’بیت اللہ‘‘ سبحان اللہ…اللہ تعالیٰ کا گھر … دل چاہتا ہے رو
رو کر لکھتا جاؤں…بیت اللہ، بیت اللہ، بیت اللہ، اور آپ رو رو کر پڑھتے جائیں
…بیت اللہ، بیت اللہ، بیت اللہ…
پلاٹ اور زیور کا ہم نے کیا کرنا ہے؟… بیت اللہ تو جنت کا
ٹکڑا ہے… مالک کا احسان کہ ہمیں دنیا میں یہ عطاء فرما دیا…آہ! آنکھیں کتنی
پیاسی رہ جاتی ہیںاگر وہ ’’بیت اللہ ‘‘ کو نہ دیکھ سکیں…
کتنی محرومی کی بات ہے کہ…شادیوں کی دعوتیں کرتے رہو اور بیت
اللہ کو نہ جا سکو…تھوڑا سا سوچو ہم نے زندگی میں کتنی بار اللہ تعالیٰ کو ناراض
کیا؟…کتنی بار ایسے کام کئے جن کو دیکھ کر محبوب مالک کو غصہ آتا ہے… تو کیا ہم
ایک بار ایسا نہیں کر سکتے کہ …اللہ تعالیٰ خوشی سے ہم پر فخر فرمائیں اور اپنے
فرشتوں سے کہیں…دیکھو! میرے بندوں کو …یہ خاص لمحہ اور خاص منظر نو ذی الحجہ کے دن
’’عرفات‘‘ کے میدان میں نصیب ہوتا ہے…صحیح حدیث میں آیا ہے کہ …جب عرفات میں حجاج
جمع ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے قریب ہو کر … فرشتوں کے سامنے ان پر فخر فرماتے
ہیں…
عرفات ہم سے کتنا دور ہے؟ … ارے! اپنی جان بیچ کر جانا پڑے تو
آدمی چلا جائے کہ کبھی تو اپنے رب کو اپنے اوپر خوش کر لوں…ایک جہاد کا محاذ…اور
دوسرا حج کا میدان…دنیا میں کوئی جگہ ان کے برابر نہیں… معلوم نہیں لوگ کہاں کہاں
گھومتے رہتے ہیں…اور کہاں کہاں گھومنا چاہتے ہیں… اس پاک زمین پر جانے کے لئے نہیں
تڑپتے… جہاں ہدایت برستی ہے، جہاں نور ٹپکتا ہے… جہاں ملائکہ اترتے ہیں…جہاں مغفرت
بٹتی ہے… جہاں حسن چمکتا ہے… جہاں رحمت مہکتی ہے…سبحان اللہ…وہ کعبہ شریف …اللہ
اللہ اللہ… وہ اس کی حطیم شریف… وہ سامنے مقامِ ابراہیم… وہ پیارا حجر اسود… بہت
پیارا، بے حد پیارا… میرے اللہ! حجر اسود کے ایک بوسے کا سوال ہے…وہ رکنِ یمانی
اور حجر اسود کے درمیان کی مقبول دعاء… وہ کعبہ کی چھت پر لگا پرنالہ… وہ صفا،وہ
مروہ… وہ عرفات کے انوارات، وہ منیٰ کی پُر کیف وادی… وہ مزدلفہ کی روحانی ٹھنڈک …وہ
مکہ مکرمہ…وہ مدینہ منورہ…
ساری دنیا کا حقیقی حسن ان دو شہروں میں سمٹ آیا ہے… اہل علم
محبت کے ساتھ لڑتے رہے کہ مکہ افضل ہے یا مدینہ…فیصلہ کوئی بھی نہیں کر پاتا … مکہ
تو ماشاء اللہ مکہ ہے…عزت و وقار میں بے مثال…اور مدینہ تو ماشاء اللہ مدینہ ہے
…حسن و جمال میں بے مثال… میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو
مکہ سے بے حد پیار تھا…جب مکہ چھوڑنا پڑا تو دل مبارک رو رہا تھا…اور میرے
آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ سے بے حد پیار تھا…
ایسا پیار کہ اسے قیامت تک چھوڑنے سے انکار فرما دیا…مکہ جاکر بیٹھو تو مکہ مکرمہ
پیار سے پوچھتا ہے…کیا تم نے مدینہ دیکھا ہے؟ تم مدینہ کب جاؤ گے اور وہاں سے
واپس میرے پاس کب آؤ گے؟ مجھے اُن سے پیار ہے جو مدینہ سے آتے ہیں…اور مدینہ
منورہ جا بیٹھو تو وہ پوچھتا ہے کیا تم نے مکہ کی زیارت کی ہے؟… کب میری سرحد سے
احرام باندھ کر مکہ جاؤ گے… اور پھر مکہ سے کب لوٹ کر واپس میرے پاس آؤ گے …
مجھے ان سے پیار ہے جو مکہ سے آتے ہیں … سبحان اللہ! حاجی کے مزے ہو جاتے
ہیں…عمرہ کرنے والے کی موج ہو جاتی ہے… کبھی اس کا جسم مکہ میں تو روح مدینہ
میں…اور کبھی روح مکہ میں تو جسم مدینہ میں…سچی بات ہے نہ مکہ شریف سے دل بھرتا ہے
اور نہ مدینہ پاک سے…کسی کی عمر ہزار سال ہو اور وہ روزانہ ایک بار مکہ جائے اور
ایک بار مدینہ تب بھی دل کی پیاس نہیں بجھتی… روح پھر بھی مکہ اور مدینہ کی طرف
یوں لپکتی ہے جس طرح شیرخوار بچہ اپنی ماں کی طرف… اے مسلمانو! سنو! اللہ تعالیٰ
نے ہمیں حج کی طرف بلایا … اللہ تعالیٰ کے انبیاء علیہم
السلام نے انسانوں کو حج کی طرف بلایا… اللہ تعالیٰ نے کلمۂ طیبہ کی
دولت سے مالا مال ایمان والوں پر پانچ چیزیں لازمی فرض فرمائیں…یہ پانچ چیزیں
زندگی کا مقصد اور زندگی کی ضرورت ہیں…ان پانچ میں سے ایک حج بیت اللہ ہے…اسلام کی
عمارت کا ایک لازمی ستون… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم نے تنبیہ فرمائی کہ…حج کی استطاعت کے باوجود نہیں جاؤ گے تو خطرہ
ہے کہ یہودی ہو کر مرو گے یا نصرانی … حج کی برکت سے گناہ سارے معاف ہو جاتے
ہیں…اور حج کا بدلہ جنت ہے… حج کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ دنیا میں غنی فرما دیتے
ہیں…اور حج کے اعمال پوری زندگی انسان کے ساتھ رہتے ہیں… اور مرنے کے بعد اس کے
ساتھ قبر اور حشر میں جاتے ہیں…شیطان ہمیشہ حج سے روکتا ہے…وہ حج سے ڈراتا ہے…وہ
خرچے گنواتا ہے …وہ جانتا ہے کہ یہ حج پر چلے گئے تو خطرہ ہے کہ…میرے ہاتھ سے نکل
جائیں… یہ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی عدالت میں پکی توبہ کر آئے تو میری ساری محنت
پر پانی پھر جائے گا… شیطان کو تو ہمارے ایک سجدے سے بھی تکلیف ہوتی ہے …جبکہ حرم
شریف کا ایک سجدہ ایک لاکھ سجدوں کے برابر ہے…ایسا سجدہ تو شیطان کی کمر توڑ دیتا
ہے… شیطان کو ہمارے ایک بار ’’الحمد للہ‘‘… ’’سبحان اللہ‘‘ اور ’’اللہ اکبر‘‘ کہنے
سے درد ہوتا ہے… جبکہ حرم شریف میں ایک بار کا الحمد للہ، سبحان اللہ، اللہ اکبر
…ایک لاکھ بار پڑھنے کے برابر ہے…شیطان کہتا ہے پیرس جاؤ وہاں عیش کرو… لندن جاؤ
وہاں عیاشی کرو…واشنگٹن جاؤ وہاں ترقی دیکھو… یعنی بیت اللہ نہ جاؤ… بیت الخلاء
میں جا بیٹھو… آج ضرورت ہے کہ مسلمانوں کو حج بیت اللہ کے فریضے کی طرف بلایا
جائے …تاکہ یہ اپنے اصل مرکز سے جڑے رہیں…آج ضرورت ہے کہ مسلمانوں کے سامنے مکہ
اور مدینہ کے حقیقی حسن کو بار بار بیان کیا جائے… تاکہ یہ کفر کے اڈوں کی طرف
نہیں، ایمان کے مرکز کی طرف دوڑیں …اے مسلمانو! شوق کے اس قافلے کو دیکھو جو حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں…احرام باندھے،
تلبیہ پڑھتے مکہ مکرمہ جا رہا تھا…مگر اسے حدیبیہ پر روک دیا گیا… پھر اس قافلے کے
شوق کا ایک ذرہ اللہ تعالیٰ سے مانگ لو…بس جیسے ہی دل میں شوق آیا…راستے کھلنا
شروع ہو جائیں گے … اور روح اُڑنے لگ جائے گی… ارے! کعبہ اور روضۂ اطہر یہ اس
دنیا کی جگہیں نہیں ہیں…
اہل دل نے لکھا ہے کہ …مرنے کے بعد ایمان والوں کے لئے
’’عِلِّیِّیْن ‘‘ کے جو آٹھ مراکز بنائے گئے ہیں… ان میں سے بعض زمزم کے کنویں کے
پاس ہیں اور بعض مدینہ منورہ روضۂ اطہر کے پاس…یہ تو عظیم مالک کا اس امت پر
احسان ہے کہ…دنیا میں یہ مقامات ہمارے لئے کھول دئیے…تاکہ ہم ان سے فیض پا کر مرنے
کے بعد اونچے محلات پا سکیں… ارے بھائیو! اور بہنو! مکہ اور مدینہ سے یاری لگاؤ ،
دوستی لگاؤ، تعلق بناؤ… مرنے کے بعد روح کو ان کے پڑوس میں کوئی جگہ مل گئی تو
جنت کے دروازے پر جا بیٹھو گے…یہ شہداء کرام کے مزے ہیں کہ وہ مرنے کے بعد … ان دو
مقامات پر جگہ پالیتے ہیں …بے شک وہ زندہ ہیں اور زندہ کہلاتے ہیں… مکہ اور مدینہ
میں زندگی ملتی ہے زندگی… شیطان زور لگاتا ہے کہ مسلمان وہاں نہ جائیں… اور اگر
چلے بھی جائیں تو وہاں کے بازاروں میں کھو جائیں… وہاں کے بازار بڑے خطرناک ہیں…
جو بھی جائے نیت باندھ کر جائے کہ…بازاروں سے حتی الوسع بچنا ہے…
بھائیو! اور بہنو! حج کی آواز لگ چکی ہے … اُٹھو نیت باندھ
لو…تلبیہ یاد کر لو…
لَبَّیْکَ اللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ
لَبَّیْکَ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ
حدیث شریف میں آتا ہے کہ…جب کوئی مسلمان ’’تلبیہ ‘‘ پڑھتا ہے
تو اس کے دائیں اور بائیں کے تمام پتھر، درخت اور عمارتیں بھی تلبیہ پڑھتی
ہیں…دائیں طرف زمین کے آخری کنارے تک اور بائیں طرف بھی زمین کے آخری کنارے تک…
ارے بھائیو! اور بہنو! زمین کے پتھر اور درختوں نے ہمارے معلوم نہیں کتنے گناہ
دیکھ رکھے ہیں…اور ہمارے گناہوں والی کتنی باتیں سن رکھی ہیں… اُٹھو! حرم شریف کی
طرف دوڑو… میقات پر احرام باندھو اور دیوانہ وار پڑھو…
لَبَّیْکَ اللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ
لَبَّیْکَ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ
دیکھو! مدینہ منورہ سے آواز آ رہی ہے…
اَیُّھَا النَّاسُ اِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ عَلَیْکُمُ الْحَجَّ
فَحُجُّوا ( صحیح مسلم )
اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کر دیا ہے…پس تم حج
کرو…
بس بات ہی ختم ہو گئی…مدینہ پاک سے حکم آ گیا…اب تو جانا ہے
ان شاء اللہ…جو بیچنا پڑے اسے بیچنا سعادت…جو چھوڑنا پڑے اسے چھوڑنا سعادت… اس میں
جو تھکنا پڑے وہ تھکاوٹ سعادت… ارے! جلدی کرو… ایسا نہ ہو کہ تمہارے درمیان اور
بیت اللہ کے درمیان رکاوٹیں آ جائیں… اس سال کی حج پالیسی کا اعلان ہونے والا ہے
… جنہوں نے اب تک یہ فریضہ ادا نہیں کیا…وہ آج سے ہی دو رکعت نفل روزانہ ادا کریں
خوب مانگیں، خوب گڑگڑائیں … جن کی اولاد جوان ہو چکی ہے… اور وہ استطاعت رکھتے ہیں
وہ اپنی اولاد کو حج کرائیں تاکہ… اولاد کے فرائض پورے ہوں… اور ان کی زندگی
بامقصد بنے… بھائیو! نوٹوں کی گنتی میں نہ پڑو، یہ نوٹ ہمیں اسی لئے ملتے ہیں کہ
ہم سب سے پہلے ان کے ذریعہ اپنے فرائض ادا کریں… ہاں! اپنی اور اپنی اولاد کی ایک
گنتی ہروقت ضرور کرتے رہو کہ…کتنے فرائض ادا ہو گئے اور کتنے باقی ہیں؟ … فریضۂ
نماز، فریضۂ زکوٰۃ، فریضۂ صیام، فریضۂ حج اور فریضۂ جہادِ فی سبیل اللہ…ہمارے
ایک استاذ محترم فرمایا کرتے تھے کہ جن کے پاس ’’حرمین شریفین‘‘ جانے کے اسباب نہ
ہوں اور وہ جانے کا شوق رکھتے ہیں… تو وہ ہر نماز کے بعد ایک بار ’’تلبیہ‘‘ پڑھ
لیا کریں… ان شاء اللہ آسانی ہو جائے گی…
لَبَّیْکَ اللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ
لَبَّیْکَ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ
حضرت نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام کا تحفہ
حضرت سیّدنا نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آخر عمر میں اپنے
بیٹے کو اپنا ولی عہد بنایا اور وصیت فرمائی کہ… دو چیزیں کرنا تم پر لازم اور دو
چیزوں کو چھوڑنا تم پر لازم ہے…
جو دو چیزیں کرنی ہیں ان میں پہلی…
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْـدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ
الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ
ان کلمات کو اپنا ورد بنائیں …ان کی شان عظیم ہے…اگر ان کلمات
کو آسمان و زمین سے تولا جائے تو یہ ان سے زیادہ نکلیں گے…
اور دوسری چیز …
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ…
ہمیشہ پڑھا کرو، یہ کلمے تمام مخلوق کے لئے وظیفہ ہیں… ان کا
پڑھنے والا محتاج نہیںہوتا اور جو دو چیزیں چھوڑنا لازم ہیں… وہ ہیں شرک اور تکبر
کہ ان سے ہمیشہ دور رہنا فرض ہے… حضرت سیدنا نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو دو
وظیفے سکھائے ہیں …ان کے فضائل ، فوائد اور خواص بہت عالی شان ہیں… اہل دل کبھی دل
کی روشنی میں ان پر غور کریں تو ان پر شکر اور خوشی کا حال طاری ہو جائے…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر ’’فتنے‘‘ سے بچائے…
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَھَرَ
مِنْھَا وَمَا بَطَنَ۔
خوش نصیب ہے وہ جو فتنوں سے بچا لیا جائے … حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا…
خوش نصیب ہے وہ جو فتنوں سے بچا لیا جائے …اور آخر میں
فرمایا…واہ ، واہ! اس کے لئے جس پر فتنہ آئے مگر وہ صبر کرے…یعنی ثابت قدم رہے
…وہ پرُ نور ’’بابا جی‘‘ یاد آ رہے ہیں …نام بھی ’’محمد حیات ‘‘ اور کام بھی
حیات…اور اب ان شاء اللہ ان کے لئے حیات ہی حیات… انہوں نے اپنے وصیت نامے میں
تحریر فرمایا کہ … مجھے جماعت سے ہٹانے کی بہت کوشش کی گئی…تفرقہ بازی بھی ایک بڑا
فتنہ ہے…فتنہ وہ ہوتا ہے جو انسان کو امتحان اور’’ آزمائش‘‘ میں ڈال دیتا ہے …اس
کی عقل اور دل پر حملہ آور ہوتا ہے…جو اسے اپنی کشش کی طرف کھینچتا ہے… جو ہوتا
باطل ہے مگر دعویٰ حق ہونے کا کرتا ہے… اسی لئے تو اسے ’’فتنہ‘‘ کہتے ہیں کہ انسان
اس کی وجہ سے ڈگمگانے لگتا ہے کہ میں کدھر جاؤں؟…حضرت آقا مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو فتنوں سے متنبہ فرمایا …بہت سے فتنوں کی
نشاندہی فرمائی…کالی اندھیری رات جیسے فتنے … خوفناک اندھے فتنے … یا اللہ! حفاظت…
ایک نظر ’’ماوراء النہر ‘‘ کے علاقے پر ڈالیں…بخارا، سمر قند، تاشقند…ترمذ اور
فرغانہ… آج وہاں کفر ہی کفر…گناہ ہی گناہ اور ظلم ہی ظلم ہے… یہ وہ علاقے تھے
جہاں ایمان تھا، علم تھا ، نور تھا…اور روشنی ہی روشنی تھی… وہاں سے فقہ کے امام
اٹھے اور اسلامی دنیا پر چھا گئے … وہاں سے حدیث کے ائمہ اٹھے اور ساری دنیا کو
اپنے پیچھے چھوڑ گئے…وہاں سے تصوف کے امام اٹھے اور مشرق و مغرب کو روشن کر
گئے…مگر پھر’’ فتنہ‘‘ آیا …اور سب کچھ کھا گیا سب کچھ مٹا گیا … فتنہ کبھی ظلم کی
صورت میں آتا ہے …اور کبھی عیش کی صورت میں… فتنہ کبھی دشمن کی شکل میں آتا
ہے…تو کبھی مقدس روپ دھار کے…بس ہر وہ چیز جو حق سے ہٹانے…اور گمراہ کرنے کی طاقت
رکھتی ہو…وہ فتنہ کہلاتی ہے… حیات بابا جی جماعت کے ساتھ جڑے رہے…اللہ تعالیٰ نے
انہیں لالچ والے فتنے سے بھی بچایا…اور مقدس شکل دھار کر گمراہ کرنے والے فتنے سے
بھی بچایا… بالآخر وہ جام شہادت نوش فرما گئے…
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَہٗ وَارْحَمْہُ وَتَقَبَّلْہُ شَہِیْدًا
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے
کسی فتنے کا کوئی خطرہ نہیں تھا…مگر آپ اپنی ہر نماز میں فتنوں سے پناہ مانگتے
تھے…زندگی کے فتنوں سے بھی اور موت کے فتنوں سے بھی…
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا
وَالْمَمَاتِ
زندگی کے فتنے بھی بہت خطرناک…کیسے کیسے لوگ کھڑے کھڑے گمراہ
ہو جاتے ہیں اور دین سے ہٹ جاتے ہیں اور موت کے فتنے اس سے بھی زیادہ خطرناک… فتنے
کی ایک بڑی مصیبت یہ ہے کہ…اس میں مبتلا ہونے والا شخص خود کو ‘‘غلط‘‘ نہیں
سمجھتا… اسی لئے فتنہ… گناہ سے زیادہ خطرناک ہے…گناہگار آدمی خود کو گناہ گار اور
مجرم سمجھ کر نادم ہوتا ہے، شرمندہ ہوتا ہے اور توبہ کرتا ہے… مگر جو فتنے میں
پھنس جائے وہ تو خود کو حق پر سمجھتا ہے…اب کہاں ندامت اور کہاں توبہ؟
اسی لئے حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم نے اپنی امت کو فتنوں سے حفاظت کے نسخے سکھائے… اور فتنوں سے
حفاظت کی دعائیں یاد کرائیں…اور بہت سے فتنوں کی شکلیں اور رنگ تک بتا دئیے… مسیح
دجال کا فتنہ…یہ طاقت،قوت اور ٹیکنالوجی کے زور پر دین سے گمراہ کرنے کا فتنہ ہے…
دجال کذابوں کا فتنہ … یہ روحانیت ،نبوت اور عملیات کے زور پر لوگوں کو دین سے
ہٹانے کا فتنہ ہے … حُبِّ مال کا فتنہ… یہ اس اُمت کا سب سے خوفناک اور خطرناک
فتنہ ہے…عورتوں کا فتنہ… یہ مسلمان مردوں اور عورتوں دونوں کو بے ایمان، بے عزت
اور ذلیل کرنے کا فتنہ ہے… ایسی ذلت جو دین سے ہٹا دیتی ہے …حبّ جاہ کا فتنہ…یہ
اُمت میں فساد، قتل و غارت اور بربادی لانے والا فتنہ ہے… حدثان کا فتنہ… یہ کم
علم اور کم عقل متشدد لوگوں کا فتنہ ہے جس نے خوارج کی شکل اختیار کر لی تھی…
اِلحاد کا فتنہ… بدعات کا فتنہ…اولاد کا فتنہ…کفار کی شان و شوکت اور روشنی کا
فتنہ… کفار کے غلبے اور ترقی کا فتنہ… نفاق اور منافقین کا فتنہ… یا اللہ!
رحم…فتنے ہی فتنے …بس وہی بچ سکتا ہے جسے آپ بچا لیں … اور وہی نکل سکتا ہے جس کو
آپ نکال دیں…
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَھَرَ
مِنْھَا وَمَا بَطَنَ
فتنوں سے حفاظت کیسے ہو؟…پہلا نسخہ فتنوں سے حفاظت کی مستقل
دعاء …دن رات دعاء … ہر نماز میں دعاء…اس بارے میں یہاں تک دعاء سکھائی گئی کہ یا
اللہ! جب قوم پر آپ فتنہ لانے کا فیصلہ فرمائیں تو مجھے فتنے سے پہلے ہی موت
دیدیں … یعنی فتنہ ایسا کڑوا ہے کہ…اس کے مقابلے میں موت بھی میٹھی ہے…خود حضور
پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
وَالْمَوْتُ خَیْرٌ لِّلْمُؤْمِنِ مِنَ الْفِتْنَۃِ
یعنی مومن کے لئے موت، فتنہ سے بہتر ہے…
یہ دراصل ایک حدیث پاک کا ٹکڑا ہے … اس حدیث میں حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھایا کہ انسان موت کو برا
سمجھتا ہے حالانکہ اس کے لئے موت ، فتنے میں مبتلا ہونے سے بہت بہتر ہے اور انسان
مال کی کمی کو برا سمجھتا ہے حالانکہ مال کم ہو گا تو آخرت میں حساب بھی کم ہو
گا…
(مسند احمد)
دعاء کے الفاظ یہ ہیں:
وَاِذَا اَرَدْتَّ فِتْنَۃَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِیْ غَیْرَ
مَفْتُوْنٍ۔
فتنوں سے حفاظت کا دوسرا نسخہ… اللہ تعالیٰ سے دین پر ثابت
قدمی کی دعاء مانگنا ہے:
١ ﴿رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَيْتَنَا
وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَھَّابُ﴾
٢ اَللّٰھُمَّ یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ
عَلٰی دِیْنِکَ
٣ ﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِيْٓ
اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ﴾
ہر مسلمان اللہ تعالیٰ سے ثابت قلبی اور ثابت قدمی مانگتا
رہے…کیونکہ ہر آدمی کا دل اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے… وہ چاہے تو ثابت رکھے اور
چاہے تو پھیر دے…
فتنوں سے حفاظت کا تیسرا نسخہ…اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر
ہے…
شکر کے معنٰی ہر نعمت کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھنا… اور
اس نعمت کی دل سے قدر کرنا … ایمان کی نعمت…فرائض کی نعمت…جہاد کی نعمت ،جماعت کی
نعمت… پاکدامنی کی نعمت… وضو اور طہارت کی نعمت …رزق، مال، اہل اور اولاد کی نعمت…
عزت اور پردہ پوشی کی نعمت…جو بھی ان نعمتوں کو اپنا کمال نہیں سمجھتا… بلکہ اللہ
تعالیٰ کا فضل سمجھتا ہے وہ فتنوں سے بچا رہتا ہے… کیونکہ نعمتیں ہی دراصل فتنے بن
جاتے ہیں…جب انسان کی بد نصیبی جاگتی ہے… جب اس کے اندر بُرائی، فخر اور تکبر پیدا
ہوتا ہے… جب وہ اپنے مقصد سے ہٹ کر نعمتوں کا ناجائز استعمال کرتا ہے …یا اللہ!
آپ کی پناہ…
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَھَرَ
مِنْھَا وَمَا بَطَنَ
فتنوں سے حفاظت کا ایک اہم ترین نسخہ … قرآن مجید ہے…قرآن
مجید سیکھنا ،پڑھنا اور اس پر عمل کرنا… یہ نسخہ آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے اپنے رازدار صحابی حضرت سیّدنا حذیفہ رضی اللہ
عنہ کو سکھایا… اور بے شک یہ سب سے اہم ترین نسخہ ہے…ہمارے زمانے میں
’’انکارِ جہاد‘‘ کا جو فتنہ مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکے ڈال رہا ہے…اس فتنے کا علاج
…قرآن مجید کی آیات جہاد میں ہے… ہمارے لئے بے حد شکر کا مقام ہے کہ…اللہ تعالیٰ
نے ہماری جماعت کو محض اپنے فضل سے …یہ نعمت عطاء فرمائی ہے… جماعت کے زیر انتظام
’’ آیاتِ جہاد‘‘ کے تفسیری دورے پورے ملک میں …اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے دیگر
ممالک میں بھی پڑھائے جاتے ہیں…یہ الحمد للہ بہت با برکت سلسلہ ہے…مرکز بہاولپور
میں پورا سال یہ دورہ ہر ماہ پڑھایا جاتا ہے…اور سال بھر اس مبارک دورے کی ترتیب
ملک کے کئی اضلاع میں جاری رہتی ہے… جبکہ رجب و شعبان میں سالانہ دورے پورے ملک
میں رکھے جاتے ہیں…اس سال الحمد للہ دین کے دیوانوں نے زیادہ محنت کی ہے …اور
تقریباً پچاس کے قریب ’’دوراتِ تفسیر‘‘ کا اہتمام کیا ہے… اللہ تعالیٰ نصرت فرمائے
… اللہ تعالیٰ قبول فرمائے…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے ’’مجاہدین ‘‘ کو بڑی قیمتی اور اونچی دعاء
سکھلا دی ہے…
ایسی دعاء جو غموں کے پہاڑ مٹا دیتی ہے… ایسی دعاء جو ڈوبتے
دل کو شیر بنا دیتی ہے… ایسی دعاء جو لرزتے قدموں کو جما دیتی ہے… ایسی دعاء جو
وساوس کے سیلاب کو اڑا دیتی ہے…ایسی دعاء جو سخت شیطانی حملے کے وقت ایمان کو بچا
لیتی ہے … سورۂ آل عمران ،چوتھا پارہ کھولیں … دیکھیں! دعاء مسکرا رہی ہے:
﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِيْٓ
اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ﴾
دل بیچ کے آؤ
جہادِ فی سبیل اللہ پر وہ آتا ہے جو اللہ تعالیٰ کا دوست
ہوتا ہے… دین کی یہ بلند ترین چوٹی اللہ تعالیٰ کے ’’یاروں ‘‘کے لئے خاص ہے… اور
یار وہ ہوتا ہے جو جان سے پہلے دل دیتا ہے…
ہم نے اُن کے سامنے اول تو خنجر رکھ دیا
پھر کلیجہ رکھ دیا ، دِل رکھ دیا، سر رکھ دیا
جن کو اپنی عقل پر ناز ہو…اور دل ان کے مردہ ہوں، وہ جہاد پر
نہیں آتے… جن کو بس اپنے ’’بچاؤ‘‘ کی فکر ہو…وہ جہاد پر نہیں آتے… اس عظیم اور
مبارک راستے پر صرف اللہ والے آتے ہیں، دل والے آتے ہیں…
آنا ہے جو بزمِ جاناں میں
پندار خودی کو توڑ کے آ
اے ہوش و خرد کے دیوانے!
یاں ہوش و خرد کا کام نہیں
حضرات انبیاء علیہم السلام …جہاد میں
شریک ہوئے، قید ہوئے، زخمی ہوئے… ہاں! دنیا میں اللہ تعالیٰ کے یاروں کے ساتھ یہی
کچھ ہوتا ہے …حضرات صدیقین، اولیاءِ جہاد میں شہید ہوئے، قید ہوئے، معذور ہوئے…
آسان زندگی تو ہر کوئی جی لیتا ہے… بے کار اور بے مقصد… سستی نعمتیں تو ہر کوئی
پا لیتا ہے… مگر جہاد تو اونچی چوٹی ہے… موت اور کفر کو شکست دینے والی چوٹی… جہاد
تو بڑی مہنگی نعمت ہے… کیونکہ یہ… اللہ تعالیٰ کے قرب کا خاص مقام ہے… اس لئے اس
میں ہمت والے ہی اترتے ہیں… اور پھر ہمت والوں میں بھی عزم والے اس میں
کامیاب ہوتے ہیں …وہ جو ہر مشکل پر مسکراتے ہیں… اور ہر تکلیف کو چومتے ہیں…
تو خوش ہے کہ تجھ کو حاصل ہیں
میں خوش کہ مرے حصے میں نہیں
وہ کام جو آساں ہوتے ہیں
وہ جلوے جو اَرزاں ہوتے ہیں
قیمتی نعمتیں ہوں گی… شہادت ، قید اور زخم… اور جہاد کا انعام
بہت اونچا ہو گا…محبت، زندگی، حساب سے خلاصی… اور فردوس اعلیٰ… جس کو آنا ہو آ
جائے…مگر جو آئے وہ اپنا دل اللہ تعالیٰ کو بیچ کر آئے… اب اپنی کوئی خواہش نہیں
…بس محبوب جو چاہے اسی میں دل خوش ، اسی میں دل راضی… ہاں! جہاد میں انسان کی ذاتی
زندگی کی ’’بربادی‘‘ ہے… ویرانی ہے…مگراسی بربادی اور ویرانی کے اندر تعمیر ہی
تعمیر ہے… آبادی ہی آبادی ہے… اور کامیابی ہی کامیابی ہے…
یہ صحن و روش ، لالہ و گل
ہونے دو جو ویراں ہوتے ہیں
تخریبِ جنوں کے پردے میں
تعمیر کے ساماں ہوتے ہیں
سبحان اللہ! اربوں انسان قبروں میں پڑے ہزاروں سال سے ’’حشر‘‘
کا انتظار کر رہے ہیں… جبکہ جہاد کے شہداء…اللہ تعالیٰ کا رزق کھا رہے ہیں، جام
بھر بھر کے پی رہے ہیں…اونچی اڑانوں میںاُڑرہے ہیں…کائنات اور آسمانوں کی سیریں
کر رہے ہیں…یعنی وہ جو جان بچا بچا کر جیتے رہے وہ مر گئے، مٹ گئے اور جو جان دینے
کو دوڑے…ان کی جان کو ہمیشہ کی زندگی مل گئی…
عشق کی بربادیوں کو رائیگاں سمجھا تھا میں
بستیاں نکلیں ، جنہیں ویرانیاں سمجھا تھا میں
شاد باش و زندہ باش اے عشق خوش سودائے من
تجھ سے پہلے اپنی عظمت بھی کہاں سمجھا تھا میں
نہ چال بدلی نہ کھال
جہادِ فی سبیل اللہ… اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ’’یاری‘‘ کا نام
ہے… اور یہ دوستی اور یاری ان کی قبول ہوتی ہے جو جہاد کی مشکلات میں پڑھتے ہیں…
﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِيْٓ
اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ﴾
سمجھا دیا گیا کہ… جہاد میں روٹی والے جعلی مجنوں نہیں ٹھہر
سکتے… نیپال میں ایک معمولی سی پہاڑی چوٹی ہے…اس کا نام ’’ایورسٹ‘‘ ہے… معمولی اس
لئے کہا کہ جہاد والی چوٹی بہت اونچی ہے… دنیا کے سارے پہاڑ اٹھا کر ایک دوسرے کے
اوپر رکھ دو… پھر ان پر چاند رکھ دو، سورج رکھ دو… پھر ان پر مریخ رکھ دو، مشتری
رکھ دو… تب بھی یہ سب مل کر جہاد کی بلندی کو نہیں پہنچ سکتے… یقین نہ آئے تو
شہدائِ اُحد کے حالات پڑھ لو… اللہ تعالیٰ نے ان سے کس طرح خود باتیں فرمائیں …
اور کس طرح ان کا پیغام ساری دنیا کو سنایا… ایورسٹ کی معمولی سی بلندی پر چڑھنے
کے لئے ’’کوہ پیما‘‘ ایسی خوفناک تکلیفیں اٹھاتے ہیں کہ جن کا… عام آدمی تصور بھی
نہیں کر سکتا… کتنے کوہ پیما، راستے میں گر مرے… اور کتنے زخمی اور معذور ہو آئے
… جہاد ’’ایورسٹ ‘‘ سے زیادہ بلند ہے… اس لئے اس میں زیادہ تکلیفیں آتی ہیں…اور
بار بار آتی ہیں… اب جو ان آزمائشوں کے دوران نہ چال بدلتے ہیں نہ کھال… نہ
تلوار چھوڑتے ہیں نہ ڈھال… بلکہ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر اپنے گناہوں
کی معافی مانگتے ہیں… اور اللہ تعالیٰ سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں ان حالات میں
جہاد سے محروم نہ فرما… بس یہی وہ لوگ ہیں جن کی یاری اور دوستی مقبول ہے…اور ان
کا جہاد اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے…فرمایا:
﴿وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الصَّابِرِیْنَ﴾
شیطان کے حملے
یہودیوں نے جنگ کا ایک بزدلانہ طریقہ نکالا … دیواروں کے
پیچھے سے لڑنا… اب دنیا کے کئی ممالک نے یہ طریقہ اپنا لیا ہے… آگے ٹینک اور بکتر
پیچھے اس کی اوٹ میں فوجی… جہاد کے دوران مجاہدین پر جو آزمائشیں اور مصیبتیں
آتی ہیں … وہ خوفناک ٹینکوں کی طرح ہوتی ہیں… اور ان ٹینکوں کے پیچھے شیطان چھپا
ہوتا ہے… بس جیسے ہی مجاہد پر کوئی آزمائش آئی…مثلاً وہ زخمی ہوا، معذور ہوا،
گرفتار ہوا یا پسپا ہوا… شیطان نے فوراً اس پر تین قاتل تیر پھینک دیئے…
١ ’’وھن‘‘
کا تیر
٢ ’’ضعف‘‘
کا تیر
٣ ’’اِستکانت‘‘
کا تیر
آپ میں سے کئی افراد کو تجربہ ہوا ہو گا… آزمائش کے وقت
’’وھن ‘‘ کا حملہ ہوتا ہے… بزدلی، کم ہمتی، بے دلی… بس یار بھاگ جاؤ، جان بچاؤ ،
گھر بناؤ، بچے سنبھالو…دوسرا حملہ ’’ ضعف‘‘ کا… یعنی کمزوری …کہ اب ہم نہیں لڑ
سکتے… اب ہمیں نہیں لڑنا چاہیے… اور تیسرا حملہ ’’استکانت‘‘ کا… یار بہت تکلیف
دیکھ لی اب اپنے نظریہ میں لچک دکھاؤ…دشمنوں سے ہاتھ ملاؤ … کافروں اور منافقوں
سے اَمن کی اور صلح کی بھیک مانگو… جو شیطان کے ان تیروں میں سے کسی تیر کا شکار
ہو گیا… وہ مارا گیا… وہ عشق میں ناکام ہو گیا… اس کی یاری جھوٹی نکلی… اس کا جہاد
کھوٹا نکلا… مگر سوال یہ ہے کہ ان تیروں سے بچیں کیسے؟… فرمایا وہ جو ہمارے تھے وہ
ان تیروں سے بچ گئے… انہوں نے میدانوں میں اپنے انبیاء علیہم
السلام کے شہید ہونے کی خبر سنی … اللہ، اللہ اس سے بڑا غم اور صدمہ
اور کیا ہو سکتا ہے؟ … اس سے زیادہ بے ہمت اور بے حوصلہ کرنے والی اور کیا چیز ہو
سکتی ہے؟… مگر وہ ڈٹے رہے …کیوں؟… اس لئے کہ انہوں نے شیطانی تیروں کا فوری دفاع
اور علاج کر لیا…وہ علاج ہے:
﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِيْٓ
اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ﴾
انہوں نے اپنے محبوب رب سے مغفرت مانگ لی ﴿رَبَّنَا اغْفِرْ
لَنَا﴾ … مغفرت علاج ہے ’’وھن ‘‘ کا… کیونکہ بزدلی اور کم ہمتی گناہوں کی وجہ سے
آتی ہے… گناہ مٹے تو بزدلی بھی بھاگ گئی …اور انہوں نے اپنے محبوب رب سے ثابت
قدمی مانگ لی… ﴿وَ ثَبِّتْ أَقْدَامَنَا﴾… ثابت قدمی ’’علاج ‘‘ ہے ’’ضعف‘‘ کا… جب
اللہ تعالیٰ پاؤں جما دے تو پھر کیسی کمزوری اور کونسی کمزوری؟…
اور انہوں نے اپنے محبوب رب سے ’’ نصرت ‘‘ مانگ
لی…
﴿وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِینَ﴾
اور نصرتِ الٰہی ’’علاج ‘‘ ہے… استکانت کا…اللہ تعالیٰ کی مدد
اور نصرت آ جائے تو پھر کون جھکے؟ کون دبے؟ اور کیوں دبے؟…
بھائیو! دل سے پڑھو، سمجھ کر پڑھو، کثرت سے پڑھو… اور گڑگڑا
کر مانگو…
﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِيْٓ
اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ﴾
اس مبارک دعا کا مکمل مفہوم ، معنیٰ اور پس منظر سمجھنے کے
لئے سورہ آل عمران کی آیات ۱۴۶، ۱۴۷، ۱۴۸ کا… فتح الجواد میں مطالعہ فرما لیں…
فرق واضح ہے
آپ نے ’’تربوز ‘‘ دیکھا ہو گا… اسے متیرہ اور ہندوانہ بھی
کہتے ہیں… اوپر سے سارے تربوز ایک جیسے لگتے ہیں… مگر جب کاٹیں تو کوئی سرخ میٹھا
نکلتا ہے… اور کوئی سفید پھیکا… جو سرخ اور میٹھا ہو اسے قبول کر لیا جاتا ہے… اور
جو سفید پھیکا ہو وہ پھینک دیا جاتا ہے یا جانوروں کو ڈال دیا جاتا ہے… اسی طرح
دیکھنے میں سب ’’مجاہد‘‘ ایک جیسے لگتے ہیں… لیکن جب آزمائش کی ’’چھری‘‘ چلتی ہے
تو اصل رنگ ظاہر ہو جاتا ہے… میٹھے مخلص قبول کر لئے جاتے ہیں… اور پھیکے کچے
پھینک دئیے جاتے ہیں…میٹھے مخلص وہ ہوتے ہیں جو آزمائشوں کے وقت ڈٹے رہتے ہیں…
آپ اندازہ لگائیں کتنا بڑا فرق ہے… ایک شخص پر آزمائش آئی تو وہ جہاد سے بھاگنے
کی تدبیریں کر رہا ہے… یعنی اللہ تعالیٰ کے راستے کو چھوڑ رہا ہے… اور دوسرا وہ کہ
جس پر آزمائش آئی تو اللہ تعالیٰ سے معافیاں مانگ مانگ کر منت کر رہا ہے کہ… یا
اللہ! مجھے ثابت قدم رکھ اور مجھے اپنے راستے سے محروم نہ فرما…
اب سوال یہ ہے کہ ہم بہت کمزور ہیں… جبکہ آزمائشیں بہت سخت
ہیں تو پھر… ایسے سخت حالات میں کس طرح سے میٹھے اور مخلص رہیں؟ … جواب آیا کہ
اخلاص و یقین کے ساتھ یہ پڑھنے میں لگ جاؤ:
﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِيْٓ
اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ﴾
یعنی سچا استغفار کرو…اللہ تعالیٰ سے ثابت قدمی مانگو… اور
اللہ تعالیٰ کی نصرت مانگو… بھاگنے، کچا ہونے ، پھیکا پڑنے اور جھکنے یا دبنے کا
خیال دل سے نکال دو…اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو اور ڈٹے رہنے کا عزم باندھو… یہ
تمام باتیں اسی دعاء میں آجاتی ہیں:
﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِيْٓ
اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ﴾
حکمرانوں کے لئے جگر کا ایک شعر
قرآن مجید میں سمجھایا گیا کہ… ماضی کی امتوں میں ایسے اللہ
والے مجاہد موجود تھے…جو جہاد کی آزمائشوں سے نہ کم ہمت ہوئے، نہ کمزور پڑے، نہ
جھکے… بلکہ انہوں نے کہا:
﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِيْٓ
اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ﴾
ایسے مجاہدین کا بدلہ یہ ہے کہ …دنیا میں ان کو اعلیٰ درجے کی
عزت اور آخرت میں دوسروں سے اونچا مقام ملا…اس میں ایک تو سبق ہے کہ …امت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل اُمت ہے… اس کے مجاہدین
کو بھی یہی طرز اپنانی چاہیے… اور دوسرا اس میں یہ پیغام ہے کہ… جب سابقہ امتوں
میں ایسے مجاہدین موجود تھے تو اس اُمت میں ان سے بھی بڑھ کر موجود رہیں گے…
کیونکہ یہ ’’خیرِ اُمت‘‘ ہے… اس لئے حکمرانوں کے لئے بڑی بُری خبر ہے کہ… جہاد کے
خلاف ان کے تمام اقدامات ناکام رہیں گے…اور ان شاء اللہ جہاد بھی موجود رہے گا اور
مخلص مجاہدین بھی… اس موقع پر پاکستان کے ہندوپرست حکمران ٹولے کے لئے… جگر کا ایک
شعر پیش ہے:
آسودہ ساحل تو ہے مگر
شاید یہ تجھے معلوم نہیں
ساحل سے بھی موجیں اٹھتی ہیں
خاموش بھی طوفاں ہوتے ہیں
اسی کا وقت ہے
جماعت پر اس وقت جہاد کے راستے کی آزمائشوں کا زور ہے…
پابندیاں، گرفتاریاں، چھاپے اور سازشیں …بعض گرفتاریاں تو ہمارے لئے اپنی گرفتاری
سے بھی زیادہ اذیت ناک ہیں … مگر یہ جہاد ہے… یاروں والا فریضہ… عشق والا عمل…اس
لئے ضروری ہے کہ …ہم ثابت قدم رہیں… اور یہی وہ وقت ہے ، ہم دل کی توجہ اور کثرت
سے پڑھیں…
﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِيْٓ
اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ﴾
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں پر ’’سکینہ‘‘نازل فرمائے… دل بھی کبھی
کبھار تھک جاتے ہیں، اُکتا جاتے ہیں…
دل کی اکتاہٹ کا علاج
حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ
عنہ کا فرمان ہے:
’’دلوں کو بھی آرام دو، ان کے لئے حکمت آمیز لطیفے تلاش کرو
کیونکہ جسموں کی طرح دل بھی تھکتے اور اُکتا جاتے ہیں‘‘… ( المرتضیٰ، ص: ۲۸۸)
حضرت نے دلوں کی اُکتاہٹ کا علاج … حکمت آمیز لطیفوں کو قرار
دیا…
آج ہم بھی …ان شاء اللہ دلوں کی تھکاوٹ دور کرنے کے لئے کچھ
ہلکے پھلکے لطیفے سنائیں گے… وجہ یہ ہے کہ تمام تازہ خبریں دلوں کو تھکانے اور
اُکتانے والی ہیں…مثلاً
٭ پرویز
مشرف جو دوبارہ صدر پاکستان بننے آیا تھا…پاکستان سے بھاگ گیا ہے…جہاد مسکرا رہا
ہے…انتہا پسندی قہقہے لگا رہی ہے … سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ رو رہا ہے…جبکہ
پرویز مشرف اپنے دھوئیں سے دبئی کو بدبودار کر رہا ہے… ظلم، شکست اور بزدلی کے
دھبے اس کے نامۂ اعمال پر نقش ہو چکے ہیں…بالآخر سب نے مر جانا ہے…اللہ تعالیٰ
ایسے دھبوں سے ہم سب کی حفاظت فرمائے…آمین
٭ بلوچستان
سے انڈیا کا ایک حاضر سروس جاسوس پکڑا گیا ہے… یہ ملکی سلامتی کے حوالے سے ایک بڑا
واقعہ ہے… مگر نہ ملک کا وزیر اعظم تڑپا اور نہ وزیر اطلاعات… شاید دونوں غمزدہ
ہوں گے کہ ایک گہرے دوست ملک کا جاسوس کیوں پکڑ لیا…اور وہ بھی ’’ہندو‘‘ …پکڑنا تو
صرف مجاہدین کو چاہیے… اور مسلمانوں کو…اسی وجہ سے نہ انڈیا پر کوئی دباؤ ڈالا
گیا اور نہ عالمی سطح پر یہ معاملہ اُٹھایا گیا…اس جاسوس کے گھر کا پتا میڈیا پر
بار بار آ رہا ہے…مگر ہندوستان نے نہ اس کے گھر پر چھاپہ ڈالا اور نہ اس کے رشتے
داروں پر… حالانکہ اگر کوئی پاکستانی مسلمان پکڑا جاتا تو اب تک…کئی گھروں ،
مسجدوں اور خاندانوں پر چھاپے پڑ چکے ہوتے…ظالمو! اللہ تعالیٰ کے انتقام سے ڈرو…
٭ انڈین
جاسوس کے پکڑے جانے پر نہ مذاکرات ملتوی ہوئے…اور نہ وزراء اعظم کی ملاقات بلکہ اس
واقعے کے باوجود…اپنی تحقیقاتی ٹیم بھی پٹھانکوٹ بھیج دی گئی…دراصل پاکستان میں اس
وقت وہی حالات پیدا کیے جا رہے ہیں جو ۱۹۷۱ء کے وقت بنے تھے…اور ان
حالات کی وجہ سے ملک دو ٹکڑے ہوا تھا…اللہ تعالیٰ رحم فرمائے…
٭ لاہور
دھماکے کے بعد پھر آپریشن آپریشن کا شور ہے…یہی وہ آپریشن ہے جس نے دہشت گردی
کو جنا ہے…مزید جتنے آپریشن ہوتے جائیں گے دہشت گردی کے اتنے ہی بچے پیدا ہوتے
جائیں گے…مگر کوئی اس ملک کا ہمدرد ہو تو سوچے، ہر کسی نے اپنے اقتدار کے دن کمانے
ہیں… اور ان دنوں میں غیروں کو خوش رکھنا ہے … آئیے! ان اُکتا دینے والی خبروں سے
ہٹ کر… آج اپنے دل کو آرام دیتے ہیں…
لطیفوں کا لطیفہ
’’لطیفہ‘‘ کسے کہتے ہیں؟ آج کل کی عوامی زبان میں ہنسانے
والی بات کو ’’لطیفہ ‘‘ کہا جاتا ہے …وہ چھوٹا سا سچا یا جھوٹا قصہ جسے سن کر ہنسی
چھوٹ جائے…
ہم بھی بچپن میں ’’لطیفہ‘‘ کا یہی مطلب سمجھتے تھے…جامعہ میں
حضرت شیخ مفتی ولی حسن صاحبؒ اپنے بیان میں کبھی فرماتے… اس آیت میں
ایک عجیب لطیفہ ہے… تب ہم چھوٹے بچے ہنسنے کے لئے اپنے دانت تیار کر لیتے…مگر
ہنسنے والی کوئی بات سامنے نہ آتی… کبھی فرماتے … اب میں ایک دلچسپ لطیفہ سناتا
ہوں… تب ہم سراپا گوش، دندان بکف ہوشیار ہو جاتے… مگر ہنسنے کی خواہش پوری نہ
ہوتی… جب چند درجے علم پڑھ لیا تو معلوم ہوا کہ…لطیفہ صرف ہنسنے والی بات کو نہیں
کہتے… بلکہ لطیفہ کا مطلب ہوتا ہے … باریک نکتہ، لطیف بات، چھپا ہوا مطلب، دلچسپ بات،
انوکھی بات ، اچھی بات… یعنی ہر وہ بات جس میں لطافت کی چاشنی ہو وہ لطیفہ کہلاتی
ہے… اس میں ہنسی اور خوش مزاجی والی گفتگو بھی آ جاتی ہے… دل کے آرام اور راحت
کے لئے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جن ’’لطائف‘‘ کا تذکرہ
فرمایا ہے…ان سے مراد علم اور حکمت والی وہ مفید اور دلچسپ باتیں ہیں…جن کو سن کر
دل خوشی، تازگی اور راحت محسوس کرے…اور اس کا بوجھ ہلکا ہو جائے…
آج کل کے لطیفے
آج کل ہنسانے والی جھوٹی باتوں کو ہی لطیفہ سمجھا جاتا
ہے…بہرحال یہ بھی ایک ’’فن‘‘ ہے …ہر کوئی ہنسانے کی صلاحیت نہیں رکھتا…آپ نے
دیکھا ہو گا کہ کئی لوگ ایسے فضول لطیفے سناتے ہیں کہ…انہیں سن کر ہنسی نہیں رونا
آتا ہے… مگر وہ سنانے کے بعد دانت نکال کر زبردستی ہنسانے کی کوشش کرتے ہیں…اسی
طرح بعض لوگ اتنا مشکل لطیفہ سناتے ہیں کہ سمجھ میں نہیں آتا…پھر خود اسے سمجھاتے
ہیں اور یوں ہنسنے کا ٹائم ہی نکل جاتا ہے…ہمارے القلم کا ’’کارٹون ‘‘ بہت دلچسپ
ہوتا ہے…بعض اوقات تو بے ساختہ ہنسی بھی چھوٹتی ہے اور دل سے دعاء بھی نکلتی ہے …
کیونکہ دشمنان اسلام کی ایسی ذلت نمایاں کی جاتی ہے جو پورے ایک مضمون سے بھی نہیں
ہو سکتی… مگر بعض اوقات کارٹون سمجھ میں نہیں آتا… تب بندہ ادارے والوں سے رابطہ
کر کے عرض کرتا ہے …کارٹون کا مطلب ارشاد ہوتا کہ ہنسنے کا کاروبار کیا جا سکے…
مگر اس طرح کے ہنسی والے لطیفے سننے اور سنانے میں احتیاط کی
ضرورت ہے…کیونکہ بہت سے کفریہ لطیفے ’’ نیٹ ‘‘ پر اور معاشرے میں پھیلا دئیے گئے
ہیں… اگر لطیفے سننے اور سنانے ہوں تو خیال رہے کہ…ان میں اللہ تعالیٰ کا اسم
مبارک نہ آئے… قرآن مجید کی کسی آیت کا تذکرہ نہ ہو… حضرات انبیاء، ملائکہ کا
تذکرہ نہ ہو…کسی دینی فرض یا سنت کا مذاق نہ اُڑایا گیا ہو…کسی مسلمان قوم کی
تذلیل اور تحقیر نہ ہو…بس شرعی حدود میں رہتے ہوئے مزاح کیا جائے…اللہ تعالیٰ
ہنساتے بھی ہیں اور رُلاتے بھی ہیں…اسی لئے ہنسانے کے لئے بہت سی حلال چیزیں اور
باتیں پیدا فرمائی ہیں… ضروری نہیں کہ…حرام کاموں والے جنسی مذاق سن کر ہی انسان
کو خوشی ہو…بدکاری اور بے حیائی کے واقعات پر مبنی لطیفوں کو سننا بھی گناہ ہے اور
انہیںسنانا بھی گناہ ہے…وہ کام جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوتاہو ان کو سن کر
ایک مسلمان کس طرح سے ہنس سکتا ہے؟…
اب کون سا لطیفہ؟
لطیفے کے دو مطلب ہمارے سامنے آ گئے … اب آج کی مجلس میں
کون سا لطیفہ سنایا جائے … مفید دلچسپ باتیں؟… یا ہنسنے والے قصے؟ بندہ کے پاس
دونوں کا تھوڑا تھوڑا سٹاک موجود ہے… مگر مفید خوشگوار باتوں میں فائدہ زیادہ ہوتا
ہے … ویسے آپ آج کی تمہید سے یہ نہ سمجھیں کہ ہم حالات کی وجہ سے مایوس
ہیں…الحمد للہ ایسی کوئی بات نہیں…تمام کام مکمل اہتمام سے چل رہے ہیں … الحمد للہ
محاذ تمام آباد ہیں…مساجد، مدارس ، تربیہ، کفالت، تعلیم، ریاضت، تعمیر، حجامہ اور
دعوت سب کاموں میں…اللہ تعالیٰ کے فضل سے ترقی ہے…ابھی کراچی میں شاندار دورہ
تفسیر ہوا … کل کوہاٹ میں ایمان پرور اجتماع ہوا…پشاور میں مثالی تربیتی نشست
ہوئی…روز اجتماعات ہوتے ہیں…اور دیوانے نئی مہمات کی تیاری میں ہیں… ہاں! ہمارے
کئی رفقاء اور ذمہ دار ساتھی گرفتار ہیں…اللہ تعالیٰ سے ان کی جلد رہائی کی دعاء
اور اُمید ہے…
انسان کی کامیابی اور ناکامی…اس کے کام سے دیکھی جاتی ہے…آپ
نے الحمدللہ جہاد کے کام کو اپنایا…اور آج الحمد للہ جہاد دنیا کا سب سے بڑا اور
اہم معاملہ بن چکا ہے… اور دنیا کے تمام حکمران جہاد کے شرعی معنٰی کو سمجھ چکے
ہیں…اور اسے مٹانے کی ہر کوشش کر رہے ہیں…اور ان کی ہر کوشش جہاد کا ایک نیا محاذ
کھولنے کا ذریعہ بن رہی ہے… یہ آپ کی محنت کی دنیاوی کامیابی ہے … جبکہ اصل انعام
اور کامیابی آخرت میں ہے…
قیدیوں کے لئے
سورۂ یوسف میں تین کُرتے ہیں… حضرت یوسف علیہ
السلام کی تین قمیصیں… سبحان اللہ ! پہلی قمیص کی کرامت یہ کہ… اس سے
بھائیوں کا دھوکہ کھل گیا اور والد محترم کو معلوم ہو گیا کہ بیٹا زندہ ہے… دوسری
قمیص کی کرامت یہ کہ وہ آپ کی پاکدامنی کی شہادت بن گئی… اور تیسری قمیص کی کرامت
یہ کہ وہ والد محترم کے لئے بشارت اور شفاء بن گئی… آج یہ نکتہ اچانک میرے ذہن
میں آیا تو معارف کی ایک قطار لگ گئی… آپ بھی اس میں غور کریں… آج کل ساتھی
زیادہ گرفتار ہو رہے ہیں…ویسے تو رہائی کے کئی وظیفے…’’لطف اللطیف‘‘ میں عرض کر
دئیے ہیں…ایک یہ بھی ہے کہ… روزانہ توجہ سے ایک بار سورۂ یوسف پڑھ لیا کریں…یعنی
قیدی اگرروزانہ مکمل سورۂ یوسف پڑھے تو ان شاء اللہ رہائی میں آسانی ہو جاتی ہے
…اور شہادت کی موت کے لئے بھی اس سورت مبارکہ کی تلاوت کی جاتی ہے…
غریبوں کے لئے
غربت ایک بڑی عظیم الشان اور انمول نعمت ہے…مگر یہ بہت مشکل
نعمت ہے…بہت کم لوگ اس کو برادشت کر سکتے ہیں…اور وہ بڑا اونچا مقام پاتے ہیں…وہ
مسلمان جو مالی تنگی کا شکار ہیں … ان کے لئے ایک بڑا مجرب وظیفہ عرض خدمت ہے
…عشاء کے بعد سورۃ مزمل پڑھیں …جب یہ الفاظ آئیں…
﴿فَاتَّخِذْہُ وَکِیْلًا﴾
تو تلاوت روک کر پچیس بار پڑھیں…
﴿حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ﴾
پھر آگے پوری سورت مکمل کریں…
﴿وَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ الخ﴾
اس طرح سے روزانہ تین بار یا سات بار یہ سورت پڑھیں…ان شاء
اللہ عجیب فائدہ دیکھیں گے… اللہ تعالیٰ اپنے غیب کے خزانوں سے ہم سب کی جائز
حاجات پوری فرمائے…اور اپنے سوا کسی کا محتاج نہ فرمائے…آمین
دین بچائیں
ہمارے معاشرے میں بعض چیزیں ایسی داخل ہو گئی ہیں…جن کی شکل
نعوذ باللہ ’’نفاق‘‘ جیسی ہے… یعنی دل میں کچھ اور ہوتا ہے اور زبان پر کچھ اور…
مثلاً کوئی ہدیہ دیتا ہے تو اوپر اوپر سے بار بار اس کا ہاتھ پیچھے دھکیلتے ہیں
کہ… ہمیں نہیں چاہیے…حالانکہ دل میں ایسی لالچ ہوتی ہے کہ سامنے والے کا ہاتھ بھی
کاٹ لیں… کوئی کھانے کی دعوت دیتا ہے تو اوپر اوپر سے ضرور انکار کرتے ہیں…حالانکہ
دل کھانے کے شوق سے اچھل رہا ہوتا ہے…یہ طرز درست نہیں… بلکہ یہ خطرناک ہے اور اس
کی عادت ہماری پوری زندگی کو نفاق اور ریاکاری میں ڈال سکتی ہے…آپ نے کسی وجہ سے
ہدیہ قبول نہیں کرنا تو بے شک نہ کریں…لیکن اگر دل میں قبول کرنے کا ارادہ ہے تو
پہلی بار ہی میں خوشی اور شکریہ کے ساتھ خندہ لبی سے وصول کر لیں …اس میں عاجزی
بھی ہے اور شکر گزاری بھی… اس سے ممکن ہے سامنے والا آپ کو لالچی یا حریص سمجھے
گا…تو اس میں کوئی حرج نہیں… ہمیں اپنا ایمان بچانا ہے… اور ہم نفاق سے جس قدر دور
ہوں گے اسی قدر ہمارا ایمان محفوظ ہو گا… ہدیہ خوشدلی سے مسکراتے ہوئے…اللہ تعالیٰ
کی نعمت سمجھتے ہوئے وصول کریں… دینے والے کو دعاء دیں…اور قدر کے ساتھ رکھیں… اور
اگر کسی اور کو آگے دینا ہو تو بعد میں دیں…دینے والے کے سامنے نہ دیں… ہاں! اگر
ہدیہ قبول نہیں کرنا … اور اس کی کوئی شرعی وجہ موجود ہے تو پھر…تواضع کے ساتھ
انکار کر دیں…مگر یہ انکار پکا ہو…ہر ہدیہ اور ہر دعوت قبول کرنا ضروری نہیں… جس
ہدیے یا دعوت میں اپنا یا دینے والے کا دینی نقصان ہو وہ قبول نہیں کرنی چاہیے…
لطیفے بس کریں؟
ابھی میرے پاس آج کی مجلس کے لئے دو لطیفے باقی ہیں…ایک
کھانے میں عجیب برکت کا… اور دوسرا کھانے کے طریقے کا…دونوں بڑے کام کے لطیفے ہیں
مگر آپ کہیں گے…بابا! ہنسی تو آ نہیں رہی… اس لئے ایسے لطیفے بس اتنے ہی کافی
ہیں…مزید پھر کبھی… ٹھیک ہے بس کرتے ہیں…باقی رہی ہنسی تو آپ ایک آئینہ لے
لیں…رات کو اسے اپنے تکیے کے ساتھ رکھ کر سو جائیں… صبح جیسے ہی آنکھ کھلے فوراً
آئینہ اُٹھا کر خود کو دیکھیں… بہت ہنسی آئے گی…سچی بات ہے ہنس ہنس کر نماز کے
لئے جاگ جائیں گے … ہاں! بعض لوگ جب صبح جاگ کر آئینہ دیکھیں گے تو ان کو رونا آ
جائے گا…ان کو چاہیے کہ رونا چھوڑیں …شکر کریں اور ہنسیں… اللہ تعالیٰ آپ سب کو
ایمان کے ساتھ ہنستا مسکراتا رکھے… آمین
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی طرف سے ’’مغفرت‘‘ عطاء فرمائے…
مغفرت کے لئے قیمتی کلمات
بعض کلمات میں توبہ اور استغفار کا لفظ نہیں ہوتا…مگر وہ
کلمات ایسے وزنی اور بلند ہوتے ہیں کہ ان کو اخلاص سے پڑھا جائے تو ’’مغفرت‘‘ ملتی
ہے…یعنی گناہوں کی معافی اور بخشش مثلاً…
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت
علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا:
’’ کیا میں آپ کو ایسے کلمات نہ سکھا دوں کہ جب آپ انہیں
پڑھیں تو اللہ تعالیٰ آپ کو مغفرت عطا فرمائے…باوجود اس کے کہ آپ کو پہلے سے
مغفرت ملی ہوئی ہے…پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات
سکھائے:
’’لَآ اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ،لَآ
اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ،اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ
الْعَالَمِینَ‘‘ (مسند احمد، خصائص للنسائی)
اس حدیث شریف میں حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رضی
اللہ عنہ کی ایک بڑی فضیلت بھی آ گئی …کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے
’’مغفرت یافتہ ‘‘ تھے… اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رضی
اللہ عنہ سے سچی محبت اور عقیدت نصیب فرمائے … بعض لوگ حضرات خلفاء
کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی فتوحات کا ’’رقبہ‘‘ شمارکرتے ہیں…
فلاں خلیفہ نے اتنے ہزار مربع میل فتح فرمایا اور فلاں نے اتنا …اس تذکرہ میں حضرت
سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے ’’ مربعے‘‘ نہیں آتے… یوں لوگ
سمجھتے ہیں کہ نعوذ باللہ ان کی شان کم رہی… حالانکہ حضرت علی رضی اللہ
عنہ نے اپنے دور خلافت میں ان فتنوں سے قتال فرمایا …جو اگر نہ مارے
جاتے تو مسلمانوں کے اگلے پچھلے سب مفتوحہ علاقے ویران کر ڈالتے …ویسے بھی غزوۂ
بدر سے جنگ نہروان تک حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک ایک جہادی
کارنامہ …بہت اونچا اور بہت بھاری ہے…رضی اللّٰہ عنہ وارضاہ
ایک بات سوچیں
اوپر جو مغفرت کی دعاء آئی ہے وہ ایک بار توجہ اور اخلاص سے
پڑھ کر ایک بات سوچیں…ہمیں زندگی میں جتنی بھی بڑی نعمتیں ملتی ہیں…وہ اکثر
’’مصیبت‘‘ کے اوقات میں ملتی ہیں…انسان جب ’’مصیبت‘‘ میں ہوتا ہے تو اس پر اللہ
تعالیٰ کی رحمت زیادہ متوجہ ہوتی ہے…اور خود انسان کی عقل بھی زیادہ کام کرتی ہے…
قید، گرفتاری، بیماری ، جدائی ، زخم ، معاشی تنگی، اپنوں کی بے وفائی، دوستوں کے
مظالم ، رشتہ داروں کا حسد… وغیرہ وغیرہ… ایک بیمار آدمی جو اپنی بیماری پر صبر
کرتا ہے … روحانیت اور معرفت کے ان مقامات کو پا لیتا ہے جو بڑے بڑے عابد اور فاضل
سالہا سال کی محنت سے نہیں پا سکتے… آپ موبائل سے کچھ وقت بچا کر اس حقیقت پر
ضرور غور کریں…اپنے مصیبت کے دن یاد کریں…اور ان میں ملنے والی نعمتوں کو یاد
کریں…تب آپ کو’’ شکر گزاری ‘‘ نصیب ہو گی…ایک صاحب جیل میں گئے ،وہاں کی سختی میں
ان کی عقل روشن ہوئی تو انہیں معلوم ہوا کہ…وہ وضواور طہارت میں غلطی کر رہے تھے …
تب وہ شکر ادا کرتے ہوئے رو تے تھے کہ… زندگی بھر کی نمازیں بچ گئیں…ورنہ فضول
عبادت کرتے رہتے…
بہرحال یہ ایک مفصل موضوع ہے…بندہ نے صرف اشارہ عرض کر دیا ہے
کہ…اب اس پہلو پر ضرور غور کریں… آج کل ہمارے کئی رفقاء گرفتار ہیں… ان کے اہل
خانہ و اقارب ایک کرب اور مصیبت سے گذر رہے ہیں…ان حالات میں صبر و استقامت کی
ضرورت ہے… اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں فرماتے…
عذاب کی جھلکیاں
قرآن مجید سمجھاتا ہے کہ… اللہ تعالیٰ ’’ظالموں‘‘ کے کرتوتوں
سے بے خبر نہیں ہیں…
﴿لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ
الظّٰلِمُوْنَ ﴾
حکومت جو مظالم ڈھا رہی ہے…وہ سب اللہ تعالیٰ کے علم میں
ہیں…اس کی پکڑ کب آتی ہے یہ تو صرف خود وہی جانتا ہے… مگر اس پکڑ کے آثار اور
جھلکیاں صاف نظر آ رہی ہیں…آج کل حکمران خاندان… اپنے مالی معاملات میں ایسا بے
پردہ اور بے نقاب ہوا ہے کہ…ہر کوئی اس پر لعن طعن کر رہا ہے… قانون کے نام پر
عوام کو باندھنے والے اور مارنے والے خود کس قدر ’’لا قانون ‘‘ ہیں… یہ سب نے کھلی
آنکھوں سے دیکھ لیا ہے… پردے چاک ہونا شروع ہو گئے ہیں … آگے آگے دیکھئے ہوتا
ہے کیا؟… مظلوموں کی آہیں اور بد دعائیں رائیگاں نہیں جاتیں…
کھانے میں برکت
کھانے اور رزق میں برکت کا اصل نسخہ تو یہ ہے کہ…کھانا حلال
ہو اور سنت کے مطابق کھایا جائے…اس میں مزید دو اہم باتیں آج عرض کرنی ہیں…اگر
آپ چاہتے ہیں کہ…اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو کھاتے پیتے رہیں تو دو کام کر لیں…
پہلا یہ کہ جب بھی دودھ کے علاوہ کچھ کھائیں اور پئیں تو… درمیان میںیہ دعاء پڑھ
لیا کریں…
اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَ ارْزُقْنَا خَیْرًا
مِّنْہُ
یا اللہ! اس میں ہمارے لئے برکت عطاء فرما اور اس سے بہتر بھی
ہمیں عطاء فرما…
یہ مزید اچھے رزق کو کھینچنے والی دعاء ہے … اور یہ جنت پانے
کی بھی دعاء ہے کیونکہ جنت کی نعمتیں دنیا کی نعمتوں سے بہت بہتر اور افضل ہیں…
جو آدمی اس دعاء کا اہتمام رکھتا ہے…اس کے رزق اور خوراک میں
بہتری آتی چلی جاتی ہے … اور جب دودھ پئیں تو یہ دعاء پڑھیں…
اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَزِدْنَا مِنْہُ
یا اللہ! اس میں ہمارے لیے برکت عطاء فرما اور یہ ہمیں مزید
بھی عطاء فرما…
یہ ہوا پہلا کام…دوسرا کام یہ کہ کھانا چھپایا نہ کریں…بعض
لوگ اپنا کھانا چھپاتے ہیں… کوئی پوچھے آپ نے کھانا کھایا؟… یا تو صاف انکار کر
دیتے ہیں کہ ہم نے صبح سے کچھ بھی نہیں کھایا …یا پھر دو چار لقموں کی ذمہ داری
قبول کرتے ہیں …ایسے افراد سے آپ جب بھی ملیں …وہ آپ کو ہمیشہ بھوکے ملیں گے…یار
کیا کریں! آج کل بھوک ہی نہیں لگتی… صبح سے کچھ بھی نہیں کھایا … حالانکہ کافی
کچھ انہوں نے کھا پی رکھا ہوتا ہے… یہ لوگ چونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری
کرتے ہیں تو… پھر ان کا رزق واقعی کم ہوتا چلا جاتا ہے… کسی پر ڈاکٹر پابندی لگا
دیتے ہیں… اور کسی پر کوئی اور ایسی مصیبت آتی ہے کہ…رزق کم ہو جاتا ہے… تھوڑا سا
سوچیں! کھانا چھپانے کی کیا ضرورت ہے؟ شیطان سمجھاتا ہے کہ… اس طرح لوگ تم سے
ہمدردی کریں گے…حالانکہ یہ غلط ہے…کسی کے بھوکا رہنے یا کم کھانے سے کسی کو کیا
ہمدردی اور عقیدت ہو سکتی ہے؟… بعض لوگ ’’نظر‘‘ سے ڈرتے ہیں کہ اگر اپنا کھانا بتا
دیا…اور اب ان کے سامنے مزید بھی کھایا تو کوئی نظر لگا دے گا…حالانکہ یہ بھی غلط
ہے اور ریا کاری ہے… بہرحال جو بھی جس وجہ سے بھی…اپنے کھانے کو چھپاتا ہے یا کم
بتاتا ہے… وہ نہ لوگوں کی نظر میں محبوب شمار ہوتا ہے…اور نہ ہمدردی کے قابل …
بلکہ وہ صرف اور صرف اپنا نقصان کرتا ہے… ناشکری کی وجہ سے اس کی روزی کم ہوتی چلی
جاتی ہے…اور جھوٹ، ریاکاری اور دکھلاوے کا گناہ مزید اس کے سر پر چڑھ جاتا ہے…
اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے…
کھانے کا طریقہ
کھانا، اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے… اسے ہمیشہ ذوق شوق سے
کھانا چاہیے نہ کہ…ناز اور نخرے کے انداز میں…حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا…میں اس طرح کھاتا ہوں جس طرح ’’غلام ‘‘ کھاتا ہے…
غلام کو کھانا کم ملتا تھا اور سخت ضرورت کے وقت ملتا تھا…اس لئے اس کو جیسے ہی
کھانا ملتا تو وہ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر ایک ضرورت مند کی طرح مکمل ذوق، شوق سے
کھاتا تھا…ایک ایک لقمے کا ذائقہ لینا اور درمیان میں گفتگو کے وقفے کاٹنا اس کی
برداشت میں نہیں ہوتا تھا…اسی طرح وہ عاجزی اور تواضع سے کھاتا تھا…اور کھانے پر
زیادہ وقت نہیں لگاتا تھا…حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کے الفاظ میں بڑی عظیم جامعیت ہوتی ہے…ایک لفظ میں اتنا بڑا مفہوم
ارشاد فرما دیتے ہیں…آج کل غلام تو نہیں ہیں…آپ کسی ایسے مزدور کو دیکھ لیں جو
صبح سے دوپہر تک آٹھ گھنٹے سخت مشقت کا کام کرے… اور پھر اسے کھانا پیش کیا جائے
تو وہ کس طرح سے کھائے گا؟… آج کل ہمارے کھانوں میں وقت کا ضیاع، نخرے بازی اور
تکبر بہت آتا جا رہا ہے…کافی اصلاح کی ضرورت ہے…جو مسلمان چاہتا ہو کہ …اس کی
زندگی قیمتی بنے وہ کھانے پینے اور بیت الخلاء میں کم سے کم وقت گزارے…کھانا دس
بیس منٹ کے اندر ہو جانا چاہیے نہ کہ… گھنٹوں میں … اور بیت الخلاء میں بھی جس قدر
ممکن ہو کم وقت گزاریں … کیونکہ وہاں شیطانی اثرات زیادہ ہوتے ہیں… کھانا کم
کھائیں گے تو بیت الخلاء بھی کم جانا پڑے گا…
ایک متشاعر کا قصہ
بعض لوگ ’’بیت الخلاء‘‘ میں بہت وقت لگاتے ہیں…یہ بری بات ہے…
روزانہ گھڑی میں وقت دیکھ کر… اپنے اس دورانیہ کو کم کرنا شروع کر دیں… اس کی برکت
سے وہم کی بیماری ، وسوسے اور فضول غم دور ہوں گے ان شاء اللہ … بیت الخلاء سوچ
اور فکر کی جگہ نہیں ہے… وہاں کھانے پینے، کھیلنے، میوزک سننے اور زیادہ سوچنے سے
طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں… یہاں ایک قصہ یاد آ گیا…ایک صاحب جو شعر و
شاعری کی مہارت نہیں رکھتے تھے…مگر خود کو شاعر سمجھتے اور کہلواتے تھے… ایک بار
وہ ایک عالم فاضل شاعر کے پاس گئے اور حسب عادت ان کو بھی اپنا ایک ’’قصیدہ‘‘
سنانے لگے…وہ عالم ایسا بے وزن، بے وضع اور بے موضوع قصیدہ سن کر بہت بد مزہ ہوئے
مگر مروتاً برداشت کرتے رہے…قصیدہ سنا کر وہ نقلی شاعر کہنے لگے…
حضرت! یہ عالی شان قصیدہ مجھے بیت الخلاء میں فراغت کے دوران
ہوا…اور وہیں بیٹھے بیٹھے میں نے ذہن میں تیار کر لیا…یہ بات سن کر وہ عالم بولے…
اچھا اب میں سمجھا کہ اشعار میں سے اتنی بدبو کیوں آ رہی تھی…
دو شاندار سانس
دو عبادتیں بڑی لاجواب ہیں… ایک شکر اور ایک استغفار…یعنی
الحمد للہ اور استغفر اللہ … ایک سانس آئے تو ساتھ نکلے الحمد للہ…اور دوسرا سانس
آئے تو دل بولے…استغفر اللہ…یہ دو عبادتیں… جس کو جس قدر زیادہ نصیب ہوں … وہ اسی
قدر زیادہ خوش بخت ہے… آپ کے پاس اللہ تعالیٰ کی جو نعمتیں ہیں ان پر …شکر اور
استغفار کا جال ڈال دیں…تب یہ نعمتیں آپ کے پاس مضبوط ہو جائیں گی…
اَلْحَمْدُ لِلہِ، اَسْتَغْفِرُ اللہَ…اَلْحَمْدُ لِلہِ،
اَسْتَغْفِرُ اللہَ …اَلْحَمْدُ لِلہِ، اَسْتَغْفِرُ اللہَ
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہمارے لئے کافی ہیں…اور وہی بہترین وکیل اور
کارساز ہیں…
﴿حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ﴾
حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ
حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ
علیہ ’’ بادشاہوں‘‘ سے اجتناب فرماتے تھے، اس لئے اکثر بادشاہ ان سے
ناراض رہتے تھے…ایک دفعہ ایک بادشاہ نے اپنے درباریوں اور لشکر کے سپاہیوں کو جو
حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں ہدیے، نذرانے دیا کرتے تھے…ان
پر پابندی لگا دی کہ نہ تو حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ سے ملیں گے اور
نہ ہی اُن کو ہدیے ، نذرانے دیں گے… بادشاہ کا خیال یہ تھا کہ جب ہدیے، نذرانے بند
ہوں گے تو خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کا لنگر بھی بند ہو جائے گا اور آپ
بادشاہ کی طرف رجوع کرنے کے لئے مجبور ہوں گے…حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو
جب اس بات کا علم ہوا تو لنگر کے نگران سے فرمایا کہ آج سے آٹا دوگنا کر دو…یعنی
پہلے سے دُگنی روٹی پکایا کرو… تاکہ بادشاہ کو معلوم ہوجائے کہ لنگر چلانے والا
کوئی اور ہے…یعنی اللہ تعالیٰ…
﴿حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ… حَسْبُنَا اللّٰهُ
وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ…حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ﴾
سیّد جی کے تحفے
گذشتہ جمعۃ المبارک کا اختتام تھا کہ… تحفے شروع ہو گئے…کراچی
سے ایک قریبی دوست نے پیغام بھیجا کہ ایک پوری مسجد تعمیر کرانے کا انتظام ہو گیا
ہے… آپ جگہ منتخب کر کے کام شروع کرا دیں… سبحان اللہ…ایک ہی مسلمان نے پوری مسجد
کا کام اپنے ذمہ لے لیا… غمناک خبروں کے درمیان ملنے والی یہ پہلی خوشخبری تھی… دل
بہت خوش ہوا…مسجد، اللہ تعالیٰ کا گھر… سبحان اللہ … اُسی وقت ناظم مساجد کو کام
دے دیا گیا اور وہ اللہ تعالیٰ کا گھر بنانے اور آباد کرنے میں لگ گئے… ایک مسجد
کے لئے کافی چندہ کرنا ہوتا ہے… مگر جب چندے پر خوفناک پابندی لگی تو یوں ایک ایک
فرد پوری مسجد بنانے والا سامنے آ گیا… معلوم ہوا کہ دین کا کام چلانے والا کوئی
اور ہے… یعنی اللہ تعالیٰ…
﴿حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ…حَسْبُنَا اللّٰهُ
وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ﴾
پھر اس کے بعد خوشخبریوں کی قطار لگ گئی… کئی ساتھیوں کو
عدالتوں نے بری کر دیا…کئی اجتماعی اور اِنفرادی ضروریات اللہ تعالیٰ نے پوری فرما
دیں…جماعت کا حج وفد بھی مقرر ہو گیا… مجاہدین پر آپریشن کرنے والے حکمران طرح
طرح کی پریشانیوں میں پھنس گئے…اور ان کا جارحانہ انداز… ایک دَم دِفاعی رُخ پر
چلا گیا…انڈیا کو اَقوام متحدہ میں ایک ذلت ناک شکست ہوئی … اور آج کل پھر انڈین
میڈیا پر مجاہدین کی تصویریں، بیانات اور جھلکیاں … گھنٹوں کے حساب سے چل رہی ہیں…
اور ساتھ ہی ساتھ ’’چین‘‘ کو بھی منہ کے گٹر کھول کر گالیاں دی جا رہی ہیں…
جمعۃ المبارک سے ہمیں محبت ہے…یہ ’’سیّد جی‘‘ہے… دنوں کا
سردار… اب اس ’’جمعۃ المبارک‘‘ اپنے اسیر رفقاء کی رہائی…اہل جماعت نے مانگی
ہے…اللہ تعالیٰ قبول فرمائے، آسانی فرمائے… وہی کافی ہے اور وہی کارساز…
﴿حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ… حَسْبُنَا اللّٰهُ
وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ…حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ﴾
ایک اور اچھی خبر
اَمیر المؤمنین جناب ملا اختر محمد منصور زِیْدَ قَدْرُہْ کی
اِمارت پر افغان مجاہدین کا اِتفاق بڑھتا جا رہا ہے… یہ اُمت مسلمہ کے لئے بہت
شاندار خوشخبری ہے…حضرت امیر المؤمنین کی وفات و شہادت کے بعد ’’اِمارت اسلامیہ
‘‘ شدید خطروں اور سازشوں کی زَد میں تھی مگر اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل فرمایا…
اندرونی اور بیرونی سازشیں ناکام ہوئیں …اور فراست و تدبر سے مالا مال جناب ملا
اختر منصور صاحب اِمارت اسلامی کے متفقہ ’’امیر المومنین‘‘ قرار پائے… اللہ تعالیٰ
کا شکر ہے کہ ہم نے روز اول سے ہی اُن کی حمایت کی، اُن کے مخالفین سے دور رہے…اور
امارت اسلامی میں اِتفاق و اِتحاد کے لئے دعاء گو رہے… جمعۃ المبارک کے دن اس بارے
بھی اچھی خبریں آ گئیں … بے شک اللہ تعالیٰ ہی کافی ہے اور وہی بہترین وکیل اور
کارساز ہے…
﴿حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ…حَسْبُنَا اللّٰهُ
وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ﴾
اَلْوَکِیْلُ جَلَّ شَانُہ
کالم میں بار بار قرآنی دعاء… ﴿حَسْبُنَا اللّٰہُ وَ نِعْمَ
الْوَکِیْلُ﴾ آ رہی ہے… دل چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پیارے نام
’’اَلْوَکِیْلُ ‘‘ پر بھی تھوڑی سی بات ہو جائے… وکیل وہ ہوتا ہے جس کے ذمہ اپنے
کام سپرد کر کے آدمی مطمئن ہو جائے… اپنے کام کسی کے ذمہ کیوں لگائے جاتے ہیں؟…
اس کی دو وجہیں ہوتی ہیں…پہلی یہ کہ وہ کام ایسے مشکل ہوتے ہیں کہ انسان انہیں خود
سر انجام نہیں دے سکتا… اسی لئے اُن کاموں کے ماہر سے رجوع کر کے اُس کے سپرد کرتا
ہے… اور دوسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ…ہمیں اگر کوئی بہت با اختیار اور بے حد طاقتور
،بااعتماد محبوب دوست مل جائے تو پھر اپنے کام اس کے سپرد کرتے ہیں کہ… وہ لمحوں
اور منٹوں میں یہ کام کرا دے گا…اندازہ لگائیں … جو شخص ان دو معنیٰ کے اعتبار سے
اللہ تعالیٰ کو اپنا ’’وکیل‘‘ بنا دے… اور اللہ تعالیٰ اس کا وکیل بن جائے تو پھر
کون سا کام ہے جو نہ ہو سکے اور کون سا مسئلہ ہے جو حل نہ ہو؟…اسی لئے ’’عارفین ‘‘
کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے نام ’’الوکیل‘‘ میں بھی ’’اسم اعظم ‘‘ کی تأثیر
ہے…خصوصاً دشمنوں سے مقابلہ، میںآسمانی آفات کے سامنے، گناہوں سے بچنے کے لئے،
ظالموں سے حفاظت کے لئےاور تمام حاجات کے لئے…
﴿حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ… حَسْبُنَا اللّٰهُ
وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ…حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ﴾
حضرت جی رحمۃ اللہ علیہ یاد آ گئے
آج رنگ ونور کا موضوع کچھ اور تھا …آغاز میں﴿حَسْبُنَا
اللّٰہُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ﴾ آ گیا تو اُسی نے کھینچ لیا…ابھی مزید ’’الوکیل‘‘
پر کچھ لکھنے لگا تو میرے محبوب اُستاذ اور شیخ حضرت مفتی ولی حسن صاحب نور اللہ
مرقدہ یاد آ گئے…حکومت نے ان پر بڑا سخت مقدمہ قائم کر کے انہیں عدالت میں طلب
کیا تھا… عدالت میںرُعب اور دہشت کا سب سامان جمع تھا…مگر جب حضرت شیخ بیان دینے
کھڑے ہوئے تو آغاز اس حدیث شریف سے فرمایا:
اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ۔
اور پھر بے ساختہ اس حدیث شریف کے طُرُق اور تشریح میں لگ
گئے… باحشمت جج صاحبان اور ہزاروں مسلمانوں کے درمیان … حضرت جی رحمۃ اللہ
علیہ پر کوئی رُعب نہیں تھا…حدیث شریف کی اسناد اور دیگر تفصیلات یوں
بتا رہے تھے جس طرح اپنے طلبہ کے سامنے تشریف فرما ہوں… یہ اُن کے مزاج کا خاص حصہ
تھا… ابھی جب میں اصل موضوع چھوڑ کر …’’الوکیل‘‘ کے معنٰی میں اُتر گیا اور ابھی
مزید آگے جا رہا تھا تو …ایک رقت آمیز مسکراہٹ کے ساتھ حضرت شیخ رحمۃ اللہ
علیہ یاد آ گئے…کہ آج مجھ بے رنگ و بے صفت پر اُن کا رنگ آ
رہا ہے…اللہ تعالیٰ اُن کے درجاتِ مغفرت بلند فرمائے… اور اُن کے حقوق اور اُن کی
قدر و منزلت کے بارے میں ہم سے جو کوتاہی ہوئی ہے …اللہ تعالیٰ وہ معاف فرمائے… بے
شک وہ اللہ تعالیٰ پر حقیقی توکل کرنے والے انسان تھے… جامعہ میں ایک بار اَموال
کی کمی ہوئی تو…اَساتذہ کرام کو دو تین ماہ تک تنخواہ نہ دی جا سکی… حضرت بنوری
رحمۃ اللہ علیہ نے اَساتذہ کو بلا کر صورتحال بتائی کہ تنخواہ دینے کے
لئے رقم موجود نہیں…اور آگے کا بھی کچھ پتہ نہیں… آپ حضرات کو اختیار ہے جو رہنا
چاہے یا جانا چاہے… حضرت شیخ مفتی ولی حسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے
فرمایا: حضرت ! میں تو تنخواہ کے لئے نہیں آیا چنے چبا کر گذارہ کر لوں گا مگر
کہیں نہیں جاؤں گا… حالانکہ اُس وقت حضرت کے مالی حالات کافی کمزور تھے… مگر
انہوں نے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کو ہی اپنا ’’وکیل‘‘ بنائے رکھا…دو تین ماہ بعد جامعہ
میں رقم کی فراوانی ہو گئی، حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ نے
حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ کو بلا کر سابقہ مہینوں کی تنخواہ دینا چاہی
تو قبول نہ کی…فرمایا! حضرت! وقت تو گزر گیا اب پچھلی رقم لے کر کیا کروں گا…
باوجود اِصرار کے وہ رقم نہ لی…بس اُسی مہینے کا مشاہرہ قبول فرمایا…
دراصل ’’الوکیل ‘‘ کے اسم مبارک میں چار چیزیں آ جاتی ہیں:
١ اَلْحَفِیْظُ…
٢ اَلْکَفِیْلُ…
٣ اَلْمُقْسِطُ…
٤ اَلْکَافِیْ…
حفاظت بھی، کفالت بھی، رزق بھی، کفایت بھی…اور اِقامت بھی…
﴿حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ… حَسْبُنَا اللّٰهُ
وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ…حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ﴾
ایک اہم موضوع
آج ایک اہم موضوع پر گفتگو تھی…دینی مدارس کے بارے میں نعوذ
باللہ ایک بہت مکروہ اور ناجائز پروپیگنڈہ عام ہو رہا ہے…ایسے نور بھرے پاکیزہ
اِداروں پر…ایک ناپاک اور غلیظ گناہ کا الزام… ایسا الزام جس کو لکھنے سے قلم
شرماتا ہے… اچھے خاصے لوگ اب اس الزام سے متاثر ہو رہے ہیں …اس لئے تفصیل کے ساتھ
لکھنے کا ارادہ تھا تاکہ… کسی کے دل میں ایسی ناجائز بد گمانی نہ رہے… اور کوئی
اپنے معصوم بچوں کو مدرسہ بھیجنے سے نہ گھبرائے…موضوع مفصل ہے اس لئے ان شاء اللہ
کسی اور مجلس میں آ جائے گا…بندہ نے ’’المرابطون ‘‘ کے گذشتہ شمارے میں مدارس کے
بارے میں ایک مضمون لکھا تھا ہو سکے تو فی الحال وہ ملاحظہ فرما لیں…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ بھائی راشد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کو
مغفرت کا اعلیٰ مقام نصیب فرمائے…وہ گذشتہ شام پاکستان کے صوبہ پنجاب کی ساہیوال
جیل میں انتقال فرما گئے…
﴿اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ﴾
مسلمان جو گھر سے حج کے لئے نکلے اور راستے میں وفات پا
جائے…وہ پکا اور مقبول ’’حاجی‘‘ بن جاتا ہے قیامت تک ایک فرشتہ مقرر کر دیا جاتا
ہے …وہ اُس کی طرف سے ہر سال حج کرتا رہتا ہے…
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ ، سُبْحَانَ اللّٰہِ
الْعَظِیْمِ۔
جو گھر سے جہاد، خدمت جہاد اور دعوت جہاد کے لئے نکلا…اور پھر
اسی سفر میں وفات پا گیا تو وہ پکا اور مقبول مجاہد ہے… اُس کی موت، شہادت ہے…اور
قیامت تک اُس کا عمل جاری رہتا ہے…
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ ، سُبْحَانَ اللّٰہِ
الْعَظِیْمِ۔
کوٹ بھلوال جیل کا وہ دیوانہ مرد مجاہد یاد آ گیا…نوید انجم
شہید رحمۃ اللہ علیہ …ماشاء اللہ روشن دماغ علم و عمل کا پیکر… اور خوبصورت جوان…
انڈین فورسز نے جیل پر حملہ کیا…قیدی مجاہدین نے پتھروں اور نعروں سے مقابلہ
کیا…پیرا ملٹری فورس کی سات کمپنیاں پسپا ہونے پر مجبور ہو گئیں…تب جیل کے ٹاوروں
سے فائر کھول دیا گیا…گولیاں ہمارے سروں پر سنسنانے لگیں …نوید انجم جذبۂ شہادت
سے سرشار میدان میں ڈٹا رہا…گولی لگی اور اس نے قیامت تک کے لئے اس پاک راستے پر
قبضہ کر لیا… سبحان اللہ! جہاد میں قید کی آزمائش …اور اس آزمائش میں شہادت…یہ
رتبہ بلند کسی ، کسی کو ملتا ہے…
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لَہٗ وَ ارْحَمْہُ وَاجْعَلْہُ مِنَ
الْمُقَرَّبِیْنَ۔
اور وہ ہمارے محبوب سالار اور دوست… حافظ کمانڈر سجاد خان
صاحب شہید رحمۃ اللہ علیہ … جہاد میں بھی اونچا رتبہ…اور شہادت میں بھی اونچا
مقام… پاکستان سے آخری بار جاتے وقت کراچی میں دعاء کر گئے کہ…یا اللہ! اب واپس
نہ لانا… حضرت سیّدنا عمرو بن الجموح رضی اللہ
عنہ والی دعاء… یا اللہ! گھر زندہ واپس نہ بھیجنا…جان کا سودا
ہاتھ میں لئے محبوب کی رضا اور جنت کے یہ خریدار … بڑے خاص لوگ ہوتے ہیں…سجاد شہید
رحمۃ اللہ علیہ کا آخری جہادی سفر بھی میرے ساتھ تھا…میں اُن کو بہت
دور بارڈر تک چھوڑ کر آیا تھا… پھراُن کی زندگی کا آخری آزاد سفر بھی میرے ساتھ
تھا…وہ مجھے اسلام آباد ( اننت ناگ مقبوضہ کشمیر) لے جا رہے تھے کہ…دونوں گرفتار
ہو گئے…پہلے تیرہ دن کھندرو کیمپ میں تشدد…پھر نو ماہ بادامی باغ میں ٹارچر…پھر
چار ماہ کوٹ بھلوال میں تعلیم و تعلّم …پھر دو ماہ تالاب تلو میں بد ترین اذیت…
پھر دو سال تہاڑ جیل …پھر واپس کوٹ بھلوال… یہاں ایک رات…ان کی بارک پر انڈین
فورسز نے حملہ کیا…ہم ساتھ والی بارک میں شور شرابا اور چیخیں آہیں سن سکتے
تھے…اگلے دن خبر آئی کہ اُن کو تشدد کر کے شہید کر دیا گیا…میں نے اُن کو شہادت
کے بعد ہسپتال میں دیکھا…جسم پر لاٹھیوں کے نیل اور نشان تھے اور چہرے پر مسکراہٹ…
ما و مجنوں ہم سبق بودیم در دیوانِ عشق
او بصحرا رفت، ما در کوچہا رسوا شدیم
وہ چلے گئے…اللہ تعالیٰ بلند مقام مغفرت عطاء فرمائے…ہم چل
رہے ہیں، اللہ تعالیٰ سیدھے راستے پر چلائے اور اسی راستے پر اُٹھائے…
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لَہٗ وَ ارْحَمْہُ وَاجْعَلْہُ مِنَ
الْمُقَرَّبِیْنَ
وہ دیکھو! طویل قامت، ’’جمال مندوخیل‘‘ مسکرا رہا ہے…کیا آپ
مجھے بھول گئے؟… نہیں پیارے جمال…حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ
علیہ کے اس قافلے کے شہسوار تمہیں بھلایا نہیں جا سکتا… جمال نے قید
میں بہت سختیاں جھیلیں… ہاں! ہم سب سے زیادہ اُس نے جیل میں بہت لڑائیاں لڑیں… سب
قیدیوں سے زیادہ…امارتِ اسلامیہ افغانستان کا وہ شیدائی جو اس امارت کا ایک دن بھی
نہ دیکھ سکا…امارتِ اسلامیہ ایک حور کی طرح آئی …اور سات سال دنیا بھر کو اپنی
خوشبوؤں سے مہکا کر مورچوں میں جا بیٹھی جہاں اس نے ’’فاتح عالم‘‘ کا روپ اپنا
لیا…’’جمال ‘‘ جیل میں اس امارت کی خوشیاں مناتا رہا، نعرے برساتا رہا… ہاں! جب
امارتِ اسلامیہ چلی گئی تووہ رویا بھی خوب ہو گا … وہ بہت کم روتا تھا مگر موٹی
موٹی آنکھوں سے پیازی آنسو برساتا تھا اور پھر جلد ہی قہقہوں میں لوٹ جاتا
تھا…جودھ پور جیل سے اُس کا جنازہ دھوم سے اُٹھا اور اُس کا سفر بھی کھرا اور پکا
ہو گیا…
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لَہٗ وَ ارْحَمْہُ وَاجْعَلْہُ مِنَ
الْمُقَرَّبِیْنَ
اوہ! مہمان خصوصی مسکراتے ہوئے سامنے آ گئے ہیں…جب بھی آتے
ہیں ایسا جلوہ دکھاتے ہیں کہ دل کو ہلا دیتے ہیں…جناب محمد افضل گورو شہید رحمۃ
اللہ علیہ …اس زمانے کے شہداء کی آبرو…بلند نسبتوں کے امین…تحریک کشمیر کے
فاتحانہ دور کے بانی… اور دشمنوں کے لئے ناقابل شکست … زمین نے ایسا لاڈلا شہید
بہت عرصہ بعد دیکھا ہو گا کہ…جس کی شہادت کے بعد سے اس کے دشمن اپنی لاشیں اُٹھا
اُٹھا کر ہلکان ہو رہے ہیں … ایک ایسا مکمل مجاہد جس نے شعور کی آنکھوں سے جہاد
کیا، سمجھا اور اپنایا…وہ جس نے جہاد پر سب کچھ لٹایا اور جہاد کے ہر پہلو کو پا
لیا…وہ خوش نصیب جس نے ہجرت کا اجر بھی لوٹا، جہاد کا اجر بھی کمایا …دعوتِ جہاد
کا مقام بھی پایا…جہادی آزمائشوں کا اجر بھی پایا…اور مظلومانہ شہادت کا تاج بھی
حاصل کیا…
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لَہٗ وَ ارْحَمْہُ وَاجْعَلْہُ مِنَ
الْمُقَرَّبِیْنَ
واہ راشد بھائی!… آپ بھی کتنے اونچے قافلے میں جا اُترے…
کیسے پیارے ہم نشینوں کا انتخاب کیا…لوگ حیران ہیں کہ…نوید، سجاد، جمال اور افضل
تو کافروں کی جیل میں تھے… کافر ، مجاہدین کو ہمیشہ سے پکڑتے آئے ہیں، گرفتار
کرتے آئے ہیں، شہید کرتے آئے ہیں… مگر آپ تو اپنے ملک میں تھے…وہ ملک جسے حاصل
کرنے کے لئے…’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ کے فلک شگاف نعرے گونجے تھے…وہ ملک جس کا مطلب
بھی ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ کو بتایا گیا تھا… وہ ملک جہاں لوگ دین اور ایمان کی
تلاش میں کٹ کٹ کر پہنچے تھے…پھر آپ کو کیوں پکڑا گیا؟… آپ تو جہاد کی دعوت دیتے
تھے…اور جہاد کی دعوت قرآن کی دعوت ہے… دین کی دعوت ہے…
آپ نے تو سرگودھا سے حضرو تک… اپنی پاکیزہ محنت کے نقوش اس
پاک دھرتی پر ثبت کئے تھے… پھر آپ کو کیوں پکڑا گیا؟…کیوں سزا سنائی گئی؟… اور
کیوں بیماری کی حالت میں جیل ڈالا گیا؟…
ہاں! یہ کڑوے سوال اس ملک کی پیشانی پر دھبے کی طرح اُبھر رہے
ہیں…اور اس ملک کو گہرے گڑھوں کی طرف دھکیل رہے ہیں… بہرحال بھائی راشد! نہ آپ
ناکام ہوئے اور نہ ہم مایوس اور خوفزدہ ہیں…سیّد احمد شہید رحمۃ اللہ
علیہ کے قافلے کے کئی افراد کو جب منافقین نے شہید کر دیا تو بعض افراد
ان حملوں میں بچ بھی گئے…ان بچ جانے والوں کو جب مبارکباد دی گئی تو انہوں نے
حیرانی سے پوچھا… کیسی مبارکباد؟… مبارکباد تو اُن کے لئے ہے جو شہید ہو گئے …ہم
سب اپنے گھروں سے شہادت کے لئے نکلے تھے…شہادت میں ہماری بھی کامیابی ہے …اور اس
اُمت کی بھی… پھر ہمارے وہ ساتھی ہم سے پہلے اپنے مقصد کو پا گئے…جبکہ ہم اسی
راستے پر جا رہے ہیں اور تمنا رکھتے ہیں کہ …ہمیں بھی شہادت ملے…اس لئے مبارکباد
کے مستحق ہم نہیں…وہ ہیں…
بھائی راشد…مبارک ہو…بہت مبارک …
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہمیں ’’قرآنِ مجید‘‘ کی بے حد قیمتی دعاؤں سے
فائدہ اُٹھانے والا بنائے… آمین
ایک قیمتی اور اہم دعاء
قرآن مجید کی ہر ’’دعاء‘‘ میں خیر اور برکت کے بڑے بڑے خزانے
ہیں…اسی لئے شیطان مسلمانوں کو قرآنی دعاؤں کی طرف متوجہ نہیں ہونے دیتا… یہ
دعائیں ہر وظیفے سے بڑا وظیفہ ، ہر چلّے سے بڑا چلّہ اور ہر روحانی عمل سے زیادہ
طاقتور عمل ہیں…کئی لوگ بتاتے ہیں کہ …گھر میں اتفاق نہیں… بیوی فرمانبردار اور
نیک نہیں… اولاد میں خیر اور اچھائی نہیں …کوئی دعاء بتا دیں… اُن سے عرض کیا جاتا
ہے کہ آپ یہ دعاء کثرت سے پڑھیں …
﴿ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيّٰتِنَا
قُرَّةَ اَعْيُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا﴾
بعد میں اگر اُن سے پوچھا جائے کہ…یہ دعاء پڑھنا شروع کی؟… تو
کہتے ہیں کہ جی! اکثر بھول جاتی ہے، رہ جاتی ہے، چھوٹ جاتی ہے … اِنَّا لِلهِ
وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ
ایسا عظیم، قیمتی، ربانی تحفہ اور علاج بھول جاتا ہے …پھر گھر
والوں کی اور اولاد کی خرابیوں کا شکوہ کرنے کی کیا گنجائش ہے؟…
دعاء کا ترجمہ
اس دعاء کی بڑی اہمیت یہ ہے کہ… یہ دعاء خود اللہ تعالیٰ نے
ہمیں سکھائی ہے…دوسری بڑی اہمیت یہ ہے کہ…یہ دعاء ’’عباد الرحمن ‘‘ کا وظیفہ
ہے…اللہ تعالیٰ کے وہ خاص بندے جن کی عادتیں اور باتیں اللہ تعالیٰ کو بہت پسند
ہیں…اور اُن کے لئے اللہ تعالیٰ نے جنت کے اونچے درجات کا وعدہ فرمایا ہے…تیسری
اہمیت یہ کہ یہ دعاء ہمارے اس عزم کا اظہار ہے کہ…ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اللہ
تعالیٰ کا فرمانبردار دیکھنا چاہتے ہیں…اور اس کا آغاز اپنے گھر سے کرنا چاہتے
ہیں… دعاء کے الفاظ اور اُن کا ترجمہ یاد کر لیں:
﴿رَبَّنَا ھَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا
قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا﴾
ترجمہ: اے ہمارے رب! ہمیں اپنی بیویوں اور اولاد کی طرف سے
آنکھوں کی ٹھنڈک عطاء فرمائیے اور ہمیں متقی لوگوں کا امام بنائیے۔
اس دعاء کے قبول ہونے سے انسان کے اہل اور اولاد میں ’’برکت‘‘
آ جاتی ہے…حضرت امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب
انسان کو اپنے اہل اور اولاد میں برکت مل جائے تو اگر اُس کی صرف ایک بیوی ( اور
ایک بچہ) ہو تو بھی اللہ تعالیٰ اُن میں وہ تمام چیزیں جمع فرما دیتے ہیں…جو اُس
کے دل کی تمنا ہوتی ہیں…مثلاً خوبصورتی، پاکیزگی، حیا، فرمانبرداری اور دین و دنیا
کے کاموں میں معاونت… تب اُس کی آنکھیں ایسی ٹھنڈی ہوتی ہیں کہ …وہ کسی اور طرف
نظر نہیں اُٹھاتا…
سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیْمِ
آنکھوں کی ٹھنڈک
آیتِ مبارکہ میں آنکھوں سے مراد ’’ اہل ایمان ‘‘ کی آنکھیں
ہیں…ہر کسی کی آنکھیں نہیں… اور آنکھوں کی ٹھنڈک سے مراد…اہل و عیال اور اولاد
کا نیک صالح ہونا ہے…
امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’مومن کی آنکھ کے لئے اِس سے بڑھ کر کوئی ٹھنڈک نہیں کہ وہ
اپنے اہل اور اولاد کو اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار دیکھے۔‘‘ ( مظہری)
اہل لغت کے نزدیک …آنکھوں کی ٹھنڈک کا مطلب ہوتا ہے …’’دل کو
اُس کی آخری مراد مل جانا‘‘…یعنی دل جو چاہتا ہے وہی ہو جائے تب اُس کی خوشی
آنکھوں کو ٹھنڈا اور پُرسکون کر دیتی ہے… اور انسان پوری طرح مطمئن ہو جاتا ہے…
یہ دعاء مرد حضرات کے لئے بھی ہے…اور خواتین کے لئے بھی…قرآن
پاک سب کے لئے نازل ہوا ہے…انسان کی آنکھیں بہت مشکل سے ٹھنڈی اور مطمئن ہوتی ہیں
…ابھی اپنے حکمرانوں کو دیکھ لیں … اربوں کھربوں روپے اور دنیا بھر میں جاگیریں ،
جائیدادیں بنا کر بھی اُن کی آنکھیں پیاسی ہیں…اور یہ مزید مال اور جائیداد بنانے
کی فکر میں ہیں…اپنی بیویوں سے جب آنکھیں مطمئن نہیں ہوتیں تو وہ آنکھیں طرح طرح
کی خیانتیں کرتی ہیں… اور اپنے خاوند سے جب آنکھیں مطمئن نہ ہوں تو وہ ناشکری اور
شکوے روتی ہیں…اور گناہوں میں مبتلا ہوتی ہیں…آنکھوں کی پیاس تب بجھتی ہے جب دل
کو اُس کی پوری مراد مل جائے… اور دل کی مراد اللہ تعالیٰ ہی پوری فرما سکتے
ہیں…تو اللہ تعالیٰ نے دعاء سکھا دی کہ یہ مانگو…دل کی مراد آنکھوں کو ٹھنڈا کر
دے گی…
﴿ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيّٰتِنَا
قُرَّةَ اَعْيُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا﴾
﴿رَبَّنَا﴾’’ اے ہمارے رب!‘‘ ﴿ھَبْ﴾… ’’عطا فرما‘‘
﴿اَزْوَاجِنَا﴾…’’ہماری بیویاں‘‘ ﴿ذُرِّیّٰتِنَا﴾… ’’ہماری اولاد‘‘ ﴿قُرَّۃ﴾
’’ٹھنڈک‘‘﴿ اَعْیُنٍ﴾’’ آنکھیں‘‘…
گھوٹا لگانا پڑتا ہے
اگر کوئی نوجوان ہو اور اُس کی ابھی شادی نہ ہوئی ہو…وہ اس
دعاء کو مضبوط پکڑ لے تو ان شاء اللہ شادی بھی ہو جاتی ہے اور اولاد بھی صالح نصیب
ہوتی ہے… لیکن شادی ہو گئی ، بچے ہو گئے اور کبھی یہ دعاء نہیں مانگی تو اب کیا
کریں؟… جواب یہ ہے کہ اب اس دعاء کا چند دن خوب گھوٹا لگائیں … آپ نے کبھی
باداموں کا شربت بنتے دیکھا ہو گا … باداموں کو جس قدر زیادہ رگڑا جائے اُسی قدر
عمدہ شربت بنتا ہے… اس رگڑائی کو گھوٹا لگانا کہتے ہیں… پہلے دعاء کے درست الفاظ
سیکھیں…اس کا ترجمہ سمجھیں اور پھر خوب توجہ سے گڑگڑا کر ، رو رو کریقین سے مانگتے
جائیں… خصوصاً فرض نمازوں کے بعد…اذان اور اقامت کے درمیان … سحری اور افطار کے
وقت…جہاد کے سفر یا محاذ پر… جمعہ کے دن عصر کے بعد… جمعہ کی رات … صدقہ دیتے
وقت…کسی مریض کی عیادت یا خدمت کے وقت…یا اسی طرح قبولیت کے کسی بھی وقت… دل میں
جذبہ یہ ہو کہ…میری بیوی ، میرا خاوند، میری اولاد سب اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار
بن جائیں…دین اسلام کے کام آنے والے بن جائیں… اہل جنت میں سے بن جائیں…اور جہنم
کے دھویں تک سے بچ جائیں…جب دن رات کثرت سے یہ دعاء ایک ضروری مقصد اور کام بناکر
مانگیں گے تو ان شاء اللہ …اس کے عجیب فوائد اور برکات اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے…
﴿ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيّٰتِنَا
قُرَّةَ اَعْيُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا﴾
اپنا فائدہ
ایک بار ایک مجلس میں یہ سوال اُٹھا کہ… یہ ایصال ثواب کیا
چیز ہے؟… قرآن مجید میں واضح سمجھایا گیا کہ… ہر کوئی اپنے عمل کا مالک ہے، کسی
پر کسی کا گناہ نہیں ڈالا جائے گا…جب کسی پر کسی کا گناہ نہیں ڈالا جائے گا تو پھر
کسی اور کی نیکی کسی کو کس طرح مل سکتی ہے؟… بندہ نے جواب کو دو حصوں میں تقسیم
کیا… ایک تو وہ روایات جن میں ایصال ثواب کی وضاحت آئی ہے…اور دوسرا جواب یہ کہ
ایصال ثواب میں انسان کو جو کچھ دوسرں سے ملتا ہے وہ دراصل اپنے عمل کا ہی حصہ اور
نتیجہ ہوتا ہے … ایک حافظ و قاری باعمل جب انتقال فرماتے ہیں تو اُن کے سینکڑوں
ہزاروں شاگرد اُن کے ایصال ثواب کے لئے ہزاروں ختمات کرتے ہیں … یہ سب اس قاری
صاحب کے اپنے عمل کا نتیجہ اور اپنے عمل کا پھل ہے… اُس نے قرآن مجید کو سیکھا
پھر اُسے سینے سے لگایا اور پھر لوگوں کو سکھایا … اب لوگ جو کچھ اُسے ایصال ثواب
کر رہے ہیں…وہ سب اُس کے اپنے عمل ہی کا حصہ ہیں …پرویز مشرف جب مر جائے گا تو لوگ
کتنے قرآن پڑھ کراسے بخشیں گے؟ نواز شریف اور شہباز شریف کو لوگ کیا ایصال ثواب
کریں گے؟… پیسے دے کر جو ختم کرائے جاتے ہیں…اُن کا ثواب تو خود پڑھنے والوں کو
بھی نہیں ہوتا وہ آگے کسی اور کو ہدیہ کیا کریں گے؟ مجاہدین، شہداء اور اہل ایمان
کے نیک اعمال کے اثرات ایسے ہوتے ہیں جو اُن کے لئے صدیوں اور ہزاروں سال تک کے
ایصال ثواب کا راستہ بناتے ہیں… ایک شخص اپنے بیٹے کو قرآن عظیم الشان کا حافظ
بنائے… اب جب بھی اُسے دیکھے گا تو دل اور آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی کہ میرے مرنے کے
بعد میرے لئے کیسا زبردست انتظام ہو گیا …مقصد یہ ہے کہ یہ دعاء اگرچہ اپنی بیوی
اور بچوں کی اصلاح کے لئے ہےمگر اس کا فائدہ واپس دعاء کرنے والوں کو ہی لوٹتا ہے…
اچھی بیوی، اچھا خاوند اور اچھی اولاد انسان کے لئے عزت، راحت، نجات اور جنت کا
ذریعہ ہیں…
﴿ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيّٰتِنَا
قُرَّةَ اَعْيُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا﴾
معذرت
اس دعاء کی تشریح اور فضیلت پر مزید لکھنا تھا…جبکہ دعاء کا
آخری حصہ﴿وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا﴾ بہت اہم ہے…مگر وقت ختم ہو
چکا…اذانوں کی آوازیں گونج کر تھم چکی ہیں … اللہ کرے یہی مختصر الفاظ کافی ہو
جائیں اور زیادہ سے زیادہ مسلمان اس دعاء سے فائدہ اُٹھائیں … ساتھ یہ نیت اور
ارادہ بھی کر لیں کہ اپنے بچوں کو قرآن مجید سے محروم نہ رکھیں گے…اُن کو قرآن
مجید اور دین کی تعلیم دیں گے…اپنی ساری اولاد کو عموماً اور بیٹیوں کو خصوصاً
’’انگریز‘‘ کی تعلیم میں نہیں جھونکیں گے…اپنی اولاد کو تیراکی، گھڑ سواری، نشانہ
بازی اور عمدہ قرآت سکھائیں گے…اور اپنی اولاد کو …اللہ تعالیٰ کے دین کا مجاہد
بنائیں گے …یا اللہ! ہم مانگ رہے ہیں…آپ قبول فرما لیں…
﴿ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيّٰتِنَا
قُرَّةَ اَعْيُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا﴾
آمین یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِینْ
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے نزدیک قبولیت اور مقبولیت عطاء
فرمائے…لوگوں میں ’’مقبول ‘‘ ہونا …عوام میں مقبول ہونا ، میڈیا پر مقبول ہونا…نہ
کوئی فخر ہے، نہ کوئی کمال …نہ کوئی نیکی ہے اور نہ کوئی کام آنے والی چیز… عوامی
مقبولیت کا شوق خطرناک ہے…یہ شوق دینداروں کے لئے زہر اور مجاہدین کے لئے ناکامی
ہے… یہ اخلاص کا جنازہ…ترقی کی راہ میں رکاوٹ…اور بربادی ہے… ہاں! اللہ تعالیٰ کے
ہاں قبولیت ہو…پھر وہ اپنے فضل سے اپنے مخلص بندوں میں بھی کسی کو مقبول بنا دے،
محبوب بنا دے تو یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے…اُس کا فضل ہے…
ایک ضروری نکتہ
دین ضروری ہے اور دنیا ضرورت ہے… مسلمان کا کام یہ ہے کہ دین
پر رہے…اور دین پر رہتے ہوئے اپنی دنیوی ضرورتیں پوری کرے… دنیا کی جو ضرورت دین
سے ٹکراتی ہو اُسے چھوڑ دے… مگر اب مسلمانوں میں وہ طبقہ پیدا ہو گیا ہے جو دنیا
کو ہی ضروری اور اصل سمجھتا ہے…اور دنیا کو اصل مقصد بنا کر ساتھ تھوڑا بہت دین پر
چلنا چاہتا ہے… اس سے بہت خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں… مسلمانوں کے دلوں سے بڑے بڑے
گناہوں کی نفرت ختم ہو رہی ہے…نعوذ باللہ مساجد میں کرکٹ ٹیم کے جیتنے کی دعائیں
چل پڑی ہیں … حالانکہ کرکٹ میچ لاکھوں افراد کو نماز سے روکتے ہیں… اور طرح طرح کی
برائیاں اور گناہ پھیلاتے ہیں…اب نعوذ باللہ’’ نور جہاں ‘‘ کی بھی تعریفیں ہو رہی
ہیں…حالانکہ اب بھی اس کے ساز اور گانے روزانہ لاکھوں افراد کو اللہ تعالیٰ سے
غافل کرتے ہیں… اور گناہوں میں غوطے دیتے ہیں …اور تو اور نعوذ باللہ بالی وڈ کے
فنکاروں کے تعریف بھرے تذکرے منبر رسول صلی اللہ علیہ
وسلم پر ہو رہے ہیں …عامر خان وغیرہ نے نہ تو فلمیں چھوڑیں اور نہ اپنے
غلط نظریات… اُن کے ہاں مسلمانوں کی ہندوؤں سے شادی حلال ہے…جو کہ خالص کفریہ
عقیدہ ہے… اُن کے ہاں ہر فلم میں ہندو بن جاناجائز ہے…اور اُن کی فلمیں کروڑوں
مسلمانوں کو گناہ، غفلت اور گمراہی میں ڈال رہی ہیں…مگر ہم اس پر خوشی منا رہے ہیں
کہ اس نے ہمیں فون کیا، میسج کیا…اور ایک آدھ بار ملاقات کا شرف بخشا… یہ درست ہے
کہ…ہمیں ہر طبقے میں دین کی محنت کرنی ہے…مگر یہ محنت اس طرح جائز نہیں کہ…ہم دنیا
کو اصل بنا دیں اور دین کو محض ایک وقتی ضرورت… کوئی سود نہیں چھوڑنا چاہتا ہے تو
ہم اس کو تجارتی حیلے سکھا دیں… کوئی فلم نہیں چھوڑنا چاہتا تو ہم اسے فلم کی
اجازت دے دیں…آپ لوگوں کو دین بتائیں… دین کی طرف بلائیں …نیکی اور گناہ کا مفہوم
سمجھائیں …نیکی پر شکر اور گناہ پر استغفار کا طریقہ سکھائیں … مگر گناہوں کی
حوصلہ افزائی نہ کریں…گناہوں کو حلال نہ کریں…اور صرف کسی کے رمضان المبارک میں
مرنے کو دلیل بنا کر اُسے جنت میں محلات اَلاٹ نہ کریں… ہمیں کیا معلوم کون کفر پر
مرا اور کون اسلام پر؟… اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے…مگر اللہ تعالیٰ کا غضب
بھی بہت سخت ہے… جو لوگ ’’نہی عن المنکر‘‘ چھوڑ دیتے ہیں…جو لوگ گناہوں کو پُرکشش
بناتے ہیں…جو لوگ گناہوں کو بُرا نہیں سمجھتے… وہ بڑی غلطی کر رہے ہیں…اللہ تعالیٰ
کا واضح فرمان ہے…
﴿اُدْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَاۗ فَّةً ۠﴾
پورے پورے اسلام میں داخل ہو جاؤ…
ہاں پورے پورے… اور جو کچھ نہیں کر سکتے اُس پر توبہ کرو ،
استغفار کرو…
ایک اور اہم نکتہ
میں کسی پر تنقید نہیں کر رہا…مجھے ’’تنقید‘‘ کرنے سے ڈر لگتا
ہے…میں اپنے رفقاء کو بھی روکتا ہوں کہ… جن معاملات میں مستند اہل علم کا اختلاف
ہے اُن معاملات میں اپنا مؤقف مضبوط رکھیں… مگر دوسرے مؤقف پر لعن طعن نہ کریں …
اسی طرح اگر آپ خود کوئی کام چھپ چھپا کر کرتے ہیں اور اُس پر توبہ، استغفار نہیں
کرتے تو … دوسروں پر اسی کام کے بارے میں لعن طعن نہ کریں… کئی لوگ خود تصویر بازی
کرتے ہیں… جہاں موقع ملے موبائل نکال کر ذی روح کا فوٹو، ویڈیو بناتے ہیں… مگر وہ
دوسروں پر تصویر کے بارے میں لعن طعن کرتے ہیں …یہ طرز عمل انتہائی خطرناک ہے… یہ
عمل آپ کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ رازداری خراب کر دے گا…آپ تصویر کو بُرا سمجھتے
ہیں تو آپ کو یہ حق نظریہ بہت مبارک…
آہ افسوس! اس نظریے کے اَفراد اب دنیا میں بہت کم رہ گئے
ہیں…یہ افراد حق کے زیادہ قریب ہیں…لیکن ان افراد کے لئے ضروری ہے کہ وہ خلوت،
جلوت ہر جگہ اپنے نظرئیے کی پاسداری کریں… تاکہ یہ ثابت ہو کہ آپ کا نظریہ اللہ
تعالیٰ کے لئے ہے، دوسروں کو ذلیل کرنے کے لئے نہیں… اور اللہ تعالیٰ ہر چیز ہر
جگہ دیکھتے ہیں…لیکن اگر آپ لکھنے اور بولنے کی حد تک تو تصویر کے مخالف ہوں …مگر
خود تصویر بنانے اور بنوانے سے پرہیز نہ کرتے ہوں تو آپ کی یہ حالت خود آپ کے
لئے خطرناک ہے… اب سنئے! ایک اہم نکتہ… ایک آدمی ’’صالح ‘‘ ہے… یعنی نیک، اس کو
سب اچھا سمجھتے ہیں…لیکن جیسے ہی وہ ’’مُصلِح‘‘ بنا…یعنی نیکی کی دعوت دینے والا
اور گناہوں سے روکنے والا… تو اب اس کی عوامی مقبولیت ایک دَم کم ہو جائے گی…اور
بہت سے لوگ اس کے مخالف ہو جائیں گے…
مگر ایک مسلمان کے لئے یہی حکم ہے کہ وہ …’’مصلح ‘‘ بنے…
لوگوں میں مقبولیت کی قربانی دے… اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر اپنی مقبولیت چھوڑے…
تب اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں… بڑی خاص ’’قبولیت‘‘ اور ’’مقبولیت‘‘ نصیب ہو تی ہے …اس
دنیا میں رہتے ہوئے… جو انسان اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا چاہتا ہے… اسے لوگوں میں
مقبولیت کا شوق دل سے نکالنا ہو گا…اگر یہ شوق دل سے نہ نکلا تو…یہ کسی بھی وقت اس
کے دین کو برباد کر دے گا…لوگ دینداروں سے کیا چاہتے ہیں؟ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ہم
ان کی مرضی کا دین بیان کریں… ایسا دین جس سے ان کی دنیا داری پر کوئی فرق نہ پڑے…
وہ آپ سے تعویذ چاہتے ہیں… عملیات چاہتے ہیں…اور استخارے… ان کے نزدیک اللہ
تعالیٰ کی نعوذ باللہ بس یہی عزت ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے مسائل حل کرتا رہے…اور
انہیں خود اللہ تعالیٰ کے لئے دو رکعت کی تکلیف بھی نہ کرنی پڑے…بلکہ کوئی اور
نمائندہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے استخارہ پوچھ دے… استغفر اللہ ، استغفر اللہ ،
استغفر اللہ …
وہ چاہتے ہیں کہ… اپنی مرضی کا کھائیں، اپنی مرضی کا پئیں،
اپنی مرضی سے خوشی غم منائیں… اور اپنی مرضی سے کمائیں… دین کو ان معاملات میں
مداخلت کا حق نہیں… دیندار بس ان کا نکاح پڑھا دیں اور جنازہ…
اب جو دیندار …لوگوں کی ان خواہشات کے برعکس چلتا ہے تو وہ ان
میں ’’غیر مقبول ‘‘ ہو جاتا ہے…پھر جو جس قدر زیادہ خالص دین کی طرف بلائے گا وہ
اسی قدر زیادہ غیر مقبول ہو گا…
ایک نظر ڈالیں
لوگ چاہتے ہیں کہ… ان کی دنیاداری چلتی رہے… گناہوں کا
کاروبار چلتا رہے… اور اس کے ساتھ تھوڑا بہت دین بھی آ جائے…لوگوں کی اس خواہش کو
دیکھتے ہوئے ایسے اَفراد میدان میں آ گئے ہیں جو لوگوں کو اُن کی پسند کا دین
سپلائی کرتے ہیں…اور یوں ان کی مقبولیت خوب بڑھتی ہے…
پھر اس میں کئی درجے ہیں:
٭ کچھ لوگ نہ کسی کو نماز کی دعوت دیتے ہیں…اور نہ کبیرہ
گناہوں سے بچنے کی…بلکہ شریعت کا ہر حکم دنیا داروں کے لئے معاف کراتے رہتے ہیں…نہ
نماز، نہ روزہ…نہ قربانی نہ شریعت… یہ لوگ آج کل سب سے زیادہ مقبول ہیں… یہ خود
کسی قدر دیندار ہیں…مگر لوگوںکو دین کے نام پر دین سے دور کرتے ہیں…ان میں کچھ
دانشور ہیں… کچھ عامل …کچھ پروفیسر اور کچھ کشف کے دعویدار…
٭ کچھ لوگ نماز روزے کی دعوت دیتے ہیں…مگر شریعت کے باقی
احکامات میں آزادی کی آواز لگاتے ہیں…اور کسی بھی گناہ سے کسی کو نہیں روکتے… یہ
لوگ پہلے طبقے سے کچھ کم مگر پھر بھی بہت مقبول ہیں…
٭ کچھ لوگ پورے دین کی دعوت کا اعلان کرتے ہیں…ماحول بھی دینی
بناتے ہیں…مگر دین کے ان احکامات کے قریب بھی نہیں پھٹکتے جو کفریہ سامراجی طاقتوں
کو ناپسند ہیں…مثلاً جہادِ فی سبیل اللہ ، اسلامی نظامِ انصاف…اسلامی معیشت وغیرہ…
یہ لوگ پہلے دو طبقوں سے کم…مگر پھر بھی کافی مقبول ہیں…
لوگوںمیں’’مقبولیت‘‘ کا شوق اور لوگوں تک ان کی پسندیدہ دین
کی سپلائی کے اس رجحان نے … اسلامی معاشرے کو گلابی بنا دیا ہے…سچے، خالص اور پورے
دین کی خوشبو اب اکثر جگہ نہیں ملتی… دنیا، دنیا اور دنیا… جبکہ دین ہر جگہ دنیا
کے تابع… (نعوذ باللہ)
آہ! کیسا دُکھ بھرا ماحول بن گیا…وہ جگہیں جہاں ایک سنت چھوٹ
جانے پر آنسو قطار بنا لیتے تھے…آج وہاں ’’منکرات‘‘ کا طوفان قہقہے لگا رہا
ہے…یا اللہ! رحم…
سب سے غیر مقبول
زیادہ لوگ جب ’’بد دینی‘‘ اور ’’ بے دینی‘‘ پر ہوں تو ایک
قانون بن جاتا ہے…وہ قانون یہ کہ لوگوں کے نزدیک جو چیز جتنی ’’غیر مقبول‘‘ ہوتی
ہے… اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ اسی قدر ’’مقبول ‘‘ ہوتی ہے… آج دین کا کونسا فرض اور
کون سا مسئلہ لوگوں میں زیادہ ’’غیر مقبول ‘‘ ہے؟… جواب واضح ہے… جہادِ فی سبیل
اللہ
دنیا کے تمام کفار اس کے شدید مخالف… دنیا کے تمام منافقین اس
کے شدید دشمن… دنیا کے تمام دنیا پرست اس کے شدید ناقد… اور دنیا کے تمام فاسق اس
کے شدید معاند… آج مسلمانوں میں بھی… ہر وہ شخص جو مہذب کہلاتا ہے…وہ جہاد کا نام
سن کر بدک جاتا ہے…آج دنیا پرست دینداروں کے ہاں… نہ جہاد کو سنا جاتا ہے اور نہ
جہاد کو بولا جاتا ہے… حالانکہ جہاد قرآن مجید میں موجود ہے… ایک بار نہیں ہزار
بار… جہاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ
میں موجود ہے… ایک بار نہیں سینکڑوں بار… جہاد تمام حدیث کی کتابوں میں موجود ہے… ایک
بار نہیں ہزاروں بار… جہاد تمام فقہ کی کتابوں میں موجود ہے… ایک بار نہیں لاکھوں
بار… جہاد حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگیوں میں موجود ہے…ایک
بار نہیں ہزاروں بار…ہمارا دین تو یہی ہے… جو قرآن میں آ گیا… جو سنت میں آ
گیا… جو حدیث میں آ گیا… جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں
آگیا… جو فقہ میں آ گیا… ہمارا دین یہ تو نہیں کہ جو حکم عالمی طاقتوں کو ناپسند
ہو … وہ دین سے خارج… وہ بیان سے خارج…
ہاں! آج عمومی، عوامی حلقوں میں جہاد سب سے ’’غیر مقبول‘‘…
بلکہ اب تو ’’خطرناک‘‘ بھی ہے کیونکہ نام کے مسلمان حکمرانوں کی طرف سےیہ کفریہ
فیصلہ صادر ہو چکا ہے کہ جہاد کو نعوذ باللہ مٹا دو… جہاد کو مٹانے میں اچھے برے
کی تفریق نہ کرو…بس جو بھی جہاد فی سبیل اللہ پر کھڑا ہو اسے گرا دو…
جب اہل کفر ، اہل نفاق، اہلِ فسق اور دنیا پرستوں کے نزدیک…
جہاد سب سے غیر مقبول ہوا… تو ان شاء اللہ یہی عمل اس وقت اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب
سے زیادہ قبولیت اور مقبولیت والا ہو گا… پس اللہ تعالیٰ کے عاشق اسے مضبوط پکڑیں
… اس میں بھرپور محنت کریں… اور اس میں خوب آگے بڑھیں… عشر مہم چل رہی ہے…اس کو
اخلاص کے ساتھ تیز کریں… دوراتِ تفسیر آ رہے ہیں اس سال مثالی کارکردگی دکھائیں…
جو صرف عوام میں مقبول ہوتے ہیں وہ ہمیشہ عوام کے جوتوں تلے رہتے ہیں…اور جو اللہ
تعالیٰ کے ہاں مقبول ہوتے ہیں…ان پر تو جبرئیل علیہ السلام اور
فرشتے بھی سلام بھیجتے ہیں…
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہمارے لئے ’’شعبان‘‘ میں برکت عطاء فرمائے… اور
ہمیں ’’قبولیت‘‘ والا ’’رمضان ‘‘ عطاء فرمائے…
اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ شَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا
رَمَضَانَ
آج کا موضوع
آج کا موضوع بہت اہم ہے… کوئی بندہ جب اللہ تعالیٰ سے غافل
ہوتا ہے… یا کوئی گناہ کرتا ہے تو اس پر بہت سی مصیبتیں آتی ہیں…مگر ان مصیبتوں
میں سے ’’آٹھ‘‘ بہت خطرناک ہیں …یہ آٹھ مصیبتیں انسان کی زندگی برباد کر دیتی
ہیں …اور اس کی آخرت کو بھی خطرے میں ڈال دیتی ہیں…اس لئے ہمیں سکھایا گیا کہ ہر
دن صبح اور شام ان آٹھ مصیبتوں سے بچنے کی دعاء مانگا کریں… عجیب بات یہ ہے کہ
…شیطان ان آٹھ مصیبتوں کے تیر…ہر صبح اور ہر شام ہم پر چھوڑتا ہے… پس جو انسان
صبح شام اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آ جاتا ہے…وہ بچ جاتا ہے…اور جو یہ پناہ نہیں
پکڑتا وہ ان تیروں میں سے کسی ایک یا زیادہ تیروں کا شکار ہو جاتا ہے…
وہ آٹھ مصیبتیں یہ ہیں:
١ ’’اَلْھَم
‘‘ یعنی فکر میں مبتلا ہونا …
٢ ’’اَلْحُزْن‘‘
یعنی غم میں جکڑا جانا…
٣ ’’اَلْعَجْز‘‘
یعنی کم ہمتی ، بے کاری، محرومی…
٤ ’’اَلْکَسْل‘‘
یعنی سستی ، غفلت…
٥ ’’اَلْجُبْن‘‘
یعنی بزدلی، خوف، دل کا کمزور ہو کر پگھلنا …
٦ ’’اَلْبُخْل‘‘
یعنی کنجوسی، حرص، لالچ اور مال کے بارے میں تنگ دلی …
٧ ’’غَلَبَۃُ
الدَّیْن ‘‘ یعنی قرضے میں بری طرح پھنس جانا کہ نکلنے کی صورت ہی نظر نہ آئے…
٨ ’’قَھْرُالرِّجَال
‘‘ یعنی لوگوں کے قہر، غضب ، غلبے اور ظلم کا شکار ہو جانا…
یہ آٹھ مصیبتیں ہمارے گناہوں کی وجہ سے … ہر روز کم از کم دو
بار ہم پر حملہ آور ہوتی ہیں … صبح بھی اور شام بھی…
جی ہاں! ہر روز… آپ تجربہ کر لیں… آپ صبح اور شام ان آٹھ
آفتوں سے حفاظت کی دعاء کا اہتمام کریں… مگر جس دن دعاء نہ پڑھی یا پڑھی مگر توجہ
سے نہ مانگی… اس دن ان آٹھ میں سے کوئی مصیبت اچانک حملہ آور ہو گی…اور ہمارے دل
کو پگھلانا شروع کر دے گی… بالکل فضول قسم کے تفکرات اور ہموم… ایک صاحب ایک بزرگ
کے پاس گئے…پریشانی اور فکر کی وجہ سے چہرہ بدلا ہوا تھا… بار بار دل کو مسلتے اور
سر کو پکڑتے … یوں لگتا تھا کہ ان کے اندر کوئی آگ جل رہی ہے … یا کوئی زہریلا
جانور ان کو اندر ہی اندر سے ڈس رہا ہے… اسے ’’ھَمْ ‘‘ اور فکر کہتے ہیں… بزرگ نے
پوچھا کیا بات ہے؟… کہنے لگے… بھائی صاحب کا انتقال ہو گیا ہے… ان کے چھ بچے اب
میرے ذمے ہیں…میں اس فکر میں ہوں کہ ان کو کہاں سے کھلاؤں گا؟… بزرگ نے پوچھا…
بھائی نے وراثت میں کچھ نہیں چھوڑا؟…وہ صاحب کہنے لگے کہ یہی فکر تو آج لگی ہے کہ
ہم نے بھائی کے چھوڑے ہوئے مال کا حساب کیا …وہ تو صرف ایک سال تک ان بچوں کی
ضروریات پوری کر سکتا ہے… تو اس وقت سے میں جل رہا ہوں کہ…ایک سال کے بعد کیا ہو
گا؟ … بزرگ نے فرمایا… ایک سال کا خرچہ موجود ہے… تم کو اگر رونا دھونا ہے تو ایک
سال بعد رو لینا…ابھی سے کیوں جل رہے ہو؟… کیوں کڑھ رہے ہو؟… سبحان اللہ! ایک سال
میں تین سو ساٹھ راتیں… تین سو ساٹھ دن… ایک سال میںچار موسم اور ہزاروں تبدیلیاں…
ایک سال میں زندگی، موت اور رزق کے اترنے والے فیصلے… مگر شیطان جب ’’فکر‘‘ میں
ڈالتا ہے تو اسی طرح تڑپاتا ہے… اپنی بیٹی پر نظر پڑی اور فکر شروع…
شادی کہاں ہو گی؟ پھر کیا کرے گی؟ …معلوم نہیں اچھا رشتہ ہو گا یا نہیں؟… اسی طرح
کبھی مکان کی فکر… کبھی گاڑی کی فکر… جو کچھ ہوا نہیں …اس کی فکر… پندرہ سال پہلے
جب جماعت پر چھاپے پڑنا شروع ہوئے تو آگے کی فکر میں کئی افراد بھاگ گئے…مگر اللہ
تعالیٰ کا شکر ہے جماعت بھی چلتی رہی اور کام بھی بڑھتا گیا… لیکن وہ لوگ اپنے حصے
سے محروم ہو گئے…کبھی بزدلی کا ایسا حملہ کہ اللہ تعالیٰ کی پناہ!
تقریر جہاد پر کرنے جا رہے ہیں…اور دل خوف اور بزدلی سے اندر
ہی اندر پگھل رہا ہے… ہر طرف موت ہی موت محسوس ہو رہی ہے… اور دل بیٹھا جا رہا
ہے…یہ شیطانی حملہ نہیں تو اور کیا ہے؟موت کا قرب تو خوشبودار اور روشنی بھرا ہوتا
ہے… موت کے بعد ہی ملاقات ہے اور راحت… لیکن جب موت کالی کالی بلا نظر آئے تو
سمجھ لیں کہ دل پر شیطانی حملہ ہو گیا… اسی طرح کم ہمتی کا حملہ کہ… بس چھوڑو سارے
کام…بغیر جہاد کے بھی جنت مل جائے گی… اور کبھی سستی کا حملہ کہ بس بستر پر پڑے
رہو…کوئی غم آئے یا خوشی مگر بستر نہ چھوٹے…تب بڑے بڑے عظیم کاموں سے محرومی ہو
جائے گی… کبھی قرضے کا ایسا حملہ کہ اللہ تعالیٰ کی پناہ …سمندر کی لہروں کی طرح
ایک کے بعد دوسرا… اور دوسرے کے بعد تیسرا… اللہ تعالیٰ بچائے… ایسا منظر بن جاتا
ہے کہ انسان کو زمین میں دھنس جانے کا جی چاہتا ہے…اور کبھی لوگوں کا قہر ، غضب
اور غلبہ… کوئی مار رہا ہے… کوئی گھسیٹ رہا ہے…کوئی باندھ رہا ہے…کوئی مذاق اڑا
رہا ہے… اور کوئی گالیاں بک رہا ہے… آٹھ مصیبتیں …ہر ایک مصیبت دوسری سے زیادہ
خطرناک…
ضروری نہیں
پہلے عرض کیا ہے کہ…یہ آٹھ مصیبتیں ہم پر ہمارے گناہوں کی
وجہ سے آتی ہیں…اور اس وقت آتی ہیں جب ہم اللہ تعالیٰ سے غافل ہوتے ہیں … لیکن
یہ ضروری نہیں…ایسے نیک لوگ جو احکام الٰہی پورے کرتے ہیں…اور گناہوں سے حتی الوسع
بچتے ہیں…ان پر بھی ان مصیبتوں کا حملہ ہوتا ہے…اور ہر دن ہوتا ہے… اور ہر دن دو
بار یعنی صبح شام ہوتا ہے… یہ اس لئے تاکہ وہ مزید نکھر جائیں مزید پاک ہو جائیں…
اور ان کے درجات مزید بلند ہو جائیں… اور اللہ تعالیٰ کی طرف زیادہ توجہ کرنے والے
بن جائیں…
قیمتی دعاء
ان آٹھ مصیبتوں سے حفاظت کی دعاء… کئی احادیث مبارکہ میں
آئی ہے… صحیح بخاری میں تو یہاں تک آیا ہے کہ…رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کثرت کے ساتھ یہ دعاء مانگتے تھے…بسی اسی سے اہمیت کا اندازہ
لگا لیں…حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم معصوم تھے، محفوظ تھے
اور شیطان کے ہر شر سے پاک تھے… مگر پھر بھی اس دعاء کی کثرت فرماتے…ابو داؤد کی
روایت میں ہے کہ… حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت
مسجد تشریف لے گئے تو وہاں اپنے صحابی حضرت ابو امامہ رضی اللہ
عنہ کو بیٹھا پایا…پوچھا کہ نماز کا تو وقت نہیں پھر مسجد میں کیسے
بیٹھے ہو … عرض کیا…تفکرات نے گھیر رکھا ہے…اور قرضے میں پھنس چکا ہوں… فرمایا یہ
کلمات صبح شام پڑھا کرو… انہوں نے اہتمام فرمایا تو تفکرات بھی دور ہو گئے اور
اللہ تعالیٰ نے سارا قرضہ بھی اُتار دیا … یہ دعاء الفاظ کی تقدیم تاخیر اور کچھ
فرق کے ساتھ کئی احادیث میں آئی ہے… صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین یہ دعاء ایک دوسرے کو قرآن مجید کی آیات کی طرح اہتمام سے
سکھاتے تھے…
دعاء کے دو صیغے یہاں پیش کئے جا رہے ہیں …جو آسان لگے اُسے
اپنا معمول بنا لیں…
١ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْھَمِّ
وَالْحُزْنِ وَالْعَجْزِ وَالْکَسْلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَضَلَعِ الدَّیْنِ
وَغَلَبَۃِ الرِّجَالِ…
٢ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْھَمِّ
وَالْحُزْنِ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْکَسْلِ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنَ
الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ غَلَبَۃِ الدَّیْنِ وَقَھْرِ
الرِّجَالِ…
الفاظ کا ترجمہ ایک بار پھر اختصار کے ساتھ سمجھ لیں…
’’اَلْھَم‘‘ تفکرات کو کہتے ہیں…آگے کی فکریں، پریشانیاں ،
فضول پریشان کرنے والے منصوبے اور خیالات…
’’اَلْحُزن ‘‘غم کو کہتے ہیں …ماضی کے واقعات کا صدمہ
اور غم ایک دم اُبھر کر دل پر چھا جائے… حالانکہ حدیث شریف میں آیا ہے … ’’کوئی
بندہ ایمان کی حقیقت کو اس وقت تک نہیں پا سکتا جب تک اسے یہ یقین نہ ہو جائے کہ
جو کچھ اسے پہنچا ہے وہ اس سے رہ نہیں سکتا تھا… اور جو کچھ اس سے رہ گیا وہ اسے
پہنچ نہیں سکتا تھا۔‘‘(مسند احمد)
یعنی جو نعمت مل گئی وہ ملنا ہی تھی اس سے زیادہ نہیں مل سکتی
تھی…جو تکلیف آئی وہ آنی ہی تھی اس سے بچا نہیںجا سکتا تھا…اور جو کچھ نہیں ملا
وہ نہیں ملنا تھا خواہ میں کچھ بھی کر لیتا… مطلب یہ کہ اللہ کی تقدیر پر ایمان
اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی ہونا…یہ غم کا علاج ہے…
’’اَلْعَجْز‘‘ کا مطلب اچھے کاموں اور اچھی نعمتوں کو پانے کی
طاقت کھو دینا…اس میں کم ہمتی بھی آ جاتی ہے…
’’اَلْکَسْل‘‘ کا مطلب سستی… یعنی انسان کے ارادے کا
کمزور ہو جانا… میں نہیں کر سکتا … میں نہیں کرتا…
’’اَلْجُبْن‘‘ بزدلی، موت کا ڈر، اپنی جان کو بچانے کی ہر وقت
فکر …اللہ تعالیٰ نے جان دی کہ اس کو لگا کر جنت پاؤ مگر ہم ہر وقت جان لگانے کی
بجائے جان بچانے کی سوچتے ہیں…اللہ تعالیٰ نے جان دی تاکہ ہم اسے لگا کر…دین کو
غلبہ دلائیں، اسلامی حرمتوں کی حفاظت کریں…اُمت مسلمہ کو عزت دلائیں… مگر ہم جان
بچانے کے لئے ہر ذلت برداشت کرنے پر تیار ہو جائیں … اسے ’’جبن ‘‘ کہتے ہیں…
’’اَلْبُخْل‘‘ مال کے بارے میں کنجوسی کرنا …مال سے فائدہ نہ
اٹھانا… مال جمع کرنے اور گننے کی حرص میں مبتلا ہو کر …مال کا نوکر اور ملازم بن
جانا…اور مال کے شرعی اور اخلاقی حقوق ادا نہ کرنا…
’’ضَلَعُ الدِّیْن‘‘ قرضے کا بری طرح مسلط ہو جانا… فضول قرضے
لینے کی عادت پڑ جانا … قرضوں کے بوجھ تلے دب جانا…
’’غَلَبَۃُ الرِّجَال یا قَہْرُالرِّجَال ‘‘
لوگوں کے ہاتھوں ذلیل ، رسوا ، مغلوب اور مقہور ہونا…
اللہ تعالیٰ میری اور آپ سب کی…ان آٹھ آفتوں اور تمام
آفتوں سے حفاظت فرمائے…
آفتوں کے تعلقات
نیکیوں کے آپس میں تعلقات ہوتے ہیں … ایک نیکی انسان کو
دوسری نیکی سے ملاتی ہے…اسی طرح گناہوں کے آپس میں تعلقات ہوتے ہیں ایک گناہ
انسان کو دوسرے گناہ کی طرف کھینچ لے جاتا ہے… یہی حال ’’آفتوں‘‘ کا بھی ہے…ہر
آفت انسان کو اگلی آفت کی طرف کھینچتی ہے…اہل علم نے ان آٹھ آفتوں کے باہمی
تعلقات پر بہت عمدہ نکتے لکھے ہیں… مثلاً یہ کہ ’’ ھم ‘‘ اور ’’حزن‘‘ کا تعلق
انسان کی روح کے ساتھ ہے…’’ھم ‘‘ روح کو آگے کی پریشانیوں میں ڈالتا ہے… اور
’’حزن‘‘ اسے ماضی کی پریشانیوں میں جلاتا ہے… عجز اور کسل کا تعلق عمل کی محرومی سے
ہے… انسان کا ارادہ کمزور اور عمل کی طاقت سست پڑتی ہے تو وہ ترقی سے محروم ہو
جاتا ہے… بخل اور جبن کا تعلق ذاتی نقصان سے ہے… انسان نے جان سے کچھ فائدہ نہ
اٹھایا یہ جبن ہے… اور مال سے کوئی فائدہ نہ پکڑا یہ بخل ہے… اور قرضے اور مغلوبیت
کا تعلق انسان کی آزادی سے ہے کہ …ان دونوں مصیبتوں کی وجہ سے انسان داخلی یا
خارجی آزادی سے محروم ہو جاتا ہے… بندہ نے کافی غوروفکر کے بعد اس دعاء میں یہ
دیکھا ہے کہ… ان آٹھ آفتوں کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے… ہر آفت کے بعد والی
آفت اس کا سبب ہے… کالم کی جگہ ختم ہو رہی ہے اس لئے تفصیل سے نہیں لکھ سکتا اہل
علم کے لئے اشارہ عرض کر دیا ہے…
موجودہ حالات
اس وقت پاکستان میں ’’ اہل دین‘‘ خصوصاً ’’اہل جہاد‘‘ پر جو
حالات ہیں وہ بظاہر مایوسی پھیلانے والے ہیں…تفکرات اور غموں میں ڈالنے والے ہیں…
حالانکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں… ایمان والے مجاہدین پر ہمیشہ ہی ایسے حالات رہتے
ہیں… ’’جہادِ فی سبیل اللہ ‘‘ عمل ہی ایسا ہے…مگر فرق یہ ہے کہ جب اپنے دل میں ہمت
کی روشنی…یعنی ’’چارجنگ‘‘ موجود ہو تو… دل مطمئن رہتا ہے اور کام میں لگا رہتا ہے…
لیکن اگر اپنے دل کی روشنی ہی کمزور پڑ جائے تو پھر جہاد میں اطمینان والے حالات
کب نظر آ سکتے ہیں؟…
بدر کا الگ امتحان ہے…احد کا الگ امتحان ہے…احزاب کا الگ
امتحان ہے… حتی کہ فتح مکہ کا بھی الگ امتحان ہے…
اس لئے ضرورت ہے کہ…اپنے دل کی روشنی پر نظر رکھی جائے کہ
موجود ہے یا نہیں …کم ہے یا زیادہ… پھر اس روشنی کو قرآنی نسخوں اور مسنون دعاؤں
اور اعمال کے ذریعے برقرار رکھا جائے… بڑھایا جائے…
﴿ رَبِّ اشْرَحْ لِيْ صَدْرِيْ وَيَسِّرْ لِيْٓ اَمْرِيْ﴾
بس اسی سلسلے میں آج یہ قیمتی دعاء بھی عرض کر دی ہے… تاکہ
اہل ایمان ان آٹھ خطرناک آفتوں سے بچنے کا سامان کریں… اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ
سب کو اس مبارک دعاء کی برکات عطاء فرمائے…
آمین یا ارحم الراحمین
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اَللّٰھُمَّ یَا رَبِّ اِنَّا نَسْئَلُکَ الْھُدٰی وَالتُّقٰی
وَالْعَفَافَ وَالْغِنٰی
یا اللہ! ہمیں ہدایت ، تقویٰ ، عفت اور غنا عطاء فرما دیجئے…
وہ افراد جن کے دل پر گناہوں کا زیادہ حملہ ہوتا ہے… اور وہ
برائیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں … اُنہیں ہمارے حضرت شیخ مفتی ولی حسن صاحب نور
اللہ مرقدہ یہ مسنون دعاء تلقین فرماتے تھے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْھُدٰی وَالتُّقٰی
وَالْعَفَافَ وَالْغِنٰی
جو لوگ توجہ سے یہ دعاء مانگتے ہیں… ان کے دل کی بھی اصلاح
ہوتی ہے اور مزاج کی بھی…
مثلاً ’’اَلْغِنٰی‘‘ کہتے ہیں…محتاجی سے حفاظت کو…شیطان کوشش
کرتا ہے کہ آدمی کی طبیعت محتاجوں والی ہو جائے…ہر چیز میں محتاج … گپ شپ کا
محتاج، اپنا حال اور بیماری بتانے کا محتاج… مال کا محتاج… لوگوں کی توجہ کا محتاج
… لوگوں کی اطاعت کا محتاج… ہر کسی سے یہ تمنا کہ وہ مجھے کچھ دے… حتیٰ کہ بیت
الخلاء سے نکلتے ہی ایسے افراد کی ضرورت جن کو بیت الخلاء کی کار گزاری سنا سکے
اور اپنی بیماریاں بتا سکے… مجلس میں بیٹھے تو ہر ایک پر دل پھنسایا ہوا ہے کوئی
اُٹھا تو فوراً سوال کہ کیوں اُٹھے؟… کوئی جانے لگا تو فوراً سوال کہ کہاں جا رہے
ہو؟… محتاجی ہی محتاجی… مگر جب اللہ تعالیٰ کسی کے دل کو ’’غنی‘‘ فرما دے تو اسے
نہ ان چیزوں کی فکر ہوتی ہے نہ ضرورت… غنی دل، بادشاہ دل… نہ کسی کے اکرام کا
محتاج اور نہ کسی کی ہمدردی کا محتاج…اپنے کام سے کام اور اپنے مالک سے ہمکلام…
واقعی بڑی عجیب دعاء ہے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْھُدٰی وَالتُّقٰی
وَالْعَفَافَ وَالْغِنٰی
ہدایت مل گئی تو گمراہی سے حفاظت ہو گئی… فتنوں سے حفاظت ہو
گئی…قرآن مجید نے ہمیں بہت سے فتنوں سے آگاہ کیا ہے… سورۂ انفال میں ایک بڑے
فتنے سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے:
﴿وَاتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِيْبَنَّ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا
مِنْكُمْ خَاۗصَّةً ۚ﴾
ترجمہ: اور تم ایسے فتنہ سے بچو جو خاص کر انہی لوگوں پر واقع
نہ ہو گا جو تم میں سے گناہوں کے مرتکب ہوئے…
یعنی وہ ایسا خطرناک فتنہ ہے کہ…جو گناہگاروں اور بے گناہوں
سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا…وہ کون سافتنہ ہے؟… مفسرین لکھتے ہیں: وہ جہاد
چھوڑنے کا فتنہ ہے… اس فتنے کے نقصانات عوام اور خواص سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے
ہیں…کیونکہ جہاد کے ذریعہ دین کی حفاظت ہے، شعائر دین کی حفاظت ہے… اور جہاد ہی کے
ذریعہ تمام مسلمانوں کی حفاظت ہے … اسی لئے مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ ہمیشہ
جہاد کرتے رہیں… اگرچہ کفار نے ان پر حملہ نہ کیا ہو تب بھی مسلمان خود آگے بڑھ
کر لڑتے رہیں… اور جب کفار مسلمانوں پر حملہ آور ہو جائیں تو پھر جہاد سے پیچھے
ہٹنے کی گنجائش ہی نہیں ہے…تفسیرِ انوار البیان میں لکھا ہے:
’’جہاد کا سلسلہ جاری نہ رکھنے کی ہی وجہ سے دشمن کو آگے
بڑھنے کی جرأت ہوتی ہے اور جب دشمن چڑھ آتے ہیں تو بچوں ، بوڑھوں اور عورتوں کی
حفاظت کے لئے فکر مند ہونا پڑتا ہے، لہٰذا جہاد جاری رکھا جائے اور اس سے پہلو تہی
نہ کریں ورنہ عوام و خواص مصیبت میں گھِر جائیں گے، حضرت ابو بکر
صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو بھی کوئی قوم جہاد چھوڑ دے گی
اللہ تعالیٰ اُن پر عذاب بھیج دے گا۔ ( انوار البیان)
بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ… وہ فتنہ ’’نہی عن المنکر ‘‘ چھوڑنے
کا فتنہ ہے…لوگوں کو گناہوں سے نہ روکنا…اس میں جب عذاب آتا ہے تو گناہگار بھی
رگڑے جاتے ہیں…اور ساتھ وہ لوگ بھی جو انہیں گناہوں سے نہیں روکتے… اللہ تعالیٰ
رحم فرمائے یہ وہ فتنہ ہے جو (نعوذ باللہ) دین کا حلیہ ہی بدل دیتا ہے…پھر گناہوں
کی دو قسمیں ہیں…یہ دونوں قسمیں سخت خطرناک ہیں…مگر ایک ان میں سے بہت ہی زیادہ
خطرناک ہے… ایک تو وہ گناہ ہے جو انسان کی اپنی ذات تک محدود ہے… اس گناہ میں
دوسروں کو گناہوں میں مبتلا کرنے کی دعوت یا انتظام نہیں ہے… مگر ایک گناہ ایسا ہے
کہ اس میں دوسروں کو بھی گناہ کی دعوت موجود ہے اور اس گناہ کے ذریعہ دوسرے مسلمان
بھی گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں…یہ گناہ … ’’سیئہ جاریہ‘‘ ہے… یعنی جاری رہنے والی
برائی … آگے بڑھنے والا گناہ… اس گناہ کے علمبردار اللہ تعالیٰ کے اور ایمان
والوں کے دشمن ہوتے ہیں … کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایمان اور تقوے کی طرف
بلاتا ہے جبکہ یہ لوگ اس کے مدمقابل گناہوں کو کھڑا کر کے… لوگوں کو اللہ تعالیٰ
کی نافرمانی کی طرف بلاتے ہیں…قرآن مجید کی کئی آیات میں ایسے گناہگاروں پر سخت
وعید فرمائی گئی ہے… وہ جو لوگوں میں فحاشی پھیلاتے ہیں…وہ جو لوگوں کو کھیل کود
اور لہو و لعب میں غافل کرتے ہیں… وہ جو دوسروں کو گناہوں کی طرف مائل کرتے ہیں
…ایسے لوگوں کے لئے بڑی ذلت اور بڑا عذاب ہے… مگر توبہ کا دروازہ اللہ تعالیٰ نے
سب کے لئے کھلا رکھا ہے… ذاتی گناہ کرنے والوں کے لئے بھی…اور گناہوں کو پھیلانے
والوں کے لئے بھی…لیکن گناہ پھیلانے والوں کی توبہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنا
گناہ اعلان کر کے چھوڑیں…اور اس گناہ کے جتنے اثرات معاشرے میں جاری ہوں…اُن کو
مٹانے کی حتی الوسع کوشش کریں…
تب ان شاء اللہ ان کی توبہ قبول ہو گی… جبکہ اہل ایمان کا
فریضہ یہ ہے کہ وہ ان گناہگاروں کو ان کے گناہوں سے روکیں…انہیں قرآن و سنت کی
وعیدیں سنائیں… اورانہیں دو ٹوک الفاظ میں بتائیں کہ آپ کا یہ عمل اللہ تعالیٰ سے
بغاوت ہے … لیکن اگر اہل ایمان یہ فریضہ چھوڑ دیں… گناہ گاروں کو اُن گناہوں سے نہ
روکیں… اور اس بات پر کھلے عام فخر بھی کریں کہ…ہم نے فلاں سے ملاقات کی اور اسے
اس کے عالمگیر گناہوں کا احساس تک نہیں ہونے دیا تو پھر ایسے حالات میں وہ عذاب
اور فتنہ آتا ہے جس کی لپیٹ میں سب آ جاتے ہیں…نہی عن المنکریعنی گناہوں سے
روکنے کے کئی درجات ہیں…اس میں سب سے اونچا درجہ ’’جہادِ فی سبیل اللہ‘‘ ہے کیونکہ
وہ سب سے بڑے ’’منکر‘‘ یعنی کفر سے روکتا ہے… اس کے بعد کا درجہ گناہ کو ہاتھ سے
روکنے کا ہے… اس کے بعد زبان سے روکنے کا مرتبہ ہے… اور سب سے آخری درجہ یہ ہے کہ
دل سے گناہ کو گناہ سمجھے اور اس سے نفرت رکھے…اور اس سے بیزار ہو… اس کی مثال یہ
ہے کہ… کسی کے گھر میں آگ لگ جائے اور وہ آدمی ہاتھ، پاؤں اور زبان سے معذور
ہو…وہ نہ خود آگ بجھا سکتا ہو اور نہ کسی اور کو مدد کے لئے بلا سکتا ہو …تو ایسے
آدمی کے دل میں جو غم اور گھٹن ہو گی اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے … بس اسی
طرح وہ مسلمان جو گناہوں سے دوسروں کو نہیں روک سکتے…وہ گناہوں سے اپنے دل میں
شدید نفرت اور بے زاری رکھیں… یہ ایمان کا سب سے آخری اور کمزور درجہ ہے… اور
اللہ تعالیٰ معاف فرمائے…آج مسلمانوں کو ایمان کے اس آخری درجے سے محروم کرنے کی
سخت محنت جاری ہے… انہیں سمجھایا جا رہا ہے کہ…گانے بجانے کو برا نہ سمجھو کیونکہ
ساری زندگی ہزاروں گانے ریکارڈ کرنے والی… چھبیس سے زائد ناجائز معاشقے لڑانے
والی…بارہ سے زائد مشکوک شادیاں بھگتانے والی ’’مائی ‘‘ جنت میں ہے… بالی وڈ کی
فلموں کو برا نہ سمجھو کیونکہ ان میں کام کرنے والے کئی افراد بڑے جینئس، حاجی اور
مثالی لوگ ہیں… لہو و لعب اور کھیل و کود میں زندگی برباد کرنے کو برا نہ سمجھو
کیونکہ وہاں تو دین کی بہاریں پھوٹ رہی ہیں…گناہوں کی تو دور کی بات… اب اسلام
دشمن کافروں سے بھی نفرت نہ کرو … بلکہ ہاتھ میں کتبے لے کر فوٹو بنواؤ کہ…ہم
مودی سے نفرت نہیں کرتے… ہم ایڈوانی سے بغض نہیں رکھتے…ہم مشرکوں سے محبت کرتے
ہیں… پھر یہ کتبے رکھ کر نماز کی امامت کے لئے آگے بڑھو … اور بڑے سوز سے تلاوت
کرو…
﴿وَالَّذِيْنَ مَعَهٗٓ اَشِدَّاۗءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاۗءُ بَيْنَهُمْ ﴾
ترجمہ: جو صحابہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ
تھے وہ کفار کے لئے بہت سخت اور آپس میں بڑے ہمدرد تھے…
پھر نماز کے بعد دوبارہ کتبہ اُٹھا کر بیٹھ جاؤ کہ:
’’ میں سشما سوراج اور اندرا گاندھی کا دیوانہ ہوں …اور عجیب
بات یہ کہ میں مسلمان بھی ہوں‘‘…
عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ…اللہ تعالیٰ سے ہدایت مانگنے کی
ضرورت ہے اور ہدایت کی حفاظت تقویٰ سے ہوتی ہے… اور تقویٰ عفت سے مضبوط ہوتا ہے…ا
ور عفت تب آتی ہے جب انسان کا دل غنی ہو… اور وہ شہوات اور اغراض کی حرص سے پاک
ہو…اسی لئے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کو
یہ جامع دعاء سکھا دی:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْھُدٰی وَالتُّقٰی
وَالْعَفَافَ وَالْغِنٰی
الحمد للہ فتنوں سے حفاظت کے لئے… دعوتِ جہاد کا سلسلہ اللہ
تعالیٰ کے فضل و کرم سے جاری ہے… اس وقت ملک کے پچیس اضلاع میں ’’دورہ تفسیر آیات
الجہاد‘‘ جاری ہے… جماعت کی تین نکاتی جامع دعوت کا اثر بھی الحمد للہ دور دور تک
پھیل رہا ہے… کلمہ طیبہ، اقامت صلوٰۃ اور جہادِ فی سبیل اللہ…ابھی دو روز قبل
بیرون ملک سے ایک صاحب نے بتایا کہ وہ بیان سن کر تائب ہوئے… اور شراب خانے کی
نوکری چھوڑ دی… انہوں نے رزق حلال کے لئے دعاء کی درخواست کی ہے… ایک خاتون نے
لکھا کہ انہوں نے این جی او کی نوکری اور بیوٹی پارلر بند کر دیا ہے… اور ’’الیٰ
مغفرۃ‘‘ کتاب کو حرز جان بنا کر دن رات توبہ استغفار اور قضا نمازوں میں مشغول
رہتی ہیں … اور الحمد للہ شرعی پردہ اپنا لیا ہے…ایک اور مسلمان بہن نے بھی اپنی
توبہ کا بہت عجیب حال لکھا ہے… تمام قارئین سے گذارش ہے کہ… ان سچے’’ تائبین‘‘ کے
لئے اللہ تعالیٰ سے استقامت، ترقی اور وافر رزق حلال کی دعاء فرمائیں…بے شک توبہ
کرنے والوں کا مقام بہت بلند ہے… اللہ تعالیٰ کا عرش اُٹھانے والے فرشتے ان کے لئے
خاص دعائیں کرتے ہیں…اور اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے…
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنَا مِنَ التَّوَّابِیْنَ وَاجْعَلْنَا
مِنَ الْمُتَطَھِّرِیْنَ
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت ہو…حضرت سیّدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ پر… ان کا اسم گرامی ہے…خالد بن
زید الخزرجی النجاری… سلام اللہ علیہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ورضی اللہ عنہ وارضاہ…
اللہ تعالیٰ ہماری آج کی اس مجلس اور اس کالم کو قبول فرما
کر اس کا ثواب حضرت سیّدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو عطاء فرمائے…اور ان کی برکت سے
اللہ تعالیٰ ہم سب کو مرتے دم تک… دین اسلام اور جہاد فی سبیل اللہ پر استقامت
عطاء فرمائے۔
دلکش منظر
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر تشریف فرما ہیں…’’قباء‘‘ سے
مدینہ منورہ کی طرف روانگی ہے… حضرات انصار پروانوں کی طرح اردگرد بھاگتے دوڑتے جا
رہے ہیں… ہر دل میں ایک ہی خواہش دھک دھک کر رہی ہے کہ… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں قیام فرمائیں… انصار کے قائدین
حضرات نے… دل اور نظریں بچھا رکھی تھیں…اور جگہ جگہ محبت کے ناکے لگا رکھے تھے…
اونٹنی ایک شان کے ساتھ آگے بڑھ رہی تھی… پہلے ناکے پر کچھ سچے عاشق سامنے آ کر
گڑگڑانے لگے… یا حضرت! یہاں قیام فرمائیے جان ، مال ، کنبہ اور سرفروشی حاضر ہے…
سب کچھ آپ پر قربان کر دیں گے اور آپ پر دشمن کا سایہ تک نہیں پڑنے دیں گے…
ارشاد ہوا:…اونٹنی کو چھوڑ دو… یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابند ہے… جہاں حکم ہو گا
وہاں بیٹھے گی… وہ عاشق تھے مگر فرمانبردار، وہ سچے محب تھے مگر غلامی ہی ان کا ناز
تھی، دل پکڑ کر راستے سے ہٹ گئے… اگلے محلے پر گذر ہوا تو وہاں بھی بڑے بڑے عزتمند
حضرات بھکاری بنے… راستہ روکے کھڑے تھے… حضرت! یہاں قیام فرمائیے…لشکر، اسلحہ،
جان،مال اور حفاظت سب کچھ پیش خدمت ہے… مگر یہاں بھی وہی جواب ملا… اسی طرح چار
پانچ جگہ ہوا…اب ہر آنکھ ُاس ہستی کو دیکھنے کی مشتاق تھی…جس کے نام سعادت کا
قرعہ نکلنا تھا…بالآخر یہ اونٹنی مسجد نبوی شریف کی جگہ کے قریب… حضرت سیّدنا ابو
ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے دروازے پر تشریف فرما ہوئی… سبحان اللہ! سعادت کا وہ
لمحہ جس کی صدیاں منتظر تھیں… ابو ایوب کے دروازے پر دستک دے چکا تھا… وہ بھاگ
بھاگ کر سامان اُٹھا رہے تھے اور کائنات کے سب سے مبارک مہمان کو اپنے گھر لے جا
رہے تھے…وہ اور ان کی خوش نصیب اہلیہ کھانا تیار کرتے…پھر جب حضرت آقا مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم تناول فرما لیتے تو میاں
بیوی میں مقابلہ شروع ہو جاتا کہ…حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک انگلیوں کے نشان والی جگہ کا بچا ہوا
کھانا کس کو ملتا ہے… مبارک ہو ابو ایوب مبارک… اور پھر زمانے کے پچاس سال گذر
گئے… تاریخ کے صفحات ایک اور منظر کی عکس بندی کر رہے ہیں… مسلمانوں کا ایک لشکر
رومیوں کے ساتھ جہاد کرنے جا رہا ہے… لشکر میں گھوڑے، اونٹ اور مجاہدین تو ہوتے ہی
تھے…مگر آج ایک اور چیز بھی ہے… جی ہاں! ایک جنازہ ہے… ہاں!ایک جنازہ بھی لشکر کے
کندھوں پر ہے… اور مجاہدین اسے نہایت احترام سے اٹھا کر آگے بڑھ رہے ہیں… یہاں تک
کہ وہ قسطنطنیہ کی دیوار تک پہنچ گئے… آگے دشمنوں کا لشکر اور اس کے مورچے تھے…
یہاں قبر کھودی گئی… اور حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو دفن کیا گیا… دراصل وہ راستے ہی
میں انتقال فرما چکے تھے…مگر وصیت کر گئے تھے کہ… میرے جنازے کو بھی جہاد میں ساتھ
ساتھ لے جانا… گویا کہ یوں فرمایا کہ میں نے حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام اور جہاد کی بیعت کی ہے… میرا بڑھاپا
مجھے جہاد سے نہیں روک سکا… تو میں چاہتا ہوں کہ…میری موت بھی مجھے جہاد سے نہ روک
سکے… پس جہاں تک لشکر جا سکتا ہو وہاں تک میرا جنازہ لے جایا جائے…اور مجھے وہاں
دفن کیا جائے… استقامت کا یہ مینارجب قسطنطنیہ کی دیوار کے پاس… نصب ہوا تو پورے’’
ترک خطے‘‘ میں اسلام اور جہاد کی لہر دوڑ گئی…لوگوں نے اس قبر سے نور اٹھتے دیکھا…
رومی وہاں جمع ہو کر بارش کے لئے دعاء کرتے تھے… اور پھر یہ پورا خطہ اسلام میں
داخل ہو گیا… سلام ہو حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ پر…بے شمار سلام… سلام اللہ علیہ
ورحمۃ اللہ وبرکاتہ… رضی اللہ عنہ وارضاہ
استقامت کا مینار
حضرت ابو ایوب رضی
اللہ عنہ کی خاص صفت … ’’استقامت‘‘ تھی… اور استقامت ہی سب سے بڑی کرامت ہے… قرآن
مجید سمجھاتا ہے کہ… جس میں استقامت ہو اس پر فرشتے اترتے ہیں… زندگی میں بھی اور
موت کے وقت بھی… ایمان پر استقامت ایسی صفت ہے جو کروڑوںاربوں میل سے فرشتوں کو
کھینچ لاتی ہے…یہ استقامت کی کشش تھی کہ…حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک اونٹنی…نہ قبیلہ اوس کے سرداروں کے
محلے میں اُتری… اور نہ قبیلہ خزرج کے رؤسا کے دروازوں پر رکی… وہ نہ مدینہ کے
مالداروں کے ہاں ٹھہری… اور نہ مدینہ کے سخیوں اور نامور بہادروں کے پاس رکی…
استقامت تو تمام انصار میں تھی… تمام صحابہ کرام میں تھی… مگر کسی پر کسی چیز کا
رنگ غالب ہوتا ہے… حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ پر ’’استقامت‘‘ کا رنگ ایسا غالب
تھا کہ… اونٹنی سب کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے حکم سے… ان کے گھر جا اتری… اے
مجاہدو! غور کرو… دین اور جہاد پر استقامت کتنی بڑی طاقت ہے اور کتنی بڑی نعمت…
اور یہ کیسی کیسی سعادتوں کو… آپ کے دروازے پر لے آتی ہے۔
جب اونٹنی کے اترنے کا واقعہ پیش آ رہا تھا تو… اس وقت کسی
کو معلوم نہیں تھا کہ…کون آگے چل کر کیا کرے گا؟… مگر اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا
کہ… ابو ایوب اس امت کے لئے استقامت کا وہ روشن مینار بنیں گے کہ… جن کو دیکھ کر
ٹوٹتے حوصلے مضبوط ہو جایا کریں گے… اور مضمحل اعصاب میں بجلی دوڑ جایا کرے گی…
چنانچہ ایسا ہی ہوا … غزوۂ بدر سے لے کر غزوہ ٔتبوک تک…دور نبوی کے ہر جہاد میں
اللہ کے نبی کا یہ سچا عاشق دیوانہ… پہلی صف میں شریک رہا… بلکہ غزوۂ خیبر کے
موقع پر تو بہت عجیب واقعہ ہوا…فتح کے بعد حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا… وہیں رخصتی کا انتظام کیا گیا…
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر نکاح اللہ تعالیٰ کے حکم سے… اور اس اُمت
کی بھلائی کے لئے تھا… جنگ ختم ہو چکی تھی… کسی طرف سے مزاحمت کا کوئی خطرہ،
اندیشہ نہیں تھا… اس لئے اسلامی لشکر اطمینان سے سویا… حضرت آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم جب صبح خیمہ مبارک سے باہر
تشریف لائے تو دیکھا… ابو ایوب ہاتھ میں تلوار لئے مستعد پہرہ دے رہے ہیں… وجہ
پوچھی تو عرض کیا… مجھے اندیشہ ہوا کہ آپ کا نکاح یہودیوں کے سردار کی بیٹی سے
ہوا ہے تو آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچائے تو… ساری رات اسی طرح پہرہ دیتا رہا… آپ
صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے اور دعاء دی۔
یا اللہ! ابو ایوب کی حفاظت فرما جس طرح انہوں نے پوری رات
میری حفاظت کے لئے پہرہ دیا اسی مبارک دعاء کا اثر تھا کہ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو قتل ہونے والی شہادت نہیں ملی…
بلکہ وفات والی شہادت ملی… اور بعض اوقات وفات والی شہادت کا مقام قتل ہونے والی
شہادت سے بڑا ہوتاہے۔
پھر خلفاء راشدین کا دور شروع ہوا تو… ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے زمانے سے لے کر …حضرت علی
المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے زمانے تک… مسلسل
جہاد میں حصہ لیا…صرف ایک لشکر میں نہیں گئے… اور اس پر بھی خود کو ہمیشہ ملامت
کرتے تھے…ہاں! ایک بات رہ گئی…حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں… مدینہ کے منافقین بعض اوقات مسجد
نبوی میں بیٹھ کر اسلام کے خلاف سازشیں اور مسلمانوں کی غیبتیں کرتے تھے… حضرت ابو
ایوب رضی اللہ عنہ نے ایک بار ان کو دیکھ
لیا…’’استقامت‘‘ انسان کو ہمیشہ ایک رنگ پر رکھتی ہے… اور کبھی دو رنگی یا مداہنت
اختیار نہیں کرنے دیتی… مدینہ کے یہ منافق اوس اور خزرج کے معزز لوگ شمار ہوتے
تھے… اور ان میں سے بعض تو ماضی میں اپنے قبیلوں کے سردار بھی رہے تھے… مگر حضرت
ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو اپنی یا
اپنے نام کی کوئی فکر نہیں تھی… وہ اسلام کے تھے، جہاد کے تھے اور حضرت آقا مدنی
صلی اللہ علیہ وسلم کے تھے اور بس… چنانچہ
آگے بڑھے اور ایک منافق کے پاؤں پکڑ کر اسے گھسیٹتے ہوئے مسجد سے باہر پھینک
آئے… وہ چیختا رہا …عار دلاتا رہا…
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ قبیلہ خزرج سے تھے…اور جس کو
گھسیٹ رہے تھے وہ خزرج کا سردار رہ چکا تھا…وہ قوم پرستی جگانے کی کوشش کرتا رہا…
مگر کہاں ابو ایوب استقامت کے مینار اور کہاں بدبودار قوم پرستی… اس کو باہر پھینک
کر پھر مسجد میں گئے اور دوسرے کو پکڑ کر تھپڑ لگائے اور گھسیٹ کر باہر لے
آئے…فرمایا …رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں… ایسی باتیں کرنے والوں کو ابو ایوب
برداشت نہیں کر سکتا… بے شک! ہر کسی کی ہاں میں ہاں ملانے والے… کبھی سچی استقامت
کی خوشبو نہیں پا سکتے۔
مقویٔ اعصاب
گذشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ…آج کل کا جو جہاد ہے وہ بہت
طویل اور اعصاب شکن ہے… آج یہ عرض کرنا تھا کہ مجاہدین اپنے اعصاب کو کس طرح سے
مضبوط رکھ سکتے ہیں… طویل جنگ جس طرح بڑے بڑے ملکوں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی
ہے… اسی طرح وہ جماعتوں، تنظیموں اور افراد کو بھی تھکا کر گرا دیتی ہے… مگر الحمد
للہ… مسلمانوں کے پاس … اعصاب اور حوصلے کو مضبوط رکھنے کے بڑے بڑے نسخے موجود
ہیں… آج ان میں سے بعض نسخے اپنے لئے اور آپ سب کے لئے عرض کرنے تھے…اور کالم کا
نام رکھنا تھا ’’مقویٔ اعصاب‘‘… اس میں ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ… کئی ایسے افراد
جو بیماریوں اور دوائیوں کے شوقین ہوتے ہیں وہ بھی… اس گمان سے کالم پڑھ لیتے کہ…
شاید قوت و طاقت کی کوئی خاص ’’دواء‘‘ ہاتھ آ جائے… اسی کالم کے لئے مواد اور
دلائل کو ذہن میں سوچ رہا تھا کہ… استقامت کے روشن اور خوبصورت مینار نے دل کو
اپنی طرف کھینچ لیا…جی ہاں! حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا تذکرہ، ان کی یادیں… اور ان کی
باتیں… ایک ٹوٹتے مسلمان کو بھی تھام لیتی ہیں… حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ … قرآن مجید کی آیت
مبارکہ…’’اِنْفِرُوْ اخِفَافًا وَّثِقَالًا‘‘(التوبہ:۴۱) کی چلتی پھرتی تفسیر تھے… اور وہ اس آیت مبارکہ کا حوالہ بھی دیتے تھے کہ…
اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہر حال میں…جہاد میں نکلنے کا حکم فرمایا ہے… اور وہ فرمایا
کرتے تھے کہ…جہاد کو چھوڑ کر …اپنے گھر بار اور کاروبار کی فکر و اصلاح میں لگ
جانا… یہ اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں ڈالنا ہے… اور اللہ تعا لیٰ نے ہمیں…
خود کو ہلاکت میں ڈالنے سے منع فرمایا ہے:
﴿وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ
اِلَی التَّھْلُکَۃِ﴾(البقرۃ:۱۹۵)
اگر کوئی اس وجہ سے جہاد چھوڑتا ہے کہ …اس نے بہت کام کر
لیا ہے تو وہ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ
کو دیکھے… انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کی میزبانی سے لے کر بدر و
رضوان جیسے کارنامے سرانجام دئیے مگر پھر بھی نہ بیٹھے… اگر کوئی کسی صدمے کی وجہ
سے جہاد چھوڑتا ہے تو وہ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو دیکھے… انہوں نے حضور اقدس
صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت اور چار خلفاء
راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی رحلت و
شہادت جیسے عظیم صدمے دیکھے… مگر جہاد میں چلتے رہے… اگر کوئی بڑھاپے کی وجہ سے
جہاد چھوڑ رہا ہے تو وہ حضرت ابو ایوب رضی
اللہ عنہ کو دیکھے کہ… نوے سال سے زائد کی عمر میں بھی انہوں نے کسی لشکر سے پیچھے
رہنا گوارہ نہ کیا…اگر کوئی مسلمانوں کے داخلی انتشار اور اختلافات کو دیکھ کر
جہاد سے دل برداشتہ ہوتا ہے تو وہ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو دیکھے… انہوں نے شہادت عثمان رضی اللہ عنہ…اور جمل ، صفین اور نہروان جیسے
واقعات قریب سے دیکھے مگر پھر بھی جہاد فی سبیل اللہ میں چلتے رہے…
ہاں! بے شک استقامت کا یہ مینار… ہمارے لئے کوئی عذر، کوئی
بہانہ نہیں چھوڑتا… تو پھر کیوں نا… ہم بھی بھاگنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے
’’استقامت‘‘ مانگ لیں… وہ اللہ تعالیٰ جو حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو ’’استقامت‘‘ عطاء فرما سکتا ہے…
وہ ہمیں بھی یہ نعمت دینے پر قادر ہے…
’’اِنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ
قَدِیْرٌ‘‘
لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ ،لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ’’اسلام‘‘ پر زندہ رکھے اور ’’ایمان
‘‘ پر موت عطاء فرمائے…
رَبَّنَا اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ
غزوۂ بدر نے ہمیں سکھایا کہ …اگر تمہیں شاندار فتح مل جائے
، مال غنیمت کے انبار مل جائیں تب اس مال کے جھگڑے اور مصروفیت میں گم نہ ہو جاؤ
… بلکہ ایمان اور جہاد پر لگے رہو، ڈٹے رہو…
غزوۂ اُحد نے ہمیں سکھایا کہ …اگر تمہیں ظاہری شکست پہنچے
اور تم غموں اور زخموں سے چور چور ہو جاؤ تب مایوسی اور کمزوری میں نہ ڈوب جاؤ
…بلکہ ایمان اور جہاد پر لگے رہو، ڈٹے رہو…
غزوۂ احزاب نے ہمیں سکھایا کہ…اگر ساری کفریہ طاقتیں …اور
منافقین متحد ہو کر تم پر اندر اور باہر سے حملہ آور ہو جائیں تو…خوف ، بزدلی اور
پستی میں نہ گرو… بلکہ ایمان اور جہاد پر لگے رہو ، ڈٹے رہو… غزوۂ حدیبیہ نے ہمیں
سکھایا کہ… جب تمہارے منصوبے اُلٹ جائیں اور حالات تمہاری سمجھ سے بالاتر ہو جائیں
تو… شک، تردداور بے یقینی میں نہ لڑھک جاؤ …بلکہ ایمان اور جہاد پر لگے رہو، ڈٹے
رہو… اور غزوۂ تبوک نے ہمیں سکھایا کہ …سفر جتنا لمبا ہو،منزل جتنی دور ہو،
نقصانات جتنے زیادہ ہوں… تھکاوٹ، اُکتاہٹ اور بے چینی میں نہ پھنسو، بلکہ … ایمان
اور جہاد پر لگے رہو، ڈٹے رہو…
یا اللہ! ہم سب کو ایمان اور جہاد پرا ستقامت عطاء فرما
یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلیٰ دِیْنِکَ
ہم تھکے نہیں
افغانستان کا جہاد…اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہے… یہ
جہاد جب سے شروع ہوا آگے ہی بڑھ رہا ہے… افغان مسلمانوں نے پہلے ’’برطانیہ‘‘ کو
شکست دی یوں وہ ’’غلامی ‘‘ سے محفوظ رہے… ’’غلامی‘‘ بڑی خطرناک چیز ہے… یہ انسانوں
کے عقائد، اخلاق اور مزاج تک کو بدل دیتی ہے… برصغیر پونے دو سو سال تک انگریز کی
غلامی میں رہا… آپ دیکھیں یہاں کیسے کیسے لوگ پیدا ہو گئے… غلامی پر فخر کرنے
والے… غلامی کو کامیابی سمجھنے والے…اور مسلمان کہلوا کر بھی اسلام کے دشمن… افغان
مسلمانوں کو ’’ برطانیہ ‘‘ غلام نہ بنا سکا… اللہ تعالیٰ نے اس قوم سے بڑا کام
لینا تھا… اور بڑا کام وہی کرتے ہیں جو ذہنی غلامی سے آزاد ہوتے ہیں… سوویت یونین
نے افغانستان پر ڈورے ڈالے… ایک طبقہ کمیونزم کا ذہنی غلام بن گیا… دو پارٹیاں
وجود میں آ گئیں… ایک کا نام ’’خلق‘‘ تھا اور دوسری کا ’’پرچم ‘‘ … خلق اور پرچم
سے تعلق رکھنے والے ’’افغان ‘‘ ایمان، عزت اور
غیرت سے محروم ہوتے چلے گئے… یہ روس اور کریملن جاتے، وہاں تعلیم پاتے اور
واپس آکر افغانستان میں گندگی پھیلاتے … جب یہ دو پارٹیاں مضبوط ہو گئیں تو انہوں
نے … افغانستان میں کھلم کھلا ’’ کمیونزم ‘‘ کا پرچار شروع کر دیا… مگر افغان
’’آزاد‘‘ تھے… انہوں نے اللہ تعالیٰ کے نام پر جہاد شروع کیا… سوویت یونین اپنے
حلیفوں کی مدد کے لئے افغانستان میں کود پڑا اور یوں … افغان جہاد کا پہلا بڑا
مرحلہ شروع ہوا… لمبی داستان ہے…آج عرض یہ کرنا ہے کہ جب اس مرحلے کے جہاد نے
طاقت پکڑی اور مجاہدین کو پاکستان کی صورت میں ایک چھاؤنی مل گئی تو … اس وقت
افغان مجاہدین کی سات بڑی تنظیمیں بن گئیں… ان سات تنظیموں میں ’’حزب اسلامی‘‘
زیادہ نمایاں تھی… پھر حزب اسلامی بھی دو حصوں میں بٹ گئی… ایک حصے کی قیادت
گلبدین حکمت یار کے پاس تھی… جبکہ دوسرے کی کمان مولوی محمد یونس خالص صاحب رحمہ اللہ کے پاس تھی … مولانا یونس خالص نہایت با اصول ،
دیانتدار ، جری اور صاحب علم بزرگ تھے…زندگی کے آخری چالیس سال ایک گردے کے ساتھ
گزارے مگر … صحت اور مصروفیت قابل داد تھی … اسی جہادی مرحلے کے دوران ایک بار
لاہور تشریف لائے… بندہ اُن کے ساتھ تھا… اُردو سمجھ لیتے تھے مگر بول نہیں سکتے
تھے…ان کی عربی بہت عمدہ تھی… چنانچہ وہ عربی میں بات کرتے اور بندہ اردو میں ان
کی ترجمانی کرتا… ایک اہم ملاقات کے دوران انہوں نے بڑی عجیب بات فرمائی… کہنے
لگے… لوگ تاریخیں گن گن کر ہمیں تھکانے کی کوشش کرتے ہیں کہ… جہاد کو دس سال ہو
گئے،بیس سال ہو گئے…حالانکہ ہم تھکنے والے لوگ نہیں ہیں… ہم آج بھی اسی طرح پر
عزم اور پرجوش ہیں جس طرح جہاد کے آغاز میں تھے… بندہ اس وقت جہاد میں نیا نیا
آیا تھا… اس لئے مولانا خالص مرحوم کی یہ بات اچھی طرح نہ سمجھ سکا… بس سن لی،
یاد کر لی اور آگے ترجمہ کر دیا…مگر بعد میں معلوم ہوا کہ … تھکاوٹ کیا چیز ہوتی
ہے؟… کیسے کیسے عزیمت کے ستون …تھک ہار کر منہ کے بل جا گرے… کیسے کیسے نامور پہاڑ
تھک کر مٹی کا ڈھیر بن گئے … اور کیسے کیسے اونچے نام تھکاوٹ کا شکار ہو کر
’’بدنام ‘‘ ہو گئے… استاد سیاف… پہلے جھٹکے ہی میں امریکہ کے اتحادی بن گئے…
پروفیسر ربانی کتنا جلدی لڑھک گئے… پیر جی گیلانی کا تو اتا پتا ہی بدل گیا… اور
مجددی صاحب کتنے دور نکل گئے…اور اب سنا ہے کہ گلبدین نے بھی بڑھاپے میں اپنا پرچم
گرا دیا ہے…
اللہ تعالیٰ رحم فرمائے… افغان قوم واقعی نہ تھکنے والی قوم
ہے… آج وہ افغان جہاد کا تیسرا مرحلہ لڑ رہی ہے… اس کے دشمن ایک ایک کر کے کمزور
ہو رہے ہیں…
مگر مولوی جلال الدین حقانی کا خاندان …افغان جہاد کے پہلے
مرحلے سے… آج تیسرے مرحلے تک اپنے درجنوں جنازے اُٹھا کر بھی… اطمینان سے میدان
میں ڈٹا ہوا ہے… اللہ تعالیٰ اہل کشمیر کو بھی جزائے خیر دے… کشمیری اگرچہ افغانوں
کی طرح ٹھنڈے اور دھیمے مزاج کے نہیں ہیں… مگر انہیں بھی ماشاء اللہ پہاڑوں جیسی
استقامت نصیب ہے… اور فلسطینی تو ہزاروں سال سے… اپنی استقامت کی ایک الگ تاریخ
رکھتے ہیں… اسی لئے اُن کا جہاد بھی جاری ہے… جبکہ اسرائیل آگ اور پارلیمنٹ میں
گونجنے والی اذان کے شعلوں میں جھلس رہا ہے … ہاں !بے شک میدان چھوڑ کر بھاگنے
والے بھی بالٓاخر مر جاتے ہیں… اور اہل استقامت بھی بالآخر مر جاتے ہیں…مگر دونوں
کی موت میں کتنا فرق ہے… کتنا عظیم فرق… اے مسلمانو! کبھی اس فرق کو قرآن پاک میں
جھانک کر دیکھو… پھر رات کی تنہائیوں میں …آنسو بہا بہا کر…اللہ تعالیٰ سے ایمان
اور جہاد پر استقامت مانگو گے۔
استقامت کا بڑا نسخہ
قرآن مجید نے صاف سنا دیا ہے کہ… جو راستہ بدل کر بھاگ
جائے گا… وہ صرف اپنا ہی نقصان کرے گا… پچھلے اعمال غارت، ماضی کی ساری محنت تباہ
اور انجام بھی خراب… معلوم ہوا کہ… دین پر استقامت…ہماری اپنی ضرورت ہے… یہ
استقامت کیسے ملے گی؟ … قرآن مجید نے استقامت کے مضبوط اور مؤثر نسخے ارشاد فرما
دئیے ہیں… اور ساتھ ساتھ اہل استقامت کے عجیب عجیب واقعات بھی سنا دئیے ہیں… آپ
قرآن مجید میں صرف حضرت سیّدہ آسیہ رضی
اللہ عنہا کا قصہ پڑھ لیں… فرعون کی بیوی …ناز و نعمت میں پلی بڑھی ایک عورت… اس
کے پاس نہ حسن و جمال کی کوئی کمی تھی… اور نہ مال ودولت کی… زمانے کے ایک بڑے
بادشاہ اور حکمران کی…لاڈلی بیوی… اتنے زیادہ اختیارات کی مالک کہ…آج کی کوئی
عورت ان اختیارات کا خواب میں بھی تصور نہیں کر سکتی… اس کے خاوند نے خدائی کا
جھوٹا دعویٰ کر رکھا تھا… اور وہ اس جعلی خدائی کی ملکہ تھی… مگر وہ اس ماحول میں
بھی… ایمان لے آئیں… تب آزمائشوں کا دور شروع ہوا… یہ آزمائشیں… فورتھ شیڈول سے
بہت زیادہ سخت تھیں… یہ آزمائشیں آج کل کی جیلوں اور عقوبت خانوں سے زیادہ
بھیانک تھیں…یہ آزمائشیں اُن بہانوں سے بہت زیادہ شدید تھیں جو آج کل… شیطان ہمیں
سُجھا کر جہاد سے بھگاتا ہے… ہماری آج کل کی مسلمان خواتین تو… صرف خاندان والوں
کی باتوں سے بچنے کے لئے معلوم نہیں کتنے گناہ،کتنی رسومات او رکتنی بدعات کر
گذرتی ہیں… مگر وہ جنت کی ملکہ سیدہ آسیہ اس وقت بھی ڈٹی رہی… جب خاندان والے اس
کے جسم میں کیلیں گاڑ رہے تھے اور بڑے بڑے ہتھوڑوں کی ضربوں سے …یہ کیلیں اس کے
ہاتھوں اور قدموں میں اُتار رہے تھے… ایک ظالم قصائی تیز چھری لے کر…اس کے سامنے
کھڑا تھا… اور پھر وہ ان کے جسم کی کھال اُتارنے لگا… یہ سب کچھ کہنا آسان ہے…
مگر حقیقت میں بے حد مشکل… مگر استقامت تو استقامت ہوتی ہے…یہ نصیب ہو جائے تو
انسان… آسمان و زمین سے زیادہ طاقتور اور مضبوط ہو جاتا ہے… ہمارے آج کے
مسلمانوں کو… حضرت سیّدہ آسیہ رضی اللہ
عنہا کے حالات پر غیرت کھانی چاہیے کہ… ہم
کتنی چھوٹی چھوٹی آزمائشوں پر…ایمان سے بھاگ جاتے ہیں ، جہاد سے بھاگ جاتے ہیں…
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل سے ’’استقامت‘‘ کی دولت عطاء فرمائے… ’’کلمہ طیبہ‘‘
استقامت کا سب سے بڑا نسخہ ہے… یہ عجیب نکتہ ہے کہ…کلمے پر استقامت ، کلمے کے
ذریعے نصیب ہوتی ہے… کلمہ طیبہ… ’’قَوْل ثَابِت‘‘ ہے… یہ دلوں کو مضبوط کرنے اور
قدموں کو جمانے والا وظیفہ ہے… یہ کلمہ انسان کے دل کو…عرش سے جوڑتا ہے… اور عرش
کے فیض کو دل تک پہنچاتا ہے… الحمد للہ جماعت میں… جب سے ’’ کلمہ طیبہ‘‘ کی دعوت
اور مہم ایک خاص انداز سے جاری ہوئی ہے… ترقی اور استقامت کے عجیب عجیب حالات
سامنے آ رہے ہیں… الحمد للہ لاکھوں مسلمان اس دعوت کی برکت سے… کلمہ طیبہ کاکثرت
سے ورد کرنے والے بن گئے ہیں… وہ ایک دوسرے کو کلمہ طیبہ سناتے اور سمجھاتے
ہیں…اور کلمہ طیبہ کی برکت سے…دین کے ہر کام میں ترقی اور استقامت پاتے ہیں… کلمہ
طیبہ ہی سب سے بڑی نعمت… اور سب سے بنیادی اور ضروری نعمت ہے…کلمہ طیبہ کے بغیر
کوئی عمل قبول نہیں ہے… اور کلمہ طیبہ پر استقامت ہی ہر مسلمان کی سب سے بڑی فکر
ہونی چاہیے… کلمہ طیبہ پر یہ استقامت… کلمہ طیبہ کے ذریعے مل سکتی ہے… اس کلمہ کو
یقین سے پڑھیں… اس کو سمجھیں، اس میں غور کریں، اس کا کثرت سے وردکریں… اس کلمہ کو
محسوس کریں… اس کی قوت اور نور کو محسوس کریں…اس کلمہ کی دعوت دیں، اس کلمہ کو
مشرق و مغرب تک پہنچائیں… اس کلمہ کی بلندی کے لئے قتال کریں…اس کلمہ کے تقاضوں کو
پورا کریں… اور اس کلمہ سے ہمیشہ کی پکی یاری لگائیں۔
لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ
محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے…چمنستان عشق میں ایک نیا پھول کھلا
ہے…جہادی کتب خانے میں ایک وقیع اضافہ ہوا ہے…دیوانوں کی دنیا میں ایک نئی بہار
پھوٹی ہے…شہداءِ کرام کا معطر خون قلم و قرطاس پر جگمگایا ہے… عزم و عزیمت کے ساغر
میں ایک نئی مستی اُبھری ہے… دلیل، حجت اور برہان کی ایک دلکش روشنی چمکی ہے… اردو
ادب میں ایک نیا نگینہ جڑا ہے… اور ہاں! حسن و عشق کے جام میں ایک نیا سرور اُٹھا
ہے… اہلِ ایمان کو مبارک! خود فریبی، دین فروشی اور ضمیر کُشی کے متعفن بیانیوں کے
درمیان… ایک معطر، اصلی اور حقیقی بیانیہ منظر عام پر آیا ہے…نام ہے ’’جہاد کا
بیانیہ ‘‘ … بے شک یہ حق کا سلام اور محبت کا پیام ہے؎
محبت کا بالآخر رقص بے تابانہ کام آیا
نگاہِ شرمگیں اُٹھی سلام آیا پیام آیا
ادب اے گردش دوراں! کہ پھر گردش میں جام آیا
سنبھل اے عہد تاریکی کہ وقتِ انتقام آیا
نہ جانے آج کس دُھن میں زباں پہ کس کا نام آیا
فضاء نے پھول برسائے، ستاروں کا سلام آیا
سبحان اللہ! کیسا
میٹھا نام ہے، جہاد فی سبیل اللہ…زبان کے ساتھ دل بھی پکار اُٹھتا ہے الجہاد،
الجہاد… غزوۂ بدر کا غبار اور غزوۂ اُحد کا خون … اس سے بڑھ کر حسن کا غازہ اور
کیا ہو سکتا ہے؟ … بے شک جہاد ایمان ہے… بے شک جہاد محکم فریضہ ہے…بے شک جہاد
خوشبودار سنت ہے… بے شک جہاد رحمت ہے…بے شک جہاد عشق ہے… بے شک جہاد روشنی ہے…بے
شک جہاد محبت بھی ہے اور محبوبیت بھی… بے شک جہاد مغفرت ہے… بے شک جہاد حسن ہے…بے
شک جہاد عزت ہے… بے شک جہاد زندگی ہے…بے شک جہاد عزیمت ہے… بے شک جہاد ترقی ہے…بے
شک جہاد نجات ہے… بے شک جہاد آزادی ہے… بے شک جہاد صحت، غنیمت اور وقار ہے… بس
اسی ’’جہاد فی سبیل اللہ ‘‘ کی دعوت اور ترجمانی کے لئے ایک نئی کتاب آ رہی ہے…
نام ہے ’’جہاد کا بیانیہ ‘‘… اہل ایمان یقیناً اس سے خوشی اور دلیل پائیں گے … مگر
کئی لوگوں کو اس کتاب سے تکلیف بھی ہو گی… انہیں درد ہو گا کہ اُن کے باطل قلعے
ڈھیر ہو گئے … اور اُن کے بزعم خویش مضبوط براہین… خود اُن کے منہ پر طمانچے
برسانے لگے؎
جو اُٹھا ہے درد اُٹھا کرے
کوئی خاک اس سے گلہ کرے
جسے ضد ہو حسن کے ذکر سے
جسے چڑ ہو عشق کے نام سے
جہاد کے خلاف ہر زمانے میں طرح طرح کے فتنے اُٹھتے رہے ہیں… یہ فتنے ابتداء میں سمندر کی جھاگ کی طرح یوں پھیلتے ہیں کہ… حقیقت اُن کے تلے دب جاتی ہے… مگر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ جھاگ نے ختم ہونا ہے اور جو چیز لوگوں کو نفع دیتی ہے اس نے باقی رہنا ہے…جہاد میں تو انسانیت کے لئے نفع ہی نفع ہے… جہاد میں صرف مسلمانوں کا ہی نہیں کافروں کا بھی نفع ہے… ان میں سے کتنوں کو جہاد کی بدولت ایمان نصیب ہوتا ہے… اور کتنوں کو اسلامی نظام کا عدل و انصاف میسر آ جاتا ہے… جہاد میں صرف انسانوں کا ہی نہیں زمین کی تمام مخلوقات کا نفع ہے… اس لئے جہاد نے باقی رہنا ہے، موجود رہنا ہے… اور اسے کوئی نہیں مٹا سکتا… جہاد کے خلاف اُٹھنے والے فتنے جھاگ کی طرح فنا ہو جاتے ہیں…ہم نے جب ’’دعوت جہاد‘‘ کے میدان میں قدم رکھا تھا تو اس وقت جہاد کے خلاف بعض بڑے اعتراضات ہر زبان پر تھے…مگر الحمد للہ جہادی دعوت کے دو دو جملوں نے ان طوفانوں کو بے آبرو کر دیا… حتیٰ کہ آج ان اعتراضات کو کوئی اپنی زبان پر نہیں لاتا… مگر چونکہ شیطان اپنے کام سے نہیں تھکتا… اور نفاق ہر زمانے میں کروٹ بدل کر نئی شکل میں اُٹھتا ہے…اس لئے جہاد پر اعتراضات کا سلسلہ اب بھی جاری ہے… ایک اعتراض کو توڑا جاتا ہے تو اس کی جگہ نیا اعتراض پیش کر دیا جاتا ہے… اس لئے ’’دعوتِ جہاد‘‘ کی ضرورت مسلسل رہتی ہے… اور یہ بڑی مہارت کا کام ہے… کیونکہ جہاد کے دشمن بہت ہٹ دھرم ہیں…ان کو جہاد کے خلاف جب کوئی دلیل ملتی ہے تو وہاں ان کے نزدیک جہاد کا ایک ہی معنٰی متعین ہوتا ہے… یعنی قتال فی سبیل اللہ… اسی طرح جب انہوں نے جہاد یا مجاہدین کو گالی دینی ہو تو وہاں بھی ان کے نزدیک جہاد کا معنٰی صرف قتال ہوتا ہے… اسی طرح جب انہوں نے جہاد پر پابندی لگانی ہو… یا مجاہدین کو پکڑنا ، مارنا یا ستانا ہو تو وہاں بھی ان کے نزدیک جہاد کے ایک ہی معنٰی متعین ہوتے ہیں… یعنی قتال فی سبیل اللہ …لیکن جب انہوں نے جہاد کے بارے میں شبہات ڈالنے ہوں… یا مسلمانوں کو گمراہ کرنا ہوتو وہاں اُن کے نزدیک جہاد کے ہزاروں مطلب منہ کھول کر سامنے آ جاتے ہیں… اور وہ ہر عمل کو جہاد قرار دے کر جہاد کے فضائل چوری کرتے ہیں… گالیاں، گولیاں ، جیلیں ، پھانسیاں ، میزائل اور پابندیاں… چھوٹے جہاد کے لئے اور ہر طرح کا اِکرام بڑے جہاد کے لئے؟… پھر چونکہ نام کے ان مسلمانوں نے یہ عزم کر رکھا ہے کہ وہ کبھی جہاد پر نہیں نکلیں گے… اس لئے وہ ہر وقت جہاد کے خلاف شبہات گھڑتے اور ڈھونڈتے رہتے ہیں…ایسے حالات میں جہاد پر مسلسل بیانات، مسلسل مضامین اور مسلسل کتابوں کی ضرورت ہے تاکہ ہر زمانے کے جہاد مخالف فتنوں کو توڑا جا سکے … عزیز مکرم حضرت مولانا طلحہ السیف کی حالیہ تصنیف ’’جہاد کا بیانیہ ‘‘ اس سلسلے میں ایک اہم اور قیمتی پیش رفت ہے
جہاد اللہ تعالیٰ کا حکم ہے… اور ’’دعوت جہاد‘‘ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاء ہونے والی ایک انمول نعمت ہے… جہاد انسانی فطرت کا اہم ترین تقاضا ہے… اس لئے جس میں جتنی انسانیت ہوتی ہے وہ اسی قدر جہاد کو سمجھتا ہے…جہاد اسلامی فطرت کا اہم ترین سبق ہے…پس جس کا اسلام سلامت ہو وہ جہاد فی سبیل اللہ کو آسانی سے سمجھ لیتا ہے… دل میں جب ایمان آتا ہے تو ساتھ جہاد بھی آتا ہے … اور دل میں جب غیرت ایمانی جوش مارتی ہے تو وہ مسلمان کو ’’مجاہد ‘‘ بنا دیتی ہے… دعوت جہاد بھی جہاد کا ایک بلند مقام ہے… اور یہ مقام قسمت والوں کو نصیب ہوتا ہے… طلحہ السیف کی خوش نصیبی کہ اسے بچپن کی عمر سے جہاد فی سبیل اللہ کے عملی میدان ہاتھ آ گئے… خون ریز معرکے ، خون جلاتے محاصرے اور خونی بارڈر…بار بار موت کا سامنا… اور خطرات سے آنکھ مچولی…
جہاد کا میدان دراصل …حسن و عشق کا بازار ہے… جو ان محاذوں
کی لذت سے آشنا ہو جاتا ہے… اسے باہر کی دنیا ’’وحشت کدہ‘‘ لگتی ہے … محاذ جنگ
میں عجیب سرشاری اور بے فکری ہوتی ہے… جبکہ ’’دعوت جہاد‘‘ کا کام بہرحال ان لذتوں
سے خالی ہے… طلحہ کی شاید خواہش تھی کہ وہ محاذوں کی لذتوں میں کھویا رہے… مگرا س
کے بڑے چاہتے تھے کہ وہ عشق کی الجھنوں بھری ایک اور منزل پر بھی قدم رکھے… یہ
منزل ہے ایک عملی مجاہد کا جہاد پر قائم رہتے ہوئے ’’داعیٔ جہاد ‘‘ بننا؎
عشق فنا کا نام ہے ، عشق میں زندگی نہ دیکھ
جلوۂ آفتاب بن ذرہ میں روشنی نہ دیکھ
شوق کو رہنما بنا ہو چکا جو کبھی نہ دیکھ
آگ دبی ہوئی نکال آگ بجھی ہوئی نہ دیکھ
موت و حیات میں ہے صرف ایک قدم کا فاصلہ
اپنے کو زندگی بنا ، جلوۂ زندگی نہ دیکھ
طلحہ السیف کو دعوت جہاد کی طرف کھینچنے کا مقصد… اس کی جان
بچانا نہیں تھا… جان تو ایمان اور جہاد میں ہے… اور نہ ہی یہ مقصد تھا کہ وہ خطیب
و مصنف کہلائے…خطیب اور مصنف بہت ہیں… اُمت کو باعمل کرداروں کی ضرورت ہے… بس مقصد
یہ تھا کہ وہ جہاد کا بھی حق ادا کرے اور دعوت جہاد کا بھی… تاکہ ’’قَاتِلْ ‘‘ اور
’’حَرِّضْ‘‘ کا نصاب مکمل ہو… جہاد کی چاشنی اور بے فکری میں کھوئے ہوئے … جہاد کے
عشق میں مدہوش ایک دیوانے کو پکڑ کر منبر پر کھڑا کرنا… اور اس کے ہاتھ میں قلم
پکڑانا آسان کام نہیں تھا… مگر حضرت اباجی رحمہ اللہ موجود تھے… ایک قابل رشک متوکل علی اللہ فقیر…
اور صاحب فراست ہستی…وہ کہتے نہیں تھے مگر منوا لیتے تھے…وہ بعض ایسے رازوں کو
سمجھتے تھے جن کو بڑے بڑے لوگ نہیں پا سکتے… ان کی خاموش اعانت نے ایسی قوت دی کہ
طلحہ کو سمجھانا آسان ہو گیااور یوں اُمتِ مسلمہ کو ایک باعمل داعی مل گیا…
آج جب طلحہ السیف کی کتاب ’’جہاد کا بیانیہ‘‘ شائع ہونے جا
رہی ہے تو خیالات میں حضرت ابا جی رحمہ اللہ بار بار تشریف لاتے ہیں… شکر سے آبدیدہ دلکش
مسکراہٹ کے ساتھ…اپنے نئے ’’صدقہ جاریہ‘‘ کی خوشی میں سرشار… جیسے فرماتے ہوں… اے
میرے بیٹو! میں نہ تمہیں کارخانے دے گیا نہ آف شور کمپنیاں…کارخانے اور کمپنیاں
مٹ جاتی ہیں …مگر دین کے پھول…اور قرآن کے موتی سدا بہار ہیں… سدا بہار…بہت شکریہ
پیارے ابا جی! بہت پیارے، بہت محسن ابا جی…
دعوت وہی مقبول ہوتی ہے جو افراط و تفریط سے پاک ہو … قرآن مجید ہمیں دو باتیں تاکید سے سکھاتا ہے …
١
توازن… ٢ حدود کی پاسداری …
شریعت کا کوئی حکم اس طرح بیان کرنا کہ اس سے شریعت کے دیگر
احکامات کی تنقیص یا توہین ہو… یہ ہرگز جائز نہیں…کسی چیز کی دعوت اس طرح سے دینا
کہ اس میں مبالغہ کر کے…اس کی شریعت میں مقرر کردہ ’’قدر‘‘ کو بڑھا دیا جائے یہ
بھی درست نہیں… اسی طرح کسی ایک حکم کے احکامات اور فضائل دوسرے احکامات کے ساتھ
جوڑنا بھی دین کی کوئی خدمت نہیں…دعوت خود ایک عبادت ہے نہ کہ ٹھیکیداری…اور عبادت
وہی قبول ہوتی ہے جو شریعت کی حدود میں قید ہو…جہاد کی دعوت خصوصاً اس زمانے میں
بہت محنت اور احتیاط مانگتی ہے… ہم نے کئی افراد کو دیکھا کہ دعوت جہاد کے لئے
اُٹھے مگر شدید جارحانہ فتوے بازی میں مبتلا ہو گئے…انہوں نے سب سے پہلے ’’فرض عین
‘‘ کا مسئلہ اُٹھایا اور ہر طرف تفسیق کے تیر برسا دئیے کہ … فلاں بھی فاسق، فلاں
بھی فاجر… ایسے افراد کی دعوت نہ چل سکی بلکہ اکثر کو دیکھا کہ وہ خود بھی جہاد
میں نہ چل سکے…اور اپنے فتووں کا مصداق بن گئے… بعض افراد نے جہاد کی دعوت اس
انداز میں شروع کی کہ… دین کے باقی کاموں کا نعوذ باللہ مذاق اُڑانے لگے… اور جہاد
کو ہی ہر عمل کی اصل غایت قرار دینے لگے… یہ لوگ بھی آگے جا کر پھنس گئے…کیونکہ
وہ صریح غلطی پر تھے… اسی طرح بعض لوگوں نے جہاد کو محض ایک جذباتی اور انتقامی
عمل کے طور پر پیش کیا اور کچھ عرصہ خوب دھوم اُڑائی… مگر پھر آگے نہ چل سکے…
جہاد دراصل ایک ایسی عبادت ہے… جو سب سے پہلے خود جہاد کے داعی سے عمل اور قربانی
مانگتی ہے … جہاد میں حفاظت کا پہلو غالب ہے کہ… جہاد پورے دین اور سب مسلمانوں کا
محافظ عمل ہے… اس لئے یہ تو ممکن ہی نہیں کہ… جہاد کا نام لے کر دین کے باقی کاموں
کی نفی کی جائے…
بہرحال ان مشکل حالات میں دعوتِ جہاد کے لئے ایک ایسے اسلوب
کی ضرورت تھی… جس میں توازن بھی ہو اور حدود کی پاسداری بھی… جس میں علم بھی ہو
اور دلیل بھی… جس میں درد بھی ہو اور شفقت بھی …جس میں جذبات بھی ہوں اور براہین
بھی… اور جس میں تاکید بھی ہو اور وسعت بھی… اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہماری جماعت
کو ’’دعوت جہاد‘‘ کا یہ قرآنی اسلوب نصیب ہوا… اور وحشت و جارحیت کی بجائے اُلفت،
محبت اور افہام و تفہیم کے ماحول میں جہاد کی بات سنی اور سنائی جانے لگی… ہم نے
لوگوں کے ان سوالات کو نظر انداز کیا جن کا مقصد صرف فتنہ ہوتا ہے… ہم نے مناظرہ
کے انداز کو چھوڑ کر درد، فکر اور کڑھن کے اسلوب میں دعوت جہاد رکھی… ہم نے خود کو
نہ جہاد کا ٹھیکیدار سمجھا اور نہ قرار دیا…بلکہ مجاہدین کی اصلاح کی بھی بات کی…
اور مسلمانوں کے ایمان کو بچانے کی بھی فکر کی… ہم نے جہاد کو اپنا مشن اور مقصد ضرور
بنایا مگر اسے اپنی ایسی ’’ضد‘‘ نہیں بنایا کہ… دین کے دیگر کاموں کی عظمت پر کوئی
آنچ آئے…جماعت میں…دعوت جہاد کو ایمان اور نماز کے ساتھ جوڑ دیا گیا…دعوتِ جہاد
کے ساتھ مسواک تک کی دعوت شامل کی…اور جہاد کے بارے میں بس اتنا ہی کہناکافی سمجھا
جتنا…قرآن و سنت اور اَسلاف نے فرمایا ہے… توازن، اعتدال اور حدود کی پاسداری کی
بدولت… الحمد للہ یہ دعوت مقبول ہوئی…اور دنیا بھر میں پھیلی…اس میں تقریر بھی
شامل رہی … اور تحریر بھی…اور پھر تفسیر آیات الجہاد نے…ہر کمی کوتاہی کا الحمد
للہ مکمل اِزالہ کر دیا… آج الحمد للہ جماعت کے پاس مفسرین، خطباء اور مصنفین اہل
علم کی ایک خاطر خواہ تعداد موجود ہے… یہ حضرات جہاد کو شعوری طور پر سمجھتے بھی
ہیں…اور سمجھا بھی سکتے ہیں…مولانا طلحہ السیف جماعت کے اس ’’دعوتی لشکر‘‘ کی ایک
جامع شخصیت ہیں…انہوں نے ’’فہمِ جہاد‘‘ اور ’’تفہیمِ جہاد‘‘ کو موضوع بنا کر چند
مضامین… ’’جہاد کا بیانیہ ‘‘کے نام سے لکھے…یہ مضامین الحمد للہ مقبول ہوئے اور
اُمت کی بہترین رہنمائی کا ذریعہ بنے …ایسے اہم اور سنجیدہ موضوع پر…ایسی دلکش اور
پُرکشش تحریر… یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور جہاد کی کرامت ہے…آج ساری دنیا کے غامدی
مل کر بھی …جہاد کے خلاف ایسی ایک تحریر نہیں لکھ سکتے …تقاضہ بھی تھا اور ضرورت
بھی کہ… ان مضامین کو یکجا شائع کیا جائے…الحمد للہ اب یہ کتاب تیار ہے…اہل ایمان
سے گذارش ہے کہ …جدل کی نیت سے نہیں عمل کی نیت سے پڑھیں…اور اسے زیادہ سے زیادہ
افراد تک پہنچائیں…
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ
الْعَلِیْمُ وَتُبْ عَلَیْنَا اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔
لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ
الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ شہادت، مغفرت اور اِکرام کا اعلیٰ مقام عطاء فرمائے…امیر المومنین ملا اختر محمد منصور بھی شہید ہو گئے… اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ …
اِنَّ لِلہِ مَا اَعْطٰی وَلَہٗ مَا اَخَذَ وَکُلُّ شَیْ ئٍ
عِنْدَہٗ بِاَجَلٍ مُّسَمّٰی…اَللّٰھُمَّ لَا تَحْرِمْنَا اَجْرَہٗ وَلَا
تَفْتِنَّا بَعْدَہٗ اَللّٰھُمَّ اْجُرْنَا فِیْ مُصِیْبَتِنَا وَاخْلُفْ لَنَا
خَیْرًا مِّنْھَا۔
منتخب اور برگزیدہ
سولہ لاکھ شہدائِ کرام کے خون کی برکت سے مسلمانوں کو…اس
زمانے میں ایک ’’امیر برحق ‘‘ ملا…نام تھا حضرت مُلّا محمد عمر مجاہد…تو اللہ
تعالیٰ کے فضل سے اُمت مسلمہ کے منتخب اور برگزیدہ بندے اُس ’’امیر ‘‘ کے گرد جمع
ہونا شروع ہو گئے؎
تمام رعنائیوں کے مظہر
تمام رنگینیوں کے منظر
سنبھل سنبھل کر سمٹ سمٹ کر
سب ایک مرکز پہ آ رہے ہیں
ایک منظم تحریک اور ایک مثالی حکومت کے لئے جس طرح کے کام
کے افراد کی ضرورت ہوتی ہے…وہ الحمد للہ حضرت امیر المومنین کو میسر آ گئے … اور
یوں صدیوں بعد زمین نے اسلامی خلافت اور دینی حکومت کے حسین مناظر دیکھے…چند سال
ہی سہی مگر موجودہ دور میں ایسی حکومت کا چند دن قائم رہنا بھی بڑا کارنامہ… اور
بڑی تبدیلی ہے…وہ چیز جو تصور میں بھی نا ممکن سمجھی جا رہی تھی… وہ عملی طور پر
وجود میں آ گئی…اور اس بات کا واضح اعلان کر گئی کہ…موجودہ عالمی ایٹمی نظام
ہمیشہ کے لئے نہیں ہے…بلکہ اس نے جلد ختم ہونا ہے… حضرت امیر المومنین کو اس مبارک
کام کے لئے … کام کے جو اَفراد ملے اُن میں ایک نمایاں نام…ملا اختر محمد منصور کا
ہے۔
دو ’’اختروں‘‘ کی جوڑی
ملا اختر محمد منصور…حضرت امیر المومنین مُلّا محمد عمر
مجاہد کے مامور بھی تھے اور یار بھی…وزیر بھی تھے اور دوست بھی…عاشق بھی تھے اور
وفادار بھی… یہ دراصل دو ’’اختروں‘‘ کی ایک مثالی جوڑی تھی… ایک تھے مُلّااختر
محمد عثمانی اور دوسرے تھے مُلّااختر محمد منصور… حصہ، جثہ اور مجموعی شباہت میں
یہ دونوں ’’اختر محمد ‘‘ آپس میں سگے بھائی لگتے تھے… عثمانی بڑے اور منصور
چھوٹے… دونوں میں حد درجہ محبت اور دوستی تھی… اور آپس میں اتحاد ، بے تکلفی اور
مزاح کا رشتہ تھا… ملاقات میں تاخیر ہو جاتی تو مخابرے(وائرلیس) پر باتیں کرتے…اور
دونوں کی باتوں کے درمیان ہنسی مذاق کی شبنم پھوٹتی رہتی …یہ دونوں مل کر اُلفت کے
ماحول میں امارت اسلامی کی خدمت کرتے …دونوں کے شعبے اور عہدے الگ الگ تھے…مگر اُن
کی باہمی محبت اور دوستی دونوں کے شعبوں اور محکموں کو بھی ایک کر دیتی تھی …یہ
دونوں ’’اختر‘‘ امارت اسلامی افغانستان کے کئی اہم ستونوں میں سے دو تھے…مضبوط،
خوش مزاج، پاک دل اور کار آمد جوڑی…
مُلّا اختر محمد عثمانی…حضرت امیر المومنین کے
ممکنہ جانشینوں میں سمجھے جاتے تھے…مگر مُلّا اختر محمد منصور کے ’’امیر المومنین
‘‘ بننے کا کسی نے سوچا بھی نہ تھا… وہ کام کرنے اور کام نکالنے والے کارکن مزاج…
اور کھلی ڈلی طبیعت کے آدمی تھے … ان دونوں ’’اختروں ‘‘ کو اللہ تعالیٰ نے شہادت
عطاء فرمائی… اور اتفاق یہ کہ دونوں کو ایک جیسی شہادت ملی… مُلّااختر محمد عثمانی
کی گاڑی کو ’’ہلمند‘‘ میں نشانہ بنایا گیا… جبکہ مُلّااختر محمد منصور کو پاک
افغان سرحد پر گاڑی میں شہید کیا گیاتھا…دونوں پر حملہ… صلیبی افواج کی فضائی طاقت
سے ہوا… اور یوں وہ حدیث شریف کے مطابق عام شہداء سے دہرے اجر کے مستحق بنے…ماشاء
اللہ! کیا پیاری جوڑی تھی…اور ماشاء اللہ کتنا اچھا انجام پایا…اللہ تعالیٰ اس
مثالی جوڑی کو اپنے پیارے قُرب میں جمع فرمائے…(آمین )
ایک ملاقات کا حال
ایک بار مُلّا اختر محمد منصور سے قندھار ائیر پورٹ پر
ملاقات ہوئی…یہ ہوائی اڈہ اُن کی ’’وزارت‘‘ کے ماتحت تھا… کراچی کے حضرات اَکابر
کا وفد تھا… طالبان نے اَکابر کے اعزاز میں خصوصی طیارہ دیا جو انہیں کابل سے
قندھار لایا… قندھار میں اس قافلے کا استقبال مُلّا اختر محمد منصور نے کیا…وہ
مہمانوں کو وی آئی پی لاؤنج لے گئے …یہ بڑا لاؤنج عربی طرز کے فرنیچر اور صوفوں
سے مزین تھا… اور اس کے آس پاس قطر و امارات کے کچھ افراد منڈلا رہے تھے… مُلّا
اختر محمد منصور اگرچہ بے تکلف طبیعت کے آدمی تھے مگر…با وجاہت اور بارُعب… اُن
کو دیکھ کر کئی افراد دائیں بائیں دبکنے لگے… مُلّا صاحب نے مجھے اپنی دائیں طرف
ایک صوفے پر بٹھایا اور پھر زور زور سے ہنسنے لگے… فرمایا! اسی صوفے پر (بھارتی
وزیر خارجہ) جسونت سنگھ کو بٹھایا تھا…جس دن وہ آپ کو انڈیا سے قندھار چھوڑنے
آیا تھا… پھر وہ مزے لے لے کر اس دن کی داستان سناتے رہے … فرمایا: جسونت سنگھ نے
مجھے کہا…ہمارے قیدی ابھی تک افغانستان میں ہوں گے…آپ انہیں پکڑ کر ہمارے حوالے
کر دیں…ہم آپ کی حکومت کو مالا مال کر دیں گے…تب میں نے اسے کہا…آپ خود خیریت سے
واپس چلے جائیں یہ بھی بڑی بات ہے… جسونت سنگھ نے جب یہ سنا تو اس کے ہاتھوں اور
ٹانگوں میں کپکپی طاری ہو گئی… مُلّا صاحب نے اس کے ہاتھوں اور گھٹنے کی کپکپی
عملی طور پر دکھائی اور قہقہوں میں ڈوب گئے … بتایا کہ جسونت سنگھ کو چائے پلائی
تھی مگر کپ اس کے ہاتھ میں لرز رہا تھا… پھر اچانک امارت اسلامیہ کا یہ بارُعب
وزیر… طالبعلم بن گیا اور اپنی تعلیم کا حال سنانے لگا… فرمایا: میں نے چھوٹا دورہ
(یعنی مشکوٰۃ شریف تک کا نصاب) تو پورا کر لیا ہے مگر ابھی تک بڑا دورہ ( یعنی
دورہ حدیث) نہیں کر سکا… بہت شوق ہے کہ کسی طرح وہ کر لوں… یہ طالبان کی عجیب صفت
تھی… وہ جو کچھ بھی بن جاتے مگر اُن کی اصل صفت یعنی ’’طالبعلم‘‘ ہونا یہ کبھی
ماند نہیں پڑتی تھی… اُن کے ہاں اصل منصب اور اصل فخر قرآن و سنت کے علوم کا طالب
ہونا ہی تھا…اُن کے کئی بڑے کمانڈروں اور وزراء کو دیکھا کہ وہ دوران گفتگو اچانک
اپنی کمانڈری اور وزارت سے اُتر کر …فوراً ’’طالب‘‘ بن جاتے تھے… اس دن مُلّا اختر
محمد منصور بھی… ملاقات کے آخر میں ایک معصوم طبیعت طالبعلم ہی لگ رہے تھے… نہ کہ
ہوا بازی کے وزیر۔
مسلمانوں کی باری
مُلّا اختر محمد منصور …اس وقت امارت اسلامی افغانستان کے
امیر تھے…امیر المؤمنین پر ہونے والا یہ حملہ امت مسلمہ کے سینے پر وار ہے…اہل
ایمان یقیناً اس حملے کو معمولی نہیں سمجھیں گے…یہ حملہ کفار و منافقین کے ایک
مثلث، مربع یا مخمس اتحاد نے کیا ہے…اس حملے کے تمام مجرم ان شاء اللہ ضرور بے
نقاب ہو جائیں گے…وہ ایران میں ہوں یا افغانستان و پاکستان میں …
پاکستان کی موجودہ نواز شریف حکومت… دین بیزاری اور جہاد
دشمنی میں پرویز مشرف اور زرداری سے کئی قدم آگے ہے…یہ حکومت پاکستان کے محسنین
کو پاکستان کا دشمن بنانے کی کوشش میں مسلسل مصروف ہے… ایرانی حکومت مسلمانوں اور
طالبان کی سخت دشمن ہے… وہ طویل عرصہ سے تاک میں تھی کہ…طالبان سے حزب و حدت اور
حرکت اسلامی کی شکست کا بدلہ لے… ایرانی حکومت کی امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ خفیہ
یاری بھی اب خفیہ نہیں رہی… امریکہ افغانستان میں اپنی ۲۰۱۴ء کی عبرتناک شکست سے تلملایا ہوا ہے اور وہ بہت عرصہ سے ایسی کسی کارروائی
کی کوشش میں تھا…جو اس کی ہزیمت کے داغ کو کچھ چھپا سکے…اور یوں مارکیٹ میں اس کی
عزت بچی رہے… اسی طرح کئی اور نفاقی عناصر بھی… طالبان کو کوئی بڑا جھٹکا دینے کی
فکر میں تھے… آپ اندازہ لگائیں کہ…پندرہ سال کی طویل جنگ …ایک طرف دنیا کے چالیس
سے زائد طاقتور ممالک اور دوسری طرف اکیلے طالبان… مگر ان پندرہ سالوں میں ایک دن
بھی… طالبان کو شکست نہیں دی جا سکی… حضرت
امیرالمومنین مُلّامحمد عمر مجاہد رحمہ اللہ …تیرہ سال تک اس جنگ کی کمان کرتے رہے
اور دشمن ان کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکا…ایسے حالات میں دشمنوں کی شدید خواہش تھی
کہ وہ کم از کم ایک بڑی کامیابی تو اپنے نام کر سکیں… چنانچہ انہوں نے مل جل کر یہ
کارروائی تیار کی مگر ان کی یہ خوشی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی کیونکہ’’ امارت
اسلامی‘‘ نے فوری طور پر نہایت اطمینان اور اتفاق سے نئے امیر کا تقرر کر دیا…
بہرحال مُلّامنصور کو شہید کر کے…تمام دشمنوں نے اپنے دل کی
بھڑاس نکالنے کی کوشش کی ہے… وہ اپنا حملہ کر چکے… اب مسلمانوں کی باری ہے… اُمید
ہے کہ دنیا بہت جلد عجیب مناظر دیکھے گی ان شاء اللہ…
بہترین جانشین
مُلّااختر محمد منصور شہید رحمہ اللہ کے تمام کارنامے اور فضائل اپنی جگہ… مگر اُن کا
ایک کارنامہ، اُن کی ایک فضیلت بہت بھاری ہے… اس میں وہ بڑے بڑے لوگوں کو پیچھے
چھوڑ گئے…اور خود ایک مثال بن گئے… یہ درست کہ وہ مجاہد تھے…اور مجاہد بھی خالص…
یہ سچ ہے کہ وہ تحریک اسلامی طالبان کے بنیادی لوگوں میں سے تھے…یہ بھی حقیقت کہ
وہ بہترین انتظامی صلاحیتوں کے مالک تھے … یہ بھی مسلّم کہ وہ حضرت امیر المومنین
کے وفادار ترین رفقاء میں سے تھے…مگر ان کی سب سے بڑی خصوصیت اور بڑا کارنامہ یہ
ہے کہ…وہ زمانے کے ایک بڑے آدمی کے… بہترین اور برحق جانشین ثابت ہوئے… بہترین
جانشین ہونا…آسان کام نہیں ہے … اہل ایمان میں سے یہ سعادت اُن خوش بختوں کو حاصل
ہوتی ہے… جو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ
سے خصوصی نسبت رکھتے ہیں… اور اس نسبت صدیقی سے مکمل طور پر فیض یاب ہوتے ہیں…
نسبت صدیقی… ایک بڑی مقبول اور وسیع ’’نسبت ‘‘ ہے… اس نسبت
کے کئی رنگ ہیں… ان میں سب سے اہم رنگ کسی بڑے کا بہترین جانشین ہونا ہے… ایسا
جانشین جو اپنے بڑے یعنی پیش رو کے کام کو سنبھالے… اُسی کے قدم بقدم چلے…اُسی کی
طرز کو مضبوط پکڑے… اُسی کی بنیادوں کو قائم رکھے… اُسی کے کام کو مضبوط کرے… نہ
کام کا رنگ پھیکا پڑنے دے اور نہ کام کا رنگ تبدیل ہونے دے… وہ خود کو بس اپنے پیش
رو کے کام کا چوکیدار سمجھے…اور اپنی ذات کو اسی کام کی خدمت کے لئے وقف کر دے… یہ
سب کچھ لکھنا آسان…مگر کرنا بہت مشکل ہے … ہر آدمی کا اپنا ذہن ہوتا ہے اور اپنا
مزاج… اپنا حلقہ ہوتا ہے اور اپنی کمزوریاں… اسی لئے اکثر جانشین اپنے پیش رو کی
مسند اُلٹ دیتے ہیں… اس کے کام کا رنگ اُجاڑ دیتے ہیں… اور اُس کے نظریات کو بھی
اُس کے ساتھ دفن کر کے اپنے اختیارات کے مزے لوٹنے میں لگ جاتے ہیں … وہ وفا کی
جگہ عقل استعمال کرتے ہیں اتباع کی جگہ اجتہاد سے کام لیتے ہیں…اورجانشینی کو
جانشینی نہیں اپنا مستقل کمال سمجھتے ہیں…یہ ایک بہت لمبی اور مفصل داستان ہے…اس
اُمت میں ’’جانشینی‘‘ کا یہ سلسلہ حضرت سیّدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے شروع ہوا…اور تاقیامت جاری رہے
گا…ہر جانے والے کے پیچھے دوسرے نے آنا ہے… یہ سلسلہ اس وقت تک عمومی رہتا ہے… جب
تک امت میں کوئی بڑی شخصیت پیدا نہیں ہوتی… لیکن جب کوئی بڑی شخصیت آ جائے اور وہ
اُمت کے لئے کوئی مفید کام شروع کرے تو… اب جانشینی کا معاملہ بہت اہم ہو جاتا ہے…
ماضی میں کئی بڑے کام ، کئی بڑی تحریکیں… اور کئی بڑے ادارے … اچھے جانشین نہ ملنے
کی وجہ سے اُلٹ گئے…یہ معاملہ امت مسلمہ کی قسمت سے بھی تعلق رکھتا ہے … خیر اس
مفصل داستان میں اترنے کا تو اس وقت موقع نہیں …تحریک طالبان یا امارت اسلامی
افغانستان…اُمت مسلمہ کے لئے ایک نعمت عظمیٰ ہے… اور اس تحریک کے بانی حضرت
مُلّامحمد عمر مجاہد رحمہ اللہ اس اُمت
کے محسن اور ایک عظیم شخصیت تھے … ایسے بھر پور اور منفرد شخص کی جانشینی بڑا مشکل
اور خطرناک کام تھا… یعنی اگر اچھا جانشین بننا چاہو تو یہ بہت مشکل… اور اگر اُس
کے راستے سے ہٹ جانے والا جانشین بنو تو یہ بہت خطرناک…کیونکہ یہ امت مسلمہ کے
ساتھ خیانت ہے… ہر وہ شخص جس نے مُلّااختر محمد منصور کو قریب سے دیکھا ہے … وہ
سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ… ایسی کھلی ڈلی طبیعت کا مالک یہ بے پرواہ سا شخص… اتنی
بڑی امانت اور جانشینی کو اتنے احسن طریقے سے سنبھال لے گا… مگر مُلّامنصور شہید
رحمہ اللہ نے یہ کارنامہ کر دکھایا … اور
یہ ان کے دل میں اُترے ہوئے ایمان کی قوت تھی کہ انہوںنے … مُلّامحمد عمر مجاہد
رحمہ اللہ کے کام کو نہ پھیکا پڑنے دیا…
اور نہ اس کام کے رخ میں کوئی تبدیلی لائی… اور نہ دشمنوں کو مُلّامحمد عمر رحمہ
اللہ کے جانے کی خوشی منانے دی… مُلّااختر
محمد منصور رحمہ اللہ ایک انچ بھی
مُلّامحمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کے راستے
سے نہ ہٹے… بلکہ اُسی راستے پر چلتے ہوئے کام کو مزید بلندی اور وسعت پر لے
گئے…مُلّااختر محمد منصور شہید رحمہ اللہ کا
یہ وہ کارنامہ اور عمل ہے…جو ان شاء اللہ خود ان کے بھی بہت کام آئے گا اور اُمت
مسلمہ کے لئے بھی ایک بہترین مثال بنا رہے گا…لیکن اگر وہ ’’امارت‘‘ کے مزے لوٹنے
میں لگ جاتے… اپنی مستقل شناخت بنانے کے دھوکے میں پڑ جاتے …یا اپنی دنیا کو سرسبز
اور پُر امن بنانے کے فریب میں مبتلا ہو جاتے تو…مسلمانوں کی یہ عظیم تحریک برباد
ہو جاتی… اور مُلّامنصور تب بھی اتنی ہی زندگی پاتے جتنی اب انہوں نے پائی ہے… مگر
اس وقت وہ اپنے ساتھ کیا لے کر جاتے؟… اسلام اور مسلمانوں کی لاج رکھنے ، اتنی بڑی
اسلامی تحریک کو سنبھالنے…اور حضرت امیر المومنین رحمہ اللہ کی بہترین جانشینی کا حق ادا کرنے پر…مُلّااختر
محمد منصور شہید کو سلام… اللہ تعالیٰ اُن کو امت مسلمہ کی طرف سے جزائے خیر عطا
فرمائے… آمین
لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ
محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ وَلَکَ الشُّکْرُ … اَلْحَمْدُ
لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
مرحبا رمضان !… خوش آمدید رمضان!
اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ رَمَضَانَ
خوشیوں کی بارش
ایک شخص دیہاڑی یعنی روزانہ کی اجرت پر کام کرتا تھا…اُسے
روزانہ پانچ سو روپے ملتے تھے…ایک دن وہ کام پر گیا تو مالک نے کہا … کل سے تمہیں
اجرت پانچ سو ہی ملے گی…مگر یہ پانچ سو پاکستانی روپے نہیں بلکہ کویتی دینار ہوں
گے …پانچ سو کویتی دینار یعنی تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے اور مزید تم جتنے گھنٹے زائد
کام کرو گے …اس کی اجرت بھی تمہیں کویتی دیناروں میں ملے گی… یہ اعلان سن کر وہ
شخص کس قدر خوشی میں ڈوب جائے گا…کہاں روزانہ پانچ سو اور کہاں ڈیڑھ لاکھ… وہ اسی
خوشی میں گھر کی طرف روانہ ہوا… وہاں عجیب منظر تھا… اس کا وہ ظالم اور شرارتی
پڑوسی… جو دن رات اسے تنگ کرتا، ستاتا اور ذلت میں ڈالتا تھا… اور دن رات اس کے
گھر کے اندر گندگی اور غلاظت پھینکتا تھا… وہ پڑوسی اپنے چیلوں سمیت زنجیروں میں
جکڑا ہوا ہے… اور کچھ طاقتور لوگ اسے پکڑ کر لے جا رہے ہیں … یہ دوسری خوشی ہو
گئی… ایسے موذی پڑوسی سے جان چھوٹی… وہ دو خوشیاں لئے گھر میں داخل ہوا تو وہاں
بھی کئی خوشیاں اس کی منتظر تھیں… ایک صاحب کا فون آیا کہ میں کل سے آپ کے لئے
سونا سستا کر رہا ہوں… ایک تولے کے پیسے دو اور ستر تولے لے جاؤ…یہ فون سن کر یہ
شخص حیرانی اور خوشی سے اپنا ہاتھ دانتوں سے کاٹ رہا ہے کہ … کہیں خواب تو نہیں
دیکھ رہا… کہاں ایک تولہ اور کہاں ستر تولے… میں تو دنوں میں مالدار ہو جاؤں گا…
انہی خوشیوں میں رات کو سویا … جب صبح اٹھا تو گھر والی کو خوشی سے نہال دیکھا…وہ
کہہ رہی تھی… آج ہماری بھینس نے تین گنا زیادہ دودھ دیا ہے…اور گائے نے چار
گنازیادہ… اور جو ہماری پانی کی موٹر خراب تھی وہ میں نے ویسے ہی بٹن دبایا تو
ٹھیک ٹھاک چلنے لگی… ایک خوشی کے بعد دوسری خوشی…اور دوسری کے بعد تیسری گویا ان
پر خوشیوں کی بارش ہو گئی۔
اصل اور پائیدار خوشیاں
اللہ تعالیٰ نے ہمیں دنیا میں بھیجا اور حکم دیا کہ …تم
دنیا میں رہتے ہوئے اپنی آخرت کا سامان تیار کر کے اپنے لئے آگے بھیجتے رہو…جب
آخرت میں تمہاری ہمیشہ کی زندگی شروع ہو گی تو یہ سامان تمہارے بہت کام آئے
گا…اور جو یہاں رہتے ہوئے اپنے لئے سامان آگے نہیں بھیجے گا وہ وہاں بہت پچھتائے
گا…بہت حسرت کرے گا اور بار بار کہے گا کہ مجھے دنیا میں دوبارہ بھیجا جائے … اب
مجھے راز سمجھ آ گیا ہے …میں دنیا میں جا کر اپنی آخرت کے لئے بہت سامان بھیجوں
گا اور دنیا میں جا کر دنیا بنانے میں غافل نہیں ہو جاؤں گا… دنیا میں رہتے ہوئے
اپنی آخرت کے لئے جو سامان بھیجا جاتا ہے …وہ ہے ایمان اور عمل صالح … پھر عمل
صالح یعنی نیک اعمال میں …فرائض ہیں، سنن ہیں اور نوافل و صدقات… تجربہ کار آدمی
جب سفر پر جانے لگتا ہے تو اپنے سامان میں … ضرورت کی ہر چیز رکھتا ہے… اسی طرح
عقلمند آدمی اپنی آخرت کے لئے ہر طرح کی نیکیاں زیادہ سے زیادہ جمع کر کے بھیجتا
ہے…کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ ہمیشہ کی زندگی ہے اور اس میں ہر طرح کی نیکیوں کی
مجھے ضرورت پڑ سکتی ہے… یہ عقل والے لوگ دن رات محنت کر کے یہ نیکیاں بناتے ہیں،
کماتے ہیں…اور اپنے لئے آخرت میں بھیجتے ہیں… تب اللہ تعالیٰ کی شانِ بادشاہی اور
شانِ سخاوت جوش میں آتی ہے… اور ان مزدوروں کے لئے ایک مہینہ ایسا بھیج دیا جاتا
ہے…جس میں ہر عمل کی قدر، قیمت اور وزن میں اضافہ ہو جاتا ہے… اس مہینے میں نفل
عبادت کرو تو وہ فرض کے برابر ہوجاتی ہے… گویا کہ پاکستانی کرنسی اچانک کویتی
دینار بن گئے…اور اس مہینے میں ایک فرض ادا کرو تو اس کا وزن ستر فرائض کے برابر
ہو جاتا ہے … گویا کہ سونا ایک تولے کی قیمت میں ستر تولے… اور ہمارے دشمن اور
موذی پڑوسی یعنی سرکش شیاطین زنجیروں سے باندھ دیئے جاتے ہیں… اور ان کو ایک ماہ
کے لئے سمندر میں پھینک دیا جاتا ہے… اور ہمارے رزق اور اوقات میں خاص برکت عطاء
کر دی جاتی ہے… اور ہمیں ایک رات ایسی دے دی جاتی ہے جس کی عبادت تراسی سال کی
مقبول عبادت کے برابر ہے…
یہ سب اس لئے ہوتا ہے تاکہ …ہم آخرت کے لئے زیادہ سے زیادہ
سامان تیار کر لیں… کیونکہ آخرت کی زندگی بہت بڑی اور بہت لمبی ہے … اور دنیا
مختصر… تو اس مختصر سے وقت میں … اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسے اوقات عطاء فرماتا
ہے … جن میں شاہی سخاوت کا قانون حرکت میں آ جاتا ہے اور یوں ہم بہت زیادہ فرائض
، سنن ، نوافل اور عبادت جمع کر کے آگے بھیج سکتے ہیں اور اپنے سفر کے بریف کیس
کو کار آمد چیزوں سے خوب بھر سکتے ہیں… رمضان المبارک کا یہ راز جو لوگ جتنا
سمجھتے ہیں… وہ اسی قدر اس میں محنت کرتے ہیں… اللہ تعالیٰ ہمیں بھی زیادہ سے
زیادہ نیکیاں بنانے اور کمانے کی توفیق عطاء فرمائے۔
کئی نصاب
الحمد للہ کئی سالوں سے رمضان المبارک کے موقع پر…رمضان
المبارک کو پانے کے مختلف نصاب عرض کئے جاتے ہیں… اُن میں عزیمت والے نصاب بھی ہیں
اور آسان نصاب بھی… آپ رنگ ونور کی پرانی جلدوں سے رمضان المبارک کے وہ مضامین
نکال کر ایک بار ملاحظہ فرما لیں… ان شاء اللہ کوئی نہ کوئی نصاب آپ کے مناسب حال
مل جائے گا… ان شاء اللہ کوشش ہو گی کہ آئندہ سال ان تمام مضامین کو الگ کتابی
صورت میں شائع کر دیا جائے…
الحمد للہ ان نصابوں کی وجہ سے کئی افراد کو قضا نمازیں ادا
کرنے کی توفیق ملی…کئی کو قرآن مجید کی یاری نصیب ہوئی … کئی کو اذکار و مراقبات
حاصل ہوئے…اگر آپ وہ تمام مضامین دوبارہ تلاش نہ کر سکتے ہوں…تو ہمارے پاس الحمد
للہ بہترین چیز موجود ہے… یہ ہے حضرت شیخ الحدیث نور اللہ مرقدہ کا رسالہ ’’فضائل
رمضان‘‘ …یہ علماء کرام کے لئے بھی مفید ہے اور عوام کے لئے بھی… اور یہ بار بار
پڑھنے کی چیز ہے… فضائل اعمال کتاب ہر جگہ ملتی ہے آپ اس میں یہ رسالہ نکال
کر…پڑھ لیں… امید ہے کہ رمضان المبارک میں غفلت نہیں ہو گی… اور ان دونوں چیزوں سے
بڑھ کر جو چیز ہے وہ ہے خود آپ کی اپنی فکر… کیا آپ رمضان المبارک کو پانا اور
بنانا چاہتے ہیں؟… اگر آپ کے اندر یہ فکر ہو گی تو…پھر آپ اس کے لئے کم از کم دو
رکعت نماز ضرور ادا کر کے دعاء کریں گے … تجربہ سے ثابت ہے کہ …رمضان المبارک کو
پانے کے لئے …یہ دو رکعت… ہر مطالعے، ہر وعظ اور ہر نصیحت سے زیادہ فائدہ دیتی ہے…
آپ مکمل شوق اور رغبت کے ساتھ دو رکعت صلوٰۃ حاجت ادا کریں اور پھر عاجزی سے دعاء
مانگیں کہ …یا اللہ! مجھے یہ رمضان رحمت، مغفرت اور جہنم سے آزادی والا عطاء فرما
دیجئے…میرے لئے یہ رمضان آسانی اور قبولیت والا بنا دیجئے… اور مجھے یہ رمضان
اپنی رضا والے اعمال کے ساتھ گذارنے اور پانے کی توفیق عطاء فرما دیجئے… یہ دعاء
جلدی جلدی اور سرسری نہ ہو…بلکہ خوب جم کر مانگیں … اور اس طرح مانگیں کہ آپ خود
کو اس کا محتاج سمجھیں… اور اللہ تعالیٰ سے مدد چاہیں کہ…وہ ہمیں یہ رمضان المبارک
بہت مقبول اور بہت قیمتی گزارنے کی توفیق اور صلاحیت عطاء فرمائے… دو رکعت کا یہ
عمل جو بھی کرتا ہے وہ ضرور رمضان المبارک کی خیر اور اس کا نفع پانے کی اُمید میں
آ جاتا ہے۔
وبال نہ بنائیں
فرض کو فرض رکھیں…اور نفل کو نفل اور نفل کو اپنے لئے بوجھ
نہ بنائیں …مثلاً رمضان المبارک میں ترتیب بنائی کہ روزانہ ان شاء اللہ دس پارے
تلاوت کرنے ہیں اور سو رکعت نفل پورے کرنے ہیں…ماشاء اللہ اچھی بات ہے بہت شوق سے
کریں… لیکن اتفاق سے کسی دن کچھ کمی رہ گئی… بیماری، مہمان یا دین کے کسی اور کام
کی وجہ سے… اب چہرے پر بارہ بجے ہیں…موڈ آف اور میٹر چڑھا ہوا ہے… ایک ایک سے لڑ
رہے ہیں …بچوں کو مار رہے ہیں… اور بار بار حسرت کا اظہار کہ آج میرے پارے رہ
گئے… یہ طریقہ کار درست نہیں…یہ آپ کو اجر و ثواب سے محروم کرنے والا طرز عمل
ہے…نوافل ادا ہو گئے تو شکر کریں… رہ گئے تو اللہ تعالیٰ سے توفیق مانگیں… نہ خود
کو ناپاک سمجھ کر دوسروں کو کچا چبائیں … اور نہ فرائض کی ناشکری کریں۔
ستر ہزار کلمہ طیبہ
اس سال دل کی محنت والا رمضان المبارک ہے… ہم سب اللہ
تعالیٰ کی رضا کے لئے نیت کریں کہ ان شاء اللہ اس رمضان المبارک میں …اپنے لئے
آخرت کے سامان میں ستر ہزار کلمہ طیبہ کا عمل بھیجیں گے… خصوصاً ’’رمضان مہم‘‘
میں شریک ساتھی چلتے پھرتے یہ عمل آسانی سے کر سکتے ہیں… اس کے فوائد بے شمار
ہیں۔
لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ
محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ’’آخرت‘‘ پر ہمارے یقین کو مضبوط فرمائے… اور
ہمیں دنیا سے زیادہ ’’آخرت‘‘ کی فکر عطاء فرمائے۔
کوئی مانے یا نہ مانے
دنیا میں رہتے ہوئے ہر انسان…اپنی ’’ آخرت‘‘ بنا رہا ہے…
کوئی اچھی اور کوئی بری… اندازہ لگائیں ایک موبائل فون پر انسان جو کچھ کرتا ہے…
وہ سارا ڈیٹا کئی جگہ محفوظ ہوتا رہتا ہے… تو کیا انسان کے اعمال اور اقوال بے کار
جا رہے ہیں؟…ہرگز نہیں… ہر انسان کا ہر عمل اور ہر قول آگے جا رہا ہے ، محفوظ ہو
رہا ہے… اور انسان نے آگے چل کر …اپنے انہی اعمال کے ساتھ رہنا ہے…اب کوئی آخرت
کو مانے یا نہ مانے وہ اپنی اچھی یا بری آخرت خود بنا رہا ہے… بس موت آنے کی دیر
ہے، تب آنکھوں سے سارے پردے ہٹ جائیں گے۔
عجیب تمثیل
ایک ملک تھا… خوبصورت، سرسبز اورپُر کشش… اس ملک کے مناظر
بھی حسین و جمیل تھے اور لوگ بھی…یہاں پھلوں، پانی اور عیاشی کی فراوانی تھی… ملک
کی سب سے قیمتی اور پرتعیش جگہ ملک کے بادشاہ کے لئے مختص تھی… وہاں اس کا محل بھی
تھا اور وسیع و عریض باغ بھی… اور دنیا بھر کی عیاشی و سرمستی کا سامان اور عملہ
بھی… اس ملک کا دستور یہ تھا کہ لوگ مل کر ایک شخص کو اپنا بادشاہ بناتے… پھر یہ
سارا عشرت کدہ اس کے حوالے کر دیتے… اس کی بھرپور اطاعت کرتے …اسے بے شمار مال و
دولت دیتے اور اسے ہر طرح کے اختیارات سپرد کر دیتے… بادشاہ کے لئے حکومت کی مدت
تین سال مقرر تھی… تین سال کے بعد ملک کے لوگ جمع ہو کر اس بادشاہ کو ایک بڑے بحری
جہاز پر بٹھاتے اور دور ایک جزیرے پر چھوڑ آتے …اور اپنے ملک کے لئے نیا بادشاہ
مقرر کر دیتے…
یہ سلسلہ سالہا سال سے اسی طرح چل رہا تھا … بادشاہ آتے
اور خوب عیش و عشرت کے مزے لوٹتے… دو چار گھنٹے امور مملکت اور باقی دن رات عیش
اور عیاشی… کھانا ، پینا ، ملنا، ناچنا ، گانا… اور ہر اچھی بری لذت کا حصول… تین
سال اسی مدہوشی میں گزر جاتے، اچانک ملک کے لوگ آتے اور بادشاہ کو اٹھا کر …دور
دراز گمنام جزیرے پر اکیلا چھوڑ آتے… پھر کوئی خبر نہ ملتی کہ… اس بادشاہ کے ساتھ
جزیرے پر کیا بیتی؟… نہ کبھی کوئی وہاں سے واپس آیا…اور نہ کوئی وہاں خبر لینے
گیا… ایک بار ملک کے لوگوں نے ایک نیا بادشاہ مقرر کیا…اور اسے شاہی محل اور عشرت
کدے میں چھوڑ آئے… یہاں ہر چیز دل کو کھینچنے والی اور ہر فکر سے غافل کرنے والی
تھی… مگر یہ نیا بادشاہ ان چیزوں میں نہ کھویا… اسے یہ فکر لاحق تھی کہ … تین سال
بعد کیا ہو گا؟… اور وہ کیسی جگہ ہو گی جہاں میں نے تین سال بعد جانا ہے… یہ
بادشاہ نوجوان تھا اور اسے شدت سے یہ فکر لاحق تھی کہ…تین سال بعد والے جزیرے پر
باقی عمر کیسے گذرے گی… چنانچہ نہ وہ شراب و کباب میں مست ہوا اور نہ حسن و جمال
میں مدہوش ہوا…اس نے ایک بحری جہاز لیا اور ملکی فوج کے ایک دستے کو اس جزیرے کا
جائزہ لینے بھیج دیا… یہ فوجی جب اس جزیرے پر اترے تو وہاں بڑے خوفناک مناظر
تھے…ہر طرف وحشی درندے ، زہریلے سانپ اور خاردار درخت … کسی کسی جگہ سابقہ
بادشاہوں کی کچھ ہڈیاں اور باقیات بھی موجود تھیں…اور باقی ہر طرف خوف، اندھیرا ،
دلدل ، جنگل اور وحشت کا راج تھا… جائزہ رپورٹ جب بادشاہ کو پہنچی تو اس کی فکر
اور بڑھ گئی… اس نے اپنے زیر اختیار تمام اموال جمع کئے… اور اس جزیرے کو درست
کرنے کی ٹھان لی… پہلے اس نے مسلح دستے بھیجے جنہوں نے آگ لگا کر جھاڑ اور کانٹے
ختم کئے… اور درندوں، سانپوں کو ختم کیا…
پھر اس نے وہاں زمینداری کے ماہرین بھیجے…جنہوں نے آبپاشی
اور زمین زرخیزی کا نظام درست کیا…اسی طرح وہ اس جزیرے کو نہایت تیزی سے بدلتا
گیا…وہاں اس نے کچھ پسندیدہ لوگ آباد کئے…اپنے لئے محل تعمیر کروایا …اور پورے
جزیرے کو وحشت کدے سے عشرت کدہ بنا ڈالا… تین سال کا عرصہ بہت کم تھا مگر اس نے
رات دن محنت کی اور اپنے ہاتھ میں موجود ہر چیز… اگلے جزیرے کی بہتری کے لئے لگا
دی… تین سال بعد ملک کے لوگ جب اسے جزیرے پر چھوڑنے جا رہے تھے تو وہ…بے انتہا خوش
تھا…اسے نہ کوئی خوف تھا نہ ڈر… نہ کوئی خدشہ اور نہ پریشانی…وہ راحت اور لذت کے
گھر میں جا رہا تھااور اس کی ہر پسندیدہ چیز پہلے سے وہاں موجود تھی۔
قرآنی حکم
اللہ تعالیٰ نے ہمیں دنیا میں بھیجا ہے… یہاںہمیں چند دن
رہنا ہے اور پھر فرشتے آئیں گے اور ہمیں یہاں سے اُٹھا کر لے جائیں گے … دنیا میں
ہمارے لئے کشش کا سامان بھی بہت ہے اور یہاں پھنسانے اور الجھانے والی چیزیں بھی
بے شمار ہیں… انسان دنیا میں آتا ہے تو اس دنیا ہی میں کھو جاتا ہے… اور دنیا کو
آباد کرنے میں خود کو خرچ کر دیتا ہے…پھر جب اس کی مدت پوری ہوتی ہے تو دنیا کو
چھوڑ کر آگے چلا جاتا ہے…
قرآن پاک ہمیں بار بار حکم فرماتا ہے کہ… آگے کے لئے
تیاری کرو…اپنے لئے آگے سامان بھیجو… تم یہاں رہتے ہوئے جو کچھ بھی آگے بھیجو گے
وہ سب تمہیں وہاں ملے گا… بلکہ اسے مزید بڑھا دیا جائے گا۔
عقلمند لوگ
وہ بادشاہ عقلمند نہیں تھے جنہوں نے تین سال کے عیش وآرام
میں ڈوب کر… اپنی اگلی منزل کو بھلادیا… ان کے پاس اموال بھی تھے اور اختیارات
بھی… مگر وہ غفلت میں پڑے رہے اور وقت ختم ہوگیا … اور پھر وہ درندوں، سانپوں اور
گڑھوںکے حوالے کردئیے گئے…دنیا میں جو انسان آخرت سے غافل زندگی گذارتا ہے… اس کے
ساتھ بھی یہی کچھ ہوتا ہے… مرنے کے بعد وہ درندوں ،سانپوں اور آگ کے عذاب میں جا
پڑتا ہے… دنیا میں اس نے جو برُے اعمال کئے وہ سب اس کے لئے قبر اور آخرت کا و
بال بن جاتے ہیں… آپ پوری انسانی تاریخ پر نظر ڈالیں… یہ سچ ہے کہ … جو بھی آیا
اسے جانا پڑا… اور اس سے بھی بڑا سچ یہ ہے کہ ہم بھی اس دنیا سے چلے جائیں گے… اور
ہمارا چہرہ مٹی کے نیچے دبا ہوگا … نہ سوٹ، نہ بوٹ، نہ گاڑی، نہ خادم… اکیلی قبر،
نئی منزل، گمنام جزیرہ…
لیکن وہ بادشاہ عقلمند تھا جس نے تین سال کے عرصے کو غنیمت
جانا…اس نے خود کو عیاشی اور لہو و لعب میں غافل نہیں ہونے دیا… اس نے اپنے اموال
بھی اپنے لئے آگے بھیج دئیے اور اپنے اختیارات کو بھی… اپنے اگلے گھر کی بہتری پر
لگادیا… یہی حال دنیا میں ان انسانوں کا ہے… جو آخرت کا یقین رکھتے ہیں… اور دنیا
میں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری کرتے ہیں… وہ اپنے لئے زیادہ سے زیادہ راحت کا سامان
آگے بھیجتے ہیں، ان کو یہاں جو مال ملتا ہے وہ سارا مال آگے اپنے لئے بھیج دیتے
ہیں… اور ان کو یہاں جو قوت ملتی ہے… جو اختیارات ملتے ہیں… وہ انہیں بھی اپنے
اگلے گھر کی بہتری کے لئے استعمال کرتے ہیں… یہ عقلمند لوگ ہیں… ان کو موت کے وقت
نہ کوئی غم ہوتا ہے اور نہ کوئی پریشانی … بلکہ وہ خوشی خوشی جاتے ہیں اور وہاں جا
کر بھی خوشیاں پاتے ہیں… ایسے عقلمند لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے کچھ موسم مقرر
فرمادئیے ہیں… ان موسموں میں اللہ تعالیٰ اعمال اور اقوال دونوں کا وزن بہت بڑھا
دیتے ہیں…حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ… رمضان المبارک کی برکات صرف
مسلمانوں کے لئے ہیں… اہل ایمان کو روزے… اورقرآن کی وجہ سے اس مہینے کی برکات
ملتی ہیں… جبکہ کفار اور دشمنان اسلام کا بغض اور شر اس مہینے میں اور بڑھ جاتا
ہے… کیونکہ وہ رحمت والے اعمال سے دور ہیں… اس لئے ان پر زیادہ لعنت برستی
ہے۔(خلاصہ حجۃ اللہ البالغہ)
رمضان المبارک میں ابو جہل کا شر پوری قوت سے بھڑکا… اور وہ
مسلمانوں کو مٹانے کے لئے مکہ مکرمہ سے نکل کھڑا ہوا… رمضان المبارک میں مجاہدین
کی نصرت خاص اور انوکھے انداز سے ہوتی ہے… بدر کے میدان میں مقابلہ ہوا…ایک طرف
اہل رحمت تھے اور دوسری طرف اہل لعنت… اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کی نصرت فرمائی
…اور سخت خطرناک مشرکین مقتول ہو کر ایک کنویں میں پھینکے گئے… یہ جہاد کا ایک
باقاعدہ شاندار آغاز تھا… اور یہ جہادی سلسلہ دجال کے قتل تک چلتا رہے گا… ابو
جہل کے قتل سے دجال کے قتل تک… مسلسل جہاد ،مقبول جہاد اور منصور جہاد…
اس رمضان المبارک میں … ہر مسلمان یہ نیت کر ے کہ وہ اس
مبارک جہادی سلسلے میں شامل رہے گا… کیونکہ یہ ’’اہل رحمت‘‘ کا سلسلہ ہے… اور اس
سلسلے کے مقبول افراد کی آخرت بہت تابناک ہے ان شاء اللہ… حضرات صحابہ کرام رضوان
اللہ علیہم اجمعین نے آخرت کی تیاری اور
وہاں کے لئے سامان بھیجنے کا نصاب بار بار حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور سیکھا… جواب میں فرمایا گیا… ایمان
اور جہاد فی سبیل اللہ، یعنی آخرت میں سب سے زیادہ فائدہ دینے والی چیز ایمان کے
بعد جہاد فی سبیل اللہ ہے…
اور اسی طرح اسلام کے باقی فرائض… نماز، روزہ، زکوٰۃ اور
حج… پھر درجہ ہے خدمت خلق کا… اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے
کام آنا… اور ان کے کام بنانا… پھر درجہ ہے نوافل و صدقات کا… اور پھر درجہ ہے…
لوگوں کو اپنے شر سے بچانے کا …یعنی اگر کوئی نیکی نہیں کر سکتے تو کم ازکم اتنا
کرو کہ… لوگوں کو شر نہ پہنچائو تب یہ عمل بھی آخرت میں کام آئے گا… ان شاء اللہ
لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ
محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہمیں کام کی چیزوں کا شوق عطاء فرمائے…(آمین)
دل میں جھانکیں
ہم سب اپنے اپنے دل میں جھانک کر دیکھیں …ہمارے ’’دل جی‘‘
کو کن چیزوں کا شوق ہے اور کن چیزوں کا بالکل شوق نہیں…
آج بات ایک اہم عبادت کی کرنی ہے … وہ عبادت ہے
’’اعتکاف‘‘…کیا ہمارے دل میں ’’اعتکاف‘‘ کا شوق ہے؟… پچھلے سال ایک مسجد میں جانا
ہوتا تھا…امام صاحب نے خوب زور لگایا کہ لوگوں کو اعتکاف کی طرف متوجہ کریں…آخری
عشرہ شروع ہونے سے چند دن پہلے…انہوں نے ہر نماز کے بعد ’’اعتکاف‘‘کی ترغیب دی …
خصوصاً بڑی عمر کے بزرگ حضرات کو…مگر کوئی خاص اثر نہ ہوا…بزرگوں اور جوانوں پر تو
بالکل نہیں…البتہ چند نوجوان اعتکاف میں آگئے… ہنستے، کھیلتے، شور مچاتے…اس لیے
آج رنگ ونور کی محفل میں ہر مسلمان اپنے دل کا جائزہ لے اور پھر اپنے دل کی اصلاح
کرے…اعتکاف کا شوق ہے یا نہیں؟…اگر نہیں ہے تو کیوں نہیں؟
ایک نسخہ
آج کل رمضان المبارک کے بابرکت ایام چل رہے ہیں…رمضان
المبارک کی ایک اہم ترین عبادت ’’دعاء‘‘ ہے…روزہ، تراویح اور تلاوت کے بعد سب سے
زیادہ توجہ دعاء کی طرف رکھنی چاہیے…لمبی لمبی دعائیں، ہر وقت دعائیں اور عاجزانہ
دعائیں…جو رمضان المبارک میں جتنا زیادہ مانگتا ہے وہ اُسی قدر زیادہ اپنی جھولی
بھرتا ہے…کئی لوگ عبادات میں تو لگے رہتے ہیں مگر دعاء بہت کم مانگتے ہیں…کہتے ہیں
اللہ تعالیٰ کو ہماری حاجتوں کا علم ہے…ارے اللہ کے بندو! دعاء ہر عبادت کا مغز
ہے…دعاء سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتے ہیں…اور دعاء انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب
کردیتی ہے…اس رمضان المبارک میں ایسا کریں کہ کچھ وقت خاص دعاء کا رکھیں…اس میں دو
،دو رکعت ادا کرتے جائیں…اور ہر دو رکعت کے بعد دعاء کی جھولی پھیلادیں…مثلاً دو
رکعت ایمان کامل کی دعاء کے لیے…دو رکعت حسن خاتمہ کی دعاء کے لیے…دو رکعت اپنے
اخلاق درست کرنے کی دعاء کے لیے…دو رکعت اپنی صحت کی دعاء کے لیے…اس میں یہ بھی
ہوگا کہ ہمارے بہت سے معاملات درست ہو جائیں گے…مثلاً دو رکعت ادا کی…اور دعاء یہ
مانگی کہ یااللہ! میرے ’’شوق‘‘ کا نظام اپنی پسند کے مطابق بنادیجئے…
کبھی دو رکعت اس دعاء کے لیے کہ یا اللہ!میرے تمام مالی
معاملات شریعت کے مطابق بنادیجئے… کبھی دو رکعت ادا کرکے یہ دعاء کہ یااللہ! ایسی
حالت میں موت دیجئے کہ آپ مجھ سے راضی ہوں اور میں آپ سے راضی ہوں…شوق کی اصلاح
کے لیے بھی اگر ہم دو رکعت اور خوب عاجزی والی دعاء کو پکڑلیں تو…ان شاء اللہ
ہمارے دل کے تمام شوق شریعت کے مطابق ہوجائیں گے اور ہم اُن چیزوں کے شوق سے بچ
جائیں گے…جو شوق دنیا وآخرت میں نقصان دینے والے ہیں۔
آتشِ شوق
ہم نے دنیا سے اکیلے جانا ہے…قبر میں کوئی ساتھ نہیں جائے
گا…قبر کی تنہائی اور وحشت کو دور کرنے والی بس چند چیزیں ہیں…یہ چیزیں اگر ہم نے
دنیا میں حاصل کرلیں تو پھر قبر میں ہمارے مزے ہوجائیں گے…ان چیزوں میں سے ایک
’’اعتکاف‘‘ بھی ہے…سبحان اللہ! مخلوق کے درمیان رہتے ہوئے مخلوق کو چھوڑ کر خالق
کے ساتھ جڑ جانا…یہ وہ عمل ہے جو قبر کی وحشت کو دور کرے گا…اے بندے! تو نے جلوت
میں اللہ تعالیٰ کے لیے…یہ تنہائی برداشت کی…اس کے بدلے تیری قبر کی تنہائی دور
کردی جائے گی…یہ ہوئی شوق کی پہلی چنگاری…
دوسری بات یہ کہ…دنیا میں کچھ اعمال ایسے ہیں، جن میں محبوب
کے ساتھ بہت گہرا جوڑ ہے… بس آدمی اس عمل میں اپنے محبوب کا ہوجاتا ہے اور محبوب
اس کا ہوجاتا ہے…محبوب سے مُراد… محبوب حقیقی اللہ تعالیٰ …ان اعمال کی لذت ایسی
ہوتی ہے کہ جو مرنے کے بعد بھی نہیں بھولتی…اور مرنے کے بعد نصیب بھی نہیں
ہوتی…ایسے عاشق جب دنیا سے جانے لگتے ہیں تو انہیں اور کوئی چیز چھوڑ جانے کی حسرت
نہیں ہوتی…صرف انہی چند اعمال کی حسرت ہوتی ہے کہ یہ اب نصیب نہ ہوں گے…ان اعمال
میں ایک تو شہادت ہے…شہادت کی موت … ایک گرمی کا روزہ ہے…اور ایک اعتکاف… اسی لیے حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو جب دنیا سے رخصت ہونے کا
اندازہ ہوا تو آخری سال…دگنا اعتکاف فرمایا…یعنی آخری دو عشروں کا اعتکاف…
کیونکہ دنیا سے جانے کا وقت قریب ہے…پھر دوبارہ اعتکاف تو نہ مل سکے گا…دنیا کو
چھوڑ کر مالک کے پاس آبیٹھنا…اپنا گھر چھوڑ کر مالک کے گھر جا پڑنا…سارے در چھوڑ
کر ایک در پر جا گرنا…ساری مشغولیتیں چھوڑ کر اپنے مالک کے ساتھ مشغول رہنا…یہ
ہوئی شوق کی دوسری چنگاری…
تیسری بات یہ کہ کونسی عبادت زیادہ افضل ہے اور کونسی کم…یہ
مسئلہ دلائل کا ہے لیکن اگر دلائل کو چھوڑ کر دل سے پوچھیں تو وہ بہت عجیب باتیں
بتاتا ہے…مثلاً وہ کہتا ہے حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایک سال بھی اعتکاف نہ چھوڑا …ہر سال
نہایت پابندی سے اعتکاف فرمایا، ایک سال سفر کی وجہ سےجو یقیناً جہاد کا سفر ہوگا
اعتکاف رہ گیا…تو اگلے سال دگنا اعتکاف فرمایا یعنی گزشتہ سال کی بھی گویا علامتی
قضا فرمائی…آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے
زیادہ مصروف کون ہے؟… آپ صلی اللہ علیہ
وسلم سے زیادہ ذمہ داریاں کس پر ہیں؟ …آپ
صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اعمال کی
فضیلت اور ترتیب سمجھنے والا کون ہے؟…یقیناً کوئی نہیں… پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے کا
اعتکاف اس قدر اہتمام سے فرماتے ہیں تو ثابت ہوا کہ…یہ بڑا خاص عمل ہے… بلکہ خاص
الخاص عمل ہے… اور اس کی حکمت اُمتِ مسلمہ کے اخص الخواص افراد سمجھتے ہیں…
اسی لیے وہ پورا سال انتظار کرتے ہیں کہ … کب رمضان المبارک
کا آخری عشرہ آئے اور وہ اعتکاف کی سعادت حاصل کریں…
آخری بات یہ ہے کہ…حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی ’’اعتکاف‘‘ کے ساتھ اس
قدر ’’دلچسپی‘‘ ہر سچے مؤمن کے دل میں ’’اعتکاف‘‘ کے شوق کو بھڑکا دیتی ہے…
فضائل
اگر کتابوں میں دیکھا جائے تو اعتکاف کے فضائل پر…چند
احادیث مبارکہ ہی ملتی ہیں … مگر دل والوں کے لیے بس یہی ایک حدیث ہی کافی ہے
کہ…حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان
کے آخری عشرے کا اعتکاف فرماتے تھے…اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل آپ کے
وصال تک جاری رہا …اور جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اس سال کے رمضان میں آپ نے بیس دن
کا اعتکاف فرمایا…
یہ روایات بخاری ومسلم میں موجود ہیں … ان کے ہوتے ہوئے پھر
کسی اور فضیلت، کسی اور ترغیب یا کسی اور تقریر کی کیا حاجت رہ جاتی ہے؟ حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا بار بار اعتکاف فرمانا اور ہمیشہ اعتکاف فرمانا…یہ
سمجھا جارہا ہے کہ … اعتکاف کتنا بڑا عمل ہے…اور یہ کتنا کام آنے والا عمل ہے…یہ
دیکھتے ہوئے تو ہر مسلمان کے دل میں اعتکاف کا ایسا شوق ہونا چاہیے کہ مساجد میں
جگہ نہ ملے…لیکن بات یہ ہے کہ…اعتکاف کا تعلق دل سے ہے…دل والے ہی اس عمل کی شان
سمجھتے ہیں… یااللہ! ہم سب کو اپنی رضا کے لیے اعتکاف کا شوق…اور اعتکاف کی توفیق
عطاء فرما۔
فضیلت
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما
سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’’اعتکاف کرنے والا گناہوں سے
محفوظ رہتا ہے اور اس کے لیے نیکی کرنے والوں کے برابر نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔‘‘
(مشکوٰۃ عن ابن ماجہ)
یعنی اعتکاف میں بیٹھنے کی وجہ سے جو نیکیاں وہ نہیں کرپاتا
وہ وہ بھی اس کے نامۂ اعمال میں لکھی جاتی ہیں…
اور اعتکاف کا سب سے عظیم فائدہ یہ کہ … وہ اللہ تعالیٰ کے
قلعے میں محفوظ ہوکر گناہوں سے بچ جاتا ہے… ایک اور روایت میں ہے کہ ایک دن کے
اعتکاف کی برکت سے اعتکاف کرنے والے اور جہنم کے درمیان تین خندقوں کا فاصلہ
ہوجاتا ہے اور یہ فاصلہ آسمان وزمین کی مسافت سے بھی زیادہ ہے…
خواتین اور اعتکاف
اعتکاف کی عبادت …خواتین کے لیے بھی ہے…حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ’’ازواج مطہرات‘‘ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہمیشہ اعتکاف فرمایا…
ہماری عظیم المرتبت اُمہات کو اعتکاف کا یہ خاص ذوق حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کی صحبت مبارکہ سے نصیب ہوا…خواتین عید اور باورچی خانے کی وجہ سے اپنا
’’رمضان‘‘ ضائع کرتی ہیں…اس لیے اُن کے لیے اعتکاف بہت بڑی نعمت اور بڑی حفاظت
ہے…اے مائوں، بہنو! اس سال ہمت کرلو… اللہ تعالیٰ آپ کے دلوں کو نور عطاء فرمائے۔
پہلی دعوت
ہمارے وہ مسلمان بھائی اور بہنیں…جن کے دلوں اور ارادوں میں
کبھی ’’اعتکاف‘‘ آیا ہی نہیں…وہ اپنے دل میں اس مبارک عمل کا شوق بٹھائیں اور
اللہ تعالیٰ سے یہ مبارک شوق مانگیں۔
دوسری دعوت
اس سال زیادہ سے زیادہ مسلمان اعتکاف کی کوشش کریں…اعتکاف
کے مبارک اثرات دور دور محاذوں اور مکمل معاشرے پر پڑتے ہیں…اور اس کی روشنی ہر
طرف پھیلتی ہے… جن کو اللہ تعالیٰ استطاعت دے وہ حرم مکی یعنی کعبہ شریف میں
اعتکاف کریں…یا مسجد نبوی شریف میں…یا مسجد اقصیٰ شریف میں…ان تین مقامات کے
اعتکاف کی فضیلت بالترتیب زیادہ ہے…جو ان تین مقامات کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ
کسی بھی جامع مسجد میں اعتکاف کرے… خصوصاً اپنے محلے کی مسجد میںاور خواتین اپنے
گھر میں اپنی نماز کی جگہ یا نماز کے کمرے یا نماز کے کونے میں اعتکاف کریں۔
تیسری دعوت
ہمارے ہاں الحمدللہ! جامع مسجد عثمان وعلی رضی اللہ
عنہما بہاولپور میں…اجتماعی اعتکاف ہوتا ہے… اُمت کے
فدائی، جانباز فاتحین ومجاہدین اس اعتکاف میں شریک ہوتے ہیں…صحبت اہل دل اور
مصاحبت اہل قربانی کا بہترین موقع ہوتا ہے …اب تک آنے والوں نے بہت کچھ پایا …
والحمدللہ…آپ میں سے جو تشریف لاسکتا ہو بندہ کی طرف سے قلبی دعوت ہے۔
لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ
محمد رسول اللّٰہ
اللھم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر معاملے کا اچھا انجام عطاء فرمائے…
اَللّٰھُمَّ اَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِی الْاُمُوْرِ
کُلِّھَا وَاَجِرْنَا مِنْ خِزْیِ الدُّنْیَا وَعَذَابِ الْاٰخِرَۃِ
حضرت علی رضی اللہ
عنہ کا فرمان
امام غزالی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
حضرت علی رضی اللہ
عنہ نے ایک شخص کوزیادہ گناہوں کے باعث نااُمید دیکھا تو فرمایا: ’’ نااُمید کیوں
ہوتا ہے؟اللہ تعالیٰ کی رحمت تیرے گناہوں سے زیادہ ہے۔‘‘(کیمیائے سعادت)
آج حضرت سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت پر چند باتیں لکھنے کا
ارادہ تھا… حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رضی
اللہ عنہ سے محبت، تعلق اور عقیدت اللہ تعالیٰ کی قیمتی نعمتوں میں سے… ایک نعمت
ہے … حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ نے تفسیر عزیزی کی آخری جلد میں… حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت پر عجیب تقریر فرمائی ہے…
یہ شہادت کیوں ہوئی؟ کیسے ہوئی؟ اور اس سے اُمت کا کیانقصان ہوا؟… عام روایت یہی
ہے کہ آپ انیس ۱۹ رمضان المبارک کوزخمی ہوئے… اور دو روز بعد یعنی اکیس
رمضان المبارک کو آپ کی شہادت ہوئی… لیکن حضرت ندوی رحمہ اللہ ’’المرتضیٰ‘‘میں لکھتے ہیں:
’’سیّدنا علی کرم اللہ وجہہ
’’جمعہ‘‘ کے روز شہید ہوئے، سحر کا وقت تھا… رمضان کے سترہ روزے ہوچکے تھے… صحیح
روایات کے بموجب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے
سترہ رمضان کو صبح صادق کے وقت ۴۰ھ میں تریسٹھ سال کی عمر میںسفر آخرت اختیار فرمایا… آپ
کی خلافت کی مدت چار سال نوماہ ہے… آپ کے جنازہ کی نماز آپ کے صاحبزادہ حضرت حسن
رضی اللہ عنہ نے پڑھائی… کوفہ کے دارالامارہ میں دفن ہوئے۔‘‘ (المرتضیٰ)
تاریخوں میں اختلاف کی ایک وجہ
آپ نے دیکھا ہوگاکہ…مشہور اسلامی شخصیات کی تاریخ ولادت ہو
یا تاریخ شہادت یا وفات… اس بارے میں اکثر کئی کئی اقوال ملتے ہیں… حالانکہ اس
زمانہ کے لوگوں کا حافظہ بہت قوی تھا…وہ مشکل سے مشکل چیزوںکو زبانی یاد رکھنے کے
ماہر تھے… پھر اہم واقعات کی تاریخوں میں اختلاف کس لئے ہوجاتا ہے؟…وجہ دراصل یہ
ہے کہ دن منانا… تاریخیں منانا… یہ اسلامی مزاج کاحصہ نہیں ہے… اسلام جو کچھ منانا
چاہتا ہے وہ اس نے قرآن و سنت میں بتادیاہے… اور پھر دین میں نئی باتوں کے اضافے
پر پابندی لگادی ہے… دو عیدیں عطاء فرمادیں… اب تیسری چوتھی کوئی عید نہیں ہوسکتی…
حج کے ایام اور روزے کا مہینہ مقرر فرمادیا اب اس میں کوئی ردوبدل نہیں ہوسکتا…
ہفتے میں ایک دن جمعہ کا مقرر فرمادیا… اب کوئی اور دن مقرر نہیں ہوسکتا… بڑے لوگ
دنیا میں آتے ہیں پھر یہاں سے تشریف لے جاتے ہیں… اگر ہر ایک کے آنے کا جشن اور
ہر ایک کے جانے کا ماتم ہر سال منایا جائے تو انسانی زندگی اسی میں ختم ہوجائے گی
اور مسلمان کبھی آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔
ایک خطرناک گناہ
حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شہادت وفضیلت کا موضوع مفصل
تھا…اس لیے فی الحال اسے نہ لکھا جاسکا کہ…رمضان المبارک کے ایام ہیں اور مختصر
بات لکھنی ہوتی ہے…اوپر ہم نے حضرت امام غزالی رحمہ اللہ کے حوالے سے حضرت سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کا ایک قول مبارک پڑھا ہے … بس اسی
قول مبارک کے موضوع پر آج کی مجلس سجاتے ہیں…بات دراصل یہ ہے کہ…ہر گناہ بہت
خطرناک ہے مگر ’’مایوسی‘‘ باقی تمام گناہوں سے زیادہ خطرناک اور نقصان دہ ہے…اللہ
تعالیٰ کی رحمت سے مایوسی، اللہ تعالیٰ کی مغفرت سے مایوسی…اپنے حالات درست ہونے
سے مایوسی …اللہ تعالیٰ کی نصرت سے مایوسی…مسلمانوں کے حالات ٹھیک ہونے سے
مایوسی…یاد رکھیں! مایوسی کا گناہ چوری، ڈاکے، زنا اور بدکاری کے گناہ سے بھی
زیادہ خطرناک ہے…یہ گناہ انسان کو توڑ دیتا ہے اور اُسے جہنم کی طرف لڑھکا دیتا ہے
… یااللہ! معافی، یااللہ! آپ کی پناہ۔
ہلاکت خیز حملہ
وہ لوگ بھی غلطی پر ہیں جویہ سمجھتے ہیں کہ … اللہ تعالیٰ
انہیں کبھی عذاب نہیں دے گا…اس لیے وہ دل کھول کر گناہ کرتے ہیں…اور مطمئن رہتے
ہیں…اللہ تعالیٰ ہمیں ایسا بننے سے بچائے… مگر وہ لوگ زیادہ بڑی غلطی پر ہیں جو یہ
سمجھ لیتے ہیں کہ…اللہ تعالیٰ انہیں کبھی معاف نہیں فرمائے گا…اللہ تعالیٰ انہیں
نہیں بخشے گا…اللہ تعالیٰ ان کے دنیا وآخرت کے حالات درست نہیں فرمائے گا…یہ لوگ
اپنے بعض گناہوں کو تو سامنے رکھ لیتے ہیں…مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور عظمت کو
بھول جاتے ہیں… بظاہر یہ لوگ عاجزی کی حالت میں ہوتے ہیں کہ…اپنے گناہوں کو بڑا
سمجھ رہے ہوتے ہیں…لیکن حقیقت میں یہ بدترین تکبر میں ہوتے ہیں کہ…نعوذباللہ اللہ
تعالیٰ کے وعدوں تک کو کچھ نہیں سمجھتے…مایوسی کی یہ حالت ہر کبیرہ گناہ سے بڑا
کبیرہ گناہ ہے…
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’ہلاکت دو چیزوں میں ہے: ایک
مایوسی میں اور ایک عجب میں۔‘‘ (الزواجر)
اور ارشاد فرماتے ہیں:
’’کبیرہ گناہ تین ہیں…اللہ تعالیٰ
کی مدد سے بے آس ہوجانا…اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہوجانا اور اللہ تعالیٰ کے
عذاب سے بے فکر ہو جانا۔‘‘(طبرانی)
یہ حملہ کیوں ہوتا ہے؟
مایوسی کا یہ خطرناک شیطانی حملہ اکثر نیک لوگوں پر ہوتا
ہے…اور یہ اس لیے ہوتا ہے تاکہ وہ اعمال چھوڑ دیں ، دین کا کام چھوڑ دیں…اور خود
کو شیطان کے حوالے کردیں … آپ نے دیکھا ہوگا کہ وہ لوگ جو برائیوں میں سر تا پا
ڈوبے ہوتے ہیں…دن رات گناہ کرتے ہیں اور گناہ پھیلاتے ہیں اور نعوذباللہ گناہوں کو
گناہ تک نہیں سمجھتے…وہ لوگ اکثر مطمئن پھرتے ہیں … نہ کوئی ڈر نہ کوئی
پریشانی…اگرچہ اُن کے دل سکون سے خالی ہوتے ہیں…مگر اللہ یا آخرت کے بارے انہیں
کوئی فکر نہیں ہوتی…لیکن جو لوگ نیکی کی راہ پر ہوتے ہیں اور دین کا کام کرتے ہیں
… اُن پر اچانک مایوسی کا حملہ ہوجاتا ہے…اصل میں تو یہ حملہ کسی بڑے گناہ یا بڑی
ناکامی کی وجہ سے ہوتا ہے…وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا سارا پچھلا کام ضائع ہوگیا…اور
اب آگے مزید عمل کریں گے تو وہ بھی ضائع ہوجائے گا… اس لیے وہ دل چھوڑ کر بیٹھ
جاتے ہیں اور جب وہ اعمال یا ماحول سے کٹتے ہیں تو شیطان فوراً اُن کا شکار کرلیتا
ہے…
لیکن کبھی کبھار بہت چھوٹی یا معمولی باتوں پر بھی…یہ
شیطانی حملہ شروع ہوجاتا ہے…مثلاً اعتکاف کا ارادہ تھا…اور کوشش بھی کی مگر موقع
نہ ملا…فوراً حملہ شروع ہوگیا کہ میں تو ہوں ہی محروم انسان…مجھ سے تو کوئی نیکی
ہوتی ہی نہیں…بس اسی شیطانی سوچ میں وہ اعمال بھی چھوڑ دیئے جو کررہے تھے اور یوں
رمضان کا آخری عشرہ ضائع کردیا…
اسی طرح صلوٰۃ حاجت پڑھی اور دعاء مانگی مگر وہ قبول نہ
ہوئی…تو فوراً مایوسی اور بد دلی کا حملہ ہوگیا…انسان کو چاہیے کہ خود کو انسان
سمجھے … اس دنیا کو عارضی اور فانی سمجھے…اور اللہ تعالیٰ سے حسن ظن رکھے…تب ان
شاء اللہ وہ ایسی خطرناک صورتحال سے بچ سکتا ہے۔
کتنے گندے
تھوڑا سا سوچیں…ہم جب اللہ تعالیٰ سے مایوس ہوتے ہیں تو ہم
کتنے گندے، کتنے ناپاک اور کتنے بُرے ہوجاتے ہیں…وہ عظیم ہوکر فرماتے ہیں آجائو
میں معاف کردوں گا…ہم کہتے ہیں نہیں آپ معاف نہیں کریں گے…وہ فرماتے ہیں تمہارے
گناہ زمین سے آسمان تک پھیل جائیں تب بھی مجھے کیا پرواہ…میرا کیا نقصان…آجائو!
سچے دل سے معافی مانگ لو میں ان تمام گناہوں کا نام ونشان تک مٹادوں گا…ہم کہتے
ہیں نہیں جی … آپ معاف نہیں کریں گے…میرے گناہ زیادہ ہیں… میں بدنصیب ہوں …وہ
فرماتے ہیں کہ …اے گناہوں سے اپنی جانوں کو برباد کرنے والو! تم مایوس نہ ہو…ہم
کہتے ہیں نہیںجی…ہم تو مایوس ہوں گے کیونکہ ہم بہت گِر چکے ہیں…
اندازہ لگائیں…یہ کیسی بُری اور گندی حالت ہے…تھوڑی سی
آزمائش آئی اور فوراً مایوسی میں جاگرے کہ اگر ہمارا کام مقبول ہوتا تو ہم پر
نصرت اُترتی…نصرت نہیں اُترتی تو بس ہمارا کام بھی مقبول نہیں…حالانکہ کیا معلوم
نصرت اُتری یا نہیں؟…اللہ تعالیٰ کی نصرت کے کئی رنگ ہیں …اللہ تعالیٰ کی رحمت کے
کئی رنگ ہیں…اللہ تعالیٰ کی مغفرت کے کئی رنگ ہیں…حضرات انبیاء علیہم السلام کو لوہے کے آروں سے چیرا گیا … اُن کے جسم کا
گوشت کاٹا گیا…کیا وہ برحق نہیں تھے؟…بے شک وہ برحق تھے…مگر وہ کبھی بھی اللہ
تعالیٰ سے مایوس نہیں ہوتے تھے…
بھائیو! اور بہنو!…اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو …اور اس کی رحمت
کے اُمیدوار رہو…اور کبھی بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو…ہمیشہ اسی کے
ساتھ جڑے رہو اور اسی سے مانگتے رہو۔
آخری عشرے کا تحفہ
رمضان المبارک کا آخری عشرہ گزر رہا ہے …رات دن اللہ
تعالیٰ کی رحمت برس رہی ہے اور روزانہ بے شمار لوگ جہنم سے نجات پا رہے ہیں …
گناہوں میں سے ایک خطرناک کبیرہ گناہ ہمارے سامنے آگیا…یہ ہے ’’مایوسی‘‘ کا
گناہ…بس سچے دل کے ساتھ اس گناہ سے توبہ کرلیں…اب تک جتنی بار ہوگیا…یااللہ! معاف
فرمائیے … ہم بہت نادم ہیں… اور آئندہ اس گناہ سے ہماری حفاظت فرمائیے
…استغفراللہ، استغفراللہ…اللہ تعالیٰ سے مایوس ہونا؟جو رحمان اور رحیم ہے اور ارحم
الراحمین ہے …استغفراللہ، استغفراللہ…
یااللہ! آپ کا احسان کہ…مایوسی جیسی گندی حالت میں ہمیں
موت نہیں دی… آپ جیسے رب سے مایوس ہونا؟…استغفراللہ، استغفراللہ…
آپ کی رحمت، آپ کے انعامات، آپ کی پردہ پوشی…اور آپ کا
فضل بے شمار…یااللہ! آپ کی نعمتیں بے حساب…الحمدللہ، الحمدللہ … استغفراللہ،
استغفراللہ…
آجائو گناہگارو! آجائو! سارے گناہ چھوڑ کر …اپنے رب سے
سچی توبہ کرلو…وہ ہر گناہ معاف فرمادیتا ہے…بار بار معاف فرماتا ہے… آجائو،
آجائو اپنے رب کی طرف…اپنے رب کی مغفرت کی طرف۔
لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ
محمد رسول اللّٰہ
اللّٰھم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہمارے’’اوقات‘‘اور’’لمحات‘‘ میں خیر اور برکت
عطاء فرمائے…
اَللّٰھُمَّ اِنَّانَسْئَلُکَ صَلَاحَ السَّاعَاتِ
وَالْبَرَکَۃَ فِی الْأَوْقَاتِ
عجیب دنیا
جو لوگ پاگل ہوجاتے ہیں… وہ کئی قسم کے ہوتے ہیں… ہر پاگل
کی اپنی قسمت… بعض پاگلوں کو اُن کے گھر والے سنبھال لیتے ہیں… بعض پاگل طاقتور
ہوجاتے ہیں تو اُن کا پاگل پن بھی عقلمندی قرار پاتا ہے…جبکہ بعض پاگلوں کو… پاگل
خانوں میں ڈال دیا جاتا ہے… اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے…یہ پاگل خانے جیل بھی ہوتے
ہیں اور ہسپتال بھی… آج انہی پاگل خانوں کے بارے میں بات کرنی ہے اور ایک بڑے
پاگل خانے کا تعارف کرانا ہے… مگر پہلے ہم سب ’’پاگل پن‘‘ سے حفاظت کی مسنون دعاء
پڑھ لیں:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْجُذَامِ
وَالْبَرَصِ وَالْجُنُوْنِ وَسَیِّیِٔ الْاَسْقَامِ
’’یا اللہ! میں آپ کی حفاظت چاہتا
ہوں… کوڑھ، برص، پاگل پن اور گندی بیماریوں سے۔‘‘
یہ دعاء حضرت آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کو سکھائی ہے،
یاد کرائی ہے۔
عجیب ماحول
کسی پاگل خانے کو دیکھنے کا موقع نہیں ملا … البتہ پاگل
خانوں کے واقعات عربی اور اردو میں کافی پڑھے ہیں…پاگل خانوں کی تاریخ بھی بہت
پرانی ہے…خلیفہ ہارون الرشید کا واقعہ مشہور ہے کہ انہوں نے ایک پاگل خانے کا دورہ
کیا تھا …اور وہاں کے ایک پاگل نے ان کو اپنے سوالات سے بیوقوف بنادیا تھا… عربی
زبان میں پاگلوں کے واقعات پر کافی مواد موجود ہے…
کہتے ہیں کہ جو شخص بھی’’اور یجنل پاگل‘‘ ہوتا ہے وہ پاگل
خانے ہی میں خوش رہتا ہے اور وہ کبھی بھی پاگل خانے سے نہیں نکلنا چاہتا… ہاں! جو
نقلی پاگل ہوں وہ پاگل خانے میں خوش نہیں رہتے… پاگل خانے کا ماحول عجیب ہوتا ہے…
ہر پاگل خود کو دنیا کا سب سے عقلمند انسان سمجھتا ہے…کوئی پاگل بادشاہ ہوتا ہے تو
کوئی وزیر اعظم… ہر پاگل کا اپنی ذات کے بارے میں کوئی نہ کوئی بڑا دعویٰ ضرور
ہوتا ہے… مگر غامدیوں کے نظریات کی طرح یہ دعوے بھی بدلتے رہے ہیں… پاگل کو کیا
شرم کہ … ایک دن و ہ سپہ سالار بن جائے اور اگلے دن میراثی اور فنکار…اس نے خود ہی
سوچنا ہے،خود ہی دعویٰ کرنا ہے… خود ہی فیصلہ کرنا ہے اور خود ہی اپنا دعویٰ بدلنا
ہے…کہتے ہیں کہ… جب برصغیر کی تقسیم ہو رہی تھی تو پاگل خانوں میں بھی ماحول گرم
تھا…ہر پاگل اپنے آپ کو کوئی مشہور لیڈر قرار دیتا … چھوٹے پاگل اس کے گردجمع
ہوجاتے… اچانک کوئی دوسرا پاگل اس کے خلاف محاذ کھول دیتا …پھر کچھ پاگل فیصلہ
کرنے والے بن جاتے… اور یوں پورے پورے علاقے، صوبے اور ضلعے پاگلوں کے درمیان
تقسیم ہوجاتے…تب سارے پاگل خوش کہ ہم نے بڑا کام کرلیا…پاگلوں کے ہاں گنتی کا بڑا
مقام ہے… آپ کسی بھی پاگل سے مل لیں وہ ضرور کوئی نہ کوئی چیز’’ گن ‘‘رہا ہوگا،
شمار کر رہا ہوگا…مگر گنتی اس کی اپنی ہوگی…ایک ڈاکٹر صاحب نے اپنا قصہ لکھا ہے کہ
ایک دن میں پاگل خانے اپنی ڈیوٹی پر گیا…جیسے ہی اندر داخل ہوا تو میرے کانوں سے
آواز گونجی…بیس،بیس ،بیس … میں حیران ہوا اور اندازہ لگانے لگا … جلدہی پتا چل
گیا کہ پاگلوں کے بڑے کمرے میں سے آواز آرہی ہے… اور سارے پاگل مل کر کہہ رہے
ہیں… بیس، بیس ، بیس … پہلے تو میں نے نظر انداز کیا مگر جب ان کی آواز نہ رکی تو
مجھے تجسس ہوا … وہاں دیوار کے ساتھ ایک چھوٹا ساسوراخ تھا، جس سے نگرانی کرنے
والے چھپ کر پاگلوں پر نظر رکھتے تھے… میں اس سوارخ تک پہنچا اور آنکھ لگا کر
دیکھنے لگا… اچانک اندرسے جھاڑو کا تیزتنکا میری آنکھ میں لگا…اور پاگلوں کی
آواز گونجی اکیس،اکیس، اکیس… یعنی وہ مجھ سے پہلے اس طرح کے بیس شکار کر چکے تھے
اور میں ان کا اکیسواں شکار تھا… اب یہ پاگل خوشی اور فخر سے مرے جارہے تھے اور
چلّا رہے تھے اکیس، اکیس…پاگلوں کی فتوحات، ان کی شکست، ان کی رعایا، ان کی
مقبولیت یہ سب خیالی معاملات ہوتے ہیں… مگر وہ ان کو حقیقی سمجھتے ہیں اور ان میں
مست رہنا چاہتے ہیں۔
ویلکم ٹو ’’بڑا پاگل خانہ‘‘
اب آجائیں اس دنیا کے سب سے بڑے پاگل خانے کی طرف…یہ ہے
’’فیس بک‘‘…پورا کا پورا ماحول پاگل خانے والا ہے بلکہ اس سے بھی بدتر…یہاں ایک
خیالی سلطنت قائم ہے…ایک یہودی گماشتہ اس سلطنت کا سامری ہے، سلطان ہے… یہاں ہر
شخص گم ہے، مست ہے اور مدہوش ہے… کہیں کوئی بادشاہ ہے اور اس کی رعایا … کہیں کوئی
دانشور ہے اور اس کے فین اور پنکھے … کہیں گنتی چل رہی ہے… میرے اتنے فالوور تیرے
اتنے فالوور… کہیں کوئی فخر سے پھٹ رہا ہے کہ مجھے اتنے لائکس ملے اور فلاں کو
اتنے کم… کہیں کوئی کسی کی دم پکڑ کر کھینچ رہا ہے تو کوئی کسی کے منہ پر کالک مل
رہا ہے…یہاں کوئی مرد،عورت بن کر ہزاروں پاگلوں کو بے وقوف بنارہا ہے تو کوئی عورت
مرد بن کر اپنی سہیلیوں کا کردار چیک کر رہی ہے… یہاں نقلی خیالات، نقلی عقائد،
نقلی بادشاہت، نقلی مقبولیت… اور نقلی بحث مباحثے گرم ہیں… قیمتی سے قیمتی افراد
اس پاگل خانے میں داخل ہوکر دو ٹکے کے رہ جاتے ہیں… بھکاریوں کی طرح ایک ایک
’’لائک‘‘ کو ترستے … بے عزت عورتوں کی طرح ایک ایک کی گالی سہتے … اور بے کار
لوگوں کے ساتھ اپنا قیمتی وقت ضائع کرتے…ہر بے عزت اس پاگل خانہ میں باعزت ہے…
کیونکہ اس کے فالوورز زیادہ ہیں … یہ فالوورز کون ہیں؟ کہاں ہیں؟ کیوں فالوورز
ہیں؟… پاگلوں کو ان باتوں کے سوچنے کی فرصت نہیں… یہاں ہر پاگل دوسروں کو بے وقوف
اور خود کو عقلمند سمجھتا ہے… اور سامری کے اس گندے ہول میں ہر شخص پھنسا ہوا…
اپنی زندگی کے بہترین لمحات برباد کررہا ہے…مگر کوئی نہیں سوچتا کہ وہ کیا کررہا
ہے؟ کیوں کررہا ہے؟ اور اس سے کیا پارہا ہے؟ اور اس میں کیا لگا رہا ہے؟… کاش!
اُمت مسلمہ کے قیمتی دماغ جب اس پاگل خانے میں دوچار گھنٹے گزارکر نکلا کریں تو
صرف گھڑی دیکھ کر خود سے پوچھیں کہ… زندگی کے ایک سو بیس منٹ کا کیا حساب ہوگا؟…
یہی وقت عبادت میں لگتا تو کتنے فرائض اور نوافل ادا ہوجاتے… تلاوت میں لگتا تو
کتنا قرآن یاد ہوجاتا… کسی کو دعوت دینے یا کسی کی ذہن سازی میں لگتا تو کتنے
افراد بدل جاتے… اپنے جسم کے پٹھے اورمسلز مضبوط کرنے میں لگتا تو جسم کتنا آسودہ
ہوجاتا… اپنی بوڑھی ماں اور بوڑھے باپ کے قدموں میں بیٹھ کر یہ وقت ان کادل خوش
کرنے میںلگتا تو میری قسمت کو کتنے چاند لگ جاتے… یہی وقت خدمت خلق میں لگتا تو
میرے لئے آخرت کا کیا ذخیرہ بن جاتا… یہی وقت اپنی بیوی سے باتیں کرنے میں گزرتا
تو اس اللہ کی بندی کے دل کے کتنے زخم دُھل جاتے… یہی وقت اپنی اولاد کی تربیت
میںلگتا تو صدقہ جاریہ کا درخت کتنا تنا ور ہوجاتا… مگر کچھ بھی نہ ہوا دوچار
گھنٹے پاگل خانے میں… کسی کی دم کھینچنے، کسی کی دم پکڑنے، کسی کا منہ چڑانے… کسی
کو ہنسانے… اور چند پاگلوں کے لائکس سمیٹنے اور کچھ لوگوں کے بدبو دار فضلے کو
سونگھنے اور پھر اس بدبو پرتبصرے کرنے میں گزر گئے… اور یوں زندگی کے یہ قیمتی
لمحات ایک یہودی قبرستان میں دفن ہوگئے… اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ
رٰجِعُوْنَ ۔
پُرکشش
فیس بک کا پاگل خانہ… ایک سامری کے دماغ کا جادو ہے… اور
جادو میںکشش ہوتی ہے… یا پھروہ دماغ کو چھوٹا کردیتا ہے… چھوٹے بچے ویڈیو گیم پر
بہت سے آدمی مار ڈالتے ہیں… سانپوں کے مقابلے جیت جاتے ہیں… کاروں کی ریس میں
زیادہ نمبر لے جاتے ہیں… حالانکہ سب کچھ خیالی ہوتاہے… مگر چونکہ بچے کا دماغ
چھوٹا ہوتا ہے تو اس لیے وہ خوشی محسوس کرتا ہے… کسی عقلمند یا ذمہ دار شخص کو ان
چیزوں سے خوشی یافتح کا احساس نہیں ہوتا… فیس بک پر آتے ہی… انسان کا دماغ چھوٹا
ہوجاتا ہے اور وہ ان چیزوں میں خوشی اور کشش محسوس کرتا ہے جو اس کے کسی کام کی
نہیں… نہ دنیا میں ، نہ آخرت میں… پر ویز مشرف کو فیس بک پر … چالیس لاکھ فالوورز
ملے تو اس کا دماغ لرز گیا… وہ بھاگتا ہوا پاکستان پہنچا مگر ایئر پورٹ پر چالیس
فالوورز بھی نہیں پہنچے تھے… فیس بک کے فالوورز نے تو فیس بک پر ہی ملنا تھا … ان
کا ائیر پورٹ پر کیا کام؟…
مجھے خود ایک بار تجربہ ہوا… کسی قریبی کے فیس بک اکاؤنٹ
سے عرب علماء اور دانشوروں کے صفحات میں جااُترا… وہاں علمی بحثیں چل رہی تھیں…
میں نے ایک دانشور کے ساتھ سینگ اڑا دیئے… کچھ دیر مقابلہ چلا وہ ناک آؤٹ ہوگیا
… میں نے کہا کہ اب اپنی پوسٹ ہٹاؤ… اس نے جیسے ہی ہٹائی میرا دل خوشی اور احساس
فتح سے بھر گیا حالانکہ یہ کون سی فتح تھی اور کیسی خوشی؟ مگر فیس بک تو انسان کو
بہت چھوٹا بنا دیتی ہے… پھر اسی طرح دوتین بارہوا… اب جب ان واقعات کو سوچتا ہوں
تو خود پر شرم آتی ہے… ایک بیو قوف کے ساتھ میرااتنا وقت برباد ہوگیا… میں
نہیںجانتا کہ وہ کون ہے… مجھے نہیں معلوم کہ اس کے مزید کتنے نظریات غلط ہیں؟…
مجھے نہیں علم کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کرکے پھر باز آیا یا اگلے دن پھر اس نے وہی
پوسٹ لگادی… مجھے نہیں علم کہ اس نے کوئی فائدہ اُٹھایا یا صرف مجھے پھنسانے کے
لئے … اپنی ہار مان لی تاکہ میں روز اس کے ساتھ پاگل پن کھیل سکوں؟… یہی وقت جو
میں نے اس کے ساتھ لگایا … اگر کسی سامنے، زندہ یا دور جاننے والے فرد کی تربیت پر
لگاتا تو میرے لئے کتنا اچھا ہوتا… مگر ستم یہ ہے کہ جن کے پاس اپنے شاگردوںاپنے
بچوں اور اپنے والدین کے لئے وقت نہیں… وہی فیس بک کے پاگل خانے میں بھرپور وقت
گذارتے ہیں… اور اب فیس بک کی دیکھا دیکھی اس طرح کے کئی مزید پاگل خانے بھی قائم
ہوچکے ہیں… اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔
آئینہ
لوگ طرح طرح کے دھوکوں میں… اپنا وقت فیس بک وغیرہ پر ضائع
کررہے ہیں…پہلے جو لوگ نیٹ پر گندی تصویریں، فلمیں دیکھتے تھے …ان کو کم ازکم اتنا
احساس تو ہوتا تھا کہ ہم نے غلط کام کیا ہے… چنانچہ وہ توبہ، استغفار بھی کرلیتے
تھے…مگر فیس بک کے پاگل خانے میں… کئی افراد تو خود کو گویاعبادت میں مشغول سمجھتے
ہیں … وہ سوچتے ہیں کہ انہوں نے اتنے چوہے مارے، اتنے گیدڑ شکار کئے… اور اتنے لوگ
سدھارے … چنانچہ وہ اپنی زندگی کے قیمتی لمحات ضائع ہونے پر توبہ استغفار بھی نہیں
کرتے… اور یوں پاگل پن کا مرض بڑھتا جاتا ہے…
اس لئے مناسب سمجھا کہ سامری کے اس جادو کو توڑنے کے
لئےسلیمانی آئینہ دکھایا جائے شاید کئی افراد اس میں اپنا اصل چہرہ اور اصل مقصد
دیکھ کر…پاگل خانے سے باہر نکل آئیں … باقی نصیب اپنا اپنا…آج کے یہ چند الفاظ
بس اسی مقصد کے تحت لکھے ہیں کہ… آپ کی توجہ اس پہلو کی طرف بھی مبذول ہوجائے…یا
اللہ! ان الفاظ کو…میرے لئے اور پڑھنے والوں کے لئے نافع بنا دیجئے۔
دواء کے بنڈل
لوگ پوچھ سکتے ہیں کہ فیس بک اگر پاگل خانہ ہے تو پھر آپ
لوگوں کی نشریات وہاں کس لئے لگائی جاتی ہیں؟… جواب یہ ہے کہ ہمارے رفقاء پاگل
خانے کی دیوار تک جاتے ہیں… اور وہاں سے صحت مندغذا اور دوائوں کے پیکٹ… اندر پاگل
خانے میں پھینکتے ہیں… تاکہ اگر کوئی ان کو کھائے تو وہ پاگل خانے سے باہر نکل
آئے … ہاں! البتہ پاگل خانے کی دیوار تک جانے میں بھی … ان رفقاء میں سے بعض کے
دماغ پر تھوڑی دیر کا’’پاگل پن‘‘ آجاتا ہے اور وہ ’’لائکس‘‘ اور’’کمنٹس‘‘ شمار
کرنے لگتے ہیں… یا تھوڑی دیر کسی مباحثے میں لگ جاتے ہیں…حالانکہ ان کو اس سے بھی
بچنا چاہئے۔
نہ حسد نہ دل آزاری
جو لوگ’’ فیس بک‘‘پر مقبول ہیں…ہمیں ان سے کوئی حسد نہیں…
اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی مقبولیت… اور ایسی مقبولیت کے شوق سے محفوظ رکھے…اس لئے آج
جو کچھ لکھا گیا وہ کسی حاسدانہ جذبے کے تحت نہیں ہے…اسی طرح کسی کی دل آزاری بھی
مقصود نہیں…انسان اپنی زندگی میں بار بار پھسلتا ہے، غلطی کرتا ہے…فیس بک پر مشغول
افراد بھی ان معروضات پر غو ر فرمالیں … اگر اپنی غلطی کا احساس ہو تو تو بہ کرلیں
اور شکر کریں کہ زندگی کے قیمتی اوقات بچ گئے…
اگر آپ کو اپنی غلطی محسوس نہ ہو تو ہمیں کوئی شکوہ
نہیں…البتہ ایک کام میں آپ سب سے تعاون مانگتا ہوں… فیس بک کو ’’مارک زکر برگ‘‘
کی سلطنت کہا جاتا ہے… حالانکہ یہودیوں کے لئے ’’سلطنت‘‘حرام ہے… آپ سب اتنا
تعاون کریں کہ… فیس بک کو…’’ مارک زکر برگ‘‘ کا پاگل خانہ کہا کریں… ٹھیک ہے نا؟…
ان شاء اللہ
لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ
محمد رسول اللّٰہ
اللّٰھم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے ساتھ نصرت کا وعدہ فرمایا
ہے…اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا اور برحق ہے۔
ایک بات پکی ہے
ان شاء اللہ’’کشمیر‘‘نے ضرور آزاد ہونا ہے … یہ مبارک
تحریک اپنے اُن تمام امتحانات سے گذرچکی ہے جو کسی بھی تحریک کو ختم کرنے کے لئے
کافی ہوتے ہیں… مگر تحریکِ کشمیر ختم نہ ہوئی…آج کل کے دور میں کوئی تحریک دس سال
تک چل جائے تو بڑی بات ہوتی ہے… مگر اہل کشمیر تقریباً تیس سال سے اپنا لہو اس
تحریک کو دے رہے ہیں… جہاد افغانستان کی روشنی سے آنکھیں کھولنے والی تحریک
کشمیر… طوفانوں اور اندھیروں کے کئی سمندر عبور کرچکی ہے …
نائن الیون کے بعد جب ’’جہاد‘‘ کے خلاف ساری دنیا متحد
ہوگئی تو… جہاد کشمیر کو مٹانے کی بڑی مؤثر چال چلی گئی…یہ چال ایسی خطرناک تھی
کہ ’’جہاد کشمیر‘‘واقعی ڈوبتا محسوس ہوا… مگر اچانک تہاڑ جیل سے ایک آئینہ سورج
کی طرح چمکا… اور پوری وادی’’الجہاد الجہاد‘‘ کے نعروں سے گونج اُٹھی… اور پھر
جہاد کشمیر نے اپنے شعلے دوردور تک برسا دئیے … واقعی یہ عجیب تحریک ہے… بابرکت
غزوۂ ہند …اس تحریک کی گود میں…معلوم نہیں کتنے افضل گرو…کتنے غازی بابا… کتنے
سجاد افغانی اور کتنے برہان وانی…پل رہے ہیں… ایسی تحریک کے بارے میں کون کہہ سکتا
ہے کہ…یہ ناکام ہوگی … آسمان سے برسنے والا پانی…اور شہید کی گردن سے بہنے والا
خون… اپنے نتائج حاصل کر کے رہتا ہے…مجھے یقین ہے… سوفیصدیقین کہ… یہ تحریک ضرور
کامیاب ہوگی ان شاء اللہ … ان شاء اللہ… ان شاء اللہ
قریب کے مناظر
الحمدللہ میں نے کشمیر اور تحریک کشمیرکو قریب سے دیکھا ہے…
اس تحریک کی خوبیاں بھی اور خامیاں بھی… الحمدللہ خوبیاں زیادہ ہیں اور خامیاں کم
… ہر جگہ جب عزیمت چمکتی ہے تو نفاق بھی سراُٹھاتا ہے … مگر کشمیر میں عزیمت زیادہ
ہے اور نفاق کم… چودہ صدیاں پہلے عزیمت اور نفاق کا مقابلہ مدینہ منورہ میں ہوا
تھا …عزیمت جیت گئی تھی اور نفاق ہار گیا تھا… الحمدللہ کشمیر والے مدینہ منورہ کے
عاشق ہیں… ’’اخوان‘‘ کی نفاقی یلغار کتنی سخت تھی… صرف تصور کریں تو کلیجہ منہ کو
آتا ہے… مگر آج اخوان کا وہاں نام و نشان تک نہیں…جبکہ عزیمت ہر آئے دن یوں
مسکراتی ہے کہ…دل جھوم اُٹھتا ہے… انڈیا نواز وزیر اعلیٰ کے جنازے میں…چند سو
افراد… اور ایک نو خیز مجاہد کے جنازے میں کئی لاکھ…یہ افسانہ نہیں حقیقت ہے… سچی
بات یہ ہے کہ اگر پاکستانی حکومت کے ارادوں میں سوراخ نہ ہوتے تو تحریک کشمیر
مشرقی پنجاب سے آگے تک بڑھ چکی ہوتی… مگر یہ بھی اس تحریک کی حقانیت ہے کہ جب
…پاکستان کا صدر اس تحریک سے ہاتھ دھو چکا تھا …اور وہ اپنی نگرانی میں انڈیا کو
باڑ لگانے کی سہولت دے رہا تھا… اور مجاہدین کے لئے آمد ورفت کے تمام دروازے وہ
بند کر چکا تھا…تب بھی ایک اللہ تعالیٰ کے سہارے یہ تحریک چلتی رہی… اور ایک دن کے
لئے بھی نہ رکی…میں نے قریب سے دیکھا کہ کشمیر کا محاذ… دنیا کا مشکل ترین محاذ
ہے… اور شاید دنیا کا سب سے اونچا محاذ بھی…یوں سمجھ لیں کہ پورا کشمیر انڈین فوج
کی ایک چھاؤنی ہے… آپ کشمیر کا کل رقبہ دیکھیں اور پھر انڈین آرمی اور فورسزکی
تعداد … آپ مان جائیں گے کہ کشمیر ایک فوجی چھاؤنی ہے… ہر موڑ پر مورچہ ،ہر چوک
پر بینکر … ہر گلی میں پہرہ اور ہر سڑک پر گشت…آپ دنیا بھرکے عسکری ماہرین کو
کشمیر کی یہ صورتحال دکھائیں وہ بیک آواز کہیں گے کہ یہاں چڑیا بھی پر نہیں مار
سکتی… مگر اسی چھاؤنی کے اندر ستائیس سالوں سے جہاد جاری ہے اور جہاد بھی معمولی
نہیں…بھرپور جہاد…زوردار جہاد اور فدائی جہاد … میں نے اس چھاؤنی میں خوشی اور
اطمینان کے ساتھ گھومتے مجاہد دیکھے اور اسی چھاؤنی میں ہانپتے کانپتے خوف سے
لرزتے انڈین فوجی بھی بارہا دیکھے …ان فوجیوں کے خوف بھرے تبصرے، اپنی حکومت کو دی
جانے والی غلیظ گالیاں اور جلد ازجلد کشمیر سے واپسی کی آرزو۔
میں نے کشمیر کے عقوبت خانوں اور جیلوں میں … وہ بوڑھے
کشمیری بزرگ بھی دیکھے… جن کی ہڈیاں تشدد سے چٹخ چکی تھیں… مگر ان کے عزائم کپواڑہ
کے پہاڑوں سے بلند تھے… اور سب سے بڑھ کر کشمیری مسلمان مائیں اوربہنیں…ان کی ہمت،
جرأت اور عزیمت کی داستانیں … ہزاروں صفحات کی کتابیں بھی نہیں سمیٹ سکتیں…
ہم جب عقوبت خانوں اور جیلوں میں تھے تو ان مائوں نے…ہمارے
لئے اپنے سگے بیٹوں سے بھی زیادہ اچھے کپڑے اور کھانے بھجوائے اوراپنی ایمان افروز
دعائوں سے ہمارا حوصلہ بڑھایا…دور سے بیٹھ کر تبصرے اور فتوے داغنا اہل ایمان کو
زیبا نہیں… کشمیر پر بات کرنے سے پہلے ذرا کشمیر میں جھانک کر تو دیکھوتب اپنا
ایمان بہت کمزور نظر آئے گا… اپنا قد بہت چھوٹا نظر آئے گا اور اپنی آنکھیں اس
نیم نابینا کشمیری خاتون سے بھی کمزور نظر آئیں گی جو اپنے گھر مجاہدین کو بیٹا
بنا کر رکھتی تھی… پھر ایک دن اُس کے یہ بیٹے قریب کے کھیت میں مقابلہ کرتے ہوئے
شہید ہوگئے تو وہ چلّاتی ہوئی دیوار سے کود گئی کہ… میرے بیٹوں کی بندوقیں مشرک نہ
لے جائیں…وہ برستی گولیوں کے درمیان کھیت میں اُتری… اور چار کلاشنکوفیں اُٹھا
لائی… تاکہ دوسرے مجاہدین تک پہنچا سکے…ارے! ستائیس سال کا عرصہ مذاق نہیں ہوتا…
یہ جہاد ہے، عزیمت ہے کہ اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود انڈیا ابھی تک اپنی فتح کا
اعلان نہیں کر سکا… اور ہر دن اسے اپنے فوجیوں کی لاشیں ڈھونی پڑتی ہیں… جہاد
کشمیر پر آوازے کسنے والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو… ہاں! اللہ تعالیٰ سے ڈرو…اپنی ان
مسلمان مائوں سے شرم کرو جن کے چار چار لخت جگر اس تحریک میںقربان ہو چکے ہیں…اور
کچھ نہیں اپنے کلمے کا تو شرم کرو… وہاں ایک طرف کلمہ طیبہ پڑھنے والے ہیں اور
دوسری طرف بتوں کے پجاری مشرک…کیا کلمہ پڑھنے والے تمہارے یہ بھائی… تمہاری دعاء
اور تمہاری تائید کے بھی مستحق نہیں ہیں؟
آنکھیں ہوں تو نظر آئے
یہ بات درست ہے کہ ستائیس سال کی لڑائی کے باوجود…کشمیر
آزاد نہیں ہوا… مگر یہ ناکامی کی بات نہیں ہے… اگر کشمیر آزاد نہیں ہوا تو انڈیا
کو بھی فتح نہیں ملی… باقی رہے جہاد کشمیر کے نتائج… اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو
بصیرت والی آنکھیں دی ہوں تو …جہاد کشمیر کے حیر ت انگیز نتائج کھلی آنکھوں سے
نظر آتے ہیں…پاکستان کے حکمرانوں کی… کمزوری، بزدلی اور وطن دشمنی کی وجہ سے
انڈیا کے حوصلے بہت بلند ہوگئے تھے…وہ پاکستان کو ختم کر کے اکھنڈبھارت کے خواب
اور منصوبے جوڑ رہا تھا…جہاد کشمیر نے انڈیا کو کشمیر کی چڑھائیوں، ڈوڈہ کی
کھائیوں اور جموں راجوری کی اُترائیوں میں پھنسا دیا … انڈیا کا بے حیا فلمی کلچر
جس تیزی سے کشمیر کی خوبصورتی کو فحاشی اور بددینی میں دھکیل رہا تھا… جہاد کشمیر
نے کشمیر کو غازیوں،شہیدوں اور اولیاء کی سرزمین بنا دیا … اس تحریک کی برکت سے
وہاں اہل ایمان اور اہل ولایت کی ایسی کھیپ تیار ہوئی کہ… صدیوں کی محنت بھی ایسے
اولیاء پیدا نہیں کر سکتی… میں نے کشمیر میں کم سن نوجوان اولیاء کرام کے منور
چہرے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں… جہاد کشمیر کی برکت سے پاکستان کے کتنے گھرانوں
اور کتنے نوجوانوں کو ایمان ،جہاد اور توبہ کی نعمتیں نصیب ہوئیں…یہ ایک مستقل
دلکش داستان ہے… جہاد کشمیر کی برکت سے پاکستان ، ہندوستان، بنگلہ دیش اور دور
قریب کے کئی علاقوں میں ایمان اور دین کی ہوائیں چلیں… اور بے شمار مسلمانوں کو…
سچا مسلمان بننے کی توفیق ملی…
ہاں! بے شک…جہاد کشمیر کے مثبت نتائج بے شمار ہیں… مگر یہ
اُنہی کو نظرآتے ہیں جن کی آنکھیں سلامت ہوں۔
شرم آتی ہے
جہاد نہ ہماری دکانداری ہے اور نہ ہی ہمارا پیشہ … ہم جہاد
میں اس وجہ سے نہیں آئے کہ روٹی کی کمی تھی یا گاڑیوں کی ضرورت… اللہ تعالیٰ کا
بے حد شکر کہ الحمدللہ یہ سب کچھ میسر تھا… یہ منافقین کا پروپیگنڈہ ہے کہ لوگ
بیروزگاری اور جہالت کی وجہ سے جہاد میں آتے ہیں… یہ جھوٹ ہے… بیروز گاری اور
جہالت کی وجہ سے تو لوگ چور بنتے ہیں، ڈاکو بنتے ہیں، میراثی اور فنکار بنتے ہیں
…شوبزاور بے حیائی کے پیشوں میں جاتے ہیں… سیاستدانوں کے کن ٹٹے بدمعاش اور
وڈیروں،جاگیرداروں ، چودھریوں اور خانوں کے غلام بنتے ہیں… جہاد میں توعلم والے
آتے ہیں… جن کے پاس عرش سے اُتر نے والے نورانی علم کی روشنی ہوتی ہے … جہاد میں
تو وہ اُترتے ہیں جو کمانے کی بجائے لگانے پر یقین رکھتے ہیں… جہاد میں درد دل
والے اُترتے ہیں جو اپنی ذات کے خول میں قید نہیں ہوتے بلکہ… اسلام اور مسلمانوں
کا سوچتے ہیں…
ایک بارکسی مؤثر ہستی نے مجھے کہا…مولانا! اب تو جہاد
چھوڑو کچھ علمی کام کرو…تمہارے اندر علمی استعداد موجود ہے… بندہ نے ان سے عرض
کیا: جناب والا! جہاد چھوڑتے ہوئے شرم آتی ہے… مسلمان ہر طرف مظلوم ہیں… اُن پر
ظلم کرنے والوں سے کوئی پوچھنے والا نہیں… ظالموں کو روکنے والا کوئی نہیں …ہم چند
لوگ جہاد میں چلے گئے تاکہ مظلوم مسلمانوں کو ڈھار س ملے کہ وہ لا وارث نہیں… پھر
یہ ہوا کہ ہم جو چند افراد جہاد کے لئے کھڑے ہوئے تو ہمارے کئی رفقاء شہید ہوگئے …
وہ آگے نکل گئے… ان کے جانے کے بعد ہم پیچھے ہٹ جائیں اور راستہ بدل لیں تو بہت
شرم آتی ہے… بہت شرم… یا اللہ!خاص اپنے فضل سے استقامت عطا ء فرما۔
جہاد کشمیر کی تازہ لہر
افغانستان میں علماء اور طلبہ کی کثرت تھی… وہاں جہاد شروع
ہوا تو’’مہاجرین کرام‘‘میں بڑی تعداد علماء اور طلبہ کی بھی تھی…یہ حضرات جہاد کو
سمجھتے بھی تھے اور سمجھا بھی سکتے تھے… چنانچہ جہاد افغانستان کو پاکستان اور
دنیا بھر میں اچھا تعارف اور اچھی پذیرائی ملی… کشمیر کا معاملہ البتہ ایسا نہ
تھا… کشمیریوں نے بہت ظلم دیکھا اور بہت خوفناک غلامی … پھر بھی کرامت ہے کہ … وہ
اسلام پر رہے… مگر نہ اُن میں زیادہ علماء تھے اور نہ دینی طلبہ… ابتداء میں جہاد
کشمیر کی پکار لے کر جو حضرات پاکستان آئے اُن کا حلیہ اور لباس پاکستان کے دینی
طبقے کے لئے اجنبی تھا… وہ انگریزی سے آلودہ اردو میں جہاد کی ٹوٹی پھوٹی بات کر
سکتے تھے… مجھے یاد ہے ۱۹۹۰ میں وہاں سے ایک دانشور تشریف لائے… اقبالیات میں ڈاکٹریٹ
کی ڈگری ان کے پاس تھی … چہرے پر مختصر داڑھی اور لباس آدھا مشرقی آدھا مغربی
…ہم اُن کو جلسوں میں لے جاتے تو وہ اپنے آنسوئوں اور اقبال کے اشعار سے دعوت
جہاد دیتے … جب انہوں نے میرے جہادی بیانات سنے تو قرآن و حدیث کے دلائل پاکر بے
حد مسرور اور جذباتی ہوئے … اور بیانات کی کیسٹیں کشمیر لے گئے اور ان کو بہت
پھیلایا … بہر حال جہاد کشمیر کو پاکستان کے دینی طبقے میں زیادہ مقبولیت نہ ملی…
انڈیا کا پاکستان میں گہرا اثر ہے… آواز لگ گئی کہ جہاد کشمیر ایجنسیوں کا جہاد
ہے… یہ ظالم جملہ اُن کی زبان سے بھی نکلا جو انتخابات لڑکر… خود حکومت کا وزیر
مشیر یعنی خود ایجنسی والا بننے پر فخر کرتے ہیں… اسی طرح اور بھی بہت سے اعتراضات
جہاد کشمیر پر آتے رہے… مگر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا کہ… دعوت جہاد مسلسل چلتی
رہی… دین کے دیوانے مسلسل سرگرم رہے تو الحمدللہ جہاد کشمیر کے لئے افرادی قوت بھی
میسر رہی اور مالی طاقت بھی بنتی رہی … پھر نائن الیون اور بش، مشرف، واجپائی
اتحاد نے…جہادِ کشمیر پر فیصلہ کن وار کیا…تحریک کشمیر کا جنون قدرے کمزور ہوا…
اور مجاہدین کے راستے بند… مگر جہاد تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے… وہی جہاد کی توفیق
دیتا ہے… اور وہی جہاد کو چلاتا ہے… جہاد نہ حکومتوں کا محتاج ہے اور نہ ہی
ایجنسیوں کا … اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے اپنے دشمنوں اور منکروں کو بھی جہاد اور
مجاہدین کی خدمت پر مجبور فرما دیتا ہے… اب ایک بار پھر…جہاد کشمیر کے شعلے لپکے
ہیں… پٹھانکوٹ میں مجاہدین نے ایک بڑاحملہ کر کے اہل کشمیر کے حوصلے بلند
کردئیے…اور اب بعض مجاہدین کرام کی شہادت نے پوری کشمیری قوم کو کھڑا کردیا ہے…اس
موقع پر ہمارا فرض بنتا ہے کہ… ہم ہر طرح سے کشمیری مسلمانوں کی مدد کریں… اور
جہاد کشمیر کے جھنڈے اور علَم کو ہرگز، ہرگز نہ گرنے دیں … اے مسلمان بھائیو! اگر
ہم زندہ ہوئے اور جہاد کشمیر کا جھنڈا گِرگیا… اور ہماری زندگی میں مشرکوں نے فتح
کا جشن منایا تو سوچو! ہماری زندگی اور ہماری جوانی کس کام کی؟
لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ
محمد رسول اللّٰہ
اللھم صل علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ’’انسانوں ‘‘ کی حفاظت فرمائے… ’’حیوانوں‘‘ کے
شر سے
فَاللّٰہُ خَیْرٌ حَافِظًا وَّ ھُوَ اَرْحَمُ
الرَّاحِمِیْنَ۔
کشمیر میں روزانہ شہداء کے جنازے…اور ہسپتالوں میں زخمیوں
کا ہجوم… شام کے پیارے شہر ’’حلب ‘‘ پر انسانیت کش حملے… ہمارے پنجاب میں سینکڑوں
بچوں کا لرزہ خیز اغواء اور ہرآئے دن ظالمانہ پولیس مقابلے… لیبیا پر امریکہ کی
تازہ بمباری کا آغاز… ایران کی یمن، عراق اور شام میں کھلم کھلادرندگی… افغانستان
پر ڈرون حملوں کی بوچھاڑ… اور فلسطین آہ! فلسطین… آئے دن جنازے…یا اللہ! امت
مسلمہ کی حفاظت…
اِنَّ رَبِّی عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ حَفِیْظٌ۔
سچے اَشعار
ایک زمانہ تھا، مجلس احرارِ اسلام آزادیٔ کشمیر کی تحریک
میں سرگرم تھی… احرار کے ایک سپاہی کو جیل میں ڈالا گیا انہوں نے وہاں چند اشعار
کہے… آج ایک پرانی کتاب میں یہ اشعار نظر آ گئے؎
ہے غلامی ایسی قوموں پر نثار
مرد جن کے سست و کاہل ہو گئے
روحِ آزادی وہاں آتی نہیں
فرض سے اپنے جو غافل ہو گئے
ہیں مبارک باپ وہ جن کے پسر
غازیوں میں جا کے شامل ہو گئے
راہِ حق میں لڑنے والوں کی نہ پوچھ
جان دی جنت میں داخل ہو گئے
جان دے راہِ خدا میں اور سمجھ
طے تصوف کے مراحل ہو گئے
ہے جہاد اسلام کا اصلِ اصول
ہم تو اس نکتے کے قائل ہو گئے
اہل کشمیر کی جرأت و استقامت کو سلام! ایک ماہ سے زائد
عرصہ بیت گیا…مگر وہ ڈٹے کھڑے ہیں، جیسے ہی کرفیو اُٹھتا ہے وہ جہادی پرچم لے کر
نکل آتے ہیں اور دوچار شہداء پیش کر دیتے ہیں… ثابت ہو چکا کہ …انڈیا کو کشمیر پر
حکمرانی کا کوئی حق نہیں… وہاں بندوق کے زور پر بس ناجائز قبضہ ہے…یاد رکھنا!
انڈیا کا ظلم اب اپنی تمام حدود سے تجاوز کر چکا ہے…اس لئے اب جنگ کا میدان آگے
بڑھے گا…ہاں! ضرور…ان شاء اللہ وہاں تک آگے بڑھے گا جہاں تک کسی کے وہم و گمان
میں بھی نہیں ہو گا…اے امت مسلمہ کی پاکیزہ ماؤں اور بہنو! اہل کشمیر ، تحریک
کشمیر اور مجاہدین کشمیر کے لئے دعاء کے ہاتھ پھیلا دو۔
اُٹھ جاگ مسافر
اہل اسلام کے لئے ’’صبح انقلاب ‘‘ سے ایک اقتباس:
’’چمگادڑوں نے سمجھا تھا…اندھیری
رات کبھی ختم نہ ہوگی… پہرہ دار ہمیشہ گہری نیند سوتا رہے گا… ہم اسی طرح اونچی
شاخوں میں جھولتے اور پکے پھلوں سے لطف اندوز ہوتے رہیں گے…خیال اچھا تھا اور اچھے
خیال دیر تک نہیں رہا کرتے … مشرق میں اُجالے کا پرچم نمودار ہوا…فقیر نے ’’اُٹھ
جاگ مسافر ‘‘کا گیت شروع کیا…پہرہ دار کی آنکھ کھل گئی…باغ کی تقدیر جاگ اُٹھی…
اندھیرے کی طاقتیں رات کے دامن میں پناہ لینے کے لئے پیچھے ہٹ رہی ہیں۔‘‘
اور تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ ایک اور اقتباس:
’’چنگاریوں سے کہا گیا…تمہارا
مستقبل تاریک ہے…انگاروں کو ڈرایا گیا تمہاری قسمت میں روسیاہی لکھی ہے، چنگاریاں
مدتوں راکھ میں سہمی پڑی رہیں…آخر ایک چھوٹے سے انگارے نے سر اُٹھا کر گرد وپیش
دیکھا…سوکھی گھاس کے تنکے اسے دبانے کے لئے بڑھے…انگارہ اُن کی طرف لپکا… تھوڑی
دیر میں تمام جہاں شعلہ زار بن گیا… اب لوگوں کو یقین آیا…جہاد زندہ ہے، تحریک
کشمیر زندہ ہے۔‘‘
بہت شاندار وظیفہ
انسان کو اچانک وسوسہ آتا ہے کہ…اللہ تعالیٰ مجھ سے ناراض
ہے… بس پھر جسم پر تھکاوٹ کا ایسا حملہ ہوتا ہے گویا کہ جسم میں جان ہی نہیں…نہ
اعمال کی ہمت ہوتی ہے اور نہ کچھ اورکرنے کی…ایسے حالات میں کیا کرنا چاہیے…
رہنمائی ایک بڑے عظیم انسان نے فرمائی… اُن کے نام کی ہیبت سے شیطان بھاگتا ہے اور
اُن کا تذکرہ دلوں کو قوت دیتا ہے …وہ ہیں حضرت سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ… سبحان اللہ! نام میں کتنی مٹھاس
ہے ، کتنا جلال ہے اور کتنی محبت ہے سلام اللہ علیہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ… ان کو جب
کبھی یہ خطرہ لاحق ہوتا کہ حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کسی بات سے ناراض ہیں تو وہ فوراً کہتے:
رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا وَّ بِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَّ
بِمُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم نَبِیًّا۔
اللہ ، اسلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے وفاداری کے اعلان کے بعد جھٹ دعاء مانگ لیتے:
اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ غَضَبِ اللّٰہِ وَ غَضَبِ
رَسُوْلِہٖ۔
’’میں اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس
کے رسول کے غضب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ اور حفاظت چاہتا ہوں۔‘‘
عجیب وظیفہ ہے، بہت عجیب وظیفہ… کبھی دل میں آئے کہ تمہارے
پاس تو کچھ بھی نہیں تو فوراً کہیں:
رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا وَّ بِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَّ
بِمُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم نَبِیًّا۔
میرے پاس اللہ تعالیٰ ہے…میرے پاس اسلام ہے، میرے پاس حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ہے…اور کیا چاہیے؟…اور یاد رکھیں کہ
تسبیح بھی اللہ تعالیٰ کے غضب کو دور کرتی ہے۔
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ
الْعَظِیْم۔
اور صدقہ بھی اللہ تعالیٰ کے غضب اور ناراضی کو دور کرتا
ہے۔
اَلصَّدَقَۃُ تُطْفِیُٔ غَضَبَ الرَّبِ۔
یا اللہ!ہمیں ہمیشہ اپنے غضب سے بچا۔
ایک مزے دار شعر
ایک صاحب تھے اُن کو ’’صوفی‘‘ ہونے کا دعویٰ تھا…یا یوں کہہ
لیں کہ مغالطہ تھا…انہوں نے سر پر لمبی اور گھنی زلفیں رکھی ہوئی تھیں… مگر چہرے
پر داڑھی نہیں تھی… آج کل بھی کئی لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ’’ کلین شیو‘‘ ہو کر
تصوف کی منزلیں طے کرتے ہیں…حالانکہ ڈاڑھی تمام انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے…اور یہ دین اسلام میں واجب ہے …خیر وہ
کلین شیو صوفی لکھنؤ میں ایک شاعر صاحب سے ملنے گئے…شاعر صاحب سنت کے پابند تھے
…انہوں نے فوراً یہ شعرکہا؎
تیرے بالوں کی لمبائی کا تیرے سر پہ کیا کہنا
اِنہیں بالوں کو تو داڑھی بنا لیتا تو اچھا تھا
ڈاڑھی والے خوش نصیب حضرات ایک نکتہ یاد رکھیں …آپ نے
ڈاڑھی رکھی ہوئی ہے آپ کو بہت مبارک…ہر وہ جگہ اور ہر وہ شخص جس کے سامنے جا کر
آپ کو اپنی ڈاڑھی (نعوذ باللہ) بری لگنے لگے تو یاد رکھیں وہ جگہ بھی آپ کی دشمن
ہے اور وہ شخص بھی آپ کا دشمن ہے… اپنے ایمان اور اپنی عزت کی حفاظت کے لئے ایسی
جگہوں اور ایسے افراد سے ہمیشہ دور رہیں۔
ایک مبارک نام
ہر مسلمان پر اپنی اولاد کے جو حقوق لازم ہیں …اُن میں سے
ایک یہ ہے کہ آپ اُن کا اچھا سا نام رکھیں… اس رمضان المبارک کی ایک دوپہر اچانک
مجھے… ایک بہت محترم، مقدس اور عظیم شخصیت کی یاد نے شرف بخشا…یہ تھیں حضرت اُمّ
المومنین سیّدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ
عنہا … میں اُن کی عظمتوں اور یادوں میں ایسا کھویا کہ میری آنکھیں بھیگ گئیں…
میں نے اُن کی خدمت میں سلام بھیجا…
سَلَامُ اللّٰہِ عَلَیْھَا وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ
بَرَکَاتُہ۔
اور اُن کے لئے ایصال ثواب کرنے لگا…مکہ مکرمہ کے ابتدائی
دردناک حالات میں اُن کا اسلام قبول فرمانا اُس وقت جب اسلام قبول کرنا موت، تشدد
اور خطرات کے سمندر میں چھلانگ لگانے کے مترادف تھا…اُنہوں نے اسلام کو سمجھا اور
قبول فرمایا… سبحان اللہ! سابقین اولین ایک سو بیس افراد جو اسلامی معاشرے کی
بنیاد بنے وہ اُن میں شامل تھیں…
پھر اسی پر بس نہیں… اُنہوں نے اپنی مؤثر دعوت کے ذریعہ
اپنے خاوند کو اور اپنے قبیلے کے کئی افراد کو مسلمان کیا…پھر جب حبشہ کی طرف ہجرت
کا حکم آیا تو…ہماری یہ عظیم امی جی حبشہ کی طرف ہجرت فرما گئیں… پھر حبشہ سے
واپس مکہ مکرمہ آ گئیں جہاں اُن کے خاوند وفات پا گئے…
اُن کی ہمت، جرأت، استقامت ، سنجیدہ و باوقار شخصیت… اور
اسلام کے ساتھ اُن کی وفاداری اللہ تعالیٰ کو ایسی پسند آئی کہ…اُن کے لئے بڑی
خوش نصیبی کا فیصلہ ہو گیا… حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت سیّدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا وصال ہوا… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چاروں بیٹیاں گھر میں اکیلی ہو گئیں… عجیب غم
اور پریشانی کے حالات تھے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں دے دیا… اُنہوں نے آپ صلی اللہ
علیہ وسلم کی چہیتی ، لاڈلی اور صاحب مقامات
بیٹیوں کی دل وجان سے پرورش کی…پھر جب مدینہ منورہ کی طرف ہجرت ہوئی تو مسجد نبوی
کے متصل جو پہلا حجرہ بنا…جی ہاں! وہ حجرات جن کا تذکرہ قرآن مجید میں چمکتا ہے…
اُن حجرات میں پہلا حجرہ حضرت سیّدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا تھا… بہرحال اُن کے فضائل و مناقب اور حالات
بہت مفصل اور سبق آموز ہیں… خاص طور پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد اُن کی
اطاعت، عبادت، صدقات اور خیرات کے واقعات بہت عجیب ہیں… حتٰی کہ انہوں نے حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حج کا سفر
تک نہ فرمایا کہ حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی نہ ہو کہ
آپ نے گھر میں رہنے کا فرمایا تھا… حجۃ الوداع کے موقع پر وہ حضرت آقا مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنا فرض حج ادا
فرما چکی تھیں… اور جہاد میں غزوۂ خیبر کے موقع پر شاندار شرکت فرما چکی تھیں…
مجھے اچانک یہ خیال آیا کہ کئی دوست احباب مجھ سے اپنے بچوں کا نام رکھواتے رہتے
ہیں… اور میں نے اب تک کسی بچی کا نام ’’سودہ‘‘ نہیں رکھا… یہ احساس مجھے شرمندہ
اور نادم کر رہا تھا اور میں دعاء کر رہا تھا کہ اس کی تلافی کی صورت بن جائے…
اتفاقاً اسی دن کسی نے رابطہ کر کے اپنی بچی کا نام پوچھا، میں نے فوراً ’’سودہ‘‘
بتا دیا … اور ساتھ بتایا کہ’’ سودہ‘‘ کے معنٰی کالی نہ سمجھنا… یہ ’’سیّدہ‘‘ کے
معنٰی میں ہے اور بھی اس نام کے اچھے اچھے معانی لغت کی کتابوں میں لکھے ہیں… اس
کے بعد سے اب تک الحمد للہ کئی بچیوں کا یہ نام رکھوا چکا ہوں… والحمد للہ رب
العالمین… عرض کرنے کا مقصد یہ تھا کہ …اللہ تعالیٰ اگر آپ میں سے کسی کو ’’بیٹی
‘‘ کی نعمت دیں تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی بنات مطہرات اور ازواج مطہرات اور حضرات
صحابیات رضی اللہ عنہن کے ناموں پر اُن کے نام رکھیں اور اُن میں
’’سودہ‘‘ نام بھی یاد رہے…
لیجئے! آج حضرت امی جی سیّدہ سودہ رضی اللہ عنہا کے اس مبارک تذکرے پر اپنی مجلس ختم کرتے ہیں…
رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا وَاَرْضَاھَا وَ سَلَّمَ
عَلَیْھَا وَ بَارَکَ عَلَیْھَا وَ تَحَنَّنَ عَلَیْھَا
لا الہ الا اللّٰہ ، لا الہ الا اللّٰہ ، لا الہ الا اللّٰہ
محمد رسول اللّٰہ
اللھم صل علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے پیارے بندو! اپنے لئے بھی زیادہ استغفار کرو
اور دوسرے مسلمانوں کے لئے بھی…استغفار بڑی عبادت ہے… استغفار بڑی برکت ہے…استغفار
بڑی دعاء ہے…استغفار سب سے مؤثر دوا اور علاج ہے…استغفار بڑی رحمت ہے…استغفار بڑی
راحت ہے…
اَللّٰھُمَّ رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَ
لِأَھْلِیْ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ
وَالْمُسْلِمَاتِ أَلْاَحْیَاءِ مِنْھُمْ وَالْاَمْوَاتِ۔
عجیب تجربہ
دوسرے مسلمانوں کے لئے استغفار کرنا … یہ حضرات انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے… یہ حضرات ملائکہ علیہم السلام کی سنت ہے…اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ اللہ
تعالیٰ کا حکم ہے … چنانچہ دوسروں کے لئے استغفار کرنے کے فوائد بھی بے شمار ہیں
…کافی عرصہ سے یہ عادت بن گئی ہے کہ جب مسجد جانا ہوتا ہے اور نماز کھڑی ہونے لگتی
ہے تو… اپنے دائیں اور بائیں والے عارضی پڑوسیوں کے لئے استغفار کرتا ہوں، پھر
مؤذن صاحب کے لئے، پھر امام صاحب کے لئے کچھ زیادہ اور پھر تمام نمازیوں کے لئے…
فوری فائدہ یہ ہوتا ہے کہ دائیں بائیں والے اس استغفار کی برکت سے تنگ نہیں کرتے
اور نماز خراب نہیں ہوتی… آپ نے دیکھا ہو گا کہ بعض اوقات کوئی صاحب آپ کے ساتھ
نماز میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور پھر اذیت اور پریشانی کا دور شروع ہو جاتا ہے… وہ
نماز میں بار بار ہاتھ ہلاتے ہیں ، کبھی خود جھومتے ہیں، کبھی دھکے دیتے ہیں …کبھی
اُن کے کپڑوں کی بو یا منہ سے آنے والی سگریٹ وغیرہ کی بدبو دماغ ہلاتی ہے… اکثر
مسلمانوں کو چونکہ مسجد کا ’’مقام‘‘ معلوم نہیں… اس لئے وہ شادی ہالوں میں تو بن
سنور کے خوشبو لگا کر جاتے ہیں جبکہ مسجد میں بدبودار لباس یا منہ کے ساتھ آ جاتے
ہیں … نماز میں خشوع کی اہمیت چونکہ تقریباً ختم ہے اس لئے نماز میں بھی ہلتے جلتے
رہتے ہیں…الحمد للہ جب سے استغفار کا یہ عمل شروع ہوا ہے آس پڑوس کے ایذاء کا یہ
سلسلہ تقریباً بند ہو گیا ہے… استغفار یعنی دعائے مغفرت بہت بڑی چیز ہے یہ تو اس
کا ایک ادنیٰ سا فائدہ عرض کیا ہے ورنہ دوسروں کے لئے ’’استغفار‘‘ کے فوائد بے
شمار ہیں۔
حیرت انگیز دنیا
سچی بات یہ ہے کہ…استغفار کے فوائد ہم سب سنتے ہیں، پڑھتے
ہیں اور بیان کرتے ہیں …مگر زیادہ استغفار کی توفیق قسمت والوں کو ہی ملتی ہے …
اکثر لوگ یا تو منصوبے بناتے رہتے ہیں کہ فلاں وقت شروع کریں گے…جبکہ بعض لوگ چند
دن زور لگا کر پھر چھوڑ دیتے ہیں … حالانکہ گناہ روز بلا ناغہ کرتے ہیں… اگر ہم
صرف اپنے زبان کے گناہوں کو ہی شمار کریں تو تھک جائیں… جھوٹ، غیبت، گالی ،دھوکہ،
جھوٹی قسمیں، جھوٹے وعدے ، فحش گوئی،لغویات ، فخر بازی اور معلوم نہیں کیا
کیا؟ بس اللہ تعالیٰ جس بندے پر مہربان
ہوتے ہیں اسے استغفار کی سمجھ اور توفیق عطاء فرما دیتے ہیں اور پھر اس بندے کے
ہاتھ میں بے شمار خزانوں سے لبریز ایک بڑا خزانہ آ جاتا ہے…
آج ہی ایک صاحب کا واقعہ پڑھ رہا تھا … اُن پر شدید جادو
تھا، بے روزگار تھے…قرضوں میں جکڑے ہوئے تھے… جادو اس قدر شدید اور جناتی تھا کہ …
جنات چیزیں تک غائب کر دیتے تھے…اللہ تعالیٰ نے اُن کو استغفار کی روشنی دی …وہ
روز ہزاروں بار استغفار میں لگ گئے … اُٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے ہر وقت استغفار…
تین ماہ تک تو کچھ نہ ہوامگر وہ نہ تھکے نہ مایوس ہوئے… تین ماہ بعد جادو ٹوٹ
گیا…پھر روزگار لگ گیا …پھر قرضہ اُتر گیا… پھر مالدار ہو گئے…اور پھر اُن کی ہر
دعاء اور ہر آس پوری ہوتی چلی گئی …سب سے بڑی بات یہ ہے کہ استغفار کی برکت سے
انسان کا دل ٹھیک ہو جاتا ہے اور اس کی آخرت بن جاتی ہے…اور اسے فکروں سے آزادی
مل جاتی ہے… باقی مسائل تو خود بخود حل ہوتے چلے جاتے ہیں…بات اپنے موضوع سے دور
جا رہی ہے …اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو سچا استغفار نصیب فرمائے…عرض یہ کرنا
چاہتا ہوں کہ اگر ہم قرآن و سنت میں جھانک کر دیکھیں کہ …ایک مسلمان کا دوسرے
مسلمان کے لئے ’’استغفار‘‘ کرنا کتنا عظیم الشان عمل ہے تو …ہم خود کو ایک حیرت
انگیز دنیا میں پائیں گے…
ہم قرآن مجید میں دیکھتے ہیں کہ… اللہ تعالیٰ اپنے سب سے
پیارے اور مقرب بندے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرما رہے ہیں کہ… آپ ایمان والے مردوں
اور عورتوں کے لئے استغفار کریں… ہم قرآن مجید میں دیکھتے ہیں کہ …حضرت نوح علیہ السلام دوسرے ایمان والوں کے لئے استغفار فرما رہے
ہیں…ہم قرآن مجید میں پاتے ہیں کہ… حضرت ابراہیم علیہ السلام سب ایمان والوں کے لئے استغفار فرما رہے ہیں…
ہم قرآن مجید میں سنتے ہیں کہ… عرش اُٹھانے والے فرشتے
زمین کے ایمان والوں کے لئے استغفار فرما رہے ہیں…ہم احادیث میں دیکھتے ہیں
کہ…صحابہ کرام حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے لئے استغفار کی درخواست کر رہے ہیں… ایک
صحابی جہاد میں زخمی ہو گئے جب اُن کے بچنے کی کوئی اُمید نہ رہی تو انہوں نے اپنے
رفقاء سے فرمایا… حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں میرا سلام عرض کرنا اور درخواست
کرنا کہ میرے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم استغفار فرما دیں …ایسے کئی واقعات حدیث کی
کتابوں میں موجود ہیں …ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں سے اپنے لئے
استغفار کرانا… دور نبوت میںکتنا اہم تھا… حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مقرب صحابہ کرام کو اپنے ایک پیارے امتی
حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ کی علامات ارشاد فرمائیں اور صحابہ کرام رضوان
اللہ علیہم اجمعین کو تلقین فرمائی کہ…اُن
سے اپنے لئے اور اُمت کے لئے استغفار کرانا… سبحان اللہ! یہ ہے اولیاء اللہ کا اصل
مصرف… ہمیں آج کوئی ولی یا مقرب بندہ ہاتھ آ جائے تو ہم کیا کرتے ہیں؟ فوراً اپنے
دنیا کے مسائل حل کرانے کی فکر میں لگ جاتے ہیں… کوئی اپنا بچہ اس کی گود میں ڈال
دے گا کہ اسے نظر کا دم کر دیں… کوئی اپنے قرضے کا رونا روئے گا…کوئی فیکٹری کا
مسئلہ حل کرائے گا…اور کوئی چاہے گا کہ وہ اس کی جسمانی بیماریوں کا فوری علاج کر
دے… اپنی اس عادت کی وجہ سے ہم نے کیسے کیسے سنہری مواقع اپنی زندگی میں کھو دئیے
…ہم میں سے ہر انسان کی زندگی میں اولیاء ، فقراء اور مقربین کچھ دنوں کے لئے آتے
ہیں… اگر ہم آخرت کو سمجھتے اور مانتے ہوں تو…ہمیں فوری طور پر پہلا کام یہ کرنا
چاہیے کہ نہایت ادب کے ساتھ …بغیر ایذاء پہنچائے اور بغیر اصرار کئے …اُن سے اپنے
لیے مغفرت کی دعاء کرا لیں… ارے بھائی! مغفرت مل گئی تو …اس کی آڑ میں صحت، برکت
سب آ جائے گی… نہ بھی آئی تو کیا حرج؟ …انسان بیمار ہوتا ہے، حضرات انبیاء علیہم
السلام پر بھی تکالیف آئی ہیں… مگر مغفرت
تو ہمارا اصل مسئلہ ہے… اسی لئے ایمان کی دعاء کرانا … ایمان پر خاتمے کی دعاء
کرانا… شہادت کی دعاء کرانا… یہ اصل فائدہ ہے… ہمیں اللہ تعالیٰ کے ایک ولی کی
زیارت ہوئی اور ہم نے جھٹ اس سے ایک تعویذ لکھوا لیا تو ہم نے کیا پایا؟ …ٹھیک ہے
ضرورت کے درجے میں ان مسائل کے لئے مشورہ کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں… مگر یاد
رکھیں!اللہ والوں کا یہ مصرف ہرگز نہیں… ان سے تو جو مانگا جائے وہ اپنی استطاعت
کے مطابق دینے کی کوشش کرتے ہیں… مگر ان کے پاس جو اصل دولت ہوتی ہے… اس سے بہت کم
لوگ ہی فائدہ اُٹھاتے ہیں … جیسے ایک جیب کترا کسی ولی کے پاس چلا جائے تو…اُن کی
جیب سے پانچ سات سو روپے اُڑا کر خود کو کامیاب سمجھتا ہے… حالانکہ اگر وہ ان سے
استغفار اور دعاء کراتا تو معلوم نہیں کیا کچھ پا لیتا… ہم پر بھی وقتی تقاضوں اور
وقتی خواہشات کا حملہ رہتا ہے… اور ہم کعبہ شریف ، حجر اسود اور حضرات اولیاء کرام
رحمہم اللہ سے بھی… اپنے عارضی مفادات
حاصل کر کے خوش ہوتے ہیں… معافی چاہتا ہوں …بات پھر دور جا رہی ہے… واپس اپنے
موضوع پر آتے ہیں … ہم حدیث شریف کی کتابوں میں دیکھتے ہیں کہ… اگر کسی نے کسی پر
احسان کیا ہو تو اس کا بہترین بدلہ بھی… اس کے لئے استغفار ہے…
ایک تابعی فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد محترم کو… جو حضرات
صحابہ کرام میں سے تھے ہمیشہ دیکھتا تھا کہ جب بھی جمعہ کی اذان سنتے تو حضرت اسعد
بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لئے… مغفرت کی
دعاء یعنی استغفار فرماتے… ایک بار میں نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ… اُن کا
ہم پر احسان ہے کہ ہمیں سب سے پہلے جمعہ کی نماز اُنہوں نے پڑھائی تھی …اسی طرح ہم
حدیث شریف کی کتابوں میں دیکھتے ہیں کہ…حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے دو افراد کا اگر آپس میں کچھ اختلاف ہو
جاتا …ایک دوسرے کے لئے کوئی سخت لفظ بول دیتے تو اس کی تلافی استغفار کے ذریعہ
کراتے …اور ایک دوسرے سے اپنے لئے استغفار کراتے… اس پر حضرات شیخین کریمین …یعنی
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا واقعہ مشہور ہے… حضرت صدیق اکبر
نے حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ میرے لئے استغفار کریں… اس طرح کے
کئی واقعات حدیث شریف کی کتابوں میں موجود ہیں۔
اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ لِیْ وَلَکُمْ
اے رنگ و نور پڑھنے والے مسلمانو! میں اپنے لئے اور آپ سب
کے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کا سوال کرتا ہوں…
اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ لِیْ وَلَکُمْ… اَللّٰھُمَّ
اغْفِرْلِیْ وَلَھُمْ… یَغْفِرُ اللّٰہُ لِیْ وَلَکُمْ جَمِیْعًا
آپ سے بھی التجا ہے کہ … میرے لئے استغفار فرما دیں… بعض
آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ جس مسلمان کے لئے چالیس ایمان والے ’’استغفار‘‘ کریں تو
اسے مغفرت مل جاتی ہے…
بات یہ ہے کہ آج صرف یہ عرض کرنا تھا کہ …ایک تو آپ اہل
کشمیر، اہل شام ، اہل افغانستان ، اہل فلسطین ، اہل عراق وغیرہ کے تمام اہل حق…
مجاہدین کے لئے استغفار کا معمول بنا لیں… اس سے اُن کی تحریک ِجہاد کو قوت ملے
گی… اور آپ کا حصہ اُن کے عمل میں شامل ہو جائے گا… دوسرا یہ عرض کرنا تھا کہ…جس
مسلمان سے آپ کو تکلیف یا ایذاء کا خطرہ ہو تو اُس کے لئے استغفار کریں…ان شاء
اللہ اس کا شر خیر میں بدل جائے گا… مثلاً جو بیویاں اپنے خاوندوں کے ظلم کا شکار
ہوں یا جو خاوند اپنی بیویوں کے مظالم سے دوچار ہوں وہ ایک دوسرے کے لئے استغفار
کریں ان شاء اللہ آپس کے تعلقات میں بہتری ہو جائے گی …اصل یہی دو باتیں تھیں
…مگر موضوع بہت مفصل ہے… اللہ تعالیٰ توفیق عطاء فرمائے کہ میں اسے …دلائل کے ساتھ
مکمل تفصیل سے لکھ سکوں …
آج بس اتنا ہی…
یَغْفِرُ اللّٰہُ لِیْ وَلَکُمْ… یَغْفِرُ اللّٰہُ لِیْ
وَلَکُمْ۔
لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ
محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ سے جو کچھ دوسرے مسلمانوں کے لئے مانگا جائے…وہ
مانگنے والے کو خود بخود مل جاتا ہے…
آئیے! ہم اللہ تعالیٰ سے سب مسلمانوں کے لئے ’’مغفرت‘‘
مانگیں…اور اُمید رکھیں کہ اس عمل کی برکت سے ہمیں ’’مغفرت‘‘ کا عظیم تحفہ مل جائے
گا…
١ رَبَّنَا اغْفِرْلِیْ
وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ۔
٢ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِاُمَّۃِ
مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
٣ اَللّٰھُمَّ رَبِّ اغْفِرْلِیْ
وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ۔
٤ اَللّٰھُمَّ رَبِّ اغْفِرْلِیْ
وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِاَھْلِیْ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ
وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ اَلْاَحْیَائِ مِنْھُمْ وَالْاَمْوَاتِ۔
کوئی تو ایسا بنے
آج ہر مسلمان دوسرے مسلمانوں کے لئے دل میں دشمنی، بغض اور
حسد لئے پھرتا ہے… کتنے مسلمان ہر روز گھر سے نکلتے ہیں تاکہ دوسرے مسلمانوں کو
ماریں، لوٹیں اور تکلیف پہنچائیں… آج ہر گھر میں جھگڑا ، ہر خاندان میں دشمنی… ہر
جماعت کے کارکنوں میںباہمی رنجش…آہ افسوس! ہمارے دلوں سے ’’کلمہ طیبہ‘‘ کی قدر
نکل گئی… حتٰی کہ مسجد میں جاؤ تو مقتدی امام سے ناراض اور امام اپنے مقتدیوں سے
شاکی… ہر مجلس میں غیبت… ہر گھر میں چغل خوری…
ایسے حالات میں کچھ لوگ تو ایسے ہوں جو…حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت سے محبت کریں… اور اپنے دل میں اُن کے
لئے خیر خواہی جگائیں… وہ اُن کے لئے صبح شام اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگیں…کسی
گاڑی میں بیٹھیں تو گاڑی میں موجود تمام مسلمانوں کے لئے استغفار کریں …کیونکہ
عارضی پڑوسی کا بھی حق ہوتا ہے… مسجد میں جائیں تو تمام نمازیوں کے لئے استغفار
کریں … مسجد میں تو ان شاء اللہ سب مسلمان ہی آتے ہیں…کسی مسلمان پر تنقید اور
اعتراض کی نظر پڑے تو فوراً… اپنے لئے اور اس کے لئے استغفار کریں… یہ عادت نصیب
ہو گئی تو خیر کے بہت سے دروازے کھل جائیں گے… اور دل بغض اور حسد سے پاک ہوتا چلا
جائے گا، ان شاء اللہ۔
فوائد بے شمار
ایک آدمی کے دل میں اچانک جذبہ اُبھرتا ہے کہ …میں ابھی
تھوڑے سے وقت میں بے شمار نیکیاں کروں…بستر پر پڑا ہے…وضو کر کے نماز نفل کی ہمت
نہیں… کوئی ساتھ نہیں کہ ہدیہ، صدقہ ، خیرات یا نصیحت کی نیکی کر سکے… وہ اچانک
اپنے دل میں ایمان والوں کے لئے خیر خواہی بھر کر اُن کے لئے استغفار میں لگ جاتا
ہے … تو اسے ہر مومن مرد اور ہر مومن عورت ، ہر مسلمان مرد اور ہر مسلمان عورت کے
بدلے ایک ایک نیکی مل جاتی ہے…حضرت آدم علیہ السلام سے قیامت تک… گنتی کریں کہ کتنے مومن اور مسلمان
مرد اور عورتیں ہیں… یقیناً اربوں، کھربوں ، بے شمار… اسی لئے ہمارے اسلاف کے
معمولات میں یہ شامل تھا کہ وہ روزانہ بلا ناغہ تمام اہل ایمان اور اہل اسلام کے
لئے استغفار کرتے تھے…علامہ ابنِ قیم رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ یہ اسلاف کا ایسا معمول تھا جسے
وہ کبھی نہیں چھوڑتے تھےاور فرمایا کہ ہمارے شیخ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ بھی پابندی سے روزانہ ستر بار یہ عمل کرتے تھے
(انتہیٰ)…اندازہ لگائیں کہ…ستر بار کی ترغیب کسی حدیث شریف میں نہیں ہے…
ایک روایت میں ستائیس بار کا تذکرہ ہے …مگر ہمارے اسلاف نے
دیکھا کہ… استغفار کے ساتھ ’’ستر‘‘ کے عدد کو خاص مناسبت ہے… کیونکہ قرآن مجید
میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے
فرمایا گیا… آپ اگر ان منافقین کے لئے ستر بار بھی استغفار کریں گے تو اللہ
تعالیٰ انہیں معاف نہیں فرمائے گا…
اسی طرح اسلاف نے دیکھا کہ …ایمان والوں کے لئے استغفار
اسلام کے ذوق کا حصہ ہے … یہ حضرات انبیاء علیہم السلام کا عمل ہے… یہ حضرات ملائکہ کا عمل ہے… تو انہوں
نے اس عمل پر پابندی کے لئے…ستر بار استغفار کا معمول اختیار فرما لیا… یہ نہ بدعت
ہوئی اور نہ دین میں کوئی تحریف… بلکہ دین پر عمل کی ایک منظم صورت بن گئی…
اب اس استغفار کے فوائد پر نظر ڈالیں تو… انسان حیران رہ
جاتا ہے… آپ نے تمام اہل ایمان، اہل اسلام کے لئے استغفار کیا تو کیا ملا؟
١
تمام اہل ایمان اور اہل اسلام کی تعداد میں نیکیاں۔
٢
اہل ایمان کے لئے خیر خواہی کا اجر۔
٣
خود آپ کے لئے فرشتے کی دعاء کہ ’’یا اللہ!اسے بھی یہ عطاء فرما… جو اس نے دوسروں
کے لئے مانگا ہے۔‘‘
٤
رزق کی ایسی برکت کہ … اب آپ کے ذریعہ سے دوسروں کو بھی رزق ملے گا۔
٥
دل سے حسد اور بغض و کینہ کی پاکی۔
٦
حضرات انبیاء علیہم السلام اور حضرات
ملائکہ کی اتباع کا اجر۔
٧
اہل ایمان کے دلوں میں آپ کے لئے مقبولیت… اور محبت…کیونکہ آپ نے اُن کے ساتھ
خفیہ نیکی کی تو اب روحانی لہروں کے ذریعہ اُن کے دلوں میں خود بخود آپ کی محبت
آ جائے گی۔
٨
دعاء کے تمام فائدے۔
٩
استغفار کے تمام فائدے۔
١٠ دل میں کلمہ طیبہ اور ایمان کی قدرو قیمت کا بڑھ جانا۔
اور بہت سے فوائد۔
بغض و نفرت کے دروازے
آپ نے ایک عجیب بات دیکھی ہو گی… جو لوگ دنیاداری اور
گناہوں میں غرق ہیں ان کی آپس میں زیادہ مخالفت نہیں ہوتی… بددین گھرانوں میں ساس
اور بہو کا جھگڑا کم ہوتا ہے… مگر جیسے ہی دینداری آتی ہے ایک دم جھگڑے شروع ہو
جاتے ہیں… اس کی بڑی وجہ تو واضح ہے کہ…شیطان دین داروں پر زیادہ حملہ کرتا ہے …جو
لوگ دن رات کفر، فسق اور کبیرہ گناہوں میں غرق رہتے ہیں شیطان کو ان کی کیا فکر؟
وہ تو شیطان کی جماعت میں پہلے سے بھرتی ہیں… چور ہمیشہ خزانے کی تاک میں رہتا ہے…
پس جہاں ایمان کا خزانہ ہو گا وہیں شیطان ڈاکہ ڈالے گا…مگر آج کل دینداروں میں جو
باہمی نفرت ہے اس کی ایک وجہ علم کی کمی بھی ہے… جو لوگ نئے نئے دیندار ہوتے ہیں…
وہ دین کا بنیادی علم حاصل نہیں کرتے… بس چند مسائل کو دین سمجھ لیتے ہیں… پھر جو
بھی انہیں ان مسائل کی خلاف ورزی کرتا نظر آئے اس سے نفرت شروع کر دیتے ہیں…حالانکہ
خود ماضی کی پوری زندگی کبیرہ گناہوں میں گذار چکے… مگر اب کسی کو کوئی مستحب
چھوڑتا بھی دیکھ لیں تو اسے جہنمی سمجھنے لگتے ہیں… اور ہر کسی کی ٹوہ میں لگے
رہتے ہیںکہ… فلاں آدمی نے نماز میں ہاتھ کہاں رکھے تھے… سجدہ میں جاتے ہوئے گھٹنے
پہلے رکھے یا ہاتھ … کھانے کے بعد پلیٹ پوری طرح صاف کی یا نہیں؟ حالانکہ دینی
مسائل میں کافی وسعت ہے … اور انسان کو عذر بھی ہو سکتا ہے…اور ہر حکم کی ایک
تفصیل بھی ہے… مگر جس طرح ’’ نو دولتیے‘‘ مال کے ذریعہ گناہ اور تکبر کماتے ہیں
اسی طرح کئی ’’نو دینئے‘‘ اپنے محدود دینی علم کی وجہ سے… تکبر اور نفرت میں پڑ
جاتے ہیں۔
یاد رکھیں! جس شخص پر بھی اللہ تعالیٰ ’’ دینداری‘‘ کا
احسان فرمائیں… اور اسے توبہ کی توفیق عطاء فرمائیں تو سب سے پہلے وہ دین کا
بنیادی علم حاصل کرے… آغاز اختلافی مسائل سے نہیں …کلمہ طیبہ، بنیادی عقائد اور
نورانی قاعدے سے کرے… پھر اسلامی فرائض سیکھے …پھر سنتوں کا علم حاصل کرے… اور پھر
آداب اور ان کی حدود معلوم کرے۔
جب تک وہ لازمی اور ضروری علم نہ سیکھ لے اس وقت تک… فتویٰ
بازی، تنقید بازی اور الزام بازی میں نہ پڑے… خود نماز کا فریضہ ٹھیک طرح سے ادا
کرنا نہ آتا ہو اور دوسروں پر اعتراضات شروع کر دے تو… زیادہ عرصہ دینداری پر
قائم نہیں رہ سکے گا… خود مکمل حلال کا اہتمام کرے مگر دوسروں کو حرام خوری کے
طعنے نہ دے… حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم
کی سیرتِ مبارکہ کا مطالعہ کرے… سیرت کا
مطالعہ انسان کو بہت سے فتنوں سے بچاتا ہے… یہ آج کے دور کا بہت بڑا المیہ ہے کہ
کئی لوگ تو بہ کر کے دینداری پر آتے ہیں… اور پھر اپنے محدود علم کی وجہ سے اپنی
دینداری کے فخر میں مبتلا ہو جاتے ہیں …ا ور پھر طرح طرح کی گمراہیوں کا شکار ہو
جاتے ہیں… اللہ تعالیٰ نے آپ کو توبہ کی توفیق بخشی تو… اب اپنے لئے اور تمام اہل
اسلام کے لئے استغفار کو اپنا معمول بنا لیں… استغفار کا بڑا فائدہ یہ بھی ہے
کہ…یہ انسان کو تکبر اور نفرت میں نہیں پڑنے دیتا… بار بار استغفار، زیادہ استغفار
اور دوسروں کے لئے استغفار ایسا عمل ہے… جو انسان کے چھپے ہوئے گناہوں کو اس کے
سامنے لاتا ہے، تب ان گناہوں سے توبہ کی توفیق ملتی ہے… یہ عمل انسان کو اس کی
کمزوریاں دکھاتا ہے، جنہیں دیکھ کر انسان زیادہ فکر اپنی اصلاح کی کرتا ہے… اور یہ
عمل انسان کے اندر اس کے ایمان اور دینداری کو مضبوط کرتا ہے۔
سوشل میڈیا کا کردار
سوشل میڈیا نے مسلمانوں کے درمیان ناجائز محبتوں اور
دوستیوں کو مضبوط کیا ہے… ہر گناہ اور جرم پر اس گناہ سے محبت کرنے والے جمع ہوگئے
ہیں… روایات میں آتا ہے کہ… قیامت کے دن ہر طرح کے گناہ گاروں کے الگ الگ ٹولے
ہوں گے… پھر اس کے ساتھ دوسرا ستم یہ ہوا کہ…اہل دین کے درمیان عداوتیں اور دوریاں
اس سوشل میڈیا کی نحوست سے بڑھ گئیں … اب ہر معاملہ پر رائے مانگی جاتی ہے…اگر آپ
کی رائے پسند نہ آئے تو فوراً نفرت اور دشمنی شروع …اسی طرح اُمت مسلمہ کی مقبول
شخصیات اور مقرب بندوں کے خلاف طرح طرح کے شوشے چھوڑ کر منٹوں میں انہیں ہر طرف
پھیلا دیا جاتا ہے… ظاہر بات ہے کہ انسان ہر پڑھی ہوئی چیز کا کچھ نہ کچھ اثر ضرور
لیتا ہے… چنانچہ اس طرح کے شوشوں سے مسلمانوں کے درمیان مایوسی اور نفرت تیزی سے
پھیل رہی ہے… ہم ان تمام افراد کو عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو … سوشل
میڈیا پر حق کی دعوت کے لئے اُترتے ہیں … اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائے اور
انہیں ان کے نیک مقاصد میں کامیاب فرمائے…مگر انہیں پھر بھی اپنے دل، اپنی نیت اور
اپنے طرز عمل کی خود نگرانی کرتے رہنا چاہیے… کیونکہ شیطان کے پھندے بہت خطرناک ،
نفس کے حیلے بہت خوفناک…اور زندگی کے دن بہت تھوڑے ہیں … اور ہر شخص کو اپنے دل کی
خبر ہے کہ…اس میں اصل نیت کیا پوشیدہ ہے۔
ترتیب
کچھ عرصہ پہلے تک… دوسروں کے لئے استغفار کرنا اور دوسروں
سے اپنے لئے استغفار کرانا یہ ہمارے معاشرے میں تقریباً متروک ہوتا جا رہا
تھا…الحمد للہ اس بارے میں آواز لگی اور بار بار لگی تو کئی افراد اس طرف متوجہ
ہوئے اور انہوں نے یہ نعمت پا لی…مگر اس بارے مزید محنت کی ضرورت ہے… دوسروں کے
لئے استغفار کی ایک مختصر ترتیب عرض کی جا رہی ہے…اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصیب
فرمائے…
١ سب ایمان والے مردوں اور عورتوں کے لئے استغفار… اس
کے کچھ فوائد اوپر عرض ہو چکے۔
٢ اپنے
مسلمان والدین کے لئے استغفار … یہ بڑا عظیم اور بھاری عمل ہے… اس کا فائدہ والدین
کو بھی پہنچتا ہے اور خود اولاد کو بھی… اور یہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کا بہترین
طریقہ ہے… حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کا بڑااہتمام فرماتے تھے… حتی کہ بعض صحابہ
کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے
سجدے کی دعاء ہی یہی بنا رکھی تھی…یعنی اپنے والدین کے لئے استغفار۔
٣ اپنے
اہل احسان کے لئے استغفار … جس کسی نے آپ پر احسان کیا ہو کوئی دینی یا دنیوی تو
اُن کے لئے استغفار کا معمول بنائیں… اس میں شکر گذاری بھی آ جائے گی کیونکہ جو
بندوں کا احسان نہیں مانتا وہ اللہ تعالیٰ کا احسان بھی فراموش کرتا ہے… اس میں تو
یہاںتک ثابت ہے کہ جو آپ کو ایک وقت کا کھانا کھلائے تو اسے بھی مغفرت کی دعاء
دیں…یعنی اس کے لئے استغفار کریں۔
٤
اپنے بڑوں کے لئے استغفار… شرعی امام ،امیر، شیخ، استاذ، خاندان کے بزرگ …اس
استغفار کی برکت سے انسان پر فیوض اور نسبتوں کے دروازے کھلتے ہیں…ان شاء اللہ
٥
اپنے چھوٹوں کے لئے استغفار… رعایا، مامورین، شاگرد، خاندان کے چھوٹے… اس استغفار
کی برکت سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں مدد ملتی ہے، ان شاء اللہ۔
٦
اہل فضل کے لئے استغفار… وہ افراد جو کسی چیز میں آپ سے آگے ہیں یا زیادہ ہیں
اور شیطان آپ کے دل میں اُن کی عزت، مال یا ترقی کے بارے میں حسد ڈالتا ہے تو آپ
اُن کے لئے استغفار کریں… اس کی برکت سے ان شاء اللہ آپ کا دل غنی ہو گا اور حسد
سے نجات پائے گا…
٧
اہل توجہ کے لئے استغفار… ایسے مسلمان افراد جن کی طرف آپ کے دل کی توجہ جاتی ہو
کہ… وہ آپ کی حاجات پوری کریں … یا جن کی طرف گناہ کی توجہ جاتی ہو…یا جن کو
نقصان پہنچانے پر دل اُکساتا ہو…ایسے افراد کے لئے استغفار آپ کو بہت سے گناہوں ،
لالچ اور حرص وغیرہ سے بچا دے گا۔
٨
مقیم اور عارضی پڑوسیوں کے لئے استغفار…یہ آپ کے اندر خیر خواہی اور مقبولیت پیدا
کرنے کابہترین ذریعہ ہے… تب آپ ایسے سخی کی طرح ہو جائیں گے جو کسی کو بھی خالی
ہاتھ نہیں لوٹاتا… آپ کے ساتھ جو بھی تھوڑی دیر کے لئے آیا آپ نے آہستہ سے اسے
مغفرت کی دعاء کا تحفہ دے دیا… یہ کتنی سخاوت والا اور کتنے نفع والا عمل ہے۔
٩
ایذاء پہنچانے والوں کے لئے استغفار … مسلمانوں کو معاف کرنا اور ان سے درگذر کرنا
یہ عزیمت والا عمل ہے… اور اس عمل کا بدلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی معافی
ہے۔
پس ایسے مسلمان جنہوں نے آپ کو ایذاء پہنچائی… آپ نے
انہیں معاف کیا اور اُن کے لئے استغفار کیا تو آپ مقام عزیمت پر آ گئے… جو کہ
عظیم سعادت ہے۔
١٠ اہل حقوق اور اہل مظالم کے لئے استغفار… یہ بہت اہم
اور ضروری ہے… وہ مسلمان جنہیں آپ نے کبھی ایذاء پہنچائی …جن کی غیبت یا حق تلفی
کی…جن کو گناہوں میں اُتارا یا جن کا مذاق اُڑایا اور انہیں حقیر سمجھا… ایسے
مسلمانوں کے لئے روز استغفار کرنا چاہیے… تاکہ اُن بھاری گناہوں کا بوجھ اس
استغفارکی برکت سے اُترتا چلا جائے۔
یہ ہے دوسرے مسلمانوں کے لئے استغفار کی ایک مختصر ترتیب…
ذہن میں قرآن و سنت کے جو دلائل موجود ہیں اُن کو سامنے رکھ کر یہ ترتیب عرض کی
ہے… اس میں والدین کے بعد اپنے اہل و عیال یعنی خاوند، بیوی ، اولاد… اور پھر بہن
بھائیوں کے لئے استغفار کا خاص مقام ہے…
یہ فہرست مکمل اور جامع نہیں… اگر دلائل میں غور کیا جائے
تو اس میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے… بہرحال گذشتہ رنگ و نور(بعنوان:’’مجرب عمل‘‘)…
اور آج کی اس مجلس کو یکجا کر کے اس موضوع کو پڑھ لیا جائے تو… اُمید ہے دین
اسلام کا یہ ’’بہترین تحفہ‘‘ ہمیں نصیب ہو جائے گا، ان شاء اللہ…
اَللّٰھُمَّ رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِاَھْلِیْ
وَمَنِ اسْتَغْفَرَلِیْ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ
وَالْمُسْلِمَاتِ اَلْاَحْیَائِ مِنْھُمْ وَالْاَمَوَاتِ۔
لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ
محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا ہے:
وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ
الْمُفْلِحُونَ*
’’جو بھی اپنے نفس کے حرص سے بچا
لیا گیا پس وہی کامیاب ہے۔‘‘(الحشر:۹)
اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے آج ہم مسلمانوں میں ’’شح‘‘ کی
بیماری بہت عام ہے… اسی بیماری کی وجہ سے مسلمان جہاد سے دور ہیں…اسی بیماری کی
وجہ سے بازار آباد اور مساجد ویران ہیں…اسی بیماری کی وجہ سے چوری، ڈاکہ اور
خیانت عام ہے… اسی بیماری کی وجہ سے بدکاری ، بے حیائی اور فحاشی کا ہر طرف طوفان
ہے … آئیے دعاء مانگتے ہیں:
اَللّٰھُمَّ قِنِیْ شُحَّ نَفْسِیْ
وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ
’’یا اللہ! مجھے اپنے نفس کی لالچ
اور حرص سے بچا لیجئے اور مجھے کامیاب فرما دیجئے۔‘‘
’’شح‘‘ کا مطلب
قرآن مجید میں دو جگہ فرمایا گیا کہ…جو اپنے نفس کے ’’شح‘‘
سے بچا لیا جائے گا وہی کامیاب ہے…معلوم ہوا کہ…ہر آدمی کے نفس میں ’’شح‘‘ کی
بیماری موجود ہوتی ہے… اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اس بیماری سے پاک ہونا ممکن ہے…اور
یہ بھی معلوم ہوا کہ جسے اللہ تعالیٰ اس بیماری سے مکمل شفاء عطا فرما دے وہ دنیا
میں بھی کامیاب ہے …اور آخرت میں بھی…اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ’’شح‘‘ کی بیماری
جب تک ہمارے اندر رہے گی ہم کامیابی سے دور دور رہیں گے۔
’’شح‘‘ کا معنی ہے…اَلْبُخْلُ مَعَ
الْحِرْصِ … یعنی کنجوسی اور لالچ دونوں جمع ہو جائیں تو یہ ’’شح‘‘ کہلاتا ہے…
’’شح‘‘کسے کہتے ہیں… اُمت کے بڑے محدث حضرت سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ
عنہما سمجھاتے ہیں:
’’اِنَّمَا الشُّحُّ أَنْ
تَطْمَعَ عَیْنُ الرَّجُلِ اِلٰی مَا لَیْسَ لَہٗ‘‘(الدر المنثور للسیوطی: ۱۰۷؍۸)
’’شح‘‘ کا مطلب ہے انسان اُن چیزوں
کی خواہش کرے جو اُس کے لئے نہیں ہیں۔‘‘
ایک بزرگ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا…حضرت! شادی سے
پہلے جب صرف منگنی اور نسبت طے ہوئی تھی تو مجھے اپنی ہونے والی بیوی …دنیا کی
ساری عورتوں سے زیادہ حسین اور پسندیدہ لگتی تھی… مگر اب شادی کے کچھ عرصہ بعد ہر
دوسری عورت مجھے اپنی بیوی سے زیادہ حسین اور مرغوب لگتی ہے… اور میرا نفس ان کی
طرف اپنی بیوی سے زیادہ مائل ہوتا ہے… بزرگ نے فرمایا: ایک بات کہتا ہوں ناراض نہ
ہونا…اگر دنیا کی تمام خوبصورت عورتیں تمہیں دے دی جائیں اور تم ان سے نکاح اور
رخصتی کر لو تو پھر تمہیں کسی گندی نالی کے پاس لیٹی ہوئی ’’کتیا‘‘ جو خود گندگی
سے لتھڑی ہوئی ہو گی… وہ تمہیں ان تمام عورتوں سے زیادہ مرغوب لگے گی … وہ آدمی
حیران ہوا اور کہنے لگا…حضرت یہ کیسے؟ ایک گندی ’’کتیا‘‘ بھی مجھے مرغوب لگے گی؟
بزرگ نے فرمایا: جی ہاں! کیونکہ آپ کے اندر ایک بیماری ہے اور وہ ہے ’’شح نفس‘‘
یعنی نفس کی لالچ اور حرص…یہ بیماری ایسی ہے کہ اس کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا …اور یہ
انسان کو ایک ذلت کے بعد دوسری ذلت میں ڈالتی ہے …ایک نشے کے بعد دوسرا نشہ… ایک
چوری کے بعد دوسری چوری… ایک خیانت کے بعد دوسری خیانت… ایک شہوت کے بعد دوسری
شہوت … وہ لوگ جن کو عورتیں ہی عورتیں میسر ہوتی ہیں…مگر پھر بھی ان کا دل نہیں
بھرتا اور وہ مزید کسی خباثت میں جا پڑتے ہیں…اس لئے اے بھائی! تمہاری بیوی اب بھی
پہلے کی طرح ہے مگر خرابی تمہارے نفس میں ہے…اپنے نفس کو ’’شح‘‘ کی بیماری سے پاک
کر لو تو تمہیں پھر اپنی بیوی پہلے سے بھی زیادہ پسندیدہ اور مرغوب ہو جائے گی…
ہم نے ’’شح‘‘ کے بارے میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما
کا فرمان پڑھ لیا… اب دیکھئے اُمتِ
مسلمہ کے فقیہ حضرت سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان… وہ فرماتے ہیں:
’’شح کا مرض ’’بخل‘‘ سے زیادہ سخت
ہے… کیونکہ جسے شح کا مرض لگ جائے وہ ان چیزوں کے بارے میں بخل کرتا ہے جو اس کے
پاس ہوں … اور ان چیزوں کی لالچ رکھتا ہے جو دوسروں کے پاس ہوں… جبکہ بخیل صرف ان
چیزوں میں بخل کرتا ہے جو اس کے پاس ہوں۔‘‘ (طبرانی ۹؍۲۱۸، ابن ابی شیبہ۹؍۹۸)
یعنی ’’شح ‘‘ میں دو خرابیاں ہیں…جو کچھ اپنے قبضے میں آ
گیا اس میں کنجوسی اور تنگ دلی شروع کر دی اور جو کچھ دوسروں کے پاس ہے اسے دیکھ
کر حرص اور لالچ کی رال ٹپکنے لگی کہ مجھے یہ سب کچھ مل جائے… بعض مفسرین کرام رحمہم اللہ نے ’’شح‘‘ کا عجیب مطلب لکھا ہے:
’’شح‘‘ یہ ہے کہ جن چیزوں سے اللہ
تعالیٰ نے روکا ان کو پانے کی کوشش کرتا ہو…اور جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے دینے
اور کرنے کا حکم دیا …ان کو نہ دیتا ہو نہ کرتا ہو۔‘‘
مطلب یہ کہ…شح وہ خطرناک بیماری ہے جو انسان کی طبیعت اور
فطرت کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کا مخالف بنا دیتی ہے… اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ
یہ کام نہ کرو تو یہ بیماری نفس کو اسی کام پر اُبھارتی ہے… اور اللہ تعالیٰ
فرماتے ہیں کہ یہ کام کرلو تو یہ بیماری نفس کو اسی کام سے روکتی ہے… آپ آج کل
کے جدت پسندوں اور غامدیوں کو دیکھ لیں… دن رات اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو
حلال کرنے میں لگے رہتے ہیں …اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے اوامر سے رخصتیں ڈھونڈتے
رہتے ہیں…آئیے! دل کی گہرائی سے دعاء مانگ لیں…
اَللّٰھُمَّ قِنِیْ شُحَّ نَفْسِیْ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ
الْمُفْلِحِیْنَ۔
ایک نکتہ
یہ دعاء قرآن مجید میں نہیں ہے…
اَللّٰھُمَّ قِنِیْ شُحَّ نَفْسِیْ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ
الْمُفْلِحِیْنَ
مصنف ابن ابی شیبہ…اور تفسیر ابن کثیر میں یہ دعاء حضرت
سیّدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے
منقول ہے… حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ اور
بعض دیگر سلف نے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو کعبہ کا طواف کرتے ہوئے… یہ
دعاء مسلسل مانگتے سنا…
اَللّٰھُمَّ قِنِیْ شُحَّ نَفْسِیْ۔
بعد میں ان سے پوچھا کہ آپ صرف یہی ایک دعاء کیوں مانگ رہے
تھے؟ یعنی دعائیں اور حاجتیں تو اور بھی بہت ہیں…تب حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ …جو نفس کے شح یعنی
حرص سے بچا لیا گیا وہی کامیاب ہے…اگر میں نفس کے ’’حرص‘‘ سے بچ گیا تو نہ چوری
کروں گا نہ زنا کروں گا اور نہ کوئی اور برا کام … مطلب یہ کہ یہ دعاء بہت جامع
اور کامیابی کا خاص نسخہ ہے… دیلمی رحمہ اللہ نے مسند فردوس میں البتہ یہ دعاء ان الفاظ کے
ساتھ ایک حدیث شریف میں نقل کی ہے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شُحِّ نَفْسِیْ
وَاِسْرَافِھَا وَوَسَاوِسِھَا۔
نکتہ اس میں یہ عرض کرنا ہے کہ …قرآنی دعائیں دو طرح کی
ہیں… ایک وہ دعائیں جو خود قرآن مجید میں بطور دعاء آئی ہیں…مثلاً
رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی
الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ۔(البقرۃ:۲۰۱)
اور دوسری وہ دعائیں جو قرآن مجید کے مضمون اور الفاظ سے
بنا لی جائیں ، جیسا کہ آیاتِ مبارکہ میں آیا ہے…
وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَأُولٰٓئِکَ ہُمُ
الْمُفِلُحُوْنَ۔
’’اور جو اپنے نفس کے حرص سے بچا
لیا گیا تو وہی کامیاب ہے۔‘‘(الحشر:۹)
اب اس مضمون سے یہ دعاء بنا لی گئی…
اَللّٰھُمَّ قِنِیْ شُحَّ نَفْسِیْ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ
الْمُفْلِحِیْنَ۔
’’یا اللہ! مجھے میرے نفس کے حرص
سے بچا لیجئے اور مجھے کامیاب فرما دیجئے۔‘‘
اسی طرح ایک دوسری آیتِ مبارکہ کے مضمون سے یہ دعاء بنا لی
گئی:
اَللّٰھُمَّ حَبِّبْ اِلَیَّ الْاِیْمَانَ وَ زَیِّنْہُ
فِیْ قَلْبِیْ وَکَرِّہْ اِلَیَّ الْکُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَالْعِصْیَانَ۔
بہرحال جس دعاء پر آج ہم بات کر رہے ہیں …وہ ایک بڑے صحابی
جو عشرہ مبشرہ میں سے تھے ان سے منقول ہے… اور دیگر بعض احادیث مبارکہ میں بھی
آئی ہے…
اللہ تعالیٰ اس دعاء کو میرے اور آپ سب کے حق میں قبول
فرمائے …اور ہمیں ’’شح نفس‘‘ کی خبیث قید سے رہائی عطاء فرمائے…
اَللّٰھُمَّ قِنِیْ شُحَّ نَفْسِیْ ، اَللّٰھُمَّ قِنِیْ
شُحَّ نَفْسِیْ ، اَللّٰھُمَّ قِنِیْ شُحَّ نَفْسِیْ
’’شح ‘‘ سے بچو
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی احادیث مبارکہ میں اپنی پیاری اُمت کو
’’شح‘‘ کی بیماری سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے… ایک روایت میں تو یہاں تک فرمایا کہ
’’ایک دل میں ایمان اور شح کبھی جمع نہیں ہو سکتے‘‘…اور ساتھ ’’شح‘‘ کا علاج بھی
ارشاد فرما دیا کہ… ’’جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہیں دیا ہے اسی پر راضی خوشی رہو تو
تم لوگوں میں سب سے زیادہ غنی بن جاؤ گے۔‘‘
حدیث شریف میں ’’شح‘‘ کے باب میں بہت سی روایات موجود
ہیں…ہم آج کی مجلس میں دو روایات پر اکتفا کرتے ہیں… آپ سب سے گزارش ہے کہ اپنے
خیر خواہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے ان مبارک فرامین کو سرسری نہ پڑھیں …بلکہ
انہیں بار بار پڑھیں اور ان میں غور کریں…
١
ارشاد فرمایا:
’’شح سے بچو کیونکہ اسی شح نے تم
سے پہلے والوں کو برباد کیا ہے، اسی شح یعنی حرص نے انہیں قطع رحمی کا حکم دیا تو
انہوں نے قطع رحمی کی ( یعنی حرص اور لالچ کی وجہ سے رشتے توڑے، زمینوں ،
جائیدادوں کے جھگڑوں میں اپنوں سے دشمنیاں کیں، مال کی لالچ میں قریبی رشتہ داروں
سے جھگڑے اور جدائیاں کیں) اور اسی شح یعنی حرص نے انہیں بخل کا حکم دیا تو انہوں
نے بخل کیا اور اسی ’’شح‘‘ نے انہیں گناہوں کا حکم دیا تو وہ گناہوں میں جا پڑے۔‘‘(
مسند احمد)
مطلب یہ کہ…شح کی بیماری سراسر بربادی ہی بربادی اور ہلاکت
ہی ہلاکت ہے…اور یہ بیماری انسان پر ایسی مسلط ہو جاتی ہے کہ…اسے جس برائی کا حکم
دیتی ہے انسان فوراً اس میں کود پڑتا ہے… نہ رشتہ داریاں دیکھتا ہے، نہ حقوق کا
خیال رکھتا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی حدود کی پرواہ کرتا ہے…
٢
ارشاد فرمایا:
’’شح‘‘ سے بچو، کیونکہ اسی شح (
یعنی حرص وبخل) نے تم سے پہلے والوں کو ہلاک کیا اور انہیں خون بہانے اور حرمتوں
کو حلال کرنے پر اُبھارا۔‘‘ ( مسلم)
معلوم ہوا کہ شح یعنی حرص صرف مال میں نہیں ہوتا… مال میں
سب سے زیادہ ہوتا ہے اور پھر اس کے ساتھ عہدے، منصب، شہوات ، لذات اور ہر چیز میں
یہ حرص آ جاتا ہے اور ایک مسلمان کو خونی قاتل اور حرمتوں کو پامال کرنے والا بنا
دیتا ہے … آئیے! عاجزی سے دعاء مانگ لیں…
اَللّٰھُمَّ قِنِیْ شُحَّ نَفْسِیْ ، اَللّٰھُمَّ قِنِیْ
شُحَّ نَفْسِیْ ، اَللّٰھُمَّ قِنِیْ شُحَّ نَفْسِیْ
عجیب تجربہ
’’شح‘‘ یعنی حرص کی بیماری سے… وہی
بچ سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ بچا لے… اور اللہ تعالیٰ جن کو بچا لیتا ہے ان کی
کامیابی پکی ہو جاتی ہے… قرآن مجید نے بطور مثال حضرات انصار کو پیش کیا…ان کو
اللہ تعالیٰ نے ’’شح‘‘ کی بیماری سے بچایا تو انہوں نے …اپنا وطن ، اپنا گھر ،
اپنا مال اور اپنا سب کچھ…دین اسلام اور حضرات مہاجرین کے لئے پیش کر دیا… اور
ایسی عظیم سعادتیں پا لیںکہ…آج تک ان کے نیک اعمال جاری ہیں … اور تا قیامت جاری
رہیں گی…
اللہ تعالیٰ جن کو شح سے بچا لیتا ہے…ان پر دنیا اور آخرت
کے خزانے کھول دیتا ہے… اور ان کے نفس کو ایک بڑی سخت قید سے بچا لیتا ہے … شح سے
بچنے کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ کوئی انسان…اپنی جان کے بارے میں بھی بخل نہ
کرے…بلکہ اسے بھی اللہ تعالیٰ کے حکم پر قربانی کے لئے پیش کر دے… عربی کا ایک شعر
ہے:
یجود بالنفس ان ضنَّ البخیلُ بھا
و الجود بالنفس اعلی غایۃ الجود
خیر یہ ایک مفصل موضوع ہے…آپ سب حضرات کو دعوت دیتا ہوں کہ
…قرآن مجید میں جہاں جہاں ’’شح‘‘ کا لفظ آیا ہے…ان آیات کو الگ کریں …اور پھر
ان کی مستند تفسیر پڑھ لیں … چند گھنٹوں اور چند دنوں کی یہ محنت… آپ کی زندگی
بدل دے گی، ان شاء اللہ…
’’فتح الجوّاد‘‘ کی تصنیف کے دوران
…رنگ و نور میں یہ دعاء عرض کی تھی…
اَللّٰھُمَّ قِنِیْ شُحَّ نَفْسِیْ
اور اس پر تفسیر ابن کثیر سے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا واقعہ بھی عرض کیا تھا… اس کے
بعد بعض بیانات میں بھی…اس دعاء اور اس مرض کی طرف توجہ دلائی تھی…الحمد للہ کئی
افراد نے یہ دعاء اپنا لی… کوئی سجدے میں بار بار مانگتا ہے تو کوئی ہر فرض نماز
کے بعد پابندی سے کم از کم اکیس بار۔
عجیب تجربہ یہ ہوا کہ …جس نے بھی اس دعاء کو اخلاص کے ساتھ
اور اپنی ضرورت سمجھ کر اپنایا اس کی زندگی میں عجیب تبدیلیاں رونما ہونے لگیں
…یوں لگا کہ ہمارا نفس کچھ سخت اور ناپاک زنجیروں میں بندھا ہوا تھا…اور اب ان میں
سے کئی زنجیریں ٹوٹ گری ہیں اور کھل گئی ہیں …کئی افراد کو جہاد پر خرچ کرنے کی
توفیق ملی…کئی کو اپنے والدین کے ساتھ ناجائز بخل کرنے سے نجات ملی…کئی کے گھریلو
مصارف کا نظام درست ہو گیا…اور کئی کو قربانی اور دیگر عبادات میں کھلا ہاتھ نصیب
ہوا… ورنہ مال ہوتا ہے اور انسان اس کے ثمرات سے محروم رہ کر بس اسے رکھنے، چھپانے
، بڑھانے اور گننے میں لگارہتا ہے … اور اس دوران سعادت کے کئی راستے اس کے لئے
بند ہو جاتے ہیں…
اس دعاء کی برکت سے کئی افراد کو… عہدے، منصب ، اپنی عزت
کرانے اور ذاتی جگا گیری کے شوق سے نجات ملی… اور ان کا نفس اور دل آزاد ہو گیا…
اللہ تعالیٰ ہم سب کو …یہ دعاء اور اس کے مبارک ثمرات…اور اس کی قبولیت عطاء
فرمائے اور ہم جب قبر میں اُتارے جائیں تو… یہ خبیث بیماری ہمارے ساتھ قبر میں نہ
اُترے…
اَللّٰھُمَّ قِنِیْ شُحَّ نَفْسِیْ ، اَللّٰھُمَّ قِنِیْ
شُحَّ نَفْسِیْ ، اَللّٰھُمَّ قِنِیْ شُحَّ نَفْسِیْ وَاجْعَلْنَا مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ۔
آمین یا اَرحم الراحمن
لاالہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد
رسول اللّٰہ
اللہم صل علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھ رہے ہیں…میرے دل کو بھی دیکھ رہے
ہیں…اور آپ سب کے دلوں کو بھی…ہمارے دلوں کے ارادوں کو بھی… خیالات کو بھی… ہاں!
سب کچھ دیکھ رہے ہیں…کس دل میں ایمان ہے اور کس میں نفاق… کس دل میں اخلاص ہے اور
کس میں ریاء…
کس دل میں محبت ہے اور کس میں خیانت…کس دل میں دنیا کی لالچ
ہے اور کس دل میں آخرت کی چاہت… ہمارے دل بظاہر چھپے ہوئے ہیں…مگر اللہ تعالیٰ کے
سامنے وہ کھلی کتاب کی طرح ہیں… جس کا دل جتنا پاک وہ اسی قدر معتبر… جس کا دل جس
قدر صاف وہ اسی قدر اپنے رب کے قریب… جس کا دل جس قدر سادہ وہ اسی قدر عقلمند اور
ہوشیار… قرآن مجید نے کھل کر ’’دل‘‘ پر بات فرمائی ہے… آج کل جو نسخے قرآن مجید
کے اکثر چھپتے ہیں… اُن میں تیسرے صفحے سے ہی دل کا باقاعدہ تذکرہ شروع ہو جاتا
ہے… فرمایا ’’ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَرَضٌ‘‘ …منافق کا دل بیمار ہوتا ہے… پھرہم دل
کا تذکرہ …جگہ جگہ قرآن مجید میں پڑھتے جائیں گے… کہیں اچھے دل، کہیں اندھے
دل…کہیں کامیاب دل، کہیں ناکام دل…یہ سلسلہ قرآن مجید کی آخری سورت کی آخری
آیات تک چلا جاتا ہے… خناس کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ…وہ خناس جو انسانوں کے
دل میں ’’وسوسے‘‘ ڈالتا ہے …یہ ’’خناس‘‘ جنات میں سے بھی ہوتے ہیں…اور انسانوں میں
سے بھی… اندازہ لگائیں… دل کا معاملہ کتنا اہم ہے… قرآن کے آغاز سے بات شروع
ہوئی… اور قرآن کے آخر تک چلتی گئی…قرآن کی سب سے بڑی دعوت ہے ایمان… اور ایمان
کے رہنے کی جگہ کون سی ہے؟… جی ہاں! دل ، صرف دل… وہ جن کے دلوں میں ابھی ایمان
نہیں اترا تھا… مگر وہ زبان سے کلمہ پڑھ چکے تھے…دل میں کفر بھی نہیں رکھتے
تھے…سورۂ حجرات میں ان کو کہہ دیا گیا کہ… ابھی خود کو ’’ایمان والا‘‘ نہ کہو…صرف
اتنا کہو کہ ہم نے فرمانبرداری کا اقرار کر لیا ہے… جگہ جگہ ایک بات سمجھا دی کہ
فیصلے دل کے مطابق اُترتے ہیں…جیسا دل ویسے فیصلے… تمہارے دل سیدھے رہیں گے تو
اوپر سے فیصلے بھی تمہارے حق میں اُتریں گے… اور جب تک تمہارے دل سیدھے راستے سے
نہیں ہٹیں گے …اس وقت تک فیصلے تمہارے حق میں اُترتے رہیں گے…
قرآن مجید دل کی طاقت کو بیان کرتا ہے…اس طاقت سے انسان سب
کچھ پا سکتا ہے… جی ہاں! وہ سب کچھ جوپایا جا سکتا ہے… اور قرآن مجید دل کی
کمزوری کو بیان کرتا ہے… دل کی کمزوری زندہ انسان کو مردوں میں شامل کر دیتی ہے…دل
کی بیماری کیا ہے؟ دل کا علاج کیا ہے؟ …دل کی زندگی کیا ہے؟… دل کی موت کیا ہے؟…
دل کا اطمینان کیا ہے؟…اور دل کا سکینہ کیا ہے؟… قرآن مجید نے ہر سوال کا جواب
دیا ہے…کیونکہ انسان کی روح اس کے دل میں رہتی ہے… اور انسان کی کامیابی اور
ناکامی کا مدار اُس کے ’’دل‘‘ پر ہے… اس لئے ہر بات کھول کر سمجھا دی…قرآن مجید
کی ایک سورۂ مبارکہ کا نام ہے… ’’سورۂ نور‘‘… یہ سورۃ دل کو روشن بنانے کا طریقہ
سکھاتی ہے… ایک طاقچہ، اس طاقچے میں شیشے کا ایک ظرف… اور اس شیشے کے ظرف میں ایک
چراغ… اور اس چراغ میں زیتون کا خالص تیل… انسان کا سینہ، اس میں شیشے کی طرح شفاف
دل… اور اس دل میں اللہ تعالیٰ کے نور کا چراغ… اور اس چراغ میں… اخلاص کا ایندھن…
اللہ… اللہ… اللہ
نور کہتے ہیں روشنی کو… طاقت اور پاور کو…آج کی زبان میں
بجلی اور توانائی کو…دل کے لئے جس بجلی، روشنی اور توانائی کی ضرورت ہے…وہ ہے اللہ
تعالیٰ کا نور… ’’اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ‘‘… آج مصنوعی بجلی کی
روشنی بہت ہے مگر دلوں میں تاریکی ہے، موت ہے ، بیماری ہے… شیطان نے ہر طرف غفلت
کے جال بچھا دئیے …تاکہ کوئی اپنے دل کے بارے سوچ ہی نہ سکے… فلم شروع ہوئی تین
گھنٹے گزر گئے… نہ دل یاد، نہ دل کی روشنی یاد… میچ شروع ہوا دس گھنٹے گزر گئے… نہ
دل کی طرف توجہ، نہ دل کا کوئی دھیان… بس ایک گول گیند کے پیچھے دماغ دوڑ رہا ہے…
اور اپنے سینے میں رکھی ہوئی گیند یاد نہ رہی کہ… اس کو بھی غذاء دینی ہے… اس کو
بھی چارج کرنا ہے… قرآن مجید جگہ جگہ ہمیں سوچنے، غور کرنے اور تدبر کرنے کی
تاکید فرماتا ہے… کیا ہمارے پاس دس منٹ بھی فارغ ہیں کہ…ہم سوچ سکیں؟… ہم اپنے
اندر جھانک سکیں…ہم کچھ غور و فکر کر سکیں؟… آج پوری دنیا اندھوں کی طرح دوڑ رہی
ہے… کسی کے پاس اپنے بارے میں سوچنے اور غور کرنے کا وقت نہیں… اگر لوگ غور کرتے
تو کفر کیوں کرتے؟… اگر لوگ غور کرتے تو نفاق میں کیوں گرتے؟…اگر لوگ غور کرتے تو
دن رات پیسہ کیوں جمع کرتے… اگر لوگ غور کرتے تو مشینوں، صنعتوں اور عمارتوں میں
اتنا غلو کیوں کرتے کہ…آج زمین تباہ ہونے کے دہانے پر ہے… اگر لوگ غور کرتے تو
انسانوں کے اعضاء نکال کر کیوں بیچتے؟… اگر لوگ غورکرتے تو زمین پر امیر اور غریب
کے درمیان اتنا فرق کیوں ہو جاتا ؟… مگر حرص، لالچ،غفلت کی دوڑ ہے… کشتیوں اور
ریسلنگ کے مقابلوں پر وقت برباد کرو… بعد میں پتا چلتا ہے… سب جھوٹ تھا، فریب تھا…
وہاں بھی مافیاز اور جوئے بازوں کا راج ہے… مرضی کے پہلوان کو ہرایا جاتا ہے …اور
مرضی کے پہلوان کو جتایا جاتا ہے… مگر انسانوں کا کتنا پیسہ اور کتنا وقت برباد ہو
گیا… یہی حال تقریباً ہر پروفیشنل کھیل کا ہے… ہاں! بے شک دنیا تقریباً پاگل ہو
چکی ہے… ہاں! بے شک زمین والوں نے زمین پر رہنے کا حق کھو دیا ہے… عورتوں کی
شادیاں عورتوںسے اور مردوں کی شادیاں مردوں سے کرائی جا رہی ہیں… نہ کوئی شرم نہ
کوئی سوچ اور نہ کوئی ندامت… اسی لئے اب دنیا تیزی سے…تباہی کی طرف جا رہی ہے… بہت
بڑی تباہی…کیونکہ دل جب مر جائے تو انسان مردہ شمار ہوتا ہے… اور مردے زیادہ ہو
جائیں تو بدبو اور تعفن پھیل جاتا ہے… اور بالآخر قدرت پھر صفائی کا عمل شروع
کرتی ہے… ہاں! زمین پر بڑی بڑی تبدیلیاں ہونے والی ہیں… کیونکہ آج زمین کے اکثر
لوگ بے اختیار ہو چکے… کسی کو اپنے بارے میں فیصلہ کرنے اور سوچنے کا اختیار
نہیں…اور اقتدار اُن کے ہاتھ میں ہے … جو اندھے ہیں، مردہ ہیں …اور متعفن ہیں
…کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ … روز روز کے سیکورٹی پلان بنانے سے زمین پر امن
آ جائے گا… کوئی امن آنے والا نہیں… کیونکہ مردہ لاشوں میں کیڑے پڑتے ہی رہتے
ہیں…
امن کے لئے دنیا میں اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے… امن کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید
اُتارا… امن کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان اور ہر جن کو…ایمان کی دعوت دی… امن
کے لئے اللہ تعالیٰ نے کعبہ شریف عطاء فرمایا… مگر دنیا کی اکثریت امن کے ان
جھرنوں سے کٹ گئی… اور پھر ان کی سرکشی حد سے بڑھ گئی… اور اب وہ وقت زیادہ دور
نہیں جب لاشوں کی صفائی کے لئے…زمین پر بڑے بڑے واقعات ہوں گے… اور پھر ایمان
والوں کو ایک بار پھر دنیا کی قیادت دے دی جائے گی… مگر ہم اس وقت جس مرحلے میں
ہیں … وہ بڑی آزمائش والا ہے… بظاہر دور دور تک کوئی روشنی نظر نہیں آ رہی…
ظاہری انتظام ایسا ہے کہ … صدیوںتک مسلمانوں کی اسلامی حکمرانی کا کوئی امکان ہی
نہیں… اس مرحلے پر قدم ڈگمگا جاتے ہیں… انسان پہلے جہاد سے کٹتا ہے… اور پھر اسلام
سے ہی دور ہوتاچلا جاتا ہے… اس وقت جو چیز ہمیں بچا سکتی ہے وہ ہے… دل کا ایمان…
دل کی روشنی…دل کی طاقت…اور دل کا غور و فکر… ہاں! دل کی اپنی آنکھیں ہوتی ہیں…
اور دنیا کی سب سے طاقتور دوربینوں سے بھی زیادہ دور دیکھ سکتی ہیں… کیا مکہ مکرمہ
میں اسلام کے غالب ہونے کا کوئی امکان تھا؟… نہیں، بالکل نہیں… صدیوں تک بھی کوئی
امکان نظر نہیں آ رہا تھا…مگر دار بنی ارقم میں… جو چالیس افراد بیٹھے تھے وہ دل
بنا چکے تھے…ان کا دل دور دور تک دیکھ رہا تھا…اس لئے وہ جمے رہے، ڈٹے رہے…اور
صدیوں کا فاصلہ انہوں نے بیس سال میں طے کر لیا… اور پھر اگلے تیس سال میں ساری
دنیا کوہی بدل دیا… وہ دنیا جس کے تبدیل ہونے کا ایک ہزار سال تک کوئی امکان نظر
نہیں آتا تھا… اب بھی حالات اس وقت سے کچھ ملتے جلتے ہیں… کفر نے حد درجہ طاقت
بڑھا لی ہے… اور اہل ایمان ہر طرح سے کمزور ہیں … اب اگر دین پر رہنا ہے…جہاد پر
رہنا ہے تو دل والا ایمان ہی کام آ سکتا ہے… ان شاء اللہ حالات اہل ایمان کے حق
میں بہتر ہوں گے … اور دنیا فانی اور آخرت ہمیشہ کی ہے…اس لئے بھائیو اور بہنو!
کچھ وقت اپنے دل کے لئے … کچھ فکر اپنے دل کی اور کچھ توجہ اپنے دل کو بنانے،
جگانے، چمکانے… منور کرنے اور زندہ کرنے کی…
میں بھی اس کا محتاج ہوں کہ…اپنے دل پر محنت کروں… اور آپ
سب کو بھی اس کی ضرورت ہے… یا اللہ ہمارے دلوں کو ایمان، زندگی، قوت، روشنی ،
بہادری ،سخاوت، قناعت ، رقت، مضبوطی، نرمی اور پاکی عطاء فرما… آمین یا ارحم
الراحمین
لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ ،لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے بندو! اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو…یہ
اللہ تعالیٰ کا حکم ہے…
اَللہُ اَکْبَرُ، اَللہُ اَکْبَرُلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ
وَاللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ وَ لِلہ ِالْحَمْدُ۔
یاد رکھو! اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرنے سے …تمہیں ہی بے
شمار فوائد ملیں گے…ایسے فوائد جن کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے… باقی خود اللہ
تعالیٰ اس بات کا محتاج نہیں کہ کوئی اُس کی بڑائی بیان کرے۔
اَللہُ اَکْبَرُکَبِیْرًا، وَالْحَمْدُ لِلہِ
کَثِیْرًاوَسُبْحَانَ اللہِ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلًا
اللہ تعالیٰ کے بندو! ہمیشہ اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ ہی
کو سب سے بڑا مانو…اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور بڑائی پکارو…خصوصاً اِن
دنوں میں…جو آج کل ہمیں نصیب ہو رہے ہیں… یعنی ’’ذو الحجہ‘‘ کے ایام …
اَللہُ اَکْبَرُ، اَللہُ اَکْبَرُلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ
وَاللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ وَ لِلہ ِالْحَمْدُ۔
اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے… ہر چیز سے بڑا، ہر حال سے بڑا…
ہر طاقت سے بڑا…اتنا بڑا کہ ہم اس کی بڑائی کا تصور بھی نہیں کر سکتے کہ وہ کتنا
عظیم ہے… کتنا بڑا ہے… ہمارا تصوربھی محدود ، ہمارا خیال بھی محدود اور ہماری سوچ
بھی محدود… جبکہ اللہ تعالیٰ لا محدود… اے غم کے مارو! اللہ تعالیٰ ہمارے غموں سے
بھی بڑا ہے… وہ رحمت کی نظر فرما دے تو سارے غم مٹ جائیں… اے مسائل سے دو چار
انسانو!… اللہ تعالیٰ ہمارے مسائل سے بہت بڑا ہے… اُسی کے سامنے جھولی پھیلاؤ…
اور کسی کے آگے نہیں… اے گناہگارو! اللہ تعالیٰ بہت بڑا ہے… ہمارے گناہ اُس کی
مغفرت کے سامنے ایک ذرے کے برابر بھی نہیں…پس اُسی سے مغفرت مانگو…اور ہاں!… اپنے
دل کو سمجھاؤ کہ بس اللہ تعالیٰ ہی کو بڑا مانے… کتنا بڑا؟… ہاں! سب سے بڑا، سب
سے بڑا… ہم اس کی بڑائی کو سوچ نہیں سکتے، سمجھ نہیں سکتے مگر یہ اُسی کا شکر کہ
ہم اُس کی بڑائی بیان کر سکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں…
اَللہُ اَکْبَرُ، اَللہُ اَکْبَرُلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ
وَاللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ وَ لِلہ ِالْحَمْدُ۔
عجیب صورتحال
ذوالحجہ کا مبارک عشرہ آ گیا … مگر ہمارے ہاں کچھ بھی نہ
بدلا…افسوس ہائے افسوس…
نہ مسجدوں میں نمازیوں کی تعداد بڑھی … اور نہ رمضان
المبارک کی طرح فجر کی نماز میں جوتوں تک صفیں بنیں… کیوں ؟ معلوم نہیں کیوں؟… نہ
بازاروں کی صورتحال تبدیل ہوئی … نہ جگہ جگہ نیکیوں کے بازار سجے … حالانکہ
…ذوالحجہ کے پہلے دس دن…انسانی زندگی اور دنیا کے افضل ترین دن ہیں…اوراہل علم کے
نزدیک یہ دن …رمضان المبارک کے دنوں سے زیادہ افضل ہیں… ان دنوں کے اعمال کے بارے
میں احادیث مبارکہ میں کئی الفاظ آئے ہیں …ہر لفظ دوسرے لفظ سے زیادہ بھاری، وزنی
اور دلنشین ہے… کہیں ’’اَحَبّ‘‘ کا لفظ آیا کہ…ان دنوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کے
نزدیک باقی تمام دنوں کے اعمال سے زیادہ محبوب ہیں …کہیں ’’اَفْضَل‘‘ کا لفظ آیا
کہ ان دنوں کے اعمال سب سے زیادہ افضل ہیں…کہیں ’’اَزْکٰی‘‘ کا لفظ آیا کہ …ان
دنوں کے اعمال باقی سب دنوں کے اعمال سے زیادہ پاکیزہ اور زیادہ پاک کرنے والے
ہیں… اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کہیں ’’تقرب‘‘ کا لفظ آیا کہ…ان دنوں کے اعمال سے
انسان اللہ تعالیٰ کا زیادہ قرب حاصل کر سکتا ہے… ایک مومن کو اور کیا چاہیے؟ اللہ
تعالیٰ کے ’’قرب ‘‘ سے بڑھ کر کیا چیز ہے… لوگ بادشاہوں ، حکمرانوں اور افسروں کے
قرب پر فخر کرتے ہیں…جبکہ ایک مومن کی اصل منزل اللہ تعالیٰ کا قرب ہے…اور ان دنوں
کے اعمال سے یہ قرب بہت آسانی سے نصیب ہوتا ہے… مگر افسوس! کہ یہ دن آ جاتے
ہیں…اور چلے جاتے ہیں… اور ہم کچھ بھی نہیں بناتے، کچھ بھی نہیں کماتے…
یا اللہ ! تکبیر کی برکت سے ہم پر رحم فرما…
اَللہُ اَکْبَرُ، اَللہُ اَکْبَرُلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ
وَاللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ وَ لِلہ ِالْحَمْدُ۔
دل کانپتا ہے
قرآن مجید نے ایک عجیب نکتہ سمجھایا ہے … بعض لوگ ایسے
محروم اور بد نصیب ہوتے ہیں کہ… اللہ تعالیٰ ان کو نیکی پر لانا پسند ہی نہیں
فرماتے …یا اللہ! معافی، یا اللہ! رحم …یا اللہ! معافی، یا اللہ! رحم…دیکھئے!
منافقین کے بارے میں فرمایا:
وَلٰکِنْ کَرِہَ اللہُ انْبِعَاثَھُمْ (التوبہ: ۴۲)
’’اللہ تعالیٰ نے ناپسند فرمایا کہ
وہ جہاد پر نکلیں۔‘‘
کیونکہ اُن کے دلوں میں نفاق تھا…اُن کے دلوں میں کھوٹ
تھی…ایسے نجس اورناپاک دل کسی پاک جگہ پر کیسے بٹھائے جا سکتے ہیں…یہ اللہ تعالیٰ
کا ظلم نہیں…بلکہ اللہ تعالیٰ کا انصاف ہے…
تھوڑا سا سوچیں کہ ہم جب کہتے ہیں کہ آج کل نماز میں سستی
ہو رہی ہے… آج کل تلاوت کرنے کی ہمت نہیں ہوتی … آج کل معمولات کا وقت نہیں
بنتا… سوچیں کہ خدانخواستہ کہیں ایسا تو نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ناپسند فرما رہے
ہیں… اور وہ ہم سے ناراض ہیں … اس لئے ہمیں نیک اعمال کی توفیق نہیں دے رہے …اوپر
والی آیت پر غور کریں اور پھر ہم اپنی حالت دیکھیں تو خوف سے دل کانپتا ہے…
آئیے! دل سے تکبیر پڑھیں تاکہ ہمارے دل سے نفاق اور سستی کے جالے صاف ہو جائیں۔
اَللہُ اَکْبَرُ، اَللہُ اَکْبَرُلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ
وَاللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ وَ لِلہ ِالْحَمْدُ۔
کچھ تو خوف کرو
ایک صاحب علم فرما رہے تھے…ذوالحجہ کا عشرہ آتے ہی اپنے
موبائل کو الوداع کہہ دینا چاہیے… نہ فضول میسج، نہ ای میل ، نہ چیٹنگ ، نہ پوسٹیں
اور نہ تبصرے…اس سے ہمارا بہت سا وقت بچ جائے گا اور ہم اس وقت کو’’ اعمال صالحہ
‘‘ میں لگا سکیں گے …کیونکہ’’ عشرہ ذی الحجہ‘‘ کے نفل اعمال بھی … اللہ تعالیٰ کے
ہاںفرض اعمال سے زیادہ محبوب اور زیادہ مقرب ہیں…جبکہ ان دنوں کے فرض اعمال کی تو
شان ہی الگ ہے… ان دنوں کی فرض نمازیں سارے سال کی فرض نمازوں سے زیادہ افضل
ہیں…ان دنوں کی تکبیر تحریمہ سارے سال کی تکبیر تحریمہ سے زیادہ افضل ہے …ان دنوں
کا جہاد سارے سال کے جہاد سے زیادہ محبوب ہے …اور ان دنوں کے روزے، صدقات، خیرات ،
ذکر اور تلاوت باقی سارے سال کے ان اعمال سے افضل ہے… ان دنوں تو کسی مسلمان کی
تہجد تک نہیں چھوٹنی چاہیے… اور نہ اسے کسی ایک نماز میں سستی کرنی چاہیے… ان دنوں
دین کے لئے مال لگانے کی بڑی شان ہے … اس لئے بڑھ چڑھ کر خرچ کرنا چاہیے…ایسا نہ
ہو کہ یہ دن گزر جائیں اور مال فضول پڑا رہے اور ہم اسے چھوڑ کر مر جائیں… خلاصہ
یہ کہ … موبائل سے جان چھڑا کر یہی وقت اعمال صالحہ پر لگایا جائے… مگر ظلم کی
انتہا دیکھیں کہ…ان مبارک ایام میں بھی کئی ظالم افراد سوشل میڈیا پر …طرح طرح کی
پوسٹیں چھوڑ کر مسلمانوں کو اُلجھاتے رہتے ہیں… اور ان کا قیمتی وقت اپنی فضول اور
بے کار باتوں میں ضائع کرتے رہتے ہیں… چاہیے تو یہ تھا کہ وہ ان ایام میں سوشل
میڈیاپر …لوگوں کو حج،جہاد، روزے ، قربانی اور تکبیرات کی طرف متوجہ کرتے مگر وہ
ایسا نہیں کرتے… بلکہ مسلمانوں کو فضول بحثوں اور فضول باتوں میں الجھاتے رہتے
ہیں… اور اپنے اس بد عمل پر نہ نادم ہوتے ہیں اور نہ شرمندہ…
آئیے! موبائل بند کرتے ہیں…فیس بک اور ٹوئٹر پر تالا ڈالتے
ہیں…ای میل اور تبصرے بازی کو طلاق دیتے ہیں …اور جھوم جھوم کر پڑھتے ہیں …
اَللہُ اَکْبَرُ، اَللہُ اَکْبَرُلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ
وَاللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ وَ لِلہ ِالْحَمْدُ۔
غلطی کس کی ہے…؟
مسلمان تو تسلیم کے خوگر ہیں…یعنی بات سننے اور بات ماننے
والے… اگر مسلمانوں کو وہ آیات بار بار سنائی جائیں جن میں… عشرہ ذی الحجہ کی
فضیلت کا بیان ہے… اور ان کو وہ احادیث سنائی جائیں جن میں اس مبارک عشرے کے عجیب
و غریب فضائل ہیں…تو یقینی بات ہے کہ پورا ماحول ہی بدل جائے گا…مساجد کا رنگ
رمضان جیسا… اور ان کی رونق اعتکاف جیسی ہو جائے گی…
بازاروں میں گانوں کی جگہ تکبیریں گونجیں گی …اور ہر طرف
اعمال صالحہ کا نور ہی نور نظر آئے گا… مگر افسوس کہ…جن کے ذمہ دین بیان کرنا تھا
… انہوں نے کچھ غفلت سے کام لیا اور کچھ بے توجہی کی کہ وہ مسلمان جن کی بات سنی
جاتی ہے …انہوں نے بھی اس بارے میں اپنی ذمہ داری محسوس نہ کی…اور نہ دعوت دینے
والوں نے … ان آیات اور احادیث کی دعوت کا پر اثر ماحول بنایا … صرف قربانی کی
بات اور دعوت خوب چلی … اس پر بھی اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر ہے… الحمد للہ قربانی
کا ماحول خوب سجتا ہے اور یہ امت مسلمہ کی سعادت ہے… کئی ظالم لوگ ’’قربانی ‘‘ کے
خلاف بھی سرگرم ہوتے ہیں مگر ان کا ناپاک جادو …بہت کم اور بد نصیب لوگوں پر ہی
چلتا ہے… اب ضرورت اس بات کی ہے کہ…اُمت مسلمہ کے علماء، خطباء، واعظین، مبلغین
اور اہل قلم عشرہ ذی الحجہ کے موضوع پر محنت کریں …اس موضوع کو ازسرنو پڑھیں،
سمجھیں اور پھر اس دعوت کو وقت آنے سے پہلے ہی ہر طرف پھیلائیں، بہت امید ہے کہ
اس کی برکت سے امت مسلمہ کو یہ نعمت دوبارہ اجتماعی طور پر نصیب ہو جائے گی…اور ہر
طرف نیکی ، قربانی، عبادت اور تکبیرات کا ماحول بن جائے گا، ان شاء اللہ۔
اَللہُ اَکْبَرُ، اَللہُ اَکْبَرُلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ
وَاللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ وَ لِلہ ِالْحَمْدُ۔
کون نیت کرتا ہے؟
ابھی الحمد للہ اس مبارک عشرے کے چند دن باقی ہیں …آپ میں
سے کون نیت کرتا ہے کہ ان شاء اللہ… اس عشرے کے باقی ایام …اللہ تعالیٰ کے لئے ،
اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کی محنت میں گذاریں گے؟… الحمد للہ بہت سے مسلمان پہلے سے
ہی اس بارے میں بیدار ہیں…میں اپنے اردگرد ایسے افراد کو دیکھ رہا ہوں جو الحمد
للہ ان ایام کو پانے اور کمانے کے لئے… خوب محنت کر رہے ہیں…وہ جہاد کا کام پہلے
سے زیادہ کرتے ہیں …وہ روزانہ روزے رکھتے ہیں، کیونکہ حضرت آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم ان نو دنوں کے روزے کا اہتمام
فرماتے تھے…اسی طرح وہ تکبیر، تسبیح اور تہلیل میں بھی محنت کرتے ہیں … اور حسب
استطاعت مال بھی خرچ کر رہے ہیں…لیکن جو ابھی تک بیدار نہیں ہوئے اور سستی میں پڑے
ہیں وہ باقی دنوں کو غنیمت جان لیں… ’’افضل ایام الدنیا‘‘ کتاب میں عشرہ ذوالحجہ
کا نصاب اور اعمال ذکر کر دئیے ہیں …آپ انہیں پڑھ لیں اور پھر اللہ تعالیٰ کے عطا
فرمودہ ان دنوں کو …اپنے لئے آخرت کا خزانہ اور آخرت کا سرمایہ بنا لیں… بہترین
قربانی… حسب استطاعت نفل قربانی … روزانہ کاروزہ… نمازوں کی بہترین پابندی،
تکبیرات کی کثرت… تیسرے کلمے کی فراوانی …مریضوں کی عیادت… غریبوں کی مدد… غیبت،
بد نظری اور دیگر گناہوں سے اجتناب… مسلمانوں کو معاف کرنا…کثرت سے توبہ،
استغفار…اور جہاد کی بھرپور محنت…
یا اللہ! میری اور تمام نیت کرنے والوں کی مغفرت فرما اور
ہمیں’’ تکبیر‘‘ کی حقیقی برکات اپنی رحمت سے عطاء فرما…
اَللہُ اَکْبَرُ، اَللہُ اَکْبَرُلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ
وَاللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ وَ لِلہ ِالْحَمْدُ۔
تھکاوٹ نہیں ، سعادت
کوئی سوچے کہ آخر ہم کیا کیا کریں؟ … ابھی رمضان المبارک
کی محنت تھی اور اب عشرہ ذی الحجہ کی محنت…آخر دنیا کے کام کاج بھی تو کرنے ہیں…
یہ سوچ درست نہیں …دنیا کے ضروری کام کاج سے نہ کسی نے روکا ہے اور نہ کوئی روک
سکتا ہے… نہ رمضان میں اور نہ ذو الحجہ میں … مگر سال میں بار بار ایسے سنہری
مواقع کا آنا… ہمارے لئے سختی نہیں سعادت ہے…اس اُمت کو اللہ تعالیٰ نے عمریں
چھوٹی دی ہیں… پچاس سے ستر سال… کوئی کوئی آگے بھی نکل جاتا ہے… اور کوئی کوئی
پہلے بھی چلا جاتا ہے…مگر اوسط عمر بہرحال اتنی ہے…جبکہ اس امت کا مقام … پچھلی
تمام امتوں سے آگے اور اونچا ہے … انہوں نے جو سفر دو سو سال کی عبادت سے طے کیا
ہم نے اس سے بڑا سفر بیس ، چالیس سال کی عبادت سے طے کرنا ہے… حضرت آقا مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے
اس امت کو خصوصی ایام اور خصوصی اوقات عطاء فرما دئیے … یہ اس اُمت پر اللہ تعالیٰ
کا خاص فضل ہے… ایک رات لیلۃ القدر کی عبادت ایک صدی کی عبادت سے بڑھ کر بنا دی…
اور عشرہ ذی الحجہ کے اعمال کو بے حد وزنی اور قیمتی بنا دیا…ہمارے لئے فخر کی بات
ہے کہ… ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں … اور ہمارے پاس’’ کلمہ طیبہ‘‘ جیسی
بے مثال نعمت موجود ہے… حضرت محمد صلی
اللہ علیہ وسلم کی اُمتِ اجابت میں سے
ہونا…ہمارے لئے وہ شان ہے جو ہم سے کوئی نہیں چھین سکتا…اسی شان کی برکت سے اللہ
تعالیٰ ہمیں اپنے قرب کے خاص ایام اور خاص گھڑیاں عطاء فرماتے ہیں… ہمیں اُکتانا
نہیں چاہیے بلکہ خوشی منانی چاہیے… اور اللہ تعالیٰ کی ان انمول نعمتوں سے فائدہ
اُٹھانا چاہیے۔
اَللہُ اَکْبَرُ، اَللہُ اَکْبَرُلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ
وَاللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ وَ لِلہ ِالْحَمْدُ۔
اَللہُ اَکْبَرُ، اَللہُ اَکْبَرُلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ
وَاللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ وَ لِلہ ِالْحَمْدُ۔
لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ
محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے ، وہی ہوتا ہے… ہر طرح کی اصل قوت
اور طاقت کا مالک صرف’’اللہ تعالیٰ‘‘ہے…
مَاشَآءَ اللّٰہُ کَانَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا
بِاللّٰہِ۔
موضوع خود آ گیا
آج صبح سے اس سوچ میں تھا کہ…کس موضوع پر لکھا جائے؟…
پچھلے شمارے کا ناغہ تھا، اس لئے ’’تسلسل‘‘ ٹوٹ گیا…کئی موضوع ذہن میں طلوع
ہوئے…ابھی کچھ حتمی طے نہیں کیا تھا کہ… ’’اوڑی‘‘ کے واقعہ پر اُٹھنے والے شور
شرابے نے سارے موضوع اُڑا دئیے…اب اگر میں کسی اور موضوع پر لکھوں تو کئی لوگ
پریشان ہو جائیں گے…مثلاً
* پاکستان
میں موجود انڈیا کے باقاعدہ یا بے قاعدہ جاسوس…جو اس انتظار میں تڑپ رہے ہیں کہ
ہماری طرف سے کوئی بات آئے… اور وہ اسے جلد از جلد انڈین حکومت اور انڈین میڈیا
کو فروخت کر کے کچھ مال کما سکیں۔
*
انڈیا کے اخبارات اور ٹی وی چینل جو ’’القلم‘‘ کے تازہ شمارے اور تازہ ’’رنگ و
نور‘‘ کا اس ہفتے بہت بے چینی کے ساتھ انتظار کر رہے ہیں…تاکہ پروپیگنڈہ اور شور
شرابا کرنے میں آسانی رہے … اور وہ’’ رنگ و نور‘‘ میں اپنے الزامات کے لئے دلائل
ڈھونڈ سکیں…
یہ تو ہوئے دو طبقے… باقی اور بھی بہت سے لوگ ہیں… اللہ
تعالیٰ ہی ان سب کو جانتا ہے…
وَآخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِھِمْج لَا تَعْلَمُوْنَھُمْ ج
اَللّٰہُ یَعْلَمُھُمْ۔(الانفال:۴۰)
جھوٹ کا وبال
انڈیا میں جھوٹ عام ہے…وہاں سچ صرف اس وقت بولتے ہیں جب وہ
’’دارو‘‘ یعنی شراب کے نشے میں پوری طرح مدہوش ہو جاتے ہیں…باقی ہر وقت جھوٹ ہی
جھوٹ… جھوٹا مذہب ، جھوٹے خدا، جھوٹی عزت، جھوٹی طاقت، جھوٹے دعوے، جھوٹی
فلمیں…اور جھوٹی سیاست… آپ خود سوچیں کہ…’’برہمن‘‘ کو پاک اور عزتمند کہنا اور
’’دلت‘‘ کو ناپاک اور اچھوت کہنا کتنا بڑا ظلم اور کتنا بڑا جھوٹ ہے… حالانکہ ساہو
کار برہمن کے جسم میں دلت کے جسم سے زیادہ بدبودار غلاظت ہوتی ہے… یہ بھی انسان ،
وہ بھی انسان… پھر اتنا بڑا فرق کیوں کہ …شودر کے ہاتھ لگانے سے پانی ناپاک ہو
جائے؟… چلیں چھوڑیں اسے یہ بڑی دردناک اور بھیانک داستان ہے… بات یہ عرض کر رہا
تھا کہ…انڈیا نے اپنی طاقت کے بارے میں … اپنی عوام سے اتنا جھوٹ بول دیا ہے کہ…
اب ہر واقعہ پر اس کی عوام فوراً اپنی حکومت سے پاکستان پر حملے کا مطالبہ کرنے
لگتی ہے… ۱۹۷۱ء کی حادثاتی فتح نے ان کے دماغ پہلے ہی خراب کر رکھے
ہیں…مزید کام ’’بالی وڈ‘‘ کی فلموں نے کر دیا ہے… ان فلموں کے وہ’’ چوہے ہیرو‘‘ جو
اپنے سائے سے بھی ڈرتے ہیں… وہ فلموں میں دن رات انڈیا کو مضبوط اور پاکستان کو
کمزور دکھاتے رہتے ہیں… ایسے ہیرو بھی جو گیس کے مریض ہیں اور ہر پانچ منٹ بعد جن
کی ہوا نکل جاتی ہے … وہ فلموں میں پاکستان پر حملے کرتے ہیں … یہاں آ کر کیمپ
تباہ کرتے ہیں…یہاں سے مجاہدین اور ان کے قائدین کو اُٹھا کر لے جاتے ہیں …وہ
چونکہ ہیرو ہوتے ہیں اس لئے ان پر ہزاروں گولیاں چلتی رہیں …ان کو ایک بھی نہیں
لگتی… جبکہ ان کی ایک ایک گولی سے پوری عمارتیں اُڑ جاتی ہیں اور کئی کئی مجاہد
ڈھیر ہو جاتے ہیں…انڈین عوام دن رات یہ مناظر دیکھ کر واقعی یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ
انڈیا ناقابل تسخیر ہے اور اس کے فوجی فلموں کے ہیرو ہیں… حالانکہ منظر یہ ہے کہ
چار افراد کے حملے میں اٹھارہ فوجی مارے گئے اور درجنوں زخمی ہو گئے…
اس سے ابھی چند دن پہلے ایک حملے میں انڈین فوج کے دو کرنل
اور کئی فوجی مارے گئے … اب انڈیا میں ہر طرف شور ہے کہ …پکڑو، مارو …حملہ کر
دو…اُٹھا لو…ارے مینڈک کی اولادو! یہ سب کچھ فلموں میں آسان ہے زمین پر
نہیں…انڈیا صرف پس پردہ شرارتی جنگ لڑ کر نہتے شہریوں کو مارنا جانتا ہے…مشرقی
پاکستان سے کراچی تک اور ڈھاکہ سے بلوچستان تک وہ پاکستان کے خلاف ایک پس پردہ جنگ
مسلسل لڑ رہا ہے … سامنے آنے کی اس میں ہمت نہیں… جبکہ پس پردہ جنگ اس نے کبھی
روکی نہیں… جب واجپائی لاہور آیا تھا اس وقت بھی انڈیا کی پراکسی جنگ کراچی میں
خون بہا رہی تھی… اور ہم بوریوں میں غریب مزدوروں کی لاشیں دیکھ رہے تھے… اور جب
مودی لاہور اُترا اُس وقت بھی انڈیا کی یہ جنگ بلوچستان میں جاری تھی… اور ہم اپنے
مسلمان بھائیوں کی لاشیں اُٹھا رہے تھے … انڈیا سامنے آ نہیں سکتا… وہ اس وقت
آتا ہے جب ہم مسلمان ایک دوسرے کو کاٹ چکے ہوتے ہیں… تب کوئی ’’ جنرل اروڑہ‘‘ کسی
گندی ’’اروڑی‘‘ سے نمودار ہوتا ہے… مگر انڈیا نے اپنی طاقت کا اتنا جھوٹا
پروپیگنڈہ کر دیا ہے کہ…اب اس کی عوام سنبھالے نہیں سنبھلتی… ٹی وی کے بد شکل
اینکر اور اینکرنیاں … نیکر اور نیکرنیاں پہن کر…چیختے ہیں کہ… اینٹ سے اینٹ بجا
دو … اُشامہ جیسا ایکسن کر ڈالو… میجائل چلا دو … چین کو سبق سکھا دو… پاکستان کو
نقشے سے مٹا دو وغیرہ وغیرہ… بھارت کا موجودہ وزیر اعظم ’’مودی‘‘ چونکہ غیر سنجیدہ
جانور اور ماضی کا مشہور دہشتگرد ہے تو وہ بھی ان اینکروں کے سُر میں سُر ملا کر
دھمکی آمیز بیانات دیتا ہے… مگر جب وہ اپنے کمانڈروں میں بیٹھتا ہے تو اسے آخری
مشورہ یہی ملتا ہے کہ …
’’شر جی! بش اپنے ابا امریکہ کو
سکایت لگا دو … آٹھ دش اور کسمیری مار ڈالو… کراچی، بلوچشتان یا پنجاب میں دھماکہ
کروا دو… شر جی!!‘‘
مٹنے کی علامات
انڈیا والے دل کے اندھے ہیں … اُن کے نجومی ، تانترک ،
جیوتشی اور یوگی سب جھوٹے ہیں… اُن میں سے کسی کے پاس بھی تھوڑا سا روحانی علم
ہوتا تو وہ دیکھ لیتا کہ…انڈیا اب تباہی کے کنارے پر آ چکا ہے… جب ظلم اور بے
انصافی کسی ریاست کا قانون بن جائیں تو وہ ریاست ضرور تباہ ہوتی ہے… مودی کے
حکمران بنتے ہی انڈیا میں ہر ظلم اور ہر خباثت اب ریاستی قانون بن چکا ہے… وہاں
پہلے بھی مسلمانوں کو مارا جاتا تھا…مگر بہرحال یہ ریاست کا باقاعدہ قانون نہیں
تھا… وہاں پہلے بھی دلتوں اور پسماندہ طبقوں کو مارا اور جلایا جا رہا تھا مگر یہ سب
کچھ ریاست کا باقاعدہ قانون نہیں تھا… انڈیا والے سالہا سال سے کراچی، گلگت اور
بلوچستان میں…مسلمانوں کا قتل عام کروا رہے تھے مگر وہ اس کا اعلان نہیں کرتے تھے
جبکہ… مودی نے لال قلعے پہ کھڑے ہو کر اپنے ان ناپاک جرائم کا اعتراف کیا…یہ وہ
حالات ہیں جو کسی بھی ریاست کو بدترین تباہی پر لے جاتے ہیں… مجھے اپنی وہ دو
مظلوم بوڑھی مسلمان مائیں یاد آ رہی ہیں …جن کو انڈیا میں ایک ریلوے اسٹیشن پر
اتنی بے دردی سے مارا گیا کہ…وہ لہولہان اور بے ہوش ہو گئیں… اور پھر پولیس آئی
تو اُنہی کو پکڑکر لے گئی … اور ان پر گوشت رکھنے کا مقدمہ درج کر دیا … مجھے
میوات کے تاریخی مسلمان علاقے کی ان دو مسلمان خواتین کا غم بے چین کر رہا ہے …
جنہیں حکومت کی سرپرستی میں اجتماعی بے حرمتی کا نشانہ بنایا گیا… اس ظلم سے میوات
کا مردم خیز خطہ ابھی تک خون کے آنسو رو رہا ہے… اخلاق احمد کو گوشت رکھنے کے
شبہے میں شہید کر دیا گیا … جبکہ یعقوب میمن کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا…
ہر دن مسلم کش فسادات… ہر دن ’’ دلت کش‘‘ فسادات… ظلم ہی
ظلم… اور یہ سب کچھ ریاستی چولے میں … اور اب کشمیر میں ساٹھ دن کی وحشت ناک
بربریت … وہاں کا ہر پتھر خون اُگل رہا ہے اور ہر گھر قبرستان بنا ہوا ہے…یہ سب
کچھ آخر کب تک؟ کب تک؟ قدرت اور فطرت ایک وقت تک ڈھیل دیتی ہے…مگر ہمیشہ نہیں …
انڈیا بربادی کی طرف جا رہا ہے… جو انڈیا کے ساتھ یاری کرے گا وہ بھی اس بربادی کا
حصہ بن جائے گا…انڈیا اب فطرت اور قدرت کے قہر کے سامنے ہے…تم ایک مجاہد نہیں سارے
مجاہد مار دو تم ایک جہادی قائد نہیں … سارے قائدین مار دو… اس سے تمہاری بربادی
اب رکنے والی نہیں…کیونکہ تمہاری بربادی کی وجہ خود تمہارے کرتوتوں میں چھپی ہے…
انڈیا اگر بچنا چاہتا ہے تو بس ایک ہی راستہ ہے انڈیا والے مودی، ایڈوانی ، راج
ناتھ سنگھ…آر ایس ایس اور وشوا ہندو پریشد کے لیڈروں کو …پکڑ کر سڑکوں پر لٹا
دیں… تب ممکن ہے انڈیا کو مزید مہلت مل جائے … لیکن اگر یہی لوگ حکمران رہے…یہی
قاتل ملک کے نگہبان رہے تو سن لو… یہ ملک اب عبرتناک تباہی کا سامنا کرے گا… ان
شاء اللہ رب الشہداء۔
ارے! اوڑی تو اُڑ گیا
شروع میں عرض کیا تھا کہ …’’اوڑی‘‘ کے واقعہ نے باقی سارے
موضوعات اُڑا دئیے… مگر اب جب کہ ’’ کالم ‘‘ مکمل ہونے والا ہے تو اندازہ ہوا کہ
’’اوڑی‘‘ کا تذکرہ بھی اُڑ گیا…اور بات انڈیا پر چلی گئی…
چلیں تھوڑا سا تذکرہ ’’اوڑی‘‘ کا بھی ہو جائے… اوڑی مقبوضہ
کشمیر کے ایک پہاڑی قصبے کا نام تھا…انڈیا کی قابض فوج نے یہاں ایک بڑا ’’ ہیڈ
کوارٹر‘‘ بنا رکھا تھا…کل اس پر حملہ ہوا اور بہت سے انڈین فوجی مارے گئے… انڈیا
نے اس حملے کا الزام بھی ہم پر ڈال کر …ہماری تقریریں سنانا شروع کر دی ہیں… اور
ہماری جماعت کو ختم کرنے اور ہمیں مارنے کی دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں… انڈیا کی
اطلاع کے لئے یہ بات بتانا ضروری ہے کہ پٹھان کوٹ کے حملے کے بعد جب اس نے ہماری
جماعت کا اور ہمارا نام اُچھالا… اور اپنے ٹی وی چینلوں پر ہمارے بیانات سنائے تو
انہیں سن کر سینکڑوں ، ہزاروں افراد جہاد فی سبیل اللہ کے مقدس فریضے کے حامی بن
گئے… بہت سے نوجوانوں نے توبہ کی اور بری زندگی چھوڑ کر …با ایمان اور با مقصد
زندگی پر آ گئے… اور الحمد للہ لاکھوں ایسے افراد تک ’’دعوتِ جہاد‘‘ پہنچی جو اس
سے پہلے ’’ جہادِ فی سبیل اللہ‘‘ سے ناواقف تھے…بعض افراد نے خطوط میں بتایا ہے
کہ… انہوں نے پٹھان کوٹ کے واقعہ کے بعد جب میڈیا پر ہمارا نام سنا تو فوراً …
’’علامہ گوگل‘‘ سے ہمارے بارے میں پوچھا… وہاں انہیں کئی بیانات، کئی تقریریں ،
کئی خطبات اور کئی کتابیں مل گئیں… وہ ان بیانات کو سنتے اور تحریروں کو پڑھتے
پڑھتے بالآخر مجاہد بن گئے… جہاد فی سبیل اللہ چونکہ ہر مسلمان کے خون اور اس کی
فطرت میں شامل ہے…اس لئے جب اس تک قرآن مجید کی سچی دعوتِ جہاد پہنچتی ہے تو وہ
فوراً…جہاد فی سبیل اللہ کو مان لیتا ہے، پہچان لیتا ہے…اب معلوم نہیں…اوڑی پر
حملہ کن خوش بختوں نے کیا مگر نام پھر ہمارا لگ گیا… اور دعوت جہاد ہر سو گونجنے
لگی… بے شک یہ صرف اور صرف قرآنی دعوت جہاد کی کرامت ہے… بس یہ ہیں آج تک کی
خبریں… کل کیا ہو گا… ہم نہیں جانتے… بس وہی ہو گا جو ہمارا رب اللہ تعالیٰ چاہے
گا…کیونکہ ہر طرح کی اصل قوت اور اصل طاقت کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے…
مَاشَآءَ اللّٰہُ کَانَ، وَمَالَمْ یَشَأْلَمْ یَکُنْ
وَلَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ ۔
لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ
محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ سے عاجزانہ سوال ہے… اپنے لئے اور آپ سب
مسلمانوں کے لئے…ایمان کامل، دائم کا…عافیت دارین کا اور حسن خاتمہ کا … یا اللہ!
عطاء فرما، یا اللہ! عطاء فرما، یا اللہ! عطاء فرما…آمین
اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر
ہاتھ خالی، دامن خالی، دل خالی، جھولی خالی … پھر بھی اللہ
تعالیٰ کا فضل اور احسان کہ…اللہ تعالیٰ کے دشمن ہمیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں…الحمد
للہ ، الحمد للہ، الحمد للہ… یہ وہ نعمت ہے کہ جس کا اگر دن رات لاکھوں بار شکر
ادا کریں تو حق ادا نہ ہو … قرآن و سنت کو دیکھ لیں…سب سے بڑا گناہ ’’ شرک‘‘ ہے…
قرآن و حدیث پڑھ لیں مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن یہودی اور مشرک ہیں … سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ لیں ہمارے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ ایذائیں اور تکلیفیں مشرکوں نے
پہنچائیں… گالیاں، دھمکیاں، تشدد ، سازشیں اور تمسخر… قرآن مجید کو غور سے دیکھ
لیں …اللہ تعالیٰ جن کو نجس اور ناپاک قرار دے رہے ہیں… وہ ہیں مشرک… بتوں کے
پجاری … لاکھوں کروڑوں خدا ماننے والے… بے شمار دیوی دیونیوں کو پوجنے والےیعنی
موجودہ زمانے میں ہندو… یہ مشرکین سب سے بڑے گناہگار، سب سے بڑے مجرم، سب سے بڑے
گستاخ ، سب سے زیادہ نجس و ناپاک اور سب سے بڑے دشمن ہیں… اللہ اور اس کے رسول کے
یہ دشمن… اگر ہمیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں تو… الحمد للہ یہ بڑی سعادت کی بات ہے…
مَاشَآءَ اللّٰہُ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ
ہم تو اپنے ’’رب تعالیٰ‘‘ اور اس کے دین کی وفاداری میں کچھ
نہ کر سکے… یہ احسان ہے اُن شہداء کرام کا جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا حکم پورا کیا …
مشرکین سے قتال کیا…وہ غازی جنہوں نے معرکے لڑے… وہ شہداء جو جانوں سے گزر گئے …
وہ بہادرجنہوں نے خطرات کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں…دین اسلام کے وہ وفادار جو
دشمنوں پر بجلی بن کر گرے …وہ سرفروش جنہوں نے انڈین کالے سانپ کو کیچوا بنا دیا…
ہم چونکہ ان کے خادم ہیں، نوکر ہیں…ان کے لئے دعائیں کرتے ہیں تو…الحمد للہ ہمارا
نام بھی … اس فہرست میں آ گیا… وہ فہرست جس سے دشمنان اسلام کے دل جلتے ہیں … اس
فہرست میں نام آنے کے بعد زندگی اگرچہ تنگ اور مشکل ہو جاتی ہے… مگر ایک اُمید
جاگ اُٹھتی ہے… بڑی دلکش اُمید …مغفرت کی اُمید… اللہ تعالیٰ کی رحمت کی اُمید…
قیامت کے دن رسوائی سے حفاظت کی اُمید…
یااللہ!،یااللہ!،یااللہ!
بہت سے پول کھل گئے
یہ صدی بڑی عجیب ہے… اس میں بڑے بڑے پول کھل گئے… جھوٹی
طاقت کے پروپیگنڈے کر کے جو لوگ …دنیا کے ’’دادا ‘‘ بنے ہوئے تھے…اُن میں سے بہت
سے بے نقاب ہو چکے ہیں… اور کئی ایک ہونے والے ہیں… یہ ساری کرامت شہداء کے خون نے
دکھائی… آپ آج کل انڈین میڈیا پڑھیں اور سنیں… بس چیخیں ہی چیخیں ہیں… حملے کے
بعد جو شور تھا کہ…ماردو، پکڑ لو…اور گھس کر مارو … وہ شور اب آہوں،سسکیوں اور
حسرتوں میں بدل چکا ہے… اب کہا جا رہا ہے کہ… ہمارے اندر کے بھیدیوں نے نقصان
پہنچایا… کبھی کہا جا رہا ہے کہ ہماری فوج نکمی اور ناکارہ ہے… اپنے کیمپ کی حفاظت
نہ کر سکی حالانکہ مجاہدین کو چھ جگہ روکا جا سکتا تھا…کبھی کہا جا رہا ہے کہ
ہماری فضائی طاقت کمزور ہے … ساٹھ فی صد طیارے چلنے کے قابل نہیں… کبھی کہا جا رہا
ہے کہ ہم جنگ کریں گے مگر غربت کے خلاف …بے روزگاری کے خلاف… واقعی یہ سب جہاد فی
سبیل اللہ کی کرامت ہے… یہ کشمیر کے مظلوم خون کی کرامت ہے… یہ خون اب انڈیا کے
گلے تک سرایت کر چکا ہے… اور اب اس خون کا سفر انڈیا کے دماغ کی طرف شروع ہو چکا
ہے… جو اللہ تعالیٰ آنسو کے ایک قطرے سے کسی کی جہنم بجھا سکتا ہے وہ اللہ تعالیٰ
شہید کے خون کے قطرے سے…بڑی بڑی طاقتوں اور طوفانوں کو بجھا دیتا ہے۔
افضل گورو شہید رحمہ اللہ ، برہان وانی شہید رحمہ اللہ …
اور کشمیر کے ایک لاکھ شہداء کا خون اب دہلی کی طرف بڑھ رہا ہے… بہت شان سے ، بہت
رعب سے …اور بہت تیزی سے… اسی لئے انڈیا کے اوسان خطاء ہیں… وہاں کے لیڈروں کی
عقلیں اور فوج کا حوصلہ… دونوں ایک ساتھ اُڑ چکے ہیں … یہ جو آپ ہر طرف ’’اوڑی
اوڑی‘‘ کا شور سن رہے ہیں …یہ دراصل اُڑی ہوئی عقل … اُڑے ہوئے حوصلے اور اُڑی
ہوئی عزت کا ماتم ہے۔
زندگی کا کمال
یہ جو قرآن مجید میں بار بار فرمایا گیا کہ … رات دن کے
آنے جانے میں عقل والوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں…ایک بڑی نشانی یہ بھی ہے کہ …
زندگی رکتی نہیں گذر جاتی ہے … گذرتی جاتی ہے… تنگ زندگی بھی گزر جاتی ہے اور کھلی
زندگی بھی… مالدار زندگی بھی گذر جاتی ہے اور فقر و فاقے والی زندگی بھی…رات دن
آتے جاتے ہیں اور زندگی کی گاڑی بغیر رکے چلتی رہتی ہے… آپ کے پاس پا سپورٹ ہو،
اس کے ہر صفحے پر کسی ملک کا ویزہ ہو، آپ کا کریڈٹ کارڈ آخری ہندسے پر ہو…آپ کا
ہر دن نئے ملک میں… آپ کے دستر خوان پر ہر دن نئی قسم کے کھانے…اور آپ کے جسم پر
ہر دن نیا لباس …یہ زندگی بھی گزر جائے گی… جب کوئی درد، بڑھاپا یا بیماری آئے گی
تو پچھلا کوئی عیش کام نہ آئے گا…اور اگر آپ کی زندگی تنگ ہو، آپ ایک سیل، ایک
کمرے، ایک گھر تک محدود ہوں …نہ کہیںجا سکتے ہیں اور نہ کسی دوسرے ملک کی سیر کر
سکتے ہیں… آپ کا کھانا، پہننا سب گزارے لائق تو…یہ زندگی بھی گزر جائے گی… اور
ماضی کی کوئی پریشانی آپ کے ساتھ نہیں چلے گی… یہ وہ نکتہ ہے جو حکمت والی محکم
کتاب قرآن مجید بار بار سمجھاتی ہے… تاکہ انسان اپنی زندگی کی آسانی،عیاشی اور
راحت کے لئے… اپنے ایمان کا سودا نہ کرے…اپنے ضمیر کا سودا نہ کرے… اپنی آخرت کو
نہ بیچے… یا اللہ! سمجھ اور استقامت کا سوال ہے۔
تعریف یا مذمت
امریکہ میں ایک مسلمان عالم دین کو … صلیبی قاتل نے شہید کر
دیا…اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائے… اُن عالم دین کے اہل خانہ میں سے کسی نے
بیان دیا کہ…وہ بڑے پر امن آدمی تھے … اُنہوں نے کبھی مکھی کو بھی نہیں مارا تھا
پھر اُنہیں کیوں شہید کیا گیا؟… آپ بتائیے یہ اُن بزرگوں کی تعریف تھی یا
مذمت؟…مجھے یقین ہے کہ وہ ایسے نہیں ہوں گے اسی لئے تو انہیں نشانہ بنایا گیا…اسی
طرح کئی لوگ اپنے بارے میں بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ…ہم پر امن مسلمان ہیں ہم نے
بندوق تو درکنار کبھی ہاتھ میں پستول اور چھری تک نہیں پکڑی… آپ بتائیں … یہ لوگ
اس جملے سے اپنی تعریف کر رہے ہوتے ہیں یا مذمت؟ … دنیا میں امن کا پیغام حضرات
انبیاء علیہم السلام لے کر آئے اور حضرات انبیاء علیہم السلام نے جہاد کیا، اسلحہ اُٹھایا … دشمنوں کو قتل
فرمایا…زمین کو فتنہ و فساد سے پاک کرنے کے لئے اہل فساد کو ختم فرمایا… دراصل بعض
لوگ اپنی طبعی بزدلی کو اپنی ’’امن پسندی‘‘
سمجھتے ہیں حالانکہ وہ ’’امن پسند‘‘ نہیں ہوتے… آپ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ
کی صفات میں سے ’’النافع‘‘ بھی ہے نفع پہنچانے والا… اور ’’ الضارّ ‘‘ بھی ہے یعنی
ضرر اور نقصان کا مالک… حضرت ہود ، حضرت صالح اور حضرت لوط علیہم السلام کی قوموں کا فساد جب حد سے بڑھ گیا تو … اُن کو
ضرر اور نقصان پہنچایا گیا…کیونکہ جو مجرموں کو ضرر اور نقصان نہ پہنچا سکتا ہو وہ
عدل اور انصاف قائم نہیں رکھ سکتا…اگر ابو جہل، عتبہ، شیبہ اور اُبی بن خلف کو ضرر
اور نقصان پہنچا کر بدر کے کنویں میں نہ ڈالا جاتا تو عرب کے انسانوں کو اسلام کی
نعمت نصیب نہ ہوتی… اور اسلام دنیا بھر میں نہ پھیلتا … ہم مسلمانوں کو یہ سکھایا
گیا کہ … اللہ تعالیٰ کے اخلاق کو اپناؤ… اللہ تعالیٰ کی صفات کی روشنی میں اپنے
اخلاق کی تعمیر کرو… جن کو نفع پہنچانے کا حکم ہے ان کو نفع پہنچاؤ اور جن کو
نقصان پہنچانے کا حکم ہے ان کو نقصان پہنچاؤ… تم دنیا میں امن پسندی کے ایوارڈ
لینے کے لئے نہیں بھیجے گئے… بلکہ امن پھیلانے کے لئے بھیجے گئے ہو اور امن آئے
گا ’’ایمان ‘‘ سے اور سلامتی آئے گی’’اسلام ‘‘ سے… اور ایمان و اسلام دونوں جہاد
فی سبیل اللہ کا حکم دیتے ہیں …کیونکہ جہاد کے بغیر فساد ختم ہو ہی نہیں سکتا۔
ایک کوشش کریں
اگر کوئی اپنے والد کے دشمن سے دوستی کرے تو لوگ اسے کیا
کہتے ہیں؟ بے وفا، غدار، بے غیرت… تو پھر اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے ’’دوستی‘‘ کرنے
والوں کو کیا کہا جائے گا؟…بھائیو اور بہنو! کوشش کرو کہ اللہ تعالیٰ کے وفادار
بنو…دین اسلام کے وفادار بنو … حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے وفادار بنو… بہت سے لوگ جو عمل میں بہت کمزور
تھے مگر وہ ’’وفادار ‘‘ پکے تھے… وہ کامیاب ہو گئے… اور بڑے بڑے مقامات پا گئے…
کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی خاطر دشمنیاں مول لیں… جنگیں لڑیں اور خطرے
اُٹھائے…اللہ تعالیٰ کی غیرت گوارا نہیں فرماتی کہ ایسے وفاداروں کو حساب کے کٹہرے
میں کھڑا کیا جائے… اس لئے آئیے! جہاد کے راستے کو اپنائیے … تاکہ وفاداروں میں
شامل ہو جائیں…
لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ
محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ
سبحان اللہ! ’’آیۃ الکرسی‘‘ علم کا خزانہ، قوت
کا راز، حفاظت کا حصار، رزق کی چابی اور فتوحات کا نشان…آئیے! پڑھتے ہیں…
اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ( الیٰ آخرہا)
آیۃ الکرسی پڑھتے وقت کتنا مزا آتا ہے … کتنا سکون ملتا
ہے اور کتنا نور دل میں اُترتا ہے… ترجمہ ذہن میں رکھ کر پڑھتے چلے جائیں … ایک
ایک جملے کو دل میں اُتارتے چلے جائیں… اور پھر اپنے عظیم رب کی محبت اور اس کی
صفات میں گم ہو جائیں… بتوں کے پجاری کیا جانیں کہ ’’آیۃ الکرسی‘‘ کیا ہے؟ یہ تو
’’توحید‘‘ کا ایسا جام ہے جو انسان کو آسمانوں سے بھی بلند لے جاتا ہے… آئیے!
ایک بار پھر پڑھتے ہیں…
اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ( الیٰ آخرہا)
یا اللہ! آپ کا شکر ہے آپ نے ہمیں… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے… ’’آیۃ الکرسی‘‘ عطاء فرمائی… یا
اللہ! ہمیں اس کا نور، اس کی قوت، اس کی برکت… اور اس کی روشنی عطاء فرما۔
اے مجاہدین کرام!… آیۃ الکرسی پڑھو، آیۃ الکرسی سمجھو،
آیۃ الکرسی کو اپناؤ…اور آیۃ الکرسی کا نور اپنے اندر بھرو…پھر دیکھو! تمہاری
فتوحات اور تمہاری یلغار کہاں تک پہنچتی ہے۔
ایک یادگار سفر
’’آیۃ الکرسی‘‘ پر مزید بات پھر
کبھی… آج بس اتنا ہی عرض ہے کہ… آپ میں سے جس کو جو مسئلہ یا پریشانی لاحق
ہو…وہ’’ آیۃ الکرسی ‘‘ کو مضبوط پکڑ کر اللہ تعالیٰ سے اپنا مسئلہ حل کرالے… آپ پر کوئی جسمانی تکلیف ہو یا باطنی… کوئی
مالی تنگی ہو یا گھریلو پریشانی… ذہن کا اُلجھاؤ ہو یا حال کی غفلت… جادو کا تیر
ہو یا نظر کا تندور … قرضے کا وبال ہو یا محتاجی کا خوف… آیۃ الکرسی ان سب کا
کافی اور شافی علاج ہے… بغیر تھکے پڑھتے جائیں اور یقین کے ساتھ مانگتے جائیں۔
اچھا اب آتے ہیں…یادگار سفر کی طرف … یہ واقعی عجیب سفر
ہے…اس سفر میں ہم نے چراغ کو سورج بنتے… اور غار کو محل بنتے دیکھا ہے… اگر آپ
پانی کے ایک چھوٹے سے تالاب کو دیکھیں کہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے پورا دریا بن جائے
تو کیا آپ یہ منظر کبھی بھلا سکیں گے؟…
جی ہاں… یہ یادگار سفر…جہاد کا سفر ہے … ہم نے جب جہاد سے
بیعت کی اور دوستی جوڑی تو…جہاد ایک چراغ تھا…اور پھر اسی سفر میں ہم نے اسے
ناقابل شکست سورج بنتے دیکھا… وہ ایک چشمہ تھا مگر اب وہ ایک دریا ہے جو…سمندر
بننے والا ہے… جب ہم جہاد کے خیمے میں آئے تو نہ کشمیر میں جہاد کی کوئی شاخ تھی
…اور نہ عراق و شام میں جہاد کی بجلیاں تھیں…
بس دو ہی محاذ تھے… ایک افغانستان اور دوسرا فلسطین…ایک
محاذ کھلا تھا اور ایک بند … نہ کوئی بڑے خواب تھے اور نہ کوئی بڑے نام … بس کچھ
غریب لوگ اسلام کا یہ فریضہ پورا کر رہے تھے… گمنام شہداء اور گمنام غازی… مگر ان
کا خون وہاں پہنچ رہا تھا…جہاں سے فیصلے اُترتے ہیں… اور ان کا خون اس زمین پر گر
رہا تھا…جو کچھ نہیں بھولتی، جو کوئی چیز نظر انداز نہیں کرتی… وہ چھوٹے سے بیج کو
اپنے اندر سمو کر…اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک بڑا درخت بنا دیتی ہے… شہداء کے اس
گمنام خون نے زیر زمین سفر شروع کیا … ایک طرف وہ ’’وسط ایشیا‘‘ کی طرف بڑھا… اور
دوسری طرف اس نے ’’غزوۂ ہند‘‘ کا چراغ روشن کر دیا… اب مجاہدین کے بیانات میں چار
، پانچ محاذوں کا تذکرہ گونجنے لگا… مگر شہداء کے خون کا سفر کہاں رکنے والا تھا؟…
اس نے ’’وسط ایشیا‘‘ میں اپنی ایک ٹھوکر سے … شراب خانوں کو
گرا کر ان کے نیچے دبی مساجد کو اُٹھایا…اور پھر ہزاروں میناروں سے اللہ اکبر،
اللہ اکبر کی اذاں گونجنے لگی… حالانکہ یہ وہ علاقے تھے جہاں نعوذ باللہ کمیونسٹوں
نے…اللہ تعالیٰ کا جنازہ نکال کر کہا تھا کہ…اس زمین پر اب کبھی ’’ اللہ ‘‘ کا نام
نہیں لیا جائے گا… تاجکستان، پھر ازبکستان … پھر قفقاز، پھر چیچنیا اور پھر
سائبیریا …کہیں چند ماہ، کہیں چند سال… اور کہیں ابھی تک…مگر ایک طبقہ تو بن
گیا…اہل جہاد کا طبقہ، اہل عزیمت کا طبقہ… دوسری طرف ’’غزوۂ ہند‘‘ کا چراغ روشن
ہوا تو ’’برہمنی سامراج‘‘ کے وہ تمام عزائم چکنا چور کر گیا… جو وہ ایک سو سال سے
دل میں پالے بیٹھا تھا… آپ ’’جہاد کشمیر ‘‘ سے پہلے والے انڈیا کو دیکھیں… اور
پھر جہاد کشمیر کے بعد والے انڈیا کو دیکھیں… آپ کو واضح فرق نظر آئے گا…ہم نے
اس یادگار جہادی سفر میں… انڈیا کو اژدھے سے کیچوا بنتے اپنی آنکھوں سے دیکھا…
اکھنڈ بھارت کا وہ خواب… جس کے لئے ستر سال تک خونی محنت کی گئی تھی… ایسا ذلیل
ہوا کہ… اب انڈیا کا ایک ایک انگ زخمی ہے، کس کس شکست کا تذکرہ کروں؟
انڈیا کی ذلت کی داستان… اس کے ’’ راج بھون‘‘ سے لے کر
’’قندھار‘‘ تک پھیلی پڑی ہے … بس رہ سہہ کر طاقت کا ایک بھرم قائم تھا… جو پٹھان
کوٹ اور اوڑی نے خاک بنا کر اُڑا دیا… اب جھوٹے دعوے ہیں…اور کانپتی ٹانگیں… کیا
آج کی سٹیلائٹ دنیا نے ایسا کوئی حملہ یا سرجیکل سٹرائیک دیکھا ہے جو… کسی کو
کہیں بھی نظر نہیں آ رہا…
پٹھان کوٹ کا حملہ چار کشمیری مجاہدین نے کیا…وہ پوری دنیا
کو نظر آ گیا… اور کئی دن تک وہ دیکھا اور دکھایا جاتا رہا… اوڑی کا حملہ چار
کشمیری مجاہدین نے کیا…وہ ساری دنیا نے دیکھا اور سنا… جبکہ ’’انڈیا‘‘ کا ’’سرجیکل
سٹرائیک ‘‘ جو بقول اس کے…ہیلی کاپٹروں اور سینکڑوں کمانڈوز کے ساتھ کیا گیا… اب
تک نہ کسی آنکھوں والے کو نظر آیا… اور نہ کسی اندھے کو… دراصل جہاد کشمیر جو
غزوۂ ہند ہے… اس نے انڈیا کی رگوں کا خون نچوڑ لیا ہے… اس لئے اب نہ تو ڈھاکہ ہے
اور نہ اس کا پلٹن گراؤنڈ… اب تو رات دن ذلت ہی ذلت ہے…عبرتناک ذلت۔
بات یادگار سفر کی چل رہی تھی…جہاد کا سفر اور شہداء کرام
کے خون کا سفر براعظم افریقہ میں داخل ہوا…وہاں کئی محاذ کھل گئے… عراق و شام میں
داخل ہوا جہاں ہر طرف محاذ کھل گئے…
سبحان اللہ! ایک چشمہ کس طرح سے ٹھاٹھیں مارتا دریا بنا
کہ…آج دنیا کا سب سے اہم مسئلہ ’’جہاد‘‘ ہے… آج دنیا کا سب سے نمایاں مسئلہ جہاد
ہے… جہاد آج میڈیا سے لے کر کافروں کے حواس تک…ہر جگہ ’’وکٹری سٹینڈ‘‘ پر کھڑا ہے
… اب ان حالات میں جہاد کی آیات پڑھیں تو دل جھومنے لگتا ہے… ہر آیت کا نقشہ
زمین پر موجود ہے… ان حالات میں جہاد کے ابواب پڑھیں تو آنکھیں چمکنے لگتی ہیں…
جہاد کا ہر باب آج زمین پر نظر آ رہا ہے… اور تو اور آپ جہاد کی جزئیات پڑھ لیں
… آپ کو ان کی عملی تصویر اپنے زمانے میں نظر آ جائے گی… ارے مسلمانو! اب تو
جہاد کی محبت دل میں ایسی بٹھا لو کہ… ہمارے مرنے کے بعدہماری قبر کی مٹی سے بھی…
الجہاد الجہاد کی خوشبو آئے۔
بوکھلایا ہوا کون ہے؟
اس وقت ’’انڈیا‘‘ نے پاکستان کے خلاف جو اقدامات اُٹھائے
ہیں…مقبوضہ کشمیر کے المناک مناظر دیکھ کر یہ سب کچھ پاکستان کو کرنا چاہیے تھا…
سارک کانفرنس میں شرکت ہو یا کنٹرول لائن پر فائرنگ کی ابتداء…جب ہماری شہہ رگ
کشمیر میں… نوے دن سے ظلم و جبر کا طوفان برپا ہے تو ہمیں چاہیے تھا کہ… ہم سارک
کانفرنس خود منسوخ کرتے… اور کنٹرول لائن پر جنگ بندی کا معاہدہ بھی خود ختم کرتے…
نوے دن میں ہمارے کتنے مسلمان شہید کئے گئے اور کتنے معذور اور زخمی…
مگر ہمارے ہاں ٹھوس فیصلوں کی کمی ہے … بھارت اگر اپنے
اٹھارہ فوجیوں کے لئے یہ سارے اقدامات کر سکتا ہے تو ہم اپنے ہزاروں کشمیری شہداء
کے لئے یہ سب کچھ کیوں نہیں کر سکتے؟ … باقی رہا پانی بند کرنے کا معاملہ تو انڈیا
یہ پہلے سے کرتا چلا آ رہا ہے… مگر اب وہ مزید کچھ نہیں کر سکے گا… اگر ان کے پاس
ڈیم اور بند بنانے والے آلات ہیں تو ہمارے پاس ان سب کو توڑنے کا بہترین انتظام
موجود ہے… ایک بزدل قاتل مودی کو یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ ہمیں پیاسا
مارنے کی کوشش کرے…انڈین میڈیا بار بار یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ…انڈیا کے حالیہ
اقدامات کی وجہ سے ہم بوکھلائے ہوئے ہیں… حالانکہ انڈیا نے اب تک جو کچھ بھی کیا
ہے… اس پر یا تو خوشی منائی جا سکتی ہے یا خون کو جوش دلایا جا سکتا ہے… یا کم از
کم ہنسا جا سکتا ہے… ہر دن نئی بات، نئی حماقت اور نئے لطیفے…حقیقت میں دیکھا جائے
تو…اس وقت انڈین حکمران اور انڈین میڈیا دونوں بری طرح سے بوکھلاہٹ کا شکار ہیں…
کیا بولیں اور کیا نہ بولیں …کیا کریں اور کیا نہ کریں؟۔
انڈیا اس وقت شدید ذہنی شکست کا سامنا کر رہا ہے…حکومت
پاکستان اگر کچھ ہمت دکھائے تو اس وقت کشمیر کا مسئلہ بھی حل کیا جا سکتا ہے اور
پانی کا بھی… اور کچھ نہیں تو حکومت صرف مجاہدین کا راستہ کھول دے… تب ان شاء اللہ
71ء کی تمام کڑوی یادیں… 2016ء کے حسین فاتحانہ مناظر میں گم ہو جائیں گی۔
لاالہ الااللّٰہ،لاالہ الا اللّٰہ،لاالہ الا اللّٰہ محمد
رسول اللّٰہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لاالہ الااللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’قرآن مجید‘‘ کی سب سے زیادہ عظمت
والی آیت کون سی ہے؟ آیۃ الکرسی ، بے شک آیۃ الکرسی…
اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ( الیٰ آخرہا)
بے شمار فضائل و خواص
قرآن مجید سب سے بلند کلام…پھر قرآن مجید میں سورۂ بقرہ
بلند ترین… اور پھر سورۂ بقرہ میں آیۃ الکرسی سب سے بلند…
حضرت علی رضی اللہ
عنہ سے روایت ہے:
’’مہینوں کا سردار ’’محرم‘‘ ہے،
دنوں کا سردار ’’جمعہ‘‘ ہے… کلاموں کا سردار ’’قرآن‘‘ ہے… قرآن کی سردار
’’بقرہ‘‘ ہے… بقرہ کی سردار ’’آیۃ الکرسی‘‘ ہے۔ سنو! اس آیت میں پچاس کلمے ہیں
اور ہر کلمہ میں پچاس برکتیں ہیں۔‘‘ ( مسند الفردوس للدیلمی)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
’’اللہ تعالیٰ نے ’’آیۃ الکرسی‘‘
سے بڑی کوئی چیز پیدا نہیں فرمائی، نہ آسمان، نہ زمین ، نہ جنت، نہ جہنم۔‘‘(
درمنثور)
آیۃ الکرسی کے فضائل بے شمار ہیں…اور اس کے خواص بھی بے
شمار ہیں…ایک چھوٹے سے مضمون میں ان فضائل و خواص کو بیان نہیں کیا جاسکتا… بہرحال
بات شروع کی ہے تو ’’آیۃ الکرسی‘‘ پڑھ کر دعاء کرتا ہوں کہ کچھ جامع خلاصہ آج آ
ہی جائے…
اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ( الیٰ آخرہا)
ہاں! ساتھ ساتھ حالات حاضرہ کی ضروری باتیں بھی چلتی رہیں
گی، ان شاء اللہ ۔
ایک اچھی خبر
برما کی ظالم حکومت پر حملے کا آغازہو گیا ہے … اُمت مسلمہ
بارش کے جس پہلے قطرے کے انتظار میں تھی وہ بالآخر زمین پر اُتر آیا ہے…برما کی
پولیس پر حملہ ہوا ہے اور ا س کے کئی اَفراد بری طرح مارے گئے ہیں… برمی مسلمان
دراصل عربی نسل کے غیّور مسلمان ہیں…ان کے پاس اگر کوئی ’’دارالہجرۃ‘‘ قریب ہوتا
تو وہ برما کی حکومت کو کبھی کا لرزا چکے ہوتے… ان کے پڑوس میں ایک طرف قاتل مودی
تو دوسری طرف ’’حسینہ ناگن ‘‘ ہے… پھر بھی جذبے دلوں میں سلگ رہے تھے… الحمد للہ
آغاز ہو گیا…اب یہ سلسلہ نہیں رُکے گا، ان شاء اللہ۔
شہدائِ برما کو دل کی گہرائی سے سلام… اور نئے غازیانِ برما
کو خوش آمدید…
باطل کے ایوانوں میں تہلکہ
حضرت محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ جب آیۃ الکرسی نازل ہوئی تو
پوری دنیا میں تمام بت گر گئے، تمام بادشاہ گر گئے، اُن کے سروں سے تاج گر گئے،
شیاطین ہڑبونگ میں ایک دوسرے کو مارتے پیٹتے ہوئے بھاگ پڑے اور ابلیس کو آ کر یہ
واقعہ بتایا۔ اس نے حکم دیا کہ وہ سب جا کر تحقیق کریں کہ دنیا میں کون سا نیا
واقعہ پیش آیا ہے، جس کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی، شیاطین مدینہ منورہ پہنچے
تو انہیں معلوم ہوا کہ ’’آیۃ الکرسی‘‘ نازل ہوئی ہے اور اسی کی وجہ سے یہ ساری
ہلچل مچ گئی ہے۔ (تفسیر قرطبی)
آیۃ الکرسی کی روحانی سلطنت اور طاقت کا اندازہ
لگائیں…سبحان اللہ! ظاہری اور باطنی ہر چیز پر ’’آیۃ الکرسی‘‘ کا اثر پڑتا
ہے…مثلاً بے برکتی اور نحوست کو لے لیں…یہ ظالم چیز انسانوں پر بھی مسلط ہو جاتی
ہے اور ان کے گھروں اور رزق پر بھی…مگر’’آیۃ الکرسی‘‘ اس باطنی دشمن کو بھی بھگا
دیتی ہے…
حضرت اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے :
’’ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ اس کے گھر کی چیزوں میں بہت ’’بے
برکتی‘‘ ہے۔ فرمایا:تم ’’آیۃ الکرسی‘‘ سے کہاں غافل ہو؟ جس کھانے اور سالن پر بھی
وہ پڑھی جائے گی اس کی برکت میں اللہ تعالیٰ اضافہ اور زیادتی فرما دیں گے۔‘‘ ( در
منثور)
آئیے! باطل کے ایوانوں اور بتوں کے پجاریوں پر… زلزلہ لانے
کے لئے ہم بھی دل کی توجہ سے پڑھیں…
اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ( الیٰ آخرہا)
اخبار میں آیات مبارکہ کی بے ادبی اور بے حرمتی نہ ہو…اس
لئے پوری آیت نہیں لکھتا … بس ابتدائی حصہ لکھ کر خود بھی پوری ’’آیۃ الکرسی‘‘
پڑھ لیتا ہوں…اور آپ کو بھی اس کی دعوت دیتا ہوں…تاکہ مطالعہ اور تلاوت دونوں
ساتھ ساتھ چلیں۔
معصوم شہید
مقبوضہ کشمیر میں ظالم بزدلوں نے…ایک گیارہ سال کے معصوم
بچے ’’جنید احمد‘‘ کو شہید کر دیا ہے… اب حالیہ احتجاجی لہر میں شہید ہونے والوں
کی تعداد سو سے بھی تجاوز کر چکی ہے… آخر اس معصوم بچے کا کیا قصور تھا؟… کس جرم
میں اسے سرعام سزائے موت دی گئی؟… جنید شہید کا خون مسلمانوں کے ذمہ قرض ہے…خصوصاً
پاکستان کے اُن حکمرانوں کے سر…جو اتنے المناک حالات میں بھی…کشمیریوں کی مدد کرنے
کی بجائے… مودی کی خوشنودی کے لئے …پٹھان کوٹ حملے کے ذمہ داروں کو ڈھونڈتے پھرتے
ہیں…بے شرمی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے …اپنے کشمیری مسلمان بچوں کے قاتلوں کو پکڑنے
کی کوئی کوشش نہیں… جبکہ انڈین فوجیوں سے اتنی محبت ہے کہ… ان کے قاتلوں کو پکڑنے
کے لئے اپنے ملک کے امن کو داؤ پر لگایا جا رہا ہے… یا اللہ! ایسے حکمرانوں
سے…اُمت مسلمہ کو نجات عطاء فرما…یا اللہ! ’’آیۃ الکرسی‘‘ کی قوت سے ان حکمرانوں
کو ان کی کرسی سے اُکھاڑ دے… آئیے! دل کے درد کے ساتھ پڑھتے ہیں…
اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ( الیٰ آخرہا)
پیارے بیٹے جنید! شہادت اور جنت کے باغات مبارک ہوں… ہم ان
شاء اللہ تمہارا خون نہیںبھلائیں گے…ان شاء اللہ، ان شاء اللہ، ان شاء اللہ
شیطان کی ذلت اور رسوائی
شیطان موجود ہے…اور شیطانوں کا ایک طاقتور نیٹ ورک پوری
دنیا میں چل رہا ہے… اس نیٹ ورک کا سربراہ ’’ابلیس لعین‘‘ ہے… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سمجھایا ہے کہ شیطان جن بھی ہوتے ہیں
اور انسان بھی … شیطان ظاہری حملے بھی کرتے ہیں اور باطنی بھی … اور یہ کہ شیطان
ہمارے بدترین دشمن ہیں… آپ روایات و احادیث پر غور کریں تو…’’آیۃ الکرسی‘‘
شیاطین کے لئے موت کی طرح ہے… احادیث مبارکہ میں کئی سچے قصے آئے ہیں کہ … کس طرح
سے ’’آیۃ الکرسی‘‘ نے شیاطین کو بھگایا اور انہیں شکست دی… یہ جو جن، جادو ،
آسیب وغیرہ ہوتے ہیں… یہ بھی شیطان کے اثرات ہیں… اور بے برکتی ، نحوست بھی شیطان
کے ہتھیار ہیں… آیۃ الکرسی کس طرح سے ہر طرح کے شیاطین کو شکست دیتی ہے… یہ ایک
مفصل موضوع ہے… اور اس پر بہت سی روایات اور سچے قصے موجود ہیں… ہم ان میں سے صرف
ایک روایت یہاں ذکر کرتے ہیں… اس سے پہلے ایک بات یاد آ گئی… تہاڑ جیل دہلی میں
کئی ہندو،بدھ جادوگر تھے… ہمارے ساتھی جب ان کے سامنے آیۃ الکرسی پڑھتے تو…وہ
ہانپ جاتے اور کہتے کہ یہ ہمارے بس میں نہیں ہے اور ان کا جادو اور عمل فوراً رُک
جاتا تھا… لیجئے! ایک مفصل روایت کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیے:
ایک صحابی غالباً حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ایک شیطان جن سے کشتی ہوئی…آپ
نے اسے گرا دیا…اس شیطان نے کہا کہ دوبارہ کشتی کرو اگر اس بار بھی تم نے مجھے
پچھاڑ دیا تو میں تمہیں ایسی چیز سکھاؤں گا جو تمہیں فائدہ پہنچائے گی … صحابی نے
فرمایا: بہت اچھا…کشتی ہوئی صحابی نے دوبارہ اس شیطان کو پچھاڑ دیا، اس شیطان جن
نے کہا تم ’’آیۃ الکرسی‘‘ پڑھا کرتے ہو؟ تم جس گھر میں بھی ’’آیۃ الکرسی‘‘ پڑھو
گے ،اس میں سے شیطان اس ذلت سے بھاگ کھڑا ہو گا کہ وہ گدھے کی طرح ہوا خارج کرتا
ہو گا۔ ( تفسیر قرطبی)
روایت میں ’’ خبج کخبج الحمار‘‘ کے الفاظ آئے ہیں…یعنی جس
طرح گدھا آواز کے ساتھ گوز مارتا ہے…ہوا خارج کرتا ہے … اسی طرح شیطان کا حال ہو
گا…
آئیے! دل کی محبت سے ’’آیۃ الکرسی‘‘ پڑھتے ہیں:
اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ( الیٰ آخرہا)
ایک غلط سوچ
کئی لوگ یہ کہتے ہیں کہ…اگر ’’مجاہدینِ کشمیر‘‘ عسکری
کارروائیاں نہ کریں تو ’’مسئلہ کشمیر‘‘ جلد حل ہو سکتا ہے… عسکری کارروائیوں کی
وجہ سے ہمیں عالمی حمایت نہیں ملتی… اور یوں انڈیا پر دباؤ نہیں بنتا… یہ بہت
عجیب و غریب سوچ ہے … اگر کشمیر میں ’’عسکری کارروائیاں ‘‘ نہ ہوتیں تو انڈیا
مسئلہ کشمیر کو ماننے پر بھی آمادہ نہ ہوتا… یہ جہاد اور عسکری کارروائیوں کی
برکت ہے کہ وہ آج ’’مسئلہ کشمیر‘‘ کو اپنے گلے کی ہڈی مان رہا ہے… عالمی دباؤ
نام کی کوئی چیز کبھی مسلمانوں کے کام نہیں آئی… اس دنیا میں تجارتی مفادات اور کافرانہ
مفادات کا دور چل رہا ہے…پوری دنیا میں ’’ اقوام متحدہ‘‘ سے بڑا کوئی فورم ہے اور
نہ عالمی ادارہ … اقوام متحدہ نے کشمیر پر قراردادیں منظور کیں …انڈیا نے اس دباؤ
کا کیا اثر لیا؟ آپ ساری دنیا میں اپنے عیاش وزراء کے وفد بھیج دیں… سوائے ملکی
خزانہ برباد ہونے کے اور کیا ہاتھ آئے گا؟…
مسئلہ کشمیر ’’جہاد‘‘ کی برکت سے تسلیم کیا گیا ہے… اور ان
شاء اللہ یہ مسئلہ جہاد سے ہی حل ہو گا۔
آیۃ الکرسی کا نصاب
’’آیۃ الکرسی‘‘ کے ذریعہ دعاء کر
کے بے شمار مسائل کو حل کرایا جا سکتا ہے…
آیۃ الکرسی کتنی بار پڑھی جائے؟ چند عدد یاد کر لیں…
* ایک
بار… * سات بار…* اکیس بار…* پچاس بار…*ایک سو ستر
بار…* تین سو تیرہ بار…*ایک ہزار بار…
*
ایک بار ہر فرض نماز کے بعد پڑھنے کی فضیلت احادیث مبارکہ میں آئی ہے…ایسا شخص
اللہ تعالیٰ کے ذمے اور حفاظت میں رہتا ہے … اس کے اور جنت کے درمیان صرف اس کی
موت حائل ہوتی ہے اور وہ امن پاتا ہے وغیرہ… اسی طرح سوتے وقت بھی ایک بار پڑھنے
پر کئی روایات موجود ہیں…اور گھر میں داخل ہوتے وقت اور نکلتے وقت بھی ایک بار
پڑھنا… بے حد نافع ہے۔
* سات
بار …صبح اور شام سات بار پڑھنا، بہت باعث برکت و حفاظت ہے…اور اگر ہر نماز کے بعد
سات بار پڑھے تو عجیب فوائد کا مشاہدہ کرے گا۔
* اکیس
بار…یہ حفاظت کے لئے بڑا اکسیر عمل ہے۔
*
پچاس بار… آیۃ الکرسی کے کلمات کی تعداد پچاس ہے… پس جو اس تعداد کی مقدار پڑھتا
ہے وہ ہر طرح کی حفاظت اور رزق و قبولیت پاتا ہے۔
* ایک
سو ستر بار… آیۃ الکرسی کے حروف کی تعداد ایک سو ستر ہے… حضرت امام بونی رحمہ
اللہ نے اس کے ایسے عجیب و غریب فوائد
لکھے ہیں کہ… عقل حیران ہو جاتی ہے… جو چاہتا ہو ’’شمس المعارف الکبریٰ‘‘ میں دیکھ
لے۔
*
تین سو تیرہ بار… یہ بڑے مشکل کاموں اور بڑی رکاوٹوں کو دور کرنے کا عدد ہے۔
*
ایک ہزار بار… یہ آیۃ الکرسی کا باقاعدہ عامل بننے کا عدد ہے یعنی روزانہ ایک
ہزار بار پڑھے۔
دل چاہتا تھا کہ…آیۃ الکرسی کے اس نصاب پر
اَسلاف و اَکابر کی چند عبارتیں بھی نقل کر دوں مگر جگہ مکمل ہو رہی ہے…بس اتنا
عرض کرتا ہوں کہ…پریشانیوں سے نکلیں، غفلت چھوڑیں، عاملوں اور نجومیوں سے جان
چھڑائیں… اور اللہ تعالیٰ کے عظیم ترین کلام کی سب سے عظیم ترین اور طاقتور آیت
مبارکہ کو اپنا لیں…آپ کا جو بھی مسئلہ ہو چند دن تک توجہ کے ساتھ روزانہ ایک سو
ستر بار پڑھیں اور دعاء کریں… اتنا نہیں پڑھ سکتے تو کم پڑھ لیں آپ خود محسوس
کریں گے کہ آپ کے اندر کتنی روشنی اور روحانی طاقت آ رہی ہے… مخلوق میں جب کوئی
چیز ’’آیۃ الکرسی‘‘ سے بڑی نہیں ہے… نہ آسمان ، نہ زمین ، نہ جنت ، نہ جہنم … تو
پھر کون سا مسئلہ ہے جو ’’آیۃ الکرسی‘‘ کے سامنے ٹھہر سکے گا؟… اللہ تعالیٰ کا
کلام، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے… اور ہم اس کلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو پا
سکتے ہیں…
آئیے! آخر میں ایک بار پھر ’’آیۃ الکرسی ‘‘
پڑھتے ہیں…
اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ( الیٰ آخرہا)
لاالہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لاالہ الا اللّٰہ محمد
رسول اللّٰہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا کلام… قرآن مجید سارا کا سارا بہت افضل،
بہت اعلیٰ اور بہت شاندار ہے…پھر اس عظیم کلام میں سب سے افضل، سب سے اعلیٰ اور سب
سے بہتر…آیۃ الکرسی ہے…
آئیے! توجہ سے پڑھ لیتے ہیں…
اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ( الیٰ آخرہا)
چار طبقے
’’آیۃ الکرسی‘‘تقریباً ہر مسلمان
کو یاد ہوتی ہے… یہ آیت مبارکہ آسان بھی ہے… اکثر مسلمانوں کو یہ بھی علم ہے کہ
یہ آیت قرآن مجید کی سب سے زیادہ عظمت والی آیت ہے… اکثر مسلمان یہ بھی جانتے
ہیں کہ ’’آیۃ الکرسی‘‘ دنیا کے ہر خزانے اور ہر نعمت سے بڑھ کر ہے… مگر پھر بھی
اکثر لوگ ’’آیۃ الکرسی‘‘ کا زیادہ اہتمام نہیں کرتے … بات دراصل یہ ہے کہ ’’ آیۃ
الکرسی‘‘ بہت اونچی نعمت ہے… یہ نعمت اللہ تعالیٰ ہر کسی کو عطاء نہیں فرماتے… یہ
بہت بڑا شاہی خزانہ ہے… یہ خزانہ ہر کسی کو نہیں دیا جاتا… یہ ایک خاص قسم کی طاقت
ہے… یہ طاقت ہر کسی کو نہیں ملتی… اس لئے آپ نے دیکھا ہو گا کہ لوگ طرح طرح کے
وظائف میں گھنٹوں لگا دیتے ہیں… مگر ’’آیۃ الکرسی‘‘ نہیں پڑھتے… عاملوں کے
دروازوں پر گھنٹوں بیٹھے رہتے ہیں…مگر سب سے بڑا عمل یعنی ’’آیۃ الکرسی‘‘ نہیں
اپناتے…بلکہ حالت یہاں تک جا پہنچی ہے کہ…اگر آپ سے کوئی شخص کوئی خاص عمل پوچھے
اور آپ اسے ’’آیۃ الکرسی‘‘ بتا دیں تو وہ مایوس نگاہوں سے دیکھنے لگتا ہے…
کیونکہ وہ ’’آیۃ الکرسی‘‘ کو خاص عمل نہیں سمجھتا… ہاں اگر اجنبی الفاظ والی
دعائیں بتا دو تو وہ خوش ہو جاتا ہے…
یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ …’’آیۃ الکرسی ‘‘ صرف چار طبقوں کو
اہتمام کے ساتھ نصیب ہوتی ہے:
١ انبیاء علیہم السلام کو… اب نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔
٢
صدیقین کو… یہ دروازہ کھلا ہے مگر ’’صدیق‘‘ کا بلند مقام بہت کم افراد کو ملتا ہے…
’’وَقَلِیْلٌ مِّنَ
الْآٰخِرِیْنَ‘‘
٣ وہ
شخص جس سے اللہ تعالیٰ محبت فرماتے ہیں…اسے ’’آیۃ الکرسی‘‘ کا اہتمام نصیب ہوتا
ہے… یہ دروازہ کھلا ہے…اللہ تعالیٰ ہمیں اس طبقے میں شامل فرمائے۔
٤ وہ
شخص جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل یعنی شہید ہونا ہو…اسے ’’آیۃ الکرسی‘‘ کا
اہتمام نصیب ہوتا ہے… اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ میں سے جو چاہتا ہو اسے یہ مقام
عطاء فرمائے۔
بھائیو!اور بہنو ! ’’آیۃ الکرسی‘‘ بڑی نعمت ہے… بہت عظیم
نعمت… زندگی کے سانس باقی ہیں اس نعمت کا زیادہ سے زیادہ ذخیرہ جمع کر لو… آئیے!
دل کے شوق سے پڑھتے ہیں…
اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ( الیٰ آخرہا)
مردود کا برا حال
اس زمانے کے ایک بڑے شیطان ’’نریندر مودی‘‘ کا آج کل بہت
برا حال ہے… مودی میں اگر تھوڑی سی غیرت ہوتی تو وہ خود کشی کر لیتا …مگر غیرت
کہاں؟… کشمیر کا احتجاج اس سے سنبھالا نہیں جا رہا …اللہ تعالیٰ اہل کشمیر کو غلبہ
اور نجات عطاء فرمائے… پٹھان کوٹ پر حملے کے بعد مودی نے بعض بڑے بڑے دعوے کر لئے
…مگر وہ اپنا ایک دعویٰ بھی پورا نہ کر سکا… اوڑی پر حملے کے بعد اس نے کارروائی
کی دھمکی دی… مگر دھوتی میں ہی سرجیکل سٹرائیک ہو گیا… سارک کانفرنس منسوخ کرا کے
پاکستان کو تنہا کرنے کی بات کی …مگر خود اپنی دوغلی پالیسیوں کی وجہ سے ہر جگہ
مشکوک ہو گیا… پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکی دی… مگر خود اس کا اپنا پانی
لداخ کا راستہ بدل گیا… ابھی پانچ ملکوں کے اجلاس میں پھر مجاہدین کا مسئلہ اٹھایا
تو چینی صدر نے ایسا ذلیل کیا کہ مودی کو ’’چنگ چی‘‘ بنا دیا… ایک ذلت کے بعد
دوسری ذلت… ایک رسوائی کے بعد دوسری رسوائی… کاش! پاکستان کی سیاسی حکومت میں کچھ
دم ہوتا تو…اب تک نقشہ ہی بدل چکا ہوتا… اہل کشمیر کی جرأت و استقامت کو سلام…
عظیم عرش اور عظیم کرسی کا مالک… اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے ساتھ ہے… آئیے!
والہانہ جذبے سے پڑھتے ہیں …
اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ(الیٰ آخرہا)
عجیب نکتہ
’’آیۃ الکرسی‘‘ کے بارے میں
احادیث ، روایات اور اقوال بہت زیادہ ہیں…اس عظیم الشان ’’آیت مبارکہ‘‘ کی فضیلت
صحیح احادیث میں بھی آئی ہے… اور بہت سی ضعیف روایات بھی اس کے فضائل بیان کرتی
ہیں… امت مسلمہ کے ائمہ ، محدثین اور صوفیا نے اس آیت مبارکہ پر مستقل کتابیں
لکھی ہیں… اور اس کے عجیب و غریب فضائل وخواص بیان فرمائے ہیں …ہمیں اپنی نظر
’’احادیث صحیحہ‘‘ پر رکھنی چاہیے …اور ان سے ’’آیۃ الکرسی‘‘ کا مقام سمجھنا
چاہیے… ’’احادیث صحیحہ‘‘ میں آیت الکرسی کا ایک خاص فائدہ یہ مذکور ہے کہ… یہ
آیت مبارکہ شیطان کو بھگاتی ہے… شیطان کے شر، وسوسے اور نقصان سے بچاتی ہے… اور
اس کا پڑھنے والا ایک ایسی خاص حفاظت میں آ جاتا ہے جس حفاظت کو شیاطین نہیں توڑ
سکتے… اور آیۃ الکرسی پڑھنے والے کے لئے اللہ تعالیٰ حفاظت کے خاص فرشتے نازل
فرما دیتا ہے… یہ مضمون کئی احادیث مبارکہ میں آیا ہے… اس سے بعض اہل علم نے یہ
عجیب نکتہ سمجھا ہے کہ… آیۃ الکرسی انسان کو شیطان، جن ، جادو، نظر سے تو بچاتی
ہی ہے …ساتھ ساتھ ہر اس حالت میں یہ کام آتی ہے جسے ہم ’’شیطانی حالت‘‘ یا
’’شیطانی کیفیت‘‘ کہہ سکتے ہیں… یہ شیطانی حالت ہم پر شیطان کے حملے کی وجہ سے طاری
ہوتی ہے… مثلاً بہت زیادہ غصہ، گندی اور ناجائز شہوت کا بھڑکنا… بد نظری کی طرف
مائل ہونا… میاں بیوی کا آپس میں لڑنا… مسلمانوں سے فضول جھگڑا یا گالم گلوچ
کرنا… ایک دم مایوس ہو کر بجھ جانا…غیر اللہ میں سے کسی کے خوف یا ڈر کا مسلط ہو
جانا… وغیرہ وغیرہ…
یہ سب حالتیں اور کیفیات ہم پر… شیطان کے حملے کی وجہ سے
آتی ہیں…وہ شیطان انسانوں میں سے ہو یا جنات میں سے… اب جبکہ ’’آیۃ الکرسی‘‘ میں
اللہ تعالیٰ نے یہ تاثیر رکھی ہے کہ… وہ اصل شیطان کو بھگا دیتی ہے تو پھر …
شیطانی کیفیات کو بھگانا تو اس کے لئے اور زیادہ آسان ہے… پس ہم پر جب ایسے
’’شیطانی حالات‘‘ آئیں تو ہم یقین اور توجہ سے ’’آیۃ الکرسی‘‘ کا ورد شروع کر
دیں… اس سے ان شاء اللہ یہ کیفیات درست ہو جائیں گی… اسی طرح اگر یہ ’’شیطانی
کیفیات‘‘ ہم پر تو نہ ہوں مگر آس پاس بن رہی ہوں…مثلاً گانے بجانے کی آوازیں، مسلمانوں
کا باہمی جھگڑا … اہل غیبت کی مجلس، چغل خوروں کے فتنے… تب بھی ہم ’’آیۃ الکرسی‘‘
کی امان میں…آکر اپنے آس پاس کی ان شیطانی کیفیات سے خود کو محفوظ کر سکتے ہیں…
آئیے! مکمل یقین کے ساتھ پڑھتے ہیں…
اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ( الیٰ آخرہا)
یہ دن بھی آنا تھا
ابھی چند سال پہلے کی بات ہے کہ… امریکہ کو سب نے دنیا کی
اکیلی’’سپرپاور‘‘ تسلیم کر لیا تھا … امریکہ کے مقابلے پر کھڑا سوویت یونین بکھر
چکا تھا … اور یورپ امریکہ کے تلوے چاٹ رہا تھا … مسلمانوں میں گھسے ہوئے ’’لبرل
افراد‘‘ امریکہ کا تذکرہ… نعوذ باللہ ایک ناقابل شکست طاقت کے طور پر کرتے تھے…
اور امریکہ کے خلاف سوچنے کو بھی جرم اور گناہ قرار دیتے تھے… مگر ’’جہاد‘‘ کی
کرامت دیکھیں کہ…امریکہ کا بل سے بغداد تک ایسا ’’بے آبرو‘‘ ہوا کہ آج روس کا
صدر بھی اسے… کمزور امریکا…کا لقب دے رہا ہے… آج صبح کی خبروں میں روسی صدر پوٹن
کا بیان پڑھا… وہ کہہ رہا تھا …کمزور امریکا ہم سے جنگ کرنا چاہتا ہے تاکہ اپنی
کمزوری پر کچھ پردہ ڈال سکے… سبحان اللہ ! جہاد کی شان، جہاد کی کرامت اور جہاد کی
قوت دیکھیں کہ…امریکا کو ’’کمزور‘‘ ہونے کا طعنہ دیا جا رہا ہے… جبکہ دوسری طرف
سارے اخبارات اور سارا میڈیا … چیخ چیخ کر ’’جہاد‘‘ کو طاقتور کہہ رہا ہے… اور
مجاہدین کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دے رہا ہے…
ہم نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ… اپنی آنکھوں سے یہ سب کچھ
دیکھ سکیں گے…مگر الحمد للہ اللہ تعالیٰ نے دکھا دیا… آئیے! شکر میں ڈوب کر پوری
آیۃ الکرسی پڑھتے ہیں…
اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ( الیٰ آخرہا)
آیۃ الکرسی اور جہاد
صاحب فضائل حفاظ قرآن لکھتے ہیں:
’’ترمذی نے اپنی سند کے ذریعے نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد عالی
نقل کیا ہے کہ ہر چیز کی ایک کوہان و بلندی ہوتی ہے اور قرآن کی کوہان و بلندی
’’سورۂ بقرہ‘‘ ہے… اور اس میں ایک ایسی آیت ہے جو قرآن کی تمام آیتوں کی سردار
ہے اور وہ ’’آیۃ الکرسی‘‘ ہے۔ ( ترمذی)
سورۂ بقرہ کو قرآن کی کوہان اس لئے فرمایا کہ یہ سب سے
لمبی سورت ہے، نیز وہ بہت سے احکام پر مشتمل ہے یا اس لئے کہ اس میں’’ جہاد‘‘ کا
حکم ہے جس سے اسلام کو سربلندی حاصل ہوتی ہے اور ’’آیۃ الکرسی‘‘ کو تمام آیتوں
کی سردار فرمانے کی وجہ غالباً یہ ہے کہ اس آیت میں اسم ظاہر اور اسم ضمیر دونوں
ملا کر اللہ تعالیٰ کا نام ’’سترہ‘‘ مرتبہ آ یا ہے، واللہ اعلم ‘‘… (فضائل حفاظ
قرآن)
آپ قرآن مجید میں جہاد کے بارے میں شیطان کا کردار
پڑھیں…وہ کس طرح سے کافروں کو مسلمانوں پر حملے کے لئے اکساتا ہے …کس طرح سے
منافقین کو جہاد کے خلاف استعمال کرتا ہے… وہ کس طرح سے اہل مال پر بخل کے شکنجے
کستا ہے تاکہ وہ جہاد پر مال خرچ نہ کریں… وہ کس طرح سے مسلمانوںمیں کافروں کاخوف
اور رعب پھیلانے کی کوشش کرتا ہے… خلاصہ یہ کہ شیطان ہر سطح پر جہاد اور مجاہدین
کے خلاف سرگرم رہتا ہے… ’’آیۃ الکرسی‘‘ شیطان اور اس کی تمام تدبیروں کا توڑ ہے…
مجاہدین اگر اسے اپنائیں تو وہ مضبوط، غالب اور ثابت قدم رہیں… اور شہادت تک ڈٹے
رہیں… دوسرا یہ کہ’’آیۃ الکرسی‘‘ میں ’’حفاظت‘‘ کی مضبوط تاثیر ہے… جیسا کہ کئی
احادیث صحیحہ سے ثابت ہے…چنانچہ اگر مجاہدین ’’آیۃ الکرسی ‘‘ کا اہتمام کریں تو
وہ دشمنوں کی بہت سی سازشوں اور تدبیروں سے محفوظ رہ سکتے ہیں، ان شاء اللہ…
آئیے! محبت کے ساتھ پوری آیۃ الکرسی پڑھتے ہیں …
اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ( الیٰ آخرہا)
ایک وظیفہ
آج ’’آیۃ الکرسی‘‘ پر یہ کالم لکھنے کے لئے …اپنے سامنے
’’تفسیرِ مدارک‘‘ بھی رکھی تھی… تاکہ ’’آیۃ الکرسی‘‘ کی مختصر تفسیر اور ترجمہ
لکھا جائے … احادیث کے کچھ مجموعے بھی رکھے تھے تاکہ بعض احادیث مبارکہ ’’آیۃ
الکرسی‘‘ کے بارے میں آ جائیں… اور شمس المعارف الکبریٰ کا عربی نسخہ بھی رکھا
تھا تاکہ…آیۃ الکرسی کے کچھ خواص و مجربات آ جائیں… نیز انڈیا کے مسخرے میڈیا کا
بھی کچھ تذکرہ کرنا تھا… مگر کالم کی جگہ مکمل ہو گئی اور یہ ساری باتیں رہ گئیں…
زیادہ مفصل کالم لکھا جائے تو پڑھنے والے پچھلی بات بھول جاتے ہیں …اور فائدہ کم
ہوتا ہے… چلیں جو کچھ آ گیا اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ہے… بس آخر میں چند ضروری
باتیں اور ایک وظیفہ… پہلی بات یہ کہ… آپ میں سے جو باقاعدہ قاری نہیں ہیں وہ آج
ہی ’’ آیۃ الکرسی‘‘ کسی عالم یا قاری کو سنا کر الفاظ کی تصحیح کرا لیں… قرآن
مجید کا حق لازم ہے کہ ہم اسے درست تجوید کے ساتھ پڑھیں… قرآن مجید غلط پڑھنے سے
گناہ ہوتا ہے… اس لئے بہت فکر کریں اور اپنی ’’آیۃ الکرسی‘‘ اور ’’باقی تلاوت ‘‘
درست کر لیں… اس بارے میں ہرگز نہ شرمائیں بلکہ یہ ذہن بنائیں کہ مسلمان ہو کر غلط
قرآن پڑھنا بڑی بے شرمی والا کام ہے… دوسری بات یہ ہے کہ ’’آیۃ الکرسی‘‘ کا
ترجمہ پڑھ لیں اور سمجھ لیں …اور اس میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس پر اپنے یقین کو
مضبوط کریں… وعدہ تو نہیں البتہ ارادہ ہے کہ…ان شاء اللہ اگلے کالم میں بندہ بھی
مختصر ترجمہ اور تفسیر لکھ دے گا…تیسری بات یہ ہے کہ پختہ عزم اور وعدہ کریںکہ… ہر
فرض نماز کے بعد ایک بار آیۃ الکرسی پڑھیں گے… فجر اور مغرب کے بعد تین بار… گھر
سے نکلتے وقت اور گھر میں داخل ہوتے وقت…اور رات کو سوتے وقت … یہ آیۃ الکرسی کا
ضروری نصاب ہے… باقی مزید جس کو جتنی توفیق ملے… ان تین باتوں کے بعد وظیفہ حاضر
خدمت ہے…جس مسلمان کو رزق کی تنگی ہو، اسباب بند ہو چکے ہوں…قرضے جکڑ چکے ہوں اور
کوئی ذریعہ وسیلہ نہ بنتا ہو…وہ دو رکعت نماز ادا کر کے با وضو …ایک سو ستر بار
آیۃ الکرسی پڑھے اور اس کے بعد تین ہزار بار… یَا کَافِی، یَا غَنِیُّ ، یَا
فَتَّاحُ، یَا رَزَّاقُ …پڑھے… اور آخر میں دعاء کرے ( اوّل آخر سات سات بار
درود شریف)
یہ عمل اگر آدھی رات کے بعد یا تہجد کے وقت ہو تو بہت
زیادہ مؤثر ہے…ورنہ کسی بھی وقت کر لیں… ان شاء اللہ ایک بار کرنے سے ہی خیر کے
آثار ظاہر ہو جائیں گے… بس یقین رکھیں اور تھوڑا سا صبر اور انتظار کریں… یا
اللہ! ہر مومن مسلمان مرد و عورت کو… رزق حلال وافر وسعت والا عطاء فرما…اور ہم سب
کو ’’ آیۃ الکرسی‘‘ کی خاص برکات عطاء فرما…
آئیے!آج کے کالم میں ساتویں بار آیۃ الکرسی پڑھ لیں…
اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ( الیٰ آخرہا)
لاالہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ ،لاالہ الا اللّٰہ محمد
رسول اللّٰہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ بڑے فضل والے ہیں… جس کو چاہتے ہیں دوسروں پر
’’فضیلت‘‘ عطاء فرماتے ہیں… اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ’’فضیلتوں ‘‘ کو تسلیم کرنا
ایمان اور عقل کی نشانی ہے… اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں… ’’آیۃ الکرسی‘‘ کو
زیادہ فضیلت عطاء فرمائی ہے… پس جو اس آیت مبارکہ سے یاری لگاتا ہے… وہ بھی طرح
طرح کی فضیلتیں پاتا ہے… آیت الکرسی کا ایک لقب ’’ولیۃ اللہ‘‘ ہے… یعنی اللہ
تعالیٰ کی ولی، اللہ تعالیٰ کی پیاری … اور اس آیت مبارکہ کو پڑھنے والے اللہ
تعالیٰ کے ہاں ’’معزز ‘‘ ہیں… دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی… آئیے! سعادت سمجھ
کر پوری ’’آیۃ الکرسی‘‘ پڑھ لیتے ہیں۔
اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ( الیٰ آخرہا)
کلام برکت
کوشش کریں کہ ’’آیۃ الکرسی ‘‘ کو اچھی طرح سمجھ لیں… پھر
اسے اپنے دل میں اُتاریں … بے شک یہ آیت مبارکہ دل کو اللہ تعالیٰ کے نور سے بھر
دیتی ہے… حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس بات کا بڑا اہتمام فرماتے تھے کہ… جب وہ سونے
لگیں تو ’’آیۃ الکرسی‘‘ کا تازہ نور ان کے دلوں میں ہو… اس لئے سوتے وقت ’’ آیۃ
الکرسی‘‘ کی تلاوت فرماتے تھے… امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ حضرت
علی رضی اللہ عنہ کا فرمان نقل فرمایا ہے
کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں…میرے
خیال میں نہیں آتا کہ عاقل آدمی جو مسلمان ہو اور پھر وہ آیۃ الکرسی پڑھے بغیر
رات کو سو جاتا ہو۔ (ابو داؤد)
آیۃ الکرسی کا مفہوم سمجھنے کے لئے… امام المفسرین حضرت
شاہ عبد القادر رحمہ اللہ کا ترجمہ یہاں
پیش کیا جا رہا ہے…خوب غور سے پڑھیں … حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ کے الفاظ میں بڑے اونچے اشارے اور راز ہوتے ہیں…
آپ آیۃ الکرسی کا ترجمہ یوں پیش فرماتے ہیں…
’’ اللہ! اس کے سوا کسی کی بندگی
نہیں، جیتا ہے، سب کا تھامنے والا…نہیں پکڑتی اس کو اونگھ اور نہ نیند … اسی کا ہے
جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے، کون ایسا ہے کہ سفارش کرے اس کے پاس مگر اس کے اذن
سے… جانتا ہے جو خلق کے روبرو ہے اور پیٹھ پیچھے… اور یہ نہیں گھیر سکتے، اس کے
علم میں سے کچھ، مگر جو وہ چاہے…گنجائش ہے اس کی کرسی میں آسمان اور زمین کو اور
تھکتا نہیں ان کے تھامنے سے اور وہی ہے اوپر، سب سے بڑا۔‘‘(موضح قرآن)
سبحان اللہ! کیسا شاندار ترجمہ ہے… اب اسے پڑھ کر اپنے دل
میں جھانکیں …کیا انڈیا اور کیا امریکہ، کیا اسرائیل اور کیا برطانیہ… کیا بل گیٹس
اور کیا زکربرگ… سب کتنے چھوٹے، حقیر ، بلبلے اور غبارے نظر آتے ہیں… ان سب نے
فنا ہونا ہے،مرنا ہے… یہ سب نیند اور اونگھ کے محتاج… نہ آگے کا کچھ جانتے ہیں نہ
پیچھے کا … یہ نہ وقت کو روک سکتے ہیں نہ زمانے کو… اور نہ اپنے بخار کو… نہ دنیا
میں ان کی مرضی چلتی ہے اور نہ آخرت میں … یہ نہ کسی کو زندگی دے سکتے ہیں اور نہ
موت… نہ یہ اپنے فنا کو روک سکتے ہیں اور نہ اپنے بڑھاپے کو… پھر وہ امت ان سے
کیوں ڈرے، کیوں دبے جس کے پاس ’’ آیۃ الکرسی‘‘ ہے… اللہ تعالیٰ کی وہ پیاری ،
بلند اور عظیم آیت… جس کو اللہ تعالیٰ نے ہونٹ بھی عطاء فرمائے ہیں اور زبان بھی…
اور وہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے پائے کے ساتھ کھڑی ہو کر… اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان
کرتی ہے… اتنی عظیم اور بلند آیت جس انسان کے دل میں ہو… وہ اللہ تعالیٰ کے سوا
کسی سے نہیں ڈرتا… کسی سے نہیں دبتا… یا اللہ! ہمیں اس آیت مبارکہ کا حقیقی نور
عطاء فرما … آئیے! وجد کے ساتھ پوری آیت الکرسی پڑھتے ہیں…
اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ( الیٰ آخرہا)
خصلت نہیں بدلتی
اہل دل کے نزدیک محرم کے مہینے کا ’’آیۃ الکرسی‘‘ سے خاص
تعلق ہے… اس کی وجہ کیا ہے؟ یہ دل والے ہی جانتے ہوں گے، بہرحال… اس سال محرم
الحرام شروع ہوا تو دل خود بخود ’’آیۃ الکرسی‘‘ کی طرف لپکنے لگا… ایک رات … کئی
قراء حضرات کی آواز میں’’ آیۃ الکرسی‘‘ سنی… قاری عبد الباسط مرحوم تو اس رات
چھا گئے… اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائے… یہ سب حضرات کتنے خوش نصیب ہیں کہ…ایسی
پیاری آوازوں میں ایسی پیاری آیت پڑھ گئے کہ… جو بھی سنتا ہے اُن کے لیے دعاء کی
جھولی پھیلا دیتا ہے…
جبکہ دوسری طرف …وہ منحوس اور بد نصیب لوگ ہیں…جو گانے گا
کر مر گئے… موسیقی اور میوزک بجا کر قبروں میں جا گرے… لوگ اب بھی ان کو سنتے ہیں
اور گناہوں کے لئے قوت حاصل کرتے ہیں…نہ کوئی دعاء مغفرت اور نہ کوئی آخرت کا
سرمایہ… یہ گانے بجانے والے لوگ پہلے میراثی، ڈوم اور ڈمان کہلاتے تھے… اور کچھ ان
میں سے ’’ بھانڈ ‘‘ بھی ہوتے تھے… پھر شیطان کی طاقت و حکومت بڑھی تو… اس نے انہیں
فنکار، موسیقار اور سٹار جیسے نام دے دئیے … ماضی کے میراثی اور بھانڈ… اپنی ’’ بے
غیرتی ‘‘ میں مشہور تھے… وہ زبردستی لوگوں کے گھروں اور تقریبات میں آتے… اور
گانا بجانا شروع کر دیتے… لوگ ان کو لاکھ بھگاتے یا دھتکارتے مگر وہ ٹس سے مس نہ
ہوتے… اور کچھ نہ کچھ پیسے وغیرہ لے کر ہی دفع ہوتے… اب جبکہ ان کا نام فنکار،
آرٹسٹ اور معلوم نہیں کیا کیا پڑ گیا ہے… ان کی پرانی خصلت ابھی تک نہیں بدلی…
کئی پاکستانی میراثی اور بھانڈ… فلموں میں کام کرنے کے لئے انڈیا میں ذلیل ہو رہے
ہیں… اب انڈیا والے ان کو دھکے دے دے کر وہاں سے نکال رہے ہیں… مگر یہ لوگ ٹس سے
مس نہیں ہو رہے … اور اپنے ملک اور اپنی مٹی کو کافروں کے سامنے رسوا کر رہے ہیں…
اگر ان میں ایک رائی کے دانے برابر غیرت ہوتی تو… اتنے بدترین سلوک کے بعد کبھی
انڈیا کی طرف تھوکنا بھی گوارہ نہ کرتے … مگر ان میراثیوں کو کون سمجھائے… مال ،
پیسے اور بے حیائی کی لالچ میں یہ خود بھی ذلیل ہو رہے ہیں… اور اپنے ملک کو بھی
رسوا کر رہے ہیں… حکومت کو چاہیے تھا کہ… ایسے لوگوں کا نام فورتھ شیڈول میں
ڈالتی… ان کے اثاثے منجمد کرتی … ان کے پاسپورٹ ضبط کرتی… اور ان سے اچھی طرح
تفتیش کرتی… مگر چونکہ یہ سب لوگ بے دین ہیں، بے نمازی اور بے ریش ہیں… بے حمیت
اور بے عمامہ ہیں… اس لئے حکومت کو ان سے کوئی مسئلہ نہیں… یا اللہ! ’’آیۃ الکرسی‘‘
کی برکت سے ہمارے ملک کی ’’کرسی‘‘ پر کوئی ایسا مسلمان بٹھا… جس پر ’’آیۃ
الکرسی‘‘ کا توحید والا رنگ ہو… آئیے! اپنی اس دعاء کو اوپر بھیجنے کے لئے… دل کی
گہرائی سے ’’ آیۃ الکرسی‘‘ پڑھتے ہیں
اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ( الیٰ آخرہا)
اسم اعظم والی
ایک روایت میں فرمایا گیا ہے کہ… اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم
ان دو آیتوں میں ہے…
١ ﴿اَللہُ
لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الْحَیُّ اٗلْقَیُّوْمُ﴾… (سورۂ بقرہ)
٢ ﴿الٓمّٓO اَللہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الْحَیُّ
الْقَیُّوْمُ ﴾…(سورۂ آل عمران)
( مسند احمد عن اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا )
دوسری روایت میں فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کا وہ اسم اعظم
جس کے ذریعے سے مانگی جانے والی دعاء قبول ہوتی ہے… ان تین سورتوں ١ سورۂ بقرہ ٢
سورۂ آل عمران ٣ سورۂ طٰہٰ میں ہے۔(ابن مردویہ)
پہلی دو سورتوں کی آیات تو اوپر والی روایت میں آ گئیں
جبکہ سورۂ طٰہٰ کی آیت مبارکہ یہ ہے۔
﴿وَعَنَتِ الْوُجُوْہُ لِلْحَیِّ
الْقَیُّومِ﴾
ان دو روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے … بعض اہل علم کا قول ہے
کہ… اسم اعظم… ﴿اَللہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ﴾ ہے…جبکہ
بعض نے فرمایا ہے کہ…اسم اعظم ﴿ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ﴾ ہے… بہرحال ’’اسم اعظم ‘‘
کے بارے میں کئی اقوال ہیں… مگر یہ بات تو واضح ہے کہ ’’آیۃ الکرسی‘‘ میں اسم
اعظم موجود ہے …اور ویسے بھی یہ پوری آیت مبارکہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے بھری ہوئی
ہے… اس ایک آیت مبارکہ… یعنی آیۃ الکرسی میں اللہ تعالیٰ کا ذکر سترہ بار آیا
ہے… پانچ بار تو ظاہری الفاظ میں… جبکہ بارہ بار ’’ضمائر ‘‘ میں… اکثر لوگ جب شمار
کرنے بیٹھتے ہیں تو ان سے سترہ کا عدد پورا نہیں ہوتا ہے… اس لئے ہم وہ سترہ
مقامات یہاں درج کر رہے ہیں…
١
{اَللہُ}…اَللہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ۔
٢
{ھُوَ}…اَللہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ۔
٣ {اَلْحَیُّ}
٤
{اَلْقَیُّوْمُ}
٥ {ہ
}… لَا تَأخُذُہٗ۔
٦
{ہ}… لَہٗ مَا فِیْ السَّمٰوَاتِ۔
٧
{ہ}… مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗ۔
٨
{ہ }… اِلَّا بِاِذْنِہٖ۔
٩
{ھُوَ}… یَعْلَمُ مَا بَیْنَ أَ یْدِیْھِمْ … یَعْلَمُ میں’’ھُوَ ‘‘پوشیدہ ہے۔
١٠ {ہ }… مِنْ عِلْمِہٖ۔
١١ {ھُوَ}… جو’’ بِمَا شَآءَ ‘‘ میں پوشیدہ ہے۔
١٢ {ہ }… کُرْسِیُّہُ السَّمٰوَاتِ وَاْلاَرْضَ ۔
١٣ {ہ}… وَلَا یَؤٗدُہٗ ۔
١٤ {ھو}… یہ ’’حِفْظُھُمَا‘‘ میں پوشیدہ ہے… کیونکہ جب
مصدرمفعول کی طرف مضاف ہو تو فاعل مضمر ہوتا ہے… تقدیر اس طرح ہو گی… وَلَا
یَؤٗدُہٗ أَنْ یَحْفَظَھُمَا أَیْ ھُوَ۔
١٥ {ھُوَ}… وَھُوَ اْلعَلِیُّ اْلعَظِیْمُ ۔
١٦ {اَلْعَلِیُّ}
١٧ {اَلْعَظِیْمُ }
آئیے! سترہ بار اللہ تعالیٰ کے ذکر کو دھیان میں رکھ کر
ایک بار’’ آیۃ الکرسی‘‘ پڑھ لیتے ہیں۔
اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ( الیٰ آخرہا)
دس جملے
’’آیت الکرسی‘‘ کے مقابلے میں
کوئی ’’باطل کلام‘‘ نہیں ٹھہر سکتا… کوئی جادو، کوئی منتر، کوئی تنتر ، کوئی شعبدہ
یا کوئی شیطانی تصرف… آیۃ الکرسی کے مقابلے میں ذرہ برابر طاقت نہیں رکھتا… ماضی
میں بعض جادوگروں نے سخت محنت کر کے شیطانی طاقتوں کو…اپنے ساتھ لیا اور عجیب
شعبدے دکھا کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی … ان میں سے کوئی آگ میں کود جاتا
تھا اور کوئی ہوا میں اڑنے لگتا تھا… مگر جب اہل حق میں سے کوئی اس کے سامنے
’’آیۃ الکرسی‘‘ پڑھتا تو اس کا جادو فوراً ٹوٹ جاتا… کیونکہ جادو سفلی کوڈ ہے…
جبکہ آیۃ الکرسی روحانی طاقتوں کا سب سے بڑا کوڈ ہے… آیۃ الکرسی کی تفسیر غورو
فکر سے پڑھی جائے تو اس میں علم کا بے کراں سمندر نظر آتا ہے اور اس کا ہر جملہ
انسان کو عجیب روحانی ترقی اور پرواز عطاء فرماتا ہے… آیۃ الکرسی کی مکمل تفسیر
لکھنے کا تو یہ موقع نہیں…بس مختصر طور پر اس کے دس جملے اور ان کا ترجمہ یہاں پیش
کیا جا رہا ہے…
١ {اَللہُ
لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ } … اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں … صرف اللہ
تعالیٰ ہی ’’الٰہ‘‘ ہے۔
٢ {الْحَیُّ القَیُّومُ }… وہ زندہ ہے، سب کا تھامنے
والا… موت اور محتاجی سے پاک۔
٣
{لَا تَاْخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّلَا نَوْمٌ}… نہ اس کو اونگھ دبا سکتی ہے نہ نیند… غفلت
اور کمزوری سے پاک۔
٤
{لَہٗ مَا فِیْ السَّمٰوَاتِ وَمَا فِیْ الْاَرْضِ}… آسمانوں اور زمین میں جو کچھ
ہے سب اسی کا ہے… ہر چیز کا اصل مالک وہی ہے… ہر چیز پر اسی کا حکم چلتا ہے۔
٥ {
مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗ اِلَّابِاِذْنِہٖ}… ایسا کون ہے جو اس کی
اجازت کے بغیر اس کے ہاں کسی کی سفارش کر سکے…اللہ تعالیٰ کی عظمت ، قہر ، ہیبت
اور جلال کہ…قیامت کے دن کوئی اس کی اجازت کے بغیر نہ بول سکے گا اور نہ کسی کی
سفارش کر سکے گا۔
٦
{یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ}… وہ مخلوق کے تمام حاضر اور
غائب حالات کو جانتا ہے… اس کے علم کی وسعت کہ جو ہو چکا ، جو ہو رہا ہے اور جو ہو
گا… جو سامنے ہے یا مخلوق سے اوجھل ہے… وہ سب اس کے علم میں ہے… اس کے علم کے
سامنے زمانے کا کوئی فرق نہیں … حال ہو یا مستقبل۔
٧ {وَ
لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِہٖ اِلَّا بِمَا شَآءَ}… اور وہ اس کی
معلومات میں سے کسی چیز تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے … اللہ
تعالیٰ کا علم اور معلومات ناقابل تسخیر ہیں …کوئی ان تک نہیں پہنچ سکتا… ہاں! یہ
اس کا فضل کہ… وہ کچھ علم اور معلومات اپنی مخلوق کو عطاء فرماتا ہے …جتنا وہ
چاہتا ہے۔
٨
{وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ}…اس کی کرسی نے سب آسمانوں اور
زمین کو اپنے اندر لے رکھا ہے…کرسی سے مراد یا تو واقعی ’’کرسی‘‘ ہے۔ اللہ تعالیٰ
کے قدموں کی جگہ… جیسا کہ اس کی شان کے مطابق ہو… نہ اس کے قدموں کی کوئی مثال اور
نہ اس کی کرسی کی کوئی مثال… یہ عظیم کرسی اتنی بڑی کہ سات آسمان اور سات زمینیں
اس میں یوں سما جائیں جس طرح… ایک انگوٹھی کسی صحرا میں … اللہ تعالیٰ کی عظیم
الشان مخلوقات بے شمار ہیں… انسان کی سوچ سے بہت بلند ، بہت دور۔
٩ {وَلَا
یؤٗدُہٗ حِفْظُھُمَا}… آسمان و زمین کو سنبھالنا اللہ تعالیٰ کے لئے کچھ دشوار
نہیں… اس نے ہی ان کو بنایا… وہی ان کو چلا رہا ہے وہی ان کی حفاظت فرما رہا ہے
اور وہی جب چاہے گا ان کو ختم فرمائے گا اور یہ سب کچھ اس کے لئے کچھ مشکل نہیں…
عظیم قدرت، عظیم طاقت، عظیم شان۔
١٠ { وَھُوَ اْلعَلِیُّ اْلعَظِیْمُ} …وہ بلند ہے… اور
عظیم ہے… ذات بھی بلند، صفات بھی بلند… سب سے اوپر، سب کے اوپر… سب پر غالب … سب
پر قاہر… اور سب سے عظیم اور بڑا… اللہ اکبر۔
آئیے!… ان دس جملوں کو یقین کے ساتھ دل میں اُتارتے ہوئے
…آیۃ الکرسی پڑھتے ہیں۔
اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ( الیٰ آخرہا)
دو طرفہ تعلق
سونا قیمتی ہوتا ہے… مگر اُسی کے لئے جس کے پاس ہو… پانی
پیاس بجھاتا ہے مگر اسی کی جو اسے پئے… ’’آیۃ الکرسی‘‘ بڑی عظیم نعمت ہے … مگر
اسی کے لئے جو اسے پائے… ایک مسلمان ’’آیۃ الکرسی‘‘ سے وہ وہ فائدے اٹھا سکتا ہے
جو ارب پتی مالدار اپنے مال سے نہیں اٹھا سکتے … لیکن ’’آیۃ الکرسی‘‘ کا فائدہ
اسی کو ملتا ہے جو اس کے مطالبات اور تقاضے پورے کرے… اگر کوئی شخص شرک کرتا ہو…
غیر اللہ کے نام کی نذر و نیاز دیتا ہو … مزاروں پر جا کر منتیں مانتا ہو… نجومیوں
، جادوگروں اور عاملوں کے قدموں میں گرتا ہو…طاغوتوں، ظالم حکمرانوں اور منافقوں
کے تلوے چاٹتا ہو… ایسے شخص کو ’’آیۃ الکرسی‘‘ سے کیا فائدہ ملے گا؟… آیت الکرسی
کا پہلا سبق اور پہلا جملہ ہی یہی ہے کہ…صرف ایک اللہ تعالیٰ سے جڑو… اس کے سوا نہ
کسی کو معبود مانو …نہ مشکل کشا اور نہ حاجت روا… جس پر بھی موت آتی ہو وہ معبود
نہیں ہو سکتا… آیۃ الکرسی کا پہلا تقاضہ یہ ہے کہ… ہم عقیدۂ توحیدپرپختہ ہوں …
ہم آیۃ الکرسی کے ہر جملے پر مکمل ایمان لائیں… اور دل سے یقین رکھیں … ہم آیۃ
الکرسی کو درست تلفظ کے ساتھ پڑھنا سیکھیں … اور پھر ہم یقین اور محبت کے ساتھ
آیۃ الکرسی کو اپنا ورد بنا لیں … یاد رکھیں!…یہ آیت بہت بڑا خزانہ ہے… جو اسے
جتنا اپناتا ہے وہ اسی قدر اس سے فائدہ پاتا ہے… آئیے! اخلاص کے ساتھ ایک بار
آیۃ الکرسی پڑھ لیں…
اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ( الیٰ آخرہا)
بڑی ضرورت
’’آیۃ الکرسی‘‘ موجودہ زمانے میں ہم مسلمانوں
کی بڑی ضرورت ہے… آپ قرآن مجید کے اس مقام کو دیکھیں جہاں ’’آیۃ الکرسی‘‘ آئی
ہے۔ سورۂ بقرۃ میں تیسرے پارہ کا آغاز … وہاں آیات کے ربط سے یہی سمجھ آتا ہے
کہ… جب باہمی لڑائیاں اور اختلافات شدید ہو جائیں… نہ کوئی منزل رہے نہ کنارہ…
اوردنیا محبوب اور آخرت فراموش ہو جائے تو…ایسے وقت میں توحید کا رنگ اور آیۃ
الکرسی کا نور… دلوں اور قوموں کو سنبھالتا ہے… اللہ تعالیٰ ہمیں یہ نعمت نصیب
فرمائے…آئیے!ایک بار پھر آیۃ الکرسی پڑھ لیتے ہیں۔
اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ( الیٰ آخرہا)
لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ
محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ
الْقَیُّوْمُ…اَللّٰہُ اَحَد… اَللّٰہُ نَاصِرُنَا ، اَللّٰہُ حَافِظُنَا،
اَللّٰہُ نَاظِرُنَا، اَللّٰہُ مَعَنَا… لَآ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ
اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ… حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ…
مَاشَآئَ اللّٰہُ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ… وَاُفَوِّضُ اَمْرِیْ اِلَی
اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ بَصِیْرٌ بِالْعِبَادِ۔
اللہ تعالیٰ توفیق عطاء فرمائے… ان تمام مبارک کلمات کو ایک
بار پڑھ لیں۔
تعزیت
اُستاذ محترم حضرت مولانا منظور احمد نعمانی قدس سرہ کے دست
راست… مایہ ناز فاضل، پیکر عجزوو فا حضرت مولانا حاجی ’’احمد‘‘ صاحب وفات پا گئے…
انا للہ وانا الیہ راجعون… غالباً ۱۹۹۰ء میں اُن سے پہلی ملاقات ’’ افغانستان‘‘ صوبہ خوست کے
جہادی مرکز ’’ژاور‘‘ میں ہوئی تھی … حضرت نعمانی رحمہ اللہ ایک وفد میں وہاں تشریف لائے …بندہ کو میزبانی
کا شرف حاصل ہوا… اپنے مرکز میں حضرت کے بیان کے بعد ہم ان کے وفد کو عربوں کے
معسکر الفاروق لے گئے… وہاں مجاہدین کا مظاہرہ تھا… کچھ مجاہدین کیموفلاج حالت میں
نمودار ہوئے تو حضرت کے وفد میں سے ایک دیہاتی حلیے والے صاحب پکار اُٹھے: ’’او
ڈیکھو گھٹے آندے پِن‘‘ …وہ دیکھو مینڈھے آ رہے ہیں… ان کے اس فرمان پر جہاں
قہقہے بلند ہوئے وہاں وہ خود بھی نظروں میں آ گئے… معلوم ہوا کہ سرتاپا دیہاتی
حلیے میں ملبوس یہ صاحب…مایہ ناز عالم دین اور بلند پایہ مدرس ہیں …مگر اس پورے
سفر میں وہ اپنی یہ بے ساختہ سادگی ہی بکھیرتے رہے… نہ بیان فرمایا اور نہ کبھی
علمیت دکھائی… اللہ تعالیٰ اُن کو مغفرت اور رفع درجات کا اعلیٰ مقام نصیب
فرمائے…اُن کے اہل خانہ اور تلامذہ سے قلبی تعزیت ہے۔
وضاحت
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ…اس نے ’’مکتوب خادم‘‘ کے سلسلے کو
جاری فرمایا ہوا ہے… میرے ذاتی اور پھر جماعتی حالات کے تحت یہ سلسلہ بظاہر مشکل
اور نا ممکن نظر آتا ہے… مکتوب لکھنا، اسے پہنچانا ، اسے چلانا یہ سب مراحل ہمارے
حالات کے پیش نظر آسان نہیں ہیں… لیکن ’’الحمد للہ‘‘ یہ سلسلہ چل رہا ہے اور
’’ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ ‘‘ دنیا بھر میں مسلمانوں کو اس سے فائدہ پہنچ رہا
ہے… مکتوب کے معاملہ میں ہمارے جو رفقاء محنت اور جانفشانی کرتے ہیں اُن کے لئے دل
کی گہرائی سے دعاء نکلتی ہے… اور جو حضرات و خواتین پھر مزید اسے آگے پھیلاتے ہیں
اُن کے لئے بھی دل سے ڈھیروں دعائیں ہیں… مکتوب عمومی طور پر ’’استخارے‘‘ اور
جماعتی حالات و مہمات کے زیر اثر رہتا ہے… مگر کبھی کبھار اس میں کسی کی وفات کی
خبر اور نماز جنازہ کی دعوت بھی آ جاتی ہے… لیکن حقیقت میں یہ ’’مکتوب‘‘ کا اصل
موضوع اور مقصد نہیں ہے… اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ ہر شہادت اور ہر وفات پر مکتوب
جاری ہو… بعض اوقات رفقاء کی طرف سے تقاضہ آ جاتا ہے کہ… فلاں کی وفات پر مکتوب
آ جائے… یہ تقاضہ طبیعت پر بہت بھاری پڑتا ہے… کیونکہ کبھی سفر، کبھی حضر… کبھی
اسباب دستیاب ، کبھی مفقود… اور ہر مکتوب کم از کم تین چار افراد کی…کم از کم تین
چار گھنٹے کی محنت مانگتا ہے… اس لئے ازراہ کرم ایسا مطالبہ نہ کیا کریں… ویسے بھی
رنگ و نور اور مکتوبات کو سب مسلمانوںکے لئے’’ آزاد اور کھلا‘‘ رہنا چاہیے… اور
ان کو فرمائشوں اور مطالبات کا تابع نہیں بننا چاہیے… اسی لئے کئی افراد مجھے
جماعت کے بارے میں اپنے خواب اور بشارتیں لکھ کر بھیجتے ہیں کہ… ان کو رنگ و نور
یا مکتوب میں دے دیں تو میں ان سے معذرت کر لیتا ہوں کہ… اگر کوئی خواب اچھا ہے تو
اس کی تعبیر خود آ جائے گی…اور ہر شخص اپنے خواب کو خود سنبھالے…اسی طرح اور بھی
کئی فرمائشیں آتی ہیں… جن پر معذرت یا خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے… اللہ تعالیٰ
اپنے فضل سے ہم سب کی نصرت اور رہنمائی فرمائے… اور ہمیں دین کے مقبول کاموں سے
محروم نہ فرمائے… آمین یا ارحم الراحمین
انڈیا نوازی
ملکی اور سیاسی حالات آپ سب مجھ سے زیادہ جانتے ہیں… اس
وقت جبکہ میں یہ الفاظ لکھ رہا ہوں…یکم نومبر2016 کی تاریخ ہے…
ملک چاروں طرف سے خطرات میں گھر چکا ہے…اور سرحدوں پر انڈین
فورسز مسلسل دہشت گردی کر رہی ہیں… ادھر مقبوضہ کشمیر میں… مظالم کی کالی آندھی
بدستور چل رہی ہے… مگر کشمیری ماں اور کشمیری بیٹے چٹانوں کی طرح ڈٹے ہوئے
ہیں…ملکی تاریخ میں یہ پہلا سنہری موقع تھا کہ حکومت موجودہ حالات سے فائدہ
اُٹھاتی اور انڈیا کو اس کی اوقات یاد دلاتی… مگر ملک کی سیاسی حکومت کے انڈیا کے
ساتھ کئی طرح کے خفیہ اور دیرینہ تعلقات ہیں…اسی لئے وہ مجاہدین کشمیر کو دبا کر
انڈیا کو خوش کرنے کی کوشش کر رہی ہے… حسبنا اللہ ونعم الوکیل…
کھلی آنکھوں سے
چند دن پہلے کسی ایران نواز پاکستانی کالم نویس نے… سعودی
حکومت کے خلاف ایک مضمون لکھا ہے… اس میں وہ ایران کو سامراج دشمن اور سعودیہ کو
سامراج نواز قرار دیتا ہے… حالانکہ ساری دنیا کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے کہ…آج
’’ موصل ‘‘ پر امریکہ اور ایران ایک دوسرے سے کندھا ملا کر ’’حملہ آور‘‘ ہیں…
پہلے دکھاوے کے لئے ہی سہی مگر یہ دونوں ملک آپس میں ظاہری فاصلہ رکھتے تھے… مگر
’’موصل ‘‘ کی جنگ میں ان کی مکمل یاری، دوستی اور ناجائز تعلقات کی کیفیات کھل کر
سب کے سامنے آ گئی ہیں…اب بھی اگر کوئی شخص ایران کو ’’سامراج مخالف‘‘ سمجھتا ہے
تو اسے کیا کہا جا سکتا ہے؟ … کالم نویس نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ… ایران جس ملک
میں بھی مداخلت کر رہا ہے وہاں وہ سامراج کے خلاف لڑنے والی طاقتوں سے تعاون کر
رہا ہے… حالانکہ یہ کھلا جھوٹ ہے… افغانستان میں ’’امارتِ اسلامی‘‘ سامراج کے خلاف
سب سے بڑا جہاد کر رہی ہے… مگر اسے ایرانی حمایت نہیں بلکہ ایرانی دشمنی کا سامنا
ہے… عراق میں بھی ایران اور امریکہ متحد ہیں…باقی رہ گیا شام تو وہاںبھی… اب ایران
اور امریکہ ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں…
اہل اسلام سے گذارش ہے کہ…وہ حلب اور موصل کے مسلمانوں کے
لئے خاص دعاؤں اور توجہات کا اہتمام کریں… موصل پر دنیا بھر کا کفر چڑھ دوڑا ہے…
دوسری طرف ’’دولت اسلامیہ ‘‘ کے دنیا بھر میں پھیلے نام نہاد بے وقوف حامیوں نے
اپنے کرتوتوں کی وجہ سے… اہل ایمان کی دعاؤں والے ہاتھ باندھ دیئے ہیں…پاکستان ہو
یا افغانستان…سعودیہ ہو یا امارات… دولت اسلامیہ کے نام نہاد حامیوں نے ایسی
بھونڈی حرکتیں کی ہیں کہ…مسلمانوں کے کلیجے چھلنی کر دئیے ہیں… چنانچہ دعاؤں کا
وہ لشکر جو عسکری لشکر کی کمر پر تھا وہ کمزور پڑ گیا…اور اس کا خسارہ عراق و شام
میں دولت اسلامیہ کو بھگتنا پڑا… اللہ تعالیٰ برے حامیوں اور بے وقوف دوستوں سے ہر
اسلامی لشکر کی حفاظت فرمائے… بہرحال جو کچھ بھی ہو… موصل پر کفر کی یلغار اور حلب
پر کفر کے حملے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا…دعاؤں کے ہاتھ پھیلا دیں…
لاالہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد
رسول اللّٰہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہی سے دین پر ’’استقامت‘‘ کا سوال ہے…
اَللّٰھُمَّ یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قُلُوْبَنَا
عَلیٰ دِیْنِکَ۔
امریکی انتخابات
آج 8 نومبر 2016ء بروز منگل… امریکہ میں صدارتی انتخابات
ہونے والے ہیں…دیکھیں دو فتنوں میں سے کون سا فتنہ مسلط ہوتا ہے… ایک طرف
’’ہیلری‘‘ ہے اور ایک طرف ’’ٹرمپ‘‘… ایک ’’ناگ‘‘ ہے اور ایک ’’ناگن‘‘…
اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْفِتَنِ مَا
ظَھَرَ مِنْھَا وَمَابَطَنَ۔
زیادہ امکان ’’ہیلری‘‘ کا ہے… لیکن اگر ’’ٹرمپ‘‘ آ جائے تو
فائدہ ہو گا…کیونکہ’’کفر ‘‘ جتنا سخت اور جتنا واضح ہو…مسلمان اسی قدر جلد بیدار
اور مضبوط ہوتے ہیں… کفر ہر حال میں کفر ہوتا ہے… جس طرح مہلک زہرہرحال میںزہر
ہوتا ہے…لیکن میٹھا زہر اور میٹھا کفر…زیادہ خطرناک ہوتا ہے… جیسے انڈیا میں ’’ بی
جے پی‘‘ کے آنے سے کشمیر کی تحریک پھرگرم ہوئی… انڈیا کے مسلمان زیادہ بیدار ہوئے
اور ان کے دین میں پختگی آئی… ’’کانگریس‘‘ میٹھا زہر تھا… اور ’’بی جے پی‘‘ کڑوا
زہر… کڑوے زہر سے لوگ آسانی سے بچ جاتے ہیں… ’’ٹرمپ‘‘ اگر آ گیا تو جہاد کو بہت
فائدہ ہو گا… بلکہ دنیا دیکھ لے گی کہ امریکہ خود ’’محاذ ‘‘ بن جائے گا…کفر جب بھی
نفاق کا چولا اتار کر کھلی دشمنی پر آتا ہے تو اسلام اور مسلمانوں کو قوت ملتی
ہے… ابو جہل تھا تو ’’غزوۂ بدر‘‘ آیا…
دجال آئے گا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی رضی اللہ عنہ جیسے مجاہدین تشریف لائیں گے…
امریکہ کے خفیہ ادارے ’’ٹرمپ ‘‘ کو خود سامنے لائے ہیں…تاکہ مسلمانوں کو ڈرایا جا
سکے کہ…اگر تم باز نہ آئے تو ’’ٹرمپ‘‘ جیسے لوگ بھی آ سکتے ہیں جو مکمل صفایا کر
دیں گے… اب ممکن ہے کہ… ٹرمپ کو ہرا دیا جائے کیونکہ مقصد صرف اس کا خوف پھیلانا
تھا…مگر خفیہ ادارے اسلام اور مسلمانوں کی فطرت کونہیں سمجھتے… ہر مسلمان کو کلمہ
پڑھنے کے بعد اس بات کا مکمل اطمینان ہوتا ہے کہ… اسلام ختم نہیں ہو سکتا اور
مسلمانوں کا صفایا نہیں ہو سکتا… یہ امت آخری امت ہے… اس نے آخر تک رہنا ہے…
دنیا کے سارے ایٹم بم ایک ہی وقت میں چلا دئیے جائیں تب بھی اسلام اور مسلمان ختم
نہیں ہو سکتے… یہ قرآن عظیم الشان کا سچا وعدہ ہے… یہ حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی مقبول دعاء کا معجزہ ہے… اس لئے مسلمان بے
فکر ہو کر لڑتے ہیں… اور کسی بڑے سے بڑے اور خطرناک سے خطرناک دشمن کی دم پر پاؤں
رکھنے سے بھی نہیں ڈرتے… ہاں! یہ اُمتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے… یہ بنی اسرائیل نہیں…ہاں! واللہ ثم واللہ!
یہ بنی اسرائیل نہیں…غزوۂ بدر اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی اس اُمت کے لئے مثال ہیں… نہ کہ بنی اسرائیل…
ہاں! اس اُمت کے بعض بد نصیب لوگوں کے لئے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ وعید سنائی ہے کہ… وہ یہود و نصاریٰ یعنی
بنی اسرائیل کے طریقوں کو اپنائیں گے… اور اُنہی کے طریقوں پر چلیں گے۔
یا اللہ! اس ’’وعید ‘‘ سے ہم سب کی حفاظت فرما۔
ماضی کا منظر نامہ
ساری دنیا پر کفر چھایا ہوا تھا…ہر طرف شیطان کی حکومت
تھی…روئے زمین کا ایک چپہ بھی اس کی حکمرانی سے محفوظ نہیں تھا… حتٰی کہ کعبہ شریف
میں بھی بتوں کی شیطانی پوجا جاری تھی… آسمانی دین بگڑ چکے تھے…بس کچھ لوگ ہی
اسلامی ادیان پر مکمل عمل پیرا تھے وہ بھی کمزور، بے بس، بے اختیار اور دور دور
بکھرے ہوئے تھے…ان حالات میں مکہ مکرمہ میں ایک نور چمکا… حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ’’بعثت ‘‘ہوئی… اور پھر ایک نہ ختم ہونے والی
جنگ اور لڑائی شروع ہو گئی…یہ لڑائی قرب قیامت تک رہے گی… اس لڑائی میں بس دو لشکر
ہیں… ایک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر… اور ایک کفر و شیطان اور نفاق کا لشکر…
اس جنگ میں … کوئی غیر جانبدار نہیں رہ سکتا… ہر کسی کو ان دونوں لشکروں میں سے
ایک کا انتخاب کرنا ہو گا… اور اس لڑائی میں حصہ لینا ہو گا… جن کی قسمت اچھی ہوتی
ہے… وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر کا حصہ بنتے ہیں… اور جو ( نعوذ باللہ)
شقی، محروم اور بد نصیب ہوتے ہیں… وہ دوسری طرف کے لشکر میں شامل رہتے ہیں…
’’محمدی لشکر‘‘ کے بانی، امام، امیر اور رہبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب غار حرا سے’’ نور نبوت‘‘ لے کر اُتر رہے تھے
تو … یہ لشکر بس ایک فرد پر مشتمل تھا… جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر پہنچے تو … لشکر میں اضافہ ہوا اور افراد دو
ہو گئے اور اسی دن … دو اور افراد بھی لشکر کا حصہ بن گئے … اور تعداد چار ہو گئی…
دو مرد ، ایک عورت اور ایک بچہ… اور مقابلہ تھا ساری دنیا کے شیطانی طاغوتی نظام
سے … یہ منظر سوچتے ہوئے بھی انسان کے اعصاب جواب دے جاتے ہیں… دنیا میں جو بھی
کسی دعوے کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے… اس کے ساتھ کوئی کنبہ ، کوئی قبیلہ، کوئی لسانی
جتھا… کوئی طاقت ہوتی ہے… مگر یہ لشکربس ان چار نفوس پر مشتمل تھا… اور باقی ہر
کوئی دشمن… کام شروع ہوا تو ترقی کم اور مشقت زیادہ تھی… چالیس افراد بنتے بنتے
کئی سال بیت گئے…اور کئی قیامتیں ٹوٹ گئیں۔
مگر مدنی لشکر…کبھی حوصلہ نہیں ہارتا… مدنی لشکر کبھی پیچھے
مڑ کر نہیں دیکھتا… مدنی لشکر کبھی اپنے مقصد کو نہیں بھولتا… استقامت اور مسلسل
محنت اس لشکر کی وہ شان ہے…جو دنیا کے کسی اور لشکر میں نہیں ہے… لشکر مکہ مکرمہ
میں تیار ہو رہا تھا… اور چھاؤنی مدینہ منورہ میں بن رہی تھی… لشکر اور چھاؤنی
اکھٹے ہوتے ہیں تو …جہاد شروع ہو جاتا ہے۔
اور پھر وہ شروع ہو گیا…اور زخم کھاتا، گرتا پڑتا…مسلسل قدم
بڑھاتا… دنیا بھر میں پھیلتا چلا گیا۔
اگلا منظر نامہ
مدنی لشکر کے جہاد کی بھی یہی شان تھی… استقامت اور مسلسل
محنت… چنانچہ وہ نہ فتح میں اِترایا… اور نہ ظاہری شکست میں گھبرایا… وہ نہ کہیں
اَکڑ کر رکا… اور نہ کہیں زخم کھا کر گرا… وہ نہ بانہیں پھیلاتی دنیا کی ہری بھری
گود میں رکا… اور نہ منہ موڑتی صدمے پہنچاتی مصیبتوں میں اَٹکا… وہ چلتا گیا… اور
زمین اُس کے آگے بچھتی گئی… وہ اسلام کو لے کر بڑھتا گیا اور کفر کا نظام دنیا سے
سمٹتا گیا…ہاں! محمدی لشکر یعنی مدنی لشکر نے وہ فتوحات حاصل کیں جو دنیا کی کوئی
قوم کبھی حاصل نہ کر سکی… صرف تیس سال کے عرصہ میں اسلام دنیا کی سب سے بڑی طاقت
بن گیا… ایک ناقابل شکست طاقت… روم کے روما سے بڑی طاقت… فارس کے کسریٰ سے بڑی
طاقت۔
بھیانک منظر نامہ
ایک ہزار سال تک دنیا کی سب سے بڑی طاقت رہنے والا ’’اسلام‘‘ پھر آزمائشوں کا شکار ہوا…
شیطان نے اپنے حواریوں کو… متحد کر لیا…کفر اور نفاق کا بندھن مضبوط ہوا… اور
مسلمانوں پر اندر باہر سے یلغاریں ہونے لگیں… نہ رکنے اور نہ مڑنے والا مدنی لشکر
بکھر گیا… اسلام کے اندر طرح طرح کے غیر اسلامی فتنوں نے زور پکڑا… حکومت کی کرسی
پر وہ عیاش افراد آ بیٹھے جن کے جسموں میں… نہ غیرت کا خون تھا اور نہ ایمان کا
نور… وہ بزدلی اور شہوت پرستی کا بھوسہ تھے… مدنی لشکر کے اصل افراد اورمجاہد… جان
پر کھیل کر محنت کرتے رہے مگر وہ کمزور ہو چکے تھے… اور یوں بالآخر ایک دن… خلافت
اسلامیہ کا آخری علامتی مینار بھی گر گیا… پورے پورے خطے اسلام اور مسلمانوں سے
خالی کرا لیے گئے… ملکوں اور علاقوں کے نام اور تہذیب کو بدل دیا گیا… ظاہری طور
پر بہت سی زمینیں اور ملک مسلمانوں کے پاس رہے مگر… وہاں اسلامی حکومت کا نام و
نشان نہیں تھا… وہاں مدنی تہذیب پر پابندی تھی… مسلمانوں میں ظاہری عبادات رہ
گئیں… مگر ان میں عزت ، عظمت اور غیرت کی روح کو فناء کرنے کی ہر کوشش کی گئی…
یہاں تک کہ… مسلمان ظاہری طور پرآزاد… مگر حقیقت میں غلام بنا دیئے گئے… سیاسی غلام
، اقتصادی غلام ، تہذیبی غلام ، تعلیمی غلام… حالت یہاں تک جا پہنچی کہ …مسلمانوں
کے لئے نعوذ باللہ ’’سنت‘‘ ایک ذلت بنا دی گئی… اور ’’حیوانیت‘‘ ایک فیشن بن گئی…
غلامی کا یہ دورانیہ… تین سے چار سو سال تک چلتا گیا… مگر اسلام تو اسلام ہے… وہ
ختم نہ ہوا… مسلمان تو مسلمان ہے وہ بھی ختم نہ ہوا… اور پھر اچانک دھند اور دھول
کے اس اندھے طوفان کے سر پر جہاد کا سورج مسکرایا… کفر اور شیطان جو مکمل طور پر
مطمئن ہو چکے تھے…انہوں نے آنکھیں مسل مسل کر دیکھا تو حیران رہ گئے…مدنی لشکر
پھر جمع ہو رہا تھا…جہاد پھر للکار رہا تھا… اور دنیا میں اگلے مرحلے کی جنگ شروع
ہو چکی تھی۔
اعصاب شکن جنگ
چار سو سال کی غلامی…بہت بڑی مدت ہے… ان چار سو سالوں میں’’
کفر ‘‘نے اپنی طاقت حد درجہ بڑھا لی… کفر اور شیطان نے سر جوڑ کر اپنی ایک ہزار
سالہ شکست کے عوامل پر غور کیا… اور پھر قیامت تک کے غلبے کی تیاری باندھی…طرح طرح
کا مہلک اسلحہ… کفر کی غلامی پر فخر سکھانے والا تعلیمی نظام… اور انتہائی خطرناک
معاشی دادا گیری… اور پھر مغربی جمہوریت کا منحوس طریقہ کار… الغرض …مسلمانوں کے
لئے کسی میدان میں کچھ نہ بچا… اور ان کے لئے سوائے سر جھکا کر جینے کے…ا ور کوئی
راستہ نہ چھوڑا گیا… حتٰی کہ حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی قابل فخر، قابلِ رشک… داڑھی مبارک کی سنت
نعوذ باللہ مسلمانوں کے اندر… ایک مذاق بن گئی… اور اسلامی حدود و تعزیرات پر نعوذ
باللہ’’وحشت‘‘ کا لیبل لگا دیا گیا… اور پھر چوکیداری ایسی سخت کہ مسلمانوں کے کسی
ملک میں…اسلام کا ایک قانون بھی نافذ ہو تو ساری دنیا کے کتے مل کر اس قدر زور سے
بھونکنے لگتے ہیں کہ… بالآخر وہ قانون واپس لینا پڑتا ہے… اکثر مسلمانوں سے قرآن
مجید چھین لیا گیا… انہیں قرآن پڑھنا تک نہیں آتا… الغرض… مدینہ پاک کی ہر چیز
کو ہر جگہ شکست، قدامت، رجعت اور پسماندگی کا نشان بنایا جانے لگا… مگر کفر کی یہ
رات بالآخر ختم ہونی تھی… مدنی لشکر کے سپاہی جمع ہونے لگے… وہ حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی ایک ایک چیز کی
حفاظت کے لئے …سربکف میدانوں میں اُتر آئے… کفر نے جب یہ منظر دیکھا تو انہیں ختم
کرنے کے لئے پوری طاقت جھونک دی… مگر ’’مدنی لشکر‘‘ جب چل پڑتا ہے تو… ہوائیں اُس
کے ساتھ چلتی ہیں… اور دشمن تقسیم ہو جاتے ہیں…اور شیطان کی ہوا اُکھڑ جاتی ہے۔
ہاں! آج سے تقریباً سینتیس (۳۷) سال پہلے… مدنی لشکر کے جہاد کا ایک نیا دور شروع ہوا… چار سو سالہ غلامی کو
شکست دینے کے لئے اس لشکر نے عزم و ہمت کے ساتھ ’’مدنی جہاد‘‘ شروع کیا… اور پھر
زمین کا نقشہ اور اس کا رنگ بدلنا شروع ہو گیا… مگر ماضی کی جنگوں اور اس جنگ میں
ایک بڑا فرق ہے… ماضی کی جنگیں محدود وقت کے لئے ہوتی تھیں… مگر یہ نئی جنگ بہت
لمبی ہے، بہت لمبی… اور آپ جانتے ہیں کہ…لمبی جنگ اعصاب شکن ہوتی ہے… یہ انسانی
اعصاب کو توڑ دیتی ہے… اور بڑے بڑے ملکوں کو اندر ہی اندر دیمک کی طرح چاٹ کر گرا
دیتی ہے۔
مثال لیجئے
لمبی جنگ…ملکوں کو بھی تھکا دیتی ہے اور افراد کو بھی… لمبی
جنگ بڑی سے بڑی طاقت کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے… آپ سوویت یونین کو دیکھیں وہ
ایک خطرناک طاقت کے ساتھ آگے بڑھا… اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے سائبیریا کے
پہاڑوں سے …دریائے آمو تک کے میدانوں کو ہڑپ کر لیا… مگر پھر وہ افغانستان میں
آیا تو یہاں… اسے ایک لمبی اور طویل جنگ کا سامنا کرنا پڑا… لمبی جنگ آپ کو کیا
دیتی ہے؟…
روز کے خر چے، زخمیوں اور معذوروں کے ریلے… مسلسل فکر مندی…
بڑے بڑے قبرستان… مرنے والوں کے ورثاء کے لاوارث جتھے اور اسی طرح کی کئی چیزیں…
یہ سب کچھ سوویت یونین کو اندر ہی اندر سے پگھلاتا گیا… اور صرف دس سال میں دنیا
کا یہ مضبوط ترین ملک اور اتحاد ریزہ ریزہ ہو کر بکھر گیا… اور اب امریکہ بالکل
اسی صورتحال سے دوچار ہونے جا رہا ہے… کشمیر کی لمبی لڑائی نے انڈیا کو ایسا
کھوکھلا کر دیا ہے کہ… وہ ساری دنیا کی منتیں کر رہا ہے کہ…میں نے ایک سرجیکل
سٹرائیک کیا ہے… آپ لوگوں کو اگرچہ نظر نہیں آیا مگر مہربانی کر کے آپ اُسے مان
لیں… کیونکہ میں نے وہ سٹرائیک بہت چپکے سے چھوڑا ہے۔
اصل بات
یہ ساری تمہید عرض کرنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ…اب جو کفر اور
اسلام کی جنگ شروع ہو چکی ہے… یہ بہت لمبی اور اعصاب شکن جنگ ہے اور اس جنگ میں
صرف وہی فریق جیتے گا…جو زیادہ دیر تک لڑ سکا… آج کل کی جنگ ماضی کی جنگوں جیسی
نہیں ہے کہ… بادشاہ مار دو جنگ ختم …کسی کا امیر مار دو جنگ ختم…بڑا جرنیل مار دو
جنگ ختم …دوچار کرارے وار کردو جنگ ختم… نہیں اب ان چیزوں سے جنگ پر کوئی اثر نہیں
پڑتا… اب صرف اس بات کا اثر پڑتا ہے کہ …کون سا فریق کب تک میدان میں رہتا ہے… اور
کب تک میدان میں رہ سکتا ہے… اس لئے وہ خوش نصیب افراد جو اس زمانے میں ’’مدنی
لشکر‘‘ کا حصہ ہیں وہ …اپنا حوصلہ، اسٹیمنا اور عزم مضبوط کریں… وہ اگر بڑھتی عمر
کے تقاضوں ، مسلسل آزمائشوں اور اُکتا دینے والی صورتحال سے نہ گھبرائے …اور
میدان میں ڈٹے رہے تو اُن کے دشمن ایک ایک کر کے پگھلتے جائیں گے… اسی لئے ضروری
ہے کہ اپنے ایمان کی تجدید کرتے رہیں… اپنے عزم کو تازہ کرتے رہیں… اور مدنی لشکر
کی اصل شان کے مطابق… استقامت اور مسلسل محنت سے نہ اُکتائیں… آپ کی کوئی محنت
ضائع نہیں جا رہی مگر یہ جنگ ہی ایسی ہے کہ…فوری نتائج نہیں دکھاتی… اس لئے نہ
گھبرائیں…نہ تھکیں ، نہ اُکتائیں اور نہ پیچھے ہٹیں…
وَلَا تَھِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ
الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۔
لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ ،لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے… زمانے کے بڑے بڑے ’’بت‘‘ ٹوٹ رہے
ہیں…گر رہے ہیں… اہل ایمان اور اہل جہاد کی استقامت کو سلام…
کاش! اذان دیتے ذبح ہوتا
استقامت بڑی عظیم نعمت ہے… اہل استقامت کی زندگی بھی بہترین
ہوتی ہے اور موت بھی شاندار… مگر جو ’’استقامت‘‘ سے محروم ہو جاتا ہے… وہ کہیں کا
نہیں رہتا… کسی نے بڑی اچھی مثال پیش کی ہے… ایک ’’مرغا‘‘ تھا…اونچی آواز، اُٹھتا
قد اور بلندکلغی والا… اذان دیتا تو میلوں تک آواز جاتی… مگر پھر اس پر امتحان آ
گیا … مالک نے اسے کہا آئندہ اگر اذان دی تو ذبح کر دوں گا… ’’مرغا‘‘ موت کے ڈر
سے جھک گیا… اور اذان چھوڑ دی… چند دن بعد مالک نے کہا تم نے اگر آئندہ مرغیوں کی
طرح آواز نہ نکالی تو ذبح کر دوں گا… مرغے نے جان بچانے کے لئے ’’مرغی‘‘ کی آواز
نکالنا شروع کر دی…چند دن بعد مالک نے کہا تمہارے سر کی اُٹھی ہوئی کلغی اگر نہ
جھکی تو ذبح کر دوں گا… مرغے نے جان بچانے کے لئے… اپنی کلغی زمین پر رگڑ رگڑ کر
توڑ دی… چند دن بعد مالک نے کہا…اگر تم نے کل سے ’’ مرغی‘‘ کی طرح روز ایک انڈہ نہ
دیا تو تمہیں ذبح کر دوں گا… روشن خیال مرغا لرز کر رہ گیا… اب انڈہ کیسے دے…بے
اختیار رونے لگا اور کہنے لگا …ہائے کاش اذان دیتے ہوئے ذبح ہو جاتا… کسی اچھے کام
پر تو جان جاتی…جان بچانے کے لئے اذان سے محروم ہوا… خود کو ’’مؤنث ‘‘ بنایا…ہر
ذلت برداشت کی… مگر ظالم دباتے ہی چلے گئے…اور آج وہ مطالبہ کر دیا جو میں پورا
کر ہی نہیں سکتا… ذبح آج بھی ہونا ہے، دو چار دن پہلے ہو جاتا… لیبیا کا کرنل
قذافی مضبوط رہا، ڈٹا رہا…اپنی قوم کی آنکھوں کا تارا رہا، مگر جب بڑھاپے میں
جھکنا شروع کیا تو پھر دبانے والے دباتے ہی چلے گئے اور بالآخر جس قوم کی آنکھ
کا تارا تھا… اسی قوم نے لاتوں، مکوں ، گھونسوں سے کچومر نکال دیا…شیخ عمر مختار
رحمہ اللہ بھی اسی لیبیا سے تعلق رکھتے
تھے… اُن کو بھی موت آئی… مگر اذان دیتے ہوئے…لوگ آج بھی اُن کی زندگی محسوس
کرتے ہیں… اور قذافی کو بھی موت آئی مگر کس قدر ذلت ناک… اللہ تعالیٰ کی پناہ… اب
ہمارے ملک کے ساتھ کیا ہو رہا ہے… ’’مودی‘‘ نے پٹھان کوٹ حملے پر شور اُٹھایا
اورپاکستان حکومت پر دباؤ ڈالا… حکومت کے پاس ’’استقامت‘‘ کا راستہ موجود تھا…وہ
مودی کو دو ٹوک جواب دے دیتی کہ…کشمیر کے حالات ٹھیک کرو…یہ حملے کشمیر کی وجہ سے
ہیں… مگر ’’حکومت‘‘ جھک گئی، دب گئی… پٹھان کوٹ کا مقدمہ پاکستان کی سرزمین پر
دائر ہوا… اور پھر بزدلی کے اس فیصلے نے ہر طرف خون ہی خون پھیلا دیا… انڈین
حکمران یہ سمجھ بیٹھے کہ اب ہم پاکستان کو جھکاتے جائیں گے اور اسے کمزور کرتے جائیں
گے… چنانچہ پھر ہر حملے پر انہوں نے ’’ڈومور‘‘ کا مطالبہ شروع کر دیا… اور جب
مطالبہ پورا نہ ہوا تو بارڈروں پر آگ لگا دی … کیونکہ ان کے حوصلے بڑھ چکے تھے
اور عادت بگڑ چکی تھی… پس اسی تناؤ میںیہ تماشے کر رہے ہیں…لیکن اگر آج بھی
پٹھان کوٹ مقدمے کی ایف آئی آر ختم کر دی جائے… اس سلسلے میں پاکستان نے جو غلط
اقدامات کئے ہیں وہ واپس لے لئے جائیں تو انڈیا اپنی اوقات پر آ جائے گا… کیونکہ
’’مشرکین ‘‘ استقامت کے سامنے نہیں ٹھہر سکتے… لیکن اگر خدانخواستہ اس وقت انڈیا
کے دباؤ کو قبول کیا گیا تو پھر… تباہی بڑھے گی… اور وہ ’’انڈہ‘‘ دینے کے مطالبے
تک آ جائیں گے… اے ایمان والو!… کافروں کے سامنے نہ جھکو، یہ اللہ تعالیٰ کا
تاکیدی حکم ہے…یہ قرآن مجید کا فرمان ہے… اور اسی میں ہماری نجات، عزت،حفاظت اور
فلاح ہے۔
اچھی قسمت کا سوال
بات استقامت پر چل رہی تھی تو…ایک اور منظر ذہن میں آ گیا…
کئی مسلمان جوں جوں بوڑھے ہوتے جاتے ہیں… اسی قدر موت، قبر اور آخرت سے غافل ہوتے
جاتے ہیں… کئی بوڑھے حضرات کو دیکھا گیا کہ… اُن کی آخری عمر میں یہ فکر بن جاتی
ہے کہ…شہر سے باہر کھلی فضا میں کوٹھی ہو، فارم ہو…کیونکہ اب شہر والے مکان میں دم
گھٹتا ہے… اب اچھا سا کارخانہ اور کاروبار ہو وغیرہ وغیرہ… ہم ان کی بات نہیں کر
رہے جن کو نعوذ باللہ آخری عمر میں حرام قسم کے شوق ہو جاتے ہیں… غیر محرم عورتوں
سے اختلاط، شراب نوشی اور دیگر نشے وغیرہ… بات ان کی ہو رہی ہے جو کچھ نیک
ہیں…اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتے ، پہچانتے ہیں… مگر بد نصیبی کہ اب
جبکہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا وقت آن پہنچا ہے تو اُن کو… اس کی تیاری کی کوئی
فکر ہی نہیں… بلکہ وہ اپنی اولاد در اولاد مکان در مکان… اور جائیداد در جائیداد
میں اُلجھتے جا رہے ہیں… شہر سے باہر کوٹھی اور فارم بھی بن رہا ہے…مگر جنازہ پہلے
اُٹھ جاتا ہے اور قصہ ختم… اب پیچھے والے اس جائیداد پر لڑتے مرتے ہیں… دوسری طرف
ایسے افراد بھی ہیں کہ… جیسے ہی بڑھاپا آیا فوراً…محبوب سے ملاقات کی تیاری میں
ذوق و شوق سے مصروف ہو گئے … پہلے چلنا آسان تھا اب مسجد جانے میں دشواری ہوئی
تو… عصر سے عشاء تک مسجد میں بیٹھے رہتے ہیں کہ… تین نمازیں پوری کر کے جائیں گے…
کبھی ظہر میں آئے تو عشاء تک مسجد میں ہی رکے رہے… کبھی سوچا کہ فلاں پلاٹ ویسے
ہی پڑا ہوا ہے… چلو آخرت کا گھر بنا لیتا ہوں…وہاں مسجد بنوا لی اور اس کے ساتھ
متصل اپنا اٹیچ باتھ اور حجرہ بنوا لیا… سبحان اللہ! دو قدم اُٹھائے اور مسجد میں…
اب جہاد میں نہیں جا سکتے تو…دو تین مجاہدین کا وظیفہ اور خرچہ اپنے ذمہ لے لیا…
گویا کہ دلہن رخصتی کے انتظار میں آ بیٹھی… اور اب رخصتی کے سوا کوئی سوچ نہیں…
اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شوق تو…رخصتی کے شوق سے بہت بلند،بہت لذیذ اور بہت تسکین
آور ہے… بس قسمت کی بات ہے… کچھ لوگ بڑھاپے میں اولاد کی جھڑکیوں… جائیداد کے زخم
… اور زمانے کی ناقدری کا شکار ہو جاتے ہیں…جبکہ کچھ لوگ… بہت نورانی ، پاکیزہ،
باعزت اور شاندار بڑھاپا گزارتے ہیں…بات وہی استقامت کی ہے…جو لوگ دین، ایمان اور
جہاد پر استقامت رکھتے ہیں… وہ ہر آئے دن مضبوط ہوتے چلے جاتے ہیں… اور اُن پر
اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص رحمتیں نازل ہوتی ہیں… یا اللہ! استقامت کا سوال ہے…
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ہَدَیْتَنَا
وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ
بت گر رہے ہیں
جب حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں…فریضۂ رسالت سنبھالا تو مکہ
مکرمہ بتوں سے بھرا پڑا تھا… ’’بت‘‘ بہت گندی اور ناپاک چیز ہے…قرآن مجید نے جگہ
جگہ ’’بتوں‘‘ کی حقیقت بیان فرمائی ہے… اور انہیں گندگی ، غلاظت اور بیماری قرار
دیا ہے… اگر کوئی مسلمان کسی ’’بت ‘‘کو دیکھتا ہو اور اس کا دل کراہیت اور نفرت سے
بھر جاتا ہو تو… یہ اس کے ایمان کی علامت ہے… اگر کوئی کتا مکمل خارش شدہ ہو پورے
جسم سے بال اکھڑ گئے ہوں ، کھال کئی جگہ سے پھٹ گئی ہو اور زخموں سے بدبوردار مادہ
بہتا ہو…اس کتے کو دیکھنے سے جتنی نفرت ہوتی ہے… ایک ’’ بت‘‘ کو دیکھنے سے پیدا
ہونی والی گھٹن اور نفرت… اس سے کہیں زیادہ ہے… قرآن مجید نے بتوں کے لئے…
’’رِجْس‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا ہے… انتہائی غلیظ گندگی… اللہ تعالیٰ ہماری… اور
ہماری آل واولاد کی… بتوں کے شر سے حفاظت فرمائے… ’’بت ‘‘ کچھ نہیں کر سکتے… ان
کا شر یہ ہے کہ ان کی ’’پوجا‘‘ کی جائے…جس نے ان کی تعظیم اور پوجا کی وہ ہلاک ہو
گیا اور بے انتہا غلیظ ہو گیا۔
اگر آپ میں سے کسی کو …میری یہ باتیں ’’مبالغہ‘‘ نظر آئیں
تو وہ ازراہ کرم صرف ایک بار قرآن مجید کی وہ آیات مبارکہ پڑھ لے جن میں ’’بتوں
‘‘ کا تذکرہ ہے… تب وہ ضرور ان باتوں سے مکمل اتفاق کرے گا… ’’بتوں ‘‘ کے ساتھ
نفرت ایمان کا اہم تقاضا ہے… آج کل جو تصویر بازی اور پینا فلیکسوں کی بوچھاڑ
ہے…ان کو دیکھ کر بھی دل بہت پریشان اور تنگ ہوتا ہے… خیر یہ ایک الگ موضوع ہے… بس
آپ سب سے اتنی گذارش ہے کہ…جاندار کی تصویر بنانے سے جس قدر بچ سکتے ہوں بچ
جائیں…آپ ہی کا بھلا ہو گا… مکہ مکرمہ میں دو طرح کے بت تھے… ایک تو پتھر اور
دھاتوں کے وہ ’’بت‘‘ جو کعبہ شریف اور دیگر اہم مقامات پر… پوجا کے لئے رکھے ہوئے
تھے… لات، عزیٰ، منات اور ہُبُل وغیرہ… یہ اصل میں ماضی کی کچھ کامیاب اور مشہور
شخصیتوں کے بت تھے… جو تدریجاً…محبت، ادب ، تعظیم سے ترقی کرتے کرتے نعوذ باللہ
خدا، دیوتا اور بھگوان بنا دئیے گئے… اور دوسرے کچھ ’’بت‘‘ مکہ مکرمہ میں زندہ
موجود تھے… ایسے معروف ، مشہور اور مؤثر افراد جن کے ہر حکم کی پوجا کی جاتی تھی…
اور مرنے کے بعد انہوں نے بھی دیوتا اور بھگوان بن جانا تھا… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محنت اور استقامت نے…مکہ مکرمہ اور جزیرۃ
العرب سے ان دونوں قسموں کے تمام’’ بتوں‘‘ کا صفایا کر دیا… ’’بت‘‘ کبھی بھی
ایمانی استقامت کے سامنے نہیں ٹھہر سکتے…مکہ مکرمہ اور جزیرۃ العرب کے مردہ اور
زندہ بت کیسے ٹوٹے اور گرے… یہ بڑی ایمان افروز داستان ہے… کبھی موقع ملے تو سیرت
مبارکہ میں پڑھ لیں…
آج یہ عرض کرنا ہے کہ …انڈیا بھی ناپاک بتوں کا مرکز ہے…
وہاں پتھر، سونے اور کانسی کے بت بھی ہیں… اور زندہ بت بھی… جنہوں نے آگے چل کر’’
بت‘‘ بننا ہے… ان زندہ شر انگیز بتوں کا ایک خطرناک جتھہ’’ آر ایس ایس‘‘ نے تیار
کیا … یہ بت انڈیا سے توحید کے خاتمے کے لئے ایک بڑی طاقت بن کر اٹھے… ایڈوانی،
رجو بھیا، واجپائی، پرم راج ہنس، بال ٹھاکرے، کرشن لال شرما، سشما سوراج، مرلی
منوہر جوشی اور اوما بھارتی وغیرہ… ان سب’’ بتوں‘‘ نے اپنی تمام تر محنت اور خباثت
کو جمع کر کے …ایک انڈہ دیا، جس کا نام ہے ’’مودی‘‘ … یہ آر ایس ایس کے بڑے بتوں
کا… نچوڑ اور خلاصہ ہے… پھر مشرکین نے اپنی تمام ترسیاسی اور اقتصادی طاقت استعمال
کر کے اور ساری دنیا سے اپنا سرمایہ استعمال کر کے… ’’مودی ‘‘ کے بت کو انڈیا کا
حکمران بنایا …مقصد یہ تھا کہ…اب انڈیا سے اسلام اور مسلمانوں کو مکمل ختم کر دیا
جائے گا… اور افغانستان و ایران کو ساتھ ملا کر… پاکستان کو بھی مٹا دیا جائے گا…
اور یوں ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کا سو سالہ خواب پورا ہو جائے گا… مگر اہل ایمان اور اہل
جہاد کی استقامت کو سلام…بت پرستوں کا یہ منصوبہ بری طرح ناکام ہو رہا ہے… اور اب
تو ’’مودی‘‘ ایک ایسے جال میں پھنس چکا ہے کہ… بھارت کا ہر شخص اسے گالیاں دے رہا
ہے… کل تک جو مودی… اُن کا بھگوان تھا آج وہی…پورے انڈیا میں سب سے قابل نفرت ہے۔
اللہ تعالیٰ کی شان دیکھیں کہ…سو سالہ منصوبہ کیسے ذلیل اور
ناکام ہوا…بتوں کا جو طاقتور جتھہ آر ایس ایس نے تیار کیا تھا… وہ آج زرد پتوں
کی طرح بکھر رہا ہے… تین چار تو مر چکے… ایڈوانی، واجپائی اپنی چارپائیوں پر پڑے
ہیں… سشما سوراج کے گردے فیل ہو چکے… اوما بھارتی ذلتوں اور بدنامیوں میں ہے… اور
مودی… آج انڈیا کی سب سے فحش گالی بن چکا ہے… بتوں کے اس بھیانک انجام کو دیکھ
کر…دل چاہ رہا ہے کہ… وجد سے سورۂ اخلاص پڑھوں… چیخ چیخ کر کلمہ طیبہ کی گواہی
دوں … بے شک اللہ ایک ہے…
اَللہُ اَکْبَرُکَبِیْرًا…لَا شَرِیْکَ لَہٗ…لَبَّیْکَ
اللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ اِنَّ الْحَمْدَ
وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ…
لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ
محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ’’مجاہدین ‘‘ کو جزائے خیر عطاء فرمائے…شہداء
کرام کی ’’شہادت ‘‘ قبول فرمائے… ’’نگروٹہ‘‘ میں جانبازوں نے کیسا زبردست ’’جہاد
‘‘اُٹھایا…کیسا شاندار ’’حملہ ‘‘ کیا …کیسا واضح نظر آنے والا سرجیکل سٹرائیک کیا
…
اَللہُ اَکْبَرُکَبِیْرًا، وَالْحَمْدُ لِلہِ
کَثِیْرًا وَسُبْحَانَ اللہِ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلًا
واقعی کشمیری مجاہدین کسی سے کم نہیں … نگروٹہ کے شہداء کو
سلام، اُن کے خوش نصیب والدین کو سلام…کمال کر دیا واقعی کمال… ایک ہی جھٹکے میں
شہید افضل گورو اور کشمیر کے معصوم شہید بچوں کا کیسا جاندار انتقام لیا… یا اللہ!
ان شہداء کرام کو اپنا دیدار اور اعلیٰ مقام عطاء فرما… آمین یا ارحم الراحمین۔
6 دسمبر سے 6 دسمبر تک
6 دسمبر کی تاریخ ہمارے جذبات کو
اُٹھاتی ہے، ہماری سستی کو بھگاتی ہے اور ہمارے اندر نئے عزم اور فدائی ولولے
جگاتی ہے… 6 دسمبر 1992ء بندروں کی اولاد نے ہماری ’’بابری مسجد ‘‘ کو شہید کیا
تھا… وہ اسے ہندوستان سے اسلام کے خاتمے کا آغاز قرار دے رہے تھے …اُنہی دنوں آر
ایس ایس نے مزید تین ہزار مساجد کی فہرست جاری کر دی تھی کہ اب ان کو گرایا جائے
گا…مگر شہید بابری مسجد کے پتھر اورمینار جنہوں نے صدیوں سے اذان کی آواز اپنے
اندر بسا رکھی تھی… ایک دَم زندہ ہو گئے… اور پھر کنیا کماری سے کپواڑہ تک مجاہدین
اُٹھنے لگے… کشمیر کی تحریک انڈیا کے دارالحکومت تک جا پہنچی… اور پورا انڈیا جگہ
جگہ سے عدم استحکام کا شکار ہو گیا …جی ہاں! دو واقعات نے ’’غزوۂ ہند‘‘ کو موجودہ
ہندوستان میں بے حد طاقت دی… ایک بابری مسجد کی شہادت اور دوسرا بھائی محمد افضل
گورو کی شہادت… یہ دونوں مظلوم شہید تھے… اور مظلوم شہید اپنے ظالم قاتل پر بہت
بھاری پڑتا ہے… بے حد بھاری … ہندوستان خواہ مخواہ پاکستان کو اپنے مسائل کا ذمہ
دار قرار دیتا ہے… حالانکہ پاکستان نے تو انڈیا توڑنے کے کئی سنہری مواقع گنوا
دیئے …کشمیر کی حالیہ چار ماہ کی خونی تحریک … بنگلہ دیش کی مکتی باہنی سازش سے
بہت طاقتور تھی… انڈیا نے مکتی باہنی سازش کا فائدہ اُٹھا کر پاکستان کو توڑ دیا…
مگر پاکستان نے اتنی سخت ، اتنی گرم اور اتنی وسیع تحریک کا بھی کوئی فائدہ نہیں
اُٹھایا… حقیقت یہ ہے کہ ’’انڈیا‘‘ پاکستان میں بہت زیادہ مداخلت اور دہشت گردی
کرتا ہے… جبکہ پاکستان ’’انڈیا‘‘ میں بہت کم… پھر بھی انڈیا زیادہ شور مچاتا ہے…
انڈیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا ذمہ دار خود ’’انڈیا‘‘ ہے… بابری مسجد کی شہادت
کو روکا جا سکتا تھا مگر انڈیا نے نہیں روکا… اب وہ بابری مسجد کے انتقام کو بھی
نہیں روک سکتا … محمد افضل گورو کی شہادت کو روکا جا سکتا تھا مگر انڈیا نے نہیں
روکا… اب وہ افضل گورو کے انتقام کو بھی نہیں روک سکتا… انڈیا میں یہ طاقت نہیں ہے
کہ وہ بابری مسجد اور افضل گورو کی یلغار کو روک سکے… اسی مبارک یلغار کی ایک تازہ
کڑی … نگروٹہ کا حملہ تھا… آج انڈیا رو رہا ہے… جبکہ افضل گورو کی قبر اور بابری
مسجد کی مٹی مسکرا رہی ہے۔
تاخیر کی وجہ
’’معرکۂ نگروٹہ‘‘ کے بارے میں
’’رنگ و نور ‘‘ تاخیر سے آ رہا ہے… وجہ یہ کہ گذشتہ ہفتے جب کالم لکھا جا رہا تھا
تو… یہ مبارک معرکہ جاری تھا … مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی بندش کی وجہ سے مکمل
تفصیل آنے میں دیر ہو جاتی ہے… مگر وہاں کے مجاہدین جدید مواصلاتی نظام کو
استعمال کر کے… پاکستان اور دنیا بھر میں کشمیر کے حقائق اور جہادی حملوں کی
تفصیلات پہنچاتے رہتے ہیں… اور حقیقی، سچی تفصیلات وہی ہوتی ہیں جو مجاہدین کی طرف
سے آتی ہیں… انڈین میڈیابے چارہ تو ’’پٹھان کوٹ‘‘ اور ’’اُڑی‘‘ کے بعد حکومت کے
عتاب کا شکار ہے …اس پر طرح طرح کی پابندیاں لگ چکی ہیں … وہ تو اب ہمارے
’’بیانات‘‘ اور ’’رنگ و نور‘‘ بھی نہیں
سناتا… بس ’’رنگ و نور‘‘ کے چند جملے پکڑ کر … اُن پہ تبصرے کرتا رہتا ہے… حقیقی
معلومات تک میڈیا کو رسائی نہیں دی جا رہی … اسے بس یہ کہا جاتا ہے کہ … انڈیا نے
ایک ’’سرجیکل سٹرائیک‘‘ کیا ہے… وہ سرجیکل سڑائیک کہیں نظر نہیں آ رہا … مگر تم
اسی کی ’’بین‘‘ بجاتے رہو… چنانچہ میڈیا سرجیکل، سرجیکل کا شور ڈال دیتا ہے… پھر
اسے بتایا جاتا ہے کہ … مجاہدین نے ’’نگروٹہ ‘‘ پر نظر آنے والا حملہ کیا ہے… مگر
تم نے وہ دور، دور رہ کر دیکھنا اور سنانا ہے … چنانچہ میڈیا والے بے چارے اس حملے
سے پانچ سو کلومیٹر دور کھڑے ہو کر موویاں اور ڈرامے بناتے رہتے ہیں… آج انڈیا
بالکل پرانے زمانے والا ’’سوویت یونین ‘‘ نظر آ رہا ہے… وہاں کرنسی پر پابندی
تھی، میڈیا مفلوج تھا… سیکورٹی کے نام پر
لوگوں کو ہر جگہ ستایا جا رہا تھا اور … اپنی فوجوں کی جھوٹی فتوحات کے چرچے تھے…
چنانچہ یہ مصنوعی صورتحال ’’سوویت یونین ‘‘ کو لے ڈوبی… اب
یہ صورتحال انڈیا پر آئی ہے تو اس کو بھی لے ڈوبی گی…ان شاء اللہ
عرض یہ کر رہا تھا کہ… چونکہ نگروٹہ کا معرکہ جاری تھا …
اور نام بھی ہمارے لگناتھا تو اس لئے ضروری تھا کہ …جب مکمل خبریں آ جائیں گی تب
اس موضوع پر لکھا جائے گا… بس اسی وجہ سے تاخیر ہو گئی…
انڈیا پھنس گیا
نگروٹہ کی اتنی منظم ، مضبوط اور مستحکم کارروائی کو دیکھ
کر پہلا سوال یہ اُٹھتا ہے کہ… اس کارروائی کے لئے انڈین کرنسی کہاں سے آئی…
سامان کیسے خریدا گیا؟… اس سوال کا جواب اس لئے بھی اہم ہے کہ… ’’نگروٹہ‘‘ کی فوجی
چھاؤنی کوئی معمولی ٹارگٹ اور عام ہدف نہیں تھا… یہ انڈین فوج کی اہم ترین
چھاؤنی ہے اور اس کی سیکورٹی فول پروف ہے… اور اسی چھاؤنی میں … جموں ، کشمیر
اور پوری ’’ایل، او، سی‘‘ پر فوجی کارروائیوں کی پلاننگ تیار کی جاتی ہے… ایک ایسی
چھاؤنی جسے انڈین آرمی کی شمالی کمان کا ’’دل‘‘ سمجھا جاتا ہے … اس پر حملہ کرنا
کوئی آسان کام نہیں ہے… اس چھاؤنی کے گرد تین حفاظتی حصار تھے… ان حفاظتی حصاروں
کو توڑنے یا خریدنے پر کتنی رقم خرچ ہو سکتی ہے؟…
چھاؤنی کے اندر کا نقشہ حاصل کرنا… یہ بھی آسان اور سستا
کام نہیں ہے… چھاؤنی کے راستوں اور اندر کے اہداف کی فوٹیج بنانا یا بنوانا یہ
بھی کوئی معمولی کام نہیں ہے… کوئی ایسا آدمی جو پہلے اس علاقے میں نہ آیا ہو وہ
تو چند قدم چل کر ہی پکڑا اور مارا جا سکتا ہے… اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ ایسے
افراد استعمال ہوں جو بار بار اس علاقے میں آ چکے ہوں… اور پھر ایک مضبوط حملے کے
لئے…اندر کی مدد بھی ضروری ہوتی ہے … افضل گورو شہید سکواڈ… کشمیری مجاہدین کا
قابل فخر عسکری بازو ہے…
انہوں نے یہ سارے مرحلے ان حالات میں طے کئے کہ جب …انڈیا
میں ہر جیب خالی ہے … اور ہر شخص کرنسی کے لئے پریشان ہے… مگر اندر کے ذرائع بتاتے
ہیں کہ …مودی حکومت نے کرنسی پر پابندی لگا کر…خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے…
اور وہ خود اپنے جال میں پھنس گئی ہے… دراصل صنعتکاروں اور ’’ منی چینجرز‘‘ کو
پہلے ہی اس پابندی کا علم ہو گیا تھا اور انہوں نے بڑی مقدار میں چھوٹے نوٹ حاصل
کر لئے تھے… یہ نوٹ، ڈالر، پونڈ اور یورو کے عوض آسانی سے ملتے ہیں… اور اب
مجاہدین کے لئے کام کرنے والے افراد بھی ’’ڈالر ‘‘ زیادہ پسند کرتے ہیں… اس طرح
کشمیری مجاہدین ،ماؤ نواز حریت پسند اور خالصتان کے فریڈم فائٹر… کسی بھی طرح کی
مالی مشکلات کا شکار نہیں ہوئے … بلکہ اُن کا کام مزید آسان ہو گیا ہے… جبکہ
انڈین عوام انتہائی سخت مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں… مودی جیسے بے عقل، دہشت گرد
کو اپنا حکمران بنانے والوں کو یہی انجام ملنا تھا جو انہیں مل رہا ہے۔
دوسرا رُخ
لوگ سمجھ رہے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات بہتر ہو رہے ہیں
… وہاں اب ہڑتال ، کرفیو، سنگ بازی اور احتجاج میں کمی آئی ہے… حالانکہ ایسا نہیں
ہے… اہل کشمیر کی اس طویل قربانی نے … کشمیر کے عسکری جہاد کو مضبوط کر دیا ہے…
بہت سے نوجوان اور پڑھے لکھے افراد تحریک میں شامل ہو چکے ہیں… اور وہ اس تحریک کو
اپنی آزادی تک جاری رکھنے کے لئے پُر عزم ہیں… نگروٹہ کا حملہ اسی عزم کا ایک
اظہار ہے … اندرونی ذرائع کے مطابق اس کارروائی میں درجنوں بھارتی فوجی مارے گئے…
جن میں سے سات کا اعتراف خود بھارتی حکومت نے بھی کیا ہے…بہرحال یہ کارروائی…
جہادکشمیر کو ان شاء اللہ ایک نئی طاقت فراہم کرے گی… پانچ مجاہدین اتنا بڑا حملہ
کریں… تین شہید ہو جائیں… اور باقی دو اگلے ہدف کے قریب جا بیٹھیں …یہ سب کچھ
سوچنا آسان ہے مگر کرنا بہت مشکل ہے… اور جو لوگ اتنی عظیم اور مشکل کارروائیاں
کر لیتے ہوں… اُن کی فتح میں کون شک کر سکتا ہے؟… اللہ تعالیٰ پوری اُمت مسلمہ اور
تمام مجاہدین کو اپنی رحمت، مغفرت، نصرت … اور اعانت عطاء فرمائے … آمین یا ارحم
الراحمین
لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ
محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ’’قریب‘‘ ہے… اللہ تعالیٰ میرے ’’قریب‘‘
ہے…اللہ تعالیٰ آپ کے ’’قریب‘‘ ہے… اللہ تعالیٰ ہم سب کے ’’قریب ‘‘ہے…ہماری روح
سے بھی زیادہ ’’قریب‘‘ ہماری جان سے بھی زیادہ ’’قریب‘‘… پھر کیوں نہ ہم بھی اللہ
تعالیٰ کے ’’قریب ‘‘ ہو جائیں… قریب، قریب، بہت قریب… ہم اللہ تعالیٰ کے ’’قرب‘‘
کو محسوس کریں… ہم اللہ تعالیٰ کے ’’قرب‘‘ کا فائدہ اُٹھائیں… ہم اللہ تعالیٰ کے
’’قرب‘‘ کی حلاوت پائیں… اور ہم اللہ تعالیٰ کے ’’قرب‘‘ پر فدا ہو جائیں،
’’قربان‘‘ ہو جائیں…
اَللّٰھُمَّ یَا قَرِیْبُ ، یَا قَرِیْبُ، یَا قَرِیْبُ
قَرِّبْنَا اِلَیْکَ یَا قَرِیْبُ
میلاد کا تحفہ
ہم عید میلاد النبی نہیں مناتے… کیونکہ حضرات صحابہ کرام
رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نہیں منائی…
حالانکہ وہ سچے عاشق تھے، پکے عاشق تھے…عجیب بات ہے کہ آقا حضرت محمد صلی اللہ
علیہ وسلم کے لئے پورے سال میں صرف ’’ایک
دن‘‘ ؟ … نہیں ہرگز نہیں… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سال کے تین سو چونسٹھ دن … ہمارے نبی ، ہمارے
رسول ، ہمارے آقا ، ہمارے محبوب، ہمارے رہبر اور ہمارے قائد ہیں…
صلی اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم … صلی
اللہ علیہ وسلم
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی محنت یہ تھی کہ… اللہ تعالیٰ کے بندوں کو
براہ راست اللہ تعالیٰ سے جوڑ دیں… مکہ والے اللہ تعالیٰ کو مانتے تھے… مگر دور
دور سے … اور درمیان میں طرح طرح کے واسطے رکھ کر… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم نے سمجھایا کہ ایسے ماننے کا کیا
فائدہ… اللہ تعالیٰ قریب ہے… شہہ رَگ سے بھی زیادہ قریب … پھر درمیان میں بتوں کو
کیوں لاتے ہو؟… خود اللہ تعالیٰ کو کیوں نہیں پکارتے…’’لا الہ الا اللہ‘‘… کہہ دو:
اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں … پھر تم کامیاب ہو جاؤ گے… مگر مشرکوں کی
عقل میں یہ بات نہیں آئی… کیونکہ وہ ’’قریب‘‘ سے دور ہو چکے تھے… اور دور والوں
سے قریب ہو چکے تھے … بت اُن سے دور دور تھے مگر وہ اُن کو قریب مانتے تھے…
حالانکہ ’’ بت ‘‘ کسی حال میں بھی اُن کے ساتھ نہیں ہوتے تھے … بس کبھی کبھار
تھوڑی دیر اُن کے سامنے ہوتے… بے جان، بے اختیار، بے حرکت ، بے حِس… مگر اللہ
تعالیٰ ہر حال میں بندے کے ساتھ ہے… بندے کے پاس ہے… بندہ ہر حال میں اس کے سامنے
ہے … وہی بندے کو کھلاتا ہے، وہی بندے کو پلاتا ہے … وہی بندے کو سانس لینے کے لئے
ہوا دیتا ہے… پھر بھی ’’بندہ ‘‘ اس کو چھوڑ کر…دور دور والوں کو سجدے کرتا رہے… یہ
شرک ہے، یہ کفر ہے… یہ ناشکری ہے… یہ ناقابل معافی جرم ہے… یہ ذلت ہے۔
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں… اس ذلت سے نکالنے کی محنت فرمائی… ارے!
’’قریب والے ‘‘ کے ’’قریب‘‘ ہو جاؤ… اللہ
وحدہٗ لا شریک لہٗ کے ’’قریب ‘‘ ہو جاؤ… اپنے ’’ اللہ ‘‘ کو پالو… اپنے ’’ اللہ
‘‘ کو منا لو… اپنے ’’ اللہ ‘‘ کو پہچان لو… اپنے ’’ اللہ ‘‘ سے فائدہ اُٹھا لو…
اپنے ’’اللہ ‘‘ کے قرب کو محسوس کرو… بس ایک اللہ … اَللّٰہُ اَحَد … صرف ایک اللہ
… اَللّٰہُ الصَّمَدُ… بے مثال اللہ… لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ… وَلَمْ یَکُن
لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ…
تم ہر جگہ اللہ تعالیٰ کو پا سکتے ہو… تم ہر جگہ اللہ
تعالیٰ کو منا سکتے ہو… تم ہر وقت اللہ تعالیٰ سے مانگ سکتے ہو… تم ہر جگہ، ہر وقت
اللہ تعالیٰ سے پا سکتے ہو… آ جاؤ … اللہ تعالیٰ کے ’’قرب‘‘ کی قدر کرو… ’’
اِحْفَظِ اللّٰہَ ‘‘… تب تم اسے ہر جگہ اپنے ساتھ پاؤ گے … تَجِدْہُ تُجَاھَکَ…
ہم نے نہ میلاد کے موقع پر دیگیں چڑھائیں … نہ گلی بازار
سجائے… نہ کوئی ایک روزہ جشن منایا… ہمیں اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاد مبارک کی خوشی الحمد للہ… ہر روز اور
ہر وقت نصیب ہے… ہمارے نزدیک ہر دن ’’ جشن میلاد ‘‘ ہے… کیونکہ حضرت آقا مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم کے احسانات بے شمار ہیں…
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے
ہمیں ’’ اللہ وحدہٗ لا شریک لہٗ ‘‘ سے جوڑا… ہم تک اللہ تعالیٰ کا کلام پہنچایا…
ہم تک اللہ تعالیٰ کا دین پہنچایا… دین زندگی کے ہر سانس پر نافذ ہوتا ہے تو…
ہمارے ہر سانس پر حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا ’’ احسان ‘‘ ہے…
صلی اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم … صلی
اللہ علیہ وسلم
اللہ تعالیٰ کا ’’قرب‘‘ ہم سب کو محسوس ہو جائے، ہم سب کی
سمجھ میں آ جائے … اور ہم سب کو اس کی حلاوت نصیب ہو جائے… یہ ’’ میلاد ‘‘ کا بڑا
تحفہ ہے… بندے اللہ تعالیٰ سے دور دور بھٹک رہے تھے… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم تشریف لائے تو… بندوں کو ’’اللہ
تعالیٰ‘‘ کے ’’قرب ‘‘ کا راستہ دکھایا… ہاں! بے شک جسے ’’ اللہ تعالیٰ ‘‘ مل جائے
اسے سب کچھ مل جاتا ہے… اور جو اللہ تعالیٰ سے کٹ جائے اسے کچھ بھی نہیں ملتا۔
مستجاب الدعوات کی تلاش
کئی لوگوں کی آرزو ہوتی ہے کہ… انہیں کوئی ’’مستجاب
الدعوات ‘‘ بزرگ مل جائیں… ایسے بزرگ جن کی دعائیں قبول ہوتی ہیں … تاکہ وہ اُن سے
بہت سی دعائیں کرا سکیں … ایسے ہی ایک شخص نے …ایک فقیر سے کہا… کیا آپ کسی ’’
مستجاب الدعوات ‘‘ بزرگ کو جانتے ہیں؟… فقیر نے کہا… نہیں میں کسی ایسے ’’ مستجاب
الدعوات ‘‘ بزرگ کو نہیں جانتا… ہاں ’’ مجیب الدعوات‘‘ کو جانتا ہوں… ’’مجیب
الدعوات‘‘ یعنی دعائیں قبول فرمانے والا… وہ بہت قریب ہے، بہت قریب… مجھ سے بھی
بہت قریب… اور تم سے بھی بہت قریب… وہ ہر کسی کی سننے والا… وہ ہر کسی کو عطاء
فرمانے والا … کیوں دور دور لوگوں کو ڈھونڈ رہے ہو کہ وہ تمہارے لئے دعاء کریں…
انہوں نے جس سے مانگنا ہے … وہ تو تمہارے بھی اسی قدر قریب ہے جتنا اُن کے قریب
ہے… تو پھر خود کیوں نہیں مانگ لیتے…
وَ قَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ
’’تمہارے رب نے حکم فرمایا ہے کہ
مجھ سے مانگو میں دوں گا۔‘‘(المؤمن:۶۰)
آخر تم نے خود کو اپنے محبوب رب سے اتنا ’’ دور‘‘ کیوں
سمجھ رکھا ہے؟… کوئی نیک ہو یا گناہگار… وہ سب کے ’’قریب ‘‘ ہے… سب کے ’’قریب‘‘ …
بہت قریب ، بے حد قریب… گناہگار ہو تو معافی مانگ لو… وہ معاف کرنے سے نہیں تھکتا،
نہیں اُکتاتا… مانگنا نہیں آتا تو اسی سے مانگنے کا طریقہ بھی مانگ لو… مگر یہ
کیا بدگمانی کہ وہ تمہاری نہیں سنتا اور دوسروں کی سنتا ہے… توبہ توبہ ایسے محبوب،
ایسے کریم ، ایسے وہاب ’’رب ‘‘ سے بدگمانی… اپنے گمان کو اچھا کرو اور خود اس سے
مانگو… اسے مانگنے والے اچھے لگتے ہیں … پیارے لگتے ہیں… ہاں! اللہ تعالیٰ کے نیک
بندوں سے بھی دعاء کرایا کرو… مجاہدین اور اولیاء سے بھی دعاء کرایا کرو… مگر
تمہاری اپنی دعاء تمہیں اپنے رب کے قریب کر دے گی… بہت قریب، بہت قریب… مانگو،
مانگو دل بھر کر مانگو، دل کھول کر مانگو، دل لگا کر مانگو، دل بِچھا کر مانگو، دل
سجا کر مانگو… دل کے یقین سے مانگو… اور اپنے رب سے اچھا گمان کرو، اچھا گمان… وہ
فرماتا ہے … ’’مجھ سے جیسا گمان کرو گے میں تمہارے ساتھ ویسا معاملہ فرماؤں گا۔‘‘
اللہ والوں کی تلاش
کئی لوگ کہتے ہیں… کاش کوئی ’’اللہ والا ‘‘ مل جائے… اور وہ
ہمیں ’’اللہ تعالیٰ ‘‘ تک پہنچا دے… ایسے لوگوں سے پوچھا جائے کہ… وہ ’’کس والے ‘‘
ہیں؟ ہر مومن ’’ اللہ والا‘‘ ہوتا ہے… ہر مسلمان ’’ اللہ والا‘‘ ہوتا ہے… جب ’’ لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ کا دل کی تصدیق کے ساتھ زبان سے اقرار کر لیا تو …
’’ اللہ والا‘‘ بن گیا … اب خود کو ’’ اللہ والا ‘‘ محسوس کرو گے تو ’’ اللہ والے
‘‘ بنتے چلے جاؤ گے … تم خود کو ’’ اللہ تعالیٰ‘‘ سے دور دور کیوں سمجھنے لگے ہو؟
اللہ تعالیٰ کی کسی سے رشتہ داری نہیں… اللہ تعالیٰ کو کسی قوم اور قبیلے سے خاص
تعلق نہیں … اس کے سب بندے بس اسی کے بندے ہیں…
دوسری اور اصل بات یہ ہے کہ… تم ’’ اللہ تعالیٰ ‘‘ کو پانے
کا پکا عزم کر لو… پھر اللہ تعالیٰ تمہاری رہنمائی کے لئے… خود تمہیں اپنے مقرب
اولیاء تک پہنچا دے گا… یا اولیاء کو تمہارے دروازے تک پہنچا دے گا…تم پہلے کسی
مدرسے، ادارے ، سکول یا کالج میں داخلہ لیتے ہو … پھر وہ ’’ادارہ ‘‘ خود تمہارے
لئے استاذ کا بندوبست کر دیتا ہے… تلاش کی غلطی نے بڑے بڑے عقلمند کہلانے والوں کو
گمراہ کر دیا… غلطی نہ کرو… اللہ کی تلاش کرو، اللہ والوں کی نہیں… جب تمہارے اندر
اللہ تعالیٰ کو پانے کا جذبہ سچا ہو گا تو… اللہ تعالیٰ تمہیں اپنا راستہ عطاء
فرما دے گا… وہ تمہیں ’’اللہ والوں‘‘ تک پہنچا دے گا… وہ تمہیں ’’اللہ والا ‘‘ بھی
بنا دے گا… وہ تمہیں دھوکے بازوں سے بھی بچا لے گا… اور وہ تمہیں اندھیروں سے نکال
کر نور کی شاہراہ پر چلا دے گا…
﴿اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ
آمَنُوْا یُخْرِجُھُمْ مِّنَ الظُّلُمَاتِ اِلَی النُّوْرِ﴾(البقرۃ:۲۵۷)
بس آج سے ’’اللہ والوں‘‘ کی تلاش چھوڑ دو … اور ’’ اللہ
تعالیٰ ‘‘ کی تلاش شروع کر دو…تم ہر جگہ، ہر عمل اور ہر لمحہ میں اللہ تعالیٰ کو
تلاش کرو… اذان میں بھی، نماز میں بھی، جہاد میں بھی… تسبیح میں بھی ، ذکر میں
بھی… درود و سلام میں بھی… رکوع میں بھی،سجدے میں بھی …اور اپنی سانسوں میں بھی…
یا اللہ… یا اللہ… یا اللہ… یا اللہ… یا اللہ…
تب تمہیں ہر جگہ اللہ تعالیٰ کا قرب ملے گا، ہر جگہ اللہ
تعالیٰ کی محبت ملے گی، ہر جگہ اللہ تعالیٰ کا نور محسوس ہو گا… تم بندے ہو… تم نے
اپنے حقیقی مالک کو ڈھونڈنا ہے… اسے پانا ہے… اسے منانا ہے…اُسی سے اپنا ہر مسئلہ
حل کرانا ہے… اور اُسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے… جب تم اسے پانے کی سچی طلب اپنے
اندر لے آؤ گے تو وہ تمہیں … اپنے مقرب بندوں تک بھی پہنچا دے گا… اور تمہاری
رہنمائی کا انتظام بھی فرما دے گا… یا اللہ، یا قریب، یا قریب، یا قریب… ہمیں اپنا
’’قرب ‘‘ عطاء فرما …
لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ
محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے ’’قُرب‘‘کا ایک اہم ذریعہ ’’استخارہ‘‘ ہے…جو
بندہ ’’استخارہ‘‘ کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ’’قرب‘‘ کو پاتا ہے اور اس ’’قرب‘‘ کو
محسوس کرتا ہے… پھر جو جس قدر زیادہ استخارہ کرتا ہے اسی قدر اللہ تعالیٰ کے قریب
ہوتا چلاجاتا ہے… قریب،بہت قریب،بے حد قریب … یہاں تک کہ اس کا دل،اس کی آنکھیں
اور اس کے اعضاء ’’نور‘‘ سے بھر جاتے ہیں،روشن ہو جاتے ہیں… بس ایک بات یاد رکھیں…
یہ سارے فائدے ’’استخارہ‘‘ کرنے کے ہیں…استخارہ کرانے کے نہیں…وہ لوگ جو مسلمان
ہوکر دوسروں سے ’’استخارہ‘‘ کراتے ہیں…معلوم نہیںاُن کی سوچ کیا ہوتی ہے…کیا وہ
خود اللہ تعالیٰ سے نہیں مانگنا چاہتے؟کیا وہ خود کو اللہ تعالیٰ سے دور سمجھتے
ہیں؟…اگردور سمجھتے ہیں توکیا قریب نہیں ہوناچاہتے؟اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ
علیہ وسلم نے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ
علیہم اجمعین کو …استخارہ سکھایا… بہت
اہتمام کے ساتھ،بہت تاکید کے ساتھ… تاکہ ہرکوئی خود ’’استخارہ‘‘ کرے…یہی حکم اُمت
کے ہر فرد کے لیے ہے۔
دور رہنے کی نحوست اور وبال
عرب کے مشرکین اللہ تعالیٰ سے دور ہوگئے تھے…حالانکہ کعبہ
شریف کے پاس بیٹھے تھے… اللہ تعالیٰ سے دور ہونے کی وجہ سے وہ … بدترین نحوستوں
اورذلتوں میں ڈوبے ہوئے تھے … سفر کے لیے جانے لگتے تو دل میں کھٹکا کہ … معلوم
نہیں سفر خیر کا ہوگا یا شر کا…چنانچہ باہر نکل کر ’’السانح والبارح‘‘ کے چکر میں
پڑ جاتے … کسی پرندے کو دائیں طرف سے بائیں طرف جاتا دیکھتے توکہتے کہ سفر اچھا
ہوگا…اور اگر کسی پرندے کو بائیں طرف سے دائیں طرف اُڑتا دیکھتے تو خوف سے کانپ
جاتے اور سفر روک دیتے…پوری تیاری سے کسی کام پر نکلتے راستے میں کوئی کوّا نظر
آجاتا تو کہتے کہ نحوست آگئی … فوراً گھر لوٹ جاتے… کبھی سورج سے ڈرتے تو کبھی
چاند سے…کبھی ’’الّو‘‘ جیسے پرندے سے ڈرتے تو کبھی بلّی کی آواز سے …ہاں! جواللہ
تعالیٰ سے دور ہوجائے اُس کو ہرچیزڈراتی ہے،ہر چیز ستاتی ہے …بیچارے جانور اور
پرندے جو خود عقل سے محروم…وہ کیا کسی اور کی قسمت کا فیصلہ کریں گے…مگر اللہ
تعالیٰ سے دوری…بڑا وبال ہے بڑا وبال…انسان ہوکر بے جان پتھروں کوسجدے
کرنا…جانوروں کا پیشاب تک پینا…اور سانپ کے سامنے ہاتھ جوڑنا کتنی ذلت کی بات
ہے…مگر کروڑوں انسان یہ سب کچھ کرتے ہیں…کیونکہ ان کے پاس’’اللہ تعالیٰ‘‘ نہیں…
یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان،اللہ تعالیٰ کا قرب اور اللہ تعالیٰ کانور اُن کے پاس
نہیں…وہ اپنی قسمت بنانے کے لیے ہر کسی سے ڈرتے ہیں،ہر کسی کے سامنے جھکتے ہیںمگر
پھر بھی مرجاتے ہیں ، بیمار ہوتے ہیں،تکلیفیں اُٹھاتے ہیں اور اپنے مقدر سے زائد
ایک لقمہ حاصل نہیں کرسکتے… مسلمانوں میں سے بھی جولوگ قسمت اور مستقبل کے چکر میں
پڑجاتے ہیں…وہ گمراہی اور ذلت میںگرتے چلے جاتے ہیں… نہ کسی کی قسمت بدلتی ہے اور
نہ کسی کو اپنے مستقبل کا پتہ چلتا ہے … بس ایک شیطانی نشہ لگ جاتا ہے کہ … آگے
کی باتیں پتا ہوں،مستقبل کا علم ہو،غیب کا علم ہو …ہر سفر،ہرکام کے بارے میں پہلے
سے معلوم ہو کہ یہ خیر والا ہے یا شر والا…اسی کے لیے ہاتھوں کی لکیریں دیکھی جاتی
ہیں، ستاروں سے قسمت پوچھی جاتی ہے اور طرح طرح کے شرکیہ کام کیے جاتے ہیں…فائدہ
کچھ بھی نہیں ہوتا …ہر کوئی اپنے وقت پر مرتا ہے…اپنی قسمت کا کھاتا ہے… اور اپنے
حصے کی تکلیفیں اُٹھاتا ہے…مگر ایمان سے محرومی ہوتی چلی جاتی ہے …حضرت امام شافعی
رحمہ اللہ سے کسی نے پوچھا کہ … اللہ
تعالیٰ سے بدگمان ہونے کا مطلب کیا ہے؟ فرمایا:’’ہر وقت مصیبتوں سے ڈرتے رہنا اور
ہر وقت اس پریشانی میں رہنا کہ فلاں نعمت نہ چھن جائے اور فلاں مصیبت نہ آجائے۔‘‘
عرب کے لوگ مشرک تھے…انہوں نے قسمت کا حال جاننے کے لیے طرح
طرح کے طریقے بنارکھے تھے…کچھ لوگ دھوکا دیتے تھے اور باقی دھوکا کھاتے تھے…تیروں
کے ذریعے قسمت معلوم کرنے کا طریقہ معروف تھا…پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں اسلام کی
دولت عطاء فرمائی … انہیں اللہ تعالیٰ کا قرب مل گیا تو وہ…ان توہمات سے آزاد
ہوئے اور ساری دنیا پر چھا گئے … کہاں وہ وقت تھا کہ وہ کوّوں اور بلیوں سے ڈرتے
تھے…اور کہاں وہ وقت آیا کہ وہ بلاخوف سمندروں میںاُتر جاتے … اور جنگلی شیروں پر
سواری کرتے… یہ ہے فرق اللہ تعالیٰ کے قرب اور اللہ تعالیٰ کی دوری کا…پھر اللہ
تعالیٰ نے ان کو اپنے قرب کا ایک اِنعام عطاء فرمایا…اور وہ اِنعام ہے
’’استخارہ‘‘… سبحان اللہ ،’’استخارہ‘‘…
یعنی ایک روشنی،ایک نور، ایک قوت، ایک طاقت، ایک پروازاور
خیر کا خزانہ…الحمدللہ مکمل دعوے اور شرح صدر سے کہتا ہوں کہ… استخارہ کو اپنا کر
دیکھیں… تب آپ مان لیں گے کہ… جو کچھ میں نے لکھا ہے وہ محض لفاظی نہیں… بلکہ ہر
لفظ ایک حقیقت ہے…استخارہ واقعی روشنی،نور، قوت، طاقت، پرواز اور خزانہ ہے…بلکہ اس
سے بھی بڑھ کر ہے…
استخارے کی بلندی
ایک خاتون ہیں…اپنے اصلی وطن سے دور ہجرت کی زندگی…پھر شادی
ہوئی تو خاوند سے نہ بنی اور بالآخر جدائی ہوگئی…مگر ان کو اللہ تعالیٰ کا
’’قرب‘‘ نصیب تھا…اس لئے نہ ہجرت سے وہ گھبرائیں اور نہ طلاق سے وہ ٹوٹیں…گھر میں
بیٹھی آٹا گوندھ رہی تھیں کہ…ایک بہت ہی اونچی جگہ سے رشتے کا پیغام آگیا…ایسا
رشتہ جس میں نہ سوچنے کی کچھ ضرورت، نہ انکارکی کچھ گنجائش …
خوشی ہی خوشی، سعادت ہی سعادت، بلندی ہی بلندی…مگر اللہ
تعالیٰ کا ’’قرب‘‘ بندے کو نہ خوشی میں غافل ہونے دیتا ہے اور نہ غم میں … لوگ
اکثر خوشی اور غم میں اللہ تعالیٰ کو بھول جاتے ہیں… مگر یہ اللہ والی خاتون اتنی
عظیم خوشی میں بھی اپنے ’’اللہ تعالیٰ‘‘ کو نہ بھولی… رشتے کا پیغام لانے والے سے
کہا:
مَا اَنَا بِصَانِعَۃٍ شَیْئًا حَتّٰی اُوَامِرَ رَبِّیْ۔
’’میں اپنے رب سے پوچھے بغیر کچھ
بھی کرنے والی نہیں۔‘‘
یہ فرما کر اپنی نماز کی جگہ جا کر نماز استخارہ شروع کردی…
اللہ تعالیٰ کو ان کے ’’قرب‘‘ کا یہ انداز ایسا پسندآیا کہ
…ان کے نکاح کی تقریب اپنے ہاں عرش پر منعقد فرمائی…یہ دنیا کا واحد نکاح ہے جو
حضرت آدم علیہ السلام کے نکاح کے بعد آسمانوں پر ہوا…اور پھر یہ
قرآن پاک کی آیات میں بھی مہکا…یہ اُمّ المؤمنین حضرت زینب بن جحش رضی اللہ عنہا کا نکاح ہے… پوری تفصیل صحیح مسلم شریف کی روایت
میں موجود ہے…
کا ش! آج بھی مسلمان… اپنے نکاح کے معاملہ میں ’’استخارہ‘‘
کی روشنی اور قوت حاصل کریں تو زندگیاں اور گھر خوشیوں سے بھر جائیں … مگر
لوگ’’استخارہ‘‘ نہیں کرتے…دوسروں سے استخارہ کرواتے ہیں… وہ استخارہ نہیں ہوتا …
اس سے نہ کوئی روشنی ملتی ہے اور نہ کوئی خیر…
اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ کے قریب ہوجائو … وہ شہ رگ سے
زیادہ قریب ہے…اسے پالو،اسی سے خیر مانگ کر… اپنی جھولیاں ہرخیر سے بھر لو۔
جہاں سب کا علم ختم ہوجاتا ہے
ایک بچے کا پیشاب رک گیا اور جسم پھولنے لگا…ماں باپ نے
اپنے علم اور تجربے کے مطابق دوائیاں ٹوٹکے استعمال کئے… مگر مرض بڑھتا گیا… آس
پاس کے حکیموں کو دکھایا انہوں نے اپنے علم کے مطابق علاج کیا مگر بچے کی حالت
خطرے تک جاپہنچی… اب پریشانی سے تڑپتے ماں باپ اسے ہسپتال لے گئے…ڈاکٹر اس کی حالت
دیکھ کر چیخنے لگے کہ اتنی دیر کیوں کردی … اب ڈاکٹروں نے اپنے علم کے مطابق ٹیسٹ
شروع کئے…ان کے علم اور ان کی مشینوں نے فیصلہ دیا کہ…بچے کا فوری آپریشن کیا
جائے اور گردوں کی دھلائی ہوگی اور اس میں تاخیر موت کا سبب بن سکتی ہے… ماں باپ
تیار ہوگئے، ڈاکٹر نے کاغذ لا کر رکھا کہ اس پر دستخط کردوتاکہ … آپریشن شروع ہو…
والدین دستخط کے لئے مکمل تیار تھے کہ ایک اللہ والے نے پوچھا:آپ نے ’’استخارہ‘‘
کیا ہے؟والدین نے کہا: اس میں استخارہ کی کیا بات ہے… سب کا علم یہی فیصلہ دے رہا
ہے اور اب اگر تاخیر ہوئی توہمارا لخت جگر مرجائے گا… اللہ والے نے کہا:…دیکھو!
جہاں مخلوق کا سارا علم ختم ہوتا ہے وہاں سے اللہ تعالیٰ کا علم شروع ہوتا ہے… اور
استخارہ کا مطلب اللہ تعالیٰ کے اسی علم سے روشنی اور خیر حاصل کرنا ہے …چند منٹ
کا کام ہے غفلت نہ کرو…والدین مان گئے فوراً دونوں ہسپتال کی مسجد میں گئے… وضو
کیا اور دو رکعت قرب والی نماز…صلوٰۃ استخارہ ادا کی… یا اللہ! خیر کا سوال، یا
اللہ! آپریشن میں خیر ہے تو کرا دے، خیر نہیں تو بچالے،استخارہ کی مسنون دعاء
پڑھی…ان کو پریشانی کی حالت میں شیطان نے ہڑبونگ مچا کر اللہ تعالیٰ سے دور کر
دیاتھا… استخارہ کی دورکعتوں نے وہ دوری ’’ دور ‘‘ کردی… انہیں اللہ تعالیٰ کا قرب
ملا…دعاء کر کے واپس آئے تو ڈاکٹروں کی ٹیم جو پہلے آپریشن کا اِصرار کررہی
تھی…اب مذبذب تھی …کیونکہ بچے کا جسم بہت پھول چکا تھا اور اسے کٹ لگانے سے پورا
جسم بکھر سکتا تھا…چنانچہ کچھ دواء دینے اور انتظار کرنے کافیصلہ ہوا … والدین
دواء لے کر بچے کو گھر لے آئے تو اس کی حالت بدلنے لگی…طویل قصہ ہے … مختصر یہ کہ
تین دن میں وہ بالکل تندرست ہوگیا…
اب ڈاکٹر کہنے لگے کہ اگر اس دن والدین دستخط کردیتے اور
آپریشن ہوجاتا تو یہ بچہ ختم ہوجاتا…
غلطی کا احساس
پچھلے کالم میں اللہ تعالیٰ کے ’’قرب‘‘کا بیا ن تھا… وہ
کالم خود اپنے دل اور دماغ پر اللہ تعالیٰ کے قرب کی شعاعیں روشن کرتا رہا تو…ذہن
استخارہ کے موضوع کی طرف متوجہ ہوا… تب اپنی ایک غلطی کا احساس ہوا…بخاری شریف میں
استخارہ کی جو روایت آئی ہے… اس میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ… رسول کریم صلی اللہ
علیہ وسلم ہمیںہر کام میں استخارہ کا حکم
فرماتے تھے اور ہمیں استخارہ یوں سکھاتے تھے جس طرح قرآن مجید کی آیات سکھائی
جاتی ہیں…یعنی ’’استخارہ‘‘ بہت اہتمام سے سکھایاجاتا تھا…مجھے احساس ہوا کہ ہم نے
اپنی جماعت میں استخارہ سکھانے کا اب تک ایسا کوئی باقاعدہ اہتمام نہیں کیا…چنانچہ
یہی وجہ ہے کہ اب ہمارے رُفقاء بھی… دوسروں سے استخارہ کرانے کی ’’بدعت‘‘ میں
مبتلا ہورہے ہیں اور اصل استخارے کی برکات سے بہت سے ساتھی دور ہیں…
اگرچہ استخارہ کی بات اور ترغیب وقتاً فوقتاً جماعت میں اور
مضامین میں چلتی رہتی ہے… اور اصلاحی خطوط کے جواب میں بھی استخارہ کی ترغیب دی
جاتی ہے… مگر اس مبارک عمل کے لئے جو خصوصی اہتمام ہونا چاہیے تھا وہ ہم اب تک نہ
کر سکے…اس پر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے ہیں…
اَسْتَغْفِرُاللہَ الَّذِی لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ
الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَاَتُوْبُ اِلَیْہ
استخارہ کیا ہے؟…استخارہ کیسے کیا جاتا ہے؟استخارہ کب کیا
جاتا ہے؟استخارہ کتنی بار کیا جاتا ہے؟ استخارے کا نتیجہ کیسے معلوم ہوتا ہے؟اور
استخارہ کی اصل اہمیت کیا ہے؟
ان تمام باتوں کے مذاکرے کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی استخارہ
کی مسنون دعاء یادکرانے کا اہتمام بھی مطلوب ہے…
آج سے الحمدللہ… اس کالم کے ذریعہ … ’’تعلیم استخارہ‘‘ کی
یہ مبارک مہم شروع کی جا رہی ہے… باقی تفصیل مکتوبات اور اگلے کالم میں آجائے گی،
ان شاء اللہ …
جماعت کے تمام رفقاء کرام سے… درد مندانہ گزارش ہے کہ…
استخارہ کی دعاء ترجمہ کے ساتھ یاد کریں… استخارہ کا مسنون طریقہ سیکھیں … جن کو
دعاء یا د ہے… وہ کم ازکم دس افراد کو یہ دعاء یادکرائیں… پوری زندگی اپنے تمام
کاموں میں استخارہ سے روشنی، قوت اور طاقت لیں…کبھی بھی کسی دوسرے سے اپنے لئے
’’استخارہ‘‘ہرگز، ہرگز،ہرگز نہ کرائیں… یہ شیعوں کا طریقہ اور بُری بدعت ہے…ہاں!
اللہ والوں اور اہل علم سے مشورہ کرتے رہا کریں… جبکہ استخارہ خود کریں، ہردن
کریں، ہر رات کریں اور اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ کا ’’قرب‘‘پاتے چلے جائیں ، پاتے
چلے جائیں۔
لاالہ الا اللّٰہ، لاالہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ
محمد رسول اللّٰہ
اللھم صل علی سیدنا محمد و آلہ و صحبہ و بارک و سلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لاالہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ سے خیر اور بھلائی مانگنے کو ’’استخارہ‘‘ کہتے
ہیں… ’’استخارہ ‘‘ سے بندے کو اللہ تعالیٰ کا ’’قرب‘‘ ملتا ہے… اور وہ فرشتوں جیسا
بنتا چلا جاتا ہے… یعنی اللہ تعالیٰ کا ’’مقرب‘‘
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’استخارہ فرشتوں جیسا بننے کے لئے
ایک تیر بہدف مجرّب نسخہ ہے جو چاہے آزما کر دیکھ لے۔‘‘
(حجۃ اللہ البالغہ)
وجہ اس کی یہ ہے کہ استخارہ کرنے والا اپنی ذاتی رائے سے
نکل جاتا ہے اور اپنی مرضی کو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع کر دیتا ہے… فرشتے بھی
ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کرتے ہیں… اور استخارہ کرنے والا بھی
اپنی رائے چھوڑ کر اللہ تعالیٰ سے اس کی مرضی اور خیر مانگتا ہے، پس جو بندہ بکثرت
استخارہ کرتا ہے وہ رفتہ رفتہ فرشتہ صفت ہو جاتا ہے…
( مفہوم حجۃ اللہ البالغہ)
ایک بڑی مصیبت سے نجات
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے ’’استخارہ ‘‘ کی بڑی حکمت یہ بتائی ہے کہ… اس
کے ذریعے انسان کو فال نکالنے کے عمل سے نجات ملتی ہے… زمانہ جاہلیت میں مشرکین
تیروں کے ذریعہ فال نکالتے تھے… کوئی سفر ہوتا یا تجارت، کوئی شادی طے کرنی ہوتی
یا کوئی اور فیصلہ تو وہ کعبہ شریف کے مجاور کے پاس جاتے… اس مجاور کے پاس ایک
تھیلے میں کچھ تیر رکھے رہتے تھے …بعض تیروں پر لکھا ہوتا تھا ’’اَمَرَنِیْ
رَبِّیْ‘‘ … اور بعض پر لکھا ہوتا تھا ’’نَہَانِیْ رَبِّیْ‘‘… اور بعض تیر خالی
ہوتے… مجاوروہ تھیلا ان کے سامنے رکھتا وہ ہاتھ ڈال کر تیر نکالتے…
اگر’’اَمَرَنِیْ رَبِّیْ‘‘ والا تیر نکلتا
تو کہتے کہ یہ کام بہتر ہے کیونکہ’’اَمَرَنِیْ رَبِّیْ‘‘ کا مطلب ہے میرے رب نے مجھے حکم فرمایا ہے… اور
اگر ’’نَہَانِیْ رَبِّیْ‘‘( میرے رب نے مجھے منع فرمایا ہے) والا تیر نکلتا تو وہ
اس کام سے رُک جاتے اور اگر خالی تیر نکلتا تو وہ دوبارہ فال نکالتے… اس عمل کو
’’اِسْتِقْسَام بِالْاَزْلَام ‘‘ کہا جاتا تھا… یعنی تیروں سے قسمت معلوم کرنا…
قرآن مجید کی سورۂ مائدہ میں اس عمل کو حرام قرار دیا گیا کیونکہ اس میں دو بڑی
خرابیاں تھیں…
١
یہ ایک بے بنیاد عمل ہے اور محض اتفاق ہے، کیونکہ جب بھی تھیلے میں ہاتھ ڈال کر
تیر پکڑا جائے گا تو کوئی نہ کوئی تیر تو ضرور ہاتھ آئے گا…
٢
اس میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور افتراء باندھنا ہے… اللہ تعالیٰ نے کہاں حکم
فرمایا اور کہاں منع فرمایا؟ تیروں کی عبارت کو اللہ تعالیٰ کا فیصلہ قرار دے دینا
اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا ہے اور یہ حرام ہے…
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ’’فال ‘‘ کی جگہ ’’استخارہ‘‘ کی
تعلیم دی… اور اس میں حکمت یہ ہے کہ جب بندہ اپنے علیم رب سے رہنمائی کی التجا
کرتا ہے اور اپنے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیتا ہے تو گویا کہ وہ اپنی
مرضی چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے در پر جا پڑتا ہے کہ… یا اللہ! آپ کے نزدیک جو خیر
ہو وہ عطاء فرما دیں تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد اور رہنمائی ضرور فرماتے
ہیں۔ (خلاصہ حجۃ اللہ البالغہ)
معلوم ہوا کہ… استخارہ ایک انسان کو قسمت معلوم کرنے کے
شرکیہ طریقوں سے بچاتا ہے… اور اسے خوش قسمت بھی بناتا ہے… پس ہر مسلمان کو اپنے
جائز کاموں میں کثرت سے خود استخارہ کرنا چاہیے اور دوسروں سے استخارہ نکلوانے سے
بچنا چاہیے …کیونکہ دوسروں سے استخارہ کرانے کا نہ کوئی مطلب ہے اور نہ فائدہ… اور
نہ ہی استخارہ سے دوسروں کو کوئی خیر یا فیصلہ معلوم ہوتا ہے… پھر جو لوگ اپنے
گمان کو اللہ کا فیصلہ قرار دے دیتے ہیں وہ اوپر فال والے معاملے میں جو کچھ لکھا
گیا ہے اس میں غور کریں۔
اہل علم نے وضاحت فرمائی ہے کہ استخارہ میں نہ کوئی خواب
آنا ضروری ہے اور نہ کسی طرح کی کوئی علامت ظاہر ہونا ضروری ہے… یہ جو لوگوں نے
بنا رکھا ہے کہ گردن اِدھر مڑ جائے یا اُدھر یہ سب غلط باتیں ہیں۔
ایک بات سوچیں
لوگ ہاتھوں کی لکیروں سے قسمت معلوم کرتے ہیں… کچھ لوگ
ستاروں سے اپنی تقدیر پوچھتے ہیں… کچھ لوگ تاریخوں اور اعداد سے قسمت کا حال پتا
کرتے ہیں… کوئی طوطے اور پرندے سے مدد لیتے ہیں… وجہ کیا ہوتی ہے؟ …بس یہی کہ کہیں
سے اچھی قسمت کی کوئی خبر مل جائے… حالانکہ ان چیزوں سے بد قسمتی اور بد نصیبی تو
ملتی ہے اچھی قسمت نہیں… جبکہ حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’استخارہ‘‘ کو خوش قسمتی کی علامت قرار دیا
ہے… ارشاد فرمایا:
مِنْ سَعَادَۃِ ابْنِ آدَمَ اِسْتَخَارَتُہُ اللّٰہَ
’’یعنی ابن آدم کی خوش قسمتی میں
سے یہ بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے استخارہ کرتا رہے۔‘‘
اور فرمایا:
وَمِنْ شِقْوَۃِ ابْنِ آدَمَ تَرْکُہُ اسْتَخَارَۃَ
اللّٰہِ۔
’’ابن آدم کی بد نصیبی میں سے یہ
بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے استخارہ کرنا چھوڑ دے۔‘‘
( ترمذی، مسند احمد)
اب آپ سوچیں ، غور فرمائیں کہ ایک طرف وہ طریقے ہیں …جن سے
قسمت بنتی نہیں بلکہ ان کے جھوٹے دعوے کے مطابق بھی… صرف قسمت معلوم ہوتی ہے…
کیونکہ نہ ہاتھ کی لکیریں تبدیل ہوتی ہیں اور نہ ستاروں کے برج اور نہ پیدائش کی
تاریخیں… جبکہ دوسری طرف ایک عمل ہے جس کے ذریعہ …خوش نصیبی ملتی ہے… یعنی قسمت
بنتی ہے… انسان کے کام درست ہوتے ہیں …اس کے فیصلوں میں روشنی آتی ہے… اور وہ
اللہ تعالیٰ کا ’’قرب‘‘ پاتا ہے … اور اللہ تعالیٰ کے قرب سے بڑھ کر اپنی قسمت اور
کیا ہو سکتی ہے؟
استخارہ میں خیر ہی خیر ہے
استخارہ کے بارے میں حضرت اقدس مولانا محمد یوسف بنوری رحمہ
اللہ کی یہ عبارت مکمل توجہ سے ملاحظہ
فرمائیں:
’’واضح ہو کہ استخارہ مسنونہ کا
مقصد یہ ہے کہ بندے کے ذمہ جو کام تھا وہ اس نے کر لیا اور اپنے آپ کو حق تعالیٰ
کے علم محیط اور قدرت کاملہ کے حوالے کر دیا، گویا استخارہ کرنے سے بندہ اپنی ذمہ
داری سے سبکدوش ہو گیا۔ ظاہر ہے کہ اگرکوئی انسان کسی تجربہ کار عاقل اور شریف شخص
سے مشورہ کرنے جاتا ہے تو وہ شخص صحیح مشورہ ہی دیتا ہے اور اپنی مقدور کے مطابق
اس کی اعانت بھی کرتا ہے، گویا استخارہ کیا ہے؟ حق تعالیٰ سے مشورہ لینا ہے، اپنی
درخواست استخارہ کی شکل میں پیش کر دی، حق تعالیٰ سے بڑھ کر کون رحیم وکریم ہے؟ اس
کا کرم بے نظیر ہے، علم کامل ہے اور قدرت بے عدیل ہے، اب جو صورت انسان کے حق میں
مفید ہو گی ، حق تعالیٰ اس کی توفیق دے گا اس کی رہنمائی فرمائے گا، پھر نہ سوچنے
کی ضرورت، نہ خواب میں نظر آنے کی حاجت، جو اس کے حق میں خیر ہو گا وہی ہو گا،
چاہے اس کے علم میں اس کی بھلائی آئے یا نہ آئے… اطمینان و سکون فی الحال حاصل
ہو یا نہ ہو…ہوگا وہی جو خیر ہو گا، یہ ہے استخارہ مسنونہ کا مطلوب، اسی لئے تمام
اُمت کے لئے تاقیامت یہ دستور العمل چھوڑا گیاہے ۔
( دور حاضر کے فتنے اور ان کا
علاج)
’’نورانی مہم‘‘ کے اغراض و مقاصد؟
سنت استخارہ کی تعلیم ، ترغیب اور اشاعت کے لئے جماعت میں
جو دس روزہ ’’نورانی مہم‘‘ چلائی گئی اس کے دو اہم مقاصد تھے…
پہلا یہ کہ… ہمارے محسن ہمارے آقا حضرت محمدمدنی صلی اللہ
علیہ وسلم نے… اپنے صحابہ کرام کو استخارہ
کی تعلیم اتنی اہمیت کے ساتھ دی جیسے کہ… آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی تعلیم دیتے تھے… اور قرآن مجید کی
تعلیم دینا آپ کے لازمی فرائض میں سے تھا …مگر آج ہم مسلمان استخارہ کی اس عظیم
اور اہم نعمت سے محروم ہوتے چلے جا رہے ہیں… اور اس کی وجہ سے ہمارے کاموں اور
ہمارے فیصلوں میں نور اور خیر کی بہت کمی ہو گئی ہے… شادی سے لے کر علاج تک کے
معاملات میں ہم غلطی اور دھوکے کا شکار ہوتے ہیں… اوراگر علاج سے پہلے ہم استخارہ
کی عادت ڈال لیں تو… آج ڈاکٹروں کے پاس اس قدر ہجوم نہ رہے… اور ہم ہر وقت ایک
ٹیسٹ کے بعد دوسرے ٹیسٹ میں پریشان نہ ہوتے رہیں… اور اگر شادیوں میں استخارہ آ
جائے تو ہر گھر سکون اور راحت کا گہوارہ بن جائے… یہ تو محض دو مثالیں ہیں…ہمیں دن
رات بہت سے کام پیش آتے ہیں… اگر ہم روز چار پانچ بار استخارہ کر لیا کریں تو
ہمارے قدم درست اُٹھیں گے اور ہمارے کاموں میں خیر ، برکت اور اللہ تعالیٰ کی مدد
آئے گی…
مگر شیطان نے استخارہ کو ایک ’’بوجھ ‘‘ بنا دیا ہے… لوگ
استخارہ کو حج کی طرح مشکل کام سمجھتے ہیں… اور اکثر مسلمانوں کو استخارہ کا طریقہ
اور استخارہ کی دعاء تک یاد نہیں… اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو ’’استخارہ ‘‘
کی نعمت واپس دلانا یہ نورانی مہم کا پہلا مقصد تھا… جبکہ دوسرا مقصد یہ تھا کہ
آج کل استخارہ کے نام پر طرح طرح کے غلط کام شروع ہو چکے ہیں… سنا ہے ٹی وی پر
استخارہ کے نام سے پروگرام چل رہے ہیں …اس میں لوگ اپنے سوال بھیجتے ہیں اور کوئی
’’ لیپ ٹاپی بابا‘‘ ان کو استخارہ کے ذریعہ ( نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ کے فیصلے
سناتا ہے کہ فلاں چیز خیر ہے اور فلاں شر… پہلے یہ معاملہ شیعوں میں بہت زیادہ تھا
انہوں نے مشرکین کی طرح فال نکالنے کے کئی طریقے گھڑے ہوئے ہیں… زیادہ معروف طریقہ
تسبیح کے دانوں اور گٹھلیوں سے خیر و شر معلوم کرنے کا ہے… اور وہ اسے استخارہ کا
نام دیتے ہیں… پھر اہل بدعت بھی اس غلطی میں کود پڑے… اور اب اچھے خاصے اہل حق
کہلوانے والے لوگ بھی اسی طرح کے استخارے کرواتے نظر آتے ہیں … حضرت آپ استخارہ
دیکھ کر بتائیں کہ… یہ تجارت اچھی ہے یا نہیں، یہ رشتہ اچھا ہے یا نہیں؟…
اب کسی کو استخارہ سے تو پتا چل نہیں سکتا کہ …تجارت اچھی
ہے یا نہیں، رشتہ اچھا ہے یا نہیں … اور اگر لوگوں کو سمجھائیں کہ…بھائی استخارہ
خود کیا جاتا ہے… اوراس طرح خیر اور شر کے فیصلے پوچھنا جائز نہیں بلکہ گناہ کا
کام ہے… اور استخارہ سے کوئی خیر پتا نہیں چلتی بلکہ خیر کا راستہ خود آسان اور
مقدر ہو جاتا ہے تو… لوگ یہ بات مانتے نہیں …اور فوراً اہل بدعت یا روافض کے پاس
پہنچ جاتے ہیں… تو اس مجبوری کو بہانہ بنا کر …اب کئی اہل حق نے بھی…لوگوں کے لئے
استخارے نکالنا شروع کر دئیے ہیں… حالانکہ انہیں ہرگز ایسا نہیں کرنا چاہیے،
کیونکہ لوگوں کو… جب ہر معاملے میں مستقبل معلوم کرنے کی عادت پڑ جائے تو پھر وہ
’’استخارے‘‘ پر بریک نہیں لگاتے …بلکہ نجومیوں، کاہنوںاور جادوگروں کے دروازوں پر
جا گرتے ہیں…جبکہ مؤمن کے ایمان کی پہلی شرط یہ ہے کہ… وہ بن دیکھے غیب پر ایمان
لائے…جب یہ شرط ختم ہو جائے اور ہمیشہ مستقبل معلوم کرنے کا شیطانی نشہ پڑ جائے تو
پھر… ایمان سے نکلنے میں دیر نہیں لگتی… بندہ طویل عرصہ سے…اہل اسلام کو اس کی
دعوت دے رہا ہے کہ خود استخارہ کریں… دوسروں سے استخارہ نہ کرائیں… ہمیں نہ کسی
عامل سے حسد ہے اور نہ کسی کی مقبولیت سے کوئی تکلیف… میں نے خود عملیات سیکھے
ہیں… اور آج کے کئی بڑے بڑے معروف عاملوں سے زیادہ عملیات کی سمجھ رکھتا ہوں …
کوٹ بھلوال جیل میں جب ہم کشمیری مجاہدین کے ساتھ تھے تو …سینکڑوں مجاہدین رجوع
کرتے تھے اور الحمد للہ جنات سے لے کر لا علاج امراض تک کا… منٹوں میں علاج ہو
جاتا تھا…
وہ سب اللہ تعالیٰ کے راستے کے مجاہدین تھے … اور مجھے ان
کی خدمت کر کے خوشی ہوتی تھی … اور اس علاج کے ضمن میں…ان کی نظریاتی اور اخلاقی
تربیت کا کام بھی آسان رہتا تھا… پاکستان آنے کے بعد … جب لوگ دوبارہ ان معاملات
میں رجوع کرنے لگے تو مجھے اپنے دینی، جہادی فرض کام کی وجہ سے… فرصت نہیں ملتی
تھی تو بعض کتابوں میں مجربات لکھ دئیے تاکہ… لوگ خود ہی فائدہ اٹھا لیں… اور میرا
وقت اس کام پر ضائع نہ ہو…دراصل قرآن مجید کی آیات … اور رسول کریم صلی اللہ
علیہ وسلم کی مبارک دعاؤں کے ہوتے
ہوئے…کسی بھی علاج کے لئے … مزید کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے…پھر بھی اُمت مسلمہ کے
اکابر نے…حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے لے کر ہمارے زمانے تک اپنے مجربات لوگوں کو
بتائے… تاکہ… لوگ ان سے بھی فائدہ اُٹھائیں… اور فائدہ اسی کو ملتا ہے جو خود… ان
دعاؤں اور وظائف کو پڑھے… مگر لوگ خود کچھ نہیں پڑھنا چاہتے… ان کی خواہش ہوتی ہے
کہ عامل ہی سارا کام کر دے اور وہ پیسے دے کر … ہر شفاء اور ہر خیر پا لیں…
لوگوں کے اس طرز عمل کی وجہ سے عاملوں کا دھندہ اور کام بڑھ
گیا ہے… اور اب ہر طرف عاملوں کے دروازوں پر لوگوں کی لائنیں ہیں… بے مقصد، لا
حاصل اور دین و آخرت سے غافل … نہ امت مسلمہ کی مظلومیت کا درد… نہ اسلام کے غلبے
کا کوئی شوق یا جنون… اور نہ اپنے ایمان اور اپنے حسن خاتمہ کی فکر… میں تو جہاد
کا کام چھوڑ کر عملیات میں مشغولیت کو گناہ سمجھتا ہوں… اور اکثر رجوع کرنے والوں
سے یہی عرض کرتا ہوں کہ مجھے معاف رکھیں اور جو عمل معلوم کرنا ہو میری کتابوں سے
فائدہ اُٹھا لیں… اور اپنی زندگی کو بامقصد اور مصروف بنا لیں ان شاء اللہ بہت سے
وہم اور بہت سی پریشانیاں ختم ہو جائیں گی… اب جس طرح سے استخارہ کے نام پر طرح
طرح کی خرابیاں اور بدعات اُمت میں عام ہو رہی ہیں… اور لوگ تیزی سے نجومیت اور
کہانت کی طرف جا رہے ہیں… یہ سب کچھ تشویش ناک ہے … اُمت مسلمہ کو اس خطرے سے
آگاہ کرنا ’’نورانی مہم ‘‘ کا دوسرا مقصد تھا… الحمد للہ آج جبکہ مہم کا پانچواں
دن ہے… ماشاء اللہ بہت تسلی بخش اور حوصلہ افزاء نتائج سامنے آ رہے ہیں… کئی
مسلمانوں نے استخارہ کا طریقہ اور دعاء سیکھ لی ہے… کئی افراد نے کثرت استخارہ کو
اپنے معمولات کا حصہ بنا لیا ہے… اور کئی افراد نے اپنے استخارہ کے بہترین نتائج
سے بھی آگاہ کیا ہے… ابھی پانچ دن مزید باقی ہیں…
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس مہم کا نور اور اس کی برکات عطاء
فرمائیں …آمین یا ارحم الراحمین
لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ
محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں پر نماز فرض فرمائی…وَاَقِیْمُو
الصَّلٰوۃَ… اور قائم کرو نماز کو…
اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں پر جہاد فرض فرمایا…
کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ…
فرض کیا گیا تم پر قتال…
یعنی نماز سے پہلے بھی ’’ایمان ‘‘ ضروری… بے ایمان کی نماز
نہیں ہوتی… اور جہاد سے پہلے بھی ’’ایمان‘‘ ضروری…بے ایمان کا جہاد نہیں ہوتا…
امید ہے کہ یہ بات آپ کے ذہن میں بیٹھ گئی ہو گی… اب آئیے اگلی بات کی طرف… نماز
کے لئے جتنا ایمان ضروری ہے بس اتنا ہی ایمان جہاد کے لئے ضروری ہے… جہاد کے لئے
کسی الگ سپیشل ایمان کی ضرورت نہیں… بلکہ… جتنے ایمان سے نماز ادا ہو جاتی ہے اتنے
ایمان سے جہاد بھی ادا ہو جاتا ہے… ایک آدمی نماز ادا کر رہا ہے معلوم ہوا کہ وہ
خود کو ایمان والا سمجھتا ہے… اب اگر اسے جہاد کے لئے کہا جائے تو وہ فوراً اپنے
ایمان کا انکار کر دے اور یہ کہے کہ… پہلے میںایمان بناؤں گا پھر جہاد کروں گا یا
پھر جہاد کو مانوں گا… تو یہ بڑی خطرناک غلطی اور گمراہی ہے… اُمید ہے کہ ان شاء
اللہ یہ بات بھی آپ کے دل میں اتر گئی ہو گی… اب آئیے اگلی بات کی طرف…
نماز زیادہ افضل ہے یا جہاد؟… اس بات پر تو اہل علم کا
اتفاق ہے کہ نماز کی فرضیت بھی قرآن مجید میں نازل ہوئی ہے… اور جہاد بمعنیٰ قتال
فی سبیل اللہ کی فرضیت بھی قرآن مجید میں نازل ہوئی ہے… چنانچہ یہ دونوں دین
اسلام کے اہم فرائض ہیں… ان کا انکار کرنا ’’کفر‘‘ ہے… اور ان کو چھوڑنا بہت بڑا
کبیرہ گناہ ہے… مگر ان دونوں میں سے زیادہ اہم کون سافریضہ ہے… حضور اقدس صلی اللہ
علیہ وسلم نے کبھی نماز کی وجہ سے جہاد کو
نہیں چھوڑا… اور کبھی جہاد کی وجہ سے نماز کو نہیں چھوڑا… ہاں! جہاد کی مشقت میں
چند نمازیں قضاء ضرور ہوئیں مگر ان کو فوراً بعد میں ادا کر لیا گیا… اور ان کے
قضاء کروانے پر مشرکین کو سخت بددعاء دی گئی…
جہاد اور نماز کا آپس میں کوئی ٹکراؤ بھی نہیں… البتہ
دونوں ایک دوسرے کو قوت اور سہولت دیتے ہیں… چنانچہ جہاد میں ایسی نماز کی بھی
اجازت ہے…جو چلنے پھرنے اور لڑنے سے نہیں ٹوٹتی… اور دو قسطوں میںادا ہوتی ہے… اسے
’’صلوٰۃ خوف‘‘ کہتے ہیں… معلوم ہوا کہ جہاد بھی بہت اہم ہے… اور نماز بھی بہت اہم
ہے… مگر سوال وہی کہ ان دونوں میں سے زیادہ اہم کون سا فریضہ ہے؟… اہل علم کے
مختلف اقوال ہیں… بندہ کم علم کو جو بات سمجھ آئی ہے وہ یہ ہے کہ… نماز جہاد سے
زیادہ ’’اہم‘‘ ہے اور جہاد نماز سے زیادہ ’’افضل‘‘ ہے۔ واللہ اعلم بالصواب…
اب جب کہ ہم یہ مان رہے ہیں کہ… نماز زیادہ اہم ہے تو پھر
نماز کے لئے زیادہ ایمان کی ضرورت ہو گی یا جہاد کے لئے؟ …اگر آج ہم کسی مسلمان
سے کہیں کہ بھائی نماز ادا کرو… وہ جواب دے کہ نہیں جی!… میرا تو ایمان ہی نہیں
بنا… میں تو کچا مسلمان ہوں پھر میں ایسے کچے ایمان اور اسلام کے ساتھ مسجد میں
کیسے جاؤں؟… اللہ تعالیٰ کے سامنے کیسے کھڑا ہوں؟ … میں پہلے ایمان بناؤں گا پھر
نماز ادا کروں گا… آپ بتائیے کہ اس آدمی کی بات ٹھیک ہے؟… آپ یہی جواب دیں گے
کہ… نہیں جی! اس کی بات ٹھیک نہیں ہے… ایمان لانے کے بعد ایمان بنانے کا سب سے
ضروری طریقہ یہ ہے کہ… فرائض کی پابندی کرو… نماز ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو،
زکوٰۃ دو، حج کرو، جہاد کرو… جب تم فرائض کی پابندی کرتے چلے جاؤ گے تو…تمہارا
ایمان بنتا چلا جائے گا… لیکن اگر تم فرائض چھوڑ کر ایمان بنانے کی کوشش کرو گے تو
قیامت تک تمہارا ایمان نہیں بنے گا… نماز اور جہاد سے پہلے ایمان لانے کی ضرورت
ہے… اب ایمان بنانے کے لئے تمہیں نماز بھی ادا کرنی ہو گی اور جہاد بھی کرنا ہو
گا… اور یہ کہنا کہ پہلے ایمان بناؤں گا پھر جہاد کروں گا… پہلے ایمان بناؤں گا
پھر نماز ادا کروں گا… یہ بالکل غلط شیطانی وسوسہ ہے جو وہ انسانوں کو گمراہ کرنے
کے لئے… ان کے دل میں ڈالتا ہے…دیکھو! سورۂ حجرات میں واضح اعلان ہو رہا ہے کہ…
’’ایمان والے تو صرف وہی ہیں جو
اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، پھر شک میں نہ پڑے اور اللہ کی راہ میں اپنے
مال اور جان سے لڑے یہی لوگ سچے ہیں۔ ‘‘( الحجرات: ۱۵)
اُمید ہے کہ ان شاء اللہ یہ بات بھی آپ سمجھ گئے ہوں گے
…اب آئیے اگلی بات کی طرف… نماز تب فرض ہوتی ہے جب نماز کا وقت داخل ہو جائے…
بالکل جہاد بھی اس وقت فرض ہوتا ہے جب جہاد کا وقت آ جائے… مگر یہ کون بتائے گا
کہ وقت آیا یا نہیں؟ تو اس میں فطری بات یہ ہے کہ… وقت خود آ جاتا ہے نہ وہ کسی
کے اعلان کا محتاج ہے اور نہ کسی کی تصدیق کا… ہر دن صبح صادق خود آ جاتی ہے…
ساتھ فجر کی نماز بھی اتر آتی ہے… سورج اللہ تعالیٰ کے حکم سے زوال پذیر ہوتا ہے
تو ظہر آ جاتی ہے… اسی طرح جہاد کا وقت بھی خود آ جاتا ہے… کسی کے اعلان یا کسی
کی تصدیق کی ضرورت نہیں ہوتی… جہاد کے اوقات خود قرآن مجید نے اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ نے طے فرمادئیے ہیں … اور یہ
وہ اوقات ہیں جو ہر زمانے میں آتے رہتے ہیں…جس طرح نماز کے اوقات ہر زمانے میں
آتے رہتے ہیں… اب کسی نے نماز نہ پڑھنی ہو… اور وہ اعلان کر دے کہ جی! ہم تو
حالات کے بھنور میں پھنس گئے ہیں … اور ہم اب بنی اسرائیل سے روشنی پائیں گے… اور
بنی اسرائیل کو حکم تھا کہ…اپنے گھروں میں نماز ادا کرو… اور صرف دو نمازیں ادا
کیا کرو…ہم چونکہ کچے مسلمان ہیں… مسجد نبوی ہمارے لئے مثال نہیں بن سکتی… اس لئے
ہمیں بہت دور، بہت پیچھے جا کر اپنے لئے مثال اور روشنی ڈھونڈنی ہو گی… ہمیں بنی
اسرائیل کے دور میں داخل ہو کر ان سے سبق پڑھنا ہو گا… اور بنی اسرائیل کو حکم تھا
کہ ’’ وَاجْعَلُوْا بُیُوْتَکُمْ قِبْلَۃً‘ ‘ … کہ اپنے گھروں میں نماز ادا کرو…
ہم بھی آج سے ہر نماز گھر میں پڑھا کریں گے… اور بنی اسرائیل کے لئے چونکہ دو
نمازوں کا حکم تھا تو ہم بھی پانچ کی جگہ دو نمازیں پڑھا کریں گے… آپ بتائیے کہ
یہ بات درست ہے یا غلط؟… اگر یہ غلط ہے تو پھر جہاد سے جان چھڑانے کے لئے… خود کو
بنی اسرائیل کے زمانے میں کیوں لے جایا جا رہا ہے؟… اگر صحابہ کرام رضوان اللہ
علیہم اجمعین سے مثال اور روشنی لینی ہے
تو نماز میں بھی لینی ہو گی… اور جہاد میں بھی… اور اگر بنی اسرائیل سے روشنی اور
مثال لینی ہے تو… وہ نماز میں بھی لینی ہو گی اور جہاد میں بھی… یہ نہیں ہو سکتا
کہ نماز کے بارے میں تو حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مثال بنایا جائے… اور جہاد کے بارے میں …
حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے اپنا رشتہ اور تعلق توڑ کر… خود کو بنی
اسرائیل کا پیروکار بنا دیا جائے… بات بالکل واضح ہے…حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ
علیہم اجمعین کو مثال بنائیں گے تو نماز
کا وقت بھی نظر آ جائے گا… اور جہاد کا وقت بھی… مگر چونکہ جہاد مشکل فریضہ ہے…
اس لئے لوگ جہاد سے اپنی جان بچانے کے لئے کہہ دیتے ہیں کہ…ابھی جہاد کا وقت نہیں
آیا… ان سے پوچھا جائے کہ جہاد کا وقت کب آتا ہے؟…کفر بھی موجود ہے اور اس کا
فتنہ بھی… مسلمانوں پر حملے بھی موجود ہیں اور قبضے بھی…شعائر اسلام پر پابندی بھی
ہے… اور حرمتوں کی پامالی بھی… اور ان سے پوچھا جائے کہ اگر آپ کے نزدیک جہاد کا
وقت کبھی آ بھی گیا تو آپ نے اس کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ جہاد کی تیاری تو
ہر وقت اور ہر حال میں فرض اور لازم ہے… اُمید ہے کہ ان شاء اللہ یہ بات بھی آپ
کے دل و دماغ میں سما گئی ہو گی۔
اب آئیے اگلی بات کی طرف… اوپر جو چند باتیں عرض کی گئیں
ان کا مقصد کسی کی تنقیص یا توہین نہیں… بس دل میں یہ درد اور کڑھن ہے کہ…کوئی
مسلمان اس حال میں نہ مرے کہ وہ جہاد فی سبیل اللہ کا منکر ہو… قرآن مجید کی ایک
ہزار کے لگ بھگ جہادی آیات کا انکار… حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی جہادی سیرت کا انکار… حضور اقدس صلی اللہ
علیہ وسلم کی ہزاروں جہادی احادیث کا
انکار… اسلام کے ان غزوات کا انکار جن پر قرآن مجید نے سورتیں نازل فرمائیں… کیا
اللہ تعالیٰ نے اتنی آنکھیں بھی نہیں دیں کہ…مسلمانوں کو وہ تلوار نظر آ جائے جو
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے
اپنے ہاتھ مبارک میں اٹھائی اور چلائی… کیا مسلمانوں کی آنکھیں اس خون کو نہیں
دیکھ رہیں جو جہاد میں حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک سے ٹپکا… اگر یہ سب کچھ نظر آ رہا
ہے تو بات ہی ختم… آپ ان لوگوں کا کیوں اعتبار کرتے ہیں جو آپ کے آقا حضرت محمد
صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طرز عمل کے…عملی
مخالف ہیں… ذرا دل پر ہاتھ رکھیں… اگر اسلحہ اٹھانا ہر حال میں دہشت گردی ہے
تو…حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے
جو اسلحہ اٹھایا ، جو اسلحہ چلایا، جو اسلحہ سکھایا، جو اسلحہ خریدا، جو اسلحہ
سجایا، جو اسلحہ بنایا… اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اے مسلمانو! آپ کے محبوب نبی
صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت میں گیارہ
تلواریں تھیں… تو وہ لوگ آپ کی کس طرح سے درست رہنمائی کر سکتے ہیں جو دن رات…
تلوار اور اسلحہ کے خلاف ذہن سازی کرتے ہیں… اور نعوذ باللہ حضور اقدس صلی اللہ
علیہ وسلم کے غزوات کوبھی… اپنے لئے مثال
نہیں سمجھتے… کیا میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا جہاد میں نکلنا… بار بار نکلنا اور زخم
کھانا… یہ اُمت کے لئے نہیں تھا؟… کیا یہ اُمت کے لئے مثال نہیں ہے؟… تو کیا نعوذ
باللہ، نعوذ باللہ یہ سب کچھ فضول تھا؟… اے مسلمانو! میڈیا، شوبز اور کرکٹ کی بدبو
سے باہر نکل کر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات مبارکہ کو پڑھو… انہی غزوات کو اللہ
تعالیٰ نے اُمت مسلمہ کے لئے ’’اسوہ حسنہ‘‘ اور بہترین مثال بنایا ہے۔
ٹھیک ہے آپ جہاد نہیں کر سکتے تو… اس پر توبہ، استغفار کر…
اللہ تعالیٰ سے مدد اور توفیق مانگو… اور دل میں شرمندگی اور ندامت اختیار کرو…
مگر یہ کونسا دین ہے کہ…خود کو کچا مسلمان کہہ کرجہاد کا انکار کرو اور پھر اپنے
کارناموں پر فخر بھی کرو… اور خود کو سب سے افضل اور اعلیٰ بھی سمجھو… ہائے کاش !
ہائے کاش! ہائے کاش!… کوئی مسلمان قتال فی سبیل اللہ کی فرضیت کا انکار نہ کرے… بس
یہی درد ہے، یہی فکر ہے…اور اسی کے لئے یہ چند باتیں لکھی ہیں… یا اللہ! قبول
فرما… یا اللہ! ہم سب پر رحم فرما …آمین یا ارحم الراحمین۔
لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ ،لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے ’’موت ‘‘ کو بھی پیدا فرمایا… اور زندگی کو
بھی… موت نہ ہوتی تو زندگی عذاب بن جاتی… اور زندگی نہ ہوتی تو موت بے مقصد رہ
جاتی…زندگی بھی ضروری، موت بھی ضروری… زندگی بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور موت بھی
اللہ تعالیٰ کی مخلوق… بس خوش نصیب ہے وہ… جس کا جینا بھی اللہ تعالیٰ کے لئے ہو
اور مرنا بھی اللہ تعالیٰ کے لئے…
اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلہِ
رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
ایک کی خوشی سب کا غم
جب کوئی ’’ اللہ والا‘‘ مومن دنیا سے اٹھتا ہے… تو ہر طرف
غم پھیل جاتا ہے… آسمان بھی روتا ہے اور زمین بھی… اور ایمان والے کمی، غم اور
صدمہ محسوس کرتے ہیں… مگر وہ ’’اللہ والا‘‘ بہت خوش ہوتا ہے …وہ جس کا تھا اس کے
پاس چلا گیا…وہ تکلیف سے راحت کی طرف منتقل ہو گیا… وہ فراق سے نکل کر وصال کی
دنیا میں پہنچ گیا… وہ ’’کرنے ‘‘ کی مشقت سے نکل کر ’’ پانے ‘‘ کے مقام پر جا
اترا… وہ دکھوں اور غموں کی وادی سے نکل کر…آرام اور اکرام کے باغات میں جا
پہنچا… موت آئی اور اسے اپنے نرم سینے سے لگا کر… اس کے محبوب کے پاس چھوڑ آئی…
وہ خوش خوش چلا گیا… پیچھے والے روتے ، تڑپتے رہ گئے… یہی ’’ماضی ‘‘ میں ہوتا رہا
، یہی ’’ حال‘‘ میں ہو رہا ہے… اور یہی ’’مستقبل ‘‘ میں ہوتا رہے گا…
کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ
دو دن میں دو صدمے
اُمت مسلمہ کو دو دن میں دو بڑے صدمے پہنچے… پہلے خبر آئی
کہ سلطان العلماء حضرت اقدس مولانا سلیم اللہ خان صاحب رحلت فرما گئے… ابھی غمزدہ
مسلمان ان کی مرقد سے اٹھے ہی تھے کہ خبر آ گئی… سلطان العارفین حضرت اقدس مولانا
عبد الحفیظ مکی صاحب وصال فرما گئے…
اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ … اِنَّا لِلهِ
وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ
اللہ تعالیٰ ان دونوں حضرات کو مغفرت کا بلند مقام … اور
اُمت مسلمہ کی طرف سے بہترین بدلہ عطاء فرمائے…
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَہُمْ وَارْحَمْھُمْ… اَللّٰھُمَّ لَا
تَحْرِمْنَا اَجْرَھُمْ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَھُمْ
کیا کرنا چاہئے؟
جب ایسے بھاری اعمال ناموں والے بابرکت اکابر کے انتقال کی
خبر آئے تو کیا کرنا چاہیے؟
١
فوراً ان کے لئے دعاء مغفرت اور ایصال ثواب … جس قدر زیادہ ہو سکے۔
٢ اگر
کسی بھی طرح نماز جنازہ میں شرکت کا موقع ہو تو اس میں ہرگز کوتاہی نہ کی جائے…
سفر، خرچے اور تکلیف کو نہ دیکھا جائے… ان بزرگوں کے جنازے، مغفرت اور خیر کے
دروازے ہوتے ہیں… وہاں جانے والوں کو… بہت کچھ عطاء فرمایا جاتا ہے… کیونکہ جو بھی
جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے نام اور دین کی نسبت سے جاتا ہے… اس لئے اللہ تعالیٰ کی
طرف سے اسے انعام یا انعامات سے نوازا جاتا ہے۔
٣
زندگی میں کبھی ان بزرگوں کو کوئی تکلیف پہنچائی ہو یا ان کی حق تلفی یا ناقدری کی
ہو تو… وفات کی خبر ملتے ہی استغفار کریں… اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں اور ان
بزرگوں کے لئے ایصال ثواب کریں۔
٤
اگر زندگی میں ان وفات پانے والے بزرگ کی طرف سے … آپ کو کوئی تکلیف ، ایذاء یا
پریشانی پہنچی ہو …اور اس کا اثر دل میں باقی ہو تو… وفات کی خبر ملتے ہی فوراً ان
کو معاف کر دیں… بزرگ وہ نہیں ہوتا جس سے غلطی نہ ہوتی ہو…اللہ والا وہ نہیں ہوتا
جس نے کبھی کوئی گناہ نہ کیا ہو… ولی اور مقرب وہ نہیں ہوتا جس کی ہر عادت ہر کسی
کو پسند ہو… اولیاء اور مقربین سے غلطیاں بھی ہوتی ہیں، گناہ بھی ہوتے ہیں… ان کی
کئی عادات کئی افراد کے لئے ناپسندیدہ بھی ہوتی ہیں … مگر پھر بھی وہ اپنے اخلاص ،
اپنی توبہ اور اپنے مقبول عمل کی وجہ سے… اللہ تعالیٰ کے مقرب ہوتے ہیں… ان کی خیر
ان کے شر پر غالب ہوتی ہے… ہم اگر ان کی چند عادتوں یا باتوں کو چھوڑ کر ان کے
دینی کام، دینی خدمات اور خیروں پر نظر ڈالیں تو… دور دور تک ان کا فیض پھیلا نظر
آتا ہے… ابھی دو دن پہلے میں… حضرت اقدس مولانا سیّد حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کے بارے میں سوچ رہا تھا… ان کے دینی کارنامے
اور ان کی اعلیٰ صفات تو اپنی جگہ… ہم اگر ان کے صرف دو چار شاگردوں کو ہی دیکھ
لیں تو… عقل ان کی خوش قسمتی پر حیران رہ جاتی ہے… حضرت مفتی ولی حسن ، حضرت
مولانا سلیم اللہ خان صاحب، حضرت مولانا سرفراز خان صفدر… رحمہم اللہ … یہ سب حضرت مدنی رحمہ اللہ کے شاگرد اور ان کی علمی نسبت کو عالم بھر میں
پھیلانے والے تھے… یہ صرف تین نام عرض کئے… اگر تفصیل میں جائیں تو سینکڑوں نام مل
جائیں گے… مگر آپ صرف ان تین حضرات کے شاگردوں کو شمار کریں، ان کی علمی اور دینی
خدمت کو دیکھیں … اور پھر یہ سب کچھ حضرت مدنی رحمہ اللہ کے پلڑے میں ڈالیں تو… کتنا بھاری اعمال نامہ
سامنے آتا ہے… اس لئے سطحی باتوں کو چھوڑ کر ان اکابر حضرات کی ہمیشہ قدر کرنی
چاہیے، ان کی زندگی میں بھی اور ان کی وفات کے بعد بھی…
٥
جب کسی اللہ والے کی وفات کی خبر سنیں تو اوپر والے چار حقوق ادا کرنے کے بعد…
فوری طور پراس اللہ والے سے فیض حاصل کرنے کی کوشش کریں… مثلاً ان کے حالات زندگی
پڑھیں… ان کے بیانات سنیں… ان کی تحریریں اور کتابیں پڑھیں… دراصل وفات کے وقت اور
ابتدائی دنوں میں… دل اور روحانی لہروں کا ایک جوڑ ہوتا ہے اور دل میں نرمی ہوتی
ہے تو بات زیادہ اثر کرتی ہے۔
٦
اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو مالی وسعت دی ہے تو… وفات پانے والے بزرگ کے اہل خانہ
اور پسماندگان کی خبر لیں… اگر ان کو ضرورت مند پائیں تو اخلاص اور خاموشی سے ان
کی خدمت کریں… یہ عمل آپ کو بہت سی برکات اور سعادتوں سے ہمکنار کر دے گا… ان شاء
اللہ
٧ کسی بھی بزرگ اور ولی کی وفات کے
بعد… فتنوں سے حفاظت کی دعاء کا اہتمام بڑھا دیں… خصوصاً اس وقت جبکہ آپ کا ان
بزرگ سے براہ راست تعلق رہا ہو… بزرگوں کے جانے کے بعد… زور دار فتنے حملہ آور
ہوتے ہیں…
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْفِتَنِ مَا
ظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ۔
٨ کسی بزرگ کی وفات کے وقت ان کی
تعزیت کرتے ہوئے یا ان کی صفات بیان کرتے ہوئے یا ان پر کوئی مضمون لکھتے ہوئے…
دیگر بزرگوں پر تنقید اور طعنہ زنی نہ کریں… کم از کم موت کے ان لمحات میں… منفی
ذہنیت کا شکار نہ ہوں… اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کی عزت
کریں… تحقیر ، تذلیل اور طعنہ زنی کی عادت سے توبہ کریں۔
٩
ان بزرگوں کے پسماندگان اور اہل خانہ سے
مسنون تعزیت کریں۔
١٠ جو اللہ والے، بزرگ، اکابر ، اولیاء زندہ ہیں… ان کی
قدر کرنے کی نیت کر لیں۔
یہ دس باتیں فوری طور پر ذہن میں آئیں تو عرض
کر دیں…ورنہ اس بارے میں حقوق اور بھی ہیں، اگر دل میں سچی محبت ہو تو…بہت سے
راستے خود سامنے آ جاتے ہیں۔
حسینوں کے خطوط
رات ارادہ تھا کہ… آج کی مکمل مجلس ’’رنگ ونور‘‘ حضرت اقدس
مولانا سلیم اللہ خان صاحب نور اللہ مرقدہ کے بارے میں ہو گی… رات مغرب کے بعد
ماہنامہ المرابطون میں ایک مختصر سا مضمون اسی موضوع پر لکھا… اور آج مفصل رنگ و
نور کا ارادہ تھا… مگر رات ساڑھے دس بجے کے قریب… حضرت اقدس مولانا عبد الحفیظ مکی
صاحب کے سانحۂ ارتحال کی خبر بھی آگئی… تب دل مزید غمگین اور ذہن منتشر ہو گیا…
دعاء مغفرت اور ایصال ثواب کی الحمد للہ توفیق ملی مگر… غم اور یادوں کے طوفان نے
مضمون بکھیر دیا… ویسے بھی مجھ جیسے بے علم اور بے معرفت انسان کے لکھنے سے کیا
بنتا ہے؟… حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب اس زمانے کے ’’سلطان العلماء ‘‘ تھے…
مسند تدریس و علم کے امام اور میرے استاذوں کے استاذ… ان کی بلند پایہ علمی،
روحانی اور انتظامی شخصیت پر اہل علم ہی بہتر لکھ سکتے ہیں اور اُمید ہے کہ ان شاء
اللہ لکھیں گے… ان کے کئی نامور اور فیض رساں شاگرد تو ان کی زندگی میں ہی انتقال
فرما گئے… حضرت مفتی احمد الرحمن صاحب… حضرت مولانا حبیب اللہ مختار شہید… حضرت
مفتی نظام الدین شامزئی شہید… رحمہم اللہ …وغیرہم…
مگر ہزاروں کی تعداد میں آپ کے تلامذہ حیات اور برسرعمل
بھی ہیں… بندہ کو حضرت اقدس مولانا سلیم اللہ خان صاحب نور اللہ مرقدہ سے… صرف چند
ملاقاتوں کا شرف حاصل ہوا… اور حضرت کا ایک یادگار خط بھی میرے پاس محفوظ ہے…
دوسری طرف حضرت مولانا عبد الحفیظ مکی صاحب نور اللہ مرقدہ سے بھی دیرینہ تعلق رہا
ہے… وہ قابل رشک اخلاق، وسعت قلبی اور حسن توفیق کے ’’مُرقَّع ‘‘ تھے… ان کے بارے
میں اصحاب معرفت زیادہ بہتر لکھیں گے ان شاء اللہ…
میرے پاس تو بس کچھ یادیں ہیں… اور کچھ خطوط…
لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ ،لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہی سے ’’خیر ‘‘ کا سوال ہے…
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ۔
استخارہ کا موضوع
اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ’’استخارہ‘‘ کی نورانی مہم چلی…بہت
سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچا… کئی مسلمانوں نے ’’استخارہ‘‘ کی سنت کو سمجھا اور
اپنایا… اب یہ تقاضا زور پکڑ رہا ہے کہ ’’نورانی مہم‘‘ کے دو رنگ و نور اور
مکتوبات یکجا شائع کر دئیے جائیں… استخارہ کے بارے میں بعض ضروری باتیں آج کے رنگ
و نور میں عرض کی جا رہی ہیں … پھر ان شاء اللہ ان سب کو ایک رسالے کی صورت میں
شائع کر دیا جائے گا… اللہ تعالیٰ آسان فرمائیں، قبول فرمائیں…؎
تازہ واقعہ
ایک صاحب سے ملاقات ہوئی… ان کی عمر ساٹھ سال سے کچھ اوپر
ہے… ان کی کئی بیٹیاں اور بیٹے عالم وفاضل ہیں… اور خود وہ بھی ماشاء اللہ پکے
دیندار، مسجد کے خدمتگار اور بزرگوں کی خدمت میں حاضر باش…انہوں نے اپنی ایک فکر
اور پریشانی کا تذکرہ کیا کہ… فلاں کام کرنا چاہتا ہوں مگر راستہ نہیں مل رہا… آپ
مشورہ دیں… ان سے عرض کیا کہ استخارہ کریں… ان شاء اللہ راستہ بھی مل جائے گا اور
مدد بھی… ان کی آنکھیں خوشی سے چمکنے لگیں… مگر پھر کچھ پریشان سے ہو کر کہنے
لگے… استخارہ کا کیا طریقہ ہے؟ ان کو عرض کیا کہ بالکل آسان طریقہ ہے… وہ طریقہ
ان کو بتا دیا …پوچھنے لگے: پھر مجھے اس کا نتیجہ کیسے معلوم ہو گا؟ خواب آئے گا
یا کچھ اور… عرض کیا:…نہ خواب ضروری نہ الہام بس ’’خیر‘‘ آ جائے گی، ان شاء اللہ…
تفصیل سے بات سمجھائی تو وہ خوش ہوئے اور سمجھ گئے… مگر مجھے حیرانی ہوئی کہ… اتنی
عمر مسجد اور دینداری کے ماحول میں گذارنے والے مسلمان کو بھی استخارہ کا علم نہیں
… جبکہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام کو… اتنی اہمیت سے استخارہ
سکھاتے تھے جیسے کہ یہ قرآن پاک کی آیت ہو… قرآن مجید کے بعد جو صحیح ترین کتاب
امت مسلمہ کے پاس ہے… وہ ہے ’’صحیح البخاری‘‘ جسے ہم ’’بخاری شریف‘‘ کہتے ہیں …
حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے استخارہ کی
حدیث اور دعاء اس کتاب میں تین جگہ بیان فرمائی ہے… اس حدیث میں استخارہ کا مکمل
طریقہ اور نصاب موجود ہے… آج کے رنگ و نور میں ان شاء اللہ … یہ حدیث شریف بیان
کی جائے گی تاکہ ہم اونچی اور صحیح سند کے
ساتھ ’’استخارہ ‘‘ کی نعمت اور دعاء حاصل کر سکیں۔
بدعت کی نحوست
’’سنت‘‘ ایک ’’نور‘‘ ہے… جبکہ
’’بدعت‘‘ ایک بڑی گمراہی اور اندھیرا ہے… ہمارے آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم
اپنی امت کو ’’استخارہ‘‘ جیسی طاقت اور
روشنی دے گئے… تاکہ امت مسلمہ اپنے ہر معاملے اور کام میں اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل
کر سکے … مگر لوگوں نے ’’استخارہ‘‘ کے نام پر طرح طرح کی ’’بدعات‘‘ ایجاد کر لیں…
ان ’’بدعات ‘‘ کی نحوست نے ایسا ظلم ڈھایا کہ آج اکثر مسلمانوں کو ’’استخارہ‘‘ کا
پتہ تک نہیں…وہ ’’استخارہ‘‘ جو ہمیں سورۂ اخلاص کی طرح یاد ہونا چاہیے آج اچھے
خاصے دیندار مسلمانوں کو بھی یاد نہیں… وہ ’’استخارہ‘‘ جو دن رات ہمیں بار بار
کرنا چاہیے وہ آج مسلمان کی پوری زندگی میں ایک بار بھی نہیں … وہ ’’استخارہ‘‘ جو
ہمیں اہتمام کے ساتھ سیکھنا اور سکھانا چاہیے وہ آج ہمارے لئے ایک اجنبی عمل بن
چکا ہے…ہاں بے شک! سچ فرمایا حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ…استخارہ انسان کی خوش نصیبی ہے اور
استخارہ چھوڑنا انسان کی بدنصیبی ہے۔
اصل مسنون استخارہ
حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے استخارہ والی حدیث شریف… صحیح بخاری میں تین
جگہ بیان فرمائی ہے…
١
کتاب التہجد میں: حدیث نمبر : ۱۱۶۲
٢ کتاب
الدعوات میں: حدیث نمبر: ۶۳۸۲
٣ کتاب
التوحید میں: حدیث نمبر: ۷۳۹۰
( میرے سامنے اس وقت جو بخاری شریف
کا نسخہ ہے وہ دارالکتب العلمیہ بیروت سے شائع ہوا ہے)
حضرت جابر رضی اللہ
عنہ فرماتے ہیں:
کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم یُعَلِّمُنَا الْاِسْتِخَارَۃَ فِی الْاُمُوْرِ
کُلِّھَا کَمَا یُعَلِّمُنَا السُّوَرَۃَ مِنَ الْقُرْآنِ۔
’’یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم ہمیں تمام کاموں میں استخارہ کی
تعلیم اس طرح فرماتے تھے جس طرح کہ آپ ہمیں قرآن مجید کی سورت سکھاتے تھے۔‘‘
یَقُوْلُ اِذَاھَمَّ اَحَدُکُمْ بِالْاَمْرِ فَلْیَرْکَعَ
رَکَعَتَیْنِ مِنْ غَیْرِ الْفَرِیْضَۃِ ثُمَّ لْیَقُلْ…
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے…’’جب تم میں سے کوئی کسی کام کا
ارادہ کرے تو فرض کے علاوہ دو رکعت نماز ادا کرے پھر کہے‘‘… آگے استخارہ کی دعاء
ہے اور آخر میں ارشاد فرمایا:
وَیُسَمِّی حَاجَتَہٗ۔
’’اور وہ اپنی حاجت کا نام لے‘‘…
یعنی اپنی حاجت بیان کرے۔ (صحیح بخاری)
بس یہ ہے …مسنون اور طاقتور ترین استخارہ… جب
بھی کسی کام کا ارادہ ہو… تو دو رکعت نماز ادا کرے… پھر استخارہ کی دعاء مانگے اور
اپنی حاجت بیان کرے… اب لوگوں نے اتنے مفید اور اتنے آسان عمل میں معلوم نہیں کیا
کیا مشکلات پیدا کر دیں اور بالآخر اس عمل کو مسلمانوں کے لئے ناممکن بنا دیا…
حضرت اقدس مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں…
’’اب دیکھئے! یہ (استخارہ) کس قدر
آسان کام ہے مگر اس میں بھی شیطان نے کئی پیوند لگا دئیے ہیں…
١ پہلا پیوند یہ کہ دو رکعت پڑھ کر کسی سے بات کئے
بغیر سو جاؤ، سونا ضروری ہے ورنہ استخارہ بے فائدہ رہے گا…
٢
دوسرا پیوند ( شیطان نے) یہ لگایا کہ لیٹو بھی دائیں کروٹ پر…
٣
تیسرا یہ کہ قبلہ رو لیٹو…
٤
چوتھا پیوند( شیطان نے) یہ لگایا کہ لیٹنے کے بعد اب خواب کا انتظار کرو، استخارہ
کے دوران خواب نظر آئے گا…
٥ پانچواں
پیوند یہ لگایا کہ اگر خواب میں فلاں رنگ نظر آئے تو وہ کام بہتر ہو گا فلاں نظر
آئے تو بہتر نہیں…
٦
چھٹا پیوند ( شیطان نے) یہ لگایا کہ خواب میں کوئی بزرگ آئے گا بزرگ کا انتظار
کیجئے کہ وہ خواب میں آ کر سب کچھ بتا دے گا۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ بزرگ
کون ہو گا؟ اگر شیطان ہی بزرگ بن کر خواب میں آ جائے تو اس کو کیسے پتہ چلے گا کہ
یہ شیطان ہے یا کوئی بزرگ؟
یاد رکھیے! ان میں سے کوئی ایک چیز بھی حدیث سے ثابت نہیں۔
بس یہ باتیں لکھنے والوں نے کتابوں میں بغیر تحقیق کے لکھ دی ہیں اللہ تعالیٰ ان
لکھنے والے مصنفین پر رحم فرمائیں۔‘‘(خطبات الرشید)
کثرت سوال سے منع
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت تاکید کے ساتھ اپنی اُمت کو زیادہ
سوالات کرنے سے منع فرمایا ہے…زیادہ سوالات کے بہت زیادہ نقصانات ہیں… اور اس عادت
کی وجہ سے انسان کے اندر عمل کی طاقت کمزور ہو جاتی ہے… آپ نے دیکھا ہو گا کہ بعض
لوگ زیادہ سوالات نہیں کرتے مگر بڑے بڑے کام کر لیتے ہیں جبکہ بعض سوالوں میں
الجھے رہتے ہیں… بعض لوگوں سے آپ کہیں کہ یہ پہاڑ اٹھا کر دوسری جگہ منتقل کر دو
تو فوراً اٹھ کھڑے ہوتے ہیں… اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہیں اور اپنے کام میں لگ
جاتے ہیں … ایسے افراد کی اللہ تعالیٰ مدد فرماتے ہیں…اور ان سے عظیم الشان کام
لیتے ہیں… جبکہ بعض افراد سے آپ کہیں کہ… یہ کاغذ اٹھا کر میز پر رکھ دو تو وہ اس
پر بھی دس سوال پوچھ لیتے ہیں… ابھی اٹھاؤں یا بعد میں؟… ایک ہاتھ سے اٹھاؤں یا
دونوں سے؟ ابھی میرا وضو نہیںہے اگر اس حالت میں اٹھا لوں تو حرج تو نہیں ہو گا؟…
اٹھا کر میز پر کس جگہ رکھوں؟ وغیرہ وغیرہ…
ایسے لوگ خود بھی مشکل میں پڑتے ہیں … کام بتانے والے کو
بھی مشکل میں ڈالتے ہیں اور اکثر بڑے کاموں سے محروم رہتے ہیں… اب استخارہ کا
معاملہ دیکھ لیں… حضرت مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ نے جن غلط باتوں کو شیطانی اضافہ قرار دیا وہ
تمام باتیں بزرگوں کی کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں… یہ باتیں کیوں پیدا ہوئیں؟… وجہ
اس کی یہی زیادہ سوالات کی بری عادت ہے۔
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جامع الفاظ میں استخارہ کی ہر بات سکھا
دی… مثلاً
١
استخارہ ہر کام میں ہے… صرف شادی وغیرہ بڑے کاموں کے لئے نہیں۔
٢
استخارہ صرف تردد کے وقت نہیں… بلکہ جب بھی کسی کام کا ارادہ ہو… اس میں تردد ہو
یا نہ ہو اللہ تعالیٰ سے خیر مانگ لو کہ… یا اللہ خیر ہے تو ہو جائے خیر نہیں تو
مجھے اس سے بچالیجئے۔
٣
دو رکعت فرض کے علاوہ ادا کرنی ہے…یعنی دو رکعت نفل ادا کرو۔
٤
دو رکعت کے بعد استخارہ کی دعاء پڑھنی ہے… اور اپنی حاجت کا نام لینا ہے۔
اب ایک باعمل مسلمان کے لئے… اس میں کوئی پوچھنے والی بات
باقی نہیں رہ گئی …بلکہ مزے ہو گئے کہ اتنا آسان عمل مل گیا… لیکن سوالات کرنے
والوں نے فورا ًسوالات کی توپیں کھول دیں…
استخارہ میں نیت کیا کرنی ہے؟…دو رکعت کس وقت پڑھنی ہے؟… دو
رکعت میں سورتیں کون سی پڑھنی ہیں؟ …یہ دو رکعت الگ پڑھنی ہیں یا کسی اور نفل
مثلاً اشراق ، تحیۃ الوضوء میں بھی اس کی نیت ہو سکتی ہے؟ … استخارہ کی دعاء کتنی
بار پڑھنی ہے؟ …اس دعاء سے پہلے کیا پڑھنا ہے؟ … اس دعاء کے بعد کیا پڑھنا
ہے؟…استخارہ کی نماز کے بعد سونا ہے یا جاگنا؟ …سونا ہے تو بائیں کروٹ سونا ہے یا
دائیں؟ …باوضو سونا ہے یا بے وضو؟ …باوضو سوئے مگر ابھی جاگ رہے تھے کہ وضو ٹوٹ
گیا اب کیا کرنا ہے؟… استخارہ کتنی بار کرنا ہے؟ … استخارہ دن کو کرنا ہے یا رات
کو؟
بس سوالات ہی سوالات… اب اہل علم نے دیگر احادیث اور قوانین
کو سامنے رکھ کر ان سوالات کے ہر شخص کے مطابق جوابات دئیے …اس طرح وہ ’’جوابات‘‘
بھی استخارہ کی اصل حقیقت کا حصہ بنتے گئے… اور یوں استخارہ مشکل سے مشکل ترین
ہوتا چلا گیا… اور بالآخر بے شمار مسلمان اس نعمت سے محروم ہو گئے…حالانکہ یہ
ایسی نعمت ہے جو انسان کو طرح طرح کی پریشانیوں اور مصیبتوں سے بچانے کا ذریعہ ہے
…بلکہ بڑے بڑے فتنوں سے بچانے کا بھی اہم ذریعہ ہے…آج لوگ ہر کسی کی بات سننے اور
بیان سننے بھاگ جاتے ہیں…اور پھر طرح طرح کی غلطیوں اور گمراہیوں میں مبتلا ہو
جاتے ہیں… اگر مسلمانوں میں استخارہ کا عمل ہو… اور وہ دو رکعت کی اس عبادت کی
قیمت سمجھیں تو بڑے بڑے فتنوں سے بچ جائیں… مگر افسوس کہ مسلمان کے پاس موبائل اور
نیٹ کے لئے گھنٹوں کا ٹائم ہے… جبکہ دو رکعت کے لئے پانچ منٹ نہیں ہیں…
حضرت اقدس بنوری رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’دور حاضر میں امت کا شیرازہ جس
بُری طرح سے بکھر گیا ہے، مستقبل قریب میں اس کی شیرازہ بندی کا کوئی امکان نظر
نہیں آتا… جب استشارے کا راستہ بند ہو گیا ( یعنی مشورے کا راستہ بند ہو گیا،پتا
نہیں چلتا کہ کون حق پر ہے اور کون باطل پر، تو کس سے مشورہ کیا جائے؟) تو اب صرف
’’استخارہ‘‘ کا راستہ ہی باقی رہ گیا ہے، حدیث شریف میں تو فرمایا تھا:
مَا خَابَ مَنِ اسْتَخَارَ وَمَا نَدِمَ مَنِ
اسْتَشَارَ۔
’’جو استخارہ کرے گا خائب و خاسر (
یعنی نقصان اور خسارہ اٹھانے والا) نہ ہو گا اور جو مشورہ کرے گا وہ پشیمان و
شرمندہ نہ ہو گا۔‘‘ عوام کے لئے یہی دستور العمل ہے کہ اگر کوئی ان فتنوں میں غیر
جانبدار نہیں رہ سکتا تو مسنون استخارہ کر کے عمل کرے اور اُمید ہے کہ استخارہ کے
بعد اس کا قدم صحیح ہو گا۔‘‘ (دورِ حاضر کے فتنے اور ان کا سدباب)
استخارہ کیوں ملا؟
ہر زمانے میں گمراہ لوگوں کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ… وہ
قبائلی بدمعاشوں کی طرح لوگوں کے راستے میں ’’ گیٹ‘‘ بنا دیتے ہیں… اس گیٹ پر ان
بدمعاشوں کو رقم دو تو آگے جا سکتے ہو ورنہ نہیں … اسی طرح گمراہ لوگ…گیٹ بنا کر
بیٹھ جاتے ہیں کہ… ہمیں مال دو، خوش کرو تو ہم اللہ تعالیٰ سے تمہارے مسائل حل کرا
دیں گے… ہم اللہ تعالیٰ سے تمہاری قسمت پوچھ دیں گے… ہم اللہ تعالیٰ سے تمہاری
حاجت پوری کرا دیں گے… ان گمراہ لوگوں کے ہاتھوں بیوقوف بننے والے یہ تک نہیں
سوچتے کہ یہ لوگ جو گیٹ بنا کر بیٹھے ہیں … یہ اگر اللہ تعالیٰ کے اتنے ’’مقرب‘‘
ہوتے تو یہ اپنے مسائل بھی اللہ تعالیٰ سے حل کراتے… اپنی قسمت بھی اللہ تعالیٰ سے
اچھی کراتے… اور لوگوں سے خیرات، نذرانے اور پیسے نہ لیتے…
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے تشریف لا کر… یہ سارے گیٹ توڑ دئیے… اور سارے
بدمعاشوں کو بھگا دیا… اور اللہ تعالیٰ کا راستہ ہر ایک کے لئے کھول دیا کہ… ہر
کوئی خود اللہ تعالیٰ سے مانگے، اللہ تعالیٰ سب کی سنتا ہے… اور سب کو دیتا ہے…
استخارے کا عمل بھی اسی لئے عطاء فرمایا…لوگ سفر سے پہلے یا کسی کام سے پہلے
پنڈتوں ، نجومیوں اور عاملوں کے پاس جا کر فال نکلواتے تھے، ستاروں کا حال پوچھتے
تھے… اور قسمت کا پتہ لگانے کی کوشش کرتے تھے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام
کاموں کو غلط قرار دیا اور فرمایا کہ… اے مسلمانو! استخارہ کرو…ہر کام سے پہلے
اللہ تعالیٰ سے خیر مانگ لیا کرو… کیونکہ اصل خیر کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے…
یوں ہر مسلمان اپنے ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر حاصل کر سکتا ہے… ماضی
میں مسلمان بڑے اہتمام سے استخارہ کرتے تھے… ہر کوئی ہر کام میں خود استخارہ کرتا
تھا…اس لئے ان کے ہر کام میں برکت تھی، خیر تھی… مگر پھر شیطان نے گمراہ لوگوں کو
کھڑا کر دیا اور اب پھر جگہ جگہ گیٹ لگ گئے کہ… ہم سے استخارہ کراؤ… ہم سے
استخارہ نکلواؤ… یعنی نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ تمہاری نہیں سنتا صرف ہماری سنتا
ہے… اس لئے ہم تمہارا استخارہ نکالیں گے… استغفر اللہ ، استغفر اللہ، استغفر اللہ…
جس گمراہی کو ختم کرنے کے لئے ’’استخارہ‘‘ آیا تھا… آج
استخارہ کے نام پر وہی گمراہی ہر طرف پھیل رہی ہے… کیا کوئی ایک حدیث یا روایت بھی
ایسی پیش کر سکتا ہے کہ…کسی صحابی نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ہو کہ یا رسول اللہ! آپ میرے لئے
استخارہ فرما دیجئے؟ اگر نہیں تو پھر ہمارے زمانے میں یہ بدعت کہاں سے آ گئی ؟
کیسے آ گئی؟
اے مسلمانو! استخارہ سیکھو،استخارہ اپناؤ اور خود استخارہ
کرو… اگر آپ یہ نہیں کر سکتے تو کم از کم اتنا ضرور کرو کہ… کسی سے اپنے لئے
استخارہ نہ کرایاکرو… اگر آپ نے دوسروں سے ’’استخارہ ‘‘ کرایا تو زمانے کی ایک
بڑی گمراہی میں آپ بھی حصہ دار بن جائیں گے… اور اپنے رب اور نبی کی سنت سے بہت
دور جا گریں گے۔
طالع سعید، خوش نصیب ترین
کئی لوگ ستاروں کے ذریعہ ، نام کے ذریعہ یا عدد کے ذریعہ
’’طالع ‘‘ معلوم کرتے ہیں… قسمت اچھی ہے یا بری… قسمت میں مالداری ہے یا غریبی…
قسمت میں عروج ہے یا زوال … پھر ان کے گمان کے مطابق بعض لوگوں کا طالع ’’بلند‘‘
ہوتا ہے اور بعض کا ’’منحوس‘‘ … حضرت علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے ’’زاد المعاد‘‘ میں عجیب نکتہ لکھا ہے… وہ
کہتے ہیں کہ جس مسلمان کو استخارہ اور اس کی دعاء نصیب ہو گئی… بس وہی ’’طالع
بلند‘‘ یعنی خوش نصیب ترین انسان ہے…
وجہ یہ کہ… مؤمن کی خوش نصیبی اور خوش قسمتی دو چیزوں میں
ہے…
١
توکل… ٢
رضاء بالقدر…
جب آپ نے ہر کام سے پہلے اللہ تعالیٰ سے خیر مانگی تو ثابت
ہوا کہ آپ کے اندر ’’توکل‘‘ ہے … آپ کو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہے… اسی لئے صرف
اسی سے خیر مانگ رہے ہو…اور استخارہ کے بعد جو کچھ ہوا اس پر دل مطمئن کہ… اللہ
تعالیٰ نے جو کیا اچھا کیا… تو یہ تقدیر پر راضی ہونا ہو گیا…پس یہی خوش بختی کی
علامت ہے۔
آگے کا حال
مشرکین کی عادت ہے کہ… ان کو آگے کا حال معلوم کرنے کا شوق
ہوتا ہے… اسی کے لئے وہ طرح طرح کے شرک کرتے ہیں… اسلام نے سمجھایا کہ آگے کا حال
معلوم کرنے کی فکر میں نہ پڑو… بلکہ جو آگے کا مالک ہے… معاملہ اس کے سپرد کر
دو…اور اس سے آگے کی خیر مانگ لو… اور پھر مطمئن ہو جاؤ کہ… وہ ان شاء اللہ ضرور
خیر دے گا… یوں تم شرک سے بھی بچ جاؤ گے اور خیر بھی پا لو گے… اور ہر وقت برے
مستقبل کے ڈر سے اپنا ’’حال‘‘ بھی خراب نہیں کرتے رہو گے… استخارہ اسی لئے آیا…
مگر ظلم دیکھیں کہ لوگوں نے استخارہ کو بھی… آگے کا حال جاننے کا طریقہ سمجھ لیا…
جو بڑی خطرناک گمراہی ہے… حضرت حکیم الامۃ تھانوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’استخارہ سے مقصود محض طلب خیر ہے
نہ کہ استخبار ( یعنی آگے کا حال معلوم کرنا) استخارہ کی حقیقت یہ ہے کہ استخارہ
ایک دعاء ہے جس سے مقصود صرف طلب اعانت علی الخیر…یعنی استخارہ کے ذریعہ بندہ اللہ
تعالیٰ سے دعاء کرتا ہے کہ میں جو کچھ کروں اسی کے اندر خیر ہو اور جو کام میرے
لئے خیر نہ ہو وہ کرنے ہی نہ دیجئے…پس جب استخارہ کر چکے تو اس کی ضرورت نہیں کہ
سوچے کہ میرے دل کا زیادہ رجحان کس بات کی طرف ہے۔‘‘ ( بوادرالنوادر)
ایک نکتہ
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا کرتہ مبارک اگر کسی مسلمان کے پاس ہو تو وہ
اس کی کتنی قدر کرے گا؟ … حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ’’بال مبارک‘‘ اگر کسی مسلمان کے پاس ہو تو
وہ خود کو کتنا خوش نصیب سمجھے گا؟… یاد رکھئے کہ …حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے تبرکات میں سب سے زیادہ بابرکت چیز… آپ صلی
اللہ علیہ وسلم کی ’’احادیث مبارکہ‘‘
ہیں… یہ ایسا ’’تبرک ‘‘ ہے جو دیگر ’’تبرکات‘‘ سے بہت بڑھ کر ہے… یہ وہ مبارک
الفاظ ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے
مبارک سانس، مبارک زبان، مبارک دہن اور مبارک ہونٹوں کے بوسے لے کر… طلوع ہوئے…
اور ان میں نور، ہدایت اور برکت کا سدا بہار سامان ہے … اس لئے کسی بھی صحیح حدیث
یا مسنون دعاء کو … اسی طرح یاد کرنا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم تک صحیح سند کے ساتھ پہنچی ہے… یہ برکت
اور خوش نصیبی کی بات ہے… پھر ان دعاؤں میں … استخارہ کی خاص اہمیت یہ ہے کہ یہ
دعاء حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت
اہتمام کے ساتھ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سکھائی ہے… ہم یہاں بخاری شریف کی روایت سے
یہ دعاء نقل کر رہے ہیں… ہر مسلمان اسے اچھی طرح سمجھ کر درست تلفظ اور درست
اِعراب کے ساتھ یاد کر کے…اس عظیم تبرک کو اپنے سینے میں محفوظ کرے…
١ اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ
أَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ وَأَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ وَأَسْأَلُکَ مِنْ
فَضْلِکَ الْعَظِیمِ فَإِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا
أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوبِ، اَللّٰہُمَّ إِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ
أَنَّ ہٰذَا الْأَمْرَ خَیْرٌ لِّیْ فِی دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَعَاقِبَۃِ
أَمْرِیْ( اَوْ کَمَا قَالَ) عَاجِلِ أَمْرِیْ وَآجِلِہٖ فَاقْدُرْہُ لِیْ
وَیَسِّرْہُ لِیْ ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْہٖ وَإِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ ہٰذَا
الْأَمْرَ شَرٌّ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَعَاقِبَۃِ أَمْرِیْ(
اَوْکَمَا قَالَ) عَاجِلِ أَمْرِیْ وَآجِلِہٖ فَاصْرِفْہُ عَنِّیْ وَاصْرِفْنِیْ
عَنْہُ وَاقْدُرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ أَرْضِنِی
( بخاری، کتاب التہجد)
٢
بخاری کتاب الدعوات میں جو دعاء ہے…اس میں آخری الفاظ’’ ثُمَّ رَضِّنِیْ بِہٖ‘‘
ہیں… اسی طرح کتاب التوحید میں بھی ’’ ثُمَّ رَضِّنِیْ بِہٖ‘‘ کے الفاظ ہیں…
لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ
محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اَللہُ اَکْبَرُ کَبِیْرًا…وَّالْحَمْدُ لِلہِ
کَثِیْرًا…وَّسُبْحَانَ اللہِ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلاً
یہ مسنون اور مبارک الفاظ جن کو یاد نہ ہوں… وہ یاد کر لیں
اور کبھی کبھار ان کا ورد کیا کریں…
اَللہُ اَکْبَرُ کَبِیْرًا…وَّالْحَمْدُ لِلہِ
کَثِیْرًا…وَّسُبْحَانَ اللہِ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلاً
یہ مبارک کلمات جو پڑھتا ہے ، اس کے لئے آسمانوںکے دروازے
کھل جاتے ہیں … حضرت ابن عمر رضی اللہ
عنہما نے جب ان کلمات کی یہ فضیلت حضور اقدس صلی اللہ
علیہ وسلم سے سنی تو پھر زندگی بھر ان کو
نہیں چھوڑا۔
یاد رکھیں! آیات اور دعائیں یاد کرنے کا ایک وقت ہوتا ہے…
بچپن، جوانی اور باہوش بڑھاپا…پھر ایک وقت ایسا آ جاتا ہے کہ … انسان کچھ بھی یاد
نہیں کر سکتا… وہ وقت آنے سے پہلے اپنے دل و دماغ میں زیادہ سے زیادہ ’’نور ‘‘
بھر لیں… میں نے خود ایک بڑی عمر کے صاحب کو دیکھا کہ وہ کئی دنوں تک رات کو سونے
کی مسنون دعاء یاد کرنے کی کوشش کرتے رہے…
اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ اَمُوْتُ وَاَحْییٰ
مگر یاد نہ کر سکے… ایک اور صاحب کو دیکھا کہ پورا ایک
مہینہ مسجد میں داخل ہونے کی دعاء یاد کرنے کی محنت میں رہے مگر دعاء یاد نہ ہوئی…
اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ
انسان اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی مشین ہے … یہ مشین دنیا کی
عام مشینوں سے بہت مختلف ہے… اس مشین کو چلانے اور درست چلانے کے لئے… جو کتاب
ساتھ آئی ہے وہ قرآن مجید ہے…انسان کا دماغ اور دل جس قدر زیادہ اور اچھا
استعمال ہو یہ اسی قدر طاقتور ہوتا چلا جاتا ہے … عام مشینیں زیادہ استعمال سے
خراب اور کمزور ہو جاتی ہیں… مگر انسان ’’بے کار‘‘ رہنے سے خراب اور کمزور ہوتا
ہے… اور زیادہ محنت کرنے سے مضبوط اور توانا ہوتا ہے… آپ جس قدر زیادہ قرآنی
آیات، احادیث مبارکہ اور مسنون دعائیں یاد کرتے جائیں گے… آپ کا دماغ اسی قدر
زیادہ مضبوط ، طاقتور اور روشن ہوتا چلا جائے گا۔
عبادت گذار یا وظیفہ باز
یہاں ایک ضروری گذارش یاد آ گئی جو آپ سے بھی کرنی ہے اور
خود سے بھی… وہ یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے عبادت گذار بندے بنیں… عبادت کہتے ہیں
غلامی کو اور بندگی کو… یعنی ہم اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے… زیادہ سے زیادہ
عبادت کریں… کیونکہ وہ ہمارا رب ہے …ہمارا مالک ہے… ہمارا مولیٰ ہے… ہم اس سے محبت
کرتے ہیں، ہم اسی سے ڈرتے ہیں اور اس نے ہمیں اپنی عبادت کا حکم فرمایا ہے… نماز
بھی اسی کو راضی کرنے کے لئے اور جہاد بھی اسی کو راضی کرنے کے لئے۔
فَادْعُوْا اللہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ (المؤمن:۱۴)
مگر آج ہم لوگ ’’عبادت گذار‘‘ کم… اور ’’وظیفہ باز ‘‘
زیادہ بن گئے ہیں… طرح طرح کے وظیفے، طرح طرح کے عملیات اور طرح طرح کے چلّے… مقصد
یہ ہوتا ہے کہ… روزی بہت ملے، لوگوں میں عزت اور قبولیت ملے…دنیا کے سارے مسئلے
ہماری مرضی کے مطابق حل ہو جائیں … وغیرہ وغیرہ…
پھر ظلم یہ کہ یہ وظیفے اور چلّے کرتے وقت اللہ تعالیٰ کی
رضاء کی نیت بھی نہیں ہوتی… بس یہ نیت کہ اللہ تعالیٰ میرے مسئلے حل کر دے… یاد
رکھیں! یہ نیت بھی کچھ بُری نہیں… ایسے لوگ اس اعتبار سے بہت اچھے ہیں کہ وہ اللہ
تعالیٰ سے مانگتے ہیں، لوگوں سے نہیں مانگتے… وہ اپنی حاجت پوری کرانے کے لئے کوئی
شرکیہ کام نہیں کرتے… یقیناً وہ قابل تعریف ہیں… مگر وہ یہ بھی تو سوچیں کہ روزی
لکھی جا چکی ہے… دنیا کے معاملات طے شدہ ہیں… ہم اگر ان وظیفوں میں اتنا وقت لگانے
کی بجائے یہی وقت خالص عبادت کے لئے لگائیں تو کتنا اچھا ہو گا… بس مالک راضی ہو
جائے، بس محبوب خوش ہو جائے …ایک زمانہ تھا کہ سچے عاشق ’’جنت‘‘ اور ’’جہنم‘‘ کی
فکر کو بھی رکاوٹ سمجھتے تھے… اور کہتے تھے کہ… جنت میری راہ سے ہٹ جا… جہنم تو
مجھے نہ ڈرا… میری عبادت نہ جنت کی خواہش میں ہے… اور نہ جہنم کے خوف سے… میں تو
صرف اپنے مالک و محبوب کی رضاء اور خوشی چاہتا ہوں…حالانکہ جنت کی چاہت اور جہنم
کے خوف سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا کوئی بری بات نہیں…
لیکن پھر بھی خاص اور مقرب لوگوں کو… یہ نیت اچھی نہیں لگتی
تھی… مگر آج ہماری عبادت کس نیت سے ہوتی ہے… بیوی تابع ہو جائے، دکان پر گاہکوں
کا رش لگ جائے… جو سامنے آئے بس میری عزت میں لگ جائے وغیرہ وغیرہ…
بھائیو! اور بہنو! …اللہ تعالیٰ کے بندے بنو، غلام بنو، سچے
عاشق بنو، سچے مومن بنو…اس کو راضی اور خوش کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ اخلاص والی
عبادت کرو…نماز ہو یا جہاد کا کام … سب کچھ بس محبوب کی رضاء کے لئے ہو…
آج کل چونکہ ’’وظیفے بازی‘‘ زوروں پر ہے … اس لئے اس گذارش
کی ضرورت محسوس ہوئی … شرعی حدود میں وظیفے بھی کریں… اور ان میں بھی اوّل نیت
اللہ تعالیٰ کی رضاء کی رکھیں… مگر زیادہ محنت… اُس کام میں کریں جس کے لئے ہمیں
پیدا کیا گیا ہے… عبادت، بندگی ، اخلاص والی عبادت…اللہ تعالیٰ کی رحمت کی
اُمید،اللہ تعالیٰ کے عذاب کا خوف… بس صرف اللہ، صرف اللہ، صرف اللہ
لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ
محمد رسول اللّٰہ
نماز، ذکر، جہاد، قربانی… سب اعمال اللہ تعالیٰ کو راضی
کرنے کے لئے ہوں… پھر ان اعمال کے بعد روزی زیادہ ملے یا کم… دنیا کی عزت ملے یا
لوگوں کے تھپڑ… اپنوں کی وفاداری ملے یا دوستوں کی بغاوت… ہمیں اس کی فکر نہ ہو …
اور نہ ان معاملات کی وجہ سے ہماری عبادت میں کوئی فرق آئے… عبادت جاری رہے،
عبادت بڑھتی رہے… باقی رہے دنیا کے مسائل تو ان کے لئے… اللہ تعالیٰ سے دعاء …
استخارہ … اور مسنون وظیفے۔
خالص جہاد کی برکات
امریکہ کا صدر ’’ٹرمپ‘‘ جب عہدۂ صدارت سنبھالنے کے بعد
پہلا خطاب کر رہا تھا تو اس نے کہا… میں امریکہ کی عزت و عظمت واپس بحال کروں
گا…معلوم ہوا کہ امریکہ کی عزت لٹ چکی ہے اور نام نہاد عظمت پامال ہو چکی ہے… یہ
سب کچھ کہاں اور کب ہوا؟…
جواب ایک ہی ہے کہ… افغانستان پر حملے کے بعد…اس سے پہلے
’’سوویت یونین‘‘ جو خود کو سپرپاور کہتا تھا…وہ اپنا وجود نہ سنبھال سکا اور بکھر
گیا…یہ سب کچھ کہاں اور کب ہوا؟… جواب ایک ہی ہے کہ…افغانستان پر حملے اور اس حملے
میں شکست کھانے کے بعد… افغانستان میں آخر ایسی کیا بات ہے کہ… دنیا کا ہر
’’طاغوت‘‘ہر ’’جالوت‘‘ وہاں جا کر ’’تابوت‘‘ بن جاتا ہے… دنیا کا ہر بڑا بت وہاں
جا کر مٹ جاتا ہے… اور ہر ’’سپر پاور‘‘ کی کھال یوں اُترتی ہے کہ …وہ اندر سے
’’صفر پاور‘‘ ظاہر ہو جاتا ہے … وجہ صرف ایک ہے… اور وہ یہ کہ افغانستان میں
الحمدللہ… خالص شرعی اسلامی جہاد موجود ہے … اور اس جہاد کی قیادت راسخ العلم
علماء کرام… اور اہل دل اہل تقویٰ کے ہاتھوں میں ہے… اور جہاد کی ایک خصوصیت یہ ہے
کہ… یہ ’’کَافِرُوْن‘‘ کو ’’صَاغِرُوْن‘‘ بنا دیتا ہے… یعنی ان کو حقیر ، ذلیل اور
رسوا کر دیتا ہے…آپ کل کا امریکہ دیکھیں… بارعب، پر امن، باوقار، دنیا کو اشاروں
پر نچانے والا بدمعاش… اور ہر طرح سے پُرسکون… مگر آپ آج کا امریکہ دیکھیں …بے
رعب، بے آبرو، انتشار زدہ، خوفزدہ، بے سمت اور بے قرار… ابھی تو کچھ آگے چل کر
آپ دیکھیں گے کہ…وہاں کس قدر بے چینی اور کشیدگی بڑھتی ہے… یہ سب کچھ قرآن عظیم
الشان نے… بہت پہلے سے بتا دیا ہے… کاش! مسلمان قرآن مجید میں جہاد کو دیکھیں ،
جہاد کو سمجھیں… اور جہاد سے یاری لگائیں… الحمد للہ ہمارے زمانے کا شرعی جہاد…
اپنے بھرپور نتائج دور دور تک حاصل کر رہا ہے… اسی جہاد کی برکت سے دنیا کا نقشہ
بدل رہا ہے… دنیا کا نظام بدل رہا ہے… اور دنیا کا رنگ بدل رہا ہے… آپ اندازہ
لگائیں کہ… وہ بڑی قومیں جو ساری دنیا کو ’’روشن خیالی‘‘ کا سبق پڑھا رہی تھیں…
آج ایسی حواس باختہ ہوئیں کہ… ریلوے اسٹیشن … اور لاری اڈے کے دو کن ٹٹے بدمعاشوں
کو … اپنا صدر اور وزیر اعظم بنا بیٹھی ہیں… اس دن ’’روشن خیالی‘‘ شاید اپنے
’’کوٹھے‘‘ سے چھلانگ لگا کر خود کشی کر لے گی… جس دن ’’ٹرمپ‘‘ اور ’’مودی‘‘ ایک
جگہ مل بیٹھیں گے…
اسلام زندہ باد… جہاد فی سبیل اللہ زندہ باد
لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ
محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے…الحمد للہ، الحمد للہ… آپ بھی سب دل
سے پڑھ لیں …الحمد للہ ، الحمد للہ… آج ہم مسلمانوں میں ’’شکر‘‘ کی کمی ہے…
استغفر اللہ، استغفر اللہ… بہت کم لوگ ایسے نظر آتے ہیں جو دل سے اللہ تعالیٰ کا
شکر ادا کرتے ہوں اور دل سے کہتے ہوں الحمد للہ، الحمد للہ… اللہ تعالیٰ نے ہماری
ہدایت کے لئے ’’قرآن مجید‘‘ اُتارا تو پہلا سبق ہمیں یہی پڑھایا کہ کہو…الحمد للہ
رب العالمین… اللہ تعالیٰ کے نام سے اور اللہ تعالیٰ کی حمد سے جو کام شروع ہو وہی
بابرکت ہوتا ہے… وہی کامیاب ہوتا ہے الحمد للہ، الحمد للہ… دراصل ہمارے دل دنیاوی
خواہشات سے بھرے پڑے ہیں اور دنیا کی ہر خواہش پوری ہوتی نہیں… پوری ہو بھی جائے
تو فوراً نئی خواہش سر اٹھا لیتی ہے… اس لئے ہر دل شکوے رو رہا ہے…ہر آنکھ سے
ناشکری برس رہی ہے… استغفر اللہ، استغفر اللہ… کوئی اپنی غریبی پر ناشکری کر رہا
ہے… حالانکہ غریب مسلمان… جنت میں مالدار مسلمانوں سے بہت پہلے داخل ہوں گے… کتنے
حضرات انبیاء علیہم السلام نے غریبی کی زندگی گزاری… اللہ تعالیٰ نے ایمان
والوں سے دنیا میں… ’’حیات طیبہ‘‘ کا وعدہ فرمایا ہے… اچھی زندگی، پاکیزہ زندگی…
کفر سے پاک، شرک سے پاک، بدکاری سے پاک، حرص سے پاک، بغض سے پاک، عذاب سے پاک،
تنگی سے پاک زندگی… دل میں ایمان ہو تو غربت بھی اچھی لگتی ہے اور مالداری بھی…
ایمان نہ ہو تو غربت بھی عذاب، مالداری بھی عذاب… کاش! ہم شکر گزار بن جائیں… ہمیں
سکھایا گیا کہ کھانا کھا لو توفوراً شکر ادا کرو… بلکہ کھاتے وقت بھی ادا کرتے
رہو…
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا
وَجَعَلَنَا مُسْلِمِیْنَ
اور ایک شکر تو ایسا سکھایا کہ اسے پڑھتے ہوئے آنکھیں بھیگ
جاتی ہیں… حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ’’شکر‘‘ کے یہ الفاظ سوتے وقت ادا فرماتے تھے…
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَکَفَانَا وَآوَانَا فَکَمْ مِّمَّنْ لَا
کَافِیَ لَہٗ وَ لَا مُؤوِیَ۔
’’ شکر اور حمد اس اللہ تعالیٰ کے
لئے جس نے ہمیں کھلایا، پلایا، ہماری ضرورتیں پوری فرمائیں اور ہمیں ٹھکانہ دیا۔
کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جن کی نہ کوئی ضرورتیں پوری کرنے والا ہے اور نہ ان کو (
باعزت) ٹھکانہ دینے والا۔‘‘
اللہ، اللہ، اللہ… کیسی پرکیف دعاء ہے… انسان کے اندر شکر
کا احساس بڑھاتی ہے… ہماری وہ مسلمان خواتین … جن کو باپردہ گھروں میں دستر خوان
پر کھانا مل جاتا ہے… کبھی کسی مسجد کے باہر بھیک مانگتی خواتین کو جا کر دیکھیں…
ان میں سے کئی تو پیشہ ور ہوتی ہیںمگر بعض حقیقی بے بس، بے سہارہ، جھکے سر، شرماتے
چہرے اور ٹپکتی آنکھیں… ان کو گھر کا باعزت دستر خوان میسر نہیں… ارے! جن کو یہ
نعمت ملی ہوئی ہے وہ تو دل سے کہہ دیں الحمد للہ، الحمد للہ۔
آپ جو بھی یہ کالم پڑھ رہے ہیں میری ایک بات مان لیں… صرف
ایک دن… جی ہاں! پورا ایک دن اللہ تعالیٰ کے شکر میں گذاریں… آپ کو اندازہ ہو
جائے گا کہ ’’شکر‘‘ کتنی بڑی نعمت ہے… اور ہم اس نعمت سے کس قدر محروم ہیں… صبح
فجر سے الحمد للہ پڑھنا شروع کریں اور مغرب تک چلتے پھرتے، اُٹھتے بیٹھتے پڑھتے
جائیں… الحمد للہ، الحمد للہ، الحمد للہ، الحمد للہ…
کبھی ایمان کی نعمت کو یاد کر کے… کبھی قرآن کی نعمت کو
سامنے رکھ کر… کبھی نماز کی نعمت پر … کبھی والدین کی نعمت پر… کبھی صحت، عزت و
عافیت کی نعمت پر… صرف ایک دن… ہاں! صرف ایک دن… الحمد للہ، الحمد للہ… اس دن اپنے
دل کو ناشکری نہ رونے دیں… نہ غربت پر، نہ بیماری پر… نہ کسی کی بے وفائی پر اور
نہ اپنی ناقدری پر… بس نعمتیں یاد کرتے جائیں… ایک ایک اولاد، ایک ایک عضو… ایک
ایک روپیہ… ایک ایک نیکی… سب کچھ یاد کرتے جائیں اور شکر ہی شکر… شکر ہی شکر… اس
دن نا شکری کو چھٹی پر بھیج دیں… اور شیطان خبیث ناشکرے سے ہاتھ چھڑا لیں… ہزاروں
بار دل کی خوشی سے پڑھ ڈالیں الحمد للہ، الحمد للہ… اگر اپنا کوئی درد یاد آئے تو
کہیں کوئی بات نہیں الحمد للہ کینسر تو نہیں ہے الحمد للہ، الحمد للہ… اپنا کوئی
غم یاد آئے تو کہیں کوئی بات نہیں …جنت میں سب غم دھل جائیں گے الحمد للہ، الحمد
للہ… بھائیو! اور بہنو! صرف ایک دن… سچا شکر ، گہرا شکر ، پکا شکر… ارے! مالک کے
احسانات تو اتنے زیادہ ہیں کہ پوری زندگی شکر کرتے رہیں تو شکر ادا نہ ہو
الحمدللہ، الحمد للہ… خود سوچیں کہ ہمارے پاس جو کلمہ طیبہ ہے…
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
یہ فرعون کی چار سو سالہ حکومت سے زیادہ قیمتی
ہے… یہ قارون کے کھربوں کے خزانے سے زیادہ قیمتی ہے… یہ ہامان کی ذہانت اور عیش و
عشرت سے زیادہ قیمتی ہے… یہ ابو جہل کی سرداری اور تکبر سے زیادہ قیمتی ہے… خود
سوچیں کہ اگر ہم سے کہا جائے کہ… تم فرعون جیسی حکومت ، محلات اور صحت لے لو اور
یہ کلمہ دیدو… کیا ہم کلمہ دے دیں گے؟ اگر خدانخواستہ دے دیں گے تو فائدہ اُٹھائیں
گے یا نقصان؟ … کوئی مسلمان فرعون اور قارون کے خزانوں کے بدلے یہ کلمہ دینے پر
تیار نہیں ہو گا تو پھر… اس بات پر کیوں روتے ہو کہ مکان نہیں… فلاں چیز نہیں…
کلمہ کا شکر ادا کرو… الحمد للہ، الحمد للہ… گذشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ… عبادت
گذار بنو وظیفہ باز نہ بنو… کسی نے سوال کیا کہ… آپ نے خود وظیفوں کی کتابیں لکھی
ہیں… اب وظیفوں سے روک رہے ہیں؟… جواب عرض کیا کہ… روک نہیں رہا، ترتیب ٹھیک کرا
رہا ہوں… مسلمان کی نظر میں جب دنیا اور اس کے مسائل پہلے نمبر پر آ جائیں اور
آخرت دوسرے نمبر پر چلی جائے تو وہ … ناشکرا بن جاتا ہے… اور ناشکری… کبیرہ گناہ
ہے… بہت بڑا کبیرہ… شراب، زنا اور چوری سے بھی زیادہ سخت گناہ… جب دنیا اور اس کی
حاجتیں مقصود ہوں تو انسان کبھی راضی نہیں ہو سکتا… کیا آج دنیا کے ارب پتی خوش
اور راضی ہیں؟… گذشتہ دنوں ایک ارب پتی بڑی حسرت سے کہہ رہا تھا کہ کاش! میرے پاس
اتنا مال نہ آتا… میں اس وقت زیادہ خوش تھا جب میری تنخواہ بارہ سو روپے تھی…
دنیا مقصود بن جائے تو انسان اللہ تعالیٰ سے سودے کرتا رہتا ہے… حاجت پوری ہو گئی
تو اللہ تعالیٰ سے خوش… اور حاجت پوری نہ ہوئی تو اللہ تعالیٰ سے ناراض… ایسے
لوگوں کے بارے میں ’’سورۂ حج‘‘ میں فرمایا گیا:
خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃَ
ایسے لوگ دنیا میں بھی ناکام اور آخرت میں بھی ناکام…
کون سے لوگ؟ …وہ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت ایک کنارے پر کھڑے
ہو کر کرتے ہیں… اس عبادت سے دنیا کے مزے ملتے رہے تو عبادت پر جمے رہے اور جب
دنیا میں تنگی آئی تو عبادت چھوڑ دی… آخرت ان لوگوں کو اس لئے نہیں ملے گی کہ…
آخرت ان کا مقصود تھی ہی نہیں… باقی رہی دنیا تو… یہ کسی کو جتنی بھی مل جائے چند
دن کی ہوتی ہے … اور پھر ختم اسی لئے فرمایا:
خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃَ
جہاد میں مزے ملتے رہے تو جہاد زندہ باد… آزمائشیں آئیں
تو جہاد کو چھوڑ دیا… نماز کے بعد مال ملتا رہے تو پکے نمازی… اگر خسارہ ہو جائے
تو نماز بھی اِدھر اُدھر… حالانکہ ’’عبادت‘‘ فرض ہے… اور عبادت کے بارے میں ایک
پکا سودااللہ تعالیٰ سے ہو چکا ہے کہ… ایمان اور عبادت کے بدلے اللہ تعالیٰ کی
رضاء اور جنت ملے گی اور یہ بہت کامیابی والا سودا ہے… باقی دنیا میں کیا ملے گا ،
کیا نہیں ملے گا اس کا ’’عبادت‘‘ کے ساتھ تعلق نہ جوڑا جائے… ورنہ حضرات انبیاء
علیہم السلام پر دنیا کی کوئی تکلیف نہ
آتی… کیونکہ ان سے بڑھ کر عبادت گذار کوئی نہیں تھا… ایک مومن عبادت میں پکا ہو…
نماز، روزہ، حج ، زکوٰۃ ، جہاد یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی خالص رضاء کے لئے کرے…
اور دنیاوی نتائج سے بے پرواہ اور بے غرض ہو کر کرے… روزانہ کی اخلاص والی تلاوت
کا معمول بنائے… اللہ تعالیٰ کے قرب کے لئے…مسنون نوافل، تہجد، اشراق، چاشت،
اوابین پکے کرے… رسول کریم صلی اللہ علیہ
وسلم پر اخلاص و محبت کے ساتھ درودو سلام
بھیجے… اپنے گناہوں پر استغفار کرے… صبح شام کے مسنون اذکار کا اہتمام کرے… اور
اللہ تعالیٰ سے راضی ہو کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا رہے الحمد للہ، الحمد للہ
، الحمد للہ… جب معمولات کا یہ ’’عبادت‘‘ والا نصاب پورا ہو جائے تو اب شرعی حدود
میں رہتے ہوئے وظیفے بھی کر سکتاہے… اور اللہ تعالیٰ سے اُمید یہ ہے کہ…جو عبادت
کے نصاب پرآجائے گا…اسے ان شاء اللہ زیادہ وظیفوں کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی…اور
عبادت سے ان شاء اللہ…اسے’’شکر گزاری‘‘ کی نعمت بھی ملے گی…
الحمدللہ، الحمدللہ
کسی نے پوچھا کہ معمولات پورے نہیںہوتے…انہیں عرض کیاکہ جو
عمل ہوجائے اس پرشکر ادا کیاکریں…ان شاء اللہ اس’’شکر‘‘کی برکت سے مزید کی توفیق
ملے گی…خود مجھے الحمدللہ اس کاتجربہ ہوا کبھی طبیعت بھاری اور بوجھل ہو اور کئی
سورتیں پڑھنی ہوں تو…ایک سورت پڑھ کر شکر ادا کیا… الحمدللہ، الحمدللہ…پس فوراً طبیعت میںدوسری
سورت پڑھنے کی طاقت آجاتی ہے… الحمدللہ، الحمدللہ…مگر شیطان بڑا دشمن ہے…وہ ہمیں
ان نعمتوں پر بھی شکر ادا نہیں کرنے دیتا جو ہمارے پاس موجود ہیں…وہ ڈراتا رہتا ہے
کہ یہ چیز تم سے ضرور چھن جائے گی…یہ نعمت عنقریب تمہارے ہاتھوں سے لے لی جائے
گی…چنانچہ نعمت موجود ہوتی ہے اور ہم ناشکری کررہے ہوتے ہیں… استغفراللہ،
استغفراللہ…اور پھر جو مصیبت ابھی ہم پر آئی نہیں ہوتی… اس سے بھی ڈرا کر ’’نا
شکری‘‘میں لگائے رکھتا ہے کہ…بس عنقریب تم پر یہ آفت آجائے گی…یافلاں مرگیا تو
تم کہاں سے کھائوگے؟فلاں نے دینا بند کردیا تو تمہاری روزی کا کیا ہوگا؟
استغفراللہ، استغفراللہ…ابھی مصیبت آئی نہیں مگر’’ناشکری‘‘ایڈوانس میں چل رہی
ہے…حالانکہ جو نعمتیں موجود ہیں ان پر بھی شکر واجب بنتا ہے… الحمدللہ، الحمدللہ…
اور جو مصیبتیں نہیں آئیں ان پر بھی شکر واجب ہے… الحمدللہ، الحمدللہ…کئی لوگ ہر
وقت ’’نظربد‘‘ سے ڈرتے رہتے ہیں… کئی ہر وقت جادو کے خوف سے کانپتے رہتے
ہیں…حالانکہ مومن کی شان اللہ تعالیٰ پر ’’توکل‘‘ ہے… نظرحق ہے… جادو بھی ہوجاتا
ہے… مگر اللہ تعالیٰ بھی موجود، اُس کا کلام بھی موجود… اس کی حفاظت کا بھی یقین،
اس کی قدرت اور محبت پر بھی بھروسہ…الحمدللہ، الحمدللہ
اس بار حکومت نے یوم یکجہتی کشمیر سے پہلے …خوف کی فضا
بنادی تھی…بعض جماعتوں پر پابندی، بعض افراد کی نظر بندی…انڈین فلموں کی آزادی
مگر الحمدللہ…دین کے دیوانے بے خوف ہو کر نکلے…
کراچی سے پشاور تک…اور کوئٹہ سے ڈیرہ اسماعیل خان تک خوب
شاندار، جاندار… بلکہ سچی بات ہے کہ ’’ایماندار‘‘ ریلیاںاور اجتماعات
ہوئے…الحمدللہ،الحمدللہ…یہ ریلیاں اور اجتماعات گذشتہ سالوں سے زیادہ پُرنور، منظم
اور پُر رونق تھے… الحمدللہ،الحمدللہ… اہل کراچی کو مبارک اور وہاں کے ’’دیوانوں‘‘
کے لئے دعائے مغفرت و رحمت کہ…انہوں نے بہت بڑا اجتماع اُٹھایا…اہل پشاور کو مبارک
کہ ان کی ریلی بڑی شاندار تھی… اور راولپنڈی کے دیوانے مبارکباد کے مستحق کہ…
انہوں نے خوب جمود توڑا… الحمدللہ ، الحمدللہ،الحمدللہ، الحمدللہ
لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ
محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی ’’رحمت‘‘ عطاء فرمائے…
حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ… ’’جہاد فی سبیل اللہ کو ادا کرنے
کی محنت کرنا اللہ تعالیٰ کی عمومی رحمت چھا جانے کا ذریعہ ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ’’لعنت‘‘ سے بچائے…
حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ…’’ جہاد کے خلاف کوشش کرنا دراصل
’’لعنت‘‘ چھا جانے کا سبب ہے۔‘‘ (حجۃ اللہ البالغہ)
خلاصہ یہ کہ…جہاد فی سبیل اللہ کی خدمت سے مسلمانوں پر
عمومی رحمت برستی ہے… اور جہاد فی سبیل اللہ کی مخالفت سے ان پر عمومی لعنت اور
عذاب کا ماحول بن جاتا ہے…
وجہ کیا ہے؟… وجہ بالکل واضح ہے کہ… جہاد فی سبیل اللہ،
اللہ تعالیٰ کا ’’حکم‘‘ ہے…اور ’’مجاہد‘‘ اللہ تعالیٰ کا ’’محبوب‘‘ ہے… اللہ
تعالیٰ سب سے بڑا ہے… اس کا حکم بھی سب سے اونچا ہے… اللہ تعالیٰ زمین پر جو
تبدیلیاں چاہتے ہیں… ان کے لئے وہ اپنے خاص الخاص بندوں کو استعمال فرماتے ہیں…
حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ عرب و عجم پر غضبناک
ہو گیا اور اس نے ان کی حکومت اور سلطنت کو برباد کرنے کا فیصلہ فرما لیا چنانچہ
اللہ تعالیٰ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں… اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ آپ کے صحابہ کے دل میں… القاء فرمایا
کہ وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑیں… تاکہ مقصد حاصل ہو جائے۔‘‘ ( یعنی عرب و عجم
کے کفار کی سلطنت ختم ہو جائے)۔‘‘ (حجۃ اللہ البالغہ)
اس لئے جہاد کی مخالفت کرنا… لعنت پانے کا ذریعہ ہے…اور
’’مجاہدین کرام‘‘ کو ایذاء پہنچانا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اعلان جنگ کرنے کے مترادف
ہے۔
ابو جہل کا اونٹ
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم … ۶ ہجری میں… اپنے چودہ سو صحابہ کرام کے ساتھ ’’عمرہ‘‘ کے لئے تشریف لے گئے…
عمرے کا یہ پر امن سفر … بعد میں جہادکا سفر بن گیا… کیونکہ اس سفر میں ’’حدیبیہ‘‘
کے مقام پر… ’’بیعت علی الجہاد‘‘ ہوئی… تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک پر جہاد کی بیعت کی… اس ’’بیعت‘‘
کا عنوان تھا… ’’ہم زندگی کے آخری سانس تک لڑتے رہیں گے،اور میدان جہاد سے پیٹھ
نہیں پھیریں گے‘‘… سفر’’ عمرہ‘‘ کا تھا مگر پھر یہ جہاد کا سفر بن گیا… اس لئے اس
سفر کا نام ہے’’غزوہ حدیبیہ‘‘… غزوہ اس جہادی سفر کو کہتے ہیں جو حضور اقدس صلی
اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں ہوا ہو… حضرت
امام بخاری رحمہ اللہ جیسے بلند پایہ محدث
سے لے کر… علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ جیسے
نامور مفسر و مؤرخ تک… سب حضرات اس واقعہ کو ’’غزوہ‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں…
معلوم ہوا کہ ہمارے پاک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک عظیم سنت یہ بھی ہے کہ…
مومن کو ہر وقت ’’ جہاد‘‘ کے لئے تیار رہنا چاہیے… ’’حدیبیہ‘‘ میں جہاد کی بیعت
کرنے والے حضرات …گھر سے جہاد کے لئے نہیں نکلے تھے… وہ ’’عمرہ‘‘ ادا کرنے جا رہے
تھے… مگر اچانک ایک مسلمان کی جان اور حرمت کا معاملہ سامنے آگیا… تب احرام میں
ملبوس… یہ قافلہ ایک دَم طوفانی جہادی لشکر بن گیا… حالانکہ احرام میں جنگ کرنا
ممنوع ہے… پھر یہ مہینہ بھی’’ذوالقعدہ‘‘ کا تھا… اور ’’ذوالقعدہ‘‘ حرمت والے
مہینوں میں سے ہے… اور پھر جس جنگ کی بیعت کی جا رہی تھی وہ جنگ حدود حرم میں لڑی
جانی تھی… حالانکہ حدود حرم میں جانور مارنا اور درخت کاٹنا بھی جائز نہیں… مگر جب
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے
کی خبر آئی تو … تمام احکامات تبدیل ہو گئے… احرام کے لباس اور نیت کے باوجود جہاد
کی بیعت ہوئی… اور اس بیعت کے رعب نے…مشرکین مکہ کو ان کے اپنے گھر میں شیر سے بلی
بنا دیا…
بات کچھ دور نکل رہی ہے…عرض یہ کر رہا تھا کہ حضور اقدس صلی
اللہ علیہ وسلم جب عمرے کے اس سفر پر
روانہ ہو رہے تھے تو آپ نے… قربانی کے لئے جانور بھی ساتھ لئے… اور ان میں خاص
طور پر… وہ اونٹ اپنے ساتھ لیا جو ابوجہل کا قابل فخر اونٹ تھا اور ابو جہل نے اس
اونٹ کو چاندی کے زیورات پہنا رکھے تھے… غزوہ ٔبدر میں جب ابو جہل مارا گیا تو یہ
اونٹ بطور مال غنیمت مسلمانوں کے قبضے میں آ گیا…
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے سفر میں یہ اونٹ خاص طور پر ذبح
کرنے کے لئے اپنے ساتھ لیا… ’’زاد المعاد‘‘ میں لکھا ہے کہ… آپ صلی اللہ علیہ
وسلم اس کے ذریعہ سے مشرکین کو غم ، غیظ
اور تکلیف میں ڈالنا چاہتے تھے… اور یہ عمل اللہ تعالیٰ کو پسند ہے کہ… مسلمان،
کافروں کا دِل جلائیں۔
القلم کے قارئین میں سے کئی افراد کو آج کی یہ باتیں عجیب
سی لگ رہی ہوں گی… کیونکہ آج کئی لوگوں کے بیانات میں… بس اخلاق، اخلاق کا شور
ہوتا ہے… اور اخلاق کے پردے میں غلامی سکھائی جاتی ہے… حالانکہ ’’اخلاق‘‘ وہ ہیں
جن کا حکم اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے… اور ’’اخلاق‘‘ وہ ہیں جو حضرت آقا مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہیں…اسلام
دشمن کافروں کا دِل جلانا… ان کو غم و غیظ میں ڈالنا یہ حضرت آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم کی سنت ہے… ’’زاد المعاد‘‘ میں
دلیل کے ساتھ اس سنت کا ثبوت موجود ہے… پس وہ لوگ کتنے مبارک ہیں… جن کے وجود سے
ہی مشرکین اور کفار جلتے ہیں… ڈرتے ہیں اور غم و غیظ میں مبتلا ہوتے ہیں… اب آپ
غور فرمائیں کہ عمرے کے پر امن سفر میں بھی… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جہل کا اونٹ ساتھ لے کر… اپنی ایک جہادی
ادا کا اظہار فرمایا… کیونکہ ’’جہاد‘‘ اللہ تعالیٰ کا محبوب ترین عمل ہے… اور کوئی
مسلمان کسی حال میں بھی… جہاد سے غافل نہیں رہ سکتا … پس وہ لوگ جو جہاد کی مخالفت
کرتے ہیں… حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمہ اللہ نے سچ فرمایا کہ… وہ معاشرے میں ’’لعنت‘‘
پھیلانے کا جرم کرتے ہیں… اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کی ’’لعنت‘‘ سے حفاظت
فرمائے… لعنت بہت بری چیز ہے… اور اس کا مطلب ہے پھٹکار، ذلت اور اللہ تعالیٰ کی
رحمت سے محرومی۔
دِل کی سلامتی
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک دعاؤں میں سے ایک دعاء ’’قلب سلیم‘‘
کی بھی ہے… یعنی بندہ اللہ تعالیٰ سے اپنے دل کی سلامتی مانگے… وَاَسْئَلُکَ
قَلْبًا سَلِیْمًا… روحانی بیماریوں اور شیطانی تیروں اور زخموں سے محفوظ دل… حضرت
شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے یہ تحقیق بھی
فرمائی ہے کہ… جہاد وہی مسلمان کرتا ہے
اور وہی مسلمان سمجھتا ہے جس کا دل سلامت ہوتا ہے… اور اس دل میں دین بہت پختہ اور
راسخ ہوتا ہے… اور وہ دل شیطانی اور حیوانی شرور سے پاک ہوتا ہے…اب آپ اپنے
معاشرے پر نظر ڈالیں…آج جہاد فی سبیل اللہ ہر کافر کی نظر میں سب سے بڑا عیب ہے…
آج جہاد فی سبیل اللہ ہر منافق کی نظر میں سب سے بڑا جرم ہے… آج جہاد فی سبیل
اللہ ہر مشرک اورہر ملحد کی نظر میں سب سے بڑا فساد ہے… اور دنیا کے بیشتر حصوں پر
حکومت بھی انہی کافروں ، مشرکوں اور منافقوں کی ہے… آپ جہاد کا نام لیتے ہیں تو
آپ دنیا بھر میں آسانی سے سفر نہیں کر سکتے… آپ جہاد کو مانتے ہیں تو… پھر آپ
دنیا والوں کے نزدیک قابل قبول نہیں ہیں… اب آپ بتائیے کہ ان سارے حالات میں…
کوئی کمزور دل والا شخص… جہاد کے ساتھ کھڑا ہو سکتا ہے؟؟ مگر دوسری طرف… قرآن
مجید کی سینکڑوں آیات ہیں جو جہاد کا حکم سناتی ہیں… حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی سینکڑوں احادیث ہیں… جو جہاد کی طرف بلاتی
ہیں… خود حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک غزوات… اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک خون ہے… جو ہمیں جہاد کی دعوت دیتا ہے…
پس وہ شخص جس کا دل ’’سلیم‘‘ ہو گا… اور اس دل میں ’’اللہ تعالیٰ‘‘ ہی سب سے بڑا
ہو گا…اور اس دل میں دین مکمل راسخ ہو گا… وہی جہاد کو مانے گا اور جہاد پر نکلے
گا… اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو… دل کی سلامتی او دین کی سلامتی عطاء فرمائے…
بات بالکل واضح ہے کہ… جہاد فی سبیل اللہ کی محنت کرنے سے رحمت پھیلتی ہے… اور
جہاد فی سبیل اللہ کی مخالفت کرنے سے لعنت پھیلتی ہے… آئیے! ہم سب ’’رحمت‘‘ پانے
… اور لعنت سے بچنے کی دعاء اور کوشش کریں۔
لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ ،لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑے جرائم میں سے ایک خطرناک جرم…
’’قتل ناحق‘‘ ہے… ناحق قتل نہ کسی انسان کا جائز ہے اور نہ چند مخصوص جانوروں کے
سوا کسی جانور کا… ’’قتل ناحق‘‘ نہ مسلمان کا جائز ہے نہ کافر کا… نہ کسی دیندار
کا جائز ہے اور نہ کسی فاسق کا… نہ کسی متقی کا جائز ہے اور نہ کسی بدعتی کا۔
ایک انسان جب تک ’’قتل ناحق‘‘ کے جرم میں مبتلا نہیں ہوتا…
اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت گنجائش رہتی ہے… لیکن جیسے ہی وہ ناحق خون بہاتا
ہے تو اس کے لیے گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے… اللہ معاف فرمائے ایسے لوگوں کو
’’توبہ‘‘کی توفیق بھی کم ملتی ہے اور اُن میں سے کئی… ایمان اور اسلام سے بھی
محروم ہو جاتے ہیں… زمین پر گناہوں کا آغاز اسی ’’قتل ناحق‘‘ کے بھیانک گناہ سے
ہوا… اس گناہ سے پہلے زمین بہت خوبصورت تھی… مگر اس ایک گناہ نے پورے خطۂ زمین
کو… کانٹوں، کڑواہٹوں اور دُکھوں سے بھر دیا… کسی کو قتل کرنا نہ کوئی بہادری ہے
اور نہ کوئی عزت… ناحق قتل سے اللہ تعالیٰ کا غضب اور اللہ تعالیٰ کی لعنت نازل
ہوتی ہے…اگر کوئی شخص کسی چڑیا کو بھی بلاوجہ ناحق قتل کر کے پھینک دے گا تو وہ
چڑیا قیامت کے دن اس پر دعویٰ کرے گی کہ میری جان کیوں ضائع کی؟ …اور احکم
الحاکمین کا ’’قہر‘‘ قیامت کے دن قاتلوں پر خوفناک برسے گا… اسلام نے ’’قتل ناحق‘‘
کا دروازہ بند کرنے کے لئے بڑے بڑے اقدامات فرمائے… ان دروازوں کو بند کیا جن سے
یہ موذی جرم امت میں داخل ہوتا ہے… اور قتل ناحق پر ایسی شدید وعیدیں نازل فرمائیں
کہ… جو مسلمان بھی انہیں پڑھ لے وہ کبھی قتل ناحق کی جرأت نہیں کر سکتا… یہ
وعیدیں اتنی سخت اور شدید ہیں کہ انہیں پڑھ کر دل خوف سے کانپنے لگتا ہے… حضرات
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ان
وعیدوں اور احکامات کو سن کر اس معاملے میں ایسے حساس تھے کہ… قتل ناحق سے بچنے کے
لئے اپنی بڑی سے بڑی توہین برداشت فرما لیتے تھے… یہاں تک کہ خود قتل ہونا بھی
گوارہ کر لیتے تھے… اور یہی کامیاب ترین انسانوں کا دستور ہے کہ… وہ قتل ناحق سے
بچنے کے لئے اپنی جان تک دے دیتے ہیں مگر ’’قتل ناحق‘‘ سے اپنے ہاتھ آلودہ نہیں
کرتے۔
حضرت ہابیل علیہ
السلام نہ اپنے بھائی سے کمزور تھے اور نہ
وہ لڑنے سے عاجز تھے… وہ نہ بزدل تھے اور نہ اپنے بھائی کی نیت سے غافل تھے… مگر
وہ ’’قتل ناحق‘‘ سے بچنے کے لئے ’’مقتول‘‘ اور ’’شہید‘‘ ہو گئے… اور یوں ہمیشہ کے
لئے زندہ ہو گئے… ان پر اللہ تعالیٰ کی کروڑوں رحمتیں ہوں… جبکہ ’’قابیل‘‘ نے اپنی
انا، اپنی ضد اور اپنے حسد کی پیروی کی…وہ قتل ناحق کے جرم میں مبتلا ہو کر … دنیا
میں بھی مر گیا اور آخرت میں بھی زمین پر ہونے والے ہر… ’’قتل ناحق‘‘ کی سزا میں
حصہ دار بن گیا… حضرت صدیق اکبر رضی اللہ
عنہ کے زمانے میں ایک شخص نے آپ کی شان میں بہت سخت گستاخی کی… آپ کے رفقاء میں
سے ایک ’’صاحب‘‘ اس کو قتل کرنے کے لئے اُٹھے تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے
سختی سے منع فرمادیا… اور فرمایا کہ یہ حکم حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خاص ہے کہ… ان کے گستاخ کو قتل کرنا’’
برحق ‘‘ ہے ان کے بعد کسی کے لئے ایسا کرنا جائز نہیں … ’’قتل ناحق‘‘ کا جرم چونکہ
اللہ تعالیٰ کے غضب اور لعنت کا سبب ہے اس لئے… اس کے اثرات دور دور تک پھیلتے
ہیں… اور ایک قتل کئی مزید ہلاکتوں کا باعث بنتا چلا جاتا ہے… پاکستان اس وقت اس
عذاب کا شکار ہے… ایک طرف ’’تخریب کار‘‘ ہیں … جن کے نزدیک ’’قتل ناحق‘‘ نعوذ
باللہ ثواب کی چیز ہے… اور دوسری طرف حکومت ہے جس کے نزدیک ’’قتل ناحق‘‘ ملک کے
امن کے لئے ضروری ہے… ’’قتل ناحق‘‘ کا یہ بھیانک سلسلہ ’’پرویز مشرف‘‘ نے شروع
کرایا… اور پورے ملک کو ایک آگ میں دھکیل دیا…پرویز مشرف ہم پر یہ الزام لگاتا ہے
کہ… ہم نے اس کے قتل کی کوشش کی… اسی طرح جماعت سے بھاگے ہوئے بعض افراد نے بھی یہ
دعویٰ کر رکھا ہے… حالانکہ الحمد للہ ثم الحمد للہ… ہم نے ’’قتل ناحق‘‘ کے جرم سے
بچنے کے لئے… پاکستان میں کبھی نہ کوئی کارروائی کی اور نہ اس کی ترتیب بنائی…
پرویز مشرف یا کسی اور کو مارنا کوئی ایسا ناممکن کام بھی نہیں تھا مگر ہم… اس آگ
میں مزید انگارے نہیں ڈالنا چاہتے تھے، کیونکہ یہ جہاد نہیں… ایک آگ ہے اور ایک
سازش۔
مارکیٹوں میں یہ طریقہ چلا آ رہا ہے کہ جب کسی
کا کوئی ’’برانڈ‘‘ بہت مقبول ہو جائے تو اس کے مخالف… اس ’’برانڈ‘‘ کو ناکام اور
بدنام کرنے کے لئے… اسی نام کی نقلی اور نقصان دہ چیز بازار میں لے آتے ہیں…
مثلاً کسی جگہ ’’ محمد بدر‘‘ نام کا ’’ حلوہ‘‘ بہت مشہور بہت مقبول ہو گیا… ہر
کوئی یہی حلوہ خرید رہا ہے… اور دُکان پر ہر وقت بھیڑ رہتی ہے… اب مخالفوں نے
’’محمد بدر‘‘ کے نام اور پیکٹ کے ساتھ ’’نقلی حلوہ‘‘ مارکیٹ میں چلا دیا… اس حلوے
کو جو کھاتا ہے اس کے پیٹ میں درد ہوتا ہے اور وہ الٹیاں کرنے لگتا ہے…
اب اصلی ’’محمد بدر‘‘ کمپنی والے ہر جگہ اپنی صفائیاں دیتے
ہیں…لوگوں کو اصلی، نقلی کا فرق سمجھاتے ہیں… مگر اب ان کی شہرت اور مقبولیت پہلے
جیسی نہیں رہتی… اور پھر جب ان کی دکان پر مخالفین سرکاری چھاپہ ڈلواتے ہیں تو
لوگ… ان کی مدد کے لئے بھی نہیں نکلتے… کیونکہ نقلی حلوہ اپنا کام دکھا چکا ہوتا
ہے… اللہ تعالیٰ نے امارت اسلامی افغانستان کے ذریعہ ’’جہاد‘‘ کو بے پناہ مقبولیت
اور شہرت عطاء فرمائی… امارت اسلامی افغانستان کے حکام ’’ طالبان ‘‘ کہلاتے تھے…
اور طالبان کا نام… عزت و وقار ، امن و سکون اور امانت و دیانت کا ’’برانڈ ‘‘ بن
چکا تھا… آج جو آپ پاکستان اور اس کے آس پاس اور دور دور تک اسلام، دینی مدارس
اور مساجد کی ترقی دیکھتے ہیں… اس کے پیچھے ’’طالبان‘‘ کی محنت و دیانت کا بڑا
ہاتھ ہے… انہی کے زمانے میں لوگ جوق در جوق جہاد پر آئے اور انہی کے زمانے میں
مسلمانوں کے مالدار اور پڑھے لکھے طبقے نے دین پر خرچ کرنے کے لئے اپنا ہاتھ اچھی
طرح کھولا… طالبان کی وجہ سے اسلام اور جہاد کو الحمد للہ عزت و شوکت ملی… اب جب
’’عالم کفر‘‘ نے طالبان پر حملہ کیا تو ضروری تھا کہ طالبان کی شہرت کو بھی نشانہ
بنایا جائے… چنانچہ طالبان کے نام سے ایسے افراد کھڑے کئے گئے… جنہوں نے اغوا
کاری، بھتہ خوری اور قتل و غارت کا بازار گرم کر دیا… یہ سب کچھ امریکہ اور پرویز
مشرف کی قیادت میں ہوا… انہوں نے خود ایسے افراد مقرر کئے جو …نوجوانوں کو ملک میں
کارروائیوں پر ابھارتے تھے اور ان کی فنڈنگ کرتے تھے… پھر انہوں نے سرکاری اداروں
کے ذریعہ جہادی جماعتوں کو توڑا اور ان میں سے ایسے افراد نکالے جو جذباتیت کا
شکار ہو سکیں… پھر انہوں نے مجاہدین پر مظالم ڈھائے تاکہ وہ غصے اور انتقام میں آ
کر کارروائیاں کریں… پھر انہوں نے مساجد و مدارس پر مظالم کی آگ برسائی تاکہ… اس
کے منفی ردعمل میں… نوجوان شدید انتقامی جذبے کا شکار ہوں… اور پھر ان نوجوانوں کو
’’طالبان‘‘ اور ان کی کارروائیوں کو ’’جہاد‘‘ کا نام بھی دلوایا… اور یوں وہ
’’اصلی طالبان‘‘ لوگوں کو بھول گئے… جن طالبان کی مثالیں دے کر لوگ اپنے ملکوں کے
حکمرانوں کو جوتے دکھاتے تھے… ’’طالبان‘‘ کی وہ مقبولیت اسی طرح برقرار رہتی تو
ہزاروں لاکھوں مسلمان پوری دنیا سے… افغانستان کا رخ کرتے اور ’’طالبان‘‘ پر حملہ
کرنے والی طاقتوں کو عبرت کا نشان بنا دیتے… وہ افراد جو پاکستان وغیرہ میں
کارروائیاں کرتے رہے اگر یہ سب افغانستان چلے جاتے اور وہاں کارروائیاں کرتے تو
آپ اندازہ لگائیں کہ حملہ آور اتحاد کا کتنا برا حشر ہوتا… اسی لئے ایک سازش کے
تحت کئی ریٹائرڈ افراد، کئی مشکوک پیر، کئی ظاہری دیندار… اپنے ہاتھوں میں بریف
کیس لے کر مجاہدین کی صفوں میں گھس گئے… اور نوجوانوں کو پاکستان میں کارروائیاں
کرنے پر اُبھارنے لگے… ساتھ انہوں نے یہ نعرہ بھی عام کر دیا کہ… پاکستان کے جو
مجاہدین افغانستان اور کشمیر میں لڑ رہے ہیں وہ ایجنسیوں کے ایجنٹ اور چابی والے
خرگوش ہیں… ان کو بڑی بڑی رقمیں ملتی ہیں… اور یہ خود کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے…
چنانچہ سیدھے سادے جذباتی نوجوان ان باتوں کا شکار ہو کر وزیرستان کا رخ کرنے لگے
… اور یوں ایک نیا سلسلہ چل پڑا… اس وقت جو نوجوان اس سازش کا شکار ہوئے… وہ اکثر
بے قصور تھے… ان کو جس طریقے سے جذبات دلائے گئے اور جس طرح سے بھڑکایا گیا… اس کو
سن کر کسی مسلمان کے لئے سوائے اسے قبول کرنے کے اور کوئی چارہ باقی نہیں رہتا…
اور پھر لال مسجد کے واقعے نے… اس جنگ کو مستقل بنیادوں پر کھڑا کر دیا…امریکہ اور
پرویز مشرف کی ایجنسیوں کے پلان میں یہ بھی شامل تھا کہ…اس طرح کے جذباتی افراد کو
استعمال کر کے… ایک طرف تو اصلی طالبان کو بدنام کیا جائے گا… اور دوسری طرف ان
نوجوانوں کی کارروائیوں کو جواز بنا کر پاکستان سے جہادی جماعتوں ، مدارس اور دینی
جماعتوں کا خاتمہ کر دیا جائے گا… چونکہ لوگ اغوا کاری، بھتہ خوری، عوامی قتل عام
سے تنگ ہوں گے تو یوں اس کے پردے میں … پاکستان کے دینی طبقے کو مجرم قرار دے کر
اس کا خاتمہ کر دیا جائے گا… اور یہ ملک ایک سیکولر لبرل ریاست بن جائے گی… مگر
امریکہ، نیٹو اور ان کے پالتو پرویز مشرف کی یہ سازش مکمل کامیاب نہ ہو سکی… وجہ
اس کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کا، اپنے بندوں کا اور جہاد کا محافظ ہے… وہ
تحریک جسے جذبات کے جھٹکے لگا کر… کچھ مقاصد کے لئے کھڑاکیا گیا تھا وہ اتنی مضبوط
ہو گئی کہ… حکومت کو بھی چکر آنے لگے… جمہوری نظام حکومت کی ایک خرابی یہ بھی ہے
کہ… لوگ آتے ہیں جاتے ہیں، افسر بدلتے ہیں، اداروں کے سربراہ تبدیل ہوتے ہیں…
پالیسیاں تسلسل سے جاری نہیں رہتیں… کئی افراد کو اپنا کام ادھورا چھوڑ کر ہٹنا
پڑتا ہے… اور نئے افراد کو پرانوں کے کارناموں کا علم تک نہیں ہوتا… بس یہی کچھ
یہاں ہوا…جذبات کے تندور میں جلائے جانے والے نوجوان ایک منظم تحریک بن گئے… پورا
ملک دو طرفہ ’’قتل ناحق‘‘ کی آگ میں جلنے لگا… پہلے جو جنگ محض جذبات پر مبنی
تھی… اب اس میں تنظیمی اصول اور طرح طرح کے سرپرست آتے گئے… تب ریاست نے ان کے
خلاف فوجی آپریشن شروع کر دیا… تو ان لوگوں کو افغانستان نے جگہ دے دی… آپریشن
ضرب عضب شروع ہوتے وقت بندہ نے جو ’’رنگ ونور‘‘ لکھا تھا اسے ملاحظہ فرما لیجئے…
آپ حیران ہوں گے کہ اس میں آئندہ کے جن حالات کی نشاندہی کی گئی تھی وہ کھلی
آنکھوں سے سب کے سامنے آ گئے… اب آپ دیکھیں…پہلا مقصد طالبان کو بدنام کر کے ان
کو اکیلا کرنا تھا اور انہیں شکست دینی تھی… الحمد للہ یہ مقصد پورا نہ ہوا… امارت
اسلامی افغانستان آج بھی قائم ہے، میدان میں ہے اور فاتح ہے… اگرچہ اس فتح میں
وقت زیادہ لگا… اور یہ بھی درست ہے کہ طالبان کی پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک
میں پہلے جیسی مقبولیت نہیں رہی… مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟… میدان میں وہ آج
بھی فاتح ہیں… اور ان کا دشمن خود شکست تسلیم کر رہا ہے… دوسرا مقصد … پاکستان میں
قائم شرعی جہادی جماعتوں کو ختم کرنا اور مدارس و مساجد کا ناطقہ بند کرنا تھا…
سول سوسائٹی کے نام سے میراثیوں کا ایک پورا لشکر… اور میڈیا کے نام سے کئی غیر
ملکی ایجنٹوں کا ایک پورا ٹولہ… اسی کام کے لئے وقف ہے کہ… جیسے ہی پاکستان میں
کوئی تخریبی کارروائی ہوتی ہے تو وہ فوراً شور ڈال دیتا ہے کہ … ہر دیندار کو
مارو، ہر مدرسہ بند کرو، ہر جماعت پر پابندی لگاؤ…اور ملک سے دین کا خاتمہ کرو…
مگر الحمد للہ یہ مقصد بھی آج تک پورا نہیں ہو سکا… اور اگر اللہ تعالیٰ نے اس
ملک کو قائم رکھنا ہے تو یہ مقصد کبھی بھی پورا نہیں ہو سکے گا۔
خلاصہ یہ کہ امریکہ اور پرویز مشرف نے… ’’قتل ناحق‘‘ کا یہ
دو طرفہ سلسلہ جن مقاصد کے لئے شروع کرایا تھا وہ تو پورے ہوئے نہیں … جبکہ
پاکستان کے خلاف مستقل ایک جنگ کے اسباب تیار ہو گئے… اب بھی اس لڑائی کو بند کیا
جا سکتا ہے مگر نہ حکومت ایسا چاہتی ہے اور نہ غیر ملکی طاقتیں… بلکہ غیر ملکیوں
کی تو یہ خواہش ہے کہ وہ لوگ جو ابھی تک پاکستان کے خلاف نہیں لڑ رہے… پاکستان
حکومت ان کو بھی اتنا مجبور اور تنگ کرے کہ وہ بھی لڑنے پر اتر آئیں… دوسری طرف
وہ افراد جو… فوجی آپریشن سے بچنے کے لئے افغانستان جا بیٹھے ہیں وہاں ان کو
عالمی طاقتیں اس بات پر مجبور کرتی ہیں کہ… وہ پاکستان میں زیادہ سے زیادہ
کارروائیاں کریں … اور ساتھ ہی امارت اسلامی افغانستان کو ختم کرنے میں ان کی مدد
کریں…زمانے کا انتقام دیکھیں کہ وہ لوگ جو کل تک…پاکیزہ کشمیری مجاہدین اور باہمت
افغان مجاہدین کو… ’’آئی ایس آئی‘‘ کا ایجنٹ کہتے تھے آج سب لوگ اُن کو ’’را‘‘
کا ایجنٹ کہہ رہے ہیں…بے شک جھوٹی گالی بالآخر گولی بن کر گالی دینے والے کی طرف
واپس لوٹتی ہے۔
ہم نے کئی بار کوشش کی کہ… یہ جنگ کسی طرح بند ہو یا کم ہو…
مگر ہماری نہ تو حکومت سنتی ہے… اور نہ مسلح جنگجو… کیونکہ دونوں طرف کے عزائم بھی
بڑھ چکے ہیں، مجبوریاں بھی بڑھ چکی ہیں… اور مظالم بھی بڑھ چکے ہیں…
یہاں تک کہ جو ان کو سمجھانے کی کوشش کرے تو وہ اسے بھی قتل
کرنا ضروری سمجھتے ہیں… اور یہ جنگ اب جنگل کے قانون سے بھی زیادہ بے اصول ہو چکی
ہے… آخر ’’شہباز قلندر رحمہ اللہ ‘‘ کے مزار پر دھمال ڈالنے والوں کا اس جنگ سے
کیا تعلق تھا؟ وہ اچھے لوگ تھے یا بُرے، مگر ان کے جسموں میں اللہ تعالیٰ نے جان
رکھی تھی… اسلام نے کسی بھی جان کے ’’قتل برحق‘‘ اور ’’قتل ناحق‘‘ کے جو اٹل اصول
ارشاد فرمائے ہیں ان کی رو سے ان افراد کا قتل… ’’قتل ناحق‘‘ بنتا ہے… پھر دوسری
طرف حکومت نے بھی دیر نہیں لگائی، جیلوں اور تفتیشی مراکز میں سے ایک سو افراد کو
نکالا اور ان کا ’’قتل ناحق‘‘ کر دیا… اور یوں ملک میں ’’قتل ناحق‘‘ کا عفریت ہر
طرف چھا گیا…
اللہ تعالیٰ ہی رحم فرمائے… اہل پاکستان کے لئے یہ دعاء اور
استغفار کی گھڑی ہے۔
لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ ،لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ’’قیامت‘‘ کے دن کی سختی، ذلت اور عذاب سے ہم
سب کی حفاظت فرمائے…
﴿ذٰلِکَ الْیَوْمُ الْحَقّ﴾(النبا:۳۹)
’’وہ دن ’’برحق‘‘ ہے۔‘‘
بہت بڑا دن … صدیوں کے برابر ایک دن… بدلے اور حساب کا دن…
بہت مشکل دن … بہت بھاری دن…بہت سخت دن…
﴿اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ
شَیْئٌ عَظِیْمٌ﴾ (الحج:۱)
ایک ایسا دن جس کی سختی اور ہیبت بچوں کو بھی بوڑھا بنا دے
گی…یا اللہ! رحم
قرآن مجید نے جگہ جگہ قیامت کے دن کے ہولناک مناظر بیان
فرمائے ہیں…
مگر کامیاب لوگوں کے لئے وہ دن… بہت میٹھا ہو گا… اعزاز،
اکرام، راحت اور عزت والا دن… ہاں! جو اس دن عذاب سے بچ گیا وہی کامیاب ہے… اور جو
اس دن کامیاب ہے وہ کبھی ناکام نہیں ہو سکتا…
﴿وَکَانَ ذٰلِکَ عِنْدَ اللّٰہِ
فَوْزًا عَظِیْمًا﴾(الفتح:۵)
ایک حکایت
ایک مالدار آدمی نے اپنے بڑے سے محل کے ساتھ ایک ’’باغیچہ
‘‘ بھی بنوایا… وہ کبھی کبھار سیر و تفریح کے لئے اس باغیچے میں جاتا اور پھولوں
اور پھلوں کے درمیان چہل قدمی کرتا… اسے یہ خیال آیا کہ میرا باغیچہ چھوٹا ہے اسے
مزید بڑا ہونا چاہیے… باغیچے کے ساتھ ایک غریب کسان کا کھیت تھا… مالدار آدمی نے
اپنے نوکروں اور بدمعاشوں کو حکم دیا تو انہوں نے وہ کھیت قبضے میں لے کر باغیچے
میں شامل کر دیا… اب ’’باغیچہ ‘‘ بڑا ہو گیا… جبکہ غریب کسان روتا رہ گیا… ایک بار
اس کسان نے دیکھا کہ وہ مالدار آدمی باغیچے میں اکیلا چہل قدمی کر رہا ہے… کسان
اپنے کندھے پر ایک خالی بوری رکھ کر اس کے پاس پہنچ گیا اور منت کر کے کہنے لگا…
جناب والا! کچھ مٹی کی ضرورت ہے اجازت دیں تو یہ ایک بوری بھر لوں؟… مالدار نے
اجازت دے دی… کسان نے اپنی بوری مٹی سے بھری اور زمین پر بیٹھ گیا… اور مالدار کی
دوبارہ منت کرنے لگا کہ جناب یہ بوری اٹھا کر میرے کندھے پر رکھ دیں… مالدار آدمی
نے بوری اُٹھانے کی کوشش کی تو ہانپ گیا اور کہنے لگا مجھ سے یہ بوری نہیں اُٹھائی
جاتی… تم خود اُٹھا لو… کسان نے کہا… جناب آپ مٹی کی ایک بوری نہیں اُٹھا سکتے…
تو قیامت کے دن میرا پورا کھیت کندھے پر کیسے اُٹھا کر کھڑے ہوں گے؟ قیامت کا دن
تو صدیوں کے برابر ہو گا… یہ سن کر مالدار آدمی کو پسینہ آ گیا اور اس نے فوراً
اس کسان کا کھیت اسے واپس لوٹا دیا۔
ہاں بے شک! قیامت کے بھاری دن… وہی کامیاب ہو گا جو اس طرح
کے بوجھ سے ہلکا ہو گا…مشہور محدث اور فقیہ ، زمانے کے عظیم مجاہد اور امام حضرت
عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’مجھے ایک درہم مشتبہ مال کا لوٹا دینا چھ لاکھ درہم خیرات کرنے سے زیادہ محبوب
ہے۔‘‘
یعنی وہ مال جس میں حرام اور حلال کا شبہ ہو … اسے واپس
لوٹا دینا اتنے بڑے اجر اور فضیلت والا کام ہے… تو پھر جو مال خالص حرام ہو اسے
لوٹانا کتنا ضروری اور اہم ہو گا؟… اور کسی کی امانت اور کسی کا حق لوٹانے کا کیا
مقام ہو گا؟ اے ایمان والو! اپنے مال کی تلاشی لو، اپنی جیب کی تلاشی لو، اپنی
جائیداد کی تلاشی لو… اپنی الماریوں کی تلاشی لو…کوئی حرام مال، کسی کی کوئی
امانت، کوئی مشتبہ مال… ہمارے پاس نہیں ہونا چاہیے، ہم نے پل صراط پر سے گزرنا ہے…
ہم نے اللہ تعالیٰ کو حساب دینا ہے… مال ہمارے ایمان کا سب سے بڑا امتحان ہے… یا
اللہ! ہم سب کو امانت دار بنا… امانت دار اُٹھا… قیامت کے دن امانت دار کھڑا
فرما…یاد رکھیں!… کسی اور کی ایک سوئی بھی اپنے قبضے میں رکھنا ہمارے لئے دنیا و
آخرت میں خطرناک ہے… بہت خطرناک۔
بڑا ہی دردناک منظر
صحیح بخاری میں ایک روایت ہے… اس روایت کو انسان جتنی بار
پڑھے خوف سے رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں… ہم مسلمانوں کو بار بار یہ حدیث پڑھنی
چاہیے… اس مبارک حدیث میں قیامت کے دن کا ایک خوفناک منظر بیان کیا گیا ہے… حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم بڑے درد کے
ساتھ اپنی امت کو سمجھاتے ہیں کہ… میں قیامت کے دن تمہیں اس حالت میں نہ دیکھوں کہ
تمہاری گردن پر بکری یا گھوڑے لدے ہوئے ہوں… یا تمہاری گردن پر اونٹ بیٹھا آوازیں
نکال رہا ہو … یا تمہاری گردن پر کپڑوں کے ڈھیر پڑے ہوں… اور تم مجھے پکار پکار کر
کہو کہ… اے اللہ کے رسول! ہماری مدد فرمائیے اور میں جواب دوں کہ… میں تمہارے بارے
میں کسی چیز کا مالک نہیں… میں نے تو اللہ تعالیٰ کا حکم تم تک پہنچا دیا تھا…
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مال غنیمت میں خیانت کی… اجتماعی
اموال میں گڑ بڑ کی… لوگوں کی امانتوں میں خیانت کی… لوگوں کا حق اپنے قبضے میں
لیا…
قیامت کے دردناک دن وہ ایسی شرمناک صورت میں حاضر ہوں گے
کہ… ان کے کندھوں پر وہ چیز زندہ بیٹھی ہو گی جس میں انہوں نے خیانت کی تھی… یہ
اللہ تعالیٰ کا ظلم نہیں… اس کا انصاف ہو گا… اللہ تعالیٰ نے تو ہمیں دین پر سب
کچھ لگانے اور لٹانے کا حکم دیا… اللہ تعالیٰ نے ہم سے بار بار رزق کا وعدہ
فرمایا… اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ میں برکت کا اعلان فرمایا… اللہ تعالیٰ نے صدقہ میں
مال کی ترقی کا اثر عطاء فرمایا… اللہ تعالیٰ نے صلہ رحمی اور والدین کی مالی خدمت
کو دنیا میں مالداری کا ذریعہ بنایا…اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے بڑے اونچے وعدے
فرمائے جو اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہیں… اور اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں… مگر ایک
مسلمان ان تمام باتوں کو نظر انداز کر دے… اور اجتماعی مال اور امانتوں میں بھی
خیانت کرنے لگے تو کیا معلوم ہوا؟… یہی معلوم ہوا کہ اس شخص کو اللہ تعالیٰ کی کسی
بات پر یقین نہیں ہے… یہ اپنی عقل اور اپنی چالاکی کو اپنا ’’رازق‘‘ سمجھتا ہے اور
یہ خیانت ہی میں اپنی عزت اور ترقی دیکھتا ہے…
چنانچہ ایسا شخص …قیامت کے دن سب کے سامنے سخت ذلت سے دوچار
کیا جائے گا… اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کی مدد فرمانے سے انکار کر دیں گے…
یا اللہ! آپ کی پناہ… یا اللہ! آپ کی پناہ…
جلدی کرنی چاہیے
مال کے بارے میں بہت سے کام جلدی کرنے چاہئیں… کیونکہ تاخیر
سے وہ ’’ بیماری ‘‘ پکی ہو جاتی ہے…مثلاً
١
زکوٰۃ ادا کرنے میں ایسی جلدی ہو… کہ سال گذرتے ہی پہلے دن ساری زکوٰۃ الگ کر کے
ادا کر دی جائے…بلکہ پہلے سے ہی زکوٰۃ کا مال الگ کر دیں، جیسے ہی اگلے سال کا
پہلا دن آئے تمام زکوٰۃ ادا ہو جائے۔
٢
جائیداد ، جاگیر اور مال میں اگر کسی رشتہ دار کا حصہ ہو، خصوصاً رشتہ دار خواتین
کا… تو وہ فوراً ان کو الگ کر کے دے دینا چاہیے… جتنا عرصہ وہ حصہ کوئی اپنے قبضے
میں رکھے گا اسی قدر بے برکتی، مالی پریشانی اور گناہ کا بوجھ اس پر بڑھتا جائے گا
… اور اگر موت آ گئی تو مستقل وبال بن جائے گا۔
٣
کسی کی کوئی امانت ہو… کسی کا کوئی مال ہو… وہ فوراً اس کو ادا کر دینا چاہیے… روک
روک کر دینا… یا بغیر اجازت استعمال کرنا یہ سب خود اپنے لئے ہی نقصان دہ بن جاتا
ہے۔
٤ جب کسی صدقے یا دینی خرچے کا خیال دل میں آئے تو
اسی وقت اُٹھ کر وہ الگ کر دے یا ادا کر دے… اس میں جس قدر تاخیر ہو گی شیطان اسی
قدر محرومی میں ڈالتا جائے گا۔
٥
کسی کا قرض واپس کرنے میں بے حد جلدی کرنی چاہیے…جیسے ہی قرض واپس کرنے کی رقم
ہاتھ میں آئے تو نہ دن دیکھے نہ رات فوراً اپنی روح کو آزاد کرانے کے لئے قرضہ
ادا کر دے… کئی لوگ اس میں غلطی کرتے ہیں… اور پھر بے برکتی اور پریشانی کا شکار
ہوتے ہیں… دوسروں کا مال آپ کے مال میں خلط ہو گا تو آپ کا مال آگے ترقی نہیں
کر سکے گا… اس لئے دوسروں کا مال اور حق الگ کریں، اب آپ اپنے مال میں عجیب ترقی
اور برکت دیکھیں گے… ان شاء اللہ
لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ
محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اعلان فرمائیں گے… کہاں ہیں میرے
پڑوسی؟ کہاں ہیں میرے پڑوسی؟… فرشتے عرض کریں گے: اے ہمارے رب! آپ کا پڑوسی بننے
کی کس کو مجال ہے؟ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے:
اَیْنَ عُمَّارُ الْمَسَاجِدِ؟
کہاں ہیں مسجدیں آباد کرنے والے؟
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارک ہے … اس حدیث کے راوی حضرت انس رضی اللہ عنہ ہیں اور محدثین نے اسے ’’حدیث صحیح
‘‘ قرار دیا ہے…یہ ’’حدیث قدسی‘‘ ہے… ’’حدیثِ قدسی‘‘ وہ ہوتی ہے جس میں رسول کریم
صلی اللہ علیہ وسلم … اللہ تعالیٰ کا کوئی
فرمان … اللہ تعالیٰ کا نام لے کر سناتے ہیں کہ… اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے…
حدیث شریف کے الفاظ دوبارہ پڑھیں… مسجدیں تعمیر کرنے والے، مسجدیں آباد کرنے
والے، مسجدوں سے محبت رکھنے والے… مسجدوں کا اہتمام کرنے والے… اللہ تعالیٰ کا شکر
ادا کریں… اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنا پڑوسی قرار دیا ہے … یعنی اللہ تعالیٰ کے
’’قرب‘‘ کا اعلیٰ مقام… قریب ،بہت قریب… بے شک مسجد اللہ تعالیٰ کا گھر ہے… اللہ
تعالیٰ غیرت و جلال والا ہے… اپنے ’’ گھر‘‘ کی خدمت کے لئے اپنے قریبی بندوں کو ہی
توفیق دیتا ہے… دنیا میں ان کو مال دے کر ، ان کو توفیق دے کر ان سے اپنا گھر
بنواتا ہے… اور اس کے بدلے جنت میں ان کے لئے اپنے’’قرب‘‘ میں گھر بناتا ہے… اللہ
تعالیٰ کو نہ گھر کی ضرورت نہ مکان کی… دنیا میں وہ جو اپنا ’’گھر‘‘ بنواتا ہے… وہ
بھی اس کے بندوں کے کام آتا ہے… بندے اس گھر میں پہنچ کر اللہ تعالیٰ کا ’’قرب‘‘
پاتے ہیں، سکون پاتے ہیں… اور طرح طرح کی انمول نعمتیں پاتے ہیں اور پھر اس
’’گھر‘‘ کے بدلے اللہ تعالیٰ جنت میں ہمیں جو ’’گھر‘‘ عطاء فرمائیں گے… وہی ہمارا
’’اپنا گھر‘‘ ہو گا… خالص اپنا گھر… نہ کوئی ہمیں وہاں سے نکال سکے گا نہ کوئی
ہمیں وہاں ستا سکے گا … اس گھر پر نہ چھاپے پڑیں گے اور نہ ڈاکے… اس گھر میں نہ غم
ہو گا نہ موت… اس میں نہ ذلت ہو گی نہ قلت… وہ گھر ایسا ہے کہ جس کی شان میں قرآن
کی آیات اُتری ہیں… یا اللہ! ہم سب کو’’ اپنا گھر‘‘ عطاء فرما۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: … ’’جو اللہ تعالیٰ کے لئے
مسجد بنائے، اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنائیں گے‘‘… یہ حضور اقدس صلی
اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اپنے اُمتیوں کے
لئے ’’سچا وعدہ‘‘ ہے …رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر وعدہ سچا ہے… مسجد کے بارے میں تو یہاں تک
فرمایا کہ جو ایک چڑیا کے گھونسلے جتنی مسجد بنائے گا… اس کے لئے بھی جنت میں گھر
بنے گا… یعنی مسجد کی تعمیر میں اخلاص کے ساتھ اتنا حصہ کہ… ایک چڑیا کے گھونسلے
جتنی جگہ ہماری طرف سے بن جائے… اللہ تعالیٰ کا شکر کہ اُس نے…ہمارے لئے اتنا عظیم
انعام مقرر فرمایا … رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شکریہ کہ انہوں نے ہماری اس عظیم عمل کی طرف
رہنمائی فرمائی…
صلی اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم … صلی اللہ علیہ وسلم
ہمارا وطن کون سا ہے؟
سائنسدان جو کہتے ہیں کہتے رہیں… وہ روز اپنی بات اور اپنی
تحقیق بدلتے ہیں… قرآن مجید نے ہمیں بتایا ہے…اور یہی اٹل سچ ہے کہ… ہم انسانوں
کا اصل وطن ’’ جنت‘‘ ہے… اس لئے تو زمین پر ہم جیسی کوئی مخلوق نہیں…اور زمین کی
کوئی مخلوق ہم جیسی نہیں… تھوڑی بہت مشابہت تو اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی ایک دوسرے
کے ساتھ ہوتی ہی ہے … مگر یہ پکی بات ہے کہ ہم ’’زمین‘‘ کے رہنے والے نہیںہیں…
ہمارے والد حضرت آدم علیہ السلام اور ہماری والدہ حضرت حوا علیہا السلام ’’ جنت‘‘ کے رہنے والے تھے… جنت ہی ہمارا اصل
وطن ہے… اسی لئے ہم میں سے جو بھی سچی فطرت پر ہوتا ہے… وہ ہمیشہ ’’ جنت‘‘ کا
مشتاق رہتا ہے… ہمارے اندر ایک خفیہ جستجو اس بات کی رہتی ہے کہ… ہم اپنے اصلی
’’وطن‘‘ میں واپس جائیں… اس لئے زمین پر ہمارا دل نہیں لگتا… ہمیں مکمل اطمینان
نہیں ملتا… ہمیں ’’زمین‘‘ پر ایک ’’مسافر‘‘ کی طرح بھیجا گیا ہے … زمین ہمارے لئے
ایک امتحان گاہ ہے… جہاں ہم نے پرچہ دینا ہے… اور یہاں سے چلے جانا ہے … اب آگے
ہمارے لئے دو کام ہیں… ایک راستہ … اور ایک منزل یا مکان… زمین سے جنت تک کا راستہ
بہت دور اور بہت مشکل ہے… یہ چاند اور مریخ سے بہت آگے ہے… یہ آسمانوں سے بھی
آگے ہے … پھر جب ہم یہ راستہ عبور کر کے جنت پہنچ جائیں گے تو وہاں ہمیں… منزل
اور مکان چاہیے… جنت ہی وہ جگہ ہے جو انسان کے شایان شان ہے… جنت ہی میں انسان کی ہر خواہش، ہر تمنا پوری
ہوسکتی ہے… زمین سے جنت تک کا راستہ ہمارے لئے تب آسان ہو گا جب ہم دنیا میں اللہ
تعالیٰ کے راستے پر چلیں گے… اس راستے کو مانیں گے، اس کو اپنائیں گے… اس پر جان
ومال لگائیں گے… اور جنت میں ’’ اپنا مکان ‘‘ ہمیں تب ملے گا جب ہم دنیا میں اللہ
تعالیٰ کے گھر سے جڑ جائیں گے…بعض اعمال اور بھی ہیں جن کی برکت سے جنت کا مکان
ملتا ہے… اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں دنیا میں اپنے راستے جہاد فی سبیل
اللہ کے ساتھ جوڑا ہے… اور اپنے گھر یعنی خانہ کعبہ اور مساجد کے ساتھ منسلک فرما
دیا ہے… اللہ تعالیٰ کے راستوں میں سب سے قریب راستہ جہاد فی سبیل اللہ کا ہے… اور
اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کی محبوب ترین جگہ ’’مسجد ‘‘ ہے…
عورت کا کمال
یہاں ایک بات اپنی مسلمان ماؤں اور بہنوں کے لئے عرض کر
رہا ہوں… اللہ تعالیٰ نے ’’عورت‘‘ میں بے شمار صفات رکھی ہیں… اس کی ایک صفت ’’ضد
‘‘ ہے… ہر عورت ’’ضدی‘‘ ہوتی ہے… یعنی اپنی بات اور اپنے نظریات پر پکی… آپ جانتے
ہیں کہ ہر ’’صفت‘‘ اچھے کاموں میں بھی استعمال ہو سکتی ہے اور برے کاموں میں بھی…
مثلاً مال کے بارے میں کھلا ہاتھ… یہ ایک صفت ہے… اس صفت کو صحیح استعمال کیا جائے
تو اس کا نام ’’سخاوت‘‘ ہے… جو اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ صفت ہے… لیکن اگر کھلا ہاتھ
گناہ کے کاموں میں خرچ کرنے میں ہو تو … یہ ’’اسراف اور تبذیر‘‘ ہے جو کہ شیطانی
صفت ہے… عورت کی ’’ضد‘‘ اگر اچھے کاموں میں ہو تو وہ اسے ایمان کی بلندیوں تک
پہنچا دیتی ہے… حضرت آسیہ علیہا السلام کو دیکھ لیں کہ… ایمان پر کیسے جم گئیں؟ … اور
اگر یہ ضد برے کاموں میں ہو تو… عورت شیطان کا سب سے مضبوط ہتھیار بن جاتی ہے… ابو
لہب کی بیوی کو دیکھ لیں کہ… اس ضدی عورت نے کتنے بڑے خاندان کو جہنم کا ایندھن
بنا دیا… یعنی ’’ضد‘‘ عورت کی فطرت اور اس کے خمیر کے اندر موجود ہے… اسی لئے حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے مردوں
کو سمجھایا کہ… عورت کو زیادہ سیدھا کرنے کی کوشش نہ کرو… یہ ٹوٹ جائے گی مگر اپنی
ضد نہیں چھوڑے گی… ویسے حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی اصلاح پر خاص توجہ فرمائی… اور اسی
اصلاح ہی کے لئے زیادہ نکاح بھی فرمائے کہ… عورت کو دین پر اور اچھے کاموں پر
’’ضدی‘‘ بنا دیا جائے… چنانچہ یہ محنت کامیاب رہی اور اسلام اور دین پر مضبوطی سے
قائم ضدی عورتوں نے…اسلام کی وہ خدمت کی ہے جو مرد بھی نہیں کر سکے… بات کچھ دور
نکل رہی ہے… واپس اپنے موضوع پر آتے ہیں… موضوع یہ ہے کہ… دنیا میں ’’مسلمان
عورت‘‘ کا گھر کونسا ہوتا ہے؟…آپ غور کریں تو حیران ہوں گے کہ… دنیا میں ’’مسلمان
عورت‘‘ کا کوئی گھر نہیں ہوتا… وہ جس گھر میں پیدا ہوتی ہیں … وہ ماں باپ کا گھر
کہلاتا ہے… اور ماں باپ اس تاک میں رہتے ہیں کہ… کب اس کے لئے اچھا رشتہ آئے تو
اسے اپنے گھر سے روانہ کریں … اب یہ دوسرے گھر چلی گئی… وہ گھر شوہر کا گھر کہلاتا
ہے … اس گھر میں بوڑھی ہوئی تو… اب یہی گھر اولاد کا گھر بن گیا…
کئی عورتوں کو وراثت وغیرہ میں ’’مکان ‘‘ مل بھی جاتا ہے…
مگر آپ غور کریں تو وہ گھر بھی اس کی طرف منسوب نہیں ہوتا… اور خود اسے بھی یہی
فکر ہوتی ہے کہ اپنا گھر اپنی اولاد کو دے دے… وجہ کیا ہے؟… وجہ یہ ہے کہ عورت ضدی
ہے… اسے جنت سے نکالا گیا …یہ زمین پر آ گئی… مگر ا س کے اندر یہ ضد چھپی ہوئی ہے
کہ میں نے واپس اپنا اصلی گھر ہی لینا ہے… یعنی جنت والا گھر… اسی لئے اس نے دنیا
کے کسی گھر کو ’’اپنا گھر‘‘ قرار نہیں دیا… ضدی جو ہوئی… اور اللہ تعالیٰ کی پیاری
بھی… اسے ندامت ہے کہ مجھے اپنی غلطی کی وجہ سے جنت سے نکلنا پڑا…اب میں اپنے رب
کو منا کر واپس جنت ہی میں گھر حاصل کروں گی… اور جب تک جنت والا گھر نہیں مل جائے
گا… زمین پر کسی گھر کو اپنا گھر نہیں کہوں گی… آپ حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا کے ان الفاظ پر غور کریں جو قرآن مجید کی آیت
بن چکے ہیں…
﴿رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَکَ
بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ﴾(التحریم:۱۱)
’’یا اللہ! میرے لئے اپنے پاس جنت
میں گھر بنا دے۔‘‘
فرعون کے بڑے بڑے محلات میں اسے چین نہ آیا… ان محلات میں
نہریں بہتی تھیں اور دنیا کی ہر راحت وہاں موجود تھی…مگر ایمان والی عورت اپنی ضد
پر کھڑی ہے کہ… جنت کا گھر چاہیے… فرعون کا گھر نہیں چاہیے… آپ ازواج مطہرات کے
حجروں پر غور کریں… کائنات کی یہ ملکائیں اور شہزادیاں کس طرح سے کچے کمروں میں
خوش حال رہیں… اور بالآخر ان کے یہ کمرے بھی ان کے جنت کے گھروں کا حصہ بن گئے…
کیونکہ وہ سب مسجد نبوی میں شامل ہو گئے۔
میں نے خود ایسی کئی مساجد دنیا بھر میں دیکھی ہیں جو…
مسلمان عورتوں نے تعمیر کرائیں… اور اب بھی کویت، امارات وغیرہ میں…مساجد کی تعمیر
کے اکثر اداروں کے پیچھے مسلمان خواتین کا مال ہے … ابھی کچھ عرصہ پہلے ’’مصر‘‘
میں ایک مسجد کی توسیع کا معاملہ تھا… سامنے عیسائیوں کا گرجا تھا جو زیادہ قیمت
دے کر آس پاس کے پلاٹ خریدتا جا رہا تھا تاکہ مسجد دب جائے… گرجے والوں کے اس طرز
عمل کی وجہ سے وہاں پلاٹوں کی قیمت بھی آسمانوں کو چھونے لگی… تب چند مسلمانوں نے
مسجد سے متصل پلاٹ مسجد کے لئے خریدنے کا ارادہ کیا تاکہ… گرجے کی یلغار کو روکا
جا سکے اور مسجد کی توسیع کی جا سکے… بس اعلان ہونے کی دیر تھی کہ مسلمان ٹوٹ پڑے
اور اس میں اکثر ’’چندہ ‘‘ مسلمان عورتوں کا تھا … ایک نئی دلہن نے تو سارا زیور
اتار کر چندے کی جھولی میں ڈال دیا… اور جب زیورات سے خالی ہوئی تو خوشی سے روتی
ہوئی سجدے میں گر گئی… مسجد کے چندے میں عورتوں اور مردوں کا تناسب نوے اور دس کا
رہتا ہے… نوے فی صد مال عورتیں دیتی ہیں … اور دس فی صد مرد… اس مسجد کا تذکرہ آ
گیا تو اس میں دو واقعات اور بھی… ایمان میں اضافے کے لئے عرض کر دیتا ہوں…کہتے
ہیں کہ… مسجد کے معززین مسجد کے باہر کھڑے ہو کر چندے کا اعلان کر رہے تھے تو ایک
معصوم بچہ اپنے لئے جو دہی کا ڈبہ خرید کر گھر جا رہا تھا جوش سے آگے بڑھا… اس نے
وہ ’’ڈبہ‘‘ حوالے کر دیا کہ اسے مسجد کی تعمیر میں لگا دیں…جو لوگ وہاں جمع تھے وہ
بہت متاثر ہوئے … مسجد والوں نے اعلان کر دیا کہ …کون یہ دہی کا ڈبہ خریدتا ہے…
لوگوں میں سے ایک نے کافی اچھی رقم دے کر وہ خرید لیا… اور وہ رقم مسجد کے چندے
میں ڈال دی گئی…پھر وہ آدمی جس نے ڈبہ خریدا تھا بچے کو الگ لے گیا کہ بیٹا یہ
دہی واپس لے جاؤ اور اسے کھا لو… بچے نے کہا…ہرگز نہیں …وہ تو میں نے اپنے پیارے
رب کو دے دی ہے… اب واپس نہیں لے سکتا… اسی مسجد میں دوسرا واقعہ یہ پیش آیا کہ
ایک معذور مسلمان دو بیساکھیوںپر چلتا ہوا مسجد میں نماز ادا کرنے آیا…اس نے
’’تعمیر مسجد‘‘ کا اعلان سنا تو نماز کے بعد اپنی دونوں بیساکھیاں چندے والے کپڑے
پر ڈال دیں… اور خود زمین پر گھسٹ گھسٹ کر گھر جانے لگا… لوگوں نے یہ منظر دیکھا
تو زار و قطار رونے لگے… دراصل مسجد کے بارے میں سچے مسلمانوں کا یہ ذوق… حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی محنت کا
نتیجہ ہے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد
نبوی کی تعمیر شروع فرمائی تو خود مزدوری میں لگ گئے … اپنی چادر اُتار کر زمین پر
ڈال دی اور اینٹیں اُٹھانے لگے… حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے یہ منظر دیکھا تو اپنی چادریں اُتار کر
پھینکنے لگے اور تیزی سے کام کی طرف دوڑے… اور انہوں نے یہ شعر پڑھا…
لئن قعدنا والنبی یعمل
ذاک لعمر اللّٰہ عمل مضلل
’’ اگر ہم بیٹھے رہیں اور رسول
کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود کام کر رہے
ہوں تو اللہ کی قسم یہ ہمارے لئے بڑی گمراہی اور خسارے کی بات ہے۔‘‘
وہ لوگ جو مجاہدین کے مساجد بنانے پر اعتراض کرتے ہیں… ان
کی خدمت میں بھی یہی مذکورہ بالا شعر پیش کیا جاتا ہے… حضرت آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کرام رضوان
اللہ علیہم اجمعین نے جو کام کیا… مجاہدین
اگر سچے ہیں تو وہ بھی وہی کام کریں گے ۔
بات یہ چل رہی تھی کہ… ایمان والی عورت اس ضد میں پکی ہے
کہ… اس نے واپس اپنے وطن یعنی جنت میں ہی… اپنا گھر بنانا ہے… چنانچہ اس کی خاطر
وہ فرعون کے محلات کو ٹھکرا دیتی ہے… اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتی…روایات
میں آتا ہے کہ… جب اہل جنت مرد اپنے محلات کی طرف جائیں گے تو ان کی ایمان والی
بیویاں پہلے ہی ان محلات کے دروازوں پر موجود ہوں گی… اصلی مالکن…اپنے اصلی وطن
میں اپنے اصلی گھر کے دروازے پر اپنے خاوند کا استقبال کرے گی… اے مسلمان ماں!… اے
مسلمان بہن!… تجھے تیری یہ مبارک ضد… مبارک ہو، ہزار مبارک…
جماعت میں ہر سال ، دو سال کے بعد…تعمیر مساجد کی مہم چلتی
ہے… اب تک الحمد للہ درجنوں مساجد تعمیر اور آباد ہو چکی ہیں… اب اس سال ایک ماہ
کے لئے یہ مبارک مہم بدھ کے دن سے شروع ہے … اور اس مہم کا نام رکھا گیا ہے… اپنا
گھر مہم…
اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو … اپنے ’’قرب‘‘ میں ہمارا
’’ اپنا گھر‘‘ عطاء فرمائے… آئیے ہم سب اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں… اور مکمل
اخلاص کے ساتھ، خالص اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے اس مہم میں اپنا حصہ ڈالیں…
لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ
محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لئے ’’درود و سلام ‘‘ میں بڑی
خیر، برکت اور رحمت رکھی ہے…
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَسَلِّمْ
دل چاہتا ہے کہ کسی دن بھی… درود شریف کے عمل کا ناغہ نہ
ہو… درود شریف ہمیں اللہ تعالیٰ سے جوڑتا ہے… درود شریف ہمیں حضرت محمد صلی اللہ
علیہ وسلم سے جوڑتا ہے…درود شریف ہمیں مکہ
مکرمہ اور مدینہ منورہ دونوں سے جوڑتا ہے… درود شریف ہمیں ’’رحمت‘‘ سے جوڑتا ہے…
درود شریف ہمیں ’’شفاعت‘‘ سے جوڑتا ہے… درود شریف ہمیں ’’ مغفرت‘‘ سے جوڑتا ہے…
درود شریف ہماری ملاقات فرشتوں سے کراتا ہے… درود شریف ہمیں اونچی روحانی سیر
کراتا ہے…
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَسَلِّمْ
درود شریف میں اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی ہے… حضرت آقا مدنی
صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ بھی ہے… درود
شریف میں دعاء بھی ہے… درود شریف میں عقیدہ بھی ہے… درود شریف میں عمل بھی ہے…
درود شریف میں محبت بھی ہے… درود شریف میں ’’وفاداری‘‘ بھی ہے… درود شریف میں عشق
بھی ہے… درود شریف میں طہارت اور پاکی بھی ہے…اور درود شریف میں اللہ تعالیٰ کا
قرب بھی ہے…
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ عَدَدَ مَا
صَلّٰی عَلَیْہِ الْمُصَلُّوْنَ
درود شریف میں اونچی پرواز ہے… درود شریف میں دعاؤں کی
قبولیت ہے، درود شریف میں حاجات کی تکمیل ہے… درود شریف میں نفس کی اصلاح ہے… درود
شریف میں دل کا تزکیہ ہے… درود شریف میں آنکھوں کی روشنی ہے…درود شریف میں آخرت
کی آسانی ہے… درود شریف میں دنیا کی برکت ہے…
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ فِیْ اَوَّلِ
کَلَامِنَا وَ فِیْ اَوْسَطِ کَلَامِنَا وَفِیْ اٰخِرِ کَلَامِنَا
کئی افراد جنہوں نے ہمارے جمعہ کے ’’مقابلۂ حسن‘‘ کا تذکرہ
بعد میں سنا ہے… وہ پوچھتے ہیں ’’مقابلۂ حسن‘‘ کیا ہے…جواب یہ کہ… جمعہ کی رات
اور جمعہ کے دن درودشریف کی کثرت کو… ہم ’’مقابلۂ حسن‘‘ کہتے ہیں… اللہ تعالیٰ
’’الجمیل‘‘ ہے… حسن والا، حسن کا خالق، حسن کا مالک… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے
زیادہ ’’حسین ‘‘ ہیں… ظاہری حسن اور باطنی حسن کا شاہکار مرقع… درود شریف میں ہم
ان دونوں کا تذکرہ کرتے ہیں… اللہ تعالیٰ سے حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خاص رحمت مانگتے ہیں… ’’صلوٰۃ‘‘ کہتے ہیں
حسین ترین رحمت کو… درود شریف کی برکت سے اللہ تعالیٰ درود شریف پڑھنے والوں پر
صلوٰۃ، رحمت اور ان جیسی اور کئی حسین نعمتیں برساتے ہیں… درود شریف کی برکت سے
ہمارا نامۂ اعمال حسین ہوتا ہے… ہمارا دل، ہمارا چہرہ، ہماری زبان، ہماری سانس
اور ہماری قبر حسین ہوتی ہے…درود شریف کی برکت سے ہمارا ایمان حسین ہوتا ہے، ہمارا
عمل حسین ہوتا ہے… ہمارا عقیدہ حسین ہوتا ہے… درود شریف اوّل تا آخر حسن ہی حسن
ہے… اصل حسن، حقیقی حسن، کبھی زائل نہ ہونے والاحسن… اسی لئے دل سے آواز آئی ہے
کہ اس عمل کو ’’مقابلۂ حسن‘‘ کہا جائے تاکہ ’’مقابلۂ حسن‘‘ کا لفظ ان بدبودار
مناظر سے نجات پائے… جو مناظر شیطان سے بھی زیادہ بے حیا اور بدصورت ہیں… جمعہ کی
رات اور جمعہ کے دن حضرت آقا مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خود کثرت درود
شریف کا حکم فرمایا ہے… حسن والوں کی طرف سے آیا ہوا حکم کتنا حسین ہو گا… کتنا
خوبصورت اور کتنا حسین؟
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ بِقَدَرِ
حُسْنِہٖ وَجَمَالِہٖ وَکَمَالِہٖ
جمعرات اور جمعہ کے دیگر بھی کئی اعمال ہیں… مثلاً جمعہ کی
رات زیادہ دعاء کا اہتمام… اس رات بڑی دعائیں قبول ہوتی ہیں… جمعہ کی فجر نماز خاص
طور سے جماعت کے ساتھ ادا کرنا… اس کی حدیث شریف میں خاص فضیلت آئی ہے… جمعہ کے
دن فجر نماز سے پہلے تین بار یہ استغفار پڑھنا۔
اَسْتَغْفِرُ اللہَ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ
وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ
اس کی فضیلت والی روایت… ’’الیٰ مغفرۃ‘‘ کتاب میں ملاحظہ
فرما لیں…جمعہ کے دن غسل کا اہتمام کرنا… مسواک کرنا، خوشبو لگانا… خواتین کا اس
دن ظہر کی نماز جلد ادا کرنا… مردوں کا جمعہ نماز کے لئے بہت جلد مسجد جانا… جمعہ
کے دن صدقہ دینا… جمعہ میں ایک گھڑی خاص قبولیت کی ہے اس کو حاصل کرنا…جمعہ نماز
کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل کی تلاش میں نکلنا… جمعہ نماز کے لئے پاک صاف لباس
پہننا… خوشبو لگانا… جمعہ کے دن اپنی مساجد میں خوشبو مہکانا… جمعہ کے دن اپنے
مرحوم والدین کی قبور پر جانا… جمعہ کے دن کسی جنازے اور کسی نکاح میں شرکت کرنا…
جمعہ کے دن محاذ جنگ پر خطبے کے وقت دشمنوں پر حملہ کرنا … جمعہ کے دن کسی مریض کی
عیادت کرنا… جمعہ کے دن عصر سے مغرب تک کے وقت میں ذکر اللہ ، درود شریف ، تلاوت
اور دعاء میں مشغول رہنا… جمعہ کے دن سورۃ الکہف کی تلاوت کرنا… جمعہ کے دن سورۂ
یٓس اور سورۃ الصافات پڑھ کر اپنی حاجات کے لئے دعاء کرنا… یہ سارے اعمال بھی
’’مقابلۂ حسن‘‘ کا حصہ ہیں… مگر خاص عمل جمعہ کی رات اور جمعہ کے دن ’’درود و
سلام‘‘ کی کثرت ہے…
صَلَّی اللہُ عَلَی النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَآلِہٖ
وَسَلَّمَ عَدَدَ خَلْقِہٖ وَ رِضَا نَفْسِہٖ وَ زِنَۃَ عَرْشِہٖ وَ مِدَادَ
کَلِمَاتِہٖ
آج کل ہماری ’’مساجد مہم‘‘ چل رہی ہے…نام ہے ’’ اپنا گھر‘‘
مہم… الحمد للہ ’’درود و سلام‘‘ کی برکت سے اب تک اس مہم پر اللہ تعالیٰ کا بہت
فضل و کرم نظر آ رہا ہے… پانچ دن میں اللہ تعالیٰ نے پانچ مساجد کا انتظام فرما
دیا ہے… ابھی ’’پانچ مساجد‘‘ باقی ہیں… سب دیوانے صبح سویرے دو رکعت نماز ادا کر
کے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگا کریں اور پھر ’’درود و سلام‘‘ پڑھتے ہوئے… دل کے شوق
اور جذبے کے ساتھ اس مبارک مہم پر نکل کھڑے ہوئیں… ہمارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’مساجد‘‘ سے ’’عشق‘‘ تھا… ہم بھی اس ’’عشق‘‘
کو اپنے دل میں بھریں… اس سے ہمارے ’’جہاد‘‘ کو بھی قوت ملے گی… اور ہمارے جسم و
جان کو بھی
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ کَمَا
یَنْبَغِیْ لَنَا اَنْ نُّصَلِّیَ عَلَیْہِ وَکَمَا اَمَرْتَنَا اَنْ نُّصَلِّیَ
عَلَیْہِ۔
ہندوستان میں ’’مودی‘‘ نے ایک اور ریاست میں اپنی حکومت
قائم کر لی ہے… اس ریاست کا نام ہے ’’یوپی‘‘یعنی اترپردیش… اس ریاست کے دارالحکومت
کا نام ’’ لکھنؤ‘‘ ہے… لکھنؤ سے کچھ فاصلے پر’’فیض آباد‘‘… اورفیض آباد کے
مضافات میں ’’ایودھیا‘‘ … اور ’’ایودھیا‘‘ میں بابری مسجد شریف… مودی کی پارٹی ’’
بی جے پی‘‘ کافی عرصہ سے… اس ریاست میں ناکام تھی… 1992ء میں اس پارٹی کی
’’یوپی‘‘ پر حکومت تھی اور وزیر اعلیٰ مردود کا نام تھا ’’ کلیان سنگھ‘‘ …ایڈوانی
اور کلیان سنگھ نے مل کر تحریک چلائی اور ’’بابری مسجد‘‘ کو شہید کر دیا…مسجد کے
ملبے پر ایک عارضی مندر قائم کر دیا گیا… اس واقعہ پر پورے ہندوستان میں فسادات
پھوٹ پڑے… اور عالم اسلام میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی… بی جے پی نے اعلان کیا کہ
’’بابری مسجد‘‘ کی جگہ رام مندر بنایا جائے گا… اور ہندوستان کی مزید تین ہزار
مساجد کو گرایا جائے گا… ’’رام مندر‘‘ کے لئے پوری دنیا میں چندہ کیا گیا… مگر امت
مسلمہ جاگ اٹھی… ’’آہ! بابری مسجد‘‘ کی پکار نے ہندوستان کی زمین کو لرزا دیا…
اور فدائیوں کی یلغار نے دو سال کے منصوبے کو پچیس سال کی کھائی میں پھینک دیا…
ملعون ایڈوانی بوڑھا اور ریٹائرڈ ہو گیا…رام مندر کا متولی اور سرگرم داعی ’’پرم
راج ہنس‘‘ شمشان گھاٹ کی چتا پر راکھ ہو گیا… خارش زدہ دہشت گرد بال ٹھاکرے شراب
پی پی کر مر گیا مگر رام مندر ابھی تک نہ بن سکا… اب مشرک اپنے نئے ’’ابو جہل‘‘
یعنی ’’مودی‘‘ کو میدان میں لائے ہیں… اور ’’مودی‘‘ نے ’’یوپی‘‘ کی حکومت بھی حاصل
کر لی ہے… اب ممکن ہے کہ ’’رام مندر‘‘ کی تعمیر کا معاملہ دوبارہ اٹھے… تب ہم کیا
کریں گے… ہم یہ کریں گے کہ ان شاء اللہ ایک درخت ڈھونڈیں گے اور درخت اللہ تعالیٰ
کی زمین پر بہت ہیں… پھر ہم اس درخت کے نیچے بیٹھ جائیں گے اور پھر کلمہ طیبہ اور
درود شریف پڑھ کر… ’’بیعت رضوان‘‘ کی سنت زندہ کریں گے… ہاں! ان شاء اللہ، ہاں! ان
شاء اللہ ، ہاں! ان شاء اللہ… موت پر بیعت کریں گے… اور موت ہمیں بُری نہیں
لگتی…اور بیعت کرنے والے سب فدائی ہوں گے…اور فدائی اس امت میں الحمد للہ بہت ہیں…
اور تب ’’غزوۂ ہند‘‘ کا ایک نیا دور شروع ہو جائے گا، ان شاء اللہ… کوئی یہ بات
نہ بھولے کہ اللہ کے دشمن جب ’’دشمنی‘‘ پر اترتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنے
’’دوستوں‘‘ کو کھڑا فرماتا ہے… اور ان کی مدد فرماتا ہے… جب دجال آئے گا تو اللہ
تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت امام مہدی رضی اللہ عنہ کو اُٹھائیں
گے… مودی اور ٹرمپ آ گئے تو کیا فکر؟… اُمت مسلمہ کی گود سے بھی اب صلاح الدین
ایوبی اور محمود غزنوی آنے کو ہیں…یہ حضرت آقامدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت ہے… نہ مٹنے والی، نہ دَبنے والی،نہ
جھکنے والی… کیونکہ حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم خود… مجاہد تھے، نبی السیف اور نبی الملاحم…
آئیے؟ ان پر درود و سلام بھیجیں… صبح، شام ، رات ، دن … کبھی ناغہ نہ ہو… کبھی
ناغہ نہ ہو
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ…صَلَّی
اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ…صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّم… صَلَّی اللّٰہُ
عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ
لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ ،لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور معافی کا سؤال ہے…
اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ
الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَ اَتُوْبُ اِلَیْہِ
ہر حمد، ہر تعریف اور ہر پاکی صرف اللہ تعالیٰ کے لئے…
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ
الْعَظِیْمِ
جب ایمان والوں کو کوئی نعمت ملے تو ان کو چاہئے کہ… اللہ
تعالیٰ کی تسبیح اس کی حمد کے ساتھ پکاریں اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کریں… قرآن
مجید کی سورۃ ’’النصر‘‘ میں حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کو… اور پھر پوری اُمت کو یہی سبق پڑھایا گیا
ہے…
فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ اِنَّہٗ کَانَ
تَوَّابًا
الحمد للہ ’’ اپنا گھر‘‘ مہم پر اللہ تعالیٰ نے خاص فضل
فرمایا… وہ مہم جو تقریباً ایک ماہ چلنی تھی دس دن میں سمٹ گئی اور کل چودہ دنوں
میں… مکمل ہو گئی … ابتدائی ہدف جو دس مساجد کی تعمیر کا تھا… وہ الحمد للہ دس دن
میں پورا ہوا… اب ان شاء اللہ اسی مہم سے مزید بھی دو مساجد بن جائیں گی ان شاء
اللہ… ہم سب پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس فضل اور احسان پر تسبیح ، حمد اور
استغفار کا اہتمام کریں…
سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَ بِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ
رَبِّ اغْفِرْلَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ تُبْ عَلَیْنَا اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ
الرَّحِیْمُ
مہم میں چندہ دینے والوں، محنت کرنے والوں، دعائیں اٹھانے
والوں، فکر فرمانے والوں… اور خاموش تعاون کرنے والوں کا دل کی گہرائی سے شکریہ…
اللہ تعالیٰ آپ سب کو اپنی مغفرت، اپنا فضل… اور بہترین جزاء عطاء فرمائے اور
مجھے اور آپ سب کو جہنم سے بچا کر… براہ راست اپنا حقیقی گھر عطاء فرمائے…
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ
الْعَظِیْمِ وَ بِحَمْدِہٖ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ لِیْ وَ لَکُمْ
گذشتہ ہفتے کے کالم میں درود شریف کی یاد دہانی تھی… وہ
الحمد للہ بہت مفید رہی … اور اس کی برکات مہم پر بھی واضح نظر آئیں… اور کئی طرف
سے ’’کثرت درودوسلام‘‘ کی جو کارگذاری پہنچی ہے وہ ماشاء اللہ قابل شکر ہے… ہر طرف
سے کروڑوں درود و سلام کی خبریں ہیں…
اَلْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ بِنِعْمَتِہٖ تَتِمُّ
الصَّالِحَاتُ
ایک واقعہ کسی جگہ پڑھا تھا… اختصار اس کا یہ ہے کہ ایک
یہودی کسی مسلمان کا پڑوسی تھا… ہمارے ہاں جب اسلامی حکومتیں ہوتی تھیں تو… جو غیر
مسلم ذمی بن کر ہمارے ساتھ رہتے تھے… اُن کے حقوق کا بہت خیال رکھا جاتا تھا…
ہماری حدیث شریف اور فقہ کی کتابوں میں… ان ’’ذمیوں‘‘ کے مسائل اور حقوق پر بہت
مفصل ہدایات موجود ہیں… چنانچہ اس یہودی کے ساتھ… اس کا مسلمان پڑوسی بہت اچھا
سلوک کرتا تھا…
آگے کا قصہ پڑھنے سے پہلے درود شریف سے اپنے دل اور زبان
کو مہکا لیتے ہیں…
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَ
رَسُوْلِکَ وَ صَلِّ عَلَی الْمُوْمِنِیْنَ وَ الْمُوْمِنَاتِ وَ الْمُسْلِمِیْنَ
وَ الْمُسْلِمَاتِ…
اس مسلمان کی عادت تھی کہ… وہ ہر تھوڑی دیر بعد یہ جملہ
کہتاتھا:
’’ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف بھیجنے سے ہر دعاء قبول ہوتی ہے
اور ہر حاجت اور مراد پوری ہوتی ہے‘‘… جو کوئی بھی اس مسلمان سے ملتا… وہ مسلمان
اسے اپنا یہ جملہ ضرور سناتا… اور جو بھی اس کے ساتھ بیٹھتا اسے بھی ایک مجلس میں
کئی بار یہ جملہ مکمل یقین سے سناتا تھا کہ…
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف بھیجنے سے ہر دعاء قبول ہوتی ہے
اور ہر حاجت اور مراد پوری ہوتی ہے…
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ کُلَّمَا
ذَکَرَہُ الذَّاکِرُوْنَ وَکُلَّمَا غَفَلَ عَنْ ذِکْرِہِ الْغَافِلُوْنَ۔
اس مسلمان کا یہ جملہ اس کے دل کا یقین تھا… اور وہ خود اس
جملے کے فوائد و ثمرات دن رات اپنی زندگی میں دیکھتا تھا… اور واقعی اس جملے میں
کوئی ’’مبالغہ ‘‘ یا ’’مغالطہ‘‘ بھی نہیں ہے… خود حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک مقرب صحابی کو یہ وظیفہ ارشاد
فرمایا کہ… اگر وہ اپنے اوراد کاتمام وقت درود شریف میں گذاریں گے تو… اللہ تعالیٰ
ان کی دنیا و آخرت کی تمام حاجتیں پوری فرمائیں گے… ماضی میں کئی ایسے گناہگار
مسلمان بھی گذرے ہیں جن سے گناہ نہیں چھوٹتے تھے… مگر انہوں نے ہمت کی… اور اپنی شفاعت کے لئے ’’درود شریف‘‘
کا عمل کبھی نہ چھوڑا چنانچہ انجام اور خاتمے کے وقت… اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ
مغفرت و رحمت کا معاملہ فرمایا…
ہاں بے شک!… درود شریف، بہت قیمتی نعمت، بہت مقبول وظیفہ
اور بہت اعلیٰ عبادت ہے… اور یہ عبادت اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے… اور اللہ تعالیٰ
کے حکم سے ہے… اور یہ اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے…
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ عَدَدَ مَنْ
صَلّٰی مِنْ خَلْقِکَ۔
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ کَمَا
یَنْبَغِیْ لَنَا اَنْ نُّصَلِّیَ عَلَیْہِ۔
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ کَمَا
اَمَرْتَنَا اَنْ نُّصَلِّیَ عَلَیْہِ۔
اس مسلمان کے اس جملے سے… یہودی کو بہت تکلیف ہوتی تھی…
’’یہودی ‘‘حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت سخت حسد اور عداوت رکھتے ہیں… اور وہ
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی شان
مبارک سننے کی ہمت بھی نہیں رکھتے… ہمارے زمانے میں… حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم
کی شان مبارک میں… بے ادبی کی جتنی بھی
ناپاک تحریکیں چل رہی ہیں… اُن کے پیچھے یہودیوں کا ہاتھ، یہودیوں کا مال ،
یہودیوں کی ترغیب… اور یہودیوں کا میڈیا ہے… ’’ یہودی‘‘ ابھی تک ’’ بنی قریظہ‘‘ کے
جہاد کو نہیں بھولے… اُن کو ’’ بنی نضیر‘‘ اور ’’بنی قینقاع‘‘ کے معرکے اب تک یاد
ہیں… اُن کو’’ خیبر‘‘ کا جہاد ابھی تک کانٹے کی طرح چبھتا ہے… ’’یہود‘‘ دنیا کی
بدترین ، غلیظ ترین او رسازشی ترین ’’قوم‘‘ ہے… اور اسلام دشمنی اس قوم کی گھٹی
میں پڑی ہے… اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ مسلمانوں کو… یہودیوں کی طرف سے کس
صورتحال کا سامنا ہو گا… چنانچہ قرآن مجید کی سب سے بڑی سورت … اور سب سے اونچی
سورت… یعنی ’’سورۂ بقرہ‘‘… یہودیوں سے مقابلے کا طریقہ… اس اُمت کو سکھاتی ہے…
اور یہودیوں کے تمام عزائم ، امراض اور سازشوں سے مسلمانوں کو آگاہ کرتی ہے… آج
کے زمانے میں… جو افراد… رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مبارک میں… گستاخی کے مرتکب ہیں…
مسلمانوں کو ان کا حشر… کعب بن اشرف یہودی اور ابو رافع یہودی جیسا کرنا ہو گا…تب
ان شاء اللہ یہ مکروہ سلسلہ رکے گا یا کمزور پڑے گا… اگر رسول اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کی شان مبارک میں گستاخی کرنے والے
زندہ پھرتے ہیں تو پھر اس اُمت کے زندہ رہنے کا کوئی مقصد باقی نہیں رہ جاتا…
ہماری جان، ہماری اولاد حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس مبارک پر قربان…
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ صَاحِبِ
الْفَرْقِ وَالْفُرْقَانِ وَ جَامِعِ الْوَرْقِ مِنْ سَمَائِ الْقُرْآنِ وَعَلٰی
اٰلِہٖ وَسَلِّمْ۔
اس مسلمان کے جملے سے، اس کے پڑوسی’’ یہودی‘‘ کو تکلیف بہت
ہوتی تھی… مگر وہ کیا کر سکتا تھا… اسے اپنے کاموں اور ضروریات کے لئے بار بار اس
مسلمان سے ملنا ہوتا… اور ان ملاقاتوں کے دوران اسے بار بار یہی جملہ سننے کو ملتا
کہ:
’’حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف بھیجنے سے ہر دعاء قبول ہوتی ہے
اور ہر حاجت اور مراد پوری ہوتی ہے۔‘‘
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ صَلٰوۃً
تُنْجِیْنَا بِہَامِنْ جَمِیْعِ الْاَھْوَالِ وَالآفَاتِ وَتَقْضِیْ لَنَا بِھَا
جَمِیْعَ الْحَاجَاتِ۔
بالآخر اس یہودی نے اس مسلمان کو ’’جھوٹا‘‘ کرنے کی ٹھان
لی… اس نے ایک سازش تیار کی تاکہ… اس مسلمان کو ذلیل و رسوا کیا جائے… اور ’’درود
شریف‘‘ کی تاثیر پر اس کے ’’ یقین ‘‘ کو کمزور کیا جائے… اور اس سے یہ جملہ کہنے
کی عادت چھڑوائی جائے… یہودی نے ایک زرگر یعنی ’’سنار‘‘ سے سونے کی ایک انگوٹھی
بنوائی… اور اسے تاکید کی کہ ایسی انگوٹھی بنائے کہ اس جیسی انگوٹھی پہلے کسی کے
لئے نہ بنائی ہو… ’’زرگر‘‘ نے انگوٹھی بنا دی… وہ ’’ یہودی‘‘ انگوٹھی لے کر مسلمان
کے پاس آیا… حال احوال کے بعد مسلمان نے اپنا وہی جملہ ، اپنی وہی دعوت دہرائی …
کہ…
’’حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف بھیجنے سے ہر دعاء قبول ہوتی ہے ہر
حاجت اور مراد پوری ہوتی ہے‘‘
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَ اٰلِہٖ
صَلٰوۃً اَنْتَ لَھَا اَھْلٌ وَ ھُوَ لَھَا اَھْلٌ
آپ غور فرمائیں … اس مسلمان کا یہ جملہ بظاہر تو صرف درود
شریف کی دعوت نظر آتا ہے… مگر حقیقت میں یہ اسلام و ایمان کی دعوت بھی ہے… کیونکہ
درود شریف تو وہی بھیجے گا جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا رسول مانے گا…
یہودی نے دل میں کہا کہ… اب بہت ہو گئی… بہت جلد یہ ’’جملہ
‘‘ تم بھول جاؤ گے…
کچھ دیر بات چیت کے بعد ’’ یہودی‘‘ نے کہا… میں سفر پر جا
رہا ہوں… میری ایک قیمتی انگوٹھی ہے… وہ آپ کے پاس امانت رکھ کر جانا چاہتا ہوں…
واپسی پر آپ سے لے لوں گا… مسلمان نے کہا… کوئی مسئلہ نہیں آپ بے فکر ہو کر
انگوٹھی میرے پاس چھوڑ جائیں… حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف بھیجنے سے ہر دعاء قبول ہوتی ہے
اور ہر حاجت و مراد پوری ہوتی ہے…
صَلَّی اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ… صَلَّی
اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ۔
یہودی نے وہ انگوٹھی مسلمان کے حوالے کی… اور اندازہ لگا
لیا کہ مسلمان نے وہ انگوٹھی کہاں رکھی ہے… رات کو وہ چھپ کر اس مسلمان کے گھر
کودا… اور بالآخر انگوٹھی تلاش کر لی اور اپنے ساتھ لے گیا… اگلے دن وہ سمندر پر
گیا اور ایک کشتی پر بیٹھ کر سمندر کی گہری جگہ پہنچا اور وہاں وہ انگوٹھی پھینک
دی… اور پھر اپنے سفر پر روانہ ہو گیا… اس کا خیال تھا کہ جب واپس آؤں گا… اور
اس مسلمان سے اپنی انگوٹھی مانگوں گا تو وہ نہیں دے سکے گا… تب میں اس پر چوری اور
خیانت کا الزام لگا کر… خوب چیخوں گا اور ہر جگہ اسے بدنام کروں گا… وہ مسلمان جب
اپنی اتنی رسوائی دیکھے گا تو… اسے خیال ہو گا کہ درود شریف سے کام نہیں بنا اور
یوں وہ اپنا جملہ اور اپنی دعوت چھوڑ دے گا … مگر اس نادان کو کیا پتا تھا کہ…
درود شریف کتنی بڑی نعمت ہے…
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَ اٰلِہٖ
وَعِتْرَتِہٖ بِعَدَدِ کُلِّ مَعْلُوْمٍ لَّکَ
یہودی واپس آ گیا… سیدھا اس مسلمان کے پاس گیا اور جاتے ہی
اپنی انگوٹھی طلب کی… مسلمان نے کہا: ’’حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف بھیجنے سے ہر دعاء قبول ہوتی ہے
اور ہر حاجت اور مرادپوری ہوتی ہے‘‘… آپ اطمینان سے بیٹھیں، آج درود شریف کی
برکت سے میں صبح دعاء کر کے شکار کے لئے نکلا تھا تو مجھے ایک بڑی مچھلی ہاتھ لگ
گئی… آپ سفر سے آئے ہیں وہ مچھلی کھا کر جائیں… پھر اس مسلمان نے اپنی بیوی کو
مچھلی صاف کرنے اور پکانے پر لگا دیا… اچانک اس کی بیوی زور سے چیخی اور اسے
بلایا… وہ بھاگ کر گیا تو بیوی نے بتایا کہ مچھلی کے پیٹ سے سونے کی انگوٹھی نکلی
ہے… اور یہ بالکل ویسی ہے جیسی ہم نے اپنے یہودی پڑوسی کی انگوٹھی امانت رکھی تھی…
وہ مسلمان جلدی سے اس جگہ گیا جہاں اس نے یہودی کی انگوٹھی رکھی تھی… انگوٹھی وہاں
موجود نہیں تھی… وہ مچھلی کے پیٹ والی انگوٹھی یہودی کے پاس لے آیا اور آتے ہی
کہا:
’’حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف بھیجنے سے ہر دعاء قبول ہوتی ہے
اور ہر حاجت پوری ہوتی ہے…‘‘
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ
اَزْوَاجِہٖ اُمَّہَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ ذُرِّیَّتِہٖ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی
اِبْرَاہِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔
پھر اس نے وہ انگوٹھی یہودی کے ہاتھ پر رکھ دی… یہودی کی
آنکھیں حیرت سے باہر، رنگ کالا پیلا اور ہونٹ کانپنے لگے… اس نے کہا یہ انگوٹھی
کہاں سے ملی؟… مسلمان نے کہا… جہاں ہم نے رکھی تھی وہاں ابھی دیکھی وہاں تو نہیں
ملی… مگر جو مچھلی آج شکار کی اس کے پیٹ سے مل گئی ہے… معاملہ مجھے بھی سمجھ نہیں
آ رہا مگر الحمد للہ آپ کی امانت آپ کو پہنچی اور اللہ تعالیٰ نے مجھے پریشانی
سے بچا لیا… بے شک ’’حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے سے ہر دعاء قبول ہوتی ہے اور ہر
حاجت و مراد پوری ہوتی ہے۔‘‘
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی
اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ
اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔
یہودی تھوڑی دیر کانپتا رہا…پھر بلک بلک کر رونے لگا…
مسلمان اسے حیرانی سے دیکھ رہا تھا… یہودی نے کہا: مجھے غسل کی جگہ دے دیں… غسل کر
کے آیا اور فوراً کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت پڑھنے لگا…
اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ
لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔
وہ بھی رو رہا تھا اور اس کا مسلمان دوست بھی… اور مسلمان
اسے کلمہ پڑھا رہا تھا اور یہودی یہ عظیم کلمہ پڑھ رہا تھا… جب اس کی حالت سنبھلی
تو مسلمان نے اس سے ’’وجہ‘‘ پوچھی، تب اس نومسلم نے سارا قصہ سنا دیا… مسلمان کے
آنسو بہنے لگے اور وہ بے ساختہ کہنے لگا…
’’حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درودشریف بھیجنے سے ہر دعاء قبول ہوتی ہے …
اور ہر حاجت و مراد پوری ہوتی ہے۔‘‘
اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَ سَلِّمْ وَ بَارِکْ وَ تَحَنَّنْ
عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ
محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے وہ خوش نصیب بندے… جو اللہ تعالیٰ کے دین کا
علم سیکھتے اور سکھاتے ہیں… ان کا درجہ بہت بلند اور ان کی شان بہت اونچی ہے… یہ
بات میں نہیں بتا رہا… یہ بات ’’قرآن مجید ‘‘ بتا رہا ہے… ایک آیت میں نہیں کئی
آیات مبارکات میں… ہاں بے شک! ایسے لوگوں کا مقام اتنا عالی شان ہے کہ… حضرات
انبیاء علیہم السلام اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بعد انہی کا درجہ ہے… بس شرط یہ ہے کہ وہ ’’
دین کا علم ‘‘ اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے سیکھیں اور سکھائیں… اور اس علم پر عمل
بھی کریں… ایسے علماء اور ایسے طلباء جب اس دنیا سے کوچ کرتے ہیں تو ان کی جدائی
کے صدمے میں زمین بھی روتی ہے اور آسمان بھی روتا ہے… اور ہر زندہ دل مسلمان ایسی
خبر سن کر گہرے آنسو روتا ہے… آہ! مولانا مامون اقبال… ایک درویش صفت نوجوان
عالم باعمل… مجاہد، مدرس اور داعیٔ جہاد… وہ گذشتہ کل اچانک ہم سے رخصت ہو گئے…
اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ
نام کیسے کاٹیں؟
اس وقت میرے سامنے ایک فہرست ہے… اس فہرست میں ہر وہ بات ہے
جس پر دل کی گہرائی سے ’’ الحمدللہ‘‘ نکلتا ہے… یہ اس سال رجب اور شعبان میں ہونے
والے مجوزہ ’’دورات تفسیر آیات الجہاد‘‘ کا برنامج ہے… اس میں لکھا ہے کہ اس سال
ان شاء اللہ اکیاون مقامات پر ’’دوراتِ تفسیر‘‘ ہوں گے… الحمد للہ، الحمد للہ…پہلے
جب یہ دورہ شروع ہوا تھا تو سال میں صرف ایک دو مقامات پر ہوتا تھا… یعنی اللہ
تعالیٰ نے اس میں پچاس گنا ترقی عطا فرمائی ہے الحمد للہ، الحمد للہ… اس سال کل
انتیس اساتذہ یہ اکیاون دورے پڑھائیں گے الحمد للہ ، الحمد للہ… پہلے ان دورات کا
استاذ صرف ایک تھا… اب اللہ تعالیٰ نے اس میں اٹھائیس گنا ترقی عطا فرمائی ہے
الحمد للہ ، الحمد للہ… ان اساتذہ میں سے بعض ایک مقام پر اور بعض مختلف تاریخوں
میں دو مقامات پر یہ دورے پڑھائیں گے الحمد للہ، الحمد للہ… یہ مبارک دورے ملک کے
چاروں صوبوں، آزاد کشمیر، اور قبائلی علاقہ جات تک میں ان شاء اللہ ہوں گے الحمد
للہ، الحمد للہ… ان دورات سے الحمد للہ، الحمد للہ ہزاروں مسلمان مرد و خواتین
استفادہ کرتے ہیں… اور اپنے ایمان ، عقیدے اور عمل کی اصلاح کرتے ہیں… اللہ تعالیٰ
نے دورات تفسیر کا یہ منفرد سلسلہ اس زمانے میں عطا فرمایاہے جب کہ… جہاد فی سبیل
اللہ کو مٹانے کے لئے… دنیا بھر کا اسلحہ، دنیا بھر کے دماغ اور دنیا بھر کے خزانے
استعمال کئے جا رہے ہیں… مگر ایسے میں کچھ ’’صاحبِ علم‘‘ فقراء اٹھتے ہیں… اور وہ
مسلمانوں کو ’’آیاتِ جہاد‘‘ سنا کر بتاتے ہیں کہ… ’’ جہاد‘‘ ہماری بات نہیں اللہ
تعالیٰ کا حکم ہے… آؤ یہ اللہ تعالیٰ کی آیات سنو ، سمجھو اور پھر خود فیصلہ
کرو… یہ خوبصورت فہرست اس وقت میرے پاس ہے… اور اس کی ہر سطر مجھے الحمد للہ،
الحمد للہ پڑھوا رہی ہے… مگر یہ کیا… اس میں دو سطریں ایسی ہیں جن کو میں دیکھتا
ہوں تو انا للہ، انا للہ پڑھنے لگتا ہوں… ایک سطر میں شہر کا نام ڈیرہ اسماعیل خان
اور مدرس کا نام مولانا مامون اقبال… اور دوسری سطر میں شہر کا نام ’’ ہری پور‘‘
اور مدرس کا نام مولانا مامون اقبال…
اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ … اِنَّا لِلهِ
وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ …
ہمارے مولانا مامون اقبال صاحب کئی سال سے یہ ’’ مبارک دورہ
‘‘ مکمل ذوق و شوق اور تحقیق کے ساتھ پڑھا رہے تھے… ان کے تدریسی اور تفہیمی انداز
کو پسند کیا جاتا تھا…اس سال بھی انہوں نے دو جگہ یہ ’’دورہ ‘‘ پڑھانا تھا… مگر کل
وہ خاک کی چادر اوڑھے… آفاق میں گم ہو گئے… اب اس فہرست میں سے ان کا نام کیسے
کاٹیں، کیسے کاٹیں؟
ایک سچا قصہ سن لیں
حافظ ابن بطّال القرطبی رحمہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ یہ واقعہ لکھا ہے… بندہ آپ
کے سامنے اس کا خلاصہ پیش کر رہا ہے… امام یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں
علم حاصل کرنے کا شوق الہام فرمایا تو میں سفر کرکے اپنے رفقاء کے ساتھ ’’مدینہ
منورہ‘‘ حضرت امام مالک رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا… پہلے ہی دن امام مالک
رحمہ اللہ نے مجھ سے میرا نام پوچھا جو
میں نے عرض کر دیا… میں اپنے تمام رفقاء میں کم عمر نوجوان تھا… حضرت امام مالک
رحمہ اللہ نے مجھے فرمایا:
’’یَا یَحْییٰ! اَللہُ، اَللہُ
عَلَیْکَ بِالْجِدِّ فِیْ ہٰذَا الْاَمْرِ‘‘
’’یعنی امام صاحب نے اللہ، اللہ
فرما کر مجھے تاکید فرمائی کہ علم حاصل کرنے میں خوب محنت کرنا… میں تمہیں عنقریب
ایک ایسا واقعہ سناؤں گا کہ جسے سن کر تمہارے اندر علم کا شوق بڑھ جائے گا اور
دوسری چیزوں سے تم بے رغبت ہو جاؤ گے ‘‘پھر امام صاحب نے یہ قصہ سنایا:
’’ہمارے ہاں مدینہ منورہ میں ملک
شام سے تمہاری عمر کا ایک نوجوان علم حاصل کرنے آیا تھا… وہ تحصیل علم میں بہت
محنت کرتا تھا… مگر اچانک اس کا انتقال ہو گیا… میں نے اس کے جنازے میں ایسی چیزیں
دیکھیں جو اس سے پہلے میں نے کسی عالم یا طالبعلم کے جنازے میں نہیں دیکھی تھیں…
میں نے دیکھا کہ مدینہ کے سارے علماء اس کے جنازے کی طرف بڑھ چڑھ کر دوڑ رہے تھے،
جب مدینہ کے گورنر نے یہ منظر دیکھا تو اس نے جنازے کی نماز رکوا دی اور اعلان کیا
کہ… اہل مدینہ اپنے سب سے محبوب عالم اور بزرگ کو آگے کریں… عوام اور علماء نے
حضرت امام ربیعہ کو آگے کیا… اور امام ربیعہ نے اس زمانے کے بڑے اہل علم کو ساتھ
لے کر اس نوجوان طالبعلم کو قبر میں اتارا اور اس کی تدفین اور جنازے کے تمام
مراحل پورے کرائے… تدفین کے تیسرے دن مدینہ منورہ کے ایک مشہور بزرگ نے اس نوجوان
کو خواب میں دیکھا، وہ بہت حسین و جمیل شکل میں سبز عمامہ باندھے ایک عمدہ گھوڑے
پر سوار ہے اور آسمان سے اتر رہا ہے… اور کہتا ہے مجھے یہ مقام علم کی برکت سے
ملا ہے… اللہ تعالیٰ نے علم کے ہر اس ’’باب‘‘ کے بدلے جو میں نے پڑھا تھا جنت میں
میرا ایک درجہ بلند فرمایا… مگر پھر بھی میں ’’ اہل علم‘‘ کے ’’درجے‘‘ تک نہ پہنچ
سکا… تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا… میرے انبیاء کے وارثوں کو زیادہ دو میں نے اپنے
اوپر اس بات کی ضمانت لے لی ہے کہ جو بھی اس حال میں مرے گا کہ وہ میری سنت اور
میرے انبیاء کی سنت کا عالم ہو گا یا اس کا طالبعلم ہو گا تو ان سب کو ایک درجے
میں جمع فرما دوں گا…
اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے بعد مجھے بھی اہل علم کے درجے میں
پہنچا دیا گیا… اور اس درجے میں ہمارے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صرف دو درجوں کا فاصلہ ہے… ایک وہ
درجہ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف
فرما ہیںاور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے
گرد حضرات انبیائِ کرام علیہم السلام ہیں…
اور دوسرا وہ درجہ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تشریف فرما ہیں… پھر ان کے بعد ’’ اہل علم‘‘ کا
درجہ ہے… مجھے وہاں لے جایا گیا یہاں تک کہ جب میں ان کے درمیان پہنچا تو اہل علم
نے مجھے ’’مرحبا مرحبا‘‘ فرمایا… یہ تو ہوا میرا درجہ… اس کے علاوہ بھی بہت کچھ
مزید اللہ تعالیٰ نے عطاء فرمایا ہے… بزرگ نے پوچھا… وہ مزید کیا ہے؟ اس نوجوان نے
کہا… اللہ تعالیٰ نے مجھ سے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ حشر کے دن اللہ تعالیٰ اہل علم
سے فرمائیں گے… اے علماء کی جماعت! یہ میری جنت ہے جو میں نے تمہارے لئے حلال فرما
دی ہے… اور یہ میری رضا ہے جو میں نے تمہیں عطاء فرما دی ہے… مگر تم اس وقت تک جنت
میں نہیں جاؤ گے جب تک مجھے اپنی ہر تمنا اور اپنی ہر شفاعت نہ بتا دو تاکہ میں
تمہاری ہر تمنا پوری کر دوں اور تم جس کے بارے میں بھی شفاعت کرو میں اسے بخش دوں…
یہ اس لئے کہ تمام لوگ میرے ہاں تمہارے اعزاز ومقام کو دیکھ لیں…
مدنی بزرگ نے صبح اٹھ کر یہ خواب اہل علم کو سنایا اور
دیکھتے ہی دیکھتے یہ خبر ہر طرف پھیل گئی… مدینہ منورہ میں کچھ لوگ ایسے تھے جو
پہلے ہمارے ساتھ علم حاصل کرتے تھے مگر پھر چھوڑ گئے تھے… انہوں نے یہ واقعہ سنا
تو وہ بھی مکمل ہمت اور جذبے کے ساتھ واپس لوٹ آئے… اور آج وہ اس شہر کے اہل علم
میں شمار ہوتے ہیں… بس اے یحییٰ! … اللہ، اللہ… علم میں خوب محنت کرو‘‘ حضرت امام
مالک رحمہ اللہ کی نصیحت اس نوجوان کے دل میں اتری اور وہ بھی
زمانے کے معروف و مقبول اہل علم میں شمار ہوئے۔
یہ واقعہ کافی پہلے پڑھا تھا… کل بھائی مامون صاحب کے
انتقال کی خبر آئی تو اسی وقت سے یہ واقعہ ذہن میں چمکنے لگا… مولانا مامون اقبال
صاحب کی مختصر سی پوری زندگی علم اور جہاد کی محنت میں گذری… زندگی کے آخری دن تک
وہ دین کی ان دو عظیم نسبتوں سے مکمل طور پر جڑے رہے… بچپن میں قرآن مجید حفظ
کیا… پھر دینی تعلیم حاصل کرنے میں لگ گئے… اور پھر یہی دینی علم پڑھاتے رہے… اور
ساتھ جہاد فی سبیل اللہ کی خدمت بھی کرتے رہے… نہ کوئی وقفہ، نہ کوئی چھٹی اور نہ
کوئی آفت…
ساری زندگی سعادت ہی سعادت… اور موت ایسی تشکیل میں آئی
اور ایسی محبت سے آئی کہ ہر دیکھنے والا شہادت، شہادت پکارنے لگا… پیشانی کا
پسینہ، چہرے پر مسکراہٹ اور سکون… اور ہر طرف ’’محبوبیت‘‘ کے عجیب والہانہ مناظر…
بظاہر خاموش طبع فقیر مزاج مولانا… کس طرح سے مسلمانوں کے دلوں میں بستے تھے… یہ
ان کی وفات کے وقت معلوم ہوا… ہاں بے شک! وہ ساری زندگی اللہ تعالیٰ کے دروازے اور
اللہ کے راستے پر پڑے رہے تو… اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر قبولیت و محبوبیت کے
انوارات برسا دئیے…
آخری دن بھی گھر سے نکل کر مدرسے میں آئے، سبق پڑھایا پھر
اگلے سبق کے لئے جانے والے تھے کہ… بے ہوش ہو گئے، ہسپتال لے جایا گیا… مگر وہاں
جانے کے چند گھنٹوں کے بعد وفات پا گئے اور واپس اپنے مدرسے میں آ کر مدرسہ کے
قبرستان میں اپنے محبوب چچا جی کے پڑوس میں… اپنے باغات پر چلے گئے…
کئی رشتے
مولانا مامون اقبال صاحب رحمہ اللہ پوری زندگی میرے خاموش ہمسفر اور معاون رہے… ان
کے ساتھ میرے کئی رشتے تھے… وہ میرے چچا زاد بھائی بھی تھے اور خالہ زاد بھائی
بھی… وہ اول دن سے جماعت کے قیمتی رکن تھے… ان کا اصلاحی بیعت کا سلسلہ بھی مجھ ’’
بے کار‘‘ سے تھا اور میری ہر محنت میں مکمل طور پر شریک اور معاون تھے… اور اب
انہوں نے ’’ جامعۃ الصابر‘‘ کا نظام اتنی عمدگی سے سنبھالا ہوا تھا کہ… کل جامعہ
کا ہر پتھر اور ہر پتا رو رہا تھا… ان تمام ’’ اہل محبت‘‘ کا شکریہ جنہوں نے غم کے
اس موقع پر تعزیت کی اور مولانا مرحوم کے لئے ایصال ثواب کا اہتمام کیا… اللہ
تعالیٰ مولانا مامون صاحب کو اپنے خاص جوار میں مغفرت ، شہادت اور اکرام کا مقام
عطاء فرمائیں… ان کے والدین، اہل خانہ ، بھائیوں اور تمام غمزدہ پسماندگان کو صبر
جمیل عطا فرمائیں… اور مولانا کے چاروں معصوم یتیموں کو ایمان اور اچھی قسمت کا
’’دریتیم ‘‘ بنائیں…
آمین یا ارحم الراحمین
لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ ،لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَ شَعْبَانَ
وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ
الحمد للہ ’’ رجب‘‘ کا عزت، احترام اور مقام والا مہینہ
شروع ہے… اللہ تعالیٰ سے’’ برکت ‘‘ کا سوال ہے… عمر ختم ہو رہی ہے … آگے بہت لمبا
سفر ہے… زمین سے خلاء تک نہیں… زمین سے چاند تک نہیں… زمین سے مریخ تک کا بھی
نہیں… اس سے بہت آگے، بہت دور، بہت دور… زمین سے برزخ تک کا سفر… یعنی ایک عالم
سے دوسرے عالم تک کا سفر… ایک زمانے سے دوسرے زمانے اور ایک جہان سے دوسرے جہان تک
کا سفر… کروڑوں نوری سالوں سے بھی آگے کا سفر… راستہ معلوم نہیں کیسا ہو گا؟
ٹھنڈا یا گرم… سفر اوپر کی جانب ہو گا یا نیچے کی جانب؟… ہماری کمزور سی روح… اور
آگے اتنا لمبا سفر… تیاری کچھ بھی نہیں… بس دنیا کی فکر میں اُلجھے ہوئے ہیں…
یہاں کے چھوٹے چھوٹے مسائل میں پھنسے ہوئے ہیں… عبادت بھی دنیا کے لئے… وظیفے بھی
دنیا کے لئے…محنت بھی دنیا کے لئے… فکر بھی دنیا کے لئے… دعاء بھی دنیا کے لئے…
تعلقات بھی دنیا کے لئے… ہم تو پیر اور بزرگ بھی وہ ڈھونڈتے ہیں جو دنیا کے مسائل
حل کرانے کا دعویٰ رکھتا ہو…بس انہی کاموں اور فکروں میں لگے ہوتے ہیں کہ اچانک
موت آ جاتی ہے… تب معلوم ہوتا ہے کہ… اصل سفر کی تو تیاری ہی نہیں کی تھی… اصل
زندگی کے لئے تو کچھ بنایا ہی نہیں… خالی ہاتھ اور آگے اتنا لمبا سفر… یا اللہ!
رحم، یا اللہ! رحم…
اللہ تعالیٰ ہمارے اوقات میں برکت دے کہ… ہم آخرت کی کچھ
تیاری کر لیں… اللہ تعالیٰ ہمارے اعمال میں برکت دے کہ… ہم آخرت کے لئے کچھ
سرمایہ جمع کر لیں…
اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَ شَعْبَانَ
وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ
جسے جینا ہو
جو لوگ موت کی تیاری کرتے رہتے ہیں… ان کی دنیا بہت آسان
ہو جاتی ہے… ہماری دنیا جو اتنی مشکل بن گئی ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ… ہم موت کی
حقیقی تیاری کرتے ہی نہیں… ہم نے اسی دنیا کو اپنے سر پر چڑھا رکھا ہے… اور جو اسے
سر پر چڑھاتا ہے… یہ اسے بہت ستاتی ہے… ہم میں سے کئی لوگ اپنے مرنے کی باتیں کرتے
رہتے ہیں… مگر وہ صرف زبان کی باتیں ہوتی ہیں… آس پاس والوں کی ہمدردی حاصل کرنے
کے لئے… اور زبان کا چسکہ لینے کے لئے… موت کی حقیقی یاد رکھنے والے موت کا تذکرہ
نہیں بلکہ موت کی تیاری کرتے ہیں… اور موت کی تیاری یہ ہے کہ… دنیا سے دل ہٹا لیتے
ہیں، ہر عمل خالص اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کے لئے کرتے ہیں… اللہ تعالیٰ مجھے
اور آپ سب کو موت کی حقیقی تیاری کی توفیق عطاء فرمائے… آج ہم مسلمانوں کے لئے
دنیا میں جگہ بہت تنگ ہوتی جا رہی ہے… آپ ہندوستان کو دیکھ لیں… ہر ہندو کا الگ
مذہب ہے اور الگ خدا… ’’ بی جے پی‘‘ میں وہ لوگ بھی ہیں جو رام کو بھگوان مانتے
ہیں…اور وہ بھی ہیں جو رام کے دشمن ’’راون‘‘ کو بھگوان مانتے ہیں… مگر یہ سب ایک
بات میں متحد ہیں…وہ ہے… ’’مسلمان دشمنی‘‘ اسلام دشمنی… ان کا نہ مذہب ایک، نہ
نظریہ ایک، نہ بھگوان ایک، نہ رخ ایک، نہ طرز عبادت ایک… مگر صرف ایک بات میں
اتفاق ہے کہ… اسلام کو ختم کرنا ہے، مسلمان کو مارنا ہے… پہلے ’’مودی ‘‘ آیا جو
’’کریلا‘‘ تھا اب ’’ یوگی‘‘ آ گیا جو کریلا بھی ہے اور نیم چڑھا بھی… ایسا ناپاک
اور نجس انسان جو دن رات میں کئی بار پیشاب اور غلاظت کرتا ہے… مگر پھر بھی خود کو
’’ بھگوان‘‘ کہلا کر باقاعدہ اپنی پوجا کرواتا ہے… انسان کی اس سے بڑھ کر اور کیا
تذلیل ہو سکتی ہے کہ وہ گندگی اور غلاظت سے بھری ہوئی ایک زرد بوری کو اپنا خدا
مان لے نعوذ باللہ، نعوذ باللہ… یا اللہ! آپ کا بے حد شکر کہ آپ نے ہمیں شرک کی
لعنت اور شرک کی نجاست سے بچایا ہے… رب العالمین کی قسم! شرک سے حفاظت، بہت عظیم
نعمت ہے، بہت ہی عظیم… اب ہندوستان کے مسلمانوں کو ڈرایا جا رہا ہے… مسلمان جب موت
سے ڈرتا ہے تو وہ بھوسے کا ڈھیر بن جاتا ہے… آج ہندوستان کے مسلمان موت کی تیاری
شروع کر دیں اور موت سے محبت کرنے لگیں تو… آپ دیکھ لیں گے کہ مودی اور یوگی ان
کے پاؤں چاٹیں گے… دراصل موت کی حقیقی یاد اور حقیقی تیاری رکھنے والا مسلمان بہت
طاقتور ہوتا ہے… اسے نہ ڈرایا جا سکتا ہے اور نہ دبایا جا سکتا ہے… ؎
یہ مصرع کاش نقش ہر در و دیوار ہو جائے
جسے جینا ہو مرنے کے لئے تیار ہو جائے
ہم جب نہیں مرنا چاہتے تو ہر کوئی ہمیں مارتا ہے… اور ہم ہر
لمحہ مرتے ہیں… اور موت ہمیں چاروں طرف سے ڈراتی اور مارتی ہے… لیکن جب ہم دل کی
گہرائی سے یہ ٹھان لیتے ہیں کہ ہم نے مرنا ہے… اور پھر ہم موت کی تیاری میں لگ
جاتے ہیں تو پھر… ہمیں کوئی نہیں ڈرا سکتا اور زندگی ہمارے قدموں میں گرتی ہے… اور
فتوحات کے دروازے اس امت پر کھل جاتے ہیں…اس لئے دن رات’’ حفاظت‘‘ کے وظیفے کرنے
والو! کچھ وظیفے اپنی قبر اور آخرت کے لئے بھی شروع کر دو… دن رات ’’ رزق‘‘ کے
انبار ڈھونڈنے کے عمل کرنے والو! کچھ اعمال اپنی موت، قبر اور آخرت کے لئے بھی
شروع کر دو… دن رات دنیا کے مسائل حل کرانے والے پیر اور بزرگ ڈھونڈنے والو!… کوئی
ایسا پیر بھی ڈھونڈلو جو تمہیں آخرت کی ہمیشہ والی زندگی سنوارنے کا سبق پڑھائے…
دن رات لوگوں کو اپنی موت سے ڈرانے والو! چند لمحوں کے لئے خود بھی اپنی موت سے ڈر
جاؤ اور سوچو کہ قبر میں کیا لے کر جاؤ گے، آخرت کے لئے کیا سامان بنایا ہے…
اور موت کی کیا تیاری کی ہے؟…
دجّال کے کچے انڈوں کا علاج
آخری زمانے میں ’’دجّال‘‘ نے آنا ہے… ہر نبی نے اپنی اُمت
کو اور حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم
نے اپنی اُمت کو ’’دجّال‘‘ کے فتنے سے
’’خبردار‘‘ فرمایا ہے… معلوم ہوا کہ یہ ’’فتنہ‘‘ ہمارے وہم وگمان سے بھی بڑھ کر
خطرناک ہو گا… ہر مسلمان ہر نماز کے آخر میں یا بعد میں دجّال کے فتنے سے اللہ
تعالیٰ کی پناہ مانگا کرے…
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ
الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ
اب دجّال کے آنے سے پہلے اس کے چھوٹے چھوٹے انڈے دنیا میں
اُبھرنے شروع ہو گئے ہیں… دجّال کے پاس جو خطرناک طاقت ہو گی وہ ’’ٹچ ٹیکنالوجی ‘‘
ہے… یعنی ٹچ کرنے اور چھونے سے بڑے بڑے کام ہو جائیں گے… اب دنیا میں ٹچ موبائل سے
لے کر ٹچ عمارتیں تک آ گئی ہیں…دجال مکمل طور پر اسلام اور مسلمانوں کا دشمن ہو
گا اور وہ حکمران ہو گا… اب ٹرمپ ، مودی اور یوگی جیسے دجّالی انڈے دنیا کے حکمران
بننا شروع ہو گئے ہیں… یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں پر کھلم کھلا بھونکتے ہیں… اور
اپنی محدود طاقت اور قوت مسلمانوں کے خاتمے کے لئے استعمال کرنے سے دریغ نہیں
کرتے… دجّال کے دور میں دنیا کے فاصلے سمٹ جائیں گے… آج یہ فاصلے واقعی سمٹتے جا
رہے ہیں… مہینوں اور سالوں کا سفر گھنٹوں اور منٹوں میں طے ہو رہا ہے… بہرحال
خلاصہ یہ کہ دنیا میں ’’دجال ‘‘ کے آنے کا راستہ تیزی سے ہموار ہوتا جا رہا ہے…
اب وہ خود کب آتا ہے یہ بات تو اس کے بس میں بھی نہیں… یہ صرف اللہ تعالیٰ کے علم
میں ہے… یہاں یہ عرض کرنا ہے کہ…وہ مسلمان جو ’’موت ‘‘ کی حقیقی یاد رکھتے ہیں اور
موت کی تیاری کرتے ہیں… دجّال بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا… یعنی موت سے محبت
اور موت کی تیاری یہ ایسا عمل ہے جو ’’دجال‘‘ سے زیادہ طاقتور ہے اور یہ عمل دجّال
کے فتنے سے حفاظت کا ذریعہ ہے…
تو پھر دجّال کے یہ چھوٹے چھوٹے کچے انڈے …ٹرمپ ، مودی،
یوگی ، نیتن یاہو … ان مسلمانوں کا کیا بگاڑ سکتے ہیں… جو مسلمان موت کے لئے تیار
رہتے ہیں اور موت کی تیاری میں لگے رہتے ہیں… یا اللہ! ہمارے ایمان ، ہماری نیت
اور ہمارے اوقات میں برکت عطاء فرمائیے … تاکہ ہم آپ سے ملاقات کی سچی اور حقیقی
تیاری کر سکیں اور موت کو وصال یار سمجھ سکیں…
اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَ شَعْبَانَ
وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ… اٰمِیْن یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ
لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ ،لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اَللّٰھُمَّ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی
الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ
اللہ تعالیٰ مجھے اورآپ سب کو دنیا و آخرت کی بھلائیاں
عطاء فرمائے…جہنم کے عذاب سے بچائے…رات کا آخری پہر ہے… لکھنے کی بجائے مانگنے پر
دل آمادہ ہے… مگر لکھنا بھی ضروری ہے… اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے اور آپ سب کے لئے
اس کا فضل مانگتا ہوں…
اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ وَرَحْمَتِکَ
پہلے ایک کام کی بات سن لیں… اگر رات کو کبھی آنکھ کھل
جائے مگر اُٹھنے کی ہمت نہ ہو تو لیٹے لیٹے تیسرا کلمہ پڑھنا شروع کر دیا کریں…
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا
اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ
الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ۔
یہ مبارک کلمہ بہت سے اعمال کا قائم مقام بن جاتا ہے… اور
بہت سی کمی کوتاہی کا ازالہ فرما دیتا ہے… پھر جب یہ کلمہ دس بار پڑھ چکیں تو دعاء
مانگ لیا کریں… اس مبارک کلمہ کے بعد دعاء قبول ہوتی ہے… ویسے جو ’’وظیفہ‘‘ حدیث
شریف میں آیا ہے… اس میں چوتھا کلمہ اور تیسرا کلمہ دونوں پڑھنے کا فرمایا گیا
ہے… یعنی اگر رات کو نیند نہ آ رہی ہو… یا سوتے ہوئے اچانک نیند اُڑ جائے … یا بے
چینی، خوف طاری ہو جائے تو یہ الفاظ پڑھیں…
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ
لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ… اَلْحَمْدُ
لِلہِ وَسُبْحَانَ اللّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللہُ اَکْبَرُ وَلَا
حَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ …
اس کے بعد دعاء مانگ لیں… مثلاً’’ اَللّٰھُمَّ رَبِّ
اغْفِرْلِیْ‘‘ یہ بڑاتاثیر والا عمل ہے…
ہر بار یہ الفاظ پڑھتے جائیں اور دعاءمانگتے جائیں اور ایک
ہی دعاء یا کئی دعائیں مانگتے جائیں… اس طرح رات قیمتی ہو جائے گی، قیام اللیل کا
اجر بھی ملے گا… اور ان شاء اللہ دعائیں بھی قبول ہوں گی اور آئندہ شیطان آپ کو
تنگ کرنے میں کچھ احتیاط کرے گا… اکثر لوگ چونکہ نیند ٹوٹنے اور نیند خراب ہونے پر
تنگی، نا شکری اور غم کا اظہار کرتے ہیں تو شیطان… اُن سے خوش ہوتا ہے اور اُنہیں
بار بار تنگ کرتا ہے تاکہ وہ اپنے نامہ اعمال میں ناشکری کی سیاہی بھرتے رہیں…
لیکن اگر آپ جاگتے ہی اس قیمتی ذکر میں لگ جائیں گے تو شیطان ناکام ہو جائے گا
اور اس کو تکلیف پہنچے گی… آئیے! اب آج کی مجلس رنگ و نور شروع کرتے ہیں… ہمارے
چاروں طرف منفی خبروں کا انبار ہے… اس منفی انبار میں سے مثبت باتیں تلاش کرتے
ہیں… مگر ہاں! ایک بہت اہم بات یاد آ گئی…
آج کل الحمد للہ بہت سے مسلمان ’’عمرہ ‘‘ کی سعادت حاصل
کرنے جا رہے ہیں… مجھے تقریباًروزانہ ہی کسی نہ کسی کے جانے کی اطلاع ملتی ہے…
ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ… دل خوش ہوتا ہے، دعائیں دیتا ہے…ابھی حج پالیسی کا
اعلان بھی ہونے والا ہے… اُمید ہے کہ اس سال بھی اہل شوق اور اہل سعادت بڑھ چڑھ کر
اس عاشقانہ فریضے کی طرف لپکیں گے… حرمین شریفین کی حاضری اور زیارت ایک انمول
نعمت ہے…انسانی زندگی کو بے حد قیمتی بنانے والی نعمت… عرض یہ کرنا ہے کہ اللہ
تعالیٰ جب آپ کو حرمین شریفین کی زیارت نصیب فرمائیں… اور پھر آپ وہاں سے خیر و
عافیت کے ساتھ واپس لوٹ آئیں … تو اب آپ ایک کام اپنے ذمہ لے لیں… وہ یہ کہ وہاں
کی کوئی منفی بات کبھی بھی اپنی زبان پر نہیں لائیں گے… مثلاً کئی لوگ واپس آ کر
دوسروں کو وہاں سے ڈراتے ہیں کہ… توبہ توبہ وہاں بہت رش ہوتا ہے… بہت گرمی ہوتی
ہے… بہت مشکل ہوتی ہے… مہنگائی ہوتی ہے…وغیرہ وغیرہ…
ارے اللہ کے بندو! حرمین شریفین سے لوگوں کو متنفر کرتے
ہو؟… وہاں رش نہیں ہو گا تو پھر کہاں رش ہونا چاہیے؟… یوں کہا کرو الحمد للہ
،الحمد للہ وہاں ماشاء اللہ بہت لوگ آتے ہیں، اللہ تعالیٰ اور لوگوں کو بھی لائے…
پھر بھی سب طواف کر لیتے ہیں، عمرہ کرتے ہیں، نماز ادا کرتے ہیں … کوئی تنگی نہیں
ہوتی… ساری دنیا بھی وہاں چلی جائے تو اللہ تعالیٰ کا گھر اور حضرت آقا مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم کی مسجد سب کو سمیٹ سکتی
ہے… ماشاء اللہ وہاں کا موسم بھی عجیب ہے… گرمی سے پسینہ، پھرہوا سے ٹھنڈک، ٹھنڈے
پانی خاص طور سے زمزم کا لطف… حقیقت ہے بھی یہی… یہ نہ کوئی مبالغہ ہے اور نہ
جھوٹ… جو بھی اخلاص و ایمان کے ساتھ جاتا ہے… نہ محروم واپس آتا ہے اور نہ بھوکا
… نہ کوئی کعبہ کے طواف سے رہ جاتا ہے اور نہ کوئی وہاں کی نماز سے… نہ کوئی زمزم
سے پیاسا رہتا ہے… اور نہ کوئی مسجد نبوی کی خوشبو سے… ہر ایک کو اس کے ظرف کے
مطابق بھر بھر کر جام ملتے ہیں…بس کچھ کمزور طبیعت ناسمجھ لوگ وہاں کی بعض مشکلات
کو ذہن پر سوار کر کے… واپسی پر لاشعوری طور پر بتاتے رہتے ہیں…جو کہ بہت بری بات
ہے… آپ تو جب وہاں سے آئیں تو وہاں کے’’ سفیر‘‘ بن کر آئیں جو بھی آپ کی مجلس
میں بیٹھے… چند منٹ میں اُس کو حرم کا دیوانہ بنا دیں اور شوق کی سوغات اُس تک
پہنچائیں… اور ہاں! وہاں سے اپنی تصویریں ہرگز ساتھ نہ لائیں بلکہ حرمین شریفین کی
برکتیں اور یادیں ساتھ لائیں … اور انہیں مسلمانوں میں پھیلائیں… چلیں یہ بات بھی
ہو گئی… اب آتے ہیں خبروں کی طرف ۔
پہلی اچھی خبر یہ ہے کہ بھورے زہریلے سانپ پر ’’حملہ ‘‘ ہوا
ہے… ملک شام کا زہریلا کوبرا ’’بشار الاسد‘‘ لاکھوں مسلمانوں کا وحشی قاتل … قاتل
بن قاتل… ظالم بن ظالم… اس نے شام کے مسلمانوں پر کیمیاوی ہتھیاروں سے حملہ کیا…
اللہ تعالیٰ اُسے ہلاک فرمائے… امریکہ کے نئے صدر ’’ٹرمپ‘‘ نے بشار کے ایک فضائی
اڈے پر ’’59‘‘کروز میزائل داغ دئیے … یقیناً یہ اللہ تعالیٰ کی نصرت کاایک انداز
ہے … ٹرمپ جیسے آدمی کے ذریعہ …مظلوموں کا انتقام… ہے نہ اللہ تعالیٰ کی نصرت؟…
حدیث شریف میں وضاحت کے ساتھ ’’نصرت‘‘ کی اس قسم کا تذکرہ موجود ہے… ٹرمپ کے اس
حملے میں کئی مثبت پہلو ہیں…
١
بشار درندے اور اس کی فوج کو نقصان پہنچنا…
٢
ایران کا شور اور ماتم برپا کرنا… اپنے ہم مذہب ’’اُبامہ‘‘ کے زمانے اس نے بہت پر
کھول لئے تھے۔
٣ امریکہ
کے’’59‘‘ کروز میزائل جن کی قیمت چھ ارب روپے پاکستانی تھی… اُن کا خرچ ہو جانا…
یہ میزائل اگر بشار کی فوج کی بجائے مسلمانوں پر گرتے تو یقیناً بہت دکھ ہوتا۔
٤
امریکہ اور روس کی تلخی کا بڑھنا جو کہ روئے زمین کے تمام انسانوں کے لئے نیک شگون
ہے۔
٥
اُن بہت سے کیمیاوی ہتھیاروں کا تباہ ہو جانا جو عنقریب مسلمانوں پر گرائے جانے
والے تھے…
اللہ تعالیٰ اہل شام کے ایمان والوں کی نصرت فرمائے…
دوسری مثبت خبر پاکستان سے ہے… انڈین جاسوس ’’کل بھوشن
یادو‘‘ کو موت کی سزا سنا دی گئی ہے… الحمد للہ یہ ایک اچھی اور مثبت پیش رفت ہے…
اب انڈیا اور پاکستان کے ’’انڈین نواز‘‘ افراد اس’’ سزا‘‘ کو رکوانے کی بھرپور
کوشش کریں گے… مگر اس’’سزا‘‘ کا رکنا اہل پاکستان اور اہل کشمیر پر ایک بھیانک ظلم
ہو گا… اور اس کے نتائج بے حد منفی ظاہر ہوں گے… حکومت پاکستان نے جس پھرتی کے
ساتھ ایک بے گناہ شخص… غازی ممتاز قادری شہید رحمہ اللہ کو پھانسی چڑھا دیا… اس کے بعد اگر وہ ’’بھارتی
جاسوس‘‘ کی پھانسی میں تاخیر کرتی ہے تویہ بات نہ فطرت کو گوارا ہو گی اور نہ
مسلمان عوام کو… حکومت کو چاہئے کہ جلد از جلد اس سزا پر عمل در آمد کر کے قانون
اور انصاف کے تقاضے پورے کرے۔
تیسری خبر ’’شمالی کوریا‘‘ کی طرف سے ہے… سمجھ نہیں آ رہی
کہ اس کو ’’مثبت ‘‘ کہا جائے یا ’’منفی‘‘… حالات ایسے بن چکے ہیں کہ اب ’’شمالی
کوریا‘‘ پر کوئی آفت آنے ہی والی ہے… مسلمانوں میں ’’شمالی کوریا‘‘ کے لئے
’’ہمدردی‘‘ کے جذبات پائے جاتے ہیں… کیونکہ ایک تو وہ ’’سامراج مخالف‘‘ حکومت ہے
…اور دوسرا یہ کہ اس کے ’’چین‘‘ کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں… امریکہ اور نیٹو نے جن
الزامات کی وجہ سے عراق، افغانستان اور لیبیا پر حملہ کیا… وہ تمام الزامات
’’شمالی کوریا‘‘ پر زیادہ شدت سے ثابت ہوتے ہیں … مگر چونکہ وہ مسلمانوں کا ملک
نہیں ہے… اس لئے اس پر حملے میں جلدی نہیں کی گئی…فطرت کے کچھ اصول ہیں… تکوینی
اصول… ان اصولوں سے نہ کوئی انسان باہر قدم رکھ سکتا ہے نہ کوئی جانور اور پتھر…
جب بیٹا باپ کو قتل کرے اور یہ قتل مال یا اقتدار کے لئے ہو… اللہ کے لئے یا دین
کے لئے نہیں… تو وہ سلطنت اور خاندان برباد ہو جاتا ہے… اسی طرح جب ایک بھائی اپنے
بھائی کو …حسد ، اقتدار، اختیار اور مال کی خاطر قتل کرے تو پھر زمین پر بڑی تباہی
پھیل جاتی ہے… شمالی کوریا کے حکمران نے ابھی حال ہی میں اپنے ایک باپ شریک بھائی
کو قتل کروایا ہے… اس کے بعد سے یہی لگ رہا ہے کہ اب اس ملک کے لئے کچھ بھی
’’انہونی‘‘ ہو سکتی ہے … بہرحال کچھ ہو یا نہ ہو اللہ تعالیٰ اس میں امت مسلمہ کو
خیر عطاء فرمائے… اور قرآن مجید کے وہ راز جو رشتہ داریوں کے بارے میں ہیں اُمت
مسلمہ کو سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے … آخری خبر ’’پیارے کشمیر‘‘ سے جہاں پھر
کالے قاتل کے دانتوں سے خون ٹپک رہا ہے… مگر اس کا سر جھکا ہوا ہے… ذلیل ، ناکام…
جبکہ عزت ، غیرت اور شان سے اُٹھنے والے دس جنازے… پورے بھارت کی زمین کو ’’بد
نصیب ‘‘ بنا رہے ہیں… اور غاصبوں کے منہ پر آزادی کے طمانچے برسا رہے ہیں…کشمیری
مسلمانوں کی غیرت و ہمت کو سلام…
یا اللہ! اس خون کا شاندار بدلہ چکانے کی جلدتوفیق عطاء
فرما…
اٰمِیْن یَا رَبَّ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ
لاالہ الااللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ محمد
رسول اللّٰہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کی ’’ابتداء‘‘ کا مالک ہے…اور اللہ
تعالیٰ ہی ہر چیز کی ’’انتہاء‘‘ کا مالک ہے…
وہی اول … وہی آخر… وہی ظاہر…وہی باطن…
﴿ھُوَ الْاَوَّلُ وَالآخِرُ
وَالظَّاہِرُ وَالْبَاطِنُ﴾(الحدید:۳)
آج آپ سب سے ایک سوال پوچھنا ہے… یہ ’’انتہا پسندی‘‘ کیا
ہوتی ہے؟ مردان کی یونیورسٹی میں ایک لڑکا قتل ہو گیا… اب ہر طرف شور ہے… مذہبی
انتہا پسندی آ گئی، مذہبی انتہا پسندی ختم کرو وغیرہ وغیرہ۔
آپ بتائیں
یہ قتل ایک ’’یونیورسٹی‘‘ میں ہوا… اگر ایسا کوئی ایک واقعہ
’’دینی مدارس ‘‘ کی طرف سے ہو جاتا تو آج ماحول کیا ہوتا… دینی مدارس کے چند سو
طلبہ کسی مدرسہ سے نکلتے اور کسی ایک ’’شخص‘‘ کو قتل کر دیتے تو آج ملک کے تمام
دینی مدارس پر ٹینک اور بلڈوزر دوڑا دئیے جاتے…انسداد دہشت گردی کی کئی نئی
کمیٹیاں بن جاتیں… اور منہ کھول کھول کر مدارس کو گالیاں دی جاتیں… ان کو دہشت
گردی کا مرکز قرار دیا جاتا اور مدارس پر پابندی کی باتیں شروع ہو جاتیں… مگر یہاں
واقعہ ایک ’’یونیورسٹی‘‘ میں ہوا اس لئے مکمل احتیاط برتی جا رہی ہے کہ… انگریزی
تعلیم کے اداروں پر کوئی بات نہ ہو… ان پر پابندی کا کوئی تذکرہ نہ ہو… کیا یہ
انتہا پسندی نہیں ہے؟
عجیب بے انصافی ہے
آج دنیا کے کئی ممالک کے حکمران… مکمل ’’انتہا پسند‘‘ ہیں…
ان میں سے ایسے بھی ہیں جن کے نزدیک ایک یہودی کے بدلے دنیا کے تمام مسلمانوں کا
قتل جائز ہے… ان میں ایسے بھی ہیں جو ایک گائے کے بدلے ہزار مسلمانوں کو قتل کرنا
لازمی سمجھتے ہیں… ان میں ایسے بھی ہیں جو اپنا ہر بم صرف اور صرف مسلمانوں پر
گرانا چاہتے ہیں… ان میں سے ایسے بھی ہیں جو مسلمانوں کو سرعام کتوں سے بدتر اور
حقیر قرار دیتے ہیں… ان میں ایسے بھی ہیں جو ہر دن کم از کم ایک سو مسلمانوں کو
قتل کر رہے ہیں…
کیا یہ سب کچھ ’’انتہا پسندی‘‘ نہیں ہے؟… آج تو دنیا میں
غیر مسلم انتہا پسندوں کی باقاعدہ حکومتیں ، باقاعدہ ادارے اور باقاعدہ فوجیں ہیں…
مگر مسلمانوں کے پاس کیا ہے؟ ہمارے حکمران تو خود کو مسلمان کہلانا گوارا نہیں
کرتے… نہ عمل مسلمانوں والے، نہ شکل مسلمانوں والی… جہاں بیٹھتے ہیں اسلامی
احکامات کے خلاف بولتے ہیں… حتٰی کہ ان میں سے کئی ایسے بھی ہیں جو نعوذ باللہ
اذان سے نفرت کرتے ہیں… مساجد سے بغض رکھتے ہیں… وہ غیر مسلموں اور مشرکوں کے
درمیان ہوں تو خوشی سے پھولے نہیں سماتے… اور جب مسلمانوں کے درمیان ہوں تو ان کے
چہروں پر بارہ بجے رہتے ہیں… کیا یہ سب کچھ ’’انتہا پسندی‘‘ نہیں ہے… میں یقین سے
کہتا ہوں کہ اگر ہمارے مسلمان کے ملکوں کے حکمران… صرف ترکی کے ’’صدر‘‘رجب طیب
اردگان جتنے مسلمان بھی ہو جائیں تو… تمام اسلامی ملکوں سے نوّے فیصد ’’دہشت
گردی‘‘ ختم ہو جائے گی… ترکی کے صدر نے داڑھی نہیں رکھی… مگر اسے داڑھی سے بغض
نہیں ہے… وہ کسی مسجد کا مولوی نہیں ہے مگر مسجد سے نفرت نہیں رکھتا… اذان کا مذاق
نہیں اڑاتا… وہ انگریزی لباس پہنتا ہے… مگر اسے عمامے سے کوئی عداوت نہیں ہے… وہ
خود کو فخر سے مسلمان کہتا ہے… دنیا بھر کے مسلمانوں کے جنازوں میں جاتا ہے… اور
اگر کسی جگہ مسلمانوں پر ظلم ہو تو بے چین ہو کر آواز ضرور اُٹھاتا ہے…
اسی لئے آج وہ ترکی کی عوام میں بھی مقبول ہے… اور امت
مسلمہ کی آنکھوں کا بھی تارا ہے… ہم میں سے ہر شخص اس کے لئے اپنے دل میں محبت
اور احترام کے جذبات محسوس کرتا ہے… اور کوئی مسلمان جس کو دین کی بنیادی باتوں کا
علم ہو… کبھی بھی اس کے خلاف کوئی مسلح تحریک چلانے کا سوچ بھی نہیں سکتا… کیا
باقی اسلامی ملکوں کے حکمران… صرف اتنا اسلام بھی اختیار نہیں کر سکتے؟… آخر
مسلمان قوم سوچتی ہے کہ… یہودیوں کے پاس ’’بنیامین نیتن یاہو‘‘ جیسا حکمران ہے جو
یہودیوں کی لاشوں تک کی حفاظت کرتا ہے…اوردنیا میں کسی یہودی کو کانٹا چبھے تو وہ
فوراً اس کی مدد کو پہنچتا ہے… ہندؤوں کے پاس ’’مودی‘‘ جیسا حکمران موجود ہے، جو
ہندو تو کیا گائے کی حفاظت کے لئے جان لینے پہ آجاتا ہے… عیسائیوں کے پاس ٹرمپ ،
اولاندوفرانسو اور پاپے جیسے حکمران موجود ہیں جو خود… عیسائی مشنریوں کا حصہ ہیں…
مگر مسلمانوں کے پاس کیا ہے؟… کوئی ایک حکمران جو صرف ہمارے آقا اور مولیٰ حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت و ناموس
ہی کا تحفظ کر سکے… دنیا بھر کے پاگل کتے… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ ہر گالی دے رہے ہیں… کارٹون بنا
رہے ہیں… کیا کسی مسلمان حکمران کے کان پر جوں رینگی؟… بس کبھی کبھار مجبور ہو
کرکھو کھلے بیانات اور بس… حالانکہ یہی حکمران جب اذان ، مسجد اور مدرسہ کے خلاف
بولتے ہیں تو لگتا ہی نہیں کہ… یہ کسی مسلمان کی اولاد ہیں…
جب حالات ایسے بن جائیں تو پھر … کئی مسلمان احساس محرومی
اور جذباتیت کا شکار ہو جاتے ہیں… تب شور مچ جاتا ہے… اسلامی بنیاد پرستی، اسلامی
انتہا پسندی، اسلامی دہشت گردی…
آہ! میرے اللہ… اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت پر رحم فرما۔
آخر یہ کیا چاہتے ہیں؟
تھوڑا سا سوچیں کہ… ان غیر مسلموں نے ’’افغانستان‘‘ پر حملہ
کیا… حملہ صرف ایک شیخ اسامہ بن لادن کی خاطر… حملہ بھی معمولی نہیں… دنیا کے
چالیس ممالک اکٹھے ہو کر افغانستان پر ٹوٹ پڑے… ان سب کو معلوم تھا کہ شیخ کہاں
ہیں؟… مگر ڈیزی کٹر بموں کی کارپٹ بمباری پورے افغانستان پر ہو رہی تھی… وہاں کے
مسلمان اس بمباری سے قیمہ بن رہے تھے… تو کیا افغانی مسلمان سر جھکا کر مرتے
رہتے؟… آخر وہ بھی انسان ہیں، وہ بھی مسلمان ہیں… انہوں نے مقابلے کا فیصلہ کیا
تو فوراً ان کو انتہا پسند قرار د ے دیا گیا… عجیب بات ہے نا؟… کسی ملک پر وحشیانہ
حملہ کرنے والے ’’ انتہا پسند‘‘ نہیں… مگر خود اس ملک کے باسی اگر اپنے ملک کے
دفاع کے لئے کھڑے ہوں تو وہ انتہا پسند… آخر یہ کہاں کا انصاف ہے؟… اور کہاں کی
لغت؟
انڈیا کے فوجی روزانہ دس بیس کشمیری مسلمانوں کو بھون
ڈالیں… جو بھی احتجاج کے لئے نکلے اس پر گولی برسائیں… اگر بچے پتھر پھینکیں تو اس
کے جواب میں ان کا قتل عام کیاجائے… کیا کشمیری انسان نہیں ہیں؟… پھر جب وہ اپنے
دفاع کے لیے کھڑے ہوں تو ان کو انتہا پسند اور دہشت گرد قراردے دیا جائے… یہ کون
سا انصاف ہے؟
آج مسلمانوں کے کم از کم دس ممالک پر غیر ملکی فوجیں دن
رات بمباری کر رہی ہیں… یہ فوجیں جو کچھ کرتی رہیں وہ ٹھیک… اور اگر مسلمان ان کے
سامنے کھڑے ہو جائیں تو وہ انتہا پسند اور دہشت گرد؟… آخر یہ چاہتے کیا ہیں؟… اگر
ان کی خواہش ہے کہ… تمام مسلمان ’’برائلر مرغی‘‘ کی طرح ہو جائیں… یہ جس کو چاہیں
ذبح کریں اور مسلمان خوشی سے ذبح ہوتے جائیں… یہ دن رات ہمارے آقا حضرت محمدمدنی
صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخیاں کریں اور
سب مسلمان اس پر خوشی سے تالیاں بجائیں… یہ دن رات مسلمانوں کو ذلیل کریں اور
مسلمان خوشی سے ہر ذلت گوارہ کرتے جائیں… تو ساری دنیا سن لے کہ… کافروں کی یہ
خواہش کبھی پوری نہیں ہو سکتی… ہاں رب کعبہ کی قسم! یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہو
سکتی… ہاں رب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی
قسم! یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہو سکتی… تم جہاں بھی مسلمانوں پر حملہ کرو گے تمہیں
جواب ملے گا… تم جب بھی اسلامی مقدسات پر کیچڑ پھینکو گے تو تمہیں اپنے سامنے
اسلام کے سرفروش نظر آئیں گے… شاید یہی تکلیف تمہیں برداشت نہیں ہو رہی تو اب
مسلمانوں کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کی گالی دیتے ہو… اور ذلیل میراثیوں کی طرح
شور مچاتے ہو…مسلمانو! اللہ کے لئے، اللہ کے لئے سوشل میڈیا سے اپنا ایمان بچاؤ…
یہ خبیث میڈیا اگر اسی طرح تمہارے ذہنوں پر مسلط رہا تو یہ تمہیں مسلمان بھی نہیں
رہنے دے گا… تمہیں کیا ضرورت ہے کہ فیس بک پر جاتے ہو… ٹوئٹر پر اور واٹس ایپ پر
جا کر… اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخیاں سہتے ہو… چھوڑ کیوں نہیں دیتے ان
خبیث برائیوں کو… یقین کرو سوشل میڈیا کی طاقت صرف اسی وقت تک ہے جب تک تم اس پر
موجود ہو… اگر تم اسے چھوڑ دو تو یہ حقیر مکڑی کا جالا ہے۔
مثال ہمارے سامنے ہے… مردان کی یونیورسٹی میں قتل ہونے والا
نوجوان… آج سوشل میڈیا کا ہیرو ہے… لاکھوں کروڑوں افراد اس کے ساتھ ہیں… لیکن جب
وہ قتل ہو رہا تھا تو یہ میڈیا، اس کے فالورز اور اس کے لورز کہاں تھے؟… آپ فیس
بک پر بیٹھ کر جو دنیا دیکھ رہے ہو… اپنے گھر سے باہر گلی میں آپ کو اس دنیا کا
وجود نظر نہیں آئے گا… وہ جو اس میڈیا پر طاقت کے فرعون نظر آتے ہیں… جب گھر سے
باہر نکلتے ہیں تو کوئی عام آدمی ان کو پکڑ کر ان کی ایسی تیسی کر دیتا ہے… بس
فریب ہے فریب… دھوکہ ہے دھوکہ… نمازوں سے غفلت، مساجد سے دوری، اپنے اہل حقوق پر
ظلم… اور فیس بک کے چیمپئن… مسلمانو! کچھ تو سوچو! کچھ تو سوچو!
ایک بات سب کو ماننی ہو گی
اگر ’’انتہا پسندی‘‘ بری چیز ہے تو پھر… اسے ہر سطح پر ختم
کرنا ہو گا… یہ نہیں ہو سکتا کہ… ایک طرف تو انتہا پسندی اس عروج پر ہو کہ… اذان
تک برداشت نہ ہو ، مسواک تک کا مذاق اڑے… دینی تعلیم کو ناجائز قرار دیا جائے…
مساجد آنکھوں میں چبھیں، مدارس سے دل جلیں… اور داڑھی پگڑی تک کو دیکھ کر دل کے
وال بند ہونے لگیں… اور دوسری طرف یہ مطالبہ ہو کہ… مسلمانوں میں کوئی ’’انتہا
پسند‘‘ پیدا نہ ہو… جب تم اسلام کے خلاف ایسی خوفناک ’’انتہا پسندی‘‘ اُٹھاؤ گے
تو… مسلمانوں میں سے بھی ’’انتہا پسند‘‘ اُٹھیں گے… تم اسلام کے خلاف ’’انتہا
پسندی‘‘ بند کر دو… میں یقین سے کہتا ہوں کہ مسلمانوں میں سے ’’انتہا پسندی‘‘ خود
ختم ہو جائے گی… مسلمان حکمران اگر شرعی جہاد کو راستہ دے دیں تو کون پاگل مسلمان
فساد اور دہشت گردی کی طرف جائے گا… تم اگر یہودیوں کے لئے بنیامین نیتن یاہو …
اور ہندوؤں کے لئے ’’مودی‘‘ کو گوارہ کرتے ہو تو مسلمانوں کے لئے ملا محمد عمر
رحمہ اللہ ، ملا منصور رحمہ اللہ اور ملا ہیبت اللہ جیسے پڑھے لکھے ، روشن خیال
اور معتدل ’’علماء‘‘ کی حکمرانی برداشت کر لو… تم اگر دنیا بھر کی عیسائی مشنریز
کو گوارہ کرتے ہو تو مسلمانوں کے دینی مدارس کو بھی برداشت کر لو… تم اگر ملکہ
برطانیہ کی گستاخی کو ناجائز قرار دیتے ہو تو… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کے اڈے بھی بند کردو…تم اگر غیر مسلم
ممالک پر متحدہ بمباری نہیں کرتے ہو تو مسلمانوں کے ممالک پہ بھی بمباری بند کردو…
تم اگر مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کے عیسائیوں کو حق خود ارادیت دیتے ہو تو
کشمیریوں اور فلسطینیوں کو بھی حق خود ارادیت دے دو…تب دنیا میں امن قائم ہو جائے
گا…لیکن تم انتہاپسند مودی کو گلے لگاؤ اور ملا منصور پر بم گراؤ تو کیا اس سے
’’انتہا پسندی‘‘ ختم ہو جائے گی؟
ابھی تو مسلمانوں میں انتہا پسند بہت تھوڑے ہیں… اکثر تو حق
اور انصاف کی دفاعی جنگ لڑ رہے ہیں… لیکن اگر غیر مسلموں کی انتہاپسندی اسی طرح
بڑھتی رہی تو خطرہ ہے کہ …مسلمانوں میں بھی انتہا پسند زیادہ ہو جائیں گے… تب اس
’’خطۂ زمین‘‘ کا اکثر حصہ تباہ ہو جائے گا… ہمارا کام حق کی دعوت ہے… اس لئے ہم
تمام مسلمانوں کو ’’شرعی جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کی طرف بلاتے ہیں… اور فساد و انتہا
پسندی سے روکتے ہیں…
وَمَا عَلَیْنَا اِلَّا الْبَلَاغُ
لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ ،لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا پیارا مہینہ ’’رمضان المبارک‘‘ ہر سال آتا
ہے… اس اُمت پر’’اللہ تعالیٰ ‘‘کا یہ احسان ہے کہ…اسے اچھی نیت پر بھی’’ اجر‘‘
ملتا ہے… اسی لئے ’’رمضان المبارک ‘‘ کے آنے سے پہلے پہلےا ہم اس کے لئے بہت سی
اچھی اور پکّی نیّتیں باندھ لیا کریں۔
ترجیح کس کو؟
ہم دنیا میں رہتے ہیں… اور دنیا مسائل کی جگہ ہے… انسان کی
عمر جوں جوں بڑھتی جاتی ہے ’’دنیا‘‘ کے بارے میں اس کی’’ فکریں‘‘ بھی بڑھ جاتی
ہیں…خاندان ، اولاد، صحت، روزی اور بہت سے تفکرات… یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی انسان
دنیا کی فکروں سے مکمل نجات پا لے… مگر دو کام ممکن ہیں اور وہ ہمیں ضرور کرنے
چاہئیں… پہلا یہ کہ دنیا ہی کی فکروں کو مقصود نہ بنا لیں…اور دوسرا یہ کہ دنیا کی
فکروں کو مزید بڑھنے سے روکیں… اب میں بھی اپنے حالات پر غور کروں اور آپ بھی…
کہ…
١
ہمیں دنیا کی فکر زیادہ ہے یا آخرت کی؟
٢
دنیا کے بارے میں ہماری خواہشات اور فکریں بڑھتی تو نہیں جا رہیں؟
اکثر جب ہم مکمل یکسوئی کے ساتھ ان دو سوالات پر غور کرتے
ہیں تو نتیجہ افسوسناک اور خطرناک سامنے آتا ہے… جب نتیجہ یہ سامنے آتا ہے کہ…
ہم دنیا کی فکر کو آخرت کی فکر پر ترجیح دے رہے ہیں تو یقینی بات ہے کہ… ہم
گھاٹے، نقصان اور خسارے میں جا رہے ہیں اور اگر ہر آئے دن ہماری دنیوی فکریں
بڑھتی جا رہی ہیں تو… معاملہ اور زیادہ افسوسناک ہے… اب ہم کیا کریں؟ جواب یہ ہے
کہ نہایت درد کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں:
’’ یا اللہ! دنیا کی فکروں کو
ہمارا مقصود نہ بنا‘‘…
اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلِ الدُّنْیَا اَکْبَرَھَمِّنَا
وَلَامَبْلَغَ عِلْمِنَا وَلَاغَایَۃَ رَغْبَتِنَا۔
باربار یہ دعاء مانگیں کہ… ’’یا اللہ! ہمیں آخرت کی حقیقی
فکر عطاء فرما اور اس کی تیاری کی توفیق عطاء فرما اور ہماری دنیا کی فکروں کو کم
فرما، ختم فرما۔‘‘
دوسرا یہ کہ کبھی کبھار تنہائی میں بیٹھ کر… موت کو یاد کر
کے اپنی دنیا کے کچھ منصوبے ختم کیا کریں… یا کم کیا کریں…
تیسرا یہ کہ اگر محاذ پر نہ ہوں تو مسجد میں زیادہ سے زیادہ
وقت گزارہ کریں اور خواتین اپنے مصلّے پر… اور کچھ وقت خالص آخرت کی فکر والی
دعائیں مانگا کریں…حسن خاتمہ، اچھی موت، اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شوق… نزع کے وقت
کی آسانی… قبر کے عذاب سے حفاظت، حشر، پل صراط اور میزان پر رسوائی سے حفاظت
وغیرہ… اور چوتھا یہ کہ روز یہ دیکھا کریں کہ آج میں نے اپنی آخرت کے لئے کیا
کیا ہے؟ میں نے آگے کے لئے کیا بھیجا ہے؟
پس جو آخرت کی فکر کو دنیا کی فکر پر ترجیح دے گا وہ ان
شاء اللہ کامیاب ہو جائے گا۔
ایک اہم مسئلہ
اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ جو مانگا جائے وہ ملتا ہے… ہم
جب اللہ تعالیٰ سے آخرت کی فکر مانگیں گے تو ان شاء اللہ ہمیں یہ مبارک فکر ضرور
نصیب ہو گی… اور جس کو آخرت کی فکر نصیب ہو جاتی ہے اس کی دنیا کی فکریں کم ہونا
شروع ہو جاتی ہیں… اور اسے نیک اعمال کی زیادہ توفیق ملنے لگتی ہے… مگر اب شیطان
ایک پرانا وار کرتا ہے… یہ وار ہے ریاکاری کا وسوسہ… جیسے ہی کوئی نیک اعمال میں
لگا اسی وقت شیطان ملعون نے اسے ڈرانا شروع کر دیا کہ… تو ’’ریاکار‘‘ ہے، تو یہ سب
کچھ دکھاوے کے لئے کر رہا ہے… یہ وسوسہ اکثر انسانوں کی ہمت توڑ دیتا ہے… اس لئے
اس معاملے کو اچھی طرح سے سمجھ لیں…
١ ریاکاری کا وسوسہ ریاکاری نہیں ہے… اگر روزے دار کو
وسوسہ آئے کہ وہ شربت پی رہا ہے… بریانی کھا رہا ہے تو کیا اس کا روزہ ٹوٹ جائے
گا؟
٢
آپ کے عمل کا کسی کو پتا چلنا یہ بھی ’’ریاکاری‘‘ نہیں ہے… خود اللہ تعالیٰ قرآن
مجید میں فرماتے ہیں کہ تم اگر صدقات ظاہر کر کے دو تو یہ بہت اچھا ہے اور اگر
چھپا کر دو تووہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے… ظاہر نیکی کی برکت سے نیکی پھیلتی ہے
اور نیکی کا ماحول بنتا ہے… اس لئے بعض اوقات ظاہر نیکی چھپی ہوئی نیکی سے افضل ہو
جاتی ہے… جیسے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جب تبوک کا چندہ دے رہے تھے تو سب کچھ ظاہر تھا
اور اس سے قیامت تک کے مسلمانوں کو ہمت اور ترغیب ملی… اگر ہر نیکی چھپانا
ہی’’اخلاص‘‘ ہوتا تو پھر…ہمارے سامنے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین …
اور حضرات اسلاف رحمہم اللہ کی نیکیاں نہ
آتیں … بعض لوگ اس بارے میں بہت غلط راہ پر ہیں… اُن کے سامنے اگر کوئی بھی اپنی
نیکی بتا دے تو وہ یہ فیصلہ کر دیتے ہیں کہ بس یہ نیکی ضائع ہو گئی ، ختم ہو گئی…
اس میں ریاکاری ہو گئی… یہ دراصل اُن لوگوں کی اپنی شیطانی سوچ ہوتی ہے … جو بھی
اس سوچ میں مبتلا ہو … وہ اپنی اصلاح کی فکر کرے۔
٣
آپ کے کسی عمل پر اگر لوگ آپ کی تعریف کریں تو یہ بھی ریاکاری نہیں ہے… بلکہ یہ
اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی آزمائش ہے…جواپنی تعریف سن کر اسے اللہ تعالیٰ کا
فضل سمجھے وہ کامیاب ہے… جو یہ تعریف سن کر اپنی نیکیاں بڑھا دے وہ بھی اچھا ہے…
مگر جو یہ تعریف سن کر اسے اپنا کمال سمجھے اور تکبر میں مبتلا ہو وہ غلط ہے اور
بُرا ہے۔
٤
چھپا کر نیکی کرنا اچھی بات ہے لیکن اپنی ہر نیکی کو چھپانے کی زیادہ کوشش کرنا یہ
خطرناک ہے۔ آپ نیکی کریں اور پھر اس سے بے فکر ہو جائیں کہ وہ چھپی رہی یا ظاہر
ہوئی… مالک کی مرضی وہ جو معاملہ چاہے کرے۔
٥
آپ اگر ایک عمل ہر حال میں کرتے ہیں… خواہ کوئی دیکھ رہا ہو یا نہ دیکھ رہا ہو یہ
آپ کے اخلاص کی علامت ہے… اب کوئی لاکھ دیکھتا رہے تو اس کے دیکھنے سے
’’ریاکاری‘‘ نہیں ہو گی… مثلاً آپ کا معمول ہے کہ اشراق کے نوافل ادا کرتے ہیں…
اکیلے ہوں یا لوگوں کے درمیان… اب اگر کبھی زیادہ لوگوں کے درمیان اشراق ادا کرتے
ہوئے… شیطان ’’ریاکاری‘‘ سے ڈرائے تو ہرگز نہ ڈریں… کیونکہ اگر یہ لوگ موجود نہ
ہوتے تب بھی آپ نے اشراق ادا کرنی تھی۔
٦
اخلاص ایک ’’مخفی‘‘ چیز ہے… یہ اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان وہ راز ہے جو کسی
کو نظر نہیں آ سکتا … قرآن مجید میں سورۂ اخلاص موجود ہے… اس پوری سورۃ
میں’’اخلاص‘‘ کا لفظ نظر نہیں آتا… معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو اللہ تعالیٰ
ماننا اور اس کی رضا کے لئے عمل کرنا یہ اخلاص ہے… اس لئے کسی کو حق نہیں کہ وہ
کسی اورکو غیر مخلص اور ریاکار سمجھے… ریاکار صرف وہی ہے جو لوگوں کو دکھانے کے
لئے عمل کرتا ہو… یعنی جب لوگ دیکھ رہے ہوں تو عمل کرے اور جب نہ دیکھتے ہوں تو اس
عمل کے قریب بھی نہ آئے… ریاکار وہ ہے جو لوگوں کی خاطر عمل کرتا ہو…جیسا کہ
مدینہ کے منافقین تھےوہ نماز کو مانتے ہی نہیں تھے مگر خود کو مسلمان دکھانے کے
لئے نماز پڑھتے تھے۔
٧
ریاکاری سے حفاظت کا عظیم تحفہ… وہ دعاء ہے جو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ذریعے سے امت کو ملی… اس دعاء
کو جس قدر توجہ اور محبت سے پڑھا جائے اسی قدر شرک اور ریاکاری سے نفرت ہونے لگتی
ہے… اور اخلاص مضبوط ہو جاتا ہے …اور اس دعاء کو پڑھنے والے کے لئے ’’ریاکاری‘‘ کا
خطرہ ہی نہیں رہتا…
دعاء کا خلاصہ یہ ہے کہ… ’’یا اللہ! جان بوجھ کر شرک و
ریاکاری کرنے سے بچا لیجئے اورجو نادانی میں ہو جائے وہ معاف فرما دیجئے۔‘‘
معلوم ہوا کہ یہ بندہ… شرک سے انتہائی نفرت کرتا ہے… اور
ریاکاری بھی شرک کا حصہ ہے… اس لئے اہل علم فرماتے ہیں کہ… ہر مسلمان کو چاہیے کہ
یہ دعاء صبح شام تین بار ضرور پڑھا کرے اور کبھی ناغہ نہ کرے… تاکہ شرک و ریاکاری
سے ہمیشہ بچا رہے… دعاء یہ ہے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ اَنْ اُشْرِکَ بِکَ
شَیْئًا وَاَنَا اَعْلَمُ بِہٖ وَاَسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَا اَعْلَمُ بِہٖ
’’یا اللہ! میں آپ کی پناہ اور
حفاظت چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں جان بوجھ کر کسی چیز کو آپ کے ساتھ شریک کروں…
اور میں آپ سے معافی چاہتا ہوں اس کے بارے میںجو بغیر جان بوجھ کے ہو جائے۔‘‘
شھررمضان
الحمد للہ کئی سال کی تمنا اس سال… ان شاء اللہ پوری ہونے
کو ہے… رمضان المبارک کی ’’گرمیٔ عشق‘‘ اور’’ گرمیٔ بازار ‘‘ کو پانے کے لئے… ایک
کتاب تیار ہو چکی ہے… اور ان شاء اللہ بہت جلد آپ کے ہاتھوں میں ہو گی… بندہ نے
دو روز قبل اس کتاب کا مختصر تعارف لکھا ہے جو کہ یہاں پیش خدمت ہے۔
تعارف
اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہر’’حمد‘‘ ہر’’شکر‘‘ ہر’’ثنا‘‘ اور
ہر بڑائی ہے… اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
اَللّٰہُ اَکْبَرُ کَبِیْرًا، وَالْحَمْدُلِلہِ کَثِیْرًا،
وَسُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلًا
اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں …اس کتاب کا نام ہے’’شھر
رمضان‘‘…’’شھر‘‘ عربی زبان میں ’’مہینے‘‘ کو کہتے ہیں… اسلامی ،ہجری، قمری سال کے
بارہ مہینے ہوتے ہیں…ان میں سے نویں مہینے کا نام’’رمضان‘‘ ہے… اسلام کا ایک
محکم،بنیادی اورقطعی فریضہ اس مہینے میں ادا ہوتا ہے… اس فریضے کا نام’’صیام
رمضان‘‘…یعنی رمضان کے روزے۔
’’رمضان‘‘ کی فضیلت کچھ’’ظاہر‘‘ ہے
…اور کچھ ’’مخفی‘‘…اگر یہ فضیلت مکمل طور پر ظاہر ہو جائے تو ہر مسلمان کی خواہش
ہو کہ…پورا سال رمضان رہے… زندگی پوری’’رمضان‘‘ میں کٹے… اور موت تک کبھی’’رمضان‘‘
سے جدائی نہ ہو۔
’’رمضان‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے…اس
لفظ میں گرمی، حرارت، روشنی… اور جلانے، کوٹنے کا معنی چھپاہوا ہے…
اس لئے بعض حضرات نے فرمایا…
’’سُمِّیَ رَمَضَانَ لِأَنَّہٗ
یُرْمِضُ الذُّنُوْبَ اَیْ یُحَرِّقُھَا‘‘
’’رمضان‘‘ کو اس لئے رمضان کہتے
ہیں کہ یہ گناہوں کوجلا دیتا ہے۔‘‘
بعض نے فرمایا کہ…یہ ’’رَمْضُ الصَّائِمِ‘‘ سے ہے کہ روزے
کی وجہ سے روزہ دار کے معدے میں بھوک پیاس کی گرمی پیدا ہوتی ہے اور یہ گرمی اس کے
’’باطن‘‘ کو مضبوط کردیتی ہے…
بعض نے کہا کہ… رمضان میں انسانی دل حرارت،
روشنی اور گرمی پاتے ہیں…دلوں کی غفلت، سستی اور ٹھنڈک دور ہوجاتی ہے…
بعض نے فرمایا کہ…یہ ’’رَمَضْتُ النَّصْلَ‘‘ سے ہے… تیر اور
نیز ے کی دھار کو دو پتھروں کے درمیان کوٹ کر تیز کیا جاتا ہے…عرب کے
جنگجو’’رمضان‘‘ میں اپنے ہتھیار تیز کرتے تھے تاکہ… شوال میں خوب جم کر لڑائی کر
سکیں اور حرمت والے مہینے’’ذوالقعدہ‘‘ کے آنے سے پہلے اپنی جنگ نمٹادیں… رمضان
بھی ایک مؤمن کے ایمان کو ایسا تیز کردیتا ہے کہ پورا سال یہ ایمان درست رہتا ہے
او ر ٹھیک کام کرتا ہے… اس لئے وہ شخص تو ’’خسارے‘‘ کی انتہا پرہے جو ’’رمضان‘‘ کو
ضائع کردے…
خلاصہ یہ ہوا کہ رمضان میں گرمی ہے ،حرارت ہے،
روشنی ہے…ایک ضعیف قول یہ بھی ہے کہ رمضان اللہ تعالیٰ کا نام ہے… اس قول کی تائید
میں وہ حدیث پیش کی جاتی ہے… جس میں فرمایا گیا کہ… ’’رمضان نہ کہا کرو کیونکہ
’’رمضان‘‘ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے، بلکہ شھرِ رمضان کہا کرو یعنی
رمضان کا مہینہ۔‘‘ (بیہقی)
مگر اس حدیث کو حضرات محدثین نے ’’ضعیف‘‘ قرار دیا ہے…
چنانچہ وہ قول بھی ضعیف ہوگیا…اس لئے ہم وہی بات دوبارہ عرض کرتے ہیں کہ’’رمضان ‘‘
کے لفظ میں ’’گرمی‘‘ تشریف فرما ہے…’’گرم مہینہ‘‘…آپ تاجروں سے پوچھ لیں وہ زیادہ
نفع والے دن کہتے ہیں’’آج بازار گرم‘‘ ہے…جس دن کسی جگہ زیادہ رونق اور مجمع ہوتا
ہو اسے ’’گرم جوشی‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے… رمضان واقعی گرم مہینہ ہے…قرآن مجید
اس کانام لیتا ہے … اور بتاتا ہے کہ میں اسی میں نازل ہوا… اسی مہینے میں اللہ
تعالیٰ کی رحمت گرم جوشی سے اہل ایمان کوسینے سے لگاتی ہے … رمضان گرم مہینہ… ایک
ایک لمحہ… گرم ،قیمتی، حرارت بخش، روشن …اور پھر گرمی کا رمضان تو…سبحان اللہ… اس
کی گرمیٔ بازار کے کیا کہنے!۔
مؤمن کا ایک خاص ’’رنگ‘‘ ہوتا ہے… مؤمن اللہ تعالیٰ کے
رنگ میں’’رنگا‘‘ ہوتا ہے… گناہوں کی کثرت اس’’رنگ‘‘ کو پھیکا کر دیتی ہے …اور
اس’’رنگ‘‘پر’’ زنگ‘‘ کی میل جمادیتی ہے… گناہ کہتے ہیں اپنی ناجائز خواہشات کو
پورا کرنا … تب’’گرم رمضان‘‘ تشریف لاتا ہے … اس کی گرمی اور حرارت مؤمن کے
اصل’’رنگ‘‘ کو نکھاردیتی ہے… اور اس کے ’’رنگ‘‘پر جمے’’زنگ‘‘ کو دور کردیتی ہے…
کہاں وہ وقت کہ وہ ناجائز خواہشات پوری کررہا تھا… اور کہاں یہ وقت کہ وہ اپنے
محبوب کی خاطر جائز خواہشات کو بھی رو کے بیٹھا ہے…واقعی اگر’’رمضان‘‘نہ آئے تو اکثرلوگ
تباہ ہوجائیں… یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ…ہر سال ہماری صفائی،دھلائی،ترقی اور
چارجنگ کے لئے’’رمضان المبارک‘‘کو بھیج دیتے ہیں…مگر رمضان کافائدہ اُسی مسلمان کو
پہنچتا ہے جو…رمضان المبارک کی قدر کرے… اور اس کے فوائد کو حاصل کرنے کی کوشش
کرے…گذشتہ کئی سالوں سے…رمضان المبارک کے موقع پر اپنی اور اہل ایمان کی یاددہانی
کے لئے…کچھ باتیں عرض کی جاتی ہیں… کبھی مضمون کی صورت میں اور کبھی مکتوب کی شکل
میں…اب الحمدللہ ان’’باتوں ‘‘کو اختصار کے ساتھ کتابی صورت میں پیش کیا جارہا
ہے…عزیز مکرم مولانا عبیدالرحمن صاحب نے اس کام میں بھرپور تعاون کیا اور احادیث
بھی انہوں نے جمع کیں… اللہ تعالیٰ ان کو فیض تام عطاء فرمائے… اوربھی بعض رفقاء
کابہت گرمجوش تعاون رہا…اللہ تعالیٰ انہیں کامل جزائے خیر عطاء فرمائے…کتاب آپ کے
ہاتھوں میں ہے…رمضان المبارک بھی قریب ہے… بندہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت ورحمت کا
محتاج ہے…
آپ سب سے’’حسب سہولت‘‘ دعاء کی درخواست ہے۔
لاالہ الا اللّٰہ،لاالہ الا اللّٰہ،لاالہ الا اللّٰہ محمد
رسول اللّٰہ
اللہم صل علی سیدنا محمدوالہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا
کثیرا
لاالہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
۲۴ رجب ۱۴۳۸یوم السبت
22 اپریل 2017ء
٭٭٭
اللہ، اللہ، اللہ…کتنا پیارا نام ہے… مکہ، مکہ، مکہ…کتنا
میٹھا نام ہے مدینہ، مدینہ، مدینہ
دل تڑپ اُٹھا
ابھی ایک دو روز کی بات ہے…ایک ’’سائل‘‘ نے گھیر لیا…
بزرگوں نے سمجھایا ہے کہ پیشہ ور بھکاریوں کو کچھ دینا گناہ کا کام ہے… خصوصاً وہ
جو مساجد میں مانگتے ہیں… طرح طرح کے بھیس بدل کر… طرح طرح کے قصے سنا کر…یہ لوگ
نمازیوں کی نماز بھی خراب کرتے ہیں اور مساجد کے ماحول کو بھی…اہل علم فرماتے ہیں
کہ اُن کو بھیک نہیں دینی چاہیے…یہی مال کسی اچھے نیک کام میں لگادینا چاہیے…جس
’’سائل‘‘ نے مجھے گھیرا وہ بھی تمام علامات سے ’’پیشہ ور‘‘ لگتا تھا…جو ’’پیشہ
ور‘‘ نہ ہو وہ ضرورت پوری ہونے پر فوراً گھر چلا جاتا ہے… مگر یہ تو پوری ڈیوٹی
دیتے ہیں… سارا دن مانگتے ہیں اور ہمیشہ مانگتے ہیں…ان کے اندر جو مانگنے کا ذوق
ہے…وہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس طرح نصیب فرمائے کہ ہم اسی طرح اللہ تعالیٰ سے مانگنے
والے بن جائیں…
سارا دن مانگیں، ساری رات مانگیں، مانگ مانگ کر مانگیں…اور
ہمیشہ مانگتے ہی رہیں…صرف ایک اللہ تعالیٰ سے…صرف ایک اللہ تعالیٰ سے…یہ ذوق حضرت
سیّد احمد شہید رحمہ اللہ کو بہت زیادہ
حاصل تھا…وہ اللہ تعالیٰ کے پکے فقیر تھے… مانگنے سے نہ تھکتے تھے، نہ اُکتاتے
تھے…اسی لیے تھوڑی سی عمر میں اتنی لمبی ہمیشہ کی زندگی اور مزے پاگئے اور ابھی تک
اُن کے اعمال جاری ہیں، اُن کی نوکری جاری ہے… اور اُن کی ترقی جاری ہے…پھر ایک
اور بزرگ دیکھے … یہ ہمارے حضرت قاری عرفان صاحب رحمہ اللہ تھے…ان کو اللہ تعالیٰ سے مانگنے اور منوانے کا
ذوق اور طریقہ حاصل تھا…ہم لوگ تو بس دو چار بار ہی مانگ کر تھک جاتے ہیں…مایوس
ہونے لگتے ہیں اور طرح طرح کے وساوس میں پڑ جاتے ہیں…لیکن جن کو مانگنے کا مقام
معلوم ہوجائے…اور مانگنے کی لذت سے آشنا ہوجائیں وہ ایک ہی دعاء بغیر قبول ہوئے
اسّی سال تک …روزانہ سینکڑوں بار مانگنے سے بھی نہیں تھکتے…مجنوں، لیلیٰ کے پاس
بار بار جاتا تھا…روٹی یا کچھ اور مانگنے…اور ہر بار اس کی خواہش ہوتی تھی کہ
لیلیٰ نہ دے تاکہ وہ دوبارہ اس کے پاس مانگنے جاسکے…اسی مانگنے کے دوران اس کا
دیدار کرسکے…اس کے پاس بیٹھ سکے…اس کی منت سماجت کرسکے…اس سے باتیں کرسکے…دعاء
مانگنے والا اپنے محبوب اور کریم رب کے عرش کے نیچے پہنچ جاتا ہے…وہ اپنے محبوب رب
سے ہمکلام ہوتا ہے…وہ اس کے قرب کے مقام میں جا بیٹھتا ہے…اس ’’پیشہ ور‘‘ سائل نے
مجھے گھیر لیا…میں گاڑی میں بیٹھا تھا…میں نے سر جھکالیا تاکہ وہ چلا جائے…مگر وہ
پینترے بدل بدل کر دعائیں دیتا رہا…مگر میرا نظریہ پختہ تھا کہ اس کو نہیں
دینا…اچانک اس نے دعاء دی…’’اللہ تمہیں مدینے لے جائے‘‘…مدینہ کا لفظ سنتے ہی میرا
ہاتھ تیزی سے جیب کی طرف بڑھا…نوٹ نکالا اور اُسے دے دیا…ہاں! مدینہ کے نام پر
دھوکہ کھانا بھی مجھے اچھا لگا…اور مدینہ جانے کے شوق نے اور سب کچھ بھلادیا…ہائے
وہ دیکھو! میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم ’’مدینہ پاک‘‘ جارہے ہیں…دونوں پائوں
مبارک پھٹ چکے ہیں…پاک خون ان مبارک قدموں سے ٹپک ٹپک کر پتھروں کو رنگ رہا ہے…اور
صدیق اکبر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کو اپنے کندھے پر اُٹھا رہے ہیں…
ارے! مدینہ جانا کوئی معمولی بات ہے؟ ارے! مدینہ جانا کوئی چھوٹا کام ہے؟…
لوگ ’’پیرس‘‘ کو خوشبوئوں کا شہر کہتے ہیں … نادان کہیں
کے…’’مدینہ‘‘ کے تو نام سے ہی خوشبو آتی ہے اور سیدھی دل میں اُتر جاتی ہے … آپ
ابھی سانس کھینچیں…مدینہ، مدینہ، مدینہ… دل اور جان خوشبو سے بھرجاتے ہیں…اللہ،
اللہ، اللہ…کتنا پیارا نام ہے مکہ، مکہ، مکہ… کتنا میٹھا نام ہے مدینہ، مدینہ،
مدینہ۔
حج اور عمرے کے قافلے
’’حج بیت اللہ‘‘ اسلام کا ایک محکم
اور قطعی فریضہ ہے… اس لئے’’ حج بیت اللہ‘‘ کی دعوت دینا بھی عبادت ہے اور
مسلمانوں میں مکہ اور مدینہ کی محبت جگانا بھی… عبادت ہے… الحمدللہ گذشتہ سال حج
کے موضوع پر ایک دو کالم لکھے… اللہ تعالیٰ نے ان کو مسلمانوں میں مقبولیت عطا ء
فرمائی…ابھی ایک اور صاحب کا پیغام آیا کہ حج اور عمرے کی یاددہانی پر مزید لکھا
جائے … ہاں اُن کی بات ٹھیک ہے… مسلمانوں کے دلوں میں جب تک کعبۃ اللہ، حجر اسود،
مکہ اور مدینہ کی کشش رہتی ہے… اُن کا دل بہت سی غفلتوں اور بہت سی غلطیوں سے بچا
رہتا ہے…جب ان کے دل میں… کعبہ شریف، روضہ اقدس، حرم شریف اور مسجد نبوی کا شوق
اُبھرتا ہے تو …بہت سے فاصلے سمٹ جاتے ہیں… اس سال الحمدللہ سرکاری حج اسکیم میں
تین لاکھ سے زائد مسلمانوں نے… درخواستیں جمع کرائیں… پچاسی ہزار افراد کا نام نکل
آیا جبکہ باقی دل تھام کر رہ گئے… اب پرائیویٹ گروپوں میں داخلے شروع ہوں گے… ان
کی قیمت زیادہ ہوتی ہے…
آج کل کے مالدار مسلمانوں میں یہ غلطی عام ہے کہ… وہ اپنی
معمولی سی آرائشوں اور آسائشوں کے لئے مہنگائی پھیلادیتے ہیں… حالانکہ انہیں
ایسا نہیں کرنا چاہئے… مسلمانوں کے مالدار افراد ہمیشہ اس بات کی کوشش کرتے تھے
کہ… ان کے مال کی وجہ سے… غریبوں کا دل نہ دکھے اور نہ غریبوں پر بوجھ زیادہ ہو،
بہرحال پرائیویٹ داخلے بھی پورے ہو جائیں گے… پھر کئی مسلمان اور طریقوں اور ویزوں
کے ذریعہ حرمین شریفین تک پہنچنے کی کوشش جاری رکھیں گے… حرم شریف کا عشق واقعی
بہت عجیب ہے… مجھے یاد ہے کہ ایک بار کراچی میں ہمارے حج ویزے بند ہو گئے تو …
ہمارے بزرگ تڑپ اُٹھے…یوں لگتا تھا کہ غم سے جان نکل جائے گی…حضرت مفتی جمیل خان
صاحب شہید رحمہ اللہ صبح سے نکلتے اور رات تک کوشش میں لگے رہتے… ذوالحجہ کا مہینہ
شروع ہوچکا تھا… آخری حج فلائٹ سات ذوالحجہ کو جانی تھی … پانچ تاریخ تک ہر کوشش
ناکام ہوگئی…مگر کسی نے نہ دعاء روکی، نہ شوق کم ہونے دیا اور نہ محنت میں کمی
کی…چھ تاریخ دوپہر کے وقت اللہ تعالیٰ نے شوق کے آنسوؤں کو…قبولیت دے دی… اچانک
سعودی قونصلیٹ اپنی کرسی سے اُٹھا اور اس نے چالیس ویزے جاری کردئیے…یوں لگا کہ
عید پر عید آگئی، کوئی شاپر میں دوجوڑے رکھ کر بھاگا تو کوئی بغیر سامان ہی
دوڑپڑا اور بالآخر سات ذوالحجہ کو یہ قافلہ کعبۃ اللہ کے سامنے کھڑا… تشکر کے
آنسو بہارہا تھا… بے شک اچھی چیز کا شوق… بے حد طاقتور روحانی نسخہ ہے… یہ ناممکن
کو ممکن بنادیتا ہے…
مسلمانو! اپنے دل سے موبائل کا شوق نکالو…ویڈیو اور تصویر
کاشوق نکالو… یورپ امریکہ کا شوق نکالو…وہاں کچھ نہیں ہے،وہاں کچھ نہیں ہے… ارے!
اپنے دل میں مکہ مکرمہ کا شوق بھرو… اللہ کی قسم! وہاں بہت کچھ ہے… وہاں سب کچھ
ہے…اپنے دل میں مدینہ منورہ کا شوق بھرو رب کعبہ کی قسم وہاں بہت کچھ ہے…وہاں بہت
کچھ ہے…ہم نے تو مکہ اور مدینہ کے لئے کوئی قربانی نہیں دی… حضرات صحابہ کرام
رضوان اللہ علیہم اجمعین سے پوچھو کہ… مکہ
کیا ہے؟ مدینہ کیا ہے؟
مکہ اور مدینہ تو بڑی چیز… جس دل میں مکہ اور مدینہ کا عشق
اور شوق سچائی کے ساتھ اتر جائے… وہ دل بھی قیمتی اور خوشبودار ہوجاتا ہے… پاک اور
طاقتور ہوجاتا ہے…اے حجاج کرام! مکہ اور مدینہ جانے سے پہلے… مکہ اور مدینہ کو
سمجھ کر جانا… اے عمرہ کے قافلو!… وہاں کی فضائوں کو ہم غریبوں کا سلام کہنا اور
بتانا کہ تمہارے عاشق اور قدردان صرف وہی نہیں جو یہاں آگئے… اور بھی بہت سے
تمہارے سچے عاشق ہیں… وہ تو اپنی جان پر چل کربھی آنے کو تیار ہیں… مگر نہیں
آسکتے، مگر نہیں آسکتے…اللہ، اللہ ، اللہ… کتنا پیارا نام ہے مکہ، مکہ ، مکہ…
کتنا میٹھا نام ہے مدینہ، مدینہ، مدینہ۔
مجاہد کا مقام
مکہ اور مدینہ… ہر
مسلمان کوہجرت اور جہاد کی یاد دہانی کراتے ہیں… مشرکین نے مکہ کو جب مکہ نہ رہنے
دیا تو ایمان نے مکہ سے ہجرت کی… مدینہ نے ایمان کو گھر دیا… اس لیے مدینہ دار
الایمان تھا اور آج بھی دارالایمان ہے… ایمان نے مدینہ میںجہاد کو پایا… اور پھر
جہاد کی اس سواری پرایمان مکہ کو لوٹا اور مکہ کو دوبارہ مکہ بنادیا… اور پھر
ایمان جہاد کی سواری پر… ساری دنیا کو مکہ اور مدینہ سے جوڑنے کے لیے… چلتا گیا
چلتا گیا… یوں ہر مسلمان کے لیے کامیابی کا ایک واضح نصاب سامنے آگیا… مکہ ،
مدینہ، ہجرت، جہاد… اور پانچویں چیز نصرت…
سورۂ انفال کے آخر میں غور فرمالیجیے…دل باغ باغ ہوجائے
گا… اب ایک مومن کو اپنے دل میں جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ… اس میں مکہ، مدینہ،
ہجرت، جہاد اور نصرت ہے یانہیں؟ اگر موجود ہے تو الحمد للہ، الحمدللہ… اور اگر
کوئی کمی ہے تو بڑے خطرے کی بات ہے…استغفر اللہ، استغفراللہ… اسی طرح ہر مومن کو
اپنے اعمال نامے میں جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ… اس میں مکہ، مدینہ،ہجرت، جہاد اور
نصرت ہے یانہیں ؟
اب آئیے! اصل بات کی طرف!… وہ ہے دل کا شوق، دل کا ذوق…
کیا ہمارے دل کا شوق… مکہ، مدینہ، ہجرت، جہاد اور نصرت سے جڑا ہوا ہے یا نہیں؟
جڑا ہو ا ہے تو بہت مبارک، صد مبارک… محاذوں والے مجاہدین
کو ہم نے دیکھا ہے کہ ان کی روح مکہ ، مدینہ میں ہوتی ہے… ان کو اگر جنگ چھوڑ کر
مکہ ، مدینہ جانے کا کہاجائے تو آنسوؤں سے چمکتی آنکھوں کے ساتھ… سرجھکالیتے
ہیں اور جنگ کے میدان سے نہیں ہٹتے… اور بالآخر شہادت کے بعد… ان کو آخرت کے اس
مقام کی نیشنلٹی اور شہریت مل جاتی ہے جو زمزم اور جبل اُحد کے ساتھ جڑا ہوتا
ہے…تب ان کی روحیں مکہ کی سیر کرتی ہیں اور مدینہ کے مزے لوٹتی ہیں… اور ان کا مکہ
اور مدینہ جنت تک پھیل جاتا ہے… یا اللہ!نااہل سہی پھر بھی… مقبول شہادت کا سوال
ہے…
اللہ اللہ اللہ… کتنا پیارا نام ہے مکہ، مکہ، مکہ… کتنا
میٹھا نام ہے مدینہ، مدینہ، مدینہ۔
لا الٰہ الا اللّٰہ… لا الٰہ الا اللّٰہ… لا الٰہ الا
اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
اللھم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے’’ قرب‘‘ کو پانے کا بہترین طریقہ…دورکعت
نماز
اللہ تعالیٰ کی ’’محبت‘‘پانے کا آسان ذریعہ …
دو رکعت نماز
اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجات پوری کرانے کا مؤثر
راستہ …دو رکعت نماز
اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہ معاف کرانے کا شاندار
نسخہ …دو رکعت نماز
اللہ تعالیٰ کی جنت کوپانے کامضبوط وسیلہ … دورکعت نماز
بھائیو!اور بہنو!… دو رکعت نماز بڑی طاقت ہے … دو رکعت نماز
بڑی دولت ہے … دو رکعت نماز عظیم نعمت ہے…کاش! مجھے اور آپ کو دو رکعت نماز کا
’’ذوق ‘‘نصیب ہوجائے … تب ہرکام آسان ،ہر منزل آسان…کاش! مجھے اور آپ کو دو
رکعت نماز کی حقیقت معلوم ہوجائے … اور اس بارے میں ہمارے اندر جو شیطانی سستی ہے
وہ دور ہوجائے تو پھر … ان شاء اللہ دنیا بھی آسانـ، آخرت بھی آسان … سجدے کے
دشمن شیطان کو دو رکعت نماز سے بہت تکلیف پہنچتی ہے …کیونکہ دو رکعت نماز میں چار
سجد ے ہوتے ہیں اوریہ سجد ے انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کردیتے ہیں … جی ہاں !
اتنا قریب کہ وہاں تک شیطان کی پہنچ نہیں ہوتی … اس لئے شیطان ہمیشہ
انسانوںکو’’دورکعت‘‘ ـ سے دور رکھنے کی محنت میں لگا رہتا ہے … وہ انسان کی کمر
میں تالے لگاتا ہے کیونکہ اس کو معلوم ہے کہ جس انسان کو ’’دو رکعت ‘‘کا ذوق نصیب
ہوجائے وہ کامیابی کی بڑی بڑی منزلیں پالیتاہے…
پہلے ایک تحفہ
دورکعت کے موضوع پر بات آگے بڑھانے سے پہلے ایک شاندار
تحفہ قبول فرمائیں … کئی لوگ ’’اسم اعظم ‘‘کی تلاش میں رہتے ہیں …یعنی اللہ تعالیٰ
کا وہ نام جس کے ذریعے جو دعاء مانگی جائے وہ قبول ہوجاتی ہے … ’’اسم اعظم‘‘کے
بارے میں طرح طرح کے اقوال ہیں …اور طرح طرح کے ذوق … سچی بات یہ ہے کہ اللہ
تعالیٰ کا ہر نام ہی ’’اسم اعظم‘‘ہے… بس دل کے ایمان ، دل کے اخلاص اور دل کی محبت
کو ساتھ ملانا ضروری ہوتا ہے … اور اس میں بھی شک نہیں کہ …بعض کلمات،بعض اسماء
اور بعض دعاؤں میں بڑی زوردار تاثیر ہوتی ہے …اور یہ بھی غور کرنے کی بات ہے
کہ…حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’دو
رکعت ‘‘نماز کے جو فضائل ارشاد فرمائے ہیں … اور جس طرح سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ’’دو رکعت ‘‘نماز کا ذوق اپنی اُمت میں
اُبھارا ہے … اور جس طرح سے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے’’دو رکعت ‘‘کے فوائد حاصل فرمائے ہیں … اسے
دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ … اللہ تعالیٰ کی خالص رضاکے لئے دو رکعت نماز ادا
کرنا بھی ’’اسمِ اعظم‘‘ کی تاثیر رکھتا ہے… بہرحال ’’اسم اعظم‘‘کی بحث بہت طویل
اور بہت لذیذہے …اگر اس بحث کی کچھ تفصیل دیکھنی ہو تو بندہ کی کتاب’’لطف اللطیف‘‘میں
ملاحظہ فرمالیں … آج جو تحفہ پیش کرنا ہے وہ چار دعائیں ہیں … جو بہت آسان بھی
ہیں اور پرکیف بھی … اور ان کے بارے میں کئی مفسرین اور اہل علم نے فرمایاہے کہ …
یہ دعائیں ’’اسم اعظم‘‘کی تاثیر رکھتی ہیں … ان چاروں دعاؤں کو یاد کرلیجئے…
یااپنے پاس لکھ کر رکھ لیجئے …اور جب بھی کوئی جائز حاجت ہوتو ان دعاؤں کوپڑھ کر
اللہ تعالیٰ سے وہ حاجت مانگ لیجئے اور ساتھ درود شریف پڑھ لیجئے… آج تو چونکہ
’’دو رکعت‘‘کا موضوع چل رہا ہے تو ان چاروں دعاؤں کو پڑھ کر …ہم سب اللہ تعالیٰ
سے ’’دورکعت ‘‘کا سوال کر لیں کہ … اللہ تعالیٰ ہمیں دو رکعت کا ذوق عطاء فرمادے …
ہمیں دو رکعت کی قدر وقیمت سمجھا دے … ہمیں دو رکعت کی یہ طاقت ،نعمت اور قوت
مستقل نصیب فرمادے …وہ چار دعائیں یہ ہیں:
١ یَااِلٰھَنَا
وَاِلٰہَ کُلِّ شَیْئٍ اِلٰھًا وَّاحِدًا لَآاِلٰہَ اِلَّااَنْتَ ۔
’’اے ہمارے الٰہ اور ہرچیز کے الٰہ
ایک ہی الٰہ آپ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘
بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ … حضرت سیّدنا سلیمان علیہ السلام کے وزیر حضرت آصف بن برخیا رضی اللہ عنہ کے پاس
یہ کلمات تھے اور انہی کے ذریعے انہوں نے بلقیس کاتخت پلک جھپکتے اُٹھوا لیا تھا۔
(واللہ اعلم بالصواب)
٢ اَللّٰہُ،اَللّٰہُ،اَللّٰہُ
الَّذِیْ لَآاِلٰہَ اِلَّاہُوَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۔
’’اللہ ،اللہ ،اللہ جس کے سوا کوئی
معبود نہیں وہ عظیم عرش کا رب ہے ۔‘‘
یہ دعاء اہل بیت کی معروف شخصیت حضرت زین العابدین رحمہ اللہ سے منقول ہے۔
٣ اَللّٰھُمَّ
اِنِّیْ اَسْئَلُکَ بِانَّکَ مَلِکٌ وَاَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ
وَمَاتَشَآئُ مِنْ اَمْرٍ یَکُوْنُ ۔
’’یااللہ! میں آپ سے سوال کرتا
ہوں بے شک آپ بادشاہ ہیں اور آپ ہر چیز پر قادر ہیں اور جو کام آپ چاہتے ہیں
وہی ہوتا ہے ۔‘‘
یہ دعاء سیّدالتابعین حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے منقول ہے۔
٤ یَابَدِیْعَ
السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یَا ذَاالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ۔
’’اے آسمان و زمین کے موجد! اے
جلال و اکرام والے۔
یہ دعاء حضر ت سری سقطی رحمہ اللہ سے منقول ہے۔‘‘
’’دورکعت‘‘ پر غور فرمائیں
دورکعت پر کبھی غور فرمائیں کہ اس میں کتنے بڑے بڑے خزانے
چھپے ہیں …چار سجدے، سبحان اللہ … دو رکوع ،سبحان اللہ … دو قیام ، سبحان اللہ …
دوبار سورۂ فاتحہ ،سبحان اللہ … دوبار قرآن مجید کی تلاوت،سبحان اللہ …ایک
تشہد،ایک درود شریف …پانچ سلام … تکبیر تحریمہ، اللہ اکبر سے لے کر آخر تک
باربار’’ اللہ اکبر،اللہ اکبر‘‘…کئی بار تسبیح ،کئی بار تحمید … ثنا …آخر کی دعاء
اور التحیات کے والہانہ کلمات … اَلتَّحِیَّاتُ لِلہِ وَالصَّلَوٰتُ
وَالطَّیِّبَاتُ… یااللہ! میرا سب کچھ آپ کا ہے… قولی عبادت بھی آپ کے لئے فعلی
عبادت بھی آپ کے لئے …مالی عبادت بھی آپ کے لئے …
انسان اگر دورکعت نماز پر … اللہ اکبر سے سلام تک باریکی سے
غور کرے تو پھر وہ ان دو رکعتوں کا اسی طرح دیوانہ عاشق ہوجائے جس طرح حضرات صحابہ
کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ہمارے
اسلاف تھے …ان دو رکعتوں سے پہلے طہارت ہے … محبوب کے لئے شاندار تیاری …پاکی ہی
پاکی … مسواک سے لے کر خلال تک …سبحان اللہ … سوچ کر وجد طاری ہوجاتا ہے … کون
اپنے محبوب کے لئے اس طرح تیاری کرتا ہوگا…دل بھی پاک، اعضاء بھی پاک اورپھر رخ
بھی سیدھا … یعنی موٹر وے پر آگئے … قبلہ رخ ہوکر سیدھی طرف پہنچ گئے …اور
پھر’’اللہ اکبر‘‘کا نعرہ اور پرواز شروع … اُڑتے جارہے ہیں، اُڑتے جا رہے … اور
بالآخر سجدے میں گرے اور عرش کے نیچے جا پہنچے …
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ
الْعَظِیْمِ۔
دو رکعت کی بلندیاں
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی سیر کے دوران … وہاں حضرت سیّدنا بلال
رضی اللہ عنہ کے قدموں کی چاپ سنی … واپس
تشریف لاکر پوچھا کہ کونسا ایسا عمل کرتے ہو کہ اتنی اونچی پرواز ہے … عرض کیا… ہر
وضو کے بعد دو رکعت … اللہ ،اللہ ،اللہ… ہم مسلمان صرف اسی ایک سچی پکی روایت پر
غور کریں تو ’’دو رکعت‘‘کی بلند ی کو سمجھ لیں … حضرت بلال رضی اللہ عنہ کوئی
معمولی انسان نہیں تھے … وہ تو سعادتوں کے بادشاہ تھے… میں جب بھی اُن کے بارے میں
سوچتا ہوں … بہت دور تک گم سم ہوجاتاہوں … کونسی سعادت تھی جو بلال کے قدموں میں
نہ تھی … کونسا عمل تھا جو’’ بلال جی ‘‘کے نامہ اعمال میں نہ تھا …غور کریں تو
حیران رہ جائیں … مگر وہ فرماتے ہیں کہ جنت میں اتنے اونچے اور پیشگی مقام کا سبب
… دو رکعت ہے … ہاں بیشک!دورکعت میں جو بندگی ہے،جوعاجزی ہے …جو محبت ہے
،جووفاداری ہے…اسے حضرت بلال رضی اللہ عنہ جیسے اولیاء اور اہل کشف کے امام ہی
سمجھ سکتے ہیں… دورکعت میں جو طاقت ہے اسے حضرت سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ جیسے
روشن خیال اور صاحب علم جلیل القدرخادم رسول ہی سمجھ سکتے ہیں… یااللہ ! حضرت
سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ پر آپ نے جو’’
فضل عظیم‘‘فرمایااس کے صدقے مجھے بھی دورکعت کا ذوق عطاء فرما دیجئے۔
دورکعت کی طاقت
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’جومسلمان وضوکرے اور وضو اچھی
طرح کرے پھر کھڑے ہوکر دو رکعت نماز ادا کرے ان دو رکعتوں میں اپنا دل متوجہ رکھے
(یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کے ساتھ ادا کرے)تواس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے۔‘‘
(صحیح مسلم )
دوسری روایت میں وضوکا طریقہ سکھا کر ارشاد فرمایا:
’’جومیرے اس وضوکی طرح وضو کرے پھر
دو رکعت نماز ادا کرے اوراس میں دوسرے خیالات دل میں نہ لائے تو اس کے پچھلے تمام
گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔‘‘ (بخاری ،مسلم)
ان دو روایات پر غور فرمائیں …یہ دو رکعت نفل کا مقام ہے
اور دورکعت نفل کی عظیم الشان قیمت…جنت کا واجب ہونا… اور گناہوں کا معاف ہونایہ
دو بہت بھاری نعمتیں ہیں …معلوم ہوا کہ…دو رکعت نماز بہت طاقتور عمل ہے … جب یہ
انسان کو جنت تک پہنچا سکتا ہے تو پھر باقی حاجات تو بہت چھوٹی اور بہت قریب کی
ہیں … اسی لئے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ہمارے اسلاف دو رکعت نماز کی طرف یوں لپکتے
تھے جس طرح شیر خواربچہ بھوک کے وقت دودھ کی طرف لپکتا ہے … مسجد میں داخل ہوئے
تودورکعت …وضوکیا تو دو رکعت… کسی کے ہاں مہمان بنے تو دو رکعت … راہ چلتے مسجد
نظر آگئی تو سفر روک کردو رکعت … جہاد پر جانے لگے تو دو رکعت … واپس لوٹ کر آئے
تو گھر جانے سے پہلے دو رکعت… کوئی معاملہ پیش آیا تو دو رکعت …موسم کے تیوربگڑے
تو دو رکعت … چاند و سورج پر گرہن آیاتو دو رکعت …کوئی خوشی ملی تو دو رکعت …
کوئی صدمہ پہنچا تو دو رکعت… کوئی نعمت آئی تو دو رکعت… کوئی مصیبت آئی تو دو
رکعت … کوئی حاجت آئی تو دو رکعت … کوئی ترددآیا تو دورکعت …دراصل یہ حضرات …
اللہ تعالیٰ کی محبت اور یار ی میں ڈوبے ہوئے تھے… اور ’’دورکعت ‘‘نماز اُن کی اُن
کے یار سے ملاقات اور بات چیت کراتی تھی … اسی لئے وہ’’دورکعت‘‘کے عاشق بن چکے تھے
… یااللہ!ہمیں بھی اس سچی اور پاکیزہ یاری کاایک مقبول قطرہ نصیب فرما۔
دورکعت کے انوارات
چند ہفتے پہلے جب میں نے ’’دورکعت‘‘نماز پر کالم لکھنے کا
ارادہ کیا تو اس وقت سرسری طور پر دو رکعت کے فضائل پر ایک نظر ڈالی تھی … اس
سرسری مطالعہ کے اشارات ایک کاغذ پر لکھ لئے تھے آج اگر وہی اشارا ت ہی لکھ دوں
تو مزید کئی صفحات کا مواد بن جائے گا … جبکہ مقصدتفصیل نہیں بلکہ صرف مسلمانوں کو
اس موضوع کی طرف متوجہ کرنا ہے …
چند اشارات ملاحظہ فرمائیں …
فجر کی دورکعت سنتوں پر کئی احادیث و روایات موجود ہیں ۔
تہجدکی دورکعت نماز پر والہانہ فضائل موجود ہیں۔
فجر کی نماز کے بعد اپنی جگہ بیٹھ کر ذکر اذکار
میں لگے رہنے اور اشراق کے وقت دو رکعت ادا کرنے پر ایک حج اور ایک عمرے کے اجر کا
وعدہ مذکور ہے اور فرمایا کہ تامہ،تامہ،تامہ…یعنی مکمل حج اور مکمل عمرے کا اجر
لکھا جاتا ہے۔
مسلمان سے کوئی گناہ ہوجائے… تو فرمایا کہ دو رکعت نماز ادا
کرکے معافی مانگے… تو مغفرت کا وعدہ ہے۔
مسلمان کو اللہ تعالیٰ سے یا اس کے بندوں سے کوئی حاجت پیش
آجائے تو فرمایا کہ دو رکعت نماز ادا کرے اور پھر دعاء بھی سکھا دی گئی۔
استخارہ کی دو رکعت تو ایک بڑی اور جامع نعمت ہے
… رنگ و نور کے کئی مضامین میں آپ استخارہ کی فضیلت اور مقام پڑھ چکے ہیں ۔
ایک صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنت میں مرافقت کی دعاء کی درخواست کی … آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء فرمائی اور
ساتھ یہ فرمایا کہ زیادہ سجدوں کے ذریعے میری دعاء کو طاقتور بناتے رہنا۔
خلاصہ یہ کہ …دو رکعت نماز ایک مؤمن کے لئے دنیا و آخرت
کی ہر نعمت اللہ تعالیٰ سے پانے کا بہترین ذریعہ ہے … اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ’’
نعمت‘‘ عطاء فرمائے …آمین یا ارحم الراحمین
لاالہ الااللّٰہ ،لاالہ الااللّٰہ،لاالہ الااللّٰہ محمد
رسول اللّٰہ
اللھم صل علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لاالہ الااللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہمیں دن رات’’عبرت‘‘کے نمونے دکھاتے ہیں۔
ملک شام کی معروف ’’اداکارہ‘‘کاانتقال ہوگیا … اس کے بارے
میں کہا جاتا تھا کہ لاکھوں دلوں پر راج کرتی ہے … کسی نے لکھا کہ وہ لاکھوں دلوں
کی دھڑکن تھی … لوگ اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے اُمڈپڑتے تھے …مگر جب مرگئی تو
جنازے میں کل نو افراد شریک تھے … وہ ساری زندگی جن کے لئے ناچتی رہی،گاتی رہی ،
فلمیں بناتی رہی وہ جنازے تک میں نہ آئے … کیوں آتے؟ کیاکرنے آتے؟وہ تو مرچکی
تھی …
’’اللہ تعالیٰ برے انجام سے ہم سب
کی حفاظت فرمائے۔‘‘
بعض لوگ ہر آئے دن کے ساتھ اپنی قدر کھوتے چلے جاتے ہیں …
اور بعض لوگوں کی ’’قدر‘‘ مرتے دم تک بڑھتی چلی جاتی ہے … فنکار،کھلاڑی ،سیاستدان
،عہدے دار اور گلوکار اکثر وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ’’بے قدر‘‘ ہوتے چلے جاتے
ہیں…آخر کیوں؟جبکہ اللہ والے،علم والے، دین والے،جہاد والے… ان کی قدر ومنزلت ہر
آئے د ن بڑھتی چلی جاتی ہے … آخر کیوں؟
اگر کبھی اللہ تعالیٰ توفیق دے تو اس راز … اور اس’’ کیوں
‘‘پر ضرور غور فرمائیں…
تب آپ کو دو راز
معلوم ہوجائیں گے…
١ جو
دنیا میں اپنی قدر کروانے کی فکر نہیں کرتے … اُنہی کی قدر بڑھتی ہے۔
٢ جو
دنیا میں اللہ تعالیٰ کی حقیقی نعمتوں کی قدر کرتے ہیں …اُن کی قدر بڑھتی چلی جاتی
ہے۔
نئی کھیپ
کافروں کی ہربات اچھی ہے …مسلمانوں کی ہر بات بری
ہے…مسلمانوں کی عزت کافروں کی تعلیم ،کافروں کی پیروی اور کافروں کی غلامی میں
ہے…مسلمانوں کو آگے بڑھنا ہے تو انہیںمغرب کی ہر چیز کو اپنانا ہو گا…غیرت کے نام
سے نفرت کرو…بے غیرتی کو ہر گھر میں داخل کرو…ہر گناہ کی وکالت کرو،ہر نیکی کے
خلاف ڈٹ جاؤ… مسجد، مدرسہ، مولوی اور مجاہد کے خلاف دن رات محنت کرو… بدکاری ،بے
حیائی اور فحاشی کو مسلمانوں کی ہر گلی اور ہر کوچے تک پھیلادو…یہ ہے بعض لوگوں کا
کھلا منشور … آپ ان لوگوں کو کوئی بھی نام دے سکتے ہیں … ویسے قرآن مجید میں
ایسے افراد کو ’’منافقین ‘‘ کا لقب دیاگیا ہے…مگر یہ خود کو دانشور بھی کہتے ہیں …
اورسماجی کارکن بھی… کبھی کبھار یہ اپنا نام ’’روشن خیال ‘ـ‘ بھی رکھ لیتے ہیں
…اورکبھی انسانی حقوق کے علمبردار …پاکستان میں اس طبقے کے پرانے لوگ اب بڈھے اور
بوسیدہ ہوتے جارہے ہیں … نہ پہلے سی چمک نہ پرانی دمک… اب کون عاصمہ جہانگیر کے
ساتھ بیٹھنا پسند کرتا ہے…اور کون نجم سیٹھی کی سنتا ہے… اس طبقے کی ایک بڑی صفت
مال کی حرص ہے … اور یہ جوں جوں بڈھے ہوتے جاتے ہیں ان کی یہ حرص بھی بڑھتی چلی
جاتی ہے … مگر بڈھوں پر مال کون لگائے؟…چنانچہ اب پاکستان میں ان ’’حیوانوں‘‘ کی
ایک نئی نسل تیار کی جارہی ہے … ان میں سے بعض پاکستان میں لانچ بھی ہوچکے ہیں…
اہم نام ’’جبران ناصر‘‘کا ہے… سرتاپا غلاظت،خباثت اور منافقت کا ایک مجموعہ…
ادھر’’ ملالہ ڈالر زئی‘‘کو پاکستان کے اگلے حکمران کے طور پر تیار کیا جارہا ہے…
مجھے ان سب کو دیکھ کر کافروں کی بے عقلی پرہنسی آتی ہے… ارے کن بے کار پرزوں پر
اپنا مال لٹا رہے ہو … یہ اب تک کیا کرسکے ؟اور آگے کیا کرلیں گے؟ … الحمدللہ
پاکستان میں دین بھی بڑھ رہاہے اور دینی غیرت بھی …مساجد بھی بڑھ رہی ہیں اور
مدارس بھی … جہاد بھی بڑھ رہا ہے اور مجاہد بھی…اور تمہارے لئے سب سے افسوسناک بات
یہ کہ… جس’’عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘کو مٹانے کے لئے تم ان ’’بے رنگ لفافوں
‘‘پر کروڑوں ڈالر لٹا رہے ہو… وہ’’عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ہر طرف ٹھاٹھیں ماررہا ہے…
مردان کے واقعہ پرحکمرانوں نے بے شرمی اور تشدد کی انتہا کردی… ان کا خیال تھا کہ
ہم قوم کو … ایساڈرادیں گے کہ آئندہ کوئی ’’ناموس رسالت‘‘کا نام تک نہیں لے گا …
سینکڑوں افرادکو گرفتار کیا گیا … درجنوں افراد کو مار مار کر معذور کردیا
گیا…اسلامی پختون معاشرے کو پامال کرنے کے لئے چھاپوں کے دوران چادر اور چارد
یواری کے تقدس کو روندا گیا … مگر نتیجہ کیا نکلا؟نتیجہ یہ نکلا کہ چترال جیسے
ٹھنڈے علاقے میں ہزاروں مسلمان ناموس رسالت کے لئے نکل کھڑے ہوئے … مسجدکا مولوی
اس شخص کو بچاتا رہا جس پر گستاخی کا الزام تھا… جبکہ عام مسلمان اسے قتل کرنے کے
لئے پولیس کی لاٹھیوں اور شیلنگ کے درمیان آگے بڑھتے رہے اور کئی دن تک سڑکوں پر
رہے … پھر سیالکوٹ میں مسلمان عورتیں میدان میں اُتر آئیں… پھر بلوچستان میں
ہزاروں مسلمان دیوانہ وار سرپر کفن باندھ کر نکل آئے … ارے ظالمو!تم کیا سمجھو کہ
عشق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا چیز ہے؟…
تم خواہ مخواہ جبران ناصر ،ملالہ ڈالر زئی،عاصمہ جہانگیرجیسے لوگوں پر اپنا سرمایہ
ضائع کررہے ہو… تم یہی پیسہ اپنے گھر کے کتوں کو کھلا دیا کرو تو وہ تمہارے کچھ
کام تو آجائیں گے… جبکہ یہ لوگ تو صرف تمہیں لوٹ رہے ہیں …
یہ جب اپنی قوم اور اپنے دین کے وفادار نہیں تو تمہارے
وفادار کہاں سے بن جائیں گے … ان میں سے کئی لوگ سوویت یونین کی پوجا کرتے تھے…
مگر جیسے ہی وہ کنگال ہو ایہ فوراً امریکہ کی طرف منہ کرکے کھڑے ہوگئے اور کئی نے
انڈیا سے وفاداری کا عہد نباہ لیا…یادرکھو!جس طرح تمہاری پرانی کھیپ … ناکام رہی
…یہ نئی کھیپ اس سے بھی زیادہ ناکام ثابت ہوگی …اسلام زندہ باد،جہاد زندہ باد۔
سامری کا بچھڑا
حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے’’کوہ طور‘‘پرحاضری کا حکم
فرمایا… یہ اللہ تعالیٰ کا خاص نظام ہے، وہ زمین کے بعض ٹکڑوں کو خاص فضیلت عطاء
فرماتے ہیں … خوش نصیب ہیں وہ مسلمان جو کوئی زمین یا پلاٹ خرید کر … اسے مسجد کے
لئے وقف کرتے ہیں … یہ لوگ بڑی اونچی نسبت اور سعادت پاتے ہیں … جبکہ بعض لوگ ساری
زندگی پلاٹوں پر لڑتے رہتے ہیں پھر ان پلاٹوں کو چھوڑ کرکسی کچی قبر میں دفن
ہوجاتے ہیں … اور ان کے مقدمات ان کی اولادیں عدالتوں میں لڑتی رہتی ہیں… جو زمین
گناہوں سے پاک ہو اس پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتیں نازل ہوتی ہیں … حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ’’طور‘‘پر بلایا گیا … وہ پاک اور مقدس زمین
تھی …
پاک اور مقدس جگہ کو صرف وہی انسان پہچان سکتا ہے جو ’’شرک
‘‘سے پاک ہو … ’’مشرک‘‘بے عقل ہوتا ہے اور خود غرض … وہ چونکہ اپنی خواہشات کا
غلام ہوتا ہے اس لئے وہ ’’مقدس مقامات ‘‘کو نہیں پہچانتا… جس آدمی کے اندر شرک
اور بدعت کے جراثیم ہوں وہ آدمی… ہمیشہ غلط پیروں ،غلط عاملوں اور مشرک نجومیوں
کے ہاتھ جا پھنستا ہے … انڈیا کے مشرکوں نے دو دریاؤں کو مقدس سمجھ رکھا ہے… ایک
گنگااور ایک جمنا … اور پھر سارا ہندوستان مل کر اپنی غلاظت انہی دو دریاؤں میں
بہادیتا ہے … مشرک کو اگر کوئی مقدس چیز مل جائے تو اس کو بھی خراب کردیتا ہے …مکہ
کے مشرکوں کو’’بیت اللہ‘‘جیسا مقدس مقام ملا تو انہوں نے وہاں ناپاک بت رکھ دئیے
…مسلمانو!اللہ کیلئے،اللہ کیلئے،اللہ کیلئے شرک اور بدعت سے بچو … جادو،ٹونے ،محبت
اور تسخیر کے دھوکے میں عاملوں کے پاس نہ جاؤ… اللہ تعالیٰ کے پاس جایا کرو … دو
رکعت نماز میں معراج والی طاقت بھری ہے …یہ دو رکعت تمہیں اللہ تعالیٰ کے قریب
کردیتی ہے… پھرجوچاہو مانگو… ایمان بھی سلامت رہے گا اور حاجت بھی ان شاء اللہ
پوری ہوگی … انڈیا کے مشرک اتنے بے عقل ہیں کہ گائے کی پوجا کرتے ہیں… ایک جانور ،
پیشاب اور گوبر سے لت پت…استغفراللہ ،استغفراللہ …
ایک جانور جو اپنی رسی خود نہیں کھول سکتا … وہ کہاں سے
بھگوان بن گیا…مگرہمارے نادان حکمران …انڈیاسے ہندو پنڈتوں ،نجومیوں اور تانترکوں
کو بلواتے ہیں …ان پر کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں …ارے! گائے کی پوجا کرنے والے کس
طرح روحانی طاقت کے مالک ہو سکتے ہیں؟
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ
السلام کو ’’طور‘‘پر بلایا …وہاں’’طویٰ‘‘نامی ایک پاک اور مقدس وادی تھی…وہاں اللہ
تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا… مسلمانو! اپنے بستروں اور گھروں
کو پاک رکھا کرو… اپنے لباس کی پاکی کی خاص فکر کیا کرو … خواتین کپڑے دھوتے وقت
ان کو پاک کرنے کا خاص اہتمام کیا کریں… نوکر اور نوکرانیوں سے کپڑے دھلوائیں تو
ضرور جائزہ لے لیں کہ وہ پاک کرتے ہیں یا نہیں… اگر کپڑے پاک نہیں ہوں گے تو نماز
نہیں ہوگی…گھر ناپاک ہوں گے تو برے جنات اُن میں ڈیرے ڈال لیں گے …بستر پاک نہیں
ہوں گے تو شیطان ان پر بیماریاں اور نفرتیں اُگا دے گا۔
ادھر حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے اپنی قوم کے لئے’’تورات‘‘لے رہے
تھے جبکہ پیچھے قوم ایک ’’جادوگریہودی ‘‘کے قبضے میں چلی گئی … اس نے ایک بچھڑا
بنایااس میں اپنی ٹیکنالوجی سے آواز بھری … کچھ کشش ڈالی اور ساری قوم کو شرک میں
پھینک دیا … اس جادوگر کا نام ’’سامری‘‘تھا…یہ فیس بک والا’’مارک زکر برگ‘‘بھی
یہودی جادوگر ہے … اس کی تنی ہوئی گردن اور منحوس چہرہ دیکھ کر ’’سامری‘‘یاد
آجاتا ہے … یہودی اپنے نام کے ساتھ اپنے خاندان کا نام ضرور جوڑتے ہیں… کوئی
’’پرل‘‘ہے تو کوئی’’باٹا‘‘اورکوئی’’برگ‘‘…سامری کے بچھڑے کے سامنے لاکھوں لوگ گرے
رہتے تھے … فیس بک پر روزانہ لاکھوں جوانیاں اپنی زندگی کے بے شمار قیمتی لمحات
ضائع کرتی ہیں … کوئی پوسٹس پھینکتا ہے کوئی لائیکس اور کوئی کمنٹس… نہ وقت کا پتا
لگتا ہے اور نہ زندگی گزرنے کا … مارک زکر برگ کا منصوبہ دنیا پر قبضے کا ہے … اس
کا منصوبہ یہ ہے کہ پہلے لوگوں کی عقل کو اپنی گرفت میں لو پھر لوگوں کے ’’اوقات
‘‘یعنی ٹائم پر قبضہ کرو… اور پھر ان کے جسموں پر حکومت کرو … وہ امریکی صدر بننا
چاہتا ہے … اور پھر امریکی طاقت کو اپنے پنجے میں لے کر پوری دنیا پر صہیونیت کی
بالا دستی قائم کرنا چاہتا ہے … مجھے یقین ہے کہ ’’سامری‘‘کی طرح ’’برگ ‘‘بھی ان
شاء اللہ ناکام ہوگا…مگرجولوگ مسلمان ہوکر اس وقت اس بچھڑے پر گرے پڑے ہیں وہ اپنی
حالت پر ضرور غور کریں …وہ جب دو چار گھنٹے فیس بک پر لگایا کریں توآخر میں دو
منٹ یہ ضرور سوچا کریں کہ… میں نے ان دوچار گھنٹوں میں کیا پایا؟کیا کھویا؟…کیا
میں اسی لئے پیدا ہوا؟اسی طرح وہ اپنے دل پر ایک نظر ڈالا کریں کہ … فیس بک پر
گرنے کے بعد یہ دل کہیں سختی اور قساوت کاشکار تو نہیں ہوگیا؟…کہیں ایساتو نہیں کہ
فیس بک دور دور والے افراد کو تو میرے قریب کررہی ہے مگر وہ جو میری شہہ رگ سے
زیادہ قریب ہے مجھے اس سے دور کررہی ہے ؟؟
لاالہ الا اللّٰہ ،لاالہ الا اللّٰہ ،لاالہ الا اللّٰہ
محمدرسول اللّٰہ
اللھم صل علیٰ سیدنا محمدوالہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لاالہ الا اللّٰہ محمدرسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ سے ’’ایمان کامل‘‘… ایمان پر استقامت اور ایمان
پر خاتمے کا سؤال ہے…اللہ تعالیٰ ہمیں دن رات … اپنی قدرت اور طاقت کی نشانیاں
دکھاتے رہتے ہیں۔
کل تک
امریکی تاجر … ارب پتی سودے باز…رنگین مزاج کٹر عیسائی
…یہودیوں کا گہرا دوست…مسلمانوں کا سخت ناقد…’’ڈونلڈٹرمپ‘‘ جب انتخابی مہم میں تھا
تو …اسلام اور مسلمانوں کے خلاف منہ بھر کر بول رہا تھا …اس کی آواز میں صلیبی
جنگجوؤں کی دھمکی تھی…اور اس کے انداز میں ایک’’نائٹ ‘‘کا تعصب تھا… یوں لگتا تھا
کہ اگر یہ شخص صدر بن گیا تو امریکہ کے تمام مسلمانوں کو جمع کرکے یا تو انہیں مار
دے گا یا نکال دے گا… اور اپنی صلیب اور فوجیں لے کر اسلامی ممالک پر چڑھ دوڑے گا…
یہودیوں اورہندوؤں نے اسے بھرپور تعاون دیا…اسلحہ کے تاجر بھی ا س کی پیٹھ پر
آکھڑے ہوئے …آج دنیا میں سب سے بڑی تجارت اسلحے کی ہے … اور اسلحہ کے تاجر دنیا
کے مالدار اور مؤثر ترین افراد ہیں …ان تاجروں کی اپنی خفیہ ایجنسیاں ہیں …یہ
ایجنسیاں جگہ جگہ جنگ بھڑکاتی ہیں …اور یوں ان تاجروں کا اسلحہ دھڑادھڑ بکتا ہے
…اسلام اور مسلمانوں کے خلاف … زوردار تقریریں کرنے والے ’’ٹرمپ ‘‘کوامریکہ کا صدر
بنادیا گیا…اب انتظار تھاکہ … ٹرمپ کب مسلمانوں پر فیصلہ کن حملہ کرتا ہے …مگر یہ
کیا ہوا؟ …
آج تک
ٹرمپ جب وائٹ ہاؤس پہنچا …وہاں اس نے خفیہ فائلوں کو پڑھا…
دنیا کے حالات کا جائزہ لیاتواس کے ہوش اُڑ گئے …ہرطرف مسلمان،ہرجگہ مسلمان،قدم
قدم پر فدائی مسلمان…گلی گلی میں دیوانے مسلمان …ہررنگ کے مسلمان ،ہرنسل کے مسلمان
… ہر براعظم میں مسلمان …دور دور تک پھیلے مسلمان …اسلام پر ڈٹے ہوئے مسلمان
…ہرمیدان کے فاتح مسلمان… ہرمزاج کے مسلمان…
ٹرمپ چکر اگیا …ٹرمپ جس قوم کو محض چند دھمکیوں اور چند
بموں کی مار سمجھتا تھا وہ نبی ہاشمی صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم اپنی اس کمزوری کے زمانے میں بھی … دنیا
کی سب سے طاقت ور اور بااثر قوم ہے…
وہ لوگ جوتل ابیب ،دہلی اور ویٹی کن میں دور بین لگائے
بیٹھے تھے کہ …کب اُن کا جنگجو ٹرمپ…اپنی فوجوں اور اپنے اسلحہ کے ساتھ مسلمانوں
پر حملہ آور ہوتا ہے …
انہوں نے دیکھا کہ …ہنستا،مسکراتاٹرمپ اپنی بیٹی
اور بیوی کے ساتھ مسلمانوں کے ملک ’’سعودی عرب‘‘کے ائیرپورٹ پراُتررہا ہے… وہ اپنے
پہلے غیر ملکی دورے کا آغاز ایک اسلامی ملک سے کررہا ہے …اور اپنی تقریرمیں …
باربار صفائیاں دے رہا ہے کہ میں اسلام کا دشمن نہیں…میں مسلمانوں کا دشمن نہیں …
اور اپنے خطاب میں … اپنی پرانی ’’قے‘‘ کوباربار چاٹ رہا ہے…
وہ ٹرمپ جس کے چہرے کی کرختگی کیمروں کے شیشے دھندلادیتی
تھی … اب اس کی مسکراہٹ ایک منٹ کے لئے چہرے سے غائب نہیں ہورہی تھی ۔
دوجملوں پر غور کریں
ٹرمپ نے صدر بننے کے فوراًبعد…امریکی کانگریس سے خطاب کیا
تھا… اس وقت تک وہ حالات سے لاعلم تھا…اُن بیوقوف لوگوں کی طرح…جواسلام اور
مسلمانوں کے خاتمے کو آسان اور ممکن سمجھتے ہیں … چنانچہ اس نے … اپنی تقریر میں
اعلان کیاکہ ہم … اسلامی انتہا پسندی کو روئے زمین سے مٹا دیں گے … مگر پھر جب
ٹرمپ نے … حالات دیکھے اور سمجھے تو کل سعودی عرب میں اس نے کہا… اسلامی ملکوں کے
حکمران خود اپنے ملکوں سے اسلامی انتہاپسندی کا خاتمہ کریں … اور اس انتظار میں نہ
رہیں کہ امریکہ آکر یہ کام کرے گا… سبحان اللہ !اللہ تیری قدرت … مجھے معلوم نہیں
ہے کہ’’ اسلامی انتہا پسندی‘‘ کہاں رہتی ہے ؟اگرمعلوم ہوتا تو آج ضرور اسے
مبارکباد دینے جاتاکہ… اس نے دنیا کے سب سے بڑے’’ انتہاپسند‘‘کادماغ بھی ٹھکانے
لگادیا … کل تک ٹرمپ یہ سمجھتا تھا کہ… اسلامی انتہا پسندی کو امریکہ اکیلے ختم
کرسکتا ہے مگر آج اس کا موقف ہے کہ … نہیں ! امریکہ کچھ نہیں کرسکتا…مسلمانوں کے
حکمران خود اپنی عوام کا گلا کاٹیں …خود مسلمانوں کا صفایا کریں … اور خود اسلامی
جہاد کو ختم کریں … اور امریکہ کے انتظار میں نہ بیٹھے رہیں۔
الحمدللہ ،الحمدللہ
اللہ تعالیٰ نے قرآن عظیم الشان میں ’’جہاد فی سبیل اللہ
‘‘کاحکم نازل فرمایا…اورپھرقرآن مجیدمیں جہادکے ہر طریقے ،ہرفائدے اور ہر فضیلت
کوکھول کھول کر بیان فرمادیا …جہاد کا ایک فائدہ یہ بیان فرمایا کہ … جہاد کی برکت
سے انسان کو ’’حقیقت‘‘ نظر آتی ہے … او ر وہ ’’دھوکے ‘‘سے بچ جاتا ہے… آپ دنیا
میں کفر کی طاقت،کفر کی جنگی صلاحیت،کفرکی ظاہری ترقی اور چمک دمک دیکھیں تو … یہ
دھوکہ ہونے لگتا ہے کہ … اب نعوذباللہ ’’اسلام‘‘کازمانہ نہیں رہا …اس زمانے میں
نعوذباللہ پرانااسلام نہیں چل سکتا… اوراگرہم نے دنیا میں عزت سے رہنا ہے تو ہمیں
… پرانے اسلام کو چھوڑنا ہوگا… یہ دھوکہ اتنا خطرناک ہے کہ … بڑے بڑے عقلمندوں کو
گمراہ کردیتا ہے …شیطان کافروں کی ایک ایک طاقت اور ایک ایک ترقی دکھاکر کہتا ہے
کہ سوچو !اب اسلام کی کیا جگہ ہے؟…اب اسلام کیسے غالب آسکتا ہے ؟مسلمان جہاں بھی
اسلام کا نظام نافذکریں گے کافر وہاں ایٹم بم پھینک کر سب ختم کردیں گے وغیرہ
وغیرہ…مجھے یاد ہے کہ جب ۱۹۹۴ ء فروری کے ٹھنڈے مہینے میں … ہم مقبوضہ کشمیرکے ضلع
اسلام آباد (اننت ناگ)میں گرفتار ہوئے تو ہمیں … ابتدائی تشدد کے بعد
’’کھندرو‘‘کے فوجیکیمپ کے ایک کمرے میں اکیلا ڈال دیاگیا … وہاں ایسا ماحول بنایا
گیا تھا کہ… دشمنوں کی طاقت ہزار گنازیادہ نظر آئے اور انسان خود کو ایسا حقیر
،ذلیل سمجھے کہ … وہ ہرخیر سے مایوس ہوجائے … چوبیس گھنٹے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں
کی گھن گرج … ہزار والٹ کی تیز روشنی… فوجی بوٹوں کی دھمک … طرح طرح کے تشدد اور
دھمکیاں، عجیب مایوس کن خبریں … اور ہماری کمزوری کا کھلم کھلا مذاق…
ہر وقت گالیاں اور قہقہے کہ…بڑے آئے کشمیرکو آزاد کرانے
والے … انڈیا سے لڑنے کی کس میں طاقت ہے؟وغیرہ وغیرہ …ایسے سخت ماحول میں انسان
زیادہ سے زیادہ دو چار دن ہی اپنا حوصلہ برقرار رکھ سکتا ہے … اورپھر نمک کی طرح
پگھلنے لگتا ہے …تب ایمان کے سودے ہوتے ہیں، وفاداریا ں بدلی جاتی ہیں … اور
نظریات کے جنازے دفن ہوجاتے ہیں …
ابتداء میں میرے حواس بھی جواب دے گئے … زندگی ایک دم اس
طرح بدلے گی یہ کبھی سوچا بھی نہ تھا … کہاں جہاد اور دعوت جہاد کی آزاد اور
شاہانہ زندگی … اور کہاں یہ ذلت ناک لمحات … مگراللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا…اور
اپنے قرب کا احساس نصیب فرمایا… دل کو موت کے لئے تیار کیاتو پھر نہ طاقت طاقت نظر
آئی نہ کمزوری کوئی کمزوری …
طاقت اور کمزوری کا چکر توزندہ رہنے والوں کے لئے ہے … کوئی
انسان مرنے کا ارادہ کرلے تو پھروہ اس دنیا کی طاقت اور کمزوری سے بے نیاز ہوجاتا
ہے …اور اس کی فکر اگلے جہان کو سنوارنے پر مرکوز ہوجاتی ہے … ہر نماز آخری نماز
،ہر سجدہ آخری سجدہ …اور بس دنیا سے الوداع … اس حالت نے …اردگرد کے ماحول
کوبالکل بے اثر کردیا … نہ طیاروں کی آواز مسئلہ رہی اور نہ بوٹوں کی دھمک… بلکہ
فکر یہ ہوئی کہ جلد از جلداللہ تعالیٰ کو راضی کیا جائے کیونکہ اسی کے پاس جانا ہے
… ایک ایک گناہ پر توبہ ،ایک ایک غلطی پر آہیں …یوں الحمدللہ تیرہ دن اس وحشت ناک
قبر میں ایسے گزرے …کہ اُلٹا دشمن پر رعب چھا گیا …ایک جنرل نے ملاقات کی اور
تعویز دم کی فرمائش کرنے لگا…شاید تفتیش کاروں اور سنتریوں نے اسے کچھ بتا دیا
ہوگا…اللہ تعالیٰ کا فضل اور ا س کی طاقت دیکھیں کہ ایسی جگہ پر وہ ہمیں توڑنے کی
بجائے خود ہمارے سامنے ٹوٹنے بکھرنے لگے… اوراپنی کمزوریاں بتانے لگے … اور پھر
اللہ تعالیٰ نے آزادی بھی واپس عطاء فرمائی … اور الحمدللہ جہاد کی خدمت بھی نصیب
فرمائی … عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ …وہاں جن حالات میں ایک ’’مظلوم انسان‘‘طاقتور
دشمن کے پنجے میں بیٹھا تھا … کون سوچ سکتا تھا کہ … یہ انسان کبھی رہا بھی ہوگا؟…
اور جہاد کی ان چوٹیوں پر پہنچے گا جہاں انڈیا کے حکمران بھی رونے پر مجبور ہوں
گے…
یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت کی نشانیاں ہیں … آج
آپ کافروں اور منافقوں کی طاقت ، شور اور چمک دمک دیکھیں تو یہی لگتا ہے کہ … بس
اب زمانہ بدل گیا …اب اسلام کے لئے کوئی جگہ نہیں …اب جہاد کے لئے کوئی جگہ نہیں
…لیکن جب آپ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے جہاد کو مانتے ہیں… جہاد کو سیکھتے ہیں
،جہاد میں نکلتے ہیں تو …آپ کو حقیقت نظر آنے لگتی ہے …اور حقیقت یہ ہے کہ…
اسلام نے ضرور دوبارہ غالب ہونا ہے … اور یہ بالکل ممکن ہے … اور جہاد میں ہمیشہ
کامیابی ہے… اوریہ کامیابی ہر مخلص اورسچے مجاہد کو ملتی ہے …اور جہاد کے نتائج
اور ثمرات ہمیشہ بہت دور دور تک پھیلتے ہیں …
آج کفریہ طاقتیں مجاہدین کے سامنے بے بس ہوچکی ہیں … ان کے
بڑے بڑے دماغ یہ اعلان کررہے ہیں کہ ہم مسلمانوں سے مسلسل ہار رہے ہیں … اور
مجاہدین مسلسل جیت رہے ہیں …اور اب ہمیں مجاہدین کا خود سامنا نہیں کرنا چاہیے
بلکہ مسلمانوںکو آپس میں لڑاکر ختم کرنا چاہیے …
یہ منصوبہ بھی ناکام ہوگا
مسلمانوںکو آپس میں لڑانے کا منصوبہ …ماضی میں بھی باربار
آزمایا گیا … اور اب اسے نئی طاقت کے ساتھ دوبارہ آزمایاجارہا ہے …بات یہ ہے کہ
یہ منصوبہ اگرچہ مسلمانوں کا کافی نقصان کرتا ہے مگراس آپس کی لڑائی کے ذریعہ …
مسلمانوں کو لڑنے ،مرنے اورمارنے کا بہت تجربہ ہوجاتاہے … مسلمان جب جنگ کے عادی
اور خوگر بن جائیں تو پھر انہیں روکنا کسی کے بس میں نہیں رہتا… اور چونکہ اسلام
اور مسلمانوں کی حفاظت کا آسمانی وعدہ موجود ہے … اور یہ امت آخری امت ہے …اور
دنیا سے اسلام اسی وقت ختم ہوگا جب اللہ تعالیٰ دنیا کوہی ختم فرمانے والے ہوں گے
… اس لئے مسلمانوں کی باہمی لڑائی سے اسلام اور مسلمانوں کا خاتمہ نہیں ہوسکتا…
البتہ بہت سے مسلمانوں کو لڑنے کا طریقہ آجاتاہے …اور جب یہ لوگ کفار کے خلاف
جہاد میں نکلتے ہیں توان کی جنگ بہت زورداراورشاندارہوتی ہے …ویسے بھی اب دنیابہت
چھوٹی ہوچکی ہے …بہت بے پردہ ہوچکی ہے… اوربہت قریب قریب ہو چکی ہے …اب کسی کے بس
کی بات نہیں رہی کہ وہ دوسرے کے گھر میں آگ لگائے اوراپنے گھر کواس آگ سے بچائے
رکھے …وہ دوسروں پر چنگاریاں پھینکے اور خود اپنے دامن کو بچالے …
اب جنگ شروع ہوچکی ہے …اور دنیا سمٹ چکی ہے…امن صرف’’ایمان
‘‘میں ہے اور سلامتی صرف’’اسلام‘‘میں ہے…اسلام اورمسلمانوں کومٹانایا اسلام کو
تبدیل کرنا یہ کسی کے بس میں نہیں ہے… ہاں!دجال کے بس میں بھی نہیں …دنیا اگر
واقعی امن چاہتی ہے تو اسے … دھوکے اور خواب سے نکل کر … حقائق کو تسلیم کرنا
ہوگا۔
لاالہ الااللّٰہ،لاالہ الااللّٰہ،لاالہ الااللّٰہ محمدرسول
اللّٰہ
اللھم صل وسلم وبارک علیٰ سیدنامحمدوالہ وسلم تسلیماکثیرا
کثیرا
لاالہ الااللّٰہ محمدرسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کی پناہ اس بات سے کہ… اللہ تعالیٰ ہمیں بھلا
دے…
سورۃ التوبہ میں بعض لوگوں کے بارے میں فرمایا گیا…
’’نَسُوْااللّٰہَ فَنَسِیَھُمْ ‘‘
(التوبہ: ۶۷)
ترجمہ: ’’انہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے ان کو بھلا
دیا۔‘‘
اللہ تعالیٰ بھول چوک سے پاک ہے… وہ کسی چیز کو نہیں
بھولتا… کوئی چیز چھوٹی ہو یا بڑی اس کے علم سے اوجھل نہیں ہو سکتی… پھر ’’ بُھلا
دینے‘‘ کاکیا مطلب؟ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کو چھوڑ دیتا ہے اُن کی
رہنمائی نہیں فرماتا… اُن کی پرواہ نہیں فرماتا، اُن پر خاص رحمت نہیں فرماتا… اُن
کو آخرت اور نیکی کی طرف متوجہ نہیں فرماتا… بس اُن کو چھوڑ دیتا ہے، پھینک دیتا
ہے کہ… وہ چند دن مزے لوٹ لیں اور پھر عذاب ہی عذاب، آگ ہی آگ… یا اللہ! آپ کی
پناہ۔
آپ نے دیکھا ہو گا
آپ نے دیکھا ہو گا کہ بعض افراد… کسی کو ایک تھپڑ بھی ناحق
مار دیں تو… انہیں کوئی سزا یا تنبیہ فوراً مل جاتی ہے… کبھی ہاتھ ٹوٹ جاتا ہے یا
کوئی اور تکلیف اُن کو فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کر دیتی ہے…تب وہ معافی
مانگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں… مگر بعض افراد روز کئی کئی قتل
کرتے ہیں…مگر اُن کو بخار تک نہیں ہوتا… حکمران، خفیہ ادارے، انڈر ورلڈ مافیا… اور
بے وقوف بدمعاش یہ سب روز ناحق خون بہاتے ہیں …زندہ انسانوں کو لاشوں میں بدلتے
ہیں اور لاشوں کو بے دردی سے جلاتے، چھپاتے اور ڈبوتے ہیں… مگر اُن کو فوری کوئی
سزا نہیں ملتی… دراصل اُن بد نصیبوں کو اللہ تعالیٰ نے بھلا دیا ہے… اب وہ اُن کا
ہاتھ نہیں پکڑتا کہ انہیں گناہوں سے روکے …یہ لوگ درندوں کی طرح قتل وغارت کرتے
ہیں … بس اُن کے لئے ایک وقت مقرر ہوتا ہے… اس وقت کے آنے تک اُن کو ڈھیل اور
آزادی دی جاتی ہے…پھر وہ وقت آجاتا ہے اوریہ افراد ایسے عذاب میں ڈال دئیے جاتے
ہیں جس کا ہراگلا لمحہ پچھلے لمحہ سے زیادہ سخت ہو گا… اور وہاں یہ روتے چیختے
رہیں گے… مگر اُن کی کوئی نہیںسنے گا… کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پھینک دیا،
چھوڑدیا،بھلا دیا… ’’یا اللہ آپ کے بھلانے سے آپ کی پناہ‘‘
کامیابی نہیں پھندا
آج کل ’’دنیا پرست‘‘ افراد ایک موضوع بڑی دلچسپی سے بیان
کرتے ہیں… فلاں شخص سائیکل چلاتا تھا آج وہ پچاس گاڑیوں کا مالک ہے… فلاں شخص
دیہاڑی مزدوری کرتا تھا آج وہ ارب پتی ہے… فلاں شخص باورچی تھا آج وہ ملٹی نیشنل
کمپنیوں کا مالک ہے… فلاں شخص کچرا اُٹھاتا تھا آج اس کے جہاز سمندر میں چل رہے
ہیں… وغیرہ وغیرہ… افسوس یہ ہے کہ اس طرح کے واقعات کو ’’کامیابی ‘‘ کا نام دیا
جاتا ہے… جو کہ سراسر ظلم ہے… آپ اسے ’’مالداری‘‘ کا نام دے دیں… آپ اسے
’’قارونیت‘‘ کا لقب دے دیں… آپ اسے ’’سرمایہ داری ‘‘ کہہ لیں…
مگر آپ اسے کامیابی نہیں کہہ سکتے… اگر ’’کامیابی ‘‘ اسی
کا نام ہے تو نعوذ باللہ آپ کو کئی بڑے بڑے ظالموں، کافروں اور فسادیوں کو ’’
کامیاب‘‘ سمجھنا پڑے گا… کیونکہ وہ سب مالدار تھے اور غریبی سے مالدار بنے تھے…
اگر آپ ’’ مالداری‘‘ کو کامیابی قرار دیں گے تو آپ کو بہت سی مقدس ہستیاں نعوذ
باللہ ’’ناکام‘‘ نظر آئیں گی… کیونکہ وہ مال سے دور رہے اور وفات تک غریب رہے…
اچھا اب ایک بات پرغور فرمائیں… آپ نے دیکھا ہو گا کہ بعض افراد اگر ایک روپے کا
سودی کاروبار کر لیں تو… سخت پکڑ میں آ جاتے ہیں… وہ اگر خیانت کر لیں تو
فوراًکوئی مصیبت آ جاتی ہے … وہ اگر کسی کا تھوڑا سا مال دبا لیں تو طرح طرح کی
آفتوں کا شکار ہو جاتے ہیں … کئی افراد جو اپنے حلال کاروبار کی وجہ سے خوب
مالدار تھے انہوں نے جیسے ہی بینک کا سودی قرضہ لیا…ایک دم آسمان سے زمین پر گرے
اور قرضے اور غربت کا شکار ہوگئے… یہ دراصل وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے
بھلایا نہیں بلکہ یاد رکھا … اور انہیں حرام خوری اور حرام کاری سے زبردستی باہر
کھینچ لیا… یہ دنیا میں وقتی طور پر غریب ہو گئے مگر آخرت کے ہمیشہ والے عذاب سے
بچ گئے… دنیا کی ساری زندگی کے مزے آخرت کے ایک منٹ کے عذاب سے ختم ہو جائیں گے…
اب یہ لوگ مالدار نہیں مگر اللہ سے جڑے ہوئے ہیں … توبہ استغفار کرتے ہیں… اور
اپنے گناہ پر نادم رہتے ہیں…
مگر دوسری طرف آپ کو ایسے افراد مل جائیں گے جو … روز
کروڑوں کا سودی کاروبار کرتے ہیں… ان کی معیشت کا سارا دارومدارحرام رشوت پر ہے …
وہ ہر ناجائز اور حرام مال کو لیتے اور کھاتے ہیں …مگر ان پر نہ تو کوئی پکڑ آتی
ہے اور نہ سزا…بلکہ اُن کا کاروبار ایک ملک سے دوسرے ملک…اور ایک کمپنی سے دوسری
کمپنی تک پھیلتا چلا جاتا ہے…یہ وہ بدنصیب لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بھُلا
دیا…یعنی چھوڑ دیا، پھینک دیا، وہ اُن کا ہاتھ کسی حرام سے نہیں روکتا …اور وہ
انہیں کسی خیر کی طرف متوجہ نہیں فرماتا…دراصل ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو ہر موقع
پہ بُھلایا…بالآخر اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں بُھلا دیا کہ…اب حرام کماتے ہیں،
حرام کھاتے ہیں، حرام جمع کرتے ہیں، حرام میں جیتے ہیں…اور بالآخر حرام میں
مرکر…آگ میں جاگریں گے…جہاں ان کی کچھ بھی نہ سنی جائے گی…یااللہ! آپ کی پناہ۔
اپنا جائزہ
ہم نے آیت مبارکہ پڑھ لی کہ…منافق اللہ تعالیٰ کو بُھلا
دیتا ہے…تو اللہ تعالیٰ بھی اُسے بُھلادیتے ہیں…اللہ تعالیٰ کو بُھلانے کا مطلب یہ
ہے کہ…نہ زبان اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے نہ دل میںاللہ تعالیٰ کی یاد ہو…اور نہ اپنے
کاموں اور معاملات میں اللہ تعالیٰ کے احکامات کا لحاظ ہو…مؤمن کا ’’اللہ‘‘ ہر
وقت اُس کے ساتھ ہے…وہ جو کام بھی کرتا ہے پہلے یہ دیکھتا ہے کہ اس میں اللہ
تعالیٰ کا کیا حکم ہے…مگر منافق کی زندگی میں ’’اللہ تعالیٰ‘‘ نہیں ہوتا…وہ ہر
معاملے میں اللہ تعالیٰ کو بُھلاتا ہے…تب اللہ تعالیٰ بھی اس کو بُھلادیتے ہیں…
اللہ تعالیٰ کسی بندے کو بُھلادیں اس کی علامت یہ ہے کہ…اس
بندے کو ’’آخرت‘‘ بالکل بھول جاتی ہے…تب وہ اپنی ذات کے لیے آخرت میں کچھ بھی
جمع نہیں کرتا…
حالانکہ اصل زندگی ’’آخرت‘‘ ہے…اصل ’’کھانا ‘‘ آخرت میں
ہوگا… اصل ’’پینا‘‘ بھی آخرت میں ہوگا…اصل عیش وعشرت بھی آخرت میں ہوگی …اصل
جینا بھی آخرت کا جینا ہوگا…اصل مزے بھی آخرت کے ہوں گے…
بس جو آخرت میں کامیاب رہا اُس نے سب کچھ پالیا…اور جو
آخرت میں ناکام رہا وہ بڑا محروم ہے…پس جس مسلمان کو ’’آخرت‘‘ یاد ہے…اور وہ ہر
وقت اپنی آخرت کی اصل زندگی کا سامان تیار کرتا رہتا ہے…یہ وہ مسلمان ہے جس کو
اللہ تعالیٰ نے یاد رکھا ہوا ہے…اور اسے بُھلایا نہیں ہے…اور جس شخص کو آخرت یاد
نہیں…اور وہ آخرت کی تیاری نہیں کررہا…یہ وہ بدنصیب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے
بُھلادیا ہے…یعنی پھینک دیا ہے، چھوڑ دیا ہے۔
اب ڈرتے دل کے ساتھ ہم اپنا جائزہ لیں…کیا ہم اُن لوگوں میں
ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے نہیں بُھلایا؟…تب الحمدللہ، الحمدللہ…اور اگر ہم اُن
لوگوں میں ہیں جن کو آخرت کی کوئی یاد، کوئی فکر نہیں…تو پھر بہت ڈرنے کا مقام ہے
کہ کہیں اللہ تعالیٰ ہمیں بُھلاہی نہ دے…تب تو کوئی نصیحت بھی ہم پر اثر نہ کرے
گی۔
اُمید کی روشنی
جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ بُھلا دیتے ہیں…اُن لوگوں پر نصیحت
کی بات اثر نہیں کرتی…نہ ہی اُن کو اپنے گناہوں پر ندامت ہوتی ہے…اور نہ ہی انہیں
اپنی اصلاح کا خیال آتا ہے…الحمدللہ ہماری یہ حالت تو نہیں ہے…جتنے بھی سیاہ کار،
گناہگار ہیں…مگر اللہ تعالیٰ سے جڑے رہنا چاہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہر حکم پر
عمل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں…اور اپنی اصلاح چاہتے ہیں…یہ اس بات کی علامت ہے
کہ…اللہ تعالیٰ نے ہمیں نہیں بُھلایا…ہمیں نہیں پھینکا…اب ضرورت اس بات کی ہے
کہ…ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے رشتے کو مزید مضبوط بنائیں…اور اپنی آخرت کے لیے
زیادہ سے زیادہ سامان آگے بھیجیں…
اس کے لیے…اللہ تعالیٰ نے ہمیں ’’رمضان المبارک‘‘ کا تحفہ
عطا فرما دیا ہے…یہ وہ مہینہ ہے جس کی ہر گھڑی اور ہر لمحہ ہمیں…اللہ تعالیٰ کے
قریب کرتا ہے…پس ہم سب اس مہینے کی بھرپور قدر کریں…اس مہینے کو پانے کی ترتیب
بنائیں …اور اس مہینے میں غفلت ومحرومی کا شکار نہ ہوں …ہم اللہ تعالیٰ کو اخلاص
کے ساتھ یاد کریں … اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رحمت اور اپنے فضل کے ساتھ یاد فرمائے
گا…اگر ہوسکے تو ’’شھر رمضان‘‘ کتاب کا ضرور مطالعہ فرمالیں…
لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ
محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ’’ایمان والوں‘‘ کا مددگار ہے… اُن کا وہ ’’یار
‘‘ ہے…
اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ آمَنُوا(البقرۃ: ۲۵۷)
سب سے کم چندہ
رمضان المبارک میں مسلمان ’’سخی‘‘ ہو جاتے ہیں … ہونا بھی
چاہیے… ہر مسلمان کو ہمیشہ ’’سخی‘‘ ہونا چاہیے کیونکہ آسمانوں سے زمین پر جو
رحمتیں، دعائیں اور برکتیں اُترتی ہیں… ان کا زیادہ حصہ ’’سخی مسلمانوں‘‘ کو ملتا
ہے…
سخی اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے، جنت کے قریب ہوتا ہے…
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ’’سخی ‘‘ بنائے… رمضان المبارک میں زیادہ سخاوت… یہ حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے…
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ سخی تھے مگر
رمضان المبارک میں بہت زیادہ سخی… اسی سنت کی پیروی میں الحمد للہ مسلمان بھی
رمضان المبارک میں زیادہ سخی ہو جاتے ہیں… ہر جگہ دسترخوان سجتے ہیں، زکوٰۃ تقسیم
ہوتی ہے… غذائی مواد کے پیکٹ بٹتے ہیں… اور دین کے کاموں پر خوب خرچے ہوتے ہیں…
الحمد للہ، الحمد للہ… ہر انسان کو اپنے مال سے محبت ہوتی ہے… اس لئے وہ چاہتا ہے
کہ اس کا مال ایسی جگہ لگے… جہاں اجر اور آخرت کا نفع زیادہ بنے…قرآن و حدیث میں
غور کیا جائے تو ’’ جہاد فی سبیل اللہ‘‘ پر مال لگانے کی فضیلت سب سے زیادہ ہے…
جہاد میں مال لگانے سے ایک تو اپنا فرض بھی ادا ہوتا ہے… کیونکہ جان و مال سے جہاد
کرنا مسلمانوں پر فرض ہے… اور پھر جہاد پر مال لگانا بہت بڑا صدقہ جاریہ بھی ہے…
اور جہاد پر مال لگانا کعبہ شریف کی خدمت پر مال لگانے سے بھی افضل ہے… آپ جانتے
ہیں کہ کعبہ شریف اور حرم شریف میں ایک روپیہ خرچ کرنے کا اجر ایک لاکھ کے برابر
ہے… جبکہ جہاد میں خرچ کرنا اس سے بھی افضل ہے… اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مسلمان
اپنا مال زیادہ سے زیادہ جہاد فی سبیل اللہ پر لگاتے مگر… آج کل ایسا نہیں ہوتا…
اگر رمضان المبارک میں ہونے والے چندوں کو دیکھا جائے تو… سب سے کم چندہ ’’جہاد فی
سبیل اللہ‘‘ کے لئے ہوتا ہے… آخر اس کی وجہ کیا ہے؟
وجوہات کئی ہیں
١
جہاد فی سبیل اللہ کے حقیقی فضائل اکثر مسلمانوں کو معلوم نہیں ہیں… مسلمانوں میں
اس موضوع پر بیانات بہت کم ہو گئے ہیں…اس لئے مسلمان جہاد پر خرچ نہیں کرتے… ورنہ
آپ ماضی کے واقعات پڑھ لیں …جب مسلمانوں میں جہاد کے تذکرے عام تھے تو ہر شخص بڑھ
چڑھ کر جہاد میں مال لگاتا تھا… کسی نے کوئی نذر ماننی ہوتی تو جہاد پر خرچ کرنے
کی مانتا… کوئی وصیت کرتا تو پہلاخرچہ جہاد فی سبیل اللہ کا بتاتا…مالداروں نے
ماہانہ اور سالانہ بنیادوں پر جہاد اور مجاہدین کے خرچے اپنے ذمہ لے رکھے
تھے…مسلمان عورتیں جہاد میں مردوں سے زیادہ مال لگاتی تھیں… کیونکہ وہ خود جہاد
میں شریک نہ ہوسکنے کی اپنی کمی پورا کرنے کی فکر میں رہتی تھیں… اب مساجد و منابر
پر جہاد کے تذکرے بہت کم رہ گئے تو خرچ کرنے والے بھی کم ہو گئے…
٢
حکومتی پابندیاں، عالمی سازشیں اور منافقین کے پرانے ہتھیار… قرآن مجید نے تین
راز سمجھائے ہیں… پہلا یہ کہ مال ہو یا نہ ہو جہاد چلتا رہتا ہے… مال کی کمی سے
جہاد پر فرق نہیں پڑتا اور جو جہاد تھوڑے مال سے کیا جائے وہ زیادہ طاقتور اور
مؤثّر ہوتا ہے اس لئے مجاہدین مال کی فکر نہ کریں، جہاد کو جاری رکھنے اور شریعت
کے مطابق جہاد کرنے کی فکر کریں… مال خود اُن کے قدموں میں آجائے گا… دوسرا راز
یہ سمجھایا کہ مسلمان اگر اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی چاہتے ہیں تو وہ اپنا
مال زیادہ سے زیادہ جہاد میں لگائیں… اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے جہاد کے لئے قرضہ
مانگتا ہے… فرماتا ہے کہ مجھے قرض حسنہ دو… جہاد میں خرچ کرنے کی اس سے بڑی فضیلت
اور کیا ہو سکتی ہے؟… ساتھ یہ بھی سمجھا دیا کہ جو مسلمان جہاد میں مال خرچ نہیں
کرتے وہ اپنا ہی نقصان کرتے ہیں اور خود کو ہلاکت میں ڈالتے ہیں… تیسرا راز یہ
سمجھایا کہ … منافقین کا یہ نظریہ ہے کہ مسلمانوں کا جہاد پیسے اور چندے سے چلتا
ہے… پس کسی طرح ان کے جہادی چندے کو بند کرا دو تو جہاد بھی ختم ہو جائے گا اور
مسلمان بھی ختم ہو جائیں گے…
﴿لَا تُنْفِقُوا عَلٰی مَنْ عِنْدَ
رَسُوْلِ اللّٰہْ﴾(المنٰفقون:۷)
اللہ تعالیٰ نے منافقین کو جواب دیا کہ… میرے پاس زمین و
آسمان کے خزانے ہیں … پر اے منافقو! تمہیں سمجھ نہیں ہے۔
ہمارے زمانے میں بھی کفار و منافقین کا زیادہ زور… جہادی
چندہ بند کرانے پر ہے… چنانچہ مالداروں کو خوفزدہ کیا جاتا ہے… اور دہشت کا ایسا
ماحول بنایا جاتا ہے کہ کوئی مالدار مسلمان جہاد پر اپنا مال نہ لگائے …خوف اور
دہشت کی اس فضا نے اکثر مسلمان مالداروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے… وہ ہر سال
کروڑوں روپے دیگر کاموں پر خرچ کرتے ہیں مگر جہاد پر ایک روپیہ بھی نہیں لگاتے۔
٣
جہاد کے خلاف پھیلائی جانے والی غلط فہمیاں … یہ کام کئی نیک اور کئی بُرے لوگ مل
جل کر، کر رہے ہیں… وہ جہاد کے خلاف منہ بھر کر بولتے ہیں…جب ان کو کہا جائے کہ
جہاد کا انکار کفر ہے تو فوراً پینترا بدل لیتے ہیں… اور کہتے ہیں کہ ہم جہاد کے
منکر نہیں ہیں بلکہ فلاں فلاں جہادی تحریک کو غیر شرعی سمجھتے ہیں… حالانکہ یہ سب
ان کے حلق کی باتیں ہیں… یہ لوگ جہاد کے دل سے منکر ہیں… انہوں نے کبھی ایک لمحہ
بھی جہاد کرنے کی نیت نہیں کی… انہوں نے کبھی ایک کلمۂ خیر جہاد کے بارے میں نہیں
بولا… انہوں نے کبھی ایک روپیہ جہاد میں نہیں لگایا… انہوں نے کبھی ایک منٹ کے لئے
تلوار اٹھانے اور جان دینے کا تصور نہیں کیا… یہ لوگ جہاد کے خلاف طرح طرح کے
وساوس پھیلاتے ہیں… اور جہاد کے معنٰی اور مفہوم کو مشکوک بناتے ہیں… یہ لوگ اُمت
کا مال فضول کاموں میں لگواتے ہیں… مگر جہاد میں مال لگانے سے روکتے ہیں۔
جہاد میں کم چندہ ہونے کی وجوہات اور بھی کئی ہیں… جب کوئی
’’بیماری‘‘ بہت پکی ہو جائے تو اس کے اسباب کا شمار مشکل ہو جاتا ہے… جہاد میں مال
خرچ نہ کرنا ایک خطرناک بیماری ہے… مگر یہ بیماری خواص و عوام میں پکّی ہو چکی ہے…
چنانچہ اس کی وجوہات شمار کرنا آسان کام نہیں ہے… ہم نے تین وجوہات بطور مثال عرض
کر دی ہیں… جبکہ ایک زیادہ اہم وجہ اور بھی ہے۔
اہم وجہ
جہادی چندہ کم ہونے کی ایک اہم وجہ… جہاد کی عظمت ہے… جہاد
ایک عظیم الشان فریضہ ہے… یہ عشق و محبت کا سب سے اونچا بازار ہے… چنانچہ جہاد
میں… اللہ تعالیٰ ہر کسی کے مال کو قبول نہیں فرماتے… قرآن مجید میں اس بارے واضح
اشارہ موجود ہے کہ… جہاد میں ہر کسی کا مال قبول نہیں کیا جاتا… آج امت کے اکثر
مالدار حلال و حرام کے فرق سے باہر نکل چکے ہیں…سود اور رشوت آج کی معیشت کے دو
ستون بن چکے ہیں… حرام سے جو کمایا جائے وہ حرام ہی ہوتا ہے… پھر جب امت کے مالدار
دین کی خاطر… ادنیٰ سی قربانی دینے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں تو ان کے اموال پر
بھی ’’مہر‘‘ لگا دی گئی ہے… چنانچہ ان کو جہاد میں مال لگانے کی توفیق ہی نہیں
ملتی… ہماری جماعت رمضان المبارک کی پوری مہم میں جتنا ’’چندہ ‘‘ جمع کرتی ہے…
کراچی، لاہور، گوجرانولہ، فیصل آباد اور پشاور کا ایک ایک سیٹھ اکیلا اس سے زیادہ
چندہ مختلف کاموں میں دیتا ہے… یعنی اگر ان سیٹھوں میں سے صرف ایک…اپنا سارا چندہ
جہاد میں دے دے تو… یہ ہماری پوری مہینے کی مہم سے بھی دو تین گنا زیادہ ہوگا…مگر
یہ سیٹھ حضرات… اپنا سارا پیسہ دوسرے کاموں میں لگا دیتے ہیں… پہلے تو یہ خیر تھی
کہ یہ پیسہ الحمد للہ مساجد، مدارس اور دینی کاموں پر لگ جاتا تھا… جو یقیناً بہت
اچھے مصارف ہیں… مگر پھر ان سیٹھوں کی بدنصیبی جاگ اٹھی… اب طرح طرح کے ادارے،
ٹرسٹ اور چیرٹیز آ گئی ہیں… جو حرام کاموں میں مسلمانوں کا پیسہ خرچ کرتی ہیں اور
اپنے غلط مصارف کے لئے زکوٰۃ تک وصول کرتی ہیں… کوئی علاج، کوئی تعلیم… اور کوئی
ترقی کے نام پر…مسلمانوں کو لوٹ رہا ہے اور ان کی رہی سہی نیکیوں کا بھی جنازہ
نکال رہا ہے…
بہرحال جیسی روح، ویسے فرشتے… جیسا مال ویسے مصارف…
اب کیا بچا؟
اب تک جو باتیں عرض ہوئی ہیں ان کا خلاصہ ذہن میں رکھ لیں…
١
جہاد میں مال خرچ کرنا بے حد افضل ہے مگر آج کل جہادی چندہ سب سے کم ہوتا ہے۔
٢
اس کی کئی وجوہات ہیں… کم علمی، خوف اور شکوک وغیرہ… جبکہ اہم وجہ یہ ہے کہ اللہ
تعالیٰ ہر کسی کا مال جہاد کے لئے قبول نہیں فرماتے۔
آج مسلمانوں کے تمام سیٹھ جہاد سے بھاگ گئے… مالدار،
زمیندار ، سرمایہ دار جہاد میں مال خرچ کرنے سے ڈرنے لگے… سیاستدان اور بااختیار
مسلمان… جہاد کے خلاف ہو گئے تو اب جہادی چندے کی اس جھولی میں کیا بچا… جو جھولی
خود حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے
مسجد نبوی سے شروع فرمائی تھی… جواب یہ ہے کہ اس جھولی میں… غریب مسلمانوں اور
متوسط مسلمانوں کے پانچ روپے، دس روپے اور ایک روپے بچ گئے… مگر یہ چھوٹے نوٹ اتنے
بھاری ہیں کہ ان کے خوف سے …دنیا کی سپر طاقتیں کراہ رہی ہیں…
غریب ماؤں، بہنوں کے ہلکے زیورات اور یہ چھوٹے سکّے اتنے
طاقتور ہیں کہ ان کے خوف سے بڑی بڑی حکومتیں لرز رہی ہیں، کانپ رہی ہیں… روز نئے
نئے اتحاد، نئے نئے آلات… نئے نئے اسلحے… نئے نئے منصوبے… مگر آخر میں ایک ہی
رپورٹ کہ جہاد بڑھ گیا…مجاہدین بڑھ گئے… دہشت گردی پھیل گئی …خطرات بڑھ گئے…ارے
ظالمو! گذشتہ بیس سال کے عرصے میں اپنی ایک فتح تو دکھاؤ… نہیں دکھا سکو گے…جبکہ
جہاد کا دامن فتوحات سے بھرا ہوا ہے… سلام ہو ان غریب مسلمانوں کو!… سلام ہو ان
ماؤں بہنوں کو!… جو جہاد فی سبیل اللہ میں مال خرچ کرتے ہیں… ان کو اس مال کا اصل
بدلہ تو آخرت میں ملے گا ان شاء اللہ… مگر دنیا میں وہ اپنے اس مال کی طاقتکا خود
مشاہدہ کر سکتے ہیں… یہ چند روپے آج اربوں کھربوں ڈالر کے بجٹ سے ٹکرا رہے ہیں…
اور ان پر غالب آ رہے ہیں… واہ میرے اللہ واہ!… کیا نکتہ سمجھا دیا… قرآن مجید
میں وعدہ دیا گیا کہ جہاد پر مال خرچ کرو گے تو… اللہ تعالیٰ اسے ’’اَضْعَافًا
مُّضَاعَفًا‘‘ یعنی کئی کئی گنا بڑھا دیں گے… ہم یہی سمجھتے تھے کہ یہ اِضافہ
آخرت کے اَجر میں ہو گا… یہ اضافہ مال خرچ کرنے والے کے مال میں ہو گا… یہ بھی سب
ٹھیک ہے…مگر آج سمجھ میں آیا کہ جو روپیہ تم دو گے اللہ تعالیٰ اس کو بھی کئی
کئی گنا بھاری ، وزنی اور مؤثر بنا دے گا… ایک ایک روپے کے جھولی چندے سے ہونے
والے جہاد کی شان دیکھو کہ… دشمن اَربوں روپے خرچ کر کے بھی اس کا مقابلہ نہیں کر
پا رہا…اللہ اکبر کبیرا
لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ ،لا الہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کی راہ میں کون’’ جہاد‘‘ کرتا ہے؟ حضرت شاہ ولی
اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے اس کی تحقیق
فرمائی ہے…وہ فرماتے ہیں:
’’جہاد ایک مشقت والا عمل ہے… اس
میں سختیاں بھی آتی ہیں اور جان و مال بھی خرچ کرنا پڑتا ہے اور اپنے وطن اور
اپنی خواہشات کو بھی چھوڑنا پڑتا ہے… اس لئے جہاد پر صرف وہی مسلمان نکلتا ہے…جس
کا دین اللہ تعالیٰ کے لئے خالص ہو … مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ جو دنیا پر
آخرت کو ترجیح دیتا ہو… جس کا اللہ تعالیٰ پر توکل اور اعتماد سچا ہو۔‘‘ (حجۃ
اللہ البالغہ)
ان تین صفات میں غور کریں… جس مسلمان کو یہ تین صفات نصیب
ہو جائیں اس کی کامیابی میں کیا شک رہ جاتا ہے… جہاد ہر زمانے میں مشکل رہا ہے…
اور ہر زمانے میں مشکل رہے گا… ظاہری آنکھوں سے دیکھا جائے تو جہاد کبھی بھی ممکن
نظر نہیں آتا… غزوۂ بدر سے لے کر آج کے غزوہ ہند تک… بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ…
اتنے طاقتور دشمنوں سے لڑنا ممکن ہی نہیں ہے… چنانچہ ایک طبقہ ہر زمانے میں ایسے
افراد کا موجود رہتا ہے… جو اپنے زمانے میں جہاد کو نا ممکن قرار دے کر کہتا ہے
کہ… ابھی جہاد کا وقت نہیں ہے… یہ طبقہ ماضی میںبھی تھا، آج بھی موجود ہے اور
آئندہ بھی موجود رہے گا… ملاحظہ فرمائیے یہ روایت:
’’حضرت اسلم رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں پر
ایسا زمانہ بھی آئے گا، جب ان میں سے کچھ قرآن پڑھنے والے لوگ کہیں گے کہ یہ
جہاد کا زمانہ نہیں ہے۔ پس جو شخص اس زمانے کو پائے ( تو یاد رکھے کہ) وہی زمانہ
جہاد کا بہترین زمانہ ہو گا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا کوئی شخص یہ کہہ
سکتا ہے کہ اب جہاد کا زمانہ نہیں رہا؟ تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہاں! وہ لوگ یہ بات کہیں گے جن پر
اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو گی اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی بھی۔‘‘ (فضائل جہاد
بحوالہ شفاء الصدور)
چنانچہ جہاد پر وہی مسلمان نکل سکتا ہے… جو اللہ تعالیٰ کا
اور اس کے دین کا’’ مخلص ‘‘ہو… اس کا دین خالص اللہ تعالیٰ کے لئے ہو… دنیا اس کا
مقصود نہ ہو… نہ عزت، نہ مال، نہ راحت ، نہ آرام ، نہ کچھ اور…
اور وہ آخرت کو ترجیح دیتا ہو… اور اس کا اللہ تعالیٰ پر
اعتماد اور توکل سچا ہو…
ایسا مسلمان جہاد میں نکلتا ہے… اور دین کا سب سے اونچا اور
افضل مقام پاتا ہے…
ایسے افراد کی روح زندہ ہوتی ہے… اور موت کے وقت اس روح کا
کوئی نقصان نہیں ہوتا… بلکہ وہ صحیح سالم ، بیدار ، پرسکون سیدھی اللہ تعالیٰ کے
عرش کے نیچے پہنچ جاتی ہے… اور اسے اُڑنے اور پرواز بھرنے کی طاقت بھی دے دی جاتی
ہے… یا اللہ! مقبول جہاد اور مقبول شہادت عطاء فرما۔
جہادی، علمی خاندان
حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کی کتاب ’’ حجۃ اللہ البالغہ‘‘ تھوڑی سی مشکل
کتاب ہے… اس لئے عوام کو تو اس کے مطالعے کی دعوت نہیں دیتا… مگر جو اہل علم ہیں
وہ ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں جہاد کے باب کا ضرور مطالعہ فرمائیں… حضرت شاہ صاحب
رحمہ اللہ نقلی، عقلی ، الہامی علوم کے
امام ہیں… قرآن و سنت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں… اور ان کا پورا خاندان علم اور
جہاد کے رنگ سے منور ہے…
آپ کی سوانح میں لکھا ہے کہ… آپ کے آباؤ اجداد دو چیزوں
میں نمایاں مقام رکھتے تھے… ایک منصب قضاء اور دوسرا عسکری مہارت… چنانچہ آپ کے
دادا محترم تک اکثر بزرگ قاضی اور مجاہد رہے۔
دراصل جس کا علم راسخ ہو وہ جہاد سے دور اور محروم نہیں رہ
سکتا… بلکہ کسی نہ کسی طرح جہاد کی خدمت ضرور کرتا ہے… حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ کے بزرگوں نے جہاد میں بڑے کارنامے سر انجام
دئیے اور انہوں نے اپنی زندگیاں کفار کے خلاف جہاد کرنے اور اسلام کی شوکت کو بلند
کرنے میں گذاریں… حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ کے دادا محترم شیخ وجیہ الدین زندگی بھر کفار کے
خلاف جہاد کرتے رہے… اور انہوں نے میدان جہاد میں اپنی شجاعت اور بہادری کی ایک
تاریخ رقم کی اور بالآخر سلطان محی الدین محمد عالمگیر کے عہد میں شہادت پائی…
پختہ علم اور خاندانی نسبت کی بدولت… حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ اور آپ کے چاروں بیٹوں نے ’’جہاد فی سبیل
اللہ‘‘ کو خوب سمجھا اور خوب سمجھایا … اور آپ کے پوتے حضرت شاہ اسماعیل شہید
رحمہ اللہ نے عملی جہاد میں حیرت انگیز
کارنامے سر انجام دئیے۔
عرض کرنے کا مقصد یہ تھا کہ … جہاد کوئی اجنبی یا نئی چیز نہیں ہے… یہ ہمارے دین کا ایک محکم، ضروری اور قطعی حصہ ہے… مگر آج کل جہاد کے خلاف ہر طرف شبہات پھیلائے جا رہے ہیں… ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ نے جہاد فی سبیل اللہ کو بھی بہت مدلل طریقے سے بیان کیا ہے… اہل علم حضرات مطالعہ فرمائیں اور ان مشکل اور اونچے مضامین کو آسان کر کے امت تک پہنچائیں… بندہ کا بھی دل چاہتا ہے کہ اس پر خود کام کرے…مگر فی الحال نہ وعدہ ہے اور نہ ارادے کی ہمت۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ’’شھر رمضان‘‘ شائع ہو گئی… الحمد للہ مسلمانوں کی طرف سے اس کتاب پر بہت مثبت آراء سامنے آ رہی ہیں… اب عید الفطر کے بعد ان شاء اللہ ’’تحفہ ذی الحجہ‘‘ میں اضافے کا ارادہ ہے… ذوالحجہ کے عشرہ کی فضیلت و احکام کی طرف کئی سالوں سے مسلمانوں کو متوجہ کیا جا رہا ہے… جس کا الحمد للہ بہت فائدہ ہوا… اب ان شاء اللہ ’’تحفہ ذی الحجہ‘‘ میں اضافے اور تکمیل سے یہ دعوت بھی مضبوط ہو جائے گی۔
ماشاء اللہ لاقوۃ الاباللہ
جہاد ایک مستقل عبادت ہے… اور جہاد کی ترغیب اور دعوت دینا
یہ ایک الگ مستقل عبادت ہے… اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں عبادتوں کا حکم دیا گیا… اور آپ کے
ذریعہ سے اُمت کو یہ حکم جا ری کیا گیا… ایک حکم ہے ’’فَقَاتِلْ‘‘ کہ آپ قتال
کیجئے… یعنی جہاد کیجئے اور دوسرا حکم ہے ’’وَحَرِّضْ‘‘ یعنی جہاد پر اُبھارئیے…
’’حَرِّض‘‘ اصل میں کہتے ہیں کمزوری کو… چنانچہ ( سلب مأخذ کے قانون کے تحت)
’’تحریض‘‘ کا مطلب ہو گا… جہاد کی ایسی دعوت دینا جو دل کی کمزوری … عزم کی
کمزوری… اور جذبے کی کمزوری دور کر دے… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں احکامات کو ان کی شان کے مطابق پورا
کیا… ستائیس غزوات… اور جہاد کی ترغیب پر ہزاروں احادیث مبارکہ… اب امت کے لئے کام
آسان ہو گیا… قرآن مجید کی آیات جہاد اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث جہاد کو… یاد کریں اور سمجھیں اور
بیان کریں تو… دعوت جہاد کی عبادت ادا ہو جائے گی… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث جہاد ایسی جامع، ایسی واضح اور ایسی
پرجوش ہیں کہ… ان کو بیان کرنے کے بعد مزیدکسی تشریح اور اضافے کی ضرورت بھی نہیں
پڑتی…الحمدللہ ہماری جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ان دونوں عبادتوں کو…ادا
کرنے کی کوشش کررہی ہے…
ایک طرف ’’فَقَاتِلْ‘‘ کے حکم کوپورا کرنے کے لیے…ہر وقت
محاذوں کو گرم اور آباد رکھا جاتا ہے… تو دوسری طرف ’’ وَحَرِّضْ‘‘ کے حکم پر عمل
کرنے کے لیے دعوت جہاد کی وسیع منصوبہ بندی کی جاتی ہے…الحمدللہ رمضان المبارک کی
’’انفاق فی سبیل اللہ‘‘ مہم کا اصل مقصد بھی … دعوت جہاد ہوتا ہے…اس مہم کے دوران
جماعت کے بعض رفقاء کے بیانات سننے کا اتفاق ہوا…دل سے دعاء نکلی اور دل خوش ہوا
کہ ماشاء اللہ بہت خوب جہاد کو بیان کرتے ہیں…ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ… جہاد
کو سمجھتے بھی ہیں اور سمجھا بھی سکتے ہیں…ان بیانات سے معلوم نہیں کتنے مسلمانوں
کا ایمان بچتا ہوگا… اور اجروثواب کا کیسا کارخانہ سجتا ہوگا…اس کا اندازہ لگانا
بھی مشکل ہے…
بھائیو! کام اگرچہ مشقت کا ہے…مگر ہے بالکل سچا…اور بہت نفع
والا…اس لیے لگے رہو، جمے رہو، جڑے رہو…آپ کی محنت، قربانی اور دعوت رائیگاں نہیں
جائے گی ان شاء اللہ…آپ کے درد، فکر اور دعوت کو سن کر دل سے دعاء نکلتی ہے…اے
جیش والو! قیامت تک سلامت رہو… قیامت میں سرفراز رہو۔
لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ
محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے لئے سب تعریفیں ہیں جو سب جہانوں کا پالنے
والا ہے… بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے…بدلے کے دن کا مالک ہے…( یا اللہ!) ہم
تیری ہی عبادت کرتے ہیں… اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں… ہمیں سیدھا راستہ دکھا…
اُن لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا… نہ اُن لوگوں کا راستہ جن پر تیرا غضب
ہوا… اور نہ اُن لوگوں کا جو گمراہ ہوئے…
آمین… یا اللہ! دعاء قبول فرما۔
یہ ہے قرآن عظیم الشان کی عظیم سورۃ… سورۂ فاتحہ کا
ترجمہ…
ہر مسلمان اس سورۃ کا ترجمہ، مفہوم اور پیغام دل میں
بٹھائے… اللہ تعالیٰ اس سورۃ کی برکت سے ہمارے دلوں کے تالے کھول دے… بے شک یہ
سورۃ’’ فاتحہ‘‘ ہے… کھولنے والی، بندشوں کو توڑنے والی، تالوں اور زنجیروں کو پاش
پاش کرنے والی۔
روٹھے ہوئے مسلمانوں کے نام
آج بہت اہم بات عرض کرنی ہے… اس لئے آغاز سورۃ فاتحہ کے
ترجمہ سے کیا ہے تاکہ…بات میں وزن اور تاثیر آ جائے…بات یہ ہے کہ آج رمضان
المبارک کی پچیس تاریخ ہے… چار یا پانچ دن بعد ’’رمضان المبارک‘‘ تشریف لے جائے
گا… کیا اس کے جاتے ہی مسجدیں دوبارہ خالی خالی ہو جائیں گی؟… حجاموں کی دکانوں پر
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت داڑھی
منڈوانے والوں کا رش لگ جائے گا؟… وہ مسلمان بہنیں جو گھروں میں اور اعتکاف میں
بیٹھی ہیں بازاروں میں نکل آئیں گی؟… فجر کی نماز میں مسجد کی پچھلی تمام صفیں غم
سے روتی رہ جائیں گی؟… الماریوں میں بند موبائل فون اپنی تمام خباثتوں کے ساتھ
باہر آ جائیں گے؟…پیارے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت دوبارہ شیطان کو اپنا رہنما بنا لے گی؟…
اے پیارے مسلمانو! اگر ایسا ہوا تو یہ کتنا دردناک ہو گا؟…
کیا ہم صرف رمضان کے مسلمان ہیں… کیا اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمارا رب نہیں ہے؟ … کیا
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ ہمارے نبی اور ہمارے رہبر و رہنما نہیں
ہیں؟… اے محترم مسلمانو! تھوڑا سا سوچو، تھوڑا سا سوچو کہ رمضان المبارک کے بعد
اگر ہم مسجد کو چھوڑ گئے تو ہم اپنا کتنا بڑا نقصان کریں گے… یہ مسجدیں زمین پر
جنت کے مہمان خانے ہیں… انہیں نہ کوئی ہندو آباد کرے گا نہ عیسائی… وہ تو ان
مساجد کے دشمن ہیں… اور اُن کے لئے ان مساجد میں کوئی نعمت نہیں ہے…مگر ہمارے لئے
تو یہ مساجد خیر کا خزانہ ہیں… یہ ہمیں اللہ تعالیٰ سے جوڑنے کا مقام ہیں… اچھا
ہوا کہ رمضان المبارک میں آپ نے ان مساجد کو آباد کیا… فجر کی نماز میں اکثر
مساجد بھر جاتی ہیں… اب ہمت کریں کہ مسجد کے ساتھ اپنے اس رشتے کو کمزور نہ ہونے
دیں… تب ثابت ہو گا کہ آپ نے رمضان المبارک سے فائدہ پایا ہے… اے مسلمان بہن!
تیرا بازار میں کیا کام؟ ہر طرف شیطانی نگاہیں اور غفلت و بے حیائی کے مناظر… اچھا
ہوا رمضان المبارک میں تو نے… سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی بننے کی محنت کی… پورا دن روزہ رکھا، ڈٹ
کر تلاوت کی… اور کتنے روزے داروں کو تو نے کھانا بنا بنا کر کھلایا… مگر یہ کیا؟
رمضان جاتے ہی تو بازار چلی گئی… بغیر محرم کے اکیلے جانا تو بہت برا… خالص لعنت
والا کام… اور محرم کے ساتھ بھی بلاضرورت جانا تیری شان کے خلاف… تو تو اللہ والی
ہے… تیرے حیا اور تیرے ایمان سے دنیا میں اسلام کو قوت ملتی ہے… کیونکہ تیرا حیا
اور تیری تربیت ہی اسلام کے لشکر اُٹھاتی ہے… اے مسلمان بہن! اے مسلمان بیٹی!
رمضان کے آخری ایام ہیں… کچھ غور کر لے، کچھ سوچ لے… اور سورۃ فاتحہ پڑھ پڑھ کر،
آنسو بہا بہا کر اللہ تعالیٰ سے پکی اور مستقل ہدایت مانگ لے…
اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ…اِھْدِنَا الصِّرَاطَ
الْمُسْتَقِیْمَ
رمضان المبارک کے بعد… دین سے روٹھ جانے والے مسلمانو!
رمضان کے آخری ایام میں عہد کر لو کہ ان شاء اللہ بالکل نہیں روٹھیں گے… جیسے
رمضان المبارک میں تھے رمضان المبارک کے بعد اس سے بھی زیادہ اچھا بننے کی کوشش
کریں گے… آج سے روزانہ دو رکعت نماز اور کم از کم سات بار سورۃ فاتحہ پڑھ کر دعاء
کیا کریں کہ … یا اللہ! پکی ہدایت نصیب فرما … دائمی ایمان نصیب فرما… ہمیشہ کا
نور نصیب فرما…
اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ…اِھْدِنَا الصِّرَاطَ
الْمُسْتَقِیْمَ
چھُٹی خطرناک
ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کا لازمی حکم ہے کہ … ہم ہمیشہ دین
پر قائم رہیں… ہمیشہ ہدایت والے راستے پر چلیں… ہمیشہ فرائض ادا کریں، ہمیشہ اللہ
تعالیٰ کا قرب ڈھونڈیں… ہمیشہ گناہوںسے بچیں… یہ حکم رمضان المبارک کے لئے نہیں…
بلکہ پوری زندگی کے لئے ہے… ماحول کی وجہ سے ہم صراط مستقیم سے کچھ دور ہونے لگتے
ہیں تو… اللہ تعالیٰ ہماری اصلاح اور حفاظت کے لئے سال میں ایک بار رمضان المبارک
بھیج دیتے ہیں… رمضان آتا ہے اور ہماری میل کچیل، غفلت اور گمراہی کو جلا پھینکتا
ہے، دھو ڈالتا ہے… تاکہ ہم دوبارہ بالکل سیدھے سیدھے صراط مستقیم پر چل پڑیں…
رمضان المبارک کا یہ مقصد نہیں ہے کہ… ہم پورا سال جان بوجھ
کر غفلت اور برائیوں میں گذاریں اور جب رمضان آ جائے تو ایک مہینے کے لئے…
’’رمضانی مسلمان‘‘ بن جائیں… اور جب رمضان المبارک چلا جائے تو ہماری دینداری بھی
اس کے ساتھ چلی جائے… اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو صرف ’’رمضانی‘‘ نہیں
’’ربانی‘‘ مسلمان بنائے…پورا سال مسلمان ، دن رات مسلمان، خلوت وجلوت میں مسلمان،
خوشی و غم میں مسلمان… مرتے دم تک ہر لمحہ مسلمان … اور پھر قبر میں مسلمان۔
ہمارے مجاہد ساتھیوں میں ایک غلط چیز چل پڑی ہے … وہ ہے عید
الفطر کے بعد لمبی چھٹی کی خواہش… یہ سچ ہے کہ رمضان المبارک میں زیادہ محنت ومشقت
ہوتی ہے… اور انسان کا نفس ایسی مشقت کے بعد راحت مانگتا ہے… مگر یہ بھی تو سوچیں
کہ… یہ راحت ہمارے لئے کتنی نقصان دہ ہوتی ہے… رمضان المبارک کے تمام انوارات
جنہوں نے ہمیں پورا سال چارج رکھنا تھا چھٹی کے دس پندرہ دنوں میں ضائع ہو جاتے
ہیں… اسلام کی پیاری ترتیب دیکھیں کہ رمضان کے بعد چھٹی نہیں دی بلکہ شوال کے نفل
روزوں کی ترغیب دی… اور ان روزوں کو بھاری انعام حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا … یہ
اسلام کی ہمارے ساتھ’’ ہمدردی‘‘ اور’’ محبت ‘‘ہے… کیونکہ رمضان المبارک کے فوراً
بعد شیطان اور نفس پوری قوت سے حملہ کرتے ہیں… اور وہ چاہتے ہیں کہ… ہم نے رمضان
المبارک میں جو کچھ کمایا جو کچھ بنایا وہ سب لوٹ لیں… تب اسلام نے ان دشمنوں کے
مقابلے میں ہماری مدد فرمائی… اور شوال کے روزے عطاء فرمادئیے… اور ساتھ یہ اشارہ
دے دیا کہ… شوال کی چھٹی خطرناک ہے، بے حد خطرناک… ہم کئی سال سے کوشش کر رہے ہیں
کہ… رمضان المبارک کے بعد جماعت کے رفقاء میں غفلت، چھٹی اور آرام کا ماحول نہ
بنے… آرام کرنا ہے تو شوال کے بعد اگلے مہینے ذو القعدہ میں تھوڑا سا کر لیں…
ویسے بھی آرام ایک دھوکا ہے اور لوگ آرام کے نام پر خود کو گناہوں میں تھکاتے
ہیں… میری تمام مجاہدین سے درخواست ہے کہ … شوال کی چھٹی بالکل نہ کریں… اپنی
رمضان کی عظیم محنت ضائع نہ کریں… بس ایک دن عید… اور اگلے دن سے اعمال، کام اور
محنت…
بھائیو! یہ ترتیب ہم میں سے جس کو نصیب ہو گئی وہ بڑا خوش
نصیب ہو گا کہ … اپنی رمضان کی محنت اور سرمائے کو بچا لے گا… ان شاء اللہ
آج بس اتنا ہی … کیونکہ یہ بہت ضروری بات ہے… اس میں مزید
باتیں آ گئیں تو کہیں اصل بات بھول نہ جائے… اللہ تعالیٰ رمضان المبارک کے بعد
بھی…ہم سب کو اپنی خاص نظر رحمت اور نصرت عطاء فرمائے… اور ہمیں دائمی ایمان نصیب
فرمائے… آمین …
آپ سب کو ’’عید‘‘ کی پیشگی مبارکباد…
لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ
محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو ’’سچا مسلمان‘‘اور’’ سچا
مؤمن‘‘ بنائے…تاکہ ہمیں اپنی ’’ذات‘‘سے زیادہ’’اسلام‘‘اور ’’ایمان‘‘کی فکر نصیب
ہوجائے۔
پانی سر سے اوپر
انڈیا میں حالات آئے دن بگڑتے جارہے ہیں … بالکل ناقابل
برداشت ،بے انتہاقابل نفرت حالات…ایک لیڈر نے بیان دیا کہ … گائے کے تحفظ کے لئے
ہزاروں انسانوں کا خون بہانا پڑا تو بہائیں گے… بیانات تو پہلے بھی آتے رہتے تھے
…مشرکین کی زبان غلاظت سے بھرپور ہوتی ہے… گندگی جو کھاتے ہیں،پیشاب پیتے ہیںاور
سب سے بڑی غلاظت یہ کہ …اللہ تعالیٰ کے ساتھ طرح طرح کے شریک ٹھہراتے ہیں …مگر جب
سے’’ مودی‘‘ آیا ہے معاملہ بیانات سے بھی آگے نکل چکا ہے …میرے جیسے انسان کے
لئے اب انڈیا کی خبریں پڑھنابے حد مشکل ہوچکا ہے …کس طرح سے جگہ جگہ مسلمانوں کو
شہید کیا جارہا ہے …کوئی ایک بندر اعلان کرتا ہے کہ فلاں مسلمان گائے کا گوشت لے
کر جارہا ہے …بس اسی وقت بندروں،لنگوروںاورسوروں کا ہجوم اُمڈآتاہے اور تھوڑی
دیرمیں کلمہ گومسلمان کی لاش …ہم مسلمانوں سے بے شمار سوالات پوچھتی ہوئی ٹھنڈی پڑ
جاتی ہے… جموں میں سفید داڑھی والے بزرگوں کو مارا گیا … ان کی خواتین روتے روتے
بے ہوش ہو گئیں… ریل گاڑیوں میں مسلمان خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتاہے… اور
اسٹیشن پر پولیس اُنہی زخمی خواتین کو پکڑ کر تھانے جاپھینکتی ہے…آخر یہ سب کچھ
کیا ہے ؟…آخر یہ سب کچھ کب تک چلتا رہے گا؟…
انڈیا کے مسلمان وہاں کرائے پر نہیں رہتے … ہندوستان کسی
ہندو کے باپ کی جاگیر نہیں ہے… ہندو بھی وہاں بعد میں بنے اور مسلمان بھی بعد میں
بنے …ان سب سے پہلے وہاںاور مذاہب تھے… مسلمانوں نے پورے ہندوستان پر حکومت کی
…آج تک کوئی ہندو راجہ مہاراجہ پورے ہندوستان پر حکومت نہیں کرسکا…منحوس انگریز
ہندوستان آیا تو جاتے وقت حکومت ہندوؤں کودے گیا…انگریز مسلمانوں کا کل بھی
بدترین دشمن تھا آج بھی ہے … ہندوستان تقسیم ہوگیا توجوعلاقہ ہندوستان بنا وہاں
کے مسلمان اقلیت بن گئے اور پھران پر زندگی تنگ کی جانے لگی…اوراب پانی سر سے اوپر
جاپہنچا ہے …قسم ہے اس ذات کی! جس کے قبضے میں ہم سب کی جان ہے …اور وہ وحدہ
لاشریک لہ ہے …قسم ہے رب کعبہ کی! …ہندواس وقت بہت بڑی غلطی کررہے ہیں …ایسی غلطی
جس کاانہیں بدترین خمیازہ بھگتناہوگا…ہندواس وقت بہت بڑا ظلم ڈھارہے ہیں …ایسا ظلم
جوعنقریب دس گنا طاقتور ہوکر ان کے گھروں کا رخ کرے گا…مودی اور یوگی …اپنی قوم
کواس ہلاکت کی طرف لے جارہے ہیں … جس ہلاکت کی طرف فرعون اپنی قوم کو اور ابوجہل
بدر میں اپنے لشکر کو لے کرگیا تھا … مسلمانوں کو خاک کا ڈھیر سمجھنے والو!تم بڑی
بھول میں ہو…بہت بڑی بھول میں …آج پوری امت مسلمہ کے دل تمہارے مظالم کی وجہ سے
زخمی ہیں …اورامت مسلمہ کے زخمی دل جب’’آہ‘‘برساتے ہیں تو… دشمنوں کے گھروں اور
شہروں میں آگ لگا دیتے ہیں … بہت بھیانک آگ…دوردورتک پھیلی ہوئی آگ۔
اظہار تعزیت
مودی اور یوگی کے مظالم سے… ہندوستان میں ہمارے جو بھائی
اور بہنیں شہیدہوچکے ہیں… ان کی شہادت کوسلام،ان کی مظلومیت ظلم کارخ ضرور بدلے گی
…اللہ تعالیٰ ان کو مغفرت اور شہادت کا اعلیٰ مقام نصیب فرمائیں، انہیں مکہ مکرمہ
کے ہجرت سے پہلے والے شہداء کے قدموں میں جگہ عطاء فرمائیں …ان شہداء کرام کے
غمزدہ اہل خانہ سے قلبی تعزیت …اللہ تعالیٰ آپ کو صبر جمیل ،اپنی حفاظت
اوراجرعظیم عطاء فرمائے اور آپ کواپنی آنکھوں سے…قاتلوںکے گھروں کا ماتم دکھائے…
اے ہندوستان کے مسلمانو!اے فاتحین کی اولاد!اللہ تعالیٰ آپ کو آزادی ،عزت اور
اپنے اسلاف کا نقش قدم نصیب فرمائے …آپ کو ڈرنے کی ضرورت نہیں، مسلمان اللہ
تعالیٰ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا…آپ خود کو اکیلا نہ سمجھیں …جس کے پاس کلمہ توحید
ہے وہ کبھی اکیلا ہوہی نہیں سکتا…اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے ساتھ ہے … آپ خود کو
بے بس نہ سمجھیں… آپ کے پاس ایمان ،قرآن اور اسلام جیسی قوت موجود ہے…بس زندہ
رہنے کا شوق دل سے نکالیں ،دنیا بنانے اوردنیا بسانے کی فکر سے آزادی حاصل کریں
…سیّداحمد شہید رحمہ اللہ اور اور نگ زیب
عالمگیر رحمہ اللہ جیسے اپنے آباء واجداد
کی سیرت پڑھیں… حضرت نانوتوی رحمہ اللہ اورحضرت گنگوھی رحمہ اللہ سے پھرایک نیا سبق پڑھیں …حافظ ضامن شہید رحمہ
اللہ سے مسئلے کا حل پوچھیں … وہ لوگ آپ
کے لیڈر نہیں جو بزدلی کو مصلحت پسندی اور سیاست قرار دے رہے ہیں …وہ لوگ آپ کے
رہنما نہیں جو آپ کے تحفظ کے نام پر غلامی کی زنجیروں کو مزید جکڑ رہے ہیں …اپنے
دل میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شوق بھریں… اپنے دل میں اللہ تعالیٰ سے حسن ظن
بھریں …اللہ تعالیٰ سے نور ،روشنی اور قوت مانگیں …اپنے جسم کے پٹھوں کو مضبوط
کریں… باہرسے کسی مدد کے انتظار میں نہ بیٹھے رہیں اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی مدد
کے لائق بنائیں۔
مسلمانو!ہمت،ہمت،ہمت…اللہ کے لئے ہمت…اللہ تعالیٰ ہمارے سب
گناہ اس وقت معاف فرمادیتا ہے جب ہم اس کے لئے قربانی دینے کا عزم کرتے ہیں …گلی
محلوں میں غنڈہ گردی کرنے والے دادے دل سے توبہ کرلیں اور میدان سنبھال لیں … مودی
اور یوگی جیسے بندرجنگلوں میں جا چھپیں گے یاآگ میں کوئلہ بن جائیں گے …
مسلمانو!قرآن پکاررہاہے…مسلمانو!غلامی کو اپنی قسمت نہ سمجھو…مسلمانو!آسمان جھک
جھک کربدراور احزاب کے مناظر کی جھلک دیکھنے کو بے تاب ہے …مسلمانو!ظلم بہت چھا
گیا…برداشت آخر کب تک؟کب تک؟… بندروں کے ہجوم سے ڈنڈے کھا کھا کر مرنے سے یہ بہتر
نہیں کہ …حضرت ٹیپوسلطان رحمہ اللہ کی طرح
دھاڑتے ہوئے سینے پر زخم کھاؤاور مسکراتے ہوئے موت کو گلے لگاؤ… موت نے توایک دن
ضرور آناہے…مگرمسلمان توموت کو شکست دیتاہے …موت سے شکست نہیں کھاتا۔
کوئی ڈر نہیں
مجھے معلوم ہے میرے اس کالم پرانڈیا ضرور واویلاکرے گا…کرتا
رہے مجھے کوئی ڈر نہیں …اب جو بھی کارروائی ہندوستان میں ہوگی وہ بھی میرے کھاتے
میں ڈالے گا …ڈالتا رہے مجھے کوئی فکر نہیں…کشمیرسے کنیاکماری تک انڈیا کے خلاف ہر
کارروائی بے شک ہماری جماعت پر ڈال دو… پابندیاں ،گرفتاریاں ،سولیاں اور طرح طرح
کی سازشیں مسلمانوں کو نہیں ڈرا سکتیں … ہندوستانی مسلمانوں پر ہونے والے مظالم
…اور کشمیری مسلمانوں پر ہونے والی بربریت نے ہمارے دلوں میں آگ لگا رکھی ہے …آپ
یقین کریں وہاں کے مظالم پڑھ کرمیں سکتے میں آجاتا ہوں اور غم،درداور پریشانی کی
وجہ سے پوری خبر نہیں پڑھ سکتا…ابھی چنددن پہلے ہریانہ میں ایک اٹھارہ سال کے
مسلمان نوجوان کو… مارمار کر شہید کیا گیا…میں نے خبر پڑھنا شروع کی تو تن بدن میں
آگ لگ گئی …وہ نوجوان تصور میں پوچھ رہا تھا …کیا میںڈیڑھ ارب مسلمانوں کا بھائی
اور بیٹا نہیں تھا؟…کیا میں محمدعربی صلی اللہ علیہ وسلم کا اُمتی نہیں تھا؟…پھر مجھے یوں کس لئے
تڑپاتڑپا کر مارا گیا…اور کہیںسے بھی میرے بدلے یا انتقام کی آواز نہ اُٹھی؟…
ساٹھ مسلمان ممالک کی لاکھوں فوج …لاکھوں پولیس اور موٹے
تازے حکمران …کوئی بھی ایک لفظ نہ بولا…کسی نے بھی دردکی ایک آہ بلند نہ کی …کسی
نے بھی بے چینی کی ایک کروٹ نہ بدلی… میں وہ خبرپوری نہ پڑھ سکا … میری آنکھوں
اور اس خبر کے درمیان گرم پانی حائل ہوگیا … اور مجھے اپنے بعض نظریات سے شرم آنے
لگی …ہمارا نظریہ ہے کہ نہتے لوگوں پر … خواہ وہ کوئی بھی ہوں ہاتھ نہ اٹھایا جائے
… مجھے اپنایہ نظریہ دریا توی کے خونی پانی کی موجوں میں بہتا ہو امحسوس ہوا …
آخر ان ظالموں نے مسلمانوں کو کیا سمجھ رکھا ہے؟… ہم جنگ بھی کرتے ہیں تواصولوں
کے ساتھ … مگر ہمارے دشمن کسی اصول کے پابند نہیں … ان کو بس مسلمانوں کا خون
بہانا ہے … ان کو بس مسلمانوں کا خاتمہ کرناہے … مودی یاد رکھنا …یوگی یاد رکھنا …
مسلمان کا خون بہت مہنگا ہے…بہت مہنگا…اور مسلمانوں کا خاتمہ ناممکن ہے …بالکل
ناممکن …پاکستان میں کاش کوئی ایک درد دل رکھنے والا مسلمان حکمران آجائے توتم چا
ردن میں سیدھے ہوسکتے ہو…مگر پھر بھی کوئی بات نہیں … حکمران نہیں تو کیا ہوا …
مسلمان تو یوپی سے لے کر کرناٹک تک موجود ہیں …کراچی سے خیبر تک موجود ہیں …ہر
پہاڑ پر اور ہر ساحل پر موجود ہیں … ان شاء اللہ تمہیں اپنے مظالم کا حساب دینا
پڑے گا…یہ دھمکی نہیں حقیقت ہے … بالکل سچی ،پکی حقیقت۔
دنیا سمٹنے کو ہے
ایک بات ہر مسلمان غور سے پڑھے … آج دنیا میں وہ گناہ بہت
عام ہوگئے ہیں جواللہ تعالیٰ کے غضب کو زمین پر اُتارتے ہیں … وہ گناہ جن کی وجہ
سے ماضی کی قومیں اُلٹی پھینک دی گئیں اور ان کا نام و نشان مٹ گیا … آج وہ گناہ
ہر طرف پھیل گئے …ان گناہوں کی نحوست کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنا غضب برسایااور
انسانوں کی عقل چھین لی … ان بے عقل انسانوں نے ایٹم بم ایجاد کرکے اپنے ملکوں میں
رکھ لئے …ہائیڈروجن بم بنا کراپنے شہروں میں چھپادئیے … مہلک گیسیں بناکراپنے
ملکوں میں ذخیرہ کرلیں …پھران بے عقلوں نے یہ سارا نظام کمپیوٹر اور ریڈیائی لہروں
کے کنٹرول میں دے دیا… پھر ان بے عقلوں نے سیارچے بنابناکر فضامیں چھوڑ دئیے … اب
ان حالات میں ان ملکوں اور دنیاکی تباہی کتنی آسان ہوگئی ہے؟… غلط فہمی سے کوئی
جنگ چھڑ ی توکروڑوں انسانوں کو خاک بنا دے گی …کسی ایک شخص کا دماغ پھرا اوراس
کوخفیہ کوڈ معلوم ہوئے تو وہ آدھی زمین کو تباہ کردے گا…کسی ایک ہیکرکی انگلی کسی
بٹن تک پہنچ گئی تو وہ تمام سیارچے زمین پر گرا دے گا… کسی ایک خاتون سائنسدان
کواپنے شوہر پر شک ہوا تو وہ چند بٹن دباکرکئی ممالک کو راکھ بنا دے گی … اب دنیا
بارود کے ڈھیر پر جابیٹھی ہے…اور اس ڈھیر پر بیٹھ کر بدکاریاں اور کفر و شرک کررہی
ہے… بس ایک تیلی لگنے کی دیر ہے …تب دنیا کا اکثر حصہ تباہ ہوجائے گا…نہ موت سے
ڈرنے والے بچیں گے اور نہ موت سے بھاگنے والے … وہ جنہوں نے اپنے گرد حفاظتی حصار
بناکرمستیاں شروع کررکھی ہیں …سومیل دور پھٹنے والے بم کی زد میں آکر مارے جائیں
گے اور وہ وقت بس آیا ہی چاہتا ہے …مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ایسا وقت آنے سے
پہلے پہلے توبہ کرلیں…ایمان اور جہاد کاراستہ اختیارکرلیں …موت اور مصیبت کے ڈر سے
غلامی قبول نہ کریں …ہر وقت اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شوق دل میں بڑھاتے رہیں …تب
جو موت آئے گی وہ حسرت نہیں راحت والی ہوگی۔
شک کی کیا گنجائش ہے
جس دنیا میں ٹرمپ اور مودی جیسے بے عقل مجرم حکمران ہوں …اس
دنیا کی تباہی میں شک کی کیا گنجائش ہے؟جس دنیا میں اسلامی ممالک کے حکمران وہ لوگ
ہوں …جوسب سے زیادہ نفرت اسلام اور جہاد سے کرتے ہوں …اس دنیا کی تباہی میں کیا شک
ر ہ جاتا ہے؟… وہ دنیاجس میں انسان کی قدر وقیمت دم اُٹھا کر پیشاب کرنے والی گائے
سے بھی کم رہ جائے … وہ دنیا جس میں ہردن رات ہزاروں بے قصور انسان مارے جاتے ہوں
… وہ دنیا جس کے مسلمان حکمران ہر گناہ کے عادی اور ہر نیکی سے دور ہوں …وہ دنیا
جس میں مرد مردوں سے ،عورت عورتوں سے … اور انسان جانوروں سے شادی کررہے ہوں …ایسی
دنیا کی تباہی میں مزید کیا کسر رہ جاتی ہے ؟…میری اس بات سے کوئی مایوس نہ ہو…جس
انسان کے پاس کلمہ طیبہ،کلمہ توحید اور حضرت آقامدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کا تاج ہے… اس کے لئے زندگی بھی اچھی
اورموت بھی اچھی …
مقصدان حقائق کو بیان کرنے کایہ ہے کہ …دنیا تو ویسے ہی موت
کی طرف جارہی ہے… توپھرکیوں نہ زندگی کے باقی دن…ایمان،غیرت ،جہاد اور آزادی کے
ساتھ گزارے جائیں؟…
یہ سبق ہم سب مسلمانوں کے لئے ہے…اللہ تعالیٰ مجھے بھی اس
پر عمل کی توفیق عطاء فرمائے اور آپ سب کو بھی… خصوصاًہندوستان کے مسلمانوں
کو…آمین یاارحم الراحمین۔
لاالہ الااللّٰہ ،لاالہ الااللّٰہ ،لاالہ الااللّٰہ
محمدرسول اللّٰہ
اللھم صل علیٰ سیدنامحمدوالہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیماً
کثیراًکثیراً
لاالہ الااللّٰہ محمدرسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کی پناہ ’’شرک‘‘ سے… ’’شرک‘‘ سب سے خطرناک چیز…
شرک پکا ہو جائے تو سارے عمل برباد اور مغفرت کی اُمید ختم…یا اللہ! شرک سے بچا…
شرک کی حالت میں موت آئے اس سے بچا… یا اللہ! شرک سے شدید نفرت عطاء فرما… یا
اللہ! شرک سے مکمل حفاظت عطاء فرما… ہم مسلمان جب تک صبح شام یہ دعاء نہ مانگ لیں
نہ چین آتا ہے، نہ سکون … دعاء یہ ہے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ اَنْ اُشْرِکَ بِکَ
شَیْئًا وَّ اَنَا اَعْلَمُ بِہٖ وَ اَسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَا اَعْلَمُ بِہٖ۔
( ترجمہ): ’’یا اللہ! جان بوجھ کر
شرک کرنے سے اپنی حفاظت اور پناہ عطاء فرما… اور اگر لاعلمی میں شرک والا کوئی کام
ہو گیا ہو تو معافی عطاء فرما۔‘‘
اوپر جو چند سطریں لکھی ہیں… ان کو بار بار پڑھنے کی گذارش
ہے… ان کو دل میں اُتارنے اور بسانے کی اِلتماس ہے… اب آئیے چند ضروری نکتوں کی
طرف!
نمبر ایک دشمن
قرآن مجید نے بتایا ہے کہ… مسلمانوں کے نمبر ایک دشمن
یہودی اور مشرک ہیں… حضور اَقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام جنگیں انہی دو دشمنوں سے ہوئیں… جن کو
قرآن ہمارا دشمن قرار دے رہا ہے وہ کبھی ہمارے دوست نہیں ہو سکتے… ہمارے خیرخواہ
نہیں بن سکتے… یہ پہلا نکتہ یاد رکھیں… آج کل یہودیوں کی طاقت ’’اسرائیل‘‘ میں
اور مشرکوں کی طاقت ’’انڈیا‘‘ میں پَل رہی ہے۔
بہترین مسلمان
عجیب نکتہ سمجھیں … مشرک اسلام کے بدترین دشمن ہیں… لیکن جب
کوئی مشرک اخلاص کے ساتھ اسلام قبول کرتا ہے تو وہ بہترین مسلمان ہوتا ہے… یہی حال
یہودیوں کا ہے … حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا جائزہ لیں… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جتنے صحابہ کرام تھے… ماضی میں ان کی
’’وفاداری‘‘ کس مذہب کے ساتھ تھی؟… مگر جب شرک چھوڑ کر اخلاص سے کلمہ طیبہ پڑھا تو
وہ کیسے عظیم مسلمان بنے؟ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ایک مشرک اسلام قبول کرنے کے بعد
بہترین مسلمان کیوں بنتا ہے… دوسرے مسلمانوں سے بہت آگے ؟ یہ بات سمجھنے کی ضرورت
ہے مگر یہ تفصیل طلب ہے… آج اس موضوع کو اس لئے نہیں چھیڑ سکتے کہ اس میں ڈوب کر
ہمارا اصل موضوع رہ جائے گا۔
بہترین رعایا
ہمارے نوجوان جب ہندوستان کی تاریخ پڑھتے ہیں تو انہیں ایک
سوال بہت چبھتا ہے… وہ سوال یہ کہ ہندوستان کے مسلمان فاتحین اور بادشاہوں نے
ہندوؤں کا خاتمہ کیوں نہیں کیا؟ … چلیں رنگین مزاج اکبر بادشاہ کو چھوڑیں… کم ہمت
جہانگیر کو چھوڑیں… نرم طبیعت شاہجہان کو چھوڑیں… مگر اورنگ زیب عالمگیر نے یہ
کارنامہ کیوں سر انجام نہیں دیا؟…
وہ نہ تو رنگین مزاج تھا… نہ کم ہمت اور نہ نرم خو… وہ دین
کا عالم ، قرآن کا کاتب، اللہ تعالیٰ کا ولی… مرد میدان مجاہد… اور مضبوط اَعصاب
کا مالک فاتح تھا… بہادر، زاہد، موحد، صوّام ( بہت روزے رکھنے والا)، قوّام (
راتوں کو قیام کرنے والا) اور باوقار انسان… عیاشی اس کے قریب سے بھی نہ گذری تھی…
تلوار اس کی محبت تھی… جہاد اس کا جنون تھا… اور میدان جنگ اس کی سرشاری اور خوشی
کا مقام تھا… ہمارے بے علم کالم نگار اورنگ زیب عالمگیر کے خلاف طرح طرح کی باتیں
لکھتے ہیں… یہ باتیں پڑھ کر دُکھ ہوتا ہے… وہ اپنے بھائیوں کا ہرگز قاتل نہیں تھا
… اس کے بھائی خود ہی اپنی خواہشات کی بھینٹ چڑھ گئے… سکھ مذہب کے پیروکار اورنگ
زیب عالمگیر کے کٹر دشمن ہیں… کیونکہ ان کا قابل فخر اور بہادر ترین گورو… عالمگیر
کے ہاتھوں مارا گیا … مگر’’ سکھ‘‘ آج تک ’’عالمگیر‘‘ کی روحانی طاقت کے قائل ہیں…
وہ حقیقی مسلمان بادشاہ تھا … ایسا کہ اس جیسے انسان صدیوں میں جنم لیتے ہیں… مگر
سوال یہ کہ … عالمگیر نے مشرکوں کا صفایا کیوں نہیں کیا؟… افغانستان سے لے کر
آج کے پاکستان اور مکمل ہندوستان پر اس
کی پچاس سال سے زائد عرصہ حکومت رہی… جواب یہ ہے کہ… مشرک یعنی ہندو جب کسی کے
نیچے آ جائیں تو وہ’’ بہترین رعایا‘‘، بہترین غلام اور بہترین خادم بن جاتے ہیں…
وفادار، محنتی، عاجز، مسکین اور ہر خدمت کے لئے ہمہ وقت تیار … آپ کو میری بات پر
یقین نہ آئے تو امارات ، سعودیہ، بحرین، قطر اور دیگر ممالک میں کام کرنے والے
ہندوؤں کے حالات معلوم کر لیں… وہاں کے لوگ ہندو ملازم کو ترجیحی بنیاد پر ملازمت
دیتے ہیں… کیونکہ اگر وہ سرجن ڈاکٹر ہے… مگر آپ کو اپنے گھر کا گٹر صاف کرانا ہے
تو وہ فوراً دونوں ہاتھ جوڑ کر حامی بھر لے گا… اور دس ریال میں سارا کام کر دے
گا… جبکہ مسلمان ڈاکٹر ہزار ریال میں بھی ایسے کام پر راضی نہیں ہو گا… مجھے کئی
عرب ممالک میں جانے کا اتفاق ہوا ہے … وہاں جب میں ہاتھ جوڑے ، دانت نکالے ہندو
ملازمین کو دیکھتا تو یقین ہی نہ آتا کہ… یہی لوگ کشمیر میں اتنے مظالم ڈھا رہے
ہیں… انہی نے بابری مسجد شہید کی ہے… یہی لوگ ہندوستان میں جگہ جگہ مسلم کش فسادات
بھڑکاتے ہیں… ایک عرب دوست نے کھانے پر بلایا… جو ملازم کھانا لایا وہ انڈیا کا
ہندو تھا… میں نے حیرانی کا اظہار کیا تو اس نے بتایا کہ یہ سستے ملتے ہیں …کئی
اَفراد کا کام ایک فرد کر لیتا ہے…کسی کام میں عار محسوس نہیں کرتے… ہر وقت ہاتھ
جوڑ کر جی حضوری میں لگے رہتے ہیں… تب مجھے تصور میں ہندوستان کے وہ دھاڑتے،
چنگھاڑتے مجمعے یاد آئے جو مسلمانوں کے خون سے دریاؤں کو سرخ کردیتے ہیں… دراصل
مشرک کی فطرت اور طبیعت الگ ہے… وہ شیطان کا پجاری ہوتا ہے … اس لئے بہت جلدی اپنا
رنگ اور روپ بدل لیتا ہے… ہمارے ہندوستان کے فاتحین ان راجوں مہاراجوں سے تو لڑے
جو مقابلے پر آئے مگر ہاتھ جوڑے عوام کا وہ کیا کرتے؟ جھکے جھکے، سہمے سہمے، ہر
بات ماننے والے، ہر حکم قبول کرنے والے اور خوف سے تھر تھر کانپنے والے… مسلمانوں
کی طرح اِن کی تلوار بھی باعزت، باغیرت اور با اصول ہوتی ہے… وہ جھکی ہوئی، کانپتی
ہوئی گردنوں پر چلنا اپنی شان کے خلاف سمجھتی ہے… چنانچہ مسلمان فاتحین اطمینان سے
حکومت کرتے رہے… اور ہندو ان کی بہترین رعایا بنے رہے… انگریز آیا تو اس نے برہمن
کی دھوتی کو لنگوٹ بنا کر اسے اکھاڑے میں کھڑا کر دیا … تب آر ایس ایس وجود میں
آئی… اور پھر اس کی ناپاک گود سے ایک کے بعد دوسری دہشت گرد تنظیم جنم لیتی رہی۔
بدترین حکمران
مشرک بت پرست … دراصل شیطان کا پجاری ہوتا ہے… اسے جب حکومت
ملتی ہے تو وہ بدترین حاکم ، بدترین ظالم، بدترین بے حیا اور بدترین دھوکے باز بن
جاتا ہے… وہ بظاہر سبزی کھاتا ہے مگر وہ خون آشام عفریت بن جاتا ہے … وہ اہل
توحید، اہل اسلام کو اپنی درندگی کا نشانہ بناتا ہے… اور شیطان کی طرح اسلام کے
خاتمے کے خواب دیکھتا ہے…
مکہ کے مشرک جب حالت شرک میں… مکہ کے اور جزیرۃ العرب کے
حاکم تھے تو’’ جزیرۃ العرب‘‘ کی کیا حالت تھی؟ بات بات پر خون ریزی، دفن ہوتی
معصوم بچیوں کی چیخیں… ہر منہ سے بہتی شراب ، ہر چوتھا گھر فحاشی کا اڈہ… اور ہر
طرف ظلم ، دادا گیری اور بربریت… روئے زمین کا دل ’’جزیرۃ العرب‘‘ ان دنوں ایسی
حالت میں تھا کہ دنیا کی کوئی مہذب قوم وہاں قدم رکھنے کے لئے تیار نہیں تھی… اور
ہر کوئی ہر برائی کی مثال کے طور پرعربوں کو پیش کرتا تھا… آج وہی حالت ہندوستان
کی ہے، وہاں کی جہالت ، بدبو ، گندگی ، بے حیائی… ظلم ، بربریت ، درندگی کو اگر
کھول کر بیان کروں تو آپ کو متلی آنے لگے لگی … ہر منہ میں شراب، ہر زبان پر
گالی، ہر دل میں ہوس کا جال… جھوٹ، دھوکہ، بے حیائی… اور ظلم…
آہ ہندوستان کے مسلمان… آج کس آفت میں پھنس گئے ہیں… وہ
کل تک حکمران تھے، بادشاہ تھے… جبکہ آج وہ لنگوروں ، بندروں اور سوروں کے مظالم
کا شکار ہیں… بی جے پی جو کہ آر ایس ایس کی نوے سالہ محنت کا’’ نچوڑ‘‘ ہے …اور
مودی جو مشرکوں کی تمام خباثتوں کا ’’مرکب‘‘ ہے… وہ آج وہاں حکمران ہے… ہندوستان
کے مسلمانوں کے لئے… نہ کوئی ہجرت کا مقام قریب ہے… اور نہ ان کے آس پاس ان کی
فکر کرنے والا کوئی مسلمان ملک یا حکمران ہے… پاکستان کے موجودہ جمہوری حکمران تو
ہندوؤں کی محبت میں سرتاپا غرق ہیں… تب ایسے حالات میں ہندوستان کے مسلمان کیا
کریں؟۔
ترتیبِ الٰہی سمجھیں
ہندوستان کے مسلمان کہیں بھی نہ جائیں … وہ ہندوستان کے اصل
باشندے اور اس کے ماضی اور مستقبل کے حکمران ہیں… وہ بس دو کام کریں… پہلا یہ کہ
وہ پکے سچے شعوری مسلمان بن جائیں… کلمہ طیبہ پڑھ کر اپنے ایمان کی تجدید کریں…
شرک سے پکی توبہ کریں… گناہوں سے توبہ کریں… اسلام کے پانچ محکم فرائض کو دل کے
یقین سے مانیں… نماز، روزہ ، حج، زکوٰۃ اور جہاد فی سبیل اللہ… اور ان فرائض کی
پابندی کو ہی اپنی زندگی کا مقصد بنائیں… دوسرا کام یہ کریں کہ اللہ تعالیٰ کی
بنائی ہوئی ترتیب کو سمجھیں… ہم مسلمان جو جگہ جگہ مار کھا رہے ہیں اس کی ایک بڑی
وجہ یہ ہے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی بنائی ترتیب کو اُلٹ دیا ہے… ہم کہتے ہیں کہ
پہلے اللہ تعالیٰ ہمیں طاقت دے، ٹھکانہ دے، اسلحہ دے، سامان دے، وسائل دے، فرشتے
دے تو ہم اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت کریں گے… جبکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ترتیب بیان
فرمائی ہے کہ… اے مسلمانو! تم پہلے اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت کے لئے آگے بڑھو
پھر اللہ تعالیٰ تمہیں ہر چیز عطاء فرمائیں گے… طاقت بھی، سامان بھی، نصرت بھی ،
فرشتے بھی…
اِنْ تَنْصُرُوااللّٰہَ یَنْصُرْکُمْ(محمد:۷)
یہ پکی ترتیب اور پکا وعدہ ہے… بدر کی لڑائی میں حضور اقدس
صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان
اللہ علیہم اجمعین نے کوئی شرط نہیں رکھی…
وہ خود دین کی نصرت کے لئے ایک ناہموار جگہ پر نہتے پہنچ گئے تو پھر اللہ تعالیٰ
نے نصرت کے وہ اَنداز دِکھائے کہ عقلیں حیران رہ گئیں … بدر کے بعد آج تک ہر
تحریک میں یہی ہوتا رہا ہے… اور قیامت تک یہی ہوتا رہے گا…
ہندوستان کے مسلمان بھی اگر عزم و ہمت سے کام لیں… اور
زیادہ دن زندہ رہنے کو ہی اپنی کامیابی سمجھنا چھوڑ دیں تو پھر… اللہ تعالیٰ کی
طرف سے ضرور نصرت اُترے گی… ضرور اُترے گی، ضرور اُترے گی… اس میں نہ شک کی گنجائش
ہے اور نہ کسی شبہے کی… آپ لوگ کب تک اپنی ’’حبّ الوطنی‘‘ کی صفائیاں دے کر زندگی
کی بھیک مانگتے رہیں گے… صفائیاں دینا چھوڑو … صفائی شروع کرو… اللہ تعالیٰ ایمان
والوں کے ساتھ ہے۔
نشے میں نہ رہو
’’مودی‘‘ ابھی ابھی ’’ یہودی‘‘ سے
مل آیا ہے …ماضی کی تاریخ گواہ ہے کہ… مشرک اور یہودی جب بھی مل کر مسلمانوں کے
خلاف کوئی سازش یا اِتحاد بناتے ہیں تو… خود ان کی اپنی ’’ ذلت‘‘ کے دن شروع ہو
جاتے ہیں … آپ غزوۂ اَحزاب اور غزوۂ بنی قریظہ کے آس پاس کی تاریخ پڑھ لیں تب
آپ کے دل سے یہ جملہ نکلے گا کہ…
’’ مودی کا دورۂ اسرائیل مسلمانوں
کو مبارک ہو۔‘‘
مودی اور یوگی دراصل اپنی طاقت اور دنیا بھر میں اپنی حمایت
کے نشے میں چور ہیں… ان کا یہ نشہ ان شاء اللہ عنقریب ان کے دردِ سر میں تبدیل
ہونے والا ہے… ہندوستان کے مسلمان نوجوانوں میں بے چینی تیزی سے پھیل رہی ہے اور
ان میں جہاد کا جذبہ بہت سرعت سے اُبھر رہا ہے… مسلمان نوجوان جب اپنی قوم کا
انتقام لینے کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی ضرور مدد فرماتے ہیں… ہم نے
گذشتہ پچیس تیس سال کے جہاد میں یہ بارہا دیکھا ہے کہ… جب مسلمان مجاہدین اپنے
شہداء اور مقتولین کے اِنتقام کی نیت کر کے کوئی کارروائی کرتے ہیں تو ان کی
کارروائی میں غیبی مدد اور قوت شامل ہو جاتی ہے … اور اب تو اِنتقامی جہاد… جسے
قرآن مجید ’’اِنتصار‘‘ کا پیارا نام دیتا ہے… روایتی اسلحہ کا محتاج نہیں رہا…اب
بم ، گولی، بارود، بندوق، لانچر اور ٹریننگ کی بھی ضرورت نہیں رہتی… گاڑی،
بجلی،پیٹرول،کھاد،ریت اور دوائیوں کے ذریعہ لوگ بڑی بڑی کارروائیاں کر لیتے ہیں…
مودی اور یوگی نشے میں نہ رہیں… ان کے مظالم نے ’’انتصار‘‘ کی بجلی کا بٹن دبا دیا
ہے… اب نہ کسی بھڑکانے والے کی ضرورت ہے اور نہ کسی ماسٹر مائنڈ کی… خود تمہارے
مظالم اب واپس تمہاری طرف لوٹنے والے ہیں… ان شاء اللہ
لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ
محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما
کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کی تلوار… حضرت سیّدنا خالد
بن ولید رضی اللہ عنہ کچھ تأخیر سے مسلمان ہوئے … مگراپنے اخلاص اور اپنے جہاد کی
بدولت… بہت جلد بلندیوں تک پہنچ گئے … ان کی مبارک اور کامیاب زندگی سے ہمیں پہلا
سبق یہی ملتا ہے کہ … انسان اپنی زندگی میں … اپنے ماضی کی بھر پور تلافی کر سکتا
ہے … حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت اور کمان میں … ان صحابہ
کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جہاد فرمایا جو سابقین
اولین میں سے تھے … حتٰی کہ یہ حضرات دوران جہاد اپنی نماز کی امامت کے لئے بھی…
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو آگے رکھتے تھے… میدان یرموک کو وہ
مناظر یاد ہیں جب بڑے بڑے صحابہ کرام حضرت سیّدنا خالد بن ولید رضی اللہ
عنہ کی امامت میں نماز… اور ان کی کمان میں جہاد کا فریضہ ادا فرما رہے
تھے :
عَنْ قَیْسٍ قَالَ:’’ اَمَّنَا خَالِدُ
بْنُ الْوَلِیْدِ یَوْمَ الیَرْمُوْکِ فِیْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَ خَلْفُہٗ
الصَّحَابَۃُ۔ ‘‘
[الاصابہ۔ج:۵،ص:۴۰۰، ناشر:دار الكتب العلمية - بيروت]
حضرت سیّدنا خالد بن
ولید رضی اللہ عنہ نے… غزوہ حدیبیہ کے بعد اسلام قبول
فرمایا… ہجر ت کی سعادت حاصل کی اور پھر اسلام کی بلند ترین چوٹی … یعنی جہاد فی
سبیل اللہ پر ایسے قدم جمائے کہ… اس چوٹی کی سب سے بلند ترین جگہ تک جا پہنچے …
اور’’ سیف اللہ‘‘ کے حقیقی خطاب کے مستحق بن گئے… حضرت آقا محمد
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے… حضرت خالد بن
ولید رضی اللہ عنہ کو ’’سیف اللہ‘‘ قرار دیا تو… یہ صرف
کوئی تعریفی یا اعزازی لقب نہیں تھا … یہ حقیقت تھی ، بالکل پکی اور سچی حقیقت… یہ
اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا اور اللہ تعالیٰ کا انتخاب … حضور اقدس صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’خالد اللہ تعالیٰ کے کتنے اچھے بندے
ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں۔‘‘
[سنن ترمذی۔حديث رقم:۳۸۵۰، ناشر: دار الکتب العلمیہ۔ بیروت]
اور ارشاد فرمایا:
’’خالد کو ایذاء نہ پہنچاؤ بے شک وہ
اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں جس تلوار کو اللہ تعالیٰ نے مشرکین
پر برسایا ہے۔‘‘
[مستدرک حاکم۔حديث رقم:۵۲۹۷، ناشر:دار الكتب العلمية - بيروت]
اور حکم فرمایا:
’’خالد پر زبان درازی نہ کرو وہ اللہ
تعالیٰ کی تلوار ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے کفار پر سونت لیا ہے۔‘‘
[المطالب العالیہ۔حديث رقم:۴۰۰۷ ، ناشر:دار العاصمة]
اللہ تعالیٰ کی تلوار ہونا نہ تو کوئی
معمولی بات ہے… اور نہ ہی یہ کوئی آسان منصب ہے… یہ ایک بہت اونچا… اور بہت مشکل
مقام ہے… اللہ تعالیٰ کی تلوار… یعنی مجسم جہاد… مسلسل جہاد… محاذوں والا جہاد…
کامیاب جہاد… چلتا اور چمکتا جہاد… خون میں ڈوبا اور زخموں سے سجا جہاد… معرکوں
اور میدانوں میں اترا ہوا جہاد… اللہ تعالیٰ کے ہر دشمن کی گردن کاٹنے والا جہاد…
مہارت اور محنت والا جہاد… آگے بڑھنے اور کہیں نہ رکنے والا جہاد… شکست اور
پسپائی سے مبرّا جہاد… حضرت کاندھلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب نانوتوی
رحمہ اللہ اوّل صدر مدرس دارالعلوم دیوبند فرمایا کرتے تھے کہ
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اپنی ساری عمر شہادت کی تمنا
میں جہاد و قتال میں گزاری لیکن ان کی یہ تمنا پوری نہیں ہوئی اور شہادت ان کو
نصیب نہ ہوئی۔ مولانا یعقوب صاحب میں کچھ شان جذب کی تھی، اسی شان جذب میں فرمایا
کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ خواہ مخواہ ہی
شہادت کی تمنا اور آرزو کرتے تھے، ان کی اس تمنا اور آرزو کا پورا ہونا نا ممکن
اور محال تھا۔ جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ
کی تلوار بتایا ہو اسے نہ کوئی توڑ سکتا ہے اور نہ موڑ سکتا ہے، اللہ کی تلوار کا
توڑنا نا ممکن اور محال ہے۔‘‘
[سیرت المصطفیٰ، جلد دوم، ص ۴۲۴۔ ط، حقانیہ]
مزید لکھتے ہیں:
’’مطلب یہ ہوا کہ خالد بن ولید رضی اللہ
عنہ تو اللہ کی تلوار ہیں اور اس تلوار کا چلانے والا اور
کافروں پر استعمال کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے اور ظاہر ہے کہ جس تلوار کو حق تعالیٰ
چلائے اس تلوار سے کون بچ کر بھاگ سکتا ہے۔‘‘ [سیرت
المصطفیٰ، جلد دوم، ص ۴۲۴۔ ط، حقانیہ]
یہ ’’سیف اللہ‘‘ہونے کا ایک پہلو ہے…
جبکہ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ… تلوار وہی کام کرتی ہے جس کے لئے اسے بنایا جاتا
ہے… پس ’’اللہ کی تلوار‘‘ وہی شخص ہو سکتا ہے جو ’’جہاد فی سبیل
اللہ‘‘ ہی کو اپنا کام بنا لے… اور پھر اس میں بھرپور محنت کرے… حد درجہ
فکر… حد درجہ محنت… روایات میں آیا ہے کہ… حضرت خالد بن ولید رضی اللہ
عنہ فرمایا کرتے تھے:
لَقَدْ مَنَعَنِی کَثِیْراً مِنَ
القِرَاءَۃِ اَلْجِہَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ۔
’’یعنی جہاد فی سبیل اللہ کی مشغولیت نے
مجھے زیادہ تلاوت سے روکے رکھا۔‘‘
[المطالب العالیہ۔حديث رقم:۴۰۰۹ ، ناشر:دار العاصمة]
مطلب یہ ہے کہ… قرآن مجید سے عشق تھا…
اس کی تلاوت کا بہت شوق بھی تھا… مگر جہادفی سبیل اللہ کی محنت اور مشغولیت نے یہ
شوق پورا نہ ہونے دیا… معلوم ہوا کہ… آپ رضی اللہ عنہ کا
جہاد کوئی عام اور معمولی جہاد نہ تھا… بلکہ آپ ہمہ تن اور ہمہ فکر جہاد کرتے
تھے…کہاں حملہ کرنا ہے… کیسے حملہ کرنا ہے… لشکر کو کیسے چلانا ہے… دشمن کو کیسے
گھیرنا ہے… اور کس طرح مسلسل پیش قدمی کرنی ہے… ہر وقت یہی فکر، اسی میں بھرپور
محنت اور استغراق… چنانچہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے… جو
جہاد کیا… اس پر آج تک کتابیں لکھی جا رہی ہیں… قدیم اور جدید عسکریت کے ماہرین
ابھی تک اس جہاد کو سمجھنے اور اس سے بہت کچھ سیکھنے کی کوشش میں مصروف ہیں… جدید
نقشوں اور آلات کی مدد سے حضرت سیف اللہ کی عسکری تدابیر کو سمجھنے کی محنت آج
تک جاری ہے… اس جہاد کی تفصیل سے عقلیں آج تک حیران ہیں… اور صدیوں کا زمانہ آج
تک اس جہاد کی چمک اور کشش کو ماند نہیں کر سکا … وہ رومی جو روئے زمین پر اپنی
جنگی چالوں کا طویل تجربہ رکھتے تھے… حضرت خالد بن ولید رضی اللہ
عنہ کے سامنے بے بس ہوگئے… وہ عرب مشرکین اور نصاریٰ جو تلواروں
کی گود میں پلے تھے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی
عسکری حکمت عملی کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئے… بڑے بڑے صحراء جو لشکروں اور
قافلوں کو نگل جاتے تھے… حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی تدبیر سے
آسان گلستاں بن گئے … وہ پہاڑ جو ناقابل شکست مانے جاتے تھے… حضرت خالد بن
ولید رضی اللہ عنہ کے سامنے میدانوں سے بھی زیادہ نرم
پڑ گئے… اللہ کی تلوار… ایسی حکمت، ایسی تدبیر اور ایسی تیزی سے چلی کہ… پہاڑ ،
سمندر، صحراء… اور عظیم لشکر اس کے آگے بچھتے چلے گئے… جہاد فی سبیل اللہ کی ایسی
مشغولیت، محنت، فکر اور تدبیر حضرت سیّدنا خالد بن ولید رضی اللہ
عنہ نے اختیار فرمائی کہ… اس کی وجہ سے آپ کو تلاوت وغیرہ جیسی
نفلی عبادات کا وقت نہ ملتا تھا… مگر بلند ایمان کی وجہ سے… دل میں ان عبادات کا
شوق بھی موجزن تھا… اسی لئے فرماتے تھے کہ :
لَقَدْ مَنَعَنِی کَثِیْراً مِنَ
القِرَاءَ ۃِ اَلْجِہَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ۔
یقینا ’’اللہ تعالیٰ کی تلوار‘‘ نے وہی
ذمہ داری ادا کرنی تھی… جس کے لئے اسے سونتا گیا تھا… آپ تاریخ کی کتابوں میں
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی جنگوں کے حالات
پڑھیں… ہر جنگ ایک مستقل کرامت ہے… مستقل کارنامہ ہے… اور مستقل عسکری باب ہے…
دشمن کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھنا… دشمن کی کمزوریوں کو سمجھنا… چھوٹے دستوں کو
جنگی نقشے کے ذریعے ہیبت ناک لشکر دکھلانا… لشکر میں تیز رفتار تبدیلیوں کے ذریعہ
دشمنوںکے حواس پر چھا جانا… اور کم تعداد کے ذریعہ… کئی کئی گنا بڑے لشکروں کو
تھکا کر مار ڈالنا… یہ سب کچھ ہمیں حضرت سیّدنا خالد بن ولید رضی اللہ
عنہ کی جنگوں میں نظر آتا ہے… اور یہ سب کچھ اس لئے نہیں ہے کہ
ہم اسے پڑھ کر صرف معلوماتی لذت حاصل کریں… بلکہ ان تمام واقعات میں ہمارے لئے بے
شمار عملی اسباق ہیں… حضرت سیّدنا خالد بن ولید رضی اللہ
عنہ کا جہاد… ہمیں جہاد کے ساتھ والہانہ محبت کی دعوت بھی دیتا
ہے… اور ہمیں کامیاب جہاد کے گُر بھی سکھاتاہے… وہ ہمیں محنت اور تدبیر کے ساتھ
جہاد کرنے کی ترغیب بھی دیتا ہے… اور ہمیں ہمہ تن،ہمہ گیر اور ہمہ فکر جہادکی
اہمیت بھی سمجھاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کو اس
دنیا میں غالب ہونے کے لئے بھیجا ہے… اور دین کے غلبے کے لئے ’’جہاد فی سبیل
اللہ‘‘ کواس امت پر فرض فرمایا ہے… اللہ تعالیٰ نے حضرت سیّدنا خالد بن
ولید رضی اللہ عنہ کو… اپنی تلوار قرار دیا ہے… اللہ
تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار… معلوم ہوا کہ… اسلام اور مسلمانوں میں … اللہ
تعالیٰ کی تلواریں اور بھی ہیں… کچھ ماضی میں… اور کچھ حال اور مستقبل میں… مگر
سیّدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا ’’سیف اللہ‘‘ (اللہ
تعالیٰ کی تلوار ہونا) … یقینی طور پر ثابت ہے… غزوۂ موتہ کی جو روایت سند صحیح
کے ساتھ… بخاری وغیرہ میں موجود ہے اس میں بھی آپ کا ’’سیف اللہ‘‘ ہونا واضح
مذکور ہے… اور پھر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے
آپ کو جب مرتدین… اور منکرین ختم نبوت کے خلاف جہاد کے لئے… سپہ سالار مقرر کیا
توفرمایا:
’’میںنے خود رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ کیا ہی اچھا آدمی ہے اللہ
کا بندہ اور قبیلہ کا بھائی خالد بن ولید ، وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک
تلوارہے، اللہ تعالیٰ نے اس کو کافروں پر چلانے کے لئے سونتا ہے (یعنی نیام سے
نکالا ہے)۔‘‘
[الاصابہ۔ج:۲،ص:۲۱۷، ناشر:دار الکتب العلمیہ۔ بیروت]
پس جب حضرت خالد بن ولید رضی
اللہ عنہ کا… ’’سیف اللہ‘‘ ہونا یقینی طور پر ثابت ہے تو یہ بات
بھی یقینی ہے کہ… اس امت میں یہ ’’سیف اللّٰہی‘‘ نسبت قیامت تک چلتی رہے گی… ایسے
خوش نصیب افراد جو جہاد فی سبیل اللہ کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنائیں… جہاد فی
سبیل اللہ کی محنت میں فنا ہو جائیں… جہاد فی سبیل اللہ کو مکمل محنت اور فکر سے
اپنائیں… جہاد فی سبیل اللہ کو ہر پہلو سے سیکھیں، سمجھیں اور اس میں بھر پور
مہارت حاصل کریں… جہادفی سبیل اللہ کی کامیابی کے لئے عسکری تدبیروں کو بروئے کار
لائیں … جہاد فی سبیل اللہ اور شہا دت سے یوں عشق رکھیں جس طرح کہ نشے کے عادی
افراد شراب سے محبت رکھتے ہیں… اور کسی حال میں بھی جہاد فی سبیل اللہ سے منہ نہ
موڑیں… یہ افراد اسی ’’ سیف اللّٰہی‘‘ جہادی نسبت کے امین ہوتے ہیں… ماضی بعید میں
ایسے افراد بہت تھے… ماضی قریب میں ایسے افراد بہت کم تھے… اور اب ہمارے زمانے میں
الحمد للہ پھر ایسے افراد پیدا ہو رہے ہیں… ان افراد کو چاہیے کہ وہ توجہ کے ساتھ
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سیر ت مبارکہ کو پڑھیں،
سمجھیں اور اس سے روشنی حاصل کریں۔
ہمارے زمانے میں الحمد للہ جہاد موجود
ہے مگر اس میں تدبیر اور حکمت عملی کی بہت کمی ہے… جہاد موجود ہے مگر عسکری
پینتروں کا فقدان ہے… جہاد موجود ہے مگراستقامت کی کمی ہے… جہاد موجود ہے مگر اس
کے ساتھ غیر مشروط وفاداری کم ہے… حضر ت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ
عنہ نے ہر حال میں جہاد جاری رکھا… وہ ایک عام سپاہی کی حیثیت سے
اسلامی لشکر میں شامل ہوئے… پھر وہ جزوی کمانڈر بنائے گئے… اورپھر سارے اسلامی
لشکر کے عمومی سپہ سالار… اور پھر دوبارہ جزوی کمانڈر… اور پھر عام سپاہی… مگر ان
تمام مراحل میں اُن کا جہاد مکمل وفاداری اور فکر مندی کے ساتھ جاری رہا… ایسا
کبھی نہیں ہوا کہ کسی منصب کے آنے جانے کی وجہ سے اُن کی جہادی سرگرمی میں کوئی
فرق آیا ہو… وہ بڑی جنگوں کے موقع پر بہت مؤثر خطاب فرماتے تھے اوراُن کا سارا
زور اسی بات پر ہوتا تھا کہ… جنگ کادن اللہ تعالیٰ کے ایام یعنی خصوصی دنوں میں سے
ہوتاہے… اس میں فخر اور سرکشی جائز نہیں اور جہاد خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل
کرنے کے لئے کیا جائے۔
وہ غزوۂ حنین سے جہاد میں زخمی ہونا
شروع ہوئے… اور پھر جہادی زخموں نے اُن کے پورے جسم پر… جنت کی مہریں ثبت کر دیں…
مگر یہ زخم کبھی اُن کے راستے میں حائل نہ ہو سکے… اُن کے جوان بیٹے بھی جہاد میں
شہید ہوئے… اوربھی بہت سی آزمائشیں آئیں… مگر اُن کا ایک قدم بھی جہاد سے پیچھے
نہ ہٹا… اور آخری وقت میں بھی وہ رباط پر تھے… اور اسی افسوس کا اظہار فرما رہے
تھے کہ… شہادت نہ ملی… اور پھر اس کو بھی ’’دعوت جہاد‘‘ بنا کر سمجھا رہے تھے کہ…
بزدلوں کی آنکھیں یہ کیوں نہیں دیکھ رہیں کہ…جہاد میں موت نہیں ہے… اگر جہاد میں
موت ہوتی تو میں اس طرح بستر پر وفات نہ پاتا… وہ بہت بڑے آدمی تھے… اسلام کی
بلند ترین چوٹی کے بلند ترین مقام پر فائز ہونے والوں میں تھے… اس لئے چاہتے تھے
کہ… اللہ تعالیٰ کے راستے میں کٹ کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں… ورنہ تو اُن کا
مقام ’’شہداء کرام‘‘ کے مقام سے بہت بلند تھا… اور ان کی وفات بھی… شہادت تھی… اُن
کے خاص اور بلند ترین مقام کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ… حضرت
فاروق اعظم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی نظر… اپنے
بعد جن افراد کو خلیفہ مقرر کرنے پر تھی حضرت خالد رضی اللہ
عنہ ان میں سے ایک تھے… انتظامی معاملات میں حضرت
عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے
درمیان بعض باتیں ضرور ہوئیں… مگر حقیقت میں یہ دونوں حضرات ایک دوسرے سے بہت محبت
فرماتے تھے… اور ایک دوسرے کی بہت قدر کرتے تھے۔
وفات کے قریب جب حضرت سیدنا
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ حضرت خالد بن ولید رضی
اللہ عنہ کی عیادت کے لئے تشریف لائے تو… حضرت خالد بن
ولید رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی
بہت تعریف فرمائی… اور ارشاد فرمایا کہ… اگر عمر نہ رہے تو ایسے حالات پیدا ہوں گے
جو آپ کو ناپسند ہوں گے … اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ… میں نے اپنے گھر اور سواری
وغیرہ جہاد فی سبیل اللہ کے لئے وقف کر دی ہے… اور حضرت عمر رضی اللہ
عنہ کو اس کا نگران بنایا ہے۔
حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ
عنہ کی مبارک اور باسعادت زندگی کے کئی پہلوؤں پر آج لکھنے کا ارادہ
تھا… مگر بہت کچھ رہ گیا… آخر میں حضرت خالد بن ولید رضی
اللہ عنہ کے ایک شعر پر اپنی اس مجلس کا اختتام کرتے ہیں…یہ شعر بہت
پرکشش، معنٰی خیز او ر دلچسپ ہے… حضور اقد س صلی اللہ علیہ
وسلم نے فتح مکہ کے بعد… حضرت خالد بن ولید رضی اللہ
عنہ کو ’’عُزّیٰ‘‘ نامی بت گرانے کے لئے بھیجا… مفصل قصہ سیرت و تاریخ
کی کتب میں ملاحظہ فرما لیں… یہ عرب کا ایک بڑا بت تھا… اور عرب کے مشرکین اس کی
عبادت کرتے تھے… اور اُسے بہت طاقتور مؤنث دیوی کا درجہ دیتے تھے… اس بت کے ساتھ
شیطان نے کچھ خبیث چمتکار اور شعبدے بھی جوڑ رکھے تھے… جن کی وجہ سے لوگ اسے’’
ناقابل شکست‘‘ سمجھتے تھے… حضرت خالد بن ولید رضی اللہ
عنہ جب اس کے سامنے پہنچے تو آپ نے بلند آواز سے یہ شعر پڑھا :
یَا عُزَّ کُفْرَانَکَ لَا سُبْحَانَکَ
اِنِّی رَأَیْتُ اللہَ قَدْ أَھَانَکَ
’’اے عُزیٰ! میں تیرا انکار کرتا ہوں
اور تجھے پاک نہیں سمجھتا ، بے شک میں نے دیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے رسوا
فرمایا ہے۔‘‘
اس کے بعد آپ نے اس بت کو پاش پاش فرما
دیا…اور بعض روایات کے مطابق اس میں سے نکلنے والی شیطانی عورت کو بھی قتل کر دیا
… اس شعر میں’’ کُفْرَانَکَ لَا سُبْحَانَکَ‘‘… کا جملہ وجد آفرین ہے۔
ہم اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے
ہوئے کہتے ہیں: ’’سُبْحَانَک‘‘… یااللہ! آپ ہر نقص، عیب، کمزوری اور ظلم سے پاک
ہیں… اب اسی کے وزن پر طاغوتی، شیطانی طاقتوں کو کہا جارہاہے کہ… ’’کُفْرَانَک‘‘ہم
تمہیں نہیں مانتے… تمہاری طاقت اور تقدیس کو تسلیم نہیں کرتے…ہم تمہیں عیب اور
کمزوری سے پاک نہیں سمجھتے… حضرت خالد بن ولید رضی اللہ
عنہ نے ’’عُزیٰ‘‘ کو ’’کُفْرَانَک‘‘ فر مایا… اور ہمیں سکھا دیا کہ ہم
ہر باطل معبود اور ہر ظالم طاغوت سے کہہ دیں: ’’کُفْرَانَکَ لَا سُبْحَانَک‘‘…
امریکہ ہو یا انڈیا… اسرائیل ہو یا یورپ اور دجّال… سب سے کہہ دیں… ’’کُفْرَانَکَ،
کُفْرَانَکَ‘‘۔
اللہ تعالیٰ حضرت خالد بن
ولید رضی اللہ عنہ کی… ’’سیف اللّٰہی‘‘ نسبت اس امت میں عام
فرمائیں… آمین یاارحم الراحمین
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللھم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہ وصحبہ
وبارک و سلم تسلیمًا کثیراًکثیراً
لا الٰہ الا اللہ،لا الٰہ الا اللہ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ حضرت سیّدنا خالد بن ولید
رضی اللہ عنہ کے درجات… مزید مزید بلند فرمائے… اور ہم سب مسلمانوں کو
ان کی جہادی نسبت کا فیض عطاء فرمائے…ماشاء اللہ یہ حضرت سیّدنا خالد بن
ولید رضی اللہ عنہ کی جہادی نسبت کا رنگ ہے کہ… صرف تین
نوجوان مجاہدین کرام نے… جموں کے سنجوان ملٹری کیمپ کو اُکھاڑ کر رکھ دیا… ہزاروں
فوجی، خصوصی دستے، ہیلی کاپٹر اور ٹینک ان کے سامنے تین دنوں تک بے بس بنے رہے …
پورا انڈیا سرتاپا لرز کر رہ گیا۔
تھوڑے سے افراد کے ساتھ… بڑی بڑی فوجوں
کو شکست دینا… یہ حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی
جہادی نسبت کا ایک رنگ ہے … بے شک وہ ’’سیف اللہ‘‘ تھے… اللہ تعالیٰ کی تلوار جو
اللہ تعالیٰ نے مشرکین اور منافقین کے لئے سونتی… یہ تلوار قیامت تک چمکتی رہی گی…
اس تلوار کی نسبت قیامت تک تقسیم ہوتی رہے گی… اس تلوار کا فیض قیامت تک جاری رہے
گا، ان شاء اللہ۔
ناقابل شکست تلوار
ماہنامہ ’’المرابطون‘‘ کے لئے خصوصی
شمارے کا عنوان منتخب کرنا تھا … یہ مبارک رسالہ ہر ماہ نکلتا ہے… اصل میں طلبہ
کرام کے لئے ہے… مگر سب کے لئے مفید ہوتا ہے… یہ رسالہ ہر سال اپنا ایک ’’خصوصی
شمارہ‘‘ بھی نکالتا ہے… ماشاء اللہ کئی اہم موضوعات اور کئی نامور ہستیوں پر…
’’المرابطون‘‘ کے خصوصی شمارے اپنی مثال آپ ہیں… اس سال خصوصی شمارے کا موضوع کیا
ہو؟ … سفر کے دوران ایک مسجد کے پاس سے گذر ہوا… مسجد دیکھتے ہی دل خوشی سے بھر
جاتا ہے… رک نہ سکیں تو باہر سے ہی جی بھر کر دیکھنے کی پوری کوشش ہوتی ہے… دروازے
پر بورڈ آویزاں تھا… جامع مسجد سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ … بس
دل خوشی اور عقیدت سے جھوم اُٹھا… اس دن کا سارا ایصال ثواب بھی اُن کے لئے ہو
گیا… اور رسالے کے لئے بہترین موضوع بھی مل گیا… اب چونکہ اس خصوصی شمارے میں
مضمون بھی لکھنا تھا تو فوراً … حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ
عنہ کی ذات بابرکات سے ربط جڑنے لگا… یہ ربط’’نئے مطالعہ ‘‘ اور
’’دعاء‘‘ کی صورت میں تھا… حضرت سیف اللہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی
سیرت ، سوانح، واقعات تو بچپن سے پڑھتے، سنتے اور سناتے آئے ہیں… مگر اس بار
ارادہ تھا کہ ایسا مطالعہ ہو کہ… حضرت والا رضی اللہ عنہ کی
ذات مبارک کی کچھ سمجھ نصیب ہو جائے۔
حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین کو… پورا پورا سمجھنا تو بہت مشکل ہے… کیونکہ وہ ستارے ہیں ستارے اور ہم
زمین کی مخلوق… زمین پر رہنے والے لوگ … ستاروں سے روشنی بھی پاتے ہیں… فیض بھی
حاصل کر سکتے ہیں… ان کے ذریعہ راستہ بھی معلوم کر سکتے ہیں… مگر ان کو پورا سمجھ
نہیں سکتے … فاصلہ جو اتنا زیادہ ہے… وہ اس قدر اونچے اور ہم اس قدر نیچے… حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح ارشاد فرمادیا
کہ…اَصْحَابِی کَالنُّجُوْمِ …میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں… بہرحال کوشش کی جا
سکتی ہے کہ… حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو زیادہ سے زیادہ سمجھا
جائے… زیادہ سے زیادہ ان کا قرب حاصل کیا جائے… زیادہ سے زیادہ ان کا فیض پایا
جائے… ایسا کرنے کے لئے ایک الگ طرز کے مطالعے کی ضرورت ہوتی ہے… اس مطالعہ میں سب
سے پہلے یہ پڑھا جاتا ہے کہ ان صحابی کا حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم نے کیا تعارف کرایا ہے… اور حضرت آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم نے ان سے کتنا کام لیا ہے… اور ان کا حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تعلق اور رشتہ ہے؟…پھر انہی
باتوں کو بنیاد بنا کر … اپنے مطالعہ کو آگے بڑھایا جاتا ہے… اور اپنے مطالعہ کو
انہی باتوں کے تابع رکھا جاتا ہے…پھر اس کے بعد ان مرویات کو دیکھا جاتا ہے جو… ان
صحابی نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہیں…
اور یوں آگے بڑھتے بڑھتے… ان صحابی رضی اللہ عنہ کی ذات، اُن کے مقام
،اُن کے مزاج…اور اُن کی خصوصیات کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی
اللہ عنہ … کے بارے میں ناول نگاروں … اور افسانہ نویسوں نے بھی چونکہ کافی کچھ
لکھ دیا ہے… اور آپ جانتے ہیں کہ ناول نگار اور افسانہ نویس بہت کچھ جھوٹ لکھتے
ہیں… انہوں نے بس اپنی تحریر کو پرکشش بنانا ہوتا ہے… وہ بلند ہستیوں کا درست
تعارف نہیں کرا سکتے… چنانچہ ان کی تحریر پڑھنے کے بعد… انسان کے دل کو اس شخصیت
کے ساتھ حقیقی ربط اور تعلق نصیب نہیں ہوتا… اس لئے ضروری ہے کہ حضرت سیدنا خالد
بن ولید رضی اللہ عنہ کی شخصیت کو اچھی طرح سے سمجھا جائے… وہ ایک
ناقابل شکست فاتح تھے… انہوں نے زندگی میں کبھی کسی جنگ میں شکست نہیں کھائی… وہ
باکرامت اور بابرکت سپہ سالار تھے… وہ مقام ولایت کے بلند ترین ستاروں میں سے تھے
… وہ کمال درجے کے عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے… جہاد کے ساتھ
محبت… ان کی طبیعت ، مزاج اور حواس تک پر چھا چکی تھی … وہ دیر سے آئے مگر اپنے
اخلاص اور کمالات کی بدولت… بہت سے پہلوں سے بھی آگے نکل گئے … وہ قتال اور جنگ
کے ایسے ماہر اور امام تھے کہ … ان کی نظیر ڈھونڈنا بہت مشکل ہے… وہ حقیقی بہادر
تھے… شجاعت اور بہادری کی جتنی بھی منزلیں ہیں… وہ ان سب منزلوں کے اوپر والے حصے
میں تھے… ایک رات جب میں ان کے بارے میں بہت کچھ پڑھ کر… اور پھر ان کے لئے ایصال
ثواب اور دعاء کا ہدیہ پیش کر کے لیٹا تو… یہ جملہ میرے ذہن میں گونجنے لگاکہ…’’
حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اتنے بہادر تھے، اتنے بہادر تھے
کہ وہ اپنی معزولی تک کوبرداشت کر گئے‘‘… گویا کہ انہوں نے ’’معزولی‘‘ کو بھی شکست
دے دی… اور وہ اس طرح کہ… معزولی کے باوجود …اسی لشکر میں شامل رہے… اسی امیر کی
اطاعت میں رہے… اپنے جہاد پر ثابت قدم رہے بلکہ… پہلے سے بڑھ کر بہادری سے لڑتے
رہے… اور اپنی جگہ مقرر ہونے والے سپہ سالار کے… بازو، دماغ اور آنکھیں بنے رہے…
یوں وہ جیت گئے … اور ’’معزولی‘‘ شکست کھا گئی… وہ معزولی جو بڑے بڑوںکے ایمان،
دین ، جہاد… اور ماضی کو منٹوں میں…شکست دے دیتی ہے۔
سنجوان ملٹری کیمپ پر … جب کشمیری
مجاہدین کرام نے حملہ کیا تو… اس حملے کی تفصیلات سن سن کر… حضرت سیدنا خالد بن
ولید رضی اللہ عنہ یاد آتے رہے… اُن کا ہر معرکہ ایک الگ کرامت ہوتا
تھا… اور اُن کی نسبت آج تک جاری ہے… اندازہ لگائیں کہ … دشمن کی اتنی طاقت کے
باوجود… تین مجاہدین کا ایک فوجی کیمپ میں داخل ہوجانا … پھر پچاس گھنٹے سے زائد
جنگ کرنا… دشمن کے حواس پر مسلط ہو جانا …درجنوں آفیسروں اور فوجیوں کوڈھیر کر
دینا … اور دشمن کے مورچے کو اپنی شکار گاہ بنا لینا… کیا یہ سب کچھ معمولی بات
ہے؟ … بے شک اللہ تعالیٰ کے فرشتے اُن مجاہدین کے ساتھ اُتر کر لڑتے ہیں… اور اُن
مجاہدین کے ہاتھوں بڑی بڑی کرامات ظاہر ہوتی ہیں… خود کشمیری قیادت کہہ رہی تھی
کہ… مجاہدین کی تعداد تین ہے… جبکہ حملے کے دوسرے دن انڈیا کا دعویٰ تھا کہ… تین
مجاہدین شہید ہو چکے ہیں… کیمپ میں سے دھماکوں اور فائرنگ کی آواز آ رہی تھی…
اور میڈیا کے توسط سے… ساری دنیا اُن ’’کرامات‘‘ کو دیکھ اور سن رہی تھی…جب تینوں
شہید ہو چکے تھے تو… آخر کون لڑ رہا تھا؟… کس کے خوف سے ٹینک اندر لے جائے جا رہے
تھے؟ … اور کن کی دہشت سے اپنی عمارتوں کو خود اُجاڑا جا رہا تھا… انڈیا صرف اسی
حملے کی حقیقت پر غور کرے تو… وہ اچھی طرح سمجھ سکتا ہے کہ شکست اس کا مقدر بن چکی
ہے… عُزیٰ جیسے بت کو پاش پاش کرنے والے… ہمارے امام حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی
اللہ عنہ کی نسبت… اس زمانے کے فدائیوں میں اُتر چکی ہے… انڈیا جانتا
ہے کہ جموں و کشمیر پر اس کا قبضہ ناجائز اور غاصبانہ ہے… وہ ان علاقوں کو آزاد
کر دے… ورنہ ’’ سیف اللّٰہی‘‘ نسبت اس کے سارے غرور توڑ دے گی، ان شاء اللہ۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے ’’تلواروں‘‘ کے سائے تلے
’’ جنت‘‘ رکھی ہے… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا:
اِعْلَمُوا أَنَّ
الْجَنَّۃَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّیُوْفِ۔
’’خوب یقین کر لو کہ بلاشبہ جنت تلواروں
کے سائے کے نیچے ہے۔‘‘
[صحیح البخاری۔ رقم الحدیث: ۲۸۱۸،دار الکتب العلمیہ۔ بیروت]
اللہ تعالیٰ نے حضرت سیّدنا خالد بن
ولید رضی اللہ عنہ کو اپنی تلوار ’’سیف اللہ‘‘ منتخب
فرمایا… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا:
نِعْمَ عَبْدُ اللہِ خَالِدُ بْنُ
الوَلِيدِ سَیْفٌ مِّنْ سُیُوْفِ اللہِ۔
’’خالد اللہ تعالیٰ کے بہترین بندے اور
اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں۔‘‘
[سنن ترمذی۔ رقم الحدیث: ۳۸۵۰،دار الکتب العلمیہ۔ بیروت]
غور فرمائیں… جہادی تلواروں کے سائے میں
’’جنت‘‘ ہے… اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کی
تلوار ہیں… آئیے ! اس تلوار کا سایہ ڈھونڈیں… آئیے!اس تلوار سے نسبت جوڑیں…
آئیے!اس تلوار سے رشتہ بنائیں تاکہ جنت ملے، شجاعت ملے، اطمینان ملے، کامیابی
ملے، سکون ملے۔
حضرت خالد سیف
اللہ رضی اللہ عنہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی تلوار ہیں… اللہ
تعالیٰ ہی اس تلوار کو چلانے والا ہے… جب تلوار اللہ تعالیٰ کی ہے توچلائے گا بھی
اللہ تعالیٰ… پھر یہ تلوار ایسی چلی کہ جنت کا سایہ دور دور تک پھیل گیا… وہ علاقے
جہاں جہنم ہی جہنم تھی… ایک بھی ’’جنتی ‘‘ نہیںتھا… ہر طرف جہنم والا عقیدہ… جہنم
والے اعمال اور جہنمی مخلوق… حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ان
علاقوں کی طرف بڑھے تو ان علاقوں پر جنت کی بہار آ گئی… یہ عراق، یہ دمشق، یہ
فلسطین، یہ ملک شام… یہ سب جنت کی خوشبو کو ترس رہے تھے… ہر طرف کفر تھا اور ظلم…
جہالت تھی اور تاریکی… تہذیب کے نام پر بے حیائی تھی اور نفس پرستی… اللہ تعالیٰ
کی تلوار حضرت سیف اللہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ وہاں پہنچے… جہاد
فرمایا… تلوار چلی تو یہ علاقے جنت کی خوشبو سے جھومنے لگے… ان علاقوں میں صدیقین
، شہداء ، صالحین پیدا ہونے لگے… ہر طرف اذان گونجنے لگی… اور کفر کی جگہ ایمان کی
بہار آ گئی۔
کسی نے خوب تحقیق کی ہے کہ … دنیا
میں بڑے بڑے فاتحین گذرے ہیں… مگر ان میں سے کسی کی فتوحات بھی اتنی پائیدار نہیں
جتنی کہ… حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی ہیں… منگولوں اور تاتاریوں
نے آدھی دنیا پر قبضہ کیا… مگر پھر ان کی سلطنت ایک چھوٹے سے ملک تک سمٹ گئی… یہی
حال… انگریزوں ، فرنچوں اور دیگر فاتحین کا ہوا… مگر حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی
اللہ عنہ نے جو علاقے فتح فرمائے وہ آج تک کسی نہ کسی صورت میں …
مسلمانوں کے پاس ہی ہیں… یہ تحقیق پڑھی تو ذہن میں یہ نکتہ آ گیا کہ… جنت تلواروں
کے سائے تلے ہے… جب عام جہادی تلواروں کا یہ رتبہ اور مقام ہے تو… اللہ تعالیٰ کی
تلوار کا کیا مقام ہو گا… یہ تلوار جہاں بھی چمکی ، جہاں بھی برسی، جہاں بھی چلی
اس کے نیچے جنت آباد ہوتی چلی گئی… اور آج تک الحمد للہ آباد ہے… کیونکہ ان
علاقوں میں ایمان بھی موجود ہے اور اعمال صالحہ بھی… بے شک جہاد کے برابر کوئی عمل
نہیں، کوئی عمل نہیں… ایک عابد آخر کتنی عبادت کر سکتا ہے؟ … ایک صدقہ دینے والا
آخر کتنا صدقہ دے سکتا ہے؟ … لیکن ایک مجاہد ، ایک فاتح اور ایک غازی تو صدیوں کے
اعمال کو اپنے نامہ اعمال میں جوڑ لیتا ہے… جن علاقوں کو وہ فتح کرتا ہے اور ان
میں ایمان کے چراغ روشن کرتا ہے… ان علاقوں کے تمام اہل ایمان کے… ایمان اور اعمال
میں اس کا حصہ شامل ہوتا ہے…بے شک دنیا کے سارے کلکولیٹر اور سارے حساب دان مل کر
بھی… ایک مجاہد کے ایک دن کے اعمال کا حساب نہیں لگا سکتے۔
حضرت سیّدنا خالد بن
ولید رضی اللہ عنہ چونکہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی تلوار ہیں…
اور تلوار کے سائے تلے جنت ہوتی ہے تو… یقینی بات ہے کہ… ان کے تذکرے میں عجیب
سکون محسوس ہوتا ہے… ان کے بارے میں جتنا پڑھا جائے پیاس نہیں بجھتی… بلکہ ان کے
حالات ، واقعات اور اقوال پڑھ کر مزید شوق بڑھتا چلا جاتا ہے… اور دل ایک عجیب سی
پاکیزگی اور قوت محسوس کرتا ہے… ویسے بھی حضرت خالد بن ولید رضی اللہ
عنہ بڑے صاحب کرامت تھے… علامہ ابن حجر رحمہ اللہ ’’الاصابہ‘‘ میں لکھتے ہیں:
اَتٰی خَالَدَ بْنَ الْوَلِیْدِ رَجُلٌ
مَعَہٗ زِقُّ خَمْرٍ فَقَالَ: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہُ عَسَلًا فَصَارَ عَسَلًا۔
یعنی ایک شخص آپ رضی اللہ عنہ کے پاس
آیا اس کے پاس شراب سے بھراہوا مشکیزہ تھا… حضرت خالد رضی اللہ
عنہ نے دعاء فرمائی… یا اللہ! اسے شہد بنا دیجئے تو وہ شہد بن گیا۔
اسی طرح مستند حوالوں سے یہ بھی
مذکور ہے کہ… آپ نے ایک بار خطرناک زہر اپنی ہتھیلی میں ڈالا اور بسم اللہ پڑھ کر
اسے پی گئے… اس مہلک زہر نے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا… دراصل جب آپ عجم کی
طرف جہاد کے لئے بڑھے اور آپ کے رعب اور ہیبت نے ملکوں اور لشکروں کو لرزا کر رکھ
دیا تو… ہر طرف آپ کو قتل اور شہید کرنے کی سازشیں زور پکڑ گئیں… تب کسی نے مشورہ
دیا کہ… آپ کھانے میں بہت احتیاط فرمائیں کیونکہ دشمن آپ کو زہر دینا چاہتے ہیں…
فرمایا:کیسا زہر؟ وہ میرے پاس لاؤ… زہر لایا گیا تو سارا اپنی ہتھیلی پر اُنڈیل
دیا اور’’ بسم اللہ‘‘ پڑھ کر پی گئے… بے شک اللہ تعالیٰ کی سچی تلوار میں یہ تاثیر
تھی کہ ناپاک شراب پر دعاء ڈالے تو اسے… پاکیزہ شہد بنا دے… اور مہلک زہر پر توجہ
ڈالے تو اسے نفع مند دواء بنا دے۔
آج ہمارے قلوب میںبھی’’ حُبِّ
دنیا‘‘ کا زہر اور بزدلی کی ناپاکی بھری ہوئی ہے… بے شک ’’بزدلی‘‘ شراب سے زیادہ
نجس اور ناپاک چیز ہے… شراب کا اثر تھوڑی دیر رہتا ہے اور وہ انسان کو ذلت میں
ڈالتی ہے… جبکہ بزدلی کا اثر تو انسان کو نعوذ باللہ مستقل ذلت اور غلامی میں
دھکیل دیتا ہے… آج جہاد کے خلاف جتنے فتنے اور جتنی آوازیں ہیں ان سب کی اصل
بنیاد… بزدلی اور حُبِّ دنیا ہے… بس موت نہ آ جائے…ہمیں کوئی مار نہ ڈالے… ہم
کمزور ہیں… ہم نہیں لڑ سکتے … ہمیں زیادہ جینا ہے… وغیرہ وغیرہ… اصل بیماری یہی
ہے… باقی دلائل تو پھر بزدلی خود گھڑوا لیتی ہے… مثال کے طور پر دیکھ لیں … آج کل
جہاد کے بارے میں جو فتوے لائے جاتے ہیں… کچھ منفی اور کچھ مثبت… کیا ان فتووں
میں… مسلمانوں کے لئے عملی جہاد کا کوئی ایک راستہ بھی موجود ہے؟ … اگر صورتحال یہ
ہوتی کہ یہ لوگ جہاد کی مکمل تیاری کر کے… شہادت کے شوق میں مچل رہے ہوتے… تلواریں
اُن کے ہاتھوں میں ہوتیں… گھوڑے اُن کے نیچے ہانپ رہے ہوتے اور پھر یہ بتاتے کہ…
ہم تو تیار ہیں مگر فلاں فلاں شرعی شرط نہ پائے جانے کی وجہ سے رکے ہوئے ہیں… اور
پوری کوشش کر رہے ہیں کہ وہ شرط جلد پوری ہو تاکہ ہم جنت کے میدانوں… یعنی جہاد کے
محاذوں کی طرف کوچ کر جائیں… تب اُن کی باتوں میں وزن ہوتا… مگر نہ جہاد کا ارادہ،
نہ جہاد کی نیت، نہ کبھی خواب و خیال میں جہاد کرنے کی آرزو… نہ جہاد کی تیاری…
پھر کیسے فتوے اور کون سی شرطیں؟ کاش! یہ کوئی ایک محاذ تو مسلمانوں کو بتا دیتے کہ…
وہاں جہاد ہو رہا ہے… ہم بھی جا رہے ہیں اور تم بھی پہنچو… کاش! یہ جہاد یعنی’’
قتال فی سبیل اللہ‘‘ کی کوئی ایک عملی صورت بتا دیتے… کیا صدر سے اجازت لینی
ہے؟صدرصاحب کس دن جہاد کی اجازت دینے کے لئے تشریف فرما ہوتے ہیں؟کیا وزیر اعظم کے
حکم سے جہاد ہو گا؟…وہ اگر اپنے کافر دوستوں کی گود میں تشریف فرما ہوں تو جہاد کی
اجازت کس سے لی جائے گی؟… جہاد ریاست کی ذمہ داری ہے… ریاست سے کون سی ریاست مراد
ہے؟… ریاست میں سے کس کا قول معتبر ہو گا؟ … فیصلے کا اختیار کس کو ہو گا؟… کیا
جہاد کے لئے باقاعدہ ملازم ہونا بھی شرط ہو گا؟… ملازمت کے بغیر کوئی مسلمان یہ
فریضہ پورا کرنا چاہے تو کس طرح کرے گا؟ … کسی سوال کا جواب نہیں… بس مقصد ایک ہی
ہے کہ جہاد نہ کرو… کیا یہ اللہ تعالیٰ کے عمومی عذاب کو دعوت دینے کے مترادف نہیں
ہے؟ … جہاد بند ہوتا ہے تو… اللہ تعالیٰ کاعمومی عذاب آتا ہے… مسلمانوں پر ذلت
مسلط ہوتی ہے اور زمین گناہ اورفساد سے بھر جاتی ہے۔
اپنے دل سے بزدلی دور کرنے کا ایک
طریقہ یہ ہے کہ… ہم حضرت سیف اللہ خالد رضی اللہ عنہ کی
علمی اور روحانی صحبت حاصل کریں… اُن کے حالات پڑھیں، اُن کے واقعات پڑھیں… وہ
ساری زندگی اللہ تعالیٰ کی تلوار بن کر خون اور زخموں میں ڈوبے رہے… ممکن ہے اُن
کی برکت سے ہمیں بھی یہ شوق اور کیفیت نصیب ہو جائے… وہ چونکہ ’’سراپا جہاد‘‘ تھے
’’مجسم جہاد‘‘ تھے… ’’مکمل جہاد‘‘ تھے…’’ اصلی جہاد‘‘ تھے… اس لئے اُن کے اقوال
میں بھی دعوت جہاد ہے… اور اُن کے اعمال میں بھی دعوت جہاد ہے…حتٰی کہ جب وہ اس
دنیا سے کوچ فرمانے لگے… تب بھی اُن کی ساری فکر جہاد اور دعوت جہاد پر مرکوز تھی…
چنانچہ اپنا سارا سامان اور اپنی ساری جائیداد جہاد فی سبیل اللہ کے لئے وقف فرما
دی… یہ وقف وہ پہلے ہی کر چکے تھے… وفات کے قریب پھر دوبارہ اس کی یاد دہانی
کرائی… اور پھر دنیا بھر کے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا کہ… جہاد کیوں نہیں کرتے ہو؟
… کیا موت سے ڈرتے ہو؟… دیکھو! جہاد میں موت نہیں ہے… میرے جسم کو دیکھو… ایک
بالشت جگہ بھی جہادی زخموں سے محفوظ نہیں ہے… پورا جسم چھلنی چھلنی ہے… موت جہاں
بھی مجھے نظر آئی میں اس پر جھپٹا… اور ایسے معرکوں میں کودا جہاں سے بچنے کا تصور
بھی محال تھا… مگر دیکھو! مجھے وہاں موت نہیں آئی… میں اپنے بستر پر وفات پا رہا
ہوں… شہادت کی اس حسرت کا اظہار فرما کر… زندگی کے آخری لمحات کو بھی دعوت جہاد
بنا دیا… حالانکہ اُن کی وفات کئی اعتبار سے شہادت سے افضل تھی… اور وہ ’’شہداء‘‘
سے زیادہ بلند مقام پر تھے… اور وہ اللہ تعالیٰ کی تلوارتھے… اس تلوار کو توڑنا یا
موڑنا دنیا میں کسی کے بس میں نہیں تھا۔
اللہ تعالیٰ اپنے مقرب بندوں کو
جہاد میں دیکھنا پسند فرماتے ہیں…اللہ تعالیٰ کی جہادکے ساتھ محبت ایسی ہے کہ… اس
کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں کو… اپنی تلوار تک بنا لیتے ہیں… کتنے خوش نصیب
ہیں وہ بہادر جو… اللہ تعالیٰ کی تلوار بن جاتے ہیں… کہاں بزدلی کی ناپاک غلامانہ
زندگی… اور کہاں اللہ تعالیٰ کی چمکتی اور برستی تلواریں… یا اللہ! ہم پر بھی فضل
فرما… بزدلی سے مکمل نجات عطاء فرما… ’’حُبِّ دنیا‘‘ کی ناپاکی سے حفاظت فرما… اور
ہمیں اپنے فضل سے… ’’سیف اللّٰہی ‘‘ نسبت عطاء فرما… آمین یا ارحم الراحمین
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مرتے دم تک …
دین اسلام کی مقبول خدمت میں لگائے رکھے۔(آمین)
دو ہفتے سے ہندوستان اور وہاں کے
مسلمانوں کی بات چل رہی ہے … آج بھی اسی موضوع کو آگے بڑھانے کا ارادہ تھا…’’بت
شکن‘‘کے عنوان سے ایک دلچسپ داستان اور ’’بت شکنی‘‘کے فوائد پر بات کرنی تھی …مگر
’’کتاب ‘‘تیارہوگئی …آپ پوچھیںگے کونسی کتاب؟…دراصل رمضان المبارک میں ارادہ
باندھا تھا کہ… رمضان کے بعد’’عشرۂ ذی الحجہ ‘‘ کی کتاب تیار کریں گے … اس موضو ع
پرایک مختصر کتابچہ’’تحفۂ ذی الحجہ‘‘کے نام سے کئی سال سے شائع ہورہا ہے … مگر
ضرورت تھی کہ اس پورے موضوع کوقدرے تفصیل اور قدرے تاکید سے بیان کیا جائے …
چنانچہ کتاب تیار کرنا شروع کی جوآج الحمدللہ مکمل ہوچکی ہے … اور ان شاء اللہ
بہت جلد شائع ہو جائے گی …اب اس کتاب کے آغاز میں تعارف بھی لکھنا تھا… اور آج
رنگ و نور کا دن بھی ہے… سوچا کہ دونوں کو یکجا کردیا جائے تو اُمید ہے کہ زیادہ
فائدہ ہوگا، ان شاء اللہ … لیجئے! نئی کتاب ’’اَفْضَلُ اَیَّامِ الدُّنْیَا‘‘
کاتعارف ملاحظہ فرمائیے ۔
اَفْضَلُ اَیَّامِ الدُّنْیَا
اللہ تعالیٰ قبول فرمائے …اس کتاب کا
نام’’اَفْضَلُ اَیَّامِ الدُّنْیَا‘‘ہے یعنی ’’دنیا کے افضل ترین ایام‘‘ …ایک
بندۂ مؤمن کے لئے اس کی دنیوی زندگی کے…افضل ترین اور بہترین ایام… کیونکہ ان
ایام میں کیا جانے والا ہر نیک عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک …باقی دنوں کے اعمال سے
زیادہ محبوب ہے… پس ایک مؤمن کے لئے یہ ’’دس دن‘‘… جنہیں’’عشرۂ ذی الحجہ ‘‘کہا
جاتا ہے…بے حد خوشی اور بے حد سعادت کے دن ہیں …کیونکہ وہ ان دنوں میں اپنے اعمال
کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا زیادہ اور خصوصی’’ قرب ‘‘پاتا ہے … اور ان دنوں میں اس کے
اعمال کی قدر وقیمت اتنی زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ … نفل اعمال کی قیمت فرض اعمال سے
زیادہ ہوجاتی ہے … پھراندازہ لگالیں کہ فرض کی قیمت کس قدر بڑھ جاتی ہوگی۔
کتاب کا نام تبرکا ً ایک حدیث شریف سے
لیا گیا ہے…اس حدیثِمبارکہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحجہ
کے پہلے دس دنوںکو’ ’اَفْضَلُ اَیَّامِ الدُّنْیَا‘‘ارشاد فرمایا ہے…
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ مبارکہ میں عجیب و غریب
کشش ،تأثیر اور حکمت ہوتی ہے …بندہ نے جب سے یہ مبارک الفاظ’’ اَفْضَلُ اَیَّامِ
الدُّنْیَا‘‘ شعوراور توجہ کے ساتھ پڑھے ہیں… اسی دن سے دل میں ان مبارک ایام کی
قدرو منزلت راسخ ہوگئی ہے … اور اس کے بعد سے اب تک مسلمانوں کو ان مبارک ایام کی
فضیلت اور اہمیت کی طرف متوجہ کرتا رہتا ہوں … اب جبکہ اس موضوع پرایک مختصر کتاب
تیارہوچکی ہے تودل سے یہی آواز آئی کہ اس کتاب کا نام’’ اَفْضَلُ اَیَّامِ
الدُّنْیَا‘‘ رکھا جائے…اُمید ہے کہ کتاب کایہ نام ہی مسلمانوں کو … پورا مسئلہ
سمجھا دے گا… اور غفلت کے پردے ہٹادے گا،ان شاء اللہ ۔
ذوالحجہ کے پہلے عشرہ کی فضیلت قرآن
مجید میں بھی مذکور ہے …اوراس موضوع پرکئی مبارک احادیث صحیحہ بھی موجود ہیں …
مگراس کے باوجود ہمارے ہاں ان مبارک ایام کے بارے میں کوئی سرگرم اور پر جوش ماحول
نہیں پایا جاتا…اس اجتماعی محرومی کی کئی وجوہات ہیں… ہمارے ہاں ان ایام میں زیادہ
سے زیادہ حج اور قربانی کو کچھ بیان کیا جاتا ہے … اور کچھ پرانے لوگ عرفہ کاروزہ
بھی رکھ لیتے ہیں…اور بس…حج بھی بڑا فریضہ ہے اور قربانی بھی اہم واجب ہے … مگریہ
دس دن ہمارے لئے تمام نیک اعمال کا مہنگاترین موسم ہوتے ہیں… ان ایام کی تسبیح،تہلیل،تکبیر
اور ذکر کا بڑا مقام ہے …ان ایام کے صدقے کی بہت قیمت ہے … ان ایام کی عبادات بہت
وزنی ہیں … ان ایام کے دن بہت اہم اور راتیں بے حد قیمتی ہیں … یہ ہمارے لئے ا پنا
آخرت کاسرمایہ اورخزانہ بڑھانے کاخاص سیزن ہے… مگر چونکہ منبر و محراب سے ان ایام
کی فضیلت اور اہمیت پر…زیادہ تاکید ی صدا بلند نہیںہوتی تو… اکثر مسلمان ان ایام
کوعام طریقے سے گزار دیتے ہیں …بلکہ بعض تو شیطانی چال کا شکار ہوکر ان ایام کو
چھٹی ،غفلت اور گناہ میں ضائع کردیتے ہیں … الحمدللہ ہماری جماعت…’’ جہادفی سبیل
اللہ‘‘ کی بنیادی دعوت کے ساتھ ساتھ پورے دین کی دعوت کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے…
چنانچہ جماعت کی برکت سے ’’عشرۂ ذی الحجہ ‘‘کی طرف بھی توجہ ہوئی اور کئی سال سے
ان مبارک ایام کی فضیلت اور اہمیت کو مضامین اورمکتوبات کے ذریعے … لاکھوں
مسلمانوں تک پہنچایاجارہا ہے … جماعت کی دیگر مہمات کی طرح اللہ تعالیٰ نے اس دعوت
کو بھی الحمدللہ ثم الحمدللہ قبولیت عطاء فرمائی …اوراب الحمدللہ لاکھوں مسلمان ان
مبارک ایام کو پاتے اورکماتے ہیں … ہزاروں مسلمان یکم ذی الحجہ سے لے کر ۹ذی الحجہ تک روزے رکھتے ہیں …تسبیح،تہلیل اور تکبیر کا بھی
ماحول بنتا ہے … قربانی کا شوق بھی الحمدللہ پہلے سے بڑھا ہے … اب کئی مسلمان…خوب
دل کھول کر قربانی کرتے ہیں … اور فرض کے ساتھ نفل قربانی کا ذوق بھی الحمدللہ بڑھ
رہاہے … اور جب سے حج بیت اللہ کی طرف دعوت کا سلسلہ شروع ہوا ہے تو اس کا بھی
الحمدللہ صالح اثر ہر طرف جوش مارتا نظر آرہا ہے… یہ باتیں عرض کرنے کا یہ مطلب
ہرگز نہیں کہ … جماعت کی دعوت سے پہلے تمام مسلمان عشرۂ ذی الحجہ، قربانی اورحج
سے غافل تھے… نہیں، الحمدللہ ایسا ہرگز نہیں … یہ زندہ امت ہے… عرض کرنے کا مطلب
صرف یہ ہے کہ … جماعت کی دعوت کے بعد ماحول میں الحمدللہ زیادہ بہتری …اوراعمال
میں زیادہ ترقی آئی ہے … اوراسی پر میں اللہ تعالیٰ کاشکرادا کررہا ہوں :
{ وَاَمَّابِنِعْمَۃِ رَبِّکَ
فَحَدِّثْ}[الضحیٰ:۱۱]
آج آپ کودنیا بھرمیں ایسے لاکھوں ،
ہزاروں مسلمان ملیں گے جن کو’’عشرۂ ذی الحجہ ‘‘کی اہمیت اور دولت … جماعتی دعوت
کے ذریعہ نصیب ہوئی … وَالْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔
ہمارے پاس ’’تحفۂ ذی الحجہ‘‘ کے نام سے
ایک کتابچہ پہلے سے موجود تھا … پھر عشرۂ ذی الحجہ کی فضیلت اور اہمیت پرجورنگ
ونور اور مکتوبات لکھے گئے تھے ان کوبھی کتاب میں شامل کرلیا گیا…اسی طرح حج بیت
اللہ اور قربانی کے موضوع پر لکھے گئے مضامین اورمکتوبات بھی اس میں جمع کردئیے
گئے …مزیدان تمام موضوعات پر ’’احادیث مبارکہ‘‘ بھی جمع کرلی گئیں…اوراس طرح سے یہ
کتاب ’’ اَفْضَلُ اَیَّامِ الدُّنْیَا‘‘تیار ہوگئی…اُمیدہے کہ یکجاجمع ہونے والایہ
دینی مواد… خطباء کرام،ائمہ مساجدکے بھی کام آئے گاکہ …وہ آسانی سے اس کے ذریعہ
اس موضوع پردعوت چلا سکیں گے … کئی سال پہلے ایک بزرگ عالم دین سے ملاقات ہوئی …
اور بہت سی باتوں کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی آئی کہ … دعوت جہاد حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خاص سنت ہے … وہ فرمانے لگے کہ
اب مطالعہ کا وقت نہیں ملتا مشغولیات زیادہ ہیں… اگر مجھے جہاد کا مواد یکجا مل
جائے توضروراپنے مریدین کواپنے خطبات و بیانات میں یہ دعوت دیاکروں گا… بندہ نے
انہیں ’’فضائل جہاد ‘‘کے بارے میں بتایا کہ چھپ چکی ہے … وہ خوش ہوئے اور فرمائش
کی … چنانچہ ملاقات کے بعد ان کو فضائل جہاد اور دیگرکتب بھجوادی گئیں …اللہ تعالیٰ’’اَفْضَلُ
اَیَّامِ الدُّنْیَا‘‘کتاب کو بھی اپنے دربار میں قبولیت عطاء فرمائے۔
اس کتاب کااصل مقصدچونکہ مسلمانوں کو …
عشرۂ ذی الحجہ اوراس کے اعمال کی طرف متوجہ کرنا ہے …اس لئے بعض باتوں کو
باربارعرض کیا گیا ہے تاکہ وہ دل میں اُتر جائیں … اورزندگی کا ’’رنگ‘‘بن جائیں
…یہ ایک ایسی دعوت عمل ہے جس میں ہر مسلمان کے لئے فائدہ ہی فائدہ ہے…جبکہ نقصان
کوئی نہیں …اس لئے آپ سب سے گزارش ہے کہ اس کتاب کواول تاآخر … غور،فکراور محبت
کے ساتھ پڑھیں … اس پر عمل کریں … دوسرے مسلمانوں تک زیادہ سے زیادہ یہ کتاب
پہنچائیں … حجاج کرام کے لئے بھی اس کتاب میں بہت کچھ فائدہ مند ہے …ان تک بھی یہ
کتاب پہنچائیں …یاکتاب کے حجاج سے متعلق خاص صفحات کاپی کراکے ان میں تقسیم کریں…
اوراگر آپ کواس کتاب سے کوئی فائدہ پہنچے تو بندہ،اس کے والدین ،اہل وعیال
اوراقارب و متعلقین کے لئے بھی دعاء کا احسان فرمادیں … اس کتاب کی تیاری پر اوّل
و آخر اللہ تعالیٰ کا شکر …
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ
الْعَالَمِیْنَ… اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ بِنِعْمَتِہٖ تَتِمُّ
الصَّالِحَاتُ۔
اوران مخلص رفقاء گرامی قدر کا دل
سے شکر یہ جنہوں نے کتاب کی تیاری میں تعاون کیا، اللہ تعالیٰ ہی اجر دینے والے
ہیں … اور وہی اُن کے نام جانتے ہیں ۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے درد ناک عذاب
سے بچائیں …مسلمان جب’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ چھوڑتے ہیں تو وہ ’’دردناک عذاب‘‘
کاشکاربنتے ہیں…فرمایا:
{اِلَّاتَنْفِرُوْایُعَذِّبْکُمْ
عَذَابًااَلِیْمًا}[التوبہ: ۳۹]
’’اگرتم( جہادفی سبیل اللہ میں) نہیں
نکلو گے تواللہ تعالیٰ تمہیں دردناک عذاب دے گا۔‘‘
یااللہ !آپ کی پناہ…عذاب اوروہ بھی
اللہ تعالیٰ کا…اوردردناک بھی… یااللہ! آپ کی پناہ ،یااللہ! آپ کی پناہ … قرآن
مجید کا وعدہ بھی سچا اوروعید بھی سچی …شک کر نا کفر…دردناک عذاب کی ایک شکل یہ کہ
…مسلمان ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں ،ایک دوسرے کو ماریں ، کاٹیں اور ذبح کریں…
ہاں! جب دشمنی اپنے اصل مقام پر نہ نکلے تو غلط مقام پر نکلتی ہے … فرمایا:
’’جب تم جہاد چھوڑو گے تو اللہ تعالیٰ
تم پر ذلت کو مسلط فرمادے گا۔‘‘
[ سنن أبي داود۔حديث رقم:۳۴۶۲ ، ناشر:دار الکتب العلمیہ۔ بیروت]
اس بات کو آگے بڑھانے سے پہلے آج کا’’
تحفہ‘‘ قبول کرلیں ۔
قیمتی ہدیہ
حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی دوپرکیف
اور وجد آفرین دعائیں…ایسی دعائیں جو ہمارے اندر ہمت اُٹھاتی ہیں ،جذبہ بڑھاتی
ہیں…قوت اور طاقت سے ہمیں ہمکنار کرتی ہیں … اورہمارے مزاج تک کی اصلاح کرتی ہیں
…لیجئے دو دعائیں … ان کو پڑھیں ،سمجھیں ،یاد کریں ،برتیں اور آگے بڑھائیں ۔
١ اَللّٰھُمَّ
بِکَ أَصُولُ وَبِکَ أَحُولُ وَبِکَ أَسِيرُ۔
’’یااللہ !آپ کی مدد اور توفیق سے میں
حملہ کرتا ہوںاورآپ کی مددو توفیق سے میں تدبیر کرتا ہوں اور آپ کی مددو توفیق
سے میں چلتا ہوں۔‘‘
[مسند أحمد ۔حديث رقم: ۶۹۱، ناشر:مؤسسة الرسالة]
٢ اَللّٰھُمَّ
بِکَ أُحَاوِلُ وَبِکَ أُصَاوِلُ وَبِکَ أُقَاتِلُ۔
’’یااللہ !آپ کی توفیق و مدد سے میں
اپنے معاملات کی تدبیرکرتاہوں اور آپ کی مدد سے میں حملہ کرتا ہوں اور آپ کی
توفیق سے میں قتال کرتا ہوں ۔ ‘‘
جب جہاد پرنکلناہو…جب سفر پر جانا ہو ،
جب کسی دین کے دشمن سے نمٹنا ہو… جب کسی معاملے کی فکر اور تدبیر کرنی ہو …جب کسی
مشکل کام میں ہاتھ ڈالنا ہوتوان مبارک ،منوراور مسنون دعاؤں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ
کی مدد ساتھ لے لی جائے … تب تدبیر بھی درست ہوگی…چلنا بھی آسان ہوگا،حملہ بھی
زور دار ہوگا،قتال بھی کامیاب ہوگا،ان شاء اللہ …چلیں یہ تحفہ ،یہ ہدیہ آپ سب کو
مبارک … جن کی زندگی میں پہلے سے یہ دعائیں چل رہی ہیں ان کو زیادہ مبارک …مگرتین
سوالوں کا جواب دیں کہ…
١ حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک دعاؤں میں …حملہ کرنے
،قتال کرنے کا تذکرہ کیسے آگیا؟
٢ وہ لوگ جو جہاد فی سبیل اللہ کو چھوڑ
چکے وہ ان دعاؤں کا کیا کریں گے ؟
٣ وہ جو جہاد نہ کرنے پر فخر کرتے ہیں
…اسے اپنی عقلمندی اور دانشمندی قرار دیتے ہیں وہ حضرت آقامدنی صلی
اللہ علیہ وسلم کے مزاج ،دین اور دعاؤں سے کتنے دور ہیں ؟
بس ان تین سوالات پر غور کریں …بہت سی
تاریکیاں چھٹ جائیں گی … بہت سے اندھیرے چھوٹ جائیں گے۔
یااللہ! نورعطاء فرما… اَللّٰھُمَّ
اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا
یااللہ!نورعطاء فرما… اَللّٰھُمَّ
اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا
یااللہ !نورعطاء فرما…اَللّٰھُمَّ
اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا
دل خوش اور حیران
ایک بات پکی یاد کر لیں…جوشخص بھی دین
اسلام کا سچا عالم ہوگا وہ کبھی جہاد کا مخالف نہیں ہو سکتا … عالم کی دو قسمیں
ہیں:
١ عالم
دنیا …
٢ عالم
ربانی…
’’عالم دنیا‘‘وہ ہے جس نے دین کاعلم
دنیا کے لئے پڑھا…وہ مال،عہدہ ، منصب اورپروٹوکول میں کامیابی محسوس کرتاہے …ایسے
عالم کے لئے قرآن و سنت میں بڑی سخت وعیدیں آئی ہیں … بہت ہی سخت ،بہت ہی سخت…
اللہ تعالیٰ ہم سب کی ان’’وعیدوں ‘‘سے حفاظت فرمائے …’’عالم ربانی‘‘وہ عالم ہے جس
نے دین کا علم اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے پڑھا …اورپھر مرتے دم تک وہ اپنی اس نیت
پر قائم رہا…’’عالم ربانی‘‘کبھی جہاد کا مخالف نہیں ہو سکتا …وہ جہاد کرے یا نہ
کرے مگرجہاد سے عشق و محبت ضرور رکھتا ہے اور کھل کر جہاد بیان کرتا ہے …وہ نہ
جہاد کے معنٰی بدلتا ہے اور نہ جہاد کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کرتا ہے … آپ
اپنے قریب زمانہ میں حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ سے لے کر حضرت
مولاناشیرعلی شاہ صاحب رحمہ اللہ تک دیکھ لیں …ربانی علماء کی ایک طویل
فہرست ہے …یہ حضرات جہادکا نام سن کرہی جھوم جاتے تھے … جب جہاد پر لکھتے تو قلم
توڑ ڈالتے اور جب جہاد پر بولتے تو ثریا ستارے کونیچادکھادیتے …وجہ یہ ہے کہ
’’عالم ربانی ‘‘حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے
مالامال ہوتا ہے … اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبی السیف اور نبی الملاحم ہیں …
تلواروالے نبی ،جنگوں والے نبی … جہاد والے نبی صلی اللہ علیہ
وسلم ، صلی اللہ علیہ وسلم ، صلی
اللہ علیہ وسلم … آج کل یہ شیطانی واہمہ بعض لوگوں کو لگ گیا ہے کہ …
جہاد کی مخالفت کرو تاکہ مدارس محفوظ رہیں، عمامہ محفوظ رہے ،ڈاڑھی محفوظ رہے …
استغفراللہ ،استغفراللہ ،استغفراللہ … کیا دین کے ایک فریضے کے انکار سے…
مدارس،عمامہ اورڈاڑھی کی حفاظت ہوسکتی ہے؟ہرگز نہیں ، ہرگز نہیں… آج مدارس کی اگر
حفاظت ہے ،عمامہ اورڈاڑھی کی اگر شان ہے تو وہ جہاد کی برکت سے ہے …جہاد کا انکارکرنے
والوں نے تواُمت کے کئی قابل فخر مدارس کو ’’انگریزیت‘‘سے ناپاک کردیاہے … اور
المیہ یہ کہ وہ اس پر فخر بھی کرتے ہیں… اچھا چھوڑیں !بات دور جارہی ہے … عرض یہ
کررہا تھاکہ دین اسلام کا کوئی سچا اور ربانی عالم کبھی بھی جہاد کی مخالفت نہیں
کرسکتا… جہاد کی مخالفت توقادیانیوں اور غامدیوں کا طریقہ ہے … اصل بات جوسنانی ہے
وہ یہ کہ کئی سال پہلے رمضان المبارک میں ایک مسجدمیں جمعہ ادا کرنے کااتفاق
ہوا…ہم چونکہ کافی پہلے مسجد میں داخل ہوئے ،اس وقت پہلی اذان بھی نہیں ہوئی تھی
تو مسجد کے خدام کچھ گھبراسے گئے … پہلے انہوں نے کسی بہانے آکر ہمارے سامان کی
تلاشی لی … پھر میرے ساتھی سے تعارف اور بات چیت کر کے اپناتجسس دور کرتے رہے …
مسجد کے امام صاحب دور بیٹھے اس سارے عمل کی نگرانی فرما رہے تھے… وہ مختصر قد
کاٹھ کے نفیس اور کمزور سے آدمی نظر آرہے تھے … ماحول کی اس خرابی سے میرادل
مکدر ہوا … ارادہ کیا کہ کسی اور مسجد چلا جاؤں مگراسی وقت اذان ہوگئی تویہ ارادہ
ملتوی کر دیا…جب آدمی کسی مسجد میں ہواور وہاں اذان ہوجائے توباجماعت نماز ادا
کرنے سے پہلے وہاں سے نہیں جاناچاہیے …خیر میں تلاوت میں لگا رہا… اسی دوران امام
صاحب منبرپر تشریف لے آئے تو میںنے قرآن مجید رکھ دیا اور بیان کی طرف متوجہ ہوگیا…
اُمید یہی تھی کہ نازک مزاج نظر آنے والے خطیب صاحب … کوئی آسان اورہلکا پھلکا
موضوع چھیڑیں گے … مگر یہ کیا؟… خطیب صاحب نے’’ سورۃ الصف‘‘ کا دوسرارکوع پڑھا
اور’’اللہ تعالیٰ کے عذاب‘‘ کے موضوع پر گفتگو کرنے لگے … فرمایا…آج وہ نسخے
بتاؤں گا جن کی برکت سے مسلمان دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے دردناک عذاب سے
بچ سکتے ہیں …عذاب الٰہی سے بچانے والا پہلا نسخہ ’’جہادِ فی سبیل
اللہ‘‘ہے…دیکھو!سورۃالصف میں اللہ تعالیٰ نے واضح ارشاد فرمادیا ہے کہ … اگر تم
جہاد فی سبیل اللہ کرو گے تو…
{تُنْجِیْکُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ}
’’یہ جہاد تمہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب
الیم سے بچا لے گا۔‘‘ [الصف: ۱۰]
پھرخطیب صاحب نے ایک آہ بھر کر کہا …
جہاد پر مزید کیا بات کروں ؟آج تومسلمان جہاد سے اس طرح دور ہے جس طرح ہندوگوشت
سے … پھر وہ باقی نسخے بیان فرماتے رہے … مجھے بہت خوشی بھی ہوئی اور حیرت بھی …بے
شک کوئی سچا عالم کبھی جہاد کے خلاف بات تو کیا کوئی اشارہ بھی نہیں کرسکتا… اس
بیان کو سن کر میری وہ کوفت بھی دور ہوگئی جو تلاشی اور تجسس کی وجہ سے ہوئی تھی…
اللہ تعالیٰ ان خطیب صاحب کو اپنی خاص رحمت ، مغفرت اوردارین کی سعادتیں عطاء
فرمائیں … 2003ء میں جب مجھے اچانک اپنے گھراور ماحول سے نکل کر در بدری کی زندگی
اختیار کرنی پڑی توایسے کئی عجیب اور دلچسپ واقعات ہوئے … کبھی کبھار دل چاہتا ہے
کہ ان تمام واقعات کو قلمبندکردوں …دیکھیں جو نصیب…ایک مسجد میں توایسا بھی ہوا کہ
خطیب صاحب جہاد پر بیان کرتے ہوئے میری کئی باتوں کا نام لے کر حوالہ دیتے رہے اور
میں سرجھکا کر ان کا بیان سنتا رہااور دعوت جہاد پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا
رہا۔
بات بالکل سچی ہے
آج کل مسلمانوں پر جو دھماکے ہیں ،جو
قتل و غارت ہے،جو مظلومیت ہے ،جو فساد ہے اس کی بڑی وجہ مسلمانوں کا جہاد سے دور
ہونا ہے …جہاد فی سبیل اللہ مسلمانوں کے لئے امن کا سائبان ہے … یہ جو مسلمانوں کے
دشمن دن رات جہاد کے خلاف سازشیں کررہے ہیں …کیا یہ ہمارے خیر خواہ ہیں ؟… یہ
جانتے ہیں کہ مسلمان اگر جہاد پر آگئے تویہ امن پالیں گے،یہ ترقی کرجائیں گے اور
یہ غالب ہو جائیں گے…اسی لئے وہ ہمارے حکمرانوں کوجہاد ختم کرنے پر مجبورکرتے ہیں
… یہ سب دشمن جتنی بھی کوشش کرلیں ،جتنا بھی خرچہ کرلیں ، جتنی بھی سازشیں کرلیں
…یہ جہادکوختم نہیں کر سکتے … جہاد قرآن میں ہے اور قرآن کا محافظ اللہ ہے …
جہادکا محافظ اللہ ہے ۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے لئے جینا… اللہ تعالیٰ
کے لئے مرنا… یہی ایک مؤمن کی شان ہے… یہی ایک مؤمن کی آن ہے… یا اللہ! مجھے
نصیب فرما … ہر مؤمن اور ہر مؤمنہ کو نصیب فرما، آمین
جو اللہ تعالیٰ کے لئے ’’جیتا ‘‘ہے اللہ
تعالیٰ اس کی زندگی کو دور دور تک پھیلا دیتے ہیں… اور جو اللہ تعالیٰ کے لئے’’
مرتا‘‘ ہے اللہ تعالیٰ اس کی موت کو زندگی سے زیادہ لذیذ بنا دیتے ہیں اور اس موت
کو ہمیشہ کی زندگی بنا دیتے ہیں…’’ اے نبی !فرما دیجئے… میری نماز اور میری قربانی
… اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ربّ العالمین کے لئے ہے۔‘‘
{قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ
نُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَ
مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} [انعام: ۱۶۲]
وہی مالک الملک
ساری زندگی ’’اقتدار‘‘ کی ہوس میں جینے
والے… بالآخر’’اقتدار‘‘سے محروم ہو جاتے ہیں… ساری زندگی ’’مال‘‘ کی لالچ میں
جینے والے سارا مال دنیا میں چھوڑ کر مر جاتے ہیں… مگر جو اللہ تعالیٰ کے لئے جیتا
ہے وہ دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کو اپنے ساتھ پاتا ہے… اور مرنے کے بعد بھی اللہ
تعالیٰ کی مہمانی اور قرب میں چلا جاتا ہے… آج کل کے حکمران اور ارب پتی مال دار…
جس انجام سے دوچار ہوتے ہیں… اس میں ہمارے لئے بڑی عبرت ہے… پاکستان کے طاقتور
وزیر اعظم کو عدالت نے ’’نااہل‘‘ قرار دے دیا… یہی عدالت کسی کو موت کی سزا سنائے
تو اسے پھانسی پر لٹکا دیا جاتا ہے… کسی کو عمر قید دے تو اسے بیس سال کے لئے
سلاخوں کے پیچھے پھینک دیا جاتا ہے… مگر جب اسی عدالت نے وزیر اعظم کو ’’نااہل‘‘
قرار دیا تو اب عدالت کے فیصلے پر سوال اُٹھایا جا رہا ہے… یہاں دو باتیں بڑی
عبرتناک ہیں ۔
١ وزیراعظم
نے اپنا عہدہ بچانے کے لئے … ہر وہ کام کیا جو وہ کر سکتے تھے… حالانکہ ایک مسلمان
ہونے کے ناطے انہیں وہ کام نہیں کرنے چاہیے تھے… مثلاً طرح طرح کے نجومیوں اور
جادوگروں سے ٹونے اور منتر کروائے گئے… رشوت کا جہنمی بازار ہر طرف بھڑکایا گیا…
جعلی کاغذات تیار کروائے گئے… جھوٹ کا سہارا لیا گیا… دنیا کے حکمرانوں سے مدد
مانگی گئی… اپنے دوستوں کے ذریعہ بارڈر پر حالات خراب کروائے گئے… تفتیشی افسران
کو ڈرایا دھمکایا گیا … الغرض ہر حرام کام کیا گیا تاکہ ’’وزارتِ عظمیٰ‘‘ بچ جائے
مگر وہ نہ بچی … رات کو سوئے تھے تو وزیر اعظم تھے ، اگلی رات جب بستر پر آئے تو
سابق وزیراعظم بن گئے… اگر فوج وزیر اعظم کا تختہ الٹتی تو مظلوم کہلاتے… اگر
عدالت پہلے فیصلے میں نااہل قرار دیتی تو جلد بازی کا شور مچاتے… مگر مظلوموں کی
آہیں رنگ لائیں… چھ ہفتے کی تفتیش نے اکثر جرائم کا پردہ فاش کر دیا… اور پورے
خاندان کو ’’ بے آبرو‘‘ بنا دیا… اگر دل میں ایمان اور قسمت میں ہدایت ہو تو اتنا
جھٹکا ہی کافی تھا کہ فوراً توبہ کرتے… اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے… مگر کہاں؟…
اب بھی کہہ رہے ہیں کہ میرا ضمیر صاف ہے… یہ ضمیر ہے یا جمعدار کا تھال؟ … اب نئے
جادوگر اور نجومی ڈھونڈے جا رہے ہیں… دوبارہ حکومت پانے کے حیلے تلاش کئے جا رہے
ہیں… بے شک اللہ تعالیٰ ہی مالک الملک ہے، وہ جسے چاہتا ہے حکومت دیتا ہے اور جس
سے چاہتا ہے حکومت چھین لیتا ہے… جادو حرام ہے… نجومیوں سے قسمت پوچھنا ناجائز ہے…
رشوت جہنم کی آگ ہے… مشرکوں سے یاری ذلت والا کام ہے… وہ جو اللہ تعالیٰ کے لئے
جیتے ہیں ان کو حکومت ملے تو وہ اسے اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ بناتے ہیں… انہیں
اختیار ملے تو وہ خود بے اختیار ہو جاتے ہیں اور دین کو مختار بنا دیتے ہیں… ان کو
مال ملے تو اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا خرید لیتے ہیں اور تو اور وہ اپنی جان بھی
…اللہ تعالیٰ کی رضا کے معاوضے میں بیچ کر سرفراز ہو جاتے ہیں…
{وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ
نَفْسَہُ ابْتِغَآ ءَ مَرْضَاتِ
اللہِ} [البقرہ: ۲۰۷]
٢ عبرت
کی دوسری بات یہ ہے کہ… جب وزیر اعظم کو نا اہل قرار دیا گیا تو کوئی بھی سڑکوں پر
نہ نکلا… نہ کوئی آنکھ روئی،نہ کوئی دل پھٹا… نہ کوئی احتجاج اور نہ کوئی بڑا
مظاہرہ… فوٹو سیشن کے لئے چند ہلکے پھلکے احتجاج ہوئے اور بس… جبکہ ’’وزیراعظم
‘‘کا دعویٰ تھا کہ وہ ملک کے مقبول ترین لیڈر ہیں… مگر اب معلوم ہوا کہ ان کی عوام
میں مقبولیت… شہید ممتاز قادری رحمہ اللہ سے بھی کم ہے… انتخابات جیتنے
کا ایک فن کچھ لوگوں نے سیکھ لیا ہے… یہ لوگ الیکشن جیت جاتے ہیں مگر کسی کا دل
نہیں جیت سکتے… اُدھر ترکی میں دیکھیں… جب ’’رجب طیب اردگان ‘‘کے خلاف فوجی بغاوت
ہوئی تو لاکھوں لوگ دیوانہ وار گھروں سے باہر نکل آئے… وہ کوئی معمولی بغاوت نہیں
تھی… امریکہ سے لے کر جرمنی تک کئی بڑے ممالک اس بغاوت کے پیچھے تھے… اور بغاوت کی
تیاری پر اربوں ڈالر خرچ ہوئے تھے… اس بغاوت کو جنگی طیاروں اور ٹینکوں کی مدد
حاصل تھی… مگر ترکی کے مسلمان اپنے صدر کی برطرفی پر… ایسے بھڑکے کہ پوری بغاوت کا
بھرکس نکال دیا… خواتین ٹینکوں کے سامنے کھڑی ہو گئیں… اور بچوں نے اپنے سینے
گولیوں کے لئے پیش کر دئیے… وجہ کیا تھی؟ … وجہ ایک ہی تھی اور وہ ہے ’’رجب طیب‘‘
کی اسلام پسندی … وہ کسی حد تک اسلام کے ساتھ مخلص ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس کی
محبت لوگوں کے قلوب میں بھر دی… اور لوگ ا س کے لئے جان دینے پر تیار ہو گئے… جبکہ
ہمارے حکمران دین اور اسلام سے بیزار ہیں… اس لئے ان کی بڑی سے بڑی حکومت گرانے کے
لئے… فوج کا ایک ٹرک کافی ہو جاتا ہے… اور کوئی ان کے لئے گھر سے باہر نہیں نکلتا…
اب دیکھیں کہ دو تہائی اکثریت رکھنے والے وزیر اعظم کو پانچ جج صاحبان نے کان پکڑ
کر … اسلام آباد سے ’’مری ‘‘ چھوڑ دیا… اور پورے ملک میں لوگ خوشی سے مٹھائیاں
بانٹنے لگے… حلوائیوں کی دکانوں پر مٹھائی کم پڑ گئی… جبکہ لوگ ابھی تک شکرانے کے
نوافل ادا کر رہے ہیں… معلوم ہوا کہ …اسلام الحمد للہ آج بھی ’’طاقتور ‘‘ہے… اور
’’لبرل ازم‘‘ آج بھی بے حد کمزور ہے… ترکی کے صدر نے ’’اسلام‘‘ کو ڈھال بنایا تو
اسلام نے اس کی حفاظت کی… ہمارے حکمرانوں نے لبرل ازم کا نعرہ لگایا تو… کوئی لبرل
ان کے تحفظ کے لئے نہ نکلا… لبرل لوگ تو صرف موم بتیاں جلا سکتے ہیں … یا بے حیائی
کے کاموں میں ہاتھ بٹا سکتے ہیں … جبکہ اسلام کے نام لیوا … جو اللہ تعالیٰ کے لئے
جیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لئے مرتے ہیں … وہ اسلام کی خاطر کسی قربانی سے بھی
دریغ نہیں کرتے… ہمارا وزیراعظم بھی اگر اسلام کا وفادار ہوتا تو آج… مری میں
حسرت اور افسوس کی گرم آہیں نہ بھر رہا ہوتا۔
اب کیا کرنا ہے؟
جو لوگ اللہ تعالیٰ کے لئے جیتے ہیں…
اور اللہ تعالیٰ کے لئے مرتے ہیں ان کی ایک بڑی صفت یہ ہے کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ
ہی سے مانگتے ہیں… نہ جادو کرتے ہیں نہ ٹونے… نہ حکمرانوں کو اپنا مشکل کشا سمجھتے
ہیں نہ مالداروں کو … ان کی طاقت دو رکعت نماز… اور اللہ تعالیٰ سے دعاء ہوتی ہے…
پھر جب ان کی دعاء قبول ہو جائے تو فخر نہیں کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا
کرتے ہیں ، صدقہ دیتے ہیں… اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں… اور اللہ تعالیٰ سے
حیا کرتے ہیں کہ… اس نے ہمارے اتنے گناہوں کے باوجود ہماری دعاء قبول فرمائی تو ہم
بھی اس کی نافرمانی چھوڑ دیں… اور اگر ان کی دعاء قبول نہ ہو تو مایوس نہیں ہوتے،
اللہ تعالیٰ سے شکوہ نہیں کرتے… دل میں رنج نہیں لاتے… بلکہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر
پر دل اور سر جھکائے رکھتے ہیں کہ …اس نے جو کیا وہی بہتر ہے… اور اپنی دعاء جاری
رکھتے ہیں… الحمد للہ ، الحمد للہ ثم الحمد للہ… جمعہ کے دن’’ عمل آیۃ الکرسی‘‘
کے بعد والی دعاء اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی… اور انڈیا اور اس کے یاروں کو
سربازار رُسوا فرمایا…اب بھی یہ عمل جاری رکھیں… اور یہ دعاء مانگیں کہ اللہ
تعالیٰ ہمیں ایسے حکمران نصیب فرمائے … جو اللہ تعالیٰ ، رسول صلی اللہ
علیہ وسلم اور اسلام کے وفادار ہوں… اللہ تعالیٰ کے لئے جیتے ہوں اور
اللہ تعالیٰ کے لئے مرتے ہوں۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر نہ کوئی
گناہوں سے بچ سکتا ہے… اور نہ کوئی نیکی کر سکتا ہے…
لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا
بِاللّٰہِ… لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔
یا اللہ !گناہوں سے بچنے کا ’’حول‘‘
عطاء فرما …
یا اللہ! نیکیاں کرنے کی ’’قوت‘‘ عطاء
فرما…
لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ
اِلَّا بِاللّٰہِ… لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔
مسلمان باپ اپنی بیٹی سے کس قدر پیار
کرتا ہے؟ وہ دیکھو حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم جب
بھی سفر سے واپس تشریف لاتے ہیں… مسجد کے بعد ’’بیٹی‘‘ کے گھر تشریف لے جاتے ہیں…
سیّدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کو دیکھ کر … حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری تھکاوٹ اُتر جاتی ہو
گی…کیونکہ بیٹی تو جنت کا پھول ہے… کوئی مسلمان باپ اپنی بیٹی پر غیر مرد کا سایہ
بھی نہیں پڑنے دیتا… مگر یہ کون لوگ آ گئے ؟ بیٹی کو میڈیا کے سامنے بٹھا کر خود
ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں… اور بیٹی اعلان کرتی ہے کہ مجھے فلاں نے چھیڑا … فلاں نے
اُکسایا… یا اللہ! رحم… بے حیائی کا طوفان سارے کنارے توڑ چکا… اگر یہ سارے اعلان
’’غیرت ‘‘ اور ’’پاکدامنی‘‘ کے لئے کئے جا رہے ہیں تو… اتنے سالوں تک خاموشی کیوں
تھی؟… میڈیا کے سامنے اعلان کرنے سے کون سا انصاف مل جائے گا؟… باپ اور بھائی میں
غیرت ہوتی تو… چھیڑنے والے کو سبق سکھاتے …مگر کہاں؟ … بس بے حیائی کو پھیلایا جا
رہا ہے … یا اللہ! ’’حیاء‘‘ نصیب فرما… ارشاد فرمایا:
’’حیاء اور ایمان آپس میں جڑے ہوئے ہیں
… ان میں سے جب ایک اُٹھ جاتا ہے تو دوسرا بھی اس کے ساتھ چلا جاتا ہے۔‘‘
[مصنف ابن شیبہ۔ج:۶،ص:۹۲،ناشر: مكتبةامدادیہ۔ ملتان ]
ہمارے ملک کی سیاست بہت گندی ہو چکی
…ہمارا میڈیا بہت ناپاک ہو چکا…مختلف سیاسی پارٹیوں نے رشوت، بد دینی اور بے حیائی
کو وطیرہ بنالیا ہے… امانت و شرافت کا جنازہ نکال دیا ہے… یا اللہ !اس ماحول میں
بے ایمانی سے بچنے کا ’’حول‘‘ عطاء فرما… ایمان پر ثابت قدمی کی’’قوت‘‘ عطاء فرما…
لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا
بِاللّٰہِ… لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔
حضرت سیّدنا ابو ذر
غفاری رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں:
’’میرے محبوب ( حضرت محمد صلی
اللہ علیہ وسلم ) نے مجھے پانچ باتوں کی وصیت فرمائی:
١ میں
غریبوں، مسکینوں پر مہربانی کروں اور ان کے ساتھ بیٹھا کروں۔
٢ ہمیشہ
اپنے سے کمترحال والوںکو دیکھوں اور اپنے سے بہترحال والوں کو نہ دیکھوں۔
٣ رشتہ
داروں کے ساتھ اچھا سلوک کروں۔
٤ سچ
بولوں اگرچہ کڑوا کیوں نہ ہو۔
٥ اور
’’ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ‘‘ پڑھا کروں۔‘‘
[مسند إمام أحمد۔حديث رقم:۲۱۵۱۷ ، ناشر: مؤسسة الرسالة]
لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا
بِاللّٰہِ کا ترجمہ وہی ہے جو اوپر عرض کر دیا کہ…’’گناہوں سے بچنے کی توفیق اور
نیکیوں کی طاقت صرف اللہ تعالیٰ ہی سے مل سکتی ہے‘‘…بڑا اونچا وظیفہ ہے اور بڑا
شاندار…
لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا
بِاللّٰہِ… لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔
آج مسلمانوں نے غریبی اور مسکینی کو
گالی اور نفرت کی چیز سمجھ رکھا ہے، حالانکہ یہ بڑے شرف اور فخر والا مقام ہے…
حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ جیسے اونچے مرتبے کے صحابی
کو حکم دیا جا رہا ہے کہ… غریبوں کے ساتھ بیٹھا کریں… سبحان اللہ ! غریبوں ،
مسکینوں اور فقیروں کی کیا شان ہے؟ یہ حضرات اگر صابر شاکر ہوں تو… یہ ولیوں کے
ولی اور اللہ تعالیٰ کے مقرب ہوتے ہیں… مالداروں کے ساتھ بیٹھنے سے مال کی محبت
پیدا ہونے کا خطرہ رہتا ہے اور مال کی محبت کینسر سے زیادہ خطرناک بیماری ہے…
سوائے اُن مالداروں کے جو مالداری پر فخر نہیں کرتے اور دن رات اپنا مال… اللہ
تعالیٰ کی رضاء کے لئے خرچ کرتے ہیں…یہ جو آج کئی لوگ اپنی ’’بیٹیوں‘‘ کو میڈیا
کے سامنے رسوا کر رہے ہیں… اس کے پیچھے مال کی ہوس کے علاوہ اور کون سا جذبہ ہے؟…
مال کی محبت انسان کو ذلیل و رسوا کر دیتی ہے … اور مال کی ہوس کبھی پوری نہیں
ہوتی… بس بڑھتی ہی جاتی ہے، بڑھتی ہی جاتی ہے… اسی مال کی خاطر کسی بے ضمیر نے
اپنی بیٹی کو ’’ملالہ‘‘ تو کسی نے’’ گلالئی‘‘ اور کس نے ’’قندیل‘‘ بنا پھینکا …
کاش! ایمان والے غیرت مند باپ … اپنی بیٹیوں پر توجہ دیں… اور ان کو اسلامی عزت و
غیرت کا نمونہ بنا دیں… ایک مسلمان عورت کو اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ قرب اور
اللہ تعالیٰ کی خاص توجہ… اپنے گھر کی چاردیواری میں ملتی ہے… یہ بات حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے بالکل صاف الفاظ میں سمجھائی
ہے…جب کوئی مسلمان عورت… اس راز کو پالیتی ہے اور سمجھ لیتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس
کے ایمان کی شعائیں دور دور تک پھیلا دیتے ہیں… وہ دیکھو! ساری اُمت تک حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ہزاروں احادیثِ مبارکہ پہنچانے
والی خاتون… ایک کچے حجرے میں تشریف فرما ہیں… اور ان کے لئے اس حجرے سے باہر قدم
رکھنا پہاڑ کی طرح بوجھ ہے… جسے وہ انتہائی سخت مجبوری کے علاوہ کبھی نہیں
اُٹھاتیں… حیاء اور عورت کا آپس میں اسی طرح رشتہ ہے… جس طرح ایمان اور حیاء کا
آپس میں رشتہ ہے… حیاء ہی میں عورت کی ترقی ہے اور حیاء ہی میں عورت کا کمال ہے…
عرب کے متکبر لوگوں میں ایک فیشن عام تھا… وہ اپنی لنگی یا چادر بڑی پہنتے تھے…
یہاں تک کہ وہ زمین پر گھسٹتی تھی… شیطان ہر زمانے میں طرح طرح کے فیشن ڈیزائن کر
کے… انسانوں کو کارٹون بناتا رہتا ہے کیونکہ وہ بنی آدم کا دشمن ہے … آج کے
زمانے میں اس طرح کی چادر یا لنگی پہننا فیشن نہیں ہے… آج کل تو پھٹی ہوئی جینز
اور نیکر کو فیشن سمجھا جاتا ہے… مگر اس زمانے میں لمبی چادر پہن کر اس کو زمین پر
گھسیٹ کر چلنا تکبر اور بڑائی کی علامت تھی… حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم نے مسلمانوں کو اس شیطانی فیشن سے سختی کے ساتھ روکا اور چادرکو
ٹخنوں سے اونچا کرنے کا حکم فرمایا… اور چادر کو ٹخنوں سے نیچے رکھنے پر جہنم کی
وعید سنائی… جب یہ احادیث مسلمان خواتین تک پہنچیں تو وہ پریشان ہوئیں… عرض کیا
:یا رسول اللہ!اگر ہم اپنی چادر، شلوار کو چھوٹا کریں تو ہمارے پاؤں نظر آئیں
گے… تب ان کو سمجھایا گیاکہ ٹخنے کھولنے کا حکم صرف مردوں کے لئے ہے اور عورتیں
بھی اپنی چادریں زیادہ زمین پر نہ گھسیٹیں۔
اس واقعہ سے اس زمانے کی مسلمان عورتوں
کے ’’حیاء‘‘ کا اندازہ لگائیں کہ وہ کس طرح سے پورے جسم کا پردہ فرماتی تھیں…کاش!
یہی ذہن … ہماری آج کل کی مسلمان ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کا بھی بن جائے کہ… وہ
ہر نئے فیشن کو نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی حیاء اور اپنے پردے کو مقدم رکھیں… اور اس کے
لئے ہمیشہ فکر مند رہ کر اللہ تعالیٰ سے دعاء مانگا کریں… کیونکہ اسی کی توفیق سے
ہی… ایمان اور تقویٰ نصیب ہوتا ہے…
لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا
بِاللّٰہِ… لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔
آخر میں ایک گذارش ہے… فحاشی، بے حیائی
اور بے شرمی والی خبریں نہ پڑھا کریں… نہ معلومات کے لئے ، نہ عبرت کے لئے… ان
خبروں کو پڑھنے سے دل سیاہ ہوتا ہے، وساوس بڑھتے ہیں… اور گناہ پھیلتے ہیں… آج کل
کا میڈیا ان خبروں کے ذریعہ مسلمانوںمیں بے حیائی پھیلا رہا ہے… ہمیں ایک بات یاد
رکھنی چاہیے کہ ہم مسلمان ہیں، مومن ہیں اور ’’حیاء‘‘ ایمان کا حصہ ہے… ہمیں اس سے
کیا غرض کہ… فلاں جگہ فحاشی کا اڈہ چل رہا ہے… فلاں نے فلاں کے ساتھ کیا کیا؟… یہی
وقت ہم تلاوت، ذکر یا اچھی کتابوں کے مطالعہ پر لگا لیا کریں…زیادہ معلومات کا شوق
انسان کو برباد کرتا ہے … ہمیں ہمیشہ ’’علم نافع‘‘ کا شوق ہونا چاہیے… ایسا علم جو
نفع دے… اسی طرح فیس بک یا واٹس ایپ وغیرہ پر … مرد حضرات غیر عورتوں سے… اور
عورتیں غیر مردوں سے کسی طرح کا رابطہ نہ کریں … اگر آپ یہ پسند نہیں کرتے کہ آپ
کی بیوی یا بیٹی غیر مردوں سے رابطے یا باتیں کرے تو پھر آپ خود بھی غیر عورتوں
سے کسی طرح کا رابطہ نہ رکھیں…اور بد نظری سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ… پہلی
نظر ہی نہ پڑنے دیں… جب آپ خود کو پہلی نظر سے روکیں گے تو اس سے آپ کے اندر
تقویٰ کی مضبوط قوت پیدا ہو گی…ایمان اور تقویٰ کی اس قوت کو… اللہ تعالیٰ سے
مانگنے کا ایک بہترین طریقہ… اور وظیفہ وہ ہے جو حضرت آقا مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم نے اپنے مقرب صحابی حضرت ابو ذر رضی اللہ
عنہ کو سکھایا کہ…ہمیشہ پڑھا کرو…
لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا
بِاللّٰہِ… لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ ۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو ’’نا
اہلی‘‘ سے بچائے… اور ہمیں ’’اہل‘‘ بنائے…اہل ایمان، اہل اسلام ، اہل جنت ، اہل
امانت… اور اہل صداقت میں ہمیں شامل فرمائے…آج دو موضوع ساتھ ساتھ لے کر چلنے کا
ارادہ ہے… ان شاء اللہ…یا اللہ! آسان فرما… یا اللہ! قبول فرما۔
لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا
بِاللّٰہِ… لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔
نا اہل کا مطلب
پاکستان کی سپریم کورٹ نے اپنے ایک
متفقہ فیصلے میں… وزیر اعظم پاکستان کو ’’نا اہل‘‘ قرار دیا ہے…’’نا اہل‘‘ فارسی
کا لفظ ہے اور اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے… لغت کی کتابوں میں اس لفظ کے کئی
مطلب لکھے ہیں چند معانی ملاحظہ فرمائیں:
نا اہل:
١ نالائق ٢ ناقابل ٢ ناخلف ٤ کمینہ ٥ بے تہذیب ٦ ناموزوں ٧ بے ادب ٨ ناشائستہ۔
یعنی سپریم کورٹ نے ’’وزیراعظم‘‘کو
نالائق ، ناقابل، ناخلف وغیرہ قرار دیا ہے… اور یہ آٹھ لقب اُن کے لئے مقرر کر
دئیے ہیں… جو آپ نے ابھی نا اہل کے معنٰی میں پڑھے ہیں… اور سپریم کورٹ نے
وزیراعظم سے دو لقب چھین لئے ہیںایک صادق اور دوسرا امین… کہ اب وہ ’’صادق ‘‘نہیں
رہے کاذب بن گئے ہیں یعنی جھوٹے اور’’ امین‘‘ نہیں رہے… بلکہ خائن بن چکے ہیں…آٹھ
القاب مل گئے… اور دو لقب چھن گئے… تو قانون کے مطابق وزیراعظم کو اپنا عہدہ
چھوڑنا پڑا… اور وہ ’’مری‘‘ جا بیٹھے… مگر ’’ مر‘‘ کر بھی چین نہ آیا تو اپنی عزت
کا جنازہ کندھوں پر اُٹھائے ’’جی ٹی روڈ‘‘ پر آ گئے اور بالآخر رینگتے رینگتے
چار دن میں … اپنے گھر لاہور پہنچ گئے…
جتھوں دی کھوتی … اُتھے اَن کھلوتی۔
لاہور میں ہمارے کئی اللہ والے،مظلوم ،
بے قصور ساتھی… اس وزیر اعظم نے قید کر رکھے تھے … مجھے رمضان المبارک میں وہ
ساتھی یاد آتے تو آنکھیں بھیگ جاتیں… وہ اہل قرآن … رمضان میں خوب قرآن سناتے
تھے… اللہ تعالیٰ کی شان دیکھیں کہ اُن اہل ایمان کی آہیں عرش تک پہنچیں اور
اُنہیں اپنی ذاتی ضد پر گرفتار کرانے والا شخص… نا اہل ہو کر اُسی لاہور میں آ
گرا… واہ سبحان تیری قدرت!
عشرہ مبارکہ آ گیا
ذو القعدہ کا آخری عشرہ…چل رہا ہے… اور
چند دن بعد ’’ذو الحجہ‘‘ کا مبارک عشرہ شروع ہونے والا ہے… اللہ کرے آپ سب نے ’’
اَفْضَلُ اَیَّامِ الدُّنْیَا‘‘ کتاب پڑھ لی ہو… اس سال معلوم نہیں کیوں زیادہ شدت
سے ’’عشرہ مبارکہ‘‘ کا انتظار ہے۔
{وَالْفَجْرِ وَلَیَالٍ
عَشْرٍ} [الفجر:۱]
اللہ تعالیٰ ذوالحجہ کے پہلے عشرے کی
راتوں کی قسم قرآن مجید میں کھاتے ہیں… یہ دس ایام ’’اہل عشق‘‘ اور ’’اہل سعادت‘‘
کے لئے عظیم تحفہ ہیں… اس سال ہم سب سچی نیت کر لیں کہ… ان شاء اللہ ان دس دنوں
میں اپنی قسمت سنوارنی ہے… یہ دس دن ایک انسان کو زمین سے آسمان پر پہنچا سکتے
ہیں … ان دس دنوں کا ہر نیک عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں جہاد سے بھی زیادہ مقبول ہے تو
پھر ان دس دنوں میں خود جہاد کا اجر کتنا ہو گا… معلوم ہوا کہ یہ دن کمانے کے ہیں
، بنانے کے ہیں اور پانے کے ہیں… ان دنوں کی دعاؤں کا مقام بھی بہت اونچا ہے… یعنی
دعائیں بہت زیادہ قبول ہوتی ہیں… اور خوش نصیب انسانوں کی قسمت کو پر لگ جاتے ہیں…
ابھی سے ہم روزانہ دو رکعت نماز ادا کر کے اللہ تعالیٰ سے دعاء اور التجا کیا کریں
کہ… اس سال ہمیں یہ دس دن مکمل قبولیت اور تمام خیروں کے ساتھ نصیب ہوجائیں… وہ جو
ہر وقت اپنی قسمت کا رونا روتے ہیں… وہ ’’ذوالحجہ‘‘ کے چاند کا انتظار کریں اور
جیسے ہی چاند نکلے فوراً … اعمال و دعاء میں لگ کر خوش نصیبی کے راستے پر چل پڑیں…
ان دس دنوں اور راتوں کے اعمال انہیں ان شاء اللہ کہاں سے کہاں تک پہنچا دیں گے۔
دشمنی صرف دین سے ہے؟
سابق وزیر اعظم کو سپریم کورٹ نے’’ نا
اہل‘‘ قرار دیا… ان پر دس سے زیادہ سنگین الزامات تھے جن کے ثبوت عدالت نے تسلیم
کئے… یہ غلط ہے کہ ان کو صرف اپنے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نااہل کیا گیا… دھوکہ
، فراڈ، لوٹ مار اور جعل سازی کا ایک وسیع سلسلہ انہوں نے شروع کر رکھا تھا… جس کی
ایک مثال بیٹے کی کمپنی اور وہ باپ ہو کر اس میں ملازم اور تنخواہ دار… جب تنخواہ
لیتے نہیں تھے تو کاغذات میں تنخواہ لکھنے کی کیا ضرورت تھی؟…یہ سارا بندوبست کسی
فراڈ یا کالے دھن کو چھپانے کے لئے کیا جاتا ہے… ورنہ اس کی کیا ضرورت ہے کہ کمپنی
بیٹے کے نام ہو اور باپ کو اس میں ملازم اور تنخواہ دار لکھا جائے… جبکہ باپ بیٹا
تمام معاملات میں اکٹھے ہیں… خلاصہ یہ کہ سابق وزیراعظم پر بڑے بڑے جرائم ثابت
ہوئے… ان کے خلاف چھ محکموں کے چھ اعلیٰ افسروں نے تحقیق کی… اور ان کو مجرم پایا…
پھر سپریم کورٹ کے پانچ ججوں نے انہیں مجرم پایا… اب آپ پاکستان کے حالات دیکھیں…
کسی مدرسے، مسجدیا مجاہد پر… اگر سپیشل برانچ یا پولیس کا کوئی ادنیٰ سا اہلکار
کوئی الزام ڈال دے تو … اس مدرسے پر نگرانی لگ جاتی ہے… اور اس مجاہد اور اس کے
اہل خانہ کا جینا حرام کر دیا جاتا ہے … اگر ایک حوالدار بھی کسی دیندار مسلمان کی
کوئی مشکوک جھوٹی رپورٹ لکھ دے تو… اس مسلمان کا نام فورتھ شیڈول میں ڈال کر اس کی
زندگی ویران کر دی جاتی ہے… مگر جس شخص کو سپریم کورٹ اور ملک کے چھ محکموں نے…
مجرم قرار دیا… وہ شخص کھلے عام گھوم رہا ہے… ریلی نکال رہا ہے… وزیراعظم کا
پروٹوکول لے رہا ہے… سیکورٹی کے نام پر کروڑوں کا بجٹ اُڑا رہا ہے … پوری حکومت اس
کے اشارے پر ناچ رہی ہے … اور وہ فوج اور عدالتوں کو دھمکیاں دے رہا ہے … آخر اس
ملک میں اتنا بڑا تضاد کس لئے ہے؟ … نا اہل وزیراعظم نے ایک معمولی سی ریلی نکالی،
پاکستان میں کئی افراد جب چاہیں اس سے بڑی ریلی نکال سکتے ہیں… پھر اس نا اہل کے
اتنے نخرے اور اتنی دھمکیاں کیوں برداشت کی جا رہی ہیں… اسے حکومت پر اپنا
اثرورسوخ استعمال کرنے کی اجازت کیوں دی جا رہی ہے؟ کیا صرف اس لئے کہ وہ
’’دیندار‘‘ نہیں ہے… اور اس ملک میں ہر ظلم ، ہر پابندی اور ہر قانون صرف مدرسہ،
مسجد اور جہاد سے وابستہ دیندار مسلمانوں کے لئے ہے؟ … یہ وہ سوال ہے جو پاکستان
کے کروڑوں مسلمان سوچتے ہیں… اور جس دن اس سوال کی گرمی زمین پر اتر آئی تب درجہ
حرارت شاید قابو سے باہر ہو جائے… ملک کے خیر خواہ طبقے کو یہ صورتحال فوری طور پر
درست کرنی چاہیے۔
عشرہ مبارکہ کیسے پانا ہے؟
ذوالحجہ کا عشرہ پانے کا بہترین طریقہ
یہی ہے کہ… دل میں اس کی اہمیت اور ضرورت بٹھا کر اللہ تعالیٰ سے مدد اور توفیق
مانگی جائے… اور دوسرا یہ کہ اپنے حالات کے مطابق ابھی سے اس عشرے کے لئے نیکیوں
میں اضافے کا ایک نصاب مقرر کر لیں…جو گھریلو اور معاشی ذمہ داریوں میں مشغول ہیں…
وہ ان نیکیوں کا ارادہ کریں جو ان کے لئے آسان ہیں… اور جن کو معاشی مشغولیت نہیں
ہے وہ اپنے لئے زیادہ نیکیوں کا ایک پورا نصاب مقرر کر لیں… مثلاً ان دس دنوں میں
نو روزے رکھنے ہیں… ایک یا دو قرآن پاک ختم کرنے ہیں… رات کو روزانہ صلوٰۃ التسبیح
پڑھنی ہے… ہر نماز کے بعد ایک سو بار تکبیر کا ورد کرنا ہے… اور زیادہ سے زیادہ
واجب اور نفل قربانی کرنی ہے …دراصل اسلام بہت وسیع اور جامع دین ہے … اس میں صرف
نیت اور جذبے کو درست کر کے ہر چیز کو نیکی بنایا جا سکتا ہے… کئی دن سے
مجھے’’شارجہ‘‘ کے ایک نابینا عالم دین یاد آ رہے ہیں … معلوم نہیں وہ حیات ہیں یا
نہیں… بہت پہلے ان سے ملاقات ہوئی تھی… ان کا نام شیخ عمران تھا اور وہ مصر کے
رہنے والے تھے…شارجہ میں جہاں ہمارا قیام تھا … وہاں سے کچھ فاصلے پر ایک مسجد کے
وہ امام و خطیب تھے… پہلی ملاقات میں ہی دوستی بن گئی…وہ جہاد کے شیدائی اور صاحب
علم آدمی تھے… جہاد کشمیر کا سن کر فوراً حضرت مولاناانور شاہ کاشمیری رحمہ
اللہ کا تذکرہ لے کر بیٹھ گئے … حضرت کی علمی تحقیقات کے وہ معترف تھے
… اُن کی ایک عادت نے مجھے بہت متاثر کیا… وہ تقریباً اکثر وقت مسکراتے رہتے تھے…
اور اچانک بیٹھے بیٹھے یوں گہری مسکراہٹ میں ڈوب جاتے جیسے انہیں اندر سے کسی نے
گدگدایا ہو… یہ شکرِ نعمت اور مراقبۂ منعم کی کیفیت ہوتی ہے… یعنی اللہ تعالیٰ کے
انعامات، احسانات اور صفات سوچ سوچ کر خوش ہونااور ان پر شکر ادا کرنا… یہ بڑی
اونچے درجے کی عبادت ہے… آنکھوں سے محروم ایک شخص کو یہ عبادت ایسی نصیب تھی کہ…
آنکھوں والے بھی اس پر رشک کرتے رہ جائیں۔
آپ صرف زندگی کا ایک دن اس طرح گزاریں
کہ… مسلسل نعمتوں کے مراقبے میں رہیں اور مسکرا مسکرا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا
کرتے رہیں… تب معلوم ہو گا کہ یہ کتنی عظیم عبادت ہے… اور یہ ہم جیسے ناشکرے لوگوں
کے لئے کس قدر مشکل ہے … اللہ تعالیٰ ہمیں شکر گذار بندہ بنائے…عرض کرنے کا مطلب
یہ ہے کہ … نیکیاں بے شمار ہیں…بس نیکی کی نیت اور جذبہ پیدا ہو جائے… ایک بار
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ یعنی نیکی کے کام
ارشاد فرماتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ… اپنی بیوی سے ہمبستری بھی صدقہ ہے… اس پر
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے بعض نے حیرت سے سوال کیا تو
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ… اگر وہ یہ کام
غلط جگہ کرتا تو کتنا گناہگار ہوتا… یعنی گناہ سے بچنے کی ہر کوشش یہ بھی نیکی ہے…
اب بازار میں کام کرنے والے جب نظر کی حفاظت کریں گے… جھوٹی قسموں اور دھوکے سے
بچیں گے تو وہ بھی بے شمار نیکیوں کے مالک بن جائیں گے… اس لئے ہر شخص ان مبارک
ایام میں اپنے کام اور مشغولیت کے مطابق… نیکیوں کا ایک نصاب بنا لے اور ان دس
دنوں میں… اپنی پرانی ساری زندگی کی کمی کوتاہی کا ازالہ کر لے… اس سلسلہ میں ’’
اَفْضَلُ اَیَّامِ الدُّنْیَا‘‘ کتاب آپ کے بہت کام آسکتی ہے، ان شاء اللہ۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں کہ اُن
کی’’قدرت‘‘ اور ’’طاقت‘‘ کتنی ہے… بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہیں…
{اِنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ
قَدِیْرٌ} [اٰل عمران:165]
یہ کالم جب آپ تک پہنچے گا تو آپ…
اپنی زندگی کے افضل ترین ایام گذار رہے ہوں گے…یہ مبارک دن اور راتیں ہر سال اہل
ایمان کو نصیب ہوتی ہیں… ذوالحجہ کے پہلے دس دن اور دس راتیں… جو خوش نصیب ہیں وہ
بہت کچھ کما لیتے ہیں… اور ان دنوں اور راتوں میں اپنی آخرت کے لئے بڑا سرمایہ
بنا لیتے ہیں… برکت والے دن ہیں… اس لئے آپ کی خدمت میں کچھ انمول تحفے پیش کرتا
ہوں… اللہ کرے مجھے اور آپ سب کو خوب نفع ہو۔
مغفرت پانے کا بہترین طریقہ
حضرت سیّدنا ابو ذر
غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے… حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم ارشاد فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
’’اے میرے بندو! تم سارے گناہگار ہو
لیکن جسے میں محفوظ رکھوں، پس تم سب مجھ سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگا کرو میں
تمہیں بخش دوں گا … جو مجھے ’’قدرت والا‘‘ جانتا ہے… یعنی یقین رکھتا ہے کہ اللہ
تعالیٰ گناہوں کو مٹا سکتا ہے اور مٹاتا ہے… اور جس نے میری قدرت کے وسیلہ سے اپنے
گناہوں کی معافی چاہی میں نے اس کے گناہ معاف کئے۔‘‘
[سنن ابن ماجہ۔حديث رقم:۴۲۵۷ ، ناشر: دار الکتب العلمیہ۔ بیروت]
اس حدیث قدسی سے معلوم ہوا کہ…
* کسی
انسان کو اپنے تقویٰ اور نیکی پر فخر نہیں کرنا چاہیے … نیکی جس قدر بڑھتی جائے
تواضع اور عاجزی بھی اسی قدر زیادہ ہونی چاہیے۔
* ہر
مسلمان کو کثرت سے استغفار کرنا چاہیے اور ہمیشہ کرنا چاہیے۔
* مغفرت
، معافی اور بخشش پانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ… اللہ تعالیٰ کی قدرت کے وسیلے سے
معافی مانگی جائے… اپنی زبان میں ہو یا عربی میں…مثلاً
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ
بِقُدْرَتِکَ…(یا)
اَللّٰھُمَّ اَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ
قَدِیْرٌ اِغْفِرْلِیْ بِقُدْرَتِکَ…(یا)
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ
اَسْتَغْفِرُکَ بِقُدْرَتِکَ۔
یا جو بھی الفاظ ہوں … بس یقین یہ ہو کہ
اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہیں … وہ میرے گناہ ختم فرمانے ، مٹانے اور معاف
فرمانے پر بھی قادر ہیں …پس اللہ تعالیٰ کی اسی قدرت کو وسیلہ بنا کر پورے یقین کے
ساتھ مغفرت اور معافی مانگی جائے… حضرت امام سفیان ثوری رحمہ اللہ اور حضرت امام
احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی دعاؤں میں بھی… ایک دعاء ایسی ملتی ہے جس میں اللہ
تعالیٰ کی قدرت کو وسیلہ بنا کر… مغفرت مانگی گئی ہے… ملاحظہ فرمائیے یہ واقعہ۔
قدرت کے وسیلے سے مغفرت
ابو عبداللہ محمد بن خزیمہ اسکندرانی
رحمہ اللہ کہتے ہیں :
’’ جب احمد بن حنبل رحمہ
اللہ فوت ہو گئے تو مجھے بے حد صدمہ و رنج ہوا ۔ میں نے ان کو
خواب میں دیکھا کہ مٹک مٹک کر چل رہے ہیں … میں نے کہا:
’’اے ابو عبد اللہ! یہ کیسا چلنا ہے؟ ‘‘
فرمایا:
’’دارالسلام میں خدام کا چلنا۔‘‘
میں نے کہا:
’’اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا
معاملہ فرمایا؟‘‘
فرمایا:
’’ مجھے بخش دیا اور تاج پہنایا اور
سونے کی دو جوتیاں پہنائیں اور ارشاد فرمایا:
’’اے احمد! یہ سب (اکرام) تیرے قرآن کو
ازلی کلام ماننے کی وجہ سے ہے۔‘‘… پھر مجھ سے ارشاد فرمایا:اے احمد! جو دعائیں
تمہیں سفیان ثوری سے پہنچیں تھیں اور تم عالم دنیا میں وہ دعائیں مانگا کرتے تھے
یہاں بھی مجھ سے ذرا وہ دعائیں مانگو، تو میں نے کہا:
’’یَا رَبَّ کُلِّ شَیْئٍ بِقُدْرَتِکَ
عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ اِغْفِرْلِیْ کُلَّ شَیْئٍ حَتّٰی لَا تَسْئَلَنِیْ عَنْ
شَیْئٍ۔‘‘
’’اے ہر چیز کے رب، ہر چیز پر اپنی قدرت
کے وسیلے سے مجھے ہر چیز معاف فرما دیجئے یہاں تک کہ مجھ سے کسی چیز کی باز پرس نہ
فرمائیے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’اے احمد! یہ ہے جنت، اُٹھ اور اس میں
داخل ہو جا۔‘‘
[ فضائل حفاظ القرآن
:ص ۱۱۹۹]
مبارک عشرے میں… اپنے گناہوں کو یاد کر
کے، آنسو بہا بہا کر یہ دعاء مانگتے رہنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت اور
مغفرت پر یقین رکھنا چاہئے۔
مغفرت کی بارش کا دن
نو ذی الحجہ کا دن… یوم عرفہ کہلاتا ہے…
یہ دن بہت افضل اور بے حد قیمتی ہے… اسی دن حج کا سب سے اہم رکن’’وقوف عرفہ‘‘ ادا
کیا جاتا ہے … حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’عرفہ‘‘ کے
دن کی دعاء کو… سب سے بہترین دعاء قرار دیا ہے، فرمایا:
خَیْرُالدُّعَاءِ دُعَاءُ یَوْمِ
عَرْفَۃَ۔
’’بہترین دعاء عرفہ کے دن کی دعاء
ہے۔‘‘
[سنن ترمذی۔حديث رقم:۳۵۸۵، ناشر: دار الکتب العلمیہ۔ بیروت]
یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ سب سے
زیادہ مغفرت فرماتے ہیں… اور بے شمار افراد کو جہنم سے نجات کا پروانہ عطاء فرماتے
ہیں… صحیح مسلم کی روایت ہے۔
مَا مِنْ یَوْمٍ اَکْثَرُ مِنْ
اَنْ یُعْتِقَ اللہُ فِیْہِ عَبْدًا مِنَ
النَّارِ مِنْ یَّوْمِ عَرْفَۃَ۔
’’یعنی دنوں میں سے کوئی دن ایسا نہیں
جس میں اللہ تعالیٰ اتنے بندوں کو جہنم سے آزاد فرماتے ہوں جتنے عرفہ کے دن
فرماتے ہیں۔‘‘
[صحیح مسلم۔حديث رقم:۱۳۴۸، ناشر: دار الکتب العلمیہ۔ بیروت]
عرفہ کے دن کا روزہ بڑا قیمتی ہے… اس
روزے پر دو سال کے گناہ معاف فرمائے جاتے ہیں… ایک پچھلے سال کے اور ایک اگلے سال
کے… بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے… اس لئے ہم سب کوشش کریں کہ عرفہ کا دن …
بہترین گذاریں اور اس میں اپنے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کا انعام حاصل کریں… عرفہ کے
دن کے بارے میں حجاج کرام کے لئے ایک قیمتی وظیفہ حدیث شریف کی کتابوں میں آیا
ہے… یہ وظیفہ اصل میں تو ان حجاج کرام کے لئے ہے جو عرفہ کے دن… عرفات میں ہوتے
ہیں… لیکن اگر ہم اپنے گھر یا مسجد میں ہوتے ہوئے… عرفہ کے دن یہ وظیفہ کر لیں تو
ان شاء اللہ امید ہے کہ … ہمارا دامن بھی خالی نہیں رہے گا۔
یوم عرفہ کا وظیفہ
امام بیہقی رحمہ اللہ نے’’ شعب
الایمان‘‘ میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا :
’’ جو بھی مسلمان عرفہ کے دن زوال کے
بعد عرفات میں قبلہ رخ ہو کر سو مرتبہ’’ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ
لَاشَرِیْکَ لَہٗ،لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ
قَدِیْرٌ‘‘پڑھے پھر سو مرتبہ {قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ } [ پوری سورۃ
اخلاص] پڑھے… پھر سو مرتبہ یہ درود پڑھے’’اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ
وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ
اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ وَعَلَیْنَا مَعَھُمْ۔‘‘ تو
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’اے میرے فرشتو! میرے اس بندہ کی کیا
جزا ہے؟ اس نے میری تسبیح اور تہلیل کی اور میری بڑائی اور عظمت بیان کی اور میری
مغفرت حاصل کی اور میری شان بیان کی اور میرے نبی پر درود بھیجا۔ اے میرے فرشتو!
تم گواہ رہو میں نے اس کو بخش دیا اور اس کے نفس کے بارے میں اس کی سفارش قبول کی
اور اگر میرا بندہ مجھ سے تمام عرفات والوں کے لئے سفارش کرے تو اس کی سفارش ان سب
کے حق میں قبول کروں۔‘‘
[شعب الایمان۔حديث رقم:۳۷۸۰ ، ناشر:مكتبة الرشد ۔رياض ]
بڑا مفید اور آسان وظیفہ ہے… یہ حجاج
کرام تک بھی پہنچائیں… خود بھی اسے یاد رکھیں تاکہ جب اللہ تعالیٰ کی توفیق سے حج
پرجائیں تو میدان عرفات میں یہ وظیفہ کریں … اور ہم سب بھی اپنے مقام
پر رہتے ہوئے یہ وظیفہ کریں اور اس کے بعد دعاء کی جھولی پھیلا دیں اس وظیفہ میں
سورۂ اخلاص ہے… جو کہ بے شمار فضائل رکھنے والی سورۃ ہے اور اس وظیفہ میں چوتھا
کلمہ ہے… جس کے بارے میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا:
’’سب سے بہتر جو میں نے اور مجھ سے پہلے
انبیاء نے کہا وہ یہ ہے:
لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ
لَاشَرِیْکَ لَہٗ،لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ
قَدِیْرٌ۔‘ ‘
[سنن الترمذي۔حديث رقم:۳۵۸۵، ناشر: دار الکتب العلمیہ۔ بیروت]
اور اس وظیفہ میں درود ابراہیمی ہے… سب
سے افضل، سب سے اعلیٰ اور سب سے اونچا درود شریف… لوگوں کو اگر ’’درود ابراہیمی‘‘
کے فضائل معلوم ہو جائیں تو دن رات اسی میں لگے رہیں…غیر مسنون درود شریف کے صیغے
سینکڑوں بار پڑھنا ایک بار ’’درود ابراہیمی‘‘ پڑھنے کے برابر نہیں… اور اس وظیفے
والے درود ابراہیمی کے آخر میں ’’وَعَلَیْنَا مَعَھُمْ‘‘ کا جملہ ہے …جس کا مطلب
ہے… اور ہم پر بھی رحمت ہو اُن کے ساتھ۔
بس یہ ہیں آج کے انمول تحفے…اللہ
تعالیٰ قبول فرمائے…پوری اُمت مسلمہ اور خصوصاً آپ سب کو پیشگی عید
مبارک۔تَقَبَّلَ اللہُ مِنَّاوَمِنْکُم۔
لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ
لَاشَرِیْکَ لَہٗ،لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ
قَدِیْرٌ۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ برما کے مسلمانوں کو اپنی
حفاظت، نصرت اور رحمت عطاء فرمائے… اور ملک اراکان و برما جو کہ اُن کا اپنا ملک
ہے وہاں اُن کو قوت ، شوکت اور غلبہ عطاء فرمائے… آہ! دور دور تک پھیلے ہجرت کے
قافلے…خالی خالی آنکھوں سے خلاؤں میں گھورتے معصوم بچے… اور سر جھکا کر آنسو
چھپاتی … خون جگر پیتی مسلمان مائیں، بہنیں اور بیٹیاں … یا اللہ! رحم، یا اللہ!
نصرت…لگتا ہے برما کی ظالم بدھشٹ حکومت… اب سرخ طوفانوں کا سامنا کرے گی… یہ ملک
اب امن کو ترسے گااور ’’اشین وراتھ‘‘ جیسے درندے اپنے دانتوں سے اپنے ہاتھوں کو
کاٹیں گے …
ان شاء اللہ، ان شاء
اللہ
ہر دہشت گرد مسلمان
’’ہر مسلمان دہشت گرد نہیں ہے مگر یہ
بھی سچ ہے کہ ہر دہشت گرد’’مسلمان‘‘ ہے۔‘‘
یہ وہ جملہ ہے جو آج کل ساری دنیا میں
بہت مشہور ہے…یہودیوں اور صہیونیوں نے ’’فلموں‘‘ کے ذریعہ اپنے نظریات لوگوں کے
دلوں میں بٹھانا اپنا مشن بنا رکھا ہے… اسی لئے وہ اربوں ڈالر کا سرمایہ فلموں پر
لگاتے ہیں اور دنیا کی سوچ پر اثر انداز ہوتے ہیں…انہوں نے یہ جملہ بھی عام کیا ہے
کہ … ’’دنیا کا ہر دہشت گرد مسلمان ہے‘‘… گذشتہ سال جرمنی میں ہونے والی ایک
کانفرنس میں… فرانسیسی وزیر خارجہ نے بھی یہی جملہ دہرایا… حالانکہ یہ جملہ سراسر
جھوٹ اور شرارت ہے… دنیا بھر میں غیر مسلم دہشت گردوں کی تعداد مسلمان مجاہدین سے
کہیں زیادہ ہے… مگر فرق یہ ہے کہ … جو حملہ کوئی مسلمان کرے اسے دہشت گردی کہا
جاتا ہے اور جو حملہ کوئی غیر مسلم کرے اسے دہشت گردی نہیں کہا جاتا… کوئی مسلمان
اپنی گاڑی راہ چلتے لوگوں پر چڑھا دے تو یہ واقعہ دہشت گردی ہے… لیکن اگر کوئی
عیسائی اپنی گاڑی مسلمانوں پر چڑھا دے تو یہ دہشت گردی نہیں ہے… کوئی مسلمان کسی
غیر مسلم پر چاقو سے حملہ کر دے تو یہ دہشت گردی ہے… لیکن غیر مسلم اگر مسلمانوں
پر بموں، میزائلوں اور طیاروں سے حملہ کر دیں تو یہ دہشت گردی نہیں ہے…
اب برما کی صورتحال سامنے رکھیں… بدھ
مذہب کے پیروکار جتھے اور لشکر بنا کر مسلمانوں پر حملے کر رہے ہیں… وہ مسلمانوں
کی پوری پوری بستیاں جلا رہے ہیں… مگر نہ ان کو دہشت گرد کہا جا رہا ہے… اورنہ بدھ
مذہب پر کوئی بات کی جا رہی ہے… اور نہ ہی ان بدھ دہشت گردوں کے… بدبودار لیڈر
’’اشین وراتھ‘‘ کو عالمی دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے… اگر مسلمان اپنے ملک میں
بسنے والی غیر مسلم اقلیت کے ساتھ یہ سلوک کرتے تواب تک سلامتی کونسل کی قرارداد
آچکی ہوتی… مسلمانوں کی اقتصادی ناکہ بندی کر دی جاتی اور جلد ہی ان پر فضائی
بمباری شروع ہو جاتی… مگر ’’بدھشٹ دہشت گرد‘‘ آزاد ہیں، بے فکر ہیں …اور وہ
ہزاروں مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں… جب دنیا ایسی بے انصاف ہو جائے تو پھر شاید
مسلمانوں کو واقعی دہشت گرد بن جانا چاہیے… تاکہ دشمنوں کا یہ جملہ سچا ہو جائے
کہ… ہر دہشت گرد مسلمان ہوتا ہے… ورنہ آج تو یہ حالت ہے کہ ہر مظلوم مسلمان ہے…
ہر بے گھر مسلمان ہے… اور ہر ستایا ہوا مسلمان ہے…آہ! برمی مسلمان کا دکھ دیکھا
نہیں جا رہا… یا اللہ! ہمیں توفیق اور قوت دے کہ ہم ان کے لئے بہت کچھ کر سکیں۔
بن لادن نہیں بن چوہا
برما میں مسلمانوں پر حملوں کی قیادت
ایک بدھ راہب کر رہا ہے جس کا نام ’’اشین وراتھ‘‘ ہے… بدھ مذہب کے لوگوں کا دعویٰ
ہے کہ… ان کا مذہب امن کا درس دیتا ہے… بدھ مذہب کے پیروکار کسی جانور کا گوشت
نہیں کھاتے… انڈہ نہیں کھاتے… پرندوں کو قید نہیں کرتے… اور مال خرچ کر کے پکڑی
گئی مچھلیوں اور پرندوں کو آزاد کرواتے ہیں… ’’بہار‘‘ سے تعلق رکھنے والے ہمارے
ایک قیدی ساتھی بتاتے تھے کہ ’’گیا‘‘ نامی علاقے میں بدھ مذہب کے پیروکار زیارتوں
کے لئے آتے تو ہم شاپر میں پانی ڈال کر اس میں چھوٹی مچھلیاں لے کر اُن کے سامنے
کھڑے ہو جاتے… وہ مچھلیوں کو قید دیکھ کر بے چین ہو جاتے اور اچھی خاصی رقم دے کر
ہم سے شاپر خرید کر ان مچھلیوں کو دریا میں چھوڑ دیتے… ایک طرف یہ باتیں ہیں تو
دوسری طرف ’’برما‘‘ ہے جہاں کے بدھ پیروکار … قصائیوں کی طرح مسلمانوں کو کاٹ رہے
ہیں … اسی طرح ’’سری لنکا‘‘ کے بدھ راہب اور ان کے چیلے آئے دن مسلمانوں پر حملے
کرتے ہیں… کیا ان کے نزدیک… مسلمانوں کی قیمت شاپر کی مچھلیوں کے برابر بھی نہیں؟
اصل بات یہ ہے کہ… بدھ مذہب کے دو چہرے
ہیں… ایک چہرہ لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے ہے… امن ، عدم تشدد ، ماحول
پروری اور رحمدلی… جبکہ دوسرا ان کا اصلی چہرہ ہے جو وہ مسلمانوں پر ظاہر کرتے
ہیں… قتل و غارت ، تشدد ، ظلم، بربریت اور حیوانیت… دراصل بدھ مذہب ساری دنیا پر
قبضے کے خواب دیکھتا ہے… اور اسے اپنے اس خواب کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ مسلمان
نظر آتے ہیں… چنانچہ مسلمانوں کے معاملے میں ’’بدھشٹ‘‘ اپنی اصلیت پر اُتر آتے
ہیں… بدھ مذہب نہ تو کوئی روحانی پیغام ہے… اور نہ اس میں انسانیت کی فلاح اور
کامیابی کا کوئی راستہ ہے… چین کے لوگوں نے بدھ مذہب سے جان چھڑائی تو دنیوی ترقی
حاصل کر لی… جبکہ بدھ مذہب کے پیروکار اب بھی تبت وغیرہ میں دہشت گردی کرتے رہتے
ہیں… اور ان کا دہشت گرد پیشوا’’ دلائی لامہ ‘‘بھارت میں پناہ گزین ہے… یہ سب لوگ
انسانیت کے دشمن… اور زرد رنگ کا زہر ہیں … ایک طرف وہ روحانیت کی بات کرتے ہیں تو
دوسری طرف آخرت کا انکار کرتے ہیں… اور یوں انسان کو بس اپنے بدن اور اپنے مفادات
کی فکر کا غلام بنا دیتے ہیں…آج کی دنیا بدھ مذہب کے بارے میں … بہت غلط فہمی میں
مبتلا ہے… اللہ تعالیٰ برمی مسلمانوں کی عزیمت اور قربانی قبول فرمائے کہ انہوں
نے… بدھوں کے اصلی چہرے کو ساری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے… اب جس کی مرضی
دیکھے اور جس کی مرضی وہ اندھا رہے… ہزاروں بدھوں کے مسلح جتھے قتل وغارت میں
مصروف ہیں اور دنیا میں یہ جملہ گونج رہا ہے کہ…
’’ہر دہشت گرد مسلمان ہوتا ہے۔ ‘‘
بات ’’اشین وراتھ‘‘ کی چل رہی تھی… یہ
بدھوں کا راہب اور مذہبی پیشوا ہے… وہ مسلمانوں کے خلاف تقریریں کرتا ہے… اور قاتل
دستوں کو اُبھارتاہے… گذشتہ دنوں اس نے خود کو مسلمانوں کے خلاف برما کا ’’بن
لادن‘‘ قرار دیا… حالانکہ بن لادن… اور اشین وراتھ میں کوئی ایک بات اور صفت بھی
مشترک نہیں ہے … ’’بن لادن‘‘ ایک شیر تھا جو مظلوم افراد کی مدد کے لئے اپنے گھر
سے نکلا… جبکہ ’’اشین وراتھ‘‘ وہ کتا ہے جو اپنے گھر کے دروازے میں بیٹھا بھونک
رہا ہے… اگر ’’وراتھ‘‘ واقعی’’ بن لادن‘‘ ہے تو ذرا برما سے باہر کسی اسلامی ملک
میں نکل کر دیکھے… مسلمان اس کا کچومر نکال دیں گے… ’’بن لادن‘‘ وہ بااخلاق بہادر
جس نے اپنے ملک کی اقلیت پر کوئی ظلم نہیں کیا… بلکہ ہمیشہ غریبوں کی مدد کی اور
دوسرے ملکوں میں جا کر وہاں کے مظلوموں کا ساتھ دیا… جبکہ ’’وراتھ‘‘ اپنے ملک کی
ایک ’’اقلیت‘‘ پر حملے کر رہا ہے…اور ظالمانہ طریقے سے ان کا خون بہا رہا ہے…’’بن
لادن‘‘ وہ عالی ہمت انسان جس نے عالمی سامراج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں جبکہ
’’وراتھ‘‘ وہ گرا ہوا آدمی جو نہتے اور بے بس انسانوں پر حملے کر رہا ہے… اس لئے
’’وراتھ‘‘ کو چاہیے کہ خود کو ’’ بن لادن‘‘ کہنے کی بجائے’’ بن چوہا‘‘ کہا کرے۔
مسلمانوں کی ذمہ داری
برما کے مسلمان ’’اُمت مسلمہ‘‘ کا معزز
حصہ ہیں… اس لئے ہر مسلمان ان کے درد کو محسوس کر رہا ہے … مختلف ممالک ، افراد
اور تنظیموں کی طرف سے مدد اور تعاون کے اعلانات بھی ہو رہے ہیں… اور برما کے غیور
مسلمانوں کی قربانی کی برکت سے اُمت مسلمہ میں بیداری بھی بڑھ رہی ہے… یہاں بس ایک
بات یاد رکھیں اور اسے اپنے مزاج کا حصہ بنائیں… مسلمانوں پر جب بھی کوئی سانحہ،
حادثہ یا مظلومانہ واقعہ پیش آتا ہے تو کچھ ’’لاڈلے مسلمان‘‘ فوراً دوسروں سے یہ
سوال شروع کر دیتے ہیں کہ فلاں نے یا آپ نے اس مسئلے پر کیا کیا؟… یہ لاڈلے خود
کو ہر عمل اور ہر ذمہ داری سے مستثنیٰ سمجھتے ہیں … اور دوسروں پر تنقید کرنا وہ
اپنا حق واجب بنا لیتے ہیں… ایسے افراد بہت بے عمل، موذی اور فسادی ہوتے ہیں … وہ
خود کچھ بھی نہیں کرتے مگر دوسروں کو طعنے دے دے کر فتنہ پھیلاتے رہتے ہیں… ایسے
لوگوں سے ہمیشہ بچیں… اور ہر معاملہ میں یہ عادت بنا لیں کہ… میں نے اپنی ذمہ داری
ادا کرنی ہے۔
اب برما کا معاملہ ہے… ہم میں سے ہر شخص
خودکو مسلمان سمجھ کر یہ سوچے کہ وہ اس معاملے میں کیا کر سکتا ہے… پھر دو رکعت
نمازادا کر کے دعاء کرے کہ یا اللہ! ’’اس اہم معاملہ میں مجھے اپنی ذمہ داری ادا
کرنے کی توفیق عطاء فرما‘‘ … اور پھر استخارہ اور مشورہ سے اس کام میں آگے بڑھتا
چلا جائے… اللہ تعالیٰ ایسے افراد سے بڑے بڑے کام لے لیتے ہیں… میں سوچوں کہ میں
نے برما کے لئے کیا کرنا ہے… آپ سوچیں کہ آپ نے برما کے لئے کیا کرنا ہے… نہ
مشہوری، نہ پبلسٹی اور نہ ریاکاری…بس اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے… اسلامی اخوت کے
جذبے سے سرشار… اور عزم و قربانی کے عزم سے لیس… کچھ کرنا ہے، ضرور کرنا ہے، جلد
کرنا ہے ان شاء اللہ، ان شاء اللہ برما کی سرزمین …فاتحین کے قدموں کی دھمک کے لئے
بے تاب ہے۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو ہدایت،
تقویٰ اور مغفرت عطاء فرمائے… حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عرفہ کے
دن میدان عرفات میں عصر کے بعد یہ دعاء بار بار مانگتے تھے:
اَللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ بِالْھُدیٰ
وَنَقِّنِیْ بِالتَّقْویٰ وَاغْفِرْلِیْ فِی الْآخِرَۃِ وَالْاُوْلٰی۔
’’یا اللہ!مجھے مضبوط ہدایت عطاء
فرمائیے اور مجھے تقویٰ کے ذریعہ پاک فرمائیے اور آخرت اور دنیا میں میری مغفرت
فرمائیے۔‘‘
ایک مسلمان کی اہم فکر یہی رہنی
چاہیے کہ … اسے کامل ہدایت، مضبوط تقویٰ اور مغفرت مل جائے… اللہ تعالیٰ ہمیں بھی
یہ تینوں نعمتیں نصیب فرمائے… ہماری اولاد کو بھی… اور ہمارے برما کے مسلمان
بھائیوں کو بھی۔
حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کے تشریف لانے کے بعد… ہدایت صرف ایک ہے اور وہ ہے دین اسلام…
برمی مسلمانوں کی سب سے بڑی خوش نصیبی یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں… جبکہ ان کے دشمن اس
نعمت سے محروم ہیں … ’’بدھا‘‘ سب کچھ چھوڑ کر نکلا ایک ’’ اللہ‘‘ کی تلاش میں… مگر
’’بدھا‘‘ کے پیروکاروں نے ’’بدھا‘‘ کو ہی نعوذ باللہ ’’خدا‘‘ قرار دے دیا… آج
دنیا میں جتنا مال اور پیسہ صرف ’’بدھا‘‘ کے مجسموں اور یادگاروں پر خرچ کیا جاتا
ہے…وہ اگر کسی اچھے کام پر خرچ ہو تو… کروڑوں انسانوں کے کئی مسائل حل ہو جائیں…
برمی مسلمانوں کے پاس ایمان اور اسلام کی دولت موجود ہے… وہ مظلوم ہو کر بھی
ظالموں سے زیادہ عزتمند اور خوش نصیب ہیں… ویسے بھی الحمد للہ برمی مسلمانوں کی
اکثریت دینی رجحان رکھتی ہے… کراچی میں برمی علماء کرام کے کئی بڑے بڑے مدارس ہیں…
اور مدینہ منورہ میںبرمی مسلمان احد پہاڑ کے پڑوس میں آباد ہیں… آزمائش اور ہجرت
مسلمانوں میں دینداری کو مضبوط کرتی ہے… بس ایک پریشانی یہ آتی ہے کہ آپس میں
باہمی اختلافات زیادہ پیدا ہو جاتے ہیں…رسول اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم کی سیرت مبارکہ کے مدنی دور میں اس پریشانی کا حل موجود ہے… برمی
علماء کرام اپنی برادری میں وہ حل نافذ فرما سکتے ہیں… برما کے مسلمان ماشاء اللہ
بہادر اور مضبوط بھی ہیں… اس وقت ان کو ایک بڑی آزمائش اور ہجرت کا سامنا ہے…اس
میں غیر ملکی این جی اوز کی یلغار کا خطرہ رہتا ہے… یہ موذی چوہے کفر، فسق اور بے
حیائی کا طاعون پھیلاتے ہیں… اور مسلمانوں کو اسلام کی ’’ہدایت‘‘ سے کاٹنے کی کوشش
کرتے ہیں… اللہ تعالیٰ ان کے شر سے برمی مسلمانوں کی حفاظت فرمائے… بات یہ چل رہی
تھی کہ اصل ہدایت صرف ایک ہے… اور وہ ہے ’’اسلام‘‘… اسلام کے علاوہ باقی سب کفر ہے
اور گمراہی… اور اسلام میں کلمہ طیبہ کے بعد پانچ فرائض ہیں …ہر وہ مسلمان جس کو
کلمہ طیبہ اور یہ پانچ فرائض نصیب ہو جائیں… وہی پکا، سچا، محفوظ اور معتبر مسلمان
ہے… یعنی کل چھ چیزیں ہو گئیں… سب سے پہلے کلمہ طیبہ یعنی ایمان … پھر
نماز،زکوٰۃ،رمضان کے روزے،حج بیت اللہ اور جہاد فی سبیل اللہ…ہم اپنی ذات پر ان چھ
چیزوں کی محنت کریں… اور اپنے تمام فرائض کو مضبوط اور پورا کریں… پھر اپنے اہل و
عیال خصوصاً اولاد پر محنت کریں… اور گن گن کر ان کو یہ فرائض سمجھائیں… یاد
کرائیں… اور ان کی اہمیت ان کے دلوں میں ان کی جان کی اہمیت سے بھی زیادہ بٹھائیں…
اور پھر ہم اسلامی معاشرے میں ان چھ چیزوں کی محنت کریں اور ان کی زیادہ سے زیادہ
سے دعوت دیں… دراصل یہ چھ چیزیں ہی انسان کی اصل زندگی اور اس کی زندگی کا مقصد
ہیں…یہی چھ چیزیں ہی انسان کی اصل کامیابی اور اس کی ترقی ہیں… ہم اپنا جائزہ لیں…
کلمہ ٹھیک ہے؟ پانچوں فرائض پورے ہیں؟پھر اپنے گھر والوں اور اولاد کا جائزہ لیں کہ…
کلمہ ٹھیک ہے؟… پانچوں فرائض پورے ہیں؟ پھر اگر کہیں کمی کوتاہی نظر آئے تو ہم اس
طرح سے بے چین ہو جائیں جس طرح ہم دنیا کے کسی بڑے نقصان پر بے چین ہوتے ہیں…
مثلاً گھر کی چھت میں شگاف ہو جائے تو ہم کیا کیا کرتے ہیں؟… اسی طرح اگر ہمیں
اپنی ’’ہدایت‘‘ اور اپنے دین میں یہ شگاف نظر آئے تو اس وقت تک چین سے نہ بیٹھیں
جب تک یہ شگاف بھر نہ دیں…پھر اس میں کچھ تفصیل ہے…ان چھ چیزوں کو ماننا، جاننا
اور ان کے لئے تیار رہنا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے… اسی طرح کلمہ طیبہ اور نماز
ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے…جبکہ باقی چار چیزوں کا تعلق حالات اور موسم سے ہے…
رمضان تشریف لائے گا تو روزے فرض… حج کی شرعی استطاعت ہو گی تو حج فرض… مال کا
نصاب پورا ہو گا تو زکوٰۃ فرض… اور معذوری نہیں ہو گی تو جہاد فرض… ایک مسلمان کو
ہروقت خود کو… ان تمام فرائض کے لئے تیار اور آمادہ رکھنا ہے… اور اگر ایک فریضہ
بھی… اجتماعی طورپرکسی جگہ کے مسلمانوں سے نکل گیا تو وہ بہت بڑی خیر سے محروم ہو
جائیں گے… اور کسی نہ کسی پکڑ میں آ جائیں گے۔
الحمد للہ برما کے مسلمانوں کو اب
اجتماعی طور پر …فریضۂ جہاد بھی نصیب ہونے کو ہے… آواز لگ چکی ہے… ماحول بن چکا
ہے…ہر اول دستے قدم بڑھا چکے ہیں…ابتداء میں تو برمی حکومت … کچھ اکڑی رہے گی… سب
کو مار دو، سب کو مٹا دو کے نعرے لگائے گی مگر جیسے ہی جہاد آگے بڑھا… حالات خود
بدل جائیں گے… تب حکومت ان مسلمانوں کو برداشت کرنے لگے گی جو جہاد میں نہیں نکلیں
گے … اور اُن مسلمانوں کو وزارتیں اور اعزازات بھی دے گی جو مجاہدین کے خلاف بولیں
گے… اور یوں آہستہ آہستہ ماحول بدلتا چلا جائے گا… نائن الیون کے بعد زمین کا نظام
اور دنیا کے حالات تبدیل ہو چکے ہیں… اب ہر طرف جہاد کے نئے محاذ کھل چکے ہیں… اور
دنیا تیزی سے جنگوں کی طرف جا رہی ہے… زمین پر ایسا ہوتا رہتا ہے… مگر مسلمان ہر
حال میں اپنے ’’رنگ‘‘ پر ہی رہتا ہے… {صِبْغَۃَ اللہِ}… اللہ کا عطاء فرمودہ
رنگ…اور مسلمان اپنے ’’نور‘‘پر ہی رہتاہے…نور ہدایت… {یُخْرِجُھُمْ مِنَ
الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ} اور ہدایت صرف ایک ہی ہے… اور وہ ہے اسلام…
اسلام،اسلام اور صرف اسلام
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہمیں اچانک آنے والی
’’خیر‘‘ عطاء فرمائے اور اچانک آنے والے ’’شر‘‘ سے بچائے…
اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْئَلُکَ مِنْ
فُجَاءَۃِ الْخَیْرِ وَ نَعُوْذُ بِکَ مِنْ فُجَاءَ ۃِ الشَّرِّ۔
اچانک ، اچانک
انسان سو رہا ہوتا ہے کہ اچانک کوئی
’’خیر‘‘ آ جاتی ہے… وہ اسے جگاتی ہے اور اس کی زندگی خوشی اور روشنی سے بھر جاتی
ہے… مگر ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان سو رہا ہوتا ہے…اچانک کوئی شر آتا ہے اسے
جگاتا ہے اور ا س کی زندگی کو غم، دکھ اور کانٹوں سے بھر دیتا ہے… میں نے اپنی
زندگی میں اچانک آنے والی بڑی بڑی خیریں دیکھیں … اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ
الْعَالَمِیْنَ… اور اچانک آنے والے بڑے بڑے شر بھی دیکھے… اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ
رَبِّ الْعَالَمِیْنَ عَلٰی کُلِّ حَالٍ
یہی حال آپ سب کا ہو گا… آپ نے
بھی اپنی زندگی میں کئی اچانک خیریں اور کئی اچانک شر دیکھے ہوں گے… حدیث شریف میں
دعاء سکھا دی گئی کہ… اللہ تعالیٰ سے اچانک آنے والی خیر مانگ لیا کرو… اور اچانک
آنے والے شر سے پناہ مانگا کرو… اچانک آنے والا شر انسان کے ہوش و حواس اُڑا
دیتا ہے… اکثر لوگوں کی قوت فیصلہ فوراً کام نہیں کرتی… اس لئے جب اچانک ’’شر‘‘
آتا ہے تو انسان کئی غلط فیصلے کر بیٹھتا ہے … کئی غلط قدم اُٹھا لیتا ہے… اچانک
آنے والے شر کا مقابلہ ہر کوئی نہیں کر سکتا… کئی لوگ تو ایسے گھبرا جاتے ہیں کہ…
نعوذ باللہ کفر و شرک میں مبتلا ہو جاتے ہیں … اسی لئے دعاء مانگا کریں۔
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ
فُجَاءَۃِالْخَیْرِ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ فُجَاءَ ۃِ الشَّرِّ۔
[کتاب الاذکار للنووی۔ج:۱،ص:۸۳ ، ناشر:دار الفكر ۔ بيروت ]
کیا کرنا چاہیے؟
قرآن مجید نے اس موضوع پر بار بار
رہنمائی فرمائی ہے… اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے…
قرآن مجید نے ایک لحظے میں مسئلہ حل فرما دیا… خیر آئے تو نیکی میں لگ جاؤ، شر
آئے تو صبر اختیار کرو… بس یہی کامیابی کا راستہ ہے… حالات بدلتے رہتے ہیں… ابھی
دیکھیں کہ ہمارے برما کے مسلمان بھائی اپنے گھروں میں تھے… اپنا گھر اپنا ہوتا ہے…
کچا ہویا پکا… انسان کو اس میں راحت اور عزت کا احساس ہوتا ہے… مگر اچانک حالات
بدلے اور وہ پناہ گزینوں کی زندگی گذارنے پر مجبور ہو گئے …اسلام میں تو ہجرت بہت
اعزاز والی چیز ہے … مگر اللہ تعالیٰ معاف فرمائے ہم نے ’’قرآن مجید‘‘ کو چھوڑا
تو ہماری ذہنیت ہی بدل گئی… اب مسلمانوں میں بھی ’’مہاجر‘‘ کو نعوذ باللہ حقیر
سمجھا جاتا ہے… اللہ تعالیٰ نے اسلام میں پہلا نمبر ’’مہاجرین‘‘ کو عطاء فرمایا…
اللہ تعالیٰ نے ’’ایمان‘‘ میں پہلا نمبر ’’ مہاجرین‘‘ کو عطاء فرمایا … اللہ
تعالیٰ نے مال فئے جو کہ پاکیزہ ترین مال ہے اس میں پہلا نمبر’’ مہاجرین‘‘ کو عطاء
فرمایا… اللہ تعالیٰ نے درجات میں سب سے اونچا درجہ ’’ مہاجرین‘ ‘ کو عطاء فرمایا…
اللہ تعالیٰ نے ’’ مہاجرین‘‘ کے لئے خصوصی فضائل اور خصوصی احکامات کی آیات نازل
فرمائیں… اور مسلمانوں کو شوق دلایا کہ وہ اُن مہاجرین کے مددگار اور ’’انصار‘‘
بنیں…تب اُن کو بھی اونچے اونچے مقامات ملیں گے… مگر ہمارے ہاں نعوذ باللہ، نعوذ
باللہ ہجرت ایک عیب… اور ’’مہاجر‘‘ ایک گالی بن گئے… لوگ انہیں دیتے ہیں مگر حقارت
کے ساتھ… کئی لوگ اُن کی خدمت کرتے ہیں مگر بوجھ سمجھ کر… ہجرت کا دروازہ بند ہوتا
ہے تو مسلمان عمومی جہاد سے محروم ہو جاتے ہیں… اور جب مسلمان جہاد سے محروم ہوتے
ہیں تو وہ عمومی عذاب کا شکار ہو جاتے ہیں…برما کے مسلمانوں کی حالت اچانک بدلی،
وہ ایک دم مقیم سے مسافر بن گئے… اور اُن کو ہجرت کی پناہ گزین زندگی اختیار کرنی
پڑی… کل تک اپنا گھر تھا… آج کچھ بھی اپنا نہیں…
{یُقَلِّبُ اللہُ اللَّیْلَ
وَالنَّھَارَ} [النور: ۴۴]
ایسا ہم میں سے کسی کے ساتھ کسی بھی وقت
ہو سکتا ہے… بعض اوقات خیر اچانک آ جاتی ہے… اور بعض اوقات شر اچانک آ جاتا ہے…
خیر آ جائے تو مسلمان کو غافل نہیں ہونا چاہیے بلکہ زیادہ سے زیادہ نیکی کرنی
چاہیے…اور شر آ جائے تو مسلمان کو مایوسی میں نہیں گرنا چاہیے بلکہ صبر اختیار
کرنا چاہیے… اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے حالات پر غور کرنا چاہیے اور اس شر کو خیر
میں بدلنے کی تدبیر کرنی چاہیے… تب ایک مؤمن کے لئے کامیابی ہی کامیابی ہے… خیر
میں بھی کامیابی اور شر میں بھی کامیابی…
{وَنَبْلُوْکُمْ بِالشَّرِّ
وَالْخَیْرِ فِتْنَۃً} [الانبیاء: ۳۵]
اندر کی صفات
ایک بہت عجیب نکتہ سمجھیں… اگر انسان
اللہ تعالیٰ سے توفیق مانگ کر اپنے اندر اچھی صفات پیدا کرے تو … یہ صفات خیر کے
وقت بھی اس کے کام آتی ہیں اور شر کے وقت بھی… ایک شخص کا قصہ ہے کہ… وہ اچانک شر
کی لپیٹ میں آ گیا … اپنے گھر سے دور بہت دور جا پہنچا… نہ مال نہ کوئی زاد راہ…
بس ایسے تھا کہ کسی شخص کو اچانک گھر سے اُٹھا کر قبر میں دفن کر دیا گیا ہو… نہ
روٹی، نہ کپڑا، نہ ٹھکانہ… مگر اس نے اپنے اندر ایک صفت روشن کر رکھی تھی… وہ
قرآن مجید کا حافظ تھا، اچھا قاری اور قرآن پاک کو سمجھنے والا… ایک نئی بستی
میں پہنچا تو مسجد میں جا بیٹھا… پہلے پہل لوگوں نے مسافر سمجھ کر تھوڑا سا کھانا
لا دیا… پھر جب اس کے قرآنی انوارات روشن ہونے لگے تو وہ پوری بستی اس کی اپنی ہو
گئی… بستی والے اس سے قرآن مجید پڑھنے لگے، کسی نے اپنا گھر اسے دے دیا… ایک
مالدار مسلمان نے اسے اپنا داماد بنا لیا… وہ رو رو کر شکر ادا کرتا تھا کہ یا
اللہ! قرآن پاک تو قبر کی تنگی، تنہائی ، آخرت کی کامیابی اور آپ کی رضاء کے
لئے پڑھا تھا مگر اس نے تو میری دنیا کو بھی قبر بننے سے بچا لیا… یہ سارا منظر
دیکھ کر اس کے ایمان اور اخلاص میں مزید ترقی ہو گئی… ہندوستان کے مغل شہزادے جب
اچانک شر کا شکار ہوئے… ایک ہی دن میں بادشاہ سے بھکاری بنا دئیے گئے تو جن جن کے
اندر داخلی صفات تھیں وہ ضائع نہیں ہوئے… نہ کفر میں مبتلا ہوئے اور نہ محتاجی
میں… مگر جو داخلی صفات سے محروم تھے… اور صرف خاندان کی نسبت سے شہزادے بنے ہوئے
تھے وہ بڑی مصیبت اور بڑے فتنوں کا شکار ہو گئے… اگر ان کے اندر دین کا اور ایمان
کا علم ہوتا تو اللہ تعالیٰ سے بدگمان نہ ہوتے… انسان جب اللہ تعالیٰ سے بدگمان
ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے چھوڑ دیا ہے تو پھر وہ کہیں کا بھی نہیں
رہتا… کبھی کفر میں گرتا ہے کبھی شرک میں… اور کبھی غلامی اور محتاجی کی ذلت سے
دوچار ہوتا ہے۔
مسلمانوں کو چاہیے کہ… اپنے باطن کی
تعمیر کریں… اپنے اندر صفات پیدا کریں… ایمان کی صفت، علم کی صفت …اور حلال روزی
کمانے کے لئے مختلف فنون سیکھنے کی صفت… تب اچانک شر آ جانے کی صورت میں… وہ خود
کو بے بس محسوس نہیں کریں گے اور تب اُن کی اندر کی صفات باہر نکل کر … اُن کے
ایمان، اُن کی عزت اور اُن کے مسائل کو سنبھال لیں گی… اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ
سب کو حقیقی داخلی صفات عطاء فرمائیں۔
ایک مثال دیکھیں
افغانستان پر سوویت یونین نے حملہ کیا
تو … لاکھوں افغان مسلمانوں کو ہجرت کرنی پڑی… افغانستان کے مسلمان جفاکشی اور
سادہ زندگی گذارنے کے عادی ہیں… انہوں نے ہجرت کی تکالیف کو خندہ پیشانی سے برداشت
کیا تو… اللہ تعالیٰ نے ان کو کامیاب ترین جہاد کی نعمت عطاء فرمائی… انہوں نے
سوویت یونین کو ختم کیا… اور پھر امریکہ اور نیٹو ممالک کو بھی شکست سے دو چار
کیا… افغان مہاجرین حضرات میں جو اندرونی صفات سے مالا مال تھے… انہوں نے ہجرت کے
چند دن ہی تکلیف میں گذارے … اور پھر اُن کی اندرونی صفات نے…انہیں معزز بھی بنا
دیا اور مالدار بھی …اللہ تعالیٰ ’’ اہل صلاحیت‘‘ پر بہت مہربانی فرماتے ہیں…
کیونکہ یہ ’’اہل صلاحیت‘‘ اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ بندے ہوتے ہیں… یہ لوگ اللہ
تعالیٰ کے دئیے ہوئے وقت کو ضائع نہیں کرتے بلکہ اس وقت کو قیمتی بنا کر … اس میں
خود کو باصفات اور باصلاحیت بناتے ہیں… افغان مہاجرین میں سے جو اہل علم تھے …
انہیں ہر کسی نے ہر جگہ آنکھوں پر بٹھایا… جو اہل ہنر تھے انہوں نے ہر جگہ عزت
پائی… اور جو اہل امانت تھے وہ بھی مسلمانوں کی آنکھوں کا تارا بنے… اور سب سے
زیادہ کامیاب وہ مہاجرین رہے جنہوں نے… ہجرت کے بعد جہاد کے راستے کو اختیار کیا…
بس دارالہجرت میں اپنے بچوں کے سر چھپانے کا انتظام کیا اور فوراً جہاد کی طرف
لپکے… اُن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی نعمتوں سے مالا مال فرما دیا… اور
اُن کے اہل و عیال کو بھی اللہ تعالیٰ نے خوب وسعت اور فراوانی عطاء فرمائی… لیکن
جو مہاجرین اندرونی صفات سے خالی تھے تو وہ طرح طرح کے گناہوں ، جرائم اور خرابیوں
میں مبتلا ہوئے… کئی نعوذ باللہ ایمان سے محروم ہوئے اور کئی اپنی تہذیب اور قوم
تک سے کٹ گئے۔
حالات کسی پر بھی آ سکتے ہیں
حالات بدلنے کا کچھ پتا نہیں چلتا… مجھے
یاد ہے کہ کوٹ بھلوال جیل میں جمعہ کے دن میں نیند سے اٹھا تو قید کی حالت میں
تھا… مگر اچانک رہائی کا عمل اتنی تیزی سے شروع ہوا کہ زندگی ایک دم سے بدل گئی…
اس سے چھ سال پہلے میں آزاد فضاؤں میں گھوم رہا تھا، ایک دن کمانڈر حافظ سجاد
شہید رحمہ اللہ کے ساتھ پرانی یادوں پر باتیں ہو رہی تھیں کہ اچانک
انڈین آرمی نے گھیر لیا تو ہماری زندگی… ایک تاریک کوٹھڑی تک محدود ہو گئی…ہر
انسان کے ساتھ حالات بدلنے کا یہ عمل کسی وقت بھی ہو سکتا ہے… اس لئے خود کو ہر
طرح کے حالات کے لئے تیار رکھنا چاہیے… اپنے وقت کو قیمتی بنا کر اور اللہ تعالیٰ
سے توفیق مانگ کر اپنے اندر داخلی صفات پیدا کرنی چاہئیں… قرآن پاک کے ساتھ خوب
دوستی بنانی چاہیے… کیونکہ یہ تو کسی بھی وقت ہو سکتا ہے کہ ہماری جان نکل جائے تو
ہمیں قبر میں دفن کر دیا جائے… اپنے قرضے ادا کر دینے چاہئیں… اپنے پاس موجود مال
کے بارے میں بھی تفصیل لکھ رکھنی چاہیے کہ… کون سا اپنا ہے کون سا کسی اور کا اور
کون سا اجتماعی… اور آخرت کے بارے میں زیادہ سے زیادہ سوچنا چاہیے تاکہ… دنیا کے
حالات ہی ہمیں سب کچھ محسوس نہ ہوں…اللہ تعالیٰ ہمیں …اچانک آنے والی خیریں کثرت
سے عطاء فرمائے… اور اچانک آنے والے شرور سے ہماری حفاظت فرمائے…
اَللّٰھُمَّ اِنَّا
نَسْئَلُکَ مِنْ فُجَاءَۃِ الْخَیْرِ وَ نَعُوْذُ بِکَ مِنْ فُجَاءَ ۃِ الشَّرِّ۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نئے ہجری سال کو ہم سب کے
لئے ’’مبارک‘‘ بنائے… خیر والا، برکت والا، نور والا، نصرت والا، فتوحات والا اور
ہدایت والا… اور ہمیں اس سال کے تمام شرور سے اپنی پناہ اور حفاظت عطاء فرمائے۔
سال کا نام
ابھی چند دن پہلے جو نیا ہجری ، قمری ،
اسلامی سال شروع ہوا ہے… اس کا نام ہے سن ۱۴۳۹ ہجری…یعنی
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ
جو ہجرت فرمائی تھی … اس ہجرت کو چودہ سو اڑتیس سال پورے ہوئے … اور چودہ سو
اُنتالیسواں سال شروع ہو گیا …یا اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ چودہ صدیاں پوری
ہوئیں…اور پندرہویںصدی کا بھی اُنتالیسواں سال شروع ہوگیا…سبحان اللہ! ہجرت، ہجرت،
ہجرت… جی ہاں! ہجرت ایک مسلمان کے لئے شکست نہیں بلکہ فتح کا دروازہ ہے… ہجرت سے
ایمان اُبھرتا ہے، ہجرت سے جہاد کھڑا ہوتا ہے …ہجرت سے زمین کھلتی ہے… ہجرت سے
فتوحات آتی ہیں … آج بھی مسلمانوں میں ہجرت زندہ ہے… جہاد زندہ ہے…پندھوریں صدی
آدھی گذرنے کو ہے… مگر قرآن بالکل وہی کا وہی ہے… اسلام بالکل اپنی اصلی حالت پر
محفوظ ہے… اسی لئے کہتا ہوں کہ… مسلمان جیت رہا ہے … مسلمان جیت رہا ہے۔
سال کی مختصر تفصیل
مسلمانوں کا سال ’’قمری‘‘ ہوتا ہے… یعنی
اس کا تعلق ’’چاند‘‘ کے ساتھ ہے…سورج کے ساتھ نہیں…قمری سال تقریباً تین سو پچپن
دنوں کا ہوتا ہے… یعنی شمسی سال سے تقریباً دس دن چھوٹا… اسلامی قمری سال کے پہلے
مہینے کا نام ’’محرم الحرام‘‘ اور آخری مہینے کا نام ’’ذوالحجہ‘‘ ہے… اسلامی سال
کے بارہ مہینوں میں سے چار مہینے زیادہ احترام اور حرمت والے ہیں…پہلا مہینہ محرم
اور آخری مہینہ ذوالحجہ بھی … حرمت والے چار مہینوں میں شامل ہیں… اسلامی تاریخ
مغرب کے وقت سے شروع ہوتی ہے… یعنی اذان سے اس کا آغاز ہوتا ہے… اسلامی سال کبھی
گرمیوں میں شروع ہوتا ہے کبھی سردیوں میں … کبھی خزاں میں کبھی بہار میں … جبکہ
شمسی سال ہمیشہ سردیوں میں شروع ہوتا ہے… حضرات خلفاء راشدین رضوان اللہ علیہم
اجمعین بڑے باذوق اور ’’مُلْہَم من اللہ‘‘ تھے … جب اسلامی سال کی
ترتیب شروع کرنے کا مشورہ ہوا تو… حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے مشورے کو ترجیح دی…اور اسلامی تاریخ
کا آغاز حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے فرما دیا… اس میں یہ
بات سمجھائی گئی کہ…ہجرت جو کہ بظاہر ایک شکست نظر آتی ہے حقیقت میں بڑی فتح ہے…
ظاہری طور پر ہجرت میں یہ نظر آتا ہے کہ… آپ دشمنوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنا
وطن چھوڑ آئے … اپنا گھر ،اپنا مال سب دشمنوں کے ہاتھوں میں دے آئے… آپ بے وطن
اور بے سہارا ہو گئے …آپ بے گھر اور بے آسرا ہو گئے… مگر حقیقت میں ایسا نہیں
ہوتا… ہجرت ایک مسلمان کو بہت بلند کر دیتی ہے… اسے آسودہ حال اور بامقام بنا
دیتی ہے… اس کے لئے فتوحات کے دروازے کھول دیتی ہے … اور اس کے سابقہ سارے گناہ
معاف کرا دیتی ہے… ہجرت رہے گی تو مسلمانوں میں جہاد رہے گا… ہجرت ختم تو بہت کچھ
ختم… اللہ تعالیٰ آپ کو اگر موقع دے تو ان آیات مبارکہ اور ان احادیث کو پڑھ
لیجئے جو ہجرت کی فضیلت میں وارد ہوئی ہیں… یقیناً آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی…
ہجرت دراصل غیرت کا دوسرا نام ہے… مسلمان ایسی جگہ رہنا گوارہ نہیں کرتا جہاں
اسلام مغلوب ہو، جہاں اسلامی شعائر پر پابندی ہو… ایسی جگہ مسلمان یا تو مزاحمت
کرتا ہے… اور اگر مزاحمت کی طاقت نہیں پاتا تو وہاں سے ہجرت کر جاتا ہے… کیونکہ
اسلام کو مغلوب دیکھنا اور اسلامی شعائر کے خلاف سمجھوتہ کرنا یہ مسلمان کے بس میں
نہیں ہے… چنانچہ وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر دوسری زمین کی طرف چلا جاتا ہے … تاکہ
وہاں قوت اور ٹھکانہ پا کر… جہاد کے لئے خود کو تیار کرے اور پھر اپنی سرزمین پر
اسلام کے غلبے کے لئے جنگ کرے۔
ابھی جب نیا سال سن ۱۴۳۹ ہجری شروع ہوا تو بندہ نے ایک مختصر مکتوب جاری کیا
جس میں یہ بھی لکھا کہ… مسلمان جیت رہا ہے… تب کئی افراد نے حیرت کا اظہار کیا…
اور برما کی مثال پیش کر کے پوچھا کہ… کیا برما میں بھی مسلمان جیت رہا ہے؟… جی
ہاں! برما میں بھی مسلمان جیت رہا ہے… اگر برما کا مسلمان اپنا گھر بچانے کے لئے …
نعوذ باللہ اسلام کو چھوڑ دیتا… اپنی جان بچانے کے لئے ’’بدھ مت‘‘ کا مذہب اختیار
کر لیتا… حکومتی عہدے اور امن حاصل کرنے کے لئے دین اسلام سے ہٹ جاتا تو پھر ہم
کہہ سکتے تھے کہ… مسلمان ہار رہا ہے… مگر برمی ماں ، بہن ،بیٹی نے… اسلام کو سینے
سے لگائے رکھا … برما کے بزرگوں اور نوجوانوں نے اپنے دین پر کوئی سمجھوتہ نہیں
کیا… انہوں نے مسلمان ہونے کی سزا کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا … تو پھر ہم کیوں
نہ کہیں کہ برما کا مسلمان بھی جیت رہا ہے … آج اگر یہ جملہ کہنے والا میں اکیلا
ہوں تو دیکھ لینا آگے چل کر ان شاء اللہ… ساری دنیا کہے گی کہ برما کا مسلمان جیت
رہا ہے … مسلمان کا اسلام پر رہنا اس کی جیت ہے … مسلمان کا ہجرت پر آنا اس کی
جیت ہے… مسلمان کا جہاد پر کھڑا ہونا اس کی جیت ہے… مسلمان کا جہاد میں شہید ہونا
اس کی جیت ہے … مسلمان کی جیت اور ہار کا بس ایک ہی معیار ہے…مسلمان اگر ایمان پر
رہے اور ایمان کا تقاضا پورا کرے تو وہ جیت گیا… اسے فتح مل گئی… خواہ اس کی لاش
کو پرندے نوچ رہے ہوں… اور مسلمان اگر خدانخواستہ ایمان سے ہٹ جائے یا ایمان کے
تقاضے پورے نہ کرے تو پھر اس کے لئے شکست ہے… خواہ وہ… امریکہ کا صدر یا برطانیہ
کا وزیراعظم بن جائے۔ دیکھو! قرآن مجید صاف فرما رہا ہے:
{وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ
کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ} [آل عمران: ۱۳۹]
’’تم ہی فاتح ہو اگر تم ایمان پر ہو۔‘‘
مبارکباد دینے کا عمل
سنا ہے کہ سوشل میڈیا پر بحث چل نکلی ہے
کہ…نئے اسلامی سال کی مبارکباد دینا جائز ہے یا نہیں؟… بندہ نے اپنے مکتوب میں
’’مبارک باد‘‘ نہیں دی تھی… برکت کی دعاء دی تھی… نیا مہینہ نیا سال مسلمانوں کو
مبارک ہو … برکت کی دعاء دینا بلاشبہ جائز بلکہ مستحسن ہے… جبکہ نئے سال کی
باقاعدہ ایک دوسرے کو مبارکباد دینا… سنت سے ثابت نہیں… لیکن چونکہ نیا سال نصیب
ہونا ایک نعمت ہے تو ایسے موقع پر… ایک دوسرے کو دعاء کی نیت سے کلمات تبریک کہنے
میں کوئی حرج نہیں… مگر اس کو باقاعدہ رسم نہ بنا لیا جائے…دارالعلوم دیوبند سے لے
کر… جامعہ بنوری ٹاؤن تک کا یہی فتویٰ ہے… سوشل میڈیا برادری اپنی مکھی مار عادت
کی وجہ سے… بس اسی طرح کی بحثوں میں الجھی رہتی ہے۔
عالَم کفر نے اسلام اور مسلمانوں کو
مٹانے کی ہر کوشش کر لی … اسلام کو بدلنے اور قرآن مجید میں تبدیلی لانے کے
لئے…ہزاروں ہوش ربا سازشیں بروئے کار لائی گئیں… مگر پندرھویں صدی میں بھی… حالت
یہ ہے کہ… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس
میں گستاخی کرنے والے… اپنے محفوظ قلعوں میں مارے جاتے ہیں… اور جو بچ جاتے ہیں وہ
پوری زندگی خوف اور ذلت میں گذارتے ہیں…اور سوشل میڈیا جیسے کافرانہ محاذ تک میں
حالت یہ ہے کہ …ایک انڈین گویّا اذان کے خلاف چند ٹوئیٹس کرنے پر ایسا گھبرایا کہ…
اسے اپنا سر منڈوانا پڑا۔
جی ہاں! اسی لئے کہتا ہوں… اور بطور شکر
کے عرض کرتا ہوں کہ…پندرھویں صدی آدھی گذرنے کو ہے… اسلام اور مسلمانوں پر لاکھوں
طوفان آئے اور گذر گئے… مگر آج بھی کعبہ شریف شان سے کھڑا ہے… اسلام مسکرا رہا
ہے اور مسلمان جیت رہا ہے۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہم سب سے گناہوںکا ’’بوجھ‘‘
ہٹائے… ہمارا سینہ کھول دے اور ہمیں اپنا بنا لے۔
بوجھ
آج کل پاکستان میں ’’بوجھ‘‘ کا تذکرہ
عام ہے… ایک ’’لیڈر‘‘ بولا مجاہدین ہم پر ’’بوجھ‘‘ ہیں… ہمیں وقت دیا جائے، مزید
ڈالر دئیے جائیں تاکہ ہم اس ’’بوجھ‘‘ کو اُتار پھینکیں… ایک بھورے رنگ کے دیسی
صحافی نے بھی یہی لکھا کہ… مجاہدین پاکستان پر بوجھ ہیں… مجاہدین کی وجہ سے مسئلہ
کشمیر حل نہیں ہو رہا… مجاہدین کو جہاد سے توبہ کر لینی چاہیے… سیاست میں آ جانا
چاہیے… انڈیا میں خوشیاں منائی جا رہی ہیں کہ پاکستان کے ’’خارجی وزیر‘‘ نے کشمیری
مجاہدین کو ’’بوجھ‘‘ قرار دے دیا ہے۔
سبحان اللہ ! وہ لوگ جو خود اللہ تعالیٰ
کی زمین پر ایک ناپاک بوجھ ہیں… وہ لوگ جو دن رات گناہوں کا بوجھ اپنے سروں پر لاد
رہے ہیں… وہ لوگ جن کی عیاشیوں اور بدعنوانیوں نے پوری قوم کو ’’بوجھل‘‘ کر رکھا
ہے… وہ اُن ’’اللہ والوں‘‘ کو بوجھ قرار دے رہے ہیں… جو دن رات اس اُمت کو غلامی
کے بوجھ سے نکالنے کی محنت کر رہے ہیں…ہاں!ایک دن آئے گا… اور وہ دن ضرور آئے گا
جب یہ ’’زمین‘‘ خود بولے گی… اور گواہی دے گی… تب وہ بتا دے گی کہ… زمین پر بوجھ
کون تھا؟…اور زمین کی راحت کون لوگ تھے؟
{یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ
اَخْبَارَھَا}[الزلزال: ۴]
گدھے کا بوجھ
گدھا بوجھ اُٹھاتا ہے… اسی لئے اس کی
قدر کی جاتی ہے… اگر وہ بوجھ نہ اُٹھائے تو کون اسے پا لے گا اور کون اسے گھاس
ڈالے گا… کہتے ہیں کہ ایک گدھے پر اس کے مالک نے نمک کی بوریاں لاد دیں…راستے میں
پانی کا ایک نالہ آتا تھا… گدھا اس میں اترا تو نمک پگھلنے لگا… اس نے فوراً بریک
لگا لی اور پانی میں کھڑا رہا… زیادہ نمک پانی میں گھل گیا… گدھا پانی سے باہر
نکلا تو اس پر سے کافی ’’بوجھ‘‘ ہلکا ہو چکا تھا…وہ اپنی عقلمندی اور دانشوری پر
خوش ہوا… اس نے اپنے دوست گدھوں کو بھی یہ راز بتانا شروع کر دیا … بوجھ ہلکا کرنا
ہے تو پانی میں اُتر جاؤ … اور اس میں کچھ دیر کھڑے رہو…جب نکلو گے تو ’’بوجھ‘‘
اُتر چکا ہو گا… ایک گدھے پر اس کے مالک نے ’’روئی‘‘ یعنی کپاس لاد دی… سردی کا
موسم تھا… کپاس ویسے ہی ہلکی پھلکی تھی اور ساتھ گدھے کی پیٹھ کو بھی گرم کر رہی
تھی… مگر گدھا عقلمندی اور دانشوری پر اُتر آیا… اس ہلکے سے بوجھ کو بھی اُتارنے
کے لئے… پانی میں جا کھڑا ہوا… ’’روئی‘‘ میں پانی بھرتا گیا اور گدھے کا بوجھ
بڑھتا گیا… وہ جب پانی سے نکلا تو بوجھ کی وجہ سے کمر ٹوٹ رہی تھی… ٹانگیں کانپ
رہی تھیں … اور گرم روئی اب بھاری اور ٹھنڈی برف بن چکی تھی… تب گدھا چیخ رہا تھا
کہ… مجھ پر بوجھ ہے… مجھ پر بڑا بوجھ ہے… کسی عقلمند نے کہا… اے گدھے! تم پر تو
نرم کپاس لدی تھی خود تمہاری غلطی نے اس کپاس کو تم پر بوجھ بنا دیا… اب بوجھ کو
نہیں اپنی عقل کو ملامت کرو… حقانی مجاہدین نے بیس سال تک شمالی وزیرستان کی حفاظت
کی… وہ نہ ہوتے تو بنوں یا ڈیرہ اسماعیل خان تک افغان بارڈر پہنچ جاتا…کشمیر میں
جہاد کرنے والوں نے انڈیا کو جموں کے میدانوں اور پہاڑوں میں اٹکادیا… وہ نہ ہوتے
تو انڈیا پاکستان کے مزید ٹکڑے کر چکا ہوتا… اہل پاکستان کے لئے روئی اور کپاس کی
طرح نرم مجاہدین… کبھی پاکستان پر بوجھ نہ تھے مگر جب کوئی گدھا غیر ملکی صحافیوں
کے نالے میں جا کھڑا ہو… خود سر سے پاؤں تک احساس کمتری میں ڈوبا ہوا ہو… اسے نہ
ماضی کا ادراک ہو نہ مستقبل کی فکر… تب گورے صحافی… اسی نرم روئی پر پانی ڈالنے
لگتے ہیں اور گدھا چیخنے لگتا ہے کہ… یہ روئی ہم پر بوجھ ہے… بس ہمیں وقت دو، ڈالر
دو ہم اس بوجھ کو اُتار پھینکیں گے… گدھے بیچارے پر ترس آتا ہے کہ… اس کی یہ
خواہش کبھی پوری نہ ہو سکے گی… کبھی بھی۔
نمک اور روئی میں فرق ہے بابا
سری لنکا والوں نے بتایا کہ ہم نے ’’
تمل باغیوں‘‘ کو ختم کر دیا… برطانیہ والوں نے بتایا کہ ہم نے آئرلینڈ کے باغیوں
کو ٹھنڈا کر دیا… اور اس طرح کی بعض اور خبریں… ہمارے لبرل لفافے جب یہ خبریں
پڑھتے ہیں تو اُن کے حوصلے کچھ ابھرنے لگتے ہیں… کاش! مسلمان مجاہدین بھی ختم ہو
جائیں … اُن کا بھی مکمل صفایا ہو جائے… یہی بس اُن کی زندگی کا بڑا مقصد ہے… مگر
ہائے بیچارے گدھے… یہ نمک اور روئی کا فرق نہیں سمجھتے…وہ جہاد … اور جنگ میں فرق
نہیں سمجھتے… یہ مجاہد اور جنگجو کا فرق نہیں سمجھتے… تھوڑا سا سوچو کہ … اگر جہاد
اور مجاہدین نے ختم ہونا ہوتا تو وہ ’’بش‘‘ کے زمانے میں ختم ہو جاتے… ’’بش‘‘ نے
چالیس ممالک ساتھ لے کر اُن پر حملہ کیا تھا… مگر جہاد بڑھ گیا ، مجاہدین پھیل
گئے… اگر جہاد اور مجاہدین نے ختم ہونا ہوتا تو وہ… ابامہ کے آٹھ سالہ دور میں
ختم ہو جاتے جب اس نے… خوست سے صنعاء تک ڈرون حملوں کا ایک طوفان برپا کر دیا تھا…
مگر جہاد پھیل گیا… مجاہدین بڑھ گئے…اگر جہاد اور مجاہدین نے ختم ہونا ہوتا تو…
مشرف اور زرداری کے زمانے میں ختم ہو جاتے… یہ دونوں دین کے بھی دشمن ہیں اور جہاد
کے بھی… اور تمام اختیارات اُن کے ہاتھوں میں تھے… مگر جہاد طاقتور ہو گیا اور
مجاہدین مضبوط ہو گئے… جب اتنے ذہین ، بااختیار اور چالاک لوگ… اتنی طاقت استعمال
کر کے بھی… جہاد اور مجاہدین کا خاتمہ نہیں کر سکے تو اب… نیم پاگل ٹرمپ، بے عقل،
بے وقوف مودی… اور گردن تک بدعنوانی میں دھنسی ہوئی نون لیگ… کس طرح سے جہاد اور
مجاہدین کا خاتمہ کر سکتے ہیں؟… وہ جہاد جس کی بنیاد قرآن مجید میں ہے… وہ جہاد
جس کی جڑیں ’’کلام اللہ‘‘ میں ہیں… وہ جہاد جو امانت اور شجاعت پر قائم ہے… وہ
جہاد جو اہل اسلام کے لئے روئی اور ریشم کی طرح نرم… اور اہل کفر کے لئے آگ سے
زیادہ گرم ہے… وہ جہاد ختم نہیں ہو سکتا… ہاں اللہ کی قسم! ختم نہیں ہو
سکتا… وہ تب ختم ہو گا… جب اللہ تعالیٰ اس دنیا کو ختم فرما کر قیامت لانے والی
گھڑی بالکل قریب فرما دیں گے …تب زمین پر صرف ’’لبرل‘‘ لوگ رہ جائیں گے پورے کے
پورے لبرل… پاکستان کے اکثر ’’وزراء ‘‘ کی خلوتوں کی طرح ’’لبرل ‘‘غیر ملکی این جی
اوز میں پلنے والی گندی مچھلیوں کی طرح’’ لبرل‘‘ …تب صور پھونک دیا جائے گا…زمین
کو اُلٹ دیا جائے گا اور قیامت برپا ہو جائے گی… مگر ابھی وہ وقت نہیں آیا… اس
لئے جہاد کو بوجھ سمجھنے والوں کو… یہ بوجھ اُٹھانا ہی پڑے گا… اور اگر جہاد واقعی
اُن کے لئے بوجھ ہے تو… اُن کے لئے بڑی بری خبر ہے کہ یہ بوجھ اور بڑھے گا… اور
بڑھے گا… قرآن یہی بتا رہا ہے احادیث مبارکہ میں یہی سمجھایا جا رہا ہے… حضرت
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام تلوار لئے زمین پر اُترنے کو تیار بیٹھے
ہیں…اور کسی غیور مسلمان ماں کی گود… امام مہدی رضی اللہ عنہ سے ہری
ہونے والی ہے۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ جسے چاہتے ہیں’’ عزت‘‘
عطاء فرماتے ہیں… اور جسے چاہتے ہیں ’’ذلیل‘‘ بنا دیتے ہیں…اکتوبر کی
یہ تاریخیں آتی ہیں تو… 2001ء کا اکتوبر یاد آ جاتا ہے… اکتوبر کی سات تاریخ
تھی اور رمضان المبارک کا مہینہ چل رہا تھا کہ…امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر
دیا… حملہ بہت شدید تھا… کہا جا رہا تھا کہ دو ہفتوں میں یہ جنگ نمٹ جائے گی…کچھ
لوگ ایک مہینہ کہہ رہے تھے… جبکہ محتاط ترین لوگ چھ ماہ کا وقت بتا رہے تھے… ایک
غامدی زدہ صحافی نے لکھا کہ…چھ ماہ بعد یہ کہا جائے گا کہ …طالبان نامی ایک مخلوق
دنیا میں تھی جو کہ ختم ہو گئی ہے… اب اُس کا کوئی نشان باقی نہیں اور ایک دو سال
میں اُس کا نام بھی مٹ جائے گا… مگر آج اُس حملے کو سولہ سال تین دن ہو چکے… جنگ
جاری ہے …اگر مزید سولہ سال بھی جاری رہی تو… امریکہ اور اس کے اتحادی یہ جنگ نہیں
جیت سکیں گے…ہم نے اس وقت بھی اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر یہی عرض کیا تھا کہ…
امریکہ یہ جنگ نہیں جیت سکتا… تب کئی اپنے لوگ بھی شک کرتے تھے… مگر رمضان المبارک
میں شروع ہونے والے اس معرکے میں… غزوہ ٔبدر کی نسبت پوشیدہ تھی… سولہ سال پہلے
افغانستان کے جتنے حصے پر ’’امارت اسلامیہ‘‘ کی حکومت تھی … آج بھی اتنے یا اُس
سے کچھ زیادہ حصہ پر ’’امارت اسلامی‘‘ حاکم ہے… اگر کوئی آنکھیں رکھتا ہو تو …
یہی منظر دیکھ کر ’’کلمہ طیبہ‘‘ پڑھ سکتا ہے…بے شک اصل طاقت اللہ تعالیٰ کی ہے …بے
شک اسلام ہی سچا دین ہے… اور بے شک جہاد میں مسلمانوں کے لئے عزت… اور کفار کے لئے
ذلت کا راز پوشیدہ ہے۔
بش، ابامہ، ٹرمپ
افغانستان پر حملہ امریکی صدر’’ جارج
ڈبلیو بش‘‘ نے کیا تھا… وہ جنگجو ذہنیت کا مالک تھا… اس نے افغانستان پر بے تحاشا
طاقت استعمال کی … اربوں کھربوں ڈالر کا بارود اور اسلحہ افغانستان میں استعمال
ہوا… چالیس سے زائد ممالک نے اس جنگ میں مسلمانوں کے خلاف صف بندی کی… تیل کے
کاروبار سے منسلک صدر بش اپنا نام تاریخ میں بطور ایک ’’صلیبی فاتح‘‘ لکھوانا
چاہتا تھا… وہ کٹر مذہبی عیسائی تھا… اور اس نے خود کو ’’رچرڈ شیر دل‘‘ کا جانشین
سمجھ رکھا تھا… مگر پندرہویں صدی کا صلاح الدین ایوبی ’’ملا محمد عمر‘‘ اس کے
سامنے تھا… بش نے افغانستان کی جنگ کو ’’صلیبی لڑائی‘‘ قرار دے کر یورپ کی رگوں
میں گرم خون دوڑایا… ٹونی بلیئر نے اس کا بھرپور ساتھ دیا… بش ، ٹونی کی یہ جوڑی…
ابامہ اور ٹرمپ سے زیادہ مضبوط اور زیادہ خطرناک تھی… پانچ ایٹمی ممالک اس جوڑی کے
ساتھ تھے… اور اس وقت امریکہ تازہ دم تھا… ٹرمپ کے بیانات سن کر کانپنے والے لوگ…
بش کے خونخوار وزیروں اور مشیروں کو نہ بھولیں… وہ بھاری بھرکم رچرڈ آرمٹیچ… وہ
سازشی ڈک چینی … اور ڈونلڈ رمز فیلڈ جسے امریکی بھی پچھتر گز کا پیچ کس کہتے تھے…
رچرڈ آرمٹیچ باقاعدہ غنڈوں کی طرح بولتا اور غراتا تھا… اُسی کے ایک فون اور ایک
دھمکی نے…پرویز مشرف کو گھٹنوں پر بٹھا دیا تھا… مگر وہ سب ناکام ہو گئے… مجھے ان
لوگوں پر حیرانی ہوتی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ… ٹرمپ جیت جائے گا… حالانکہ’’ ٹرمپ‘‘
کے پاس نہ ’’بش‘‘ جیسی طاقت ہے اور نہ تجربہ… بش کے زمانے افغانستان میں امریکی
اور نیٹو افواج کی تعداد ایک لاکھ چالیس ہزار تھی… جبکہ آج وہ صرف چند ہزار
ہیں…’’بش‘‘ چونکہ بڑے غرور اور بڑے دھوکے کے ساتھ افغانستان میں اُترا تھا اس لئے…
وہ اپنے ماتھے پر شکست کی مہر نہیں لگوانا چاہتا تھا… افغانستان میں جب وہ بری طرح
پھنس گیا تو اس نے فوراً عراق پر حملہ کر دیا …تاکہ… اپنی کچھ عزت بچا سکے… اور
تاریخ میں یہ لکھوا سکے کہ… اس نے دنیا کو’’ صدام حسین‘‘ سے نجات دلوائی تھی… ہاں!
وہ’’ صدام حسین ‘‘کو شکست دینے میں کامیاب ہو گیا … مگر عراق میں وہ اسلام اور
جہاد سے ’’دوبارہ‘‘ شکست کھا گیا…اور آج عراق میں بھی لوگ …بش کو نہیں ’’صدام
حسین‘‘ کو یاد کرتے ہیں …’’بش‘‘ ذلیل ہو کر چلا گیا… ٹونی بلیئر کو بھی ذلت کے
ساتھ جانا پڑا… وہ رچرڈ شیر دل کے کردار کو… عیسائی دنیا میں دوبارہ زندہ نہ کر
سکے … ہاں مسلمانوں میں… نور الدین زنگی رحمہ اللہ … صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ …
اور محمود غزنوی رحمہ اللہ کے کردار ضرور زندہ ہوئے… حضرت امیر المؤ
منین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کو جب بھی تاریخ میں یاد کیا جائے
گا… تو ایک ’’فاتح عالم‘‘ کے طور پر دیکھا جائے گا…ایک شاندار، عظیم ، ناقابل
تسخیر مسلمان فاتح… ایسا امیر جس نے تیرہ سال کی شدید جنگ میں… اپنی جماعت کو
سنبھالے رکھا… ایک ایسا کمانڈر جس نے… تیرہ سال تک دنیا کے چالیس ممالک کی فوجوں
کو میدان میں شکست پر شکست دی… ایک ایسا مدبر جس نے شطرنج سے زیادہ الجھی ہوئی جنگ
میں… ہر چال کو بے حال کیا… ایک ایسا پراسرار کردار جو منظر پر نہ ہونے کے باوجود
… اپنی وفات کے بعد بھی دشمنوں کو میدان میں نظر آتا رہا… ایک ایسا مؤمن جس نے
ایک ناقابل یقین معرکے میں… اسلام اور امت مسلمہ کا سر فخر سے بلند کیا۔
آج اگرچہ ہر طرف دھول ،دھواں اور دھند
ہے… مگر یہ غبار جب بیٹھ جائے گا تو… ان شاء اللہ ہر طرف میرے امیر محترم کے چرچے
ہوں گے…اہل تحقیق ان کے کارناموں کی تفصیل لکھیں گے… اور دنیا کا ہر بہادر شخص ان
کی زندگی اور ان کے جہاد سے… شجاعت اور بہادری کے گُر سیکھے گا… بات یہ عرض کر رہا
تھا کہ… بش ذلیل ہو کر چلا گیا ة… حضرت امیر المؤمنین رحمہ اللہ کا
تذکرہ آیا تو… نہ قلم قابو میں رہا اور نہ آنکھیں اس لئے بے ساختہ یہ چند سطریں
لکھ ڈالیں… دراصل میرے پاس عصر حاضر کے تعلق سے… جو ایمانی سرمایہ ہے وہ اپنے امیر
اور اپنے شیخ کی محبت کا ہے… اللہ تعالیٰ مجھے کبھی اس سے محروم نہ فرمائے… مجھے
اگر امیر المؤ منین ملا محمد عمر مجاہد نور اللہ مرقدہ کے دروازے کا کتا بھی مل
گیا تو اس کا بھی زندگی بھر اکرام و احترام کروں گا…میرے امیر کا اس امت پر بڑا حق
ہے… جب ہر طرف غلامی، غلامی کا اندھیرا تھا تو… امیر محترم ہی آزادی کا پیغام بن
کر آئے… جب ہر طرف مایوسی تھی تب… امیر محترم کو ہی اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کے
لئے ایک روشن امید بنایا… جب ہر طرف غلامی ، احساس کمتری اور ذلت کا سبق پڑھانے
والے لوگ… مسلمانوں میں دندنا رہے تھے… تب جس مرد مؤمن نے… مسلمانوں کو…
{وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ} کی تفسیر سمجھائی وہ حضرت امیر محترم
تھے… کہاں غامدیوں کی کیچڑ بھری حقیر زندگی… اور کہاں اللہ کے شیر ملا محمد عمر
کی… عزت و سربلندی سے معمور زندگی… حضرت امیر محترم … آپ کی روح کو ہمارا سلام پہنچے…
اللہ تعالیٰ آپ کو امت مسلمہ کی طرف سے بہترین جزائے خیر عطاء فرمائے۔
بش ذلیل ہو کر چلا گیا تو ابامہ آ گیا…
بش سے قدرے ذہین… بش سے زیادہ سازشی… اور دو منہ والا کالا سانپ… جس نے افغانستان
کی جنگ میں… امریکی عزت بچانے کی ایک نئی کوشش کی…اور وہ یہ کہ… امریکی فوجی یہ
جنگ نہ لڑیں … تاکہ زیادہ لاشیں، زیادہ زخمی… اور زیادہ بری خبریں امریکہ نہ
پہنچیں… اس نے افغانستان کے لئے ایک نیا پلان تشکیل دیا… سازش، فضائی حملے اور
اپنا دامن بچا کر لڑنے کا پلان… اس نے زیادہ فوجیں افغانستان سے نکال لیں… ڈرون
حملوں کا ایک جال بچھا دیا…افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت کو مضبوط کرنے کی کوشش کی…
افغانوں میں سے اپنے لئے جنگجو خریدے… افغانستان کے کئی سازشی عناصر کو امریکہ میں
شہریت دی اور ان کو امریکی فوج میں بھرتی کیا… پاکستان پر اس نے اپنا دباؤ بڑھا
کر قبائلی علاقوں میں… ایک نئی آگ لگا دی… اور ساتھ ہی ساتھ ایران کا بھرپور
تعاون کر کے… اسے امت مسلمہ کے کئی ممالک پر چڑھا دیا… ابامہ کی جنگی حکمت عملی…
بش کی جارحانہ پالیسی سے زیادہ خطرناک تھی… ابتداء میں یوں لگا کہ… شاید ابامہ اس
جنگ کا نقشہ پلٹ دے گا… اس نے کئی نامور مجاہدین کو شہید کرنے میں بھی کامیابی
حاصل کی…اس نے امارت اسلامی کے کئی افراد کو بھی توڑ کر محاذ جنگ کا پانسہ پلٹنے
کی کوشش کی… مگر ساری دنیا نے دیکھا کہ… ابامہ بھی ناکام و ذلیل ہو کر گیا… اور
خود اس کی فوج اس کے خلاف ہو گئی… اور اس کی ذلت اور ناکامی کا اثر اس کی پارٹی پر
پڑا… اور ڈیموکریٹک پارٹی امریکہ کے تمام الیکشن میںہار گئی… ابامہ ذلیل ہو کر چلا
گیا… اسی دوران حضرت امیر المؤمنین رحمہ اللہ بھی دنیا سے…
باعزت تشریف لے گئے اور اپنے پیچھے ایک فاتح لشکر چھوڑ گئے… افغانستان کا کانٹا
امریکہ کے گلےمیں بدستور اٹکا رہا… اور یہ کانٹا جب تک اٹکا رہے گا، امریکہ کمزور
سے کمزور تر ہوتا چلا جائے گا… تب امریکی اپنا ایک نیا پتا میدان میں لے آئے… اور
وہ ہے ’’ٹرمپ‘‘… اب ٹرمپ نے اپنی افغان پالیسی کا اعلان کر دیا ہے اور یہ پالیسی…
بش اور ابامہ کی پالیسیوں کی ایک مشترکہ کھچڑی ہے… یعنی لہجہ اور جارحیت بش جیسی…
اور سازش ابامہ جیسی… اس پالیسی میں انڈیا کو بڑا کردار دینے اور پاکستان کو جھٹکا
دینے کا تذکرہ ہے… حیرانی کی بات یہ ہے کہ… انڈیا اور پاکستان دونوں اس پالیسی سے
سخت ڈرے ہوئے ہیں… انڈیا جانتا ہے کہ… افغانستان میں اس کی کھلم کھلا دخل اندازی
خود اس کے لئے موت کا پیغام ہے… جبکہ پاکستانی حکومت ہمیشہ سے امریکہ سے ڈرنے کی
عادی ہے… یہاں ایسے عناصر ہمیشہ اوپر کی سطح تک موجود رہتے ہیں… جن کی ڈیوٹی ہی
یہی ہے کہ وہ پاکستان کو ہمیشہ امریکہ سے ڈراتے رہیں۔
خلاصہ
* امریکہ
اور نیٹو اتحاد نے افغانستان پر جو حملہ کیا تھا اسے سولہ سال ہو چکے ہیں۔
* سولہ
سال کی اس جنگ میں کفریہ صلیبی طاقتوں کو مسلسل ذلت اور شکست کا سامنا ہے۔
* امریکہ
کے دو صدر اپنی اپنی الگ پالیسیاں افغانستان میں آزما چکے ہیں… مگر افغانستان کا
کانٹا اب بھی امریکہ کے گلے میں ہڈی بن کر اٹکا ہوا ہے۔
* اب
تیسرے امریکی صدر نے افغانستان کے لئے اپنی نئی پالیسی کا اعلان کر دیا ہے… اس
پالیسی کے خوف سے انڈیا بھی کانپ رہا ہے… اور پاکستانی حکومت بھی ڈر رہی ہے…
حالانکہ پاکستانی حکومت کو اس موقع پر ہمت اور سمجھداری سے کام لینا چاہیے… پرویز
مشرف نے ڈر اور خوف میں جو اقدامات کئے تھے ان اقدامات کی سزا اب تک پاکستانی قوم
جھیل رہی ہے… اب بھی اگر ڈر اور خوف سے کچھ الٹے کام کئے گئے تو یہ ملک کے مفاد
میں اچھا نہیں ہو گا۔
دلچسپ خلاصہ
افغانستان پر صلیبی افواج کے حملے کے
سولہ سال بعد…
* تیسرا
امریکی صدر شکست کا ٹوکرا سرپر لادے چیخ رہا ہے، چلا ر ہا ہے ،کمزور غنڈوں کی طرح
دھمکیاں دے رہا ہے۔
* امریکہ
بھارت کو افغانستان میں بلا رہا ہے مگر بھارت کی ٹانگیں دھوتی کے اندر کانپ رہی
ہیں۔
* امریکہ
اپنی شکست کا وبال پاکستان کے سر ڈال کر پاکستان کو مزید غار کی طرف دھکیلنے کی
کوشش کر رہا ہے… اور پاکستان میں موجود امریکی ایجنٹ پاکستان کو ڈرنے کے مشورے دے
رہے ہیں…یہ سب کچھ جن کے خلاف ہو رہا ہے… یعنی امارت اسلامی کے طالبان… وہ خوش
ہیں، مطمئن ہیں، بے فکر ہیں، واہ سبحان! تیری قدرت۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمتوں میں سے ’’
شہادت ‘‘ وہ نعمت ہے جوکہ …بے شمار نعمتوںکامجموعہ ہے…اگرکسی مسلمان کویہ اختیار
دیا جائے کہ وہ …صرف ایک ’’دعاء‘‘مانگ لے …ایک سے زیادہ نہیں …اوراس کی
وہ ایک دعاء قبول ہوگی تو …اس مسلمان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے ’’مقبول
شہادت‘‘مانگ لے …کیونکہ مقبول شہادت مل گئی تو سب کچھ مل گیا …ایمان بھی،اچھا
خاتمہ بھی… مغفرت بھی ،معافی بھی …سکرات الموت سے حفاظت اور عذاب قبر سے نجات
بھی…اور جنت فردوس اعلیٰ بھی …اور بھی بہت سی چیزیں …مثلاًموت کے فوراً بعد ایک
لذیذاور طاقتور زندگی …اللہ تعالیٰ کا رزق ،خوشیاں اور راحت ہی راحت … اور سب سے
بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی رضااور اس کا قرب… اسی لئے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے
باربار شہیدہونے کی تمنا فرمائی…حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام عالی شان
…شہداء کے مقام سے بہت اونچاہے…شہادت کے اسی مقام کی وجہ سے کئی اولیاء کرام رحمہم
اللہ کے بارے میں آتا ہے کہ … وہ اکٹھے ہوکر اللہ تعالیٰ سے شہادت کی
دعاء مانگتے تھے …خاص اسی دعاء کے لئے جمع ہوتے اور صرف یہی ایک دعاء مانگتے ۔
شہید زندہ ہوتاہے …اسے شہادت کے بعد
مردہ کہنا بھی حرام اور مردہ سمجھنابھی حرام … شہید کی حیات قرآن مجید کی نص قطعی
سے بالکل واضح طور پر ثابت ہے … مگر یہ ’’حیات‘‘ایسی بلند اور اونچی ہے کہ …ہم لوگ
اسے اس دنیا میں سمجھ نہیں سکتے …مگر جنت میں جانے کے بعدجب ہمارا شعور
طاقتورہوجائے گا تو وہاں جاکر… شہداء کرام کی زندگی اور حیات ہمیں سمجھ آ جائے گی
… ہم سب مسلمانوں کو چاہیے کہ … شہادت کے قرآنی فضائل پڑھیں … احادیث
مبارکہ میں شہادت کے فضائل کو سمجھیں … بزدلی اور نفاق سے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی
پناہ مانگیں …اور خاص اوقات ،خاص لمحات اور قبولیت کی امید کے ہر موقع پر … اللہ
تعالیٰ سے مقبول شہادت کی نعمت مانگا کریں … او ر اس بات سے نہ ڈرا کریں کہ …
شہیدہوکر ہم مرجائیں گے … نہیں، ہرگز نہیں،شہیدہوکر تومسلمان زندہ ہو جاتا ہے …اس
پر موت ضرور آتی ہے مگروہ موت آکر چلی جاتی ہے …اور فوراًزندگی شروع ہوجاتی ہے …
مسلمان اگر شہادت سے محبت کریں گے تو انہیں’’مسئلہ جہاد ‘‘آسانی سے سمجھ آجائے
گا…اور جہاد کے بارے میں کوئی اشکال ان کے دل میں پیدا نہیں ہوگا…جہاد کے خلاف
اکثر اعتراضات اور اشکالات کے پیچھے موت کا ڈر چھپاہوتا ہے … اگر مسلمان قرآن
مجید کو مانیں تو جان لیں گے کہ … شہادت موت نہیں ہے زندگی ہے … قرآن پاک پکار
پکار کر فرما رہا ہے {بَلْ اَحْیَاءٌ } {بَلْ اَحْیَاءٌ }
…وہ زندہ ہیں … وہ زندہ ہیں … ان کی زندگی اس دنیا کے جسم اور قبر سے لے کر برزخ
تک اور جنت کے دروازے تک پھیلی ہوتی ہے … مسلمان جب جہاد پر آجائیں گے
تو اللہ تعالیٰ انہیں عزت ،عظمت ،رعب ، خود داری اور مغفرت بھی عطاء فرمائیں گے…
اور انہیں کفر اورکفار کی غلامی سے بھی نجات ملے گی ۔
شہداء کرام کی زندگی یقینی ہے …مگر یہ بھی ساتھ فرمادیا گیا کہ
{وَلٰکِنْ لَّا
تَشْعُرُوْنَ} کہ
تم اس زندگی کوسمجھ نہیں سکتے،محسوس نہیں کرسکتے … وہ بڑی اعلیٰ اور ارفع زندگی ہے
…وہ زندہ ہیں مگر اب یہ زندگی ان سے کوئی چھین نہیں سکتا … وہ اب قتل نہیں ہوسکتے
…قید نہیں ہوسکتے … بیمار نہیں ہوتے…پریشان اور غمزدہ نہیں ہوتے … پرانی زندگی میں
جو کمزوریاں تھیں وہ شہادت کی زندگی میں ختم ہوگئیں … شہید کی اس عجیب اور اعلیٰ
یقینی زندگی کو ہم سمجھ نہیں سکتے مگر اللہ تعالیٰ کچھ علامات اور اشارات ایسے
عطاء فرماتے رہتے ہیں جوایمان والوں کے ایمان کومزید مضبوط کرتے ہیں …ایسے واقعات
کو ہم شہداء کرام کی کرامت اور ان کی نئی زندگی کے شواہد کہتے ہیں … ملاحظہ
فرمائیے استاذ محترم، محقق العصر حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود مدظلہ العالی کی
کتاب’’مقام حیات‘‘سے حضرات شہداء کرام کی حیات مبارکہ کے چند شواہد۔
حیات شہداء کے شواہد
١ حضرت
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اُحد کے دن میرے والد نے مجھے کہا:
’’شایدآج میں سب سے پہلے
شہیدہوجائوں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعدکوئی مجھے تم سے پیا را
نہیں۔میرا قرض ادا کر دینا اوراپنی بہنوں کے ساتھ اچھاسلوک کرنا۔‘‘
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے
ہیں: واقعی سب سے پہلے میرے والدمارے گئے۔اس دن دو دوشہیدایک جگہ دفن کئے گئے
تھے۔میں نے نہ چاہا کہ میرے والدکے ساتھ کوئی اوردفن ہو۔میں نے چھ ماہ بعداپنے
والدکی قبر کوکھولاتاکہ آپ کوعلیحدہ دفن کروں۔
فَکَانَ اَوَّلَ قَتِیْلٍ وَ دَفَنْتُ
مَعَہٗ اٰخَرَفِی قَبْرِہٖ ثُمَّ لَمْ تَطِبْ نَفْسِی اَنْ اَتْرُکَہٗ مَعَ اٰخَرَ
فَاسْتَخْرَجْتُہٗ بَعْدَ سِتَّۃِ اَشْھُرٍفَاِذَا ھُوَکَیَوْمٍ وَضَعْتُہٗ
ھُنَیَّۃً غَیْرَ اُذُنِہٖ۔
ترجمہ:’’آپ جنگ احد کے پہلے شہید تھے
میں نے آپ کے ساتھ ایک اورشخص کو بھی آپ کی قبر میں دفن کردیاپھرمجھے یہ بات
اچھی نہ لگی کہ میں اپنے والدکوکسی اورشخص کے ساتھ رکھوں۔میں نے پھر چھ ماہ کے
بعدآپ کووہاں سے نکالاآپ اسی حال میں تھے جیساکہ میں نے آپ کودفن کیا تھا صرف
ایک کان میں تھوڑاساتغیرتھا۔‘‘
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے والدعبداللہ
بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ آپ کے بہنوئی حضرت
عمروبن الجموح رضی اللہ عنہ دفنائے گئے تھے۔
٢ تقریباًپچاس
سال بعدحضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں
مدینہ منورہ کے قریب نہر کظامہ کھودی گئی۔اس کھدائی میں سید الشہداء حضرت امیر
حمزہ رضی اللہ عنہ کا جسد ملا۔وہ اسی طرح تھا جس طرح دفن
کیاگیاتھااس میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی تھی۔بیلچہ انگلی پرلگ گیا توخون بہنے
لگا۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (۸۵۲ہجری
) لکھتے ہیں:
ترجمہ: ’’اوراس امت کے پہلے دور میں جو
شہداء اُحد وغیرہ اسی صورت میں پائے گئے، لمبے زمانے گزرنے کے بعد بھی ان میں کوئی
تغیر واقع نہیں ہوا۔ان میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ بھی ہیں حضرت
معاویہ رضی اللہ عنہ نے جب اپنے دور میںایک نہر کھودی تو
حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کواسی طرح پایا گیاآپ میں کوئی
تغیر واقع نہ ہوا تھا۔کام کرنے والے کابیلچہ آپ کی انگلی پرلگ گیاتواس سے خون
جاری ہوگیا۔‘‘
٣ حضرت
عمرو بن الجموح رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عمرو
انصاری رضی اللہ عنہ ایک دفعہ پھر بوجہ سیلاب دوسری جگہ
منتقل کئے گئے۔
فَوُجِدَا لَمْ یَتَغَیَّرَا
کَأَنَّھُمَا مَاتَا بِالْاَمْسِ وَکَانَ اَحَدُھُمَا قَدْ جُرِحَ فَوَضَعَ
یَدَہٗ عَلٰی جُرْحِہٖ فَدُفِنَ وَ ھُوَکَذٰلِکَ فَأَرْسَلْتُ یَدَہٗ عَنْ
جُرْحِہٖ ثُمَّ اَرْسَلْتُ فَرَجَعَتْ کَمَاکَانَتْ۔
ترجمہ: ’’وہ دونوں اس طرح پائے گئے
گویاکل فوت ہوئے ہیں ان میں سے ایک احد کے دن زخمی ہوا تھااور اس نے اپنا ہاتھ زخم
پر رکھا ہوا تھااور اسی حالت میں وہ دفن کردیا گیامیں نے اس کاہاتھ زخم سے
ہٹایااورپھرچھوڑدیاوہ وہیںجا لگا جہاں کہ پہلے تھا۔‘‘
٤ حضرت
عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نجران کے ایک آدمی نے ایک جگہ جہاں
قبریں تھیں،زمین کھودی توحضرت عبداللہ بن تامر رضی اللہ عنہ کاجسدملا،ہاتھ
سرپررکھاہواتھا۔راوی کہتا ہے:
فَأِذَا أَخَّرْتُ یَدَہٗ عَنْھَا
تَنْبَعِثُ دَمًاوَ اِذَا اَرْسَلْتُ یَدَہٗ رَدَّھَا عَلَیْھَا فَأَمْسَکَتْ
دَمَھَا۔
ترجمہ: ’’جب میں آپ کا ہاتھ زخم سے
ہٹاتا تو اس زخم سے خون پھوٹ پڑتااور جب میں آپ کے ہاتھ کو چھوڑ دیتاتووہ وہیں
جالگتااوراس کے خون کو روک دیتا۔‘‘
٥ ولید
بن عبدالملک کے زمانہ میں اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے
حجرہ کی دیوار گرگئی جب اسے بنانے لگے توایک قبر سے قدم ظاہرہوا۔لوگ گھبراگئے کہ
یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کاقدم نہ ہو حضرت عروہ رضی اللہ
عنہ نے وہ قدم پہچان لیا اوربتایایہ حضرت عمر رضی اللہ
عنہ کاقدم ہے۔
٦ حضرت
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں جب نہر کظامہ
کھودی گئی اوردرمیان میں شہداء کی قبریں کھلیں تودیکھا کہ ان کے جسد تروتازہ ہیں
اوربال بڑھے ہوئے ہیں۔ اتفاقاً ایک شہید کے پاؤں پر کدال لگی تو خون جاری ہوگیا
جب وہ جگہ کھودی گئی توسب طرف مشک کی خوشبو پھیل گئی۔
٧ حضرت حذیفہ اور حضرت جابر بن عبد
اللہ رضی اللہ عنہما کے مزارات دریائے دجلہ کے کنارے تھے۔۱۹۳۰ء کے قریب کی بات ہے۔ دریازمین کاٹتاان کے مزارات کے قریب
آپہنچا ،حکومت عراق نے حکم دیا کہ ان مزارات کو حضرت سلمان فارسی رضی
اللہ عنہ کے احاطہ میں منتقل کردو اورپھرایساہی کیاگیا۔پھرجنازے ہوئے
اورآٹھ دس ہزار آدمیوں نے ان میں شرکت کی۔ایک صاحب الطاف حسین جوان جنازوں میں
شریک ہوئے تھے، ان کا بیان ہے:
’’قبرسے نکلے ہوئے جنازوں کی موجودگی
اور خلق کی آہ وبکاء نے قیامت کا نمونہ برپا کر رکھا تھا، اکثرآدمی روتے روتے بے
ہوش ہوگئے۔نعشیں تیرہ سوسال گزرنے کے بعد بھی بالکل سالم تھیں ۔ کفن ہاتھ لگانے سے
بوسیدہ تھا۔ایک صاحب کی داڑھی سفید تھی اورایک کی سیاہ۔‘‘
یہ واقعہ ماہنامہ تعلیم القرآن
راولپنڈی کی اگست 1964ء کی اشاعت میں اس طرح منقول ہے اور اس کا عنوان ہے:
’’ناقابل انکارصداقت‘‘
’’قصبہ سلمان پاک جوبغداد سے 40میل کے
فاصلے پر ہے،زمانہ قدیم میںجس کانام ’’مدائن‘‘ تھا۔جہاں اکثرصحابہ
کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین گورنری کے عہدے
پرفائزرہے۔یہاں ایک شاندار مقبرے میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ
عنہ مشہور صحابی مدفون ہیں اور آپ کے گنبدمزار سے متصل نبی آخرالزمان
کے دوصحابہ حضرت حذیفہ الیمانی رضی اللہ عنہ اور حضرت
جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے مزارات ہیں۔ان دونوں اصحاب
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مزارات پہلے سلمان پاک سے دو فرلانگ کے
فاصلے پرایک غیر آباد جگہ پرتھے۔
ہوا یہ کہ حضرت حذیفہ رضی
اللہ عنہ نے خواب میںملک فیصل اول شاہ عراق سے فرمایا کہ ہم دونوں کوموجودہ مزاروں
سے منتقل کرکے دریائے دجلہ سے تھوڑے سے فاصلے پردفن کر دیا جائے۔اس لیے کہ میرے
مزارمیں پانی اور جابر رضی اللہ عنہ کے مزار میں نمی شروع ہوگئی ہے۔
شاہ یہ خواب مسلسل دوراتوں میں
دیکھتارہا اور شایدبے پرواہی یاانہماک امور سلطنت کے باعث بھول گیا،تیسری شب حضرت
موصوف نے عراق کے مفتی ٔاعظم کوخواب میںیہی ہدایت فرما کرکہا:ہم دوراتوں سے بادشاہ
کو کہہ رہے ہیں لیکن اس نے اب تک انتظام نہیں کیا۔اب یہ تمہاراکام ہے کہ اس کو
متوجہ کرکے اس کا فوری بندوبست کراؤ۔
چنانچہ اگلے روزصبح ہی صبح مفتیٔ اعظم
نوری السعید پاشاوزیراعظم کوساتھ لے کر بادشاہ سے ملے اور اس سے اپنا خواب بیان
کیا۔شاہ فیصل نے کہا: میں بھی دوراتوں سے خواب میں یہی دیکھ رہاہوں۔
آخرکافی غورومشورے کے بعد شاہ نے مفتی
اعظم سے کہا کہ آپ مزارات کھولنے کافتویٰ دیدیں تو میں اس کی تعمیل کے لئے تیار
ہوں۔جب مفتیٔ اعظم نے مزارات کے کھولنے اورلاشوں کومنتقل کرنے کا فتویٰ دیدیا تویہ
فتویٰ اورشاہی فرمان دونوں اس اعلان کے ساتھ اخبارات میں شائع کردیئے گئے کہ
بروزعیدقربان بعدنماز ظہران دونوں اصحاب رسول رضی اللہ عنہما کے مزارات
کھولے جائیں گے۔
اخبارات میں یہ حال شائع ہوناتھا کہ
تمام دنیائے اسلام میں یہ خبر بجلی کی طرح پھیل گئی۔ رائٹراور دوسری خبررساں
ایجنسیوں نے اس خبر کوتمام دنیامیں پہنچادیا۔حسن اتفاق دیکھئے کہ ان دنوں موسم حج
ہونے کے باعث تمام دنیاسے مسلمان حج کے لئے حرمین شریفین(مکے مدینے ) میں جمع
ہورہے تھے ۔ جب انہیں یہ حال معلوم ہوا توانہوں نے شاہ عراق سے یہ خواہش ظاہر کی
کہ مزارات حج کے چندروزبعدکھولےجائیںتاکہ وہ بھی شرکت کرسکیں۔اسی طرح
حجاز،مصر،شام، لبنان، فلسطین، ترکی، ایران،بلغاریہ ، افریقہ ، روس،ہندوستان وغیرہ
وغیرہ ملکوں سے شاہ عراق کے نام بے شمار تار پہنچے کہ ہم بھی جنازوں میں شریک
ہوناچاہتے ہیں مہربانی فرماکر مقررہ تاریخ چندروزبڑھا دی جائے،چنانچہ دنیا کے
مسلمانوں کی خواہش پر یہ دوسرا فرمان جاری کر دیا گیا کہ اب یہ رسم حج کے دس دن
بعد اداکی جائے گی اور اس کے ساتھ ہی خواب میں اہل مزارات کی عجلت کی تاکید کے پیش
نظر احتیاطی تدابیر بھی کی گئیں کہ پانی مزارات تک پہنچنے نہ پائے۔
آخر کار وہ دن بھی آگیاجس کی آرزو
میں لوگ جوق درجوق سلمان پاک میں جمع ہوگئے تھےاورشنبہ کے دن بارہ بجے
کے بعد لاکھوں انسانوں کی موجودگی میں مزارات کھولے گئے تومعلوم ہوا کہ حضرت حذیفہ
الیمانی رضی اللہ عنہ کے مزارمیں کچھ پانی آچکا تھااورحضرت
جابر رضی اللہ عنہ کے مزار میں نمی پیدا ہوچکی تھی حالانکہ دریائے دجلہ وہاں سے کم
از کم دوفرلانگ دورتھا۔
تمام ممالک کے سفیر،عراقی حکومت کے تمام
ارکان اور شاہ فیصل کی موجودگی میں پہلے حضرت حذیفہ الیمانی رضی اللہ
عنہ کی نعش مبارک کو کرین کے ذریعے زمین سے اس طرح اوپر اٹھایا گیا کہ
ان کی نعش کرین پر نصب کئے ہوئے سٹریچر پر خودبخود آگئی۔اب کرین سے سٹریچر
کوعلیحدہ کرکے شاہ فیصل ‘ مفتیٔ اعظم عراق‘ وزیر مختار جمہوریہ ترکی اور پرنس
فاروق ولی عہد مصر نے کندھادیا اور بڑے احترام سے ایک شیشہ کے تابوت میں رکھ
دیا۔پھر اسی طرح حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی نعش
مبارک کومزار سے باہرنکالاگیا۔
نعش ہائے مبارک کا کفن،حتیٰ کہ ریش ہائے
مبارک کے بال تک بالکل صحیح حالت میں تھے ۔ نعشوں کو دیکھ کر یہ اندازہ ہر گز نہیں
ہوتا تھا کہ یہ تیرہ سو سال قبل کی نعشیں ہیں،بلکہ گمان یہ ہوتا تھا کہ شاید انہیں
رحلت فرمائے دو تین گھنٹے سے زائد وقت نہیں گزرا ۔سب سے عجیب بات یہ تھی کہ ان
دونوں کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور ان میں اتنی پر اسرارچمک تھی کہ بہتوں نے
چاہا کہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھیں لیکن ان کی نظریں اس چمک کے
سامنے ٹھہرتی ہی نہ تھیں اور ٹھہر بھی کیسے سکتی تھیں؟
بڑے بڑے ڈاکٹر یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے ۔
ایک جرمن ماہر چشم جو بین الاقوامی شہرت کا مالک تھا،اس تمام کاروائی میں بڑی
دلچسپی لے رہا تھا ۔ اس نے یہ منظر دیکھا توبس دیکھتا ہی رہ گیا،وہ اس سے کچھ اتنا
بے اختیار ہواکہ ابھی نعش ہائے مبارک تابوتوں میں ہی رکھی گئیں تھیں کہ آگے بڑھ
کر مفتیٔ اعظم عراق کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا :آپ کے مذہب اسلام کی حقانیت اور ان
صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بزرگی کا اس سے بڑھ کر
اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے ؟ لائیے مفتی ٔاعظم!ہاتھ بڑھائیے،میں مسلمان ہوتا ہوں…
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اس واقعہ کے فوراً بعد بغداد میں کھلبلی
مچ گئی اور بے شمار یہودی اور نصرانی خاندان بلاکسی جبر کے اپنے جہل اور گمراہی
پرافسردہ،اپنے گناہوں پر نادم ، ترساں و لرزاں جوق در جوق مسجدوں میں قبول اسلام
کے لئے آتے تھے اور مطمئن شاداں وفرحاں واپس جاتے تھے …اس موقع پر مشرف بہ اسلام
ہونے والوں کی تعداداتنی تھی کہ اس کا اندازہ لگانا آسان نہیں ۔‘‘
یہ ’’چشم دیدواقعہ‘‘کسی کتاب میں لکھا
ہوا اگلے زمانے کا تاریخی واقعہ نہیں ہے،یہ ہمارے ہی زمانے کا آنکھوں دیکھا حال
ہے،اس کو زیادہ عرصہ بھی نہیں گزرا… ۱۹۳۲ء
میں اس کرامت کا ظہور ہوا ہے۔ ‘‘ [مقام حیات]
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے ’’شہداء کرام‘‘ کو
’’زندگی‘‘ عطاء فرمائی ہے… شہداء کرام کی ’’حیات‘‘ یعنی ’’زندگی‘‘ میں شبہ کرنا
’’کفرہے‘‘… قرآن مجید فرماتا ہے {بَلْ اَحْیَاْءٌ }بلکہ وہ زندہ ہیں… وہ دیکھو!
آج کل پورے ہندوستان میں حضرت سلطان فتح علی ٹیپو شہید رحمہ اللہ کی
زندگی صاف نظر آ رہی ہے … بدبو دار متعصب ہندو حضرت سلطان ٹیپو شہید رحمہ
اللہ کے خلاف منہ کھول کر… دانت نکال کر بھونک رہے ہیں… وہ حسد کی آگ
میں یوں جل رہے ہیں جیسے کہ ’’ٹیپوشہید‘‘ اُن کے سامنے کھڑے مسکرا رہے ہوں … جبکہ
اہل ایمان حضرت ٹیپو سلطان شہید رحمہ اللہ کے کارنامے… مساجد میں ،
مدارس میں اور اخبارات و رسائل میں بیان کر رہے ہیں… اپنی شہادت کے تقریباً سوادو
سو سال بعد بھی … شہید کا تذکرہ مردہ دلوں کو زندہ کر رہا ہے… کوئی ٹیپو سلطان کے
حالات زندگی پڑھ رہا ہے… کوئی اُن سے {بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ } کی
برکت حاصل کر رہا ہے… کوئی اُن سے جہاد کا سبق پڑھ رہا ہے… کوئی اُن سے شہادت کی
لذت معلوم کر رہا ہے… کوئی اُن سے آداب جہانبانی سیکھ رہا ہے … اور کوئی اُن سے
’’شیر‘‘ بننے کے راز معلوم کر رہا ہے… بھارتی وزیر ’’ہیگڑے‘‘ اور اُس کے ہمنوا چند
دن تک مر جائیں گے… جل جائیں گے …کوئی کالا کتا اُن کے شمشان گھاٹ پر پیشاب کر
آئے گا… جبکہ ٹیپو سلطان شہید رحمہ اللہ کی زندگی… اہل ایمان کے دلوں
کو گرماتی رہے گی… کیونکہ وہ شہید ہوئے… انگریزوں کے خلاف جہاد کرتے ہوئے… جب بال
ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے کے باپ دادا مراٹھے… انگریزوں کے ساتھ مل کر لڑ رہے تھے…
آج آزادی کے بعد ہندوستان کے مالک ہونے کا دعویٰ کرنے والے … اُس وقت انگریز کے
ساتھ تھے… جبکہ مسلمانوں کا رہنما سلطان ٹیپو شہید…مسلسل کئی معرکوں میں انگریزوں
کو عبرتناک شکست دے چکا تھا… مگر پھر اپنوں نے غداری کی… میر صادق اور دیوان
پورنیا جیسے وزراء انگریز کے ساتھ مل گئے… ۱۲۱۳ھ
بمطابق مئی 1799ء سرنگاپٹنم میں آخری معرکہ ہوا…سلطان ٹیپو رحمہ
اللہ بہادری کے ساتھ لڑتے رہے… اور بالآخر قرآن مجید کی آیت مبارکہ
تلاوت کرتے ہوئے سینے پر کئی زخم کھا کر شہید ہو گئے…کسی نے تاریخ وفات کا عجیب
قطعہ نکالا ہے۔
ٹیپو بوجہ دینِ محمد شہید شد۱۲۱۳ھ
’’ٹیپو دینِ محمد صلی اللہ
علیہ وسلم پر جام شہادت نوش فرما گئے۔‘‘
ہمارے علامہ اقبال رحمہ اللہ نے ٹیپو
شہید رحمہ اللہ کی قبر پر حاضری دی… کافی دیر وہاں کھڑے ہوئے، باہر
نکلے تو شدت جذبات سے رو رہے تھے، فرمایا:
آں شہیدانِ محبت را امام
آبروئے ہند و چین و روم و شام
نامش از خورشید و مہ تابندہ تر
خاک قبرش از من و تو زندہ تر
ترجمہ: ’’ٹیپو سلطان ’’شہداء محبت‘‘ کے
امام ہیں … اور روئے زمین کی آبرو ہیں اُن کا نام سورج اور چاند سے زیادہ روشن ہے
اور اُن کی قبر کی مٹی مجھ سے اور تجھ سے زیادہ زندہ ہے۔‘‘
تمہارے پاس بھی کوئی ہے؟
ہندوستان کے موجودہ ہندو حکمرانوں سے
پوچھتا ہوں… تم آج اورنگ زیب عالمگیر رحمہ اللہ جیسے عظیم، بہادر،
منصف، درویش اور فاتح ’’بادشاہ‘‘ کو گالیاں دیتے ہو… کیا تمہارے پاس… تمہاری تاریخ
میں ’’عالمگیر‘‘ جیسا ایک شخص بھی ہے؟ …تمہارا ’’شیواجی‘‘ ’’مراٹھا‘‘ …جس کی
بہادری پر تمہیں ناز ہے… عالمگیر کے سامنے ایک تر ’’پراٹھا‘‘ ثابت ہوا… ہندوستان
کی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں کسی ایک ہندو راجہ یا مہاراجہ کا نام بتاؤ جو
’’عالمگیر‘‘ کے ہم پلہ ہو… عالمگیر رحمہ اللہ نے پچاس سال تک ’’ہند‘‘
پر حکومت فرمائی…اور ہندوستان کی سرحدوں کو کیرالہ سے لے کر افغانستان کے آخر تک
پہنچادیا… تم آج ہندوستان سے’’اورنگ زیب عالمگیر‘‘ کا نام مٹانا چاہتے ہو… مگر
کیسے مٹا سکو گے؟… کیا تاریخ میں اس سے پہلے یا اس کے بعد کوئی ایسا حکمران
ہندوستان میں گزرا ہے… جس نے اتنی بڑی سلطنت پر حکومت کی ہو… تمہاری تاریخ تو بس
’’مہا بھارت‘‘ کی افسانوی جنگ پر ختم ہو جاتی ہے … یہ وہ جنگ تھی جس میں تمہاری
ایک عورت کے پانچ پانچ خاوند تھے… رام کی بہادری کے قصے بس اسی پر موقوف ہیں کہ وہ
چودہ سال تک اپنی بیوی کو رہا کراتا پھرتا رہا…کرشن کی داستانیں مکھن چرانے اور
لڑکیوں کو چھیڑنے پر ختم ہو جاتی ہیں… ایسی شرمناک اور بزدلانہ تاریخ رکھنے کے
باوجود تم کس منہ سے… آج حضرت ٹیپو سلطان شہید رحمہ اللہ کو گالیاں بک
رہے ہو…تمہارے بڑے تو ’’ٹیپو‘‘ کے قدموں پر گرے رہے اور آج جبکہ انگریزوں کی
چاپلوسی کے عوض تمہیں ہندوستان کی حکومت ملی ہے تو تم… اپنے باپ دادا کی بھی نمک
حرامی کر رہے ہو…ہمت ہے تو… اپنی تاریخ میں سے ایک شخص ’’حضرت ٹیپو سلطان شہید
رحمہ اللہ ‘‘جیسا لے آؤ… تم کس منہ سے حضرت ٹیپو سلطان رحمہ
اللہ کے کردار پر انگلی اُٹھاتے ہو؟…آج ساری دنیا میں بے حیائی کا
کاروبار تمہاری وجہ سے چل رہا ہے… تمہارے مذہبی رہنما سرتاپا بے حیائی، عیاشی اور
فحاشی میں ڈوبے ہوئے ہیں… ابھی اپنے گرو… رام گورمیت سنگھ کے کارنامے دیکھ لو…
تمہیں اپنے بابا سائی ستیہ مہاراج پر بڑا فخر ہے… وہ مر گیا تو اس کے کمرے کی
الماری سے منوں کے حساب سے چھپایا ہوا سونا ملا … کہاں ٹیپو سلطان اور کہاں تم…
ظالمو! چاند پر تھوک رہے ہو… اسی لئے تمہارا منہ تمہاری تھوک سے بدبودار ہو رہا
ہے… تمہاری پوری تاریخ بانجھ ہے… شرمناک ہے… اور تمہارے دامن میں سوائے گالیاں
دینے کے اورر کھا ہی کیا ہے؟
مہربانی فرما کر صفائی نہ دیں
حضرت ٹیپو سلطان شہید رحمہ اللہ … کو
{بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ } کی برکت حاصل تھی… یہ مبارک
کلام {بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} خیر و برکت کی چابی ہے…
سلطان نے اپنے پاکیزہ بچپن میں ہی اس مبارک کلام {بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِیْمِ} کے راز کو سمجھ لیا تھا… اسی لئے محض اڑتالیس سال کی
زندگی میں… صدیوں کا کام کر گئے… وہ اپنے ہر حکمنامہ اور ہر بات سے
پہلے {بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ } پڑھنے اور لکھنے
کے عادی تھے…{بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} نے اُن کے کام اور
اوقات کو برکت سے بھر دیا تھا… وہ ۲۰ ذو
الحجہ بروز جمعہ 2 نومبر 1750ء کو پیدا ہوئے… پانچ سال کی عمر سے قرآن مجید ،
عربی اور فارسی کی تعلیم شروع ہو گئی… 1782ء میں اپنے والد محترم جناب حیدر علی
کی وفات کے بعد…وہ اس سلطنت کے فرمانروا بنے…جس سلطنت کانام ’’ مملکت خداداد‘‘ تھا
… انہوں نے ’’بادشاہت‘‘ کو عہدہ نہیں … اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھا… اس لئے عیاشی
تو دور کی بات انہوں نے اپنے سترہ سالہ دور حکومت میں … کبھی جی بھر کر آرام تک
نہیں کیا… وہ صاحب علم بھی تھے اور صاحب عمل بھی… وہ صاحب دل بھی تھے اور صاحب
فراست بھی… وہ صاحب تلوار بھی تھے اور صاحب قلم بھی… انہوں نے اپنی تلوار سے جہادی
معرکے لڑے تو اپنے قلم سے … مجاہدین کے لئے ایک آئین مرتب کیا… اور اس پر ’’فتح
المجاہدین‘‘ کے نام سے پوری ایک کتاب لکھی… اللہ کرے وہ کتاب کہیں سے مل جائے اور
ہم اسے دوبارہ شائع کر سکیں… سلطان ٹیپو شہید رحمہ اللہ کے کارناموں کی
تفصیل اس قدر زیادہ ہے کہ… اب تک درجنوں کتابیں ان کے بارے میں لکھی جا چکی ہیں
مگر ابھی تک… ان کی سوانح کا حق ادا نہیں ہوا… حق ادا بھی کیسے ہو… ایسا عقلمند ،
ذہین، بہادر بادشاہ جو اپنے سامنے اپنے پانچ معاونین کو بٹھا کر … ہر ایک کو الگ
الگ احکامات اور فرامین لکھواتا تھا… اور اس دوران اُن پانچوں کا قلم نہیں رکتا
تھا…ایسا بہادر جو اپنی آخری جنگ میں بھی… ایسی شان سے لڑا کہ اُس کی لاش کو دیکھ
کر… دشمن رعب زدہ ہو گئے… شہادت کے بعد بھی سلطان کا ہاتھ اپنی تلوار کے قبضے پر
مضبوطی سے جما ہوا تھا… اور تمام زخم سینے پر لگے تھے… اُمت مسلمہ کا ایسا خادم کہ
جس نے اپنی سلطنت میں مساجد اور تعلیم گاہوں کا وسیع نظام قائم کر دیا… ایسا زیرک
کہ جس نے روئے زمین پر سب سے پہلے میزائل اور راکٹ ایجاد کیا… ایسا سمجھدار کہ اس
نے اپنے خطے میں آب پاشی کے نظام کو ایک مثالی شکل دے دی… کل میں ایک رپورٹ میں
پڑھ رہا تھا کہ …مودی کی مقبولیت تیزی سے کم ہو رہی ہے… اور اس کی پالیسیوں نے
انڈیا کی معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا ہے … جبکہ حضرت ٹیپو سلطان شہید رحمہ
اللہ کی مقبولیت کا سترہ سالہ حکومت کے بعد بھی یہ عالم تھا کہ… جب اُن
کا جنازہ اُٹھایا گیا تو لاکھوں انسان بلک بلک کر رو رہے تھے… پھر آسمان بھی اُن
کے ساتھ رونے میں شریک ہو گیا … ایسے بادل گرجے ، ایسی بجلی کڑکی اور ایسی موسلا
دھار بارش برسی کہ… پہلے اس کی مثال بہت کم ملتی ہے… ہمیں فخر ہے کہ حضرت ٹیپو
سلطان مومن تھے، مسلمان تھے… مجاہد تھے… اور بالآخر شہید ہوئے۔
آج ہندوستان میں کئی مسلمان… حضرت
اورنگ زیب عالمگیر رحمہ اللہ اور حضرت ٹیپو سلطان شہید رحمہ
اللہ کی صفائی دینے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں… اور نعوذ باللہ ان عظیم المرتبت
مجاہدین کو ’’گاندھی‘‘ بنا کر دم لیتے ہیں… ٹھیک ہے آج ’’ہند‘‘ کے مسلمان بہت
مجبور اور بے بس ہیں…مگر اُن کو یہ تو زیب نہیں دیتا کہ… اپنے اسلاف کے جہاد کا ہی
انکار کر دیں… اور اُن کو بھی ’’فاختہ‘‘ بنا کر پیش کریں… یا ہندوؤں کو خوش کرنے
کے لئے عصر حاضر کے مسلمان مجاہدین کو ’’دہشت گرد‘‘ کہنے لگیں … عمران پرتاب گڑھی
جیسے کچھ شعراء اور کئی مسلمان سیاستدان… بی جے پی کے خلاف بول کر مسلمانوں کی
توجہ حاصل کرتے ہیں… لیکن جب وہ اپنے اسلاف کی ’’صفائی‘‘ دینے پر آتے ہیں… اور جس
انداز میں وہ اُن کے کارناموں کومسخ کرتے ہیں… اس پر دل خون کے آنسو روتا ہے…
ہندوستان کے مسلمانوں کی ’’ بے بسی‘‘ عارضی ہے… یہ ان شاء اللہ بہت جلد ختم ہو
جائے گی… جبکہ ہماری تاریخ اور ہمارے اسلاف کے کارنامے اٹل ہیں…اُن کو بدلنے کی
ضرورت نہیں ہے… اسلام ہمیشہ سے اقلیتوں پر ظلم کا مخالف ہے… صلاح الدین ایوبی رحمہ
اللہ سے لے کر ٹیپو سلطان رحمہ اللہ تک… مسلمان حکمرانوں
نے… نہتے غیر مسلموں پر کبھی ہاتھ نہیں اُٹھایا…مگر جو اُن کے مقابلے میں اُترا
اسے انہوں نے بخشا بھی نہیں … اورنگ زیب عالمگیر کی شیواجی سے لڑائی جہاد
تھا…سیاسی جنگ نہیں… ٹیپو سلطان نے بھی ہندو رعایا کے ساتھ کوئی ظلم نہیں کیا… مگر
وہ مجاہد تھا اور اسلام کا خادم…اگر ہندوستان کے موجودہ شعراء اور سیاستدانوں میں…
اپنے اسلاف کے کارناموں کو برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں ہے تو… کوئی بات نہیں…مگر
اتنی گزارش ضرور ہے کہ… آپ اُن حضرات کی ایسی صفائیاں نہ دیں کہ جن سے… آپ کو
’’روز محشر‘‘ اللہ تعالیٰ کے حضور … اور اُن حضرات کے سامنے شرمندہ ہونا پڑے… آپ
قرآن مجید کی روشنی میں… اپنے ’’ہند‘‘ کے اسلاف کی تاریخ پڑھیں… پھر اسے بیان کر
سکیں تو آپ کو بڑا اجر ملے گا… لیکن اگر بیان نہیں کر سکتے تو اتنا رحم ضرور
کھائیں کہ اُن کی غلط صفائیاں نہ دیں… وہ الحمد للہ صاف ہیں … باکردار ہیں … نہ وہ
مودی جیسے تھے… اور نہ ایڈوانی جیسے … یہ تو بس چند دن کا غبار ہے جو ان شاء اللہ
بہت جلد چھٹ جائے گا۔
مسلم ہندی کا حجازی رنگ
ہندوستان کے ایک وزیر نے… حضرت ٹیپو
سلطان شہید رحمہ اللہ کی شان میں گستاخی بکی تو آج… قلم حضرت ٹیپو
شہید رحمہ اللہ کے بوسے لینے لگا… ارادہ تھا کہ بہت تفصیل سے اُن کے
بارے میں لکھوں گا … مگر اچانک خون گرم ہو گیا ہے… خون گرم ہو تو ہاتھ کپکپانے
لگتے ہیں… اللہ تعالیٰ ’’ہند‘‘ میں جہاد کو زندہ فرمائے… بس مزید کیا لکھوں … ایک
شاعر نے حضرت ٹیپو سلطان رحمہ اللہ کی شان میں چند اشعار کہے ہیں… بہت
گہرے اور معنٰی خیز اشعار ہیں… اُنہی پر… اپنی آج کی مجلس کا اختتام کرتے ہیں…
غور سے پڑھیں اور معانی سمجھنے کی کوشش کریں؎
اے شہیدِ مرد میدانِ وفا تجھ پر سلام
تجھ پہ لاکھوں رحمتیں لا انتہا تجھ پر
سلام
ہند کی قسمت ہی میں رسوائی کا سامان تھا
ورنہ تو ہی عہد آزادی کا اک عنوان تھا
اپنے ہاتھوں خود تجھے اہل وطن نے کھو
دیا
آہ کیسا باغباں شام چمن نے کھو دیا
بت پرستوں پہ کیا ثابت یہ تو نے جنگ میں
مسلم ہندی قیامت ہے حجازی رنگ میں
عین بیداری ہے یہ خواب گراں تیرے لئے
ہے شہادت اک حیات جاوداں تیرے لئے
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ’’ غلاموں‘‘کی غلامی سے
ہماری حفاظت فرمائے…اُمت مسلمہ کو مکمل دینی، اسلامی ، ذہنی اور جسمانی آزادی
عطاء فرمائے۔
اگست 1947ء
کہا جاتا ہے کہ…وہ رمضان المبارک کا
مہینہ تھا…شمسی حساب سے اگست 1947ء کی چودہ تاریخ تھی…پاکستان’’ آزاد‘‘ ہو گیا…
کس سے آزاد ہوا؟ انگریز سے آزاد ہوا… انگریز برطانیہ، لندن سے چل کر آئے تھےاور
اُنہوں نے ہندوستان پر قبضہ کر لیا تھا… ہندوستان کے مسلمانوں نے جدوجہد کی… تاکہ
انگریز سے آزادی ملے… انگریزی اقتدار میں مسلمان غلام تھے… محکوم تھے… انگریز نے
اُن سے حکومت چھینی تھی… انگریزی اقتدار مسلمانوں کے لئے نفرت کا نشان تھا…
بالآخر آزادی مل گئی… انگریز چلا گیا … اپنے ہم رنگ، ہم شکل اور ہم مذہب لوگوں
کی حکومت آ گئی… مگر ہمارا یہ حکمران طبقہ واپس برطانیہ اور لندن کی طرف دوڑا… یہ
لوگ انگریز کی غلامی کو سعادت سمجھتے ہیں… اس کی زبان میں اپنی شان محسوس کرتے
ہیں…اس کی تہذیب میں اپنی ترقی دیکھتے ہیں… اور آج تک اسی کو اپنا آقا سمجھتے
ہیں…علامہ اقبال رحمہ اللہ کی مشہور نظم ہے… کہ ایک دیوانہ حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار اقدس پر حاضر ہو کر رو رو
کر کہہ رہا تھا؎
یہ زائرانِ حریمِ مغرب ہزار رہبر بنیں
ہمارے
ہمیں بھلا ان سے واسطہ کیا جو تجھ سے نا
آشنا رہے ہیں
یعنی ہمارے یہ رہبر اور لیڈر جنہوں نے…
مغرب کو اپنا قبلہ بنا رکھا ہے… یہ ہزار ہماری رہبری کا دعویٰ کریں…مگرہماراان سے
کیا واسطہ ؟…اُنہوں نے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی
تعلیمات کو چھوڑ رکھا ہے۔
اکتوبر 2017ء
آج اکتوبر 2017ء کا زمانہ چل رہا ہے …
جس ملک نے لاکھوں افراد کی قربانی دے کر برطانیہ سے آزادی حاصل کی تھی… آج اس
ملک کے تمام فیصلے ’’برطانیہ‘‘ میں ہو رہے ہیں…کل برطانیہ کے شہر ’’لندن‘‘ میں
پاکستان کی حکمران پارٹی کا اجلاس تھا… ملک کا وزیراعظم بھی وہاں تھا اور سابقہ
وزیر اعظم بھی… ملک کے دو صوبوں کے وزراء اعلیٰ بھی لندن میں تھے… اور بھی کئی
لیڈر… اُن میں سے جو پاکستان کا سب سے زیادہ درد رکھنے والا لیڈر ہے… اس کی لندن
میں اربوں روپے کی جائیداد ہے… پاکستان کی عوام کے پیسے سے یہ جاگیر خریدی گئی ہے…
اور بھی کئی لیڈروں کی ’’لندن‘‘ میں قیمتی جائیداد ہے… یہ لوگ پاکستان کے ’’حکمران
‘‘ ہیں… مگر جائیداد برطانیہ میں بناتے ہیں… یہ اپنا حکم پاکستان میں چلاتے ہیں…
مگر نوکری چاکری انگریز کی کرتے ہیں…یہ کماتے پاکستان سے ہیں اور خرچ برطانیہ میں
کرتے ہیں …یہ لوٹتے پاکستان کو ہیں جبکہ آباد برطانیہ کو کرتے ہیں… ان کو اگر
علاج کرانا ہو تو برطانیہ میں کراتے ہیں… ان کو اگر پیسہ چھپانا ہو تو وہ بھی
برطانیہ میں چھپاتے ہیں… ان کو اگر اجلاس کرنا ہو تو وہ بھی برطانیہ میںکرتے ہیں…
یہ پاکستان میں ہوتے ہیں تو شیر اور بھیڑیئے بن کر ظلم برساتے ہیں… مگر جب برطانیہ
کے ائیر پورٹ پر اُترتے ہیں تو ’’بھیڑ‘‘ بن جاتے ہیں… یہ برطانیہ کے دماغ سے سوچتے
ہیں… برطانیہ کا لباس پہنتے ہیں… برطانیہ کی زبان بولتے ہیں… اور برطانیہ کو ہی
اپنا ماں باپ سمجھتے ہیں…افسوس کہ… برطانیہ کے یہ موذی غلام… ہمارے حکمران ہیں… یا
اللہ !ہم پر رحم فرما اور غلاموں کی غلامی سے ہماری حفاظت فرما۔
لٹیرے کے بدمعاش
انگریز جب برصغیر میں ایک تاجر کے روپ
میں آیا تو یہاں مسلمانوں کی حکومت تھی… شاطر انگریز نے… ایسٹ انڈیا کمپنی کی آڑ
میں… سازشوں کا جال بچھایا اور ’’ہندوؤں ‘‘ کو اپنے ساتھ ملا کر… مسلمانوں کے
اقتدار کو سمیٹنا شروع کر دیا… بہت طویل اور دردناک داستان ہے … بالآخر انگریز نے
برصغیر پر قبضہ کر لیا…انگریز کے خلاف کئی تحریکیں اُٹھیں… ہزاروں مسلمان شہید
ہوئے … انگریزوں نے ظلم و بربریت کی ایک تاریک داستان رقم کی… وہ سب اپنی جگہ…
مگرایک اہم بات یہ ہے کہ انگریز فطری طور پر ایک’’ لٹیرا‘‘ ایک ’’ڈاکو‘‘ اورایک
’’حریص چور‘‘ ہے… آپ فرنگی کی مکمل تاریخ پڑھ لیں… خلاصہ یہی نکلے گا کہ… فرنگی
دراصل ایک ’’لٹیرا‘‘ ایک’’ ڈاکو‘‘ اور ایک’’ چور‘‘ ہے…چنانچہ
جہاں بھی انگریزوں نے حکومت کی… وہاں لوٹ مار مچائی اور وہ لوٹ کا مال برطانیہ
بھیجتے رہے… برطانیہ میں نہ زیادہ تیل نکلتا ہے اور نہ گیس… نہ وہاں کوئی بہت بڑی
زراعت ہے… اور نہ زیر زمین بڑی بڑی کانیں … وہ بس سردی اور بارش سے جما ہوا ایک بے
رونق خطہ ہے… نہ موسم اچھا نہ زمین اچھی… مگر لوٹ مار کے مال سے انگریزوں نے اسے
دنیا کا آباد ترین اور مالدار ترین ملک بنا دیا ہے… انگریز جب برصغیر سے جا رہا
تھا تو اس نے یہاں کا اقتدار… اپنے اُن نوکروں اور بدمعاشوں کے سپرد کرنے کا
انتظام کر دیا… جو انگریز کے زمانے میں… انگریز کی مکمل چاکری کرتے تھے… چنانچہ
آج یہ حالت ہے کہ… ہمارے ملک کا اکثر پیسہ خود بخود انگریز کی جیب میں پہنچ جاتا
ہے… بلکہ شاید انگریز نے اپنے دور حکومت میں اس ملک کو اتنا نہ لوٹا ہو… جتنا کہ
آج انگریز کے ’’کن ٹٹے ‘‘ بدمعاش اس ملک کو لوٹ کر… یہاں کا مال انگریز کو پہنچا
رہے ہیں … دو دہائیوں تک… کراچی کے تقریباً ہر تاجر سے بھتہ وصول کیا جاتا تھا…
اور یہ ساری رقم … ایم کیو ایم کے گرو کو ’’برطانیہ‘‘ میں بھیج دی جاتی تھی … اور
یوں غریب پاکستانیوں کا مال… برطانیہ کی معیشت کا خون بن جاتا تھا… پھر پیپلز
پارٹی کی حکومت آئی تو ان کا رخ بھی برطانیہ کی طرف رہا…پاکستان کی عوام کا
مال…دھڑادھڑ برطانیہ پہنچتا رہا… جس سے وہاں محلات خریدے گئے…اور پھر نون لیگ نے
تو … برطانیہ ہی کو اپنا ’’قبلہ‘‘ بنا لیا … کتنے شرم کی بات ہے کہ ایک شخص
پاکستان کا وزیراعظم بنا ہوا تھا… اور وہ خود کو اس ملک کا مالک سمجھتا تھا… مگر
اس کے دونوں بیٹے برطانیہ میں کاروبار کر رہے تھے… اور برطانیہ میں دھڑا دھڑ
جائیدادیں اور جاگیریں خرید رہے تھے… اور جب اس شخص کو ’’نا اہل‘‘ قرار دے کر نکال
دیا گیا تو وہ سیدھا برطانیہ جا پہنچا… اور آج برطانیہ میں پاکستان کی سیاست اور
حکومت کے فیصلے ہو رہے ہیں… سر سے پاؤں تک انگریز کی غلامی میں جکڑے ہوئے… ان بے
ضمیر لوگوں سے خیر کی کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ … اقبال رحمہ اللہ کہتے
ہیں؎
بھروسا کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر
جسے زیبا کہیں آزاد بندے، ہے وہی زیبا
آخر کب تک
ہمارے ملک میں روز نئے قوانین بن رہے
ہیں… کبھی مدارس کے خلاف اور کبھی مساجد کے خلاف… کبھی ختم نبوت کے خلاف تو… کبھی
ملک میں بڑھتی ہوئی دینداری کے خلاف…پوری پارلیمنٹ بیٹھ کر … کئی دنوں میں یہ
قانون بناتی ہے کہ… ایک ’’نا اہل‘‘ شخص کو سیاسی پارٹی کا صدر بنایا جا سکتا ہے…
لیکن آج تک ہماری پارلیمنٹ یہ قانون نہیں بنا سکی کہ… پاکستان کا حکمران صرف وہی
شخص بن سکتا ہے جو مکمل پاکستانی ہو… جو پورا مسلمان ہو… آج آپ پاکستان کے اُن
سابقہ حکمرانوں کو تلاش کریں جو زندہ ہیں… یہ سب آپ کو یورپ ، امریکہ اور برطانیہ
میں ملیں گے… آخر اس ملک کے ساتھ ایسا بدنما مذاق کیوں کیا جا رہا ہے؟کیا ملک میں
یہ قانون نہیں بن سکتا کہ… پاکستان کا حکمران صرف وہ شخص ہو گا… جو اپنے اہل خانہ
کے ساتھ پاکستان میں رہتا ہو اوریہ آئندہ پوری زندگی پاکستان میں رہے گا… اور وہ
بیرون ملک کوئی جائیداد نہیں خریدے گا… اور وہ اپنا اور اپنے اہل خانہ کا علاج
پاکستان ہی میںکرائے گا؟
آخر ایسے لوگوں کو ہم پر حکمرانی کا
کیا حق ہے جو… اس ملک میں رہنا بھی گوارہ نہیں کرتے… یہاں اپنا علاج بھی نہیں
کراتے… اور یہاں کا مال لوٹ کر استعماری ممالک میں خرچ کرتے ہیں…یہی لوگ پاکستان
کی ’’بد امنی‘‘ کے اصل ذمہ دار ہیں… یہی لوگ پاکستان کی غربت کا اصل سبب ہیں… اور
یہی لوگ اس ملک کے لئے… ہر دہشت گرد سے بڑے دہشت گرد ہیں… یہ جب دشمن ملکوں میں
اپنے بچے اور اپنی جائیدادیں رکھتے ہیں تو پھر… یہ ان ملکوں کی خاطر کچھ بھی کر
سکتے ہیں… یہ وہاں کی پالیسیاں ہم پر نافذ کرتے ہیں… اور اُن کے دباؤ میں ہم پر
مظالم ڈھاتے ہیں… اللہ تعالیٰ ان ظالموں اور غلاموں کی… غلامی سے ہماری حفاظت
فرمائے۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہمیں ’’یقین‘‘ کی دولت عطاء
فرمائیں… اللہ تعالیٰ کی ذات کا یقین… اللہ تعالیٰ کی باتوں کا یقین…اللہ تعالیٰ
کے وعدوں کا یقین… ہاں بے شک!یقین بڑی نعمت ہے… اور بے یقینی بڑا وبال…
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ
اِیْمَانًا دَائِمًا وَّیَقِیْنًا صَادِقًا۔
دیوانہ چھا گیا
جمعۃ المبارک کے دن … جمعہ نماز کی پہلی
اذان ہوتے ہی ’’خرید و فروخت‘‘ ناجائز ہو جاتی ہے… صرف خرید و فروخت ہی نہیں بلکہ…
ہر وہ کام جو جمعہ نماز کے لئے جانے میں رکاوٹ بنے… گپ شپ ہو یا کھیل کود… نیند ہو
یا مطالعہ …یاکچھ بھی… جمعہ کی اذان کے بعد سب ناجائز … اب ایک ہی کام کرنا ہے…
اور وہ ہے جمعہ نماز کے لئے لپکنا… یعنی اہتمام و شوق سے جانا… یہ بڑا اہم مسئلہ
ہے… آج اسی پر لکھنے کا ارادہ تھا… کئی فتاویٰ اور حوالے بھی جمع کر رکھے تھے…
مگر ایک ’’دیوانہ‘‘ دل و دماغ پر چھا گیا… اور اس نے خیالات سے لے کر آنسوؤں تک
ہر جگہ اپنی حکومت قائم کر لی… پھر کوئی اور موضوع کس طرح یاد رہتا؎
سب کچھ لٹا کے راہِ محبت میں اہلِ دل
خوش ہیں کہ جیسے دولتِ کونین پا گئے
صحنِ چمن کو اپنی بہاروں پہ ناز تھا
وہ آگئے تو ساری بہاروں پہ چھا گئے
جگر مرحوم نے بالکل درست فرمایا؎
میں ہوں دیوانۂ بے کس کہ جب گلشن میں
جا نکلا
تو اک شورِ قیامت ہو گیا برپا عنادل میں
اللہ تعالیٰ ہمیں یقین نصیب فرمائے…
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’شہید کے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں چھ
خصوصی انعامات ہیں:
١ خون
کے پہلے قطرے کے ساتھ اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے اور جنت میں اس کا مقام اس کو
دکھلا دیا جاتا ہے۔
٢ اسے
عذاب قبر سے بچا لیا جاتا ہے۔
٣ قیامت
کے دن کی بڑی گھبراہٹ سے وہ محفوظ رہتا ہے۔
٤ اس
کے سر پر وقار کا تاج رکھا جاتا ہے جس کا ایک یاقوت دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے
بہتر ہے۔
٥ بہتّر(۷۲ )حورعین سے اس کا نکاح کرا دیا جاتا ہے۔
٦ اور
اس کے اقارب میں ستر کے بارے میں اس کی شفاعت قبول کی جاتی ہے۔‘‘
[سنن ترمذی۔حديث رقم: ۱۶۶۱، ناشر:دار الکتب العلمیہ۔ بیروت]
سبحان اللہ !کیسے بلند فضائل ہیں… اور
کیسے اونچے مقامات… جن کو یقین ہے وہ پالیتے ہیں… اور اُن کا راستہ ہی اُن کی منزل
بن جاتا ہے… اسی لئے ’’دیوانے‘‘ کامیاب رہتے ہیں؎
یوں تو ہونے کو گلستاں بھی ہے ویرانہ
بھی ہے
دیکھنا یہ ہے کہ ہم میں کوئی دیوانہ بھی
ہے
حاصلِ ہر جستجو آخر یہی نکلا جگر
عشق خود منزل بھی ہے ، منزل سے بے
گانہ بھی ہے
جان بے قرار
ابھی صرف اکیس دن پہلے ایک مجلس سجی… اس
میں کلمہ طیبہ، نماز اور جہاد کی دعوت کے ساتھ ’’شہادت‘‘ بھی بیان ہوئی… شہید کی
زندگی، شہداء کرام کی حیات… اور قرآن مجید کا اعلان {بَلْ اَحْیَاءٌ} اس مجلس میں
وہ ’’دیوانہ‘‘ بھی تھا اور بھی بہت سے ’’دیوانے تھے‘‘… چمکتی ، مسکراتی … نور یقین
سے دمکتی…سچے آنسوؤں سے بھیگتی آنکھیں… اور انتظار کی گرم گرم آہیں… پھر ایک
رات وہ ملنے آ گیا اور سینے سے لپٹ گیا… میں جا رہا ہوں؎
پھر دل ہے قصد کوچۂ جاناں کیے ہوئے
رگ رگ میں نیشِ عشق کو پنہاں کیے ہوئے
پھر عزلتِ خیال سے گھبرا رہا ہے دل
ہر وسعتِ خیال کو زنداں کیے ہوئے
پھر چشم شوخ دیر سے لبریز شکوہ ہے
قطروں کو موج، موج کو طوفاں کیے ہوئے
پھر جان بے قرار ہے آمادۂ فغاں
سو حشر اک سکوت میں پنہاں کیے ہوئے
پھر کیف بے خودی میں بڑھا جا رہا ہوں
میں
سب کچھ نثار شوقِ فراواں کیے ہوئے
’’قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائیں گے
تم میرے ان دوستوں کو لے آؤ جنہوں نے میری رضا کے لئے اپنا خون بہایا تھا، پھر
شہداء آئیں گے اور قریب ہو جائیں گے۔‘‘
[ کتاب الجہاد لابن مبارک۔ص:۸۲،رقم الحدیث:۴۲،ناشر:دار المطبوعات الحدیثیہ ۔جدہ]
سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ کے قریب… اللہ
تعالیٰ کے دوست… اللہ تعالیٰ کے پیارے… دیوانوں کو ان کی دیوانگی مبارک ہو؎
واہ رے شوق شہادت! کوئے قاتل کی طرف
گنگناتا،رقص کرتا، جھومتا جاتا ہوں میں
میری ہستی شوق پیہم، میری فطرت اضطراب
کوئی منزل ہو مگر گذرا چلا جاتا ہوں میں
زندگی کی تلاش
زندگی یعنی ’’ حیات‘‘ بڑی نعمت ہے… دنیا
اور آخرت کی ہر نعمت اسی ایک نعمت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے… اگر زندگی نہ ہو تو… پھر
کچھ بھی نہیں ہوتا… اللہ تعالیٰ نے ’’انسان‘‘ کو زندگی بخشی… جب انسان نے زندگی
دیکھی تو اس کا عاشق ہو گیا … جان ہے تو جہان ہے۔
انسان جانتا ہے کہ… وہ موت سے نہیںبچ
سکتا… مگر پھر بھی وہ یہی کوشش کرتا رہتا ہے کہ اس کی زندگی قائم رہے … باقی رہے…
ماضی کے لوگوں نے طرح طرح کی دوائیاں بنائیں… طرح طرح کے وظیفے کئے… اور اب
سائنسدان اسی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ … انسان کس طرح زیادہ سے زیادہ لمبی زندگی
پا لے… مگر ابھی تک کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی… انسان نے ہر حال میں مرنا ہی
ہوتا ہے… مصر کے فرعونوں نے اپنی لاشیں محفوظ رکھنے کی دوائیاں ایجاد کی… اُن کا
خیال تھا کہ… جسم اور روح میں گہرا رشتہ ہے …دونوں سالہا سال اکٹھے رہے ہیں… اب
’’روح‘‘ اس ’’جسم‘‘ سے روٹھ کر چلی گئی ہے… لیکن اگر جسم سلامت رہا تو کسی دن
’’روح‘‘ واپس آ جائے گی… لوگ دنیا میں شادیاں کرتے ہیں… تاکہ اولاد ہو… اور اولاد
اپنی زندگی کا حصہ ہوتی ہے… اولاد اور نسل چلتی رہے گی تو گویا کہ انسان کی زندگی
چلتی رہے گی … کئی لوگ یادگار عمارتیں بناتے ہیں کہ… ان عمارتوں کے ذریعہ ان کا
نام زندہ رہے گا… خلاصہ یہ کہ… انسان زندگی کے پیچھے دوڑ رہا ہے … مگر اپنی محدود
عقل کی وجہ سے ابھی تک… موت کو شکست دینے کا رازوہ معلوم نہیں کر سکا… انسان بے
چارہ ہے بھی کتنا سا؟…پانچ چھ فٹ کا ایک کمزور سا ڈھانچہ… جبکہ کائنات بہت بڑی ہے…
اتنا بڑا آسمان، اتنی بڑی زمین… بڑے بڑے سمندر اور پہاڑ… سورج اور چاند… انسان
ابھی تک اپنی زمین کو پورا نہیں دیکھ سکا… جبکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں… زمین سے
بڑے بڑے سیارچے، ستارے اربوں کھربوں کی تعداد میں موجود ہیں… سائنسدان ابھی تک ان
ستاروں کی گنتی نہیں کر سکے جو نظر آ رہے ہیں… مگر وہ کتنے ہوں گے جو نظر نہیں آ
رہے؟…
اتنی بڑی کائنات… اتنا وسیع نظام… نہ
انسان اس کے بارے میں سوچ سکتا ہے اور نہ اندازہ لگا سکتا ہے… پھر اللہ تعالیٰ جو
اس کائنات کا خالق ہے… وہ کتنا عظیم ہوگا؟… اللہ اکبر کبیرا …اسی اللہ تعالیٰ نے
موت بھی بنائی اور زندگی بھی …اور یہ فیصلہ سنا دیا کہ ہر زندہ نے ضرور مرنا ہے …
پھر موت سے کون بچ سکتا ہے؟ … موت کو کون شکست دے سکتا ہے؟… فرعونوں کی لاشیں
دوبارہ زندہ نہ ہو سکیں… البتہ لوگوں کے ہاتھ کا کھلونا بن گئیں… فاتحین کی
یادگاریں اور عمارتیں… طوفانوں اور زلزلوں نے گرا دیں … اب وہی ’’رب کائنات‘‘ اپنی
سچی کتاب میں… زندگی کا راز بیان فرماتا ہے کہ … میرے راستے میں جان دے دو… اور
مجھ سے ’’زندگی‘‘ لے لو … بس موت کو شکست دینے کا یہی ایک طریقہ ہے… شہادت فی سبیل
اللہ … اسی لئے قرآن مجید میں دو جگہ بڑی تاکید کے ساتھ فرما دیا… {بَلْ
اَحْیَاءٌ} کہ شہید زندہ ہے … یہ کوئی اعزازی اعلان نہیں… بلکہ انعامی اور حقیقی
اعلان ہے… پھر مزید تاکید کے لئے فرمایا کہ… وہ اللہ تعالیٰ کا رزق بھی کھا پی رہے
ہیں … برزخ کی روحانی زندگی کھانے پینے کی محتاج نہیں… مگر یہ شہید کی الگ اور خاص
زندگی ہے جس میں وہ کھاتا پیتا بھی ہے… شہداء کی غمزدہ ماؤں کو… کیسی عظیم
خوشخبری ہے… تم یہی چاہتی تھیں کہ تمہارا بیٹا اچھا کھائے، اچھا پیے… وہ دیکھو!
{عِنْدَ رَبِّھِمْ یُرْزَقُوْنَ} … وہ اپنے رب کا رزق کھا پی رہا ہے… ایسا رزق تم
تو انہیں نہیں دے سکتی تھیں… پھر ساتھ مزید تاکید کے لئے … یہ بھی فرما دیا کہ وہ
بہت خوش ہیں اور خوشیاں منا رہے ہیں… {بَلْ اَحْیَاءٌ} … {بَلْ اَحْیَاءٌ} … وہ
زندہ ہیں… وہ زندہ ہیں… معلوم ہوا کہ… موت اُن پر آئی مگر شکست کھا گئی اور ان کے
لئے زندگی بن گئی… شہید کے مرنے کا انکار نہیں … وہ ضرور مرا ہے… مگر اس کے مردہ
ہونے کا انکار ہے کہ … وہ موت آنے کے بعد مردہ نہیں ہوا… انہیں مردہ کہو گے تو
قرآن کے نافرمان… انہیں مردہ سمجھو گے تو قرآن کے نافرمان… تو پھر ہم انہیں کیا
سمجھیں…فرمایا:{بَلْ اَحْیَاءٌ} … وہ زندہ ہیں…انہیں زندہ مانو… انہیں زندہ
سمجھو…ہاں! ان کی یہ زندگی… تمہاری محدود عقل سے سمجھی نہیں جا سکتی… مگر تم نے نہ
عرش دیکھا… نہ کرسی… مگر یقین رکھنا ضروری ہے کہ… عرش بھی ہے اور کرسی بھی… پس اسی
طرح یہ یقین رکھنا لازمی ہے کہ… شہید زندہ ہے… دیوانے کو سلام… دیوانے کو پیار… اس
کے ہم سفر اور ہم منزل کو سلام۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کیا فرما رہے ہیں؟ اے اللہ
کے پیارو! … اللہ تعالیٰ کی رضاء کے طلبگارو!… اللہ تعالیٰ کے وفادارو!سنو، سنو!
اللہ تعالیٰ تمہیں آواز دے کر پکار رہے ہیں:
{یٰااَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا}
’’اے ایمان والو!‘‘
اس کا ایک ترجمہ یہ بھی ہے:
’’ اے اللہ تعالیٰ سے شدید محبت رکھنے
والو!‘‘
{وَالَّذِیْنَ آمَنُوْا اَشَدُّ حُبًّا
لِلّٰہِ} [البقرۃ :۱۶۵]
یہ اٹھائیسواں پارہ ہے… سورۃکا
نام ’’سورۃ الجمعہ‘‘ ہے… ارشاد فرمایا:
{یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا
اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ
اللہِ وَذَرُوا الْبَیْعَ ط ذٰلِکُمْ خَیْرٌلَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ
تَعْلَمُوْنَ}
ترجمہ:’’ اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن
نماز کے لئے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو اور خرید و فروخت چھوڑ دو یہ
تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم کو سمجھ ہے۔‘‘ [الجمعہ ۔آیت: ۹]
اس آیت مبارکہ سے پہلے یہودیوں کا
تذکرہ ہے… اُن کے پاس علم بہت تھا، بہت سی باتیں سمجھتے بوجھتے تھے… مگر عمل میں
بہت پیچھے تھے… اس گدھے کی طرح جس پر کتابیں لدی ہوں… مگر اسے اُن کتابوں کا کیا
فائدہ؟ … وجہ یہ تھی کہ… یہودی دنیا پرست تھے… مال کے لالچی اور حریص … زبان سے
دینداری اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے دعوے بہت کرتے تھے… مگر دنیا کی حرص اور لالچ
کی وجہ سے دین کی خاطر کوئی قربانی نہیں دیتے تھے …یہاںتک کہ دنیا کے دھندوں میں
مشغول ہو کر اللہ تعالیٰ کی سچی یاد سے بھی غافل ہو جاتے تھے… اس آیت میں
مسلمانوں کو سمجھایا گیا کہ… یہودیوں کی طرح مت بننا… اور جمعہ کے دن کی عبادت کی
بہت قدر کرنا… جب جمعہ کی اذان ہو جائے تو فوراً مسجد میں پہنچ جانا، خاموشی سے
خطبہ سننا اور نماز ادا کرنا… حدیث میں ہے کہ… جو کوئی خطبہ کے وقت بات کرے وہ اس
گدھے کی طرح ہے جس پر کتابیں لدی ہوں… یعنی اس کی مثال یہود کی سی ہوئی ۔العیاذ
باللہ [ مفہوم تفسیر عثمانی]
صرف خرید وفروخت ہی نہیں
تفسیر بغوی میں ہے:
وقال الضحاک: اذا زالت الشمس حرم البیع
والشراء۔
حضرت امام ضحاک رحمہ
اللہ فرماتے ہیں:’’ جب جمعہ کے دن سورج کا زوال ہو جائے(یعنی نماز جمعہ
کا وقت داخل ہو جائے) تو خرید و فروخت حرام ہو جاتی ہے۔‘‘
[ تفسیر بغوی]
حضرت عطاء بن رباح رحمہ
اللہ فرماتے ہیں:
’’ جب جمعہ کی پہلی اذان ہو جائے تب
خرید و فروخت، صنعت و حرفت ، کتابت (یعنی کچھ لکھنا) بیوی کے پاس جانا، کھیل تفریح
سب منع ہے۔‘‘ [کمالین]
حضرت مفتی شفیع صاحب رحمہ
اللہ لکھتے ہیں:
’’ باتفاق فقہائے امت یہاں ’’ بیع‘‘ سے
مراد(صرف) فروخت کرنا نہیں… بلکہ ہر وہ کام جو جمعہ کی طرف جانے کے اہتمام میں مخل
ہو وہ سب ’’ بیع‘‘ کے مفہوم میں داخل ہے… اس لئے اذان جمعہ کے بعد کھانا پینا،
سونا، کسی سے بات کرنا ، یہاں تک کہ کتاب کا مطالعہ کرنا وغیرہ سب ممنوع ہیں ۔
‘‘ [معارف القرآن]
ایک فتویٰ
ایک صاحب نے دارالعلوم دیوبند کے دار
الافتاء سے یہ مسئلہ معلوم کیا:
’’ میں مسجد کے گیٹ پر جمعہ کے دن ٹوپی،
عطر ، کتابیں بیچتا ہوں، مجھے کسی شخص نے کہا کہ پہلی اذان کے بعد کاروبار کرنا
حرام ہے تو میں اس کے بعد اذان ہوتے ہی سامان پر کپڑا ڈال دیتا مگر جب اذان کے
بعدمیں جانے لگتا تو لوگ ٹوپی مانگتے، میں اُن کو کہتا کہ بعد میں لینا اب بند ہو
گیا ہے تو لوگ ناراض ہوتے کہ… ٹوپی نماز کے لئے چاہیے بعد میں کیا کرنی ہے… اب اس
حالت میں میرے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟‘‘
دارالافتاء نے جواب دیا:
’’جمعہ کی پہلی اذان کے بعد جمعہ کے لئے
سعی کرنا ضروری ہے اور کاروبار خریدو فروخت ناجائز ہے اور مکروہ تحریمی ہے… مسجد
اور مسجد کے گیٹ پر بیچنا خریدنا زیادہ گناہ ہے لہٰذا آپ اذان اول کے بعد سامان
فروخت کرنا بند کر دیں، لوگوں سے کہیں کہ وہ پہلے ہی ٹوپیاں خرید لیا کریں، کیونکہ
جس طرح فروخت کرنا ممنوع ہے، خریدنا بھی ممنوع ہے ، دوسروں کی وجہ سے خود کو گناہ
میں ڈالنا مناسب نہیں ۔‘‘ [ دارالافتاء دارالعلوم دیوبند]
حضرت ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر مدظلہ
العالی تحریر فرماتے ہیں:
’’اس بارے میں ایک دوسرا قول یہ ہے کہ
محلے کی اذان کے ساتھ سعی واجب ہو گی اور خریدو فروخت ممنوع ہو گی اور یہی دوسرا
قول زیادہ وزنی معلوم ہوتا ہے… جوتاجر اپنے ملازمین کے لئے باریاں مقرر کرتے ہیں
یا خود ایسا کرتے ہیں تاکہ عبادت بھی ہو جائے اور تجارت کا بھی حرج نہ ہو وہ
ناجائز حیلہ کرتے ہیں۔‘‘
[آپ کے مسائل اور ان کا حل]
شیطانی بدعت
جمعہ کے دن کے فضائل ’’ بے شمار‘‘ ہیں…
یہ دن زمین، آسمان سے لے کر جنت اور جہنم تک اپنے اثرات رکھتا ہے… یہ سب سے
بہترین، سب سے زیادہ خیر والا اور افضل دن ہے… اور یہ دن صرف امت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیب ہوا ہے… اور اس دن نے اس امت
کو بہت عظیم ترقی دی ہے… یہ دن دوسرے دنوں کے مقابلے میں اس طرح ہے جس طرح رمضان
المبارک باقی مہینوں کے مقابلے میں… اس دن کی سب سے اہم عبادت جمعہ کی نماز ہے…
اور جمعہ کی نماز میں جلدی آنے کے بڑے عظیم الشان فضائل ہیں…حتٰی کہ احادیث
مبارکہ میں یہاںتک آیا ہے کہ… جمعہ نماز کے لئے جلدی جانے والوں کو ایک ایک قدم
پر… ایک ایک سال کے قیام و صیام کا اجر ملتا ہے… اور یہ اللہ تعالیٰ کے لئے کچھ
مشکل نہیں… حضرت امام غزالی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ… پہلے زمانے میں…
مسلمان صبح فجر سے پہلے اور فجر کے وقت ہی جامع مسجد کی طرف روانہ ہو جاتے تھے…اور
جمعہ ادا کرنے تک وہاں رہتے تھے… حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ
عنہ ایک بار اسی طرح جلد جامع مسجد پہنچے تو… تین افراد ان سے پہلے
پہنچ چکے تھے… اس پر انہوں نے اپنے نفس کو ملامت فرمائی… مگر اب کیا حالات ہیں؟…
آپ اگر جلدی جمعہ نماز کے لئے چلے جائیں تو… مساجد بند ملتی ہیں… عام لوگوں کو تو
چھوڑیں… دین کا علم رکھنے والے بھی اس عمل سے اکثر غافل نظر آتے ہیں… صبح صبح
جانا تو درکنار… آپ زوال کے وقت بھی چلے جائیں تو بعض لوگ گھبرا جاتے ہیں اور
مسجد بھی اکثر بند ملتی ہے… آخر یہ زوال کس طرح سے آ گیا…جمعہ کے فضائل آج بھی
لوگوں کو معلوم ہیں… جمعہ نماز کے لئے جلدی آنے کے فضائل کا بھی… علماء اور عوام
کو علم ہے… مگر پھر عمل کیوں نہیں؟…حضرت امام غزالی رحمہ اللہ کا خیال
ہے کہ … شیطان نے مسلمانوں کو ’’عظیم خیر‘‘ سے محروم کرنے کے لئے سب سے پہلے جو
’’بدعت‘‘ ایجاد کی… وہ یہی ہے کہ… مسلمانوں نے جمعہ نماز کے لیے جلدی آنا چھوڑ
دیا… امام صاحب لکھتے ہیں:
’’قرن اول میں سحر کے وقت اور صبح صادق
کے بعد راستے آدمیوں سے بھر جاتے تھے کہ روشنی لے کر…عید کے دنوں کی طرح جامع
مسجد کی طرف مجمعے بڑھتے تھے، یہاں تک کہ یہ بات پرانی ہو گئی اور جاتی رہی اور
کہتے ہیں کہ اسلام میں اول بدعت یہی ہوئی کہ جمعہ کے روز سویرے جانا چھوڑ دیا… اور
مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ سے بھی شرم نہیں آتی کہ وہ اپنے عبادت خانوں میں ہفتے
اور اتوار کو سویرے جاتے ہیں اور دنیا کے طالب، خرید و فروخت اور نفع کے بازاروں
میں کیسے صبح سویرے جاتے ہیں۔‘‘
[احیاء علوم الدین۔ ج:۱،ص:۲۲۱،ناشر:دار المعرفة - بيروت]
امام صاحب نے سچ فرمایا… دراصل جمعہ کے
دن جلدی جمعہ نماز کے لئے جانے سے جو ’’خیر‘‘ ملتی ہے… وہ بڑی قیمتی
ہے… اور شیطان نہیں چاہتا کہ مسلمان اس خیر کو پالیں… چنانچہ اب تو رواج ہی ختم ہو
گیا… اور ہر طرف محرومی نے اپنے جال بچھا دئیے… اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ’’بندہ‘‘
تیس سال سے مسلمانوں کو اس کی دعوت دے رہا ہے… زندگی کا جو پہلا پمفلٹ لکھا وہ اسی
موضوع پر تھا… دہلی کالونی کراچی کے ایک دوست نے …اس مختصر پمفلٹ کے دس ہزار
اسٹیکرز چھپوائے… پھر بیانات بھی اس موضوع پر ہوتے رہے… اور الحمد للہ ماحول میں
اچھی تبدیلی آئی… اور بیان شروع ہونے سے پہلے کافی لوگ مسجد پہنچنے لگے… مگر
عمومی طور پر اس ’’دعوت‘‘ کو کامیابی نہیں ملی… ہر محلے اور مسجد میں بس دوچار
افراد اس پر عمل کرتے ہیں… وجہ یہ ہے کہ جن کے ذمہ یہ مسئلہ سمجھانا تھا… وہ خود
ابھی تک جمعہ کی اس ’’خیر عظیم‘‘ کی طرف اجتماعی طور پر متوجہ نہیں ہیں… آج اُمت
مسلمہ کو بہت زیادہ ’’خیر‘‘ کی ضرورت ہے… حضرات علماء اور خطباء کو چاہیے کہ… پہلے
اس مسئلے کو ایک بار مکمل توجہ اور شعور سے پڑھیں…{ذٰلِکُمْ خَیْرٌلَّکُمْ} کی صدا
کو اپنے دل میں بٹھائیں… اس پر مستقل عمل کریں… اور پھر مسلمانوں کو اس کی دعوت
دیں … آج تو نعوذ باللہ… خیر کی جگہ عذاب کو دعوت دی جا رہی ہے… کھلم کھلا
کاروبار بھی چلتا ہے… بازار بھی بھرے رہتے ہیں… اور اُمت کی اکثریت جمعہ کی خیر،
جمعہ کی برکت اور جمعہ کی قوت سے محروم رہتی ہے۔
تفصیل چھوڑیں، عمل اپنائیں
اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو صدا لگا
دی کہ… اذان کے بعد ’’ذکر اللہ‘‘ کی طرف لپکنا ہے… {فَاسْعَوْا} کے معنٰی دوڑنے کے
نہیں … بلکہ شوق اور اہتمام کے ساتھ جلدی جانے کے ہیں… ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے
وعدہ فرما دیا کہ… اس لپکنے پر تمہیں ’’خیر‘‘ ملے گی… سبحان اللہ… اللہ تعالیٰ کی
طرف سے’’ خیر‘‘کا وعدہ… آج کل لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں کہ… کوئی صاحب کشف ملے جو
ہمیں بہتری اور کامیابی کا کوئی راز بتا دے … کوئی نجومیوں کے پاس جا کر پوچھتا ہے
کہ خیر ملنے کی کیا صورت ہے؟…قسمت کب اچھی ہو گی؟…یہاں اللہ تعالیٰ نے جو علیم و خبیر
اور خالق کائنات ہیں… خود فرما دیا کہ جمعہ کے دن جمعہ کی اذان کے بعد… خیر ملتی
ہے… مگر ان کو جو اس وقت سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر… مسجد میں اللہ تعالیٰ کا ذکر یعنی
خطبہ اور نماز کے لئے جلدی پہنچ جاتے ہیں۔
ایک سچے مسلمان کے لئے… اللہ تعالیٰ کا
یہ فرمان اور وعدہ کافی ہے… اب اس میں مزید کسی تفصیل کی ضرورت نہیں… بلکہ ضرورت
اس کی ہے کہ ہر کوئی دوسرے سے بڑھ کر عمل کرے… اور اپنی دنیا اور آخرت کو خیر،
بہتری اور کامیابی سے بھر لے… باقی رہی اس مسئلے کی تفصیل تو وہ حضرات علماء کرام
کے سمجھنے، سمجھانے کی چیز ہے… اور عذر کے وقت رخصت دیکھنے کے لئے ہے… مثلاً خرید
و فروخت کا ناجائزہونا کب سے شروع ہو گا؟… زوال کے بعد یا اذان کے بعد؟… اذان سے
پہلی اذان مراد ہے یا دوسری اذان؟… اگر اذان کے بعد خرید و فروخت کر لی تو اس کا کیا
حکم ہے؟… جمعہ کی اذان کے بعد خریدی ہوئی چیز کا استعمال کرنا جائز ہے یا ناجائز؟…
اور بیچی ہوئی چیز کی قیمت حلال ہے یا حرام؟…آج کل ہرشہر میں… کئی جگہوں پر مختلف
اوقات میں جمعہ ہوتا ہے تو… سعی یعنی جمعہ کی طرف جانے کا وجوب… اور ’’بیع‘‘ یعنی
خرید و فروخت کی حرمت کس مسجد کی اذان سے شروع ہو گی؟…یہ اور ایسے چند دیگر
سوالات… اگر آپ تفصیل معلوم کرنا چاہتے ہیں تو مستند علماء کرام یا مستند کتابوں
میں دیکھ سکتے ہیں…مگر عمل کے لئے سب سے بہتر اور احتیاط والی صورت بس یہی ہے کہ…
جمعہ کے دن زوال سے پہلے جمعہ کے لئے تیار ہو جائیں… اور جیسے ہی جمعہ کا وقت داخل
ہو …جمعہ کی پہلی اذان ہو فوراً جمعہ نماز کے لئے مسجد پہنچ جائیں… اور اگر اس سے
بھی پہلے پہنچ سکتے ہوں تو بہت اچھا ہے۔
اللہ کرے دل کا یہ درد… بے شمار دلوں تک
پہنچ جائے… اور بہت سے مسلمان اس عمل کو… اپنی زندگی کا لازمہ بنا لیں… تاکہ وہ
بھی خیر پائیں… اور اُمت مسلمہ کو بھی… بڑی خیر نصیب ہو۔آمین یا ارحم الراحمین
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا وہ عاشق بندہ… ’’دمشق‘‘
میں پیدا ہوا… پھر وہاں سے مصر کے شہر ’’دمیاط‘‘ جا بسا… ’’دمیاط‘‘ کے مضافات میں
’’الطینہ‘‘ نامی مقام پر… ایک معرکہ میں ’’شہید‘‘ ہوا… واپس ’’دمیاط ‘‘ لایا گیا…
جہاں وہ مدفون ہوا… آج اُس کی یاد بہت شدت سے آ رہی ہے… اُس کی زندہ کتاب میرے
سامنے رکھی ہے… اور اُس کی کامیاب زندگی کے حسین نقشے میرے سامنے مسکرا رہے ہیں …
سلام اے شہید اسلام!
کون تھا وہ؟
تاریخ پیدائش کہیں نہیں ملی… پہلے بھی
تلاش کی تھی، آج پھر ڈھونڈی… ہر جگہ بس تاریخ وفات … یعنی تاریخ شہادت درج ہے…
جمادی الآخر کا مہینہ او ر ۸۱۴ ھ…
ویسے اس اللہ والے فقیر کی حقیقی زندگی ، حقیقی حیات اسی تاریخ سے شروع ہوئی… یعنی
آج سے تقریباً چھ سو سال پہلے… وہ ’’دمشق‘‘ میں پیدا ہوئے… ’’دمشق‘‘ بھی عجیب جگہ
ہے… عشق ہی عشق ہے… برکت والی سرزمین… حضرات انبیاء علیہم السلام کی
سرزمین… زمین پر جنت کی جھلک… اللہ تعالیٰ ملک شام اور دمشق کو آزادی عطاء فرمائے
… وہاں پھر جہاد اُٹھا ہے اور اب عالمی جہادبنتا جا رہا ہے… مجوسیوں، ایرانیوں،
نصیریوں، حوثیوں ، حزبیوں، روسیوں، امریکیوں… اور اسرائیلیوں کے لشکر وہاں تحریک
جہاد کو کچلنے کی اپنی اپنی کوشش کر رہے ہیں… مگر یہ جہاد ان شاء اللہ ایک بار
ماند پڑنے کے بعدبڑی شدت سے اُبھرے گا… ہاں تو وہ اسی ’’دمشق‘‘ میں پیدا ہوئے… دین
کا علم پڑھا اور پھر اس کا حق ادا کر دیا… تفسیر و حدیث کے ساتھ ساتھ علم فرائض
یعنی میراث کے ماہر تھے… حساب اور ہندسہ کے متبحر تھے… فقہ میں امام مانے جاتے تھے
…ساتھ ساتھ داعی بھی تھے…دین اور اصلاح کی دعوت دینے والے … اُن کے زمانے میں ایک
طرف فرنگیوں کی عالم اسلام پر یلغار تھی تو دوسری طرف تاتاری سرگرم تھے… مسلمانوں
میں تیمور لنگ کا شور تھا… تب آپ دمشق سے مصر کی طرف روانہ ہوئے… دراصل ’’محاذ
جنگ‘‘ کا قرب چاہتے تھے… اسلامی سرحد کی ’’رباط‘‘ یعنی پہرے داری کے مزے لوٹنا
چاہتے تھے… اور وہ مٹی بھی اُنہیں اپنی طرف بلا رہی تھی جہاں اُنہوں نے اپنے خون
سے عشق کی بازی جیتنی تھی… اور جہاں گر کر اور پچھڑ کر انہوں نے اپنی محبت کو پانا
تھا، دبوچنا تھا … دمشق کے اس سراپا عشق کا نام ’’احمد‘‘ تھا… والد کا اسم گرامی
’’ابراہیم‘‘ دادا کا نام نامی ’’محمد‘‘… یوں پورا نام بنا’’ احمد بن ابراہیم بن
محمد‘‘… بیٹے کا نام زکریا تھا تو کنیت’’ابو زکریا‘‘ پائی… دین کی شاندار،جاندار
اور ایماندار خدمات کے اعتراف میں اہل علم نے ان کو ’’محی الدین‘‘ کا لقب دیا تھا
وہ بھی نام کا حصہ بنا… دمشق اور دمیاط بھی ان کے نام میں شامل ہوئے… اور اُن کا
مشہور عرف ’’ابن النحاس‘‘ پورے نام پر غالب رہا… پھر شہادت پائی تو’’ شہید‘‘ بھی
کہلائے اور یوں پورا نام بنا… الشیخ ، الشہید محی الدین ابوزکریا احمد بن ابراہیم
بن محمد ابن النحاس الدمشقی الدمیاطی… حضرت علامہ ابن العماد رحمہ
اللہ نے ان کے تذکرے میں لکھا ہے کہ وہ ’’الشیخ، الامام ، العلامہ ،
القدوہ‘‘ تھے… اور ’’داعیۃ الصلاحی ‘‘ بھی تھے… یعنی اصلاح کے داعی… علامہ ابن
حجر رحمہ اللہ ان کے بارے میں لکھتے ہیں:
کان ملازما للجہاد بثغردمیاط وفیہ فضیلۃ
تامۃ وجمع کتاباحافلا فی احوال الجہاد فقتل فی المعرکۃ مقبلا غیرمدبر۔
’’وہ دمیاط کے محاذ پر جہاد کو لازم
پکڑے ہوئے تھے اور یہی اُن کی فضیلت کے لئے کافی ہے اور انہوں نے جہاد پر ایک بڑی
کتاب لکھی اور وہ ایک جنگ میں اس حالت میں شہید ہوئے کہ وہ پیش قدمی کر رہے تھے
اور انہوں نے پیٹھ نہیں دکھائی۔‘‘
کتاب کا عجیب نام
دمشق کے اس صادق عشق نے جہاد پر ایک
کتاب لکھی ہے… ویسے وہ کئی کتابوں کے مصنف ہیں… اُن کی ایک اصلاحی کتاب کا نام ’’
تنبیہ الغافلین‘‘ ہے… ایک کتاب کا نام ’’ المغنم‘‘ بھی ہے… شاید یہ دعاؤں کی کتاب
ہے… چونکہ خود پورے کے پورے ’’عشق‘‘ تھے اس لئے ’’عشق‘‘ کے سارے ’’اجزاء‘‘ اُن میں
بھرپور تھے … مثلاً علم ، جہاد ، شوقِ شہادت، ذوقِ دعاء، شانِ عبادت وغیرہ …بے شک
’’علم‘‘ اگر سچا ہو تو ’’ جہاد‘‘ کی طرف ضرور لے جاتا ہے… اور ’’جہاد‘‘ اگر سچا ہو
تو ’’علم‘‘ سے پیار ضرور سکھاتا ہے… اُن کی اور کتابیں معلوم نہیں دستیاب ہوں گی یا
نہیں … مگر ’’جہاد‘‘ پر انہوں نے جو کتاب لکھی وہ اب تک زندہ ہے، تابندہ ہے… روز
اول کی طرح عشق سے بھرپور اور تاثیر سے معمور ہے… مصنف رحمہ
اللہ نے کتاب کا نام بھی عجیب رکھا ہے… مَشَارِعُ الْاَشْوَاقِ
اِلٰی مَصَارِعِ الْعُشَّاقْ… ’’مشارع‘‘ کہتے ہیں راستوں کو ، راہوں کو…
’’الاشواق‘‘ یہ شوق کی جمع ہے… یعنی شوق کی راہیں، محبت کے راستے… مگر کس طرف؟… ’’
الی مصارع العشاق‘‘ … عاشقوں کے قتل ہو کر گرنے کے مقامات کی طرف … ’’مصارع‘‘ جمع
ہے ’’مصرع‘‘ کی… پچھڑنے کی جگہ ، قتل ہو کر گرنے کی جگہ… مقتل… شہادت گاہ… اور
’’العشاق‘‘ جمع ہے عاشق کی… یعنی شوق اور محبت کے وہ راستے جو سچے عاشقوں کو اُن
کی منزل کی طرف لے جاتے ہیں… اور عاشقوں کی منزل… اُن کی قتل گاہ، شہادت گاہ… یا
مقام شہادت ہے… وہ قتل ہو کر اپنی منزل پر گرتے ہیں اور اسے پا لیتے ہیں… عشق کی
یہ منزل… قتل ہوئے بغیر نہیں مل سکتی… شہید ہوئے بغیر نہیں پائی جا سکتی … اور اسی
کتاب کا دوسرا نام یا نام کا دوسرا حصہ بھی بہت عجیب ہے… مُثِیْرُالْغَرَامِ اِلٰی
دَارِ السَّلَامِ…’’ عاشقوں کو جنت کی طرف اُبھارنے والی‘‘… سُبْحَانَ اللہِ
وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیْمِ
سچی دعوت کی عجیب تاثیر
سچی دعوت… سب سے پہلے خود دعوت دینے
والے پر اثر کرتی ہے… بالکل اُس مشہور زمانہ حریص کی طرح… جس سے پوچھا گیا کہ
تمہارے حرص کا کیا حال ہے؟… کہنے لگا:میرا حرص اتنا بڑھا ہوا ہے کہ… جب کبھی شہر
کے بچے مجھے تنگ کرتے ہیں تو میں انہیں بھگانے کے لئے ویسے ہی کہہ دیتا ہوں کہ…
فلاں جگہ مٹھائی بٹ رہی ہے… وہ بچے ادھر بھاگتے ہیں تو میرا حریص نفس اچھلنے لگتا
ہے کہ کہیں واقعی مٹھائی بٹ نہ رہی ہو… چنانچہ میں ان سے آگے دوڑ کر اس جگہ پہنچ
جاتا ہوں۔
سچے داعی کی یہی حالت ہوتی ہے… وہ
دوسروں کو دعوت دیتا ہے مگر اس دعوت کا زیادہ اثر خود پر محسوس کرتا ہے… اور یوں
وہ سب سے آگے نکل جاتا ہے… اپنے عمل کا اجر الگ، دعوت کا اجر الگ… دعوت کے بعد
عمل میں مزید پختگی کا اجر الگ… اور دعوت کے نتیجے میں عمل کرنے والوں کا اجر الگ…
درجے ہی درجے، مقامات ہی مقامات… حضرت علامہ ابن النحاس رحمہ اللہ نے
اُمت کے درد میں تڑپ کر… اور عشق الہٰی میں ڈوب کر… جو کتاب لکھی اور اس کا
نام’’شوق کے راستے‘‘ منتخب کیا تو… پھر خود بھی شوق کی انہی راہوں میں گہرے اُترتے
چلے گئے… وہ اپنے زمانے کے علمی امام تھے… چاہتے تو علم کی دنیا کے تاجدار بنے
رہتے… وہ بزرگ اور صاحب نسبت تھے… چاہتے تو اصلاح نفس اور اصلاح معاشرہ کی مسند کو
رونق بخشتے… مگر عشق کی راہیں… محبت کے راستے اُن کو چین سے نہیں بیٹھنے دیتے تھے…
چنانچہ وہ مسلسل دس سال تک جہاد میں لگے رہے … اور رباط میں جمے رہے… اُن کے ہاں
’’جہاد‘‘ کوئی وقتی چیز یا عارضی جذبہ نہیں تھا… وہ تو جہاد میں … اپنا وہ
’’مَصرع‘‘ تلاش کر رہے تھے … جہاں انہوں نے لہولہان ہو کر اپنی ’’محبت‘‘ کو دبوچنا
تھا… اور اپنی منزل کو پانا تھا۔
دعوت سچی تھی… داعی بھی سچا تھا… اس کا
درد بھی سچا تھا… اور اس کی آہیں بھی سچی تھیں … چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فضل
فرمایا اور پھر… علم سیدھا عمل سے جا ملا… دعوت سیدھی کردار کے گلے جالگی… قول نے
صداقت کے ہونٹوں کو چوما … اورجہاد کا داعی اور شہادت کا داعی… شہادت کے حیات افزا
جام پینے میں کامیاب ہو گیا… آج کل ہم حضرت شہید ابن النحاس رحمہ
اللہ کی کتاب کا… اٹھائیسواں اور انتیسواں باب مطالعہ کر رہے ہیں … اسی
مناسبت سے آج حضرت علامہ شہید بھی بہت یاد آئے… اور پیارا طلحہ شہید بھی خیالوں
میں… خوب مسکرایا… توفیق ملی تو اس کتاب اور اس کے ترجمے کے بارے میں… مزید کچھ
باتیں اگلے ہفتے ، ان شاء اللہ۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ حضرت امام ابن النّحاس شہید
رحمہ اللہ کو… شہادت، مغفرت اور اکرام کا اونچا مقام عطاء فرمائے…
انہوں نے ’’مشارع الاشواق‘‘ کتاب لکھ کر امت پر احسان فرمایا ہے
…ہم مقبوضہ جموںوکشمیر کے علاقے’’ کوٹ بھلوال ‘‘ کی جیل میں تھے… جہاں
یہ کتاب ہم تک پہنچی… اور یہ ہمارے زخموں کا مرہم… اور راتوں کا سکون بن گئی… کتاب
کے مصنف جیسا کہ آپ نے گذشتہ کالم میں پڑھ لیا… جہاد میں شہید ہو گئے …اللہ
تعالیٰ نے شہداء کے بارے میں قطعی فیصلہ فرمایا ہے کہ وہ زندہ ہیں…{بَلْ اَحْیَاءٌ
}… اور یہ بھی فیصلہ فرمایا کہ … اللہ تعالیٰ اُن کے اعمال کو ضائع نہیں ہونے
دیتا… چنانچہ حضرت مصنف شہید رحمہ اللہ کی یہ عجیب جہادی کتاب بھی…
ضائع ہونے سے بچ گئی… حالانکہ اُس زمانے نہ پریس تھے نہ کمپیوٹر… جبکہ آج کل ہر
سہولت موجودہونے کے باوجود … کوئی کتاب دس سال میں ختم ہو جاتی ہے اور کوئی بیس
سال میں… اور بعض کتابیں تو بس اپنے پہلے ایڈیشن کے بعد ہی… منظر سے غائب ہو جاتی
ہیں… مگر جس کام کو اللہ تعالیٰ نے چلانا ہو، جاری فرمانا ہو تو وہ… بغیر ظاہری
اسباب کے بھی خوب چلتا رہتا ہے… پھر شہداء کے ساتھ تو اللہ تعالیٰ کا معاملہ ہی
بالکل الگ ہے… حیرانی ہوتی ہے کہ… شہداء بالاکوٹ کا پیغام اور دعوت کس طرح سے قریہ
قریہ گلی گلی پھیل گئی…حالانکہ وہ ایسی جگہ شہید ہوئے تھے… جہاں اُن کو دفنانے
کفنانے والا بھی… کوئی قریب نہیں آ سکتاتھا… یعنی ظاہری طور پر بے کسی اور اجنبیت
کا عالم تھا… اپنے وطن سے بہت دور… غربت،مسافری اور مظلومیت… مگر بعد میں یہ ہوا
کہ اُن کے قاتلوں کے نام کسی کو یاد نہیں…جبکہ اُن کے نام بھی زندہ رہے اور کام
بھی زندہ رہا… اور اُن کی دعوت بھی ہر جگہ پھیلی اور آج تک پھیل رہی ہے… اللہ
تعالیٰ نے باحشمت حکمرانوں، صاحب قلم مصنفوں اور علم کے شہسوار داعیوں کو… شہداء
بالاکوٹ کی خدمت پر لگا دیا… اور یوں دو صدیاں گزرنے کے باوجود ان کی زندگی آج
بھی چمکتی ہے اور روشنی بکھیرتی ہے… آپ بھائی محمد افضل گورو شہید رحمہ
اللہ کو دیکھ لیں… ایک طرف مجبوری ، بے کسی اور مظلومیت کا یہ عالم ہے
کہ… پھانسی سے پہلے اہل خانہ تک سے ملاقات نہیں کرائی گئی… حالانکہ آج کی دنیا کا
یہ ایک لازمی قانون ہے… کوئی شخص اگر ملک کے صدر اور وزیر اعظم کا قاتل ہو… یا کسی
نے ہزاروں خون کئے ہوں … ایسے قاتل کو بھی سزائے موت سے پہلے اس کے گھر والوں سے
آخری بار ضرور ملوایا جاتا ہے… مگر ہمارے بھائی محمد افضل گورو شہید رحمہ
اللہ کو یہ سہولت بھی نہیں دی گئی… بس رات کو اچانک انہیں بتایا گیا
کہ… علی الصبح آپ کو پھانسی دی جانی ہے… بے بسی، مجبوری اور گھٹن کا اندازہ
لگائیں کہ… ایک کال کوٹھڑی … چاروں طرف دشمن ہی دشمن… اور درمیان میں ایک نہتا
قیدی… ہر طرف سے طنزیہ جملے، چبھتی نگاہیں، اذیت ناک نگرانی… اور دور دور تک کوئی
بھی اپنا نہیں… نہ یاروں کو خبر، نہ گھر والوں کو علم… نہ اپنے ایڈووکیٹ سے رابطہ
اور نہ جیل کے کسی قیدی دوست تک رسائی… سبحان اللہ! مظلومیت بھی عجیب چیز ہے… اس
کا خیال اور تذکرہ بھی دلوں کو پھاڑنے لگتا ہے…لیکن اللہ تعالیٰ کی شان دیکھیں کہ
’’مظلوم‘‘ کا جو مقام ہے…وہ اگر’’ ظالم‘‘ دیکھ لے تو ساری دنیا کی دولت دے کر… اسے
خریدنے کی کوشش کرے… اور مظلوم اگر شہید بھی ہو تو پھر… اس کے مقام کے کیا کہنے…بس
اتنا سمجھ لیں کہ… راحت ہی راحت ہے، ترقی ہی ترقی ہے… اور کامیابی ہی کامیابی ہے…
بھائی محمد افضل شہید رحمہ اللہ نے… وہ آخری رات قرآن مجیدکے ساتھ
گذاری… صبح ہم نے اُن کی شہادت کی خبر سنی اور پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اُن کی
خدمت پر لگا دیا… آناً فاناً اُن کی کتاب تیار کی گئی… یہ کوئی آسان کام نہیں
تھا … مگر شہید کی زندگی… بہت عجیب ہے… بہت عجیب … بالکل نہ سمجھ آنے والی… مگر
بہت کچھ سمجھانے والی… لوگ طنز کرتے ہیں کہ… جماعتیں زندہ ساتھیوں کی قدر نہیں
کرتیں… شہید ہو جائیں تو سر پر بٹھا لیتی ہیں … ممکن ہے ایسا ہوتا ہو… مگر ہمارے
ہاں الحمد للہ زندوں کی بھی پوری قدر ہے… مگر شہداء کی قدر بہت زیادہ کی جاتی ہے…
وجہ یہ کہ شہداء کی زندگی بلند ہے تو اُن کی قدر بھی زیادہ ہے… اور شہداء کی
روحانی زندگی خود بھی… اپنی قدر دلوں میں اُتارتی ہے … اور اپنی قدر دوستوں اور
دشمنوں سے منواتی ہے… ہم اگر بھائی افضل شہید رحمہ اللہ کی قدر نہ کرتے
تو دنیا میں کوئی پوچھنے والا نہیں تھا…ایصال ثواب ہوتا اور بات ختم… مگر وہ بڑے
شہید تھے… شہداء کے بھی الگ الگ طرح کے مقامات ہیں … افضل شہید رحمہ
اللہ کا مقام … ان شاء اللہ بہت اونچا ہے تو انہوں نے اپنی زندگی منوائی … صرف ایک
اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے ہم نے اُن کے درد اور پیغام کو آگے بڑھانے کا فیصلہ
کیا… آہستہ آہستہ تمام رفقاء بھی ہمنوا بنتے گئے…اور پھر افضل گورو شہید ة رحمہ
اللہ کی کتاب بھی اُٹھی… اجتماع بھی گرجا… اور اُن کے انتقام کی ایک لہر نے… کشمیر
کی تحریک کو دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑا کر دیا… یہ سب کچھ شہید اور شہادت کی کرامت
ہے… بے شک شہید کی زندگی خود کو منواتی ہے… آج انڈیا میں خود وہاں کے کئی
سیاستدان کہہ رہے ہیں کہ… افضل گورو کو پھانسی دینا ایک بڑی غلطی تھی… جسے آج
پورا ملک بھگت رہا ہے۔
یہاں ایک اہم نکتہ سمجھ لیں…
قرآن مجید نے اعلان فرمایا ہے کہ … بعض انبیاء کرام دوسرے بعض انبیاء کرام سے
افضل ہیں… قرآن مجید کے تیسرے پارے کا آغاز ہی اسی علان سے ہو رہا ہے… اب اس
اعلان کا یہ مطلب نہیں ہے کہ نعوذ باللہ… بعض انبیاء کرام علیہم السلام کم درجے
والے ہیں… بلکہ مطلب یہ ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام تمام کے
تمام بڑے رتبے والے ہیں… کوئی بھی صحابی، ولی، شہید، صدیق… کسی نبی کے برابر نہیں
ہو سکتے… ہاں اُن انبیاء علیہم السلام میں سے بعض کا رتبہ دوسرے بعض سے
زیادہ بلند اور اونچا ہے … یہی حال شہداء کرام کا ہے… شہادت بہت اونچی چیز ہے …
بہت بلند مقام اور بہت قیمتی نعمت… کوئی شہید بھی کم اور ادنیٰ درجے والا نہیں ہے…
اور انبیاء کرام علیہم السلام اور صدیقین کے علاوہ کوئی بھی مومن، ولی ، بزرگ کسی
شہید کے برابر نہیں ہو سکتا…ہاں! شہداء کرام میں سے بعض کا رتبہ دوسرے بعض سے
زیادہ بلند اوراونچا ہے… دوسرا نکتہ یہ ذہن میں رکھیں کہ… شہداء میں سے کون کس
مقام کا ہے؟ یہ بات صرف اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے… اور اس کا فیصلہ اس پر موقوف
نہیں کہ اس شہید کا اس کے بعد کتنا چرچہ ہوا؟ … اس کا نام اور کام کتنا پھیلا… اس پر
کتنی کتابیں لکھی گئیں…ان چیزوں کا افضلیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں…بعض شہداء بالکل
گمنام رہتے ہیں مگر ان کے مقامات بہت اونچے ہیں… بعض شہداء کو تو کوئی شہید ہی
تسلیم نہیں کرتا مگر وہ بڑے درجے والے شہداء ہوتے ہیں… شہداء کا نظام اللہ تعالیٰ
ہی جانتا ہے… یہ اللہ تعالیٰ کی پیاری مخلوق ہے … یہ اللہ تعالیٰ کے لاڈلے بندے
ہیں… ان کی حیات یقینی ہے… مگر ہم اس کی حقیقت نہیں سمجھ سکتے… اُن کا کام ضرور
جاری رہتا ہے خواہ نظر آئے یا نہ آئے… اُن کا عمل جاری رہتا ہے … کسی کو محسوس
ہو یا نہ ہو… باقی ہم جو کسی شہید کے بارے میں یہ کہہ دیتے ہیں کہ وہ بڑے درجے
والا شہید ہے تو… یہ اپنے حسن ظن اور بعض شرعی قرائن کو دیکھ کر… ایک ظنی رائے
ہوتی ہے… اور اگر اللہ تعالیٰ شہید کی کوئی کرامت بعد والوں کو دکھا دے تو اس سے
بھی… بعد والے اس کے افضل شہید ہونے کا اندازہ لگا لیتے ہیں… جیسے ہمارے بھائی
افضل گورو شہید رحمہ اللہ … وہ غزوہ ٔہند میں شہید ہوئے، مظلوم شہید ہوئے… آخری
وقت تک ثابت قدم رہے جیسا کہ اُن کی آخری تحریر سے اندازہ ہوتا ہے… اور پھر اُن
کی محبت اور اُن کا درد تیزی سے اہل ایمان کے قلوب میں اُترا … اُن کی کتاب کی
تیاری میں خصوصی نصرت ہوئی اور یہ کتاب خوب مقبول ہوئی… اُن کا اجتماع مثالی رہا…
اور اُن کی قربانی نے دشمن پر ایسے تابڑ توڑ حملے کئے کہ…دشمن پچھتانے پر مجبور
ہوا… اب حال ہی میں شہید ہونے والے ہمارے پیارے طلحہ رشید کی شہادت میں بھی…
محبوبیت ، جذبات اور قبولیت کا عجیب رنگ نظر آ رہا ہے… اُمید ہے کہ ان شاء اللہ
بہت جلد… اُن کی کارروائیوں کا طوفانی آغاز ہو گا اور طلحہ شہید کی کتاب… جو ان
کی سوانح اور دعوت پر مشتمل ہو گی … ان شاء اللہ جلد منظر عام پر آ جائے
گی شہادت کے بعد جس محبت اور کثرت کے ساتھ اُن کے ایصال ثواب کی مجالس ہوئیں…
جس والہانہ انداز میں اُن پر لکھا گیا… یہ سب کچھ اس دیوانے شہید پر اللہ تعالیٰ
کے فضل کی علامات محسوس ہوتی ہیں… اللہ تعالیٰ اسے قبولیت کا اعلیٰ مقام عطاء
فرمائے۔
بات کافی دور نکل گئی… عرض یہ کر رہا
تھا کہ حضرت علامہ ابن النّحاس شہید رحمہ اللہ کی کتاب ’’مشارع
الاشواق‘‘ ماشاء اللہ آج تک چل رہی ہے… اصل کتاب عربی زبان میں ہے… مگر آج
افغانستان سے لے کر کشمیر تک کے گرم محاذوں پر … اس کی اُردو اور پشتو میں تعلیم
ہوتی ہے… پاکستان سے لے کر یورپ کے کئی ممالک تک… مسلمانوں کے گھروں میں اس کی
تعلیم ہوتی ہے … مصنف رحمہ اللہ نے اس کتاب کو اپنے دل کے درد سے ایسا
بھرا ہے کہ… زبان بدلنے یا اتنا زمانہ گزرنے کے باوجود اس کی تاثیر ماند نہیں پڑتی
… مصنف شہید رحمہ اللہ جہاد کے باقاعدہ ’’فقیہ‘‘ ہیں… جہاد کی اتنی گہری سمجھ کسی
کسی کو نصیب ہوتی ہے… مصنف رحمہ اللہ فضائل جہاد کے دوران ایسے
زبردست علمی نکتے بیان فرماتے ہیں کہ… دل عش عش کر اٹھتا ہے… اور می رقصم ، می
رقصم کا نعرہ لگاتا ہے… مقروض آدمی کے شہید ہونے اور قرضے کے معاف ہونے نہ ہونے
پر مصنف رحمہ اللہ نےجو تحقیق لکھی ہے… آپ صرف اسی کو دیکھ لیں
تو مصنف کے پاؤں چومنے کو بے تاب ہو جائیں… ہم کوٹ بھلوال جیل کی پر مشقت زندگی
میں تھے کہ… یہ کتاب وہاں پہنچ گئی… بس پھر کیا تھا یوں لگا کہ… ہمارے مردہ ہوتے
ہوئے عزائم کو اُبھارنے کے لئے… اللہ تعالیٰ کا سچا عاشق، جہاد کا بے تاب دیوانہ
اور شہادت کا دولہا… علامہ ابن النحاس جیل کی دیوار پھاند کر اندر تشریف لے آیا
ہے… بندہ نے مطالعہ شروع کیا تو دل خوشی سے کھلتا چلا گیا… تب مصنف سے یاری اور اس
کتاب سے دوستی ہو گئی… سب سے پہلے تو جیل میں اس کتاب کا درس شروع ہوا… محترم
کمانڈر حافظ سجاد خان شہید رحمہ اللہ اس درس میں پیش پیش رہتے تھے اور
اس پر بہت خوشی کا اظہار کرتے تھے… دوسرا کام یہ ہوا کہ بندہ نے… اس کتاب کے بعض
دلائل کو بنیاد بنا کر مضامین کا ایک سلسلہ شروع کیا… وہ سلسلہ ماشاء اللہ بہت
مقبول ہوا … اور بعد میں’’ دروس جہاد‘‘ کے نام سے شائع ہوا … اور الحمد للہ آج تک
شائع ہو رہا ہے… مگر ان مضامین میں حضرت مصنف رحمہ اللہ کی باتیں کم…
اور میری فضولیات زیادہ ہوتی تھیں… کیونکہ حالات حاضرہ کے تحت اُن کو ڈھالنا مقصود
تھا… یہ دونوں کام چل رہے تھے مگر دل نہیں بھر رہا تھا… بار بار اس کتاب کے اُردو
ترجمے کا داعیہ دل میں اُٹھتا … مگر اپنی کم علمی ، اپنے حالات اور کم ہمتی سینہ
تان کر سامنے کھڑی ہو جاتی… ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ کرنا اور وہ بھی اس
طرح کہ مضمون کی طاقت کمزور نہ ہو… یہ کافی مشکل کام ہے… میرے پاس نہ لغت کی
کتابیں تھیں اور نہ علم کا ماحول… مگر شہید کی کرامت پھر ظاہر ہوئی اور اللہ
تعالیٰ نے اس مشکل کام پر بٹھا دیا… پھر تو رات دن کافرق بھی مٹ گیا اور زمانہ بھی
سمٹنے لگا تھوڑی سی رکاوٹ کے بعد کام ایسا چلا کہ… آج بھی سوچتا ہوں تو شکر کے
ساتھ حیرانی کا غلبہ ہونے لگتا ہے کہ… سب کچھ کیسے ہو گیا؟… کاغذ بھی مل گئے ، قلم
بھی وافر آ گئے… خدمت والے رفقاء بھی میسر رہے، وقت میں بھی برکت ہوئی… اور ساتھ
ساتھ یہ سارا کام ایک عرب ملک کے راستے بذریعہ ڈاک پاکستان بھیجنے کی حیرت انگیز
سہولت بھی ہاتھ لگ گئی… اور یوں الحمد للہ چالیس دن سے کم عرصے میں… ’’فضائل
جہاد‘‘ تیار ہو گئی… یہ نہ ’’مشارع الاشواق‘‘ کا باقاعدہ ترجمہ ہے اور نہ باقاعدہ
خلاصہ … بلکہ کہیں ترجمہ ہے، تو کہیں تشریح، کہیں تلخیص ہے تو کہیں تنقیح اور کہیں
حذف ہے تو کہیں اضافہ … حضرت مصنف شہید رحمہ اللہ کی کرامت کہ ’’فضائل
جہاد‘‘ بھی الحمد للہ مقبول ہوئی… اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس کے کئی زبانوں میں
تراجم بھی ہوئے اور شائع بھی ہو رہے ہیں…’’ فضائل جہاد اُردو‘‘ کی داستان بہت مفصل
اور دلچسپ ہے… یہ کتاب کس کس ملک میں پہنچی… اس کتاب کے کتنے ترجمے ہوئے… یہ کتاب
کتنی بار شائع ہوئی… یہ سب ایک دلچسپ کہانی ہے… جو نہ آج سنانی ہے اور نہ آئندہ
سنانے کا ارادہ ہے… بندہ نے ’’فضائل جہاد‘‘ کا کام گرفتاری سے کچھ عرصہ پہلے …
پاکستان میں شروع کر دیا تھا… دس جلدوں میں کتاب لکھنے کا ارادہ تھا… پہلی جلد
صحیح بخاری کی چالیس احادیث پر مشتمل تیار ہو چکی تھی… اور اردو اور انگلش میں بار
بار شائع ہو چکی تھی… دوسری جلد سے پہلے ہی بندہ گرفتار ہو گیا… جب جیل میں
’’مشارع الاشواق‘‘ ملی تو… اپنی فضائل جہاد کو مکمل کرنے کا ارادہ ترک کر دیا… اور
اسی کتاب کی خدمت کو اپنے لئے سعادت سمجھ لیا… اور فضائل جہاد کی جو ایک جلد پہلے
سے شائع ہو رہی تھی اسے بھی اس کتاب کے آخر میں جوڑ دیا … اور اس مجموعے کا نام
’’فضائل جہاد کامل‘‘ رکھ دیا…اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے قبول فرمائے … گذشتہ دو
ہفتوں سے فضائل جہاد کے باب 28اور 29 کے مطالعے کی ترغیب چل رہی ہے … الحمد للہ
جنہوں نے مطالعہ کیا بہت فائدہ اور تازگی پائی… جنہوں نے اب تک مطالعہ نہیں کیا وہ
اب کر لیں… بس اسی مناسبت سے اس کتاب کے اصل مصنف حضرت علامہ ابن النحاس شہید رحمہ
اللہ یاد آ گئے تو… یہ چند باتیں عرض کر دیں۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ
وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ
عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَعَلٰی آلِ
اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔
اللہ تعالیٰ سے مدد اور نصرت کا سوال
ہے… رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے ’’محبت‘‘ کے موضوع پر
لکھنے بیٹھ گیا ہوں… اتنا چھوٹا انسان اور اتنا عظیم موضوع… دل حیران ہے، قلم عاجز
ہے ، علم لاچار ہے… یا اللہ! مدد… ابھی جب لکھنے کے لئے استخارہ کر رہا تھا تو دل
میں آیا کہ… بسم اللہ کرو… اور کچھ نہ لکھ سکے تو درود شریف ہی لکھتے رہنا… چکور
چاند تک نہیں پہنچ سکتا مگر ہمت کر کے اس کی طرف اُڑتا ہے… اور پھر جب پر ٹوٹ جاتے
ہیں تو گر جاتا ہے… پہنچ نہیں سکتا مگر چاند سے محبت کرنے والوں میں اپنا نام تو
لکھوا لیتا ہے… پروانہ شمع کی روشنی سمیٹ نہیں سکتا مگر کوشش تو کرتا ہے اور اسی
کوشش میں جان دے دیتا ہے… حضرت آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سے
’’محبت‘‘ ایمان ہے… یہ محبت ایمان کی بنیاد ہے… یہ محبت ایمان کا اہم ترین تقاضا
ہے… اس ’’محبت‘‘ کا مقام بہت اونچا ہے … اس محبت کی قیمت بہت بھاری ہے… اس محبت کا
معیار بہت وزنی ہے… یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے… اور حضرت آقا مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم کی اُمت پر شفقت کہ… آپ صلی اللہ علیہ
وسلم سے ’’محبت‘‘ کا دروازہ قیامت تک کھلا ہے… یہ مست مے خانہ قیامت تک
آباد ہے… اس لئے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگ کر… اس موضوع پر لکھ رہا ہوں… اللہ
تعالیٰ آسان فرمائے، قبول فرمائے… اور سرمایہ آخرت بنائے… سبحان اللہ! محبت
رسول صلی اللہ علیہ وسلم …حبُّ النبی صلی اللہ
علیہ وسلم … عشق مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم … عباسی دور کے مشہور شاعر
ابو فراس الحمدانی نے کہا تھا؎
مِنْ مَّذْھَبِیْ حُبُّ الدِّیَارِ
لِاَھْلِہَا
وَلِلنَّاسِ فِیْمَا یَعْشِقُوْنَ
مَذَاہِبٗ
’’میرا طریقہ یہ ہے کہ گھروں سے ان
گھروں کے رہنے والوں کی وجہ سے محبت رکھتا ہوں… اور ’’محبت‘‘ میں لوگوں کے اپنے
اپنے طریقے ہوتے ہیں۔‘‘
بندہ اس شعر میں ترمیم کر کے اس طرح
پڑھتا ہے ؎
مِنْ مَّذْھَبِیْ
حُبُّ النَّبِیِّ وَجِہَادِہٖ
وَ لِلنَّاسِ فِیْمَا یَعْشِقُوْنَ
مَذَاہِبٗ
’’میرا طریقہ… نبی کریم صلی
اللہ علیہ وسلم اور آپ کے جہاد سے محبت ہے… اور محبت میں لوگوں کے
اپنے اپنے طریقے ہوتے ہیں۔‘‘
اللہ کرے ایسا ہو… مجھے اور آپ سب کو
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے… سچی پکی محبت ہمیشہ ہمیشہ
کے لئے نصیب ہو جائے… ہم نے ’’محبت‘‘ کا دعویٰ کر دیا … ہر دعوے کے بعد دلیل ہوتی
ہے… مگر ہمارے اس دعوے کے بعد… دلیل کوئی نہیں …بلکہ دعوے کے بعد ’’دعاء‘‘ ہے کہ
یااللہ! اس دعوے میں سچا بنا دے… ہمارے دل کو اپنی اور اپنے حبیب صلی
اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت کے قابل بنا دے… اور یہ دعاء ہم اس لئے
مانگتے ہیں کہ… محبت کا یہ دروازہ قیامت تک کھلا ہے… ٹھیک ہے کہ… ’’صحابیت‘‘ کا
دروازہ بند ہو گیا… اب کوئی شخص صحابی نہیں بن سکتا… مگر محبت رسول اور عشق
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دروازہ تو کھلا ہے… حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مِنْ اَشَدِّ اُمَّتِیْ لِیْ حُبًّا
نَاسٌ یَکُوْنُوْنَ مِنْ بَعْدِیْ یَوَدُّ اَحَدُہُمْ لَوْ رَآنِیْ بَاَھْلِہٖ
وَمَالِہٖ۔
’’مجھ سے بہت زیادہ محبت رکھنے والے
میرے وہ امتی ہیں جو میرے بعد آئیں گے اور وہ چاہیں گے کہ اپنا سارا مال اور اپنے
سارے اہل و عیال کو قربان کر کے میری زیارت کر سکیں ۔‘‘
[صحیح مسلم۔حدیث رقم: ۲۸۳۲،ناشر: دار الکتب العلمیہ۔ بیروت]
یعنی حضور اقدس صلی اللہ
علیہ وسلم کی ایک جھلک اور ایک زیارت کی قیمت کے طور پر وہ اپنی ہر
محبوب چیز قربان کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے… سبحان اللہ ! جن لوگوں کی محبت کو
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’شدید محبت‘‘ پکی محبت
اور سچی محبت قرار دیا ہے… اور بشارت دی ہے کہ یہ لوگ میرے بعد آئیں
گے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب فرما دیا ہے کہ ایسے لوگ
میرے بعد آئیں گے تو پھر ایسے لوگوں نے ضرور آنا تھا… وہ ماضی میں بھی آئے …
حال میں بھی موجود ہیں اور مستقبل میں بھی آتے رہیں گے… حضور اقدس صلی
اللہ علیہ وسلم کے سچے اور پکے عاشق … آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی خاطر ہر قربانی خوشی سے پیش کرنے والے… اور آپ صلی
اللہ علیہ وسلم کی محبت میں سرتاپا ڈوبے ہوئے… حدیث شریف کا یہ مضمون
کئی روایات میں کثرت سے آیا ہے… اور یہی ہمیں اس بات کی ہمت دلاتا ہے کہ ہم بھی…
اللہ تعالیٰ سے سچی محبت مانگیں… کیونکہ اس محبت کا دروازہ آج بھی کھلا ہے… اس
لمحے بھی کھلا ہے … یہ رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی
اس اُمت پر شفقت ہے کہ … وہ لوگ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو
نہ پا سکے … جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رُخِ انور کی
زیارت نہ کر سکے… جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک و معطر مجالس کو
نہ سمیٹ سکے … مگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پکے
وفادار،پکے جانثار ہیں … اُن کے لئے آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے بڑی بڑی خوشخبریاں اور بشارتیں ارشاد فرمائی ہیں…
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے:
طُوْبٰی لِمَنْ رَآنِیْ وَ آمَنَ بِیْ
مَرَّۃً وَ طُوْبٰی لِمَنْ لَمْ یَرَنِیْ وَآمَنَ بِیْ سَبْعَ مَرَّاتٍ۔
’’جس نے میری زیارت کی اور مجھ پر ایمان
لایا اس کے لئے ایک بار خوشخبری ہے۔اور جس نے میری زیارت نہیں کی اور مجھ پر ایمان
لایا اس کے لئے سات بار خوشخبری ہے۔‘‘
[المعجم الکبیر للطبرانی۔ حدیث
رقم: ۸۰۰۹،مكتبة ابن تيمية -قاهرة]
اس کا یہ مطلب نہیں کہ… زیارت کرنے والے
پیچھے رہ گئے… زیارت والوں نے تو وہ کچھ پا لیا جس کے برابر اور کچھ ہو ہی نہیں
سکتا… مگر زیارت نہ کرنے والے بھی محروم نہیں…اُن کے لئے زیادہ خوشخبری اس لئے ہے
کہ … وہ دور رہ کر بھی قریب ہو گئے…اور بن دیکھے سچے عاشق بن گئے… اور پھر درود
وسلام کا تحفہ… آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا عطاء
فرما دیا کہ جو… قیامت تک کے سچے عاشقوں کی پیاس اور اُمید دونوں کو سیراب کرتا ہے
… ارشاد فرمایا:
اَوْلَی النَّاسِ بِیْ یَوْمَ
الْقِیَامَۃِ اَکْثَرُھُمْ عَلَیَّ صَلٰوۃً۔
’’قیامت کے دن میرے زیادہ قریب وہ ہو گا
جو مجھ پر زیادہ درود بھیجنے والا ہو گا۔‘‘
[سنن الترمذی۔حدیث رقم: ۴۸۴،ناشر: دار الکتب العلمیہ۔ بیروت]
ہم جمعہ کے دن… جو درود و سلام کی کثرت
کا مقابلہ رکھتے ہیں… اسے ’’مقابلہ حسن‘‘ کہتے ہیں … کیونکہ یہ درود شریف … ہمیں
حسن والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کرتا ہے… اور حقیقی حسن سے
محبت انسان کو حسین بنا دیتی ہے؎
سراپا حسن بن جاتے ہیں جس کے حسن کے
عاشق
بتا اے دل حسیں ایسا بھی ہے کوئی حسینوں
میں
دل بھی عجیب چیز ہے… اسے اللہ تعالیٰ کی
رحمت نہ ملے تو یہ خشک اور سخت ہونے لگتا ہے… یہ خود غرضی اور مادہ پرستی سے بھر
جاتا ہے… تب اس میں ’’سچی محبت‘‘ نہیں اُتر سکتی… درود شریف میں رحمت ہی رحمت ہے…
ایک بار پڑھو تو دس رحمتیں …اور پچاس نعمتیں… اس لئے درود شریف کو بہت ادب اور
احترام سے پڑھنا چاہیے … بہت اہمیت اور توجہ سے پڑھنا چاہیے… اور کبھی ناغہ نہیں
کرنا چاہیے… افسوس کہ… ہم حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے
بارے میں بہت کم سوچتے ہیں… بہت کم پڑھتے ہیں،بہت کم جانتے ہیں اور بہت کم بولتے ہیں…
حالانکہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بہت سوچنا چاہیے… بہت
پڑھنا چاہیے…بہت جاننا چاہیے اور بہت بولنا چاہیے … آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کا نام مبارک بھی رحمت… آپ کا کلام مبارک بھی رحمت … آپ کی ہر
سنت رحمت … آپ کا تذکرہ بھی رحمت … اور آپ کی سیرت بھی رحمت … اللہ تعالیٰ کا
اتنا عظیم احسان کہ ہمیں کلمہ طیبہ میں… ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ کے بعد ’’محمد رسول
اللہ‘‘ عطاء فرمایا… اور یوں ہم مخلوق میں سب سے افضل ، سب سے اعلیٰ، سب سے اکمل،
سب سے حسین اور سب سے زیادہ باکمال اور باجمال ذات سے جڑ گئے… ہمیں وہ ہستی مل گئی
کہ… جس کو پائے بغیر اب نہ ہدایت مل سکتی ہے نہ ترقی ، نہ کامیابی مل سکتی ہے… اور
نہ حقیقی عزت… ہمیں وہ شخصیت مل گئی کہ… جس سے تعلق اور محبت میں ہم جس قدر ترقی
کرتے جائیں گے اُسی قدر اونچے ہوتے چلے جائیں گے … اُسی قدر اللہ تعالیٰ کے قریب
ہوتے چلے جائیں گے…اب اس نعمت کے شکر کا تقاضا یہ ہے کہ … ہم ذات
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھیں… ہم صفات محمد صلی اللہ
علیہ وسلم کو سمجھیں… اور ہم سنت محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کو سیکھیں اور اپنائیں… اگر ہم ایسا کریں گے تو ہماری زندگی نور
اور خوشبو سے بھر جائے گی… ایک مسلمان کا کوئی دن ایسا نہ گذرے کہ جس میں اس نے…
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی سنت نہ سیکھی ہو… کوئی حدیث
شریف نہ سنی ہو… یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ سیرت نہ
پڑھی ہو… اور سب سے بڑھ کر یہ کہ …ہم حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کو ہی …’’معیار‘‘ بنائیں … عقل کا معیار، تہذیب کا معیار، ترقی کا
معیار، حسن کا معیار، عزت کا معیار، کامیابی کا معیار… یعنی آپ صلی
اللہ علیہ وسلم نے جو کیا اور جو فرمایا بس وہی عقلمندی ہے… وہی تہذیب
ہے، وہی ترقی ہے، وہی عزت ہے… وہی کامیابی ہے اور وہی حسن ہے… ہمارے لئے نہ سائنس
بڑی دلیل ہو… اور نہ دنیا کے معروف دانشوروں کے اقوال دلیل ہوں… ہمارے لئے بڑی
دلیل … بس حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اور آپ صلی اللہ
علیہ وسلم کا عمل ہو… پھر سائنس اس کی تائید کرے یا نہ کرے… دنیا کی
نام نہاد تہذیب اس کی تائید کرے یا نہ کرے … دانشوروں کے اقوال اس کے مطابق ہوں یا
مخالف… ہمیں اس سے کوئی فرق نہ پڑے۔ہم سائنسی تحقیقات کو حرف آخرنہ سمجھیں… یہ
تحقیقات ہر دس سال بعد تبدیل ہو رہی ہیں… سائنسدانوں کی مثال اس چیونٹی جیسی ہے جو
سمندر اور زمین کو ناپ اور دیکھ رہی ہے… یہ چیونٹی چند سال کی محنت سے جتنا سمندر
اور جتنی زمین دیکھ سکتی ہے… وہ اسے بیان کر دیتی ہے… مگر جب آگےبڑھتی ہے تو اسے
اپنی سابقہ تحقیق پر شرم آنے لگتی ہے… اور وہ اس سے دستبردار ہو جاتی ہے…کائنات
بہت بڑی ہے…اور سائنسدانوں کے آلات بہت چھوٹے… جبکہ حضرت محمد صلی
اللہ علیہ وسلم کے لئے اللہ تعالیٰ نے ساری کائنات کو مسخر فرما دیا
تھا … آپ نے زمین بھی دیکھی اور آسمان بھی … اور آسمانوں کے بعد والے جہان بھی
ملاحظہ فرمائے … اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو فرماتے ہیں وہی سچ
ہوتا ہے… آج کل یہ وباء چل پڑی ہے … اور یہ بڑی خطرناک ہے کہ… لوگ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کو سائنس پر تولتے
ہیں… وہ سائنس کے مطابق نظر آئیں تو خوشیاں مناتے ہیں… اور اگر سائنس کے خلاف نظر
آئیں تو احساس کمتری میں مبتلا ہو کر طرح طرح کی تاویلیں کرتے ہیں… کاش !یہ لوگ
سورۂ حجرات کو پڑھ لیتے… جس میں اللہ تعالیٰ نے واضح تنبیہ فرما دی کہ… اپنی بات
اور آواز کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات اور آواز
سے اونچا نہ کرو… اور اُن کی باتوں کے ساتھ عام انسانوں کی باتوں والا رویہ نہ
رکھو… اگر تم نے یہ جرم کیا تو تمہارے سارے اعمال حبط اور ضائع ہو جائیں گے اور
تمہیں علم تک نہ ہو گا۔
جو لوگ سائنسدانوں اور حکمرانوں کی
آواز کو … نعوذ باللہ نعوذ باللہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کے فرامین سے اونچا کر رہے ہیں… اُن کی تحقیقات کو معیار بنا کر…
اُن پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کو جانچ رہے
ہیں… وہ کتنا بڑا ظلم کر رہے ہیں… ہاں! بہت بڑا ظلم… ارے !یہ وہ محبت نہیں جو سستی
ہو یہ بہت قیمتی ’’محبت‘‘ ہے… اور مکمل ادب… اس محبت کی پہلی شرط ہے۔
اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ
وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ
عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَ عَلٰی آلِ
اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجَیْدٌ۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کو ’’ بے کار‘‘
پیدا نہیں فرمایا… نہ مکھی کو، نہ مچھر کو، نہ خنزیر کو… اور نہ ’’ڈونلڈ ٹرمپ ‘‘
کو۔
اللہ تعالیٰ ’’ الحکیم‘‘ ہیں… ان کا
کوئی کام حکمت اور مقصد سے خالی نہیں… اسرائیلی حکایات میں ہے کہ ایک
نبی علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا کہ آپ نے مکھی کو
کس لئے پیدا فرمایا ہے… اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا:یہ مکھی روز آپ کے بارے
میں پوچھتی ہے کہ… میں نے آپ کو کس لئے پیدا فرمایا ہے؟… سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ
کا ’’جہان‘‘بہت وسیع… اللہ تعالیٰ کا ’’نظام‘‘ بہت وسیع… اللہ تعالیٰ کا علم بہت
وسیع… اس دنیا میں ہر کوئی یہی سمجھتا ہے کہ…بس صرف وہی کام کا ہے… مکھی کا گمان
ہے کہ دنیا اس کے بغیر نہیں چل سکتی… ٹرمپ کا گمان ہے کہ وہ عقلمند اور ذہین ہے…
اب تک جن لوگوں کو ’’ٹرمپ‘‘ کے پیدا ہونے کی ’’حکمت‘‘ سمجھ نہیں آئی تھی… وہ اب
اللہ تعالیٰ کی حکمت اور قدرت پر عش عش کررہے ہیں …ٹرمپ کے ایک بیان نے اُمت مسلمہ
میں غیرت اور قربانی کی عمومی ہوا چلا دی ہے… مسجد اقصیٰ اور القدس کا معاملہ جو
دشمنوں کی محنت سے ’’سرد خانے‘‘ میں منتقل ہو رہا تھا… اب پھر بھڑک اُٹھاہے…تحریک
آزادیٔ فلسطین نے ایک نئی کروٹ لی ہے… لاکھوں نوجوانوں نے تازہ ولولے اور اخلاص
کے ساتھ… اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے شہادت اور مسجد اقصیٰ کے لئے آزادی مانگی ہے …عرب
حکمرانوں کو نہ چاہتے ہوئے بھی… فلسطین کا بار بار تذکرہ کرنا پڑ رہا ہے… بس یوں
سمجھیں کہ… اب یہ معاملہ پھر چل نکلا ہے… اور اس بار یہ بہت دور تک جائے گا، ان
شاء اللہ… ابو جہل کی جہالت اور دشمنی… مجاہدین بدر کا لشکر تیار کرتی ہے… دجّال
کا ظلم اور جبر… اسلام کے اس لشکر کو کھڑا کرے گا …جس کا مقابلہ روئے زمین پر کوئی
نہیں کر سکے گا… ہم مسلمانوں کو ہمیشہ ’’دشمن‘‘ راس آتے ہیں… بشرطیکہ وہ کھلے
دشمن ہوں… تب ہم اُٹھتے ہیں، سنبھلتے ہیں… اور ایسا وار کرتے ہیں جسے صدیاں یاد
رکھتی ہیں… دوست نما دشمن ہم مسلمانوں کے لئے نقصان دہ ہے… ہم مروّت اور مسکراہٹ
سے زخمی اور کمزور ہو جاتے ہیں … ٹرمپ آیا ہے تو اب مدینہ پاک بھی اپنے لشکر
میدان میں اُتارے گا… ہم الحمد للہ مسلمان ہیں … حضرت آقامحمد
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی اور غلام… ہمارے نبی صلی
اللہ علیہ وسلم کی دعاء بھی ہے اور تربیت بھی کہ … کوئی دشمن ہمیں
نہیںمٹا سکے گا… دنیا میں کون ہے جو ہم مسلمانوں سے نہیں ہارا؟ اور زمین پر کون ہے
جو ہم مسلمانوں سے نہیں ہارے گا؟ دشمن جب دشمن بن کر آتا ہے تو ہم کبھی اسے میدان
میں اکیلا نہیں رہنے دیتے… ہم فوراً پہنچ کر اُس کی تنہائی بھی ختم کرتے ہیں… اور
اُس کا تکبر بھی… بش جب افغانستان میں ہم مسلمانوں سے ہار رہا تھا تو اس نے… اپنی
عزت اور ناک بچانے کے لئے عراق پر حملہ کر دیا… وہ عراق جو بظاہر ایک ترنوالہ اور
ایک آسان فتح تھی… دور دور تک وہاں نہ جہاد کا نشان تھا… نہ مجاہدین کے لئے کوئی
راستہ… بہت سوچ سمجھ کر بش اور ٹونی بلیئر نے عراق پر حملہ کیا… وہ تاریخ میں خود
کو ’’فاتح‘‘ لکھوانا چاہتے تھے… مگر نتیجہ کیا نکلا؟ … بش اور بلیئر کو ایک اور
شکست اور ذلت کا سامنا کرنا پڑا… اور وہ دونوں تاریخ میں ’’مردود‘‘ لکھے گئے… ٹرمپ
کی خواہش ہے کہ وہ… افغانستان کی جنگ دوبارہ جیت لے … اس کے لئے اس نے ’’بھارت‘‘
کو اپنے ساتھ لے لیا ہے… اور پاکستان پر دباؤ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے… مگر ان
دونوں اقدامات نے امارت اسلامی افغانستان کو مضبوط اور وسیع کر دیا ہے… تب ٹرمپ نے
اچانک ’’القدس‘‘ ( جسے ’’یروشلم‘‘ کہتے ہیں) …کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے
کا اعلان کر دیا ہے… مجھے ’’ٹرمپ‘‘ اور اس کے ہم خیال طبقے پر ہنسی آ رہی ہے کہ…
یہ بے چارے جہاد اور مجاہدین کے سامنے کیسے بے بس ہو چکے ہیں … انہیں کچھ نہیں
سوجھ رہا کہ وہ آخر کریں تو کیا کریں؟… یہ لوگ فتح اور کامیابی کو ترس گئے ہیں…
سترہ سال سے وہ مسلمانوں کے خلاف جنگ میں اُترے ہوئےہیں… وہ اس جنگ میں اپنے
کھربوں ڈالر اور ہزاروں فوجی گنوا چکے ہیں…مگر جنگ ہے کہ نہ ختم ہو رہی ہے اور نہ
کسی نتیجے پر پہنچ رہی ہے… اس جنگ کی طوالت اور ذلت نے… امریکہ اور یورپ کو ڈپریشن
اور دماغی خلل کا مریض بنا دیا ہے…وہ روز نئے نئے تجربے کر کے تھک گئے ہیں… شیخ
اُسامہ شہید رحمہ اللہ کی شہادت پر امریکی مصنفین نے کئی کتابیں لکھی
ہیں… ان میںسے اکثر میں یہ لکھا ہوا ہے کہ… سی آئی اے کا چیف اپنے سارے عملے کو
بٹھا کر ان کے درمیان بے چینی سے گھوم رہا تھا اور بار بار چیختا تھا کہ… تم لوگ
آخر کیا کر رہے ہو؟… ہمیں ہر دن شکست کا سامنا ہے… ہم نے کتنا پیسہ خرچ کیا… کس
کس پر پیسہ لگایا مگر نتیجہ صفر بٹا صفر ہے… وہ لوگ ( یعنی مجاہدین) ہر جگہ جیت
رہے ہیں… پھیل رہے ہیں، بڑھ رہے ہیں… جبکہ ہم ہر روز ان سے ہار رہے ہیں… اب مجھے
نتیجہ چاہیے… اسی ڈپریشن کا شکار ہو کر… امریکہ والے ’’ اوبامہ‘‘ کو لائے … دنیا
کو یہ دکھانے کے لئے کہ ہم نسل پرست نہیں ہیں… ہم تنگ ذہن والے نہیں ہیں… یہ تجربہ
ناکام ہوا تو وہ پاگل خانے سے ٹرمپ کو نکال کر لائے… اور اسے صدر بنا دیا… دنیا کی
کوئی بھی قوم جس کے ہوش و حواس سلامت ہوں… ٹرمپ جیسے شخص کو اپنا صدر نہیں بنا
سکتی…مگر جہاد اور مجاہدین نے امریکیوں کو بری طرح سے بدحواس کر دیا ہے… آپ خود
سوچیں کہ ہمارا کوئی مسئلہ اگر صرف سترہ دن تک پھنس جائے تو ہمارے ذہن کی کیا حالت
ہوتی ہے؟… امریکہ جیسا ملک جو گذشتہ پچاس سال سے دنیا کی واحد سپر پاور تھا… اور
ہر مسئلہ منٹوں میں حل کرنے کا عادی تھا… وہ امریکہ جو صرف آنکھیں دکھانے سے بڑے
بڑے ملکوں کے نظریات بدل ڈالتا تھا… وہ امریکہ جو انسانی تاریخ کی سب سے بڑی طاقت
بن چکا تھا … مگر وہ ایک چھوٹے سے ملک میں جا کر پھنس گیا … وہ افغانستان جو ابھی
تک شیشے کا ایک گلاس نہیںبنا سکتا… اور وہ طالبان جن کومہذب دنیا کے لوگ پتھر کے
زمانے کا انسان کہتے ہیں…اب جب مہذب دنیا کی سب سے بڑی طاقت… پتھر کے زمانے والے
انسانوں سے بری طرح مار کھا رہی ہو… اور سترہ سال سے ہر دن شکست اُٹھا رہی ہو تو…
اس کی دماغی حالت کیا ہو گی؟… آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں… اسی لئے اخبارات میں
صدر ٹرمپ کی بیوقوفیاں اور مضحکہ خیزیاں پڑھ کر… ہمیں یہ حیرت نہیں ہوتی کہ…
امریکہ نے ایسے شخص کو کس طرح سے اپنا صدر بنا لیا ہے؟… اب امریکہ افغانستان میں
’’انڈیا‘‘ کو کھینچ کر لا رہا ہے … مگر ’’انڈیا‘‘ اڑیل گدھے کی طرح پچھلی ٹانگوں
پر جم کر کھڑا ہے… وہ افغانستان کو اپنے ایک اڈے کے طور پر تو استعمال کرنا چاہتا
ہے… تاکہ پاکستان کو غیر مستحکم کر سکے… اور سی پیک کے منصوبے کو سبوتاژ کر سکے…
مگر وہ افغانستان کی جنگ میں نہیںاُترنا چاہتا … وہ قریب سے دیکھ رہا ہے کہ دنیا
کے چالیس ممالک کا متحدہ لشکر… اور ان ممالک کی عسکری سائنسی ٹیکنالوجی… افغانستان
میں کس طرح سے مار کھا رہی ہے… تو ایسے حالات میں انڈیا افغانستان میں کیا کر لے
گا… وہ تو ابھی تک کشمیر میں مٹھی بھر مجاہدین کا مقابلہ نہیں کر سکا… ٹرمپ نے
’’القدس‘‘ کو اسرائیلی دار الحکومت تسلیم کرنے کا جو اعلان کیا ہے… اس پر آج کل
بحث جاری ہے… لوگ اپنے اپنے ذہن اور اپنی اپنی معلومات کے مطابق تجزیئے پیش کر رہے
ہیں… ہمارے خیال سے اس اعلان کا… جو کہ سراسر اسلام دشمنی میں کیا گیا ہے… زیادہ
فائدہ مسلمانوں کو پہنچے گا… کیونکہ دشمن جب دشمنی پر اُترتے ہیں تو مسلمانوں کا
جذبہ بیدار ہوتا ہے… ان میں فکر مندی، درد مندی اور شجاعت اُبھرتی ہے … وہ بے
ساختہ جہاد کی طرف لپکتے ہیں… اور اللہ تعالیٰ نے جہاد میں ان کے لئے کامیابی رکھی
ہے… اور مسجد اقصیٰ کی آزادی کے لئے جہاد کا شوق ویسے ہی ہر مسلمان کے خون میں
دوڑتا ہے۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے عظیم انعامات میں سے…
ایک انعام ’’تسبیح‘‘ ہے… ’’تسبیح‘‘ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی شان اور پاکی بیان
کرنے کو…
سُبْحَانَ اللہِ
سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ
سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی
سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ
اللہِ الْعَظِیْمِ… وغیرہ۔
’’تسبیح‘‘ اللہ تعالیٰ کا وہ ذکر ہے… جس
کی سلطنت سات آسمانوں کے اوپر تک پھیلی ہوئی ہے… اور قرآن عظیم الشان کی سات
مبارک سورتوں کا آغاز تسبیح سے ہوتا ہے…
{سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمَاوَاتِ
وَ مَا فِی الْاَرْضِ } …وغیرہ
حضرت سیّدنا نوح علیہ السلام نے اپنے
بیٹے کو ’’تسبیح‘‘ کی تاکید فرمائی کہ… بیٹا! ’’سُبْحَانَ اللہِ وَ بِحَمْدِہٖ‘‘کو
ہمیشہ لازم پکڑنا… یہ وہ کلمہ ہے جس کی برکت سے تمام مخلوق کو روزی ملتی ہے … حضرت
سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس ایک بڑے بالوں والا
پرندہ لایا گیا… ارشاد فرمایا کہ اس نے تسبیح چھوڑ دی، اس لئے پکڑا گیا۔
سُبْحَانَ اللہِ وَ
بِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیْمِ
تسبیح میں گناہوں کی پاکی بھی ہے…
صرف ایک سو بار ’’ سُبْحَانَ اللہِ وَبِحْمَدِہٖ‘‘ پڑھا جائے تو سمندر کی جھاگ کے
برابر گناہ معاف ہو جاتے ہیں… تسبیح میں جنت کی آبادی بھی ہے کہ ایک بار
’’سُبْحَانَ اللہِ‘‘ پڑھنے سے جنت میں اپنی ملکیت کا ایک درخت لگ جاتا ہے، درخت
بھی معمولی نہیں بلکہ صدیوں کی مسافت تک پھیلا ہوا … تسبیح میں حشر کے دن کا سامان
بھی ہے… ارشاد فرمایا کہ… ’’سُبْحَانَ اللہِ‘‘ آدھے میزان کو بھر دیتا ہے… اور
باقی کو ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘‘ بھر دیتا ہے… ایک بزرگ کے پاس ایک شخص نے روزی کی
تنگی کی شکایت کی… انہوں نے فرمایا: ہر نماز کے بعد ’’سُبْحَانَ اللہِ‘‘ ایک سو
بار پڑھو… وہ صاحب زندہ دل انسان تھے… زندہ دل وہ ہوتا ہے جس کے دل میں اللہ
تعالیٰ کا ذکر ہو… اور جو دل کی توجہ سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہو… انہوں نے دل
کی توجہ سے یہ عمل شروع کیا مگر ایک ہفتہ بعد اُن بزرگوں کے پاس آ کر کہنے لگے
کہ… یہ وظیفہ بند کرنے کی اجازت چاہتا ہوں کیونکہ اب تو زمین کے خفیہ خزانے بھی
نظر آنے لگے ہیں… جو لوگ عقل مند ہوتے ہیں وہ خزانوں کا مالک بننے سے ڈرتے ہیں…
کون سنبھالے، کون اتنی فکر اُٹھائے، کون اِتنا حساب دے، کون اتنے حقوق ادا کرے…
انسان کی ضرورت تو کچھ مال سے پوری ہو جاتی ہے… اس سے زائد مال اس لئے ملتا ہے
تاکہ انسان اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے ذریعہ سے بڑے بڑے درجات حاصل کرے … اگر یہ
نیت نہ ہو تو ضرورت سے زائد مال انسان کو مسلسل ڈستا رہتا ہے…ذلیل اور کمزور کرتا
رہتا ہے… پاگل اور نااہل بنا دیتا ہے … بیماریوں اور مصیبتوں میں ڈال دیتا ہے …
عرض یہ کر رہا تھا کہ تسبیح بڑی نعمت ہے… اللہ تعالیٰ جس بندے کو اس کی توفیق عطاء
فرما دیں… یہ اللہ تعالیٰ کا اس بندے پر بڑا اِحسان ہوتا ہے …قرآن مجید میں جگہ
جگہ حکم دیا گیا ہے کہ… اللہ تعالیٰ کی ’’تسبیح‘‘ کرو… اور بتایا گیا ہے کہ
’’تسبیح‘‘ اللہ تعالیٰ کے مقربین کا وظیفہ ہے… ہر تسبیح بندے کو اللہ تعالیٰ کے
قریب کرتی ہے۔
سُبْحَانَ اللہِ
وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیمِ
قرآن مجید میں کئی جگہ اللہ تعالیٰ کی
’’تسبیح‘ ‘ہے… کبھی فرشتوں کی زبانی اور کبھی انبیائِ کرام علیہم
السلام کی زبانی… اور کہیں کسی اور قرینے سے… بندہ کا یہ دل چاہتا تھا
کہ… ایک ہی مجلس میں تسبیح کے یہ تمام مبارک اَلفاظ پڑھے… کیونکہ قرآن مجید کی
ہرتسبیح میں الگ الگ روحانی خزانے مخفی ہیں…مثلاً سورۂ بقرہ میں فرشتوں کی تسبیح…
{سُبْحَانَکَ لَا عِلْمَ لَنَا اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ }[البقرۃ:۳۲]
اس تسبیح کو جو مسلمان بھی کثرت
سے اپناتا ہے … اس پر علوم کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں… نفع دینے والا علم… برکت
والا علم… اور بہت روشن علم…اور معلوم نہیں اس آیت میں مزید کتنے خزانے ہوں گے…
اللہ تعالیٰ کے کلام کے فوائد و ثمرات بے شمار ہوتے ہیں… ایک ہی مجلس میں قرآن
مجید کی تمام’’آیاتِ تسبیح‘‘ کا وِرد … یہ وہ شوق تھا جو آج ایک کتاب کی صورت
میں میرے سامنے ہے… اللہ تعالیٰ اس کتاب کو نافع بنائے اور اسے قبول فرما کر میرے
لئے مغفرت اور آخرت کا سرمایہ بنائے… اس کا نام ’’مبارک مناجات‘‘ ہے… بندہ نے
پہلے خود اس وظیفے کو اپنا وِرد بنایا… پھر مسلمانوں کے فائدے کے لئے اسے شائع
کرنے کا ارادہ کیا… ماشاء اللہ ایسا مضبوط اور پُر تاثیر وظیفہ ہے کہ… پڑھتے ہی دل
کی حالت بدل جاتی ہے اور دعاء کی قبولیت کا یقین ہونے لگتا ہے… اس میں کلمہ طیبہ
بھی ہے، تسبیح بھی ہے، حمد بھی ہے اور استغفار بھی… اس وِرد کا مناسب طریقہ یہ ہے
کہ باوضو پہلے چند بار درود شریف ، پھر ایک بار سورۂ فاتحہ، تین بار سورۂ اخلاص
پڑھی جائے… اور اس کے بعد یہ وِرد کیا جائے اور آخر میں پھر درود شریف پڑھ کر
اپنے مقاصد و حاجات کے لئے دعا ء کی جائے … اگر کوئی بڑا یا مشکل مسئلہ ہو تو دو
رکعت نماز کے بعد چند بار درود شریف، سات بار سورہ ٔفاتحہ، تین بار سورہ اخلاص پڑھ
کر یہ وِرد کیا جائے اور دعاء کی جائے… جادو، جنات اور دیگر باطنی اَمراض میں
مبتلا اَفراد کے لئے بھی یہ قرآنی وظیفہ اِن شاء اللہ بہت مفید رہے گا… جادو ان اونچی
اور طاقتور چیزوں کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا … دُکھی دِل اور پریشان حال مسلمانوں کے
لئے بندہ کی طرف سے یہ تحفہ حاضر ہے… امید ہے کہ خوب فائدہ اٹھائیں گے اور بندہ کو
بھی اپنی دعاؤں سے نوازیں گے… اس کتابچے کا تعارف ملاحظہ فرمائیے۔
تعارف
اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں… ایک قیمتی
تحفہ حاضر ہے… سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا شکر…
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ
بِنِعْمَتِہٖ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ
یہ تحفہ کیسے تیار ہوا؟ آپ جانتے ہیں
کہ تسبیح یعنی اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنے کے فضائل بے شمار… اور مقامات بہت
اونچے ہیں… سُبْحَانَ اللہِ… سُبْحَانَ اللہِ وَ
بِحَمْدِہٖ … سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ … لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ
سُبْحَانَکَ ۔
کچھ عرصہ سے بندہ کی توجہ اُن قرآنی
آیات کی طرف بہت قوت کے ساتھ ہو رہی تھی جن میں… اللہ تعالیٰ کی تسبیح ہے… تلاوت
کے دوران جب کوئی ایسی آیت آجاتی تو اُسے بار بار پڑھنے پر جی کرتا…
{سُبْحَانَکَ لَا عِلْمَ لَنَا اِلَّا
مَا عَلَّمْتَنَا}
{سُبْحَانَ الَّذِیٓ اَسْریٰ بِعَبْدِہٖ
لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الاَقْصٰی}
{سُبْحَانَ الَّذِی خَلَقَ الاَزْوَاجَ
کُلَّھَا}
{ فَسُبْحَانَ الَّذِی بِیَدِہٖ
مَلَکُوْتُ کُلِّ شَیْیٍٔ}
{ فَسُبْحَانَ اللہِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ
وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ }
{سُبْحَانَ اللہِ وَ تَعَالٰی عَمَّا
یُشْرِکُوْنَ }
{سُبْحَانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ
عَمَّا یَصِفُوْنَ}… وغیرہا
تب دل چاہا کہ ان تمام آیات کو ایک جگہ
جمع کر لوں… اور قرآن مجید کے مبارک الفاظ میں’’تسبیح‘‘ پڑھا کروں… اللہ تعالیٰ
کا شکر ہے کہ استخارہ کے بعد اس کی توفیق مل گئی… ابتداء میں ارادہ تھا کہ بس اپنے
معمول میں رکھوں مگر پھر … دوسروں کو بھی شریک کرنے کا ارادہ کر لیا کہ اہل دل اور
اہلِ ذوق اس سے فائدہ اٹھائیں… جب تسبیح کی آیات جمع کر رہا تھا تو خیال ہوا کہ
حمد والی آیات بھی جمع کر لی جائیں… حمد و شکر کا بڑا مقام اور بڑی فضیلت
ہے…تسبیح اور حمد کی آیات جمع ہو گئیں تو… دل چاہا کہ ’’لَا اِلٰہَ
اِلَّا‘‘ والی آیات کو بھی اس مبارک مجموعے میں شامل کر لیا جائے… ان
آیات میں اہل دل اسمِ اعظم کی تاثیر دیکھتے ہیں … ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا‘‘ والی
آیات پہلے سے شائع ہوتی آ رہی ہیں… اُن کا جائزہ لیا تو اس میں بھی مزید کام کی
ضرورت محسوس ہوئی… چنانچہ اُن آیات کو ازسرِ نو تلاش کر کے جمع کر لیا گیا… یہ
تین تحفے جمع ہوئے تو دل چاہا کہ… قرآن پاک کے استغفار کو بھی شامل کر لیا جائے…
وہ چونکہ’’ الیٰ مغفرۃ‘‘ کتاب میں موجود تھا تو… مزید محنت نہیں کرنی پڑی۔
اب الحمدللہ چار موتیوں پر مشتمل یہ
مبارک مجموعہ تیار ہو چکا ہے… اس کی تلاوت میں عجیب کیف ہے اور عجیب سرور ہے… اگر
معانی پر غور کیا جائے تو مزید بہت کچھ ہاتھ آ جاتا ہے… مثلاً تسبیح کہاں کہاں
پڑھی جاتی ہے… اور حمد کہاں کہاں… ان مبارک آیات کی تلاوت کے بعد دعاء مانگی جائے
تو اس میں قبولیت کی عجیب شان نظر آتی ہے… الحمدللہ کئی بار توفیق ملی اور ہر بار
خوشی ملی… شک کی کیا گنجائش ہے؟ قرآن مجید سے بڑھ کر کس کلام میں تاثیر ہو سکتی
ہے… اور پھر قرآن مجید کے الفاظ میں کلمہ طیبہ، تسبیح، حمد اور استغفار کا کیا مقام
ہوگا؟ قرآن مجید کی تلاوت کے بعد دعاء کا قبول ہونا وارد ہے… اور بعض آیات پڑھ
کر اُن کے بعد دعاء کا مانگنا بھی ثابت ہے… اس مختصر مگر بھاری کتابچے کی اشاعت پر
دل خوش ہے… اور اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہے… عزیز مکرم مفتی عبید الرحمٰن صاحب… اس
پورے کام میں شریک اور معاون رہے…
جَزَاہُ اللہُ خَیْرًا اَحْسَنَ
الْجَزَاءِ…
اللہ تعالیٰ اس مجموعے کو قبولیت عطا
فرمائیں۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ
اَنْتَ السَّمِیْعُ العَلِیْمُ وَ تُبْ عَلَیْنَا اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ
الرَّحِیْمُ آمِین یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِین َ
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو ’’قرآن
مجید‘‘ کا’’ علم‘‘ عطاء فرمائے… نور ہی نور، روشنی ہی روشنی، رحمت ہی رحمت۔
اللہ تعالیٰ معاف فرمائے ہم نے بہت
’’ناقدری‘‘ کی… ایسی عظیم الشان کتاب سے ’’فائدہ‘‘ نہ اُٹھایا… معلوم نہیں کیا کیا
پڑھتے رہے … کیا کیا دیکھتے رہے… مگر نہ قرآن مجید کو پڑھا، نہ سمجھا… نہ غور
کیا…جب حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کے دن فرما دیا کہ…
یا اللہ! میری قوم نے قرآن مجید کو چھوڑ دیا تھا… تب ہمارا کیا بنے گا؟ کیا بنے
گا؟
درد یاد آ گیا
بات تو آج قرآن مجید ہی کی کرنی ہے،
ان شاء اللہ… مگر ابھی خبریں دیکھتے ہوئے ایک درد یاد آ گیا … حکومت نے انڈین
جاسوس کلبھوشن یادو کی… اس کے رشتہ داروں سے ملاقات کرائی ہے… حکومت نے اچھا کیا
یا بُرا… اللہ ہی جانے… پاکستان میں انڈین لابی کافی سرگرم ہے… انڈیا کے جگری یار
سیاست سے لے کر صحافت تک ہر جگہ طاقت میں ہیں… یہ لوگ پاکستان کو… انڈیا کی کالونی
بنانا چاہتے ہیں… یہی لوگ حکومت میں بھی موجود ہیں… ان کے نزدیک انڈیا کو خوش کرنے
سے ہی پاکستان ترقی کر سکتا ہے… یہ لوگ نہ ستر سال کی تاریخ سے واقف ہیں… اور نہ ان
کو برہمنی سامراج کے عزائم کا کچھ ادراک ہے… انہی لوگوں کی کوشش سے… ’’کلبھوشن‘‘
کی اس کے اہل خانہ سے ملاقات ہوئی ہے… حالانکہ ’’ کلبھوشن‘‘ ایک غیر ملکی ہے… جبکہ
بھائی محمد افضل گورو شہید رحمہ اللہ … مقبوضہ کشمیر کے رہنے والے تھے اور دہلی کی
تہاڑ جیل میں تھے… انڈیا اپنے قانون کے مطابق ان کو ’’انڈین شہری‘‘ قرار دیتا تھا…
مگر جب ان کو پھانسی کے ذریعے شہید کرنے کا ’’کالا فیصلہ‘‘ ہوا تو اُن کے اہل خانہ
سے اُن کی ملاقات نہیں کرائی گئی… وجہ یہ کہ افضل گورو… مسلمان تھے، باریش تھے…
اور اُن کے نام کے ساتھ ’’جہاد‘‘ کا تعلق جڑا ہوا تھا۔
ابھی چند دن پہلے اطلاع ملی کہ… تہاڑ
جیل دہلی میں پاکستانی قیدیوں کے ساتھ… بہت ظالمانہ سلوک کیا جا رہا ہے… کئی
قیدیوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ملی ہے… ان میں سے بعض قیدی بیس سال سے جیل میں
ہیں… مگر انڈیا نے کبھی یہ گوارا نہیں کیا کہ… اُن قیدیوں کی اُن کے اہل خانہ سے
ملاقات کرائے… جبکہ ہماری حکومت نے ایک قاتل جاسوس سے… اس کے اہل خانہ کی پر
اہتمام ملاقات پر قوم کے کروڑوں روپے خرچ کر دئیے…اب شاید دنیا میں ’’باعمل
مسلمان‘‘ ہونا ہی سب سے بڑا جرم بن چکا ہے… اسی لئے ہر ظلم اورزیادتی ’’ باعمل
مسلمانوں‘‘ پر ہی کی جاتی ہے …پاکستان کے انڈین نواز لیڈر اور صحافی… ایک طرف یہ
مطالبہ کرتے ہیں کہ جہاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے… باعمل پاکستانیوں پر پابندی
لگائی جائے…اُن پر مقدمات چلائے جائیں …اُن کو انڈیا کے حوالے کیا جائے…جبکہ دوسری
طرف یہی افراد… بھارتی جاسوس کے تمام انسانی حقوق ادا کرنے کے لئے… اس کے سگے
بھائیوں کی طرح سرگرم ہیں۔
قرآن مجید سے دوری
آج دنیا کی غیر مسلم قوموں کے پاس جو
’’فنون‘‘ یا علوم ہیں… اُن کو انہوں نے بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے… اور اُن
’’فنون‘‘ کی وجہ سے وہ خود کو برتر ثابت کرتے ہیں… معلوم نہیں کہ وہ’’چاند‘‘ پر
گئے ہیں یا نہیں؟… فلم ، ویڈیو اور تھری ڈی کے دھوکے بہت وسیع ہیں… آج کئی لوگ
اپنے گھر میں بیٹھ کر کمپیوٹر کے ذریعہ … خود کو پوری دنیا کی سیر کرالیتے ہیں…
اور دنیا کے تاریخی مقامات پر اپنی موجودگی دکھادیتے ہیں… لیکن چونکہ ہم لوگ احساس
کمتری میں ڈال دئیےگئے…اس لئے جب امریکہ وغیرہ نے اعلان کیا کہ ہم چاند پر ہو آئے
ہیں تو ہم نے…بغیرکوئی ثبوت مانگے فوراً تسلیم کر لیا… اور اُن کے چاند پر جانے کو
اپنے طنزیہ محاوروں کا حصہ بنا لیا…مثلاً دنیا چاند پر پہنچ چکی ہے جبکہ ہم ٹوپی
مسواک میں اٹکے ہوئے ہیں … دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے جبکہ ہمارے مولوی ہمیں پتھر
کے زمانے میں دھکیلناچاہتے ہیں… تب ہم یہ بھی نہیں سوچتے کہ پتھر کے زمانے کا
انسان بہت طاقتور اور خوشحال تھا… آج اگر اُن میں سے کسی ایک کو اللہ تعالیٰ زندہ
کر کے لے آئے… تو اسے دیکھ کر ہمارے زمانے کے لوگ… اس جیسی صحت، طاقت اور خوشی
حاصل کرنے کے لئے…اربوں روپے خرچ کر ڈالیں گے۔
غیر مسلموں نے اپنے فنون اور اپنی ترقی
کا ایسا جادو چلایا کہ… مسلمانوں نے نعوذ باللہ اُن کو برتر سمجھ لیا اور کبھی یہ
نہ سوچا کہ… مسلمانوں کے پاس’’ قرآن عظیم الشان‘‘ موجود ہے… عزت اور غلبے والی
کتاب…ایسا علم کہ جس کے مقابلے کا کوئی علم ہی نہیں… ایسا نور کہ اس کے مقابلے کی
کوئی روشنی نہیں… آج مسلمان جو دنیا کی قوموں سے پیچھے ہیں… اس کی یہ وجہ ہرگز
نہیں کہ ان کے پاس سائنس نہیں ہے… علم نہیں ہے … بلکہ اصلی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس
اقتدار نہیں ہے… عمومی جہاد نہیں ہے… جہاد اور اقتدار نہ ہونے کی وجہ سے …ہمارا سرمایہ
لوٹ لیا جاتا ہے… ہماری صلاحیتوں کو غصب کر لیا جاتا ہے… اور ہمیں دن رات احساس
کمتری کے گڑھے میں دھکیلا جاتا ہے…حالانکہ… ہمارے پاس عزت کا سب سے بڑا راز موجود
ہے… اور وہ ہے ’’قرآن مجید‘‘… عزت کا یہ راز… مسلمانوں کے علاوہ کسی کے پاس موجود
نہیں ہے… مگر افسوس کہ ہم مسلمانوں نے قرآن مجید کی قدر نہیں کی… ہم نے اسے صرف
ختم ، ایصال ثواب… اور دم درود کی چیز سمجھ لیا ہے… نعوذ باللہ ہم نے… قرآن مجید
کو وہ احترام نہیں دیا جس کا وہ مستحق ہے… دنیا کے اٹھانوے فی صد مسلمانوں کو…
قرآن مجید کے علم کا پتا تک نہیں …اور جو دو فیصد مسلمان قرآن مجید کا علم رکھتے
ہیں… اُن میں سے بھی… بہت کم اس میں غور اور تدبر کرتے ہیں…ہم میں ایسے افراد بھی
پیدا ہو گئے ہیں… جو غیر مسلموں کی عینک لگا کر قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہیں…
اور قران مجید کو کھینچ تان کر…سائنسی تحقیقات کے مطابق بنانے کی کوشش کرتے ہیں…
ہم میں ایسے افراد بھی ہیں… جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کی انگلی مبارک پکڑے بغیر… یعنی حدیث اور سنت کے بغیر قرآن مجید
کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں… جو کہ ناممکن ہے… بالکل ناممکن ہے…اور ہم میں سے ایسے
لوگ بھی مسلمان کہلاتے ہیں… جو نعوذ باللہ قرآن مجید کے علم اور تعلیم کو حقیر
سمجھتے ہیں … وہ نہ خود قرآن مجید کو سمجھتے ہیں اور نہ دوسروں کو قرآن مجید سے
جڑنے دیتے ہیں… ہائے افسوس!… علم، نور اور عزت کا یہ عظیم خزانہ ہم سب کے قریب
موجود ہے… مگر ہم اپنی بد نصیبی کی وجہ سے… اس سے کس قدر دور ہیں… کس قدر محروم
ہیں۔
سائنس کی مخالفت نہیں ہے
آج ہر طرف سے یہ غلط تاثر پھیلایا جا
رہا ہے کہ… امت کے علماء اور مجاہدین ’’سائنس‘‘ کے مخالف ہیں… ثبوت یہ پیش کیا
جاتا ہے کہ …علماء نے لاؤڈ اسپیکر کی مخالفت کی تھی… پرنٹنگ پریس کی مخالفت کی
تھی وغیرہ وغیرہ… حالانکہ یہ سب جھوٹ ہے… علماء جدید آلات پر بحث ضرور کرتے رہے
ہیں…کیونکہ ہماری شریعت… ایک جامع شریعت ہے… ہم پر ہر معاملے میں شریعت کے احکامات
لاگو ہوتے ہیں … مثلاً کوئی عیسائی پوری بائبل پڑھ لے… اس کو نہ سجدے کی فکر ہے نہ
پاکی کی… مگر ہم قرآن مجید کی چودہ آیات پر سجدہ کرتے ہیں… اب جب قرآن مجید کی
تلاوت ریکارڈ ہونے لگی تو… سوال اُبھرا کہ… ریکارڈنگ میں آیت سجدہ سننے پر سجدہ
ہو گا یا نہیں؟… لاؤڈ اسپیکر پر بھی ابتدائی زمانے میں… اسی طرح کی بحث اور
غوروفکر ہوا کہ… اس سے آنے والی آواز اصل قرار دی جائے گی…یا اس کا حکم بازگشت
کا ہو گا… اگر مسلمان علماء اس پر بحث کرتے رہے ہیں کہ… مچھر کا خون کپڑوں پرلگنے
کا کیا حکم ہے؟… تو اس بحث کا مذاق کیوں اُڑایا جاتا ہے؟… اسے حقارت کا نشانہ کیوں
بنایا جاتا ہے؟… ناپاک قسم کے جاہل صحافی بس انہی دوچار مثالوں کو پکڑ کر بیٹھ
جاتے ہیں اور پوری علماء برادری کو سائنس اور ترقی کا مخالف قرار دے دیتے ہیں…دنیا
میں مچھر بھی موجود ہیں… اور ان کا خون بھی… تب ضرور اس کا کوئی شرعی حکم بھی ہو
گا … جب بھی کوئی نئی ایجاد آئے گی… اس کا بھی ہمارے بہت سے احکامات سے تعلق ہو
گا … اور امت کے علماء اپنی سعادت سمجھ کر…ان معاملات پر غور اور تحقیق کرتے رہیں
گے… ایک یہودی نے ایک جلیل القدر صحابی کا اسی طرح مذاق اُڑانے کی کوشش کی تھی… جس
طرح آج کئی صحافی اور دانشور ، علماء کرام کا مذاق اُڑاتے ہیں … اس یہودی نے
صحابی سے کہا… سنا ہے آپ کے نبی آپ کو’’ بیت الخلاء‘‘ کے احکامات بھی سکھاتے
ہیں؟ … مقصد مذاق اُڑانا تھا کہ… تمہارا دین اتنا حقیر ہے کہ… ایسی معمولی اور
ذاتی باتوں میں پڑا رہتا ہے… مگر سامنے حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کے صحابی تھے… وہ نہ شرمندہ ہوئے اور نہ احساس کمتری میں گرے…
بلکہ بڑے فخر سے فرمایا کہ ہاں کیوں نہیں؟… ہمیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ
وسلم نے سکھایا ہے کہ ہم جب بیت الخلاء میں جائیں تو … قبلہ کی طرف رخ
کریں اور نہ پیٹھ۔
مفید اور تابع سائنس
ایسی ایجادات اور ایسی سائنس جو نفع مند
ہو … اور شریعت کے قطعی اصولوں کے تابع ہو… وہ اس زمانے میں مسلمانوں کی بڑی ضرورت
ہے … اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بڑی صلاحیتوں سے نوازا ہے… کلمہ طیبہ… لا الٰہ
الا اللہ محمد رسول اللہ میں عجیب تاثیر ہے… جو مسلمان دل کی گہرائی میں اس کلمے
کو اُتارتا ہے وہ ہر میدان میں باصلاحیت اور کامیاب ہوتا ہے… آج اگر مسلمانوں کو
امت کا درد رکھنے والے حکمران نصیب ہو جائیں… اور وہ سائنسی تعلیم کے ادارے
بنائیں…اور باعمل مسلمان نوجوان ان اداروں سے تعلیم پائیں اور اپنی خدمات کو… حرص
و ہوس کے تابع نہ بنائیں تو… مسلمان اس میدان میں غیر مسلموں سے بہت آگے نکل سکتے
ہیں… مگر آج حالت یہ ہے کہ… دل میں نہ اسلام کی محبت ہے اور نہ مسلمانوں کا درد…
بس مال کا حرص… اور کافروں کی عظمت دلوں میں بھری ہوئی ہے… اسی لئے نہ کوئی مسلمان
باصلاحیت سائنسدان سامنے آ رہا ہے اور نہ مسلمانوں کو اس میدان میں کچھ سبقت مل
رہی ہے … علماء اور مجاہدین نے نہ تو لوگوں کو سائنس سے روکا ہوا ہے… اور نہ انہوں
نے کالجوں اور یونیورسٹیوں کو تالے لگا رکھے ہیں… وہ تو صرف اتنی سی درخواست کر
رہے ہیں کہ… ہمارے چند مدارس ہیں اور ان میں قرآن و سنت کی خالص تعلیم کا انتظام
ہے… آپ ان مدارس کو برداشت کر لیں … آپ جتنے اسکول، جتنے کالج ،جتنی یونیورسٹیاں
چاہیں کھولیں… ہم نے کب منع کیا ہے؟…بس ہمیں فتنے اور فساد کے اس دور میں… قرآن
مجید سے جڑا رہنے دیں… اب اس بات میں سائنس کی کون سی مخالفت نظر آ رہی ہے؟
خلاصۂ کلام
قرآن مجید بہت عظیم نعمت ہے… دنیا بھر
کے سارے علوم، ساری سائنس اور سارے فنون مل کر بھی… قرآن مجید کی ایک آیت کے علم
کے برابر نہیں ہو سکتے…قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے …اور اللہ تعالیٰ ساری
کائنات کا خالق ہے … مسلمانو! قرآن مجید کی قدر کرو… قرآن مجید کو سمجھ لو…
قرآن مجید کو حاصل کرو… قرآن مجید کی تعظیم کرو… قرآن مجید کا علم پڑھو اور
پڑھاؤ… اور قرآن مجید کے ساتھ پوری طرح جڑ جاؤ … بس آج یہی دعوت ہے اور یہی
درد ہے۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہی نے ہمیں’’ آنکھیں‘‘
عطاء فرمائی ہیں … اللہ تعالیٰ ہمیں ان آنکھوں سے اپنا گھر ’’بیت اللہ شریف‘‘
دکھائے… بار بار دکھائے…قبولیت کے ساتھ دکھائے…اور آخرت میں ہمیں بار بار اپنی
زیارت کرائے … آمین یاارحم الراحمین
’’بہت سے چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے،
اپنے رب کو دیکھتے ہوں گے ۔‘‘
[ القیامہ:۲۲،۲۳]
تاخیر نہ کریں
ہماری خوش نصیبی کہ روئے زمین پر’’ بیت
اللہ شریف ‘‘موجود ہے… ہماری خوش نصیبی کہ ہمارے پاس آنکھیں موجود ہیں… پھر اگر
ان آنکھوں نے ’’بیت اللہ‘‘ کو نہ دیکھا تو پھر کیا دیکھا؟… آج ’’حج بیت اللہ‘‘
کافی آسان ہے… کیا معلوم کہ کل بہت مشکل ہو جائے… بہت سے مسلمان جو وہاں مقیم تھے
آج کل دھڑا دھڑ واپس آ رہے ہیں… اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں کئی ایسے زمانے
آئے کہ دور والوں کے لئے’’حج بیت اللہ‘‘ بہت مشکل ہو گیا … کبھی سمندر قزاقوں سے
بھر گئے… وہ بحری جہازوں کو لوٹ لیتے تھے اور عازمین حج کو قتل کر دیتے تھے… کبھی ایسا
بھی ہوا کہ راستے ڈاکوؤںنے بانٹ لیے… ایسا بھی ہوا کہ صلیبیوں نے راستوں پر
قاتلانہ ناکے لگا دئیے …آج کل اچانک کوئی جنگ چھڑتی ہے تو فضاؤں میں ’’نوفلائی
زون ‘‘ بن جاتے ہیں… کہیں ایسا نہ ہو کہ خدانخواستہ… اللہ نہ کرے پھر ’’حج بیت
اللہ‘‘ مشکل ہو جائے… آج کل الحمد للہ بہت آسانی ہے… آج کل جتنا پیسہ رسومات پر
ذبح ہوتا ہے ’’حج بیت اللہ‘‘اس سے بہت سستا ہے… فضول پڑے ہوئے پلاٹ جن پر… ہمارے
مرنے کے بعد ورثانے جھگڑے ڈالنے ہیں… ان پلاٹوں سے ’’ حج بیت اللہ‘‘ بہت آسانی سے
ہو جاتا ہے… پلاٹ تو یہیں رہ جائے گا… جبکہ’’حج بیت اللہ‘‘ ہمارے ساتھ آگے جائے
گا… اور اس دن انسان ایک ایک نیکی کا محتاج ہو گا… ہر شخص بس یہی دیکھ رہا ہو گا
کہ وہ… آخرت میں اپنے ساتھ کیا لایا ہے… ویسے بھی سوچیں کہ… اگر ہم نے اللہ
تعالیٰ کا گھر نہیں دیکھا… تو پھر ہم اس کے شوق میں تڑپتے کیوں نہیں؟ روتے کیوں
نہیں؟… اپنے محبوب رب سے اتنا بھی عشق نہیں کہ جتنا… ایک نفس پرست عاشق کو اپنے
محبوب سے ہوتا ہے؟… آہ بیت اللہ!واہ بیت اللہ! ھا بیت اللہ!
حالات بدلتے رہتے ہیں
حکومت نے اس سال کی حج پالیسی کا اعلان
کر دیا ہے… اسی مہینے حج کے داخلے بھرے جانے ہیں …حج اسلام کے محکم اور بنیادی
فرائض میں سے ایک فریضہ ہے… صاحب استطاعت مسلمانوں پر زندگی میں ایک حج کرنا فرض
ہے… جو مسلمان استطاعت کے باوجود حج ادا نہیں کرتے ان کا انجام اور خاتمہ بہت خطرے
میں پڑ جاتا ہے… حج ایک عاشقانہ عبادت اور لاکھوں سعادتوں کا ایک مجموعہ ہے… حج
کرنے سے نہ تو کسی مسلمان کا مال کم ہوتا ہے… اور نہ ہی اسے فقر و فاقے کا خطرہ
رہتا ہے…حج کے ذریعہ ہم براہ راست اسلام کے مقدس ترین مقامات کو دل اور آنکھوں
میں بسا لیتے ہیں… حج بیت اللہ تمام صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے مکمل پاکی کا بہترین
نسخہ ہے… حج بیت اللہ ہمیں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے جوڑتا ہے اور یہی وہ
مقامات ہیں جہاں… اللہ تعالیٰ نے قرآن عظیم الشان کو نازل فرمایا ہے… حج بیت اللہ
اللہ تعالیٰ کا تاکیدی حکم ہے… اور مسلمانوں کے لئے حج بیت اللہ کھولنے کے لئے…
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی محنتیں اور بڑا
جہاد فرمایا ہے… حج ایسی عبادت ہے جو سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے ناخنوں تک ایک
مسلمان کو نور اور پاکی سے بھر دیتی ہے… حج کے اجتماع میں شرکت حشر کے دن کے
اجتماع میں ہمارے لئے آسانی اور راحت کا ذریعہ ہے… حج بیت اللہ کا ہر لمحہ ایمان
اور عشق سے معمور ہے… حج بیت اللہ ایسی والہانہ عبادت ہے کہ … اس عبادت کا شوق بھی
عبادت کی طرح لذیذ ہے… اس لئے جو مسلمان مرد اور عورت حج بیت اللہ کے لئے جا سکتے
ہوں وہ ایک منٹ کی تاخیر نہ کریں … حالات بدلتے رہتے ہیں… معلوم نہیں کب آنکھیں
اچانک دیکھنا بند کر دیں… بہت سے لوگ نابینا ہو جاتے ہیں… معلوم نہیں کب اچانک
کہیں گریں اور جسم کی ہڈیاں ٹوٹ جائیں … معلوم نہیں کب کوئی پکڑ کر کسی جگہ قید کر
دے … معلوم نہیں کب کوئی بیماری اچانک آئے اور زندگی ایک بستر تک محدود ہو جائے…
پھر کیوں اپنی آنکھوں کو کعبہ کی زیارت سے محروم رکھیں؟… پھر کیوں اپنے قدموں کو
بیت اللہ کے طواف سے محروم رکھیں… آج اگر صحت بھی ہے… اور کسی جگہ کوئی مال بھی
خوامخواہ پڑا ہوا ہے تو… اسے قیمتی بنا لیں …معلوم نہیں کب یہ مال اچانک ضائع ہو
جائے …جب تک کوئی عبادت آسان ہو تو یہ اللہ تعالیٰ کا ’’فضل‘‘ ہوتا ہے… جو خوش
نصیب ہوتے ہیں وہ اس فضل الہٰی کے خوب مزے لوٹ لیتے ہیں… لیکن جنہوں نے محروم رہنا
ہو وہ آج کل پر ٹالتے رہتے ہیں… بھائیو!اور بہنو! یہ دنیا تیزی سے قیامت کی طرف جا
رہی ہے… یہ ہر دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک
زمانے سے دور ہوتی جا رہی ہے… یہ ہر لمحہ خیر القرون سے شر القرون کی طرف سفر کر
رہی ہے… اس لئے اس زمانے میں کسی نیکی کو کل پر ٹالنا بہت خطرناک ہے …اچھے کل کی
اللہ تعالیٰ سے ضرور امید رکھنی چاہیے مگر… اپنے آج کو بہت قیمتی بنانا چاہیے …
ممکن ہے کل کا دن آج کے دن سے بہتر نہ ہو … حج کی عبادت ، صحت اور جوانی کے زمانے
میں زیادہ جچتی ہے… ویسے تو اللہ تعالیٰ جس عمر میں بھی نصیب فرما دیں… یہ بہت بڑی
نعمت ہے… مگر جوانی تو جوانی ہوتی ہے… اور جوانی کی عبادت کا لطف ہی کچھ اور ہوتا
ہے … ویسے بھی ہر مسلمان کو پہلی فکر یہ ہونی چاہیے کہ… اس کے ’’فرائض‘‘ جلد از
جلد پورے جائیں… کیونکہ ’’فرائض‘‘ کے بغیر زندگی بے کار اور ادھوری ہے… فرائض کے
بغیر زندگی صرف خسارہ ہی خسارہ ہے… ہم کب تک ہر نیکی کو کل پر ٹالتے رہیں گے… کوئی
کہتا ہے کہ بس کچھ دن بعد تہجد شروع کروں گا؟… اللہ کے بندے! کچھ دن بعد کیوں؟آج
سے کیوں نہیں؟… یہی حال حج کا ہے… پہلے مکان بنانا ہے، پھر کاروبار سیٹ کرنا ہے…
پھر بچوں کی شادیاں کرنی ہیں… پھر حج کا سوچیں گے… آہ مسلمان !تجھے اپنے رب کے
گھر کو دیکھے بغیر آخر چین کس طرح آ جاتا ہے؟… ٹھیک ہے اگر حج پر جانے کے اسباب
نہیں ہیں تو نہ جانے میں کوئی گناہ نہیں… مگر حج کے شوق کے اسباب تو تیرے پاس بے
شمار ہیں… پھر دل میں شوق کیوں نہیں؟… کیا شوق کے لئے بھی ٹکٹ اور ویزے کی ضرورت
پڑتی ہے؟… تو اللہ کا بندہ ہے… اور بیت اللہ، اللہ کا گھر ہے… بس اسی پر غور کر لے
توشوق کی موجیں تیرے دل سے اُٹھ کر … آنکھوں کا سیلاب بن جائیں گی… تب تو شوق کی
ان لہروں میں ڈوب کر دعاء مانگے گا تو … تیری دعاء ضرور عرش تک جا پہنچے گی… تب
تیری روح میں قوت پرواز آئے گی… تب تیرے خواب بھی بار بار مبارک سفر کریں گے… اور
تو ’’حرمین شریفین‘‘ سے مستقل جڑ جائے گا، ان شاء اللہ۔
چھری چلانی پڑتی ہے
قرآن مجید نے حج کی ترغیب دی ہے… قرآن
مجید نے حج کی فرضیت بیان فرمائی ہے … قرآن مجید نے حج کے مناسک اور احکامات
سکھائے ہیں… ایک مسلمان کو چاہیے کہ قرآن مجید میں ان تمام باتوں کو پڑھے … تب
اسے معلوم ہو گا کہ… حج ایک مسلمان کے لئے کس قدر اہم، کس قدر ضروری اور کس قدر
مفید ہے… مگر ایک مسلمان حج پر جائے کیسے؟ اتنا لمبا سفر، اتنا زیادہ خرچہ اور اہل
و اقارب سے جدائی… تب قرآن مجید نے ایک واقعہ سنا کر مسئلہ آسان فرما دیا …
قرآن مجید بتا رہا ہے کہ… ایک بوڑھے باپ کو اپنے نوجوان بیٹے سے بہت پیار تھا…
بڑھاپے کی اولاد تھی… اور سالہا سال کی دعاؤں کے بعد ملی تھی… اور بیٹا بھی ایسا
کہ اسے دیکھتے ہی باپ کی آنکھیں اور دل محبت کی ٹھنڈک میں ڈوب جاتے تھے… حسین و
جمیل ، نیک و صالح، ذہین اور فرمانبردار… دلکش اور باصفات… اب باپ کو حکم ملا کہ…
اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے اپنا یہ بیٹا اپنے ہاتھوں سے ذبح کر دے… اس حکم میں
کوئی ایک ’’امتحان ‘‘ نہیں تھا بلکہ کئی سخت امتحانات تھے… جن میں سب سے مشکل اپنے
ہاتھ سے ذبح کرنا تھا… باپ اللہ تعالیٰ کا وفادار تھا… وفادار لوگ بہت عجیب ہوتے
ہیں…وہ بہت زیادہ اور بہت لمبا نہیں سوچتے… وہ بس یہ دیکھتے ہیں کہ جو حکم آیا ہے
بس اسے پورا کرنا ہے… اور وہ بس ایک ’’لمحے‘‘ کا فیصلہ ہوتا ہے کہ … اس ’’ایک
لمحے‘‘ میں ہم نے مضبوط ہونا ہے … پہلے کیا ہو گا، بعد میں کیا ہو گا وہ سب اللہ
تعالیٰ کے سپرد… ہم نے تو بس اس ایک لمحے میں ثابت قدم رہنا ہے۔
باپ نے بیٹے کو لٹا دیا… خود کو ’’ایک
لمحہ‘‘ کے لئے تیار کیا… اور چھری چلا دی… بس دو سیکنڈ کا امتحان… چھری چلانے سے
پورا ہو گیا … اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعامات کا سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ… آج
تک جاری ہے… اور ہمیشہ جاری رہے گا… اگر وہ اُس لمحہ چھری نہ چلاتے تو سب کچھ چھن
جاتا … مگر انہوں نے چھری چلا کر… اپنے گمان میں اپنا بیٹا ذبح کر دیا… تب وہ بیٹا
بھی واپس مل گیا… اس بیٹے کی نسل میں بھی برکت ہو گئی… اور مزید بے شمار نعمتیں
بھی جاری ہو گئیں … یہی حال ہر مسلمان کا ہے… جو اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے قربانی
کی چھری چلا دیتا ہے… وہ کامیاب ہو جاتا ہے… اور جو آگے پیچھے دیکھتا رہتا ہے اس
کے ہاتھ کچھ نہیں آتا… حج کا ارادہ کیا اور زیورات پر چھری چلا دی، پلاٹ پر چھری
چلا دی … ان شاء اللہ حج بھی ہو جائے گا… اور مال بھی واپس مل جائے گا … مگر چھری
چلاتے وقت مال واپس ملنے کی نیت نہ ہو… بس عشق ہو… جنون ہو… تڑپ ہو، قربانی ہو…
اور دل کا اخلاص ہو۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی… حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کتاب نازل فرمائی ہے… اس کا نام ہے
’’القرآن ‘‘ …’’قرآن مجید‘‘… جبکہ اس مبارک اور سچی کتاب کے نوے سے زائد صفاتی
نام اور بھی ہیں… مثلاً ’’الکتاب، الذکر‘‘ وغیرہ… قرآن مجید کا ایک خاص موضوع ہے
’’ظالموں کا انجام‘‘… اور دوسرا خاص موضوع ہے ’’مظلوموں کا مقام‘‘۔
ظالموں کا انجام
دنیا میں بہت سے ’’ظالم‘‘ گذرے ہیں …
اور قیامت تک ظالم لوگ پیدا ہوتے رہیں گے… قرآن مجید نے ’’ظالموں‘‘کا’’ برا
انجام‘‘ بیان فرمایا ہے… ظالم ہمیشہ ناکام اور نامراد ہوتا ہے… ظالم ہمیشہ حسرت کی
موت مرتا ہے… اور ظالم کبھی کامیاب نہیں ہوتا… وہ چند دن ظلم کرتا ہے مگر اس ظلم
کی سزا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پاتا ہے… قابیل سے لے کر اصحاب الفیل تک… مختلف ظالموں
کے نمونے قرآن مجید نے بیان فرمائے ہیں… بس اسی طرح کے مختلف ظالم قیامت تک پیدا
ہوتے رہیں گے… یہ ظلم کی آگ جلائیں گے… بہت سے مظلوموں کو ماریں گے… مگر پھر خود
اپنی جلائی ہوئی آگ کا ایندھن بن جائیں گے… قرآن مجید نے یہ موضوع اتنی تفصیل سے
بیان فرمایا ہے کہ… اسے پڑھ کر ہر مومن، ہر مسلمان… بس یہی تمنا رکھتا ہے کہ… وہ
کبھی بھی کسی پر ’’ظلم‘‘ نہ کرے … بے شک مظلوم بن کر مر جائے… مگر ایک منٹ کے لئے
بھی ’’ظالم ‘‘ نہ بنے۔
مظلوموں کا مقام
دنیا میں بہت سے ’’مظلوم‘‘ گذرے ہیں …
اور قیامت تک یہ عظیم ’’برادری‘‘ موجود رہے گی… اللہ تعالیٰ کی خاطر… سچے دین کی
خاطر … بلند نظریات کی خاطر… ظالم کے ظلم کا سامنا کرنے والے… اللہ تعالیٰ کے
بندے… قرآن مجید اُن کے معطر تذکرے مہکاتا ہے… بار بار سناتا ہے …اور اُن مظلوموں
کا ’’بلند مقام‘‘ بتاتا ہے… مظلوم بظاہر ناکام ہوتا ہے کیونکہ مارا جاتا ہے، مغلوب
ہوتا ہے، قتل کیا جاتا ہے، جلایا جاتا ہے ، سولی پر لٹکایا جاتا ہے… لیکن حقیقت
میں وہ بڑا کامیاب ہوتا ہے… ظلم کی آگ اس کے لئے جنت کا باغ بن جاتی ہے…ظلم کی
موت اس کے لئے شہادت کی زندگی بن جاتی ہے…ظلم کے تھپیڑے اس کے لئے اونچی پرواز بن
جاتے ہیں… قرآن مجید نے کئی مظلوم کردار… ذکر فرمائے ہیں… ہابیل علیہ
السلام سے لے کر شہدائے اخدود تک… مؤمنِ بنی اسرائیل سے لے کر شہدائے
ہجرت تک… یہ وہ لوگ تھے جن کے پاس… ظالموں کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک ہی ہتھیار
تھا… اور وہ تھا جانثاری، فداکاری اور قربانی… انہوں نے بڑی استقامت سے یہ ہتھیار
استعمال کیا… یعنی اپنی جان قربان کر دی …پس اُن کے اس ہتھیار نے ہر ظالم کو ذلیل
و ناکام کر دیا… اور خود یہ مظلوم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کامیاب ہو گئے ، سرفراز ہو
گئے…فرعون ناکام ہو گیا کہ… ایک کمزور سی نہتّی عورت کو نہ دبا سکا … اپنی ساری
طاقت کے باوجود اس عورت سے اپنی بات نہ منوا سکا… اپنے تمام تر تشدد کے باوجود اس
عورت کو نہ جھکا سکا… جبکہ وہ عورت کامیاب ہو گئی کہ … اکیلی اور نہتّی ہونے کے
باوجود اتنے بڑے بادشاہ سے نہ دبی، نہ جھکی… بلکہ اپنی جان دے کر اسے شکست دے گئی…
اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ہمیشہ ہمیشہ کی کامیابی پا گئی… فرعون جو چاہتا تھا وہ نہ
پا سکا… اسی کو ’’ناکامی‘‘ کہتے ہیں… اور سیدہ آسیہ رضی اللہ
عنہا جو چاہتی تھیں … وہ انہوں نے پا لیا …اسی کو ’’کامیابی ‘‘
کہتے ہیں… قرآن مجید ’’مظلوموں ‘‘ کا بلند مقام اتنی تفصیل سے سناتا ہے کہ… ہر
مسلمان دین کی خاطر ہر ظلم سہنے کی طاقت پا لیتا ہے۔
اندھے، بہرے نظریات
امریکہ کے صدر نے پاکستان کو دھمکی دی …
وہ ایک بے عقل، ظالم شخص ہے… ہر دن ٹویٹر پر اپنی غلاظت چھوڑتا رہتا ہے… شمالی
کوریا کو بڑی سنگین دھمکیاں دیتا ہے مگر جواب میں… اسے گالیاں پڑتی ہیں… شمالی
کوریا کے حکمران بلا جھجکے اسے دو ٹوک جواب دیتے ہیں…مگر جس دن سے ’’ٹرمپ‘‘نے
پاکستان کو دھمکی دی ہے …پاکستان میں خوف کی فضا قائم ہو گئی ہے… قرآن مجید نے
منافقین کی ایک صفت یہ بیان فرمائی ہے کہ… وہ ہر آفت سے ڈرتے رہتے ہیں…ہر مصیبت
کا رخ اپنی طرف سمجھتے ہیں… اور ہر دھمکی پر خوف زدہ ہو جاتے ہیں… اللہ تعالیٰ
معاف فرمائے… ہمارے حکمرانوں ، قلم کاروں اور دانشوروں کا آج یہی حال بنا ہوا ہے…
جس اخبار کو بھی اُٹھا کر دیکھیں… خوفزدہ دانشور’’ خطرناک مستقبل‘‘ سے قوم کو ڈرا
رہے ہیں… اور سب کا ایک ہی بات پر زور ہے کہ… امریکہ اور انڈیا کے مطالبات فوراً
مان لئے جائیں… جہاد اور مجاہدین کا بوجھ سر سے فوراً اُتار دیا جائے… اور ٹرمپ کے
سامنے گھٹنے ٹیک دئیے جائیں… اتنی بڑی فوج ، اتنی مضبوط عوام اور ایٹم بم رکھنے
والا ایک اسلامی ملک… ایک پاگل کی ٹویٹر پر دی گئی دھمکی سے… اس قدر خوفزدہ ہو
جائے گا… یہ بات سوچنا بھی شرمناک ہے… مگر افسوس کہ یہ ذلت اور شرمندگی گذشتہ سولہ
سال سے اس ملک کا مقدر بنی ہوئی ہے… سولہ سال پہلے ایک ٹیلیفون کال پر… ہمارے اس
وقت کے حکمرانوں نے خوفزدہ ہو کر…امریکہ کو افغانستان پر حملے کے لئے ہر سہولت
فراہم کر دی… امریکی فوج کو زمینی اور فضائی اڈے دئیے گئے… اُن کے لئے لاجسٹک کی
ہر سہولت فراہم کی گئی… عرب اور افغان مجاہدین پکڑ پکڑکر اُن کے حوالے کئے گئے …
اپنے کلمہ گو افغان مسلمانوں کے قتل عام میں … ظالم امریکہ کا مکمل تعاون کیا گیا…
اسی تعاون کی پاداش میں اپنے ملک کو بدامنی کی آگ میں جھونکا گیا… دنیا بھر کے
سفارتی اصولوں کو ذبح کر کے افغان سفیر تک کو امریکہ کے سپرد کیا گیا …تمام اسلامی
اور اخلاقی حدود کو پامال کر کے … اپنے ملک کو ظالم اور بدکار درندوں کی چراگاہ
بنا دیا گیا… مگر جواب میں کیا ملا؟ … آج امریکہ کہہ رہا ہے کہ ہم سے پیسے لے کر
ہم سے دھوکہ کیا گیا ہے… سولہ سال کی اس ذلت کے باوجود آج پھر ’’ٹرمپ‘‘ کی دھمکی
پر گردن جھکانے کی تیاری کی جا رہی ہے…حالانکہ اب اگر پاکستان دوبارہ جھکا تو…
شاید حالات قابو میں نہ آ سکیں… کیونکہ اس بار امریکہ اکیلا نہیں ہے… اس کے ساتھ
’’ انڈیا ‘‘ بھی جڑ چکا ہے… اور ان دونوں کے مطالبات کی فہرست بہت طویل ہے… وہ
پاکستان کو نچوڑ کر رکھ دیں گے… مگر اُن کی خواہشات اور مطالبے پورے نہیں ہوں گے…
مگر اندھے اور بہرے نظریات رکھنے والے…سیاستدان، لسانیت پرست اور ماضی کے کمیونسٹ…
سب مل کر… خوف کی فضا بنا رہے ہیں… وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بس چند تنظیموں پر پابندی
اور چند افراد کی حوالگی سے… سب دشمن مطمئن ہو کر دوست بن جائیں گے … اور پاکستان
میں ترقی کا سیلاب آ جائے گا… حالانکہ یہ ان کی خام خیالی ہے… پاکستان اگر آج بچ
سکتا ہے تو اس کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ… وہ ماضی کی ہولناک غلطی سے اپنی گردن
آزاد کرا لے… افغانستان کے خلاف جس جنگ میں پاکستان امریکہ کا اتحادی بنا تھا… وہ
جنگ ایک ’’ظلم ‘‘ تھی… جب تک پاکستان اس ظلم سے خود کو علیحدہ نہیں کرتا… اس وقت
تک نہ پاکستان میں مکمل امن آ سکتا ہے… اور نہ دشمنوں کا دباؤ کم ہو سکتا ہے…
پاکستان کو اس حرام جنگ، حرام ظلم اور حرام اتحاد سے باہر نکالنا ہی… اس ملک کو
امن اور ترقی کی راہ پر ڈال سکتا ہے… اس وقت ظالم طاقتوں نے اپنے خزانوں کے منہ
اُن لوگوں کے لئے کھول دئیے ہیں… جو پاکستان میں ’’خوف‘‘ کا ماحول بنا رہے ہیں…
جبکہ بہت سے سیاستدانوں کے نظریات تو ویسے ہی اندھے ، بہرے اور ظالمانہ ہیں… وہ
پاکستان کی ہر طاقت اور قوت کو ختم کر کے… اسے ایک تجارتی بازار اور مارکیٹ بنانا
چاہتے ہیں… وہ سمجھتے ہیں کہ … جب ملک سے جہاد ، ایٹم بم ، فوج اور ہر طاقت کو
نکال دیا جائے گا…تو ہم سے کسی کو خطرہ نہیں رہے گا… تب امریکہ ہمیں اپنی گود میں
اور انڈیا ہمیں اپنی بانہوں میں لے لے گا… اور ہم سنگاپور اور دبئی کی طرح ساری
دنیا کے لئے ایک آزاد تجارتی منڈی بن جائیں گے… تب ہمارے پاس پیسہ ہی پیسہ ہو گا…
اور پیسہ ہی انسان کا اصل مقصود اور مطلوب ہے…حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ … جس دن
پاکستان اپنی طاقت سے دستبردار ہو گا… یہ دشمن ممالک اسے نوچ نوچ کر کھا جائیں گے…
اور اس کی تکہ بوٹی کر دیں گے۔ حَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ
ایمان والوں کی صفت یہ ہے کہ… جب انہیں
کفر اور ظلم سے ڈرایا جاتا ہے تو وہ ہرگز نہیں ڈرتے بلکہ کہتے ہیں:
حَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ
’’اللہ تعالیٰ ہماری مدد کے لئے کافی ہے
اور وہی بہترین کارساز ہے۔ ‘‘
امریکہ اپنی تمام تر طاقت استعمال کر
کے… افغانستان کے نہتے’’طالبان‘‘ کو شکست نہیں دے سکا…پھر ہمیں اس سے ڈرنے کی کیا
ضرورت ہے؟… باقی رہا انڈیا تو اس پر اس وقت آر ایس ایس کی حکومت ہے… اور آر ایس
ایس کا واضح ایجنڈا ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کا ہے… انہوں نے کبھی ’’برصغیر‘‘ کی تقسیم کو
قبول اور تسلیم نہیں کیا… ہمارے حکمران… نجم سیٹھی وغیرہ سے سبق پڑھنے کی بجائے
انڈیا اور افغانستان کے حالات کا… خود بغور جائزہ لیں… انڈیا ہماری طرف دوستی کا
جو بھی پیغام بھیجتا ہے… اس کے پیچھے اس کی دشمنی چھپی ہوتی ہے… انڈیا کے تمام تر
مطالبات کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ… پاکستان میں بد امنی پھیلے اور یہ ملک مزید
کمزور ہو جائے… ہمارے حکمرانوں کو چاہیے کہ… دشمنوں کے بیچ میں بہادروں کی طرح
زندہ رہنا سیکھیں… اور یہ خواب دیکھنا چھوڑ دیں کہ… بے غیرتی اختیار کرنے سے ہمارے
دشمن ہمارے دوست بن جائیں گے… ایسا کبھی نہیں ہو سکتا… بے غیرت کا کوئی دوست نہیں
ہوتا… اور ہر دشمنی کا ختم ہونا یہ فطرت کے خلاف ہے۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے’’ قرآن مجید‘‘ میں’’
دوستی اور دشمنی‘‘ کا مسئلہ تفصیل کے ساتھ ارشاد فرمایا ہے… دراصل دوستی اور دشمنی
انسان کی فطرت میں شامل ہے… دوستی اور دشمنی کے صحیح استعمال سے انسان کامیابی اور
ترقی پاتا ہے… اور دوستی، دشمنی کے غلط استعمال کی وجہ سے… انسان بڑے نقصانات اور
بربادی پاتا ہے۔
اپنی فطرت اور طبیعت میں سے … کوئی شخص
دوستی اور دشمنی نکال دے…یہ ممکن نہیں ہے… بہت سے لوگ دوستی اور دشمنی سے تنگ آ
کر اسے بھلانے اور مٹانے کی کوشش کرتے ہیں… تب وہ طرح طرح کے نشے کرتے ہیں… زیادہ
وقت مدہوش اور بے ہوش رہتے ہیں… مگر وہ اپنی اس کوشش میں نئے دوست اور نئے دشمن
بنا لیتے ہیں… نشے کی عادت بھی نشے کے ساتھ دوستی… اور عقل کے ساتھ دشمنی ہے۔
دوستی،دشمنی کی ترقی دیکھنی ہو تو…
بہترین مثال حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں… انہوں نے
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دوستی
کی… اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے
ہر دشمن سے دشمنی کی… پس یہی عمل اُن کی ہر کامیابی اور ہر ترقی کا ذریعہ بن گیا…
اور اگر دوستی اور دشمنی کی بربادی دیکھنی ہو تو حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کی
مثال سامنے رکھ کر… یہ معاملہ پوری طرح سمجھا جا سکتا ہے… قرآن مجید نے جس کو
مثال بنایا ہو… وہ واقعی’’ مثال‘‘ ہوتا ہے… انسان جس قدر غور کرتا جائے مسئلہ اسی
قدر واضح ہوتا چلا جاتا ہے۔
ایک قرآنی نکتہ
گذشتہ کالم کے آخری جملے میں لکھا تھا
کہ …ہر دشمنی کا ختم ہونا یہ فطرت کے خلاف ہے… اس میں ایک قرآنی نکتے کی طرف
توجہ دلانا مقصود تھا… وہ نکتہ ہے :
{بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ
عَدُوٌّ} [البقرۃ:۳۶]
یعنی انسان جب اس زمین پر اُتارا گیا تو
اس کی فطرت میں ’’دشمنی‘‘ کا مادہ بھی رکھ دیا گیا… دراصل ’’دشمنی‘‘ انسان کی ایک
اہم ترین ضرورت ہے… جن افراد میں دشمنی کم ہوتی ہے یا کمزور ہوتی ہے… وہ انسان
کبھی کامل نہیں ہو سکتے… ایسے افراد دنیا میں کوئی بڑا کام بھی نہیں کر سکتے…
مضبوط دوستی اور مضبوط دشمنی یہ انسان کے کمالات میںسے ہے… اور یہ ایک انسان کی
اہم ضرورت ہے… اگر ’’دشمنی‘‘ نہ ہو تو انسان کو ’’دوستی‘‘ سمجھ میں نہیں آ سکتی
کیونکہ اگر ’’اندھیرا ‘‘ موجود نہ ہو تو ’’روشنی‘‘ کا فائدہ نہیں سمجھاجا سکتا …
’’کڑوا‘‘ موجود نہ ہو تو ’’میٹھے‘‘ کا کیا پتا چلے گا … ’’دشمنی‘‘ ہی کی وجہ سے
’’دوستی‘‘ کی قدر ہے اور ’’دوستی‘‘ کی لذت… دوسری بات یہ ہے کہ ’’دوستی‘‘ انسان کو
اونچا اڑاتی ہے… جبکہ ’’دشمنی‘‘ انسان کو مضبوط بناتی ہے… آپ دیکھ لیں گے کہ جس
انسان کے دشمن کم ہوتے ہیں وہ کمزور ہوتا ہے… اور جس کے دشمن جس قدر زیادہ ہوتے
ہیں وہ اسی قدر مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے… خلاصہ یہ کہ… ’’دشمنی‘‘ ایک ضروری ، ایک
مفید اور مقوی چیز ہے…یہ انسان کی قدر بھی بڑھاتی ہے اور قوت بھی … یہ انسان کی
اصلاح بھی کرتی ہے اور اسے ترقی بھی دلاتی ہے… شرط یہ ہے کہ… ’’دشمنی‘‘ ٹھیک جگہ
استعمال ہو… لیکن اگر اسے ’’غلط‘‘ استعمال کیا جائے تو یہ انسان کو… محرومی،
ناکامی اور ذلت میں گراتی چلی جاتی ہے… مکہ کے سردار ’’ابو جہل‘‘ جیسا بہادر،
باصلاحیت ، مقبول شخص اس زمین پر بہت کم پیدا ہوا ہے مگر اس نے ’’دشمنی‘‘ کی صفت
کا غلط استعمال کیا تو… ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ناکامی اور ذلت کی مثال بن گیا… اس لئے
جو انسان کامیاب ہونا چاہتا ہے… اسے اپنی ’’دشمنی‘‘ کو بھی… اپنی ’’دوستی‘‘ کی
طرح… درست استعمال کرنا ہو گا۔
یہ سب جھوٹے ہیں
اوپر جو باتیں عرض کی ہیں… بہت سے لوگوں
کے لئے یہ باتیں حیرانی کا باعث بنی ہوں گی… کیونکہ آج کل ہر طرف یہ نعرے گونج
رہے ہیں:
* سب
کے لئے دوستی، سب کے لئے محبت
* دوستی
پھیلاؤ، دشمنی مٹاؤ
* امن،
شانتی ، دوستی اور عدم تشدد ہی میں کامیابی ہے
* محبت
اور دوستی کا پیغام عام کرو (وغیرہ، وغیرہ)
واقعی یہ سب بہت میٹھے جملے ہیں… یہ
جملے دل پر بہت اثر بھی کرتے ہیں… عیسائی مشنریاں اور یہودی این جی اوز ان نعروں
کو… ہر جگہ پہنچاتے اور پھیلاتے ہیں… ویسے بھی جو انسان ان جملوں کو سنتا ہے وہ
ضرور اثر لیتا ہے… کیونکہ فطری طور پر ہر انسان کو دوستی اور محبت اچھی لگتی ہے…
لیکن سوال یہ ہے کہ… ان جملوں پر اس دنیا میں عمل کون کرتا ہے؟… ہم نے ’’محبت،
محبت‘‘ کرنے والے کئی افراد سے پوچھا کہ… کیا آپ مجاہدین اسلام سے بھی ’’محبت‘‘
رکھتے ہیں؟ … تب ان کے چہروں سے نفرت کی ناگواری برسنے لگی… ارے بھائی! جب محبت سب
کے لئے ہے تو پھر… مجاہدین کے لئے کیوں نہیں؟… تب وہ غصے سے پھنکارتے ہیں کہ…
مجاہدین چونکہ انسانیت کے دشمن ہیں اس لئے ہم ان سے محبت نہیں رکھتے… معلوم ہوا
کہ… محبت، محبت کا پیغام دینے والوں کے دل بھی… دشمنی سے بھرے ہوئے ہیں… ویٹی کن
کا پوپ ہر جگہ محبت، محبت کی آواز لگاتا ہے… لیکن اگلے ہی لمحے وہ جہاد والے
اسلام… جہاد والے نبی او رجہاد والے قرآن کی نفرت سے پھٹنے لگتا ہے… اور اس کی
عالمگیر محبت… صرف چند افراد تک سمٹ کر رہ جاتی ہے… یہی حال انسانی حقوق کے اداروں
…اور اسی طرح کی دیگر تنظیموں کا ہے… یہ لوگ ’’محبت‘‘ کا لیبل لگا کر… دشمنی کا
سودا بیچتے ہیں…دراصل یہ لوگ… قرآن مجید کے ’’نظام محبت‘‘ اور ’’اصول عداوت‘‘ کو
مٹانا چاہتے ہیں… یہ کہتے ہیں کہ… جن سے دشمنی کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے… اُن
سے محبت کرو… اور جن سے محبت کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے… اُن سے نفرت کرو…ان لوگوں
کے سامنے اگر آپ سورۂ فاتحہ کی تفسیر بیان کریں تو ’’نعوذ باللہ‘‘ وہ اسے بھی
نفرت کا سبق کہہ دیتے ہیں… کیونکہ اس میں برے یہودیوں اور برے نصرانیوں کے راستے
سے بچنے کی دعاء مانگی گئی ہے۔
ان کی زندگیوں میں جھانک کر دیکھیں
عیسائی مشنریوں اور این جی اوز کے
اہلکاروں کی نجی زندگیوں میں جھانک کر دیکھیں … آپ کو یہ لوگ بغض ، عداوت اور
دشمنی کی بھری ہوئی بوریاں نظر آئیں گی… یہ اللہ تعالیٰ کے دین سے نفرت رکھتے
ہیں… یہ قرآن مجید سے نفرت رکھتے ہیں… یہ باعمل مسلمانوں کے جانی دشمن ہیں… یہ
مجاہدین اسلام کا نام و نشان تک گوارہ نہیں کرتے… یہ اپنے ماتحتوں اور ملازموں سے
کتوں جیسا سلوک کرتے ہیں… یہ حرص اور لالچ کی وجہ سے ہر کسی کو نقصان پہنچانے کی
فکر میں رہتے ہیں… باقی رہا ’’محبت، محبت‘‘ کا پیغام تو وہ اُن کی نوکری اور اُن
کی ڈیوٹی ہے… طوطے کی طرح وہ صرف زبان سے کہتے ہیں اور بس… کیونکہ اگر اُن کے دل
میں… واقعی انسانیت کے لئے ’’محبت، محبت‘‘ کی بات ہوتی تو… برما سے لے کر بوسنیا
تک… مسلمانوں کا اس طرح سے قتل عام نہ ہوتا… دنیا کی ہر جیل میں با عمل مسلمانوں
کو… اتنی بے دردی کا سامنا نہ ہوتا… اور دنیا کے ظالم حکمران اتنی آزادی سے …
دنیا میں ظلم نہ ڈھا رہے ہوتے…پوپ اگر واقعی ’’محبت‘‘ کا علمبردار ہے تو… اس نے
’’ٹرمپ‘‘جیسے نفرت کے گیس سیلنڈر کو… ویٹی کن میں کیوں خوش آمدید کہا… اور یہی
پوپ اپنے منہ پر سولہ لگامیں لگا کر برما میں بھی… خطاب جھاڑ آیا … کیا یہی ہے
’’محبت، محبت‘‘ کی صداؤں کی حقیقت؟… آج دنیا کے ہر ظالم کی پشت پر سرپرستی کا
ہاتھ رکھ کر… پوپ کہتا ہے… محبت، محبت… کیا آج زمین پر اس سے بڑی منافقت کوئی اور
ہو سکتی ہے؟
اصل پیغام محبت
قرآن مجید ہی اصل ’’پیغام محبت‘‘ ہے…
اسلام ہی اصل میں ’’دین محبت‘‘ ہے… مگر اسلام کا ’’پیغام محبت‘‘ … جھوٹ اور منافقت
سے پاک ہے… اسلام کے ’’پیغام محبت‘‘ میں ساری مخلوق کے حقوق کا خیال رکھا گیا ہے…
اور جھوٹے میٹھے دعووں کی جگہ … حقیقت کو اختیار کیا گیا ہے… نفرت سے پاک دل ،
نفرت سے پاک سینے، نفرت سے پاک نفس … یہ اسلام کا تحفہ ہیں… خیر خواہی ہی خیر
خواہی یہ اسلام کا پیغام ہے… اسلام سمجھاتا ہے کہ… ایک انسان ’’محبت‘‘ میں تبھی
کامل ہو سکتا ہے… جب وہ اپنی ’’دشمنی‘‘ کی صفت کا درست استعمال کرے… انسان جب زمین
پر اُترا تو اس کے دشمن بھی زمین پر اُتار دئیے گئے… اب ان دشمنوں سے دشمنی کرنا
یہ انسان کی ایک ضرورت ہے… اور دنیا کا کوئی انسان ’’دشمنی‘‘ سے خالی نہیں ہے…
گاندھی سے لے کر پوپ تک… جو لوگ خود کو ’’دشمنی‘‘ سے پاک قرار دیتے رہے… اُن کی
زندگیاں… اور اُن کا طرز عمل… اُن کے دعوے کی تصدیق نہیں کرتا… بلکہ اُن لوگوں کا
طرز عمل ’’انسانیت ‘‘ کے لئے زیادہ خطرناک ہے … خود ’’گاندھی‘‘ کی ناک کے نیچے
نہرو اور پٹیل نے برصغیر کے لاکھوں مسلمانوں کا بے دردی سے خون کیا… تب گاندھی نے
اسی خونخوار ملک کا ’’ راشٹرپتا‘‘ یعنی ’’بابائے قوم‘‘ ہونا قبول کر لیا… جبکہ
سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کئی رات دن جاگ کر… فتح بیت المقدس کے معاہدے کو
یقینی بناتے رہے… اور انہوں نے تمام عیسائیوں کو امن اور حفاظت کے ساتھ وہاں سے
نکالا… مگر تاریخ کا ستم دیکھیں کہ گاندھی… امن پرست جبکہ… صلاح الدین ایوبی رحمہ
اللہ … شدت پسند۔
دل کی اصلاح کریں
مقصد آج کی گفتگو کا یہ ہے کہ… ہم دنیا
میں پھیلے ہوئے غلط نعروں کا شکار ہو کر… اپنے ایمان اور اپنے عقیدے سے محروم نہ
ہو جائیں… آج دنیا میں لفظ ’’دشمنی ‘‘ یعنی ’’عداوت‘‘ کو ایک گالی بنا دیا گیا
ہے… حالانکہ ہر دشمنی اور ہر عداوت بری نہیں ہے… بلکہ بعض دشمنیاں اور عداوتیں
’’فرض ‘‘ ہیں… بعض’’واجب‘‘ ہیں، بعض ’’مستحب‘‘…جبکہ کئی دشمنیاں ’’حرام ‘‘ ہیں…
بعض ’’مکروہ‘‘ ہیں… اور بعض ’’ناپسندیدہ‘‘… یہی حال’’محبت‘‘ کا ہے… بعض محبتیں ’’
فرض‘‘ ہیں… لازم ہیں، اچھی ہیں … جبکہ بعض محبتیں ’’حرام‘‘ ہیں… ناجائز
ہیں ، مکروہ ہیں…قرآن مجید ہمیں بعض دشمنیوں کا حکم دیتا ہے… مثلاً:
{اِنَّ الشَّیْطَانَ لَکُمْ
عَدُوٌّفَاتَّخِذُوْہُ عَدُوًّا} [فاطر: ۶]
اس آیت مبارکہ میں… شیطان سے عداوت اور
دشمنی رکھنے کا اہل ایمان کو باقاعدہ حکم فرمایا گیا ہے…اس لئے مسلمانوں پر ضروری
ہے کہ… وہ دنیا میں پھیلے ہوئے غلط نعروں کا شکار نہ ہوں… وہ نہ ہر دوستی کو اچھا
سمجھیں اور نہ ہر دشمنی کو برا… بلکہ ان کا عقیدہ یہ ہو کہ… دوستی اچھی بھی ہوتی
ہے اور بری بھی… محبت اچھی بھی ہوتی ہے اور بری بھی… یہی حال دشمنی کا ہے… دشمنی
اچھی بھی ہوتی ہے… اور بری بھی… ہر ’’دشمنی‘‘ کو برا کہنا یہ جرم اور گناہ ہے…
مسلمانوں کے لئے دوسرا کام یہ ضروری ہے کہ وہ… قرآن و سنت میں دوستی اور دشمنی کے
’’اسلامی اصولوں‘‘ کو پڑھیں، سمجھیں اور اپنائیں… وہ اپنی ’’دوستی‘‘ اور ’’دشمنی‘‘
کو اپنے نفس اور وقت کی ضرورت کے حوالے نہ کریں… بلکہ اپنے نفس کا مجاہدہ کر کے،
خوب محنت کر کے… اپنی ’’دوستی‘‘ اور اپنی ’’دشمنی‘‘ کے نظام کو درست اور مضبوط
کریں… تب وہ بہت سے فائدے پالیں گے… اور بہت سے نقصانات سے بچ جائیں گے۔
آخر میں ایک تحفہ
ہماری دوستی اور ہماری دشمنی کا نظام تب
درست ہو گا جب ہمیں… اس کے بارے میں درست علم حاصل ہو گا… اور ہمارا نفس پاک ہو گا
… اصلاح نفس کے لئے ایک مؤثر نسخہ حاضر خدمت ہے… حضرت شیخ یعقوب
چرخی رحمہ اللہ نے اپنے مرشد حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند رحمہ اللہ
سے عرض کیا کہ… حضرت! اگر کسی کو شیخ کامل کی صحبت میسر نہ ہو تو وہ اپنے نفس کے
شرور سے کیسے بچے؟… حضرت نے فرمایا :
’’اس کو چاہیے کہ استغفار کی کثرت کرے
اور ہر نماز کے بعد بیس بار استغفار کی پابندی کرے۔ ‘‘
بندہ سعدی عرض کرتا ہے کہ… اس عمل کے
لئے بہترین استغفار یہ ہے:
اَسْتَغْفِرُ اللہَ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ
اِلَّا ھُوَالْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے دین کے دشمن اگر… دین کی
وجہ سے آپ کے ’’دشمن‘‘ ہیں تو آپ … اللہ تعالیٰ کا شکرادا کریں کہ آپ حضرات
انبیاء علیہم السلام کی ’’سنت‘‘ پر ہیں…
{وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ
عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ}
’’اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے
مجرموں میں سے دشمن بنائے ہیں۔‘‘ [ الفرقان:۳۱]
اگر اللہ تعالیٰ کے دین کے د شمن آپ کو
مارنا چاہتے ہیں،پکڑنا چاہتے ہیں، قیدکرنا چاہتے ہیں یا آپ کو نکالنا چاہتے ہیں
تو آپ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ … آپ حضرت اِمام الانبیاء صلی
اللہ علیہ وسلم اور دیگر کئی اَنبیائِ کرام علیہم السلام کی
سنت پر ہیں…
{وَ اِذْ یَمْکُرُ بِکَ الَّذِیْنَ
کَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْکَ اَوْ یَقْتُلُوْکَ اَوْ یُخْرِجُوْکَ وَ یَمْکُرُوْنَ وَ
یَمْکُرُ اللہُ}
’’اور جب سازش کر رہے تھے کافر کہ آپ
کو قید کردیں یا قتل کردیں یا نکال دیں اور وہ بھی سازش کر رہے تھے اور اللہ
تعالیٰ بھی تدبیرفرما رہا تھا۔‘‘ [الانفال:۳۰]
اگر آپ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے لئے
’’سخت ‘‘ ہیں… اور اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے ان کے دشمن ہیں تو آپ کو مبارک ہو
کہ… آپ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں میں سے ہیں… اور آپ اللہ تعالیٰ کی محبوب
جماعت میں سے ہیں…
{وَ الَّذِیْنَ مَعَہٗ اَشِدَّاءُ عَلَی
الْکُفَّارِ}
’’اور آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی جماعت کے لوگ کفار پر بڑے سخت ہیں ۔‘‘ [
الفتح ۔آیت: ۲۹]
{اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکَافِرِیْنَ}
’’( اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے ) کافروں
کے سخت دشمن ہیں۔‘‘
[ المائدہ۔ آیت: ۵۴]
کلام برکت
گزشتہ ہفتے کے کالم سے الحمد للہ… اہل
ایمان کو بہت فائدہ پہنچا… سوچنے اور سمجھنے کا راستہ کھلا اور بہت سے اَفراد کا
نظریہ درست ہوا … تب اِرادہ بنا کہ… قرآن مجید کے نظام محبت اور نظام عداوت کا
ایک خلاصہ تیار کر کے رنگ و نور میں شائع کردیا جائے … مگر جب اس موضوع میں جھانک
کر دیکھا تو… معلوم ہوا کہ بہت مختصر خلاصہ بھی تیار کیا جائے تو کم از کم تین
کالم اسی میں لگ جائیں گے… تب… دہلیز کو چوم کر اس بھاری پتھر کو اُٹھانے کا
اِرادہ ترک کردیا… اللہ تعالیٰ کسی اور کو توفیق عطاء فرما دیں گے… میرے پاس کئی
کتابوں کا کام پہلے سے رکھا ہوا ہے… وہ مکمل ہو جائے اس کی دعاء اور فکر ہے… محبت
اور عداوت کا موضوع کافی مفصل ہے… آپ میں سے جن جن کی توجہ اس موضوع کی طرف ہو
چکی ہے… ان کے لئے تلاوت اور مطالعہ کے دوران خودبخود راستے کھلتے جائیں گے… ان
شاء اللہ… فی الحال حضرت شاہ عبد القاد رحمہ اللہ نے… بڑی جامعیت کے
ساتھ… اور بے حد اِختصار کے ساتھ ہمیں یہ مسئلہ سمجھا دیا ہے … حضرت کی عبارت
پڑھیں… اور ان کی علمی کرامت اور اِختصار کی داد دیں … فرماتے ہیں:
’’جو تندی اور نرمی اپنی خُو ہو وہ سب
جگہ برابر چلے اور جو ایمان سے سنور کر آئے وہ تندی اپنی جگہ اور نرمی اپنی جگہ
۔‘‘ [ موضح قرآن]
یعنی سختی اور نرمی … دشمنی اور دوستی
یہ اگر اپنے مزاج کی وجہ سے ہو تو… وہ اپنے مفادات کے تابع رہتی ہے… درست تقسیم
نہیں ہو سکتی… جو سخت مزاج ہو گا وہ سب کے لئے سخت ہی رہے گا… سختی کی جگہ ہو یا
نہ ہو… اور جو نرم مزاج ہو گا وہ سب کے ساتھ نرم رہے گا… نرمی کی جگہ ہو یا نہ ہو…
لیکن جب اپنی سختی اور نرمی ، اپنی دوستی اور دشمنی ایمان کے تابع بنا لی جائے…
اور اپنی ان عادتوں کو ایمان کے سانچے میں ڈھال لیا جائے تو پھر یہ دونوں بڑی کام
کی چیزیں بن جاتی ہیں… اور ان کو درست جگہ پر تقسیم اور استعمال کر کے انسان بڑی
عظیم الشان نعمتیں پا لیتا ہے… جیسا کہ حضرات صحابہ رضوان اللہ علیہم
اجمعین نے اپنی تمام شدت ، سختی اور دشمنی کا رُخ… اللہ تعالیٰ کے
دشمنوں کی طرف موڑ دیا…{اَشِدَّاءُعَلَی الْکُفَّارِ}اور اپنی تمام تر نرمی ، محبت
اور دوستی کا رُخ… اہل ایمان کی طرف موڑ دیا… {رُحَمَآءُبَیْنَھُمْ}تب انہوں نے …
اپنی دشمنی اور اپنی دوستی دونوں کو… اپنے لئے ’’نفع مند‘‘ نعمت بنا لیا… ان کی
دوستی بھی ’’عمل صالح‘‘ بن گئی… اور ان کی دشمنی بھی ان کا بہترین عمل بن گئی…
دوستی بھی اَجر والی… دشمنی بھی اَجر و ثواب والی…بس یہی ہے خلاصہ … قرآن مجید کے
نظام دوستی اور اصول عداوت کا۔
بات کہاں سے چلی تھی
دوستی اور دشمنی کی یہ ساری بات…
پاکستانی حکومت کے بارے میں شروع ہوئی تھی… عرض کیا تھا کہ… بعض سیاستدانوں کی یہ
سوچ غیر فطری ہے کہ… ہر حال میں ہر کسی کو دوست بناؤ… ہر کوئی دوست نہیں بن سکتا…
اورہر دشمنی کا ختم ہونا یہ فطرت کے خلاف ہے… اس لئے عقلمند ریاست وہ ہوتی ہے جو
دوستوں اور دشمنوں دونوں کے درمیان جی سکے… امریکہ کو دوست بنانے کی فکرمیں ہمارے
حکمرانوں نے اپنے پُرامن ملک کو بدامنی کی آگ میں جھونک دیا… ہزاروں جانوں اور
اربوں روپے کے خسارے کے باوجود ہم امریکہ کو دوست نہ بنا سکے… وہ کل بھی دشمن تھا
اور آج بھی دشمن ہے… اور ساتھ ساتھ پاکستان کے دشمنوں کو بھی مضبوط کر رہا ہے
…امریکہ نے جب امارت اسلامی افغانستان کے خلاف… پاکستان کی مدد مانگی تھی تو ہمارے
حکمرانوں کو… صاف اِنکار کر دینا چاہیے تھا… تب یقیناً اتنا نقصان نہ ہوتا جتنا اب
ہو چکا ہے اور مسلسل ہو رہا ہے… پاکستان مسلمانوں کا ملک ہے… اس ملک کے حکمرانوں
کو اپنے بڑے فیصلے اسلام اور مسلمانوں کے مفاد میں کرنے چاہئیں … اور اپنی دوستی
اور دشمنی بھی اسلام اور مسلمانوں کی خاطر بنانی چاہیے… سترہ سال کی ذلت ناک
امریکی غلامی کے بعد اب ہم پھر اس دوراہے پر کھڑے ہیں… جہاں ہم کوئی بھی اچھا یا
برا فیصلہ کر سکتے ہیں… قوم کو دعاء کرنی چاہیے کہ… اس بار ہمارے حکمران دوبارہ
غلط اور حرام فیصلہ کرنے سے بچ جائیں… اگر یہ ایک بار پھر اس صلیبی جنگ میں امریکہ
کی امداد کا فیصلہ کرتے ہیں تو… اہل پاکستان کو ایسے حکمرانوں کی بربادی کی بددعاء
کرنی چاہیے … اور ایسے حکمرانوں اور سیاستدانوں سے نفرت ، بیزاری اور براء ت کا
اِظہار کرنا چاہیے… یہاں شریعت کی رو سے ریاست کے خلاف مسلح جہاد کی گنجائش نہیں
ملتی … جذباتی باتوں سے ہٹ کر دلائل کی روشنی میں غور کیا جائے تو معاملہ بالکل
واضح ہے۔
انڈیا کی دشمنی کا معاملہ
انڈیا کے معاملے میں … ہمارے سیاستدانوں
کا ایک طبقہ… بہت بڑی گمراہی اور غلط فہمی کا شکار ہے… دراصل انڈیا نے پاکستان کے
بعض بڑے سیاستدانوں اور صحافیوں کو مکمل طور پر خرید رکھا ہے… اور پھر ان بکے ہوئے
سیاستدانوں اور صحافیوں نے اپنی سوچ کو ایک’’ نظریہ‘‘ بنا دیا ہے…حالانکہ یہ قطعاً
کوئی ’’نظریہ‘‘ نہیں…بلکہ پاکستان کے خلاف ایک مکروہ سازش ہے… انڈیا کی پاکستان کے
ساتھ دشمنی کی جڑیں بہت گہری اور بہت خوفناک ہیں… اگر کسی کو توفیق ملے تو وہ…
تقسیم برصغیر کے حالات پر دوبارہ غور کرے… یہاں اس سلسلے میں چند اہم اشارے پیش خدمت
ہیں۔
* برصغیر
کی تقسیم سے پہلے یہاں انگریزوں کی حکومت تھی…انگریزوں کے ہندوؤں کے ساتھ بڑے
گہرے دوستانہ مراسم تھے جبکہ انگریز کی ’’مسلم دشمنی‘‘ بالکل واضح تھی… آپ تاریخ
میں صرف انگریز گورنر… ’’لارڈ ماؤنٹ بیٹن‘‘ اور ہندو رہنما ’’جواہرلال نہرو‘‘ کے
باہمی تعلقات کی نوعیت پڑھ لیں تو… آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی۔
* انگریز
اپنے پیچھے پورا برصغیر ہندوؤں کو دے کر جانا چاہتا تھا… اس نے ہندوستان کا
اقتدار مسلمانوں سے چھینا تھا… وہ مسلمانوں کی طرف سے کئی بغاوتوں کا سامنا بھی کر
چکا تھا… اس لئے وہ برصغیر میں مسلمانوں کو ہمیشہ محکوم رکھنا چاہتا تھا۔
* اس
وقت کی برطانوی حکومت نے دو فائلیں بنائی تھیں… ایک فائل ان منصوبوں پر مشتمل تھی
کہ اگر ہندوستان تقسیم نہ ہوا تو مسلمانوں کو کس طرح محکوم رکھنا ہے… اور دوسری ان
منصوبوں پر مشتمل تھی کہ اگر ہندوستان تقسیم ہو گیا تو مسلمانوں کو کس طرح دوبارہ
ان کے ملک سے محروم کر کے ہندوستان کا حصہ بنانا ہے۔
* اس
زمانے کی تمام دستاویزات یہی بتاتی ہیں کہ… انگریزاور ہندو ایک تھے… جبکہ مسلمان
ان دونوں کے لئے غیر تھے… جب یہ بات طے ہو گئی کہ … ہندوستان نے تقسیم ہونا ہے تو…
انگریز اور ہندوؤں نے مل کر تقسیم کا ایسا فارمولہ وضع کیا… جس کے مطابق نیا ملک
پاکستان ہر طرح سے کمزور ہو اور چار پانچ سال کے اندر ٹوٹ جائے… برصغیر کے اسی(۸۰) فیصد وسائل ہندوستان کو جبکہ بیس فی صد پاکستان کو دئیے
گئے… دو بڑی اکثریتی مسلمان آبادیوں …بنگال اور پنجاب کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا
… پاکستان کو کچھ حصہ مشرق میں اور کچھ مغرب میں دے کر پہلے دن سے ہی اسے توڑ ڈالا
گیا… کشمیر کو انڈیا کی گود میں ڈال کر پاکستان کو پیاسا مارنے کی تدبیر کی گئی…
اور یہ سارا کام لارڈ ماؤنٹ بیٹن … اور ریڈ کلف کی نگرانی میں ہوا… اور وزیر اعظم
چرچل اور ملکہ کی منظوری سے ہوا۔
* ہندوستان
نے پہلے دن سے ہی پاکستان کو ختم کر کے اپنے اندر دوبارہ ضم کرنے کی کوششیں شروع
کر دیں… اور یہ کوششیں آج تک جاری ہیں… آدھا ملک انہوں نے ہم سے کاٹ دیا اور
باقی ملک پر ان کے حملے جاری ہیں۔
* اللہ
تعالیٰ کا فضل ہوا کہ… اس نے انگریز اور ہندو کی مشترکہ سازش کو ناکام بنایا اور
عالمی حالات کچھ اس ڈگر پر چلا دئیے کہ… الحمد للہ پاکستان محفوظ بھی رہا اور
مضبوط بھی ہوتا چلا گیا۔
* لوگ
کہتے ہیں کہ ’’افغان جہاد‘‘ نے پاکستان کو طرح طرح کی مصیبتوں میں ڈالا … حالانکہ
حقیقت یہ ہے کہ افغان جہاد نے پاکستان کو بے انتہا مضبوط کیا، کوئی بھی غیر
جانبداری سے تجزیہ کرے گا تو اسی نتیجے پر پہنچے گا۔
* آپ
ہندوستان جا کر دیکھیں…وہاں ہر ہندو کے ذہن میں اکھنڈ بھارت کا نقشہ اور خواب
موجود ہے… جبکہ پاکستان کے بڑے سیاستدان تک انڈیا کی سازشوں سے ناواقف ہیں۔
* ہمارے
کئی صحافی اور تجزیہ نگار انڈیا کی چمک اور ترقی سے اپنا موازنہ کرنے بیٹھ جاتے
ہیں… یہ اس طرح ہے جیسے ایک پاکیزہ باحیاء بیوی… اپنے گھر کا موازنہ کسی طوائف کے
کوٹھے کی رونقوں سے کرنے لگے… یہ صحافی اتنا نہیں سوچتے کہ ہم مسلمان ہیں اور
ہماری کچھ حدود ہیں … جبکہ انڈیا ایک بے حیاء ریاست ہے… اس لئے اس کے بیرونی
تعلقات زیادہ ہیں… باقی جہاں تک ترقی کا معاملہ ہے تو یقین کریں کہ پاکستان میں
انڈیا سے زیادہ خوشحالی ہے… انڈیا میں ہر طرف فقر و فاقہ… جرائم ، نشہ اور نحوست
کا ڈیرہ ہے… دور دور تک محرومی اور غربت صاف چھلکتی ہے جبکہ پاکستان میں اسلام کی
برکت سے … انڈیا کی بہ نسبت کافی بہتر حالات ہیں۔
* انڈیا
نے ہمارے کشمیر پر قبضہ کر رکھا ہے …انڈیا نے ہمارے سیاچن پر قبضہ کر رکھا
ہے…انڈیا نے ہمارے دریاؤں پر قبضہ کر رکھا ہے … انڈیا نے ہمارے آدھے ملک کو ہم
سے توڑا ہے… انڈیا اب بھی اکھنڈ بھارت کے منصوبے پر کراچی اور بلوچستان میں کام کر
رہا ہے… ہم انڈیا کی دوستی کا اس وقت یقین کر سکتے ہیں جب وہ ان مذکورہ بالا
معاملات کو حل کرے… وہ ان معاملات کو تو حل کرنے کی بات نہیں کرتا… جبکہ دوستی کا
ہاتھ بڑھا کر ہمارے ملک کو مزید عدم استحکام کا شکار کرتا رہتا ہے… آپ انڈیا کے
ہر مطالبے میں دشمنی کا پیغام دیکھیں گے… وہ ان سیاستدانوں کو ہم پر مسلط کرانا
چاہتا ہے جو فوج کو بھی ختم کرنا چاہتے ہیں… اور ایٹم بم کو بھی… جو مجاہدین کو
بھی مٹانا چاہتے ہیں اور مسئلہ کشمیر کو بھی… تب پاکستان کے ہاتھ میں باقی کیا رہ
جاتا ہے؟
وقت گذر چکا ہے
انڈیا نے کافی خواب دیکھ لئے… کئی
کامیابیاں بھی حاصل کیں… مگر اب زمین کا رنگ بدل چکا ہے… انڈیا جہاد کشمیر شروع
ہونے کے بعد… شکست پر شکست کھا رہا ہے… اور اس کی جارحیت اب ’’دفاع‘‘ کی شکل
اختیار کرتی جا رہی ہے… ہماری انڈیا کے ساتھ نہ کوئی ذاتی دشمنی ہے اور نہ ذاتی
نفرت…انڈیا کے ساتھ ہماری دشمنی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے ہے
…اسلام، مسلمانوں اور پاکستان کے مفاد میں…ہمیں اپنی اس دشمنی کی بہت قیمت ادا
کرنی پڑی ہے… مگر ہم الحمد للہ خوشی سے ادا کر رہے ہیں… اور مزید کے لئے تیار
ہیں…اور ہم اس ’’دشمنی‘‘ پر اللہ تعالیٰ سے اس کی ’’محبت‘‘،مغفرت… اور رحمت کے
امیدوار ہیں … ہاں! بے شک غزوۂ بدر کے بیٹے … ابو جہل کی اولاد سے دوستی نہیں رکھ
سکتے… نہیں رکھ سکتے۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ سے ہر ’’خیر ‘‘ کا سوال ہے…
ہم اسے جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں… اور اللہ تعالیٰ کی پناہ، حفاظت ہر ’’شر‘‘ سے…
ہم اسے جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں۔
اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْئَلُکَ مِنَ
الْخَیْرِکُلِّہٖ عَاجِلِہٖ وَاٰجِلِہٖ مَا عَلِمْنَا مِنْہُ وَمَا لَمْ نَعْلَمُ
وَنَعُوْذُ بِکَ مِنَ الشَّرِّکُلِّہٖ عَاجِلِہٖ وَاٰجِلِہٖ مَا عَلِمْنَا مِنْہُ
وَمَا لَمْ نَعْلَمُ۔
زمین اور زمانہ تیز ہو رہا ہے
زمین بھی قیامت کی طرف بڑھ رہی ہے اور
زمانہ بھی قیامت کے قریب ہو رہا ہے… قیامت جیسے جیسے قریب آ رہی ہے زمین بھی تیز
ہو رہی ہے … اور زمانہ بھی تیز ہو رہا ہے… پہلے لوگ آرام آرام سے جیتے تھے…
آرام آرام سے مرتے تھے… آرام آرام سے خوش ہوتے تھے… آرام آرام سے پریشان
ہوتے تھے…مگر اب سب کچھ تیز ہو چکا ہے… ہم جلدی جلدی جیتے ہیں …جلدی جلدی مرتے
ہیں… جلدی جلدی پریشان ہوتے ہیں… زندگیوں میں سے سکون اور اطمینان ختم ہو رہا ہے…
ہر شخص ایک ہی وقت میں دس جگہ لٹکا ہوتا ہے… موبائل کے ذریعہ وہ دس جگہ موجود ہوتا
ہے… گھر والے پیچھے کھینچ رہے ہیں، دفتر والے آگے کھینچ رہے ہیں… ہسپتال والے
تڑپا رہے ہیں… شادی والے خوشی میں شریک کرنا چاہتے ہیں… اور کوئی فضول آدمی فضول
چیزیں بھیج رہا ہے… زمین اور زمانے کی تیزی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ آپ
جہاں بھی جائیں آپ کو ترقی اور اضافہ نظر آئے گا… مثلاً علاج بھی زیادہ ہو گئے
ساتھ بیماریاں ان سے بھی زیادہ ہو گئیں… ہسپتال بہت بڑھ گئے… مگر بیماروں کی تعداد
پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی… عدالتیں، تھانے ، قانون نافذ کرنے والے ادارے بہت بڑھ
گئے … مگر ساتھ ظالم، مجرم اور قاتل بھی بڑھ گئے… ڈاکٹروں کے بقول جان بچانے والی
دوائیاں زیادہ ایجاد ہو گئیں… مگر لوگ بھی پہلے سے زیادہ مرنے لگے… گناہوں کے اڈے
بے شمار ہو گئے … ساتھ نیکی کے مراکز بھی کئی گنا بڑھ گئے… مالدار بہت زیادہ ہو
گئے… مگر ساتھ غربت بھی پہلے سے زیادہ پھیل گئی … امن قائم کرنے والے ادارے بہت بن
گئے… ساتھ بد امنی بھی ہر گلی میں گھس آئی…یعنی ہر طرف ترقی ہی ترقی ہے… اضافہ ہی
اضافہ ہے… معلوم ہوا کہ… زمین اور زمانہ تیز ہو گئے ہیں… اب جوبھی کچھ کرنا چاہتا
ہے… وہ بہت جلدی جلدی کر سکتا ہے… پس اہل ایمان کو اس صورتحال سے فائدہ اُٹھانا
چاہیے… اور جلدی جلدی نیکی کے کام کرنے اور پھیلانے چاہئیں … ایسا نہ ہو کہ ہم
سستی کرتے رہیں… اور تیز رفتار فتنے اور گناہ ہمارے گھروں اور ہماری گردنوں تک
پہنچ جائیں۔
زمین اور زمانے کی اس تیزی میں… اگر ہم
’’خیر‘‘ حاصل کرنا چاہتے ہیں… اور ’’شر‘‘ سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں’’ دو کام‘‘
کرنے ہوں گے… پہلا کام اپنے وقت کی حفاظت… اور دوسرا کام اچھی منصوبہ بندی یعنی’’
پلاننگ‘‘… ہم اپنا وقت ضائع نہ کریں… بلکہ اپنے وقت کو قابو کریں… اور اچھا اور
مضبوط منصوبہ بنا کر زندگی گذاریں۔
خسارے کے اسباب
جو مسلمان اپنا وقت ضائع کر رہا ہے وہ
خسارے میں جا رہا ہے… یہ قرآن مجید کا فیصلہ ہے… ہمارے پاس تھوڑا سا وقت ہے… اور
اس وقت میں ہم نے اپنی قبر اور آخرت کا سارا سامان برابر کرنا ہے… قبر کی زندگی
کتنی ہو گی؟ …حشر کا دن کتنا بڑا ہو گا؟… اور آخرت کا زمانہ کتنا بڑا اور دائمی
ہے؟… اگر ہم غور کریں تو صرف سوچتے ہوئے پسینہ آ جاتا ہے… مگر ہمارے اردگرد…
ہمارا وقت ضائع کرنے کے لئے… بڑے بڑے فتنے وجود میں آ چکے ہیں … آج کل خبریں
دیکھنا کس قدر مشکل ہے… دیکھنے سے مراد اخبارات میں دیکھنا ہے… ٹی وی پر نہیں… ٹی
وی تو ویسے ہی ’’ٹی بی‘‘ کی بیماری اور مصیبت ہے… اور افسوس کہ اب ’’ ٹی وی‘‘ سے
نفرت کرنے والے بھی بہت تھوڑے رہ گئے ہیں … اور جو تھوڑے سے رہ گئے ہیں وہ بھی
آہستہ آہستہ تصویر بازی، ویڈیو بازی اور فوٹو بازی کی طرف کھسکتے جا رہے ہیں…
آہ افسوس! تصویر بازی اور ویڈیو بازی نے منبر ومحراب کی رونق اور برکت تک کو چاٹ
لیا… جب خطیب کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی تصویراور ویڈیو بن رہی ہے تو… اس کی توجہ
بس اپنی بناوٹ کی طرف رہ جاتی ہے… حالانکہ دین اسلام کا خطیب…جناب رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کے منبر پر ہوتا ہے… اس کے دل کا اخلاص اور دل کی کڑھن
اس کی تقریر سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے… اُمت کے مقبول خطباء اپنی تقریر سے پہلے
باقاعدہ غسل یا وضو کرتے تھے… پھر صلوٰۃ استخارہ اور صلوٰۃ حاجت پڑھ کر اللہ
تعالیٰ سے مدد مانگتے تھے… پھر استغفار میں ڈوب جاتے کہ قیامت کے دن… مجھے میری
تقریر پر پکڑا نہ جائے کہ… دوسروں کو سمجھاتے تھے جبکہ خود بے عمل تھے… پھر دل میں
اُمت محمدیہ کا درد بھر کر درود شریف اور اذکار کے ساتھ… خطیب منبر کی طرف بڑھتا
تھا… دل میں اخلاص، طبیعت میں عاجزی اور تواضع… اور ایک فکر کہ … آج میری جھولی
بھی بھر جائے اور مکمل مجمع کی بھی مغفرت و اصلاح ہو جائے… مگر آج بس یہی شور کہ
کیمرہ کہاں لگانا ہے؟… خطیبوں کے چہروں پر کیا لگانا ہے؟… آہ! افسوس کہ… نور بھری
محفلیں کیسے اُجڑ گئیں۔
اللہ تعالیٰ معاف فرمائے کہ… اب تویہ
فوٹو باز کسی کو چین اور سکون سے مرنے بھی نہیں دیتے… آدمی مر رہا ہوتا ہے اور یہ
اس کو کلمہ پڑھانے کی بجائے… اس کی ویڈیو بنا رہے ہوتے ہیں… یا اس کی یہ حالت دور
بیٹھے رشتے داروں کو براہ راست دکھا رہے ہوتے ہیں… یا اس کا کسی جگہ باتصویر رابطہ
کرانے کی کوشش میں لگے ہوتے ہیں … مسلمانو! کچھ تو اللہ تعالیٰ سے ڈرو… کعبہ شریف،
روضۂ اطہر، مسجد نبوی شریف، منیٰ، عرفات ، مزدلفہ… مرنے والے مسلمان اور دینی
روحانی مجالس کو تو… اللہ کے لئے، اللہ کے لئے اپنی فوٹو بازی سے پاک رکھو… اللہ
تعالیٰ نے دین کا کام چلانا ہو تو… بغیر گناہ بھی… صدیوں تک چلا دیتے ہیں…اُمت کے
ائمہ، فقہاء، مفسرین کی تقریریں، تحریریں… سب کچھ ماشاء اللہ آج تک محفوظ ہے… بات
یہ چل رہی تھی کہ… ٹی وی تو ویسے ہی خباثت اور گناہ کا اڈہ ہے… مگر اخبارات میں
خبریں دیکھنا بھی… اب کتنا مشکل ہو چکا ہے… میں روزانہ عموماً … اور جس دن کالم
لکھنا ہو خصوصاً … پانچ چھ بڑے اخبارات دیکھتا ہوں… تب یوں محسوس ہوتا ہے کہ…
آدمی کانٹوں بھری زمین پر ننگے پاؤں چل رہا ہے… اکثر خبریں ناپاک ، اکثر کالم
ناپاک… ایک ننھی منی پیاری سی بچی زینب کا واقعہ ہوا… اخبارات اس پر یوں خبریں لگا
رہے ہیں جیسے … کوئی خوشی یا شادی کی خبر ہے…مجھ سے اس پورے واقعے کی ایک خبر بھی
نہیں پڑھی گئی… بس پہلے دن سرخی دیکھی اور دل رونے لگا… اور یہی دعاء جاری ہو گئی
کہ… اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کی بہنوں ، بیٹیوں کی عزت کی حفاظت فرمائے… کیسی خوفناک
اور دردناک خبر ہے؟… سوچ کر جسم غم اور درد سے کانپنے لگتا ہے … تو پھر ایسی خبر
کو چٹخارے دار بنانا… اس کے ہر پہلو کو بار بار لکھنا اور اس پر طرح طرح کی سیاست
اور صحافت چمکانا… کم از کم کسی انسان کو تو زیب نہیں دیتا… پھر ہر اخبار شرمناک
اور فحش خبروں سے الگ بھرا ہوتا ہے… ان خبروں کو پڑھنا گناہ… اور ان کو نہ پڑھنا
ایک بڑی نیکی ہے… خلاصہ یہ کہ… ہمارے ہر طرف ایسے بے شمار فتنے بکھرے ہوئے ہیں جو
ہمارا قیمتی وقت ضائع کرنا چاہتے ہیں… اس لئے سنبھل کر اپنی یہ تیز رفتار زندگی
گزاریں… بریک پر اپنا پاؤں ہوشیار رکھیں… اور خسارے کے اسباب سے بچیں… خسارے کے
اسباب وہ ہیں… جو ہمارے وقت کو گناہ یا فضولیات میں ضائع کراتے ہیں۔
اس زمانے کے دو متعدی گناہ
بعض لوگ اپنے’’ موبائل‘‘ میں دنیا کی ہر
الا بلا بھر کر پھرتے رہتے ہیں… اور پھر جو بھی اُن کے ہاتھ آ جائے اسے فوراً یہ
سب کچھ دکھانے لگتے ہیں… اور اپنا یہ گند دوسروں کو بھی بھیجتے رہتے ہیں… یہ ایک
خطرناک متعدی گناہ ہے… کوشش کریں کہ آپ کے موبائل میں… سوائے خیر کے کوئی چیز نہ
بھری ہوئی ہو… کیونکہ کسی بھی وقت موت آ سکتی ہے… نہ کوئی فلم، نہ ڈراما، نہ
کارٹون، نہ لطیفے، نہ گانے… اور نہ کھیل کود ، لہو و لعب اور حیرت انگیز چیزیں…اور
دوسروں کو دکھانے ، سنانے اور بھیجنے کا تو تصور ہی نہ کریں… صرف مفید بیانات وغیرہ
اور دینی دعوت کے سوا نہ کچھ بھیجیں اور نہ دکھائیں… دوسرا کام یہ کریں کہ… اس
زمانے میں کبھی بھی… کسی کو موبائل فون، لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر وغیرہ ہدیہ نہ کریں…
اس کی تفصیل بڑی درد ناک ہے… بس آپ اعتبار کر کے مان لیں… اور اسے اپنی زندگی کا
پختہ اصول بنا لیں۔
منصوبہ بندی
پہلا کام یہ کہ وقت ضائع نہیں کرنا… اس
کی کچھ اشارۃً تفصیل عرض کر دی… جبکہ دوسرا کام منصوبہ بندی ہے… ابھی ہم نے حال ہی
میں ’’مکتوباتِ خادم‘‘ کے ذریعہ ایک مشق کی… الحمد للہ حیرت انگیز نتائج اور فوائد
سامنے آئے… ہر ہفتے ایک کام… اللہ تعالیٰ کی رضاء… اور آخرت کے سرمائے کے لئے
مقرر کر لیا… اور پورا ہفتہ اس پر محنت کی… الحمد للہ اس معمولی سی منصوبہ بندی نے
کئی لوگوں کی زندگی ہی بدل دی …ہزاروں افراد نے ضروری دعائیں یاد کیں… شہادت کا
مسئلہ سمجھا… فرائض میں مضبوطی پائی… اور زندگی کے بہت سے اوقات پکڑ لئے… آپ پوچھیں
گے کہ… وقت پکڑنے کا کیا مطلب؟ … تو اسے ایک مثال سے سمجھیں… حضرت امام بخاری رحمہ
اللہ … اپنی زندگی کے جن اوقات میں ’’صحیح بخاری‘‘ لکھ رہے تھے… شاہ عبد القادر
رحمہ اللہ اپنی زندگی کے جن اوقات میں ’’موضح قرآن‘‘ لکھ رہے تھے… اُن
کا یہ وقت آج تک چل رہا ہے… ختم ہی نہیں ہو رہا… اپنی زندگی کے یہ دن انہوں نے
ایسے پکڑے اور ایسے محفوظ کئے کہ… یہ دن بڑھتے بڑھتے صدیاں بن گئیں… بخاری آج بھی
روز ہزاروں جگہ پڑھی جاتی ہے… اگر امام صاحب کا یہی وقت کھانے پینے ، گپ شپ کرنے
یا لذتوں کے حصول میں گذر جاتا تو… بس ختم ہو جاتا… مگر انہوں نے اسے پکڑ لیا… اور
اسے اپنا بنا لیا… اب وہ اُن کے کام آرہا ہے اور اُن کی آخرت کا سرمایہ بنانے کا
کارخانہ بن چکا ہے…بس اسے کہتے ہیں وقت پکڑنا… جو لوگ اپنا’’ وقت‘‘ نہیں پکڑتے وہ
ضائع ہو جاتے ہیں… خسارے میں چلے جاتے ہیں… اور جو لوگ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت
پکڑ کر… قید کر لیتے ہیں وہ بڑی بڑی کامیابیاں پا لیتے ہیں… ہم اچھی ’’منصوبہ بندی
‘‘ کے ذریعے اپنے زیادہ سے زیادہ وقت کو… اپنے لئے ’’قابو‘‘ کر لیں… مثلاً ہر ہفتے
ایک کام مقرر کر لیں… اس میں پکا عزم کریں کہ… اس ہفتے میں نے یہ کام کرنا ہے…
کوئی سورۃ یاد کرنی ہے… قرآن مجید کا کوئی حصہ سمجھنا ہے… علم کا کوئی باب پڑھنا
ہے… کسی اچھی کتاب یا بیانات کو سننا ہے… کوئی نیکی کا کام سیکھنا ہے… کوئی نیکی
والا ہنر حاصل کرنا ہے… کوئی دعاء یاد کرنی ہے… کوئی معمول پختہ بنانا ہے… کسی ذکر
کا خصوصی حال پانا ہے… روز جہاد میں خرچ کرنے کی ترتیب مضبوط کرنی ہے … روزانہ کے
صدقے کا نظام بنانا ہے… اپنی فلاں کوتاہی دور کرنی ہے وغیرہ وغیرہ… اور پھر پورا
ہفتہ مضبوطی اور فکر سے اس کام کو کریں اور اس نعمت کو حاصل کریں… یہاں پھر ایک
پریشانی آ گئی… کئی لوگوں کو اعتراض ہو گا کہ ’’ہفتہ واری‘‘ ترتیب اسلام میں ٹھیک
نہیں… اسلام میں عشرے کی ترتیب ہوتی ہے… جبکہ کفار کے ہاں ’’ہفتہ واری‘‘ ترتیب
ہوتی ہے… تو پھر آپ ہفتہ واری منصوبہ بندی کی ترغیب کیسے دے رہے ہیں؟ …جواب یہ ہے
کہ… ہفتہ واری ترتیب کو اسلام کے خلاف قرار دینا غلط ہے… یہ بعض لوگوں نے اپنی طرف
سے ایک بات گھڑ لی ہے … اسلام میں جمعہ مبارک کی ترتیب ’’ ہفتہ واری‘‘ ہے… بس یہی
بات ہمارے لئے کافی ہے… باقی اس طرح کی فضول بحثوں میں اُلجھنا بھی وقت کا زیاں
ہے… اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو … جھولی بھر کر’’ خیر ہی خیر‘‘ عطاء فرمائے…
اور ہم سب کی ہر ’’شر ‘‘ سے حفاظت فرمائے… آمین یا ارحم الراحمین۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے ہمارے معاملہ میں جو کچھ
کیا …وہی اچھا ہے، وہی ٹھیک ہے… اللہ تعالیٰ ہمارے معاملہ میں جو کچھ کریں گے… وہی
اچھا ہے، وہی ٹھیک ہے… اللہ تعالیٰ ظلم نہیں فرماتے… اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر
مہربان ہیں… اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں کہ کیا خیر ہے اور کیا شر… وہ مسلمان کامیاب
ہے جو اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ اچھا گمان رکھتا ہے۔
بڑی عبادت
اللہ تعالیٰ سے ’’حسنِ ظن‘‘ رکھنا… اللہ
تعالیٰ سے خوش گمان رہنا… اللہ تعالیٰ سے خوش اور راضی رہنا…اللہ تعالیٰ کی طرف سے
خیر اور کشادگی کا اُمیدوار رہنا… اللہ تعالیٰ کی طرف سے اچھے حالات کی اُمید
رکھنا… اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت اور بخشش کی اُمید رکھنا… یہ بہت افضل اور بڑی
عبادت ہے… جب دل پر ناشکری کا حملہ ہو تو وہ الفاظ دل اور زبان سے کہیں جو آج کے
کالم کی پہلی سطر میں لکھے ہیں کہ… ’’یا اللہ! آپ نے جو کچھ کیا وہی اچھا ہے، وہی
بہتر ہے اور جو کچھ کریں گے وہی اچھا ہے اور وہی بہتر ہے‘‘… ان شاء اللہ دل سے ناشکری
دور ہو جائے گی… حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ یہ دعاء فرمایا کرتے
تھےـ:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ صِدْقَ
التَّوَکُّلِ عَلَیْکَ وَحُسْنَ الظَّنِّ بِکَ۔
’’یا اللہ! مجھے آپ پر سچا توکل اور
حسن ظن نصیب ہو جائے۔‘‘
[مصنف ابن شیبہ۔حديث رقم:۳۵۳۴۳ ، ناشر:مکتبۃ الرشد، ریاض]
افراتفری کا عالم ہے
دنیا میں شاید کوئی تبدیلی آنے والی
ہے… وجہ یہ ہے کہ ہر طرف افراتفری اور بے یقینی کا عالم ہے… آپ خبریں دیکھیں تو
کچھ بھی سمجھ میں نہیں آتا… امریکہ کہاں جا رہا ہے اور کیا چاہتا ہے؟…روس کی
پالیسی کیا ہے؟… چین کی منزل کیا ہے؟ … انڈیا کس طرف جا رہا ہے؟… پاکستان میں کون
حکمران ہے او رکون غلام؟ کون ظالم ہے اور کون مظلوم؟ … آج کوئی بھی دانشور یا
باخبر انسان ان سوالوں کا جواب نہیں دے سکتا… ہر ملک میں عجیب و غریب حالات ہیں…
زمانے اور زمین کی تیزی نے لوگوں کی عقلیں اُڑا دی ہیں … ہر ملک کے داخلی ادارے
ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہے ہیں… ہر کوئی بے چین اور پریشان ہے…لوگ جن کو خوش اور
کامیاب سمجھ رہے ہیں… وہی لوگ چھپ چھپ کر خودکشیاں کر رہے ہیں… دوسروں کو ہنسانے
والے خود تنہائی میں رو رو کر مر رہے ہیں… ظاہری طور پر خوب چمک دمک والی زندگی
گزارنے والے… اداسیوں اور غموں کے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے ہیں… انسان اس دنیا کی
سب سے بے قیمت چیز بن چکا ہے… حرص اس قدر بڑھ چکی ہے کہ انسان کو مار کرہی دم لیتی
ہے … وہ اعمال جن کی وجہ سے ماضی کی قومیں تباہ ہوئیں… دوبارہ منظم ہو رہے ہیں…
کسی شخص کو اپنی زندگی کا مقصد معلوم نہیں ہے… بظاہر بہت روشنی ہے مگر اندر
اندھیرا ہی اندھیرا ہے… یہ وہ حالات ہیں جو اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ زمین پر
کوئی بڑی تبدیلی آنے والی ہے… اللہ کرے خیر والی تبدیلی ہو… بہرحال ایسے حالات
میں حالات حاضرہ پر کچھ لکھنا مشکل ہو جاتا ہے… اسی لئے وہ باتیں لکھی جاتی ہیں جن
سے ہمیں فائدہ ہو… ذاتی فائدہ ، حقیقی فائدہ ، اجتماعی فائدہ۔
سخت پریشانیوں کا ایک علاج
اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم نہیں فرماتے…
مگر بندے خود اپنی جان پر بہت ظلم کرتے ہیں… پھر جب درد ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے
ناراض ہوتے ہیں… اور اللہ تعالیٰ سے شکوے کرتے ہیں… ایک شخص سخت غمگین ، سخت
پریشان… ہر وقت لوگوں کے شکوے اور حالات کا رونا… ان سے بات چیت ہوئی تو معلوم ہوا
کہ… وظیفے بہت کرتے ہیں… اور وظیفے بھی دشمنوں کی بربادی کے… مجھے ایک بزرگ اللہ
والے نے فرمایا تھا کہ… کبھی کسی کے لئے بددعاء نہ کرنا… ان شاء اللہ ہمیشہ خیر
رہے گی… وجہ یہ ہے کہ… ہم میں سے ہر شخص کا بڑا دشمن آج کل خود اس کا اپنا نفس
ہے… پھر جب ہم دشمنوں کی بربادی کے وظیفے کرتے ہیں تو ان وظیفوں کا شکار… ہم خود
ہی ہو جاتے ہیں… کیونکہ وظیفے دشمن کے خلاف تھے… اور ہمارا دشمن اور کوئی نہیں
بلکہ ہم خود ہی ہیں… اور یوں بربادی بھی اپنی ہوتی ہے… اگر ہم نے محنت کر کے… اللہ
تعالیٰ کی توفیق سے اپنے نفس کو پاک کیا ہوتا… اس کا’’ تزکیہ‘‘ کیا ہوتا…اسے اپنا
دشمن نہیں بلکہ دوست بنایا ہوتا … اور کبھی اپنی ذات کے لئے کسی سے دشمنی نہ کی
ہوتی…بلکہ صرف اللہ، رسول اور دین کے دشمنوں کو اپنا دشمن بنایا ہوتا تو… دشمنوں
کے خلاف وظیفے بھی ٹھیک رہتے اور بددعائیں بھی … دشمنان دین کے خلاف بددعاء کرنا
یہ سنت ہے…لیکن جب دشمنی کا معاملہ شریعت کے خلاف ہے تو پھر… دشمنوں کے خلاف وظیفے
اور بددعائیں کرنے میں احتیاط کریں… آج کل کئی لوگ …اس طرح کے وظیفوں کی وجہ سے…
بڑی سخت پریشانیوں کا شکار ہیں… یاد رکھیں کہ …غیر مسنون وظیفے ’’دوائیوں‘‘ کی طرح
ہیں … کوئی دواء کسی کو فائدہ دیتی ہے او رکسی کو نقصان … اچھا تو یہ ہے کہ ’’غیر
مسنون وظیفے ‘‘ کریں ہی نا…بس قرآن مجید کی تلاوت کریں … اور جو اذکار حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے تلقین فرمائے ہیں انہی کو اپنے
لئے کافی سمجھیں… پھر بھی اگر کوئی ’’غیر مسنون وظیفہ‘‘ کرنا چاہیں تو دو کام ضرور
کر لیں…
١ استخارہ ٢ استشارہ…
یعنی استخارہ کریں کہ مجھے یہ وظیفہ
کرنا چاہیے یا نہیں؟ … اور پھر کسی صاحب علم ، صاحب دل شخص سے مشورہ کریں کہ مجھے
یہ وظیفہ کرنا چاہیے یا نہیں؟ … آپ نے دیکھا ہو گا کہ… زیادہ وظیفے کرنے والے
اکثر پریشان حال ہوتے ہیں… وجہ یہ ہے کہ… لوگ کلمات کی تاثیر نہیں سمجھتے… بعض
کلمات اور دعائیں ستاروں کی طرح ہوتی ہیں … بعض سورج کی طرح… بعض پانی اور بعض آگ
کی طرح… اب پانی اور آگ جمع کریں گے تو… بھاپ ضرور بنے گی… ستاروں پر سورج
چمکائیں گے تو… ستارے گم ہو جائیں گے… اس لئے اپنے اوپر رحم کریں… ہر کسی کا بتایا
ہوا وظیفہ شروع نہ کر دیں… بلکہ اپنے وقت کو دین سیکھنے، دین سمجھنے اور دین کی
خدمت کے لئے وقف کریں… اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی خدمت کریں… اپنا دل بغض اور کینے
سے پاک رکھیں… جہاد کا کام زیادہ کریں… اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو نفع پہنچائیں…
الحمد للہ مسنون دعائیں… اور مسنون
اذکار ہمارے لئے بہت ہیں، کافی ہیں، وافی ہیں… اور ان کی تاثیر اور طاقت بھی… غیر
مسنون وظیفوں سے بہت زیادہ ہے… آپ صرف چند دن… ہر نماز کے بعد مسنون تسبیحات
فاطمی کا اہتمام کر کے دیکھ لیں… کسی بھی نماز کے بعد … یہ تسبیحات نہ چھوٹیں…
سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر… تینتیس تینتیس اور چونتیس بار… آپ تین دن بعد
اپنے دل کا جائزہ لیں تو عجیب قسم کی قوت اور نور محسوس کریں گے۔
ایک اور پریشانی کا علاج
مالی پریشانی کافی سخت ہوتی ہے… اللہ
تعالیٰ ہم سب کو اس پریشانی سے بچائے… مالی پریشانی کے مختلف درجات ہیں … بعض لوگ
روٹی کپڑے تک کے معاملے میں پریشان ہوتے ہیں …جبکہ کئی لوگوں کو… مال بڑھانے اور
مال بچانے کی فکر دن رات کھاتی رہتی ہے…خیر یہ ایک الگ موضوع ہے… آج یہ عرض کرنا
ہے کہ… مالی پریشانی دور کرنے کا ایک بہترین علاج یہ ہے کہ… اپنی مالی پریشانی کسی
کو بھی نہ بتائی جائے… اور کسی کے سامنے مال کی کمی، مال کی تنگی یا مال کے نقصان
کا تذکرہ نہ کیا جائے…یہ بڑا عجیب ، مؤثر اور عجیب عمل ہے …جو بھی اسے اپناتا ہے
وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے غنی ہو جاتا ہے… مگر بظاہر آسان نظر آنے والا یہ
عمل کافی مشکل ہے… اور اکثر لوگ اس پر عمل نہیں کر پاتے… یہ عمل کیوں مشکل ہے اس
کی تفصیل میں پڑے بغیر… بس اتنا عرض ہے کہ… مخلوق ہماری کوئی حاجت پوری نہیں کر
سکتی… حاجت صرف اللہ تعالیٰ پوری فرما سکتا ہے… جب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ہماری
حاجت پوری نہیں کر سکتا تو پھر… کسی کے سامنے رونے، دھونے ، شکوے کرنے کا کیا
فائدہ؟… بیج زمین میں ڈالا جائے تو پودا نکلتا ہے… لیکن اگر بیج کو بستر یا گدے پر
ڈال دیں تو کیا فائدہ؟… دوسری بات یہ کہ شکر سے نعمت بڑھتی ہے جبکہ شکوہ کرنا… شکر
کے خلاف ہے…ظاہر ہے کہ اس سے نعمت گھٹے گی… تیسری بات یہ ہے کہ … اللہ تعالیٰ نے
ہر انسان کو ایک ’’وقار‘‘ اور ایک ’’عزت‘‘ عطاء فرمائی ہے… جو انسان اپنے اس
’’وقار‘‘ اور’’ عزت‘‘ کی حفاظت کرے… اللہ تعالیٰ اس کے وقار اور عزت کو قائم رکھتے
ہیں اور بڑھاتے ہیں … اور جو اپنے ’’وقار‘‘ کو ضائع کر دے تو… پھر وہ ساری زندگی
اسے ترستا ہی رہتا ہے… لوگوں سے سوال کرنا… یا کسی اشارے سے مانگنا… یہ سب
’’انسانی وقار‘‘ کے خلاف ہے۔
دوسرا نسخہ
مال کی تنگی دور کرانے کا دوسرا مسنون
نسخہ یہ ہے کہ … مال ضائع نہ کریں… نہ ایک قطرہ پانی، نہ ایک لقمہ روٹی…نہ ایک
دانہ چاول، نہ ایک یونٹ بجلی… ویسے تو ایک مسلمان کو بارش کی طرح سخی ہونا چاہیے…
مگر مال کو ضائع کرنے کے معاملے میں اسے حد درجہ کنجوس ہونا چاہیے… وجہ یہ ہے کہ…
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لئے جن چیزوں کو مکروہ اور ناپسندیدہ فرماتے ہیں… ان
میں سے ایک چیز… مال ضائع کرنا ہے… یہ بات احادیث صحیحہ میں وارد ہوئی ہے… پس جو
انسان اللہ تعالیٰ کی رضاء کو مقصود بنا کر… مال کو ضائع ہونے سے بچاتے ہیں… اللہ
تعالیٰ کی طرف سے انہیں ’’برکات‘‘ ملتی ہیں۔
وہ مسلمان جو مال کی تنگی کا شکار ہیں…
آج سے ہی اس عمل پر مضبوطی اختیار کر لیں تو چند دن میں… ان شاء اللہ… ان کی تنگی
دور ہو جائے گی … گھر میں بجلی کا استعمال ہو یا پانی کا… موبائل کارڈ ہو یا… دستر
خوان کا کھانا… وہ اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے مال کی سونے چاندی کی طرح قدر کریں…
اور ایک پیسہ بھی فضول ضائع نہ ہونے دیں… کہتے ہیں کہ… ایک بزرگ کی خدمت میں ایک
شخص آیا اور کہنے لگا کہ حضرت! رزق کی تنگی ہے… کوئی وظیفہ ارشاد فرما دیں…( اگر
مقصد صرف دینی رہنمائی اور عمل پوچھنا ہو تو اس طرح اپنی مالی تنگی بتانے میں کوئی
حرج نہیں)…بزرگوں نے فرمایا کہ… جب بھی گھر میں کھانا پکاؤ تو صرف چاول پکایا
کرو… اور کچھ نہیں … بس یہی علاج ہے… وہ شخص چلا گیا… کچھ دیر بعد ایک اور شخص
آیا اور کہنے لگا کہ حضرت ! رزق بہت زیادہ ہو گیا ہے… میں حساب کتاب اور سنبھالنے
سے تنگ آجاتا ہوں… کوئی عمل بتائیں کہ رزق کم ہو جائے… بزرگوں نے فرمایا … جب بھی
گھر میں کھانا پکاؤ تو صرف چاول پکایا کرو … اور کچھ نہیں … بس یہی علاج ہے… وہ
شخص بھی چلا گیا… حاضرین مجلس حیران تھے کہ مرض الگ الگ تھا… مگر حضرت نے ’’دواء‘‘
ایک ہی تجویز فرمائی… خیر کچھ عرصہ کے بعد غریب شخص آیا اور شکریہ ادا کرنے لگا
کہ… اس کا کام بن گیا ہے… اور اللہ تعالیٰ نے اسے ’’غنی‘‘ فرما دیا ہے… پھر مالدار
شخص آیا اور اس نے بھی شکریہ ادا کیا کہ… میرا مال اب بہت کم ہو گیا ہے … حاضرین
مجلس نے حضرت سے اس علاج کی حکمت پوچھی … فرمایا:غریب آدمی کے پاس مال بہت کم تھا
جب اس نے چاول پکائے تو… ایک ایک دانے کی حفاظت کی… دھوتے وقت کوئی دانہ نہ گر
جائے … پھر کھاتے وقت کوئی دانہ ضائع نہ ہو… دستر خوان پر جو چاول گرتے وہ اُٹھا
اُٹھا کر کھاتا… ایک ایک چاول اُٹھا کر دوبارہ کھانے سے بار بار… گرے ہوئے لقمے اُٹھا
کر کھانے کی سنت زندہ ہوئی… بس اس قدر دانی نے… اللہ تعالیٰ کی رحمت کو متوجہ
فرمایا… اور اسے غنی فرما دیا گیا…دوسری طرف مالدار نے دیگیں بھر کر چاول پکائے
اور اس میں دھونے سے لے کر … کھانے تک بے شمار دانے ضائع کئے… کیونکہ اسے کوئی کمی
نہیں تھی… اس لئے ناقدری کرتا رہا تو… اس کے رزق کی لگامیں کھینچ لی گئیں… یہ قصہ
یہاں ختم ہوا … معلوم نہیں یہ قصہ سچا ہے یا کسی نے بات سمجھانے کے لئے… بطور
تمثیل اسے بنایا ہے… مگر اس میں جو سبق ہے وہ بے شک سچا ہے… یہاں کئی لوگ یہ سوال
کر سکتے ہیں کہ… بہت سے مالدار ڈھیروں مال اور رزق ضائع کرتے ہیں… مگر ان کا مال
کم نہیں ہوتا… جواب یہ ہے کہ… مال کا کم یا زیادہ ہونا الگ چیز ہے… جبکہ رزق میں
تنگی اور وسعت ایک الگ چیز ہے… کئی لوگوں کے پاس مال بہت زیادہ ہوتا ہے مگر اُن کا
رزق تنگ ہوتا ہے… وہ طرح طرح کی بیماریوں کی وجہ سے اس مال سے فائدہ نہیں اُٹھا
سکتے… وہ ایک غریب آدمی سے بھی کم کھا سکتے ہیں… اور اُن کے دل میں… جو گھٹن اور
مزید مال کی خواہش ہوتی ہے وہ انہیں کبھی وسعت اور فراخی کا احساس تک نہیں ہونے
دیتی …بلکہ اُن کا مال اُن کے لئے طرح طرح کی پریشانیوں، بیماریوں اور خطرات کا
ذریعہ بنا رہتا ہے …میں نے ایک اربوں پتی شخص کا انٹرویو پڑھا… وہ کہہ رہا تھا کہ
لوگ مجھے خوش سمجھتے ہیں … حالانکہ میری زندگی بے انتہا مشکل ہے… کوئی شخص ایسی
مشکلات ایک دن بھی برداشت نہیں کر سکتا۔
بہرحال خلاصہ یہ ہے کہ… بندہ اللہ
تعالیٰ سے راضی اور خوش رہے… اور اپنے برے حالات کی وجہ … خود اپنی ذات میں تلاش
کرے … اور پھر اس کی اصلاح کی کوشش کرے۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے ملک ’’شام ‘‘ کو برکت سے
بھر دیا ہے… یہ حضرات انبیاء علیہم السلام کی سرزمین ہے… یہ ’’مسجد اقصیٰ‘‘ اور
تمام انبیاء علیہم السلام کے اجتماع کا مقام ہے… یہ انجیر
اور زیتون والی سرزمین ہے… اسی سرزمین سے معراج کا سفر ہوا … اور اسی سرزمین سے
آخری زمانے میں اسلام کے عروج کا سفر ہو گا… یہ فاتحین کی سرزمین ہے حتٰی کہ سیف
اللہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا قیام بھی اسی میں ہے… یہ بہادروں کی
زمین اور شیروں کا مسکن ہے… یہ زمین ہے مگر یہاں ستارے اُترتے ہیں… یہاں ظاہری اور
باطنی حسن کی بہاریں پھوٹتی ہیں… یہاں علم ، جہاد اور روحانیت کے سہ دھاری چشمے
بہتے ہیں… شام اُس اسلامی سلطنت کا دارالخلافہ تھا جس کی سرحدیں چین اور فرانس تک
پھیلی ہوئی تھیں… اور پھر شام ہی سے اسلام کا وہ لشکر چلے گا… جس کی قیادت حضرت
عیسیٰ علیہ السلام … اور حضرت محمد بن عبد اللہ المہدی رضی
اللہ عنہ فرمائیں گے۔
ملک شام نے حضرت سیدنا عمر بن
خطاب رضی اللہ عنہ کا استقبال کیا… اور پھر حضرت عمر بن
عبدالعزیز رحمہ اللہ کا ناقابل فراموش دور خلافت بھی دیکھا … اسی ملک
شام نے امین الامۃ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ … اور سیف اللہ حضرت خالد
بن ولید رضی اللہ عنہ کا جہاد دیکھا… شام کا دامن ہمیشہ آباد رہا… شام
کی گود ہمیشہ ہری رہی … شام کا جنون ہمیشہ سرگرم رہا… شام کبھی نہیں جھکتا… شام
کبھی نہیں مٹتا… شام کے سر پر حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کی دعاؤں کا پہرہ ہے… چار دن کی کالی رات بیت جائے گی…شام پھر
مسکرائے گا… شام پھر یکجا ہو جائے گا… شام پھر گرجے گا… سوریا، اردن ، فلسطین اور
لبنان کے ناموں میں بٹا ہوا شام… پھر ایک ہو جائے گا… شام میں نہ روس رہے گا نہ
ایران… وہاں صرف بسے گا ایمان… اسد خاندان کے خوفناک مظالم کے بعد ہر کوئی یہی
سمجھ رہا تھا کہ شام بجھ گیا … شام دب گیا… مگر پھر دنیا بھر نے شام کے جہاد کی
چمک دیکھی… شام کی ہر گلی نے مجاہد نکالے…یہ مفسرین کی سرزمین…جہاد اور اسلام سے
نہیں کٹ سکتی… یہ محدثین کی سرزمین … عساکر اور ابن عساکر اُٹھاتی رہے گی… یہ’ ’
مشارع الاشواق‘‘ کی سرزمین… ’’مصارع العشاق‘‘ کی داستان دُہراتی رہے گی… شہداء
غوطہ کو سلام… شہداء شام کو سلام… ارض مبارک کو سلام۔
اندھی یلغار
شام پر اس وقت کئی غیر ملکی قوتیں حملہ
آور ہیں… شام کا اصل مسئلہ وہاں کا قابض اور ظالم حکمران’’بشار الاسد‘‘ ہے… یہ
بھورا چوہا ایک قاتل، دہشت گرد اور فرقہ پرست انسان ہے… اس کے باپ ’’حافظ الاسد‘‘
نے لاکھوں شامی مسلمانوں کو شہید کیا… اور مرتے وقت حکومت اپنے بیٹے کو دے گیا…
شام کا جہاد کئی دہائیوں سے سلگ رہا تھا… مگر چند سال سے وہ قوت کے ساتھ بھڑک
اُٹھا ہے… قریب تھا کہ ’’بشار الاسد‘‘ کی حکومت ختم ہو جاتی مگر ایران پوری قوت کے
ساتھ شام میں گھس آیا… ایران کے قائد اعلیٰ نے شام میں اپنی جنگ کو ’’افضل جہاد‘‘
قرار دیا… اور وہاں مرنے والے ایرانیوں کو ’’شہید ‘‘ قرار دیا… یعنی اس کے نزدیک
سنی مسلمانوں کو شہید کرنا افضل جہاد ہے… پاکستانی حکومت کا رجحان پہلے شامی
مجاہدین کی طرف تھا مگر…سابق صدر نے اپنی فرقہ پرست ذہنیت کی وجہ سے… اپنی پارٹی
کو ایران کی پالیسیوں کا تابع بنارکھا ہےاور اس وقت چونکہ وہی صدر تھے چنانچہ
انہوں نے … پاکستان کو ایران کی حمایت میں کھڑا کر دیا… حالانکہ ایران ہمیشہ سے
پاکستان کا بدترین دشمن رہا ہے… آپ کبھی ایرانی میڈیا سن لیں اس کی زبان پاکستان
کے خلاف مودی اور ایڈوانی سے زیادہ سخت چلتی ہے… اور ایران ہر معاملے میں پاکستان
کے خلاف انڈیا کا ساتھ دیتا ہے… شام میں ایران کے علاوہ لبنان کی حزب اللہ بھی
’’بشار الاسد‘‘ کی حمایت میں اُتر آئی… اور یمن کے حوثیوں نے بھی پوری قوت کے
ساتھ بشار الاسد کا ساتھ دیا… مگر یہ سب مل کر بھی مجاہدین کا مقابلہ نہ کر سکے…
شامی حکومت مسلسل پسپا ہوتی گئی… ایران کے کئی جنرل اور ہزاروں جنگجو اس لڑائی میں
مارے گئے… اور حزب اللہ نے اپنے قابل فخر کمانڈر اس جنگ میں کھو دئیے … تب بشار
الاسد نے روس سے مدد مانگی اور روس شام میں داخل ہو گیا… ابھی دنیا کے حسین ترین
شہر ’’غوطہ‘‘ پر جو بمباری ہو رہی ہے… اس میں روسی ، ایرانی اور شامی تینوں افواج
مل کر… مجاہدین پر بمباری کر رہی ہیں… اس بمباری میں اب تک سینکڑوں افراد… جن میں
شیر خوار معصوم بچے بھی شامل ہیں … شہید ہو چکے ہیں… امریکہ جو خود شام کی لڑائی
میں… بعض افراد کا ساتھ دے رہا ہے… خاموشی سے مسلمانوں کا قتل عام دیکھ رہا ہے…
اور ترکی جس سے شام کے مسلمانوں نے اچھی امید باندھ رکھی تھی… ابھی تک دور دور
بیٹھا ہے … سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک جو کہ … شامی مجاہدین کی کسی قدر حمایت
کر رہے تھے اب اپنے داخلی معاملات میں اُلجھ چکے ہیں… ایران کا شیطان ننگا ناچ رہا
ہے اور اس کے منہ سے مسلمانوں کا خون ٹپک رہا ہے… شام اور غوطہ پر اس اندھی یلغار
نے امت مسلمہ کو بے چین کر دیا ہے… ہر مسلمان چاہتا ہے کہ وہ شامی مسلمانوں کی مدد
کرے… مگر راستے بند اور بے بسی کا منظر ہے… مگر اللہ تعالیٰ قادر ہے… اور ہر امید
اللہ تعالیٰ ہی سے وابستہ ہے… وہی مظلوموں کو قوت دینے والا… اور وہی انصار کے لئے
راستے کھولنے والا ہے…ہمارے پاکستان میں عجیب ستم ظریفی یہ ہے کہ… یہاں اگر ایران
کا نام لے کر اس پر صرف تنقید بھی کی جائے تو فوراً ’’فرقہ پرستی‘‘ کا لیبل لگا
دیا جاتا ہے… جبکہ ایران دن رات مسلمانوں کو شہید کرتا رہے تب بھی اُسے ’’فرقہ
پرست‘‘ نہیں کہا جاتا… دراصل ایران کی مسلکی، مذہبی ، صحافتی اور سفارتی یلغار
ہمارے ملکوں پر بہت بڑھ چکی ہے… اور اب تو کئی اچھے خاصے افراد بھی… اس یلغار کا
شکار نظر آتے ہیں… ابھی حال ہی میں اپنے چند فوجی دستے سعودی عرب بھیجنے پر…
پاکستان کی ایرانی لابی نے جو اودھم مچایا ہے… وہ پاکستان کے لئے ایک لمحہ فکریہ
ہے۔
مولانا ! یہ مندر نوازی؟
ہندوستان میں عجیب ستم برپا ہوا ہے…
حضرت سیّد احمد شہید رحمہ اللہ اور حضرت مولانا ابو الحسن ندوی رحمہ
اللہ کے خاندان کے ایک…معروف فرد… مولانا سلمان ندوی نے نعوذ باللہ
’’بابری مسجد‘‘ سے دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے… اگرچہ ’’مولانا ‘‘ کے اس اعلان
سے کچھ خاص فرق نہیں پڑے گا… مگر دل کو دکھ ضرور پہنچا کہ کیسے خوفناک فتنوں کا
دور آ گیا ہے… مولانا سلمان ندوی اپنی شہرت پسند طبیعت اور مزاج کے چھچھورے پن کی
وجہ سے … ہندوستان کے مسلمانوں میں زیادہ معتبر حیثیت نہیں رکھتے… اور ان کی جھولی
میں ان کی خاندانی نسبت کے علاوہ کوئی خاص خوبی بھی موجود نہیں ہے… وہ اپنے اسلاف
کی طرح نہ علم میں کوئی مقام بنا سکے اور نہ تحریکی طور پر کوئی کارنامہ سر انجام
دے سکے…مگر چونکہ آج کل تصویر، ویڈیو اور سوشل میڈیا کا زور ہے تو اس میدان میں…
مولانا کا نام اور فوٹو بھی کچھ چل نکلا ہے… اُن کے بزرگوں میں سے حضرت علامہ سیّد
ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ نے… مسلم پرسنل لاء بورڈ جیسی مضبوط
تنظیم کی سالہا سال تک قیادت فرمائی… اور کئی مواقع پر ہندوستان کی فرقہ پرست
پارٹیوں کو اپنے قدموں پر جھکایا۔
چاہیے تو یہ تھا کہ … مولانا سلمان ندوی
بھی اپنے اکابر و اسلاف کی طرح عزیمت کے اس میدان میں اپنا مقام بناتے مگر… بُرا
ہو جدت پسندی کا کہ جس نے… اہل علم کے کئی خانوادوں کو اُجاڑ کر رکھ دیا ہے… اُمید
تو یہی ہے کہ… مولانا سلمان ندوی اپنے اس نئے ظالمانہ موقف سے جلد رجوع کر لیں گے…
اور وہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور مسلمانوں سے معافی چاہیں گے… لیکن اگر وہ اپنی
غلط بات پر ڈٹے رہے تو… اس کا نقصان خود ان کی ذات کو ہی پہنچے گا… مسلمان جانتے
ہیں کہ کوئی شخص اپنے نام کے ساتھ ’’مولانا‘‘ اور’’ ندوی ‘‘ لکھنے سے… اتنا معتبر
نہیں ہوجاتا کہ… وہ اُس کے کہنے پر… اپنی مقدس مسجد سے دستبردار ہو جائیں… اور اس
مسجد کے سینے پر شرک کے مندر کو گوارہ کر لیں… الحمد للہ ہندوستان کے مؤقر ’’مسلم
پرسنل لاء بورڈ‘‘ نے مولانا سے برأت کا اعلان کر دیا ہے… اور دیگر اہل علم بھی ان
کے اس موقف سے بے زاری کا اظہار کر رہے ہیں… ہمیں یہ توقع نہیں تھی کہ… عمر کے
ساتھ ساتھ ’’مولانا ‘‘ کے جذبے بھی… اس قدر بڑھاپے کا شکار ہو جائیں گے… اللہ
تعالیٰ ہم سب کو ایمان اور دین پر استقامت اور ثابت قدمی عطاء فرمائے۔آمین یا
ارحم الراحمین
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے آخری نبی حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے … حضرت سیّدنا علی
المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی ملک ’’یمن‘‘ تشکیل فرمائی… اہل یمن نے اسلام
قبول کر لیا تھا… حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
’’ یا رسول اللہ! میں کم عمر نوجوان ہوں
آپ مجھے ایسی قوم میں بھیج رہے ہیں جن میں باہمی مسائل ہوں گے۔‘‘ ( یعنی اُن کے
جھگڑے ، معاملے اور فیصلے نمٹانے کی مجھ میں صلاحیت نہیں ہے)
اس پر حضرت آقا مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم نے یہ بشارت سنائی:
اِنَّ
اللہَ سَیَھْدِیْ قَلْبَکَ وَ یَثْبُتُ
لِسَانَکَ۔
’’اللہ تعالیٰ آپ کے دل اور زبان کو
سیدھا اور مضبوط رکھے گا۔‘‘
حضرت علی رضی اللہ عنہ
فرماتے ہیں:
’’ مجھے اس کے بعد کبھی کسی فیصلے میں
کوئی شک یا پریشانی نہیں ہوئی۔‘‘
[سنن ابوداؤد۔حدیث رقم: ۳۵۸۲،ناشر:دار الکتب العلمیہ۔ بیروت]
معلوم ہوا کہ … جس انسان کا دل سیدھا ہو
جائے اور زبان ٹھیک ہو جائے وہ انسان ہر جگہ کامیاب ہے۔
اُمت مسلمہ کے ایک مقبول طبقے نے… دل
اور زبان کی اصلاح کو اپنا موضوع بنایا … اس پر بھر پور محنت کی… اس کے لئے نصاب
مقرر کئے …اس کی خاطر بڑے بڑے مجاہدے کئے… قرآن و سنت میں غور کر کے اس کے لئے…
طریقت کا ایک نظام بنایا… اس نظام کوصحبت کے ساتھ جوڑا… اور یوں … سلوک ، احسان،
تصوف اور روحانیت کے نام سے ایک علم اور ایک سلسلہ وجود میں آ گیا… دل ہر برائی
اور گندگی سے صاف ہو جائے ، پاک ہو جائے… نفس ہر شرارت سے اور ہر خباثت سے پاک ہو
جائے، صاف ہو جائے…نیت اور ارادہ ہر دکھلاوے اور ہر خرابی سے پاک ہو جائے،صاف ہو
جائے… بندے کا دل اللہ تعالیٰ سے جڑ جائے… بندے کے دل میں نور اور روشنی پیدا ہو
جائے… بندہ اپنی ذاتی اغراض سے پاک ہو کر… ایک اللہ کا ہو جائے… بندے کی توجہ اللہ
تعالیٰ کی طرف ایسی ہو جائے کہ… اللہ تعالیٰ کی رضا کے سوا اس کا کچھ مقصود نہ
رہے، کوئی مطلوب نہ رہے… اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اس کا محبوب حقیقی نہ رہے… وہ
خود کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پائے… اور ہر غرض سے پاک ہو کر اس کی بندگی کرے، اس
کی غلامی کرے… اور اس کے ارادے کو اپنا ارادہ بنائے… اور اس کی تقدیر پر ہمیشہ خوش
رہے …اور وہ اپنے ارادے کو اور اپنی نفسانی خواہشات کو… فناء کر دے…یہ ہے اسلامی
تصوف… اور اس کے مشہور سلسلے چار ہیں:
١ قادری
…
٢ نقشبندی
…
٣ چشتی
…
٤ سہروردی
…
جبکہ ایک سلسلہ ’’اویسی‘‘ بھی… کسی کسی
کو نصیب ہو جاتا ہے… تصوف چونکہ اسلام ہی کا ایک سلسلہ اور ایک علم ہے… اس لئے اس
کے تمام قوانین… قرآن وسنت اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین کے اقوال و اعمال کی روشنی میں بنائے گئے ہیں… صوفیاء کے امام
حضرت جنید بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
مَذْھَبُنَا ھٰذَا مُقَیَّدٌ
بِالْکِتَابِ وَالسُّنَّۃِ فَمَنْ لَمْ یَقْرَءِ الْقُرْآنَ وَلَمْ یَکْتُبِ
الْحَدِیْثَ
لَایُقْتَدٰی بِہٖ فِیْ مَذْھَبِنَا
وَطَرِیْقِنَا۔
’’ہمارے تصوف کا یہ راستہ قرآن و سنت
کے ساتھ بندھا ہوا ہے پس جو شخص قرآن مجید نہ پڑھے اور حدیث شریف نہ لکھے تو
ہمارے تصوف میں ایسے شخص کی پیروی نہیں کی جائے گی۔‘‘
[ البدایۃ والنہایۃ۔ ج: ۱۱۔ ص: ۴۰۷۔ ط: رشیدیہ، کوئٹہ]
آج کل پوری دنیا میں جس ’’صوفی ازم‘‘
کا شور ہے… ابھی سندھ میں اس کے نام پر میلے، فیسٹول ، ناچ ، گانے ،موسیقی،
بھنگڑے، نشہ بازی اور بے حیائی کے جو مناظر ہیں اس کا اسلام سے کیا تعلق ہے؟ … اس
کا قرآن وسنت میں کہاں ثبوت ہے؟ … چند جنگلی جانور جمع ہو کر… اپنی نفسانی ہوس
پوری کرتے ہیں اور اسے ’’صوفی ازم ‘‘کا نام دے دیتے ہیں… دراصل یہ لوگ مسلمانوں
کو… دین اسلام کی حقیقی راہ سے ہٹانا چاہتے ہیں… اللہ تعالیٰ ان کے شرور سے اہل
ایمان کی حفاظت فرمائے۔
ایک نظر ڈالیں
حضرات صوفیاء کرام رحمہم اللہ … اپنے
سلسلوں کی سند حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے جوڑتے ہیں…
اور حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو … تصوف کا امام
اول قرار دیتے ہیں… کیونکہ تصوف میں ترقی کی آخری منزل … مقام ’’صدیقیت‘‘ ہے… اس
کے آگے’’ نبوت‘‘ کا مقام ہے… ’’نبوت‘‘ کسی کو اپنی محنت یا مجاہدے سے نہیں مل سکتی
… ایک انسان جو آخری ترقی کر سکتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ… صدیق کے مقام تک پہنچ جائے…
اور یہ مقام بہت اونچا ہے… مقام تو کیا کہنے … صدیق کی نسبت مل جانا بھی بڑی سعادت
ہے … اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ صدیقین اولیاء کے امام ہیں… اور آپ منبر پر
بیٹھ کر فرماتے تھے کہ:
’’ اے مسلمانو!جو قوم جہاد فی سبیل اللہ
چھوڑ دیتی ہے اللہ تعالیٰ اس پر ذلت کو مسلط فرما دیتے ہیں۔‘‘
آج کل ’’صوفی ازم ‘‘ کا منحوس
نعرہ اس لئے بلند کیا جا رہا ہے تاکہ… مسلمانوں کو ’’جہاد ‘‘ سے روکا جا سکے جبکہ
حقیقی تصوف میں ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ… صوفیاء کے سب سے اونچے درجے کے امام … یعنی
صدیقین کے امام حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے لئے جہاد کو
لازم سمجھتے ہیں… خود بھی ساری زندگی جہاد میں رہے اور پھر اپنے مختصر دور خلافت
میں انہوں نے اس وقت کی تقریباً پوری اُمت مسلمہ کو جہاد پر لگادیا یہاں تک کہ…
مدینہ منورہ خالی ہونے لگا۔
اہل تصوف کے دوسرے بڑے امام … جن تک
صوفیاء کرام اپنی سند جوڑتے ہیں … وہ ہیں اسد اللہ الغالب سیدنا علی بن ابی طالب
رضی اللہ عنہ … اللہ تعالیٰ کے شیر… ناقابل شکست فاتح… اور بدر و خیبر کے فاتح…
پھر آپ حضرات صوفیاء کرام کے حالات پڑھتے جائیں … جن جن بزرگوں کے ساتھ اہل تصوف
خود کوجوڑتے ہیں… وہ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ ہوں یا حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ … یہ سب حضرات باقاعدہ جہاد فرماتے رہے… جنگ
یرموک کے موقع پر … اسلامی لشکر میں سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ
عنہ موجود تھے اور انہوں نے خطاب فرما کر … مسلمانوں کو ثابت قدمی اور
بہادری کی تلقین فرمائی … نیچے کے حضرات میں… حضر ت حسن بصری رحمہ
اللہ سے حضرت ابراہیم بن ادہم رحمہ اللہ تک… آپ کو ایک طرف
سلوک و احسان کی عظیم بلندیاں نظر آتی ہیں تو ساتھ ہی جہاد کے عظیم کارنامے بھی…
ساتویں صدی میں تصوف کے مشہور امام اور بزرگ حضرت الشیخ عبد اللہ
الیونینی رحمہ اللہ کے بارے میں ’’البدایہ والنہایہ ‘‘ میں لکھا ہے کہ…
آپ ’’اسد الشام‘‘ یعنی ملک شام کے شیر کے لقب سے مشہور تھے اور صاحب احوال و
مکاشفات تھے… آپ امام طریقت ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے مجاہد تھے… حافظ ابن رجب رحمہ
اللہ لکھتے ہیں :
وَکَانَ لَا یَنْقَطِعُ عَنْ غَزْوَۃٍ
مِّنَ الْغَزَوَاتِ وَلَہٗ اَحْوَالٌ وَ کَرَامَاتٌ کَثِیْرَۃٌ جِدًّا۔
’’یعنی آپ کسی بھی جنگ سے پیچھے نہیں
رہتے تھے… اور آپ کے احوال اور کرامات بہت کثیر ہیں۔‘‘
فتنے سے پناہ
مسلمان چونکہ… بزرگان دین سے محبت رکھتے
ہیں… ان سے بہت جلد متاثر ہوتے ہیں… اور اپنی مشکلات وغیرہ میں بھی وہ… ان کی طرف
رجوع کرتے ہیں… تو دشمنان اسلام بھی … اکثر اسی لبادے میں… مسلمانوں کو گمراہ کرتے
ہیں… انگریزوں نے باقاعدہ ایسے ادارے بنائےتھے جو نقلی بزرگ ، بابے، صاحب کشف اور
صاحب کرامات ملنگ تیار کر کے… مسلمانوں میں گھساتے تھے… دشمن کے یہ ایجنٹ ایک طرف
تو مسلمانوں کے عقائد بگاڑتےتھے اوردوسری طرف…ان کے خلاف جاسوسی بھی کرتے تھے… یہ
ایک بڑی دردناک اور طویل داستان ہے… اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے … کئی غیر مسلم
کافر… آج بھی مسلمان بن کر مسلمانوں میں… اندر تک گھسے ہوئے ہیں اور دن رات…
لاکھوں مسلمانوں کو گمراہ کر رہے ہیں…ہم اس داستان کو ایک طرف چھوڑتے ہیں … کیونکہ
اس کا زیادہ تذکرہ… صرف غم، خوف، پریشانی اور شبہات ہی پیدا کرتا ہے… اصل بات یہ
ہے کہ… مسلمان اگر چند چیزوں کا خیال رکھ لے تو وہ کبھی بھی… کسی ایسے فتنے کا
شکار نہیں ہو سکتا… کلمہ طیبہ کے ساتھ مضبوط تعلق اور اس کا بکثرت ورد… نماز کے
ساتھ پکی یاری اور عشق… جہاد فی سبیل اللہ سے والہانہ تعلق اور محبت … فرائض کی
پابندی… قرآن مجید کی تلاوت اور مسنون اوراد کا اہتمام… یہ ایک مختصر نصاب ہے اور
اس میں سب کچھ آ جاتا ہے… ساتھ ہی ہر نماز کے بعد فتنوں سے حفاظت کی دعاء کا بہت
اہتمام رہے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ
الْفِتَنِ مَاظَھَرَ مِنْھَا وَمَابَطَنَ۔ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ
اَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ۔ اَللّٰھُمَّ
اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ النِّسَاءِ۔
چونکہ زمانے کے اکثر بڑے فتنوں کی
لگام’’ عورتوں‘‘ کے ہاتھ میں ہے اس لئے عورتوں کے فتنے سے حفاظت کی دعاء ہر مسلمان
مرد اور عورت کو کرنی چاہیے اور ہماری مسلمان بہنوں کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ…
یہ دعاء نعوذ باللہ ان کے خلاف ہے… اسی طرح جمعۃ المبارک کے دن ’’سورۃ الکہف‘‘ کا
اہتمام رکھیں اور اپنا ’’جمعہ‘‘ خوب مضبوط بنائیں… جمعہ اگر مضبوط ہو جائے تو فتنے
دور دور بھاگ جاتے ہیں… خلاصہ یہ کہ ’’صوفی ازم‘‘ کے نام سے ایک شیطانی فتنہ اس
وقت مسلمانوں میں پھیلایا جا رہا ہے… اہل ایمان اس سے خبردار رہیں۔
تنقید سے پہلے
سلفی بھائی آج کا کالم پڑھ کر… ضرور
پریشان ہوں گے… اور بعض اس بارے میں خطوط بھی لکھیں گے کہ… تصوف اور صوفیت کا
اسلام سے کیا تعلق؟ چونکہ سلفی بھائی… اپنے موجودہ علماء کے بہت پکے مقلد ہیں اس
لیے وہ اس طرح کی غلط فہمیوں کا شکار ہو جاتے ہیں … وہ اگر اُن اسلاف کی کتابیں
مکمل پڑھیں… جن کی طرف وہ اپنی نسبت کرتے ہیں… مثلاً شیخ الاسلام ابن
تیمیہ رحمہ اللہ اور علامہ ابن قیم رحمہ اللہ …
تو وہ دیکھ لیں گے کہ یہ حضرات بھی اسلامی سلوک و احسان اور تصوف کے بالکل اسی طرح
قائل تھے جس طرح کہ ہم ہیں… آج ہی مطالعہ کر کے دیکھ لیں… اور اندھی تقلید سے
باہر نکلیں۔
آخر میں ایک تحفہ
جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ…
لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا
بِاللّٰہِ وَلَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَأَ مِنَ اللہِ اِلَّا اِلَیْہِ۔
’’نہیں کوئی طاقت اور قوت مگر اللہ
تعالیٰ کی طرف سے اور اللہ تعالیٰ کی پکڑ اور اس کے عذاب سے صرف اللہ تعالیٰ ہی
بچا سکتا ہے…اللہ تعالیٰ کی پکڑ ، مصیبت اور عذاب سے بچنے کی پناہ گاہ خود اللہ
تعالیٰ ہے۔‘‘
[ مسند ابوداؤد الطیالسی۔ج: ۴۔ ص: ۲۰۳۔ ط: دار ھجر، مصر]
یہ مسنون دعاء گناہوں سے حفاظت،
پریشانیوں کے خاتمے ، حاجات کے پورا ہونے اور مصیبتوں سے حفاظت کے لئےاکسیر ہے۔
لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا
بِاللّٰہِ وَلَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَأَ مِنَ اللہِ اِلَّا اِلَیْہِ۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے ایمان والے
بندوں کو حکم فرمایا ہے:
{کُوْنُوْا اَنْصَارَ اللہِ}
’’ تم اللہ تعالیٰ کے مددگار
بنو۔‘‘ [الصف:۱۴]
یعنی اللہ تعالیٰ کے دین کے مددگار
بنو…دشمنانِ دین کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرو… اللہ تعالیٰ کے دین
کے انصار بنو…اور اس نصرت کے لیے تم بھرپور تیاری کرو:
{وَ اَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا
اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ} [الانفال:۶۰]
جتنی تمہاری طاقت ہے …جتنی تمہاری
استطاعت ہے…اس کے مطابق تم تیاری کرو…تیر اندازی سیکھو…گھڑ سواری سیکھو… اور ایسی
زبردست قوت بناؤ کہ …
{تُرْھِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّ
اللہِ وَعَدُوَّکُمْ } [الانفال:۶۰]
’’ اس کے ذریعہ سے تم اللہ تعالیٰ کے
دشمنوں کواوراپنے دشمنوں کو ہیبت زدہ کر دو، دہشت زدہ کر دو۔‘‘
اس لیے حضورِ اقدس صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اَلْمُوْمِنُ الْقَوِیُّ خَیْرٌ وَ
اَحَبُّ اِلَی اللہِ مِنَ الْمُؤمِنِ الضَّعِیْفِ۔
’’وہ ایمان والا جو قوی ہو وہ اللہ
تعالیٰ کے ہاں بہتر ہے اور زیادہ محبوب ہےاس ایمان والے سے جو کمزور ہو۔‘‘
[صحیح مسلم۔حديث رقم:۲۶۶۴ ، ناشر:دار الکتب العلمیہ۔ بیروت]
آپ مکہ مکرمہ کا ماحول دیکھیں… مدینہ
منورہ کا ماحول دیکھیں…سستی نام کی کوئی چیز وہاں نظر نہیں آتی…ہر شخص جو اللہ
تعالیٰ کے دین کی نصرت کے لئے تیار ہوا… اُس نے اپنے جسم کو فولاد بنایا… خود کو
مضبوط کیا…اور اس مضبوطی کو ایک مقصد بنا کر اُس کے لیےاس نے محنت کی…حضرت ابو بکر
صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ
عنہ نے جو خطوط اپنے گورنروں، سپہ سالاروں کے نام لکھے … ان کو پڑھ کر
دیکھیں…ان میں ہر اُس چیز سے منع فرمایا گیا… جو انسان کے جسم کو کمزور کرتی ہو اور
سست کرتی ہو…اور ہر اُس چیز کا حکم دیاگیا جو انسان کو مضبوط اور چست بناتی ہو…
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد باقاعدہ دعاء
فرمایا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ
الْعَجْزِ وَ الْکَسَلِ۔
’’یا اللہ! سستی سے آپ کی پناہ چاہتا
ہوں،کم ہمتی سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں۔‘‘
[صحیح مسلم۔حديث رقم:۲۷۰۶ ، ناشر:دار الکتب العلمیہ۔ بیروت]
ایک بار کچھ صحابہ
کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین …حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت
میں حاضر ہوئے …اور عرض کیا:
’’ یا رسول اللہ!تھکاوٹ ہو جاتی ہے‘‘
فرمایا:
عَلَیْکُمْ بِالنَّسْلَانْ۔
’’ تیز چلا کرو۔‘‘
[صحیح ابن خزیمہ۔باب استحباب النسل فی
المشی،حدیث رقم:۲۵۳۷،ناشر: المكتب الإسلامي بیروت]
تھکاوٹ کا علاج یہ بیان فرمایا کہ تیز
چلا کرو … صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین فرماتے ہیں: ہم نے تیز
چلنا شروع کیاتو چند دن میں ہی ہماری ساری تھکاوٹ دور ہو گئی…اورجو سستی، پریشانی
اور بیماری تھی اُس کا خاتمہ ہوگیا۔
حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کی مبارک زندگی ہمارے لیےہر چیزمیں اسوۂ حسنہ ہے:
{لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ
اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} [الاحزاب:۲۱]
علماءکرام نے لکھا ہےکہ…حضور اقدس
صلی اللہ علیہ وسلم کا خوبصورت ، طاقتور اور چست جسم مبارک بھی اسوۂ حسنہ
میں شامل ہے…وہ جسم جس کو دیکھ دیکھ کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین
کو ترغیب ہوتی تھی…اور وہ بھی اس طرح بننے کی کوشش کرتےتھے…مکہ مکرمہ سے طائف کا
سفر پیدل طے کرنا…پہاڑی علاقہ…پتھر… کانٹے…یہ کسی عام انسان کے بس کی بات نہیں ہے…
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے کُشتی فرمائی…تویہ بھی سنت
ہو گئی …کُشتی کرنے کے لیے انسان کو کتنی زیادہ جسمانی طاقت کی ضرورت ہوتی ہے…اور
کُشتی بھی مکہ کے اُس پہلوان سےفرمائی جس کا کوئی مدِمقابل پورے مکہ میں موجود
نہیں تھا… ’’رُکانہ‘‘…آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےاس کو تین بار شکست دی…حضور اقدس
صلی اللہ علیہ وسلم تیر اندازی فرماتے تھے …اور بہترین تیر اندازی فرماتے تھے …یہ
بھی سنت ہو گئی…اس اسوۂ حسنہ کو بھی اپنانا ہے… تیر اندازی کے لئے کس قدر جسمانی
طاقت کی ضرورت ہوتی ہے… وہ آپ تیر اندازی کر کے دیکھ لیں…یا کسی تیر انداز سے
پوچھ لیں…ہاتھوں کی انگلیاں مضبوط ہونا شرط… کلائیاں مضبوط ہونا شرط…بازؤوں کی
مچھلیاں مضبوط ہونا شرط… کندھے مضبوط ہونا ضروری…سینے کا طاقتور ہونا ضروری…کمرکا سیدھا
ہونا ضروری…اور ٹانگوں میں قوت اور طاقت کاہونا ضروری… یہ سب چیزیں موجود ہوں… تو
انسان اچھی طرح تیر اندازی کر سکتا ہے ورنہ نہیں کر سکتا۔
حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ
علیہم اجمعین نے تیر اندازی میںبہت محنت فرمائی…کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ
کا حکم تھا…اورآقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری سنت اور ترغیب
تھی… اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
{مِنْ قُوَّۃٍ } [الانفال:۶۰]
اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’قوۃ‘‘
کی تشریح’’تیر اندازی‘‘ سے فرمائی۔
أَلَا اِنَّ الْقُوَّۃَ
الرَّمْیُ۔
[صحیح مسلم۔حدیث رقم:۱۹۱۷،دار الکتب العلمیہ۔ بیروت]
چنانچہ حضرات صحابہ
کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین گھنٹوں گھنٹوںتیر اندازی کی مشق فرماتے
تھے…اور جنگوں میں کئی کئی گھنٹوں تک مسلسل تیر پھینکتے تھے…مگر اُن کے بازؤوں
میں کسی قسم کی کمزوری یا تھکاوٹ نہیں آتی تھی…یہ سب کچھ بھی اسوۂ حسنہ ہو
گیا…حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ بھی ہو گئی…اور حضرات
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا طریقہ بھی ہو گیا۔
گھڑ سواری کا حکم بھی اللہ تعالیٰ نے
دیا…کیونکہ اللہ تعالیٰ نےگھوڑوں کی فضیلت بیان فرمائی…اور اُن گھوڑوں کی
قسمیںکھائیں…جو صبح کے وقت چھاپہ ڈالتے ہیں…صبح کے وقت حملہ کرتے
ہیں{فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحًا}(انہی قسموں میں’’ گھوڑسوا ری ‘‘کا حکم مضمر ہے)…اس
سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام میں صبح کا سونا نہیں ہے…بلکہ صبح کو مومن کا گھوڑے
کی پشت پرسوار ہونا ہے…اور صبح کے وقت اس گھوڑے نے جا کر حملہ کرنا ہے…اور اُس
زمین کو جو شبنم کے گرنے کی وجہ سے جم چکی ہو اس کو بھی اُکھاڑ کر اُس میں سے مٹی
اُڑانی ہے… اور ایسا منظر پیدا کرنا ہے کہ عرش کے اوپر سے آواز آئے :
{وَالْعٰدِیٰتِ ضَبْحًا* فَالْمُوْرِیٰتِ
قَدْحًا* فَالْمُغِیْرٰتِ
صُبْحًا* فَاَثَرْنَ
بِہٖ نَقعًا}
[العادیات:۱تا۴]
ایک چست مؤمن اللہ تعالیٰ کو کتنا
محبوب ہے …اس کا اندازہ اس بات سےلگائیں کہ… مساجد میں لہو و لعب اور دنیا کی
باتیں کرنا علامات قیامت میں شمار ہوتا ہے…لیکن مسجد میں تیر اندازی اور نیزوں کی
مشق کرنے کی حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی… وجہ یہ ہے
کہ مؤمن جب گھوڑے پر بیٹھ کر جہاد کی نیت سے گھڑ سواری کرتا ہے…اور دوڑ لگاتا
ہے…تویہ وہ عمل ہے جس پر اللہ تعالیٰ کے فرشتے اُسی طرح حاضر ہوتے ہیں جس طرح’’
ذکر اللہ ‘‘پر حاضر ہوتے ہیں…اسی طرح جب کچھ مؤمن اکٹھے ہو کر تیر اندازی کی مشق
کرتے ہیں…تیر اندازی سیکھتے ہیں…تواس عمل پربھی فرشتے اسی طرح حاضر ہوتے ہیں جس
طرح’’ ذکر اللہ ‘‘پر حاضر ہوتے ہیں۔
ایک مؤمن کابنیادی کام اللہ تعالیٰ کے
دین کی نصرت ہے… اور اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت کے لیے مضبوط جسم… چست جسم…
اورمشقتیں سہنے والا بدن ضروری ہے …
{لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ
کَبَدٍ} [البلد:۴]
اللہ تعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھا کر
فرماتے ہیںکہ …والد اور ولد کی قسم کھا کر فرماتے ہیں…اے انسان!میں نے تجھے پیدا
ہی مشقت میں کیا ہے …اب یہی مشقت تو اگر اللہ تعالیٰ کے دین کے لئے برداشت کرے گا
…تو تجھےدنیا و آخرت میں ترقی ملے گی…اور اگر تو نے مشقت کو چھوڑا اور راحت کو
اختیار کیا…تو دنیا و آخرت کی بہت سی مشقتیں تیرے سر پر سوار ہو جائیں گی… اس
سورۃ مبارکہ کی تفسیر کو بہت غور سے پڑھیں… تو آپ کو ورزش کرنے کی اور اپنا جسم
بنانےکی اہمیت معلوم ہو جائے گی۔
افسوس!آج لوگ خوبصورتی کے لئے تو
اپنا جسم بناتے ہیں…دنیاوی مقابلوں کے لیے، دنیاوی شہرت کے لئے تو اپنا جسم بناتے
ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کے انصار… اللہ تعالیٰ کے دین کے مددگاربننے کے لئے… اور
اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کے لئے …اس چیزکو ایک مقصد یا مشن بنا کر اختیار نہیں
کرتے…حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’ذکر اللہ‘‘ کے علاوہ کھیل کود
سے متعلق تمہاری ہر چیز لہو و لعب میں شمار ہو گی سوائے چار چیزوں کے:
١ تیر
اندازی کے دو ہدفوں کے درمیان چلنا۔
آپ تیر اندازی سیکھ رہے ہیں… ایک جگہ
آپ نےہدف مقرر کیا دوسری جگہ سےاس پر تیر پھینکتے ہیں…پھر وہاں جا کر دیکھتے ہیں
کہ صحیح لگا یا نہیں ؟…یہ چلنا اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے…یہ لہو و لعب میں نہیں
آتا۔
٢ اپنے
گھوڑے کی تربیت کرنا ، اس کو سدھانا، اس کو تیار کرنا۔
اللہ تعالیٰ کے دین کی مددکی نیت
سے…اللہ تعالیٰ کے دین کا کام کرنے کے لئے…یہ کا م کرنا لہو و لعب میں نہیں آتا…
اس عمل پر بھی اللہ تعالیٰ خوش ہوتے ہیں…اوراللہ تعالیٰ کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔
٣ تیراکی
کرنا …یہ دنیا کی بہترین ورزش ہے۔
٤ بیوی
کے ساتھ کھیلنا…یہ بھی لہو و لعب نہیں۔
اسلام کا مزاج عجیب ہے…دنیا کے کئی
مذاہب میں…لوگوں کو جسم بنانے کی ترغیب دی جاتی ہے…صرف اس لئے کہ صحت حاصل ہو
جائے…چستی حاصل ہو جائے…کہیں یوگا سیکھا جاتا ہے…کہیں مارشل آرٹ سیکھی جاتی
ہے…ہوا میں مکے مارے جاتے ہیں…ہوا میں کِکیں ماری جاتی ہیں…اور اس کےجو مقاصد بیان
کیے جاتے ہیں…وہ سارے جانوروں والے ہیں… انسانوں والے نہیں ہیں…جبکہ اسلام ان تمام
چیزوں کی ان تمام باطل مذاہب سے بڑھ کر ترغیب دیتا ہے…لیکن مقصدکے ساتھ…اوروہ مقصد
ہے… اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد…اس مقصد کو لے کر ورزش کی جائے تو انسان کا جسم بھی
بن رہا ہے اور ساتھ اجر بھی بن رہا ہے… صحت بھی اچھی ہو رہی ہے… اور ساتھ ساتھ
آخرت بھی اچھی ہو رہی ہے… جسم بھی مضبوط ہو رہا ہے…اور ساتھ روح کو بھی ترقی مل
رہی ہے…انسان چست بھی ہو رہاہے …خوش بھی ہو رہاہے …اور ساتھ ساتھ اپنی آخرت کا
سرمایہ بھی تیار کر رہاہے۔
تیراکی کی ترغیب دی
گئی…مگرکس انداز سے؟… بحری جہاد کی بہترین اور بڑی بڑی فضیلتیں بیان کر دیں…آپ
فضائلِ جہاد کھول لیں…اس میں بحری جہاد کے بارے میں… حضور اقدس صلی
اللہ علیہ وسلم کے مبارک فرامین اور فضیلتیں… سمندر میں شہید ہونے کے مقامات،
درجات… سمندری جہاد میں کسی کو اُلٹی آ جائے…سر چکرا جائے…اس کی فضیلت… اور پہلے
سمندری دستے کے لیے خاص فضیلتیں پڑھ لیں…حیران ہوجائیں گے کہ اس قدر فضیلتیں؟…ا ور
یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ سمندری جہاد وہی شخص کر سکتا ہے جو تیراکی
جانتا ہو…جو کَشتی رانی جانتا ہو… جو سمندر کی موجوں سے لڑنا جانتا
ہو…دیکھئےتیراکی کی ترغیب بھی ہو گئی… اور ساتھ ساتھ اس کا مصرف بھی بیان ہو
گیا…ورزش بھی آ گئی اور اس ورزش کا مقصد بھی آ گیا… یہ نہیں ہے کہ صرف اپنا جسم
بنانا ہے اور بس۔
علامہ ابن القیم رحمہ
اللہ فرماتے ہیں:(انسان کو) ان چیزوں پر غور کرنا چاہیے…جن کو
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے لہو ولعب قرار نہیں دیا… گھڑ سواری ،
تیر اندازی ، تیراکی وغیرہ… ان چیزوں کا دنیا میں جو سب سے پہلا فائدہ ہوتا ہے… و
ہ یہ ہوتاہے کہ… انسان کے دماغ سے ٹینشن دور ہو جاتی ہے…دماغی بیماریاں ختم ہو
جاتی ہیں… دماغی بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ انسان کا سست ہونا…بے کار ہونا…فضول
چیزوں میں پڑے رہناہے… اسی کی وجہ سے ساری ٹینشن ہوتی ہے…اور جب دماغ میں ٹینشن
ہوتی ہے تو انسان پر’’ھَم‘‘ نامی بیماری کا حملہ ہوتا ہے… فکروں کا حملہ ہوتا ہے…
اس کے بعد پھر نشے شروع ہو جاتے ہیں…ٹینشن زیادہ ہے تو اب سگریٹ پینی ہے… سگریٹ سے
کام نہیں چلتا تو پھر چرس ہے…چرس کے بعد ہیروئن ہے …کوکین ہے…شراب ہے…العیاذ
باللّٰہ…لیکن اگر انسان ان چیزوں کو اختیار کرے جو حضور اقدس صلی اللہ
علیہ وسلم کی سیرت اور سنت میں آئی ہیں…چلتے ہوئے تیز چلے… گھڑ سواری
کرے…تیراندازی کرے…تیراکی کرے…اور کُشتی لڑے… تو ٹینشن انسان کے قریب نہیں آئے گی
…نہ اُس پر پریشانیوں کا حملہ ہو گا…اور نہ اُس کا جسم شہوتوں اور گناہوں کی طرف
زیادہ مائل ہو گا …نہ اسے نماز میں سستی ہو گی…نہ اسے مسجد جانے میں تکلیف ہو گی…
نہ اسے حج کے موقع پر کوئی پریشانی ہو گی…اور فریضہ ٔجہاد ادا کرنا بھی اُس کے لیے
آسان ہو جائے گا۔
اس لیے حضرات صحابہ
کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور سے لے کر آج تک جتنے بھی اچھے
مسلمان گذرے ہیں یا موجود ہیں…سچے مسلمان …جن مسلمانوں کے دل میں یہ درد ہے کہ…
انہوں نے اللہ تعالیٰ کے دین کا مددگار بننا ہے…جن مسلمانوں کے دلوں میں یہ فکر ہے
کہ انہوں نے جہاد سمیت ہر اسلامی عبادت کو ٹھیک طریقے سے ادا کرنا ہے…وہ کبھی اپنا
جسم بنانے سے غافل نہیں ہوتے…وہ کبھی خودکو ڈاکٹروں، حکیموں، طبیبوں، عاملوں کے
حوالے نہیں کرتے… وہ حتی الوسع محنت کرتے ہیں…یہاں تک کہ کسی معذوری کی وجہ سے اگر
وہ چلنے پھر نے سے رک جائیں…توتب بھی اُن کے جسم کے وہ اعضاء جو درست اور ٹھیک
ہوتے ہیں…اُن کو مضبوط کرتے رہتے ہیں…تاکہ اللہ تعالیٰ کے دین کی کسی طرح سے تو
مدد کر سکیں۔
آپ قرون اولیٰ کے اسلامی لشکروں کی قوت
کا جائزہ لیں…صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی خوراکیں زیادہ
نہیں تھیں…صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین طاقت ، قوت والی کوئی
خاص چیزیں استعمال نہیں کرتے تھے…لیکن جب روم و فارس کے پہلوانوں کے مقابلے میں
کھڑے ہوئے…تو اُن کو اُن کے گھوڑوں کے اوپر سے اُٹھا اُٹھا کرنیچے پٹختے تھے…دراصل
مؤمن جب اللہ تعالیٰ کے دین کے لئے جسمانی قوت بنانے پہ آتا ہے تو اس کی جسمانی
اور روحانی دونوں قوتیں مل کر اُس کو طاقتور ترین بنا دیتی ہیں…حضرات صحابہ کرام رضوان
اللہ علیہم اجمعین نے جب تیراندازی کے فضائل سنے…اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم سےیہ وعید سنی کہ:’’جس نے تیر اندازی سیکھ کر اسے بھلا دیا…چھوڑ
دیا…اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں رہے گا‘‘…تو بڑھاپے کی حالت میں…جب چلنا پھرنا
مشکل تھا… تب بھی وہ مشقتیںجھیل کر تیر اندازی کیا کرتے تھے…ڈاکٹر کہہ دیں کہ تم
مرنے کے قریب ہو اگر تم نہیں چلو گے تو مر جاؤ گے… تب تو لوگ چلنا شروع کردیتے
ہیں… لیکن یہی قدم اگر اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت کے لئے اُٹھیں…اور انسان اس نیت
سے چلے…تو ایک ایک قدم پر اللہ تعالیٰ اُس کے ایمان کو بھی قوت دیتے ہیں…اس کی روح
کو بھی قوت دیتے ہیں…اس کے جسم کو بھی صحت عطاء فرماتے ہیں…اوراس کے دل کو بھی صحت
عطاء فرماتے ہیں…اس لئے کہ اللہ تعالیٰ مؤمن قوی سے محبت فرماتے ہیں…اور جس کے
ساتھ وہ محبت فرماتے ہیں اس کو ہر طرح کی خیر عطاء فرماتے ہیں۔
آج اس بات کی بہت زیادہ ضرورت ہے…کہ
ایک مشن، ایک مقصد اور ایک دعوت بنا کر ہر مسلمان کو اس بات کی ترغیب دی جائے کہ
وہ اللہ تعالیٰ کے دین کامدد گاربننے کے لئے…اسلام کے تمام فرائض کو ٹھیک ٹھیک ادا
کرنے کے لئے… اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بننے کے لئے…ورزش کا اہتمام کرے…بعض
لوگوں کا تو پیشہ ایسا ہے کہ اس میں اُن کی اچھی خاصی ورزش ہو جاتی ہے…لیکن جن
لوگوں کو بیٹھ کر کام کرنا ہے…جن کو طرح طرح کی مجبوریوں نے گھیر رکھا ہے… وہ اپنی
زندگی میں اس چیز کو لائیں…شامل کریں …علماء کو چاہئے کہ اس چیز کی دعوت دیں…اس
چیز سے نہ گھبرائیں کہ لوگ کہیں گے کہ آپ خود تو کرتے نہیں…اور دوسروں کو دعوت
دیتے ہیں…دعوت دینے کی برکت سے اپنے لئے بھی عمل آسان ہو جائے گا…قرآن مجید میں…
درجنوں دلائل موجود ہیں…احادیثِ نبویہ میں سینکڑوں دلائل موجود ہیں…جن کو بیان کر
کے امت کو اس چیز پر لایا جا سکتا ہے…کہ ہر مسلمان مرد، عورت…اپنے جسم کو صحت مند
رکھنے کے لئے…اپنے بدن کو طاقتور بنانے کے لئے ورزش کااہتمام کرے…خالص اللہ تعالیٰ
کی رضا کے لئے…اللہ تعالیٰ کے فرائض ادا کرنے کے لئے… اللہ تعالیٰ کے ہاں محبوب
بننے کے لئے…اللہ تعالیٰ کے دین کا انصار بننے کے لئے…پنجے مضبوط کرے… بازو مضبوط
کرے…سینہ مضبوط کرے… ٹانگیں مضبوط کرے…دماغ کو مضبوط کرے …دل کو مضبوط کرے…اونچی
آوازیں سن کر ڈرنے اور گھبرانے والا نہ بنے…خوف اور دہشت کے ماحول سے ڈرکر کسی کے
قدموں پہ گرنے والا نہ بنے…ڈٹ جانے والا بنے… جو شخص اس چیزکواپنی زندگی میں شامل
کرے گا… ان شاء اللہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑا اجر اور بڑی توفیق پائے گا۔
ہمارا ماحول اور معاشرہ بہت بدل گیاہے…
ہمارے ہاں دین دار اشخاص کو… نہ کوئی تیز چلتا ہوا دیکھنا چاہتا ہے…نہ کچھ کھیلتے
ہوئے دیکھنا چاہتا ہے …لیکن آپ مدینہ منورہ کا ماحول دیکھیں…اللہ کے
نبی صلی اللہ علیہ وسلم گزر رہے ہیں…بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ
علیہم اجمعین دو ٹیمیں بنا کر…آپس میں تیر اندازی کا مقابلہ کر رہے
ہیں…سبحان اللہ!… کیا ماحول ہو گا… آج یہ ماحول نظر آتا ہے… اللہ کے
نبی صلی اللہ علیہ وسلم پا س سے گزرے …صحابہ
کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ہاتھ روک لئے… فرمایا:
اِرْمُوْا، اِرْمُوْا…
تیر اندازی کرو، تیر اندازی کرو…
چلو میں بھی ایک ٹیم کے ساتھ ہوں…میں
اُن کی طرف سے…اور تم دوسری طرف سے… چلو مقابلہ کرو …تو دوسری طرف والوں نے ہاتھ
روک لیے …فرمایا:کیا ہوا؟… کیوں ہاتھ روک لیے؟ …عرض کیا:یارسول اللہ!آپ کے مقابلے
میں ہم تیر اندازی کیسے کریں؟…آپ اُن کی طرف سے ہو گئے …ہم تو تیر اندازی نہیں کر
سکتے…فرمایا:تم تیر اندازی کرو…میں تم دونوں کے ساتھ ہوں… اور پھر
آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کی طرف سے اس عمل میں شرکت
فرماتے رہے…کبھی اُن کی طرف سے تیر پھینکتے…کبھی اِن کی طرف سے تیر پھینکتے… صرف
اس ایک حدیث کو آپ لے لیں…بالکل صحیح حدیث ہے…سبحان اللہ !کیسا پیارا ماحول تھا؟
…تیر اندازی میں کتنی زیادہ ورزش ہے…کتنا زیادہ کھیل ہے…بظاہر ایک چھوٹا سا عمل
ہے…کہ تیر کو کمان میں رکھ کر پھینکنا ہے…لیکن کمان کھینچتے ہوئے پتہ چلتا ہے…کہ
کتنا سانس چاہئے…کیسے بازو چاہئیں… کتنی طاقتورانگلیاں چاہئیں… کیسی کمرچاہئے…
کیسی ٹانگیں چاہئیں…صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے توتیر
اندازی میں اتنی محنت کی…کہ بھاگتے ہوئے ہرن کی جس آنکھ کو چاہتے تھے…تیر مارلیتے
تھے…ہرن اتنا تیز رفتار دوڑتا ہے… کہ آج کل کی بندوقیں بھی اُس کا صحیح طرح تعاقب
نہیں کر سکتیں…جبکہ تیر اندازی میں تو کافی زور لگتا ہے…کافی محنت لگتی ہے۔
اس لئےآج وقت کی ضرورت ہے کہ مسلمان
ورزش کو اپنا لازمی معمول بنائیں… مسلمانوں میں بیماریاںپھیل گئیں…ہر عامل کے ہاں
لائنیں لگی ہوئی ہیں…رش لگے ہوئے ہیں…وہمی بیماریاں…دماغی بیماریاں…پریشانیاں…ان
میں سے بہت سی بیماریاں سستی کی وجہ سے ہیں…الحمدللہ میرے پاس کافی زیادہ ڈاک آتی
ہے…لوگ اپنی عجیب و غریب بیماریاں لکھتے ہیں…جب میں ان میں غور کرتا ہوں…تو بڑی
وجہ …سستی اور غفلت…صبح کا سونا…بے وقت سونا…بے وقت کھاناہوتا ہے… لوگ سمجھتے
ہیں…ہم تو گِر گئے ہیں… ہم تو ختم ہو گئے ہیں…ہم پر تو شیطان غالب ہے… خواہ مخواہ
ہر چیز کی ذمہ داری شیطان کے سر ڈال دیتے ہیں… ایک دن ایک خط میں کسی نے لکھا…کہ
مسنون دعائیں پڑھتے ہوئے دماغ بوجھل ہوتا ہے…وجہ کیا ہے؟… وجہ ظاہر ہے کہ… جسم میں
کچھ کمزوری آئی ہو گی… یا گیس کی تکلیف ہو گی… جب گیس دماغ کی طرف چڑھتی ہے…تو
انسان کے اندر ایک بے چینی…بے کلی پیدا ہوجاتی ہے …نہ کچھ پڑھ سکتا ہےاورنہ کچھ
سوچ سکتا ہے …پھر اللہ تعالیٰ کی ناشکریاں شروع ہو جاتی ہیں …کہ میرے ساتھ یہ کیوں
ہوا؟…تھوڑا بھاگیں،دوڑیں…سر پہ گیس نہ چڑھنے دیں… جسم اور دماغ کو ٹھیک کریں…تو
پریشانی ختم ہو جائے گی… کبھی کسی کے خلاف وسوسے آنا شروع ہوجاتے ہیں کہ اُس نے
یہ کیا…اُس نے یہ کیا… اس نے وہ کیا…اُس نے ایسا کیا…اس نے ویسا کیا… حالانکہ
حقیقت میں کچھ بھی نہیں ہوتا…گیس دماغ کی طرف چڑھ رہی ہوتی ہے…یا جسم کے اندر
کمزوری آ چکی ہوتی ہے…اور کمزور انسان صرف غم ہی سوچ سکتا ہے…صرف دکھ ہی کھا سکتا
ہے…اس نے بیٹھے رہنا ہے…اُس نے پڑے رہنا ہے…اس نے لیٹ جانا ہے…اب ان تین کاموں میں
سوائے تکلیف، پریشانی اور دکھ کے اور کچھ نہیں ہو سکتا…اسی طرح خوابوں کے معاملات
ہیں… ایسے خواب آ رہے ہیں…ویسے خواب آ رہے ہیں…فلاں نے جادو کر دیا…جن
آگیا…کوئی جن نہیں ہوتا…کوئی جادو نہیں ہوتا… جنات کو اتنی فرصت نہیں ہے کہ ہر
وقت انسانوںپرسوار رہیں…اُن کے اپنے بہت زیادہ کام ہیں…اُن کے اپنے خاندان ہیں…اُن
کے بھی بچے ہیں… ان کی بڑی مصروفیات ہیں… بڑے کام ہیں…وہ بھی اللہ تعالیٰ کی ایک
مخلوق ہیں … اور مُکَلَّف ہیں…اُن کو بھی نمازیں پڑھنی ہیں… روزے رکھنے ہیں…حج
کرنے ہیں…جہاد میں شریک ہونا ہے…
{وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ
اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ} [الذاریات:۵۶]
اللہ تعالیٰ نے جنات بھی عبادت کے لیے
پیدا کیے…انسان بھی عبادت کے لیے پیدا کیے…جنات نے بھی عبادت کرنی ہے… جنات صرف اس
لئے تو نہیں ہوتے کہ انسانوں پر سوار رہیں…یہ صرف اپنے دماغ کی گیس ہوتی ہے۔
ایک شخص کے دل میں درد ہوا… ڈاکٹر کے
پاس گیا…ڈاکٹر نیک آدمی تھے… انہوں نے اچھی طرح چیک اپ کیا اور کہا… جناب آپ
کوگیس کی تکلیف ہے…گیس اوپر کی طرف چڑھتی ہے…آپ بیٹھے رہتے ہوں گے …کام کاج زیادہ
نہیں کرتے ہوں گے…اپنے جسم کو زیادہ حرکت نہیں دیتے ہوں گےاس وجہ سے یہ تکلیف ہو
رہی ہے…حرکت میں برکت ہوتی ہے…انسانی جسم ایسا ہے … کہ استعمال ہوتا رہے…تو یہ
صدیوں چل سکتا ہے…اور استعمال ہونا بند ہو جائے…تو ہفتوں میں ختم ہو جاتا ہے…اگر
انسان صرف آٹھ یا نو دن دیکھنا بند کردے…تو اس کی آنکھیں دیکھنے کا طریقہ بھول
جاتی ہیں…اگر انسان صرف دس یا پندرہ دن سننا چھوڑ دے…کان بند کرکے رکھے …تواس کے
کانوں کو سننے کا طریقہ بھول جاتا ہے… کہنے کامقصد یہ ہے…کہ آج جن چیزوں کوہم نے
روحانی بیماریاں سمجھا ہوا ہے… جنات ، سفلی سمجھا ہوا ہے…ان کے پیچھے بھی زیادہ تر
ہماری سستی … کم ہمتی…اور بے اعتدالی کا دخل ہوتاہے۔
قرآن مجیدہمیں دعوت دے رہا ہے…کہ ہم
محنت کریں…زیادہ سے زیادہ چستی اختیار کریں…زیادہ سے زیادہ مضبوط بنیں…جب ہمیں کہہ
دیا: تیر اندازی سیکھو… {وَ اَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ}…
امر کے صیغے کے ساتھ…وجوب اور فرضیت کے ساتھ… جب ہمیں فرما دیا گیا… کہ تم تیر
اندازی سیکھو…جتنی بھی ہو سکتی ہے… تو معلوم ہوا ہمارے اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے…کہ
ہماری انگلیاں مضبوط ہوں…ہماری کلائیاں مضبوط ہوں…ہمارے بازؤوںکے پٹھے مضبوط
ہوں…ہماری آنکھیں دور تک دیکھ سکیں… ہمارا سینہ مضبوط ہو…ہماری کمر مضبوط ہو…
ہماری ٹانگیں مضبوط ہوں…یہ حکم اللہ تعالیٰ نے دیا… کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تیر
اندازی سیکھنے کا حکم دیا…بڑے سے بڑا تیر انداز بننے کا حکم دیا… اور بڑا تیر
انداز وہی بن سکتا ہے…جس کی یہ سب چیزیں مضبوط ہوں… جو آدمی تیر ہاتھ میں لے کر
کھڑا ہو…اور جب کھینچے تو تیر آگے کی طرف گرے…اور خود پیچھے کی طرف گرے…تو
ایساآدمی کیا تیر اندازی کر سکے گا؟… اورایسے ہی گھڑ سواری کے لئے بہت زیادہ
جسمانی قوت کی ضرورت ہوتی ہے…گھوڑے کو قابو کرنا بہت مشکل ہوتا ہے… حضرت عمر فاروق
رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے… اپنے بچوں کو کہا کروکہ گھوڑے پر اچھل
کر سوار ہوا کریں…’’وَثَبْ‘‘ عربی زبان میں کہتے ہیں… ہاتھ کا سہارا لیے بغیر
گھوڑے پر اچھل کر سوار ہونا…یعنی گھوڑا کھڑا کرو… اور پھر چھلانگ لگا کر اُس گھوڑے
کی پیٹھ پر بیٹھ جاؤ…اپنا ہاتھ گھوڑے کے اوپر رکھے بغیر… فرمایا:’’اپنی اولاد کو
یہ چیز سکھاؤ‘‘…جس آدمی نے گھڑ سواری نہ کی ہو…پہلی مرتبہ آپ اسے گھوڑے پر
بٹھائیں تو…ایک ہفتہ تک وہ اپنے بستر سے نہیں اُٹھ سکے گا…ٹانگوں کے درمیانی حصہ
میں زخم ہو جائیں گے… اور اس کاایک ایک جوڑ درد کرے گا …جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں
حکم دیا کہ گھوڑے پالو…گھڑ سواری کرو…ایسے گھڑ سوار بنو…کہ تمہارے گھوڑوں کی میں
قسمیں کھاؤں …تو مطلب یہ ہے کہ…اللہ تعالیٰ نے ہمیں مضبوط ہونے کا حکم دیا ہے …جب
ہمارے اللہ ہمیں مضبوط ہونے کا حکم دے رہے ہیں… ہمارے نبی صلی اللہ
علیہ وسلم ہمیں مضبوط ہونے کا حکم دے رہے ہیں…تو ہم اس حکم سے اس قدر غافل کیوں
ہیں؟…بس اسی ایک سوال پر غور کریں …اور آج ہی سے ہر مسلمان مرد و عورت… یہ نیت
کرے کہ اس بارے میں اب تک جو سستی، غفلت ہوئی اس پر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنی
ہے… اور اس کے تدارک کی پوری کوشش کرنی ہے… اورہمیشہ اس چیز کی فکر کرنی ہے کہ
میرا جسم مرتے دم تک جہاد کے قابل رہے، حج کے قابل رہے، نماز کے قابل رہے، روزے کے
قابل رہے… ماضی کی غلطیوں پر اللہ تعالیٰ سے توبہ، استغفار کرکے عمل شروع کر
دیں…اورپھریہ دعوت دوسروں تک بھی پہنچائیں۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
حضرت امیر المؤمنین ملامحمد عمرمجاہد
رحمہ اللہ کی حیات مبارکہ
کے مختلف روشن پہلوؤںپر مشتمل ایک
خوبصورت گلدستہ
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سات طرح کے
افراد کو…اپنا ’’سایہ‘‘ نصیب فرمائیں گے… اور اس دن اللہ تعالیٰ کے ’’سائے‘‘ کے
علاوہ کوئی ’’سایہ‘‘ نہ ہو گا… ان سات طرح کے افراد میں سب سے پہلے اور سب سے
آگے… وہ مسلمان حکمران ہوں گے جنہوں نے ’’عدل و انصاف‘‘ کے ساتھ حکومت کی ہو گی…
ایسے حکمران زمین پر اللہ تعالیٰ کا ’’سایہ‘‘ ہوتے ہیں اور قیامت کے دن یہ حضرات
اللہ تعالیٰ کے بہت قرب میں… اللہ تعالیٰ کے سائے میں ہوں گے… خوش، بے فکر، باامن
، باسکون ، کامیاب اور بے غم… اللہ تعالیٰ کا ’’سایہ‘‘ کیسا ہو گا؟… نہ ہم جانتے
ہیں اور نہ قیامت سے پہلے جان سکتے ہیں… مگر اتنا تو معلوم ہے کہ وہ بہت عظیم
الشان نعمت اور حالت ہوگی۔
’’امام عادل‘‘ …عادل حکمران وہ ہوتا ہے
جو … اللہ تعالیٰ کی شریعت نافذ کرتا ہے… جو اللہ تعالیٰ کے بندوں کے فیصلے اللہ
تعالیٰ کے حکم کے مطابق کرتا ہے… جو اللہ تعالیٰ کا وفادار ہوتا ہے… اور اللہ
تعالیٰ کی مخلوق کو ’’خیر‘‘ پہنچاتا ہے… ہم اپنی خوش نصیبی پر اللہ تعالیٰ کا شکر
ادا کرتے ہیں کہ اس نے محض اپنے فضل سے… ہمیں ایک ’’امام عادل‘‘ کی زیارت نصیب
فرمائی… حضرت امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد نور اللہ مرقدہ … اگر ہمیں یہ
نعمت نہ ملتی تو زندگی کس قدر ادھوری اور اداس رہ جاتی … شکر ہے یا اللہ!شکر … بے
انتہا شکر… بے حد شکر…
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ
الْعَالَمِیْنَ
ایک عربی کہاوت
ایک عربی کہاوت ہے… ’’ ہائے کاش! میں
اذان کی خاطر ہی ذبح ہو جاتا‘‘ … قصہ اس کہاوت کا یہ ہے کہ ایک ظالم شخص کے ہاتھ
ایک شاندار مرغا آ گیا… بلند آواز ، پر سوز اذان، اونچی کلغی اور چمکتا رنگ… اس
ظالم کو مرغے کی یہ شان نہ دیکھی گئی… اس نے مرغے سے کہا کہ یہ روز،روز اذان دینا
بند کرو اور مرغیوں کی طرح ’’کُٹ کُٹ‘‘ کرنا سیکھو… اگر آئندہ تم نے اذان دی تو
تمہیں ذبح کر دوں گا… مرغا ڈر گیا ، اس نے جان بچانے کے لئے اذان چھوڑ دی… اور
مرغیوں کی آواز سیکھ کر وہی بولنے لگا… چند دن بعد ظالم شخص نے کہا کہ… یہ تمہارے
سر پر اتنی اونچی کلغی کیوں ہے؟… اگر یہ مجھے کل نظر آئی تو تمہیں ذبح کر دوں گا…
مرغا ڈر گیا اور رات کو اس نے اپنا سرزمین پر رگڑ رگڑ کر اپنی کلغی توڑ ڈالی… چند
دن بعد ظالم شخص نے مرغے کو طلب کیا اور کہا کہ اتنے دن ہو گئے تم نے ایک انڈہ بھی
نہیں دیا… جبکہ مرغیاں روز انڈے دیتی ہیں… اگر کل سے تم نے انڈہ دینا شروع نہ کیا
تو میں تمہیں ذبح کر دوں گا… رات کو وہ مرغا اپنے پنجرے میں رو رہا تھا اور کہہ
رہا تھا …’’ کاش! میں اذان کی خاطر ذبح ہو جاتا‘‘… کسی اچھے اور باعزت کام پر تو
جان جاتی… مرنا آج بھی ہے مگر کتنی ذلتیں اُٹھا کر… اور کیسے ذلت ناک مطالبے پر…
آج یہ واقعہ کیوں یاد آیا؟… بس اسے یاد رکھیے تھوڑا آگے چل کر کام آئے گا۔
دیوانی محبت
آج کل نہ موسم ایسا ہے کہ… ملا محمد
عمر مجاہد رحمہ اللہ کا تذکرہ کیا جائے… ہر طرف عجیب و غریب ’’
بیانیے‘‘منہ پھاڑے کھڑے ہیں… اور نہ ماحول میں ایسی گنجائش ہے کہ… اس زمانے کے سب
سے بڑے مجاہد کا تذکرہ چھیڑا جائے… مگر محبت دیوانی ہوتی ہے… مجھے حضرت امیر
المؤمنین ملا محمد عمرمجاہد رحمہ اللہ سے سچی ،پکی اور قلبی ’’محبت‘‘
ہے…وہ روز مجھے یاد آتے ہیں… وہ میری دعاؤں میںبستے ہیں… وہ میرے لئے ایک روشن
دلیل ہیں …وہ میرے محسن ہیں… میں ان سے غیر مشروط محبت رکھتا ہوں… وہ محبت جس میں
’’ لیکن‘‘ یا ’’ مگر‘‘ کا لفظ نہیں آتا…میں باوجود شدید خواہش کے… اُن کی کوئی خدمت
نہ کر سکا… مگر الحمد للہ اُن کی ’’محبت‘‘ میں پتھر کھانے والا ’’مجنوں ‘‘ضرور بنا
رہا… ویسے جس شخص کو بھی اللہ تعالیٰ کے دین سے سچی محبت ہو گی وہ ضرور … حضرت
امیر المؤمنین رحمہ اللہ سے محبت رکھے گا… اور اُن کو اپنا محسن جانے
گا… آج کل اخبارات اور میڈیا پر ایک معذور سائنسدان ’’سٹیفن ہاکنگ‘‘ کا تذکرہ چل
رہا ہے… میں نے غیر جانبداری کے ساتھ اس کی شخصیت کو سمجھنے کی کوشش کی… آخر دنیا
اتنی پاگل جوہو رہی ہے تو کوئی وجہ ضرور ہو گی… مگر مجھے مایوسی ہوئی…بے شک’’سٹیفن
ہاکنگ‘‘ ایک باہمت انسان تھا … اللہ تعالیٰ ’’رحمٰن‘‘ بھی ہیں اور’’ جوّاد‘‘ بھی …
یعنی عام رحمت والے اور سخی… وہ دنیوی خوبیاں اور صفات اپنی ساری مخلوق کو عطاء
فرماتے ہیں… کوئی مسلمان ہو یا غیر مسلم … کوئی اللہ تعالیٰ کا وفادار ہو یا اس کا
منکر… ’’سٹیفن ہاکنگ‘‘ میں بھی یہ خوبی تھی کہ وہ باہمت تھا اس نے بیماری کا مقابلہ
کیا… اور وہ ذہین تھا …کائنات کے بارے میں طرح طرح کی مبہم پیشین گوئیاں کرتا رہتا
تھا… اور بس… اہل یورپ دنیا پر اپنی برتری دکھانے کے لئے اپنے ’’افراد‘‘ کو بہت
بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں… ان کو پرکشش اور پراسرار دکھاتے ہیں… اور احساس کمتری
کے مارے ہوئے ہمارے دانشور فوراً ڈھول لے کر ان کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیتے
ہیں… کائنات بہت وسیع ہے اور سائنسدان ہر دس سال بعد چونک اٹھتے ہیں کہ کیا سامنے
آ گیا؟ … سٹیفن ہاکنگ نے نہ کچھ ایجاد کیا نہ مخلوق کو کوئی فائدہ پہنچایا… وہ
کائنات کے بارے میں ممکنہ مفروضے پیش کرتا رہا… اور اپنی معذوری کے باعث ہیرو بنا
کر پیش کیا جاتا رہا… بہرحال اس سے محبت رکھنے والوں کا حق ہے کہ وہ اس کا تذکرہ
کریں… اس کو خراج تحسین پیش کریں… لیکن وہ مسلمانوں کو بھی اس بات کا حق دیں کہ…
وہ جن سے محبت رکھتے ہیں… وہ بھی ان کا تذکرہ کر سکیں، انہیں خراج تحسین پیش کر
سکیں… ’’سٹیفن ہاکنگ‘‘ کائنات کے راز ڈھونڈتا رہا … جبکہ ملا محمد عمر مجاہد نے
خالق کائنات کے راز اس اُمت اور انسانیت کو سکھائے… جن میں سب سے بڑا راز یہ
سمجھایا کہ… مخلوق میں کوئی سپر پاور اور کوئی ناقابل شکست نہیں ہے… ’’سٹیفن
ہاکنگ‘‘ کائنات کے بلیک ہولوں میں کھویا رہا جبکہ ملا محمد عمر مجاہد ساری زندگی
’’خالق کائنات‘‘ کی محبت و اطاعت میں کھوئے رہے…خالق کائنات ، اس کائنات سے بہت
بڑا اور بہت عظیم ہے… پس جو اس کی ذات و صفات میں کھو جاتا ہے وہ بھی بہت بڑا
انسان بن جاتا ہے… ’’سٹیفن ہاکنگ‘‘ نے دنیا میں کچھ بھی نہ بدلا… نہ کوئی نظریہ،
نہ کوئی نظام ،نہ کوئی ایک گلی یا گھر… جبکہ ملا محمد عمر مجاہد رحمہ
اللہ نے دنیا کو مثبت تبدیلیوں سے بھر دیا… انہوں نے ظالم استعماری
نظام کے رعب کو توڑا… انہوں نے فساد زدہ معاشرے میں امن قائم کیا… انہوں نے بغیر
کسی سہارے کے ایک حکومت چلا کر دکھائی… اور انہوں نے اپنے زمانے میں ہمت اور عزیمت
کو مستقل ایک آرٹ بنا دیا… ’’سٹیفن ہاکنگ‘‘ نے خود کو لبرل کہا مگر وہ… پوری
زندگی فاشسٹ نظام کا حصہ بنا رہا… اسی نظام کے آقاؤں سے تمغے لیتا رہا… اور اپنی
ذاتی زندگی میں عمل اور ایثار کی کوئی مثال نہ بن سکا … جبکہ ملا محمد عمر مجاہد
رحمہ اللہ نے ایک بادشاہ ہو کر فقیر کی زندگی گذاری… ایک فاتح ہو کر
عاجزی اور تواضع کو اپنا شعار بنایا… ایک جنگی کمانڈر ہو کر امن اور محبت کی فضا
بنائی اور ایک بااختیار ترین شخص ہو کر ایک عام انسان جیسی زندگی بسر کی … اور
دنیا کے کسی ایوارڈ، اعزاز یا تمغے کی کوئی خواہش نہیں پالی۔
آپ خود اندازہ لگائیں کہ… ایک طرف ایک
شخص ہے جس کا کل اثاثہ ایک کتاب…پانچ چھ مفروضے اور پیشین گوئیاں… دو طلاق یافتہ
بیویاں اور کچھ فلمیں اور تمغے ہیں… جبکہ دوسری طرف ایک ایسا شخص ہے جس کے
کارنامے، احسانات، نظریات اور اثرات کا دائرہ دور دور تک پھیلا ہوا ہے… جس نے
زمانے کو بدلا… جس نے ظاہری ناممکنات کو ممکن بنایا… جس نے عالمگیر غلامی کی
زنجیروں کو کچے دھاگوں کی طرح توڑ ڈالا …کاش! اس زمانے کے مسلمان… اس زمانے کے
’’زمانہ ساز‘‘ انسان کو سمجھیں… اُن سے روشنی اور فیض پائیں… اُن کے تذکرے مہکائیں
اور اُن سے اپنے تعلق کو مضبوط کریں…ہاں !جو مسلمان ایسا کرے گا… وہ اپنا ہی بھلا
کرے گا… وہ انسانیت کا بھلا کرے گا… امیر المومنین رحمہ اللہ تو جا
چکے… اُن کو نہ پہلے ضرورت تھی نہ اب حاجت ہے… اُن کی جھولی ایمان اور توکل سے
بھری ہوئی تھی… آج بھی بھری ہوئی ہے… ہاں ہم اپنے گناہوں کی شامت سے… ایک سائے سے
محروم ہو گئے… سلطان عادل کا سایہ… جسے اللہ تعالیٰ نے اپنا سایہ قرار دیا ہے …
آہ! کتنی دھوپ ہے اور کتنی گھٹن… ہم اس سائے کے کتنے محتاج تھے اور کس قدر محتاج
ہیں … کیا آج ایک بھی مسلمان حکمران ایسا ہے جو ’’امام عادل‘‘ کہلانے کے قابل
ہو؟… جو روئے زمین پر انسانیت کے لئے اللہ تعالیٰ کا سایہ بن سکے؟… چلیں سایہ اُٹھ
گیا مگر اس سائے کا سایہ تو ہم سنبھال رکھیں… حضرت امیر المومنین رحمہ
اللہ کی محبت … اُن کی قدر… اُن کے کارناموںکا اعتراف … اُن سے اکتساب
فیض کی کوشش… اُن کے لئے دعائیں… اور اُن کی روشنی سے روشنی پانے کی سعی۔
اذانِ عمر
کئی لوگ کہتے ہیں کہ… کتنی مشکل سے
اسلامی حکومت قائم ہوئی تھی… مگر امیر المؤمنین کے ایک فیصلے نے وہ سب کچھ ختم کر
دیا… وہ اگر اپنے مہمان کو پکڑ کر کفار کے حوالے کر دیتے تو اسلامی حکومت بچ جاتی…
عجیب لوگ ہیں… حضرت امیر المؤمنین رحمہ اللہ سے ایسے فیصلے کی توقع
کرتے ہیں جس کی اسلام میں گنجائش نہیں تھی… عجیب لوگ ہیں غیرت کے ’’کوہ ایورسٹ‘‘
سے بے غیرتی والے کام کی توقع کرتے ہیں… اگر خدانخواستہ ملا محمد عمر مجاہد رحمہ
اللہ ایسا فیصلہ کر بھی دیتے تو حکومت نے نہیں بچنا تھا… اذان چھوڑنے
کے بعد اگلا مطالبہ کلغی توڑنے کا آجاتا… اور اس کے بعد اگلا مطالبہ اس سے بھی
زیادہ ذلت ناک… سلام ہو اس مرد ایمان، اس مرد غیرت اور اس مرد عزیمت پر جس نے اذان
کی خاطر اپنی حکومت کی قربانی دی…اور مسند اقتدار کو چھوڑ کر… میدان جہاد میں آ
کھڑا ہوا… تب اللہ تعالیٰ نے اس پر ایسا فضل فرمایا کہ… اسے روئے زمین کے بڑے
فاتحین کی صف میں شامل فرما لیا… ایسا فاتح جس نے … دنیا کے چالیس ملکوں اور ان کی
ہوشرباٹیکنالوجی کو… اکیلے شکست دے دی … رنگ و نورکی دسویں جلد کا نام … اسی نسبت
سے ’’اذان عمر‘‘ رکھا ہے… یا اللہ! قبول فرما۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا سچا وفادار بندہ… ملا
محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ … حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کا جانثار غلام… ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ …ہمارے زمانے میں
مسلمانوں کا امام برحق… ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ … دیکھئے! حضرت اقبال رحمہ
اللہ کیا فرماتے ہیں ؎
تو نے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے
حق تجھے میری طرح صاحب اسرار کرے
ہے وہی تیرے زمانے کا امام برحق
جو تجھے حاضر و موجود سے بے زار کرے
موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کر رخ
دوست
زندگی تیرے لئے اور بھی دشوار کرے
دے کے احساس زیاں تیرا لہو گرما دے
فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے
فتنۂ ملت بیضاء ہے امامت اس کی
جو مسلماں کو سلاطین کا پرستار کرے
علامہ اقبال مرحوم جس ’’امام
برحق‘‘ کی تلاش میں تھے… اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے وہ ہمیں دکھلا دیا… علامہ
مرحوم جس ’’مرد فقیر‘‘ اور جس ’’فقرغیور‘‘ کو بے چینی سے ڈھونڈتے رہے… اللہ تعالیٰ
نے وہ اس اُمت کو ’’ملا محمد عمر مجاہد‘‘ کی صورت میں عطاء فرمایا… اقبال فرماتے
ہیں؎
اب حجرۂ صوفی میں وہ فقر نہیں باقی
خون دل شیراں ہو جس فقر کی دستاویز
مبالغہ نہیں ہے
آپ ایک نظر بیسویں صدی پر ڈالئے… جی
ہاں! عیسوی حساب سے بیسویں صدی… وہ صدی جس میں عالمگیر جنگیں ہوئیں… وہ صدی جس میں
کئی نئے ممالک وجود میں آئے… وہ صدی جس میں انسان اپنی کھال سے… اور انسانیت اپنے
وقار سے باہر نکل گئی… جب سے زمین کے سیارے پر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا
فرمایا ہے… اس وقت سے لے کر آج تک… ساری مخلوق نے مل کر بھی زمین کو اتنا نقصان
نہیں پہنچایا… جتنا کہ… ترقی کے نام پر ’’بیسویں صدی‘‘ کے بے وقوف انسانوں نے
پہنچایا ہے… سمندر آلودہ کر دئیے گئے… ہوا کو زہر سے بھر دیا گیا… فضاؤں میں
تابکاری پھیلا دی گئی… زمین کو کھود کھود کر کھوکھلا کر دیا گیا… یعنی ترقی کے نام
پر فطرت کے خلاف ایک جنگ چھیڑ دی گئی… انسانوں کا حرص اتنا بڑھا کہ… مال کی خاطر
انسانیت کو ہی بیچ دیا گیا… ہر طرف خوفناک اسلحہ… خونی درندے اور ناپاک ظالمانہ
نظام… اور جب اسی صدی میں ’’سوویت یونین‘‘ بھی بکھر گیا تو… دنیا پر امریکہ اور
یورپ کی حکومت… صہیونیوں کی خفیہ سربراہی میں قائم ہو گئی…تب اعلان کر دیا گیا کہ…
اب کوئی سر اُٹھا کر نہ جیے… اب کوئی گردن اُٹھا کر نہ چلے…ہم جو چاہیں گے وہی ہو
گا… اور ہم جو پسند کریں گے وہی چلے گا… سب سے زیادہ کوشش… اسلام کو بدلنے اور
مسلمان کو جھکانے کی تھی… اور بظاہر اس میں کامیابی مل چکی تھی… ایک نیا اسلام
تشکیل پا رہا تھا… غلاموں کا اسلام… مصلحت پسندوں کا اسلام… جھکا جھکا سا اسلام…
دبا دبا سا اسلام…احساس کمتری میں ڈوبا ہوا اسلام… چند عبادات اور رسومات تک محدود
اسلام…ہر طرح کے بلند جذبات سے عاری اسلام… ہمیشہ غلامی میں رہنے کے لئے تیار
اسلام … جہاد او رخلافت سے خالی اسلام… نظام اور سلطنت سے محروم اسلام… کافروں کے
سامنے جھکنے والا… اور ان کے پیچھے دوڑ دوڑ کر ہانپنے والا اسلام… اعلان کر دیا
گیا کہ…جس نے مسلمان رہنا ہے وہ… بس اسی اسلام کے دائرے میں رہے… کبھی غلبے کا نہ
سوچے…کبھی خلافت کا تصور نہ کرے… کبھی اپنے نظام کی خواہش میں نہ پڑے… بلکہ…
مسلمان اس احساس کمتری میں جیتے رہیں کہ ہم بہت پیچھے رہ گئے… ہم بہت پسماندہ رہ
گئے۔
یہ سب کچھ ہو چکا تھا کہ… اچانک ’’ملا
محمد عمر مجاہد‘‘ آ گئے… اللہ اکبر کبیرا… اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے… سب کچھ بدل
گیا… اسلام اپنی اصلی صورت میں ایسا چمکا کہ… دشمنوں کی آنکھیں باہر اُبلنے
لگیں…وہ وقت جب سب ہی… جھکے ہوئے تھے… ایک شخص نے گردن اُٹھائی… سینہ تانا اور پھر
روئے زمین پر… ہلچل مچ گئی… ایک اُٹھی ہوئی گردن نے… لاکھوں انسانوں کو کھڑا کر
دیا… روئے زمین کو مکمل غلام بنانے کا خواب چکنا چور ہو گیا… آج جو ’’چین ‘‘ اپنے
قدموں پر کھڑا ہے… اور اس خطے میں سی پیک بنا رہا ہے… آج جو ’’روس‘‘ دوبارہ…
آنکھیں اُٹھانے کی حالت میں نظر آ رہا ہے… آج جو کئی ممالک امریکہ کو آنکھیں
دکھا رہے ہیں… آج جو یورپ اپنے اتحاد کو بچانے کے لئے پسینے میں ڈوبا ہوا ہے… ان
سب واقعات کے پیچھے … ملا محمد عمر مجاہد کی عزیمت کھڑی ہے… وہ اگر امریکہ اور
نیٹو کو انکار نہ کرتے… وہ اگر امریکہ اور نیٹو کے رعب کو خاک میں نہ ملاتے… وہ
اگر جھکنے اور دبنے کی ناپاک رسم کو نہ توڑتے تو آج… ساری دنیا غلامی کی سیاہ رات
میں مکمل ڈوب چکی ہوتی … آپ 1995ء والی دنیا دیکھ لیں… اور پھر آج کی دنیا کو
دیکھیں… بہت سے لوگ ان باتوں کو مبالغہ سمجھیں گے… مگر یہ باتیں حقیقت ہیں… اور
عنقریب ساری دنیا ان باتوں کا اعتراف کرے گی۔
ملا محمد عمر مجاہد رحمہ
اللہ کی قربانی… اور عزیمت نہ روس کے لئے تھی نہ چین کے لئے… وہ تو سب
کچھ اللہ تعالیٰ کے لئے کر رہے تھے… مگر جب انہوں نے عالمگیر استعمار کے رعب کو
توڑا… وہ رعب جو ساری دنیا کے حواس کو مفلوج کر چکا تھا تو… غلامی کے رسّے خود
بخود ٹوٹتے چلے گئے… اور اب ٹوٹتے ہی جا رہے ہیں… ایک ایسا شخص جو… مکمل اسلامی
اخلاق اور مزاج کا مالک تھا… وہ جب زمین پر اُترا تو… زمین نے راحت کا سانس لیا…
اور زمانہ مثبت تبدیلیوں سے بھر گیا… ساری دنیا آفاق میں کھوئی ہوئی تھی… مگر جب
وہ مرد مؤمن آیا کہ جس میں ’’آفاق‘‘ گم تھے تو… حالات تیزی سے بدلنے لگے… زہر
کا اثر ٹوٹنے لگا… جادو کے تانے بانے بکھرنے لگے… اور اسلام مسکرانے لگا… علامہ
اقبال رحمہ اللہ فرماتے ہیں؎
کل ساحل دریا پہ کہا مجھ سے خضر نے
تو ڈھونڈ رہا ہے سُم افرنگ کا تریاق
اک نکتہ مرے پاس ہے شمشیر کی مانند
برندہ و صیقل زدہ و روشن و براق
کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گم اُس میں ہیں
آفاق
فقرکی تلوار
مسلمان طویل عرصے سے پریشان حال ہیں…
وجہ کیا ہے؟…وجہ یہ ہے کہ وہ طاقت اور اجتماعیت سے محروم ہیں…اور جہاد اور فقر کی
تلوار سے محروم ہیں …اول تو کوئی انہیں طاقت بنانے ہی نہیں دیتا … پھر بھی اگر
کوئی مسلمان کچھ طاقت بنالے تو اُسے اتنا دبایا جاتا ہے کہ…وہ اپنی طاقت کی حفاظت
ہی میں لگ جاتا ہے…اور اپنی طاقت کو اسلام اور مسلمانوں کے لئے استعمال نہیں
کرسکتا…آج ہم دین بچانے کے نام پر دین ذبح کرتے ہیں…بے غیرتی اور غلامی کا ہر کام
اس نعرے کے ساتھ کرتے ہیںکہ جی ہم مسلمانوں کا تحفظ کررہے ہیں…مسجد ومدرسہ کاتحفظ
کررہے ہیں…ہمارے دلوں سے یہ احساس ہی نکل چکا ہے کہ…ہم خود کو بچانے کے لئے پیدا
نہیں ہوئے…ہم روئے زمین پراللہ تعالیٰ کے خلیفہ ہیں اور اسلام دنیا میں غالب ہونے
کے لئے آیا ہے…افسوس یہ ہے کہ مسلمانوں میں سے جس شخص کو بھی…تھوڑی بہت قوت
یاسلطنت مل جاتی ہے تو وہ اسلام کے غلبے کی محنت کرنے کی بجائے…اپنی خواہشات کی
تکمیل میں لگ جاتاہے… تب اللہ تعالیٰ نے اہل اسلام پر اپنا فضل فرمایا اور انہیں
’’ملا محمد عمر مجاہد‘‘کی صورت میں…ایک عظیم نعمت عطاء فرمائی۔
ایک انسان جس کو طاقت ملی تو…اس نے اپنی
خواہشات کو ایک طرف پھینک دیا…اور خودکو…اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے لئے وقف
کردیا…ایک انسان جس نے حکومت چلانے کے لئے سہارے ڈھونڈنے کی بجائے…ایک اللہ تعالیٰ
کے سہارے کو مضبوط پکڑا… ایک انسان جس نے اپنی ذات کے لئے کچھ بھی نہ سوچا، کچھ
بھی نہ بنایا…اور نہ ہی کچھ بنانے کی فکر کی…آج جبکہ اسلام کا دعویٰ کرنے والے
افراد…اسلام کی خاطر چند رسومات تک کی قربانی نہیں دے سکتے…اُس شخص نے ہر چیز کی
قربانی دی…اورخالص دین کو نافذ کرنے کا بیڑہ اُٹھایا…وہ نہ اپنی خواہشات کا محتاج
بنا… اور نہ دنیا بھر کی کفریہ طاقتوںکا…وہ نہ اسباب کا محتاج بنا…اور نہ دنیا میں
مروّج نظاموں کا…تب اللہ تعالیٰ نے اپنے اس سچے مجاہد اور فقیر بندے کو سعادتوں،
کرامتوں اور کامیابیوںکے لازوال تاج پہنادئیے۔
وہ افغانستان جس کی ہر گلی کا الگ
حکمران تھا… جس کے ہر قصبے میں کئی کئی ظالم وار لارڈ تھے…جہاںپانی مہنگا اور خون
سستا تھا، جہاںہر چند قدم پر ظلم اور لوٹ کے پھاٹک تھے… جہاں ہر شخص مسلح اور ہر
فرد بے سمت تھا… ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کے ایک حکم پر یہی
افغانستان… امن وامان…اور اسلام وایمان کی سرزمین بن گیا…اگر ملا محمد عمر مجاہد
رحمہ اللہ کی صرف اسی ایک ’’کرامت‘‘ کا تجزیہ کیا جائے تو پوری کتاب
لکھی جاسکتی ہے… آج دنیا کے سرکاری مسلح ادارے اتنی طاقت اور اختیارات کے باوجود
وہ امن قائم نہیں کرسکے… جو اس مرد مجاہد، مرد فقیر نے اپنے ایک حکم سے قائم
کردیا… ہاں بے شک! ملامحمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کی حکومت تھوڑے عرصے ہی
رہی مگر وہ یہ بات سمجھاگئی کہ… جن کاموں کو ناممکن سمجھا جارہا ہے وہ ناممکن نہیں
ہیں… وہ غلامی جسے قسمت سمجھاجارہا ہے وہ قسمت نہیں بدقسمتی ہے… وہ مصلحت پسندی
جوذلت کے دائرے میں داخل ہوچکی ہے… مسلمانوں کو اس کی ہرگز ضرورت نہیں…وہ طاقتیں
جو خود کو ناقابل تسخیر کہہ رہی ہیں وہ بالکل ناقابل تسخیر نہیں…وہ نظام جو اس وقت
خطہ زمین کو زہر، آلودگی، ظلم، کفر، بے حیائی…اور عذاب سے بھررہا ہے… یہ نظام
ناقابل شکست نہیں ہے… بلکہ اسے توڑا جاسکتا ہے اور انسانیت کو بچایا جاسکتا
ہے…آہ!جہاد وفقر کی وہ تلوار…آج سے پانچ سال پہلے اس دنیا پر انمٹ نقوش چھوڑکر…
اونچی منزلوںمیں گم ہوگئی… اسی تلوار کا خواب…حضرت اقبال رحمہ اللہ نے
یوں دیکھا تھا ؎
سوچا بھی ہے اے مردمسلماں کبھی تو نے
کیا چیز ہے فولاد کی شمشیر جگردار
اس بیت کا مصرع اول ہے کہ جس میں
پوشیدہ چلے آتے ہیں توحید کے اسرار
ہے فکر مجھے مصرع ثانی کی زیادہ
اللہ کرے تجھ کو عطاء فقر کی تلوار
قبضے میں یہ تلوار بھی آجائے تو مؤمن
یا خالدؓ جانباز ہے یا حیدرؓ کرار
آج باتیں بہت لکھنی تھیں… اکثر رہ
گئیں…ہم سب کو چاہیے کہ حضرت امیر المؤمنین رحمہ اللہ کی زندگی
سے سبق لیں…عزم، عزیمت …اور جہاد وفقر کو اپنائیں… کیا بعید ہے کہ … اللہ تعالیٰ
اپنے فضل سے…ہمیں بھی کسی کام کا بنا دے۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ آسان فرمائے، قبول فرمائے…
آج ’’قنوتِ نازلہ‘‘ پر بات کرنی ہے۔
* ’’قنوتِ
نازلہ‘‘ علم کا ایک’’باب‘‘ ہے … آپ توجہ سے پڑھیں گے اور سمجھیں گے تو آپ علم
دین کے ایک ’’باب‘‘ کو حاصل کرنے کی فضیلت پا لیں گے۔
* ’’قنوتِ
نازلہ‘‘ مسلمانوں کے لئے ایک غیبی ہتھیار ہے… اس کے ذریعہ سے وہ دشمنان اسلام پر
اللہ تعالیٰ کا غضب نازل کرواتے ہیں۔
* ’’قنوتِ
نازلہ‘‘ مظلوم اور بے سہارا مسلمانوں کے لئے… اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد حاصل کرنے
کا اہم ذریعہ ہے۔
* ’’قنوتِ
نازلہ‘‘ جہاد کی پشت پر کھڑا ہوا … ایک روحانی لشکر ہے… یہ اسیران اسلام کے لئے
خلاصی اور رہائی کی چابی ہے… یہ مظلوموں کے انتقام کا انتظام ہے… یہ زمین کو عرش
سے ملانے والا ایک عظیم عمل ہے۔
پہلے الفاظ درست کر لیں
قُنوت کےمعنٰی ہیں ’’دعاء‘‘ …اور
’’نازلہ‘‘ کے معنٰی ہیں مصیبت، آفت اور حادثہ… چنانچہ ’’قنوتِ نازلہ‘‘ کا مطلب
ہوا…وہ دعاء جو مصیبت اور حوادث کے وقت مانگی جاتی ہے… ’’قنوتِ‘‘ کے قاف پر پیش
پڑھی جائے گی… کئی لوگ زبر کے ساتھ ’’قَنوت‘‘ پڑھتے ہیں جو کہ غلط ہے… زبر کے ساتھ
’’قَنوت‘‘ کا مطلب ہے … وہ عورت جو اپنے خاوند کی فرمانبردار ہو۔
’’قنوتِ‘‘ قاف کے پیش ( ضمہ) کے ساتھ
کئی معانی میں استعمال ہوتا ہے…مثلاً
١ اطاعت
و فرمانبرداری۔
٢ دین
پر ثابت قدمی۔
٣ خشوع
و خضوع۔
٤ نماز
میں لمبا قیام۔
٥ اللہ
تعالیٰ کے سامنے عاجزی کا اظہار کرنا۔
٦ دعاء۔
’’قنوتِ نازلہ‘‘ میں قنوت کا لفظ دعاء
کے معنٰی میں آیا ہے… ’’قنوت نازلہ‘‘ وہ دعاء ہے جو دشمنان اسلام کی بربادی… اہل
ایمان کی نجات اورحفاظت، اسلام کی فتح… اور کفر کی شکست کے لئے… فرض نمازوں میں
مانگی جاتی ہے… یہ بہت نافع اور مجرب عمل ہے… حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ
اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم اور آپ کے خلفاء پر جب کوئی حادثہ پیش آتا تو رکوع کے بعد یا
رکوع سے پہلے مسلمانوں کے لئے دعاء اور کفار کے حق میں بددعاء کیا کرتے تھے اور اس
کو انہوں نے کبھی نہیں چھوڑا… یعنی جب کوئی سخت مصیبت پیش آئی تو قنوت نازلہ ضرور
پڑھی۔
[حجۃ اللہ البالغہ۔ ج: ۲،ص:۲۰،ناشر: قدیمی کتب خانہ کراتشی]
ایک لازمی عقیدہ
دشمنان اسلام کفار سے لڑنے یعنی جہاد
کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے… اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم نے کفار کے خلاف لڑائی فرمائی ہے …جہاد فرمایا ہے… پس جو اس بات
کا انکار کرے گا…وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا بھی منکر ہو گا … اور حضور اقدس صلی
اللہ علیہ وسلم کے طریقے کا بھی منکر… جبکہ دین نام ہے… اللہ تعالیٰ کے
حکم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کا… چنانچہ ایسا شخص دین
کا منکر ہوا… یہ ہو گئی پہلی بات… اب دوسری بات سمجھیں…دشمنان اسلام کفار کے لئے
بددعاء اور لعنت …یہ قرآن مجید میں بھی موجود ہے اور جناب رسول نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی…کفار کے لئے بددعاء اور
لعنت فرمائی ہے… احادیث مبارکہ میں ’’قنوت نازلہ‘‘ کا یہی مقصد بیان ہوا ہے کہ:
یَدْعُوْا لِلْمُؤْ مِنِیْنَ
وَیَلْعَنُ الْکُفَّارَ۔
’’مسلمانوں کے لئے دعا اور کفار پر
لعنت۔‘‘
[صحیح مسلم۔ حدیث رقم: ۶۷۶،ناشر: دار الکتب العلمیہ۔ بیروت]
پس جو اس کا منکر ہو گا… یا اسے خلاف
تہذیب سمجھے گا… یا اس کے برعکس کافروں کی تعریف اور مسلمانوں کی مذمت کرے گا… وہ
قرآن مجید کا بھی منکر ہو گا اور سنت رسول صلی اللہ علیہ
وسلم کا بھی… لہٰذا ضروری ہے کہ ہر مسلمان اس عقیدے کو سمجھے اور
اپنائے… اور دور حاضر کے شور اور ماحول سے متاثر ہو کر… اپنے ایمان کو خطرے میں نہ
ڈالے۔
حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین کا یہ معمول… حدیث شریف کی کتابوں میں لکھا ہے کہ… وہ رمضان
المبارک کے آخری ایام میں خاص طور سے کفار پر لعنت اور بددعاء کا بہت اہتمام
فرماتے تھے:
وَکَانُوا یَلْعَنُونَ الْکَفَرَۃَ فِی
النِّصْفِ: اَللّٰھُمَّ قَاتِلِ الْکَفَرَۃَ الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ
سَبِیْلِکَ وَ یُقَاتِلُوْنَ اَوْلِیَاءَ کَ الخ …
’’صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین رمضان المبارک کے آخری نصف میں کافروں پر لعنت بھیجتے اور یہ
دعاء کرتے کہ… یا اللہ!ان کافروں کو تباہ فرما جو تیرے راستے سے روکتے ہیں اور
تیرے اولیاء ( یعنی مسلمانوں) سے لڑتے ہیں۔‘‘
[صحیح ابن خزیمہ۔ ج: ۱، ص: ۵۴۶، ط: المکتب الاسلامی، بیروت]
قنوتِ نازلہ کب شروع ہوئی؟
حضرت مفتی لاجپوری رحمہ
اللہ تحریر فرماتے ہیں:
’’اس کی ابتداء بیر معونہ کے واقعہ کے
بعد سے ہوئی… جس کی تفصیل یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم نے کچھ لوگوں کے اصرار پر ستر۷۰ صحابہ
کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو نجد کی جانب تبلیغ اور تعلیم کے لئے
بھیجا تھا… یہ منتخب حضرات تھے… قرآن پاک کے حافظ تھے اسی لئے اُن کو قراء کہا
جاتا تھا… اوقات شب میں تلاوت کیا کرتے تھے اور دن کو لکڑیاں چن کر بسر اوقات
کرتے… راستے میں کچھ قبائل نے بیر معونہ مقام پر گھیر لیا اور سب کو شہید کر دیا…
صرف ایک صحابی جو زخمی ہوکر لاشوں کے نیچے دب گئے تھے پھر اُن کو ہوش آ گیا… وہ
بچ گئے تھے… انہوں نے آ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو
اس حادثہ کی خبر دی… آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا
صدمہ ہوا کہ اور کسی حادثہ پر اتنا صدمہ نہیں ہوا تھا… وہ قبائل جو وحشیانہ جرم کے
مرتکب ہوئے تھے اُن کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بد
دعاء کی اور ایک مہینہ تک نماز صبح میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھتے رہے… رعل،
ذکوان،عصیہ، بنو لحیان وہ قبائل ہیں جو اس جرم میں پیش پیش تھے ۔
[بخاری شریف ص ۵۸۶ کتاب المغازی باب غزوۃ الرجیع ورعل وذکوان وبیر معونۃ
الخ]
حضرت انس رضی اللہ
عنہ فرماتے ہیں کہ دعاء قنوت پڑھنے کا یہ پہلا موقع تھا… اس سے پہلے
کبھی نہیں پڑھی تھی…
عن انس … وذلک بدء القنوت وما کنا
نقنت۔(ایضاً)
[ فتاویٰ رحیمیہ۔ متفرقات الصلوۃ۔
ج: ۶، ص:۲۲]
قنوت نازلہ کے بارے میں احادیث مبارکہ
قنوت نازلہ کا عمل حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفاء راشدین رضوان
اللہ علیہم اجمعین کی سنت ہے… آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے کئی واقعات و حوادث کے موقع پر قنوت نازلہ پڑھی… مثلاً
١ بئر
معونہ کے مظلوم شہداء کے قاتلوں پر بددعاء کے لئے۔
٢ مکہ
مکرمہ میں پھنسے ہوئے کئی مظلوم مسلمانوں کے لئے ان کا نام لے کر… جیسا کہ مسلم
شریف کی روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کے بعد قنوت
نازلہ پڑھتے اور فرماتے… یا اللہ! ولید بن ولید کو نجات عطاء فرما… یا اللہ! سلمہ
بن ہشام کو نجات عطاء فرما …یا اللہ! عیاش ابن ابی ربیعہ کو نجات عطاء فرما …یا
اللہ! ضعیف مؤمنوں کو نجات عطاء فرما… یا اللہ! اپنا عذاب قبیلہ مضر پر سخت کر
دے… یا اللہ! اُن پر یوسف علیہ السلام کے زمانے جیسا قحط ڈال دے ۔
[صحیح مسلم۔ حدیث رقم: ۶۷۵،ناشر: دار الکتب العلمیہ۔ بیروت]
٣ آپ صلی
اللہ علیہ وسلم نے جب کسی کے لئے نصرت کی دعاء اور کسی کے لئے عذاب کی
بد دعاء کرنی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم قنوت نازلہ پڑھتے:
کَانَ لَا یَقْنُتُ فِیْھَا اِلَّا
اِذَا دَعَا لِقَوْمٍ اَوْ دَعَا عَلٰی قَوْمٍ۔
[ابن خزیمہ۔ ج: ۱،ص:۳۱۷۔ ط: المکتب الاسلامی، بیروت]
ایک روایت میں آپ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’میں قنوت اس لئے کرتا ہوں تاکہ تم
اپنے رب کو پکارو اور اس سے اپنی ضروریات کے بارے میں سوال کرو ۔‘‘
[مجمع الزوائد۔با ب القنوت۔حدیث
رقم: ۲۸۳۰،ناشر: دار الکتب العلمیہ۔ بیروت]
احادیثِ مبارکہ میں ’’قنوت نازلہ‘‘ کی
بہت تفصیل آئی ہے… بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ
وسلم پانچوں نمازوں میں قنوت نازلہ پڑھتے تھے… بعض روایات میں صرف جہری
نمازوں کا تذکرہ ہے… اور بعض میں صرف فجر کی نماز کا… یہ بات تو طے ہے کہ قنوت
نازلہ صرف فرض نمازوں میں پڑھی جاتی ہے… اور یہ بات بھی طے ہے کہ جمعہ نماز میں
قنوت نازلہ نہیں پڑھی جاتی… اس میں خطبے کی دعاء کافی ہوتی ہے … احادیث مبارکہ میں
یہ بھی ثابت ہے کہ… آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ قنوت نازلہ
نہیں پڑھتے تھے… چنانچہ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی دن تک
قنوت نازلہ پڑھنے کے بعد چھوڑ دی تو… صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین نے وجہ پوچھی… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کہ تم دیکھ نہیں رہے کہ… وہ سب لوگ آ گئے ہیں…یعنی جن کی رہائی کی دعاء چل
رہی تھی… وہ سب خیر سے مدینہ شریف پہنچ چکے ہیں… احادیث مبارکہ کی اس کثرت میں
حضرات فقہاء کرام رحمہم اللہ نے اجتہاد فرمایا ہے… چنانچہ ہمارے احناف
کے نزدیک جو تفصیل ثابت ہے اس کا خلاصہ یہ ہے:
١ اگر
اہل اسلام پر کوئی حادثہ ، ظلم یا مصیبت آئے… مثلاً کافروں نے حملہ یا ظلم کیا ہو
تو فجر کی نماز میں دوسری رکعت کے رکوع کے بعد … امام سَمِعَ اللہُ لِمَنْ
حَمِدَہٗ کہہ کر ’’قنوت نازلہ‘‘ پڑھے اور مقتدی آہستہ آواز میں آمین کہتے رہیں…
دعاء سے فارغ ہو کر ’’اللہ اکبر ‘‘کہتے ہوئے سجدہ میں چلے جائیں۔
٢ فجر
کے علاوہ دیگر جہری نمازوں مغرب اور عشاء کی آخری رکعت میں بھی قنوت نازلہ پڑھی
جا سکتی ہے۔
٣ قنوت
نازلہ امام بلند آواز سے پڑھے اور مقتدی آمین کہیں… اور یہ بھی درست ہے کہ امام
آہستہ آواز سے پڑھے اور پیچھے مقتدی بھی آہستہ آواز سے پڑھیں۔
٤ قنوتِ
نازلہ پڑھتے وقت ہاتھوں کو باندھنا بھی درست ہے… اور ہاتھوں کو کھلا رکھنا بھی
درست ہے… دعاء کی طرح ہاتھوں کو اُٹھانا حنفیہ کے ہاں درست نہیں مگر اس میں جھگڑا
نہ کیا جائے۔
٥ جو
شخص اکیلے نماز پڑھ رہا ہو… وہ بھی جہری نمازوں میں اسی ترتیب سے قنوت نازلہ پڑھ
سکتا ہے… اور خواتین بھی اسی ترتیب سے پڑھ سکتی ہیں مگر وہ اپنی آواز پست رکھیں
گی… حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ اور حضرت مفتی عبد الرحیم
لاجپوری رحمہ اللہ کے فتاویٰ میں اس کی اجازت مذکور ہے۔
٦ قنوت
نازلہ کے لئے کوئی مخصوص دعاء ضروری نہیں ہے… حالات کے مطابق دعاء کی جا سکتی ہے…
البتہ مسنون دعاؤں کا اہتمام بہتر ہے … ہم آگے چل کر چند دعائیں پیش کریں گے۔
حضرات خلفاء راشدین رضوان
اللہ علیہم اجمعین کا عمل
فتح القدیر اور زاد المعاد میں ہے کہ:
’’حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ
عنہ نے مسیلمہ کذاب اور اہل کتاب کے خلاف جہاد کے وقت قنوت نازلہ کا اہتمام فرمایا
…اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اہل کتاب کے خلاف جہاد کے وقت
قنوت نازلہ کا عمل فرمایا۔‘‘
آج جس وقت یہ سطور لکھی جا رہی ہیں…
اہل فلسطین اور اہل کشمیر شدید مظالم کا شکار ہیں… دونوں طرف سے بہت روح فرسا
خبریں آ رہی ہیں… مسلمانوں کو چاہیے کہ مذمت اور احتجاج پر اکتفاء نہ کریں وہ بھی
اگرچہ ضروری ہیں… مگر اصل حل یہ ہے کہ ’’جہاد‘‘ اور’’ قنوت نازلہ‘‘ کو اپنائیں اور
اسے اپنی ذمہ داری سمجھ کر ادا کریں… اور اس کے اچھے نتائج کے بارے میں اللہ
تعالیٰ سے امید رکھیں… ہم نے الحمد للہ کوٹ بھلوال جیل میں اسارت کے دوران اس کا
اہتمام کیا… اور پھر الحمد للہ اس کے فوائد و نتائج اپنی آنکھوں سے دیکھے۔
ایک اہم فتویٰ
فتاویٰ رحیمیہ میں مرقوم ہے:
’’قنوتِ نازلہ کا حکم عام ہے مرد ، عورت
، امام ،منفرد ہر ایک کو شامل ہے، جماعت کی قید اور مردوں کی تخصیص اور منفرد یا
عورتوں کے لئے ممانعت کی صریح اور صحیح دلیل منقول نہیں ہے’’ قَنَتَ الْاِمَامُ‘‘
اس کے لئے کامل دلیل نہیں ہے ۔( حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ رحمہ
اللہ کا بھی یہی نظریہ ہے) لہٰذا منفرد اور عورتیں اپنی نماز میں دعاء
قنوت پڑھ سکتی ہیں، مگر عورتیں زور سے نہ پڑھیں۔
دعاء قنوت ایک مقرر نہیں ہے، وقت اور
موقعہ کے مطابق ادعیہ ماثورہ میں سے مناسب دعاء پڑھ سکتے ہیں…ذیل کی دعاء زیادہ
مناسب ہے:
اَللّٰھُمَّ انْصُرِ الِاسْلَامَ
وَالْمُسْلِمِیْنَ وَاَنْجِزْ وَعْدَکَ وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ
الْمُوْمِنِیْنَ۔ اَللّٰھُمَّ اَلِّفْ بَیْنَ قُلُوْبِھِمْ وَاَصْلِحْ ذَاتَ
بَیْنِھِمْ وَانْصُرْھُمْ عَلٰی عَدُوِّکَ وَعَدُوِّھِمْ۔ اَللّٰھُمَّ اَھْلِکِ الْکَفَرَۃَ
الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِکَ وَیُکَذِّبُوْنَ رُسُلَکَ وَیُقَاتِلُوْنَ
اَوْلِیَائَکَ۔ اَللّٰھُمَّ خَالِفْ بَیْنَ کَلِمَتِھِمْ وَزَلْزِلْ
اَقْدَامَھُمْ۔ اَللّٰھُمَّ شَتِّتْ شَمْلَھُمْ وَفَرِّقْ جَمْعَھُمْ وَخَرِّبْ
بِلَا دَھُمْ۔ اَللّٰھُمَّ اَلْقِ فِی قُلُوْبِھِمُ الرُّعْبَ۔ اَللّٰھُمَّ
خُذْھُمْ اَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ۔اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَجْعَلُکَ فِی
نُحُورِھِمْ وَنَعُوْذُ بِکَ مِنْ شُرُوْرِھِمْ۔ اَللّٰھُمَّ اَنْزِلْ بِھِمْ
بَأسَکَ الَّذِیْ لَا تَرُدُّہٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ ۔
اسیران اسلام کی خوش نصیبی
جیل اور قید بڑی مشکل جگہ ہے… بہت سے
لوگ گرفتاری کے ڈر سے جہاد نہیں کرتے… یا جہاد کا نام تک نہیں لیتے… مگر اللہ
تعالیٰ کے راستے میں قید ہونا، محبوس ہونا اتنا عظیم الشان عمل ہے کہ بڑے سے بڑے
اعمال بھی اس کے برابر نہیں ہو سکتے… اندازہ لگائیں کہ… جو مسلمان مکہ مکرمہ میں
قید اور پابند تھے ان کے لئے … حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم نام لے کر دعاء کرتے تھے … جب ہم بخاری شریف اور دیگر کتابوں میں
… وہ روایات پڑھتے ہیں تو دل ان حضرات کی محبت اور احترام سے بھر جاتا ہے جن کا
نام لے کر …حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی فرض نمازوں میں
دعاء فرمایا کرتے تھے… پھر اس سے یہ سبق بھی ملا کہ مسلمانوں کو اسیران اسلام سے
غافل نہیں ہونا چاہیے… بلکہ ان کی رہائی کی ہر کوشش اور بھرپور دعاء کرتے رہنا
چاہیے… آج محترمہ عافیہ بہن سے لے کر…بگرام اور گوانٹا ناموبے تک… کشمیر اور شام
تک… ہزاروں اسیران اسلام ہماری دعاؤں اور کوششوں کے منتظر ہیں… قنوت نازلہ کے
ذریعے ہم سب … اس خدمت اور اجر کو حاصل کریں… پھر اللہ تعالیٰ مزید توفیق کے
دروازے بھی کھول دیں گے، ان شاء اللہ۔
اہل علم کی خدمت میں
قنوت نازلہ کا عمل مسلمانوں میں معدوم
ہوتا جا رہا ہے… اور کئی افراد اس عمل کو منسوخ یا مشکوک بنانے کی کوشش بھی کرتے
رہتے ہیں… جیسا کہ ایک طبقے کا خیال ہے کہ یہ عمل حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کے زمانے تک خاص تھا… کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ… ’’قنوت نازلہ‘‘
کے لئے ضروری ہے کہ اس کی امامت مسلمانوں کا خلیفہ کرے… یعنی یہ صرف ریاست اور
سرکار کا کام ہے وغیرہ… اللہ تعالیٰ مفتیٔ اعظم ہند حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ
دہلوی رحمہ اللہ کو جزائے خیر عطاء فرمائیں کہ… انہوں نے قنوت نازلہ پر
ہونے والے ان تمام حملوں کا بہترین علمی جواب دیا ہے… اور کفایت المفتی جلد سوم کے
بیسویں باب میں ’’قنوت نازلہ‘‘ کا مسئلہ بہت تفصیل و تحقیق کے ساتھ بیان فرمایا
ہے… بندہ کا پہلے یہ ارادہ تھا کہ آج کے رنگ و نور میں ’’کفایت المفتی‘‘ کی مکمل
عبارت دے دی جائے… کیونکہ اس میں مکمل تفصیل و تحقیق درج ہے… مگر چونکہ اس عبارت
کی زبان علمی اور لہجہ قدرے دقیق ہے تو اس لئے وہ ارادہ ترک کرنا پڑا… اہل علم سے
گزارش ہے کہ قنوت نازلہ کے مسئلے کو مکمل سمجھنے اور اس کی اہمیت کو جاننے کے لئے
’’کفایت المفتی‘‘ کا مطالعہ فرما لیں ان شاء اللہ علم و توفیق کا دروازہ کھل جائے
گا… اور کیا بعید ہے کہ یہ عمل پورے زور شور سے دنیا کی تمام مساجد میں جاری ہو
جائے۔
ایک جامع تحریر
ہمارے زمانہ کے معروف عالم دین… حضرت
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے ’’قنوت نازلہ‘‘ پر ایک جامع اور مختصر مضمون تحریر
فرمایا ہے … ہم ذیل میں اس کا خلاصہ پیش کر رہے ہیں… اسے غور اور توجہ سے پڑھ لیں۔
’’ ایک صاحب ایمان کا کام یہ ہے کہ جب
بھی وہ کسی مصیبت یا آزمائش سے دو چار ہو اللہ کی طرف رجوع کرے اور اللہ کے
خزانۂ غیب سے مدد کا طلب گار ہو،اسی لئے اسلام میں ایک مستقل نماز نمازِ حاجت
رکھی گئی کہ انسان کی کوئی بھی ضرورت ہو ، دو رکعت نماز خاص اسی نیت سے پڑھ کر
اللہ کے سامنے دست ِسوال پھیلائے ، بعض دفعہ ضرورتیں یا ابتلائیں غیر معمولی ہو
جاتی ہیں ، ان مواقع کے لئے شریعت نے مخصوص نمازیں رکھی ہیں ، جیسے کسی کی وفات ہو
جائے تو نمازِ جنازہ ، بارش نہ ہو تو نماز استسقاء…سفر کے موقع پر دوگانۂ سفر۔
اسی طرح اگر دشمنوں سے مقابلہ ہو ، خواہ
اعدائِ اسلام کے خلاف اقدامی جہاد ہو یا مدافعت کی جا رہی ہو یا ظلم و ابتلاء سے
دو چار ہوں ، تو ایسے مواقع کے لئے کوئی مستقل نماز تو نہیں رکھی گئی ، لیکن ایک
خصوصی دعاء رکھی گئی ہے جس کو ’’قنوتِ نازلہ ‘‘ کہتے ہیں ، نازلہ کے معنٰی مصیبت و
آزمائش کے ہیں اور قنوت کے متعدد معانی آتے ہیں ، جن میں سے ایک معنٰی دعاء ہے
اور اس تعبیر میں یہی معنٰی مراد ہے ، پس قنوتِ نازلہ کے معنٰی ہوئے مصیبت کے وقت
کی دعاء ، مکہ میں جو کمزور لوگ پھنسے ہوئے تھے اور اہل مکہ انہیں ہجرت کی اجازت
نہیں دیتے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے
لئے قنوتِ نازلہ پڑھی ہے ، اسی طرح ایک خاص واقعہ پیش آیا جس میں حفاظ کی ایک بڑی
تعداد شہید کر دی گئی ، یہ واقعہ سیرت کی کتابوں میں ’’بئر معونہ‘‘ کے نام سے
مشہور ہے ، اس موقع پر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک قنوت
نازلہ پڑھی ہے۔
اس وقت شام کی صورت حال نہایت ہی ناگفتہ
ہے، بچوں اور بوڑھوں کا جو قتل عام ہو رہا ہے، یہاں تک کہ امدادی قافلوں کو بھی
نشانہ بنایا جا رہا ہے اور یہ سب کچھ فرعونِ وقت بشارا لاسد ظالم ایرانیوں اور
روسیوں کے تعاون سے کر رہا ہے، اس صورت حال میں اگر ہم کچھ اور نہیں کر سکتے تو کم
سے کم ہمیں دعاؤں کے ذریعہ تو اپنے شامی بھائیوں کا تعاون کرنا چاہئے اور خاص طور
پر قنوت نازلہ کا اہتمام کرنا چاہئے۔
قنوتِ نازلہ کے سلسلہ میں کئی باتیں
قابل ذکر ہیں ، قنوتِ نازلہ کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے
لئے مخصوص تھا یا آج بھی امت کے لئے باقی ہے ؟ قنوتِ نازلہ کن مواقع پر پڑھی جائے
گی ؟ کس نماز میں پڑھی جائے گی؟ اور نماز میں قنوت پڑھنے کا کیا محل ہے ؟ کون پڑھے
گا ؟ باآوازِ بلند پڑھی جائے یا آہستہ ؟ جب امام قنوتِ نازلہ پڑھے تو مقتدی کیا
کرے ؟ قنوتِ نازلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور
صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے کن الفاظ میں منقول ہے ؟
* بعض
اہل علم کا خیال ہے کہ قنوتِ نازلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے
مخصوص تھی ،لیکن تمام قابل ذکر فقہاء و ائمہ مجتہدین کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کے بعد بھی قنوت نازلہ کا حکم باقی ہے ، چنانچہ حضرت ابو بکر
رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسیلمہ کذاب سے جنگ کے وقت آپ نے قنوتِ نازلہ پڑھی،
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی بعض مواقع پر قنوتِ نازلہ پڑھی ہے ، آپ
کی قنوت کے الفاظ بھی کتب ِاحادیث میں تفصیل کے ساتھ منقول ہیں۔ ( دیکھیے: منحۃ
الخالق علی البحر :ج ۲ص۴۴)
اس لئے صحیح یہی ہے کہ قنوتِ نازلہ کا
حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مخصوص نہیں تھا اور اب بھی یہ
حکم باقی ہے ، ائمہ اربعہ اس پر متفق ہیں۔
( دیکھئے : حلبی :ص۴۲۰ ، شرح مہذب : ج۳ص۵۰۶، المقنع ج ۴ ص ۱۳۵)
* فقہاء
کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگ وجدال کے علاوہ دوسری مصیبتوں کے مواقع پر بھی
قنوتِ نازلہ پڑھنی مسنون ہے ، امام نووی شافعی رحمہ اللہ نے وباء اور
قحط میں قنوت پڑھنے کا ذکر کیا ہے۔ [روضۃ الطالبین و عمدۃ
المفتیین،:ج ۱ ، ص ۲۵۴]
حنابلہ
کے یہاں ایک قول کے مطابق وبائی امراض پھوٹ پڑنے پر بھی قنوتِ نازلہ پڑھی جاسکتی
ہے۔
( دیکھیے : الانصاف مع المقنع: ج ۴ ،ص۱۳۹)
حنفیہ
نے بھی لکھا ہے کہ طاعون کی بیماری پھیل جائے تو اس کا شمار بھی نوازل میں
ہوگا۔
[رد المحتار:ج۲ ،
ص ۴۴۷]
ویسے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے وبائی امراض
وغیرہ میں قنوتِ نازلہ پڑھنا ثابت نہیں ہے، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد
میں طاعون عمواس کا واقعہ پیش آیا تو اس موقع پر قنوت نہیں پڑھی گئی۔ [الانصاف:
ج ۴، ص ۱۳۹]
گویا اصل میں تو قنوتِ نازلہ جنگ کے
موقع پر پڑھی گئی ہے لیکن اس پر قیاس کرتے ہوئے فقہاء نے دوسری مصیبتوں میں بھی
قنوتِ نازلہ کی اجازت دی ہے ، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے
روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح میں قنوت اسی
وقت پڑھتے تھے ، جب کسی گروہ کے حق میں دعاء کرنا یا کسی گروہ کے خلاف بد دعاء
کرنا مقصود ہوتا ۔
[اعلاء السنن : حدیث نمبر ۱۷۱۵]
گویا جب مسلمان اعداء ِاسلام سے جنگ کی
حالت میں ہوں تب تو خاص طور پر قنوتِ نازلہ مسنون ہے ، لیکن دوسری اجتماعی مصیبتوں
کے موقع پر بھی قنوتِ نازلہ پڑھنے کی گنجائش ہے۔
* قنوتِ
نازلہ کس نماز میں پڑھنی چاہئے؟ اس سلسلہ میں روایتیں مختلف ہیں ، حضرت عبداللہ بن
عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے مسلسل ایک ماہ ظہر، عصر ، مغرب ، عشاء اور فجر میں آخری رکعت
کے رکوع کے بعد قنوتِ نازلہ پڑھی ہے ، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو سلیم
، رعل ، ذکوان ، عصیّہ قبائل کے لئے بد دعاء فرمائی ہے۔
[ابو داؤد: حدیث نمبر ۱۴۴۳]
بخاری میں حضرت
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ
وسلم مغرب اور فجر میں قنوتِ نازلہ پڑھا کرتے
تھے۔ [بخاری: حدیث نمبر۱۰۰۴]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کا فجر اور مغرب میں قنوتِ نازلہ پڑھنا حضرت براء بن
عازب رضی اللہ عنہ سے بھی مروی
ہے۔ [طحاوی: ج۱ ، ص ۱۴۲]
حضرت ابو ہریرہ رضی
اللہ عنہ کی ایک روایت میں نمازِ عشاء میں قنوتِ نازلہ پڑھنے اور مکہ
کے مستضعفین کے لئے دعاء کرنے کا ذکر ہے ، امام طحاوی نے اس کو متعدد سندوں سے نقل
کیا ہے،چنانچہ فقہاء شوافع کے نزدیک تو پانچوں نمازوں میں قنوتِ نازلہ پڑھنے کی
گنجائش ہے۔ [شرح مہذب:ج ۲، ص۶۰۵،روضۃ الطالبین: ج ۱ ،
ص ۵۰۴]
حضرت امام احمد رحمہ اللہ کا
بھی ایک قول یہی ہے، ایک قول کے مطابق فجر اور مغرب میں قنوتِ نازلہ پڑھنی چاہئے ،
ایک قول یہ ہے کہ تمام جہری نمازوں میں پڑھ سکتا ہے اور ایک قول کے مطابق صرف نماز
فجر میں۔
( دیکھیے : الشرح الکبیر : ج۴ ، ص ۱۳۷،
الانصاف مع المقنع: ج۴، ص ۱۳۷)
غرض حنابلہ کے مختلف اقوال اس سلسلہ میں
منقول ہیں۔
فقہاء احناف کے یہاں دو طرح کی تعبیرات
ملتی ہیں، ایک یہ کہ تمام جہری نمازوں میں قنوتِ نازلہ پڑھنا چاہئے ، فقہ حنفی کے
اکثر متون یعنی بنیادی کتابوں میں یہی لکھا ہے : ’’فَیَقْنُتُ
الْاِمَامُ فِی الصَّلٰوۃِ الْجَہْرِیَّۃِ۔‘‘
[ ملتقی الابحر علی ہامش المجمع: ج۱، ص ۱۲۹]
مشہور حنفی فقیہ علامہ حصکفی رحمہ
اللہ نے بھی بعینہٖ یہی الفاظ لکھے ہیں۔
[ در مختار مع الرد :ج ۲، ص ۴۴۸]
مشہور محقق امام طحطاوی رحمہ
اللہ نے بھی جہری نمازوں میں قنوت کی اجازت نقل کی ہے۔
[طحطاوی علی المراقی: ۲۰۶]
یہی بات بعض دوسرے فقہاء احناف سے بھی
منقول ہے۔
(دیکھیے: رد المحتار:ج ۲ ، ص۴۴۸)
ماضی قریب کے اہل علم میں مولانا
انورشاہ کشمیری رحمہ اللہ کا بھی یہی نقطۂ نظر ہے۔
[ فیض الباری: ج۲ ،
ص ۳۰۲]
اور علامہ حموی رحمہ اللہ نے
اسی قول کو زیادہ درست قرار دیا ہے۔
[منحۃ الخالق علی البحر: ج ۲، ص۴۴]
دوسری رائے یہ ہے کہ صرف نمازِ فجر میں
قنوتِ نازلہ پڑھنا درست ہے ، علامہ شامی رحمہ اللہ کا رجحان اسی طرف ہے
، شامی رحمہ اللہ کا گمان ہے کہ ممکن ہے کہ بعض نقل کرنے والوں نے ’’
صلاۃ الفجر ‘‘ کو غلطی سے ’’صلاۃ الجہر ‘‘ لکھ دیا ہو۔
( دیکھیے رد المحتار :ج ۲ ، ص ۴۴۸)
لیکن جب اتنی ساری نقول موجود ہیں تو
محض ظن و تخمین کی بناء پر اسے رد نہیں کیا جاسکتا ، اسی لئے خود علامہ
شامی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ شاید اس سلسلہ میں احناف کے دو قول ہیں :
’’ولعل فی المسئلۃ قولین‘‘ [منحۃ الخالق علی ہامش البحر :ج ۲ ، ص ۴۴]
پس جو بات راجح معلوم ہوتی ہے وہ یہ کہ
قنوتِ نازلہ مغرب ، عشاء اور فجر تینوں میں پڑھنے کی گنجائش ہے کیونکہ اس سلسلہ
میں احادیث موجود ہیں ،البتہ چونکہ فجر کے بارے میں اتفاق ہے اور دوسری نمازوں کی
بابت اختلاف ، اس لئے فجر میں قنوتِ نازلہ کی زیادہ اہمیت ہے…رہ گئی حضرت عبد اللہ
بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت جس میں ظہر و عصر میں قنوتِ نازلہ پڑھنے کا ذکر
ہے ، تو اکثر فقہاء کے نزدیک وہ منسوخ ہے اور احادیث میں بعض قرائن اس کے منسوخ
ہونے پر موجود ہیں۔
* نماز
میں قنوتِ نازلہ کب پڑھی جائے گی ؟ تو اس سلسلہ میں احادیث میںقریب قریب اتفاق ہے
کہ قنوتِ نازلہ رکوع کے بعد پڑھی جائے۔
(دیکھیے بخاری: حدیث نمبر۱۰۰۲، ابو داؤد : حدیث نمبر ۱۴۴۴)
فقہاء نے بھی اس کی صراحت کی
ہے۔
[منحۃ الخالق علی ہامش البحر : ج۲ ، ص۴۴]
* دعاء
ِقنوت زور سے پڑھی جائے یا آہستہ ؟ اس سلسلہ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ
عنہ کی صحیح روایت موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے قبیلۂ مضر کے خلاف بد دعاء کرتے ہوئے جہراً قنوت پڑھی
ہے۔ [ بخاری کتاب التفسیر ، باب قولہ : لیس لک من الامر شیء ]
اس لئے راجح قول یہی ہے کہ قنوتِ
نازلہ امام کو جہراً پڑھنا چاہئے ، اسی کو اہل علم نے ترجیح دی ہے ۔
(دیکھیے :اعلاء السنن : ج۶ ، ص۱۱۲)
یوں دعاء آہستہ کرنا بھی درست ہے بلکہ
عام حالات میں آہستہ دعاء کرنا افضل ہے ، لہٰذا آہستہ پڑھنے کی بھی گنجائش ہے ۔
جب امام قنوتِ نازلہ پڑھے تو مقتدی کیا
کرے ؟ اس سلسلہ میں علامہ شامی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ اگر امام جہراً
دعاء قنوت پڑھے تو مقتدی آمین کہنے پر اکتفاء کرے اور اگر آہستہ پڑھے تو مقتدی
بھی دعاء کو دہرائے۔
[رد المحتار :ج ۲، ص ۴۴۹]
* اس
بات پر حنفیہ کا اتفاق ہے کہ جیسے نماز سے باہر ہاتھ اُٹھا کر دعاء کی جاتی ہے ،
اس طرح قنوتِ نازلہ میں ہاتھ اُٹھا کر دعاء نہیں کی جائے گی، لیکن ہاتھ باندھ کر
رکھا جائے ؟ یا چھوڑ دیا جائے ؟ اس سلسلہ میں کوئی صریح حدیث موجود نہ ہونے کی وجہ
سے فقہاء کے درمیان اختلاف ہے ، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام ابو
یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک ہاتھ باندھنا بہتر ہے اور امام محمد رحمہ
اللہ کے نزدیک ہاتھ چھوڑے رکھنا بہتر ہے ۔
( دیکھیے : اعلاء السنن :ج ۶ ،ص۱۲۲)
چونکہ قنوتِ نازلہ ’’قومہ ‘‘کی حالت میں
پڑھا جاتا ہے اور قومہ کی حالت میں ہاتھ چھوڑے رکھنا مسنون ہے،اس لئے بہتر یہی
معلوم ہوتا ہے کہ ہاتھ چھوڑے رکھے ، البتہ بعض شوافع اور حنابلہ کے نزدیک قنوتِ
نازلہ میں بھی اسی طرح ہاتھ اٹھانے کی گنجائش ہے جس طرح عام دعاؤں میں۔
(دیکھیے المغنی :ج ۲ ص ۵۸۴ بہ تحقیق ترکی وغیرہ)
* رہ
گئے قنوتِ نازلہ کے الفاظ ، تو اس سلسلہ میں کچھ خاص الفاظ ہی کی پابندی ضروری
نہیں:
و أما دعاءہ فلیس فیہ دعاء
موقت۔ [البحر الرائق : ج۲، ص۴۱]
البتہ ظاہر ہے کہ جو الفاظ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین سے ثابت ہوں اُن کو پڑھنے کا اہتمام کرنا بہتر ہے ۔ اس سلسلہ
میں ایک تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے اُن کو اِن الفاظ میں دعاء سکھائی :
اَللّٰھُمَّ اھْدِنِی فِیْ مَنْ
ھَدَیْتَ وَعَافِنِیْ فِیْمَنْ عَافَیْتَ وَتَوَلَّنِیْ فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ وَ
بَارِکْ لِی فِیْمَا اَعْطَیْتَ وَ قِنِی شَرَّ مَاقَضَیْتَ فَاِنَّکَ
تَقْضِیْ وَ لَایُقْضٰی عَلَیْکَ وَاِنَّہٗ لَا یَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ وَلَا
یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ۔
’’اے اللہ ! مجھے بھی ان لوگوں کے ساتھ
ہدایت عطاء فرمائیے جنہیں آپ نے ہدایت دی ہے اور مجھے بھی اُن لوگوں کے ساتھ
عافیت میں رکھئے جن کو آپ نے عافیت سے سرفراز فرمایا ہے اور میری بھی ان لوگوں کے
ساتھ نگہداشت فرمایئے جن کو آپ نے اپنی نگہداشت میں رکھا ہے ، جو کچھ آپ نے عطاء
فرمایا ہے، اس میں میرے لئے برکت عطاء فرمایئے قضاء و قدر کے شر سے میری حفاظت
فرمائیے، کیونکہ آپ فیصلہ کرتے ہیں ، آپ کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا ،
جسے آپ دوست بنالیں وہ ذلیل نہیں ہو سکتا اور جس کے آپ دشمن ہوں وہ باعزت نہیں
ہو سکتا ، پروردگار ! آپ کی ذات مبارک اور بلند ہے۔‘‘ [
ابوداؤد: رقم الحدیث، ۱۴۲۵]
(جب جماعت کی نماز میں یہ دعاء پڑھیں تو
جمع متکلم کے صیغے بنادیں…مثلاً:
اَللّٰھُمَّ اھْدِنَا … وَ
عَافِنَا وَ تَوَلَّنَا
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی ایک دعاء
پڑھنا منقول ہے جس کو امام نووی رحمہ اللہ نے بیہقی کے حوالہ سے نقل
کیا ہے ۔ [ الاذکار: ۹۷]
… اور علامہ شامی رحمہ اللہ نے
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ان الفاظ کا اضافہ نقل کیا ہے ،
جو وتر والی دعاء قنوت پڑھنے کے بعد وہ پڑھا کرتے تھے ، اس دعاء میں حضرت عمر رضی
اللہ عنہ کی دعاء کا عطر بھی آگیا ہے ، اس لئے اس دعاء کے الفاظ کا
نقل کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے :
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِلْمُوْمِنِیْنَ
وَ الْمُوْمِنَاتِ وَ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمَاتِ وَ اَلِّفْ
بَیْنَ قُلُوْبِھِمْ وَ اَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِہِمْ وَ انْصُرْھُمْ
عَلٰی عَدُوِّکَ وَ عَدُوِّھِمْ ، اَللّٰھُمَّ الْعَنْ کَفَرَۃَ اَھْلِ الْکِتَابِ
الَّذِیْنَ یُکَذِّبُوْنَ رُسُلَکَ وَ یُقَاتِلُوْنَ اَوْلِیَاءَ کَ ، اَللّٰھُمَّ
خَالِفْ بَیْنَ کَلِمَتِہِمْ وَ زَلْزِلْ اَقْدَامَھُمْ وَ اَنْزِلْ بِھِمْ
بَأْسَکَ الَّذِیْ لَا تَرُدُّہٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ۔
ترجمہ: ’’الٰہی ! صاحب ایمان
مردوں اور عورتوں اور مسلمان مردوں اور عورتوں کی مغفرت فرما دیجئے ، ان کے دلوں
کو جوڑ دیجئے ، ان کے باہمی اختلاف کو دور فرما دیجئے ، ان کی آپ کے دشمن اور ان
کے دشمن کے مقابل مدد فرمایئے ، اے اللہ! کفار اہل کتاب پر آپ کی لعنت ہو، جو آپ
کے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور آپ کے اولیاء سے بر سر پیکار ہیں ، اے اللہ ! ان کے
درمیان اختلاف پیدا کر دیجئے ، ان کے قدم کو متزلزل فرما دیجئے اور ان کو آپ اپنے
اس عذاب میں مبتلا فرمایئے ، جو مجرم لوگوں سے ہٹایا نہیں جاتا۔‘‘
[ رد المختار:۲،۴۳۲،۴۳۳]
علامہ حصکفی رحمہ اللہ نے
لکھا ہے کہ دعائِ قنوت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود
شریف بھی بھیجنا چاہئے :
و یصلی علی النبی وبہ یفتی۔
[ در المختار : ج۲ص ۴۴۲]
یہ وقت ہے کہ ہرمسلمان اپنی جبین بندگی
اللہ کے سامنے خم کر دے اور پورے الحاح اورفروتنی کے ساتھ اللہ کے سامنے دست ِسوال
پھیلائے کہ دنیا میں اسلام کا نام سربلند ہو اوراسلام اور مسلمانوں سے بغض رکھنے
والے بالآخر آخرت کی طرح دنیامیں بھی محرومی کا حصہ لے کر واپس ہوں ۔
وَمَا ذٰلِکَ عَلَی اللہِ
بِعَزِیْز اِنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیءٍ قَدِیْرٌ۔ [انتہیٰ]‘‘
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ اُمت مسلمہ کو فتح، غلبہ
اور اپنی حفاظت عطاء فرمائیں…قنوت نازلہ کا عمل بڑا مبارک، مسنون اور مجرب عمل ہے…
کوشش کرنی چاہیے کہ یہ عمل ہم سب کی ذاتی… اور اجتماعی زندگی میں مضبوطی کے ساتھ
آ جائے۔
پہلا کام
’’دعاء‘‘ اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے…
’’دعاء‘‘ تقدیر کو بدل دیتی ہے… ’’دعاء‘‘ ایک نہ خطا ہونے والا ہتھیار ہے…
’’دعاء‘‘ ہر سعادت کا ذریعہ ہے… جس کو ’’دعاء‘‘ مل گئی وہ ’’دعاء‘‘ کے ذریعہ سب
کچھ پا لیتا ہے… اور جو ’’دعاء‘‘ سے محروم رہتا ہے وہ بہت سی مزید محرومیوں میں
جاگرتا ہے…’’دعاء‘‘ بڑی جاندار عبادت اور بڑی شاندار نعمت ہے…یہ ہر عبادت اور ہر
ذکر کا مغز ہے… ’’دعاء‘‘ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے… ’’دعاء‘‘ تمام انبیاء علیہم
السلام کی سنت ہے… قنوت نازلہ کو اپنی زندگی میں لانے کے لئے پہلا کام
یہ کریں کہ … قنوت نازلہ کی فضیلت کو پڑھیں اور سمجھیں… یہ کوئی عام اور معمولی
دعاء نہیں ہے… یہ وہ ’’دعاء‘‘ ہے جسے ’’فرض نماز‘‘ میں جگہ عطاء فرمائی گئی ہے…
اور آپ جانتے ہوں گے کہ… ’’فرض نماز‘‘ کتنی اونچی عبادت ہے… ایمان کے بعد’’فرض
نماز‘‘ کا درجہ ہے…اور ’’فرض نماز‘‘…ہمارے پورے دین کا ’’ستون‘‘ ہے… فرض نمازوں کے
لئے اللہ تعالیٰ نے جو اوقات مقرر فرمائے ہیں… یہ قبولیت کے خاص اوقات ہیں… یہ
محبت کے اوقات ہیں… یہ مناجات کے اوقات ہیں… یہ راز و نیاز کے اوقات ہیں… قنوت
نازلہ چونکہ اس امت کی ضرورت ہے اس لئے اسے ’’فرض نمازوں ‘‘ میں جگہ ملی ہے… اور
فرض نمازوں کی دعائیں ان شاء اللہ ضرور بالضرور قبول ہوتی ہیں۔
الحمد للہ گزشتہ کالم میں ’’قنوت
نازلہ‘‘ کی اچھی خاصی اور جامع ترتیب آ گئی تھی… اسے دو چار بار پڑھ لیں… دوسرے
مسلمانوں تک بھی پہنچائیں… اس کی برکت سے ان شاء اللہ خود ہماری زندگی میں ’’قنوت
نازلہ‘‘ آ جائے گی… جب ہماری زندگی میں دین کے دشمن بھی موجود ہیں… جب ہماری
زندگی میں مظلوم مسلمان بھی موجود ہیں… جب ہماری زندگی میں بے بس مسلمان قیدی بھی
موجود ہیں… جب ہماری زندگی میں ہمارے بے شمار ایسے دشمن موجود ہیں… جو ہم سے صرف
دین کی وجہ سے دشمنی رکھتے ہیں تو پھر ہماری زندگی میں ’’قنوت نازلہ‘‘ بھی موجود
ہونی چاہیے… اور ہماری زندگی میں جہاد بھی ضرور موجود ہونا چاہیے۔
دوسرا کام
قنوتِ نازلہ کی دعائیں یاد کر لیں… کم
از کم وہ تین دعائیں جو گذشتہ رنگ ونور میں تھیں… اور اسی طرح کی مزید جامع
دعائیں… دعاء یاد کرنا بہت آسان کام ہے… طریقہ یہ ہے کہ کسی ترجمہ جاننے والے کے
پاس بیٹھ کر دعاء کے ہر ہر لفظ کو الگ الگ کر کے… اس کا ترجمہ سمجھ لیں… آپ حیران
ہوں گے کہ… عربی کے اکثر الفاظ وہی ہیں جو ہم اردو میں بھی استعمال کرتے ہیں…جب
ترجمہ اچھی طرح سمجھ میں آ جائے تو اب ایک ایک جملہ یاد کرتے جائیں… جب کوئی جملہ
یاد ہو جائے تو اسے پچھلے جملے کے ساتھ دہرائیں… بس اس طرح بہت آسانی سے دعاء یاد
ہو جائے گی… ایک دعاء یاد کر کے سارا دن چلتے پھرتے اسے دہراتے رہیں… مانگتے رہیں
…جو ملے اسے سناتے رہیں… ان معاملات میں شرم کرنا محرومی کی بات ہے۔
تیسرا کام
دوسرے مسلمانوں کو ’’قنوت نازلہ‘‘ کا
مسئلہ سمجھائیں…اپنی اپنی مساجد میں بغیر جھگڑا ڈالے… اتفاق و مشاورت کے ساتھ
’’قنوت نازلہ‘‘ شروع کرائیں… ’’قنوت نازلہ‘‘ کی دعائیں مسلمانوں کو یاد کرائیں اور
اُن کا ترجمہ انہیں سمجھائیں تاکہ… جب امام صاحب پڑھیں تو ہر کوئی اچھی طرح سمجھ
کر آمین کہے اور مانگنے کی کیفیت نصیب ہو… اور جب ہم اکیلے نماز پڑھیں تو خود
جہری نمازوں میں ’’قنوت نازلہ‘‘ کا اہتمام کریں… اسی طرح اگر کبھی کسی مصیبت میں
پھنس جائیں… یا قید ہو جائیں تو قنوت نازلہ کا عمل ہمارے ساتھ ہو اور ہم اپنی
نمازوں میں فوراً اسے شروع کر دیں… آج مسلمانوں کو کافروں سے محبت کا سبق پڑھایا
جا رہا ہے… آج مسلمانوںکو کافروں کے نقش قدم پر چلنے کی دعوت دی جارہی ہے… آج
مسلمانوں کو غلامی کے آداب سکھائے جا رہے ہیں کہ…کس طرح ہم نے زمانے کے ساتھ ساتھ
چلنا ہے… آج مسلمانوں کے دلوں میں کافروں کی عظمت بٹھائی جا رہی ہے کہ… وہ ہم سے
کس طرح آگے ہیں… استغفر اللہ، استغفر اللہ…لا حول ولا قوۃ الا باللہ…کیسے ظالمانہ
اسباق آج اصلاح کے نام پر مسلمانوں میں پھیلائے جا رہے ہیں… وہ دشمنان اسلام جو
لعنت کے مستحق ہیں… جو امت مسلمہ کے قاتل ہیں… جو ہماری نسل تک مٹانے کے درپے ہیں
جب تک ہم ان کی دشمنی کو محسوس نہیں کریں گے… اس وقت تک ہم ان کے مقابلے میں کھڑے
نہیں ہو سکیں گے… ہمیں امت مسلمہ میں آزادی کی روح بیدار کرنی ہو گی … ہمیں امت
مسلمہ کو اس کی عظمت کا احساس دلانا ہو گا… ہمیں امت مسلمہ کو اس کے غلبے کی یاد
دلانی ہو گی…اس کے لئے ایک بہترین طریقہ … قنوت نازلہ کی سنت کا احیاء بھی ہے
کیونکہ’’ قنوت نازلہ‘‘ کا بنیادی مقصد… اہل ایمان کے لئے نصرت و غلبہ مانگنا… اور
دشمنان اسلام کے لئے لعنت اور غضب الہٰی کا سوال ہے۔
جب ہمیں اس بات کا احساس ہو گا کہ … کفر
و شرک کوئی معمولی گناہ نہیں ہیں … بلکہ یہ وہ جرائم ہیں … جن پر اللہ تعالیٰ کی
اور تمام مخلوق کی لعنت برستی ہے تو پھر ہم… کفر و شرک کی غلامی کبھی گوارہ نہیں
کریں گے…اور نہ ان کی ظاہری ترقی ہمیں کسی بھی طرح متاثر کرے گی۔
خواتین اسلام سے گزارش
مسلمان خواتین میں… کئی ’’اہل دعاء‘‘
ہوتی ہیں… ’’اہل دعاء‘‘ ایک روحانی مقام ہے جو کہ کسی کسی مسلمان کو نصیب ہو تا
ہے… اور مسلمان عورتوں کو یہ مقام زیادہ ملتا ہے… امت میں بڑی بڑی ’’اہل دعاء‘‘
خواتین ہر زمانے میں گزری ہیں… اور ان شاء اللہ اس زمانے میں بھی موجود ہوں گی…
کیونکہ ماشاء اللہ یہ جہاد اور قربانی کا زمانہ ہے… قنوت نازلہ چونکہ امت مسلمہ کی
ضرورت ہے اس لئے خواتین کو بھی… اپنی نمازوں میں اس کا اہتمام کرنا چاہیے… جب بھی
کوئی حادثہ یا واقعہ ہو… تو خواتین چند دن کے لئے قنوت نازلہ کا اہتمام کر لیا
کریں… پھر کچھ دن چھوڑ دیا کریں… پھر شروع کر دیا کریں … آج کل جیسے ہی کوئی
حادثہ ہوتا ہے تو… کچھ لاڈلے بس یہی فرمائش شروع کر دیتے ہیں کہ … فوراً مذمتی
بیان جاری ہو… مظلوموں کی ویڈیوز شیئر کی جائیں… یعنی صرف سوشل میڈیا پر ہی سارا
اودھم مچایا جائے… اور پھر کبھی کبھی انہیں یہ وہم بھی لگ جاتا ہے کہ… سوشل میڈیا
پر ان کے شور سے اقوام متحدہ لرز اُٹھی ہے… اور کابل کی حکومت بھی گھٹنوں کے بل
بیٹھ گئی ہے… حالانکہ یہ صرف وہم ہوتا ہے… اقوام متحدہ کو سب جانتے ہیں…وہ آپ کے
سوشل پیغامات نہیں پڑھتی … اور نہ ہی اس کی بنائی ہوئی کمیٹیاں مسلمانوں کے مسائل
حل کرتی ہیں… بہرحال سوشل میڈیا ایک فضول سی مجبوری بن چکی ہے اورکچھ بھی نہیں۔
ظالمانہ واقعات کی آپ ضرور مذمت کریں …
آپ اُن پر ضرور آواز اُٹھائیں…آپ سے جتنا ہو سکتاہو ظلم کو بے نقاب کریں… یہ
اچھی بات ہے مگر آپ دوسروں کو طعنے نہ دیں کہ فلاں کیوں خاموش ہے؟ فلاں کیوں نہیں
بول رہا؟… کچھ لوگ بولتے نہیں مگر وہی بہت کچھ کر لیتے ہیں … دوسرا آپ اپنے اس
عمل کو اپنے لئے کافی نہ سمجھیں… یہ شور شرابا بہت معمولی درجے کا کام ہے… اصل کام
یہ ہے کہ آپ جہاد کی نیت کریں …جہاد کی تیاری کریں اور جہاد میں شرکت کریں اور
دوسرا بڑا کام یہ ہے کہ… آپ ’’قنوت نازلہ‘‘ کا اہتمام کریں اور قنوت نازلہ کا ماحول
بنائیں … یعنی خود قاتلوں اور ظالموں سے فریاد کرنے کی بجائے کہ… وہ ہمارے لئے
کمیٹیاں اور کمیشن بنائیں…ہم اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں کہ… وہ ظالموں اور قاتلوں
کو ملعون و برباد فرمائے اور ہمیں قوت اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے۔
خواتین اسلام کی دعاؤں میں بڑا سوز
ہوتا ہے… آج اُمت مسلمہ کی بیٹیاں بہت مظلوم ہیں… مگر بہت با ہمت ہیں… اللہ
تعالیٰ نے خواتین میں ’’منوانے‘‘ کی صلاحیت رکھی ہے… آپ ایسے مواقع پر … جیسا کہ
ابھی قندوز میں ہوا… فلسطین میں ہو رہا ہے… کل ہی شام میں کیمیاوی ہتھیار استعمال
ہوئے… کشمیر بھی لہولہان ہے … ’’قنوت نازلہ‘‘ کا اپنی نمازوں میں مکمل خشوع و خضوع
کے ساتھ اہتمام کریں۔
آہ ! اسیرانِ اسلام
حضرت آقا محمدمدنی صلی اللہ
علیہ وسلم نے… مکہ میں محبوس مسلمانوں کے لئے ’’قنوتِ نازلہ‘‘ کا اہتمام فرمایا…
آج دنیا میں جگہ جگہ اسیرانِ اسلام کی ’’دردناک داستانیں ‘‘ بکھری پڑی ہیں… کسی
کو بیس سال ہو گئے تو کسی کو پچیس سال… کوئی جیلوں میں ہی شہید ہو گیا تو اکثر
معذوری اور بڑھاپے کا شکار ہو گئے… اب تو مسلمانوں نے اُن کے لئے سوچنا تک چھوڑ
دیا ہے… وہ یاد آتے ہیں تو دل بے ساختہ رونے لگتا ہے… اور اپنی ذات سے شرم محسوس
ہونے لگتی ہے… اتنی بڑی امت مسلمہ ایک عافیہ بہن کو نہ چھڑا سکی… آہ! اسیران
اسلام… آہ ! راہ عشق کے معتکفین … ہم قنوت نازلہ میں ان سب کے لئے دعاء شروع کر
دیں… کچھ آنسو، کچھ آہیں اور کچھ دعائیں … اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ برف پگھلے
گی… توفیق کے دروازے کھلیں گے… اور امت مسلمہ کے یہ عظیم افراد…آزادی دیکھیں گے،
ان شاء اللہ۔
قنوت نازلہ کی ماثور دعائیں
ذیل میں قنوت نازلہ کی ماثور
دعائیں مع ترجمہ یکجا نقل کی جارہی ہیں، انہیں یاد کریں اور اپنے عمل میں شامل کر
کے… دوسروں کو بھی دعوت دیں۔
١ اَللّٰھُمَّ
انْصُرِ الْاِ سْلَامَ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَاَنْجِزْ وَعْدَکَ وَکَانَ حَقًّا
عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُوْمِنِیْنَ۔ اَللّٰھُمَّ اَلِّفْ بَیْنَ قُلُوْبِھِمْ
وَاَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِھِمْ وَانْصُرْھُمْ عَلٰی عَدُوِّکَ وَعَدُوِّھِمْ۔
اَللّٰھُمَّ اَھْلِکِ الْکَفَرَۃَ الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِکَ
اَوَیُکَذِّبُوْنَ رُسُلَکَ وَ یُقَاتِلُوْنَ
اَوْلِیَائَکَ۔ اَللّٰھُمَّ خَالِفْ بَیْنَ کَلِمَتِھِمْ وَ زَلْزِلْ
اَقْدَامَھُمْ ۔ اَللّٰھُمَّ شَتِّتْ شَمْلَھُمْ وَ فَرِّقْ جَمْعَھُمْ وَ خَرِّبْ
بِلَا دَھُمْ۔ اَللّٰھُمَّ اَلْقِ فِی قُلُوْبِھِمُ الرُّعْبَ۔ اَللّٰھُمَّ
خُذْھُمْ اَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ۔ اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَجْعَلُکَ فِی
نُحُورِھِمْ وَ نَعُوْذُ بِکَ مِنْ شُرُوْرِھِمْ۔ اَللّٰھُمَّ اَنْزِلْ بِھِمْ
بَأسَکَ الَّذِیْ لَا تَرُدُّہٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ۔
ترجمہ: ’’اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں
کی مددفرمادیجیے، اور اپنا وہ وعدہ پورا فرمادیجیے(جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ)اور
ہم پر لازم ہے اہل ایمان کی مدد کرنا۔ اے اللہ! اہل ایمان کے دلوں میں باہمی الفت
ڈال دیجیے، اور ان کے باہمی تعلقات سُدھار دیجیے، اور آپ اپنے دشمنوں اوران کے
دشمنوں کے مقابلے میں انہیں مدد دے دیجئے ۔ اے اللہ! اُن کافروں کو تباہ کردیجیے
جو آپ کے راستے سے روکتے ہیں اور آپ کے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں، اور آپ کے
دوستوں سے لڑتے ہیں۔ اے اللہ! اُن کافروں کی باتوں میں باہمی اختلاف ڈال دیجیے،
اوران کے قدموں کو لڑکھڑا دیجیے، اوران کے معاملات کو منتشر فرمادیجیے، اور اُن کی
اجتماعیت کو ٹکڑے ٹکڑے کردیجیے، اور ان کے شہروں اور ملکوں کو ویران کردیجیے۔ اے
اللہ! ان کے دلوں میں رُعب ڈال دیجیے۔ اے اللہ! انہیں غالب اور کامل قدرت والی ذات
کے پکڑنے کی طرح پکڑ لیجیے۔ اے اللہ! ہم آپ کو ان کی گردنوں پر مسلط ہوجانے کی
التجاء کرتے ہیں اور ان کے شرور سے آپ کی پناہ میں آتے ہیں۔ اے اللہ! ان پر ایسا
عذاب نازل فرمادیجیے جس عذاب کو آپ مجرم لوگوں سے ہٹاتے نہیں ہیں۔‘‘
٢ اَللّٰھُمَّ
اھْدِنِی فِیْ مَنْ ھَدَیْتَ وَعَافِنِیْ فِیْمَنْ عَافَیْتَ وَتَوَلَّنِیْ
فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ وَ بَارِکْ لِی فِیْمَا اَعْطَیْتَ وَ قِنِیْ
شَرَّ مَاقَضَیْتَ فَاِنَّکَ تَقْضِیْ وَ لَایُقْضٰی
عَلَیْکَ اِنَّہ لَا یَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ وَ لَا یَعِزُّ مَنْ
عَادَیْتَ تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ۔
ترجمہ: ’’اے اللہ ! مجھے بھی ان لوگوں
کے ساتھ ہدایت عطاء فرمائیے جنہیں آپ نے ہدایت دی ہے اور مجھے بھی اُن لوگوں کے
ساتھ عافیت میں رکھیے جن کو آپ نے عافیت سے سرفراز فرمایا ہے اور میری بھی ان
لوگوں کے ساتھ نگہداشت فرمایئے جن کو آپ نے اپنی نگہداشت میں رکھا ہے، جو کچھ آپ
نے عطاء فرمایا ہے اس میں میرے لئے برکت عطاء فرمایئے، قضاء و قدر کے شر سے میری
حفاظت فرمائیے، کیونکہ آپ فیصلہ کرتے ہیں آپ کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا
،جسے آپ دوست بنالیں وہ ذلیل نہیں ہو سکتا اور جس کے آپ دشمن ہوں وہ باعزت نہیں ہو
سکتا، پروردگار ! آپ کی ذات مبارک اور بلند ہے۔‘‘
(جب جماعت کی نماز میں یہ دعاء پڑھیں تو
جمع متکلم کے صیغے بنادیں… مثلا: اَللّٰھُمَّ اھْدِنَا… وَ عَافِنَا وَ
تَوَلَّنَا)
٣ اَللّٰھُمَّ
اغْفِرْ لِلْمُوْمِنِیْنَ وَالْمُوْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ
وَاَلِّفْ بَیْنَ قُلُوْبِھِمْ وَاَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِہِمْ وَ انْصُرْھُمْ عَلٰی
عَدُوِّکَ وَعَدُوِّھِمْ اَللّٰھُمَّ الْعَنْ کَفَرَۃَ اَھْلِ الْکِتَابِ
الَّذِیْنَ یُکَذِّبُوْنَ رُسُلَکَ وَیُقَاتِلُوْنَ
اَوْلِیَائَکَ اَللّٰھُمَّ خَالِفْ بَیْنَ کَلِمَتِہِمْ وَ زَلْزِلْ
اَقْدَامَھُمْ وَ اَنْزِلْ بِھِمْ بَأْ سَکَ الَّذِیْ لَا تَرُدُّہٗ عَنِ
الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ۔
ترجمہ: ’’الٰہی ! صاحب ایمان مردوں اور
عورتوں اور مسلمان مردوں اور عورتوں کی مغفرت فرما دیجئے ، ان کے دلوں کو جوڑ
دیجئے ، ان کے باہمی اختلاف کو دور فرما دیجئے ، ان کی آپ کے دشمن اور ان کے دشمن
کے مقابل مدد فرمایئے ، اے اللہ! کفار اہل کتاب پر آپ کی لعنت ہو، جو آپ کے
رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور آپ کے اولیاء سے بر سر پیکار ہیں ، اے اللہ ! ان کے
درمیان اختلاف پیدا کر دیجئے ، ان کے قدم کو متزلزل فرما دیجئے اور ان کو آپ اپنے
اس عذاب میں مبتلا فرمایئے ، جو مجرم لوگوں سے ہٹایا نہیں جاتا۔‘‘
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ سے معافی ، مغفرت اور توفیق
کا سوال ہے…
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا
بِاللّٰہِ
اللہ تعالیٰ ہی گناہ سے بچا سکتے ہیں…
اللہ تعالیٰ ہی نیکیوں کی توفیق عطاء فرماتے ہیں… اللہ تعالیٰ ہی ہماری بگڑی بنا
سکتے ہیں…
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا
بِاللّٰہِ
ہمارے گناہ بے شمار… ہماری غفلتیں بے
کنار… ہمارے اعمال بہت تھوڑے… ہماری عمریں بہت چھوٹی… قبر سامنے ہے… ہاتھ خالی
ہیں… حساب منتظر ہے…نیکیوں کے پلڑے میں ڈالنے کو کچھ نہیں… رجب گزر گیا … شعبان آ
گیا… رمضان آنے کو ہے… مگر ہم جیسے تھے ویسے ہی رہے… دنیا کی فکریں… اپنی صحت کی
فکریں… گناہوں کی سوچیں، فضول منصوبے… ناجائز خواہشات … یا اللہ ہمارا کیا بنے گا؟
یا اللہ میرا کیا بنے گا؟… یا اللہ رحم! یا اللہ معافی! یا اللہ رحم!
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا
بِاللّٰہِ
آج کی تاریخ
رات کے سوا بارہ بج رہے ہیں… یہ رات بھی
گذر جائے گی دوبارہ نہیں آئے گی… زندگی کی ایک رات اور ختم… عرب و حجاز میں آج
شعبان کی پہلی رات… جبکہ ہمارے ہاں رجب کی آخری رات ہے… یعنی تاریخ بنی… ۳۰ رجب ۱۴۳۹ھ…
شمسی تاریخ کا وقت بھی رات بارہ بجے اُلٹا گیا… وہ ہے 17 اپریل 2018 …
دن منگل کا ہے اور موسم گرم…ایک بار پھر سب مسلمانوں کی منت کرتا ہوں کہ… ہجری
مہینے یادکرلیں …روز کی تاریخ اور سن بھی یاد رکھا کریں…اب گھڑی بھی ہوتی ہے اور
موبائل بھی…ایک جگہ شمسی تاریخ لگا لیا کریں تو دوسری جگہ قمری ہجری…ہر ہجری مہینے
کا آغاز اور اختتام بھی یاد رکھاکریں…یہی تو ہماری زندگی ہے اور یہی ہمارا
سرمایہ… پیسے ہم گن گن کر رکھتے ہیں اور گن گن کر خرچ کرتے ہیں… وقت تو پیسے سے
زیادہ قیمتی ہے… اسے بھی گن گن کر ، پھونک پھونک کر استعمال کرنا چاہیے… صبح صادق
کب ہوئی؟ سورج کب نکلا؟ غروب کتنے پر ہو گا؟ یہ سب ہمیں روزانہ معلوم ہونا چاہیے…
ہم اپنے زمانے یعنی وقت کی قدر کریں گے تو زمانہ اور وقت بھی ہماری قدر کرے گا… ہم
وقت کو فضول اُڑائیں گے تو خود ہم اُڑ جائیں گے ، بکھر جائیں گے۔
لوگ کہتے ہیں کہ زمانے کے ساتھ چلو… وہ
بالکل غلط کہتے ہیں… ہم نے جس زمانے کے ساتھ چلنا ہے… وہ رسول اکرم صلی
اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ہے … دس سال مکی اور تیرہ سال مدنی…بس وہی اصل
زمانہ ہے… جو اس زمانے کے ساتھ چلے گا وہی کامیاب ہو گا، وہی ترقی پائے گا… اور جو
اپنے زمانے کے ساتھ چلے گا وہ خسارے میں جائے گا… اپنے زمانے کو ہم نے اپنے ساتھ
چلانا ہے… اوراسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے
جوڑنا ہے… اُن لوگوں کی باتوں میں نہ آئیں جو آپ کو زمانے کے ساتھ چلنے کا خسارے
والا سبق پڑھا رہے ہیں… زمانہ تو ختم ہوتا جا رہا ہے… یہ ہر روز رنگ بدلتا
ہے…بہرحال اپنے دن رات گن گن کر گذاریں … اپنے گھنٹے اور منٹ شمار کر کے ہوشیاری
کے ساتھ گذاریں… یہ بہت قیمتی نوٹ ہیں… ان کو ضائع نہ کریں۔
شعبان شروع ہوتے ہی معلوم کر لیا
کریں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شعبان کیسا تھا؟
پھر اپنے شعبان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شعبان
جیسا بنانے کی حتی الوسع کوشش کیا کریں … ویسا تو کبھی بھی نہیں بن سکتا… مگر
پیروی تو انہیں کی کرنی ہے… جس قدر ہو سکے اتباع بھی کرنی ہے اور اطاعت بھی…شعبان
کے بارے میں کئی احادیث مبارکہ آئی ہیں… صحیح بخاری میں بھی موجود ہیں… اور نسائی
وغیرہ دیگر کتب احادیث میں بھی… جب اللہ تعالیٰ ہمیں شعبان دے رہے ہیں… اور اللہ
تعالیٰ نے ہمیں ہر معاملے میں اعلیٰ رہنمائی فرمانے والے آقا مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم بھی عطاء فرمائے ہیں… تو پھر ہم… محروم کیوں رہیں؟…
آئیے !توفیق مانگتے ہیں:
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا
بِاللّٰہِ… لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ…لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ
اِلَّا بِاللّٰہِ
شہد جیسے میٹھے شاہ جی کی سنیں
اللہ تعالیٰ نے حضرت شاہ ولی محدث دہلوی
رحمہ اللہ کو … چار فرزند عطاء فرمائے… چاروں ماشاء اللہ ایک دوسرے سے
بڑھ کر… چاروں ہی علم کے دریا… علم کے چشمے مگر ذائقہ الگ الگ… اُن میں جو بڑے
حضرت ہیں اُن کا علم انسان کو حیرت زدہ کر دیتا ہے… مزاج کے بہت میٹھے اور فیض بہت
عام… حضرت شاہ عبد العزیز رحمہ اللہ تفسیروحدیث کے امام…اور زمانے کے
نباض… ہمارے مجاہد سیّد بادشاہ… سیّد احمد شہید رحمہ اللہ انہی حضرت
شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ کے مرید تھے… جبکہ تربیت اُن کے چھوٹے
بھائی حضرت شاہ عبد القادر رحمہ اللہ سے پائی… دل چاہ رہا ہے اور قلم بھی لپک رہا
ہے کہ… اس مبارک خاندان کے بارے میں مزید لکھتا چلا جاؤں… مگر موضوع آج کچھ اور
ہے… ہم سے نیک اعمال ہوتے نہیں… اور گناہ چھوٹتے نہیں… اس پر حضرت شاہ عبد العزیز
رحمہ اللہ کی ایک بات لکھنی ہے…’’ فتاویٰ عزیزیہ‘‘ کے نام سے کچھ حضرات
نے حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ کے بعض فتاویٰ، تحقیقات اور ملفوظات جمع کر
دئیے ہیں… چھ سو اکتیس صفحات کی یہ کتاب اردو میں کراچی سے ایچ ایم سعید کمپنی نے
شائع کی ہے… اس کتاب کے صفحہ دو سو چار سے ایک سوال اور اس کا جواب نقل کر رہا
ہوں۔
’’سوال: کس چیز کی برکت سے گناہوں سے
نفرت ہوتی ہے اور اطاعت کی رغبت ہوتی ہے؟
جواب: اس مقصد کے لئے یہ مفید ہے’’لَا
حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ‘‘ یہ کثرت سے پڑھیں اور نفی اثبات کلمہ
توحید (لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ)کی اور اس کا ضرب شدو مد کے ساتھ قلب پر لگاتے رہیں
اور {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ } اور {قُلْ اَعُوْذُ
بِرَبِّ النَّاسِ } صبح و شام پڑھا کریں یعنی ان امور ( وظائف) سے گناہ سے نفرت
ہوتی ہے اور اطاعت کی رغبت ہوتی ہے۔‘‘ [فتاویٰ
عزیزی، ۲۰۴]
جواب کی تشریح
چونکہ رمضان المبارک آ رہا ہے… اور
اللہ تعالیٰ نے ’’شعبان‘‘ کو رمضان المبارک کی تیاری کا مہینہ بنایا ہے… اور شعبان
کے مہینہ میں ہر مسلمان کے پورے سال کے اعمال… اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوتے ہیں…
یعنی شعبان… اعمال کی پیشی کا ’’سالانہ امتحان‘‘ ہے… شعبان اچھا گذر جائے تو رمضان
المبارک بہترین نصیب ہوتا ہے… اور رمضان المبارک بہترین مل جائے تو پورا سال اچھا
گذرتا ہے… اور یوں ہمارا زمانہ ،ہماری عمر اور ہمارے اوقات کام کے بن جاتے ہیں…مگر
شیطان یہ راز جانتا ہے… اس لئے وہ شعبان میں غفلت کے حملے کرتا ہے… تاکہ ہم رمضان
المبارک کو اچھی طرح نہ پا سکیں… خود حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم سے پوچھا گیا کہ آپ شعبان میں اتنے زیادہ روزے رکھتے ہیں جتنے
اور کسی مہینے میں نہیں رکھتے اس کی کیا حکمت ہے؟ جواب میں فرمایا کہ… یہ وہ مہینہ
ہے جو رجب و رمضان کے درمیان ہے اور لوگ اس سے غافل رہتے ہیں… حالانکہ اسی مہینے
میں اعمال اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کئے جاتے ہیں… اور میں چاہتا ہوں کہ میرا عمل
ایسی حالت میں پیش ہو کہ میں روزے سے ہوں… اب شیطانی غفلت کا خاتمہ کس طرح ہو؟ …
حضرت شاہ جی رحمہ اللہ نے تین وظیفے ارشاد فرما دئیے:
١ لَا
حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کی کثرت
٢ لَا
اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کی کثرت اور اہتمام
٣ معوّذتین
کا صبح و شام اہتمام
یہاں ایک بات یاد رکھیں… شعبان کے اصل
اعمال دو ہیں:
١ زیادہ
تلاوت
٢ زیادہ
روزے
ہم جب شعبان کے بارے میں… حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل دیکھتے ہیں تو ہمیں زیادہ
روزے نظر آتے ہیں… اس اعتبار سے شعبان کے روزے بہت اہمیت والے بن گئے…حضرت اُمّ
المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
وَمَارَأَیْتُہٗ اَکْثَرَصِیَامًا
مِنْہُ فِی شَعْبَانَ ۔
’’ حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم رمضان کے علاوہ سب سے زیادہ روزے شعبان میں رکھتے
تھے۔‘‘
[صحیح بخاری۔ باب صوم شعبان۔ حدیث
رقم: ۱۹۶۹۔ ط: دار الکتب العلمیہ، بیروت]
حضرت انس رضی اللہ
عنہ فرماتے ہیں:
وَکَانَ اَحَبُّ الصَّوْمِ اِلَیْہِ فِی
شَعْبَانَ۔
’’ رسول کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب روزے شعبان کے تھے۔‘‘
[مسند احمد ۔ج: ۲۱ ص: ۹۵۔ حدیث رقم:۱۳۴۰۳۔ ط:
مؤسسۃ الرسالۃ]
حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ
عنہا فرماتی ہیں:
اِنَّہٗ لَمْ یَکُنْ یَصُوْمُ مِنَ
السَّنَۃِ شَھْرًا تَامًّااِلَّا شَعْبَانَ یَصِلُہٗ بِرَمَضَانَ۔
’’ حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم پورے شعبان کا روزہ رکھتے تھے اور شعبان کے روزوں کو رمضان
المبارک کے روزوں سے ملاتے تھے۔‘‘
[سنن ابوداؤد۔ باب فیمن یصل شعبان
برمضان۔ حدیث رقم: ۲۳۳۶۔ ط: دار الکتب العلمیہ، بیروت]
اس روایت کے متعلق حضرات محدثین کرام
رحمہم اللہ کا فرمانا ہے کہ… مراد اس سے اکثر شعبان کے روزے ہیں کہ
شعبان کے زیادہ دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوتے
تھے۔
شعبان کا دوسرا اصل عمل… قرآن مجید کی
کثرت سے تلاوت ہے… چنانچہ سلف صالحین اس کا بہت زیادہ اہتمام فرماتے تھے… اور
شعبان کو ’’شہر القراء‘‘ یعنی قاریوں کا مہینہ کہتے تھے… کئی حضرات کے بارے میں تو
یہاں تک آتا ہے کہ وہ اپنے گھروں کے دروازے بند کر لیتے اور شعبان کا مہینہ قرآن
مجید کی تلاوت اور اس کے تدبر میں گذارتے۔
اب یہ دو عمل ہمارے لئے آسان ہو جائیں
… اس کے لئے حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ کا وظیفہ بہترین ہے…
نفس کے سرکش گھوڑے کا رخ موڑنے کے لئے… اور نفس کی سستی کو دور کرنے کے لئے ہم چند
دن کثرت سے’’ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ ‘‘کا ورد کریں
کم از کم ایک ہزار تا تین ہزار… اسی طرح ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ‘‘ کا ورد…اور
وساوس اور برے اثرات کے خاتمہ کے لئے صبح و شام کثرت سے ’’معوّذتین‘‘ کا ورد…
مجاہدین کرام محاذوں پر اس کا اہتمام کریں… اہل دعوت بھی اپنا کچھ وقت نکالیں… اور
دیگر مسلمان بھی ہوشیار و فکر مند ہو جائیں… اور جو مسلمان… اللہ تعالیٰ کے فضل و
کرم سے ’’بیدار‘‘ ہیں وہ شعبان میں اپنے روزوں اور قرآن مجید سے تعلق بڑھانے کی
ترتیب بنا لیں… ان شاء اللہ ان دو اعمال کی برکت سے اُن کے لئے باقی نیکیاں بھی
آسان ہو جائیں گی۔
مبارک ہو
الحمد للہ جماعت کے زیر اہتمام ’’دورات
تفسیر‘‘ کی ترتیب جاری ہے… آخری مرحلے کے ’’دورات تفسیر‘‘ شعبان میں ہوں گے… اس
سال تقریباً چوّن مقامات پر یہ مبارک دورے رکھے گئے ہیں … جن میں سے بائیس مقامات
کے دورے ان شاء اللہ ’’شعبان‘‘ میں ہوں گے… یوں الحمد للہ یہ دورے پڑھانے اور
پڑھنے والوں کو… روزانہ کئی گھنٹے ’’قرآن مجید‘‘ کا قرب نصیب ہو گا… اور قرآن
مجید کا ’’قرب‘‘ اللہ تعالیٰ کے ’’قرب‘‘ کی علامت ہے… ان دورات میں تلاوت بھی ہوتی
ہے اور ترجمہ بھی… فہم بھی ہوتا ہے تفہیم بھی…تذکیر بھی ہوتی ہے اور تدبر بھی …اس
لئے ان دوروں کو اپنے لئے سعادت اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے قیمتی نعمت سمجھیں…
اخلاص اور ذوق و شوق سے پڑھیں اور پڑھائیں اور ان اوقات کو اپنے لئے سرمایہ آخرت
بنائیں … ان دوروں کو معمولی نہ سمجھیں… یہ اللہ تعالیٰ کے قرب اور تقرب کا بہترین
ذریعہ ہیں… یہ ’’احیاء فرائض‘‘ کی… تحریک کا حصہ ہیں… اور یہ علم کو عمل سے جوڑنے
کا ذریعہ ہیں… بندہ کی طرف سے تمام پڑھانے او رپڑھنے والوں کو مبارکباد۔
شعبان کے دیگر اعمال
١ فرائض
کا اہتمام
٢ رمضان
المبارک کے لئے فقراء و مساکین کو شعبان کے آخر میں اموال اور سامان کی فراہمی
٣ زکوٰۃ
کی خصوصی فکر
٤ اُمت
مسلمہ کے ساتھ مکمل ہمدردی اور یکجہتی
٥ مجاہدین
اور اسیرانِ اسلام کے لئے دعاء… خصوصاً قنوت نازلہ کا اہتمام… اپنے مسلمان رشتہ
داروں اور دیگر مسلمانوں کو معاف کرنا اور ان سے معافی لینا اور اپنے دلوں کو بغض
اور کینے سے پاک کرنا
٦ اہل
جماعت کا جہادی محنت اور رمضان مہم میں بھرپور حصہ لینا
یا اللہ!اپنے فضل سے مجھے بھی توفیق
عطاء فرما… اور تمام پڑھنے والوں کو بھی… آمین یا ارحم الراحمین۔لَا حَوْلَ وَلَا
قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ
شَعْبَانَ وَ بَلِّغْنَا رَمَضَانَ۔
اور ایک بہت ضروری دعاء…
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ
الْھُدٰی وَ التُّقٰی وَ الْعَفَافَ وَ الْغِنٰی۔
اور ایک بڑی اہم دعاء…
اَللّٰھُمَّ یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ
ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ۔
اور ہماری اہم ضرورت…
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ
الْعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ۔
خوف اور بے پردگی سے حفاظت…
اَللّٰھُمَّ اسْتُرْعَوْرَاتِنَا
وَاٰمِنْ رَوْعَاتِنَا۔
کراچی میں کچھ ہی عرصہ پہلے ایک
بزرگ گذرے ہیں …حضرت مفتی رشید احمد صاحب نور اللہ مرقدہ… وہ راسخ فی العلم… محقق
اور باعمل عالم تھے… ماشاء اللہ ’’عالم ربّانی‘‘… اللہ تعالیٰ اُن کو اپنی مغفرت
اور اکرام کا اعلیٰ مقام عطاء فرمائے … اُن کے علم کو زندہ رکھے… اور اُن کے فیوض
کو جاری فرمائے… ’’دعاء‘‘ میں اُن کا حال بڑا عجیب تھا… بہت ڈوب کر ’’دعاء‘‘
مانگتے تھے… یوں لگتا تھا کہ جیسے گم ہو چکے ہیں… اُن کے آس پاس والے انتظار میں
رہتے تھے کہ… حضرت کب دعاء کے لئے ہاتھ اُٹھاتے ہیں… تاکہ وہ بھی اُن کے ساتھ اس
مبارک عمل میں شریک ہو جائیں… یوں حضرت والا کی وہ انفرادی دعاء بھی اجتماعی رنگ
پکڑ لیتی تھی۔
آج کیسے یاد آئی؟
اپنے اکابر و مشائخ تو الحمد للہ کبھی
نہیں بھولتے … مگر کبھی کبھار کسی کی یاد بہت شدت سے آ جاتی ہے… آج صبح سے حضرت
اقدس مفتی رشید احمد صاحب نور اللہ مرقدہ کی یاد نے گھیراہوا ہے… اُن سے ملاقات
اور تعارف اللہ تعالیٰ کے احسانات میں سے ایک احسان ہے… وہ میرے باقاعدہ استاذ
نہیں تھے مگر الحمد للہ اُن کی صحبت سے بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا…
اُن کے ساتھ افغانستان کا ایک یادگار سفر بھی ہوا… اور کئی پرفیض اور پررونق
ملاقاتیں نصیب ہوئیں… حضرت والا نے کئی بار انعامات سے بھی نوازا… اور جہادی تحریر
و تقریر کے معاملے میں میری حیثیت سے بڑھ کر حوصلہ افزائی فرمائی… وہ ایک الگ
طبیعت اور مزاج کے بزرگ تھے… اللہ تعالیٰ نے انہیں رعب سے بھی نوازا تھا اور محبت
سے بھی… ترک منکرات یعنی گناہ چھوڑنے کی دعوت… اُن کا خاص موضوع تھا… خود چونکہ
’’تقویٰ‘‘ کے مقام پر فائز تھے اس لئے دعوت میںتاثیر بھی بہت تھی… بدعات، منکرات
اور خرافات کے سخت مخالف تھے…داڑھی منڈوانے اور ایک مشت سے کم کرانے کو بڑا سنگین
جرم قرار دیتے تھے… اس موضوع پر اُن کی غیرت اور شدت سنت نبوی کے دفاع میں مکمل
عروج پر جا پہنچتی تھی… اسی کی خاطر اپنے بہت سے اقارب کو کھو دیا مگر آخری دم تک
اپنے موقف پر ڈٹے رہے … ہاں بے شک! جس موقف کو کسی انسان نے اللہ تعالیٰ کی رضاء
کے لئے اختیار کیا ہو … اس پر اسے مرتے دم تک قائم رہنا چاہیے … زمانے کے ساتھ رنگ
بدلنے سے وقتی ترقی تو ملتی ہے… مگر وہ انسان کے کسی کام کی نہیں ہوتی …اسی طرح
خواتین کے شرعی پردے کے معاملے پر حضرت والا کا موقف بالکل دوٹوک اور عام دستور سے
ہٹ کر کافی شدید تھا…ویسے جس طرح شرعی پردہ مسلمانوں میں معدوم ہوتا جا رہا تھا …
اس میں ایسے ہی سخت موقف سے کچھ اصلاح ممکن تھی… اور فتنے کا سیلاب کچھ ٹھنڈا پڑ
گیا تھا …تیسری چیز جس پر حضرت والا کسی بھی طرح کی نرمی یا مفاہمت کے قائل نہیں
تھے…وہ تھی تصویر بازی ، فوٹو بازی ، ویڈیو بازی اور ٹی وی وغیرہ… حضرت والا کی
تقریباً ہر تقریر ، ہربیان اور ہر مجلس میں’’ تصویر بازی‘‘ پر سخت نکیر کی جاتی
تھی…حضرت والا نے اس پر کئی مستقل بیانات بھی فرمائے… ایک رسالہ بھی رقم کرایا اور
اسے بڑی تعداد میں تقسیم فرمایا… اور زندگی کے آخری لمحے تک آپ اپنے اس موقف پر
مضبوطی سے ڈٹے رہے… اب معلوم نہیں وہ رسالہ کہیں ملتا ہو گا یا نہیں؟… اسے شائع
کیا جاتا ہو گا یا نہیں؟۔
دراصل ایک ملاقات میں حضرت
والا نے بندہ کو تلقین فرمائی تھی کہ… اپنے مضامین میں حضرت والا کے رسائل ، مواعظ
اور کتابچوں کی دعوت دیا کروں… اپنی نظر بندی کے دوران بندہ نے اس سلسلے میں
مضامین شروع کر دئیے تھے… حضرت والا کے چند رسائل کا تعارف ان مضامین میں تفصیل سے
آ گیا تھا… مگر پھر یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا اور ناگزیر وجوہات کی وجہ سے وہ کالم
ہی بند کرنا پڑا… آج مجھے پھر حضرت والا کا وہ حکم یاد آیا… تب خیال آیا کہ…
اکابر کی باتوں میں کس قدر حکمت ہوتی ہے… حضرت مفتی رشید احمد صاحب نور اللہ مرقدہ
کے انتقال کو ابھی زیادہ عرصہ نہیں گذرا… اتنے بڑے عالم اور علامہ جن کے ہزاروں
شاگرد ہیں … مگر آج اُن کے نظریات کو سمجھنے کے لئے…اُن کی اپنی تحریروں اور
تقریروں کے علاوہ اور کوئی ذریعہ موجود نہیں ہے … یقیناً بہت سے افراد… اب بھی
حضرت والا کے نظریات اور فرمودات پر عمل کرتے ہوں گے …اور یہ بھی درست ہے کہ حضرت
والا صرف دو چار مشہور مسائل کا نام نہیں تھے … مگر پھر بھی کچھ اکابر کے ساتھ
ایسا ہوتا ہے کہ… اُن کے انتقال کے بعد… اُن کا نام، اُن کے مشہور نظریات اور اُن
کا تذکرہ کچھ عرصہ کے لئے گم ہو جاتا ہے… لیکن ایک عرصہ گذرنے کے بعد پھر اچانک
دھند چھٹتی ہے اور اُن کا نام اور کام چمکنے لگتا ہے… میں اسلامی تاریخ سے ایسی
کئی مثالیں پیش کر سکتا ہوں… امت میں کئی ایسے حضرات بھی گذرے ہیں کہ اُن کے
انتقال کے بعد اُن کا نام لینے…اور اُن کی کتابیں گھر رکھنے تک کو جرم قرار دیا
گیا… مگر کچھ عرصہ گذرنے کے بعد دھند چھٹ گئی… اور اُن کا نام اور کام دوبارہ زندہ
ہو گئے … وجہ یہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ کیا ہوا کوئی عمل ضائع نہیں ہوتا… اور کوئی
بھی نمائشی کام زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہتا… اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ… {اَمَّا
الزَّبَدُ فَیَذْھَبُ جُفَاءً} [الرعد: ۱۷] … جھاگ
بالآخر مٹ جاتی ہے… جب سیلاب آتا ہے تو جھاگ ہر طرف چھا جاتی ہے اور پانی اس کے
نیچے گم ہو جاتا ہے … بظاہر یہی لگتا ہے کہ اب ہمیشہ اسی طرح رہے گا… مگر پھر
اچانک جھاگ ختم ہونے لگتی ہے اور پانی باقی رہتا ہے…{وَ اَمَّامَایَنْفَعُ
النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِی الْاَرْضِ} [الرعد:۱۷] … یعنی جس چیز سے انسانوں کو فائدہ ہوتا ہے وہ زمین پر برقرار
رہتی ہے… اور اصل فائدہ… آخرت کا فائدہ ہے، دین کا فائدہ ہے۔
حضرت بری ہیں
آج صبح ایک بیان سنا… یہ بیان حضرت
والا کی طرف منسوب ادارے میں کیا گیا اور اس میں جہاد فی سبیل اللہ کی مخالفت کی
گئی … اور مقدس افغان جہاد کو امریکی جنگ کہا گیا… تب مجھے وہ منظر یاد آ گیا جب…
افغان جہاد کی نمایاں شخصیت حضرت مولانا جلال الدین حقانی رحمہ اللہ … جو کہ
’’شامل ثانی‘‘ اور ’’فاتح خوست‘‘کے لقب سے معروف ایک … مثالی مجاہد اور عالم
ربّانی تھے… اور یہ امارت اسلامی سے پہلے کے دور کا جہاد تھا … حضرت حقانی کراچی
تشریف لائے تھے … اور حضرت اقدس مفتی رشید احمد صاحب نور اللہ مرقدہ نے آپ کا
والہانہ استقبال فرمایا تھا…حضرت والا کے علمی ادارے میں حضرت حقانی کا مفصل بیان
ہوا… اور پھرحضرت اقدس مفتی رشید احمد صاحب نور اللہ مرقدہ نے افغانستان کا جہادی
سفر کیا… اور اس دورے میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ… اگر میں جہاد میں شرکت کے لئے
یہ سفر نہ کرتا تو میری زندگی ادھوری رہ جاتی…بہرحال حضرت والا افغان جہاد کو شرعی
جہاد سمجھتے تھے اور جو کچھ آج ہم سن رہے ہیں وہ بیان کرنے والوں کے اپنے نظریات
ہیں… جبکہ حضرت والا ان افکار و نظریات سے بری ہیں۔
ایک گزارش
میرے اس کالم کا مقصد کسی پر تنقید کرنا
نہیں ہے… مجھے تنقید کرنے سے ڈر لگتا ہے… کیونکہ جب تک اپنا خاتمہ ایمان پر نہ ہو
جائے… اس وقت تک ہر انسان خود خطرے میں رہتا ہے…جو لوگ دین کا کام کر رہے ہیں اللہ
تعالیٰ اُن سب کی نصرت اور رہنمائی فرمائے… آپ اگر میرے آج کے مضمون کو غور سے
پڑھیں گے تو… آپ کو اس میں کہیں بھی کسی پر تنقید نظر نہیں آئے گی… اکابر و
مشائخ سب کے مشترک ہوتے ہیں… حضرت مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ بھی …
ہم سب کے بزرگ تھے… اُن کی یاد میں درست اور اچھی باتیں لکھنا اور بولنا یہ سب کا
حق ہے… اگر کل اُن کے اپنے ادارے کے اجتماع میں… انہیں یاد نہیں کیا گیا… تو یہ
بھی کوئی عیب کی بات نہیں… اہل اختیار کو اپنے معاملات کا خود اختیار ہوتا ہے… اور
اگر آج ہم نے اپنی مجلس کو اُن کے تذکرے سے مہکایا ہے تو اس پر بھی کسی کے لئے
اعتراض کی گنجائش نہیں ہے… اللہ تعالیٰ حضرت والا کی اُن باتوں کو… جو اللہ تعالیٰ
کو پسند ہیں امت میں جاری اور زندہ فرمائے… اور ہم میں سے جس کی بھی جو بات اللہ
تعالیٰ کو پسند نہیں ہے اور امت کے لئے نافع نہیں ہے… اللہ تعالیٰ اسے مٹا دے…
معاف فرما دے… بندہ آپ سب سے حضرت والا کے مواعظ اور رسائل پڑھنے کی گذارش کرتا
ہے۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ برے خاتمے سے ہم سب کی
حفاظت فرمائے… حضرت سیّد احمد شہید رحمہ اللہ جب سکھوں کے خلاف جہاد کر
رہے تھے تو عین لڑائی کے دوران ایک سکھ مسلمان ہو کر اسلامی لشکر میں شامل ہو گیا
اور شہید ہوا…جبکہ ایک مسلمان مرتد ہو کر سکھوں کے ساتھ جا ملا اور اسی لڑائی میں
مردار ہو گیا… ایک خاتون نے اپنا واقعہ لکھا ہے کہ… وہ ایک جگہ’’میت‘‘ کو غسل دینے
کے لئے گئی… جس مردہ عورت کو غسل دینا تھا اس کا چہرہ غسل کے دوران کوئلے کی طرح
سیاہ ہو گیا… اور اس کے جسم کا گوشت ہاتھ لگانے سے پھٹنے لگا…یا اللہ! رحم… کسی نے
بتایا کہ… نماز نہیں پڑھتی تھی اس لئے چہرہ سیاہ ہو گیا… اور جسم کی نمائش کرتی
تھی…پردہ نہیں تھا … تو جسم اس طرح پھٹنے لگا…آج صبح کی نماز میںکتنی مسلمان
خواتین بروقت بیدار ہوتی ہیں؟… آج کتنی مسلمان عورتوں کو اپنا جسم اچھی طرح
چھپانے کی فکر ہے؟… مسلمان عورت کا باعزت لباس… سیدھا سادہ، ڈھیلا ڈھالا اچھی طرح
جسم کو چھپانے والا ہوتا ہے… نہ بے پردہ، نہ تنگ… بس چند دن بعد ہی ہم نے ڈھیلا
ڈھالا کفن پہن لینا ہے… یا اللہ!برے خاتمے سے ہم سب کی حفاظت فرما۔
مبہم خبر
خبروں کا تو پتا نہیں چلتا کہ کون سی
سچی ہے اور کون سی جھوٹی… ویسے اکثر جھوٹی ہوتی ہیں… اور صحافت ایک ’’مافیا‘‘ بن
چکی ہے… ایک خبر یہ چل رہی ہے کہ امریکی مخبر ڈاکٹر شکیل آفریدی کو امریکہ کے
دباؤ میں آ کر رہا کیا جا رہا ہے… اگر یہ سچ ہے تو بہت خطرناک ہے… اس طرح کے
مجرم کو… کسی کے دباؤ میں ہرگز رہا نہیں کرنا چاہیے… اس سے ملکی سلامتی اور وقار
کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے … اور آئندہ بہت سے لوگ دشمنوں کے ایجنٹ بن جاتے
ہیں۔
دوسری خبر یہ چل رہی ہے کہ… ڈاکٹر شکیل
آفریدی کی رہائی کے بدلے امریکی حکومت نے بہن جی ڈاکٹر عافیہ صدیقی حفظہا اللہ کی
رہائی کی پیشکش کی ہے… اگر ایسا ہے تو حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پریہ پیشکش قبول
کر لے… اس سے ملک کے وقار میں اضافہ ہو گا… اور امت مسلمہ کو
اجتماعی روحانی خوشی اور فتح نصیب ہو گی…امریکہ کے لئے پاکستان میں
مخبروں کی کمی نہیں ہے… یہاں بے شمار ڈاکٹر شکیل اور حسین حقانی موجود ہیں… بلکہ
یہاں تو ایسا طبقہ بھی موجود ہے جو امریکہ کا خود امریکیوںسے زیادہ وفادار ہے… اس
لئے ڈاکٹر شکیل کے امریکہ جانے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا … کیونکہ اس صورت میں
اسے امریکہ کے دباؤ میں نہیں… بلکہ ایک محترم پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے
بدلے رہا کیا جائے گا… اللہ کرے ایسی کوئی خیر کی صورت جلد وجود میں آ جائے۔
حضرت شاہ صاحب کا تحفہ
رزق کے معاملے میں بہت سے مسلمان پریشان
رہتے ہیں… اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو رزق حلال باکفایت عطاء فرمائے…رزق اور مال کے
بارے میں شیطان ہمیشہ انسان کو بے چین اور غیر مطمئن رکھتا ہے… اور یہ بے چینی کسی
انسان کے انجام اور خاتمے کو خراب کر دیتی ہے… ہر وقت اللہ تعالیٰ سے شکوہ… ہر وقت
اللہ تعالیٰ سے ناراض اور روٹھے روٹھے… کہ فلاں کو اتنا دیا ہمیں کیوں نہیں دیا…
استغفر اللہ ، استغفر اللہ… فلاں کے پاس کئی کئی کوٹھیاں اور میرے پاس سرچھپانے کا
گھر بھی نہیں؟ … فلاں کے پاس اتنے پیسے اور میرے پاس کچھ بھی نہیں… وغیرہ وغیرہ…
یہ صورتحال خطرناک ہے… اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو قناعت اور اطمینان عطاء
فرمائے… قناعت اور اطمینان ہو تو انسان کا خاتمہ اچھا ہوتا ہے… کیونکہ وہ اللہ
تعالیٰ سے خوش اور مطمئن ہوتا ہے … بہرحال رزق کی تنگی اگر کسی کو لاحق ہو تو اللہ
تعالیٰ سے شکوہ نہ کرے بلکہ اپنے حالات پر غور کرے… ہمارے بہت سے اعمال اور بہت سے
گناہ ایسے ہیں جن کی نحوست… رزق کی برکت کو ختم کر دیتی ہے۔
ہم اگر حسد چھوڑ دیں تو رزق میں برکت آ
جاتی ہے… ہم غیبت چھوڑ دیں تو رزق میں برکت آ جاتی ہے… ہم دوسروں کے
مال سے اپنی نظر ہٹا لیں تو رزق میں برکت ہو جاتی ہے… ہم خیانت چھوڑ دیں تو رزق
میں اضافہ ہو جاتا ہے… ہم اپنے موجودہ رزق پر شکر ادا کریں تو ہمارا رزق بڑھ جاتا
ہے… ہم اپنی آمدن کا کم از کم پانچ فی صد جہاد اور مسلمانوں کی مدد پر لگائیں تو
ہمارے مال میں بہت اضافہ ہو جاتا ہے… ہم اگر رزق ضائع کرنا چھوڑ دیں تو رزق میں
برکت آ جاتی ہے… ہم اگر نماز کا ہمیشہ وقت پر اہتمام کریں اور ایک نماز بھی قضا نہ
کریں تو رزق میں برکت آ جاتی ہے… ہم اگر ’’ سُبْحَانَ اللہِ وَ بِحَمْدِہٖ‘‘ کو
اپنا مستقل وظیفہ بنا لیں… مثلاً ہر نماز کے بعد ایک سو مرتبہ تو ہمارے رزق کی
تنگی دور ہو جاتی ہے…ہم اگر عزم کر لیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کبھی کسی سے نہیں
مانگیں گے تو ہمارے رزق میں بہت برکت آ جاتی ہے…ہم اگر اپنے جسم ، اپنے لباس،
اپنے بستر اور اپنے گھر کو اچھی طرح پاک رکھیں تو ہمارے رزق میں برکت آ جاتی ہے…
ہم اگر فجر اور عصر کے بعد اللہ تعالیٰ کے ذکر میں ڈوب جائیں تو ہمیں رزق کے بارے
میں بے فکری نصیب ہو جاتی ہے۔
بہرحال رزق کا معاملہ بہت اہم ہے… اس کا
ہماری زندگی سے اور پھر ہمارے ’’خاتمے‘‘ سے گہرا تعلق ہے… اللہ تعالیٰ ہم سب کے
رزق کا معاملہ خالص اپنی رضا کے مطابق بنا دے… حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی
رحمہ اللہ نے رزق میں برکت اور فراخی کے لئے دو مفید اور مجرب وظائف
لکھے ہیں… شعبان کا برکت والا مہینہ چل رہا ہے… اللہ تعالیٰ ہم سب کو شعبان کی
برکت عطاء فرمائے…
اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ
شَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ…
وہ مسلمان جو رزق کی پریشانی میں ہیں
وہ… اللہ تعالیٰ پر کامل یقین رکھتے ہوئے یہ دونوں وظائف… یا ان میں سے ایک کو
اپنے عمل میں لے آئیں…ان شاء اللہ بہت خیر ہو جائے گی… حضرت شاہ صاحب رحمہ
اللہ لکھتے ہیں:
١ ’’بوقت
چاشت چار رکعت نماز پڑھیں اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد سجدہ کریں اور سجدہ میں
ایک سو چار مرتبہ ’’یَا وَھَّابُ‘‘ پڑھیں… اور اگر فرصت نہ ہو تو صرف پچاس بار
پڑھیں۔‘‘
٢ ’’مغرب
کے بعد ایک بار سورۂ واقعہ پڑھیں… پھر عشاء کے بعد بھی ایک بار سورۂ واقعہ پڑھیں
اور اکیس بار سورہ ٔمزمل پڑھیں۔‘‘ [فتاویٰ عزیزی]
بے شک یہ دونوں وظائف بہت نافع اور مجرب
ہیں… اور چند بار کرنے سے ہی کام بن جاتا ہے ،ان شاء اللہ۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہمارے مال کو ’’ہمارا‘‘
بنائے… اسے ضائع ہونے سے بچائے۔ ( آمین)
انسان کا اپنا مال وہ ہے… جو آخرت کی
ہمیشہ والی زندگی میں کام آئے… جو اسے اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب سے بچائےجو
اسے قبر کی سختی اور جہنم کی آگ سے بچائے… یا جو اس کی ضروری حاجات میں استعمال
ہو جائے… اور اسے لوگوں سے سوال کرنے سے بچائے۔
حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ
حضرت سیدنا عبد الرحمٰن بن
عوف رضی اللہ عنہ … بڑے اونچے صحابی ہیں… عشرہ مبشرہ میں سے ہیں… اصحاب
بدر میں سے ہیں… غزوۂ بدر سے لے کر آخر عمر تک جہاد سے کبھی پیچھے نہ ہٹے… حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء کی برکت سے اُن کے مال اور
ہاتھ میں عجیب برکت تھی… دن رات جہاد فی سبیل اللہ اور دین کے کاموں پر مال خرچ
فرماتے تھے… مگر مال کم ہونے کی بجائے بڑھتا چلا جاتا تھا… مال کی مشغولیت کی وجہ
سے نہ کبھی جہاد چھوڑا اور نہ کبھی عبادات میں کوئی کمی فرمائی… غزوہ ٔتبوک کے لئے
بہت بڑی رقم ’’چندہ‘‘ فرمائی… اُن کا مال مسلسل خرچ ہونے کے باوجود چونکہ بڑھتا جا
رہا تھا اس لئے وفات کے بعد میراث میں بھی… کافی خطیر رقم چھوڑی … لوگ اُن کی
میراث کا تذکرہ منہ میں پانی بھر کر کرتے ہیں کہ… اتنے ٹن سونا اپنے ورثاء کے لئے
چھوڑ گئے… حالانکہ ہمیں منہ میں پانی بھر کر یہ تذکرہ کرنا چاہیے کہ… انہوں نے
جہاد پر کتنا خرچ فرمایا… دین پر کتنا لگایا… اور اہل عزت پر کتنا خرچ فرمایا…
آئیے! اُن کے بعض واقعات پڑھتے ہیں… امام زہری رحمہ اللہ فرماتے
ہیں:
١ ’’حضرت
عبد الرحمٰن بن عو ف رضی اللہ عنہ نے حضور اقدس صلی
اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنا آدھا مال چار ہزار درہم اللہ کے
راستے میں صدقہ کئے… پھر چالیس ہزار صدقہ کئے، پھر چالیس ہزار دینار صدقہ کئے، پھر
پانچ سو گھوڑے اللہ کے راستے میں دئیے، پھر ڈیڑھ ہزار اونٹ اللہ کے راستے میں
دئیے، اُن کا اکثر مال تجارت کے ذریعہ کمایا ہوا تھا۔‘‘
٢ ’’حضرت
عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک زمین چالیس ہزار دینار
میں بیچی اور یہ ساری رقم قبیلہ بنو زہرہ، غریب مسلمانوں، مہاجرین اور حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں تقسیم کر
دی،اس میںسے کچھ رقم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجی،
انہوں نے پوچھا:یہ مال کس نے بھیجا؟ عرض کیا: حضرت عبد الرحمٰن بن عوف نے۔پھر مال
لے جانے والے نے حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے زمین بیچنے
اور اس کی ساری قیمت تقسیم کر دینے کا قصہ بیان کیا، اس پر حضرت
عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ حضور اقدس صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میرے بعد تو ازواج مطہرات کے ساتھ شفقت کا
معاملہ صرف صابر ( ثابت قدم) لوگ ہی کریں گے…پھر حضرت عائشہ رضی اللہ
عنہا نے دعاء دی کہ اللہ تعالیٰ عبد الرحمٰن بن عوف کو جنت کے سلسبیل
چشمے سے پلائے۔‘‘
٣ ’’ایک
بار حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عبد الرحمٰن بن
عوف رضی اللہ عنہ کی زیادہ مالداری پر کچھ تحفظ کا اظہار فرمایا تو اسے سن کر حضرت
عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنا پورا تجارتی قافلہ جو کہ سات
سو اونٹوں پر مشتمل تھا… سارے سامان تجارت اور اونٹوں سمیت اللہ تعالیٰ کے راستے
میں دے دیا…جبکہ غزوۂ تبوک میں آپ نے دو سو اوقیہ چاندی صدقہ فرمائی۔‘‘ [
ملخص حیاۃ الصحابہ]
مسلمانوں کو چاہیے کہ… حضرت سیّدنا عبد
الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے واقعات معلوم کریں اور توجہ سے پڑھیں تاکہ… مال
خرچ کرنے کی صفت نصیب ہو… اور ہمارا مال ’’ہمارا‘‘ بن جائے۔
حضرت سیّدنا زبیر رضی اللہ عنہ
حضرت سیّدنا زبیر رضی اللہ عنہ … بڑے
اونچے درجے کے صحابی ہیں… عشرہ مبشرہ میں سے ہیں… اصحاب بدر میں سے ہیں… حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت دار ہیں… حضرت صدیق اکبر
رضی اللہ عنہ کے داماد ہیں… اور اسلام کے لئے سب سے پہلے تلوار اُٹھانے
والے جانثار ہیں…انہوں نے اپنے ترکے میں کافی مال چھوڑا … حالانکہ نہ تجارت کرتے
تھے، نہ دنیا کے کاموں میں کبھی مشغول ہوئے… نہ کبھی کوئی عہدہ قبول فرمایا … اور
نہ کسی بڑی تنخواہ والے منصب پر رہے… ساری زندگی جہاد میں گذری… حضور اقدس صلی
اللہ علیہ وسلم … اور پھر حضرت ابوبکر ، حضرت عمر اور حضرت
عثمان رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور کی تقریباً تمام جنگوں میں شریک
رہے… اس جہاد کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے مال میں بے پناہ برکت عطاء فرما دی
تھی…مال غنیمت میں سے کچھ اپنے خیر خواہ دوستوں کو دیتے وہ تجارت میں لگا کر… نفع
کما دیتے… غنیمت میں غلام ملتے تو وہ بھی کما کر لے آتے… مگر حضرت زبیر رضی اللہ
عنہ کو نہ اپنے مال کا کچھ حساب معلوم تھا اور نہ وہ اپنے ذہن کو جہاد سے ہٹا کر
کسی کام میں مشغول فرماتے تھے… لوگ اُن کے پاس امانت رکھوانے آتے تو فرماتے
:امانت نہیں قرضہ کے طور پر دے دو… پھر وہ مال خرچ ہو جاتا… کیونکہ جہاد اور دین
کے کاموں پر مسلسل خرچ کرتے رہتے تھے… آپ کے ایک ہزار غلام جب شام کو اپنی کمائی
لا کر آپ کو دیتے تو اگلے دن سے پہلے آپ وہ سب تقسیم فرما دیتے …یوں آپ کے ذمہ
کافی قرضہ چڑھ گیا… شہادت سے کچھ پہلے اپنے صاحبزادے کو وصیت فرمائی کہ… میرا قرضہ
ادا کر دینا… اگر کہیں مشکل ہو تو میرے مولیٰ سے مدد مانگ لینا… صاحبزادے نے پوچھا
کہ آپ کا مولیٰ کون ہے؟ فرمایا: اللہ تعالیٰ…عربی میں مولیٰ چونکہ کئی معانی میں
آتا ہے …اس لئے صاحبزادے نے وضاحت لے لی… قرضہ بہت زیادہ تھا… جبکہ مال کچھ بھی
موجود نہیں تھا… بس کچھ غیر منقولہ جائیداد تھی… بظاہر یوں لگتا تھا کہ… ساری
جائیداد بیچ کر بھی قرض ادا نہ ہو سکے گا… مگر جب بیچنا شروع ہوئے تو برکت اُتر
آئی… سارا قرض اُتر گیا… اور پھر بھی چھ کروڑ کے لگ بھگ مال ورثاء کے لئے بچ گیا۔
قسمت کی بات ہے
ایک ہی واقعہ ہے کہ… حضرت زبیر رضی اللہ
عنہ کا ترکہ چھ کروڑ کے لگ بھگ تھا… اس واقعے کو امام بخاری رحمہ
اللہ … دعوت جہاد بنا دیتے ہیں … چنانچہ بخاری شریف میں آپ رحمہ
اللہ نے یہ واقعہ بیان کرنے کے لئے… یہ عنوان باندھا ہے:
بَابُ بَرَکَۃِ الْغَازِیْ فِیْ
مالِہٖ حَیًّاوَمَیِّتًا مَعَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم وَ
وُلَاۃِ الْاَمْرِ۔
’’حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم اور اپنے امراء کے ساتھ مل کر جہاد کرنے والے غازی کے مال کی
برکت، زندگی میں اور وفات کے بعد۔‘‘
اس میں امام بخاری رحمہ
اللہ نے کئی نکتے سمجھا دئیے:
١مجاہد فی سبیل اللہ کو برکت نصیب ہوتی
ہے۔
٢ مال
کی کثرت اور چیز ہے اور مال کی برکت اور چیز ہے۔
٣ حضرت
زبیر رضی اللہ عنہ نے کوئی مالی پیشہ یا مصروفیت اختیار نہیں فرمائی بلکہ جہاد ہی
میں لگے رہے… مگر پھر بھی اُن کے مال میں برکت ہوتی رہی۔
٤ جہاد
فی سبیل اللہ برکتیں حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
٥ حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے بعد بھی جہاد کا حکم
باقی رہا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے خلفاء کرام
کے ساتھ مل کر جہاد کیا۔
یہ تو ہوئی امام بخاری رحمہ
اللہ کی قسمت کہ… ایک صحابی کے ترکے اور میراث کو بھی دینی اور جہادی
دعوت بنا کر پیش کیا… جبکہ بعض لوگ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کا ترکہ
بیان کرکے… لوگوں کو ملٹی نیشنل کمپنیاں اور این جی اوز بنانے کی دعوت دے رہے ہیں…
وہ کہتے ہیں کہ… حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے ترکے میں
چونکہ چھ کروڑ چھوڑے اس لئے تمام مسلمان زیادہ سے زیادہ مال بنائیں…ملٹی نیشنل
کمپنیاں کھولیں… این جی اوزبنائیں… وغیرہ وغیرہ… مال کی دعوت کا یہ اسلوب نہ تو
قرآن مجید کے اسلوب سے ملتا ہے …نہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے
یہ طریقہ اختیار فرمایا… اور نہ حضرات محدثین نے اس طرز کو اپنایا… معلوم نہیں… یہ
لوگ کس کے طریقے پر چل رہے ہیں… اور مسلمانوں کو کیا سکھانا چاہتے ہیں؟
اس ترغیب کی کیا ضرورت ہے؟
انسان فطری طور پر مال سے محبت رکھتا ہے
… دنیا میں بہت کم ایسے لوگ ہوتے ہیں جو مال سے محبت نہ رکھتے ہوں… آپ کسی کو
ترغیب دیں یا نہ دیں… مال کی طرف ہر شخص خود ہی دوڑ رہا ہے… مگر منبر
رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بیٹھنے والے علماء کرام کی کیا
ذمہ داری ہے؟ … حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان
گرامی ہے:
اِنَّ لِکُلِّ اُمَّۃٍ فِتْنَۃً
وَفِتْنَۃُ اُمَّتِیْ الْمَالُ ۔
’’بے شک ہر امت کے لئے ایک بڑا فتنہ
ہوتا ہےاور میری امت کا بڑا فتنہ مال ہے۔‘‘
[سنن ترمذی۔ حدیث رقم: ۲۳۳۶، ناشر: دار الکتب العلمیہ۔ بیروت]
حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کا ارشادمبارک ہے:
’’میں تم پر فقر وفاقہ کے آنے سے نہیں
ڈرتا لیکن مجھے تمہارے بارے میں یہ ڈر ضرور ہے کہ دنیا تم پر زیادہ وسیع کر دی
جائے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر وسیع کی گئی تھی پھر تم اس کو بہت زیادہ چاہنے
لگو جیسا کہ انہوں نے اس کو بہت زیادہ چاہا تھا اور پھر وہ (یعنی دنیا کی وسعت) تم
کو تباہ کر دے جس طرح اس نے تم سے پہلوں کو تباہ کر دیا ۔‘‘
[صحیح بخاری۔ حدیث رقم:۶۴۲۵،ناشر:دار الکتب العلمیہ۔ بیروت]
یہ ہے دنیا کے بارے میں…’’ نبوی دعوت‘‘
کا انداز… لوگ دنیا کی طرف طبعی طور پر دوڑ رہے ہوتے ہیں… تب حضرات انبیاء علیہم
السلام اور ان کے متبعین میدان میںآ کر… لوگوں کو دنیا کی حقیقت بتاتے ہیں… وہ
انہیں دنیا میں زیادہ مشغول ہونے سے روکتے ہیں… وہ انہیں مال خرچ کرنے کی جگہیں
بتاتے ہیں… وہ انہیں فرائض پر مال لگانے کی دعوت دیتے ہیں … اور وہ اُن میں حُبّ
دنیا کے جراثیم کم کرتے ہیں۔
آہ افسوس!
آج عالم کفر نے معاشی طور پر… ساری
دنیا کو جکڑ لیا ہے… سود کی لعنت پر مبنی آج کا معاشی نظام غلامی کا سب سے بڑا
پھندہ ہے… جب مسلمان اس نظام کی گرفت میں آ جاتے ہیںتو پھر نہ انہیں دین یاد رہتا
ہے اور نہ جہاد… بلکہ وہ کفار کے ہاتھوں مجبور محض بن جاتے ہیں… اور تو اور وہ
اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں کے لئے آواز تک نہیںاُٹھا سکتے… کیونکہ اس سے اُن کے
کاروباری مفادات … خطرے میں پڑتے ہیں … آج کوئی مسلمان ملٹی نیشنل کمپنی اس وقت
تک نہیںبنا سکتا جب تک وہ… دشمنان اسلام کے سودی نظام کو پوری طرح اپنے
اوپر مسلط نہ کر لے… اور اس سودی نظام کی شرائط کوقبول نہ کر لے…ان حالات میں
علماء کرام کے لئے جائز نہیں ہے کہ… وہ مسلمانوں کو جمع کر کے…زیادہ کمانے، زیادہ
بنانے اور کمپنیاں کھڑی کرنے کی دعوت دیں… اگر انہوں نے ایسی دعوت دی اور کسی نے
اُن کی دعوت قبول کرتے ہوئے اس آگ میں چھلانگ لگا لی تو… سود خوری، سود بازی اور
سود کی اشاعت کا سارا وبال اُن علماء پر ہو گا جنہوں نے یہ دعوت دی تھی… ہاں !اگر
اسلامی حکومت ہو… اور اس حکومت کو مستحکم کرنے کے لئے ایسی دعوت دی جائے تو اچھی
بات ہے… فی الحال علماء کرام کا کام یہ ہے کہ …وہ لوگوں کو حلال مال کمانے… اللہ
کے راستے میں مال خرچ کرنے… مال کے بارے میں اسلامی احکامات کی پیروی کرنے… اور
جہاد پر زیادہ سے زیادہ مال خرچ کرنے کی دعوت دیں …جہاد ہو گا تو کفر کا نظام ٹوٹے
گا… آزادی ملے گی… اور تب اسلامی معیشت اپنے قدموں پر خود بخود مضبوط کھڑی ہو
جائے گی،ان شاء اللہ… ہماری یہ باتیں… آج کے مسلمانوں کو… بہت دور کے
خواب لگتے ہیں… مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے… اسلام کے غلبے کا دور بہت قریب ہے…
بہت قریب… بقدرۃ اللہ، ان شاء اللہ۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کی عظیم کتاب ’’قرآن
مجید‘‘ کا گیارہواں پارہ کھولیں… سورۃ یونس کی آیت رقم ٨٨ دیکھیں… اللہ تعالیٰ کے
دو پیغمبر ایک ’’ظالم کافر‘‘ کے لئے بد دعاء فرما رہے ہیں… حضرت موسیٰ کلیم
اللہ علیہ السلام نے یہ ’’دعاء‘‘ فرمائی اور حضرت ہارون
علیہ السلام نے آمین فرمائی:
{رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰی اَمْوَالِھِمْ
وَاشْدُدْ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ فَلَا یُؤْمِنُوا حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ
الْاَلِیْمَ}
’’اے ہمارے رب ! فرعون اور اس کے
ساتھیوں کے مال و دولت کو تباہ فرما دے، اُن کے دلوں پر گرہ لگا دے تاکہ وہ دردناک
عذاب دیکھنے سے پہلے ایمان نہ لائیں۔‘‘
[یونس: ۸۸]
موت سے پہلے پہلے ایمان بھی قبول اور
توبہ بھی قبول… مگر جب کسی کافر کی موت کا دردناک عذاب اس پر شروع ہو جائے… موت کی
سکرات کا آغاز ہو جائے تو پھر اس وقت نہ ایمان قبول نہ توبہ قبول…اللہ تعالیٰ نے
یہ دعاء قبول فرمائی… اگلی آیت میں اس قبولیت کا ذکر موجود ہے۔
آج جبکہ ’’غزہ‘‘ لہولہان ہے… ہر گھر
میں جنازے ہیں… ہر گھر میں زخمی مسلمان کراہ رہے ہیں… رمضان المبارک میں صرف ایک
دن باقی ہے اور ہمارے فلسطینی بھائی کل سے آج تک اپنے پچپن جنازے اُٹھا چکے
ہیں…کتنی ماؤںکی گود اُجڑ گئی…اُن کے معصوم پھول آگ اور بارود سے کچل دئیے گئے…
کتنی بہنیں بیوہ ہو گئیں…اور ساتھ ساتھ تین ہزار زخمی…ہر گھر میں آہیں ہر گھر میں
سسکیاں… مگر اس کے باوجود تکبیر کے فلک شگاف نعرے…اور آزادی کے نہ مٹنے والے
ولولے… یہ نیا قتل عام… زمانے کے فرعون… ناپاکی کے مجسمے… بے حیائی کے پیکر… ڈونلڈ
ٹرمپ کی وجہ سے ہوا… اس نے ’’بیت المقدس‘‘ کے قریب اپنا ’’سفارت خانہ‘‘ منتقل کرنے
کے لئے اپنی ’’یہودن‘‘ بیٹی کو بھیجا… اور یوں القدس( یروشلم) کو یہودیوں کا
دارالحکومت تسلیم کر لیا… اس پر فلسطینی مسلمان بے چین ہوئے اور چالیس ہزار افراد
نے ایک بارُعب مظاہرہ کیا اور اسرائیل کی ’’باڑ‘‘ کی طرف بڑھے … بزدل یہودیوں کی
روحیں ان کے گلوں تک آ پہنچیں اور انہوں نے… نہتے مظاہرین پر شدید فائرنگ کر دی…
اس میں بچوں سمیت پچپن مسلمان شہید جبکہ تین ہزار زخمی ہو گئے… ٹرمپ کا نجس چونے
جیسا منہ مسلمانوں کے خون سے سرخ ہو گیا… اور نیتن یاہو کے دانتوں سے مزید لہو
ٹپکنے لگا…آئیے! ان مبارک گھڑیوں میں… ٹرمپ، نیتن یاہو اور ان کے حواریوں کے لئے
حضرت کلیم اللہ علیہ السلام کی سنت زندہ کرتے ہوئے بددعاء کریں:
{رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰی اَمْوَالِھِمْ
وَاشْدُدْ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ فَلَا یُؤْمِنُوا حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ
الْاَلِیْمَ}
یا اللہ! ٹرمپ، نیتن یاہو اور اُن کے
حواریوں کے مال و دولت کو برباد فرما دے… اُن کے دلوں پر غم ، صدمے، شقاوت اور
مسلسل بے چینی کی گرہیں لگا دے… اُن کے چہروں کو اُن کی زندگی میں ہی مسخ فرما دے…
اُن سے اُن کی نیند اور آرام کو چھین لے اور اُن کو موت کے وقت اور اس کے بعد
دردناک عذاب سے دوچا ر فرما دے…
آمین یَا
رَبَّ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ۔
انبیاء علیہم السلام رحمت کا
پیکر ہوتے ہیں… مگر مخلوق پر رحمت اُس وقت تک مکمل نہیں ہوتی … جب تک کہ… مخلوق کے
دشمنوں پر سختی نہ کی جائے… جب تک کہ زہریلے سانپ نہ مارے جائیں… جب تک کہ موذی
مچھر ختم نہ کئے جائیں… جب تک کہ قاتلوں اور ظالموں کو مکمل لگام نہ دی جائے… اس
لئے انبیاء علیہم السلام کی ’’بددعاء‘‘ بھی رحمت ہے… فرعون اور اس کے
حواری غرق ہوئے تو کروڑوں انسانوں کو راحت و آزادی اور لاکھوں انسانوں کو ہدایت
نصیب ہوئی… وہ جو کہتے ہیں کہ… کسی کے لئے بددعاء نہ کرو… وہ بہت غلط بات کہتے ہیں…وہ
قرآن مجید کے خلاف بات کرتے ہیں… وہ حضرات انبیاء علیہم السلام کی سنت
سے ناواقف اور دور ہیں… وہ ایمان کے مزاج کو نہیں سمجھتے… وہ دین کے تقاضوں سے
غافل ہیں… جب کوئی کافر اپنے ظلم میں تجاوز کرے تو اس کے خلاف بددعاء کرنا … اور
بار بار کرنا یہ عظیم سنت ، عظیم عبادت اور عظیم اخلاق کا حصہ ہے…ا ور اس سے
انتقام کی تدبیر کرنا… اور اس کے خاتمے کی منصوبہ بندی کرنا… یہ دین اسلام کا حکم
اور تقاضہ ہے… اللہ تعالیٰ ہمیں…پورا اسلام عطاء فرمائے… اور ہمارے مزاج اور اخلاق
بھی…اسلام کے مطابق بنائے … آج جب ہم نے اُن کے لئے ’’بددعاء‘‘ چھوڑ دی ہے…جن کے
لئے ’’بددعاء‘‘ کرنا’’قرآن مجید‘‘ سے ثابت ہے اور جن کے لئے بددعاء کرنا… حضرات
انبیاء علیہم السلام اور حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کی سنت ہے تو پھر… ہماری ’’بددعاؤں‘‘ کا رخ اپنوں کی طرف ہو گیا
ہے… مائیں اپنے بچوں کو… بیویاں اپنے خاوندوں کو…خاوند اپنی بیویوں کو… بھائی اپنی
بہنوں کو… بہنیں اپنے بھائیوں کو… اور والد اپنی اولاد کو… بددعائیں دے رہے
ہیں…حالانکہ یہاں بددعاء دینے کا عمومی جواز نہیں ہے… اور ایسی بددعائیں خود
بددعاء دینے والے کو ہی تباہ کر دیتی ہیں… یہ دراصل ’’جہاد فی سبیل اللہ ‘‘ سے دوری
کا نتیجہ ہے… جہاد چونکہ دین کا لازمی حصہ ہے تو جو لوگ جہاد کو نہیں مانتے ، نہیں
سمجھتے… وہ پورے دین پر آ ہی نہیں سکتے… ہمارے اخلاق میں سے کچھ چیزوں کی اصلاح
نماز کرتی ہے… کچھ باتوں کی اصلاح حج اور زکوٰۃ سے ہوتی ہے … کچھ اور کی درستگی
روزے سے ہوتی ہے اور کچھ معاملات جہاد سے ٹھیک ہوتے ہیں… ہم جب جہاد کو مانتے اور
سمجھتے ہیں تو… اس کی برکت سے ہمارے اخلاق میں موجود زائد بزدلی ختم ہو جاتی ہے…
زائد نرمی ختم ہو جاتی ہے… ہمیں دشمنی ، دشمنی کی جگہ پراور دوستی،دوستی کی جگہ پر
استعمال کرنے کی صفت نصیب ہوتی ہے… لیکن جب جہاد کو اپنے دین اور اپنے مزاج کا حصہ
نہ بنایا تو پھر… ظالموں اور کافروں کے لئے نرمی اور اپنوں کے لئے سختی آ جاتی ہے
جو… ہمارے ایمان کے لئے خطرناک ہے… اہل غزہ… اہل فلسطین کی قربانیوں اور عزیمت کو
سلام… یا اللہ! ہمیں بھی… فلسطین کے مبارک جہاد میں حصہ ڈالنے کے راستے اور توفیق
عطاء فرما۔ آمین
الحمد للہ، الحمد للہ
ہر سال ان دنوں… رنگ ونور اور مکتوبات
میں رمضان المبارک کے متعلق لکھنے کا معمول ہے… اس سے اپنی بھی اصلاح ہو جاتی ہے
اور پڑھنے والوں کے لئے بھی یاد دہانی ہوتی ہے… مگر اس سال الحمد للہ ’’شہر
رمضان‘‘ کتاب نے یہ ذمہ داری سنبھالی ہوئی ہے… اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ مسلمان اس
کتاب کو ذوق و شوق سے پڑھ رہے ہیں… اور مختلف ذرائع سے دوسرے مسلمانوں تک پہنچا
رہے ہیں… کوئی دس نسخے خرید کر نو تقسیم کر دیتا ہے اور ایک پر اپنا تازہ مطالعہ
شروع کر دیتا ہے… کوئی انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے اس کتاب اور اس کے اسباق
کو عام کر رہا ہے… جبکہ کئی مساجد میں حضرات ائمہ کرام اس کی تعلیم کرا رہے ہیں…
اللہ تعالیٰ ان سب حضرات و خواتین کو جزائے خیر عطاء فرمائیں… جو کسی بھی طرح … اس
کتاب اور اس کی اہم دعوت کو پھیلا رہے ہیں… یا اللہ مجھے اور ان سب کو قبولیت والا
رمضان… مقبول روزوں والا رمضان… قرآن والا رمضان… جہاد فی سبیل اللہ والا رمضان…
مغفرت والا رمضان… جہنم سے نجات والا رمضان… نامۂ اعمال کو وزنی اور بھاری بنانے
والا رمضان… فتوحات اور قلبی خوشیوں والا رمضان… افطار، صدقات اور خیرات والا
رمضان… نوافل اور دعاؤں والا رمضان… صحت و عافیت والا رمضان… برکت اور نور والا
رمضان…ہمیشہ کام آنے والا رمضان… قبر کو روشن اور وسیع کرانے والا رمضان… ایمان
کو عروج تک پہنچانے والا رمضان… گناہوں اور معصیتوں سے پاک رمضان… تمام جائز حاجات
کو پورا کروانے والا رمضان… امراض روحانی اور جسمانی سے شفاء دلوانے والا رمضان…
اور اللہ تعالیٰ سے انعام دلوانے والا رمضان… نصیب فرمائے… آمین
مرحبا رمضان… خوش آمدید رمضان… احبک یا
رمضان…
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہمیں ’’مال‘‘ دیتے ہیں…پھر
فرماتے ہیں… اے میرے بندے اپنے اس مال میں سے مجھے اچھا سا قرضہ تو دے دو… میں
تمہارا یہ قرضہ کئی گنا بڑھا کر واپس لوٹا دوں گا… اور تمہارا یہ مال بڑھتا ہی چلا
جائے گا… یہاں تک کہ جنت کی قیمت بن جائے گا… سبحان اللہ! کیا محبت کا انداز ہے…
اللہ تعالیٰ کو اچھا قرضہ دو… اللہ تعالیٰ کو اچھا قرضہ دو…یہ آواز بار بار قرآن
مجید کی آیات میں سے آتی ہے تو دل چاہتا ہے کہ… بدن پر پہنے کپڑوں کے سوا انسان
اپنا سب کچھ پیش کر دے…عظیم شہنشاہ قرضہ مانگ رہا ہے… مالک الملک قرضہ مانگ رہا ہے…
وہ جس نے سب کچھ دیا وہی قرضہ مانگ رہا ہے… وہ جو ایک اشارے سے سب کچھ چھین سکتا
ہے قرضہ مانگ رہا ہے…وہ جو منٹوں میں فقیر کو بادشاہ اور بادشاہ کو فقیر بنا دیتا
ہے وہ قرضہ مانگ رہا ہے… اور ساتھ وعدہ فرما رہا ہے کہ… میں تمہارا یہ مال بہت
زیادہ بڑھا دوں گا… حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں دس لاکھ گنا…
دوسری روایت میں بیس لاکھ گنا… فرمایا:
{مَنْ ذَاالَّذِیْ یُقْرِضُ اللہَ
قَرْضًا حَسَنًا}
’’کون ہے وہ جو اللہ تعالیٰ کو اچھا
قرضہ دے۔‘‘
{فَیُضَاعِفَہٗ لَہٗ اَضْعَافًا
کَثِیْرَۃً}
’’پھر اللہ تعالیٰ اسے بہت گنا بڑھا
دے‘‘ [البقرۃ: آیت، ۲۴۵]
جس چیز کو اللہ تعالیٰ ’’کثیر ‘‘
فرمائے… یعنی زیادہ… وہ کتنی ہو گی؟ … اللہ تعالیٰ تو ساری دنیا کے مال کو’’
قلیل‘‘ فرماتے ہیں… یعنی تھوڑا… تو پھر اللہ تعالیٰ کا زیادہ کیا ہو گا؟ مبارک ہو
جہاد میں مال لگانے والوں کو… ان کا سودا بڑا کامیاب ہے… اور ان کا نفع بے شمار
ہے… سور ۂ بقرۃ کی اس آیت رقم (۲۴۵) کی
تفسیر میں حضرت شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ کو قرض دے، یعنی جہاد میں
خرچ کرے، اس طرح فرمایا مہربانی سےاور تنگی کا اندیشہ نہ رکھے، اللہ کے ہاتھ کشائش
ہے۔‘‘ [موضح قرآن]
کامیاب تجارت
دنیا میں انسان ایک دوسرے کے ساتھ تجارت
اور کاروبار کرتے ہیں… اس تجارت میں نفع بھی ہو سکتا ہے… اور نقصان بھی… پھر جو
تاجر ہمیشہ نفع کماتا ہو اس کو عقلمند اور کامیاب سمجھا جاتا ہے… حالانکہ وہ بھی
کبھی کبھار نقصان ضرور اٹھاتا ہے… مگر جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ’’تجارت‘‘ کرے
اس کے لئے نقصان کا کوئی خطرہ نہیں… بس نفع ہی نفع ہے… ہر وقت نفع ہے… بہت قریب کا
نفع ہے… اور بہت دور کا نفع ہے…مال بھی بڑھتا ہے… دل بھی صحت مند رہتا ہے… قبر کی
راحت کا سامان بھی بنتا رہتا ہے… اور آخرت میں بھی یہ مال ذخیرہ ہوتا رہتا ہے…
حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ یہ
تجارت کی… ان کے پاس جو تھوڑا سا مال تھا… وہ انہوں نے جہاد پر خوشی خوشی لگا دیا…
یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں قرض رکھوا دیا… اب اس مال نے بڑھنا شروع کیا تو… روم و
فارس کے خزانے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین کے قدموں میں آ گرے… اور آخرت کی اونچی اونچی منزلیں ان
کا مقدر بن گئیں…آج مسلمانوں کے پاس کتنا مال ہے؟… مگر وہ یہ مال جہاد میں نہیں
لگاتے… اللہ تعالیٰ کے پاس قرض نہیں رکھواتے تو… غلامی ہی غلامی ہے… قدم قدم پر
غلامی، بے چینی اور پریشانی… قرآن بار بار پکار رہا ہے:
{وَاَقْرِضُوا اللہَ قَرْضًا
حَسَنًا} [المزمل: ۲۰]
اللہ تعالیٰ کو اچھا سا قرضہ دو… اللہ
تعالیٰ کو اچھا سا قرضہ دو… اللہ تعالیٰ تمہیںبہت بڑھا کر دے گا… بے حساب دے گا…
اجر کریم دے گا… مگر آج جہاد پر خرچ کرنے والے بہت کم رہ گئے… بہت کم رہ گئے۔
ایک منظر دیکھیں
امیر تبلیغ حضرت مولانا یوسف کاندھلوی
رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’غزوۂ تبوک کے موقع پر حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو جہاد میں جانے کی
خوب ترغیب دی اور انہیں اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنے کا حکم دیا … چنانچہ حضرات
صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی بہت دل کھول کر خوب خرچ کیا اور سب سے پہلے
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مال لائے… اپنا سارا مال لائے تھے… جو کہ چار
ہزار درہم تھا تو ان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے
اپنے گھر والوں کے لئے کچھ چھوڑا ہے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے
عرض کیا ہاں! اللہ اور اس کے رسول کو (چھوڑا ہے) حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنا آدھا
مال لائے… حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ اور حضرت طلحہ بن عبید
اللہ رضی اللہ عنہ بھی بہت سا مال حضور صلی اللہ علیہ
وسلم کی خدمت میں لے کر آئے… اور حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ نے
نوے وسق ( تقریباً پونے پانچ سو من) کھجور دی… اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ
عنہ نے تہائی لشکر کا پورا سامان دیا… صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین میں سے سب سے زیادہ انہوں نے خرچ کیا، یہاں تک کہ تہائی لشکر کے
لئے تمام ضروری سامان دیا… حتٰی کہ یہ کہا گیا کہ اب ان کو مزید کسی چیز کی ضرورت
نہیں ہے، یہاں تک کہ مشکیزوں کی سلائی کے لئے موٹی سوئی کا بھی انتظام
کیا۔‘‘ [حیات الصحابہ، ج:۱]
نظر نہیں آتا
ہر مالدار شخص کو… وہ چاہے یا نہ
چاہے… مال خرچ کرنا ہی پڑتا ہے… شادی بیاہ کی رسومات ہوں یا… کسی کے مرنے کی
رسومات… بخیل سے بخیل مشرک بھی ان مقامات پر خرچ کرتے تھے… اور خرچ کرتے ہیں… عام
مسلمان مالدار بھی شادی بیاہ اور مرنے کی رسومات پر کافی مال خرچ کرتے ہیں… اسی
طرح کئی مالداروں کو لوگوں کے شر سے بچنے کے لئے کافی مال خرچ کرنا پڑتا ہے… کچھ
مالدار معاشرے اور خاندان میں اپنی بڑائی جتلانے کے لئے خرچ کرتے ہیں… اور کچھ
لوگ… دوسرں کی محبت اور تعظیم حاصل کرنے کے لئے مال خرچ کرتے ہیں کہ… لوگ ان کے
نیچے لگیں، ان کو کھڑے ہو کر ملیں اور ان کی واہ واہ کریں… یہ تو ہوئے سارے برے
خرچے… اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اس طرح کے خرچوں سے محفوظ رکھے… مال بھی چلا جاتا
ہے… اور کچھ بنتا بھی نہیں… اب آتے ہیں اچھے خرچوں کی طرف… ان کی تفصیل بھی بے
شمار ہے… آپ غریبوں ، بیواؤں ، فقیروں کو صدقہ دیتے ہیں… آپ کوئی خدمت خلق کی
چیز بنواتے ہیں… وغیرہ وغیرہ…یہ سب خرچے بہت اچھے ہیں… اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو
اس طرح کے خرچوں کی توفیق عطاء فرمائے… لیکن جہاد کا خرچہ… بہت عجیب ہے… وہ تو آپ
نے دین اسلام کے غلبے اور تحفظ کی خاطر جہاد میں دے دیا… وہ آپ نے کسی فرد کو
نہیں دیا کہ… وہ آپ کا شکریہ ادا کرے… آپ سے تھوڑا دب کر رہے… وہ آپ نے خاندان
میں عزت بنانے کے لئے نہیں دیا… بلکہ خاندان میں تو آپ کو اسے چھپانا پڑتا ہے کہ…
کوئی مخبری نہ کر دے…اب اس پیسے سے کوئی عمارت بھی نہیں کھڑی ہوئی کہ… جسے دیکھ کر
آپ کا دل خوش ہو… معلوم ہوا کہ… آپ نے دیا مگر اس سے دنیا میں کچھ بھی فائدہ یا
خوشی ملنے کا ظاہری امکان نہیں ہے… بس یہ ہے… اللہ تعالیٰ کا قرضہ… نہ نظر آنے
والا خرچ…دینے والے آپ اور لینے والا اللہ… دنیا کی کوئی منت نہیں…یہ خرچ نظر
نہیں آرہا…نہ عمارت، نہ بلڈنگ، نہ ویڈیو… نہ مووی نہ کہیں بورڈ… مگر نظر نہ آنے
والی چیزیں بہت عظیم ہوتی ہیں بہت بڑی… ہمارے تصور سے بھی بڑی… آسمان کی طرح،
ستاروں کی طرح… بلکہ اُن سے بھی بڑھ کر…ہاں بے شک!…اللہ تعالیٰ نے جہاد میں خرچ
ہونے والے مال کو… بڑا مقام عطاء فرمایا ہے…اللہ تعالیٰ کو مانگنے کی کیا حاجت؟
…مگر اللہ تعالیٰ نے اس مال کی قدر بڑھانے کے لئے… اسے بطور قرضہ مانگا… اور پھر
اس پر بڑے معزز اجر کا وعدہ فرمایا…
{وَلَہٗ
اَجْرٌکَرِیْمٌ} [الحدید: ۱۱]
ایک منظر دیکھیں
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ
نے… غزوۂ تبوک کے جہاد میں بہت زیادہ مال خرچ فرمایا… انہوں نے دوسوا وقیہ چاندی
یعنی آٹھ ہزار درہم، اللہ تعالیٰ کے راستے میں دیئے… حضرت عمر بن
خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یارسول اللہ! میرے خیال میں عبدالرحمٰن
بن عوف (اتنا زیادہ خرچ کرکے) گناہگار ہوگئے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے گھر والوں
کے لئے کچھ نہیں چھوڑا ہے … چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے
اُن سے پوچھا کہ تم نے اپنے گھر والوں کے لئے کچھ چھوڑا ہے؟ انہوں نے کہا :جی ہاں!
جتنا میں لایا ہوں اس سے زیادہ اور اس سے عمدہ چھوڑ کر آیا ہوں۔ آپ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: کتنا؟ انہوں نے عرض کیا:اللہ تعالیٰ اور اس کے
رسول نے جس رزق اور خیر کا وعدہ کیا ہے وہ چھوڑ کر آیا
ہوں۔ [حیات الصحابہ۔ جلد: ۱]
ا یک بات سوچیں
غزوۂ تبوک کا تذکرہ قرآن مجید میں بڑی
تفصیل سے آیا ہے… اس غزوہ میں جانے والوں کے فضائل… اور اس میں نہ جانے والوں کے
لئے وعیدیں اور شرمندگی…اس غزوہ میں خرچ کرنے والے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ
علیہم اجمعین نے بڑی اونچی بشارتیں پائیں… حتٰی کہ حضرت عثمان
غنی رضی اللہ عنہ کو تو… پکی رضا کی بشارت دے دی گئی… اس
غزوہ میں خرچ کرنے والے حضرات کو… اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بھی اتنا دیا کہ… لوگ
آج کل اُن کی میراث شمار کرتے رہ جاتے ہیں… یہ سب کچھ ٹھیک…مگر آپ ایک بات
بتائیں کہ اس مبارک غزوہ میں ہوا کیا تھا؟… آپ سیرت وسِیَر کی ساری کتابیں پڑھ
لیں… اس غزوہ میں نہ جنگ ہوئی… اور نہ کوئی بڑی فتح…نہ کچھ بنا… نہ کچھ تعمیر ہوا…
بس جانا اور آنا ہوا… مگر اس کے باوجود… اس میں خرچ کرنے کے ایسے فضائل… اس میں
نکلنے کے عظیم فضائل… اور اس میں نہ نکلنے پر اتنی وعیدیں… بات دراصل یہ ہے کہ…
اللہ تعالیٰ کو جہاد بہت محبوب ہے… جہاد ایک مستقل فرض اور عبادت ہے… جہاد خود ایک
عظیم عمل ہے… خواہ اس کا کوئی نتیجہ نظر آئے یا نہ آئے…غزوۂ تبوک کا ظاہری
نتیجہ کچھ بھی نہیں تھا… اگرچہ اس کے دور رس اثرات بہت تھے… پس مسلمانوں کو
سمجھایا گیا کہ… جہاد بہت عظیم عبادت ہے… یہ سب سے اونچا عمل ہے… اس میں نکلنا اور
اس میں کچھ لگانا بڑی سعادت ہے… اگرچہ تمہارا لگایا ہوا مال نظر ہی نہ آئے… ’’وہ
آنے جانے‘‘ کی دھول میں گم ہوجائے…مگر وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں گم نہیں ہوگا…
کیونکہ…دنیا میں جب تم کسی امانتدار سچے شخص کو… قرض دیتے ہو تو تمہیں واپسی کا
پکا یقین ہوتا ہے… تو پھر اللہ تعالیٰ سے بڑا سچا کون ہے؟… اللہ تعالیٰ سے بڑا
وعدہ پورا کرنے والا کون ہے؟… جہاد میں لگایا ہوا مال چونکہ تمہیں نظر نہیں آتا
تو ہوسکتا ہے کہ… تمہیں افسوس ہو کہ… میرا مال تو دھول میں اُڑ گیا… بارود میں
بکھر گیا… کاش ’’ٹوں ٹوں‘‘ کرتی کوئی ایمبولینس لے لیتا… نظر تو آتی… ویڈیو بھی
بنتی…تو اللہ تعالیٰ نے اس خیال کی اصلاح کے لئے… ’’قرض‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا…
کہ تم نے جو دیا اُسے زمین میں نہ ڈھونڈو… وہ تو تم نے مجھے قرض دیا ہے… دنیا میں
جب تم کسی کو قرض دیتے ہوتو پھر اس ٹوہ میں نہیں پڑے رہتے کہ… اس نے اس مال کا کیا
کیا… تمہیں بس یہ خیال ہوتا ہے کہ… کچھ عرصہ بعد مجھے میرا مال واپس مل جائے… پس
جہاد میں صدق دل سے لگایا ہوا تمہارا مال… اللہ تعالیٰ کے پاس ہے… اور اس کا وعدہ
ہے کہ… وہ اسے بہت زیادہ بڑھا کر… تمہیں عطاء فرمائے گا… اور عطاء فرماتا رہے گا…
بے شک اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا کسی بندے پر… یہ عظیم
احسان ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے مال کو ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کے لئے قبول
فرما لے…اللہ تعالیٰ کو کیا ضرورت ہے؟ جہاد کو کیا ضرورت ہے؟… مگر جس مسلمان کا
مال جہاد میں قبول ہو جائے اُس کے دنیا و آخرت میں مزے ہو جاتے ہیں… اُسے ایسی
عظیم نعمتیں ملتی ہیں کہ… جن کا تصور بھی پُرکیف ہے… آئیے! عاجزی کے ساتھ التجا
کریں کہ… اللہ تعالیٰ ہم پر یہ عظیم احسان فرمائے کہ ہمارا زیادہ سے زیادہ مال
جہاد فی سبیل اللہ میں قبول فرما لے۔
ایک منظر دیکھیں
جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم نے غزوۂ تبوک کے موقع پر مسلمانوں کو… جہاد پر مال لگانے کی
ترغیب دی تو عورتیں بھی اپنی طاقت اور ہمت کے مطابق جہاد میں نکلنے والوں کی مدد
کرر ہی تھیں، حضرت اُمّ سنان اسلمیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے
دیکھا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں حضور صلی اللہ علیہ
وسلم کے سامنے ایک کپڑا بچھا ہوا ہے جس پر کنگن ، بازو بند ، پازیب ،
بالیاں ، انگوٹھیاں اور بہت سے زیور رکھے ہوئے ہیں… اور اس غزوہ کی تیاری کے لئے
عورتوں نے جانے والوں کی مدد کے لئے جو زیورات بھیجے تھے اُن سے وہ کپڑا بھرا ہوا
تھا۔ [ حیات الصحابہ]
ہاں بے شک! اسلامی فتوحات اور اسلامی
جہاد میں مسلمان خواتین کا بہت بڑا حصہ ہے… تاریخ ان کے کارناموں سے بھری پڑی ہے…
آسمان کو آج بھی وہ منظر یاد ہے جب غزوۂ احد میں حضرت اُمّ عمارہ رضی اللہ
عنہا … حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے
چاروں طرف بہادری کے ساتھ لڑ رہی تھیں اور دشمنوں کو پیچھے دھکیل رہی تھیں… کہتے
ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں… حضرت سیّدنا عمر بن
خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ہدیے کی کچھ چادریں آئیں ان میں
سے ایک چادر بہت عمدہ،بڑی اور قیمتی تھی… کسی نے مشورہ دیا کہ… یہ چادر آپ اپنی
نئی بہو کو عطاء فرما دیجئے… حضرت صفیہ بنت ابی عبید رضی اللہ عنہا کی
آپ کے صاحبزادے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے…
نئی نئی شادی ہوئی تھی… حضرت سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں…
میں یہ چادر ایسی عورت کو بھیجوں گا جو ابن عمر کی بیوی سے زیادہ حقدار ہے اور وہ
ہیں اُمّ عمارہ رضی اللہ عنہا … میں نے حضور صلی اللہ علیہ
وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جنگ احد کے دن میں دائیں بائیں جس طرف
بھی منہ کرتا مجھے اُمّ عمارہ بچانے کے لئے اس طرف لڑتی ہوئی نظر آتی۔
اُمت کی امی جی کا عمل
حضرت عائشہ رضی اللہ
عنہا فرماتی ہیں کہ… حضرت زینب ( اُمّ المؤمنین ) رضی اللہ
عنہا سوت کاتا کرتی تھیں اور حضور صلی اللہ علیہ
وسلم کے لشکروں کو دے دیا کرتیں… وہ لوگ اس سوت سے (کپڑے وغیرہ) سیا
کرتے اور اپنے سفر میں دوسرے کاموں میں لاتے۔ [حیاۃ الصحابہ]
شکر ادا کرو مجاہدو! خوشیاں مناؤ
مجاہدو! اللہ تعالیٰ نے تمہاری یہ شان بنائی ہے کہ اُمّ المؤمنین سیّدہ زینب بنت
حجش رضی اللہ عنہا … جن کا خاص تذکرہ قرآن مجید میں موجود ہے… اور جن
کا نکاح خود اللہ تعالیٰ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے
پڑھایا… وہ مجاہدین کے لئے سوت کات رہی ہیں… آج کل کے لوگ شاید نہ سمجھیں… سوت
کاتنے کا مطلب اون یا کپاس سے دھاگہ اور رسی بنانا ہوتا ہے… یہ بہت محنت طلب کام
ہے جو پہلے ’’چرخے‘‘ پر کیا جاتا تھا… مجاہدین کے مقام کو ہر کوئی نہیں سمجھتا…
اور جو سمجھ جاتا ہے تو پھر وہ ان کی خدمت کو سعادت سمجھتا ہے… اُمّ
المؤمنین رضی اللہ عنہا اپنے مجاہد بیٹوں کے لئے خود سوت
کات رہی ہیں… یہ منظر سوچ کر انسان کے جذبات کا عجیب عالَم بن جاتا ہے… اللہ
تعالیٰ ہمیں بھی جہاد کی نعمت نصیب فرمائے… ہمیں بھی مخلص مجاہد بنائے اور ہمیں
بھی جہاد اور مجاہدین پر دل کھول کر مال لگانے کی توفیق عطاء فرمائے… مسلمان
عورتیں اپنی حدود میں رہتے ہوئے… جہاد میں بھرپور حصہ لے سکتی ہیں… ان کے لئے کوئی
ممانعت یا محرومی نہیں ہے… صرف لڑائی کے لئے میدان میں جانے کی عام اجازت نہیں ہے…
باقی جہاد کے بہت سے کام وہ کر سکتی ہیںا ور انہیں کرنے بھی چاہئیں… حضرت
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے جنگ احد کے دن
اپنے بیٹے کو ایک تلوار دی جسے وہ اٹھا نہیں سکتا تھا تو اس عورت نے چمڑے کے تسمے
سے وہ تلوار اس کے بازو کے ساتھ مضبوط باندھ دی، پھر اسے لے کر حضور صلی
اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا یہ
بیٹا آپ کی طرف سے لڑائی کرے گا۔
لاڈلے، پیارے خوش نصیب
الحمد للہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے ایسے
خوش نصیب اور پیارے بندے بھی دیکھے ہیں کہ… جن کا سب کچھ جہاد میں لگ گیا… سارا
مال بھی، جان بھی… اور جسم بھی… مجھے ایسے افراد پر رشک آتا ہے… کس کس کو یاد
کروں… وہ یاد آتے جاتے ہیں اور آنکھیں بھیگتی چلی جاتی ہیں… ایک نوجوان کو تو
میں نے باقاعدہ حکم اور ترغیب دے کر اس کا مال واپس کیا کہ… یہ اپنی والدہ کو دے
جاؤ …وہ جہاد پر جا رہا تھا اور واپسی کا ذرہ بھر ارادہ نہیں تھا… اور اپنا سارا
مال بھی جماعت کو دینا چاہتا تھا… میں نے اس کے حالات پوچھے اور پھر اسے کہا کہ…
تم جیسا شیر جوان کافی ہے مال اپنی والدہ کو دے جاؤ… وہ حج کر لیں گی… تمہیں اور
زیادہ دعاء دیں گی… جماعت تو ویسے ہی تم جیسے جانبازوں کی مقروض اور احسان مند ہے…
وہ مان گیا اور چلا گیا… اللہ تعالیٰ اس کے درجات بے حد بلند فرمائے… اور کئی کو
دیکھا کہ… آخری معرکے میں جا رہے ہیں اور یہ فکر لگائے بیٹھے ہیں کہ… ہم نے جماعت
سے کتنا کھانا کھایا… اور کتنا خرچہ لیا… اب ہمارے بعد ہماری فلاں چیز بیچ کر اتنی
رقم جماعت میں دے دی جائے… حالانکہ وہ جانتے تھے کہ… انہوں نے جو کچھ کھایا پیا وہ
ان کے لئے حلال طیب تھا… ایسے اللہ والوں کو اگر ہم سونے کے لقمہ کھلائیں تو بھی
ان کی خدمت کا حق ادا نہیں ہو سکتا… مگر وہ تو دال روٹی کو بھی… احسان مانتے ہیں…
اور اس احسان کو چکانے کی فکر میں رہتے ہیں… دراصل وہ اپنا سب کچھ جہاد میں لگانا
ہی اپنی کامیابی اور سعادت سمجھتے ہیں…اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں سے پردے ہٹا
دئیے ہیں… جن کی آنکھوں سے پردے ہٹ جائیں وہ جہاد کے بلند مقام کی ایک جھلک اسی
دنیا میں دیکھ لیتے ہیں…اور پھر اس پر اپنا سب کچھ لگانے کی فکر کرتے ہیں… جبکہ
دنیا میں ایسے مسلمان بھی ہیں کہ… جن کا کبھی ایک پیسہ جہاد پر نہیں لگا… جان تو
دور کی بات… کبھی ان کے پسینے کا ایک قطرہ بھی… جہاد کی خاطر نہیں گرا…اللہ کا وہ
فریضہ جس پر حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خون
نچھاور فرمایا… ان مسلمانوں کی زندگیوں میں…ذرہ برابر اہمیت نہیں رکھتا… بلکہ بعض
بدنصیب تو ایسے کہ وہ مسلمانوں کو… جہاد سے روکتے ہیں… اور جہاد پر خرچ کرنے سے
منع کرتے ہیں… یا اللہ! بد نصیبی سے حفاظت۔
دو باپ، دو بیٹے
قرآن مجید کی آخری سورت میں’’خناس‘‘
کا تذکرہ ہے… ’’خناس‘‘ کہتے ہیں حملہ کر کے چھپ جانے والے کو… یہ ایک تفصیلی موضوع
ہے آج اسی پر لکھنے کا ارادہ تھا مگر پاکیزہ جذبوں کی لہر نے دوسری طرف بہا دیا…
عرض یہ کرنا تھا کہ…’’خناس‘‘ دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں… یہ ’’خناس‘‘ جنات بھی ہوتے
ہیں اور انسان بھی… ان کا ایک وسوسہ اولاد کے روشن مستقبل کے بارے میں ہوتا ہے…
اور اس کی خاطر وہ مسلمانوں سے… بڑے بڑے گناہ، بڑی بڑی خیانتیں کرواتے ہیں… اولاد
کے لئے یہ چھوڑ جاؤ، وہ چھوڑ جاؤ… اولاد کے لئے یہ بنا جاؤ،وہ بنا جاؤ …وغیرہ
وغیرہ … اس پر بس ایک واقعہ لکھ کر آج کی مجلس ختم کرتے ہیں… رمضان المبارک میں
مختصر باتیں ہی اچھی ہوتی ہیں۔
مقاتل بن سلیمان رحمہ
اللہ فرماتے ہیں:
’’حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے
اپنے پیچھے گیارہ بیٹے چھوڑے اور ان کا کل ترکہ اٹھارہ دینار تھا… ان میں سے پانچ
دینار کفن پر لگ گئے، چار دینار کی قبر خریدی گئی… اور باقی نو دینار… ان کے بیٹوں
اور باقی اولاد میں تقسیم ہو گئے… جبکہ ہشام بن عبد الملک نے بھی گیارہ بیٹے چھوڑے
اور اس کے ترکہ میں سے ہر بیٹے کو دس لاکھ (سونے کے) دینار ملے…یہ تو نقد رقم تھی
جبکہ زمینیں، محلات، باغ اور غلام باندیاںان کے علاوہ تھیں… مگر پھر کیا ہوا؟…اللہ
کی قسم! میں نے ایک ہی دن میں دو منظر دیکھے… ایک یہ کہ عمر بن عبد العزیز رحمہ
اللہ کا ایک بیٹا ایک سو گھوڑے تمام جہادی سامان کے ساتھ مجاہدین کو
صدقہ کر رہا تھا…اور دوسرا منظر یہ کہ ہشام بن عبد الملک کا ایک بیٹا بازار میں
بھیک مانگ رہا تھا۔‘‘
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے پیارے بندے… حضرت سیّدنا
عمر بن عبد العزیز… صحابی نہیں ہیں… تابعی ہیں… مگر پھر بھی ان کے نام کے ساتھ
…رضی اللہ عنہ… لکھا جاتا ہے… اور بالکل برحق لکھا جاتا ہے… رضی اللہ عنہ … کا
مطلب اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا… یا دعاء… اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو… ’’رضی اللہ
عنہ‘‘ لکھنے کا کیا حکم ہے؟ بہت سے لوگ بعد کے کئی علماء کے نام کے ساتھ بھی…
’’رضی اللہ عنہ‘‘ لکھتے ہیں… یہ مسئلہ اور علمی بحث پھر کبھی…آج ہم کچھ وقت اللہ
تعالیٰ کے ایک مقرب ولی کے ساتھ گذارتے ہیں… ولی بھی وہ جو ’’صدیق ‘‘ کے مقام پر
فائز تھے… حضرت سیّدنا عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ ۔
عجیب بندے
اللہ تعالیٰ نے {وَالْعَصْرِ }فرما کر…
ایک عجیب راز سمجھا دیا ہے… مگر اللہ تعالیٰ کے بہت کم بندے اس راز کو سمجھتے
ہیں…چنانچہ وہ بندے بھی… بہت عجیب بن جاتے ہیں عام لوگوں سے مختلف… عام روایات سے
ہٹے ہوئے… {وَالْعَصْرِ} کا راز یہ ہے کہ… زمانہ ٹھہرتا نہیں ہے گذر
جاتا ہے… چنانچہ وقتی حالات کو بہتر بنانے کے لئے… اپنی اصل آخرت کی زندگی کو
برباد نہ کیا جائے… تھوڑا سا صبر کرو… وقت گزر جائے گا… آپ سوچیں گے کہ یہ بات تو
سب کو معلوم ہے… پھر یہ ’’راز‘‘ کیسے ہوئی؟… جی ہاں! سب کو معلوم ہے… مگر اس بات
سے فائدہ بہت کم لوگ اٹھاتے ہیں… اس لئے یہ واقعی ’’راز‘‘ ہے… اکثر لوگ اپنی وقتی
مجبوریوں کے سامنے بے بس ہوتے ہیں…بیمار ہوئے تو اب ضرور علاج کرانا ہے… استطاعت
ہو یا نہ ہو… اس کی خاطر چوری کرنی پڑے یا خیانت… بھیک مانگنی پڑے یا ذلت اٹھانی
پڑے… حتٰی کہ نعوذ باللہ کفر اور شرک تک کرنا پڑے تو کئی لوگ دریغ نہیں کرتے…
گرفتار ہوئے تو ضرور رہا ہونا ہے… خواہ دین چھوڑنا پڑے… غربت اور ضرورت آئی تو…
اب ضرور مالدار ہونا ہے… خواہ حرام گوشت بیچنا پڑے… اگر یہ لوگ سوچ لیں کہ… وقت
گذر جاتا ہے… {وَالْعَصْرِ} … یہ بات اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمائی
ہے… پھر تھوڑا سا صبر کر لیا جائے… تو کیا حرج ہے… وہ ظالم حکمران جو… مخلوق کا
مال لوٹ کر خزانے بھرتے رہے ان کا وقت بھی گذر گیا… وہ دفنا دئیے گئے… یا جلا دئیے
گئے… اور وہ حکمران جنہوں نے انصاف کیا… خود تکلیفیں برداشت کیں… ان کا وقت بھی
گذر گیا… اور وہ ہمیشہ کی راحتوں میں جا بسے… واقعی یہ عجیب لوگ ہوتے ہیں… جب ان
کے پاس سب کچھ ہوتا ہے تو اسی وقت وہ فقر اختیار کر لیتے ہیں… جب ان کے پاس وسیع
اختیارات ہوتے ہیں تو اسی وقت وہ بے اختیار ہو جاتے ہیں۔
روئے زمین کی وسیع حکومت کے بادشاہ…
خلیفہ عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ کی چھوٹی بیٹی روتی
ہوئی ان کے پاس آئی … بیٹی کے آنسو باپ کے لئے بڑا امتحان ہوتے ہیں… خلیفۂ وقت
نے اسے گود میں لیا اور وجہ پوچھی… معصوم بچی کہنے لگی ابو! آج عید کا دن ہے… سب
بچوں نے نئے کپڑے پہنے ہیں… جبکہ میرے پاس اور میرے بہن بھائیوں کے پاس نئے کپڑے
نہیں ہیں…سب کے بچے خوشیاں منا رہے ہیں… جبکہ خلیفۂ وقت کی بیٹی پرانے کپڑوں میں
رو رہی ہے… بیٹی کی بات نے باپ کے دل پر اثر کیا… بیت المال تشریف لے گئے…اپنے
خزانچی سے کہا: مجھے اگلے مہینے کا وظیفہ پیشگی مل سکتا ہے؟… خزانچی نے وجہ پوچھی
تو قصہ ارشاد فرمایا… خزانچی نے کہا! امیر المؤمنین! ایک شرط پر اگلے مہینے کا
وظیفہ مل سکتا ہے… پوچھا کیا شرط ہے؟…خزانچی نے کہا…آپ اگلے مہینے تک زندہ رہنے
کی ضمانت دے دیں۔…یہ جواب سن کر رو پڑے اور واپس تشریف لائے… اپنے بیٹوں اور
بیٹیوں کو جمع فرمایا اور کہا… میرے بچو! دو باتوں میں سے ایک اختیار کر لو… یا تو
تم اپنی خواہش پوری کرو اور تمہارا باپ جہنم میں جائے… یا تم صبرو کرو اور ہم سب
جنت میں جائیں… بچوں نے کہا…ابو ہم صبر کرتے ہیں … اور پھر اس گھر میں عید کی
خوشیاں لوٹ آئیں… انسان کی خوشی یا غم کا تعلق کپڑوں اور سامان سے نہیں… اپنی سوچ
سے ہے… دل خوش تو سب کچھ خوش… یہ اس زمانے کی بات ہے… جب حضرت عمر بن عبد
العزیز رضی اللہ عنہ کے عدل و انصاف کی وجہ سے… بیت المال اور خزانے
منہ تک بھرے پڑے تھے… خوشحالی اس قدر پھیل چکی تھی کہ… لوگ صدقہ خیرات ہاتھوں میں
لے کر فقیروں کو ڈھونڈتے پھرتے تھے…مگر دور دور تک کوئی فقیر نہیں ملتا تھا…حتٰی
کہ بعض گورنروں نے امیر المؤمنین کو لکھ بھیجا کہ…حضرت! خوشحالی اور مالداری اتنی
زیادہ ہوچکی ہے کہ…عام لوگوں کے تکبر میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہے… فرمایا: اُن سب
کو’’شکر‘‘ کی تلقین کرو…ہاں بے شک! شکر ’’تکبر‘‘ کا بہترین علاج ہے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی
اللہ عنہ نے ’’خلافت‘‘ کو ’’ذمہ داری‘‘ سمجھا اور پھر اس ’’ذمہ داری‘‘
کو ادا کرنے میں…خود کو اور اپنی اہل واولاد کو تھکایا…چنانچہ اللہ تعالیٰ کی رحمت
پورے ملک پر پھیل گئی… اور مخلوق نے سکھ کا سانس لیا…حضرت جانتے تھے کہ… یہ مشکل
کام ہے مگر {وَالْعَصْرِ} یہ وقت گزر جائے گا…اور آگے بہت کام آئے
گا…چنانچہ…بہت جلد گزر گیا… صرف اڑھائی یا پونے تین سال اور پھر… رحمت ہی رحمت،
راحت ہی راحت۔
ایک بات یاد آگئی
اس سال رمضان المبارک میں ’’رنگ ونور‘‘
کا موضوع ’’انفاق فی سبیل اللہ‘‘ رہا… ایسے میں ایک ضروری بات…فقراء مسلمانوں سے
عرض کرنی ہے… وہ مسلمان جو مال خرچ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے… یہ واقعہ پڑھ لیں۔
’’غزوۂ تبوک کے موقع پر جب حضورِ اقدس
صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کو جہاد میں نکلنے کا حکم
فرمایا تو امیر، غریب سب نکل پڑے…مالدار مسلمانوں نے جن اونٹوں، گھوڑوں کا انتظام
کیا تھا وہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم غریب مجاہدین میں تقسیم
فرمارہے تھے… مگر اس کے باوجود کچھ مسلمان ایسے رہ گئے جن کو سواری نہ مل سکی… ان
مسلمانوں کے حالات بڑے عجیب وایمان افروز تھے… انہوں نے اس موقع پر اتنے سچے آنسو
بہائے کہ… قرآن مجید کی آیات میں اُن کے یہ قیمتی آنسو محفوظ ہوگئے… ان حضرات
میں ایک حضرت سیدنا ثعلبہ بن زید رضی اللہ عنہ بھی تھے… جب اُن کے جہاد
پر جانے کا کوئی انتظام نہ ہوسکا تو وہ رات کو نکلے… اور کافی دیر تک رات میں نماز
پڑھتے رہے پھر رو پڑے اور عرض کیا… ’’یااللہ! آپ نے جہاد میں جانے کا حکم دیا ہے
اور اس کی ترغیب دی ہے پھر آپ نے نہ مجھے اتنا دیا کہ میں اس سے جہاد میں جاسکوں
اور نہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سواری دی جو مجھے جہاد میں
جانے کے لئے دے دیتے…(اب میں یہ عمل کرتا ہوں کہ) کسی بھی مسلمان نے مال یا جان یا
عزت کے بارے میں مجھ پر جو ظلم کیا ہو وہ معاف کردیتا ہوں اور اس معاف کرنے کا
اجروثواب تمام مسلمانوں کو صدقہ کرتا ہوں‘‘… پھر (یہ صحابی) صبح لوگوں میں جاملے،
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج رات کو صدقہ کرنے والا
کہاں ہے؟ تو کوئی نہ کھڑا ہوا… آپ نے دوبارہ فرمایا : صدقہ کرنے والا کہاں ہے؟
کھڑا ہوجائے… چنانچہ حضرت ثعلبہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اپنا رات والا قصہ
سنایا…حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’تمہیں خوشخبری ہو۔
اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! تمہارا یہ صدقہ مقبول خیرات میں لکھا
گیا ہے۔‘‘ [حیات الصحابہؓ]
عجیب بندے
ہر آدمی عہدے اور منصب کی خواہش رکھتا
ہے… مگر یہ عجیب بندے عہدے اور منصب سے ڈرتے ہیں، بچتے ہیں… حضرت سیّدنا عمر بن
عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کو جب اندازہ ہوا کہ مجھے ’’خلیفہ‘‘ بنایا
جاسکتا ہے تو اسی وقت سے کوشش میں لگ گئے کہ… انہیں یہ منصب نہ ملے… جب ان کے
خلیفہ بننے کا اعلان ہوا تو مجمع میں سے دو افراد کے منہ سے بیک وقت اِنَّا
لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ نکلی… ایک ہشام کے منہ
سے کہ… مجھے خلافت کیوں نہیں ملی…اور دوسری حضرت عمر بن عبدالعزیز کے منہ سے کہ…
مجھے خلافت کیوں ملی۔
ہر آدمی عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ…اپنی
راحتوں میں اضافہ کرتا ہے… مگر یہ عجیب بندے عمر گزرنے کے ساتھ صرف ایمان میں ترقی
کرتے ہیں… حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کی ابتدائی
زندگی…بہت شاہانہ تھی…ان کا لباس اور ان کی خوشبو کے ہر سو چرچے تھے… ایک جوڑا
دوسری بار نہیں پہنتے تھے…ان کا صرف ذاتی سامان تیس اونٹوں پر چلتا تھا… مگر کردار
پاک، مزاج میں شرافت اور دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف تھا…خلافت ملی تو… بس ایک جوڑا
کپڑے تھے اور پھر ان پر ایک کے بعد دوسرا پیوند… اہلیہ محترمہ کا سارا زیور بیت المال
میں جمع کرا دیا… وہ اللہ کی بندی بھی اس پر راضی خوش رہی… { اَلطَّیِّبَاتُ
لِلطَّیِّبِیْنَ }
{وَالْعَصْرِ} … وہ وقت گزر گیا… آج تک
یاد کیا جاتا ہے…قیامت تک یاد کیا جائے گا… نفس پرستوں کی صدیاں کوڑے کے ڈھیر میں…
اور اللہ تعالیٰ کے وفادار بندوں کے منٹ اور گھنٹے… صدیوں سے قیمتی… یا اللہ! ہمیں
بھی… اعتبار والا ایمان … مقبول اعمال صالحہ… حق پر مضبوطی… اور تَوَاصِی
بِالصَّبْرِ نصیب فرما۔آمین یا ارحم الراحمین
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ’’رمضان‘‘ کی
مغفرت اور ’’عید‘‘ کی خوشیاں عطاء فرمائے…آپ سب کو پیشگی ’’عید مبارک‘‘ تَقَبَّلَ
اللہُ مِنَّا وَ مِنْکُمْ۔
آج ۲۶ رمضان ۱۴۳۹ھ پیر کا دن ہے… اگر مسلمانوں کو اس بات کا احساس ہو جائے
کہ عید کے دن… ان کی کتنی دعائیں قبول ہوتی ہیں تو وہ آج سے ہی… دعائوں کی تیاری
میں لگ جائیں… اور کبھی بھی عید نماز میں اپنے ساتھ چھوٹے بچے نہ لے جائیں… اور
کبھی عید نماز میں تاخیر نہ کریں… اُس دن تو ’’قبولیت‘‘ کی ’’ہول سیل‘‘ لگی ہوتی
ہے… پورے سال میں یہ خاص الخاص… بہت ہی خاص موقع بس ایک بار آتا ہے… جب ہم’’عید
الفطر‘‘ کے لئے جاتے ہیں… تو ’’عید گاہ‘‘ میں… آخرت کے بارے میں کی گئی ہر دعاء
قبول ہوتی ہے… اور دنیا کے بارے میں کی گئی ہر وہ دعاء جو ہماری مصلحت میں ہوتی ہے
وہ قبول کی جاتی ہے… اور جو مصلحت میں نہیں ہوتی اس کی جگہ اس سے بہتر چیز عطاء
فرمادی جاتی ہے۔
وہ جانتا ہے، ہم نہیں جانتے
ہمارا علم بہت تھوڑا ہے… بہت محدود… ہم
تو یہ چاہتے ہیں کہ بس جو مانگا وہ مل جائے… حالانکہ ہم اکثر غلط چیزیں مانگتے
ہیں… تب ایمان والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی خاص مدد اُترتی ہے اور ہمیں وہ غلط
چیزیں نہیں دی جاتیں… ایک حدیث قدسی ہے… اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’میرے بندوں میں سے بعض ایسے ہیں کہ…
اُن کے ایمان کی درستگی کے لئے مالداری ضروری ہوتی ہے میں اگر اُن کو فقیر کردوں
تو اُن کا ایمان خراب ہوجائے گا… اور میرے بعض بندوں کے ایمان کی درستی فقر (یعنی
غربت) میں ہوتی ہے میں اگر اُن کو مالدار کردوں تو اُن کا ایمان خراب ہوجائے اور
میرے بعض بندوں کے ایمان کی اصلاح صرف بیماری میں ہوتی ہے اگر میں اُن کو صحت دے
دوں تو اُن کا ایمان فاسد ہوجائے اور میرے بعض بندوں کے ایمان کی بھلائی صحت میں
ہوتی ہے اگر میں اُن کو بیمار کردوں تو وہ خرابی میں پڑ
جائیں۔‘‘ [الطبرانی]
بے شک اصل چیز اور اصل نعمت ایمان ہے…
اللہ تعالیٰ اپنے پیارے بندوں کے ایمان کی حفاظت فرماتے ہیں… اور انہیں اُن چیزوں
سے بچاتے ہیں جو اُن کے ایمان کے لئے مضر ہوتی ہیں… حتٰی کہ اللہ تعالیٰ کے بعض
بندے کوئی عبادت کرنا چاہتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ… اس عبادت کی وجہ سے
ان میں عجب اورتکبر آجائے گا تو اللہ تعالیٰ اُن کے لئے اس عبادت کی توفیق نہیں
کھولتے۔ [طبرانی]
بس دعا کرنی چاہئے کہ… ہم اسی طرح اللہ
تعالیٰ کی حفاظت اور نگرانی میں رہیں… ورنہ اگر اللہ تعالیٰ اپنی خاص توجہ ہٹالے
تو پھر… انسان جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے… جو مانگتا ہے اُسے ملتا ہے مگر اس میں خیر
نہیں ہوتی… ایمان کی سلامتی نہیں ہوتی…بس وقتی فائدہ اور پھر ہلاکت اور عذاب…
یااللہ! آپ کی امان۔
بات یہ چل رہی تھی کہ… عید کے دن جب
مسلمان عید کی نماز کے لئے ’’عید گاہ‘‘ پہنچ جاتے ہیں تو… اُن کے لئے رحمتوں اور
قبولیتوں کی بوریاں کھول دی جاتی ہیں…اُن کو رمضان المبارک کی محنت کا اجر جھولیاں
بھر بھر کر دیا جاتا ہے… ان کی ہر دعاء قبول کی جاتی ہے… اُن کے مسائل حل کئے جاتے
ہیں… یہ بڑا خاص موقع ہوتا ہے… مگر ہم میں سے اکثر کو اس کا احساس نہیں… اور بہت
سوں کو اس کا علم نہیں… وہ اپنا بہت سا ٹائم اپنی بناوٹ سجاوٹ پر ضائع کرتے ہیں…
پھر چھوٹے بچوں کو ساتھ لے جاتے ہیں… اور سارا وقت اُن کے ناز نخرے اُٹھانے میں برباد
کردیتے ہیں… آئمہ کرام بھی دعاء کا وقت اور موقع نہیں دیتے… اور نہ اس کی ترغیب
دیتے ہیں… اور یوں ہمارے اجتماعی گناہوں کی شامت کی وجہ سے… یہ قیمتی وقت ہاتھ سے
نکل جاتا ہے… اب یہ اگلے سال آئے گا… اس وقت معلوم نہیں کون زندہ ہوگا اور کون
نہیں۔
سچی بات ہے
اگر مسلمانوں کو احساس ہوجائے کہ… عید
کے دن، عید کی نماز کے وقت اور عید کی نماز کے بعد دعائیں کس قدر قبول ہوتی ہیں تو
وہ… عید کے لئے نئے کپڑے، نئے جوتے اور نئی خریداری بھول جائیں اور بس اس انتظار
میں رہیں کہ… کب وہ لمحہ آئے گا… لوگ دعائوں اور مرادوں کی قبولیت کے لئے دور دور
مزاروں کا سفر کرتے ہیں… حالانکہ ایسا نہیں کرنا چاہئے… کئی لوگ اللہ تعالیٰ کے
اولیاء کی طرف سفر کرتے ہیں کہ اُن سے دعاء کرائیں گے… بیمار ہوں تو دور دور کے
ڈاکٹروں اور حکیموں کا سفر کرتے ہیں… عید کے دن… عید نماز کے وقت جس طرح سے دعائیں
قبول ہوتی ہیں… اور جس طرح سے مرادیں پوری ہوتی ہیں… وہ بزرگوں کی دعائوں اور
ڈاکٹروں، حکیموں کے علاج سے بہت مؤثر ہیں… کاش! مسلمانوں کو احساس ہوجائے اور وہ
یہ نعمت پالیں… آپ نے عید کے دن دیکھا ہوگا کہ… گھر کے بڑے کتنی سخاوت سے اپنے
چھوٹوں میں نوٹ تقسیم کرتے ہیں… پھر جس کا دل جتنا سخی… اور جیب جتنی مضبوط اسی
قدر اس کا ہاتھ بھی کھلا… اب بغیر تمثیل کے سوچیں کہ… اللہ تعالیٰ سب سے بڑے ہیں…
اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ سخی ہیں… اللہ تعالیٰ کے خزانے بے شمار اور لامحدود ہیں
اور اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں سے رشتہ… ماں بیٹے کے رشتے سے بھی زیادہ پیار بھرا
ہے… اور پھر عید کا دن… اور وہ بھی رمضان کے بعد… اب اندازہ لگائیں کہ کیا کیا
تقسیم ہوتا ہو گا… اور کتنا تقسیم ہوتا ہوگا… اور عیدی کا یہ انعام صرف مردوں کے
لئے نہیں ہے… عورتوں کے لئے بھی خوب ہے… وہ بھی اس وقت مصلے پر پہنچ جایا کریں…
اور خوب دل بھر کر اپنے محبوب رب تعالیٰ سے عیدی وصول کرلیا کریں… سچی بات ہے کہ…
عید کی تیاری نہ کپڑوں سے ہے نہ جوتے سے… نہ زیورات سے ہے نہ چوڑیوں سے… نہ سویوں
سے ہے نہ بریانی سے… عید کی تیاری تو اللہ تعالیٰ سے ملنے والی ’’عیدی‘‘ کی چاہت
میں ہے… یہ ’’عیدی‘‘ ایمان والوں کو ’’مغفرت‘‘ کی صورت میں ملتی ہے… انعام کی صورت
میں ملتی ہے… دعاء کی قبولیت کی صورت میں ملتی ہے… یہ عیدی جس کو مل گئی… بس اس کی
‘‘عید‘‘ ہوگئی…اور جو اس عیدی سے محروم رہا… اس بے چارے کی کیا عید؟…شور شرابے،
فیشن، گناہ… اور شہوت میں کونسی عید ہے اور کونسی خوشی؟… عید تو مزدور کی اُجرت
ملنے کا نام ہے… رمضان میں جو مزدوری کی… عید کے دن اس کی پوری پوری اُجرت ملتی
ہے… اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مزید بھی عطاء فرماتے ہیں۔
عید مبارک
آپ سب کو دل کی گہرائی سے… عید مبارک…
بس ہم سب کو ایک بات خوب یاد رہے کہ… عید کے دن بھی اعمال لکھے جاتے ہیں… عید کے
دن بھی مسلمان کا مسلمان رہنا ضروری ہوتا ہے… عید کے دن بھی تقدیر کے فیصلے ہوتے
ہیں… عید کے دن بھی اللہ تعالیٰ کے تمام احکامات ہم پر متوجہ ہوتے ہیں… اور یہ بات
بھی یاد رہے کہ عید کے دن بھی… اللہ تعالیٰ دیکھتے ہیں اور فرشتے لکھتے ہیں۔
آپ سب کو بہت عید مبارک… بس اتنی بات
ہم سب یاد رکھیں کہ عید کے دن مساجد سے جو اذانیں ہوتی ہیں… وہ ہم مسلمانوں کے لئے
ہی ہوتی ہیں… کسی اور قوم کے لئے نہیں… پھر مسجدیں خالی خالی کیوں نظر آتی ہیں؟
آپ سب کو خوشیوں بھری عید مبارک… بس
اتنی سی بات ہم سب کے ذہن میں رہے کہ… پیارا قرآن مجید… عظیم قرآن مجید… سکون
بھرا قرآن مجید عید کے دن… ہم سے عید ضرور ملے… اگر ہم نے اس سے عید نہیں ملی…
اور وہ عید کے دن ہمارے ہاتھوں، ہماری آنکھوں اور ہمارے سینے سے دور رہا تو… پھر
ہم نے کتنی قیمتی ’’عید ملن‘‘ ضائع کردی… عید کے دن قرآن مجید ہاتھوں میں لے کر…
تھوڑی یا زیادہ تلاوت کریں… اور قرآن عظیم الشان سے قیمتی عیدی وصول کریں۔
آپ سب کو ایمان افروز عید مبارک… بس یہ
یاد رہے کہ آپ کے بہت سے بھائی بہن مظلوم ہیں… برما سے لے کر فلسطین تک… کشمیر سے
لے کر افغانستان تک… انڈیا سے لے کر شام تک… عید کے دن ہم اپنی دعائوں اور اپنی
فکر میں انہیں یاد رکھیں… خود کو اور ان کو ایک اُمت مسلمہ اور ایک جسم کا حصہ
سمجھیں… اور ہم ساری دنیا میں برسر پیکار مجاہدین اسلام کے لئے دعاء کرنا ہرگز نہ
بھولیں… ہم ان اولیاء مجاہدین کے لئے دعاء کریں گے تو اس سے ہماری دعائوں کو… ان
شاء اللہ زیادہ قبولیت نصیب ہوگی۔
آپ سب کو قلبی عید مبارک… اپنی محترمہ
بہن جی ڈاکٹر عافیہ کو بھی عید مبارک… بگرام، تہاڑ، جموں، پل چرخی… اور دور دور تک
کی جیلوں میں قید…اُن عظیم انسانوں کو بھی ’’عید مبارک‘‘ جو دین کی خاطر آزمائشیں
اُٹھا کر… بلند مقامات پارہے ہیں… اللہ تعالیٰ ہمیں… اُن کے ’’حق واجب‘‘ کو ادا
کرنے کی فکر، توفیق اور صلاحیت عطاء فرمائے…آمین
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے ’’سمندری جہاد‘‘ کو
خصوصی فضیلت عطاء فرمائی ہے… بحری جہاد، سمندری جہاد ، پانی کے سینے پر سوار ہو کر
جہاد… یہ زمینی جہاد سے دس گنا افضل ہے… حدیث صحیح ہے کہ … حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
غَزْوَۃٌ فِی الْبَحْرِ خَیْرٌ مِنْ
عَشْرِ غَزَوَاتٍ فِی الْبَرِّ۔
’’سمندر میں ایک بار جہاد خشکی پر دس
جنگوں سے افضل ہے۔‘‘
[المستدرک للحاکم۔ ج: ۲، ص: ۱۵۵۔ رقم الحدیث: ۲۶۳۴۔ ط: دار الکتب العلمیہ، بیروت]
سمندر میں شہید ہونے والے مجاہد کو…
خشکی پر شہید ہونے والے مجاہد سے دگنا اجر ملتا ہے… اس بارے میں احادیث اور بھی
بہت ہیں… آپ یہ بتائیں کہ جو شخص تیراکی نہ جانتا ہو… کیا وہ سمندر میں جہاد کر
سکتا ہے؟… جہاد ایک قطعی فریضہ ہے… اور سمندر کا جہاد زیادہ افضل ہے اور سمندر کا
جہاد تیراکی سیکھے بغیر ممکن نہیں ہے… اس سے آپ اندازہ لگا لیں کہ ایک مسلمان کے
لئے… تیراکی سیکھنا اور اس میں حتی الوسع مہارت حاصل کرنا کس قدر ضروری ہے۔
تیراکی اور تُرکی
آج ہمارا موضوع ’’تیراکی‘‘ ہے… اللہ
تعالیٰ اس مبارک عمل کو امت مسلمہ میں جاری فرمائیں… قوت ، صحت اور تازگی سے
بھرپور عمل … ’’تیراکی‘‘ پر مزید بات کرنے سے پہلے… ’’ترکی‘‘ کے
انتخابات اور محترم جناب رجب طیب اردگان کا… عثمانی تھپڑ… الحمد للہ جناب ’’رجب
طیب صاحب‘‘ ترکی کے انتخابات میں کامیاب ہو گئے ہیں… اسلام سے محبت رکھنے والا ہر
شخص اس کی خوشی محسوس کر رہا ہے…اور کرنی بھی چاہیے… ایک طویل عرصہ سے مسلمانوں پر
جس قبیل کے حکمران مسلط ہو رہے ہیں… ان کو دیکھتے ہوئے ’’رجب طیب‘‘ بہت غنیمت لگتے
ہیں… وہ اسلام اور مسلمانوں کی بات بھی کرتے ہیں… اور مسلمانوں کے مسائل پر بے چین
بھی ہوتے ہیں… دین سے متوحش اور بیزار مسلمان حکمرانوں کے درمیان… وہ واقعی ایک
’’عجوبہ‘‘ اور ایک ’’نعمت‘‘ ہیں… اسی لئے دنیا بھر کے مسلمان ان سے محبت رکھتے
ہیں… ان کی تائید اور حمایت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ … ہم صدر طیب کے تمام اقدامات
کی تائید کرتے ہیں… یا ان کو اسلامی محنت اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی منزل سمجھتے
ہیں… ایسا بالکل نہیں… ان کے کئی اقدامات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے… ان کی خارجہ
پالیسی بھی… بہرحال مزید اصلاح چاہتی ہے… اور یہ کہ وہ دنیا بھر میں جاری اسلامی
محنت کے نتائج کا آغاز ہیں… ان شاء اللہ یہ محنت جاری رہی تو مسلمان دنیا میں
اسلام کا غلبہ دیکھیں گے… ایک طرف ساری دنیا کا کفر اور نفاق تھا… رنگین اور منقش
سیکولر ازم تھا… اور دوسری طرف… خلافتِ عثمانیہ کو یاد کرنے والا ایک شخص تھا…
زمانے میں جاری دستور کے مطابق خلافت اور جہاد کا نام لینے والوں کا ہر راستہ بند
کر دیا جاتا ہے… مگر اس شخص کو اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطاء فرمائی… یہ بہرحال
خوشی اور امید کی بات ہے… اللہ تعالیٰ اُمتِ مسلمہ کو مزید عزت اور کامیابیاں عطاء
فرمائے۔
دوسری بات انڈیا کے حوالے سے ہے…
رمضان المبارک میں کشمیری مجاہدین نے دہلی کی پیلی حکومت کو مار مار کر نیلا کر
دیا… ایسے جاندار اور تابڑ توڑ حملے ہوئے کہ ’’آرمی چیف‘‘ تک نے شکست کا اعتراف
کر لیا… عید کے بعد اسی افراتفری میں مقبوضہ کشمیر کی مخلوط حکومت بھی گر گئی… اور
انڈیا نے اپنی فوج اور عوام کے ڈوبتے مورال کو بچانے کے لئے… ایک تشہیری مہم بھی
شروع کی… کبھی کہا جا رہا ہے کہ… بی ایس ایف کے اہلکاروں کو ’’سنائپر‘‘ کی تربیت
دی جا رہی ہے… عجیب مضحکہ خیز بات ہے… دنیا کی چھوٹی سے چھوٹی فوج میں بھی
’’سنائپر ‘‘ کی تربیت ہوتی ہے… یہ کوئی نئی یا ڈرنے والی بات نہیں ہے… ہاتھ میں
’’سنائپر‘‘ ( یعنی دور تک مار کرنے والی لمبی بندوق) پکڑائی جا سکتی ہے مگر سینے
میں دل تو وہی ہوتا ہے… ابھی کچھ عرصہ پہلے ہمارے مجاہدین کے ایک حملے میں انڈین
کمانڈوز کا استاذ… ہارٹ اٹیک سے مر گیا…اب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ… کشمیر میں
بلیک کیٹ کمانڈوز کو لایا جا رہا ہے… یہ بھی محض پروپیگنڈہ ہے… کشمیر میں انڈیا کی
ہر فورس پہلے سے موجود ہے اور بُری طرح ناکام ہو رہی ہے… اس کے بعد یہ شور مچایا
جا رہا ہے کہ کشمیری شہداء کے جنازے ان کے اہل خانہ کے سپرد نہیں کئے جائیں گے…
مجاہدین کے لئے یہ بھی کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے… کیونکہ شہداء کرام کے جنازے
فرشتے ادا کرتے ہیں… اور ان کا پیغام اور ان کی محبت اللہ تعالیٰ خود مسلمانوں کے
دلوں تک پہنچاتے ہیں… میرے خیال میں اگر انڈیا نے شہداء کرام کے جنازے ان کے اہل
خانہ کے سپرد نہ کئے تو اس سے تحریک کو بہت فائدہ پہنچے گا… اہل کشمیر کی انڈیا کے
ساتھ نفرت میں اضافہ ہو گا… اس پر بہت خوفناک احتجاج ہو گا… اور بے شمار نوجوان…
ان شاء اللہ راہ جہاد میں شامل ہوں گے…انڈیا نے ہمارے طلحہ شہید رحمہ
اللہ کو… خفیہ طور پر سپرد خاک کیا مگر آج ان کا درد اور پیغام کشمیر
کی گلی گلی میں پھیل رہا ہے، والحمد للہ رب العالمین۔
آئیے! تیراکی سیکھئے
آج کی مجلس میں ہر مسلمان یہ نیت کر لے
کہ … وہ ان شاء اللہ… اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے تیراکی سیکھے گا… جہاد فی سبیل
اللہ کی نیت سے تیراکی سیکھے گا… حضرات خلفاء راشدین رضوان اللہ علیہم
اجمعین کا حکم مان کر تیراکی سیکھے گا… حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ
علیہم اجمعین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تیراکی سیکھے گا… اُمت مسلمہ کے
جانباز فاتحین جنہوں نے قسطنطنیہ کو فتح کیا… ان کی راہ پر چلتے ہوئے تیراکی سیکھے
گا… اور اپنی اولاد کو…نہایت اہتمام سے تیراکی سکھائے گا…حضرت امام جلال الدین
سیوطی رحمہ اللہ نے تیراکی کی فضیلت پر ایک مستقل رسالہ لکھا ہے اس
رسالہ کا نام ہے ’’اَلْبَاحَۃُ فِی فَضْلِ السِّبَاحَۃ‘‘…اس میںانہوں
نے تیراکی کی فضیلت پر روایات جمع فرمائی ہیں… آج ارادہ تھا کہ اس
رسالہ کا ترجمہ… رنگ و نور میں پیش کیا جائے مگر یہ کام اب ان شاء اللہ اگلے ہفتے
ہو گا… تیراکی ایک بہترین تفریح اور کھیل بھی ہے… آج کل کے میڈیکل سائنسدان
تیراکی کو… سب سے بہترین ورزش قرار دیتے ہیں… اور اسے بے خوابی ، ذہنی دباؤ ، کمر
درد… اور بہت سی بیماریوں کا علاج بھی قرار دیتے ہیں… حضرت سیدنا امیر المؤمنین
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے… اپنے گورنروں کے ذریعہ اسلامی
دنیا میں… یہ لازمی حکم جاری فرما دیا تھا کہ… ہر مسلمان اپنے بچوں کو تیراکی ،
تیر اندازی اور گھڑ سواری سکھائے… آج کل لوگ ان کھیلوں پر اپنا وقت ضائع کر رہے
ہیں… جن میں نہ دین کا فائدہ ہے اور نہ جسم کا… جبکہ تیراکی میں دین کا بھی فائدہ
ہے اور جسم اور دنیا کا بھی… اور تیراکی بہت آسان عمل ہے… بچے تو چند دن میں سیکھ
لیتے ہیں اور پھر پوری زندگی اپنے ان والدین کو دعاء دیتے ہیں جنہوں نے ان کے لئے…
اس نعمت اور صلاحیت کا بندوبست کیا… جبکہ بڑی عمر کے افراد بھی… تھوڑی سی کوشش کر
کے یہ عمل سیکھ سکتے ہیں… یقین فرمائیں کہ تیراکی… آپ سے بہت سی دوائیں چھڑوا دے
گی… آپ کو بہت سے ڈاکٹروں سے بچا لے گی… اور جتنی دیر آپ پانی میں ہوں گے… اتنی
دیر یوٹیوب ، فیس بک اور ٹوئٹر وغیرہ… بیماریوں سے بھی… آپ دور رہیں گے… کیونکہ
فی الحال عام موبائل پانی میں کام نہیں کرتے… دیکھیں! یہ عظیم جلیل القدر صحابی
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کیا فرما رہے ہیں؟… فرماتے ہیں کہ
میں سمندر میں جہاد کروں یہ میرے نزدیک …سونے کا ایک بڑا ڈھیر مقبول صدقہ کرنے سے
زیادہ محبوب ہے… مطلب یہ نکلا کہ اگر تیراکی آتی ہو تو… انسان سمندری جہاد کے
ذریعے… اربوں روپے مقبول صدقے سے بڑا اجر حاصل کر سکتا ہے۔
آج بس اتنا ہی… اگلے ہفتے ان شاء اللہ
اسی موضوع پر مزید بات ہو گی اور حضرت سیوطی رحمہ اللہ کے
رسالہ کا ترجمہ بھی آ جائے گا… یا اللہ! آسان فرمائیے … قبول فرمائیے… دِلوں میں
بات اُتار دیجئے…خالص اپنی رضاء کے لئے… اپنے کلمے اور دین کی قوت کے لئے، آمین
یا ارحم الراحمین۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے ’’انسان‘‘ کو بڑی عزت،
قوت اور شان بخشی ہے…سمندروں،دریاؤں، پہاڑوں اور بڑے بڑے جانوروں کو انسان کے لئے
’’مسخر‘‘ فرما دیا ہے… انسان تھوڑی سی محنت اور کوشش کرے تو … بڑے کمالات حاصل کر
لیتا ہے… تیراکی بھی ایک نعمت، ایک فضیلت ، ایک کمال… اور ایک ہنر ہے…دین کی خاطر،
جہاد کی خاطر، اپنی مضبوطی کی خاطر… اور خدمت کے لئے یہ ’’ہنر‘‘ سیکھنا چاہئے…
ہمارے ہر طرف پانی ہی پانی ہے…زمین کا اکثر حصہ پانی پر مشتمل ہے… پانی میں ہماری
حیات ہے… پانی میں ہماری قوت اور توانائی ہے…اور پانی میں ہماری غذا ہے… اس لئے پانی
سے دوستی لگانی چاہیے … پانی کو ضائع نہیں کرنا چاہیے… اور پانی کو گناہوں سے پاک
رکھنا چاہیے… آج سمندروں کے ساحل گناہوں سے آلودہ ہو گئے …آج دریاؤں اور ندیوں
کے کنارے ذکر اللہ کو ترس گئے… آج پانی صرف عیاشی اور بدمعاشی کی تفریح گاہ بن
گیا… آہ کاش! مسلمان پانی کو سمجھتے… پانی سے دوستی لگاتے اور پانی کو اپنا جہادی
دوست بناتے تو… دنیا خیر سے بھر جاتی…پانی کاجہاد اس قدر مبارک ہے کہ… حضرت سیّدہ
اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
’’اگر میں مرد ہوتی تو پھر صرف سمندر ہی
میں جہاد کرتی رہتی کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا ہے: ’’جسے سمندر میں قے آ جائے وہ ( اجر و ثواب میں) خشکی پر اپنے خون میں
لت پت ہونے والے جیسا ہے۔‘‘
( فضائل جہاد بحوالہ کتاب السنن)
حضرت محبوب آقا صلی اللہ
علیہ وسلم کی خوشی اور مبارک مسکراہٹ
مسلمانوں کا سمندری جہاد حضرت سیّدنا
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں شروع ہوا… مگر اس کی فکر اور تیاری
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانے سے جاری تھی…آپ نے بخاری
اور مسلم کی وہ روایت سنی ہو گی جس میں… حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کو خواب میں اس اُمت کے ’’بحری مجاہدین‘‘ دکھائے گئے تو آپ خوشی
سے مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے اور بشارت سنائی کہ… مجھے میری امت کے کچھ لوگ دکھائے
گئے جو سمندر میں اس طرح سے سوار ہو کر جہاد کریں گے جس طرح بادشاہ اپنے تخت پر
بیٹھتے ہیں… یہ خواب ایک ہی مجلس میں بار بار آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کو دکھایا گیا اور ہر بار آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے اس پر خوشی اور مسکراہٹ نچھاور فرمائی… سبحان اللہ! کیسا مبارک
جہاد ہے اور کیسے خوش نصیب مجاہدین … آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کا یہ خواب اور اس لشکر کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی بشارتیں… اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی
اس لشکر پر خوشی اور مسکراہٹ نے بحری جہاد کو مسلمان کے لئے بے حد محبوب بنا دیا
اور وہ اس کی تیاری اور فکر میں لگے رہے… چنانچہ حضرت سیّدنا فاروق
اعظم رضی اللہ عنہ نے تیراکی سکھانے کا باقاعدہ حکمنامہ
جاری فرمایا… خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین اسی عمل کو جاری
فرماتے تھے جو … حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین،
شریعت اور پسند کے مطابق ہوتا تھا… اسی لئےحضرات خلفاء راشدین کی سنت کو اپنانے کا
حکم فرمایا گیا ہے۔
تیراکی کی یہ سنت آج دیندار مسلمانوں
میں ’’مفقود‘‘ ہو رہی ہے… مشائخ کرام ، علماء عظام اور دیندار مسلمانوں کو اس کی
طرف توجہ فرمانی چاہیے… اور اس مبارک عمل میں کمال حاصل کرنا چاہیے… ہم نے اللہ
تعالیٰ کے بھروسے پر… اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے یہ دعوت اُٹھائی ہے… اور اپنی
وسعت کے مطابق تیراکی کی تعلیم کے لئے… کچھ انتظام بھی کیا ہے… الحمد للہ اب تک
کئی افراد سیکھ چکے ہیں اور امید ہے کہ… جماعت کے دیوانے خود اس عمل کو اپنا کر
آگے اس کی دعوت چلائیں گے تو ہزاروں لاکھوں مسلمان تیراکی کے مبارک عمل کو سیکھ
لیں گے… اور جب وہ سیکھ لیں گے تو ان کو عمر بھر دعائیں دیں گے جنہوں نے انہیں اس
عمل کی دعوت دی ہو گی۔
آج کیا ہو رہا ہے؟
آج پانی، ساحل سمندر، ندیاں، چشمے اور
جھیلیں ’’بُرائی‘‘ اور ’’گناہ‘‘ کے اڈے بن چکے ہیں… جب اہل ایمان اور اہل تقویٰ نے
پانی کو اکیلا چھوڑ دیا تو کفار اور فساق نے اس پر قبضہ جما لیا… حالانکہ ہم اگر
ماضی کے روشن قصے پڑھیں تو ہم دیکھیں گے کہ ہمارے اسلاف اور اولیاء کرام پانی سے
کس قدر انس رکھتے تھے… وہ اپنے زمانے کے بہترین تیراک تھے… وہ پانی میں غوطہ لگاتے
تو باہر والے ان کے نکلنے کے انتظار میں تھک جاتے جبکہ وہ… سانس بند کر کے پانی
میں سجدے کرتے رہتے… وہ پانی سے مچھلی نکال کر اپنے اور اپنے اہل و اولاد کے لئے
رزق حلال کا بندوبست فرماتے… اور جب ان کو ’’بری‘‘ یا ’’بحری ‘‘ جہاد کی طرف بلایا
جاتا تو… زمین اور سمندر سب اُن کے لئے ایک جیسے دوست ثابت ہوتے… ہاں! جنہوں نے…
آخرت کی اونچی منزلیں پانی ہوں وہ دنیا میں مشقت اور محنت کی زندگی اختیار کرتے
ہیں… آپ بھی تجربہ کریں چلتے پانی کے قریب بیٹھ کر ذکر کریں تو… آپ عجیب کیفیت
اور لذت پائیں گے اور آپ کا قلب فوراً… ذکر اللہ سے جاری ہو جائے گا… مگر آج
پانی کے کنارے صرف گناہ ، بدی اور تفریح کے لئے خاص کر دئیے گئے ہیں… اس لئے تاکید
کے ساتھ عرض کیا جا رہا ہے کہ… تیراکی سیکھنے کا عمل فوراً اپنائیں مگر… شرط یہ ہے
کہ… ہم ان تمام گناہوں سے بچیں جنہوں نے… پانی اور اس کے کناروں پر قبضہ جما رکھا
ہے… رومیوں کی گناہگار اور ظالمانہ سلطنت پانی کے کنارے قائم تھی… قسطنطنیہ کا شہر
رومی سلطنت کا مرکز اور دارالحکومت تھا… مسلمانوں نے ہمیشہ اس شہر کو اپنے خوابوں
میں بسائے رکھا… کیونکہ حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم نے اس شہر کو فتح کرنے والوں کے لیے بڑی بشارتیں ارشاد فرمائی
تھیں… کتنے خوش بخت اس شہر کے آس پاس پروانوں کی طرح جل کر شہید ہوئے… اور کتنے
اس کی فصیلوں کے نیچے دفن ہوئے… کئی صدیوں کی محنت کے بعد… بالآخر مسلمانوں نے
پانی کے اس ساحل کو فتح کر کے… یورپ کے سینے تک اسلام کے جھنڈے گاڑ دئیے … ابھی
استنبول میں جب … وہاں کے مسلمان صدر رجب طیب ا ردگان کے منتخب ہونے کی خوشی منا
رہے تھے تو… مجھے وہ مجاہدین یاد آ رہے تھے جو اس شہر کو فتح کرنے کی… ایک طویل
،جان توڑ مگر انتھک تاریخ رقم فرما گئے… حضرت سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ
عنہ سے لے کر…محمد الفاتح تک… اللہ تعالیٰ ان سب کو… اس امت کی طرف سے
بہترین جرائے خیر عطاء فرمائے۔
عرض یہ کر رہا تھا کہ… آپ تیراکی
سیکھنے جائیں تو اپنے ساتھ… نیکیاں، ذکر اللہ اور تقویٰ بھی پانی کے کناروں تک لے
جائیں … پانی آپ کو دعائیں دے گا… تیراکی جسم ڈھانپ کر کریں… ناف سے لے کر گھٹنے
تک جسم ضرور چھپا ہوا ہو… تیراکی کے دوران ذکر، تلاوت اور مسنون دعائیں… دل یا
زبان سے پڑھتے رہیں… غفلت زدہ تفریح کا ماحول نہ بنائیں… بلکہ اگر چند افراد مل کر
جائیں تو پانی کے کنارے تعلیم کریں…بیان کریں… ایک دوسرے کو حق اور استقامت کی
دعوت دیں… آج پانی اور اس کے کناروں کا نام سنتے ہی اکثر لوگوں کے دلوں میں طرح طرح
کے گناہ کروٹ لینے لگتے ہیں… مگر آپ ایسے بنیں کہ پانی اور اس کے کناروں کا نام
سنتے ہی… آپ کے لطائف ذکر اللہ سے جاگ اُٹھیں… آپ کے جذبات جہاد سے روشن ہو
جائیں… اور آپ کے ذہن میں… بحری جہاد کے فضائل کروٹیں لینے لگیں… حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
’’جس نے میرے ساتھ (مل کر) جہاد نہ کیا
ہو اسے چاہیے کہ سمندر میں جہاد کرے، بے شک! سمندر کے ایک دن کا اجر خشکی کے ایک
ماہ کے اجر جیسا ہے۔ ‘‘
[ فضائل جہاد بحوالہ مصنف عبد الرزاق]
اَلْبَاحَۃ فِی فَضْلِ السِّبَاحَۃ
آپ نے حضرت شیخ علامہ جلال الدین
سیوطی رحمہ اللہ کا اسم گرامی سنا ہو گا… وہ اس امت کے حفاظ
قرآن، حفاظ حدیث اور حفاظ تاریخ میں سے تھے… ان کا نام عبد الرحمٰن بن ابوبکر
ہے… ۸۴۹ھ رجب کے مہینے میں پیدا ہوئے … آٹھ سال کی عمر میں قرآن
مجید حفظ کر لیا اور سترہ سال کی عمر تک باقاعدہ ’’مفتی‘‘ بن گئے… اللہ تعالیٰ نے
ان کو سات بڑے علوم میں تبحر اور مکمل مہارت عطاء فرمائی تھی… انہوں نے مختلف علوم
و فنون میں پانچ سو اڑتیس (۵۳۸) کتابیں تصنیف فرمائیں… جمعہ کی
رات ۹۱۱ھ میں آپ کی وفات ہوئی… اور اہل ایمان نے ان کی تاریخی
نماز جنازہ ادا کی… حضرت سیوطی رحمہ اللہ کی تصنیفات میں سے ایک تیراکی
سے متعلق ہے… اور دوسری جہادی ’’نیزے‘‘ کے متعلق… یہ دونوں مختصر رسالے ایک ساتھ
شائع ہوتے ہیں … تیراکی والے رسالے کا نام… ’’اَلْبَاحَۃ فِی فَضْلِ السِّبَاحَۃ‘‘
ہے… ’’اَلْبَاحَۃ‘‘ کا مطلب ’’میدان‘‘ … کھجوروں کے بہت سے درخت… بہت پانی
[القاموس] ’’فَضْل‘‘ کا معنٰی فضیلت… اور ’’السِّبَاحَۃ‘‘ کا معنٰی تیراکی… حضرت
علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے تیراکی کی مناسبت سے رسالے کا نام
’’اَلْبَاحَۃ‘‘ رکھا… گویا کہ وہ علمی چشمہ جو آپ کو تیراکی کے فضائل سمجھاتا ہے۔
قلبی معذرت
حضرت علامہ سیوطی رحمہ
اللہ کا یہ رسالہ بہت مختصر ہے …جبکہ اس کے ساتھ جو دوسرا رسالہ نیزے
کی فضیلت میں ہے وہ قدرے مفصل ہے… اس کا نام ’’اَلسِّمَاح فِی اَخْبَارِ
الرِّمَاح‘‘ ہے… تیراکی والا رسالہ صرف چار پانچ صفحات کا ہے… دو ہفتے سے اس کا
ترجمہ کرنے اور رنگ و نور میں چھاپنے کا ارادہ ہے مگر… کچھ مشغولیات اور حالات کی
وجہ سے ابھی تک یہ ممکن نہیں ہو سکا حالانکہ… صرف ایک گھنٹے کا کام ہے… ہمارے
مقبوضہ کشمیر کے بھائی جب کسی بات پر معذرت کرتے ہیں تو کہتے ہیں… میں دونوں ہاتھ
جوڑ کر آپ سے معذرت کرتا ہوں… دو ہفتے سے ترجمہ پیش نہ کرنے پر میرا بھی یہی دل
چاہ رہا ہے… مگر دونوں ہاتھ جوڑنا اچھا نہیں ہے… اس لئے ہاتھ جوڑے بغیر میں آپ سے
دل کی گہرائی سے معذرت کرتا ہوں… زندگی رہی تو اگلے ہفتے ضرور آ جائے گا، ان شاء
اللہ۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
(’’تیراکی‘‘ کی فضیلت پرعلامہ جلال
الدین سیوطی رحمہ اللہ کے رسالے کا ترجمہ)
اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر کہ…
’’تیراکی‘‘ کی دعوت کو مسلمانوں کی ’’توجہ‘‘ مل رہی ہے… الحمدللہ حوصلہ افزاء
نتائج سامنے آ رہے ہیں… تیراکی کے اصل اور مستحکم فضائل تو ’’غزوۃ البحر‘‘ یعنی
سمندری جہاد کے ابواب سے سمجھے جا سکتے ہیں… مگر حضرت علامہ سیوطی رحمہ
اللہ نے ان روایات کو جمع فرمایا ہے جن میں براہ راست
’’السِّبَاحَۃ‘‘یعنی تیراکی کا لفظ آیا ہے… لیجئے! ’’اَلْبَاحَۃ فِی فَضْلِ
السِّبَاحَۃ‘‘ کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیے۔ ( ہم نے روایات کی سند کو ترجمہ میں شامل
نہیں کیا)
اَلْبَاحَۃ فِی فَضْلِ
السِّبَاحَۃ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَسَلَامٌ عَلٰی
عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی۔
تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں
اور سلام ہو اللہ تعالیٰ کے اُن بندوں پر جنہیں اللہ تعالیٰ نے (نبوت و رسالت) کے
لئے منتخب فرمایا۔
تیراکی کا حکم اور اس کی فضیلت
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ
عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا:
’’اپنے بیٹوں کو تیراکی اور تیر اندازی
سکھاؤ اور عورتوں کو کاتنا سکھاؤ۔‘‘
بیہقی رحمہ
اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کا ایک راوی عبید العطار ’’منکر
الحدیث‘‘ ہے۔
( منکَر کاف کے زبر کے ساتھ)
والد پر اپنی اولاد کے چار حقوق
حضرت ابو رافع رضی اللہ
عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا:
’’یا رسول اللہ!کیا ہماری اولاد کے بھی
ہم پر حقوق ہیں جس طرح کے ہمارے حقوق اُن پر ہیں؟‘‘
ارشاد فرمایا :
’’ ہاں اولاد کا حق والد پر یہ ہے کہ وہ
اسے تیراکی، تیر اندازی اور لکھنا سکھائے اور اس کے لئے (صرف) پاکیزہ ( یعنی حلال)
مال ورثے میں چھوڑ جائے۔‘‘
قال البیہقی عیسی بن ابراہیم یروی مالا
یتابع علیہ۔
( یعنی حدیث ضعیف ہے)
چار چیزیں مباح کھیل ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’ہر وہ چیز جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر
نہ ہو وہ بھول ہے اور لغو ہے( یعنی غلط ہے اور بری ہے) مگر چار چیزیں ( کہ وہ کھیل
ہیں مگر مذموم اور برے نہیں)
١آدمی کا تیر اندازی کے دو ہدفوں کے
درمیان چلنا۔
٢اپنے گھوڑے کو سکھلانا۔
٣تیراکی سیکھنا۔
٤ اپنی بیوی سے کھیلنا۔
تیراکی کے بارے میں حضرت عمر بن خطاب
رضی اللہ عنہ کی تاکید
ت حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ
عنہ نے شام کے گورنر کو لکھا کہ:
’’مسلمان تیر اندازی سیکھیں اور تیر
اندازی کے دو ہدفوں کے درمیان ننگے پاؤں چلیں اور اپنے بچوں کو کتابت اور تیراکی
سکھائیں۔‘‘
ت حجاج نے اپنے بچوں کے معلم سے کہا:
’’ میرے بچوں کو کتابت سے پہلے تیراکی
سکھاؤ کیونکہ انہیں لکھنے والا تو مل جائے گا لیکن کوئی ایسا نہیں ملے گا جو (
ضرورت کے وقت) ان کی طرف سے تیر سکے۔‘‘
اگر یہ پوچھا جائے کہ کیا رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیراکی فرمائی تو میراجواب یہ
ہے کہ: بظاہر نہیں۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے سمندروں کا
سفر مقدر نہیں فرمایا گیا تھا۔
( مگر بعض روایات سے آپ صلی
اللہ علیہ وسلم کی تیراکی ثابت ہوتی ہے)
ت زہری رحمہ اللہ سے روایت
ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی چھ سال کے نہیں
ہوئے تھے کہ آپ کی والدہ ماجدہ آپ کو آپ کے ننھیال ’’بنی عبد النجار‘‘ کے پاس
مدینہ منورہ ملانے لے گئیں… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ
اُمّ ایمن( رضی اللہ عنہا ) بھی تھیں آپ کی والدہ نے
’’دارالنابغہ‘‘ میں ایک ماہ تک قیام فرمایا … آپ صلی اللہ علیہ
وسلم اپنے اس قیام کے بارے میں کئی باتیں ارشاد فرماتے تھے، آپ صلی
اللہ علیہ وسلم نے آگ کی طرف دیکھ کر فرمایا:
’’میری والدہ مجھے وہاں لے گئیں اور میں
نے بنی عبد النجار کے تالاب میں اچھی تیراکی سیکھی۔‘‘
کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے تیراکی فرمائی؟
حضرت ابن ابی ملیکہ رضی اللہ
عنہ فرماتے ہیں:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم اور آپ کے صحابہ ایک بڑے تالاب میں داخل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا… ہر کوئی اپنے ساتھی کی طرف تیرے… چنانچہ ہر ایک اپنے
ساتھی کی طرف تیرنے لگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت
ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف تیر کر تشریف لائے اور انہیں گلے لگا لیا
اور فرمایا:
’’اگر میں نے کسی کو اپنا خلیل ( خاص
الخاص دوست اور محبوب) بنانا ہوتا تو ابوبکر کو بناتا مگر وہ میرے ساتھی ہیں۔‘‘ (
یعنی خلیل صرف اللہ تعالیٰ کو بنایا ہے)
تفسیر ابن جریر میں ہے کہ:
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم مؤمنین ،منافقین اور کافروں کی مثال ان تین افراد جیسی فرماتے
تھے جو ایک دریا سے گذر رہے تھے… مؤمن اس دریا میں گر گیا مگر اس نے (تیر کر) اسے
پار کر لیا۔ پھر منافق اس میں گرا یہاں تک کہ جب وہ تیرتے ہوئے مؤمن کی طرف
پہنچتا تو کافر اسے پکارتا کہ میری طرف آؤ مجھے وہاں تمہارے لئے خطرہ نظر آ رہا
ہے ( وہ کافر کی طرف جاتا تو) مؤمن اس کو پکار کر کہتا کہ میری طرف آؤ میرے پاس
تمہارے بچاؤ کا سامان ہے جو کافر کے پاس نہیں… پس اسی طرح منافق انڑ دونوں کے
درمیان پھرتا رہا یہاں تک کہ پانی اس پر چڑھ گیا اور وہ ڈوب مرا۔‘‘
حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما
کے مناقب میں سے
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے
ہیں:
’’ہر وہ عبادت جس کے ادا کرنے سے لوگ
عاجز آ جاتے اسے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما پورا
فرما دیتے تھے… ایک بار کعبۃ اللہ پر بڑا سیلاب آیا جس نے لوگوں کو طواف سے روک
دیا تو حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اس وقت تیر کر طواف کرتے
رہے۔‘‘
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔
تیراکی کے بارے میں… حضرت امام سیوطی
رحمہ اللہ کا رسالہ مکمل ہوا۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا
الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اللہم صل علی سیدنا محمد و اٰلہ و صحبہ
و بارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
ایک سچے عشق کی درد اور مٹھاس بھری سچی داستان
حضرت مولانا طلحہ
السیف
مدیر القلم
استاذ الحدیث جامعۃ الصابر، بہاولپور
ایک مسودہ کئی ہفتوں سے میرے سرہانے رکھا ہے۔ اب تک کئی بار
اُس کا مطالعہ کرچکا ہوں۔ مجھے اُس کے الفاظ سے، اسلوب سے اور مضامین سے قدیم اور
گہری شناسائی ہے لیکن امتحان یہ درپیش ہے کہ مجھے اس پر کچھ لکھنا ہے اور میرے پاس
الفاظ نہیں ہیں۔ع
اے دِل مگر یہ وقت بڑے اِبتلاء کا ہے
کتنی بار تحریر شروع ہوئی اور پھرنا مکمل چاک کرکے ٹوکری کی
نذر کردی۔کیا ہر لکھنے والے کو جب اپنی محبت، اپنے عشق اور اپنے دیرینہ تعلق کی
داستان لکھنی ہوتو اسے ایسی ہی کیفیات کا سامنا ہوتا ہے؟
’’رنگ ونور‘‘ کے ساتھ میرے تعلق کی داستان کچھ ایسی ہی ہے۔
میں قلم قبیلے میں ایک اجنبی کے طور پر آیا تھا۔ نہ ارادہ تھا اور نہ صلاحیت کہ
یہاں قیام پذیر ہوسکوں۔ اس خدمت پر رکھ لیا گیا کہ ’’رنگ ونور‘‘ آیا کرے تو اس کے
پروف کی تصحیح کردیا کروں اور بس… یوں محبت کی اس داستان کا آغاز ہوا۔ ’’رنگ
ونور‘‘ آتا ،اس کی کمپوزنگ ہوتی اور میں اسے دو تین بار پڑھ کر غلطیاں درست
کرادیا کرتا اوریہ قارئین تک پہنچ جاتا۔ ’’القلم‘‘ اخبار میں یہ مضمون بنیادی
حیثیت سے شائع ہوتا اور اس کے ساتھ کئی دیگر موتی بھی جگمگاتے۔ بلکہ اگر یوں کہہ
دوں کہ ’’القلم‘‘ کی روح ’’رنگ ونور‘‘ ہی تھا۔’’ رنگ ونور‘‘ القلم کے لئے نہیں
آتا تھا القلم ’’رنگ ونور‘‘ کے لئے شائع ہوتا تھا تو ہرگز غلط نہ ہوگا۔ شروع شروع
میں اس کام کا ایک تشکیل اور ڈیوٹی کے پر طور پر آغاز ہوا لیکن رفتہ رفتہ یہ عادت
اور پھر محبت بن گیا اور پھر اس محبوب نے مجھے کیا کچھ دیا ،کیا کچھ سکھایا، میری
کتنی جہالتوں کودور کیا، میری کتنی غلطیوں کو سدھارا، میرے نظریات کی کس طرح اصلاح
کی، مجھے پڑھنے اور لکھنے کے شوق سے کیسا نوازہ، میرے زبان وبیان کی کس طرح درستگی
کی۔
یہ پندرہ برس کا قصہ ہے دوچار دِنوں کی بات نہیں
سوچئے!
جس شخص کو اللہ تعالیٰ کے فضل وتوفیق سے ایک طویل مدت یہ نعمت
نصیب رہی ہو کہ حضرت سعدی حفظہ اللہ تعالیٰ کے قلم سے نمودار ہونے کے
بعد ’’رنگ ونور‘‘ کے رنگ کو سب سے پہلے اُس کی آنکھوں نے دیکھا ہو اور اُس کے
’’نور‘‘ نے سب سے پہلے اس کے دل پر دستک دی ہو اسے آج یہ لکھنا ہو کہ یہ محبوب
عنوان اب اختتام پذیر ہورہا ہے۔ امید ہے آپ اسے جملوں کی بے ترتیبی اور مضمون کی
بے ربطگی پر معذور جانیں گے۔
*…*…*
پرویز مشرف کا دور آمریت اپنے نصف النہار پر تھا جب
’’القلم‘‘ کا آغاز ہوا۔ اس عزم کے ساتھ اور اس پالیسی کے ساتھ کہ زندگی تو صرف
ایک دن کی ہے اور وہ دن عزت کے ساتھ سرفرازی اور سربلندی کے ساتھ اور اعلانِ حق کے
ساتھ گزرنا چاہئے تاکہ یہ ’’آج‘‘ آنے والے ’’کل‘‘ کے سامنے شرمندہ نہ ہو۔
’’رنگ ونور‘‘ نے القلم کی اس پالیسی کا اعلان کیا اور پھر
اپنے آخری دن تک اسے جس طرح نبھایا وہ ایک عجیب وغریب داستان ہے۔
’’جہاد ‘‘کا نام ممنوع ہے لیکن ’’القلم‘‘ جہاد کو اس طرح بیان
کرے گا کہ دیگر ہر بیانیہ ضمنی ہوگا۔
’’مجاہدین‘‘ کالعدم ہیں لیکن ’’القلم‘‘ اِن کی دعوت کو اور ان
کی خبر کو اس نمایاں حیثیت کے ساتھ اجاگر کرے گا کہ ان کا وجود دنیا کو نظر آئے
گا اور پابندیاں کالعدم معلوم ہوں گی۔
حق گوئی کی قیمت کافی بھاری ہے لیکن ہر قیمت پر یہ فریضہ اس
طرح انجام دیا جائے گا کہ ایوانوں تک اس کی گونج سنائی دے۔
اور ہاں!
جو ابو جہلی دشمن مجاہدین کے خاتمے کی آس لگائے سامان
جشن فراہم کئے آخری خبر کے انتظار میں بیٹھے ہیں انہیں بلا توقف بتایا جاتا رہے
گا کہ تم ہار گئے بدر کا لشکر جیت رہا ہے۔
’’رنگ ونور‘‘ اس پالیسی کو لے کر دندناتا ہوا آتا اور پھر ہم
سب بھی اُسی سے روشنی لے کر اس کی آڑ اور ڈھال کے پیچھے سے تیر چلایا کرتے۔ یوں
القلم نے پرویزی آمریت کے سینے پر جس طرح مونگ دلے کسی اور کو یاد ہو نہ ہو پرویز
مشرف خود اُسے کبھی نہیں بھول پایا اور نہ بھول پائے گا۔ وہ آج بھی ’’اُن‘‘ کا
نام لیتا ہے تو اس کے منہ سے جھاگ اور آنکھوں سے شعلے نکلتے ہیں۔ شکست کی دھول اس
کا چہرہ دھندلا دیتی ہے اور ناکامی کی مایوسی چھپائے نہیں چھپتی۔
اندازہ کیجئے!
’’رنگ ونور‘‘ پر لکھنے والے کا نام درج نہیں ہوتا تھا لیکن
بغض سے بھرا ہر دل جانتا تھا اور محبت سے لبریز ہر قلب کو بھی عین الیقین علم تھا
کہ لکھنے والا کون ہے۔ ’’رنگ ونور‘‘ آکر نغمہ جہاد سناتا اور جنہیں روزِ نزول سے
اِس لفظ سے چڑ، بغض، عناد اور تکلیف ہے وہ بھی ساتھ چلے آتے۔ کوئی دو مہینے نہ
گزرتے کہ دفتر نہ بدلنا پڑے اور اخبار کو نئی پابندیوں اور دھمکیوں کا سامنا نہ
ہو۔ گھبراہٹ تیز ہوتی تو ’’رنگ ونور‘‘ { وَلَا تَهِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا } کا
پیغام لے کر آجاتا۔ حوصلے پھر جوان ہوجاتے اور نئے عزم کے ساتھ کام کا آغاز
ہوجاتا۔ چند دن گزرتے اور پھر وہی منظر لوٹ آتا۔ اخبار کا پورا سیٹ اپ ایک سے
دوسری جگہ منتقل کرنا کارے دارد ۔خیال گزرتا کہ چلو پوری نہیں تو کچھ مان لی جائے۔
ایک آدھ سرکاری خبر لگانے کا مطالبہ تھا۔ حکومتی بیانات کسی حد تک نشر کرنا تو ہر
اخبار کے لئے قانون کا حصہ تھا۔ محاذوں کی خبر ہیڈ لائن نہ ہوا کرے اور سب سے بڑھ
کر یہ کہ مضامین میں دعوت جہاد یوں کھلم کھلا نہ ہوا کرے۔ ان کا پیغام پہنچا دیا
گیا۔’’ رنگ ونور‘‘ آیا اور اس نے ’’القلم‘‘ کے لئے بھی اورپیغام بھجوانے والوں کے
لئے بھی ایک دو ٹوک پالیسی واضح کردی۔ عنوان تھا ’’ہمارے آج کی قیمت‘‘… ’’رنگ
ونور‘‘ کی جلدوں میں تلاش کرکے وہ مضمون ضرور پڑھ لیں۔ اللہ تعالیٰ نے اگر زندگی
میں کچھ ’’آب زر‘‘ سے لکھنے یا لکھوانے کی وسعت عطاء فرمائی تو سب سے پہلے اسی
مضمون کو لکھوائوںگا اور یہ تمنا آج کی نہیں جس دن یہ مضمون آیا تھا دل سے اسی
دن یہ آواز نکلی تھی۔ ’’رنگ ونور‘‘ نے اس دن یہ بات صرف پڑھائی نہیں دل پر نقش
کردی کہ آج کو بچانے کے لئے اگر اس کا حلیہ بگاڑ دیا جائے، اگر اپنے آج کی چال
ڈھال کھال بدل لی جائے۔ اپنے آج کے نظر ئیے کو قربان کردیا جائے۔ اپنے آج کی عزیمت
تج دی جائے۔ اپنے آج کا سر جھکا دیا جائے تو ’’کل‘‘ کبھی بھی اچھا نہیں آئے گا۔
بد سے بدتر آئے گا۔ ’’رنگ ونور‘‘ نے کہا کہ اپنا آج سر بلند ہوکر جیو سرفراز
رہوگے۔ ہمارے جہادی حلقے میں اس ایک مضمون کی اثر پذیری اوراس کے ذریعے برپا ہونے
والے انقلابِ احوال کا ذکر لے کر بیٹھ جائوں تو مضمون نہیں کتاب بھی کم پڑ جائے۔
اِس ایک مضمون نے صرف القلم اخبار کی نہیں پوری جماعت کی، جماعت کے منہج دعوت کی
اور جماعت کی عملی جدوجہد کی راہ متعین کردی اور اس کا بنیادی اصول واضح کردیا۔ یہ
جملہ ایک مضمون کا نہیں ایک منشور کا عنوان ثابت ہوا اور یہ مضمون جماعت کے دستور
کی حیثیت اختیار کرگیا۔ اور پھر ’’رنگ ونور‘‘ جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ اپنے
اس عنوان سے شائع ہوتا رہے اسی نظریے پر لکھا جاتا رہا اور شائع ہوتا رہا۔ اس کے
ہر ’’رنگ‘‘ نے آج کو سنوارنے کا ایک نیا ڈھنگ دیااور کیسے کیسے ’’نور‘‘ پڑھنے
والوں کی زندگی میں سجا دئیے۔ آپ کا ’’آج‘‘ سچے اور کھرے نظرئیے کے ’’رنگ ‘‘سے
سجا ہونا چاہئے۔ ایک ایک عنوان سے آپ تک سچے اور کھرے اسلامی نظریے کا ’’نور‘‘
پہنچایا۔ آپ کی زندگی پر ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کا ’’رنگ‘‘ آجائے تو سب کچھ بن جائے،
یہ ’’نور ‘‘ تو ایک مہم کی شکل میں عام کیا اور بلاشبہ ہزاروں لوگوں کو یہ کلمہ
سمجھ آیا اور ان کی زندگی کا لازمی معمول بن گیا۔ آج بھی رنگ ونور پڑھنے والے
ہزاروں کی تعداد میں اس کے روزانہ بارہ سو مرتبہ وِرد کے ’’مجددی ‘‘ نصاب سے جڑے
ہوئے ایمان کی حلاوت کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ ’’رنگ و نور‘‘ نے تسبیح سے روشناس کرایا،
تحمید سے جوڑا ،اللہ سے مانگنا سکھایا، دعاء کا نور عام کیا ،در در بھٹک رہے
پریشان حالوں کو اللہ تعالیٰ کے نام کے نور سے مسائل کا حل سکھایا۔ ایک مومن کا
’’آج‘‘ تو آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سچی اور والہانہ محبت
کے بغیر اچھا ہو ہی نہیں سکتا۔ ’’رنگ ونور‘‘ نے عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ
وسلم کا نور عام کیا۔ ’’رحمۃ للعلمین‘‘ القلم کے ان مضامین کا مجموعہ
ہے جو سیرت الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف پہلوئوں کا احاطہ کرتے
ہیں۔ اس میں سب سے پہلے وہ مضامین ہیں جو’’ رنگ ونور‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئے۔ اِن
مضامین کو پڑھئیے محبت کا کیسا’’ رنگ‘‘ دل پر چڑھتا ہے اور عشق کا کیسا ’’نور‘‘
آنکھوں کو منور کرتا ہے۔ ’’رنگ ونور‘‘ نےایمان والوں کو سکھایا کہ اپنے ’’آج‘‘
کو درود وسلام جیسی مقبول اور عظیم عبادت کے ’’رنگ‘‘ سے سجا لو، قبروآخرت تو کیا
زندگی میں بھی ’’نور‘‘ آجائے گا۔ یہ دعوت جیسی سلسلہ وار، مرتب اور منظم انداز
میں ’’رنگ ونور‘‘ نے عام کی آپ اس کی کوئی دوسری مثال ڈھونڈ کر لے آئیں مشکل ہے۔
آج بلا مبالغہ ہفتہ وار کروڑوں کی تعداد میں درودوسلام کا وِرد اُن لوگوں کی
زندگیوں کا لازمی وظیفہ ہے جنہوں نے رنگ ونور سے یہ سبق حاصل کیا۔
اور ہاں!
’’جہاد‘‘… اسلام کی سب سے بلند چوٹی، اسلام کی عزت و سربلندی
کا علَم، ایمان ونفاق کے درمیان حد فاصل، امت مسلمہ کے مسائل کا حقیقی حل اور
یقینی راستہ اور قرآن مجید کا اَحکام کے باب میں سب سے کثیر مضمون۔ کسی بھی عنوان
سے ،کسی بھی رنگ میں اور کیسے بھی الفاظ میں کتنے بھی یقینی دعوے کے ساتھ یہ بات
کہہ دی جائے کہ صرف یہ موجودہ زمانہ نہیں صدیاں کھنگال لی جائیں، جہاد کی جتنی
مسلسل، مدلل اور مؤثر دعوت ’’رنگ ونور‘‘ کے عنوان سے پھیلی اس کی مثال نہ ملے گی
تو ذرہ برابر بھی مبالغہ نہ ہوگا۔
سبحان اللہ!
آپ قرآن مجید کی دعوتِ جہاد کو مکمل غوروفکر کے ساتھ پڑھیں،
خوب تدبر کے ساتھ اس کا ایک ایک اسلوب ذہن نشین کریں اور پھر ’’رنگ ونور‘‘ کے
جہادی مضامین کا مطالعہ کریں۔ آپ کو قرآنی دعوتِ جہاد کا پورا پورا ’’رنگ‘‘ ان
مضامین میں ملے گا اور آپ جہاد کے ’’نور‘‘ کو دِل میں بستا ہوا محسوس کریں گے۔
قرآن نے دلیل اور فلسفے کے ساتھ جہاد سمجھایا۔ زندگی موت کی
حقیقت واضح کرکے جہاد کی بُرہان قائم فرمائی۔ فضائل کا ذکر کرکے جہاد کو آسان
کیا۔ مظلوم مسلمانوں،اسیروں اور موذیوں کے شکنجے میں جکڑے اہل ایمان کا درد سنا کر
جہاد پر ابھارا،شعائر اللہ کی حرمت کے واسطے دے کر دلوں میں جذبہ جہاد برانگیختہ
کیا ، شہادت کے مزے اور شہیدوں کی مزیدار زندگی بیان کرکے میدانوں کی طرف پکارا،
اسلام کے غلبے کا راستہ قرار دے کر جہاد کی ضرورت اور اہمیت اجاگر کی، عزت اور ذلت
والی زندگی اقتدار اور کمزوری کے حالات کا موازنہ کرکے جہاد کی حجت مضبوط
فرمائی۔مال خرچ کرنے پر عظیم اجر کے دعوے اور اس کے دنیوی اُخروی فوائد بتا کر
انفاق فی سبیل اللہ کی طرف بلایا۔ یہ سب قرآنی اسلوب میں پڑھئیے اور پھر رنگ ونور
کی طرف چلے آئیے آپ کو اسی ’’رنگ‘‘ میں یہ ’’نور‘‘ بٹتا نظر آئے گا ۔کیوں نہ ہو
’’رنگ ونور‘‘ جس قلم سے منصۂ شہود پر آتا ہے اسی نے تو صدیوں کا یہ قرض بھی
اتارا کہ قرآن کے پیغام جہاد کو یکجا کرکے ’’فتح الجواد‘‘ کے عنوان سے اُمت تک
پہنچایا۔ ’’رنگ ونور‘‘ اسی قرآنی پیغام سے روشنی لے کر تحریر کیا جاتا تو اس میں
یہ ’’رنگ‘‘ کیوں نہ چھلکتا…
*…*…*
دعوتِ جہاد کو ایک زمانے تک ایک گرج دار، دردمند اور پُرسوز
آواز نصیب رہی جو صرف پاکستان میں نہیں دنیا میں جہاں جہاں پہنچ سکی پہنچ کر
گونجی۔ امارات کے صحرائوں سے لے کر یورپ کے کفر زاروں تک ہر جگہ سنی گئی سنائی
گئی۔ جہاں جہاں پہنچی وہاں سے اہل ایمان کے قافلے میدانوں کی طرف لپکے۔ نوے کی
پوری دہائی دنیا بھر سے افغانستان اور کشمیر کے محاذوں کا رخ کرنے والے کسی بھی
غیر عرب مجاہد سے پوچھا جاتا توا س کا ایک ہی جواب ہوتا کہ وہ اس آواز پر کھنچا
چلا آیا ہے۔ یہ دعوتِ جہاد کا دور ’’اظہری‘‘ تھا کہ دعوت ظاہر تھی اور کھلے عام
اسٹیج پر چہکار رہی تھی۔ پھر مشیت الہٰی سے وہ دور آگیا کہ اس دعوت اور اس آواز
کا یوں اظہر رہنا ممکن نہ رہا تو دعوت جہاد کے دور ِ’’ازہری‘‘ کا آغاز ہوا کہ
دعوت اب خوشبو کی طرح خاموشی سے آئے اور مشامِ جان میں اتر جائے۔ اب خوشبو بھی
بھلا پابند کی جاسکتی ہے؟ سو نہ کی جا سکی اور ہر طرف پھیل گئی۔ اور اس دعوت کا
عنوان تھا ’’رنگ ونور‘‘۔ وہی میرا محبوب جس کی محبت کے میٹھے میٹھے ہلکورے اب بھی
دل پر محسوس کررہا ہوں اور قلم بھاگتا چلا جارہا ہے۔ دعوت کا پہلا اسلوب بظاہر
زیادہ مؤثر لگتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بولے ہوئے الفاظ اگرچہ وقتی تاثیر میں تو
لکھے ہوئے سے برتر ہوسکتے ہیں لیکن ’’کتاب‘‘ کا اثر دیرپا اور باقی رہنے والا ہوتا
ہے۔ اس لئے ’’کتاب‘‘ سنانے والے نبی تو دنیا سے چلے جاتے ہیں ’’کتاب‘‘ باقی رکھی
جاتی ہے یہاں بھی ایسا ہی ہوا اور ’’رنگ ونور‘‘ نے وہ جہادی طبقہ تشکیل دیا جو
نظریاتی پختگی اور سلامتی فکر کے باب میں پہلوں سے ہر طرح بڑھ کر تھا اور ہے۔ آپ
نے ’’رنگ و نور ‘‘ میں ہی جا بجا ان دیوانوں کا معطر تذکرہ پڑھا ہو گا جنہوں نے
محاورتاً نہیں حقیقتاً اس زمانے کو خیر القرون کے ساتھ لاکھڑا کیا۔ یہ وہ خوش نصیب
ہیں جنہیں ’’رنگ و نور‘‘ نے موت کے آئینے میں رخِ یار دکھا کر ان پر وہ دیوانگی
اور وارفتگی طاری کی کہ نہ اپنوں کی کج رویاں ان کا راستہ روک سکیں نہ دشمنوں کی
بے مہار طاقت اِن کی راہ میں رکاوٹ بن سکی۔ کوئی بیت اللہ کی عظمت پر کٹ مرا اور
کوئی اسیروں کی فکر میں قربان ہو گیا۔ کسی کو قرآن کی غیرت نے کھینچ لیا اور کوئی
ناموس محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اٹھتی انگلیاں کاٹنے کو
دوڑا چلا گیا۔
یوں اس قرآنی ’’رنگ ‘‘نے شوق شہادت اور جذبۂ حریت کا
’’نور‘‘ ایسا عام کر دیا کہ آج عالَم اس سے جگمگا رہا ہے اور اسے بجھانے کی فکر
کرنے والے اپنے زخم چاٹنے پر مجبور ہیں۔ دعوتِ جہاد وہ عمل ہے جو جہاد کے لئے روح
کی حیثیت رکھتا ہے۔ جہاد کی تحریک جتنی بھی بڑی ، باوسائل اور مضبوط ہو اگر اسے
دعوت کی پشت پناہی حاصل نہ ہو تو وہ تحلیل ہو جاتی ہے اور جس تحریک کو دعوت مسلسل
اور منظم انداز میں نصیب ہو جائے اس کا وجود بھی باقی رہتا ہے اور اثر بھی۔ ’’رنگ
و نور‘‘ سے روشنی لے کر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ایک ایسا طبقہ دعوت کے میدان میں
اتر آیا جن کے ہاں دعوت ایک عظیم مشن ہے اور وہ اس کی خاطر قربانیوں کی وہ
داستانیں رقم کر رہے ہیں جن کے تصور سے بھی روح لرز اٹھتی ہے۔ لیکن جتنی بھی سختی،
پابندی اور تکلیف بڑھتی چلی جا رہی ہے دعوت کا کام مزید مربوط، منظم اور مضبوط
ہوتا چلا جا رہا ہے۔ آپ اس طبقے سے ملئے، ان کے احوال لیجئے اور ان سے پوچھئے کہ
انہیں یہ مضبوطی ، یہ جذبہ اور یہ صلاحیت کہاں سے ملی ؟ جواب یہی ہو گا کہ ’’رنگ و
نور‘‘ سے۔ ایسے لوگ جو چند الفاظ بھی درست طریقے سے اداء کر کے دعوت دینے پر قادر
نہ تھے ’’رنگ و نور‘‘ ہاتھ میں لے کر نکل جاتے اور بس۔ جس مسلمان تک چند بار وہ یہ
مضمون پہنچا آتے وہ ان کی دعوت کا اسیر ہوجاتا۔ یوں بے زبانوں کو ایک فصیح و بلیغ
، دردمند اور پُر اثر آواز مل گئی اور انہوں نے اسے اپنی دعوت بنا لیا۔ اس طرح
الحمد للہ دعوت جہاد کی وہ منظم اور مربوط شکل وجود میں آئی جس نے دلیل کی قوت
اور برہان کی طاقت سے مسلمانوں کے دلوں میں گھر کیا اور ان کی زندگیوں پر اثر
انداز ہوئی۔
*…*…*
’’رنگ ‘‘ پابند نہیں کئے جا سکتے اور ’’نور‘‘ کی تو ویسے ہی
کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ الحمد للہ ’’رنگ و نور‘‘ بھی سرحدوں کی بندش سے آزاد ہو کر
ہر طرف پہنچا اور اس کی روشنی ہر جانب پھیلی۔ ہندوستان کی حکومت سے زیادہ چڑ اور
تکلیف شاید کسی اور کو نہ ہو گی لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت دیکھئے کہ اس نے اسی
دشمن کو عرصے تک رنگ و نور کی اشاعت پر مامور کئے رکھا۔ اکثر ایسا بھی ہوا کہ رنگ
و نور یہاں پاکستان میں مسلمانوں تک بعد میں پہنچا اور ہندوستان کے ٹی وی چینلوں
پر پہلے نشر ہو گیا۔ کئی بار وہاں کے نیوز چینلوں پر صبح کی نشریات سے رنگ و نور
کے اقتباسات سنائے جانا شروع ہوتے اور رات کی نشریات تک ہر گھنٹے بلا تعطل سنائے
جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے یوں جان کے دشمن کو اس پیغام کی نشرواشاعت پر لگائے رکھا۔ بے
شک
{وَاللهُ غَالِبٌ عَلٰى أَمْرِهٖ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ
النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ}
ہندوستان میں ایک عالم دین کا خطبہ جمعہ بہت مقبول ہے۔ شنید
ہے کہ ان کی آمد سے قبل ہی مسجد باہر سڑک تک بھر چکی ہوتی ہے۔ میرے ایک عالم دین
دوست نے ایک بار مجھے فون کیا اور بولے:
’’ ایک بات پر حیران ہوں ، مسلسل سوچ رہا ہوں مگر مسئلہ حل
نہیں ہو رہا۔ جمعہ کی نماز پڑھا کر نکلتا ہوں تو مسجد کے باہر القلم تقسیم کرنے
والا مجاہد کھڑا ہوتا ہے۔ اس سے اخبار خرید لیتا ہوں۔ گھر جا کر رنگ و نور پڑھتا
ہوں اور دیگر مضامین بھی دیکھ لیتا ہوں۔ عصر کے بعد انٹرنیٹ پر ہندوستان کے فلاں
عالم دین ہیں ان کا خطبہ جمعہ سنتا ہوں۔ کئی ماہ سے نوٹ کر رہا ہوں کہ ان کا پورا
بیان اسی موضوع پر ہوتا ہے جس پر تازہ رنگ و نور مشتمل ہوتا ہے۔ ایک دو بار سوچا
کہ ویسے تَوافُق ہو جاتا ہو گا لیکن کئی ماہ مسلسل ایسا ہونا تو ناممکن ہے۔ اب سوچ
رہا ہوں کہ رنگ ونور تو جمعہ کو تقسیم ہوتا ہے پھر ان تک کیسے پہنچ جاتا ہے؟
کہیں آپ انہیں پہلے تو نہیں بھیج دیتے؟…
میں نے انہیں بتایا کہ اخبار آپ تک جمعہ کو پہنچتا ہے لیکن
انٹرنیٹ پر بدھ کو شام کے وقت نشر کر دیا جاتا ہے۔ کہنے لگے : چلو یہ مسئلہ تو حل
ہو گیا لیکن اس طرح تو معاشی نقصان ہوتا ہے۔ اخبار پہلے تقسیم کیا جاتا ہے انٹرنیٹ
پر بعد میں لگاتے ہیں تاکہ فروخت میں فرق نہ آئے۔
حضور یہ دعوت ہے تجارت نہیں اور یہاں منشور یہ ہے کہ زندگی تو
ویسے ہی صرف ’’آج‘‘ ہے۔’’ کل‘‘ کا کیا علم … اس لئے جلدی چلا دیتے ہیں… اچھا تو
اس ہفتے سے پھر پندرہ روپے کا نقصان مزید برداشت کیجئے… ہم بھی جمعہ تک انتظار
کیوں کریں بدھ کو ہی پڑھا کریں گے۔
’’رنگ و نور ‘‘ نجانے کہاں کہاں اس طرح بیانات کی شکل میں بھی
لوگوں تک پہنچاکرتا۔
*…*…*
’’القلم ‘‘ اپنی اسی ’’ آج ‘‘ کو سنوارنے اور بنانے کی
پالیسی کے مطابق جب تک اللہ تعالیٰ نے مقدر فرمایا نکلتا رہا اور ’’رنگ و نور‘‘ اس
کی پیشانی پر جھومر کی طرح چمکتا اور اپنا نور بکھیرتا رہا۔ جھوٹے اور غیر یقینی
’’ کل ‘‘ کی خاطر بزدلی، نظریے سے انحراف اور تبدیلی کا کوئی داغ الحمد للہ اس نے
قبول نہ کیا اور اپنے اصلی ’’کل‘‘ کو اچھا کرنے کی فکر کی۔ اپنی اسی شان کے ساتھ
وہ ختم ہو گیا۔ ’’مالہ بدایۃ فلہ نہایۃ ‘‘ ہر ابتداء کی انتہا ہے اور ہر شئے نے
ختم ہونا ہے۔ لیکن یہ صرف ایک نام کا اختتام ہے کسی کام کا نہیں۔ اور یہاں نام کی
فکر ہے بھی کسے ؟ … نام تو رنگ و نور پر بھی کوئی اور تھا لیکن اپنےپرائے سب
پہچانتے تھے کہ کام کس کا ہے۔ اور اس کام کی انتہا ہے نہیں جب تک الصادق المصدوق
الامین صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی پیشنگوئی پوری نہیں ہو جاتی۔
حتی یقاتل آخرھم المسیح الدجال…
نہ یہ کام رُک سکتا ہے نہ اس کی دعوت رو کی جا سکتی ہے۔ اس
کام کے علمبردار اور داعی بھی تبدیل ہوتے رہیں گے اس کے عنوان بھی بدلتے رہیں گے
اور انداز بھی۔ اسے مٹانے کی فکر کرنے والے بھی ایک کے بعد دوسرے آتے رہیں گے اور
تاریخ کے کوڑا دان کا رزق بنتے جائیں گے۔
’’رنگ و نور‘‘ اس کام اور اس دعوت کا ایک روشن باب تھا جو
یہاں اختتام پذیر ہو رہا ہے۔ الحمد للہ ثم الحمد للہ جس قلم کا شہکار تھا وہ بھی
سلامت ہے اور اللہ کرے ہمارے بعد بھی سلامت رہے۔ جس جماعت کا شعار تھا الحمد للہ
وہ بھی باقی ہے اور پوری آب و تاب کے ساتھ قائم ہے۔ جس کام کا عنوان تھا الحمد
للہ شجرۂ طیبہ کی طرح اس کی جڑیں زمین کی تہہ میں جمی ہوئی اور شاخیں آسمان کو
چھو رہی ہیں۔ اس نے جو رِجالِ کار تیار کئے وہ بھی میدانوں میں مورچے سنبھالے ہوئے
ہیں اور اس نے جو پیغام پھیلایا وہ چہار دانگ عالم میں گونج رہا ہے۔ اس کا ہر
’’رنگ ‘‘ سلامت ہے اور اس کا ہر ’’نور ‘‘ چمک رہا ہے۔ ’’رنگ و نور‘‘ مدینہ کا
منادی تھا اور اس کا قلم کار خیمۂ نبوی کا چوکیدار ہے۔ ’’مدینہ مدینہ ‘‘ پکارنے
والے اس کا پیغام ہر عنوان سے آگے چلاتے اور پھیلاتے رہیں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ
۔ ہاں یہ غم اور دکھ تو ہے کہ جس عنوان نے سالہا سال ہماری آنکھوں کو روشن کیا وہ
رخصت ہو رہا ہے۔ خراج تحسین اور خراج عقیدت کے ساتھ
الوداع اے محبوب الوداع
الوداع اے دوست الوداع
*…*…*
جاتے جاتے بھی دیکھئے کہ ’’رنگ ونور‘‘ ہماری زندگیوںکو کیسے
نورانی تحفے بہم پہنچا رہا ہے۔ آپ اس آخری جلد کو پڑھنا شروع کریں گے سب سے پہلے
آپ کو یہ ایک عظیم ایمانی، جہادی روحانی عمل سے روشناس کرائے گا۔
’’الرمایہ‘‘ یعنی تیر اندازی۔ اِسلامی اَعمال میں بہت فضیلت
اور تاکید والا ایک خاص عمل۔ اُمت میں زمانے سے متروک اس عمل کی یاد دہانی آئے دو
سال کا عرصہ ہوا ہے تقریباً اور میری ناقص معلومات کے مطابق ہزاروں لوگ الحمد للہ
اس سے جڑ چکے ہیں اور ان کی زندگیاں آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی اس
پیاری اور پسندیدہ سنت کے نور سے سج گئی ہیں۔ اسی جلد میں آپ کو امام الاولیاء
حضرت بابا فرید گنج شکر قدس سرہ کے قیمتی ملفوظات کا خزانہ کئی مضامین میں ملے گا
جن کا ہر ہر لفظ زندگی بنانے اور سنوارنے والا ہے۔ اس میں آپ کو ایمانی ’’تبدیلی‘‘
کا مفہوم ملے گا۔ وہ تبدیلی جو حقیقتاً ’’نور‘‘ ہے اور اس کا ’’رنگ‘‘ ہر مسلمان کی
زندگی میں آنا ضروری ہے۔ اس میں آپ کو اللہ تعالیٰ کے ایک عاشق بندے مولانا طلحہ
رشید شہید کا تذکرہ ملے گا۔ ایک ایسا شخص جو اس زمانے میں ’’شاب نشأ فی عبادۃ
اللہ‘‘ اور {رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ } کا جیتا
جاگتا مصداق تھا۔ اس میں آپ کو ’’شورٰی‘‘ جیسے اسلامی حکم کی تفصیلات بھی ملیں گی
اور اس کی ضرورت واہمیت پر پُر مغز کلام بھی۔ اوریہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ’’رنگ
ونور‘‘ ہو اور اس میں کلمہ طیبہ کے معارف، اس کو دل میں اتارنے والے ترغیبی جملے
اور اس کے ورد کی اہمیت پر بات نہ ہو۔ اس جلد میں بھی آپ جابجا یہ مضمون پائیںگے۔
رنگ ونور منّادِ مدینہ ہے اب بھلا یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی بزم ہو اور خوشبوئے
مدینہ سے خالی ہو؟ آپ کو یہاں بھی درود وسلام کے معطر جھونکے ملیں گے۔ اس میں ایک
بہت دلچسپ مضمون ہے جو تین حقیقی واقعات پر مشتمل ہے اور آپ ان واقعات کی روشنی
میں مشرک کا مزاج بخوبی سمجھ لیں گے۔ پھر ہو سکتا ہے آپ کو اس بات پر شرمندگی بھی
محسوس ہو کہ ہم ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں ہمیں مشرک سے ڈر کر جینے کا سبق پڑھایا
اور رٹایا جارہا ہے۔
اور ہاں! آخر میں آپ کو شاید رونا پڑے۔ آخر میں عشق ومحبت
کی ایک داستان ہے اور اس داستان کے ایک ایک حرف سے خونِ جگر ٹپک رہا ہے۔ اس کی ایک
ایک سطر گرم پیازی آنسوؤں کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ ایک محبوب دوست کی
قربانی اور جدائی کی داستان ہے۔ اور وہ دوست کون ہے؟ میں آپ کو یہ بات کیوں
بتاؤں آپ خود وہاں پہنچیں گے تو آپ کو علم ہو جائے گا۔
آپ اس کتاب کو پڑھئیے! اس کا ایک ایک حرف ایمان کی دعوت ہے،
عزیمت کی دعوت ہے۔ اس کی ہر سطر میں ’’صبغۃ اللہ‘‘ والا ’’رنگ‘‘ ہے اور اس کا ایک
ایک عنوان نورِ حیات ہے۔ آپ یقین کیجئے آپ کو اس خوانِ نعمت پر وہ سب کچھ مل
جائے گا جس کی آپ کو ضرورت ہے۔
ارے ہاں! آپ کو اس کتاب کے مطالعے سے اردو کا ایک محاورہ بھی
بخوبی سمجھ آجائے گا ’’مخمل میں ٹاٹ کاپیوند لگانا‘‘۔ کہاں ’’رنگ ونور‘‘ اور کہاں
اس پر یہ چند سطور۔
والسلام
طلحہ السیف
یوم الاحد ۶ ذوالقعدہ ۱۴۴۱ھج
28 جون 2020
٭٭٭
امیر المجاہدین، حضرت مولانا محمد مسعود ازہر دامت برکاتہم
العالیہ کی تصنیفات کا مختصر، جامع اور دلکش تعارف، علم و جہاد کی دنیا کا سچا سفر
نامہ
مولانا مفتی عبید الرحمٰن
رئیس دار البیان
و مہتمم جامعۃ الصابر، بہاولپور
میں مسلسل کئی دنوں سے پریشان بھی ہوں اور حیران
بھی۔ کیونکہ ایک ایسا کام شروع كکررہا ہوں جس کے بارے ضروری علم تو کجا بنیادی
اہلیت سے بھی عاری ہوں۔ کہاں میں اور کہاں وہ؟ خاک کے ایک ذرے کو ثریا سے کیا
نسبت ؟ اسی لئے پریشان ہوںاور حیران۔ کام یہ ہے کہ حجۃ اللہ فی الجہاد، امیر
المجاہدین، حضرت اقدس، حضرت مولانا محمد مسعود ازہر دامت برکاتہم العالیہ کی
تصنیفات کا تعارف لکھنا ہے۔ یقین جانیں اس کام کا حق اداء کرنے کے لئے پہاڑوں جیسا
مضبوط اور سمندر جیسا گہرا علم اور تجربہ درکار ہے ۔ اور میں ان چیزوں سے بہت دو ر
ہوں بہت دور۔ لیکن میرے پاس حضرت کی محبت اور دعاؤں کا سہارا موجود ہے۔ بس
اسی سہارے کو بیساکھی بنا کر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے کچھ باتیں لکھنے کی جسارت
کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی بارگاہ اقدس میں قبول فرمائیں، آمین
٭…٭…٭
قرآن کریم میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے نبی اکرم و مکرم حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے جو مقاصد
ارشاد فرمائے ہیں… ان میں سےایک اہم ترین مقصد ہے…’’تعلیم کتاب و
حکمت‘‘… یعنی جہالت میں ڈوبی انسانیت کو قرآن و سنت کی تعلیم دے کر
علم و آگہی سے معمور کرنا، انسانوں کو ان کے مقصد حیات سے روشناس کرانا اور اسی
مقصد کو زندگی کا محور قرار دینا… یہ وہ اہم ترین مقصد ہے جسے رب تعالیٰ نے قرآن
کریم میں کئی مقامات پر بیان فرمایا ہے۔
اور ایک دوسرا اہم ترین مقصد ہے ’’تزکیہ‘‘ … یعنی شرک ، کفر،
بدعات ، رسومات، رذائل اور گناہوں کی دلدل سے انسانوں کو نکال کر ان کی ایسی باطنی
صفائی کرنا اور ایسی تربیت کرنا کہ وہ رشک ملائک ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت
و رضا ان کا نصیب ٹھہرے… یہ مقصد ِبعثت بھی قرآن کریم میں پوری وضاحت کے ساتھ جا
بجا بیان ہوا ہے۔
اور ایک تیسرا اہم ترین مقصد ہے ’’اعلاء کلمۃ اللہ‘‘… یعنی
جہاد و قتال کے ذریعے روئے زمین سے ہر باطل مذہب اور ہر باطل نظام کی بیخ کنی
کرنا… اور اللہ تعالیٰ کے سچے، محبوب اور دین برحق ’’اسلام‘‘ کو اس طرح غالب کرنا
کہ ’’وَ یَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلہ‘‘ کی عملی تصویر سامنے آجائے… اس
کا اعلان بھی قرآن کریم بار بار کرتا ہے اور واشگاف الفاظ میں کرتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی یہ
ذمہ داریاں کما حقہ پوری فرما کر جب دنیا سے پردہ فرماگئے تو یہ سب ذمہ داریاں امت
کے کاندھوں پر آ گئیں… تب نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کے عاشق زار امتیوں نے اپنے محبوب کے مشن کو پایۂ تکمیل تک
پہنچانے کے لئے ایسی ایسی داستانیں رقم کیں اور ایسی ایسی قربانیاں دیں کہ … مؤرخ
بھی قلم توڑنے پر مجبور ہو گیا… کسی نے علم کی امانت کو سینے سے لگایا اور زندگی
کی ساری امنگیں اس امانت پر وار دیں… زندگی کی صبح و شام ، دن و رات سب کچھ علم کے
لئے وقف کر دیا… العلماء العزاب کا ایک پورا طبقہ تاریخ کے سینے میں جگہ پا گیا۔
اور کسی نے تزکیہ و اصلاح کی امانت کو تھام کر سلوک و احسان کی راہوں پر ایسی
دوڑ لگائی کہ زندگیاں ختم کر چھوڑیں… اور اپنے پاک انفاس سے انسانیت کے مردہ
دلوں میں زندگی کی لہریں اٹھاتے چلے گئے۔ اور کچھ دیوانوں نے اپنی متاع عزیز
جانوں کو ہتھیلیوں پر دھرا، تلواریں تھامیں اور اعداء اسلام کی گردنیں ماپتے ماپتے
واپسی کے راستے تک بھول گئے… اور وقت کی بڑی بڑی سپر طاقتوں کو بھوسے کے ڈھیر کی
طرح اڑا کر رکھ دیا۔
ان دیوانوں میں کچھ خوش نصیب ہستیاں ایسی بھی ہیں ، جنہیں
اللہ تعالیٰ نے ایسی جامعیت عطاء فرمائی کہ انہوں نے ان سبھی میدانوں میں سباقی کی
داستانیں رقم کیں… ایک طرف وہ ’’مسند علم‘‘ کے بے تاج بادشاہ بنے رہے اور طالبان
علوم نبوت کے سینوں میں علوم انڈیلتے رہے، تو دوسری طرف ان کے پاک انفاس سے
خانقاہوں، حجروں اور تنہائیوں میں ’’ترقی و لقاء‘‘ کی منازل طے ہوتی رہیں… اور
تیسری طرف وہ امام جہاد بن کر دشمنوں کے نشیمن اکھاڑتے رہے اور ان کے جا نثار بڑھ
بڑھ کر شہادت کی بانہوں میں جھولتے رہے۔ امام سرماری، حضرت عبد
اللہ بن مبارک، ابن النحاس شہید رحمۃ اللہ علیہ سے لے کر شہداء بالاکوٹ
تک ایسے ’’درخشندۃ ستاروں‘‘ کی داستانیں تاریخ کے صفحات پر جا بجا پھیلی پڑی ہیں۔
انہی ’’روشن ستاروں‘‘ میں سے اک ’’ستارے‘‘ جس کی روشنی سے آج
جہاں جگمگا رہا ہے امیر المجاہدین،حجۃ اللہ فی الجہاد، حضرت اقدس، حضرت
مولانا محمد مسعود ازہر دامت برکاتہم العالیہ بھی ہیں۔ کون ہے جو حضرت کی شخصیت سے
واقف نہیں؟ اللہ تعالیٰ نے خیر کی کتنی ہی نہریں حضرت کی ذات بابرکات سے جاری
فرمائی ہوئی ہیں۔ ایک طرف دنیا کے مختلف محاذوں پر آپ کے دیوانے اپنی جانیں دین
اسلام پر نچھاور کر رہے ہیں، اور دوسری طرف ’’دورہ تربیہ‘‘ اور بیعت ارشاد کی شکل
میں اصلاح و سلوک کے ایسے سلسلے چل رہے ہیں جن کی نظیر دور دور تک نہیں ملتی۔ اور
تیسری طرف آپ کے علوم و معارف ایک سیل رواں کی طرح جاری و ساری ہیں۔ کتنے ہی
اکابر اُمت آپ کے وسعت علم، دقت نظر اور اصابت رائے میں رطب اللسان نظر آتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ آپ کے بلند علمی مقام کو دیکھتے ہوئے پگڑیاں گرنے لگتی ہیں۔
آپ کی جہادی، تنظیمی مصروفیات، حالات کی ستم ظریفیوں اور علمی درسگاہوں کی عدم
دستیابی نے آپ کے بہت سے علوم و معارف پر پردہ ڈالا ہوا ہے… ورنہ ساحت علم کا
کونسا مقام ہے جو آپ کی دسترس سے باہر ہو۔ آپ کےبلند علمی مقام کی ہلکی سی جھلک
دیکھنے کے لئے آپ کی گرانقدر تصنیفات اور وقیع مضامین بھی کافی ہیں ۔’’ فتح
الجواد فی معارف آیات الجہاد‘‘ اور ’’فضائل جہاد‘‘ سے لے کر ’’آزادی مکمل یا
ادھوری‘‘ تک اور’’ یہود کی چالیس بیماریوں سے‘‘ لے کر ’’مقام عافیت‘‘ تک ایک ایک
کتاب گوہر نایاب ہے۔ اور ان میںسے ایک ایک کتاب ہزاروں لوگوں کی زندگیوں میں
انقلاب پیدا کر چکی ہے۔ ویسے تو ہر کتاب ہی انسان کو کچھ نہ کچھ دے جاتی ہے، لیکن
جو کتاب انسان کی زندگی کا رخ ہی موڑ دے ایسی کتاب کے بارے میں آپ کیا کہیں گےکہ
اسے کیا نام دیا جائے؟ حضرت دامت برکاتہم العالیہ کی ہر ہر کتاب میں اس خاصیت کا
پورا سمندر موجزن ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت کا سایہ عاطفت ہم گناہگاروں کے
سروں پر تا دیر قائم رکھیںاور اُمت کو اس بحر ذخار کی صحیح معنی میں قدر کرنے
کی توفیق عطاء فرمائیں۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب حضرت امیر محترم دامت
برکاتہم العالیہ نے جہاد کے میدان میں قد م رکھا تھااس وقت جہاد امت میں اجنبی ہو
چکا تھا۔ جہاد کے بارے میں معلومات اور لٹریچر نہ ہونے کے برابر تھا۔ قادیانی فتنے
کی اثر انگیزی عروج پر تھی۔ عوام تو عوام، خواص بھی جہاد کے بارے طرح طرح کے شبہات
اور اشکالات کا شکار تھے۔ ایک ہو کا عالم تھا، ہر طرف جمود طاری تھا۔ ان حالات میں
اللہ تعالیٰ نے حضرت امیر محترم کو اس میدان میں ایک شعلہ جوالہ بنا کر اتارا اور
پھر حضرت کی سحر انگیز تقریر و تحریر نے ایسا طوفان اٹھایا کہ عالم کفر پر لرزہ
طاری ہو گیا۔ آپ کی تقاریر کی لاکھوں کیسٹیں دنیا بھر میں پھیل گئیں اور آپ کے
رسائل و کتب لاکھوں کی تعداد میں شائع ہو کر عرب و عجم ہی نہیں یورپ تک پھیل گئے ۔
اور ہزاروں، لاکھوں فرزندان اسلام اس پیغامِ بیداری پر لبیک کہتے ہوئے جہادکے میدانوں کی
طرف لپکے ۔ دشمن نے اس آواز کو دبانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا یا، آپ کو
پابند سلاسل کیا گیا، آپ کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، آپ کی عقیدت و چاہت
ختم یا کم کرنے کے لئے اتہامات و الزامات کے طوفان اٹھائے گئے، لیکن آپ کا قلم
تلوار بن کر ان سب رکاوٹوں کو عبور کرتا رہا اور اپنے منز ل کی جانب بڑھتا
رہا۔ آج نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ وہ فریضہ جو آج سے چند سال قبل منوں مٹی تلے دبا
دیا گیا تھا آج اس کا سورج نصف النہار پر ہے۔ آج دنیا کا سب سے بڑا اور اہم
موضوع جہاد ہے۔ آج جہاد ایک فاتح بن کر عالم کفر کے سینے پر سوار ہے۔ اور آج
جہاد و جماعت کے پاس اپنا ایک کامل کتب خانہ موجود ہے، جس میںایک سے بڑھ کر ایک
نافع کتاب موجود ہے۔ یہ سب حضرت کی کاوشوں کا ثمر ہے۔
آئیے! اب اپنے ایمان کو جلا بخشتے ہیں اور حضرت امیر
المجاہدین دامت برکاتہم کی عظیم اور دلکش کتابوں کا مختصر مختصر تعارف پڑھتے ہیں۔
١ فتح
الجواد فی معارف آیا ت الجہاد :
یہ حضرت کی تصانیف میں سب سے اونچی اور عدیم المثال تصنیف ہے۔
اسلامی تاریخ میں جہاد کے موضوع پر ایسی کوئی تصنیف نہیں ملتی ۔ اس کتاب میں حضرت
نے قرآ ن کریم کی ۵۵۸ مدنی آیات جہاد کی ایسی تفسیر فرمائی ہے کہ قرآن کریم
کا موضوعِ جہاد کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔ اس کتاب میں حضرت نے اُمت کے مقبول علماء
و مفسرین کرام کی تفسیرات پر اعتماد فرمایا ہے۔ اور مسئلہ جہاد ایسا واضح فرما دیا
ہے کہ جو شخص بھی ایک بار دل کی آنکھوں سے اسے پڑھ لے تو پھر دنیا کا کوئی بڑے سے
بڑا ملحد مسئلہ جہاد میں اس کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا۔ یہ کتاب چار جلدوں پر مشتمل
ہے ۔ پہلی جلد میں سورۃ البقرہ، سورۃ آل عمران، سورۃ النساء اور سورۃ
المائدہ کی آیات جہاد کی تفسیر ہے، دوسری جلد میںسورۃ الانفال اور سورۃ التوبہ کی
ابتدائی ساٹھ آیات ، تیسری جلد میں سورۃ التوبہ کا بقیہ حصہ اور سورۃ الحج، سورۃ
النور، سورۃ الاحزاب اور سورۃ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی آیات، جبکہ چوتھی
جلد میں سورۃ الفتح، سورۃ الحجرات، سورۃ الحدید، سورۃ المجاد لہ، سورۃ ا لحشر،
سورۃ الممتحنہ ، سورۃ الصف، سورۃ المنافقون، سورۃ التحریم، سورۃ
العادیات اور سورۃالنصر کی آیات جہاد کی تفسیرات ہیں ۔ جبکہ اس جلد کے آخر
میں دو ضمیمے بھی ہیں۔ پہلے ضمیمے کا نام ہے ’’کلام برکت‘‘۔ اس میں حضرت شاہ
عبدالقادر رحمہ اللہ علیہ کی تفسیر ’’موضح قرآن‘‘ سے مزید ۲۳ مدنی
آیات کو شامل کیا گیا ہے۔ ان آیات کے تحت حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ
علیہ نے جہاد کے معارف بیان فرمائے ہیں۔ دوسرا ضمیمہ ’’مکی سورتیں اور
اشارات جہاد‘‘ کے نام سے ہے۔ اس میںان مکی آیات کی تفسیر کی گئی ہے جن
میں جہاد کی طرف اشارات ملتے ہیں۔ اس کتاب کے عربی، پشتو اور انگلش تراجم بھی
ہو چکے ہیں، ان میں سے انگلش اور پشتو تراجم تو مطبوع ہیں اور عربی ترجمہ تاحال
غیر مطبوع ہے۔
٢ کتاب
الجہاد و السیرمن صحیح البخاری
اصح الکتب بعد کتاب اللہ ’’صحیح البخاری‘‘ کی کتاب الجہاد و
السیرکی احادیث مبارکہ پر حضرت امیر المجاہدین دامت برکاتہم العالیہ کے انتہائی
قیمتی اور مفید حواشی کا مجموعہ ۔ یہ کتاب ہنوز زیور طبع سے آراستہ نہیں ہوئی۔
البتہ دورہ تفسیر آیات الجہاد پڑھانے والے علماء کرام کو اس کا مسودہ فراہم کیا
جاتا ہے اور وہ اسے سبقاً پڑھاتے ہیں۔
٣ فضائل
جہاد
۳۳ ابواب
اور خاتمہ پر مشتمل ۸۸۰ صفحات کی یہ تاریخی کتاب در اصل آٹھویں اور نویں صدی
ہجری کی مشہور علمی، روحانی اور جہادی شخصیت علامہ ابن النحاس شہید رحمہ اللہ
علیہ کی کتاب ’’مشارع الاشواق الی مصارع العشاق و مثیر الغرام الی دار
السلام‘‘ کی اردو تلخیص و تشریح ہے۔ اور اس کے آخر میں ’’فضائل جہاد مختصر‘‘ بھی
شامل ہے، جو حضرت مصنف دامت برکاتہم العالیہ نے اس تلخیص سےپہلے خود تحریر فرمائی
تھی اور دس حصوں میں اس کتاب کو مکمل کرنے کا ارادہ تھا۔ لیکن اس تلخیص کے بعد اس
کام کو روک دیا گیا، کیونکہ اس تلخیص میں اللہ تعالیٰ نے کفایت کا سامان فرما دیا۔
موجودہ زمانے میں دعوت جہاد کے پھیلاؤ اور مقبولیت میں اس
کتاب کا وافر حصہ شامل ہے۔ حضرت دامت برکاتہم العالیہ نے ہندوستان کی جیل میں بیٹھ
کر اس کتاب میں ایسا خون جگر نچوڑا ہے کہ اس کتاب کی چاشنی روز بروز بڑھتی ہی جا
رہی ہے۔ دنیا کی کتنی ہی مساجد اور گھروں میںاور محاذوں پر اس کتاب کی باقاعدہ
تعلیم جاری ہے اور بے شمار لوگ اس چشمے سے سیراب ہو کر میدانوں کا رخ کر
رہے ہیں۔ اس کتاب کا پشتو زبان میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔اس کتاب کے شروع میں حضرت
نے تعارف اور ایک تحریضی مقدمہ بھی لکھا ہے۔ اور رنگ و نور کی جلد ۱۳ (مشرب
مؤمن) میں بھی اس کتاب کی تصنیف کے ایمان افروز حالات تحریر فرمائے ہیں۔
اللہ تعالیٰ اس کتاب کی قبولیت و مقبولیت میں مزید اضافہ فرمائے۔حقیقت یہ ہے
کہ یہ کتاب اس زمانے میں ہر گھر کی اہم ترین ضرورت ہے۔
٤ یہود
کی چالیس بیماریاں
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہود کی وہ برائیاں اور جرائم
تفصیل سے بیان فرمائے ہیں جن کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مردود اور مغضوب
ہوئے۔ ادھر آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہی
متنبہ فرما دیا تھا ’’ لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ
الخ‘‘ کہ میرے امتیو! پچھلی امتوں نے جو جو کام کئے تم بھی ان میں
مبتلا ہو گے۔ اس لئے خطرہ موجود ہے اور ضروری ہے کہ ہر مسلمان مرد و عورت اس خطرے
سے محفوظ رہنے کی کوشش کرے۔ہندوستان کے تاریک زندانوں میں لکھی گئی یہ عظیم
الشان کتاب بس اسی دعوت کو سموئے ہوئے۔ اس کتاب میں قرآن کریم کی روشنی میں یہود
کے جرائم اور برائیوں کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اور ان سے بچنے کے راستے اور
حفاظت کی راہیں دکھائی گئی ہیں۔ لیکن یہ کتاب فی الحال نامکمل ہے۔ مطبوعہ نسخہ اس
کتاب کی جلد اول ہے اور اس میں چالیس میں سے دس بیماریوں کا تذکرہ ہے۔ جبکہ باقی
تیس بیماریوں پر لکھا جا نا باقی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس عظیم کام کو اپنی شان کریمی
سے جلد مکمل کرا دیں۔ یقیناً یہ امت پر حضرت کا بہت بڑا احسان ہے۔ کتنے ہی بڑے بڑے
اکابر اس کتاب کے دیوانے ہیں اور اس کتاب کی تکمیل کے لئے ان کی طرف سے بار بار اصرار
جاری رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ بند راستے کھول دیں اور
حضرت کے قلم مبارک کا رخ جلد اس طرف فرما دیں، تاکہ امت کی اس تشنگی کا جلد سامان
ہو جائے۔ اس کتاب کا انگلش میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔
(٥تا ١١) رنگ و نور (۷ جلدیں)
ہفت روزہ القلم کی روح اور جان، حضرت امیر محترم کے سیال و
آبدار قلم سے لکھے گئے مبارک مضامین، جو ہر ہفتے میں ایک بار القلم کے صفحات اور
پڑھنے والوں کے دلوں پر قوس قزح کے رنگ بکھیرتے تھے۔ ان معطر اور ایمان افروز
مضامین کو ۱۴۳۰ ھ
میں کتابی شکل میں شائع کرنے کا سلسلہ شروع ہوا اور بفضل اللہ بڑھتا ہی چلا گیا۔
آج الحمد للہ یہ قیمتی اور نایاب ہیرے سب کے سب اپنی اصل شکل میں محفوظ ہو کر
آئندہ نسلوں کے لئےقیمتی ذخیرہ بن چکے ہیں۔ تیرہویں جلد آپ کے ہاتھ میں ہے،
اور ۱۲ جلدیں
اس سے پہلے آ چکی ہیں۔ سات جلدوں تک تو یہ کتاب رنگ و نور کے نام سے ہی شائع ہوتی
رہی۔ اس کے بعد ہر جلد کو باقاعدہ الگ نام بھی دیا جا نے لگا۔ سب کتا بوں کی ترتیب
یہ ہے کہ ہر مضمون سے پہلے اس مضمون کا مختصر خلاصہ اور تعارف مع تاریخ اشاعت الگ
صفحہ پر لکھا گیا ہے اور پھر اصل مضمون رکھا گیا ہے۔اس کتاب کی پہلی اور دوسری جلد
میں ۵۳ ، ۵۳ مضامین
ہیں، تیسری میں ۵۵، چوتھی میں۵۸، پانچویں میں ۶۶، چھٹی میں ۶۲ اور
ساتویں میں ۵۵ مضامین۔
اللہ تعالیٰ اسے تادیر امت کے لئے نافع بنائے رکھیں اور اُمت کو انہیں سرمۂ چشم
بنانے کی توفیق عطاء فرمائیں، اٰمین
سات جلدوں کے بعد اگلی جلدوں کے کیا کیا نام ہیں ۔
انہیں ذیل میں بالترتیب نقل کیا جا رہا ہے۔
١٢ مقامات
یہ رنگ ونور کی آٹھویں جلد ہے۔ اس کتاب کے تمام مضامین کے
عناوین حرف ’’میم‘‘ سے شروع ہوتے ہیں۔ اس کتاب میں کل ۵۰ مضامین
ہیں۔
١٣ مائدۃ
الصابر :
یہ رنگ ونور کی نویں جلد ہے اور اسے حضرت امیر محترم حفظہ
اللہ تعالیٰ کے والد گرامی رحمہ اللہ
علیہ کے نام نامی سے موسوم کیا گیا ہے اور اس کتاب کا ثواب بھی انہیں
ہدیہ کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ ان کی مرقد مبارک کو جنت کا باغ
بنائیں، اٰمین۔
اس کتاب میں کل ۵۲ مضامین ہیں۔
١٤ اذان
عمر
یہ رنگ ونور کی دسویں جلد ہے اور اسے امیر المؤمنین حضرت ملا
محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ علیہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔
اور اس کا ثواب بھی انہی کو ہدیہ کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ پوری امت مسلمہ کو ان کے
فیوض و برکات میں سے وافر حصہ عطاء فرمائیں اور پوری اُمت کی طرف سے انہیں
بہترین بدلہ عطاء فرمائیں۔ اس کتاب میں کل ۵۵ مضامین ہیں۔
١٥ اُمید
اور استقامت
یہ رنگ ونور کی گیارہویں جلد ہے اور اس میں بھی کل ۵۵ مضامین
ہیں۔
١٦ میدانِ
خالد سیف اللّٰہی
یہ رنگ ونور کی بارہویں جلد ہے۔ اسے امام المجاہدین حضرت
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔
اس میں کل ۵۷ مضامین
ہیں۔
١٧ مشرب
مؤمن
یہ رنگ ونور کی تیرہویں اور آخری جلد ہے اور اس میں کل ۴۷ مضامین
ہیں، ہر مضمون دوسرے سے بڑھ کر ہے۔ واقعتاً یہ کتاب ایک ’’مؤمن ‘‘کے لئے ’’مشرب‘‘
ہے۔
١٨ دروس
جہاد
جہاد ایک مشکل اور کٹھن عمل ہے۔ جہاد کا ایک علمی پہلو ہے اور
دوسرا عملی۔ دونوں پہلوؤں کو زندہ رکھنے کے لئے مسلسل تحریض کی ضرورت ہوتی
ہے۔ ورنہ جذبۂ جہاد ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔ اور بڑے بڑے مجاہدین کو بھی دیمک لگ جاتی
ہے۔ بس اسی مقصد کو لے کر یہ کتاب لکھی گئی۔ یہ کتاب در اصل ان سولہ دروس کے
خلاصوں کا مجموعہ ہے جو جہاد کے مختلف موضوعات پر حضرت امیر المجاہدین دامت برکاتم
العالیہ نے کوٹ بھلوال جیل میں قیدی ساتھیوں کو ارشاد فرمائے۔ ان دروس میں جہاد کے
بہت سے اہم گوشوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ بہت سے قیمتی نکات اٹھائے گئے ہیں
اور اہل علم کے لئے تحقیق کی بہت سی راہیں کھولی گئی ہیں۔ اور بہت سے
فتنوں کا تعاقب کیا گیا ہے۔ اس کتاب کی فہرست پر ایک نظر ڈالنے سے ہی اس کی
اہمیت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ حضرت مصنف دامت برکاتہم العالیہ نے اس پر ایک مفصل
پیش لفظ بھی لکھا ہے۔ اس کتاب کا پشتو ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔
١٩ زاد
مجاہد
جہاد ایک اجتماعی عمل ہے۔ اور اس عمل کے صحیح معنیٰ
میں بارآور ہونے کے لئے ’’جماعت‘‘ ضروری ہے۔ ایسی جماعت جو شرعی ترتیب پر
قائم ہو۔ ورنہ بسا اوقات ایسے ایسے فتنے آتے ہیں جو پوری پوری تحریکوں کا رخ
بدل کر رکھ دیتے ہیں، یا پھر اندرونی طور پر تحریکوں میں ایسی کمزوریاں اور
خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں جو ان کی محنت کے ضائع ہونے کا سبب بن جاتی ہیں۔ تہاڑ
جیل، نئی دہلی میں خون جگر سے لکھی گئی یہ کتاب مجاہدین کو ’’جماعت‘‘ کا وہ
مکمل نقشہ پیش کرتی ہے جس پر کھڑی ہونے والی جماعت نہ صرف یہ کہ شرعی ترتیب پر
آجاتی ہے بلکہ اگر اصولوں کی پاسداری کی جائے تو ایسی جماعت بن جاتی ہے جس پر
اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کا ہاتھ آجاتا ہے، ان شاء اللہ ۔ اس کتاب میں ایک
جہادی جماعت کے خدو خال ، اس کے شعبہ جات اور ان کے کام کرنے کا طرز الغرض ایک ایک
چیز کو کھول کھول کر بیان کر دیا گیا ہے۔ کتاب کے آخر میں حضرت امیر المجاہدین
دامت برکاتہم العالیہ کے وہ گرانقدر ۱۶ مکتوبات بھی شامل ہیں
جو انہوں نے ہندوستان کی جیل سے تحریر فرماکر بھیجے تھے۔ اس کتاب کا پشتو زبان میں
ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔
٢٠ تعلیم
الجہاد
جہاد کی مبادیات، ضروری معلومات اوراکتالیس احادیث مبارکہ پر
مشتمل ایک مختصر مگر جامع و مفید کتاب۔ جو پہلے چار حصوں پر مشتمل تھی پھر بعد میں
نظر ثانی اور تصحیح کے بعد اب تین اجزاء اور ایک ضمیمے پر مشتمل ہے۔ چوتھے حصے کا
مواد چونکہ فتح الجواد میں آگیا اس لئے اب اس کو اشاعت سے خارج کر دیا گیا ہے۔
جہاد کی بنیادی و ضروری معلومات اور عقیدۂ جہاد کی صحیح بنیادوں پر استواری کے
لئے یہ کتاب لاجواب ہے۔ یہ کتاب دورہ اساسیہ میں سبقاً پڑھائی جاتی ہے۔ حقیقت
یہ ہے کہ یہ کتاب اس قابل ہے کہ ہر مدرسہ، اور ہر سکول کے نصاب میں اسے شامل کیا
جانا چاہئے اور چھوٹے بچوں کو بچپن میں ہی یہ کتاب یاد کرا دینی چاہیے۔ اللہ
تعالیٰ اُمت مسلمہ کو ان نعمتوں کی قدر کرنے کی توفیق عطاء فرمائیں۔ یہ کتاب اردو
اور پشتو دو زبانوں میں شائع ہو رہی ہے۔
٢١ لطف
اللطیف جل جلالہٗ
دکھوں کی ماری انسانیت اور مصائب کی شکار مخلوق کے لئے ایک
شاہکار تحفہ۔ مسنون و مجرب قرآنی وظائف کا انمول مجموعہ۔ جس میں اسم اعظم پر
ایمان افروز بحث کی گئی ہے، حل مشکلات کے تیر بہدف وظائف بتائیے گئے ہیں، جادو،
آسیب کا توڑ دیا گیا ہے، دشمنوں سے حفاظت، روحانی و جسمانی امراض کے علاج، روزی
میں برکت کے مجربات دلنشین انداز میں بیان کئے گئے ہیں ۔ نیز اللہ الصمد کے
فوائد، قید سے رہائی کے نسخے اور مبارک دعاؤں کا ضمیمہ بھی اس کتاب کا حصہ ہے۔ یہ
کتاب کن حالات میں ، کیسے اور کیوں لکھی گئی ؟ یہ سب حضرت مصنف دامت برکاتہم
العالیہ نے خود اس کتاب میں بیان کر دیا ہے۔یہ کتاب کتنی اہم اور مفید ہے؟ اس کا
صحیح اندازہ تو اسے پڑھ کر اور عمل میں لا کر ہی لگایا جا سکتا ہے۔ البتہ کچھ
اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کتاب ۱۴۲۴ ھ مطابق 2004
میں پہلی بار شائع ہوئی ۔اس وقت سے لے کر اب تک اس کتاب کی پینتالیس اشاعتیں
ہو چکی ہیںاور ان اشاعتوں میں سوا لاکھ کے قریب نسخے چھپ کر امت کے ہاتھوں میں
پہنچ چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کی قبولیت اور نافعیت میں مزید برکت
عطاء فرمائیں اور اسے اسی طرح دکھی انسانیت کے زخموں کا مرہم بنائے
رکھیں، اٰمین
اس کتاب کا پشتو ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔
٢٢ تحفۂ
سعادت
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: وَ لِلہِ
الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بِھَا کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے پیارے
پیارے ناموں کے ساتھ پکارو۔ معلوم ہوا کہ اسماء الحسنٰی اللہ تعالیٰ سے منوانے کا
بہترین ذریعہ ہیں۔ اور کیوں نہ ہوں آخر اسماء ہیں کس کے؟ رب العٰلمین کے، رب
السمٰوات و الارض و رب العرش العظیم کے۔ ارے! جن کے ارادے پر سارے جہان قائم ہیں
ان کے مبارک ناموں میں کتنی تاثیر ہو گی اور کتنی طاقت، کتنی رحمت ہو گی اور
کتنی برکت، کتنی چاشنی ہو گی اور کتنی ٹھنڈک۔ پھر یہ در بدر کی ٹھوکریں کیوں؟ پھر
یہ غیر اللہ کو سجدے کیوں؟ پھر یہ مخلوق کے سامنے پھیلے ہاتھ کیوں؟ بس یہی درد اور
یہی پیغامِ حیات لئے اللہ تعالیٰ کے پیارے پیارے ناموں پر مشتمل یہ خوبصورت اور
دلنشین باغ واقعی اسم با مسمٰی ہے ۔ جی ہاں! تحفۂ سعادت، واقعی تحفۂ سعادت۔
اس باغ میں جگہ جگہ اسماء الحسنٰی کی بہاریں ہیں اور ان کے خواص و فوائد کی
آبشاریں۔ اللہ تعالیٰ حضرت مصنف دامت برکاتہم کو امت کی طرف سے بہترین بدلہ
عطاء فرمائے، جنہوں نے امت کویہ عظیم تحفہ دیا۔ اس کتاب کے شروع میں حضرت نے دس
اہم اور مفید ہدایات بھی تحریر فرمائی ہیں۔ لگ بھگ دو سو صفحات کی اس کتاب کا پشتو
ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔
٢٣ مناجات
صابری
’’اوراد و مشاغل کا ذوق رکھنے والوں کو دیکھا کہ کئی کئی
کتابیں اور کتابچے اپنےساتھ رکھتے ہیں… قرآنی سورتوں کے الگ، دعاؤں کے الگ، اور
درود شریف کے الگ اور عملیات کے الگ… میں نے خود کئی بزرگوں کو دیکھا ہے کہ
رومال میں آٹھ دس رسالے اور کتابچے باندھے سفر کرتے تھے… اب ان شاء اللہ ایسے
افراد کے لئے سہولت ہو جائے گی کہ وہ ایک کتاب ’’مناجات صابری‘‘ ساتھ رکھیں اور ہر
طرح کے اوراد و وظائف سے مستفید ہوں۔‘‘
مناجات صابری کے تعارف کا یہ اقتباس اس کتاب کی اہمیت و
افادیت سے پردہ اٹھا رہا ہے۔ یہ کتاب کیا ہے؟ اور اس میں کیا سوغات امت
کو پیش کی گئی ہے؟ اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے ذرا اس فہرست پر نظر ڈال لیجئے:
پہلا باب :
حصہ اوّل: قرآن کریم کی روز مرہ پڑھی جانے والی چودہ سورتیں
مع فضائل ……
حصہ دوم: کچھ متفرق سورتوں کے فضائل …
حصہ سوم: متفرق آیات قرآنیہ کے مسنون فضائل، احادیث طیبہ کی
روشنی میں …
دوسرا باب :
حصہ اوّل: مختلف اوقات و احوال کی مسنون کی دعائیں …
حصہ دوم: دعاء کے فضائل، آداب، قبولیت کے اوقات و
مقامات ،تاثیرات اور ۹۸ مسنون دعائیں اور آخر میں ذکر کے فضائل …
تیسرا باب :
مجموعۂ الحزب الاعظم و مناجات مقبول۔ حضرت ملا علی
القاری رحمہ اللہ علیہ کی الحزب الاعظم اور حضرت حکیم الامت
تھانوی رحمہ اللہ علیہ کی مناجات مقبول کی دعاؤں پر مشتمل ایک
جامع مجموعہ ۔ جسے سات منزلوں پر تقسیم کیا گیا ہے ۔
چوتھا باب :
استغفارکا ایک مبارک مجموعہ ، جس میں استغفارکے
فضائل اور سو صیغے جمع کئے گئے ہیں۔
پانچواں باب :
اس باب میں حزب البحر اور اوراد فتحیہ مع خواص جلوہ گر ہیں۔
چھٹا باب :
اس باب میں درودو سلام کی برسات ہے۔ درود و سلام کے فضائل،
احکام، چالیس مسنون صیغے اور دو مبارک مجموعات (۱) دلائل الخیرات (۲) ذریعۃ
الوصول الیٰ جناب الرسول صلی اللہ علیہ وسلم
ساتواں باب :
’’مجربات قرآنی‘‘ کا حسین مجموعہ
آٹھواں باب :
تحفۂ ولی اللّٰہی اور مفید و مجرب عملیات و دعائیں۔ حضرت شاہ
ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ علیہ کے مجرب عملیات اور
دیگر مفید عملیات و ادعیہ کا خوبصورت گلدستہ
نواں باب:
ادعیہ و وظائف رنگ و نور۔ رنگ و نور میں بیان کردہ وظائف و
ادعیہ پر مشتمل مفید عام مجموعہ
دسواں باب :
اسماء الحسنیٰ کے فوائد و خواص
گیارہواں باب :
یہ باب ’’چہل حدیث جہاد‘‘ اور وظیفہ ’’اسماء بدریین‘‘ پر
مشتمل ہے
بارہواں باب:
بہت عجیب باب۔ مختصر مختصر الفاظ میں دین اسلام کا
خلاصہ۔ اسلامی عقائد، احکامات، فرائض اور وہ بنیادی معلومات جن کا سیکھنا ایک
مسلمان پر فرض ہے
تیرہواں باب :
محترم ابا جی حضرت الحاج اللہ بخش صابر صاحب رحمہ
اللہ علیہ کے بارے میں تین اہم مضامین
ما شاء اللہ کوئی ایسی چیز نہیںجو چھوڑی گئی ہو۔ ایک مسلمان
کو روز و شب کے اوراد و معمولات اور حوائج و ضروریات کے لئے درکار وظائف و عملیات
یکجا مل جائیں، او وہ بھی انتہائی دیدہ زیب انداز میں تو پھر اس کو اور کیا چاہیے؟
بس یہ ہے اس کتاب کا لب لباب اور خلاصہ … ۹۶۰ صفحات پر مشتمل یہ
کتاب یقیناً ایک در ثمین ہے۔
٢٤ مبارک
مناجات
’’مبارک مناجات‘‘ سبحان اللہ! نام پڑھ کر ہی نشہ چڑھنا شروع
ہوجاتا ہے ، جی ہاں ! پیارے رب سے مناجات کا نشہ، میٹھا نشہ،لذیذ نشہ، شرابا طہورا
سے زیادہ پاکیزہ اور معطر نشہ، اور اگر وہ مناجات ہوں بھی ’’برکات‘‘ کا خزینہ تو
پھر سرمستی کے کیا کہنے؟
آیات ’’لا الٰہ الا‘‘ آیات تسبیح،آیات حمد اور آیات
استغفار کا خوبصورت گلدستہ
لَا الٰہ الا اللہ سب سے پاکیزہ اور سب سے بڑا کلمہ، وجود
عالم اور بقائےعالم کاراز کلمہ، جنت کی چابی کلمہ اور سب سے افضل ذکر کلمہ۔’’
تسبیح‘‘ ہر مخلوق کا وظیفہ ، تسبیح اللہ تعالیٰ کا مؤکد حکم ، تسبیح رزق کی چابی،
تسبیح محبوب عبادت۔’’ حمد‘‘ سب سے افضل دعاء، حمد شکر کا خزانہ، حمداللہ تعالیٰ کے
سب سے اونچے کلام کا آغاز، حمد جس کے بغیر ہر عبادت ادھوری۔ اور استغفار، جی ہاں!
گناہگاروں کے لئے سب سے افضل دعاء، گناہوں کو بخشوانے کا مضبوط ذریعہ، اظہار عبدیت
کا خوبصورت انداز ، استغفار وہ پیاری عبادت جو کائنات کی سب سے افضل اور سب سے پاک
ہستی ہر مجلس میں ستر ستر بار کیا کرتی تھی۔یہ چار خوبصورت موتی اس کتابچے کا
موضوع ہیں۔ اس کتابچے میں ان چارسُچے موتیوں کی آیات کو جمع کیا گیا ہے اور ہر
ایک کی آیات کی الگ مجلس بنائی گئی ہے۔اور چونکہ یہ سب اوراد ’’قرآنی‘‘ ہیں تو
ان کی تاثیر، اہمیت اور چاشنی دو آتشہ ہی نہیں کئی گنا ہو گئی ہے۔ بظاہر یہ
چھوٹانظر آنے والا کتابچہ حقیقت میں ایک ’’سر مکتوم‘‘ ہے۔ اگر لوگوں کو اس کی قدر
معلوم ہو جائے تو ان کا کوئی دن اس کے ورد سے خالی نہ جائے ۔ حضرت مصنف دامت
برکاتہم نے اس کتابچے پر مختصر تعارف بھی تحریر فرمایا ہے۔
٢٥ الیٰ
مغفرۃ
حضرت امیر المجاہدین دامت برکاتہم العالیہ کی شہرۂ آفاق کتا
بوں میں سے ایک اہم کتاب۔ دکھی دلوں کے لئے مرہم، مایوسیوں کی دلدل میں پھنسے
ہوؤں کے لئے امید، ظلم و جہالت اور محرومیوں کے شکار لوگوں کے لئے روشنی کی کرن،
گناہگاروں کا سہارا ، بندوں کو ان کے رب سے جوڑنے کا ذریعہ، مصیبتوں، تکلیفوں،
غموں اور پریشانیوں کا علاج… جی ہاں! یہ کتاب اس موضوع پر لکھی گئی ہے جس کے
بارے ارشاد ہوا :
مَنْ لَزِمِ الْاِسْتِغْفَارَ جَعَلَ اللہُ لَہٗ مِنْ کُلِّ
ہَمٍّ فَرَجًا وَ مِنْ کُلِّ ضِیْقٍ مَّخْرَجًا وَ رَزَقَہٗ مِنْ حَیْثُ
لَایَحْتَسِبُ۔
’’جس نے استغفار کو لازم پکڑا اللہ تعالیٰ اسے ہر غم سے نجات،
ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ اور بے گمان رزق عطاء فرمائیں
گے۔‘‘ [سنن ابن ماجہ۔ ۳۳۱۹]
استغفار کے معانی و مطالب، توبہ کے مفاہیم، استغفار کے فضائل،
فوائد، معارف اور نکات کا ایک حسین انسائیکلوپیڈیا۔ یہ خوبصورت کتاب دو حصوں پر
مشتمل ہے۔ پہلے حصے میں آیات استغفار مع تشریح کا خوبصورت گلدستہ ہے اور دوسرے
حصے میں احادیث استغفار اور دیگر متفرق معارفِ استغفار وادعیۂ استغفار کی
آبشاریں ہیں۔ اس کتاب کا انگلش میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔
٢٦ سات
دن روشنی کے جزیرے پر
یہ دلنشین کتاب اپنے نام کی طرح واقعتاً روشنی کا
ایک خوبصورت جزیرہ ہے۔ جماعت کے اصلاحی نظام ’’دورۂ تربیہ‘‘ کے چالیس اعمال کا
مفصل تعارف اور فضائل اور کچھ اہم ہدایات اس کتاب کا موضوع ہے۔ یہ کتاب کیسی ہے؟
حقیقت ہے اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ حضرت مصنف دامت برکاتہم
العالیہ نے اپنے مبارک قلم سے اس کتاب کا جامع اور بصیرت افروز تعارف تحریر فرمایا
ہے، جو کتاب کے بالکل شروع میں ہے ۔
٢٧ افضل
ایام الدنیا
حدیث مبارکہ میںعشرۂ ذوالحجہ کے دنوں کو ’’افضل ایام
الدنیا ‘‘ یعنی دنیا کے افضل ترین دن قرار دیا گیا ہے اور ان دنوں کے
حیراں کن فضائل بیان کئے گئے ہیں۔ یہ کتاب امت کو انہی دنوں سے جوڑنے کی مناد
ہے۔ اس کتاب کے تین باب ہیں۔ پہلا باب عشرہ ذوالحجہ کے فضائل، مناقب، احکام و
اسرار اور اس عشرہ کو پانے کے نصاب و ترغیبات پر مشتمل ہے۔ دوسرے باب میں حج و
عمرہ کے فضائل اور احکام و معارف بیان کئے گئے ہیں جبکہ تیسرے باب میں قربانی کے
فضائل و مسائل اور حکمتوں کو بیان کیا گیا ہے۔ عشرہ ذی الحجہ نامی کتابچہ بھی اب
اس کتاب کا حصہ ہے۔
٢٨ شہر
رمضان
رمضان المبارک کے مقام ، فضائل، اعمال، برکات، خصوصیات،
کیفیات ، ترغیبات اور رمضان المبارک کو پانے اور کمانے کے لاجواب نسخے۔ ان سب
سوغاتوں پر مشتمل ایک خوبصورت گلدستہ ۔ یہ کتاب اپنے موضوع پر لاجواب تحفہ ہے۔
رمضان المبارک کو قیمتی بنانے کے لئے اس کا مطالعہ انتہائی مفید ہے۔ رمضان المبارک
کے ایام میں ملک بھر کی بہت سی مساجد اور گھروں میں اس کتاب کی باقاعدہ تعلیم
کرائی جاتی ہے۔
٢٩ آزادی
مکمل یا ادھوری؟
کوٹ بھلوال كجیل کے ایک سیل میں لکھی گئی یہ کتاب بظاہر
دیکھنے میں چھوٹی سی ہے، مگر حقیقت میں کئی کئی جلدوں کی ضخیم کتابوں پر بھاری ہے۔
کیونکہ یہ ایک ایسی جہاندیدہ شخصیت کی کتاب ہے جس کا دل امت کے غم میں تڑپتا
ہے، اور ہمیشہ امت کے اتحاد، طاقت اور عروج کا خواب دیکھتا ہے۔ ایک ایسی شخصیت جس
کی آنکھیں اسلام اور اہل اسلام کی ترقی و فلاح کے علاوہ کوئی خواب نہ دیکھتی ہوں
اور پھر کتاب لکھی بھی ایسی حالت میں گئی ہو کہ تنگ و تاریک سیلوں میں ظلم و جبر
کی داستانیں رقم کی جارہی ہوں تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایسی کتاب کیسے
خزانوں کا مجموعہ ہو گی۔ اور ہاں! یہ کتاب ہر اس شخص کے لئے بھی جلاء
البصراور روشنی کا استعارہ ہے جو مصنف دامت برکاتہم کی طرح امت کے اتحاد و سربلندی
کا خواہاں ہو۔ اس کتاب میں انگریز اور اس کے غلاموں کی حقیقت آشکارا کی
گئی ہے اور مدارس دینیہ، تبلیغی جماعت ، خانقاہوں اور علماء و طلباء کا روشن کردار
واضح کیا گیا ہے۔ دینی مدارس کے طلباء کرام کو دعوت عمل بھی دی گئی ہے اور بہت سے
رازوں سے پردہ بھی اٹھایا گیا ہے۔ اس کتاب کے اصل مخاطب تو دینی مدارس کے طلباء
کرام ہیں، لیکن یہ کتاب ہر خاص و عام کے لئے مفید اور راہ نما ہے۔ حضرت مفتی رشید
احمد صاحب رحمہ اللہ علیہ نے اس کتاب کے ایک مضمون پر حضرت
مصنف دامت برکاتہم العالیہ کو آٹھ بار شاباش سے نوازا۔ حضرت مصنف دامت برکاتہم
العالیہ نے اس کتاب کا مفصل تعارف بھی تحریر فرمایا ہے۔
٣٠ روزن
زنداں سے
یہ کتاب بھی حضرت امیر محترم دامت برکاتہم کی ان کتب میں سے
ہے جو ہندوستان کی جیلوں میں لکھی گئیں۔ اس کتاب کا بنیادی اور اکثری مواد تو تہاڑ
جیل دہلی کا ہے ، البتہ کچھ مواد ہندوستان سے رہائی کے بعد کا بھی ہے جسے بعد میں
شامل کر لیا گیا ۔اس کتاب کی ترتیب درج ذیل ہے۔
پہلاباب : ’’سوز دروں‘‘
اس باب میں وہ ۵۳ مضامین ہیں جو حضرت
نے تہاڑ جیل دہلی میں مختلف موضوعات پر تحریر فرمائے۔
دوسرا باب: نوائے دل
اس باب میں وہ بارہ(۱۲) ایمان افروز بیانات ہیں جو
حضرت نے جیل میں قیدی ساتھیوں کو مختلف موضوعات پر ارشاد فرمائے۔
تیسرا باب: افکار دلپذیر
اس باب میں دواہم انٹر ویو ہیں ۔
چوتھا باب: نوشتہ ٔ اسیر
اس باب میں ۱۳ گرانقدر خطوط ہیں۔ان میں سے کچھ خطوط تو جیل سے
لکھے گئے ، اور کچھ رہائی کے بعد کے ہیں، جن میں جماعت کے احباب و کارکنان کو اہم
ہدایات دی گئی ہیں۔ یہ کتاب اب شائع نہیں ہو رہی۔
٣١ مسکراتے
زخم
اس کتاب کا نام ہی اس کے تعارف کے لئے کافی ہے۔ ہندوستان کے
عقوبت خانوں اور ٹارچر سینٹروں کے دلدوز حالات و واقعات پر مشتمل ایک ایمان افروز
کتاب۔اسیران اسلام کا درد بانٹتی ایک درد بھری کتاب۔ مکار دشمن کےپردے چاک کرتی
ایک چشم کشا کتاب۔ مایوسیوں کے اندھیروں میں امید کا چراغ روشن کرتی ایک چمکتی
کتاب۔ اس کتاب میں سفر ہندوستان، اس سفر کے اغراض و مقاصد اور پیش آمدہ حالات و
واقعات اور پھر گرفتاری، قید اور ٹارچر سینٹروں و عقوبت خانوں کے حالات تفصیل سے
بیان کئے گئے ہیں۔ ایک ہنساتی، رلاتی اور بہت سے حقائق سے پردہ اٹھاتی عجیب
داستان۔ جس نے بھی پڑھا اس کے دل کے تار ہلا دئیے اور عزائم میں طوفان اٹھا دیا۔
یہ کتاب دراصل ان ۳۲ مضامین کا مجموعہ ہے جو پندرہ روزہ ’’جیش محمد صلی اللہ
علیہ وسلم ‘‘ میں ’’چاک قفس سے‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئے ۔ کتاب کے آخر
میں ۴۴ سوالات
پر مشتمل حضرت کا ایک مفصل انٹرویو بھی ہے جو پندرہ روزہ ’’جیش محمد صلی اللہ علیہ
وسلم ‘‘ نے کیا تھا اور اسی میں شائع بھی ہوا تھا۔
٣٢ دل کی لگی
ایمان افروز اور نظریات ساز مضامین پر مشتمل اس کتاب کے
دو حصے ہیں۔ پہلے حصہ کا عنوان ہے ’’درویش کے قلم سے‘‘ اس حصہ میں وہ پچیس مضامین
ہیں جو ایام نظر بندی میں اسی قلمی نام سے ایک روزنامہ میں شائع ہوئے تھے اور
دوسرا حصہ ’’میانوالی جیل سے‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔ اس حصہ میں وہ مضامین ہیں جو
میانوالی جیل میں لکھے گئے تھے۔
پابندیوں، سختیوں، بد عہدیوں اور مشقتوں کے ایام میں لکھے گئے
یہ مضامین ایک سے بڑھ کر ایک شاہکار ہیں، کہیں تو قارئین کو بلااختیار ہنسنے پر
مجبور کر دیتے ہیں ا ورکہیں آنکھوں کو آنسوؤں کا غسل دے دیتے ہیں، کہیں سازشوں
سے پردہ اٹھاتے ہیں تو کہیں سازشیوں کو آئینہ دکھاتے ہیں، کہیں اغیار کو للکارتے
ہیں تو کہیں اپنوں کی ڈھارس بندھاتے ہیں۔ دل لگی کا سامان لئے ہوئے دل کی لگی بھی
خوب سناتے ہیں ۔حضرت نے اس کتاب کا تعارف بھی لکھا ہے، جو ایک الگ د نیا اپنے اندر
سموئے ہوئے ہے۔ پوری کتاب ایک طرف اور تعارف ایک طرف۔ یہ تعارف غیرت ایمانی، حمیت
ایمانی اور جرأت واستقامت کا ایک باب ہے۔ یہ حسین گلدستہ تقریباً ۲۸۰ صفحات
پر مشتمل ہے۔
٣٣ سراغ
حقیقت
’’اس کتاب کا نام ’’سراغ حقیقت‘‘ ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول
فرمائے۔ اس کتاب میں جن ’’حقائق‘‘ کا سراغ ملتا ہے وہ بہت سارے ہیں،
مثلاً قرآن پاک میں آیات جہاد کتنی اور کون کون سی ہیں؟… طالبان تحریک
کامیاب یا ناکام؟… گیارہ ستمبر 2001 کی چیخیں کن چیخوں کی بازگشت تھیں؟… افغانستان
کا مستقبل کیا نظر آ رہا ہے؟… پاکستان نے طالبان کے خلاف امریکہ کی مدد کر کے کیا
کھویا اور کیا پایا؟… قادیانی فتنہ جہاد کا منکر کیوں ہے؟… ختم نبوت اور جہاد کا
التزام کس طرح سے ہے؟… قادیانیت کا خلاصہ انکار جہاد کیونکر؟… دہشتگردی
کے خلاف جنگ کرنے والوں کے اصل مقاصد کیا ہیں؟… کیا مسلمان موجودہ حالات میں
ہتھیار ڈال دیں؟… امارت اسلامیہ کا سقوط کیوں اور کیسے؟… ملحدین کی چالبازیاں… اور
جہاد کے مخالفین کی اصل حقیقت کا بیان۔‘‘
کتاب کا یہ تعارف خود مصنف دامت برکاتہم العالیہ کا تحریر
فرمودہ ہے۔ ایسی خوبصورت کتاب اور ایسے حقائق سے محروم رہنا یقیناً خسارہ ہی
ہے۔ اس نعمت کو حاصل کیجیے اور آنکھوں کی بصیرت بنائیے۔
٣٤ معرکہ
یہ کتاب حضرت امیر المجاہدین دامت برکاتہم العالیہ کے ان
مضامین کا مجموعہ ہے جو ہفت روزہ ضرب مؤمن میں ’’معرکہ‘‘ کے نام سے شائع
ہوتے رہے۔ یقیناً یہ بھی ایک قیمتی خزانہ ہے۔ یہ کتاب اب کافی عرصہ سے شائع
نہیں ہو رہی۔
٣٥ مجاہد
کی اذاں
یہ کتاب حضرت امیر محترم دامت برکاتہم کے ان رشحات قلم کا
مجموعہ ہے جو ماہنامہ صدائے مجاہد میں اداریوں، تجزیوں اور مضامین کی شکل میں شائع
ہوئے ۔ بعد میں انہیں جمع کر کے کتابی شکل دے دی گئی۔ اس کتاب کی دو
جلدیں ہیں۔ پہلی جلد ۳۱۱ صفحات اور دوسری جلد ۳۲۸ صفحات پر مشتمل ہے۔
یہ کتاب اب شائع نہیں ہو رہی۔
٣٦ رسائل
جہاد
دس اجزاء اور ۲۳۲ صفحات کی یہ کتاب
حضرت امیر محترم دامت برکاتہم العالیہ کے حالات زندگی، نو اہم رسائل اور
’’متفرقات‘‘ کے نام سے حضرت والا کے بارے مختلف اہل دل و اہل قلم کی تحریرات کا
مجموعہ ہے، وہ تحریرات جو ہندوستان کے ہاتھوں حضرت کی گرفتاری کے پس منظر میں لکھی
گئیں۔ اس کتاب کے مرتب حضرت مولانا طاہر حمید صاحب نے عرض مرتب میں حضرت کے کچھ
احوال اور کچھ کتب کا تعاف لکھا ہےجبکہ ’’آئینۂ کردار‘‘ کے نام سے محترم سلطان
محمود ضیاء صاحب نے حضرت امیر محترم دامت برکاتہم العالیہ کے کچھ حالات زندگی
تحریر فرمائے ہیں۔ کتاب میں شامل نو رسائل کے نام درج ذیل ہیں:
١ جہاد
ایک محکم فریضہ
٢ جہاد
رحمت یا فساد؟
٣ مسلمانوں
کو ایک چیلنج
٤ بنیاد
پرستی
٥ میرا
بھی ایک سوال ہے
٦ اسلام
اور جہاد کی تیاری
٧ اللہ
والے
٨ تعلیم
الجہاد
٩ بابری
مسجد
یہ کتاب پہلے اسی نام اور اسی ترتیب سے شائع ہوتی تھی، اب
’’دس خزانے‘‘ کے نام سے شائع ہو رہی ہے البتہ اس میں کچھ
تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
٣٧ دس
خزانے
یہ کتاب بنیادی طور پر تو انہی رسائل کا مجموعہ ہے جو ’’رسائل
جہاد‘‘ کا حصہ ہیں ۔ آپ اسے ’’رسائل جہاد‘‘ کی شکل نو بھی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن ان
دونوں میں کافی فرق بھی ہے۔ ’’رسائل جہاد‘‘ میں حضرت امیر المجاہدین دامت
برکاتہم العالیہ کی سوانح اور حالات پر بہت سا مواد تھا، دس خزانے میں حضرت نے وہ
سب حذف کرا دیا ہے۔ ایسے ہی تعلیم الجہاد نئی ترتیب کے ساتھ اب چونکہ الگ شائع ہو
رہی ہے اس لئے اسے بھی حذف کر دیا گیا ہے۔ اور دو نئے رسائل کا اضافہ کیا گیا ہے،
جن کے نام یہ ہیں:
١ عمومی
عذاب
٢ جواہر
پارے
یوں کل دس قیمتی رسائل کا یہ مجموعہ تیار ہو گیا۔ اس کتاب کے
بعض مضامین پر حضرات اکابر کی گرانقدر آراء بھی موجود ہیں۔ یہ کتاب عرصہ دراز سے
تسلسل کے ساتھ شائع ہو کر ہزارہا لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب کا باعث بن رہی ہے،
و الحمد للہ ۔ اس کتاب کا پشتو ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔
٣٨ خطبات
جہاد
یہ حضرت امیرالمجاہدین دامت برکاتہم العالیہ کے ایمان
افروزاور پر مغز خطبات کا مجموعہ ہے۔، جنہیں کیسٹوں سے تحریر کی شکل
میں ڈھالا گیا ہے۔ اس کتاب کی دو جلدیں ہیں اور ہر جلد کے دو حصے۔
یوں کتاب کل چار حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے دونوں حصوں میں سات سات، تیسرے میں
دس اور چوتھے حصے میں بارہ خطبات ہیں۔ اس کتاب پر حضرت اقدس مفتی نظام الدین
شامزئی شہید رحمہ اللہ علیہ کی گرانقدر تقریظ بھی ہے۔
٣٩ جمال
جمیل
ایک ’’کامیاب انسان‘‘ کی داستان حیات، ایک کوہ گراں کی
زندگی کے نقوش، ایک بلند و عالی ہمت شخص کے نقوش پا، ایک عظیم انسان کے اخلاق و
کردار کا تذکرہ، ایک روشن ستارے کی کرنیں، ایک تاریخ ساز شخصیت کی جھلک، جی
ہاں! حضرت امیر المجاہدین کے محبوب استاد اور علماءو اکابر کے منظور نظر حضرت
مولانا مفتی محمد جمیل خان صاحب شہید رحمہ اللہ علیہ کی سوانح حیات اور دو
خطبات پر مشتمل ایک خوبصورت کتاب ۔ جو پچھلوں کے لئے اپنے اندر بہت سے اسباق سموئے
ہوئی ہے۔
٤٠ اے
مسلمان بہن!
یہ کتاب ماہنامہ بنات عائشہ رضی اللہ عنہا کےان
اداریوں اور مضامین کا مجموعہ ہے جو حضرت کے نورانی قلم سے معرض تحریر
میں آئے۔ اس کتاب اور اس کے مضامین میں مسلمان ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو
ان کی اصل ذمہ داریوں سے روشناس کرایا گیا ہے اور انہیں حضرت خولہ و حضرت
خنساء رضی اللہ تعالی عنہا کی سیرت اپنانے کی ترغیب دی گئی
ہے اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ میں اپنا بھر پور حصہ ملانے کی ترغیب دی گئی ہے۔
یقیناً یہ کتاب ہر گھر کی زینت اور ہر مسلمان خاتون کی لازمی ضرورت ہے۔ اس کتاب کا
انگلش ترجمہ بھی کافی عرصہ سے شائع ہو رہا ہے۔
٤١ تحفہ
ذی الحجہ
عشرہ ذوالحجہ اور قربانی کے مسائل و معارف پرمشتمل یہ چھوٹا
سا کتابچہ بہت مفید اور جامع ہے۔ عرصہ دراز تک یہ اپنے موضوع پر امت کی وافر
راہنمائی کا ذریعہ بنا رہا۔ اب اسے ’’افضل ایام الدنیا‘‘ کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
٤٢ سورۃ
الفاتحہ
سورۃ الفاتحہ کے فضائل، معارف اور خواص پر مشتمل ایک مختصر
مگر مفید عام کتابچہ، جو ہزارہا لوگوں کی نفع رسانی کاسبب بن چکا ہے۔ بالخصوص اس
میں بیان کردہ ’’ورد السعادۃ‘‘ تو ہر محروم و شکست خوردہ کی دواء ہے۔
٤٣ آیۃ
الکرسی
آیۃ الکرسی کے فضائل و معار ف اور خواص پر مشتمل توحید کا
ایسا جام، جس کا نشہ ایک بار چڑھ جائے تو دل و دماغ کو مسحور کر جائے، اور دل کو
کتنی ہی غلاظتوں اور کمزوریوں سے پاک کر جائے۔ یہ کتابچہ انتہائی قلیل مدت میں
ہزاروں کی تعداد میں شائع ہو چکا ہے۔
٤٤ استخارہ
تکبر، عجب ، تشتت آراء، خود غرضی، خود رائی اور فتنوں کے
زمانے میں ایک ٹھنڈا سائبان۔ آپ کو جو بھی چھوٹا یا بڑا مسئلہ ہو اپنے رب کے حضور
پیش کر کے راہنمائی مانگ لیں۔ بس یہی استخارہ ہے۔ حضرات صحابہ
کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین فرماتے ہیں نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں استخارہ ایسے سکھاتے تھے جیسے
قرآن کریم کی آیات۔ استخارہ کے معانی و مفاہیم، حقیقت وطریقہ اور فضائل و فوائد
پر مشتمل ایک جامع کتابچہ ۔ یہ کتابچہ اشاعت کی دنیا میں ریکارڈ قائم کر چکا ہے،
بلامبالغہ لاکھوں کی تعداد میں شائع ہونے والے اس کتابچے نے استخارے کے بارے میں
امت کی صحیح راہنمائی کا حق اداء کیا ہے اور استخارہ کے نام پر پھیلی بدعات و
رسومات کی حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے۔ کتنے ہی لوگوںنے اس کتابچے کا جام پیا اور پھر
استخارہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب پا گئے۔ یہ اپنی جگہ ایک ایمان افروزداستان
ہے۔
٤٥ الحجامہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجامہ
کو سب سے افضل اور بہترین علاج قرار دیا۔ حجامہ کی فضیلت، ترغیب، احادیث اور
ہدایات پر مشتمل ایک مفید کتاب ۔ جسے پڑھنے کے بعد اس موضوع پر کوئی تشنگی باقی
نہیں رہتی۔اور طبی دہشتگردی کے اس دور میں انسانیت کو سنت کی میٹھی اور ٹھنڈی
چھاؤں نصیب ہوتی ہے۔ حجامہ کو سمجھنے اور پانے کے لئے یہ کتاب یقیناً یہ ایک
عظیم نعمت ہے۔
٤٦ مقام
عافیت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان
و یقین کے بعد ’’عافیت‘‘ کو سب سے بڑی نعمت قرار دیا۔ عافیت کیا ہے؟ عافیت کے
معانی و مفاہیم کیا ہیں؟ عافیت کے فضائل اور فوائد کیا ہیں؟ آقائے نامدار صلی
اللہ علیہ وسلم نےکس کس انداز سے عافیت مانگنے کی ترغیب ارشاد
فرمائی ہے؟ اور اس کے لئے کون کون سی دعائیں تلقین فرمائی ہیں؟ ان سب سوالوں کے
شافی جواب کے لئے یہ کتاب بہترین تحفہ ہے۔آفات، بلیات، حوادثات اور وباؤں کے اس
زمانے میں یہ کتاب ایک محفوظ قلعہ ہے۔
٤٧ معمولات
یومیہ
ایک مختصر مگر جامع کتابچہ۔ جس میں ایک مسلمان کی روز مرہ کی
روحانی ضروریات کا وسیع خزانہ موجود ہے۔ اس کتابچے میں کیا کچھ ہے؟ ذرا ایک نظر اس
فہرست پر ڈال لیجئے:
١ قرآنی
سورتیں…سورۂ یٰس، سورۂ واقعہ، سورۂ ملک اور سورۂ کہف کی پہلی اور آخری دس آیات
اور ان کے فضائل
٢ منزل…
مشہور قرآنی وظیفہ ’’منزل‘‘ اور اس کے فضائل و خواص
٣ اوراد
فتحیہ…مسنون ادعیہ پر مشتمل مقبول وظیفہ جو صدیوں سے مسلمانوں کے ورد زبان ہے اور
اس کا قدرے تعارف
٤ نماز
اور نماز جنازہ کا طریقہ
٥ معمولات
مجاہد… اصلاحی بیعت میںشامل ہونے والے حضرات و خواتین کوحضرت امیر محترم کی طرف سے
تلقین کئے جانے والے معمولات
٦ دورہ
تربیہ کے چالیس معمولات کی مختصر فہرست
٧ الاستغفار…استغفار
کے چھ مسنون صیغے اور ان کے فضائل
٨ الصلوٰۃ
والسلام… قرآن و سنت سے ثابت درود و سلام کے کئی صیغےاور ان کے فضائل
٩ الاذکار
المسنونہ… صبح شام کی مسنون دعائیں، نماز کے بعد کے مسنون اذکار
٢٠ جہادی
اذکار…جہاد کے مختلف مراحل کی مسنون دعائیں، استخارہ کی دعاءاور دیگر اوقات و
مقامات کی مسنون و مستند دعائیں
یہ سب کچھ اس کتابچے میں جمع ہے۔ یقیناً یہ کسی نعمت غیر
مترقبہ سے کم نہیں۔
٤٨ ایمانی
ہمسفر
مسنون دعاؤں، چہل حدیثِ جہاد ، نماز اور درود شریف کے فضائل
و صیغہ جات پر مشتمل ایک نورانی ہمسفر۔ یہ کتابچہ اب شائع نہیں ہوتا۔
٤٩ اذانِ
حج
حج و عمرہ کے فضائل، معارف ، طریقہ، اہم اہم مسائل اور
ترغیبات کا مرقع۔ یہ کتاب تاحال زیور طباعت سے آراستہ نہیں ہوئی۔
٥٠ حکمت
اور عقل کی باتیں
انفاق فی سبیل اللہ کے فضائل، ترغیبات اور چند قیمتی نکات پر
مشتمل ایک چھوٹا سا کتابچہ۔ جو اپنے موضوع پر بے حد مفید ہے۔
انگلش کتب
حضرت امیر محترم دامت برکاتہم العالیہ کی بعض کتب کا انگریزی
زبان میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔ جن کے نام یہ ہیں:
١ فتح
الجواد … جلد۱، ۲، ۳
٢ یہود
کی چالیس بیماریاں
٣ الیٰ
مغفرۃ
٤ اے
مسلمان بہن!
اور ان کتابوں کے انگریزی ترجمے پر کام چل رہا ہے:
١ فضائل
جہاد کامل
٢ شہر
رمضان
حضرت کی بہت سی کتب او ر رسائل یورپ و ہندوستان میں لاکھوں کی
تعداد میں شائع ہو رہے ہیں، فللہ الحمد و المنۃ۔ اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ اللہ
تعالیٰ اس مے خانہ کو اسی طرح آباد و شاد رکھیں، اس میں مزید برکتیں اور
وسعتیں عطاء فرمائیں، اور امت کو بھی اس مے خانے کی خوب خوب قدر کرنے کی توفیق
عطاء فرمائیں، آمین بجاہ سید الانبیاء و المرسلین
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا وَ مَوْلَانَا مُحَمَّدٍ
وَّعَلیٰ آلِہٖ وَ صَحْبِہٖ
صَلوٰۃً دَائِمَۃً مَّقْبُوْلَۃً تُؤَدِّیْ بِھَا عَنَّا
حَقَّہُ الْعَظِیْمَ وَ بَارِکْ
وَ سَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا کَثِیْرًا
محمد عبید
الرحمٰن
۹ ذوالقعدہ ۱۴۴۱ ھ
29 جون
2020
لیلۃ
الثلاثاء
٭٭٭
جب حسن و محبت مل کے بہم سرشار و غزل خواں ہوتے ہیں
فطرت کو بھی حال آجاتا ہے نظارے بھی رقصاں ہوتے ہیں
باطل کی ہو کتنی ہی طاقت باطل کی اطاعت کیا معنٰی؟
ایماں پہ فدا ہو جاتے ہیں جو صاحبِ ایماں ہوتے ہیں
مَشْرَبِ مُؤمِن
مصنف
مولانا محمد مسعود ازہر
اعداد و تقدیم
دار البیان
ناشر
مکتبہ عرفان لاہور
اللہ تعالیٰ سے مقبول شہادت کا سوال ہے۔
اَللّٰہُمَّ ارْزُقْنِیْ شَہَادَۃً فِیْ سَبِیْلِکَ۔
شہادت کا مقام… علمی اور لفظی طور پر تو دنیا میں سمجھا،
سمجھایا جا سکتا ہے… مگر اس کی اصل حقیقت کا ادراک ہمارے لیے ممکن نہیں ہے… یہ
اللہ تعالیٰ جانتے ہیں… اور اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا اور سمجھایا ہے… اور جب
کوئی مؤمن شہادت پا جاتا ہے تو وہ بھی اس مقام کو دیکھ لیتا ہے… مگر باوجود زندہ
ہونے کے اس کا رابطہ زندہ لوگوں سے کٹ جاتا ہے… وہ انہیں نہیں بتا سکتا کہ وہ کس
حال میں ہے… کس لذت میں ہے… اور کس بلند مقام پر ہے… اگر کسی ایک شہید کو بھی موقع
دے دیا جائے کہ وہ… زندہ لوگوں کو اپنے حالات بتاسکے تو… پھر کوئی مسلمان بھی
شہادت سے محرومی کا تصور بھی نہ کرے… اور سب لوگ دیوانوں کی طرح شہادت کی طرف
لپکیں… مگر اصل ایمان تو ’’ایمان بالغیب‘‘ ہے… بغیر دیکھے، بغیر محسوس کئے اور
بغیر چکھے مان لینا… پھر ’’شہادت‘‘ عشق کا اعلیٰ مقام ہے… اور عشق کی باتیں راز
ہوتی ہیں… جب بھی کوئی ایمان والا اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے شہادت پا لیتا ہے
تو… اس کی ایک خواہش یہ بھی ہوتی ہےکہ اسے اجازت دی جائے کہ… وہ تھوڑی دیر کے لیے
دنیا کے افراد کو اپنا حال بتا سکے… مگر اسے اس کی اجازت نہیں دی جاتی…
کیونکہ اگر یہ اجازت مل جائے تو پھرنہ غیب، غیب رہا… اور نہ راز، راز… اس کے باجود
اللہ تعالیٰ کا فضل دیکھیںکہ… انہوں نے شہادت کے فضائل… اور شہادت کےمقام کو کھول
کر بیان فرمایا… ایمان والوں کے لئے تو ان کا اشارہ ہی کافی تھا…مگر اللہ تعالیٰ
کا احسان اور فضل کہ… آیات پر آیات نازل فرمائیں… اور شہداء کا پیغام پیچھے
والوں تک پہنچایا… اور پھرحضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کا اپنی محبوب امت پر عظیم احسان کہ… شہادت کو اتنی تفصیل اور
خوبصورتی سے بیان فرمایاکہ… گویا کہ… اس کے عظیم مقام کو آنکھوں کے سامنے رکھ
دیا… یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خود اپنی ذات اقدس کے لئے… بار بار
شہادت کی تمنا فرمانا… کیا اس کے بعد کسی اور فضیلت… کسی اور تقریر… کسی اور
تحریر… کسی اور ترغیب… یا کسی اور مضمون کی ضروت باقی رہ جاتی ہے؟
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم اس مخلوق میں سب سے افضل… اور افضل ترین ہیں… کونسا مقام ہے جو
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل نہیں؟… اور کونسی منزل ہے
جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترس میں اللہ تعالیٰ نے
نہیں دی… پھر قیامت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقامات کی
مزید بلندی کا… اللہ تعالیٰ نے ایک مستحکم اور عجیب نظام قائم فرما دیا ہے… ہر
روز، ہر لمحہ اور ہر گھڑی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان
میں… مزید بلندی ہوتی ہے…جب بھی کوئی انسان اسلام قبول کرتا ہے… جب بھی کوئی
مسلمان کوئی نیکی کرتاہے… جب مسلمان فتوحات پاتے ہیںاور کسی نئی زمین پر اسلام کا
پرچم لہراتے ہیں… جب مسلمان اذان دیتے ہیں… جب بھی کوئی مسلمان حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوٰۃ و سلام بھیجتا ہے… تو ان
اعمال کا اجر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےلئے سب سے پہلے لکھا
جاتا ہے… اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم شان میں مزید
بلندی ہوتی ہے… بلندی ہی بلندی… اور مزید بلندی:
{وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّکَ مِنَ الْأُوْلٰى}
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے…
ہر اگلا لمحہ اور ہر اگلا مرحلہ… پچھلے سے زیادہ بہتر اور زیادہ شان والا ہے…
مخلوق میں سب سے زیادہ فضیلت… حضرات انبیاء و رسل اور ملائکہ کی ہے… بالاتفاق
آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ و السلام
اور تمام رسولوں کے سردار اور امام ہیں… اس ساری صورتحال کے
باوجودآپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے لئے… اللہ تعالیٰ کے
راستے میں بار بار قتل ہونے اور شہید ہونے کی تمنا کا ظاہر فرمانا… اس امت کو کیا
سکھاتا ہے؟… ہمارا ایمان ہے کہ… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی
ہر بات سچی ہے… ہر بات ’’حق‘‘ ہے… اور آپ صلی اللہ علیہ
وسلم شعراء والے مبالغے اور ایسی لفاظی سے پاک ہیںجو حقیقت سے دور ہو…
دراصل اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے شہداء کے لئےجو مقام بنایا ہے… وہ بہت ہی محبوب
اور پر کشش ہے… اور یہ مقام اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ
وسلم کو دکھا دیا… یہ مقام اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کے بلند مقامات کے مقابلے میںچھوٹا ہے… مگر اس میں اتنی محبوبیت
اور اتنی کشش ہے کہ… یہ ’’مقام شہادت‘‘ جو کہ حقیقت میں ’’مقام محبت‘‘ ہے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بے حد پسند آیا…
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اندر اس کی طلب اور رغبت
محسوس فرمائی… اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے سامنےاپنی تمنا ظاہر فرمائی… آپ صلی
اللہ علیہ وسلم کی تمنا مبارک پوری ہوئی… اور اس مقام کو بھی آپ کے مقامات میں
شامل فرما لیا گیا… جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر
مقامات… بلا شبہ مقام شہادت سے بلند ہیں… حضرت علامہ سخاوی رحمہ اللہ
علیہ تحریرفرماتے ہیں:
’’وَ مِنْ أَدِلَّۃِ ذٰلِکَ اَیْضًا قَوْلُہٗ
تَعَالٰی: {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوْا فِي سَبِيْلِ
اللّٰهِ أَمْوَاتًاط بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ } [اٰل عمران:۱۶۹] … فَإِنَّ
الشَّهَادَةَ حَاصِلَةٌ لَهٗ صلی اللہ علیہ وسلم عَلٰى أَتَمِّ
الْوُجُوْهِ، لِأَنَّهٗ شَهِيْدُ الشُّهَدَاءِ۔ وَ قَدْ صَرَّحَ ابْنُ عَبَّاسٍ
وَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ وَ غَيْرُهُمَا بِأَنَّهٗ صلی اللہ علیہ
وسلم مَاتَ شَهِيْدًا ۔‘‘
[القول البدیع۔ص: ۳۵۱]
اب ایک نظر اس طرف دیکھیں!… حضرت آقا محمد
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر معاملے میںاپنی امت کی فکر
فرمائی… اور اپنی امت پر ہر معاملے میں ’’احسانِ عظیم‘‘ فرمایا… شہادت جیسی اونچی،
میٹھی، دلکش اور انمول نعمت… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی
اُمت کے زیادہ سے زیادہ افراد کو نصیب ہو … اس کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے…
شہادت کو عجیب طریقے اور عجیب الفاظ میں بیان فرمایا:
لَوَدِدْتُ أَنِّی أُقْتَلُ فِي سَبِيْلِ اللّٰهِ۔
فرمایا کہ میری محبت یہ ہے… میری چاہت یہ ہے… میری پسند یہ
ہے… میرے دل کی مانگ یہ ہے کہ… میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل کیا جاؤں… یعنی
شہادت پاؤں… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’وُدّ‘‘ کا لفظ استعمال
فرمایا… ایسا لفظ جس سے ’’شہد‘‘ ٹپکتا ہے… جس سے ’’چاہت‘‘ امڈتی ہے… جس سے ’’دل‘‘
کھنچتا ہے… اسی لفظ ’’وُدّ‘‘ سے اللہ تعالیٰ کا نام مبارک ’’اَلوَدُودُجل شانہ‘‘
ہے … محبت فرما نے والا … آپ اس لفظ ’’وُدّ‘‘ کی گہرائی میں جائیں تو… شہادت کی
خواہش میں ڈوب جائیں گے … جب اللہ تعالیٰ کے حبیب … اللہ تعالیٰ کے محبوب… ساری مخلوقات
کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور چاہت یہ ہے کہ… آپ صلی اللہ
علیہ وسلم کو ’’شہادت‘‘ ملے تو اندازہ لگائیں کہ… اللہ تعالیٰ کے راستے
میں قتل ہونا، شہادت پانا… کتنی عظیم نعمت ہے… اب ایک مسلمان کے لیے یہ کام آسان
ہوگیا کہ… وہ اپنے ’’نفس‘‘ کو شہادت کے لیے تیار اور راضی کرے… ہر نفس میں زندہ
رہنے کی بہت خواہش ہوتی ہے… یہ دنیا اپنے اندر بڑی کشش رکھتی ہے… اس کشش کو توڑنے
کے لیے اس سے بڑی کشش کی ضرورت پڑتی ہے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
اُمت پر احسان فرماتے ہوئے… شہادت کی یہ کشش… اپنے مبارک الفاظ… اور اپنی ذاتی
تمنا کے ذریعہ اُمت کو عطاء فرما دی ہے… اب ایک مؤمن اپنے ’’نفس‘‘ سے کہہ سکتا ہے
کہ… دیکھو! محبوب آقا صلی اللہ علیہ وسلم شہادت کی خواہش فرمارہے ہیں…
شہادت تو محبوب کی چاہت ہے… وہ فرمارہے ہیں… مجھے ایک بار نہیں… بار بار شہید ہونے
کی قلبی چاہت ہے… پس اے نفس!… اگر تو مسلمان ہے، اگر تو مؤمن ہے… اگر تو حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہے… اگر تو حضور اقدس صلی اللہ
علیہ وسلم کے عالی مقام کو جانتا ہےتو پھر… تجھ پر بھی لازم ہے کہ تو
بھی اپنے اندر شہادت کی چاہت بھرلے… اور تو بھی کہہ دے:
لَوَدِدْتُ أَنِّی أُقْتَلُ فِي سَبِيْلِ
اللّٰهِ۔
کہ میری حقیقی چاہت، خواہش اور محبت یہ ہے کہ مجھے اللہ
تعالیٰ کے راستے میں قتل کیا جائے… اسی طرح اُمت کا درد رکھنے والے… مبلغین،
دُعاۃ اور اہل علم کے لیےبھی سہولت ہوگئی کہ… وہ دشمنان اسلام کے مقابلہ کے لیے…
مسلمانوں کو آسانی سے کھڑا کرسکتے ہیں… ہر سچے مسلمان کے دل میں عشق رسول
صلی اللہ علیہ وسلم ہوتا ہے… بس مسلمانوں کو عشق یاد دلایا جائے
اور پھر بتایا جائے کہ… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی چاہت’’
شہادت‘‘ ہے… تو اُن کے غلاموں کی بھی یہی چاہت ہونی چاہیے… اسی طرح آپ صلی
اللہ علیہ وسلم کے بلند مقامات بیان کیے جائیں… ان مقامات کا تذکرہ
قرآن مجید میں موجود ہے… اور پھر اُمت سے کہا جائے کہ… اتنے عظیم اور بلند مقامات
رکھنے کے باوجود… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کو اپنی چاہت قرار
دیا ہے… تو پھر ہمارے لیے بزدلی کا کیا جواز بنتا ہے؟… ہم تو گناہگار بھی ہیں اور
سیاہ کار بھی … ہم مغفرت کے بھی محتاج ہیں اور معافی کے بھی… اور شہادت کے ذریعہ
مغفرت بھی ملتی ہے اور معافی بھی۔
اُمت میں جب شہادت کی ’’وُدّ‘‘ پیدا ہوگی… یعنی شہادت ان کی
چاہت بن جائے گی تو پھر… کفار اُن کو اپنا غلام نہیں بنا سکیں گے… اور ان کے بڑھتے
قدموں کو کوئی روک نہیں سکے گا… دنیا میں زندہ رہنے کی خواہش وہ
’’وَھْن‘‘ ہے جو کسی بھی قوم کو مکڑی کا جالا اور ’’حقیر شکار‘‘ بنادیتا ہے… جو
افراد اللہ تعالیٰ کے لیے جان دینے کا جذبہ رکھتے ہوں… ان کی قوت، غلبے اور ہیبت
کے سامنے دنیاکی کوئی طاقت نہیں ٹھہرسکتی… لیجیے! محبت اور مٹھاس سے بھرے
ہوئے… حدیث شریف کے الفاظ پڑھ لیجیے:
حَدَّثَنَا اَبُوزُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، قَالَ:
سَمِعْتُ اَبَاهُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ:……
وَلَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلٰى أُمَّتِي مَا قَعَدْتُّ خَلْفَ سَرِيَّةٍ،
وَلَوَدِدْتُّ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيْلِ اللّٰهِ ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ
أُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ۔‘‘
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ
عنہ فرماتے ہیں ، حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا:
’’اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تومیں کسی
لشکر سے پیچھے نہ رہتا اور میری چاہت (تو یہ) ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں
قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر
قتل کیا جاؤں۔‘‘
[صحیح بخاری۔حديث رقم:۳۶، طبع:دار الکتب العلمیہ۔
بیروت]
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے ان پیار
بھرے الفاظ کو دل میں اُتاریں… اور ہمیشہ کی حیات اور کامیابی کا راز پالیں… مقام
شہادت کی ایک جھلک سمجھنے کے لیے اب ایک اور حدیث مبارکہ دیکھیں… سبحان اللہ!… ایک
مؤمن، ایک مسلمان کے لیے ترقی اور بلندی کا آخری مقام کیا ہے… ملاحظہ کیجیے!
حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ایک صاحب نے عرض کیا: ’’یارسول اللہ! ’’اسلام‘‘ (فرمانبرداری)
کیا ہے؟‘‘… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ اسلام یہ ہے کہ
تیرا دل اللہ تعالیٰ کے لیے تسلیم (فرمانبردار) ہوجائے اور دوسرے مسلمان تیری زبان
اور ہاتھ سے سلامت رہیں‘‘… ان صاحب نے عرض کیا: ’’سب سے افضل اسلام کونسا ہے؟‘‘ …
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’ایمان‘‘… انہوں نے
پوچھا:’’ایمان کیا ہے؟‘‘… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’ایمان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ پر، اس کے ملائکہ پر، اس کی کتابوں پر، اس
کے رسولوں پر اور موت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے پر یقین رکھے‘‘… انہوں نے
عرض کیا: ’’ کونسا ایمان سب سے افضل ہے؟‘‘… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا: ’’ہجرت‘‘… انہوں نے پوچھا:’’ہجرت کیا ہے؟‘‘… ارشاد فرمایا:
’’ہجرت یہ ہے کہ تم برائی کو چھوڑ دو‘‘… انہوں نے عرض کیا: ’’کونسی ہجرت سب سے
افضل ہے؟‘‘… ارشاد فرمایا:’’جہاد‘‘… انہوں نے عرض کیا: ’’جہاد کیا
ہے؟‘‘… ارشاد فرمایا: ’’جہاد یہ ہے کہ تم کفار سے قتال کرو جب تمہارا
اُن سے مقابلہ ہو‘‘… انہوں نے عرض کیا: ’’کونسا جہاد سب سے افضل ہے؟‘‘… ارشاد
فرمایا: ’’سب سے افضل جہاد یہ ہے کہ مجاہد کے گھوڑے کو قتل کردیا جائے اور خود اس
کا خون بھی بہادیا جائے (یعنی وہ شہید
ہوجائے)۔‘‘
[مسند احمد۔ حدیث رقم: ۱۷۰۲۷، طبع: مؤسسۃ الرسالہ،
بیروت]
حدیث شریف پر غور فرمائیں… سعادت اور کامیابی کا سفر
’’اسلام‘‘ سے شروع ہوا اور’’شہادت‘‘ پر مکمل ہوا… اسلام نے ترقی پائی تو ایمان
بنا… ایمان نے دل میں ڈیرہ جمایا تو ہجرت کی ہمت آئی… ہجرت نے ترقی پائی تو
جہاد نصیب ہوا… جہاد نے اپنی آب و تاب پائی تو… شہادت تک پہنچادیا… اور
یوں ایک اُمتی کے لیے… ایک مؤمن کے لیے… کامیابی اور ترقی کا سفر مکمل
ہوا…اللہ تعالیٰ سے مقبول شہادت کا سوال ہے۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر حضرت سیّدنا ابراہیم علیہ
السلام نے سب سے پہلے ’’کمان‘‘ بنائی… تیر، کمان… جبکہ بعض مؤرخین کا
خیال ہے کہ ’’تیر کمان‘‘ کی ایجاد حضرت سیّدنا شیث علیہ السلام کی
اولاد میں سے ایک بادشاہ نے کی اور سب سے پہلے اس کے ذریعہ سے ایک سانپ کو مارا…
حضرت سیّدنا اسماعیل علیہ السلام کا تیر انداز ہونا تو بہرحال حدیث
صحیح سے ثابت ہے… تیر اندازی بڑا نورانی عمل ہے… آپ اس مبارک عمل پر اگر تھوڑا سا
بھی مطالعہ کریں تو آپ کو اس کے فضائل ہی فضائل اور فوائد ہی فوائد ملیں گے… اللہ
تعالیٰ اُمت مسلمہ میں اس جہادی، روحانی ، نورانی اور مفید عمل کو جاری فرمائے… دل
چاہتا ہے کہ ایک مستقل کتاب ’’تیر اندازی‘‘ پر لکھ دوں… اللہ تعالیٰ آسان فرمائے
، توفیق عطاء فرمائے۔
سیاسی ماحول
ہمارے جو ساتھی الحمد للہ… اپنی آخرت کے باغات آباد کرنے
میں مشغول اور منہمک ہیں…اُنہیں اس بات پر کوئی شکوہ نہیں ہے کہ ہم سیاست پر کیوں
نہیں لکھ رہے… وہ سب خوش نصیب ساتھی اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں … کوئی میدان
جہاد میں ہے تو کوئی میدان تربیت میں… کوئی کلمہ ، نماز اور جہاد کی آواز لگا رہا
ہے تو کوئی شہداء کرام کے اہل خانہ کی خدمت میں لگا ہے… کوئی مساجد کی تعمیر
میںمست ہے …تو کوئی مدارس کی بنیادیں مضبوط کرنے میں مگن ہے…کوئی تعلیم امت میں
مشغول ہے تو کوئی تزکیہ کی محنت میں جڑا ہوا ہے… کوئی تیراکی سیکھ اور سکھا رہا ہے
تو کوئی تیر اندازی کی مشق میں عرق آلود ہے … کوئی امت کو جگا رہا ہے تو کوئی سنت
نکاح میں مسلمانوں کا تعاون کر رہا ہے… کوئی اسلحہ اٹھائے شہادت کے پیچھے دوڑ رہا
ہے تو کوئی قلم تھامے امت کی اصلاح میں مگن ہے…کوئی دینی دعوت شائع کرنے میں لگا
ہے تو کوئی حجامہ کے ذریعے خدمت میں مشغول ہے…ان حضرات کی زندگی خسارے کے گڑھے سے
نکل کر… کامیابی کی شاہراہ پر دوڑ رہی ہے … اور وہ مطمئن ہیں اور مزید آگے بڑھنا
چاہتے ہیں… مَاشَاءَ اللہُ لَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ… مگر ہمارے وہ کرم فرما جو
سوشل میڈیا کی بھوت بھری دنیا میں جاتے رہتے ہیں… ان کو بہرحال کمی محسوس ہوتی ہے
اور وہ پوچھتے ہیں کہ… آپ سیاست اور انتخابات پر کیوں نہیں لکھ رہے… تو بات یہ ہے
کہ سیاست اور انتخابات پر لکھنا بہت ہی آسان کام ہے… کسی ایک پہلو کو ہی پکڑ لیں
تو کالم مکمل ہو جائے… عبرت ہی عبرت ہے… لطیفے ہی لطیفے ہیں اور تماشے ہی تماشے
ہیں… کسی کی تائید میں لکھنا چاہیں تو ہزاروں پیدل دلائل سامنے آ جاتے ہیں اور
اگر کسی پر تنقید کرنا چاہیں تو… لاکھوں شواہد قطار جوڑ لیتے ہیں… سنجیدہ لکھنا
چاہیں تو وہ بھی آسان… سیاست میں دکھ کی داستانیں بہت ہیں اور اگر دلچسپ مزاحیہ
فکاہیہ لکھنا چاہیں تو وہ اور آسان کیونکہ… ہمارے سیاستدان بذات خود بڑے کثیف
لطیفے ہیں… مگر یہ سب کچھ لکھنے سے فائدہ کیا ہو گا؟ … اس کا کوئی جواب موجود نہیں
ہے… اب جب کوئی فائدہ ہی نظر نہیں آ رہا تو اس کام پر وقت کیوں لگایا جائے؟… کبھی
کسی نتیجے یا فائدے کا امکان ہوا تو ان شاء اللہ ضرور لکھیں گے… اور ایسے حالات
جہاد کی برکت سے ان شاء اللہ ضرور آئیں گے جب… سیاست کے تلوں سے بھی کچھ کچھ تیل
نکلنے لگے گا…فی الحال تو یہ حالت ہے کہ… ایک بار ایک معروف سیاستدان کے بعض
بیانات سے بہت تکلیف ہوئی … ارادہ کیا کہ انہیں جواب دیا جائے… رات کو خواب میں
تشریف لائے اور فرمایا… کس پریشانی میں پڑ گئے ہیں آپ؟ ہمارا تو دنیا داری کا کام
ہے… چنانچہ صبح اُٹھ کر اس موضوع پر لکھنے کا ارادہ ترک کر دیا کہ… دنیاداری میں
پڑے لوگ کبھی جہاد کی حمایت کرتے ہیں کبھی مخالفت… کبھی دین کے طرف دار ہو جاتے
ہیں کبھی بددینی کے… تو ان کی کس کس بات کو پکڑا جائے… اچھا یہی ہے کہ جتنی عمر
باقی ہے دین کے کام میں لگ جائے… دین کے کام اور دین کی دعوت میں الحمد للہ نفع ہی
نفع ہے… باقی یہ بات نہیں ہے کہ ’’دینی دعوت‘‘ کو لوگ پڑھتے نہیں… الحمد للہ اُمت
مسلمہ میں ’’خیر‘‘ موجود ہے… اور دینی جہادی دعوت کو پوری دنیا میں مسلمان قبول کر
رہے ہیں… اور اپنا رہے ہیں… اگر میں ان میں سے بعض کے خطوط اور جذبے شائع کر دوں
تو یقیناً آپ حیران ہوں گے کہ… کیسے کیسے ماحول میں رہنے والے نوجوان مرد اور
خواتین… الحمد للہ دین اور جہاد سے نظریاتی طور پر جڑ رہے ہیں، مَاشَاءَ اللہُ
لَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔
ایک اور ابراہیم
پہلے ہم نے پڑھ لیا کہ… کمان حضرت سیّدنا
ابراہیم علیہ السلام کی ایجاد ہے… اب ایک اور پیارے ابراہیم کا تذکرہ
پڑھتے ہیں… یہ ہیں بادشاہت چھوڑ کر… اللہ تعالیٰ کی محبت اور معرفت میں قربانیاں
اٹھانے والے… اولیاء کرام کے سرتاج ، اہل علم کے رہنما… حضرت الشیخ ابراہیم بن
ادہم رحمہ اللہ علیہ … ان کے بارے میں یہ بات کہی جاتی تھی کہ آپ علم
کی مفتاح یعنی چابی تھے… ہاں بے شک! ہم جب بھی ان کا تذکرہ اور ان کے اقوال پڑھتے
ہیں تو … علم کا کوئی نیا باب دل و دماغ میں روشن ہو جاتا ہے… اللہ تعالیٰ ان کو مغفرت
، اکرام ، اعزاز اور جزائے خیر کا اعلیٰ مقام عطاء فرمائیں… ’’مشارع الاشواق‘‘ سے
ان کا یہ قصہ ملاحظہ فرمائیں:
’’ابو عبد اللہ الجوزجانی رحمہ اللہ
علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم بن ادہم رحمہ اللہ
علیہ سمندر میں جہاد کے لئے تشریف لے گئے، جس رات آپ کا انتقال ہوا
تکلیف کی وجہ سے آپ کو پچیس بار قضائے حاجت کے لئے جانا پڑا اور ہر بار آپ آ کر
نماز کے لئے نیا وضو فرماتے تھے۔ جب انہیں موت قریب محسوس ہوئی تو فرمایا: میری
کمان تیار کر کے مجھے دے دو، چنانچہ انہوں نے کمان اپنے ہاتھوں میں پکڑی اور اسی
حال میں انتقال فرمایا۔
[التہذیب]
مصنف ( ابن النحاس) فرماتے ہیں کہ میرے خیال
میں انہوں نے ایسا اس لئے کیا تاکہ وہ قیامت کے دن اس حالت میں کھڑے کئے جائیں کہ
جہاد کے لئے کمان ان کے ہاتھ میں ہو۔‘‘ [ فضائل جہاد]
سبحان اللہ!… سمندری جہاد میں وفات جو کہ خود بڑی شہادت ہے…
پھر پیٹ کی تکلیف سے وفات جو کہ خود شہادت کا ایک باب ہے … اور پھر ہاتھ میں کمان
اور اس کمان میں جڑا ہوا تیر… سبحان اللہ! کیسا زبردست حسن خاتمہ ہے… اللہ تعالیٰ
ہمیں بھی جہاد اور جہادی اسلحہ سے سچی محبت اور تعلق نصیب فرمائے… تیر کمان میں تو
اللہ تعالیٰ نے ویسے ہی بڑی برکت رکھی ہے… جو مسلمان اسے اپنے گلے میں لٹکائے اس
کے دل کے غم دور ہو جاتے ہیں…اور جو اچھی نیت سے خرید کر گھر میں رکھے تو اس کے
گھر سے فقر و فاقہ چالیس سال دور بھاگ جاتا ہے… حضرات صحابہ کرام
رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنے ورثے اور ترکے میں…
اپنی اولاد کے لئے اور مجاہدین کے لئے اچھی سے اچھی تیر کمانیں چھوڑ کر جاتے تھے…
حضرت سیّدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ… انہیں
تیر اندازی کا بہت شغف تھا… وہ آخری عمر تک بڑے اہتمام سے تیر اندازی کی مشق
فرماتے رہے… اور پھر اپنے ورثے میں ستر سے زائد کمانیں چھوڑ گئے اور وصیت فرمائی
کہ… یہ سب کمانیں مجاہدین کو جہاد کے لئے دے دی جائیں… خود حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ورثے میں پانچ یا اس سے زائد
کمانیں چھوڑیں… ہم اللہ تعالیٰ کا جس قدر شکر ادا کریں کم ہے کہ… اس نے ہمیں مرنے
سے پہلے تیر اندازی کی توفیق اور تیر کمان کی ملکیت عطاء فرمائی ہے… اللہ تعالیٰ
مرتے دم تک اس نورانی اور مبارک عمل سے جوڑے رکھے… اور امت مسلمہ میں اس عظیم سنت
اور حکم کو جاری فرمائے۔
ذوق دیکھیں، مہارت دیکھیں
بھائیو! اور بہنو! پرانی باتوں میں بڑی خیر ہے … پرانے طریقوں
میں بڑی بھلائی ہے… یہ قدامت پسندی نہیں… فطرت پسندی ہے… دیکھیں! یہ حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم ہیں… دس سال خدمت کا شرف…
ارے! کسی کو ایک لمحہ بھی… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت
کا موقع مل جائے تو دو جہانوں سے بڑھ کر ہے… جبکہ ان کو دس سال یہ سعادت نصیب رہی…
واہ انس! تیری قسمت پر قربان… حضرت سیدنا انس رضی اللہ
عنہ روئے زمین کے خوش نصیب ترین انسانوں میں سے ایک تھے…حضرت امام
بیہقی رحمہ اللہ علیہ نے سند صحیح کے ساتھ ان کا یہ عمل لکھا ہے کہ… ان
کے لئے بستر بچھا دیا جاتا جس پر وہ تشریف رکھتے … اور پھر ان کے سامنے ان کے بیٹے
تیر اندازی کرتے۔ ( ماشاء اللہ ان کی اولاد کثیر تھی اور حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء کا فیض تھا) حضرت ثمامہ
رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بار حضرت انس رضی اللہ
عنہ تشریف لائے ہم تیر اندازی کر رہے تھے… فرمایا: تم لوگ کتنی بُری
تیر اندازی کر رہے ہو … پھر آپ نے کمان لے لی اور تیر پھینکے تو کوئی تیر بھی ہدف
سے خطا نہیں ہوا۔(یعنی سب تیر درست نشانے پر لگے)
یہ تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کے تربیت یافتہ روشن ستاروں کا ذوق… اور یہ تھی ان حضرات کی جہادی
مہارت… الحمد للہ اُمت میں تیر اندازی واپس آ رہی ہے… ہم یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ…
مروّجہ اسلحہ اب تیر اندازی کا قائم مقام ہے… اور یہ بات درست بھی ہے… مگر اصل تو
اصل ہوتا ہے… تیر اندازی اصل حکم ہے… اور اس کی برکات بے شمار ہیں… بس اتنا یاد
رہے کہ… تیر اندازی ہو یا گھڑ سواری… تیراکی ہو یا حجامہ… ان سب میں اچھی نیت اور
اخلاص ضروری ہے… اگر اللہ تعالیٰ موقع عطاء فرمائے تو ایک بار ’’فضائل جہاد‘‘ میں
سے… تیر اندازی کی فضیلت کا باب ضرور پڑھ لیں…بہت کچھ ہاتھ لگ جائے گا، ان شاء
اللہ۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ’’نور‘‘ ہے… {اَللہُ نُوْرُ
السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ} [النور:۳۵]… اللہ تعالیٰ سے ’’نور‘‘ کا سوال ہے… ’’نور‘‘ کے بغیر زندگی ’’
بے نور‘‘ ہے… ’’بے سرور‘‘ ہے… ’’ بے حضور‘‘ ہے:
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ لِّیْ نُوْرًا
اَللّٰھُمَّ اَعْظِمْ لِیْ نُوْرًا
بھائیو! بہنو!… خوب اللہ اللہ کرو… لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ
پڑھو… مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ رٹو… تاکہ نور ملے… موبائل اور نیٹ کی کالی روشنی
نے دلوں کو بے نور کر دیا ہے… وہ مسلمان نوجوان جو زمین کا رنگ بدل سکتے تھے… جو
پہاڑوں کا سینہ چیر سکتے تھے … جو سمندروں کو مسخر کر سکتے تھے… وہ واٹس ایپ پر
الفاظ کی مکھیاں ما رہے ہیں… فیس بک پر کھٹملوں سے کھیل رہے ہیں… جبکہ حقیر اور
ذلیل یہودیوں نے روئے زمین کی پہلی صہیونی حکومت کا اعلان کر دیا ہے… ’’مودی‘‘
ہندوستان کو ایک مشرک ریاست بنانے کی تیاری میں ہے…اور ہم پر وہ لوگ مسلط
ہیں…جنہیں ’’کلمہ طیبہ‘‘ تک درست پڑھنا نہیں آتا… جو دین کے باغی اور اسلام سے
شاکی ہیں… بس اُنہیں اس بات کا اصرار ہے کہ وہ مسلمان ہیں… اور حکمرانی اُن کا حق
ہے… وہ ہمارے جسموں سے خون اور ہمارے دلوں سے جذبے چوس رہے ہیں… سلام ہو کشمیری
مجاہدین کو!… وہ اپنا موبائل اور اپنا نیٹ بھی جہاد کے لئے استعمال کر رہے ہیں… وہ
نہ خبروں پر تبصرے کرتے ہیں اور نہ ایک ایک بیان اور ایک ایک واقعہ پر مکھیاں
مارتے ہیں… انہوں نے اپنے موبائل اور نیٹ کو تلوار بنا دیا ہے… بم بنا دیا ہے…
کلاشنکوف بنا دیا ہے… تیر کمان بنا دیا ہے… دعوت جہاد کا لاؤڈ اسپیکر بنا دیا ہے…
گویا کہ انہوں نے موبائل اور نیٹ کو پاک کر کے… پاک کاموں کا معاون بنا دیاہے… اب
انڈیااُن سے لرزرہا ہے… اربوں روپے اُن کے موبائل کا رخ موڑنے اور اُن کے موبائل
کے وار ڈھونڈنے پر خرچ کر رہا ہے … مگر بات نہیں بن رہی… ہاں بے شک! دل میں ایمان
ہو تو… ہر چیز ایمان کی معاون بن جاتی ہے…مؤمن کے ہاتھ میں موبائل آتا ہے تو وہ
بھی ایمان کی روشنی بکھیرنے لگتا ہے… جبکہ فاسق کے ہاتھ قرآن مجید بھی آ جائے تو
وہ اس میں سے انکارِ جہاد کے دلائل ڈھونڈنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے… ہاں بے شک! نصیب
اپنا اپنا…یا اللہ!’’نور‘‘ عطاء فرما… ہمارے نصیب کو منور اور نورانی بنا۔
{اَللہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ آمَنُوْا یُخْرِجُھُمْ مِّنَ
الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ} [البقرۃ: ۲۵۷]
بات آگے بڑھ رہی ہے
اسرائیل کسی ملک کا نام نہیں ہے… وہ غنڈوں، بدمعاشوں کا ایک
مافیا ہے… دنیا کے ہر جرم اور ہر گناہ کا اڈہ… اسرائیل کوئی حکومت نہیں ہے… وہ
ذلیل یہودیوں کی سازشوں کی ایک ’’کالونی‘‘ ہے…یہودیوں پر اللہ تعالیٰ نے قیامت تک
ذلت اور مسکنت کو مسلط فرما دیا ہے … وہ طاقتور ہو کر بھی ذلیل ہیں، محتاج ہیں اور
خوفزدہ ہیں… اور وہ مالدار ہو کر بھی بخیل ہیں، مسکین ہیں، حریص ہیں… یہ قرآن کا
فیصلہ ہے … جو یہودیوں کو ذلیل نہیں مانتا وہ قرآن مجید کو نہیں سمجھتا…رشوت دے
کر جینا بھی کوئی جینا ہے؟ … خوف کی دیواروں کے پیچھے زندگی بھی کوئی زندگی ہے؟
…ہزاروں سازشی ادارے بنا کر اپنے سانسوں کی بھیک مانگنا بھی کوئی عزت ہے؟… ہزاروں
لابیاں بنا کر… ایک چھوٹے سے علاقے میں اپنی غنڈہ گردی قائم کرنا بھی کوئی بہادری
ہے؟ … مجاہدین کے پتھروں سے چوہے کی طرح کانپنا اور دن رات بمباریاں کر کے امن
تلاش کرنا بھی کوئی امن ہے؟…اللہ کے لئے میری ان باتوں پر غور کریں اور یہودیت،
صہیونیت کے رعب سے باہر نکلیں۔
آج یہ بات عرض کرنی ہے کہ… ہم مسلمانوں کی تاریخ اور
مستقبل دونوں کے لئے یہودیوں کے حالات بہت اہم ہیں… ہمارے قرآن عظیم الشان کی سب
سے بڑی سورۃ ’’البقرۃ‘‘ … یہودیت کو بیان کرتی ہے اور یہودیت سے بچنے اور نمٹنے کے
طریقے سکھاتی ہے…معلوم ہوا کہ… یہودی بہرحال ہمارے لئے خطرہ ہیں… اور یہودیت ہمارے
لئے ایک ایسی خباثت ہے … جس سے ہم نے ہرحال میں بچنا ہے… اگر ہم اس سے نہ بچے تو
یہ ہماری رگوں میں گھس جائے گی… آغازِ اسلام میں ہمارا مقابلہ یہودیوں سے ہوا…اور
ہم مسلمانوں نے ان کا وہ حشر کیا جو…’’ سورۃ الحشر‘‘ میں مذکور ہے… تب سے یہودیوں
نے میدان چھوڑ کر سازش کا راستہ پکڑا ہوا ہے اور وہ دیواروں کے پیچھے سے … ہم پر
وار کرتے ہیں… مگر قرب قیامت میں یہودی ایسی طاقت بنا لیں گے جو میدان میں ہمیں
للکارے گی… تب مسلمان متحد ہو جائیں گے… اور ابتدائی نقصانات کے بعد… اسی جگہ جہاں
آج اسرائیل قائم ہے… یہودیوں کا خاتمہ کر دیں گے… یہودیوں کی قیادت دجال کے ہاتھ
میں ہو گی… جبکہ مسلمانوں کی کمان… حضرت سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام اور
حضرت امام مہدی رضی اللہ عنہ کے پاس ہو گی… تب اسلام کے عروج کا وہ
زمانہ شروع ہو گا جو روئے زمین کے ہر کچے پکے گھر اور خیمے تک اسلام کو پہنچا دے
گا… خوشی کی خبر ہے کہ بات آگے بڑھ رہی ہے… ٹرمپ کا ’’القدس‘‘ کو اسرائیل کا
دارالحکومت تسلیم کرنا…اور اب اسرائیل کی پارلیمنٹ کا اپنے مافیا اڈے کو صہیونی
ریاست قرار دینا… اسی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ بات آگے بڑھ رہی ہے… اور آگے چونکہ
اسلام کی عظمت اور عروج کا دور ہے تو ہمارے لئے بہرحال ایک خوشی کی بات ہے… مگر
آج سے لے کر اس عروج کے درمیان کا عرصہ آسان نہیں ہے… اس میں فتنے ہیں… اس میں
فتنوں کی بڑھتی طاقت کا دور ہے … اس میں مسیح دجال کا زمانہ ہے… اس لئے اپنے ایمان
کی بنیادیں مضبوط کریں… ایمان کی چوٹی کو اپنا ٹھکانہ بنائیں… چوٹیاں ہمیشہ فتنوں
اور آفتوں سے پناہ کی جگہ ہوتی ہیں… اور اسلام کی چوٹی جہاد فی سبیل اللہ ہے…
جہاد فی سبیل اللہ سے اپنا رشتہ مضبوط بنائیں… مستحکم بنائیں … جہاد کو سمجھیں،
جہاد کو مانیں… جہاد کی تربیت حاصل کریں… اور جہاد سے چمٹے رہیں…اہل جہاد کا نہ
کوئی دجال کچھ بگاڑ سکتا ہے… اور نہ دجالی فتنے… بس شرط یہ ہے کہ جہاد سے ہمارا
تعلق صرف لفظی کلامی نہ ہو… بلکہ قلبی، عملی اور جانی ہو… اللہ پاک ہمارے قلوب کو
’’نور‘‘ عطاء فرمائے … ہماری آنکھوں کو نور عطاء فرمائے … ہمارے بدنوں کو نور
عطاء فرمائے… تاکہ ہم ایمان کی چوٹی جہاد کو دیکھ سکیں اور اس پر پناہ پکڑ سکیں…
آپ کبھی کسی مستند کتاب میں موت کی شدت کا حال پڑھیں… اللہ، اللہ، اللہ… موت بڑی
سخت ، بھاری اور کڑوی چیز ہے… یہ تلواروں کے وار، تندور کی گرمی اور پہاڑوں کے
بوجھ سے زیادہ سخت ہے… مگر ابھی کچھ عرصہ پہلے مقبوضہ کشمیر میں ہمارے دو محبوب
مجاہد شہید ہوئے … اور ان میں سے ایک نے عین شہادت کے وقت قریب دیوار پر لکھا…
’’جیش محمد زندہ باد‘‘ … یہ ہے جہاد کی کرامت، یہ ہے شہادت کی لذت کہ… جان نکلتے
وقت بھی ہوش سلامت، ایمان سلامت، جذبہ سلامت… اور یہ فکر کہ جاتے جاتے بھی دوسروں
کو حق کا راستہ دکھاتے جائیں۔
ہم بھی آگے بڑھیں
جب بات آگے بڑھ رہی ہے تو پھر… ہم بھی آگے بڑھیں… ہم نہ
میڈیا کے ذریعہ آگے بڑھ سکتے ہیں… اور نہ سوشل میڈیا کے ذریعہ… قرآن مجید میں
کافروں کی ایک سازش کا تذکرہ ہے… سورۃ ’’آل عمران‘‘ میں… سازش یہ ہے کہ مسلمانوں
کو اسلام کی ترقی دکھا کر… اچانک اس ترقی کو پیچھے کھینچ لو…اس سے مسلمانوں میں
مایوسی پھیل جائے گی… کچھ بااثر لوگوں کو بھیجو کہ وہ آ کر مسلمان ہونے کا اعلان
کریں … اس سے مسلمانوں میں ہر طرف خوشی اور اعتماد پھیل جائے گا… پھر اچانک وہ لوگ
دوبارہ اپنے کافر ہونے کا اعلان کر دیں تب… مسلمانوں میں بد دلی پھیلے گی اور وہ
بھی نعوذ باللہ اسلام کے مستقبل سے مایوس ہو کر… کفر میں اپنی کامیابی دیکھنے لگیں
گے… اب آپ اس زمانے میں اس طرح کی سازش دیکھیں… چار پانچ سال پہلے کا میڈیا اُٹھا
کر دیکھیں… جہاد، جہاد اور جہاد… مجاہدین کی تصویریں… اُن کی کامیابیوں کے چرچے…
اُن کی گردنیں کاٹتی ویڈیوز… اُن کے اونچے اونچے بیانات…یہ سب کچھ اتنی تیزی اور
کثرت سے نشر ہو رہا تھا جیسے کہ… دنیا بھر کا میڈیا مسلمانوں کے قبضے میں ہو … فیس
بک کا بانی کوئی عربی مسلمان ہو …یوٹیوب کا مالک بغداد کا کوئی سنی مجاہد ہو… اور
امریکی اخبارات کے ایڈیٹر افغانستان کے مسلمان ہوں… نہ کوئی پابندی تھی اور نہ
کوئی قدغن… حالانکہ یہ چاہتے تو کچھ بھی نشرنہ ہونے دیتے… یہ چاہتے تو اباما کو
للکارنے والی ویڈیوز کا راستہ روک لیتے… یہ چاہتے تو خبروں کا بلیک آؤٹ کر دیتے
… مگر کچھ نہیں روکا جا رہا تھا… بلکہ ہر طرف جہاد اور مجاہد کو للکارتے، مارتے،
دھاڑتے، گلے کاٹتے، نکاح رچاتے اورتقریریں گاڑتے دکھایا جا رہا تھا …یہ بالکل اس
طرح تھا جیسا کہ قرآن مجید نے نقشہ کھینچا ہے کہ… پہلے مسلمانوں کا حوصلہ بڑھا
دو… اپنے بڑے بڑے لوگ مسلمان کرا دو… تاکہ مسلمان زمین سے اُٹھ جائیں… ہر روز ترقی
دیکھنے کے عادی ہو جائیں … اور پھر اچانک یہ فریبی سیڑھی اُن کے نیچے سے ہٹا دو…
اور کفر کا ایسا غلبہ دکھاؤ کہ مسلمانوں کے ہوش اُڑ جائیں… اب آپ آج کا میڈیا
اُٹھا کر دیکھیں…کہیں مجاہدین… اس شان و شوکت سے نظر آ رہے ہیں؟… کالے برقعوں
والے ہاتھوں میں کلاشنیں نظر آ رہی ہیں؟… مجاہدین کے بیانات اور ویڈیوز اس پیمانے
پر نشر ہو رہے ہیں؟ …کچھ بھی نہیں… چنانچہ اسی سازش کا اثر ہے کہ … مسلمانوں کا
حوصلہ زمین سے چپک رہا ہے … اور وہ دل تھام کر خوفزدہ ہیں… اور اُن کا جہاد پر سے
اعتبار کمزور ہو رہا ہے…حالانکہ اگر چار سال پہلے مجاہدین کی تعداد… مثال کے طور
پر دو لاکھ تھی تو آج الحمد للہ چار لاکھ ہے… ( یہ عدد میں نے صرف بات سمجھانے کے
لئے لکھا ہے)دنیا کا کوئی خطہ ایسا نہیں کہ… جہاں جہاد اور مجاہدین کا مکمل خاتمہ
کیا جا چکا ہو… وہ جو عروج تھا وہ بھی مصنوعی یعنی آرٹیفیشل تھا… اور آج جو زوال
دکھایا جا رہا ہے وہ اس سے بھی زیادہ مصنوعی اور نقلی ہے۔
افغانستان میں بدستور جہاد جاری ہے… اور دشمن بری طرح سے بے
بس ہے… کشمیر میں جہاد کے پرچم گلی گلی میں لہرا رہے ہیں… اور آپریشن آل آؤٹ
لانے والے خود بری طرح سے آؤٹ ہو رہے ہیں… فلسطین کا جہاد اپنی جگہ برقرار ہے…
وہی عزیمت ، وہی جوش، وہی قربانی… اور وہی دشمنوں کے حواس پر تسلط… عراق اور شام
میں بھی جہاد اور لڑائی جاری ہے… ابھی تک وہاں کے ظالم حکمرانوں کا وجود… غیر ملکی
سہاروں پر ہے… عراق کی حکومت امریکہ اور ایران کے بغیر… اور شام کی حکومت روس اور
ایران کے بغیر ایک ہفتہ قائم نہیں رہ سکتی…تو پھر مایوسی کس بات کی؟… ہم اسی لئے
میڈیا اور سوشل میڈیا کا اسیر بننے سے مسلمانوں کو روکتے ہیں کہ…وہ جو چاہتے ہیں
دکھاتے ہیں اور جو چاہتے ہیں پھیلاتے ہیں… اللہ کے لئے اپنے کام کو ان کا محتاج نہ
بنائیں… بات آگے بڑھ چکی ہے… آپ بھی اللہ تعالیٰ سے ’’نور ‘‘ مانگ کر… اللہ تعالیٰ
سے ’’نور ‘‘ پا کر… آگے بڑھیں… نظریاتی اور عملی مسلمان مجاہد بنیں… اور زمین پر
آنے والی تبدیلیوں میں اپنی چڑھتی جوانیوں کا پورا پورا مثبت حصہ ڈالیں…اور ہاں…
تیراکی اور تیر اندازی سیکھنا جلد شروع کر دیں… یہ آغاز ہو گا… اللہ پاک ہم سب کو
بہترین انجام عطاء فرمائے… نور والا خاتمہ، ایمان والا خاتمہ… حسن خاتمہ۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ لَا اِلٰہَ اِلَّا
اللہُ وَ اللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ وَ لِلّٰہِ الْحَمْدُ۔
آج ایک عجیب بات سنیں… جو مسلمان ’’کنجوس‘‘ ہیں… بخیل ہیں…
ان کے بڑے مزے ہیں… وہ اگر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے مال خرچ کریں تو ان کو زیادہ
اجر ملتا ہے… سخی لوگوں کے خرچ کرنے سے بہت زیادہ… حضرت آقا مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم نے کنجوسوں کے خرچ کرنے کو ’’افضل الصدقۃ‘‘ قرار دیا
ہے… یعنی سب سے افضل صدقہ۔
کنجوس کے مزے
کنجوسی بہت بری چیز ہے… ہم سب کو روز اور بار بار اس سے پناہ
مانگنی چاہیے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْبُخْلِ
وَالْجُبْنِ۔
مگر یہ بیماری اکثر لوگوں کو لگ جاتی ہے… کیوں لگتی ہے؟ اس کی
بڑی تفصیل ہے… بہت سی وجوہات ہیں…مثلاً بخیل مالداروں کی صحبت میں بیٹھنا… بیت
الخلاء بغیر دعاء پڑھے ننگے سر جانا بھی اس کی وجوہات میں سے ہیں… اللہ بچائے… بڑا
خطرناک مرض ہے… انسان کو نہ جینے دیتا ہے نہ مرنے دیتا ہے… نہ کھانے دیتا ہے نہ
خوش ہونے دیتا ہے… ہر وقت پیسے کی فکر… ہر وقت پیسے کی گنتی… ہر خرچے پر دل
پریشان… نہ کوئی سکون نہ کوئی اطمینان…
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْبُخْلِ
وَالْجُبْنِ۔
لیکن اگر بخیل آدمی ہمت کرے… اور اپنے دل پر آری چلا کر
نیکی کے کاموں میں مال خرچ کرے تو اس کا اجرو ثواب بہت بڑا ہے… اور اس کا صدقہ
’’افضل الصدقۃ‘‘ ہے… وجہ بالکل واضح ہے…کسی سخی مسلمان نے قرآن مجید کی ایک آیت
سنی کہ مال خرچ کرو… وہ اُٹھا اور اُس نے اپنی پوری جیب اُلٹ دی… مگر جب ’’کنجوس‘‘
نے وہی آیت سنی تو اب کشمکش میں پڑگیا…ایمان نے اُبھارا کہ مال خرچ کر دو… مگر دل
رونے لگا کہ مال خرچ کیا تو کم ہو جائے گا… اب اس کے دماغ میں ایک جنگ چل رہی… بے
چارہ بے چینی میں مبتلا ہے… قبر، آخرت یاد آتی ہے تو سوچتا ہے چلو خرچ کر دوں
مگر…پھر تو پیسے کم ہو جائیں گے…دل پر چھری چلی… پھر خود کو سنبھالا کہ یار ہمت
کرو… اللہ تعالیٰ اور دے دے گا… مگر دل غصے ہو گیا کہ… پہلے کچھ مال بنا تو لو پھر
حاتم طائی بن جانا… روز کا روز خرچ کرو گے تو محتاج ہی رہو گے… اللہ تعالیٰ کو
تمہارے خرچے کی کیا حاجت ہے؟… مگر پھر ایمان نے بلایا کہ مال چھوڑ کر مر جاؤ گے
کیا فائدہ ہو گا؟ خرچ کر دو… وہ تیار ہوا تو دل پرشیطان نے نیا وار کر دیا کہ …
بچے بڑے ہونے والے ہیں اُن کی شادیاں کیسے کرو گے؟ … خلاصہ یہ کہ کنجوس آدمی کے
لئے مال خرچ کرنا… اپنے جسم سے گوشت کاٹ کر دینے کی طرح مشکل ہوتا ہے… مگر وہ
ایمان کی آواز پر سر جھکاتا ہے اور نفس کی سخت مزاحمت کے باوجود… اپنا مال خرچ
کرتا ہے تو اسے… بہت زیادہ اجر ملتا ہے… جس طرح کہ بزدل آدمی کو… جہاد کا اجر
بہادر آدمی سے زیادہ ملتا ہے… کیونکہ اسے جہاد میں بہت زیادہ خوف اور مشقت کا
سامنا کرنا پڑتا ہے… عرض کرنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ… نعوذ باللہ کنجوسی یا بزدلی
کوئی اچھی چیز ہے… نہیں ہرگز نہیں… یہ دونوں بہت خطرناک اور بہت عیب دار بیماریاں
ہیں… جن چیزوں سے ہمارے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ
مانگی ہو وہ چیزیں کبھی اچھی ہو ہی نہیں سکتیں… مقصد یہ ہے کہ اگر کسی مسلمان کو
اس کے کسی گناہ کی وجہ سے… بخل ، کنجوسی یا بزدلی کی بیماری لگ چکی ہے تو اب وہ…
شیطان کے سامنے ہتھیار نہ ڈالے… اور نہ ہی دنیاداروں کی طرح اپنی کنجوسی کو… اپنی
سمجھداری قرار دے… کنجوس کبھی سمجھدار نہیں ہوتا… ہاں! ہر کنجوس خود کو بد قسمتی
سے سمجھدار قرار دیتا ہے… حالانکہ اسے چاہیے کہ… وہ رو رو کر اللہ تعالیٰ سے پناہ
مانگے کہ… یا اللہ! بخل کی موذی بیماری سے نجات عطاء فرما… اور ساتھ ساتھ وہ خود
پر جبر کر کے نیکی کے کاموں میں اپنا مال خرچ کرتا رہے… اسے اس خرچ کرنے پر… سخی
افراد سے زیادہ اجر وثواب ملے گا۔
’’صحیح بخاری میں ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: یا
رسول اللہ! کون سا صدقہ ثواب کے اعتبار سے سب سے بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ تو ایسے وقت میں صدقہ کرے جبکہ تو تندرست ہو
اور خرچ کرتے ہوئے نفس کنجوس بن رہا ہو، تجھے تنگدستی کا ڈر ہو اور مالداری کی
اُمید لگائے بیٹھا ہو اور صدقہ کرنے میں تو اتنی دیر نہ لگا کہ جب روح حلق کو
پہنچنے لگے تو تو کہنے لگے کہ فلاں کو اتنا دینا او رفلاں کو اتنا دینا ( اب تیرے
دینے اور اعلان کرنے سے کیا ہو گا) اب تو فلاں کا ہو ہی چکا۔‘‘
[ الانفاق فی وجوہ الخیر حضرت بلند شہری رحمہ اللہ علیہ ]
الحمد للہ قربانی کا مبارک موقع آ رہا ہے… عشرہ ذی الحجہ بھی
آ رہا ہے… یہ مال کو خرچ کرنے اور قیمتی بنانے کے بہترین مواقع ہیں… اللہ تعالیٰ
ہم سب مسلمانوں کو بخل اور کنجوسی کے مہلک مرض سے بچائے… جو مسلمان اس مرض کا شکار
ہوں اور مالدار بننے کی خواہش میں مال جمع کر رہے ہوں… وہ اس موقع سے فائدہ
اٹھائیں… خوب کھلے دل سے مال خرچ کریں… واجب قربانی میں بھی… اور نفلی قربانی میں
بھی …اور عشرہ ذی الحجہ میں اپنا زیادہ سے زیادہ مال جہاد فی سبیل اللہ، مساجد
اللہ اور صلہ رحمی وغیرہ کے اچھے مصارف میں خرچ کریں… ان کو اس خرچ کا بہت زیادہ
اجر ملے گا… یہ مال ان کے لئے محفوظ ہو جائے گا… یہ مال ان کو اس دن کام آئے گا
جب انسان… بہت مجبور اور محتاج ہو گا اور سامنے بڑے بڑے عذاب ہوں گے… اور کیا بعید
ہے کہ… ان مبارک خرچوں کی برکت سے اللہ تعالیٰ انہیں کنجوسی اور بخل سے ہی نجات
عطاء فرما دیں… پھر تو ان کے مزے ہی مزے ہو جائیں گے۔
دل پر نظر رکھیں
ہم سب اپنے دل پر نظر رکھیں… دل میں اگر یہ خیال آتا ہے کہ…
اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرو… اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے خرچ کرو… اللہ
تعالیٰ کے وعدوں پر یقین کر کے خرچ کرو اور کمی کا اندیشہ نہ کرو… جب بھی دل میں
ایسے ارادے آئیں تو انسان سمجھ لے کہ… اللہ تعالیٰ کا مقرب فرشتہ میرے دل پر
اُترا ہوا ہے… اسے اللہ تعالیٰ نے میرے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے… ایسے مواقع پر
انسان کو دو کام کرنے چاہئیں پہلا یہ کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے کہ… اللہ
تعالیٰ نے اس کے دل کو اس قابل سمجھا کہ اس پر توجہ فرمائی، رحمت فرمائی اور اپنا
فرشتہ اس پر اتارا… اور دوسرا کام یہ کرنا چاہیے کہ جتنا مال خرچ کرنے کا ارادہ دل
میں آیا ہو فوراً وہ مال خرچ کر دے… اس میں نہ تاخیر کرے اور نہ کچھ کمی کرے… جس
نے یہ دونوں کام کر لئے اس کے دل پر یہ نعمت بار بار اُترتی رہے گی… اس کا مال اسی
طرح قیمتی بنتا چلا جائے گا… اور اللہ تعالیٰ اس کے مال کو اور زیادہ بڑھاتے جائیں
گے …اسے نہ دنیا میں کوئی کمی آئے گی اور نہ اسے آخرت میں پچھتاوا ہو
گا… ان شاء اللہ… لیکن اگر ایسے ارادوں کے فوراً بعد دل میں بخل اور
تنگی کے خیالات شروع ہو جائیں… اور یہ ڈر پیدا ہونے لگے کہ… خرچ کرنے سے تو میرا
مال کم ہو جائے گا…میں محتاج ہو جاؤں گا…میرے بچے لوگوں کے محتاج ہو جائیں گے
وغیرہ وغیرہ… تو وہ سمجھ لے کہ اس کے دل پر شیطان اتر آیا ہے اور وہ دل میں خوف
اور بے یقینی ڈال رہا ہے… ایسے وقت میں اسے چاہیے کہ شیطان سے محفوظ رہنے کے لئے
اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے… اور اپنے اس وسوسے کو زیادہ نہ بڑھنے دے… اور نہ ہی
اسے اپنا عمل بنائے…اب ہم واجب یا نفل قربانی کا ارادہ کریں تو پھر اپنے دل پر نظر
رکھیں کہ کب فرشتہ تشریف لاتا ہے تاکہ ہم شکر کریں اور اس ارادے کو اپنا عمل
بنائیں… اور کب شیطان آتا ہے تاکہ ہم ا س کے شر سے پناہ مانگیں اور اس کی بات پر
عمل نہ کریں۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بنی آدم کے دل
پر شیطان کی پہنچ بھی ہوتی ہے اور فرشتے کا نزول بھی ہوتا ہے
شیطان (تنگدستی، کمی وغیرہ) سے ڈراتا ہے اور حق کو جھٹلاتا ہے اور
فرشتہ خیر کے واقع ہونے کی امیدیں دلاتا ہے اور حق کی تصدیق کرتا ہے، پس تم میں سے
جو شخص بھی اسے ( یعنی اچھی حالت کو ) محسوس کرے تو جان لے کہ وہ اللہ کی طرف سے
ہے لہٰذااللہ کی حمد کرے… اور جو شخص دوسری بات محسوس کرے وہ شیطان سے محفوظ رہنے
کے لئے اللہ کی پناہ مانگے یہ بات بیان فرما کر حضوراقدس صلی اللہ علیہ
وسلم نے یہ آیت: {اَلشَّیْطَانُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَوَ یَاْمُرُکُمْ
بِالْفَحْشَاءِ } تلاوت فرمائی۔‘‘ [ الانفاق فی
وجوہ الخیر بحوالہ مشکوٰۃ]
بات ہی ختم ہوگئی
دنیا جب سے بنی اور جب تک رہے گی… اس دنیا میں حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا سخی نہ کوئی گذرا … نہ کوئی آئے گا…
دنیا جب سے بنی اور جب تک رہے گی اس میں… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم سے بڑا عقلمند، دانشمند نہ کوئی گذرا… نہ کوئی آئے گا…حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے غریبوں ، مسکینوں ، یتیموں ،
بیواؤں اور محتاجوں پر مال خرچ کرنے کے جو فضائل اور فوائد بتائے ہیں وہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی نے نہیں بتائے… اللہ
تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’معلم‘‘ بنا کر بھیجا ہے تعلیم
کی جو اہمیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل مبارک میں تھی…
وہ کسی اور کے دل میں نہیں ہو سکتی…اس لئے ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ…اگر قربانی
کے جانور کی قیمت کسی رفاہی ، تعلیمی یا ہنگامی خدمت میں لگانا بہتر ہوتا تو…
آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اس کی ترغیب دیتے… اور خود اسے
اپنے عمل میں لاتے… مگر حال یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے مدینہ منورہ کے قیام میں ہر سال نہایت پابندی سے قربانی
فرمائی… نہایت شان سے قربانی فرمائی… اپنی امت کو قربانی کی تلقین فرمائی… اور
اپنی اُمت کے غریب افراد کی طرف سے بھی خود قربانی فرمائی… اور ساتھ ہی آپ صلی
اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان مبارک فرما دیا کہ:
’’دس ذی الحجہ ( یعنی عید کے دن) کوئی بھی نیک عمل اللہ
تعالیٰ کے نزدیک( قربانی کا) خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ہے ‘‘۔
[سنن ترمذی۔ رقم الحدیث: ۱۴۹۳،طبع۔دار الکتب العلمیہ۔
بیروت]
تو بس بات ہی ختم ہو گئی… دانشمندی اور عقلمندی بھی اسی پر
مکمل ہو گئی… اور امت کو واضح راستہ مل گیا کہ… عید کے دن سب سے محبوب، سب سے
ضروری، سب سے مفید ، سب سے اعلیٰ اور سب سے اہم عمل… قربانی ہے…مسلمانوں کے وہ
دانشور جو قربانی کے عمل پر… اپنی دانش کی چھری چلاتے رہتے ہیں… ان بد نصیبوں سے
اتنی گذارش ہے کہ… بات ختم ہو چکی ہے… اب فضول باتیں کر کے… کیوں اپنی آخرت برباد
کرتے ہو… قربانی کرو ، قربانی … اگر دل میں جذبہ ہے تو… اپنے گھر کا سارا سامان
اُٹھا کر… غریبوں میں بانٹ دو… مگر مسلمانوں سے… قربانی جیسا محبوب، مسنون، واجب
اور قیمتی عمل نہ چھینو…ادب سیکھو ادب… جب حضرت آقا صلی اللہ علیہ
وسلم فیصلہ فرما دیں تو… بات ختم ہو جاتی ہے… پھر بھی اگر کوئی
بک بک کرے تو وہ بڑا بدنصیب ہے … بڑا بد نصیب … یا اللہ !آپ کی پناہ۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ’’معاف ‘‘ فرمائے… مخلوق پر رحم فرمائے … جن کو
’’پانی‘‘ کی ضرورت ہے اُن کو خیر و برکت والا ’’پانی‘‘ عطاء فرمائے…سندھ سے خبر
آئی ہے کہ ’’پانی‘‘ کی قلت خوفناک شکل اختیار کر رہی ہے …اور بھی کئی علاقوں سے
ایسی اطلاعات آ رہی ہیں … لوگ ’’بارش‘‘ کو ترس رہے ہیں… پانی کے کنویں اور بور
خشک ہو رہے ہیں… جانور پیاسے مر رہے ہیں جبکہ انسان موت جیسی زندگی کاٹ رہے ہیں…
انتخابات یعنی الیکشن میں اتنے گناہ ، اتنے ظلم، اتنی بے حیائی اور اتنے جھوٹ ہوتے
ہیں کہ … اللہ تعالیٰ کی پناہ … الیکشن کے ایک ماہ کے عرصے میں زمین کو ہلا دینے
والے جو گناہ ہوئے انہوں نے… اپنی نحوست ہر طرف بکھیر دی ہے… بارشیں بند ہیں اور
جب کھلتی ہیں تو آفت بن جاتی ہیں… ایسی گندی اور ناپاک سیاست ایک اسلامی ملک میں
زیب نہیں دیتی… آپ صرف ایک حلقے میں ہونے والے… گناہوں کی فہرست بنائیں… کیا کچھ
نہیں ہوتا؟ … تب گردن شرم سے جھک جائے گی… جو دیندار لوگ سیاست کا حصہ بنتے ہیں وہ
بھی انتخابات کے ایام میں…اللہ تعالیٰ سے بہت دور ہو جاتے ہیں… کئی دن سے اہل
ایمان کی طرف سے تقاضا تھا کہ … قحط زدہ علاقوں میں بارش کی دعاء کی جائے… الحمد
للہ دو دن سے توفیق مل رہی ہے… آپ سب سے بھی گزارش ہے کہ… توبہ، استغفار کی خوشبو
پھیلا کر … اس مسئلے کو اپنا مسئلہ سمجھ کر روز اور بار بار دعاء کریں… دعاؤں سے
اللہ تعالیٰ کا غضب… اس کی رحمت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
سورہ ٔفاتحہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو ٹھنڈا کرتی ہے… کیونکہ
سورۂ فاتحہ خود دعاء ہے اور دعاء کی تعلیم ہے… ہمیں ہر خیر والی ’’تبدیلی‘‘ کی
اُمید صرف اللہ تعالیٰ سے رکھنی چاہیے…ابھی فوری ’’تبدیلی‘‘ جس کی سخت ضرورت ہے…وہ
موسم کی ’’تبدیلی ‘‘ ہے … مسلمان بہت مشکل میں ہیں… چند دن پہلے سندھ کے رفقاء
کرام نے جو صورتحال لکھی ہے… اس نے دل کو لرزا دیا ہے… اللہ تعالیٰ کی ناراضی سے
اللہ تعالیٰ کی پناہ… اللہ تعالیٰ کے غضب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ… یا اللہ! اے
زمین و آسمان کے خزانوں کے خالق اور مالک!… خیر کا پانی برسا دیجئے… اور اس پانی
کے ساتھ ہدایت کی ہوائیں بھی چلا دیجئے… ہمارا ملک واقعی ’’تبدیلی‘‘ کو ترس رہا
ہے… خیر والی تبدیلی۔
صرف تبدیلی نہ مانگیں
انقلاب کہتے ہیں… حالات کے اُلٹ جانے کو …اور یہی مطلب
’’تبدیلی‘‘ کا بھی ہے… قرآن مجید میں ایک ایسی ’’تبدیلی‘‘ کا ذکر ہے … جو بڑی
خطرناک اور خوفناک تبدیلی ہے… اس تبدیلی کا آغاز دل کی نیت سے ہوتا ہے… اور پھر
یہ تبدیلی سب کچھ اُلٹ کر رکھ دیتی ہے…
{اِنَّ اللہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوا
مَا بِاَنْفُسِھِمْ} [الرعد: ۱۱]
کچھ لوگ کچھ قومیں جو اچھی حالت میں ہوتی ہیں… مگر پھر اُن کے
دل میں برے ارادے جڑ پکڑنے لگتے ہیں…اور جب وہ اپنے دل کی حالت بدل لیتے ہیں اور
وہاں برائی کی نیت کو پکا کر لیتے ہیں تو… اللہ تعالیٰ اُن کے اچھے حالات بدل دیتا
ہے… اور اُن پر برے حالات مسلط فرما دیتا ہے… دنیا کا تقریباً ہر انسان اس تبدیلی
کے حملے کا شکار ہوتا ہے… ہمارے دل کی بری نیتوں نے ہمیں کیسی کیسی عظیم نعمتوں سے
محروم کرا دیا… اس لئے اپنے دل پر نظر رکھنی چاہیے… اور کسی بھی گناہ، کسی بھی برے
ارادے… کسی بھی ناجائز منصوبے … کسی بھی ناجائز بدگمانی… کسی بھی ناجائز سازش کو
اپنے دل میں… پکا نہیں ہونے دینا چاہیے… کیونکہ یہ برے ارادے خود ہمیں ہی برباد
کرتے ہیں… قرآن مجید میں ایک اور تبدیلی کا بھی ذکر ہے جو ’’قوم سبا ‘‘ پر آئی…
اللہ تعالیٰ نے اُن کو بے شمار اور حیرت انگیز نعمتیں عطاء فرمائی تھیں… مگر وہ
ناشکری اور ناقدری میں پڑ گئے تو سب کچھ چھین لیا گیا… قرآن مجید نے وہاں بھی
’’تبدیلی‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا ہے… معلوم ہوا کہ … ہر تبدیلی اور ہر انقلاب
اچھا نہیں ہوتا… اس لئے صرف تبدیلی تبدیلی نہ مانگیں… جب بھی تبدیلی مانگیں… خیر
والی مانگیں… وہ تبدیلی جو اللہ تعالیٰ ’’عباد الرحمٰن‘‘… کو عطاء فرماتے ہیں… اور
اُن کے گناہوں کو اُن کی نیکیوں سے بدل دیتے ہیں… اُن کے برے حالات کو اچھے حالات
سے بدل دیتے ہیں… وہ تبدیلی جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کو بیماری
اور تکلیف کے بعد عطاء فرمائی… اور اُن کی سابقہ نعمتوں کی بحالی کے ساتھ ساتھ
مزید اضافہ بھی فرما دیا… وہ تبدیلی جو اللہ تعالیٰ نے اہل مدینہ کو حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد عطاء
فرمائی… حتٰی کہ فضا، ہوا، موسم اور چیزوں کے وزن تک میں خیر والی تبدیلی آگئی… تبدیلی
کا موضوع کافی مفصل ہے … ہمیں توجہ کر کے… قرآن مجید میں اس موضوع کو سمجھنا
چاہیے… واٹس ایپ کے کسی گروپ میں دو ڈھائی سو افراد کی فضولیات پڑھنے اور ان پر
پتے پھینکنے کی بجائے… ہم اتنے وقت میں قرآن مجید کی ایک آیت سمجھ لیا کریں ایک
آیت یاد کر لیا کریں… یہ ہمیں ہمیشہ کام دے گی،ان شاء اللہ۔
خیر والی تبدیلی مانگیں
گذشتہ اٹھارہ سال میں کئی حکومتیں آئیں … اور چلی گئیں… مگر
حالات نہ بدلے… ہر حکومت گذشتہ حکومت کی اُن پالیسیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے… جو
پالیسیاں ظالمانہ ہیں… احمقانہ ہیں… بزدلانہ ہیں… صدر پرویز مشرف ملک کو جس کھائی
کی طرف دھکا دے کر بھاگ گیا… ملک اسی کھائی میں گرتا چلا جا رہا ہے …اور ہر نئی
حکومت مشرف کی اُن پالیسیوں کی بھرپور حفاظت کر رہی ہے… سب جانتے ہیں کہ … امریکی
جنگ کا حصہ بننا…مشرف کی ایک بزدلانہ اور احمقانہ پالیسی تھی… مشرف کے بعد جو
حکومتیں آئیں انہوں نے مشرف کو توگالیاں دیں… مگر اس کی پالیسیوں کو نہیں بدلا…
بلکہ نواز شریف حکومت تو… اُن ظالمانہ پالیسیوں میں مشرف سے بھی دو ہاتھ آگے نکل
گئی… آپ صرف فورتھ شیڈول کا قانون لے لیں…اپنے ملک کی عوام کو…’’ فورتھ شیڈول‘‘
کے ذلت ناک ظلم میں مبتلا کرنا یہ صرف پاکستان میں ہی چل رہا ہے… اچھے خاصے با شرع
امانتدار شہریوں کو … باقاعدہ تھانوں میں حاضری دینی ہوتی ہے… جہاں اُن کے ساتھ
توہین آمیز سلوک کیا جاتا ہے … اُن آزاد شہریوں کو غلاموں کی طرح کہیں آنے جانے
کے لئے… ایس ایچ او بہادر سے اجازت لینی پڑتی ہے… یہ اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے حج
بیت اللہ پر نہیں جا سکتے… کہیں آزادانہ سفر نہیں کر سکتے… اُن کی ذات اور اُن کا
گھر ہر وقت پولیس کی نظر، نگرانی اور غلامی میں ہے… آپ بتائیں کیا پوری دنیا میں
کسی بھی جگہ … اپنے شہریوں کے ساتھ یہ سلوک کیا جاتا ہے؟ … اپنی ہر بات میں یورپ
اور امریکہ کے حوالے دینے والے… ہمارے سیاستدان کبھی ’’فورتھ شیڈول‘‘ کے ناقابل
برداشت قانون کی بھی… کوئی مثال دنیا میں پیش کر سکتے ہیں؟… یہ قانون’’ مشرف‘‘ نے
شروع کیا اور پھر نون لیگ نے اس کو باقاعدہ ایک ہتھیار بنا لیا … مظلوموں کی آہیں
رنگ لاتی ہیں… مشرف بیرون ملک … ذلت کی زندگی گذارنے پر مجبور ہے… نہ دن کو چین ہے
نہ رات کو آرام… نہ اپنے ملک جا سکتا ہے اور نہ اپنے جمع کئے ہوئے مال سے کچھ
راحت پا سکتا ہے… ہر قدم پر ذلت اور رسوائی ہے… گویا کہ فورتھ شیڈول سے بھی بڑھ
کر… پابندیوں کا شکار ہے… اور ساتھ ساتھ پچھتر سال کے اس بڑھاپے میں… آگے کہیں
بھی اُمید کی کوئی کرن نظرنہیں آ رہی… انسان کے سامنے جب اس کا مستقبل تاریک ہو
جائے تو… اس کے دل کا چین اور آرام چھن جاتا ہے… دور بیٹھنے والوں کو یورپ،
امریکہ کی زندگی پرکشش، پر لذت لگتی ہے لیکن جو وہاں پھنس جائے اس سے پوچھیں کہ…
وہ کیسی جہنم ہے…وہاں جو خوش ہیں… وہ اپنے ایمان، اچھے اعمال اور آخرت کی اچھی
امیدوں پر خوش ہیں… جبکہ مشرف جیسے لوگ… بس آہیں بھرتے ہیں … کہاں وہ وقت کہ
اشاروں پر دنیا ناچتی تھی اور کیا یہ وقت کہ اپنے گھر والے بھی بوجھ سمجھیں… اور
اپنے ملک میں واپسی سے خوف آئے… اور پھر فورتھ شیڈول کے قانون سے… اہل ایمان کے
گلے گھونٹنے والے نواز شریف کو دیکھ لیں… اس کی ذلت، رسوائی برے انجام اور بے
چارگی کو دیکھ کر تو بعض اوقات دل میں… ہمدردی تک آنے لگتی ہے … موٹی گردن والا
فرعون صفت انسان… جو غصے میں پھنکارتا تھا تو بے قابو ہو جاتا تھا… جو پورے ملک کو
اپنا نوکر، اپنا غلام اور اپنی جاگیر سمجھتا تھا… جو ہمیشہ ایسے اختیارات چاہتا
تھا کہ… جو کچھ اس کے منہ سے نکلے بس وہی حرف آخر ہو… جو اپنی ضد اور ہٹ دھرمی
میں تمام حدود پھلانگ جاتا تھا… جسے نہ انسانوں کے خون کی پرواہ تھی اور نہ جس کے
دل میں کسی غریب کی عزت تھی… جو زیادہ اختیارات حاصل کرنے کے جنون میں… توحید اور
ختم نبوت کے خلاف برسرپیکار ہو گیا تاکہ… کافر دنیا اس کی پشت پر کھڑی ہو جائے… وہ
جو قاتلانہ پولیس مقابلوں سے راحت پاتا تھا… اور اہل دین کو حقارت کا نشانہ بناتا
تھا…اب وہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں آیا تو ذلتوں نے اس کی ذات کو اپنے گھیرے میں
لے لیا ہے… مجمعوں میں پڑنے والے جوتے… عدالتوں میں ججوں کی جھڑکیاں… راستوں میں
پولیس کے دھکے… وزارت عظمیٰ سے نا اہلی… چھوٹے بھائی کی بدلی بدلی آنکھیں… اہل
خانہ کی پریشانیاں… دو بیٹے دونوں اشتہاری… پاؤں کے نیچے سے سرکتی ہوئی زمین…
اپنی پارٹی کی طوطا چشمی… دور دور تک پھیلی جائیداد کے کانٹے اور فکریں…اور رہائش
کے لئے… تیس محلات کے مالک کے لئے… اڈیالہ جیل کا ایک کمرہ …ہر قدم پر جیل پولیس
کی محتاجی… نخرے اور مطالبے … اور سامنے اندھیرا ہی اندھیرا… یعنی فورتھ شیڈول کی
پریشانی سے دس گنا بلکہ سو گنا زیادہ ذلت ، رسوائی اور مشقت… اے فورتھ شیڈول کے
ظلم میں پسنے والے اہل ایمان! تھوڑا سا صبر اور کرو… اپنے دل کو مطمئن رکھو… آپ
کی یہ تکلیف دین کی خاطر ہے… جبکہ اوپر جن کا تذکرہ ہوا وہ… دنیا کی خاطر اس سے
زیادہ تکلیف بھگت رہے ہیں… اپنا دل چھوٹا نہ کرو… جن کو حج سے روکا جائے اُن کی
طرف سے فرشتے حج کرتے ہیں… جن کو پابندیوں میں جکڑا جائے… اُن کے لئے آخرت وسیع
ہو جاتی ہے… صبر کرو اور اللہ تعالیٰ سے خیر والی تبدیلی مانگو… اللہ تعالیٰ آپ
کو جزائے خیر عطاء فرمائے… نئے یا پرانے حکمرانوں سے کوئی اُمید نہ باندھو… یہ سب
ایک جیسے ہیں… اِن سے کوئی خیر ملے گی تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے ملے گی…
حَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ…حَسْبُنَا اللہُ
وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ۔
نہ خوف ، نہ اُمید
پاکستان میں حکومت کی تبدیلی ہو رہی ہے … اللہ تعالیٰ اُمت
مسلمہ اور اہل پاکستان کو اس تبدیلی میں خیر عطاء فرمائیں… کچھ لوگ ڈرا رہے ہیں کہ
نئے حکمران اچھے لوگ نہیں ہیں… یہ زیادہ اودھم مچائیں گے اور اہل ایمان کو دبائیں
گے…جبکہ کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ… یہ نسبتاً اچھے لوگ ہیں… اچھی باتیں کر کے
آئے ہیں اور اچھے ارادے رکھتے ہیں… دلوں کا حال اللہ ہی جانے…ڈرانے والوں سے …
کہہ دیا جائے کہ… ہم نہیں ڈرتے…حَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ… اور اُمیدیں
دلانے والوں سے کہہ دیا جائے کہ… ہم صرف ایک اللہ تعالیٰ سے ہی خیر اور اچھی
تبدیلی کی اُمید رکھتے ہیں…
اَللہُ اَللہُ رَبِّی لَااُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا وَلَا
اَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِہٖ وَلِیًّا۔
’’اللہ، اللہ ہی سب کچھ ہے، ہم اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں
ٹھہراتے اور نہ اس کے سوا کسی کو اپنا یارو مددگار سمجھتے ہیں۔‘‘
نئے حکمرانوں سے عرض ہے کہ خیر لاؤ گے تو خیر پاؤ گے شر
پھیلاؤگے تو اسی کا لقمہ بن جاؤ گے۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ جسے چاہتے ہیں ’’بادشاہ ‘‘ بنا دیتے ہیں… اور جس
سے چاہتے ہیں ’’بادشاہت‘‘ چھین لیتے ہیں… پہلے زمانے میں ’’بادشاہ ‘‘ ہوتے تھے… اب
بھی کہیں کہیں پائے جاتے ہیں… جبکہ آج کل کے زمانے میں صدر، وزیر اعظم، سردار اور
گورنر ہوتے ہیں… کوئی بھی کسی وظیفے ، کسی چلّے، کسی بزرگ، کسی مزار … یا کسی
تعویذ کی وجہ سے… وزیر اعظم نہیں بن سکتا…اگر ایسا ہوتا تو ہر گلی میں دو تین
بادشاہ… اور تین چار وزیراعظم ضرور ہوتے … کیونکہ مزار پرہر کوئی جا سکتا ہے… وہاں
ہر کوئی جھک سکتا ہے… تعویذ ہر کوئی باندھ سکتا ہے… وظیفہ ہر کوئی کر سکتا ہے… پھر
یہ سب ’’وزیر اعظم ‘‘ کیوں نہیں بنتے؟
دراصل شیطان پوری کوشش کرتا ہے کہ… ہمیں اللہ تعالیٰ سے کاٹ
دے… وہ لوگ جو آج معمولی معمولی باتوں پر… اللہ تعالیٰ سے کٹ جاتے ہیں… وہ دجال
کے سامنے کیا کریں گے… دجال تو بارشیں برسائے گا… رزق کے ڈھیر لگائے گا… سونے
چاندی کے پہاڑ چلائے گا اور مردوں کو زندہ کرے گا… مگر اہل ایمان … تب بھی اس کو
اپنا خدا نہیں مانیں گے… ایک اللہ کی توحید پر جان دیتے چلے جائیں گے… مگر وہ
تھوڑے ہوں گے… بہت سے لوگ دجال کے فتنے کاشکار ہو جائیں گے… یا اللہ! آپ ایک ہیں…
اللہ ایک ہے… اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی شریک نہیں…اللہ تعالیٰ ہی زندگی، موت ، عزت
، ذلت، رزق اور سانس کا مالک ہے… ہر حاجت صرف وہی پوری فرما سکتا ہے… وہ جب چاہتا
ہے کسی کو کوئی عہدہ دیتا ہے اور جب چاہتا ہے اس سے عہدہ چھین لیتا ہے… آج اگر
ایک نیا وزیر اعظم آیا ہے تو دو وزیراعظم چلے بھی گئے ہیں… حالانکہ اُن کے پاس
بھی پیروں ، مزاروں ، عاملوں ، جادوگروں اور منتر بازوں کی کمی نہیں تھی… پھر وہ
کیوں چلے گئے؟ … پھر وہ کیوں نکالے گئے؟ سوچیں اور کہیں…اَللہُ اَحَدُ، اَللہُ
اَحَدُ… اَللہُ الصَّمَدُ، اَللہُ الصَّمَدُ۔
کامیابی نہیں ہے
اس میں کوئی شک نہیں کہ … وظیفے اگر شریعت کے مطابق ہوں تو
اُن سے فائدہ ہوتا ہے… اللہ کا ذکر، اللہ کا نام، اللہ کا کلام… اور اللہ تعالیٰ
سے دعاء… اس میں فائدہ ہی فائدہ ہے… میرا تجربہ ہے کہ جب کوئی حاجت وغیرہ پیش آئے
تو دو رکعت نماز ادا کر کے… سات بار سورہ ٔفاتحہ اور تین بار سورۂ اخلاص توجہ سے
پڑھ لیں… اول آخر سات سات بار درود شریف… اس کے بعد اپنی حاجت مانگی جائے تو…
ماشاء اللہ عجیب طرح سے قبولیت آتی ہے… بس یوں سمجھیں کہ زندگی ہی آسان ہو جاتی
ہے… دو رکعت نماز میں سب کچھ آجاتا ہے… پھر درود شریف قبولیت کی چابی ہے… پھر
سورۂ فاتحہ ہر خیر کو کھولنے والی ہے پھر سورۂ اخلاص … وہ تو عظمت کا مینار ہے…
محبوب کلمات کا پر تاثیر مجموعہ ہے… اور اس میں اخلاص ہی اخلاص ہے… یعنی بندہ خالص
ایمان پر آ جاتا ہے … خالص توحید پر آ جاتا ہے… اب اس کے بعد دعاء مانگیں تو اس
میںتاثیر تو ہو گی۔
صدر یا وزیراعظم بن جانا… نہ تو کوئی کامیابی ہے اور نہ کوئی
نعمت… یہ ایک آزمائش ہوتی ہے اور زندگی کا ایک مرحلہ… کوئی اگر خوش نصیب ہو تو وہ
اس آزمائش میں کامیاب ہو جاتا ہے…جبکہ اکثر لوگ اس آزمائش میں ناکام ہو جاتے
ہیں… اور وہ اپنی دنیا اور آخرت دونوں کا گھاٹا کر بیٹھتے ہیں … پاکستان میں تو
’’وزراء اعظم ‘‘ کی تاریخ اور انجام اتنا بھیانک ہے کہ… بچوں کو بھی اگر یہ تاریخ
کہانی بنا کر سنائیں تو وہ ڈر جاتے ہیں… پاکستان میں سب سے زیادہ بار ’’وزارت
عظمیٰ‘‘ کا حلف اُٹھانے والے ’’شیر صاحب‘‘ آج کل… بڑی سخت تکلیف میں ہیں… حالانکہ
انہوں نے دنیا بھر کے بڑے بڑے نجومیوں اور جادوگروں کی خدمات حاصل کیں… کہاں کہاں
سے عامل بلوائے… طرح طرح کے چلّے کٹوائے…یہاں تک کہ ہندو نجومیوں، پنڈتوں اور
تانترکوں سے مدد حاصل کی… مگر کچھ نہ بنا… اس واقعہ کو دیکھ کر…ممکن ہے بہت سے لوگ
نجومیوں اور جعلی عاملوں سے بچ جاتے… مگر ایک دم سوشل میڈیا پر شور مچ گیا کہ… نئے
وزیراعظم کا تقرر بھی عملیات ، مؤکلات اور وظیفوں کے زور سے ہوا ہے… استغفر اللہ،
استغفر اللہ۔
اے اہل ایمان!… اپنے ایمان کی حفاظت کرو… دنیا کے عہدے، منصب
اور مالداریاں سب لکھی جا چکی ہیں… ان میں کچھ بھی کامیابی نہیں… وظیفے کرنے ہیں
تو حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے سکھائے ہوئے کرو…
اُن میں نقصان کا ذرہ برابر خطرہ نہیں… جبکہ فائدہ دنیا کا بھی ہے اور آخرت کا
بھی…اگر کوئی عامل، نجومی یا عاملہ کسی کو وزیراعظم بنانے کی طاقت رکھتے تو وہ خود
کیوں نہیں وزیراعظم بن جاتے… یا اپنی اولاد کو نہیں بنا دیتے؟
آگے کیا ہوگا؟
رزق کے بارے میں ایک وظیفہ ہے… میں نے اپنی زندگی میں کئی
افراد کو اس وظیفے کے بعد مالدار ہوتے دیکھا… مال تو بہر حال اُن کی قسمت میں پہلے
سے لکھا ہوا تھا… مگر اُن کی مالداری کا ظاہری سبب یہی وظیفہ بنا… فرض نماز کی
پابندی کرنے والے حضرات وخواتین اگر اس کی پابندی کریں تو… اُن کے رزق میں برکت کے
اثرات ظاہر ہوتے ہیں… روزانہ ’’یَا مُغْنِیُ‘‘ بارہ سو بار اور یہ دعاء ستر بار…
اَللّٰھُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّن
سِوَاکَ… اوّل آخر چند بار درود شریف… میں سالہا سال سے… غالباً اپنی دینی تعلیم
کے آخری سال سے یہ وظیفہ کسی کسی کو بتادیتا ہوں… جس نے بھی پابندی کی وہ مالدار
ہوگیا…اور افسوس یہ کہ بہت سے لوگ مالدار ہوکر… دین میں کمزور ہوگئے، جہاد سے ہٹ
گئے… عزیمت کے راستے سے کٹ گئے… ہاں بے شک! مال کے فتنے کو بہت کم لوگ اپنے لئے
نعمت بنا پاتے ہیں…خود میں نے کبھی اس وظیفے کی پابندی نہیں کی… کبھی ضرورت پڑ
جائے تو ایک دو ہفتے یا صرف جمعہ کے دن کبھی کبھار… پڑھ لیتا ہوں… آگے بھی یہی
ارادہ ہے کہ ان شاء اللہ ضرورت کے وقت پڑھ لیا جائے… زیادہ توجہ اُن اَوراد و
وظائف پر دی جائے جن سے دل کی اصلاح ہوتی ہے…آخرت بنتی ہے… عذاب قبر سے نجات ملتی
ہے… رخ سیدھا رہتا ہے… عافیت نصیب ہوتی ہے۔
ہمارے پاک نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے…
اپنی امت کو ہر حاجت کی دعاء اور وظیفے سکھا دئیے ہیں… میں نے چھ دعائوں کا ایک
جامع نصاب احادیث مبارکہ سے بنایا ہے… یعنی اگر کوئی آدمی بیمار ہو اور وہ زیادہ
معمولات نہ کرسکے… یا کوئی آدمی بہت زیادہ مشغول ہوتو… وہ صبح وشام یہ چھ اوراد
کرلے… صرف چند منٹ لگتے ہیں… مگر الحمدللہ ہر طرح سے کفایت ہوجاتی ہے… یہ نصاب میں
نے اپنی ایک محبوب شخصیت کے لئے ان کی بیماری کے دوران بنایا تھا… اب ارادہ ہے کہ
رنگ ونور میں بھی شائع کردیا جائے… آج کل پیشین گوئیاں کرنے والے… طرح طرح کے
پروفیسر، عامل، جادوگر اور نجومی… مسلمانوں کے درمیان گھس گئے ہیں… اُن کے حالات
اور لوگوں کا اُن کی طرف رجوع دیکھ کر… دل بے چین ہوتا ہے کہ…کیسے ناکام لوگوں کے
سامنے ’’اہل اسلام‘‘ خود کو جھکا رہے ہیں…ایک اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر… دردر کی
ٹھوکریں کھارہے ہیں… جادو، ٹونے کو انہوں نے نعوذ باللہ پہاڑ سمجھ لیا ہے جبکہ
قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کو یہ کچھ نہیں سمجھتے… استغفراللہ، استغفراللہ…جب
سات زمین اور آسمان… کلمہ طیبہ کے سامنے نہیں ٹھہر سکتے… اور یہ بات یقینی ہے تو
جادو اس کے سامنے کیسے ٹھہر سکتا ہے؟…صبح وشام سو، سو بار پڑھیں:
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ
الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُوَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیءٍ قَدِیْرٌ۔
جو بھی اس کی پابندی کرتا ہے اس پر ہونے والا جادو ٹوٹ جاتا
ہے… کیونکہ یہ کلمہ طیبہ کا خاص اور طاقتور ورد ہے… اور کلمہ طیبہ کی طاقت اتنی ہے
کہ ہم اُسے بیان ہی نہیں کرسکتے کیونکہ… کوئی مثال موجود نہیں ہے… بھائیو! بہنو!
صدر،وزیراعظم بننا کمال نہیں ہے… فرعون بھی بادشاہ تھا اور نمرود بھی… اباما بھی
صدر تھا اور بش بھی… اصل کمال یہ ہے کہ… ہمیں کلمہ طیبہ نصیب ہوجائے… پیروں اور
بزرگوں کے پاس جانا ہے تو… وزیراعظم بننے کے لئے نہ جائیں بلکہ… کلمہ طیبہ سیکھنے
کے لئے جائیں… جو کلمہ طیبہ سکھا دے وہی بزرگ ہے، وہی ولی ہے…ایسے ولی کے پاس جانے
کے لئے… سات جنگل اور سمندر عبور کرنے پڑیں تو بھی سودا سستا ہے… کلمہ طیبہ دل میں
اتر جائے تو بس پھر کامیابی ہی کامیابی ہے… ہمیشہ ہمیشہ کی کامیابی… نہ ختم ہونے
والی… نہ مٹنے والی…اصل کمال یہ ہے کہ… ہم مؤمن بن جائیں… ہم مجاہد فی سبیل اللہ
بن جائیں… اور ہمیں… اللہ تعالیٰ کے راستے کی مقبول شہادت نصیب ہوجائے۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
(حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمہ اللہ
علیہ کی مجلس سے)
اللہ تعالیٰ کی ’’صلوٰت‘‘ اور اللہ تعالیٰ کا سلام … ہمارے
آقا حضرت سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ والہٖ وصحبہٖ وسلم پر… گستاخانہ خاکوں کا
معاملہ گرم ہے… اللہ تعالیٰ کی، اُس کے تمام فرشتوں کی اور اُس کی تمام مخلوق کی
’’لعنت‘‘ منحوس خاکے بنانے والوں پر ، چھاپنے والوں پر اور اِن پرخوش ہونے والوں
پر… جو لوگ یہ خاکے بناتے ہیں وہ سب ’’واجب القتل ‘‘ مردود اور ملعون ہیں…اُن کو
قتل کرنا بڑی عبادت اور پکی مغفرت کا ذریعہ… اور اللہ تعالیٰ کے خاص قرب کو پانے
کا’’ وسیلہ‘‘ ہے… میں اس معاملے میں کچھ زیادہ ہی معذور ہوں… نہ ہی اپنے اندر اُن
ناپاک خاکوں کو دیکھنے کی ہمت پاتا ہوں … اور نہ اس موضوع پر زیادہ لکھنے کی قوت
رکھتا ہوں… عالم اسلام کے ہر مسلمان سے میری دردمندانہ گذارش ہے کہ … وہ اِن عذاب
زدہ خاکوں کو نہ دیکھیں… نہ پھیلائیں… اور نہ اس حرکت کو معمولی اور قابل معافی
جرم سمجھیں… اس موضوع پر زیادہ بات چیت نہ کریں… دل میں انتقام کی شمع روشن کریں
اور جس کو جہاں بھی موقع ملے ان خاکہ نویسوں کو واصل جہنم کریں… اُن کو جو بھی
نقصان پہنچا سکتے ہوں پہنچائیں…اور دنیا کو بتا دیں کہ… حضرت محمد صلی
اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہم ادنیٰ سی گستاخی بھی برداشت نہیں کر
سکتے… اس گستاخی کو ختم کرنے کے لئے ہمیں ساری دنیا سے لڑنا پڑے تو ہم لڑیں گے…
مرنا پڑے تو مر جائیں گے… ساری دنیا کو آگ لگانی پڑے تو لگا دیں گے…ایٹم بم اور
طیارے اُن کے لئے خوف کی علامت ہوتے ہیں جو زندہ رہنا چاہتے ہوں… حضرت آقا صلی
اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کو برداشت کر کے زندہ رہنے کا شوق کسی کلمہ
گو مسلمان کے دل میں نہیں ہو سکتا… پھر ڈر کس چیز کا؟… تم ہمارے زمانے کے لوگ ہو،
آؤ ہم سے بات کرو…ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہاتھ کیوں
بڑھاتے ہو؟… اپنے ناپاک، بدبودار اور نجس ہاتھوں کا رخ حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرو گے تو… کتے سے بدتر موت
مرو گے… میدان میں تو تم ہمارا مقابلہ کر نہیں سکتے… تمہارے فوجی پیمپر پہن کر
غلاظت میں ڈوب جاتے ہیں… تم اپنے گھروں اور شہروں کو محفوظ نہ سمجھو… امت محمد صلی
اللہ علیہ وسلم کا غیظ و غضب ہر پتھر کے نیچے تمہیں ڈھونڈ کر جلا دے
گا… مسلمانو! مسلمان بنو… ان گستاخوں ، ظالموں سے ہر رشتہ توڑ ڈالو… اور اُن کے
دماغوں کو اُن کی کھوپڑیوں سمیت اُڑا ڈالو… ہماری ان باتوں کو کوئی نفرت کا پیغام
کہتا ہے تو کہتا رہے… کوئی دہشت گردی کہتا ہے تو کہتا رہے… کوئی انتہا پسندی کہتا
ہے تو کہتا رہے… ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر
کچھ نہیں… ہمارے دامن میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی
نسبت کے علاوہ کچھ نہیں… ناموس رسالت پر جان گئی تو مزے ہو جائیں گے… سارے گناہ مٹ
جائیں گے… اور شہادت کا وہ مقام ملے گا جس کے سامنے ہزار زندگیاں بھی کچھ نہیں…
مسلمانو! شور مچانے سے کچھ نہیں ہو گا دشمنوں کے گھروں کے اندر شور
اُٹھاؤ… مذمت کرنے سے کچھ نہیں ہو گا… یہ وہ جرم نہیں جو صرف’’ مذمت‘‘ سے دھل
سکتا ہو… یہ اُن کی طرف سے سب سے بڑا اعلان جنگ ہے … جنگ کا جواب جنگ سے دو… تم اس
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہو جو خود میدانوں میں نکل کر جہاد
فرمایا کرتے تھے… گھر بیٹھ کر خود کو ’’مجاہد‘‘ نہ کہلواؤ… اور صرف مذمت کر کے
دشمنوں کو اپنے اوپر نہ ہنساؤ۔
اللہ کرے دشمنان رسول صلی اللہ علیہ
وسلم ایک ایک کر کے مارے جائیں… اور پھر کسی کو ہمت نہ ہو کہ وہ یہ جرم
کر سکے… یا اللہ! مجھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی
امت کے ہر فرد کو…سچا ایمان اور سچا عشق رسول صلی اللہ علیہ
وسلم نصیب فرما… ہم سب کو عملی مجاہد بنا… ہم سب کو عشق کے اصل تقاضے
پورے کرنے کی توفیق عطاء فرما… ہمیں اس زمانے کے دجالی فتنے ’’سوشل میڈیا‘‘ کے شر
سے بچا… دشمنان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ختم کرنے کی
ہمیں ہمت ، جرأت اور توفیق عطاء فرما… ہمارے دلوں سے مخلوق کا خوف، رعب اور دنیا
کی محبت دور فرما… ہمیں شہادت کا دیوانہ بنا… اور ہم سے کام لے لے…آمین یا ارحم
الراحمین۔
حضرت مسعود… واقعی مسعود
آج کل’’پاک پتن ‘‘ کا نام بہت چل رہا ہے … وہاں جس ’’اللہ
والے‘‘ کا مزار ہے… اُن کا نام نامی، اسم گرامی ’’مسعود‘‘ تھا…والدین نے ’’مسعود‘‘
نام رکھا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے فضل سے واقعی ’’مسعود‘‘ بنا دیا…
سعادتمند ، خوش نصیب، سعادتوں کا مجموعہ… ورنہ نام کا ہر’’مسعود ‘‘ تو ’’مسعود ‘‘
نہیں ہوتا… یا اللہ ! رحم… آپ کا لقب ’’فرید الدین‘‘ اور عرف ’’ گنج شکر‘‘ تھا…
وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے ایک مخلص، وفادار اور مقبول بندے تھے… وہ حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق، دیوانے اور متبع امتی تھے…وہ سلسلہ
چشتیہ کے تیسرے بڑے ستون اور حضرات اولیاء کرام کے سر کا تاج تھے… وہ علم ، عمل ،
اخلاص، عبادت اور تبلیغ کے کامیاب شہسوار تھے… میں نے اُن کی زندگی اور اُن کے
حالات و اقوال پر غور کیا تو بس یہی سمجھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رازوں میں سے ایک
’’راز‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک ’’نشانی‘‘ تھے… سب سے پہلے اُن سے
تعارف… اپنے استاذ، اپنے شیخ اور اپنے مربی ومحسن حضرت مفتیٔ اعظم مفتی ولی حسن
ٹونکی نور اللہ مرقدہ کی کتاب سے ہوا… حضرت نے ’’اولیاء پاک وہند‘‘ کے نام سے ایک
کتاب تصنیف فرمائی تھی… یہ کتاب اب نایاب ہے… میں نے اس پر کچھ کام کیا تھا تاکہ…
اسے دوبارہ شائع کیا جا سکے مگر ابھی تک اس بارے قسمت نہیں جاگی… جو میرے اللہ کو
منظور… پھر ابھی کچھ دنوں سے توجہ… حضرت ’’شیخ عالم بابا فرید الدین مسعود گنج شکر
نور اللہ مرقدہ‘‘ کی طرف ہو گئی… مختلف ذرائع سے اُن کے حالات زندگی پڑھے تو معلوم
ہوا کہ… اُن کے ملفوظات پر مشتمل ایک کتاب بھی شائع ہو چکی ہے… یہ کتاب حضرت شیخ
بابا جی رحمہ اللہ علیہ کے جانشین اور سلسلہ چشتیہ کے چوتھے
ستون… حضرت نظام الدین اولیاء نور اللہ مرقدہ نے لکھی ہے …اور اس کا اردو ترجمہ بھی
ہو چکا ہے… تلاش کے بعد یہ کتاب مل گئی… نام اس کتاب کا ’’راحت القلوب ‘‘ ہے…
صفحات کی تعداد ایک سو پچھتر ہے… جس میں اصل کتاب کا مواد ایک سو پچیس ( 125 )
صفحات پر مشتمل ہے… کتاب پڑھنے کی دعوت اس لئے نہیں دے سکتا کہ اول تو یہ کتاب
ملتی نہیں… دوسرا یہ کہ اکابر صوفیاء کرام کی باتوں کو سمجھنا ہر کسی کے بس کی بات
نہیں… وہ بہت کچھ ایسا فرماتے ہیں جسے دلائل پر نہیں پرکھا جا سکتا… تب طرح طرح کی
بحثیں شروع ہو جاتی ہیں اور نادان و کم عقل لوگ… اُن اولیاء کرام کی گستاخی میں
زبانیں دراز کرنے لگتے ہیں… جیسا کہ چند دن پہلے انٹرنیٹ پر سرگرم ایک جاہل بے
وقوف … حضرت ہجویری ة رحمہ اللہ علیہ کی کتاب ہاتھ میں لے کر اس پر اور حضرت
ہجویری پر تابڑ توڑ جاہلانہ حملے کر رہا تھا… حتیٰ کہ وہ اتنی جہالت پر اُتر آیا
کہ… حضرت بایزید بسطامی رحمہ اللہ علیہ کے نام پر چیخنے لگا کہ… بایزید
کامطلب ’’ابو یزید‘‘ ہے اور’’ یزید‘‘ نام کو اپنے نام کا حصہ بنانے والا شخص کیسے
ولی ہوسکتاہے؟…حالانکہ یزید نام تو کئی حضرات صحابہ کرام کا بھی ہے…تیسرا یہ کہ
کتاب ’’راحت القلوب‘‘ میں کئی عربی عبارات اور دعاؤں میں کتابت کی غلطیاں ہیں…
عربی سے ناواقف لوگ اس میں خطاء کر سکتے ہیں… چوتھا یہ کہ حضرات صوفیاء کرام کی
کئی باتوں کا تعلق اُن کے کشف اور ذوق سے ہوتا ہے اور نقل در نقل میں غلطیاں بھی
ہو جاتی ہیں… ان چار وجوہات کی وجہ سے کتاب پڑھنے کی دعوت صرف اہل علم، اہل ادب
اور اہل دل کو ہی دی جا سکتی ہے ( اہل ادب سے مراد ادیب نہیں بلکہ باادب لوگ) …
بہرحال یہ لاجواب کتاب ہے اور اس کے پڑھنے سے دل میں نور و سرور کا ایک دریا موجزن
ہو جاتا ہے…اللہ تعالیٰ حضرت شیخ بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمہ اللہ
علیہ کے درجات بلند فرمائے… اور انہیں اس امت کی طرف سے بہترین جزائے
خیر عطاء فرمائے… اور آج جو لوگ اُن کے ساتھ اپنی نسبت کا دعویٰ کر رہے ہیں… اور
جو لوگ اُن کی گدی کے وارث ہیں… اللہ تعالیٰ اُن کو بھی حضرت بابا جی کے نقش قدم
پر چلائے… وہاں آج کل جو کچھ ہو رہا ہے… اس کا حضرت بابا جی کی زندگی اور آپ کی
مبارک تعلیمات سے دور دور تک کوئی تعلق نظر نہیں آتا… اسی لئے عرض کیا کہ وہ اللہ
تعالیٰ کے رازوں میں سے ایک ’’راز‘‘ تھے…کاش اُن کی خانقاہ سے ہی کوئی ’’رازدان ‘‘
اُٹھے … اور لوگوں کو اصل اور سچے ’’بابا فرید‘‘ سے جوڑ دے… وہ بابا ’’فرید‘‘ جو
توحید و سنت کے علمبردار دنیا سے زاہد و بے رغبت عبادت و ریاضت میں اپنی مثال آپ،
اللہ تعالیٰ کی معرفت کے روشن مینار حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ
علیہ کے باعلم پیروکار، سنت اور عشق رسول صلی اللہ علیہ
وسلم کے دیوانے اور اپنے جد امجد حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی
غیرت ایمانی سے سرشار تھے۔ حضرت شیخ الاسلام، مجدد زمان خواجہ فرید الدین مسعود
گنج شکر رحمہ اللہ علیہ کو اللہ تعالیٰ نے لمبی عمر، دنیا کی سیاحت،
زمانے کے اولیاء کرام کی صحبت اور علم و عمل کی بلند نسبت عطاء فرمائی تھی…آپ کی
ولادت شعبان کے مہینہ میں جبکہ وفات محرم الحرام کے مہینہ میں ہوئی…ولادت کا
سال ۵۸۹ھ
بمطابق 1173 ء ہے… اور وفات کا سال ۶۶۶ ھ بمطابق 1265 ء ہے…
یعنی آج سے تقریباً پونے آٹھ سو سال پہلے (تاریخ وفات میں اور اقوال بھی ہیں)…
آپ کی ولادت ’’ملتان‘‘ میں ہوئی… اس لئے آپ کی شاعری میں ’’سرائیکی ‘‘ اشعار
بکثرت ہیں… ’’وفات‘‘ پاکپتن میں ہوئی… آپ کی پنجابی شاعری ’’مقبول جہاں‘‘ ہے… دینی
علم مکمل حاصل فرمانے کے لئے افغانستان اور ماوراء النہر کے اسفار فرمائے … عربی ،
فارسی اور سنسکرت کے الفاظ آپ کی شاعری میں موزوں ہوتے ہیں… زمانے کے بڑے بڑے
علماء اور اولیاء سے فیض حاصل کیا… اور بالآخر روحانیت کا یہ شہباز… حضرت خواجہ
قطب الدین بختیار کاکی نور اللہ مرقدہ کے دست حق پرست کا اسیر ہوا… اور حضرت قطب
کے بعد آپ ہی سلسلہ چشتیہ کے سربراہ بنائے گئے… آپ کا سلسلۂ نسب اکثر مؤرخین
کے نزدیک … حضرت امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔
دلوں کی راحت
آپ کے ملفوظات کے مجموعہ کا نام ’’ راحت القلوب ‘‘ ہے… اور
یہ ملفوظات واقعی ’’دلوں کی راحت‘‘ ہیں …ہمارے دل جب دنیا، عہدے اور خواہشات کی
محبت میں پھنستے ہیں تو وہ… راحت اور سکون سے محروم ہو جاتے ہیں… اور جب ان دلوں
میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور آخرت کی فکر پیدا ہو جاتی ہے تو پھر…راحت و سکون بھی
واپس آ جاتے ہیں… حضرت والا کے یہ ملفوظات ’’مجالس‘‘ کی شکل میں ہیں… حضرت نظام
الدین اولیاءہر ’’ مجلس‘‘ کا آغاز اس کی تاریخ اور مجلس کے حاضرین کے ناموں سے
فرماتے ہیں… اور ہر مجلس کا اختتام اس بات پر ہوتا ہے کہ پھر اذان ہو گئی… حضرت
فوراً نماز میں مشغول ہو گئے اور اہل مجلس وہاں سے اُٹھ گئے… تمام ملفوظات میں
نماز کے بے حد اہتمام کا درس ملتا ہے… رمضان المبارک کی مجلس میں تحریر فرماتے
ہیں:
’’اس کے بعد حضرت نے فرمایا کہ رمضان کا مہینہ ہے۔ میں روز
رات کو تراویح میں پورا قرآن پاک ختم کیا کروں گا، کوئی ہے جو میرا ساتھ دے؟ تمام
حاضرین نے خوشی اور سعادتمندی کے ساتھ شرکت کا عزم کیا۔ پھر حضرت شیخ ایک رات میں
دو دو قرآن ختم فرماتے تھے، ہر رکعت میں دس دس پارے پڑھتے تھے اور تھوڑی رات رہے
فارغ ہوتے۔‘‘
[راحت القلوب۔ ص:۱۰۱،ط: ضیاء القرآن پبلی کیشنز۔ لاہور]
آگے لکھتے ہیں:
’’جو شخص ان چار باتوں کا خیال نہیں رکھتا (۱) زکوٰۃ
( ۲) صدقہ و
قربانی (۳) نماز (۴) دعاء …
تو اللہ تعالیٰ اسے چار خیروں سے محروم کر دیتا ہے…ترک زکوٰۃ سے برکت جاتی رہتی
ہے، ترک صدقہ سے صحت بگڑنے لگتی ہے، ترک نماز سے مرتے وقت ایمان سلب ہو جاتا ہے
اور ترک دعاء سے پھر دعاء مستجاب ( یعنی قبول ) نہیں ہوتی۔‘‘
[راحت القلوب۔ ص:۱۲۵،ط: ضیاء القرآن پبلی
کیشنز۔ لاہور]
’’راحت القلوب‘‘ کا اصل موضوع
اس کتاب کا اصل موضوع … اول تا آخر… دنیا اور مال سے محبت کی
مذمت، اس کے نقصانات اور اس سے چھٹکارا پانے کی فکر ہے…حضرت نے اپنے واقعات بیان
فرمائے کہ… آپ کو کیسی کیسی جاگیریں اور زمینیں ملیں مگر آپ نے قبول نہ فرمائیں…
اور اپنے ان خلفاء اور مریدین کو سخت تنبیہ فرمائی جو مالداروں اور بادشاہوں کے
قریب ہو گئے… اور آپ نے موت کا شوق اپنے مریدین میں پیدا فرمایا کہ… اللہ تعالیٰ
سے ملاقات کی تیاری کریں… اور موت سے غافل نہ ہوں… آخری مجلس میں آپ نے حضور
سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا واقعہ بیان فرمایا… اور روتے روتے بے
ہوش ہو گئے… جب آپ کو ہوش آیا تو حضرت خواجہ نظام الدین کو مخاطب کر
کے فرمایا :
’’جن کے واسطے تمام عالم پیدا کئے( یعنی حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ) جب اُنہیں کو عالم میں نہ رکھا
تو پھر میں اور آپ کون ہیں کہ زندگی کا دم بھریں۔ پس ہم بھی اپنے آپ کو رفتگان
(دنیا سے جانے والوں) میں شمار کرتے ہیں، مگر زاد راہ کا فکر کرنا بہت ضروری ہے،
غفلت اور گفتگو میں وقت نہیں کھونا چاہیے تاکہ کل قیامت کے روز شرمندہ نہ
ہوں۔‘‘
[راحت القلوب۔ ص:۱۷۴،ط: ضیاء القرآن پبلی کیشنز۔ لاہور]
دنیا داری کے بارے میں آپ رحمہ اللہ علیہ کے چند
اقوال ملاحظہ فرمائیے:
١ ’’درویشی
پردہ پوشی کا نام ہے اور خرقہ ( یعنی بزرگوں والا لباس ) پہننا اس شخص کا کام ہے
جو مسلمانوں اور دوسرے انسانوں کے عیبوں کو چھپائے اور انہیں کسی پر ظاہر نہ کرے،
مالِ دنیا میں سے اس کے پاس جو کچھ آئے اسے راہ خدا میں صرف کرے اور جائز مصرف
میں اُٹھائے، خود اس میں سے ایک ذرے پر نظر نہ رکھے۔‘‘
[راحت القلوب۔ ص:۷۴،ط: ضیاء القرآن پبلی کیشنز۔ لاہور]
٢ ’’اہل
معرفت نے کہا ہے جس نے دنیا کو چھوڑ دیا وہ اس پر حاوی ہو گیا اور جس نے دنیا کو
اختیار کیا وہ مارا گیا۔ مولا اور بندے کے درمیان دنیا سے بڑھ کر کوئی حجاب نہیں،
جس قدر انسان دنیا میں مشغول ہوتا ہے اسی قدر حق سے دور رہتا ہے۔ ‘‘
[راحت القلوب۔ ص:۶۴،ط: ضیاء القرآن پبلی کیشنز۔ لاہور]
٣ ’’جو
درویش دنیا میں مصروف رہتا ہو اور دنیاوی عہدے اور عزت کا طلبگار ہو سمجھ لو کہ وہ
درویش نہیں بلکہ طریقت کا مرتد ہے کیونکہ فقر نام ہی اس چیز کا ہے کہ دنیا سے
اعراض کیا جائے۔‘‘ [راحت القلوب۔ ص:۱۲۵،ط: ضیاء القرآن پبلی
کیشنز۔ لاہور]
٤ ’’جس
قدر مالدار لوگوں سے بچو گے اسی قدر اللہ تعالیٰ سے نزدیکی ہوتی جائے گی۔ چونکہ
مالدار ( دنیا داروں) کے دل میں دنیا کی محبت پکی ہوتی ہے اس لئے ان کی صحبت سے
نقصان ہوتا ہے۔‘‘ [راحت القلوب۔ ص:۶۷،ط: ضیاء القرآن پبلی
کیشنز۔ لاہور]
اہم ترین
آخر میں تین اہم ترین باتیں مختصر طور پر عرض کر کے مجلس ختم
کرتے ہیں۔
١ اہل
سنت والجماعت
حضرت بابا جی رحمہ اللہ علیہ ارشاد
فرماتے ہیں :
’’جو شخص اپنے مریدوں کو مذہب اہل سنت والجماعت کے قانون پر
نہیں چلاتا اور اپنی حالت کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کے موافق نہیں رکھتا وہ
’’رہزن ‘‘ ہے۔
دھویں سے آگ کا پتہ چلتا ہے اور مرید سے پیر کا یہ جو
بیسیوں آدمی گمراہی میں پڑے دکھائی دیتے ہیں پس اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کا پیر
کامل نہیں ہے۔‘‘
[راحت القلوب:۷۷،ضیاء القرآن پبلی کیشنز۔لاہور]
معلوم ہوا کہ مسلک ’’اہل سنت والجماعت ‘‘ ہی کامیابی کی ضمانت
ہے… اور اس کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنا ’’فرقہ پرستی ‘‘ نہیں بلکہ… حق کی دعوت ہے…
حضرت بابا جی قدس سرہ سے محبت کے دعویدار اس کا ضرور اہتمام کریں ورنہ ان کا دعویٰ
محبت… صرف زبانی رہ جائے گا۔
٢ صرف
اسلام، صرف اسلام
حضرت اپنے تمام ملفوظات میں… اسلام کی حقانیت اور اسلام کی
دعوت کو اپنا بنیادی موضوع بناتے ہیں اور مسلمانوں کو تاکید فرماتے ہیں کہ… اپنے
مذہب کا شجرہ یاد رکھیں جو کہ اسلام ہے… اور ائمہ کرام کے چار مذاہب میں سے حضرت
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ کے مسلک کو فاضل تر قرار دیتے ہیں… کتاب کے صفحہ (۱۳۲) سے لے
کر( ۱۳۴) تک یہی
مضمون ہے… پس سکھ مذہب کے جو افراد حضرت بابا جی کے چند اشعار کو اپنی ’’گوربانی
‘‘ میں شامل کر کے… خود کو ’’حضرت بابا جی‘‘ کا معتقد قرار دیتے ہیں وہ… حضرت بابا
جی کی بنیادی دعوت کو سمجھیں اور قبول کریں… حضرت بابا جی رحمہ اللہ
علیہ اگر سب ادیان کو… حق پر سمجھتے تو آپ کے ہاتھ پر بے شمار غیر
مسلم افراد اسلام قبول نہ کرتے۔
٣ فدائی
مجاہدین زندہ باد
حضرت نظام الدین اولیاء تحریر فرماتے ہیں:
’’پھر اللہ تعالیٰ کی بزرگی ( یعنی عظمت) پر گفتگو شروع ہوئی۔
( حضرت بابا فرید رحمہ اللہ علیہ نے) ارشاد فرمایا کہ اللہ
تعالیٰ سب سے بزرگ ہے، لیکن جب یہ بات ساری دنیا جانتی ہے تو اس نعمت سے محروم
کیوں رہتی ہے اور فکر و ذکر میں عمر کس لئے صرف نہیں کرتی… پھرارشاد فرمایا کہ بعض
بندے اللہ کے ایسے ہیں جو دوست ( یعنی اللہ تعالیٰ ) کا نام سن کر جان و مال فدا
کر دیتے ہیں۔ ‘‘ [راحت القلوب:۱۲۱،ضیاء القرآن پبلی
کیشنز۔لاہور]
دیکھیں! اللہ تعالیٰ کے ایک مقرب ولی …جان و مال قربان کرنے
کی کیسی دلکش فضیلت بیان فرما رہے ہیں… اس زمانے میں اگر حضرت بابا
جی رحمہ اللہ علیہ کے ملفوظات پر کوئی عمل کر رہا ہے تو وہ
… اسلام کے سچے ’’فدائی مجاہدین‘‘ ہیں… اور یہی خوش نصیب بندے… گستاخانہ خاکے
بنانے والوں کو بھی خاک میں ملا دیںگے، ان شاء اللہ۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا بے حد ’’شکر‘‘… الحمد للہ ناپاک ’’خاکوں‘‘ کا
مقابلہ ’’منسوخ ‘‘ ہو گیا ہے… جس نے بھی اس سلسلے میں اخلاص کے ساتھ جو بھی محنت
کی ہے… اللہ تعالیٰ اس کو جزائے خیر عطاء فرمائے … اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں کہ کس
نے کیا محنت کی اور کس نیت سے کی… اور کس کی محنت اللہ تعالیٰ کو ایسی پسند آئی
کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت اُتار دی…یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی نصرت ہی
تھی کہ اتنا بڑا عذاب ٹل گیا… الحمد للہ ، الحمد للہ ، الحمد للہ… اللہ تعالیٰ ان
نجس مقابلوں کا اعلان کرنے والے ’’اڑیل گدھے ‘‘ کو اس کے انجام تک پہنچائے۔
وعدہ یاد ہے
عید سے پہلے وعدہ کیا تھا کہ… ’’اعمال کفایت ‘‘ عرض کئے جائیں
گے… یعنی وہ ’’معمولات‘‘ جو اگر صبح و شام کر لئے جائیں تو وہ … بندے کی دنیا و
آخرت کی حاجات کے لئے کافی ہو جاتے ہیں… ارادہ تھا کہ آج وہ سارے اعمال باحوالہ
اور باتفصیل عرض کر دوں… مگر حالت کچھ ایسی ہے کہ تفصیل سے نہیں لکھ سکتا… اسی لئے
بس وہی ’’اعمال ‘‘ مختصراً عرض کردیتاہوں…آپ میں سے جو صاحب مطالعہ ہیں ان کو تو
تفصیل خود معلوم ہو گی… اور جن کو معلوم نہیںہے ان کے لئے ان شاء اللہ کسی اور وقت
میں تفصیل بیان کر دی جائے گی… مگر ان ’’معمولات ‘‘سے پہلے دو باتیں اچھی طرح سمجھ
لیں۔
١ ذکر
اللہ اور دعاؤں والے معمولات ہمیشہ پورے کرنے چاہئیں…اعمال اور معمولات میں سستی
اچھی بات اور اچھی عادت نہیں ہے… یہ ذکر اللہ اور دعائیں ہمارے وقت کا بہترین مصرف
ہیں… اور ان سے ہماری آخرت آباد اور دنیا آسان ہوتی ہے… آپ تجربہ کر کے دیکھ
لیں… مثلاً آپ کے صبح کے معمولات اگر دو گھنٹے کے ہیں تو لوگ سوچیں گے یہ آدمی
اور کیا کام کر سکے گا؟… دو گھنٹے صبح کے معمولات، دو گھنٹے شام اور رات کے
معمولات… پانچ فرض نمازیں… تہجد، اشراق اور چاشت بھی… دو یا تین وقت کا کھانا… چھ
یا سات گھنٹے آرام… پھر زندگی کے کاموں کے لئے کیا وقت بچا؟… مگر حیرت کی بات یہ
ہے کہ… جو شخص اتنے یا اس سے بھی زیادہ معمولات کرتا ہو… اس کے وقت میں اتنی برکت
ہوتی ہے کہ وہ فارغ لوگوں سے زیادہ کام کر لیتا ہے… اور اللہ تعالیٰ اس کو ایسا
وزن، ایسا مقام اور ایسی قدر و قیمت عطاء فرما دیتے ہیں کہ… اس کے لئے مختصر وقت
میں بڑے بڑے کام کرنا آسان ہو جاتا ہے… اس کی مثال یوں سمجھ لیں کہ ایک کلرک اور
ایک وزیر اعظم کے دستخط میں کتنا فرق ہوتا ہے… وزیراعظم کے دستخط سے بڑے بڑے کام
ہو جاتے ہیں حالانکہ دستخط کرنے میں اس کا بھی کلرک جتنا وقت ہی صرف ہوتا ہے… اس
لئے اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ذکر کی توفیق دے رکھی ہے… دعاء کا ذوق دے رکھا
ہے… درود شریف کی توفیق دے رکھی ہے تو…اپنے ان معمولات کی حفاظت کریں…اور سخت عذر
کے علاوہ کبھی اپنے معمولات نہ چھوڑیں… گذشتہ کالم میں حضرت شیخ العالم بابا فرید الدین
مسعود گنج شکر نور اللہ مرقدہ کی کتاب ’’راحت القلوب‘‘ کا تذکرہ آیا تھا… حضرت
شیخ نے اپنی اس کتاب میں دو تین مقامات پر… معمولات اور اعمال مکمل کرنے کی تاکید
فرمائی ہے… ان میں سے بس ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
حضرت بابا جی ارشاد فرماتے ہیں :
’’اگر اہل سلوک کبھی اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل ہوتے ہیں تو
کہتے ہیں کہ ہم اس وقت مردہ ہیں، اگر زندہ ہوتے تو مولیٰ کا ذکر ہم سے الگ نہ
ہوتا۔ بغداد میں ایک بزرگ تھے ہزار بار ذکر اللہ ان کا روزانہ وظیفہ تھا۔ ایک دن
وہ ناغہ ہو گیا، غیب سے آواز آئی کہ فلاں ابن فلاں نہ رہا۔ لوگ اس آواز کو سن
کر جمع ہوئے اور ان بزرگ کے دروازے پر پہنچے مگر وہ زندہ تھے سب حیرت میں پڑ گئے
اور بزرگ سے معذرت کرنے لگے کہ غلطی یاغلط فہمی ہوئی۔ انہوں نے تبسم فرمایا اور
کہا آپ صاحبان ٹھیک آئے… جیسا کہ آواز میں سنا ویسا ہی جانو، میرا وظیفہ ناغہ
ہو گیا تھاوہاں اعلان ہو گیا کہ میں مر گیا ہوں۔ ‘‘
[راحت القلوب:۱۲۱،طبع: ضیاء القرآن پبلی کیشنز۔لاہور]
٢ انسان
کبھی بیمار ہو جاتا ہے… ایسا بیمار کہ اپنے وظیفے اور معمولات کو پورا نہیں کر
سکتا… یا بعض اوقات انسان ایسا مصروف ہو جاتا ہے کہ …زندگی تنگ دائرے میں گھومنے
لگتی ہے اور معمولات کا موقع نہیں ملتا… تب انسان کو چاہیے کہ ہاتھ بالکل خالی نہ
کرے… بلکہ ان اعمال و معمولات کو اپنا لے جن کے بارے میں ہمارے آقا صلی اللہ علیہ
وسلم نے سکھایا ہے کہ… یہ اعمال انسان کے لئے کافی ہو جاتے ہیں… یعنی
انسان ان کی برکت سے اللہ تعالیٰ کی رحمت، حفاظت اور عنایت میں رہتا ہے…اور وہ
غفلت اور بڑے حوادث سے محفوظ رہتا ہے… بیماری اور مصروفیت کے دنوں میں اگر ہم ان
معمولات کی پابندی کریں جو کہ چند منٹ کے ہیں تو… بہت جلد حالات کھل جاتے ہیں …
اور پھر گھنٹوں کے حساب سے پہلے کی طرح… ذکر اللہ اور دیگر معمولات کی توفیق مل
جاتی ہے، ان شاء اللہ۔
اعمالِ کفایت
صبح کب شروع ہوتی ہے اور شام کب ؟ … اہل علم اور اہل دل کے
کئی اقوال ہیں… مضبوط اور اطمینان والی بات یہ ہے کہ صبح صادق سے صبح شروع ہو جاتی
ہے… یعنی جن اعمال اور دعاؤں کے بارے میں آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم نے صبح پڑھنے کا حکم فرمایا ہے… وہ صبح صادق یعنی فجر کی نماز کا
وقت داخل ہوتے ہی پڑھے جا سکتے ہیں…اور شام غروب آفتاب سے شروع ہوتی ہے… یعنی جب
سورج غروب ہو جائے افطار اور نماز مغرب کا وقت داخل ہو جائے تو یہ شام ہو گئی… اب
وہ اعمال اور دعائیں ادا کی جا سکتی ہیں جن کو حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم نے شام کے وقت ادا کرنے کا حکم فرمایا ہے…فرض نمازیں تو بہرحال
ضرور ادا کرنی ہیں … البتہ خواتین کے لئے عذر کے ایام میں نمازیں معاف ہیں…نمازوں
کے بعد صبح شام کے اعمال کفایت یہ ہیں ۔
١ صبح
و شام تین تین بار سورۂ اخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس
٢ ایک
ایک بار سید الاستغفار
اَللّٰہُمَّ أَنْتَ رَبِّی لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ
خَلَقْتَنِیْ وَأَنَا عَبْدُکَ وَأَنَا عَلٰی عَہْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا
اسْتَطَعْتُ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ أَبُوْءُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ
عَلَیَّ وَأَبُوْءُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَإِنَّہٗ لَا یَغْفِرُ
الذُّنُوْبَ إِلَّا أَنْتَ۔
٣ یہ
دو دعائیں تین تین بار
(الف): أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ
مَا خَلَقَ۔
(ب): بِسْمِ اللہِ الَّذِی لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْئٌ
فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَاءِ وَہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۔
٤ سات
بار یہ دعاء ( آیت)
حَسْبِیَ اللہُ لَا اِلٰہَ الَّا ھُوَ عَلَیہِ
تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۔
٥ ایک
بار وہ دعاء جو حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم سے روایت فرمائی ہے:
اَللّٰہُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ
عَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَاَنْتَ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ مَا شَآءَ اللہُ
کَانَ وَمَا لَمْ یَشَأْ لَمْ یَکُنْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا
بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ اَعْلَمُ اَنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ
قَدِیْرٌ وَّاَنَّ اللہَ قَدْ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیْئٍ عِلْمًا۔اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ
اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ وَمِنْ شَرِّ کُلِّ دَآبَّۃٍ اَنْتَ اٰخِذٌم
بِنَاصِیَتِہَا اِنَّ رَبِّیْ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۔
٦ سورۂ
فاتحہ پھر سورۂ بقرہ کی پہلی آیات ’’اَلْمُفْلِحُوْنَ‘‘ تک… آیۃ الکرسی اور اس
کے بعد کی آیات ’’خَالِدُوْنَ‘‘ تک… اور سورہ ٔبقرہ کی آخری آیات’’ اٰمَنَ
الرَّسُوْلُ‘‘ سے آخر تک۔
آخری گذارش
بندہ بے علم اور ناچیز طویل عرصہ سے مسنون دعاؤں اور معمولات
کے مطالعے سے شغف رکھتا ہے…جب کوئی کتاب پڑھی اس میں دعاؤں کی طرف ہمیشہ خاص توجہ
رہی… ابھی ’’راحت القلوب‘‘ پڑھی تو اس میں بھی دعاؤں اور وظائف پر نشانات لگا لئے
ہیں اور ایک وظیفہ اپنے معمولات میں بھی شامل کر لیا ہے… حتٰی کہ بخاری شریف پڑھتے
پڑھاتے وقت بھی یہی ذوق رہا… جہاد اور دعاء…اس لئے اپنے اس طویل مگر محدود تجربے
کی بنیاد پر… یہ چھ اعمال کفایت منتخب کئے ہیں… یقیناً اہل علم کے پاس اس بارے میں
زیادہ علم ہو گا ان میں سے کئی مشورہ بھی دینا چاہتے ہوں گے…ان سے گذارش ہے کہ وہ
اپنے علم کے مطابق عمل فرمائیں… بندہ نے تو اپنے جیسے افراد کے لئے یہ نصاب منتخب
کیا ہے… اور بندہ کا وجدان بھی یہی ہے کہ جب صبح اور شام یہ چھ اعمال ہو جائیں تو
دل میں ایک اطمینان سا محسوس ہونے لگتا ہے… اور ویسے بھی پہلے عرض کر دیا ہے کہ …
یہ چھ اعمال اس صورت میں ہیں جب بیماری نے زیادہ اعمال سے عاجز کر دیا ہو… یا
مصروفیات نے مکمل گھیراؤ کر لیا ہو… عام حالات میں تو جی بھر کر ذکر، دعاء اور
معمولات کرنا ہی… اہل ایمان کا طریقہ ہے۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نئے سال کو ہم سب کے لئے ’’مبارک‘‘ فرمائے… آج
’’حجاز مقدس‘‘ میں یکم محرم ۱۴۴۰ھ کی تاریخ ہے… ہمارے ہاں بھی کل یہی تاریخ ہو گی… اور جب
ساری امت مسلمہ ایک ’’چاند‘‘ پر آ جائے گی تو ہر جگہ تاریخ بھی ایک ہو جائے گی،
ان شاء اللہ… چلیں آج نئے سال کا روزنامچہ ( یعنی ڈائری) تیار کرتے ہیں۔
کچھ کام تو خود بخود ہوں گے
محرم الحرام شروع ہوتے ہی کچھ کام تو خود بخود شروع ہو جاتے
ہیں…آغاز محرم میں حضرت امیر المومنین سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ
عنہ کا تذکرہ مہکتا ہے… چونکہ آپ سے محبت رکھنے والے افراد آپ کا دن
منانے کی بجائے آپ سے روشنی پانے کی زیادہ فکر رکھتے ہیں… اس لئے امت میں
باقاعدہ’’یوم فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ‘‘ نہیں منایا جاتا… جبکہ بعض
لوگ مناتے بھی ہیں… مگر عمومی ماحول چودہ سو سال سے یہ دن نہ منانے کا ہے… حضرت
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی شان، جلال اور انوارات کسی ایک دن کے ساتھ خاص نہیں…
ایک مسلمان کو پورا مسلمان بننے کے لئے… چاروں خلفائے راشدین کی سیرت کا ضرور
مطالعہ کرنا چاہیے…یکم محرم کے بعد پھر پانچ محرم کے دن… ہمارے مخدوم مرشد حضرت
بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمہ اللہ علیہ کا عرس شروع ہو جاتا ہے…
سنا ہے بڑی دھوم دھام ہوتی ہے… کوئی بہشتی دروازہ بھی کھلتا ہے… نماز وغیرہ کی
زیادہ فکر نہیں کی جاتی البتہ قوالی اور سماع کا زور رہتا ہے… حالانکہ حضرت بابا
جی قدس سرہ کے آخری دن… یعنی چار محرم کی مصروفیات کے بارے میں سوانح نگار لکھتے
ہیں:
’’( حضرت بابا جی شیخ الاسلام والمسلمین فرید الدین مسعود
ذوالحجہ کے آخر میں بیمار ہو گئے زندگی کا آخری دن یعنی چار محرم بیماری کی
تکلیف کی وجہ سے) بے چینی اور تکلیف میں گذرا مگر تمام نمازیں جماعت کے ساتھ ادا
کیں اور تمام وظائف بھی پورے کئے ، پھر عشاء کی نماز جماعت سے پڑھ کر آپ پر بے
ہوشی طاری ہو گئی۔ کچھ دیر کے بعد ہوش آیا تو آپ نے مولانا بدر الدین اسحاق سے
پوچھا کہ میں نے عشاء کی نماز پڑھ لی ہے؟ مولانا نے جواب دیا کہ حضرت عشاء کی نماز
وتر کے ساتھ ادا کر چکے ہیں۔اس کے بعد آپ پھر بے ہوش ہو گئے۔جب ہوش آیا تو
فرمایا کہ میں دوسری مرتبہ نماز ادا کروں گا،اللہ جانے پھر موقع ملے یا نہ ملے۔
مولانا بدر الدین کہتے ہیں کہ اس رات آپ نے تین مرتبہ عشاء کی نماز ادا کی۔ پھر
آپ نے وضو کے لئے پانی منگوایا، وضو کیا، دو رکعت نماز ادا کی پھر سجدے میں چلے
گئے اور سجدے میں ہی آہستہ آواز سے یَاحَیُّ یَاقَیُّوْمُ پڑھتے ہوئے محبوب سے
جا ملے۔‘‘ ( انتہیٰ)
یہ ہے اصل بہشتی دروازہ… نماز، سجدے ، اللہ تعالیٰ سے آخری
دم تک وفاداری …کاش! عرس میں شریک لاکھوں افراد کو بھی حضرت بابا جی کا یہ اصلی
درد اور اصلی پیغام پہنچے… لوگوں نے تو نعوذ باللہ ایسے عظیم بزرگوں کو بھی… بلدیہ
کا کونسلر سمجھ لیا ہے جو کہ بس اُن کے دنیاوی مسائل حل کراتا رہے… حالانکہ اللہ
والوں سے اللہ کا راستہ پوچھا جاتا ہے۔
پانچ محرم کے بعد پھر ہمارے محبوب، سید شباب اہل الجنۃ حضرت
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر سوگ شروع ہو جاتا ہے…
جو کہ بہت خوفناک صورت اختیار کر جاتا ہے…پورا ملک سیاہی، بد امنی ، خوف اور
ہنگامہ آرائی کا شکار ہو جاتا ہے… حضرت سیّدنا بابا حسین شہید رضی اللہ عنہ نے
اپنے بابا حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا یوم شہادت کبھی اس
طرح منایا ہوتا تو… پھر ہمارے لئے بھی جواز نکلتا کہ… شہداء کرام کے دن اس طرح
منایا کریں… حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ بہت ہی عظیم، مقبول ، محبوب
، برحق اور مقتدیٰ شخصیت کے مالک ہیں… مسلمانوں کو چاہیے کہ ان کے ساتھ اپنی نسبت
بڑھائیں، محبت بڑھائیں… اور اُن سے جرأت ، عزیمت اور حکمت کے اسباق پڑھیں… مسلمان
اگر اپنے سال کا آغاز ذکر، عبادت، روزہ، دعاء اور خوشی سے کریں تو کتنا اچھا ہو…
ابھی تو اکثر مسلمانوں کو یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ ان کا اسلامی سال کب شروع ہوا
اور کب ختم ہوا۔
منصوبہ بندی کر لیں
ہر انسان خسارے میں ڈوبتا جا رہا ہے… مگر وہ جو اپنی زندگی کے
اوقات ایمان، عمل صالح، حق کی دعوت اور صبر کی دعوت میں خرچ کر رہے ہیں… اس لئے
ہمارے نئے سال کی منصوبہ بندی بھی انہی چار چیزوں پر منحصر ہونی چاہیے… اور ہمیں
روز اللہ تعالیٰ سے دعاء مانگنی چاہیے کہ یا اللہ! ہمیں خسارے سے بچا… { اِنَّ
الْاِنْسَانَ لَفِی خُسْرٍ } … فرمایا: تمام کے تمام انسان خسارے میں گرتے جا رہے
ہیں… مگر وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اعمال صالحہ کئے اور حق کی دعوت دی اور
صبر کی تاکید کی… اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو خسارے سے بچائے… اور سورۂ
’’والعصر‘‘ اچھی طرح سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے… یہ سورۂ مبارکہ ایک پوری کتاب
ہے، ایک مکمل نصاب ہے… اور پوری پوری تاریخ ہے… بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم گھاٹے
، نقصان اور خسارے سے ڈر جائیں… اور اس سے بچنے کے لئے اپنی جان، اپنا مال ، اپنا
وقت اور اپنا سب کچھ لگا دیں… اس لئے سال کے آغاز میں ہی ترتیب بنا لیں کہ… اس
سال کے گھاٹے اور خسارے سے کس طرح بچنا ہے؟ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ؟…کیا
کہنا ہے او رکیا نہیں کہنا؟…کیاپڑھنا ہے اور کیا نہیں پڑھنا ؟…کیا لکھنا ہے اور
کیا نہیں لکھنا؟… کیا سوچنا ہے اور کیا نہیں سوچنا؟… ہمیں اپنی زندگی کا روزنامچہ
خود تیار کرنا ہے… ہمیں اپنا حساب خود لینا ہے تاکہ آگے درد ناک حساب اور عذاب سے
بچ جائیں… اگر اس سال ہم اپنی نماز ٹھیک کر لیں…مکمل ٹھیک ،مکمل مضبوط اور مکمل
جاندار… اور ہم اس سال اپنا جہاد ٹھیک کر لیں … مکمل اخلاص ، قربانی اور وفاداری
والا جہاد… تو ان شاء الله خسارے سے بچنے کے چاروں لوازمات مکمل ہو جائیں گے۔
پہلی چیز کلمہ طیبہ یعنی ایمان
’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ‘‘ کے
بغیر نہ ہم انسان ہیں، نہ مسلمان… اس کلمہ کے بغیر نہ زندگی اچھی، نہ موت… اس کلمہ
کے بغیر نہ دنیاکامیاب نہ آخرت کامیاب… ابھی تک تو کئی مسلمانوں کو کلمہ طیبہ
صحیح تلفظ سے پڑھنا نہیں آتا… روز درست پڑھیں اور مسلمانوں کا کلمہ درست کرائیں…
بہت سے مسلمانوں کو کلمہ طیبہ کا معنٰی اور مطلب معلوم نہیں… ایمان چاہیے تو روز
اس کے معنٰی پر غور کریں اور مسلمانوں تک پہنچائیں… اکثر مسلمانوں کو’’ کلمہ
طیبہ‘‘ کے تقاضے معلوم نہیں… روز اُن تقاضوں کو معلوم کریں اور آگے پہنچائیں… ہم
اگر اپنی زندگی کو ’’کلمہ طیبہ‘‘ کے دائرے میں بند اور محدود کر دیں تو… ہماری ہر
تنگی دور ہو جائے گی کیونکہ’’ کلمہ طیبہ‘‘ کا دائرہ زمین سے بھی بڑا ہے اور
آسمانوں سے بھی بڑا ہے…روز ذوق و شوق کے ساتھ بارہ سو بار ’’کلمۂ طیبہ‘‘ کا ورد…
اور کچھ وقت ایک سانس میں زیادہ سے زیادہ ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ‘‘ پڑھنے کی
کوشش… اور کبھی تنہائی میں… آنسوؤں کے ساتھ کلمے کا ورد… اور اس سب سے عظیم
الشان نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر… کیا ہم اس سال تین سو پینسٹھ افراد تک کلمہ
طیبہ کی یہ دعوت پہنچا سکتے ہیں؟… نیت اور عزم کر لیں۔
دوسری چیز اعمال صالحہ
اعمال صالحہ وہ اعمال جن کے کرنے کا حکم ہمارے محبوب مالک
اللہ جلّ شانہٗ نے ہمیں دیا… اور ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد صلی
اللہ علیہ وسلم نے انہیں کر کے دکھایا… اور اُن کی ترغیب دی…اُن اعمال
میں سب سے اہم… اسلام کے پانچ فرائض ہیں۔
١ نماز
٢ زکوٰۃ
٣ رمضان
المبارک کے روزے
٤ حج
بیت اللہ
٥ جہاد
فی سبیل اللہ
یہ فرائض ہی ہماری زندگی کا مقصد اور ہماری زندگی کا حاصل
ہیں… پھر درجہ ہے سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا…جن میں اہم
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق مبارکہ کو اپنانا ہے… اور
پھر درجہ ہے نوافل کا… اس سال ہم اپنے یہ تمام فرائض مکمل سیکھیں… مکمل ادا
کریں…اور مکمل ادا کرنے کی نیت کریں… اعمال صالحہ کی تشریح بہت تفصیل مانگتی ہے…
فی الحال یہی خلاصہ کافی ہے۔
تواصی بالحق
حق کی تاکید کرنا یہ لازمی کام ہے…اس کے بغیر نہ دین مکمل نہ
خسارے سے پوری حفاظت ممکن… ہمارے اس دور میں حق کی دعوت ایک عیب بنا دی گئی ہے،
ایک جرم بنا دیا گیا ہے…دین اسلام کا ہر حکم ’’حق ‘‘ ہے… جہاد ’’حق‘‘ ہے…آخرت
’’حق‘‘ ہے… آج اچھا آدمی وہ سمجھا جاتا ہے جو کسی کو کچھ نہ سمجھائے… نہ اپنی
اولاد کو دین کے معاملے پر روکے ٹوکے… اور نہ اپنے گھر کی خواتین کے دین کی حفاظت
کرے… آج مسلمان عورتوں میں کیسا بے پردہ اور گندا لباس رائج ہو رہا ہے… آج بار
بار عقیدۂ ختم نبوت اور ناموس رسالت پر ڈاکے ڈالے جا رہے ہیں… آج ہر باطل چمکدار
اور ہر حق ’’قدامت‘‘ کی نشانی بنا دیا گیا ہے… آج حق کی دعوت دینا اپنے امن کو
خطرے میں ڈالنا ہے… اور لوگوں میں ’’غیر محبوب ‘‘ ہونا ہے… مگر ہمیں اپنے رب کا
حکم مان کر یہ کام کرنا ہو گا… خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے… اور ہر طرح کے
نتائج سے بے پروا ہو کر۔
تَوَاصِیْ بِالصَبْر
گرتے ہوؤں کو تھامنا… بھاگنے والوں کو واپس لانا… لیٹے ہوئے
افراد کو اٹھانا… خوفزدہ مسلمانوں کی ہمت بڑھانا… تھک جانے والوں کو نہ تھکنے
دینا… مایوسی کے گڑھوں میں گرے ہوؤں کو نکالنا…حق کی دعوت آئے گی تو شیطان کے
حملے ہوں گے…اور شیطانی قوتیں مکمل طاقت کے ساتھ سامنے آ کھڑی ہوں گی… جب دین کے
راستے میں تکلیفیں آتی ہیں تو ’’صبر ‘‘ آسان نہیں ہوتا… بڑے بڑے ہاتھی پھسل جاتے
ہیں… آخر بلا وجہ ماں باپ کی گالیاں سہنا… اپنی پرنور داڑھیوں پر تھپڑ برداشت
کرنا… فورتھ شیڈول کی حیوانی پابندیاں جھیلنا… آئے دن قید و بند کے خوف میں رہنا…
یہ سب آسان تو نہیں ہے… مگر کچھ لوگ مسلسل اپنا یہی کام بنا لیں… بلکہ ہر کوئی اس
کام کو اپنا لے کہ… ہم نے امید کی روشنی کم نہیں ہونے دینی… ہم نے حوصلے کا بازار
ٹھنڈا نہیں ہونے دینا… ہم نے حق کے داعیوں کو ہر طرح سے سنبھالنا ہے… آخر قرآن
میں حضرات انبیاء علیہم السلام پر آنے والی مصیبتوں کے تذکرے کس لئے
ہیں؟… اُن تذکروں سے ہر زمانے میں آکسیجن ملتی ہے، توانائی ملتی ہے…’’ تواصی
بالصبر‘‘ یعنی ڈٹے رہنے کی تاکید کرنا یہ ہر مسلمان پر لازم ہے… میں آپ کو
سنبھالوں اور آپ مجھے سنبھالیں… کوئی چھوٹا گر رہا ہو تو ہم اسے کہیں بیٹے! معاذ،
معوذ کو دیکھو… کوئی جوان گر رہا ہو تو ہم اسے سیدنا حسین کی یاد دلائیں… کوئی بڑا
گر رہا ہو تو ہم کہیں… حضرت بس روشنی آنے والی ہے، تھوڑی سی ہمت اور فرما لیں… وہ
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو دیکھیں… فدائی بے چین
ہوتے ہیںکہ نمبر نہیں آ رہا، گناہ میں نہ ڈوب جائیں … تب ہم اُن کو پاکیزہ سہارا
دیں… کوئی خوف پھیلا رہا ہو تو ہم ’’حَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْل‘‘ کا
نعرۂ مستانہ عام کرنا شروع کر دیں۔
فرمایا: زمانے کی قسم!… تمام کے تمام انسان خسارے میں
ڈوبتے چلے جا رہے ہیں… مگر وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اعمال صالحہ کئے اور حق
کی تاکید کی…اور صبر و استقامت کی دعوت دی… وہ ماضی میں بھی خسارے سے بچ گئے…
کامیاب ہو گئے…اور مستقبل میں بھی… بس وہی کامیاب ہوں گے۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ’’سوشل میڈیا‘‘ کے شر سے میری اور تمام مسلمانوں
کی حفاظت فرمائے، آمین
حیران نہ ہوں
بہت سے مسلمان سوشل میڈیا پر اپنے گمان میں… صرف خیر کے لئے
جاتے ہیں… خیر پڑھتے ہیں، خیر پھیلاتے ہیں…وہ حیران ہوں گے کہ ’’سوشل میڈیا‘‘ کے
شر سے پناہ کی دعاء ہی آج کے کالم کا نکتہ آغاز کیسے بنی؟
جواب یہ ہے کہ ہم روزانہ دن اور رات کے شر سے اللہ تعالیٰ کی
پناہ مانگتے ہیں… چاند پر نظر پڑے تو اس کے شر سے بھی اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے
ہیں… بلکہ مسنون دعاؤں کی برکت سے ہم ساری مخلوق کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ
مانگتے ہیں… معلوم ہوا کہ ’’قانون الہٰی‘‘ کے مطابق ہر مخلوق میں ہمارے لئے شر ہو
سکتا ہے…اور ہمیں اس شر سے صرف اللہ تعالیٰ ہی بچا سکتے ہیں…گھوڑے کی پیشانی میں
’’قیامت‘‘ تک کے لئے خیر رکھ دی گئی ہے… یہ بات احادیث صحیحہ سے ثابت ہے… مگر
ہمارے دل میں موجود شر کی وجہ سے گھوڑا بھی ہمارے لئے شر کا باعث بن جاتا ہے…جب ہم
اسے فخر،ریاکاری اور حرام شرطوں کے لئے پالیں …ایک مقبول مجاہد میں خیر ہی خیر
ہوتی ہے …لیکن ہمارے نفس کے شر سے مجاہد بھی ہمارے لئے شر کا ذریعہ بن سکتا ہے…
مثلاً اس طرح کہ… ہمارے سامنے اس کے برے عیب کھل کر ایسے سامنے آ جائیں کہ… ہم
نعوذ باللہ جہاد سے ہی دور ہو جائیں… عیب اور کمزوریاں حضرات انبیاء علیہم
السلام کے علاوہ ہر انسان میں ہوتی ہیں… اگر وہ ہم سے پوشیدہ رہیں تو
ہم کتنا فیض پا لیتے ہیں … لیکن اگر وہ کھل جائیں تو ہم اس شخصیت سے کچھ بھی حاصل
نہیں کر سکتے… اس لئے ’’اللہ والوں ‘‘ کی خوبیوں پر نظر رکھنی چاہیے… اُن کے عیب
نہیں ڈھونڈنے چاہئیں…اگر عیب نظر بھی آ جائیں تو ہم سچے دل سے استغفار کریں… اپنا
دل پاک ہو گا تو اللہ والوں کے عیب بھی اس سے مٹ جائیں گے … بہرحال خیر اور شر کا
سلسلہ جاری ہے… اور سوشل میڈیا تو آیا ہی ’’ اہل شر ‘‘ کی طرف سے ہے… اور اس میں
شر بہت غالب ہے…اچھا تو یہ ہے کہ اہل ایمان اس’’ بیت الخلاء‘‘ کی سیر سے خود کو
بچائیں… لیکن اگر نہیں بچ پا رہے تو کم از کم یہ دعاء تو دل کی توجہ سے مانگا کریں
کہ…’’ یا اللہ! اس کے شر سے ہماری حفاظت فرما۔‘‘
خود اندازہ لگا لیں
سوشل میڈیا پر سرگرم ہونے کے بعد آپ کے دل میں سکون آتا ہے
یا بے چینی بڑھتی ہے؟… دل میں نور محسوس ہوتا ہے یا میل کچیل کا احساس ہوتا ہے؟…
دل میں خشوع ، خوف الہٰی اور گداز پیدا ہوتاہے یا تکبر، کج بحثی ، فخر اور پریشانی
کے جذبات اُبھرتے ہیں؟… دل کا ’’میٹر‘‘ ہر شخص کے سینے میں لگا ہوا ہے اسی پر دیکھ
لیں کہ کیا نتیجہ نکل رہا ہے… ایک صاحب رو رہے تھے کہ میرے فلاں بیان پر مجھے سوشل
میڈیا پر ایسی گالیاں پڑی ہیں جو میں نے پوری زندگی میں نہیں سنی تھیں… اور جو
میرے ’’فین‘‘ تھے وہ بھی مجھے گالیاں دے رہے ہیں… اُن سے کوئی پوچھے کہ جناب آپ
وہاں جاتے ہی کیوں ہیں؟ آخر کیا مجبوری ہے؟ … اور اگر جاتے ہیں تو پھر یہ بات یاد
رکھیں کہ… وہاں جو عزت دی جاتی ہے اس کی بہت خوفناک قیمت وصول کی جاتی ہے… بہرحال
آج صرف یہ گذارش ہے کہ دیندار مسلمان سوشل میڈیا سے باز تو نہیں آ رہے… کم از کم
اس دعاء کو تو اپنا معمول بنا لیں کہ…’’ یا اللہ! سوشل میڈیا کے شر سے ہماری حفاظت
فرما‘‘… اگر یہ دعاء اخلاص کے ساتھ اور مسلسل مانگی گئی تو بہت امید ہے کہ… کسی نہ
کسی دن زمانے کے اس ’’دجالی فتنے‘‘ سے ہمیں آزادی مل جائے گی… اور جب ہم اپنے
سارے اکاؤنٹ ختم کر کے… کسی مسجد کے کونے میں بیٹھے ہوں گے تو شکر ادا کرتے ہوئے…
آنسوؤں کی جھڑی لگ جائے گی کہ… یا اللہ! کیسی غلاظت سے نجات عطاء فرمائی… کیسی
غلامی سے آزاد فرمایا… اب گویا کہ وہ ناپاک دنیا ہے ہی نہیں جہاں ہمارا وقت،
ہمارا دین اور ہماری عزت ذبح ہوتی تھی… اور ہر فضول شخص کی ہر بات پڑھنا اور اس کا
جواب دینا ہم پر لازم تھا… کئی افراد سے عرض کیا کہ غفلت کے خاتمے کے لئے چالیس دن
تک روز… چار ہزار بار استغفار کریں… انہوں نے شروع کیا اور پھر جو حالات لکھے وہ
قابل رشک ہیں… کاش! انتظام ہوتا تو ان تاثرات کو شائع کرتے… بتایا کہ زندگی ہی بدل
گئی… عجیب نور، عجیب سرور، عجیب گداز اور عجیب لذتیں ہیں… اللہ تعالیٰ ہم سب کو
سوشل میڈیا کے شر سے بچائے… اور اپنے ذکر کی حلاوت نصیب فرمائے۔
دل کا فیصلہ
اوپر عرض کیا کہ ہر سینے میں دل کا میٹر لگا ہوا ہے… یہ واقعی
سچ ہے کہ دل جب تک زنگ اور میل سے سیاہ مردہ نہ ہو جائے وہ ہمیں ہر بات کی خیر اور
شر سمجھا دیتا ہے… آپ کسی کی صحبت میں بیٹھیں اور آپ کے اُس دن کے معمولات میں
برکت ہو جائے اور کسی اور کی صحبت میں بیٹھیں تو سارے معمولات درہم
برہم ہو جائیں… یہ سب دل کے فیصلے ہیں… دل روشنی والوں سے روشنی اور تاریکی والوں
سے تاریکی پکڑتا ہے …دل کے خفیہ تار کسی سے جڑ جائیں تو بہت دور سے بھی اس کا فیض
حاصل کر لیتا ہے… دل کی دنیا بہت عجیب، طاقتور اور وسیع ہے… نیوروسرجن اور ڈاکٹر
کہتے ہیں کہ… دماغ اصل ہے اور دل اس کا تابع … وہ درست نہیں کہتے… دماغ تو دل کا
چھوٹا سا خادم اور مرید ہے… دل کی سلطنت بہت وسیع ہے… مراقبے میں جو لوگ دماغ پر
محنت کرتے ہیں… اُن کا کام نہیں بنتا… مگر جو دل پر محنت کرتے ہیں وہ صدیاں کما
لیتے ہیں… یوگا، آسن اور بدھ مت کے سارے مجاہدے دماغ تک محدود ہیں… جبکہ مسلمان
کا مراقبہ… دل کی طاقت اور یکسوئی کے لئے ہوتا ہے… دل بن گیا تو سب کچھ بن گیا…
اگر یہ بات آپ کو سمجھ آ گئی ہے تو بہت اچھا… نہیں سمجھ آئی تو دعاء کردیں کہ
اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو زندگی عطاء فرمائے اور ہمیں اور ہماری اولاد کو سوشل
میڈیا کے شر سے بچائے۔
حضرت بابا فرید رحمہ اللہ علیہ کی خدمت میں
دل کے ذریعہ ہی اللہ والوں کا فیض حاصل کیا جا سکتا ہے… عقل
کے ذریعہ بالکل نہیں… ابھی آپ ’’راحت القلوب ‘‘ پڑھ کر دیکھ لیں… بہت سی باتیں
مروّجہ علمی معیار پر پوری نہیں اُترتیں …لیکن اگردل اُن باتوں کی تہہ تک پہنچ
جائے تو بڑا فائدہ پا لیتا ہے… ویسے مسائل اور روایات میں بزرگوں کی باتوں سے علمی
اختلاف کی کھلی اجازت ہے…مگر دو شرطوں کے ساتھ… پہلی یہ کہ اختلاف کرنے والے اہل
علم ہوں… اور دوسری یہ کہ اس اختلاف سے ادب میں کوئی فرق نہ آئے… ہم الحمد للہ
حضرت امام بخاری رحمہ اللہ علیہ ، حضرت امام مسلم رحمہ اللہ
علیہ اور حضرت امام ترمذی رحمہ اللہ علیہ سے والہانہ محبت رکھتے ہیں
مگر ساتھ اختلاف بھی چلتا رہتا ہے… اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ حضرت امام مالک رحمہ
اللہ علیہ ، حضرت امام شافعی رحمہ اللہ علیہ ، حضرت امام احمد بن حنبل
رحمہ اللہ علیہ جیسے حضرات کی محبت اور ادب سے دل معمور رہتا ہے … مگر
فقہی مسائل میں ہم حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ کے ساتھ کھڑے ہو
کر اُن حضرات سے اختلاف کرتے ہیں… یہ سب ہمارے دین کا حسن اور ہماری شریعت کی وسعت
ہے کہ… اس میں اختلاف کی یہ قسم رحمت ہی رحمت ہے… اب آپ ’’راحت القلوب‘‘ کی ایک
عبارت دیکھیں… حضرت بابا جی فرید رحمہ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:
’’ ایک بزرگ تھے کہ جس شخص کو حدیث شریف میں کوئی مشکل درپیش
ہوتی یہ اسے حل کر دیتے ایک روز کنگھی کرنے کی نسبت گفتگو ہو رہی تھی۔ انہوں نے
فرمایا کہ کنگھی کرنا ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر
پیغمبران علیہم السلام کی سنت ہے، جو شخص رات کے وقت داڑھی
میں کنگھی کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کو فقر کی آفت میں مبتلا نہ کرے گا ( یعنی وہ
شخص مالی تنگی اور محتاجی میں مبتلا نہ ہو گا)داڑھی میں جس قدر بال ہوتے ہیں اُن
میں سے ہر ایک کے بدلے ہزار غلام آزاد کرنے کا ثواب دے گا اور اسی قدر گناہ دور
کرے گا۔‘‘
[راحت القلوب:۱۲۲،طبع:ضیاء القرآن پبلی کیشنز۔لاہور]
اب اگر اس عبارت کو آپ سوشل میڈیا پر بحث کے لئے ڈال دیں تو…
ہر طرف سے تیر اندازی شروع ہو جائے گی… کوئی اس پر شیخ البانی کا ٹھپہ مانگے گا تو
کوئی شیخ بن باز کی مہر طلب کرے گا… بحث بڑھتی جائے گی…داڑھی اور کنگھی ایک طرف رہ
جائے گی جبکہ معاملہ کفر ، اسلام کی بحث تک پہنچ جائے گا…یہاں یہ بات عرض کر دوں
کہ… حضرت شیخ البانی اور شیخ بن باز سے بہت سے اختلافات کے باوجود بندہ کے دل میں
اُن کے لئے عقیدت و محبت ہے…یہ بات ممکن ہے ہمارے کئی قریبی احباب کو اچھی نہ لگے
… مگر حقیقت یہی ہے کہ مجھے حضرت شیخ البانی اور شیخ بن باز سے عقیدت ہے… حضرت شیخ
البانی نے واقعی بہت کام کیا ہے… یہ الگ بات ہے کہ علم و تحقیق سے محروم عرب طبقے
نے اُن کے کام کو ہی’’ حرف آخر‘‘ قرار دے کر بڑی غلطی اور جہالت کا ثبوت دیا ہے…
ایسا دعویٰ تو خود شیخ البانی رحمہ اللہ علیہ نے بھی کبھی نہیں کیا کہ…
اُن کی تحقیق کو حرف آخر سمجھا جائے اور بخاری و مسلم کی روایات کی بھی اُن سے
توثیق لی جائے… حضرت شیخ البانی رحمہ اللہ علیہ کا سب سے ناقابل فراموش
کارنامہ …اُن کا ’’جہادی فتویٰ ‘‘ ہے… انہوں نے افغانستان پر سوویت حملہ کے بعد…
افغان جہاد کے شرعی ہونے کا فتویٰ دیا… اُن کے اہل حاشیہ نے اُن کو مغالطے میں
ڈالنے کی بہت کوشش کی… سخت گیر سلفی تحریک نے اُن پر بہت دباؤ ڈالا کہ… افغان
مجاہدین بدعتی ہیں، مقلد ہیں وغیرہ وغیرہ… مگر شیخ ڈٹے رہے اور انہوں نے اس جہاد
کے حق میں اس وقت فتویٰ دیا جب عالم اسلام پر عمومی غفلت کی سیاہ رات طاری تھی…یہ
حضرت شیخ البانی رحمہ اللہ علیہ کے دل کی روشنی تھی … اللہ تعالیٰ اس
کی برکت سے اُن کی قبر کو روشن فرمائے … اس مبارک فتوے نے افغانستان کے جہاد کو
بہت تقویت دی… اسی طرح شیخ بن باز رحمہ اللہ علیہ نے بھی جہاد اور مجاہدین
کی بھرپور سرپرستی فرمائی… وہ جہاد فلسطین اور جہاد افغانستان کے مکمل حامی تھے…
اسی سلسلے میں بندہ نے بھی ایک بار اُن کی زیارت کی اور اُن کے ہاں کھانا کھایا…
عرض یہ کر رہا تھا کہ … حضرت بابا فرید رحمہ اللہ علیہ کی مذکورہ بالا
عبارت کو سمجھنے کے لئے… اسلام میں داڑھی کے عظیم اور ضروری مقام… اور کئی احادیث
مبارکہ کی روشنی لی جائے تو اس عبارت پر کوئی اعتراض باقی نہیں رہتا… مگر یہ
روشنی’’سوشل میڈیا‘‘ پر دستیاب نہیں ہے… اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو نور اور روشنی
عطاء فرمائے اور سوشل میڈیا کے شر سے ہماری اور تمام اُمت مسلمہ کی حفاظت فرمائے،
آمین یا ارحم الراحمین۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں کہ ’’قیامت‘‘ کب آئے گی…قرب قیامت
کی جو نشانیاں بتائی گئی ہیں وہ نہایت تیزی سے پوری ہو رہی ہیں … حضرت شیخ الاسلام
عثمان ہارونی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’جب آخری زمانہ آئے گا تو ’’علماء‘‘ کو چوروں کی طرح ماریں
گے اور علماء کو منافق کہیں گے اور منافقوں کو
عالم۔‘‘ (انیس الارواح)
دوسری جگہ ارشاد فرمایا :
’’امیر لوگ زور آور ( یعنی طاقتور) ہو جائیں گے اور عالم لوگ
عاجز ( یعنی کمزور ہو جائیں گے) اس وقت اللہ تعالیٰ مخلوق پر سے اپنی برکت اٹھا لے
گا اور شہر ویران ہو جائیں گے۔‘‘ ( انیس الارواح)
باقی باتیں پھر کبھی
حضرت خواجہ عثمان ہارونی نور اللہ مرقدہ کے ’’ملفوظات‘‘ ان کے
مرید، خلیفہ اور جانشین حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمہ اللہ
علیہ نے ’’انیس الارواح ‘‘ کے نام سے جمع فرمائے ہیں…یہ پینتالیس صفحے
کی مختصر سی کتاب ہے … دو دن پہلے نصیب ہوئی تو ایک ہی مجلس میں پڑھ ڈالی… الحمد
للہ بہت فائدہ ہوا… اہل دل صوفیاء کرام کے ملفوظات پڑھنے سے ایمان کو قوت ملتی ہے
اور دل زندگی محسوس کرتا ہے…دل میں زندگی کی لہر دوڑتی ہے تو ’’جذبۂ جہاد ‘‘ اور
’’شوق شہادت‘‘ بھی تازہ ہو جاتا ہے… حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمہ اللہ
علیہ کے نزدیک تو… اصل فقیر، اصل بزرگ اور اصل ولی وہی ہو سکتا ہے جو
موت سے محبت رکھتا ہو…موت سے محبت ہو جائے تو دل میں اطمینان اور سکون آ جاتا ہے…
پھر نہ ٹرمپ کی غراہٹ سے خوف محسوس ہوتا ہے اور نہ مودی اور اس کے آرمی چیف کے
بھونکنے سے کوئی گھبراہٹ ہوتی ہے…یہ بے چارے مجبور، مسکین، نام کے حکمران ہر کسی
کے محتاج، ذلت کے پتلے اور میعادی بادشاہ بس اوپر اوپر سے دھمکیاں دیتے ہیں… جبکہ
خود ان کا دل خوف سے لرز رہا ہوتا ہے…یہ نہ رات کو چین سے سوتے ہیں اور نہ کبھی
اطمینان کا ایک سانس ان کو نصیب ہوتا ہے… چند دن بعد ان کے موجودہ اختیارات بھی
ختم ہو جائیں گے اور پھر یہ سب ابامے،ٹونی، بش اور مشرف بن جائیں گے… تب یہ کتے
پال کر اپنی باقی زندگی کاٹیں گے … حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمہ اللہ
علیہ موت سے پیار کرنا سکھاتے ہیں… یہ دنیا کا واحد پیار ہے جو انسان
کو ’’طاقتور ‘‘ بنا دیتا ہے…آج ارادہ تھا کہ حضرت بابا فرید رحمہ اللہ
علیہ کے وظائف … اور حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمہ اللہ علیہ کے کچھ
مواعظ عرض کروں مگر… آس پاس کے حالات کافی گرم ہیں… اس لئے یہ دونوں تحفے پھر
کبھی، ان شاء اللہ۔
ایک بات سمجھ نہیں آتی
ہمارے ملک پاکستان کا حکمران کبھی ’’وزیر اعظم ‘‘ ہوتا ہے اور
کبھی ’’صدر‘‘… ملک کے آئین کو ہر ’’پارٹی‘‘ اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لیتی ہے…یہ
ایک مستقل بحث ہے جو کہ آج کا موضوع نہیں ہے… اصل بات یہ عرض کرنی ہے کہ… پاکستان
میں جو ’’حکمران‘‘ بھی آتا ہے… اسے فوراً ’’ہندوستان‘‘ کے ساتھ ’’دوستی‘‘ کی بے
حد جلدی لگ جاتی ہے… معلوم نہیں اس کرسی کے نیچے کچھ دفن ہے یا کرسی کے اندر کچھ
مدفون ہے… مشرف جب حکمران نہیں تھا تو ہندوستان سے کارگل میں پنجہ آزمائی کر رہا
تھا… مگر جیسے ہی وہ حکمران کی کرسی پر بیٹھافوراً ہندوستان سے دوستی کی فکر میں
ہلکان ہونے لگا… کچھ حکمرانوں کا تو ’’ہندوستان‘‘ اور ’’ہندوؤں ‘‘ سے کوئی
جراثیمی رشتہ ہے… اور اب جو ہمارے ’’وزیراعظم ‘‘ آئے ہیں انہوں نے اپنے پہلے خطاب
میں ہی ہندوستان کو پیشکش کر دی کہ… تم ایک قدم بڑھاؤ گے تو ہم دو قدم آگے بڑھیں
گے… آخر یہ دو قدم کیوں؟… یہ جلدی کیوں؟… پھر فوراً وزرائے خارجہ کی ملاقات کا خط
بھی بھیج دیا گیا… آخر یہ سب کیا ہے؟…حالانکہ ملک کے حکمران کو چاہیے کہ پہلے
اپنی عوام کے مسائل حل کرے… اچھی طرح سے ہندوستان کو سمجھے…ماضی کی تاریخ دیکھے
پھر اس کے مطابق ہندوستان سے اپنے معاملات چلائے …دراصل ہندوستان نے پاکستان کو
مفلوج اور محتاج کرنے کے لئے اپنی ایک طاقتور لابی اسلام آباد میں بٹھائی ہوئی
ہے…اور یہ لابی روپ بدل بدل کر اپنا مشن پورا کرتی ہے… جیسے ہی کوئی نیا حکمران
کرسی پر بیٹھتا ہے تو یہ لابی سرگرم ہو جاتی ہے… اور اس حکمران کے دماغ میں یہ بات
بھر دیتی ہے کہ… ہندوستان سے دوستی سب سے اہم مسئلہ ہے… اور اس میں صرف آپ ہی
کامیاب ہو سکتے ہیں… اور آپ اگر اس میں کامیاب ہو گئے تو پھر آپ کی حکومت کو
کوئی خطرہ نہیں رہے گا…اور ساری دنیا میں آپ کی واہ واہ ہو گی… چنانچہ ہر نیا حکمران
اس جال میں پھنس جاتا ہے… ہماری نئی حکومت کو ابھی ملک کی وزارتوں کے نام تک پوری
طرح یاد نہیں ہوئے مگر ہندوستان سے دوستی کے نعرے شروع ہو گئے…اس بار اچھا ہوا
کہ’’ مجرم مودی‘‘ کرپشن کے الزامات میں بری طرح پھنسا ہوا تھا… اور کشمیر میں
مجاہدین کی مسلسل یلغار نے بھی اس کے ہوش اُڑا رکھے تھے… چنانچہ اس نے اگلے الیکشن
میں کامیابی کے لئے… پاکستان سے دشمنی کا تازہ مرحلہ شروع کر دیا… اس کام کے لئے
اس نے اپنے آرمی چیف کو آگے کر دیا ہے… انڈین آرمی چیف جو کہ ایک چلتا پھرتا
کارٹون ہے… پاکستان کو دھمکیاں دے رہا ہے … حکومت پاکستان کو چاہیے کہ صرف چھ ماہ
کے لئے کشمیری مجاہدین کے راستے کی رکاوٹیں ہٹا لے … انڈیا کو اس کی ہر دھمکی کا
پورا پورا جواب مل جائے گا ،ان شاء اللہ۔
جنگ نہیں ہو گی
ہم انڈیا اور پاکستان کی جنگ کبھی بھی نہیں چاہتے… مجاہدین پر
یہ الزام غلط ہے کہ وہ انڈیا اور پاکستان کو لڑانا چاہتے ہیں… مجاہدین تو صرف
انڈیا کے مظالم کا جواب دیتے ہیں اور انڈیا کو اس کی اوقات یاد دلاتے ہیں… ماضی کی
بعض غلطیوں کی وجہ سے انڈیا کا حوصلہ بہت بڑھ چکا تھا… مشرقی پاکستان ہم نے اپنی
شرمناک غلطیوں کی وجہ سے کھویا انڈیا کی بہادری کی وجہ سے نہیں… مگر اس واقعہ نے
انڈیا اور اس کی عوام کو اپنی طاقت کے دھوکے میں ڈال دیا تھا… باقی رہی سہی کسر
انڈین فلم انڈسٹری نے پوری کر دی… انہوں نے تسلسل کے ساتھ ایسی فلمیں بنائیں کہ…
جن سے وہاں کی بھوکی، ننگی، نشئی عوام تک کو یقین ہو گیا کہ… انڈیا ناقابل تسخیر
ملک ہے اور وہ جب چاہے پاکستان کو مٹا سکتا ہے… الحمد للہ جہاد کشمیر نے انڈیا کو
بار بار ذلت آمیز شکست سے دو چار کر کےاس کی طاقت کا سارا خمار اتار دیا ہے… اب
انڈیا کبھی بھی جنگ کی غلطی نہیں کر سکتا…وہ فضاء سے لے کر زمین تک ہر جگہ مجاہدین
سے شکست کھا چکا ہے…اس کی فوج کا حوصلہ بری طرح سے گرا ہوا ہے… دنیا میں سب سے
زیادہ جو وردی والے خود کشی کر رہے ہیں وہ انڈیا کے فوجی ہیں… اُن کا آرمی چیف جو
کہ ’’آپریشن آل آؤٹ‘‘ کے نعرے کے ساتھ میدان میں اُترا تھا اپنی شکست تسلیم کر
چکا ہے… ایک ایسا ملک جو اپنی عوام کا حوصلہ سنبھالنے کے لئے ایک ’’نقلی سرجیکل
سٹرائیک‘‘ کا سہارا لینے پر مجبور ہو وہ اصلی جنگ کی ہمت کیسے کر سکتا ہے؟… مگر
پاکستان میں موجود انڈین لابی ہر وقت ہمارے حکمرانوں کو… انڈین حملے سے ڈراتی رہتی
ہے… حالانکہ انڈیا اپنی آٹھ لاکھ فوج لگا کراکیس سال سے جاری جہاد کشمیر کو اب تک
نہیں روک سکا… وہ پانچ مجاہدین کے ہاتھوں سے اپنا ایک طیارہ نہیں چھڑا سکا… وہ
بمبئی کے دھماکوں کے مبینہ ذمہ دار ایک چھوٹے سے سمگلر کو اب تک نہیں پکڑ سکا… وہ
اپنی چھ نامور فورسز لگا کر کشمیر کے بارڈر کو اب تک محفوظ نہیں بنا سکا… وہ اپنی
پارلیمنٹ کو حملے سے نہیںبچا سکا… وہ تیس سال کے مظالم کے باوجود خالصتان کی تحریک
کو ختم نہیں کر سکا… وہ اپنے ہزاروں فوجی اور سپاہی گنوا کر بھی نکسل وادی جدوجہد
کا خاتمہ نہیں کر سکا… وہ اپنی ساری طاقت لگا کر چین کو ایک سڑک بنانے سے نہیں روک
سکا… وہ اربوں ڈالر خرچ کر کے ابھی تک افغانستان میں اپنے قدم نہیں جما سکا… انڈیا
اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے… وہ اب دھمکیوں کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا
ہے… پاکستان میں سرگرم اس کی لابی یہاں خوف پھیلا رہی ہے… وہ فلم اور کرکٹ کے
ذریعہ ہمیں نیچا دکھانا چاہتا ہے…ہمارے حکمران اس کی طرف محبت کے دو قدم بڑھانے کی
بجائے… صرف بہادری کا ایک قدم آگے بڑھا دیں… تب وہ حیرت انگیز نتائج دیکھیں گے…
برہمن اور ہریجن کی خوفناک تقسیم انڈیا کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گی… وہاں کے بے چین
مسلمان اگر کھڑے ہو گئے تو انڈیا میں مزید تین پاکستان اور بن جائیں گے… یا اللہ
ہمارے حکمرانوں کو ہمت اور جذبہ عطاء فرما…آمین یا ارحم الراحمین
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا شکر کہ ہمیں ’’اسلام ‘‘ کی نعمت عطاء فرمائی…
سب سے بڑی نعمت… سب سے قیمتی نعمت… سب سے ضروری نعمت… آئیے! ایمان تازہ کرتے ہیں۔
لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ، لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ، لَااِلٰہَ
اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ
ٹرمپ اس نعمت سے محروم…مودی محروم… بل گیٹس محروم…مارک زگربرگ
محروم… ہائے بے چارے، مسکین… یا اللہ! آپ کا شکر… اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ
الْعَالَمِیْنَ… کوئی فخر نہیں کوئی غرور نہیں… یا اللہ! ہمیں اس نعمت کے لائق
بنا… اور اسی پر ہمیں موت عطاء فرما۔
آج کی مجلس کا خلاصہ
آج کچھ باتیں دنیا کے حالات پر ہوں گی، ان شاء اللہ… مثلاً
علماء کرام کے خلاف ایک بھیانک سازش… اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کی گونج… ایران
کی بوکھلاہٹ… اور پانچ وظیفے عرض کئے جائیں گے… چار حضرت قطب الاقطاب خواجہ عثمان
ہارونی رحمہ اللہ علیہ کے… اور ایک حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر
رحمہ اللہ علیہ کا… یعنی رنگ اور نور ساتھ ساتھ چلیں گے… اللہ تعالیٰ
میرے اور آپ کے لئے نافع بنائے۔
قیمتی تحفہ
عبادات میں سے جو عبادت اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے وہ ہے
’’شکر‘‘ …افسوس کہ شکرگذار بندے تھوڑے ہوتے ہیں… اللہ تعالیٰ ہمیں ’’شکر گذار‘‘
بنائے… شکر ادا کرنے سے نعمت بڑھتی ہے… یہ اللہ تعالیٰ کا پکا وعدہ ہے… حضرت عثمان
ہارونی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’مال کا شکر ادا کرنا ’’صدقہ‘‘ دینا ہے، اور اسلام کا شکریہ
{اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} کہنا ہے۔ جو شخص{اَلْحَمْدُ
لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} کہتا ہے وہ اسلام کا شکریہ بجا لاتا ہے
اور جو شخص زکوٰۃ اور صدقہ دیتا ہے وہ مال کا حق ادا کرتا ہے ۔‘‘
( انیس الارواح۔ ص: ۳۳)
بڑا زبردست تحفہ مل گیا…{اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ
الْعَالَمِیْنَ} … نعمت اسلام کا شکر ادا کرنے کا طریقہ معلوم ہو گیا…{اَلْحَمْدُ
لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} … حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمہ اللہ
علیہ کے وصال کو آٹھ سو سال گزرنے والے ہیں… آٹھ سو سال گذرنے کے بعد بھی ان کے
فیوض و برکات جاری ہیں… جب سے ان کی یہ عبارت پڑھی ہے اب{اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ
الْعَالَمِیْنَ} کہنے میں الگ طرح کا مزہ آ رہا ہے… اور جب زبان پر {اَلْحَمْدُ
لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ}جاری ہوتا ہے تو ایک سو کا عدد پورا کئے بغیر چین
نہیں آتا… اور حدیث شریف کے مطابق ایک سو بار {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ
الْعَالَمِیْنَ} کہنے سے ’’تیس ہزار‘‘ پکی نیکیاں نامہ اعمال کے اکاؤنٹ میں جمع
ہو جاتی ہیں… اور ذہن اس نکتے کی طرف بھی جاتا ہے کہ… اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید
کی پہلی آیت میں… ہمیں ’’نعمت اسلام‘‘ کا شکر ادا کرنے کا طریقہ سکھا دیا ہے …
{اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} …یہ چونکہ قرآن مجید کی آیت بھی ہے
تو اس کے ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں الگ… {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ
الْعَالَمِیْنَ} …اور مال کی نعمت کا شکر صدقہ ہے… معلوم ہوا کہ جب بھی کچھ مال
ملے… تھوڑا ہو یا زیادہ تو پہلے ’’صدقہ‘‘ نکال کر… اس مال کا شکر ادا کیا جائے…اب
فائدہ یہ ہو گا کہ جس نعمت کا شکر ادا کر دیا جائے اس نعمت کا آخرت میں حساب نہیں
ہو گا… اور دوسرا فائدہ یہ کہ مال خوب بڑھے گا… اور صدقہ کے جو بے شمار فوائد ہیں
وہ الگ ملیں گے۔
علماء کرام کے خلاف ایک سازش
افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت نے ایک کمیشن بنایا ہے… اس میں
کچھ نام کے مولوی حضرات جمع کئے ہیں… ان امریکہ نواز دانشوروں نے ایک فتویٰ جاری
کیا ہے کہ… افغانستان کی جنگ ’’شرعی جہاد‘‘ نہیں ہے… اور ’’فدائی حملے‘‘ اسلام کی
رو سے حرام ہیں… ان دانشوروں کو چونکہ امریکہ کی ’’ڈالرانہ حمایت ‘‘ حاصل ہے… اس
لئے وہ کرائے بھاڑے کی فکر سے بے نیاز دنیا بھر میں اُڑتے پھرتے ہیں… کبھی جکارتہ،
کبھی جدہ اور کبھی اسلام آباد… اس کمیشن کے افراد پاکستانی علماء کرام سے بھی
رابطہ کر رہے ہیں تاکہ اپنے ’’مجرمانہ جاہلانہ فتوے‘‘ پر ان کے دستخط کرا سکیں…
افغانستان کے جہاد میں اب تک دو ملین سے زیادہ مسلمان شہید ہو چکے ہیں… اور
افغانستان کے جہاد کی مکمل قیادت اب بھی ’’علماء کرام ‘‘ کے ہاتھوں میں ہے… اگر
افغانستان کا یہ جہاد نہ ہوتا تو پاکستان بھی اب تک تاریخ کا حصہ بن چکا ہوتا …اور
دنیا کا نقشہ آج سے یکسر مختلف ہوتا… افغان جہاد روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی
عظیم نعمت ہے… افسوس کہ آج اس نعمت کو مٹانے کے لئے… ’’عالم کفر‘‘ علماء کرام کو
استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے… پاکستان کے علماء کرام کو چاہیے کہ اس مجرمانہ
سازش کا حصہ نہ بنیں… اور پہلے سے بڑھ کر افغانستان ، کشمیر اور فلسطین کے جہاد کی
حمایت جاری رکھیں… ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ ایک محکم اسلامی فریضہ ہے… حضرت خواجہ
عثمان ہارونی رحمہ اللہ علیہ نے کلمہ طیبہ کے بعد جہاد فی سبیل اللہ بمعنٰی قتال
فی سبیل اللہ کا تذکرہ فرمایا ہے… اور ساتھ بہت واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ… فرض کا
منکر کافر ہو جاتا ہے اور جہنم اس کا مقدر بن جاتی ہے… فائیواسٹار ہوٹلوں کی چمک
دمک، جہازوں کے فرسٹ کلاس ٹکٹ اور ملکوں کی سیاحت… یہ گھٹیا اور معمولی چیزیں اس
قابل نہیں ہیں کہ… ان کے عوض اپنے ایمان کو خطرے میں ڈالا جائے… افغان جہاد کی آج
بھی قیادت جس فرد کے ہاتھ میں ہے وہ… راسخ العلم شیخ الحدیث ہیں… یہ جہاد کرامتوں
والا جہاد ہے… اور اس کی مخالفت میں سوائے خسارے اورخسران کے اورکچھ بھی نہیں
ہے…اگر کوئی اس میں شریک نہیں ہو سکتا تو کم از کم درجہ یہ ہے کہ اس کی زبانی
حمایت کرے…اور اس کی مخالفت سے اپنا دامن پاک رکھے۔
دنیا و آخرت میں کامیابی کا مؤثر اور طاقتور عمل
حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمہ اللہ
علیہ بڑے اونچے درجے کے بزرگ، ولی اور عالم دین گذرے ہیں… آپ حضرت
خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمہ اللہ علیہ کے شیخ ہیں… آپ کی قبر
مبارک مکہ مکرمہ میں ہے… سندھ کے’’ سیہون شریف‘‘ والے خواجہ عثمان ایک دوسرے بزرگ
ہیں… اُن کا اسم گرامی حضرت خواجہ عثمان مروندی رحمہ اللہ علیہ ہے اور
آپ ’’شہباز قلندر‘‘ کے نام سے معروف ہیں… اہل سنت اور اہل طریقت کے ان دونوں
بزرگوں کا زمانہ قریب قریب کا ہے…مگر حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمہ اللہ
علیہ عمر میں خواجہ عثمان مروندی رحمہ اللہ علیہ سے بڑے
ہیں… اُن کے ملفوظات اُن کے مرید، خلیفہ اور جانشین سلطان الہند، غریب نواز حضرت
خواجہ معین الدین چشتی رحمہ اللہ علیہ نے ’’ انیس الارواح
‘‘ کے نام سے جمع فرمائے ہیں… ان ملفوظات میں یہ وظیفہ بھی درج ہے:
’’ جو شخص دن رات میں ہر نماز کے بعد سورۂ یٰس ایک بار،آیۃ
الکرسی ایک بار اور سورۂ اخلاص تین بار پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کے مال اور اس کی
عمر کو زیادہ کرتا ہے اور اس کو قیامت کے میزان اور پل صراط کے حساب میں آسانی
ہوتی ہے۔‘‘
( انیس الارواح۔ ص: ۴۲)
دن رات میں پانچ بار سورۃ یٰس اور سورۃ اخلاص کے عجیب و غریب
فوائد اہل دل سے مخفی نہیں ہیں۔
اقوام متحدہ میں
اس سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں…
پاکستانی وزیر خارجہ کی تقریر قابل ستائش تھی… ہم جہاں حکومت کے غلط اقدامات کی
مذمت کرتے رہتے ہیں وہاں ہمیں…حکومت کے اچھے اقدامات کی تعریف بھی کرنی چاہیے …
اپنے خطاب میں ناموس رسالت کا بھرپور تذکرہ … مسئلہ کشمیر کی پر زور وکالت… اور
مسئلہ فلسطین کی حمایت پر… حکومت پاکستان ’’شکریہ‘‘ کی مستحق ہے… اقوام متحدہ
اگرچہ مسلمانوں کے مسائل اور ان کی آواز کو کوئی اہمیت نہیں دیتی… اور خود اپنے
فیصلوں میں بھی انصاف نہیں کر پاتی مگر پھر بھی… وہاں اچھی باتوں کا تذکرہ ایک
غنیمت ہے…اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر پر کئی قراردادیں اور رپورٹیں موجود ہیں…
مگر ابھی تک ان میں سے کسی پر عمل نہیںہوا… اور نہ ہی اقوام متحدہ نے ان قراردادوں
پر عمل نہ کرنے کی پاداش میں بھارت پر کوئی پابندی لگائی ہے… لیکن یہی اقوام
متحدہ… اگر کسی اسلامی تنظیم یا شخصیت کو دہشت گرد قرار دے دے تو پھر… مکمل دباؤ
ڈال کر اپنے فیصلے پر عمل کراتی ہے…معلوم ہوا کہ… کانی، بہری اور بے انصاف ہے۔
ایک نورانی عمل
حضرت شیخ عثمان ہارونی رحمہ اللہ
علیہ ایک مجلس میں جنت کی عظیم الشان اور غیر فانی نعمتوں کا تذکرہ
فرماتے ہیں اس کے بعد ارشاد فرماتے ہیں:
’’جو شخص ان نعمتوں کو حاصل کرنا چاہے وہ جمعہ کے دن فجر کی
نماز کے بعد سو بار سورۂ اخلاص پڑھے اور ہمیشہ پڑھے اس پر نعمتیں زیادہ ہوتی
ہیں۔‘‘
( انیس الارواح۔ ص: ۳۱)
یعنی اصل تو آخرت کی نعمتیں ملیں گی… ساتھ دنیا کی نعمتیں
بھی اس پر زیادہ برسیں گی…کتاب کے آغاز میں حضرت عثمان ہارونی رحمہ اللہ
علیہ یہ فرما چکے ہیں کہ ہر وظیفہ صرف اسی کو فائدہ دیتا ہے جو پانچ
وقت فرض نماز کا پابند ہو۔
ایران کی بوکھلاہٹ
ایران دنیا کا واحد ملک ہے جو کھلم کھلا دوسرے ممالک میں
عسکری مداخلت کرتاہے… اور سرکاری سطح پر دوسرے ممالک میں اپنے جنگی رضاکار اور
فوجی جرنل بھیجتا ہے… یہ عمل اگر کسی اور ملک نے کیا ہوتا تو دنیا کی بڑی کفریہ
طاقتیں اس پر متحدہ حملہ کر دیتیں… مگر ایران چونکہ ’’عالم کفر‘‘ کو محبوب ہے اس
لئے وہ شام میں لڑے یا عراق میں… یمن میں دہشت گرد بھیجے یا لبنان میں… اسے کھلی
چھوٹ حاصل ہے… ایران کے ان مظالم کے بدلے میںچند دن پہلے ایران کے اندر ایک فوجی
پریڈ پر حملہ ہوا تو اب ایران بری طرح سے بوکھلاہٹ کا شکار ہے…اس نے شامی مسلمانوں
پر اپنے میزائلوں کی آندھی مچا رکھی ہے… کوئی ہے جو نام نہاد عالمی قوانین کے تحت
ایران کو اس کے ان ظالمانہ اقدامات سے روک دے۔
چھوٹے بچوں کا رونا
حضرت خواجہ عثمان ہارونی نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں :
’’ چھوٹا بچہ تب روتا ہے جب شیطان اس کو ستاتا ہے۔ اس لئے جب
بچہ روئے تو تم’’لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ
الْعَظِیْمِ۔‘‘پڑھا کرو، تاکہ تمہیں خوشخبری ہو اور بچہ رونے سے باز آجائے۔‘‘
یہ چار وظائف حضرت شیخ عثمان ہارونی رحمہ اللہ
علیہ کےمکمل ہوئے… اب حضرت بابا فرید رحمہ اللہ علیہ کا ایک
مجرب وظیفہ۔
غربت اور تنگدستی کا علاج
حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمہ اللہ
علیہ کے پاس جب بھی کوئی شخص دینی یا دنیاوی مشکل لے کر آتا تو آپ
اسے کتاب و سنت کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دیتے… عام طور پر صبر کی تلقین فرماتے
اور نماز پڑھنے کی تاکید کرتے …ایک روز ایک شخص نے حاضر ہو کر عرض کی کہ حضرت!میں
بے حد تنگ دست ہوں گھر میں عام طور پر فاقوں کی نوبت آ جاتی ہے… آپ نے اس کے لئے
دعاء فرمائی اور اسے ہدایت کی کہ ہر رات کو سونے سے پہلے سورۂ جمعہ پڑھ لیا کرے۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہماری آج کی مجلس کو بابرکت، پرنور اور مفید
بنائے…آج حالات حاضرہ پر ایک نظر۔
١ مودی
کو مولی کھلا دی
٢ امریکہ
طالبان کے پیچھے پیچھے
٣ گائے
کا پیشاب نوش کر کے سو جاؤ
٤ شیر
اور بکری ایک گھاٹ پر
٥ حضرت
بابا فرید نور اللہ مرقدہ کے چار طاقتور اور شاندار وظیفے
مجلس کا آغاز وظیفے سے کرتے ہیں۔
سخت پریشانی اور رنج و غم کے وقت کا وظیفہ
’’جس کسی کو کوئی رنج و غم یا کوئی سخت مرحلہ ( اور بڑی حاجت)
پیش آئے تو وہ فجر کی نماز کے بعد ایک سو بار پڑھے:
لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ
الْعَظِیْمِ یَا فَرْدُ یَاوِتْرُ یَااَحَدُ یَاصَمَدُ ۔‘‘
[ راحت القلوب۔ ص: ۱۴۵،طبع۔ ضیاء القرآن پبلی
کیشنز۔ لاہور]
حاجات کے پورا ہونے اور پریشانیوں کے حل کے لئے یہ بہت نایاب
، قیمتی اور مؤثر وظیفہ ہے اور حدیث پاک سے ثابت ہے… جس نے بھی کچھ دن اس کی
پابندی کی وہ الحمد للہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوا۔
مودی کو مولی کھلا دی
بھارت کی بد نصیبی کہ اسے ’’مودی‘‘ جیسا حکمران ملا…جس دن
بھارت سے مودی کی حکومت ختم ہوئی… اور اس دن بھارت اپنی حالت پر موجود ہوا تو…
انڈیا والوں پر عجیب و غریب راز کھلیں گے کہ… مودی نے بھارت کو کس طرح سے کمزور
اور کھوکھلا کر دیا ہے… مودی کو فلمی ہیرو بننے کا بہت شوق ہے… نودولتیوں کی ہر
برائی اس میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے… وہ ایک بزدل قاتل ہے… انڈیا میں مسلمانوں
کے قتل عام کے بعد اس کا خیال تھا کہ وہ پاکستان پر بھی فتح حاصل کرے گا… اسے نہ
زمینی حقائق کا علم ہے اور نہ ہی وہ جنگ کو سمجھتا ہے… وہ تو صرف نہتے انسانوں کو
پولیس گردی کے ذریعہ مروا سکتا ہے… کشمیر میں مجاہدین کی مسلسل کاروائیوں کے بعد
وہ اپنی فوج کو بار بار حکم دے رہا تھا کہ… پاکستان کو سبق سکھاؤ… فوج پریشان تھی
کہ کیا کرے؟ … وہ اگر پاکستان کے اندر گھس کر کاروائی کرتی تو… کاروائی میں شریک
فوجیوں کا زندہ واپس جانا ناممکن تھا… یوں ملک کی بدنامی ہوتی اور فوج میں بڑے
پیمانے پر تبادلے ہوتے… تب انڈین فوجی سر ملا کر بیٹھے کہ… مودی کے
جارحانہ،پاگلانہ احکامات سے کیسے نمٹا جائے… یہ تو روز صبح اُٹھ کر نئے حملے کا
حکم جاری کر دیتا ہے… اور گھس کر مارنے کی بڑھک چھوڑتا ہے… جبکہ جنگ کرنا،جنگ سے
نمٹنا اور گھس کر مارنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے… تب انڈین فوج نے ایک منصوبہ
بنایا کہ… کشمیر کے دوردراز جنگلوں میں… ایک نقلی سرجیکل سٹرائک کا ڈرامہ فلمبند
کیا جائے… اور وہ مودی کو پیش کر دیا جائے… مودی خوش ہو جائے گا… اور چونکہ یہ
حملہ نقلی ہو گا تو پاکستان اسے ماننے سے انکار کر دے گا… اس کا فائدہ یہ ہو گا
کہ… مودی جب ہمیں دوبارہ حملے کا حکم دے گا تو ہم کہہ سکیں گے کہ… شرجی! ایک کیا
ہم تو دس حملے کرنے کو تیار ہیں… مگر پاکستان کی پالیسی یہ ہے کہ وہ ہمارے کسی
حملے کو تسلیم نہیں کرے گا…یوں ہمارے حملے کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہو گا… بین
الاقوامی میڈیا بھی ہمارے حملے کو شک سے دیکھے گا…اس لئے اب حملے کرنے یا گھس کر
مارنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے… آپ کوئی اور طریقہ سوچیں جس سے پاکستان کو نیچا
دکھایا جا سکے…اور یوں انڈین آرمی نے… ایک نقلی سرجیکل سٹرائک کر کے مودی کو مولی
کھلا دی ہے… کشمیری زبان میں مولی کھلانے کا مطلب کسی کو ٹھنڈا کرنا، مایوس کرنا
ہوتاہے… اس سال جب مودی حکومت پچھلے سال کے سرجیکل سٹرائک کا جشن منا رہی تھی
تو…ساری دنیا میں اس کا مذاق اُڑایا جا رہا تھا… اور تو اور خود انڈیا کے سمجھدار
اور عقلمند صحافی بھی شک کا اظہار کر رہے تھے… کیونکہ سب جانتے ہیں کہ مجاہدین
کبھی بھی اپنے نقصانات اور اپنے شہداء کرام کو نہیں چھپاتے… بلکہ وہ تو انڈیا کے
مظالم اور اپنے شہداء کرام کے تذکرے سے… اپنی دعوت جہاد کو مؤثر بناتے ہیں… اگر
انڈیا نے مجاہدین پر حملہ کیا ہوتا تومجاہدین اس کے خلاف پاکستان میں بڑے بڑے
مظاہرے کرتے، جلوس نکالتے… لاکھوں افراد شہداء کرام کے جنازے ادا کرتے… اور ان
شہداء کرام کے انتقام کے لئے مزید سینکڑوں نوجوان جہاد کے لئے خود کو پیش کرتے۔
بے بس اور مجبور افراد کے لئے شاندار تحفہ
’’جو شخص پریشانیوں سے بے بس اور لاچار ہو چکا ہو اور حالات
کی خرابی سے تھک چکا ہو وہ ان کلمات کو ایک ہزار بار پڑھے۔ اس کی حاجت ضرور پوری
ہو گی، ان شاء اللہ
’’اَقْویٰ مُعِیْنٍ وَاَھْدیٰ دَلِیْلٍ اِیَّاکَ نَعْبُدُ
وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔‘‘
[ راحت القلوب۔ ص: ۱۴۶،طبع۔ ضیاء القرآن پبلی
کیشنز۔ لاہور]
ماشاء اللہ عجیب پرسکون، پرکیف اور طاقتور عمل ہے… اخلاص اور
توجہ کے ساتھ کریں … باوضو کریں اور اللہ تعالیٰ کی ذاتِ عالی شان پر یقین رکھیں …
اس عمل میں سورۂ فاتحہ کا دل بھی آگیا… اسی سے تاثیر کا اندازہ لگایا جا سکتا
ہے۔
امریکہ طالبان کے پیچھے پیچھے
سائنس کی ترقی دیکھیں کہ… افغانستان پر حملہ کرنے والا…
ہزاروں ایٹم بموں کا مالک… خود کو سپر پاور کہلوانے والا… ساری دنیا میں ناقابل
تسخیر سمجھا جانے والا امریکہ… آج کل ’’امارت اسلامی طالبان ‘‘ سے مذاکرات کے لئے
ان کے پیچھے پیچھے پھر رہا ہے… ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ’’طالبان‘‘ امریکہ سے
مذاکرات کے لئے منت سماجت کرتے… کیونکہ ان پر حملہ ہوا ہے… اور ان کی حکومت بھی
بظاہر ختم ہوئی ہے…مگر طالبان بالکل بے فکر ہو کر جہاد کر رہے ہیں… ان کو نہ اپنی
حکومت کی پروا ہے اور نہ اپنے نقصانات کی…وہ مکمل اعتماد اور اطمینان سےد نیا کی
چالیس فوجوں سے لڑ رہے ہیں… وہ صبح سویرے جاگتے ہیں… تہجد میں اللہ تعالیٰ کے حضور
روتے ہیں…فجر ادا کر کے قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں… پھر ہلکا سا سادہ ناشتہ کر
کےاپنا اسلحہ اٹھا کر لڑائی میں مصروف ہو جاتے ہیں… دوپہر تک جلدی جلدی دشمن کو
نمٹا کر بارہ بجے کھانا کھاتے ہیں… اور ظہر پڑھ کر اطمینان سے سو جاتے ہیں… عصر کے
بعد کچھ کھاتے، کھیلتے اگلے حملوں کا مشورہ کرتے ہیں… ان کو نہ مہینے گذرنے کی فکر
نہ سال ختم ہونے کا غم… زندگی سعادت اور موت شہادت… ان میں سے اکثر کو یہ بھی
معلوم نہیں کہ مذاکرات کیا ہوتے ہیں اور کیوں ہوتے ہیں… جبکہ امریکہ پر اس جنگ کا
ایک ایک لمحہ بھاری ہے… اس کے ڈالر پانی کی طرح اور اس کا حوصلہ دھوپ میں رکھی برف
کی طرح بہہ رہا ہے… اس لئے وہ طالبان کو ڈھونڈتا پھر رہا ہے کہ ان سے مذاکرات
کرے…اسی مد میں وہ پاکستان پر بھی زور اور دباؤڈالتا ہے کہ وہ طالبان کو مذاکرات
کی میز پر لائے… اس دوران کئی نوسرباز نقلی طالبان بن کر امریکہ کو اچھا خاصا لوٹ
بھی چکے ہیں… امریکہ لڑنے جائے تو اسے افغانستان کے ہر پتھر پر طالبان نظر آتے
ہیں… مگر جب وہ مذاکرات کے لئے نکلتا ہے تو اسے طالبان نظر ہی نہیں آتے… وہ انہیں
ہر طرف ڈھونڈتا پھر رہا ہے… بھائیو! ہے نہ سائنس کی ترقی؟
رزق میں کشادگی کا وظیفہ
حضرت بابا جی فرید الدین مسعود گنج شکر رحمہ اللہ
علیہ فرماتے ہیں :
’’ ایک دفعہ میں حضرت قطب الدین بختیار کاکی
اوشی رحمہ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر تھا اور وہاں دعاء کے
بارے میں باتیں ہو رہی تھیں حضرت قطب صاحب رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا :
’’جس کو معاش کی تنگی ہو وہ اس دعاء کا ورد کرے:
’’بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ یَا دَائِمَ الْعِزِّ
وَالْمُلْکِ وَالْبَقَاءِ وَیَاذَاالْمَجْدِ وَالْعَطَاءِ یَا وَدُوْدُ
ذَاالْعَرْشِ الْمَجِیْدُ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ۔‘‘
[ راحت القلوب۔ ص: ۱۴۶،طبع۔ ضیاء القرآن پبلی
کیشنز۔ لاہور]
گائے کا پیشاب پی کر سو جاؤ
انڈیا میں خوشیاں منائی جا رہی ہیں کہ… تیرہ مسلمانوں نے دین
اسلام چھوڑ کر’’ہندو مت‘‘ قبول کر لیا ہے… بی بی سی والے اس خاندان سے انٹرویو
لینے گئے تو وہاں عجیب صورتحال تھی… مسلمانوں کا ایک مجبور اور بے بس غریب گھرانہ…
پولیس گردی کے ظلم سے بچنے کے لئے ’’ہندو‘‘ بنا بیٹھا تھا… ان سے نام پوچھے تو
کبھی وہ اسلامی نام بتاتے اور کبھی نئے ہندو نام… بعض کا اصرار تھا کہ ہم ابھی تک
مسلمان ہیں اور بعض کہہ رہے تھے کہ… مجبوری میں ہندو ہوئے ہیں تاکہ انصاف مل
سکے…وہاں کے ہندو خوشیاں منا رہے تھے … حالانکہ اس میں ان کے لئے خوشی کی کوئی بات
نہیں ہے… الحمد للہ اسلام زندہ ہے اور روز دنیا بھر میں ہزاروں افراد بخوشی اسلام
میں داخل ہو رہے ہیں… اسلام ہی آج دنیا کا اکثریتی دین ہے… اور یہ دین ماضی کی
طرح مستقبل میں بھی اپنے غلبے کی طرف بڑھ رہا ہے… ہندوستان میں آج کل مودی اور
یوگی نے مسلمانوں کا جینا دو بھر کیا ہوا ہے… اور وہاں کے مسلمان سیاستدانوں نے
غلامی کو فخر سمجھا ہوا ہے…خوب اچھی طرح سن لو کہ… انڈیا کا مستقبل ’’اسلام‘‘
ہے…اور آج بھی دنیا بھر میں روز درجنوں ہندو کامیابی کے راستے اسلام کو اختیار کر
رہے ہیں… اس لئے بجرنگ دل کے بندر تیرہ افراد پر خوشی نہ منائیں … بلکہ گائے کا
پیشاب پی کر سو جائیں… وہ جب جاگیں گے تو یہ تیرہ افراد بھی توبہ کر کے دوبارہ
مسلمان ہو چکے ہوں گے، ان شاء اللہ۔
عذاب قبر سے حفاظت کے لئے
اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو عذاب قبر سے بچائے…عذاب قبر
کا تصور ہی خوفناک ہے… حضرت بابا جی فرید رحمہ اللہ علیہ نے عذاب قبر
سے حفاظت کے کئی وظائف لکھے ہیں… اُن میں سے ایک وظیفہ جو آپ نے حضرت سیدنا عبد
اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کی طرف منسوب فرمایا ہے وہ یہ ہے :
’’جمعہ کی رات دو رکعت نماز ادا کرو، ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ
ایک بار اور سورۂ اخلاص پچاس بار پڑھو۔‘‘
[ راحت القلوب۔ ص: ۱۳۹۔طبع: ضیاء القرآن پبلی
کیشنز۔ لاہور]
اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مجھے اور آپ سب کو عذاب قبر،
عذاب جہنم اور آخرت کے ہر عذاب سے بچائے …آمین یا ارحم الراحمین
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنا ’’ذکر‘‘ نصیب فرمائے …’’ذکر اللہ‘‘ کے
برابر کوئی عمل نہیں، کوئی چیز نہیں…{وَلَذِکْرُاللہِ اَکْبَرُ}… اللہ تعالیٰ کا
ذکر سب سے بڑا… اللہ تعالیٰ سب سے بڑا… اللہ، اللہ، اللہ… ہماری آج کی مجلس ہے …
ذکر اللہ کا طریقہ … اور حضرت بابا جی فرید الدین مسعود رحمہ اللہ
علیہ کے کچھ وظائف۔
ایک ضروری بات سمجھیں
’’ذکر ‘‘ کہتے ہیں ’’یاد‘‘ کو… ذکر اللہ کے کئی طریقے
ہیں…بلکہ بے شمار طریقے ہیں… مگر سب سے اہم یہ ہے کہ… بس اللہ تعالیٰ کی یاد ہو …
نہ کوئی غرض، نہ کوئی فریاد…بس اللہ کی یاد… بس اللہ کی یاد… نہ کوئی دعا، ء نہ
کوئی التجاء … صرف اللہ کی یاد… صرف اللہ کی یاد… نہ کوئی خوف، نہ کوئی امید… صرف
اللہ تعالیٰ کی یاد… صرف اللہ تعالیٰ کی یاد… اللہ، اللہ ، اللہ…اللہ تعالیٰ کو
اپنی کسی غرض کے لئے یاد کرنا کچھ برا نہیں…اللہ تعالیٰ سے فریاد کر کے اسے پکارنا
عبادت ہے… اللہ تعالیٰ سے دعاء کرنا عبادت کا مغز ہے… اللہ تعالیٰ سے التجاء کرنا
بڑی نیکی ہے …اللہ تعالیٰ سے خوف اور امید رکھنا یہ ایمان کا حصہ ہے… مگر کبھی
کبھی ایسی’’ یاد‘‘ جو بس’’ یاد‘‘ ہو … ایسا ’’ذکر‘‘ جو بس ’’ذکر‘‘ ہو… اللہ، اللہ،
اللہ… زبان سے ہو یا دل سے… ہڈیوں سے ہو یا کھال سے… بس انسان ڈوب جائے … اپنے
محبوب اور مالک کا نام لیتا جائے اور اس میں ڈوبتا جائے… ڈوبتا جائے… اللہ، اللہ،
اللہ… نہ دائیں کی خبر، نہ بائیں کی خبر…اللہ، اللہ ، اللہ… بس’’ اللہ‘‘ مل جائے،
’’اللہ‘‘ کی یاد مل جائے… انسان خود مٹتا جائے اور اللہ، اللہ ہر چیز پر غالب آتا
جائے… یہ ذکر بہت اونچا ہے ، بہت ضروری ہے، بہت کام آنے والا ہے … یہ اس طرح ہے
جیسے اپنی روح اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دی… ایسے ذکر سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتے
ہیں… اور یہ ذکر انسان کو سیدھے راستے پر لے جاتا ہے… اللہ کا ذکر، اللہ کے لئے ،
اللہ کی خاطر…اللہ، اللہ، اللہ۔
اللہ تعالیٰ نے بغیر مانگے ہمیں پیدا فرمایا… بغیر
مانگے ہمیں پالا… بغیر مانگے ہمیں سانس دے رہے ہیں… بغیر مانگے ہمیں ہوا اور پانی
دے رہے ہیں… بغیر مانگے ہمارے جسم کا نظام چلا رہے ہیں…اللہ تعالیٰ بغیر مانگے
ہمارا خون چلا رہے ہیں… اللہ تعالیٰ ہمارے محبوب ہیں، مالک ہیں، رازق ہیں… ہم نے
ان کی طرف لوٹنا ہے… دن رات ہم کیسی کیسی باتوں میں اور یادوں میں کھوئے رہتے ہیں
… کبھی اپنے حقیقی محسن، حسین اور محبوب کو بھی یاد کر لیا کریں … سچی یاد … محبت
بھری یاد… اس کی عظمت کا استحضار… اللہ، اللہ، اللہ۔
نماز کے بعد یا معمولات کے بعد… بس تھوڑی دیر آنکھیں بند
کریں… اور زبان سے پڑھیں… اللہ، اللہ، اللہ… سانس سے پڑھیں … اللہ، اللہ، اللہ…پھر
زبان بند کر دیں… اور دل سے پڑھیں اللہ، اللہ، اللہ… اور پھر اسی میں کھو جائیں…
ڈوب جائیں… اللہ، اللہ، اللہ… اگر اس میں واقعی کھو گئے تو اب آنکھیں برسیں گی…
دل پاک ہو گا… اور نور ٹھاٹیں مارے گا… تب خود کو بزرگ نہ سمجھ لیں… اس انتظار میں
نہ لگ جائیں کہ اب دنیا میرا ادب کرے گی… بلکہ اسی ذکر میں ڈوب جائیں… اور اللہ کو
بڑا اور خود کو چھوٹا دیکھتے جائیں… ہم سمندر میں ہوں تو سمندر سے کتنے چھوٹے…
پہاڑ کے دامن میں ہوں تو ہم پہاڑ سے کتنے چھوٹے… ارے! یہاں تو اللہ ہے… پہاڑ اور
سمندر جس کے سامنے ایک ذرے کے برابر نہیں… اور ہم تو ویسے ہی بے کار ہیں… اصلی ذکر
انسان میں عاجزی اور تواضع پیدا کرتا ہے… کیونکہ دل پاک ہوتا ہے تو اس میں اپنی
حقیقت نظر آتی ہے… نہ نماز سیدھی، نہ کلمہ سیدھا… بس غلاظت اور گندگی اور گناہ ہی
گناہ… اللہ تعالیٰ کا احسان کہ وہ اتنا عظیم ہو کر … ہم جیسوں کو اپنا نام لینے
دے… اللہ، اللہ، اللہ۔
ایک مشق
انسان کا دماغ ہر وقت متحرک رہتا ہے… کسی ایک جگہ نہیں ٹکتا…
گناہوں میں تو شیطان نے ایک مقناطیسی کشش لگا دی ہے… اس لئے فلموں وغیرہ میں لوگ
ڈوب جاتے ہیں… مگر نماز اور ذکر میں توجہ ایک طرف نہیں رہتی… اگر رہے تو جلدی تھک
جاتی ہے…اس لئے روزانہ ایک مشق کیا کریں… اس ’’مشق‘‘ سے خیالات کو قابو کرنا آسان
ہو جاتا ہے … اور بکھرا ہوا ذہن مجتمع ہو جاتا ہے… زمین پر بیٹھ جائیں… اگر مٹی یا
گھاس ہو تو بہت اچھا ورنہ فرش پر ہی بیٹھ جائیں…اب آنکھیں بند کر کے اپنے سانس کی
نگرانی کریں… سانس اندر جا رہا ہے، سانس باہر نکل رہا ہے… پوری توجہ سانس پر ہو…
اور ہر سانس کی مکمل نگرانی ہو کہ کب اندر گیا اور کب باہر نکلا… اس طرح روز بیس
سانس سے سو سانس تک یہ مشق کریں… اس سے ان شاء اللہ بہت فائدہ ہو گا… ایسے کئی
افرادجن کا دماغ کسی وجہ سے تھک جاتا ہےان کو بھی ہم یہی مشق بتاتے ہیں … بیچارے دماغ
پر جب ہم تین سو چینل چلائیں گے تو وہ گرم ہو گاتھکے گا… تب اس میں طرح طرح کے غم،
بدگمانیاں، تنگی اور الجھن پیدا ہو گی… بہت سے لوگوں پر نہ جادو ہوتا ہے اور نہ
جنات… بس ان کا داغ تھک چکا ہوتا ہے… جب دماغ تھکتا ہے تو وہ پورے بدن کو گرا دیتا
ہے… اور دماغ اکثر دو وجہ سے تھکتا ہے… ایک تو اوپر چڑھنے والی گیس… اور دوسرا
خیالات کا بے ہنگم ہجوم… اور آج کل نیند کی کمی اور فون سکرین کی ریڈیائی لہریں
بھی دماغ کو تھکا دیتی ہیں… بہرحال دماغ تھک جائے تو وہ انسان کو طرح طرح کی اُلٹی
حرکتوں اور شہوتوں میں ڈالتا ہے … غم اور بدگمانی میں ڈالتا ہے… مایوسی اور بد دلی
میں دھکیلتاہے… اور کبھی کبھی تو ’’نقلی فلمیں‘‘ بھی بنانے لگتا ہے…جیسا کہ بعض
لوگ کہتے ہیں کہ مجھے یہ آواز آ رہی ہے ، مجھے وہ آواز آ رہی ہے… پانی مجھ سے
باتیں کر رہا ہے، دیواریں مجھے سمجھا رہی ہیں… اور مجھے فلاں چیز نظر آ رہی ہے…
جن نظر آ رہا ہے ، روح نظر آ رہی ہے… یہ سب کچھ دماغ کی تھکاوٹ اور خشکی سے ہوتا
ہے… فون، ٹی وی وغیرہ کی سکرین پر زیادہ دیر نظر ڈالنا چھوڑ دیں … اور اوپر جو
’’مشق‘‘ عرض کی ہے وہ کریں…اور حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی
سنت کے مطابق سر پر خوب تیل ڈالا کریں… کوئی دن تیل ڈالنے سے خالی نہ رہے… دماغ کو
تیل کی سخت ضرورت ہوتی ہے… کاش! ہم ہر سنت کو ہی اپنا مستقل فیشن بنا لیں تو ہمارے
لئے دنیا و آخرت میں کتنی خیر ہو جائے۔
عبدیت … بندگی
ہم اللہ تعالیٰ کے ’’عبد‘‘ یعنی غلام اور بندے ہیں… آج ہماری
پریشانیوں کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ… ہم میں ’’عبدیت‘‘ نہیں ہے… ہم ہر معاملے میں
اللہ تعالیٰ سے سودے بازی کرتے ہیں… ہم نے یہ کیا تو یہ کیوں نہیں ہوا؟… نہ ہم نے
اللہ تعالیٰ کی عظمت کو سمجھا اور نہ اللہ تعالیٰ کے مقام کو پہچانا… یہ اسلام کے
فدائی آخر شہادت کی اتنی زیادہ تڑپ کیوں رکھتے ہیں؟ … کیا ان کے جسم میں ہماری
طرح خواہشات نہیں ہوتیں؟… کیا انہیں دنیا میں کچھ کشش محسوس نہیں ہوتی؟… سب کچھ
ہوتا ہے… مگر وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کو تھوڑا سا پہچان لیتے ہیں تو پھر… اس پر بے
قرار ہوتے ہیں کہ… اتنے عظیم رب کو ہم کیسے راضی کریں؟… پھر ان کے پاس جو سب سے
آخری اور قیمتی چیز ہوتی ہے یعنی اپنی جان… وہ اسے پیش کر کے اللہ تعالیٰ کو راضی
کرنے کی کوشش کرتے ہیں… وہ سمجھتے ہیں کہ اتنی عظیم بارگاہ میں… اس سے کم چیز پیش کرنا
بے ادبی ہے… اور دوسری طرف ہم ہیں کہ… دن رات اللہ تعالیٰ سے صرف سودے بازی کرتے
ہیں … اگر دنیا کے مسائل حل ہوتے رہیں تو ہم اعمال میں لگے رہتے ہیں… لیکن اگر
دنیا کے مسائل حل نہ ہوں تو ہم اعمال سے بھی ہٹ جاتے ہیں… اللہ تعالیٰ ہمیں بھی
اپنا اصلی ذکر اور اپنی حقیقی یاد نصیب فرمائے… صرف ایک دن یعنی چوبیس گھنٹے تو ہم
اللہ تعالیٰ کے ’’عبد‘‘ یعنی غلام بن کر گذاریں… نماز اسی کی رضاء کے لئے ادا کریں
… سارے اعمال اس کی رضاء کے لئے اداکریں…اور اسی کے ذکر میں ڈوبے رہیں … اللہ،
اللہ، اللہ۔
مقام عبدیت
اللہ تعالیٰ کا ’’عبد‘‘ یعنی بندہ بننا ہی اصل مقام ہے… آج
اسی کے لئے ذکر کا یہ ایک طریقہ عرض کیا ہے … روزانہ تھوڑی دیر اس ذکر کو ہم اپنے
معمولات میں شامل کر لیں… کیا معلوم کہ ہمیں بھی عبدیت کے مقام کا کچھ ذرہ نصیب ہو
جائے… بات لمبی ہو گئی اس لئے وظائف نہ آ سکے… بہت معذرت … ویسے ’’ذکر اللہ‘‘ ہی
سب سے بڑا وظیفہ ہے…اللہ، اللہ، اللہ
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا شکر ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ
الْعٰلَمِیْنَ‘‘… اللہ تعالیٰ سے معافی’’ اَسْتَغْفِرُ اللہَ ربَّ
الْعٰلَمِیْنَ‘‘… اللہ تعالیٰ سے سؤال’’ اِیَّاکَ نَعْبُدُوَاِیَّاکَ
نَسْتَعِیْنُ‘‘… اللہ تعالیٰ کی بے شمار خصوصی رحمتیں…’’ صَلوٰۃُ اللہِ وَسَلَا
مُہٗ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ خَاتَمِ النَّـَبِیِّـیْنَ وَ
عَلٰی اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ‘‘… اللہ تعالیٰ کے انعام یافتہ بندے
’’انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین‘‘… یااللہ! ہمیں بھی ان کی راہ پر چلا…
بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ… یا اللہ! طلحہ شہید کے درجات بلند
فرما… ’’فِیْ أَعْلٰی عِلِّیِّیْنَ‘‘… طلحہ کے بارے میں لکھے ہوئے اس مضمون کو
قبول فرما، آمین… یَا خَیْرَ الْغَافِرِیْنَ، یَا رَبَّ الشُّہَدَآ
ءِ وَالْمُجَاہِدِیْنَ۔
اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک پیا راسا بھانجا دیا… یہ ۱۹۹۳ء کا
سال تھا… ستمبرکا مہینہ اور جمعہ کا مبارک دن… خاندان میں الحمد للہ ’’جہاد‘‘ کی
خوشبو پھیلی ہوئی تھی… جہادی نسبت سے ہی اس کا نام ’’طلحہ‘‘ تجویز ہوا… روئے زمین
اور زمانے کے بہترین مجاہدین میںسے ایک حضرت سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے مبارک نام
پر… طلحہ ابھی چار ماہ کا تھا کہ میںکشمیر میں گرفتار ہوگیا… نہ اس نے مجھے شعورکی
آنکھوں سے دیکھا اور نہ میں اسے جی بھر کر دیکھ پایا… میں واپس آیا تو طلحہ
ساتویں سال میں تھا… قرآن مجید حفظ کر رہا تھا… مجھے بہت محبت بھری آنکھوں سے
دیکھتا تھا… اس نے قرآن مجید حفظ کیا… اور دینی تعلیم کے لیے مدرسہ میں داخل
ہوگیا… ہماری بہت کم ملاقات رہی… پھر میں کہیں دور چلا گیا… وہ ملاقات کے لیے
مچلتا تھا… ایک بار وہاں پہنچ گیا تو بس ٹکٹکی باندھ کر دیکھتا رہتا تھا… پھر
وقتاً فوقتاً مختصر ملاقاتیں ہوتی رہیں… آخری سالوں میں وہ مجھے خط بھی لکھتا
تھا… ان خطوط سے لگتا تھا کہ وہ بیمار ہوچکا ہے… ’’مریض محبت‘‘ بن چکا ہے… اسے
’’عشق ‘‘ہوچکا ہے… ایسا سچا عشق جو محبوب کے دیدار کے سوا اور کسی دواء سے شفاء
نہیں پاتا… وہ باصلاحیت تھا… سب چاہتے تھے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کام کرے… مگر اس
کا ’’عشق‘‘ دیوانگی کی حدود کو چھورہا تھا… وہ سب سے محبت کرتا تھا مگر اس نے
’’محبوب حقیقی‘‘ بس ایک ہی بنالیا تھا… اسی کے عشق میں اس کی آنکھوں سے آنسو
ابلتے تھے اور وہ بے قرار، بے تاب اور مجبور ہوجاتا تھا… یہ عشق اس کی رگ رگ میں
اتر چکا تھا؎
رگ رگ میں دل ہے،دل میں تڑپ دردعشق کی
محشر بنا ہوا ہوں، تمنائے یار میں
طلحہ شہید کی داستان بہت عجیب ہے… آج میں اس داستان کا ایک
ورق لکھنے بیٹھاہوں تو حیران ہوں کہ کہاں سے شروع کروں اور کہاں پر ختم کروں
… لوگوں کی زندگی ان کی موت پر ختم ہوجاتی ہے جبکہ عاشق اور دیوانے کی زندگی … اس
کی موت سے شروع ہوتی ہے ؎
یہ عشق نہیں آسان اتنا ہی سمجھ لیجئے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
تھوڑی سی اجازت بھی اے بزم گہ ہستی
آنکلے ہیں دم بھر کو رونا ہے رلانا ہے
تصویر کے دو رخ ہیں جاں اور غم جاناں
اک نقش چھپانا ہے اک نقش دکھانا ہے
اشکوں کے تبسم میں آہوں کے ترنم میں
معصوم محبت کا معصوم فسانہ ہے
’’طلحہ‘‘ اس دنیا میں چوبیس سال رہا… اس کے بس میں ہوتا تووہ
چوبیس گھنٹے بھی نہ رہ سکتا… وہ کچھ دیکھ چکا تھا… بس وہی پاناچاہتاتھا ؎
از سر بالین مربرخیز اے ناداں طبیب
درد مند عشق را دارو بجز دیدار نیست
وہ محبوب کے وصال کےلئے روتارہا ،بلکتا رہا ،تڑپتا رہا اپنا
گربیاں چاک کرتارہا… گرم سےگرم ،خطرناک سے خطرناک … اور سخت سے سخت میدانوں میں
کودتارہا ؎
اپنے قریب پا کے معطر سی آہٹیں
میں بارہا سلگتی ہوا سے لپٹ گیا
بالآخر اس کو اپنی منزل ایک گل پوش وادی میں نظر آئی … مگر
وہ وادی اونچی تھی، دورتھی… اور بظاہر طلحہ کے بس سے باہر تھی… مگر وہ عشق ہی کیا
جو ہار مان جائے… وہ دیوانگی ہی کیا جو رکاوٹوں اور فاصلوں کو تسلیم کرلے۔
٭٭٭
طلحہ شہید کی یہ کتاب آپ کے ہاتھ میں ہے… آپ اسے
پڑھیں گے تو آپ کو معلوم ہوگاکہ… طلحہ کو ن تھا؟… طلحہ کیساتھا؟…طلحہ کہاں
رہا؟… طلحہ کہاںگیا؟… یہ کتاب طلحہ شہید نے خود نہیں لکھی… مگر میں اسے ’’طلحہ کی
کتاب ‘‘کہتا ہوں… یہ اس کی زندہ کرامت ہےکہ اس کے اہل محبت نے دل کھول کر طلحہ کے
بارے میں لکھا… طلحہ جو دعوت امت کو دینا چاہتا تھا وہ اس کتاب میں بہت پرتأثیر
آگئی ہے… اس کے پاس لکھنے کی فرصت نہیں تھی … وہ کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتا
تھاکہ جس کو آڑبنا کر اسے ’’وصال یار‘‘سے روکا جاسکے… وہ خو د لکھنے بیٹھتا تو
کمال کا لکھتا… ماشااللہ ہر فن میں ماہر تھا… مگر اسے ڈرتھا کہ اسے لکھنے کے کا م
پر نہ بٹھا دیا جائے… مگروہ امت میں جہاد کا درد اور شہادت کا شوق بھی اجاگر کرنا
چاہتا تھا… اللہ تعالیٰ نے اپنے مخلص اوروفا دار بندے کی یہ خواہش بھی پوری
فرمائی… اور طلحہ کی یہ کتاب دعوت جہاد اور شوق شہادت کا مرقع بن کر امت کے ہاتھوں
میں پہنچ گئی… طلحہ سچا عاشق اور سچا دیوانہ تھا… اس کی یہ کتاب بھی اسی پاکیزہ
عشق کا مرقع ہے ؎
رند وہ ہوں کہ غزل بھی وہی رندانہ ہے
معنٰی و لفظ نہیں بادہ و پیمانہ ہے
واہ کیا مست غزل تونے پڑھی آج جگر
ایک اک لفظ چھلکتا ہوا پیمانہ ہے
حضرت سیّد احمد شہید رحمہ اللہ
علیہ خود کوئی مصنف نہیں تھے… انہوں نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھی اور
اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کر کے عشق کی بازی جیت گئے… تب اللہ تعالیٰ نے زمانے کے
اہل علم ،اہل قلم کو ان کی دعوت کے لئے مسخر فرمادیا… اور حضرت سید صاحب کی دعوت
جہاد اس قد ر پھیلی کہ… کوئی واعظ ،کوئی مصنف صدیاں لگا کربھی … اس قد ر وسیع اور
مؤثر دعوت نہیں پہنچا سکتا… بے شک جان کی قربانی سے بڑھ کر کوئی عمل نہیں… ماضی
قریب کے ایک مصنف کے دل میں داعیہ پیدا ہوا کہ وہ سید صاحب کی جہادی تحریک پر تحقیق
کریں … اور مکمل تفصیل سے اس تحریک کا حال لکھیں … انہوں نے اپنی زندگی کے سترہ
قیمتی سال اس خدمت پر لگا دیئے… اور حضرت سید بادشاہ شہید کی تحریک جہاد پر کئی
کتابیں لکھیں… دوران تحقیق ایک بار انہیں خواب میں حضرت سیّد صاحب شہید رحمہ اللہ
علیہ کی زیارت ہوئی… حضرت سید صاحب نے ان سے فرمایا … مہر صاحب آپ نے
جو لکھنا ہو لکھیں مگر میرے اصل کام یعنی ’’جہاد‘‘کو خوب اجاگر کریں … طلحہ شہید
کا جینا ،مرنا سب جہادکے لئے تھا… اس نے دنیا میں کسی سے کچھ نہیں مانگا… بلکہ اسے
اگر کہیں سے کچھ ملنے کی توقع ہوتی تو وہاں سے دور ہوجاتا کہ … کہیں ’’وصال
یار‘‘میں کوئی رکاوٹ نہ بن جائے … وہ جہاد پرا پنا سب کچھ لٹاتا رہا … اور جب چلا
گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی مؤثر اور دیوانہ وار دعوت کے پھیلنے کا انتظام فرما
دیا… اس کے اہل تعلق نے راتوں کو جاگ کر اس کتاب پر کام کیا… اور ہر کسی نےاپناخون
جگرنچوڑکرطلحہ کی یہ کتاب تیار کی… اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ یہ کتاب لاکھوں
نوجوانوں کو…حقیقی دین ،حقیقی جہاد اور حقیقی عشق کا راستہ دکھائے گی …ان شاءاللہ
٭٭٭
حدیث مبارک آپ نے سنی ہوگی کہ …اَلدُّنْیَا سِجْنُ
الْمُؤْمِنِ وَ جَنَّۃُ الْکَافِرِ’’دنیا مؤمن کے لئے قید خانہ ہے اور کافر کے
لئے جنت‘‘…اس حدیث شریف کا اپنے زمانے میں مصداق دیکھنا ہوتوہم…طلحہ شہیدکی مختصر
ایمانی زندگی کودیکھ سکتے ہیں …ابھی بولنا سیکھا تھا کہ قرآن مجید کی تعلیم
اورحفظ میں پابندہوگیا…حفظ مکمل ہواتودینی تعلیم کی پابندیوں میں
جابیٹھا…ابھی کچھ علم حاصل کیا تھا کہ عشق کا مرض لگا اور خود کو جہاد کی پر مشقت
زندگی میں ڈال دیا…وہ کوئی لفظی یا سرسری مجاہدنہیں تھا …مکمل محنت سے ہر
جہادی عمل سیکھتا تھا…محاذوں پر پہرے دیتا تھا… آگے بڑھ کرلڑتاتھا…مجاہدین کی دن
رات خدمت کرتا تھا…حالانکہ یہ اس کی عمر کا وہ حصہ تھاجب انسان آزادی
مانگتاہے…طرح طرح کی خواہشات کا اسیر بنتاہے…مگر طلحہ دین کا پابند رہا،جہاد کا
پابند رہا …پھر اس نے کشمیر جانے کا عزم کیا تو خود کوہر مشقت اور تکلیف میں
ڈالا… سردی کے موسم میں ٹھنڈے دریا پار کرنا…پاؤں اور گھٹنے کی تکلیف
کے باوجود گھنٹوںپیدل چلنااور دوڑنا…اور دن را ت شہادت کے لئے تڑپنا ؎
ہجر جاناں میں غضب شورش مستانہ ہے
روح قالب میں نہیں قید میں دیوانہ ہے
اس دوران وہ مکمل طور پر ’’سبیل اللہ ‘‘یعنی اللہ کے راستے کا
قیدی بنا رہا…حرمین شریفین گیا تووہاں بھی بس شہادت ہی مانگتا رہا…اور ’’وصال
یار‘‘کے لئے تڑپتا پھڑکتا رہا؎
رہائی ہو نہیں سکتی کبھی قید تعلق کی
جو اک زنجیر ٹوٹی دوسری زنجیر دیکھیں گے
بے شک ایسے ہی افراد کے لئے ’’موت‘‘روزہ افطار کرنے جیسی
لذیذہوتی ہے…وہ دنیا میں قیدی اورروزہ دارکی طرح رہتے ہیں …اور موت سے ان کی یہ
قید اور روزہ ختم ہوتا ہے… ایک کم عمر نوجوان کوکامیابی کایہ راز سمجھ آگیا…کاش
!ہم سب اسے سمجھ لیں …اور اپنی زندگی بے کار آزادیوں اور خواہشات میں ضائع نہ
کریں؎
حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا
ٹوٹے بھی جو تارا تو زمیں پر نہیں گرتا
گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا
لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا
سمجھو وہاں پھلدار شجر کوئی نہیں ہے
وہ صحن کہ جِس میں کوئی پتھر نہیں گرتا
کرنا ہے جو سر معرکہِ زیست تو سُن لے
بے بازوئے حیدر، درِ خیبر نہیں گرتا
آپ نے’’ فضائل جہاد ‘‘کتاب پڑھی ہے؟…یہ ایک عربی کتاب ’’مشارع الاشواق‘‘ کا ترجمہ ہے…’’مشارع الاشواق‘‘ (شوق کی راہیں)… کتاب کے مصنف خود ایک بڑے عالم اور مجاہد تھے …اللہ تعالیٰ نے انہیں ’’شہادت ‘‘سے نوازا …یہ کتاب’’جہاد‘‘ کے فضائل پرقرآنی آیات ،احادیث مبارکہ اور اسلاف کے قصوں کا مجموعہ ہے…دین اسلام کی ایک خاصیت یہ ہے کہ یہ دین کبھی پرانا نہیں ہوتا…ہرزمانے میں دین اسلام کے ہر حکم پر عمل کرنے والے افراد موجود رہتے ہیں … آپ فضائل جہاد کے ایک ایک باب کو کھولتے جائیں …اورہمارے زمانے کے ایک نوجوان مجاہدطلحہ شہید کی سوانح دیکھتے جائیں… بلامبالغہ آپ کو حیرت ہوگی کہ فضائل جہاد جس طرح کا ’’مجاہد‘‘ دکھانا اور بنانا چاہتی ہے…طلحہ شہید بالکل ویسا مکمل مجاہد تھا…آپ نیت جہاد سے لیکر شوق شہادت تک…زخم جہاد سے لیکر اموال جہاد میں امانت تک…جہاد کی تیاری سے لیکر رباط تک … تیراندازی سے لیکر گھڑ سواری تک … خدمت مجاہدین سے لیکر انفاق فی سبیل اللہ تک…ہر عمل کو طلحہ شہید میں زندہ پائیں گے…واقعی یہ دین اسلام کی کرامت ہے …یہ سچے جہاد کی کرامت ہے…اور یہ طلحہ شہید کی سعادت ہے…طلحہ بیٹے!بہت مبارک ہو…آپ نے نوجوانی میں اتنے فضائل جمع کئے…اتنی کرامات حاصل کیں …اور میدان وفا کے حقدار شہزادے بن گئے؎
اس کوچے میں ہوں صورت یک نقش وفا میں
دنیا نے مٹایا مجھے لیکن نہ مٹا میں
بُن بُن کے مٹاؤ نہ مرا نقشۂ ہستی
مٹ مٹ کے بنا ہوں ہمہ تن نقش وفا میں
اے اہل حقیقت مجھے آنکھوں پہ بٹھاؤ
طے کرکے چلا آتاہوں میدان وفا میں
جیلوں میں اکثر قیدی …رہائی کو ہی اپنی فکر اور اپنی دُھن بنا لیتے ہیں…پھران کی ہر دعاء،ہر عبادت اور ہر کوشش کا مرکزی نکتہ رہائی ہوتی ہے … بعض افرادپر یہ دُھن ایسی سوار ہوتی ہے کہ … اس کے لئے ناجائز طریقے اختیار کرنے سے بھی باز نہیں آتے …اسی طرح بعض مریضوں پرصحت پانے کی فکراوردُھن سوار ہوجاتی ہے… تب ان کی دعاء ،ان کی عبادت اور ان کی ہر کوشش صحت کی خواہش میں صرف ہوتی ہے…اور بعض اوقات وہ صحت پانے کے لئے حرام راستے بھی اختیار کرنے سے نہیں چوکتے …اسی طرح وہ افراد جن کو موت یا سزائے موت کا خطرہ ہو…وہ بھی اکثر اپنی موت کو ٹالنے کے لئے ہر کوشش،ہر طریقہ اور ہر حیلہ اختیار کرتے ہیں… اور بعض افراد تواپنی روح نکلنے تک اپنے قاتلوں کے سامنے روتے،ہاتھ جوڑتے اورزندگی کی بھیک مانگتے مرجاتے ہیں…حالانکہ یہ سب افراد جانتے ہیں کہ یہ دنیا فانی ہے … اس کی رہائی ،اس کی صحت اوراس کی زندگی سب فانی ہیں … مگر انسان عجیب ہے کہ وہ ان فانی چیزوں کی فکر کو اپنا ’’حال‘‘بنا لیتاہے…اللہ تعالیٰ ایسے ’’حال ‘‘سے ہم سب کی حفاظت فرمائے… مگر دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے صادق اور وفادار عاشق …اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے اور اسکے حضور اپنی جان پیش کرنے کی فکر اور دُھن اپنے اوپر سوار کرلیتےہیں …ایسے افراد چونکہ اللہ تعالیٰ سے جان کا سوداکرتے ہیں توان کے ہر عمل میں جان پڑجاتی ہے… گویاکہ وہ جان دیکرجان پانے کا گُرسیکھ جاتے ہیں…وہ زندگی دیکر زندگی حاصل کرنے کا راز جان لیتے ہیں …تب ان کی عبادت بھی جاندار،ان کی دعاءبھی جاندار،ان کی نیکیاں بھی جاندار…اور ان کی موت بھی جاندارزندگی بن جاتی ہے…طلحہ شہید بھی ان خوش نصیب، صادق اور وفادار بندوں میں شامل تھے جواس راز کوپاگئے…طلحہ شہید رحمہ اللہ علیہ نے اپنی جان اللہ تعالیٰ کو پیش کرنے کے لئے جو جو محنتیں کیں ، جس طرح فکر کی، وہ سب حیرت انگیز ہے…کیا کوئی انسان مرنے کے لئے بھی اتنی محنت، اتنی کوشش اور اتنی فکر کرسکتا ہے؟… ہاں بے شک! جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کوپہچان جائے …جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے شوق میں دیوانہ ہوجائے …اور جسے اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین ہوجائے وہ یہ سب کچھ کرتا ہے…اللہ تعالیٰ ہمیں بھی صدق و وفا کا یہ جام اپنے فضل سے پلائے۔
طلحہ شہید سے میری بہت قریبی رشتہ داری تھی …مگراس کے باوجود …ہم ایک دوسرے سے دور دور رہے …وہ بھی مسافر تھااور میں بھی مسافر …کبھی کبھار ملاقات ہوتی مگر بہت مختصر…چند باراس نے خواہش ظاہر کی کہ مجھے کچھ اسباق پڑھا دیں …حدیث شریف پڑھا دیں…میرا بھی بہت دل چاہاکہ ایسا ہو …مگر نہ ہوسکا…اس نے دوران تعلیم اسباق چھوڑ کر راہ جہاد کو اختیار کیا تو ہم سب کی رائے تھی کہ وہ تعلیم مکمل کرے …چھٹیوں میں محاذوں پر جاتا رہے …مگراس پر حال طاری تھا… وہ چاہتا تھا کہ میں اس کے اس اقدام کی اسے باقاعدہ اجازت دے دوں …پھر اس نے خط لکھ کربیعت کی خواہش ظاہر کی…ایک ملاقات ہوئی اور ماموں ،بھانجا پیر مرید بن گئے… مگر ہم دونوں میں محبت اور دوری کا سلسلہ پھر بھی برقرار رہا…حضرت سیّدناابوزرغفاری رضی اللہ عنہ جب مال وغیرہ کے معاملات میں لوگوں پراورخود پر بہت سختی فرماتے تو…ایک بڑے صحابی نے ان کی صفائی ان الفاظ میں بیان فرمائی کہ:
ّّ’’ابوذرکوایک علم حاصل ہوا ہے اور وہ اس علم کے سامنے مجبو
ر اور بے بس ہوچکے ہیں۔‘‘
یعنی ابوذر پر اپنے علم کا ایساحال طاری ہوچکا ہے کہ … یہ اس
سے باہر قدم رکھنے کی ہمت ہی نہیں پاتے …یہ اپنے علم کے ہاتھوں مجبور ہیں
…اور اسی پر عمل کرنے کے پابند ہوچکے ہیں…طلحہ پر بھی لقاءاللہ ،شوق شہادت اور
قربانی کے علم کا ایسا رنگ چڑھاکہ وہ اس علم سے باہر قدم رکھنے کا سوچ بھی نہیں
سکتا تھا…وہ اپنے علم کے سامنے ایسا مجبور اور مغلوب ہوچکا تھا کہ… جہاد کے کام کی
کوئی اور تشکیل بھی اسے گوارہ نہیں تھی…ایک باراس کا ایک مفصل خط مجھے
ملا… خط کیا تھا…لاڈ،ناز،پیار،ادب اور جھگڑے کا ایک مرکب تھا…وہ خط اس
نے پوری رات جاگ کر کشمیر کے محاذکے قریب کہیںسے لکھاتھا…میں نے اس خط کو کافی
تلاش کیاتاکہ اس کتاب میں شائع کرسکوں …مگر وہ مجھے نہیں ملا …ممکن ہے طلحہ کی
دعاء کا اثر ہو…کیونکہ وہ یہ خط لکھنے کے بعد کچھ شرمایاشرمایاسارہتا تھا…اس خط
میں اس نے اپنے شوق شہادت کو جس طرح بیان کیا …وہ سب کچھ قابل رشک بھی ہے اور قابل
غور بھی …اس نے لکھا کہ آج میں اپنے امیراوراپنے مرشد کو نہیں بلکہ … آپ کے بیٹے
اور بھانجے کے طور پر یہ خط اپنے پیارے ماموں کو لکھ رہا ہوں …اور پھروہ اپنے
جذبات میں مغلوب ہوتا چلا گیا…اس کا پورا زور اس پر تھا کہ میں اسے فدائی کاروائی
کی باقاعدہ اجازت دے دوں …مقصد عرض کرنے کا یہ ہے کہ …طلحہ شہید شہادت پانےکے
لئےہر گُر ،ہرطریقہ اور ہر کوشش کو بروے کار لایا … مگرمیں اپنی جماعتی ذمہ داری
اور جماعتی قوانین کے سامنے مجبور تھا…نہ اسے روک سکتا تھااور نہ طالبعلمی کے
دوران اس کوکھلی اجازت دے سکتا تھا…بس یہی اس کے دل کا ایک کانٹاتھا…آخری ملاقات
میں جب وہ ملنے آیاتوتنہائی تھی…اس نے باربار معافی مانگی…بالآخرمیں نے کہا…طلحہ
میں خوش ہوں ،خوشی سے اجازت ہے…اورمیری ناراضی کے بارے میں بالکل بے فکر ہوجاؤ…بس
یہ الفاظ سنتے ہی اس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح کھل اٹھا…یوں لگا کہ دل کا
کانٹا نکل گیا ہے …اور خوشی اس کے انگ انگ میں سرایت کر گئی ہے…بس یہ آخری ملاقات
تھی…یہ ملاقات مجھےکبھی بھی نہیں بھولے گی…مگراس ملاقات کی کچھ کیفیت بیان کرنے کے
لئے جگر مرحوم کی ایک نظم کا سہارا لیناپڑے گا؎
مدت میں وہ پھر تازہ ملاقات کا عالم
خاموش اداؤں میں وہ جذبات کا عالم
نغموں میں سمویا ہوا وہ رات کا عالم
وہ عطر میں ڈوبے ہوئے لمحات کا عالم
اللہ رے وہ شدتِ جذبات کا عالم
کچھ کہہ کے وہ بھولی ہوئی ہر بات کا عالم
عارض سے ڈھلکتے ہوئے شبنم کے دو قطرے
آنکھوں سے جھلکتا ہوا برسات کا عالم
وہ نظروں ہی نظروں میں سوالات کی دنیا
وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں جوابات کا عالم
تھک جانے کے انداز میں وہ دعوتِ جرأت
کھو جانے کی صورت میں وہ جذبات کا عالم
وہ عارضِ پُرنُور، وہ کیفِ نگہِ شوق!
جیسے کہ دمِ صبْح مناجات کا عالم
دو بِچھڑے دِلوں کی وہ بَہَم صُلْح و صفائی
پُر کیف وہ تجدیدِ مُلاقات کا عالم
وہ عرش تا فرش برستے ہوئے انوار
وہ تہْنِیَتِ ارض و سماوات کا عالم
تا صبح وہ تصدِیقِ محبّت کے نظارے
تا شام وہ فخر و مُباہات کا عالم
وہ عِشق کی بربادئ زندہ کا مُرقّع
وہ حُسن کی پائندہ کرامات کا عالم
طلحہ شہید نے عبادت ،ریاضت ،پاکیزگی ، دعاءاور آہ وبکاسے
اپنی جان کو قیمتی بنایا اور یہ جان اللہ تعالیٰ کو بیچ دی … اس کے
روشن دل اور بے قرار روح نے اپنی منزل ایک اونچی گل پوش وادی میں دیکھ لی… اس نے
کشمیر کے لئے ’’رخت سفر‘‘باندھا … ہرکسی نے اس کے عزم کی تکمیل
کو ناممکن قرار دیا… مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے سچے عشق کی لاج رکھی… تب
پہاڑوں کو بچھا دیاگیا، فاصلوں کو سمیٹ دیاگیا… اورہفتوںکی مسافت کو گھنٹوں کے سفر
میں تبدیل فرمادیاگیا:
مَنْ أَحَبَّ لِقَآءَ اللہِ أَحَبَّ اللہُ لِقَآءَہٗ۔
’’جو اللہ سے ملنا چاہتے ہیں اللہ بھی ان سے ملنا پسند
فرماتاہے۔‘‘
[صحیح بخاری۔حديث رقم:۶۵۰۷ ، طبع: دار الكتب
العلميه۔ بيروت]
طلحہ کشمیر پہنچ گیا وہ کشمیر فتح نہیں کرسکا مگر جہاد کشمیر
کی حقانیت کی دلیل بن گیا … اس نے کعبہ سے لپٹ کر شہادت مانگی … اس نے روضۂ اطہر
پر شہادت کی التجائیں کیں… اس نے شہداءاحد کے قدموں میں شوق شہادت کے آنسو بہائے
اس نے شہداء بدر کے پاس بیٹھ کر اپنا گریباں چاک کرکے اللہ تعالیٰ سے شہادت کاسوال
کیا…اس نے اپنی ہر نماز ،ہر عبادت اور ہر خدمت کے بعدشہادت مانگی… اس نے شادی کو
ٹھکرایا … دنیا کو چھوڑا… ماں باپ کی محبت قربان کی… ننھے منے بھائیوں کے پیار کو
قربان کیا… اپنی بہنوں کے آنسو پونچھے… اپنی پیاری نانی اماں سے شہادت کی دعائیں
کرائیں … جب ایسا سچا مجاہد ،سچا عاشق کشمیر میں جاکر جان دیتا ہے تو… یہ جہاد
کشمیر کی حقانیت کی بہت روشن دلیل ہے… اس نے کشمیر میں جا کر کوئی بڑا طوفان نہیں
اٹھایا… مگر اپنی جان دیکر اس نے جہاد کشمیر کا پانسہ مجاہدین کے حق میں پلٹ دیا…
بے شک شہید کی قربانی… ہزاروں حملوں سے زیادہ دشمن کو نقصان پہنچاتی ہے؎
دشمن کے تن پہ گاڑ دیا میں نے اپنا سر
میدان کار زار کا پانسہ پلٹ گیا
طلحہ نے آخری معرکہ بہت جانبازی سے لڑا… دشمنوں کو بھر پور
نقصان پہنچایا… اور آخر میں تخت دہلی پر اپنا سرفراز سرگاڑدیا… یعنی فتح اور
اسلام کا جھنڈا گاڑ دیا… طلحہ شہید کی شہادت کے بعد کشمیر کی صورتحال میںبہت
تبدیلی آئی ہے… آج وہاں روزانہ کی بنیاد پر نئے مجاہدین میدان وفا میں اتر رہے
ہیں … اور تخت دہلی مجاہدین کی یلغار سے لرز رہا ہے۔
زمانہ دیکھے گا کہ … طلحہ شہید کا پاکیزہ خون …اسلام ،حریت
اور آزادی کے کیسے کیسے رنگ دکھاتا ہے… میرے پیارے بھانجے ، میرے شیخ اور مرشد،
میری آنکھوں کی ٹھنڈک ، اے طلحہ! منزل مبارک ،شہادت مبارک ہو۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا تاکیدی حکم ہے کہ…تمام ایمان والے… نبی کریم
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجا کریں…
حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمہ اللہ علیہ فرماتے
ہیں:
’’حضرات صحابہ و تابعین اور مشائخ نے درود شریف کا وظیفہ مقرر
کیا تھا کہ ( روز اتنا پڑھا کریں گے) اگر کسی دن اُن کا یہ وظیفہ فوت ہوجاتا تو وہ
خود کو مردہ سمجھتے اور ماتم کرتے کہ آج کی رات ہم مر گئے تھے اگر زندہ ہوتے تو
سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف بھیجتے۔‘‘
[ راحت القلوب۔ صـ:۱۴۱،طبع۔ ضیاء القرآن پبلی
کیشنز۔ لاہور]
مجاہدین سے دردمندانہ گذارش
مجاہدین کرام مکمل اخلاص اور محبت کے ساتھ … درودشریف کا
اہتمام کریں… اس سے ان کا جہاد قبولیت اور ترقی پائے گا… آج کل فتنے بہت زیادہ
ہیں… اور اصلی جہاد پر قائم رہنا بہت مشکل ہے…آج اُمت مسلمہ کو جہاد کی بے حد
ضرورت ہے…مگر ایسا جہاد جو خالص ہو،شریعت کے مطابق ہو اورمقبول ہو…احادیث مبارکہ
سے ثابت ہے کہ…مجاہدین کی دو قسمیں ہیںایک مقبول اور دوسری غیر مقبول…اسی طرح
شہداء کی بھی دو قسمیں ہیں…چونکہ جہاد سے پورے دین کو قوت ملتی ہے اس لئےمجاہدین
پر شیطان بہت حملے کرتا ہے… جہاد سب سے افضل عمل ہے… اور مجاہد سب سے افضل مؤمن
ہے … افضلیت کا یہ اونچا مقام مجاہد سے چھیننے کے لئے شیطان پورا زور لگاتا ہے… اس
لئے ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ… فتنوں سے بچیں… جہاد کے نام کو ہی کافی نہ
سمجھیں بلکہ… خالص اور مقبول مجاہد بننے کی فکر، دعاء اور کوشش کریں… اور اس کا
ایک بہترین ذریعہ درود و سلام کی کثرت ہے… نبی کریم آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم ہمارے مرکز ہیں… ہم اپنے مرکز سے مضبوط جڑیں گے تو فتنوں سے بچیں
گے… ترقی پائیں گے… اور سیدھے راستے پر رہیں گے۔
لازمی ضرورت
ہم جب تک درود شریف کو’’ ثواب‘‘ حاصل کرنےکا ذریعہ سمجھتے
رہیں گے… اس وقت تک ہمیں اس کا اہتمام نصیب نہیں ہو گا… ہمیں چاہیے کہ ہم
’’درودشریف‘‘ کو اپنی لازمی ضرورت سمجھیں… اس میں شک نہیں کہ ’’درود شریف‘‘ بہت
بڑے ثواب اور اجر حاصل کرنے کا ذریعہ ہے… ایک بار درودشریف پڑھنے پر نقد پچاس
انعامات ملتے ہیں…اور حضرت خواجہ گنج شکر رحمہ اللہ علیہ کے نزدیک تو
ایک بار درودشریف پڑھنے پر ایک لاکھ نیکیاں ملتی ہیں اور درود پڑھنے والے کا
شمار’’اولیاء اللہ‘‘ میں ہوتا ہے… حقیقی صوفیاء کرام دراصل اللہ تعالیٰ کی بڑائی،
کبریائی اور اس کی وسعت رحمت کے مراقبہ میں غوطہ زن رہتے ہیں… اس لئے وہ اعمال کا
ثواب بھی اسی رحمت کی وسعت کے مطابق بیان فرماتے ہیں… یہ مبالغہ نہیں ہوتا… آج
کسی کو بھی رحمت الہٰی کے مراقبے کی سیر نصیب ہو تو… وہ دیکھ لے گا کہ… اس عظیم
بادشاہ کے سامنے لاکھوں اور کروڑوں کی کیا حیثیت ہے… بہرحال درودشریف کا
اجراورثواب بے انتہا ہے… مگر ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ درود شریف کے بغیر
ہمارا گذارہ ہی نہیں ہے… ہمیں نہ تو حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کی زیارت نصیب ہوئی… اور نہ ہم نے آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم کی صحبت مبارک پائی … ہم نے نہ آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی کوئی خدمت کی… اور نہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی زبان مبارک سے کچھ سنا … ہم نےنہ آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی مبارک آنکھوں کا فیض پایا… اور نہ ہمارے کانوں کو آپ صلی
اللہ علیہ وسلم کی آواز مبارک سننا نصیب ہوئی… جبکہ دین اسلام کا
مرکزی نکتہ ’’محمد رسول اللہ ‘‘ ہے… یہ کلمۂ ایمان کا لازمی جزو ہے… ’’لَا اِلٰہَ
اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ‘‘… ہم نے بھی اس مبارک کلمے پر اسی طرح
ایمان لانا ہے جس طرح حضرات صحابہ کرام؇ ایمان
لائے… حضرات صحابہ کرام؇ کو
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت، خدمت اور مرافقت کا شرف نصیب
ہوا … تو کلمہ اُن کے قلوب میں اتر گیا… جبکہ ہمارے لئے اس کمی کی تلافی کیسے ہو؟…
بے شک درود و سلام کی کثرت ہماری اس کمی اور محرومی کی بڑی حد تک تلافی کر سکتی
ہے… ہم حضرات صحابہ کرام؇ کا
مقام تو نہیں پا سکتے … مگر درودشریف کے ذریعہ ہمیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا
ایک روحانی قرب ملتا ہے… اور اس قرب کی برکت سے… ہم زمانے کے بڑے بڑے فتنوں سے بچ سکتے
ہیں۔
ایسے بے شمار واقعات سامنے آ چکے ہیں کہ … کئی افراد نے درود
شریف سے اپنا تعلق مضبوط رکھا تو… بڑے بڑے گناہوں اور کوتاہیوں کے باوجود … اُن کو
مغفرت ملی… وہ مرکز سے جڑے ہوئے تھے… اور جو مرکز سے غیر مشروط وفاداری رکھے تو
فتنے اس کے قریب نہیں آ سکتے… درودشریف ہماری آخرت کے لئے بے حد لازمی … اور
ہماری دنیا کے لئے بے حد ضروری ہے… ہمیں ہر خیر حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کے ذریعہ ہی ملی ہے…وہ قرآن ہو یا نماز… وہ کعبہ ہو یا مسجد
نبوی… وہ حج ہو یا جہاد … وہ ذکر ہو یا تلاوت …وہ دین ہو یا دنیا… اور آپ صلی اللہ
علیہ وسلم آج بھی اسی طرح…اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول ہیں…جس طرح کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ظاہری حیاتِ مبارکہ میں تھے…
تو آج بھی ہمیں جو خیر ملے گی وہ حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کے ذریعہ سے ہی ملے گی… اور درودشریف حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارا تعلق مضبوط بناتا ہے… ہر
درود وسلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچایا جاتا ہے… اور
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا جواب ارشاد فرماتے ہیں… اور درودشریف
پڑھنے والے کا نام اس کی ولدیت سمیت حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی
خدمت میں پیش کیا جاتا ہے… اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لئے فرشتوں کا ایک وسیع نظام
مقرر فرما دیا ہے… درودشریف کا پہلا فائدہ تو یہ ہے کہ اس سے ہمیں اللہ تعالیٰ کا
قرب ملتا ہے اور دوسرا فائدہ یہ کہ … ہمارا تعلق اپنے مرکز سے مضبوط ہوتا ہے… اور
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہماری نسبت مضبوط ہوتی ہے…
اب جسے یہ نعمتیں حاصل ہو جائیں اس کے لئے دنیا بھی خیر اور آخرت بھی خیر۔
اے پیارے مجاہدو!
اے پیارے مجاہدو! اللہ تعالیٰ کے محبوب بندو! اللہ تعالیٰ
تمہیں ساری امت کی طرف سے جزائے خیر عطاء فرمائیں… تم نے اپنا سب کچھ اس دین کی
خاطر لگا رکھا ہے… تمہارے جسم زخموں سے چور ہیں… تم پر ساری دنیا کا کفر حملہ آور
ہے… تم پر طرح طرح کی پابندیاں ہیں… تم نے اللہ تعالیٰ سے جان و مال کا سودا کر
کے… اس دنیا کے عیش و آرام کو چھوڑ رکھا ہے… بے شک تمہارا مقام بہت بلند اور
تمہاری محنت بہت افضل ہے… اللہ تعالیٰ تمہیں قدم قدم پر اپنی نصرت اور فتوحات عطاء
فرمائے… تمہاری یہ قربانی اور محنت مزید ترقی اور قبولیت پائے… اس کے لئے تم اپنے
حقیقی امیر سے اچھی طرح جڑ جاؤ… ہاں! قیامت تک کے ہر مجاہد کے حقیقی امیر حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں… تم اپنے مرکز سے مضبوط جڑ جاؤ… اور
تمہارے حقیقی مرکز حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں…تم ان
کی سیرت و صورت کی مکمل پیروی کرو… ان سے محبت کا حق ادا کرو… اور ان پر درود و
سلام کی ایسی کثرت کرو کہ… ہر وقت رحمت ونصرت کے فرشتے تم پر محو پرواز رہیں… فرصت
نکال کر ایک باردرودوسلام کے تمام فضائل پڑھ لو… ان فضائل کے رازوں پر غور کرو…
اور پھر درودوسلام کی طاقت اور خوشبو کو اپنے اندر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سمولو… تب
تم دیکھو گے کہ… تمہارے قدموں کے ساتھ نصرت کس طرح چلتی ہے… اور فتنے تم سے کس طرح
دور بھاگتے ہیں… اخلاص، محبت ، توجہ اور اہتمام کے ساتھ… درود شریف … بہت زیادہ
درودشریف… {صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْ ا تَسْلِیْمًا
}
ایک انمول درودشریف
حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمہ اللہ
علیہ نے اپنی کتاب’’ راحت القلوب‘‘ میں ایک درودشریف لکھا ہے… اور اس
کے فضائل و فوائد پر دو تین صفحے رقم فرمائے ہیں… بندہ کراچی میں ایک بار استاذ
محترم حضرت مولانامفتی محمد جمیل خان شہید رحمہ اللہ علیہ کے ساتھ حضرت استاذ
محترم مولانا بدیع الزمان صاحب رحمہ اللہ علیہ کی عیادت کے لئے حاضر
ہوا… حضرت مولانا بدیع الزمان صاحب رحمہ اللہ علیہ بہت متبع سنت، راسخ
العلم اور بڑے مقام والے عالم دین اور ولی اللہ تھے… حضرت مولانا بدیع الزمان صاحب
رحمہ اللہ علیہ نے سخت علالت کے باوجود محبت و شفقت سے ملاقات فرمائی…
اور تفسیر مظہری میں سےاسی درودشریف کی فضیلت پڑھوائی جو کہ حضرت بابا فرید رحمہ
اللہ علیہ نے لکھا ہے… البتہ تفسیر مظہری والا درود شریف کچھ مختصر تھا
جبکہ بابا فرید رحمہ اللہ علیہ والا کچھ مفصل ہے… یہ درودشریف واقعی
ایک تحفہ، ایک انمول خزانہ اور ایک زندہ کرامت ہے… کوشش کریں کہ صبح و شام ایک ایک
مرتبہ… یا صبح دس بار اور شام دس بار پڑھ لیا کریں… اس کا معنٰی و مطلب بھی کسی سے
سمجھ لیں… اور اسے اپنے معمولات کا حصہ بنا لیں … درودشریف یہ ہے۔
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ مَنْ صَلّٰی
عَلَیْہِ وَصَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ مَنْ لَّمْ یُصَلِّ عَلَیْہِ وَصَلِّ
عَلٰی مُحَمَّدٍ کَمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی بِأَنْ تُصَلّٰی عَلَیْہِ وَصَلِّ عَلٰی
مُحَمَّدٍ کَمَا تَنْبَغِی الصَّلٰوۃُ عَلَیْہِ وَصَلِّ
عَلٰی مُحَمَّدٍ کَمَا اَمَرْتَنَا بِالصَّلٰوۃِ عَلَیْہِ۔
حضرت بابا فرید رحمہ اللہ علیہ کے نزدیک… درود
شریف کے یہ صیغے حدیث پاک سے تقریراً ثابت ہیں… حضرت نے اس درودشریف کی جو کرامات
لکھی ہیں وہ ’’راحت القلوب‘‘ میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
[راحت القلوب ۔ص: ۱۴۳،طبع۔ ضیاء القرآن پبلی
کیشنز۔ لاہور]
لا اِلٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے راستے میں… اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے… اللہ
تعالیٰ کے دشمنوں کے ہاتھوں ’’قتل‘‘ ہونا… دنیا کی سب سے میٹھی اور مزیدار نعمت
ہے… بظاہر یہ جتنی خوفناک نظر آتی ہے حقیقت میں یہ اسی قدر لذیذ ہے… محبوب کے لئے
قربان ہونا، محبوب کے لئے قتل ہونا، محبوب کے لئے ذبح ہونا… سُبْحَانَ اللہِ
وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیْمِ …پیارے اور عزیز بیٹے محمد عثمان
ابراہیم کو یہ عظیم نعمت مبارک ہو… وہ میٹھا تھا بالآخر میٹھی نعمت پا گیا ۔
تھوڑا سا سوچیں کہ… جنت کی حوروں میں کتنی مٹھا س ہو گی…جنت
کی نعمتوں میں کتنی مٹھاس ہو گی… مگر اس ساری مٹھاس کو پا کر بھی … اللہ تعالیٰ کے
راستے میں قتل ہونے کی مٹھاس نہیں بھولے گی… عثمان سفر میں جا رہا تھا… میں اسے
رخصت کرنے اپنے دروازے تک نکلا… وہ گلے لگا تو میں نے اس کا بوسہ لیا… تب اس کی
محبت بے قابو ہو گئی…وہ خود کو سنبھالے ہوا تھا… مگر پیار بھرے بوسے نے اسے پھر
بیٹا بنا دیا … بچہ بنا دیا … اور اس نے مجھ پر بوسوں کی بارش کر دی مگر زور لگا
کر اپنے آنسوؤں کو نہ چھلکنے دیا… اس وقت اس کے چہرے پر شہادت کا نور صاف نظر آ
رہا تھا… میرا ہر دن دل دھڑکتا تھا کہ آج خبر آئی یا کل آئی… روز اس کی حفاظت
کے لئے دعاء کرتا تھا … مگر اس کا جذبہ اور شوق شہادت ایسا غالب آیا کہ… آخری دن
دعاؤں کا رخ تکوینی طور پر کسی اورطرف مڑ گیا… اور عثمان فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ
الوداع کہہ گیا… ہاں! وہ جیت گیا … وہ تو پیدا ہی جیتنے کے لئے ہوا تھا… اس نے
پیدا ہونے سے لے کر آخری لمحے تک… شکست کا کبھی منہ ہی نہیں دیکھا…اس نے دنیا میں
آنکھ کھولی تو فتح دیکھی اور اس نے دنیا سے آنکھ بند کی تو فتح ہی دیکھی۔
شہادت سے چند لمحے پہلے اس نے کہا… میں نے الحمد للہ دشمن سے
اپنا حساب پورا کر لیا ہے… اب مجھے کوئی فکر نہیں…اس نے رات کو دشمن پر ایک کامیاب
کاروائی کی… واپس آ رہا تھا کہ … راستے میں زخمی ہو گیا… اس حملے میں وہ شہید بھی
ہو سکتا تھا… مگر اہل ایمان پر نام کی نسبت اپنا رنگ جماتی ہے… اس پر تو ماشاء
اللہ بہت چھوٹی عمر سے ’’عثمان ‘‘ نام کی سخاوت اور حیاء والی نسبت غالب تھی… گھر
سے پیسے لے جا کر غریبوں میں تقسیم کرتا تھا… اپنا کوئی ہم سبق بچہ ضرورتمند ہوتا
تو یہ اپنے والدین کے سر پر سوار ہو جاتا کہ اس بچے کی ضرور مدد کرنی ہے… شہادت کے
وقت جسمانی تکلیف اور اذیت برداشت کر کے جانا… اور سخت ترین لمحات میں استقامت کا
نمونہ بننا یہ بھی ’’عثمانی نسبت ‘‘ کا اثر تھا… وہ زخمی ہوا… جسم کا اکثر خون نکل
گیا… مگر نہ اس نے آہ و پکار کی… اور نہ ہی ایک لمحے کے لئے خود کو بے بس بنایا…
ایسے حالات ہی میں اکثر مجاہدین گرفتار ہو جاتے ہیں… جسم میں لڑنے کی طاقت باقی
نہیں رہتی… اور خون کی کمی کی وجہ سے… دل کا حوصلہ اور دماغ کی روشنی ماند پڑ جاتی
ہے… ایسا ہونا ایک فطری عمل ہے… کیونکہ انسان بہرحال کمزور ہے… مگر اہل عزیمت اور
اہل سعادت کی تو دنیا ہی الگ ہوتی ہے… وہ زخمی بازو کے ساتھ چلتا رہا… اور ایک جگہ
پہنچ کر مورچہ سنبھال لیا… اور پھر اس نے جو معرکہ لڑا… شاید ایسے ہی معرکوں کے
بارے میں وہ روایت ہے کہ…جنت کی حوریں بے تاب ہو کر… اللہ تعالیٰ کی اجازت سے
آسمان اول پر تشریف لاتی ہیں… اور اپنے دولہے کا یہ آخری معرکہ دیکھتی ہیں… اور
اس کے لئے دعاؤں کے ہاتھ پھیلائے رکھتی ہیں… دنیا کی دلہن لینے کے لئے… اس کے گھر
جانا پڑتا ہے… مگر یہاں اتنی پاکیزہ، اتنی حسین اور اتنی افضل و اعلیٰ دلہن… خود
اپنے دولہے کو لینے کے لئے…جنت سے اُتر آتی ہے… بے شک اللہ تعالیٰ کے وعدے سچے
ہیں…بے شک حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین سچے
ہیں… لوگ ہم پر طعنے کستے ہیں کہ… یہ حوروں کے دھوکے دے کر نوجوانوں کو گمراہ کرتے
ہیں… نہیں ، اللہ کی قسم! نہیں… کوئی دھوکہ نہیں…دنیا کی غلاظتوں میں پڑے ہوئے انسان…
حوروں کو کیا جانیں … جنت کو کیا جانیں… ان چیزوں کو تو… ’’عثمان ‘‘ جیسے عارف
باللہ اولیاء، صدیقین سمجھتے ہیں… جو اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر پورا یقین رکھتے
ہیں…جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ پر پورا یقین
رکھتے ہیں… آج کسی کی انگلی زخمی ہو جائے تو اس کی ہائے ہائے پورا محلہ سنتا ہے …
جبکہ یہاں ایک نوخیز ، نوجوان بچہ…اپنے بازو کی ہڈی میں …گولی کھا کر پھر اسی زخم
کے ساتھ میلوں سفر کر کے… خون سے خالی جسم کے ساتھ اپنی امی جان سے… کہہ رہا ہے
کہ… میرا اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا وقت آ چکا ہے… آپ پریشان نہ ہونا بلکہ … اور
بیٹوں کو بھی جہاد میں بھیجنا…یہ تبھی ہو سکتا ہے… جب دل کی آنکھیں کھل چکی ہوں…
ورنہ مصیبت کے لمحات میں… لوگ یہ وصیت کرتے ہیں کہ میں تو مارا گیا … آپ کسی اور
کو اس مصیبت میں نہ بھیجنا… واہ عثمان واہ!… واہ اللہ کے شیر واہ!
حضرت بابا فرید رحمہ اللہ علیہ کی مجلس میں
حضرت اقدس بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمہ اللہ علیہ کے
وظائف لکھنے کاسلسلہ جاری ہے… درمیان میں کئی اور ضروری موضوعات آ گئے جن کی وجہ
سے یہ سلسلہ مکمل نہ ہو سکا… حضرت بابا جی رحمہ اللہ علیہ کی خاصیت یہ
ہے کہ…ان کا قرآن مجید سے تعلق بہت مضبوط اور والہانہ ہے …وہ قرآن مجید کی تلاوت
کو…سب اذکار اور معمولات سے افضل قرار دیتے تھے… اور اپنے مریدین کو… زیادہ وظیفے
قرآن مجید کی آیات کے تلقین فرماتے تھے… حضرت بابا فرید رحمہ اللہ
علیہ فرماتے ہیں:
١ جو
شخص یہ چاہے کہ اس کے اعمال مقبول ہوں تو اس کے لئے یہ آیت ہے:
{رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنْتَ
السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ وَتُبْ عَلَیْنَا إِنَّکَ أَنتَ التَّوَّابُ
الرَّحِیْمُ} [البقرۃ: ۱۲۷،۱۲۸]
٢ اگر
کوئی چاہے کہ دنیا و آخرت میں بھلائی پائے اور جہنم کی آگ سے محفوظ ر ہے تو یہ
آیت پڑھا کرے:
{رَبَّنَا اٰتِنَآ فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی
الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ
النَّارِ} [البقرۃ: ۲۰۱]
٣ اگر
بڑے بڑے کاموں میں صابر( یعنی مضبوط) رہنے کا آرزو مند ہو اور ہر معاملے میں ثابت
قدم اور دشمنوں پر ظفریاب رہنا چاہتا ہو تو یہ آیت مجرب ہے:
{رَبَّنَآ أَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنَ}[البقرۃ: ۲۵۰]
٤ اور
اگر یہ منظور ہو کہ اس کا دل ایمان اور امان کے ساتھ رہے، رحمت الہٰی اس کے شامل
حال ہو ، اور اس کا دل ایمان کی طرف سے مطمئن ہو اور وہ با ایمان دنیا سے جائے تو
یہ آیت پڑھا کرے:
{رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنَا
وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً اِنَّکَ اَنْتَ
الْوَھَّابُ} [البقرۃ:۸]
٥ جو
شخص اللہ تعالیٰ کے دوستوں میں شامل ہونا چاہے وہ یہ آیت کثرت سے پڑھے:
{رَبَّنَآ اِنَّکَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْہِ اِنَّ اللّہَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ}[البقرۃ: ۹]
٦ جب
کسی کو کوئی مہم ( مشکل، حاجت یا اہم معاملہ) درپیش ہو یا کسی کا غلام بھاگ گیا ہو
یا وہ نیک اور متقی بیٹے کی خواہش رکھتا ہو تو یہ آیت پڑھا کرے:
{رَبِّ ھَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃً
اِنَّکَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ} [اٰل عمران: ۳۸]
٧ جو
آدمی چاہے کہ اس کا حشر نیک لوگوں کے ساتھ ہو اور قیامت کے دن اس کو آسانی ہو تو
یہ آیت پڑھا کرے:
{رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلٰی رُسُلِکَ وَلَا
تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِنَّکَ لَا تُخْلِفُ
الْمِیعَادَ} [اٰل عمران: ۱۹۴]
اس آیت کی فضیلت پر حضرت بابا جی رحمہ اللہ علیہ
نے ایک واقعہ بھی لکھا ہے۔
٨ جب
کوئی شخص ظالموں کے ہاتھ سے نجات پانا چاہے تو لازم ہے کہ اس آیت کا ورد کرے۔
{رَبَّنَآ أَخْرِجْنَا مِنْ ہٰـذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ
أَہْلُہَا وَاجْعَل لَّنَا مِنْ لَّدُنکَ وَلِیًّا وَّاجْعَل لَّنَا مِنْ
لَّدُنکَ نَصِیْرًا} [النسا ء: ۷۵]
[ راحت القلوب۔ ص:۱۴۹،طبع۔ ضیاء القرآن پبلی
کیشنز۔ لاہور]
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ نے ’’کامیابی ‘‘ کو ’’ لا الٰہ الا اللہ‘‘ کے
ساتھ ’’باندھ‘‘ دیا ہے… ’’ لا الٰہ الا اللہ‘‘ ہی میں کامیابی ہے…ہر طرح کی
کامیابی… ہمیشہ کی کامیابی… ’’ لا الٰہ الا اللہ‘‘کے بغیر کوئی کامیابی نہیں… یہ
اللہ تعالیٰ کا اٹل قانون ہے… غور سے پڑھیں… اس بات کو سرسری نہ سمجھیں… جب شیطان
دل میں یہ وسوسہ ڈالے کہ تم ناکام ہو تو پڑھیں… ’’ لا الٰہ الا اللہ‘‘…دل کے یقین
کے ساتھ …ذہن کی توجہ کے ساتھ… صاف زبان سے ’’ لا الٰہ الا اللہ‘‘… شیطان بھاگ
جائے گا… کیونکہ آپ نے اعلان کر دیا کہ آپ کامیاب ہیں… ’’ لا الٰہ الا اللہ‘‘
آپ نے ثابت کر دیا کہ آپ کامیاب ہیں… ’’ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول
اللہ‘‘
اب اگلی بات بہت غور سے پڑھیں… اللہ تعالیٰ مجھے بھی اس کا
نفع عطاء فرمائے اور آپ کو بھی… وہ یہ کہ ہم ’’ لا الٰہ الا اللہ‘‘ کو ساتھ لے کر
مرے تو پھر ہماری کامیابی پکی ہو گئی… اور اگر خدانخواستہ ’’ لا الٰہ الا اللہ‘‘
کسی کے ساتھ نہ گیا تو اس کی ناکامی پکی ہو گئی… اب شیطان کی یہ بھرپور کوشش ہے کہ
وہ ہم سے ’’ لا الٰہ الا اللہ‘‘ چھین لے… تو ہماری یہ کوشش ہونی چاہیے کہ ہمارا
’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ سے رشتہ ہر دن اور مضبوط ہوتا جائے… ہم بوڑھے ہوتے جائیں مگر
ہمارا ’’کلمہ‘‘ جوان ہوتا جائے… ہم پرانے ہوتے جائیں مگر ہمارا کلمہ نیا ہوتا
جائے… ’’ لا الٰہ الا اللہ‘‘ کو ہم اپنے دل میں اتاریں… ’’ لا الٰہ الا اللہ‘‘ کو
ہم اپنی روح میں اتاریں… اور ’’ لا الٰہ الا اللہ‘‘ کے ورد کے بغیر ہمیں چین نہ
آئے۔
اب اگلی بات اور زیادہ غور سے پڑھیں… ’’ لا الٰہ الا اللہ‘‘
ہمارے دل میں اس وقت تک پکا نہیں اترے گا… جب تک ہم ان لوگوں کو کامیاب سمجھتے
رہیں گے جو ’’ لا الٰہ الا اللہ‘‘ سے محروم ہیں… یقین رکھیں کہ’’ لا الٰہ الا
اللہ‘‘ سے جو بھی محروم ہے وہ ناکام ہے… ’’محمد رسول اللہ ‘‘ سے جو بھی محروم ہے
وہ ناکام ہے…یہ بات بطور فخر کے نہیں بلکہ بطور ’’عقیدہ ‘‘ کے ہمارے دلوں میں
مضبوط ہونی چاہیے… آج ہم نے کامیابی کا مدار ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ کو سمجھنا چھوڑ
دیا ہے… ہمارے نزدیک کوئی چاند پر پہنچنے کا دعویٰ کر دے وہ کامیاب … جو اچھا
کاروبار بنا لے وہ کامیاب… جو بڑا عہدہ پا لے وہ کامیاب… جو دنیاوی معلومات زیادہ
جمع کر لے وہ کامیاب… جو بہت سا پیسہ جمع کر لے وہ کامیاب… اس کے پاس کلمہ ہو یا
نہ ہو… آج کامیابی کا مدار ’’مال ‘‘ کو سمجھ لیا گیا ہے کہ … ہر مالدار کامیاب ہے
اور ہر غریب ناکام… اَسْتَغْفِرُ اللہَ، اَسْتَغْفِرُ اللہَ
،اَسْتَغْفِرُ اللہَ … اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ…
بس یہ وہ سوچ ہے جو کلمے کو ہمارے دل میں نہیں اترنے دے رہی… اسی لئے ہم ’’
ایمان‘‘ کی حلاوت سے محروم ہیں… ہم ایمان کی مٹھاس سے محروم ہیں… ہم ایمان کی عزت
سے محروم ہیں… ہم ایمان کے اطمینان سے محروم ہیں… کلمہ طیبہ دل میں آ جائے تو دل
ایک خاص قسم کی مٹھاس پاتا ہے… ایک حلاوت پاتا ہے… دل میں اطمینان اور عزت کا
احساس آ جاتا ہے… اور دل خوش ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک خوش نصیب ہے…
مگر چونکہ ہم نے کامیابی ’’مال‘‘ ’’عہدے‘‘ اور’’ منصب ‘‘ میں سمجھ رکھی ہے… اور
کلمے کی قدر ہمارے دلوں میں نہیں ہے… تو اس لئے ہم کلمے کے فوائد سے بھی محروم ہیں
اور کلمے کی تاثیر سے بھی محروم ۔
یہ جو ہمارے ہاں ’’لبرل ‘‘ نام کا نیا فتنہ تیزی سے پھیل رہا
ہے… یہ دراصل ’’نفاق‘‘ کا فتنہ ہے…اس فتنے کا اصل مقصد ہی کلمے کی قدر کو گرانا
اور مال کی قدر کو بڑھانا ہے… اور مال چونکہ کافروں کے پاس زیادہ ہے… تو اس طرح وہ
کفر کی قدروقیمت اور عزت کو بڑھا رہے ہیں… اور یہی ’’منافقین‘‘ کا اصل مشن ہے…
اللہ تعالیٰ رحم فرمائے ’’لبرل ازم ‘‘ کا یہ فتنہ کئی نام نہاد علماء میں بھی داخل
ہوتا چلا جا رہا ہے… چنانچہ وہ کلمہ پڑھنے والوں کو یہ سبق پڑھا رہے ہیں کہ مال
بناؤ تاکہ کلمے والوں کی عزت ہو …اَسْتَغْفِرُ اللہَ … کیسا ظالمانہ اورفاجرانہ
نظریہ ہے کہ… عزت کلمے میں نہیں، مال میں ہے… اور کلمے والوں کو بھی اگر عزت چاہیے
تو وہ مال حاصل کریں… حالانکہ اسلام نے دنیا میں آ کر یہ اعلان فرمایا کہ… عزت
صرف ایمان میں ہے،کلمے میں ہے… دنیا کے مالدار لوگ بھی اگر عزت چاہتے ہیں تو کلمہ
پڑھ لیں… اگر وہ کلمہ نہیں پڑھیں گے تو وہ ذلیل و خوار ہیں… اور ان کے جان و مال
کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے… اور ان سے قتال کیا جائے گا… وہ اگر اپنے جان و مال
کو قیمتی بنانا چاہتے ہیں تو وہ… یا تو کلمہ پڑھ لیں یا کلمہ پڑھنے والوں کی پناہ
اور غلامی میں آ جائیں… ان دو صورتوں کے علاوہ ان کے لئے کوئی عزت نہیں ، کوئی
حرمت نہیں کوئی قدر نہیں … یہ ہے اسلام کی اصل دعوت… اور یہی سچی دعوت ہے… اور یہی
حقیقت ہے… آج اگر دنیاکے کفر نے چار دن کے لئے کچھ طاقت بنا لی ہےاور کچھ چمک دمک
حاصل کر لی ہے تواس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ کامیاب ہو گئے ہیں… یا وہ ہمیشہ اسی
حالت میں رہیں گے… ایسا ہرگز نہیں… بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر ساری دنیا پر کافروں
کا قبضہ ہو جائے… اور ساری دنیا کا مال اُن کے ہاتھ لگ جائے… اور اُن میں سے ہر
شخص ہوا میں اُڑتا پھرے اور پانی پر چلے اور فضاؤں میں گھومے… اُن کے مکانات سونے
کےا ور اُن کی سڑکیں چاندی کی بن جائیں… اور اُن میں سے ہر شخص اربوں پتی ہو جائے
تب بھی وہ ناکام ہیں… اور اس وقت اگر دنیا میں صرف ایک دو مسلمان باقی ہوں… اور
اُن کے پاؤں میں جوتے تک نہ ہوں تو وہ بلاشبہ ، بلاشبہ کامیاب ہیں… وجہ یہ ہے کہ
کامیابی ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ میں ہے…یہ اللہ تعالیٰ کا اٹل قانون
ہے… پس جس کے پاس ’’ لا الٰہ الا اللہ‘‘ ہو گا وہی کامیاب ہے… اور جس کے پاس ’’ لا
الٰہ الا اللہ‘‘ نہیں ہو گا وہ ہر حال میں ناکام ہے… یہ بات دنیا میں کوئی مانے یا
نہ مانے… مگر اللہ تعالیٰ نے موت کا پکا نظام قائم فرما دیا ہے…چنانچہ ہر حکمران،
ہر جابر، ہر ظالم ، ہر پھنے خان، ہر فقیر ، ہر غریب نے ضرور مرنا ہے… اور پھر اللہ
تعالیٰ نے ’’یوم الدین‘‘ قائم فرما دیا ہے… انصاف کا دن… اس دن حقیقی انصاف ملے
گا…ا ور اس انصاف کے مطابق کلمے والے کامیاب اور بغیر کلمے والے ناکام ہوں گے… اگر
کوئی اس کا انکار کرتا ہے تو وہ موت کے نظام سے بچ کر دکھا دے… اور جو ان باتوں پر
بغیر دیکھے یقین رکھتے ہیں… نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتے ہوئے،
قرآن کو مانتے ہوئے،وہی ایمان والے ہیں۔
خلاصہ اس پوری بات کا یہ ہوا کہ ہم نے دو محنتیں کرنی ہیں…
پہلی یہ کہ کلمہ ہمارے دل میںاتر جائے… کلمے کی عزت اور قدر ہمارے دل میں راسخ ہو
جائے… اور دوسری یہ کہ… ہمارا یہ مضبوط عقیدہ بن جائے کہ کلمہ طیبہ ’’لا الہ الا
اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ کے بغیر کوئی کامیاب نہیں… خواہ وہ دنیا میں جو کچھ بھی پا
لے… اور ہمیں ’’ لا الٰہ الا اللہ‘‘کی خاطر قتال کرنا ہے… تاکہ لوگ ’’لا الٰہ الا
اللہ‘‘ کا اقرار کریں… یا ’’ لا الٰہ الا اللہ‘‘ کے سائے اورپناہ میں آجائیں… اور
اس زمانے کا خطرناک فتنہ… خود کو ’’لبرل ‘‘ کہنا، لبرل بنانا اور لبرلز کی صفوں
میں شامل کرنا ہے… مسلمان کبھی ’’لبرل‘‘ نہیں ہوتا… وہ فرمانبردار ہوتا ہے… وہ
پابند ہوتا ہے… وہ ’’حدود اللہ ‘‘ کے درمیان رہتا ہے …وہ دنیا میں ایک پابند قیدی
کی زندگی گزارتا ہے… اللہ تعالیٰ کے احکامات اور حدود سے آزادی کسی جانور کو بھی
زیب نہیں دیتی چہ جائیکہ انسان خود کو ’’لبرل ‘‘کہہ کرخوش ہوتا رہے …یہ خود
کو’’لبرل‘‘کہنے والےدراصل اپنے نفس، اپنی شہوات اور اپنی خواہشات کے بری طرح غلام
اور پابند ہوتے ہیں… جبکہ مؤمن کلمہ طیبہ کی عرش تک پھیلی ہوئی سلطنت میں سیر
کرتا ہے… اس کی پابندی ان بدبختوں کی آزادی سے زیادہ مزیدارہے… آج کل پاکستان کے
’’لبرلز‘‘کوچاہیے کہ فوراًامریکہ جائیں…وہاں ’’کیلیفورنیا‘‘ میں آگ بھڑک رہی ہے…
امریکہ،جس کی ٹیکنالوجی کے حوالے دے کر یہ مسلمانوں کو گالیاں بکتے رہتے ہیں… وہ
کئی دن کی سرتوڑ کوشش کے باوجود… ایک معمولی سی آگ کو ابھی تک نہیں بجھا سکا:
{ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ خ مَا
قَدَرُوا اللہَ حَقَّ قَدْرِہٖ}
[الحج:۷۳،۷۴]
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ سے معافی اور عافیت کا سوال ہے … کیا ہم اپنی’’
نماز‘‘ توجہ سے ادا کرتے ہیں؟ربیع الاول میں سیرت مبارکہ کے تمام پہلو بیان کیوں
نہیں ہوتے؟صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم ’’ ٹوئٹرجنگ ‘‘ اصل جواب کیا بنتا ہے؟ آج ان
تین معاملات پر مختصر تحریر کا ارادہ ہے… اللہ تعالیٰ شرح صدر فرمائے، آسان
بنائے…{رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ وَیَسِّرْلِیْ اَمْرِیْ}
نماز میں توجہ کا ایک طریقہ
سب سے پہلے مجھے اور آپ کو ہمیشہ اس بات کی فکر کرنی چاہیے
کہ ہماری نماز ٹھیک ہو جائے…اچھی ہو جائے…جاندار ہو جائے…توجہ والی ہو جائے… اور
مقبول ہو جائے…نماز ہماری زندگی کا سب سے اہم کام ہے … نماز ہماری سب سے بڑی ضرورت
ہے…نماز ہمارا سب سے ضروری فرض ہے… نماز ٹھیک تو سب کچھ ٹھیک… نماز خراب تو سب کچھ
خراب… نماز کے بغیر ایمان کا وجود خطرے میں رہتا ہے…نماز ہماری دنیا بھی ہے اور
ہماری آخرت بھی… اور نماز تب نماز ہوتی ہے جب اس میں اللہ تعالیٰ کی یاد ہو… اللہ
تعالیٰ کے سامنے خشوع اور عاجزی ہو… اللہ تعالیٰ کے ساتھ مناجات ہو… اللہ تعالیٰ
کی طرف توجہ ہو… ان چیزوں کے بغیر نماز بے جان ہوتی ہے… فرض تو ادا ہو جاتا ہے مگر
فوائد نہیں ملتے… دل نہیں بنتا… نور پیدا نہیں ہوتا… اچھی نماز ادا کرنے والے کو
کبھی دنیا میں رزق کی کمی نہیں آتی… اور وہ کبھی صراط مستقیم سے نہیں بھٹکتا…نماز
’’معراج ‘‘ کا تحفہ ہے اور معراج نام ہے ملاقات کا… اللہ تعالیٰ سے ’’ملاقات‘‘…
اللہ تعالیٰ سے باتیں… اللہ تعالیٰ سے مناجات… ایک مسلمان جتنی نماز توجہ سے پڑھتا
ہے بس وہی اس کے نامہ اعمال میں لکھی جاتی ہے… یہ بات سچی ہے اور ہم سب کو خوفزدہ
کرنے والی ہے… چنانچہ اسی بات کو سامنے رکھ کر کہ بے توجہی سے ادا کی جانے والی
نماز نامہ اعمال میں نہیں لکھی جاتی بہت سے افراد طرح طرح کی گمراہیوں میں پڑ گئے…
ایک فرقے نے یہ اعلان کر دیا کہ ہم اپنی نماز اپنی زبان میں ادا کریں گے… تاکہ
ہمیں توجہ حاصل ہو… وہ اردو، انگریزی وغیرہ میں نماز پڑھتے ہیں… ایسے افراد کی
نماز سرے سے ہوتی ہی نہیں اور نہ ہی ان کا فرض ادا ہوتا ہے…ایک فرقے نے یہ طریقہ
اپنایا کہ وہ نماز کے وقت کسی جگہ بیٹھ کر… تھوڑی دیر مکمل توجہ سے اللہ تعالیٰ کا
ذکر کرتے ہیں… وہ کہتے ہیں کہ نماز کا مقصد اللہ تعالیٰ کی یاد ہے… ہم نے مقصد
حاصل کر لیا… یہ لوگ بھی غلطی اور گمراہی پر ہیں… انہوں نے نماز کا اصل مقصد ہی
نہیں سمجھا، چنانچہ وہ اسلام کے اہم ترین فریضے سے محروم ہو گئے… پھر آخر کیا کیا
جائے؟… بے توجہی سے ادا کی گئی نماز نامۂ اعمال میں لکھی نہیں جاتی… اور ہمیشہ
توجہ سے نماز ادا کرنا ہمارے لئے بہت مشکل ہے تو پھر آخر کیا کریں؟۔
آج اسی بارے میں کچھ باتیں اپنے لئے اور آپ کے لئے عرض کرنی
ہیں… نماز میں توجہ حاصل کرنے کے لئے ہمیںکچھ کام کرنے ہوں گے…کچھ طریقے اپنانے
ہوں گے…اُن طریقوں میں سے پہلا اور سب سے اہم طریقہ یہ ہے کہ… ہمیں پوری زندگی کے
لئے یہ فکر اپنانی ہو گی کہ ہماری نماز توجہ والی بن جائے…ہم کبھی اس فکر سے غافل
نہ ہوں… اور آپ جانتے ہیں کہ انسان جس چیز کو اپنی فکر بنا لے وہ اسے اللہ تعالیٰ
کے فضل سے ضرور پالیتا ہے…اللہ تعالیٰ نے انسان کے دل کو بہت طاقت عطاء فرمائی ہے…
انسان کا دل جس چیز کے پیچھے لگ جائے اسے اکثر حاصل کر لیتا ہے… چنانچہ ہم توجہ
والی’’ نماز‘‘ کو اپنی مستقل فکر بنا لیں…ہم کھانے اور علاج کی طرح اس کے بارے میں
سوچا کریں … اور اسے پانے کو اپنی اہم ضرورت سمجھیں… تب ہم پر اس کے راستے کھلتے
چلے جائیں گے، ان شاء اللہ۔
ربیع الاول اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم
ایک مسلمان کو سال کے بارہ مہینے اور ہر مہینے کے تمام دنوں
میں اپنے آقا حضرت محمدمدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جڑا رہنا
چاہیے… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات ہم پر
ہر گھڑی اور ہر لمحہ برستے رہتے ہیں… ہمارے پاس جو بھی ’’خیر‘‘ ہے وہ ہمیں حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے ملی ہے… اس لئے
ہمارے نزدیک ہر دن میلاد ہے… اور ہر دن حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سے
تجدید محبت کا زمانہ ہے… چنانچہ ہم ’’ربیع الاول‘‘ میں ان خاص رسومات کو نہیں
مناتے جو کئی لوگوں نے جوش محبت یا کم علمی کی وجہ سے شروع کر رکھی ہیں… مگر چونکہ
اس مہینے میں ذکر حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا عمومی ماحول
بن جاتا ہے تو… اس مناسبت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی
سیرت مبارکہ کو زیادہ اہتمام سے بیان کیا جاتا ہے … اور مسلمانوں کو اطاعت رسول ،
اتباع رسول ، عشق رسول اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی
دعوت دی جاتی ہے… آج چونکہ مسلمان دنیا بھر میں مغلوب ہیںاس لئے وہ اپنے فاتح اور
شجاعت کے پیکرنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ کے تمام
پہلو بیان نہیں کرتے… بلکہ اپنے ماحول اور حالات کے پیش نظر سیرت مبارکہ کو بیان
کرتے ہیں… حالانکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے … آج ہمیں اور ہر مسلمان کوحضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک غزوات کی تفصیل معلوم
ہونی چاہیے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے گئے سرایا کا علم ہونا
چاہیے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلواروں کے نام یاد ہونے چاہئیں… آپ صلی اللہ
علیہ وسلم کے گھوڑوں کا علم ہونا چاہیے… آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کے جسم مبارک پر لگنے والے جہادی زخموں کی پہچان ہونی چاہیے… اہل
دل اس سلسلے میں خصوصی محنت فرمائیں۔
نماز میں توجہ کا ایک اہم طریقہ
ہم روزانہ جس طرح اللہ تعالیٰ سے رزق مانگتے ہیں…صحت مانگتے
ہیں… عافیت مانگتے ہیں…اپنی اولاد کی اصلاح مانگتے ہیں… اپنی حفاظت مانگتے ہیں…اسی
طرح ہم روزانہ کئی کئی باریہ دعاء مانگا کریں کہ… یا اللہ! میری نمازوں کو ٹھیک
فرما دیں…مجھے توجہ والی، قبولیت والی اور خشوع والی نماز مستقل نصیب فرما دیں:
(۱) اَللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ
عِبَادَتِکَ
(۲) اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُوْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ
ہُمْ فِیْ صَلٰوتِھِمْ خَاشِعُوْنَ
(۳) رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوۃِ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ
رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ
اور اسی طرح کی اور دعائیں… آپ ایک تاجر سے پوچھیں کہ جب اسے
اپنی تجارت میں مسلسل خسارہ ہو رہا ہو تو وہ کس طرح سے اس خسارے سے بچنے کی دعاء
مانگتا ہے… آپ کسی بیمار سے پوچھیں کہ جب اس کی بیماری بڑھتی جا رہی ہو تو وہ کس
طرح سے صحت کی دعاء مانگتا ہے… آپ کسی غیرتمند مقروض سے پوچھیں کہ وہ کس طرح سے
قرض ادا کرنے کی دعاء مانگتا ہے…بھائیو اور بہنو! نمازوں کا جاندار ہونا ہمارے لئے
صحت، نفع اور حفاظت سے زیادہ ضروری ہے… اس لئے ہم اس کی فکر کریں… اور نہایت آہ و
زاری کے ساتھ اس کی دعاء مانگا کریں…بے شک دعاء بند دروازوں کو کھول دیتی ہے۔
چوہدری اور میراثی
انگریزوں نے مسلمانوں پر جن سانپوں کو مسلط کیا ہے… اُن میں
سے ایک سانپ ’’ظالم و فاسق جاگیردار ‘‘ ہیں… تفصیل پڑھنی ہو تو بندہ کی کتاب
’’آزادی مکمل یا ادھوری ‘‘ میں ملاحظہ فرما لیں… یہ ’’جاگیردار‘‘ کسی جگہ چوہدری،
کسی جگہ خان، کسی جگہ وڈیرے وغیرہ کہلاتے ہیں… ان جاگیرداروں کے کچھ میراثی نوکر
ہوتے ہیں جو جاگیردار کے حکم پر ہر اچھا برا کام بجا لاتے ہیں… کبھی کوئی جاگیردار
اپنے میراثی سے ناراض ہو کر اسے طعنہ دیتا ہے کہ میں نے تمہیں اتنی گندم دی،اتنے
کپڑے دئیے مگر تم نے میرا کوئی کام نہیں کیا… تب وہ میراثی اپنی صفائی میں اپنا ہر
جرم اور ہر گناہ یوں کھول کھول کر بیان کرتا ہے کہ شیطان بھی شرما جاتا ہے… امریکہ
کے حکم اور دھمکی پرپاکستان کا میراثی ’’پرویز مشرف‘‘ گھٹنوں کے بل گرا… پڑوس میں
قائم ایک اسلامی سلطنت کو برباد کرنے کے لئے اس نے پاکستان کے زمینی اور فضائی راستے
امریکہ کو فراہم کئے… پاکستانی حکومت کے اس تعاون کے ذریعے ہزاروں افغان بچے شہید
ہوئے… لاکھوں مسلمان بے گھر ہوئے …ہزاروں افراد کے جسموں کے ٹکڑے اُڑے … اور پر
امن پاکستان بھی بد امنی کی آگ میں جلنے لگا… آج ریاست ، ریاست کی رٹ لگانے والے
بعض علماء کیا اپنے حالیہ نظرئیے کے تحت پرویز مشرف کے ان گناہوں کو
اپنے سر لینے پر تیار ہیں؟… بہرحال پرویز مشرف کے ایک حرام فیصلے نے لاکھوں
مسلمانوں کو خون میں نہلا دیا… مگر امریکہ اب تک خوش اور راضی نہیں ہے… وہ
جاگیردار چوہدری کی طرح ناراضی کا اظہار کرتا ہے تو… پاکستانی حکمران میراثیوں کی
طرح اپنے شرمناک جرائم اور گناہ بیان کرنے لگتے ہیں کہ… ہم نے تو فلاں تعاون بھی
کیا…فلاں بھی کیا…یہ عجیب شرمناک صورتحال ہوتی ہے… چوہدری کی دھمکیاں سن کر بھی
شرم آتی ہے…اور میراثیوں کی وضاحتیں تو پاکستان کے مسلمانوں کو شرم میں ڈبو دیتی
ہیں …امریکہ کا تعاون کر کے اپنے مسلمان بھائیوں کا قتل عام کون سا نیک کام تھا کہ
اسے بطور صفائی کے پیش کیا جاتا ہے؟…الحمدللہ اس بار ٹرمپ کے بیانات کا کافی مضبوط
جواب گیا ہے مگر اصل جواب یہ بنتا ہے کہ… ہم نے واقعی تمہارا تعاون کر کے بہت بڑا
جرم اور بہت عظیم گناہ کیا ہے… اور اب ہم سے ایسے مزید ذلت ناک اقدامات کی تم ہرگز
امید نہ رکھو۔
نماز میں خشوع کا ایک اہم طریقہ
نماز جنت کی کنجی ہے… مگر نماز کی کنجی اور چابی کیا ہے؟
…نماز کی چابی ’’طہارت‘‘ ہے… بغیر طہارت کے نماز نہیں ہوتی… اس سے واضح اشارہ مل
گیا کہ ’’طہارت‘‘ جس قدر مضبوط اور اچھی ہو گی نماز بھی اسی قدر ہم پر کھلے گی…
اہل دل فرماتے ہیں کہ… انسان کا صاف اور پاک لباس بھی نماز میں اس کا ساتھ دیتا ہے
اور ذکر کرتا ہے… آپ تجربہ بھی کر لیں کہ کپڑے اگر صاف ہوں تو نماز میں دل لگتا
ہے …اور اگر میلے کچیلے ہوں تو نماز میں توجہ نہیں رہتی… آج کل پاکی اور طہارت کا
زیادہ خیال نہیں رکھا جاتا… خواتین واشنگ مشینوں میں کپڑے دھوتی ہیں… جس میں سارے
پاک اور ناپاک کپڑے خلط ہو جاتے ہیں… گھروں میں قالینیں بچھی ہیں… جو ناپاک ہو
جائیں تو پتا بھی نہیں چلتا اور پھر اُن پر گیلے پاؤں چلنے سے پاؤں بھی ناپاک ہو
جاتے ہیں… آج کل اکثر گھروں میں جو جادو وغیرہ کے مسئلے ہیں … اُن کے پیچھے اہم
سبب دو ہیں ایک ناپاکی اور دوسرا قرآن مجید اور دینی اوراق کی بے حرمتی…پھر وضو
بھی اہتمام اور توجہ سے عبادت سمجھ کر نہیں کیا جاتا… جب طہارت کا یہ حال ہے تو
نماز کیسے کھلے گی؟ نماز کیسے ٹھیک ہو گی؟…طہارت کا نظام مضبوط کریں… چابی ٹھیک ہو
گی تو تالا ضرور کھلے گا… جسم اور کپڑے پاک اور صاف رکھیں…یعنی طہارت بھی ہو اور
نظافت بھی… وضو اہتمام کے ساتھ سنت کے مطابق کریں… اس سے ان شاء اللہ ہماری نمازوں
کا حال بہت بہتر ہو جائے گا۔
ربیع الاول اور اتباع سنت
اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم سے اپنے عشق اور تعلق کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں تو اس کا طریقہ نہ
قمقمے جلانا ہے اورنہ مسجد نبوی شریف کے نقلی گنبد بنانا… ہم حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو اپنا لیں اور دین
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر ہر قربانی کے لئے خود کو
تیار کر لیں… یہ چیز ہمیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کر دے
گی… وہ مسلمان جو داڑھی کی نعمت سے محروم ہیں وہ ربیع الاول میں پکی نیت کر کے
اپنے چہرے کو اس سنت کا حسن عطاء کریں…یاد رکھیں ! اس وقت ایک سازش کے تحت داڑھی
بھی فیشن بنتی جا رہی ہے…اس وقت سے پہلے کہ جب دنیا کے سارے لوفر اور کمینے اس
فیشن کو اپنا لیں آپ خالص سنت کی نیت سے داڑھی رکھ لیں… اور ایک عظیم گناہ سے بچ
جائیں…اسی طرح ہم حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے
درود و سلام پڑھنے کو بھی اپنا مستقل عمل بنا لیں۔
ہائے ٹرمپ بے چارہ
دنیا کے ناکام ترین، بدنام ترین انسانوں میں سے ایک… صدر
ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان کے مسئلے پر سخت پریشانی اور ڈپریشن کا شکار ہے… وہ پیسے
گننے کا عادی ہے… صبح سے شام تک پیسے گنتا ہے… اور پیسوں کے لئے مرتا جیتا ہے…
پیسوں کی خاطر اس نے کئی دوستوں کو دشمن بنا لیا ہے… کئی بڑے بڑے ٹیکس دنیا کے
ملکوں پر لگا دئیے ہیں… سالہا سال سے جاری کئی فنڈ اور امدادی اسکیمیں بند کر دی
ہیں… مگر جب وہ افغانستان کی طرف دیکھتا ہے تو اس کا دل چیخیں مارتا ہے… روزانہ
اتنا خرچہ؟ آخر کس وجہ سے؟ … وہ افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے مگر اشرف غنی جیسے
اثاثوں کا کیا کرے؟… وہ قدموں میں گر جاتے ہیں کہ آپ نہ جائیں… لیکن اب ٹرمپ کی
قوت برداشت جواب دے رہی ہے … بس اسی پریشانی میں وہ اپنا غصہ پاکستان پر نکالتا ہے
کہ پاکستان نے ہمیں یہ جنگ ہرا دی… اہل پاکستان کو ٹرمپ کی دھمکیوں سے پریشان نہیں
ہونا چاہیے… اور نہ ہی ہمارے حکمرانوں کو ٹرمپ کی باتوں سے خوفزدہ ہونا
چاہیے…افغانستان کے طالبان اٹھارہ سال کی جنگ سہہ کر بھی سینہ تانے کھڑے ہیں …پھر
پاکستان کو گھبرانے اور دبنے کی کیا ضرورت ہے… اور اس کا کیا جواز ہے۔؟
نماز میں توجہ کا ایک اہم طریقہ
ایک اہم نکتہ یاد رکھیں… ہر مسلمان کو الحمد للہ نماز میں
اللہ تعالیٰ کا ذکر نصیب ہوتا ہے… ہم نماز کے وقت دوسرے کام چھوڑ کر طہارت اور وضو
کے لئے اُٹھتے ہیں…یہ بھی اللہ تعالیٰ کی یاد اور ذکر ہے… پھر ہم نماز کے لئے کھڑے
ہوئے… یہ بھی اللہ تعالیٰ کی یاد ہے… چونکہ نماز کا ہر عمل ہم اللہ تعالیٰ کا حکم
پورا کرنے کے لئے کرتے ہیں … اس لئے یہ سب کچھ ذکر میں آتا ہے…چنانچہ توجہ نہ
ہونے کی وجہ سے نماز چھوڑنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے… ہم ہرحال میں نماز ادا کرتے
رہیں… اور کبھی بھی نماز نہ چھوڑیں… توجہ ہو یا نہ ہو… فرض ادا کرنا ہے… البتہ
نماز میں خشوع اور توجہ بھی ایک ضروری اور اہم نعمت ہے تو… ہم اسے حاصل کرنے کی
فکر، دعاء اور کوشش ہمیشہ کرتے رہیں… اس کا ایک اہم طریقہ یہ ہے کہ ہم نماز میں
پڑھی جانے والی ہر چیز کا مکمل ترجمہ اچھی طرح سمجھ کر یاد کریں… اَللہُ اَکْبَرُ
کا مطلب… اَلْحَمْدُ کا معنٰی… سُبْحَانَ رَبِّی کا مطلب… پھر ہم نماز میں جو کچھ
پڑھیں اسے چبا چبا کر ، رک رک کر پڑھیں… اور ترجمہ ذہن میں رکھیں… اس سے ان شاء
اللہ ہمیں کافی توجہ نصیب ہو جائے گی۔
نماز میں توجہ کے لئے اور بھی کئی طریقے اور کام ہیں… کبھی
موقع ملا تو عرض کر دئیے جائیں گے ان شاء اللہ… آج آپ میرے لئے دعاء کریں کہ
مجھے نماز میں خشوع اور توجہ ہمیشہ کے لئے نصیب ہو جائے میں بھی آپ کے لئے دعاء
کروں گا، ان شاء اللہ
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ’’اُمت مسلمہ ‘‘ کو’’ بابری مسجد شریف‘‘ واپس
عطاء فرمائے… وہ عظیم ’’بابری مسجد‘‘ جو ہمارے ’’بزدلی‘‘ کے کبیرہ گناہ کی وجہ سے
ہم سے چھین لی گئی… اس پر ایک عارضی مندر قائم کر دیا گیا… اور آج کل وہاں مشرکوں
کامشتعل مجمع اکٹھا ہے… وہ ’’رام مندر ‘‘ کی تعمیر کا مطالبہ کر رہے ہیں…اُن کے
ہاتھوں میں تلواریں اور ترشول ہیں… جبکہ مسلمان سہمے سہمے خوفزدہ ہیں… بابری مسجد
پھر پکار رہی ہے… اُمت مسلمہ کے لئے امتحان کی گھڑی ہے… یا اللہ! جان حاضر ہے…
یااللہ! سب کچھ حاضر ہے …بابری مسجد واپس عطاء فرما دیجئے… اُمت مسلمہ کی آبرو
لوٹا دیجئے… اُمت کے اجتماعی گناہ بھی معاف فرما دیجئے… انفرادی گناہ بھی معاف
فرما دیجئے… رام مندر کی تعمیر روک دیجئے… اور اپنے شیروں کو راستہ دے دیجئے… وہ
آپ کو اپنی محبت اور وفاداری دکھانے کے لئے بے تاب ہیں … بابری مسجد کے مقام پر
تکبیر کے نعرے… اللہ اکبر، اللہ اکبر… اڑتا خون… جھاگ مارتے زخم…عشق کی خوشبو میں
رچے بسے جسم اور جان کے ٹکڑے…شرک اور مشرکین کی شکست… ایمان اور توحید کی جیت… یا
رب! ایک دو نہیں،ہزاروں حاضر ہیں… تیار ہیں… جذبات سے کانپ رہے ہیں… غصے سے بپھرے
ہوئے ہیں کہ… بابری مسجد کو واپس لانا ہے… ماں کے سر کا آنچل بچانا ہے… سجدہ گاہ
کو شرک کی جگہ نہیں بننے دینا… اے بدر میں نصرت اُتارنے والے رب! اب ذرا اپنے آج
کے دیوانوں کو بھی راستہ دے… پھر ان شاء اللہ زرد رنگ کی دہشت سرخ رنگ کے طوفان
میں غرق ہو جائے گی… تب ’’ٹھاکرے‘‘ ٹھوکروں پر ہو گا… ’’مودی ‘‘ مکڑی کے جالے کی
طرح ’’بودی ‘‘ ہو جائے گا… ان شاء اللہ، ان شاء اللہ… بھارتی دہشت گردو! بس اتنا
یاد رکھنا… ہم بابری مسجد پر پوری نظر رکھے بیٹھے ہیں… ہم ناجائز ’’رام مندر‘‘ کو
روکنے کی مکمل فکر رکھتے ہیں… تم تو سرکاری اختیارات اور پیسہ خرچ کرنا جانتے ہو…
ہم اس معاملے پر خود خرچ ہونے کو تیار ہیں… ان شاء اللہ۔
کچھ ہوش کرو
اُدھر ہندوؤں کا مجمع ایودھیا میں جمع ہو کر بابری مسجد کا
قصہ ہی ختم کرنا چاہ رہا ہے… جبکہ اِدھر ہمارے ملک میں انڈیا کی چاپلوسی کا مکروہ
عمل نواز شریف کے بعد بھی جاری ہے … اے حکمرانو! کچھ تو شرم کرو…کچھ تو ہوش میں
آؤ… کرتارپور کی راہداری کھولی جا رہی ہے… اس کی افتتاحی تقریب کے لئے سشما
سوراج… اور امریندر سنگھ کی منتیں اور ترلے کئے جا رہے ہیں کہ…وہ اپنے منحوس اور
ناپاک قدم ہماری سرزمین پر رکھیں… جبکہ وہ تکبر کے گھوڑے پر سوار ہیں اور تقریب
میں اپنے دو چھوٹے وزیر بھیج رہے ہیں… اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر بھی… ہمارے
حکمرانوں نے بھارتی وزیر خارجہ سے ملاقات کی درخواست کی جو اس نے مسترد کر دی… مگر
ان کو پھر بھی غیرت نہ آئی… اب دوبارہ اس کے قدموں میں درخواست ڈال بیٹھے… جو اس
نے حقارت سے ٹھکرا دی… ہائے کاش! یہ کچھ غیرت کھاتے اور اپنی قوم کو اس قدر ذلیل
نہ کراتے… ایودھیا میں ہندوؤں کے مشتعل ہجوم کو دیکھ کر یہ راہداری والی تقریب
ملتوی کر دیتے… ساری دنیا دیکھ رہی تھی کہ بال ٹھاکرے کا پوت’’ اَدھو ٹھاکرے‘‘
ایودھیا میں کس طرح تلواریں لہرا رہا ہے… مگر وہاں کی حکومت نے نہ اس کو گرفتار
کیا اور نہ حفاظتی تحویل میں گم کیا… جبکہ ہمارے حکمران ہر وقت پاکستان کے دینی
طبقے کے پیچھے پڑے رہتے ہیں…انہوں نے ایک معذور اور بزرگ عالم دین کو اُٹھا کر جیل
میں ڈال دیا … آخر کیوں؟… علامہ خادم رضوی نے نہ کوئی تلوار لہرائی تھی اور نہ
بھارت کے ہندوؤں کی طرح اقلیتوں کے قتل عام کی دھمکی دی تھی۔
پاکستان کے حکمران اچھی طرح سن لیں… بابری مسجد کا مسئلہ ساری
امت مسلمہ کا اجتماعی مسئلہ ہے… وہ جن کو مسلمانوں کا لیڈر بننے کا شوق ہے وہ اس
وقت اپنی ذمہ داری ادا کریں… اور بھارت کو صاف صاف بتائیں کہ بابری مسجد کی جگہ
رام مندر کی تعمیر برداشت نہیں کی جائے گی… پاکستان کے حکمران یہ بھی یاد رکھیں
کہ… اگر بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر ہوئی تو پورا برصغیر… دہلی سے کابل
تک… بد امنی کی ایک ایسی کالی آندھی میں گھرجائے گا جو بہت دور دور تک تباہی
پھیلا دے گی۔
ہمیں کوئی شکوہ نہیں
ایودھیا میں قاتل ہندو کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں… ان
بندروں کے منہ کو انسانی خون لگ چکا ہے… یہ بمبئی سے ہاشم پورہ تک اور میوات سے
گجرات تک ہزاروں مسلمانوں کو شہید کر چکے ہیں… ہندوستان میں اب تک ہزاروں مسلم کش
فسادات ہو چکے ہیں … اور جب سے قاتل مودی آیا ہے تب سے مسلمانوں پر مظالم کا
سلسلہ مزید بڑھ گیا ہے … ہمیں امریکہ اور یورپ سے کوئی شکوہ نہیں ہے کہ وہ ان
حالات کا نوٹس کیوں نہیں لیتے… ہم یہ شکایت بھی نہیں کرتے کہ… وہ جنہیں چار مسلمان
علماء اکٹھے برداشت نہیں ہوتے آج وہ لاکھوں ہندوؤں کو مسلح دیکھ کر بھی کیوں
خاموش ہیں… ہم انٹرنیشنل میڈیا سے بھی کوئی شکوہ نہیں کرتے کہ… وہ صرف مسلمانوں کو
ہی دہشت گرد کیوں کہتا ہے… کیا اسے ایودھیا اور ہاشم پورہ کے مناظر نظر نہیں
آتے؟…ہم یورپی یونین سے بھی یہ سوال نہیں کرتے کہ… ایک عاصیہ ملعونہ کی خاطر زمین
آسمان ایک کرنے والے آج لاکھوں مسلمانوں کے تحفظ کے لئے آواز کیوں نہیں اٹھا
رہے… جبکہ اس وقت لکھنؤ، فیض آباد اور پورے اُترپردیش کے مسلمان خوف کے سائے میں
زندگی گزار رہے ہیں …ہمیں امریکہ سے کوئی شکوہ نہیں…یورپی یونین سے بھی نہیں…
عالمی نشریاتی اداروں سے بھی نہیں… کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ سب دین
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پکے دشمن ہیں…یہ حضرت آقا مدنی
صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن ہیں… ہم دشمنوں سے ہمدردی اور تعاون کی
بھیک اور خیرات نہیں مانگتے … بس افسوس صرف اتنا ہے کہ خود کو مسلمان کہلوانے والے
حکمران، فوجیں اور اہل اختیار… آخر کب تک ذلت اور غلامی کو مسلمانوں پر مسلط کرتے
رہیں گے…مسلمان الحمد للہ ایک ناقابل شکست امت ہیں…وہ اپنے سارے مسئلے خود حل کرنے
کی طاقت رکھتے ہیں… ان میں الحمد للہ کسی بھی چیز کی کمی نہیں ہے … مگر ہمارے
ارباب اختیار مکمل طور پر ذہنی غلامی کا شکار ہیں…وہ نہ تو خود مسلمانوں کے مسائل
حل کرتے ہیں… اور نہ مسلمانوں کو آگے بڑھ کر اپنے مسائل حل کرنے دیتے ہیں۔
عاصیہ ملعونہ کی قانونی وکالت کرنے والےبابری مسجد کی قانونی
وکالت کیوں نہیں کرتے؟…عاصیہ کے لئے دو عدالتوں سے سزائے موت اور ایک سے بری ہونے
کا فیصلہ ہے… جبکہ بابری مسجد چھ سو سال تک مسلمانوں کو اذان سناتی رہی …چھ سو سال
تک کسی کو یاد نہ آیا کہ وہ رام کی جائے پیدائش پر بنی ہوئی ہے … مگر جب ہندوؤں
کو اقتدار ملا تو وہ تاریخ بھی اپنی مرضی کی بنانے لگے… ہائے کاش! مسلمانوں کو بھی
ایک ایسا مسلمان حکمران مل جائے جو اسلام کے لئے مرتا جیتا ہو… ہندوؤں کو’’
مودی‘‘ … عیسائیوں کو’’ ٹرمپ‘‘ اور یہودیوں کو’’ بن یامین نیتن یاہو‘‘ مل گيا…ہائے
کاش!…ہائے کاش!مسلمانوں کو بھی کوئی مخلص مسلمان حکمران مل جائے… خیر یہ تو ایک
ضمنی بات تھی… اصل یہ عرض کرنا ہے کہ ہم نے اپنے مسائل کے لئے غیروں سے بھیک نہیں
مانگنی … امت مسلمہ خود بابری مسجد کے مسئلے کے حل کے لئے کھڑی ہو… تیار ہو… اور آگے
بڑھے۔
دور دور تک اثر پڑے گا
’’بابری مسجد شریف‘‘ کی جگہ اگر باقاعدہ رام مندر تعمیر کیا
گیا تو مسلمان اسے برداشت نہیں کریں گے…سب سے زیادہ خوفناک رد عمل برصغیر میں ہو
گا، ان شاء اللہ… افغانستان کے غیور اور بہادر مسلمان… کابل اور جلال آباد وغیرہ
میں موجود بھارتی مراکز کو تہس نہس کر دیں گے … خود ہندوستان کے مسلمان بھی اپنے
مصلحت پسند لیڈروں سے آزاد ہو کر ان شاء اللہ باہر نکلیں گے… اور پاکستان میں بھی
حکومت اس ردعمل کو نہیں روک سکے گی…’’ مودی‘‘ پر اس وقت 2019 کے الیکشن کا خوف
سوار ہے …ہندوستان میں علاقائی پارٹیاں کافی زور پکڑ چکی ہیں… ’’مودی‘‘ اپنے
مجرمانہ ایجنڈے کو مکمل کرنے کے لئے یہ الیکشن ہر حال میں جیتنا چاہتا ہے… انڈیا
کے کالے چور یعنی ارب پتی اس کی پیٹھ پرہیں… ساری دنیا میں وشوہندو پریشد اور آر
ایس ایس کے حامی مودی کے لئے فنڈنگ کر رہے ہیں… امریکہ اور اسرائیل کی حکومتیں بھی
مودی کا ساتھ دے رہی ہیں… مگر مودی کو ووٹ کے لئے خون کی ضرورت ہے… اور خون بھی
مسلمانوں کا… اور بابری مسجد کا… مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ان حالات کو سمجھ کر
عزیمت اور قربانی کا راستہ اختیار کریں… ابوجہل کو اپنی اسلام دشمنی پر ناز تھا…
اہل اسلام نے قربانی کا راستہ چنا تو ابوجہل اوندھے منہ ایک اندھے کنویں کی غذا بن
گیا… ابوجہل کے بعد سے مودی تک… بے شمار مشرک سردار مسلمانوں سے ذلت ناک شکست کھا
چکے ہیں … اس وقت ہندوستان میں ہندوؤں کے جتنے بھی بڑے اور نامور ہیرو مشہور کئے
جا رہے ہیں… وہ سب مسلمانوں سے بری طرح مار کھا کر اور ذلیل ہو کر مرے ہیں… پرتھوی
راج ہو یا شیوا جی… مراٹھے ہوں یا جاٹ… ان سب نے مسلمانوں سے شکست کھائی ہے… ابھی
رام جنم بھومی کی تحریک میں ہندوؤں کے کتنے بڑے بڑے نام اب تک ذلیل ہو چکے ہیں
…اور اب نمبر ہے مودی شیطان کا… مسلمانو! بابری مسجد پکار رہی ہے… جنت مہک رہی ہے
… شہداء مسکرا رہے ہیں…شجاعت انتظار کر رہی ہے … اپنے زمانے میں اپنے حصے کا کام
کامیابی سے کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنا ’’شکر گذار‘‘ بندہ بنائے … آج کچھ
ہلکی پھلکی باتیں… ایک کہانی اور اس سے حاصل ہونے والے دو تجزئیے۔
آنسو سے مٹھائی تک
ایک صاحب شدید مالی تنگی کا شکار تھے… کھانا پینا تو خیر پورا
ہو جاتا تھا مگر رہائش کی سخت پریشانی تھی… وہ ایک اللہ والے بزرگ سے عقیدت رکھتے
تھے… حالات سے تنگ ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے… اور عرض کیا کہ حضرت! بہت
تکلیف ہے، بہت پریشانی ہے… بس ایک کمرے کا گھر ہے…اس میں خود بھی رہتا ہوں، میری
بیوی اور چار بچے بھی ساتھ ہیں، بوڑھی والدہ اور دو بہنیں بھی ساتھ ہیں اور خاندان
کی ایک بوڑھی رشتہ دار بیوہ خاتون بھی میرے زیر کفالت ہیں… اتنے سارے افراد اور
ایک کمرہ… بہت سخت پریشانی ہے… یہ کہتے ہوئے ان کے آنسو بار بار چھلک پڑے… بزرگوں
نے گردن جھکائی ، غور کیا اور فرمایا… تمہارا مسئلہ حل ہو جائے گا… ایک مرغا لے
آؤ اور اسے بھی اپنے کمرے میں ساتھ رکھ لو … وہ صاحب خوشی خوشی گئے…مرغا لیا اور
اسے بھی کمرے میں رکھ لیا… ایک ہفتے بعد بزرگوں کے پاس حاضر ہوئے تو پہلے سے زیادہ
غمزدہ اور دکھی تھے… حضرت ! مسئلہ بالکل حل نہیں ہوا بلکہ اب تو اور بڑھ گیا ہے…
مرغا شور مچاتا ہے، گندگی پھیلاتا ہے… بزرگوں نے گردن جھکائی، تھوڑا سا سوچا اور
فرمایا… اب میں سمجھا، تمہارا مسئلہ تھوڑا بڑا ہے… تم ایک بکرا لے آؤ اور اسے
بھی ساتھ رکھو… اور ایک ہفتے بعد اطلاع دو… ہفتے بعد وہ صاحب آئے تو پریشانی سے
کانپ رہے تھے… یا حضرت ! مسئلہ اور گھمبیر ہو گیا ہے …بکرا پیشاب بھی کر دیتا ہے
اور نیند بھی ٹھیک نہیں کرنے دیتا… بزرگوں نے غور کیا اور فرمایا… اچھا اچھا اب
سمجھا تمہارا مسئلہ کیا ہے… تم ایسا کرو کہ ایک گدھا لے آؤ اور اسے بھی ساتھ
رکھو… اور ہفتے بعد اطلاع کرو… ایک ہفتے بعد وہ صاحب آئے تو لگتا تھا کہ غم اور
پریشانی سے ابھی وفات پا جائیں گے… آنسو اُن کی آنکھوں سے برس رہے تھے… اور وہ
ادھ موئے ہو چکے تھے… یا حضرت! اب تو زندگی سے تنگ ہو گیا ہوں… گدھے نے تو جینا
حرام کر دیا ہے … بزرگوں نے فرمایا: اچھا ایسا کرو کہ مرغا نکال دو… اور ہفتے بعد
اطلاع کرو… وہ صاحب ہفتے بعد آئے اور کہنے لگے حالات میں تھوڑی سی بہتری ہو گئی
ہے… بزرگوں نے کہا: اچھا اب بکرا بھی نکال دو… اور ہفتے بعد اطلاع کرو… ہفتے بعد
انہوں نے آ کر بتایا کہ حالات پہلے سے کافی بہتر ہیں… فرمایا: اب گدھا بھی نکال
دو اور ہفتے بعد اطلاع کرو… ہفتے بعد وہ صاحب آئے تو ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ
تھا…چہرے پر مسکراہٹ اور انگ انگ میں خوشی… یا حضرت! مسئلہ بالکل حل ہو گیا ہے… اب
اپنا کمرہ بنگلہ لگتا ہے … سب گھر والے خوش ہیں… سب کھلے کھلے رہتے ہیں اور کمرہ
بالکل پاک صاف ہے… اسی خوشی میں مٹھائی لایا ہوں، قبول فرمائیے … وہ صاحب مٹھائی
دے کر چلے گئے تو بزرگوں نے فرمایا کہ… اب اس کی گاڑی کامیابی والی سڑک پر آگئی
ہے… اب یہ ہر دن مزید راحت اور ترقی پائے گا، ان شاء اللہ۔
شکوے سے شکر تک
وہ صاحب جب پہلی بار بزرگوں کے پاس آئے تھے تو وہ رو رہے
تھے… اور آخری بار جب آئے تو خوش تھے… حالانکہ وہی کمرہ تھا اور وہی افراد…کچھ
بھی اضافہ نہ ہوا تھا… آنسو سے مٹھائی تک کا یہ سفر…شکوے سے شکر تک کا یہ سفر …
بظاہر بہت چھوٹا ہے مگر حقیقت میں یہ زمین سے آسمان تک کے سفر سے بھی زیادہ بڑا
ہے … وہ صاحب آئے تو بزرگوں نے سمجھ لیا کہ اُن کی رزق میں تنگی کا بڑا سبب ان کی
ناشکری اور بے صبری ہے… یہ اگر ناشکری چھوڑ دیں تو ان کی روزی کے تمام دروازے کھل
جائیں گے…چنانچہ بزرگوں نے ان پر پہلے سخت بوجھ لادا، پھر وہ بوجھ ہلکا کیا تو ان
کی حالت بدل گئی۔
اپنی بیماری میں کراہنے والا کوئی شخص ہسپتال کے ایمرجنسی یا
کیجولٹی وارڈ میں چلا جائے تو واپسی پر وہ شکر ادا کرتے ہوئے نکلتا ہے…شیطان کا
ایک نام ’’کفور‘‘ ہے، بہت بڑا ناشکرا… اور یہی ’’ناشکری‘‘شیطان کے ہتھیاروں میں سے
ایک مہلک ہتھیار ہے… شیطان سارا دن اور ساری رات ناشکری بانٹتا ہے … آپ کے پاس جو
سواری ہے آپ کو اس سے اچھی سواری کی لالچ میں ڈال دے گا… تب اپنی سواری حقیر نظر
آ ئے گی تو ضرور ناشکری ہو گی … اور جب ناشکری ہو گی تو پھر برکت ضرور اٹھ جائے
گی… اس لئے ضروری ہے کہ ہم شیطان کے اس وار کو سمجھیں … اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں
جو کچھ عطاء فرمایا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں… اور اپنے دل کو اس نعمت
پر راضی کریں… آج مسلمانوں میں جو ہر طرف رزق کی تنگی اور بے برکتی پھیلی ہوئی
ہے… اس کا ایک بڑا سبب یہی ناشکری ہے… اس ناشکری سے ہم سب توبہ کریں اور اللہ تعالیٰ
سے دعاء مانگا کریں۔
اَللّٰھُمَّ رَضِّنِیْ بِمَا قَضَیْتَ
لِیْ۔
اَللّٰھُمَّ رَبِّ قَنِّعْنِیْ بِمَا
رَزَقْتَنِیْ وَ بَارِکْ
لِیْ فِیْمَا اَعْطَیْتَنِیْ۔
’’یا اللہ! مجھے جو عطاء فرمایا ہے اسی پر مجھے خوشی اور
قناعت عطاء فرما دیجئے۔‘‘
رَضِیْتُ مَا اَعْطَانِیَ اللہُ
’’میں اس پر راضی ہوں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے مجھے عطاء فرمایا
ہے۔‘‘
میاں، بیوی ، اولاد، مکان ، خوراک ، کپڑے ،صحت وغیرہ… ان سب
میں ہم شکرگذاری کے راستے کو اختیار کریں… یہ ہے اس کہانی کا پہلا تجزیہ اور سبق۔
دوسرا تجزیہ
مسلمانوں کے علاوہ دنیا کی جتنی حاکم قومیں گذری ہیں… انہوں
نے انسانیت کی بہت تذلیل کی ہے، خصوصاً انگریزوں نے… انہوں نے یہ طرز اختیار کیا
کہ پہلے اپنے محکوم افراد پر بے انتہا بوجھ اور مشقت ڈال دیتے تھے… اور پھر ان کو
اپنا غلام اور احسان مند بنانے کے لئے تھوڑا تھوڑا بوجھ ہٹاتے تھے… تب مشقت اور
مصیبت میں پسے ہوئے انسان … اسی کو غنیمت سمجھ کر ان کے احسان مند ہو جاتے اور ان
کی غلامی اختیار کر لیتے… مثلاً پہلے دونوں ہاتھ بھی باندھ دئیے اور پاؤں بھی…
پھر کسی اندھیری جگہ ڈال دیا… خوراک اور پانی بھی بند… اب اس کے بعد کچھ روشنی
دکھا دی … کبھی دو گھونٹ پانی دے دیا… کبھی آدھی روٹی کھلا دی اور کبھی ایک ہاتھ
کھول دیا… اور اس احسان کے بدلے ان کی وفاداری خرید لی… برصغیر پر چونکہ انگریزوں
کی حکومت رہی اور انگریز اپنے پیچھے اپنا ہی نظام اور اپنی ہی سوچ چھوڑ کر گیا تو…
اب یہاں کے حکمران اسی طرز عمل پر کاربند ہیں…یہ اپنی عوام پر ہر طرح کے گھوڑے،
گدھے، بکرے اور مرغے لاد دیتے ہیں… ایک ایک رات میں کرنسی کی قیمت دس، دس فیصد گرا
دیتے ہیں… ایک منٹ میں مہنگائی کو دو گنا بڑھا دیتے ہیں… اور پھر ایک پائی کی
سہولت دے کر احسان جتلاتے ہیں… اور اپنے کارنامے گنواتے ہیں… اسی طرح یہ اپنی عوام
پر بے حد سختیاں کرتے ہیں… جیلیں راتوں رات بھر دیتے ہیں… اور پھر ایک ایک فرد کو
رہا کر کے اپنا احسان منواتے ہیں… یہ ظالمانہ طرز حکومت مسلمانوں کو زیب نہیں
دیتا… اور یہ زیادہ عرصے چلتا بھی نہیں ہے… اے مسلمان حکمرانو! اپنی رعایا کو
انسان سمجھو… یہ حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی
ہیں …ان کی توہین نہ کرو… ان کے ساتھ کھلواڑ نہ کرو… تم انگریز سے نہیں… حضرت
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے حکمرانی کا طریقہ سیکھو!
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل سےہر مسلمان خاوند اور بیوی کے
درمیان سچی محبت، رحمت اور اعتماد نصیب فرمائے۔
خاوند اور بیوی کے درمیان ’’محبت‘‘ اللہ تعالیٰ کی خاص
نشانی ہے… یہ ’’محبت‘‘ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے … اور اس میں ایمان والوں کے
لئے نفع ہی نفع اور راحت ہی راحت ہے… شیطان اس ’’محبت‘‘ کا دشمن ہے… اے مسلمانو!
اللہ تعالیٰ کے مبارک نام سے قائم ہونے والے اس رشتے کی قدر کرو… اور اس بات کو
سوچا کرو کہ اللہ تعالیٰ خاوند اور بیوی کے درمیان محبت چاہتے ہیں… تم اللہ تعالیٰ
کی چاہت پوری کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا و آخرت کی برکات سے مالا مال فرما
دے گا… اور یہ سوچا کرو کہ شیطان اس محبت کا دشمن ہے… تم شیطان کی چاہت پوری کرو
گے تو وہ تمہیں دنیا و آخرت میں تباہ و برباد کر دے گا… آج اسی موضوع پر ایک دو
ہلکے پھلکے قصے سنانے ہیں… اور نماز میں توجہ حاصل کرنے کے کچھ مزید طریقے عرض
کرنے ہیں۔
پہلی تکبیر… یعنی تکبیر تحریمہ
نماز میں خشوع اور توجہ کے بہت سے نسخے ہیں…اہل علم نے اس
موضوع پر تفصیل سے لکھا ہے… دراصل خشوع اور توجہ والی نماز حاصل ہو جائے تو پھر
انسان کے لئے ہر ترقی کا دروازہ کھل جاتا ہے… نماز سیدھی تو سب کچھ سیدھا … نماز
خراب تو سب کچھ خراب… نماز میں خشوع اور توجہ کا ایک اہم طریقہ یہ ہے کہ’’ ہم نماز
میں مکمل توجہ سے داخل ہوں‘‘… پہلی تکبیریعنی’’ تکبیر تحریمہ‘‘ جو نماز کے فرائض
میں سے ہے اسے دل اور زبان دونوں سے ادا کریں… اللہ اکبر… اس کے لئے ضروری ہے کہ
ہم اقامت شروع ہوتے ہی دنیا سے کٹ کر مالک الملک کے دربار میں خود کو حاضر سمجھیں…
ہم ایسے ہو جائیں جیسے کہ ہمارا اب سوائے اللہ کے اور کسی سے کوئی تعلق ہی نہیں …
عام طور پر جب اقامت شروع ہو تی ہے تو لوگ طرح طرح کی حرکتیں شروع کر دیتے ہیں…
کوئی کسی کو آگے کرتا ہے تو کسی کو پیچھے…کوئی رضا کار بن کرصفیں سیدھی کرانے کا
شور مچاتا ہے تو…کسی کو اس وقت بڑے چھوٹے کا اکرام یاد آ جاتا ہے… اور وہ کسی کو
اپنی جگہ کھڑا کرتا ہے اور کسی کو کھینچتا ہے… اللہ کے بندو! پہلی تکبیر تو مکمل
توجہ سے ادا کر لو… آغاز اچھا ہو گا تو آگے بھی کام بنے گا… یوں سمجھو کہ ہم رب
العالمین کے دربار عالی شان میں کھڑے ہیں… کہاں ہم اور کہاں رب العالمین؟… پھر
کعبہ کو بالکل اپنے سامنے سمجھو … اپنی اس نماز کو زندگی کی آخری نماز سمجھو… اور
دل کے سارے نور کو جمع کر کے زبان پر لاؤ اور کہو… اَللہُ اَکْبَرُ… اللہ تعالیٰ
سب سے بڑے ہیں… عظیم ہیں…عالی ہیں… اَللہُ اَکْبَرُ، اَللہُ اَکْبَرُ…
اب باقی ہر چیز چھوٹی ہو گئی… مکمل توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہو گئی۔
خاوند بیوی کی محبت کا قصہ
خاوند بیوی کے درمیان ’’محبت‘‘ ایک فطری نعمت ہے… اور ان
دونوں کے درمیان نفرت ایک غیر فطری عمل ہے… بالکل خالص شیطانی عمل ہے… خاوند اور
بیوی کے درمیان محبت کے نقشے دیکھنے ہوں تو حضرت آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم کی مبارک زندگی میں دیکھیں… سبحان اللہ… ایک ایک واقعہ اور
ایک ایک لمحہ ہمارے لئے بہت بڑا سبق ہے… لوگ پوچھتے ہیں کہ خاوند اور بیوی کے
درمیان محبت کا نسخہ کیا ہے؟… چند دن پہلے بھی ایک خط اسی سوال پر مشتمل آیا… عرض
کیا کہ… ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے مبارک حالات پڑھا کریں… ان کا
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے رویہ کیسا تھا؟… اور حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ان سے معاملہ کیسا تھا؟ … تب
ہمیں محبت و مودّت کا ایک مکمل نصاب اور مکمل طریقہ معلوم ہو جائے گا… خاوند اور
بیوی میں محبت ہو تو اس کا اثر دونوں کی عبادت پر بھی پڑتا ہے اور صحت و رزق پر
بھی… اب تو سائنسدانوں نے بھی یہی تحقیق پیش کر دی ہے کہ… دنیا میں کئی امراض کی
وجہ خاوند اور بیوی کے درمیان اختلاف اور منافرت ہے… خیر مجھے اس تحقیق میں ذرا
برابر دلچسپی نہیں…ہمارے سامنے تو قرآن مجید کی’’ سورۃ الروم‘‘ ہے… خاوند اور
بیوی میںمحبت کاد وسرا طریقہ ’’دعاء‘‘ ہے…
{رَبَّنَا ھَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا}
والی دعاء عجیب اکسیر ہے… حضرت لاہوری رحمہ اللہ
علیہ سے کسی نے پوچھا کہ… آپ کے اہل و اولاد آپ کے اس قدر فرمانبردار
اور جانثار کیسے ہیں؟… فرمایا نماز کے تشہد کے آخر میں یہی دعاء پڑھنے کا معمول
ہے… اسی موضوع پر ایک بہت دلچسپ اور حکیمانہ قصہ آج آپ کو سنانا ہے۔
ایک پرانے گھر میں ایک بوڑھا خاوند اور اس کی بوڑھی بیوی رہتی
تھی… دونوں ایک دوسرے سے خوش اور راضی… وہ دونوں چونکہ ایک دوسرے سے خوش تھے تو
باقی سب کچھ خودبخود اچھا بن چکا تھا… ان کی ملکیت میں بس ایک گھوڑا تھا… وہ اسے
کرائے پر دیتے تو کچھ پیسے اور کچھ دانے مل جاتے… اور وہ دونوں اسی تھوڑی سی آمدن
میں ٹھاٹھ کے ساتھ زندگی گزارتے… ایک بار ان کے گھر کی چھت میں شگاف ہو گیا… دونوں
مشورے کے لئے سر جوڑ کر بیٹھ گئے… گرمیوں میں تو یہ شگاف اچھاہے ہوا اور روشنی
آئے گی …مگر بارش اور سردی میں کیا کریں گے؟… تب دونوں کا اتفاق اس پر ہوا کہ
گھوڑا فروخت کر دیا جائے… اس سے جو رقم ملے گی اس سے چھت ٹھیک کرا لیں گے… باقی
رہا کھانا پینا تو اللہ تعالیٰ اس کا کوئی انتظام فرما دیں گے… بیوی نے بڑی محبت
سے اپنے بابے کو تیار کر کے ، کھلا پلا کے گھوڑابیچنے روانہ کر دیا… اور ساتھ یہ
بھی کہا کہ میں آپ کے ہر فیصلے اور ہر سودے پر راضی و خوش ہوں گی… بوڑھا آدمی
گھوڑا لے کر جا رہا تھا کہ راستے میں ایک کسان ملا جو اپنی گائے ہانکتا ہوا غمگین
جا رہا تھا… بوڑھے نے پوچھا کہ آپ غمگین نظر آ رہے ہیں…اس نے کہا: یہ دودھ بہت
کم دے رہی ہے… گھر والوں نے کہا ہے کہ بیچ کر آؤ، اب اسے کون خریدے گا؟… بوڑھے
نے کہا: آپ کو اگر میرا گھوڑا پسند ہو تو سودا کر لیتے ہیں… گھوڑا آپ لے لیں،
گائے مجھے دے دیں… اس نے خوشی خوشی سودا کر لیا… بوڑھا آدمی اب گائے لے کر بازار
کی طرف گیا … وہاں ایک اور بوڑھا آدمی بیٹھا ہوا رو رہا تھا …اس بوڑھے نے وجہ
پوچھی تو اس نے کہا: میں کل دنبہ خریدنے گیا … ایک دنبہ بہت ناقص مل گیا، آج گھر
والوں نے پھر بھیج دیا کہ یہ دنبہ بیچ کر آؤ، اب اسے کون لے گا؟… بابے نے کہا:
میری گائے کے بدلے سودا کر لو… وہ خوش ہو گیا اور اسے دنبہ دے کر گائے لے گیا… اب
یہ بوڑھا دنبہ لے کر جا رہا تھا کہ ایک عورت سخت پریشان نظر آئی…وجہ پوچھی تو
کہنے لگی : گھر والوں نے ایک بطخ دی ہے جو بہت کم انڈے دیتی ہے…انہوں نے کہا ہے کہ
ضرور بیچ کر آنا … بوڑھے نے کہا: تم میرے دنبے کے بدلے اپنی بطخ بیچ دو… وہ بہت
خوش ہوئی اور دنبہ لے گئی… اب بابا جی اپنے گھوڑے سے ایک بطخ پر آ چکے تھے مگر
پھر بھی خوش تھے… اسی دوران ایک نوجوان کو دیکھا کہ بے چین پھر رہا تھا… وجہ پوچھی
تو اس نے کہا: گھر والوں نے مرغی دی ہے کہ بیچ کر آؤ … پریشان ہوں کہ اتنی چھوٹی
سی مرغی کون خریدے گا اور مجھے بطخ لینی ہے… بابا نے اپنی بطخ کے بدلے وہ مرغی
خرید لی… آگے بڑھے تو ایک بچہ پریشان کھڑا تھا اور رو رہا تھا … وجہ پوچھی تو
بولا: امی نے خراب سیبوں کا ایک تھیلا دیا ہے کہ اسے ضرور بیچ کر آؤ… سیب اچھے
ہوتے تو بک جاتے مگر خراب سیبوں کو کون خریدے گا؟… بابا نے اپنی مرغی کے بدلے وہ
سیب خرید لئے… بولے کہ ہمارے گھر سیب کا ایک درخت تھا… آخر میں وہ بھی خراب سیب
دینے لگا تھا… چلو آج اس کی یاد تازہ ہو گئی… یہاں ایک مالدار آدمی یہ سارا منظر
دیکھ رہا تھا… اس نے بابا سے کہا: آپ نے خراب سیب لے لئے، آپ کے گھر والے آپ کو
ذلیل کریں گے…بوڑھے نے کہا: نہیں میری بیوی میرے ان تمام سودوں پر میری پیشانی
چومے گی اور میری عقلمندی اور تجارتی سوجھ بوجھ کی داد دے گی… مالدار آدمی نے
کہا:ایسا ہو ہی نہیں سکتا … بیویاں تو عقلمند خاوندوں کو بے وقوف قرار دیتی ہیں…
جبکہ آپ نے تو اتنی بڑی بے وقوفی کی ہے کہ اچھے خاصے گھوڑے کو دے کر ان خراب
سیبوں کو اپنے گھر لے جا رہے ہیں… میں شرط لگاتا ہوں کہ اگر آپ کی بیوی نے آپ کو
کچھ نہ کہا تو میں آپ کو سو دینار دوں گا… بابا نے کہا: میں شرط نہیں لگاتا…اس نے
کہا :چلیں شرط نہیں، انعام سمجھ لیں… وہ دونوں اس بوڑھے کے گھر کی طرف آئے… بوڑھا
اندر داخل ہوا اور دروازہ کھلا چھوڑ گیا… مالدار آدمی چھپ کر کھڑا ہو گیا… بیوی
نے گرمجوشی سے خاوند کا استقبال کیا… پانی وغیرہ پلایا اور پھر گھوڑے کا پوچھا…
بوڑھے نے کہا: میں نے وہ بیچ کر گائے لے لی…بیوی نے کہا: واہ! کیسا زبردست کام
کیا، اب ہم دونوں دودھ پئیں گے… بوڑھے نے کہا: گائے میں نے دنبے کے بدلے بیچ دی…
بیوی نے کہا: یہ تو اور اچھا ہو گیا … دنبے کے بالوں سے میں اون بناؤں گی… بوڑھے
نے کہا: وہ دنبہ میں نے بطخ کے بدلے فروخت کر دیا… بیوی نے کہا: یہ تو زبردست کام
کیا… بطخ تنہائی میں ہمارا بہت دل بہلائے گی … بوڑھے نے کہا: وہ بطخ مرغی کے بدلے
بیچ دی … بیوی نے کہا: یہ تو کمال ہو گیا، مجھے کئی دن سے انڈے کھانے کا شوق ہو
رہا تھا… بوڑھے نے کہا: وہ مرغی میں نے خراب سیبوں کے بدلے بیچ دی … بیوی نے کہا:
یہ تو آپ نے بہت ہی اچھا کیا، مجھے اپنا وہ درخت یاد آئے گا اور پرانی یادیں
زندگی کا سرمایہ ہوتی ہیں… اس نے وہ سیب لئے اور بوڑھے کی پیشانی چومی… وہ مالدار
یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا اور اس عجیب محبت اور اعتماد کو دیکھ کر پسینہ پسینہ ہو
رہا تھا… وہ اجازت لے کر اندر آیا… اور اس نے ایک سو دینار ان کو پیش کر دئیے…
اور یوں محبتی جوڑے کو ایک نہیں کئی گھوڑوں کی قیمت گھر بیٹھے مل گئی۔
قصوں میں تو خیر مبالغہ بھی ہوتا ہے اور بناوٹ بھی… مگر کبھی
مدینہ منورہ کی طرف جھانک کر دیکھیں… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم حضرت اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دوڑ لگا
رہے ہیں… اور جب وصال مبارک کا وقت آیا تو آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کا سر مبارک ان کی گود میں ہے… انٹرنیٹ، ناجائز دوستیوں اور خاوند
بیوی کے خوفناک تصادم کے ماحول میں شاید یہ باتیں اور واقعات سمجھ میں نہ آئیں…
مگر اللہ تعالیٰ کا قانون اور کامیابی کے راز اٹل ہیں…خاوند اور بیوی میں قلبی جوڑ
اور اتفاق ہو تو رزق بارش کی طرح برستا ہےا ور مکمل حفاظت رہتی ہے… ہم سب دعاء تو
کر سکتے ہیںکوشش تو کر سکتے ہیں … ورنہ آج کل تو گھروں کا ماحول جہنم بنتا جا رہا
ہے۔
اللہ کے بندو! اپنی بیویوں کی قدر حضرت آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم سے سیکھو… اللہ کی بندیو! اپنے خاوند سے معاملہ کرنے کا
طریقہ اُمہات المومنین رضی اللہ عنہن سے سیکھو… اللہ تعالیٰ کو خوش
کرو، شیطان کو خوش نہ کرو۔
نماز میں توجہ کا ایک اہم طریقہ
ہمارے حضرت شیخ مفتی ولی حسن صاحب نور اللہ مرقدہ سے جب کوئی
نماز میں خشوع اور توجہ حاصل کرنے کا طریقہ پوچھتا تو آپ فرماتے : ہر رکن کی دل
میں نیت کیا کرو… قیام کی نیت تو تکبیر تحریمہ سے ہو گئی… اب رکوع میں جاتے وقت دل
میں ( زبان سے ہرگز نہیں) یہ نیت کہ اللہ تعالیٰ کے لئے رکوع کر رہا ہوں… پھر سجدہ
میں جاتے وقت نیت کہ اللہ تعالیٰ کے لئے سجدہ میں جا رہا ہوں…اللہ تعالیٰ کے لئے
تشہد میں بیٹھ رہا ہوں…( اسی طرح مکمل نمازمیں )
یہ عمل بہت مجرب ہے… مگر اس میں تھوڑی ہمت اور ہوشیاری کی
ضرورت ہے… اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو مقبول، شاندار اور جاندار نماز نصیب
فرمائے…اور بابری مسجد شریف اُمت مسلمہ کو واپس عطاء فرمائے… آمین یا ارحم
الراحمین
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ جب عطاء فرمانے پر آئے تو ایسا نوازتا ہے کہ عقل
حیران رہ جاتی ہے ۔
وَاللہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظَیْمِ
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ہ طور کی طرف روانہ
ہوئے تاکہ … آگ کا ایک شعلہ لے آئیں … مگر نوازنے والے رب نے اُن کو نبوت، رسالت
اور امامت کا سورج دے کر واپس بھیجا ۔
سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِ ہٖ سُبْحَانَ اللہِ الْعَظَیْمِ
وہ کوہ طور پر تشریف لے گئے کہ … اپنی اہلیہ محترمہ کے لئے
سرد موسم میں گرمی اور حرارت کا کچھ انتظام لائیں … مگر وہاں ان کو ’’تحریک
آزادی‘‘ کی گرمی عطاء ہوئی کہ جا کر غلامی کی برف میں ٹھنڈی پڑی ’’ قوم بنی
اسرائیل ‘‘ کا خون گرمائیں… حضرات انبیاء علیہم السلام کی اولاد بنی اسرائیل ایک
بدبخت انسان کے قدموں میں روندی پڑی تھی ۔
سُبْحَانَ اللہِ ،نِعْمَ الْقَادِرُ اَللہُ
وہ کوہ طور پر گئے تھے … ایک فرد کی راحت کا سامان لانے … مگر
نوازنے والے رب نے انہیں لاکھوں افراد کو ہدایت اور راحت پہنچانے کا سامان عطاء
فرما دیا ۔
وَاللہُ عَلٰی کُلِّ شَئیٍ قَدِیْرٌ
* قافلہ
سیّد احمد شہید رحمہ اللہ علیہ کن مقاصد کے لئے نکلا تھا ؟… اس قافلے نے کیا پایا
؟ اس قافلے کے اثرات کہاں تک پہنچے؟… اس قافلے کے اثرات کب تک مہکتے رہیں گے؟…
ہاں! یہ ایک طویل اور دلکش داستان ہے … مگر ایک بات مکمل وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی
ہے کہ اس قافلے سے اللہ تعالیٰ نے جو کام لیا وہ خود اہل قافلہ کے وہم و گمان میں
بھی نہیں تھا… اس قافلے کو اللہ تعالیٰ نے جہاں تک پھیلا دیا اس کا تصور بھی محال
تھا … سید صاحب رحمہ اللہ علیہ گم ہو گئے… شاہ اسماعیل رحمہ اللہ علیہ شہید ہو گئے
… قافلے کی تقریباً ساری قیادت کٹی پھٹی لاشوں کی صورت اجتماعی قبرمیں دفن ہو گئی
… بچے کھچے مجاہدین کو سر چھپانے کی جگہ نہ تھی … ایسے لگا کہ بس قصہ ختم … مگر
کہاں؟ … قصہ آج تک چل رہا ہے … پوری آن اور شان کے ساتھ چل رہا ہے… ایک قافلے نے
ہزاروں قافلے کھڑے کر دئیے … ایک چنگاری نے سرچھپانے سے پہلے ہر طرف شعلوں کو جنم
دے دیا … بے بسی اور بے کسی کے قبرستان نے گرجتے برستے جانبازوں کے لشکر اٹھا دئیے
… ہاں! بے شک اللہ تعالیٰ ’’اَلشَّکُوْر‘‘ ہے قدردان … اس کے ہاں اخلاص کی قدر
ہے،قربانی کی قدر ہے … قافلۂ سیّد احمد شہید رحمہ اللہ علیہ اخلاص و
قربانی کا قافلہ تھا … اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اسے مٹنے نہیں دیا … اہل قافلہ کو
اللہ تعالیٰ نے جلد آرام دے دیا … مگر ان کے کام کو ہر طرف پھیلا دیا … ہر طرف
چلا دیا ۔
سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِ ہٖ سُبْحَان اللہِ الْعَظَیْمِ
* کوئی قافلہ آسانی سے نہیں بنتا … قافلے اور ریوڑ میں
بہت فرق ہے … جہادی قافلہ کے لئے ایک ’’امیر ‘‘ کی ضرورت ہوتی ہے … اور امیر برحق
آسانی سے نہیں ملتا … صدیوں کی محنت کوئی ایک ’’فرد‘‘ تیار کرتی ہے … ایسا فرد جو
اپنی صفات میں بھی ’’فرد ‘‘ ہو اور اپنے کام میں بھی ’’فرد‘‘ ہو … منفرد، مثالی،
بے نظیر، بے ہمتا اور بے تاب … اپنے ’’مقصد‘‘ کے لیے سب کچھ کھونے کی ہمت رکھنے
والا … اور کچھ بھی پانے سے بے نیاز ؎
فرشتے آسمانوں سے امامت کو نہیں آتے
قتال و حرب کے سامان اور لشکر نہیں لاتے
یہ سنت ہے کہ انسانوں سے اک انسان اٹھتا ہے
و ہ جس کے دل میں آزادی کا اک طوفان اٹھتا ہے
وہ بے شک بے نوا اور بے سروسامان ہوتا ہے
مگر اس کا خدا کی ذات پر ایمان ہوتا ہے
جس زمانے میں مسلمانوں کی قسمت جاگتی ہے … اُنہیں ایسا ’’امیر
‘‘ مل جاتا ہے … اس امیر کا درد اپنے گرد دردمندوں کا ایک قافلہ جمع کر لیتا ہے …
پھر یہ قافلہ چل پڑتا ہے … اور زمین و آسمان سے لے کر جنت تک مہکنے لگتی ہے:
بِسْمِ اللہِ مَجْرٖھَا وَ مُرْسٰھٰا اِنَّ رَبِّیْ
لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ
* صدیاںمحنت کر رہی تھیں … حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ
علیہ کی عملی و روحانی تحریک … غزنی کے ایک جانباز صفت سید خاندان کی
عزیمتیں اور جہاد … شاہ علم اللہ رحمہ اللہ علیہ کا فقر اور رائے بریلی کا دائرہ …
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ علیہ کے خانوادہ کی تدریسی،تعلیمی اور تحریکی
خدمات … شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ علیہ کی ’’ خلاصۃ العصر ‘‘ شخصیت …
اور شاہ عبدالقادر رحمہ اللہ علیہ کی قرآن فہمی، بے نفسی اور گوشہ نشینی … یہ
ساری نسبتیں ایک ’’سیدزادے ‘‘ نے اپنے دل میں سمیٹیں … اور مسلمانوں کو امیر مل گیا
… نام پڑا سیّداحمد ؎
یہ مرد حق بریلی کی مبارک خاک سے اٹھا
محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دودمان پاک سے اٹھا
خدا نے چن لیا درویش کو بہر جہانبانی
فقیر راہ کو بخشے گئے اسرار سلطانی
عزیمت کا علم تھامے ہوئے میدان میں آیا
خدا رحمت کرے اقبال نے کیا خوب فرمایا
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری
کہ فقر خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری
مزاج خانقاہی کو مبدل کر دیا اس نے
مسلمانوں کے اندر جوش غیرت بھر دیا اس نے
جو گدڑی پوش تھے وہ ہو گئے مشتاق جانبازی
جو تھے گوشہ نشیں وہ بن گئے میدان کے غازی
چلاتے تھے جو حجروں میں فقط تسبیح کے دانے
وہ سینے تان کر نکلے عدو کی گولیاں کھانے
اٹھی تحریک ہندوستان سے سیلاب کی صورت
شب مسلم کو روشن کر گئی مہتاب کی صورت
یہ تھا پہلا تصور ایک اسلامی ریاست کا
جہاں مقصود تھا غلبہ شریعت کی سیاست کا
سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِ ہٖ سُبْحَان اللہِ الْعَظَیْمِ
* جہاد ہر زمانے میں نا ممکن نظر آتا ہے … کافروں کی
طاقت سے برابر کا مقابلہ کبھی عالم وجود میں نہیں ہوتا … جہاد ہمیشہ غزوئہ بدر کے
میدان سے روشنی لے کر کھڑا ہوتا ہے … جہاں کفر کی طاقت مسلمانوں سے کئی گنا زیادہ
تھی … بلکہ ساری طاقت اُنہی کے پاس تھی … مسلمانوں کے پاس تو بس کٹوانے کو گردنیں
تھیں … تقریباً ہر زمانے میں یہی توازن ہوتا ہے…اسی لیے جو لوگ اسلام کا غلبہ نہیں
چاہتے … جو اللہ تعالیٰ کے لئے قربانی نہیں دینا چاہتے وہ ہمیشہ وسائل سے مالا مال
ہوتے ہیں … وہ بظاہر مسلمانوں کے محافظ اور غمخوار سمجھتے جاتے ہیں … حالانکہ یہی
لوگ کینسر کے دانے ہوتے ہیں … یہی غلامی کے پاسبان اور ذلت کے چوکیدار ہوتے ہیں …
ان کو نہ تو کوئی ’’امیر ‘‘ معیار پر پورا نظر آتا ہے … اور نہ کبھی ان کی خود
ساختہ شرائط پوری ہوتی ہیں …یہ لوگ بس یہی کہتے ہیں کہ مسلمانو! … غلام بنے رہو ،
غلامی کے مزے لوٹو اور زندہ رہنے کو ہی سب سے بڑی نعمت سمجھو … اور زندگی کی خاطر
ہر ذلت سر پر اٹھائو … جہاد ہمیشہ ہجرت مانگتا ہے … جبکہ ان لوگوں کے نزدیک ہجرت
صرف مال کی خاطر جائز ہے … اور وہ بھی مسلمانوں کے ممالک سے نکل کر کافروں کے
ملکوں کی طرف … جہاد، خون مانگتا ہے … جبکہ یہ لوگ خون دیکھ کر بے ہوش ہو جاتے ہیں
… جہاد محنت، تھکاوٹ اور پراگندگی مانگتا ہے … جبکہ یہ لوگ جیتے ہی راحت، عیش اور
زینت کے لئے ہیں … جہاد ظاہری طور پر ایک بے نتیجہ کوشش ہوتی ہے… جبکہ یہ لوگ عمل
سے پہلے نتائج کی ضمانت چاہتے ہیں… حضرت سیّد احمد شہید رحمہ اللہ علیہ کے قافلے
پر بھی اسی طبقے کے افراد نے طرح طرح کے ستم ڈھائے؎
کئی نادان کہتے تھے کہ یہ ناکام کوشش ہے
یہ قبل از وقت ہنگامہ ہے، بالکل خام کوشش ہے
نظام ملت اسلام کا شیرازہ برہم ہے
وسائل کی کمی ہے، فوج کی تعداد بھی کم ہے
مماثل ہی نہیں ہم دشمنوں کے جاہ و قوت میں
امامت کی بھی اہلیت نہیں سید کی طینت میں
نہیں ہے اسلحہ کافی، رسد ہے اور نہ دولت ہے
حکومت کے مقابل جاہ و شوکت ہے نہ صولت ہے
امیروں کی رفاقت ہے، نہ شاہوں کی شراکت ہے
جہاد اس حال میں اپنی ہی جانوں کی ہلاکت ہے
یہ باتیں کون لوگ کرتے ہیں؟
وہ جن کو جان و مال و خانماں محبوب ہوتا ہے
یہی اُن کا لب و لہجہ یہی اسلوب ہوتا ہے
جنہیں راہ خدا میں جان دینا بار ہوتا ہے
زباں سے ان کی ان باتوں کا اظہار ہوتا ہے
غلط اندیشیاں انسان کو بزدل بناتی ہیں
عمل سے دور تک رہنے کو تاویلیں سکھاتی ہیں
اَللّٰھُمَّ اِنَّا
نَعُوْذُبِکَ مِنَ اْلبُخْلِ وَالْجُبْنِ
تمسلمان جب جہاد کی طرف آتا ہے … مسلمانوں میں جب کوئی جہادی
قافلہ وجود پاتا ہے تو شیطانی نظام میں ایک خوفناک بھونچال آجاتا ہے … شیطان اور
شیطانی قوتوں کو اپنی تمام محنت موت کے منہ میں جاتی نظر آتی ہے … تب وہ جہاد اور
مجاہدین کے خلاف پوری قوت سے سرگرم ہو جاتے ہیں …پہلی محنت یہ کہ جہادی قافلہ چلے
ہی نہ … دوسری کوشش یہ کہ اگر چل پڑے تو ہجرت سے پہلے ہی گر جائے … تیسری سازش یہ
کہ ہجرت کر لے تو’’ دارالہجرت‘‘ میں جا کر مال، عورتوں اور عہدوں میں گم ہو جائے …
چوتھی مکاری یہ کہ ہجرت کے بعد اگر جہاد میں اترے تو منافقین کی ریشہ دوانیوں میں
دفن ہو جائے … پانچویں ضرب یہ کہ اگر منافقین سے بچ نکلے تو باہمی ٹوٹ پھوٹ سے
بکھر جائے … اور آخری وار یہ کہ اگر ٹوٹ پھوٹ سے بھی بچ جائے تو فتح کے فخر میں
برباد یا شکست کے غم میں مٹ جائے ۔
سیّد بادشاہ کا قافلہ رائے بریلی سے چلا … ہر شیطانی وار کو
توڑتا … ہر شیطانی سازش کو روندتا… بالآخر بالاکوٹ کی چوٹیوں پر … شہادت کی
کامیابی سے ایسا بغل گیر ہوا کہ … آج دو صدیاں گزر چکیں … ہر دن اس قافلے کے لیے
نئی ترقی ہے … نئی کامیابی ہے … نئی سرفرازی ہے … نئی شادابی ہے…اور نئی سرمستی
ہے۔
فُسُبْحَانَ مَنْ لَا لِیُضِلَّ اَعْمَالَھُمْ
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ رحمٰن اور رحیم کے نام سے شروع کرتا ہوں … آج کی
مجلس کا خلاصہ ۔
١ ایک
واقعہ یاد آ گیا
٢ کاش!
میں موبائل فون ہوتا
٣ کوئی
ایسا وظیفہ بتا دیں کہ وساوس سے مکمل جان چھوٹ جائے
کاش! میں موبائل فون ہوتا
کہتے ہیں کہ ایک سکول ٹیچر نے ایک روز اپنی کلاس میں اعلان
کیا کہ … ہر طالبعلم اچھی طرح غور کر کے اپنی سب سے ضروری اور اہم تمنا اور خواہش
لکھ کر لائے… جس کی تمنا اور خواہش سب سے اچھی ہو گی اسے انعام ملے گا… اگلے دن
تمام بچے اپنی تمنا لکھ کر لائے اور ماسٹر صاحب کو دے دی… چھٹی کے بعد وہ استاد
صاحب گھر پہنچے اور بچوں کے جوابات پڑھنے لگے… اچانک ایک کاغذ پڑھتے ہوئے ان کی
حالت بدل گئی… وہ رونے لگے، کانپنے لگے…اور پھر ان کے رونے کی آواز بلند ہوتی چلی
گئی… ان کی بیوی نے آواز سنی تو دوڑ کر آئی …پانی پلایا، وجہ پوچھی… انہوں نے
بتایا کہ طلبہ کی تمنائیں پڑھ رہا تھا، ایک بچے کی تمنانے دل اور آنکھوں کو رلا
دیا… بیوی نے کہا: مجھے بھی سنائیں… ماسٹر صاحب کاغذ لے کر پڑھنے لگے… بچے نے لکھا
تھا… میری سب سے بڑی تمنا یہ ہے کہ کاش! میں موبائل فون ہوتا… تاکہ میرے ابو مجھے
ہر وقت اپنے کان اور دل سے لگائے رہتے…اور میری امی گھنٹوں مجھ سے باتیں کرتی اور
مجھ پر اپنی انگلیاں اور ہاتھ پھیرتی اور مجھے سینے پر رکھ کر سوتی… مگر میں تو ان
کا بیٹا ہوں، ان کا ٹچ موبائل نہیں… اس لئے مجھے یہ ساری توجہ نہیں ملتی جو ان کے
ٹچ موبائل کو ملتی ہے… اس لئے میں اپنی تنہائی اور محرومی کے دوران یہی سوچتا رہتا
ہوں کہ کاش! میں ان کا موبائل فون ہوتا… ماسٹر صاحب یہ پڑھتے ہوئے پھر رو پڑے…
بیوی نے سنبھالا اور کہا: ماشاء اللہ! کوئی سمجھدار بچہ ہے، والدین کو واقعی اپنے
بچوں کا خیال رکھنا چاہیے اور انہیں وقت دینا چاہیے… ماسٹر صاحب پھر زور زور سے
رونے لگے اور کہا : بیگم! یہ تحریر کسی اور کی نہیں، ہمارے اپنے بیٹے کی ہے… اللہ
تعالیٰ مجھے اور آپ کو ہدایت عطاء فرمائے… ماسٹر صاحب کے رونے کی آواز بلند
ہوئی… مگر اب وہ اکیلے نہیں تھے…کمرے میں دوافراد رو رہے تھے اور دونوں کے ٹچ
موبائل پرواٹس ایپ کی گھنٹیوں کا تانتا بندھا ہوا تھا… ہم سب کو اس واقعہ پر غور
کرنا چاہیے… اس سے سبق لینا چاہیے۔
ایک واقعہ یاد آ گیا
اللہ تعالیٰ پر یقین… اللہ تعالیٰ کی کتاب پر یقین… اللہ
تعالیٰ کے وعدوں کا یقین… رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے
فرامین مبارکہ پر یقین بڑی دولت ہے… بہت ہی عظیم نعمت ہے…افغانستان پر امریکہ نے
جب حملہ کیاتھا تو چند دن کے مظاہروں کے بعد اندھیرا ہی اندھیرا اور خاموشی ہی
خاموشی چھا گئی تھی… اچھے خاصے افراد نے امارت اسلامی افغانستان سے منہ موڑ لیا…
لبرلز تو اس وقت سنبھالے نہیں سنبھلتے تھے… وہ کہہ رہے تھے کہ بس اب ایک آدھ
مہینے کی بات ہے، طالبان کا خاتمہ ہو جائے گا… طالبان کا صفایا ہو جائے گا…ایک بد
کلام کالم نویس نے تو نعوذ باللہ قرآنی آیات تک کا مذاق اُڑایا کہ اب{لَا
تَھِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ}کا سبق پڑھانے والے کہاں
گئے؟ …دیکھ لینا چند دن بعد دنیا میں طالبان کا نام لینے والا کوئی نہیں ہو گا… تب
الحمد للہ اللہ تعالیٰ پر اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین کرتے ہوئے… اکتالیس
ملکوں کی خوفناک جنگی یلغار اور ٹیکنالوجی کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ آواز لگائی
تھی کہ امریکہ کو ان شاء اللہ شکست ہو گی… نیٹو اتحاد ذلیل ہو گا… اور مجاہدین
سرخرو ہوں گے… تب بچے کھچے اہل دل نے بہت مسرت کا اظہار فرمایا… میرے اس عاجزانہ
کالم کو منبر و محراب سے سنایا… مگر کئی اپنے افراد نے شک کا اظہار بھی کیا… ایک
صاحب نے فرمایا: مولانا نے بہت اچھا لکھا ہے، مزید بھی لکھیں، چلو مسلمانوں کو کچھ
تو حوصلہ ملے گا باقی ہمیں تو معلوم ہے کہ اب کچھ بچنے والا نہیں ہے… لیکن الحمد
للہ ہمیں اس وقت بھی یقین تھا کہ سب کچھ بچ جائے گا… بلکہ ان شاء للہ بڑھ جائے گا…
اور مزید بھی بہت کچھ بن جائے گا… اس ’’بچ جائے گا‘‘ …’’ بڑھ جائے گا‘‘… اور’’ بن
جائے گا‘‘کی تشریح لکھوں تو صبح سے شام تک کا وقت بھی کافی نہ ہو… بے شک اللہ
تعالیٰ نے اپنے وعدے سچے فرمائے۔
قرآن مجید ہمیشہ سے ہے، ہمیشہ رہے گا اور ہمیشہ رہنمائی
فرماتا رہے گا… یہ اس رب کا کلام ہے جو ’’حَیٌّ قَیُّوْمٌ‘‘ ہے زندہ اور تھامنے
والا… چنانچہ یہ کلام بھی ہر لمحہ زندگی بانٹتا ہے… ہر دن نئی رہنمائی فرماتا ہے…
رات جب رنگ و نور لکھنے کے لئے خبریں کھولیں تو پہلی اور بڑی سرخی یہ تھی کہ…
’’پاکستان کے تعاون سے … طالبان نے امریکہ کے ساتھ ابو ظہبی میں مذاکرات کی حامی
بھر لی ہے‘‘… سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللہِ
الْعَظِیْمِ … امریکہ چالیس ملکوں کے عسکری تعاون سے طالبان کو ختم نہیں کر سکا…
البتہ اب وہ طالبان سے مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے اور اس کے لئے بھی اسے پاکستان
کا تعاون درکار ہے… بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے… مذاکرات کی یہ خبر پڑھتے
ہی میرے ذہن میں اس آدمی کا واقعہ تازہ ہو گیا جو بڑے قرضے کے بوجھ تلے دب گیا
تھا… وہ قرضے لینے کا عادی نہیں تھا مگر تجارت میں مسلسل خسارے نے اسے چار ہزار
دینار کا مقروض کر دیا تھا… دینار سونے کا ہوتا ہے اور چار ہزار دینار اس زمانے کی
بہت بڑی رقم تھی… قرض خواہ نے اس پر مقدمہ کیا تو قاضی نے اسے عدالت میں طلب کر
لیا… پوچھنے پر اس نے قرضے کا اعتراف کیا اور بتایا کہ میں اس وقت کوڑی کوڑی کا
محتاج ہوں… قرضہ میں نے ضرور ادا کرنا ہے مگر اس وقت کسی بھی طرح ادا کرنے کی حالت
میں نہیں ہوں…قاضی نے کہا: پھر تو آپ کو قانون کے مطابق گرفتار کیا جاتا ہے… اس
نے کہا: میں گھر میں بتا کر نہیں آیا، میرے بیوی بچے سب انتظار میں ہوں گے…مجھے
صرف ایک دن کی مہلت دے دیں… میں کچھ ادھار لے کر گھر میں کھانے پینے کا کچھ سامان
دے آؤں اور بیوی بچوں کو الوداع کہہ آؤں… قاضی نے کہا: آپ کوئی ضامن دیں تو
ہم آپ کو ایک دن کی مہلت دے سکتے ہیں… اس نے کہا: قاضی صاحب! میرے ضامن میرے آقا
اور میرے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں…قاضی غصے ہو
گیا، کہنے لگا: تم کیسی بے ادبی کر رہے ہو… ضامن کا مطلب تو یہ ہوتا ہے کہ اگر تم
نہ آئے تو ہم اسے گرفتار کر لیں گے… پھر نعوذ باللہ تم اتنا بڑا نام لے رہے ہو،
کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب تمہیں ملحوظ نہیں؟ … اس
نے کہا: قاضی صاحب!میرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضامن
بنانے کا مطلب آپ نہیں سمجھے… دراصل ضمانت کے طور پر سب سے قیمتی چیز رکھوائی
جاتی ہے… اور میرے پاس سب سے قیمتی چیز یہ ہے کہ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کا امتی ہوں… میں اپنی یہ قیمتی چیز اپنے ساتھ آخرت میں لے جانا
چاہتا ہوں… اور میرے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے
اپنے سب امتیوں کو وعدے اور عہد کی پابندی کا حکم فرمایا ہے… چنانچہ اگر میں کل
واپس گرفتاری دینے نہ آیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا
نافرمان ہو جاؤں گا… چنانچہ میں نے یہ قیمتی چیز بطور ضمانت کے رکھوائی ہے کہ…
اگر میں کل حسب وعدہ نہ آیا تو قیامت کے دن مجھے حضرت آقا مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں شمار نہ کیا جائے… یہ سن کر قاضی اور قرض
خواہ دونوں کی گردن جھک گئی… آنکھیں بھیگ گئیں اور انہوں نے اسے گھر جانے دیا… وہ
صاحب گھر پہنچے… اپنی بیوی کو سارا قصہ سنایا… اور کہا کہ میں کچھ قرضہ اٹھاتا
ہوں، اس سے تم بچوں کی دیکھ بھال کرنا… اور میرے پیچھے اپنا اور ان کا خیال رکھنا…
بیوی ایماندار تھی، وفادار تھی… کہنے لگی: آج کھانے کا کچھ موجود ہے … میں بچوں
کو کھلا کر سلا دیتی ہوں… آپ مزید قرضہ نہ لیں… آپ نے جو چیز ضمانت رکھوائی ہے
آج میں اور آپ اس کو مزید پکا کریںگے…اور ساری رات حضور اقدس صلی
اللہ علیہ وسلم پر درودشریف پڑھیں گے… بچے سو گئے… میاں بیوی باوضو
بیٹھ کر درودپاک پڑھنے لگے… کافی رات گذر گئی بیوی تو پڑھتی رہی، خاوند کو نیند
آگئی… اور خواب میں حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہو
گئی… فرمایا: صبح فلاں شخص کے پاس چلے جانا اسے میرا سلام دینا… اور ایک علامت
ارشاد فرمائی کہ یہ اس کو بتانا… وہ تمہارا قرضہ اتار دے گا… صبح وہ شخص اس آدمی
کے پاس پہنچےاورپورا خواب سنایا… وہ کچھ متردد ہوئے تو ان کو علامت بتائی… وہ رونے
لگے اور فوراً آٹھ ہزار دینار لے آئے… فرمایا: چار ہزار قرضہ اتار دینا اور چار
ہزار ہدیہ ہے اس خوشی میں کہ آپ کے ذریعے مجھے حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کا سلام وپیام آیا ہے…وہ صاحب دو تھیلیاں اٹھائے عدالت کی طرف
لپکے… وہاں قاضی صاحب باہر بے چینی سے کھڑے تھے… ان کو دیکھ کر آگے بڑھے… بہت
محبت سے ملے اور ایک تھیلی دی کہ اس میں چار ہزار دینار ہیں… یہ میری طرف سے ہدیہ
ہیں… ابھی قرض خواہ آئے گااس کو ادا کر دینا… میں تو صبح سے تمہارے انتظار میں
کھڑا تھا… مجھے رات زیارت ہوئی اور تمہارا قرضہ اتارنے کا حکم ملا… یہ کہہ کر
دونوں عدالت میںجا بیٹھے وقت ہوا تو قرض خواہ بھی آگیا… قاضی نے بتایا کہ یہ شخص
پیسے لے آیا ہے آپ وصول کر کے دستخط کر دیں… اس نے کہا: قاضی صاحب میں نے قرضہ
معاف کر دیا ہے… اور مزید ان کے لئے چار ہزار دینار ہدیہ بھی لایا ہوں… رات مجھے
بھی زیارت ہوئی اور قرض معاف کرنے کا حکم ملا… پھر وہ سب آپس میں خوب گلے ملے…
اور ان صاحب کو دروازے تک چھوڑنے آئے… وہ جو گھر سے خالی ہاتھ نکلے تھے…اب اتنی
بڑی رقم لے کر گھر واپس آئے … یہ ہے نسبت کی طاقت اور یہ ہے یقین کی قوت… اللہ
تعالیٰ ہمیں یقین کی طاقت اور حضرت آقامدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی
عظیم نسبت مکمل یقین کے ساتھ عطاء فرمائے۔
اے دین اسلام کے دشمنو! … مسلمانوں کے پاس کچھ بھی نہ ہو، مگر
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت موجود ہے…اور
یہی نسبت دنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے…تم اس عظیم نسبت سے محروم ہو…اس
لئے اتنی طاقت ، اتنی ٹیکنالوجی ا ور اتنی فوجوں کے باوجود شکست کھا رہے ہو…اگر تم
آخرت کے دردناک عذاب سے بچنا چاہتے ہو… اور دنیا اور آخرت میں سرفراز ہونا چاہتے
ہو تو… خاکے بنانے والے منحوسوں کو پھانسی پر لٹکاؤ… اور کلمہ طیبہ’’ لا الہ الا
اللہ محمد رسول اللہ‘‘ پڑھ کر حضرت آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کی نسبت حاصل کر لو… تب تمہیں ہر کامیابی کی ضمانت مل جائے گی…
تمہارے پچھلے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے… اور تم بھی عظیم ’’اُمت مسلمہ‘‘ یعنی
امت محمدیہ میں شامل ہو جاؤ گے۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہمیں ’’درودشریف‘‘ جیسی عظیم الشان نعمت کی قدر
نصیب فرمائے… حضرت شیخ شعراوی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ…’’ اگر
کوئی مسلمان درود شریف کی قدر جان لے تو پھر وہ روزانہ ایک لاکھ بار درودشریف
پڑھنے کو بھی زیادہ نہیں سمجھے گا‘‘… ہاں بے شک! ’’درودشریف ‘‘ میں محبت ہے… اور
محبت کی کوئی حد نہیں ہوتی… اور محبت کی پیاس کبھی نہیں بجھتی… درودشریف کے اندر
’’محبت ‘‘ اور رحمت کا ایک عجیب نظام قائم ہے… ایک عالم سنا رہے تھے کہ ایک بارایک
نوجوان نے انہیں فون کیا … وہ خود کشی کی اجازت مانگ رہا تھا … کہہ رہا تھا کہ میں
بہت پریشانی اور تکلیف میں ہوں… مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ میرے سر پر پہاڑ رکھ
دیا گیا ہے… اب میرے لئے ایک لمحہ زندہ رہنا مشکل ہے… میری پریشانیوں اور تکلیفوں
کا کوئی حل نہیں ہے…بس میں مرنا چاہتا ہوں… عالم نے فرمایا: تم میری ایک بات مان
لو… ابھی مغرب کا وقت قریب ہے… تم وضو کر کے مسجد میں جاؤ…نماز ادا کر کے ایک طرف
بیٹھ کر درودشریف پڑھتے جاؤ…عشاء تک یہی عمل کرو… پھر مجھ سے رابطہ کرنا… عشاء کی
اذان کے قریب اس نوجوان کا دوبارہ فون آیا… وہ خوشی سے چیخ رہا تھا… حضرت !میرے
سر سے پہاڑ اُتر گیا… میرے غم دور ہو گئے… میری حالت بدل گئی … سبحان اللہ! صرف
ایک گھنٹے کے ’’درودشریف‘‘ نے ایسا ’’نظام محبت و رحمت ‘‘ جاری فرمایا کہ اس
نوجوان کی دنیاہی بدل گئی … شک کی کیا گنجائش ہے… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کا وعدہ ہے… ’’اِذًا تُکْفٰی ھَمُّکَ وَ یُغْفَرُلَکَ ذَنْبُکَ‘‘
… تم درودشریف کی کثرت اپناؤ گے تو تمہاری ساری فکروں کا حل نکل آئے گا… تمہارے
غم ، تمہارے مسائل اور تمہاری مصیبتیں سب دور ہو جائیں گی …اور تمہارے گناہ معاف
فرما دئیے جائیں گے ۔
نظامِ محبت
عرض کیا کہ… درود شریف کے اندر ایک پورا نظام پوشیدہ ہے… ہم
اسے ’’نظام محبت ‘‘ اور ’’نظام رحمت ‘‘ کہہ سکتے ہیں… درودشریف پڑھتے ہی یہ پورا
نظام حرکت میں آ جاتا ہے… مختصر طور پر اس نظام کو سمجھ لیں… درودشریف پڑھنے والے
نے اللہ تعالیٰ سے محبت کا ثبوت دیا… کیونکہ درودشریف پڑھنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے
دیا ہے… یہ ہوئی پہلی محبت… اور يہ محبت ایمان کی لازمی بنیاد ہے درود شریف پڑھنے
والے نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا ایک حق
ادا کیا… یہ محبت ایمان کے لئے لازمی ہے…جب تک حضرت آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم کی محبت ہمیں مخلوق میں سے ہر چیز سے بڑھ کر حاصل نہیں
ہو گی اس وقت تک ہمارا ایمان کامل نہیں ہو سکتا… اعتبار والا ایمان وہی ہے جس میں
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت سب سے بڑھ کر ہو… اپنے والدین،
اپنی اولاد، اپنے مال اور اپنی جان سے بھی بڑھ کر… انسان کو جب کسی چیز کی سچی
محبت ہوتی ہے تو وہ اس کا تذکرہ زیادہ کرتا ہے… آپ بازار چلے جائیں… ہر طرف مال،
مال اور مال کی آوازیں سنیں گے… ہمیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کی صحبت حاصل نہیں ہوئی … مگر ہم آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی محبت تو پا سکتے ہیں… یہ محبت ہمیں جس قدر زیادہ نصیب ہو گی
اسی قدر ہمارے دل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت، شفاعت، صحبت اور تذکرے کا
شوق بڑھے گا… درودشریف میں ایک بندہ اپنی اسی محبت کا اظہار کرتا ہے… تو یہ ہوئی
دوسری محبت… ہم نے محبت سے درود شریف پڑھا تو درودشریف کی خدمت پر مامور ملائکہ نے
اسے محبت سے اُٹھایا اور سنبھالا… ان عظیم ملائکہ یعنی فرشتوں کے عجیب حالات حدیث
شریف کی کتابوں میں آئے ہیں… یہ معزز فرشتے درود شریف کو اُٹھانے ، سنبھالنے اور
پہنچانے کی خدمت بہت تیزی اور محبت سے سر انجام دیتے ہیں… فرشتوں کو درودشریف سے
محبت ہے… اس کا ثبوت قرآن مجید میں موجود ہے… یہ ہوئی تیسری محبت… پھر اللہ
تعالیٰ نے ایک وسیع طاقت اور سماعت رکھنے والا فرشتہ ( دو فرشتے یا ایک فرشتہ)مقرر
فرما رکھا ہے… جو درودشریف پڑھنے والے کو بڑی محبت بھری دعاء دیتا ہے اور کہتا ہے
’’غَفَرَاللہُ لَکَ‘‘… اللہ تعالیٰ تیری مغفرت فرمائے… فرشتے کی اس دعاء پر دیگر
فرشتے آمین کہتے ہیں … اور اللہ تعالیٰ اس دعاء کو قبول فرماتے ہیں… یہ ہوئی
چوتھی محبت… فرشتوں نے یہ درودشریف حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم تک…
درود شریف پڑھنے والے کی ولدیت کے ساتھ پہنچا دیا کہ… یا رسول اللہ! فلاں بن فلاں
نے آپ پر صلوٰۃ و سلام بھیجا ہے…آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس صلوٰۃ و سلام کا محبت
کے ساتھ جواب ارشاد فرماتے ہیں … سبحان اللہ! حضرت آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم کا جواب … آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی
ہمارے لئے دعاء رحمت اور ہمارے لئے سلام … یہ ہوئی پانچویں محبت… اب ان پانچ
محبتوں کے بعد محبت کے مئے خانہ کا اصل دور شروع ہوتا ہے … وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ
توجۂ خاص فرماتے ہیں … اور پھر اس بندے پر محبت اور رحمت کی بارش فرما دیتے ہیں…
دس خاص رحمتوں کا نزول… دس درجات کی بلندی … دس گناہوں کی معافی…اور معلوم نہیں
کیا کیا انعامات…دیکھا آپ نے کہ جیسے ہی ہم نے کہا: اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ
عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ… تو زمین سے لے کر عرش تک کیسا زبردست ’’نظام محبت و
رحمت‘‘ متحرک ہو گیا… اب جس بندے کو یہ نعمت نصیب ہو اس کا کون سا مسئلہ ہے جو حل
نہیں ہو گا اور کون سی پریشانی ہے جو دور نہیں ہو گی۔
ایک صاحب کا قصہ
ایک صاحب سخت بیمار تھے، دماغ میں کینسر کا مرض تھا… ڈاکٹروں
نے جواب دے دیا کہ اب بچنا نا ممکن ہے… انہوں نے علاج چھوڑا اور تنہائی اختیار کی…
اور اس تنہائی میں محبت اور رحمت کا چراغ ’’درودشریف‘‘ روشن کر دیا… وہ پڑھتے تھے:
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ طِبِّ
الْقُلُوْبِ وَدَوَائِھَا وَعَافِیَۃِ الْاَبْدَانِ وَشِفَاءِ ھَا
وَنُوْرِالْاَبْصَارِوَضِیَاءِ ھَا۔
اچانک انہیں اپنے سر پر کسی ہاتھ کی ٹھنڈک محسوس ہوئی اور وہ
اس پر سکون ٹھنڈک میں ڈوب گئے … آواز آئی کہ یہ بھی کہو :
وَرُوْحِ الْاَرْوَاحِ وَسِرِّبَقَائِھَا۔
اب انہوں نے پڑھنا شروع کیا:
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ طِبِّ
الْقُلُوْبِ وَدَوَائِھَا وَعَافِیَۃِ الْاَبْدَانِ وَشِفَاءِ ھَا
وَنُوْرِالْاَبْصَارِوَضِیَاءِ ھَا وَرُوْحِ الْاَرْوَاحِ وَسِرِّبَقَائِھَا۔
چند دن ہی ہوئے تھے کہ انہیں افاقہ محسوس ہوا اور پھر وہ مکمل
تندرست ہو گئے… ڈاکٹروں کو دکھایا تو وہ حیران رہ گئے… پوچھا کون سا علاج کیا؟
…انہوں نے بتایا کہ درود شریف کثرت سے پڑھا… یعنی ’’نظام محبت‘‘ اور ’’نظام رحمت‘‘
میں غوطے لگائے… تب ایک غیر مسلم ڈاکٹر یہ کرامت دیکھ کر مسلمان ہو گیا۔
غور فرمائیں
درود شریف کے فضائل میں قطعاً کوئی مبالغہ نہیں ہے… درودشریف
کی پہنچ بہت دور تک ہے…ہر دعاء قبول ہونے کے لئے درود شریف کی محتاج ہے…جبکہ
درودشریف خود ہی مقبول ہے اور خود ہی قبول ہے۔
١ درودشریف
میں پورا کلمہ طیبہ موجود ہے… اللہ تعالیٰ کی واحدانیت، اولوہیت اور حضرت محمد صلی
اللہ علیہ وسلم کی رسالت… لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٢ درودشریف
میں کامل محبت موجود ہے… کیونکہ اصل محبت صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہے… باقی وہی محبت اچھی ہے
جو اللہ اور رسول کے لئے ہو… درودشریف میں محبت کا پورا نصاب ہے… کیونکہ اس میں
اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے لئے دعاء ہے … اور دعاء بھی وہ جواللہ تعالیٰ کو محبوب ہے ۔
٣ درودشریف
میں مکمل دعاء ہے… کیونکہ دعاء کامقصد یہ ہوتا ہے کہ… اصل حاجت روا صرف اور صرف
اللہ تعالیٰ ہے اور ہم اپنی حاجت اس کے سامنے پیش کرتے ہیں… مگر درودشریف میں ہم
ایسا عمل کرتے ہیں کہ وہی اصل حاجت روا ہم پر اپنی رحمتیں اور الطافات نازل فرمانے
پر آجاتا ہے… پھر حاجتیں تو خود بخود پوری ہو جاتی ہیں ۔
٤ درودشریف
میں مکمل توحید ہے… کیونکہ اگر مخلوق میں سے کسی کی بندگی جائز ہوتی یا مخلوق میں
سے کوئی عبادت کے لائق ہوتا تو وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ
وسلم ہوتے…مگر ہم درودشریف میں اُن کے لئے اللہ تعالیٰ سے خاص رحمت
مانگتے ہیں… جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی
اللہ تعالیٰ سے مانگا جا رہا ہےتو پھر اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کے لائق کون ہو
سکتا ہے؟۔
٥ درودشریف
میں پورا استغفار ہے… اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف فرماتے ہیں اور
مٹاتے ہیں … اور اس کی برکت سے بندوں کو توبہ کی توفیق ملتی ہے…اسی لئے تو حضرت
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ جیسے باذوق اور باعلم صحابی نے اجازت
چاہی کہ… میں اپنی دعاء کا سارا وقت درود شریف پر لگانا چاہتا ہوں تو… ان کو بشارت
ملی کہ… اِذًا تُکْفٰی ھَمُّکَ وَ یُغْفَرُلَکَ ذَنْبُکَ… تب تو تمہاری ساری فکریں
ختم ہو جائیں گی اور تمہارے گناہ بخش دئیے جائیںگے …یہ مرتبہ کسی کسی کو نصیب ہوتا
ہے…اس مرتبے کو پانے کے لئے حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کی سچی محبت بہت اونچے معیار کی درکار ہوتی ہے … تب انسان اپنی
ساری حاجتوں کو بھول کر درود شریف کو وظیفہ بناتا ہے … آپ غور کریں کہ جب حضرت
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے اپنے اس ارادے اور عزم کا اظہار کیا کہ… وہ
اپنے وظیفے اور دعاء کا سارا وقت درودشریف پر لگائیں گے تو اس وقت انہیں یہ فضیلت
اور بشارت نہیں ملی تھی کہ… اس عمل کا انہیں دنیا میں کیا فائدہ ہو گا… وہ تو حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اور درود شریف کے
بلند مقام کی قدر کرتے ہوئے اس عمل کو اپنا رہے تھے… اور اس کی خاطر اپنی حاجتوں ،
دعاؤں اور ضرورتوں سےدستبردار ہو رہے تھے… تب انہیں بشارت ملی کہ آپ کے اس مثالی
ذوق کی بدولت آپ کو دنیا میں بھی کوئی محرومی نہیں ہو گی…بلکہ آپ کی تمام فکریں،
حاجتیں اور ضرورتیں پوری فرما دی جائیں گی… ہاں !بے شک ہر انسان پر مختلف تفکرات
اور ضرورتوں کا حملہ ہوتا ہے… اور انسان اُن کے حل کے لئے اللہ تعالیٰ سے التجا
کرتا ہے… مگر ایک بندہ اپنی ان ضروریات کو ایک طرف رکھ کر اسی وقت کو صلوٰۃ و سلام
میں لگاتا ہے تو پھر…’’ نظام رحمت‘‘ اس کو ہر طرح سے مالا مال کر دیتا ہے… عام مسلمانوں
کے لئے تو اس حدیث شریف میں یہ سبق ہے کہ درودشریف کی کثرت کریں… اپنے نامہ اعمال
میں زیادہ سے زیادہ درودشریف جمع کریں… تاکہ آخرت کی منزلیں آسان ہوں… آخرت میں
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب نصیب ہو، گناہ معاف ہوں، حساب
آسان ہو… اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نصیب ہوں اور درجات حاصل ہوں … جبکہ خواص یعنی
محبت کے اعلیٰ مقام والوں کے لئے یہ راستہ بھی ہے کہ … وہ درودشریف کو ہی اپنی
دعاء اور وظیفہ بنا لیں… مگرقرآن مجید کی تلاوت ،ضروری مسنون اذکار اور دینی ذمہ
داریوں سے بھی غافل نہ ہوں۔
ایک ضروری بات
سب سے افضل درود… ’’درود ابراہیمی‘‘ ہے… بندہ کا ناقص خیال یہ
ہے کہ… جب تک ’’درود ابراہیمی‘‘ اچھی طرح شرح صدر کے ساتھ نصیب نہ ہو… اس وقت
تک درود شریف کا حقیقی ذوق پیدا نہیں ہوتا… اس لیے جو حضرات و خواتین… مختصر
صیغے والے درود شریف پڑھتے ہیں… مثلاً ’’صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘‘…
’’صَلَّی اللہُ عَلَی النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ‘‘ وغیرہ… وہ اسے جاری رکھیں… مگر
ساتھ کچھ مقدار ’’درود ابراہیمی‘‘ کی بھی مقرر کر لیں۔
اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ تمام ’’ اسیرانِ فی سبیل اللہ ‘‘ کو باعزت ،با
عافیت رہائی عطاء فرمائے…رات کو کئی ایسے حضرات بے ساختہ یاد آ گئے جو بہت طویل
عرصہ سے قید ہیں… بعض کو تو پچیس سال سے بھی زائد کا عرصہ بیت گیاہے… ایک صدی کا
چوتھائی حصہ جیل میں… یا اللہ! رحم فرما… آج کی مجلس میں کچھ ملی جلی باتیں ہوں
گی… آج صبح سے اتفاقاً یاد آ گیا کہ آج 31 دسمبر کا دن ہے… پھر 31 دسمبر 1999ء
کی یاد اور یادگاروں میں کھو گیا … انیسویں صدی کا آخری دن… اس دن جمعہ مبارک
تھا… رمضان المبارک کا مہینہ تھا… اور ہجری اسلامی سال ۱۴۲۰ھ چل رہا تھا… روزہ جموں
میں رکھاتھا اور’’ افطار ‘‘ قندھار میں ہوا … اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے فاصلے سمیٹ
دیتا ہے… ’’وساوس‘‘ کا موضوع بھی کئی ہفتے سے لٹکا ہوا ہے … آج اس پر بھی ان شاء
اللہ کچھ بات ہو گی… روح المعانی میں حضرت شیخ علامہ آلوسی رحمہ اللہ
علیہ نے اس پر بحث فرمائی ہے کہ درودشریف کا سب سے افضل صیغہ کون سا ہے؟… یہ بحث
پڑھی تو جستجو بڑھ گئی… اس موضوع پر دیگر اہل علم کی کئی تحریریں بھی پڑھ ڈالیں…
تشفی تو ہو گئی ہے مگر پیاس نہیں بجھی… ’’صلوٰۃ علی النبی‘‘ یعنی نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درودشریف کا موضوع ہی ایسا ہے
کہ اس میں پیاس نہیں بجھتی… حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم
پر جتنے احسان ہیں اُن کو دیکھتے ہوئے تو… اگر ہم ہر سانس کے ساتھ بھی درودشریف
پڑھیں تو حق ادا نہیں ہو سکتا… درود شریف کا افضل صیغہ کون سا ہے؟… فی الحال اس بحث
میں پڑے بغیر میں آج کے کالم میں وہ ’’صیغے ‘‘ مختلف مقامات پر لکھتا جاؤں گاجن
کے افضل ہونے پر کسی اہل علم کا قول موجود ہے … آئیے! پہلے صیغے کا جام اُٹھائیے۔
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ
کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ
مَّجِیْدٌ، اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا
بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَ اھِیْمَ اِ نَّکَ حَمِیْدٌ
مَّجِیْدٌ۔
وسوسہ…بنیادی معلومات
’’وسوسے‘‘ کا معاملہ اہم ہے… اس معاملے کو درست طریقے سے
سمجھنا ہو تو دو کام کریں…پہلا یہ کہ قرآن مجید میں جہاں بھی وسوسے کے موضوع کا
بیان ہے اسے اچھی طرح پڑھ لیں… دوسرا یہ کہ احادیث مبارکہ میں وسوسے کے بارے میں
جو ارشادات آئے ہیں ان کو اچھی طرح سمجھ لیں …بس پھر یہ معاملہ دل میں بیٹھ جائے
گا، ان شاء اللہ…قرآن مجید نے اپنی آخری سورۃ میں اس معاملے کو ذکر فرمایا ہے…
اس میں بتایا گیا کہ :
١ ’’وسوسہ‘‘
اُن چیزوں میں سے ہے جن سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے رہنا چاہیے… یعنی وسوسہ ایک
بری اور خطرناک چیز ہے جو کسی مسلمان کے لئے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
٢ خطرناک
وسوسہ ڈالنے والے کو’’ خناس‘‘ کہتے ہیں، کیونکہ وہ چھپ کر وار کرتا ہے… وسوسہ ڈال
کر چھپ جاتا ہے… یا اپنے وسوسے کو خیر خواہی کے پردے میں چھپا کر ڈالتا ہے۔
٣ وسوسہ
ڈالنے والا خناس… جنات یعنی شیاطین میں سے بھی ہوتا ہے اور انسانوں میں سے بھی…
اَللّٰھُمَّ یَا رَبَّ النَّاسِ، یَا مَلِکَ النَّاسِ، یَا اِلٰہَ النَّاسِ
اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ
صُدُوْرِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّۃِ وَ النَّاسِ۔
’’وسوسہ ‘‘کہتے ہیں:
تَرَدُّدُ الشَّیْءِ فِی النَّفْسِ مِنْ غَیْرِ اَنْ
یَّطْمَئِنَّ اِلَیْہِ وَیَسْتَقِرَّ عِنْدَہٗ ۔
’’انسان کے جی میں کسی بات کا آنا جانا، وہ بات دل میں پکی
نہ بیٹھی ہو اور اس پر دل کو یقین اور اطمینان بھی نہ ہو۔‘‘
وسوسہ سے شریعت کا کوئی حکم ثابت نہیں ہوتا… کفر کے وسوسے سے
کوئی کافر نہیں ہوتا… ناپاکی کے وسوسے سے غسل واجب نہیں ہوتا… بدکاری کے وسوسے سے
کوئی سزا لاگو نہیں ہوتی اور نہ پاکدامنی پر کوئی فرق پڑتا ہے… خطرناک سے خطرناک
وسوسے پر بھی کوئی گناہ نہیں ہوتا۔
وسوسہ ایمان والوں کو… دین والوں کو … اور اللہ والوں کو
زیادہ آتا ہے… بہت خطرناک آتا ہے… اور اس وسوسے کی وجہ سے ان کو جو تکلیف ہوتی
ہے اس پر ان کے درجات بلند ہوتے ہیں… یہ ہیں چند ضروری معلومات … انہیں یاد رکھیں…
اور وسوسے کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگ کر درودشریف پڑھیں:
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اَزْوَاجِہٖ وَ
ذُرِّیَّتِہٖ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ اِبْرَاہِیْمَ وَ بَارِکْ عَلٰی
مُحَمَّدٍ وَّ اَزْوَاجِہٖ وَ ذُرِّیَّتِہٖ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی آلِ
اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمْیْدٌ مَجِیْدٌ۔
تاریخی دن
اللہ تعالیٰ نے حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم کی اُمت کو ہر نعمت دوسری امتوں سے افضل عطاء فرمائی ہے… سب سے
افضل نبی، سب سے افضل کتاب ، سب سے افضل شریعت ، سب سے افضل زمانہ، اور سب سے افضل
اعمال … حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت سے
بے انتہا محبت ہے… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کے
لئے وہ سب کچھ کیا جو کوئی اور کسی کے لئے نہیں کر سکتا… حتیٰ کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی خوشی کو اپنی خوشی اور
امت کے غم کو اپنا غم بنایا… یہاںتک کہ قیامت کے سخت دن بھی آپ صلی اللہ علیہ
وسلم ’’اُمَّتِيْ اُمَّتِيْ‘‘ فرما رہے ہوں گے… اللہ تعالیٰ کے محبوب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم ’’اُمَّتِيْ اُمَّتِيْ‘‘ کہتے نہیں
تھکتے تو ہم ’’اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ‘‘ کہتے ہوئے کیوں
ڈھیلے پڑ جاتے ہیں… دراصل ہم نے ’’صلوٰۃ وسلام ‘‘ کے مقام کو سمجھا ہی نہیں… حتٰی
کہ ہم میں سے کئی لوگ تو اسے عبادت بھی نہیں سمجھتے … بس ثواب کے لئے ایک نفل عمل
سمجھ لیتے ہیں …حالانکہ یہ افضل ترین عبادات اور اعلیٰ ترین طاعات میں سے ہے… اور
یہ اللہ تعالیٰ کے قرب کو پانے کا بہترین ذریعہ ہے… علامہ آلوسی ة رحمہ اللہ علیہ
نے اس بات پر اجماع لکھا ہے کہ صلوٰۃ وسلام علی النبی یعنی حضور اقدس
پر صلوٰۃ وسلام بھیجنا ہر مسلمان پر فرض عین ہے… اور قرآن مجید میں جو حکم فرمایا
گیا ہے کہ ان پر درود اور سلام بھیجو… یہ وجوبی حکم ہے… اور ہر مسلمان کے لئے
زندگی میں کم از کم ایک بار اس حکم پر عمل کرنا فرض ہے۔
بات یہ چل رہی تھی کہ اس امت کو اللہ تعالیٰ نے حضرت آقا
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے ہر چیز دوسروں سے افضل
اور بہتر عطاء فرمائی ہے … چنانچہ اس امت کو اپنے مہینے، اپناسال اور اپنی تاریخ
بھی عطاء فرمائی گئی… ہم اسے قمری ، ہجری ،اسلامی تاریخ کہتے ہیں… اللہ کرے تمام
اسلامی ممالک اپنی اس تاریخ کو اپنا لیں… یقیناً اس تاریخ میں بہت خیر اور برکت
ہے… اس وقت چونکہ دنیا پر صلیبیوں کا غلبہ ہے اس لئے انہوں نے اپنی تقویم اور
تاریخ ہر جگہ چلا رکھی ہے…31 دسمبر 1999ء کا دن ان کے نزدیک بہت تاریخی تھا…
کیونکہ اس پر ان کی تاریخ کے دو ہزار سال مکمل ہو رہے تھے… اور وہ اس موقع پر
’’ملینیم ‘‘ کا جشن زور شور سے منا رہے تھے…ہندوستان میں بھی چونکہ انگریزوں کا
راج آج تک جاری ہے … اس لئے وہاں بھی ’’ملینیم‘‘کا شور تھا… مگر ہندوستان کی گردن
بہت بری طرح سے قندھار میں پھنسی ہوئی تھی… ہندوستان 1971ء کے بعد سے ہر دسمبر
میں اپنی فتح کا جشن مناتا رہا ہے … جب اس کی افواج کے سامنے پاکستانی فوج کی
مشرقی کمان نے ہتھیار ڈالے تھے… یہ تاریخ اور یہ واقعہ ہندوستان میں بہت فخر،
مبالغے اور شیخی کے ساتھ یاد کیا جاتا تھا… مگر 1999ء کے دسمبر نے اس غبارے سے
ہوا نکال دی… 1971 ء میں تو انڈیا کی لاکھوں فوج کے سامنے اپنے ملک سے کٹے ہوئے
پاکستانی فوجیوں نے ہتھیار ڈالے تھے… مگر 1999ء کے دسمبر میں انڈیا کی سترہ لاکھ
سے زائد فوج اور ایک ارب عوام نے… چند مجاہدین کے سامنے انتہائی ذلت ناک حالت میں
ہتھیار ڈال دئیے… اور یوں حساب برابر ہی نہیں ہوا بلکہ اُلٹا اینٹ کو پتھر ملا …
یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل تھا… یہ اس امت مسلمہ کی شان اور فتح تھی… اس دن کے بعد
سے انڈیا اب دسمبر کا فاتحانہ جشن تقریباً بھول چکا ہے… اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو
مزید ترقی اور فتوحات عطاء فرمائیں… آئیے! شکر ادا کرتے ہیں… درودشریف کے دو صیغے
جھوم جھوم کر پڑھتے ہیں:
١ اَللّٰھُمَّ
صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ آلِ مُحَمَّدٍ کُلَّمَا ذَکَرَکَ الذَّاکِرُوْنَ وَ
کُلَّمَا سَھَا عَنْہُ الْغَافِلُوْنَ ۔
( یہ حضرت امام شافعی رحمہ اللہ علیہ والے
صیغے سے مختلف ہے )
٢ اَللّٰھُمَّ
صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ کَمَا ھُوَ اَھْلُہٗ وَ مُسْتَحَقُّہٗ۔ ( روح المعانی )
صَرِیْحُ الْاِیْمَانِ
احادیث مبارکہ میں آیا ہے کہ کئی صحابہ کرام نے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ’’وسوسے ‘‘ کی شکایت عرض کی… وہ
اپنے ’’وساوس‘‘ پر سخت غمزدہ تھے … اور عرض کر رہے تھے کہ یا رسول اللہ ! ایسے
وسوسے آتے ہیں کہ اُن کو بیان کرنے سے بہتر یہ لگتا ہے کہ ہم آگ میں جل کر کوئلہ
ہو جائیں…ایسے وسوسے آتے ہیں کہ اُن کے مقابلے میں آسمان سے گر کر مر جانا ہمارے
لئے بہتر ہے، وغیرہ وغیرہ… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن
کر خوشی کا اظہار فرمایا… اللہ اکبر کا نعرہ بلند فرمایا اور بشارت دی کہ:ـ
ذَاکَ صَرِیْحُ الْاِیْمَانِ۔
’’یہ تو خالص ایمان ہے ۔ ‘‘
[صحیح مسلم۔حديث رقم:۲۰۹ ، طبع: دار الکتب
العلمیہ۔ بیروت]
اور ساتھ یہ بشارت بھی عطاء فرمائی کہ:
اِنَّ اللہَ تَجَاوَزَ لِاُمَّتِیْ عَمَّا وَسْوَسَتْ بِہٖ
اَنْفُسُھَا مَالَمْ تَعْمَلْ اَوْتَتَکَلَّمْ۔
’’اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لئے نفس کے وسوسے معاف فرما
دئیے ہیں، جب تک کہ کوئی اُن کو عمل میں نہ لائے اور زبان سے نہ بولے۔ ‘‘
[صحیح بخاری۔حديث رقم:۶۶۶۴ ، طبع: دار الکتب
العلمیہ۔ بیروت]
ایک صحابی نے عرض کیا کہ شیطان میری نماز میں وسوسے اور خلل
ڈالتا ہے… ارشاد فرمایا:
’’ اس کا نام ’’ خنزب ‘‘ ہے۔ جب تمہیں وہ محسوس ہو تو اللہ
تعالیٰ سے پناہ مانگو اور بائیں طرف تین بار تھوک دو۔ صحابی نے یہ عمل کیا تو اُن
کی یہ تکلیف اللہ تعالیٰ نے دور فرما دی۔‘‘ [صحیح مسلم۔حديث رقم:۲۲۰۳ ،
طبع: دار الکتب العلمیہ۔ بیروت]
وسوسہ ایمان والوں کو آتا ہے … جبکہ بے ایمان اور گمراہ
لوگوں کو تو شیطان باقاعدہ ’’وحی‘‘ کرتا ہے… وہ ان کے دل میں آواز دیتا ہے اور وہ
اسے یقینی سمجھ کر اس پر عمل کرتے ہیں… آپ نے دیکھا ہو گا کہ کئی لوگ طرح طرح کے
دعوے کرتے ہیں… کوئی نعوذ باللہ نبوت کا مدعی بن جاتا ہے تو کوئی خود کو مسیح یا
مہدی کہہ دیتا ہے… یہ وسوسے سے نہیں ہوتا … یہ ’’شیطانی وحی‘‘ سے ہوتا ہے… اس لئے
ہر مسلمان کو کوشش کرتے رہنا چاہیے کہ وسوسے کو آگے نہ بڑھنے دے… وسوسے کی کئی
قسمیں خطرناک ہیں مثلاً:
١ اللہ
تعالیٰ کی ذات و صفات کے بارے میں شکوک و شبہات کے وسوسے… ان کا تذکرہ کئی احادیث
مبارکہ میں آیا ہے… اور ان کے بارے میں فرمایا گیا کہ ایسے وساوس کو فوراً روک
دینا چاہیے ۔ [صحیح مسلم۔حديث رقم:۲۱۴ ، طبع:دار الکتب العلمیہ۔ بیروت]
اور کہنا چاہیے آمَنْتُ بِاللّٰہِ ’’میں ایمان لایا
اللہ تعالیٰ پر۔‘‘
[صحیح مسلم۔حديث رقم:۲۱۲ ، طبع: دار الکتب
العلمیہ۔ بیروت]
روکنے کا اچھا طریقہ یہ ہے کہ خود کو کسی اچھے کام میں
لگا لیں… زیادہ وسوسے غم اور فخر کی حالت میں حملہ کرتے ہیں… تب اپنی اس حالت کو
فوراً بدل دیں… غم کو بدلنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کر کے شکر ادا
کریں… اور فخر و خوشی کی حالت کو ٹھیک کرنے کے لئے اپنے گناہ اور کمزوریاں یاد کر
کے استغفار کریں اور درودو سلام کے نظام محبت میں غوطہ لگائیں۔
٢ اپنی
ذات کے بارے میں وسوسے کہ میں کوئی بڑی چیز ہوں… میں عام انسانوں سے بلند ہوں… میں
بڑے مقام والا ہوں مگر میری قدر کوئی نہیں کرتا وغیرہ…ایسے وسوسے اللہ تعالیٰ کے
ذکر سے دور ہوتے ہیں… انسان اس بات کویاد کرے کہ اللہ تعالیٰ اگر اس کی پردہ پوشی نہ
فرمائیں تو وہ غلاظت ، کمزوری اور گناہ کا ایک ڈھیر ہے۔
٣ اپنی
ذات کے بارے میں وسوسے کہ میں بالکل بے کار ہوں، میری بخشش ہو ہی نہیں ہو سکتی میں
کبھی نہیں سدھر سکتا وغیرہ… یہ خطرناک مایوسی ہے… ایسے وقت میں انسان اللہ تعالیٰ
کے انعامات کو یاد کرے… اس کی رحمت کو یاد کرے… کلمہ طیبہ پڑھ کر اس کی قیمت یاد کرے
… درودشریف پڑھ کر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو اپنے اوپر برستا محسوس کرے۔
٤ پاکی
اور طہارت کے بارے میں وسوسے… اس کا علاج علم ہے … طہارت کے مسائل کا علم حاصل
کرے… کسی عالم کی نگرانی میں وضو اور پاکی کر کے اطمینان حاصل کرے… اور’’ سورۃ
الناس‘‘ کا زیادہ ورد کرے…اور اپنے دماغ کو خشکی سے بچائے۔
وساوس اور ان کے علاج کے بارے میں یہ چند اشارے عرض کر
دئیے ہیں… چند دن قبل حضرت سیّدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کا سکھایا ہوا
علاج بھی عرض کیا تھا کہ وسوسے كکے وقت سورۃ الحدید کی یہ آیت مبارکہ پڑھی جائے:
{ھُوَ الْاَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاھِرُ وَالْبَاطِنُ
وَھُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ }
آئیے! درودشریف کا جام بھرتے ہیں:
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ
اَفْضَلَ صَلَوٰتِکَ وَعَدَدَ مَعْلُوْمَاتِکَ۔ ( روح المعانی )
سنا کر کیا کریں گے؟
آج صبح سے اُنیس سال پہلے والے 31 دسمبر1999 ء کی یادیں…
زندگی میں پہلی بارکافی شدت سے دل و دماغ پر اُبھر آئیں… کوشش کی کہ کسی کو سنا
دوں مگر موقعہ نہ بنا… تب رنگ و نور لکھنے بیٹھ گیا کہ اس میں آ جائیں گی مگر
یہاں وساوس کا موضوع چل پڑا… تب سوچا کہ اپنی باتیں تو بس باتیں ہی ہوتی ہیں… سنا
کر کیا کریں گے … اللہ تعالیٰ دین کی باتیں سننے سنانے کی مزید توفیق عطاء فرمائیں
اور صلٰوۃ علَی النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح ذوق نصیب
فرمائیں… آئیے! حضرت علامہ آلوسی رحمہ اللہ علیہ کی تحقیق کے آخری
صیغے سےاپنی مجلس پر’’مسک الختام‘‘ لگاتے ہیں:
اَللّٰھُمَّ صَلِّ اَبَدًا اَفْضَلَ صَلَوٰتِکَ عَلٰی
سَیِّدِنَا عَبْدِکَ وَ نَبِیِّکَ وَ رَسُوْلِکَ مُحَمَّدٍ وَّ آلِہٖ وَ سَلِّمْ
عَلَیْہِ تَسْلِیْمًا وَ
زِدْہُ شَرَفًا وَّ تَکْرِیْمًا وَّ اَنْزِلْہُ الْمَنْزِلَ الْمُقَرَّبَ
عِنْدَکَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ ( روح المعانی )
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اَللّٰھُمَّ صَلِّ
وَ سَلِّمْ وَ بَارِکْ
عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی
آلِہٖ وَ سَلِّمْ تَسْلِیْمًا
’’ اللہ تعالیٰ ‘‘ ہمیں ’’اللہ والا‘‘ بنائے … ہماری آج کی
مجلس کو ہمارے لئے اپنے قرب کا ذریعہ بنائے… خبروں پر نظر ڈالی توکوئی قابلِ تبصرہ
نظر نہ آئی…سب ہی پیچھے کی طرف جا رہے ہیں نیچے کی طرف جا رہے ہیں… سیاستدان ،
لیڈر ، حکمران ، صحافی، کھلاڑی اور تاجر … صرف ’’اللہ والے‘‘ ہر قدم آگے جا رہے
ہیں…ہر سانس اونچے جا رہے ہیں… شہداء، مجاہدین ، علمائے ربانیین ، ذاکرین، اہل
امانت، اہل خدمت اور اہل عشق… چلیے! ’’ذکر اللہ ‘‘ سے مجلس شروع کرتے ہیں۔
مزے کے لئے نہیں
ذکر کرنے والے کہتے ہیں کہ ذکر میں دل نہیں لگتا… درودشریف
میں دل نہیں لگتا… خیالات کا ہجوم اور غلبہ رہتا ہے، بلکہ غلط خیالات بھی آ جاتے
ہیں… تو ایسے ذکر اور ایسی عبادت کا کیا فائدہ؟… بھائیو اور بہنو ! بہت فائدہ
ہے۔
١ ابھی
دونوں کام چل رہے ہیں ذکر بھی اور وساوس بھی… اگر ذکر چھوڑ دیا تو پھر وساوس رہ
جائیں گے… اس لئے ذکر چلنے دیں اور بڑھا دیں … درودشریف بھی ذکر ہے… ایک وقت آئے
گا کہ ذکر چھا جائے گا… وساوس کا غم نہ کھائیں… وہ سب کو آتے ہیں… اچھے لوگوں کو
زیادہ آتے ہیں۔
٢ خیالات
آتے ہیں مگر زبان تو ذکر کر رہی ہے… جب ذکر کی برکت سے زبان کو جہنم سے نجات ملے
گی تو ان شاء اللہ باقی اعضاء کو بھی مل جائے گی…اس پر شکر کریں کہ اللہ تعالیٰ نے
ہمارے اعضاء میں سے ایک عضو یعنی زبان کو اپنے ذکر پر لگا دیا ہے… اس پر شکر کریں
گے تو ان شاء اللہ توجہ والا ذکر بھی مل جائے گا… یہ کون سی کم نعمت ہے کہ زبان
اچھے کام میں لگی رہے… یہی زبان انسان کو اوندھے منہ جہنم میں ڈلواتی ہے… یہی کفر
بکتی ہے… غیبت غلاظتی ہے، جھوٹ اور بے شمار گناہ کرتی ہے ۔
٣ جب
اللہ تعالیٰ نے ہماری زبان کو اپنے ذکر میں لگا دیا ہے توکیا بعید ہے کہ آگے چل
کر ہمیں ’’ذکر بیداری‘‘ نصیب ہو جائے… پھر ترقی ہو اور ’’ذکر حضوری‘‘ نصیب ہو
جائے… اور پھر ایسی ترقی ہو کہ دل میں سے اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز غائب ہو جائے…
ویسے بھی ذکر کی توفیق خود بہت بڑی نعمت ہے… ذکر روحانی مزے کے لئے نہیں کیا جاتا…
بلکہ یہ ہر مومن ، مخلص کی بندگی اور ذمہ داری ہے… اہل دل نے لکھا ہے کہ… جو ذکر
اور عبادت اس لئے کی جائے کہ مجھے روحانی لذت حاصل ہو… مجھے کشف کا مقام نصیب ہو…
تو یہ نیت بھی ’’اخلاص‘‘ کے خلاف ہے… ذکر اور عبادت صرف اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے
کے لئے ہونی چاہیے… اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے…
پھر اگر روحانی لذت بھی ملتی ہے تو بہت اچھا، نہیں ملتی تو نہ ملے… غلام کا کام
آقا کا حکم بجا لانا ہے۔
یَا رَبِّ صَلِّ وَ سَلِّمْ دَائِمًا اَبَدًا
عَلٰی حَبِیْبِکَ خَیْرِ الْخَلْقِ کُلِّھِمٖ
خوابوں کی دنیا
خواب کی تعبیر بہت مشکل ’’علم ‘‘ ہے سچے خواب بہت کم آتے
ہیں… نیند میں دیکھی گئی ہر چیز خواب نہیں ہوتی، یہ تین باتیں ایک بار پھر پڑھ لیں
تاکہ دل میں بیٹھ جائیں ، اب اور سنیں۔
١ شیطان
انسان کے خوابوں میں طرح طرح کے تصرفات کرتا ہے… اکثر لوگ بے وضو سوتے ہیں…پیٹ بھر
کر سوتے ہیں … بستر کی پاکی کا خیال نہیں رکھتے… شیطان ان کو ڈراتاہے، مایوس کرتا
ہے، بدگمانیوں میں ڈالتا ہے… اس لئے ’’اللہ والوں‘‘ نے سختی سے سمجھایا ہے کہ خوابوں
کی باتیں چھوڑو…اپنی بیداری اور حقیقت کو اچھا بناؤ… حضرت مجدد الف ثانی رحمہ
اللہ علیہ نے تو باقاعدہ اس بات کی محنت فرمائی کہ خوابوں کا کوئی
اعتبار نہ کیا جائے… کیونکہ اس آخری زمانے میں خوابوں کو فتنے کا ذریعہ بنایا جا رہا
ہے…وہ سمجھاتے تھے کہ اگر تم خود کو خواب میں بادشاہ دیکھو توکیا تم بادشاہ بن
گئے؟ … نہیں بنے تو پھر اور باتوں میں اپنے خوابوں کا اتنا اعتبار کیوں کرتے ہو؟ …
حضرت مجدد رحمہ اللہ علیہ نے اپنے خلفاء کرام کو بھی تاکید فرمائی کہ
اپنے مریدین کے خوابوں اور کشفوں کی تعبیر اور توجیہ میں نہ پڑیں … آپ مکتوبات
میں لکھتے ہیں:
ّّ’’یہی وجہ ہے کہ اکابر نقشبندیہ واقعات ( اور خوابوں) کا
کوئی اعتبار نہیں کرتے اور طالبوں (یعنی مریدین ) کے واقعات ( یعنی خواب و کشف
وغیرہ) کی تعبیر میں توجہ نہیں دیتے کیونکہ ان چیزوں میں نفع بہت کم ہے … معتبر
وہی ہے جو ہوش اور بیداری میں میسر آ جائے۔‘‘ ( دفتر دوم مکتوب: ۵۸)
٢ اہل
تعبیر کے نزدیک مسلّم ہے کہ … اگر کوئی شخص دیکھے کہ اس کا بیٹا مر گیا ہے تو یہ
کسی بڑی نعمت کے ملنے کی دلیل ہے…اب اندازہ لگائیں کہ خواب کی تعبیر خواب سے کس
قدر مختلف ہے… یہی حال دیگر خوابوں کا بھی ہوتا ہے… خواب میں کسی کو نیک اور بزرگ
دیکھنا اس کے نیک اور بزرگ ہونے کا ثبوت نہیں ہے… اور خواب میں کسی کو برا اور
گناہ گار دیکھنا یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہ واقعی برا یا گناہگار ہے… بلکہ بعض حالات
میں ایسے خواب کی تعبیر بالکل الٹ اور برعکس بھی ہوتی ہے… اور اگر کوئی آدمی کسی
’’ اللہ والے‘‘ کو خواب میں بری حالت یا بری شکل میں دیکھے تو اس کا ایک مطلب یہ
ہو سکتا ہے کہ … خواب دیکھنے والا خود کسی بڑے گناہ یا برائی میں ملوث ہے… اس لئے
اچھے لوگوں کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ…اگر کوئی خوف والا یا برا خواب دیکھیں تواللہ
تعالیٰ کی پناہ مانگیں،اُلٹی طرف تین بار تھتھکار دیں اور صدقہ دیں… اور اگر کوئی
اچھا خواب دیکھیں تو صرف اہل علم و اہل قلب کو بتائیں ، ہر کسی کو نہیں… اور جو
خواب بہت بکھرا ہوا، کچھ یاد، کچھ بھولا ہوا ہو، وہ خواب نہیں ہوتا…وہ کسی کو نہ
سنائیں اور امت پر احسان کریں۔
٣ اپنے
کسی خواب کی وجہ سے کسی مسلمان سے بدگمانی نہ رکھیں… کسی کے بارے میں کوئی حتمی
رائے قائم نہ کریں۔
٤ اپنے
خواب کو بتاتے ہوئے اس میں جھوٹ کی ملاوٹ نہ کریں… جھوٹے خواب نہ گھڑیں… یہ بہت
خطرے والا گناہ ہے… اس کی پکڑ آخرت میں میدان حشر سے شروع ہو جائے گی… خلاصہ یہ
کہ اپنی بیداری کو اچھا بنائیں … خوابوں کوزیادہ اہمیت نہ دیں۔
اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَ سَلِّمْ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدِ نِ
النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الطَّاھِرِ الذَّکِیِّ صَلٰوۃً تُحَلُّ بِھَا الْعُقَدُ وَ
تُفَکُّ بِھَا الْکُرَبُ۔
دل کی جانچ
ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنے دل کو دیکھا کرے، اس کی جانچ کیا
کرے… یعنی دل کا ٹیسٹ ضروری ہے… ڈاکٹر سے نہیں بلکہ خود یہ ٹیسٹ کرتا رہے تاکہ دل
کا مریض نہ بن جائے… اللہ تعالیٰ معاف فرمائے منافقین کے بارے میں فرمایا گیا :
{فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَرَضٌ}… کہ وہ دل کی بیماری میں مبتلا ہیں… یہاں بطور مثال
چار ٹیسٹ عرض کئے جا رہے ہیں :
١ اگر
اپنے گناہ اور اپنے حالات دیکھ کر دل یہ سوچتا ہے کہ میری معافی اور میری اصلاح
نہیں ہو سکتی تو… یہ مایوسی کفر ہے… یہ دل کو لگ جائے تو نعوذ باللہ اسے کافر بنا
دیتی ہے… گناہ جتنے بھی زیادہ ہوںتوبہ نہیںچھوڑنی چاہیے… ندامت نہیں چھوڑنی چاہیے…
اللہ تعالیٰ کی امید سے ناامید نہیں ہونا چاہیے…حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ
علیہ نے بہت عجیب بات لکھی ہے…فرماتے ہیں:
’’اگر تمام گناہوں سے توبہ میسر ہو جائے اور تمام محرمات اور
مشتبہات سے ورع و تقویٰ (یعنی تمام حرام اور مشتبہ چیزوں سے بچنا ) حاصل ہو جائے
تو بڑی اعلیٰ دولت اور نعمت ہے ورنہ بعض گناہوں سے توبہ کرنا اور بعض محرمات سے
بچنا بھی غنیمت ہے۔شاید ان بعض کی برکات و انوار بعض دوسروں میں بھی اثر کر جائیں
اور تمام گناہوں سے توبہ اور ورع کی توفیق نصیب ہو جائے۔‘‘ ( دفتر دوم
مکتوب: ۶۶)
٢ اگر
اللہ تعالیٰ کی اپنے اوپر رحمتیں اور انعامات دیکھ کر دل یہ سوچتا ہے کہ اب مجھے
زیادہ نیکی کرنے اور گناہوں سے بچنے کی ضرورت نہیں… میں اللہ تعالیٰ کا مقرب بن
چکا ہوں… تو یہ ’’محرومی ‘‘ ہے… یہ دل کو لگ جائے تو اسے بہت دور پھینک دیتی ہے…
اللہ تعالیٰ کے انعامات دیکھ کر اور زیادہ نیکی کرنی چاہیے، اور زیادہ گناہوں سے
بچنا چاہیے… توبہ کی ضرورت گناہگاروں سے زیادہ نیک لوگوں کو ہوتی ہے…تاکہ ان کے دل
کی سپلائی ٹھیک رہے۔
٣ اگر
عبادت اور نیکی چھوٹنے پر دل کو کوئی غم نہیں ہوتا… اور گناہ کرنے پر دل پشیمان
نہیں ہوتا تو سمجھ لیں کہ’’ ہارٹ اٹیک‘‘ شروع ہے… یہ دل کو مار دینے والے بیماری
ہے… فوراً خود کو اچھے ماحول میں لے جا کر دل کا علاج کرانا چاہیے … اللہ والوں
خصوصاً مجاہدین کی صحبت اختیار کرنی چاہیے… اور اپنی زندگی کو یکسر بدلنا چاہیے۔
٤ اگر
عبادت اور نیکی سے دل خوش ہوتا ہے اور گناہ پر غمزدہ ہوتا ہے تو مبارک ہو… یہ دل
کے نور کی علامت ہے… اس نور کو بچانے اور بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے … تاکہ یہ نور
آپ کے ساتھ ساتھ چلے اور دوسروں کو بھی روشنی فراہم کرے۔
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ صَلٰوۃً
تُنَوِّرُ بِھَا قُلُوْبَنَا بِنُوْرِمَعْرِفَتِکَ وَ سَلِّمْ عَلَیْہِ
تَسْلِیْمًا۔
آیۃ الکرسی
الحمد للہ آیۃ الکرسی کے معانی، معارف اور خواص پر بندہ کا
مختصر’’ کتابچہ‘‘ شائع ہو چکا ہے… یہ کتابچہ تیار کر کے جب خود پڑھا تو الحمد للہ
بہت فائدہ ہواا ور ’’آیۃ الکرسی‘‘ سے ایک عجیب تعلق قائم ہو گیا… اس کیفیت کو کسی
عمل کا ’’شرح صدر‘‘ کہتے ہیں کہ سینہ کھل جائے اور وہ عمل دل میں اُتر جائے پھر جب
یہ کتابچہ چھپ گیا تو اپنے کئی قریبی احباب سے التماس کی کہ وہ اسے حرفاً حرفاً
پڑھ کر اپنی رائے دیں… الحمد للہ بہت ایمان افروز آراء سامنے آئیں… چنانچہ آپ
سب حضرات و خواتین کو بھی اسی ’’شرح صدر‘‘ حاصل کرنے کی دعوت دیتا ہوں… یہ
’’کتابچہ‘‘ اچھی حالت میں توجہ سے مکمل پڑھ لیں… اللہ تعالیٰ’’آیۃ الکرسی‘‘ کا
نور ہم سب کو نصیب فرمائے۔
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ عَدَدَ
خَلْقِکَ وَ رِضَا نَفْسِکَ وَ زِنَۃَ عَرْشِکَ وَ مِدَادَ کَلِمَاتِکَ وَ بَارِکْ
وَ سَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا اس امت پر یہ عظیم احسان ہے کہ … اس امت کے
پاس اپنے رسول اور نبی حضرت آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل ’’سیرت
مبارکہ ‘‘ محفوظ ہے … آج کی مجلس میں اسی ’’ سیرت مبارکہ ‘‘ پر چند اہم باتیں عرض
کرنی ہیں :
١ ہر
مسلمان کے لئے لازم بھی ہے اور حد درجہ مفید بھی کہ وہ … حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کی سیرت مبارکہ کو جانے،پہچانے،پڑھے،سنے،سنائے اور اپنائے ۔
٢ کوئی
شخص اُس وقت تک دین کا عالم نہیں ہو سکتاجب تک وہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی
سیرت مبارکہ کو تفصیل سے نہ پڑھ لے ۔
٣ حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ کا بہت کچھ بیان ’’قرآن مجید‘‘ میں موجود
ہے ۔ یعنی یہ ’’کلام اللہ ‘‘ کا ایک اہم موضوع ہے ۔ اس لئے جو قرآن مجید کو سمجھ
کر پڑھتا ہے وہ سیرت مبارکہ کے ایک اہم حصے سے واقف ہو جاتا ہے ۔
٤ اللہ
تعالیٰ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو پوری
اُمت مسلمہ کی طرف سے بہت بہت جزائے خیر عطا فرمائے کہ انہوں نے بہت اہتمام،انتظام
،ترتیب اور محنت سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ کو محفوظ فرمایا
… اور اُمت مسلمہ تک پہنچایا ۔
٥ اللہ
تعالیٰ ہماری عظیم مائوں اُمہات المومنین رضی اللہ عنہن کو پوری امت
مسلمہ کی طرف سے بہت اعلیٰ جزائے خیر عطا فرمائے … وہ سیرت مبارکہ کی حفاظت کا اہم
ذریعہ بنیں … اور یوں حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی مثالی گھریلو زندگی
امت کے لئے بطور رہنما محفوظ ہو گئی ۔
٦ حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ پڑھنا ،پڑھانا ، لکھنا ، لکھوانا سننا اور
سنوانا ، چھاپنا اور چھپوانا … یہ سب وہ نیک اعمال ہیں جن کے ذریعہ کوئی بندہ اللہ
تعالیٰ کا قرب اور تقرب حاصل کر سکتا ہے … یہ تمام اعمال اگر اخلاص نیت سے ہوں تو
عبادت ہیں… کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور
اتباع کا حکم فرمایا ہے… اور اطاعت اور اتباع تبھی ہو سکتی ہے جب ہمیں حضور اقدس
صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام اور احوال کا علم ہو ۔
٧ قرآن
عظیم الشان کے بعد حضو ر اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ جاننے کا دوسرا
اہم ذریعہ حدیث مبارکہ کی کتب ہیں … ہم جس قدر حدیث شریف زیادہ پڑھتے جائیں گے …
ہمیں اس قدر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ کا علم نصیب ہوتا چلا
جائے گا۔
٨ حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ایک مؤمن کے ایمان کا حصہ ہے … اور محبوب کا
تذکرہ بھی محبوب اور میٹھا ہوتا ہے … اور بڑی بات یہ ہے کہ حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ کے اپنے بہت خاص انوارات ہیں …
یہ خاص انوارات صرف سیرت مبارکہ پڑھنے ، پڑھانے اور لکھنے سے نصیب ہوتے ہیں … اس
دوران ایک خاص قسم کی رحمت بھی نصیب ہوتی ہے … اور انسان اللہ تعالیٰ کی محبت اور
رحمت کی برسات میں آجاتا ہے ۔
٩ اللہ
تعالیٰ اُمت مسلمہ کی اُن تمام ہستیوں کو جزائے خیر عطا فرمائے… جنہوں نے حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ پر مستند اور معتمد کتابیں
لکھیں ہیں … اس لازمی، محبوب اور میٹھے موضوع پراب تک بلا مبالغہ لاکھوں کتابیں
مختلف زبانوں میں لکھی جا چکی ہیں…اور سیرت مبارکہ پر علمی تحقیق کا کام … اور اس
منبع علم سے نئے نئے علوم کے انکشافات کا سلسلہ چودہ سو سال سے آج تک بلا انقطاع
جاری ہے ۔
١٠ آج کی مجلس کی آخری اور اہم بات یہ ہے کہ سیرت مبارکہ
بھی ایک بڑا معجزہ ہے … اس میں ہر انسان کے لئے رہنمائی موجود ہے … ہر زمانے کے
لئے روشنی موجود ہے … ہر عمر کے فرد کے لئے کامیابی کا راز موجود ہے … اور ہر طرح
کے حالات کے لئے رہنما اصول موجود ہیں … یعنی سیرت مبارکہ زندہ ہے ، تروتازہ ہے
اور رہنما ہے … ہر کسی کے لئے… ہر زمانے کے لئے … ہر عمر کے لئے … ہر طرح کے حالات
کے لیے ۔
ایک
مثال لے لیجئے … اللہ تعالیٰ کی جو کائنات ہمیں نظر آ رہی ہے اس میں چاند زمین کے
بہت قریب موجود ہے… اور تھوڑے فاصلے پر مریخ … جبکہ بے شمار ستارے دور، دور … اور
پھر آسمان اُن سے بھی دور … کچھ انسانوں نے محنت کی اور وہ چاند تک جا پہنچے… وہ
وہاں سے نہ انسانوں کے لیے کوئی رزق لائے نہ کوئی علم … بلکہ زمین پر موجود غریب
انسانوں کا بہت سا بیش بہا سرمایہ اوررزق ضائع کر کے چاند تک ہو آئے…اب مریخ پر
جانے کی کوشش میں ہیں … اُن کے وہاں آنے جانے سے نہ کسی کو کوئی فائدہ ملا اور نہ
کوئی نعمت … مگر انہوں نے اپنے اس ’’ تقلب ‘‘ یعنی قلابازی کو ’’تبلیغ کفر ‘‘ کا
ذریعہ بنا ڈالا … اور ہر طرف یہ شور مچ گیا کہ یہ لوگ ترقی یافتہ ہو چکے … اب ان
کی تعظیم کرو، ان کی اطاعت کرو، ان کے سامنے سجدے کرو… ان کو اپنے سے بڑا اور افضل
مانو … گویا مسلمانوں کو ’’مرعوب‘‘ کرنے کا یہ فتنہ چاند اور مریخ سے جا جڑا…
حالانکہ مسلمان اگر سیرت مبارکہ کا غور سے مطالعہ کریں تو کبھی بھی اس طرح کی
’’قلابازیوں ‘‘ سے متاثر نہ ہوں…سیرت کی ہر کتاب کے ابتدا ئی صفحات میں ’’معراج‘‘
کا واقعہ موجود ہے … اور شق قمر کا بھی … معراج میں ایک یقینی سفر ہوا … انتہائی
تیز رفتار سفر … ایسا تیز رفتار کہ ابھی تک سائنسی تحقیقات اس تیزی کا حجم طے نہیں
کر سکی … کل تک وہ ’’روشنی ‘‘ کو تیز ترین کہتے رہے اب پچاس سال بعد مان لیا کہ …
روشنی سے بھی تیز رفتار ممکن ہے… مگر معراج کا سفر حد درجہ تیز ترین تھا … جس طرح
کہ آج ہم میں سے کسی نے سائنسدانوں کو چاند پر جاتے خود نہیں دیکھا… مگر سب ہی
تسلیم کرتے ہیں کہ فلاں فلاں افراد چاند پہ جا چکے ہیں… اسی طرح حضور اقدس صلی
اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تمام اہل مکہ نے … خواہ وہ مسلمان تھے یا
کافر معراج کے سفر کے اثرات دیکھے، جانچے اور تسلیم کیے … قرآن عظیم الشان نے
بتایا ہے کہ یہ سفر آسمانوں سے بھی بلند تھا … اور اس سفر کا فائدہ کروڑوں، اربوں
انسانوں کو پہنچ چکا ہے اور پہنچتا رہے گا کہ… حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم اس سفر سے امت مسلمہ کے لئے ’’نماز ‘‘ جیسی نعمت لائے… نماز میں
ترقی بھی ہے ، رزق بھی ہے، قوت بھی ہے ، نعمت بھی ہے اور نجات بھی…اب جو انسان علم
کی روشنی میں غوطہ لگا کر … سفر معراج کو نہایت غور، تدبر اور یقین سے پڑھے گا… وہ
کیسے ’’فتنۂ مرعوبیت ‘‘کا شکار ہو گا ؟… چاند تو دو قدم پر ہے…جبکہ یہ سفر ’’سدرۃ
المنتہیٰ‘‘سے بھی آگے کا تھا … یعنی جو ترقی ہم آغاز اسلام میں کر چکے… دنیا بھر
کے سائنسدان قیامت تک اس کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتے … اس پر کوئی کہہ سکتا ہے
کہ … وہ سفر اللہ تعالیٰ کے انتظام سے تھا… سواری بھی وہاں سے آئی تھی … جبکہ آج
کا سفر انسانی محنت سے ہے… جواب یہ ہے کہ آج کا یہ مختصر سفر بھی ایندھن، لوہے
اور توانائی سے ہے … اور ان تمام کا انتظام بھی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں …ایندھن
اور اسباب سب اللہ تعالیٰ کے پیدا فرمودہ ہیں… انسان نے اتنا کیا کہ ان کے اچھے یا
برے استعمال کو دیکھ لیا … اور یہ تاریخ انسانی کاحصہ ہے کہ ہر دور کے انسان قدرتی
اسباب کو … مختلف کاموں میں استعمال کرنا سیکھ جاتے ہیں… تو پھر اس کا ترقی سے کیا
لینا دینا ہے ؟… ماضی کے انسانوں کی صحت آج کے انسانوں سے اچھی تھی … ان کی
زندگیاں آج کے انسانوں سے زیادہ بھرپور، توانا اور حسین تھیں … اُن کی خوشیاں آج
کے انسانوں کی خوشیوں سے بہت زیادہ تھیں … انہوں نے اسباب پر وہ محنت کی جس سے
انسان کو فائدہ پہنچا… اور آج کے بیوقوف سائنسدان اسباب پر وہ محنت کر رہے ہیں …
جس سے انسان کمزوری ، ہلاکت اور مصنوعیت کے گڑھوں میں گر رہا ہے … بہرحال جو انسان
بھی ’’اسباب ‘‘ پر محنت اور غور و فکر کرتا ہے وہ ضرور کوئی نئی چیز دریافت کر
لیتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسباب میں تأثیرات کے خزانے چھپا دئیے ہیں ۔
آج اگر مسلمانوں کو آزادی مل جائے … اور یہ مکمل آزادی
جہاد فی سبیل اللہ کی برکت سے ہی مل سکتی ہے تو آپ یقین کریں کہ آزادی کے ماحول
میں مسلمان سائنسدان وہ چیزیں ایجاد کر لیں گے… جن تک آج کے کافر سائنسدان کا ذہن
پہنچ ہی نہیں سکتا ۔
بہر حال ! واپس اپنے موضوع پر آتے ہیں کہ اگر کوئی مسلمان
سیرت مبارکہ کو توجہ سے پڑھے تو وہ… ہر طرح کے حالات میں خاص رہنمائی حاصل کر سکتا
ہے … اور فتنوں سے بچ سکتا ہے… ایک مسلمان جب سیرت مبارکہ میں ایک غزوے کے بعد
دوسرا غزوہ … اور ایک سریے کے بعد دوسرا سریہ پڑھتا ہے تو وہ ’’فتنہ انکار جہاد‘‘
سے بچ جاتا ہے … قادیانی ترک جہاد پر اسے لاکھ دلائل دیں وہ جب سیرت مبارکہ میں …
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کو تلوار اٹھائے لڑتا دیکھتا ہے تو
… اس کے دل میں ایسی روشنی چمکتی ہے کہ… قادیانی دلائل کا اندھیرا خود غائب ہو
جاتا ہے … ایک مسلمان غم کی حالت میں ہو تو سیرت مبارکہ اس کو غم سہنا سکھاتی ہے …
جبکہ دوسرا انسان خوشی کی حالت میں ہو تو سیرت مبارکہ اس کو خوشی پچانا سکھاتی ہے
… بس یہ ایک اشارہ ہو گیا اب آپ خود ہی اس موضوع کو پھیلا کر سمجھ سکتے
ہیں۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَللّٰھُمَّ صَلِّ
وَسَلِّمْ وَبَارِکْ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَصَلِّ وَسَلِّمْ
تَسْلِیْماً
اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ
وسلم اپنے صحابہ کرام سے مشورہ فرمایا کرتے تھے… حالانکہ آپ صلی اللہ
علیہ وسلم کو مشورے کی ضرورت نہیں تھی… مگر اللہ تعالیٰ نے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرمایا کہ… اپنے رفقاء سے
مشورہ فرمایا کریں:
{وَشَاوِرْهُمْ فِي
الْأَمْرِ} [آل
عمران: ۱۵۹]
حضرات مفسرین رحمہم اللہ نے اس حکم کے تین مقاصد لکھے ہیں:
١ آپ صلی
اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام سے مشورہ فرمایا کریں… تاکہ مشورہ کی
سنت ، مشورہ کا قانون اور مشورہ کا طریقہ اُمت مسلمہ میں جاری ہو جائے۔
٢ آپ صلی
اللہ علیہ وسلم اپنے رفقاء کرام سے مشورہ فرمایا کریں… تاکہ اُن کی
حوصلہ افزائی ہو، اُن کے دل خوش ہوں، اُن میں محبت کا احساس بڑھے اور اُن کو
آئندہ اپنے معاملات چلانے کا سلیقہ آ جائے۔
٣ آپ
صلی اللہ علیہ وسلم مشورہ فرمایا کریں … تاکہ امت کو معلوم ہو کہ مشورہ
میں برکت ہے، مشورہ میں خیر ہے۔
’’مشورہ‘‘ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے… اللہ تعالیٰ
’’اَلْحَکِیْمُ‘‘ ہیں… اللہ تعالیٰ کے ہر حکم میں حکمتیں ہوتی ہیں … مشورہ کے حکم
میں جو حکمتیں ہیں وہ بے شمار ہیں… چند کی طرف اوپر اشارہ آ گیا ہے۔
ایک گذارش
ایک چھوٹا سا کام ہے، مگر فائدہ کے لحاظ سے بڑا ہے… جب بھی
اذان ہوفوراً اپنا موبائل بند کر دیا کریں… بند کرنے سے مراد اس کی آواز بند کرنا
یا اسے خود سے دور کرنا نہیں … اسے ’’آف‘‘ کرنا ہے… اس عمل سے آپ کو کیا کچھ ملے
گا؟… تین دن پوری پابندی سے عمل کر کے دیکھ لیں…اَللہُ اَکْبَرُ،اَللہُ
اَکْبَرُ…اللہ تعالیٰ سب سے بڑے ہیں… اُن کی طرف سے آواز آ گئی تو تمام چھوٹے
رابطے بند… کسی کو ملک کے صدر ، وزیراعظم کی کال آ جائے تو اس دوران وہ کسی
چوکیدار، چپڑاسی یا کلرک کی کال نہیں سنتا… ہمہ تن متوجہ ہو کر… وزیراعظم سے بات
کرتا ہے… اَللہُ اَکْبَرُ، اَللہُ اَکْبَرُ…اذان کی آواز …یہ کس کی کال ہے؟ … کون
اپنی طرف بلا رہا ہے؟… سوچیں ، سمجھیں اور بڑا خزانہ پا لیں… کتنا مزہ
آتا ہے جب ہم حقیر کمزور لوگ اپنے عظیم رب تعالیٰ کی رضاء کے لئے کچھ
کرتے ہیں… اذان کی آواز آئی تو فوراً موبائل اُٹھایا اور بند کر دیا… سبحان
اللہ!… آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں کہ کچھ تو اچھا کیا ، کچھ تو عقل آئی… بس
اب نماز کی تیاری نماز کی فکر اور اللہ تعالیٰ کا ذکر… اس میں ایک بات یہ یاد
رکھیں کہ موبائل کی صرف آواز بند نہ کریں … اس سے دوسروں کو ایذاء پہنچتی ہے …
کیونکہ وہ سوچتے ہیں کہ گھنٹی تو جا رہی ہے تو پھر اُٹھا کیوں نہیں رہے؟… کوئی
سمجھے گا کہ آپ ناراض ہیں… کوئی سمجھے گا کہ آپ اس کو نظر انداز کر رہے ہیں… اس
لئے اے اہل دل! آپ اہل موبائل کو تڑپانا بند کریں … اُن کو آپ کا فون بند ملے گا
تو کسی طرح صبر کر لیں گے…لیکن اگر کھلا ملا اور آپ نے نہ اُٹھایا تو اُن پر طرح
طرح کے دورے پڑ جائیں گے… اذان کے بعد تو فون ضرور بند کر دینا چاہیے…باقی اوقات
میں بھی جب آپ کال وصول کرنے کی حالت میں نہ ہوں فون کو بند رکھا کریں… ہاں اگر
کسی کی دل آزاری کا خطرہ نہ ہوتو کھلا بھی چھوڑ سکتے ہیں… مگر کھلا فون اپنی
ریڈیائی لہروںسے آپ کی نیند اُڑائے گا… معدہ خراب کرے گا… دماغ کو تھکائے گا… یا
کچھ نہ کچھ برا ضرور کرے گا… اتنا حساس آلہ آرام سے تو نہیں بیٹھ سکتا۔
’’مشورہ‘‘ اہل ایمان کی صفت ہے
اہل محبت میں سے کسی نے پوچھا کہ’’ استخارہ‘‘ پر کتابچہ آ
گیا… اس میں مشورہ کا تذکرہ نہیں ہے … اُن سے عرض کیا کہ جان بوجھ کر ’’مشورہ‘‘ کا
تذکرہ نہیں کیا… کیونکہ’’ مشورہ‘‘ کا موضوع زیادہ مفصل ہے…اس موضوع کے
کئی پہلو ہیں …چنانچہ اگر مختصر لکھا جاتا توکام نہ بنتا… اور اگر مفصل لکھا جاتا
تو استخارہ کی بات کیسے سمجھاتے …’’ مشورہ‘‘ میں تفصیل ہے کہ کن امور میں کیا جائے
کن امور میں نہیں؟… کن سے کیا جائے اور کن سے نہ کیا جائے؟… مشورہ پر عمل ضروری ہے
یا نہیں؟… مشورہ دینے والے کے لئے شریعت میں کیااحکامات ہیں؟ وغیرہ وغیرہ… مشورہ
کا قانون قرآن مجید میں بیان ہوا ہے…اور قرآن مجید کی ایک پوری سورۃ مبارکہ کا
نام ’’الشوریٰ‘‘ ہے… مشورہ کے موضوع پر احادیث مبارکہ اور صحابہ کرام
رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اقوال کا بھی ایک ذخیرہ موجود
ہے… حضرات مفسرین کرام رحمہم اللہ علیہ نے بھی مشورہ کے موضوع پر… بہت
تفصیل سے لکھا ہے… اور کئی حضرات نے قرآن و حدیث سے مشورہ کے احکامات و واقعات کو
الگ جمع کرنے کی مبارک کوشش فرمائی ہے… قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی
صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورہ کا حکم فرمایا… اور ایمان والوں کی اس بات
پر تعریف فرمائی کہ وہ اپنے معاملات مشورہ سے طے کرتے ہیں:
{وَأَمْرُهُمْ شُوْرٰى
بَيْنَهُمْ} [الشوریٰ:۳۸]
’’سورۂ شوریٰ‘‘ کی اس آیت پر غور فرمائیں تو مشورہ کا تذکرہ
دو فرائض کے درمیان ہے… اس سے پہلے نماز کا تذکرہ ہے اور اس کے بعد انفاق یعنی
زکوٰۃ کا :
{وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ}[الشوریٰ:۳۸]
اس سے مشورہ کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے… اسی طرح
قرآن مجید نے بچے کے دودھ چھڑانے تک کے معاملے میں مشورہ کی تاکید فرمائی ہے… اور
تو اور… فرعون اور ملکہ سبا کی مجلس مشاورت اور مشورے تک کا ذکر فرمایا ہے کہ …
دین و دنیا کے سب معاملات میں مشورہ کامیابی کا راستہ ہے… اسی لئے فرمایا گیا کہ
مَاخَابَ مَنِ اسْتَخَارَ وَمَا نَدِمَ مَنِ اسْتَشَارَ۔
’’یعنی استخارہ کرنے والا ناکام نہیں ہوتا اور مشورہ کرنے
والا شرمندہ نہیں ہوتا۔‘‘
[المعجم الاوسط حدیث رقم:۶۶۲۷ ، طبع:دار الحرمین،
قاہرہ]
یہ جملہ حدیث ہے یا کسی کا قول… اس بارے میں دونوں آراء
موجود ہیں… جبکہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے
ہیں:
اَلْاِسْتِشَارَۃُ عَیْنُ الْھِدَایَۃِ وَقَدْ خَاطَرَ مَنِ
اسْتَغْنٰی بِرَأْیِہٖ۔
’’مشورہ عین ہدایت ہے یا رہنمائی کا چشمہ ہے اور وہ شخص خطرے
میں ہوتا ہے جو اپنی رائے کو کافی سمجھتا ہے۔‘‘
[أدب الدنيا والدين۔ص: ۳۰۳، طبع: دار مکتبۃ الحیاۃ]
ایک ضروری گذارش
روزانہ اپنے ’’ایمان ‘‘ کا شکر ادا کرنا کبھی نہ بھولیں… اللہ
تعالیٰ نے ایمان و اسلام کی دولت عطاء فرمائی ہے… اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ
الْعَالَمِیْنَ… اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ … کوئی ایک وقت مقرر کر
لیں … یا دو رکعت مقرر کر لیں… اور اس کے آخری قعدے میں تشہد و درود شریف کے بعد…
اسی شکر کی ادائیگی کے لئے والہانہ پڑھتے جائیں… اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ
الْعَالَمِیْنَ…اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ… آج کل خبروں میں انڈیا
کے ایک میلے کا تذکرہ آ رہا ہے… یہ میلہ الٰہ آباد شہر میں ہوتا ہے اور اسے ’’
کمبھ میلہ‘‘ کہتے ہیں… مشرکین وہاں جمع ہو کر کوئی غسل وغیرہ کرتے ہیں… کل کی
رپورٹ تھی کہ…اس میلے میں اگھوری فرقے کے ہندو سادھو بھی شریک ہوتے ہیں… ہندو
معاشرے میں ان سادھوؤں کی بہت عزت کی جاتی ہے… یہ اپنے جسم پر کپڑا نہیں پہنتے …
پیشاب پیتے ہیں …اپنے جسم سے نکلنے والی غلاظت (قضائے حاجت) کھاتے ہیں… شمشان گھاٹ
میں رہتے ہیں… وہاں جو مردے جلائے جاتے ہیں ان کا گوشت یہ کھا جاتے ہیں… اور مردہ
عورتوں کے ساتھ بدکاری بھی کرتے ہیں… اور بھی اس طرح کے بہت سے غلیظ کام ان کے
مذہب میں شامل ہیں… اللہ تعالیٰ کا کتنا عظیم احسان ہے کہ ہمیںاسلام و ایمان کی
نعمت عطاء فرمائی… جہاں پاکی ہے، پاکیزگی ہے، حیاء ہے اور تقویٰ ہے… اگر انسان کے
پاس ایمان کی دولت نہ ہوتو وہ کس قدر گر جاتا ہے… اے اہل اسلام!اہل ایمان! دل کی
گہرائی سے اس عظیم ترین نعمت کا شکر ادا کریں…اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ
الْعَالَمِیْنَ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
چار نعمتیں
اسلاف میں سے کسی کا قول ہے کہ ’’ جس کو چار چیزیں مل گئیں …
وہ چار چیزوں سے محروم نہیں ہو سکتا:
١ جس
کو ’’شکر‘‘ مل گیا… وہ نعمتوں کے اضافے سے محروم نہیں ہوتا…
٢ جس
کو ’’توبہ‘‘ مل گئی…وہ قبولیت سے محروم نہیں ہوتا…
٣ جس
کو ’’استخارہ‘‘ مل گیا… وہ افضل اور بہتر سے محروم نہیں ہوتا…
٤ جس
کو ’’مشورہ‘‘ مل گیا… وہ درست فیصلے سے محروم نہیں ہوتا…
مشورہ ملنے سے مراد… مشورہ کی عادت اور مشورہ اپنانا… مشورہ
کے موضوع پر آج تفصیل سے لکھنے کا ارادہ نہیں ہے… کیونکہ اس کی بنیادی باتوں کو
ہی سمیٹنے کے لئے کم از کم دو مضامین کی ضرورت ہے… آج صرف توجہ دلانی تھی کہ
مشورہ کی سنت اور قانون کو سمجھیں اور اپنائیں… بس اس میں احتیاط یہ ہے کہ ہر کسی
سے مشورہ نہ کیا جائے… اکثر لوگ مغالطے میں ڈالتے ہیں… صرف اہل نصیحت ، اہل علم ،
اہل تجربہ اور اہل مہارت سے مشورہ کیا جائے… کون سا مشورہ کس سے کرنا ہے… اس کا
بھی مشورہ کی نوعیت کے مطابق انتخاب کیا جائے…آج کل ایک بری عادت خود بخود مشورے
دینے کی عام ہو گئی ہے… اس عادت سے خود کو بچائیں… ہر بات میں اور ہر کسی کو مشورہ
نہ دیا کریں… خصوصاً اپنے بڑوں کو بن مانگے مشورہ نہ دیں… ہاں! اگر وہ مشورہ
مانگیں تو سوچ سمجھ کر ایک مشورہ دیں… مشوروں کا بھنڈار نہ کھول دیں… اسی طرح بعض
افراد خود کوئی کام نہیں کرتے،بلکہ بیٹھے رہتے ہیں…جبکہ وہ کام کرنے والے افراد
اور اداروں کو اپنے مشوروں سے نوازتے رہتے ہیں… یہ بھی بری عادت اور بے عمل لوگوں
کا طریقہ ہے… حضرت بنوری رحمہ اللہ علیہ نے لکھا ہے … جس کا مفہوم یہ
ہے کہ:
’’ استخارہ اور استشارہ ( یعنی مشورہ کرنا) یہ دو طریقے ہمارے
پاس موجود تھے… ان سے مکمل رہنمائی مل جاتی تھی… مگر آج اُمت کا شیرازہ بری طرح
بکھر گیا ہے… جس کی وجہ سے استشارہ (یعنی مشورہ کرنا) آسان نہیں رہا… (کیونکہ ہر
شخص کا اپنا رخ ہے اور ہر شخص ہر کسی کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور درست مشورہ نہیں
دیتا) اس لئے استخارہ کا طریقہ زیادہ محفوظ ہے۔‘‘ (بینات)
اہل دل فرماتے ہیں کہ… ہر مسلمان کو سنت پر مکمل عمل
کرنے کے لئے استخارہ اور استشارہ دونوں کو مضبوطی سے اپنانا چاہیے… استخارہ تو
محفوظ ہے کہ… صرف اللہ تعالیٰ سے ہوتا ہے جبکہ استشارہ کو خود محفوظ بنانا چاہیے
کہ صرف مشورہ کے قابل لوگوں سے مشورہ کیا جائے… ایک ضروری بات یہ ہے کہ جس آدمی
سے مشورہ مانگا جائے وہ کبھی غلط مشورہ نہ دے…معذرت کرلے یادرست مشورہ دے…اگر اس
نے غلط مشورہ دیا… کوئی بات چھپائی، یا کسی مغالطے میں ڈالا تو فرمایا گیا کہ وہ
’’خائن ‘‘ ہے… خیانت کے مرتکب کا گناہ آپ جانتے ہیں… جو مسلمان کسی دینی ذمہ داری
پر ہو اس کو بہرحال … مشورے کو لازم پکڑنا چاہیے… تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ روشنی
میں درست فیصلے کر سکے… اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ… اگرآپ کسی کو کوئی مشورہ دیں
تو… اسے اس پر عمل کے لئے مجبور نہ کریں… اور اگر وہ عمل نہ کر سکے تو اس سے ناراض
نہ ہوں… یعنی اپنے مشورے کو حکم یا امر نہ بنائیں۔
ایک اور گذارش
اپنی آخرت … اپنی قبر… اپنی دنیا … اپنا رزق … اپنی صحت…
اپنا مزاج …اور اپنے اخلاق کو بھرپور نفع پہنچانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ … روزانہ
صدقہ دیا جائے… جی ہاں! کوئی دن صدقہ سے خالی نہ ہو… ہر دن کا صدقہ ہر دن ادا کر
دیں… یا کسی جگہ الگ کر کے رکھ دیں… صدقہ تھوڑا ہو یا زیادہ … روپے ہوں یا کپڑے یا
کھانا… یا کوئی بھی ضرورت کی چیز… اپنے سامان کا جائزہ لیں… بہت سی چیزیں بس ویسے
ہی پڑی ہوں گی… ان کو آج ہی نکال کر صدقہ کریں… گرم کپڑے ہوں یا گھر کی چادریں
وغیرہ… اکثر اپنے سامان کی تلاشی لیا کریں… اورآخرت کے گھر کے لئے بیگ بھر بھر کر
آگے بھیجا کریں… صدقہ دراصل… عبادت بھی ہے اور نعمت بھی… شفاء بھی ہے اور دواء
بھی … توفیق ملے تو صدقہ کے فضائل پڑھ لیں… حیران رہ جائیں گے… اس لئے بار بار
پڑھتے رہیں… فضول چیزیں جمع نہ کریں … اگر ایک سواری سے کام چل رہا ہے تو دوسری
سواری لے کر کھڑی نہ کریں… شیطان اس کے ذریعہ آپ کو شدید نقصان پہنچائے گا… اللہ
تعالیٰ کی محبت میں صدقہ دیں… جہنم کی آگ سے بچنے کے لئے صدقہ دیں… اللہ تعالیٰ
کے غضب کو ٹھنڈا کرنے کے لئے صدقہ دیں… بیماری سے شفاء کے لئے صدقہ دیں… بس دیتے
رہیں …دیتے رہیں … تب حقیقی دینے والا آپ کو ہر طرح سے مالا مال اور خوش فرما دے
گا…اَلْمُعْطِیْ ھُوَ اللہُ… جب بھی کوئی مال آئے، کوئی رزق آئے اس میں سے پہلے
اللہ تعالیٰ کا حصہ نکالیں… اور اپنی اس عادت کو ہمیشہ اپنائے رکھیں… آج چند
گذارشات اور بھی تھیں… مگر ’’مشورہ ‘‘ کا موضوع جڑ گیا تو بس یہی تین گذارشات اپنے
لئے اور آپ کے لئے عرض کر دیں:
١ ہمیشہ
اذان ہوتے ہی موبائل بند…
٢ ایمان
کا شکر روزانہ ادا کرنا ہے…
٣ صدقہ
روزانہ دینا ہے…
اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو اپنی رضاء کے لئے… ان اعمال
کی اپنے فضل سے توفیق عطاء فرمائیں… آمین یا ارحم الراحمین ۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ’’مظلوموں‘‘ کی نصرت فرمائے ظالموں کو عبرت کا
نشان فرمائے۔
آہ!سانحہ ساہیوال! معصوم بچوں کے سامنے اُن کے ابو، امی اور
آپی کو گولیوں سے بھون دیا گیا… معصوم بچے تو جانوروں کو ذبح ہوتے نہیں دیکھ
سکتے… یہاں انہوں نے اپنے ماں، باپ کو ذبح ہوتے دیکھ لیا…او ظالمو! کب تک دہشت
گردی کا الزام لگا کرپیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے
اُمتیوں کو اسی طرح مارتے رہو گے؟…کب تک ظلم کی یہ آگ جلا کر مظلوموں کو دہشت گرد
بننے پر مجبور کرتے رہو گے؟…کب تک اپنے باپ امریکہ کی اس جنگ میں صلیبی سپاہی بن
کر اُمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا خون کرتے رہو گے… یہ تو اچھا ہوا
کہ سانحہ ساہیوال میں شہید ہونے والے افراد کسی دینی مدرسے کے قرآن پڑھنے والے
طالبعلم نہیں تھے… ورنہ شاید خبر ہی نہ چلتی…بلکہ قاتلوں کو انعامات اور اعزازات
سے نوازا جاتا…اچھا ہوا کہ ان شہداء کا تعلق اسلام اور پاکستان کے تحفظ کے لئے
لڑنے والی کسی جہادی تنظیم سے نہیں تھا… اگر ہوتا تو کون پوچھتا؟کون انکوائری اور
تحقیق کرتا؟… فوری طور پر قاتلوں کو تمغے اور نوٹوں کے چیک تقسیم ہو جاتے… سانحہ
ساہیوال میں بھی کیا ہو گا؟…دو چار افراد کو علامتی سزائیں … ایک دو افراد کی
معطلی اور بس …اور پھر وہی شرابی، ظالم اور بدکار اسلحہ بردار… اور وہی پاکستان کا
مظلوم دینی طبقہ … آخر یہ ظلم کب تک؟… کوئی بتائے تو سہی کہ آخر کب تک؟… اس وقت
بھی ہماری جماعت کے درجنوں افراد لاپتا ہیں… ان کے بچے گھروں میں اکیلے تڑپ رہے
ہیں… کوئی بتانے والا بھی نہیں کہ آخر وہ ہیں کہاں؟ اور ان کا جرم کیا ہے؟…وہ
جماعت جس کے افراد دن رات کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہیں… اللہ، اللہ کرتے ہیں… ملکی
سرحدوں سے دشمنوں کو پیچھے دھکیلتے ہیں… جب اس کے کارکنوں پر یہ ظلم ہے تو باقیوں
کا کیا حال ہو گا؟… آج کسی ہندو یا سکھ سے کہا جائے کہ… اللہ سے ڈرو تو وہ تھوڑا
بہت ڈر جاتا ہے …مگر ہمارے یہ مسلمان کہلانے والے ظالم … اللہ تعالیٰ کے نام سے
بھی نہیں ڈرتے… اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بھی نہیں ڈرتے… وہ خود کو ملک کا محافظ
سمجھتے ہیں… وہ دین اور دینداروں سے نفرت رکھتے ہیں… حالانکہ ان میں سے خود کسی کا
انجام بھی اچھا نہیں ہوتا …پرویز مشرف سمیت ان میں سے ہر ایک طرح طرح کے عذابوں
میں مبتلا ہے… ان کو ایک لمحہ بھی سکون نہیں ملتا… مگر وہ ظلم اور بدنصیبی کے
راستے پر آگے ہی بڑھتے جا رہے ہیں… کوئی ان کو روکنے والا نہیں… خود ان میں کوئی
ایسا پیدا نہیں ہو رہا جو ان کی گندی سوچ کو بدل دے… جو انہیں ان کے ظالمانہ طرز
عمل سے روک دے… کوئی شیخ اسامہ کی مخبری کر کے…امریکہ میں خنزیروں کی زندگی گذار
رہا ہے… تو کوئی بڑھاپے میں اپنی اولاد کے تھپڑ کھا رہا ہے …اور کوئی ہسپتال میں
ایڈز سے کراہ رہا ہے… سانحہ ساہیوال کے شہداء کے لواحقین سے نہایت ندامت کے ساتھ
قلبی تعزیت ہے… اور اسی طرح کے مظالم کا شکار …پاکستان کے دینی اور خصوصاً جہادی
طبقے کو ہمت اور صبر کی تلقین ہے …ہر اندھیرا ایک دن ضرور چھٹ جاتا ہے… ہر رات کے
بعد دن اور ہر مشکل کے بعد آسانی ہے… ظلم کی عمر لمبی نہیں ہوتی…اور ظلم کے خوف
سے حق کو چھوڑ دینا یہ اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے… حق اور دین کے راستے میں آنے
والی آزمائشیں انسان کے لئے آخرت کے بڑے تمغے اور اعزازات ہیں …جو مصیبت قسمت
میں لکھی ہو وہ آ کر رہتی ہے … لیکن اگر یہ مصیبت دین کے راستے میں آئے… جہاد کے
راستے میں آئے… تو یہ عظیم سعادت ہے…اگر ہمارے مجاہد بھائی جیلوں میں ہیں تو…
سابق وزیر اعظم بھی تو جیل میں ہے… مگر دین اور جہاد کی نسبت سے جیل جانا ایسی
عظیم نعمت اور سعادت ہے کہ… اگر اللہ تعالیٰ پردہ ہٹا دے تو ہر مسلمان اس نعمت کی
تمنا کرنے لگے …کاش!پاکستان کے حکمران اپنی قبر اور آخرت کے لئے ہی کچھ کر لیں…
کیا یہ تمام سیکیورٹی اداروں میں فرض نماز کو لازم نہیں کر سکتے؟ …کیا یہ تمام
سیکیورٹی اہلکاروں پر شراب کی پابندی نہیں لگا سکتے؟ … کیا یہ بغیر عدالتی حکم کے
کسی کو گرفتار کرنے کو جرم قرار نہیں دے سکتے؟ … کیا یہ خفیہ اداروں میں قرآن و
سنت کے احکامات کی تعلیم کا حکم جاری نہیں کر سکتے؟… ہاں! یہ سب کچھ کر سکتے ہیں…
اگر ان کے دل میں ایمان ہو… اور ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف ہو۔
بہت عظیم نیکی
ایک بات دل میں بٹھا لیں… یہ بہت نفع دینے والی بات ہے… یہ
قرآن مجید کا سبق ہے…اس لئے پھر تاکید کرتا ہوں… خود کو بھی اور آپ سب کو بھی…
کہ اس بات کو دل میں بٹھا لیں … وہ بات یہ ہے کہ:
’’مشکل حالات میں ایک نیکی ہزاروں سال کی مقبول عبادت سے
زیادہ بھاری ہوتی ہے۔‘‘
یہ جو قرآن مجید میں پوری ایک سورۃ ہے،’’ سورۃ الکہف‘‘ … اور
اس سورۃ میں ’’ اصحاب کہف‘‘ یعنی غار والوں کا تذکرہ ہے…یہ چند نوجوان اللہ تعالیٰ
کو اتنے پیارے اور اتنے محبوب ہوئے کہ ان کے تذکرے کو اپنے عظیم کلام کی آیات
مبارکہ بنا دیا… اور ان کے ایمان اور عمل کو اتنا قبول فرمایا کہ انہیں ایمان کی
مثال بنا دیا… اندازہ لگائیں کہ حضرت آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم بھی ان آیات مبارکہ کو پڑھتے تھے … یعنی ان نوجوانوں کے ایمان کا
تذکرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر بھی جاری ہوتا تھا …’’
سورۃ الکہف‘‘ کے نازل ہونے کے بعد سے اب تک… ان نوجوانوں والی آیات مبارکہ کوکتنے
مسلمانوں نے پڑھا ہو گا… اور کتنے قیامت تک پڑھیں گے… مگر یہ سوچیں کہ ان کا عمل
کیا تھا؟…ان کی تو ابھی عمر ہی کچھ نہ تھی … بالکل کم عمر نوجوان تھے… نہ زیادہ
عبادت، نہ زیادہ صدقات… مگر مشکل وقت میں انہوں نے ایک عمل کیا…اور وہ عمل تھا’’
ہجرت الیٰ اللہ‘‘… بس اسی عمل سے ایسے شاندار مقبول ہو گئے… حضرت مجدد رحمہ اللہ
علیہ کی یہ عبارت غور سے پڑھیں… فرماتے ہیں:
’’آج آنحضرت کے دین کے برحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے تھوڑا
سا عمل بجا لانا بھی عمل کثیر کے برابر شمار ہوتا ہے… اصحاب کہف نے یہ اعلیٰ درجات
صرف ایک ہی نیکی کے ذریعے سے حاصل کئے ہیں اور وہ نیکی یہ تھی کہ وہ دشمنان دین کے
غلبے کے وقت نور ایمان و یقین کے ساتھ حق تعالیٰ کے دشمنوں سے ہجرت کر گئے تھے۔‘‘
( دفتر اوّل مکتوب ۴۴)
آج دنیا میں پھر دشمنان دین کا غلبہ ہے … ان کا مسلمانوں سے
مطالبہ یہ ہے کہ پورا دین چھوڑ دو… یا کم از کم دین کی کچھ باتیں چھوڑ دو…پورا دین
چھوڑو گے تو وہ تمہیںدجال کی دجالی جنت میں مست ومخمور کر دیں گے… ہر بدمعاشی، ہر
عیاشی، جانوروں کی طرح لبرل زندگی اور امن و آرام… اور اگر تم پورا دین نہیں چھوڑ
سکتے تو دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی چند باتیں چھوڑ دو…
یعنی جہاد چھوڑ دو… اسلامی خلافت کا خیال چھوڑ دو… اسلام کے غلبے کا تصور چھوڑ دو…
مجاہدین کی حمایت چھوڑ دو… تو پھر تمہیںبھی آسانی سے زندہ رہنے دیا جائے گا… تم
ملکوں میں سفر کر سکو گے… آزادی سے گھوم پھر سکو گے … ظاہری احترام پا سکو گے…
لیکن اگر تم نے پورے دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنایا
تو پھر تمہارے لئے گولی ہے یا پھانسی… پولیس مقابلے ہیں یا تشدد… پابندیاں ہیں اور
درندگیاں… تنہائی ہے اور جیلیں… ان حالات میں … بعض بد نصیبوں نے تو حالات کے جبر
کے سامنے ماتھا ٹیک دیا ہے… وہ دین محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کو چھوڑ چکے ہیں… کسی نے اعلان کیا… اور کسی نے اعلان تو نہیں کیا
مگر عملاً یہ ظلم اپنی جان پر کر ڈالا… جبکہ اکثر نے ماتھا تو نہیں ٹیکا مگر گھٹنے
ٹیک دئیے ہیں… وہ دیندار ہیں مگر ایسا دین جس کا قرآن مجید کی ڈیڑھ ہزار آیات سے
کوئی تعلق نہیں… وہ مسلمان ہیں مگر ان کا رسول اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم کی جہادی سیرت سے کوئی رشتہ نہیں… وہ علماء ہیں مگر ان کا علم صرف
کفار سے امن کی حد تک محدود ہے… اور ان کے علم میں دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے
لئے کوئی حکم یا مسئلہ موجود نہیں ہے… وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب نبی کے محبوب غزوات
تک کو اپنی زبانوں پر نہیں لا سکتے… وہ اپنی اس محرومی کو اپنی مجبوری قرار دے کر
اپنے نفس کو مطمئن کرتے ہیں…اور اپنی اس مصلحت پسندی کے عوض اپنی چار دن کی زندگی
اُڑتے پھرتے ، کھاتے پیتے امن کے ساتھ گذارنا چاہتے ہیں… اب ان حالات میں جو
مسلمان پورے دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر قائم ہو گا… اور دشمنان
دین کے خوف سےاپنے دین ا ور نظرئیے کو نہیں بدلے گا… وہ بے شک عظیم ترین نیکی اور
سعادت پا لے گا… بے شک سودا تو بہت سستا اور بہت نفع والا ہے … مگر یہ سعادت صرف
اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی مل سکتی ہے… آئیے! جھولی پھیلاتے ہیں… اور اللہ تعالیٰ
سے اس کا فضل مانگتے ہیں…وہ ہمیں مرتے دم تک پورے دین محمد صلی اللہ
علیہ وسلم پر قائم رہنے کی ہمت، سعادت اور توفیق عطاء فرمائے… آمین یا
ارحم الراحمین۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ’’نفس‘‘ کے شر سے حفاظت فرمائے …حضرت شیخ مفتی ولی
حسن صاحب نور اللہ مرقدہ ایک مسنون دعاء کی تاکید فرمایا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ اَلْھِمْنِیْ رُشْدِیْ وَ اَعِذْنِیْ مِنْ
شَرِّ نَفْسِیْ۔
[سنن الترمذي۔رقم الحدیث:۳۴۸۳،الناشر: شركة مكتبةمصطفى -
مصر]
آج کی مجلس میں اس دعاء کی روایت، مختلف الفاظ اور فضیلت پر
تھوڑی سی بات عرض کرنی ہے،ان شاء اللہ … اور ساتھ ساتھ کچھ حالات حاضرہ بھی۔
ایک نکتہ سمجھ میں آ گیا
امارت اسلامی افغانستان … جو کہ ’’طالبان‘‘ کے نام سے معروف
ہے… ان کے آج کل ’’امریکا‘‘ سے مذاکرات چل رہے ہیں …امریکا نے بہت محنت اور مشکل
سے ’’طالبان‘‘ کو ’’مذاکرات‘‘ پر راضی کروایا ہے… چونکہ طالبان اور امریکہ گذشتہ
اٹھارہ سال سے ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں… اس لئے ان کے درمیان مذاکرات کے انتظامات
موجود نہیں تھے… گذشتہ اٹھارہ سال میں طالبان اور امریکہ کے درمیان قیدیوں کے
تبادلے وغیرہ کے جو بعض معاملات ہوئے وہ کسی اور فریق کے ذریعہ سے ہوئے… اب جبکہ
’’امریکا‘‘ ہر حال میں ’’افغانستان ‘‘ سے نکلنا چاہتا ہے…اس لئے اس کی خواہش تھی
کہ اس کے طالبان سے براہ راست مذاکرات ہوں… مگر’’ طالبان‘‘ تک اس کی رسائی نہیں
تھی… امریکہ اور اس کے سب ’’اتحادی‘‘ طالبان کو دہشت گرد قرار دے کر ختم کرنے اور
سب سے الگ تھلگ کرنے کی سالہا سال سے کوشش کر رہے تھے… اس لئے طالبان کی سیاسی
قیادت کے پاس کوئی ایسی جگہ موجود نہیں تھی جہاں بیٹھ کر وہ کسی سے مذاکرات کرتے …
اب جبکہ امریکا یہ جنگ ہار چکا ہے… اور وہ اس جنگ میں مزید اپنا نقصان نہیں کرنا
چاہتا تو اس نے افغانستان میں طالبان کےحقیقی وجود اور ان کی حقیقی قوت کو تسلیم
کر لیا ہے… اسی لئے اس نے قطر اور پاکستان وغیرہ ممالک پر دباؤ ڈالا کہ وہ اس کے
طالبان کے ساتھ مذاکرات کا اہتمام کرائیں…یہ ایک طویل، لمبی اور دلچسپ داستان ہے
کہ طالبان کو مذاکرات کے لئے کیسے آمادہ کیا گیا… ہم اس داستان کو چھوڑ کر آگے
بڑھتے ہیں… اب تقریباً چھ سات ماہ سے امریکہ اور طالبان کے براہ راست مذاکرات ہو
رہے ہیں … اور ان مذاکرات کا سب سے اہم اور مفید دور ابھی تین روز قبل قطر میں
مکمل ہوا ہے… دنیا بھر کے وہ دانشور جو طالبان کو تقریباً بھول چکے تھے … اب انہوں
نے ’’طالبان ‘‘ کی اس قدر اہمیت کو دیکھا تو حیران رہ گئے… ایک طرف روس نے طالبان
کو بلایا اور ان کے موقف کو بہت پذیرائی دی … دوسری طرف امریکہ طالبان کی شرطوں پر
ان سے بار بار مذاکرات کر رہا ہے… چین اور ایران بھی طالبان سے دوستی کی کوشش میں
ہیں… اور انڈیا بھی طالبان سے مذاکرات کے لئے راستے ڈھونڈ رہا ہے… یہ سارے حالات
دیکھ کر…دنیا بھر کے دانشوروں نے دوبارہ جہاد، طالبان ، اسلامی حکومت وغیرہ جیسے
موضوعات پر تحریریں اور تجزئیے شروع کر دئیے ہیں… وہ سب یہ سوال اُٹھا رہے ہیں کہ…
اٹھارہ سال کی خوفناک جنگ، چالیس ممالک کی عسکری قوت اورکھربوں ڈالر کے جنگی خرچے
آخر کیوں طالبان کو ختم نہیں کر سکے؟…جہاد آخر ختم کیوں نہیں ہو رہا؟… مسلمانوں
کی اب بھی جہاد میں دلچسپی آخر کیوں برقرار ہے؟… یہ دانشور طرح طرح کے تجزئیے کر
رہے ہیں… طرح طرح کے تبصرے لکھ رہے ہیں… ان سب کو پڑھ کر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ
لوگ نہ جہاد کو سمجھتے ہیں اور نہ مجاہدین کی نفسیات کو…ان نامور دانشوروں کے
تبصرے پڑھ کر آج ایک عجیب نکتہ ذہن میں آیا ہے… وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن
مجید کے متعلق فرمایا ہے:
’’ یہ کتاب متقی لوگوں کے لئے ہدایت کا ذریعہ ہے‘‘
{هُدًى
لِلْمُتَّقِينَ} [البقرۃ: ۲]
اس پر یہ سوال اُٹھتا ہے کہ جو پہلے سے متقی ہیں ان کو ہدایت
کی کیا ضرورت ہے؟… حضرات مفسرین اور اساتذہ کرام اس سوال کے کئی جوابات دیتے ہیں…
آج یہ نکتہ سمجھ آیا کہ… قرآن مجید یعنی دین اسلام کے احکامات کی حقیقت ایمان
اور تقویٰ ہی کے ذریعے سمجھی جا سکتی ہے… تجربے، حکمت ، دانش وغیرہ کے ذریعے سے
نہیں… جہاد بھی قرآن ہے یعنی قرآن مجید کا حکم ہے… اس لئے اسے سمجھنے کے لئے بھی
ایمان اور تقویٰ کی ضرورت ہے… جن کے اندر ایمان ہوتا ہے وہ جہاد کو سمجھ لیتے
ہیں…وہ جہاد پر اپنا سب کچھ لگا دیتے ہیں… اپنا سب کچھ لٹا دیتے ہیں…لیکن یہ غیر
مسلم دانشور طرح طرح کے تجربے، تجزئیے اور تبصرے کر کے تھک جاتے ہیں… مگر وہ جہاد
کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے… چنانچہ ان میں سے کسی کی رائے یہ ہے کہ غربت کے مارے
ہوئے لوگ تشدد پر اتر آتے ہیں… کسی کی رائے یہ ہے کہ مذہبی طور پر ورغلائے ہوئے
لوگ جہاد کرتے ہیں… کسی کا ذہن یہ ہے کہ معاشرے میں تنہائی کا شکار افراد جہاد میں
بھرتی ہو جاتے ہیں… وغیرہ وغیرہ… اگر ان کے دلوں میں ایمان کی روشنی ہوتی تو وہ
دیکھتے کہ زمانے کے بہترین لوگ… جن کے دماغ سب سے بہترین ہوتے ہیں… جن کے دل سب سے
خوبصورت اور ہمدرد ہوتے ہیں… جن کی زبانیں سب سے سچی ہوتی ہیں… اور جو انسانیت کے
سب سے زیادہ خیرخواہ ہوتے ہیں…وہی افراد جہاد پر آتے ہیں… اور وہی جہاد کو نبھاتے
ہیں…خلاصہ یہ کہ دین کی ہر بات ایمان کی روشنی اور تقوے کی روشنی میں درست سمجھ
آتی ہے…مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پہلے ایمان اور تقویٰ حاصل کیا جائے پھر
باقی دین پر عمل کیا جائے… یہ درست اور ممکن نہیں ہے… ایمان اور اعمال خصوصاً
فرائض سب نے ساتھ ساتھ چلنا ہوتا ہے۔
نفع کی پکی ضمانت
ہمارے حضرت شیخ مفتی ولی حسن صاحب رحمہ اللہ
علیہ … بہت کم دعائیں اور وظیفے بتاتے تھے… مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو
جو خاص ایمانی فراست عطاء فرمائی تھی… اس کی روشنی میں آپ کا منتخب فرمودہ وظیفہ
بہت کارگر ہوتا تھا… ایک بار میں اپنے ایک دوست کو حضرت کی خدمت میں لے کر گیا… وہ
کسی سخت پریشانی میں مبتلا تھے… بندہ نے عرض کیا کہ حضرت یہ بہت سخت پریشان ہیں…
آپ نے ایک نظر اُن کو دیکھا اور فرمایا :بری صحبت کی وجہ سے وساوس میں گھر گئے
ہیں… لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ روزانہ پانچ سو بار
پڑھا کریں…انہوں نے چند دن یہ عمل کیا اور بالکل ٹھیک ہو گئے…اوپر عرض کیا ہے کہ
حضرت جن دو چار دعاؤں کی اکثر تاکید فرماتے تھے ان میں یہ دعاء بھی شامل ہے۔
اَللّٰھُمَّ اَلْھِمْنِیْ رُشْدِیْ وَ اَعِذْنِیْ مِنْ شَرِّ
نَفْسِیْ۔
’’ یا اللہ!جو کچھ میرے لئے بالکل ٹھیک ہو وہ مجھے سمجھا
دیجئے، اس کا الہام مجھے فرما دیجئے اور مجھے میرے نفس کے شر سے بچا لیجئے۔‘‘
[سنن الترمذي۔رقم الحدیث:۳۴۸۳،الناشر: شركة مكتبةمصطفى-
مصر]
یہ وہ دعاء ہے جس کے بارے میں حضرت آقا مد نی صلی اللہ علیہ
وسلم نے یہ ضمانت اور گارنٹی دی ہے کہ یہ دعاء دنیا و آخرت میں نفع
دیتی ہے ۔
یقینی بات ہے کہ… انسان کا نفس بہت زیادہ طاقتور ہے… اور یہ
نفس انسان کو بہت زیادہ برائی اور غلطی میں ڈالتا ہے:
{إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ
بِالسُّوءِ} [يوسف:۵۳]
انسان کے غلط فیصلے، غلط اقدامات ، غلط سوچیں اور غلط کام اس
کی دنیا اور آخرت دونوں کو برباد کرتے ہیں… اور انسان کا نفس اسے بار بار غلطیوں
میں ڈالتا ہے… اب اگر کسی انسان کو غلطی سے حفاظت کا ’’الہام ‘‘ نصیب ہو جائے… اس
کے اندر درست بات کو سمجھنے کا آلہ لگ جائے… اسے اپنے ہر معاملے میں خیر والی
صورت کا علم ہو جائے … اور اس کا نفس اس کو کسی غلطی یا مغالطے میں نہ ڈال سکے تو
ایسا انسان کتنا خوش قسمت ہو گا اور کتنا کامیاب…اس لئے اس مبارک دعاء کو یاد کریں
… اور اسے اپنے سجدوں میں اور نماز کے آخری قعدے کے آخر میں مانگا کریں… اور
اپنے بچوں کو بھی یہ دعاء یاد کرائیں۔
روایت اور الفاظ
یہ دعاء مختلف الفاظ کے ساتھ احادیث مبارکہ کی کتابوں میں
آئی ہے …پہلے اس دعاء کی روایت پڑھ لیں … اس کے بعد اس کے مختلف صیغے عرض کر دئیے
جائیں گے۔
’’(ایک صحابی) حضرت عمران بن حصین رضی اللہ
عنہ کہتے ہیں… ( میرے والد حالت کفر میں حضور اقدس صلی اللہ
علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے) نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم نے اُن سے فرمایا :
’’اے حصین!تم آج کل کتنے معبودوں کی عبادت کرتے ہو؟‘‘…میرے
والد نے کہا:’’سات معبودوں کی‘‘ جن میں سے چھ زمین پر ہیں اور ایک آسمان میں‘‘…
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تم اپنے خوف اور اُمید کا مرکز کس
معبود کو سمجھتے ہو‘‘؟ انہوں نے کہا: ’’اس کو جو آسمانوں میں ہے‘‘… آپ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اگر تم اسلام لے آتے تو میں تمہیں دو کلمے
سکھاتا جو تمہیں (دنیا و آخرت میں) نفع پہنچاتے‘‘ … پھر جب میرے والد مسلمان ہو
گئے تو انہوں نے عرض کیا ’’:یا رسول اللہ ! مجھے وہ دو کلمے سکھا دیجئے جن کا آپ
نے وعدہ فرمایا تھا‘‘… تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا،کہو:
اَللّٰھُمَّ اَلْھِمْنِیْ رُشْدِیْ وَ اَعِذْنِیْ مِنْ شَرِّ
نَفْسِیْ۔
[سنن الترمذي۔رقم الحدیث:۳۴۸۳،الناشر: شركة مكتبةمصطفى -
مصر]
پوری حدیث مبارکہ کو دوبارہ پڑھیں… ایک شخص کو اسلام لانے پر
ایک انعام کا وعدہ کیا جا رہا ہے… اندازہ لگائیں وہ کوئی معمولی انعام تو نہیں ہو
گا… اور پھر یہ ضمانت دی جا رہی ہے کہ وہ دعاء آپ کو بہت نفع دے گی… اور آپ کو
کسی رہنمائی کی کمی محسوس نہیں ہو گی… واقعی بہت عظیم دعاء ہے کہ ’’الہام حق‘‘ کا
دروازہ کھل جائے… درست فیصلے کی قوت نصیب ہو جائے … کام میں کامیابی کا راستہ
معلوم ہو جائے… اور نفس کے شر سے حفاظت ہو جائے… ایک انسان کو اور کیا چاہیے۔
دعاء کریں
امریکہ اور طالبان کے مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں ہیں… دنیا
بھر کے کفر کی سازشیں بھی حرکت میں آ چکی ہیں… افغانستان کے شہداء کرام کا خون
آنکھوں کے سامنے ہے… لاکھوں افراد بے گھر اور ہزاروں قید میں ہیں… دعاء کریں کہ
ان مذاکرات کا نتیجہ اسلام اور مسلمانوں کے حق میں آئے… جہاد کے ثمرات اُمت مسلمہ
کو نصیب ہوں… اور دنیا کے اس خطے پردوبارہ اسلامی حکومت کی بہار لوٹ آئے۔
ایک تحفہ
احادیث مبارکہ میں ایک ہی دعاء بعض اوقات مختلف الفاظ میںآتی
ہے… اس سے اس دعاء کی لذت بھی بڑھ جاتی ہے… اور ہر دوسرے لفظ میں کوئی مزید نفع
بھی مل جاتا ہے… اپنا وظیفہ بنانے کے لئے تو ایک ہی صیغے یا لفظ کو یاد کر کے اپنا
لینا چاہیے… مگر مزید برکت کے حصول کے لئے دیگر روایات میں آنے والے الفاظ میں
بھی کبھی کبھار دعاء مانگ لینی چاہیے… ’’الہامِ حق‘‘ کی اس دعاء کے مختلف صیغے
ملاحظہ فرمائیں۔
١ اَللّٰھُمَّ
اَلْھِمْنِیْ رُشْدِیْ وَ اَعِذْنِیْ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ۔
[سنن الترمذي۔رقم الحدیث:۳۴۸۳،الناشر: شركة مكتبةمصطفى-
مصر]
٢ اَللّٰھُمَّ
قِنِیْ شَرَّ نَفْسِیْ وَاعْزِمْ لِیْ عَلٰی اَرْشَدِ اَمْرِیْ۔
[مسند احمد ۔رقم الحدیث:۱۹۹۹۲،الناشر: مؤسسة الرسالة]
٣ اَللّٰھُمَّ
إِنِّي أَسْتَهْدِيْکَ لِأَرْشَدِ أَمْرِي، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ
نَفْسِي۔
[المعجم الكبيرللطبرانی۔رقم الحدیث:۸۳۶۹۹،مكتبة ابن تيمية -
القاهرة]
٤ اَللّٰھُمَّ إِنِّي
أَسْتَهْدِيْکَ لِأَرْشَدِ أَمْرِي، وَأَسْتَجِيرُکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي ۔
[المعجم الكبيرللطبرانی۔رقم الحدیث:۴۳۹،مكتبة ابن تيمية -
القاهرة]
٥ اَللّٰھُمَّ
اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ وَ اَسْئَلُکَ اَنْ تَعْزِمَ لِیْ
عَلٰی رُشْدِ اَمْرِیْ ۔
[شرح مشكل الآثار۔رقم الحدیث:۲۵۲۵،الناشر: مؤسسة الرسالة]
٦ اَللّٰھُمَّ
اَلْھِمْنِیْ رُشْدِیْ وَ قِنِیْ شَرَّ نَفْسِیْ۔
[ جامع المسانید لابن کثیر،حدیث رقم:۲۵۳۷،طبع دار خضر، بیروت]
حضرت شیخ رحمہ اللہ علیہ مذکورہ بالا
اَلفاظ میں دعاء تلقین فرمایا کرتے تھے۔
٧ اَللّٰھُمَّ
اَلْھِمْنِی رُشْدِیْ وَ عَافِنِیْ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ۔
[ الأسماء والصفات للبيهقی۔رقم الحدیث:۸۹۴،الناشر: مكتبة السوادي،
جدة]
٨ اَللّٰھُمَّ
قِنِی شَرَّ نَفْسِیْ وَ اعْزِمْ لِی عَلٰی رُشْدِ یْ۔اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیْ
مَا اَسْرَرْتُ وَ مَا اَعْلَنْتُ وَ مَا اَخْطَأْتُ وَ مَا عَمِدْتُ وَ مَا
جَھِلْتُ۔
[صحيح ابن حبان ۔رقم الحدیث:۸۹۹،الناشر: مؤسسة الرسالة -
بيروت]
آمِیْنَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ان تمام لوگوں کو اپنی شان کے مطابق جزائے خیر
عطاء فرمائے… جو آج کشمیر کے بہادر اور مظلوم مسلمانوں کے ساتھ اِظہارِ یکجہتی کے
لیے جمع ہوئے ہیں… اللہ تعالیٰ اس شرکت کو قبول فرمائے اور سب حاضرین کو اپنی
مغفرت اور اپنے اِکرام کا اِنعام نصیب فرمائے… تفصیل میں جائے بغیر چند
باتیں عرض ہیں۔
خراج تحسین
سب سے پہلے تو میں شہدائِ کشمیر کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں…
بہت سے چہرے میرے سامنے آ رہے ہیں… ایک چہرہ ہٹتا ہے تو دوسرا سامنے آجاتا ہے…
کس کس کو یاد کروں… کوئی اُن میں سے ایسا نہیں کہ جسے بھلایا جاسکے… اللہ تعالیٰ
اُن سب کو اعلیٰ علیین میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے… اِن شاء اللہ اُن کی قربانی
رائیگاں نہیں جائے گی اور کشمیر آزاد ہوگا… اور اپنے ساتھ پورے ہندوستان کے
مسلمانوں کی آزادی کا ذریعہ بھی بنے گا… اِن شہداء کرام کی خدمت میں یہ چند
اَشعار عرض کرتا ہوںـــ
وہ یوں دِل سے گزرتے ہیں کہ آہٹ تک نہیںہوتی
وہ یوں آواز دیتے ہیں کہ پہچانی نہیں جاتی
مجھے تو کردیا سیراب ساقی نے میرے لیکن
میری سیرابیوں کی تشنہ سامانی نہیں جاتی
نہیں معلوم کس عالَم میں حسنِ یار دیکھا تھا
کوئی عالَم ہو لیکن دِل کی حیرانی نہیں جاتی
جلے جاتے ہیں بڑھ بڑھ کر، مٹے جاتے ہیں گر گر کر
حضورِ شمع پروانوں کی نادانی نہیں جاتی
محبت میں ایک ایسا وقت بھی دِل پر گزرتا ہے
کہ آنسو خشک ہو جاتے ہیں، طغیانی نہیں جاتی
اہل کشمیر سے گزارش
دوسری گزارش کشمیر کے مسلمانوں سے ہے… اللہ تعالیٰ کشمیر کی
ماؤں، بہنوں کو… وہاں کے بزرگوں اور نوجوانوں کو اپنی شان کے مطابق بہترین صلہ
اور بدلہ عطاء فرمائے… آپ حضرات کی بہادری، آپ کی جرأت و شجاعت، آپ کی دیوانگی
اور آپ کے عشق کو دیکھنے کے لیے آسمان بھی زمین پر جھانکتا ہوگا… اِن شاء اللہ
آپ کو منزل ضرور ملے گی اور آپ کو پوری اُمتِ مسلمہ کی طرف سے اجر ملے گا… آج
جبکہ جہاد کا فریضہ مسلمانوں میں سے نکلتا جا رہا ہے آپ حضرات نے اس فریضے کو
تھاما ہوا ہے… منزل دور نہیں ہے… ہمت سے لگے رہیں… اور ایک ایک کر کے کٹنے کی
بجائے سارے ہی اکٹھے ایک بار نکل آئیں… انڈیا تو ایک مہینے کی مار نہیں ہے… ایک
مہینے کی مار نہیں ہے… پھر کہتا ہوں ایک مہینے کی مار نہیں ہے… یہ فلمیں بنانے
والے، یہ کرکٹ پہ ناچنے والے، یہ اپنی عزتیں پوری دنیا میں فروخت کر کے مقبولیت
حاصل کرنے والے،یہ اپنی بے وقوفیوں کو اپنی سائنس قرار دینے والے اس قابل نہیں کہ
مسلمانوں پر غلبہ حاصل کرسکیں… بس ہمارے درمیان اِنتشار ہے… اگر سارے اہل کشمیر
اکٹھے ہو کر نکل آئیں اور ایک دم نکل آئیں اور ادھر سے اہل پاکستان بھی اُن کی
معاونت کریں تو انڈیا کو بھاگنے کا راستہ بھی نہیں ملے گا … میں دنیا کو
بتانا چاہتا ہوںکہ کشمیر اور پاکستان الگ الگ نہیں ہیں… لوگ تو کہتے ہیں’’ کشمیر
پاکستان کا حصہ ہے‘‘… میں کہتا ہوں ’’پاکستان کشمیر کا حصہ ہے‘‘… کشمیر کے بہادر،
غیور، سمجھدار، ذہین اور زیرک مسلمان اس بات کے مستحق ہیں کہ وہ پاکستان کی قیادت
سنبھالیں… اور پاکستان کشمیر کے بغیر مکمل نہیں اور کشمیر پاکستان کے بغیر مکمل
نہیں…یہ دونوں لازم ملزوم ہیں… اور ایک وقت آئے گا جب دنیا دیکھے گی
کہ کشمیر کے مسلمان اس پورے خطے کی قیادت کریں گے… اس لیے کہ اُنہوں نے قربانی دی ہے
اور اللہ تعالیٰ کسی کی قربانی کو رائیگاں نہیں فرماتے… اللہ تعالیٰ کسی کی قربانی
کو ضائع نہیں فرماتے۔
انڈیا والو!
تیسری بات انڈیا کے لوگوں سے کرنی ہے …انڈیا والو اپنے
حکمرانوں کو سمجھاؤ… کیوں اپنے فوجیوں کو مروا رہے ہیں… یہ بیچارے چند ہزار
تنخواہ لینے والے… آسام، تامل ناڈو ، یوپی ، مدھیہ پردیش اوردیگر مختلف ریاستوں
سے اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے فوج میں آتے ہیں، ان کو کیوں کشمیر میں دھکیلا
جاتا ہے؟… انڈیا کا کشمیر کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟… انڈیا کو کیا حق ہے کہ وہ کشمیر
پر اپنی حکمرانی کی بات کرے… ایک ظالم شخص کی وجہ سے کشمیر پر ایک ظالمانہ اور
غاصبانہ قبضہ ہوا جسے کبھی کشمیر کے مسلمانوں نے تسلیم نہیں کیا… آج ساری دُنیا
اپنے فوجیوں کی حفاظت کی بات کر رہی ہے… ڈونلڈ ٹرمپ جیسا آدمی ہر جگہ سے اپنی
فوجیں واپس نکال رہا ہے… انڈیا والے کیوں اپنے فوجیوں کو دن رات یہاں مروا رہے
ہیں…انہیں واپس لے جائیں، کشمیریوں کو آزادی دیں… انڈیا کی عوام کو چاہیے کہ اپنے
حکمرانوں کے خلاف کھڑے ہوں… فلموں پر نہ جائیں … فلموں میں جو کچھ دِکھایا جاتا
ہےوہ جھوٹ ہوتا ہے… نہ آپ کی آرمی اتنی بہادر ہےاور نہ آپ کے
سیاستدان … ان کے تو دھماکے کی آواز سن کر ہوش اُڑ جاتے ہیں… اس لیے اپنی حکومت
پر زور ڈالیں اور پوچھیں کہ آخر یہ روز تابوت میں لاشیں کس لیے آتی ہیں؟… کیوں
اِس قدر نفرت پھیلائی جا رہی ہے؟… او یہ بات یاد رکھیں کہ جب مسلمان اس نفرت کا
بدلہ لینے کے لیے آگے بڑھیں گے تو پھر … اِنتقام کا یہ سلسلہ بہت دور، دور تک
جائے گا۔
دو باتیں
دو باتیں تمام اہل اسلام سے کرنی ہیں… پہلی بات یہ کہ اگر آج
کوئی پریس یا مطبع قرآنِ مجید کا ایسا نسخہ چھاپ دے… جس نسخے میں سے قرآن پاک کی
ایک ہزار آیتیں نکال لی گئی ہوں… تو کیا مسلمان اِس نسخےاوراس عمل کو قبول کریں
گے؟… اِس کو برداشت کریں گے؟… ہر گز نہیں… بلکہ ایسے مطبعوں کو لوگ نکل کر آگ لگا
دیں گے… قرآنِ مجید کا وہ نسخہ جس میں ایک ہزار آیات نہ ہوں کیا وہ پورا قرآنِ
مجید کہلائے گا؟… یقیناً آپ سب کا جواب ہوگا… ہرگز نہیں!…تو پھر اے مسلمان! تو
قیامت کے دِن جب رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جائے گا… اللہ
تعالیٰ کے حضور پیش ہوگا… اور تیری زندگی میں جہاد کی ایک ہزار آیتیں نہیں ہوں
گی… نہ تو کبھی جہاد پر نکلا، نہ تو نے جہاد پر مال لگایا، نہ تو نے جہاد میں
قربانی دی، نہ تو نے جہاد کے لیے اپنی زبان کو استعمال کیا…گویا تیری زندگی میں یہ
آیات ہیں ہی نہیں…تو پھر تیرا انجام کیا ہوگا؟… کبھی غور کیا؟… یہ سورۂ بقرہ کی
آیات، یہ سورۂ آل عمران اور سورۂ نساء کی آیات، یہ پوری سورۂ انفال اور
سورۂ براء ت تیری زندگی میں ہیں ہی نہیں… تیرے نبی کے ہاتھ میں تلوار ہےجبکہ تیرا
ہاتھ خالی ہے… تیرے نبی کے جسم پر جہاد کے زخم ہیںاور تیرے جسم پر ایک بھی زخم
نہیں… تو کس طرح سے ’’کامل مسلمان‘‘ کہلائے گا… جہاد کو ریاست کی ذمہ داری قرار دے
کر خود مطمئن بیٹھ جانے والو! قرآنِ پاک کی آیات جہاد کو ایک بار پھر پڑھ لو…
شاید تمہارا اِیمان بچ جائے ،شاید تمہارا اِیمان بچ جائے، شاید تمہارا اِیمان بچ
جائے… حضورِ اَقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے دِل کو تکلیف نہ
دو… جہاد سے پیچھے رہنے والے اور جہاد کے مُنکر حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم کو تکلیف دینے والے ہیں، تکلیف دینے والے ہیں، تکلیف دینے والے
ہیں… اس لیے سب مسلمان عزم کر یں، عہد کر یں کہ اِن شاء اللہ ’’جہاد فی سبیل
اللہ‘‘ کو مانیں گے، اِسے اپنی ذمہ داری سمجھیں گے اور اس میں جس قدر ہو سکا حصہ
ڈالیں گے، ان شاء اللہ
دوسری گزارش یہ ہے کہ مسلمان، مسلمان بن جائیں… کلمۂ طیبہ کی
طرف آ جائیں… لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ کے ساتھ اپنا
رشتہ مضبوط کریں… کثرت سے کلمہ طیبہ کا وِرد کیا کریں… اور نماز کی بہت زیادہ
پابندی کیا کریں…اپنے گھر میں پابندی کرائیں… اپنے محلے میں پابندی کرائیں… کلمۂ
طیبہ کی دعوت،نماز کی دعوت، جہاد فی سبیل اللہ کی دعوت… یہ دین کی وہ دعوت ہے جس
کو اختیار کرنے کے بعد دین کے راستے کھلتے چلے جاتے ہیں، فتوحات کے راستے کھلتے
چلے جاتے ہیں… اِس دعوت کے لیےمسلمان آگے بڑھیں، ہمارے ساتھ مل کر، ہمارے ساتھ
اپنے قدم ملا کر آگے بڑھیں… اِن شاء اللہ آج جس طرح امریکہ افغانستان میں
مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے … بہت جلد انڈیا بھی اِسی طرح مذاکرات کی بھیک مانگنے
پر مجبور ہوجائے گا۔ ان شاء اللہ… وَمَا ذَالِکَ عَلَی اللہِ بِعَزِیْزٍ
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ اول تا آخر ہماری نصرت، مغفرت اور رہنمائی
فرمائیں:
{ھُوَ الْاَوَّلُ وَ الْآخِرُ وَ الظَّاھِرُ وَ الْبَاطِنُ
وَ ھُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ
عَلِیْمٌ} [الحدید:۳]
(۱) منزل جب قریب آتی ہے تو آزمائشیں بھی سخت ہو جاتی ہیں… اور
شیطان بڑے زوردار حملے کرتا ہے… اس لئے ہم اول تا آخر اللہ تعالیٰ کی رحمت، فضل
اور نصرت کے محتاج ہیں۔
(۲)جب راستہ بھٹکنے لگے، قدم ڈگمگانے لگیں،سامنے اندھیرا نظر
آنے لگے توکامیابی کے ستاروں سے رہنمائی ، ہمت اور روشنی لینی چاہیے… حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ستاروں کی طرح ہیں۔
یہ ہیں ہماری مجلس کے دو موضوع … اور تھوڑی سی بات ’’حج بیت
اللہ ‘‘ پر۔
اچھا نہیں کیا
اللہ تعالیٰ جب اپنے وفادار بندوں کو حکومت، قوت ، عہدہ یا
مال عطاء فرماتے ہیںتو… وہ بندے اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت پر کمر بستہ ہو جاتے
ہیں… وہ مساجد بناتے ہیں… وہ نماز کو قائم رکھنے کی وسیع ترتیب بناتے ہیں… وہ
زکوٰۃ کا نظام مضبوط کرتے ہیں… وہ حج بیت اللہ کے لئے راحتیں اور آسانیاں فراہم
کرتے ہیں… وہ فریضۂ جہاد کی مکمل ترتیب قائم کرتے ہیں… وہ امر بالمعروف اور نہی
عن المنکر کی محنت اُٹھاتے ہیں … اور وہ اللہ تعالیٰ کے قوانین ، حدود اور احکامات
کو نافذ کرتے ہیں… اسی لئے وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بن جاتے ہیں:
الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللّٰهِ
مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ۔
’’طاقتور مؤمن بہتر ہے اوراللہ تعالیٰ کو کمزور مؤمن سے
زیادہ محبوب ہے۔‘‘
[صحیح مسلم۔حدیث رقم: ۲۶۶۴، الناشر: دار إحياء التراث
العربي]
کیونکہ اس کی ہر طاقت دین کے لئے استعمال ہوتی ہے… اس کی ہر
قوت سے دین کو قوت ملتی ہے… وہ حاکم جو اللہ تعالیٰ کے دین کا وفادار ہو اس کا
مقام اور اس کا رتبہ بہت ہی بلند ہے… وہ زمین پر اللہ تعالیٰ کا سایہ ہوتا ہے… اور
اس کی اطاعت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ
وسلم کی اطاعت ہے … اسلامی تاریخ میں حضرات صحابہ کرام
رضوان اللہ علیہم اجمعین اور خیر القرون کے بعد بھی ایسے
بادشاہ ، حاکم اور سلطان گذرے ہیں کہ… زمانے بھر کے اولیاء ان کے قدموں کی خاک کے
برابر نہیں… آج بھی صوفیاء کرام کے بعض طبقے ان مؤمن سلاطین کے لئے ایصال ثواب
اور دعاء کو اپنے اصلاحی نصاب کا حصہ سمجھتے ہیں۔
حضرات خلفاء راشدین ہوں یا ان کے بعد کے اہل ایمان سلاطین… ان
سب نے فریضۂ حج کی خدمت کو ہمیشہ اپنی سعادت سمجھا … انہوں نے اپنی استطاعت کے
مطابق حجاج کرام اور حرمین شریفین کی خدمت کی … اور اپنے حکومتی اختیارات اور
اموال کواس فریضہ کی خدمت پر بے دریغ لٹایا…وجہ یہ تھی کہ وہ ’’حج بیت اللہ‘‘ کے
مقام کو سمجھتے تھے… وہ اس فریضے کو امت مسلمہ کی اجتماعیت کا اہم ترین ذریعہ
سمجھتے تھے… وہ ’’حرمین شریفین‘‘ کے عالی قدر مقام کو جانتے تھے… ماضی کے ان
حکمرانوں نے حرمین شریفین ، حج بیت اللہ اور حجاج کرام کی جو خدمت کی ہے…وہ تاریخ
کا روشن حصہ… اور ان حکمرانوں کے نامہ اعمال کی روشنی ہے… ہماری موجودہ حکومت نے
برسراقتدار آتے ہی حج بیت اللہ کو مہنگا کر کے اچھا نہیں کیا… غریب مسلمان مرد
اور خواتین سالہا سال تک حج کے لئے سرمایہ جمع کرتے ہیں… اس کی بڑی عجیب داستانیں
ہیں… اخبار میں تھا کہ ایک خاتون حج کے تازہ اخراجات پڑھ کررونے لگی … وہ معلوم
نہیں کب سے محنت کر کے حج کے لئے پیسے جمع کر رہی تھی…اس سال اسے اپنی منزل قریب
نظر آ رہی تھی کہ حکومت نے ایک دم ڈیڑھ لاکھ روپے سے بھی زیادہ کا اضافہ کر دیا …
اب وہ سوائے رونے کے اور کیا کر سکتی ہے… مگر اس کے آنسو کہیں اس حکومت کی کشتی
ہی نہ ڈبو دیں… حکومت اگر تھوڑا سا غور کرتی تو کبھی بھی یہ ظلم نہ ڈھاتی… مگر بد
نصیبی نے عقلوں پر پردے ڈال دئیے… اللہ تعالیٰ ہی رحم فرمائیں … اہل ایمان سے
گزارش ہے کہ مایوس نہ ہوں:
{وَ لِلّٰہِ خَزَائِنُ السَّمٰوٰتِ وَ
الْاَرْضِ} [المنافقون:۷]
اللہ تعالیٰ کے خزانے بے شمار ہیں…دل میں حج کا شوق بھریں…
مکمل یقین کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں… اور ہمت نہ ہاریں… اللہ تعالیٰ
سب کچھ کر سکتے ہیں:
{ھُوَ الْاَوَّلُ وَ الْآخِرُ وَ الظَّاھِرُ وَ الْبَاطِنُ
وَ ھُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ
عَلِیْمٌ} [الحدید:۳]
جنہوں نے حج داخلے کا ارادہ کر رکھا تھا اور اب تازہ قیمتیں
پڑھ کر ان کا ارادہ متزلزل ہو رہا ہے وہ اپنے ارادے کو مضبوط کریں… اپنے شوق کو
بڑھائیں… دل کی آواز سے تلبیہ پڑھیں… اور روزانہ دو رکعت ادا کر کے اللہ تعالیٰ
سے دعاء مانگیں… ان شاء اللہ انتظام ہو جائے گا… اور اگر نہ بھی ہوا تو انہیں اس
طلب، اس تڑپ ، اس عشق اور اس شوق پر جو کچھ ملے گاوہ بھی ان شاء اللہ حج مبرور سے
کم نہیں ہو گا…ایک صاحب ہر نماز تکبیر اولیٰ سے ادا کرتے تھے… وہ تکبیر اولیٰ کی
حقیقت کو جان چکے تھے… دنیا میں بہت کم لوگ تکبیر اولیٰ اور صف اول کی حقیقت کو
جانتے ہیں… ایک بار وہ کسی سخت عذر کی وجہ سے کچھ لیٹ ہوئے…مسجد پہنچے تو تکبیر
اولیٰ نکل چکی تھی… ان کے دل سے حقیقی درد والی آہ نکلی… ایسی آہ جو کسی مالدار
کے دل سے اس کا سارا سرمایہ ڈوب جانے پر نکلتی ہے… ایک اللہ والے بزرگ نے خواب میں
ساری حقیقت دیکھ لی… انہوں نے اس صاحب سے کہا کہ آپ میری ساری زندگی کی عبادت لے
لو… بس مجھے وہ دے دو جو تمہیں اس ’’آہ ‘‘ پر ملا ہے… مقصد یہ کہ اہل دل کے لئے
کسی حال میں محرومی نہیں ہے… اہل ایمان کے لئے کسی حالت میں خسارہ نہیں ہے… اہل
عشق کے لئے کسی حال میں نقصان نہیں ہے… اللہ تعالیٰ ہمیں بھی… حقیقی اہل ایمان
میںسے بنائیں۔
قربِ منزل کے جھٹکے
مؤمن کی جب کوئی منزل قریب ہو تو اس پر آزمائشیں بڑھ جاتی
ہیں… اور شیطان بھی بڑے زور دار حملے کرتا ہے… قرآن مجید کی’’سورۃ الکہف‘‘ میں
حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ
السلام کا قصہ مذکور ہے…اس قصے کے اسباق میں سے ایک سبق یہ بھی
ہے جو اوپر عرض کیا ہے… حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے شاگرد کے ساتھ بڑے
اطمینان سے سفر فرما رہے تھے… مگر جب منزل بالکل قریب آ گئی تو پریشانیاں،
تھکاوٹیں اور مشقت شروع ہو گئی… حسب ہدایت نشانی ظاہر ہوئی کہ مچھلی سمندر میں کود
گئی…یہ بالکل نہ بھولنے والا واقعہ تھا،مگر شاگرد بھول گیا… منزل سے آگے نکل گئے
تو تھکاوٹ نے گھیر لیا…غصہ اور تفرقہ بھی ہو سکتا تھا… مگر اُنہوں نے صبر سے کام
لیا… برداشت اور ہمت کا انتخاب فرمایا… اور پھر اُنہیں منزل مل گئی…جس مقصد کے لئے
سفر فرمایا تھا وہ اپنی تمام تر برکات کے ساتھ نصیب ہو گیا… ایسے واقعات اور بھی
بہت ہیں…اس لئے یہ قاعدہ اور قانون یاد رکھیں کہ جب پریشانیاں دونوں جبڑے کھول کر
حملہ آور ہو جائیں… انسان کی سمجھ جواب دینے لگے… اور صبر کرچی کرچی ہو کر ٹوٹنے
لگے تو سمجھ جائیں کہ کوئی بڑی منزل قریب ہے … کوئی عظیم نعمت حاصل ہونے والی ہے…
اور کوئی اچھا مقصد پورا ہونے والا ہے… اسی لئے شیطان پے درپے حملے کر رہا ہے… تب
نماز اور صبر سے قوت حاصل کرنی چاہیے:
{وَ اسْتَعِیْنُوا بِالصَّبْرِ وَ
الصَّلوٰۃِ} [البقرہ: ۴۵]
جب نماز اور صبر کو اپنائیں گے تو:
{اِنَّ اللہَ مَعَ
الصَّابِرِیْنَ} [البقرہ:۱۵۳]
اللہ تعالیٰ کی معیت اور نصرت حاصل ہو جائے گی۔
یہ کام آسان نہیں ہے، مگر ضروری بہت ہے… کیونکہ اگر ایسا نہ
کیا اور شیطان کا شکار ہو گئے تو پچھلا ساراسفر بھی رائیگاں جا سکتا
ہے… اللہ تعالیٰ اول تا آخر ہمیں اپنی نصرت، ہدایت ، رحمت اور مغفرت عطاء
فرمائیں:
{ھُوَ الْاَوَّلُ وَ الْآخِرُ وَ الظَّاھِرُ وَ الْبَاطِنُ
وَ ھُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ
عَلِیْمٌ} [الحدید:۳]
روشن ستارے کے پیچھے
دین کی خاطر ہر تکلیف برداشت کرنا ممکن ہو جائے… یہ حضرات
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے سیکھنا چاہیے… صرف
ایک حضرت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو ہی دیکھ لیں… اللہ اکبر کبیرا…
شاید ہم میں سے کوئی بھی صرف ایک دن ان تکلیفوں کو برداشت کر کے ثابت قدم نہ رہ
سکے جو… حضرت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کئی کئی دن اور کئی کئی راتیں برداشت
فرمائیں… گذشتہ دو راتوں سےان کی سیرت مبارکہ کا ازسرنو مطالعہ شروع کیا تو دل
روشنی سے بھر گیا… سبحان اللہ! اتنا نور اور اتنا بلند مقام … اور سر شرم سے جھک
گیاکہ ہم نے دین کی خاطر کیا کیا؟ اور کیا جھیلا؟
کہتے ہیں … حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے دل پر اللہ
تعالیٰ اور اس کے دین کی عظمت ایسی چھا گئی کہ… اس کے مقابلے میں انہوں نے اپنی
ذات، اپنے نفس اور اپنے بدن کو کچھ بھی نہ سمجھا… چنانچہ جو قربانی مانگی گئی وہ
پیش کرتے چلے گئے… کیونکہ عظیم چیزوں کے لئے معمولی چیزوں کو خرچ کرنا آسان ہو
جاتا ہے… آج ہمارا معاملہ برعکس ہے… ہمارے ہاں نعوذ باللہ دین بہت چھوٹا اور اپنی
ذات، اپنا نفس اور اپنی خواہشات بہت بڑی بن چکی ہیں… حضرت سیّدنا
بلال رضی اللہ عنہ نے خود کوبھلا کر ، مٹا کر دین کی عظمت کو اپنے دل
پر سوار کیا تو… اللہ تعالیٰ نے ان پر عظمتوں اور رفعتوں کے دروازے کھول دئیے… پھر
کون سی سعادت ہے جو حضرت سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کو نہیں ملی… حتٰی کہ مقام یہاں
تک پہنچا کہ مسلمانوں کے… عظیم ترین ایوان… یعنی مسجد نبوی کے پہلے سپیکر… یعنی
مؤذن منتخب ہوئے… قرب ایسا ملا کہ دن رات حضرت آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم کے دروازے پر حاضر رہتے… اعتبار ایسا ملا کہ حضور اقدس صلی
اللہ علیہ وسلم کے خازن مقرر ہوئے… اور محبوبیت ایسی ملی کہ… فرمایا
گیا:… جنت بھی بلال کی مشتاق ہے…رَضِیَ اللہُ عَنْہُ وَاَرْضَاہُ … یا اللہ ہم پر
بھی اپنا رحم اور اپنا فضل فرما۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہی ہنساتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہی رُلاتے ہیں…
فرمایا:
{وَاَنَّہٗ ھُوَاَضْحَکَ وَاَبْکٰی}
’’بے شک وہی ہے جو ہنساتا ہے اور رُلاتا
ہے۔‘‘ [
النجم: ۴۳]
رنگ و نور لکھنے بیٹھا تو سنجیدہ تھا… اور کچھ رنجیدہ… گذشتہ
ایک ہفتے سے ایک کتاب پر کام کرنے کے لئے ’’خلوت نشین ‘‘ تھا… اسی خلوت نشینی میں
ہی خبر ملی کہ مقبوضہ کشمیر میں ایک بڑا حملہ ہوا ہے اور آپ کا نام پھر حسب سابق
چل نکلا ہے…بلکہ اس بار کچھ زیادہ ہی شدت ہے… موت اور قتل کی دھمکیاں دی جا رہی
ہیں وغیرہ، وغیرہ… کتاب کا کام مشکل تھا اور توجہ طلب بھی… کتاب بھی عوام کے لئے
نہیں علماء کرام کے لئے تیار کی جا رہی تھی … ظاہر ہے زیادہ محنت اور احتیاط درکار
تھی… اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی… خبروں اور حالات سے آنکھیں بند کیں… اور پھر کتاب
کے کام میں لگ گیا… حضرت امام بخاری رحمہ اللہ علیہ کی روحانی،
علمی محفل… ساتھ حضرت ابن حجر، حضرت عینی، حضرت قسطلانی ، حضرت کرمانیn اور بڑے
معطر لوگ… اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا، کام کچھ مکمل ہوا تو اب ’’ رنگ ونور‘‘ کی
باری آ گئی … معلوم کیا کہ حالات کیا ہیں؟ … پتا چلا کہ کافی گرما گرمی ہے… انڈیا
چیخ رہا ہے، تڑپ رہا ہے، بلک رہا ہے ، رو رہا ہے ، دھمکیاں لگا رہا ہے… مگر چاہتا
یہ ہے کہ اس کی ہر دھمکی پاکستان پوری کرے… اس کی ہر خواہش پاکستان پوری کرے…
کیونکہ پاکستان کا وہ محسن ہے… اسی نے پاکستان کو توڑا … اسی نے پاکستان میں بار
بار فسادات کی آگ لگائی …چنانچہ اب پلوامہ حملے کا انتقام بھی پاکستان اس کو لے
کر دے… ادھر پاکستان کی طرف سے جوابات پھیکے پھیکے سے ہیں… کچھ خوف بھی نظر آ رہا
ہے… چنانچہ اس صورتحال سے تھوڑا رنج ہوا… استخارہ کی دو رکعت پڑھ کر لکھنے آ
بیٹھا… خبریں کھولیں تو کسی کرم فرما نے ایک خبر بھیج رکھی تھی… اسے سنا تو ہنس
ہنس کر سارے غم بھول گئے…آواز آ رہی تھی:
’’اب لال ٹماٹر کو ترسے گا پاکستان… ہمارے ہی ٹماٹر کھا کر
ہمارے فوجیوں کو مارنے والا پاکستان اب ایک ایک ٹماٹر کو ترسے گا… دیش بھگت کسانوں
نے اعلان کر دیا ہے کہ اب وہ اپنا ٹماٹر پاکستان نہیں بھیجیں گے۔‘‘
دنیا نے منہ موڑ لیا
ٹماٹر بند ہو جانے کا غم اپنی جگہ… آئیے چند اہم باتوں پر
نظر ڈالتے ہیں… پلوامہ حملہ مقامی کشمیری مجاہدین نے اپنے قاتل انڈیا
پر کیا… مگر انڈیا حسب سابق اس کاالزام اِدھر اُدھر ڈال کر ساری دنیا سے حمایت کی
بھیک مانگنے لگا… لیکن اس بار دال نہیں گلی… حتیٰ کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تک نے
اس حملے کا تذکرہ نہیں کیا اور نہ مذمت کی… یورپی یونین نے بھی کوئی بیان نہیں
داغا… پڑوسی ملک چین کے اخبارات نے اس خبر کو ہی شائع نہیں کیا… البتہ اُن کی
وزارت خارجہ نے مختصر سا بیان دے دیا… برطانیہ جو ہر معاملے میں انڈیا کا ساتھ دیتا
ہے اس حملے پر خاموش ہے … وجہ یہ ہے کہ ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ اس حملے میں نہ
کوئی سویلین مارا گیا اور نہ اس میں دہشت گردی کا کوئی پہلو ہے… وہ فوجی جو لڑنے
اور مارنے جا رہے تھے وہی اس حملے کا نشانہ بنے… وہ جن کو مارنے جا رہے تھے ان میں
سے ایک نے آگے بڑھ کر ان کا استقبال کیا اور یوں یہ حملہ ہو گیا… اب دنیا کو کیا
پڑی ہے کہ ایک میدان جنگ میں مارے جانے والے مسلح فوجیوں پر آنسو بہاتی رہے… جبکہ
یہ فوجی اپنے ملک کی حدود سے باہر… اقوام متحدہ کی اجازت کے بغیر ایک آزاد قوم کو
غلام بنائے رکھنے جا رہے تھے… کشمیری قوم کو مبارک ہو کہ اس بار دنیا نے ان کی
آواز کو سنا اور سمجھا ہے… اور بھارت کی آہ و بکاء کو مسترد کر دیا ہے…اللہ
تعالیٰ پاکستان کے خوفزدہ میڈیا کو بھی ہمت، جرأت اور غیرت عطاء فرمائے۔
یہ بات بالکل غلط ہے
کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس حملے سے مودی کو فائدہ ہوا ہے… اس
حملے نے اس کی الیکشن مہم میں جان ڈال دی ہے… یہ بالکل غلط تجزیہ ہے…ایسا کہنے اور
سمجھنے والے لوگ نہ انڈیا کی سیاست کو سمجھتے ہیں اور نہ ہی وہ ہندو ذہنیت سے واقف
ہیں… اس حملے نے تو مودی کی سیاست اور مقبولیت کا جنازہ نکال دیا ہے… لوگ حیران
ہیں کہ مودی نے اب تک اتنا شور مچایا… اور کشمیر میں آپریشن آل آؤٹ کا دعویٰ
کیا… یعنی سب مجاہدین ختم اور آؤٹ… تو اب یہ حملہ کیسے ہو گیا … حملہ بھی کشمیری
مجاہد نے کیا… اور حملہ بھی سری نگر کے قریب ہوا… پاکستان کے بارڈر پر نہیں…چنانچہ
مودی کی تمام بڑھکیں اور دعوے خاک میں مل گئے… اور اس کی سیاسی پوزیشن اب پہلے سے
بہت کمزور ہو چکی ہے … اگر اس موقع پر حکومت پاکستان نے مضبوطی دکھائی… اور مودی
کے دباؤ میں آ کر کوئی غلط قدم نہ اٹھایا تو مودی اب نیچے اور پیچھے لڑھکتا جائے
گا… لیکن اگر اس موقع پر مودی کے شور شرابے سے گھبرا کر ہمارے حکمرانوں نے اس کے
کچھ مطالبات تسلیم کر لئے تو اس سے مودی کی حالت سنبھل سکتی ہے… اللہ تعالیٰ ہمارے
حکمرانوں کو ہمت و جرأت عطاء فرمائیں… یہی کشمیری نوجوان ’’عادل احمد ڈار‘‘ اگر
سری نگر یا پلوامہ میں… کسی جلوس، جلسے کے دوران انڈین گولی کا نشانہ بن جاتا … یا
اپنے چہرے پر چھروں والا کارتوس کھا کر نابینا ہو جاتا تو ہمارے حکمران اس کی
حمایت میں ضرور بولتے… مگر اس نوجوان نےمظلومیت کے ساتھ مرنے کی بجائے آگے بڑھ کر
ظلم کو روکا… اور اپنی لاشوں کا کچھ حساب چکایا تو آج کلمہ گو مسلمان بھی اسے
’’دہشت گرد‘‘ کہہ رہے ہیں… یہ کون سا دین ہے اور کونسا انصاف؟
میں عادل احمد ڈار شہید رحمہ اللہ علیہ کی ایک
کرامت پر تو حیران رہ گیا ہوں… ہمارے ملک کے نامور اور شہرہ آفاق صحافی جناب ایاز
امیر صاحب عادل احمد ڈار شہید کی تعریف کر رہے تھے… ایاز امیر صاحب تو کبھی بھول
کر یا مدہوشی میں بھی کسی دینی اسلامی کاز کی تعریف نہیں کرتے… مجاہدین کے لئے اُن
کی سوئی ہمیشہ نوے ڈگری پر رہتی ہے… مگر یہ عادل احمد ڈار شہید کی قربانی ہے… اور
اُن کی عظیم کرامت ہے کہ ایاز صاحب کا دل بھی نرم ہوا… اور انہوں نے اپنے نامہ
اعمال میں ایک نیکی شامل کر لی… ادھر مقبوضہ کشمیر میں عادل احمد ڈار شہید ایک
حقیقی ہیرو بن چکے ہیں … جو لوگ وسیلے کے قائل ہیں وہ اُن کے وسیلے سے دعائیں مانگ
رہے ہیں… اور جو وسیلے کے قائل نہیں وہ اُن کے مقبول عمل کو وسیلہ بنا کر دعاء
مانگ رہے ہیں… گذشتہ دن ہزاروں مسلمانوں نے ان کی غائبانہ نماز جنازہ اداء کی… اب
تک کشمیر کی سینکڑوں مائیں اپنے بچوں کو عادل احمد ڈار شہید بنانے کا عزم اور
دعائیں مانگ چکی ہیں… وہاں اب ہر گلی، ہر کوچے، ہر بازار میں عادل ہی عادل ہے… وہ
عادل جس نے غزوہ بدر کی یاد تازہ کی… وہ عادل جس نے کشمیر کی تحریک کو کامیابی کے
کنارے تک پہنچا دیا…یہ بات اب واضح ہوچکی ہے…کہ کشمیر کی تحریک آزادی…اب اپنے
قدموں پر کھڑی ہوچکی ہے…اسے نہ کسی بیرونی امداد کی ضرورت ہے، نہ بیرونی تعاون کی
… پاکستان کے حکمرانو! صحافیو! … ہمیں جتنی گالیاں دینی ہیں دے لو… اللہ تعالیٰ
جانتا ہے کہ ہم نہ پاکستان کو جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں اور نہ پاکستان کی ترقی
کے دشمن ہیں … پھر بھی جو دل میں آئے ہمیں کہہ لو…مگر خبردار! خبردار حضرت اقدس
الشیخ ، الشہید عادل احمد ڈار نور اللہ مرقدہ کے خلاف ایک لفظ اپنی زبان سے نہ
نکالنا…ورنہ مارے جاؤ گے… برباد ہو جاؤ گے … اللہ تعالیٰ کے ایسے مقرب اولیاء کے
خلاف بد زبانی کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ بڑا سخت انتقام لیتے ہیں… اللہ تعالیٰ
اپنے یاروں کے یار ہیں… جو اُن کے یاروں کو ایذاء پہنچاتا ہے اس سے وہ اعلان جنگ
کر دیتے ہیں … آج ساری دنیا عادل احمد ڈار جیسے عظیم انسان ، عظیم ولی ، عظیم
ہیرو کو میری طرف منسوب کر رہی ہے… جبکہ میں اس حسرت میں ہوں کہ کاش! میں نے کبھی
اُن کو دیکھا ہوتا… اُن کی زیارت کی ہوتی… اُن سے کبھی کوئی رابطہ ہوتا…جیتے رہو
عادل جیتے رہو … تم جیسے پیاروں کی طرف میری نسبت میرے لئے سعادت کی بات ہے… اور
تم جیسے پیاروں کی وجہ سے اگر مجھے مار بھی دیا گیا تو یہ بھی میرے لئے سعادت ہو
گی… تم جیسے بیٹے آگے استقبال کے لئے جو موجود ہوں گے۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد کے لئے کافی ہیں:
{حَسْبُنَا اللہُ وَ نِعْمَ
الْوَکِیْلُ} [آل عمران: ۱۷۳]
اللہ تعالیٰ دشمنوں کے شر سے بچانے کے لئے کافی ہیں:
{فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللہُ وَ ھُوَ السَّمِیْعُ
الْعَلِیْمُ} [البقرہ:۱۳۷]
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو فتح، نصرت اور غلبہ دینے کے لئے
کافی ہیں:
{اَلَیْسَ اللہُ بِکَافٍ
عَبْدَہٗ} [الزمر:۳۶]
اللہ تعالیٰ دشمنوں کی سازشوں ، تدبیروں اور حملوں کو ناکام
بنانے کے لئے کافی ہیں:
{وَاُفَوِّضُ اَمْرِیْ اِلَی اللہِ اِنَّ اللہَ بَصِیْرٌ
بِالْعِبَادِ} [غافر:۴۴]
اللہ تعالیٰ طاقتور لشکروں کو شکست دینے کے لئے کافی ہیں:
{سَیُھْزَمُ الْجَمْعُ وَ یُوَلُّوْنَ
الدُّبُرَ} [القمر:۴۵]
اللہ تعالیٰ دشمنوں کو اُکھاڑنے اور لرزانے کے لئے کافی ہیں:
اَللّٰھُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ، سَرِیْعَ الْحِسَابِ،
مُجْرِیَ السَّحَابِ، ھَازِمَ الْاَحْزَابِ
اِھْزِمْھُمْ وَ زَلْزِلْھُمْ۔
[ الدعاء للطبراني۔رقم الحدیث:۱۰۷۰،الناشر: دار الكتب العلمية
- بيروت]
اللہ تعالیٰ خوف کو امن سے اور مغلوبیت کو غلبے سے بدلنے کے
لئے کافی ہیں:
اَللّٰہُمَّ اسْتُرْعَوْرَاتِنَا وَ آمِنْ رَوْعَاتِنَا۔
[مسند الإمام أحمد بن حنبل۔رقم الحدیث:۱۰۹۹۶،الناشر: مؤسسة الرسالة]
اللہ تعالیٰ مشرکوں کی گردنیں توڑنے اور جھکانے کے لئے کافی
ہیں:
اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْرِھِمْ وَ نَعُوْذُ
بِکَ مِنْ شُرُوْرِھِمْ۔
[سنن أبي داود۔رقم الحدیث: ۱۵۳۷،الناشر: دار الرسالة
العالمية]
اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ ہوں اس کے لئے وہ ہر منزل میں کافی
ہیں:
اَللّٰھُمَّ اکْفِنَاہُمْ بِمَا شِئْتَ،اَللّٰھُمَّ اَعِنَّا
وَ لَاتُعِنْ عَلَیْنَا وَانْصُرْنَا وَ لَا تَنْصُرْ عَلَیْنَا وَامْکُرْ
لَنَاوَلَا تَمْکُرْ عَلَیْنَا۔
ہاں !بے شک… اَللہُ الْکَافِیْ، اَللہُ الْکَافِیْ ، اَللہُ
الْکَافِیْ …جَلَّ جَلَالُہٗ وَعَزَّ اِسْمُہٗ وَشَاْنُہٗ
تین جمع ایک
اللہ تعالیٰ ہر حال میں اپنے بندوں کے ساتھ ہیں… رسول کریم
صلی اللہ علیہ وسلم ہر حالت میں اپنے اُمتیوں کے رہنما ہیں… کسی حال
میں تنہائی نہیں … بے بسی نہیں … مایوسی نہیں… چند دن پہلے تک ایسے حالات تھے کہ
ہم پر تین چیزیں لازمی تھیں… اور ان تین میں کامیابی تھی:
١ شکر
کرنا
٢ فخر
سے بچنا
٣ عجب
سے بچنا
ہر طرف بہاریں مچل رہی تھیں… قوس قزح چھائی ہوئی تھی… خوشی کے
شگوفے پھلدار ہو رہے تھے… اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ، اَلْحَمْدُ
لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ… اور اب حالات بدل گئے… اب ہم پر تین جمع ایک واجب
ہے… اور اسی میں ان شاء اللہ کامیابی ہے:
١ ’’
وہن‘‘ یعنی بزدلی سے بچنا
٢ کمزور
نہ پڑنا
٣ ’’نہ
دبنا‘‘ یعنی نہ جھکنا، نہ سہارے ڈھونڈنا
٤ اور
یہ دعاء بہت مانگنا :
{رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْ
اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَاوَ انْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ
الْکَافِرِیْنَ} [اٰل
عمران:۱۴۷]
یہ تین جمع ایک یعنی چار کام نصیب ہو جائیں تو مزے ہی مزے…
فرمایا:
{فَآتٰھُمُ اللہُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَحُسْنَ ثَوَابِ
الْآخِرَۃِ} [اٰل عمران:۱۴۸]
’’دنیا میں بھی اجر ہی اجر ، خیر ہی خیر آخرت میں بھی خیر ہی
خیر۔‘‘
اب کمزوری ، بزدلی اور جھکنے سے کیسے بچیں؟ … طریقہ آسان ہے
نظر آخرت پر رہے اور دعاء اللہ تعالیٰ سے جاری رہےـ:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْوَھْنِ وَ
الضُّعْفِ وَ الْاِسْتِکَانَۃِ۔
’’یا اللہ! میں آپ کی حفاظت اور پناہ چاہتا ہوں بزدلی،
کمزوری اور دبنے جھکنے سے۔‘‘
کتنا مزہ آتا ہے جب اس موقع پر غزوۂ احزاب والی دعاء مانگی
جائے:
اَللّٰھُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ، سَرِیْعَ الْحِسَابِ،
مُجْرِیَ السَّحَابِ، ھَازِمَ الْاَحْزَابِ، اِھْزِمْھُمْ وَ زَلْزِلْھُمْ۔
’’یا اللہ! کتاب کو نازل فرمانے والے، جلد حساب چکانے والے،
بادلوں کو ہنکانے والے لشکروں کو ہرانے والے، ان دشمنوں کو شکست دے اور انہیں لرزا
دے، اُکھاڑ دے۔‘‘
[ الدعاء للطبراني۔رقم الحدیث:۱۰۷۰،الناشر: دار الكتب العلمية
- بيروت]
اور ایک روایت میں الفاظ یوں ہیں:
اَللّٰھُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ، مُجْرِیَ السَّحَابِ،
ھَازِمَ الْاَحْزَابِ اِھْزِمْھُمْ وَ انْصُرْنَا عَلَیْھِمْ ۔
’’یا اللہ!کتاب کو نازل فرمانے والے، بادلوں کو ہنکانے
والے، لشکروں کو شکست دینے والے، ان دشمنوں کو شکست دے دیجیے اور ہمیں ان کے
مقابلے میں اپنی نصرت اور غلبہ عطاء فرمادیجیے۔‘‘
[صحيح البخاري۔باب لا تمنوا لقاء العدو۔رقم الحدیث ۳۰۲۴،الناشر:
دار طوق النجاة]
اس بات کو بھول جاؤ
انڈیا والوں کا دماغ کام نہیں کر رہا… وہ خود کشی کی طرف بڑھ
رہے ہیں… وہ اس بات کو بھول جائیں کہ ان کا شور شرابا ، ان کی دھمکیاں ہمیں ڈرا
رہی ہیں… بالکل نہیں! … بالکل نہیں!… ان کی دھمکیوں سے تو ہمارا خون مزید جوش
مارتا ہے… ان کی دھمکیاں ہمارے لئے وہی کام کرتی ہیں جو کسی شاعر کے لئے سامعین کی
واہ واہ کرتی ہے… ایک شاعر کہہ رہے تھے کہ سامعین کی واہ واہ میں شراب سے بھی
زیادہ نشہ ہوتا ہے… شراب کا تو الحمد للہ تجربہ نہیں مگر واقعی دشمنوں کی دھمکیوں
سے بہت لطف آتا ہے:
حَسْبُنَا اللہُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ …حَسْبُنَا اللہُ وَ
نِعْمَ الْوَکِیْلُ
یہ پیارا کلام’’حَسْبُنَا اللہُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ ‘‘
دھمکیوں کے جواب میں ہی کہا گیا تھا تو محبوب حقیقی کو بہت پسند آیا… حَسْبُنَا
اللہُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ…
انڈیا میں ہر بات پر مسلمانوں کو مارا جا رہا تھا … دبایا جا
رہا تھا… کشمیر میں ظلم کی آگ جل رہی تھی…اب مظلوموں نے جواب دیا تو ساری دنیا کو
شکایتیں کرتے پھرتے ہیں… یہ کونسی غیرت ہے اور کونسی بہادری؟… کاش! ان میں تھوڑی
سی شرم ہوتی تو ڈوب مرتے، مگر کہاں؟
{ إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ }…{ إِنَّمَا
الْمُشْرِكُونَ
نَجَسٌ} [التوبۃ: ۲۸]
یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے… اور بے شک سچا ہے۔
پاکستانی صحافیوں سے ایک سوال
آپ حضرات و خواتین … کشمیر میں ہونے والی ہر کاروائی کے بعد
چند ظلم ڈھا کر اپنے نامہ اعمال کو کیوں سیاہ کرتے ہیں؟ … پہلا ظلم یہ کہ … ہمیشہ
یہ سوال اُٹھاتے ہیں کہ اس کاروائی سے پاکستان کو کیا فائدہ ہوا؟ … دوسرا ظلم یہ
کہ… کشمیری بہادر نوجوانوں کی کاروائی کو انڈیا کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں کہ اس
نے خود کرایا ہو گا… تیسرا ظلم یہ کہ… پاکستان میں موجود کشمیری مجاہدین کے حامیوں
کو نعوذ باللہ ، نعوذ باللہ انڈیا کا ایجنٹ کہنا شروع کر دیتے ہیں … آپ سے گزارش
ہے کہ چند باتوں پر غور فرمائیں:
١ کشمیر
پر انڈیا کا بھی دعویٰ ہے اور پاکستان کا بھی… انڈیا نے وہاں سات لاکھ سے زائد
آرمی اور مسلح دستے بھیج رکھے ہیں… پاکستان نے وہاں کیا بھیجا ہے؟… انڈیا کشمیر
پر قبضے کے لئے ماہانہ اربوں روپے خرچ کر رہا ہے… پاکستان کتنا خرچ کر رہا ہے؟ …
انڈیا کشمیر کو اپنے قبضے میں رکھنے کے لئے ہر حد سے گزر کر مظالم ڈھا رہا ہے…
پاکستان کیا کر رہا ہے؟…مگر اس کے باوجود کشمیری مسلمان پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں…
اور ادھر آپ حضرات کی سنگدلی کا یہ عالم ہے کہ… وہاں اگر کوئی کشمیری مجاہد مضبوط
حملہ کر دے تو آپ کو اپنے کرکٹ میچوں کی فکر لگ جاتی ہے… کہ انڈیا نے یہ کاروائی
ہمارے کرکٹ میچ خراب کرنے کے لئے کرائی ہو گی … اے امت محمد صلی اللہ
علیہ وسلم کے صحافیو! کچھ تو دین محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کے رشتے کی بھی لاج رکھ لیا کرو… نہ تم خود جا کر کشمیری مسلمانوں
کا ساتھ دیتے ہو… اور نہ انہیں اپنے دشمن سے لڑنے دیتے ہو… تمہاری بزدلانہ چیخ و
پکار کی وجہ سے ان کی کاروائیاں دھول کے نیچے چھپ جاتی ہیں…وہ اپنی کاروائیاں ظلم
سے آزادی کے لئے کریں یا تم لاڈلوں کے فائدے کے لئے ؟
٢ کیا
کشمیری مسلمانوں کی حمایت کا یہ مطلب ہے کہ… وہ صرف مرتے رہیں اور آپ ان کی خبریں
سناتے رہیں… ان کے بچے ذبح ہوتے رہیں اور آپ اس کا تذکرہ کبھی کبھار اقوام متحدہ
میں کر آئیں… ان کی نسل کشی ہوتی رہے اور آپ صرف مذمتی بیان دے دیا کریں… اور
اپنی اس حمایت کا معاوضہ یہ لیں کہ اگر وہ اپنے دشمن اور اپنے قاتل کو ماریں تو
آپ فوراً ان کی مذمت شروع کر دیں…ایک بیٹے کی شہادت کتنا بڑا صدمہ ہوتی ہے…کسی کا
اپنا بیٹا ہو تو وہ تھوڑا سا سوچ لے۔
٣ کشمیری
مسلمان حالت جنگ میں ہیں … ان میں سے جو لڑنے نکل چکے ہوتے ہیں وہ بہت سخت حالات
میں ہوتے ہیں… ان کو اپنی ایک ایک کاروائی کی تیاری میں ہفتے اور مہینے لگ جاتے
ہیں… یہ بات ہر ذی شعور اچھی طرح سمجھتا ہے…پھر وہ مجاہد کس طرح سے… ہر کاروائی کے
وقت خبریں ٹٹول سکتے ہیں کہ… اس وقت پاکستان میں کسی وی آئی پی کا دورہ تو نہیں
ہو رہا…کوئی کرکٹ میچ تو نہیں چل رہا … مسلمانوں کے محسن سکھوں کے لئے کوئی
راہداری تو نہیں کھولی جا رہی ؟ …پھر اگر ان کو معلوم ہو جائے کہ پاکستان تو اس
وقت انتہائی نازک حالات میں ہے اور وہاں سپر لیگ کے کرکٹ میچ چل رہے ہیں تو وہ
مجاہد فوراً اپنی کاروائی روک لے… خود کو دشمنوں کے حوالے کر دے… قاتلوں کو اپنا
گھر سپرد کر دے… تاکہ وہ وہاں عزتیں پامال کریںخون کی ہولی کھیلیں۔
٤ پاکستان
تو جس دن سے امریکہ اور نیٹو کی صلیبی جنگ کا حصہ بنا ہے یہاں ہر وقت حالات نازک
ہی رہتے ہیں… ہمارے اس وقت کے حکمرانوں نے اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دینے والا
گناہ کیا… اور بعد کے حکمرانوں نے اس گناہ کے انڈوں تک کی حفاظت کی… اس گناہ کے
بعد سے پاکستان کے حالات کب اچھے ہوئے ہیں؟… ہم رو، رو کر تھک گئے کہ اس منحوس
گناہ سے جان چھڑاؤ تو پاکستان میں امن بھی آ جائے گا اور استحکام بھی… اللہ
تعالیٰ صرف تمہارا نہیں ہے… تم نے جن افغان بچوں کا ان کی ماؤں کی گود میں امریکہ
سے قیمہ کروایا ہے…وہ بھی اللہ تعالیٰ کے بندے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم
کے اُمتی تھے… تم اس گناہ سے نہیں نکلو گے تو حالات اسی طرح رہیں گے… اسی وجہ سے
انڈیا جیسا ناپاک، بزدل اور کمینہ ملک ہر دن تم پر چڑھا آتا ہے… تمہیں دھمکیاں
دیتا ہے … اور تم اب بھی اس خواب میں ہو کہ… تمہاری امن امن کی رٹ سے امریکہ یا
عالمی برادری تمہارے حق میں ہو جائے گی… یاد رکھو! تم مسلمان ہو… تم ان ظالموں کی
نگاہ میں وہ مقام حاصل نہیں کر سکتے جو انڈیا کو حاصل ہے… انڈیا ہر کفر اور کمینگی
میں ان کے ساتھ ہوتا ہے… تم اتنا زیادہ نہیں گر سکتے… ہاں! اگر تم اسلام کو مضبوط
تھام لو، عزت و غیرت سے جینے کا عزم کر لو تو دنیا تمہیں ضرور تسلیم کرے گی۔
مایوسی کی گنجائش نہیں
اللہ تعالیٰ جو چاہتے ہیں کر گذرتے ہیں:
{فَعَّالٌ لِّمَا
يُرِيدُ} [البروج:۱۶]
اللہ تعالیٰ ہی پاکستان کی حفاظت فرما رہے ہیں…ماضی میں بھی
کئی طوفان آئے اور گذر گئے… اللہ تعالیٰ ہی کشمیر کی تحریک ِآزادی کو چلا رہے
ہیں… یہ تحریک کئی بار مٹانے کی مکمل کوشش پہلے بھی ہو چکی ہے… مگر اسے مٹانے والے
ایسے مٹے کہ دنیا کے رہے اور نہ آخرت کے… اب وہ ذلت و کسمپرسی کی زندگی کاٹ رہے
ہیں، یا مرکھپ گئے ہیں… اللہ تعالیٰ کے ہاں ایمان کی قدر ہے… غیرت کی قدر ہے…
بہادری کی قدر ہے…جو ایمان، غیرت اور بہادری پر آتا ہے… اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ
ہوتے ہیں اور اسے کامیابیوں سے ہمکنار فرماتے ہیں… آج جن کے پاس چار دن کے لئے
کچھ اختیارات ہیں… ان کے لئے سنہری موقع ہے کہ اپنی آخرت کے لئے… اور اسلامی
تاریخ میں اعزاز پانے کے لئے… ایمان، غیرت اور بہادری والے فیصلے کریں … اپنے وقتی
مفادات کی خاطر امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بے
وفائی نہ کریں… اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے لئے موت کا ایک وقت مقرر فرما دیا ہے…
بزدلی کرنے سے زندگی بڑھتی نہیں ہے… اور ہمت و استقامت دکھانے سے زندگی گھٹتی نہیں
ہے… جن سے اللہ تعالیٰ دین کا کام لے رہے ہیں… وہ اپنی زندگی کے آخری سانس تک
بغیر رکے، بغیر تھکے کام کرتے رہیں … موت نے جب آنا ہو گا خود آ جائے گی … مرنے
سے پہلے مر جانا ایمان والوں کا شیوہ نہیں ہے… بے شک اللہ ایک ہے۔
اَللہُ اَللہُ رَبِّیْ لَا اُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا وَ لَا
اَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِہٖ وَلِیًّا۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ میں ابھی تک زندہ ہوں… جبکہ دنیا
بھر میں میرے مرنے کی خبر چل رہی ہے… بے شک اللہ تعالیٰ ہی اصل طاقت ، اصل اقتدار
والے ہیں:
{ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَأْنٍ} [الرحمٰن: ۲۹]
آج مارچ کی چار تاریخ 2019 ء ہے … اصل اسلامی تاریخ ابھی
جمادی الآخر کی ستائیس شروع ہو چکی… ۱۴۴۰ھ کا سال ہے… پیر کا دن
گذر گیا، ابھی رات کے نو بجے ہیں… منگل کی رات شروع ہے… معلوم نہیں جب یہ تحریر
آپ تک پہنچے گی تو اس وقت میں زندہ ہوں گا یا نہیں… موت ہر ذی روح کے سر پر کھڑی
ہوتی ہے … اللہ تعالیٰ ہمیں خالص اپنی رضاء کے لئے موت یعنی اپنی ملاقات کا شوق
نصیب فرمائے… موت وہ پل ہے جو محبوب تک پہنچاتا ہے:
{كُلٌّ إِلَيْنَا رَاجِعُونَ
} [الانبیاء: ۹۳]
اس لئے دل چاہتا ہے کہ آپ سب اہل محبت سے جی بھرکر باتیں
کروں… اسی کے لئے استخارہ کی دو رکعت ادا کر کے، محبوب و مالک حقیقی سے مدد مانگ
کر آ بیٹھا ہوں… ابھی لکھنا شروع ہی کر رہا تھا کہ ایک اجتماعی کام آ گیا… اس کے
لئے پانچ صفحات یعنی ایک رنگ و نور کے برابر تحریر لکھنی پڑ گئی…لکھنے کا کافی
سارا جذبہ تو ادھر بہہ گیا… اسی میں خیر ہو گی، ان شاء اللہ… وہ بھی بہت ضروری کام
تھا… اللہ تعالیٰ اس تحریر کو بھی قبول فرمائیں… اور ہم سب کے لئے مفید رنگ و نور
کی مجلس بھی نصیب فرمائیں… آئیے! حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم پر
درود و سلام پڑھ لیتے ہیں:
اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ عَلیٰ سَیِّدِنَا
وَمَوْلَانَا مُحَمَّدِنِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ
وَبَارِکْ وَ سَلِّمْ تَسْلِیْمًا
چیخوں کے ذریعے دفاع
ہمیں جیل میں بھی کئی بار جیل ہوئی… جیل کے اندر جیل یہ ہوتی
ہے کہ کسی قیدی کو مزید سزا دینے کے لئے… الگ تھلگ سخت سیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے…
یا جیل سے نکال کر چند دن کے لئے پھر کسی عقوبت خانے یعنی ٹارچر سیل میں منتقل کر
دیا جاتا ہے… یہ ہمارے ساتھ وہاں کئی بار ہوا…ایک بار ہمیں کوٹ بھلوال سنٹرل جیل
سے تالاب تلو جے آئی سی منتقل کر دیا گیا … وہ بڑی خوفناک، وحشت ناک جگہ تھی …
وہاںہر قیدی کو جاتے ہی زخمی کر دیا جاتا تھا تاکہ کوئی بھاگ نہ سکے… ٹانگوں پر
زخم دینے کا یہ طریقہ بہت وحشیانہ تھا… پھر کئی دن تک مسلسل ٹارچر کیا جاتا تھا…
قصہ یہ عرض کرنا ہے کہ … ہمیں جب وہاں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تو کوشش رہتی تھی
کہ چیخ و پکار نہ کریں … تب وہاں کے ایک تجربہ کار قیدی نے سمجھایا کہ آپ لوگ
اپنے اوپر یہ کیا ظلم کر رہے ہیں؟ … یہ جب بھی ماریں تو آپ سخت چیخا کریں… اس سے
یا تو مارنے والا گھبرا کر جلد چھوڑ دیتا ہے… یا اکثر اہلکار اپنے افسر کی اجازت
کے بغیر شوقیہ ظلم کرتے ہیں…چیخنے سے انہیں یہ ڈر ہوتا ہے کہ آواز افسر تک جائے
گی اور وہ پوچھے گا کہ… بغیر تفتیش کے خوامخواہ کیوں مار رہے ہو؟… چنانچہ اس ڈر سے
یہ جلد جان چھوڑ دیتے ہیں… ساتھیوں نے اس نصیحت پر عمل شروع کیا تو واقعی ٹارچر
میں پچاس فی صد سے زائد کمی ہو گئی…اس میں ایک لطیفہ یہ ہوا کہ ہمارے ایک ساتھی
بلند آواز تھے …ایک بار ایک سپاہی ان کو مارنے کے لئے جیسے ہی ڈنڈا لے کر ان کے
قریب بڑھا تو انہوں نے… ایسی بلند چیخ ماری کہ وہ سپاہی خوفزدہ ہوکر پیچھے بھاگا
اور گرتے گرتے بچا… لگتا ہے آج کل یہ’’انڈین فارمولہ ‘‘ خود انڈیا استعمال کر رہا
ہے… وہ مسلسل مار کھا رہا ہے … لیکن ساتھ چیخیں اتنی زوردار مارتا ہے کہ ان سے
ہمارے حکمران حضرات بھی کانپنے لگتے ہیں … پلوامہ میں کشمیری مجاہدین نے مارا تو
انڈیا نے رو، رو کر چیخ، چیخ کر دنیا کو سر پر اُٹھا لیا… پھر حملے کی کوشش کی تو
ناکام ہوا… پاکستانی بہادر افواج نے حملہ کیا تو انڈیا کو خوب مار پڑی… جہاز گر
گئے… پائلٹ پکڑا گیا… تب اس نے ایسی خوفناک چیخیں ماریں کہ مارنے والے بھی گھبرا
اُٹھے… ابھی صورتحال یہ ہے کہ انڈیا درد سے چیخ رہا ہے… پاکستان انڈیا کو مار کر
اس کی چیخوں سے پریشان ہے… عالمی برادری تماشہ دیکھ رہی ہے… کبھی انڈیا کے سر پر
ہاتھ رکھ کر سموسے کھا لیتی ہے اور کبھی پاکستان والوں کی حمایت میں ایک آدھ بیان
دے کر چائے پی لیتی ہے…دیکھیں آگے کیا بنتا ہے… مجاہدین نے پاک انڈیا جنگ نہیں
کرائی… یہ جنگ آر ایس ایس نے الیکشن جیتنے کے لئے شروع کی ہے … اور مجاہدین کے
خوف کی وجہ سے یہ جنگ آگے بڑھنے سے رکی ہوئی ہے… پھر بھی پاکستان میں کہا جا رہا
ہے کہ… مجاہدین کشمیر نے ہمیں مروا دیا…ہمیں جنگ میں جھونک دیا… انڈیا کے حامی موم
بتیاں پکڑ کر اپنی لبرل ازم کی دال پکانا چاہ رہے ہیں…مگر اللہ تعالیٰ موجود ہے…
اللہ تعالیٰ ایک ہے…اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے ساتھ ہے:
{کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِیْ شَأْنٍ} [الرحمٰن:۲۹]
انڈیا کا مضبوط ترین ہتھیار
ہم جب سری نگر کے بادامی باغ ٹارچر سنٹر میں تھے تو… وہاں جو
فوجی ہم پر مسلط رہتے تھے ان میں ایک ’’حوالدار‘‘ بھی تھا… وہ نشے کا عادی اور فخر
میں غرق رہنے والا فوجی تھا… روز ہمیں اپنی بہادری کے قصے سناتا…چونکہ بے وقوف تھا
تو ہمارے ساتھی اس کے ساتھ کھیلتے تھے اور اسے ہر طرح سے نشانہ بناتے تھے…کبھی اس
کے بازوؤں کی تعریف کر کے اس سے ڈنڈ (پش اپ) نکلواتے… تو کبھی اس کے ہاتھوں کی
مضبوطی کی تعریف کر کے لوہے کے دروازے پر مکے مرواتے… وہ ہیرو بننے کے لئے ہر کام
بڑی لگن سے کرتا تھا… اور یوں مظلوم قیدیوں کو تفریح کا ایک سامان ملا ہوا تھا…
ایک بار اس نے اپنا قصہ سنایا کہ… میں اپنے علاقے میں بہادر مشہور ہوں … اور میری
بہن بھی بہت بہادر ہے… ایک بار گاؤں کے ایک بدمعاش نے میری پٹائی کی اور مجھے بہت
بری طرح سے مارا… میں مار کھا کر گھر آیا تو میری بہن سے میری حالت دیکھی نہ گئی…
اس نے کہا: میں ابھی بدلہ لیتی ہوں… وہ نئی ساڑھی پہن کر اس بدمعاش کے پاس گئی… اس
کو باتوں میں لگا کر اچانک اپنی ساڑھی اُتار پھینکی اور شور مچا دیا کہ … اس
بدمعاش نے میرے ساتھ بدکاری کی ہے …بس پھر کیا تھا …لوگ جمع ہوگئے اور اس بدمعاش
کو مار مار کر اس کا برا حال کر دیا… دو دن بعد میں گھر سے نکلا … اس بدمعاش کی
طرف گیا تو وہ پٹیاں باندھے بیٹھا تھا… میں نے اس کے پاس سے گذر کر اپنی مونچھوں
کو تاؤ دیا اور کہا… دیکھا میرا انتقام … حوالدار کی غیرت اور بہادری کا یہ قصہ
سن کر ہم ہنستے ہنستے بے حال ہو گئے… اور وہ خوشی اور فخر کے ساتھ اکڑ کر چلتا
رہا… یہ قصہ واقعی سچا ہے… میرے لئے اسے لکھنا کافی مشکل تھا… مگر انڈیا کے مزاج
اور ہتھیار کو سمجھنے کے لئے یہ قصہ پوری ایک کتاب کا کام کرتا ہے…آج بالکل وہی
صورتحال ہے…انڈیا ساڑھی اُتار کر چیخ رہا ہے … عالمی برادری کو بلا رہا ہے… اور
ہمارے وزیر خارجہ صاحب شرمائے شرمائے سے صفائیاں دیتے پھر رہے ہیں… کاش! پاکستان
کے حکمران انڈیا کے مزاج کو سمجھ کر اس کے ساتھ معاملہ کریں… تو سارا دباؤ اور
پریشانی ہی ختم ہو جائے … مگر نہ دباؤ ختم ہو رہا ہے اور نہ پریشانی … اور اس کی
وجہ پاکستان میں موجود ’’اشوک طبقہ ‘‘ ہے… اشوک کون ہے؟اگلے قصے میں ملاحظہ
فرمائیں۔
ہاں بھئی نکالو دو خروڑ
تہاڑ جیل نمبر (2) کے سیکورٹی وارڈ میں مجھے سات ماہ تک رکھا
گیا تھا… اس وارڈ کی سیکورٹی بہت سخت تھی… اور یہ باقی جیل سے کٹا ہوا تھا…وارڈ
میں کئی نامی گرامی قیدی تھے… جن کی تعداد چار سے چھ تک رہتی تھی… چونکہ یہ قیدی
باہر کھلی جیل میں بھی نہیں جا سکتے تھے تو ان کو اپنا سامان وغیرہ منگوانے کے لئے
ایک مشقتی قیدی دیا جاتا تھا… وہیں’’ اشوک‘‘ سے ملاقات ہوئی… چھوٹے سے قد، تیز رنگ
کا یہ ڈھیلا ڈھالا سا ادھیڑ عمر قیدی سات سال سے اس جیل میں تھا… وہ ہمارا مشقتی
تھا… جو صابن، صرف وغیرہ ہم نے منگوانا ہوتا وہ باہر کھلی جیل سے خرید لاتا… ماضی
میں رکشہ ڈرائیور رہا تھا اور منشیات کے مقدمے میں سزا یافتہ تھا… جیل میں بھی کسی
طرح وہ اپنا نشہ منگوا لیتا… اور اسی نشے کی وجہ سے آہستہ آہستہ چلتا اور رک رک
کر بولتا تھا… میں اسے اکثر نصیحت کرتا کہ نشہ چھوڑ دو ،دودھ پیا کرو، گھی کھایا
کرو… تمہارے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ،نشے سے مر جاؤ گے … ساتھ ساتھ اسلام کی بھی
تبلیغ چلتی رہتی … اسی وجہ سے جب بھی وہ مجھ سے پیسے مانگتا تو کہتا : خان صاحب!…
کچھ پیسے دو دیسی گھی خریدنا ہے… ایک بار میں نے اسے کہا کہ جب چھوٹ جاؤ گے تو
پھر رکشہ چلاؤ گے؟ … کہنے لگا: اب کون رکشہ چلائے گا… سات سال میں جیل نے بہت کچھ
سکھا دیا ہے… میں نے پوچھا:پھر کیا کرو گے؟ … کہنے لگا: ریل پر چڑھوں گا… پھر
مالدار لوگوں کی بوگی میں گھس جاؤں گا… وہاں چھوٹے چھوٹے کمرے ہوتے ہیں… ان میں
دیکھوں گا… جو مالدار اکیلا نظر آیاجیب سے چاقو نکال کر کہوں گا:
’’ہاں بھئی دو خروڑ نکالو۔‘‘
وہ نشے والی آواز کی وجہ سے ’’کروڑ‘‘ کو’’ خروڑ‘ کہہ رہا
تھا… اس وقت بھی وہ نشے میں تھا…ہاتھ میں چاقو پکڑ کر دھمکی دینے کا پوز بنا رہا
تھا تو ساتھ ساتھ کمزوری کی وجہ سے جھوم بھی رہا تھا… لگتا تھا کہ ابھی گر پڑے گا…
اس کی بات اور اس کے انداز کو جب بھی یاد کرتا ہوں بے اختیار مسکرا دیتا ہوں…
ہمارے پاکستان کے لبرل لفافے… ہر وقت اسی فکر میں رہتے ہیں کہ اس ملک سے کب دین کا
صفایا ہو جائے… کب داڑھی، پگڑی والے ختم ہو جائیں… کب یہاں جہاد کا نام لینے والا
کوئی نہ رہے…ان کی خواہش ہے کہ یہ ملک بس ملالہ اور جبران جیسے لوگوں کا ہو جائے …
ان ظالموں کو اس بات سے شرم آتی ہے کہ … اس ملک میں مدرسے بھی ہیں…مجاہد بھی
ہیں…داڑھی والے بھی ہیں…یہ عالمی برادری سے بہت شرماتے ہیں کہ ہمارے ملک میںابھی
تک پتھر کے زمانے کے لوگ موجود ہیں… ان لبرلز کا بس چلتا تو یہ پاکستان سے دین کا
ہر نشان مٹا دیتے… مگر یہ خود ’’اشوک‘‘ کی طرح نشیٔ ہیں، کمزور ہیںاور اپنی
رنگینیوں میں مست ہیں…لیکن جیسے ہی پاکستان پر کچھ دباؤ پڑتا ہے اور یہاں کے
حکمران… دینداروں کے خلاف کوئی آپریشن شروع کرتے ہیں تو… یہ ’’اشوک فیملی ‘‘ ہاتھ
میں موم بتیوں کے چاقو لے کر جھومنے لگتی ہے اور کہتی ہے کہ… نکالو ان شدت پسندوں
کو … مارو ان انتہا پسندوں کو … اشوک جب اپنا پلان مجھے سنا رہا تھا تو میں سوچ
رہا تھا کہ… اگر اس مالدار آدمی نے دو کروڑ نکالنے کی جگہ… زور سے پھونک بھی مار
دی تو اشوک جی زمین پر چت پڑے ہوں گے… یہی حال یہاں کے لبرلز کا ہے … انہوں نے
ابھی شدت پسند دیکھے نہیںہیں …ان کی منحوس کوششوں سے… پاکستان کا دینی طبقہ… اگر
ہتھے سے اُکھڑ گیا تو پھر ان لبرلز کا کیا بنے گا؟…ابھی تو یہ بڑے مزے سے ویلنٹائن
بھی منالیتے ہیں… نیو ائیر نائٹ پر بھی ہر بے حیائی کر لیتے ہیں… پورے ملک میں یہ آرام
سے پھرتے ہیں… لیکن اگر اصل شدت پسندی آ گئی تو ان کے ساتھ وہ ہو گا کہ یہ اس کے
تصور سے بھی لرزیں گے… یہ جنرل ضیاء الحق کے تھوڑے سے اسلامی قوانین کو برداشت
نہیں کر سکے تھے… اور ٹولیاں بنا بنا کر …اور خود کو سفارت خانوں میں اقلیتی مذہب
کا پیروکار لکھوا کر باہر بھاگ گئے تھے۔
پاکستان میں الحمد للہ دین بھی مضبوط ہے… اور دیندار مسلمانوں
کی تعداد بھی ان لبرلز کے وہم و گمان سے بہت زیادہ ہے… آج بھی دین کی ایک آواز
پر لاکھوں مسلمان جمع ہو جاتے ہیں… اور دین کی خاطر اپنی جانیں خوشی سے قربان کرنے
والوں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے… حکمرانوں کو چاہیے کہ جس طرح وہ اپنے معاشرے میں
اللہ تعالیٰ کے باغی لبرلز کو برداشت کر رہے ہیں… اسی طرح اللہ تعالیٰ کے وفادار
بندوں کو بھی برداشت کریں…اور دباؤ ڈالنے والی عالمی برادری کو بتائیں کہ… ہمارا
ملک ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کا سٹوڈیو نہیں ہے کہ تمہیں یہاں صرف لبرلز نظر
آئیں…یہ مسلمانوں کا ملک ہے… یہاںہر طرح کے لوگ موجود ہیں … اور ہم ان سب کے
حکمران ہیں… ہمارے حکمران اگر آج صرف لبرلز کی وکالت کریں گے تو… کیا پاکستان کے
دینی غیرت سے سرشار مسلمان اپنے لئے کوئی اور وزیر اعظم، کوئی اور وزیرخارجہ تلاش
کریں؟ … اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو… مساجد، مدارس اور مجاہدین پرشک کرنا
بند کرو… تحریک کشمیر کے ساتھ بے وفائی کا سوچو بھی نہ… کیونکہ جب مسلمان کسی
میدان میں مشرکین سے مقابلہ شروع کر دیں تو پھر…جو مسلمان اس میدان سے بھاگے اس پر
اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوتا ہے… یہ قرآن کا حتمی فیصلہ ہے… عالمی برادری کے
دباؤ کو محسوس کرنے والو! اللہ تعالیٰ کے حکم کا بھی کچھ دباؤ محسوس کرو… کشمیر
کی تحریک سے بے وفائی کر کے اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت نہ دو… عالمی برادری سے
تمہیں اللہ بچا لے گا… مگر اللہ تعالیٰ کے غضب سے کوئی بچانے والا نہیں ہے… سوائے
اللہ تعالیٰ کے :
اَللّٰھُمَّ لَا مَلْجَأَ وَلَامَنْجَأَ مِنْکَ
اِلَّااِلَیْکَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِکَ
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ایمان والوں کی نصرت فرماتے ہیں…یہ اُن کا سچا
وعدہ ہے… اُن کے حکم اور نصرت سے مٹھی بھر افرادبڑے بڑے لشکروں پر غالب آ جاتے
ہیں… یہ سب کچھ قرآن مجید میں بیان ہو چکا ہے… اس میں ’’اگر مگر‘‘ کی کوئی گنجائش
نہیں … اللہ تعالیٰ کے وعدے اور کلمات پکے ہیں:
{وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللہِ قِیْلًا} [النساء:۱۲۲]
ایک عجیب منظر
غزوۂ اُحد میں مشرکین کے لشکر کا سردار … بڑے بڑے مسلمانوں
کے قتل ہونے کا اعلان کر رہا تھا… اور پوچھ رہا تھا کہ مسلمانو! بتاؤ فلاں زندہ
ہے؟ فلاں زندہ ہے؟… مسلمانوں کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا تو اس نے اپنے لشکر کو
خوشخبری سنا دی:
’’ خوش ہو جاؤ، اصل لوگ مارے جا چکے ہیں ، زندہ ہوتے تو جواب
دیتے۔‘‘
تب حضرت سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بلند
آواز اُحد کے پہاڑوں سے ٹکرائی:
’’ اے اللہ کے دشمن! تو جھوٹ بول رہا ہے ۔ تجھے غم میں ڈالنے
والے یہ سب افراد اللہ تعالیٰ کے حکم سے زندہ ہیں۔ ‘‘
دن رات تیزی سے گذرے… سال صدیوں میں تبدیل ہوئے اور اس واقعہ
کے چودہ سو اڑتیس سال بعد آج مشرکین پھر وہیں کھڑے ہیں … وہ بعض چھوٹے چھوٹے
مسلمانوں کے قتل ہونے کا اعلان کر رہے ہیں … اپنی قوم کو خوشخبریاں سنا رہے ہیں…
تب آواز گونجتی ہے کہ نہیں اللہ کے دشمنو!ہرگز نہیں … تمہیں غم میں ڈالنے کا
سامان اللہ تعالیٰ کے حکم سے محفوظ ہے… جو نام تم لے رہے ہو وہ سب اللہ تعالیٰ کے
حکم سے زندہ ہیں… تاریخ کے اس گول چکر کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ سے اُمید بڑھ گئی
ہے… اللہ تعالیٰ پر یقین بڑھ گیا ہے… اُحد کا وہ معاملہ فتح مکہ اور پھر دنیا پر
اسلام کے غلبے تک جا پہنچا… اللہ تعالیٰ ہمارے اس معاملے کو بھی مسلمانوں کی
آزادی اور غلبے تک پہنچائے۔
دنیا فانی ہے، سب نے مر جانا ہے… مگر جو اللہ تعالیٰ پر یقین
رکھے گا… اور اللہ تعالیٰ کے دین کے لئے آگے بڑھے گا وہ کامیاب ہے …اور جو اعداد
و شمار کے چکر میں پڑے گا کہ … دشمن ہم سے کتنا بڑا ہے… ہم نے دنیا کو منہ دکھانا
ہے… وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو کیا منہ دکھائے گا؟
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ ثُمَّ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم یہ
دعاء بہت مانگتے تھے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ سُوْءِ القَضَاءِ
وَشَمَاتَةِ الأَعْدَاءِ۔
’’یا اللہ! میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں بری قسمت سے اور
دشمنوں کے خوش ہونے سے۔‘‘
[صحيح البخاري۔ باب التعوذ من جهد البلاء۔رقم الحدیث:۶۳۴۷۔الناشر:
دار طوق النجاة ]
’’شَمَاتَۃُ الْاَعْدَاءِ ‘‘ اس حالت کو کہتے ہیں جس کی وجہ
سے دشمنوں کو خوشی ہو… مسلمان کو ہمیشہ ایسی حالت میں رہنا چاہیے کہ دین کے دشمن،
انسانیت کے دشمن اس سے جلتے رہیں…اس کی وجہ سے غم و غصے میں مبتلا رہیں … اور اس
کا وجوداُن کے لئے غم اور تکلیف کا باعث ہو:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَمَاتَۃِ
الْاَعْدَاءِ۔
اپنی ذاتی باتیں لکھنے کی عادت نہیں… صرف وہی ذاتی واقعات
کبھی کبھار لکھ دئیے جاتے ہیں جن میں کوئی اجتماعی سبق یا فائدہ ہوتا ہے… صحت اور
بیماری اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے… کوئی اس بارے میں کوئی فخر نہیں کر
سکتا… کوئی دعویٰ نہیں کر سکتا… اور کرنا بھی نہیں چاہیے… اپنی صحت پر فخر کرنے
والے اکثر صحت سے محروم ہو جاتے ہیں … اپنے حسن پر فخر کرنے والوں کا حسن اُن کے
لئے وبال بن جاتا ہے … کمزور انسان کو دعوے بازی سے ہمیشہ بچنا چاہیے… ہاں اپنی
اچھی حالت پر شکر کیا جا سکتا ہے… اور کوئی جھوٹ پھیل رہا ہو… اور اس سے بعض
مسلمانوں کو تکلیف پہنچ رہی ہو تو اس جھوٹ کی تردید کرنا باعث اجرو ثواب ہے… مجھ
نا چیز غریب کے بارے میں تواتر سے خبریں آ رہی ہیں کہ میں سخت بیمار ہوں …کوئی
گردے کا مرض بتا رہا ہے تو کوئی جگر کا… ممکن ہے دنیا بھر میں دو چار افراد جو مجھ
سے اللہ تعالیٰ کے لئے محبت رکھتے ہوں ان خبروں سے پریشان ہوں… اس لئے عرض کرتا
ہوں کہ اَلْحَمْدُللّٰہِ ثُمَّ الْحَمْدُ لِلّٰہِ میں خیریت سے ہوں… گردے بھی ٹھیک
ہیں اور جگر بھی… باقی جہاں تک دل کا تعلق ہے تو
اَلْحَمْدُللّٰہِ وہ بھی طبی لحاظ سے ٹھیک ہے… البتہ روحانی طور
پر اسے ٹھیک رکھنے کی فکر اور دعاء کرتا رہتا
ہوں…اَلْحَمْدُللّٰہِ گزشتہ سترہ سال سے کبھی ہسپتال میں داخل نہیں
ہوا… الحمد للہ کئی کئی سال تک کسی ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت اللہ تعالیٰ کے فضل
سے پیش نہیں آئی … ٹیسٹ کرانے کا مخالف ہوں،اس لئے ٹیسٹ نہیں کراتا… مگر علامات
سے معلوم ہوتا ہے کہ … شوگر،بلڈ پریشر جیسی بیماریاں بھی الحمد للہ ابھی تک نہیں
ہیں… اور کیا کیا بتاؤں؟ … چونکہ انڈیا میں الیکشن قریب ہیں… اور وہاں کے الیکشن
میں میرا نام بھی چل رہا ہے… اس لئے بطور شکر اور وضاحت یہ چند باتیں عرض کر دی ہیں…حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے جن چیزوں میں شفاء بیان فرمائی
ہے… مثلاً حجامہ، کلونجی ، شہد، تلبینہ …اَلْحَمْدُللّٰہِ یہ استعمال
کرتا رہتا ہوں… اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی پہلی سورۃ اور آخری دو سورتوں میں
شفاء کی خاص تاثیر رکھی ہے … اُن کے اہتمام کی کوشش ہوتی ہے… اللہ تعالیٰ سے صحت و
شفاء کی دعاء مانگتا رہتا ہوں…اَلْحَمْدُللّٰہِ کوئی معذوری یا مجبوری
نہیں ہے… موقع ملنے پر تیر اندازی کی سنت سے فیض یاب ہوتا ہوں …اور اپنے کام
خودکرنے کی کوشش کرتا ہوں… خلاصہ یہ کہ فی الحال تو اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے لئے
کوئی اچھی خبر نہیں ہے…باقی مسلسل ذہنی فکر مندی، سخت دماغی محنت، ناہموار حالات
اور تحریری کاموں کے لئے زیادہ بیٹھنے کے سبب کمر، مہروں کی تکلیف اور چھوٹی موٹی
بیماریاں چلتی رہتی ہیں… جن کا کبھی کبھار حجامہ اور دیسی ادویات سے علاج کرتا ہوں
…اَلْحَمْدُللّٰہِ میری صحت ’’نریندر مودی‘‘ کی صحت سے اچھی ہے… وہ
چاہے تو سینے کی چوڑائی ، دماغ کے ٹیسٹ، آنکھوں کی تیزی، تیراندازی اور نشانہ
بازی میں مقابلہ کر کے دیکھ لے… ان شاء اللہ اسے شکست ہو گی…مگر وہ بہادر انسان
نہیں ہے… وہ دنیا بھر میں شکایتیں لگاتا پھرتا ہے، خود مقابلے پر نہیں آئے گا…
صحت کا یہ قصہ بس اتنا ہی …یہ آج مورخہ ۴ رجب ۱۴۴۰ھ
بمطابق 12 مارچ 2019 ء تک کے حالات ہیں… کل کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے…کسی بھی
وقت کسی کو بھی موت اور بیماری آ سکتی ہے…الحمد للہ استخارہ کی برکت سے کام کی
ترتیب ایسی ہے کہ میرے مرنے ، بیمار ہونے یا کام نہ کر سکنے سے کوئی فرق نہیں پڑے
گا… یہ دین کسی کا محتاج نہیں، ہم دین کے محتاج ہیں… یہ کام کسی کا محتاج نہیں، ہم
کام کے محتاج ہیں…اور جہاد کے بارے میں قرآن مجید کی نص قطعی موجود ہے کہ جو کرے
گا اس کا اپنا فائدہ ہے … اور جو چھوڑ دے گا اللہ تعالیٰ اسے دور پھینک کر اس کی
جگہ اس سے بہتر افراد کھڑے فرما دے گا… جہاد قیامت تک جاری رہے گا … فرمایا کہ…
کوئی بھی جہاد کو نہیں روک سکے گا … کوئی بھی اسے بند نہیں کر سکے گا۔
یہ میری باتیں نہیں… یہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے ہیں… اس لئے ’’
جہاد فی سبیل اللہ ‘‘ کے خلاف محنت کرنے والےہوشیار رہیں… وہ اللہ تعالیٰ کے غضب
کو دعوت دے رہے ہیں…وہ اللہ تعالیٰ کے غصے کو بلا رہے ہیں …یا اللہ! امان … یا
اللہ! امان۔
اہل محبت سے گذارش
اس وقت دعاء اور توجہ الی اللہ کی سخت ضرورت ہے… اپنے لئے بھی
اور امت مسلمہ کے لئے بھی… ایک طرف کشمیر کی مبارک تحریک ہے … ایک کشمیری نوجوان
عادل احمد ڈار شہید نے بڑی قربانی دے کر… مسئلہ کشمیر کو بہت آگے تک پہنچا دیا
ہے… اب تو بس تھوڑی سی مزید محنت درکار ہے… مگر برا ہوبزدلی اور دنیا پرستی کا …اب
جہاد کشمیر کے خلاف سازشیں عروج پر ہیں … اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ شہداء کرام کی
قربانی رنگ لائے گی، ان شاء اللہ… یہاں ایک بات یہ بتانا ضروری ہے کہ کشمیر کی
تحریک اگر کشمیر میں نہ چلی تو یہ اردگرد پھیل جائے گی… یہ فطرت کا اصول ہے، دھمکی
نہیں… برصغیر کے امن اور ترقی کے لئے اگر کوئی مخلص ہے تو اسے پہلے مسئلہ کشمیر حل
کرنا ہو گا… ورنہ یہ آگ پھیلے گی… اور اسے پھیلنے سے کوئی نہیں روک سکے گا… چند
مشہور افراد کو مار دینے یا چند تنظیموں کا گلا دبانے سے یہ آگ رکے گی نہیں … تحریک
جب جڑ پکڑ لے تو وہ خود اپنی خدمت کے لئے افراد اُٹھاتی ہے… تنظیمیں بناتی ہے…
افغان جہاد پہلے کھڑا ہوا تنظیمیں بعد میں بنیں… تحریک کشمیر پہلے اٹھی، تنظیمیں
بعد میں بنیں… کاش! عقل والے سوچیں… اور ایک غلطی کے بعد دوسری غلطی نہ کریں… ادھر
افغانستان کے حالات بھی ایسے رخ پر چل پڑے ہیں کہ دعاء کی بہت ضرورت
ہے… بندہ نے موجودہ حالات خراب ہونے سے ایک ہفتہ پہلے ہی… رنگ و نور میں عرض کر
دیا تھا کہ جب نتیجہ ملنے والا ہوتا ہے اور بڑی خیر آنے والی ہوتی ہے
تو آزمائشیں سخت ہو جاتی ہیں…منزل جب قریب آ جاتی ہے تو راستہ تھوڑا
کٹھن ہو جاتا ہے… اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کام کرنے والے افراد ثابت قدم رہیں،
باہمت رہیں اور ہرگز، ہرگز مایوس نہ ہوں… ہمارے آقا مدنی صلی اللہ
علیہ وسلم غزوۂ بدر میں ستر مشرکین کی لاشوں پر کھڑے تھے… اور
ایک سال بعد اپنے عزیز ستر صحابہ کرام کی شہادت کا غم دیکھ رہے تھے… اصل چیز
استقامت ہے… پیٹھ پھیر کر بھاگ جانے والوں پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوتا ہے…
اور جو ڈٹے رہتے ہیں ان پر رحمت کے فرشتے نازل کئے جاتے ہیں…دونوں باتیں قرآن
مجید میں موجود ہیں ۔
ہم سب اللہ تعالیٰ سے ہمت مانگیں… استقامت مانگیں… ایمان
مانگیں… عافیت مانگیں… نصرت مانگیں … ہم جو کچھ مانگیں گے وہ ملے گا، ان شاء
اللہ…کیونکہ مالک بہت عظیم ہے… بہت کریم ہے …بہت رحیم ہے۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے بندے اللہ تعالیٰ کا حکم پورا کرنے کے لئے
اللہ تعالیٰ کے گھر میں جمع تھے… اللہ تعالیٰ کا دشمن ایک موذی قاتل اسلحہ لے کر
وہاں پہنچ گیا… اللہ تعالیٰ کے گھر میں اللہ تعالیٰ کی ’’جنت ‘‘ مہک اُٹھی… پچاس
کے قریب اللہ تعالیٰ کے بندے اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچ گئے…اللہ تعالیٰ کی لعنت اُن
کے قاتل اور اس قاتل کے سرپرستوں پر برسی… {قُتِلَ اَصْحَابُ الْاُخْدُوْدِ}… ایک
طرف قاتل کھڑے ہیں، اِیمان والوں کے قاتل… اور دوسری طرف مقتول کھڑے ہیں، ایمان
والے مقتول … کبھی آپ نے سوچا کہ کون کامیاب ہے؟… کبھی ہم نے سوچا کہ قرآن مجید
ایسے قصے کیوں سناتا ہے کہ جنت کا راستہ آگ کی خندق سے ہو کر گزرتا ہے… کبھی ہم
نے غور کیا کہ فرعون ناکام ہوا… حضرت آسیہ رضی اللہ
عنہا کامیاب ہوئیں … مگر پھر بھی ہم باتیں فرعون جیسی کرتے ہیں… دنیا ،
دنیا اور دنیا … ترقی، ترقی اور ترقی… آخر میں سب نے مر جانا ہے… اے مسلمانو!
سوچو… اے مسلمانو سمجھو !
سُبْحَانَ اللہِ،سُبْحَانَ اللہِ
ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم تسبیح کیا کریں … سُبْحَانَ اللہِ،
سُبْحَانَ اللہِ… اللہ تعالیٰ کی تسبیح کا عقیدہ لازم ہے… اس کے بغیر کوئی مسلمان
نہیں ہو سکتا … کوئی مومن نہیں ہو سکتا… انسان جب خود کو زیادہ عقل مند سمجھ کر بے
عقل ہو جائے تو وہ نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ پر اِعتراضات کرتا ہے… اللہ تعالیٰ پر
باتیں بناتا ہے… کافروں کو اتنی طاقت کیوں دی؟ … ایمان والے ہر جگہ کمزور کیوں
ہیں؟ … کافر ترقی کیوں کر رہے ہیں؟… مسلمان ہر جگہ مار کیوں کھا رہے ہیں؟…ان باتوں
پر اگر اس لئے غور کیا جائے کہ ان کا حل سمجھنا مقصود ہو تو یہ جائز ہے… مگر کئی
لوگ تو نعوذ باللہ ان باتوں سے اللہ تعالیٰ پر اِعتراضات کرتے ہیں… طنز کرتے ہیں…
قرآن مجید کا مذاق اُڑاتے ہیں… چونکہ اُن کے دلوں پر کافروں کا رُعب اور دُنیا کی
محبت چھائی ہوتی ہے … اس لئے اُن کی عقل پر پردہ پڑ جاتا ہے… اور شیطان اُن سے یہ خطرناک
جرم کراتا ہے کہ وہ نعوذ باللہ تسبیح کے عقیدے سے ہٹ جاتے ہیں… ایسی حالت سے اللہ
تعالیٰ کی پناہ مانگنی لازم ہے… سب دل سے کہیں …سُبْحَانَ اللہِ، سُبْحَانَ اللہِ…
اللہ تعالیٰ ہر ظلم سے پاک … اللہ تعالیٰ ہر نااِنصافی سے پاک … اللہ تعالیٰ جو
کرتے ہیں وہی حق ہوتا ہے … وہی ٹھیک ہوتا ہے…اللہ تعالیٰ دھوکہ دینے سے پاک… اللہ
تعالیٰ کے ہاں اس دنیا… اس کی ساری طاقت… اس کی ساری چمک دمک… اس کی ٹیکنالوجی کی
قیمت مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں… جبکہ اِیمان کی قیمت اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت
بڑی ہے… اس لئے وہ جن سے محبت فرماتے ہیں اُن کو ایمان عطاء فرماتے ہیں …نمرود کے
پاس حکومت تھی… سلطنت تھی … ترقی تھی… جاہ وجلال تھا… چمک دمک تھی … مگر اِیمان
نہیں تھا… حضرت سیّدنا اِبراہیم علیہ السلام کے پاس حکومت نہیں تھی…
ایمان تھا… نمرود کے پاس جو کچھ تھا وہ ختم ہو گیا… اِبراہیم علیہ السلام کے
پاس جو کچھ تھا وہ سلامت ہے اور سلامت رہے گا… یہ بالکل واضح بات ہے… مگر آج کل
کے بددماغ مسلمانوں کو یہ بات بتائی جائے تو فوراً چیختے ہیں…ایمان سے پیٹ تو نہیں
بھرتا … آخر ہم نے دنیا کے ساتھ چلنا ہے… ان نادانوں کو کیا پتا کہ ایمان سے پیٹ بھی
بھرتا ہے … اور دُنیا بھی نیچے لگتی ہے… مگر ایمان ہو تو… جب دل و دماغ پر کفر
چھایا ہو…جہالت چھائی ہو …حرص چھائی ہو… کافروں کا رعب اور خوف چھایاہو… دنیا کی
فکر اور آخرت سے غفلت چھائی ہو تو ایمان کی روشنی… ان کالے بادلوں میں چھپ جاتی
ہے… شہدائے نیوزی لینڈ کو مبارک …موت تو آنی ہی تھی… اور اسی دن آنی تھی… مگر وہ
شہادت کی صورت میں آئی… یورپ کی سرزمین پر مسلمانوں کا خون گرا ہے تو اب تاریکی
ٹوٹے گی، ان شاء اللہ
دھوکے اور راز
اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہماری
چھوٹی سی جماعت قائم ہوئی… ابھی اِعلان ہی ہوا تھا کہ آزمائشوں نے حملہ کر دیا…
پہلی آزمائش ہی اتنی سخت تھی کہ بظاہر جماعت کے باقی رہنے کا اِمکان نہیں تھا…
مگر اللہ تعالیٰ کی نصرت آئی اور جماعت کھڑی ہو گئی… کچھ کام آگے بڑھا تو پھر
سخت آزمائش آ گئی… اس بار تو ہر کسی نے کہہ دیاکہ بس اب یہ قصہ ختم … مگر قصہ
ہوتا تو ختم ہوتا…اللہ تعالیٰ نے جماعت کو چلائے رکھا… حقیقت کی اللہ تعالیٰ حفاظت
فرماتے ہیں… ہم نے کبھی بہت لمبے مقاصد نہیں رکھے… ہر دن کو اپنی زندگی کا آخری
دن سمجھا… یہ اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ جماعت کو کبھی اپنی ذاتی ملکیت نہیں
سمجھا… بلکہ اللہ تعالیٰ کی اَمانت سمجھا… مسلمانوں کو کبھی لمبے لمبے وعدے کر کے
دھوکا نہیں دیا… بلکہ جماعت کو ایک مسجد کی طرح کھڑا کر کے خود بھی اس میں اللہ
تعالیٰ کی عبادت کی کوشش کی… اور مسلمانوں کو بھی دینی فرائض کی طرف بلایا … یہ
بھی اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ اس کی توفیق سے جماعت کو اپنی ذاتی قوت، ذاتی تشہیر
اور ذاتی مفاد کے لئے استعمال نہیں کیا… بلکہ ایسی ترتیب رکھی کہ جماعت طاقتور
ہوتی گئی… اور میں کمزور ہوتا گیا… اکیلا ، تنہا، گوشہ نشین… الحمد للہ، اللہ
تعالیٰ کے مقرب بندے جماعت میں شامل ہوتے چلے گئے… انہوں نے بڑی بڑی قربانیاں دیں…
بڑے عظیم مجاہدے کئے… ان اللہ والوں کے نور سے مجھ جیسے سست اور کمزور اَفرادبھی
لگے رہے، جڑے رہے…لوگ حیران ہوتے ہیں…اور کئی افراد باقاعدہ شک کرتے ہیں کہ اتنے
آپریشن، اتنے کریک ڈاؤن، اتنے مظالم کے باوجود جماعت کس طرح سے باقی ہے… اور کس
طرح سے ترقی کر رہی ہے؟…ان لوگوں نے یہ نہیں سوچا کہ نقصان تو مفادات کا ہوتا ہے…
جہاں صرف قربانی ہی قربانی ہے تو اس کا کیا نقصان ہونا ہے؟…اگر ہم اور جماعت کے ذمہ
دار ساتھی جماعت سے کما رہے ہوتے … جائیدادیں بنا رہے ہوتے… اپنی دُنیا چمکا رہے
ہوتے… اپنے بچوں کے دنیاوی مستقبل سنوار رہے ہوتے تو… پابندیوں، گرفتاریوں اور
مظالم سے نقصان ہوتا…مگر یہاں تو ہر شخص لینے کی نہیں، اللہ تعالیٰ کے لئے کچھ
دینے کی فکر میں رہتا ہے… یہ جاگیر نہیں،اللہ تعالیٰ کا گھر بناتے ہیں…یہ مسلمانوں
کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے ہیں … یہ کلمہ طیبہ ، اِقامت صلوٰۃ اور
جہاد فی سبیل اللہ کی دعوت دیتے ہیں… ان میں سے ہر شخص اللہ تعالیٰ کے لئے قربان
ہونے کو سعادت سمجھتا ہے … ان میں ایسے بھی ہیں جو رات کا اکثر حصہ مصلے پر روتے
ہوئے گذارتے ہیں… ان میں ایسے بھی ہیں جو دُنیا کے بارے میں ایک روپے کی لالچ نہیں
رکھتے… وہ آزاد ہوتے ہیں تو دین کا کام کرتے ہیں… وہ قید تنہائی میں ڈال دئیے
جائیں تو ذکر اللہ میں لگ جاتے ہیں… وہ جیل میں پھینک دئیے جائیںتو وہاں دعوت اِلیٰ
اللہ کا کام شروع کر دیتے ہیں…اب ایسے اَفراد کو کیا نقصان پہنچایا جا سکتا ہے …
بہرحال نہ کوئی فخر ہے اور نہ اپنی مضبوطی کا دعویٰ …کل بھی اللہ تعالیٰ کا سہارا
تھا… آج بھی اللہ تعالیٰ کا سہارا ہے… یہ دُنیا بڑے بڑے رازوں سے بھری پڑی ہے…
معلوم نہیں اس تازہ آزمائش میں کیا کیا راز ہوں گے… یہ دُنیا دھوکے سے بھری پڑی
ہے… اس لئے خوف اور بزدلی کے دھوکے میں نہ آئیں…اگرچہ حکومت کا تازہ آپریشن کافی
ظالمانہ، سخت اور بھونڈا ہے… دِل کبھی کبھار غم سے رو بھی پڑتا ہے… مگر الحمد للہ
نہ پریشانی ہے، نہ مایوسی۔
دینی مدارس میں یہ سال کے اِختتام کا وقت ہوتا ہے… قرآن
پڑھنے والے بچوں کا پورا سال ضائع کر کے… اللہ تعالیٰ کے اَولیاء کو اِیذاء پہنچا
کے … یہ حکومت کیا حاصل کرنا چاہتی ہے… یہ سمجھ سے بالاتر ہے… جماعت کے ساتھی،
رُفقاء ،معاونین اور محبین سب مطمئن رہیں… یہ دین کا کام ہے اور اس دین کا محافظ
اللہ تعالیٰ ہے۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے ’’بندے‘‘ اللہ تعالیٰ کے ’’راستے‘‘ میں
’’آزمائے‘‘ جاتے ہیں…اللہ تعالیٰ ان ’’آزمائشوں‘‘ پر اپنے بندوں کو بڑے بڑے
’’انعامات‘‘ عطاء فرماتے ہیں… ہمارے بہت سے ساتھی ’’گرفتار‘‘ ہیں… بے وجہ، بے
قصور، بے جرم …یقیناًیہ ’’آزمائش‘‘ اُن کے لئے مغفرت اور اونچے درجات کا ذریعہ
بنے گی، ان شاء اللہ …جو ’’دین برحق‘‘ کی نسبت سے گرفتار ہوتا ہےوہ ’’اسیر محبت ‘‘
ہوتا ہے … مگر ایسے لوگوں کو جو ’’ایذاء‘‘ پہنچاتے ہیں وہ خطرے میں ہیں بڑے خطرے
میں۔
سوچ کا فرق
ایک صاحب نے اپنے ایک دوست کو بتایا … میں نے کوئی گولی کھا
لی تھی جس سے مجھے گہری نیند آ گئی اور میں مسلسل بائیس گھنٹے سویا رہا… ان کے
دوست نے حیرت سے کہا : بائیس گھنٹے؟…بغیر کچھ کھائے پیے؟ … سوچ پر کھانا سوار تھا
اس لئے بھوکا پیاسا رہنے پر حیرت ہوئی… شام کو انہوں نے اپنے ایک اوردوست کو بتایا
کہ میں بائیس گھنٹے مسلسل سویا رہا… دوست نے حیرت سے پوچھا: بائیس گھنٹے؟ بغیر
نماز کے؟ … کتنی فرض نمازیں ضائع ہو گئیں…سوچ پر’’نماز‘‘ اور’’ بندگی ‘‘سوار تھی
اس لئےنماز چھوٹنے پر حیرت ہوئی … آج کل جماعت کے خلاف جو آپریشن چل رہا ہے … اس
پر بھی ایسی ہی دو سوچیں دیکھی جا رہی ہیں… پہلی یہ کہ مزے سے کام کر رہے تھے…
آسانی بھی تھی اور آزادی بھی… کام بھی بڑھ رہا تھا کہ اچانک مصیبت آ گئی…بہت
کچھ بکھر گیا… پریشانی ہی پریشانی ہے… دوسری سوچ یہ کہ مزے سے کام کر رہے تھے… خوب
ترقی ہو رہی تھی… کام زیادہ ہونے کی وجہ سے ذکر و دعاء کا وقت بھی کم ملتا تھا…
اچانک قبولیت اور محبت کا موسم آیا … اب ماشاء اللہ دن رات دعائیں ہیں، ذکر اللہ
ہےاور آزمائش والی قیمتی زندگی ہے … راحت و آسانی والے دس سالوں سے آزمائش والا
ایک دن زیادہ بھاری اور زیادہ قیمتی ہے … انڈیا کی ایک جیل کے ایک مشکل لمحے… جب
بدن زخمی تھا… چوبیس گھنٹے ہاتھوں میں بھاری ہتھکڑی رہتی تھی… چہرے سے بہنے والا
خون جرسی پر سینے والی جگہ نقش ونگار بنا چکا تھا… اچانک ایک آئینے پر نظر پڑی تو
وہ مسکرا اُٹھا… تب کچھ اشعار کہے تھے… مطلع یہ تھا ؎
بدن زخمی کڑی ہاتھوں میں ہر دم
محبت کا زمانہ آگیا ہے
مغالطے ، جھوٹ ، مفروضے
امریکہ اور بھارت کے حکم پر صدر مشرف نے جن دینی، جہادی
جماعتوں کو ’’کالعدم ‘‘ قرار دیا تھا… اُن کے بارے میں بہت سے غلط تصورات عام ہیں…
کئی لوگ سمجھ رہے ہیں کہ یہ کوئی زیرزمین مسلح جماعتیں ہیں… یہ اسلحہ بردار جتھے
ہیں… اور یہ کوئی الگ قسم کی مخلوق ہیں… حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے… ان جماعتوں
کے افراد پاکستان کے معزز ، شریف اور پر امن شہری ہیں… یہ پاکستان ہی میں رہتے
ہیں…مساجد میں نماز ادا کرتے ہیں … اور معمول کے مطابق اپنی زندگی گزارتے ہیں…
ہمارے سیاسی ’’رہنما‘‘ چونکہ اپنی عزت و ذلت کے لئےہمیشہ ’’باہر ممالک‘‘ کی طرف
دیکھتے ہیں تو وہ… ایک دوسرے کو بدنام کرنے کے لئے…کالعدم جماعتوں کا نام لیتے
رہتے ہیں کہ فلاں فلاں کا اُن سے تعلق ہے… حالانکہ پاکستان کی ہر سیاسی جماعت کا
ان کالعدم تنظیموں سے تعلق رہا ہے اور آج بھی ہے… ہمارے لئے سب سے آسان اور اچھا
دور ’’پیپلز پارٹی‘‘ کا تھا اس میں نہ کوئی اندھے آپریشن ہوئے اور نہ بلا وجہ
چھاپے مارے گئے … وجہ یہ تھی کہ پیپلز پارٹی کے قائدین ہمیشہ عوام سے جڑ کر رہتے
ہیں… اور زیادہ وقت اپنے ذاتی دھندوں اور مشاغل میں گزارتے ہیں… پاکستان کے اکثر
سیاستدان جانتے ہیں کہ یہ تنظیمیں نہ تو سندھ کے ڈاکو ہیں اور نہ ’’پنجاب کچے ‘‘
کے لٹیرے… یہ پاکستان کے شہری ہیں اور ان کو پرویز مشرف نے اپنی ذاتی بزدلی اور
کفر پرستی کی وجہ سے کالعدم قرار دیا تھا… اور بعد میں کسی حکومت نے اس کالے قانون
کو بدلنے کی فکر نہیں کی… اور یوں دنیا بھر میں ان تنظیموں کے بارے میں ایک منفی
تاثر پھیل گیا… حالانکہ یہ نہ تو سیاستدانوں کی طرح ملک کو لوٹتے ہیں … اور نہ ہی
کسی قسم کی کرپشن یا منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں…اور نہ ہی ان تنظیموں کے زیرزمین
کوئی خفیہ سیل ہیں… ان تنظیموں کے افراد پہلے سے’’ قومی دھارے‘‘ میں شامل ہیں … ان
میں تاجر ، سرکاری ملازم ، مزدور ، طالبعلم اور علماء کرام سبھی شامل ہیں… اب ان
کو مزید کسی ’’قومی دھارے‘‘ میں لانے کی کیا ضرورت ہے؟… حکومت اگر قانون ٹھیک کر
دے تو مسئلہ ہی ختم ہو جائے گا… مگر جب اصل فیصلے اور احکامات باہر سے آتے ہوں تو
پھر… ہمارا ملک اسی طرح کے مسائل سے دوچار رہے گا۔
دوسری بات یہ ہے کہ… ہماری جماعت مروّجہ میڈیا سے دور رہتی
ہے… الحمد للہ دین کے نام پر لیا گیا چندہ میڈیا پر اپنی تشہیر یا اپنی صفائی کے
لئے استعمال نہیں کیا جاتا… جی ہاں!… ایک روپیہ یا ایک پائی بھی نہیں… اس لئے
صحافی حضرات ہمارے بارے میں درست معلومات نہیں رکھتے… اور جو ان میں سے یہ دعویٰ
کر دے کہ وہ ہمارے بارے میں جانتا ہے تو اس کی ریٹنگ راتوں رات آسمانوں کو چھونے
لگتی ہے… گذشتہ دنوں بی بی سی وغیرہ پر کسی صحافی کا چرچہ رہا ہے کہ انہوں نے میرے
کئی انٹرویو کر رکھے ہیں اور وہ ہمارے حالات جانتے ہیں… مگر ایسا کچھ بھی نہیں… نہ
ہی اس نام کے کسی صحافی نے میرا کبھی کوئی انٹرویو کیا ہے… اور نہ ہی وہ ہمارے
حالات درست بیان کر رہے ہیں… میرے محترم بھائیوں کی تعداد چار لکھی جا رہی ہے جو
کہ غلط ہے…حماد اظہر نام کا نہ کوئی میرا بیٹا ہے اور نہ بھائی… اسی طرح حرکۃ
الانصار اور سابق جہادی تنظیموں میں کوئی عہدہ مانگنے کی بات بھی ایک جھوٹی تہمت
ہے… انڈیا میں قید کے دوران کی بہت سی باتیں انڈین میڈیا غلط پھیلا رہا ہے…
حالانکہ اس چھ سالہ قید میں اللہ تعالیٰ کی بے حد نصرت ساتھ رہی… ہزاروں افراد نے
الحمد للہ بندہ سے دین کا علم پڑھا اور جیل میں با رہا انڈیا کو ذلت و شکست کا
سامنا کرنا پڑا۔
اگر کسی کو انصاف کرنا ہے تو وہ فروری 1994 ء میں بندہ کی
گرفتاری کے بعد… ’’انڈیا ٹوڈے‘‘ کا وہ پہلا شمارہ دیکھ لے … جس کے ٹائٹل پربرادر
محترم حضرت حافظ سجاد شہید رحمہ اللہ علیہ اور بندہ کی تصویر شائع کی
گئی تھی… تب اندازہ ہو گا کہ اس خوفناک قید میں بھی اللہ تعالیٰ نے کس طرح سے ہم
کمزور فقیروں کو استقامت، عزیمت اور ہمت بخشی… بے شک یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کا فضل
تھا کہ قید اور بے بسی کے دوران بھی… ہماری وجہ سے اسلام ، جہاد اور پاکستان پر
کوئی آنچ نہ آئی … بلکہ جیلوں میں بھی الحمد للہ تکبیر کے فلک شگاف نعرے بلند
ہوتے رہے… اور دعوت الی اللہ کی محفلیں برپا رہیں… وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ
الْعَالَمِیْنَ
اب انڈیا اپنی ذلت و خفت کو چھپانے کے لئے… طرح طرح کے جھوٹے
اقبالی بیانات اور من گھڑت فلمیں اور ویڈیوز بنا رہا ہے… مگر اس کا کام نہیں بن
رہا… جبکہ اس کے اس منفی پروپیگنڈے نے لوگوں کی توجہ… ہمارے بیانات، ہماری کتابوں
اور ہمارے پیغامات کی طرف بڑھا دی ہے… گذشتہ دو تین ہفتوں میں لاکھوں افراد نے ان
بیانات کو بار بار نشر کیا ہے… اور یوں ہم فقیروں کے لئے آخرت کا سرمایہ بن گیا
کہ… لوگ پہلے سے زیادہ ذوق و شوق سے دین کی دعوت سن رہے ہیں… ایمان و جہاد کی بات
سن رہے ہیں… چند دن پہلے… اپنے بعض دینی بیانات پر لاکھوں مسلمانوں کا ہجوم دیکھ
کر میں اللہ تعالیٰ کی شان اور اللہ تعالیٰ کے فضل پر شکر میں ڈوب گیا؎
جتنے بھی ستم وہ ڈھاتے ہیں
سب عشق پہ احساں ہوتے ہیں
کہاں ایک طرف ساری دنیا مل کر گردن دبانا چاہتی ہے… اور
کہاں اللہ تعالیٰ اس دعوت کو دور دور تک پھیلا رہے ہیں… بے شک ہوتا وہی ہے جو اللہ
تعالیٰ چاہتے ہیں… اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہیں… وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ
الْعَالَمِیْنَ
مَاشَاءَ اللہُ کَانَ
آج جب لکھنے بیٹھا تو عنوانات کی ایک چھوٹی سی فہرست بنا لی
تھی:
١ حضرت
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی زید قدرہ پر حملہ
٢ صدر
ٹرمپ کی طرف سے گولان کی پہاڑیوں کوباقاعدہ اسرائیلی علاقہ تسلیم کرنے کا فیصلہ
٣ سندھ
کی ہندو برادری میں اسلام قبول کرنے کا مبارک رجحان اور اس مبارک عمل کے خلاف
سرگرم باطل قوتیں… دو بہنوں کا قبول اسلام اور حکومت کی طرف سے ان کی حوصلہ افزائی
کی بجائے ان کو ہراساں کرنے کا عمل… اور اس پورے واقعے کا پس منظر۔
(۴) کیا پاکستان دینی مدارس اور علماء کی وجہ سے سائنسی ترقی سے
محروم ہے؟
ان چار عنوانات پر لکھنا تھا… حضرت شیخ الاسلام مدظلہ پر
لکھنے میں تھوڑا تردد تھا کہ کہیں ہمارے والہانہ اظہار محبت کی وجہ سے ان کو بھی
کالعدم جماعتوں سے نہ جوڑ دیا جائے… جبکہ باقی تین عنوانات پر تفصیل سے لکھنا تھا…
مگر قلم نے اپنا راستہ خود ہی ڈھونڈا… اور اسی پر چل کے کالم کی جگہ مکمل کر دی۔
مَاشَاءَ اللہُ کَانَ وَمَا لَمْ یَشَأْ لَمْ یَکُنْ
وَلَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایمان کی سدا بہار رونق اور روشنی نصیب
فرمائیں۔
کیا مسلمان ’’سائنسی ترقی ‘‘ کر سکتے ہیں؟ … اب ’’جہاد کشمیر
‘‘ کا کیا بنے گا؟
اس مجلس میں ان دو سوالات پر بات کرنے کا ارادہ ہے، ان شاء
اللہ… اور مزید ایک آدھ ضمنی بات بھی، ان شاء اللہ… چل اے قلم!
بِسْمِ اللہِ وَالْحَمْدُ للّٰہِ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ
اللہِ صلی اللہ علیہ وسلم … {بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖهَا وَمُرْسٰهَا}
ایک عجیب الزام
’’ وفاق پاکستان‘‘ پر ایک دن بھی کسی عالم دین، کسی مولوی،
کسی مدرسے والے کی حکومت نہیں رہی… پھر علماء اور مولویوں کو یہ الزام کیوں دیا
جاتا ہے کہ وہ سائنسی ترقی کے راستے کی رکاوٹ ہیں؟ … ملک کے سارے وسائل اول دن سے
لے کر آج تک انگریزی تعلیم یافتہ (پڑھے لکھے ) لوگوں کے ہاتھوں میں رہے ہیں …ملک
کے سارے اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں بھی ان کے زیر اختیار ہیں… اس کے باوجود
انہوں نے سائنس میں ترقی نہیں کی تو اس میں علماء ، مولویوں یا مدارس کا کیا قصور
ہے؟… ضرور غور فرمائیں… آج جو بھی سائنس کے حق میں بولتا ہے وہ فوراً علماء کرام
اور مدارس کو گالیاں دینے پر اُتر آتا ہے… کیا علماء کرام اور مدارس نے اسکول،
کالج میں سائنس کی تعلیم سے روکا ہے؟ … ایک جھوٹی بات کہ بعض علماء نے لاؤڈ
اسپیکر تک کی مخالفت کی تھی…بالفرض اس کو سچ بھی مان لیں تو اس سے کیا فرق پڑتا
ہے؟… بعض نہیں سارے علماء ’’سود‘‘ کی مخالفت کرتے ہیں… مگر آپ نے ستر سال سے ملک
میں سودی نظام چلا رکھا ہے… تو پھر بعض علماء کی مخالفت کے باوجود آپ سائنس میں
بھی ترقی کر سکتے تھے… آج علماء کو چیخ چیخ کر کہا جاتا ہے کہ… تم جہاز پر کیوں
بیٹھتے ہو؟ … تم بجلی کیوں استعمال کرتے ہو؟ … اس طرح کی چیخ و پکار اور طعنہ زنی
کا حق آپ کو تب حاصل ہو سکتا تھا …جب جہاز یا بجلی آپ نے ایجاد کئے ہوتے… یا آپ
کے ابو جان نے یہ چیزیں ایجاد کی ہوتیں… پھر آپ اس معاملے میں جس قدر بھی جذباتی
ہوتے اسے برداشت کیا جاتا… مگر حال یہ ہے کہ خود آپ نے کچھ بھی ایجاد نہیں کیا…
حالانکہ آپ نے سائنس کی تعلیم حاصل کرنے پر اپنے والدین اور اپنے ملک کا سرمایہ
بھی خرچ کرایا… مدارس تو اسکول کالج کے مقابلے میں بہت تھوڑے ہیں … ملک میں تعلیم
حاصل کرنے والے پچانوے فیصد بچے… آپ کے اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں کا رخ
کرتے ہیں… جبکہ پانچ فیصد سے بھی کم بچے قرآن و سنت کی تعلیم کے لئے مدارس میں
جاتے ہیں… اب ان پانچ فی صد مدارس کو بھی اگر اسکول ، کالج بنا دیا جائے تو کیا
ملک سائنسی ترقی کر لے گا؟… تھوڑا سا ٹھنڈے دل سے غور کریں… اور سائنسی ترقی کے غم
میں علماء اور مدارس پر چنگھاڑنے والوں سے کبھی اتنا ضرور پوچھیں کہ…وہ خود
سائنسدان کیوں نہیں بنے؟…انہیں سائنسدان بننے سے کس عالم یا کس مدرسے نے روکا
تھا؟… اور اب وہ مسلمانوں کو سائنسدان یا موجد بنانے کے لئے کیا محنت کر رہے ہیں؟
آہ! اُمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم
پاکستان کے ارباب اختیار اور صحافی حضرات کے لئے… آج کل تو
کشمیر ٹھیک چل رہا ہے؟… آج چار کشمیری شہید ہوئے… کل تین کشمیری مسلمان جام شہادت
نوش فرما گئے… اس ایک ہفتے میں اُمت محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کے جو فرزند ’’مسلمان‘‘ اور ’’کشمیری ‘‘ ہونے کے جرم میں شہید
ہوئے اُن کی تعداد بارہ سے زیادہ ہے… بارہ خاندان اُجڑ گئے… بارہ سرخ جنازے ، جوان
جنازے ہماری بے حس آنکھوں کے سامنے صرف سات دن میں اُٹھے… مگر تسلی کی بات یہ ہے
کہ کسی بھارتی فوجی کے مرنے کی خبر نہیں آئی… بس اسی طرح معاملہ چلتے رہنا چاہیے…
تاکہ کشمیر کی تحریک دہشت گردی کے لیبل سے محفوظ رہے… ہمیں عالمی برادری سے کسی
مذمت اور شکوے کا سامنا نہ کرنا پڑے …ہمیں بھارت کی طرف سے کوئی خطرہ محسوس نہ ہو…
ہمارے سفارتکاروں کو گورے صحافیوں کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے…بس کشمیری مسلمان
اسی طرح احتیاط سے شہید ہوتے رہیں کہ بھارتی فوج پر کوئی آنچ نہ آئے… تاکہ ہم
کشمیری مسلمانوں کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھ سکیں… ہم قومی اسمبلی
کی ’’کشمیر کمیٹی ‘‘ کو فعال رکھ سکیں…ہم سال میں ایک مرتبہ جنیوا میںکشمیر کا
رونا رو سکیں… ہم کبھی کبھار کسی جلسے میں تحریک کشمیر کی حمایت کر کے کشمیر کو
پاکستان کی شہہ رگ کہہ سکیں… آہ! امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم …آہ!
امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔
مدارس اور سائنس
پاکستان کے دینی مدارس کی تاریخ پاکستان سے بھی پرانی ہے…
یعنی پاکستان بننے سے پہلے بھی اس خطے میں خالص دینی تعلیم کے مدارس موجود تھے…
پھر جب اللہ تعالیٰ نے برصغیر میں ایک اسلامی ملک مسلمانوں کو عطاء فرمایا تو یہاں
مدارس کی تعداد بڑھتی چلی گئی… نائن الیون سے پہلے… یا یوں کہہ لیں کہ
پاکستان میں صدر مشرف کے نامبارک دور حکومت سے پہلے… ان مدارس پر کبھی شدت پسندی
یا دہشت گردی کا کوئی الزام نہیں لگا… مدارس کی زیادہ تعداد مشرقی پاکستان میں
تھی…71 ء میں جب پاکستان ٹوٹنے لگا تو مشرقی پاکستان کے دینی مدارس متحدہ پاکستان
کے حق میں تھے … ان کے اس جرم کی پاداش میں انڈین فضائیہ نے کئی مدارس پر بمباری
کی… اور’’مکتی باہنی‘‘ کے دہشت گردوں نے ان مدارس پر حملے بھی کئے … ہمارے یہ تمام
بڑے اور شاندار مدارس بنگلہ دیش میں چلے گئے… اور کافی عرصہ تک وہاں کی قوم پرست
حکومت کے زیرعتاب رہے… صدر ضیاء الرحمٰن کے زمانے میں تبدیلی آئی اور مدارس پر
مظالم کا سلسلہ ختم ہوا… بہرحال بنگلہ دیش کے مدارس آج بھی علم ، روحانیت ، اصلاح
معاشرہ… اور دینی دعوت کے لحاظ سے پوری دنیا میں اپنی مثال آپ ہیں…میرا تین بار
بنگلہ دیش جانے کا اتفاق ہوا ہے…اللہ تعالیٰ کا احسان ہوا کہ مجھے بنگلہ دیش کے
کئی مدارس میں مختصر وقت گذارنے کی سعادت ملی… حقیقت یہ ہے کہ یہ مدارس اور ان کا
نظام تعلیم و اصلاح امت مسلمہ کے لئے ایک عظیم نعمت ہے… اللہ تعالیٰ وہاں کے مدارس
کی…ہر فتنے ، ہر شر اور ہر صدمے سے حفاظت فرمائے… وہ مدارس تو پاکستان سے چلے گئے
… مگر خود باقی ماندہ پاکستان کے مدارس بھی ماشاء اللہ قابل شکر ہیں… الحاد اور
فساد کے سمندر میں اُبھرے ہوئے نور اور روشنی کے جزیرے… مسلمانوں کے لئے اللہ
تعالیٰ کی باتیں سمجھانے والے ترجمان… اور اصلاح معاشرہ کے لئے ریڑھ کی ہڈی… مشرف
کے دور میں پاکستان میں دہشت گردی اُگائی گئی… اور پھر اس کو مدارس سے جوڑ کر
مدارس کے خلاف ایک ناجائز اور اندھی مہم شروع کر دی گئی… آج پھر شور ہے کہ مدارس
کو قومی دھارے میں لانا ہے… کون سا قومی دھارا؟ … وہی دھارا جس میں قوم کے عظیم
لیڈر اور ماضی کے حکمران بہہ رہے ہیں؟ … وہی دھارا جس کی پیشیاں ریاست کے ماضی
کے’’مالک‘‘ بھگت رہے ہیں؟ … وہی دھارا جس میں ریاست کے آٹھ سال تک سفید و سیاہ کے
مالک پرویز مشرف… عدالت عالیہ کو مطلوب ہیں؟… مدارس بھوکے نہیں مر رہے تھے کہ آپ
کو انہیں امداد دینے کی ضرورت پڑ گئی ہے… مدارس دہشت گرد نہیں اُٹھا رہے تھے کہ
آپ نے ان پر پولیس کے پہرے لگا دئیے ہیں… آج داعش سے لے کر حزب التحریر تک کی
تمام پارٹیوں کے … ساڑھے نناوے فیصد ارکان اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں کے پڑھے
ہوئے ہیں… مدارس میں مسلمان صرف آٹھ سال کا عرصہ دیتے ہیں تاکہ … اللہ تعالیٰ کے
کلام اور حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو سمجھ
سکیں… وہاں انگریزی اور سائنس داخل کر کے کیا آپ… خلائی راکٹ اور جوہری ہتھیار
بنانے کی ٹیکنالوجی حاصل کر لیں گے؟ … وجہ صرف ایک ہے کہ… نیو ورلڈ آرڈر میں ان
مدارس کو عالم کفر نے ناقابل برداشت قرار دیا ہے… اور ہمارے حکمران صرف اور صرف
اُن کے دباؤ میں آ کر… اپنے دین کے ان مراکز کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں… آپ
اپنی یہی انرجی اور توانائی اپنے سرکاری تعلیمی اداروں کے سدھار پر خرچ لیں… آپ
کا بھی بھلا ہو جائے گا… اور یہ ملک بھی مزید انتشار اور مزید عذاب سے بچ جائے گا۔
اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے
اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے… اللہ تعالیٰ شہداء کرام کے خون
کو رائیگاں نہیں فرماتا… کشمیر کی تحریک میں… بہت مبارک، بہت قیمتی، بہت جوان اور
بہت لاڈلا خون امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیش کر چکی ہے…
کشمیر کی ماؤں ،بہنوں نے جو قربانی دی ہے اس کی مثال قریب زمانے میں ڈھونڈنا مشکل
ہے…کشمیر کی ان عفت مآب ماؤں، بہنوں کے ایثار، شجاعت اور قربانی نے ہماری گردنوں
کو اپنا مقروض بنا دیا ہے…ہم سری نگر کے آرمی سینٹر میں قید تھے… وہاں کے حالات
سناؤں تو کلیجہ منہ کو آئے گا… گذشتہ کالم میں کچھ مظالم کا ذکر ہو گیا تو… محترمہ
و مکرمہ امی جی حفظہا اللہ نے اتنے آنسو بہائے کہ اب مزید مظالم کا
تذکرہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتا… بس یہی عرض کرتا ہوں کہ ان مشکل حالات میں اگر کسی
کو اللہ تعالیٰ نے ہمارا ہمدرد… اور معاون بنایا تو… وہ ہماری کشمیر کی محترم اور
معزز مائیں، بہنیں تھیں… میں نے اگر جیل میں… گرفتاری کے ایک سال بعد پہلی بار
ڈھنگ کا لباس پہنا تو وہ کپڑے تحریک آزادیٔ کشمیر کے نامور کمانڈر… مشتاق احمد
زرگر صاحب کی والدہ محترمہ لائی تھیں… وہ مجھے دیکھے اور ملے بغیر اپنے بیٹے سے
بڑھ کر میرا خیال رکھتی تھیں… عجیب داستان ہے… ایک سے بڑھ کر ایک… شرم محسوس ہوتی
ہے کہ ہم کشمیر کو اپنی شہہ رگ کہہ کر بھی وہاں کے لئے کچھ نہیں کر
سکے…کشمیریوں کو معلوم تھا کہ… میں ان کے حالات معلوم کرنے کے لئے باقاعدہ ویزے پر
کشمیر آیا تھا… انڈین آرمی نے مجھے ظلم کا نشانہ بنایا تو کشمیریوں نے مجھے اتنی
محبت دی کہ اسے بیان کرنے کی مجھ میں تاب نہیں ہے… آج بھی کشمیر میں کئی بچوں کا
نام… میرے نام پر رکھا جاتا ہے… اور وہاں کے نوجوان ہماری طرف اپنی نسبت کرنے میں
خوشی اور فخر محسوس کرتے ہیں… مجھے یقین ہے کہ کشمیر کی تحریک بند نہیں ہو گی …
بلکہ یہ تحریک مزید آگے بڑھے گی اور ان شاء اللہ کامیابی سے ہمکنار ہو گی… بے شک!
اللہ تعالیٰ کے وعدے سچے ہیں، پکے ہیں۔
ایک ضمنی بات
ہمیں دشمن بھی عجیب ملے ہیں… وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے آپ
پر کئی سرجیکل سٹرائک کئے ہیں…اور آپ کو مار دیا ہے … آپ کے تمام قریبی ساتھیوں
کو بھی مار دیا ہے … ایک بار نہیں،بلکہ کئی بار آپ سب کو مار دیا ہے … ہم بار بار
صفائی دے رہے ہیں کہ نہیں ہم ابھی زندہ ہیں…ہم نہیں مرے… مگر وہ مانتا ہی نہیں،
بلکہ یہی کہے جا رہا ہے کہ…ہم نے تمہیں مار دیا ہے… دوسری طرف ہمیں ’’دوست‘‘ بھی
عجیب ملے ہیں… وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے آپ کے ایک نہیں تین، تین انٹرویو کر
رکھے ہیں … آپ مانیں یانہ مانیں… آپ کو یاد ہو یا نہ یاد ہو… ہم آپ کے جلسوں
میں آئے تھے… اور ایسی ہوشیاری سے آپ کا انٹرویو کر گئے کہ آپ کو یاد ہی نہیں
رہا… اگرچہ اس وقت ہم بہت کم عمر تھے… صحافت بھی شروع نہیں کی تھی… مگر پشاور کی
’’سپین جماعت‘‘ والے بھیڑ بھرے جلسے میں … جہاں آپ رش کی وجہ سے مسجد کی انتظامیہ
تک سے ہاتھ نہ ملا پائے…وہاں بھی ہم نے آپ کا انٹرویو کر ڈالا… یہ الگ بات ہے کہ
وہ انٹرویو کبھی کسی جگہ شائع نہیں ہوئے…( بے کار آدمی کے انٹرویو شائع کرنے کے
تو نہیں ہوتے) … ہم ان دوستوں کو صفائی دے رہے ہیں کہ بابا جی ،سید، صوفی ہو کر…
ایسی باتیں نہ کریں… پہلے عالم اسلام کی معروف شخصیت حضرت شیخ عبد اللہ
عزام رحمہ اللہ علیہ کا درست نام پتا کر لیں… ان کے
والد کا نام یوسف تھا… وہ عبد اللہ بن یوسف تھے عبد اللہ بن عزام نہیں … اور وہ
’’سپین جماعت‘‘ میں نہیں… بلکہ اسی علاقے کی ایک اور مسجد میں جمعہ پڑھاتے تھے…
اور وہیں جاتے ہوئے راستے میں شہید ہوئے تھے… ان معلومات کو درست کر لیں تاکہ آپ
کی بے چاری ’’کریڈیبیلٹی ‘‘ مزید نکھر جائے… ( آپ کہہ سکتے ہیں کہ درست نام ،
درست مقام اور درست بات کہنے کا ساکھ سے کیا تعلق؟ )
إِنَّھُمْ فِتْيَۃٌ آمَنُوْا بِرَبِّھِمْ
اصحاب کہف بھی عجیب تھے… کم عمر نوجوان ، مگر بالغ نظر
باایمان… وہ ایسا ایمان لائے کہ ایمان کی مثال بن گئے… ایمان کی دعوت بن گئے… بلکہ
کہتا ہوں کہ ایمان کا فخر بن گئے… انہوں نے بہت مختصر وقت پایا… بظاہر تھوڑا سا
کام کیا… بس چند دن کا… مگر ان کا مقام دیکھیں تو ٹوپی سر سے گر جاتی ہے…وجہ یہ
تھی کہ ہر طرف فساد اور کفر پھیلا ہوا تھا… تب وہ اُٹھے اور جان و عیش کی پرواہ
کئے بغیر ایمان کے ساتھ کھڑے ہو گئے… آج جب میں پیارے عمر کو دیکھتا ہوں… طلحہ
اور عثمان کو دیکھتا ہوں … کامران اور ریاض کو دیکھتا ہوں… اور ان کے ان جیسے ہم
جولیوں کوتو… مجھے بے اختیار’’ اصحاب کہف‘‘ یاد آ جاتے ہیں… ایمان لائے اور ایمان
پا گئے… میدان میںآئے اور چھا گئے… اور پھر ایسے مقام پر جا پہنچے کہ اللہ تعالیٰ
کے پیارے بن گئے… اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنے سودے اور اپنی خریداری کا اشارہ
بھیجا تو… سب کچھ چھوڑ کر اپنی جان بیچنے بازار میں جا کھڑے ہوئے… دیکھتے ہی
دیکھتے اُن کی بولی لگ گئی اور وہ بک گئے … فروخت ہو گئے… اللہ تعالیٰ نے انہیں
خرید لیا … واہ قسمت والو! تمہارے قدموں کی مٹی پر بھی رشک آتا ہے۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا شکر …اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ
الْعَالَمِیْنَ… اللہ تعالیٰ کا شکر ہر چیز سے پہلے … اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ قَبْلَ
کُلِّ شَیْئٍ… اللہ تعالیٰ کا شکر ہر چیز کے بعد… اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ بَعْدَ کُلِّ
شَیْئٍ… اللہ تعالیٰ کا شکر ہر حال میں، ہر حالت میں… اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی
کُلِّ حَالٍ…لیجئے! حضرات صوفیائِ کرام رحمہم اللہ علیہ کے
ہاں مقبول محبوب اور ایک مؤثر دعاء:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، الرَّحْمٰنِ
الرَّحِیْمِ قَبْلَ کُلِّ شَیْئٍ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ بَعْدَ کُلِّ شَیْئٍ
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی کُلِّ حَالٍ، سُبْحَانَ اللہِ لَمْ یَزَلْ، سُبْحَانَ
الْحَیِّ الْقَیُّوْمِ، یَاسَتَّارُ یَا سَتَّارُ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ
الرَّاحِمِیْنَ۔
بڑی پُر کیف اور معنٰی خیز دعاء ہے… فضیلت تو نہیں لکھ
سکتا… کیونکہ بعض صوفیاء کرام رحمہم اللہ علیہ نے اس کی جو
فضیلت لکھی ہے، اس کا حوالہ نہیں مل پایا… طویل عرصہ سے اس دعاء کے ساتھ تعلق ہے…
پڑھ کر عجیب لطف آتا ہے… الفاظ بھی تمام شریعت کے عین مطابق ہیں… حمد ہی حمد ہے
اور تسبیح اور چند اَسماء الحسنیٰ … بعض حضرات کے نزدیک ’’اَلسَّتَّار‘‘ کا اسماء
الحسنیٰ میں سے ہونا ثابت نہیں ہے…مگر ان کی رائے درست معلوم نہیں ہوتی… ’’تحفۂ
سعادت‘‘ تو آپ نے پڑھی ہو گی… ’’اسماء الحسنیٰ ‘‘پر یہ کتاب ایک پُر فضاء مقام پر
لکھی تھی… اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے خوب چلائی… درجنوں ایڈیشن الحمد للہ نکل چکے
ہیں… کئی زبانوں میں ترجمہ بھی ہو کر چھپ چکا ہے… مگر پیاس نہیں بجھی… اسماء
الحسنیٰ کے معارف پر ایک اور کتاب کی تمنا دل میں ہے…شاید قبر میں ساتھ جائے گی …
ویسے اچھی بات ہے … دل اچھے اِرادے اور اچھی تمنائیں لے کر قبر میں اُترے تو یہ
امید والی بات ہے … بس اہل محبت یہ دعاء ضرور فرما دیں کہ درود شریف والی کتاب
مکمل ہو جائے …اس کا کام بس پورا ہوا ہی چاہتا تھا کہ زندگی پھر حالات کی لہروں پر
ڈولنے لگی… کل سے سوچ آ رہی ہے کہ… جتنا کام ہو چکا وہی شائع کر دیا جائے… دیکھیں
کیا بنتا ہے… الحمد للہ کوئی مایوسی نہیں ہے… مگر خاتمہ اور اِختتام تو بہرحال
برحق ہے… اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ
وسلم کا موضوع بڑا اہم ہے… فضائل تو الحمد للہ اکثر مسلمانوں کو معلوم
ہیں…مگر’’ صلوٰۃ‘‘ کہتے کسے ہیں اور سلام سے کیا مراد ہے؟ … کیا مطلوب ہے؟…
’’اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ‘‘کا مطلب اور کیفیت کیا ہے… اور
’’اَللّٰھُمَّ سَلِّمْ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ‘‘ کا مفہوم اور مقصد کیا ہے…اس
کتاب میں یہ سب کچھ آ رہا ہے، ان شاء اللہ… کتاب کی جھلکیاں مکتوبات میں اور رنگ
و نور میں شائع ہو چکی ہیں… الحمد للہ ہر شب جمعہ اور یوم جمعہ مقابلۂ حسن بھی
بڑی شان سے برپا ہوتا ہے…
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ الصَّلٰوۃُ عَلٰی رَسُوْلِ اللہِ۔
زباں پر میری شکوہ آ نہیں سکتا زمانے کا
کہ ہر عالم کو میں ان کا کرم محسوس کرتا ہوں
شعبان المعظم
اللہ تعالیٰ کے عطاء فرمانے کا ایک انداز یہ بھی ہے کہ… جو
کچھ عطاء فرمانا چاہتے ہیں اس کی دعاء نصیب فرما دیتے ہیں… یعنی پہلے اپنے بندے کو
اس بات کا الہام فرماتے ہیں کہ وہ اپنے رب تعالیٰ سے فلاں چیز مانگے… فلاں دعاء
مانگے… بندہ وہ مانگتاہے… اور اللہ تعالیٰ اسے عطاء فرما دیتے ہیں… یہ اللہ تعالیٰ
کا اپنے بندے پر فضل در فضل اور کرم بالائے کرم ہوتا ہے کہ… پہلے دعاء کی توفیق
بخشی… جو خود ایک بڑی عبادت، بڑی سعادت، بڑی نیکی اور بڑا مقام ہے … اور پھر اس کی
حاجت بھی پوری فرما دی… یوں دنیا و آخرت دونوں کا نفع ہی نفع ہو گیا… ابھی شعبان
کا مبارک مہینہ شروع ہوا تو بندوں کو توجہ دلا دی کہ وہ مانگیں:
اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ شَعْبَانَ وَ
بَلِّغْنَا رَمَضَانَ
[مسند البزار۔رقم الحدیث:۶۴۹۶،ناشر: مكتبة العلوم والحكم
- المدينة المنورة]
شعبان میں اگر برکت مل گئی تو ان شاء اللہ رمضان اچھا گزرے
گا… رمضان المبارک اچھا گذرا اور مغفرت مل گئی تو پورا سال اچھا گذرے گا… اور پورا
سال اچھا گذرا تو پوری زندگی اور اس کا اِختتام اچھا ہو گا… مؤمن کے لئے ’’دنیا‘‘
ایک گذرگاہ ہے… صرف راستہ ہی راستہ ہے… اس کی دنیا میں کوئی’’ منزل‘‘ نہیں … راستے
پر چلنا… راستے پر ڈٹے رہنا… راستے پہ چلتے رہنا ہی اس کی کامیابی ہے:
{اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ}[الفاتحہ:۶]
اسی لئے جہاد کو بھی راستہ فرمایا گیا …جہاد فی سبیل اللہ…
تصوف کو بھی’’ سلوک‘‘ قرار دیا گیا… یعنی سیدھے راستے پر چلتے ہوئے محبوب کو پانے
کی محنت…اس لئے مؤمن کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے پیار ہونا چاہیے ؎
اے رہبرِ کامل چلنے کو تیار تو ہوں پَر یاد رہے
اس وقت مجھے بھٹکا دینا جب سامنے منزل آجائے
اہل استقامت کو سلام
اللہ تعالیٰ کے راستے پر چلنے والوں کو سلام اور مبارکباد…
اللہ تعالیٰ کے راستے میں قربان ہونے والوں کو سلامِ محبت… اللہ تعالیٰ کے راستے
میں آزمائشیں اُٹھانے والوں کو سلامِ عقیدت… اللہ تعالیٰ کے راستے میںجلتی
خندقوں، بھڑکتے شعلوں ، کڑکتے طوفانوں، تیز دھار میخوں،چمکتی تلواروں گھٹن زدہ
زندگیوں ، غیروں کے ستم اور اپنوں کی جفاؤں کا سامنا کرنے والے دیوانوں کو ڈھیروں
سلام… محبت بھرا سلام… اہل استقامت پر تو ملائکہ بھی ناز کرتے ہیں… اور ان کی
زیارت کے لئے اُترتے ہیں… اور ان کو بشارتیں سناتے ہیں:
{اَنْ لَّا تَخَافُوْا وَ لَا
تَحْزَنُوْا} [فصلت: ۳۰]
ہاں بے شک! ماضی بھی اہلِ استقامت اور اہل عزیمت کا ہے… حال
بھی اہلِ استقامت اور اہلِ ہمت کا ہے… اور مستقبل بھی اہلِ استقامت اور اہلِ جرأت
کا ہے … زندگی کا کمال یہ ہے کہ وہ کٹ جاتی ہے… جیل میں بھی، ریل میں بھی… خوشی
میں بھی، غم میں بھی… آسانی میں بھی اور مشقت میں بھی…اسی لئے جب قرآن مجید نے
اِستقامت کا سبق پڑھایا تو رب کریم نے زمانے کی قسم کھائی… اس میں ایک اشارہ یہ
بھی دے دیا کہ جو تکلیفوں میں ہیں وہ گھبرائیںنہ… جھکیںنہ… زمانہ چل رہا ہے… یہ
’’عصر ‘‘ ہے، ڈھلتا وقت … چلتی ہوا… تیز آندھی… اور جو آج اہلِ اقتدار ہیں اور
ظلم ڈھا رہے وہ مطمئن نہ رہیں… زمانہ چل رہا ہے… چنددن بعد ان کا اقتدار، ان کا
ظلم اور ان کی تنی گردنیں سب کچھ ماضی کا حصہ بن جائے گا… ان کی کرسیوں پر کوئی
اور بیٹھا ہوگا … اور وہ گذرتے زمانے کی حسرتوں کے رندے تلے چھیلے جا رہے ہوں
گے…اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔
انصاف مل جائے گا
آج انڈیا کے انتخابات اور ان کے متوقع نتائج پر تفصیل سے
لکھنے کا ارادہ تھا… مگر طبیعت آمادہ نہ ہوئی… ابھی چند سال ہی ہوئے کہ اللہ
تعالیٰ کے نیک بندوں کو صرف غیروں کے دباؤ میں گرفتار کیا گیا… زمانہ چلا… آج ان
کو گرفتار کرنے والے خودقید خانوں اور عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں… آج پھر وہی
طوفان ہے… وہی ظلم ہے… وہی آنسو ہیں… وہی آہیں ہیں… بلکتے ہوئے معصوم بچے…آنسو
چھپا چھپا کر رونے والی تہجد گزار بیبیاں…اور آنسوؤں سے تر سفید ریش نورانی چہرے
ہاں! وہ چہرے… جن سے اللہ تعالیٰ تو حیاء فرماتا ہے… مگر طاقت اور اقتدار کے گھمنڈ
میں بدمست اَفراد کو کوئی حیاء نہیں آتی۔
اللہ تعالیٰ دیکھ رہے ہیں… زمانہ چل رہا ہے…ہر کسی کا قول و
عمل لکھا جا رہا ہے… اور پھر ایک دن فیصلہ ہو جائے گا…اِنصاف مل جائے گا۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ ہر چیز کے خالق، ہر چیز کے بنانے والے…اَللہُ
خَالِقُ کُلِّ شَیْ ءٍ… ایک بہت پیاری، مؤثر اور طاقتور تسبیح یاد کر لیں… روزانہ
دس بار پڑھ لیا کریں… عجیب نعمتیں پائیں گے… ان شاء اللہ
سُبْحَانَ الْخَالِقِ الْبَارِیْ، سُبْحَانَ اللّٰہِ
الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ
ہماری آج کی مجلس کے ان شاء اللہ دو رخ ہوں گے:
١ ہم
ایک صحیح حدیث مبارک سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کریں گے… یعنی علم کا ایک باب
سمجھیں گے، ان شاء اللہ… یہ بڑے مقام اور بڑی سعادت کی بات ہوتی ہے کہ ہم حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی مبارک فرمان کو سمجھ لیں۔
٢ حالات
حاضرہ پر کچھ نظر ڈالیں گے، ان شاء اللہ
بِسْمِ اللہ مَجْرٖھَا
وَمُرْسٰہَا إِنَّ رَبِّی لَغَفُورٌ رَّحِیمٌ۔
حدیث مبارک
حدیث صحیح ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا:
مَنْ اَحَبَّ لِقَائَ اللہِ اَحَبَّ اللہُ لِقَائَہٗ وَ مَنْ
کَرِہَ لِقَائَ اللہِ کَرِہَ اللہُ لِقَائَہٗ۔
’’جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو محبوب رکھتا ہے اللہ تعالیٰ
بھی اس سے ملاقات کو محبوب رکھتے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو ناپسند کرتا
ہے اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاقات کو ناپسند فرماتے ہیں۔‘‘
[صحیح بخاری۔حديث رقم:۶۵۰۷، ناشر:دار طوق النجاة]
اس مبارک حدیث کا کیا مطلب ہے ؟… موت سے اکثر مسلمان
حتیٰ کہ اکثر نیک لوگ بھی ڈرتے ہیں، خوف کھاتے ہیں… تو کیا یہ سب لوگ اللہ تعالیٰ
سے ملاقات کو ناپسند کرتے ہیں؟… حالانکہ ایسا نہیں ہے… موت کا فطری خوف اکثر افراد
کو ہوتا ہے…ہر بندہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے ہے… پھر اس سے کون سی ملاقات مراد
ہے؟… اللہ تعالیٰ تو ہر جگہ ہر زمانے میں حاضر و ناظر ہیں، پھر ملاقات کا کیا مطلب
ہے؟… قرآن مجید میں جگہ جگہ دو طبقوں کا ذکر ہے… ایک وہ جو ’’لقاء اللہ‘‘ یعنی
اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے امیدوار ہیں… اور دوسرے وہ جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے
امیدوار نہیں ہیں… قرآن مجید پہلے طبقے کی بہت تعریف فرماتا ہے… اور دوسرے طبقے
کی بہت مذمت فرماتا ہے… اور حدیث شریف بھی ہم نے پڑھ لی کہ… اللہ تعالیٰ سے ملاقات
کا شوق ایسی عظیم نعمت ہے کہ… جسے یہ نعمت نصیب ہو جائے وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب
بن جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے ملاقات چاہتے ہیں… اس لئے ضروری ہے کہ ہم اس
حدیث شریف کو سمجھیں… اور اس نعمت کو پانے کی دعاء اور کوشش کریں…یا اللہ! ہم سب
پر اپنا فضل فرمائیے… اور ہمیں اپنی ملاقات کا شوق نصیب فرما دیجئے۔
سری لنکا پر حملے
نیوزی لینڈ میں مسجد پر حملہ ہوا… بہت تکلیف ہوئی… اب سری
لنکا میں کئی چرچوں پر حملہ ہوا…بہت برا لگا… انسانوں کے درمیان لڑائی تو ہمیشہ سے
چلی آ رہی ہے اور ہمیشہ چلتی رہے گی… ہر لڑائی اچھی نہیں ہوتی … اور ہر لڑائی بری
بھی نہیں ہوتی… اگر ہر لڑائی بری ہوتی تو حضرات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کسی
لڑائی میں شریک نہ ہوتے … مگر چونکہ بعض لڑائیاں انسانیت کے لئے بے حد ضروری اور
بے حد مفید ہوتی ہیں تو اس لئے… حضرات انبیاء علیہم السلام نے بھی
لڑائیوں میں شرکت فرمائی ہے…اور قرآن مجید نے ان کی اس عمل پر تعریف فرمائی ہے…
چنانچہ جو شخص ہر لڑائی کا مخالف ہوتا ہے وہ یا تو بے ایمان ہوتا ہے یا بے عقل یا
بے وقوف… یا انتہائی بزدل… اچھی لڑائی وہ ہوتی ہے جو اصولوں پر لڑی جاتی ہے… اور
لڑائی کے دوران بھی اصولوں کی پاسداری کی جاتی ہے… مگر ہمارے اس دور میں جنگ اور
لڑائی کافی بے اصول اور بے ترتیب ہو چکی ہے…حکومتیں ہوں یا افراد… وہ لڑتے وقت کسی
بھی اصول کے پابند نہیں رہتے… مذہبی مقامات پر نہتے افراد کو قتل کرنا نہ کسی
حکومت کے مفاد میں ہے، نہ کسی مذہب اور جماعت کے مفاد میں… مسجد کے نمازیوں پر
حملہ ہو یا چرچ میں سروس کرنے والوں پر، اس کا کیا مقصد ہے؟… کیا فائدہ ہے؟ اور
کیا پیغام ہے؟… جب دنیا میں جنگ اتنی ’’ بے اصول‘‘ ہو جائے تو یہ اس بات کی علامت
ہوتی ہے کہ دنیا میں عنقریب بہت بڑی تباہی آنے والی ہے… آخر عراق پر حملے کا کیا
جواز تھا؟ … لیبیا کو کیوں تہس نہس کیا گیا؟… ایک شخص کو پکڑنے کا بہانہ بنا کر
چالیس ملک افغانستان پر کیوں چڑھ دوڑے؟… کشمیر پر انڈیا کے قبضے کا کون سا اخلاقی،
قانونی، سفارتی جواز موجود ہے؟… بس ظلم ہی ظلم ، جہالت ہی جہالت اور آ گ ہی آگ
ہے… اور اب یہ آگ مساجد اور چرچوں تک کو جلا رہی ہے… لگتا یہی ہے کہ دنیا کا یہ ظالمانہ
نظام اب کسی بڑے حادثے کا شکار ہونے والا ہے… ایسے افراد جو پاگل خانوں میں رکھنے
کے قابل بھی نہیں تھے وہ بڑی ریاستوں کے سربراہ بن چکے ہیں… باقی رہی بات اسلام
اور جہاد کے بدنام ہونے کی تو اس کی الحمد للہ کوئی فکر نہیں ہے… اسلام کبھی بدنام
نہیں ہو سکتا… جہاد کبھی بدنام نہیں ہو سکتا… بُرے لوگوں کی نفرت سے اچھے لوگ
بدنام نہیں ہوتے… تو پھر اسلام اور جہاد کیسے بدنام ہو سکتے ہیں؟ … اسلام ہی سب سے
بڑی عزت ہے… اور جہاد اسلام کی بلند ترین چوٹی ہے… جو مسلمان جہاد فی سبیل اللہ کا
جذبہ رکھتے ہوں وہ جہاد کے اصولوں کو اچھی طرح سمجھیں…اور انہی اصولوں کے پابند ہو
کر جہاد کریں۔
اللہ تعالیٰ سے ملاقات
ہم ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے ہیں … اللہ تعالیٰ ہر
زمان اور ہر مکان میں حاضر و ناظر ہیں… مگر قرآن پاک اور حدیث شریف میںجس ملاقات
کا تذکرہ ہے… وہ بالکل الگ طرز کی ملاقات اور تعبیر ہے… مرنے کے بعد تمام مردوں کو
زندہ کیا جائے گا… اور ان کی اللہ تعالیٰ کے حضور پیشی ہو گی… ملاقات سے مراد یہ
حاضری اور پیشی ہے… اور پھر اہل سعادت کو اللہ تعالیٰ کا دیدار بھی نصیب ہو گا…پس
جو شخص اس ملاقات کا یقین رکھتا ہے… اس ملاقات کا اشتیاق رکھتا ہے… اور اس یقینی
ملاقات کے لئے تیاری کرتا رہتا ہے … اس ملاقات کے لئے سامان بناتا رہتا ہے تو… یہ
وہ خوش نصیب ہے جو اپنے رب سے ملاقات کا شوقین ہے… اور اس کا مقام یہ ہے کہ… مالک
الملک، اللہ رب العالمین بھی اس سے ملنا چاہتے ہیں… مگر جو اس ملاقات کا یقین نہیں
رکھتا اور اس ملاقات کی تیاری نہیں کرتا… یہ وہ محروم شخص ہے جو اللہ تعالیٰ سے
ملاقات کو ناپسند کرتا ہے… اور اللہ تعالیٰ بھی اسے ناپسند فرماتے ہیں… چلیں چند
بار تسبیح پڑھتے ہیں… صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے… تاکہ یہ تسبیح اور
یہ عمل ہم اپنے محبوب حقیقی کی ملاقات کے لئے اپنے ساتھ لے جائیں…
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہٖ، سُبْحَانَ اللّٰہِ
الْعَظِیْمِ… سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہٖ، سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ…
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہٖ ، سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ…
اللہ تعالیٰ توفیق دے تو کبھی سجدے میں ایک سو بار یہ تسبیح
پڑھ کر دیکھیں…
سُبْحَانَ اللہِ وَ بِحَمْدِہٖ، سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیْمِ…
اور پھر یہ عمل اپنے ساتھ بڑی ملاقات پر لے جائیں… دنیا میں
ضائع نہ کریں۔
کمزوری چھپانے کی کوشش
افغانستان میں غیر ملکی بیساکھیوں پر جو حکومت قائم ہے…
حضرات طالبان نے اس حکومت کے ساتھ مذاکرات سے انکار کر دیا تھا … ان کا مؤقف یہ
تھا کہ اس حکومت کی کوئی قانونی، عوامی حیثیت نہیں ہے…جیسے ہی غیر ملکی افواج کا
انخلاء ہو گا یہ حکومت خودبخود گر جائے گی… پھر کئی حلقوں کی طرف سے طالبان پر
دباؤ ڈالا گیا کہ… وہ بہرحال اس حکومت سے بھی بات چیت کریں… تاکہ غیر ملکی انخلاء
کے بعد ملک میں دوبارہ خانہ جنگی نہ ہو… اور انتقال اقتدار کے معاملات بخوبی طے پا
جائیں…طالبان راضی ہو گئے… تب افغان حکومت نے اپنا قد اونچا دکھانے کے لئے اڑھائی
سو افراد کا وفد مذاکرات کے لئے تشکیل دے دیا… جواباً طالبان نے کہا کہ یہ مذاکرات
ہیں کوئی شادی تو نہیں کہ اتنی بڑی بارا ت قطر آ رہی ہے…اللہ تعالیٰ کی شان
دیکھیں کہ ایک زمانے تک کوئی طالبان کا نام لینا گوارہ نہیں کرتا تھا… کوئی ان کے
وجود تک کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں تھا… کوئی ان سے مذاکرات کا سوچتا بھی نہیں
تھا… مگر جہاد کی برکت ، شہداء کرام کی کرامت کہ… آج ہر کوئی امارت اسلامی طالبان
سے مذاکرات کے لئے مچل رہا ہے:
سُبْحَانَ اللہِ وَ بِحَمْدِہٖ، سُبْحَانَ اللہِ
الْعَظِیْمِ۔
ملاقات کے تقاضے
جب انسان کو کسی ملاقات کا پکا یقین ہو تو انسان کی فطرت ہے
کہ وہ اس ملاقات کی تیاری ضروری کرتا ہے… یہ آج جگہ جگہ ’’بیوٹی پارلر‘‘ کیوں بنے
ہوئے ہیں؟…جیلوں کے باہر، ہسپتالوں کے باہر لوگ ملاقات کا سامان اُٹھائے نظر آتے
ہیں…جس مؤمن کو اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا یقین ہوتا ہے وہ اس کے بارے میں بار بار
سوچتا ہے… اس کا دل شوق سے بے تاب ہوتا ہے… اور پھر وہ اپنی ٹوٹی پھوٹی تیاری میں
لگ جاتا ہے … ساتھ کیا لے جاؤں گا؟… شہید کہتا ہے: اپنا خون … مجاہد
کہتا ہے: اپنی قربانی… نمازی کہتا ہے: اپنے سجدے…سخی کہتا ہے: اپنے خرچ کئے ہوئے
اموال… زاہد کہتا ہے: اپنے روزے ، بھوک اور پیاس… ذاکر کہتا ہے: اپنا ذکر اور
آنسو… الغرض ہر مومن بس اسی کو شش میں پوری زندگی گذار دیتا ہے کہ وہ اس عظیم
ملاقات کے لئے زیادہ سے زیادہ سامان ساتھ لے جائے… ہر وہ عمل جو اس نے خالص اللہ
تعالیٰ کی رضاء کے لئے کیا ہو…وضو سے لے کر احرام تک… جہاد کی مٹی سے لے کر طواف
کعبہ تک… سخاوتوں سے لے کر قربانیوں تک… بس وہ تیاری میں ہی رہتا ہے…اب دوسری طرف
سے کیا ہوتا ہے؟…اللہ تعالیٰ بھی اپنے اس بندے سے ملاقات پسند فرماتے ہیں… چنانچہ
اس کی زندگی کے آخری ایام میں اپنا ایک فرشتہ اس کے پاس بھیجتے ہیں… یہ فرشتہ اس
مؤمن کو دنیا کے بکھیڑوں ، گناہوں اور غفلتوں سے نکال کر نیکی کے کاموں میں ہمہ
تن مشغول کر دیتا ہے… اور یوں اس کی زندگی کے آخری دن خالص اللہ تعالیٰ کے لئے بن
جاتے ہیں… اور اس کی موت اس کی زندگی کے ان بہترین دنوں میں آتی ہے… دوسرا انعام
یہ فرماتے ہیں کہ… عین موت کے وقت بشارت والے فرشتوں کو اس کے پاس بھیجتے ہیں… جو
اسے بڑی بڑی نعمتوں کی یقین دہانی کرواتے ہیں اور آخرت کے کچھ مناظر دکھاتے ہیں
تو…مؤمن کی روح بڑی خوشی اور بہت تیزی اور آسانی کے ساتھ اس کے بدن کو چھوڑ دیتی
ہے…یہ ہے دونوں طرف سے ملاقات کے شوق کا ایک منظر…اُمید ہے حدیث شریف کا کچھ مفہوم
واضح ہو گیا ہو گا…آج اس موضوع کوبہت تفصیل سے لکھنا تھا… مگر ابھی دیکھا کہ کالم
لمبا ہو رہا ہے … آپ اُکتا نہ جائیں، اس لئے بس کرتا ہوں… آپ میرے لئے دعاء
کردیں…میں آپ کے لئے کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ملاقات کا یقین اور شوق
نصیب فرما دیں …
آمین یا ارحم الراحمین ۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کا ہر نام پیارا، بہت ہی پیارا…یَا اللہ،
یَارَحمٰن، یَارَحِیْم… ایک بات مان لیں کہ ننانوے’’ اسماء الحسنیٰ‘‘ یاد کر لیں…
اللہ تعالیٰ کا ہر ’’کام ‘‘ پیارا، بہت ہی پیار ا…سُبْحَانَ اللہِ،
اَلْحَمْدُلِلہِ، اَللہُ اَکْبَرُ…ایک بات بہت ضروری…اللہ تعالیٰ کی ہر تقدیر پر،
ہر فیصلے پر خود کو راضی کر لیں… تقدیر پر راضی ہونے کا طریقہ کیا ہے؟
١ دعاء
مانگیں:
اَللّٰھُمَّ اَرْضِنِیْ بِقَضَائِکَ۔
٢ قرآن
مجید کو سمجھیں
٣ دنیا
کو مقصود نہ بنائیں
٤ شاکرین
کی صحبت میں رہیں
٥ یہ
بات دل میں بٹھائیں کہ کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ آخرت میں ہونا ہے
آپ پو چھیں گے کہ حالات کیسے ہیں؟… سچا جواب یہ ہے کہ حالات
الحمد للہ بہت اچھے ہیں…اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ… ابھی تک چھیانوے
رفقاء کرام گرفتار ہیں… عشق کے اعتکاف میں ہیں… محبت کے زمانے میں ہیں… ان کے لئے
دِل کی گہرائی سے دُعائیں نکلتی ہیں…ان کے جو حالات جیلوں سے باہر آ رہے ہیں وہ
اَشکوں کو آواز دیتے ہیں… کوئی جیل میں ’’دورہ تفسیر‘‘ پڑھا رہا ہے… کوئی قرآن
مجید سکھا رہا ہے… کثرت استغفار کا وہ باہم مقابلہ کرتے ہیں… اور درودشریف کی کثرت
سےاپنی دنیا و آخرت حسین بناتے ہیں مؤمن کے پاس ’’اِیمان‘‘ ہو تو اُس کے حالات
اچھے ہی اچھے ہوتے ہیں… وہ تخت پر ہو یا دار پر… وہی کامیاب ہوتا ہے…وہی غالب ہوتا
ہے۔
ایک پرانا واقعہ یاد آ گیا
ایک بار میری گرفتاری کا سرکاری فیصلہ ہو چکا تھا… مجھے اس
فیصلے کا علم نہیں تھا… کچھ افراد ملاقات کے لئے آئے… ان کو معلوم تھا کہ گرفتاری
ہونے والی ہے … مگر انہوں نے بتایا نہیں… وہ کچھ اندازہ لگانے آئے تھے… مجھ سے
پوچھنے لگے کہ آپ حالات کو کیسا دیکھ رہے ہیں؟…عرض کیا: بہت اچھے حالات نظر آ
رہے ہیں… انہوں نے حیرت سے کہا: وہ کیسے؟… ان دنوں امریکہ اور نیٹو نے افغانستان
پر حملہ شروع کیا تھا… عرض کیا: امریکہ افغانستان میں آ گیا ہے… وہ اب تک
مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ہاتھوں مرواتاتھا… اس کے رُعب سے مسلمان حکمران اپنی
عوام کو قتل کرتے تھے… وہ آرام دِہ گھر میں بیٹھ کر ساری دنیا میں آگ لگاتا تھا…
اب خود میدان میں آیا ہے تو ان شاء اللہ بہت بُری مار کھائے گا… اب خود اس کے لوگ
بھی مریں گے اور بالٓاخر اس کا رعب ختم ہو جائے گا… میرے اس جواب سے وہ حیران
ہوئے… ان کو شاید اندازہ ہو گیا کہ مجھ جیسے بے کار لوگ اپنے بارے میں اور اپنے
حالات کے بارے میں نہیں سوچتے… بلکہ مسلمانوں کے حالات سمجھنے اور دیکھنے کی فکر
میں رہتے ہیں۔
حالات اچھے ہیں تو اخبار کیوں نہیں نکلا؟
ہاں اس ہفتے آپ کا محبوب ’’اخبار‘‘ نہیں نکلا… وجوہات کچھ
زیادہ ہیں… سالہا سال سے وہ نکل رہا تھا… ہزاروں، لاکھوں افراد تک اس نے دین کا
پیغام پہنچایا… اللہ تعالیٰ سے بھاگے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے بہت سے بندے اس اخبار
کے ذریعے دوبارہ اللہ تعالیٰ سے جڑے… ماشاءاللہ بہت کثیر تعداد میں نکلتا تھا… بہت
دور، دور تک جاتا تھا… اور سب سے حیرت انگیز بات کہ بار بار مختلف صورتوں میں
چھپتا تھا… توبہ کی دعوت چلاتا تھا… غیرت کے دِیپ جلاتا تھا… اِیمان کی روشنی
پھیلاتا تھا… وہ محبت اور امن کا علمبردار تھا… ایک ہی ہفتے میں کئی زبانوں میں
ترجمہ ہو جاتا تھا… اس کے الفاظ ’’اصوات‘‘ میں بھی گونجتے تھے… مائیں، بہنیں شدت
سے اس کا انتظار کرتی تھیں… اس ہفتے اخبار کا اکثر عملہ دوراتِ تفسیر میں مشغول
تھا…اور بھی کچھ حالات ایسے بنے کہ اخبار نہ نکل سکا… قربانی کا درس دینے والا
اخبار اپنی قربانی کے لئے بھی ہمہ وقت تیار رہتا ہے… قربانی میں ترقی ہے… قربانی
میں بقاء ہے… قربانی میں سعادت ہے… دعاء اور کوشش جاری ہے کہ اخبار چلتا رہے،
مہکتا رہے… آپ سب سے بھی دعاؤں کی درخواست ہے… آپ نے اس ’’اخبار‘‘ سے اللہ
تعالیٰ کی رضاء کے لئے جو محبت کی وہ اپنی مثال آپ ہے… اخباروالوں میںسے کوئی
’’صاحبِ قلم‘‘ کبھی یہ داستان لکھ دے تو… محبت کی داستانوں میں ایک جاندار اضافہ
ہو جائے گا… مگر اس اخبار نے بھی آپ سے بھرپور محبت کی ہے… چنانچہ آج جب وہ خود
نہ آ سکا تو اپنا ’’رنگ و نور‘‘ آپ کو بھجوا رہا ہے…کچھ ضائع ہونے والا ہے ہی
نہیں… خبروں میں آیا ہے کہ فرانس نے انڈیا کی خوشنودی کے لئے ہماری ساری جائیداد
ضبط کر لی ہے… اتنے بڑے ملک کو شرم سے ڈوب مرنا چاہیے کہ وہ صرف اسلام اور
مسلمانوں کی دشمنی میں انڈیا کا نوکر بنا ہوا ہے…عجیب سا لگتا ہے کہ انتہا درجے کے
ظلم مسلمانوں پر ڈھائے جاتے ہیں… اور پھر’’ انتہا پسند‘‘ بھی مسلمانوں کو کہا جاتا
ہے… ہم نہ کبھی فرانس گئے… نہ ہمارا فی الحال فرانس سے کوئی لینا دینا ہے…پھر
فرانس کو یہ حق کس نے دیا کا وہ ہمارے خلاف انڈیا کا کن ٹٹا بدمعاش بنے؟… فرانس نے
ہماری جائیدادیں ضبط کرنے کا اعلان کیا تو انڈیا میں بہت خوشی منائی گئی… ہم نے
ازراہِ تفنن اپنے گھر میں کہلوا بھیجا کہ…اب ٹماٹر وغیرہ سامان احتیاط سے منگوایا
کریں… ایک بڑی جائیداد جو کہ ملک فرانس میں تھی ضبط ہو چکی ہے… اور وہاں کے بینکوں
میں جو ہمارا مال تھا وہ قبض کر لیا گیا ہے… تب ہمیں یاد دِلایا گیا کہ فرانس تو
کیا پاکستان میں بھی آپ کی کوئی جائیداد نہیں ہے… ٹماٹر ، سبزی وغیرہ اللہ تعالیٰ
کے فضل سے الحمد للہ مل جاتے ہیں… دراصل ہمارا کام ہی ایسا رہا کہ… جماعت میں کسی
کی دی ہوئی ایک پائی… یا کسی کا بہایا ہوا پسینے کا قطرہ ان شاء اللہ ضائع ہونے
والا نہیں ہے… مثلاً ہمیں بڑے بڑے پلاٹ ملے… ہم نے ان پر اللہ تعالیٰ کی مساجد بنا
دیں… اب مسجد کا کون کچھ بگاڑ سکتا ہے؟… خصوصاً ایسے حالات میں جب کہ دنیا دوبارہ
اسلام کا غلبہ دیکھنے جا رہی ہے،ان شاء اللہ… یہ مساجد ہم نے اس لئے نہیں بنائی
تھیں کہ ہم نے یا ہمارے بچوں نے وہاں اپنی گدیاں قائم کرنی تھیں…اللہ تعالیٰ کا
نام بلند ہو… اقامت صلوٰۃ کا نظام قائم ہو… مسجد نبوی شریف کے اعمال زندہ ہوں… یہ
ان مساجد کا مقصد تھا…یہ ان شاء اللہ پورا ہوتا رہے گا… باقی رہا جہاد تو اس کے
بارے میں پکا اور حتمی فیصلہ… اللہ تعالیٰ، الجبار، القہار جل شانہ نے فرما دیا ہے
کہ وہ قیامت تک جاری رہے گا… اور ساتھ یہ وعدہ بھی کہ… جہاد میں لگا ہوا مال… جہاد
میں لگی ہوئی محنت کبھی ضائع نہیں ہوتی… خواہ ظاہری نتیجہ نظر آیا ہو یا نہ آیا
ہو… اس لئے الحمد للہ مطمئن بیٹھے ہیں… نہ کوئی بینک ہے جسے کوئی لوٹ لے… نہ کوئی
اکاؤنٹ ہے جسے کوئی بند کر دے… نہ کوئی پلاٹ ہے جسے کوئی چھین لے… نہ کوئی
جائیداد ہے جسے کوئی ضبط کر لے…نہ پاکستان میں کوئی مسلح لشکر ہے جسے کوئی نہتا کر
دے…اور نہ کوئی حلقۂ انتخاب ہے کہ ووٹوں پر فرق پڑے… نہ ایسی عوامی مقبولیت ہے
جسے کوئی مٹا دے… اور نہ کوئی ’’فین کلب‘‘ جسے کوئی فیوز کردے… جماعت کا ہر شخص…
اپنی جان اللہ تعالیٰ کے لئے ہتھیلی پر رکھے پھررہا ہے… بس یہی جان ہے جسے لیا جا
سکتا ہے… اور یہ جان ویسے ہی جانی ہے…اللہ تعالیٰ قبول فرما لے تو پھر قسمت کے کیا
کہنے… بھائیو ! بہنو! اِیمان پر اور اپنے عالی نظریات پر ڈٹے رہو… اپنے محبوب رب
کواپنی ایسی استقامت دکھاؤ کہ انہیں پیار آ جائے… اور یوں ہم کامیاب ہو
جائیں، ان شاء اللہ
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والوں کے لئے عظیم بشارت، حضرت
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’مومن کا معاملہ بڑا عجیب ہے ( یعنی حیرت انگیز خوشی والا
معاملہ ہے کہ ) اس کے لئے ہر معاملے میں خیر ہی خیر ہے۔اگر اسے خوشی ملتی ہے تو
شکر ادا کرتا ہے تو اس کے لئے خیر ہو گئی اور اگر اسے تکلیف پہنچتی ہے تو صبرکرتا
ہے تو یہ بھی اس کے لئے خیر ہو گئی ۔‘‘
[صحيح مسلم ۔رقم الحديث:۲۹۹۹،ناشر: دار إحياء التراث
العربی، بيروت]
دین کی محنت میں مشغول شکر گذاروں… اور قید خانوں میں بند صبر
شعاروں کو مبارکباد اور قلبی سلام۔
قسمت کیا ہر ایک کو قسام ازل نے
ایک تمثیلی کہانی ہے :
’’دو پرندے ’’زیتون ‘‘ کے درخت پر بیٹھے تھے … ایک پرندے نے
شکوہ سنایا : ہم پرندوں کی بھی کیا زندگی ہے؟ … بڑی محنت سے کسی جگہ گھونسلا بناتے
ہیں… پھر تیز آندھی اور ہوا آتی ہے اور ہمارا گھونسلا گر جاتا ہے … اور ہمیں پھر
کوئی نیا ٹھکانہ ڈھونڈنا اور بنانا پڑتا ہے… دوسرے پرندے نے کہا : شکوہ نہ کرو… ہم
پرندوں کو ہمارے مالک نے اسی فطرت پر بنایا ہے کہ ہم ہمیشہ ہجرت، نقل مکانی اور
محنت میں رہیں… یہی ہماری کامیابی ہے، اسی میں ہمارے لئے ہر طرح کی خیر ہے… اسی
میں ہماری نسل کا پھیلاؤ ہے … مگر پہلا پرندہ بغاوت پر اُترا ہوا تھا، کہنے لگا:
نہیں، یہ کوئی زندگی نہیں… ایک جگہ گھر اور ٹھکانہ ہونا چاہیے… جہاں سے ہمیں کوئی
نہ ہٹا سکے… ہمیں روز، روز کے دھکے نہ کھانے پڑیں … یہ دیکھو! زیتون کا یہ درخت سو
سال سے ایک جگہ کھڑا ہے… جبکہ ہم گھر بدل، بدل کر اور بنا، بنا کر تھک ہار جاتے
ہیں… دوسرے پرندے نے سمجھایا کہ ناشکری نہ کرو…فطرت سے بغاوت نہ کرو… درخت کی قسمت
یہی ہے… جبکہ ہماری قسمت میں سیاحت ہے، محنت ہے اور دور، دور کی پروازیں ہیں… فطرت
سے لڑو گے تو مارے جاؤ گے …اسی دوران تیز ہوا چلنے لگی… دوسرے پرندے نے کہا کہ
امر ربی آ گیا ہے کہ ہم کوچ کریں… لو میں تو گیا… مگر پہلا پرندہ آج
بغاوت پر اُترا ہوا تھا… وہ فطرت کو نعوذ باللہ ظلم سمجھ رہا تھا اس نے اُڑنے سے
انکار کر دیا…اور پھر ہوائیں طوفان میں بدل گئیں اور وہ مارا گیا۔‘‘
اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت کا عزم رکھنے والے فطرت کو
سمجھیں … دین کے راستے کی آزمائشیں اور قربانیاں یہ اللہ تعالیٰ کے انعامات
ہیں…ایک بڑے امام حضرت محمد بن شبرمہ رحمہ اللہ علیہ فرماتے تھے
:
’’ آزمائش کے دن ایسے لذیذ ہوتے ہیں جیسے سخت گرمی کے موسم
میں بادل، مگر افسوس کہ یہ بادل جلد چھٹ جاتے ہیں۔‘‘
ہاں! جن کو اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا یقین اور شوق ہو…
وہ جانتے ہیں کہ دین کی خاطر آزمائش کے دنوں کی کیا قیمت ہے…مگر جو دنیا کو مقصد
بنا چکے ہوں وہ تو ایک گھر سے دوسرے گھر منتقل ہونے کو بھی عذاب سمجھتے ہیں…
دیکھیں! امام ابن قیم رحمہ اللہ علیہ گرج رہے ہیں:
’’اے ہیجڑوں کا حوصلہ رکھنے والے انسان! کہاں تو اور کہاں
اللہ تعالیٰ کا راستہ؟یہ تو وہ راستہ ہے جس میں آدم علیہ
السلام نے سخت تھکاوٹ برداشت کی ، اس میں نوح علیہ
السلام کے نالے بلند ہوئے، اسی میں خلیل اللہ علیہ
السلام کو آگ میں ڈالا گیا، اسی میں اسماعیل علیہ
السلام ذبح ہونے کے لئے لٹائے گئے، اسی میں یوسف علیہ السلام ا
دنیٰ پونجی پر بیچے گئے اور کئی سال جیل میں رہے، اسی میں زکریا علیہ
السلام کو آرے سے چیرا گیا، اسی میں سید الحصور یحییٰ علیہ
السلام ذبح کئے گئے ، اسی میں ایوب علیہ
السلام نے سخت تکلیف کا گھونٹ پیا، اسی میں داؤد علیہ
السلام کی آہیں بلند ہوئیں، اسی میں عیسیٰ علیہ
السلام کو جنگلوں میں نکلنا پڑا، اسی میں حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر تکلیف اور اذیت اُٹھائی۔‘‘
[الفوائد لابن القیم۔ص:۴۲ ، طبع:دار الکتب
العلمیہ۔ بیروت]
غلط اور شر انگیز فیصلہ
سری لنکا کی حکومت شاید سخت بوکھلا چکی ہے… اب دہشت گردی کے
بہانے مسلمان خواتین کے پردے پر پابندی لگائی جا رہی ہے… حجاب، نقاب، داڑھی، پگڑی
اور اسلامی لباس کا ان معاملات سے کیا تعلق؟ … کچھ عرصہ پہلے اسی سری لنکا میں’’
بدھ مت‘‘ سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے… پورے ملک میں مسلمانوں پر اور ان کی
مساجد پر حملے کئے … بہت سے مسلمان شہید ہوئے اور بہت سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے
… تب ’’بدھ مت‘‘ کے کسی شعار پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی… جنہوں نے حملہ کرنا
ہووہ کر لیتے ہیں…ان کو کسی برقعے یا حجاب کی ضرورت نہیں پڑتی… مگر دنیا میں جہاں
بھی عالم کفر کو موقع ملتا ہے وہ… بعض واقعات کو آڑ بنا کر اسلامی شعائر کے خلاف
محاذ کھول دیتے ہیں… اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایسے ہی ظالمانہ اقدامات امت
مسلمہ میں بے چینی کا باعث بنتے ہیں… ایک طرف ہر چیز کی آزادی اور دوسری طرف دین
پر بھی پابندی… اس سے امن کا مقصد تو حاصل نہیں ہو سکتا…البتہ جنگ ضرور پھیل جاتی
ہے۔
طوطے کی موت
ایک بزرگ ایک شہر میں نوجوانوں کو جمع کر کے… انہیں’ ’لا الٰہ
الا اللہ ‘‘ کی دعوت دیتے تھے…انہوں نے ایک مسجد کو اپنا مرکز بنایا ہوا تھا …
چھوٹے بچوں سے لے کر نوجوانوں تک میں ان کی یہ دعوت چلتی تھی… لا الٰہ الا اللہ
محمد رسول اللہ… اللہ تعالیٰ جس کو بھی اس مبارک دعوت کی توفیق دے دے…اس کے لئے یہ
بڑی سعادت کی بات ہے…ایک نوجوان بزرگوں کی مجلس میں آ کر کلمہ طیبہ کا
شیدائی بن گیا تھا… ایک دن ایک خوبصورت طوطا اپنے ساتھ لایا اور اپنے استاذ کو
ہدیہ کر دیا… طوطا بہت پیارا اور ذہین تھا… بزرگ اسے اپنے ساتھ لے گئے… اور جب سبق
کے لئے آتے تو وہ طوطا بھی ساتھ لے آتے… دن رات ’’ لا الٰہ الا اللہ،لا الٰہ الا
اللہ‘‘ کی ضربیں سن کر اس طوطے نے بھی یہ کلمہ یاد کر لیا… وہ سبق کے دوران جب’’لا
الٰہ الا اللہ،لا الٰہ الا اللہ ‘‘ پڑھتا تو سب خوشی سے جھوم جاتے… ایک دن وہ بزرگ
سبق کے لئے تشریف لائے تو طوطاساتھ نہیں تھا… شاگردوں نے پوچھا تو وہ رونے لگے…
بتایا کہ کل رات ایک بلی نے اسے کھا لیا… یہ کہہ کر وہ بزرگ سسکیاں لے کر رونے
لگے… شاگردوں نے تعزیت بھی کی… تسلی بھی دی … مگر ان کے آنسو اور ہچکیاں بڑھتی جا
رہی تھیں… ایک شاگرد نے کہا: حضرت میں کل اس جیسا ایک طوطا لے آؤں گا تو آپ کا
صدمہ کچھ کم ہو جائے گا… بزرگ نے فرمایا: بیٹے میں طوطے کی موت پر نہیں رو رہا…
میں تو اس بات پر رات سے رو رہا ہوں کہ وہ طوطا دن رات ’’ لا الٰہ الا اللہ،لا
الٰہ الا اللہ ‘‘ پڑھتا تھا… جب بلی نے اس پر حملہ کیا تو میرا خیال تھا کہ … طوطا
لا الٰہ الا اللہپڑھے گا… مگر اس وقت وہ خوف سے چیخ رہا تھا… اور طرح طرح کی
آوازیں نکال رہا تھا… اور اس نے ایک بار بھی ’’ لا الٰہ الا اللہ ‘‘ نہیں کہا…
وجہ یہ کہ اس نے ’’ لا الٰہ الا اللہ ‘‘ کا رٹا تو زبان سے لگا رکھا تھا … مگر اسے
اس کلمے کا شعور نہیں تھا… اسی وقت سے میں یہ سوچ رہا ہوں کہ کہیں ہمارے ساتھ بھی
موت کے وقت ایسا نہ ہو جائے… موت کا لمحہ تو بہت سخت ہوتا ہے…اس وقت زبان کے رٹے
بھول جاتے ہیں…اور وہی بات منہ سے نکلتی ہے جو دل میں اُتری ہوئی ہو… ہم یہاں دن
رات لا الٰہ الا اللہ کی ضربیں لگاتے ہیں… مگر ہمیں اس کے ساتھ ساتھ یہ
فکر کرنی چاہیے کہ یہ کلمہ ہمارا شعور بن جائے … ہمارا عقیدہ بن جائے… یہ ہمارے دل
کی آواز بن جائے… اور اس کا یقین اور نور ہمارے اندر ایسا سرایت کر جائے کہ ہم
موت کے وقت… جبکہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہونے والی ہوتی ہے… ہم یہ کلمہ پڑھ سکیں…
یہی تو جنت کی چابی اور اللہ تعالیٰ سے کامیاب ملاقات کی ضمانت ہے… بزرگ کی بات سن
کر سارے نوجوان بھی رونے لگے اور دعاء مانگنے لگے کہ… یا اللہ! یہ کلمہ ہمیں طوطے
کی طرح نہیں حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور
حضرات صدیقین و شہداء کی طرح دل میں نصیب فرما دیجئے۔
اللہ تعالیٰ کے راستے کی آزمائشوں کا ایک فائدہ بلکہ عظیم
فائدہ یہ بھی ہے کہ… ان آزمائشوں کی برکت سے کلمہ طیبہ دل میں اُتر جاتا ہے … ذرا
مکہ کے تپتے صحراؤں …اور بدر و اُحد کے میدانوں… اور تبوک وحدیبیہ کے سفر کو یاد
کریں۔
مقابلے کے لئے تیار ہو جائیں
امام التابعین حضرت حسن بصری رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’ اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کو اپنی مخلوق کے لئے
مقابلے کی دوڑ کا میدان بنایا ہے، اس میں وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے ایک
دوسرے سے سبقت کرتے ہیں۔ پس کچھ لوگ خوب سبقت کرتے ہیں اور کامیاب ہو جاتے ہیں اور
کچھ لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں اور ناکام ہو جاتے ہیں۔‘‘
[التنبیہات الحسان فی فضائل شھر رمضان۔ص:۴۸ ،
طبع:ادارۃ المطبوعات۔ المکۃ المکرمۃ]
آئیے! اس سال رمضان المبارک میں… اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے
شوق میں… ایسا مقابلہ کریں کہ اللہ تعالیٰ کو پیار آ جائے… ہر کسی کا عمل بہت
مبارک… مگر جو رمضان المبارک بھی دینی آزمائش کے ساتھ گذاریں گے اُن کا مقام کیا
ہو گا؟… اللہ تعالیٰ سے عافیت ، ہمت،صبر اور توفیق کا سوال ہے…اللہ کرے رمضان
المبارک سے پہلے ہی سب رفقاء کرام رہا ہو جائیں… اگر بعض کو رمضان المبارک بھی قید
و بند میں نصیب ہو تو… باقی تمام ساتھی ان کے گھروں کا… ایمان و حیاء کے ساتھ مکمل
خیال رکھیں۔
اونچا رابطہ
ایک خاوند نے اپنی بیوی پر ہاتھ اُٹھایا اور چہرے پر زور دار
تھپڑ مارا… اول تو مرد کو زیب نہیں دیتا کہ اپنی شریک حیات پر ہاتھ اُٹھائے… اور
پھر چہرے پر مارنا تو بہت ہی بری اور قابل نفرت بات ہے…وہ اللہ کی بندی اس ظلم پر
لرز گئی… اس نے کانپتی آواز میں کہا : آپ نے جو ظلم ڈھایا ہے میں اس کی شکایت
لگاؤں گی… خاوند نے کہا: میں تمہیں گھر سے نکلنے ہی نہیں دوں گا … پھر کہاں جاؤ
گی شکایت لے کر؟… بیوی نے کہا: میں رابطہ کر کے بتا دوں گی… خاوند نے فوراً اس کا
موبائل اُٹھایا اور جیب میں ڈال لیا کہ اب کر لو رابطے … بیوی نے کہا: آپ دیکھنا
میں کیسے رابطہ کرتی ہوں… یہ کہہ کر تیزی سے باتھ روم میں گھس گئی… خاوند غصے میں
تھا ، سمجھا کہ باتھ روم میں کوئی فون چھپا رکھا ہو گا… یا کھڑکی سے کود کر باہر
نہ چلی جائے… مگر تھوڑی دیر میں بیوی باہر نکل آئی… اس نے وضوء کر لیا تھا… کہنے لگی:
اونچے رابطے کا انتظام ہو گیا ہے، میں شکایت لگانے جا رہی ہوں … یہ کہہ کر مصلے پر
چڑھ گئی اور نماز شروع کر دی … اب خاوند پریشان ہوا کہ یہ تو مالک الملک سے شکایت
لگانے کھڑی ہو گئی… بیوی نے لمبا سجدہ کیا… نماز کے بعد ہاتھ پھیلا کر دعاء مانگنے
لگی تو خاوند نے آ کر کہا: سجدے کی بددُعاء اور شکایت کافی نہیں ہے کہ اب ہاتھ
اُٹھا کر بھی مانگ رہی ہو… بیوی نے کہا: نہیں، ظلم بہت بڑا ہے، شکایت بھی لمبی چلے
گی…خاوند نے کہا: بس کرو معاف کر دو… مجھ پر شیطان نے حملہ کیا تھا… بیوی نے آنسو
ضبط کرتے ہوئے کہا: اسی لئے سرتاج میں شیطان سے حفاظت ہی کی دعاءسجدے میں اور اب
مانگ رہی ہوں … آپ کے لئے میں کیسے بددعاء کر سکتی ہوں؟… تب خاوند نے آئندہ ظلم
سے توبہ کی اور دونوں میں صلح ہو گئی۔
ہم اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں… اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا
فرمایا ہے… اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اللہ تعالیٰ کے دین کا کام کر رہے ہیں… اور
اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے امیدوار ہیں…بس اسی جرم میں ہمارے رفقاء کرام کو ستایا
جا رہا ہے… اُن کی اللہ والی ماؤں،بیویوں، بہنوں اور بیٹیوں نے اونچا رابطہ جوڑا
ہوا ہے… ابھی تک بددعاء شروع نہیں ہوئی … پہلے جنہوں نے ستایا تھا اُن کا حال سب
کے سامنے ہے… کسی جمعہ کے دن عصر کے بعد اگر برداشت کا بندھن ٹوٹ گیا… اور شکایت
کے آنسو بہہ نکلے تو ظلم کرنے والوں کا کیا بنے گا؟ … اے حکمرانو! اللہ تعالیٰ سے
ڈرو۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے بندو! خوب غور کر لو، آگے کے لئے کیا بھیجا
ہے؟… کل یعنی آخرت کے لئے کیاسامان بھیجا ہے؟… اس کے لئے کتنی محنت کی ہے؟
{عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا
اَحْضَرَتْ} [التکوير:۱۴]
’’کل یعنی آخرت میں ہر کسی کو پتا چل جائے گا کہ وہ کیا لے
کر حاضر ہو اہے؟‘‘
رمضان المبارک تشریف لے آئے… آپ سب کو مبارک… روز شکر ادا
کیا کریں کہ یا اللہ! آپ کا شکر کہ رمضان المبارک عطاء فرمایا… اَلْحَمْدُ
لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ،اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ… اس رمضان
المبارک میں بس یہی فکر سوار رہے کہ… اللہ تعالیٰ سے ملاقات یقینی ہے… ہم نے اس
ملاقات کے لئے آگے کیا بھیجا ہے؟… باقی رہی دنیا تو اس کا فیصلہ ہو چکا… ہم تھوڑی
محنت کریں یا زیادہ… تھوڑی فکر کریں یا بہت فکر… دنیا اُتنی ہی ملنی ہے جتنی لکھی
جا چکی۔
نظر آپ پر گئی ہی نہیں
ایک مالدار شخص نے اپنی خدمت کے لئے ایک ملازم رکھا ہوا تھا…
وہ ملازم وقت کا پابند، نیک اور نرم مزاج تھا… محنت اور خوشدلی سے سارے کام سر
انجام دیتا تھا… وہ اپنے مالک کی ایسی خدمت کرتا کہ مالک اب خود کو اس کا محتاج
سمجھنے لگ گیا تھا… ایک بار اس ملازم نے خلاف معمول بغیر اطلاع دئیے ایک دن کی
چھٹی کر لی… مالک بہت پریشان ہوا…اس دن کے اس کے سارے کام درہم برہم رہے… اس نے
سوچا کہ یہ ملازم کی طرف سے تنخواہ بڑھانے کا اشارہ ہے… اگلے دن ملازم پھر حاضر ہو
گیا تو مالک نے اسے بلا کر تنخواہ میں اضافے کا بتا دیا… ملازم نے کوئی رد عمل
ظاہر نہ کیا اور حسب سابق خدمت میں مشغول ہو گیا… کچھ عرصہ بعد ملازم نے پھر چھٹی
کی… مالک کو اس بار غصہ آیاکہنے لگا کہ… اس نے تنخواہ میں اضافے کے لئے تنگ کرنا
شروع کر دیا ہے… چنانچہ اس کی تنخواہ کا جو اضافہ کیا تھا وہ ختم کر کے پرانی
تنخواہ مقرر کرتا ہوں… اگلے دن ملازم حاضر ہوا تو مالک نے اسے تنخواہ میں کمی کا
بتا دیا… ملازم نے اس پر بھی کوئی ردعمل ظاہر نہ کیا اور حسب معمول اپنے کام پر لگ
گیا… مالک نے دو دن تک دیکھا کہ وہ کام کاج میں کچھ سستی یا کمی کرتا ہے یا نہیں؟…
مگر اسے کوئی فرق محسوس نہ ہوا تو اس نے ملازم سے پوچھا:میں نے تمہاری تنخواہ
بڑھائی، تم نے کوئی بات نہیں کی، کوئی اثر نہیں لیا… اب میں نے تنخواہ گھٹائی تو
بھی تمہارے رویے یا کام میں کوئی فرق نہیں آیا… اس کی کیا وجہ ہے؟… ملازم نے کہا:
جناب ! رزق کا مالک اللہ تعالیٰ ہے… وہی سب کا رازق ہے… جس دن میں نے پہلا ناغہ
کیا تھا اس دن میرے گھر بیٹی کی ولادت ہوئی تھی … آپ نے تنخواہ بڑھائی تو میں نے
سوچا کہ اللہ رزاق نے میری بیٹی کا رزق بھیج دیا ہے… دوسری بار جب میں نے ناغہ کیا
تھا تو اس دن میری والدہ کا انتقال ہوا تھا… واپس آیا تو آپ نے تنخواہ کم کر دی
تو میں نے سوچا کہ… اللہ تعالیٰ میری والدہ کے لئے جو عطاء فرماتے تھے وہ چونکہ اب
نہیں رہیں تو وہ روزی بند ہو گئی… دونوں بار میری نظر آپ پر گئی ہی نہیں… کیونکہ
آپ میرے رزق میں کوئی کمی بیشی نہیں کر سکتے… رب صرف اللہ تعالیٰ ہے… وہی رزاق
ہے… وہ جب چاہتا ہے…
{یَبْسُطُ الرِّزْقَ}
’’رزق بڑھا دیتا ہے‘‘ [الشوریٰ:۱۲]
اور جب چاہتا ہے …
{وَ یَقْدِرُ}
’’رزق کم فرما دیتا ہے‘‘ [الشوری:۱۲]
یہی بات پکی اور یقینی ہے…اس لئے رزق بڑھے تب بھی نظر اللہ
تعالیٰ پر جاتی ہے… اور رزق کم ہو تب بھی نظر اللہ تعالیٰ پر جاتی ہے … مخلوق کی
طرف دیکھنے کا کیا فائدہ؟
واقعی اس اللہ کے بندے نے بالکل درست فرمایا… اللہ تعالیٰ
ہمیں اس کا یقین نصیب فرمائے… رزق کے لئے مخلوق پر نظر کرنے کے اتنے بے شمار
نقصانات ہیں کہ انسان اُن کو شمار نہیں کر سکتا… آج ہم مسلمان انفرادی طور پر بھی
اور اجتماعی طور پر بھی اسی غلطی کی سزا بھگت رہے ہیں… آج نعوذ باللہ ہمارے
معاشرے میں مال کی پوجا تک کی جاتی ہے… اور مال کی خاطر کس کس طرح کی ذلت اُٹھائی
جاتی ہے… رمضان المبارک میں اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا رزق بڑھاتے ہیں… آئیے!
اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے شوق میں اس رمضان المبارک میں اپنا یہ مسئلہ حل کروا
لیں… رزق کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی پر ہماری نظر نہ جائے … یہ دعاء
رمضان المبارک کی بابرکت او رمقبول گھڑیوں میں بہت کثرت سے ہم سب مانگیں… اور رزق
میں برکت کا سب سے مؤثر طریقہ اپنائیں… اور وہ طریقہ یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے
راستے میں زیادہ سے زیادہ مال دیں …ہمارے ایک قریبی دوست بتا رہے تھے کہ… چند
سالوں میں ماشاء اللہ اُن کی زکوٰۃ کئی گنا بڑھ چکی ہے… یعنی اُن کے مال میںزکوٰۃ
وصدقات کی برکت سے چند سال میں کئی سو فیصد کا اضافہ ہوا ہے… حالانکہ آج کل
کاروبار کی جو حالت ہے وہ سبھی جانتے ہیں… مگر اللہ تعالیٰ کا ہر وعدہ بالکل سچا
ہے… اور اللہ تعالیٰ کا نظام بالکل پکا ہے… آپ اخلاص اور خوشدلی کے ساتھ اپنا
ہاتھ کھولیں تو یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ… آپ کے مال اور رزق میں برکت نہ ہو:
{بَلْ یَدَاہُ
مَبْسُوْطَتَانِ} [المائدہ:۶۴]
بے شک اللہ تعالیٰ کریم کے ہاتھ کھلے ہیں … وہ دینے والوں کو
نوازتا ہے اور جو ’’فی سبیل اللہ‘‘ یعنی جہاد میں خرچ کرتے ہیں اُن کو تو وہ صدیوں
کی برکات سالوں میں عطاء فرما دیتا ہے۔
بھائیو اور بہنو! اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا وقت قریب ہے… اللہ
تعالیٰ سے ہم سب حسن ظن رکھیں… بہت اچھا گمان… بہت اچھا شکر … اور اللہ تعالیٰ کے
وعدوں کا یقین… رمضان المبارک میں خوب دل کھول کر مال خرچ کریں … اگر ہو سکے تو اس
موضوع پر بندہ کا تازہ رسالہ ’’حکمت اور عقل کی باتیں‘‘… ایک بار مطالعہ فرما لیں۔
تحفہ ٔ رمضان
اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور آخرت کے لئے ہم نے جو سامان تیار
کرنا ہے اس میں سب سے اہم چیز ’’ نماز‘‘ ہے… نماز مکمل اخلاص اور توجہ سے ادا کی
جائے تو وہ ہمارے ساتھ چلے گی… ہمارے ساتھ رہے گی… نکتہ آج یہ عرض کرنا ہے کہ…
نماز کا آغاز اور نماز کا اختتام اچھا کر لیں… جب نماز شروع کریں تو خود کو اللہ
تعالیٰ کے سامنے سمجھ کر پوری توجہ سے اَللہُ اَکْبَرَ… کہیں اور پھر بات چیت کا
آغاز شروع…ہم نے پہلا جملہ اگر توجہ سے بول دیا تو کام بن جائے گا:
سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ …الخ۔
’’یا اللہ !آپ عظیم ہیں، سبحان ہیں، پاک ہیں، میں آپ کا شکر
گذار ہوں ۔‘‘
’’سُبْحَانَکَ‘‘ کے آخرمیں جو کاف ہے … اس کا مطلب ہے’’
آپ‘‘… ہم نے اللہ تعالیٰ سے بات شروع کر دی…سُبْحَانَکَ آپ پاک ہیں… دراصل اردو
میں فی الحال یہی ترجمہ ہو سکتا ہے… ورنہ ’’ سُبْحَانَ ‘‘ کا معنٰی بہت اونچا ہے…
یا اللہ! آپ ہر عیب، ہر کمزوری، ہر ظلم اور ہر کمی سے بہت ہی بلند
ہیں…سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ … بات چیت شروع ہو گئی … نماز کا آغاز جاندار ہو گیا…
شاندار ہو گیا… اب نماز کا آخر آ گیا… اجازت مل گئی کہ جو مانگنا ہے مانگ لو…
التحیات کے آخر میں… بلینک چیک مل گیا ہے کہ مانگ لو… مانگ لو… جھولی بھر کر مانگ
لو… اسی لئے حضرات صحابہ کرام اور اسلاف التحیات کی دعاء کو بہت وقت دیتے تھے…
کبھی آدھا گھنٹہ اور کبھی اس سے بھی زیادہ… اجازت جو مل گئی۔
ایک بہت ضروری بات
حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے
نماز کے آخر کی کئی دعائیں اُمت کو سکھائی ہیں… مگر جس دعاء کی
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے زیادہ تاکید فرمائی ہے… وہ
دعاء چار چیزوں سے پناہ مانگنا ہے… دراصل یہ دعاء ہماری زندگی اور ہماری کامیابی
کے لئے بے حد، بے حد اہم ہے… اس لئے حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم نے اس کی تاکید فرمائی… اور یہ تاکید اتنی مضبوط فرمائی کہ… اُمت
کے بعض ائمہ کے نزدیک نماز کے آخر میں ان چار چیزوں سے پناہ مانگنا واجب ہے… چنانچہ
اُن کے نزدیک اگر کوئی شخص اپنی کسی بھی نماز کے آخر میںیہ دعاء نہ مانگے تو اس
پر اپنی وہ نماز لوٹانا واجب ہے… جمہور ائمہ اور علماء کے نزدیک اگرچہ یہ دعاء
نماز کے واجبات میں سے نہیں ہے … مگر اس کی ضرورت اور اہمیت سب کے نزدیک مسلّم ہے…
اس رمضان المبارک میں ہم اس دعاء کو اپنی ہر نماز کا مستقل حصہ بنا لیں… اور مزید
جو دعائیں مانگنی ہوں وہ اس دعاء کے بعد مانگا کریں… اور اگر صرف ایک ہی دعاء کا
وقت ہو تو زیادہ بہتر یہی ہے کہ اسی دعاء کو ہم اپنا لیں… دیکھئے! مدینہ منورہ سے
کیا حکم آیا ہے…صحیح مسلم کی روایت ہے…
قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صلی اللہ علیہ
وسلم :’’ إِذَا تَشَهَّدَ أَحَدُكُمْ…الخ‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا:
’’جب تم میں سے کوئی تشہد کرے ( یعنی نماز کے آخری قعدے میں
بیٹھے) تو چار چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے اور یوں کہے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ جَھَنَّمَ وَ
مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَ الْمَمَاتِ وَ مِنْ شَرِّ
فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ ۔‘‘
[صحیح مسلم ۔رقم الحديث:۵۸۸،ناشر: دار إحياء التراث
العربی۔ بيروت]
صحیح مسلم کی دوسری روایت میں ہے کہ رسول کریم صلی
اللہ علیہ وسلم یہ دعاء حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین کو… قرآن مجید کی سورت کی طرح تاکید و اہتمام سے سکھاتے تھے۔
[صحیح مسلم ۔رقم الحديث:۵۹۰،ناشر: دار إحياء التراث
العربی۔ بيروت]
اس دعاء میں چار چیزوں سے پناہ مانگی گئی ہے:
١ ’’جہنم
کے عذاب سے‘‘… خود سوچ لیں کہ یہ ہمارا کتنا اہم مسئلہ ہے… قیامت کے دن جہنم کے
عذاب سے بچنے کے لئے اگر کسی کو ساری دنیا کا سارا مال دینا پڑے تو وہ خوشی سے دے
دے گا… یہ بات قرآن مجید میں مذکور ہے۔
٢ ’’قبر
کے عذاب سے‘‘… یہ بھی بہت اہم مسئلہ ہے…معلوم نہیں تنہائی اور وحشت کے گھر قبر میں
ہم نے کتنا عرصہ رہنا ہے؟ … کئی لوگ توہزاروں سال سے قبروں میں ہیں۔
٣ ’’زندگی
اور موت کے ہر فتنے سے‘‘… آج کل فتنوں کا زمانہ ہے… زندگی اور موت دونوں پر طرح
طرح کے فتنوں کا خطرہ ہے … چنانچہ یہ بھی بہت اہم مسئلہ ہے۔
٤ ’’دجال
کے فتنے سے‘‘ …یہ بہت اہم معاملہ ہے… مسیح دجال کا فتنہ بڑا خطرناک ہے…تمام انبیاء
کرام علیہم السلام نے اس سے پناہ مانگی ہے …اور ہمارے زمانے میں تو
دجالی فتنوں کی یلغار ہے… آج اُمت مسلمہ کے تقریباً تمام حکمران زمانے کے چھوٹے چھوٹے
دجالوں کے غلام بنے ہوئے ہیں… مسلمانوں میں ایسے داعی اور مبلغ پیدا ہو گئے ہیں جو
نعوذ باللہ کلمہ طیبہ کی توہین کرتے ہیں… اور عالمی برادری کو نعوذ باللہ خدا کا
درجہ دے کر اس کی پیروی کی دعوت دے رہے ہیں…آج مسلمانوں کے دلوں پر…زمانے کے
چھوٹے چھوٹے دجالوں کا ایسا رعب اور خوف مسلط ہے کہ جہاد کا نام تک نہیں لیتے…
’’مسیح الدجال ‘‘ یعنی ’’ٹچ دجال‘‘ کا زمانہ جوں جوں قریب آ رہا ہے لوگوں کے
ایمان میں کمزوری آ رہی ہے۔
نماز کے آخر میں ہمیں کھلا اعلان محبت ملا ہوا ہے کہ جو
مانگنا ہو مانگ لو… پھر ہمارے حقیقی مرشد اور آقا صلی اللہ علیہ
وسلم نے رہنمائی فرما دی کہ … اپنے یہ چار مسئلے ، اہم ترین مسئلے اس
وقت حل کرا لیا کرو… دنیا میں فتنوں سے بچ گئے… مرنے کے بعد عذاب قبر اور جہنم سے
بچ گئے تو زندگی کتنی کامیاب ہو جائے گی… دعاء مانگنے کے بعد سلام ہے… اَلسَّلَامُ
عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللہِ… اس وقت پورادھیان رہے کہ… دائیں طرف کے سارے فرشتے،
تمام اہل اسلام اور تمام مسلمان جنات ہمارے مخاطب ہوں … سلامتی ہو تم پراور اللہ
تعالیٰ کی رحمت … جب ہم توجہ سے سلام کریں گے تو نماز کا اختتام بھی اچھا ہو گیا…
اب یہ نماز ہمارے ساتھ چلے گی اور ہمارے ساتھ جائے گی ،ان شاء اللہ ۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو حضرت جبریل علیہ
السلام کی ’’بددعاء‘‘ کا مصداق بننے سے بچائے… رمضان پایامگر مغفرت نہ
ملی تو ہلاکت ہے… یا اللہ! آپ کی رحمت، آپ کی حفاظت،آپ کی نصرت، اور آپ کی
مغفرت کا سوال ہے۔
نظر کرم ہو جائے تو
ساری زندگی انہوں نے کفر کیا… جادو کیا… جادو سیکھا… جادو
سکھایا… یعنی شیطان کی عبادت کرتے رہے… جادو کے الفاظ میں نعوذ باللہ شیطان کی
عبادت ہوتی ہے… اس لئے جادو کے اکثر الفاظ کافر بنانے والے ہوتے ہیں… مسلمانوں کو
بہت احتیاط کرنی چاہیے… ہر علاج اور ہر منتر کو نہیں اپنانا چاہیے… ہم سب کو چاہیے
کہ کم از کم ایک بار دو رکعت نماز اخلاص سے ادا کر کے توبہ کریں… یا اللہ !کبھی
غلطی سے کفر یا جادو کا کوئی کلمہ زبان سے نکل گیاہو تو معافی مانگتا ہوں، استغفار
کرتا ہوں… مغفرت چاہتا ہوں …سچی توبہ کرتا ہوں… اگر جادو میں کامیابی ہوتی تو ماضی
کے جادوگر کیوں ناکام مر تے؟… جادو میں شفاء ہوتی تو ماضی کے جادوگر خود بیمار ہو
کر نہ کراہتے… جتنی سخت بیماری آ جائے کبھی کوئی غیر شرعی علاج نہ کرائیں… جادو ،
ٹونے، کالے علم یہ سب ناجائز ، حرام اور فضول ہیں… بات چل رہی تھی کچھ لوگوں کی…انہوں
نے ساری زندگی کفر کیا جادو کیا…جادو کے ذریعہ کمائی کی … اور اپنے بادشاہ کو سجدے
کئے… اسے (نعوذ باللہ)خدا مانا… ساری زندگی اتنے بھیانک گناہ… مگر پھر ان پر اللہ
تعالیٰ کی نظر کرم ہو گئی… تھوڑی دیر کے لئے وہ ڈٹ گئےاور پھر کامیاب ہو گئے… یہ
فرعون کے جادوگر تھے… ساری زندگی کفر اور جادو کی ناپاکی سے لت پت رہے… کوئی ہے جو
ان کے گناہوں کی گنتی کر سکے؟… پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے
میں اُترے… معجزہ دیکھا تو آنکھیں کھل گئیں… ایمان لے آئے… اللہ تعالیٰ کی نظر
کرم کا کمال دیکھیں کہ… ایمان لاتے ہی اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے شوق میں مست ہو
گئے… اُن کو یقین ہو گیا کہ موت ’’اختتام ‘‘ نہیں ہے… بلکہ اصل زندگی کا’’ آغاز‘‘
ہے… فرعون انہیں دھمکاتا رہا کہ مار دوں گا… کاٹ دوں گا…وہ مسکراتے رہے کہ…
فَاقْضِ مَا اَنْتَ قَاضٍ… تیرا حکم اس دنیا میں چلتا ہے… وہ حکم بہت تھوڑی دیر کا
ہو گا… ہم سہہ لیں گے… جیسے ہی ہمیں موت آئے گی… ہم تیرے حکم سے آزاد اور دور ہو
جائیں گے… اور اس اگلے جہان میں صرف اللہ تعالیٰ کا حکم چلتا ہے… اس لئے ہم تجھے
چھوڑ رہے ہیں… ہم اللہ تعالیٰ کی بندگی اور غلامی میں آ رہے ہیں۔
یہ چند منٹ کی استقامت… ان جادوگروں کا وہ عمل تھا جس کے مزے
وہ آج تک لوٹ رہے ہیں…قیامت تک لوٹیں گے… اور پھر ہمیشہ ہمیشہ کامیاب رہیں گے…
عالمی سامراج کے سامنے چند منٹ کی استقامت… اتنا عظیم عمل بن گئی کہ یہ جادوگر
قرآن مجید کا کامیاب کردار بن گئے…آج کل تلاوت میں بار بار ان کا تذکرہ آتا ہے…
دل میں رشک پیدا ہوتا ہے کہ مختصر سے عرصے میں اتنی عظیم کامیابی اور
عظیم سعادت پا گئے…دراصل اس وقت دنیا میں فرعون کے سامنے انکار کرنے والا کوئی فرد
موجود نہیں تھا… حضرت موسی علیہ السلام ابھی ابھی تشریف لائے تھے… اور
فرعون ان کی جان کے درپے تھا… یوں سمجھ لیں کہ اس وقت فرعون دنیا کی مسلّمہ
سپرپاور تھا… وہی عالمی برادری تھا… وہ اس وقت اپنی طاقت اور حکمرانی کے اس مقام
پرتھا… جہاں آج امریکہ اور یورپ بھی نہیں ہیں… فرعون ناقابل شکست تھا… اس سے لڑنے
کا بس ایک ہی مطلب تھا کہ مارے جاؤ… اس کو انکار کہنے کا بس ایک ہی نتیجہ تھا کہ
ختم کر دئیے جاؤ…ایسے حالات میں استقامت کی قدر اور بڑھ جاتی ہے… ایسے وقت میں
ہمت و عزیمت کی قیمت مزید چڑھ جاتی ہے… وہ جادوگر خوش نصیب تھے… انہوں نے ایمان
اور استقامت کواختیار کیا… اور دیکھتے ہی دیکھتے کامیابی کا استعارہ اور آزادی کی
بنیاد بن گئے… اللہ تعالیٰ نے انہیں زیادہ آزمایا ہی نہیں… اور اللہ تعالیٰ کسی
کو بھی اس کی طاقت سے زیادہ نہیں آزماتے۔
اس قصے کا ایک بڑا سبق یہ ہے کہ حالات ایک جیسے نہیں رہتے…
کئی لوگ جو آج ’’دین اسلام‘‘ کو بدل رہے ہیں… ان کا خیال یہ ہے کہ… دنیا میں کفر
کی طاقت اب ناقابل شکست ہو چکی ہے… امریکہ، انڈیا اور یورپ مزید ترقی کریں گے… اب
حالات اسی رخ پر آگے بڑھیں گے…چنانچہ مسلمانوں کو عالمی برادری کے سامنے جھک جانا
چاہیے… اپنے دین کو بدل لینا چاہیے… جہاد کا نام تک نہیں لینا چاہیے… مگر یہ قصہ
بتا رہا ہے کہ حالات بدل جاتے ہیں… ایمان پر ڈٹ جانا اور اس پر کٹ مرنا بے مثال
کامیابی ہے… اور مظلوموں کی قربانیاں ظالم کے اقتدار کو سمندر میں ڈبو دیتی ہیں…
سلام ہو اُن عظیم ، خوش نصیب جادوگروں پر… جنہوں نے کفر اور جادو سے توبہ کی…
جنہوں نے ایمان قبول کیا… اور پھر ایمان پر جان دے دی:
سَلَامُ اللہِ عَلَیْہِمْ وَ رَضِیَ اللہُ عَنْھُمْ وَ
اَرْضَاھُمْ وَ رَحِمَھُمُ اللہُ تَعَالٰی وَ رَفَعَ دَرَجَاتِھِمْ۔
جو خوف کی حالت میں ہیں
اللہ تعالیٰ حکمرانوں کو ایمان وہمت عطاء فرمائیں… پاکستان کے
مقتدر حکمران ان دنوں بالکل وہی غلطیاں کر رہے ہیں… جو لیبیا کے صدر قذافی نے اپنی
زندگی کے آخری دو سالوں میں کی تھیں… اور پھر یہی غلطیاں اس کے زوال اور عبرتناک
انجام کا باعث بنیں… صدر قذافی ایک ملے جلے انسان تھے… کچھ غلطیاں اور کچھ خوبیاں…
غلطیاں زیادہ تھیں مگر عوام میں ایک طبقہ ان کی محبت میں گرفتار تھا… اور قذافی کی
کچھ نیکیاں اس کے لئے مستقل ڈھال بنی ہوئی تھیں… مگر پھر اچانک اسے بڑھاپے میں یہ
خیال سوجھا کہ وہ عالمی برادری کے لئے قابل قبول بن جائے… بس یہیں سے زوال کا
آغاز ہوا… قذافی نے عالمی برادری کے لئے اپنا چہرہ، ماضی اور کردار صاف کرنے کی
خاطر اپنے دوستوں پر ظلم ڈھایا… اور پھر زمین اس کے نیچے سے سرک گئی…عالمی برادری
تو وہ چڑیل ہے جو سارا خون نچوڑ کر بھی مطمئن نہیں ہوتی… آپ ان کی ایک شرط پوری
کرو گے وہ آپ پر مزید دس شرطیں لاد دے گی… پاکستان حکومت نے ملک کے دینی طبقوں پر
آج کل جو آپریشن شروع کر رکھا ہے وہ سراسر ظلم ہے…اور یہ ظلم پاکستان کو زوال کی
طرف لے جا رہا ہے… بہرحال جو قسمت… اب تو سننے والے لوگ بھی نہیں ہیں جو نصیحت
قبول کر لیں… اس لئے اللہ تعالیٰ سے ہی دعاء ہے… جو اہل ایمان خوف اور پریشانی کی
حالت میں ہیں… وہ روزانہ ایک سو بار…
بِسْمِ اللہِ تَوَکَّلْتُ عَلٰی اللہِ وَ لَا حَوْلَ وَ
لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ…
توجہ اور پابندی سے پڑھ لیا کریں… عجیب طاقتور، پُر سکون اور
پُرکیف نسخہ ہے۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭
اللہ تعالیٰ کے حضور قیامت کے دن… سلطان صلاح الدین
ایوبی رحمہ اللہ علیہ بھی پیش ہوں گے اور ہم بھی… صلاح الدین اپنے ساتھ
کیا کچھ لائیں گے اور ہم کیا کچھ؟… اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ’’جہاد‘‘ کی وہ محبت نصیب
فرمائے جو اس نے اپنے بندے ’’صلاح الدین‘‘ کو عطاء فرمائی تھی… صرف بچپن یا ستاون
سال کی عمر… ہجری سال چھوٹا ہوتا ہے… اس لئے شمسی اور قمری سالوں کے حساب سے عمر
میں فرق آجاتا ہے… شمسی اعتبار سے سلطان کی عمر پچپن سال بنتی ہے… قمری اعتبار سے
یہ ستاون سال ہوجائے گی… جو بہت لمبی نہیں ہے… مگر کارنامے دیکھیں تو یوں لگتا ہے
کہ وہ صدیاں جی گئے … اتنی سی عمر میں ایک سو سے زائد خونریز جنگیں… بڑی بڑی
فتوحات…ہزاروں میل پر پھیلے کارنامے … یورپ کے لئے آج تک ناقابل فہم ہیبت۔
اس دور کے مسلمان بھی خوش نصیب تھے… ایک ہی وقت میں تاریخ
اسلام کے تین ستارے ایک ساتھ جگمگارہے تھے… یمن، شام اور مصر میں سلطان صلاح الدین
ایوبی تھے… مراکش میں یعقوب المنصور… اور ادھر ہماری طرف شہاب الدین غوری… کیسا
عجیب دور ہوگا؟…شکر ہے اللہ تعالیٰ کا کہ ہم نے امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد
دیکھ لئے… ورنہ تو ہم حقیقی مسلمان حکمران دیکھنے کی حسرت آنکھوں میں لئے دنیا سے
چلے جاتے…… اللہ تعالیٰ امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد قدس سرہ کو جزائے خیر
عطاء فرمائے…انہوں نے چند سال تک امت مسلمہ کو ایک اسلامی حکومت قائم رکھ کر
دکھائی… اور اس طرح طویل اور بھاری جمود کو پاش پاش فرمادیا… یوں سمجھ لیں کہ… کفر
کی چار سو سالہ محنت پر پانی پھیر دیا…بہر حال وہ زمانہ مسلمانوں کے لئے مبارک
ثابت ہوا کہ… پورے اٹھاسی سال کے بعد مسلمانوں نے دوبارہ ’’بیت المقدس‘‘ حاصل
کرلیا… فاطمیوں کا منحوس اقتدار بھی اسی زمانے میں ختم ہوا…اور صلیبیوں کو عبرتناک
شکستیں بھی اسی زمانے میں ہوئیں۔
سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ علیہ نے جب
حکومت سنبھالی… اور مصر وشام کے حاکم بنے… تو انہوں نے قسم کھالی کہ وہ اسلام کی
تلوار بن کر… مسلمانوں کو بیت المقدس واپس لوٹائیں گے… جہاد کی محبت ان کے دل پر
ہی نہیں ان کے جسم کے روئیں روئیں پر حاوی تھی… ایک بار ایسے بیمار ہوئے کہ زمین
پر بیٹھ نہیں سکتے تھے… پورا جسم پھوڑوں اور دردوں سے مضمحل تھا… مگر جب جہادی
گھوڑے پر بیٹھتے تو اپنے سارے درد اور زخم بھول جاتے… اور کسی کو محسوس تک نہ ہوتا
کہ وہ بیمار ہیں… یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہے کہ جہاد کسی کے حواس پر اس قدر
چھا جائے… دراصل ایسے لوگ ہی جہاد کا صحیح حق ادا کرتے ہیں… اور جہاد بھی ایسے
لوگوں کو حقیقی قوت اور نورانیت دکھاتا ہے۔
صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ علیہ زمانۂ تعلیم میں
عسکریت کی طرف زیادہ رجحان نہیں رکھتے تھے… حالانکہ ان کے گھر میں جہاد موجود تھا…
والد محترم بھی شہید ہوئے اور ان کے ایک چچا ’’شیر کوہ‘‘ بڑے غازی، مجاہد اور
بہادر تھے…طالبعلمی کے زمانہ یوسف بن ایوب… یعنی صلاح الدین ایوبی مکمل طور پر
اپنی تعلیم میں مگن رہے … دین کے علم کی طرف زیادہ رغبت تھی… عربی ادب کے ماہر
تھے… ’’دیوان حماسہ‘‘ مکمل زبانی یاد کررکھا تھا… یعنی جب پڑھ رہے تھے تو علم کے
تھے لیکن جب جہاد میں آئے تو ’’جہاد‘‘ کے ہورہے … مگر ان کا علم ان کو جہاد میں
ترقی دینے کا ذریعہ بنارہا… وہ اہل علم کو اپنے ساتھ رکھتے تھے… وہ اہل قلم سے
جہاد پر کتابیں لکھواتے تھے… اور انہوں نے جو علاقہ بھی اپنی حاکمیت میں لیا وہاں
دینی علوم اور رفاہ عامہ کے کاموں کا جال بچھا دیا… طلبۂ علم کے وظیفے خود جاری
کرتے اور بڑے بڑے کتب خانے قائم کرکے علم کی خدمت کا حق ادا کرتے… نماز کے بے حد
پابند تھے… اپنے ساتھ ایسے علماء کرام کو رکھتے تھے جن کی اقتداء میں ہر نماز
باجماعت ادا کرسکیں… علم وجہاد کا یہ عظیم سنگم… امت مسلمہ کے لئے مسلسل بیس سال
تک ایسی رحمت بنا رہا کہ جس دن ان کی وفات ہوئی تو… عالم اسلام غم واندوہ میں ڈوب
گیا…مؤرخ لکھتا ہے کہ مسلمانوں نے حضرات خلفاء راشدین کی وفات کے بعد… صدمے والا
سب سے غمناک لمحہ… صلاح الدین ایوبی کی وفات کے وقت دیکھا… یہی علم وجہاد کا ربط
تھا کہ سلطان کی رگوں میں… عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم خون کی طرح
دوڑتا تھا…ملعون عیسائی حاکم ’’رینالڈ‘‘ نے جب حجاج کرام کے ایک قافلے پر شب خون
مارا… اور نہتے مسلمانوں کو شہید کرتے ہوئے… حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم کی شان عالی میں گستاخی بکی تو… صلاح الدین ایوبی کے لئے زمین پر
زندہ رہنا مشکل ہوگیا… نہ اسے نیند آتی تھی اور نہ قرار… نہ اسے بھوک لگتی تھی
اور نہ پیاس… عشق اور انتقام کی اس دو آتشی لہر نے سلطان کو… بے پناہ روحانی طاقت
بخشی اور وہ اپنے سے کئی گنا طاقتور صلیبیوں پر موت بن کر ٹوٹا…اس نے اپنی قسم
پوری کی اور ’’رینالڈ‘‘ ملعون کو اپنے ہاتھوں سے جہنم واصل کیا… اور پھر دھاڑتے
ہوئے شیر کی طرح یروشلم کی طرف بڑھا اور بالآخر بیت المقدس کے میناروں سے ۸۸ سال
بعد دوبارہ اذان گونجنے لگی… اپنے زمانے کا یہ سب سے بڑا فاتح، طاقتور بادشاہ… اور
سب سے بڑا سپہ سالار بیت المقدس کی فتح کے بعد بھی… صلیبیوں کی تیسری عظیم جنگ کے
سامنے دیوار بن کر کھڑا…رہا یہاں تک کہ ’’صلیبی‘‘ بیت المقدس سے مکمل طور پر مایوس
اور دستبردار ہوگئے… اور اس وقت سے لے کر ۱۹۴۸ء تک پونے آٹھ سو سال تک
یہ پورا علاقہ مسلمانوں کے قبضہ میں رہا۔
مگر اتنا عظیم فاتح کبھی حج نہ کرسکا کیونکہ اس کے پاس اتنا
ذاتی مال کبھی جمع نہ ہوا کہ حج اس پہ فرض ہوتا… حج تو حج اس پر کبھی زکوٰۃ بھی
فرض نہیں ہوئی… اور جب وہ دنیا سے رخصت ہوا تو اس کی میراث میں سترہ یا سینتالیس
درہم موجود تھے… جبکہ اس کے کارنامے ہزاروں مربع میل پر جگمگارہے تھے ۔
ہاں بھائیو! صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ علیہ … ہمارے لئے ایک
مثال ہیں کہ… جنہیں دیکھ کر ہم مایوسی، کم ہمتی اور حب دنیا کے اندھیروں کا مقابلہ
کرسکتے ہیں… اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے … ان کو مغفرت اور سعادت کا
اونچا مقام عطاء فرمائے… آج عالم اسلام پھر زخمی زخمی ہے… وہ علاقہ جہاں صلاح
الدین ایوبی پیدا ہوئے… تکریت (عراق)… وہ آج خون مسلم سے لہو رنگ ہے … وہ
’’دمشق‘‘ جو صلاح الدین ایوبی کا ’’عشق‘‘ تھا… اور وہی صلاح الدین کا مدفن بنا وہ
آج امت مسلمہ کی طرف بے بسی سے دیکھ رہا ہے… اور وہ یروشلم جس نے… صلاح الدین
ایوبی کا استقبال کیا تھا… مسلمانوں سے بہت کچھ پوچھ رہا ہے… یااللہ!…اُمت مسلمہ
کو پھر ’’ایوبی‘‘ عطاء فرماء… تیری نظر کرم جس پر پڑگئی… وہ ایوبی بن جائے گا…
یااللہ !رحم فرما… یااللہ! نصرت فرما۔
لا الٰہ الا اللہ، لا الٰہ الا اللہ ،لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد و اٰلہٖ و صحبہٖ و بارک و سلم
تسلیمًا کثیرًا کثیرًا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
٭٭٭